GEN 1:1 اِبتدا میں خُدا نے آسمان اَور زمین کو خلق کیا۔
GEN 1:2 تَب زمین بے ڈول اَور سُنسان تھی، اَور گہراؤ کے اُوپر تاریکی چھائی ہویٔی تھی اَور خُدا کی رُوح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی۔
GEN 1:3 اَور خُدا نے فرمایا، ”رَوشنی ہو جا،“ اَور رَوشنی ہو گئی۔
GEN 1:4 خُدا نے دیکھا کہ رَوشنی اَچھّی ہے اَور اُس نے رَوشنی کو تاریکی سے جُدا کیا۔
GEN 1:5 خُدا نے رَوشنی کو ”دِن“ اَور تاریکی کو ”رات“ کا نام دیا۔ تَب شام ہُوئی اَور پھر صُبح یہ پہلا دِن تھا۔
GEN 1:6 اَور خُدا نے فرمایا، ”پانیِوں کے درمیان فِضا ہو تاکہ وہ پانی کو پانی سے جُدا کر دے۔“
GEN 1:7 چنانچہ خُدا نے فِضا کو قائِم کیا اَور فِضا کے نیچے کے پانی کو فِضا کے اُوپر کے پانی سے جُدا کر دیا اَور اَیسا ہی ہُوا۔
GEN 1:8 خُدا نے فِضا کو ”آسمان“ کا نام دیا اَور شام ہُوئی اَور پھر صُبح یہ دُوسرا دِن تھا۔
GEN 1:9 اَور خُدا نے فرمایا، ”آسمان کے نیچے کا پانی ایک جگہ جمع ہو اَور خُشکی نموُدار ہو اَور اَیسا ہی ہُوا۔“
GEN 1:10 خُدا نے خُشکی کو ”زمین“ کا نام دیا اَورجو پانی جمع ہو گیا تھا اُسے ”سمُندر“ کا نام دیا۔ اَور خُدا نے دیکھا کہ یہ اَچھّا ہے۔
GEN 1:11 تَب خُدا نے فرمایا، ”زمین سبزی پیدا کرے جَیسے بیج والے پَودے اَور بیج والے پھلدار درخت جو اَپنی اَپنی جنس کے مُطابق زمین پر پھُولیں پھلیں۔“ اَور اَیسا ہی ہُوا۔
GEN 1:12 تَب زمین نے سبزی پیدا کی یعنی بیج دار پَودے اَور پھلدار درخت جِن میں اَپنی اَپنی جنس کے مُطابق بیج ہوتے ہیں اَور خُدا نے دیکھا کہ یہ اَچھّا ہے۔
GEN 1:13 اَور شام ہُوئی اَور پھر صُبح یہ تیسرا دِن تھا۔
GEN 1:14 اَور خُدا نے فرمایا، ”دِن کو رات سے الگ کرنے کے لیٔے آسمان کی فِضا میں نیّر ہُوں تاکہ وہ موسموں دِنوں اَور برسوں میں اِمتیاز کرنے کے لیٔے نِشان ٹھہریں۔
GEN 1:15 اَور وہ آسمان کی فِضا میں چمکیں، تاکہ زمین پر رَوشنی ڈالیں،“ اَور اَیسا ہی ہُوا۔
GEN 1:16 خُدا نے دو بڑی رَوشنیاں بنائیں بڑی رَوشنی یعنی سُورج دِن پر حُکومت کرنے کے لیٔے اَور چُھوٹی رَوشنی یعنی چاند رات پر حُکومت کرنے کے لیٔے۔ خُدا نے سِتارے بھی بنائے۔
GEN 1:17 خُدا نے اُنہیں آسمان کی فِضا میں قائِم کیا تاکہ وہ زمین پر رَوشنی ڈالیں،
GEN 1:18 دِن اَور رات پر حُکومت کریں اَور رَوشنی کو تاریکی سے جُدا کریں۔ اَور خُدا نے دیکھا کہ یہ اَچھّا ہے۔
GEN 1:19 اَور شام ہُوئی اَور پھر صُبح یہ چوتھا دِن تھا۔
GEN 1:20 اَور خُدا نے فرمایا، ”پانی جانداروں کی کثرت سے بھر جائے اَور پرندے زمین کے اُوپر آسمان کی فِضا میں پرواز کریں۔“
GEN 1:21 چنانچہ خُدا نے بڑی بڑی سمُندری مخلُوقات کو اَور سَب زندہ اَور حرکت کرنے والی اَشیا کو جو پانی میں کثرت سے پائی جاتی ہیں اَور طرح طرح کے پرندوں کو اُن کی جنس کے مُطابق پیدا کیا۔ اَور خُدا نے دیکھا کہ یہ اَچھّا ہے۔
GEN 1:22 خُدا نے اُنہیں برکت دی اَور کہا، ”پھُولو، پھلو اَور تعداد میں بڑھو اَور سمُندر کے پانی کو بھر دو اَور پرندے زمین پر بہت بڑھ جایٔیں۔“
GEN 1:23 اَور شام ہُوئی اَور صُبح ہویٔی، یہ پانچواں دِن تھا۔
GEN 1:24 اَور خُدا نے فرمایا، ”زمین جانداروں کو اَپنی اَپنی جنس کے مُطابق پیدا کرے جَیسے مویشی، زمین پر رینگنے والے جاندار اَور جنگلی جانوروں کو جو اَپنی اَپنی قِسم کے مُطابق ہُوں اَور اَیسا ہی ہُوا۔“
GEN 1:25 خُدا نے جنگلی جانوروں کو اُن کی اَپنی اَپنی جنس کے مُطابق، مویشیوں کو اُن کی اَپنی اَپنی جنس کے مُطابق اَور زمین پر رینگنے والے تمام جانداروں کو اَپنی اَپنی جنس کے مُطابق بنایا اَور خُدا نے دیکھا کہ یہ اَچھّا ہے۔
GEN 1:26 تَب خُدا نے فرمایا، ”آؤ ہم اِنسان کو اَپنی صورت اَور اَپنی شَبیہ پر بنائیں اَور وہ سمُندر کی مچھلیوں، ہَوا کے پرندوں، مویشیوں، اَور ساری زمین پر اَور اُن تمام زمین کی مخلُوقات پر رینگنے والے جنگلی جانوروں پر، اِختیار رکھے۔“
GEN 1:27 چنانچہ خُدا نے اِنسان کو اَپنی صورت پر پیدا کیا، اُسے خُدا کی صورت پر پیدا کیا؛ اَور اُنہیں مَرد اَور عورت کی شکل میں پیدا کیا۔
GEN 1:28 خُدا نے اُنہیں برکت دی اَور اُن سے کہا، ”پھُولو پھلو اَور تعداد میں بڑھو اَور زمین کو معموُر و محکُوم کرو۔ سمُندر کی مچھلیوں، ہَوا کے پرندوں اَور ہر جاندار مخلُوق پرجو زمین پر چلتی پھرتی ہے، اِختیار رکھو۔“
GEN 1:29 پھر خُدا نے فرمایا، ”مَیں تمام رُوئے زمین پر کا ہر بیج دار پَودا اَور ہر درخت جِس میں اُس کا بیج دار پھل ہو تُمہیں دیتا ہُوں۔ وہ تمہاری خُوراک ہوں گے۔
GEN 1:30 اَور مَیں زمین کے تمام چرندوں اَور ہَوا کے کُل پرندوں اَور زمین پر رینگنے والوں کے لیٔے جِن میں زندگی کا دَم ہے، ہر طرح کے سبز پَودے خُوراک کے طور پر دیتا ہُوں۔“ اَور اَیسا ہی ہُوا۔
GEN 1:31 اَور خُدا نے جو کچھ بنایا تھا اُس پر نظر ڈالی اَور وہ بہت ہی اَچھّا تھا اَور شام ہویٔی اَور صُبح ہویٔی، یہ چھٹا دِن تھا۔
GEN 2:1 اِس طرح آسمان اَور زمین کا اَورجو کچھ اُن میں تھا اُن سَب کا بنایا جانا مُکمّل ہو گیا۔
GEN 2:2 ساتویں دِن تک خُدا نے اُس کام کو پُورا کیا جسے وہ کر رہے تھے؛ چنانچہ ساتویں دِن وہ اَپنے سارے کام سے فارغ ہُوئے۔
GEN 2:3 اَور خُدا نے ساتویں دِن کو برکت دی اَور اُسے مُقدّس ٹھہرایا، کیونکہ اُس دِن خُدا نے تخلیقِ کائِنات کے سارے کام سے فراغت پائی۔
GEN 2:4 یہ ہے آسمان اَور زمین کی پیدائش جَب وہ وُجُود میں لایٔے گیٔے۔ جَب یَاہوِہ خُدا نے زمین اَور آسمان کو بنایا۔
GEN 2:5 تو اُس وقت نہ تو کھیت کی کویٔی جھاڑی زمین پر نموُدار ہویٔی تھی اَور نہ ہی کھیت کا کویٔی پَودا اُگا تھا، کیونکہ یَاہوِہ خُدا نے زمین پر پانی نہیں برسایا تھا اَور نہ زمین پر کویٔی اِنسان ہی تھا جو کاشتکاری کرتا۔
GEN 2:6 لیکن زمین سے کُہر اُٹھتی تھی جو تمام رُوئے زمین کو سیراب کرتی تھی۔
GEN 2:7 یَاہوِہ خُدا نے زمین کی مٹّی سے اِنسان کو بنایا اَور اُس کے نتھنوں میں زندگی کا دَم پھُونکا اَور آدمؔ زندہ نَفس بنا۔
GEN 2:8 اَور یَاہوِہ خُدا نے مشرق کی جانِب عدنؔ میں ایک باغ لگایا اَور آدمؔ کو اُنہُوں نے بنایا تھا اَور وہاں رکھا۔
GEN 2:9 اَور یَاہوِہ خُدا نے زمین سے ہر قِسم کا درخت اُگایا جو دیکھنے میں خُوشنما اَور کھانے میں لذیذ تھا۔ اُس باغ کے درمیان زندگی کا درخت اَور نیک و بد کی پہچان کا درخت بھی تھا۔
GEN 2:10 عدنؔ سے ایک ندی نکلتی تھی جو اُس باغ کو سیراب کرتی ہُوئی چاروں ندیوں میں بٹ جاتی تھی۔
GEN 2:11 پہلی ندی کا نام پشونؔ ہے جو حَویلہؔ کی ساری زمین کو جہاں سونا ہوتاہے، گھیرے ہویٔے ہے۔
GEN 2:12 اُس زمین کا سونا عُمدہ ہوتاہے اَور وہاں موتی اَور سنگِ سُلیمانی بھی ہیں۔
GEN 2:13 دُوسری ندی کا نام گیحونؔ ہے جو کُوشؔ کی ساری زمین کو گھیرے ہویٔے ہے۔
GEN 2:14 تیسری ندی کا نام حِدیکیل ہے جو اشُور کے مشرق کو جاتی ہے اَور چوتھی ندی کا نام فراتؔ ہے۔
GEN 2:15 اَور یَاہوِہ خُدا نے آدمؔ کو باغِ عدنؔ میں رکھا تاکہ اُس کی باغبانی اَور نِگرانی کرے۔
GEN 2:16 اَور یَاہوِہ خُدا نے آدمؔ کو حُکم دیا، ”تُم اِس باغ کے کسی بھی درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتے ہو؛
GEN 2:17 لیکن تُم نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل ہرگز نہ کھانا، کیونکہ جَب تُم اُسے کھاؤگے تو یقیناً مَر جاؤگے۔“
GEN 2:18 یَاہوِہ خُدا نے فرمایا، ”آدمؔ کا اکیلا رہنا اَچھّا نہیں۔ مَیں ایک مددگار بناؤں گا جو اُس کا ہم شریک ہو۔“
GEN 2:19 تَب یَاہوِہ خُدا نے تمام جنگلی جانور اَور ہَوا کے سَب پرندے زمین پر بنائے اَور وہ اُنہیں آدمؔ کے پاس لے آئے، تاکہ دیکھیں کہ وہ اُن کے کیا نام رکھتا ہے؛ اَور آدمؔ نے ہر جاندار مخلُوق کو جِس نام سے پُکارا، وُہی اُس کا نام ٹھہرا۔
GEN 2:20 اِس طرح آدمؔ نے سبھی مویشیوں، ہَوا کے پرندوں اَور سارے جنگلی جانوروں کے نام رکھے۔ لیکن آدمؔ کے لیٔے اُس کی مانند کوئی مددگار نہ مِلا۔
GEN 2:21 تَب یَاہوِہ خُدا نے آدمؔ پر گہری نیند بھیجی؛ اَور جَب آدمؔ سو رہے تھے، تو یَاہوِہ نے آپ کی پسلیوں میں سے ایک پسلی نکال لی اَور اُس کی جگہ گوشت بھر دیا۔
GEN 2:22 تَب یَاہوِہ خُدا نے اُس پسلی سے جسے خُدا نے آدمؔ میں سے نکالا تھا، ایک عورت بنائی اَور وہ آدمؔ کے پاس لے آئے۔
GEN 2:23 آدمؔ نے فرمایا، ”اَب یہ میری ہڈّیوں میں سے ہڈّی، اَور میرے گوشت میں سے گوشت ہے؛ وہ ’ناری‘ کہلائے گی، کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی تھی۔“
GEN 2:24 اِس لیٔے مَرد اَپنے باپ اَور ماں سے جُدا ہوکر اَپنی بیوی کے ساتھ مِلا رہے گا اَور وہ دونوں ایک جِسم ہوں گے۔
GEN 2:25 اَور آدمؔ اَور اُن کی بیوی دونوں ننگے تھے، اَور شرماتے نہ تھے۔
GEN 3:1 یَاہوِہ خُدا نے جتنے جنگلی جانور بنائے تھے، سانپ اُن سَب سے عیّار تھا۔ اُس نے عورت سے کہا، ”کیا واقعی خُدا نے فرمایاہے کہ تُم باغ کے کسی درخت کا پھل نہ کھانا؟“
GEN 3:2 عورت نے سانپ سے کہا، ”ہم باغ کے درختوں کا پھل کھا سکتے ہیں،
GEN 3:3 لیکن خُدا نے یہ ضروُر فرمایاہے کہ جو درخت باغ کے درمیان ہے، ’اُس کا پھل مت کھانا بَلکہ اُسے چھُونا تک نہیں، ورنہ تُم مرجاؤگے۔‘ “
GEN 3:4 تَب سانپ نے عورت سے کہا، ”تُم ہرگز نہیں مروگے!
GEN 3:5 بَلکہ خُدا جانتا ہے کہ جِس دِن تُم اُسے کھاؤگے، تمہاری آنکھیں کھُل جایٔیں گی اَور تُم خُدا کی مانند نیکی اَور بدی کے جاننے والے بَن جاؤگے۔“
GEN 3:6 جَب عورت نے دیکھا کہ اُس درخت کا پھل کھانے کے لیٔے اَچھّا اَور دیکھنے میں خُوشنما اَور حِکمت پانے کے لیٔے خُوب مَعلُوم ہوتاہے، تو اُس نے اُس میں سے لے کر کھایا اَور اَپنے خَاوند کو بھی دیا، جو اُس کے ساتھ تھا اَور اُس نے بھی کھایا۔
GEN 3:7 تَب اُن دونوں کی آنکھیں کھُل گئیں اَور اُنہیں مَعلُوم ہُوا کہ وہ ننگے ہیں۔ اَور اُنہُوں نے اَنجیر کے پتّوں کو سِی کر اَپنے لیٔے پیش بند بنا لیٔے۔
GEN 3:8 تَب آدمؔ اَور اُن کی بیوی نے یَاہوِہ خُدا کی آواز سُنی جَب کہ وہ دِن ڈھلے باغ میں گھُوم رہے تھے اَور وہ یَاہوِہ خُدا کے حُضُوری سے باغ کے درختوں میں چھُپ گیٔے۔
GEN 3:9 لیکن یَاہوِہ خُدا نے آدمؔ کو پُکارا اَور پُوچھا، ”تُم کہاں ہو؟“
GEN 3:10 آدمؔ نے جَواب دیا، ”مَیں نے باغ میں آپ کی آواز سُنی اَور مَیں ڈر گیا کیونکہ مَیں ننگا تھا اِس لیٔے مَیں چھُپ گیا۔“
GEN 3:11 اَور یَاہوِہ نے فرمایا، ”تُمہیں کِس نے بتایا کہ تُم ننگے ہو؟ کیا تُم نے اُس درخت کا پھل کھایا ہے، جسے کھانے سے مَیں نے تُمہیں منع کیا تھا؟“
GEN 3:12 آدمؔ نے کہا، ”جِس عورت کو آپ نے یہاں میرے ساتھ رکھا ہے اُس نے مُجھے اُس درخت کا وہ پھل دیا اَور مَیں نے اُسے کھا لیا۔“
GEN 3:13 تَب یَاہوِہ خُدا نے عورت سے فرمایا، ”تُم نے یہ کیا کیا؟“ عورت نے کہا، ”سانپ نے مُجھے بہکایا اَور مَیں نے کھایا۔“
GEN 3:14 تَب یَاہوِہ خُدا نے سانپ سے کہا، ”چونکہ تُونے یہ کیا ہے، ”اِس لیٔے تُو گھریلو مویشیوں میں، اَور تمام جنگلی جانوروں میں ملعُون ٹھہرا! تُو اَپنے پیٹ کے بَل رینگے گا، اَور اَپنی عمر بھر خاک چاٹے گا۔
GEN 3:15 اَور مَیں تیرے اَور عورت کے درمیان، اَور تیری نَسل اَور اُس کی نَسل کے درمیان؛ عداوت ڈالوں گا؛ وہ تیرا سَر کُچلے گا، اَور تُو اُس کی اِیڑی پر کاٹے گا۔“
GEN 3:16 پھر خُدا نے عورت سے فرمایا، ”مَیں تمہارے دردِ حَمل کو بہت بڑھاؤں گا؛ تُو درد کے ساتھ بچّے جنے گی۔ اَور تیری رغبت اَپنے خَاوند کی طرف ہوگی، اَور وہ تُجھ پر حُکومت کرےگا۔“
GEN 3:17 اَور خُدا نے آدمؔ سے فرمایا، ”چونکہ تُم نے اَپنی بیوی کی بات مانی اَور اُس درخت کا پھل کھایا، ’جسے کھانے سے مَیں نے منع کیا تھا،‘ ”اِس لیٔے زمین تمہارے سبب سے ملعُون ٹھہری، تُم محنت اَور مشقّت کرکے عمر بھر اُس کی پیداوار کھاتے رہوگے۔
GEN 3:18 وہ تمہارے لیٔے کانٹے اَور اُونٹ کٹارے اُگائے گی، اَور تُم کھیت کی سبزیاں کھاؤگے۔
GEN 3:19 تُم اَپنے ماتھے کے پسینے کی روٹی کھاؤگے: جَب تک کہ تُم زمین میں پھر لَوٹ نہ جاؤ، اِس لیٔے کہ تُم اُسی میں سے نکالے گئے ہو؛ کیونکہ تُم خاک ہو اَور خاک ہی میں پھر لَوٹ جاؤگے۔“
GEN 3:20 آدمؔ نے اَپنی بیوی کا نام حوّاؔ رکھا، اِس لیٔے کہ وہ تمام زندوں کی ماں ہے۔
GEN 3:21 یَاہوِہ خُدا نے آدمؔ اَور اُن کی بیوی کے لیٔے چمڑے کے کُرتے بنا کر اُنہیں پہنا دئیے۔
GEN 3:22 اَور یَاہوِہ خُدا نے فرمایا، ”اَب آدمی نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا ہے۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ اَپنا ہاتھ بڑھائے اَور زندگی کے درخت سے بھی کچھ لے کر کھالے اَور ہمیشہ جیتا رہے۔“
GEN 3:23 لہٰذا یَاہوِہ خُدا نے اُسے باغِ عدنؔ سے نکال دیا تاکہ وہ اُس زمین کی، جِس میں سے وہ لیا گیا تھا کھیتی کرے۔
GEN 3:24 آدمؔ کو نکال دینے کے بعد خُدا نے باغِ عدنؔ کے مشرق کی طرف کروبیوں کو اَور چاروں طرف گھُومنے والی شُعلہ زن تلوار کو رکھا تاکہ وہ زندگی کے درخت کی طرف جانے والے راستہ کی حِفاظت کریں۔
GEN 4:1 اَور آدمؔ نے اَپنی بیوی حوّاؔ سے ہمبستری کی اَور وہ حاملہ ہُوئی، اَور حوّاؔ نے قائِنؔ کو پیدا کیا۔ حوّاؔ نے کہا، ”مُجھے یَاہوِہ کی طرف سے ایک فرزند عطا ہُواہے۔“
GEN 4:2 اُس کے بعد قائِنؔ کے بھایٔی ہابلؔ کو پیدا کیا۔ ہابلؔ بھیڑ بکریوں کا چرواہا تھا، اَور قائِنؔ کھیتی باڑی کرتا تھا۔
GEN 4:3 کچھ عرصہ کے بعد قائِنؔ زمین کی پیداوار میں سے یَاہوِہ کے لیٔے ہدیہ لایا۔
GEN 4:4 اَور ہابلؔ بھی اَپنی بھیڑ بکریوں کے چند پہلوٹھے بچّے اَور اُن کی چربی لے آیا، یَاہوِہ نے ہابلؔ اَور اُس کے ہدیہ کو قبُول کیا،
GEN 4:5 لیکن قائِنؔ اَور اُس کے ہدیہ کو منظُور نہیں کیا۔ لہٰذا قائِنؔ نہایت برہم ہُوا اَور اُس کا چہرہ اُتر گیا۔
GEN 4:6 تَب یَاہوِہ نے قائِنؔ سے فرمایا، ”تُو کیوں برہم ہو گیا اَور تیرا چہرہ کِس لیٔے اُترا ہُواہے؟
GEN 4:7 اگر تُو بھلا کرے تو کیا تُو مقبُول نہ ہوگا؟ لیکن اگر تُو بھلا نہ کرے، تو گُناہ تیرے دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے، اَور تُجھے دبوچ لینا چاہتاہے۔ لیکن تُجھے اُس پر غالب آنا چاہئے۔“
GEN 4:8 تَب قائِنؔ نے اَپنے بھایٔی ہابلؔ سے کہا، ”چلو ہم کھیت میں چلیں۔“ اَور جَب وہ کھیت میں تھے تو قائِنؔ نے اَپنے بھایٔی ہابلؔ پر حملہ کیا اَور اُسے قتل کر ڈالا۔
GEN 4:9 تَب یَاہوِہ نے قائِنؔ سے فرمایا، ”تیرا بھایٔی ہابلؔ کہاں ہے؟“ اُس نے کہا، ”مُجھے مَعلُوم نہیں۔ کیا مَیں اَپنے بھایٔی کا نگہبان ہُوں؟“
GEN 4:10 تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”تُونے یہ کیا کیا؟ تمہارے بھایٔی کا خُون زمین سے مُجھے پُکارتا ہے۔
GEN 4:11 اَب تُجھ پر لعنت ہے اَور جِس زمین نے تمہارے ہاتھ سے تمہارے بھایٔی کا خُون لینے کے لیٔے اَپنا مُنہ کھولا تھا، اُس نے تُجھے دھتکار دیا ہے۔
GEN 4:12 جَب تُو زمین کو جوتے گا، تو وہ تُجھے اَپنی پیداوار نہیں دے گی؛ اَور تُو بےچین ہوکر زمین پر مارا مارا پھرتا رہے گا۔“
GEN 4:13 قائِنؔ نے یَاہوِہ سے کہا، ”میری سزا میری برداشت سے باہر ہے۔
GEN 4:14 آج آپ مُجھے وطن سے نکال رہے ہیں اَور مَیں آپ کی حُضُوری سے روپوش ہو جاؤں گا اَور بےچین ہوکر رُوئے زمین پر مارا مارا پھرتا رہُوں گا اَورجو کویٔی مُجھے پایٔےگا، قتل کر ڈالے گا۔“
GEN 4:15 لیکن یَاہوِہ نے اُس سے فرمایا، ”اَیسا نہیں ہوگا، بَلکہ جو کویٔی قائِنؔ کو قتل کرےگا، اُس سے سات گُنا بدلہ لیا جائے گا۔“ تَب یَاہوِہ نے قائِنؔ پر ایک نِشان لگا دیا، تاکہ کویٔی اُسے پا کر قتل نہ کر دے۔
GEN 4:16 چنانچہ قائِنؔ یَاہوِہ کی حُضُوری سے نکل گیا اَور عدنؔ کے مشرق میں نودؔ کے علاقہ میں جا بسا۔
GEN 4:17 اَور قائِنؔ نے اَپنی بیوی سے ہمبستری کی اَور وہ حاملہ ہُوئی اَور اُس سے حنوخؔ پیدا ہُوا۔ تَب قائِنؔ نے ایک شہر بسایا اَور اُس کا نام اَپنے بیٹے کے نام پر حنوخؔ رکھا۔
GEN 4:18 حنوخؔ سے عیرادؔ پیدا ہُوا، اَور عیرادؔ سے مخُویاایلؔ پیدا ہُوا۔ اَور مخُویاایلؔ سے مِتھوشاایلؔ پیدا ہُوا، اَور مِتھوشاایلؔ سے لمکؔ پیدا ہُوا۔
GEN 4:19 لمکؔ نے دو عورتوں سے شادی کی، اُن میں سے ایک کا نام عدہؔ اَور دُوسری کا ضِلّہؔ تھا۔
GEN 4:20 عدہؔ کے ہاں یابلؔ پیدا ہُوا؛ وہ اُن کا باپ تھا جو خیموں میں رہتے تھے اَور مویشی پالتے تھے۔
GEN 4:21 اُس کے بھایٔی کا نام یُوبلؔ تھا۔ وہ اُن لوگوں کا باپ تھا جو بربط اَور بانسری بجاتے تھے۔
GEN 4:22 ضِلّہؔ کے ہاں بھی تُوبل قائِنؔ نامی بیٹا پیدا ہُوا جو کانسے اَور لوہے سے مُختلف قِسم کے اوزار بناتا تھا۔ نعمہؔ، تُوبل قائِنؔ کی بہن تھی۔
GEN 4:23 لمکؔ نے اَپنی بیویوں سے کہا، ”اَے عدہؔ اَور ضِلّہؔ! میری بات سُنو؛ اَے لمکؔ کی بیویو! میرے سُخن پر کان لگاؤ؛ مَیں نے ایک آدمی کو جِس نے مُجھے زخمی کیا تھا، مار ڈالا ہے، اَور چوٹ کھا کر ایک جَوان کو قتل کر دیا۔
GEN 4:24 اگر قائِنؔ کا بدلہ سات گُنا لیا جائے گا، تو لمکؔ کا ستّر اَور سات گُنا۔“
GEN 4:25 اَور آدمؔ پھر اَپنی بیوی کے پاس گیا اَور اُن کے یہاں بیٹا پیدا ہُوا اَور اُس کا نام شیتؔ رکھا اَور کہا، ”خُدا نے مُجھے ہابلؔ کی جگہ جسے قائِنؔ نے قتل کیا، دُوسرا فرزند عطا فرمایا۔“
GEN 4:26 شیتؔ کے ہاں بھی ایک بیٹا پیدا ہُوا اَور اُس نے اُس کا نام انُوشؔ رکھا۔ اُس وقت سے لوگ یَاہوِہ کا نام لے کر دعا کرنے لگے۔
GEN 5:1 آدمؔ کا شجرہ نَسب یہ ہے: جَب خُدا نے اِنسان کو پیدا کیا، تو خُدا نے اُسے خُدا کی صورت پر بنایا۔
GEN 5:2 خُدا نے اِنسان کو مَرد اَور عورت کرکے پیدا کیا اَور اُنہیں برکت دی اَور جَب وہ خلق کئے گیٔے تو اُن کا نام آدمؔ رکھا۔
GEN 5:3 جَب آدمؔ ایک سَو تیس بَرس کے ہویٔے تَب اُن کے یہاں اُس کی مانند اَور اُس کی اَپنی صورت پر ایک بیٹا پیدا ہُوا اَور اُس نے اُس کا نام شیتؔ رکھا۔
GEN 5:4 شیتؔ کی پیدائش کے بعد آدمؔ آٹھ سَو بَرس تک زندہ رہے اَور اُن کے یہاں اَور بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 5:5 آدمؔ پُورے نَو سَو تیس بَرس تک زندہ رہے اَور پھر اُن کی وفات ہوئی۔
GEN 5:6 شیتؔ ایک سَو پانچ بَرس کے تھے جَب اُن کے یہاں انُوشؔ پیدا ہُوا۔
GEN 5:7 اَور انُوشؔ کی پیدائش کے بعد شیتؔ آٹھ سَو سات بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں اَور بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 5:8 شیتؔ نے پُورے نَو سَو بَارہ بَرس زندہ رہنے کے بعد وفات پائی۔
GEN 5:9 انُوشؔ نوّے بَرس کے ہویٔے تَب اُن کے یہاں قینانؔ پیدا ہُوا۔
GEN 5:10 اَور قینانؔ کی پیدائش کے بعد انُوشؔ آٹھ سَو پندرہ بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں اَور بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 5:11 انُوشؔ کی کُل عمر نَو سَو پانچ بَرس کی ہُوئی اَور تَب وہ مَر گئے۔
GEN 5:12 جَب قینانؔ ستّر بَرس کا تھا تَب اُن کے یہاں مہلل ایل پیدا ہُوا۔
GEN 5:13 اَور مہلل ایل کی پیدائش کے بعد قینانؔ آٹھ سَو چالیس بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں اَور بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 5:14 قینانؔ کی کُل عمر نَو سَو دس بَرس کی ہُوئی اَور تَب وہ مَر گئے۔
GEN 5:15 جَب مہلل ایل پَینسٹھ بَرس کا تھا تَب اُن کے یہاں یاردؔ پیدا ہُوا۔
GEN 5:16 اَور یاردؔ کی پیدائش کے بعد مہلل ایل آٹھ سَو تیس بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں اَور بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 5:17 مہلل ایل کی کُل عمر آٹھ سَو پچانوے بَرس کی ہُوئی اَور تَب وہ مَر گئے۔
GEN 5:18 جَب یاردؔ ایک سَو باسٹھ بَرس کا تھا تَب اُن کے یہاں حنوخؔ پیدا ہُوا
GEN 5:19 اَور حنوخؔ کی پیدائش کے بعد یاردؔ آٹھ سَو بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں اَور بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 5:20 یاردؔ کی کُل عمر نَو سَو باسٹھ بَرس کی ہُوئی اَور تَب وہ مَر گئے۔
GEN 5:21 جَب حنوخؔ پَینسٹھ بَرس کا تھا تَب اُن کے یہاں متُوسِلحؔ پیدا ہُوا۔
GEN 5:22 اَور متُوسِلحؔ کی پیدائش کے بعد حنوخؔ تین سَو بَرس تک خُدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اَور اُن کے یہاں اَور بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 5:23 حنوخؔ کی کُل عمر تین سَو پَینسٹھ بَرس کی ہُوئی۔
GEN 5:24 حنوخؔ خُدا کے ساتھ ساتھ وفاداری سے چلتے رہے اَور پھر وہ نظروں سے غائب ہو گئے کیونکہ خُدا نے اُنہیں آسمان پر زندہ اُٹھالیا تھا۔
GEN 5:25 جَب متُوسِلحؔ ایک سَو ستاسی بَرس کے ہویٔے تَب اُن کے یہاں لمکؔ پیدا ہُوا۔
GEN 5:26 اَور لمکؔ کی پیدائش کے بعد متُوسِلحؔ سات سَو بیاسی بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں اَور بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 5:27 متُوسِلحؔ کی کُل عمر نَو سَو اُنہتّر بَرس کی ہُوئی اَور تَب وہ مرگیا۔
GEN 5:28 جَب لمکؔ ایک سَو بیاسی بَرس کے ہویٔے تَب اُن کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہُوا۔
GEN 5:29 اُس نے اُس کا نام نوحؔا رکھا اَور کہا، ”یہ ہمیں اَپنے ہاتھوں کی محنت اَور مشقّت سے جو ہم اِس زمین پر کرتے ہیں، جسے یَاہوِہ نے ملعُون قرار دیا، آرام دے گا۔“
GEN 5:30 نوحؔا کی پیدائش کے بعد لمکؔ پانچ سَو پچانوے بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں اَور بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 5:31 لمکؔ کی عمر سات سَو ستہتّر بَرس کی ہُوئی اَور تَب وہ مَر گئے۔
GEN 5:32 اَور نوحؔا پانچ سَو بَرس کے تھے جَب اُن کے یہاں شِمؔ، حامؔ اَور یافیتؔ پیدا ہویٔے۔
GEN 6:1 جَب رُوئے زمین پر اِنسانوں کی تعداد بڑھنے لگی اَور اُن کے بیٹیاں پیدا ہُوئیں،
GEN 6:2 تو خُدا کے بیٹوں نے دیکھا کہ آدمیوں کی بیٹیاں خُوبصورت ہیں، اَور اُنہُوں نے جِن جِن کو چُنا اُن سے شادی کرلی۔
GEN 6:3 تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”میری رُوح اِنسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے گی کیونکہ وہ فانی ہے۔ اُس کی عمر ایک سَو بیس بَرس کی ہوگی۔“
GEN 6:4 اُن دِنوں میں زمین پر بڑے قدآور اَور مضبُوط لوگ مَوجُود تھے بَلکہ بعد میں بھی تھے، جَب خُدا کے بیٹے اِنسانوں کی بیٹیوں کے پاس گیٔے اَور اُن سے اَولاد پیدا ہُوئی۔ یہ قدیم زمانہ کے سُورما اَور بڑے نامور لوگ تھے۔
GEN 6:5 یَاہوِہ نے دیکھا کہ زمین پر اِنسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے، اَور اِنسانی دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں۔
GEN 6:6 یَاہوِہ کو افسوس ہُوا کہ اُنہُوں نے زمین پر اِنسان کو پیدا کیا اَور اُن کا دِل غم سے بھر گیا۔
GEN 6:7 چنانچہ یَاہوِہ نے فرمایا، ”مَیں اِنسان کو جسے مَیں نے پیدا کیا، رُوئے زمین پر سے مٹا دُوں گا بَلکہ سَب کو خواہ وہ اِنسان ہُوں یا جانور؛ خواہ وہ زمین پر رینگنے والے جانور ہُوں اَور ہَوا کے پرندے۔ مُجھے افسوس ہے کہ مَیں نے اُنہیں بنایا۔“
GEN 6:8 لیکن نوحؔا یَاہوِہ کی نظر میں مقبُول ہُوا۔
GEN 6:9 نوحؔا کے خاندانی حالات یُوں ہیں: نوحؔا راستباز اِنسان تھا اَور اَپنے زمانہ کے لوگوں میں بے عیب تھا اَور وہ خُدا کے ساتھ ساتھ وفاداری سے چلتا تھا۔
GEN 6:10 نوحؔا کے تین بیٹے تھے: شِمؔ، حامؔ اَور یافیتؔ۔
GEN 6:11 اَب زمین خُدا کی نگاہ میں بگڑ چُکی تھی اَور ظُلم و تشدّد سے بھری ہُوئی تھی۔
GEN 6:12 خُدا نے دیکھا کہ زمین بہت بگڑ چُکی ہے، کیونکہ زمین پر سَب لوگوں نے اَپنے ضوابط بِگاڑ لیٔے تھے۔
GEN 6:13 چنانچہ خُدا نے نوحؔا سے فرمایا، ”مَیں سَب لوگوں کا خاتِمہ کرنے کو ہُوں، کیونکہ زمین اُن کی وجہ سے ظُلم سے بھر گئی ہے۔ اِس لیٔے مَیں یقیناً نَوع اِنسان اَور زمین دونوں کو تباہ کر ڈالوں گا۔
GEN 6:14 لہٰذا تُم صنوبر کی لکڑی کا ایک جہاز بناؤ؛ اُس میں کمرے بنانا اَور اُسے اَندر اَور باہر سے رال سے پوت دینا۔
GEN 6:15 تُم اَیسا کرنا کہ جہاز کی تین سَو ہاتھ لمبائی، پچاس ہاتھ چوڑائی اَور تیس ہاتھ اُونچائی ہو۔
GEN 6:16 جہاز کی چھت سے لے کر ہاتھ بھر نیچے تک روشندان بنانا۔ جہاز کے اَندر تین درجے بنانا نِچلا، درمیانی اَور بالائی، اَور جہاز کا دروازہ جہاز کے پہلو میں رکھنا۔
GEN 6:17 دیکھو مَیں زمین پر سیلابی پانی لانے والا ہُوں تاکہ آسمان کے نیچے کا ہر جاندار یعنی ہر وہ مخلُوق جِس میں زندگی کا دَم ہے، ہلاک ہو جائے۔ سَب جو رُوئے زمین پر ہیں، مَر جایٔیں گے۔
GEN 6:18 لیکن تمہارے ساتھ مَیں اَپنا عہد باندھوں گا اَور تُم جہاز میں داخل ہوگے۔ تُم اَور تمہارے ساتھ تمہارے بیٹے اَور تمہاری بیوی اَور تمہارے بیٹوں کی بیویاں۔
GEN 6:19 اَور تمہارے تمام حَیوانات میں سے دو دو کو، جو نر اَور مادہ ہُوں، جہاز میں لے آنا تاکہ وہ تمہارے ساتھ زندہ بچ جائیں۔
GEN 6:20 ہر ایک اَپنی اَپنی جنس کے پرندے، جانوروں اَور زمین پر رینگنے والے جانداروں میں سے دو دو اَپنی اَپنی جنس کے تمہارے پاس آئیں تاکہ وہ بھی زندہ بچ جائیں۔
GEN 6:21 اَور تُم ہر طرح کی کھانے والی چیز لے کر اَپنے پاس جمع کر لینا تاکہ وہ تمہارے اَور اُن کے لیٔے خُوراک کا کام دے۔“
GEN 6:22 نوحؔا نے ہر کام ٹھیک اُسی طرح کیا جَیسا خُدا نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
GEN 7:1 تَب، یَاہوِہ نے نوحؔا سے فرمایا، ”تُم اَپنے پُورے خاندان کے ساتھ جہاز میں چلے جانا کیونکہ مَیں نے اِس پُشت میں تُمہیں ہی راستباز پایا ہے۔
GEN 7:2 تُم تمام پاک جانوروں میں سے سات سات نر، اَور مادہ اَور ناپاک جانوروں میں سے ایک ایک نر اَور مادہ ساتھ لے لینا،
GEN 7:3 اَور ہر قِسم کے پرندوں میں سے سات سات نر اَور مادہ بھی لینا، تاکہ اُن کی مُختلف نَسلیں زمین پر باقی رہیں۔
GEN 7:4 مَیں سات دِن کے بعد زمین پر چالیس دِن اَور چالیس رات پانی برساؤں گا، اَور ہر اُس جاندار شَے کو جسے مَیں نے بنایا ہے، مٹا دُوں گا۔“
GEN 7:5 اَور نوحؔا نے وہ سَب کیا جِس کا یَاہوِہ نے حُکم دیا تھا۔
GEN 7:6 نوحؔا چھ سَو بَرس کے تھے، جَب زمین پر سیلابی پانی آیا۔
GEN 7:7 اَور نوحؔا اَور آپ کے بیٹے اَور آپ کی بیوی اَور آپ کے بیٹوں کی بیویاں سیلابی پانی سے بچنے کے لیٔے جہاز میں داخل ہو گئے۔
GEN 7:8 پاک اَور ناپاک دونوں قِسم کے جانوروں، پرندوں اَور زمین پر رینگنے والے جانوروں کے دو دو،
GEN 7:9 نر اَور مادہ، خُدا کے دئیے گیٔے حُکم کے مُطابق نوحؔا کے پاس آئے اَور جہاز میں داخل ہویٔے۔
GEN 7:10 اَور سات دِن کے بعد سیلابی پانی زمین پر آ گیا۔
GEN 7:11 جَب نوحؔا کی عمر کے چھ سَوویں بَرس کے دُوسرے مہینے کی سترھویں تاریخ تھی، اُس دِن زمین کے نیچے سے سارے چشمے پھوٹ نکلے اَور آسمانی سیلاب کے دروازے کھُل گیٔے۔
GEN 7:12 اَور زمین پر چالیس دِن اَور چالیس رات لگاتار مینہ برستا رہا۔
GEN 7:13 اُسی دِن نوحؔا اَور اُن کی بیوی اَپنے تین بیٹوں، شِمؔ، حامؔ اَور یافیتؔ اَور اُن کی بیویوں سمیت جہاز میں داخل ہویٔے۔
GEN 7:14 اَور ہر جنس کے چُھوٹے بڑے جنگلی جانور، مویشی، زمین پر رینگنے والے جانور، پرندے اَور پروں والے جاندار اُن کے ساتھ تھے۔
GEN 7:15 یہ تمام جوڑے، جِن میں زندگی کا دَم تھا نوحؔا کے پاس آئے اَور جہاز میں داخل ہو گئے۔
GEN 7:16 نوحؔا کو خُدا کے دئیے گیٔے حُکم کے مُطابق، جو جاندار اَندر آئے، وہ نر اَور مادہ تھے۔ تَب یَاہوِہ نے جہاز کا دروازہ بند کر دیا۔
GEN 7:17 چالیس دِن تک زمین پر سیلاب جاری رہا اَور جُوں جُوں پانی چڑھتا گیا، جہاز زمین سے اُوپر اُٹھتا چلا گیا۔
GEN 7:18 پانی زمین پر چڑھتا گیا، اَور بہت ہی بڑھ گیا اَور جہاز پانی کی سطح پر تیرتا رہا۔
GEN 7:19 پانی زمین پر اِس قدر چڑھ گیا کہ سارے آسمان کے نیچے کے تمام اُونچے اُونچے پہاڑ ڈُوب گیٔے۔
GEN 7:20 پانی بڑھتے بڑھتے پہاڑوں سے بھی پندرہ ہاتھ اُوپر چڑھ گیا۔
GEN 7:21 زمین پر ہر پرندہ، ہر مویشی، جنگلی جانور اَور ہر اِنسان گویا ہر جاندار فنا ہو گیا۔
GEN 7:22 خُشکی پر کی ہر شَے جِس کے نتھنوں میں زندگی کا دَم تھا مَر گئی۔
GEN 7:23 یَاہوِہ نے رُوئے زمین پر کی ہر جاندار شَے مٹا دی، کیا اِنسان، کیا حَیوان، کیا زمین پر رینگنے والے جاندار اَور کیا ہَوا میں اُڑنے والے پرندے، سَب کے سَب نابود ہو گئے۔ صِرف نوحؔا باقی بچے اَور وہ جو اُن کے ساتھ جہاز میں تھے۔
GEN 7:24 اَور سیلابی پانی زمین پر ایک سَو پچاس دِن تک چڑھتا رہا۔
GEN 8:1 لیکن خُدا نے نوحؔا اَور تمام جنگلی جانوروں اَور مویشیوں کو، جو اُن کے ساتھ جہاز میں تھے یاد رکھا اَور خُدا نے زمین پر ہَوا چلائی اَور پانی کم ہو گیا۔
GEN 8:2 اَب زمین کے نیچے کے چشمے اَور آسمانی سیلاب کے دروازے بند کر دئیے گیٔے، اَور آسمان سے مینہ کا برسنا تھم گیا۔
GEN 8:3 اَور پانی رفتہ رفتہ زمین پر سے ہٹتا گیا اَور ایک سَو پچاس دِن کے بعد بہت کم ہو گیا،
GEN 8:4 اَور ساتویں مہینے کے سترھویں دِن جہاز اراراطؔ کے پہاڑوں میں ایک چوٹی پر ٹِک گیا۔
GEN 8:5 دسویں مہینے تک پانی گھٹتا رہا اَور دسویں مہینے کے پہلے دِن پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آنے لگیں۔
GEN 8:6 چالیس دِن کے بعد نوحؔا نے جہاز کی کھڑکی کو کھول دیا جو اُنہُوں نے بنائی تھی
GEN 8:7 اُنہُوں نے ایک کوّے کو باہر اُڑا دیا، جو زمین پر کے پانی کے سُوکھ جانے تک اِدھر اُدھر اُڑتا رہا۔
GEN 8:8 تَب اُنہُوں نے ایک فاختہ کو اُڑایا تاکہ یہ دیکھے کہ زمین پر سے پانی ہٹا ہے یا نہیں۔
GEN 8:9 لیکن اُس فاختہ کو اَپنے پنجے ٹیکنے کو جگہ نہ مِل سکی کیونکہ ابھی تمام رُوئے زمین پر پانی مَوجُود تھا۔ چنانچہ وہ نوحؔا کے پاس جہاز میں لَوٹ آئی۔ تَب اُنہُوں نے اَپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے تھام لیا اَور جہاز کے اَندر اَپنے پاس لے آئے۔
GEN 8:10 مزید سات دِن اِنتظار کرنے کے بعد اُنہُوں نے پھر سے اُس فاختہ کو جہاز سے باہر بھیجا۔
GEN 8:11 شام کو جَب وہ فاختہ اُن کے پاس لَوٹی تو اُس کی چونچ میں زَیتُون کی ایک تازہ پتّی تھی! تَب نوحؔا جان گئے کہ پانی زمین پر کم ہو گیا ہے۔
GEN 8:12 وہ سات دِن اَور رُکے اَور فاختہ کو ایک بار پھر اُڑایا لیکن اَب کی بار وہ اُن کے پاس لَوٹ کر نہ آئی۔
GEN 8:13 نوحؔا کی عمر کے چھ سَو ایک بَرس کے پہلے مہینے کے پہلے دِن زمین پر مَوجُود پانی سُوکھ گیا۔ تَب نوحؔا نے جہاز کی چھت کھولی اَور دیکھا کہ زمین کی سطح خشک ہو چُکی ہے۔
GEN 8:14 اَور دُوسرے مہینے کے ستّائیسویں دِن تک زمین بالکُل سُوکھ گئی۔
GEN 8:15 تَب خُدا نے نوحؔا سے کہا،
GEN 8:16 ”تُم اَپنی بیوی اَور اَپنے بیٹوں اَور اُن کی بیویوں سمیت جہاز سے باہر نکل آؤ
GEN 8:17 اَور اَپنے ساتھ سارے حَیوانات کو بھی نکال لاؤ جو تمہارے ساتھ ہیں یعنی پرندے، جانور اَور زمین پر رینگنے والے سَب جاندار، تاکہ زمین پر اُن کی نَسل خُوب بڑھے، وہ پھُولیں، پھلیں اَور اُن کی تعداد بہت زِیادہ ہو جائے۔“
GEN 8:18 چنانچہ نوحؔا اَپنے بیٹوں، اَپنی بیوی اَور اَپنے بیٹوں کی بیویوں سمیت باہر نکلے۔
GEN 8:19 اَور تمام قِسم کے جانور اَور زمین پر رینگنے والے جاندار، سَب پرندے اَور ہر وہ شَے جو زمین پر چلتی پھرتی ہے، اَپنی اَپنی جنس کے مُطابق جہاز سے باہر نکل آئے۔
GEN 8:20 تَب نوحؔا نے یَاہوِہ کے لیٔے ایک مذبح بنایا اَور سَب پاک چرندوں اَور پرندوں میں سے چند کو لے کر اُس مذبح پر سوختنی نذر کی قُربانیاں چڑھائیں۔
GEN 8:21 جَب اُن کی فرحت بخش خُوشبو یَاہوِہ تک پہُنچی تو یَاہوِہ نے دِل ہی دِل میں کہا، ”مَیں اِنسان کے سبب سے پھر کبھی زمین پر لعنت نہ بھیجوں گا۔ حالانکہ اُس کے دِل کا ہر خیال بچپن ہی سے بدی کی طرف مائل ہوتاہے، اَور آئندہ کبھی تمام جانداروں کو ہلاک نہ کروں گا جَیسا مَیں نے کیا۔
GEN 8:22 ”جَب تک زمین قائِم ہے، تَب تک بیج بونے اَور فصل کاٹنے کے اوقات، خنکی اَور حرارت، گرمی اَور سردی، اَور دِن اَور رات، کبھی موقُوف نہ ہوں گے۔“
GEN 9:1 پھر خُدا نے نوحؔا اَور اُن کے بیٹوں کو یہ کہہ کر برکت دی، ”پھُولو پھلو اَور تعداد میں بڑھو اَور زمین کو معموُر کرو۔
GEN 9:2 زمین کے تمام حَیوانات اَور ہَوا کے سَب پرندوں پر تمہارا رُعب اَور ڈر چھایا رہے گا، اَور ہر رینگنے والا جاندار اَور سمُندر کی سَب مچھلیاں تمہارے ہاتھ میں دی گئی ہیں۔
GEN 9:3 ہر شَے جو زندہ ہے اَور چلتی پھرتی ہے، تمہاری خُوراک کے لیٔے ہے۔ مَیں نے سبز پَودوں کی طرح تُمہیں سَب کا سَب دے دیا ہے۔
GEN 9:4 ”لیکن تُم وہ گوشت جِس میں جان کا خُون باقی ہو ہرگز نہ کھانا۔
GEN 9:5 اَور مَیں تمہارے خُون کا بدلہ ضروُر لُوں گا۔ مَیں ہر جانور سے بدلہ لُوں گا۔ ہر ایک اِنسان کے خُون کا بدلہ اِنسان سے لُوں گا۔
GEN 9:6 ”جو کویٔی اِنسان کا خُون کرےگا، اُس کا خُون اِنسان ہی کے ہاتھوں سے ہوگا؛ کیونکہ خُدا نے اِنسان کو اَپنی صورت پر بنایا۔
GEN 9:7 اَور تُم پھُولو، پھلو اَور تعداد میں بڑھو؛ زمین پر اَپنی نَسل بڑھاؤ۔“
GEN 9:8 تَب خُدا نے نوحؔا اَور اُن کے بیٹوں سے کہا،
GEN 9:9 ”اَب مَیں تُم سے اَور تمہارے بعد تمہاری نَسل سے عہد کرتا ہُوں
GEN 9:10 اَور اِس کے علاوہ سَب جانداروں سے جو تمہارے ساتھ ہیں، کیا پرندے، کیا مویشی اَور کیا سَب جنگلی جانور جو تمہارے ساتھ جہاز سے باہر نکلے یعنی زمین پر مَوجُود ہر جاندار سے عہد کرتا ہُوں۔
GEN 9:11 مَیں تُم سے عہد کرتا ہُوں کہ پھر کبھی کویٔی جاندار سیلابی پانی سے ہلاک نہ ہوگا اَور نہ ہی زمین کو تباہ کرنے کے لیٔے پھر کبھی سیلاب آئے گا۔“
GEN 9:12 اَور خُدا نے فرمایا، ”اَورجو عہد مَیں اَپنے اَور تمہارے اَور ہر جاندار کے درمیان باندھتا ہُوں جو تمہارے ساتھ ہیں، اَورجو عہد آنے والی پُشتوں کے لیٔے ہے، اُس کا نِشان یہ ہے:
GEN 9:13 مَیں نے بادلوں میں اَپنی قوسِ قُزح کو قائِم کیا ہے، اَور وہ میرے اَور زمین کے درمیان عہد کا نِشان ہوگی۔
GEN 9:14 جَب کبھی مَیں زمین پر بادل لاؤں اَور اُن بادلوں میں قوسِ قُزح دِکھائی دے،
GEN 9:15 تو مَیں اَپنے اِس عہد کو یاد کروں گا، جو میرے تمہارے اَور ہر قِسم کے جانداروں کے درمیان ہے، پانی پھر کبھی سیلاب کی شکل اِختیار نہ کرےگا کہ سَب جاندار ہلاک ہو جایٔیں۔
GEN 9:16 جَب کبھی بادلوں میں قوسِ قُزح نموُدار ہوگی، مَیں اُسے دیکھوں گا اَور اِس اَبدی عہد کو یاد کروں گا جو خُدا کے اَور زمین کے سَب طرح کے جانداروں کے درمیان ہے۔“
GEN 9:17 پس خُدا نے نوحؔا سے کہا، ”یہ اُس عہد کا نِشان ہے جو مَیں نے اَپنے اَور زمین پر مَوجُود سارے جانداروں کے درمیان قائِم کیا ہے۔“
GEN 9:18 نوحؔا کے بیٹے جو جہاز سے باہر آئےتھے شِمؔ، حامؔ اَور یافیتؔ تھے۔ (حامؔ کنعانؔ کا باپ تھا۔)
GEN 9:19 نوحؔا کے یہی تین بیٹے تھے اَور اُن کی نَسل ساری زمین پر پھیل گئی۔
GEN 9:20 نوحؔا نے کاشتکاری شروع کی اَور انگور کا ایک باغ لگایا۔
GEN 9:21 جَب نوحؔا نے اُس کا کچھ انگوری شِیرہ پیا تو متوالے ہو گئے، اَور اَپنے خیمہ میں ننگے ہی جا پڑے۔
GEN 9:22 کنعانؔ کے باپ حامؔ نے اَپنے باپ کو ننگا دیکھا اَور باہر آکر اَپنے دونوں بھائیوں کو بتایا۔
GEN 9:23 تَب شِمؔ اَور یافیتؔ نے ایک کپڑا لیا، اَور اُسے اَپنے کندھوں پر رکھ پچھلے پاؤں اَندر گیٔے اَور اَپنے باپ کے ننگے بَدن کو ڈھانک دیا۔ اُنہُوں نے اَپنے مُنہ دُوسری طرف کئے ہویٔے تھے اِس لیٔے وہ اَپنے باپ کی برہنگی کو نہ دیکھ سکے۔
GEN 9:24 جَب انگوری شِیرے کا نشہ اُترا اَور نوحؔا ہوش میں آئے اَور اُن کو پتا چلا کہ اُن کے چُھوٹے بیٹے نے اُن کے ساتھ کیا کیا،
GEN 9:25 تو نوحؔا نے فرمایا، ”کنعانؔ ملعُون ہو! اَور وہ اَپنے بھائیوں کے غُلاموں کا غُلام ہوگا۔“
GEN 9:26 اُنہُوں نے یہ بھی کہا، ”یَاہوِہ شِمؔ کا خُدا مُبارک ہو! اَور کنعانؔ شِمؔ کا غُلام ہو۔
GEN 9:27 خُدا یافیتؔ کو وسعت دے؛ اَور یافیتؔ، شِمؔ کے خیموں میں بسے، اَور کنعانؔ اُس کا غُلام ہو۔“
GEN 9:28 سیلاب کے بعد نوحؔا ساڑھے تین سَو بَرس تک اَور زندہ رہے۔
GEN 9:29 نوحؔا کی کُل عمر ساڑھے نَو سَو بَرس کی ہویٔی، اَور تَب اُن کی وفات ہوئی۔
GEN 10:1 نوحؔا کے بیٹوں، شِمؔ، حامؔ اَور یافیتؔ جِن کے یہاں سیلاب کے بعد بیٹے پیدا ہویٔے، شجرہ نَسب یہ ہے:
GEN 10:2 بنی یافیتؔ یہ ہیں: گومرؔ، ماگوگؔ، مِدائی، یاوانؔ، تُوبل، میشکؔ اَور تیِراسؔ تھے۔
GEN 10:3 بنی گومرؔ یہ ہیں: اشکِنازؔ، ریفتؔ اَور توغرمہؔ۔
GEN 10:4 بنی یاوانؔ یہ ہیں: اِلیشہؔ، ترشیشؔ، کِتّیمؔ اَور دودانیمؔ۔
GEN 10:5 (بحری جزیروں کے باشِندے اِن ہی کی نَسل سے ہیں، وہ اَپنی اَپنی قوموں کے درمیان مُختلف برادریوں میں تقسیم ہو گئے، اَور مُختلف مُلکوں میں پھیل گیٔے اَور ہر ایک اَپنی زبان بولتا تھا۔)
GEN 10:6 بنی حامؔ یہ ہیں: کُوشؔ، مِصر، فُوطؔ اَور کنعانؔ۔
GEN 10:7 بنی کُوشؔ یہ ہیں: سیبا، حَویلہؔ، سبتہؔ، رعماہؔ اَور سبتیکا۔ بنی رعماہؔ یہ ہیں: شیبا اَور دِدانؔ۔
GEN 10:8 کُوشؔ نِمرودؔ کا باپ تھا، جو رُوئے زمین پر پہلا زبردست سُورما کے طور پر مشہُور ہُوا۔
GEN 10:9 وہ خُدا کے سامنے ایک زبردست شِکاری تھا، اِسی لیٔے یہ مثل مشہُور ہو گئی، ”یَاہوِہ کے سامنے نِمرودؔ سا شِکاری سُورما!“
GEN 10:10 اُس کی بادشاہی کی اِبتدا مُلک شِنعاؔر سے ہُوئی جِن میں بابیل، اِریؔخ، اکّادؔ اَور کَلنہؔ واقع تھے۔
GEN 10:11 اُس مُلک سے نکل کر وہ اشُور چلا گیا جہاں اُس نے کیٔی شہر بسائے مثلاً نینوہؔ، رحوبوتھؔ عیرؔ، کلحؔ
GEN 10:12 اَور رسنؔ جو نینوہؔ اَور کلحؔ کے درمیان بہت بڑا شہر ہے۔
GEN 10:13 بنی مِصر لُودیؔم، عنامیمؔ، لہابیمؔ، نفتوحیؔم،
GEN 10:14 فتروسیم، کسلوحیم (جِن سے فلسطینی نکلے) اَور کفتُوری پیدا ہویٔے۔
GEN 10:15 بنی کنعانؔ اُس کا پہلوٹھا صیدونؔ پیدا ہُوا اَور حِتّی،
GEN 10:16 اَور یبُوسی، امُوری، گِرگاشی،
GEN 10:17 اَور حِوّیؔ، عَرکی، سیِنی
GEN 10:18 اَور اَروادیؔ، ضِماریؔ اَور حماتیؔ پیدا ہویٔے۔ (بعد میں کنعانی برادری بھی پھیل گئی
GEN 10:19 اَور کنعانیوں کی حُدوُد صیدونؔ سے گِراؔر کی طرف غزّہؔ تک اَور پھر سدُومؔ، عمورہؔ، اَدمہؔ اَور ضبوئیمؔ کی طرف لشعؔ تک پہُنچ گئیں۔)
GEN 10:20 بنی حامؔ یہی ہیں جو اَپنی برادریوں اَور زبانوں کے مُطابق اَپنے اَپنے مُلکوں اَور قوموں میں آباد ہیں۔
GEN 10:21 پھر شِمؔ کے ہاں جِس کا بڑا بھایٔی یافیتؔ تھا اَولاد ہُوئی۔ شِمؔ تمام بنی عِبرؔ کا باپ تھا۔
GEN 10:22 بنی شِمؔ یہ ہیں: عیلامؔ، اشُور، اَرفاکسَدؔ، لُودؔ اَور ارام۔
GEN 10:23 بنی ارام یہ ہیں: عُوضؔ، حُولؔ، گیتھرؔ اَور ماش۔
GEN 10:24 اَرفاکسَدؔ شِلحؔ کا باپ تھا اَور شِلحؔ عِبرؔ کا باپ تھا۔
GEN 10:25 عِبرؔ کے ہاں دو بیٹے پیدا ہویٔے: ایک کا نام پِلِگ یعنی تقسیم تھا کیونکہ اُس کے ایّام میں زمین تقسیم ہُوئی اَور اُس کے بھایٔی کا نام یُقطانؔ تھا۔
GEN 10:26 بنی یُقطانؔ سے اَلمُودادؔ، شِلفؔ، حَصارمِبیتؔھ، یِراحؔ،
GEN 10:27 ہَدورامؔ، اُوزالؔ، دِقلہؔ،
GEN 10:28 عُبالؔ، اَبی ماایلؔ، شیبا،
GEN 10:29 اوفیرؔ، حَویلہؔ اَور یُوبابؔ پیدا ہویٔے۔ یہ سَب یُقطانؔ کے بیٹے تھے۔
GEN 10:30 اَور جِس علاقہ میں وہ بستے تھے وہ میشاؔ سے لے کر مشرق میں پہاڑی علاقہ سِفارؔ تک پھیلا ہُوا تھا۔
GEN 10:31 بنی شِمؔ یہی ہیں جو اَپنی برادریوں اَور زبانوں کے مُطابق اَپنے اَپنے مُلکوں اَور قوموں میں آباد ہیں۔
GEN 10:32 نوحؔا کے بیٹوں کے خاندان اَپنی برادریوں اَور نَسلوں کے مُطابق یہی ہیں اَور سیلاب کے بعد یہی لوگ مُختلف قوموں میں تقسیم ہوکر زمین پر پھیل گیٔے۔
GEN 11:1 ساری زمین پر ایک ہی زبان اَور ایک ہی بولی تھی۔
GEN 11:2 جَب لوگ مشرق کی طرف بڑھے تو اُنہیں مُلک شِنعاؔر میں ایک میدان مِلا اَور وہ وہاں بس گیٔے۔
GEN 11:3 اُنہُوں نے آپَس میں کہا، ”آؤ ہم اینٹیں بنائیں، اَور اُنہیں آگ میں خُوب تپائیں۔“ پس وہ پتّھر کی بجائے اینٹ اَور چُونے کی بجائے گارا اِستعمال کرنے لگے۔
GEN 11:4 پھر اُنہُوں نے کہا، ”آؤ، ہم اَپنے لیٔے ایک شہر بسائیں اَور اُس میں ایک اَیسا بُرج تعمیر کریں جِس کی چوٹی آسمان تک جا پہُنچے، تاکہ ہمارا نام مشہُور ہو اَور ہم تمام رُوئے زمین پر تِتّر بِتّر نہ ہوں۔“
GEN 11:5 لیکن یَاہوِہ اُس شہر اَور بُرج کو دیکھنے کے لیٔے جسے لوگ بنا رہے تھے نیچے اُتر آئے۔
GEN 11:6 یَاہوِہ نے فرمایا، ”اگر یہ لوگ ایک ہوتے ہویٔے اَور ایک ہی زبان بولتے ہویٔے یہ کام کرنے لگے ہیں، تو یہ جِس بات کا اِرادہ کریں گے اُسے پُورا ہی کرکے دَم لیں گے۔
GEN 11:7 آؤ، ہم نیچے جا کر اُن کی زبان میں اِختلاف پیدا کریں تاکہ وہ ایک دُوسرے کی بات ہی نہ سمجھ سکیں۔“
GEN 11:8 لہٰذا یَاہوِہ نے اُنہیں وہاں سے تمام رُوئے زمین پر مُنتشر کر دیا اَور وہ شہر کی تعمیر سے باز آئے۔
GEN 11:9 اِسی لیٔے اُس شہر کا نام بابیل پڑ گیا کیونکہ وہاں یَاہوِہ نے سارے جہاں کی زبان میں اِختلاف ڈالا تھا۔ وہاں سے یَاہوِہ نے اُنہیں تمام رُوئے زمین پر مُنتشر کر دیا۔
GEN 11:10 شِمؔ کا شجرہ نَسب یہ ہے: سیلاب کے دو بَرس بعد جَب شِمؔ سَو بَرس کا تھا تو اُن کے یہاں اَرفاکسَدؔ پیدا ہویٔے۔
GEN 11:11 اَور اَرفاکسَدؔ کی پیدائش کے بعد شِمؔ مزید پانچ سَو بَرس جیتے رہے اَور اُن کے یہاں بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہویٔیں۔
GEN 11:12 جَب اَرفاکسَدؔ پینتیس بَرس کے ہویٔے تو اُن کے یہاں شِلحؔ پیدا ہُوا۔
GEN 11:13 اَور شِلحؔ کی پیدائش کے بعد اَرفاکسَدؔ مزید چار سَو تین بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہویٔیں۔
GEN 11:14 جَب شِلحؔ تیس بَرس کا ہُوا، تو اُن کے یہاں عِبرؔ پیدا ہُوا۔
GEN 11:15 اَور عِبرؔ کی پیدائش کے بعد شِلحؔ مزید چار سَو تین بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہویٔیں۔
GEN 11:16 جَب عِبرؔ چونتیس بَرس کے ہویٔے، تو اُن کے یہاں پِلِگ پیدا ہویٔے۔
GEN 11:17 اَور پِلِگ کی پیدائش کے بعد عِبرؔ مزید چار سِوتیس بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 11:18 جَب پِلِگ تیس بَرس کے ہویٔے تو اُن کے یہاں رِعوؔ پیدا ہُوا۔
GEN 11:19 اَور رِعوؔ کی پیدائش کے بعد پِلِگ مزید دو سَو نَو بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 11:20 جَب رِعوؔ بتّیس بَرس کے ہویٔے، تو اُن کے یہاں سِروگ پیدا ہُوا۔
GEN 11:21 اَور سِروگ کی پیدائش کے بعد رِعوؔ مزید دو سَو سات بَرس تک جیتے رہے اَور اُن کے یہاں بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 11:22 جَب سِروگ تیس بَرس کے ہویٔے تو اُن کے یہاں ناحوؔر پیدا ہویٔے۔
GEN 11:23 اَور ناحوؔر کی پیدائش کے بعد سِروگ مزید دو سَو بَرس تک جیتے رہے، اَور اُن کے یہاں بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 11:24 جَب ناحوؔر اُنتیس بَرس کے ہویٔے، تو آپ کے یہاں تیراحؔ پیدا ہویٔے۔
GEN 11:25 اَور تیراحؔ کی پیدائش کے بعد ناحوؔر مزید ایک سَو اُنّیس بَرس تک جیتے رہے اَور آپ کے یہاں بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
GEN 11:26 جَب تیراحؔ ستّر بَرس کے ہویٔے، تو آپ کے یہاں اَبرامؔ، ناحوؔر اَور حارانؔ پیدا ہویٔے۔
GEN 11:27 تیراحؔ کا شجرہ نَسب یہ ہے: تیراحؔ سے اَبرامؔ، ناحوؔر اَور حارانؔ پیدا ہویٔے اَور حارانؔ سے لَوطؔ پیدا ہُوا۔
GEN 11:28 حارانؔ اَپنے باپ تیراحؔ کے جیتے جی اَپنے وطن یعنی کَسدیوں کے اُورؔ میں مَر گئے۔
GEN 11:29 اَبرامؔ اَور ناحوؔر نے اَپنی شادی کرلی۔ اَبرامؔ کی بیوی کا نام سارَیؔ اَور ناحوؔر کی بیوی کا نام مِلکاہؔ تھا۔ وہ حارانؔ کی بیٹی تھی جو مِلکاہؔ اَور اِسکہؔ دونوں کے باپ تھے۔
GEN 11:30 اَور سارَیؔ بانجھ تھیں۔ اُن کے یہاں کویٔی اَولاد نہ تھی۔
GEN 11:31 اَور تیراحؔ نے اَپنے بیٹے اَبرامؔ کو، اَپنے پوتے لَوطؔ کو جو حارانؔ کے بیٹے تھے اَور اَپنی بہُو سارَیؔ کو جو اُن کے بیٹے اَبرامؔ کی بیوی تھیں ساتھ لیا اَور وہ سَب کَسدیوں کے اُورؔ سے کنعانؔ جانے کے لیٔے نکل پڑے۔ لیکن جَب وہ حارانؔ پہُنچے تو وہیں بس گیٔے۔
GEN 11:32 تیراحؔ کی عمر دو سَو پانچ بَرس کی ہُوئی اَور حارانؔ میں وفات پائی۔
GEN 12:1 یَاہوِہ نے اَبرامؔ سے فرمایا، ”تُم اَپنے وطن اَور اَپنے رشتہ داروں اَور اَپنے باپ کے گھر سے روانہ ہو، اَور اُس مُلک میں جا بسو جو مَیں تُمہیں دِکھاؤں گا۔
GEN 12:2 ”مَیں تُمہیں ایک بڑی قوم بناؤں گا، اَور تُمہیں برکت دُوں گا؛ مَیں تمہارے نام کو سرفراز کروں گا، اَور تُم مُبارک ہوگے۔
GEN 12:3 جو تُمہیں برکت دیں، مَیں اُنہیں برکت دُوں گا، جو تُم پر لعنت کرے مَیں اُن پر لعنت کروں گا؛ اَور زمین کے سَب لوگ، تمہارے ذریعہ برکت پائیں گے۔“
GEN 12:4 لہٰذا اَبرامؔ یَاہوِہ کے کہنے کے مُطابق چل دئیے، اَور لَوطؔ اُن کے ساتھ گئے۔ جَب اَبرامؔ حارانؔ سے روانہ ہویٔے تو اَبرامؔ پچہتّر بَرس کے تھے۔
GEN 12:5 اَبرامؔ اَپنی بیوی سارَیؔ، اَپنے بھتیجے لَوطؔ، اَپنا سَب مال و متاع اَور اُن لوگوں کو جو اُنہُوں نے حارانؔ میں کمایا تھا ساتھ لے کر مُلکِ کنعانؔ کو روانہ ہو گئے اَور وہ سَب وہاں پہُنچ گیٔے۔
GEN 12:6 اَبرامؔ اُس مُلک میں سے سفر کرتے ہویٔے شِکیمؔ میں اُس مقام پر پہُنچے جہاں مورہؔ کا شاہ بلُوط کا درخت تھا۔ اُن دِنوں اُس مُلک میں کنعانی لوگ رہتے تھے۔
GEN 12:7 تَب یَاہوِہ اَبرامؔ کو دِکھائی دئیے اَور فرمایا، ”مَیں یہ مُلک تمہاری نَسل کو دُوں گا۔“ چنانچہ اَبرامؔ نے وہاں یَاہوِہ کے لئے جو اُن کو دِکھائی دئیے تھے ایک مذبح بنایا۔
GEN 12:8 پھر وہاں سے کوُچ کرکے وہ اُن پہاڑوں کی طرف گئے جو بیت ایل کے مشرق میں ہیں اَور اَیسی جگہ خیمہ زن ہویٔے جِس کے مغرب میں بیت ایل اَور مشرق میں عَیؔ ہے۔ وہاں اَبرامؔ نے یَاہوِہ کے لیٔے ایک مذبح بنایا اَور یَاہوِہ سے دعا کی۔
GEN 12:9 اَور اَبرامؔ وہاں سے کُوچ کرکے نِیگیوؔ کی طرف بڑھتے گئے۔
GEN 12:10 اُن دِنوں اُس مُلک میں قحط پڑا، اَور اَبرامؔ مِصر چلےگئے تاکہ کچھ عرصہ تک وہاں رہیں کیونکہ قحط نہایت شدید تھا۔
GEN 12:11 جَب وہ مِصر میں داخل ہونے کو تھے، تو اُنہُوں نے اَپنی بیوی سارَیؔ سے کہا، ”مَیں جانتا ہُوں کہ تُو کِس قدر خُوبصورت عورت ہے۔
GEN 12:12 جَب مِصری تُمہیں دیکھیں گے تو کہیں گے، ’تُم میری بیوی ہو۔‘ سو وہ مُجھے تو مار ڈالیں گے لیکن تُمہیں زندہ رہنے دیں گے۔
GEN 12:13 لہٰذا تُم یہ کہنا کہ تُم میری بہن ہو، تاکہ وہ تمہاری خاطِر میرے ساتھ نیک سلُوک کریں اَور تمہاری وجہ سے میری جان بچی رہے۔“
GEN 12:14 جَب اَبرامؔ مِصر میں پہُنچے تو مِصریوں نے سارَیؔ کو دیکھا کہ وہ عورت نہایت ہی خُوبصورت ہے۔
GEN 12:15 اَور جَب فَرعوہؔ کے اہلکاروں نے اُسے دیکھا، تو اُنہُوں نے فَرعوہؔ سے سارَیؔ کی تعریف کی اَور سارَیؔ کو فَرعوہؔ کے محل میں پہُنچا دیا۔
GEN 12:16 فَرعوہؔ نے سارَیؔ کی خاطِر اَبرامؔ کے ساتھ نیک سلُوک کیا اَور اَبرامؔ کو بھیڑ بکریاں، گائے بَیل، گدھے گدھیاں، خادِم اَور خادِمائیں اَور اُونٹ حاصل ہویٔے۔
GEN 12:17 لیکن یَاہوِہ نے اَبرامؔ کی بیوی سارَیؔ کی وجہ سے فَرعوہؔ اَور اُس کے خاندان پر بڑی بڑی بَلائیں نازل کیں۔
GEN 12:18 تَب فَرعوہؔ نے اَبرامؔ کو بُلایا اَور کہا، ”تُم نے میرے ساتھ یہ کیا کیا؟ تُم نے مُجھے کیوں نہ بتایا کہ وہ تمہاری بیوی ہے؟
GEN 12:19 تُم نے یہ کیوں کہا، ’وہ میری بہن ہے،‘ اِسی لیٔے مَیں نے اُسے لے لیا تھا تاکہ اُسے اَپنی بیوی بنا لُوں۔ اَب یہ رہی تمہاری بیوی۔ اِسے لے کر چلے جاؤ!“
GEN 12:20 تَب فَرعوہؔ نے اَپنے آدمیوں کو اَبرامؔ کے حق میں ہدایات دیں اَور اُنہُوں نے اَبرامؔ، اُن کی بیوی اَور اُن کے مال و اَسباب سمیت رخصت کر دیا۔
GEN 13:1 چنانچہ اَبرامؔ اَپنی بیوی اَور اَپنے سارے مال و اَسباب سمیت مِصر سے کنعانؔ کے نِیگیوؔ کی طرف روانہ ہویٔے، اَور لَوطؔ اَبرامؔ کے ساتھ گئے۔
GEN 13:2 اَبرامؔ مویشی اَور سونا چاندی پا کر بہت مالدار ہو گئے تھے۔
GEN 13:3 پھر اَبرامؔ کنعانؔ کے نِیگیوؔ سے سفر کرتے ہویٔے بیت ایل میں اُس مقام پر پہُنچے، جہاں پہلے بیت ایل اَور عَیؔ کے درمیان اَبرامؔ کا خیمہ تھا۔
GEN 13:4 اَور جہاں اُنہُوں نے پہلے مذبح بنایا تھا۔ وہاں اَبرامؔ نے یَاہوِہ سے دعا کی۔
GEN 13:5 اَور لَوطؔ کے پاس بھی، جو اَبرامؔ کا ہم سفر تھے بھیڑ بکریاں، گائے بَیل اَور خیمے لگائے۔
GEN 13:6 لیکن زمین کی کمی کے باعث اُن دونوں کا اُس مُلک میں اِکٹھّے رہنا مُشکل تھا کیونکہ اُن کا مال و اَسباب اِس قدر زِیادہ تھا کہ وہ اِکٹھّے نہیں رہ سکتے تھے۔
GEN 13:7 اَور اَبرامؔ کے اَور لَوطؔ کے چرواہوں میں جھگڑا ہُوا کرتا تھا۔ اُن دِنوں کنعانی اَور پَرزّی بھی اُس مُلک میں رہتے تھے۔
GEN 13:8 چنانچہ اَبرامؔ نے لَوطؔ سے فرمایا، ”تمہارے اَور میرے درمیان اَور تمہارے چرواہوں اَور میرے چرواہوں کے درمیان جھگڑا نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ہم رشتہ دار ہیں۔
GEN 13:9 کیا یہ سارا مُلک تمہارے سامنے نہیں؟ سو تُم مُجھ سے الگ ہو جاؤ اگر تُم بائیں طرف جاؤگے تو مَیں داہنی طرف چلا جاؤں گا۔ اَور اگر تُم داہنی طرف جاؤگے تو مَیں بائیں طرف چلا جاؤں گا۔“
GEN 13:10 تَب لَوطؔ نے آنکھ اُٹھاکر یردنؔ ندی کے پاس کی ساری ترائی پر اَور اُس کے اطراف ضُعَرؔ تک نظر دَوڑائی کیونکہ وہ (اِس سے پیشتر کہ یَاہوِہ نے سدُومؔ اَور عمورہؔ کو تباہ کیا) یَاہوِہ کے باغ اَور مِصر کے مُلک کی مانند خُوب سیراب تھی۔
GEN 13:11 سو لَوطؔ نے یردنؔ کی ساری ترائی کو اَپنے لیٔے چُن لیا اَور وہ مشرق کی طرف چلےگئے اَور وہ ایک دُوسرے سے جُدا ہو گئے۔
GEN 13:12 اَبرامؔ تو مُلکِ کنعانؔ میں جا بسے، جَب کہ لَوطؔ نے ترائی کے شہروں میں سکونت اِختیار کی اَور سدُومؔ تک اَپنے خیمے کھڑے کئے۔
GEN 13:13 سدُومؔ کے لوگ بدکار تھے اَور یَاہوِہ کے خِلاف سنگین گُناہ کیا کرتے تھے۔
GEN 13:14 لَوطؔ کے جُدا ہو جانے کے بعد یَاہوِہ نے اَبرامؔ سے فرمایا، ”جِس جگہ تُم کھڑے ہو وہاں سے اَپنی نگاہ اُٹھاکر شمال و جُنوب اَور مشرق و مغرب کی طرف نظر کرو۔
GEN 13:15 یہ سارا مُلک جو تُم دیکھ رہے ہو، اُسے میں تُمہیں اَور تمہاری نَسل کو ہمیشہ کے لیٔے دُوں گا۔
GEN 13:16 مَیں تمہاری نَسل کو خاک کے ذرّوں کی مانند بناؤں گا۔ اگر کویٔی شخص خاک کے ذرّوں کو گِن سکے تو تمہاری نَسل کو بھی گِنا جا سکےگا۔
GEN 13:17 جاؤ، اَور اُس مُلک کے طُول و عرض میں گھُومو، پھرو کیونکہ مَیں اُسے تُمہیں دینے جا رہا ہُوں۔“
GEN 13:18 چنانچہ اَبرامؔ نے اَپنے خیمے اُٹھائے اَور حِبرونؔ میں ممرےؔ کے شاہ بلُوط کے درختوں کے پاس جا کر رہنے لگے جہاں اَبرامؔ نے یَاہوِہ کے لیٔے ایک مذبح بنایا۔
GEN 14:1 اُن ہی دِنوں میں شِنعاؔر کے بادشاہ اَمرافِلؔ، اِلاسرؔ کے بادشاہ اریُوخ، عیلامؔ کے بادشاہ کِدرلاعُیمرؔ اَور گوئیِمؔ کے بادشاہ تِدعالؔ نے
GEN 14:2 سدُومؔ کے بادشاہ بَرع، عمورہؔ کے بادشاہ بِرشعؔ، اَدمہؔ کے شِنابؔ، ضبوئیمؔ کے بادشاہ شِمیبؔر اَور بَیلعؔ (یعنی ضُعَرؔ) کے بادشاہ سے جنگ کی۔
GEN 14:3 یہ سَب بادشاہ سِدّیمؔ یعنی بحرمُردار کی وادی میں اِکٹھّے ہویٔے۔
GEN 14:4 بَارہ بَرس تک وہ کِدرلاعُیمرؔ کے مطیع رہے لیکن تیرہویں بَرس میں اُنہُوں نے بغاوت کر دی۔
GEN 14:5 چودھویں بَرس کِدرلاعُیمرؔ اَور اُس کے ساتھ کے بادشاہ آئے اَور رفائیمؔ کو عَستِروت قرنائم میں زُوزیم کو ہامؔ میں اَور ایمیمؔ کو شاوِہ قِریتائم میں۔
GEN 14:6 اَور حَوریم کو سِعِیؔر کے پہاڑی مُلک میں مارتے مارتے بیابان کے نزدیک ایل پارانؔ تک پہُنچ گیٔے۔
GEN 14:7 تَب وہ لَوٹ کر عینؔ مِشپاتؔ (یعنی قادِسؔ آئے) اَور عمالیقیوں کے تمام مُلک کو اَور امُوریوں کو جو حَصّونؔ تامارؔ میں رہتے تھے، تسخیر کیا۔
GEN 14:8 تَب سدُومؔ کے بادشاہ، عمورہؔ کے بادشاہ، اَدمہؔ کے بادشاہ، ضبوئیمؔ کے بادشاہ اَور بَیلعؔ (یعنی ضُعَرؔ) کے بادشاہ نے کُوچ کیا اَور سِدّیمؔ کی وادی میں
GEN 14:9 یہ چاروں بادشاہ عیلامؔ کے بادشاہ کِدرلاعُیمرؔ، گوئیِمؔ کے بادشاہ تِدعالؔ، شِنعاؔر کے بادشاہ اَمرافِلؔ اَور اِلاسرؔ کے بادشاہ اریُوخ اِن پانچ بادشاہوں کے خِلاف صف آرا ہویٔے۔
GEN 14:10 سِدّیمؔ کی وادی میں جابجا نفت کے بے شُمار گڑھے تھے اَور جَب سدُومؔ اَور عمورہؔ کے بادشاہ میدان چھوڑکر بھاگے تو کیٔی لوگ اُن گڑھوں میں گِر پڑے اَورجو بچے وہ پہاڑوں پر بھاگ گیٔے۔
GEN 14:11 تَب اُن چار بادشاہوں نے سدُومؔ اَور عمورہؔ کا سارا مال و متاع اَور سَب اناج لُوٹ لیا اَور وہاں سے چلے گیٔے۔
GEN 14:12 اَور وہ اَبرامؔ کے بھتیجے، لَوطؔ کو بھی اُس کے مال و متاع سمیت پکڑ لے گیٔے کیونکہ وہ سدُومؔ میں رہتے تھے۔
GEN 14:13 تَب ایک شخص نے جو بھاگ کر بچ نِکلا تھا آکر اَبرامؔ عِبرانی کو لَوطؔ کی خبر دی۔ اَبرامؔ، اِشکلؔ اَور عانیرؔ کے بھایٔی ممرےؔ امُوری کے بلُوط کے درختوں کے نزدیک رہتے تھے اَور اِن سَب لوگوں نے اَبرامؔ کے ساتھ عہد کیا تھا۔
GEN 14:14 جَب اَبرامؔ نے سُنا کہ اُن کا رشتہ دار اسیر ہو چُکاہے تو آپ نے تین سَو اٹھّارہ تربّیت یافتہ خانہ زادوں کو ہمراہ لیا اَور لُٹیروں کا دانؔ تک پیچھا کیا۔
GEN 14:15 رات کے وقت اَبرامؔ نے اَپنے آدمیوں کو الگ الگ دستوں میں تقسیم کرکے اُن پر حملہ کر دیا اَور اُنہیں پسپا کرکے دَمشق کے شمال میں حوبہؔ تک اُن کا تعاقب کیا۔
GEN 14:16 آپ نے سارے مال و متاع پر قبضہ کر لیا اَور اَپنے رشتہ دار لَوطؔ کو اَور اُن کے مال کو عورتوں اَور دُوسرے لوگوں سمیت واپس لے آئے۔
GEN 14:17 جَب اَبرامؔ کِدرلاعُیمرؔ اَور اُن کے ساتھ کے بادشاہوں کو شِکست دے کر واپس آ رہے تھے تو سدُومؔ کا بادشاہ شاوِہ کی وادی (یعنی بادشاہ کی وادی) میں اَبرامؔ کے اِستِقبال کے لیٔے آیا۔
GEN 14:18 تَب شالمؔ کا بادشاہ ملکِ صِدقؔ، روٹی اَور انگوری شِیرہ لے کر آیا۔ وہ خُداتعالیٰ کا کاہِنؔ تھا۔
GEN 14:19 ملکِ صِدقؔ نے اَبرامؔ کو یہ کہہ کر برکت دی، ”خُداتعالیٰ کی طرف سے جو آسمان اَور زمین کا خالق ہے، اَبرامؔ مُبارک ہو۔
GEN 14:20 اَور مُبارک ہے خُداتعالیٰ جِس نے تمہارے دُشمنوں کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا۔“ تَب اَبرامؔ نے سَب مالِ غنیمت کا دسواں حِصّہ ملکِ صِدقؔ کو نذر کیا۔
GEN 14:21 سدُومؔ کے بادشاہ نے اَبرامؔ سے کہا، ”آدمیوں کو مُجھے دے دیجئے اَور مال و زَر اَپنے لیٔے رکھ لیجئے۔“
GEN 14:22 لیکن اَبرامؔ نے سدُومؔ کے بادشاہ سے فرمایا، ”مَیں نے یَاہوِہ، خُداتعالیٰ، آسمان اَور زمین کے خالق کی قَسم کھائی ہے،
GEN 14:23 کہ مَیں تمہاری کویٔی چیز نہ لُوں گا خواہ وہ دھاگا ہو یا جُوتی کاتسمہ، تاکہ تُم کبھی یہ نہ کہہ سکو، ’مَیں نے اَبرامؔ کو دولتمند بنا دیا۔‘
GEN 14:24 سِوا اُس کے جو میرے جَوانوں نے کھایا اَور اُن لوگوں کے حِصّے کے جو میرے ساتھ گیٔے یعنی عانیرؔ، اِشکلؔ اَور ممرےؔ؛ وہ اَپنا اَپنا حِصّہ لے لیں گے۔“
GEN 15:1 اُس کے بعد یَاہوِہ کا یہ کلام رُویا میں اَبرامؔ پر نازل ہُوا: ”اَے اَبرامؔ! خوف نہ کر، مَیں تمہاری سِپر ہُوں اَور تمہارا اجر بہت بڑا ہوگا۔“
GEN 15:2 لیکن اَبرامؔ نے فرمایا، ”اَے یَاہوِہ قادر آپ مُجھے کیا دیں گے؟ میں تو بے اَولاد ہُوں اَور الیعزرؔ دَمشقی میرے گھر کا وارِث ہے۔“
GEN 15:3 پھر اَبرامؔ نے فرمایا، ”آپ نے مُجھے کویٔی اَولاد نہیں دی؛ اِس لیٔے میرا ایک خانہ زاد خادِم ہی میرا وارِث ہوگا۔“
GEN 15:4 تَب یَاہوِہ کا یہ کلام اُس پر نازل ہُوا: ”یہ شخص تمہارا وارِث نہ ہوگا، بَلکہ تمہارے صُلب سے پیدا ہونے والا یعنی تمہارا اَپنا بیٹا ہی تمہارا وارِث ہوگا۔“
GEN 15:5 پھر وہ آپ کو باہر لے گئے اَور کہا، ”آسمان کی طرف نگاہ کرو اَور اگر تُم سِتاروں کو گِن سکتے ہو تو اُنہیں گنو۔“ پھر اَبرامؔ سے کہا، ”تمہاری اَولاد اَیسی ہی ہوگی۔“
GEN 15:6 اَبرامؔ یَاہوِہ پر ایمان لائے اَور یَاہوِہ نے اُن کے ایمان کو اَبرامؔ کے حق میں راستبازی شُمار کیا گیا۔
GEN 15:7 یَاہوِہ نے اَبرامؔ سے یہ بھی کہا، ”مَیں یَاہوِہ ہُوں جو تُمہیں کَسدیوں کے اُورؔ سے نکال لایا تاکہ تُجھے یہ مُلک مِیراث میں دُوں۔“
GEN 15:8 لیکن اَبرامؔ نے فرمایا، ”اَے یَاہوِہ قادر! میں کِس طرح جانوں کہ میں اِس کا وارِث ہُوں گا؟“
GEN 15:9 یَاہوِہ نے اَبرامؔ سے فرمایا، ”ایک بچھیا ایک بکری اَور ایک مینڈھا جو تین تین بَرس کے ہُوں اَور ایک قُمری اَور کبُوتر کا ایک بچّہ میرے پاس لاؤ۔“
GEN 15:10 اَبرامؔ اُن سَب کو یَاہوِہ کے پاس لے آئے؛ اَور اُن سبھی کے دو دو ٹکڑے کئے اَور اُن ٹُکڑوں کو ایک دُوسرے کے مقابل رکھ دیا مگر، پرندوں کے ٹکڑے نہیں کئے۔
GEN 15:11 تَب شِکاری پرندے اُن لاشوں پر جھپٹنے لگے، لیکن اَبرامؔ اُنہیں ہنکاتے رہے۔
GEN 15:12 جَب سُورج ڈُوبنے لگا، تو اَبرامؔ پر گہری نیند طاری ہو گئی، اَور بڑی ہولناک تاریکی اُن پر چھاگئی۔
GEN 15:13 تَب یَاہوِہ نے اَبرامؔ سے فرمایا، ”یقین جانو کہ چار سَو بَرس تک تمہاری نَسل ایک بیگانے مُلک میں جو اُن کا نہیں ہے اُس میں پردیسیوں کی طرح رہے گی، اَور وہاں کے لوگ اُسے غُلامی میں رکھیں گے اَور اُس سے بدسلُوکی سے پیش آتے رہیں گے۔
GEN 15:14 لیکن مَیں اُس قوم کو جو اُسے غُلام بنائے گی سزا دُوں گا، اَور بعد میں تمہاری قوم کے لوگ بڑی دولت کے ساتھ وہاں سے نکلیں گے۔
GEN 15:15 اَور تُم سلامتی کے ساتھ اَپنے آباؤاَجداد سے جا مِلوگے اَور نہایت پیری میں دفن کئے جاؤگے۔
GEN 15:16 تمہاری نَسل، چوتھی پُشت میں یہاں لَوٹ آئے گی کیونکہ امُوریوں کے گُناہ کا پیالہ ابھی لبریز نہیں ہُوا۔“
GEN 15:17 جَب سُورج غروب ہُوا اَور اَندھیرا چھا گیا تو ایک تنور جِس میں سے دُھواں اُٹھ رہاتھا ایک جلتی ہُوئی مشعل کے ساتھ نموُدار ہُوا اَور اُن ٹُکڑوں کے درمیان سے ہوکر گزر گیا۔
GEN 15:18 اُس روز یَاہوِہ نے اَبرامؔ کے ساتھ عہد باندھا اَور فرمایا، ”مَیں نے مِصر کی ندی سے لے کر بڑے ندی یعنی بڑی ندی فراتؔ تک کی زمین تمہاری نَسل کو عطا کی ہے۔
GEN 15:19 یعنی قینیوں، قنیزیوں، قدمونیوں،
GEN 15:20 حِتّیوں، پَرزّیوں، رفائیّو
GEN 15:21 اَور امُوریوں، کنعانیوں، گِرگاشیوں اَور یبُوسیوں اِن سبھوں کی زمین۔“
GEN 16:1 اَبرامؔ کی بیوی سارَیؔ کے کویٔی اَولاد نہ ہُوئی لیکن اُن کی ایک مِصری لونڈی تھی جِن کا نام ہاگارؔ تھا۔
GEN 16:2 چنانچہ سارَیؔ نے اَبرامؔ سے کہا، ”یَاہوِہ نے مُجھے تو اَولاد سے محروم رکھا ہے لیکن آپ میری لونڈی کے پاس جائیے۔ شاید اُس سے میرا گھر آباد ہو جائے۔“ اَبرامؔ نے سارَیؔ کی بات مان لی۔
GEN 16:3 اَبرامؔ کو مُلکِ کنعانؔ میں رہتے ہویٔے دس بَرس گزر چُکے تھے۔ تَب اَبرامؔ کی بیوی سارَیؔ نے اَپنی مِصری لونڈی ہاگارؔ کو اَپنے خَاوند کے سُپرد کر دیا تاکہ وہ اَبرامؔ کی بیوی بنے۔
GEN 16:4 اَور اَبرامؔ ہاگارؔ کے پاس گئے اَور ہاگارؔ حاملہ ہُوئیں۔ جَب ہاگارؔ کو مَعلُوم ہُوا کہ وہ حاملہ ہیں تو وہ اَپنی مالکن کو حقیر جاننے لگیں۔
GEN 16:5 تَب سارَیؔ نے اَبرامؔ سے کہا، ”جو ظُلم مُجھ پر ہو رہاہے اُس غلطی کے لیٔے آپ ذمّہ دار ہیں۔ مَیں نے اَپنی لونڈی کو آپ کی آغوش میں دیا اَور اَب جَب کہ وہ جانتی ہے کہ وہ حاملہ ہے تو وہ مُجھے حقیر جاننے لگی ہے۔ اَب یَاہوِہ اِس مُعاملہ میں ہم دونوں کا اِنصاف کریں۔“
GEN 16:6 اَبرامؔ نے فرمایا، ”تمہاری لونڈی سارَیؔ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ تُم جو چاہو ہاگارؔ کے ساتھ کرو!“ جَب سارَیؔ ہاگارؔ کے ساتھ سختی سے پیش آنے لگیں تو وہ سارَیؔ کے پاس سے فرار ہو گئیں۔
GEN 16:7 یَاہوِہ کے فرشتہ نے ہاگارؔ کو بیابان میں شُورؔ کی راہ کے کنارے ایک چشمہ کے پاس پایا۔
GEN 16:8 اَور اُس نے کہا، ”اَے سارَیؔ کی لونڈی ہاگارؔ! تُم کہاں سے آئی ہو اَور کدھر جا رہی ہو؟“ ہاگارؔ نے جَواب دیا، ”میں اَپنی مالکن، سارَیؔ کے پاس سے فرار ہو گئی ہُوں۔“
GEN 16:9 تَب یَاہوِہ کے فرشتہ نے ہاگارؔ سے کہا، ”تُم اَپنی مالکن کے پاس لَوٹ جاؤ اَور اَپنے آپ کو سارَیؔ کے سُپرد کر دو۔“
GEN 16:10 یَاہوِہ کے فرشتہ نے مزید کہا، ”مَیں تمہاری اَولاد کو اِس قدر بڑھاؤں گا کہ اُن کی تعداد شُمار سے باہر ہو جائے گی۔“
GEN 16:11 یَاہوِہ کے فرشتہ نے ہاگارؔ سے یہ بھی کہا: ”تُم اَب حاملہ ہو اَور تمہارے ہاں بیٹا پیدا ہوگا۔ تُم اُس کا نام اِشمعیل رکھنا کیونکہ یَاہوِہ نے تمہاری دُکھ بھری فریاد سُن لی ہے۔
GEN 16:12 اَور وہ گورخر کی مانند آزاد مَرد ہوگا؛ اِشمعیل کا ہاتھ سَب کے خِلاف اُٹھے گا اَور ہر ایک کا ہاتھ اِشمعیل کے خِلاف، اَور اِشمعیل زندگی بھر اَپنے سَب بھائیوں کے ساتھ مُخالف ماحول میں زندگی گُزاریں گے۔“
GEN 16:13 اَور جِس یَاہوِہ نے ہاگارؔ سے باتیں کیں، اُس کا نام ہاگارؔ نے: اتاایلؔ روئی رکھا یعنی، ”تُو بصیر خُدا ہے کیونکہ اُس نے کہا کہ مَیں نے بھی یہاں اُس بصیر کو دیکھاہے۔“
GEN 16:14 اِسی لیٔے اُس کنویں کا نام بیرلخیؔ روئی پڑا؛ وہ قادِسؔ، اَور بیردؔ کے درمیان واقع ہے۔
GEN 16:15 اَور اَبرامؔ سے ہاگارؔ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہُوا اَور اَبرامؔ نے اُس بیٹے کا نام جو ہاگارؔ سے پیدا ہُوا تھا اِشمعیل رکھا۔
GEN 16:16 جَب اَبرامؔ سے ہاگارؔ کے ہاں اِشمعیل پیدا ہُوا تَب اَبرامؔ چھیاسی بَرس کے تھے۔
GEN 17:1 جَب اَبرامؔ نِنانوے بَرس کے ہویٔے تَب یَاہوِہ اُن پر ظاہر ہویٔے، اَور اَبراہامؔ سے فرمایا، ”میں قادرمُطلق خُدا ہُوں۔ تُو میرے سامنے وفادار رہے اَور بے عیب ٹھہرے۔
GEN 17:2 میں اَپنے اَور تمہارے درمیان عہد باندھوں گا اَور تمہاری نَسل کو بےحد بڑھاؤں گا۔“
GEN 17:3 تَب اَبرامؔ مُنہ کے بَل گِرے اَور خُدا نے اُن سے فرمایا،
GEN 17:4 ”جہاں تک میرا تعلّق ہے، میرا تمہارے ساتھ یہ عہد ہے کہ تُم کیٔی قوموں کے باپ ہوگے۔
GEN 17:5 اَب سے تُم اَبرامؔ نہ کہلاؤگے بَلکہ تمہارا نام اَبراہامؔ ہوگا کیونکہ مَیں نے تُمہیں بہت سِی قوموں کا باپ مُقرّر کیا ہے۔
GEN 17:6 مَیں تُمہیں بہت برومند کروں گا اَور تمہاری نَسل سے کیٔی قومیں پیدا کروں گا اَور تمہاری اَولاد میں بادشاہ برپا ہوں گے۔
GEN 17:7 میں اَپنے اَور تمہارے درمیان اَور تمہارے بعد تمہاری نَسل کے درمیان اُن کی آئندہ پُشتوں کے لیٔے اَپنا عہد باندھوں گا جو اَبدی عہد ہوگا کہ میں تمہارا اَور تمہارے بعد تمہاری نَسل کا خُدا رہُوں گا۔
GEN 17:8 اَور مَیں تُمہیں اَور تمہارے بعد تمہاری نَسل کو کنعانؔ کا سارا مُلک جِس میں اَب تُم پردیسی ہو، ایک اَبدی مِیراث کے طور پر بخشوں گا اَور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا۔“
GEN 17:9 پھر خُدا نے اَبراہامؔ سے فرمایا، ”تُم میرے عہد کو ضروُر ماَننا اَور تمہارے بعد تمہاری نَسل پُشت در پُشت اُسے مانے۔
GEN 17:10 اَور میرا عہد جو میرے اَور تمہارے درمیان اَور تمہارے بعد تمہاری نَسل کے درمیان ہے اَور جسے تُم مانوگے، یہ ہے کہ تُم میں سے ہر فرزندِ نرینہ کا ختنہ کیا جائے۔
GEN 17:11 تُم اَپنا اَپنا ختنہ کرا لو اَور یہ اُس عہد کا نِشان ہوگا جو میرے اَور تمہارے درمیان ہے۔
GEN 17:12 پُشت در پُشت تُم میں سے ہر لڑکے کا جو آٹھ دِن کا ہو ختنہ کیا جائے خواہ وہ تمہارے گھر میں پیدا ہُوا ہو، خواہ کسی پردیسی سے قیمتاً خریدا گیا ہو اَورجو تمہاری اَولاد نہ ہو۔
GEN 17:13 خواہ وہ تمہارے گھر میں پیدا ہویٔے ہُوں یا تمہارے زَر خرید ہُوں اُن کا ختنہ لازمی طور پر کیا جائے۔ میرا عہد تمہارے جِسم میں اَبدی عہد ہوگا۔
GEN 17:14 اَور اگر کویٔی نامختون مَرد اَپنا ختنہ نہیں کرواتا تو وہ اَپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ اُس نے میرا عہد توڑا ہے۔“
GEN 17:15 خُدا نے اَبراہامؔ سے یہ بھی فرمایا، ”سارَیؔ، جو تمہاری بیوی ہے اُسے اَب سارَیؔ کہہ کر مت پُکارنا؛ اُن کا نام سارہؔ ہوگا۔
GEN 17:16 میں اُسے برکت دُوں گا۔ وہ قوموں کی ماں ہوگی اَور عواموں کے بادشاہ اُن سے پیدا ہوں گے۔“
GEN 17:17 تَب اَبراہامؔ مُنہ کے بَل گِر پڑے؛ اَور ہنس کر دِل ہی دِل میں کہنے لگے، ”کیا سَو سالہ مَرد کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا؟ کیا سارہؔ کے ہاں، جو نوّے بَرس کی ہے، اَولاد ہوگی؟“
GEN 17:18 اَور اَبراہامؔ نے خُدا سے کہا، ”کاش اِشمعیل تیری رحمت کے سایہ میں جیتا رہے!“
GEN 17:19 تَب خُدا نے فرمایا، ”بے شک، تمہاری بیوی سارہؔ کو تُم سے بیٹا ہوگا اَور تُم اُس کا نام اِصحاقؔ رکھنا۔ مَیں اُس کے ساتھ اَیسا عہد باندھوں گا جو اُس کے بعد اُس کی نَسل کے لیٔے اَبدی عہد ہوگا۔
GEN 17:20 اَور اِشمعیل کے حق میں بھی مَیں نے تمہاری دعا سُنی ہے: مَیں یقیناً اُسے برکت دُوں گا؛ مَیں اُسے برومند کروں گا اَور اُسے تعداد میں بہت بڑھاؤں گا۔ اُس سے بَارہ سردار پیدا ہوں گے، اَور مَیں اُسے بڑی قوم بناؤں گا۔
GEN 17:21 لیکن اَپنا عہد مَیں اِصحاقؔ ہی سے باندھوں گا جو اگلے سال اِسی وقت تمہارے ہاں سارہؔ سے پیدا ہوگا۔“
GEN 17:22 جَب خُدا اَبراہامؔ سے باتیں کر چُکے تَب خُدا اُن کے پاس سے اُوپر چلےگئے۔
GEN 17:23 تَب اَبراہامؔ نے اَپنے بیٹے اِشمعیل کو اَور اَپنے سَب خانہ زادوں کو اَور اُن کو جو قیمتاً خریدے گیٔے تھے اَور اَپنے گھر کے سَب مَردوں کو لے کر اُسی روز خُدا کے حُکم کے مُطابق اُن کا ختنہ کیا۔
GEN 17:24 اَبراہامؔ نِنانوے بَرس کے تھے جَب اُن کا ختنہ ہُوا،
GEN 17:25 اَور اُن کے بیٹے اِشمعیل کا ختنہ ہُوا وہ تیرہ بَرس کا تھا۔
GEN 17:26 اَبراہامؔ اَور اُن کے بیٹے اِشمعیل کا ختنہ اُسی دِن ہُوا۔
GEN 17:27 اَور کے گھر کے ہر مَرد کا ختنہ اَبراہامؔ کے خانہ زادوں اَور پردیسیوں سے زَر خرید مَردوں سمیت، اُن کے ساتھ ہی ہُوا۔
GEN 18:1 تَب یَاہوِہ اَبراہامؔ کو ممرےؔ کے بلُوط کے درختوں کے نزدیک نظر آئے۔ اُس وقت اَبراہامؔ دِن کی دھوپ میں اَپنے خیمہ کے دروازہ پر بیٹھے ہویٔے تھے۔
GEN 18:2 اَبراہامؔ نے نگاہ اُٹھاکر دیکھا کہ تین مَرد اُن کے قریب کھڑے ہیں۔ جَب آپ نے اُنہیں دیکھا تو اُن کے اِستِقبال کے لیٔے خیمہ کے دروازہ سے دَوڑے اَور زمین پر جھُک کر سَجدہ کیا۔
GEN 18:3 اَبراہامؔ نے فرمایا، ”اَے میرے آقا! اگر مُجھ پر آپ کی نظرِکرم ہُوئی ہے تو خادِم کے پاس ٹھہرے بغیر نہ جانا۔
GEN 18:4 مَیں تھوڑا پانی لاتا ہُوں۔ آپ سَب اَپنے پاؤں دھوکر اِس درخت کے نیچے آرام کریں۔“
GEN 18:5 اَب جَب کہ آپ اَپنے خادِم کے ہاں تشریف لایٔے ہیں تو میں آپ کے واسطے کچھ کھانے کو لاتا ہُوں تاکہ آپ تازہ دَم ہو جایٔیں اَور تَب اَپنی راہ لیں۔ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”بہت خُوب، وَیسا ہی کیجئے، جَیسا کہ آپ نے کہا ہے۔“
GEN 18:6 تَب اَبراہامؔ جلدی سے خیمہ میں سارہؔ کے پاس گئے اَور کہا، ”جلدی سے تین پیمانہ نفیس آٹا لے کر اَور اُسے گُوندھ کر کُچھ پھُلکے بناؤ۔“
GEN 18:7 پھر اَبراہامؔ گائے بَیل کے گلّہ کی طرف دَوڑے اَور ایک بہترین اَور کمسِن بچھڑا لے کر خادِم کو دیا جِس نے اُسے جلدی سے پکایا۔
GEN 18:8 تَب اَبراہامؔ نے کُچھ دہی اَور دُودھ اَور اُس بچھڑے کے سالن کو لے کر اُنہیں اُن کے سامنے رکھا۔ اَور جَب وہ کھا رہے تھے تو خُود اُن کے قریب درخت کے نیچے کھڑے رہے۔
GEN 18:9 اُنہُوں نے اَبراہامؔ سے پُوچھا، ”آپ کی بیوی سارہؔ کہاں ہے؟“ اَبراہامؔ نے کہا، ”وہ وہاں خیمہ میں ہے۔“
GEN 18:10 تَب اُن میں سے ایک نے کہا، ”مَیں اگلے بَرس مُقرّرہ وقت پر تمہارے پاس پھر واپس آؤں گا اَور آپ کی بیوی سارہؔ کے یہاں بیٹا پیدا ہوگا۔“ اَور سارہؔ خیمہ کے دروازہ میں سے جو اُن کے پیچھے تھا سُن رہی تھیں۔
GEN 18:11 اَبراہامؔ اَور سارہؔ دونوں ضعیف اَور عمر رسیدہ تھے اَور سارہؔ کی اَولاد ہونے کی عمر ڈھل چُکی تھی۔
GEN 18:12 چنانچہ سارہؔ یہ سوچ کر ہنس پڑیں، ”جَب میری قُوّت زچگی ختم ہو چُکی اَور میرا خَاوند ضعیف ہو چُکا تو کیا اَب مُجھے یہ خُوشی نصیب ہوگی؟“
GEN 18:13 تَب یَاہوِہ نے اَبراہامؔ سے فرمایا، ”سارہؔ نے ہنس کر یہ کیوں کہا، ’کیا میرے ہاں واقعی بچّہ ہوگا جَب کہ مَیں ضعیف ہو چُکی ہُوں؟‘
GEN 18:14 کیا یَاہوِہ کے لیٔے کویٔی کام مُشکل ہے؟ مَیں اگلے بَرس مُقرّرہ وقت پر تمہارے پاس پھر واپس آؤں گا اَور سارہؔ کے یہاں بیٹا پیدا ہوگا۔“
GEN 18:15 سارہؔ خوفزدہ ہو گئیں۔ اِس لیٔے سارہؔ نے جھُوٹ بولا اَور اِنکار کیا، ”مَیں تو نہیں ہنسی۔“ لیکن یَاہوِہ نے فرمایا، ”ہاں تُم ہنسی تھیں۔“
GEN 18:16 جَب وہ لوگ جانے کے لیٔے اُٹھے تو اُنہُوں نے نیچے سدُومؔ کی طرف نگاہ کی اَور اَبراہامؔ اُنہیں رخصت کرنے کے لیٔے اُن کے ساتھ ہو لئے۔
GEN 18:17 تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”مَیں اَب جو کچھ کرنے کو ہُوں، کیا اُسے اَبراہامؔ سے پوشیدہ رکھوں گا؟
GEN 18:18 اَبراہامؔ سے تو یقیناً ایک بڑی اَور زبردست قوم پیدا ہوگی اَور زمین کی سَب قومیں اُن کے ذریعہ برکت پائیں گی۔
GEN 18:19 کیونکہ مَیں نے اُنہیں اِس لیٔے چُن لیا ہے کہ وہ اَپنی اَولاد کو اَور اَپنے بعد اَپنے گھرانے کو ہدایت دیں کہ وہ راستی اَور اِنصاف سے کام لے کر یَاہوِہ کی راہ پر قائِم رہیں تاکہ یَاہوِہ اَبراہامؔ سے کئےگئے وعدہ کو پُورا کریں۔“
GEN 18:20 تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”سدُومؔ اَور عمورہؔ کے خِلاف شور بہت ہی بڑھ گیا ہے اَور اُن کا گُناہ اِس قدر سنگین ہو گیا ہے
GEN 18:21 کہ مَیں نیچے جا کر دیکھوں گا کہ جو کچھ اُنہُوں نے کیا ہے کیا وہ واقعی اُسی قدر بُرا ہے جَیسا شور مُجھ تک پہُنچا ہے اَور اگر یہ سچ نہیں تو مُجھے پتہ چل جائے گا۔“
GEN 18:22 چنانچہ وہ لوگ اُٹھ کر سدُومؔ کی طرف چل دئیے لیکن اَبراہامؔ یَاہوِہ کے حُضُور کھڑے رہے۔
GEN 18:23 تَب اَبراہامؔ نے یَاہوِہ کے نزدیک جا کر کہا: ”کیا آپ راستبازوں کو بھی بدکاروں کے ساتھ نِیست و نابود کر دیں گے؟
GEN 18:24 اگر اُس شہر میں پچاس راستباز ہُوں تو کیا ہوگا؟ کیا آپ واقعی اُسے تباہ کر ڈالیں گے اَور اُن پچاس راستبازوں کی خاطِر، جو اُس میں ہوں گے اُسے نہیں بخشیں گے؟
GEN 18:25 آپ یہ ہرگز نہ ہونے دیں گے، راستبازوں کو بدکاروں کے ساتھ مار دیا جائے اَور راستبازوں اَور بدکاروں دونوں کے ساتھ یکساں سلُوک کیا جائے۔ آپ اَیسا ہرگز نہ ہونے دیں گے! کیا ساری دُنیا کا مُنصِف اِنصاف سے کام نہ لے گا؟“
GEN 18:26 یَاہوِہ نے فرمایا، ”اگر مَیں نے سدُومؔ کے شہر میں پچاس راستباز اِنسان بھی پایٔے تو مَیں اُن کی خاطِر اُس سارے مقام کو بخش دُوں گا۔“
GEN 18:27 تَب اَبراہامؔ نے پھر کہا: ”حالانکہ مَیں خاک اَور راکھ کے سِوا کچھ بھی نہیں ہُوں تو بھی مَیں نے اِتنی جُرأت کی کہ آقا سے بات کر سکوں۔
GEN 18:28 اگر راستبازوں کی تعداد پینتالیس نکلے تو کیا آپ پانچ لوگوں کی خاطِر سارے شہر کو تباہ کر دیں گے؟“ یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”اگر مُجھے وہاں پینتالیس راستباز بھی مِل جایٔیں گے تو مَیں اُسے تباہ نہ کروں گا۔“
GEN 18:29 اَبراہامؔ نے ایک بار پھر کہا، ”اگر وہاں صرف چالیس ملیں تو؟“ یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”چالیس کی خاطِر بھی مَیں شہر کو تباہ نہ کروں گا۔“
GEN 18:30 تَب اَبراہامؔ نے کہا، ”اَے آقا! اگر آپ خفا نہ ہو تو مَیں کچھ عرض کروں، اگر وہاں صِرف تیس راستباز ہی مِل سکے تو کیا ہوگا؟“ یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”اگر مُجھے وہاں تیس بھی ملے، تَب بھی مَیں شہر کو تباہ نہ کروں گا۔“
GEN 18:31 اَبراہامؔ نے کہا، ”اَے آقا، اَب تو مَیں زبان کھولنے کی جُرأت کر ہی چُکا ہُوں لہٰذا پُوچھتا ہُوں کہ اگر وہاں صِرف بیس مِل جائیں تو کیا ہوگا؟“ اُنہُوں نے فرمایا، ”مَیں بیس کی خاطِر بھی اُسے تباہ نہ کروں گا۔“
GEN 18:32 تَب اَبراہامؔ نے کہا، ”اگر آقا، خفا نہ ہو تو مَیں صِرف آخِری مرتبہ پھر عرض کروں! اگر وہاں صِرف دس ہی مِل سکے تو؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”مَیں دس کی خاطِر بھی اُسے تباہ نہ کروں گا۔“
GEN 18:33 جَب یَاہوِہ اَبراہامؔ سے باتیں کرچکے تو وہ چلےگئے اَور اَبراہامؔ گھر لَوٹ آئے۔
GEN 19:1 شام کے وقت وہ دونوں فرشتے سدُومؔ پہُنچے۔ لَوطؔ شہر کے پھاٹک پر بیٹھا ہُوا تھا۔ جَب اُس نے اُنہیں دیکھا تو اُن کے اِستِقبال کو اُٹھا اَور مُنہ کے بَل زمین پر جھُک کر اُنہیں سَجدہ کیا
GEN 19:2 اَور کہا، ”اَے میرے آقاؤ! اَپنے خادِم کے گھر تشریف لے چلئے۔ اَپنے پاؤں دھولیجیے اَور رات بسر کرکے علی الصبح اَپنی راہ لیجئے۔“ اُنہُوں نے کہا، ”نہیں، ہم چَوک میں ہی رات گزار لیں گے۔“
GEN 19:3 جَب اُس نے بہت ہی اِصرار کیا تو وہ اُس کے ساتھ گیٔے اَور اُس کے گھر میں داخل ہو گئے۔ اُس نے بے خمیری روٹی پکا کر اُن کے لیٔے کھانا تیّار کیا اَور اُنہُوں نے کھایا۔
GEN 19:4 اِس سے قبل کہ وہ لیٹتے، سدُومؔ شہر کے ہر حِصّہ کے سَب مَردوں نے کیا جَوان اَور کیا ضعیف اُس گھر کو گھیرلیا۔
GEN 19:5 اَور لَوطؔ کو پُکار کر کہا، ”وہ مَرد جو آج رات تمہارے پاس آئے، کہاں ہیں؟ اُنہیں ہمارے پاس باہر لے کر آ، تاکہ ہم اُن سے صحبت کریں۔“
GEN 19:6 لَوطؔ اُن سے مِلنے باہر نِکلا اَور اَپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا۔
GEN 19:7 اَور کہا، ”نہیں، میرے بھائیو! اَیسی بدی نہ کرو۔
GEN 19:8 دیکھو، میری دو بیٹیاں ہیں جنہیں اَب تک کسی مَرد نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اگر تُم چاہو تو مَیں اُنہیں تمہارے پاس لے آتا ہُوں، اَور تُم اُن کے ساتھ جو چاہو کر لو؛ لیکن اِن آدمیوں کے ساتھ کچھ نہ کرو کیونکہ وہ میری چھت کے سایہ میں پناہ گزیں ہیں۔“
GEN 19:9 اُنہُوں نے کہا، ”ہمارے راستہ سے ہٹ جاؤ!“ اَور پھر کہنے لگے، ”یہ شخص ہمارے بیچ میں پردیسی بَن کر آیا اَور اَب حاکم بننا چاہتاہے۔ ہم تمہارے ساتھ اِس سے بھی بُرا سلُوک کریں گے۔“ وہ لَوطؔ کو دھمکانے لگے اَور دروازہ توڑنے کے لیٔے آگے بڑھے۔
GEN 19:10 لیکن اُن مَردوں نے جو اَندر تھے اَپنے ہاتھ بڑھا کر لَوطؔ کو گھر میں کھینچ لیا اَور دروازہ بند کر دیا۔
GEN 19:11 تَب اُنہُوں نے سَب مَردوں کو جو گھر کے دروازہ پر کھڑے تھے کیا جَوان اَور کیا ضعیف، اَندھا کر دیا تاکہ وہ دروازہ نہ ڈھونڈ پائیں۔
GEN 19:12 اُن مَردوں نے لَوطؔ سے کہا، ”تمہارے ساتھ یہاں کویٔی اَور ہے، داماد، بیٹے یا بیٹیاں یا تیرا کویٔی اَورجو اِس شہر میں ہو؟ سَب کو یہاں سے نکال لے جا۔
GEN 19:13 کیونکہ ہم اِس مقام کو تباہ کرنے والے ہیں، اِس لیٔے کہ یَاہوِہ کے نزدیک اِس شہر کے لوگوں کے خِلاف شور بُلند ہو چُکاہے اَور اُنہُوں نے ہمیں اِسے تباہ کرنے کے لیٔے بھیجا ہے۔“
GEN 19:14 تَب لَوطؔ باہر نکلے اَور اَپنے دامادوں سے جِن کے ساتھ اُن کی بیٹیوں کی منگنی ہو چُکی تھی، اُنہُوں نے کہا، ”جلدی کرو، اَور اِس مقام سے نکل چلو کیونکہ یَاہوِہ اِس شہر کو تباہ کرنے کو ہے!“ لیکن لَوطؔ کے دامادوں کو یہ سَب مذاق سا محسُوس ہُوا۔
GEN 19:15 جَب پَو پھٹنے لگی تو فرشتوں نے لَوطؔ سے اِصرار کیا اَور کہا، ”جلدی کرو اَور اَپنی بیوی اَور اَپنی دونوں بیٹیوں کو جو یہاں ہیں، لے کر نکل جاؤ، ورنہ جَب اِس شہر پر عذاب نازل ہوگا تو تُم بھی ہلاک ہو جاؤگے۔“
GEN 19:16 ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کریں کہ اُن مَردوں نے اُس کا اَور اُس کی بیوی اَور اُس کی دونوں بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا اَور وہ اُنہیں حِفاظت کے ساتھ شہر سے باہر لے گیٔے کیونکہ یَاہوِہ اُن پر مہربان ہویٔے تھے۔
GEN 19:17 جُوں ہی اُنہُوں نے اُنہیں باہر نکالا اُن میں سے ایک نے کہا، ”اَپنی جان بچا کر بھاگ جاؤ! اَور پیچھے مُڑ کر نہ دیکھنا نہ ہی میدان میں کہیں رُکنا! بَلکہ پہاڑوں پر بھاگ جاؤ ورنہ تُم تباہ ہو جاؤگے۔“
GEN 19:18 لیکن لَوطؔ نے اُن سے کہا، ”اَے میرے آقاؤں! اَیسا نہ کرو!
GEN 19:19 تُم نے اَپنے خادِم پر نظرِکرم کی ہے اَور مُجھ پر اِس قدر مہربان ہویٔے کہ میری جان بچائی۔ لیکن مَیں پہاڑوں تک بھاگ کر نہیں جا سَکتا۔ یہ آفت مُجھ کو آ لے گی اَور مَیں مَر جاؤں گا۔
GEN 19:20 دیکھو یہاں ایک شہر ہے، یہ اِس قدر نزدیک ہے کہ مَیں وہاں بھاگ کر جا سَکتا ہُوں اَور وہ چھوٹا بھی ہے۔ مُجھے وہاں بھاگ جانے دیجئے۔ وہ کافی چھوٹا بھی ہے۔ ہے نا؟ تَب میری جان بچ جائے گی۔“
GEN 19:21 اُس نے اُس سے کہا، ”بہت خُوب۔ مَیں یہ اِلتجا بھی مان لیتا ہُوں۔ مَیں اُس شہر کو، جِس کا تُو ذِکر کر رہاہے، غارت نہیں کروں گا۔
GEN 19:22 لیکن تُو جلد وہاں بھاگ جا کیونکہ تمہارے وہاں پہُنچ جانے تک مَیں کچھ نہیں کر سَکتا۔“ (اِسی لیٔے اُس شہر کا نام ضُعَرؔ پڑا)۔
GEN 19:23 لَوطؔ کے ضُعَرؔ پہُنچنے تک سُورج زمین پر طُلوع ہو چُکاتھا۔
GEN 19:24 تَب یَاہوِہ نے اَپنی طرف سے سدُومؔ اَور عمورہؔ پر آسمان سے جلتی ہُوئی گندھک برسائی۔
GEN 19:25 اِس طرح اُنہُوں نے اُن شہروں کو اَور سارے میدان کو اُن شہروں کے باشِندوں اَور زمین کی ساری نباتات سمیت غارت کر دیا۔
GEN 19:26 لیکن لَوطؔ کی بیوی نے پیچھے مُڑ کر دیکھا اَور وہ نمک کا سُتون بَن گئی۔
GEN 19:27 دُوسرے دِن صُبح سویرے اَبراہامؔ اُٹھے اَور اُس مقام کو لَوٹے جہاں وہ یَاہوِہ کے حُضُور کھڑے تھے۔
GEN 19:28 اَبراہامؔ نے نیچے سدُومؔ اَور عمورہؔ اَور اُس میدان کے سارے علاقہ پر نظر دَوڑائی اَور دیکھا کہ اُس سرزمین سے کسی بھٹّی کے دھوئیں جَیسا گہرا دُھواں اُٹھ رہاہے۔
GEN 19:29 چنانچہ جَب خُدا اُس میدان کے شہروں کو نِیست و نابُود کر چُکا تو خُدا نے اَبراہامؔ کو یاد کرکے لَوطؔ کو اُس آفت سے بچا لیا جِس سے وہ شہر جہاں لَوطؔ رہتا تھا غارت کر دئیے گیٔے تھے۔
GEN 19:30 لَوطؔ اَور اُن کی دو بیٹیوں نے ضُعرؔ کو خیرباد کہا اَور وہ پہاڑوں پر جا بسے کیونکہ لَوطؔ، ضُعَرؔ میں رہنے سے ڈرتے تھے۔ وہ اَور اُن کی دو بیٹیاں ایک غار میں رہنے لگے۔
GEN 19:31 ایک دِن بڑی بیٹی نے چُھوٹی سے کہا، ”ہمارے باپ ضعیف ہیں اَور یہاں اِردگرد کویٔی مَرد نہیں ہے جو ہمیں صاحبِ اَولاد بنا سکے جَیسا کہ ساری دُنیا کا دستور ہے۔
GEN 19:32 آؤ، ہم اَپنے باپ کو انگوری شِیرہ پِلائیں اَور تَب اُس سے صحبت کریں اَور اَپنے باپ کے ذریعہ اَپنی نَسل بچائے رکھیں۔“
GEN 19:33 چنانچہ اُسی رات اُنہُوں نے اَپنے باپ کو انگوری شِیرہ پِلایا اَور بڑی بیٹی اَندر جا کر اُس کے ساتھ لیٹ گئی لیکن لَوطؔ کو مَعلُوم نہ ہُوا کہ وہ کب لیٹی اَور کب اُٹھی۔
GEN 19:34 دُوسرے دِن بڑی بیٹی نے چُھوٹی سے کہا، ”گذشتہ رات میں اَپنے باپ کے ساتھ لیٹی تھی۔ چلو آج کی رات بھی ہم اُنہیں انگوری شِیرہ پِلائیں اَور تُو اَندر جا کر اُن کے ساتھ لیٹ جا تاکہ ہم اَپنے باپ کے ذریعہ اَپنی نَسل بچائے رکھیں۔“
GEN 19:35 چنانچہ اُس رات کو بھی اُنہُوں نے اَپنے باپ کو انگوری شِیرہ پِلایا اَور چُھوٹی بیٹی جا کر اُن کے ساتھ لیٹی اَور اَب کی بار بھی لَوطؔ کو پتا نہ چلا کہ وہ کب لیٹی اَور کب اُٹھی۔
GEN 19:36 لہٰذا لَوطؔ کی دونوں بیٹیاں اَپنے باپ سے حاملہ ہُوئیں۔
GEN 19:37 بڑی بیٹی کے ہاں بیٹا پیدا ہُوا اَور اُس نے اُس کا نام مُوآب رکھا۔ وہ مُوآبیوں کا باپ ہے جو آج تک مَوجُود ہیں۔
GEN 19:38 چُھوٹی بیٹی کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہُوا اَور اُس نے اُس کا نام بِن عمّی رکھا۔ وہ عمُّونیوں کا باپ ہے جو آج تک مَوجُود ہیں۔
GEN 20:1 تَب اَبراہامؔ وہاں سے کُوچ کرکے نِیگیوؔ کے علاقہ میں آکر قادِسؔ اَور شُورؔ کے درمیان بس گئے۔ کچھ عرصہ تک وہ گِراؔر میں رہے۔
GEN 20:2 اَور وہاں اَبراہامؔ نے اَپنی بیوی سارہؔ کے بارے میں فرمایا، ”وہ میری بہن ہے۔“ تَب گِراؔر کے بادشاہ اَبی ملیخ نے سارہؔ کو بُلاکر اَپنے پاس رکھا۔
GEN 20:3 لیکن ایک رات خُدا خواب میں اَبی ملیخ کے پاس آئے اَور اُن سے فرمایا، ”تُم اُس عورت کے سبب سے جسے تُم نے رکھ لیا ہے یہ سمجھ لو کہ تمہاری موت آ پہُنچی ہے کیونکہ وہ عورت شادی شُدہ ہے۔“
GEN 20:4 اَب تک اَبی ملیخ اُن کے پاس نہیں گیا تھا اِس لیٔے اُس نے کہا، ”اَے آقا، کیا آپ ایک بے قُصُور قوم کو بھی تباہ کر دیں گے؟
GEN 20:5 کیا اَبراہامؔ نے مُجھ سے یہ نہ کہاتھا، ’وہ میری بہن ہے،‘ اَور کیا وہ خُود بھی یہ نہ کہتی تھی، ’وہ میرا بھایٔی ہے؟‘ میری اِس حرکت کے باوُجُود میرا دِل صَاف ہے اَور میرے ہاتھ پاک ہیں۔“
GEN 20:6 تَب خُدا نے اُسے خواب میں فرمایا، ”ہاں، مَیں جانتا ہُوں کہ تُونے یہ کام راست دِلی سے کیا ہے اَور اِسی لیٔے مَیں نے تُجھے اَپنے خِلاف گُناہ کرنے سے باز رکھا اَور سارہؔ کو چھُونے نہیں دیا۔
GEN 20:7 اَب تُم اُس آدمی کی بیوی لَوٹا دو کیونکہ وہ نبی ہے اَور وہ تمہاری خاطِر دعا کرےگا اَور تُم جیتے رہوگے۔ لیکن اگر تُم نے اُسے نہ لَوٹایا تو یقین جانو کہ تُم اَور تمہارے سَب لوگ ہلاک ہو جایٔیں گے۔“
GEN 20:8 اگلے دِن اَبی ملیخ نے صُبح سویرے اُٹھ کر اَپنے سَب اہلکاروں کو بُلایا اَور جَب اُس نے اُنہیں یہ سَب ماجرا سُنایا تو وہ بےحد خوفزدہ ہویٔے۔
GEN 20:9 تَب اَبی ملیخ نے اَبراہامؔ کو اَندر بُلاکر کہا، ”آپ نے ہمارے ساتھ یہ کیا کیا؟ مَیں نے آپ کی کیا خطا کی تھی کہ آپ نے مُجھ پر اَور میری بادشاہی پر اِتنا بڑا بارِ گُناہ ڈال دیا؟ آپ نے میرے ساتھ وہ سلُوک کیا ہے جو نہیں کرنا چاہئے تھا۔“
GEN 20:10 اَور اَبی ملیخ نے اَبراہامؔ سے پُوچھا، ”کیا وجہ تھی جو آپ نے اَیسا کیا؟“
GEN 20:11 اَبراہامؔ نے جَواب دیا، ”مَیں نے سوچا، ’اِس جگہ لوگوں کو بالکُل خُدا کا خوف نہیں ہے اَور وہ میری بیوی سارہؔ کو حاصل کرنے کے لیٔے مُجھے مار ڈالیں گے۔‘
GEN 20:12 اُس کے علاوہ وہ واقعی میری بہن بھی ہے یعنی میرے باپ کی بیٹی ہے، میری ماں کی بیٹی نہیں ہے، پھر بعد کو وہ میری بیوی بنی۔
GEN 20:13 اَور جَب خُدا نے مُجھے اَپنے باپ کا گھر چھوڑکر وہاں سے نکل جانے کا حُکم دیا تو مَیں نے سارہؔ سے کہا، ’آئندہ تُم مُجھ سے اَپنی مَحَبّت یُوں جتانا: جہاں کہیں ہم جایٔیں وہاں تُم میرے بارے میں یہی کہنا، ”یہ میرا بھایٔی ہے۔“ ‘ “
GEN 20:14 تَب اَبی ملیخ نے بھیڑیں اَور مویشی اَور غُلام اَور لونڈیاں لاکر اَبراہامؔ کو دیں اَور اُن کی بیوی سارہؔ کو بھی اُنہیں لَوٹا دیا۔
GEN 20:15 اَور اَبی ملیخ نے اَبراہامؔ سے کہا، ”میرا مُلک آپ کے سامنے ہے؛ جہاں جی چاہے، وہاں سکونت کرو۔“
GEN 20:16 اَور اُس نے سارہؔ سے کہا، ”مَیں آپ کے بھایٔی کو چاندی کے ہزار سِکّے دے رہا ہُوں۔ تاکہ اِن سَب کے سامنے جو آپ کے ساتھ ہیں، اُس نازیبا سلُوک کا جو آپ کے ساتھ ہُواہے ازالہ ہو جائے اَور آپ ہر ایک کی نظر میں پاک دامن ٹھہرو۔“
GEN 20:17 تَب اَبراہامؔ نے خُدا سے دعا کی اَور خُدا نے اَبی ملیخ، اُن کی بیوی اَور اُن کی خادِماؤں کو شفا بخشی اَور اُن کے اَولاد ہونے لگی
GEN 20:18 کیونکہ یَاہوِہ نے اَبراہامؔ کی بیوی سارہؔ کے سبب سے اَبی ملیخ کے خاندان کی ہر عورت کا رِحم بند کر دیا تھا۔
GEN 21:1 اَور یَاہوِہ، جَیسا کہ اُنہُوں نے فرمایا تھا، سارہؔ پر مہربان ہویٔے اَور یَاہوِہ نے سارہؔ کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اُسے پُورا کیا۔
GEN 21:2 سارہؔ حاملہ ہُوئی اَور اَبراہامؔ کے لیٔے اُن کے بُڑھاپے میں ٹھیک خُدا کے مُقرّرہ وقت پر اُن کے یہاں بیٹا پیدا ہُوا
GEN 21:3 اَور اَبراہامؔ نے اَپنے اُس بیٹے کا نام جو سارہؔ سے پیدا ہُوا، اِصحاقؔ رکھا۔
GEN 21:4 اَور جَب اُن کا بیٹا اِصحاقؔ آٹھ دِن کا ہُوا تَب اَبراہامؔ نے خُدا کے حُکم کے مُطابق اُس کا ختنہ کیا۔
GEN 21:5 جَب اِصحاقؔ پیدا ہُوا تَب اَبراہامؔ کی عمر سَو بَرس کی تھی۔
GEN 21:6 سارہؔ نے کہا، ”خُدا نے مُجھے ہنسایا اَورجو کویٔی اِس بارے میں سُنے گا وہ بھی میرے ساتھ ہنسے گا۔“
GEN 21:7 سارہؔ نے مزید کہا، ”اَبراہامؔ سے کون کہہ سَکتا تھا کہ کبھی سارہؔ بھی بچّوں کو دُودھ پلائے گی۔ پھر بھی مَیں نے اُن کے بُڑھاپے میں اُن کے لئے بیٹے کو پیدا کیا۔“
GEN 21:8 اَور وہ لڑکا بڑھا اَور اُس کا دُودھ چھُڑایا گیا اَور جِس دِن اِصحاقؔ کا دُودھ چھُڑایا گیا اُس دِن اَبراہامؔ نے ایک بڑی ضیافت کی۔
GEN 21:9 لیکن سارہؔ نے دیکھا کہ ہاگارؔ مِصری کے ہاں جو بیٹا اَبراہامؔ سے پیدا ہُوا تھا وہ اِصحاقؔ کا مضحکہ اُڑاتا ہے۔
GEN 21:10 سارہؔ نے اَبراہامؔ سے کہا، ”اُس لونڈی اَور اُس کے بیٹے کو نکال دیجئے کیونکہ اُس لونڈی کا بیٹا میرے بیٹے اِصحاقؔ کے ساتھ مِیراث میں ہرگز وارِث نہ ہوگا۔“
GEN 21:11 اَبراہامؔ اِس بات سے بےحد پریشان ہویٔے کیونکہ آخِر اِشمعیل بھی تو اُن کا بیٹا تھا۔
GEN 21:12 لیکن خُدا نے اَبراہامؔ سے فرمایا، ”اُس لڑکے اَور اَپنی لونڈی کے بارے میں اِس قدر پریشان نہ ہو۔ جو کُچھ سارہؔ تُم سے کہتی ہے اُسے مان لو کیونکہ تمہاری نَسل کا نام اِصحاقؔ ہی سے آگے بڑھےگا۔
GEN 21:13 میں اُس لونڈی کے بیٹے سے بھی ایک قوم پیدا کروں گا کیونکہ وہ بھی تمہارا بیٹا ہے۔“
GEN 21:14 دُوسرے دِن صُبح سویرے ہی اَبراہامؔ نے کچھ کھانا اَور پانی کی مشک لے کر ہاگارؔ کے کندھے پر رکھ دی اَور ہاگارؔ کو اُن کے لڑکے کے ساتھ وہاں سے رخصت کر دیا اَور وہ چلی گئیں اَور بیرشبعؔ کے بیابان میں بھٹکتی پھریں۔
GEN 21:15 جَب مشک کا پانی ختم ہو گیا تو ہاگارؔ نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے سایہ میں چھوڑ دیا۔
GEN 21:16 اَور خُود وہاں سے تقریباً دس مِیٹر کے فاصلہ پر دُور جا کر اَپنے بیٹے کے سامنے بیٹھ گئیں اَور سوچنے لگیں، ”میں اِس بچّے کو مَرتے ہویٔے کیسے دیکھوں گی؟“ اَور وہ وہاں نزدیک بیٹھی ہویٔی زار زار رونے لگیں۔
GEN 21:17 خُدا نے لڑکے کے رونے کی آواز سُنی اَور خُدا کے فرشتہ نے آسمان سے ہاگارؔ کو پُکارا اَور اُن سے فرمایا، ”اَے ہاگارؔ! تُجھے کیا ہُوا؟ خوف نہ کرو! خُدا نے اُس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے، اُس کی آواز سُن لی ہے۔
GEN 21:18 لڑکے کو اُٹھالو اَور اُس کا ہاتھ تھام کیونکہ مَیں اُس سے ایک بڑی قوم پیدا کروں گا۔“
GEN 21:19 تَب خُدا نے ہاگارؔ کی آنکھیں کھولیں اَور ہاگارؔ نے پانی کا ایک کنواں دیکھا۔ چنانچہ وہ گئیں اَور مشک بھر کر لے آئیں اَور لڑکے کو پانی پِلایا۔
GEN 21:20 وہ لڑکا بڑا ہوتا گیا اَور خُدا اِشمعیل کے ساتھ تھے۔ وہ بیابان میں رہتا تھا اَور ایک تیر اَنداز بَن گیا۔
GEN 21:21 جَب وہ پارانؔ کے بیابان میں رہتے تھے تو اُن کی ماں نے مِصر کی ایک لڑکی سے اِشمعیل کی شادی کر دی۔
GEN 21:22 اُس وقت اَبی ملیخ اَور اُس کے سپہ سالار فِیکُلؔ نے اَبراہامؔ سے کہا، ”خُدا آپ کے ہر کاموں میں آپ کی مدد کرتا ہے۔
GEN 21:23 آپ خُدا کے حُضُور مُجھ سے قَسم کھا کر وعدہ کرو کہ آپ نہ مُجھ سے، اَور نہ میرے بچّوں سے اَور نہ ہی میری نَسل سے دغا کروگے، بَلکہ مُجھ پر اَور اِس مُلک پر جِس میں آپ پردیسی کی طرح رہتے ہو، وَیسی ہی مہربانی کرنا جَیسی مہربانی مَیں نے آپ پر کی ہے۔“
GEN 21:24 اَبراہامؔ نے فرمایا، ”میں قَسم کھاتا ہُوں۔“
GEN 21:25 تَب اَبراہامؔ نے اَبی ملیخ سے پانی کے ایک کنوئیں کے متعلّق شکایت کی جسے اَبی ملیخ کے خادِموں نے زبردستی چھین لیا تھا۔
GEN 21:26 لیکن اَبی ملیخ نے کہا، ”میں نہیں جانتا کہ یہ کِس کی حرکت ہے۔ آپ نے بھی مُجھے نہیں بتایا اَور مُجھے تو یہ بات آج ہی مَعلُوم ہویٔی۔“
GEN 21:27 تَب اَبراہامؔ بھیڑیں اَور مویشی لے کر آئے اَور اُنہیں اَبی ملیخ کے حوالہ کر دیا اَور اُن دونوں آدمیوں نے آپَس میں عہد کر لیا۔
GEN 21:28 اَبراہامؔ نے گلّہ میں سے بھیڑ کے سات مادہ برّوں کو لے کر الگ رکھا۔
GEN 21:29 اَور اَبی ملیخ نے اَبراہامؔ سے پُوچھا، ”بھیڑ کے اِن سات مادہ برّوں کو الگ رکھنے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟“
GEN 21:30 اَبراہامؔ نے جَواب دیا، ”تُم بھیڑ کے اِن سات مادہ برّوں کو میرے ہاتھ سے اِس اَمر کے بطور گواہ قبُول کرو کہ یہ کنواں مَیں نے کھودا ہے۔“
GEN 21:31 اِس لیٔے وہ مقام بیرشبعؔ کہلایا کیونکہ اُن دو آدمیوں نے وہاں قَسم کھا کر عہد کیا تھا۔
GEN 21:32 بیرشبعؔ کے مقام پر عہد ہو جانے کے بعد اَبی ملیخ اَور اُس کا سپہ سالار، فِیکُلؔ مُلکِ فلسطین لَوٹ گیٔے۔
GEN 21:33 اَور اَبراہامؔ نے بیرشبعؔ میں ایک جھاؤ کا درخت لگایا اَور وہاں آپ نے یَاہوِہ، اَبدی خُدا سے دعا کی
GEN 21:34 اَور اَبراہامؔ بہت عرصہ تک مُلکِ فلسطین میں رہے۔
GEN 22:1 کچھ عرصہ بعد خُدا نے اَبراہامؔ کو آزمایا۔ خُدا نے اُن سے فرمایا، ”اَبراہامؔ!“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”مَیں حاضِر ہُوں۔“
GEN 22:2 تَب خُدا نے فرمایا، ”اَپنے اِکلوتے بیٹے اِصحاقؔ کو جِس سے تُم مَحَبّت کرتے ہو ساتھ لے کر موریاہؔ کے علاقہ میں جاؤ اَور وہاں کے ایک پہاڑ پرجو میں تُمہیں بتاؤں گا اُسے سوختنی نذر کی قُربانی کے طور پر نذر کرو۔“
GEN 22:3 دُوسرے دِن صُبح سویرے اَبراہامؔ نے اُٹھ کر اَپنے گدھے پر زین کسی اَور اَپنے خادِموں میں سے دو کو اَور اَپنے بیٹے اِصحاقؔ کو اَپنے ساتھ لیا۔ جَب اُس نے سوختنی نذر کی قُربانی کے لیٔے حسبِ ضروُرت لکڑیاں کاٹ لیں تو وہ اُس مقام کی طرف چل دئیے جو خُدا نے اُنہیں بتایا تھا۔
GEN 22:4 تیسرے دِن اَبراہامؔ نے اُوپر نگاہ کی اَور وہاں سے دُور اُنہیں وہ مقام دِکھائی دیا۔
GEN 22:5 اَبراہامؔ نے اَپنے خادِموں سے فرمایا، ”تُم یہیں گدھے کے پاس ٹھہرو اَور مَیں اَور یہ لڑکا اُوپر جاتے ہیں۔ وہاں ہم عبادت کریں گے اَور پھر تمہارے پاس لَوٹ آئیں گے۔“
GEN 22:6 اَبراہامؔ نے سوختنی نذر کی قُربانی کی لکڑیاں لے کر اَپنے بیٹے اِصحاقؔ کو دیں کہ وہ اُنہیں اُٹھالے اَور آگ اَور چھُری خُود سنبھالی۔ جَیسے ہی وہ دونوں ایک ساتھ روانہ ہویٔے،
GEN 22:7 اِصحاقؔ نے اَپنے باپ اَبراہامؔ سے پُوچھا، ”اَبّا؟“ اَبراہامؔ نے جَواب دیا، ”ہاں، میرے بیٹے؟“ اِصحاقؔ نے کہا، ”آگ اَور لکڑیاں یہاں ہیں لیکن سوختنی نذر کی قُربانی کے لیٔے برّہ کہاں ہے؟“
GEN 22:8 اَبراہامؔ نے جَواب دیا، ”اَے میرے بیٹے! خُدا آپ ہی سوختنی نذر کی قُربانی کے لیٔے برّہ مہیا کرےگا۔“ اَور وہ دونوں ساتھ ساتھ آگے بڑھ گیٔے۔
GEN 22:9 جَب وہ اُس مقام پر پہُنچے جو خُدا نے آپ کو بتایا تھا تو اَبراہامؔ نے وہاں مذبح اَور اُس پر لکڑیاں چُن دیں۔ پھر اَبراہامؔ نے اَپنے بیٹے اِصحاقؔ کو رسّی سے باندھ کر مذبح پر لکڑیوں کے اُوپر رکھ دیا۔
GEN 22:10 تَب اَبراہامؔ نے ہاتھ میں چھُری لی تاکہ اَپنے بیٹے کو ذبح کریں۔
GEN 22:11 لیکن یَاہوِہ کے فرشتہ نے اَبراہامؔ کو آسمان سے پُکارا، ”اَے اَبراہامؔ، اَے اَبراہامؔ!“ اَبراہامؔ نے جَواب دیا، ”مَیں حاضِر ہُوں۔“
GEN 22:12 یَاہوِہ نے فرمایا، ”اِس لڑکے پر ہاتھ نہ بڑھاؤ؛ اَور اُسے کچھ نہ کرنا۔ اَب مَیں جان گیا کہ تُو خُدا سے ڈرنے والا اِنسان ہے کیونکہ تُونے مُجھ سے اَپنے بیٹے، بَلکہ اِکلوتے بیٹے کو بھی دریغ نہ کیا۔“
GEN 22:13 اَبراہامؔ نے نگاہ اُٹھائی اَور آپ نے وہاں ایک مینڈھا دیکھا جِس کے سینگ جھاڑیوں میں پھنسے ہویٔے تھے۔ اَبراہامؔ نے جا کر اُس مینڈھے کو پکڑا اَور اُسے اَپنے بیٹے کی بجائے سوختنی نذر کی قُربانی کے طور پر چڑھایا۔
GEN 22:14 اِس لیٔے اَبراہامؔ نے اُس مقام کا نام ”یَاہوِہ یِراِہ“ رکھا۔ آج کے دِن تک یہ مثال دی جاتی ہے، ”یَاہوِہ کے پہاڑ پر مُہیّا کیا جایٔےگا۔“
GEN 22:15 یَاہوِہ کے فرشتہ نے آسمان سے دُوسری مرتبہ اَبراہامؔ کو پُکارا
GEN 22:16 یَاہوِہ نے اَپنی ذات کی قَسم کھا کر فرمایا، ”چونکہ تُونے میرے حُکم پر عَمل کیا اَور اَپنے بیٹے یعنی اَپنے اِکلوتے بیٹے کو بھی دریغ نہ کیا،
GEN 22:17 اِس لیٔے میں یقیناً تُمہیں برکت دُوں گا اَور تمہاری اَولاد کو آسمان کے سِتاروں اَور سمُندر کے کنارے کی ریت کی مانند بے شُمار بڑھاؤں گا اَور تمہاری اَولاد اَپنے دُشمنوں کے شہروں پر قابض ہوگی،
GEN 22:18 اَور تمہاری نَسل کے ذریعہ زمین کی سَب قومیں برکت پائیں گی کیونکہ تُم نے میرا حُکم مانا۔“
GEN 22:19 تَب اَبراہامؔ اَپنے خادِموں کے پاس لَوٹ آئے اَور وہ سَب بیرشبعؔ کو روانہ ہویٔے اَور اَبراہامؔ نے بیرشبعؔ میں قِیام کیا۔
GEN 22:20 چند دِنوں کے بعد اَبراہامؔ کو یہ خبر مِلی، ”مِلکاہؔ بھی ماں بَن چُکی ہے اَور آپ کے بھایٔی ناحوؔر سے بھی بیٹے پیدا ہویٔے ہیں،
GEN 22:21 یعنی عُوضؔ جو اُس کا پہلوٹھا ہے اَور اُس کا بھایٔی بوز، قمُوایلؔ (جو ارام کا باپ ہے)،
GEN 22:22 کسِدؔ، حَازو، پِلداشؔ، جِدلافؔ اَور بیتُھوایلؔ۔“
GEN 22:23 اَور بیتُھوایلؔ سے رِبقہؔ پیدا ہُوئی۔
GEN 22:24 ناحوؔر کی داشتہ کے ہاں بھی، جِس کا نام ریُومہ تھا بیٹے پیدا ہویٔے، جِن کے نام طیبحؔ، گاحمؔ، تحصؔ اَور معکہؔ ہیں۔
GEN 23:1 سارہؔ کی عمر ایک سَو ستّائیس بَرس کی ہُوئی۔
GEN 23:2 اَبراہامؔ نے مُلکِ کنعانؔ کے قِریت اربعؔ (یعنی حِبرونؔ میں) وفات پائی، اَور اَبراہامؔ سارہؔ کے لیٔے ماتم اَور نوحہ کرنے کے لیٔے وہاں گئے۔
GEN 23:3 تَب اَبراہامؔ اَپنی بیوی کی میّت کے پاس سے اُٹھ کر حِتّیوں سے گُفتگو کرنے لگے۔ اُنہُوں نے کہا،
GEN 23:4 ”مَیں تمہارے درمیان پردیسی اَور اجنبی ہُوں۔ تُم مُجھے قبرستان کے لیٔے اَپنی کچھ زمین بیچ دو تاکہ میں اَپنے مُردہ کو دفن کر سکوں۔“
GEN 23:5 حِتّیوں نے اَبراہامؔ کو جَواب دیا:
GEN 23:6 ”اَے آقا، ہماری سُنئے۔ آپ ہمارے درمیان ایک پُروقار سردار ہیں۔ ہماری قبروں میں سے جو بہترین ہو اُس میں سے آپ اَپنے مُردہ کو دفن کیجئے۔ ہم میں سے کویٔی بھی آپ کو اَپنا مُردہ دفن کرنے کے لیٔے اَپنی قبر دینے سے اِنکار نہ کرےگا۔“
GEN 23:7 تَب اَبراہامؔ اُٹھے اَور حِتّیوں کے سامنے، جو اُس مُلک کے باشِندے تھے آداب بجا لائے
GEN 23:8 اَور اُن سے فرمایا، ”اگر تمہاری یہ مرضی ہے کہ میں اَپنے مُردہ کو دفن کروں تو میری عرض سُنو اَور ضُحرؔ کے بیٹے عِفرونؔ سے میری سِفارش کرو
GEN 23:9 کہ وہ مکفیلہؔ کا غار جو اُس کا ہے، اَور اُس کے کھیت کے آخِر میں ہے۔ اُس سے کہو کہ وہ اُسے پُوری قیمت پر قبرستان کے لیٔے مُجھے بیچ دے۔ تاکہ وہ تمہارے درمیان میری مِلکیّت شُمار کی جائے۔“
GEN 23:10 عِفرونؔ حِتّی وہاں اَپنے لوگوں کے درمیان بیٹھا ہُوا تھا۔ اَور اُس نے اُن سَب حِتّیوں کے رُوبرو جو اُس کے شہر کے پھاٹک پر جمع تھے اَبراہامؔ کو جَواب دیا۔
GEN 23:11 عِفرونؔ نے حِتّی سے کہا، ”نہیں، اَے میرے آقا؛ میری بات سُنئے؛ میں آپ کو وہ کھیت دیئے دیتا ہُوں اَور وہ غار بھی جو اُس میں ہے۔ میں اَپنے لوگوں کے رُوبرو یہ جگہ آپ کے حوالہ کرتا ہُوں۔ جائیے اَور اَپنے مُردہ کو دفن کیجئے۔“
GEN 23:12 تَب اَبراہامؔ اُس مُلک کے لوگوں کے سامنے ایک بار پھر آداب بجا لائے
GEN 23:13 اَور اُن کے رُوبرو سَب کو سُناتے ہُوئے عِفرونؔ سے فرمایا، ”اگر تمہاری مرضی ہو تو میں اُس کھیت کو خریدنا چاہتا ہُوں۔ مُجھ سے قیمت لے لو تاکہ میں اَپنے مُردہ کو وہاں دفن کر سکوں۔“
GEN 23:14 عِفرونؔ نے اَبراہامؔ کو جَواب دیا،
GEN 23:15 ”میرے آقا! میری بات سُنئے۔ اُس زمین کی قیمت چاندی کے چار سَو ثاقل ہے، لیکن یہ رقم میرے اَور آپ کے درمیان کچھ معنی نہیں رکھتی ہے؟ جائیے! آپ اَپنے مُردہ کو دفن کیجئے۔“
GEN 23:16 اَبراہامؔ نے عِفرونؔ کی بات مان لی اَور سوداگروں میں رائج وزن کے مُطابق چار سَو ثاقل چاندی اُسے دے دی، جِس کا اعلان عِفرونؔ نے حِتّیوں کی مَوجُودگی میں کیا تھا۔
GEN 23:17 لہٰذا عِفرونؔ کا وہ کھیت جو ممرےؔ کے سامنے مکفیلہؔ میں تھا، اَور وہ غار جو اُس میں تھا تمام درختوں سمیت جو اُس کھیت کے حُدوُد میں تھے،
GEN 23:18 اُن سارے حِتّیوں کے سامنے جو شہر کے پھاٹک پر مَوجُود تھے باقاعدہ اَبراہامؔ کی مِلکیّت قرار دئیے گیٔے۔
GEN 23:19 اُس کے بعد اَبراہامؔ نے اَپنی بیوی سارہؔ کو مکفیلہؔ کے کھیت کے غار میں دفن کیا، جو مُلکِ کنعانؔ میں ممرےؔ (یعنی حِبرونؔ) کے نزدیک ہے۔
GEN 23:20 چنانچہ وہ کھیت اَور اُس میں کا غار حِتّیوں کی طرف سے قبرستان کے لیٔے اَبراہامؔ کی مِلکیّت قرار دیئے گیٔے۔
GEN 24:1 اَبراہامؔ اَب ضعیف اَور عمر رسیدہ ہو چُکے تھے اَور یَاہوِہ نے آپ کو ہر پیمانے سے برکت دی تھی۔
GEN 24:2 اَبراہامؔ نے اَپنے گھر کے خاص خادِم سے جو اُن کی سَب چیزوں کا مختار تھا فرمایا، ”تُم اَپنا ہاتھ میری ران کے نیچے رکھو۔
GEN 24:3 یَاہوِہ کی جو آسمان اَور زمین کا خُدا ہے، قَسم کھاؤ کہ تُم میرے بیٹے کو کنعانیوں کی بیٹیوں میں سے جِن کے درمیان مَیں رہتا ہُوں، کسی سے بھی شادی نہیں کرنے دوگے،
GEN 24:4 بَلکہ میرے وطن میں میرے اَپنے رشتہ داروں کے پاس جا کر میرے بیٹے اِصحاقؔ کے لیٔے بیوی لاؤگے۔“
GEN 24:5 خادِم نے اَبراہامؔ سے پُوچھا، ”اگر وہاں کی کویٔی عورت میرے ساتھ اِس مُلک میں آنے کو راضی نہ ہو تو کیا میں آپ کے بیٹے کو اُس مُلک میں واپس لے جاؤں جہاں سے آپ آئے ہیں؟“
GEN 24:6 اَبراہامؔ نے فرمایا، ”خبردار تُم میرے بیٹے کو وہاں ہرگز واپس نہ لے جانا۔
GEN 24:7 یَاہوِہ، آسمان کے خُدا ہیں، جو مُجھے اَپنے باپ کے گھر اَور میرے وطن سے نکال لائے اَور جنہوں نے مُجھ سے کلام کیا اَور قَسم کھا کر مُجھ سے یہ وعدہ کیا، ’میں یہ مُلک تمہاری نَسل کو دُوں گا۔‘ وُہی اَپنا فرشتہ تمہارے آگے آگے بھیجیں گے تاکہ تُم وہاں سے میرے بیٹے کے لیٔے بیوی لے آؤ۔
GEN 24:8 اگر وہ عورت تمہارے ساتھ آنا نہ چاہے، تو تُم میری اِس قَسم سے بَری ہو جاؤگے۔ پر تُم میرے بیٹے کو وہاں نہ لے جانا۔“
GEN 24:9 چنانچہ اُس خادِم نے اَپنا ہاتھ اَپنے آقا اَبراہامؔ کی ران کے نیچے رکھا اَور قَسم کھائی کہ وہ اَیسا ہی کرےگا۔
GEN 24:10 تَب اُس خادِم نے اَپنے آقا کے اُونٹوں میں سے دس اُونٹ لیٔے اَور اُن پر ہر قِسم کی بہترین اَشیا لادیں جو اَبراہامؔ نے دی تھیں اَور وہ ارام نحرائیمؔ یعنی مسوپتامیہؔ کی طرف نکلے اَور ناحوؔر کے شہر کے پاس جاپہنچے۔
GEN 24:11 اُس نے شہر کے باہر ایک کنوئیں کے پاس اُونٹوں کو بِٹھا دیا؛ یہ شام کا وقت تھا جَب عورتیں پانی بھرنے کے لیٔے نکلتی ہیں۔
GEN 24:12 تَب خادِم نے دعا کی، ”اَے یَاہوِہ، میرے آقا اَبراہامؔ کے خُدا، آج مُجھے کامیابی بخش اَور میرے آقا اَبراہامؔ پر مہربان ہو۔
GEN 24:13 دیکھ میں اِس چشمہ کے پاس کھڑا ہُوں اَور اِس شہر کے لوگوں کی بیٹیاں پانی بھرنے کے لیٔے آ رہی ہیں۔
GEN 24:14 کاش اَیسا ہو کہ جَب مَیں کسی لڑکی سے کہُوں، ’ذرا اَپنا گھڑا جھُکا کر مُجھے پانی پِلا دے،‘ اَور وہ لڑکی کہے، ’پانی پی لیجئے اَور مَیں تمہارے اُونٹوں کو بھی پانی پِلا دُوں گی،‘ تو وہ وُہی لڑکی ہو جسے آپ نے اَپنے خادِم اِصحاقؔ کے لیٔے چُناہے اِس سے میں جان لُوں گا کہ آپ نے میرے آقا پر مہربانی کی ہے۔“
GEN 24:15 اِس سے قبل کہ وہ اَپنی دعا ختم کرتا رِبقہؔ اَپنا گھڑا کندھے پر لیٔے ہویٔے آئی۔ وہ اَبراہامؔ کے بھایٔی ناحوؔر کی بیوی مِلکاہؔ کے بیٹے بیتُھوایلؔ کی بیٹی تھی۔
GEN 24:16 لڑکی نہایت خُوبصورت، کنواری؛ اَور مَرد سے ناواقِف تھی۔ وہ نیچے اُتر کر چشمے کے پاس گئی اَور پھر اَپنا گھڑا بھرکے اُوپر آ گئی۔
GEN 24:17 تَب وہ خادِم دَوڑکر اُسے مِلنے گیا اَور کہنے لگا، ”اَپنے گھڑے میں سے تھوڑا پانی مُجھے پِلا دیجئے۔“
GEN 24:18 رِبقہؔ نے کہا، ”ضروُر میرے آقا، پانی پی لیجئے“ اَور وہ فوراً گھڑے کو نیچے اُتار کر ہاتھ سے اُسے پانی پِلانے لگی۔
GEN 24:19 جَب وہ خادِم کو پانی پِلا چُکی تو رِبقہؔ نے کہا، ”مَیں تمہارے اُونٹوں کے لئے بھی پانی بھر کر لاتی ہُوں جَب تک کہ وہ پی کر سیر نہ ہو جایٔیں۔“
GEN 24:20 چنانچہ اُس نے جلدی سے اَپنے گھڑے کا پانی حوض میں اُنڈیل دیا اَور وہ دَوڑ دَوڑکر کنوئیں سے پانی لاتی رہی اَور اُس کے سَب اُونٹوں کے لیٔے کافی پانی بھر لائی۔
GEN 24:21 وہ خادِم نہایت خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا تاکہ یہ جان سکے کہ یَاہوِہ نے اُس کا سفر مُبارک کیا ہے یا نہیں۔
GEN 24:22 جَب اُونٹ پانی پی چُکے تو اُس شخص نے ساڑے پانچ گرام سونے کی ایک نتھ اَور تقریباً ایک سوپندرہ گرام وزن کے سونے کے دو کنگن نکالے
GEN 24:23 اَور لڑکی سے پُوچھا، ”تُم کِس کی بیٹی ہو؟ مُجھے بتاؤ کیا تمہارے باپ کے گھر میں ٹھہرنے کی کوئی جگہ ہے کہ ہم وہاں رات گزار سکیں؟“
GEN 24:24 رِبقہؔ نے جَواب دیا، ”میں بیتُھوایلؔ کی بیٹی ہُوں، وہ مِلکاہؔ کا بیٹا ہے جو ناحوؔر سے اُن کے یہاں پیدا ہُوا۔“
GEN 24:25 اَور اُس نے یہ بھی کہا، ”ہمارے ہاں کافی بھُوسا اَور چارا ہے اَور ٹھہرنے کے لئے جگہ بھی ہے۔“
GEN 24:26 تَب اُس آدمی نے جھُک کر یَاہوِہ کو سَجدہ کیا،
GEN 24:27 اَور کہا، ”یَاہوِہ، میرے آقا اَبراہامؔ کے خُدا کی تمجید ہو، جِس نے میرے آقا کو اَپنے رحم و کرم اَور راستی سے محروم نہ رکھا اَور یَاہوِہ نے مُجھے صحیح راہ پر چلا کر میرے آقا کے رشتہ داروں کے گھر پر پہُنچا دیا۔“
GEN 24:28 وہ لڑکی دَوڑتی ہُوئی گئی اَور اَپنی ماں کے گھر میں یہ ماجرا کہہ سُنایا۔
GEN 24:29 اَور رِبقہؔ کا ایک بھایٔی تھا جِس کا نام لابنؔ تھا۔ وہ اُس آدمی کے پاس جانے کے لیٔے تیزی سے باہر نِکلا جو چشمے کے پاس تھا۔
GEN 24:30 اَور پھر جوں ہی اُس نے وہ نتھ اَور اَپنی بہن رِبقہؔ کے ہاتھوں میں وہ کنگن دیکھے اَور رِبقہؔ سے اُس آدمی کی باتیں سُنیں تو وہ اُس آدمی کے پاس گیا اَور اُسے چشمہ کے نزدیک اُونٹوں کے پاس کھڑا پایا۔
GEN 24:31 لابنؔ نے خادِم سے کہا، ”تُم جو یَاہوِہ کی طرف سے مُبارک ہو، میرے گھر چلو۔ تُم یہاں باہر کیوں کھڑے ہو؟ مَیں نے گھر کو، اَور اُونٹوں کے ٹھہرنے کے لیٔے بھی جگہ کو تیّار کر لیا ہے۔“
GEN 24:32 تَب وہ آدمی گھر میں داخل ہُوا اَور اُونٹوں پر سے سامان اُتارا گیا۔ اُونٹوں کے لیٔے بھُوسا اَور چارا اَور اُس کے اَور اُس کے آدمیوں کے پاؤں دھونے کے لیٔے پانی لایا گیا۔
GEN 24:33 تَب اُس کے سامنے کھانا رکھا گیا۔ لیکن اُس نے کہا، ”میں اُس وقت تک نہ کھاؤں گا جَب تک تُم سے اَپنے آنے کا سبب نہ بَیان کر دُوں۔“ لابنؔ نے کہا، ”بہت خُوب، بَیان کریں۔“
GEN 24:34 تَب اُس نے کہا، ”مَیں اَبراہامؔ کا خادِم ہُوں۔
GEN 24:35 یَاہوِہ نے میرے آقا کو بڑی برکت دی ہے اَور وہ بڑے دولتمند آدمی ہو گئے ہیں۔ یَاہوِہ نے اُنہیں بھیڑیں اَور مویشی، چاندی اَور سونا خادِم اَور خادِمائیں اَور اُونٹ اَور گدھے دئیے ہیں۔
GEN 24:36 میرے آقا کی بیوی سارہؔ کے بُڑھاپے میں ایک بیٹا پیدا ہُوا اَور اَبراہامؔ نے اُسے اَپنا سَب کچھ دے دیا ہے۔
GEN 24:37 میرے آقا نے مُجھ سے قَسم دے کر کہا ہے، ’تُم میرے بیٹے کے لیٔے کنعانیوں کی بیٹیوں میں سے جِن کے مُلک میں، مَیں رہتا ہُوں کسی کو اُس کے نکاح میں نہ دینا،
GEN 24:38 بَلکہ میرے باپ کے خاندان، اَور میری برادری والوں میں جانا، اَور میرے بیٹے کے لیٔے بیوی لانا۔‘
GEN 24:39 ”تَب مَیں نے اَپنے آقا سے پُوچھا، ’اگر وہ عورت میرے ساتھ آنا نہ چاہے تو کیا ہوگا؟‘
GEN 24:40 ”میرے آقا نے جَواب دیا، ’یَاہوِہ، جِن کے حُضُوری میں چلتا رہا ہُوں، اَپنا فرشتہ تمہارے ساتھ بھیجے گا اَور تمہارے سفر کو مُبارک کرےگا تاکہ تُم میری برادری والوں اَور میرے باپ کے خاندان میں سے میرے بیٹے کے لیٔے بیوی لا سکو۔
GEN 24:41 اَور جَب تُم میری برادری والوں میں پہُنچ جاؤ تَب میری اِس قَسم سے بَری ہو جاؤگے اَور اگر وہ تُمہیں لڑکی دینے سے اِنکار کریں، تَب بھی تُم میری قَسم سے بَری ہو جاؤگے۔‘
GEN 24:42 ”اَور آج جَب مَیں چشمہ پر پہُنچا تو مَیں نے کہا، ’اَے یَاہوِہ، میرے آقا اَبراہامؔ کے خُدا! اگر آپ کی مرضی ہو تو میرے اِس سفر کو مُبارک کیجئے۔
GEN 24:43 اَور دیکھو، مَیں اِس چشمہ کے پاس کھڑا ہُوں، اگر کویٔی لڑکی پانی بھرنے آئے اَور مَیں اُس سے کہُوں، ”مُجھے اَپنے گھڑے سے تھوڑا پانی پلا دو،“
GEN 24:44 اَور اگر وہ مُجھ سے کہے، ”پانی پی لیجئے، اَور مَیں تمہارے اُونٹوں کے لیٔے بھی پانی بھر دُوں گی،“ تو وہ وُہی ہو جسے یَاہوِہ نے میرے آقا کے بیٹے کے لیٔے چُناہے۔‘
GEN 24:45 ”اِس سے قبل کہ میں اَپنے دِل میں یہ دعا پُوری کر پاتا، رِبقہؔ اَپنا گھڑا اَپنے کندھے پر لیٔے ہویٔے آ پہُنچی۔ وہ چشمہ کے پاس نیچے گئی، اَور پانی بھر لائی، اَور مَیں نے اُس سے کہا، ’برائے مہربانی مُجھے پانی پِلا دیجئے۔‘
GEN 24:46 ”اُس نے فوراً اَپنے کندھے پر سے اَپنا گھڑا اُتارا اَور کہا، ’پانی پی لیجئے اَور مَیں تمہارے اُونٹوں کو بھی پانی پِلا دُوں گی۔‘ چنانچہ مَیں نے پانی پی لیا اَور اُس نے اُونٹوں کو بھی پانی پِلایا۔
GEN 24:47 ”تَب مَیں نے اُس سے پُوچھا، ’تُم کِس کی بیٹی ہو؟‘ ”اُس نے کہا، ’میں بیتُھوایلؔ بِن ناحوؔر کی بیٹی ہُوں، اَور اُس کی ماں کا نام مِلکاہؔ ہے۔‘ ”تَب مَیں نے اُس کی ناک میں نتھ اَور اُس کے ہاتھوں میں کنگن پہنائے،
GEN 24:48 اَور مَیں نے جھُک کر یَاہوِہ کو سَجدہ کیا۔ مَیں نے یَاہوِہ اَپنے آقا اَبراہامؔ کے خُدا کی تمجید کی، جِس نے مُجھے صداقت کی راہ پر چلایا کہ اَپنے آقا کے بھایٔی کی پوتی کو اُن کے بیٹے کے لیٔے لے جاؤں۔
GEN 24:49 لہٰذا اَب اگر تُم میرے آقا کے ساتھ رحم و کرم اَور راستی سے پیش آنا چاہتے ہو تو مُجھے بتاؤ؛ اَور اگر نہیں، تو بھی کہہ دو، تاکہ یہ مَعلُوم ہو جائے کہ اَب مُجھے کِس طرف پلٹنا ہے۔“
GEN 24:50 لابنؔ اَور بیتُھوایلؔ نے جَواب دیا، ”یہ بات یَاہوِہ کی طرف سے ہویٔی ہے، اَب ہم تُمہیں بُرا یا بھلا بھی کیا کہیں۔
GEN 24:51 یہ رہی رِبقہؔ۔ اِسے لے لیجئے اَور رخصت ہو جایئں اَور اِسے یَاہوِہ کے قول کے مُطابق اَپنے آقا کے بیٹے سے بیاہ دو۔“
GEN 24:52 جَب اَبراہامؔ کے خادِم نے اُن کی باتیں سُنیں تو اُس نے زمین پر جھُک کر یَاہوِہ کو سَجدہ کیا۔
GEN 24:53 تَب اُس خادِم نے سونے اَور چاندی کے زیورات اَور لباس نکال کر رِبقہؔ کو دیئے اَور اُس کے بھایٔی اَور اُس کی ماں کو بھی قیمتی تحفے پیش کئے۔
GEN 24:54 تَب اُس نے اَور اُس کے ساتھ کے آدمیوں نے کھایا پیا اَور رات وہیں بسر کی۔ اگلے دِن صُبح جَب وہ اُٹھے تو خادِم نے کہا، ”مُجھے میرے آقا کے پاس روانہ کر دیجئے۔“
GEN 24:55 لیکن رِبقہؔ کے بھایٔی اَور اُس کی ماں نے جَواب دیا، ”لڑکی کو دس دِن اَور ہمارے پاس رہنے دیجئے؛ اُس کے بعد اُسے لے جانا۔“
GEN 24:56 لیکن خادِم نے اُن سے کہا، ”اَب جَب کہ یَاہوِہ نے میرا سفر مُبارک کیا ہے تو مُجھے مت روکئے؛ مُجھے رخصت کر دیجئے تاکہ میں اَپنے آقا کے پاس جاؤں۔“
GEN 24:57 تَب اُنہُوں نے کہا، ”ہم رِبقہؔ کو بُلاکر اِس بارے میں اُس سے پُوچھتے ہیں۔“
GEN 24:58 چنانچہ اُنہُوں نے رِبقہؔ کو بُلاکر پُوچھا، ”کیا تُم اِس شخص کے ساتھ جاؤگی؟“ رِبقہؔ نے کہا، ”ہاں، میں جاؤں گی۔“
GEN 24:59 تَب اُنہُوں نے اَپنی بہن رِبقہؔ اَور اُس کی دایہ کو اَبراہامؔ کے خادِم اَور اُن کے آدمیوں کے ساتھ رخصت کیا۔
GEN 24:60 اَور اُنہُوں نے رِبقہؔ کو دعا دیتے ہُوئے کہا، ”اَے ہماری بہن! تُو لاکھوں کی ماں ہو؛ اَور تمہاری نَسل اَپنے دُشمنوں کے شہروں پر قابض ہو۔“
GEN 24:61 تَب رِبقہؔ اَور اُس کی خادِمائیں تیّار ہو گئیں اَور اَپنے اُونٹوں پر سوار ہویٔیں اَور اُس آدمی کے ساتھ روانہ ہو گئیں اَور اِس طرح وہ خادِم رِبقہؔ کو ساتھ لے کر روانہ ہُوا۔
GEN 24:62 اِس دَوران اِصحاقؔ بیرلخیؔ روئی سے آکر اَب نِیگیوؔ مُلک میں رہتے تھے۔
GEN 24:63 ایک شام کو اِصحاقؔ دعا کرنے کے لیٔے کھیت میں نکل پڑے اَور جوں ہی اُنہُوں نے نگاہ اُٹھائی تو دیکھا کہ سامنے سے اُونٹ آ رہے ہیں۔
GEN 24:64 رِبقہؔ نے بھی نگاہ اُٹھائی اَور اِصحاقؔ کو دیکھا۔ تَب وہ اَپنے اُونٹ پر سے نیچے اُتری
GEN 24:65 اَور خادِم سے پُوچھا، ”کھیت میں وہ آدمی کون ہے، جو ہم سے مِلنے آ رہاہے؟“ اُس خادِم نے جَواب دیا، ”وہ میرے آقا ہیں۔“ تَب رِبقہؔ نے اَپنا نقاب لے کر اَپنے آپ کو ڈھانپ لیا۔
GEN 24:66 تَب خادِم نے سَب ماجرا اِصحاقؔ کو کہہ سُنایا۔
GEN 24:67 اِصحاقؔ رِبقہؔ کو اَپنی ماں سارہؔ کے خیمہ میں لے آئے اَور اُنہُوں نے رِبقہؔ سے شادی کی۔ اِس طرح وہ اُن کی بیوی بنی اَور اُنہُوں نے اُس سے مَحَبّت کی؛ اَور اِس طرح اِصحاقؔ نے اَپنی ماں کی موت کے بعد تسلّی پائی۔
GEN 25:1 اَبراہامؔ نے ایک اَور عورت سے شادی کی جِس کا نام قِطورہؔ تھا
GEN 25:2 اَور اُس سے زِمرانؔ، یُقشانؔ، مِدان، مِدیان، اِشبقؔ اَور شُوعؔح پیدا ہُوئے۔
GEN 25:3 یُقشانؔ سے شیبا اَور دِدانؔ پیدا ہویٔے اَور دِدانؔ کی نَسل سے اشُوریم، لطُوسی اَور لومی لوگ ہُوئے۔
GEN 25:4 اَور بنی مِدیان یہ ہیں: عیفاہؔ، عِفرؔ، حنوخؔ، اَبیداعؔ اَور اِلدعؔح تھے۔ یہ سَب قِطورہؔ کی اَولاد تھے۔
GEN 25:5 اَبراہامؔ نے اَپنا سَب کچھ اِصحاقؔ کے لیٔے چھوڑ دیا تھا۔
GEN 25:6 لیکن اَپنے جیتے جی اَبراہامؔ نے اَپنی داشتاؤں کے بیٹوں کو انعامات دے کر اُنہیں اَپنے بیٹے اِصحاقؔ کے پاس سے مشرقی مُلک کو بھیج دیا۔
GEN 25:7 اَبراہامؔ کی کُل عمر ایک سَو پچہتّر بَرس کی ہُوئی
GEN 25:8 تَب اَبراہامؔ نے آخِری سانس لی اَور عَین بُڑھاپے میں نہایت ضعیف اَور پُوری عمر کا ہوکر وفات پائی اَور اَپنے لوگوں میں جا مِلے۔
GEN 25:9 اَور اُن کے بیٹے اِصحاقؔ اَور اِشمعیل نے مکفیلہؔ کے غار میں جو ممرےؔ کے نزدیک حِتّی ضُحرؔ کے بیٹے عِفرونؔ کے کھیت میں ہے اَبراہامؔ کو دفن کیا۔
GEN 25:10 اُس کھیت کو اَبراہامؔ نے حِتّیوں سے خریدا تھا۔ وہیں اَبراہامؔ کو اُن کی بیوی سارہؔ کے پاس دفن کیا گیا۔
GEN 25:11 اَبراہامؔ کی وفات کے بعد خُدا نے اُن کے بیٹے اِصحاقؔ کو برکت دی جو اُس وقت بیرلخیؔ روئی کے پاس رہتے تھے۔
GEN 25:12 یہ اَبراہامؔ کے بیٹے اِشمعیل کا نَسب نامہ ہے جو سارہؔ کی لونڈی ہاگارؔ مِصری سے اَبراہامؔ کے یہاں پیدا ہُوا۔
GEN 25:13 اِشمعیل کے بیٹوں کے ناموں کی ترتیب، اُن کی پیدائش کے مُطابق یہ ہے: نبایوتؔ جو اِشمعیل کا پہلوٹھا تھا، قیدارؔ، ادبیلؔ، مبسامؔ،
GEN 25:14 مِشماعؔ، دُومہؔ، مَسّا،
GEN 25:15 حددؔ، تیماؔ، یطُورؔ، نافیشؔ اَور قِدمہؔ۔
GEN 25:16 یہ اِشمعیل کے بیٹے تھے، اَور بَارہ قبیلوں کے سردار اَپنی بستیوں اَور چھاؤنیوں کے مُطابق اِن ہی سے نامزد ہیں۔
GEN 25:17 اِشمعیل کی کُل عمر ایک سَو سینتیس بَرس کی ہو گئی۔ تَب آپ نے وفات پائی اَور اَپنے لوگوں سے جا مِلے۔
GEN 25:18 اُن کی اَولاد مِصر کی مشرقی سرحد کے نزدیک اشُور کی سمت میں حَویلہؔ سے شُورؔ تک کے علاقے میں آباد ہوئی۔ یہ لوگ اَپنے سَب قبیلوں کے لوگوں سے بَیر رکھتے تھے۔
GEN 25:19 اَبراہامؔ کے بیٹے اِصحاقؔ کا نَسب نامہ یہ ہے: اَبراہامؔ سے اِصحاقؔ پیدا ہُوا۔
GEN 25:20 اَور اِصحاقؔ چالیس بَرس کے تھے جَب آپ نے رِبقہؔ سے بیاہ کیا جو فدّان ارام کے باشِندہ بیتُھوایلؔ ارامی کی بیٹی اَور لابنؔ ارامی کی بہن تھی۔
GEN 25:21 اَور اِصحاقؔ نے اَپنی بیوی کے لیٔے یَاہوِہ سے دعا کی کیونکہ وہ بانجھ تھیں۔ یَاہوِہ نے اُن کی دعا سُنی اَور اُن کی بیوی رِبقہؔ حاملہ ہُوئیں۔
GEN 25:22 اَور اُن کے رِحم میں دو بچّے آپَس میں زورآزمائی کرنے لگے۔ تَب رِبقہؔ نے کہا، ”میرے ساتھ اَیسا کیوں ہو رہاہے؟“ چنانچہ رِبقہؔ نے یَاہوِہ سے پُوچھا۔
GEN 25:23 یَاہوِہ نے رِبقہؔ سے فرمایا، ”تمہارے رِحم میں دو بیٹے گویا دو قومیں ہیں، اَور یہ قوموں کے لوگ جو تمہارے بطن سے ہُوں گی ایک دُوسری سے جُدا کر دی جایٔیں گی؛ ایک بیٹا دُوسرے بیٹے سے زورآور ہوگا، اَور بڑا چُھوٹے کی خدمت کرےگا۔“
GEN 25:24 جَب اُن کی زچگی کا وقت آ گیا تَب پتہ چلا کہ اُن کے رِحم میں جُڑواں بچّے ہیں۔
GEN 25:25 جو پہلے پیدا ہُوا وہ سُرخ تھا اَور اُس کا سارا جِسم بالوں سے بنے ہویٔے کپڑے کی طرح تھا۔ اِس لیٔے اُنہُوں نے اُس کا نام عیسَوؔ رکھا۔
GEN 25:26 اُس کے بعد اُس کا بھایٔی پیدا ہُوا جو اَپنے ہاتھ سے عیسَوؔ کی اِیڑی پکڑے ہویٔے تھا اِس لیٔے اُس کا نام یعقوب رکھا گیا۔ جَب رِبقہؔ نے اُن دونوں کو پیدا کیا تَب اِصحاقؔ کی عمر ساٹھ بَرس کی تھی۔
GEN 25:27 پھر لڑکے بڑے ہو گئے اَور عیسَوؔ ماہر شِکاری بَن گیا۔ اُسے کھُلی جگہ میں رہنا پسند تھا۔ اَور یعقوب خاموش طبیعت اِنسان تھا اَور اُسے خیموں ہی میں رہنا اَچھّا لگتا تھا۔
GEN 25:28 اِصحاقؔ جسے شِکار کا گوشت بہت پسند تھا عیسَوؔ سے پیار کرتا تھا لیکن رِبقہؔ یعقوب کو پیار کرتی تھی۔
GEN 25:29 ایک دفعہ یعقوب دال پکا رہے تھے کہ عیسَوؔ جنگل سے لَوٹا اَور اُسے سخت بھُوک لگ رہی تھی۔
GEN 25:30 عیسَوؔ نے یعقوب سے کہا، ”جلدی کیجئے اَور مُجھے اِس لال لال شَے میں سے کچھ کھانے کو دیجئے کیونکہ مَیں بھُوک سے بےدم ہو رہا ہُوں۔“ (اِسی وجہ سے اُس کا نام اِدُوم پڑ گیا یعنی سُرخ۔)
GEN 25:31 یعقوب نے کہا، ”اَچھّا پہلے اَپنا پہلوٹھا ہونے کا حق مُجھے دے دو۔“
GEN 25:32 عیسَوؔ نے کہا، ”دیکھو، مَیں تو بھُوک سے مَرا جا رہا ہُوں؛ پہلوٹھے ہونے کا حق میرے کِس کام کا؟“
GEN 25:33 لیکن یعقوب نے کہا، ”پہلے آپ مُجھ سے قَسم کھاؤ۔“ اِس لیٔے عیسَوؔ نے قَسم کھا کر اَپنا پہلوٹھا ہونے کا حق یعقوب کے ہاتھ بیچ دیا۔
GEN 25:34 لہٰذا یعقوب نے عیسَوؔ کو کچھ روٹی اَور مسور کی دال جو آپ نے پکائی تھی دے دی اَور عیسَوؔ کھا پی کر اُٹھا اَور چلا گیا۔ اِس طرح عیسَوؔ نے پہلوٹھے ہونے کے اَپنے حق کی بےقدری کی۔
GEN 26:1 پھر مُلک میں قحط پڑا جو اُس پہلے قحط کے علاوہ تھا جو اَبراہامؔ کے ایّام میں پڑا تھا۔ اِس لیٔے اِصحاقؔ گِراؔر میں فلسطینی بادشاہ اَبی ملیخ کے پاس چلےگئے۔
GEN 26:2 تَب یَاہوِہ اِصحاقؔ پر ظاہر ہویٔے اَور فرمایا، ”مِصر کو نہ جانا بَلکہ جہاں میں تُمہیں رہنے کو کہُوں وہیں رہنا۔
GEN 26:3 تُم اِس مُلک میں کچھ عرصہ کے لیٔے رہو اَور مَیں تمہارے ساتھ رہُوں گا اَور تُمہیں برکت دُوں گا۔ میں یہ تمام مُلک تُمہیں اَور تمہاری نَسل کو دے کر وہ قَسم پُوری کروں گا جو مَیں نے تمہارے باپ اَبراہامؔ سے کھائی تھی۔
GEN 26:4 مَیں تمہاری اَولاد کو آسمان کے تاروں کی طرح بڑھاؤں گا اَور اُنہیں یہ تمام مُلک دُوں گا اَور تمہاری نَسل کے وسیلہ سے دُنیا کی سَب قومیں برکت پائیں گی،
GEN 26:5 کیونکہ اَبراہامؔ نے میری باتیں مانیں اَور میرے اَحکام میرے قوانین اَور میری ہدایات پر عَمل کیا۔“
GEN 26:6 چنانچہ اِصحاقؔ گِراؔر میں مُقیم ہو گئے۔
GEN 26:7 جَب وہاں کے باشِندوں نے اُن سے اُن کی بیوی کے متعلّق پُوچھا تَب آپ نے کہا، ”وہ میری بہن ہے،“ کیونکہ وہ یہ کہنے سے ڈرتے تھے، ”وہ میری بیوی ہے۔“ اِصحاقؔ نے سوچا، ”اِس جگہ کے لوگ رِبقہؔ کی وجہ سے مُجھے قتل نہ کر ڈالیں کیونکہ رِبقہؔ خُوبصورت ہے۔“
GEN 26:8 جَب اِصحاقؔ کو وہاں رہتے ہویٔے کافی عرصہ گزر گیا تَب فلسطینی بادشاہ اَبی ملیخ نے ایک کھڑکی سے نیچے جھانک کر دیکھا کہ اِصحاقؔ اَپنی بیوی رِبقہؔ سے لاڈ پیار کر رہاہے۔
GEN 26:9 تَب اَبی ملیخ نے اِصحاقؔ کو بُلوا کر کہا، ”دراصل وہ تمہاری بیوی ہے! پھر تُم نے یہ کیوں کہا، ’وہ تمہاری بہن ہے‘؟“ اِصحاقؔ نے اُسے جَواب دیا، ”کیونکہ مَیں نے سوچا کہ کہیں اَیسا نہ ہو کہ اُس کی وجہ سے مُجھے اَپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔“
GEN 26:10 تَب اَبی ملیخ نے کہا، ”یہ تُم نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟ یہ ممکن تھا کہ اِن میں سے کوئی شخص تمہاری بیوی کے ساتھ مباشرت کر لیتا اَور تُم ہم پر اِلزام لگاتے۔“
GEN 26:11 تَب اَبی ملیخ نے سَب لوگوں میں اعلان کروایا: ”جو کویٔی اِس مَرد یا اِس کی بیوی پر ہاتھ ڈالے گا وہ یقیناً قتل کر دیا جائے گا۔“
GEN 26:12 اَور اِصحاقؔ نے اُس سال اُس مُلک میں جِتنی فصل بوئی اُس کا سَو گُنا پھل پایا کیونکہ یَاہوِہ نے اُنہیں برکت دی تھی۔
GEN 26:13 وہ بہت مالدار ہو گئے اَور اُن کی دولت بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ اَبراہامؔ بےحد اَمیر ہو گئے۔
GEN 26:14 اُن کے پاس اِس قدر زِیادہ بھیڑ بکریاں اَور جانور اَور نوکر چاکر تھے کہ فلسطینی اُن سے حَسد کرنے لگے۔
GEN 26:15 چناچہ فلسطینیوں نے وہ سَب کنوئیں جو اُن کے باپ اَبراہامؔ کے خادِموں نے اَبراہامؔ کے جیتے جی کھودے تھے مٹّی سے بھر کر بند کر دئیے۔
GEN 26:16 تَب اَبی ملیخ نے اِصحاقؔ سے کہا، ”تُم ہمارے پاس سے چلے جاؤ کیونکہ تُم ہم سے زِیادہ زورآور ہو گئے ہو۔“
GEN 26:17 چنانچہ اِصحاقؔ وہاں سے کُوچ کرکے گِراؔر کی وادی میں جا کر خیمہ زن ہو گئے اَور وہیں بس گئے۔
GEN 26:18 اِصحاقؔ نے اُن کنوؤں کو جو اُن کے باپ اَبراہامؔ کے دِنوں میں کھودے گیٔے تھے اَور جنہیں فلسطینیوں نے اَبراہامؔ کی موت کے بعد بند کر دیا تھا پھر سے کھُلوا دیا اَور اُن کے وُہی نام رکھے جو اُن کے باپ نے رکھے تھے۔
GEN 26:19 جَب اِصحاقؔ کے خادِم وادی میں کھدائی کر رہے تھے تو اُنہیں تازہ پانی کا ایک کنواں مِلا۔
GEN 26:20 تَب گِراؔر کے چرواہوں نے اِصحاقؔ کے چرواہوں سے جھگڑا کیا اَور کہا، ”یہ پانی ہمارا ہے!“ اِس لیٔے اِصحاقؔ نے اُس کنوئیں کا نام عِسقؔ رکھا کیونکہ وہ اُن سے جھگڑتے تھے۔
GEN 26:21 پھر اُنہُوں نے دُوسرا کنواں کھودا لیکن وہ اُس کے لیٔے بھی جھگڑنے لگے۔ اِس لیٔے اِصحاقؔ نے اُس کا نام سِتنہؔ یعنی مُخالفت رکھا۔
GEN 26:22 پھر وہاں سے آگے جا کر آپ نے ایک اَور کنواں کھودا اَور اُس کے لیٔے کسی نے جھگڑا نہ کیا۔ اِصحاقؔ نے اُس کا نام یہ کہہ کر رحوبوتھؔ رکھا، ”اَب یَاہوِہ نے ہمیں جگہ دی ہے اَور اَب ہم اِس مُلک میں آسُودہ حال ہوں گے۔“
GEN 26:23 جَب وہ وہاں سے بیرشبعؔ کو چلےگئے۔
GEN 26:24 اُسی رات یَاہوِہ آپ پر ظاہر ہویٔے اَور فرمایا، ”مَیں تمہارے باپ اَبراہامؔ کا خُدا ہُوں۔ خوف نہ کرو۔ مَیں تمہارے ساتھ ہُوں۔ اَپنے خادِم اَبراہامؔ کی خاطِر میں تُمہیں برکت دُوں گا اَور تمہاری نَسل کو بڑھاؤں گا۔“
GEN 26:25 اِصحاقؔ نے وہاں ایک مذبح بنایا اَور یَاہوِہ سے دعا کی۔ وہاں آپ نے اَپنا خیمہ کھڑا کیا اَور وہیں اُن کے خادِموں نے ایک کنواں کھودا۔
GEN 26:26 اِس اَثنا میں اَبی ملیخ اَپنے ذاتی مُشیر اخُوزتؔ اَور اَپنے فَوجی سپہ سالار فِیکُلؔ کے ہمراہ گِراؔر سے اِصحاقؔ کے پاس آیا۔
GEN 26:27 اِصحاقؔ نے پُوچھا، ”تُم میرے پاس کیوں آئے ہو؟ تُم تو مُجھ سے عداوت رکھتے تھے اَور مُجھے اَپنے علاقہ سے نکال چُکے تھے۔“
GEN 26:28 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہم نے خُوب جان لیا ہے کہ یَاہوِہ تمہارے ساتھ ہے؛ اِس لیٔے ہم نے کہا، ’کیوں نہ ہم قَسم کھا کر آپَس میں عہد کر لیں۔‘ ہم تمہارے ساتھ یہ عہد کرنا چاہتے ہیں
GEN 26:29 کہ جِس طرح ہم نے تمہارے ساتھ کویٔی ناجائز حرکت نہیں کی بَلکہ تمہارے ساتھ ہمیشہ نیک سلُوک کیا اَور تُمہیں سلامتی سے رخصت کیا اُسی طرح تُم بھی ہمیں کویٔی نُقصان نہ پہُنچاؤگے اَور اَب یَاہوِہ نے تُمہیں برکت بخشی ہے۔“
GEN 26:30 تَب اِصحاقؔ نے اُن کے لیٔے ضیافت تیّار کی اَور اُنہُوں نے کھا پی کر خُوشی منائی۔
GEN 26:31 دُوسرے دِن علی الصبح اُنہُوں نے قَسم کھا کر آپَس میں عہد کر لیا۔ تَب اِصحاقؔ نے اُنہیں رخصت کر دیا اَور وہ سلامتی کے ساتھ وہاں سے چلے گیٔے۔
GEN 26:32 اُس دِن اِصحاقؔ کے خادِموں نے آکر اُن سے اُس کنوئیں کا ذِکر کیا جسے اُنہُوں نے کھودا تھا۔ اُنہُوں نے کہا، ”ہمیں پانی مِل گیا ہے۔“
GEN 26:33 اِصحاقؔ نے اُس کا نام شِباہ رکھا اَور آج تک وہ شہر بیرشبعؔ کہلاتا ہے۔
GEN 26:34 جَب عیسَوؔ چالیس بَرس کے ہویٔے تو اُنہُوں نے بیؔری حِتّی کی بیٹی یُودِتھؔ اَور ایلون حِتّی کی بیٹی بسِماتھؔ سے بیاہ کر لیا۔
GEN 26:35 وہ اِصحاقؔ اَور رِبقہؔ کے لیٔے وبالِ جان بَن گئیں۔
GEN 27:1 جَب اِصحاقؔ ضعیف ہو گئے اَور اُن کی آنکھیں اِس قدر کمزور ہو گئیں کہ اُن کی بینائی جاتی رہی۔ تَب اُنہُوں نے اَپنے بڑے بیٹے عیسَوؔ کو بُلایا اَور فرمایا، ”اَے میرے بیٹے۔“ عیسَوؔ نے جَواب دیا، ”مَیں حاضِر ہُوں۔“
GEN 27:2 اِصحاقؔ نے فرمایا، ”دیکھو میں اَب ضعیف ہو چُکا ہُوں اَور کیا پتا کب مَر جاؤں!
GEN 27:3 لہٰذا تُم اَپنے ہتھیار یعنی ترکش اَور کمان لے کر جنگل میں جاؤ اَور میرے لیٔے شِکار مار لاؤ۔
GEN 27:4 اَور میری پسند کے مُطابق لذیذ کھانا تیّار کرکے میرے پاس لے آ تاکہ میں اُسے کھا کر اَپنے مرنے سے پہلے تُمہیں برکت دُوں۔“
GEN 27:5 جَب اِصحاقؔ اَپنے بیٹے عیسَوؔ سے باتیں کر ہی رہے تھے تَب رِبقہؔ اُن کی باتیں سُن رہی تھی۔ جَب عیسَوؔ شِکار مار کر لانے کے لیٔے جنگل کی طرف روانہ ہُوا،
GEN 27:6 تو رِبقہؔ نے اَپنے بیٹے یعقوب سے کہا، ”دیکھو، مَیں نے تمہارے باپ کو اَپنے بیٹے عیسَوؔ سے یہ کہتے سُنا ہے،
GEN 27:7 ’میرے لیٔے شِکار مار لاؤ اَور نہایت لذیذ کھانا تیّار کرو تاکہ میں اَپنی موت سے پہلے یَاہوِہ کی حُضُوری میں تُمہیں برکت دُوں۔‘
GEN 27:8 اِس لئے، اَے میرے بیٹے! غور سے سُنو اَورجو کچھ میں تُم سے کہتی ہُوں وہ کرو۔
GEN 27:9 گلّے میں جا کر بکری کے دو بہترین بچّے لاکر مُجھے دو تاکہ مَیں تمہارے باپ کے لیٔے اُن کی پسند کا لذیذ کھانا تیّار کر سکوں۔
GEN 27:10 تَب اُسے اَپنے اَبّا کے پاس لے جانا تاکہ وہ اُسے کھایٔیں اَور اَپنے مرنے سے پہلے تُمہیں برکت دیں۔“
GEN 27:11 تَب یعقوب نے اَپنی ماں رِبقہؔ سے کہا، ”لیکن میرے بھایٔی عیسَوؔ کے جِسم پر گھنے بال ہیں اَور مَیں اَیسا آدمی ہُوں جِس کی جِلد ملائم ہے۔
GEN 27:12 اگر میرے باپ مُجھے چھُوئیں گے تو میں دغاباز ٹھہروں گا اَور برکت کی بجائے لعنت پاؤں گا۔“
GEN 27:13 اُن کی ماں نے اُن سے کہا، ”میرے بیٹے، لعنت مُجھ پر آئے۔ جو میں کہتی ہُوں تُم بس وُہی کرو؛ جاؤ اَور بکری کے بچّے میرے لیٔے لے آؤ۔“
GEN 27:14 تَب یعقوب گئے اَور اُنہیں لے کر اَپنی ماں کے پاس لے آئے اَور رِبقہؔ نے اُن کے باپ کی پسند کا نہایت لذیذ کھانا تیّار کیا۔
GEN 27:15 پھر رِبقہؔ نے اَپنے بڑے بیٹے عیسَوؔ کا نہایت نفیس لباس جو گھر میں تھا اَور اُسے اَپنے چُھوٹے بیٹے یعقوب کو پہنایا۔
GEN 27:16 اَور رِبقہؔ نے اُن کے ہاتھوں اَور گردن کے چِکنے حِصّہ پر بکری کے بچّوں کی کھال لپیٹ دی۔
GEN 27:17 پھر اُس نے وہ لذیذ کھانا اَور روٹی جو اُس نے پکائی تھی اَپنے بیٹے یعقوب کے ہاتھ میں دے دی۔
GEN 27:18 وہ اَپنے باپ کے پاس گئے اَور کہا، ”اَے میرے باپ!“ اِصحاقؔ نے جَواب دیا، ”ہاں میرے بیٹے، تُم کون ہو؟“
GEN 27:19 یعقوب نے اَپنے باپ کو جَواب دیا، ”میں تمہارا پہلوٹھا بیٹا عیسَوؔ ہُوں۔ مَیں نے تمہارے کہنے کے مُطابق کیا ہے۔ لہٰذا اُٹھئے اَور میرے شِکار میں سے کچھ کھالیجئے تاکہ آپ مُجھے برکت دے سکیں۔“
GEN 27:20 اِصحاقؔ نے اَپنے بیٹے سے پُوچھا، ”میرے بیٹے، تُمہیں یہ شِکار اِس قدر جلدی کیسے مِل گیا؟“ یعقوب نے جَواب دیا، ”یَاہوِہ تمہارے خُدا نے مُجھے کامیابی بخشی۔“
GEN 27:21 تَب اِصحاقؔ نے یعقوب سے فرمایا، ”اَے میرے بیٹے، قریب آ تاکہ میں تُمہیں چھُو کر مَعلُوم کروں کہ واقعی تُو میرا بیٹا عیسَوؔ ہے یا نہیں۔“
GEN 27:22 یعقوب اَپنے باپ اِصحاقؔ کے نزدیک گئے اَور اُنہُوں نے اُنہیں چھُوا اَور کہا، ”آواز تو یعقوب کی سِی ہے لیکن ہاتھ عیسَوؔ کے سے ہیں۔“
GEN 27:23 اِصحاقؔ نے یعقوب کو نہیں پہچانا کیونکہ اُن کے ہاتھ اُس کے بھایٔی عیسَوؔ کی مانند بال والے تھے۔ لہٰذا اِصحاقؔ نے یعقوب کو برکت دی۔
GEN 27:24 اِصحاقؔ نے پُوچھا، ”کیا واقعی تُو میرا بیٹا عیسَوؔ ہی ہے؟“ یعقوب نے جَواب دیا، ”میں ہی ہُوں۔“
GEN 27:25 تَب اِصحاقؔ نے کہا، ”میرے بیٹے، اَپنے شِکار کا کچھ حِصّہ میرے سامنے لا تاکہ میں اُسے کھاؤں اَور تُمہیں اَپنی برکت بخشوں۔“ یعقوب اُسے اَپنے باپ کے پاس لے آئے اَور آپ نے کھایا اَور وہ کچھ انگوری شِیرہ بھی لے آئے اَور اِصحاقؔ نے پیا۔
GEN 27:26 تَب اُن کے باپ اِصحاقؔ نے اُن سے کہا، ”اَے میرے بیٹے یہاں میرے نزدیک آؤ اَور مُجھے چُومو۔“
GEN 27:27 چنانچہ یعقوب اُن کے پاس گئے اَور اُنہیں چُوما۔ جَب اِصحاقؔ نے عیسَوؔ کی پوشاک کی خُوشبو پائی تو اُنہیں برکت دی اَور فرمایا، ”میرے بیٹے کی خُوشبو اُس کھیت کی مہک کی مانند ہے جسے یَاہوِہ نے برکت دی ہو۔
GEN 27:28 خُدا تُمہیں آسمان کی اوس اَور زمین کی زرخیزی یعنی اناج کی فراوانی اَور تازہ انگوری شِیرہ بخشے۔
GEN 27:29 قومیں تمہاری خدمت کریں اَور سارے قبیلے تمہارے سامنے جھُکیں۔ تُم اَپنے بھائیوں کے آقا ٹھہرو، اَور تمہاری ماں کے بیٹے تمہارے سامنے جھُکیں۔ جو تُم پر لعنت بھیجیں وہ تُم پر لعنتی ہُوں اَورجو تُمہیں مُبارکباد دیں وہ برکت پائیں۔“
GEN 27:30 اِصحاقؔ سے برکت پانے کے بعد یعقوب باہر نکلے ہی تھے کہ اُن کا بھایٔی عیسَوؔ شِکار لے کر لَوٹا۔
GEN 27:31 عیسَوؔ نے بھی کچھ لذیذ کھانا تیّار کیا اَور اَپنے باپ کے پاس لے آیا۔ تَب اُنہُوں نے باپ سے کہا، ”اَے میرے باپ! اُٹھئے اَور میرے شِکار کا گوشت کھائیے تاکہ آپ مُجھے برکت دے سکیں۔“
GEN 27:32 اُن کے باپ اِصحاقؔ نے پُوچھا، ”تُم کون ہو؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”میں تمہارا پہلوٹھا بیٹا عیسَوؔ ہُوں۔“
GEN 27:33 یہ سُن کر اِصحاقؔ پر لرزہ طاری ہو گیا اَور اُنہُوں نے کہا، ”پھر وہ کون تھا جو شِکار مار کر میرے پاس لایاتھا؟ مَیں نے شِکار کا وہ گوشت ابھی ابھی تمہارے آنے سے پہلے کھایا اَور اُسے برکت دی۔ اَور برکت اُسی کو ملے گی!“
GEN 27:34 جَب عیسَوؔ نے اَپنے باپ کے الفاظ سُنے تو وہ نہایت بُلند اَور تلخی سے چِلّا اُٹھے اَور اَپنے باپ سے کہا، ”مُجھے برکت دیجئے، ہاں اَے میرے باپ مُجھے بھی برکت دیجئے!“
GEN 27:35 مگر اِصحاقؔ نے فرمایا، ”تمہارے بھایٔی نے دغا کی اَور تمہاری برکت لے لی۔“
GEN 27:36 عیسَوؔ نے کہا، ”کیا اُس کا نام یعقوب ٹھیک نہیں رکھا گیا؟ اُس نے مُجھے دو دفعہ دھوکا دیا ہے: پہلے اُنہُوں نے میرا پیدائشی حق چھینا اَور اَب اُنہُوں نے میری برکت بھی چھین لی!“ تَب اُس نے پُوچھا، ”کیا میرے لیٔے آپ کے پاس کویٔی برکت باقی نہیں بچی؟“
GEN 27:37 اِصحاقؔ نے عیسَوؔ کو جَواب دیا، ”مَیں نے اُسے تمہارا آقا مُقرّر کر دیا اَور اُس کے تمام رشتہ داروں کو اُس کا خادِم بنا دیا اَور مَیں نے اُسے اناج کی فراوانی اَور تازہ انگوری شِیرے کی برکت بخشی ہے۔ اَب اَے میرے بیٹے، مَیں تمہارے لیٔے کیا کر سکتا ہُوں؟“
GEN 27:38 عیسَوؔ نے اَپنے باپ سے پُوچھا، ”اَے میرے باپ، کیا آپ کے پاس صِرف ایک ہی برکت ہے؟ مُجھے بھی برکت دے دیجئے!“ اَے میرے باپ! تَب عیسَوؔ زور زور سے رونے لگے۔
GEN 27:39 اُس کے باپ اِصحاقؔ نے اُسے جَواب دیا، ”تمہارا قِیام زرخیز زمین سے اَور اُوپر کے آسمان کی اوس سے پرے ہوگا۔
GEN 27:40 تُم تلوار کے بَل پر جیتے رہوگے اَور اَپنے بھایٔی کی خدمت کروگے۔ لیکن جَب تُم میں برداشت کی طاقت نہ رہے گی، تو تُم اُس کا جُوا اَپنی گردن پر سے اُتار پھینکوگے۔“
GEN 27:41 عیسَوؔ یعقوب سے اُس برکت کے باعث جو اُن کے باپ اِصحاقؔ نے یعقوب کو بخشی کینہ رکھتا تھا۔ عیسَوؔ نے سوچا، ”میرے باپ کے ماتم کے دِن نزدیک ہیں۔ وہ گزر جایٔیں تو میں اَپنے بھایٔی یعقوب کو مار ڈالوں گا۔“
GEN 27:42 جَب رِبقہؔ کو اَپنے بڑے بیٹے کی یہ باتیں بتایٔی گئیں تو اُنہُوں نے اَپنے چُھوٹے بیٹے یعقوب کو بُلایا اَور اُن سے کہا، ”تمہارا بھایٔی عیسَوؔ تُمہیں مار ڈالنے کے خیال سے اَپنے دِل کو تسلّی دے رہاہے۔
GEN 27:43 اِس لیٔے اَے میرے بیٹے مَیں جو کہتی ہُوں وہ کرو۔ فوراً حارانؔ میں میرے بھایٔی لابنؔ کے پاس چلے جاؤ۔
GEN 27:44 جَب تک کہ تمہارے بھایٔی کا غُصّہ ٹھنڈا نہ ہو جائے تُم وہیں رہنا۔
GEN 27:45 جَب تمہارے بھایٔی کا غُصّہ جو تُم پر ہے اُتر جائے گا اَورجو تُم نے اُس کے ساتھ کیا ہے اُسے وہ بھُول جائے گا تو میں تُمہیں وہاں سے بُلوا بھیجوں گی۔ میں ایک ہی دِن میں تُم دونوں کو آخِر کیوں کھو بیٹھوں؟“
GEN 27:46 تَب رِبقہؔ نے اِصحاقؔ سے کہا، ”میں اِن حِتّی لڑکیوں کی وجہ سے زندگی سے بیزار آ چُکی ہُوں۔ اگر یعقوب اِس مُلک کی لڑکیوں میں سے جَیسا کہ یہ حِتّی لڑکیاں ہیں، کسی کے ساتھ بیاہ کرےگا تو میرا جینا دوبھر ہو جائے گا۔“
GEN 28:1 تَب اِصحاقؔ نے یعقوب کو بُلایا اَور اُنہیں برکت بخشی اَور حُکم دیا، ”تُم کسی کنعانی لڑکی سے بیاہ نہ کرنا۔
GEN 28:2 فوراً فدّان ارام کو اَپنے نانا بیتُھوایلؔ کے گھر چلے جاؤ اَور وہاں اَپنے ماموں لابنؔ کی بیٹیوں میں سے کسی سے شادی کر لو۔
GEN 28:3 قادرمُطلق خُدا تُمہیں برکت بخشے، تُمہیں برومند کرے اَور تُمہیں اِس قدر بڑھائے کہ تُم سے ایک قوم وُجُود میں آ جائے۔
GEN 28:4 خُدا تُمہیں اَور تمہاری نَسل کو اَبراہامؔ کی سِی برکت بخشے تاکہ تُم اِس مُلک کو جہاں تُم اِس وقت بطور پردیسی رہتے ہو اَور جسے خُدا نے اَبراہامؔ کو بخشا تھا اَپنے قبضہ میں لے آئے۔“
GEN 28:5 تَب اِصحاقؔ نے یعقوب کو رخصت کیا اَور وہ فدّان ارام میں لابنؔ کے پاس چلےگئے جو بیتُھوایلؔ ارامی کا بیٹا اَور عیسَوؔ اَور یعقوب کی ماں رِبقہؔ کا بھایٔی تھا۔
GEN 28:6 جَب عیسَوؔ کو پتا چلا کہ اِصحاقؔ نے یعقوب کو برکت دے کر فدّان ارام بھیجا تاکہ وہاں سے بیوی بیاہ لائیں اَور یہ بھی کہ اِصحاقؔ نے اُنہیں برکت دیتے وقت تاکید کی تھی، ”کہ وہ کسی کنعانی لڑکی سے شادی نہ کریں۔“
GEN 28:7 اَور یعقوب اَپنے ماں باپ کے حُکم کے مُطابق فدّان ارام چلےگئے۔
GEN 28:8 تو عیسَوؔ کو احساس ہُوا کہ اُن کے باپ اِصحاقؔ کو کنعانی لڑکیاں کِس قدر بُری لگتی ہیں۔
GEN 28:9 لہٰذا عیسَوؔ اِشمعیل کے پاس گیا اَور اَپنی پہلی بیویوں کے باوُجُود ماحلتھ کو بیاہ لایا جو نبایوتؔ کی بہن اَور اَبراہامؔ کے بیٹے اِشمعیل کی بیٹی تھی۔
GEN 28:10 یعقوب بیرشبعؔ سے نکل کر حارانؔ کی طرف چل دئیے۔
GEN 28:11 جَب وہ ایک مقام پر پہُنچے تو شب گزاری کے لیٔے وہاں ٹھہر گئے کیونکہ سُورج غروب ہو چُکاتھا۔ اُنہُوں نے وہاں کے پتّھروں میں سے ایک پتّھر لے کر اَپنے سَر کے نیچے رکھا اَور سونے کے لیٔے لیٹ گئے۔
GEN 28:12 اُنہُوں نے خواب میں دیکھا: ایک سیڑھی زمین پر کھڑی ہے اَور اُس کا دُوسرا سِرا آسمان تک پہُنچا ہُواہے اَور خُدا کے فرشتے اُس پر چڑھتے اَور اُترتے ہیں۔
GEN 28:13 اَور یَاہوِہ اُس کے اُوپر کھڑے تھے اَور کہہ رہے تھے: ”مَیں یَاہوِہ تمہارے باپ اَبراہامؔ کا خُدا اَور اِصحاقؔ کا خُدا ہُوں۔ میں یہ زمین جِس پر تُم لیٹے ہو تُمہیں اَور تمہاری نَسل کو دُوں گا۔
GEN 28:14 تمہاری نَسل خاک کے ذرّوں کے مانند ہوگی اَور تُم مشرق و مغرب اَور شمال و جُنوب کی جانِب پھیل جاؤگے۔ زمین کے سَب قبیلے تمہارے اَور تمہاری نَسل کے وسیلہ سے برکت پائیں گے۔
GEN 28:15 مَیں تمہارے ساتھ ہُوں اَور تُم جہاں کہیں جاؤگے وہاں تمہاری حِفاظت کروں گا اَور مَیں تُمہیں اِس مُلک میں واپس لاؤں گا اَورجو وعدہ مَیں نے تُم سے کیا ہے اُسے پُورا کرنے تک میں تُمہیں اکیلا نہ چھوڑوں گا۔“
GEN 28:16 جَب یعقوب نیند سے بیدار ہُوئے تو کہا، ”ہو نہ ہو یَاہوِہ اِس جگہ مَوجُود ہیں اَور مُجھے اِس کا علم نہ تھا۔“
GEN 28:17 یعقوب خوفزدہ ہوکر کہنے لگے، ”یہ جگہ کیسی پُرجلال ہے! یہ جگہ خُدا کے گھر کے سِوا اَور کیا ہو سکتی ہے؛ یہ تو ضروُر آسمان کا پھاٹک ہی ہوگا۔“
GEN 28:18 دُوسرے دِن علی الصبح یعقوب نے اُس پتّھر کو لے کر جسے اُنہُوں نے اَپنے سَر کے نیچے رکھا تھا سُتون کی طرح کھڑا کیا اَور اُس کے اُوپر زَیتُون کا تیل ڈالا،
GEN 28:19 اَور یعقوب نے اُس مقام کا نام بیت ایل رکھا حالانکہ پہلے اُس شہر کا نام لُوزؔ تھا۔
GEN 28:20 تَب یعقوب نے یہ مَنّت مانی، ”اگر خُدا اِس سفر میں میرے ساتھ رہے میری حِفاظت کرے اَور مُجھے کھانے کے لیٔے روٹی اَور پہننے کے لیٔے کپڑے عطا کرے
GEN 28:21 تاکہ میں اَپنے باپ کے گھر سلامت جا پہُنچوں تو یَاہوِہ میرا خُدا ہوگا۔
GEN 28:22 اَور یہ پتّھر جسے مَیں نے سُتون کے طور پر کھڑا کیا ہے خُدا کا مَسکن ہوگا اَور اَے خُدا جو کچھ آپ مُجھے عطا کریں گے میں اُس کا دسواں حِصّہ آپ کو دُوں گا۔“
GEN 29:1 اَور یعقوب نے اَپنا سفر جاری رکھا اَور وہ مشرق میں رہنے والے لوگوں کے مُلک میں جاپہنچے۔
GEN 29:2 وہاں اُنہُوں نے میدان میں ایک کنواں دیکھا جِس کے پاس بھیڑوں کے تین گلّے مَوجُود تھے۔ کیونکہ اُن گلّوں کو اُسی کنوئیں سے پانی پِلایا جاتا تھا۔ کنوئیں کے مُنہ پر ایک بڑا سا پتّھر رکھا ہُوا تھا۔
GEN 29:3 جَب سَب گلّے اِکٹھّے ہو جاتے تھے تو چرواہے اُس پتّھر کو کنوئیں کے مُنہ پر سے لُڑھکا کر بھیڑوں کو پانی پِلاتے تھے اَور پھر پتّھر کو واپس اَپنی جگہ کنوئیں کے مُنہ پر رکھ دیتے تھے۔
GEN 29:4 یعقوب نے چرواہوں سے پُوچھا، ”بھائیو! تُم کہاں کے ہو؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہم حارانؔ کے ہیں۔“
GEN 29:5 تَب یعقوب نے چرواہوں سے پُوچھا، ”کیا تُم لابنؔ کو جانتے ہو جو ناحوؔر کا پوتا ہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہاں، ہم لابنؔ کو جانتے ہیں۔“
GEN 29:6 تَب یعقوب نے اُن سے پُوچھا، ”کیا وہ خیریت سے ہیں؟“ اُنہُوں نے کہا، ”ہاں، وہ خیریت سے ہیں اَور وہ دیکھو اُن کی بیٹی راخلؔ بھیڑوں کو لے کر آ رہی ہے۔“
GEN 29:7 یعقوب نے کہا، ”دیکھو، ابھی تو دِن ہے اَور بھیڑ بکریوں کو جمع کرنے کا وقت بھی نہیں ہُوا لہٰذا بھیڑوں کو پانی پِلا کر واپس چراگاہ میں لے جاؤ۔“
GEN 29:8 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہم اَیسا نہیں کر سکتے۔ جَب سَب گلّے اِکٹھّے ہو جایٔیں گے اَور پتّھر کو کنوئیں کے مُنہ سے لُڑھکایا جائے گا تَب ہی ہم بھیڑوں کو پانی پلائیں گے۔“
GEN 29:9 وہ ابھی اُن سے باتیں کر ہی رہے تھے کہ راخلؔ اَپنے باپ کی بھیڑوں کو لے کر آ پہُنچی کیونکہ وُہی اُن کی گلّہ بان تھی۔
GEN 29:10 جَب یعقوب نے اَپنے ماموں لابنؔ کی بیٹی راخلؔ کو اَور لابنؔ کی بھیڑوں کو دیکھا تو اُنہُوں نے جا کر کنوئیں کے مُنہ پر سے پتّھر کو لُڑھکا دیا اَور اَپنے ماموں کی بھیڑوں کو پانی پِلانے لگے۔
GEN 29:11 تَب یعقوب نے راخلؔ کو چُوما اَور یعقوب زاروقطار رونے لگے۔
GEN 29:12 پھر یعقوب نے راخلؔ سے کہا، کہ وہ اُن کے باپ کا رشتہ دار اَور رِبقہؔ کا بیٹا ہے، راخلؔ نے یہ سُنا تو وہ دَوڑتی ہُوئی گئی اَور اَپنے باپ کو خبر دی۔
GEN 29:13 جُوں ہی لابنؔ کو اَپنے بھانجے یعقوب کی خبر مِلی وہ اُن سے مِلنے کو دَوڑے۔ لابنؔ نے یعقوب کو گلے سے لگایا اَور چُوما اَور اُنہیں اَپنے گھر لے آئے اَور وہاں یعقوب نے لابنؔ کو ساری داستان کہہ سُنائی۔
GEN 29:14 تَب لابنؔ نے یعقوب سے کہا، ”تُم میرا اَپنا گوشت اَور خُون ہو۔“ یعقوب کو مامو کے ساتھ رہتے ہویٔے پُورا ایک ماہ گزر چُکاتھا
GEN 29:15 کہ لابنؔ نے یعقوب سے کہا، ”میرا رشتہ دار ہونے کے باعث یہ ضروُری نہیں کہ تُم بِلا مُعاوضہ میری خدمت کرو! لہٰذا مُجھے بتاؤ کہ تمہاری اُجرت کیا ہوگی؟“
GEN 29:16 لابنؔ کی دو بیٹیاں تھیں بڑی کا نام لِیاہؔ تھا اَور چُھوٹی کا راخلؔ تھا۔
GEN 29:17 لِیاہؔ کی آنکھیں کمزور تھیں لیکن راخلؔ سڈول اَور خُوبصورت تھی۔
GEN 29:18 یعقوب راخلؔ سے مَحَبّت کرتے تھے۔ لہٰذا اُنہُوں نے کہا، ”مَیں تمہاری چُھوٹی بیٹی راخلؔ کے لیٔے سات بَرس تمہاری خدمت کروں گا۔“
GEN 29:19 لابنؔ نے کہا، ”راخلؔ کو کسی اَور آدمی کو دینے کی بجائے تُمہیں دینا بہتر ہے لہٰذا تُم میرے ساتھ یہاں رہو۔“
GEN 29:20 چنانچہ یعقوب سات بَرس تک راخلؔ کی خاطِر خدمت کرتے رہے لیکن راخلؔ کی مَحَبّت میں وہ سات بَرس اُنہیں سات دِن کے برابر مَعلُوم ہویٔے۔
GEN 29:21 تَب یعقوب نے لابنؔ سے کہا، ”مُجھے میری بیوی دے دیجئے تاکہ میں اُس کے پاس جاؤں کیونکہ خدمت کی میعاد پُوری ہو چُکی ہے۔“
GEN 29:22 چنانچہ لابنؔ نے اُس جگہ کے سَب لوگوں کو جمع کیا اَور اُن کی ضیافت کی۔
GEN 29:23 لیکن جَب شام ہویٔی تو لابنؔ نے اَپنی بیٹی لِیاہؔ کو لے جا کر یعقوب کے سُپرد کیا اَور یعقوب لِیاہؔ کے پاس گئے۔
GEN 29:24 اَور لابنؔ نے اَپنی خادِمہ زِلفہؔ کو اَپنی بیٹی لِیاہؔ کے سُپرد کر دیا تاکہ وہ لِیاہؔ کی خادِمہ بَن کر رہے۔
GEN 29:25 جَب صُبح ہُوئی تو لِیاہؔ کو اَپنے یہاں پا کر یعقوب نے لابنؔ سے پُوچھا، ”یہ آپ نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ کیا مَیں نے راخلؔ کی خاطِر آپ کی خدمت نہیں کی تھی؟ پھر آپ نے میرے ساتھ دھوکا کیوں کیا؟“
GEN 29:26 لابنؔ نے جَواب دیا، ”ہمارے یہاں یہ رِواج نہیں کہ بڑی بیٹی سے پہلے چُھوٹی بیٹی کی شادی کر دی جائے۔
GEN 29:27 اِس بیٹی کا ہفتہ عرُوسی پُورا کرو تَب ہم چُھوٹی بھی تُمہیں دے دیں گے لیکن تُمہیں اُس کے عِوض مزید سات بَرس اَور خدمت کرنی ہوگی۔“
GEN 29:28 اَور یعقوب نے اَیسا ہی کیا۔ آپ نے لِیاہؔ کے ساتھ ایک ہفتہ پُورا کیا تَب لابنؔ نے اَپنی بیٹی راخلؔ بھی یعقوب سے بیاہ دی۔
GEN 29:29 لابنؔ نے اَپنی خادِمہ بِلہاہؔ کو اَپنی بیٹی راخلؔ کے سُپرد کر دیا تاکہ وہ راخلؔ کی خادِمہ بَن کر رہے۔
GEN 29:30 یعقوب راخلؔ کے پاس بھی گئے اَور وہ راخلؔ کو لِیاہؔ سے زِیادہ مَحَبّت کرتے تھے اَور آپ نے لابنؔ کی خدمت میں مزید سات بَرس گزارے۔
GEN 29:31 جَب یَاہوِہ نے دیکھا کہ لِیاہؔ یعقوب کی مَحَبّت سے محروم ہے تو یَاہوِہ نے لِیاہؔ کا رِحم کھولا لیکن راخلؔ بانجھ رہی۔
GEN 29:32 لِیاہؔ حاملہ ہُوئی اَور اُن کے یہاں بیٹا پیدا ہُوا۔ اُس نے اُس کا نام رُوبِنؔ رکھا کیونکہ اُس نے کہا، ”یہ اِس لیٔے ہُوا کہ یَاہوِہ نے میرا دُکھ دیکھ لیا ہے، اَور اَب یقیناً میرے خَاوند مُجھ سے مَحَبّت کرنے لگیں گے۔“
GEN 29:33 وہ دوبارہ حاملہ ہُوئی اَور جَب اُس کے یہاں بیٹا پیدا ہُوا تو اُس نے کہا، ”چونکہ یَاہوِہ نے سُنا کہ مُجھ سے پیار نہیں کیا جا رہاہے اِس لیٔے اُنہُوں نے مُجھے یہ بیٹا بھی بخشا۔“ چنانچہ اُس نے اُس کا نام شمعُونؔ رکھا۔
GEN 29:34 وہ پھر حاملہ ہو گئی اَور جَب اُس کے یہاں بیٹا پیدا ہُوا تَب اُس نے کہا، ”آخِرکار اَب تو میرے خَاوند کو مُجھ سے اُنس ہوگا کیونکہ اُس سے میرے تین بیٹے پیدا ہویٔے۔“ چنانچہ اُس کا نام لیوی رکھا گیا۔
GEN 29:35 وہ پھر حاملہ ہو گئی اَور جَب اُس کے یہاں بیٹا پیدا ہُوا تَب اُس نے کہا، ”اَب کی بار مَیں یَاہوِہ کی تمجید کروں گی۔“ لہٰذا اُس نے اُس کا نام بنی یہُوداہؔ رکھا۔ اُس کے بعد اُس کے یہاں کویٔی اَولاد نہ ہُوئی۔
GEN 30:1 جَب راخلؔ نے دیکھا کہ یعقوب سے اُن کے یہاں کویٔی اَولاد نہیں ہو رہی ہے تو وہ اَپنی بہن پر حَسد کرنے لگی۔ چنانچہ اُس نے یعقوب سے کہا، ”مُجھے اَولاد دیجئے ورنہ میں مَر جاؤں گی!“
GEN 30:2 یعقوب راخلؔ پر خفا ہوکر چِلّائے اَور کہا، ”کیا میں خُدا کی جگہ ہُوں جِس نے تُمہیں اَولاد سے محروم رکھا؟“
GEN 30:3 تَب راخلؔ نے کہا، ”دیکھو، میری خادِمہ بِلہاہؔ حاضِر ہے، اُس کے پاس جاؤ تاکہ میرے لیٔے اُس سے اَولاد ہو اَور اُس کے ذریعہ میں بھی ایک خاندان قائِم کر سکوں گی۔“
GEN 30:4 چنانچہ اُس نے اَپنی خادِمہ بِلہاہؔ کو یعقوب کو دیا تاکہ وہ اُس کی بیوی بنے اَور یعقوب اُس کے پاس گئے۔
GEN 30:5 اَور بِلہاہؔ حاملہ ہُوئی اَور یعقوب سے اُس کے یہاں بیٹا پیدا ہُوا۔
GEN 30:6 تَب راخلؔ نے کہا، ”خُدا نے میری لاج رکھی اُس نے میری فریاد سُنی اَور مُجھے بیٹا بخشا۔“ لہٰذا اُس نے اُس کا نام دانؔ رکھا۔
GEN 30:7 راخلؔ کی خادِمہ بِلہاہؔ پھر حاملہ ہُوئی اَور یعقوب سے اُسے دُوسرا بیٹا ہُوا۔
GEN 30:8 تَب راخلؔ نے کہا، ”مُجھ میں اَور میری بہن میں بڑی کشمش جاری تھی لیکن مَیں نے فتح پائی۔“ لہٰذا اُس نے اُس بیٹے کا نام نفتالی رکھا۔
GEN 30:9 جَب لِیاہؔ نے دیکھا کہ آئندہ اُس کے اَولاد نہیں ہوگی تو اُس نے اَپنی خادِمہ زِلفہؔ کو یعقوب کو دے دیا کہ اُس کی بیوی بنے۔
GEN 30:10 لِیاہؔ کی خادِمہ زِلفہؔ کے یعقوب سے بیٹا پیدا ہُوا۔
GEN 30:11 تَب لِیاہؔ نے کہا، ”زہے قِسمت!“ لہٰذا اُس نے اُس بیٹے کا نام گادؔ رکھا۔
GEN 30:12 لِیاہؔ کی خادِمہ زِلفہؔ کو یعقوب سے دُوسرا بیٹا ہُوا۔
GEN 30:13 تَب لِیاہؔ نے کہا، ”میں کِس قدر مُبارک ہُوں! عورتیں مُجھے مُبارک کہیں گی۔“ لہٰذا اُس نے اُس بیٹے کا نام آشیر رکھا۔
GEN 30:14 گیہُوں کی فصل کی کٹائی کے دِن تھے۔ رُوبِنؔ کھیتوں میں نکل گیا جہاں اُس نے دُدائیم اُگی ہُوئی دیکھی۔ وہ اُس میں سے کچھ اَپنی ماں لِیاہؔ کے پاس لے آیا۔ راخلؔ نے لِیاہؔ سے کہا، ”اَپنے بیٹے کی دُدائیم میں سے کچھ مُجھے بھی دے دو۔“
GEN 30:15 لیکن لِیاہؔ نے اُس سے کہا، ”کیا یہ کافی نہیں کہ تُم نے میرے خَاوند کو لے لیا؟ اَب کیا میرے بیٹے کی دُدائیم بھی لینا چاہتی ہو؟“ راخلؔ نے کہا، ”بہت خُوب، تمہارے بیٹے کی دُدائیم کے عِوض وہ آج رات تمہارے پاس آسکتا ہے۔“
GEN 30:16 اُس شام جَب یعقوب کھیتوں پر سے واپس لَوٹے تو لِیاہؔ اُن سے مِلنے کو نکل گئی اَور کہا، ”آج رات آپ کو میرے پاس آنا ہوگا کیونکہ مَیں نے اَپنے بیٹے کی دُدائیم کے عِوض آپ کو اُجرت پر لیا ہے۔“
GEN 30:17 خُدا نے لِیاہؔ کی سُنی اَور وہ حاملہ ہُوئی اَور یعقوب سے اُس کے پانچواں بیٹا ہُوا۔
GEN 30:18 تَب لِیاہؔ نے کہا، ”خُدا نے مُجھے اَپنی خادِمہ اَپنے خَاوند کو دینے کے سبب سے اجر دیا۔“ اَور اُس نے اُس کا نام یِسَّکاؔر رکھا۔
GEN 30:19 لِیاہؔ پھر حاملہ ہُوئی اَور یعقوب سے اُسے چھٹا بیٹا پیدا ہُوا۔
GEN 30:20 تَب لِیاہؔ نے کہا، ”خُدا نے مُجھے بیش بہا تحفہ عنایت کیا ہے۔ اَب کی بار میرا خَاوند میرے ساتھ عِزّت سے پیش آئے گا کیونکہ میرے یہاں اُس سے چھ بیٹے ہو چُکے ہیں۔“ اِس لیٔے اُس نے اُس کا نام زبُولُون رکھا۔
GEN 30:21 کچھ عرصہ کے بعد اُس کے یہاں ایک بیٹی پیدا ہُوئی اَور اُس نے اُس کا نام دینؔہ رکھا۔
GEN 30:22 تَب خُدا نے راخلؔ کو یاد کیا۔ اُس نے راخلؔ کی سُنی اَور اُس کا رِحم کھول دیا۔
GEN 30:23 وہ حاملہ ہُوئی اَور اُس کے یہاں بیٹا پیدا ہُوا۔ وہ کہنے لگی، ”خُدا نے میری رُسوائی دُور کی۔“
GEN 30:24 اُس نے اُس کا نام یُوسیفؔ رکھا اَور کہا، ”یَاہوِہ میرے بیٹوں میں ایک اَور کا اِضافہ کرے۔“
GEN 30:25 جَب راخلؔ کے یہاں یُوسیفؔ پیدا ہُوا تو یعقوب نے لابنؔ سے کہا، ”مُجھے رخصت کر دیجئے تاکہ میں اَپنے وطن لَوٹ جاؤں۔
GEN 30:26 مُجھے میری بیویاں اَور بچّے بھی دے دیجئے جِن کی خاطِر مَیں نے آپ کی خدمت کی اَور مَیں اَپنی راہ لُوں گا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ مَیں نے آپ کے لیٔے کتنی زحمت اُٹھائی ہے۔“
GEN 30:27 لیکن لابنؔ نے یعقوب سے کہا، ”اگر مُجھ پر تمہاری مہربانی ہو تو تُم یہیں رہو کیونکہ مَیں نے غیب سے جاناہے کہ یَاہوِہ نے تمہارے سبب سے مُجھے برکت بخشی ہے۔“
GEN 30:28 لابنؔ نے مزید کہا، ”بتاؤ میری خدمت کے بدلے تمہاری اُجرت کیا ہوگی؟ مَیں تمہاری اُجرت بھی اَدا کرتا رہُوں گا۔“
GEN 30:29 یعقوب نے لابنؔ سے کہا، ”آپ خُود جانتے ہو کہ مَیں نے آپ کی کیسی خدمت کی اَور آپ کے مویشی میری نِگرانی میں کیسے رہے۔
GEN 30:30 میرے آنے سے پہلے جو تھوڑے سے تھے اَب کتنے بڑھ گیٔے ہیں اَور جہاں کہیں میرے قدم پہُنچے وہاں یَاہوِہ نے آپ کو برکت بخشی لیکن اَب مُجھے اَپنے گھر والوں کا بندوبست بھی تو کرنا چاہیے۔“
GEN 30:31 لابنؔ نے پُوچھا، ”تمہاری اُجرت کیا ہوگی؟“ یعقوب نے جَواب دیا، ”مُجھے کچھ نہیں چاہیے لیکن اگر آپ میری خاطِر صِرف ایک کام کر دیں تو میں آپ کی بھیڑ بکریاں، چَراتا رہُوں گا اَور آپ کے گلّوں کی نگہبانی بھی کروں گا:
GEN 30:32 مُجھے آج اِجازت دیجئے کہ مَیں بھیڑ بکریوں کے سبھی گلّوں میں جا کر اُن میں سے چتلی بھیڑیں کالے رنگ کے برّے، اَور چتلی بکریاں الگ کرلُوں وُہی میری اُجرت ہوں گے۔
GEN 30:33 آئندہ جَب کبھی آپ مُجھے دی ہُوئی اُجرت کا حِساب لینا چاہو تو میری ایمانداری میری گواہ ہوگی یعنی اگر میرے پاس کویٔی بے داغ یا سفید بکری یا کویٔی سفید برّہ پایا جائے تو وہ چُرایا ہُوا سمجھا جائے۔“
GEN 30:34 لابنؔ نے کہا، ”مُجھے منظُور ہے۔ تمہارے کہنے کے مُطابق ہی ہوگا۔“
GEN 30:35 لابنؔ نے اُسی روز سَب دھاری دار اَور داغ دار بکروں اَور بکریوں کے برّوں یعنی اُن سَب کو جِن میں کچھ سفید رنگ تھا اَور کالے رنگ کے سارے برّوں کو الگ کرکے اَپنے بیٹوں کی نِگرانی میں دے دیا۔
GEN 30:36 تَب اُنہُوں نے اَپنے اَور یعقوب کے گلّوں کے درمیان تین دِن کے سفر کا فاصلہ مُقرّر کیا جَب کہ یعقوب لابنؔ کے بقیّہ گلّوں کی پاسبانی کرتے رہے۔
GEN 30:37 اَور یعقوب نے سفیدہ بادام اَور چُنار کے درختوں کی ہری ہری شاخیں لے کر اُن کی چھال کو اِس طرح چھیلا کہ اَندر کی سفید لکڑی دِکھائی دینے لگی اَور شاخوں پر سفید دھاریں بَن گئیں۔
GEN 30:38 تَب یعقوب نے وہ چھیلی ہُوئی شاخیں پانی کے تمام حوضوں میں اِس طرح سے رکھ دیں کہ جَب بھیڑیں اَور بکریاں پانی پینے کو آئیں تو وہ اُن کی نگاہ کے ٹھیک سامنے ہُوں۔ جَب بھیڑ بکریاں، گابھن ہونے کی حالت میں ہوتیں اَور پانی پینے آتی تھیں
GEN 30:39 تو وہ اُن شاخوں کے سامنے بکریاں گابھن ہو جاتیں اَور اَیسے بچّے دیتیں جو دھاری دار یا چتلے ہوتے۔
GEN 30:40 یعقوب نے بھیڑ بکریوں کے بچّوں کو الگ کیا لیکن لابنؔ کے باقی بچے جانوروں کے مُنہ دھاری دار اَور کالے جانوروں کی طرف کر دئیے۔ اِس طرح یعقوب نے اَپنی بھیڑ بکریوں کو الگ کر دیا اَور اُنہیں لابنؔ کے گلّوں میں مِلنے نہ دیا۔
GEN 30:41 جَب بھی طاقتور بھیڑیں اَور بکریاں گابھن ہونے کی حالت میں ہوتیں تو یعقوب وہ دھاری دار شاخیں پانی کے حوضوں میں اُن کے سامنے رکھتے تاکہ وہ اُن شاخوں کے سامنے گابھن ہو جایٔیں۔
GEN 30:42 لیکن اگر بھیڑ بکریاں کمزور ہوتے تو وہ اُنہیں وہاں نہ رکھتے۔ اِس طرح کمزور جانور لابنؔ کے اَور طاقتور جانور یعقوب کے حِصّہ میں آتے۔
GEN 30:43 اِس طرح سے یعقوب نہایت برومند ہویٔے اَور بہت سے گلّوں، خادِموں، خادِماؤں، اُونٹوں اَور گدھوں کے مالک بَن گئے۔
GEN 31:1 یعقوب نے سُنا کہ لابنؔ کے بیٹے کہہ رہے ہیں، ”یعقوب نے ہمارے باپ کا سَب کچھ لے لیا ہے اَورجو کچھ ہمارے باپ کا تھا اُسی مِلکیّت میں سے لے لے کر یہ سَب شان و شوکت حاصل کی ہے۔“
GEN 31:2 اَور یعقوب نے دیکھا کہ اَب لابنؔ کا رویّہ پہلے جَیسا نہ تھا۔
GEN 31:3 تَب یَاہوِہ نے یعقوب سے فرمایا، ”تُم اَپنے آباؤاَجداد کے مُلک کو اَور اَپنے رشتہ داروں کے پاس لَوٹ جاؤ اَور مَیں تمہارے ساتھ رہُوں گا۔“
GEN 31:4 تَب یعقوب نے راخلؔ اَور لِیاہؔ کو خبر بھیجی کہ وہ اُن کھیتوں میں چلی آئیں جہاں اُس کے گلّے تھے۔
GEN 31:5 اُنہُوں نے اُن سے کہا، ”میں دیکھ رہا ہُوں کہ تمہارے باپ کا رویّہ میرے ساتھ پہلے جَیسا نہیں رہا۔ لیکن میرے باپ کے خُدا نے میرا ساتھ دیا ہے۔
GEN 31:6 تُم تو جانتی ہو کہ مَیں نے کتنی محنت سے تمہارے باپ کی خدمت کی۔
GEN 31:7 تو بھی تمہارے باپ نے دس بار میری مزدُوری بدل کر مُجھ سے فریب کیا لیکن خُدا نے اُن سے مُجھے نُقصان نہیں پہُنچنے دیا۔
GEN 31:8 اگر اُنہُوں نے کہا، ’چتلے بچّے تمہاری اُجرت ہوں گے،‘ تو ساری بھیڑ بکریاں، چتلے بچّے دیتی تھیں؛ اَور اگر وہ کہتے، ’دھاری دار بچّے تمہاری اُجرت ہوں گے،‘ تو سَب بھیڑ بکریاں، دھاری دار بچّے جنتی تھیں۔
GEN 31:9 چنانچہ خُدا نے تمہارے باپ کی بھیڑ بکریاں، لے کر مُجھے دے دیں۔
GEN 31:10 ”ایک بار مَیں نے ریوڑ کے نر و مادہ کے مِلاپ کے دِنوں میں ایک خواب دیکھا کہ جو بکرے بکریوں سے مِل رہے ہیں وہ دھاری دار، چتلے یا داغ دار ہیں۔
GEN 31:11 خُدا کے فرشتہ نے خواب میں مُجھ سے کہا، ’اَے یعقوب،‘ مَیں نے جَواب دیا، ’مَیں حاضِر ہُوں؟‘
GEN 31:12 اَور فرشتہ نے کہا، ’یعقوب آنکھ اُٹھاکر دیکھو کہ جو بکرے بکریوں سے میل کر رہے ہیں وہ دھاری دار، چتلے اَور داغ دار ہیں کیونکہ لابنؔ نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا اُسے میں دیکھ چُکا ہُوں۔
GEN 31:13 میں اُسی بیت ایل کا خُدا ہُوں جہاں تُم نے سُتون پر تیل کا مَسح کیا تھا اَور میری مَنّت مانی تھی؛ اَب اِس مُلک کو فوراً چھوڑ دو اَور اَپنے وطن لَوٹ جاؤ۔‘ “
GEN 31:14 تَب راخلؔ اَور لِیاہؔ نے جَواب دیا، ”کیا اَب بھی ہمارے باپ کی جائداد میں ہمارا کویٔی حِصّہ یا مِیراث باقی ہے؟
GEN 31:15 کیا ہم اُن کی نظر میں پردیسی تو نہیں؟ اُنہُوں نے ہمیں نہ صِرف بیچ ہی دیا بَلکہ جو کچھ ہمارے عِوض قیمت اَدا کی گئی اُسے بھی اِستعمال کر لیا ہے۔
GEN 31:16 سچ تو یہ ہے کہ جو دولت خُدا نے ہمارے باپ سے چھین لی وہ سَب ہماری اَور ہمارے بچّوں کی ہے۔ چنانچہ آپ وُہی کرو جو خُدا نے آپ سے فرمایاہے۔“
GEN 31:17 تَب یعقوب نے بچّوں اَور اَپنی بیویوں کو اُونٹوں پر سوار کیا،
GEN 31:18 اَور یعقوب نے اَپنے سَب مویشیوں اَور اُس مال و اَسباب سمیت جو یعقوب نے فدّان ارام میں جمع کیا تھا اَپنے آگے آگے روانہ کیا تاکہ مُلکِ کنعانؔ میں اَپنے باپ اِصحاقؔ کے پاس جایٔیں۔
GEN 31:19 جَب لابنؔ اَپنے بھیڑوں کی پشم کترنے گئے تو راخلؔ نے اَپنے باپ کے خانگی معبُود چُرا لیٔے۔
GEN 31:20 مزید یہ کہ یعقوب نے بھی لابنؔ ارامی کے ساتھ فریب کیا؛ یعقوب نے لابنؔ کو اَپنے فرار ہونے کی خبر تک نہ دی۔
GEN 31:21 چنانچہ وہ اَپنا سَب کچھ لے کر فرار ہو گئے اَور دریا فراتؔ کو عبور کرکے گِلعادؔ کے کوہستانی مُلک کی طرف چلےگئے۔
GEN 31:22 تیسرے دِن لابنؔ کو خبر ہُوئی کہ یعقوب فرار ہو گئے ہیں۔
GEN 31:23 چنانچہ لابنؔ نے رشتہ داروں کو ساتھ لے کر اَور سات دِن کے تعاقب کے بعد گِلعادؔ کے پہاڑی مُلک میں اُن کو جا لیا۔
GEN 31:24 تَب رات کو خُدا لابنؔ ارامی کے پاس خواب میں آئے اَور اُس سے کہا، ”خبردار تُم یعقوب کو بھلا یا بُرا کچھ مت کہنا۔“
GEN 31:25 یعقوب گِلعادؔ کے پہاڑی مُلک میں خیمہ زن تھے کہ لابنؔ وہاں پہُنچ گئے اَور لابنؔ اَور اُن کے رشتہ دار بھی وہیں خیمہ زن ہو گئے۔
GEN 31:26 تَب لابنؔ نے یعقوب سے کہا، ”یہ تُم نے کیا کیا؟ تُم نے مُجھ سے دھوکا کیا اَور میری بیٹیوں کو مالِ غنیمت سمجھ کر فرار ہو رہے ہو جَیسے جنگی قَیدی تلوار کی دہشت میں پکڑے جاتے ہیں۔
GEN 31:27 تُم نے خُفیہ طریقے سے فرار ہوکر مُجھ سے فریب کیوں کیا؟ مُجھے کیوں نہیں بتایا؟ اگر بتایا ہوتا تو میں تُمہیں خُوشی خُوشی دف اَور سِتار جَیسے سازوں کے ساتھ گاتے بجاتے ہویٔے رخصت کرتا؟
GEN 31:28 تُم نے مُجھے میرے نواسوں اَور میری بیٹیوں کو اُن کی رخصت کے وقت چُومنے کا موقع بھی نہ دیا۔ تُم نے بڑی بیہودہ حرکت کی۔
GEN 31:29 مُجھ میں اِتنی قُدرت ہے کہ تُمہیں برباد کر ڈالوں لیکن رات کو تمہارے باپ کے خُدا نے مُجھ سے کہا، ’خبردار یعقوب کو بھلا یا بُرا کچھ مت کہنا۔‘
GEN 31:30 مانا کہ تُم اَپنے باپ کے گھر لَوٹنے کے مُشتاق تھے اِس لیٔے چلے آئے لیکن تُم نے میرے معبُود کیوں چُرا لیٔے؟“
GEN 31:31 یعقوب نے لابنؔ کو جَواب دیا، ”مُجھے ڈر تھا کہ تُم اَپنی بیٹیوں کو مُجھ سے زبردستی چھین نہ لو۔
GEN 31:32 البتّہ جِس کسی کے پاس تمہارے معبُود نکلیں وہ زندہ نہ بچے گا۔ ہمارے رشتہ داروں کی مَوجُودگی میں تُم خُود دیکھ لوگے کہ میرے سامان مَیں تمہاری کویٔی چیز تو نہیں۔ اَور اگر ہو تو تُم اُسے لے لو۔“ یعقوب کو مَعلُوم نہ تھا کہ راخلؔ وہ معبُود چُرا لائی ہے۔
GEN 31:33 چنانچہ لابنؔ نے یعقوب اَور لِیاہؔ اَور دونوں خادِماؤں کے خیموں کی تلاشی لی لیکن اُنہیں کچھ نہ مِلا۔ لِیاہؔ کے خیمہ سے نکل کر وہ راخلؔ کے خیمہ میں داخل ہویٔے۔
GEN 31:34 راخلؔ نے پہلے ہی اُن خانگی معبُودوں کو لے کر اَپنے اُونٹ کی زین میں رکھ دیا تھا اَور اُن پر بیٹھ گئی تھی۔ لابنؔ نے خیمہ کا کونہ کونہ چھان مارا لیکن اُنہیں کچھ نہ مِلا۔
GEN 31:35 راخلؔ نے اَپنے باپ سے کہا، ”میرے آقا، تُم اِس بات پر ناراض نہ ہونا کہ مَیں تمہارے سامنے اُٹھ نہیں سکتی کیونکہ مَیں حیض سے ہُوں۔“ چنانچہ تلاشی کے باوُجُود بھی لابنؔ کو اُس کے خانگی معبُود نہ ملے۔
GEN 31:36 یعقوب کو بڑا غُصّہ آیا۔ یعقوب نے لابنؔ کو ملامت کی اَور اُن سے پُوچھا، ”میرا جُرم کیا ہے؟“ مَیں نے کون سا گُناہ کیا ہے جو تُم میرے تعاقب میں یہاں آ پہُنچے؟
GEN 31:37 اَب جَب آپ نے میرے سارے مال و اَسباب کی تلاشی لے لی تو آپ نے اَپنے گھر کی کون سِی چیز پائی؟ اگر کچھ مِلا ہو تو اُسے یہاں اَپنے اَور میرے رشتہ داروں کے سامنے رکھئے اَور ہم دونوں کے درمیان ہمارا اِنصاف کرنے دیجئے۔
GEN 31:38 ”پچھلے بیس بَرس سے اَب تک میں آپ کے ساتھ رہا ہُوں اُس دَوران نہ تو کبھی آپ کی بھیڑوں اَور بکریوں کے بچّے ضائع ہویٔے اَور نہ ہی مَیں نے آپ کے گلّوں کے مینڈھوں کا گوشت کھایا۔
GEN 31:39 میں آپ کے پاس کبھی اَیسے جانور لے کر نہیں آیا جنہیں درندوں نے پھاڑ ڈالا ہو، وہ نُقصان مَیں نے ہی برداشت کیا۔ جو جانور دِن یا رات کو چوری جاتا تھا اُس کی قیمت بھی آپ نے مُجھ ہی سے طلب کی۔
GEN 31:40 میرا حال تو اَیسا تھا کہ دِن کو گرمی اَور رات کو سردی مُجھے نڈھال کردیتی تھی اَور میری راتوں کی نیند حرام ہو گئی تھی۔
GEN 31:41 بیس سال تک جَب کہ میں آپ کے گھر میں رہا میری یہی حالت رہی۔ مَیں نے چودہ بَرس تک آپ کی دو بیٹیوں کی خاطِر اَور چھ بَرس تک آپ کے گلّوں کی خاطِر آپ کی خدمت کی اَور اُس دَوران آپ نے دس بار میری مزدُوری بدلی۔
GEN 31:42 اگر میرے باپ اَبراہامؔ کے خُدا اَور میرے باپ اِصحاقؔ کا خوف میرے ساتھ نہ ہوتا تو آپ یقیناً مُجھے خالی ہاتھ روانہ کرتے۔ لیکن خُدا نے میری مُصیبت اَور میرے ہاتھوں کی محنت کو دیکھاہے اَور کل رات آپ پر ظاہر ہوکر آپ کو تنبیہ بھی کی۔“
GEN 31:43 لابنؔ نے یعقوب کو جَواب دیا، ”یہ عورتیں میری بیٹیاں ہیں اَور یہ بچّے میرے بچّے ہیں اَور یہ گلّے میرے گلّے ہیں۔ جو کچھ تُمہیں نظر آتا ہے سَب میرا ہے۔ پھر بھی آج مَیں اَپنی اِن بیٹیوں یا اِن بچّوں کے لیٔے جو اُن سے ہویٔے کیا کر سَکتا ہُوں؟
GEN 31:44 اَب آؤ تُم اَور مَیں آپَس میں ایک عہد کریں جِس کی حیثیت ہمارے درمیان گواہ کی سِی ہو۔“
GEN 31:45 چنانچہ یعقوب نے ایک پتّھر لیا اَور اُسے سُتون کے طور پر کھڑا کیا۔
GEN 31:46 اَور یعقوب نے رشتہ داروں سے کہا، ”چند پتّھر جمع کرو۔“ چنانچہ اُنہُوں نے پتّھر جمع کرکے ڈھیر لگا دیا اَور پھر اُس ڈھیر کے پاس ہی بیٹھ کر کھانا کھایا۔
GEN 31:47 لابنؔ نے اُس کا نام یگرساہدُو تھا اَور یعقوب نے گِلعادؔ رکھا۔
GEN 31:48 لابنؔ نے کہا، ”آج کے دِن یہ ڈھیر تمہارے اَور میرے درمیان گواہ ہے۔“ اِسی لیٔے اِس کا نام گِلعادؔ رکھا گیا۔
GEN 31:49 اِسے مِصفاہؔ بھی کہا گیا کیونکہ لابنؔ نے کہا، ”جَب ہم ایک دُوسرے سے دُور ہُوں تو یَاہوِہ تمہارا اَور میرا نگہبان ہو۔
GEN 31:50 اگر تُم میری بیٹیوں کو دُکھ پہُنچاؤ یا اُن کے علاوہ اَور عورتوں سے بیاہ کرو تو اگرچہ کویٔی آدمی ہمارے ساتھ نہیں لیکن یاد رہے کہ خُدا تمہارے اَور میرے درمیان گواہ ہے۔“
GEN 31:51 لابنؔ نے یعقوب سے یہ بھی کہا، ”اِس ڈھیر کو دیکھو اَور اِس سُتون کو دیکھو جنہیں مَیں نے تمہارے اَور اَپنے درمیان کھڑا کیا ہے۔
GEN 31:52 یہ ڈھیر گواہ ہے اَور یہ سُتون گواہ ہے کہ تُمہیں ضرر پہُنچانے کے لیٔے نہ تو میں اِس ڈھیر سے آگے تمہاری طرف قدم بڑھاؤں گا اَور نہ تُم مُجھے ضرر پہُنچانے کے لیٔے اِس ڈھیر اَور سُتون سے آگے میری طرف قدم بڑھاؤگے۔
GEN 31:53 اَبراہامؔ کا خُدا اَور ناحوؔر کا خُدا اَور اُن کے باپ کا خُدا ہمارے درمیان اِنصاف کرے۔“ اَور یعقوب نے اَپنے باپ اِصحاقؔ کے خوف سے قادرمُطلق خُدا کی قَسم کھائی۔
GEN 31:54 اَور یعقوب نے اُس پہاڑی مقام پر قُربانی گزرانی اَور اَپنے رشتہ داروں کو کھانے پر مدعو کیا۔ اُنہُوں نے کھانا کھایا اَور رات وہیں گزاری۔
GEN 31:55 اگلے دِن صُبح سویرے لابنؔ نے اَپنے بیٹیوں کو نواسیوں اَور نواسوں کو چُوما اَور اُنہیں برکت دے کر روانہ ہو گئے اَور اَپنے گھر واپس ہویٔے۔
GEN 32:1 تَب یعقوب نے بھی اَپنی راہ لی اَور خُدا کے فرشتے اُن سے مِلنے آئے۔
GEN 32:2 جَب یعقوب نے اُنہیں دیکھا تو کہا، ”یہ خُدا کی چھاؤنی ہے!“ اَور اُس مقام کا نام محنایمؔ رکھا۔
GEN 32:3 تَب یعقوب نے اَپنے آگے اِدُوم کے مُلک میں جو سِعِیؔر کی سرزمین میں ہے اَپنے بھایٔی عیسَوؔ کے پاس قاصِد روانہ کئے۔
GEN 32:4 اُن کو ہدایات دیں: ”تُم میرے آقا عیسَوؔ سے یُوں کہنا، ’تمہارا خادِم یعقوب کہتاہے میں لابنؔ کے ہاں مُقیم تھا اَور اَب تک وہیں رہا۔
GEN 32:5 میرے پاس مویشی اَور گدھے، بھیڑیں اَور بکریاں، خادِم اَور خادِمائیں ہیں۔ اَب اَے میرے آقا! یہ پیغام تمہارے پاس اِس لیٔے بھیج رہا ہُوں کہ مُجھ پر تمہاری نظرِکرم ہو۔‘ “
GEN 32:6 جَب وہ قاصِد لَوٹ کر یعقوب کے پاس آئے تو کہنے لگے، ”ہم آپ کے بھایٔی عیسَوؔ کے پاس گیٔے تھے اَور اَب وہ آپ سے مِلنے آ رہے ہیں اَور چار سَو آدمی اُن کے ساتھ ہیں۔“
GEN 32:7 تَب یعقوب نہایت خوفزدہ اَور پریشان ہویٔے۔ اُنہُوں نے اَپنے ساتھ کے لوگوں، بھیڑ بکریوں، مویشیوں، گلّوں اَور اُونٹوں کو دو غولوں میں تقسیم کیا۔
GEN 32:8 اَور یہ سوچا، ”کہ اگر عیسَوؔ آکر ایک غول پر حملہ کرےگا تو دُوسرا غول تو عیسَوؔ کے ہاتھ سے بچ نکلے گا۔“
GEN 32:9 تَب یعقوب نے دعا کی، ”اَے یَاہوِہ، میرے باپ اَبراہامؔ کے خُدا اَور میرے باپ اِصحاقؔ کے خُدا، آپ نے مُجھ سے کہا، ’اَپنے مُلک اَور اَپنے رشتہ داروں میں واپس چلا جاؤں اَور مَیں تُمہیں برومند کروں گا،‘
GEN 32:10 آپ نے اَپنے خادِم کے ساتھ جو مہربانی اَور وفاداری جتائی میں اُس کے لائق نہیں۔ جَب مَیں نے اِس یردنؔ کو عبور کیا تھا تَب میرے پاس صِرف میرا عصا تھا اَور اَب مَیں دو خیموں میں بٹ چُکا ہُوں۔
GEN 32:11 میری یہ اِلتجا ہے کہ مُجھے اَپنے بھایٔی عیسَوؔ کے ہاتھ سے بچا لیجئے کیونکہ مُجھے خوف ہے کہ وہ آکر مُجھے اَور اِن ماؤں کو اُن کے بچّوں سمیت مار ڈالے گا۔
GEN 32:12 لیکن آپ نے کہا، ’میں یقیناً تُمہیں برومند کروں گا اَور مَیں تمہاری نَسل کو سمُندر کے کنارے کی ریت کی مانند بڑھاؤں گا جو شُمار سے باہر ہوگی۔‘ “
GEN 32:13 یعقوب نے رات وہیں گزاری، اَورجو کچھ اُن کے پاس تھا اُس میں سے اَپنے بھایٔی عیسَوؔ کے لیٔے یہ تحفہ مُنتخب کیا:
GEN 32:14 دو سَو بکریاں اَور بیس بکرے، دو سَو بھیڑیں اَور بیس مینڈھے،
GEN 32:15 تیس اُونٹنیاں اَور اُن کے بچّے، چالیس گائیں اَور دس بَیل اَور تیس گدھیاں اَور دس گدھے۔
GEN 32:16 یعقوب نے ہر گلّہ کو الگ الگ اَپنے خادِموں کے سُپرد کیا، اَور اُن سے کہا، ”مُجھ سے آگے نکل جاؤ اَور ایک گلّے کو دُوسرے سے جُدا رکھنا۔“
GEN 32:17 یعقوب نے سَب سے آگے والے خادِم کو ہدایت دی: ”جَب میرا بھایٔی عیسَوؔ تُم سے ملے اَور تُم سے پُوچھے، ’تُم کِس کے خادِم ہو اَور کہاں جا رہے ہو اَور یہ سَب جانور جو تمہارے آگے آگے ہیں کِس کے ہیں؟‘
GEN 32:18 تَب تُم عیسَوؔ سے کہنا، ’یہ تمہارے خادِم یعقوب کے ہیں اَور اُن کے آقا عیسَوؔ کو بطور تحفہ بھیجے گیٔے ہیں اَور وہ خُود بھی ہمارے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔‘ “
GEN 32:19 یعقوب نے دُوسرے، تیسرے اَور باقی سَب خادِموں کو بھی جو گلّوں کے پیچھے چل رہے تھے ہدایت کی: ”تُم بھی جَب عیسَوؔ سے مِلو تو یہی کہنا۔
GEN 32:20 اَور یہ ضروُر کہنا، ’آپ کے خادِم یعقوب بھی ہمارے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔‘ “ کیونکہ یعقوب نے سوچا، ”اِن تحفوں سے جنہیں میں اَپنے آگے بھیج رہا ہُوں، عیسَوؔ کے غُصّہ کو ٹھنڈا کر دُوں گا تاکہ بعد میں جَب مَیں اُن کے سامنے آؤں تو شاید وہ مُجھے قبُول کر لیں۔“
GEN 32:21 چنانچہ یعقوب کے تحفے لے کر آگے بڑھ گیٔے، لیکن یعقوب نے وہ رات اَپنے ہی خیمے میں گزاری۔
GEN 32:22 اُس رات یعقوب اُٹھے اَور اَپنی دو بیویوں اَپنی دو خادِماؤں اَور اَپنے گیارہ بیٹوں کو لے کر اُنہیں یبّوقؔ کے گھاٹ کے پار اُتارا۔
GEN 32:23 اُنہیں یردنؔ کے اُس پار بھیجنے کے بعد اَپنا سَب مال و اَسباب بھی بھیج دیا۔
GEN 32:24 تَب یعقوب تنہا رہ گئے اَور ایک آدمی پَو پھٹنے تک اُن سے کُشتی لڑتا رہا۔
GEN 32:25 جَب اُس آدمی نے دیکھا کہ وہ یعقوب پر غالب نہیں آسکتا تو اُس نے یعقوب کی ران کے جوڑ کو اَیسا چھُوا کہ اُس آدمی سے کُشتی لڑتے لڑتے اُن کی نس چڑھ گئی۔
GEN 32:26 تَب اُس آدمی نے کہا، ”مُجھے جانے دے کیونکہ اَب پَو پھٹنے کو ہے۔“ لیکن یعقوب نے جَواب دیا، ”جَب تک آپ مُجھے برکت نہ دیں مَیں آپ کو جانے نہیں دُوں گا۔“
GEN 32:27 تَب اُس آدمی نے پُوچھا، ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”یعقوب۔“
GEN 32:28 تَب اُس آدمی نے کہا، ”اَب سے تمہارا نام یعقوب نہیں بَلکہ اِسرائیل ہوگا کیونکہ تُم نے خُدا اَور آدمیوں کے ساتھ زورآزمائی کی اَور غالب ہُوئے۔“
GEN 32:29 تَب یعقوب نے کہا، ”براہِ کرم مُجھے اَپنا نام بتائیے۔“ لیکن اُس نے جَواب دیا، ”تُمہیں میرے نام سے کیا مطلب؟“ اَور اُس نے وہاں یعقوب کو برکت دی۔
GEN 32:30 چنانچہ یعقوب نے اُس مقام کا نام یہ کہتے ہویٔے پنی ایل رکھا، ”مَیں نے خُدا کو رُوبرو دیکھا، تو بھی میری جان سلامت رہی!“
GEN 32:31 جَب وہ پنی ایل یعنی پینو ایل سے چلے تو سُورج نکل چُکاتھا اَور وہ اَپنی ران کی وجہ سے لنگڑا کر چل رہے تھے۔
GEN 32:32 اِسی لیٔے بنی اِسرائیل اُس نس کو جو ران کے جوڑ سے جڑی ہوتی ہے آج تک نہیں کھاتے کیونکہ اُس آدمی نے یعقوب کی ران کے جوڑ کی اُسی نس کے پاس چھُوا تھا۔
GEN 33:1 یعقوب نے نگاہ اُٹھائی اَور دیکھا کہ عیسَوؔ اَپنے چار سَو آدمیوں کے ساتھ آ رہے ہیں۔ تَب یعقوب نے اَپنے بچّوں کو لِیاہؔ راخلؔ اَور دونوں خادِماؤں کے درمیان بانٹ دیا۔
GEN 33:2 اُنہُوں نے خادِماؤں اَور اُن کے بچّوں کو سَب سے آگے، لِیاہؔ اَور اُن کے بچّوں کو اُن کے پیچھے اَور راخلؔ اَور یُوسیفؔ کو سَب سے پیچھے رکھا۔
GEN 33:3 وہ خُود اُن کے آگے آگے چلے اَور اَپنے بھایٔی تک پہُنچتے پہُنچتے سات بار زمین پر سَجدہ کیا۔
GEN 33:4 لیکن عیسَوؔ دَوڑکر اَپنے بھایٔی یعقوب سے مِلنے کو دَوڑے اَور اُن سے بغل گیر ہوکر یعقوب کو چُوما اَور وہ دونوں رو پڑے۔
GEN 33:5 تَب عیسَوؔ نے نگاہ اُٹھاکر عورتوں اَور بچّوں کو دیکھا اَور پُوچھا، ”یہ تمہارے ساتھ کون ہیں؟“ یعقوب نے جَواب دیا، ”یہ وہ بچّے ہیں جو خُدا نے اَپنی مہربانی سے تمہارے خادِم کو عنایت کئے ہیں۔“
GEN 33:6 تَب خادِماؤں نے اَپنے بچّوں کے ساتھ آگے آکر عیسَوؔ کو جھُک کر سلام کیا۔
GEN 33:7 اُن کے بعد لِیاہؔ اَور اُس کے بچّے آئے اَور اُنہُوں نے بھی جھُک کر سلام کیا۔ اَور سَب کے آخِر میں یُوسیفؔ اَور راخلؔ آئے اَور اُنہُوں نے بھی جھُک کر سلام کیا۔
GEN 33:8 عیسَوؔ نے پُوچھا، ”اِن سَب گائے، بَیل سے جو مُجھے ملے، تمہارا کیا مطلب ہے؟“ یعقوب نے کہا، ”میرے آقا، وہ اِس لیٔے ہیں کہ آپ کی مہربانی مُجھ پر ہو۔“
GEN 33:9 لیکن عیسَوؔ نے کہا، ”نہیں میرے بھایٔی میرے پاس تو پہلے ہی بہت کچھ ہے لہٰذا جو تمہارا ہے وہ تُم اَپنے پاس ہی رکھو۔“
GEN 33:10 یعقوب نے کہا، ”نہیں نہیں! اگر مُجھ پر آپ کی نظرِ عنایت ہے تو میری طرف سے یہ تحفہ قبُول کیجئے کیونکہ تمہارا چہرہ دیکھنا خُدا کا چہرہ دیکھنے کی مانند ہے خصوصاً اَب جَب کہ آپ نے مہربانی سے میرا اِستِقبال کیا ہے۔
GEN 33:11 براہِ مہربانی جو تحفہ آپ کے سامنے لایا گیا اُسے قبُول کیجئے کیونکہ خُدا کے فضل و کرم سے میرے پاس ضروُرت کا سارا سامان مَوجُود ہے۔“ اَور یعقوب کے اِصرار کرنے پر عیسَوؔ نے اُسے قبُول کر لیا۔
GEN 33:12 تَب عیسَوؔ نے کہا، ”آؤ، ہم آگے چلیں اَور مَیں تمہارے ہمراہ چلُوں گا۔“
GEN 33:13 لیکن یعقوب نے عیسَوؔ سے کہا، ”میرے آقا کو مَعلُوم ہے کہ میرے بال بچّے نازک ہیں اَور مُجھے دُودھ پِلانے والی بھیڑ بکریوں اَور گایوں کا بھی خیال رکھنا ضروُری ہے۔ اگر اُنہیں ایک دِن بھی حد سے زِیادہ ہانکا گیا تو سَب جانور مَر جایٔیں گے۔
GEN 33:14 لہٰذا میری درخواست ہے کہ میرا آقا اَپنے خادِم سے پیشتر روانہ ہو جائے اَور مَیں اَپنے آگے چلنے والے چَوپایوں اَور بچّوں کی رفتار کے مُطابق آہستہ آہستہ چلتا ہُوا اَپنے آقا کے پاس سِعِیؔر میں آ جاؤں گا۔“
GEN 33:15 عیسَوؔ نے کہا، ”اَچھّا میں اَپنے لوگوں میں سے چند کو تمہارے پاس چھوڑے جاتا ہُوں۔“ یعقوب نے کہا، ”اِس کی کیا ضروُرت ہے؟ بس میرے آقا کی مہربانی مُجھ پر ہے یہی بہت ہے۔“
GEN 33:16 چنانچہ اُسی روز عیسَوؔ سِعِیؔر کے لیٔے روانہ ہویٔے۔
GEN 33:17 البتّہ یعقوب سُکّوتؔ چلےگئے اَور وہاں اُنہُوں نے اَپنے لیٔے ایک رہنے کے لئے ایک گھر اَور اَپنے مویشیوں کے لیٔے جھونپڑے بنائے۔ اِسی وجہ سے اُس مقام کا نام سُکّوتؔ پڑ گیا۔
GEN 33:18 فدّان ارام سے آنے کے بعد یعقوب صحیح سلامت مُلکِ کنعانؔ میں شِکیمؔ کے شہر تک پہُنچے اَور شہر کے نزدیک ہی خیمہ زن ہو گئے۔
GEN 33:19 زمین کے جِس قَطعہ پر اُنہُوں نے اَپنا خیمہ نصب کیا، اُسے یعقوب نے شِکیمؔ کے باپ حمُورؔ کے بیٹوں سے چاندی کے سَو سِکّوں کے عِوض خرید لیا۔
GEN 33:20 اَور وہاں یعقوب نے ایک مذبح بنا کر اُس کا نام ایل اِلُہِ اِسرائیل رکھا۔
GEN 34:1 اَور لِیاہؔ کی بیٹی دینؔہ جو یعقوب سے اُس کے یہاں پیدا ہوئی تھی اُس مُلک کی لڑکیوں کو دیکھنے نکلی۔
GEN 34:2 تَب اُس مُلک کے حاکم حِوّیؔ حمُورؔ کے بیٹے شِکیمؔ نے اُسے دیکھا اَور اُسے لے جا کر اُس کی عصمت دری کی۔
GEN 34:3 اُس کا دِل یعقوب کی بیٹی دینؔہ پر آ گیا اَور وہ اُس لڑکی سے مَحَبّت کرنے لگا اَور اُس سے میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگا۔
GEN 34:4 اَور شِکیمؔ نے اَپنے باپ حمُورؔ سے کہا، ”میری شادی اِس لڑکی سے کرا دیجئے۔“
GEN 34:5 جَب یعقوب کو یہ بات مَعلُوم ہوئی کہ اُن کی بیٹی دینؔہ کو بےحُرمت کیا گیا ہے، جَب اُن کے بیٹے کھیتوں میں مویشیوں کے پاس تھے۔ لہٰذا وہ اُن کے گھر آنے تک خاموش رہے۔
GEN 34:6 اَور شِکیمؔ کا باپ حمُورؔ یعقوب سے پاس مُلاقات کرنے کے لیٔے آئے۔
GEN 34:7 یعقوب کے بیٹوں نے جوں ہی یہ بات سُنی وہ اَپنے کھیتوں سے لَوٹے اَور سیدھے گھر پہُنچے۔ وہ نہایت رنجیدہ تھے اَور غُصّہ سے آگ بگُولہ ہو رہے تھے کیونکہ شِکیمؔ نے یعقوب کی بیٹی کی عصمت لُوٹ کر بنی اِسرائیل میں اَیسی شرمناک حرکت کی، جو نہ کی جانی چاہیے تھی۔
GEN 34:8 لیکن حمُورؔ نے اُن سے کہا، ”میرا بیٹا شِکیمؔ تمہاری لڑکی کو دِل سے چاہتاہے لہٰذا براہِ کرم اُسے میرے بیٹے کے لئے بطور بیوی دے دیجئے۔
GEN 34:9 ہمارے ساتھ آپَس میں شادی بیاہ کر لو۔ ہمیں اَپنی بیٹیاں دو اَور ہماری بیٹیاں اَپنے لیٔے لے لو۔
GEN 34:10 تُم ہمارے درمیان بس جاؤ۔ یہ مُلک تمہارے لیٔے کھُلا ہے۔ اِس میں رہو تِجارت کرو اَور اُسی میں اَپنے لیٔے جائدادیں بناؤ۔“
GEN 34:11 شِکیمؔ نے بھی دینؔہ کے باپ اَور بھائیوں سے کہا، ”اگر مُجھ پر تمہاری نظرِکرم ہو جائے تو جو کچھ تُم مانگوگے میں تُمہیں دے دُوں گا۔
GEN 34:12 دُلہن کا مَہر اَور جہیز جِس قدر بھی تُم چاہو طے کر لو اَورجو تُم کہو گے میں اَدا کروں گا۔ بس اُس لڑکی کو بطور دُلہن مُجھے دے دیجئے۔“
GEN 34:13 تَب یعقوب کے بیٹوں نے شِکیمؔ اَور اُس کے باپ حمُورؔ سے بات کرتے ہُوئے فریب سے جَواب دیا، چونکہ اُن کی بہن دینؔہ کو بےحُرمت کیا تھا۔
GEN 34:14 اَور اُن سے کہا، ”ہم یہ نہیں کر سکتے ہم اَپنی بہن ایک نامختون آدمی کو نہیں دے سکتے۔ اِس میں ہماری رُسوائی ہے۔
GEN 34:15 ہم صِرف ایک شرط پر راضی ہو سکتے ہیں: اَور وہ یہ ہے کہ تُم سَب مَردوں کا ختنہ کیا جائے، تاکہ تُم ہماری طرح ہو سکو۔
GEN 34:16 تَب ہم اَپنی بیٹیاں تُمہیں دیں گے اَور تمہاری بیٹیاں اَپنے لیٔے لیں گے۔ اَور ہم تمہارے درمیان بسیں گے، اَور تمہارے ساتھ مِل کر ایک قوم بَن جایٔیں گے۔
GEN 34:17 لیکن اگر تُم ختنہ کرانے پر راضی نہیں ہوتے، تو ہم اَپنی بہن کو لے کر چلے جایٔیں گے۔“
GEN 34:18 اُن کی تجویز حمُورؔ اَور اُس کے بیٹے شِکیمؔ کو پسند آئی۔
GEN 34:19 اُس نوجوان نے، جو اَپنے باپ کے خاندان میں نہایت باعزّت سمجھا جاتا تھا اُن کے کہنے پر عَمل کرنے میں بالکُل تاخیر نہ کی، کیونکہ وہ یعقوب کی بیٹی کا بےحد مُشتاق تھا۔
GEN 34:20 تَب حمُورؔ اَور اُس کا بیٹا شِکیمؔ اَپنے شہر کے پھاٹک پر اَپنے شہر والوں سے بات چیت کرنے گیٔے۔
GEN 34:21 اَور اُن سے کہنے لگے، ”یہ لوگ ہم سے دوستانہ تعلّقات رکھتے ہیں۔ اُنہیں اِس مُلک میں رہ کر تِجارت کرنے دو، اِس مُلک میں اُن کے لیٔے کافی جگہ ہے۔ ہم اُن کی بیٹیوں سے اَور وہ ہماری بیٹیوں سے بیاہ کر سکتے ہیں۔
GEN 34:22 لیکن وہ لوگ صِرف اِس شرط پر ہم لوگوں کے ساتھ ایک قوم ہوکر رہنے پر راضی ہیں، ہمارے مَرد اَپنا ختنہ کروائیں، جَیسا اُن کا ہُواہے۔
GEN 34:23 کیا اُن کے مویشی، مال و اَسباب اَور سارے جانور ہمارے نہ ہو جایٔیں گے؟ اگر، ہم اَپنی رضامندی اُن پر ظاہر کر دیں تو وہ ہمارے درمیان بس جایٔیں گے۔“
GEN 34:24 تَب سَب مَردوں نے جو شہر کے پھاٹک سے گزرا کرتے تھے، حمُورؔ اَور اُس کے بیٹے شِکیمؔ کی بات مان لی۔ اَور شہر کے پھاٹک سے گزرنے والے ہر مَرد کا ختنہ کیا گیا۔
GEN 34:25 تین دِن کے بعد، جَب وہ سَب ابھی درد میں مُبتلا تھے، یعقوب کے بیٹوں میں سے دینؔہ کے دو بھایٔی شمعُونؔ اَور لیوی اَپنی اَپنی تلوار لے کر، ناگہاں شہر پر ٹوٹ پڑے اَور ہر مَرد کو مار ڈالا۔
GEN 34:26 اُنہُوں نے حمُورؔ اَور اُس کے بیٹے شِکیمؔ کو بھی تلوار سے قتل کر ڈالا اَور دینؔہ کو شِکیمؔ کے گھر سے نکال لے گیٔے۔
GEN 34:27 پھر یعقوب کے بیٹے مقتولوں پر جھپٹے اَور شہر کو لُوٹ لیا، کیونکہ اُنہُوں نے اُن کی بہن کو بےحُرمت کیا تھا۔
GEN 34:28 اُنہُوں نے اُن کی بھیڑ بکریاں، مویشی، گدھے اَورجو کچھ شہر اَور کھیتوں میں تھا، لے لیا۔
GEN 34:29 وہ اُن کی ساری دولت اَور اُن کے بچّوں اَور بیویوں کو، اَور اُن کے گھروں میں کی سَب چیزوں کو مالِ غنیمت کی طرح لے کر چلتے بنے۔
GEN 34:30 تَب یعقوب نے شمعُونؔ اَور لیوی سے کہا، ”تُم نے اِس مُلک کے کنعانی اَور پَرزّی باشِندوں کے دِلوں میں میرے خِلاف نفرت پیدا کرکے، مُجھے مُصیبت میں ڈال دیا۔ ہم تو تعداد میں بہت کم ہیں اَور اگر وہ میرے خِلاف اِکٹھّے ہوکر مُجھ پر حملہ کر دیں تو میں اَور میرا خاندان تباہ ہو جایٔیں گے۔“
GEN 34:31 لیکن اُنہُوں نے جَواب دیا، ”کیا اُسے ہماری ہی بہن کے ساتھ فاحِشہ کا سا سلُوک کرنا تھا؟“
GEN 35:1 تَب خُدا نے یعقوب سے فرمایا، ”بیت ایل لَوٹ جاؤ، اَور وہیں بس جاؤ۔ اَور وہاں خُدا کے لیٔے ایک مذبح بناؤ جو تُمہیں اُس وقت دِکھائی دیا تھا جَب تُم اَپنے بھایٔی عیسَوؔ کے خوف سے بھاگے جا رہے تھے۔“
GEN 35:2 تَب یعقوب نے اَپنے گھر والوں اَور اُن سَب سے جو اُن کے ساتھ تھے فرمایا، ”تمہارے پاس جو غَیر معبُود ہیں اُنہیں دُور کر دو اَور اَپنے آپ کو پاک کرکے اَپنا لباس تبدیل کرو۔
GEN 35:3 تَب آؤ، ہم بیت ایل چلیں جہاں میں خُدا کے لیٔے ایک مذبح بناؤں گا، جنہوں نے میری تکلیف کے دِنوں میں میری دعا سُنی اَور جہاں کہیں میں گیا میرے ساتھ رہے۔“
GEN 35:4 چنانچہ اُنہُوں نے سَب غَیر معبُود جو اُن کے پاس تھے۔ اَور اُن کے کانوں کی بالیاں یعقوب کو دے دیں اَور یعقوب نے اُنہیں شِکیمؔ میں بلُوط کے درخت کے نیچے دفن کر دیا۔
GEN 35:5 تَب اُنہُوں نے کوُچ کیا، اَور اُن کے اِردگرد کے شہروں پر خُدا کا اِس قدر خوف طاری تھا کہ کسی نے یعقوب کے بیٹوں کا تعاقب نہ کیا۔
GEN 35:6 یعقوب اَور اُن کے ساتھ کے سَب لوگ مُلکِ کنعانؔ کے لُوزؔ نام کے ایک مقام پر پہُنچے جِس کا نام بیت ایل بھی ہے۔
GEN 35:7 یعقوب نے وہاں ایک مذبح بنایا اَور اُس مقام کا نام ایل بیت ایل رکھا، کیونکہ جَب وہ اَپنے بھایٔی کے پاس سے دُور بھاگ رہے تھے، تَب خُدا نے اَپنے آپ کو وہاں پر ظاہر کیا۔
GEN 35:8 اَور رِبقہؔ کی دایہ دبورہؔ مَر گئی اَور بیت ایل کے باہر بلُوط کے درخت کے نیچے دفن کی گئی۔ لہٰذا اُس کا نام اَلّون بکُوتؔ رکھا گیا۔
GEN 35:9 یعقوب کے فدّان ارام سے لَوٹنے کے بعد خُدا نے اَپنے آپ کو اُن پر دوبارہ ظاہر کیا، خُدا نے اُن کو برکت بخشی۔
GEN 35:10 اَور خُدا نے اُن سے فرمایا، ”تمہارا نام یعقوب ہے، لیکن آئندہ تمہارا نام یعقوب نہ کہلائے گا، تمہارا نام اِسرائیل ہوگا۔“ اِس طرح خُدا نے اُن کا نام اِسرائیل رکھا۔
GEN 35:11 اَور خُدا نے آپ سے فرمایا، ”میں ایل شیدائی یعنی قادرمُطلق خُدا ہُوں۔ تُم برومند ہو اَور بڑھتے چلے جاؤ۔ تُم سے ایک قوم بَلکہ قوموں کا ایک گِروہ پیدا ہوگا اَور تمہاری نَسل سے بادشاہ پیدا ہوں گے۔
GEN 35:12 جو مُلک مَیں نے اَبراہامؔ اَور اِصحاقؔ کو دیا وہ میں تُمہیں بھی دے رہا ہُوں اَور مَیں یہ مُلک تمہارے بعد تمہاری نَسل کو بھی دُوں گا۔“
GEN 35:13 تَب خُدا جِس جگہ یعقوب سے ہم کلام ہویٔے، وہیں سے اُن کے پاس سے اُوپر چلےگئے۔
GEN 35:14 جِس جگہ خُدا اُن سے ہم کلام ہویٔے تھے، وہاں یعقوب نے پتّھر کا ایک سُتون کھڑا کیا اَور اُس پر تپاون نذر کیا اَور زَیتُون کا تیل بھی ڈالا۔
GEN 35:15 اَور یعقوب نے اُس مقام کا نام جہاں خُدا اُن سے ہم کلام ہُوا بیت ایل رکھا۔
GEN 35:16 تَب اُنہُوں نے بیت ایل سے کُوچ کیا۔ ابھی وہ اِفرات سے کچھ فاصلہ پر تھے، راخلؔ کو دردِزہ شروع ہو گیا اَور زچگی میں نہایت دِقّت ہُوئی۔
GEN 35:17 اَور چونکہ اُسے زچگی میں کافی تکلیف ہو رہی تھی اِس لیٔے دائی نے اُس سے کہا، ”خوف نہ کرو کیونکہ تمہارے یہاں بیٹا ہوگا۔“
GEN 35:18 وہ دَم توڑ رہی تھی لیکن مرنے سے پہلے اُس نے اُس بیٹے کا نام بِن اَونیؔ رکھا، لیکن اُس کے باپ نے اُس کا نام بِنیامین رکھا۔
GEN 35:19 یُوں راخلؔ نے وفات پائی اَور اِفرات یعنی بیت لحمؔ کی راہ میں دفن ہویٔی۔
GEN 35:20 یعقوب نے اُس کی قبر پر ایک سُتون کھڑا کیا۔ راخلؔ کی قبر کا یہ سُتون آج تک مَوجُود ہے۔
GEN 35:21 اِسرائیل نے پھر کُوچ کیا اَور مگدال عیدرؔ کے پرے خیمہ زن ہویٔے۔
GEN 35:22 جَب اِسرائیل اُس علاقہ میں رہتے تھے تَب رُوبِنؔ نے جا کر اَپنے باپ کی داشتہ بِلہاہؔ کے ساتھ رات گزاری اَور اِسرائیل کو اُس کا پتہ چل گیا۔
GEN 35:23 اُن میں سے لِیاہؔ کے بیٹے یہ تھے: رُوبِنؔ یعقوب کا پہلوٹھا۔ شمعُونؔ، لیوی، یہُوداہؔ، یِسَّکاؔر اَور زبُولُون۔
GEN 35:24 اَور راخلؔ کے بیٹے یہ تھے: یُوسیفؔ اَور بِنیامین۔
GEN 35:25 راخلؔ کی خادِمہ بِلہاہؔ کے بیٹے یہ تھے: دانؔ اَور نفتالی۔
GEN 35:26 اَور لِیاہؔ کی خادِمہ زِلفہؔ کے بیٹے یہ تھے: گادؔ اَور آشیر۔
GEN 35:27 یعقوب ممرےؔ میں جو قِریت اربعؔ یعنی حِبرونؔ کے نزدیک ہے اَور جہاں اَبراہامؔ اَور اِصحاقؔ بسے تھے اَپنے باپ اِصحاقؔ کے پاس آئے۔
GEN 35:28 اِصحاقؔ ایک سَو اسّی بَرس کے ہویٔے۔
GEN 35:29 تَب اِصحاقؔ نے آخِری سانس لی اَور وفات پائی اَور ضعیف اَور پُوری عمر کا ہوکر اَپنے لوگوں میں جا مِلے اَور اُن کے بیٹے عیسَوؔ اَور یعقوب نے اُن کو دفنایا۔
GEN 36:1 عیسَوؔ یعنی اِدُوم کا نَسب نامہ یہ ہے:
GEN 36:2 عیسَوؔ نے اِن کنعانی لڑکیوں سے بیاہ کیا، حِتّی ایلون کی بیٹی عدہؔ؛ حِوّیؔ ضِبعونؔ کی نواسی اَور عنہؔ کی بیٹی اُہلِیبامہؔ۔
GEN 36:3 اِشمعیل کی بیٹی اَور نبایوتؔ کی بہن بسِماتھؔ۔
GEN 36:4 عیسَوؔ سے عدہؔ کے ہاں اِلیفزؔ اَور بسِماتھؔ کے ہاں رِعوایلؔ پیدا ہُوا۔
GEN 36:5 اَور اُہلِیبامہؔ کے ہاں یعُوسؔ، یعلامؔ اَور قورحؔ پیدا ہویٔے۔ یہ عیسَوؔ کے بیٹے تھے جو اُس کے یہاں مُلکِ کنعانؔ میں پیدا ہویٔے۔
GEN 36:6 عیسَوؔ اَپنی بیویوں، بیٹوں اَور بیٹیوں اَپنے گھر کے سَب لوگوں، اَپنے تمام مویشیوں اَور دُوسرے جانوروں اَور اُس مال و اَسباب کو جسے اُس نے مُلکِ کنعانؔ میں جمع کیا تھا ساتھ لے کر اَپنے بھایٔی یعقوب سے کچھ دُور کسی اَور مُلک میں چلےگئے۔
GEN 36:7 اُن کا مال و اَسباب اِس قدر بڑھ گیا تھا کہ وہ اِکٹھّے نہیں رہ سکتے تھے اَور اُن کے مویشیوں کی کثرت کے باعث اُس مُلک میں جہاں وہ رہتے تھے اُن دونوں کے لیٔے گنجائش نہ تھی۔
GEN 36:8 چنانچہ عیسَوؔ، یعنی اِدُوم، سِعِیؔر کے پہاڑی مُلک میں جا بسے۔
GEN 36:9 سِعِیؔر کے پہاڑی مُلک کے اِدُومیوں کے باپ عیسَوؔ کا نَسب نامہ یہ ہے:
GEN 36:10 عیسَوؔ کے بیٹے یہ ہیں: اِلیفزؔ، عیسَوؔ کی بیوی عدہؔ کا بیٹا اَور رِعوایلؔ عیسَوؔ کی بیوی بسِماتھؔ کا بیٹا۔
GEN 36:11 اِلیفزؔ کے بیٹے یہ ہیں: تیمانؔ، اومرؔ، ضیفوؔ، گعتامؔ اَور قِنٰز۔
GEN 36:12 عیسَوؔ کے بیٹے اِلیفزؔ کی ایک داشتہ بھی تھی جِس کا نام تِمنع تھا۔ اُس سے عمالیقؔ پیدا ہُوا۔ یہ عیسَوؔ کی بیوی عدہؔ کے پوتے تھے۔
GEN 36:13 رِعوایلؔ کے بیٹے یہ ہیں: ناحات زیراحؔ شمّہ اَور مِزّہؔ۔ یہ عیسَوؔ کی بیوی بسِماتھؔ کے پوتے تھے۔
GEN 36:14 عیسَوؔ کی بیوی اُہلِیبامہؔ کے ہاں جو ضِبعونؔ کی نواسی اَور عنہؔ کی بیٹی تھی عیسَوؔ سے یہ بیٹے پیدا ہویٔے: یعُوسؔ، یعلامؔ اَور قورحؔ تھے۔
GEN 36:15 عیسَوؔ کی نَسل میں جو سردار بنے یہ تھے: جو عیسَوؔ کے بیٹے اِلیفزؔ کی اَولاد میں سے تھے یہ ہیں: تیمانؔ، اومرؔ، ضیفوؔ، قِنٰز،
GEN 36:16 قورحؔ، گعتامؔ اَور عمالیقؔ۔ یہ سردار وہ ہیں جو مُلک اِدُوم میں اِلیفزؔ سے پیدا ہویٔے اَور وہ عدہؔ کے پوتے تھے۔
GEN 36:17 عیسَوؔ کے بیٹے رِعوایلؔ کی اَولاد میں سے تھے یہ ہیں: ناحات، زیراحؔ، شمّہ اَور مِزّہؔ۔ یہ سردار وہ ہیں جو مُلک اِدُوم میں رِعوایلؔ سے پیدا ہویٔے اَور وہ عیسَوؔ کی بیوی بسِماتھؔ کے پوتے تھے۔
GEN 36:18 جو عیسَوؔ کی بیوی اُہلِیبامہؔ کی اَولاد میں سے تھے یہ ہیں: یعُوسؔ، یعلامؔ اَور قورحؔ ہیں۔ یہ وہ سردار ہیں جو عنہؔ کی بیٹی اَور عیسَوؔ کی بیوی اُہلِیبامہؔ کے پوتے تھے۔
GEN 36:19 یہ عیسَوؔ یعنی اِدُوم کی اَولاد اَور اُن کے سردار تھے۔
GEN 36:20 اَور سِعِیؔر و حَوریؔ کے بیٹے جو اِس علاقہ میں بستے تھے یہ ہیں: لوطانؔ، شوبلؔ، ضِبعونؔ اَور عناہؔ،
GEN 36:21 دیشونؔ، ایضرؔ اَور دیشانؔ، سِعِیؔر کی اَولاد میں سے مُلک اِدُوم میں جو حَوریؔ سردار ہویٔے یہی ہیں۔
GEN 36:22 بنی لوطانؔ یہ ہیں: حَوریؔ اَور ہیمان۔ لوطانؔ کی ایک بہن بھی تھی جِس کا نام تِمنؔا تھا۔
GEN 36:23 بنی شوبلؔ یہ ہیں: علوانؔ، مناحاتؔ، عیبالؔ، شِفوؔ اَور اونامؔ۔
GEN 36:24 بنی ضِبعونؔ یہ ہیں: ایّہ اَور عنہؔ۔ (یہ وُہی عنہؔ ہے جسے اَپنے باپ ضِبعونؔ کے گدھے چراتے وقت بیابان میں گرم پانی کے چشموں کا سُراغ مِلا تھا۔)
GEN 36:25 عناہؔ کی اَولاد یہ ہے: دیشونؔ اَور اُہلِیبامہؔ جو عنہؔ کی بیٹی تھی۔
GEN 36:26 دیشونؔ کے بیٹے یہ ہیں: حیمدانؔ، اِشبانؔ، اِترانؔ اَور کِرانؔ۔
GEN 36:27 بنی ایضرؔ یہ ہیں: بِلہانؔ، زعوانؔ اَور عقانؔ۔
GEN 36:28 دیشونؔ یا دیشانؔ کے بیٹے یہ ہیں: عُوضؔ اَور اَرانؔ۔
GEN 36:29 سردار جو حَوریوں میں ہویٔے، یہ ہیں: لوطانؔ، شوبلؔ، ضِبعونؔ، عناہؔ،
GEN 36:30 دیشونؔ، ایضرؔ اَور دیشانؔ۔
GEN 36:31 یہ وہ بادشاہ ہیں جو اِسرائیلی بادشاہوں سے پیشتر مُلک اِدُوم میں حُکمرانی کی:
GEN 36:32 بَیلعؔ بِن بعورؔ اِدُوم کا بادشاہ بنا اَور اُس کے شہر کا نام دِنہاباؔ تھا۔
GEN 36:33 بَیلعؔ کی وفات کے بعد اُس کی جگہ پر زیراحؔ بِن یُوبابؔ بادشاہ بنا۔ وہ بُضراؔہ کا باشِندہ تھا۔
GEN 36:34 یُوبابؔ کی وفات کے بعد حُشامؔ اُس کا جانشین ہُوا جو تیمانیوں کے مُلک کا باشِندہ تھا۔
GEN 36:35 حُشامؔ کی وفات کے بعد اُس کی جگہ پر ہددؔ بِن بِددؔ جِس نے مُوآب کے مُلک میں مِدیانیوں کو شِکست دی تھی بادشاہ بنا۔ اَور اُس کے شہر کا نام عَوِیتؔ تھا۔
GEN 36:36 ہددؔ کی وفات کے بعد شَملہؔ اُس کی جگہ بادشاہ بنا جو مَشرِقہؔ کا باشِندہ تھا۔
GEN 36:37 شَملہؔ کی وفات کے بعد شاؤل اُس کا جانشین ہُوا جو دریائے فراتؔ کے کنارے کے رحوبوتھؔ کا باشِندہ تھا۔
GEN 36:38 شاؤل کی وفات کے بعد اُس کی جگہ پر بَعل حنانؔ بِن عکبورؔ بادشاہ بنا۔
GEN 36:39 بَعل حنانؔ بِن عکبورؔ کی وفات کے بعد اُس کی جگہ پر ہددؔ بادشاہ بنا۔ اُس کے شہر کا نام پؔاؤُ تھا اَور اُس کی بیوی کا نام مہیطبیلؔ تھا جو مطرِدؔ کی بیٹی اَور میضاہابؔ کی نواسی تھی۔
GEN 36:40 پس عیسَوؔ کی نَسل کے سردار کے نام اُن کی برادریوں اَور علاقوں کے ناموں کے مُطابق یہ ہیں: تِمنؔا، عَلوہؔ، یتیتؔ؛
GEN 36:41 اُہلِیبامہؔ، اَیلہ، پِنونؔ،
GEN 36:42 قِنٰز، تیمانؔ، مِبضارؔ،
GEN 36:43 مَگدِایلؔ اَور عِرامؔ۔
GEN 37:1 یعقوب مُلکِ کنعانؔ میں یعنی اُس مُلک میں رہتے تھے۔ جہاں اُن کے باپ نے کچھ عرصہ گزارا تھا۔
GEN 37:2 یعقوب کی نَسل کا حال یہ ہے: یُوسیفؔ ایک سترہ سال کے نوجوان تھے جو اَپنے بھائیوں کے ساتھ جو اُن کے باپ کی بیویوں بِلہاہؔ اَور زِلفہؔ کے بیٹے تھے بھیڑ بکریاں، چُرایا کرتے تھے اَور اُن کی بدسلُوکیوں کی خبر باپ تک پہُنچایا کرتے تھے۔
GEN 37:3 اِسرائیل کو یُوسیفؔ اَپنے دُوسرے بیٹوں سے زِیادہ عزیز تھے کیونکہ وہ اُن کے بُڑھاپے کا بیٹا تھا اَور یعقوب نے یُوسیفؔ کے لیٔے مُختلف رنگوں والی ایک قبا بنائی تھی۔
GEN 37:4 یُوسیفؔ کے بھائیوں نے جَب یہ دیکھا کہ اُن کے باپ یُوسیفؔ کو اُن سے زِیادہ مَحَبّت کرتے ہیں تو وہ یُوسیفؔ سے حَسد کرنے لگے اَور یُوسیفؔ کے ساتھ ڈھنگ سے بات بھی نہ کرتے تھے۔
GEN 37:5 یُوسیفؔ نے ایک خواب دیکھا اَور جَب اُنہُوں نے وہ خواب اَپنے بھائیوں کو بتایا تو وہ یُوسیفؔ سے اَور بھی زِیادہ نفرت کرنے لگے۔
GEN 37:6 یُوسیفؔ نے اَپنے بھائیوں سے کہا، ”ذرا اِس خواب کو تو سُنو جو مَیں نے دیکھاہے:
GEN 37:7 ہم کھیت میں پُولے باندھ رہے تھے، اَچانک میرا پُولا کھڑا ہو گیا، اَور تمہارے پُولے میرے پُولے کے اِردگرد جمع ہو گئے اَور اُسے سَجدہ کرنے لگے۔“
GEN 37:8 اُن کے بھائیوں نے یُوسیفؔ سے کہا، ”تو کیا تُم ہمارے بادشاہ بننا چاہتے ہو؟ کیا تُم واقعی ہم پر حُکومت کروگے؟“ اَور وہ اُن کے خواب اَور اُن کی باتوں کی وجہ سے یُوسیفؔ سے اَور بھی زِیادہ نفرت کرنے لگے۔
GEN 37:9 تَب یُوسیفؔ نے ایک اَور خواب دیکھا، اَور اَپنے بھائیوں کو بتایا۔ یُوسیفؔ نے کہا، ”سُنو، اِس دفعہ مَیں نے خواب میں دیکھا؛ سُورج چاند اَور گیارہ سِتارے مُجھے سَجدہ کر رہے ہیں۔“
GEN 37:10 جَب یُوسیفؔ نے اِس خواب کا ذِکر اَپنے باپ اَور اَپنے بھائیوں سے کیا تو اُن کے باپ نے اُسے ڈانٹا اَور کہا، ”یہ خواب کیا ہے جو تُم نے دیکھاہے؟ کیا تمہاری ماں اَور مَیں اَور تمہارے بھایٔی سچ مُچ تمہارے سامنے زمین پر جھُکیں گے اَور تُمہیں سَجدہ کریں گے؟“
GEN 37:11 یُوسیفؔ کے بھایٔی اُن سے اَور بھی حَسد کرنے لگے۔ لیکن یُوسیفؔ کے باپ نے یہ بات اَپنے دِل میں رکھی۔
GEN 37:12 ایک دِن جَب یُوسیفؔ کے بھایٔی شِکیمؔ کے آس پاس اَپنے باپ کی بھیڑیں چرا رہے تھے۔
GEN 37:13 تو اِسرائیل نے یُوسیفؔ سے کہا، ”جَیسا کہ تُم جانتے ہو کہ تمہارے بھایٔی شِکیمؔ کے نزدیک بھیڑ بکریاں، چرا رہے ہیں، میں تُمہیں اُن کے پاس بھیجنا چاہتا ہُوں۔“ یُوسیفؔ نے جَواب دیا، ”بہت خُوب۔“
GEN 37:14 چنانچہ یعقوب نے یُوسیفؔ سے کہا، ”جا کر دیکھو تمہارے بھایٔی اَور سارے گلّے خیریت سے تو ہیں اَور پھر آکر مُجھے خبر دو۔“ تَب یعقوب نے یُوسیفؔ کو حِبرونؔ کی وادی سے رخصت کیا۔ جَب یُوسیفؔ شِکیمؔ پہُنچے،
GEN 37:15 تو ایک شخص نے اُنہیں کھیتوں میں اِدھر اُدھر گھُومتے پایا اَور اُن سے پُوچھا، ”تُم کیا ڈھونڈ رہے ہو؟“
GEN 37:16 یُوسیفؔ نے جَواب دیا، ”میں اَپنے بھائیوں کو ڈھونڈ رہا ہُوں۔ کیا آپ مُجھے مہربانی کرکے بتا سکتے ہیں کہ وہ اَپنی بھیڑ بکریاں، کہاں چرا رہے ہیں؟“
GEN 37:17 اُس آدمی نے جَواب دیا، ”وہ یہاں سے چلے گیٔے، اَور مَیں نے اُنہیں یہ کہتے سُنا تھا، ’چلو، ہم دُتانؔ کی طرف نکل چلیں۔‘ “ چنانچہ یُوسیفؔ اَپنے بھائیوں کی تلاش میں روانہ ہویٔے اَور اُنہیں دُتانؔ کے پاس پایا۔
GEN 37:18 لیکن بھائیوں نے یُوسیفؔ کو دُور سے دیکھا، اَور اِس سے قبل کہ وہ اُن تک پہُنچتے اُنہُوں نے یُوسیفؔ کو قتل کرنے کا منصُوبہ بنا ڈالا۔
GEN 37:19 اَور اُنہُوں نے آپَس میں کہا، ”دیکھو وہ آ رہاہے خواب دیکھنے والا!
GEN 37:20 آؤ، ہم اُسے قتل کر ڈالیں اَور کسی گڑھے میں ڈال دیں، اَور کہیں گے کہ کویٔی خُونخوار جانور اُسے کھا گیا؛ پھر ہم دیکھیں گے کہ اُس کے خوابوں کا اَنجام کیا ہوتاہے۔“
GEN 37:21 جَب رُوبِنؔ نے یہ سُنا تو اُس نے یُوسیفؔ کو اُن کے ہاتھوں سے بچانے کی کوشش کی۔ ”ہم یُوسیفؔ کو جان سے نہ ماریں،“ رُوبِنؔ نے کہا۔
GEN 37:22 ”بَلکہ اُس کا خُون بہانے کی بجائے اُسے بیابان کے کسی گڑھے میں ڈال دیں،“ تُم اُسے مارو مت۔ رُوبِنؔ نے یہ اِس لیٔے کہا کہ وہ اُسے اُن کے ہاتھ سے بچا کر اَپنے باپ کے پاس سلامت لے جانا چاہتا تھا۔
GEN 37:23 چنانچہ جَب یُوسیفؔ اَپنے بھائیوں کے پاس پہُنچے تو اُنہُوں نے یُوسیفؔ کی مُختلف رنگوں والی قبا کو جسے وہ پہنے ہویٔے تھے اُتار لیا،
GEN 37:24 اَور یُوسیفؔ کو اُٹھاکر ایک گڑھے میں پھینک دیا، جو سُوکھا تھا؛ اُس میں ذرا بھی پانی نہ تھا۔
GEN 37:25 پھر جَب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو اُنہُوں نے نظر اُٹھاکر دیکھا کہ اِشمعیلیوں کا ایک قافلہ گِلعادؔ سے آ رہاہے۔ اُن کے اُونٹ گرم مَسالوں روغن بلسان اَور مُر سے لدے ہویٔے تھے اَور وہ اُنہیں مِصر لے جا رہے تھے۔
GEN 37:26 یہُوداہؔ نے اَپنے بھائیوں سے کہا، ”اگر ہم اَپنے بھایٔی کو مار ڈالیں اَور اُس کے خُون کو چھُپا لیں تو کیا فائدہ ہوگا؟
GEN 37:27 کیوں نہ ہم اِسے اِشمعیلیوں کے ہاتھ بیچ ڈالیں۔ اُسے قتل نہ کریں؟ آخِرکار وہ ہمارا بھایٔی ہے اَور ہمارا ہی اَپنا گوشت اَور خُون ہے۔“ اُس کے بھائیوں نے اُس کی بات مان لی۔
GEN 37:28 چنانچہ جَب وہ مِدیانی سوداگر نزدیک آئے تو اُن کے بھائیوں نے یُوسیفؔ کو گڑھے میں سے کھینچ کر باہر نکالا، اَور یُوسیفؔ کو چاندی کے بیسں ثاقل کے عِوض اِشمعیلیوں کے ہاتھ بیچ ڈالا جو اُسے مِصر لے گیٔے۔
GEN 37:29 جَب رُوبِنؔ لَوٹ کر گڑھے پر پہُنچا، اَور دیکھا کہ یُوسیفؔ وہاں نہیں ہیں، تو اُس نے اَپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔
GEN 37:30 وہ لَوٹ کر اَپنے بھائیوں کے پاس گیا اَور کہنے لگا، ”لڑکا تو وہاں نہیں ہے! اَب مَیں کیا کروں؟“
GEN 37:31 تَب اُنہُوں نے ایک بکری کو ذبح کرکے یُوسیفؔ کی قبا کو اُس کے خُون میں تر کیا
GEN 37:32 اَور اُس مُختلف رنگوں والی قبا کو لے کر اَپنے باپ کے پاس لَوٹے اَور کہنے لگے، ”ہمیں یہ قبا پڑا ہُوا مِلا؛ لہٰذا اُسے غور سے دیکھو کہ کہیں یہ تمہارے بیٹے کی قبا تو نہیں ہے؟“
GEN 37:33 یعقوب نے اُسے پہچان لیا اَور کہا، ”یہ تو میرے بیٹے کی قبا ہے۔ وہ کسی خُونخوار جانور کا لقمہ بَن گیا۔ سچ مُچ یُوسیفؔ پھاڑ ڈالا گیا۔“
GEN 37:34 چنانچہ تَب یعقوب نے اَپنے کپڑے پھاڑ ڈالے، اَور ٹاٹ پہن لیا اَور وہ کیٔی دِنوں تک اَپنے بیٹے کے لیٔے ماتم کرتے رہے۔
GEN 37:35 اَور اُن کے سَب بیٹے اَور بیٹیاں یعقوب کو تسلّی دیتے تھے لیکن یعقوب کو تسلّی نہ ہوتی تھی۔ وہ یہی کہتے تھے، ”نہیں، میں تو ماتم کرتا ہُوا ہی قبر میں پہُنچ جاؤں گا اَور اَپنے بیٹے سے جا ملوں گا۔“ چنانچہ یعقوب اَپنے بیٹے کے لیٔے آنسُو بہاتے رہے۔
GEN 37:36 اِس اَثنا میں مِدیانیوں نے یُوسیفؔ کو مِصر میں پُطیفؔار کے ہاتھ جو فَرعوہؔ کا ایک حاکم اَور پہرےداروں کا سردار تھا بیچ دیا۔
GEN 38:1 اُن ہی دِنوں میں یہُوداہؔ اَپنے بھائیوں کو چھوڑکر ایک عدولاّمی شخص کے پاس رہنے لگے جِس کا نام حیراہؔ تھا۔
GEN 38:2 وہاں یہُوداہؔ کی شُوعؔ نام کے کسی کنعانی کی بیٹی سے مُلاقات ہو گئی۔ اُنہُوں نے اُس سے شادی کرلی اَور اُس سے مَحَبّت کرنے لگے۔
GEN 38:3 وہ حاملہ ہُوئی اَور اُس کے یہاں بیٹا پیدا ہُوا جِس کا نام اُس نے عیرؔ رکھا۔
GEN 38:4 وہ پھر حاملہ ہُوئی اَور اُس کے یہاں بیٹا پیدا ہُوا۔ اُس نے اُس کا نام اَونانؔ رکھا۔
GEN 38:5 اُس کے یہاں ایک اَور بیٹا پیدا ہُوا اَور اُس نے اُس کا نام شِلحؔ رکھا۔ یہُوداہؔ کزیبؔ میں ہی تھے جَب اُن کے یہاں بیٹا پیدا ہُوا۔
GEN 38:6 یہُوداہؔ نے اَپنے پہلوٹھے بیٹے عیرؔ کی شادی جِس عورت سے کی اُس کا نام تامارؔ تھا۔
GEN 38:7 لیکن یہُوداہؔ کا پہلوٹھا بیٹا عیرؔ یَاہوِہ کی نگاہ میں بدکار تھا؛ اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُسے ہلاک کر دیا۔
GEN 38:8 تَب یہُوداہؔ نے اَونانؔ سے کہا، ”اَپنے بھایٔی کی بیوی کے پاس جا اَور دیور کا حق اَدا کر تاکہ تمہارے بھایٔی کے نام سے نَسل چلے۔“
GEN 38:9 لیکن اَونانؔ جانتا تھا کہ وہ بچّے اُس کے نہ کہلایٔیں گے اِس لیٔے جَب کبھی وہ اَپنے بھایٔی کی بیوی کے پاس جاتا تھا تو اَپنا نطفہ زمین پر گرا دیتا تھا تاکہ کویٔی بچّہ نہ ہو جو اُس کے بھایٔی کی نَسل کہلا سکے۔
GEN 38:10 اُس کا یہ فعل یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُسے بھی زندہ نہ رہنے دیا۔
GEN 38:11 تَب یہُوداہؔ نے اَپنی بہُو تامارؔ سے کہا، ”میرے بیٹے شِلحؔ کے بالغ ہونے تک تُو اَپنے باپ کے گھر میں بِیوہ کے طور پر بیٹھی رہ۔“ کیونکہ یہُوداہؔ نے سوچا، ”کہ کہیں شِلحؔ بھی اَپنے بھائیوں کی طرح مارا نہ جائے۔“ چنانچہ تامارؔ اَپنے باپ کے گھرجاکر رہنے لگی۔
GEN 38:12 کافی عرصہ کے بعد یہُوداہؔ کی بیوی جو شُوعؔ کی بیٹی تھی مَر گئی۔ جَب ماتم کے دِن پُورے ہو گئے تو یہُوداہؔ اَپنے عدولاّمی دوست حیراہؔ کے ساتھ اَپنی بھیڑوں کی اُون کترنے والوں کے پاس تِمنؔہ کو چلا گیا۔
GEN 38:13 جَب تامارؔ کو یہ خبر مِلی، ”اُس کا سسُر بھیڑوں کی پشم کترنے کے لیٔے تِمنؔہ آ رہاہے،“
GEN 38:14 تو اُس نے اَپنا بیوگی کا لباس اُتار کر بُرقع پہن لیا تاکہ اَپنا بھیس بدل لے۔ تَب وہ عینیمؔ کے پھاٹک پرجو تِمنؔہ کی راہ پر ہے جا بیٹھی۔ کیونکہ اُس نے دیکھا کہ شِلحؔ بالغ ہو چُکاہے پھر بھی وہ اُس سے بیاہی نہ گئی تھی۔
GEN 38:15 جَب یہُوداہؔ نے اُسے دیکھا تو اُسے کویٔی فاحِشہ سمجھا کیونکہ اُس نے اَپنا چہرہ چھُپا رکھا تھا۔
GEN 38:16 یہ نہ جانتے ہویٔے کہ وہ اَپنی ہی بہُو ہے وہ راستہ چھوڑکر اُس کے پاس گیا اَور کہا، ”مُجھے اَپنے ساتھ مباشرت کرنے دے۔“ اُس نے پُوچھا، ”تُو مُجھے اِس کے بدلے کیا دے گا؟“
GEN 38:17 اُس نے کہا، ”میں اَپنے گلّہ میں سے بکری کا ایک بچّہ تُجھے بھیج دُوں گا۔“ تامارؔ نے کہا، ”اُس کے بھیجنے تک کیا تُم کویٔی چیز میرے پاس رہن رکھوگے؟“
GEN 38:18 یہُوداہؔ نے جَواب دیا، ”مَیں تمہارے پاس کیا رہن رکھوں؟“ اُس نے جَواب دیا، ”اَپنی مُہر اَور بازوبند اَور اَپنا عصا۔“ چنانچہ یہُوداہؔ نے یہ چیزیں اُسے دیں اَور اُس سے مباشرت کی اَور وہ اُس سے حاملہ ہو گئی۔
GEN 38:19 تَب تامارؔ گھر چلی گئی اَور اُس نے اَپنا بُرقع اُتار ڈالا اَور پھر سے بیوگی کے کپڑے پہن لیٔے۔
GEN 38:20 اِس اَثنا میں یہُوداہؔ نے اَپنے عدولاّمی دوست کے ساتھ بکری کا بچّہ بھیجا تاکہ اُس عورت کے پاس سے اَپنا رہن واپس منگائے، لیکن اُسے وہ عورت نہیں مِلی۔
GEN 38:21 اُس نے وہاں کے باشِندوں سے دریافت کیا، ”وہ فاحِشہ کہاں ہے جو عینیمؔ میں راہ کے کنارے بیٹھی تھی؟“ اُنہُوں نے کہا، ”یہاں تو کویٔی فاحِشہ نہ تھی۔“
GEN 38:22 چنانچہ وہ یہُوداہؔ کے پاس واپس آیا اَور بتایا، ”وہ مُجھے نہیں مِلی۔ اَور وہاں کے لوگوں نے بھی بتایا، ’یہاں پر کوئی فاحِشہ تھی ہی نہیں۔‘ “
GEN 38:23 تَب یہُوداہؔ نے کہا، ”اُس رہن کو اُسی کے پاس رہنے دو ورنہ ہماری بڑی بدنامی ہوگی۔ مَیں نے تو اُسے بکری کا بچّہ بھیجا تھا پر وہ تُم کو نہ مِلی۔“
GEN 38:24 تقریباً تین ماہ کے بعد یہُوداہؔ کو یہ خبر مِلی، ”تمہاری بہُو تامارؔ نے زنا کیا جِس کی وجہ سے اَب وہ حاملہ ہے۔“ یہُوداہؔ نے کہا، ”اُسے باہر نکال لاؤ تاکہ اُسے جَلا کر مار ڈالیں۔“
GEN 38:25 جَب اُسے باہر نکالا جا رہاتھا، تَب اُس نے اَپنے سسُر کو یہ پیغام بھیجا، ”میں جِس شخص سے حاملہ ہُوئی اُسی کی یہ چیزیں ہیں۔“ تامارؔ نے مزید کہا، ”تُم پہچانو، تو صحیح کہ یہ مُہر بازوبند اَور عصا کِس کا ہے؟“
GEN 38:26 یہُوداہؔ نے اُنہیں پہچان لیا اَور کہا، ”وہ مُجھ سے زِیادہ راستباز ہے کیونکہ مَیں نے اُسے اَپنے بیٹے شِلحؔ سے نہیں بیاہا۔“ اَور وہ پھر کبھی اُس کے پاس نہیں گیا۔
GEN 38:27 جَب اُس کے جننے کا وقت نزدیک آیا تو مَعلُوم ہُوا کہ اُس کے رِحم میں جُڑواں بچّے ہیں۔
GEN 38:28 جَب وہ جننے لگی تو اُن میں سے ایک نے اَپنا ہاتھ باہر نکالا اَور دایہ نے سُرخ دھاگا لے کر اُس کی کلائی میں باندھ دیا اَور کہا، ”یہ پہلے پیدا ہُوا۔“
GEN 38:29 لیکن جَب اُس نے اَپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا تَب اُس کا بھایٔی پیدا ہُوا اَور اُس نے کہا، ”تُو زبردستی نکل پڑا!“ اَور اُس کا نام پیریزؔ رکھا گیا۔
GEN 38:30 تَب اُس کا بھایٔی جِس کی کلائی پر سُرخ دھاگا باندھا ہُوا تھا پیدا ہُوا اَور اُس کا نام زیراحؔ رکھا گیا۔
GEN 39:1 یُوسیفؔ کو مِصر لے جایا گیا اَور پُطیفؔار مِصری نے جو فَرعوہؔ کے حاکموں میں سے ایک تھا اَور پہرےداروں کا سردار تھا اُسے اِشمعیلیوں کے ہاتھ سے جو اُسے وہاں لے گیٔے تھے خرید لیا۔
GEN 39:2 یَاہوِہ یُوسیفؔ کے ساتھ تھے اَور وہ برومند ہُوئے اَور اَپنے مِصری آقا کے گھر میں رہنے لگے۔
GEN 39:3 جَب یُوسیفؔ کے آقا نے دیکھا کہ یَاہوِہ یُوسیفؔ کے ساتھ ہے اَورجو کچھ وہ کرتے ہیں یَاہوِہ اُس میں اُن کو کامیابی عطا کرتے ہیں،
GEN 39:4 تو یُوسیفؔ پر اُن کی مہربانی ہُوئی اَور پُطیفؔار نے یُوسیفؔ کو اَپنی خدمت گزاری میں لے لیا۔ پُطیفؔار نے اُنہیں اَپنے گھر کا مختار مُقرّر کیا اَور اَپنا سَب کچھ اُنہیں سونپ دیا۔
GEN 39:5 جَب سے اُس نے یُوسیفؔ کو اَپنے گھر کا مختار اَور اَپنے مال و متاع کا نِگراں مُقرّر کیا، تَب سے یَاہوِہ نے یُوسیفؔ کی وجہ سے اُس مِصری کے گھر کو برکت بخشی۔ پُطیفؔار کی ہر شَے پر خواہ وہ گھر کی تھی یا کھیت کی خُدا کی برکت مِلی۔
GEN 39:6 چنانچہ اُس نے اَپنی ہر شَے یُوسیفؔ کے حوالہ کر دی اَور یُوسیفؔ کی مَوجُودگی کے باعث اُسے سِوا اَپنے کھانے پینے کے کسی اَور بات کی فکر نہ تھی۔ یُوسیفؔ بڑے تنومند اَور خُوبصورت تھے۔
GEN 39:7 اَور کچھ ہی عرصہ کے بعد یُوسیفؔ کے آقا کی بیوی کی نظر یُوسیفؔ پر پڑی اَور اُس نے یُوسیفؔ کو، ”مباشرت کرنے پر مجبُور کیا!“
GEN 39:8 لیکن یُوسیفؔ نے اِنکار کر دیا اَور اَپنی مالکن سے کہا، ”میں اِس گھر کا مختار ہُوں اَور اِس وجہ سے میرے آقا کو گھر کی فکر کرنے کی کوئی ضروُرت نہیں، اُنہُوں نے اَپنے گھر کا سَب کچھ میرے سُپرد کر رکھا ہے۔
GEN 39:9 اِس گھر میں مُجھ سے بڑا کویٔی نہیں اَور میرے آقا نے آپ کے سِوا کویٔی شَے میرے اِختیار سے باہر نہیں رکھی کیونکہ آپ اُن کی بیوی ہو۔ پھر بھلا میں اَیسی ذلیل حرکت کیوں کروں اَور خُدا کی نظر میں گُنہگار بنُوں؟“
GEN 39:10 اِس طرح اُس کا اِصرار روز بروز بڑھتا گیا لیکن یُوسیفؔ نے اُس سے ہم بِستر ہونے یا اُس کے ساتھ رہنے سے بھی اِنکار کر دیا۔
GEN 39:11 ایک دِن وہ کسی کام سے گھر میں داخل ہویٔے اَور گھر کے لوگوں میں سے کویٔی بھی اَندر مَوجُود نہ تھا۔
GEN 39:12 تو پُطیفؔار کی بیوی نے یُوسیفؔ کا پیراہن پکڑ لیا اَور کہا، ”میرے ساتھ ہم بِستری کرو۔“ لیکن وہ اَپنا پیراہن اُس کے ہاتھ میں چھوڑکر گھر سے باہر چلےگئے۔
GEN 39:13 جَب اُس عورت نے دیکھا کہ وہ اَپنا پیراہن اُس کے ہاتھ میں چھوڑکر گھر سے باہر بھاگ گئے،
GEN 39:14 تو اُس نے اَپنے گھر کے خادِموں کو آواز دی اَور اُن سے کہا، ”دیکھو، کیا یہ عِبرانی غُلام ہمارے پاس اِس لیٔے بُلایا گیا ہے کہ وہ میرا مضحکہ اُڑائے۔ وہ یہاں میرے پاس ہم بِستری کرنے آیا، لیکن مَیں چِلّانے لگی۔
GEN 39:15 جَب اُس نے دیکھا کہ میں مدد کے لیٔے چِلّا رہی ہُوں تو وہ اَپنا پیراہن میرے پاس چھوڑکر گھر سے باہر بھاگ گیا۔“
GEN 39:16 اَور وہ یُوسیفؔ کا پیراہن اُس کے آقا کے گھر آنے تک اَپنے پاس رکھے رہی۔
GEN 39:17 تَب اُس نے اُسے یہ ماجرا سُنایا: ”وہ عِبرانی غُلام جسے آپ ہمارے یہاں لائے ہیں میرے پاس اَندر آیا تاکہ میرا مضحکہ اُڑائے۔
GEN 39:18 لیکن جوں ہی میں مدد کے لیٔے چِلّائی وہ اَپنا پیراہن میرے پاس چھوڑکر گھر سے باہر بھاگ گیا۔“
GEN 39:19 جَب یُوسیفؔ کے آقا نے اَپنی بیوی کو یہ کہتے ہویٔے سُنا، ”آپ کے غُلام نے میرے ساتھ اَیسا سلُوک کیا،“ تو وہ غُصّہ سے آگ بگُولہ ہو گیا۔
GEN 39:20 یُوسیفؔ کے آقا نے اُسے پکڑکر قَیدخانہ میں ڈال دیا، جہاں بادشاہ کے قَیدی رکھے جاتے تھے۔ جَب یُوسیفؔ قَیدخانہ میں تھے،
GEN 39:21 لیکن یَاہوِہ اُن کے ساتھ تھے۔ وہ یُوسیفؔ پر مہربان ہُوئے اَور یَاہوِہ نے قَیدخانہ کے داروغہ کو بھی اُن کا شفیق بنا دیا۔
GEN 39:22 چنانچہ اُس داروغہ نے اُن سَب قَیدیوں کو جو قَیدخانہ میں تھے یُوسیفؔ کے ہاتھ میں سونپ دیا؛ اَور اُنہیں وہاں کے ہر کام کا ذمّہ دار قرار دیا۔
GEN 39:23 جو چیز یُوسیفؔ کی زیرِ نِگرانی تھی اُس کی داروغہ بالکُل فکر نہ کرتا تھا کیونکہ یَاہوِہ یُوسیفؔ کے ساتھ تھے اَورجو کچھ وہ کرتے تھے اُس میں یَاہوِہ ہی اُنہیں کامیابی عطا کرتے تھے۔
GEN 40:1 کچھ دِنوں کے بعد یُوں ہُوا کہ مِصر کے بادشاہ کا ساقی اَور نانبائی کسی جُرم میں پکڑے گیٔے۔
GEN 40:2 فَرعوہؔ اَپنے اِن دو حاکموں پرجو دُوسرے ساقیوں اَور نانبائی کے اہلکار تھے بہت خفا ہُوا،
GEN 40:3 اَور بادشاہ نے اُن دونوں کو پہرےداروں کے سردار پُطیفؔار کے محل میں اُسی قَیدخانہ میں جہاں یُوسیفؔ حِراست میں تھے نظر بند کر دیا۔
GEN 40:4 پہرےداروں کے سردار نے اُنہیں یُوسیفؔ کے سُپرد کر دیا۔ تاکہ وہ دونوں اَپنی نظر بندی کے دَوران اُن کی نِگرانی میں رہیں۔
GEN 40:5 مِصر کے بادشاہ کے ساقی اَور نانبائی دونوں نے جو قَیدخانہ میں نظر بند تھے، ایک ہی رات ایک ایک خواب دیکھا اَور ہر خواب کی تعبیر جُدا جُدا تھی۔
GEN 40:6 دُوسری صُبح جَب یُوسیفؔ اُن کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ بڑے اُداس ہیں۔
GEN 40:7 تَب یُوسیفؔ نے فَرعوہؔ کے اہلکاروں سے جو اُن کے ساتھ اُس کے آقا کے گھر میں قَید تھے پُوچھا، ”آج تمہارے چہروں پر اِس قدر اُداسی کیوں چھائی ہویٔی ہے؟“
GEN 40:8 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہم دونوں نے خواب دیکھے ہیں لیکن اُن کی تعبیر بتانے والا کویٔی نہیں ہے۔“ تَب یُوسیفؔ نے اُن سے کہا، ”کیا تعبیریں بتانا خُدا کا کام نہیں؟ اَپنے خواب مُجھے بتاؤ۔“
GEN 40:9 تَب ساقی سردار نے اَپنا خواب یُوسیفؔ سے بَیان کیا۔ اُس نے اُن سے کہا، ”مَیں نے اَپنے خواب میں اَپنے سامنے ایک انگور کی بیل دیکھی
GEN 40:10 جِس میں تین شاخیں تھیں۔ جوں ہی اُس میں کلیاں لگیں اَور پھُول آئے اُس میں پکے ہویٔے انگوروں کے گُچّھے لگ گیٔے۔
GEN 40:11 فَرعوہؔ کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھا مَیں نے انگور لے کر اُنہیں فَرعوہؔ کے پیالہ میں نچُوڑا اَور وہ پیالہ فَرعوہؔ کے ہاتھ میں دے دیا۔“
GEN 40:12 یُوسیفؔ نے اُس سے خواب کی تعبیر بَیان کی، ”وہ تین شاخیں تین دِن ہیں۔
GEN 40:13 اَب سے تین دِن کے اَندر اَندر فَرعوہؔ تُمہیں سرفرازی بخشےگا اَور تُمہیں پھر سے اَپنے منصب پر بحال کرےگا اَور تُم پہلے کی طرح اُن کے ساقی کی حیثیت سے فَرعوہؔ کا پیالہ اُن کے ہاتھ میں دیا کروگے۔
GEN 40:14 لیکن اَپنی سرفرازی کے بعد مُجھے بھی یاد کرنا اَور مُجھ پر مہربانی کرکے فَرعوہؔ سے میرا ذِکر کرنا اَور مُجھے اِس قَیدخانہ سے رِہائی دِلوانا۔
GEN 40:15 کیونکہ مُجھے عِبرانیوں کے مُلک میں سے زبردستی لایا گیا ہے اَور یہاں بھی مَیں نے اَیسا کویٔی کام نہیں کیا جِس کے سبب سے مُجھے قَیدخانہ کی کوٹھری میں ڈالا گیا۔“
GEN 40:16 جَب نانبائیوں کے سردار نے دیکھا کہ یُوسیفؔ کی تعبیر ساقیوں کے سردار کے حق میں ہے تو اُس نے یُوسیفؔ سے کہا، ”مَیں نے بھی خواب دیکھا: میرے سَر پر روٹی کی تین ٹوکریاں ہیں۔
GEN 40:17 سَب سے اُوپر والی ٹوکری میں فَرعوہؔ کے لیٔے ہر قِسم کے کھانے رکھے ہویٔے ہیں لیکن پرندے اُس اُوپر والی ٹوکری کا کھانا کھا رہے ہیں۔“
GEN 40:18 یُوسیفؔ نے اُس کے خواب کی بھی تعبیر بَیان کی، ”وہ تین ٹوکریاں تین دِن ہیں۔
GEN 40:19 اَور اَب سے تین دِن کے اَندر اَندر فَرعوہؔ تمہارا سَر کٹوا کر تُمہیں ایک درخت پر ٹنگوا دے گا اَور پرندے تمہارا گوشت نوچ نوچ کر کھایٔیں گے۔“
GEN 40:20 تیسرے دِن فَرعوہؔ کی سالگرہ کا دِن تھا اَور اُس نے اَپنے تمام افسروں کی ضیافت کی۔ اُس نے اَپنے افسروں کی مَوجُودگی میں حُکم دیا کہ ساقیوں کے سردار اَور نانبائیوں کے سردار کو حاضِر کیا جائے۔
GEN 40:21 اُس نے ساقیوں کے سردار کو اُس کے منصب پر بحال کیا اَور وہ پھر سے فَرعوہؔ کے ہاتھ میں پیالہ دینے لگا۔
GEN 40:22 لیکن اُس نے نانبائیوں کے سردار کو پھانسی دِلوائی۔ پس یُوسیفؔ کی تعبیر سچّی ثابت ہُوئی۔
GEN 40:23 لیکن ساقیوں کے سردار نے یُوسیفؔ کو یاد تک نہ کیا بَلکہ اُسے بھُلا دیا۔
GEN 41:1 پُورے دو بَرس بعد فَرعوہؔ نے ایک خواب دیکھا: وہ دریائے نیل کے کنارے کھڑا ہے۔
GEN 41:2 اَور دریائے نیل میں سے سات خُوبصورت موٹی تازہ گائیں نکل آئیں اَور کنارے کنارے سَرکنڈوں کے کھیت میں چرنے لگیں۔
GEN 41:3 اُن کے بعد سات بدشکل اَور دبلی پتلی گائیں دریائے نیل میں سے اَور نکلیں اَور اُن کے پاس جا کھڑی ہُوئیں جو دریا کے کنارے پر تھیں۔
GEN 41:4 اَور یہ بدشکل اَور دبلی پتلی گائیں اُن سات موٹی تازہ گایوں کو کھا گئیں۔ اِس پر فَرعوہؔ کی آنکھ کھُل گئی۔
GEN 41:5 وہ پھر سو گیا اَور اُس نے دُوسرا خواب دیکھا: ایک ڈنٹھل میں دانوں سے بھری ہُوئی سات موٹی اَور اَچھّی اَچھّی بالیں نکلیں۔
GEN 41:6 اُس کے بعد سات اَور بالیں پھوٹ نکلیں جو پتلی اَور پُوربی ہَوا کی ماری ہُوئی تھیں۔
GEN 41:7 یہ سات پتلی بالیں اُن سات موٹی اَور دانوں سے بھری ہُوئی بالوں کو ہڑپ کر گئیں۔ اِس پر فَرعوہؔ کی آنکھ کھُل گئی اَور اُسے مَعلُوم ہُوا کہ یہ خواب تھا۔
GEN 41:8 جَب صُبح ہُوئی تو وہ دماغ بڑا پریشان ہُوا اَور اُس نے مِصر کے سَب جادُوگروں اَور دانِشوروں کو بُلوا بھیجا۔ فَرعوہؔ نے اَپنے خواب اُنہیں بتائے لیکن کویٔی بھی اُسے اُن کی تعبیر نہ بتا سَکا۔
GEN 41:9 تَب ساقیوں کے سردار نے فَرعوہؔ سے کہا، ”آج مُجھے اَپنی خامیاں یاد آئیں۔
GEN 41:10 ایک دفعہ فَرعوہؔ اَپنے خادِموں سے ناراض ہویٔے تھے تو اُنہُوں نے مُجھے اَور نانبائیوں کے سردار کو پہرےداروں کے سردار کے گھر میں نظر بند کروا دیا تھا۔
GEN 41:11 ہم میں سے ہر ایک نے ایک ہی رات میں ایک ایک خواب دیکھا اَور ہر خواب کی اَپنی اَپنی الگ تعبیر تھی۔
GEN 41:12 قَیدخانہ میں ایک عِبری جَوان ہمارے ساتھ تھا جو پہرےداروں کے سردار کا خادِم تھا۔ ہم نے اُسے اَپنے خواب بتائے اَور اُس نے ہمیں ہمارے اَپنے اَپنے خواب کی تعبیر بتا دی۔
GEN 41:13 اَورجو تعبیر اُس نے بتایٔی تھی وَیسا ہی ہُوا یعنی میں اَپنے منصب پر بحال کیا گیا اَور اُس دُوسرے شخص کو پھانسی دی گئی۔“
GEN 41:14 تَب فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ کو بُلوایا۔ قَیدخانہ کی کوٹھری سے رِہائی پاتے ہی یُوسیفؔ نے حجامت بنوائی کپڑے بدلے اَور فَرعوہؔ کے سامنے پہُنچے۔
GEN 41:15 فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ سے کہا، ”مَیں نے ایک خواب دیکھاہے، جِس کی تعبیر کویٔی نہیں کر سَکتا لیکن مَیں نے تمہارے متعلّق سُنا ہے کہ تُم خواب کو سُن کر اُس کی تعبیر بتا سکتے ہو۔“
GEN 41:16 یُوسیفؔ نے فَرعوہؔ کو جَواب دیا، ”میں تو تعبیر نہیں بتا سَکتا البتّہ خُدا ہی فَرعوہؔ کو تسلّی بخش جَواب دیں گے۔“
GEN 41:17 تَب فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ سے کہا، ”مَیں نے خواب میں دیکھا کہ میں دریائے نیل کے کنارے کھڑا ہُوں۔“
GEN 41:18 اَور دریائے نیل میں سے سات موٹی تازہ گائیں نکل آئیں اَور سَرکنڈوں کے کھیت میں چرنے لگیں۔
GEN 41:19 اُن کے بعد سات اَور گائیں نکل آئیں جو نہایت بدصورت، مریل اَور دبلی پتلی تھیں۔ مَیں نے اَیسی بدشکل گائیں مُلک مِصر میں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔
GEN 41:20 وہ دبلی پتلی، مریل اَور بدصورت گائیں اُن سات موٹی تازہ گایوں کو کھا گئیں جو دریا سے پہلے نکلی تھیں۔
GEN 41:21 لیکن اُس کے بعد بھی کویٔی یہ نہ کہہ سَکتا تھا کہ اُنہُوں نے کچھ کھایا ہے؛ وہ وَیسی ہی بدصورت نظر آئیں جَیسی پہلے تھیں۔ تَب میری آنکھ کھُل گئی۔
GEN 41:22 ”مَیں نے ایک اَور خواب میں سات موٹی اَور دانوں سے بھری ہُوئی اَچھّی بالیں بھی دیکھیں، جو ایک ڈنٹھل پر لگی ہُوئی تھیں۔
GEN 41:23 اُن کے بعد سات اَور بالیں نکلیں جو مُرجھائی ہُوئی، پتلی اَور پُوربی ہَوا کی ماری ہُوئی تھیں۔
GEN 41:24 اناج کی پتلی بالوں نے سات اَچھّی بالوں کو ہڑپ کر لیا۔ اِسے مَیں نے جادُوگروں کو بتایا لیکن کویٔی مُجھے اِس کا مطلب نہ سمجھا سَکا۔“
GEN 41:25 تَب یُوسیفؔ نے فَرعوہؔ سے کہا، ”فَرعوہؔ کے دونوں خواب ایک جَیسے ہیں۔ جو کچھ خُدا کرنے کو ہے اُسے خُدا نے فَرعوہؔ پر ظاہر کیا ہے۔
GEN 41:26 سات اَچھّی گائیں سات بَرس ہیں اَور اناج کے دانوں کی سات اَچھّی بالیں بھی سات بَرس ہیں۔ خواب ایک ہی ہے۔
GEN 41:27 سات دبلی اَور بدصورت گائیں جو بعد میں نکلیں وہ سات بَرس ہیں اَور اناج کے دانوں کی سات ناقص بالیں بھی جو پُوربی ہَوا کی ماری ہُوئی تھیں سات بَرس ہی ہیں؛ یہ قحط کے سات بَرس ہیں۔
GEN 41:28 ”جَیسا کہ مَیں نے فَرعوہؔ سے کہا، جو کچھ خُدا کرنے پر ہے؛ اُسے خُدا نے آپ پر ظاہر کیا ہے۔
GEN 41:29 سارے مُلک مِصر میں سات سال پیداوار کی فراوانی کے ہوں گے،
GEN 41:30 لیکن اُن کے بعد سات سال قحط کے ہوں گے۔ جِن میں مِصر کی فراوانی والے سالوں کی یاد بھی باقی نہ رہے گی۔ اَور یہ قحط مُلک کو تباہ کر دے گا۔
GEN 41:31 مُلک کی فراوانی یاد نہ رہے گی، کیونکہ بعد میں آنے والا قحط نہایت ہی شدید ہوگا۔
GEN 41:32 فَرعوہؔ کو یہ خواب دو طرح سے دِکھایا گیا؛ اُس کی وجہ یہی ہے کہ خُدا نے اِس بات کا پُختہ فیصلہ کر دیا ہے اَور وہ جلد ہی اُسے عَمل میں لائیں گے۔
GEN 41:33 ”اَور اَب فَرعوہؔ کو چاہیے کہ وہ کسی صاحبِ فہم اَور دانشمند شخص کو تلاش کرے اَور اُسے مُلک مِصر پر مختار بنائے۔
GEN 41:34 جسے فَرعوہؔ یہ اِختیار دے کہ وہ اَیسے حُکاّم مُقرّر کرے، جو فراوانی کے سات سالوں میں مِصر کی پیداوار کا پانچواں حِصّہ وصول کریں
GEN 41:35 اَور اُن آنے والے اَچھّے سالوں میں تمام اناج کی اشیائے خوردنی جمع کریں اَور فَرعوہؔ کے اِختیار کے ماتحت شہروں میں ذخیرہ کرکے اُس کی حِفاظت کریں۔
GEN 41:36 یہ اناج مِصر پر آنے والے قحط کے سات سالوں میں اِستعمال کیٔے جانے کے لیٔے حِفاظت سے رکھا جائے تاکہ مُلک کے لوگ قحط سے ہلاک نہ ہوں۔“
GEN 41:37 یہ تجویز فَرعوہؔ اَور اُس کے افسروں کو پسند آئی۔
GEN 41:38 چنانچہ فَرعوہؔ نے اُن سے پُوچھا، ”کیا ہمیں اِس جَیسا آدمی مِل سَکتا ہے جو خُدا کی رُوح سے معموُر ہو؟“
GEN 41:39 تَب فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ سے کہا، ”چونکہ یہ سَب تُمہیں خُدا نے سمجھائی ہیں لہٰذا تُم سا صاحبِ فہم اَور دانِشور اَور کویٔی نہیں ہے۔
GEN 41:40 تُم میرے محل کے مختار ہوگے اَور میری ساری رعایا تمہاری فرماں بردار ہوگی۔ فقط تختِ شاہی کا مالک ہونے کے اِعتبار سے میں تُم سے برتر ہُوں گا۔“
GEN 41:41 چنانچہ فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ سے کہا، ”مَیں تُجھے سارے مُلک مِصر کا مختار مُقرّر کرتا ہُوں۔“
GEN 41:42 تَب فَرعوہؔ نے اَپنی اُنگلی سے اَپنی مُہر والی انگُوٹھی اُتار کر یُوسیفؔ کی اُنگلی میں پہنا دی۔ اُس نے یُوسیفؔ کو نہایت اعلیٰ درجہ کے نفیس کتانی لباس سے آراستہ کیا اَور اُن کے گلے میں سونے کا گلوبند پہنایا۔
GEN 41:43 فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ کو حاکمِ سلطنت کی حیثیت سے اَپنے دُوسرے رتھ میں سوار کیا اَور اُن کے آگے آگے یہ مُنادی کروائی، ”سَب دو زانو ہو جاؤ!“ یُوں فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ کو سارے مُلک مِصر کا مختار بنا دیا۔
GEN 41:44 اُس کے بعد فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ سے کہا، ”میں فَرعوہؔ ہُوں، لیکن سارے مُلک مِصر میں کویٔی شخص تمہارے حُکم کے بغیر ہاتھ یا پاؤں نہ ہلا سکےگا۔“
GEN 41:45 اَور فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ کا نام ضَافنتھ پعنیحؔ رکھا اَور اُس نے اَونؔ کے کاہِنؔ پُطیفرعؔ کی بیٹی آسِناتھؔ کو اُس سے بیاہ دیا اَور یُوسیفؔ مِصر کے تمام مُلک میں دورہ کرنے لگے۔
GEN 41:46 جَب یُوسیفؔ مِصر کے بادشاہ فَرعوہؔ کی مُلازمت میں آئے تو آپ تیس بَرس کے تھے۔ اَور یُوسیفؔ فَرعوہؔ سے رخصت ہوکر سارے مُلک مِصر کا دورہ کرنے کے لیٔے روانہ ہویٔے۔
GEN 41:47 فراوانی کے سات سالوں میں مُلک میں کثرت سے پیداوار ہُوئی۔
GEN 41:48 یُوسیفؔ وہ تمام اشیائے خوردنی جو اِفراط کے اُن سات سالوں میں مُلک مِصر میں پیدا ہُوئیں جمع کرکے شہروں میں اُن کا ذخیرہ کرنے لگے اَور ہر شہر میں اُن کے اِردگرد کے کھیتوں میں اُگی ہُوئی اشیائے خوردنی بھی جمع کرتے گئے۔
GEN 41:49 یُوسیفؔ نے اناج سمُندر کی ریت کی مانند نہایت کثرت سے ذخیرہ کیا جِس کی مقدار اِس قدر زِیادہ ہو گئی تھی کہ یُوسیفؔ نے اُس کا حِساب رکھنا بھی چھوڑ دیا۔ کیونکہ وہ بے حِساب تھا۔
GEN 41:50 قحط کے سالوں کے آغاز سے قبل اَونؔ کے کاہِنؔ پُطیفرعؔ کی بیٹی آسِناتھؔ کے یہاں یُوسیفؔ سے دو بیٹے پیدا ہویٔے۔
GEN 41:51 یُوسیفؔ نے اَپنے پہلوٹھے کا نام منشّہ یہ کہہ کر رکھا، ”خُدا کی مہربانی سے مَیں نے اَپنی اَور اَپنے باپ کے گھرانے کی ساری مشقّت بھُلا دی ہے۔“
GEN 41:52 اَور یُوسیفؔ نے اَپنے دُوسرے بیٹے کا نام اِفرائیمؔ یہ کہہ کر رکھا، ”خُدا نے مُجھے اُس مُلک میں برومند کیا جہاں مَیں نے مُصیبت اُٹھائی۔“
GEN 41:53 مُلک مِصر کے اِفراط کے سات سال ختم ہو گئے
GEN 41:54 اَور یُوسیفؔ کے کہنے کے مُطابق قحط کے سات سالوں کا آغاز ہُوا۔ حالانکہ دُوسرے تمام مُلکوں میں قحط پڑا تھا لیکن مِصر کے سارے مُلک میں خُوراک مَوجُود تھی۔
GEN 41:55 جَب مِصر کے سارے مُلک میں بھی قحط کی شِدّت محسُوس ہونے لگی تو لوگ روٹی کے لیٔے فَرعوہؔ کے آگے چِلّائے۔ تَب فَرعوہؔ نے مِصریوں سے کہا، ”یُوسیفؔ کے پاس جاؤ اَورجو کچھ وہ تُم سے کہے وہ کرو۔“
GEN 41:56 جَب قحط سارے مُلک میں پھیل گیا تو یُوسیفؔ نے گودام کھول کر مِصریوں کے ہاتھ اناج بیچنا شروع کر دیا کیونکہ تمام مُلک مِصر میں سخت قحط پڑا ہُوا تھا
GEN 41:57 اَور سارے مُلکوں کے لوگ اناج خریدنے کے لیٔے یُوسیفؔ کے پاس مِصر میں آنے لگے کیونکہ ساری دُنیا شدید قحط کی لپیٹ میں تھی۔
GEN 42:1 جَب یعقوب کو مَعلُوم ہُوا کہ مِصر میں اناج مِل رہاہے تو یعقوب نے اَپنے بیٹوں سے کہا، ”تُم کھڑے کھڑے ایک دُوسرے کا مُنہ کیوں تاک رہے ہو؟“
GEN 42:2 اَور اُنہُوں نے گُفتگو جاری رکھتے ہویٔے کہا، ”مَیں نے سُنا ہے کہ مُلک مِصر میں اناج ہے۔ تُم وہاں جاؤ اَور اَپنے لیٔے کچھ خرید لاؤ، تاکہ ہم زندہ رہیں اَور ہلاک نہ ہوں۔“
GEN 42:3 تَب یُوسیفؔ کے دس بھایٔی اناج خریدنے کے لیٔے مِصر روانہ ہویٔے
GEN 42:4 لیکن یعقوب نے یُوسیفؔ کے بھایٔی بِنیامین کو اُن کے ساتھ نہ بھیجا کیونکہ یعقوب کو ڈر تھا کہ کہیں اَیسا نہ ہو کہ بِنیامین پر بھی کویٔی آفت نازل ہو جائے۔
GEN 42:5 چنانچہ اِسرائیل کے بیٹے بھی اُن لوگوں میں شامل تھے جو اناج خریدنے کے لیٔے گیٔے کیونکہ مُلکِ کنعانؔ بھی قحط کا شِکار تھا۔
GEN 42:6 یُوسیفؔ مُلک مِصر کے حاکم تھے اَور وُہی مُلک کے سَب لوگوں کے ہاتھ اناج بیچتے تھے۔ لہٰذا جَب یُوسیفؔ کے بھایٔی پہُنچے تو وہ زمین پر اَپنے سَر ٹیک کر اُن کے حُضُور آداب بجا لایٔے۔
GEN 42:7 جوں ہی یُوسیفؔ نے اَپنے بھائیوں کو دیکھا اُنہیں پہچان لیا لیکن اَنجان بَن کر نہایت سخت لہجہ میں اُن سے پُوچھا، ”تُم لوگ کہاں سے آئے ہو؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہم مُلکِ کنعانؔ سے یہاں اناج خریدنے آئے ہیں۔“
GEN 42:8 حالانکہ یُوسیفؔ نے اَپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا لیکن بھائیوں نے یُوسیفؔ کو نہ پہچانا۔
GEN 42:9 تَب یُوسیفؔ نے اُن خوابوں کو جو اُنہُوں نے اُن کے بارے میں دیکھے تھے یاد کرکے اُن سے کہا، ”تُم جاسُوس ہو! تُم یہ دیکھنے آئے ہو کہ ہمارے مُلک کی سرحد کہاں غَیر محفوظ ہے؟“
GEN 42:10 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”نہیں، ہمارے آقا! ہم تمہارے خادِم تو اناج خریدنے آئے ہیں۔
GEN 42:11 ہم سَب ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں۔ آپ کے خادِم شریف لوگ ہیں جاسُوس نہیں ہیں۔“
GEN 42:12 یُوسیفؔ نے اُن سے کہا، ”نہیں تُم یہ دیکھنے آئے ہو کہ ہمارے مُلک کی حالت کہاں غَیر محفوظ ہے۔“
GEN 42:13 لیکن اُنہُوں نے جَواب دیا، ”آپ کے خادِم بَارہ بھایٔی ہیں جو ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں، وہ مُلکِ کنعانؔ میں رہتے ہیں۔ سَب سے چھوٹا اِس وقت ہمارے باپ کے پاس ہے اَور ایک مَر چُکاہے۔“
GEN 42:14 یُوسیفؔ نے اُن سے کہا، ”مَیں نے پہلے ہی کہہ دیا کہ تُم جاسُوس ہو!
GEN 42:15 اَب تمہاری آزمائش یُوں کی جائے گی کہ جَب تک تمہارا چھوٹا بھایٔی یہاں نہ آئے، فَرعوہؔ کی حیات کی قَسم، تُم یہاں سے جانے نہ پاؤگے۔
GEN 42:16 لہٰذا اَپنے میں سے کسی ایک کو بھیج دو تاکہ وہ تمہارے بھایٔی کو لے آئے؛ اَور باقی تُم قَیدخانہ میں رکھے جاؤگے تاکہ تمہاری باتوں کی تصدیق ہو کہ تُم سچ کہہ رہے ہو۔ اَور اگر نہیں تو فَرعوہؔ کی حیات کی قَسم، تُم جاسُوس ہی سمجھے جاؤگے!“
GEN 42:17 اَور یُوسیفؔ نے اُن سَب کو تین دِن تک حِراست میں رکھا۔
GEN 42:18 تیسرے دِن یُوسیفؔ نے اُن سے کہا، ”ایک کام کرو تاکہ زندہ رہو؛ کیونکہ مَیں خُدا سے ڈرنے والا آدمی ہُوں۔
GEN 42:19 اگر تُم شریف ہو تو تُم سَب بھائیوں میں سے ایک یہاں قَیدخانہ میں بند رہے اَور باقی سَب اَپنے خاندان کے لیٔے جو فاقوں سے ہیں اناج لے جایٔیں۔
GEN 42:20 لیکن تُم اَپنے چُھوٹے بھایٔی کو میرے پاس ضروُر لے آنا تاکہ تمہاری باتوں کی تصدیق ہو سکے اَور تُم ہلاکت سے بچ جاؤ۔“ چنانچہ اُنہُوں نے وَیسا ہی کیا۔
GEN 42:21 وہ آپَس میں کہنے لگے، ”یقیناً ہم اَپنے بھایٔی یُوسیفؔ کے سبب سے مُجرم ٹھہرے۔ ہمیں یاد ہے کہ جَب یُوسیفؔ نے ہم سے مِنّت کی تھی کہ مُجھے جان سے مت مارو تو وہ کِس قدر بےبس نظر آ رہاتھا۔ تَب بھی ہم نے اُس کی نہ سُنی۔ اِس لیٔے اَب یہ مُصیبت ہم پر آ پڑی ہے۔“
GEN 42:22 رُوبِنؔ نے جَواب دیا، ”کیا مَیں نے تُم سے نہ کہاتھا کہ اِس بچّے پر ظُلم نہ کرو؟ لیکن تُم نے میری ایک نہ سُنی! اَب اُس کا خُون ہماری گردن پر ہے۔“
GEN 42:23 اُنہیں اِس بات کا احساس نہ تھا کہ یُوسیفؔ اُن کی باتیں سمجھ رہاہے کیونکہ یُوسیفؔ نے جو کچھ کہاتھا ایک ترجمان کی زبانی کہاتھا۔
GEN 42:24 تَب یُوسیفؔ اُن کے پاس سے ہٹ گئے اَور الگ جا کر رونے لگے؛ لیکن پھر واپس آئے اَور اُن سے باتیں کرنے لگے۔ یُوسیفؔ نے اُن میں سے شمعُونؔ کو لے کر اُسے اُن کی آنکھوں کے سامنے بندھوایا۔
GEN 42:25 تَب یُوسیفؔ نے حُکم دیا کہ اُن کے بوروں میں اناج بھر دیا جائے اَور ہر آدمی کی چاندی بھی اُسی کے بورے میں رکھ دی جائے، اَور اُنہیں توشہ سفر بھی دیا جائے۔ جَب یہ سَب کچھ ہو چُکا،
GEN 42:26 تَب اُنہُوں نے اَپنا اناج اَپنے گدھوں پر لادا اَور روانہ ہو گئے۔
GEN 42:27 راستے میں اَپنے شب گزاری کے مقام پر اُن میں سے ایک نے اَپنے گدھے کو خُوراک دینے کی خاطِر اَپنا بورا کھولا تو اَپنی چاندی بھی اَپنے بورے کے مُنہ پر رکھی ہُوئی دیکھی۔
GEN 42:28 اُس نے اَپنے بھائیوں سے کہا، ”میری چاندی تو واپس کر دی گئی۔ دیکھو یہ میرے بورے میں رکھی ہے۔“ یہ دیکھ کر اُن کے حواس گُم ہو گئے۔ اُن پر لرزہ طاری ہو گیا اَور وہ ایک دُوسرے کی طرف دیکھ کر کہنے لگے، ”خُدا نے ہمارے ساتھ یہ کیا کر دیا؟“
GEN 42:29 جَب وہ مُلکِ کنعانؔ میں اَپنے باپ یعقوب کے پاس آئے تو اُنہُوں نے اَپنی آپ بیتی اُنہیں سُنایٔی۔ اُنہُوں نے کہا،
GEN 42:30 ”جو شخص اُس مُلک پر حاکم ہے وہ ہم سے نہایت سخت لہجہ میں مُخاطِب ہُوا اَور یُوں پیش آیا گویا ہم اُس مُلک میں جاسُوسی کرنے آئے ہیں۔
GEN 42:31 لیکن ہم نے اُس سے کہا، ’ہم شریف لوگ ہیں ہم جاسُوس نہیں ہیں۔
GEN 42:32 ہم بَارہ بھایٔی ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں۔ ایک مَر چُکاہے اَور سَب سے چھوٹا اِس وقت مُلکِ کنعانؔ میں ہمارے باپ کے پاس ہے۔‘
GEN 42:33 ”تَب اُس شخص نے جو اُس مُلک کا حاکم ہے ہم سے کہا، ’ابھی مَعلُوم ہو جائے گا کہ تُم شریف ہو یا نہیں۔ اَپنے بھائیوں میں سے کسی ایک کو یہاں میرے پاس چھوڑ دو؛ اَور اَپنے فاقہ کش خاندان کے لیٔے اناج لے کر چلے جاؤ۔
GEN 42:34 لیکن اَپنے چُھوٹے بھایٔی کو ساتھ لے کر میرے پاس آؤ تاکہ مُجھے مَعلُوم ہو کہ تُم جاسُوس نہیں ہو بَلکہ شریف آدمی ہو۔ تَب میں تمہارا بھایٔی تُمہیں لَوٹا دُوں گا اَور تُم اِس مُلک میں آزادی سے گھُوم پھر سکتے ہو۔‘ “
GEN 42:35 اَور جَب وہ اَپنے بورے خالی کرنے لگے تو ہر ایک کی چاندی کی تھیلی اُس کے بورے میں پائی گئی۔ جَب اُنہُوں نے اَور اُن کے باپ نے وہ تھیلیاں دیکھیں تو خوفزدہ ہو گئے۔
GEN 42:36 اُن کے باپ یعقوب نے اُن سے کہا، ”تُم نے مُجھے میرے بچّوں سے محروم کر دیا۔ یُوسیفؔ نہیں رہا اَور شمعُونؔ بھی نہیں رہا اَور اَب تُم بِنیامین کو بھی لے جانا چاہتے ہو۔ ہر چیز میرے مُخالف ہے!“
GEN 42:37 تَب رُوبِنؔ نے اَپنے باپ سے کہا، ”اگر مَیں اُسے تمہارے پاس واپس نہ لایا تو آپ میرے دونوں بیٹوں کو قتل کر ڈالنا۔ اُسے میری حِفاظت میں دے دیجئے۔ میں اُسے واپس لے آؤں گا۔“
GEN 42:38 لیکن یعقوب نے کہا، ”میرا بیٹا تمہارے ساتھ وہاں نہ جائے گا؛ اُس کا بھایٔی مَر چُکاہے اَور صِرف وُہی باقی رہ گیا ہے۔ جِس سفر پر تُم جا رہے ہو اگر اُس کے دَوران اُسے کچھ ہو گیا تو تُم اِس بُوڑھے باپ کو نہایت غم کے ساتھ قبر میں اتاروگے۔“
GEN 43:1 ابھی قحط مُلک میں زوروں پر تھا۔
GEN 43:2 اَور جَب وہ مِصر سے لایا ہُوا سَب اناج کھا چُکے تو اُن کے باپ نے اُن سے کہا، ”جاؤ اَور مِصر سے ہمارے لیٔے کچھ اَور اناج خرید لاؤ۔“
GEN 43:3 لیکن یہُوداہؔ نے اُس سے کہا، ”اُس شخص نے ہمیں سختی سے تاکید کی تھی، ’اَپنے بھایٔی کو ساتھ نہ لایٔے تو تُم میرا چہرہ پھر سے نہ دیکھوگے۔‘
GEN 43:4 اگر آپ ہمارے بھایٔی کو ہمارے ساتھ بھیج دیں گے تو ہم جا کر تمہارے لیٔے اناج خرید لائیں گے۔
GEN 43:5 لیکن اگر آپ نے اُسے نہ بھیجا تو ہم نہیں جایٔیں گے کیونکہ اُس شخص نے ہم سے کہا ہے، ’جَب تک تمہارا بھایٔی تمہارے ساتھ نہ آئے تو تُم میرا چہرہ پھر سے نہ دیکھوگے۔‘ “
GEN 43:6 اِسرائیل نے پُوچھا، ”تُم نے اُس شخص کو یہ بتا کر کہ تمہارا ایک اَور بھایٔی بھی ہے مُجھ پر یہ مُصیبت کیوں برپا کر دی؟“
GEN 43:7 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”اُس شخص نے ہم سے ہمارے اَور ہمارے رشتہ داروں کے بارے میں خُوب تفتیش کرکے پُوچھا، ’کیا تمہارا باپ اَب تک زندہ ہے اَور کیا تمہارا کویٔی اَور بھایٔی بھی ہے؟‘ ہم نے تو صِرف اُن کے سوالوں کے جَواب دئیے کہ بھلا ہم یہ کیسے جانتے کہ وہ کہے گا، ’اَپنے بھایٔی کو یہاں لے آؤ؟‘ “
GEN 43:8 تَب یہُوداہؔ نے اَپنے باپ اِسرائیل سے کہا، ”اِس لڑکے کو میرے ساتھ بھیج دیجئے اَور ہم فوراً چلے جایٔیں گے ورنہ ہم اَور آپ اَور ہمارے بال بچّے زندہ نہ بچ سکیں گے۔
GEN 43:9 میں خُود اُس کی سلامتی کا ضامن ہُوں؛ آپ مُجھے اُس کی حِفاظت کا ذمّہ دار سمجھئے! اگر مَیں اُسے واپس لاکر یہاں تمہارے سامنے کھڑا نہ کر دُوں تو میں عمر بھر آپ کا مُجرم ٹھہروں گا۔
GEN 43:10 سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم دیر نہ لگاتے تو دوبارہ جا کر کبھی کے لَوٹ آئے ہوتے۔“
GEN 43:11 تَب اُن کے باپ اِسرائیل نے اُن سے کہا، ”اگر یہی بات ہے تو اَیسا کرو، کہ اِس مُلک کی بہترین پیداوار میں سے چند چیزیں اَپنے بوروں میں رکھ لو اَور اُنہیں اُس شخص کے لیٔے تحفہ کے طور پر لے جاؤ۔ مثلاً تھوڑا سا روغن بلسان اَور تھوڑا سا شہد، کچھ گرم مَسالے اَور مُر پِستے اَور بادام
GEN 43:12 اَور چاندی کی دوگنی مقدار اَپنے ساتھ لے جاؤ کیونکہ تُمہیں وہ چاندی بھی لَوٹانی ہوگی جو تمہارے بوروں میں رکھی گئی تھی۔ شاید غلطی سے اَیسا ہُوا ہو۔
GEN 43:13 اَور اَپنے بھایٔی کو بھی ساتھ لے لو اَور فوراً اُس آدمی کے پاس چلے جاؤ۔
GEN 43:14 اَور قادرمُطلق خُدا اُس شخص کو تُم پر مہربان کرے تاکہ وہ تمہارے دُوسرے بھایٔی اَور بِنیامین کو تمہارے ساتھ واپس آنے دے۔ جہاں تک میرا تعلّق ہے اگر مُجھے اُن کا ماتم کرنا پڑا تو کروں گا۔“
GEN 43:15 چنانچہ وہ تحفے اَور چاندی کی دوگنی مقدار اَور بِنیامین کو بھی ساتھ لے کر جلدی سے مِصر پہُنچے اَور یُوسیفؔ کے سامنے حاضِر ہویٔے۔
GEN 43:16 جَب یُوسیفؔ نے بِنیامین کو اُن کے ساتھ دیکھا تو یُوسیفؔ نے اَپنے گھر کے منتظم سے کہا، ”اِن آدمیوں کو میرے گھر لے جاؤ اَور ایک جانور ذبح کرکے کھانا تیّار کرو کیونکہ یہ لوگ دوپہر کو میرے ساتھ کھانا کھایٔیں گے۔“
GEN 43:17 تَب اُس شخص نے یُوسیفؔ کے کہنے کے مُطابق کیا اَور اُن آدمیوں کو یُوسیفؔ کے محل میں لے گیا۔
GEN 43:18 جَب وہ آدمی یُوسیفؔ کے محل میں پہُنچے تو اُن پر خوف طاری تھا۔ اُنہُوں نے سوچا، ”جو چاندی پہلی بار ہمارے بوروں میں واپس رکھ دی گئی تھی اُسی کی وجہ سے ہمیں یہاں لایا گیا ہے۔ وہ ہم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم پر غالب آکر ہمیں غُلام بنا لیں اَور ہمارے گدھوں کو چھین لیں۔“
GEN 43:19 چنانچہ وہ یُوسیفؔ کے منتظم کے پاس گیٔے اَور محل کے دروازہ پر اُن سے کہنے لگے۔
GEN 43:20 اُنہُوں نے عرض کیا، ”ہمیں مُعاف کریں میرے آقا، ہم پہلے بھی یہاں اناج خریدنے آئےتھے۔
GEN 43:21 لیکن واپس جاتے وقت جَب ہم نے رات کو اَپنی شب گزاری کے مقام پر اَپنے بورے کھولے تو ہم نے دیکھا کہ ہماری چاندی پُوری کی پُوری ہمارے بوروں کے اَندر رکھی ہُوئی ہے۔ اِس لئے اَب ہم اُسے اَپنے ساتھ لے کر واپس آئے ہیں۔
GEN 43:22 اَور ہم مزید اناج خریدنے کے لیٔے اَور چاندی بھی اَپنے ساتھ لایٔے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ پچھلی دفعہ ہماری چاندی ہمارے بوروں میں کیسے پہُنچ گئی۔“
GEN 43:23 خادِم نے اُن سے کہا، ”تُم اُس کی فکر مت کرو، ڈرو نہیں، تمہارے خُدا اَور تمہارے باپ کے خُدا نے تمہارے بوروں میں تُمہیں خزانہ دیا ہوگا۔ مُجھے تو تمہاری چاندی مِل چُکی۔“ تَب وہ شمعُونؔ کو اُن کے پاس باہر لے آئے۔
GEN 43:24 پھر یُوسیفؔ کے منتظم اُن آدمیوں کو اَندر محل میں لے گئے اَور اُنہیں پاؤں دھونے کے لیٔے پانی دیا اَور اُن کے گدھوں کے لیٔے چارے کا اِنتظام کیا۔
GEN 43:25 اَور اُنہُوں نے دوپہر کو یُوسیفؔ کے آنے تک اَپنے اَپنے تحفے تیّار کر لیٔے کیونکہ اُنہیں بتایا گیا تھا کہ وہ لوگ بھی وہیں کھانا کھایٔیں گے۔
GEN 43:26 جَب یُوسیفؔ گھر آئے تو اُنہُوں نے وہ تحفے اُسے پیش کئے جنہیں وہ محل میں لایٔے تھے اَور اُنہُوں نے زمین پر جھُک کر اُن کو سلام کیا۔
GEN 43:27 یُوسیفؔ نے اُن کی خیریت دریافت کی اَور کہا، ”تمہارے ضعیف باپ جِن کا تُم نے ذِکر کیا تھا کیسے ہیں؟ کیا وہ اَب تک زندہ ہیں؟“
GEN 43:28 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”آپ کا خادِم ہمارے باپ اَب تک زندہ ہیں اَور خیریت سے ہیں۔“ اَور اُنہُوں نے سَر جھُکا جھُکا کر اُن کو سلام کیا۔
GEN 43:29 جَب یُوسیفؔ نے آنکھ اُٹھاکر اَپنے بھایٔی بِنیامین کو دیکھا جو اُن کی اَپنی ماں کا بیٹا تھا تو پُوچھا، ”کیا یہ تمہارا چھوٹا بھایٔی ہے جِس کا ذِکر تُم نے مُجھ سے کیا تھا؟“ پھر کہا، ”اَے میرے بیٹے خُدا تُم پر مہربان رہے۔“
GEN 43:30 اَپنے بھایٔی کو دیکھ کر یُوسیفؔ کا دِل بھر آیا۔ لہٰذا وہ جلدی سے باہر نکلے تاکہ کسی جگہ جا کر روسکیں۔ تَب وہ اَپنے کمرے میں جا کر رونے لگے۔
GEN 43:31 پھر وہ اَپنا مُنہ دھوکر باہر آئے اَور ضَبط سے کام لیتے ہویٔے کہا، ”کھانا پیش کرو۔“
GEN 43:32 تَب یُوسیفؔ نے اُن کے لیٔے الگ، اُس کے بھائیوں کے لیٔے الگ اَورجو مِصری اُن کے ساتھ کھاتے تھے اُن کے لیٔے الگ کھانا پیش کیا کیونکہ مِصری عِبرانیوں کے ساتھ کھانا کھانے سے سخت نفرت کرتے تھے۔
GEN 43:33 اُن آدمیوں کو یُوسیفؔ کے سامنے پہلوٹھے سے لے کر چُھوٹے تک اُن کی عمر کے مُطابق ترتیب وار بِٹھایا گیا تھا اَور وہ ایک دُوسرے کی طرف حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
GEN 43:34 جَب یُوسیفؔ کی میز سے اُن کے لیٔے کھانا پیش کیا گیا تو بِنیامین کا حِصّہ دُوسروں کے حِصّوں سے پانچ گُنا زِیادہ تھا اَور اُنہُوں نے یُوسیفؔ کے ساتھ کھایا پیا اَور خُوشی منائی۔
GEN 44:1 پھر یُوسیفؔ نے اَپنے گھر کے منتظم کو یہ ہدایات دیں: ”جِتنا اناج یہ لوگ لے جا سکیں اُن کے بوروں میں بھر دیا جائے اَور ہر ایک کی چاندی بھی اُس کے بورے کے مُنہ میں رکھ دی جائے۔
GEN 44:2 اَور میرا چاندی کا پیالہ سَب سے چُھوٹے کے بورے میں اُس کے اناج کے مُعاوضہ کی چاندی کے ساتھ رکھ دینا۔“ چنانچہ منتظم نے یُوسیفؔ کے کہنے کے مُطابق عَمل کیا۔
GEN 44:3 جَب صُبح ہُوئی تو اُن آدمیوں کو اُن کے گدھوں سمیت رخصت کیا گیا۔
GEN 44:4 وہ شہر سے زِیادہ دُور بھی نہ جانے پایٔے تھے کہ یُوسیفؔ نے اَپنے منتظم سے کہا، ”فوراً اُن آدمیوں کا پیچھا کرو اَور جَب تُم اُنہیں پا لو تو اُن سے کہنا، ’تُم نے نیکی کے عِوض بدی کیوں کی؟
GEN 44:5 کیا یہ وُہی پیالہ نہیں جِس سے میرے آقا پیتے ہیں اَور اِس سے فال بھی کھولتے ہیں؟ یہ تُم نے نہایت بُرا کام کیا ہے۔‘ “
GEN 44:6 جَب منتظم نے اُنہیں جا لیا تو یہ باتیں اُن کے سامنے کہہ دیں۔
GEN 44:7 لیکن اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہمارے آقا اَیسی باتیں کیوں کہتے ہیں؟ تمہارے خادِموں سے اَیسے فعل کا سرزد ہونا بعید رہے!
GEN 44:8 ہم مُلکِ کنعانؔ سے وہ چاندی بھی واپس لے آئے جو ہمارے بوروں کے مُنہ میں ہمیں مِلی تھی۔ پھر بھلا ہم آپ کے آقا کے گھر سے چاندی یا سونا کیوں چُراتے؟
GEN 44:9 لہٰذا آپ کے خادِموں میں سے جِس کسی کے پاس چاندی کا پیالہ ملے وہ مار ڈالا جائے اَور ہم میں سے باقی اَپنے آقا کے غُلام ہو جایٔیں گے۔“
GEN 44:10 منتظم نے کہا، ”ٹھیک ہے، جو تُم کہتے ہو وُہی صحیح۔ جِس کسی کے پاس وہ پیالہ نکل آئے وہ میرا غُلام ہوگا اَور باقی بے قُصُور ٹھہروگے۔“
GEN 44:11 تَب ہر ایک نے جلدی سے اَپنا اَپنا بورا زمین پر اُتارا اَور اُسے کھول دیا۔
GEN 44:12 تَب منتظم نے بڑے سے لے کر چُھوٹے تک ہر ایک کے بورے کی تلاشی لی اَور پیالہ بِنیامین کے بورے میں سے برآمد ہُوا۔
GEN 44:13 اِس پر اُنہُوں نے اَپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اَور اَپنے اَپنے گدھوں کو لاد کر شہر کی طرف واپس چل دئیے۔
GEN 44:14 یُوسیفؔ ابھی گھر میں ہی تھے کہ یہُوداہؔ اَور اُن کے بھایٔی آ گئے اَور وہ یُوسیفؔ کے سامنے زمین پر گِر پڑے۔
GEN 44:15 یُوسیفؔ نے اُن سے کہا، ”یہ تُم نے کیا کیا؟ کیا تُم نہیں جانتے کہ میں وہ شخص ہُوں جو فال کے ذریعہ غیب کی باتیں بھی جان لیتا ہُوں؟“
GEN 44:16 یہُوداہؔ نے جَواب دیا، ”ہم اَپنے آقا سے کیا کہیں؟ ہم کہہ بھی کیا سکتے ہیں؟ ہم اَپنی بےگُناہی کیسے ثابت کریں؟ خُدا نے آپ کے خادِموں کا جُرم بے پردہ کر دیا۔ اَب ہم اَپنے آقا کے غُلام ہیں۔ ہم سَب اَور جِس کے پاس یہ پیالہ نِکلا وہ بھی۔“
GEN 44:17 لیکن یُوسیفؔ نے کہا، ”خُدا نہ کرے کہ میں اَیسا کروں! صِرف وُہی آدمی جِس کے پاس یہ پیالہ نِکلا میرا غُلام ہوگا۔ باقی سَب اَپنے باپ کے پاس سلامت جا سکتے ہیں۔“
GEN 44:18 تَب یہُوداہؔ نے یُوسیفؔ کے پاس جا کر مِنّت کی: ”اَے میرے آقا! آپ اَپنے خادِم کو اَپنے آقا سے ایک بات کہنے کی اِجازت دیجئے۔ اَپنے خادِم سے خفا نہ ہو کیونکہ آپ خُود فَرعوہؔ کے برابر ہیں۔
GEN 44:19 میرے آقا نے اَپنے خادِموں سے یہ پُوچھا تھا، ’کیا تمہارے باپ یا کویٔی بھایٔی ہیں؟‘
GEN 44:20 اَور ہم نے اَپنے آقا کو جَواب دیا تھا،‏‏ ’ہمارے ایک ضعیف باپ ہیں اَور اُن کے بُڑھاپے کا ایک چھوٹا بیٹا بھی ہے جِس کا بھایٔی مَر چُکاہے۔ اَور اَپنی ماں کی اَولاد میں سے وُہی اکیلا رہ گیا ہے۔ اَور اُس کا باپ اُس سے بےحد مَحَبّت رکھتا ہے۔‘
GEN 44:21 ”تَب آپ نے اَپنے خادِموں سے کہاتھا، ’اُسے میرے پاس لاؤ تاکہ میں بھی اُسے دیکھ لُوں۔‘
GEN 44:22 اَور ہم نے اَپنے آقا سے کہا، ’وہ لڑکا اَپنے باپ کو چھوڑ نہیں سَکتا کیونکہ اگر وہ اُس سے جُدا ہوگا تو اُس کا باپ زندہ نہ رہ سکےگا۔‘
GEN 44:23 لیکن آپ نے اَپنے خادِموں سے کہاتھا، ’جَب تک تمہارا چھوٹا بھایٔی تمہارے ساتھ نہیں آتا، تُم میرا چہرہ پھر سے نہ دیکھوگے۔‘
GEN 44:24 جَب ہم اَپنے باپ کے پاس جو آپ کا خادِم ہے، لَوٹے تو ہم نے اُن سے اَپنے آقا کی باتیں کہیں۔
GEN 44:25 ”تَب ہمارے باپ نے کہا، ’دوبارہ جاؤ اَور مِصر سے ہمارے لیٔے کچھ اناج خرید لاؤ۔‘
GEN 44:26 لیکن ہم نے کہا، ’ہم نہیں جا سکتے اگر ہمارا سَب سے چھوٹا بھایٔی ہمارے ساتھ ہوگا تبھی ہم جایٔیں گے؛ اُس شخص نے ہمیں سختی سے تاکید کی تھی کہ جَب تک تمہارا چھوٹا بھایٔی تمہارے ساتھ نہ آئے تو تُم میرا چہرہ نہ دیکھوگے۔‘
GEN 44:27 ”اَور تمہارے خادِم ہمارے باپ نے ہم سے کہا، ’تُم جانتے ہو کہ میری بیوی کے مُجھ سے دو بیٹے پیدا ہویٔے تھے۔
GEN 44:28 اُن میں سے ایک مُجھ سے جُدا ہو گیا اَور مَیں نے کہا، ”اُسے ضروُر کسی درندہ نے پھاڑ کھایا ہے۔“ اَور تَب سے مَیں نے اُسے نہیں دیکھا۔
GEN 44:29 اَور اگر تُم بِنیامین کو بھی میرے پاس سے لے گیٔے اَور اُسے کچھ ہو گیا تو تُم اَپنے بُوڑھے باپ کو بڑے غم کے ساتھ قبر میں اتاروگے۔‘
GEN 44:30 ”لہٰذا جَب مَیں تمہارے خادِم، اَپنے باپ کے پاس اِس لڑکے کے بغیر واپس جاؤں گا اَور اگر وہ، جِس کی جان اِس لڑکے کی جان سے وابستہ ہے،
GEN 44:31 دیکھیں گے کہ اُن کا بیٹا واپس نہیں آیا تو اُن کی تو جان ہی نکل جائے گی اَور ہم تمہارے خادِم اَپنے غمزدہ بُوڑھے باپ کے قبر میں اُتارے جانے کا باعث ہوں گے۔
GEN 44:32 آپ کے خادِم نے اِس لڑکے کی سلامتی کی اَپنے باپ کو ضمانت دے رکھی ہے۔ مَیں نے اَپنے باپ سے کہاتھا، ’اگر مَیں اِس لڑکے کو تمہارے پاس واپس نہ لایا تو عمر بھر آپ کا مُجرم ٹھہروں گا۔‘
GEN 44:33 ”چنانچہ خادِم کو اَپنے آقا کا غُلام بَن کر یہاں رہنے کی اِجازت دیجئے اَور اِس لڑکے کو اَپنے بھائیوں کے ساتھ لَوٹ جانے دیجئے۔
GEN 44:34 کیونکہ اِس لڑکے کے بغیر میں اَپنے باپ کے پاس کیا مُنہ لے کر واپس جاؤں؟ اگر گیا تو مُجھ سے اَپنے باپ کی تکلیف نہ دیکھی جائے گی!“
GEN 45:1 تَب یُوسیفؔ اَپنے سارے خدمت گاروں کے سامنے خُود کو ضَبط نہ کر سکے اَور یُوسیفؔ نے چِلّاکر کہا، ”سَب کو یہاں سے نکال دو!“ تَب یُوسیفؔ نے اَپنے آپ کو اَپنے بھائیوں پر ظاہر کیا اَور اُس وقت اُن کے خدمت گاروں میں سے کویٔی یُوسیفؔ کے پاس نہ تھا۔
GEN 45:2 اَور وہ اِس قدر زور زور سے روئے کہ مِصریوں نے اُن کے رونے کی آواز سُنی اَور فَرعوہؔ کے گھر والوں کو بھی اِس بات کی خبر ہو گئی۔
GEN 45:3 یُوسیفؔ نے اَپنے بھائیوں سے کہا، ”میں یُوسیفؔ ہُوں! کیا میرے باپ اَب تک زندہ ہیں؟“ لیکن اُن کے بھائیوں کے مُنہ سے جَواب میں ایک لفظ بھی نہ نِکلا کیونکہ وہ یُوسیفؔ کے سامنے خوفزدہ ہو گئے تھے۔
GEN 45:4 تَب یُوسیفؔ نے اَپنے بھائیوں سے کہا، ”میرے قریب آؤ۔“ اَور جَب وہ اُن کے قریب آئے تو یُوسیفؔ نے کہا، ”میں تمہارا بھایٔی یُوسیفؔ ہُوں، جسے تُم نے مِصریوں کے ہاتھ بیچا تھا!
GEN 45:5 اَور میرے یہاں بیچے جانے کے باعث اَب تُم نہ تو اَپنے دِل میں پریشان ہو اَور نہ اَپنے آپ پر خفا ہو؛ کیونکہ خُدا نے مُجھے تُم سے آگے یہاں بھیجا تاکہ میں کیٔی لوگوں کی جانیں بچا سکوں۔
GEN 45:6 اِس لیٔے کہ اَب دو سال سے مُلک میں قحط پڑا ہُواہے اَور آئندہ پانچ سالوں تک نہ ہل چلیں گے اَور نہ فصل کٹے گی۔
GEN 45:7 لیکن خُدا نے مُجھے تمہارے آگے بھیجا تاکہ تمہارے وہ لوگ جو باقی بچے ہیں زمین پر سلامت رہیں اَور ایک بڑی نَجات کے وسیلہ سے تمہاری جانیں بچی رہیں۔
GEN 45:8 ”چنانچہ وہ تُم نہ تھے، بَلکہ خُدا، جِس نے مُجھے یہاں بھیجا۔ اُن ہی نے مُجھے گویا فَرعوہؔ کا باپ، اُس کے سارے گھر کا مختار اَور سارے مُلک مِصر کا حاکم بنا دیا۔
GEN 45:9 اَب تُم جلد میرے باپ کے پاس جاؤ اَور اُن سے کہنا، ’تمہارا بیٹا یُوسیفؔ یُوں کہتاہے کہ خُدا نے مُجھے سارے مُلک مِصر کا مالک بنا دیا ہے؛ لہٰذا فوراً میرے پاس چلے آؤ۔
GEN 45:10 آپ لوگ گوشینؔ کے علاقہ میں بس جانا تاکہ تُم اَپنے بیٹے پوتوں اَور اَپنی بھیڑ بکریوں کے گلّوں گائے بَیلوں اَور اَپنے تمام مال و متاع سمیت میرے نزدیک رہ سکو۔
GEN 45:11 میں وہاں آپ کی پرورِش کا سارا اِنتظام کروں گا، تاکہ آپ اَور آپ کا گھرانہ اَور سارا مال و متاع جو آپ کا ہے غربت کا شِکار نہ ہو کیونکہ قحط کے ابھی پانچ سال اَور باقی ہیں۔‘
GEN 45:12 ”آپ لوگ خُود اَور میرا بھایٔی بِنیامین بھی اَپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو کہ واقعی میں ہی تُم سے بات کر رہا ہُوں۔
GEN 45:13 مُلک مِصر میں مُجھے جِتنا اِعزاز و اِحترام بخشا گیا ہے اَورجو کچھ تُم نے دیکھاہے اُس کا تذکرہ میرے باپ سے کرنا اَور اُنہیں اَپنے ساتھ لے کر جلدی سے میرے پاس چلے آنا۔“
GEN 45:14 پھر وہ اَپنے بھایٔی بِنیامین کو اَپنی باہوں میں لے کر روئے اَور بِنیامین بھی اُن کے گلے لگ کر رو دیا۔
GEN 45:15 یُوسیفؔ نے اَپنے سَب بھائیوں کو چُوما اَور اُن سے مِل کر روئے۔ اُس کے بعد اُن کے بھایٔی بھی یُوسیفؔ کے ساتھ بات چیت کرنے لگے۔
GEN 45:16 جَب یہ خبر فَرعوہؔ کے محل تک پہُنچی کہ یُوسیفؔ کے بھایٔی آئے ہیں تو فَرعوہؔ اَور اُس کے خدمت گار بہت خُوش ہویٔے۔
GEN 45:17 فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ سے کہا، ”اَپنے بھائیوں سے کہو، ’اَب ایک کام کرو کہ اَپنے جانوروں پر اناج لاد کر مُلکِ کنعانؔ کو لَوٹ جاؤ،
GEN 45:18 اَور اَپنے باپ اَور اَپنے اَپنے خاندانوں کو میرے پاس لے آؤ۔ میں تُمہیں مُلک مِصر کی بہترین نِعمتیں بخشوں گا اَور تُم اِس مُلک کی عُمدہ سے عُمدہ چیزوں سے لُطف اَندوز ہو سکوگے۔‘
GEN 45:19 ”اَور یُوسیفؔ تُمہیں حُکم دیا جاتا ہے، ’اُن سے یہ بھی کرنے کے لیٔے کہو: مِصر سے چند گاڑیاں بھی اَپنے ساتھ لیتے جاؤ اَور اُن میں اَپنے باپ، اَپنی بیویوں اَور اَپنے بچّوں کو سوار کرکے یہاں لے آؤ۔
GEN 45:20 اَپنے مال و اَسباب کی پروا نہ کرو کیونکہ تمام مِصر کی بہترین اَشیا تمہاری ہُوں گی۔‘ “
GEN 45:21 چنانچہ اِسرائیل کے بیٹوں نے اَیسا ہی کیا۔ یُوسیفؔ نے فَرعوہؔ کے حُکم کے مُطابق اُنہیں گاڑیاں دیں اَور توشہ سفر بھی دیا۔
GEN 45:22 اُن میں سے ہر ایک کو ایک ایک جوڑا کپڑا دیا لیکن بِنیامین کو تین سَو ثاقل چاندی کے سِکّے اَور پانچ جوڑے کپڑے دئیے
GEN 45:23 اَور اَپنے باپ کے لیٔے یُوسیفؔ نے یہ چیزیں بھیجیں: دس گدھے جو مِصر کی بہترین چیزوں سے لدے ہویٔے تھے اَور دس گدھیاں جو اناج، روٹی اَور اُن کے سفر کے دَوران توشہ کے طور پر دُوسری اَشیا سے لدی ہُوئی تھیں۔
GEN 45:24 تَب یُوسیفؔ نے اَپنے بھائیوں کو رخصت کیا اَور جَب وہ روانہ ہویٔے تو اُن سے کہا، ”راستہ میں کہیں جھگڑا نہ کرنا۔“
GEN 45:25 چنانچہ وہ مِصر سے روانہ ہویٔے اَور مُلکِ کنعانؔ میں اَپنے باپ یعقوب کے پاس چلے آئے۔
GEN 45:26 اَور اُنہُوں نے باپ سے کہا، ”یُوسیفؔ اَب تک زندہ ہے۔ وہ واقعی سارے مُلک مِصر کا حاکم ہے۔“ یہ سُن کر یعقوب کا دِل دھک سے رہ گیا۔ اُنہُوں نے اَپنے بیٹوں کی باتوں کا یقین نہ کیا۔
GEN 45:27 لیکن جَب اُنہُوں نے یعقوب کو وہ سَب باتیں بتائیں جو یُوسیفؔ نے اُن سے کہی تھیں اَور جَب یعقوب نے وہ گاڑیاں دیکھیں جو یُوسیفؔ نے اُن کو لے جانے کو بھیجی تھیں تَب اُن کے باپ یعقوب کی جان میں جان آئی۔
GEN 45:28 اَور اِسرائیل نے کہا، ”مُجھے یقین ہو گیا کہ میرا بیٹا یُوسیفؔ اَب تک زندہ ہے۔ اَب تو میں اَپنے مرنے سے پیشتر جا کر اُسے دیکھ لُوں گا۔“
GEN 46:1 تَب اِسرائیل اَپنا سَب کچھ لے کر روانہ ہُوئے اَور جَب وہ بیرشبعؔ پہُنچے تو اُنہُوں نے اَپنے باپ اِصحاقؔ کے خُدا کے لیٔے قُربانیاں گزرانیں۔
GEN 46:2 اَور خُدا نے رات کو رُویا میں اِسرائیل سے باتیں کیں اَور کہا، ”اَے یعقوب! اَے یعقوب!“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”مَیں حاضِر ہُوں۔“
GEN 46:3 اُنہُوں نے کہا، ”میں خُدا تمہارے باپ کا خُدا ہُوں؛ مِصر میں جانے سے نہ ڈر کیونکہ مَیں وہاں تُم سے ایک بڑی قوم پیدا کروں گا۔
GEN 46:4 مَیں تمہارے ساتھ مِصر چلُوں گا اَور پھر وہاں سے میں تُمہیں واقعی واپس بھی لے آؤں گا اَور تمہاری موت پر یُوسیفؔ کے اَپنے ہاتھ تمہاری آنکھیں بند کریں گے۔“
GEN 46:5 تَب اِسرائیل بیرشبعؔ سے روانہ ہُوئے اَور اِسرائیل کے بیٹے اَپنے باپ یعقوب اَور اَپنے بال بچّوں اَور اَپنی بیویوں کو اُن گاڑیوں میں لے کر گیٔے جو فَرعوہؔ نے اُن کی سواری کے لیٔے بھیجی تھیں۔
GEN 46:6 اَور وہ اَپنے مویشیوں اَور سارے مال و اَسباب کو بھی ساتھ لے گیٔے جو اُنہُوں نے مُلکِ کنعانؔ میں جمع کیا تھا اَور یعقوب اَپنی ساری اَولاد سمیت مِصر چلےگئے۔
GEN 46:7 وہ اَپنے بیٹوں، پوتوں اَور اَپنی بیٹیوں اَور پوتیوں غرض اَپنی کُل نَسل کو اَپنے ساتھ مِصر لے آئے۔
GEN 46:8 اِسرائیل کے بیٹے اَور پوتے وغیرہ جو مِصر میں آئے اُن کے نام یہ ہیں: رُوبِنؔ جو یعقوب کا پہلوٹھا۔
GEN 46:9 رُوبِنؔ کے بیٹے: حنوخؔ، پلوّؔ، حِضرونؔ اَور کرمی۔
GEN 46:10 شمعُونؔ کے بیٹے: یموایلؔ، یمینؔ، اُہدؔ، یاکِن، ضُحرؔ اَور شاؤل جو ایک کنعانی عورت سے پیدا ہُوا تھا۔
GEN 46:11 بنی لیوی یہ ہیں: گیرشون قُہات اَور مِراریؔ۔
GEN 46:12 یہُوداہؔ کے بیٹے: عیرؔ، اَونانؔ، شِلحؔ، پیریزؔ اَور زیراحؔ (لیکن عیرؔ اَور اَونانؔ مُلکِ کنعانؔ میں وفات پا چُکے تھے)۔ پیریزؔ کے بیٹے: حِضرونؔ اَور حمُولؔ۔
GEN 46:13 یِسَّکاؔر کے بیٹے: تولعؔ، پُوعہ یا پُوّہؔ، یَعشُوبؔ اَور شِمرون۔
GEN 46:14 زبُولُون کے بیٹے: سرد، ایلون اَور یحلی ایل۔
GEN 46:15 لِیاہؔ کے بیٹے جو یعقوب سے فدّان ارام میں اُس کی بیٹی دینؔہ کے علاوہ پیدا ہویٔے تھے یہی ہیں۔ اُس کے یہ بیٹے اَور بیٹیاں کُل تینتیس تھے۔
GEN 46:16 گادؔ کے بیٹے: ضِفونؔ، حگّیؔ، شُونی، اِضبُنؔ، عیری، اَرودی اَور اَریلی۔
GEN 46:17 آشیر کے بیٹے: یِمنہؔ، اِشواہؔ، اِشویؔ اَور بریعہؔ اَور اُن کی بہن سراحؔ تھی۔ بریعہؔ کے بیٹے: حِبرؔ اَور مَلکی ایل۔
GEN 46:18 یہ سَب یعقوب کے اُن بیٹوں کی اَولاد ہیں جو زِلفہؔ سے پیدا ہویٔے جسے لابنؔ نے اَپنی بیٹی لِیاہؔ کو دیا تھا۔ وہ شُمار میں سولہ تھے۔
GEN 46:19 یعقوب کی بیوی راخلؔ کے بیٹے: یُوسیفؔ اَور بِنیامین۔
GEN 46:20 یُوسیفؔ سے مُلک مِصر میں اَونؔ کے کاہِنؔ پُطیفرعؔ کی بیٹی آسِناتھؔ کے ہاں منشّہ اَور اِفرائیمؔ پیدا ہویٔے۔
GEN 46:21 بِنیامین کے بیٹے: بَیلعؔ، بِکیؔر، اَشبیلؔ، گیراؔ، نَعمانؔ، اِخیؔ، رَوشؔ، مُپّیم، حُفّیمؔ اَور اردؔ۔
GEN 46:22 یہ سَب یعقوب کے اُن بیٹوں کی اَولاد ہیں جو راخلؔ سے پیدا ہویٔے جو شُمار میں چودہ تھے۔
GEN 46:23 اَور دانؔ کے بیٹے کا نام: حُوشیمؔ تھا۔
GEN 46:24 نفتالی کے بیٹے: یحصیل گُونی، یصرؔ اَور شِلّیمؔ۔
GEN 46:25 یہ سَب یعقوب کے اُن بیٹوں کی اَولاد ہیں جو بِلہاہؔ سے پیدا ہویٔے جسے لابنؔ نے اَپنی بیٹی راخلؔ کو دیا تھا۔ وہ شُمار میں سات تھے۔
GEN 46:26 یعقوب کی اَپنی نَسل کے جو لوگ اُن کے ساتھ مِصر گیٔے جِن میں اُن کی بہوؤں کا شُمار نہیں ہے کُل چھیاسٹھ آدمی تھے۔
GEN 46:27 اُن دو بیٹوں کے ساتھ جو یُوسیفؔ کے مِصر میں پیدا ہویٔے یعقوب کے خاندان کے اُن افراد کی کُل تعداد جو مِصر گیٔے ستّر تھی۔
GEN 46:28 یعقوب نے یہُوداہؔ کو اَپنے آگے یُوسیفؔ کے پاس بھیجا تاکہ وہ مَعلُوم کرے کہ گوشینؔ جانے والا راستہ کون سا ہے۔ جَب وہ گوشینؔ کے علاقہ میں پہُنچے تو
GEN 46:29 یُوسیفؔ نے اَپنا رتھ تیّار کروایا اَور اَپنے باپ اِسرائیل سے مِلنے کے لیٔے گوشینؔ کی طرف روانہ ہُوئے۔ جوں ہی یُوسیفؔ نے اَپنے باپ کو دیکھا وہ اُن سے بغل گیر ہوکر بڑی دیر تک روتے رہے۔
GEN 46:30 اِسرائیل نے یُوسیفؔ سے کہا، ”اَب موت بھی آ جائے تو مُجھے منظُور ہے کیونکہ مَیں نے اَپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ تُم ابھی تک زندہ ہو۔“
GEN 46:31 تَب یُوسیفؔ نے اَپنے بھائیوں اَور اَپنے باپ کے گھرانے کے لوگوں سے کہا، ”میں جا کر فَرعوہؔ سے بات کروں گا اَور کہُوں گا، ’میرے بھایٔی اَور میرے باپ کا خاندان جو مُلکِ کنعانؔ میں رہا کرتے تھے میرے پاس آ گئے ہیں۔
GEN 46:32 وہ لوگ چرواہے ہیں اَور مویشی پالتے ہیں اَور وہ اَپنے ساتھ اَپنی بھیڑ بکریوں کے گلّے اَور مویشیوں کو اَورجو کچھ اُن کی مِلکیّت ہے سَب لے کر آ گئے ہیں۔‘
GEN 46:33 جَب فَرعوہؔ تُمہیں اَندر بُلائے اَور پُوچھے، ’تمہارا پیشہ کیا ہے؟‘
GEN 46:34 تو تُم جَواب دینا، ’تمہارا خادِم اَپنے آباؤاَجداد کی طرح لڑکپن ہی سے گلّہ بان ہیں۔‘ تَب تُمہیں گوشینؔ کے علاقہ میں بس جانے کی اِجازت دے دی جائے گی کیونکہ مِصری تمام گلّے بانوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔“
GEN 47:1 یُوسیفؔ نے جا کر فَرعوہؔ سے کہا، ”میرا باپ اَور بھایٔی اَپنی بھیڑ بکریوں کے گلّوں اَور مویشیوں کے ریوڑوں اَور اَپنے تمام مال و اَسباب کے ساتھ کنعانؔ کے مُلک سے آ گیٔے ہیں اَور اِس وقت گوشینؔ میں ہیں۔“
GEN 47:2 اُس نے اَپنے بھائیوں میں سے پانچ کو چُن کر اُنہیں فَرعوہؔ کے سامنے پیش کیا۔
GEN 47:3 فَرعوہؔ نے اُن بھائیوں سے پُوچھا، ”تمہارا پیشہ کیا ہے؟“ اُنہُوں نے فَرعوہؔ کو جَواب دیا، ”تمہارے خادِم گلّہ بان ہیں، جَیسے ہمارے آباؤاَجداد تھے۔“
GEN 47:4 اُنہُوں نے فَرعوہؔ سے یہ بھی کہا، ”ہم یہاں کچھ عرصہ کے لیٔے رہنے آئے ہیں کیونکہ مُلکِ کنعانؔ میں سخت قحط پڑا ہُواہے اَور تمہارے خادِموں کے پاس کویٔی مویشیوں کی چراگاہ نہیں ہے۔ لہٰذا براہِ کرم اَپنے خادِموں کو گوشینؔ میں بس جانے کی اِجازت دے دیجئے۔“
GEN 47:5 فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ سے کہا، ”تمہارا باپ اَور تمہارے بھایٔی تمہارے پاس آ گیٔے ہیں
GEN 47:6 اَور مِصر کا سارا مُلک تمہارے سامنے ہے۔ لہٰذا اَپنے باپ اَور بھائیوں کو مُلک کے بہترین علاقہ میں بسا دو۔ اُنہیں گوشینؔ میں بسنے دو اَور تمہاری دانست میں اُن میں جو لوگ قابلِ اِعتبار ہُوں اُنہیں میرے اَپنے مویشیوں کا نِگراں مُقرّر کر دو۔“
GEN 47:7 تَب یُوسیفؔ نے اَپنے باپ یعقوب کو اَندر لاکر اُنہیں فَرعوہؔ کی خدمت میں پیش کیا اَور یعقوب نے فَرعوہؔ کو برکت دی۔
GEN 47:8 فَرعوہؔ نے یعقوب سے پُوچھا، ”تیری عمر کیا ہے؟“
GEN 47:9 یعقوب نے فَرعوہؔ سے کہا، ”میری زندگی کے سفر کے ایک سَو تیس بَرس پُورے ہو چُکے ہیں۔ میری زندگی کے ایّام نہایت مُختصر اَور بےحد دُکھ بھرے ہیں۔ میں ابھی اَپنے آباؤاَجداد کی عمر کو نہیں پہُنچا۔“
GEN 47:10 تَب یعقوب نے فَرعوہؔ کو برکت دی اَور اُن کے سامنے سے باہر نکل گیا۔
GEN 47:11 اِس طرح یُوسیفؔ نے اَپنے باپ اَور بھائیوں کو مِصر میں آباد کیا اَور فَرعوہؔ کی ہدایات کے مُطابق مُلک کے بہترین علاقہ رَعمسیسؔ میں اُنہیں زمین اَور مکانات عطا فرمائے۔
GEN 47:12 یُوسیفؔ نے اَپنے باپ اَور اَپنے بھائیوں اَور اَپنے باپ کے سَب گھر والوں کے لیٔے اُن کے بچّوں کی تعداد کے مُطابق اشیائے خوردنی کا اِنتظام بھی کر دیا۔
GEN 47:13 چونکہ قحط نہایت شدید تھا اِس لیٔے اُس پُورے علاقہ میں کھانے پینے کی چیزیں نہ تھیں اَور مِصر اَور کنعانؔ دونوں مُلک قحط کی وجہ سے تباہ ہو گئے تھے۔
GEN 47:14 اَور یُوسیفؔ نے اناج بیچ بیچ کر مِصر اَور کنعانؔ کے لوگوں سے حاصل کی ہُوئی ساری دولت جمع کی اَور اُسے فَرعوہؔ کے محل میں لے آیا۔
GEN 47:15 جَب مِصر اَور کنعانؔ کے لوگوں کا سارا رُوپیہ خرچ ہو گیا تو مِصر کے تمام باشِندے یُوسیفؔ کے پاس آکر کہنے لگے، ”ہمیں کچھ کھانے کو دے دیجئے ورنہ ہم آپ کی نظروں کے سامنے بھُوکوں مَر جایٔیں گے۔ ہمارا سارا رُوپیہ خرچ ہو چُکاہے۔“
GEN 47:16 تَب یُوسیفؔ نے کہا، ”اَپنے مویشی لے آؤ اَور مَیں تُمہیں مویشیوں کے عِوض اناج بیچوں گا کیونکہ تمہارا رُوپیہ خرچ ہو چُکاہے۔“
GEN 47:17 چنانچہ وہ اَپنے مویشی لے کر یُوسیفؔ کے پاس آئے اَور اُس نے اُن کے گھوڑوں، اُن کی بھیڑوں اَور بکریوں، اُن کے گائے بَیلوں اَور گدھوں کے عِوض اُنہیں اناج دیا اَور اُس سال اُن کے تمام مویشیوں کے عِوض اُنہیں اناج دے کر اُس نے اُنہیں فاقوں سے بچائے رکھا۔
GEN 47:18 جَب وہ سال گزر گیا تو اُن کے بھایٔی اگلے بَرس یُوسیفؔ کے پاس آئے اَور کہنے لگے، ”ہم اَپنے آقا سے اِس حقیقت کو چھُپا نہیں سکتے کہ ہمارا سارا رُوپیہ خرچ ہو چُکاہے اَور ہمارے سارے مویشی بھی آپ کے ہو چُکے ہیں؛ لہٰذا اَب ہمارے پاس ہمارے جِسم اَور ہماری زمین کے سِوا کچھ بھی باقی نہیں۔
GEN 47:19 تمہارے ہوتے ہویٔے ہم کیوں ہلاک ہُوں اَور ہماری زمینیں اُجڑ جایٔیں؟ لہٰذا ہمیں اَور ہماری زمینوں کو اناج کے عِوض خرید لیں تاکہ ہم اَپنی زمینوں سمیت فَرعوہؔ کے غُلامی میں آ جایٔیں۔ ہمیں اناج دے دیجئے تاکہ ہم ہلاک ہونے سے بچ جایٔیں اَور مُلک بھی ویران نہ ہو۔“
GEN 47:20 چنانچہ یُوسیفؔ نے مِصر کی تمام زمین فَرعوہؔ کے لیٔے خرید لی۔ تمام مِصریوں نے قحط سے تنگ آکر اَپنے اَپنے کھیت بیچ ڈالے۔ اِس طرح ساری زمین فَرعوہؔ کی ہو گئی
GEN 47:21 اَور یُوسیفؔ نے مِصر کے ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک رہنے والے شہر کے تمام لوگوں کو غُلامی کے درجہ تک پہُنچا دیا۔
GEN 47:22 لیکن وہ کاہِنوں کی زمین نہ خرید سَکا کیونکہ اُنہیں فَرعوہؔ کی طرف سے باقاعدہ رسد ملتی تھی اَور اُس رسد میں سے اُن کے پاس کافی مقدار میں اشیائے خوردنی مَوجُود تھیں۔ اِسی وجہ سے اُنہُوں نے اَپنی زمین نہیں بیچی۔
GEN 47:23 تَب یُوسیفؔ نے لوگوں سے کہا، ”اَب جَب کہ آج کے دِن مَیں نے تُمہیں اَور تمہاری زمین کو فَرعوہؔ کے لیٔے خرید لیا ہے، اَب یہ بیج تمہارے لیٔے ہے تاکہ تُم اُسے زمین میں بو سکو۔
GEN 47:24 لیکن جَب فصل اُگ آئے تو اُس کا پانچواں حِصّہ فَرعوہؔ کو دینا اَور باقی کے چار حِصّے تُم رکھ لینا تاکہ وہ کھیتوں میں بونے کے لیٔے بیج کے کام آئیں اَور تمہارے اَپنے اَور تمہارے گھرانے اَور تمہارے بچّوں کے لیٔے کھانے کو ہو۔“
GEN 47:25 اُنہُوں نے کہا، ”آپ نے ہماری جانیں بچائیں۔ ہمارے آقا کی مہربانی ہم پر رہے۔ ہم فَرعوہؔ کے غُلام بنے رہیں گے۔“
GEN 47:26 اَور یُوسیفؔ نے مِصر کی زمین کے لیٔے یہ آئین بنا دیا جو آج تک رائج ہے کہ پیداوار کا پانچواں حِصّہ فَرعوہؔ کا ہوگا۔ صِرف کاہِنوں کی زمین ہی فَرعوہؔ کی مِلکیّت نہ سَمجھی جائے گی۔
GEN 47:27 اَور اِسرائیلی مِصر میں گوشینؔ کے علاقہ میں آباد ہو گئے۔ اُنہُوں نے وہاں جائدادیں کھڑی کر لیں اَور پھلے پھُولے اَور تعداد میں بہت ہی بڑھ گیٔے۔
GEN 47:28 اَور یعقوب مُلک مِصر میں سترہ سال اَور زندہ رہے اَور اُن کی کُل عمر ایک سَو سینتالیس سال کی تھی۔
GEN 47:29 جَب اِسرائیل کے مرنے کا وقت قریب آیا تو اُنہُوں نے اَپنے بیٹے یُوسیفؔ کو بُلایا اَور اُن سے فرمایا، ”اگر مُجھ پر آپ کی نظرِکرم ہُوئی ہے تو اَپنا ہاتھ میری ران کے نیچے رکھو اَور وعدہ کرو کہ تُم میرے ساتھ مہربانی اَور وفاداری سے پیش آؤگے۔ مُجھے مِصر میں دفن نہ کرنا۔
GEN 47:30 بَلکہ جَب مَیں اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو جاؤں تو مُجھے مِصر سے لے جا کر وہیں دفن کردینا جہاں وہ مدفون ہیں۔“ یُوسیفؔ نے کہا، ”جَیسا آپ نے کہا ہے، میں وَیسا ہی کروں گا۔“
GEN 47:31 یعقوب نے کہا، ”تُم مُجھ سے قَسم کھاؤ۔“ تَب یُوسیفؔ نے اُن سے قَسم کھائی اَور اِسرائیل نے اَپنے عصا کے سِرے کا سہارا لے کر سَجدہ کیا۔
GEN 48:1 کچھ عرصہ کے بعد یُوسیفؔ کو خبر مِلی، ”آپ کے باپ بیمار ہیں۔“ چنانچہ وہ گئے اَور اَپنے دو بیٹوں منشّہ اَور اِفرائیمؔ کو بھی ساتھ لے گئے۔
GEN 48:2 جَب یعقوب کو لوگوں نے بتایا، ”آپ کا بیٹا یُوسیفؔ آپ کے پاس آیا ہے۔“ تو اِسرائیل قُوّت پا کر اُٹھے اَور پلنگ پر بیٹھ گئے۔
GEN 48:3 اَور یعقوب نے یُوسیفؔ سے فرمایا، ”قادرمُطلق خُدا مُلکِ کنعانؔ کے لُوزؔ میں مُجھے دِکھائی دئیے وہاں اُنہُوں نے مُجھے برکت دی
GEN 48:4 اَور مُجھ سے کہا، ’میں تُمہیں سرفراز کروں گا اَور تمہاری تعداد کو بڑھاؤں گا۔ تمہاری قوم سے کیٔی اُمّتیں پیدا ہُوں گی اَور مَیں یہ مُلک تمہارے بعد تمہاری نَسل کو اَبدی مِیراث کے طور پر بخشوں گا۔‘
GEN 48:5 ”اَور تمہارے دو بیٹے جو تُمہیں مِصر میں میرے یہاں آنے سے پہلے پیدا ہویٔے میرے ہی شُمار کئے جایٔیں گے۔ جِس طرح رُوبِنؔ اَور شمعُونؔ میرے ہیں اُسی طرح اِفرائیمؔ اَور منشّہ بھی میرے ہی ہوں گے۔
GEN 48:6 اَورجو اَولاد اُن کے بعد تُمہیں ہوگی وہ تمہاری ہوگی اَورجو مِیراث وہ پائیں گے وہ اُن کے بھائیوں سے نامزد ہوگی۔
GEN 48:7 جَب مَیں فدّان سے لَوٹ رہاتھا تَب میری بدقسمتی سے راخلؔ نے کنعانؔ کے مُلک میں جَب ہم اِفرات سے کچھ ہی فاصلہ پر تھے وفات پائی۔ چنانچہ مَیں نے اُسے وہیں اِفرات (یعنی بیت لحمؔ) کے راستہ میں دفن کیا۔“
GEN 48:8 جَب اِسرائیل نے یُوسیفؔ کے بیٹوں کو دیکھا تو پُوچھا، ”یہ کون ہیں؟“
GEN 48:9 یُوسیفؔ نے اَپنے باپ سے کہا، ”یہ میرے بیٹے ہیں جو خُدا نے مُجھے یہاں دیئے ہیں۔“ تَب اِسرائیل نے کہا، ”اُنہیں میرے پاس لاؤ تاکہ مَیں اُنہیں برکت دُوں۔“
GEN 48:10 اِسرائیل کی آنکھیں بُڑھاپے کی وجہ سے دھُندلا گئی تھیں اَور وہ بمشکل دیکھ پاتے تھے۔ چنانچہ یُوسیفؔ اَپنے بیٹوں کو اُن کے قریب لائے اَور اُن کے باپ نے اُنہیں چُوما اَور گلے لگایا۔
GEN 48:11 اِسرائیل نے یُوسیفؔ سے کہا، ”مُجھے اُمّید نہ تھی کہ تمہارا چہرہ پھر سے دیکھ پاؤں گا اَور اَب دیکھو خُدا نے مُجھے تمہاری اَولاد بھی دیکھنے دی۔“
GEN 48:12 تَب یُوسیفؔ نے اُنہیں اِسرائیل کے گھٹنوں پر سے نیچے اُتارا اَور مُنہ کے بَل زمین پر جھُک کر سَجدہ کیا۔
GEN 48:13 جَب یُوسیفؔ اِفرائیمؔ کو اَپنے داہنے ہاتھ کے سہارے اَور منشّہ کو اَپنے بائیں ہاتھ کے سہارے اِسرائیل کے نزدیک لائے تو اِفرائیمؔ، اِسرائیل کی بائیں طرف اَور منشّہ اُن کی داہنی طرف تھا۔
GEN 48:14 لیکن اِسرائیل نے اَپنا داہنا ہاتھ بڑھایا اَور اِفرائیمؔ کے سَر پر رکھ دیا حالانکہ وہ چھوٹا تھا اَور اَپنے بائیں ہاتھ کو کانٹے کے طور پر منشّہ کے سَر پر رکھا حالانکہ وہ پہلوٹھا تھا۔ یعقوب نے جان بوجھ کر اَیسا کیا۔
GEN 48:15 تَب یعقوب نے یُوسیفؔ کو برکت دی اَور کہا، ”وہ خُدا جِس کے سامنے میرے آباؤاَجداد اَبراہامؔ اَور اِصحاقؔ نے اَپنی اَپنی زندگی کے دِن گزارے، وہ خُدا جو آج کے دِن تک عمر بھر میرا پاسبان رہا،
GEN 48:16 اَور وہ فرشتہ جِس نے مُجھے ساری بَلاؤں سے بچایا، اِن لڑکوں کو برکت دیں، اَور وہ میرے، اَور میرے آباؤاَجداد اَبراہامؔ اَور اِصحاقؔ کے نام سے منسوب ہُوں، اَور وہ زمین پر کثرت سے بڑھیں۔“
GEN 48:17 جَب یُوسیفؔ نے دیکھا کہ اُن کے باپ نے اَپنا داہنا ہاتھ اِفرائیمؔ کے سَر پر رکھا ہے تو ناخُوش ہُوئے اَور اُنہُوں نے اَپنے باپ کا داہنا ہاتھ تھام لیا تاکہ اُسے اِفرائیمؔ کے سَر پر سے ہٹا کر منشّہ کے سَر پر رکھیں۔
GEN 48:18 یُوسیفؔ نے اُن سے کہا، ”اَے میرے باپ اَیسا نہ کریں کیونکہ پہلوٹھا یہ ہے۔ اِس لیٔے اَپنا داہنا ہاتھ اِس کے سَر پر رکھیں۔“
GEN 48:19 لیکن اُن کے باپ راضی نہ ہُوئے اَور کہنے لگے، ”اَے میرے بیٹے میں بخُوبی جانتا ہُوں، وہ بھی ایک بڑی قوم بنے گا اَور وہ بھی برتر ہوگا۔ البتّہ اُس کا چھوٹا بھایٔی اُس سے بھی بڑا ہوگا اَور اُس کی نَسل سے بہت سِی قومیں پیدا ہُوں گی۔“
GEN 48:20 اُنہُوں نے اُنہیں اُس دِن برکت دی اَور کہا، ”بنی اِسرائیل تمہارا نام لے کر یُوں دعا دیا کریں گے: ’خُدا تمہارا اِفرائیمؔ اَور منشّہ کی مانند اِقبالمند کریں۔‘ “ یُوں اُنہُوں نے اِفرائیمؔ کو منشّہ پر فضیلت دی۔
GEN 48:21 تَب اِسرائیل نے یُوسیفؔ سے کہا، ”میں تو دُنیا سے رخصت ہونے والا ہُوں لیکن خُدا تمہارے ساتھ ہوگا اَور تُمہیں تمہارے آباؤاَجداد کے مُلک میں واپس لے جائے گا۔
GEN 48:22 چونکہ اَب تُم اَپنے بھائیوں کے مُربیّ ہو اِس لیٔے میں تُمہیں مُلک کے اُوپر والا حِصّہ دیتا ہُوں جسے مَیں نے اَپنی تلوار اَور کمان سے امُوریوں کے ہاتھ سے لیا تھا۔“
GEN 49:1 تَب یعقوب نے اَپنے بیٹوں کو بُلایا اَور کہا: ”تُم سَب جمع ہو جاؤ تاکہ مَیں تُمہیں بتاؤں کہ آئندہ دِنوں میں تُم پر کیا کیا گزرے گا۔
GEN 49:2 ”اَے یعقوب کے بیٹو جمع ہوکر سُنو؛ اَپنے باپ اِسرائیل کی طرف کان لگاؤ۔
GEN 49:3 ”اَے رُوبِنؔ تُم میرے پہلوٹھے ہو، میری قُوّت اَور میری ہمّت کا پہلا پھل ہو۔ تُمہیں اِعزاز اَور قُدرت میں سبقت حاصل ہے۔
GEN 49:4 تُم پانی کی طرح سرکش ہو اِس لیٔے تُمہیں فضیلت نہیں ملے گی، کیونکہ تُم نے اَپنے باپ کے بِستر کو ناپاک کیا، میرے بچھونے پر چڑھ کر تُم نے اُسے ناپاک کر ڈالا۔
GEN 49:5 ”اَے شمعُونؔ اَور لیوی تُم بھایٔی بھایٔی ہو۔ اُن کی تلواریں تشدّد کے ہتھیار ہیں۔
GEN 49:6 مُجھے اُن کی جماعت میں داخل نہ ہونے دو، اَور نہ اُن کی محفل میں شریک ہونے دو۔ کیونکہ اُنہُوں نے اَپنے غضب میں لوگوں کو قتل کیا، اَور جَب جی چاہا بَیلوں کی کُونچیں کاٹ دیں۔
GEN 49:7 لعنت ہو اُن کے غضب پرجو نہایت شدید تھا، اَور اُن کے قہر پر کیونکہ وہ نہایت سخت تھا! میں اُنہیں یعقوب میں مُنتشر اَور اِسرائیل میں پراگندہ کر دُوں گا۔
GEN 49:8 ”اَے یہُوداہؔ! تمہارے بھایٔی تمہاری مدح کریں گے؛ اَور تمہارا ہاتھ تمہارے دُشمنوں کی گردن پر ہوگا؛ اَور تمہارے باپ کی اَولاد تمہارے آگے سرنِگوں ہوگی۔
GEN 49:9 اَے یہُوداہؔ! تُم شیرببر کے بچّے ہو؛ میرے بیٹے! تُم شِکار کرکے لَوٹے ہو۔ وہ شیرببر بَلکہ شیرنی کی طرح دبک کر بیٹھ گئے، کون اُسے چھیڑنے کی جُرأت کرےگا؟
GEN 49:10 یہُوداہؔ کے قبیلہ سے عصائے شاہی نہیں چُھوٹے گی، اَور تمام قومیں اُس کی مطیع نہیں ہو جاتیں، تَب تک یہُوداہؔ کے ہاتھ سے نہ تو بادشاہی جائے گی، نہ ہی اُس کی نَسل سے شیلوہؔ یعنی عصائے شاہی موقُوف ہوگا۔
GEN 49:11 وہ اَپنا گدھا انگور کی بیل سے، اَور اَپنی گدھی کا بچّہ اَپنی پسند ترین شاخ سے باندھے گا۔ وہ اَپنا لباس مَے میں، اَور اَپنا جامہ کو انگور کے رس میں دھویا کرےگا۔
GEN 49:12 اُس کی آنکھیں انگوری شِیرے سے زِیادہ سُرخ، اَور اُس کے دانت دُودھ سے زِیادہ سفید ہوں گے۔
GEN 49:13 ”زبُولُون سمُندر کے کنارے بسے گا، اَور جہازوں کے لیٔے بندرگاہ ہوگا؛ اُس کی حد صیدونؔ تک پھیلی ہوگی۔
GEN 49:14 ”یِسَّکاؔر ایک مضبُوط گدھا ہے جو دو بھیڑوں کے باڑوں کے درمیان بیٹھا ہے۔
GEN 49:15 وہ ایک اَچھّی آرامگاہ ہے اَور خُوشنما زمین دیکھ کر، وہ اَپنے کندھے کو بوجھ اُٹھانے کے لیٔے جھُکاتا ہے اَور بیگاری میں غُلام کی مانند کام کرنے لگتا ہے۔
GEN 49:16 ”دانؔ اِسرائیل کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ کی حیثیت سے اَپنے لوگوں کا اِنصاف کرےگا۔
GEN 49:17 دانؔ راستہ کا سانپ ہے، اَور راہ گزر کا افعی ہے، جو گھوڑے کی اِیڑی کو اَیسے ڈستا ہے کہ اُس کا سوار پچھاڑ کھا کر گِر پڑتا ہے۔
GEN 49:18 ”اَے یَاہوِہ! مَیں آپ کی نَجات کی راہ دیکھتا ہُوں۔
GEN 49:19 ”گادؔ پر چھاپا ماروں کا ایک دستہ حملہ کرےگا، لیکن وہ اُن پر پیچھے سے ہلّا بول دے گا۔
GEN 49:20 ”آشیر کا اناج نفیس ہوگا اَور وہ بادشاہوں کے لائق لذیذ اَشیا مُہیّا کرےگا۔
GEN 49:21 ”نفتالی ایک آزاد کی ہُوئی ہِرنی کی مانند ہے، اُس کے مُنہ سے میٹھی میٹھی باتیں نکلتی ہیں۔
GEN 49:22 ”یُوسیفؔ پھلدار انگور کی بیل ہے، اَیسی پھلدار بیل جو پانی کے چشمہ کے پاس لگی ہے، جِس کی شاخیں دیوار پر چڑھی ہُوئی ہیں۔
GEN 49:23 تیر اَندازوں نے نہایت تیزی سے اُس پر حملہ کیا؛ عداوت سے اُنہُوں نے اُس پر تیر برسائے۔
GEN 49:24 لیکن یعقوب کے قادر کے ہاتھ سے، اَور اُس چرواہے کے سبب سے جو اِسرائیل کی چٹّان ہے، اُس کی کمان مضبُوط رہی، اَور اُس کے قوی بازوؤں کی قُوّت قائِم رہی۔
GEN 49:25 تمہارے باپ کے خُدا کے سبب جو تمہاری مدد کرتے ہیں، اَور قادرمُطلق کے سبب جو تُمہیں اُوپر سے آسمان کی برکتوں سے، اَور نیچے سے گہرے سمُندر کی برکتوں سے، اَور چھاتِیوں اَور رِحموں کی برکتوں سے نوازتے ہیں۔
GEN 49:26 تمہارے باپ کی برکتیں قدیم پہاڑوں کی برکتوں سے، اَور پرانی پہاڑیوں کی با اِفراط پیداوار سے بڑھ کر ہیں۔ یہ سَب یُوسیفؔ کے سَر پر، بَلکہ اُس کی پیشانی پر جو بھائیوں میں شہزادہ ہے نازل ہوتی رہیں۔
GEN 49:27 ”بِنیامین بھُوکا بھیڑیا ہے؛ جو صُبح کو شِکار کو پھاڑ کھاتا ہے، اَور شام کو لُوٹ کا مال بانٹتا ہے۔“
GEN 49:28 یہ سَب اِسرائیل کے بَارہ قبیلے ہیں اَور یہی وہ باتیں ہیں جو اُن کے باپ نے اُنہیں برکت دیتے وقت کہیں اَور ہر ایک کو وُہی برکت دی جِس کے وہ لائق تھا۔
GEN 49:29 تَب یعقوب نے اُنہیں یہ وصیّت کی، ”میں اَب جلد ہی اَپنے لوگوں میں جا ملوں گا۔ مُجھے اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ اُس غار میں دفن کرنا جو حِتّی عِفرونؔ کے کھیت میں ہے۔
GEN 49:30 یعنی اُسی غار میں جو مُلکِ کنعانؔ میں ممرےؔ کے نزدیک مکفیلہؔ کے کھیت میں ہے جسے اَبراہامؔ نے حِتّی عِفرونؔ سے قبرستان کے لیٔے کھیت سمیت خرید لیا تھا۔
GEN 49:31 جہاں اَبراہامؔ اَور اُن کی بیوی سارہؔ دفن کئے گیٔے جہاں اِصحاقؔ اَور اُن کی بیوی رِبقہؔ دفن ہویٔے اَور جہاں مَیں نے لِیاہؔ کو دفن کیا۔
GEN 49:32 وہ کھیت اَور اُس میں واقع غار حِتّیوں سے خریدے گیٔے تھے۔“
GEN 49:33 جَب یعقوب اَپنے بیٹوں کو وصیّت کرچکے تو اُنہُوں نے اَپنے پاؤں بِستر پر سمیٹ لیٔے اَور آخِری سانس لی اَور اَپنے لوگوں میں جا مِلے۔
GEN 50:1 یُوسیفؔ اَپنے باپ سے لپٹ کر رُوئے اَور اُنہیں چُوما۔
GEN 50:2 پھر یُوسیفؔ نے اَپنے طبیبوں کو حُکم دیا کہ وہ اُن کے باپ اِسرائیل کی لاش کو محفوظ رکھنے کے لیٔے اُس میں خُوشبودار مَسالے بھر دیں۔ چنانچہ طبیبوں نے اَیسا ہی کیا اَور لاش کو محفوظ کر دیا،
GEN 50:3 جِس میں پُورے چالیس دِن لگے کیونکہ لاش کو محفوظ کرنے کے لیٔے اِتنا ہی وقت درکار ہوتاہے۔ اَور مِصریوں نے ستّر دِن تک یعقوب کے لیٔے ماتم کیا۔
GEN 50:4 جَب ماتم کے دِن گزر گئے تَب یُوسیفؔ نے فَرعوہؔ کے درباریوں سے کہا، ”اگر مُجھ پر تمہاری مہربانی ہو تو میری ایک درخواست فَرعوہؔ تک پہُنچا دو،
GEN 50:5 ’میرے باپ نے مُجھ سے قَسم لے کر کہا ہے، ”مَیں اَب مرنے کو ہُوں؛ لہٰذا تُم مُجھے اُس قبر میں دفن کرنا جو مَیں نے مُلکِ کنعانؔ میں اَپنے لیٔے کھُدوائی ہے۔“ مُجھے اِجازت دیں کہ مَیں وہاں جا کر اَپنے باپ کو دفن کروں؛ اَور تَب میں لَوٹ کر آؤں گا۔‘ “
GEN 50:6 فَرعوہؔ نے کہا، ”جاؤ اَور اَپنے باپ کو جَیسے اُنہُوں نے تُم سے قَسم لی ہے، اُنہیں دفن کرو۔“
GEN 50:7 چنانچہ یُوسیفؔ اَپنے باپ کو دفن کرنے کے لیٔے روانہ ہُوئے اَور فَرعوہؔ کے سَب حاکم اَور اُس کے بُزرگ درباری اَور مِصر کے سَب اُمرا
GEN 50:8 اَور یُوسیفؔ کے گھر کے سَب افراد اُن کے بھایٔی اَور اُن کے باپ کے گھر کے سَب لوگ اُن کے ساتھ گیٔے۔ وہ صِرف اَپنے بچّے اَور اَپنی بھیڑ بکریوں کے گلّے اَور اَپنے مویشیوں کے ریوڑ گوشینؔ میں چھوڑ گیٔے۔
GEN 50:9 رتھوں اَور گُھڑسواروں کی ایک بڑی تعداد بھی اُن کے ساتھ تھی۔
GEN 50:10 جَب وہ یردنؔ کے نزدیک اَتدؔ کے کھلیان پر پہُنچے تو اُنہُوں نے وہاں نہایت بُلند اَور دِل سوز آواز سے نوحہ کیا اَور یُوسیفؔ نے اَپنے باپ کے لیٔے سات دِن تک ماتم کروایا۔
GEN 50:11 جَب وہاں کے کنعانی باشِندوں نے اَتدؔ کے کھلیان پر ماتم ہوتے دیکھا تو کہا، ”مِصریوں کا ماتم بڑا دردناک ہے۔“ اِس لیٔے یردنؔ کے قریب کی وہ جگہ ابیل مصرائیمؔ کہلاتی ہے۔
GEN 50:12 چنانچہ یعقوب کے بیٹوں نے وَیسا ہی کیا جَیسا اُس نے اُنہیں حُکم دیا تھا:
GEN 50:13 وہ اُنہیں مُلکِ کنعانؔ لے گیٔے اَور اُنہیں ممرےؔ کے نزدیک مکفیلہؔ کے کھیت کے اُس غار میں دفن کیا جسے اَبراہامؔ نے حِتّی عِفرونؔ سے کھیت سمیت قبرستان کے لیٔے خریدا تھا۔
GEN 50:14 اَپنے باپ کو دفن کرنے کے بعد یُوسیفؔ اَپنے بھائیوں اَور اُن سَب لوگوں کے ساتھ جو اُن کے باپ کو دفن کرنے کے لیٔے اُن کے ساتھ آئےتھے مِصر واپس لَوٹ گئے۔
GEN 50:15 جَب یُوسیفؔ کے بھائیوں نے دیکھا کہ اُن کے باپ وفات پا چُکے ہیں، تو اُنہُوں نے کہا، ”اگر یُوسیفؔ ہم سے دُشمنی رکھنے لگے اَور ساری بُرائی کا جو ہم نے اُس سے کی ہے پُورا بدلہ لینے لگے تو ہمارا کیا ہوگا؟“
GEN 50:16 تَب اُنہُوں نے یُوسیفؔ کو یہ کہلا بھیجا، ”تمہارے باپ نے اَپنی وفات سے پہلے یہ ہدایات دی تھیں کہ
GEN 50:17 ’تُم یُوسیفؔ سے کہنا کہ اَپنے بھائیوں کے گُناہوں اَور خطاؤں کو مُعاف کر دیں جنہوں نے آپ کے ساتھ اِتنی بدسلُوکیاں کیں،‘ چنانچہ براہِ کرم اَب آپ اَپنے باپ کے خُدا کے خادِموں کی خطاؤں کو مُعاف کر دیں۔“ جَب اُن کا پیغام یُوسیفؔ کے پاس پہُنچا تو وہ رو دئیے۔
GEN 50:18 تَب اُن کے بھایٔی بھی آئے اَور اُن کے سامنے گِر کے کہنے لگے، ”ہم تو تمہارے غُلام ہیں۔“
GEN 50:19 لیکن یُوسیفؔ نے اُن سے کہا، ”خوف نہ کرو۔ کیا میں خُدا کی جگہ ہُوں؟
GEN 50:20 تُم نے مُجھے نُقصان پہُنچانے کا اِرادہ کیا تھا لیکن خُدا نے اُس سے نیکی پیدا کر دی تاکہ بہت سِی جانیں سلامت بچ جایٔیں جَیسا تُم دیکھ رہے ہو۔
GEN 50:21 چنانچہ ڈرو نہیں۔ مَیں تمہاری اَور تمہارے بال بچّوں کی ضروریات پُوری کرتا رہُوں گا۔“ یُوں یُوسیفؔ نے اُنہیں تسلّی دی اَور اُن کے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آئے۔
GEN 50:22 یُوسیفؔ اَپنے باپ کے تمام خاندان کے ساتھ مِصر میں رہے اَور وہ ایک سَو دس بَرس تک جیتے رہے۔
GEN 50:23 اَور یُوسیفؔ نے اِفرائیمؔ کی اَولاد تیسری پُشت تک دیکھی اَور منشّہ کے بیٹے مکیرؔ کی اَولاد کو بھی یُوسیفؔ نے اَپنے گھٹنوں پر کھِلایا۔
GEN 50:24 تَب یُوسیفؔ نے اَپنے بھائیوں سے کہا، ”میں اَب مرنے کو ہُوں لیکن خُدا یقیناً تمہاری خبرگیری کریں گے اَور تُمہیں اِس مُلک سے نکال کر اُس مُلک میں پہُنچائیں گے، جسے دینے کا وعدہ اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب سے قَسم کھا کر کیا تھا۔“
GEN 50:25 اَور یُوسیفؔ نے بنی اِسرائیل سے قَسم لے کر کہا، ”خُدا یقیناً تمہاری مدد کے لئے آئیں گے اَور تَب تُم ضروُر ہی میری ہڈّیوں کو یہاں سے لے جانا۔“
GEN 50:26 اَور یُوسیفؔ نے ایک سَو دس بَرس کا ہوکر وفات پائی اَور اُنہُوں نے اُن کی لاش میں خُوشبودار مَسالے بھر کر، اُنہیں مِصر ہی میں ایک تابُوت میں محفوظ کر دیا۔
EXO 1:1 اِسرائیل کے بیٹوں کے نام جو اَپنے اَپنے گھرانے سمیت یعقوب کے ساتھ مِصر میں آئے وہ یہ ہیں:
EXO 1:2 رُوبِنؔ، شمعُونؔ، لیوی، یہُوداہؔ؛
EXO 1:3 یِسَّکاؔر، زبُولُون، بِنیامین؛
EXO 1:4 دانؔ اَور نفتالی؛ گادؔ اَور آشیر۔
EXO 1:5 اَور یعقوب کی نَسل کی کُل تعداد ستّر تھی، اَور یُوسیفؔ تو پہلے ہی مِصر میں تھے۔
EXO 1:6 اَور یُوسیفؔ اَور اُن کے سَب بھایٔی اَور وہ ساری پُشت فنا ہو گئی۔
EXO 1:7 لیکن بنی اِسرائیل سرفراز ہویٔے اَور افزائشِ نَسل کے باعث خُوب بڑھے اَور شُمار میں اِس قدر زِیادہ ہو گئے کہ وہ مُلک اُن سے بھر گیا۔
EXO 1:8 اُس وقت ایک نیا بادشاہ، جو یُوسیفؔ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا، مِصر پر حُکمراں ہو چُکاتھا۔
EXO 1:9 ”دیکھو،“ اُس نے اَپنے لوگوں سے کہا، ”ہمارے مُقابلہ میں بنی اِسرائیل کی تعداد بہت زِیادہ ہو گئی ہے۔
EXO 1:10 پس آؤ ہم اُن کے ساتھ ہوشیاری سے کام لیں، ورنہ اگر جنگ چھڑ گئی، تو وہ ہمارے دُشمنوں کے ساتھ مِل جایٔیں گے، اَور ہمارے خِلاف لڑیں گے اَور مُلک سے نکل جایٔیں گے۔“
EXO 1:11 لہٰذا اُنہُوں نے اُن پر بیگار لینے والے سرداروں کو مُقرّر کیا تاکہ اُن سے سخت کام لے کر اُن کو ستائیں اَور اُنہُوں نے فَرعوہؔ کے ذخیروں کے لیٔے شہر پِتومؔ اَور رَعمسیسؔ بنائے۔
EXO 1:12 لیکن اِسرائیلی جِس قدر زِیادہ ستائے گیٔے، اُسی قدر اُن کی تعداد اَور زِیادہ بڑھی اَور وہ پھیلتے چلے گیٔے۔ لہٰذا مِصری اُن سے خوف کھانے لگے۔
EXO 1:13 مِصری غُلام اِسرائیلیوں سے اَور بھی زِیادہ سختی سے کام لینے لگے۔
EXO 1:14 اَور اُنہُوں نے اُن سے اینٹیں اَور گارا بنوا بنوا کر اَور کھیتوں میں ہر قِسم کی خدمت لے کر اُن کی زندگیاں تلخ کر دیں، اَور اُن کی ساری محنت اَور مشقّت میں مِصری اُن پر تشدّد کرتے تھے۔
EXO 1:15 اَور مِصر کے بادشاہ نے عِبرانی دائیوں، کو جِن کے نام شِفرہؔ اَور پُوعہؔ تھے کہا،
EXO 1:16 ”جَب تُم عِبرانی عورتوں کو بچّہ پیدا کرنے میں مدد کرو اَور اُنہیں وضعِ حَمل کی تِپائی پر بیٹھی دیکھو تو اگر لڑکا ہو تو اُسے مار ڈالنا؛ لیکن اگر لڑکی ہو تو، اُسے زندہ رہنے دینا۔“
EXO 1:17 مگر اُن دائیوں نے خُدا کا خوف کرتے ہویٔے، اَیسا کام نہ کیا جو مِصر کے بادشاہ نے اُنہیں کرنے کے لیٔے حُکم دیا تھا؛ بَلکہ اُنہُوں نے لڑکوں کو زندہ رہنے دیا۔
EXO 1:18 تَب مِصر کے بادشاہ نے اُن دائیوں کو طلب کیا اَور اُن سے بازپُرس کی، ”تُم نے اَیسا کیوں کیا؟ تُم نے لڑکوں کو کیوں زندہ رہنے دیا؟“
EXO 1:19 اُن دائیوں نے فَرعوہؔ کو جَواب دیا، ”عِبرانی عورتیں مِصری عورتوں کی مانند نہیں ہیں؛ وہ اَیسی توانا ہوتی ہیں، دائیوں کے آنے سے پیشتر ہی بچّہ پیدا کر لیتی ہیں۔“
EXO 1:20 پس خُدا اُن دائیوں پر مہربان تھا، اَور لوگ بڑھتے چلے گیٔے اَور تعداد میں اَور بھی زِیادہ ہو گئے۔
EXO 1:21 اَور چونکہ دائیوں نے خُدا کا خوف مانا، اِس لیٔے خُدا نے اُنہیں بھی بال بچّے والیاں بنا دیا۔
EXO 1:22 تَب فَرعوہؔ نے اَپنے تمام لوگوں کو یہ حُکم دیا: ”ہر اِسرائیلی لڑکا جو پیدا ہو وہ ضروُر دریائے نیل میں پھینک دیا جائے۔ لیکن ہر ایک لڑکی کو زندہ رہنے دیا جائے۔“
EXO 2:1 اَور لیوی کے قبیلہ کے ایک اِنسان نے لیوی نَسل کی ایک عورت سے شادی کی۔
EXO 2:2 اَور وہ حاملہ ہُوئی اَور اُس سے ایک بیٹا پیدا ہُوا۔ جَب اُس نے دیکھا کہ وہ ایک خُوبصورت بچّہ ہے، تو اُس نے تین مہینے تک اُسے چُھپائے رکھا۔
EXO 2:3 اَور جَب وہ آخِر اُسے زِیادہ دیر چھُپا نہ سکی، تو اُس نے اُس کے لیٔے سَرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنایا اَور اُس پر تارکول اَور رال کا پلستر کیا اَور پھر اُس بچّہ کو اُس میں رکھ کر دریائے نیل کے کنارے سَرکنڈوں میں رکھ آئی۔
EXO 2:4 اَور اُس کی بہن یہ دیکھنے کے لیٔے کہ اُس کے ساتھ کیا ہوتاہے، کُچھ دُور کھڑی رہی۔
EXO 2:5 فَرعوہؔ کی بیٹی دریائے نیل میں غُسل کرنے واسطے آئی اَور اُس کی لونڈی سہیلیاں دریا کے کنارے کنارے ٹہل رہی تھیں۔ فَرعوہؔ کی بیٹی نے سَرکنڈوں میں ٹوکرے کو دیکھ کر اَپنی ایک خادِمہ کو بھیجا کہ اُسے اُٹھا لایٔے۔
EXO 2:6 جَب اُس نے اُسے کھولا تو دیکھا کہ اُس میں بچّہ ہے۔ بچّہ رو رہاتھا اَور اُسے اُس پر رحم آیا اَور اُس نے کہا، ”یہ تو کویٔی عِبرانی بچّہ ہے۔“
EXO 2:7 تَب اُس بچّہ کی بہن نے فَرعوہؔ کی بیٹی سے پُوچھا، ”کیا میں جا کر کسی عِبرانی عورت کو لے آؤں جو آپ کے لیٔے اِس بچّہ کو دُودھ پِلایا کرے؟“
EXO 2:8 فَرعوہؔ کی بیٹی نے جَواب دیا، ”ہاں جاؤ!“ اَور وہ لڑکی جا کر اُس بچّہ کی ماں کو بُلا لائی۔
EXO 2:9 تَب فَرعوہؔ کی بیٹی نے اُس سے کہا، ”اِس بچّہ کو لے جا اَور میرے لیٔے دُودھ پِلا اَور مَیں تُمہیں تمہاری اُجرت دیا کروں گی۔“ لہٰذا وہ عورت اُس بچّہ کو لے جا کر دُودھ پِلانے لگی۔
EXO 2:10 اَور جَب وہ بچّہ کچھ بڑا ہو گیا تو وہ اُسے فَرعوہؔ کی بیٹی کے پاس لے گئی اَور وہ اُس کا بیٹا بَن گیا اَور اُس نے اُس کا نام یہ کہتے ہویٔے مَوشہ رکھا، ”مَیں نے اُسے پانی سے نکالا۔“
EXO 2:11 اُس کے بعد جَب مَوشہ بڑے ہُوئے تو ایک دِن وہ باہر اَپنے لوگوں کے پاس گئے اَور اُنہیں سخت محنت کرتے دیکھا۔ اُنہُوں نے دیکھا کہ ایک مِصری ایک عِبرانی کو جو مَوشہ کی اَپنی قوم سے تھا مار رہاہے۔
EXO 2:12 اُنہُوں نے اِدھر اُدھر نگاہ کی اَور جَب دیکھا کہ کویٔی نہیں تو اُنہُوں نے اُس مِصری کو مار ڈالا اَور اُسے ریت میں چھُپا دیا۔
EXO 2:13 اَور دُوسرے دِن جَب وہ پھر باہر گیٔے تو اُنہُوں نے دو عِبرانیوں کو آپَس میں لڑتے دیکھا۔ تَب مَوشہ نے اُس قُصُوروار سے پُوچھا، ”تُم اَپنے عِبرانی بھایٔی کو کیوں مار رہے ہو؟“
EXO 2:14 اُس اِنسان نے کہا، ”آپ کو کِس نے ہم پر حاکم اَور قاضی مُقرّر کیا ہے؟ جِس طرح آپ نے اُس مِصری کو قتل کر ڈالا تھا کیا مُجھے بھی اُسی طرح مار ڈالنا چاہتے ہیں؟“ تَب مَوشہ ڈر گئے اَور اُنہُوں نے سوچا، ”جو کُچھ مَیں نے کیا تھا یقیناً اُس کا راز کھُل گیا ہے۔“
EXO 2:15 جَب فَرعوہؔ نے یہ سُنا تو اُس نے مَوشہ کو مار ڈالنے کی کوشش کی، لیکن مَوشہ فَرعوہؔ کی حُضُوری سے چلےگئے اَور مِدیان میں رہنے کے لیٔے فرار ہو گئے، اَور وہاں وہ ایک کنوئیں کے پاس جا کر بیٹھ گیٔے۔
EXO 2:16 مِدیان کے ایک کاہِنؔ کی سات بیٹیاں تھیں۔ وہ اَپنے باپ کی بھیڑ بکریوں کو پانی پِلانے کے لیٔے آئیں تاکہ پانی کنوئیں سے نکال کر حوض میں بھر دیں۔
EXO 2:17 اَور کچھ چرواہے بھی وہاں چلے آئے جنہوں نے اُن کو وہاں سے ہٹا دیا، لیکن مَوشہ اُٹھے اَور اُن کی مدد کو آ گئے اَور اُنہُوں نے اُن کے گلّہ کو پانی پِلایا۔
EXO 2:18 جَب وہ لڑکیاں اَپنے باپ رِعوایلؔ کے پاس واپس آئیں، ”تو اُس نے پُوچھا کہ آج تُم اِتنی جلدی کیسے آ گئیں؟“
EXO 2:19 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ایک مِصری نے ہمیں چرواہوں کے ہاتھ سے بچایا۔ اُس نے ہمارے لیٔے پانی بھر بھر کر نکالا اَور بھیڑ بکریوں کو بھی پِلایا۔“
EXO 2:20 رِعوایلؔ نے اَپنی لڑکیوں سے پُوچھا، ”وہ کہاں ہے؟ تُم اُسے چھوڑ کیوں آئیں؟ اُسے بُلا لاؤ کہ وہ کھانا کھالے۔“
EXO 2:21 اَور مَوشہ اُس اِنسان کے ساتھ رہنے پر رضامند ہو گئے اَور اُس اِنسان نے اَپنی بیٹی ضِفورہؔ کی شادی مَوشہ سے کر دی۔
EXO 2:22 اَور ضِفورہؔ کے ایک بیٹا ہُوا۔ مَوشہ نے اُس کا نام یہ کہتے ہویٔے گیرشوم رکھا، ”میں پردیس مُلک میں اجنبی ہُوں۔“
EXO 2:23 اَور اُس طویل عرصہ کے دَوران وہ مِصر کا بادشاہ مَر گیا اَور بنی اِسرائیل اَپنی غُلامی میں کراہنے اَور رونے لگے اَور غُلامی کے باعث مدد کے لیٔے اُن کی آہ و زاری خُدا تک جا پہُنچی۔
EXO 2:24 اَور خُدا نے اُن کا کراہنا سُنا اَور خُدا نے اَپنے عہد کو جو اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کے ساتھ باندھا تھا یاد کیا۔
EXO 2:25 لہٰذا خُدا نے اِسرائیل کی طرف نگاہ کی اَور اُن کے حالات پر غور فرمایا۔
EXO 3:1 ایک دفعہ اَیسا ہُوا کہ مَوشہ اَپنے سسُر، یتروؔ کی جو مِدیان کے کاہِنؔ تھے بھیڑ بکریاں چرا رہے تھے اَور وہ اُس گلّہ کو ہانک کر دُور بیابان کے دُوسری طرف خُدا کے پہاڑ حورِبؔ تک لے گیٔے۔
EXO 3:2 وہاں یَاہوِہ کا ایک فرشتہ جلتی ہویٔی جھاڑی کے درمیان آگ کے شُعلوں میں ظاہر ہُوا۔ مَوشہ نے دیکھا کہ وہ جھاڑی جَل رہی ہے لیکن راکھ نہیں ہوتی۔
EXO 3:3 لہٰذا مَوشہ نے سوچا، ”میں اَچھّی طرح جائزہ لُوں گا اَور اِس عجِیب منظر کو دیکھوں گا کہ آخِر وہ جھاڑی بھسم کیوں نہیں ہوتی!“
EXO 3:4 جَب یَاہوِہ نے دیکھا کہ وہ بھیڑ بکریوں کو چھوڑکر جھاڑی کے پاس آ پہُنچا ہے کہ اُس کا جائزہ لے، تو خُدا نے جلتی ہویٔی جھاڑی میں سے اُسے پُکارا، ”مَوشہ! مَوشہ!“ اَور مَوشہ نے کہا، ”مَیں حاضِر ہُوں۔“
EXO 3:5 تَب خُدا نے کہا، ”بہت زِیادہ نزدیک ہرگز مت آنا اَور اَپنے جُوتے اُتارو، کیونکہ جِس جگہ تُم کھڑے ہو وہ پاک سرزمین ہے۔“
EXO 3:6 اَور پھر خُدا نے فرمایا، ”مَیں تمہارے باپ کا خُدا یعنی اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کا، خُدا ہُوں۔“ اِس پر مَوشہ نے اَپنا مُنہ چھُپا لیا، کیونکہ وہ خُدا کی نظر کی تاب نہ لا سکنے سے ڈرتے تھے۔
EXO 3:7 اَور یَاہوِہ نے فرمایا، ”مَیں نے واقعی مِصر میں اَپنے لوگوں کو سخت تکلیف میں دیکھاہے؛ اَور مَیں نے اُنہیں بیگار لینے والوں کے باعث روتے اَور فریاد کرتے سُنا ہے اَور مُجھے اُن کے دُکھوں کا خیال ہے۔
EXO 3:8 اِس لیٔے میں اُنہیں مِصریوں کے ہاتھ سے چھُڑانے کے لیٔے اُترا ہُوں، تاکہ اُنہیں اُس مُلک سے نکال کر ایک اَچھّے اَور وسیع مُلک میں جہاں دُودھ اَور شہد بہتا ہے یعنی کنعانیوں، حِتّیوں، امُوریوں، پَرزّیوں، حِوّیوں اَور یبُوسیوں کے مُلک میں پہُنچاؤں۔
EXO 3:9 اَور اَب بنی اِسرائیل کا رونا، چِلّانا اَور اُن کی فریاد مُجھ تک پہُنچ گئی ہے؛ اَور جِس طرح مِصری اُن پر ظُلم کرتے مَیں نے اُسے بھی دیکھاہے۔
EXO 3:10 لہٰذا اَب جاؤ میں تُمہیں فَرعوہؔ کے پاس بھیجتا ہُوں تاکہ تُم میری قوم بنی اِسرائیل کو مِصر سے نکال لاؤ۔“
EXO 3:11 لیکن مَوشہ نے خُدا سے کہا، ”مَیں کون ہُوں جو فَرعوہؔ کے پاس جاؤں اَور بنی اِسرائیل کو مِصر سے باہر نکال لاؤں؟“
EXO 3:12 تَب خُدا نے فرمایا، ”مَیں تمہارے ساتھ ہُوں گا، اَور اِس بات کا کہ مَیں نے تُمہیں بھیجا ہے تمہارے لیٔے یہ نِشان ہوگا کہ جَب تُم اُن لوگوں کو مِصر سے باہر نکال کر لے آؤگے، تو تُم اِس پہاڑ پر خُدا کی عبادت کروگے۔“
EXO 3:13 تَب مَوشہ نے خُدا سے کہا، ”اگر مَیں بنی اِسرائیل کے پاس جا کر اُنہیں کہُوں، ’تمہارے آباؤاَجداد کے خُدا نے مُجھے تمہارے پاس بھیجا ہے،‘ اَور وہ مُجھ سے پُوچھیں، ’اُس کا نام کیا ہے،‘ تو میں اُنہیں کیا بتاؤں؟“
EXO 3:14 خُدا نے مَوشہ سے فرمایا، ”میں جو ہُوں سو مَیں ہُوں۔ سو تُم بنی اِسرائیل سے یُوں کہنا، ’میں جو ہُوں نے مُجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔‘ “
EXO 3:15 خُدا نے مَوشہ سے یہ بھی فرمایا، ”تُم بنی اِسرائیل سے کہنا، ’یَاہوِہ، تمہارے باپ کا خُدا یعنی اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کا خُدا، نے مُجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔‘ ”اَبد تک میرا یہی نام ہے، اَور مَیں پُشت در پُشت اَور اِسی نام سے یاد کیا جاؤں گا۔
EXO 3:16 ”جاؤ، اَور بنی اِسرائیل کے بُزرگوں کو جمع کرکے اُن سے کہو، ’یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد کے خُدا یعنی اَبراہامؔ اِصحاقؔ اَور یعقوب کے خُدا نے مُجھے دِکھائی دے کر کہا کہ مَیں نے تُم پر نظرِکرم کی ہے اَور مِصر میں جو سلُوک تمہارے ساتھ کیا گیا ہے اُسے بھی دیکھاہے۔
EXO 3:17 اَور مَیں نے وعدہ کیا ہے کہ میں تُمہیں مِصر میں تمہاری سخت تکلیف سے نکال کر کنعانیوں، حِتّیوں، امُوریوں، پَرزّیوں، حِوّیوں اَور یبُوسیوں کے مُلک میں پہُنچاؤں گا جہاں دُودھ اَور شہد بہتا ہے۔‘
EXO 3:18 ”اَور بنی اِسرائیل کے بُزرگ تمہاری بات سُنیں گے۔ تَب تُم اُن بُزرگوں کے ساتھ مِصر کے بادشاہ کے پاس جا کر کہنا، ’یَاہوِہ کی یعنی عِبرانیوں کے خُدا کی ہم سے مُلاقات ہُوئی۔ ہمیں تین دِن کے سفر تک بیابان میں جانے دو تاکہ ہم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے لیٔے قُربانی پیش کریں۔‘
EXO 3:19 لیکن مَیں جانتا ہُوں کہ مِصر کا بادشاہ تُمہیں تَب تک نہ جانے دے گا جَب تک کہ کویٔی قوی ہاتھ اُسے مجبُور نہ کر دے۔
EXO 3:20 لہٰذا میں اَپنا ہاتھ بڑھاؤں گا اَور اُن مِصریوں کے درمیان اُن تمام عجائبات سے جو میں اُن کے درمیان کروں گا اُن کو ماروں گا۔ اُس کے بعد وہ تُمہیں جانے دے گا۔
EXO 3:21 ”اَور مَیں مِصریوں کو اِن لوگوں پر مہربان کر دُوں گا تاکہ جَب تُم مِصر سے جاؤ تو تُم خالی ہاتھ نہ جاؤ۔
EXO 3:22 تمہاری ہر ایک عورت کو چاہیے کہ وہ اَپنی پڑوسن سے یا کسی بھی عورت سے جو اُس کے گھر میں مہمان ہو سونے چاندی کے زیور اَور لباس مانگ لے جو تُم اَپنے بیٹوں اَور بیٹیوں کو پہناؤگے اَور اِس طرح تُم مِصریوں کو لُوٹ لوگے۔“
EXO 4:1 مَوشہ نے جَواب دیا، ”لیکن اگر وہ میرا یقین نہ کریں یا میری بات نہ سُنیں، اَور کہیں، ’یَاہوِہ تُمہیں دِکھائی نہیں دئیے تو پھر میں کیا کروں گا؟‘ “
EXO 4:2 تَب یَاہوِہ نے کہا، ”تمہارے ہاتھ میں یہ کیا ہے؟“ مَوشہ نے جَواب دیا، ”عصا ہے۔“
EXO 4:3 پھر یَاہوِہ نے کہا، ”اُسے زمین پر ڈال دو!“ تَب مَوشہ نے اُسے زمین پر ڈال دیا، اَور وہ عصا سانپ بَن گیا اَور مَوشہ اُس سے ڈر کر بھاگے۔
EXO 4:4 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”اَپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے دُم سے پکڑ لو!“ لہٰذا مَوشہ نے ہاتھ بڑھا کر سانپ کو پکڑ لیا اَور وہ اُن کے ہاتھ میں پھر سے عصا بَن گیا!
EXO 4:5 یَاہوِہ نے فرمایا، ”یہ اِس لیٔے ہُوا،“ تاکہ، ”وہ یقین کریں کہ یَاہوِہ اُن کے آباؤاَجداد کا خُدا یعنی اَبراہامؔ کا خُدا اِصحاقؔ کا خُدا اَور یعقوب کا خُدا تُم پر ظاہر ہویٔے ہیں۔“
EXO 4:6 تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”اَپنا ہاتھ اَپنے چوغہ کے اَندر رکھو۔“ لہٰذا مَوشہ نے اَپنا ہاتھ اَپنے چوغہ کے اَندر رکھ لیا اَور جَب مَوشہ نے اُسے باہر نکالا، تو وہ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا۔
EXO 4:7 تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”اَب اِسے پھر سے واپس اَپنے چوغہ کے اَندر رکھو۔“ لہٰذا مَوشہ نے اَپنا ہاتھ پھر سے چوغہ کے اَندر رکھ لیا؛ اَور جَب مَوشہ نے اُسے باہر نکالا تو وہ پھر اُن کے باقی جِسم کی مانند پہلے جَیسا ہو گیا تھا۔
EXO 4:8 تَب یَاہوِہ نے کہا، ”اگر وہ تمہارا یقین نہ کریں یا پہلے والے معجزانہ نِشان کی بھی پرواہ نہ کریں تو ہو سَکتا ہے کہ وہ دُوسرے معجزانہ نِشان کا یقین کر لیں۔
EXO 4:9 لیکن اگر وہ اِن دونوں حیرت اَنگیز نِشانوں کا یقین نہ کریں یا تمہاری بات نہ سُنیں تو تُم دریائے نیل سے کُچھ پانی لے کر اُسے خشک زمین پر اُنڈیل دینا۔ اَور وہ پانی جو تُم دریا سے لوگے زمین پر خُون ہو جائے گا۔“
EXO 4:10 تَب مَوشہ نے یَاہوِہ سے کہا، ”اَے خُداوؔند! مَیں کبھی بھی خُوش گُفتار نہیں رہا ہُوں۔ نہ ماضی میں اَور نہ ہی جَب سے آپ نے اَپنے خادِم سے کلام کیا ہے۔ میں روانی سے نہیں بول سَکتا اَور میری زبان میں لکنت ہے۔“
EXO 4:11 تَب یَاہوِہ نے اُن سے پُوچھا، ”اِنسان کو اُس کا مُنہ کِس نے دیا ہے؟ کون اُس کو بہرہ یا گُونگا بناتا ہے؟ کون اُس کو بینائی دیتاہے یا اَندھا بناتا ہے؟ کیا وہ مَیں یَاہوِہ ہی نہیں ہُوں؟
EXO 4:12 اِس لئے اَب تُم جاؤ۔ میں بولنے میں تمہاری مدد کروں گا اَورجو کُچھ تُمہیں کہنا ہوگا تُمہیں سِکھاؤں گا۔“
EXO 4:13 لیکن مَوشہ نے کہا، ”اَے خُداوؔند! مہربانی کرکے یہ کام کرنے کے لیٔے کسی اَور کو بھیج دیں۔“
EXO 4:14 تَب یَاہوِہ کا غُصّہ مَوشہ کے خِلاف بھڑک اُٹھا اَور اُنہُوں نے کہا، ”بنی لیوی اَہرونؔ تمہارے بھایٔی کا کیا حال ہے؟ میں جانتا ہُوں کہ وہ روانی سے کلام کر سَکتا ہے۔ وہ تُم سے مُلاقات کرنے پہلے ہی چلا آ رہاہے اَور تُمہیں دیکھ کر اُسے دِلی مسرّت ہوگی۔
EXO 4:15 اَور تُم کھُل کر اَپنی باتیں اُسے بتانا تاکہ وہ اُنہیں اَپنے مُنہ سے کہہ سکے اَور مَیں بولنے میں تُم دونوں کی مدد کروں گا۔ اَورجو کچھ کرنا ہوگا تُمہیں سِکھاؤں گا۔
EXO 4:16 وہ تمہاری طرف سے لوگوں سے باتیں کرےگا گویا وہ تمہارا مُنہ ہے اَور تُم اُس کے لیٔے خُدا کی مانند ہو۔
EXO 4:17 لیکن اِس عصا کو اَپنے ہاتھ میں رکھنا تاکہ تُم اِس کے ذریعہ حیرت اَنگیز نِشانات کو دِکھا سکو۔“
EXO 4:18 تَب مَوشہ اَپنے سسُر یتروؔ کے پاس واپس ہویٔے اَور کہا، ”مُجھے مِصر میں اَپنے لوگوں کے پاس واپس جانے کی اِجازت دیجئے تاکہ میں دیکھوں کہ آیا اُن میں سے کُچھ اَب بھی زندہ ہیں یا نہیں؟“ یتروؔ نے کہا، جاؤ، ”سلامتی کے ساتھ رخصت ہو!“
EXO 4:19 اَور یَاہوِہ نے مِدیان میں مَوشہ سے یہ کہاتھا، ”مِصر میں واپس جاؤ کیونکہ وہ سَب جو تمہارے خُون کے پیاسے تھے مَر چُکے ہیں۔“
EXO 4:20 لہٰذا مَوشہ نے اَپنی بیوی اَور بیٹوں کو ساتھ لیا اَور اُن کو ایک گدھے پر سوار کرکے مُلک مِصر واپس جانے کے لیٔے روانہ ہویٔے اَور مَوشہ نے خُدا کا وہ عصا بھی اَپنے ہاتھ میں لے لیا۔
EXO 4:21 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”جَب تُم مِصر میں واپس پہُنچو تو دیکھنا کہ تُم وہ سَب عجائب جِن کے کرنے کی مَیں نے تُمہیں طاقت بخشی ہے فَرعوہؔ کے سامنے ضروُر دِکھانا۔ لیکن مَیں فَرعوہؔ کا دِل سخت کر دُوں گا، لہٰذا وہ لوگوں کو جانے نہیں دے گا۔
EXO 4:22 تَب فَرعوہؔ سے کہنا،‏ ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں‏: اِسرائیل میرا پہلوٹھا بیٹا ہے،
EXO 4:23 اَور مَیں نے تُمہیں کہا، ”میرے بیٹے کو جانے دو تاکہ وہ میری عبادت کر سکے۔“ لیکن تُم نے اِنکار کیا اَور اُسے جانے نہ دیا؛ لہٰذا مَیں تمہارے پہلوٹھے بیٹے کو مار ڈالوں گا۔‘ “
EXO 4:24 اَور راستہ میں ایک جگہ جہاں وہ رات بھرکے لیٔے رُکے تھے یَاہوِہ مَوشہ کو مِلے اَور اُس کو مار ڈالنے ہی والے تھے
EXO 4:25 کہ ضِفورہؔ نے ایک تیز سا پتّھر لیا اَور اَپنے بیٹے کا ختنہ کر دیا اَور کٹی ہُوئی کھلڑی سے مَوشہ کے پیر کو چھُوا اَور کہا، ”یقیناً آپ میرے لیٔے خُون بہانے والے دُلہا ہیں،“
EXO 4:26 لہٰذا یَاہوِہ نے مَوشہ کو چھوڑ دیا (اُس وقت اُس کی، ”خُون بہانے والے دُلہا سے،“ مُراد ختنہ تھی)۔
EXO 4:27 اَور یَاہوِہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”مَوشہ سے مُلاقات کرنے کے لیٔے بیابان میں جاؤ۔“ پس وہ خُدا کے پہاڑ پر مَوشہ سے مِلے اَور اَہرونؔ نے مَوشہ کو بوسہ دیا۔
EXO 4:28 تَب مَوشہ نے اَہرونؔ کو وہ سَب کُچھ بتا دیا جسے کہنے کے لیٔے یَاہوِہ نے اُنہیں بھیجا تھا۔ نیز اُن حیرت اَنگیز نِشانات کا بھی ذِکر کیا جِن کے دِکھانے کا یَاہوِہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
EXO 4:29 پھر مَوشہ اَور اَہرونؔ گیٔے اَور اُنہُوں نے بنی اِسرائیل کے سَب بُزرگوں کو ایک جگہ جمع کیا۔
EXO 4:30 اَور اَہرونؔ نے اُنہیں ہر ایک بات بتایٔی جو یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہی تھی اَور مَوشہ نے لوگوں کے سامنے معجزے بھی دِکھائے۔
EXO 4:31 تَب اُنہُوں نے یقین کیا اَور جَب اُنہُوں نے سُنا کہ یَاہوِہ کو اِسرائیلیوں کا خیال ہے اَور یَاہوِہ نے اُن کی تکالیف دیکھی ہیں تو اُنہُوں نے سَر جھُکا کر سَجدہ کیا۔
EXO 5:1 بعدازاں مَوشہ اَور اَہرونؔ فَرعوہؔ کے پاس گیٔے اَور فرمایا، ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’میرے لوگوں کو جانے دو تاکہ وہ بیابان میں میرے لیٔے عید منائیں۔‘ “
EXO 5:2 فَرعوہؔ نے فرمایا، ”کون ہے یَاہوِہ جِس کی بات میں مَانوں اَور اِسرائیل کو یہاں سے جانے دُوں؟ مَیں یَاہوِہ کو نہیں جانتا اَور مَیں اِسرائیل کو یہاں سے جانے نہیں دُوں گا۔“
EXO 5:3 تَب اُنہُوں نے کہا، ”عِبرانیوں کے خُدا ہم سے ملے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اِجازت دو کہ ہم بیابان میں تین دِن کی مَسافت طے کرکے جایٔیں، اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کے لیٔے قُربانی پیش کریں، ورنہ وہ ہمیں وَبا یا تلوار سے ہلاک کروا دیں گے۔“
EXO 5:4 لیکن مِصر کے بادشاہ نے کہا، ”اَے مَوشہ اَور اَہرونؔ، تُم اُن لوگوں سے اُن کا کام کیوں چھُڑوا رہے ہو؟ جاؤ، اَپنا کام کرو!“
EXO 5:5 فَرعوہؔ نے مزید کہا، ”دیکھو، مُلک میں اُن لوگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے اَور تُم اُنہیں کام کرنے سے روک رہے ہو!“
EXO 5:6 اَور اُسی دِن فَرعوہؔ نے بیگار لینے والے غُلاموں اَور اُن لوگوں پر نِگرانوں کو یہ حُکم دیا:
EXO 5:7 ”آئندہ تُم اُن لوگوں کو اینٹیں بنانے کے لیٔے، بھُوسا مُہیّا نہ کرنا بَلکہ اُنہیں اَپنے لیٔے بھُوسا خُود ہی جا کر جمع کرنے دینا؛
EXO 5:8 لیکن اُن سے اُتنی ہی اینٹیں بنوانا جِتنی وہ پہلے بناتے تھے؛ اَور اُن کے لیٔے اینٹوں کی مُقرّر کی گئی تعداد کم نہ کرنا؛ وہ کاہل ہیں، اَور اِس لیٔے وہ چِلّا رہے ہیں، ’آؤ چلیں اَور اَپنے خُدا کے لیٔے قُربانی پیش کریں۔‘
EXO 5:9 اُن اِنسانوں سے سخت محنت لی جائے تاکہ وہ کام میں مشغُول رہیں، اَور جھُوٹی باتوں کی طرف مُتوجّہ نہ ہوں۔“
EXO 5:10 تَب اُن بیگار لینے والے غُلاموں اَور اُن نِگراں سرداروں نے جو اُن پر مُقرّر تھے جا کر اُن لوگوں سے کہا، ”فَرعوہؔ یُوں فرماتا ہے، ’آئندہ تُمہیں بھُوسا نہیں دیا جائے گا۔
EXO 5:11 بَلکہ تُم اَپنے لیٔے بھُوسا جہاں سے بھی ملے خُود لاؤ مگر تمہارے کام کو ہرگز کم نہیں کیا جائے گا۔‘ “
EXO 5:12 لہٰذا وہ لوگ تمام مِصر میں مارے مارے پھرنے لگے، تاکہ ٹھُنٹھ جمع کرکے بھُوسے کی جگہ اِستعمال کریں۔
EXO 5:13 اَور بیگار لینے والے غُلام اُن پر یہ کہتے ہویٔے دباؤ ڈالتے تھے، ”جِتنا کام تُم بھُوسا پا کر کرتے تھے اُتنا ہی کام اَب بھی کرو۔“
EXO 5:14 اَور اُن اِسرائیلی نِگرانوں کو جنہیں فَرعوہؔ کے بیگار لینے والے غُلاموں نے مُقرّر کیا ہُوا تھا مارا پِیٹا جاتا تھا اَور اُن سے پُوچھا جاتا تھا کہ، ”پہلے کی طرح تُم نے کل یا آج اینٹوں کی مُقرّرہ تعداد پُوری کیوں نہیں کی؟“
EXO 5:15 تَب اِسرائیلی نِگراں کاروں نے جا کر فَرعوہؔ سے فریاد کی: ”آپ نے اَپنے خادِموں سے اَیسا سلُوک کیوں کیا ہے؟
EXO 5:16 تمہارے خادِموں کو بھُوسا تو دیانہیں جاتا اَور پھر بھی ہمیں کہا جاتا ہے، ’اینٹیں بناؤ!‘ تمہارے خادِموں کو مارا پِیٹا جاتا ہے؛ حالانکہ قُصُور تو تمہارے لوگوں کا ہے۔“
EXO 5:17 فَرعوہؔ نے کہا، ”تُم کاہل ہو۔ کاہل! اِسی لیٔے تُم کہتے رہتے ہو، ’ہمیں جانے اَور یَاہوِہ کے لیٔے قُربانی پیش کرنے کی اِجازت دو۔‘
EXO 5:18 اَب جاؤ اَور کام کرو۔ تُمہیں بھُوسا ہرگز نہیں ملے گا، پھر بھی تُمہیں اینٹیں تو مُقرّرہ تعداد میں ہی بنانی پڑیں گی۔“
EXO 5:19 جَب اِسرائیلی نِگراں کاروں کو بتایا گیا کہ جِتنی تعداد میں روزانہ اینٹیں بنانے کا تُمہیں حُکم دیا گیا ہے، ”تُم اُنہیں گھٹا نہ پاؤگے تو اُنہیں احساس ہُوا کہ وہ تو بڑی مُشکل میں پھنس گیٔے ہیں۔“
EXO 5:20 اَور جَب وہ فَرعوہؔ کے پاس سے آئے، تو اُنہُوں نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو اُن سے مُلاقات کے لیٔے اِنتظار کرتے پایا،
EXO 5:21 اَور اُنہُوں نے کہا، ”تُمہیں یَاہوِہ ہی دیکھیں گے اَور تمہارا اِنصاف کریں گے! کیونکہ تُم نے فَرعوہؔ اَور اُس کے اہلکاروں کی نظر میں ہمیں گھِنونا بنا دیا ہے اَور ہمیں قتل کرنے کے لیٔے اُن کے ہاتھ میں تلوار دے دی ہے۔“
EXO 5:22 تَب مَوشہ نے یَاہوِہ سے رُجُوع کیا اَور کہا، ”اَے یَاہوِہ! آپ نے اِن لوگوں پر مُصیبت کیوں نازل کی ہے؟ کیا آپ نے مُجھے اِسی لیٔے بھیجا تھا؟
EXO 5:23 جَب سے مَیں آپ کے نام سے بات کرنے کے لیٔے فَرعوہؔ کے پاس گیا ہُوں وہ اِن لوگوں پر مُصیبت ڈھانے لگا ہے اَور آپ نے اَپنے لوگوں کو بالکُل نہیں بچایا!“
EXO 6:1 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اَب تُم دیکھوگے کہ میں فَرعوہؔ کے ساتھ کیا کرتا ہُوں؛ میرے قوی ہاتھ کے باعث وہ اُن کو جانے دے گا اَور میرے ہی قوی ہاتھ کے باعث وہ اُن کو اَپنے مُلک سے نکال دے گا۔“
EXO 6:2 اَور خُدا نے مَوشہ سے یہ بھی کہا، ”مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EXO 6:3 میں اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کو قادرمُطلق خُدا کے طور پر دِکھائی دیا لیکن مَیں اَپنے نام یَاہوِہ سے اُن پر پُوری طور سے ظاہر نہ ہُوا۔
EXO 6:4 اَور مَیں نے اُن کے ساتھ اَپنا عہد بھی باندھا کہ مُلکِ کنعانؔ جہاں وہ پردیسیوں کی طرح رہے اُنہیں دُوں گا۔
EXO 6:5 علاوہ اَزیں مَیں نے بنی اِسرائیل کا کراہنا سُنا ہے جنہیں مِصری اَپنا غُلام بناتے جا رہے ہیں اَور اَب مَیں نے اَپنے عہد کو یاد کیا ہے۔
EXO 6:6 ”اِس لیٔے بنی اِسرائیل سے کہنا: ’مَیں یَاہوِہ ہُوں۔ میں تُمہیں مِصریوں کے جُوئے کے نیچے سے نکال لاؤں گا اَور مَیں اَپنے بازو پھیلا کر تُمہیں اُن کی غُلامی سے رِہائی بخشوں گا اَور اُن کا اِنصاف کروں گا۔
EXO 6:7 اَور مَیں تُمہیں اَپنا کر اَپنی قوم بنا لُوں گا اَور مَیں تمہارا خُدا ہُوں گا۔ تَب تُم جانوگے کہ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں جو تُمہیں مِصریوں کے جُوئے کے نیچے سے نکال لایا ہے۔
EXO 6:8 اَور مَیں تُمہیں اُس مُلک میں لے جاؤں گا جسے اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کو دینے کے لیٔے مَیں نے ہاتھ اُٹھاکر قَسم کھائی تھی۔ میں اُسے بطور مِیراث تُمہیں دے دُوں گا۔ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EXO 6:9 مَوشہ نے یہ باتیں بنی اِسرائیل کو سُنائیں لیکن اُنہُوں نے اُس پر کوئی توجّہ نہ کی کیونکہ غُلامی کی سختی کے باعث اُن کے حوصلے پست ہوکر رہ گیٔے تھے۔
EXO 6:10 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ کو فرمایا،
EXO 6:11 ”جا کر، مِصر کے بادشاہ فَرعوہؔ سے کہنا کہ بنی اِسرائیل کو اَپنے مُلک سے چلے جانے دو۔“
EXO 6:12 لیکن مَوشہ نے یَاہوِہ سے کہا، ”اگر بنی اِسرائیل نے میری نہ سُنی تو، فَرعوہؔ میری کیونکر سُنے گا جَب کہ میری زبان میں لکنت ہے؟“
EXO 6:13 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے بنی اِسرائیل اَور فَرعوہؔ مِصر کے بادشاہ کے بارے میں بات کی اَور اُنہیں حُکم دیا کہ بنی اِسرائیل کو مِصر سے نکال لے جایٔیں۔
EXO 6:14 اُن کے آبائی برادریوں کے سردار یہ تھے: رُوبِنؔ جو اِسرائیل کا پہلوٹھا بیٹا تھا، رُوبِنؔ کے بٹے حنوخؔ اَور پلوّؔ، حِضرونؔ اَور کرمی تھے۔
EXO 6:15 شمعُونؔ کے بیٹے یہ تھے: یموایلؔ، یمینؔ، اُہدؔ، یاکِن، ضُحرؔ اَور شاؤل جو ایک کنعانی عورت سے پیدا ہُوئے تھے۔
EXO 6:16 اَور لیوی کے بیٹوں کے نام جِن سے اُن کی نَسل چلی یہ تھے: گیرشون قُہات اَور مِراریؔ۔
EXO 6:17 اَور گیرشون کے بیٹے جِن سے اُن کی برادری چلی یہ تھے: لِبنیؔ اَور شِمعیؔ۔
EXO 6:18 اَور بنی قُہات یہ تھے: عمرامؔ، اِضہاؔر، حِبرونؔ اَور عُزّی ايل۔ قُہات ایک سَو تینتیس بَرس زندہ رہا۔
EXO 6:19 اَور بنی مِراریؔ یہ تھے: محلیؔ اَور مُوشیؔ۔
EXO 6:20 اَور عمرامؔ نے اَپنے باپ کی بہن یوکبِدؔ سے شادی کی جِس سے اُس کے بیٹے اَہرونؔ اَور مَوشہ پیدا ہویٔے۔
EXO 6:21 بنی اِضہاؔر یہ تھے: قورحؔ نِفیگ اَور زکریؔ۔
EXO 6:22 اَور بنی عُزّی ايل یہ تھے: میشاایلؔ، اِیلضافنؔ اَور سِتھریؔ۔
EXO 6:23 اَور اَہرونؔ نے الیسبعؔ سے شادی کی جو عَمّیندابؔ کی بیٹی اَور نحشونؔ کی بہن تھی جِس سے اُس کے بیٹے نادابؔ، اَبِیہُو، الیعزرؔ اَور اِتمارؔ پیدا ہویٔے۔
EXO 6:24 اَور بنی قورحؔ یہ تھے: اَسّیر، اِلقانہؔ اَور ابیاسافؔ۔
EXO 6:25 اَور اَہرونؔ کے بیٹے الیعزرؔ نے پُطی ایل کی بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ شادی کی اَور اُس سے اُس کا بیٹا فِنحاسؔ پیدا ہُوا۔
EXO 6:26 اَور یہ وُہی اَہرونؔ اَور مَوشہ ہیں جنہیں یَاہوِہ نے فرمایا تھا، ”بنی اِسرائیل کو اُن کے لشکروں کے مُطابق مِصر سے نکال لے جاؤ۔“
EXO 6:27 یہ وُہی مَوشہ اَور اَہرونؔ ہیں جنہوں نے بنی اِسرائیل کو مِصر سے باہر نکال لے جانے کے بارے میں مِصر کے بادشاہ فَرعوہؔ سے بات کی تھی۔
EXO 6:28 جَب یَاہوِہ نے مِصر میں مَوشہ سے کلام کیا تھا
EXO 6:29 تو مَوشہ سے فرمایا تھا، ”مَیں یَاہوِہ ہُوں۔ جو کُچھ میں تُمہیں کہُوں تُم اُسے مِصر کے بادشاہ فَرعوہؔ سے کہنا۔“
EXO 6:30 لیکن مَوشہ نے یَاہوِہ سے کہا، ”چونکہ میری زبان میں لکنت ہے اِس لیٔے فَرعوہؔ میری بات کیوں سُنے گا؟“
EXO 7:1 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”دیکھو، مَیں نے تُمہیں فَرعوہؔ کے لیٔے گویا خُدا ٹھہرایا ہے اَور تمہارا بھایٔی اَہرونؔ تمہارا نبی ہوگا۔
EXO 7:2 اَور تُم ہر ایک بات جِس کا میں تُمہیں حُکم دُوں کہنا اَور تمہارا بھایٔی اَہرونؔ فَرعوہؔ سے کہے کہ بنی اِسرائیل کو فَرعوہؔ اَپنے مُلک سے جانے دے۔
EXO 7:3 لیکن مَیں فَرعوہؔ کے دِل کو سخت کر دُوں گا اَور خواہ میں اَپنے حیرت اَنگیز نِشانات اَور عجائب مِصر میں کثرت سے دِکھاؤں۔
EXO 7:4 تو بھی فَرعوہؔ تمہاری نہ سُنے گا۔ تَب میں مِصر پر اَپنا ہاتھ ڈالوں گا اَور اُنہیں سخت ترین سزائیں دے کر اَپنے لوگوں یعنی بنی اِسرائیل کے لشکروں کو نکال لاؤں گا۔
EXO 7:5 اَور جَب مَیں مِصریوں کے خِلاف اَپنا ہاتھ بڑھا کر بنی اِسرائیل کو نکال لاؤں گا تَب مِصری جانیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔“
EXO 7:6 چنانچہ مَوشہ اَور اَہرونؔ نے بالکُل وَیسا ہی کیا جَیسا یَاہوِہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
EXO 7:7 مَوشہ اسّی بَرس کے اَور اَہرونؔ تراسی بَرس کے تھے جَب وہ فَرعوہؔ سے ہم کلام ہویٔے۔
EXO 7:8 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے کہا،
EXO 7:9 ”جَب فَرعوہؔ تُم سے کہے کہ کویٔی معجزہ دِکھاؤ، تو اَہرونؔ سے کہنا، ’اَپنا عصا لے کر فَرعوہؔ کے سامنے ڈال دے،‘ اَور وہ سانپ بَن جائے گا۔“
EXO 7:10 سو مَوشہ اَور اَہرونؔ فَرعوہؔ کے پاس گیٔے اَور اُنہُوں نے وُہی کیا جِس کا یَاہوِہ نے حُکم دیا تھا۔ اَہرونؔ نے اَپنا عصا لیا اَور اُسے فَرعوہؔ اَور اُس کے اہلکاروں کے سامنے ڈال دیا اَور وہ سانپ بَن گیا۔
EXO 7:11 تَب فَرعوہؔ نے اَپنے حکیموں اَور اوجھاؤں کو طلب کیا اَور مِصری جادُوگروں نے بھی اَپنے جادُو کے زور سے وَیسا ہی کر دِکھایا۔
EXO 7:12 اَور ہر ایک نے جَب اَپنا اَپنا عصا نیچے پھینکا تو وہ سانپ بَن گیٔے۔ لیکن اَہرونؔ کے عصا نے اُنہیں نگل لیا۔
EXO 7:13 اِس کے باوُجُود فَرعوہؔ کا دِل سخت ہو گیا اَور جَیسا کہ یَاہوِہ نے کہاتھا اُس نے اُن کی نہ سُنی۔
EXO 7:14 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”فَرعوہؔ کا دِل پگھلنے والا نہیں ہے، اَور وہ اُن لوگوں کو جانے سے روکتا ہے۔
EXO 7:15 صُبح کو جَب فَرعوہؔ دریا پر جائے تو تُم اُس کے پاس جانا اَور اُس سے مُلاقات کے لیٔے دریائے نیل کے کنارے اِنتظار کرنا اَور اَپنے ہاتھ میں وہ عصا لے لینا جو سانپ بَن گیا تھا۔
EXO 7:16 اَور پھر اُس سے کہنا، ’یَاہوِہ عِبرانیوں کے خُدا نے مُجھے یہ کہنے کے لیٔے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ بیابان میں میری عبادت کریں؛ لیکن اَب تک تُم نے اُن کی نہیں سُنی۔
EXO 7:17 لہٰذا یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ اِسی سے تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔ دیکھو میں اِس عصا کو جو میرے ہاتھ میں ہے دریائے نیل کے پانی پر ماروں گا اَور وہ پانی خُون میں بدل جائے گا۔
EXO 7:18 اَور دریائے نیل کی مچھلیاں مَر جایٔیں گی اَور دریا میں سے بدبُو آنے لگے گی اَور مِصری اُس کا پانی نہ پی سکیں گے۔‘ “
EXO 7:19 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اَہرونؔ سے کہنا، ’اَپنا عصا لے اَور مِصر کے تمام دریاؤں نہروں جھیلوں اَور تالابوں کے پانی پر اَپنا ہاتھ بڑھا تاکہ وہ خُون بَن جایٔیں،‘ اَور مِصر میں ہر جگہ لکڑی اَور پتّھر کے برتنوں میں بھی خُون ہی خُون ہوگا۔“
EXO 7:20 اَور مَوشہ اَور اَہرونؔ نے وَیسا ہی کیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے حُکم دیا تھا۔ اُنہُوں نے فَرعوہؔ اَور اُس کے اہلکاروں کی مَوجُودگی میں اَپنا عصا اُٹھاکر دریائے نیل کے پانی پر مارا اَور سارا پانی خُون میں بدل گیا۔
EXO 7:21 دریائے نیل کی مچھلیاں مَر گئیں اَور دریا سے اِتنی بدبُو آنے لگی کہ مِصری اُس کا پانی نہ پی سکے۔ مِصر میں ہر جگہ خُون ہی خُون نظر آنے لگا۔
EXO 7:22 لیکن مِصری جادُوگروں نے بھی اَپنے جادُو کے زور سے وَیسا ہی کیا اَور فَرعوہؔ کا دِل سخت ہو گیا اَور جَیسا یَاہوِہ نے فرمایا تھا اُس نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کی بات اَن سُنی کر دی
EXO 7:23 بَلکہ فَرعوہؔ لَوٹ کر اَپنے محل میں چلا گیا۔
EXO 7:24 اَور تمام مِصریوں نے پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیٔے دریائے نیل کے کنارے کنارے کھدائی کی کیونکہ وہ ندی کا پانی نہ پی سکے۔
EXO 7:25 یَاہوِہ کے دریائے نیل پر مارنے کے بعد سات دِن گزر گئے۔
EXO 8:1 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”فَرعوہؔ کے پاس جاؤ اَور اُس سے کہو، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، میرے لوگوں کو جانے دو، تاکہ وہ میری عبادت کریں۔
EXO 8:2 اگر تُم اُنہیں جانے نہ دوگے، تو مَیں تمہارے سارے مُلک کو مینڈکوں کی وَبا سے پریشان کر دُوں گا۔
EXO 8:3 اَور دریائے نیل مینڈکوں سے بھر جائے گا اَور وہ تمہارے محل کے اَندر، تمہاری خواب گاہ میں اَور تمہارے پلنگ پر، تمہارے اہلکاروں اَور تمہاری رعایا کے گھروں میں، تنوروں میں اَور آٹا گُوندھنے کے لگنوں میں گُھسنے لگیں گے۔
EXO 8:4 اَور مینڈک تُم پر، تمہارے لوگوں پر اَور تمہارے تمام اہلکاروں پر چڑھ آئیں گے۔‘ “
EXO 8:5 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اَہرونؔ سے کہو، ’اَپنا عصا لے کر اَپنا ہاتھ دریاؤں، نہروں اَور جھیلوں پر بڑھا اَور مینڈکوں کو مِصر کی سرزمین پر چڑھا لا۔‘ “
EXO 8:6 چنانچہ اَہرونؔ نے مِصر کے سارے پانی پر اَپنا ہاتھ بڑھایا اَور اِتنے مینڈک برپا ہو گئے کہ اُن سے مِصر کی ساری زمین چھُپ گئی۔
EXO 8:7 لیکن مِصر کے جادُوگروں نے بھی اَپنے جادُو کے زور سے اَیسا ہی کیا اَور وہ بھی مینڈکوں کو مُلک مِصر پر چڑھا لایٔے۔
EXO 8:8 تَب فَرعوہؔ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو طلب کیا اَور کہا، ”یَاہوِہ سے دعا کرو کہ وہ اِن مینڈکوں کو مُجھ سے اَور میری رعایا سے دُور کرے، اَور مَیں تمہارے لوگوں کو جانے دُوں گا، تاکہ وہ یَاہوِہ کے لیٔے قُربانی پیش کریں۔“
EXO 8:9 مَوشہ نے فَرعوہؔ سے کہا، ”وہ وقت مُقرّر کرنے کا حق مَیں تمہارے لیٔے چھوڑتا ہُوں۔ مُجھے بتاؤ کہ تمہارے اہلکاروں اَور تمہارے لوگوں کے لیٔے کب دعا کروں تاکہ تُم اَور تمہارے گھر مینڈکوں سے چھُٹکارا پائیں سِوائے اُن مینڈکوں کے جو دریائے نیل میں رہتے ہیں۔“
EXO 8:10 فَرعوہؔ نے کہا، ”کل۔“ مَوشہ نے جَواب دیا، ”جَیسا تُم چاہتے ہو، وَیسا ہی ہوگا تاکہ تُم جان لو کہ ہمارے خُدا یَاہوِہ کی مانند کویٔی بھی نہیں ہے۔
EXO 8:11 اَور مینڈک تُمہیں، تمہارے گھروں کو، تمہارے اہلکاروں اَور تمہاری رعایا کو چھوڑکر چلے جایٔیں گے اَور وہ صِرف دریائے نیل میں ہی رہیں گے۔“
EXO 8:12 اَور جَب مَوشہ اَور اَہرونؔ فَرعوہؔ کے پاس سے چلے گیٔے تو مَوشہ نے اُن مینڈکوں کے بارے مَیں یَاہوِہ ہُوں سے فریاد کی جنہیں اُس نے فَرعوہؔ پر بھیجا تھا۔
EXO 8:13 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ کی درخواست کے مُطابق کیا، اَورجو مینڈک گھروں، صحنوں اَور کھیتوں میں تھے مَر گیٔے۔
EXO 8:14 اَور لوگوں نے اُنہیں جمع کرکے اُن کے ڈھیر لگا دئیے اَور اُن کے سَڑنے کی بدبُو چاروں طرف پھیل گئی۔
EXO 8:15 لیکن جَب فَرعوہؔ نے دیکھا کہ مُصیبت ٹل گئی تو اُس نے اَپنا دِل سخت کر لیا اَور مَوشہ اَور اَہرونؔ کی نہ سُنی جَیسا کہ یَاہوِہ نے فرمایا تھا۔
EXO 8:16 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اَہرونؔ سے کہو، ’اَپنا عصا بڑھا کر زمین کی گَرد پر مار،‘ اَور وہ سارے مِصر میں جُوؤں میں تبدیل ہو جائے گی۔“
EXO 8:17 اُنہُوں نے اَیسا ہی کیا اَور جَب اَہرونؔ نے اَپنا عصا لے کر ہاتھ بڑھایا اَور زمین کی گَرد پر مارا تو وہ اِنسانوں اَور جانوروں پر جُوؤں میں تبدیل ہو گئی اَور مِصر کی زمین کی ساری گَرد جُوئیں بَن گئی۔
EXO 8:18 لیکن جَب مِصر کے جادُوگروں نے اَپنے جادُو سے جُوئیں پیدا کرنے کی کوشش کی تو وہ ناکام رہے۔ اَور سَب جگہ اِنسانوں اَور جانوروں پر جُوئیں چڑھتی گئیں۔
EXO 8:19 تَب جادُوگروں نے فَرعوہؔ سے کہا، ”یہ خُدا کا کام ہے!“ لیکن فَرعوہؔ کا دِل تو پہلے ہی سخت تھا، اَور جَیسا کہ یَاہوِہ نے کہہ دیا تھا، اُس نے اُن کی نہ سُنی۔
EXO 8:20 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”تُم صُبح سویرے اُٹھنا اَور جَب فَرعوہؔ دریا پر آئے تو اُس کے رُوبرو ہوکر اُس سے کہنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: میرے لوگوں کو جانے دو، تاکہ وہ میری عبادت کر سکیں۔
EXO 8:21 لیکن اگر تُم میرے لوگوں کو جانے نہ دوگے، تو میں مکھّیوں کے جھُنڈ کے جھُنڈ تُجھ پر، تمہارے اہلکاروں پر، تمہاری رعایا پر اَور تمہارے گھروں میں بھیج دُوں گا اَور مِصریوں کے گھر مکھّیوں سے بھر جایٔیں گے اَور ساری زمین بھی جہاں کہیں وہ ہوں گے مکھّیوں سے بھر جائے گی۔
EXO 8:22 ” ’لیکن اُس دِن میں گوشینؔ کے علاقہ سے، جہاں میرے لوگ رہتے ہیں؛ اَیسا برتاؤ نہ کروں گا، وہاں مکھّیوں کے جھُنڈ نہیں ہوں گے تاکہ تُم جان لو کہ مَیں یَاہوِہ اِس مُلک میں ہُوں۔
EXO 8:23 اَور مَیں اَپنے لوگوں اَور تمہارے لوگوں میں اِمتیاز کروں گا اَور یہ معجزانہ علامت کل ظہُور میں آئے گی۔‘ “
EXO 8:24 اَور یَاہوِہ نے اَیسا ہی کیا اَور مکھّیوں کے جھُنڈ کے جھُنڈ فَرعوہؔ کے محل میں اَور اُس کے اہلکاروں کے گھروں میں آ گھُسے اَور سارے مِصر کی زمین مکھّیوں کی وجہ سے خَراب ہو گئی۔
EXO 8:25 تَب فَرعوہؔ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو طلب کیا اَور کہا، ”جاؤ اَور اَپنے خُدا کے لیٔے یہاں اِسی مُلک میں قُربانی پیش کرو۔“
EXO 8:26 لیکن مَوشہ نے کہا، ”یہ مُناسب نہ ہوگا کیونکہ وہ قُربانیاں جو مِصریوں کی نگاہ میں سخت مکرُوہ ہیں جَب ہم اُنہیں اَپنے یَاہوِہ خُدا کے حُضُور پیش کریں گے، تو کیا مِصری ہمیں سنگسار نہ کر ڈالیں گے؟
EXO 8:27 پس ہمیں یَاہوِہ اَپنے خُدا کے لیٔے قُربانیاں گزراننے کے لیٔے جَیسا کہ اُنہُوں نے حُکم دیا ہے لازماً بیابان میں تین دِن کا سفر اِختیار کرنا ہوگا۔“
EXO 8:28 فَرعوہؔ نے کہا، ”میں تُمہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا کے لیٔے قُربانیاں پیش کرنے کے لیٔے بیابان میں جانے دُوں گا۔ لیکن تُم بہت دُور مت جانا۔ اَب میرے لیٔے خُدا سے دعا کرو۔“
EXO 8:29 مَوشہ نے جَواب دیا، ”جوں ہی مَیں تمہارے پاس سے جاؤں گا مَیں یَاہوِہ سے دعا کروں گا اَور ساری مکھّیاں فَرعوہؔ، اُس کے اہلکاروں اَور لوگوں کے پاس سے چلی جایٔیں گی۔ فقط اِتنا دھیان رکھنا کہ فَرعوہؔ اِس دفعہ پھر دھوکا بازی نہ کرے اَور لوگوں کو یَاہوِہ کے لیٔے قُربانی پیش کرنے کے لیٔے جانے کی اِجازت نہ دے۔“
EXO 8:30 تَب مَوشہ فَرعوہؔ کے پاس سے چلےگئے اَور اُنہُوں نے یَاہوِہ سے دعا کی۔
EXO 8:31 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ کی درخواست کے مُطابق کیا۔ لہٰذا وہ ساری مکھّیاں فَرعوہؔ، اُس کے اہلکاروں اَور اُس کے لوگوں کے پاس سے چلی گئیں اَور ایک بھی باقی نہ رہی۔
EXO 8:32 لیکن اِس دفعہ بھی فَرعوہؔ نے اَپنا دِل سخت کر لیا اَور اُن لوگوں کو جانے نہ دیا۔
EXO 9:1 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”فَرعوہؔ کے پاس جا کر اُس سے کہو، ’یَاہوِہ عِبرانیوں کے خُدا یُوں فرماتے ہیں‏: ”میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کریں۔“
EXO 9:2 لیکن اگر تُم اِنکار کرو اَور اُنہیں جانے نہ دوگے،
EXO 9:3 تو یَاہوِہ کا ہاتھ تمہارے چَوپایوں پرجو کھیتوں میں ہیں یعنی گھوڑوں، گدھوں، اُونٹوں اَور گائے بَیلوں اَور بھیڑ بکریوں پر بڑی خوفناک وَبا لایٔے گا۔
EXO 9:4 لیکن یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے چَوپایوں اَور مِصریوں کے چَوپایوں میں اِمتیاز کریں گے تاکہ اِسرائیلیوں کا ایک چَوپایہ بھی ہلاک نہ ہو۔‘ “
EXO 9:5 اَور یَاہوِہ نے ایک وقت مُقرّر کر دیا اَور بتا دیا، ”کل یَاہوِہ اِس مُلک میں یہی کریں گے۔“
EXO 9:6 اَور اگلے دِن یَاہوِہ نے اَیسا ہی کیا اَور مِصریوں کے تمام چَوپائے مَر گیٔے لیکن اِسرائیلیوں کا ایک چَوپایہ بھی نہ مَرا۔
EXO 9:7 چنانچہ فَرعوہؔ نے تحقیقات کرنے کے لیٔے اِنسان بھیجے اَور اُسے مَعلُوم ہُوا کہ اِسرائیلیوں کے چَوپایوں میں سے ایک بھی نہیں مَرا تھا۔ پھر بھی فَرعوہؔ کا دِل پگھلنے والا نہ تھا اَور اُس نے لوگوں کو جانے نہ دیا۔
EXO 9:8 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے کہا، ”کسی بھٹّی سے راکھ لے کر اَپنی مُٹھّیوں میں بھر لو اَور مَوشہ اُسے فَرعوہؔ کے سامنے ہَوا میں اُڑا دے۔
EXO 9:9 اَور یہ تمام مُلک مِصر میں مہین گَرد بَن کر سارے مُلک میں اِنسانوں اَور جانوروں کے جِسم پر پھوڑے اَور پھپھولے پیدا کر دے گی۔“
EXO 9:10 پس وہ ایک بھٹّی سے راکھ لے کر فَرعوہؔ کے سامنے جا کھڑے ہویٔے اَور مَوشہ نے اُسے ہَوا میں اُوپر اُڑا دیا جِس سے اِنسانوں اَور جانوروں کے جِسم پر پھوڑے اَور پھپھولے نکل آئے۔
EXO 9:11 اَور مِصر کے جادُوگر اُن پھوڑوں اَور پھپھولوں کی وجہ سے جو اُنہیں اَور سَب مِصریوں کو نکلے ہویٔے تھے مَوشہ کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔
EXO 9:12 لیکن یَاہوِہ نے فَرعوہؔ کے دِل کو سخت کر دیا اَور اُس نے جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہہ دیا تھا اُن کی نہ سُنی۔
EXO 9:13 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”صُبح سویرے اُٹھ کر فَرعوہؔ کے رُوبرو جاؤ اَور اُس سے کہو، ’یَاہوِہ عِبرانیوں کے خُدا یُوں فرماتے ہیں کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کریں
EXO 9:14 ورنہ اِس دفعہ میں اَپنی وَباؤں کو پُوری شِدّت سے تمہارے، تمہارے اہلکاروں اَور تمہاری رعایا کے خِلاف بھیجوں گا تاکہ تُم جان لو کہ تمام دُنیا میں میرا ہمسر کویٔی نہیں ہے۔
EXO 9:15 کیونکہ اَب تک میں اَپنا ہاتھ بڑھا کر تُمہیں اَور تمہارے لوگوں کو کسی اَیسی وَبا سے مار سَکتا تھا جو رُوئے زمین سے تمہارا نام و نِشان مٹا دیتی۔
EXO 9:16 لیکن مَیں نے تُمہیں اِس لیٔے برپا کیا ہے تاکہ میں تُم پر اَپنی قُدرت ظاہر کروں اَور ساری زمین میں میرا نام مشہُور ہو جائے۔
EXO 9:17 تُم اَب بھی میرے لوگوں کی مُخالفت پر آمادہ ہو اَور اُنہیں جانے نہیں دیتے۔
EXO 9:18 اِس لیٔے کل اِسی وقت میں اَیسی بدترین ژالہ باری کروں گا کہ جَب سے مِصر کی بُنیاد پڑی ہے وَیسی آج تک نہیں ہُوئی۔
EXO 9:19 پس اَپنے چَوپایوں کو اَورجو کچھ تمہارا مال کھیتوں میں ہے اُسے اَندر لے آؤ کیونکہ جتنے اِنسان اَور جانور میدان میں ہوں گے اَور اَندر نہیں پہُنچائے جایٔیں گے اُن پر اولے گریں گے اَور وہ ہلاک ہو جایٔیں گے۔‘ “
EXO 9:20 اَور فَرعوہؔ کے وہ اہلکار جو یَاہوِہ کی اِس بات سے ڈرے وہ جلدی سے بھاگ دَوڑکر اَپنے غُلاموں اَور چَوپایوں کو گھروں میں لے آئے۔
EXO 9:21 لیکن جنہوں نے یَاہوِہ کی اِس بات کو نظرانداز کر دیا اُنہُوں نے اَپنے غُلاموں اَور چَوپایوں کو میدان میں ہی رہنے دیا۔
EXO 9:22 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اَپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھاؤ تاکہ سارے مِصر میں ژالہ باری ہو۔ یعنی اِنسانوں اَور جانوروں پر اَور ہر سبزی پرجو مِصر کے کھیتوں میں اُگتی ہے۔“
EXO 9:23 اَور جَب مَوشہ نے اَپنا عصا آسمان کی طرف بڑھایا تو یَاہوِہ نے بجلی اَور اولے بھیجے اَور بجلی زمین تک کوندی اَور یَاہوِہ نے سارے مِصر پر اولے برسائے۔
EXO 9:24 پس اولوں کے ساتھ ساتھ اِدھر اُدھر بجلی بھی گری، جَب سے مُلک مِصر وُجُود میں آیا یہ مُلک مِصر کی بدترین ژالہ باری تھی۔
EXO 9:25 اَور اولوں نے سارے مِصر میں اُن سَب اِنسانوں اَور جانوروں کو مارا جو کھیتوں یا میدان میں تھے اَور اِس ژالہ باری نے کھیتوں میں اُگی ہویٔی ہر چیز تباہ کر ڈالی اَور سَب درخت توڑ دئیے۔
EXO 9:26 صِرف گوشینؔ کے علاقہ میں جہاں بنی اِسرائیل رہتے تھے اولے نہ گِرے۔
EXO 9:27 تَب فَرعوہؔ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو طلب کیا۔ اَور اُن سے کہا، ”اِس دفعہ مَیں نے گُناہ کیا ہے،“ یَاہوِہ صادق ہیں، ”اَور مَیں اَور میرے لوگ خطاوار ہیں۔
EXO 9:28 یَاہوِہ سے دعا کرو کیونکہ ہم ژالہ باری اَور بجلی کی گھن گرج سے تنگ آ چُکے ہیں۔ میں تُمہیں جانے دُوں گا اَور تُمہیں مزید رُکنا نہیں پڑےگا۔“
EXO 9:29 مَوشہ نے جَواب دیا، ”جَب مَیں شہر سے باہر چلا جاؤں گا تو میں دعا کے لیٔے اَپنے ہاتھ یَاہوِہ کی طرف پھیلاؤں گا؛ تَب گھن گرج بندہو جائے گی اَور اُس کے بعد اولے بھی نہ گریں گے تاکہ تُم جان لو کہ دُنیا یَاہوِہ ہی کی ہے۔
EXO 9:30 لیکن مَیں جانتا ہُوں کہ تُم اَور تمہارے اہلکار اَب بھی یَاہوِہ خُدا سے نہیں ڈرتے۔“
EXO 9:31 (سَن اَور جَو اولوں سے برباد ہو گیٔے کیونکہ جَو کی بالیں نکل چُکی تھیں اَور سَن میں پھُول لگے ہویٔے تھے۔
EXO 9:32 لیکن ہر قِسم کے گیہُوں تباہی سے بچ گیٔے کیونکہ اُن کے پکنے کا موسم نہ آیاتھا۔)
EXO 9:33 تَب مَوشہ فَرعوہؔ سے رخصت ہوکر شہر کے باہر گئے اَور اُنہُوں نے اَپنے ہاتھ یَاہوِہ کی طرف پھیلائے۔ لہٰذا بجلی کی گھن گرج اَور اولے گرنے بندہو گیٔے اَور زمین پر بارش بھی تھم گئی۔
EXO 9:34 جَب فَرعوہؔ نے دیکھا کہ بارش، ژالہ باری اَور بجلی کی گھن گرج ختم ہو گئی تو اُس نے پھر گُناہ کیا اَور اُس کا اَور اُس کے اہلکاروں کا دِل نہ پسیجا۔
EXO 9:35 چنانچہ فَرعوہؔ کا دِل سخت ہو گیا اَور اُس نے اِسرائیلیوں کو جانے نہ دیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کی مَعرفت کہہ دیا تھا۔
EXO 10:1 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”فَرعوہؔ کے پاس جاؤ کیونکہ مَیں نے ہی اُن کے دِل اَور اُن کے سرداروں کے دِلوں کو سخت کیا ہے تاکہ میں اَپنے یہ نِشانات اُن کے درمیان دِکھاؤں،
EXO 10:2 اَور تُم اَپنے بچّوں اَور بچّوں کے بچّوں کو بتا سکو کہ مَیں نے مِصریوں کے ساتھ کِس قدر سخت سلُوک کیا اَور اُن کے درمیان مَیں نے کِس طرح اَپنے نِشانات دِکھائے تاکہ تُم جان لو کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں۔“
EXO 10:3 پس مَوشہ اَور اَہرونؔ نے فَرعوہؔ کے پاس جا کر کہا، ”یَاہوِہ عِبرانیوں کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، ’تُم کب تک میرے سامنے خاکسار نہ ہوگے؟ میرے لوگوں کو جانے دو تاکہ وہ میری عبادت کریں۔
EXO 10:4 اَور اگر تُم اُنہیں جانے نہ دوگے تو کل مَیں تمہارے مُلک پر ٹِڈّیاں لے آؤں گا۔
EXO 10:5 اَور وہ رُوئے زمین کو اَیسے ڈھانک دیں گی کہ وہ نظر نہ آسکے گی اَور اولوں کے بعد جو کچھ تھوڑا باقی بچا ہے اُسے اَور تمہارے کھیتوں میں اُگے ہویٔے ہر درخت کو ٹِڈّیاں چٹ کر جایٔیں گی۔
EXO 10:6 اَور وہ تُم، اَور تمہارے اہلکاروں اَور تمام مِصریوں کے گھروں میں بھر جایٔیں گی۔ اَیسی بات تمہارے آباؤاَجداد نے اِس مُلک میں آباد ہونے کے وقت سے لے کر آج تک کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔‘ “ پھر مَوشہ نے مُنہ پھیرا اَور فَرعوہؔ کے پاس سے چلےگئے۔
EXO 10:7 تَب فَرعوہؔ کے حاکموں نے اُس سے کہا، ”یہ اِنسان کب تک ہمارے لیٔے پھندا بنا رہے گا؟ لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کی عبادت کر سکیں۔ کیا تُمہیں خبر نہیں کہ مِصر اُجڑ چُکاہے؟“
EXO 10:8 تَب مَوشہ اَور اَہرونؔ کو پھر سے فَرعوہؔ کے پاس حاضِر کیا گیا اَور اُس نے کہا، ”جاؤ اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کی عبادت کرو لیکن جایٔیں گے کون کون؟“
EXO 10:9 مَوشہ نے جَواب دیا، ”ہم اَپنے جَوانوں، بُوڑھوں، اَپنے بیٹوں اَور بیٹیوں، اَپنی بھیڑ بکریوں اَور گائے بَیلوں سمیت جایٔیں گے کیونکہ ہمیں اَپنے یَاہوِہ کی عید منانا ہے۔“
EXO 10:10 تَب فَرعوہؔ نے کہا، ”اَچھّا، یَاہوِہ تمہارا مُحافظ ہو! میں تو تُمہیں تمہارے بال بچّوں سمیت جانے دُوں گا پر اَیسا لگتا ہے کہ تُم شرارت پر آمادہ ہو۔
EXO 10:11 نہیں! صِرف مَردوں کو لے جا کر یَاہوِہ کی عبادت کرو کیونکہ اِسی بات کا تُم مطالبہ کرتے رہے ہو۔“ تَب مَوشہ اَور اَہرونؔ دونوں فَرعوہؔ کے دربار سے باہر نکال دئیے گیٔے۔
EXO 10:12 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اَپنا ہاتھ مِصر پر بڑھا تاکہ اُس سرزمین پر ٹِڈّیوں کا جھُنڈ آئے اَورجو کچھ کھیتوں میں اُگا ہُواہے اَور اولوں کی مار سے بچ گیا ہے اُسے چٹ کر جایٔیں۔“
EXO 10:13 لہٰذا مَوشہ نے اَپنا عصا مِصر پر بڑھایا اَور یَاہوِہ نے دِن بھر اَور رات بھر اُس مُلک میں پُروا آندھی چلائی جو صُبح ہوتے ہی اَپنے ہمراہ ٹِڈّیاں لے آئی۔
EXO 10:14 اَور ٹِڈّیوں نے سارے مِصر پر حملہ کیا اَور اُن کے جھُنڈ کے جھُنڈ اُس مُلک کے ہر حِصّہ میں جا ٹِکے۔ ٹِڈّیوں کی اَیسی وَبا نہ پہلے کبھی آئی تھی اَور نہ آئے گی۔
EXO 10:15 اُنہُوں نے وہاں کی تمام زمین کو ڈھانک دیا یہاں تک کہ وہ سیاہ نظر آنے لگی اَور کھیتوں میں جو کُچھ اُگا ہُوا تھا اُسے اَور درختوں کے پھلوں کو جو اولوں کی مار سے بچ گیٔے تھے چٹ کر گئیں اَور سارے مُلک مِصر میں درختوں اَور پَودوں پر کویٔی سبز پتّہ باقی نہ بچا۔
EXO 10:16 تَب فَرعوہؔ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو فوراً طلب کیا اَور کہا، ”مَیں نے تمہارے خُدا یَاہوِہ کے اَور تمہارے خِلاف گُناہ کیا ہے۔
EXO 10:17 اَب ایک دفعہ پھر میرا گُناہ مُعاف کر دو اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا سے دعا کرو کہ وہ اِس مہلِک وَبا کو مُجھ سے دُور کر دیں۔“
EXO 10:18 اِس پر مَوشہ فَرعوہؔ کے پاس سے چلےگئے اَور اُنہُوں نے یَاہوِہ سے دعا کی،
EXO 10:19 اَور یَاہوِہ نے مغرب کی جانِب سے شدید آندھی بھیجی جو ٹِڈّیوں کو اُڑا لے گئی اَور اُنہیں بحرِقُلزمؔ میں ڈال دیا اَور مِصر میں کہیں بھی کویٔی ٹِڈّی باقی نہ رہی۔
EXO 10:20 لیکن یَاہوِہ نے فَرعوہؔ کے دِل کو سخت کر دیا اَور اُس نے بنی اِسرائیل کو جانے نہ دیا۔
EXO 10:21 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اَپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھاؤ تاکہ مِصر میں تاریکی پھیل جائے۔ اَیسی گہری تاریکی جسے چھُو سکیں۔“
EXO 10:22 لہٰذا مَوشہ نے اَپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھایا اَور تین دِن تک سارے مِصر میں گہری تاریکی پھیلی رہی،
EXO 10:23 اَور تین دِن تک نہ تو کویٔی کسی دُوسرے کو دیکھ سَکا اَور نہ اَپنی جگہ سے ہل سَکا لیکن اُن تمام مقامات میں جہاں تمام بنی اِسرائیل رہتے تھے رَوشنی تھی۔
EXO 10:24 تَب فَرعوہؔ نے مَوشہ کو طلب کیا اَور کہا، ”جاؤ یَاہوِہ کی عبادت کرو۔ تمہارے بال بچّے بھی تمہارے ساتھ جا سکتے ہیں۔ صِرف اَپنی بھیڑ بکریوں اَور گائے بَیلوں کو یہاں چھوڑ جاؤ۔“
EXO 10:25 لیکن مَوشہ نے کہا، ”تُمہیں ہمیں قُربانی اَور سوختنی نذر کے جانور لے جانے کی اِجازت دینی ہوگی تاکہ ہم اُنہیں یَاہوِہ اَپنے خُدا کو پیش کر سکیں۔
EXO 10:26 ہمارے چَوپائے بھی ہمارے ساتھ جایٔیں گے اَور اُن کا ایک کھُر تک بھی پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا کیونکہ اُن میں سے بعض کو ہم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی عبادت کے لیٔے کام میں لائیں گے اَور جَب تک ہم وہاں پہُنچ نہ جایٔیں ہم نہیں جان سکتے کہ یَاہوِہ کی عبادت کرنے کے لیٔے ہمیں کیا کیا اِستعمال کرنا ہوگا۔“
EXO 10:27 لیکن یَاہوِہ نے فَرعوہؔ کے دِل کو سخت کر دیا اَور وہ اُن کو جانے کی اِجازت دینے کے لیٔے رضامند نہ ہُوا۔
EXO 10:28 اَور فَرعوہؔ نے مَوشہ سے کہا، ”میری نظروں کے سامنے سے ہٹ جاؤ اَور خبردار پھر میرے سامنے مت آنا کیونکہ جِس دِن تُم نے میرا مُنہ دیکھا تُم مار ڈالے جاؤگے۔“
EXO 10:29 مَوشہ نے جَواب دیا، ”ٹھیک، جَیسے تُم نے کہا مَیں پھر کبھی تمہارے سامنے نہیں آؤں گا۔“
EXO 11:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہاتھا، ”میں فَرعوہؔ اَور مِصر پر ایک اَور وَبا بھیجوں گا اَور اُس کے بعد وہ تُمہیں یہاں سے جانے دے گا بَلکہ دھکّے دے کر نکال دے گا۔
EXO 11:2 لہٰذا، تُم لوگوں کو بتاؤ کہ مَرد اَور عورتیں سَب کے سَب اَپنے اَپنے پڑوسیوں اَور پڑوسنوں سے چاندی اَور سونے کے زیور مانگ لیں۔“
EXO 11:3 (اَور یَاہوِہ نے مِصریوں کو اُن لوگوں پر مہربان کر دیا تھا اَور مِصر میں فَرعوہؔ کے حاکم اَور لوگ خُود مَوشہ کا بھی بڑا اِحترام کرنے لگے تھے)۔
EXO 11:4 لہٰذا مَوشہ نے کہا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’تقریباً آدھی رات کو میں سارے مِصر میں چکّر لگاؤں گا۔
EXO 11:5 اَور مِصر میں ہر ایک پہلوٹھا مَر جائے گا۔ تخت کے وارِث فَرعوہؔ کے پہلوٹھے بیٹے سے لے کر چکّی پیسنے والی خادِمہ کے پہلوٹھے بیٹے تک اَور چَوپایوں کے پہلوٹھے سَب کے سَب مَر جایٔیں گے۔
EXO 11:6 اَور سارے مِصر میں اِتنا بڑا ماتم ہوگا جِتنا نہ پہلے کبھی ہُوا نہ پھر کبھی ہوگا۔
EXO 11:7 لیکن بنی اِسرائیل کے درمیان کسی اِنسان یا حَیوان پر کویٔی کُتّا بھی نہ بھونکے گا۔ تَب تُم جانوگے کہ یَاہوِہ مِصریوں اَور بنی اِسرائیل میں اِمتیاز کرتے ہیں۔‘
EXO 11:8 اَور تمہارے یہ سَب اہلکار سرنِگوں ہوکر میرے پاس آئیں گے اَور کہیں گے، ’تُم اَور وہ سَب لوگ جو تمہاری پیروی کرتے ہیں چلے جایٔیں!‘ اُس کے بعد میں چل دُوں گا۔“ تَب مَوشہ بڑے طیش میں فَرعوہؔ کے پاس سے نکلے اَور چلےگئے۔
EXO 11:9 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا ہُوا تھا، ”فَرعوہؔ تمہاری بات نہیں سُنے گا جَب تک مِصر میں میرے عجائب بہت نہ بڑھ جایٔیں۔“
EXO 11:10 مَوشہ اَور اَہرونؔ نے یہ تمام حیرت اَنگیز کام فَرعوہؔ کو دِکھائے لیکن یَاہوِہ نے فَرعوہؔ کے دِل کو سخت کر دیا اَور وہ بنی اِسرائیل کو اَپنے مُلک سے باہر جانے کی اِجازت دینے پر راضی نہ ہُوا۔
EXO 12:1 پھر یَاہوِہ نے مِصر میں مَوشہ اَور اَہرونؔ سے فرمایا کہ،
EXO 12:2 ”یہ مہینہ تمہارے لیٔے مہینوں کا شروع اَور سال کا پہلا مہینہ ہو۔
EXO 12:3 لہٰذا سارے بنی اِسرائیل کی جماعت سے کہہ کہ اِس مہینے کے دسویں دِن ہر اِنسان اَپنے آبائی خاندان کے مُطابق ہر گھرانے کے لیٔے ایک برّہ لے۔
EXO 12:4 اَور اگر کسی گھرانے میں لوگ اِتنے کم ہُوں کہ وہ سالِم برّہ نہ کھا سکتے ہُوں تو وہ اَپنے قریب ترین ہمسایہ کے ساتھ مِل کر دونوں گھرانوں کے لوگوں کی تعداد کے مُوافق ایک برّہ لیں اَور ہر اِنسان کے کھانے کی مقدار کے مُطابق برّہ کا حِساب لگانا۔
EXO 12:5 اَور بھیڑ یا بکری کا جو بچّہ تُم چُنو لازِم ہے کہ وہ نر ہو ایک سال کا ہو اَور بے عیب ہو۔
EXO 12:6 اَور اِس مہینے کی چودھویں تاریخ تک اُس کی نِگرانی رکھنا پھر اِسرائیلی جماعت کے سَب لوگ اُسے شام کے وقت میں ذبح کریں۔
EXO 12:7 اَور پھر اُس کا تھوڑا سا خُون لے کر اُن گھروں کے دروازوں کے دونوں بازوؤں پر اَور اُوپر کی چوکھٹ پر لگا دیں جِن میں وہ اُس برّہ کو کھایٔیں گے۔
EXO 12:8 اَور وہ اُسی رات اُسے آگ پر بھونیں اَور اُس کے گوشت کو کڑوے ساگ پات اَور بے خمیری روٹی کے ساتھ کھا لیں۔
EXO 12:9 اُسے کچّا یا پانی میں اُبال کر ہرگز نہ کھانا بَلکہ برّہ کو سَر، پایٔے اَور اَندرونی اَعضا سمیت آگ پر بھُون کر کھانا۔
EXO 12:10 اَور اُس میں سے کُچھ بھی صُبح تک باقی نہ چھوڑنا۔ اَور اگر کچھ صُبح تک باقی رہ جائے تو اُسے آگ میں جَلا دینا۔
EXO 12:11 اَور تُم اُسے اِس طرح کھانا کہ تُم اَپنی کمر باندھے ہویٔے ہو اَور اَپنی جُوتیاں پاؤں میں پہنے ہویٔے اَور اَپنا عصا ہاتھ میں لیٔے ہویٔے ہو۔ تُم اُسے جلدی جلدی کھانا کیونکہ یہ فسح یَاہوِہ کی ہے۔
EXO 12:12 ”اَور اُسی رات کو میں مِصر میں سے ہوکر گزروں گا اَور اِنسان اَور حَیوان دونوں کے سَب پہلوٹھوں کو مار گراؤں گا اَور مَیں مِصر کے سَب معبُودوں کو بھی سزا دُوں گا۔ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EXO 12:13 اَور جِن گھروں میں تُم ہوگے اُن پر وہ خُون تمہاری طرف سے نِشان ہوگا اَور مَیں اُس خُون کو دیکھ کر تُمہیں چھوڑتا جاؤں گا۔ اَور جَب مَیں مِصریوں کو ماروں گا تو اُس وقت کویٔی بھی مہلِک وَبا تمہارے قریب نہیں آئے گی۔
EXO 12:14 ”وہ دِن تمہارے لیٔے یادگار ہوگا اَور تُم اَور تمہاری آنے والی پُشت در پُشت اُسے ایک دائمی فرمان سمجھ کر یَاہوِہ کی عید کے طور پر منائیں۔
EXO 12:15 سات دِن تک تُم بے خمیری روٹی کھانا اَور پہلے ہی دِن سے خمیر اَپنے اَپنے گھر سے باہر کردینا۔ اَورجو کویٔی پہلے دِن سے ساتویں دِن تک دَوران کویٔی بھی خمیری چیز کھائے وہ اِسرائیل میں سے ایمان سے خارج کر دیا جائے۔
EXO 12:16 اَور تُم اَپنا مُقدّس اِجتماع ایک تو پہلے دِن کرنا اَور دُوسرا ساتویں دِن اَور ہر ایک کے کھانے کے لیٔے کھانا بنانے کے سِوا اِن دِنوں میں اَور کویٔی کام بالکُل نہ کرنا۔ تُم صِرف کھانا بنانے کا ہی کام کر سکتے ہو۔
EXO 12:17 ”اَور تُم بے خمیری روٹی کی عید منایا کرنا کیونکہ یہی وہ دِن ہوگا جَب مَیں تُمہیں تمہارے لشکروں کے مُطابق مِصر سے نکال لاؤں گا اِس لیٔے تُم پُشت در پُشت اِس دِن کو ایک دائمی فرمان سمجھ کر مانتے رہنا۔
EXO 12:18 اَور پہلے مہینے کے چودھویں دِن کی شام سے لے کر اِکیّسویں دِن کی شام تک تُم بے خمیری روٹی کھانا۔
EXO 12:19 اَور سات دِنوں تک کچھ بھی خمیر تمہارے گھروں میں نہ رہے اَور اِن سات دِنوں کے دَوران جو کویٔی کسی خمیری چیز کو کھائے خواہ وہ پردیسی ہو یا اُسی مُلک میں ہی پیدا ہُوا ہو اِسرائیل کی جماعت سے خارج کر دیا جائے۔
EXO 12:20 کویٔی بھی خمیری چیز نہ کھانا خواہ تمہارا مقام کہیں بھی ہو تُم بے خمیری روٹی ہی کھانا۔“
EXO 12:21 تَب مَوشہ نے اِسرائیل کے سَب بُزرگوں کو بُلوایا اَور اُن سے کہا، ”فوراً جا کر اَپنے اَپنے آبائی خاندانوں کے واسطے برّے چُنو اَور فسح کا برّہ ذبح کرو۔
EXO 12:22 اَور زُوفے کا ایک گُچّھا لے کر اُس خُون میں جو لگن میں ہوگا ڈُبو کر اُس خُون میں سے کچھ دروازہ کی چوکھٹ کے اُوپر کے حِصّہ میں اَور کچھ اُس چوکھٹ کے دونوں بازوؤں پر لگادینا۔ اَور تُم میں سے کویٔی بھی صُبح تک اَپنے گھر کے دروازہ سے باہر نہ جائے۔
EXO 12:23 اَور جَب یَاہوِہ اِس مُلک میں مِصریوں کو مارتے ہُوئے گزریں گے اَور وہ دروازہ کے چوکھٹ کے اُوپر اَور بازوؤں پر اُس خُون کو دیکھیں گے تو وہ اُس دروازہ کو چھوڑ جائیں گے اَور ہلاک کرنے والے کو گھر کے اَندر آنے اَور تُمہیں مارنے کی اِجازت نہ دیں گے۔
EXO 12:24 ”اَور تُم اَور تمہاری نَسل اِن ہدایات کو ایک دائمی فرمان سمجھ کر ماَننا۔
EXO 12:25 اَور جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہو جو یَاہوِہ تُمہیں دیں گے جَیسا کہ اُنہُوں نے وعدہ کیا تُم اِس رسم کو جاری رکھنا۔
EXO 12:26 اَور جَب تمہارے بچّے تُم سے پُوچھیں، ’اِس رسم سے تمہارا کیا مطلب ہے؟‘
EXO 12:27 تَب تُم اُنہیں بتانا، ’یہ یَاہوِہ کے لیٔے فسح کی قُربانی ہے جِس نے مِصریوں کو مارتے وقت بنی اِسرائیل کے گھروں کو چھوڑ دیا تھا اَور ہمارے گھروں کو بچا لیا تھا۔‘ “ تَب لوگوں نے سَر جھُکا کر سَجدہ کیا۔
EXO 12:28 اَور بنی اِسرائیل نے بالکُل وَیسا ہی کیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 12:29 اَور آدھی رات کو یَاہوِہ نے مِصر میں تخت نشین فَرعوہؔ کے پہلوٹھے سے لے کر قَیدخانہ کی کوٹھری کے قَیدی کے پہلوٹھے تک بَلکہ تمام جانوروں کے پہلوٹھوں کو بھی ہلاک کر دیا۔
EXO 12:30 اَور فَرعوہؔ اَور اُس کے تمام اہلکار اَور مِصری رات ہی کو اُٹھ بیٹھے اَور مِصر میں بڑا کہرام مچا کیونکہ کویٔی بھی گھر اَیسا نہ تھا جِس میں کویٔی مَرا نہ ہو۔
EXO 12:31 تَب اُسی رات فَرعوہؔ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو طلب کیا اَور کہا، ”تیّار ہو جاؤ! اَور تُم اَور بنی اِسرائیل میری قوم کے لوگوں میں سے نکل جاؤ اَور جا کر یَاہوِہ کی عبادت کرو جَیسا کہ تُم نے درخواست کی ہے
EXO 12:32 اَور اَپنے کہنے کے مُطابق اَپنی بھیڑ بکریاں اَور گائے بَیل بھی لیتے جاؤ اَور میرے لیٔے بھی دعا کرنا۔“
EXO 12:33 اَور مِصریوں نے اُن لوگوں کو جلدی سے اُس مُلک کو چھوڑکر چلے جانے کی ترغِیب دی اَور کہا، ”جلدی کرو ورنہ ہم مارے جایٔیں گے!“
EXO 12:34 لہٰذا لوگوں نے اَپنے گُندھے گُندھائے آٹے کو خمیر دئیے بغیر ہی لگنوں سمیت کپڑوں میں لپیٹ کر کندھوں پر رکھ لیا۔
EXO 12:35 اَور بنی اِسرائیل نے مَوشہ کی ہدایت کے مُوافق عَمل کیا اَور مِصریوں سے چاندی اَور سونے کے زیور اَور کپڑے مانگ لیٔے۔
EXO 12:36 اَور چونکہ یَاہوِہ نے مِصریوں کے دِل میں اُن لوگوں کے لیٔے اِحترام کا جذبہ پیدا کر دیا تھا اِس لیٔے جو کچھ بنی اِسرائیل نے مانگا اُنہُوں نے دے دیا۔ اِس طرح بنی اِسرائیل نے مِصریوں کو لُوٹ لیا۔
EXO 12:37 اَور بنی اِسرائیل نے رَعمسیسؔ سے سُکّوتؔ تک پیدل سفر کیا۔ یہ سَب عورتوں اَور بچّوں کے علاوہ تقریباً چھ لاکھ مَردوں پر مُشتمل تھے۔
EXO 12:38 اَور بھی بہت سے لوگ اُن کے ہمراہ ہو لئے۔ بھیڑ بکریاں، گائے بَیل اَور دُوسرے چَوپائے بھی بڑی تعداد میں اُن کے ساتھ تھے۔
EXO 12:39 اَور اُنہُوں نے اُس گُندھے ہویٔے آٹے کی جسے وہ مِصر سے لایٔے تھے بے خمیری روٹیاں پکائیں۔ وہ اَپنے آٹے میں خمیر نہ مِلا پایٔے تھے کیونکہ اُن کو مِصر سے زبردستی نکال دیا گیا تھا اَور اُنہیں اِتنی فُرصت بھی نہ مِلی تھی کہ کھانا تیّار کر سکیں۔
EXO 12:40 اَور اِسرائیلی لوگوں کی مِصر میں رہائش کی مُدّت چار سَو تیس بَرس تھی۔
EXO 12:41 اُن چار سَو تیس برسوں کے بعد ٹھیک اُسی روز یَاہوِہ کا سارا لشکر مِصر سے نکل گیا۔
EXO 12:42 اَور چونکہ اُنہیں مِصر سے نکال لانے کے لیٔے یَاہوِہ نے اُس رات اُن کی نگہبانی کی تھی اِس لیٔے تمام بنی اِسرائیل اَور اُن کی آئندہ پُشتوں پر فرض ٹھہرا کہ وہ یَاہوِہ کی تمجید کرنے کے لیٔے رتجگا کیا کریں۔
EXO 12:43 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے فرمایا، ”فسح کھانے کے ضوابط یہ ہیں: ”کویٔی بھی غَیراِسرائیلی اِسے کھانے نہ پایٔے۔
EXO 12:44 تمہارا زَر خرید غُلام اِسے کھا سَکتا ہے اگر تُم نے اُس کا ختنہ کر دیا ہو۔
EXO 12:45 لیکن کویٔی پردیسی اَور اُجرت پر رکھا ہُوا مزدُور اُسے کھانے نہ پایٔے۔
EXO 12:46 ”اَور لازماً اُسے ایک گھر کے اَندر ہی کھانا اَور اُس گوشت میں سے ذرا سا بھی گھر سے باہر نہ لے جانا۔ اَور اُس کی کوئی بھی ہڈّی نہ توڑی جائے۔
EXO 12:47 اَور اِسرائیل کی ساری جماعت اِس عید کو منائے۔
EXO 12:48 ”اَور اگر کویٔی پردیسی جو تمہارے درمیان رہتاہے یَاہوِہ کی فسح منانا چاہتاہے تو وہ اَپنے گھر کے تمام مَردوں کا ختنہ کرائے۔ تَب ہی وہ مُلک اِسرائیل کے ایک باشِندے کی طرح حِصّہ لے سَکتا ہے۔ لیکن کویٔی نامختون مَرد اُسے کھانے نہ پایٔے۔
EXO 12:49 یہ آئین ہر اُس مُلک اِسرائیل کے باشِندے کی طرح اَور تمہارے درمیان رہنے والے ہر غَیراِسرائیلی باشِندے کے لیٔے ہے۔ اُسی مُلک میں ہی پیدا ہُوئے۔“
EXO 12:50 اَور تمام بنی اِسرائیل نے بالکُل وَیسا ہی کیا جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 12:51 اَور ٹھیک اُسی دِن یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے سارے لشکروں کو مِصر سے نکال لے گئے۔
EXO 13:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ کو فرمایا:
EXO 13:2 ”ہر ایک نر پہلوٹھے کو یعنی اِسرائیل کے ہر پہلے بچّہ کو خواہ وہ اِنسان کا ہو، خواہ حَیوان کا، میرے لیٔے مخصُوص کرنا کیونکہ وہ میرا ہے۔“
EXO 13:3 تَب مَوشہ نے لوگوں سے کہا، ”تُم اِس دِن کو جِس میں تُم غُلامی کی سرزمین مِصر سے نکل کر آئے بطور یادگار منایا کرنا کیونکہ یَاہوِہ تُمہیں اَپنے قوی ہاتھ سے وہاں سے نکال لائے۔ اُس دِن خمیر والی کویٔی چیز نہ کھانا۔
EXO 13:4 آج ابیبؔ کے مہینے میں تُم مِصر سے نکل کر جا رہے ہو۔
EXO 13:5 اَور جَب یَاہوِہ تُمہیں کنعانیوں، حِتّیوں، امُوریوں، حِوّیوں اَور یبُوسیوں کے مُلک میں پہُنچا دیں جسے تُمہیں دینے کی قَسم اُنہُوں نے تمہارے آباؤاَجداد سے کھائی تھی، اَور جِس میں دُودھ اَور شہد بہتا ہے تو تُم اِس مہینے میں یہ رسم اَدا کیا کرنا۔
EXO 13:6 سات دِن تک تُم بے خمیری روٹی کھانا اَور ساتویں دِن یَاہوِہ کے لیٔے عید منانا۔
EXO 13:7 اِن سات دِنوں میں بے خمیری روٹی کھانا اَور کویٔی خمیری چیز نہ تمہارے درمیان دِکھائی دے اَور نہ ہی تمہاری حُدوُد کے اَندر کہیں دِکھائی دے۔
EXO 13:8 اَور اُس روز تُم اَپنے بیٹے کو بتانا، ’جَب مَیں مِصر سے نکل آیا تو جو کچھ یَاہوِہ نے میرے لیٔے کیا اُس کی وجہ سے میں یہ دِن مناتا ہُوں۔‘
EXO 13:9 یہ عید منانا تمہارے لیٔے اَور تمہارے ہاتھ پر نِشان اَور پیشانی پر یاد دہانی کی علامت کی مانند ہوگا۔ تاکہ یَاہوِہ کے آئین تمہارے ہونٹوں پر رہے۔ کیونکہ یَاہوِہ نے اَپنے قوی ہاتھ سے تُمہیں مِصر سے نکالا۔
EXO 13:10 تُم اِس رسم کو مُقرّرہ وقت پر سال بسال منایا کرنا۔
EXO 13:11 ”اَور جَب یَاہوِہ تُمہیں کنعانیوں کے مُلک میں لے آئیں گے اَور اُسے تمہارے قبضہ میں دے دیں گے، جَیسا کہ اُنہُوں نے قَسم کھا کر تُم سے اَور تمہارے آباؤاَجداد سے وعدہ کیا،
EXO 13:12 تو تُم ہر پہلوٹھے بچّہ کو یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کرنا اَور تمہارے چَوپایوں کے سَب نر پہلوٹھے بچّے یَاہوِہ کے ہیں۔
EXO 13:13 اَور گدھے کے ہر پہلے بچّے کے فدیہ میں ایک برّہ دینا اَور اگر تُم اُس کا فدیہ نہ دو تو اُس کی گردن توڑ ڈالنا اَور تمہارے بیٹوں میں جتنے پہلوٹھے ہوں اُن سَب کا فدیہ دینا۔
EXO 13:14 ”اَور آئندہ زمانہ میں جَب تمہارا بیٹا تُم سے پُوچھے، ’اِس کا مطلب کیا ہے؟‘ تو ’تُم اُسے بتانا کہ یَاہوِہ ہمیں غُلامی کے مُلک مِصر سے اَپنے قوی ہاتھ سے نکال کر لائے۔
EXO 13:15 اَور جَب فَرعوہؔ نے ہٹ دھرمی سے ہمیں جانے کی اِجازت دینے سے اِنکار کیا، تو یَاہوِہ نے مِصر میں اِنسان اَور حَیوان دونوں کے ہر ایک پہلوٹھے کو مار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں ماں کے رِحم کو کھولنے والے ہر نر پہلوٹھے کو یَاہوِہ کے حُضُور قُربان کرتا ہُوں اَور اَپنے سَب فرزندوں کے پہلوٹھے بیٹوں کا فدیہ دیتا ہُوں۔‘
EXO 13:16 اَور یہ تمہارے ہاتھ پر ایک نِشان کی طرح اَور تمہاری پیشانی پر ایک علامت کی مانند ہوگا کہ یَاہوِہ اَپنے قوی ہاتھ سے ہمیں مِصر سے نکال لائے۔“
EXO 13:17 اَور جَب فَرعوہؔ نے اُن لوگوں کو جانے دیا تو خُدا اُنہیں فلسطینیوں کے مُلک کے راستہ سے نہیں لے گئے اگرچہ وہ چھوٹا تھا کیونکہ خُدا نے فرمایا، ”اگر اُنہیں جنگ کا سامنا کرنا پڑا تو اَیسا نہ ہو کہ وہ پچھتانے لگیں اَور مِصر لَوٹ جایٔیں۔“
EXO 13:18 لہٰذا خُدا لوگوں کو گھُما کر بیابان کی راہ سے بحرِقُلزمؔ کی طرف لے گئے اَور بنی اِسرائیل مُلک مِصر سے مُسلّح ہوکر نکلے تھے۔
EXO 13:19 اَور مَوشہ یُوسیفؔ کی ہڈّیوں کو ساتھ لے گئے کیونکہ یُوسیفؔ نے بنی اِسرائیل سے قَسم لے لی تھی۔ یُوسیفؔ نے کہاتھا، ”خُدا یقیناً تمہاری مدد کریں گے اَور جَب تُم جاؤ تو میری ہڈّیوں کو یہاں سے اَپنے ساتھ لیتے جانا۔“
EXO 13:20 سُکّوتؔ سے روانہ ہوکر اُنہُوں نے بیابان کے کنارے ایتھامؔ میں پڑاؤ کیا۔
EXO 13:21 اَور یَاہوِہ اُن کو دِن کو راستہ دِکھانے کے لیٔے بادل کے سُتون میں اَور رات کو رَوشنی دینے کے لیٔے آگ کے سُتون میں ہوکر اُن کے آگے آگے چلا کرتے تھے تاکہ اِسرائیلی دِن کو اَور رات کو بھی سفر کر سکیں۔
EXO 13:22 اَور نہ تو دِن کو بادل کا سُتون اَور نہ رات کو آگ کا سُتون لوگوں کے آگے سے ہٹتا تھا۔
EXO 14:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
EXO 14:2 ”بنی اِسرائیل سے کہو، وہ واپس جایٔیں، اَور مِگدُلؔ اَور سمُندر کے درمیان پیہاخیروتؔ کے نزدیک ڈیرے لگائیں یعنی سمُندر کے کنارے کنارے بَعل ضِفونؔ کے بالکُل سامنے ڈیرے ڈالیں۔
EXO 14:3 اَور فَرعوہؔ خیال کرےگا، ’بنی اِسرائیل بیابان میں گھِر گیٔے ہیں اَور وہ گھبرا کر اِدھر اُدھر آوارہ پھر رہے ہیں۔‘
EXO 14:4 اَور مَیں فَرعوہؔ کے دِل کو سخت کر دُوں گا اَور وہ اُن کا تعاقب کرےگا۔ لیکن مَیں فَرعوہؔ اَور اُس کے سارے لشکر پر غالب آکر اَپنا جلال ظاہر کروں گا۔ تَب مِصری جان لیں گے کہ یَاہوِہ میں ہُوں۔ لہٰذا بنی اِسرائیل نے اَیسا ہی کیا۔“
EXO 14:5 جَب مِصر کے بادشاہ کو بتایا گیا کہ وہ لوگ فرار ہو گئے ہیں تو فَرعوہؔ اَور اُس کے اہلکاروں نے اُن کے متعلّق اَپنا اِرادہ بدل ڈالا اَور کہا، ”ہم نے یہ کیا کیا؟ ہم نے بنی اِسرائیل کو جانے کی اِجازت دے کر اَپنے آپ کو اُن کی خدمت سے محروم کر لیا!“
EXO 14:6 لہٰذا فَرعوہؔ نے اَپنا رتھ تیّار کروایا اَور اَپنے لشکر کو ساتھ لیا
EXO 14:7 اَور اُس نے چھ سَو چُنے ہویٔے رتھ لیٔے اَور مِصر کے تمام دیگر رتھ بھی طلب کر لیٔے اَور اُن میں افسروں کو بِٹھا دیا
EXO 14:8 اَور یَاہوِہ نے مِصر کے بادشاہ فَرعوہؔ کے دِل کو سخت کر دیا۔ پس اُس نے بنی اِسرائیل کا جو بڑے فخر سے مِصر سے نکلے تھے تعاقب کیا۔
EXO 14:9 اَور مِصری لشکر نے فَرعوہؔ کے تمام گھوڑوں، رتھوں اَور سواروں سمیت بنی اِسرائیل کا تعاقب کرکے اُن کو اُس وقت جا لیا جَب وہ سمُندر کے کنارے پیہاخیروتؔ کے قریب بَعل ضِفونؔ کے سامنے ڈیرے لگا رہے تھے۔
EXO 14:10 اَور جَب فَرعوہؔ نزدیک پہُنچا تو بنی اِسرائیل نے آنکھ اُٹھاکر دیکھا کہ مِصری اُن کا پیچھا کرتے کرتے آ پہُنچے ہیں۔ تَب وہ خوفزدہ ہوکر یَاہوِہ سے فریاد کرنے لگے۔
EXO 14:11 اَور مَوشہ سے کہنے لگے، ”کیا مِصر میں قبریں نہ تھیں، جو تُم ہمیں مرنے کے لیٔے بیابان میں لے آئے ہو؟ تُم نے ہمارے ساتھ یہ کیا کیا کہ ہمیں مِصر سے نکال لائے؟
EXO 14:12 کیا ہم نے آپ سے مِصر میں ہی نہ کہاتھا، ’ہمارا پیچھا چھوڑ دیجئے، اَور ہمیں مِصریوں کی خدمت میں لگے رہنے دیجئے؟‘ یہاں بیابان میں مرنے کی بہ نِسبت ہمارے لیٔے مِصریوں کی خدمت کرتے رہنا ہی بہتر تھا!“
EXO 14:13 تَب مَوشہ نے لوگوں سے کہا، ”ڈرو مت! ہمّت سے کام لو اَور خاموشی سے کھڑے رہو! تُم اُس نَجات کے کام کو دیکھوگے، جو یَاہوِہ آج تُمہیں دِکھائیں گے، اَور جِن مِصریوں کو تُم آج دیکھ رہے ہو، اُنہیں پھر کبھی نہ دیکھوگے۔
EXO 14:14 یَاہوِہ تمہاری طرف سے جنگ لڑیں گے۔ بس خاموش رہو اَور اِنتظار کرو۔“
EXO 14:15 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”تُم مُجھ سے کیوں فریاد کر رہے ہو؟ بنی اِسرائیل سے کہو کہ وہ آگے بڑھیں۔
EXO 14:16 اَور تُم اَپنا عصا اُٹھاکر اَپنا ہاتھ سمُندر کے اُوپر بڑھاؤ اَور اُس کے پانی کو دو حِصّوں میں بانٹ دو تاکہ بنی اِسرائیل سمُندر میں خشک زمین پر سے گزر کر پار جا سکیں۔
EXO 14:17 اَور مَیں مِصریوں کے دِل سخت کر دُوں گا اَور وہ اُن کا پیچھا کریں گے اَور مَیں فَرعوہؔ اَور اُس کی تمام فَوج اَور اُس کے رتھوں اَور سواروں پر غالب آؤں گا جِس سے میرا جلال ظاہر ہوگا۔
EXO 14:18 اَور جَب مَیں فَرعوہؔ، اُس کے رتھوں اَور سواروں پر غالب آکر جلال پاؤں گا تَب مِصری جان لیں گے کہ یَاہوِہ میں ہی ہُوں۔“
EXO 14:19 تَب خُدا کا وہ فرشتہ جو اِسرائیلی فَوج کے آگے آگے چلتا تھا سامنے سے ہٹ کر اُن کے پیچھے چلا گیا اَور بادل کا سُتون بھی سامنے سے ہٹ کر اُن کے پیچھے چلا گیا
EXO 14:20 اَور مِصری اَور اِسرائیلی فَوجوں کے مابین جا ٹھہرا اَور وہ بادل ساری رات ایک جانِب اَندھیرا اَور دُوسری جانِب رَوشنی دیتا رہا، لہٰذا رات بھر دونوں فَوجیں ایک دُوسرے کے نزدیک نہ آئیں۔
EXO 14:21 اَور پھر مَوشہ نے اَپنا ہاتھ سمُندر کے اُوپر بڑھایا اَور ساری رات یَاہوِہ نے بڑی تیز مشرقی ہَوا چلا کر سمُندر کو پیچھے ہٹا کر اُسے خشک زمین بنا دیا اَور پانی دو حِصّے ہو گیا۔
EXO 14:22 اَور بنی اِسرائیل سمُندر کے درمیان سے خشک زمین پر چل کر نکل گیٔے اَور سمُندر کا پانی اُن کی داہنی طرف اَور بائیں طرف دیوار کی طرح کھڑا تھا۔
EXO 14:23 اَور مِصریوں نے اُن کا تعاقب کیا اَور فَرعوہؔ کے گھوڑے اَور رتھ اَور سوار اُن کے پیچھے پیچھے سمُندر کے درمیان پہُنچ گیٔے۔
EXO 14:24 اَور رات کے پچھلے پہر یَاہوِہ نے آگ اَور بادل کے سُتون پر سے نیچے مِصری فَوج پر نظر ڈالی اَور اُن میں ابتری پیدا کر دی۔
EXO 14:25 اَور اُن کے رتھوں کے پہیّے پھنسا ڈالے۔ لہٰذا اُن کا چلانا مُشکل ہو گیا۔ اَور مِصری کہنے لگے، ”آؤ ہم اِسرائیلیوں کے مُقابلہ سے ہٹ جایٔیں کیونکہ اُن کی طرف سے یَاہوِہ مِصر سے جنگ لڑ رہے ہیں۔“
EXO 14:26 اَور پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اَپنا ہاتھ سمُندر کے اُوپر بڑھاؤ تاکہ پانی مِصریوں اُن کے رتھوں اَور سواروں پر پھر بہنے لگے۔“
EXO 14:27 اَور مَوشہ نے اَپنا ہاتھ سمُندر کے اُوپر بڑھایا اَور صُبح ہونے پر سمُندر اَپنی جگہ پر پھر واپس آ گیا۔ اَور وہ مِصری جو اُس سے بھاگ رہے تھے یَاہوِہ نے اُن کو سمُندر کی لپیٹ میں جانے دیا۔
EXO 14:28 اَور پانی پلٹ کر آیا اَور اُس نے رتھوں اَور سواروں اَور فَرعوہؔ کے تمام فَوج کو جو اِسرائیلیوں کا پیچھا کرتے ہُوئے سمُندر کے درمیان پہُنچ گیا تھا غرق کر دیا اَور اُن میں سے کویٔی بھی زندہ نہ بچا۔
EXO 14:29 لیکن بنی اِسرائیل سمُندر میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گیٔے اَور پانی دیوار کی طرح اُن کے داہنے اَور بائیں ہاتھ کھڑا رہا۔
EXO 14:30 اَور یُوں اُس دِن یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کو مِصریوں کے ہاتھ سے بچا لیا اَور بنی اِسرائیل نے دیکھا کہ مِصری سمُندر کے کنارے مَرے پڑے ہیں۔
EXO 14:31 اَور جَب اِسرائیلیوں نے اُس قوی ہاتھ کو دیکھا جو یَاہوِہ نے مِصریوں کے خِلاف اِستعمال کیا تھا تو وہ لوگ یَاہوِہ سے ڈرے اَور اُن پر اَور اُن کے خادِم مَوشہ پر ایمان لایٔے۔
EXO 15:1 تَب مَوشہ اَور بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کی حَمد میں یہ نغمہ گایا: ”مَیں یَاہوِہ کی ثنا گاؤں گا، کیونکہ وہ بہت ہی بُلند و بالا ہیں۔ اُنہُوں نے گھوڑوں کو سوار سمیت سمُندر میں پھینک دیا۔
EXO 15:2 ”یَاہوِہ میری قُوّت اَور میرا نغمہ ہیں؛ وہ ہی میری نَجات ہیں۔ وہ میرے خُدا ہیں اَور مَیں اُن کی حَمد کروں گا، وہ میرے باپ کے خُدا ہیں مَیں اُن کی تمجید کروں گا۔
EXO 15:3 یَاہوِہ جنگ میں فتح پاتے ہیں؛ اُن کا نام یَاہوِہ ہے۔
EXO 15:4 اُنہُوں نے فَرعوہؔ کے رتھوں اَور فَوج کو سمُندر میں ڈال دیا۔ اَور فَرعوہؔ کے چُنے ہُوئے افسران بحرِقُلزمؔ میں غرق ہو گئے۔
EXO 15:5 گہرے پانی نے اُن کو چھُپا لیا؛ وہ پتّھر کی مانند گہرائیوں میں ڈُوب گیٔے۔
EXO 15:6 اَے یَاہوِہ! آپ کا داہنا ہاتھ، قُوّت میں جلالی تھا۔ اَے یَاہوِہ! آپ کے ہاتھ نے، دُشمن کو چکنا چُور کر دیا۔
EXO 15:7 ”اَپنی عظمت کے جلال سے، آپ نے اَپنے مُخالفوں کو تہِ تیغ کر دیا۔ آپ کے آتِشیں قہر نے بھڑک کر؛ اُنہیں بھُوسے کی مانند بھسم کر دیا۔
EXO 15:8 آپ کے نتھنوں کے پُرزور دَم سے پانی کا ڈھیر لگ گیا۔ اَور سیلاب کا پانی دیوار کی طرح سیدھے کھڑا ہو گیا؛ اَور گہرا پانی سمُندر کے درمیان جم گیا۔
EXO 15:9 دُشمن نے بڑی شیخی بگھاری تھی، ’میں تعاقب کرکے اُنہیں تباہ کر دُوں گا۔ میں لُوٹ کا مال تقسیم کروں گا؛ میں اُن کو نگل جاؤں گا۔ میں اَپنی تلوار کھینچ کر اَپنے ہی ہاتھ سے اُنہیں ہلاک کروں گا۔‘
EXO 15:10 لیکن آپ نے اَپنی سانس کی آندھی بھیجی، اَور سمُندر نے اُن کو چھُپا لیا۔ اَور وہ زورآور پانی میں سیسے کی مانند ڈُوب گیٔے۔
EXO 15:11 اَے یَاہوِہ! معبُودوں میں کون آپ کی مانند ہے؟ کون ہے جو آپ کی مانند، اَپنی پاکیزگی میں جلالی، اَور اَپنی مدح کے سبب سے، اَور عجائب کام کر سکتا ہے؟
EXO 15:12 ”آپ نے اَپنا داہنا ہاتھ بڑھایا اَور زمین نے آپ کے دُشمنوں کو نگل لیا۔
EXO 15:13 اَپنی لافانی مَحَبّت سے آپ اُن لوگوں کی رہنمائی کریں گے جِن کا آپ نے فدیہ دیا ہے۔ اَور اُنہیں اَپنی قُوّت سے اَپنے مُقدّس قِیام کی طرف لےچلیں گے۔
EXO 15:14 قومیں سُنیں گی اَور تھرتھرائیں گی؛ اَور فلسطین کے لوگ ذہنی کُوفت میں مُبتلا ہوں گے۔
EXO 15:15 اَور اِدُوم کے سردار دہشت زدہ ہوں گے، اَور مُوآب کے سربراہوں پر کپکپی طاری ہو جائے گی، اَور کنعانؔ کے حُکاّم نابود ہو جایٔیں گے؛
EXO 15:16 اُن پر خوف و ہِراس طاری ہو جائے گا۔ اَور وہ آپ کے قوی ہاتھ سے پتّھر کی طرح بے حِس و حرکت رہیں گے۔ جَب تک اَے یَاہوِہ آپ کے لوگ سلامت نہ گزر جایٔیں، اَور جنہیں آپ نے خریدا ہے پار نہ ہو جایٔیں۔
EXO 15:17 آپ اُنہیں لاکر اَپنی مِیراث کے پہاڑ پر بساؤگے، یعنی اُس پاک مَقدِس مقام پر اَے یَاہوِہ جسے آپ نے اَپنے قِیام کے لیٔے بنایا ہے، وہ پاک مَقدِس اَے آقا جسے آپ کے ہاتھوں نے قائِم کیا ہے۔
EXO 15:18 ”یَاہوِہ ابدُالآباد سلطنت کریں گے۔“
EXO 15:19 جَب فَرعوہؔ کے گھوڑے، رتھ اَور سوار سمُندر کے درمیان پہُنچے تو یَاہوِہ سمُندر کے پانی کو اُن پر لَوٹا لائے۔ لیکن بنی اِسرائیل سمُندر کے درمیان سے خشک زمین پر چل کر نکل گیٔے۔
EXO 15:20 تَب اَہرونؔ کی بہن مِریمؔ نے جو نبیّہ بھی تھی دف ہاتھ میں لیا اَور سَب عورتیں دف لیٔے رقص کرتے ہویٔے اُس کے پیچھے چلیں۔
EXO 15:21 اَور مِریمؔ نے اُن کے گانے کے جَواب میں یہ نغمہ گایا: ”یَاہوِہ کی حَمد و ثنا گاؤ، کیونکہ وہ بہت بُلند و بالا ہیں۔ اُنہُوں نے گھوڑے کو اَور اُس کے سوار کو سمُندر میں گھُما کر غرق کر دیا ہے۔“
EXO 15:22 اَور پھر مَوشہ بنی اِسرائیل کو بحرِقُلزمؔ سے آگے لے گیٔے اَور وہ شُورؔ کے بیابان میں آئے اَور تین دِن تک چلتے رہے لیکن اُنہیں پانی نہ مِلا۔
EXO 15:23 اَور جَب وہ مارہؔ میں آئے تو وہ مارہؔ کا پانی نہ پی سکے کیونکہ وہ کڑوا تھا۔ (یہی وجہ ہے کہ اُس جگہ کا نام مارہؔ پڑ گیا)۔
EXO 15:24 لہٰذا اُنہُوں نے مَوشہ کے خِلاف بُڑبُڑانا شروع کر دیا اَور کہنے لگے، ”ہم کیا پیئیں؟“
EXO 15:25 تَب مَوشہ نے یَاہوِہ سے فریاد کی اَور یَاہوِہ نے اُسے لکڑی کا ایک ٹکڑا دِکھایا۔ جَب اُس نے پانی میں ڈالا تو پانی میٹھا ہو گیا۔ وہیں یَاہوِہ نے اُن کے لیٔے ایک قوانین اَور ہدایت مرتّب کی اَور وہیں اُنہُوں نے اُن کی آزمائش کی۔
EXO 15:26 اُنہُوں نے کہا، ”اگر تُم دِل لگا کر یَاہوِہ اَپنے خُدا کا کلام سنوگے اَور وُہی کروگے جو اُن کی نظر میں بھلا ہے اَور اگر تُم اُن کے اَحکام بجا لاؤگے اَور اُن کے تمام قوانین پر عَمل کروگے تو میں اُن بیماریوں میں سے کویٔی بھی جو مَیں نے مِصریوں پر نازل کیں تُم پر نازل نہ کروں گا کیونکہ مَیں وہ یَاہوِہ ہُوں جو تُمہیں شفا بخشتا ہے۔“
EXO 15:27 پھر وہ ایلِمؔ میں آئے جہاں پانی کے بَارہ چشمے اَور کھجور کے ستّر درخت تھے اَور وہ وہیں پانی کے قریب خیمہ زن ہو گئے۔
EXO 16:1 اَور مِصر سے نکل آنے کے دُوسرے مہینے کے پندرھویں دِن بنی اِسرائیل کی ساری جماعت ایلِمؔ سے روانہ ہوکر سِنؔ کے بیابان پہُنچی جو کہ ایلِمؔ اَور سِینؔائی کے درمیان ہے۔
EXO 16:2 اَور اُس بیابان میں ساری اِسرائیلی جماعت مَوشہ اَور اَہرونؔ کے خِلاف بُڑبُڑانے لگی
EXO 16:3 اَور بنی اِسرائیل نے اُن سے کہا، ”کاش ہم مِصر میں ہی یَاہوِہ کے ہاتھ سے مار دئیے جاتے! وہاں ہم گوشت کی ہانڈیوں کے پاس بیٹھ کر جِتنا چاہتے تھے کھاتے تھے لیکن تُم ہمیں وہاں سے نکال کر اِس بیابان میں اِس لیٔے لے آئے کہ اِس ساری جماعت کو بھُوکا مروایا جائے۔“
EXO 16:4 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”مَیں تمہارے لیٔے آسمان سے روٹیاں برساؤں گا۔ یہ لوگ ہر روز باہر نکلیں اَور صِرف ایک ایک دِن کے لیٔے کافی بٹور لائیں۔ اِس طرح مَیں اُن کی آزمائش کروں گا اَور دیکھوں گا کہ کیا وہ میرے آئین پر عَمل کرتے ہیں یا نہیں۔
EXO 16:5 اَور چھٹے دِن جِس قدر وہ لائیں گے اَور پکائیں گے وہ جِتنا ہر روز جمع کریں وہ اُس کا دُگنا ہوگا۔“
EXO 16:6 لہٰذا مَوشہ اَور اَہرونؔ نے تمام بنی اِسرائیل سے کہا، ”شام کو تُم جان لوگے کہ جو تُمہیں مُلک مِصر سے نکال کر لائے ہیں وہ یَاہوِہ ہیں
EXO 16:7 اَور صُبح کو تُم یَاہوِہ کا جلال دیکھوگے کیونکہ تمہارا اُن کے خِلاف بُڑبُڑانا اُنہُوں نے سُن لیا ہے۔ بھلا ہم کون ہیں کہ تُم ہمارے خِلاف بُڑبُڑاتے ہو؟“
EXO 16:8 مَوشہ نے مزید کہا، ”جَب وہ تُمہیں شام کو کھانے کے لیٔے گوشت اَور صُبح کو پیٹ بھرکے روٹی دیتے ہیں تو تُم جان لوگے کہ وہ یَاہوِہ ہی ہیں۔ کیونکہ اُن کے خِلاف تمہارا بُڑبُڑانا اُن تک جا پہُنچا ہے۔ بھلا ہم کون ہیں؟ تُم ہم پر نہیں بَلکہ یَاہوِہ کے خِلاف بُڑبُڑاتے ہو۔“
EXO 16:9 پھر مَوشہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”بنی اِسرائیل کی ساری جماعت سے کہو، ’یَاہوِہ کے سامنے حاضِر ہو، کیونکہ اُنہُوں نے تمہارا بُڑبُڑانا سُن لیا ہے۔‘ “
EXO 16:10 اَور جَب اَہرونؔ بنی اِسرائیل کی ساری جماعت سے یہ باتیں کہہ رہے تھے تو اُنہُوں نے بیابان کی طرف نظر کی اَور وہاں یَاہوِہ کا جلال اُنہیں بادل میں دِکھائی دیا۔
EXO 16:11 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
EXO 16:12 ”مَیں نے بنی اِسرائیل کا بُڑبُڑانا سُن لیا ہے؛ لہٰذا اُنہیں بتا دو، ’شام کو تُم گوشت کھاؤگے اَور صُبح کو تُم روٹی سے سَیر ہوگے۔ پھر تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔‘ “
EXO 16:13 اَور اُس شام اِتنی بٹیریں آئیں کہ بنی اِسرائیل کی ساری چھاؤنی کو ڈھانک لیا اَور صُبح کو چھاؤنی کے آس پاس اوس پڑی ہویٔی تھی
EXO 16:14 اَور جَب وہ اوس خشک ہو گئی تو بیابان میں زمین پر پڑے پالے کی مانند برف کے چُھوٹے چُھوٹے گول گول گالے نظر آنے لگے۔
EXO 16:15 جَب بنی اِسرائیل نے اُس چیز کو دیکھا تو وہ ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”یہ کیا ہے؟“ کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا چیز ہے۔ مَوشہ نے اُن سے کہا، ”یہ وہ روٹی ہے جو یَاہوِہ نے کھانے کے لیٔے تُمہیں دی ہے۔
EXO 16:16 اَور یَاہوِہ نے یُوں حُکم دیا ہے، ’ہر ایک اَپنی اَپنی ضروُرت کے مُطابق اُسے جمع کرے یعنی اَپنے خیمہ میں اِنسانوں کی تعداد کے مُطابق ایک اومر فی کس جمع کرنا۔‘ “
EXO 16:17 چنانچہ بنی اِسرائیل نے اَیسا ہی کیا جَیسا کہ اُنہیں حُکم دیا گیا تھا۔ بعض نے زِیادہ جمع کیا اَور بعض نے کم۔
EXO 16:18 اَور جَب اُنہُوں نے اُسے ناپا تو جِس نے زِیادہ جمع کیا اُس کا کچھ زِیادہ نہ نِکلا، اَور جِس نے کم جمع کیا اُس کا کچھ کم نہ نِکلا۔ ہر ایک نے اَپنی اَپنی ضروُرت کے مُطابق ہی جمع کیا تھا۔
EXO 16:19 پھر مَوشہ نے اُن سے کہا، ”کویٔی بھی اِس میں سے صُبح تک کچھ باقی نہ چھوڑے۔“
EXO 16:20 تاہم اُن میں سے بعض نے مَوشہ کی بات کی پروا نہ کی اَور اُس کا کچھ حِصّہ صُبح تک رکھ چھوڑا سو اُس میں کیڑے پڑ گیٔے اَور بدبُو پیدا ہو گئی اَور مَوشہ کو اُن پر بڑا غُصّہ آیا۔
EXO 16:21 ہر صُبح ہر ایک اَپنی اَپنی ضروُرت کے مُطابق جمع کرتا تھا اَور دھوپ تیز ہوتے ہی وہ پگھل جاتا تھا۔
EXO 16:22 اَور چھٹے دِن اُنہُوں نے ہر دِن کی بہ نِسبت دُگنا جمع کیا یعنی دو اومر فی کس کے حِساب سے۔ اَور جماعت کے سردار مَوشہ کے پاس آئے اَور اُسے یہ بات بتایٔی۔
EXO 16:23 اُس نے اُن سے کہا، ”یَاہوِہ کا حُکم یہ ہے، ’کل آرام کا دِن یعنی یَاہوِہ کا مُقدّس سَبت ہوگا لہٰذا جو کچھ تُم پکانا چاہو پکاؤ اَورجو کچھ اُبالنا چاہو اُبالو اَورجو بچ رہے اُسے اَپنے لیٔے صُبح تک محفوظ رکھو۔‘ “
EXO 16:24 لہٰذا اُنہُوں نے اُسے صُبح تک رہنے دیا جَیسا مَوشہ نے حُکم دیا تھا اَور اُس میں نہ تو بدبُو پیدا ہُوئی اَور نہ ہی کیڑے پڑے۔
EXO 16:25 اَور مَوشہ نے کہا، ”آج اِسی کو کھاؤ کیونکہ آج یَاہوِہ کا سَبت ہے، اَور آج تُم اِسے میدان میں پڑا نہ پاؤگے۔
EXO 16:26 چھ دِن تُم اِسے جمع کرنا لیکن ساتویں دِن یعنی سَبت کو وہ نہیں ملے گا۔“
EXO 16:27 پھر بھی بعض لوگ ساتویں دِن بھی اُسے بٹورنے گیٔے لیکن اُنہیں کچھ بھی نہ مِلا۔
EXO 16:28 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”تُم کب تک میرے اَحکام اَور ہدایات کو ماننے سے اِنکار کرتے رہوگے؟
EXO 16:29 یاد رکھو کہ یَاہوِہ نے تُمہیں سَبت کا دِن دیا ہے اِسی لیٔے چھٹے دِن وہ تُمہیں دو دِن کا کھانا دیتاہے لہٰذا ساتویں دِن ہر کویٔی اَپنی اَپنی جگہ ہی رہے اَور باہر نہ جائے۔“
EXO 16:30 پس لوگوں نے ساتویں دِن آرام کیا۔
EXO 16:31 اَور بنی اِسرائیل نے اُس روٹی کا نام منّا رکھا۔ یہ دھنیے کے بیج کی طرح سفید اَور اُس کا مزہ شہد سے بنی ہُوئی بوندی جَیسا تھا۔
EXO 16:32 اَور مَوشہ نے کہا، ”یَاہوِہ کا حُکم یہ ہے: ’ایک اومر منّا لے کر اُسے آنے والی پُشتوں کے لیٔے رکھ لو تاکہ وہ اُس روٹی کو دیکھ سکیں جو مَیں نے تُمہیں بیابان میں کھِلائی جَب مَیں تُمہیں مِصر سے نکال لایا۔‘ “
EXO 16:33 لہٰذا مَوشہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”ایک مرتبان لے اَور اُس میں ایک اومر منّا بھر لے اَور اُسے یَاہوِہ کے آگے رکھ دے تاکہ وہ آنے والی پُشتوں کے لیٔے محفوظ رہے۔“
EXO 16:34 اَور جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو آئین دیا تھا اُس کے مُطابق اَہرونؔ نے اُس منّا کو شہادت کی تختیوں کے آگے رکھ دیا تاکہ وہ رکھا رہے
EXO 16:35 اَور بنی اِسرائیل چالیس سال تک کسی آباد مُلک میں پہُنچنے تک منّا کھاتے رہے یعنی وہ مُلکِ کنعانؔ کے حُدوُد میں قدم رکھنے تک منّا کھا کر گزارہ کرتے رہے۔
EXO 16:36 (اَور ایک اومر ایفہ کا دسواں حِصّہ ہے۔)
EXO 17:1 پھر بنی اِسرائیل کی ساری جماعت سِنؔ کے بیابان سے روانہ ہویٔی اَور جَیسا یَاہوِہ نے حُکم دیا جگہ جگہ سفر کرتے ہویٔے رفیدیمؔ میں جا کر پڑاؤ کیا۔ لیکن وہاں لوگوں کے پینے کے لیٔے پانی نہ تھا۔
EXO 17:2 لہٰذا وہ مَوشہ سے جھگڑا کرکے کہنے لگے، ”ہمیں پینے کے لیٔے پانی دو۔“ مَوشہ نے جَواب دیا، ”تُم مُجھ سے کیوں جھگڑتے ہو اَور یَاہوِہ کو کیوں آزماتے ہو؟“
EXO 17:3 لیکن وہاں وہ لوگ پیاس کے مارے بیتاب تھے اَور وہ مَوشہ کے خِلاف بُڑبُڑانے لگے اَور کہنے لگے، ”آپ ہمیں اَور ہمارے بچّوں اَور ہمارے چَوپایوں کو پیاسا مارنے کے لیٔے مِصر سے کیوں نکال لائے؟“
EXO 17:4 تَب مَوشہ نے یَاہوِہ سے مِنّت کی، ”میں اِن لوگوں کے ساتھ کیا کروں؟ وہ تو مُجھے سنگسار کرنے کے درپے ہیں۔“
EXO 17:5 یَاہوِہ نے مَوشہ کو جَواب دیا، ”لوگوں کے آگے آگے چلتے رہو اَور بنی اِسرائیل کے کچھ بُزرگوں کو اَپنے ساتھ لے لو اَور اَپنا وہ عصا بھی ہاتھ میں لیتے جانا جو تُم نے دریائے نیل پر مارا تھا،
EXO 17:6 اَور دیکھو میں تُم سے پیشتر جا کر وہاں حورِبؔ کی چٹّان پر کھڑا ہُوں گا اَور تُم اُس چٹّان پر اَپنا عصا مارنا تو اُس میں سے لوگوں کے پینے کے لیٔے پانی نکلے گا۔“ لہٰذا مَوشہ نے بنی اِسرائیل کے بُزرگوں کے سامنے یہی کیا۔
EXO 17:7 اَور اُنہُوں نے اُس جگہ کا نام مَسّہؔ اَور مریبہؔ رکھا کیونکہ بنی اِسرائیل نے وہاں جھگڑا کیا اَور یہ کہتے ہویٔے یَاہوِہ کو آزمایا، ”یَاہوِہ ہمارے درمیان ہیں یا نہیں؟“
EXO 17:8 اَور اَیسا ہُوا کہ عمالیقیوں نے رفیدیمؔ میں آکر بنی اِسرائیل پر حملہ کر دیا
EXO 17:9 تَب مَوشہ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”ہمارے اَپنے اِنسانوں میں سے کچھ کو چُن لو اَور عمالیقیوں سے لڑنے کے لیٔے جاؤ اَور کل میں خُدا کا عصا اَپنے ہاتھوں میں لے کر پہاڑی کی چوٹی پر کھڑا رہُوں گا۔“
EXO 17:10 لہٰذا یہوشُعؔ عمالیقیوں سے لڑنے لگے جَیسا مَوشہ نے حُکم دیا تھا اَور مَوشہ، اَہرونؔ اَور حُورؔ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیٔے۔
EXO 17:11 اَور جَب تک مَوشہ اَپنے ہاتھ اُٹھائے رکھتے تھے بنی اِسرائیل غالب آتے لیکن جَب کبھی وہ اَپنے ہاتھ نیچے کرلیتے تو عمالیقی غالب آنے لگتے تھے۔
EXO 17:12 اَور جَب مَوشہ کے ہاتھ تھک گیٔے تو اُنہُوں نے ایک پتّھر لے کر مَوشہ کے پاس رکھ دیا اَور وہ اُس پر بیٹھ گئے۔ اَور اَہرونؔ اَور حُورؔ دونوں ایک مَوشہ کی ایک طرف سے اَور دُوسرا دُوسری طرف سے مَوشہ کے ہاتھوں کو سنبھالے رہے اَور یُوں اُن کے ہاتھ آفتاب کے غروب ہونے تک اُوپر اُٹھے رہے۔
EXO 17:13 اَور یہوشُعؔ نے عمالیقیوں کو بزورِ تلوار مغلُوب کر لیا۔
EXO 17:14 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اِس بات کو یادگاری کے لیٔے طُومار میں لِکھ دو اَور دیکھنا کہ یہوشُعؔ بھی اُسے سُن لے کیونکہ مَیں صفحۂ ہستی سے عمالیقؔ کا نام و نِشان تک مٹا دُوں گا۔“
EXO 17:15 اَور مَوشہ نے ایک مذبح بنایا اَور اُس کا نام یَاہوِہ میرا پرچم ہیں رکھا۔
EXO 17:16 اَور اُنہُوں نے کہا اِس لیٔے کہ میرے ہاتھ یَاہوِہ کے تخت کی طرف اُٹھائے گیٔے تھے، ”یَاہوِہ عمالیقیوں کے خِلاف پُشت در پُشت جنگ کرتے رہیں گے۔“
EXO 18:1 اَور اَیسا ہُوا کہ مِدیان کے کاہِنؔ یتروؔ نے جو مَوشہ کا سسُر تھا وہ سَب کچھ سُنا جو خُدا نے مَوشہ کے لیٔے اَور اَپنی قوم اِسرائیل کے لیٔے کیا تھا اَور یہ بھی کہ یَاہوِہ بنی اِسرائیل کو مِصر سے کِس طرح نکال لائے تھے۔
EXO 18:2 اَور جَب مَوشہ نے اَپنی بیوی ضِفورہؔ کو مَیکے بھیجا تو اُن کے سسُر یتروؔ نے ضِفورہؔ،
EXO 18:3 اَور اُن کے دونوں بیٹوں کو اَپنے گھر میں اُتارا۔ مَوشہ نے ایک بیٹے کا نام گیرشوم رکھا تھا اَور کہا، ”میں پردیس میں پردیسی کی طرح ہُوں!“
EXO 18:4 اَور دُوسرے کا نام الیعزرؔ رکھا تھا اَور کہاتھا، ”میرے باپ کا خُدا میرا مددگار ہُوا اَور اُنہُوں نے مُجھے فَرعوہؔ کی تلوار سے بچایا۔“
EXO 18:5 اَور مَوشہ کا سسُر یتروؔ، مَوشہ کی بیوی اَور اُن کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر بیابان میں آئے، جہاں مَوشہ نے خُدا کے پہاڑ کے نزدیک ڈیرہ ڈالا ہُوا تھا۔
EXO 18:6 یتروؔ نے مَوشہ کو پیغام بھیجا تھا، ”میں تمہارا سسُر یتروؔ تمہاری بیوی اَور اُس کے دونوں بیٹوں کو اَپنے ساتھ لے کر تمہارے پاس آ رہا ہُوں۔“
EXO 18:7 لہٰذا مَوشہ اَپنے سسُر کا اِستِقبال کرنے کے لیٔے باہر نکلے اَور آداب بجا لاکر اُنہیں چُوما۔ اُنہُوں نے ایک دُوسرے کی خیریت پُوچھی اَور پھر وہ خیمہ کے اَندر گیٔے
EXO 18:8 اَور مَوشہ نے اَپنے سسُر کو بتایا کہ یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کی خاطِر فَرعوہؔ اَور مِصریوں کے ساتھ کیا کچھ کیا اَور راستہ میں کیا کیا مُصیبتیں آئیں اَور یَاہوِہ کِس طرح اُنہیں حِفاظت سے لے آئے۔
EXO 18:9 اَور یتروؔ اُن تمام احسانات کے بارے میں سُن کر بہت خُوش ہُوا جو یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کو مِصریوں کے ہاتھ سے چھُڑانے کی خاطِر اُن پر کئے تھے۔
EXO 18:10 یتروؔ نے کہا، ”یَاہوِہ کی سِتائش ہو جِس نے تُمہیں مِصریوں کے ہاتھ اَور فَرعوہؔ کے ہاتھ سے نَجات دی۔ اَور جِس نے اِس قوم کو مِصریوں کے پنجہ سے چھُڑایا۔
EXO 18:11 اَب مَیں جان گیا کہ یَاہوِہ سَب معبُودوں سے بڑے ہیں کیونکہ اُنہُوں نے یہ اُن کے ساتھ کیا جنہوں نے بنی اِسرائیل پر ظُلم ڈھائے تھے۔“
EXO 18:12 پھر مَوشہ کے سسُر یتروؔ نے خُدا کے لیٔے سوختنی نذر اَور ذبیحے چڑھائے اَور اَہرونؔ اَور بنی اِسرائیل کے سَب بُزرگ مَوشہ کے سسُر کے ساتھ خُدا کے حُضُور کھانا کھانے آئے۔
EXO 18:13 اَور اگلے دِن مَوشہ لوگوں کی عدالت کرنے بیٹھے اَور لوگ صُبح سے شام تک اُن کے اِردگرد کھڑے رہے۔
EXO 18:14 جَب اُن کے سسُر نے وہ سَب کچھ جو مَوشہ لوگوں کے لیٔے کر رہے تھے، دیکھا تو اُنہُوں نے کہا، ”یہ کیا ہے جو لوگوں کے لیٔے تُم کر رہے ہو؟ تمام لوگ صُبح سے شام تک تمہارے اِردگرد کھڑے رہتے ہیں تو کیا تُم اکیلے ہی اُن کا اِنصاف کرنے کو رہ گئے ہو؟“
EXO 18:15 مَوشہ نے جَواب دیا، ”اِس کا سبب یہ ہے کہ لوگ میرے پاس خُدا کی مرضی مَعلُوم کرنے آتے ہیں۔
EXO 18:16 اَور جَب کبھی اُن میں کویٔی جھگڑا ہوتاہے تو وہ اُسے لے کر میرے پاس آتے ہیں اَور مَیں فریقین کے درمیان اِنصاف کرتا ہُوں اَور اُنہیں خُدا کے قوانین اَور ہدایات کی باتیں بتاتا ہُوں۔“
EXO 18:17 مَوشہ کے سسُر نے جَواب دیا، ”جو کچھ تُم کر رہے ہو وہ ٹھیک نہیں۔
EXO 18:18 کیونکہ وہ لوگ جو تمہارے پاس آتے ہیں وہ تُمہیں اَور اَپنے آپ کو تھکا دیں گے۔ یہ کام تمہارے لیٔے بہت بھاری ہے اَور تُم اکیلے اِسے سنبھال نہیں سکتے۔
EXO 18:19 اَب تُم میری بات سُنو۔ میں تُمہیں صلاح دیتا ہُوں اَور خُدا تمہارے ساتھ رہے۔ تُمہیں چاہیے کہ تُم خُدا کے حُضُور لوگوں کی نُمائندگی کرو اَور اُن کے جھگڑے خُدا تک پہُنچا دو۔
EXO 18:20 تُم اُنہیں قوانین اَور ہدایات کی باتیں ماننا سِکھایا کرو اَور اُنہیں زندگی بسر کرنے کا طریقہ اَور وہ فرائض جو اُنہیں پُورے کرنے ہیں بتایا کرو۔
EXO 18:21 تُم اُن لوگوں میں سے حق پرست اِنسان چُن لو اَیسا اِنسان جو خُدا سے ڈرنے والا اَور مُعتبر ہُوں اَور رشوت کے دُشمن ہُوں اَور اُنہیں ہزار ہزار سَو سَو پچاس پچاس اَور دس دس افراد پر بطور حاکم مُقرّر کر دو
EXO 18:22 تاکہ وہ ہر وقت لوگوں کا اِنصاف کریں لیکن ہر بڑا مُقدّمہ تمہارے پاس لائیں اَور صِرف آسان مُقدّموں کا فیصلہ وہ خُود کریں۔ اِس طرح تمہارا بوجھ ہلکا ہو جائے گا کیونکہ وہ بھی اِس بوجھ کو اُٹھانے مَیں تمہارے شریکِ کار ہوں گے۔
EXO 18:23 اگر تُم اَیسا کرو اَور خُدا بھی تُمہیں اِس کا حُکم دیں تو تُم اِس بھاری بوجھ کو اُٹھا سکوگے اَور تمام لوگ بھی تسلّی کے ساتھ گھر چلے جایٔیں گے۔“
EXO 18:24 مَوشہ نے اَپنے سسُر کی بات مان لی اَور وَیسا ہی کیا جَیسا اُنہُوں نے بتایا تھا۔
EXO 18:25 مَوشہ نے تمام بنی اِسرائیل میں سے لائق اِنسان چُن کر اُنہیں ہزار ہزار، سَو سَو، پچاس پچاس اَور دس دس لوگوں پر بطور حاکم مامُور کر دیا۔
EXO 18:26 اَور وہ ہر وقت لوگوں کا اِنصاف کرنے لگے۔ وہ بڑے بڑے مُقدّمے تو مَوشہ کے پاس لاتے تھے لیکن چُھوٹے چُھوٹے مُقدّموں کا فیصلہ وہ خُود ہی کر دیتے تھے۔
EXO 18:27 پھر مَوشہ نے اَپنے سسُر کو رخصت کیا اَور یتروؔ اَپنے وطن لَوٹ گئے۔
EXO 19:1 جَب بنی اِسرائیل کے مِصر سے چلے آنے کے بعد تین مہینے پُورے ہو گئے تو عَین اُسی دِن وہ سِینؔائی کے بیابان میں آئے
EXO 19:2 اَور جَب وہ رفیدیمؔ سے روانہ ہوکر سِینؔائی کے بیابان میں داخل ہویٔے تو بنی اِسرائیل وہیں بیابان میں کوہِ سِینؔائی کے سامنے خیمہ زن ہو گئے۔
EXO 19:3 اَور مَوشہ اُس پہاڑ پر چڑھے، اَور خُدا کی حُضُوری مَیں حاضِر ہویٔے، اَور یَاہوِہ نے اُسے پہاڑ پر سے پُکار کر کہا، ”تُمہیں یعقوب کی نَسل کو اَور بنی اِسرائیل کے لوگوں کو یہ بتانا:
EXO 19:4 ’تُم نے خُود دیکھ لیا کہ مَیں نے مِصر والوں کے ساتھ کیا کچھ کیا اَور کِس طرح میں تُمہیں گویا عُقاب کے پروں پر بِٹھا کر اَپنے پاس لے آیا۔
EXO 19:5 اَب اگر تُم پُوری طرح میری فرمانبرداری کرو اَور میرے عہد پر چلو تو تمام قوموں میں سے تُم ہی میری خاص مِلکیّت ٹھہروگے حالانکہ ساری زمین میری ہے۔
EXO 19:6 تُم میرے لیٔے کاہِنوں کی ایک مملکت اَور ایک مُقدّس قوم ہوگے۔‘ یہ ساری باتیں تُم بنی اِسرائیل سے کہہ دینا!“
EXO 19:7 پس مَوشہ نے واپس جا کر اَپنی قوم کے بُزرگوں کو بُلوایا اَور وہ باتیں جو یَاہوِہ نے اُن کو فرمائیں بَیان کیں۔
EXO 19:8 اَور سارے لوگوں نے مِل کر جَواب دیا، ”جو کچھ یَاہوِہ نے فرمایاہے ہم اُس پر عَمل کریں گے!“ اَور مَوشہ اُن کا یہ جَواب یَاہوِہ کے پاس لے گئے۔
EXO 19:9 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”مَیں گھنے بادل میں تمہارے پاس آؤں گا تاکہ یہ لوگ مُجھے تمہارے ساتھ کلام کرتے سُنیں اَور سدا تمہارا یقین کریں۔“ تَب مَوشہ نے لوگوں کی ساری باتیں یَاہوِہ سے بَیان کیں۔
EXO 19:10 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”لوگوں کے پاس جاؤ اَور آج اَور کل اُنہیں پاک کرو اَور دیکھو کہ وہ اَپنے کپڑے دھولیں۔
EXO 19:11 اَور تیسرے دِن تیّار رہیں کیونکہ اُس دِن یَاہوِہ سَب لوگوں کی نظر کے سامنے کوہِ سِینؔائی پر اُتریں گے۔
EXO 19:12 اَور تُم پہاڑ کے اِردگرد لوگوں کے لیٔے حدّ باندھ کر اُنہیں بتا دینا، ’وہ خبرداررہیں۔ نہ تو وہ اُس پہاڑ پر چڑھیں اَور نہ اُس کی حد کو چھُوئیں۔ اَورجو کویٔی اُس پہاڑ کو چھُوئے وہ یقیناً جان سے مار ڈالا جائے
EXO 19:13 خواہ وہ اِنسان ہو یا حَیوان اُسے یقیناً سنگسار کر دیا جائے یا تیروں سے چھید ڈالا جائے یعنی اُسے زندہ نہ رہنے دیا جائے اَور اُسے کویٔی ہاتھ نہ لگائے۔‘ ہاں جَب قَرنا دیر تک بجایا جائے تَب وہ اُس پہاڑ کے پاس جا سکتے ہیں۔“
EXO 19:14 اَور مَوشہ پہاڑ سے نیچے اُترے اَور لوگوں کے پاس جا کر اُنہیں پاک کیا اَور اُنہُوں نے اَپنے کپڑے دھو لیٔے
EXO 19:15 پھر اُنہُوں نے لوگوں سے کہا، ”اَپنے آپ کو تیسرے دِن کے لیٔے تیّار کرو اَور عورت سے دُور رہو۔“
EXO 19:16 اَور تیسرے دِن کی صُبح کو بادل گرجنے لگا اَور بجلی چمکنے لگی اَور پہاڑ کے اُوپر گھنا بادل چھا گیا اَور نرسنگا بہت زور سے بجا اَور چھاؤنیوں میں لوگوں پر لرزہ طاری ہو گیا۔
EXO 19:17 تَب مَوشہ لوگوں کو چھاؤنی سے باہر لایٔے تاکہ اُنہیں خُدا سے مِلوائے۔ سَب لوگ پہاڑ کی حد میں کھڑے ہو گئے
EXO 19:18 اَور کوہِ سِینؔائی اُوپر سے نیچے تک دھوئیں سے چھُپ گیا کیونکہ یَاہوِہ شُعلہ میں اُس پر اُترے تھے اَور دُھواں تنور کے دھوئیں کی مانند اُوپر اُٹھ رہاتھا اَور وہ سارا پہاڑ زور زور سے لرز رہاتھا۔
EXO 19:19 اَور جَب نرسنگے کی آواز اَور بھی زِیادہ بُلند ہونے لگی تو مَوشہ نے بولنا شروع کیا اَور خُدا نے گرج دار آواز سے اُنہیں جَواب دیا۔
EXO 19:20 اَور یَاہوِہ کوہِ سِینؔائی کی چوٹی پر اُترے اَور اُنہُوں نے مَوشہ کو پہاڑ کی چوٹی پر بُلایا۔ اِس لئے مَوشہ اُوپر گئے۔
EXO 19:21 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”جا کر لوگوں کو تاکید کرو اَور سمجھاؤ کہ اَیسا نہ ہو کہ وہ یَاہوِہ کو دیکھنے کے لیٔے مُقرّرہ حدّوں کو پار کرکے اِتنے نزدیک آ جایٔیں کہ اُن میں بہت سے ہلاک ہو جایٔیں۔
EXO 19:22 اَور وہ کاہِنؔ بھی جو یَاہوِہ کے حُضُور آنے کے لیٔے مُقرّر ہیں اَپنے آپ کو ضروُر پاک کریں ورنہ میں اُن کے ساتھ سختی سے پیش آؤں گا۔“
EXO 19:23 مَوشہ نے یَاہوِہ سے کہا، ”لوگ کوہِ سِینؔائی پر نہیں آسکتے کیونکہ آپ نے ہمیں خُود ہی تاکیداً کہاتھا، ’پہاڑ کے اِردگرد حدّ باندھ کر اُسے ایک مُقدّس مقام کے طور پر مخصُوص کر دو۔‘ “
EXO 19:24 اَور یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”نیچے جا کر اَہرونؔ کو اَپنے ساتھ اُوپر لے آؤ۔ لیکن کاہِنؔ اَور عوام یَاہوِہ کے پاس اُوپر آنے کے لیٔے مُقرّرہ حدّوں کو ہرگز نہ توڑیں ورنہ یَاہوِہ اُن کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے۔“
EXO 19:25 چنانچہ مَوشہ لوگوں کے پاس نیچے گئے اَور یہ باتیں اُنہیں بتائیں۔
EXO 20:1 اَور خُدا نے یہ سَب باتیں فرمائیں کہ:
EXO 20:2 ”یَاہوِہ تمہارا خُدا، جو تُمہیں مُلک مِصر کی غُلامی سے نکال لایا میں ہُوں۔
EXO 20:3 ”میرے حُضُور تُم غَیر معبُودوں کو نہ ماَننا۔
EXO 20:4 تُم کسی بھی شَے کی صورت پر خواہ وہ اُوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا نیچے پانیِوں میں ہو کویٔی بُت نہ بنانا۔
EXO 20:5 تُم اُن کے آگے سَجدہ نہ کرنا اَور نہ ہی اُن کی عبادت کرنا۔ کیونکہ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا غیّور خُدا ہُوں، اَورجو مُجھ سے عداوت رکھتے ہیں مَیں اُن کی اَولاد کو تیسری اَور چوتھی پُشت تک اُن کے آباؤاَجداد کی بدکاری کی سزا دیتا ہُوں۔
EXO 20:6 لیکن ہزاروں پُشتیں جو مُجھ سے مَحَبّت رکھتی ہیں اَور میرے حُکموں کو مانتی ہیں میں اُن سے مَحَبّت رکھتا ہُوں۔
EXO 20:7 تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کا نام بے مقصد نہ لینا کیونکہ جو کویٔی اُن کا نام بے مقصد لے گا یَاہوِہ اُسے بے سزا نہیں چھوڑیں گے۔
EXO 20:8 سَبت کے دِن کو پاک رکھنے کے طور پر یاد رکھنا۔
EXO 20:9 چھ دِن تک تُم محنت سے اَپنا سارا کام کاج کرنا۔
EXO 20:10 لیکن ساتواں دِن یَاہوِہ تمہارے خُدا کا سَبت ہے۔ اُس دِن نہ تُم کویٔی کام کرنا نہ تمہارا بیٹا یا بیٹی نہ تمہارا غُلام یا خادِمائیں نہ تمہارے چَوپائے اَور نہ کویٔی پردیسی جو تمہارے پھاٹکوں کے اَندر رہتا ہو، تاکہ تمہارے خادِم اَور خادِمائیں تمہاری طرح آرام کریں۔
EXO 20:11 کیونکہ چھ دِن میں یَاہوِہ نے آسمانوں کو، اَور زمین اَور سمُندر کو اَورجو کچھ اُن میں مَوجُود ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ لیکن ساتویں دِن آرام کیا۔ پس یَاہوِہ نے سَبت کے دِن کو برکت دی اَور اُسے مُقدّس ٹھہرایا۔
EXO 20:12 اَپنے باپ اَور اَپنی ماں کی عزّت کرنا تاکہ اُس مُلک میں جو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دیتے ہیں، تمہاری عمر دراز ہو۔
EXO 20:13 تُم اِنسان کا خُون نہ کرنا۔
EXO 20:14 تُم زنا نہ کرنا۔
EXO 20:15 تُم چوری نہ کرنا۔
EXO 20:16 تُم اَپنے پڑوسی کے خِلاف جھُوٹی گواہی نہ دینا۔
EXO 20:17 تُم اَپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ تُم اَپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اَور نہ اُس کے غُلام یا اُس کی خادِمہ کا، نہ اُس کے بَیل یا گدھے کا، اَور نہ اَپنے پڑوسی کی کسی اَور چیز کا۔“
EXO 20:18 اَور جَب لوگوں نے بادل کا گرجنا اَور بجلی کا چمکنا دیکھا اَور نرسنگے کی آواز سُنی اَور اُس پہاڑ سے دُھواں اٹھتے دیکھا تو وہ خوف سے کانپنے لگے اَور دُور جا کھڑے ہویٔے۔
EXO 20:19 اَور اُنہُوں نے مَوشہ سے کہا، ”ہم سے تُم ہی باتیں کیا کرنا اَور ہم سُن لیا کریں گے لیکن خُدا ہم سے باتیں نہ کریں تاکہ ہم ہلاک نہ ہوں۔“
EXO 20:20 مَوشہ نے لوگوں سے کہا، ”ڈرو مت خُدا اِس لیٔے آئے کہ تمہاری آزمائش کریں تاکہ تُمہیں خُدا کا خوف ہو اَور تُم گُناہ سے بچے رہو۔“
EXO 20:21 تَب مَوشہ اُس گہری تاریکی کے نزدیک جہاں خُدا مَوجُود تھے پہُنچے لیکن وہ لوگ دُور ہی کھڑے رہے۔
EXO 20:22 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”بنی اِسرائیل کو یہ بتاؤ کہ تُم نے خُود دیکھا کہ مَیں نے آسمان پر سے تمہارے ساتھ باتیں کی ہیں۔
EXO 20:23 تُم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اَور اَپنے لیٔے چاندی یا سونے کے معبُود نہ گڑھ لینا۔
EXO 20:24 ” ’میرے لیٔے مٹّی کا ایک مذبح بنانا اَور اُس پر اَپنی بھیڑ بکریوں اَور گائے بَیلوں کی سوختنی نذر اَور سلامتی کی نذریں چڑھانا۔ جہاں کہیں میرے نام کی تمجید کی جائے گی مَیں تمہارے پاس آؤں گا اَور تُمہیں برکت دُوں گا۔
EXO 20:25 اَور اگر تُم میرے لیٔے ایک پتّھروں کا مذبح بناؤ تو اُسے تراشے ہویٔے پتّھروں سے نہ بنانا کیونکہ اگر تُم اُسے بنانے کے لیٔے کویٔی اوزار اِستعمال کروگے تو اُسے ناپاک کر دوگے۔
EXO 20:26 اَور میرے مذبح تک سِیڑھیوں سے نہ جانا۔ اَیسا نہ ہو کہ تمہارا ننگا پن اُس پر ظاہر ہو جائے۔‘
EXO 21:1 ”وہ آئین جو تُمہیں لوگوں کو بتانا ہیں یہ ہیں:
EXO 21:2 ”اگر تُم عِبرانی غُلام خریدو تو وہ چھ سال تک تمہاری خدمت کرے لیکن ساتویں سال وہ قیمت اَدا کئے بغیر آزاد ہوکر چلا جائے۔
EXO 21:3 اگر خَاوند اکیلا خریدا جائے تو اکیلا ہی آزاد کیا جائے۔ اگر شادی شُدہ ہو تو اُس کی بیوی بھی اُس کے ساتھ آزاد کی جائے۔
EXO 21:4 اگر اُس کی شادی اُس کے آقا نے کروائی ہو اَور اُس عورت کے اُس سے بیٹے اَور بیٹیاں ہُوئی ہُوں تو وہ عورت اَور اُس کے بچّے اُس کے آقا کے ہوں گے اَور صِرف اِنسان آزاد کیا جائے گا۔
EXO 21:5 ”لیکن اگر وہ غُلام یہ اعلان کرے ’میں اَپنے آقا سے اَور اَپنی بیوی اَور بچّوں سے مَحَبّت رکھتا ہُوں اَور مَیں آزاد ہوکر جانا نہیں چاہتا،‘
EXO 21:6 تو اُس کا آقا اُسے قاضیوں کے پاس لے جائے اَور اُسے دروازہ پر یا دروازہ کی چوکھٹ پر لاکر سُوئے سے اُس کا کان چھید دے۔ تَب وہ عمر بھر اُس کی خدمت کرتا رہے گا۔
EXO 21:7 ”اَور اگر کویٔی اِنسان اَپنی بیٹی کو بطور خادِمہ بیچ دے تو وہ خادِمہ غُلاموں کی طرح چھ بَرس کے بعد آزاد نہ کی جائے۔
EXO 21:8 اگر وہ اَپنے آقا کو جِس نے اُسے اَپنے لیٔے مُنتخب کیا تھا خُوش نہ کرے تو وہ اُس کی چھڑوتی قیمت واپس لے کر اُسے اَپنے گھر جانے دے۔ اُسے اُس خادِمہ کو کسی پردیسی قوم کے ہاتھ بیچنے کا اِختیار نہیں کیونکہ وہ اُس خادِمہ کو اَپنے یہاں لانے کے بعد اُس سے کیا ہُوا وعدہ پُورا نہ کر سَکا۔
EXO 21:9 اگر وہ اُسے اَپنے بیٹے کے لیٔے خریدتا ہے تو اُس کے ساتھ بیٹیوں کے جَیسا سلُوک اَور حق اَدا کرے۔
EXO 21:10 اَور اگر وہ کسی دُوسری عورت کو شادی کرکے لایٔے تو لازِم ہے کہ وہ اُس خادِمہ یعنی پہلی عورت کو کھانے کپڑوں اَور اِزدواجی حُقُوق سے محروم نہ کرے۔
EXO 21:11 اگر وہ اُسے یہ تین چیزیں مُہیّا نہیں کرتا تو وہ خادِمہ اَپنے آزاد ہونے کی قیمت اَدا کئے بغیر واپس جا سکتی ہے۔
EXO 21:12 ”اگر کویٔی کسی اِنسان پر اَیسا حملہ کرے کہ وہ مَر جائے تو وہ لازماً جان سے ماراجائے۔
EXO 21:13 تاہم اگر اُس نے قصداً اَیسا نہ کیا ہو بَلکہ خُدا نے اَیسا ہونے دیا ہو تو اُس صورت میں وہ اُس جگہ جسے میں مُقرّر کروں گا فرار ہو جائے۔
EXO 21:14 لیکن اگر کویٔی دیدہ و دانستہ کسی دُوسرے اِنسان پر حملہ کرے تو اُسے میرے مذبح سے دُور لے جا کر مار دیا جائے۔
EXO 21:15 ”اَورجو کویٔی اَپنے باپ یا اَپنی ماں پر حملہ کرے وہ لازماً مار ڈالا جائے۔
EXO 21:16 ”اَورجو کویٔی کسی دُوسرے اِنسان کو اِغوا کرے خواہ اُسے بیچ دے خواہ اَپنے پاس رکھے اَور پکڑا جائے تو وہ ضروُر مار ڈالا جائے۔
EXO 21:17 ”اَورجو کویٔی اَپنے باپ یا اَپنی ماں پر لعنت کرے وہ قطعی مار ڈالا جائے۔
EXO 21:18 ”اَور اگر دو اِنسان جھگڑیں اَور ایک اِنسان دُوسرے اِنسان کو پتّھر یا مُکّا مارے اَور وہ نہ مَرے لیکن بِستر سے جا لگے،
EXO 21:19 اَور اُس کے بعد اُٹھ کر اَپنی لاٹھی کے سہارے چلنے پھرنے لگے تو وہ جِس نے مارا تھا بَری سمجھا جائے لیکن ہرجانہ بھرے اَور زخمی ہونے والے کے علاج کا سارا خرچ مُکمّل شفا ہونے تک اَدا کرے۔
EXO 21:20 ”اگر کویٔی اِنسان اَپنے غُلام یا اَپنی خادِمہ کو لاٹھی سے اَیسا مارے کہ وہ فوراً مَر جائے تو اُسے لازماً سزا دی جائے۔
EXO 21:21 لیکن اگر وہ غُلام ایک دو دِن کے بعد اَچھّا ہو جائے تو اُسے سزا نہ دی جائے، اِس لیٔے کہ وہ غُلام اُس کی مِلکیّت ہے۔
EXO 21:22 ”اگر وہ لوگ جو باہم لڑ رہے ہُوں کسی حاملہ عورت کو اَیسی چوٹ پہُنچائیں جِس کے باعث اُس کا حَمل گِر جائے لیکن اُسے کویٔی اَور ضرر نہ پہُنچے تو جِتنا جُرمانہ اُس کا خَاوند مانگے اَور قاضی منظُور کریں اُس سے لیا جائے۔
EXO 21:23 لیکن اگر اُسے کویٔی اَور ضرر پہُنچا ہو تو تُم جان کے بدلے جان
EXO 21:24 آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت، ہاتھ کے بدلے ہاتھ اَور پاؤں کے بدلے پاؤں لے لینا۔
EXO 21:25 جَلانے کے بدلے جَلانا، زخم کے بدلے زخم اَور چوٹ کے بدلے چوٹ پہُنچانا۔
EXO 21:26 ”اگر کویٔی مالک اَپنے غُلام یا لونڈی کی آنکھ پر اَیسا مارے کہ وہ پھوٹ جائے تو وہ اُس کی آنکھ کے بدلے اُس غُلام یا لونڈی کو آزاد کر دے۔
EXO 21:27 اَور اگر مالک کسی غُلام یا لونڈی کو مار کر اُس کا دانت توڑ ڈالے تو وہ اُس کے دانت کے بدلے اُس غُلام یا لونڈی کو آزاد کر دے۔
EXO 21:28 ”اگر کویٔی بَیل کسی مَرد یا عورت کو سینگ مار کر مار ڈالے تو اُس بَیل کو ضروُر سنگسار کیا جائے اَور اُس کا گوشت ہرگز نہ کھایا جائے لیکن بَیل کا مالک بےگُناہ ٹھہرے۔
EXO 21:29 لیکن اگر اُس بَیل کے سینگ مارنے کی عادت ہے اَور مالک کو آگاہ کیا جا چُکاہے لیکن اُس نے اُسے باندھ کر نہیں رکھا اَور وہ کسی مَرد یا عورت کو مار ڈالے تو اُس بَیل کو سنگسار کر دیا جائے اَور اُس کے مالک کو بھی مار ڈالا جائے۔
EXO 21:30 تاہم اگر اُس سے خُون بہا تو اُس کی چھڑوتی مانگی جائے تو اُسے اَپنی جان کے فدیہ میں جِتنا اُس سے طلب کیا جائے اُتنا ہی دینا پڑےگا۔
EXO 21:31 اگر وہ بَیل کسی کے بیٹے یا بیٹی کو سینگ مار کر مار ڈالے تَب بھی اِسی آئین کے مُطابق عَمل کیا جائے۔
EXO 21:32 اگر وہ بَیل کسی غُلام یا لونڈی کو سینگ مار کر مار ڈالے تو اُس بَیل کا مالک اُس غُلام یا لونڈی کے مالک کو تیس ثاقل چاندی اَدا کرے اَور اُس بَیل کو ضروُر سنگسار کر دیا جائے۔
EXO 21:33 ”اَور اگر کویٔی اِنسان کویٔی گڑھا کھول دے یا گڑھا کھود کر اُس کا مُنہ نہ ڈھانپے اَور کویٔی بَیل یا گدھا اُس میں گِر جائے
EXO 21:34 تو گڑھے کا مالک اُس کا نُقصان بھر دے اَور جانور کے مالک کو قیمت اَدا کرے اَور مَرے ہویٔے جانور کو خُود لے لے۔
EXO 21:35 ”اگر کسی اِنسان کا بَیل کسی دُوسرے کے بَیل کو اَیسا زخمی کرے کہ وہ مَر جائے تو وہ اُس زندہ بَیل کو بیچ دے اَور اُس کا دام آپَس میں آدھا آدھا بانٹ لیں اَور اُس مَرے ہویٔے بَیل کو بھی اَیسے ہی بانٹ لے۔
EXO 21:36 لیکن اگر یہ بات مَعلُوم ہو کہ بَیل کو سینگ مارنے کی عادت تھی اَور اُس کے مالک نے پھر بھی اُسے باندھ کر نہیں رکھا تو اُس کے مالک کو بَیل کے بدلے بَیل دینا لازمی ہوگا اَور مَرا ہُوا جانور اُس کا ہوگا۔
EXO 22:1 ”اگر کویٔی اِنسان ایک بَیل یا بھیڑ چُرا کر اُسے ذبح کرے یا بیچ دے تو وہ اُس بَیل کے بدلے پانچ بَیل اَور اُس بھیڑ کے بدلے چار بھیڑیں بطور مُعاوضہ دے۔
EXO 22:2 ”اگر کویٔی چور نقب زنی کرتے ہویٔے پکڑا جائے اَور اُس کو اَیسی مار پڑے کہ وہ مَر جائے تو مارنے والا خُون کا مُجرم نہ سمجھا جائے۔
EXO 22:3 لیکن اگر یہ واقعہ دِن میں ہو تو وہ خُون کا مُجرم سمجھا جائے گا۔ ”چور کو لازِم ہے کہ وہ چوری کے مال کا مُعاوضہ واپس کرے۔ اگر اُس کے پاس کچھ نہ ہو تو وہ چوری کی سزا کے طور پر غُلام بنا کر بیچ دیا جائے۔
EXO 22:4 لیکن اگر چوری کیا ہُوا جانور اُس کے پاس جیتا مِل جائے خواہ وہ بَیل ہو یا گدھا یا بھیڑ تو وہ اُس کا دُگنا واپس کر دے۔
EXO 22:5 ”اگر کویٔی اِنسان اَپنے مویشی کسی کھیت یا انگور کے باغ میں چَراتا ہو اَور وہ اُنہیں بھٹک جانے دے اَور وہ جا کر کسی دُوسرے کے کھیت میں چرنے لگیں تو وہ اَپنے کھیت یا انگور کے باغ کی اَچھّی سے اَچھّی پیداوار میں سے اُس کا مُعاوضہ دے۔
EXO 22:6 ”اگر آگ بھڑک اُٹھے اَور کانٹے دار جھاڑیوں میں اَیسی پھیل جائے کہ اُس سے اناج کے پُولے یا کھڑی فصل یا سارا کھیت جَل جائے تو وہ جِس نے آگ جَلائی ہو ضروُر مُعاوضہ اَدا کرے۔
EXO 22:7 ”اگر کویٔی اِنسان اَپنی چاندی یا دیگر سامان اَپنے پڑوسی کے پاس بطور اَمانت رکھے اَور وہ پڑوسی کے گھر سے چوری ہو جائے اَور چور پکڑا جائے تو وہ اُس کا دُگنا اَدا کرے۔
EXO 22:8 لیکن اگر چور پکڑا نہ جائے تو ضروُری ہے کہ اُس گھر کا مالک قاضی کے سامنے حاضِر ہو تاکہ مَعلُوم ہو سکے کہ کہیں اُس نے اَپنے پڑوسی کی اَمانت میں خیانت نہیں کی۔
EXO 22:9 خیانت والے سارے مُعاملات خواہ وہ بَیل، گدھے، بھیڑ یا کپڑے یا کسی گُم شُدہ مال کے بارے میں کہے، ’یہ میرا ہے،‘ فریقین کی طرف سے قاضیوں کے حُضُور پیش کئے جایٔیں اَور جِس کو قاضی مُجرم ٹھہرائے وہ اَپنے پڑوسی کو دُگنا اَدا کرے۔
EXO 22:10 ”اگر کویٔی اِنسان اَپنے ہمسایہ کے پاس گدھا یا بَیل یا بھیڑ یا کویٔی اَور جانور بطور اَمانت رکھے اَور وہ مرجائے یا زخمی ہو جائے یا چوری چُھپے کہیں اَور بھیج دیا جائے
EXO 22:11 تو اَیسے مُعاملہ کے تصفیہ کے لیٔے وہ دونوں یَاہوِہ کے سامنے حاضِر ہُوں اَور مُلزم قَسم کھا کر کہے کہ اُس نے اَپنے پڑوسی کی اَمانت میں خیانت نہیں کی اَور مالک اِسے سچ مانے تو کویٔی مُعاوضہ اَدا نہ کیا جائے۔
EXO 22:12 لیکن اگر وہ جانور پڑوسی کے یہاں سے چُرا لیا گیا ہو تو اُس کے مالک کو مُعاوضہ اَدا کرنا لازمی ہوگا۔
EXO 22:13 اگر اُسے کسی درندہ نے پھاڑ ڈالا ہو تو وہ اُس کی لاش بطور ثبوت پیش کر دے تو اُس سے اُس پھاڑے ہویٔے جانور کا مُعاوضہ نہ لیا جائے۔
EXO 22:14 ”اگر کویٔی اِنسان اَپنے پڑوسی سے کویٔی جانور اُدھار لے اَور وہ مالک کی غَیر مَوجُودگی میں زخمی ہو جائے یا مَر جائے تو وہ ضروُر اُس کا مُعاوضہ اَدا کرے۔
EXO 22:15 لیکن اگر مالک اَپنے جانور کے ساتھ ہو تو اُسے اُدھار لینے والے کو مُعاوضہ نہیں دینا پڑےگا۔ اگر وہ جانور کرایہ پر لیا گیا تھا تو کرایہ کی رقم ہی نُقصان کی تلافی سَمجھی جائے گی۔
EXO 22:16 ”اگر کویٔی اِنسان کسی کنواری کو جِس کی نِسبت نہ ہُوئی ہو پھُسلا کر اُس سے مباشرت کرے تو وہ لازماً اُسے مَہر دے اَور اُس سے شادی کر لے۔
EXO 22:17 اگر لڑکی کا باپ اُسے اَپنی لڑکی دینے سے قطعاً اِنکار کر دے تَب بھی وہ کنواریوں کے مَہر کے مُطابق اُسے نقد رُوپیہ اَدا کرے۔
EXO 22:18 ”تُم جادُوگرنی کو زندہ نہ رہنے دینا۔
EXO 22:19 ”جو کویٔی جانور سے مباشرت کرے وہ قطعی جان سے ماراجائے۔
EXO 22:20 ”جو کویٔی واحد یَاہوِہ کے سِوا کسی دُوسرے معبُود کے آگے قُربانی چڑھائے تو وہ بالکُل نابود کر دیا جائے۔
EXO 22:21 ”کسی پردیسی سے بدسلُوکی نہ کرنا اَور نہ ہی اُس پر ستِم ڈھانا کیونکہ تُم بھی مِصر میں پردیسی تھے۔
EXO 22:22 ”تُم کسی بِیوہ یا یتیم کو دُکھ نہ دینا۔
EXO 22:23 اگر تُم نے اَیسا کیا اَور اُنہُوں نے مُجھ سے فریاد کی تو میں یقیناً اُن کی فریاد سُنوں گا
EXO 22:24 اَور میرا قہر بھڑکے گا اَور مَیں تُمہیں تلوار سے مار ڈالوں گا اَور تمہاری بیویاں بِیوہ اَور تمہارے بچّے یتیم ہو جایٔیں گے۔
EXO 22:25 ”اگر تُم میرے لوگوں میں سے کسی مُحتاج کو جو تمہارے پاس رہتاہے کچھ رُوپیہ قرض دو تو اُس سے ساہوکار کی طرح سلُوک نہ کرنا اَور نہ زِیادہ سُود لینا۔
EXO 22:26 اگر تُم اَپنے پڑوسی کی چادر بطور رہن رکھ لو تو سُورج کے ڈُوبنے تک اُسے لَوٹا دینا
EXO 22:27 کیونکہ اُس کے پاس جِسم ڈھانپنے کے لیٔے صِرف وُہی چادر ہے۔ پھر وہ کیا اوڑھ کر سوئے گا؟ جَب وہ مُجھ سے فریاد کرےگا تو میں اُس کی فریاد سُنوں گا کیونکہ مَیں بڑا رحیم ہُوں۔
EXO 22:28 ”تُم خُدا پر لعنت نہ کرنا اَور اَپنی قوم کے رہنماؤں پر لعنت مت بھیجنا۔
EXO 22:29 ”تُم گوداموں میں جمع کی ہُوئی پیداوار اَور اَپنے کولھو سے نکالے ہویٔے رس میں سے میرے لیٔے نذریں لانے میں تاخیر نہ کرنا۔ ”اَور تُمہیں اَپنے بیٹوں میں سے پہلوٹھے کو لازماً مُجھے دینا ہوگا۔
EXO 22:30 اَور اَپنے مویشیوں اَور بھیڑوں کے پہلوٹھے کے ساتھ بھی اَیسا ہی کرنا۔ سات دِن تک تُم اُنہیں اَپنی ماؤں کے ساتھ رہنے دینا لیکن آٹھویں دِن تُم اُنہیں مُجھے دے دینا۔
EXO 22:31 ”تُم میرے مُقدّس لوگ ہوگے لہٰذا درندوں کے پھاڑے ہویٔے جانور کا گوشت نہ کھانا بَلکہ اُسے کُتّوں کے آگے پھینک دینا۔
EXO 23:1 ”تُم جھُوٹی خبریں نہ پھیلانا اَور نہ جھُوٹی گواہی دینے کے لیٔے کسی مُجرم کی مدد کرنا۔
EXO 23:2 ”بُرائی کرنے کے لیٔے ہُجوم کی پیروی نہ کرنا اَور جَب تُم کسی مُقدّمہ میں گواہی دو تو محض ہُجوم کا ساتھ دینے کی خاطِر اِنصاف کا خُون نہ کردینا۔
EXO 23:3 اَور کسی غریب اِنسان کے مُقدّمہ میں بھی طرفداری سے کام نہ لینا۔
EXO 23:4 ”اگر تُمہیں اَپنے دُشمن کا بھٹکا ہُوا بَیل یا گدھا کہیں مِل جائے تو اُسے ضروُر اُس کے پاس واپس لے جانا۔
EXO 23:5 اگر تُم اَپنے رقیب کے گدھے کو اُس کے بھاری بوجھ کے باعث گرا ہُوا دیکھو تو اُسے یُوں ہی نہ چھوڑ دینا بَلکہ اُسے کھڑا کرنے میں اُس کی مدد کرنا۔
EXO 23:6 ”تُم اَپنے غریب لوگوں کے مُقدّمات میں اِنصاف کا خُون نہ ہونے دینا۔
EXO 23:7 جھُوٹے اِلزام سے کویٔی واسطہ نہ رکھنا اَور نہ کسی بے قُصُور یا ایماندار اِنسان کو قتل کرنا کیونکہ مَیں کسی مُجرم کو نہ چھوڑوں گا۔
EXO 23:8 ”تُم رشوت نہ لینا کیونکہ رشوت بیناؤں کو اَندھا کردیتی ہے اَور صادقوں کی باتوں کو بدل ڈالتی ہے۔
EXO 23:9 ”کسی پردیسی پر ظُلم نہ کرنا کیونکہ تُم پردیسی کے دِل کو جانتے ہو اِس لیٔے کہ تُم خُود بھی مُلک مِصر میں پردیسی تھے۔
EXO 23:10 ”چھ سال تک تُم اَپنے کھیتوں میں بیج بونا اَور فصل کاٹنا۔
EXO 23:11 لیکن ساتویں سال اُس زمین میں نہ تو ہل چلانا اَور نہ اُسے اَپنے اِستعمال میں لانا تمہارے لوگوں میں جو ضروُرت مند ہُوں وہ اُس میں سے خُوراک حاصل کرنے کے لئے چھوڑیں۔ اَورجو اُن سے بچ رہے اُسے جنگلی جانور چَر لیں۔ اَپنے انگور کے باغ اَور اَپنے زَیتُون کے باغ سے بھی اَیسا ہی کرنا۔
EXO 23:12 ”چھ دِن اَپنا کام کاج کرنا لیکن ساتویں دِن کویٔی کام نہ کرنا تاکہ تمہارے بَیل اَور تمہارے گدھے کو آرام ملے اَور تمہارا خانہ زاد غُلام اَور وہ پردیسی جو تمہارے یہاں ٹھہرا ہو، تازہ دَم ہو جایٔے۔
EXO 23:13 ”اَور ہر ایک بات پرجو مَیں نے تُم سے کہی ہے احتیاط سے عَمل کرنا اَور دُوسرے معبُودوں کا نام تک نہ لینا بَلکہ وہ تمہارے مُنہ سے بھی سُنایٔی نہ دے۔
EXO 23:14 ”تُم سال میں تین بار میرے لیٔے عید منانا۔
EXO 23:15 ”عیدِ فطیر یعنی بے خمیری روٹی کی عید منانا اَور سات دِن تک جَیسا کہ مَیں نے تُمہیں حُکم دیا بے خمیری روٹیاں کھانا اَور اَیسا ابیبؔ کے مہینے میں مُقرّرہ وقت پر کرنا کیونکہ اُسی مہینے میں تُم مُلک مِصر سے نکلے تھے۔ ”اَور کویٔی بھی میرے سامنے خالی ہاتھ نہ آئے۔
EXO 23:16 ”اَور اَپنے کھیت میں جو فصل تُم بوؤ اُس کی پہلی پیداوار سے فصل کاٹنے کی عید منانا۔ ”اَور جَب تُم کھیت سے اَپنی فصل جمع کرو تو سال کے آخِر میں اناج جمع کرنے کی عید منانا۔
EXO 23:17 ”سال میں تین بار تمام مَردوں کو یَاہوِہ قادر کے حُضُور حاضِر ہونا ہوگا۔
EXO 23:18 ”تُم قُربانی کا خُون کسی اَیسی چیز کے ساتھ نہ پیش کرنا جِس میں خمیر مِلا ہو مُجھے نہ چڑھانا۔ ”اَور میری عید کی قُربانیوں کی چربی میں سے کچھ صُبح تک باقی نہ رکھنا۔
EXO 23:19 ”اَور تُم اَپنی زمین کے پہلے پھلوں میں سے بہترین پھل یَاہوِہ اَپنے خُدا کے گھر میں لانا۔“ تُم بکری کے بچّہ کو اُس کی ماں کے دُودھ میں نہ پکانا۔
EXO 23:20 ”سُنو، میں ایک فرشتہ تمہارے آگے بھیج رہا ہُوں تاکہ راستہ میں تمہارا نگہبان ہو اَور تُمہیں اُس جگہ پہُنچا دے جسے مَیں نے تیّار کیا ہے۔
EXO 23:21 تُم اُس کی طرف متوجّہ ہونا اَور اُس کی بات ماَننا۔ اَور اُس سے سرکشی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہاری سرکشی کو مُعاف نہیں کرےگا اِس لیٔے کہ میرا نام اُس میں رہتاہے۔
EXO 23:22 اگر تُم اُس کی بات مانوگے اَور وہ سَب جو مَیں کہتا ہُوں کروگے تو مَیں تمہارے دُشمنوں کا دُشمن اَور تمہاری مُخالفت کرنے والوں کا مُخالف ہُوں گا۔
EXO 23:23 میرا فرشتہ تمہارے آگے آگے چلے گا اَور تُمہیں امُوریوں، حِتّیوں، پَرزّیوں، کنعانیوں، حِوّیوں اَور یبُوسیوں کے مُلک میں پہُنچا دے گا اَور مَیں اُنہیں ہلاک کر ڈالوں گا۔
EXO 23:24 تُم نہ تو اُن کے معبُودوں کو سَجدہ کرنا نہ اُن کی عبادت کرنا اَور نہ اُن کی پیروی کرنا۔ تُم اُنہیں مِسمار کردینا اَور اُن کے مُقدّس سُتونوں ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔
EXO 23:25 تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی عبادت کرنا تو تمہاری روٹی اَور تمہارے پانی پر اُس کی برکت ہوگی اَور مَیں تمہارے درمیان سے بیماری کو دُور کروں گا۔
EXO 23:26 اَور تمہارے مُلک میں نہ تو کسی عورت کا حَمل گِرے گا اَور نہ کویٔی بانجھ ہوگی۔ اَور مَیں تُمہیں عمر کی درازی بخشوں گا۔
EXO 23:27 ”میں اَپنی ہیبت کو تمہارے آگے آگے بھیجوں گا اَور مَیں ہر ایک قوم کو جو تمہارا مُقابلہ کرےگی شِکست دُوں گا۔ تمہارے سارے دُشمن میری وجہ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جایٔیں گے۔
EXO 23:28 اَور تمہارے آگے تتیاؤں کو بھیجوں گا جو حِوّیوں، کنعانیوں اَور حِتّیوں کو تمہارے سامنے سے بھگا دیں گی۔
EXO 23:29 لیکن مَیں اُنہیں ایک ہی بَرس میں نہ بھگاؤں گا تاکہ زمین ویران نہ ہو اَور جنگلی جانوروں کی کثرت تمہارے لیٔے نُقصان دہ ثابت نہ ہو۔
EXO 23:30 بَلکہ میں تھوڑا تھوڑا کرکے اُنہیں تمہارے سامنے سے اُس وقت تک دُور کرتا رہُوں گا جَب تک کہ تُم تعداد میں بڑھ کر اُس مُلک پر قابض نہ ہو جاؤ۔
EXO 23:31 ”اَور مَیں تمہاری سرحدیں بحرِقُلزمؔ سے لے کر فلسطینیوں کے بہر تک اَور بیابان سے لے کر دریائے فراتؔ تک مُقرّر کروں گا اَور اُس مُلک میں رہنے والوں کو تمہارے قبضہ میں دے دُوں گا اَور تُم اُنہیں اَپنے سامنے سے نکال دوگے۔
EXO 23:32 تُم اُن سے یا اُن کے معبُودوں سے کویٔی عہد نہ باندھنا۔
EXO 23:33 اَور وہ تمہارے مُلک میں رہنے نہ پائے اَیسا نہ ہو کہ وہ تُم سے میرے خِلاف گُناہ کروائیں کیونکہ اُن کے معبُودوں کی عبادت تمہارے لیٔے یقیناً ایک پھندا بَن جائے گی۔“
EXO 24:1 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”تُم اَور تمہارے ساتھ اَہرونؔ نادابؔ اَور اَبِیہُو اَور بنی اِسرائیل کی نَسل کے ستّر رہنما اُوپر یَاہوِہ کے پاس آئیں اَور تُم دُور ہی سے سَجدہ کرنا۔
EXO 24:2 صِرف مَوشہ ہی یَاہوِہ کے نزدیک آئے دُوسرے نزدیک نہ آئیں۔ نہ ہی اَور لوگ اُن کے ساتھ اُوپر چڑھیں۔“
EXO 24:3 جَب مَوشہ نے جا کر اُن لوگوں کو یَاہوِہ کی سَب باتیں اَور اَحکام بتائے تو اُنہُوں نے ہم آواز ہوکر جَواب دیا، ”جو کچھ یَاہوِہ نے فرمایاہے ہم بجا لائیں گے۔“
EXO 24:4 تَب مَوشہ نے ساری باتوں کو جو یَاہوِہ نے فرمائی تھیں لِکھ لیا۔ اَور اگلے دِن صُبح سویرے اُٹھ کر پہاڑ کے دامن میں ایک مذبح بنایا اَور بنی اِسرائیل کے بَارہ قبیلوں کے حِساب سے پتّھر کے بَارہ سُتون نصب کئے۔
EXO 24:5 تَب مَوشہ نے بنی اِسرائیل کے جَوانوں کو بھیجا اَور اُنہُوں نے سوختنی نذریں چڑھائیں اَور بچھڑوں کو ذبح کرکے سلامتی کی نذر کی قُربانی یَاہوِہ کے حُضُور گزرانی۔
EXO 24:6 اَور مَوشہ نے آدھا خُون لے کر لگنوں میں رکھا اَور باقی کا آدھا مذبح پر چھڑک دیا۔
EXO 24:7 پھر مَوشہ نے عہد کی کِتاب کو لیا اَور لوگوں کو پڑھ کر سُنایا اَور اُنہُوں نے جَواب دیا، ”جو کچھ یَاہوِہ نے فرمایاہے ہم بجا لائیں گے اَور تابع رہیں گے۔“
EXO 24:8 تَب مَوشہ نے وہ خُون لیا اَور اُسے اُن لوگوں پر چھڑک دیا اَور کہا، ”یہ اُس عہد کا خُون ہے جو یَاہوِہ نے اِن سَب باتوں کی بابت تمہارے ساتھ باندھا ہے۔“
EXO 24:9 پھر مَوشہ اَور اَہرونؔ نادابؔ اَور اَبِیہُو اَور بنی اِسرائیل کے وہ ستّر رہنما اُوپر گیٔے۔
EXO 24:10 اَور اُنہُوں نے اِسرائیل کے خُدا کو دیکھا۔ اُن کے پاؤں کے نیچے نیلم کے پتّھر کی اینٹوں کا چبوترہ سا تھا جو نیلے آسمان کی مانند شفّاف تھا۔
EXO 24:11 بنی اِسرائیل کے اِن سربراہوں نے خُدا کو دیکھا لیکن خُدا نے اُنہیں ہلاک نہیں کیا۔ تَب اُنہُوں نے کھایا اَور پیا۔
EXO 24:12 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”پہاڑ پر میرے پاس آؤ اَور وہیں ٹھہرے رہو۔ میں تُمہیں پتّھر کی تختیاں دُوں گا جِن پر مَیں نے اُن کی تعلیم کے لیٔے آئین کے اَحکام لِکھ دئیے ہیں۔“
EXO 24:13 تَب مَوشہ اَپنے خادِم یہوشُعؔ کو لے کر روانہ ہُوئے اَور مَوشہ خُدا کے پہاڑ کے اُوپر چڑھ گئے۔
EXO 24:14 اَور اُنہُوں نے اُن رہنماؤں سے کہا، ”جَب تک ہم لَوٹ کر تمہارے پاس واپس نہ آ جائیں تَب تک تُم ہمارا یہیں اِنتظار کرو۔ اَہرونؔ اَور حُورؔ تمہارے ساتھ ہیں اَور جِس کسی کا کویٔی مُقدّمہ ہو وہ اُن سے رُجُوع کرے۔“
EXO 24:15 جَب مَوشہ اُوپر پہُنچے تو پہاڑ پر گھٹا چھاگئی۔
EXO 24:16 اَور یَاہوِہ کا جلال کوہِ سِینؔائی پر آ ٹھہرا۔ اَور پہاڑ پر چھ دِن تک گھٹا چھائی رہی اَور ساتویں دِن یَاہوِہ نے اُس گھٹا میں سے مَوشہ کو پُکارا۔
EXO 24:17 اَور بنی اِسرائیل کی نگاہ میں پہاڑ کی چوٹی پر یَاہوِہ کے جلال کا منظر بھسم کرنے والی آگ کی مانند تھا۔
EXO 24:18 اَور مَوشہ اُس گھٹا میں داخل ہوکر اُوپر چڑھ گیٔے اَور چالیس دِن اَور چالیس رات پہاڑ ہی پر رہے۔
EXO 25:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا:
EXO 25:2 ”بنی اِسرائیل سے کہو کہ میرے لیٔے نذر لائیں۔ اَورجو اِنسان دِل کی خُوشی سے نذر لایٔے تو اُسے میرے لیٔے قبُول کر لینا۔
EXO 25:3 ”اَورجو نذریں تُم اُن سے لوگے وہ یہ ہیں: ”سونا، چاندی، کانسے؛
EXO 25:4 نیلا، اَرغوانی، سُرخ رنگ کا کپڑا، نفیس کتان؛ بکری کی پشم؛
EXO 25:5 اَور مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہُوئی کھالیں اَور دریائی بچھڑوں کی کھالیں؛ اَور کیکر کی لکڑی؛
EXO 25:6 اَور چراغ کے لیٔے؛ زَیتُون کا تیل؛ مَسح کا تیل اَور خُوشبودار بخُور کے لیٔے مَسالے؛
EXO 25:7 افُود، سنگِ سُلیمانی اَور سینہ بند میں جڑنے کے لیٔے نگینے اَور دیگر جواہرات۔
EXO 25:8 ”اَور پھر وہ میرے لیٔے ایک پاک مَقدِس بنائیں اَور مَیں اُن کے درمیان سکونت کروں گا۔
EXO 25:9 اَور اُس مَسکن اَور اُس کے سارے سامان کا جو نمونہ میں تُمہیں دِکھاؤں ٹھیک اُسی کے مُطابق اُسے بنانا۔
EXO 25:10 ”اَور وہ کیکر کی لکڑی کا ایک صندُوق بنائیں جِس کی لمبائی ڈھائی ہاتھ اَور چوڑائی ڈیڑھ ہاتھ اَور اُونچائی ڈیڑھ ہاتھ ہو۔
EXO 25:11 اَور اُس کے اَندر اَور باہر تُم خالص سونا منڈھنا اَور اُس کے اُوپر سجاوٹ کے لیٔے سونے کا بنا ہُوا کلس لگانا۔
EXO 25:12 اَور اُس کے لیٔے سونے کے چار کڑے ڈھال کر اُس کے چاروں پایوں میں لگانا، دو کڑے ایک طرف ہوں اَور دُوسری طرف بھی دو۔
EXO 25:13 اَور پھر کیکر کی لکڑی کی بَلّیاں بنا کر اُن پر سونا منڈھنا۔
EXO 25:14 اَور وہ بَلّیاں صندُوق کے اطراف کے کڑوں میں ڈالنا کہ اُن کے سہارے صندُوق کو اُٹھایا جائے۔
EXO 25:15 اَور وہ بَلّیاں اُس صندُوق کے کڑوں میں ہی رہیں۔ اُن کو الگ نہ کیا جائے۔
EXO 25:16 پھر تُم اُس شہادت نامہ کو جو میں تُمہیں دُوں گا اُس عہد کی تختیوں کو صندُوق میں رکھنا۔
EXO 25:17 ”اَور تُم کفّارہ کا سرپوش خالص سونے کا بنانا جو ڈھائی ہاتھ لمبا اَور ڈیڑھ ہاتھ چوڑا ہو۔
EXO 25:18 اَور سرپوش کے دونوں کونوں پر سونے سے گڑھے ہویٔے دو کروبیم بنانا۔
EXO 25:19 اَور ایک کروب کو ایک سِرے پر اَور دُوسرے کروب کو دُوسرے پر لگانا اَور تُم دونوں سِروں کے کروبیم اَور سرپوش کو ایک ہی ٹکڑے سے بنانا۔
EXO 25:20 اَور کروبیم کے پر اُوپر کی طرف اِس طرح پھیلے ہویٔے ہُوں کہ وہ سرپوش کو ڈھانکے رہیں۔ اَور کروبیم کے چہرے ایک دُوسرے کے آمنے سامنے سرپوش کی طرف ہُوں۔
EXO 25:21 اَور تُم اُس سرپوش کو اُس صندُوق کے اُوپر لگانا اَور وہ عہد کی تختیاں جو میں تُمہیں دُوں گا اُس صندُوق کے اَندر رکھنا۔
EXO 25:22 وہاں عہد کے صندُوق پر سرپوش کے اُوپر دونوں کروبیم کے درمیان تُم سے مِلا کروں گا اَور بنی اِسرائیل کے لیٔے اَپنے تمام اَحکام تُمہیں دیا کروں گا۔
EXO 25:23 ”کیکر کی لکڑی کی ایک میز بنانا جو دو ہاتھ لمبی ایک ہاتھ چوڑی اَور ڈیڑھ ہاتھ اُونچی ہو۔
EXO 25:24 اَور اُسے خالص سونے سے منڈھنا اَور اُس کے گِرد سونے کا ایک کلس بنانا۔
EXO 25:25 اَور اُس کے چَوگرد چار اُنگل چوڑی کنگنی لگانا اَور سونے کا ایک کلس اُس کنگنی پر رکھنا۔
EXO 25:26 اَور اُس میز کے لیٔے سونے کے چار کڑے بنانا اَور اُنہیں اُس کے چاروں کونوں سے جہاں کہ اُس کے چاروں پایٔے ہیں جوڑ دینا۔
EXO 25:27 اَور وہ کڑے اُس کنگنی کے نزدیک ہی ہُوں تاکہ وہ میز کو اُٹھانے کے لئے اِستعمال ہونے والی بَلّیوں کو تھامے رکھیں۔
EXO 25:28 اَور وہ بَلّیاں کیکر کی لکڑی سے بنانا اَور اُنہیں سونے سے منڈھنا اَور میز کو اُن بَلّیوں کے سہارے ہی اُٹھانا۔
EXO 25:29 اَور تُم اُس کے طباق اَور ڈونگے اَور صُراحیاں اَور نذریں اُنڈیلنے کے پیالے بھی خالص سونے کے بنانا۔
EXO 25:30 اَور تُم اُس میز پر نذر کی روٹی ہمیشہ میرے رُوبرو رکھنا۔
EXO 25:31 ”تُم خالص سونے کا ایک چراغدان بنانا۔ اُس کے پایٔے اَور ڈنڈی سَب گڑھ کر بنائے جایٔیں اَور اُس کے پیالے، کلیاں اَور پھُول سَب ایک ہی ٹکڑے کے بنے ہُوں۔
EXO 25:32 اَور اُس چراغدان کے دونوں طرف سے چھ شاخیں باہر کو نکلی ہُوں۔ تین ایک طرف اَور تین دُوسری طرف۔
EXO 25:33 ایک شاخ پر بادام کے پھُول کی شکل کے تین پیالے، کلیاں اَور پھُول ہُوں اَور تین دُوسری شاخ پر۔ اَور اِسی طرح چراغدان سے باہر کو نکلی ہُوئی چھ شاخوں پر ہُوں۔
EXO 25:34 اَور چراغدان کے اُوپر بادام کے پھُول کی شکل کے چار پیالے بنے ہویٔے ہُوں اَور اُن کے ساتھ کلیاں اَور پھُول بھی ہُوں۔
EXO 25:35 ایک کلی چراغدان سے باہر نکلی ہُوئی شاخوں کی پہلی جوڑی کے نیچے ہو۔ دُوسری کلی شاخوں کی دُوسری جوڑی کے نیچے اَور تیسری کلی تیسری جوڑی کے نیچے۔ یعنی ساری کلیاں چھ شاخوں کے نیچے۔
EXO 25:36 وہ کلیاں اَور شاخیں اَور چراغدان ایک ہی ٹکڑے کے ہُوں اَور خالص سونے کے ٹکڑے سے گڑھ کر بنائے گیٔے ہُوں۔
EXO 25:37 ”پھر تُم اُس کے لیٔے سات چراغ بنانا اَور اُنہیں اُس کے اُوپر رکھنا تاکہ وہ اُس کے سامنے کی جگہ کو رَوشن کریں۔
EXO 25:38 اَور اُس کے گُلگیر اَور گلدان خالص سونے کے ہُوں۔
EXO 25:39 وہ چراغدان اَور اُس کے لوازمات ایک تالنت خالص سونے کے بنے ہویٔے ہُوں۔
EXO 25:40 اَور خیال رکھو کہ جو نمونہ تُمہیں پہاڑ پر دِکھایا گیا تھا اُسی کے مُطابق سَب چیزیں بنانا۔
EXO 26:1 ”اَور تُم مَسکن کے لیٔے دس پردے بنانا جو نفیس بٹے ہویٔے کتان سے اَور نیلے آسمانی اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کے دھاگوں سے بُنے ہُوں اَور جِن پر کسی ماہر کاریگر نے کشیدہ کاری سے کروبیم بنائے ہُوں۔
EXO 26:2 اَور وہ تمام پردے ایک ہی ناپ کے ہوں یعنی ہر ایک اٹّھائیس ہاتھ لمبا اَور چار ہاتھ چوڑا ہو۔
EXO 26:3 اَور تُم پانچ پردوں کو باہم جوڑ دینا اَور باقی پانچ پردے بھی اِسی طرح جوڑے جایٔیں یعنی پانچ پانچ پردوں کے دو جوڑے بَن جایٔیں
EXO 26:4 اَور ایک جوڑے کے آخِری پردہ کے کنارے کے ساتھ ساتھ نیلے آسمانی رنگ کے تُکمے بنانا۔ اَور دُوسرے جوڑے کے آخِری پردہ کے کنارے میں بھی اَیسے ہی تُکمے بنانا۔
EXO 26:5 پہلی جوڑی کے ایک پردہ پر پچاس تُکمے اَور دُوسری جوڑی کے آخِری پردہ پر بھی پچاس تُکمے ہوں گے۔ سَب تُکمے ایک دُوسرے کے آمنے سامنے ہوں۔
EXO 26:6 پھر سونے کی پچاس گھنڈیاں بنا کر اُنہیں اُن پردوں کے دونوں جوڑوں کو باہم مِلانے کے لیٔے اِستعمال کرنا تاکہ وہ ایک مَسکن بَن جائے۔
EXO 26:7 ”اَور اُس مَسکن کے اُوپر خیمہ مَسکن کے اُوپر کے خیمہ کے لیٔے بکری کی پشم سے پردے بنانا جِن کی تعداد گیارہ ہُوں۔
EXO 26:8 اَور وہ گیارہ پردے ایک ہی ناپ کے ہُوں یعنی ہر پردہ تیس ہاتھ لمبا اَور چار ہاتھ چوڑا ہو۔
EXO 26:9 اَور اُن پردوں میں سے پانچ کو باہم جوڑ کر ایک جوڑا بنانا اَور باقی چھ کو جوڑ کر دُوسرا جوڑا بنانا۔ اَور چھٹے پردہ کو خیمہ کے سامنے موڑکر دہرا کردینا۔
EXO 26:10 اَور ایک جوڑے کے آخِری پردہ کے کنارے کے ساتھ ساتھ پچاس تُکمے بنانا اَور دُوسرے جوڑے کے آخِری پردہ کے کنارے کے ساتھ ساتھ بھی پچاس تُکمے بنانا۔
EXO 26:11 پھر کانسے کی پچاس گھنڈیاں بنانا اَور اُس خیمہ کو باہم جوڑنے کے لیٔے اُن گھنڈیوں کو اُن تکموں میں ڈال دینا۔
EXO 26:12 اَور مَسکن کے پردوں کو مزید پھیلانے کے لیٔے بچا ہُوا آدھا پردہ خیمہ کی پچھلی طرف لٹکا رہے۔
EXO 26:13 اَور اُس خیمہ کے پردے دونوں اطراف ایک ایک ہاتھ زِیادہ لمبے ہُوں تاکہ مَسکن کو دونوں طرف سے ڈھانکنے کے لیٔے اِدھر اَور اُدھر لٹکے رہیں۔
EXO 26:14 اَور اُس خیمہ کے اُوپر ڈالنے کے لیٔے ایک غلاف مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہُوئی کھالوں کا بنانا اَور اُس کے اُوپر دریائی بچھڑوں کی کھالوں کا۔
EXO 26:15 ”اَور تُم مَسکن کے لیٔے کیکر کی لکڑی کے چوکھٹے بنانا جو کھڑے کئے جا سکیں۔
EXO 26:16 ہر چوکھٹا دس ہاتھ لمبا اَور ڈیڑھ ہاتھ چوڑا ہو۔
EXO 26:17 اُن کی دو دو چُولیں ہُوں جو ایک دُوسرے کے متوازی ہُوں۔ مَسکن کے تمام چوکھٹے اِسی طرح بنانا۔
EXO 26:18 مَسکن کے جُنوبی پہلو کے لیٔے بیس چوکھٹے بنانا۔
EXO 26:19 اَور اُن کے لیٔے چاندی کے چالیس پایٔے بنانا یعنی ہر چوکھٹے کے لیٔے دو دو پایٔے جو دونوں چُولوں کے نیچے ہُوں۔
EXO 26:20 دُوسری جانِب یعنی مَسکن کے شمالی پہلو میں بیس چوکھٹے بنانا۔
EXO 26:21 اَور چاندی کے چالیس پایٔے بنانا تاکہ ہر ایک چوکھٹے کے نیچے دو دو پایٔے ہُوں۔
EXO 26:22 اَور آخِری کونے پر یعنی مَسکن کی مغربی سمت میں چھ چوکھٹے بنانا۔
EXO 26:23 اَور اُسی طرف کونوں کے لیٔے دو چوکھٹے بنانا۔
EXO 26:24 اِن دونوں کونوں پر وہ نیچے سے لے کر اُوپر تک دوہرے ہُوں اَور ایک ہی حلقے میں برابر جُڑے ہُوں اَور دونوں ایک سے ہُوں۔
EXO 26:25 یُوں آٹھ چوکھٹے اَور چاندی کے سولہ پایٔے ہوں گے۔ یعنی ہر ایک چوکھٹے کے نیچے دو دو۔
EXO 26:26 ”اَور کیکر کی لکڑی سے بینڈے بھی بنانا۔ پانچ اُن چوکھٹوں کے لیٔے جو مَسکن کے ایک طرف ہوں۔
EXO 26:27 پانچ اُن چوکھٹوں کے لیٔے جو دُوسری طرف ہیں اَور پانچ مغربی سمت والے چوکھٹوں کے لیٔے جو مَسکن کے کونے پر ہیں۔
EXO 26:28 اَور وسطیٰ بینڈے کو اَیسا بنانا کہ وہ اُن چوکھٹوں کے درمیان سے ہوکر ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک پہُنچے۔
EXO 26:29 اَور اُن چوکھٹوں پر سونا منڈھنا اَور اُن بینڈوں کو تھامنے کے لیٔے سونے کے حلقے بنانا۔ اَور اُن بینڈوں کو بھی سونے سے منڈھنا۔
EXO 26:30 ”اَور تُم مَسکن کو اُسی نمونہ کے مُطابق بنانا جو تُمہیں پہاڑ پر دِکھایا گیا تھا۔
EXO 26:31 ”اَور تُم نیلے اَرغوانی اَور سُرخ دھاگے اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان سے ایک پردہ بنانا جِس پر کسی ماہر کاریگر نے کشیدہ کاری سے کروبیم بنائے ہوں۔
EXO 26:32 اَور اُسے سونے سے منڈھے ہویٔے کیکر کی لکڑی کے چار سُتونوں پرجو چاندی کے چار پایوں پر کھڑے ہُوں سونے کے حلقوں سے لٹکانا۔
EXO 26:33 اَور اُس پردہ کو چھلّوں سے نیچے لٹکانا اَور عہد کے صندُوق کے صندُوق کو اُس پردہ کے پیچھے رکھنا اَور وہ پردہ پاک مقام کو پاک ترین مقام سے الگ کرےگا۔
EXO 26:34 اَور تُم کفّارہ کے سرپوش کو پاک ترین مقام میں عہد کے صندُوق کے صندُوق کے اُوپر رکھنا۔
EXO 26:35 اَور میز کو پردہ کے باہر مَسکن کی شمالی سمت میں رکھنا اَور چراغدان کو اُس کے سامنے جُنوبی سمت میں رکھنا۔
EXO 26:36 ”اَور اُس خیمہ میں دروازہ کے لیٔے تُم نیلے، اَرغوانی اَور سُرخ دھاگے اَور نفیس بٹے ہُوئے کتان سے ایک پردہ بنانا جِس پر کشیدہ کاری کی گئی ہو۔
EXO 26:37 اِس پردہ کے لیٔے سونے کے حلقے اَور کیکر کی لکڑی کے پانچ سُتون بنانا جِن پر سونا منڈھا ہُوا ہو اَور اُن کے لیٔے کانسے کے پانچ پایٔے ڈھال کر بنانا۔
EXO 27:1 ”اَور تُم کیکر کی لکڑی کا ایک مذبح بنانا جو تین ہاتھ اُونچا ہو اَور پانچ ہاتھ لمبا اَور پانچ ہاتھ چوڑا ہو۔
EXO 27:2 اَور تُم اُس کے چاروں کونوں میں سے ہر ایک پر ایک ایک سینگ بنانا اَور وہ سینگ اَور وہ مذبح ایک ہی ٹکڑے کے ہُوں اَور اُس مذبح کو کانسے سے منڈھنا۔
EXO 27:3 اَور اُس کے تمام ظروف کانسے کے بنانا یعنی راکھ اُٹھانے کے لیٔے راکھدان، بیلچے، چھڑکاؤ کرنے والے پیالے، گوشت کے لیٔے سیخیں اَور انگیٹھیاں۔
EXO 27:4 تُم اُس کے لیٔے کانسے کی ایک جالی دار جنگلہ بنانا اَور اُس جالی کے چاروں کونوں پر کانسے کا ایک ایک کڑا بنانا۔
EXO 27:5 اَور اُسے مذبح کی کگر کے نیچے رکھنا تاکہ یہ مذبح کی آدھی اُونچائی تک پہُنچ سکے۔
EXO 27:6 اَور تُم مذبح کے لیٔے کیکر کی لکڑی کی بَلّیاں بنا کر اُنہیں کانسے سے منڈھنا۔
EXO 27:7 اَور اُن بَلّیوں کو اُن کڑوں میں ڈالنا۔ تاکہ جَب مذبح کو اُٹھایا جائے تو وہ بَلّیاں اُس کے دونوں طرف ہُوں۔
EXO 27:8 اَور تُم اُس مذبح کو تختوں سے بنانا اَور وہ کھوکھلی ہو اَور تُم اُسے وَیسی ہی بنانا جَیسی تُمہیں پہاڑ پر دِکھائی گئی تھی۔
EXO 27:9 ”اَور تُم مَسکن کے لیٔے ایک صحن بنانا جِس کی جُنوبی سمت ایک سَو ہاتھ لمبی ہو۔ اَور اُس کے لیٔے نفیس بٹے ہویٔے کتان کے پردے ہُوں۔
EXO 27:10 اَور جِن کے لیٔے بیس سُتون اَور کانسے کے بیس پایٔے اَور سُتونوں کے لیٔے چاندی کی کنڈیاں اَور پٹّیاں ہُوں۔
EXO 27:11 اَور شمالی سمت بھی ایک سَو ہاتھ لمبی اَور اُس کے لیٔے بھی پردے ہُوں اَور پردوں کے لیٔے بیس سُتون اَور کانسے کے بیس پایٔے ہُوں اَور سُتونوں کے لیٔے چاندی کی کنڈیاں اَور پٹّیاں ہُوں۔
EXO 27:12 ”وہ صحن مغرب کی طرف سے پچاس ہاتھ چوڑا ہو اَور اُس کے لیٔے پردے ہُوں اَور دس سُتون اَور دس ہی پایٔے ہُوں۔
EXO 27:13 اَور مشرقی کنارا طُلوع آفتاب کی طرف بھی صحن پچاس ہاتھ چوڑا ہو۔
EXO 27:14 اَور پندرہ ہاتھ لمبے پردے دروازہ کے ایک پہلو کے لیٔے ہُوں اَور اُن پردوں کے لیٔے تین سُتون اَور تین ہی پایٔے ہُوں۔
EXO 27:15 اَور دُوسری طرف کے لیٔے بھی پندرہ ہاتھ لمبے پردے تین سُتون اَور تین پایٔے ہُوں۔
EXO 27:16 ”اَور صحن کے دروازہ کے لیٔے بیس ہاتھ لمبا پردہ بنانا جو نیلے، اَرغوانی اَور سُرخ دھاگے اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان کا ہو جِس پر کشیدہ کاری کی گئی ہو۔ اَور اُس کے لیٔے چار سُتون اَور چار پایٔے ہُوں۔
EXO 27:17 اَور صحن کے اِردگرد تمام سُتونوں کے لیٔے ڈوریاں اَور کنڈیاں چاندی کی اَور پایٔے کانسے کے ہُوں۔
EXO 27:18 اَور وہ صحن ایک سَو ہاتھ لمبا اَور پچاس ہاتھ چوڑا ہو، اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان کے پردے اُوپر سے نیچے تک پانچ ہاتھ لمبے ہُوں اَور سُتونوں کے پایٔے کانسے کے ہُوں۔
EXO 27:19 اَور مَسکن میں پرستش کے لیٔے اِستعمال میں لائی جانے والی دیگر تمام اَشیا خواہ وہ کسی کام کے لیٔے ہُوں مَسکن کے خیمہ کی میخیں اَور صحن کے لیٔے میخیں کانسے کی ہُوں۔
EXO 27:20 ”اَور تُم بنی اِسرائیل کو حُکم دینا کہ وہ تمہارے پاس کولہو کے ذریعہ نکالا ہُوا زَیتُون کا خالص تیل رَوشنی کے لیٔے لائیں تاکہ چراغ ہمیشہ جلتے رہیں۔
EXO 27:21 اَور خیمہ اِجتماع میں اُس پردہ کے باہر جو عہد کے صندُوق کے سامنے ہوگا اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹے چراغوں کو یَاہوِہ کے سامنے شام سے صُبح تک جَلائے رکھیں۔ یہ دستُور بنی اِسرائیل میں پُشت در پُشت دائمی فرمان سمجھ کر قائِم رہے۔
EXO 28:1 ”اَور تُم بنی اِسرائیل میں سے اَپنے بھایٔی اَہرونؔ کو اَور اُس کے بیٹوں نادابؔ، اَبِیہُو، الیعزرؔ اَور اِتمارؔ کو اَپنے پاس رکھنا تاکہ وہ میری بطور کاہِنؔ خدمت کریں۔
EXO 28:2 اَور تُم اَپنے بھایٔی اَہرونؔ کی عزّت اَور زینت کی خاطِر اُسے مُقدّس لباس بنا کردینا۔
EXO 28:3 اَور تُم اُن تمام ماہر کاریگروں کو جنہیں مَیں نے اَیسے کاموں کے لیٔے عقل بخشی ہے کہنا کہ وہ اَہرونؔ کے لیٔے لباس بنائیں تاکہ وہ میری بطور کاہِنؔ خدمت کے لیٔے مخصُوص ہو۔
EXO 28:4 اَورجو لباس اُنہیں بنانے ہیں وہ یہ ہیں: سینہ بند، افُود، جُبّہ، چار خانے کا کرتہ، عمامہ اَور کمرکاپٹکہ۔ وہ تمہارے بھایٔی اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کے لیٔے یہ مُقدّس لباس بنائیں تاکہ وہ میری بطور کاہِنؔ خدمت کریں۔
EXO 28:5 اَور دیکھنا کہ وہ سونا اَور نیلے، اَرغوانی اَور قِرمزی رنگ کا کپڑا اَور نفیس کتان اِستعمال کریں۔
EXO 28:6 ”اَور وہ افُود سونے اَور نیلے، اَرغوانی اَور قِرمزی رنگ کے کپڑے اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان کا بنائیں اَور وہ کسی ماہر کاریگر کے ہاتھ کا کام ہو۔
EXO 28:7 اَور اُس کے کندھوں پر ڈالنے والی پٹّیاں اُس کے دونوں کونوں سے مِلا کرجوڑ دینا تاکہ اُسے باندھا جا سکے۔
EXO 28:8 اَور اُس کا کمربند جو مہارت سے بُنا گیا ہو اِس طرح کا ہو: وہ اُسی کپڑے کا ٹکڑا ہو جِس کا افُود ہو اَور سونے اَور نیلے اَرغوانی اَور قِرمزی رنگ کے کپڑے اَور نفیس بٹے ہُوئے کتان کا ہو۔
EXO 28:9 ”اَور تُم دو سنگِ سُلیمانی لے کر اُن پر اِسرائیل کے بیٹوں کے نام کندہ کرنا
EXO 28:10 اَور اُن کی پیدائش کی ترتیب کے مُطابق چھ نام ایک پتّھر پر اَور باقی چھ دُوسرے پتّھر پر ہُوں۔
EXO 28:11 اَور جِس طرح ایک گوہر تراش کسی انگُشتری پر نقش کندہ کرتا ہے اُسی طرح تُم اُن دونوں پتّھروں پر اِسرائیل کے بیٹوں کے نام کندہ کرنا اَور پھر اُن پتّھروں کو کھدوا کر سونے کے چوکھٹوں میں جڑنا۔
EXO 28:12 اَور اُنہیں افُود کے کندھے والی پٹّیوں پر لگانا تاکہ یہ پتّھر اِسرائیل کے بیٹوں کی یادگاری کے لیٔے ہُوں اَور اَہرونؔ اُن کے نام یَاہوِہ کے رُوبرو اَپنے دونوں کندھوں پر یادگاری کے لیٔے لگائے رہے۔
EXO 28:13 اَور تُم طِلا کاری کئے ہویٔے سونے کے چوکھٹے بنانا۔
EXO 28:14 اَور خالص سونے کی ڈوری کی طرح بٹی ہُوئی دو زنجیروں کوبنانا اَور اُن زنجیروں کو اُن چوکھٹوں میں جڑ دینا۔
EXO 28:15 ”اَور فیصلے کرنے کے وقت اِستعمال کرنے کا سینہ بند کسی ماہر کاریگر سے بنوانا اَور اُسے بھی افُود کی طرح سونے اَور نیلے آسمانی، اَرغوانی اَور قِرمزی کپڑے اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان کا بنانا۔
EXO 28:16 اَور یہ چوکور ہُوں یعنی ایک بالشت لمبا اَور ایک بالشت چوڑا ہو اَور دہرا تہہ کیا ہُوا ہو۔
EXO 28:17 پھر اُس میں قیمتی جواہر چار قطاروں میں جڑنا۔ پہلی قطار میں یاقُوت سُرخ، یَشب سبز اَور فیروزہ ہو؛
EXO 28:18 دُوسری قطار میں نیلا فیروزہ، نیلم اَور ہیرا،
EXO 28:19 تیسری قطار میں لشم، یَشب اَور زُمُرّد،
EXO 28:20 چوتھی قطار میں پکھراج، سنگِ سُلیمانی اَور سنگِ یَشب۔ اِنہیں نقش کندہ کئے ہویٔے سونے کے خانوں میں جڑنا۔
EXO 28:21 یہ پتّھر تعداد میں اِسرائیل کے ہر ایک بیٹوں کے ناموں کے مُطابق بَارہ ہُوں جِن پر ایک انگُشتری کے نقش کی طرح ہر ایک پر بَارہ قبیلوں کے نام کندہ کئے جایٔیں۔
EXO 28:22 ”اَور تُم سینہ بند کے لیٔے ڈوری کی طرح بٹی ہُوئی خالص سونے کی دو زنجیریں بنانا
EXO 28:23 اَور تُم سونے کے دو کڑے بنا کر اُن کڑوں کو سینہ بند کے دونوں کونوں سے باندھ دینا۔
EXO 28:24 اَور سونے کی اُن دونوں زنجیروں کو سینہ بند کے دونوں کونوں پر لگے دونوں کڑوں کے ساتھ باندھ دینا۔
EXO 28:25 اَور اُن زنجیروں کے دونوں سِروں کو اُن دونوں چوکھٹوں کے ساتھ باندھ کر افُود کے دونوں کندھوں والی پٹّیوں سے جوڑ کر سامنے لٹکا دینا۔
EXO 28:26 اَور تُم سونے کے دو اَور کڑے بنا کر اُنہیں سینہ بند کے نیچے کے دونوں کونوں کو اُس حاشیہ میں لگانا جو افُود کے اَندر کی طرف ہے۔
EXO 28:27 اَور تُم سونے کے دو اَور کڑے بنا کر اُنہیں کندھے کی پٹّیوں کے نِچلے حِصّہ سے باندھنا جو کہ افُود کے سامنے ہے تاکہ وہ افُود کے کمربند کے بالکُل اُوپر رہے۔
EXO 28:28 اَور سینہ بند کے کڑوں کو افُود کے اُن کڑوں کے ساتھ جو اُسے کمربند سے جوڑتے ہیں نیلے رنگ کی ڈوری سے باندھے جایٔیں تاکہ سینہ بند افُود سے اِدھر اُدھر کھسکنے نہ پایٔے۔
EXO 28:29 ”اَور جَب بھی اَہرونؔ پاک مقام میں داخل ہوکر یَاہوِہ کے حُضُور میں جائے تو وہ فیصلے کرنے کے وقت اِستعمال کرنے کے سینہ بند کو جِس پر اِسرائیل کے بیٹوں کے نام ہیں اَپنے سینہ پر لگائے رکھے تاکہ ہمیشہ اُن کی یادگاری ہُوا کرے
EXO 28:30 اَور تُم سینہ بند میں اُوریمؔ اَور تُمّیمؔ کو بھی رکھنا تاکہ جَب بھی اَہرونؔ یَاہوِہ کی حُضُوری میں جائے تو یہ اُس کے دِل کے اُوپر رہیں۔ یُوں بنی اِسرائیل کے لیٔے فیصلے کرنے کے وسائل ہمیشہ یَاہوِہ کے آگے اَہرونؔ کے دِل پر رہیں گے۔
EXO 28:31 ”اَور تُم افُود کا جُبّہ بالکُل نیلے رنگ کے کپڑے کا بنانا،
EXO 28:32 اَور اُس کا گریبان بیچ میں ہو اَور زرہ کے گریبان کی طرح اُس کے گریبان کے اطراف بُنی ہُوئی گوٹ لگی ہُوئی ہو تاکہ وہ پھٹنے نہ پائے۔
EXO 28:33 اَور تُم جُبّہ کے دامن کے گھیر میں چاروں طرف نیلے، اَرغوانی اَور قِرمزی دھاگے سے انار کڑھوانا جِن کے درمیان سونے کی گھنٹیاں ہُوں۔
EXO 28:34 یعنی پہلے سونے کی ایک گھنٹی ہو اَور پھر ایک انار اَور آخِر تک یہی ترتیب جاری رہے۔
EXO 28:35 اَور اَہرونؔ خدمت کرتے وقت یہ جُبّہ ضروُر پہنا کرے اَور جَب وہ اُس پاک مقام کے اَندر یَاہوِہ کے حُضُور جائے اَور جَب وہاں سے باہر آئے تو اُن گھنٹیوں کی آواز سُنایٔی دے کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ مرجائے۔
EXO 28:36 ”اَور تُم خالص سونے کی ایک تختی بنا کر اُس پر انگُشتری کے نقش کی طرح یہ کندہ کرنا: یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس۔
EXO 28:37 اَور اُسے ایک نیلے رنگ کی ڈوری کے ذریعہ عمامہ پر اِس طرح باندھنا کہ وہ عمامہ کے سامنے رہے۔
EXO 28:38 یہ تختی اَہرونؔ کی پیشانی پر ہوگی اَور وہ اُن گُناہوں کو اَپنے اُوپر لے گا جِن کے لیٔے بنی اِسرائیل اَپنے پاک نذرانوں کو مخصُوص کریں گے خواہ وہ نذرانے کچھ بھی ہُوں۔ یہ تختی ہمیشہ اَہرونؔ کی پیشانی پر رہے تاکہ وہ یَاہوِہ کے حُضُور میں مقبُول ٹھہریں۔
EXO 28:39 ”اَور تُم جُبّہ کو نفیس کتان سے بُننا اَور عمامہ بھی مہین کتان کا بنانا اَور کمر کے پٹکے پر کشیدہ کاری کی جائے۔
EXO 28:40 اَور تُم اَہرونؔ کے بیٹوں کی عزّت اَور زینت کی خاطِر اُن کے لیٔے جُبّے، کمر کے پٹکے اَور عمامے بنانا۔
EXO 28:41 اَور تُم یہ کپڑے اَپنے بھایٔی اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کو پہنانا اَور اُنہیں مَسح کرنا اَور مخصُوص کرنا اَور اُن کی تقدیس کرنا تاکہ وہ میرے لیٔے بطور کاہِنؔ خدمت اَنجام دیں۔
EXO 28:42 ”اَور تُم اُن کے لیٔے کتان کے پاجَامے بنانا جو کمر سے لے کر رانوں تک لمبے ہُوں تاکہ اُن کا بَدن ڈھکا رہے۔
EXO 28:43 اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹے جَب بھی خیمہ اِجتماع میں داخل ہُوں یا پاک مقام کے اَندر خدمت کرنے کے لیٔے مذبح کے قریب جایٔیں تو اُن زیرِ جاموں کو ضروُر پہنیں کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ گُنہگار ٹھہریں اَور مَر جایٔیں۔ ”اَہرونؔ اَور اُس کی نَسل کے لیٔے ہمیشہ یہی دستور دائمی فرمان رہے گا۔
EXO 29:1 ”اَور اُنہیں پاک کرنے کے لیٔے تاکہ وہ بطور کاہِنؔ میری خدمت اَنجام دیں تُم یُوں کرنا کہ ایک بچھڑا اَور دو بے عیب مینڈھے لینا۔
EXO 29:2 اَور تُم نفیس گندُم کے آٹے کی بے خمیری روٹیاں اَور زَیتُون کے تیل سے بنے کُلچے اَور تیل سے چُپڑی ہُوئی بے خمیری ٹکیئے بنانا۔
EXO 29:3 اَور اُنہیں ایک ٹوکری میں رکھ کر اُنہیں بچھڑوں اَور مینڈھوں دونوں کے ہمراہ نذر کرنا۔
EXO 29:4 پھر اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کو خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر لاکر اُن کو پانی سے نہلانا۔
EXO 29:5 اَور پھر وہ لباس لے کر اَہرونؔ کو کرتا، اَور افُود کا جُبّہ اَور افُود اَور سینہ بند پہنانا۔ اَور اُس پر افُود کو نفاست سے بنے ہویٔے کمربند سے باندھ دینا۔
EXO 29:6 اَور اُس کے سَر پر عمامہ رکھنا اَور مُقدّس تاج اُس عمامہ پر لگادینا۔
EXO 29:7 اَور مَسح کا تیل اُس کے سَر پر ڈالنا اَور اُسے مَسح کرنا۔
EXO 29:8 اَور پھر اُس کے بیٹوں کو لانا اَور اُن کو چوغے پہنانا۔
EXO 29:9 اَور اُن کے سَروں پر عمامے رکھنا۔ اَور پھر اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کو کمرکاپٹکہ باندھنا اَور دستور کی رو سے کہانت ہمیشہ تک اُن کی ہے۔ ”اِس طرح تُم اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کو بطور کاہِنؔ مخصُوص کرنا۔
EXO 29:10 ”اَور تُم اُس بچھڑے کو خیمہ اِجتماع کے سامنے لانا اَور اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹے اَپنے ہاتھ اُس کے سَر پر رکھیں۔
EXO 29:11 اَور پھر اُس بچھڑے کو یَاہوِہ کی حُضُوری میں خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر ذبح کرنا۔
EXO 29:12 اَور اُس بچھڑے کے خُون میں سے کچھ لے کر اُسے اَپنی اُنگلی سے مذبح کے سینگوں پر لگانا اَور باقی سارا خُون مذبح کے پایٔے پر اُنڈیل دینا۔
EXO 29:13 اَور پھر تمام آنتوں کے اِردگرد کی چربی، جِگر کے اُوپر کی جھِلّی اَور دونوں گُردے اَور اُن کے اُوپر کی چربی لے کر مذبح پر جَلانا۔
EXO 29:14 لیکن بچھڑے کے گوشت، اُس کی کھال اَور اُس کے گوشت اَور گوبر سمیت چھاؤنی سے باہر آگ میں جَلا دینا۔ یہ گُناہ کی قُربانی ہے۔
EXO 29:15 ”پھر مینڈھوں میں سے ایک کو لینا اَور اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹے اُس کے سَر پر اَپنے ہاتھ رکھیں۔
EXO 29:16 اَور تُم اُس مینڈھے کو ذبح کرنا اَور اُس کے خُون کو لے کر مذبح پر چاروں طرف چھڑکنا۔
EXO 29:17 اَور پھر تُم اُس مینڈھے کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا اَور اُس کی آنتوں اَور پایوں کو دھوکر اُس کے سَر اَور دیگر ٹُکڑوں کے ساتھ رکھنا۔
EXO 29:18 اَور پھر اُس پُورے مینڈھے کو مذبح پر جَلانا۔ یہ یَاہوِہ کے لیٔے سوختنی نذر ہے ایک فرحت بخش خُوشبو یعنی یَاہوِہ کے لیٔے غِذا کی آتِشی نذر کی قُربانی ہے۔
EXO 29:19 ”اَور پھر دُوسرے مینڈھے کو لینا اَور اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹے اُس کے سَر پر اَپنے ہاتھ رکھیں
EXO 29:20 اَور تُم اُس مینڈھے کو ذبح کرنا اَور اُس کے خُون میں سے کچھ لے کر اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کے داہنے کان کی لو پر، داہنے ہاتھ اَور داہنے پاؤں کے انگُوٹھوں پر لگانا اَور خُون کو مذبح پر چاروں طرف چھڑک دینا۔
EXO 29:21 اَور مذبح کے خُون اَور مَسح کرنے والے زَیتُون کے تیل میں سے تھوڑا تھوڑا اَہرونؔ اَور اُس کے لباس پر اَور اُس کے بیٹوں پر اَور اُن کے لباسوں پر چھڑکنا۔ تَب وہ اَور اُس کے بیٹے اَپنے اَپنے لباس سمیت مُقدّس ٹھہریں گے۔
EXO 29:22 ”اَور تُم مینڈھے کی چربی اُس کی دُم کی چربی اَور آنتوں کے اِردگرد کی چربی، جِگر کے اُوپر کی جھِلّی اَور دونوں گُردوں اَور اُن کے اُوپر کی چربی اَور داہنی ران کو لینا کیونکہ یہ تخصیص کا مینڈھا ہے
EXO 29:23 اَور بے خمیری روٹی کی ٹوکری میں سے جو یَاہوِہ کے آگے ہوگی ایک روٹی، تیل سے بنا ہُوا ایک کُلچہ اَور زَیتُون کے تیل سے چُپڑی ہُوئی ایک ٹکیا لینا
EXO 29:24 اَور مَوشہ نے اِن سَب کو اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کے ہاتھوں پر رکھ کر اُن کو ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور ہلانا۔
EXO 29:25 پھر اُنہیں اُن کے ہاتھوں سے لے کر سوختنی نذر کے ساتھ مذبح پر جَلا دینا تاکہ وہ یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو ہو۔ یہ یَاہوِہ کے لیٔے بطور غِذا کی آتِشی نذر ہے۔
EXO 29:26 اَور پھر اَہرونؔ کی تخصیص کے لیٔے تخصیصی مینڈھے کا سینہ لے کر اُسے یَاہوِہ کے حُضُور ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر ہلانا اَور یہ تمہارا حِصّہ ہوگا۔
EXO 29:27 ”اَور تُم اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹے کے تخصیصی مینڈھے کے ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر اُن حِصّوں کو یعنی اُس کے سینہ کو جو ہلایا گیا تھا اَور اُس ران کو جو چڑھائی گئی تھی پاک ٹھہرانا۔
EXO 29:28 اَور یہ بنی اِسرائیل کی طرف سے دائمی حِصّہ کے طور پر اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کا حق ہوگا۔ یہ وہ نذر ہے جو بنی اِسرائیل کی طرف سے اُن کی سلامتی کی نذر کی قُربانی میں سے یَاہوِہ کے لیٔے گزرانی جائے گی۔
EXO 29:29 ”اَور اَہرونؔ کے پاک لباس اُس کی اَولاد کے لیٔے ہوں گے تاکہ وہ اُن ہی میں مَسح اَور تخصیص کئے جا سکیں۔
EXO 29:30 اَور اُس کا وہ بیٹا جو بطور کاہِنؔ اُس کا جانشین ہو وہ جَب پاک مقام میں خدمت کرنے کے لیٔے خیمہ اِجتماع میں آئے تو وہ اُنہیں سات دِن پہنے رہے۔
EXO 29:31 ”اَور تُم تخصیصی مینڈھے کے گوشت کو لے کر کسی پاک جگہ میں اُبالنا۔
EXO 29:32 اَور اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹے مینڈھے کا گوشت اَور ٹوکری کی روٹیاں خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر کھایٔیں۔
EXO 29:33 جِن ہدیوں سے اُنہیں تخصیص اَور پاک کرنے کے لیٔے کفّارہ دیا گیا اُنہیں بھی وُہی کھایٔیں۔ اُنہیں دُوسرا کویٔی بھی نہ کھائے کیونکہ وہ پاک ہیں۔
EXO 29:34 اَور اگر تخصیصی مینڈھے کے گوشت یا روٹی میں سے کچھ صُبح تک باقی رہ جائے تو اُسے جَلا دینا۔ وہ ہرگز نہ کھایا جائے، اِس لیٔے کہ وہ پاک ہے۔
EXO 29:35 ”اَور تُم اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کے لیٔے وہ سَب کرنا جِس کا مَیں نے تُمہیں حُکم دیا ہے۔ اَور سات دِن تک اُن کی تخصیص کرتے رہنا۔
EXO 29:36 اَور گُناہ کی قُربانی کے طور پر کفّارہ دینے کے لیٔے ہر روز ایک بچھڑے کو ذبح کرنا اَور اُس کے لیٔے کفّارہ دیتے وقت مذبح کو صَاف کرنا اَور اُسے مَسح کرنا تاکہ وہ پاک ہو جائے۔
EXO 29:37 اَور سات دِن تک مذبح کے لیٔے کفّارہ دے کر اُسے پاک کرنا۔ تَب وہ مذبح پاک ترین ہو جائے گا اَورجو کچھ اُس کے ساتھ چھُو جائے گا وہ بھی پاک ٹھہرے گا۔
EXO 29:38 ”اَور ہر روز مُتواتر جو کچھ تُمہیں مذبح پر گزراننا ہوگا یہ ہے: ایک ایک سال کے دو برّے،
EXO 29:39 ایک برّہ صُبح کو گزراننا اَور دُوسرا شام کو جھٹپٹے کے وقت
EXO 29:40 پہلے برّہ کے ساتھ ایفہ کے دسویں حِصّہ کے برابر مَیدہ دینا جِس میں ہین کا چوتھا حِصّہ کولھو کے زَیتُون کا تیل مِلا ہو۔ اَور ہین کے چوتھے حِصّہ کے برابر انگوری شِیرہ بھی بطور انگوری شِیرہ کی نذر گزراننا۔
EXO 29:41 اَور تُم شام کے جھٹپٹے کے وقت بھی مَیدہ کی اَور اناج کی نذر اَور ساتھ ہی انگوری شِیرے کی نذر کے ساتھ دُوسرے برّہ کی قُربانی گزراننا جَیسی صُبح کے لیٔے مُقرّر ہے تاکہ وہ یَاہوِہ کے لیٔے ایک فرحت بخش خُوشبو اَور غِذا کی آتِشی نذر ٹھہرے۔
EXO 29:42 ”یہ سوختنی نذر خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر یَاہوِہ کے آگے مسلسل نَسل در نَسل ہوتی رہے۔ وہاں میں تُم سے ملوں گا اَور باتیں کروں گا۔
EXO 29:43 اَور وہیں میں بنی اِسرائیل سے بھی مُلاقات کروں گا اَور وہ مقام میرے جلال سے مُقدّس ہوگا۔
EXO 29:44 ”میں خیمہ اِجتماع کو اَور مذبح کو مُقدّس کروں گا اَور مَیں اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کو مُقدّس کروں گا تاکہ وہ بطور کاہِنؔ میرے لیٔے خدمت اَنجام دیں۔
EXO 29:45 پھر میں اِسرائیلیوں کے درمیان سکونت کروں گا اَور اُن کا خُدا ہُوں گا
EXO 29:46 اَور وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ اُن کا خُدا ہُوں جو اُن کو مِصر سے نکال کر لایا تاکہ میں اُن کے درمیان سکونت کروں، میں ہی یَاہوِہ اُن کا خُدا ہُوں۔
EXO 30:1 ”اَور تُم بخُور جَلانے کے لیٔے کیکر کی لکڑی کا ایک مذبح بنانا۔
EXO 30:2 اَور وہ چوکور ہو یعنی ایک ہاتھ لمبا اَور ایک ہاتھ چوڑا اَور دو ہاتھ اُونچا ہو اَور اُس کے سینگ ایک ہی ٹکڑے سے بنائے جایٔیں۔
EXO 30:3 اَور تُم اُس کی اُوپر کی سطح اَور تمام اطراف اَور اُس کے سینگوں کو خالص سونے سے منڈھنا اَور اُس کے اِردگرد سونے کا ایک کلس بنانا۔
EXO 30:4 اَور تُم اُس کلس کے نیچے اُس کے دونوں پہلوؤں میں مذبح کے لیٔے سونے کے دو حلقے بنانا جو اُسے اُٹھانے کی بَلّیوں کو تھامے رکھیں۔
EXO 30:5 اَور تُم وہ بَلّیاں کیکر کی لکڑی سے بنانا اَور اُنہیں سونے سے منڈھنا۔
EXO 30:6 اَور تُم مذبح کو اُس پردہ کے آگے رکھنا جو عہد کے صندُوق کے صندُوق کے سامنے ہے یعنی کفّارہ کے سرپوش کے سامنے جو شہادت کے صندُوق کے اُوپر ہے جہاں میں تُمہیں مِلا کروں گا۔
EXO 30:7 ”اَور ہر صُبح جَب اَہرونؔ چراغوں کو ٹھیک کرے تو مذبح پر خُوشبو اَور بخُور ضروُر جَلایا کرے۔
EXO 30:8 اَور اَہرونؔ جَب شام کے جھٹپٹے میں چراغوں کو رَوشن کرے تَب بھی بخُور جَلائے۔ یہ بخُور یَاہوِہ کے آگے نَسل در نَسل مُتواتر جَلایا جائے گا۔
EXO 30:9 اِس مذبح پر کویٔی اَور بخُور یا کویٔی سوختنی نذر یا اناج کی نذر نہ کویٔی انگوری شِیرے کی نذر گزرانا جائے۔
EXO 30:10 اَور سال میں ایک بار اَہرونؔ اُس کے سینگوں پر کفّارہ دیا کرے۔ یہ سالانہ کفّارہ گُناہ کی قُربانی کے خُون سے نَسل در نَسل دیا جائے۔ یہ یَاہوِہ کے لیٔے سَب سے زِیادہ پاک ہے۔“
EXO 30:11 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
EXO 30:12 ”تُم بنی اِسرائیل کی تعداد مَعلُوم کرنے کے لیٔے اُن کی مردُم شماری کرو تو ہر ایک جَب وہ شُمار کیا جائے یَاہوِہ کو اَپنی جان کا فدیہ اَدا کرے۔ تَب مردُم شماری کے وقت اُن پر کویٔی وَبا نازل نہ ہوگی۔
EXO 30:13 ہر اِنسان جِس کی گِنتی ہو چُکے وہ پاک مَقدِس کے ثاقل کے حِساب سے نیم ثاقل دے۔ یہ نیم ثاقل یَاہوِہ کے لیٔے نذر ہے۔
EXO 30:14 بیس بَرس یا اُس سے زِیادہ عمر کے وہ سَب جِن کی گِنتی ہو جائے یَاہوِہ کو نذر دیں۔
EXO 30:15 اَور جَب تُم اَپنی جانوں کے کفّارہ کے لیٔے یَاہوِہ کو نذر دو تو دولتمند نیم ثاقل سے زِیادہ اَور غریب اُس سے کم نہ دے۔
EXO 30:16 اَور تُم بنی اِسرائیل سے کفّارہ کی نقدی لے کر اُسے خیمہ اِجتماع کے کاموں کے لیٔے خرچ کرنا۔ یہ یَاہوِہ کے حُضُور میں تمہاری جانوں کا کفّارہ اَور بنی اِسرائیل کے لیٔے ایک یادگار ہوگا۔“
EXO 30:17 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
EXO 30:18 ”طہارت کے لیٔے کانسے کا ایک لگن بنانا لگن کی چوکی بھی کانسے کی ہو، اَور اُسے خیمہ اِجتماع کے دروازہ اَور مذبح کے درمیان رکھ کر اُس میں پانی بھر دینا
EXO 30:19 تاکہ اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹے اُس کے پانی سے اَپنے ہاتھ پاؤں دھویا کریں۔
EXO 30:20 جَب بھی وہ خیمہ اِجتماع میں داخل ہُوں تو پانی سے خُود کو پاک صَاف کریں تاکہ وہ مَر نہ جایٔیں۔ نیز جَب وہ سوختنی نذر کی خدمت اَنجام دینے کے لیٔے یَاہوِہ کے غِذا کے مذبح کے پاس آئیں
EXO 30:21 تو وہ اَپنے ہاتھ اَور پاؤں دھوکر آئیں تاکہ وہ مَر نہ جایٔیں۔ یہ دستور دائمی فرمان سمجھ کر اَہرونؔ اَور اُس کی نَسل کے لیٔے نَسل در نَسل قائِم رہے گا۔“
EXO 30:22 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
EXO 30:23 ”مَقدِس کے ثاقل کے حِساب سے یہ خُوشبودار مَسالے لینا: پانچ سَو ثاقل آبِ مُر۔ اُس کا آدھا یعنی ڈھائی سَو ثاقل دارچینی اَور خُوشبودار اگر ڈھائی سَو ثاقل
EXO 30:24 اَور پانچ سَو ثاقل تج اَور پاک مَقدِس کے حِساب سے زَیتُون کا تیل ایک ہین
EXO 30:25 اَور تُم اُن سے مَسح کرنے کا پاک زَیتُون کا تیل بنانا یعنی اُنہیں ایک عطر ساز کی کاریگری کے مُطابق مِلا کر ایک خُوشبودار روغن تیّار کرنا۔ اَور یہ مَسح کرنے کا پاک تیل ہوگا۔
EXO 30:26 اَور پھر اِسی تیل سے خیمہ اِجتماع، عہد کے صندُوق،
EXO 30:27 میز اَور اُس کے تمام ظروف، بخُور کا مذبح بنانا،
EXO 30:28 سوختنی نذر کی قُربانی کا مذبح اَور اُس کے تمام ظروف، لگن اَور اُس کی چوکی کو مَسح کرنے کے لیٔے یہ تیل اِستعمال کرنا۔
EXO 30:29 اَور تُم اُن کو پاک کرنا تاکہ وہ خُوب پاک ہو جایٔیں اَورجو کچھ بھی اُن سے چھُو جائے گا پاک ٹھہرے گا۔
EXO 30:30 ”اَور تُم اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کو مَسح کرنا اَور اُن کو پاک کرنا تاکہ وہ بطور کاہِنؔ میری خدمت اَنجام دیں۔
EXO 30:31 اَور تُم بنی اِسرائیل سے کہہ دینا، ’یہ زَیتُون کا تیل تمہاری آنے والی نَسلوں کے لیٔے میرا مَسح کرنے والا مُقدّس تیل ہوگا۔
EXO 30:32 اَور اِسے کسی اَور اِنسان کے جِسم پر مت لگانا اَور نہ ہی اِس ترکیب سے کویٔی اَور زَیتُون کا تیل بنانا کیونکہ یہ مُقدّس ہے اَور تمہارے نزدیک بھی مُقدّس ٹھہرے گا۔
EXO 30:33 جو کویٔی اِس طرح کا عطر بنائے گا اَورجو کویٔی اُسے کاہِنؔ کے علاوہ کسی اَور پر لگائے گا اُس کا اَپنی قوم سے خارج کیاجانا لازمی ہوگا۔‘ “
EXO 30:34 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”تُم خُوشبودار مَسالے یعنی مُر، مصطکی اَور لَون اَور اُن کے ساتھ لوبان، سَب وزن میں برابر برابر لینا،
EXO 30:35 اَور اُن سے عِطرساز کی کاریگری کے مُطابق بخُور کا ایک خُوشبودار مرکّب بنانا۔ اُس میں نمک مِلانا اَور وہ صَاف اَور پاک ہو۔
EXO 30:36 اَور اُس میں سے کچھ مہین پیس کر خیمہ اِجتماع میں عہد کے صندُوق کے سامنے جہاں مَیں تُجھ سے مِلا کروں گا رکھنا۔ یہ تمہارے لیٔے نہایت ہی پاک ٹھہرے۔
EXO 30:37 اَور تُم اِس ترکیب سے اَپنے لیٔے کویٔی بخُور نہ بنانا، اِسے یَاہوِہ کے لیٔے پاک سمجھنا۔
EXO 30:38 جو کویٔی اَپنے سونگھنے کے لیٔے اِس کی مانند کویٔی بخُور بنائے گا اُس کا اَپنی قوم سے خارج کیاجانا لازمی ہوگا۔“
EXO 31:1 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
EXO 31:2 ”دیکھو، مَیں نے یہُوداہؔ کے قبیلہ میں سے بصل ایل بِن اوری بِن حُورؔ کو چُناہے،
EXO 31:3 مَیں نے اُسے خُدا کی رُوح سے معموُر کیا ہے، اُسے فہم اَور حِکمت، اَور ہر قِسم کی دستکاری کا علم بخشا ہے،
EXO 31:4 تاکہ وہ سونے، چاندی اَور کانسے سے خُوبصورت نقش و نگار والی چیزیں بنائے،
EXO 31:5 جواہرات کو تراشے اَور جڑی، لکڑی کو تراشے اَور ایک ماہر کاریگر ثابت ہو۔
EXO 31:6 علاوہ اَزیں مَیں نے دانؔ کے قبیلہ میں سے اُہلیابؔ بِن احیسمکؔ کو اُس کا مددگار مُقرّر کیا ہے۔
EXO 31:7 ”یعنی خیمہ اِجتماع، عہد کا صندُوق اَور اُس پر کفّارہ کا سرپوش، اَور خیمہ کا سارا سامان،
EXO 31:8 یعنی میز اَور اُس کے ظروف، خالص سونے کا چراغدان اَور اُس کے تمام ظروف، اَور بخُور کا مذبح،
EXO 31:9 سوختنی نذر کی قُربانی کا مذبح اَور اُس کے تمام ظروف، لگن اَور اُس کی چوکی،
EXO 31:10 اَور بیل بُوٹے کڑھے ہویٔے لباس، یعنی مُقدّس لباس اَہرونؔ کاہِنؔ کے لیٔے، اَور اُس کے بیٹوں کے لیٔے لباس جنہیں پہن کر وہ بطور کاہِنؔ خدمت اَنجام دیں۔
EXO 31:11 اَور مَسح کرنے کا زَیتُون کا تیل، اَور پاک مقام کے لیٔے خُوشبودار بخُور،
EXO 31:12 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
EXO 31:13 ”بنی اِسرائیل سے کہو، ’تُم میرے سَبتوں کو ضروُر ماَننا۔ یہ میرے اَور تمہارے درمیان نَسل در نَسل ایک نِشان ہوگا، تاکہ تُم جانو کہ تُمہیں پاک کرنے والا یَاہوِہ میں ہُوں۔
EXO 31:14 ” ’لہٰذا سَبت کو مانو کیونکہ یہ تمہارے لیٔے مُقدّس ہے، اَورجو کویٔی اُس کی بےحُرمتی کرے وہ ضروُر مار ڈالا جائے؛ اَورجو کویٔی اُس دِن کویٔی کام کرے اَپنی قوم سے خارج کیا جائے۔
EXO 31:15 چھ دِن کام کیا جائے، لیکن ساتواں دِن آرام کا سَبت ہے جو یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس ہے۔ جو اِنسان سَبت کے دِن کویٔی کام کرے وہ ضروُر مار ڈالا جائے۔
EXO 31:16 لہٰذا بنی اِسرائیل سَبت کو مانیں اَور اُسے دائمی عہد کے طور پر نَسل در نَسل مانتے رہیں۔
EXO 31:17 یہ میرے اَور بنی اِسرائیل کے درمیان ہمیشہ کے لیٔے ایک نِشان ہوگا کیونکہ یَاہوِہ نے آسمانوں کو اَور زمین کو چھ دِنوں میں بنایا اَور ساتویں دِن کام چھوڑکر آرام کیا۔‘ “
EXO 31:18 اَور جَب یَاہوِہ کوہِ سِینؔائی پر مَوشہ سے کلام کرچکے، تو اُنہُوں نے اُسے شہادت کی دو تختیاں دیں۔ وہ تختیاں پتّھر کی تھیں اَور خُدا کے ہاتھ کی لکھی ہُوئی تھیں۔
EXO 32:1 اَور جَب لوگوں نے دیکھا کہ مَوشہ نے پہاڑ سے اُترنے میں دیر لگائی تو وہ اَہرونؔ کے پاس جمع ہوکر کہنے لگے، ”آئیے ہمیں ایک معبُود بنا کر دیں جو ہمارے آگے آگے چلے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اُس اِنسان مَوشہ کو جو ہمیں مِصر سے نکال لائے کیا ہو گیا ہے۔“
EXO 32:2 اَہرونؔ نے اُن سے کہا، ”تمہاری بیویوں اَور بیٹوں اَور بیٹیوں کے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں، اُنہیں اُتار کر میرے پاس لے آؤ۔“
EXO 32:3 پس سارے لوگ اُن کے کانوں سے بالیاں اُتار کر اَہرونؔ کے پاس لے آئے
EXO 32:4 اَورجو کچھ اُنہُوں نے اُسے دیا اُس نے اُسے لے کر ایک بُت بنایا جو بچھڑے کی صورت میں ڈھالا گیا تھا اَور اُسے چھینی سے ٹھیک کیا۔ تَب وہ کہنے لگے، ”اَے اِسرائیل یہی تمہارا وہ معبُود ہے جو تُمہیں مِصر سے نکال لایا ہے۔“
EXO 32:5 جَب اَہرونؔ نے یہ دیکھا تو اُس نے اُس بچھڑے کے سامنے ایک مذبح بنا کر اعلان کیا، ”کل یَاہوِہ کے لیٔے عید ہوگی۔“
EXO 32:6 پس اگلے دِن لوگوں نے صُبح سویرے اُٹھ کر سوختنی نذریں چڑھائیں اَور سلامتی کی نذر کی قُربانیاں گزرانیں۔ لوگ کھانے پینے کے لیٔے بیٹھے اَور پھر اُٹھ کر رنگ رلیاں منانے لگے۔
EXO 32:7 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”نیچے جاؤ کیونکہ تمہارے لوگ جنہیں تُم مِصر سے نکال کر لائے بگڑ گیٔے ہیں۔
EXO 32:8 وہ اُس راہ سے جِس پر چلنے کا مَیں نے اُنہیں حُکم دیا تھا بہت جلد پھر گیٔے ہیں اَور اُنہُوں نے اَپنے لیٔے بچھڑے کی صورت میں ڈھالا ہُوا بُت بنا لیا ہے۔ اُنہُوں نے اُس کی پرستش کی ہے اَور اُس کے لیٔے قُربانی چڑھا کر یہ بھی کہا، ’اَے اِسرائیل! یہ تمہارا وہ معبُود ہے جو تُمہیں مِصر سے نکال کر لایا ہے۔‘
EXO 32:9 ”مَیں نے اِس قوم کو دیکھ لیا،“ یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”اَور یہ ایک ضِدّی قوم ہے۔
EXO 32:10 اَب تُم کچھ مت کہنا کیونکہ میرا غضب اُن کے خِلاف بھڑکنے کو ہے اَور مَیں اُنہیں نِیست و نابود کرنے والا ہُوں۔ پھر میں تُمہیں ایک بڑی قوم بناؤں گا۔“
EXO 32:11 لیکن مَوشہ نے یَاہوِہ اَپنے خُدا سے رحم کی درخواست کرتے ہویٔے کہا، ”اَے یَاہوِہ! آپ کا غضب اَپنے لوگوں کے خِلاف کیوں بھڑکے جنہیں آپ نے عظیم قُوّت اَور قوی ہاتھ سے مِصر سے نکال لائے؟
EXO 32:12 مِصریوں کو یہ کہنے کا موقع کیوں ملے، ’عِبرانیوں کا خُدا اُنہیں بُرے اِرادہ سے نکال لے گیا تاکہ اُنہیں پہاڑوں میں مار ڈالے، رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالے؟‘ لہٰذا اَپنے شدید قہر سے باز رہو اَور اَپنے لوگوں پر آفت نازل نہ کرو۔
EXO 32:13 اَپنے خادِم اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور اِسرائیل کو یاد کرو جِن سے آپ نے اَپنی ہی قَسم کھا کر کہاتھا: ’مَیں تمہاری نَسل کو آسمان کے تاروں کی مانند بڑھاؤں گا اَور یہ سارا مُلک جِس کا مَیں نے اُن سے وعدہ کیا تمہاری نَسل کو دُوں گا اَور وہ ہمیشہ کے لیٔے اِس کے وارِث ہوں گے۔‘ “
EXO 32:14 تَب یَاہوِہ اَپنے قہر و غضب سے باز آئے اَور اُنہُوں نے اَپنے لوگوں پر وہ آفت نازل نہ کی جِس کی اُنہُوں نے دھمکی دی تھی۔
EXO 32:15 اَور مَوشہ شہادت کی دونوں تختیاں ہاتھوں میں لیٔے ہویٔے پلٹ کر پہاڑ سے نیچے اُترے۔ وہ تختیاں آگے اَور پیچھے دونوں طرف سے لکھی ہُوئی تھیں۔
EXO 32:16 اَور وہ تختیاں خُدا ہی کی بنائی ہُوئی تھیں اَورجو تحریر اُن پر تھی وہ بھی خُدا ہی کی تحریر تھی اَور اُن پر کندہ کی ہُوئی تھی۔
EXO 32:17 اَور جَب یہوشُعؔ نے لوگوں کی چیخ پُکار سُنی تو اُس نے مَوشہ سے کہا، ”چھاؤنی میں لڑائی کا شور ہو رہاہے۔“
EXO 32:18 مَوشہ نے جَواب دیا: ”یہ شور نہ تو فتح کا ہے، نہ شِکست کا؛ یہ تو گانے کی آواز ہے جو میں سُن رہا ہُوں۔“
EXO 32:19 جَب مَوشہ نے چھاؤنی کے قریب پہُنچ کر اُس بچھڑے کو دیکھا اَور یہ بھی کہ لوگ رقص کر رہے ہیں تو وہ غُصّہ سے آگ بگُولا ہو گئے اَور اُنہُوں نے وہ تختیاں اَپنے ہاتھوں میں سے پھینک دیں اَور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر پہاڑ کے دامن میں جا گریں۔
EXO 32:20 اَور اُنہُوں نے اُس بچھڑے کو جسے لوگوں نے بنایا تھا لے کر آگ میں جَلا دیا اَور پھر اُسے مہین پیس کر پانی میں مِلایا اَور بنی اِسرائیل کو پلوایا۔
EXO 32:21 اَور مَوشہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”اِن لوگوں نے تمہارے ساتھ کیا کیا تھا جو تُم نے اُنہیں اِتنے بڑے گُناہ میں پھنسا دیا؟“
EXO 32:22 اَہرونؔ نے کہا، ”میرے آقا! ناراض نہ ہو تُم جانتے ہو کہ یہ لوگ کتنے شر پسند ہیں۔
EXO 32:23 اُنہُوں نے مُجھ سے کہا، ’ہمارے لیٔے معبُود بنادو جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اُس اِنسان مَوشہ کو جو ہمیں مِصر سے نکال کر لائے اُن کی کوئی خبر نہیں۔‘
EXO 32:24 تو مَیں نے اُن سے کہا، ’جِس کسی کے پاس سونے کا کویٔی زیور ہے وہ اُسے اُتار کر لے آئے۔‘ تَب اُنہُوں نے اُسے مُجھے دیا اَور جَب مَیں نے سارے سونے کو آگ میں ڈالا تو یہ بچھڑا نکل پڑا۔“
EXO 32:25 جَب مَوشہ نے دیکھا کہ لوگ بے قابُو ہو چُکے ہیں اَور اَہرونؔ نے اُنہیں بے لگام چھوڑ دیا ہے اَور دُشمن اُن پر ہنس رہے ہیں
EXO 32:26 تو مَوشہ نے چھاؤنی کے دروازہ پر کھڑے ہوکر کہا، ”جو کویٔی یَاہوِہ کی طرف ہے وہ میرے پاس آ جائے۔“ تَب سَب بنی لیوی اُس کے پاس جمع ہو گئے۔
EXO 32:27 اَور مَوشہ نے اُن سے کہا، ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’ہر اِنسان اَپنی تلوار سنبھال لے اَور چھاؤنی میں ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک ہر طرف جائے اَور اَپنے بھائیوں دوستوں اَور پڑوسیوں کو قتل کرتا پھرے۔‘ “
EXO 32:28 اَور بنی لیوی نے وَیسا ہی کیا جَیسا مَوشہ نے حُکم دیا تھا اَور اُس دِن اُن لوگوں میں سے تقریباً تین ہزار اِنسان مارے گیٔے۔
EXO 32:29 تَب مَوشہ نے کہا، ”آج تُم یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کئے گیٔے ہو کیونکہ تُم نے اَپنے بیٹوں اَور بھائیوں کا بھی لحاظ نہ کیا۔ لہٰذا آج ہی کے دِن اُس نے تُمہیں برکت بخشی ہے۔“
EXO 32:30 اَور اگلے دِن مَوشہ نے لوگوں سے کہا، ”تُم نے بڑا بھاری گُناہ کیا ہے۔ لیکن اَب مَیں یَاہوِہ کے پاس اُوپر جاتا ہُوں تاکہ ممکن ہو تو تمہارے گُناہ کا کفّارہ دے سکوں۔“
EXO 32:31 لہٰذا مَوشہ واپس یَاہوِہ کے پاس جا کر کہنے لگے، ”افسوس اِن لوگوں نے کتنا بڑا گُناہ کیا کہ اَپنے لیٔے سونے کا معبُود بنا لیا۔
EXO 32:32 لیکن اَب مہربانی سے اُن کا گُناہ مُعاف کر دیں۔ اگر نہیں تو میرا نام اُس کِتاب میں سے جو آپ نے لکھی ہے مٹا دیں۔“
EXO 32:33 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”جِس کسی نے میرے خِلاف گُناہ کیا ہے میں اُس کے نام کو اَپنی کِتاب سے مٹا دُوں گا۔
EXO 32:34 اَب جاؤ اَور لوگوں کو اُس جگہ لے جاؤ جو مَیں نے تُمہیں بتایٔی ہے اَور میرا فرشتہ تمہارے آگے آگے چلے گا۔ تاہم جَب میرا سزا دینے کا وقت آئے گا تو میں اُنہیں اُن کے گُناہ کی سزا دُوں گا۔“
EXO 32:35 اَور یَاہوِہ نے اُن لوگوں پر مَری کی وَبا نازل کی کیونکہ اُنہُوں نے اَہرونؔ سے بچھڑا بنوا کر اُس کی پرستش کی تھی۔
EXO 33:1 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”تُم اَور وہ لوگ جنہیں مِصر سے نکال لائے، یہ جگہ چھوڑکر اُس مُلک کی طرف روانہ ہو جِس کا مَیں نے قَسم کھا کر اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب سے یہ وعدہ کیا تھا، ’میں اُنہیں تمہاری نَسل کو دے دُوں گا۔‘
EXO 33:2 اَور مَیں اَپنے فرشتہ کو تمہارے آگے آگے بھیجوں گا اَور مَیں کنعانیوں، امُوریوں، حِتّیوں، پَرزّیوں، حِوّیوں اَور یبُوسیوں کو نکال دُوں گا۔
EXO 33:3 اُس مُلک میں جہاں دُودھ اَور شہد بہتا ہے داخل ہو۔ لیکن مَیں تمہارے ساتھ نہ جاؤں گا کیونکہ تُم ایک ضِدّی قوم ہو اَور کہیں اَیسا نہ ہو کہ میں تُمہیں راہ ہی میں فنا کر ڈالوں۔“
EXO 33:4 جَب لوگوں نے یہ وحشتناک الفاظ سُنے تو غمزدہ ہو گئے اَور کسی نے بھی کویٔی زیور نہ پہنا۔
EXO 33:5 کیونکہ یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا تھا، ”بنی اِسرائیل کو کہہ دیں، ’تُم ایک ضِدّی قوم ہو اَور اگر مَیں ایک لمحہ کے لیٔے بھی تمہارے ساتھ چلُوں تو تُمہیں فنا کر سَکتا ہُوں۔ لہٰذا اَپنے زیورات اُتار ڈالو تَب میں فیصلہ کروں گا کہ تمہارے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔‘ “
EXO 33:6 چنانچہ بنی اِسرائیل نے حورِبؔ پہاڑ پر اَپنے زیورات اُتار ڈالے۔
EXO 33:7 اَور مَوشہ ایک خیمہ اِجتماع لے کر اُسے چھاؤنی کے باہر کچھ دُور لگا لیا کرتے تھے جِس کا نام اُنہُوں نے ”خیمہ اِجتماع رکھا تھا۔“ اَورجو کویٔی یَاہوِہ کا طالب ہوتا وہ چھاؤنی کے باہر اُس خیمہ اِجتماع کی طرف چلا جاتا تھا۔
EXO 33:8 جَب کبھی مَوشہ باہر اُس خیمہ کی طرف جاتے تو تمام لوگ اُٹھ اُٹھ کر اَپنے خیموں کے دروازہ پر کھڑے ہو جاتے اَور جَب تک مَوشہ اُس خیمہ کے اَندر داخل نہ ہو جاتے اُنہیں دیکھتے رہتے۔
EXO 33:9 اَور جَب مَوشہ خیمہ کے اَندر چلے جاتے تو بادل کا سُتون نیچے اُترتا اَور دروازہ پر جاتا اَور یَاہوِہ مَوشہ سے باتیں کرنے لگتے۔
EXO 33:10 اَور جَب بھی لوگ بادل کے سُتون کو خیمہ کے دروازہ پر کھڑا دیکھتے تو سَب کے سَب کھڑے ہو جاتے اَور اَپنے اَپنے خیمہ کے دروازہ پر یَاہوِہ کو سَجدہ کرتے۔
EXO 33:11 اَور یَاہوِہ مَوشہ سے رُوبرو باتیں کرتے تھے، جَیسے کویٔی اَپنے دوست سے باتیں کرتا ہے۔ پھر مَوشہ چھاؤنی کو واپس لَوٹ آتے مگر اُن کا خادِم یہوشُعؔ بِن نُونؔ جو جَوان اِنسان تھا خیمہ ہی میں رہتا تھا۔
EXO 33:12 مَوشہ نے یَاہوِہ سے کہا، ”آپ مُجھ سے کہتے رہے ہیں، ’اِن لوگوں کی رہبری کرو،‘ لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ میرے ساتھ کِس کو بھیجیں گے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا، ’میں تُمہیں نام سے جانتا ہُوں اَور آپ نے مُجھ پر مہربانی کی ہے۔‘
EXO 33:13 پس اگر آپ مُجھ سے خُوش ہیں تو مُجھے اَپنے طریقے سکھائیں، تاکہ مَیں آپ کو جان سکوں اَور آپ کی نظر میں افضل ٹھہروں۔ خیال رکھیں کہ یہ قوم آپ کی ہی اُمّت ہے۔“
EXO 33:14 یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”میری حُضُوری تمہارے ساتھ جائے گی اَور مَیں تُمہیں اِطمینان بخشوں گا۔“
EXO 33:15 تَب مَوشہ نے اُن سے کہا، ”اگر آپ کی حُضُوری ہمارے ساتھ نہ ہوگی تو آپ ہمیں یہاں سے آگے نہ بھیجیں۔
EXO 33:16 کیسے مَعلُوم ہوگا کہ آپ مُجھ سے اَور اَپنے لوگوں سے راضی ہیں جَب تک کہ آپ ہمارے ساتھ نہ جائیں؟ اِسی سے تو ظاہر ہوگا کہ میں اَور آپ کے لوگ رُوئے زمین کی ساری قوموں میں اِمتیازی حیثیّت رکھتے ہیں۔“
EXO 33:17 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”جِس بات کے لیٔے آپ نے درخواست کی ہے میں اُسے ضروُر پُوری کروں گا کیونکہ مَیں آپ سے راضی ہُوں اَور مَیں تُمہیں تمہارے نام سے جانتا ہُوں۔“
EXO 33:18 تَب مَوشہ نے کہا، ”اَب مُجھے اَپنا جلال دِکھائیں۔“
EXO 33:19 اَور یَاہوِہ نے فرمایا، ”میں اَپنا جلال تمہارے سامنے عیاں کروں گا اَور اَپنا نام خُداوؔند کا تمہاری مَوجُودگی میں اعلان کروں گا۔ جِس پر مُجھے رحم کرنا منظُور ہوگا اُس پر رحم کروں گا، اَور جِس پر ترس کھانا منظُور ہوگا اُس پر ترس کھاؤں گا۔“
EXO 33:20 اَور یہ بھی کہا، ”تُم میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتے کیونکہ کویٔی بھی اِنسان مُجھے دیکھ کر زندہ نہیں رہ سَکتا۔“
EXO 33:21 پھر یَاہوِہ نے فرمایا، ”میرے قریب ہی ایک جگہ ہے وہاں تُم ایک چٹّان پر کھڑے ہو جاؤ۔
EXO 33:22 اَور جَب میرا جلال وہاں سے گزرے گا تو میں تُمہیں اُس چٹّان کے شگاف میں رکھوں گا اَور اَپنے ہاتھ سے تُمہیں اُس وقت تک ڈھانکے رہُوں گا جَب تک کہ میں گزر نہ جاؤں۔
EXO 33:23 پھر میں اَپنا ہاتھ ہٹا لُوں گا اَور تمہاری نظر میرے چہرے پر پڑےگی لیکن تُمہیں میرا چہرہ ہرگز دِکھائی نہیں دے گا۔“
EXO 34:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”پہلی تختیوں کی مانند پتّھر کی دو تختیاں تراش اَور مَیں اُن پر وُہی الفاظ لِکھ دُوں گا جو اُن پہلی تختیوں پر جنہیں تُم نے توڑ ڈالا مرقوم تھے۔
EXO 34:2 اَور صُبح کو تیّار ہو جانا اَور پھر کوہِ سِینؔائی پر آجانا اَور وہاں پہاڑ کی چوٹی پر میرے سامنے حاضِر ہونا۔
EXO 34:3 تمہارے ساتھ کویٔی اَور نہ آئے اَور نہ ہی اُس پہاڑ پر کہیں دِکھائی دے اَور بھیڑ بکریاں اَور گائے بَیل بھی پہاڑ کے سامنے چرنے نہ پائیں۔“
EXO 34:4 لہٰذا مَوشہ نے پہلی تختیوں کی مانند پتّھر کی دو تختیاں تراشیں اَور وہ صُبح سویرے کوہِ سِینؔائی پر چڑھا جَیسا کہ یَاہوِہ نے اُسے حُکم دیا تھا اَور وہ پتّھر کی دونوں تختیاں اَپنے ہاتھوں میں لیٔے ہویٔے تھا۔
EXO 34:5 تَب یَاہوِہ بادل میں ہوکر نیچے اُترے اَور وہاں اُس کے ساتھ کھڑے ہوکر اَپنے نام ”یَاہوِہ“ کا اعلان کیا۔
EXO 34:6 اَور وہ مَوشہ کے سامنے سے یہ اعلان کرتے ہُوئے گزرے، ”یَاہوِہ، جو یَاہوِہ، رحیم اَور مہربان خُدا، قہر کرنے میں دھیمے اَور شفقت اَور وفاداری میں غنی،
EXO 34:7 ہزاروں پر رحم کرنے والے اَور سرکشی اَور گُناہ کے بخشنے والے۔ لیکن وہ مُجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتے بَلکہ اَولاد کو آباؤاَجداد کے گُناہ کی سزا اُن کے بیٹوں اَور پوتوں کو تیسری اَور چوتھی پُشت تک دیتے ہیں۔“
EXO 34:8 مَوشہ نے فوراً زمین تک جھُک کر سَجدہ کیا
EXO 34:9 اَور کہا، ”اَے خُداوؔند! اگر مَیں آپ کا منظورِ نظر ہُوں تو اَے خُداوؔند، آپ ہمارے ساتھ ساتھ چلئے۔ اگرچہ یہ ایک ضِدّی قوم ہے تو بھی ہماری بدکاری اَور خطائیں مُعاف کر دیجئے اَور ہمیں بطور اَپنی مِیراث قبُول فرمائیں۔“
EXO 34:10 تَب یَاہوِہ نے کہا: ”مَیں تمہارے ساتھ ایک عہد باندھ رہا ہُوں اَور تمہارے سَب لوگوں کے سامنے اَیسے عجائب کروں گا جو تمام دُنیا میں پہلے کبھی کسی بھی قوم میں نہیں کئے گیٔے۔ اَور وہ لوگ جِن کے درمیان تُم رہتے ہو دیکھیں گے کہ وہ کام جو مَیں یَاہوِہ تمہارے لیٔے کروں گا کتنا مُہیب ہے۔
EXO 34:11 آج جو حُکم مَیں تُمہیں دیتا ہُوں اُس کی تعمیل کرو اَور مَیں تمہارے سامنے سے امُوری، کنعانی، حِتّی، پَرزّی، حِوّی اَور یبُوسی قوموں کو تمہارے آگے سے نکال دُوں گا۔
EXO 34:12 خبردار! جِس مُلک میں تُم جا رہے ہو وہاں کے رہنے والوں کے ساتھ کویٔی عہد نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے لیٔے پھندا بَن جایٔیں گے۔
EXO 34:13 تُم اُن کے مذبحوں کو ڈھا دینا اَور اُن کے مُقدّس سُتونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردینا اَور اُن کے اشیراہؔ کے سُتونوں کو کاٹ ڈالنا۔
EXO 34:14 اَور کسی دُوسرے معبُود کی عبادت نہ کرنا کیونکہ یَاہوِہ جِس کا نام غیّور ہے وہ ایک غیّور خُدا ہیں۔
EXO 34:15 ”اُس مُلک کے باشِندوں کے ساتھ کویٔی عہد نہ کرنا کیونکہ جَب وہ اَپنے معبُودوں کی پیروی میں زناکار ٹھہریں اَور اُن کے لیٔے قُربانیاں کریں اَور تُمہیں دعوت دیں اَور تُم اُن کی قُربانیاں کھا لوگے۔
EXO 34:16 اَور جَب تُم اُن کی بیٹیوں میں سے بعض کو اَپنے بیٹوں سے شادی کر دوگے اَور اُن کی وہ بیٹیاں اَپنے معبُودوں کی پیروی میں زناکار ٹھہریں گی تو وہ تمہارے بیٹوں کو بھی اَپنے معبُودوں کی پیروی میں زناکاری کی راہ پر لے جائیں گی۔
EXO 34:17 ”تُم ڈھالے ہویٔے معبُود نہ بنانا۔
EXO 34:18 ”تُم بے خمیری روٹی کی عید منایا کرنا اَور جَیسے مَیں نے تُمہیں حُکم دیا سات دِن تک بے خمیری روٹی کھانا اَور یہ عید مُقرّرہ وقت پر ابیبؔ کے مہینے میں منایا کرنا کیونکہ اِسی مہینے میں تُم مِصر سے نکلے تھے۔
EXO 34:19 ”سَب پہلوٹھے میرے ہیں اَور اِن میں تمہارے چَوپایوں کے نر پہلوٹھے بھی شامل ہیں خواہ وہ گلّے کے بچھڑے ہُوں یا برّے۔
EXO 34:20 گدھے کے پہلے بچّہ کے فدیہ میں برّہ دیا جائے لیکن اگر تُم اُس کا فدیہ نہ دینا چاہو تو اُس کی گردن توڑ ڈالنا۔ اَپنے تمام پہلوٹھے بیٹوں کا فدیہ دینا۔ ”اَور کویٔی بھی میرے سامنے خالی ہاتھ نہ آئے۔
EXO 34:21 ”تُم چھ دِن کام کاج کرنا لیکن ساتویں دِن آرام کرنا ہل چلانے اَور فصل کاٹنے کے موسم کے دَوران بھی ضروُر آرام کرنا۔
EXO 34:22 ”اَور گیہُوں کے پہلے پھل کے کاٹنے کے وقت ہفتوں کی عید اَور سال کے آخِر میں فصل جمع کرنے کی عید منانا۔
EXO 34:23 تمہارے تمام اِنسان سال میں تین بار یَاہوِہ قادر، اِسرائیل کے خُدا کے حُضُور حاضِر ہُوں۔
EXO 34:24 میں قوموں کو تمہارے سامنے سے نکال دُوں گا اَور تمہاری سرحدوں کو وسعت دُوں گا اَور جَب تُم ہر سال تین بار یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور حاضِر ہونے کے لیٔے جاؤگے تو کویٔی بھی تمہاری زمین کا لالچ نہ کرےگا۔
EXO 34:25 ”اَور تُم مُجھے کسی قُربانی کا خُون کسی اَیسی چیز کے ساتھ نہ پیش کرنا جِس میں خمیر مِلا ہو اَور عیدِفسح کی قُربانی میں سے کچھ صُبح تک باقی نہ رکھنا۔
EXO 34:26 ”اَور تُم اَپنی زمین کے پہلے پھلوں میں سے بہترین پھل یَاہوِہ اَپنے خُدا کے گھر میں لانا۔ ”تُم بکری کے بچّہ کو اُس کی ماں کے دُودھ میں نہ پکانا۔“
EXO 34:27 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”تُم اِن باتوں کو لِکھ لینا کیونکہ اِن ہی باتوں کے مُطابق مَیں نے تمہارے ساتھ اَور اِسرائیل کے ساتھ ایک عہد باندھا ہے۔“
EXO 34:28 اَور مَوشہ چالیس دِن اَور چالیس رات بغیر کچھ کھائے پیئے وہیں یَاہوِہ کے ساتھ رہے اَور اُس نے اُن تختیوں پر عہد کی باتیں یعنی اُن دس اَحکام کو لِکھّا۔
EXO 34:29 جَب مَوشہ دونوں شہادت کی تختیاں اَپنے ہاتھوں میں لئے ہویٔے کوہِ سِینؔائی سے نیچے آئے تو وہ اِس بات سے بے خبر تھے کہ یَاہوِہ کے ساتھ باتیں کرنے کے باعث اُن کا چہرہ چمک رہاہے۔
EXO 34:30 اَور جَب اَہرونؔ اَور تمام بنی اِسرائیل نے مَوشہ کو دیکھا کہ اُن کا چہرہ چمک رہاہے تو وہ اُن کے نزدیک آنے سے ڈرے۔
EXO 34:31 لیکن مَوشہ نے اُنہیں بُلایا اَور اَہرونؔ اَور جماعت کے سَب سردار اُن کے پاس واپس آ گیٔے اَور اُنہُوں نے اُن سے باتیں کیں۔
EXO 34:32 بعد میں تمام بنی اِسرائیل نزدیک آ گیٔے اَور اُنہُوں نے وہ تمام اَحکام جو یَاہوِہ نے اُنہیں کوہِ سِینؔائی پر دیئے تھے اُنہیں بتائے۔
EXO 34:33 اَور جَب مَوشہ اُن سے باتیں کرچکے تو اُنہُوں نے اَپنے چہرے پر نقاب ڈال لیا۔
EXO 34:34 لیکن جَب مَوشہ یَاہوِہ سے باتیں کرنے کے لیٔے اُن کی بارگاہ میں داخل ہوتے تو باہر نکلنے کے وقت تک نقاب کو اُتارے رہتے تھے اَورجو حُکم اُنہیں ملتا اُسے باہر آکر بنی اِسرائیل کو بتا دیتے
EXO 34:35 اَور اِسرائیلی دیکھتے کہ اُن کا چہرہ چمک رہاہے۔ تَب مَوشہ اُس نقاب کو اَپنے چہرے پر ڈال لیتے اَور اُس وقت تک ڈالے رہتے جَب تک وہ یَاہوِہ سے باتیں کرنے کے لیٔے اَندر نہ جاتے۔
EXO 35:1 مَوشہ نے بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کو جمع کیا اَور اُن سے کہا، ”وہ باتیں جنہیں کرنے کا یَاہوِہ نے تُمہیں حُکم دیا ہے یہ ہیں:
EXO 35:2 چھ دِن کام کاج کیا جائے لیکن ساتواں دِن تمہارے لیٔے مُقدّس ہوگا یعنی یَاہوِہ کے آرام کا سَبت۔ اَورجو کویٔی اُس دِن کچھ کام کرے وہ مار ڈالا جائے۔
EXO 35:3 اَور سَبت کے دِن تُم اَپنی قِیام گاہوں میں کہیں بھی آگ نہ جَلانا۔“
EXO 35:4 مَوشہ نے بنی اِسرائیل کی ساری جماعت سے کہا، ”جو حُکم یَاہوِہ نے دیا ہے وہ یہ ہے کہ
EXO 35:5 تُم اُس میں سے جو تمہارے پاس ہے یَاہوِہ کے لیٔے نذر لایا کرو۔ اَور ہر ایک خُوشی سے یَاہوِہ کے لیٔے نذر: ”سونا، چاندی، کانسے؛
EXO 35:6 نیلا، اَرغوانی، سُرخ رنگ کا کپڑا، نفیس کتان؛ بکری کی پشم؛
EXO 35:7 اَور مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہُوئی کھالیں، دریائی بچھڑوں کی کھالیں؛ اَور کیکر کی لکڑی؛
EXO 35:8 اَور چراغ کے لیٔے زَیتُون کا تیل، مَسح کا زَیتُون کا تیل اَور خُوشبودار بخُور کے لیٔے مَسالے؛
EXO 35:9 افُود، سنگِ سُلیمانی اَور سینہ بند میں جڑنے کے لیٔے نگینے اَور دیگر جواہرات۔
EXO 35:10 ”اَور تمہارے درمیان وہ تمام جو تربّیت یافتہ کاریگر ہیں آئیں اَور وہ تمام چیزیں بنائیں جِن کا یَاہوِہ نے حُکم دیا ہے۔
EXO 35:11 ”یعنی مَسکن کے ساتھ خیمہ اَور اُس کا غلاف، اَور اُس کے تُکمے، تختے، بینڈے اَور اُس کے سُتون اَور پایٔے،
EXO 35:12 صندُوق اَور اُس کی بَلّیاں، کفّارہ کا سرپوش اَور اُس کے اِردگرد کا پردہ؛
EXO 35:13 میز اَور اُس کی بَلّیاں اَور اُس کے تمام ظروف اَور نذر کی روٹی؛
EXO 35:14 اَور چراغدان جو رَوشنی کے لیٔے ہے اَور اُس کے تمام اجزا۔ چراغ اَور جَلانے کے لیٔے زَیتُون کا تیل؛
EXO 35:15 بخُور جَلانے کا مذبح اَور اُس کی بَلّیاں۔ مَسح کرنے کا زَیتُون کا تیل اَور خُوشبودار بخُور۔ اَور مَسکن کے مدخل پر دروازہ کے لیٔے پردہ؛
EXO 35:16 اَور سوختنی نذر کی قُربانی کا مذبح اَور اُس کا کانسے کا جنگلہ، اُس کی بَلّیاں اَور اُس کے تمام ظروف، کانسے کا لگن اَور اُس کی چوکی؛
EXO 35:17 صحن کے پردے اَور اُن کی بَلّیاں اَور پایٔے اَور صحن کے مدخل کے لیٔے پردہ؛
EXO 35:18 مَسکن اَور صحن کے لیٔے میخیں اَور اُن کی رسّیاں؛
EXO 35:19 اَور پاک مَقدِس میں خدمت اَنجام دینے کے لیٔے بُنے ہویٔے مُقدّس لباس، اَہرونؔ کاہِنؔ کے لیٔے اَور اُس کے بیٹوں کے لیٔے لباس جَب وہ بطور کاہِنؔ خدمت کریں۔“
EXO 35:20 تَب بنی اِسرائیل کی ساری جماعت مَوشہ کے پاس سے رخصت ہو گئی
EXO 35:21 اَور ہر کویٔی جِس کی نیّت نیک تھی اَور جِس کے دِل نے اُسے ترغِیب دی وہ آیا اَور خیمہ اِجتماع کے کام، وہاں کی پرستش اَور مُقدّس لباس کے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور نذر لایا۔
EXO 35:22 اَور مَرد اَور عورتیں سَب کے سَب خُوشی خُوشی آئے اَور سونے کے تمغے، سونے کی بالیاں، انگُشتریاں اَور آرائِش کی دیگر اَشیا لایٔے اَور اُن سَب نے ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر اَپنا سونا یَاہوِہ کو پیش کیا۔
EXO 35:23 اَور ہر ایک جِس کے پاس نیلے آسمانی رنگ کا، اَرغوانی رنگ کا یا سُرخ رنگ کا کپڑا یا نفیس کتان یا بکریوں کی پشم، مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہُوئی کھالیں یا دریائی بچھڑوں کی کھالیں تھیں لے آیا۔
EXO 35:24 اَور وہ جنہوں نے چاہا کہ چاندی یا کانسے کی نذر پیش کریں وہ اُسے یَاہوِہ کے لیٔے نذر کے طور پر لایٔے اَور جِس کے پاس کسی حِصّہ میں کام آنے والی کیکر کی لکڑی تھی وہ اُسی کو لے آیا۔
EXO 35:25 اَور ہُنرمند عورتوں نے نیلے آسمانی، اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کا کپڑا یا نفیس کتان جو اُنہُوں نے اَپنے ہاتھوں سے کاتا اَور بُنا تھا لاکر دیا۔
EXO 35:26 اَورجو عورتیں سمجھدار اَور ہُنرمند تھیں اُنہُوں نے بکریوں کی پشم کاتی۔
EXO 35:27 اَورجو سردار تھے وہ افُود اَور سینہ بند کے لیٔے سنگِ سُلیمانی اَور نگینے لایٔے
EXO 35:28 اَور وہ جَلانے کے لیٔے، مَسح کرنے کے لیٔے اَور خُوشبودار بخُور کے لیٔے مَسالے اَور زَیتُون کا تیل بھی لایٔے۔
EXO 35:29 اَور یُوں تمام بنی اِسرائیل مَرد اَور عورتیں اَپنی ہی خُوشی سے یَاہوِہ کے حُضُور اُس تمام کام کے لیٔے رضا کی قُربانی کے نذرانے لایٔے جسے کرنے کا یَاہوِہ نے اُنہیں مَوشہ کی مَعرفت حُکم دیا تھا۔
EXO 35:30 اَور پھر مَوشہ نے بنی اِسرائیل سے فرمایا، ”دیکھو، یَاہوِہ نے بصل ایل بِن اوری بِن حُورؔ کو چُنا جو بنی یہُوداہؔ کے قبیلہ میں سے ہے۔
EXO 35:31 اَور اُس نے اُسے خُدا کی رُوح سے معموُر کیا ہے اَور اُسے فہم اَور حِکمت اَور ہر قِسم کی دستکاری کا علم بخشا ہے
EXO 35:32 تاکہ وہ سونے چاندی اَور کانسے سے خُوبصورت نقش و نگار والی چیزیں بنائے
EXO 35:33 اَور جواہرات کو تراشے اَور جڑے اَور لکڑی کو تراشے اَور ایک ماہر کاریگر ثابت ہو۔
EXO 35:34 اَور یَاہوِہ نے اُسے اَور دانؔ کے قبیلہ سے اُہلیابؔ بِن احیسمکؔ دونوں کو دُوسروں کو ہُنر سِکھانے کی قابلیّت بخشی ہے۔
EXO 35:35 اَور یَاہوِہ نے اُنہیں بطور دستکار، صنعت کار اَور نیلے، اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کے کپڑے اَور مہین کتان پر کشیدہ کاری کرنے اَور جولاہے کا کام کرنے کی مہارت بخشی ہے تاکہ وہ ماہر دستکار اَور صنعت کار بنیں۔
EXO 36:1 لہٰذا بصل ایل، اُہلیابؔ اَور ہر کاریگر جسے یَاہوِہ نے ہُنرمندی، اَور قابلیّت اَور پاک مَقدِس کو بنانے کے کُل کام کو سَر اَنجام دینے کا علم بخشا ہے تاکہ وہ یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق سارا کام اَنجام دیں۔“
EXO 36:2 تَب مَوشہ نے بصل ایل، اَور اُہلیابؔ اَور ہر کاریگر کو جسے یَاہوِہ نے قابلیّت بخشی تھی اَورجو آکر کام کرنے کے لیٔے رضامند تھا طلب کیا۔
EXO 36:3 اَور اُنہُوں نے وہ تمام نذریں جو بنی اِسرائیل نے پاک مَقدِس کو بنانے کے کام کو سَر اَنجام دینے کے لیٔے دئیے تھے، مَوشہ سے حاصل کئے اَور لوگ ہر صُبح رضا کی قُربانی کی نذر اَپنی خُوشی سے لاتے رہے۔
EXO 36:4 تَب تمام کاریگر جو پاک مَقدِس کو بنانے کے کام میں لگے ہویٔے تھے اَپنا کام چھوڑکر آئے۔
EXO 36:5 اَور مَوشہ سے کہنے لگے، ”لوگ اُس کام کے لیٔے جِس کے کرنے کا حُکم یَاہوِہ نے دیا ہے ضروُرت سے بہت زِیادہ سامان لے آئے ہیں۔“
EXO 36:6 تَب مَوشہ نے حُکم دیا کہ تمام چھاؤنی میں اعلان کر دیا جائے: ”اَب کویٔی مَرد یا عورت پاک مَقدِس کی چیزیں بنانے کے لیٔے کویٔی نذرانے نہ لایٔے۔“ لہٰذا وہ لوگ اَور زِیادہ نذرانے لانے سے باز آئے
EXO 36:7 کیونکہ جو سامان پہلے آ چُکاتھا وہ تمام کام کی تکمیل کے لیٔے ضروُرت سے کہیں زِیادہ تھا۔
EXO 36:8 اَور کام کرنے والوں میں سے اُن تمام نے جو تربّیت یافتہ اِنسان تھے اُس مَسکن کے لیٔے نیلے آسمانی، اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کے کپڑے سے اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان سے دس پردے بنائے جِن پر ایک ماہر کاریگر نے کشیدہ کاری سے کروبیم بنائے ہویٔے تھے۔
EXO 36:9 اَور وہ تمام پردے ایک ہی ناپ کے تھے یعنی ہر ایک اٹّھائیس ہاتھ لمبا اَور چار ہاتھ چوڑا تھا۔
EXO 36:10 اَور اُنہُوں نے اُن میں سے پانچ پردے باہم جوڑ دیئے اَور دُوسرے پانچ پردے بھی ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دئیے۔
EXO 36:11 پھر اُنہُوں نے پہلے جُڑے ہویٔے پردوں کے آخِری پردہ کے کنارے کے ساتھ ساتھ نیلے آسمانی رنگ کے تُکمے بنائے اَور دُوسرے پانچ پردوں کے آخِری پردہ کے کنارے کے ساتھ ساتھ بھی اَیسے ہی تُکمے بنائے۔
EXO 36:12 نیز اُنہُوں نے پہلی جوڑی کے ایک پردہ پر پچاس تُکمے اَور دُوسری جوڑی کے آخِری پردہ پر بھی پچاس تُکمے بنائے جو ایک دُوسرے کے سَب تُکمے ایک دُوسرے کے آمنے سامنے تھے۔
EXO 36:13 پھر اُنہُوں نے سونے کی پچاس گھنڈیاں بنائیں اَور اُنہیں پردوں کے دونوں حِصّوں کو باہم باندھنے کے لیٔے اِستعمال کیا جِس سے وہ مَسکن ایک ہو گیا۔
EXO 36:14 اَور اُنہُوں نے بکری کی پشم سے خیمہ مَسکن کے اُوپر کے خیمہ کے لیٔے پردے بنائے جِن کی تعداد گیارہ تھی۔
EXO 36:15 اَور تمام گیارہ پردے ایک ہی ناپ کے تھے یعنی تیس ہاتھ لمبے اَور چار ہاتھ چوڑے۔
EXO 36:16 اَور اُنہُوں نے اُن پردوں میں سے پانچ کو باہم جوڑ کر ایک جوڑا بنا دیا اَور دُوسرے چھ پردوں کو جوڑ کر دُوسرا۔
EXO 36:17 پھر اُنہُوں نے پہلے جوڑے کے آخِری پردہ کے کنارے کے ساتھ ساتھ پچاس تُکمے بنائے اَور دُوسرے جوڑے کے آخِری پردہ کے کنارے کے ساتھ ساتھ بھی پچاس تُکمے بنائے
EXO 36:18 اَور اُنہُوں نے اُس خیمہ کو باہم جوڑنے کے لیٔے کانسے کی پچاس گھنڈیاں بنائیں تاکہ وہ ایک ہو جائیں۔
EXO 36:19 پھر اُنہُوں نے اُس خیمہ کے لیٔے مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہُوئی کھالوں کا ایک غلاف بنایا اَور اُس کے اُوپر دریائی بچھڑوں کی کھالوں کا غلاف بنایا۔
EXO 36:20 اَور اُنہُوں نے مَسکن کے لیٔے کیکر کی لکڑی کے بالکُل سیدھے کھڑے چوکھٹے بنائے۔
EXO 36:21 اَور ہر چوکھٹا دس ہاتھ لمبا اَور ڈیڑھ ہاتھ چوڑا تھا۔
EXO 36:22 اَور اُن کے ساتھ ایک دُوسرے کے متوازی دو دو چُولیں بنائیں اَور اُنہُوں نے مَسکن کے تمام چوکھٹے اِسی طرح بنائے۔
EXO 36:23 اَور اُنہُوں نے مَسکن کے جُنوبی پہلو کے لیٔے بیس چوکھٹے بنائے
EXO 36:24 اَور اُن کے لیٔے نیچے چاندی کے چالیس پایٔے بنائے یعنی ہر ایک چوکھٹے کے لیٔے دو دو پایٔے تاکہ ہر چُول کے نیچے ایک ایک پایہ ہو۔
EXO 36:25 اَور دُوسری جانِب یعنی مَسکن کے شمالی پہلو کے لیٔے اُنہُوں نے بیس چوکھٹے
EXO 36:26 اَور چاندی کے چالیس پایٔے بنائے تاکہ ہر ایک چوکھٹے کے نیچے دو دو۔
EXO 36:27 اَور اُنہُوں نے آخِری کونے پر یعنی مَسکن کی مغربی سمت میں چھ چوکھٹے بنائے
EXO 36:28 اَور مَسکن کے آخِری سِرے کے کونوں کے لیٔے دو چوکھٹے بنائے۔
EXO 36:29 اَور اِن دونوں کونوں کے چوکھٹے نیچے سے اُوپر تک دوہرے تھے اَور ایک ہی حلقے میں برابر جُڑے ہویٔے تھے اَور دونوں ایک جَیسے تھے۔
EXO 36:30 اِس لیٔے آٹھ چوکھٹے اَور چاندی کے سولہ پایٔے ہو گئے یعنی ہر ایک چوکھٹے کے نیچے دو دو پایٔے۔
EXO 36:31 اُنہُوں نے کیکر کی لکڑی کے بینڈے بھی بنائے۔ پانچ مَسکن کے ایک طرف کے چوکھٹوں کے لیٔے،
EXO 36:32 پانچ دُوسری طرف کے چوکھٹوں کے لیٔے اَور پانچ مَسکن کے آخِری کنارے یعنی مغربی سمت کے چوکھٹوں کے لیٔے۔
EXO 36:33 اَور اُنہُوں نے وسطیٰ بینڈے کو اَیسا بنایا کہ وہ اُن چوکھٹوں کے درمیان سے ہوکر ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک پہُنچے۔
EXO 36:34 اَور اُنہُوں نے چوکھٹوں کو سونے سے منڈھا اَور بینڈوں کو تھامنے کے لیٔے سونے کے حلقے بنائے اَور اُنہُوں نے بینڈوں کو بھی سونے سے منڈھا۔
EXO 36:35 اَور اُس خیمہ میں دروازہ کے لیٔے نیلے، اَرغوانی اَور سُرخ دھاگے اَور نفیس بٹے ہُوئے کتان سے ایک پردہ بنایا اَور جِس پر کسی ماہر کاریگر نے کشیدہ کاری سے کروبیم بنائے ہویٔے تھے۔
EXO 36:36 اَور اُنہُوں نے اُس کے لیٔے کیکر کی لکڑی کے چار سُتون بنائے اَور اُنہیں سونے سے منڈھا۔ اَور اُن کے لیٔے سونے کے حلقوں سے لٹکایا اَور اُن کے لیٔے چاندی کے چار پایوں کو ڈھال کر کھڑا کیا۔
EXO 36:37 اَور اُس خیمہ میں دروازہ کے لیٔے نیلے، اَرغوانی اَور سُرخ دھاگے اَور نفیس بٹے ہُوئے کتان سے ایک پردہ بنایا جِس پر کشیدہ کاری کی ہُوئی تھی۔
EXO 36:38 اَور اُنہُوں نے پانچ سُتون کنڈوں سمیت بنائے اَور اُن کے سِروں اَور پٹّیوں کو سونے سے منڈھا اَور اُن کے لیٔے کانسے کے پانچ پایٔے بنائے۔
EXO 37:1 اَور بصل ایل نے وہ صندُوق کیکر کی لکڑی کا بنایا۔ اُس کی لمبائی ڈھائی ہاتھ اَور چوڑائی ڈیڑھ ہاتھ اَور اُونچائی ڈیڑھ ہاتھ تھی۔
EXO 37:2 اَور اُس کے اَندر اَور باہر دونوں طرف خالص سونا منڈھا اَور اُس کے اطراف سونے کا کلس بنایا۔
EXO 37:3 اَور اُس کے لیٔے سونے کو ڈھال کر چار کڑے بنائے اَور اُس کے چاروں پایوں کے ساتھ لگا دئیے دو کڑے ایک طرف اَور دو کڑے دُوسری طرف۔
EXO 37:4 پھر اُس نے کیکر کی لکڑی کی بَلّیاں بنا کر اُن پر سونا منڈھا۔
EXO 37:5 اَور اُس نے اُس صندُوق کو اُٹھاکر لے جانے کے لیٔے اُن بَلّیوں کو اُن کڑوں میں ڈال دیا جو صندُوق کے دونوں طرف تھے۔
EXO 37:6 اَور اُس نے کفّارہ کا سرپوش خالص سونے کا بنایا جو کہ ڈھائی ہاتھ لمبا اَور ڈیڑھ ہاتھ چوڑا تھا۔
EXO 37:7 پھر اُس نے سرپوش کے دونوں کونوں پر سونے سے گڑھے ہویٔے دو کروبیم بنائے۔
EXO 37:8 اُس نے ایک کروب کو ایک سِرے پر اَور دُوسرے کروب کو دُوسرے سِرے پر بنایا اَور دونوں سِروں کے کروبیم اَور سرپوش ایک ہی ٹکڑے سے بنے ہُوئے تھے۔
EXO 37:9 اَور وہ کروبیم اَپنے پر اُوپر کی طرف پھیلائے ہویٔے تھے اَور اُن سے سرپوش کو ڈھانکے ہویٔے تھے۔ اَور وہ کروبیم کے چہرے ایک دُوسرے کے آمنے سامنے تھے گویا سرپوش کی طرف دیکھ رہے تھے۔
EXO 37:10 اُنہُوں نے وہ میز کیکر کی لکڑی کی بنائی جو دو ہاتھ لمبی اَور ایک ہاتھ چوڑی اَور ڈیڑھ ہاتھ اُونچی تھی۔
EXO 37:11 پھر اُنہُوں نے اُس پر خالص سونا منڈھا اَور اُس کے اطراف سونے کا ایک کلس بنایا۔
EXO 37:12 اَور اُنہُوں نے اُس کے اطراف چار اُنگل چوڑی کنگنی بھی بنائی اَور اُس کنگنی پر سونے کا کلس رکھا۔
EXO 37:13 اَور اُنہُوں نے اُس میز کے لیٔے سونے کے چار کڑے بنا کر اُنہیں اُس کے چاروں کونوں سے جہاں پایٔے تھے جوڑ دیا۔
EXO 37:14 اَور وہ کڑے کنگنی کے نزدیک لگائے گیٔے تاکہ وہ میز کو اُٹھانے کے لئے اِستعمال ہونے والی بَلّیوں کو تھامے رکھیں۔
EXO 37:15 اَور اُس میز کو اُٹھانے کے لیٔے بَلّیاں کیکر کی لکڑی کی بنی ہُوئی تھیں اَور اُن پر سونا منڈھا ہُوا تھا۔
EXO 37:16 اَور اُنہُوں نے اُس میز کے لیٔے ظروف یعنی طباق، ڈونگے اَور پیالے اَور انگوری شِیرے کی نذروں کو اُنڈیلنے کے لیٔے صُراحیاں خالص سونے کے بنائے۔
EXO 37:17 اُنہُوں نے خالص سونے کا ایک چراغدان بنایا اَور اُس کے پایٔے اَور ڈنڈی کو گڑھ کر بنایا۔ اَور اُس کے پیالے، کلیاں اَور پھُول سَب ایک ہی ٹکڑے کے بنے ہویٔے تھے۔
EXO 37:18 اَور اُس چراغدان کے دونوں طرف سے چھ شاخیں باہر کو نکلیں تین ایک طرف اَور تین دُوسری طرف۔
EXO 37:19 اَور بادام کے پھُول کی شکل کے تین پیالے، کلیاں اَور پھُول ایک شاخ پر تھے اَور تین اگلی شاخ پر اَور اِسی طرح چراغدان سے باہر کو نکلی ہُوئی ساری چھ شاخوں پر۔
EXO 37:20 اَور چراغدان کے اُوپر بادام کے پھُول کی شکل کے چار پیالے بنے ہویٔے ہیں، اَور اُن کے ساتھ کلیاں اَور پھُول تھے۔
EXO 37:21 ایک کلی چراغدان سے نکلی ہُوئی شاخوں کی پہلی جوڑی کے نیچے تھی۔ دُوسری کلی شاخوں کی دُوسری جوڑی کے نیچے اَور تیسری کلی تیسری جوڑی کے نیچے یعنی ساری کلیاں چھ شاخوں کے نیچے۔
EXO 37:22 اَور وہ کلیاں، شاخیں اَور چراغدان خالص سونے کے ایک ہی ٹکڑے سے گڑھ کر بنائے گیٔے تھے۔
EXO 37:23 اُنہُوں نے اُس کے لیٔے سات چراغ نیز اُس کی گُلگیر اَور گلدان بھی خالص سونے کے بنائے۔
EXO 37:24 اَور اُنہُوں نے وہ چراغدان اَور اُس کے تمام لوازمات کو ایک تالنت خالص سونے سے بنایا۔
EXO 37:25 اُنہُوں نے کیکر کی لکڑی سے بخُور کا مذبح بنایا اَور وہ چوکور تھا اَور ایک ہاتھ لمبا ایک ہاتھ چوڑا اَور دو ہاتھ اُونچا تھا اَور اُس کے سینگ ایک ہی ٹکڑے کے تھے۔
EXO 37:26 اَور اُنہُوں نے اُس کی اُوپر کی سطح اَور تمام اطراف کو اَور سینگوں کو خالص سونے سے منڈھا اَور اُس کے اِردگرد سونے کا ایک کلس بنایا۔
EXO 37:27 اَور اُس کلس کے نیچے اُنہُوں نے سونے کے دو حلقے بنائے اَور وہ ایک دُوسرے کے مقابل دونوں جانِب تھے تاکہ اُسے اُٹھانے کے لیٔے اِستعمال ہونے والی بَلّیوں کو تھامے رکھیں۔
EXO 37:28 اَور اُنہُوں نے اُن بَلّیوں کو کیکر کی لکڑی سے بنایا اَور اُن پر سونا منڈھا۔
EXO 37:29 اَور اُنہُوں نے مَسح کرنے کا پاک زَیتُون کا تیل اَور خالص خُوشبودار بخُور بھی بنائے جو کہ ایک ماہر عطر ساز ہی بنا سَکتا ہے۔
EXO 38:1 اَور اُنہُوں نے سوختنی نذر کی قُربانی کا مذبح کیکر کی لکڑی کا بنایا جو چوکور تھا اَور پانچ ہاتھ لمبا اَور پانچ ہاتھ چوڑا اَور تین ہاتھ اُونچا تھا۔
EXO 38:2 اَور اُنہُوں نے اُس کے چاروں کونوں پر ایک ایک سینگ بنایا اَور وہ سینگ اَور مذبح ایک ہی ٹکڑے کے تھے اَور اُنہُوں نے مذبح کو کانسے سے منڈھا۔
EXO 38:3 اَور اُنہُوں نے اُس کے تمام ظروف کانسے کے یعنی دیگیں، بیلچے، چھڑکاؤ کرنے والے پیالے، گوشت کے لیٔے سیخیں اَور انگیٹھیاں بنائیں۔
EXO 38:4 اَور اُنہُوں نے مذبح کے لیٔے اُس کنارے کے نیچے کانسے کا جالی دار جنگلہ اِس طرح لگایا کہ وہ مذبح سے آدھی اُونچائی تک پہُنچتا تھا۔
EXO 38:5 اَور اُنہُوں نے کانسے کے کڑے گڑھ کر بنائے تاکہ کانسے کے جنگلہ کے چاروں کونوں کی بَلّیوں کو تھامے رکھیں۔
EXO 38:6 اَور اُنہُوں نے کیکر کی لکڑی کی بَلّیاں بنائیں اَور اُنہیں کانسے سے منڈھا۔
EXO 38:7 اَور اُنہُوں نے اُن بَلّیوں کو اُن کڑوں میں ڈالا تاکہ وہ مذبح کو اُٹھانے کے لیٔے اُس کے دونوں طرف ہُوں۔ اُنہُوں نے مذبح کو تختوں سے بنایا تھا اَور وہ اَندر سے کھوکھلا تھا۔
EXO 38:8 اَور اُنہُوں نے اُن عورتوں کے فرمانوں سے جو خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر خدمت کرتی تھیں کانسے کا ایک لگن اَور لگن کی چوکی کانسے کی بنائی۔
EXO 38:9 پھر اُنہُوں نے مَسکن کے لیٔے ایک صحن بنایا جِس کی جُنوبی سمت ایک سَو ہاتھ لمبی تھی اَور جِس کے پردے نفیس بٹے ہویٔے کتان کے تھے۔
EXO 38:10 اَور اُن کے لیٔے بیس سُتون اَور کانسے کے بیس پایٔے تھے۔ اَور سُتونوں پر چاندی کی کنڈیاں اَور پٹّیاں تھیں۔
EXO 38:11 اَور شمالی سمت بھی ایک سَو ہاتھ لمبی اَور اُس کے پردوں کے لیٔے بھی بیس سُتون اَور کانسے کے بیس پایٔے تھے۔ اَور سُتونوں کے لیٔے چاندی کی کنڈیاں اَور پٹّیاں تھیں۔
EXO 38:12 اَور مغربی کنارا پچاس ہاتھ چوڑا تھا جِس کے پردوں کے لیٔے دس سُتون اَور دس پایٔے تھے اَور اُن سُتونوں پر چاندی کی کنڈیاں اَور پٹّیاں تھیں۔
EXO 38:13 اَور طُلوع آفتاب کی طرف مشرقی کنارا بھی پچاس ہاتھ چوڑا تھا۔
EXO 38:14 اَور پندرہ ہاتھ لمبے پردے دروازہ کے ایک طرف تھے جِن کے لیٔے تین سُتون اَور تین ہی پایٔے تھے۔
EXO 38:15 اَور پندرہ ہاتھ لمبے پردے صحن کے دروازہ کی دُوسری طرف تھے اَور اُن کے لیٔے بھی تین سُتون اَور تین پایٔے تھے۔
EXO 38:16 اَور صحن کے اِردگرد تمام پردے نفیس بٹے ہویٔے کتان کے تھے۔
EXO 38:17 اُن بَلّیوں کے لیٔے پایٔے کانسے کے تھے۔ بَلّیوں پر کنڈیاں اَور پٹّیاں چاندی کی تھیں۔ صحن کے تمام پایوں کی پٹّیاں چاندی کی تھیں۔
EXO 38:18 صحن کے دروازہ کے لیٔے پردے نیلے، اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کے سُوت اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان کا تھا جِس پر بیل بُوٹے کشیدہ کئے ہویٔے تھے اَور وہ بیس ہاتھ لمبا تھا اَور صحن کے پردوں کی طرح پانچ ہاتھ اُونچا تھا۔
EXO 38:19 اَور اُس کے لیٔے چار بَلّیاں اَور کانسے کے چار پایٔے تھے۔ اُن کی کنڈیاں اَور پٹّیاں چاندی کی تھیں اَور اُن کے سِروں پر چاندی منڈھی ہُوئی تھی۔
EXO 38:20 اَور مَسکن کے خیمہ اَور اُس کے اِردگرد صحن کی تمام میخیں کانسے کی تھیں۔
EXO 38:21 یہ ہیں اُس سامان کے اعدادوشمار جو مَسکن اَور شہادت کے خیمہ کے لیٔے اِستعمال کئےگئے ہیں اَور جسے مَوشہ کے حُکم سے اَہرونؔ کاہِنؔ کے بیٹے اِتمارؔ کی زیرِ ہدایت لیویوں نے قلم بند کیا۔
EXO 38:22 (بصل ایل بِن اوری بِن حُورؔ نے جو یہُوداہؔ کے قبیلہ سے تھا سَب کچھ بنایا جِس کا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 38:23 اَور اُس کے ساتھ دانؔ کے قبیلہ کا اُہلیابؔ بِن احیسمکؔ تھا جو ایک اعلیٰ درجہ کا صنعت کار اَور نقّاش تھا اَور نیلے اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کے سُوت اَور نفیس کتان کی کشیدہ کاری میں ماہر تھا)۔
EXO 38:24 اَور ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر چڑھایا جانے والا جِتنا سونا پاک مَقدِس کے لیٔے اِستعمال ہُوا وہ اُنتیس قِنطار اَور پاک مَقدِس کی ثاقل کے حِساب سے سات سَو تیس ثاقل تھا۔
EXO 38:25 اَور وہ چاندی جو جماعت کے اُن افراد سے حاصل کی گئی جو مردُم شماری میں گنے گیٔے ایک سَو تالنت اَور پاک مَقدِس کی ثاقل کے حِساب سے ایک ہزار سات سَو پچھتّر ثاقل تھی۔
EXO 38:26 یعنی ایک بیکا فی کس جو پاک مَقدِس کی ثاقل کے حِساب سے نیم ثاقل تھی ہر ایک سے لی گئی جو بیس بَرس یا اُس سے زِیادہ عمر کا تھا اَورجو شُمار کئے ہوؤں میں شامل تھا۔ اِن مَردوں کی کُل تعداد چھ لاکھ تین ہزار پانچ سَو پچاس تھی۔
EXO 38:27 ایک سَو تالنت چاندی پاک مَقدِس اَور پردوں کے پایوں کے ڈھالنے کے لیٔے اِستعمال کی گئی یعنی ایک سَو تالنت سے ایک سَو پایٔے اَور ہر پایٔے کے لیٔے ایک تالنت۔
EXO 38:28 اَور اُنہُوں نے بَلّیوں کے لیٔے کنڈیاں اَور بَلّیوں کے سِروں کو منڈھنے اَور اُن کی پٹّیاں بنانے کے لیٔے ایک ہزار سات سَو پچھتّر ثاقل چاندی اِستعمال کی۔
EXO 38:29 اَور ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر چڑھائے جانے سے جو کانسے حاصل ہُوا وہ وزن میں ستّر تالنت اَور دو ہزار چار سَو ثاقل تھا۔
EXO 38:30 اَور اُنہُوں نے اُسے خیمہ اِجتماع کے دروازہ کے پایوں اَور کانسے کے مذبح اُس کا جنگلہ اَور اُس کے تمام ظروف بنانے کے لیٔے
EXO 38:31 اَور اِردگرد کے صحن کے پایوں کے لیٔے اَور دروازہ کے پایوں کے لیٔے اَور مَسکن کے خیمہ کی تمام میخوں کے لیٔے اَور اِردگرد کے صحن کی میخوں کے لیٔے اِستعمال کیا۔
EXO 39:1 اَور اُنہُوں نے پاک مَقدِس میں خدمت کرتے وقت پہننے کے لیٔے نیلے، اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کے بُنے ہویٔے کپڑے بنائے اَور اُنہُوں نے اَہرونؔ کے لیٔے بھی مُقدّس لباس بنائے جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 39:2 اَور اُنہُوں نے سونے اَور نیلے، اَرغوانی اَور سُرخ دھاگے اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان کا افُود بنایا
EXO 39:3 اَور اُنہُوں نے سونے کو کُوٹ کر پتلے پتلے پتّر بنائے اَور اُن پتروں کو کاٹ کر تار بنائے تاکہ نیلے اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کے دھاگے اَور نفیس کتان پر اُن سے ایک ماہر دستکار کی طرح زردوزی کا کام کیا۔
EXO 39:4 اُنہُوں نے افُود کو جوڑنے کے لیٔے دو مونڈھے بنائے اَور اُن کو دونوں کونوں سے مِلا کرجوڑ دیا۔
EXO 39:5 اَور اُس کا کمربند اُسی کی مانند ایک ٹکڑے سے مہارت سے بُنا گیا تھا۔ وہ سونے، نیلے، اَرغوانی اَور قِرمزی رنگ کے کپڑے اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان کا بنا ہُوا تھا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 39:6 اَور اُنہُوں نے سونے کے خانوں میں سُلیمانی پتّھر سنگِ سُلیمانی جڑے۔ اُن پر ایک انگُشتری کے نقش کی طرح اِسرائیل کے بیٹوں کے نام کندہ کئے۔
EXO 39:7 اَور اُنہیں افُود کے کندھے والی پٹّیوں پر لگا دیا تاکہ یہ پتّھر اِسرائیل کے بیٹوں کی یادگاری کے لیٔے ہُوں جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 39:8 اَور اُنہُوں نے ایک ماہر کاریگر سے سینہ بند بنوایا جو افُود کی طرح سونے، نیلے آسمانی، اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کے کپڑے اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان سے بنایا گیا تھا
EXO 39:9 اَور وہ چوکور تھا یعنی ایک بالشت لمبا اَور ایک بالشت چوڑا جسے دہرا کیا جا سَکتا تھا۔
EXO 39:10 پھر اُنہُوں نے اُس پر چار قطاروں میں قیمتی جواہر جڑے۔ پہلی قطار میں یاقُوت سُرخ اَور یَشب سبز اَور فیروزہ تھے؛
EXO 39:11 دُوسری قطار میں نیلا فیروزہ، نیلم اَور ہیرا،
EXO 39:12 اَور تیسری قطار میں لشم، یَشب اَور زُمُرّد
EXO 39:13 اَور چوتھی قطار میں پکھراج اَور سنگِ سُلیمانی اَور سنگِ یَشب۔ یہ سَب نقش کندہ کئے ہویٔے سونے کے خانوں میں جڑے گیٔے تھے۔
EXO 39:14 یہ پتّھر تعداد میں اِسرائیل کے ہر ایک بیٹوں کے ناموں کے مُطابق بَارہ تھے جِن پر ایک انگُشتری کے نقش کی طرح ہر ایک پر بَارہ قبیلوں کے نام کندہ کئےگئے تھے۔
EXO 39:15 اَور اُنہُوں نے سینہ بند کے لیٔے بٹی ہُوئی ڈوری کی طرح خالص سونے کی دو زنجیریں بنائیں
EXO 39:16 اَور اُنہُوں نے سونے کے دو خانے اَور سونے کے دو کڑے بنائے اَور اُن کڑوں کو سینہ بند کے دونوں کونوں پر لگا دیا۔
EXO 39:17 اَور اُنہُوں نے سونے کی اُن دونوں زنجیروں کو سینہ بند کے دونوں کونوں پر لگے اُن دونوں کڑوں کے ساتھ باندھ دیا۔
EXO 39:18 اَور اُن زنجیروں کے دونوں سِروں کو اُن دونوں چوکھٹوں کے ساتھ باندھ کر افُود کے دونوں کندھوں والی پٹّیوں سے جوڑ کر سامنے لٹکا دیا۔
EXO 39:19 اَور اُنہُوں نے سونے کے دو اَور کڑے بنائے اَور اُنہیں سینہ بند کے نیچے کے دونوں کونوں کو اُس حاشیہ میں لگایا جو افُود کے اَندر کی طرف تھا۔
EXO 39:20 پھر اُنہُوں نے سونے کے دو اَور کڑے بنا کر اُنہیں کندھے کی پٹّیوں کے نِچلے حِصّہ سے باندھنا جو کہ افُود کے سامنے ہے اَور افُود کے کمربند کے بالکُل اُوپر لگا دیا۔
EXO 39:21 اُنہُوں نے سینہ بند کے کڑوں کو افُود کے کڑوں کے ساتھ نیلے رنگ کی ڈوری سے باندھ دیا اَور اُسے کمربند سے جوڑ دیا تاکہ سینہ بند افُود سے اِدھر اُدھر ہلنے نہ پایٔے جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 39:22 اَور اُنہُوں نے اُس افُود کا جُبّہ نیلے رنگ کے کپڑے سے بنایا جسے ایک ماہر جُلاہے نے بُنا تھا۔
EXO 39:23 اَور جُبّہ کا گریبان زرہ کے گریبان کی طرح بیچ میں تھا اَور اُس کے اطراف بُنی ہُوئی گوٹ لگی ہُوئی تھی تاکہ وہ پھٹ نہ جائے۔
EXO 39:24 اَور اُنہُوں نے نیلے اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کے دھاگے اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان سے جُبّہ کے گھیر میں چاروں طرف انار بنائے۔
EXO 39:25 پھر اُنہُوں نے خالص سونے کی گھنٹیاں بنائیں اَور اُنہیں جُبّہ کے دامن کے گھیر میں چاروں طرف اناروں کے درمیان لگا دیا۔
EXO 39:26 اَور وہ ایک گھنٹی اَور ایک انار خدمت کے وقت پہنے جانے والے جُبّہ کے دامن کے گھیر میں سے چاروں طرف ایک گھنٹی اَور ایک انار کی ترتیب سے لگے ہویٔے تھے جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 39:27 اَور اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کے لیٔے اُنہُوں نے نفیس کتان سے بُنے کُرتے بنائے
EXO 39:28 اَور کتان کا عمامہ، سَر کا پٹکا اَور نفیس بٹے ہویٔے کتان کے پاجامے بنائے۔
EXO 39:29 اَور کمربند نفیس بٹے ہویٔے کتان اَور نیلے، اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کے کپڑے کا تھا جِس پر بیل بُوٹے کشیدہ کئے گیٔے تھے جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 39:30 اُنہُوں نے تاج کی ایک تختی خالص سونے کا بنایا اَور اُس پر ایک انگُشتری کے نقش کی طرح یہ کندہ کیا: یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس۔
EXO 39:31 اَور پھر اُنہُوں نے اُسے ایک نیلے رنگ کی ڈوری سے عمامہ پر جوڑ دیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 39:32 اِس طرح مَسکن کے خیمہ اِجتماع کا سَب کام اَنجام تک پہُنچا اَور بنی اِسرائیل نے سَب کچھ وَیسے ہی کیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 39:33 پھر وہ اُس مَسکن کو مَوشہ کے پاس لایٔے: یعنی خیمہ اَور اُس کا سارا سامان، اُس کے تُکمے، تختے، بینڈے، سُتون اَور پایٔے۔
EXO 39:34 اَور مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہُوئی کھالوں کا غلاف دریائی بچھڑوں کی کھالوں کا غلاف اَور بیچ کا پردہ،
EXO 39:35 عہد کے صندُوق اَور اُس کی بَلّیاں اَور کفّارہ کا سرپوش،
EXO 39:36 میز اَور اُس کے تمام ظروف اَور نذر کی روٹی،
EXO 39:37 خالص سونے کا چراغدان مع چراغوں کے جو قطاروں میں رکھے تھے اَور اُس کے تمام لوازمات اَور جَلانے کے لیٔے زَیتُون کا تیل،
EXO 39:38 سونے کا مذبح اَور مَسح کرنے کا زَیتُون کا تیل، خُوشبودار بخُور، خیمہ کے مدخل کا پردہ،
EXO 39:39 کانسے کا مذبح اَور اُس کا کانسے کا جنگلہ، اُس کی بَلّیاں اَور اُس کے تمام ظروف۔ لگن اَور اُس کی چوکی۔
EXO 39:40 صحن کے پردے اَور اُن کی بَلّیاں اَور پایٔے اَور صحن کے مدخل کے لیٔے پردہ، اُن کی رسّیاں اَور صحن کے لیٔے خیمہ کی میخیں اَور مَسکن کے خیمہ اِجتماع کے لیٔے سارا سامان۔
EXO 39:41 اَور پاک مَقدِس میں خدمت کرتے وقت پہننے کے لیٔے بُنے ہویٔے مُقدّس لباس۔ اَور اَہرونؔ کاہِنؔ اَور اُس کے بیٹوں کے لیٔے جَب وہ بطور کاہِنؔ کے طور پر خدمت اَنجام دیتے تھے۔
EXO 39:42 بنی اِسرائیل نے سارا کام وَیسے ہی کیا تھا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 39:43 مَوشہ نے اُس کام کا جائزہ لیا اَور دیکھا کہ اُنہُوں نے اُسے وَیسے ہی کیا تھا جَیسے یَاہوِہ نے حُکم دیا تھا۔ تَب مَوشہ نے اُنہیں برکت دی۔
EXO 40:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا:
EXO 40:2 ”پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو تُم مَسکن کا خیمہ اِجتماع کھڑا کردینا۔
EXO 40:3 اَور اُس میں عہد کا صندُوق رکھ دینا اَور اُس کی حِفاظت کے لیٔے بیچ کا پردہ کھینچ دینا۔
EXO 40:4 اَور میز کو اَندر لاکر اُس کے لوازمات اُس پر ترتیب سے رکھ دینا۔ پھر چراغدان کو اَندر لاکر اُس کے چراغ رَوشن کردینا۔
EXO 40:5 اَور سونے کی بخُور کے مذبح کو عہد کے صندُوق کے سامنے رکھ دینا اَور مَسکن کے دروازہ پر پردہ لگادینا۔
EXO 40:6 ”سوختنی نذر کی قُربانی کے مذبح کو مَسکن کے خیمہ اِجتماع کے سامنے رکھ دینا۔
EXO 40:7 لگن کو خیمہ اِجتماع اَور مذبح کے درمیان رکھ کر اُس میں پانی بھر دینا۔
EXO 40:8 اَور اُس کے صحن کو چاروں طرف سے گھیر کر اُس کے مدخل پر پردہ لگادینا۔
EXO 40:9 ”مَسح کرنے والا زَیتُون کا تیل لینا اَور اُسے مَسکن کے خیمہ اِجتماع اَور اُس کے اَندر کے سَب ظروف پر چھڑک کر اُس کی اَور اُس کے سارے سامان کی تقدیس کرنا۔ تَب وہ مُقدّس ٹھہرے گا۔
EXO 40:10 پھر سوختنی نذر کی قُربانی کے مذبح کو اَور اُس کے تمام ظروف کو مَسح کرکے مذبح کی تقدیس کرنا، اَور تَب وہ نہایت ہی مُقدّس ٹھہرے گا۔
EXO 40:11 تَب لگن اَور اُس کی چوکی کو مَسح کرکے اُن کی تقدیس کرنا۔
EXO 40:12 ”اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کو خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر لاکر اُنہیں پانی سے غُسل دِلانا۔
EXO 40:13 تَب اَہرونؔ کو مُقدّس لباس پہناکر اُسے مَسح کرنا اَور اُس کی تقدیس کرنا تاکہ وہ بطور کاہِنؔ میری خدمت کرے۔
EXO 40:14 اَور اُس کے بیٹوں کو لاکر اُنہیں کُرتے پہنانا۔
EXO 40:15 اَور جِس طرح تُم اُن کے باپ کو مَسح کروگے وَیسے ہی اُن کو مَسح کرنا تاکہ وہ بطور کاہِنؔ میرے لیٔے خدمت اَنجام دیں۔ اُن کا مَسح کیاجانا اَیسی کہانت کے لیٔے ہوگا جو آنے والی تمام نَسلوں میں اَبد تک جاری رہے گا۔“
EXO 40:16 مَوشہ نے سَب کچھ وَیسے ہی کیا، جَیسا کہ یَاہوِہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
EXO 40:17 پس دُوسرے سال کے پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو مَسکن کھڑا کیا گیا۔
EXO 40:18 اَور جَب مَوشہ نے مَسکن کو کھڑا کیا تو اُنہُوں نے پایوں کو اُن کی جگہ پر قائِم کیا چوکھٹے بنائے اَور اُن کے بینڈے لگا کر سُتون کھڑے کر دئیے۔
EXO 40:19 پھر مَوشہ نے مَسکن پر خیمہ تان دیا اَور اُس کے اُوپر غلاف چڑھا دیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
EXO 40:20 اُنہُوں نے شہادت کی تختیوں کو لے کر صندُوق میں رکھ دیا اَور بَلّیوں کو صندُوق میں لگا دیا اَور کفّارے کے سرپوش کو اُس کے اُوپر ٹِکا دیا۔
EXO 40:21 اَور پھر مَوشہ اُس صندُوق کو مَسکن میں لائے اَور بیچ کے پردہ کو لگا کر عہد کے صندُوق کو محفوظ کر دیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
EXO 40:22 مَوشہ نے اُس میز کو خیمہ اِجتماع میں مَسکن کی شمالی جانِب پردہ کے باہر رکھ دیا۔
EXO 40:23 اَور مَوشہ پر یَاہوِہ کے رُوبرو روٹی سجا کر رکھ دی، جَیسا کہ یَاہوِہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
EXO 40:24 مَوشہ نے چراغدان کو خیمہ اِجتماع میں مَسکن کی جُنوبی سمت میں میز کے سامنے رکھ دیا۔
EXO 40:25 اَور چراغوں کو یَاہوِہ کے رُوبرو رَوشن کر دیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 40:26 مَوشہ نے سونے کے بنے ہُوئے مذبح کو خیمہ اِجتماع میں اُس پردہ کے سامنے رکھ دیا۔
EXO 40:27 اَور اُس پر خُوشبودار بخُور جَلائی جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 40:28 اَور پھر اُنہُوں نے مَسکن کے دروازہ پر پردہ لگا دیا۔
EXO 40:29 مَوشہ نے سوختنی نذر کی قُربانی کا مذبح مَسکن کے خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر رکھ کر اُس پر سوختنی نذریں اَور اناج کی نذریں چڑھائیں جَیسا کہ یَاہوِہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
EXO 40:30 اُنہُوں نے لگن کو خیمہ اِجتماع اَور اُس مذبح کے درمیان رکھ کر اُس میں دھونے کے لیٔے پانی بھر دیا۔
EXO 40:31 اَور مَوشہ اَور اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں نے اُسے اَپنے ہاتھ پاؤں دھونے کے لیٔے اِستعمال کیا۔
EXO 40:32 اَور جَب بھی وہ خیمہ اِجتماع میں داخل ہوتے یا مذبح کے قریب جاتے تو وہ اَپنے ہاتھ پاؤں دھوکر جاتے جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
EXO 40:33 پھر مَوشہ نے مَسکن اَور مذبح کے اِردگرد صحن کو گھیر کر صحن کے دروازہ کا پردہ ڈال دیا اَور یُوں مَوشہ نے اُس کام کو ختم کیا۔
EXO 40:34 تَب خیمہ اِجتماع پر بادل چھا گیا اَور پاک مَسکن یَاہوِہ کے جلال سے معموُر ہو گیا۔
EXO 40:35 اَور مَوشہ خیمہ اِجتماع میں داخل نہ ہو سکے کیونکہ وہ بادل اُن پر ٹھہرا ہُوا تھا اَور مَسکن یَاہوِہ کے جلال سے معموُر تھا۔
EXO 40:36 اَور بنی اِسرائیل کے سارے سفر میں جَب کبھی وہ بادل اُس مَسکن کے اُوپر سے چھٹ جاتا تو وہ آگے بڑھتے۔
EXO 40:37 لیکن اگر وہ بادل سایہ ڈالے رہتا تو وہ اُس کے چھٹ جانے کے دِن تک سفر نہ کرتے تھے۔
EXO 40:38 یَاہوِہ کا بادل تمام بنی اِسرائیل کے گھرانے کے سارے سفر کے دَوران اُن کی نظروں کے سامنے دِن کو مَسکن کے اُوپر چھایا رہتا تھا، اَور رات کو بادل میں آگ ہوتی تھی۔
LEV 1:1 یَاہوِہ نے خیمہ اِجتماع سے مَوشہ کو بُلایا۔ اَور اُن سے فرمایا،
LEV 1:2 ”اِسرائیلیوں سے مُخاطِب ہو اَور اُن کو حُکم دو: ’جَب تُم میں سے کوئی اِنسان یَاہوِہ کے لیٔے کویٔی نذر لایٔے، تو وہ اَپنے گلّے میں سے گائے بَیل یا بھیڑ بکری کی قُربانی دے۔
LEV 1:3 ” ’اگر وہ نذر گلّہ کا جانور ہو تو وہ بے عیب نر ہو اَور لازِم ہے کہ نذر لانے والا اُسے خیمہ اِجتماع کے مدخل پر سوختنی نذر کے طور پر نذر کرے تاکہ وہ یَاہوِہ کے حُضُور مقبُول ٹھہرے۔
LEV 1:4 اَور وہ سوختنی نذر کے جانور کے سَر پر اَپنا ہاتھ رکھے اَور وہ اُس کی جانِب سے اُس کے لیٔے بطور کفّارہ قبُول ہوگا۔
LEV 1:5 اَور وہ اُس بچھڑے کو یَاہوِہ کے حُضُور ذبح کرے اَور پھر اَہرونؔ کے بیٹے جو کاہِنؔ ہیں اُس کا خُون لائیں اَور اُسے خیمہ اِجتماع کے مدخل پر مذبح کے چاروں طرف چھڑک دیں۔
LEV 1:6 پھر وہ سوختنی نذر کے اُس جانور کی کھال اُتاریں اَور اُسے ٹُکڑوں میں کاٹیں۔
LEV 1:7 اَور اَہرونؔ کے بیٹے جو کاہِنؔ ہیں مذبح پر آگ رکھیں اَور اُس آگ پر ترتیب سے لکڑیاں سجا کر رکھیں۔
LEV 1:8 پھر اَہرونؔ کے بیٹے جو کاہِنؔ ہیں اُن ٹُکڑوں کو سَر اَور چربی سمیت جلتی لکڑیوں پرجو مذبح پر ہیں ترتیب سے رکھ دیں۔
LEV 1:9 اَور لیکن تُم اُس جانور کی آنتوں اَور پیروں کو پانی سے دھونا اَور پھر کاہِنؔ اِن سبھی کو مذبح پر جَلائے تاکہ یہ سوختنی نذر یہ یَاہوِہ کے حُضُور غِذا کی فرحت بخش خُوشبو والی آتِشی نذر ہو۔
LEV 1:10 ” ’اَور اگر اُس کی نذر گلّے کی ہو یعنی بھیڑ یا بکریوں میں سے سوختنی نذر ہو، تو وہ بے عیب نر کی قُربانی دے۔
LEV 1:11 وہ اُسے یَاہوِہ کے حُضُور میں مذبح کی شمالی سمت ذبح کرے اَور اَہرونؔ کے بیٹے جو کاہِنؔ ہیں، اُس کا خُون مذبح کے چاروں طرف چھڑک دیں۔
LEV 1:12 پھر وہ اُسے کاٹ کر اُس کے ٹکڑے کریں اَور کاہِنؔ اُن ٹُکڑوں کو سَر اَور چربی سمیت مذبح پر جلتی لکڑیوں پر ترتیب سے رکھ دیں۔
LEV 1:13 لیکن وہ آنتوں اَور پیروں کو پانی سے دھولیں۔ تَب کاہِنؔ سَب کو لے کر مذبح پر جَلا دے تاکہ یہ سوختنی نذر یَاہوِہ کے حُضُور غِذا کی فرحت بخش خُوشبو والی آتِشی قُربانی ہوگی۔
LEV 1:14 ” ’اگر اُس کی نذر یَاہوِہ کے لیٔے پرندوں کی سوختنی نذر ہے تو وہ قُمریوں یا کبُوتر کا بچّہ نذر کرے۔
LEV 1:15 اَور کاہِنؔ اُسے مذبح پر لاکر اُس کا سَر مروڑ ڈالے، اَور اُسے مذبح پر جَلا دے لیکن اُس کے خُون کو مذبح کے پہلو پر ٹپک جانے دے۔
LEV 1:16 اَور اُس کے گلے کی تھیلی بال اَور پَر سمیت نکال لے اَور اُسے لے جا کر مذبح کی مشرقی جانِب کی طرف راکھ ڈالنے کی جگہ میں پھینک دے۔
LEV 1:17 پھر وہ اُس کے دونوں بازوؤں کو پکڑکر اُسے چیرے لیکن الگ الگ نہ کرے اَور کاہِنؔ اِن سبھی کو سوختنی نذر کے واسطے مذبح کی آگ پر جَلا دے۔ یہ سوختنی نذر، یَاہوِہ کے حُضُور غِذا کی فرحت بخش خُوشبو والی آتِشی قُربانی ہوگی۔
LEV 2:1 ” ’جَب کویٔی یَاہوِہ کے لیٔے اناج کی نذر پیش کرے تو وہ مَیدہ لاکر نذر کرے اَور اُس میں زَیتُون کا تیل ڈال کر اُس کے اُوپر لوبان رکھے۔
LEV 2:2 وہ اُسے اَہرونؔ کے بیٹوں کے پاس جو کاہِنؔ ہیں لایٔے۔ تَب کاہِنؔ زَیتُون کے تیل سے گُندھے ہویٔے مَیدہ میں سے مُٹّھی بھر مَیدہ لوبان سمیت لے کر اُسے نذر کی قُربانی کی یادگاری حِصّہ کے طور پر کے طور پر مذبح کے اُوپر جَلایٔے۔ یہ یَاہوِہ کے حُضُور غِذا کی فرحت بخش خُوشبو والی آتِشی قُربانی ہوگی۔
LEV 2:3 اُس اناج کی نذر میں سے جو کچھ باقی رہ جائے وہ اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کا ہوگا۔ یہ یَاہوِہ کو پیش کی جانے والی غِذا کی آتِشی قُربانیوں کا پاک ترین حِصّہ ہے۔
LEV 2:4 ” ’اگر تُم تنور میں پکائے ہویٔے اناج کی نذر لایٔے تو وہ سَب سے بہترین مَیدہ کا بنا ہو اَور زَیتُون کے تیل میں گندھی ہویٔی، بے خمیری کُلچے یا زَیتُون کے تیل سے چُپڑی ہُوئی بے خمیری چپاتیاں ہُوں۔
LEV 2:5 اَور اگر تیرے اناج کی نذر توے پر پکائی گئی ہو تو وہ زَیتُون کے تیل میں گوندھے ہویٔے بے خمیری مَیدہ کی ہو۔
LEV 2:6 چونکہ وہ اناج کی نذر ہے اِس لیٔے تُم اُسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اُس پر زَیتُون کا تیل ڈالنا۔
LEV 2:7 اگر تیری قُربانی کڑاہی میں پکی ہُوئی اناج کی نذر ہو تو وہ بہترین مَیدہ اَور زَیتُون کے تیل سے بنائی جائے۔
LEV 2:8 تُم اِن چیزوں کی بنی ہُوئی اناج کی نذر یَاہوِہ کے حُضُور لاکر کاہِنؔ کو پیش کرنا تاکہ وہ اُسے مذبح کے پاس لے کر آئے۔
LEV 2:9 اَور کاہِنؔ اُس اناج کی نذر میں سے یادگاری حِصّہ لے کر اُسے بطور آتِشی قُربانی مذبح پر جَلایٔے جو یَاہوِہ کے حُضُور غِذا کی فرحت بخش خُوشبو والی آتِشی قُربانی ہوگی۔
LEV 2:10 اُس اناج کی نذر میں سے جو کچھ باقی رہ جائے وہ اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کا ہوگا؛ یہ یَاہوِہ کو پیش کی جانے والی غِذا کی آتِشی قُربانیوں کا پاک ترین حِصّہ ہے۔
LEV 2:11 ” ’اَور کویٔی بھی اناج کی نذر جو یَاہوِہ کے حُضُور لائی جائے وہ خمیر کے بغیر ہو۔ کیونکہ تُم یَاہوِہ کو غِذا کی آتِشی قُربانی پیش کرتے وقت اُس میں خمیر اَور شہد مِلا کر کبھی مت جَلانا۔
LEV 2:12 تُم اِنہیں پہلے پھلوں کی نذر کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور لا سکتے ہو لیکن وہ بطور فرحت بخش خُوشبو مذبح پر نذر نہ کی جائے۔
LEV 2:13 اَور تُم اَپنی سَب اناج کی نذر والی قُربانیوں میں نمک ڈالنا۔ کیونکہ نمک اُس عہد کی نُمائندگی کرتا ہے جو تمہارے خُدا نے تمہارے ساتھ باندھا ہے۔ اَپنی ساری نذریں نمک کے ساتھ ہی پیش کرنا۔
LEV 2:14 ” ’اَور اگر تُم اناج کے پہلے پھلوں کی نذر یَاہوِہ کے حُضُور لاؤ تو اُن کی بالیں مسل کر دانے نکالنا اَور اُنہیں آگ میں بھُون کر نذر کرنا۔
LEV 2:15 اَور اُس پر زَیتُون کا تیل اَور لوبان ڈالنا؛ یہ اناج کی نذر ہے۔
LEV 2:16 اَور کاہِنؔ یادگاری حِصّہ مسل کر نکالے ہویٔے اناج کے دانوں، زَیتُون کے تیل اَور سارے لوبان کے ساتھ جَلا دے تاکہ یہ یَاہوِہ کے لیٔے غِذا کی آتِشی قُربانی کی نذر ہو۔
LEV 3:1 ” ’اگر کسی کی سلامتی کی نذر ہو اَور وہ ریوڑ میں سے کسی جانور یعنی گائے یا بَیل کی قُربانی کرتا ہے، چاہے وہ نر ہو یا مادہ تو وہ ضروُر بے عیب جانور کو ہی یَاہوِہ کے حُضُور قُربان کرے۔
LEV 3:2 اَور وہ اَپنا ہاتھ اَپنی نذر کے جانور کے سَر پر رکھے اَور خیمہ اِجتماع کے مدخل پر اُسے ذبح کرے۔ اَور پھر اَہرونؔ کے بیٹے جو کاہِنؔ ہیں، اُس کے خُون کو مذبح کے چاروں طرف چھڑک دیں۔
LEV 3:3 اَور وہ سلامتی کی نذر کی قُربانی میں سے یَاہوِہ کے لیٔے غِذا کی آتِشی نذر کی قُربانی گذرانے یعنی وہ تمام چربی جو آنتوں کو ڈھانپتی ہے اَور وہ چربی جو آنتوں پر لپٹی ہُوئی ہے۔
LEV 3:4 اَور دونوں گُردوں کے ساتھ اُن کی چربی جو کمر کے قریب رہتی ہے اَور جگر کے اُوپر کی جھِلّی، اُنہیں وہ گُردوں کے ساتھ ہی الگ کر دے۔
LEV 3:5 پھر اَہرونؔ کے بیٹے اُنہیں مذبح پر سوختنی نذر کو جلتی ہوئی لکڑی کے اُوپر رکھ کر جَلائیں۔ یہ یَاہوِہ کے حُضُور غِذا کی فرحت بخش خُوشبو والی آتِشی قُربانی ہے۔
LEV 3:6 ” ’اَور اگر تُم اَپنے گلّے کی بھیڑ بکریوں میں سے کویٔی جانور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور قُربان کرو تو وہ بے عیب نر یا مادہ کی قُربانی کرے۔
LEV 3:7 اَور اگر وہ قُربانی کے لیٔے برّہ نذر کرنا چاہے تو وہ اُسے یَاہوِہ کے حُضُور لایٔے۔
LEV 3:8 اَور وہ قُربانی والے جانور کے سَر پر اَپنا ہاتھ رکھے اَور اُسے خیمہ اِجتماع کے سامنے ذبح کرے۔ اَور پھر اَہرونؔ کے بیٹے اُس کے خُون کو مذبح کے چاروں طرف چھڑک دیں
LEV 3:9 اَور وہ سلامتی کی نذر کی قُربانی میں سے یَاہوِہ کے لیٔے بطور غِذا آتِشی نذر پیش کرے یعنی اُس کی پُوری چربی بھری دُم کو ریڑھ کی ہڈّی سے الگ کرے اَور وہ تمام چربی جو آنتوں کو ڈھانپتی ہے اَور وہ چربی جو آنتوں پر لپٹی رہتی ہے۔
LEV 3:10 اَور دونوں گُردوں کے ساتھ اُن کی چربی جو کمر کے قریب رہتی ہے اَور جگر کے اُوپر کی جھِلّی، اُنہیں وہ گُردوں کے ساتھ ہی الگ کر دے۔
LEV 3:11 اَور کاہِنؔ اُن کو بطور غِذا مذبح پر جَلائے۔ یہ یَاہوِہ کے لیٔے ایک آتِشی قُربانی ہوگی۔
LEV 3:12 ” ’اگر اُس کی نذر بکرا یا بکری ہو تو وہ اُسے یَاہوِہ کے حُضُور لایٔے۔
LEV 3:13 اَور اَپنا ہاتھ اُس کے سَر پر رکھے اَور اُسے خیمہ اِجتماع کے سامنے ذبح کرے۔ اَور اَہرونؔ کے بیٹے اُس کا خُون مذبح پر چاروں طرف چھڑک دیں۔
LEV 3:14 اَورجو کچھ وہ نذر کرے اُس میں سے وہ یَاہوِہ کے لیٔے یہ بطور غِذا کی آتِشی قُربانی پیش کرے: وہ تمام چربی جو آنتوں کو ڈھانپتی ہے اَور وہ چربی جو آنتوں پر لپٹی رہتی ہے،
LEV 3:15 اَور دونوں گُردوں کے ساتھ اُن کی چربی جو کمر کے قریب رہتی ہے اَور جگر کے اُوپر کی جھِلّی، اُنہیں وہ گُردوں کے ساتھ ہی الگ کر دے۔
LEV 3:16 اَور کاہِنؔ اُن کو مذبح پر ایک آتِشیں اَور فرحت بخش خُوشبو والی غِذا کی نذر کے طور پر جَلا دے۔ ساری چربی یَاہوِہ کے لیٔے ہے۔
LEV 3:17 ” ’اَور جہاں بھی تُم رہو تمہاری آئندہ نَسلوں کے لیٔے یہ ایک دائمی قانُون ہوگا کہ تُم چربی اَور خُون ہرگز نہ کھانا۔‘ “
LEV 4:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا:
LEV 4:2 ”بنی اِسرائیل کو حُکم دے اگر کویٔی اِنسان غَیر اِرادی طور پر گُناہ کرتا ہے اَور اُن کاموں کو کرتا ہے جسے یَاہوِہ کے اَحکام میں منع کیا گیا ہے۔
LEV 4:3 ” ’اگر کویٔی ممسوح کاہِنؔ اَیسی خطا کرے جِس سے پُوری اُمّت مُجرم ٹھہرتی ہو تو، وہ اَپنی اُس خطا کے لیٔے جو اُس نے کی ہے، ایک بے عیب بچھڑا گُناہ کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور گذرانے۔
LEV 4:4 اَور وہ اُس بچھڑے کو خیمہ اِجتماع کے مدخل پر یَاہوِہ کے حُضُور لایٔے اَور اُس کے سَر پر اَپنا ہاتھ رکھے اَور اُسے یَاہوِہ کے حُضُور ذبح کرے۔
LEV 4:5 اَور پھر وہ ممسوح کاہِنؔ اُس بچھڑے کے خُون میں سے کچھ خُون لے کر خیمہ اِجتماع کے اَندر لے آئے۔
LEV 4:6 اَور کاہِنؔ اُس خُون میں اَپنی اُنگلی ڈُبو ڈُبو کر اُس خُون میں سے کچھ پاک مَقدِس کے پردہ کے سامنے یَاہوِہ کے حُضُور سات بار چھڑکے۔
LEV 4:7 پھر کاہِنؔ اُسی خُون میں سے کچھ خُون لے کر اُسے خُوشبودار بخُور جَلانے کی نذر کے مذبح کے سینگوں پر لگائے جو خیمہ اِجتماع میں یَاہوِہ کے حُضُور ہے اَور اُس بچھڑے کے باقی سَب خُون کو سوختنی نذر کی قُربانی کے اُس مذبح کے پایہ پرجو خیمہ اِجتماع کے مدخل پر ہے اُنڈیل دے۔
LEV 4:8 پھر وہ گُناہ کی قُربانی کے بچھڑے کی تمام چربی کو اُس سے الگ کرے یعنی وہ چربی جو آنتوں پر لپٹی رہتی ہے،
LEV 4:9 اَور دونوں گُردوں کے ساتھ اُن کی چربی جو کمر کے قریب رہتی ہے اَور جگر کے اُوپر کی جھِلّی، اُنہیں وہ گُردوں کے ساتھ ہی الگ کر دے۔
LEV 4:10 بالکُل وَیسے ہی جَیسا کہ اُس بچھڑے کی چربی الگ کی جاتی ہے جو سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر قُربان کیا جاتا ہے۔ پھر کاہِنؔ اُن کو سوختنی نذر کو قُربانی کے مذبح پر جَلا دے۔
LEV 4:11 لیکن اُس بچھڑے کی کھال اَور اُس کا تمام گوشت، سَر اَور پایٔے، انتڑیاں اَور گوبر
LEV 4:12 یعنی باقی کا سارا بچھڑا لازماً چھاؤنی سے باہر کسی رسماً پاک جگہ پر جہاں قُربانیوں کی راکھ پھینکی جاتی ہے، لے کر جائے اَور اُسے راکھ کے ڈھیر پر لکڑیوں کی آگ میں جَلا دے۔
LEV 4:13 ” ’اَور اگر بنی اِسرائیل کی ساری جماعت غَیر اِرادی طور پر گُناہ کرے اَور اُس کام کو کرے جنہیں یَاہوِہ کے اَحکام میں منع کیا گیا ہے، اَور جماعت اُس بات سے بے خبر ہو تو بھی وہ لوگ خطاوار ہیں؛
LEV 4:14 اَور جَب وہ اُس گُناہ سے واقف ہو جایٔیں تو جماعت لازماً گُناہ کی قُربانی کے طور پر ایک بچھڑا خیمہ اِجتماع کے سامنے لایٔے۔
LEV 4:15 اَور جماعت کے بُزرگ اَپنے اَپنے ہاتھ یَاہوِہ کے حُضُور اُس بچھڑے کے سَر پر رکھیں اَور وہ بچھڑا یَاہوِہ کے حُضُور ذبح کیا جائے۔
LEV 4:16 اَور پھر ممسوح کاہِنؔ اُس بچھڑے کے خُون میں سے کچھ خُون لے کر خیمہ اِجتماع میں لے جائے۔
LEV 4:17 اَور کاہِنؔ اَپنی اُنگلی اُس خُون میں ڈُبو ڈُبو کر اُس خُون کو پاک مَقدِس کے پردہ کے سامنے یَاہوِہ کے حُضُور سات بار چھڑکے۔
LEV 4:18 اَور وہ اُس خُون میں سے کچھ خُون اُس مذبح کے سینگوں پر لگائے جو خیمہ اِجتماع میں یَاہوِہ کے حُضُور ہے۔ اَور باقی کا خُون وہ سوختنی نذر کی قُربانی کے اُس مذبح کے پایہ پر اُنڈیل دے جو خیمہ اِجتماع کے مدخل پر ہے۔
LEV 4:19 اَور اُس بچھڑے کی سَب چربی کو اُس سے الگ کرکے اُسے مذبح پر جَلا دے،
LEV 4:20 اَور وہ اُس بچھڑے سے بالکُل وُہی کرے جَیسا اُس نے گُناہ کی قُربانی کے بچھڑے کے ساتھ کیا تھا۔ یُوں وہ کاہِنؔ جماعت کے لیٔے کفّارہ دے گا اَور وہ مُعاف کر دئیے جایٔیں گے۔
LEV 4:21 پھر کاہِنؔ اُس بچھڑے کو چھاؤنی سے باہر لے جائے اَور اُسے جَلا دے جَیسا کہ اُس نے پہلے بچھڑے کو جَلایا تھا۔ اَور یہ جماعت کے لیٔے گُناہ کی قُربانی ہے۔
LEV 4:22 ” ’اَور جَب کویٔی سربراہ غَیر اِرادی طور پر گُناہ کرے یعنی وہ کام کرے جو یَاہوِہ اُس کے خُدا کی اَحکام میں منع ہے، اَور جَب اُسے اَپنے مُجرم ہونے کا احساس ہو جائے،
LEV 4:23 اَورجو گُناہ اُس نے کیا ہے ظاہر ہو جائے تو وہ لازماً قُربانی کے لیٔے بکریوں میں سے ایک بے عیب بکرا لایٔے۔
LEV 4:24 اَور اَپنا ہاتھ اُس بکرے کے سَر پر رکھے اَور اُسے اُس جگہ ذبح کرے جہاں سوختنی نذر کے جانور یَاہوِہ کے حُضُور ذبح کئے جاتے ہیں۔ یہ گُناہ کی قُربانی ہے۔
LEV 4:25 اَور پھر کاہِنؔ گُناہ کی قُربانی کا کچھ خُون اَپنی اُنگلی پر لے کر اُسے سوختنی نذر کی قُربانی کے مذبح کے سینگوں پر لگائے اَور اُس کا باقی سَب خُون مذبح کے پایہ پر اُنڈیل دے۔
LEV 4:26 اَور تمام چربی کو مذبح پر جَلا دے جَیسے اُس نے سلامتی کی نذر کی چربی کو جَلایا تھا۔ اِس طرح کاہِنؔ اُس سربراہ کے گُناہ کا کفّارہ دے گا اَور اُسے مُعافی مِل جائے گی۔
LEV 4:27 ” ’اَور اگر جماعت کا کویٔی عام اِنسان غَیر اِرادی طور پر گُناہ کرے اَور اَیسا کام کرے جسے یَاہوِہ کے اَحکام میں منع کیا گیا ہے، اَور جَب اُسے اَپنے مُجرم ہونے کا احساس ہو جائے،
LEV 4:28 اَورجو گُناہ اُس نے کیا ہے ظاہر ہو جائے تو وہ لازماً قُربانی کے لیٔے ایک بے عیب بکری لایٔے۔
LEV 4:29 اَور وہ اَپنا ہاتھ گُناہ کی قُربانی کے جانور کے سَر پر رکھے اَور اُسے سوختنی نذر کی جگہ پر ذبح کرے۔
LEV 4:30 اَور پھر کاہِنؔ اُس خُون میں سے کچھ خُون اَپنی اُنگلی پر لے کر اُسے سوختنی نذر کی قُربانی کے مذبح کے سینگوں پر لگائے اَور باقی کا خُون مذبح کے پایہ پر اُنڈیل دے۔
LEV 4:31 اَور کاہِنؔ اُس کی تمام چربی کو الگ کر دے بالکُل اُسی طرح جَیسا کہ سلامتی کی نذر کی چربی الگ کی جاتی ہے اَور اُسے مذبح پر رکھ کر یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو کے طور پر جَلا دے۔ اِس طرح کاہِنؔ اُس اِنسان کے لیٔے کفّارہ دے گا اَور اُسے مُعافی مِل جائے گی۔
LEV 4:32 ” ’اَور اگر وہ اِنسان بطور گُناہ کی قُربانی کویٔی برّہ لایٔے تو وہ بے عیب مادہ لایٔے۔
LEV 4:33 اَور وہ اَپنا ہاتھ اُس کے سَر پر رکھے اَور وہ اُسے گُناہ کی قُربانی کے طور پر اُس جگہ ذبح کرے جہاں سوختنی نذر ذبح کی جاتی ہے۔
LEV 4:34 اَور پھر کاہِنؔ گُناہ کی قُربانی کا کچھ خُون اَپنی اُنگلی پر لے کر اُسے سوختنی نذر کی قُربانی کے مذبح کے سینگوں پر لگائے اَور باقی سَب خُون مذبح کے پایہ پر اُنڈیل دے۔
LEV 4:35 اَور وہ اُس کی تمام چربی کو الگ کر دے بالکُل وَیسے ہی جَیسے سلامتی کی نذر کی قُربانی کے برّہ کی چربی الگ کی جاتی ہے۔ اَور کاہِنؔ اُسے مذبح پر یَاہوِہ کی غِذا کی آتِشی قُربانیوں کے اُوپر رکھ کر جَلا دے۔ اِس طرح کاہِنؔ اُس اِنسان کے گُناہ کے لیٔے کفّارہ دے گا اَور اُسے مُعافی مِل جائے گی۔
LEV 5:1 ” ’اَور اگر کویٔی اِس طرح گُناہ کرے کہ جو کچھ اُس نے دیکھا ہو یا جانتا ہو اُس کے متعلّق اُسے قَسم کھا کر گواہی دینے کے لیٔے کہا جائے اَور وہ گواہی نہ دے تو وہ اُس گُناہ کا ذمّہ وار ٹھہرایا جائے گا۔
LEV 5:2 ” ’یا اگر کویٔی اِنسان کسی اَیسی چیز کو چھُولے جو رسمی طور پر ناپاک سَمجھی جاتی ہو، خواہ وہ ناپاک جنگلی جانور، چَوپائے یا رینگنے والے ناپاک جاندار کی لاش ہو، اَور اگر وہ اُس سے بے خبر ہو کہ وہ ناپاک ہو گیا ہے، لیکن اِس کے بعد اُسے احساس ہو جاتا ہے تو وہ مُجرم ٹھہرے گا۔
LEV 5:3 یا اگر وہ اِنسانی ناپاکی کی کسی اَیسی چیز کو نادانستہ چھُولے جو اُسے ناپاک کر دے لیکن اِس کے بعد اُسے اِس کا علم اَور احساس ہو جاتا ہے تو وہ مُجرم ٹھہرے گا۔
LEV 5:4 یا اگر کویٔی اِنسان بغیر سوچے سمجھے، اَچھّا یا بُرا کچھ بھی کرنے کی قَسم کھالے یعنی کسی مُعاملہ میں لاپروائی سے قَسم کھالے خواہ وہ اُس سے بے خبر بھی ہو، تو بھی جَب اُسے اِس کا علم اَور احساس ہو جاتا ہے تو وہ مُجرم ٹھہرے گا۔
LEV 5:5 جَب کویٔی اِنسان اِن باتوں میں سے کسی میں خطاوار ہونے کا احساس کرتا ہے، تو وہ لازماً اُس گُناہ کا اقرار کرے جو اُس نے کیا ہے،
LEV 5:6 اَورجو گُناہ اُس سے سرزد ہُواہے اُس کی سزا کے طور پر وہ لازماً گلّہ میں سے ایک مادہ بھیڑ یا بکری گُناہ کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور لایٔے اَور کاہِنؔ اُس کے گُناہ کا کفّارہ دے۔
LEV 5:7 ” ’اَور اگر اُسے بھیڑ دینے کا مقدور نہ ہو تو وہ دو قُمریاں یا کبُوتر کے دو بچّے اَپنی گُناہ کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور گذرانے یعنی ایک گُناہ کی قُربانی کے لیٔے اَور ایک سوختنی نذر کے لیٔے۔
LEV 5:8 وہ اُنہیں کاہِنؔ کے پاس لایٔے جو پہلے اُسے گُناہ کی قُربانی کے لیٔے گذرانے۔ وہ اُس کا سَر گردن کے پاس سے مروڑ ڈالے لیکن اُسے مُکمّل طور پر الگ نہ کرے۔
LEV 5:9 اَور گُناہ کی قُربانی کا کچھ خُون مذبح کے اطراف کے مقابل چھڑک دے اَور باقی کا خُون مذبح کے پایہ پر بہہ جانے دے۔ یہ گُناہ کی قُربانی ہے۔
LEV 5:10 پھر کاہِنؔ دُوسرے پرندہ کو مُقرّرہ طریقہ کے مُطابق بطور سوختنی نذر گذرانے اَور اُس سے سرزد ہویٔے گُناہ کے لیٔے کفّارہ دے تو اُسے مُعافی مِل جائے گی۔
LEV 5:11 ” ’تاہم اگر اُسے دو قُمریاں یا کبُوتر کے دو بچّے لانے کا بھی مقدور نہ ہو تو وہ اَپنے گُناہ کے بدلے نذر کے طور پر ڈیڑھ کِلو مَیدہ گُناہ کی قُربانی کے لیٔے لایٔے اَور اُس پر تیل یا لوبان ہرگز نہ ڈالے کیونکہ یہ گُناہ کی قُربانی ہے۔
LEV 5:12 اَور وہ اُسے کاہِنؔ کے پاس لایٔے اَور کاہِنؔ اُس میں سے مُٹّھی بھر مَیدہ یادگاری حِصّہ کے طور پر لے کر اُسے یَاہوِہ کی باقی بطور غِذا آتِشی قُربانیوں کے ساتھ مذبح پر جَلایٔے۔ یہ گُناہ کی قُربانی ہے۔
LEV 5:13 اِس طرح کاہِنؔ اِن میں سے کسی بھی گُناہ کے لیٔے، جو اُس سے سرزد ہُواہے، اُس کا کفّارہ دے تو اُسے مُعافی ملے گی۔ اَور نذر کا باقی حِصّہ کاہِنؔ کا ہوگا جَیسا کہ اناج کی نذر کا ہوتاہے۔‘ “
LEV 5:14 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا:
LEV 5:15 ”جَب کویٔی اِنسان یَاہوِہ کی پاک چیزوں میں سے کسی چیز کی بےحُرمتی کرکے غَیر اِرادی طور پر خطا کرے تو وہ بطور سزا گلّہ میں سے ایک بے عیب مینڈھا یَاہوِہ کے حُضُور گُناہ کی قُربانی کے طور پر لایٔے جِس کی مُناسب قیمت چاندی میں پاک مَقدِس کی ثاقل کے مُطابق ہو۔ یہ خطا کی قُربانی ہے۔
LEV 5:16 اَور اُس سے جِس پاک چیز کے بارے میں خطا ہُوئی ہو تو وہ لازماً اُس کا مُعاوضہ دے اَور اُس چیز کی قیمت کا پانچواں حِصّہ اَور بڑھا کر اُسے کاہِنؔ کو دے۔ اَور کاہِنؔ اُسے خطا کی قُربانی کے مینڈھے کے طور پر اُس کے لیٔے کفّارہ دے تو اُسے مُعافی ملے گی۔
LEV 5:17 ”اَور اگر کویٔی اِنسان گُناہ کرے اَور اُن کاموں میں سے کسی کام کو کرے جنہیں یَاہوِہ کے اَحکام میں منع کیا گیا ہے، خواہ وہ اُس سے بے خبر ہو تو بھی وہ مُجرم ٹھہرے گا اَور اَپنے گُناہ کا ذمّہ وار ہوگا۔
LEV 5:18 پھر وہ خطا کی قُربانی کے لیٔے گلّہ میں سے مُناسب قیمت کا ایک بے عیب مینڈھا کاہِنؔ کے پاس لایٔے۔ یُوں کاہِنؔ اُس کی خاطِر اُس کی اُس خطا کے لیٔے جو غَیر اِرادی طور پر اُس سے سرزد ہُوئی کفّارہ دے تو اُسے مُعافی مِلے گی۔
LEV 5:19 یہ خطا کی قُربانی ہے کیونکہ وہ یَاہوِہ کے قوانین کی خِلاف ورزی کے باعث مُجرم ٹھہرا ہے۔“
LEV 6:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 6:2 ”اگر کویٔی اَپنے پڑوسی کے خِلاف گُناہ کرے اَور یَاہوِہ سے دغا کرے اَور اَپنے پڑوسی کی اَمانت یا جو چیز اُس کے سُپرد کی گئی ہو، واپس نہ کرے، یا اَپنے پڑوسی کو لُوٹے یا اُس پر ظُلم کرے۔
LEV 6:3 یا اگر اُسے کوئی کھوئی ہُوئی چیز مِل گئی ہو، لیکن وہ اُس کے متعلّق جھُوٹ بول کر لوگ جھُوٹی قَسم کھائے، یعنی اِن میں سے کسی بھی کام کو کرکے کویٔی گُناہ کرے؛
LEV 6:4 اَور اگر اُس سے اِس طرح کا کویٔی گُناہ ہُواہے اَور اِس کا احساس اُسے ہے تو وہ مُجرم ہے، تو جو کچھ اُس نے چُرایا ہے یا جبراً لے لیا ہے یا جو کچھ اُس کے پاس اَمانت کے طور پر رکھا گیا تھا یا جو کھوئی ہُوئی چیز اُسے مِل گئی تھی،
LEV 6:5 یا جِس کسی بھی چیز کے بارے میں اُس نے جھُوٹی قَسم کھائی تھی، تو لازِم ہے کہ وہ اُسے پُورا واپس کرے اَور اصل کے ساتھ اُس کے مُعاوضہ کی قیمت کا بیس فیصد اِضافہ کے ساتھ اُس کے مالک کو اَپنی خطا کی قُربانی پیش کرنے کے دِن لَوٹا دے۔
LEV 6:6 تَب وہ بطور جُرمانہ گلّہ سے مُقرّرہ قیمت کا ایک بے عیب مینڈھا خطا کی قُربانی کے طور پر کاہِنؔ کے پاس یعنی یَاہوِہ کے حُضُور لایٔے۔
LEV 6:7 اِس طرح کاہِنؔ یَاہوِہ کے حُضُور اُس کے لیٔے کفّارہ دے گا، اَور اِس طرح اُسے اُن تمام خطاؤں کی جو اُس نے کی ہیں جِن سے وہ مُجرم ٹھہرا ہے مُعافی مِل جائے گی۔“
LEV 6:8 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 6:9 ”اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کو یہ حُکم دو، ’سوختنی نذر کے لیٔے ضوابط یہ ہیں: سوختنی نذر مذبح کے آتِشدان پر ساری رات صُبح ہونے تک رہے اَور مذبح پر آگ لازماً جلتی رہے۔
LEV 6:10 اَور تَب کاہِنؔ اَپنا کتان کا لباس اَور اَپنے نیچے پاجامہ پہن کر مذبح پر آگ سے بھسم کی ہُوئی سوختنی نذر کی راکھ کو اُٹھاکر مذبح کے ایک طرف رکھ دے۔
LEV 6:11 اَور پھر اُن کپڑوں کو اُتار کر دُوسرا پہنے اَور اُس راکھ کو اُٹھاکر چھاؤنی سے باہر کسی رسماً پاک و صَاف جگہ لے جائے۔
LEV 6:12 اَور مذبح پر آگ جلتی رہے اَور وہ کبھی بُجھنے نہ پایٔے۔ ہر صُبح کاہِنؔ مذبح پر لکڑیاں رکھے، اَور سوختنی نذر کو اُن پر رکھے، اَور اُس کے اُوپر سلامتی کی نذروں کی چربی رکھ کر جَلایا کرے۔
LEV 6:13 اَور مذبح پر آگ ہمیشہ جلتی رہے اَور کبھی بُجھنے نہ پایٔے۔
LEV 6:14 ” ’اَور اناج کی نذر گذرانے کے ضوابط یہ ہیں: اَہرونؔ کے بیٹے اُسے مذبح کے سامنے یَاہوِہ کے حُضُور لائیں۔
LEV 6:15 اَور کاہِنؔ اناج کی نذر میں سے مُٹّھی بھر مَیدہ اَور تیل اَور ساتھ ہی اُس پر رکھا ہُوا تمام لوبان لے کر اِس یادگاری حِصّہ کو یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو کے طور پر مذبح پر جَلایٔے۔
LEV 6:16 اَور اُس میں سے جو باقی بچے اُسے اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹے کھایٔیں۔ لیکن وہ بے خمیر کے پاک مَقدِس میں یعنی خیمہ اِجتماع کے صحن کے اَندر کھایٔیں۔
LEV 6:17 اَور اُسے خمیر کے ساتھ پکایا نہ جایٔے۔ مَیں نے اِسے اَپنی بطور غِذا آتِشی قُربانیوں میں سے اُن کو حِصّہ کے طور پر دیا ہے۔ اَور یہ گُناہ کی قُربانی اَور خطا کی قُربانی کی مانند نہایت ہی پاک ہے۔
LEV 6:18 اَور اَہرونؔ کی نَسل کے سارے مَرد اِسے کھا سکتے ہیں۔ اَور یَاہوِہ کو نذر کی گئی بطور غِذا آتِشی قُربانیوں میں سے پُشت در پُشت تمہاری پُشتوں کے لیٔے یہ اُن کے دائمی حِصّہ کے طور پر اَبد تک ملتا رہے گا۔ اَورجو کویٔی اِن قُربانیوں کو چھُوئے گا وہ پاک ہو جایٔےگا۔‘ “
LEV 6:19 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے یہ بھی فرمایا،
LEV 6:20 ”جِس دِن اَہرونؔ کا مَسح کیا جائے اُس دِن وہ اَور اُن کے بیٹے یَاہوِہ کے حُضُور یہ نذر پیش کریں: ڈیڑھ کِلو مَیدہ اَور اُس کا آدھا صُبح اَور آدھا شام کو ہمیشہ اناج کی قُربانی کے طور پر لائیں۔
LEV 6:21 اُسے تیل کے ساتھ مَل کر توے پر اَچھّی طرح پکانا اَور پھر تُم اُسے لاکر ٹکڑے ٹکڑے کرکے اُس اناج کی نذر کو یَاہوِہ کے حُضُور فرحت بخش خُوشبو کے طور پر نذر کرنا۔
LEV 6:22 اَور اَہرونؔ کے بیٹوں میں سے اُن کی جگہ پر جانشین کاہِنؔ کے طور پر جِس کا مَسح کیاجایٔے، وہ اُس نذر کو گزرانے۔ یہ یَاہوِہ کا دائمی حِصّہ ہے کہ اُسے بالکُل جَلا دیا جائے۔
LEV 6:23 اَور کاہِنؔ کی ہر ایک اناج کی قُربانی کو مُکمّل طور پر جَلا دیا جائے اَور اُسے کبھی کھایا نہ جائے۔“
LEV 6:24 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 6:25 ”اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کو حُکم دے گُناہ کی قُربانی کے ضوابط یہ ہیں: گُناہ کی قُربانی کے جانور کو یَاہوِہ کے حُضُور اُسی جگہ ذبح کیا جائے جہاں سوختنی نذر کا جانور ذبح کیا جاتا ہے کیونکہ وہ نہایت ہی پاک ہے۔
LEV 6:26 اَور اِس کو وُہی کاہِنؔ کھائے جو اِسے گُناہ کی قُربانی کے طور پر نذر گذرانے۔ اَور اِسے صرف پاک مَقدِس یعنی خیمہ اِجتماع کے صحن میں ہی کھایا جائے۔
LEV 6:27 جو بھی قُربانی کے اُس گوشت کو چھُوئے گا وہ پاک ٹھہرے گا۔ اَور اگر اُس کے خُون کی چھینٹیں کسی کپڑے پر پڑ جائے تو تُم اُسے لازماً اُسی پاک مَقدِس کی جگہ میں ہی دھونا۔
LEV 6:28 اَور مٹّی کا وہ برتن جِس میں قُربانی کا گوشت پکایا جائے لازماً توڑ دیا جائے۔ لیکن اگر وہ کانسے کے برتن میں پکایا گیا ہو، تو اُس برتن کو مانج کر پانی سے دھو دیا جائے۔
LEV 6:29 اَور کاہِنؔ کے خاندان کا کویٔی بھی مَرد گُناہ کی قُربانی کا گوشت کھا سَکتا ہے۔ یہ نہایت ہی پاک ہے۔
LEV 6:30 لیکن جِس گُناہ کی قُربانی کا خُون کفّارہ دینے کے لیٔے خیمہ اِجتماع کے پاک مقام میں لایا گیا ہو، اُس کا گوشت کبھی نہ کھایا جائے۔ بَلکہ اُسے آگ میں جَلا دیاجایٔے۔
LEV 7:1 ” ’اَور خطا کی قُربانی کے لیٔے جو کہ نہایت مُقدّس ہے یہ ضوابط ہیں:
LEV 7:2 خطا کی قُربانی کا جانور اُسی جگہ ذبح کیا جائے جہاں سوختنی نذر کا جانور ذبح کیا جاتا ہے اَور اُس کا خُون مذبح کے مقابل تمام اطراف میں چھڑک دیا جائے۔
LEV 7:3 اَور پھر اُس کی ساری چربی نذر گزرانی جائے یعنی اُس کی موٹی دُم اَور وہ چربی جو آنتوں کو ڈھانکتی ہے،
LEV 7:4 اَور دونوں گُردوں کے ساتھ اُن کی چربی جو کمر کے قریب رہتی ہے اَور جگر کے اُوپر کی جھِلّی، اُنہیں وہ گُردوں کے ساتھ ہی الگ کر دیا جائے۔
LEV 7:5 اَور کاہِنؔ اُن کو یَاہوِہ کے لیٔے بطور غِذا آتِشی قُربانی مذبح پر جَلائے۔ یہ خطا کی قُربانی ہے۔
LEV 7:6 اَور کاہِنؔ کے گھرانے کا ہر مَرد اِسے کھا سَکتا ہے لیکن یہ کسی پاک مَقدِس کی جگہ میں ہی کھائی جائے؛ کیونکہ یہ نہایت ہی پاک ہے۔
LEV 7:7 ” ’اَور خطا کی قُربانی اَور گُناہ کی قُربانی دونوں کے لیٔے ایک ہی آئین عَمل میں لایا جائے اَور اُنہیں وُہی کاہِنؔ کھائے جو اِس کا کفّارہ دیتاہے۔
LEV 7:8 اَور وہ کاہِنؔ جو کسی اِنسان کے لیٔے سوختنی نذر پیش کرتا ہے وہ سوختنی نذر کے جانور کی کھال اَپنے لیٔے رکھ سَکتا ہے۔
LEV 7:9 اُسی طرح ہر ایک اناج کی قُربانی جو تنور یا کڑاہی میں یا توے پر پکائی گئی ہو، وہ سَب کُچھ اُسی کاہِنؔ کی ہوگی جو اُسے پیش کرتا ہے۔
LEV 7:10 اَور ہر ایک اناج کی قُربانی خواہ اُس میں تیل مِلا ہو یا وہ خشک ہو اَہرونؔ کے سَب بیٹوں کو برابر حِصّہ ملے گا۔
LEV 7:11 ” ’اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے لیٔے جسے کویٔی اِنسان یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرے، یہ ضوابط ہیں:
LEV 7:12 ” ’اگر وہ اِسے شُکر گُزاری کے طور پر پیش کرے تَب وہ شُکر گزاری کی قُربانی کے ساتھ تیل سے گُندھے ہویٔے بے خمیری روٹی اَور تیل چُپڑی ہُوئی بے خمیری ٹکیاں اَور تیل سے اَچھّی طرح گُندھے ہویٔے مَیدے کی روٹیاں بھی گذرانے۔
LEV 7:13 اَور شُکر گُزاری کی سلامتی کی نذر کی قُربانی کے ساتھ وہ خمیری ٹکیاں بھی نذر گزرانے۔
LEV 7:14 اَور ہر قُربانی کی ایک ایک روٹی یَاہوِہ کے لیٔے نذرانہ کے طور پر لایٔے؛ اَور یہ اُسی کاہِنؔ کا ہوگا جو سلامتی کی نذر کا خُون مذبح پر چھڑکتا ہے۔
LEV 7:15 شُکر گُزاری کی سلامتی کی نذر کا گوشت کاہِنؔ کو اُسی دِن کھا لینا چاہیے جِس دِن وہ قُربانی پیش کرتا ہے اَور صُبح تک اُس میں سے کچھ بھی بچا کر نہ رکھے۔
LEV 7:16 ” ’لیکن اگر اُس کی قُربانی کسی مَنّت کی یا رضا کی قُربانی ہو تو، وہ قُربانی اُسی دِن کھائی جائے جِس دِن وہ گذرانی جائے۔ اَور اگر کچھ بچ جایٔے تو اُسے اگلے دِن کھایا جا سَکتا ہے۔
LEV 7:17 لیکن جو کُچھ اُس قُربانی کے گوشت میں سے تیسرے دِن تک بچا رہ جایٔے تو وہ آگ میں جَلا دیا جائے۔
LEV 7:18 اِس لیٔے اگر وہ سلامتی کی نذر کا گوشت تیسرے دِن کھاتا ہے، تو وہ قُربانی قبُول نہ ہوگی اَور نہ ہی اُسے گذراننے والے کو اُس کا کویٔی اجر ملے گا کیونکہ وہ مکرُوہ ہے۔ اَورجو اِنسان اُس میں سے کچھ کھائے، تو اُس کا گُناہ اُسی کے سَر لگے گا۔
LEV 7:19 ” ’اَورجو گوشت کسی ناپاک چیز سے چھُو جائے، تو اُسے ہرگز نہ کھایا جائے۔ بَلکہ اُسے آگ میں جَلا دیا جائے اَور قُربانی کا دُوسرا گوشت، جو رسماً پاک ہے اُسے کھا سَکتا ہے۔
LEV 7:20 لیکن اگر کویٔی ناپاک اِنسان سلامتی کی نذر کی قُربانی کا کچھ گوشت کھائے جو یَاہوِہ کا حِصّہ ہے، تو اُس اِنسان کو لازماً اَپنے لوگوں میں سے خارج کیا جائے۔
LEV 7:21 اگر کویٔی اِنسان کسی ناپاک چیز کو چھُولے، چاہے وہ اِنسان کی ناپاکی ہو یا کویٔی ناپاک جانور کی یا کویٔی نجِس مکرُوہ شَے ہو، اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی میں سے کچھ گوشت کھائے جو یَاہوِہ کا حِصّہ ہے، تو وہ اِنسان بھی لازماً اَپنے لوگوں میں سے خارج کیا جائے۔‘ “
LEV 7:22 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 7:23 ”بنی اِسرائیل سے کہو: ’تُم کسی بَیل، بھیڑ یا بکری کی چربی نہ کھانا۔
LEV 7:24 جو جانور خُود بہ خُود مَرا ہُوا ہو یا اُسے جنگلی جانوروں نے پھاڑ ڈالا ہو، تُم اُس کی چربی کو دیگر کاموں کے لیٔے اِستعمال کر سکتے ہو لیکن تُم اُسے ہرگز نہ کھانا۔
LEV 7:25 جو اِنسان اُس جانور کی چربی کھاتا ہے جسے یَاہوِہ کے لیٔے بطور غِذا آتِشی قُربانی پیش کی گئی ہو تو وہ اَپنے لوگوں میں سے خارج کیا جائے۔
LEV 7:26 اَور جہاں کہیں بھی تُم اَپنے گھر میں رہو وہاں تُم کسی پرندے یا جانور کا خُون ہرگز نہ کھانا۔
LEV 7:27 اگر کویٔی اِنسان خُون کھائے تو وہ لازماً اَپنے لوگوں میں سے خارج کیا جائے۔‘ “
LEV 7:28 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 7:29 ”بنی اِسرائیل کو حُکم دو، ’جو کویٔی یَاہوِہ کے حُضُور سلامتی کی نذر گذرانے، وہ اُس کا ایک حِصّہ اَپنی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور گذرانے۔
LEV 7:30 اَور وہ خُود اَپنے ہاتھوں میں یَاہوِہ کو بطور غِذا آتِشی قُربانی کے لیٔے چربی اَور سینہ ساتھ لایٔے اَور سینہ کو اُوپر اُٹھاکر یَاہوِہ کے حُضُور ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرے۔
LEV 7:31 کاہِنؔ اُس چربی کو مذبح پر جَلا دے لیکن وہ سینہ اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کا حِصّہ ہوگا۔
LEV 7:32 اَور تُم اَپنی سلامتی کی نذروں کی قُربانی کی داہنی ران کاہِنؔ کو نذرانہ کے طور پر دے دینا۔
LEV 7:33 اَور اَہرونؔ کے بیٹوں میں سے جو سلامتی کی نذر کا خُون اَور چربی گزرانے، تو قُربانی کی داہنی ران اُس کے حِصّہ کے طور پر اُسی کی ہوگی۔
LEV 7:34 کیونکہ مَیں نے بنی اِسرائیل کی سلامتی کی نذروں میں سے ہلانے کی نذر کی قُربانی کا وہ سینہ اَور وہ ران جو نذر کی جاتی ہے، اُنہیں کاہِنؔ اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کو دے دیا ہے کہ وہ بنی اِسرائیل کی جانِب سے کاہِنؔ کا دائمی حِصّہ ہو۔‘ “
LEV 7:35 یہ یَاہوِہ کی بطور غِذا آتِشی قُربانیوں میں سے اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کے مَسح ہونے کا حِصّہ ہے جو اُس دِن مُقرّر کیا گیا جَب اُنہیں بطور کاہِنؔ یَاہوِہ کے حُضُور خدمت اَنجام دینے کے لیٔے حاضِر کیا گیا تھا۔
LEV 7:36 جِس دِن اُنہیں مَسح کیا گیا، اُسی دِن یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کو حُکم دیا کہ کاہِنوں کو اُن کا یہ دائمی حِصّہ پُشت در پُشت دیتے رہیں۔
LEV 7:37 لہٰذا سوختنی نذر، اناج کی نذر کی قُربانی، گُناہ کی قُربانی، خطا کی قُربانی، مَسح کی قُربانی اَور سلامتی کی نذر کے ضوابط یہ ہیں
LEV 7:38 جو یَاہوِہ نے مَوشہ کو کوہِ سِینؔائی پر اُس دِن دئیے تھے، جِس دِن یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کو کوہِ سِینؔائی کے بیابان میں حُکم دیا کہ یَاہوِہ کے حُضُور اَپنی قُربانیاں گزرانے۔
LEV 8:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 8:2 ”اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کو اَور ساتھ میں اُن کے لباس، مَسح کا تیل، گُناہ کی قُربانی کے بچھڑے اَور دو بے عیب مینڈھے اَور ایک ٹوکری میں بے خمیری روٹیاں لے آؤ،
LEV 8:3 اَور ساری جماعت کو خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر جمع کرو۔“
LEV 8:4 اَور جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا اُنہُوں نے وَیسا ہی کیا اَور جماعت خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر جمع ہو گئی۔
LEV 8:5 تَب مَوشہ نے جماعت سے فرمایا، ”جِس کام کو پُورا کرنے کا حُکم یَاہوِہ نے دیا ہے وہ یہ ہے۔“
LEV 8:6 پھر مَوشہ نے اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کو سامنے پیش کیا اَور اُنہیں پانی سے غُسل دِلایا۔
LEV 8:7 اَور مَوشہ نے اَہرونؔ کو کرتا پہناکر اُن پر کمربند لپیٹا اَور اُن کو لباس پہناکر اُس پر افُود لگایا اَور افُود کے کمربند کو جسے کسی ماہر کاریگر نے بُنا تھا اُس پر کس کر لپیٹ دیا۔
LEV 8:8 اَور پھر اَہرونؔ کو سینہ بند پہنایا اَور اُس میں اُوریمؔ اَور تُمّیمؔ لگا دئیے۔
LEV 8:9 پھر مَوشہ نے اَہرونؔ کے سَر پر عمامہ رکھ کر اُس پر سامنے کی طرف سونے کی تختی یعنی مُقدّس تاج لگا دیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
LEV 8:10 پھر مَوشہ نے مَسح کا تیل لیا اَور مَسکن کو اَور اُس کے اَندر کی ہر چیز کو مَسح کیا اَور یُوں اُن کو مُقدّس کیا۔
LEV 8:11 اَور کُچھ مَسح کا تیل لے کر اُسے سات بار مذبح پر چھِڑکا، مذبح اَور اُس کے تمام ظروف، پانی کے حوض اَور اُس کی چوکی کو مَسح کرکے اُن کو مُقدّس کیا۔
LEV 8:12 پھر اَہرونؔ کو مُقدّس کرنے کے لیٔے مَسح کے تیل میں سے کچھ لیا اَور اُسے اُن کے سَر پر ڈال کر اُن کا مَسح کیا۔
LEV 8:13 پھر مَوشہ نے اَہرونؔ کے بیٹوں کو سامنے بُلایا اَور اُن کو چوغے پہنائے اَور اُن پر کمرکاپٹکہ لَپیٹا اَور اُن کے سَروں پر ٹوپیاں پہنا دیں؛ جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
LEV 8:14 پھر مَوشہ گُناہ کی قُربانی کے لیٔے بچھڑا لایٔے اَور اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں نے اُس کے سَر پر ہاتھ رکھے
LEV 8:15 اَور مَوشہ نے اُس بچھڑے کو ذبح کیا اَور اُس کا کچھ خُون لے کر اَپنی اُنگلی سے اُسے مذبح کے تمام سینگوں پر لگایا تاکہ مذبح پاک ہو جائے اَور باقی خُون کو اُس نے مذبح کے پایہ پر اُنڈیل دیا اَور اِس طرح اُس نے کفّارہ دے کر مذبح کو مُقدّس کیا۔
LEV 8:16 اَور مَوشہ نے آنتوں کے اُوپر کی ساری چربی اَور جگر پر کی جھِلّی اَور دونوں گُردوں کو اُن کی چربی سمیت لے کر اُنہیں مذبح پر جَلا دیا۔
LEV 8:17 لیکن بچھڑے کو اُس کی کھال اَور اُس کے گوشت اَور گوبر سمیت چھاؤنی سے باہر آگ میں جَلا دیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
LEV 8:18 اَور پھر مَوشہ سوختنی نذر کے لیٔے مینڈھے کو سامنے لائے اَور اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں نے اُس کے سَر پر اَپنے ہاتھ رکھے۔
LEV 8:19 پھر مَوشہ نے اُس مینڈھے کو ذبح کیا اَور اُس کا خُون مذبح کے چاروں طرف چھڑک دیا۔
LEV 8:20 اَور مَوشہ نے اِس مینڈھے کو کاٹ کر اُس کے ٹکڑے کئے اَور اُس کے سَر، ٹُکڑوں اَور چربی کو جَلا دیا۔
LEV 8:21 اَور مَوشہ نے اُس مینڈھے کی آنتوں اَور پایوں کو پانی سے دھویا اَور پُورے مینڈھے کو مذبح پر جَلا دیا۔ یہ سوختنی نذر یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو والی غِذا کی آتِشی قُربانی ہے جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
LEV 8:22 اَور پھر مَوشہ دُوسرے تخصیصی مینڈھے کو سامنے لائے اَور اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں نے اُس کے سَر پر اَپنے ہاتھ رکھے
LEV 8:23 اَور مَوشہ نے اُس مینڈھے کو ذبح کیا اَور اُس کا کچھ خُون لے کر اَہرونؔ کے داہنے کان کی لَو پر اَور داہنے ہاتھ اَور داہنے پاؤں کے انگُوٹھوں پر لگایا۔
LEV 8:24 اَور مَوشہ اَہرونؔ کے بیٹوں کو بھی سامنے لایٔے اَور اُس خُون میں سے کچھ اُن کے داہنے کانوں کی لَو پر اَور اُن کے داہنے ہاتھوں اَور داہنے پاؤں کے انگُوٹھوں پر لگایا۔ اَور پھر اُنہُوں نے باقی خُون مذبح کے چاروں طرف چھڑک دیا۔
LEV 8:25 اَور مَوشہ نے چربی اَور موٹی دُم اَور آنتوں کے اُوپر کی ساری چربی اَور جِگر کے اُوپر کی جھِلّی اَور دونوں گُردوں، اَور اُن کی چربی اَور داہنی ران کو لیا۔
LEV 8:26 اَور یَاہوِہ کے حُضُور رکھی بے خمیری روٹی کی ٹوکری میں سے اُس نے ایک بے خمیری روٹی اَور زَیتُون کے تیل سے سنی ہُوئی ایک روٹی اَور تیل سے بنا ہُوا ایک کُلچہ لے کر اُنہیں چربی اَور داہنی ران پر رکھا۔
LEV 8:27 اَور مَوشہ نے اِن سَب کو اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کے ہاتھوں پر رکھ کر اُن کو ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور ہلایا۔
LEV 8:28 اَور پھر مَوشہ نے اُنہیں اُن کے ہاتھوں سے لے کر مذبح پر سوختنی نذر کے ساتھ بطور تخصیصی قُربانی جَلا دیا تاکہ جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا یَاہوِہ کے لیٔے یہ ایک فرحت بخش خُوشبو والی غِذا کی آتِشی قُربانی ہو۔
LEV 8:29 اَور مَوشہ نے مینڈھے کا سینہ بھی لیا جو کہ اُس تخصیصی مینڈھے میں سے مَوشہ کا حِصّہ تھا، اَور اُسے یَاہوِہ کے حُضُور ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر ہلایا؛ جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
LEV 8:30 اَور پھر مَوشہ نے مَسح کرنے کا کچھ تیل اَور مذبح سے کچھ خُون لے کر اَہرونؔ پر اَور اُن کے لباس پر اَور اُن کے بیٹوں پر اَور اُن کے لباسوں پر چھِڑکا۔ اِس طرح مَوشہ نے اَہرونؔ اَور اُن کے لباس کو اَور اُن کے بیٹوں اَور اُن کے لباسوں کو مُقدّس کیا۔
LEV 8:31 اَور پھر مَوشہ نے اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں سے فرمایا، ”اِس گوشت کو خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر اُبالو اَور اُسے وہیں اُس روٹی کے ساتھ کھاؤ جو تخصیصی نذر کی ٹوکری میں ہے، جَیسا کہ مُجھے خُدا کی طرف سے حُکم دیا گیا تھا، ’اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹے اُسے کھایٔیں۔‘
LEV 8:32 اَور پھر باقی بچے ہویٔے گوشت اَور روٹی کو جَلا دینا۔
LEV 8:33 اَور سات دِن تک خیمہ اِجتماع کے دروازہ سے باہر نہ جانا، جَب تک تمہارے مَسح کی مُدّت پُوری نہ ہو جائے کیونکہ تمہاری مَسح کی مُدّت سات دِن کی ہوگی۔
LEV 8:34 اَورجو کچھ آج کیا گیا ہے اُس کا حُکم یَاہوِہ نے دیا تھا تاکہ تمہارے لیٔے کفّارہ ہو۔
LEV 8:35 اَور تُم لازماً سات دِن تک دِن اَور رات خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر ہی ٹھہرے رہنا اَور یَاہوِہ کا حُکم ماَننا تاکہ تُم مرنے سے بچے رہو کیونکہ مُجھے اَیسا ہی حُکم دیا گیا ہے۔“
LEV 8:36 لہٰذا اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں نے وہ سَب کچھ یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق کیا جو یَاہوِہ نے مَوشہ کی مَعرفت دیا تھا۔
LEV 9:1 آٹھویں دِن مَوشہ نے اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں اَور بنی اِسرائیل کے بُزرگوں کو بُلایا۔
LEV 9:2 اَور مَوشہ نے اَہرونؔ سے فرمایا، ”اَپنے گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بے عیب بچھڑا اَور اَپنی سوختنی نذر کے لیٔے ایک بے عیب مینڈھا لو اَور اُنہیں یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرو۔
LEV 9:3 اَور پھر بنی اِسرائیل کو حُکم دو، ’تُم گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا لو اَور سوختنی نذر کے لیٔے ایک سال کا بے عیب بچھڑا اَور ایک سال کا بے عیب برّہ لو،
LEV 9:4 اَور سلامتی کی نذر کے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور قُربانی پیش کرنے کے لیٔے ایک بَیل اَور ایک مینڈھا، اَور تیل سے سنی ہُوئی اناج کی نذر بھی لو، کیونکہ آج یَاہوِہ تُم پر ظاہر ہوں گے۔‘ “
LEV 9:5 پھر وہ ساری چیزیں خیمہ اِجتماع کے سامنے لے آئے، جِن کا مَوشہ نے حُکم دیا تھا، اَور ساری جماعت نزدیک آکر یَاہوِہ کے حُضُور میں کھڑی ہو گئی۔
LEV 9:6 پھر مَوشہ نے اُن سے فرمایا، ”یہ وہ کام ہے جِس کو کرنے کا یَاہوِہ نے تُمہیں حُکم دیا ہے تاکہ یَاہوِہ کا جلال تُم پر ظاہر ہو۔“
LEV 9:7 اِس کے بعد مَوشہ نے اَہرونؔ سے فرمایا، ”مذبح کے نزدیک آ جاؤ، اَور اَپنے گُناہ کی قُربانی اَور سوختنی نذر پیش کرو تاکہ تُم خُود کے لیٔے اَور اُمّت کے لیٔے کفّارہ دو؛ اِس کے بعد اُمّت کے واسطے قُربانی پیش کرو اَور کفّارہ پُورا کر سکو، جَیسا کہ یَاہوِہ نے حُکم دیا ہے۔“
LEV 9:8 لہٰذا اَہرونؔ نے مذبح کے پاس جا کر اُس بچھڑے کو اَپنے گُناہ کی قُربانی کے طور پر ذبح کیا۔
LEV 9:9 اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹے اُن کے پاس خُون لے آئے اَور اُنہُوں نے اُس خُون میں اَپنی اُنگلی ڈُبو ڈُبو کر اُس خُون کو مذبح کے سینگوں پر لگایا اَور باقی بچے خُون کو مذبح کے پایہ پر اُنڈیل دیا۔
LEV 9:10 پھر اُنہُوں نے گُناہ کی قُربانی کی چربی، گُردے اَور جگر کے اُوپر کی جھِلّی کو مذبح پر جَلا دیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
LEV 9:11 لیکن گوشت اَور کھال کو چھاؤنی کے باہر جَلا دیا۔
LEV 9:12 اَور پھر اُس نے سوختنی نذر کے جانور کو ذبح کیا اَور اُس کے بیٹوں نے جانور کا خُون اُن کے ہاتھ میں دیا اَور اَہرونؔ نے اُسے مذبح کے چاروں طرف چھڑک دیا۔
LEV 9:13 اَور اُنہُوں نے سوختنی نذر کے ٹکڑے کرکے سَر سمیت اُنہیں دئیے اَور اُنہُوں نے اُنہیں مذبح پر آگ میں جَلا دیا۔
LEV 9:14 اَور اَہرونؔ نے آنتوں اَور پایوں کو دھوکر اُنہیں مذبح پر سوختنی نذر کے اُوپر جَلا دیا۔
LEV 9:15 پھر اَہرونؔ نے اُس نذر کو پیش کیا جو اُمّت کے لیٔے تھی۔ پھر اُنہُوں نے اُس بکرے کو بطور اُمّت کے گُناہ کی قُربانی کے واسطے ذبح کیا اَور بطور گُناہ کی قُربانی پیش کیا جَیسا کہ اُس نے پہلی قُربانی گُناہ کی قُربانی کے طور پر پیش کی تھی۔
LEV 9:16 اَور اُنہُوں نے سوختنی نذر کے جانور کو بھی لیا اَور حُکم کے مُطابق اُس کی قُربانی دی۔
LEV 9:17 پھر وہ اناج کی نذر بھی لائے اَور اُس میں سے مُٹّھی بھر لے کر اُسے صُبح کی سوختنی نذر کے علاوہ مذبح پر جَلایا۔
LEV 9:18 اَور اُنہُوں نے بَیل اَور مینڈھے کو اُمّت کی سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر ذبح کیا اَور اَہرونؔ کے بیٹے جانور کا خُون اُن کے پاس لایٔے اَور اُنہُوں نے اُسے مذبح کے چاروں طرف چھڑک دیا۔
LEV 9:19 لیکن بَیل اَور مینڈھے کے چربی والے حِصّے یعنی موٹی دُم کو، آنتوں کے اُوپر کی چربی کو، گُردوں اَور جگر کے اُوپر کی جھِلّی کو اُنہیں دے دیا؛
LEV 9:20 اَور اُنہُوں نے چربی والے حِصّہ کو سِینوں پر رکھا اَور پھر اَہرونؔ نے اُنہیں مذبح پر آگ میں جَلا دیا۔
LEV 9:21 مگر اَہرونؔ نے سینے اَور داہنی ران کو یَاہوِہ کے حُضُور ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کیا جَیسا مَوشہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
LEV 9:22 پھر اَہرونؔ نے اَپنے ہاتھ اُمّت کی طرف اُٹھاکر اُنہیں برکت دی اَور گُناہ کی قُربانی، سوختنی نذر اَور سلامتی کی نذر پیش کرنے کے بعد نیچے اُتر آئے۔
LEV 9:23 اَور پھر مَوشہ اَور اَہرونؔ خیمہ اِجتماع کے اَندر چلے گیٔے اَور جَب وہ باہر آئے تو اُنہُوں نے اُمّت کو برکت دی تَب یَاہوِہ کا جلال پُوری اُمّت پر ظاہر ہُوا۔
LEV 9:24 اَور یَاہوِہ کی حُضُوری سے آگ نکلی جِس نے مذبح پر سوختنی نذر اَور چربی کو بھسم کر دیا اَور جَب لوگوں نے اِسے دیکھا تو سَب کے سَب خُوشی سے نعرے مارنے لگے اَور مُنہ کے بَل گِر کر سَجدہ کیا۔
LEV 10:1 اَور اَہرونؔ کے بیٹوں میں نادابؔ اَور اَبِیہُو نے اَپنے اَپنے بخُوردان لے کر اُن میں آگ بھری اَور اُس میں لوبان ڈالا۔ اُس پر اُنہُوں نے یَاہوِہ کے حُکم کے خِلاف یَاہوِہ کے حُضُور ناپاک آگ پیش کی۔
LEV 10:2 لہٰذا یَاہوِہ کی حُضُوری سے آگ نکلی اَور اُنہیں بھسم کر دیا، اَور وہ یَاہوِہ کے سامنے ہی مَر گیٔے۔
LEV 10:3 تَب مَوشہ نے اَہرونؔ سے فرمایا، ”یہ یَاہوِہ کے اُس قول کے مُطابق ہے: ” ’لازِم ہے کہ جو میرے قریب آئیں وہ مُجھے مُقدّس جانیں؛ تَب سَب اُمّت کے سامنے میرا جلال ظاہر ہو۔‘ “ اِس پر اَہرونؔ خاموش ہی رہے۔
LEV 10:4 اَور مَوشہ نے اَہرونؔ کے چچا عُزّی ايل کے بیٹوں میشاایلؔ اَور اِیلضافنؔ کو بُلاکر اُنہیں حُکم دیا، ”یہاں آؤ اَور اَپنے چچازاد بھائیوں کی لاش کو پاک مَقدِس کے سامنے سے دُور چھاؤنی کے باہر لے جاؤ۔“
LEV 10:5 لہٰذا وہ آئے اَور اُن کی لاش کو جو ابھی تک اَپنے کُرتوں میں تھے اُٹھاکر چھاؤنی سے باہر لے گیٔے، جَیسا مَوشہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
LEV 10:6 تَب مَوشہ نے اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں الیعزرؔ اَور اِتمارؔ سے فرمایا، ”نہ تو اَپنے سَر کے بال بکھرنے دینا اَور نہ ہی اَپنے کپڑے پھاڑنا ورنہ تُم مرجاؤگے اَور یَاہوِہ کا غضب ساری جماعت پر نازل ہو۔ لیکن تمہارے رشتہ دار اَور تمام بنی اِسرائیل اُن لوگوں کے لیٔے ماتم کرے جِن کو یَاہوِہ نے آگ سے ہلاک کیا ہے۔
LEV 10:7 اَور تُم تو خیمہ اِجتماع کے مدخل سے ہرگز باہر نہ جانا، ورنہ تمہاری بھی موت ہو جایٔےگی کیونکہ یَاہوِہ کا مَسح کرنے کا تیل تُم پر ہے۔“ لہٰذا جَیسا مَوشہ نے کہا اُنہُوں نے وَیسا ہی کیا۔
LEV 10:8 تَب یَاہوِہ نے اَہرونؔ سے فرمایا،
LEV 10:9 ”تُم اَور تمہارے بیٹے انگوری شِیرہ پی کر یا نشہ کرکے کبھی خیمہ اِجتماع کے اَندر داخل نہ ہونا ورنہ تمہاری موت ہو جایٔےگی۔ یہ دائمی فرمان پُشت در پُشت قائِم رہے گا۔
LEV 10:10 اَور تُم لازماً مُقدّس اَور عام چیزوں میں اَور پاک اَور ناپاک چیزوں میں اِمتیاز کرنا۔
LEV 10:11 اَور تُم بنی اِسرائیل کو اُن تمام قوانین کی جو یَاہوِہ نے مَوشہ کی مَعرفت دئیے ہیں تعلیم دینا۔“
LEV 10:12 پھر مَوشہ نے اَہرونؔ اَور اُن کے دونوں بچے ہویٔے بیٹوں، الیعزرؔ اَور اِتمارؔ سے فرمایا، ”یَاہوِہ کو پیش کی گئی آتِشی قُربانیوں میں سے اناج کی نذر کو جو بچی رہے، اَورجو بے خمیری کا ہے اُسے لے کر مذبح کے پاس ہی کھاؤ، کیونکہ یہ نہایت ہی پاک ہے۔
LEV 10:13 اَور تُم اِسے پاک مَقدِس کی جگہ میں ہی کھانا، کیونکہ یَاہوِہ کو پیش کی گئی آتِشی قُربانیوں میں سے یہ تمہارا اَور تمہارے بیٹوں کا دائمی حِصّہ ہے۔ کیونکہ مُجھے اَیسا ہی حُکم دیا گیا ہے۔
LEV 10:14 لیکن تُم اَور تمہارے بیٹے اَور بیٹیاں اُس ہلانے کی نذر کی قُربانی کے سینہ اَور ران کو کسی رسماً پاک جگہ میں کھا سکتے ہو۔ کیونکہ یہ بنی اِسرائیل کی سلامتی کی نذروں میں سے تُمہیں اَور تمہارے بیٹوں اَور بیٹیوں کے لیٔے دائمی حِصّہ کے طور پر دئیے گیٔے ہیں۔
LEV 10:15 وہ آتِشی قُربانی کی چربی کے ساتھ ران کو اُونچا اُٹھاتے اَور سینہ کو ہلاتے ہویٔے یَاہوِہ کے حُضُور بطور ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر لائیں گے۔ اَور جَیسا یَاہوِہ نے حُکم دیا ہے یہ تمہارا اَور تمہارے بچّوں کا باقاعدہ دائمی حِصّہ ہوگا۔“
LEV 10:16 جَب مَوشہ نے گُناہ کی قُربانی کے بکرے کے متعلّق پُوچھا تو اُسے مَعلُوم ہُوا کہ اُسے جَلایا جا چُکاہے، تَب وہ اَہرونؔ کے باقی بچے ہویٔے بیٹوں الیعزرؔ اَور اِتمارؔ پر غُصّہ ہو گیٔے اَور اُن سے پُوچھا،
LEV 10:17 ”تُم نے گُناہ کی قُربانی کے گوشت کو پاک مَقدِس کی جگہ میں کیوں نہ کھایا؟ کیونکہ یہ نہایت ہی پاک ہے۔ یہ تُمہیں اِس لیٔے دیا گیا تھا کہ تُم جماعت کے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور کفّارہ دے کر جماعت کے گُناہ کو اَپنے اُوپر اُٹھالو۔
LEV 10:18 چونکہ اُس کا خُون پاک مقام میں لایا ہی نہیں گیا تھا، اِس لیٔے ضروُری تھا کہ تُم اُس بکرے کو پاک مَقدِس کی جگہ میں ہی کھا لیتے، جَیسا مَیں نے تُمہیں حُکم دیا تھا۔“
LEV 10:19 تَب اَہرونؔ نے مَوشہ کو جَواب دیا، ”دیکھ آج ہی اُنہُوں نے اَپنی گُناہ کی قُربانی اَور سوختنی نذر یَاہوِہ کے حُضُور پیش کی، اَور مُجھ پر اَیسی آفت گزری ہے۔ اگر مَیں آج سوختنی نذر کا گوشت کھاتا تو کیا یہ یَاہوِہ کی نظر میں اَچھّا ہوتا؟“
LEV 10:20 جَب مَوشہ نے یہ بات سُنی تو وہ مطمئن ہو گئے۔
LEV 11:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے فرمایا،
LEV 11:2 ”بنی اِسرائیل سے کہو، ’زمین کے سَب چَوپایوں میں سے جِن جِن کو تُم کھا سکتے ہو وہ یہ ہیں:
LEV 11:3 جِن چَوپایوں کے کھُر چِرے ہویٔے ہُوں اَورجو جُگالی کرتے ہُوں اُسے تُم کھا سکتے ہو۔
LEV 11:4 ” ’کچھ جانور اَیسے بھی ہیں جو صِرف جُگالی کرتے ہیں یا جِن کے صِرف کھُر چِرے ہویٔے ہیں تُم اُنہیں ہرگز نہ کھانا۔ مثلاً اُونٹ جو جُگالی تو کرتا ہے لیکن اُس کے کھُر چِرے ہویٔے نہیں ہیں یہ تمہارے لیٔے ناپاک ہے۔
LEV 11:5 اَور چٹّانی سافان اگرچہ وہ جُگالی تو کرتا ہے لیکن اُس کے کھُر چِرے ہویٔے نہیں ہیں لہٰذا وہ بھی تمہارے لیٔے ناپاک ہے۔
LEV 11:6 اَور خرگوش بھی اگرچہ وہ جُگالی تو کرتا ہے لیکن اُس کے کھُر پھٹے ہویٔے نہیں ہیں لہٰذا وہ بھی تمہارے لیٔے ناپاک ہے۔
LEV 11:7 اَور سُؤر بھی، اگرچہ اُس کے کھُر چِرے ہویٔے ہیں مگر وہ جُگالی نہیں کرتا، لہٰذا وہ بھی تمہارے لیٔے ناپاک ہے۔
LEV 11:8 تُم اُن کا گوشت ہرگز نہ کھانا اَور نہ ہی اُن کی لاشوں کو بھی چھُونا کیونکہ وہ تمہارے لیٔے ناپاک ہیں۔
LEV 11:9 ” ’اَور سمُندروں اَور دریاؤں میں رہنے والے تمام آبی جانداروں میں سے جِن کے پر اَور چھِلکے ہُوں تُم اُنہیں کھا سکتے ہو۔
LEV 11:10 لیکن سمُندروں اَور دریاؤں کے وہ جاندار جِن کے پر اَور چھِلکے نہ ہوں خواہ وہ جھُنڈ بنا کر تیرتے ہُوں یا وہ پانی کی دیگر زندہ مخلُوقات میں سے ہُوں تُم اُنہیں مکرُوہ سمجھنا۔
LEV 11:11 اَور چونکہ وہ تمہارے لیٔے ناپاک ہیں لہٰذا تُم اُن کا گوشت ہرگز نہ کھانا اَور نہ ہی اُن کی لاشوں کو چھُونا کیونکہ وہ ناپاک ہیں۔
LEV 11:12 پانی میں رہنے والی ہر ایک مخلُوقات جِس کے پر اَور چھِلکے نہ ہوں وہ تمہارے لیٔے مکرُوہ ہے۔
LEV 11:13 ” ’اَور پرندوں میں سے تمہارے لیٔے مکرُوہ پرندے یہ ہیں اَور جنہیں کھانا منع ہے مثلاً: عُقاب، گِدھ، کالا گِدھ،
LEV 11:14 سُرخ چیل، ہر قِسم کی کالی چیل۔
LEV 11:15 ہر قِسم کے کوّے،
LEV 11:16 چیخنے والا اُلّو، سینگ والا اُلّو، سمُندری بگلا، اَور ہر قِسم کے باز۔
LEV 11:17 چھوٹا اُلّو، ماہی خور، سمُندری پرندہ، بڑا اُلّو،
LEV 11:18 سفید اُلّو، جنگلی اُلّو، سمُندری عُقاب،
LEV 11:19 لق لق، ہر قِسم کے بگلے، ہُدہُد اَور چمگادڑ۔
LEV 11:20 ” ’اَور تمام پَردار کیڑے جو چاروں ٹانگوں پر چلتے ہیں تمہارے لیٔے ناپاک ہیں۔
LEV 11:21 تاہم کچھ پَردار کیڑے اَیسے ہیں جو چاروں ٹانگوں پر چلتے ہیں، جِن کے زمین پر کودنے اَور پھاندنے کے لیٔے پیر ہوتے ہیں اُنہیں تُم کھا سکتے ہو۔
LEV 11:22 اِن جاندار کیڑوں کو تُم کھا سکتے ہو: یعنی ہر قِسم کی ٹِڈّی ہر قِسم کا سُلعام، جھینگر یا ٹِڈّا کھا سکتے ہو۔
LEV 11:23 مگر باقی تمام پَردار کیڑے جو چاروں ٹانگوں پر چلتے ہیں وہ تمہارے لیٔے مکرُوہ ہیں۔
LEV 11:24 ” ’اِن سبھی جانداروں کی وجہ سے تُم ناپاک ہو جاؤگے؛ اَورجو کویٔی اُن کی لاش کو چھُوئے گا وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 11:25 اَورجو کویٔی اُن کی لاشوں کو اُٹھائے، وہ اَپنے کپڑے دھوئے اَور شام تک وہ ناپاک رہے گا۔
LEV 11:26 ” ’ہر ایک جانور جِس کا کھُر پھٹا ہو لیکن پُوری طرح دو حِصّہ میں الگ نہ ہو، مگر وہ جُگالی نہیں کرتا ہو، وہ تمہارے لیٔے ناپاک ہے؛ اَورجو کویٔی اُن کی لاش کو چھُوئے گا تو وہ ناپاک ہو جائے گا۔
LEV 11:27 اَور چار پاؤں کے بَل چلنے والے تمام جانوروں میں سے جتنے اَپنے پنجوں کے بَل چلتے ہیں، وہ بھی تمہارے لیٔے ناپاک ہیں اَورجو کویٔی اُن کی لاشوں کو چھُوئے گا وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 11:28 اَورجو کویٔی اُن کی لاشیں اُٹھائے وہ اَپنے کپڑے دھوئے اَور شام تک وہ ناپاک رہے گا۔ کیونکہ یہ جانور تمہارے لیٔے ناپاک ہیں۔
LEV 11:29 ” ’زمین پر رینگنے والے جانداروں میں سے یہ جاندار تمہارے لیٔے ناپاک ہیں: نیولا، چُوہا، اَور ہر قِسم کی بڑی چھپکلی،
LEV 11:30 حِرذُون (ایک قِسم کی چھپکلی)، گوہ، دیوار پر رہنے والی چھپکلی، سانڈ اَور گِرگٹ۔
LEV 11:31 وہ جاندار جو زمین پر رینگ کر چلتے ہیں، یہ سَب تمہارے لیٔے ناپاک ہیں۔ جو کویٔی اُن مَرے ہویٔے جانداروں کو چھُوتا ہے وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 11:32 اِن میں سے اگر کسی چیز پر اُن کا مَرا ہُوا جِسم گِر پڑے تو وہ چیز ناپاک ہو جایٔےگی، چاہے وہ لکڑی کا برتن، کپڑا، کھال یا ٹاٹ کی بنی ہو، اَور کسی بھی کام میں اِستعمال کی جاتی ہو۔ لہٰذا اُسے پانی میں ڈال دو اَور شام تک وہ ناپاک رہے گی اَور اُس کے بعد وہ چیز پاک ٹھہرے گی۔
LEV 11:33 اَور اگر کسی مٹّی کے برتن میں اِن جانداروں کا مَرا ہُوا جِسم گِر جائے تو اُس کے اَندر کی ہر چیز ناپاک ہو جائے گی۔ لہٰذا تُم اُس برتن کو توڑ ڈالنا۔
LEV 11:34 اَور اگر اِس برتن کا پانی کسی بھی کھانے کی چیز پر گِر جایٔے تو، وہ کھانا ناپاک ہو جایٔےگا۔ اَور اگر اَیسے برتن میں پینے کے لیٔے کچھ ہو تو وہ بھی ناپاک ہوگا۔
LEV 11:35 اَور جِس چیز پر اُن جاندار کی لاش گِر جایٔے، وہ چیز ناپاک ہو جایٔےگی۔ چاہے وہ چیز تنور ہو یا آتِشدان ہو، اُسے ضروُر توڑ دیا جائے۔ وہ ناپاک ہیں اَور تمہارے لیٔے ناپاک ہی ٹھہریں گی۔
LEV 11:36 تاہم چشمہ یا تالاب جہاں پانی جما کیا جاتا ہے، وہ تو پاک ہی رہتاہے۔ لیکن جو کویٔی اُن کی لاشوں کو چھُوئے وہ ناپاک ٹھہرے گا۔
LEV 11:37 اگر کویٔی لاش اَیسے بیجوں پر گِرے جو بونے کے لیٔے ہُوں تو وہ پاک رہیں گے۔
LEV 11:38 لیکن اگر بیج پر پانی ڈالا گیا ہو اَور اُس پر اِن کی کویٔی لاش گِر پڑے تو وہ تمہارے لیٔے ناپاک ہوگی۔
LEV 11:39 ” ’اگر کویٔی جانور جِس کے کھانے کی تُمہیں اِجازت ہے، مَر جائے تو جو کویٔی اُس کی لاش کو چھُوئے وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 11:40 اَورجو کویٔی اُس مَرے ہویٔے جانور کا گوشت کھائے تو، وہ اَپنے کپڑے ضروُر دھو ڈالے اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔ اَورجو کویٔی اُس جانور کی لاش کو اُٹھائے وہ بھی اَپنے کپڑے دھو ڈالے اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 11:41 ” ’ہر ایک جاندار جو زمین پر رینگتا پھرتاہے مکرُوہ ہے اُسے ہرگز کھایا نہ جائے۔
LEV 11:42 تُم کسی جاندار کو جو زمین پر رینگتا پھرتاہے خواہ وہ پیٹ کے بَل رینگتا ہو یا چاروں پاؤں کے بَل یا کثیر پاؤں کے بَل چلتا ہو، تُم اُن کو ہرگز نہ کھانا کیونکہ وہ مکرُوہ ہے۔
LEV 11:43 اِن جانداروں میں سے کسی جاندار کے باعث تُم اَپنے آپ کو مکرُوہ نہ بنا لینا۔ اَور نہ ہی تُم اُن کے باعث خُود کو ناپاک کرنا تاکہ ناپاک نہ ہو جاؤ۔
LEV 11:44 کیونکہ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔ اِس لیٔے تُم اَپنے آپ کو صَاف کرو اَور پاک بنو کیونکہ مَیں پاک ہُوں۔ لہٰذا تُم زمین پر رینگنے والے کسی بھی جاندار کے باعث اَپنے آپ کو ناپاک نہ کرنا۔
LEV 11:45 کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں جو تمہارا خُدا ہونے کے لیٔے تُمہیں مِصر سے نکال لایا۔ اِس لیٔے پاک بنو کیونکہ مَیں پاک ہُوں۔
LEV 11:46 ” ’حَیوانات، پرندوں، آبی جانداروں اَور زمین پر رینگنے والے سَب جانداروں کے بارے میں ضوابط یہی ہیں۔
LEV 11:47 اَور تُم پاک اَور ناپاک میں اَور کھائے جانے والے اَور نہ کھائے جانے والے زندہ جانوروں میں ضروُر اِمتیاز کرنا۔‘ “
LEV 12:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 12:2 ”بنی اِسرائیل کو حُکم دو: ’اگر کویٔی عورت حاملہ ہو اَور لڑکا پیدا کرے تو وہ سات دِن تک رسمی طور پر ناپاک سَمجھی جائے گی، جَیسا کہ وہ حَیض کے ایّام کے دَوران ناپاک رہتی ہے۔
LEV 12:3 اَور آٹھویں دِن اُس لڑکے کا ختنہ کیا جائے۔
LEV 12:4 اَور اِس کے بعد وہ عورت تینتیس دِن تک طہارت کے خُون میں رہے اَور پاک ہونے کے لیٔے اِنتظار کرے اَور لازماً وہ اَپنی طہارت کے دِن پُورے ہونے تک کسی مُقدّس چیز کو ہرگز نہ چھُوئے اَور نہ ہی پاک مَقدِس میں داخل ہو۔
LEV 12:5 اَور اگر وہ ایک لڑکی کو پیدا کرے تو وہ عورت دو ہفتوں تک ناپاک سَمجھی جائے گی جَیسا کہ حَیض کے ایّام کے دَوران ناپاک رہتی ہے۔ اَور پھر وہ طہارت کے خُون سے پاک ہونے کے لیٔے چھیاسٹھ دِن تک اِنتظار کرے۔
LEV 12:6 ” ’اَور جَب لڑکے یا لڑکی کے لیٔے اُس کی طہارت کے دِن پُورے ہو جایٔیں، تو وہ سوختنی نذر کے لیٔے یک سالہ برّہ اَور گُناہ کی قُربانی کے لیٔے کبُوتر کا ایک بچّہ یا ایک قُمری خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر کاہِنؔ کے پاس لایٔے۔
LEV 12:7 اَور کاہِنؔ اُن کو اُس عورت کا کفّارہ دینے کے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور میں قُربانی کرے۔ تَب وہ اَپنے جریان خُون سے رسماً پاک ہو جایٔےگی۔ ” ’یہ طریقہ ہر ایک عورت کے لیٔے ہے، چاہے وہ لڑکے کو یا لڑکی کو پیدا کرے۔
LEV 12:8 اگر وہ عورت ایک برّہ خریدنے کا مقدور نہ رکھتی ہو، تو وہ قُمریوں کا ایک جوڑا یا کبُوتر کے دو بچّے لایٔے، ایک سوختنی نذر کے لیٔے اَور دُوسرا گُناہ کی قُربانی کے لیٔے۔ اِس طرح کاہِنؔ اُس کے لیٔے کفّارہ دے گا، تو وہ پاک ہو جایٔےگی۔‘ “
LEV 13:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے فرمایا،
LEV 13:2 ”اگر کسی کی جِلد پر سُوجن، سُرخ دانے یا سفید چمکیلا داغ ہو اَور اُس سے جِلدی بیماری بڑھنے کا خطرہ ہو، تو اَیسے اِنسان کو لازماً اَہرونؔ کاہِنؔ کے پاس یا اُن کے بیٹوں میں سے جو کاہِنؔ ہیں، کسی کے پاس لے جائیں۔
LEV 13:3 اَور کاہِنؔ اُس جِلد کی متعدّی جگہ کا مُعائنہ کرے، اَور اگر اُس متعدّی جگہ کے بال سفید ہو گئے ہُوں اَور وَبا جِلد سے زِیادہ گہری دِکھائی دے تو، وہ یقیناً جِلد کی کویٔی بیماری ہے۔ اَور جَب کاہِنؔ اُس کا مُعائنہ کر چُکے تو وہ رسمی طور پر اُسے ناپاک ہونے کا اعلان کر دے۔
LEV 13:4 اَور اگر اُس کی جِلد پر سفید داغ تو ہو، لیکن وہ وَبا جِلد سے گہری نہ ہو، اَور اُس جگہ کے بال بھی سفید نہ ہویٔے ہُوں تو، کاہِنؔ اُس کوڑھ کی بیماری سے متاثر اِنسان کو سات دِن تک علیحدہ رکھے۔
LEV 13:5 اَور ساتویں دِن کاہِنؔ اُس کا مُعائنہ کرے اَور اگر وہ دیکھے کہ اُس زخم میں کویٔی تبدیلی نہیں ہُوئی اَور وہ جِلد پر نہیں پھیلا تو وہ اُس کو مزید سات دِن اَور علیحدگی میں رکھے۔
LEV 13:6 اَور ساتویں دِن کاہِنؔ پھر اُس کا مُعائنہ کرے اَور اگر اُس متعدّی جگہ کے داغ کا رنگ پھیکا پڑ گیا ہو اَور وہ جِلد کے اُوپر پھیلا بھی نہ ہو، تو کاہِنؔ اُسے پاک قرار دے کیونکہ وہ داغ محض سُرخ دانے ہیں۔ اِس لیٔے وہ اِنسان اَپنے کپڑے دھو ڈالے اَور پاک ہو جایٔے۔
LEV 13:7 لیکن اگر کاہِنؔ کے سامنے اُس مُعائنہ اَور اُسے پاک قرار دئیے جانے کے بعد بھی وہ سُرخ دانے جِلد پر پھیلنے لگے، تو وہ اِنسان خُود کو دوبارہ کاہِنؔ کو دِکھائے۔
LEV 13:8 اَور کاہِنؔ اُس کا مُعائنہ کرے اَور اگر وہ سُرخ دانے جِلد پر پھیل گئے ہُوں تو کاہِنؔ اُس اِنسان کو ناپاک قرار دے کیونکہ یہ ایک کوڑھ کی بیماری ہے۔
LEV 13:9 ”اگر کسی اِنسان کو کوڑھ کا مرض ہو تو وہ لازمی طور پر کاہِنؔ کے پاس لایا جائے۔
LEV 13:10 اَور کاہِنؔ اُس کا مُعائنہ کرے اَور اگر اُس کی جِلد میں سفید رنگ کی سُوجن ہو اَور اُس جگہ کے بال بھی سفید ہو گیٔے ہُوں اَور اُس سُوجن میں کھُلا زخم ہو،
LEV 13:11 تو یہ اُس اِنسان کی جِلد پر ایک پُرانا کوڑھ کا مرض ہے، لہٰذا کاہِنؔ اُس کو علیحدگی میں بند کرکے نہ رکھے بَلکہ اُسے فوراً ناپاک قرار دے، کیونکہ وہ بہت پہلے ہی ناپاک ہو چُکاہے۔
LEV 13:12 ”اَور اگر کوڑھ کی بیماری اُس کی تمام جِلد پر پھیل جائے اَور جہاں تک کاہِنؔ دیکھ سکے وہ متاثّرہ اِنسان کی ساری جِلد پر سَر سے لے کر پاؤں تک پھیلی ہو،
LEV 13:13 تو کاہِنؔ اُس اِنسان کی باریکی سے جانچ کرے اَور اُس کے پاک ہونے کا اعلان کرے کیونکہ متعدّی بیماری اُس شخص کے پُورے بَدن میں پھیل گئی ہے اَور اُس کا پُورا بَدن سفید ہو گیا ہے لہٰذا وہ شخص پاک ہے۔
LEV 13:14 لیکن اگر کاہِنؔ کو اُس کی جِلد پر کھُلا زخم دِکھائی دے، تو وہ ناپاک ہوگا۔
LEV 13:15 اَور جَب کاہِنؔ اُس کے کھُلے زخم کو غور سے دیکھے تو وہ اُس شخص کو ناپاک قرار دے۔ کیونکہ کھُلا زخم ناپاک ہے اَور یہ کوڑھ کی بیماری ہے۔
LEV 13:16 اَور اگر اُس کی جِلد کا کھُلا زخم دوبارہ سفید رنگ کا ہو جائے، تو وہ شخص کاہِنؔ کے پاس جائے،
LEV 13:17 اَور کاہِنؔ اُس کا باریکی سے مُعائنہ کرے اَور اگر وہ زخم سفید رنگ کا ہو گیا ہو، تو کاہِنؔ متاثّرہ شخص کو پاک قرار دے تَب وہ پاک ہوگا۔
LEV 13:18 ”اگر کسی کی جِلد پر کویٔی پھوڑا ہو گیا ہو اَور وہ ٹھیک ہو جائے،
LEV 13:19 اَور اُس پھوڑے کی جگہ پر سفید سُوجن یا سُرخی مائل چمکتا ہُوا سفید داغ دِکھائی دے تو وہ لازماً اَپنے آپ کو کاہِنؔ کے حُضُور پیش کرے۔
LEV 13:20 کاہِنؔ اُس کا باریکی سے مُعائنہ کرے اَور اگر وہ داغ جِلد سے گہرا دِکھائی دے اَور اُس پر بال سفید ہو گئے ہُوں تو کاہِنؔ اُس شخص کو ناپاک قرار دے کیونکہ یہ کوڑھ کا ایک متعدّی مرض ہے جِس کی شروعات پھوڑے سے ہُوئی ہے۔
LEV 13:21 لیکن اگر کاہِنؔ کے باریکی سے اُس وقت مُعائنہ کرنے کے دَوران اُس کی جِلد پر کویٔی سفید بال نہ ہو اَور وہ دانے جِلد سے گہرے نہ ہوں اَور اُس کا رنگ ہلکا پڑ گیا ہو، تو کاہِنؔ اُسے دُوسروں سے سات دِن تک علیحدہ رکھے۔
LEV 13:22 اَور اگر وہ جِلد پر زِیادہ پھیل رہا ہو، تو کاہِنؔ اُس شخص کو ناپاک قرار دے کیونکہ یہ ایک متعدّی مرض ہے۔
LEV 13:23 لیکن اگر اُس شخص کی جِلد پر سفید رنگ کا داغ تو ہے لیکن یہ جِلد میں پھیل نہیں رہاہے، تو یہ پھوڑے کے ٹھیک ہونے کا داغ ہے، تَب کاہِنؔ اُس شخص کو پاک قرار دے۔
LEV 13:24 ”جَب کسی کی جِلد آگ سے جَل گئی ہو اَور جلنے سے جِلد پر ایک سفید یا سُرخی مائل رنگ کا کھُلا زخمی داغ نظر آنے لگے،
LEV 13:25 تو کاہِنؔ اُس کا باریکی سے مُعائنہ کرے اَور اگر اُس داغ کے اَندر کے بال سفید ہو گئے ہُوں اَور وہ متعدّی مرض جِلد سے گہرا دِکھائی دے، تو یہ ایک قِسم کا کوڑھ ہے جو اُس جلنے کے داغ میں پھوٹ پڑا ہے لہٰذا کاہِنؔ اُس شخص کو ناپاک قرار دے کیونکہ اُسے کوڑھ کی بیماری ہو گئی ہے۔
LEV 13:26 لیکن اگر کاہِنؔ اُس کا باریکی سے مُعائنہ کرتا ہے اَور اُس داغ میں سفید بال نہیں پاتا اَور نہ وہ جِلد سے گہرا ہے اَور اُس کا رنگ بھی ہلکا پڑ گیا ہے، تو کاہِنؔ اُس شخص کو سات دِن کے لیٔے دُوسروں سے علیحدہ رکھے۔
LEV 13:27 اَور ساتویں دِن کاہِنؔ اُس کا دوبارہ مُعائنہ کرے اَور اگر اُس کا داغ جِلد پر پھیل رہا ہو تو کاہِنؔ اُس شخص کو ناپاک قرار دے۔ کیونکہ یہ کوڑھ کی بیماری ہے۔
LEV 13:28 اَور اگر اُس جِلد کے داغ میں کویٔی تبدیلی نہ ہُوئی ہو اَور وہ جِلد میں نہ پھیلا ہو اَور اُس کا رنگ ہلکا ہو گیا ہو، تو یہ محض سُوجن ہے جو جَل جانے کے باعث پیدا ہو گئی ہے۔ لہٰذا کاہِنؔ اُس شخص کو پاک قرار دے کیونکہ وہ محض جَل جانے کا داغ ہے۔
LEV 13:29 ”اَور اگر کسی مَرد یا عورت کے سَر یا داڑھی پر متعدّی مرض ہو،
LEV 13:30 تو کاہِنؔ اُس کا مُعائنہ کرے اَور اگر وہ داغ جِلد سے گہرا نظر آئے اَور اُس میں زرد اَور مہین رونگٹے دِکھائی دیں، تو کاہِنؔ اُس شخص کو ناپاک قرار دے۔ یہ کویٔی خارِش ہے اَور سَر اَور داڑھی کا کوڑھ ہے۔
LEV 13:31 لیکن اگر مُعائنہ کے وقت کاہِنؔ کو پتا چلے کہ وہ داغ جِلد سے گہرا نہیں ہے اَور نہ ہی اُس جگہ پر کویٔی کالا بال ہے، تو کاہِنؔ متاثّرہ شخص کو سات دِن کے لیٔے دُوسروں سے علیحدہ رکھے۔
LEV 13:32 ساتویں دِن کاہِنؔ اُس متعدّی مرض کا مُعائنہ کرے اَور اگر خارِش پھیلی نہ ہو اَور اُس جگہ پر کویٔی زرد بال نہ ہو اَور خارِش کے باعث متعدّی مرض جِلد سے گہرا نہیں ہے،
LEV 13:33 تو بیماری سے متاثّرہ حِصّہ کو چھوڑکر اُس کے بال ضروُر گنجے کر دئیے جایٔیں، اَور کاہِنؔ اُسے سات دِن اَور علیحدہ رکھے۔
LEV 13:34 پھر ساتویں دِن کاہِنؔ اُس خارِش کا مُعائنہ کرے اَور اگر خارِش جِلد میں پھیلی نہ ہو اَور نہ ہی جِلد سے گہری مَعلُوم ہو، تو کاہِنؔ اُسے پاک قرار دے؛ وہ شخص اَپنے کپڑے دھوئے اَور پاک ہو جائے۔
LEV 13:35 لیکن اگر پاک قرار دیئے جانے کے بعد اُس کی خارِش جِلد پر زِیادہ پھیل جائے،
LEV 13:36 تو کاہِنؔ اُس کا پھر مُعائنہ کرے اَور اگر وہ خارِش جِلد پر پھیل چُکی ہو تو کاہِنؔ کو زرد بال دیکھنے کی ضروُرت نہیں وہ شخص ناپاک ہے۔
LEV 13:37 اگر خارِش کا رنگ تبدیل نہیں ہُوا اَور اُس میں کالے بال اُگ آئے ہُوں تو وہ خارِش ٹھیک ہو گئی ہے۔ اَور وہ شخص پاک ہے اَور کاہِنؔ اُسے پاک قرار دے۔
LEV 13:38 ”اگر کسی مَرد یا عورت کی جِلد پر سفید چمکدار داغ نموُدار ہو جایٔیں،
LEV 13:39 تو کاہِنؔ اُن کا مُعائنہ کرے۔ اَور اگر جِلد پر وہ چمکدار داغ ہلکے سفید رنگ کے ہُوں تو وہ مَعمولی کھُجلی ہے جو جِلد پر پھوٹ پڑی ہے۔ وہ شخص پاک ہے۔
LEV 13:40 ”اگر کسی شخص کے سَر کے بال جھڑ گیٔے ہُوں اَور وہ گنجا ہو گیا ہو، تو وہ رسمی طور پر پاک ہے۔
LEV 13:41 اَور اگر اُس کے سَر کے سامنے پیشانی کے اَور سَر کے دونوں طرف کے بال جھڑ چُکے ہُوں اَور اُس کی پیشانی گنجی ہو گئی ہو، تو وہ شخص پاک ہے۔
LEV 13:42 لیکن اگر اُس کے گنجے سَر یا پیشانی پر سُرخی مائل سفید رنگ کا داغ ہو تو وہ جِلد کا ایک متعدّی مرض ہے، یہ کوڑھ ہے جو اُس کے سَر یا پیشانی پر پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔
LEV 13:43 لہٰذا کاہِنؔ اُس کا مُعائنہ کرے اَور اگر اُس کے سَر یا پیشانی کا داغ سُوجا ہُوا ہو اَور اُس کا رنگ کوڑھ کی طرح سُرخی مائل سفید ہو،
LEV 13:44 تو وہ شخص کوڑھ کی بیماری میں مُبتلا ہے اَور ناپاک ہے۔ اِس لیٔے کاہِنؔ اُس شخص کو سَر کے داغ کی وجہ سے ناپاک قرار دے۔
LEV 13:45 ”اِس قِسم کے متعدّی مرض مثلاً کوڑھ میں مُبتلا شخص کے لیٔے لازِم ہے کہ وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے اَور اُس کے بال بکھرے ہویٔے ہُوں اَور وہ اَپنے چہرے کے نِچلے حِصّہ کو ڈھانکے اَور چِلّا چِلّا‏‏‏‏کر کہے، ’ناپاک! ناپاک!‘
LEV 13:46 جَب تک وہ اَیسے متعدّی مرض میں مُبتلا رہے گا وہ ناپاک سمجھا جائے گا۔ اِس لیٔے لازِم ہے کہ وہ تنہا رہے اَور چھاؤنی کے باہر زندگی گزارے۔
LEV 13:47 ”اگر کسی کپڑے میں کوڑھ کی پَھپھُوندی لگ جائے، تو خواہ وہ اُونی ہو یا سُوتی،
LEV 13:48 اَور خواہ وہ سُوت یا اُون سے بُنا ہُوا ہو یا وہ چمڑا ہو یا چمڑے سے بنایا گیا ہو،
LEV 13:49 اَور اگر یہ متعدّی مرض کپڑے یا چمڑے سے بنی کسی چیز میں یا کپڑے کے تانے یا بانے میں ہو جِس کا رنگ ہرا یا سُرخی مائل ہو تو یہ پھیلنے والے کوڑھ کی پھپھُوندی ہے اَور یہ کاہِنؔ کو ضروُر دِکھائی جائے۔
LEV 13:50 تَب کاہِنؔ اُس پھپھُوندی کا مُعائنہ کرے اَور اُس سے آلُودہ اَشیا کو سات دِن تک علیحدہ رکھے۔
LEV 13:51 اَور ساتویں دِن وہ اُس کا پھر سے مُعائنہ کرے اَور اگر وہ متعدّی پھپھُوندی کپڑے کے تانے بانے میں یا چمڑے کی بنی ہُوئی کسی چیز پر زِیادہ پھیل چُکی ہو، تو وہ کپڑا اَور چمڑے کی بنی ہُوئی چیز سَب نُقصان دہ پھپھُوندی سے مُبتلا ہے اَور ناپاک ہے۔
LEV 13:52 لہٰذا وہ سُوتی یا اُونی یا بُنے ہویٔے کپڑے کو یا چمڑے کی چیز کو جِس پر وہ پھپھُوندی پھیلی ہُوئی ہو ضروُر جَلا دے اَور چونکہ وہ نُقصان دہ پھپھُوندی ہے اِس لیٔے اُس سے متاثّرہ تمام اَشیا ضروُر جَلا دی جایٔیں۔
LEV 13:53 ”لیکن اگر کاہِنؔ کے مُعائنہ کرتے وقت وہ پھپھُوندی سُوت سے بُنے ہویٔے یا بُنے ہویٔے کپڑے میں یا چمڑے کی بنی ہُوئی کسی شَے میں پھیلی نہ ہو
LEV 13:54 تو کاہِنؔ حُکم دے کہ اُس متعدّی کپڑے کو دھو لیا جائے۔ تَب وہ اُس کو اَور سات دِن تک علیحدہ رکھے۔
LEV 13:55 جَب متاثّرہ چیز دھوئی جا چُکی ہو تو کاہِنؔ اُس کا دوبارہ مُعائنہ کرے اَور چاہے پھپھُوندی کے رنگ میں تبدیلی نہ ہُوئی ہو اَور نہ ہی وہ زِیادہ پھیلی ہو، تو بھی وہ ناپاک ہی ہے۔ اُسے آگ میں جَلا دیا جائے چاہے پھپھُوندی کپڑے کے اَندر یا باہر کی طرف نُقصان پہُنچائی ہو۔
LEV 13:56 اَور اگر کاہِنؔ اُس کا مُعائنہ کرے اَور اُسے یہ مَعلُوم چلے کہ کپڑے کو دھونے کے بعد پھپھُوندی کا رنگ ہلکا پڑ گیا ہے، تو وہ اُس کپڑے یا چمڑے کے یا اُس کے تانے بانے کے آلُودہ حِصّہ کو پھاڑ کر الگ کر دے۔
LEV 13:57 لیکن اگر وہ پھپھُوندی اُس کپڑے میں یا اُس سے بنی ہُوئی کسی بُنی ہُوئی چیز میں یا چمڑے کی کسی چیز میں پھر سے نموُدار ہو تو گویا وہ اُس میں پھیل رہی ہے لہٰذا لازِم ہے کہ اُس متعدّی پھپھُوندی سے متاثر چیز کو آگ میں جَلا دیا جائے۔
LEV 13:58 اَور اگر اُس کپڑے یا کپڑے سے بنی ہُوئی یا بُنی ہُوئی یا چمڑے کی بنی ہُوئی کسی چیز کو دھونے کے بعد اُس کی پھپھُوندی جاتی رہے تو اُسے پھر سے دھویا جائے اَور تَب وہ پاک سَمجھی جائے گی۔“
LEV 13:59 اُونی یا سُوتی کپڑے، سُوت یا اُون سے بُنے ہویٔے لباس یا چمڑے کی بنی ہُوئی کسی چیز میں کوڑھ کی متعدّی لگی ہو، تو اُسے پاک یا ناپاک قرار دینے کے ضوابط یہی ہیں۔
LEV 14:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 14:2 ”کسی کوڑھی کے پاک قرار ٹھہرانے کی رسمی طہارت کے ضوابط یہ ہیں، جَب اُسے کاہِنؔ کے پاس لایا جائے:
LEV 14:3 کاہِنؔ چھاؤنی کے باہر جا کر اُس کا مُعائنہ کرے۔ اَور اگر وہ شخص اَپنی کوڑھ کی بیماری سے شفایاب ہو چُکاہے،
LEV 14:4 تو کاہِنؔ حُکم دے کہ پاک قرار دئیے جانے والے کے لیٔے دو زندہ پاک پرندے اَور دیودار کی لکڑی اَور قِرمزی رنگ کا سُوت اَور زُوفا لایا جائے۔
LEV 14:5 پھر کاہِنؔ بہتے ہویٔے پانی کے اُوپر مٹّی کے ایک برتن میں اُن دونوں پرندوں میں سے ایک پرندے کو ذبح کرنے کا حُکم دے۔
LEV 14:6 پھر وہ دُوسرے زندہ پرندہ کو دیودار کی لکڑی اَور قِرمزی سُوت اَور زُوفا ساتھ لے کر اُنہیں اَور اُس زندہ پرندہ کو اُس پرندہ کے خُون میں ڈُبو دے جسے بہتے ہویٔے پانی کے اُوپر ذبح کیا گیا تھا۔
LEV 14:7 اَور کاہِنؔ اُس پرندہ کے خُون کو سات بار اُس شخص پر چھڑک دے، جو کوڑھ سے پاک و صَاف قرار دیا جا رہاہے، پھر کاہِنؔ اُس شخص کو پاک و صَاف قرار دے اَور اُس زندہ پرندہ کو کھُلے میدان میں چھوڑ دے۔
LEV 14:8 ”پھر اُس پاک و صَاف قرار دئیے جانے والے شخص کے لیٔے لازِم ہے کہ وہ اَپنے کپڑے دھوئے اَپنے سارے بال مُنڈوائے اَور پانی سے غُسل کرے، تَب وہ رسماً پاک سمجھا جائے گا۔ اِس کے بعد ہی وہ چھاؤنی میں آسکتا ہے، لیکن ضروُری ہے کہ وہ سات دِن تک اَپنے خیمہ سے باہر ہی ٹھہرے۔
LEV 14:9 اَور ساتویں دِن وہ اَپنے سَر کے بال، داڑھی، اَبرو اَور سارے بال ضروُر مُنڈوا لے؛ لازِم ہے کہ وہ اَپنے کپڑے دھوئے اَور پانی سے غُسل کرے۔ تَب وہ پاک ہوگا۔
LEV 14:10 ”اَور آٹھویں دِن وہ دو بے عیب نر برّے اَور ایک ایک سالہ بے عیب مادہ برّہ اَور اناج کی نذر کے لیٔے پانچ کِلو کے برابر تیل مِلا ہُوا مَیدہ اَور ایک تہائی لیٹر تیل لے۔
LEV 14:11 پھر جو کاہِنؔ اُس شخص کو پاک قرار ہونے کا اعلان کر رہاہے، وہ خیمہ اِجتماع کے مدخل پر اُس شخص کو اَور اِن چیزوں کو یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرے۔
LEV 14:12 ”پھر کاہِنؔ ایک نر برّہ اَور ایک تہائی لیٹر تیل کو خطا کی قُربانی کے واسطے اَور ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرے۔
LEV 14:13 اِس کے بعد کاہِنؔ اُس نر برّہ کو اُس پاک مَقدِس میں ذبح کرے، جہاں گُناہ کی قُربانی اَور سوختنی نذر کے جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے؛ کیونکہ گُناہ کی قُربانی، خطا کی قُربانی کے مانند کاہِنؔ کا مُقرّر حِصّہ ہے؛ اَور یہ نہایت ہی مُقدّس ہے۔
LEV 14:14 اَور کاہِنؔ اُس خطا کی قُربانی کا کچھ خُون لے کر پاک قرار دئیے جانے والے شخص کے داہنے کان کی لَو پر، داہنے ہاتھ کے انگُوٹھے پر اَور داہنے پاؤں کے انگُوٹھے پر لگائے۔
LEV 14:15 اِس کے بعد کاہِنؔ اُس ایک تہائی لیٹر تیل میں سے کچھ تیل لے کر اَپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر اُنڈیل دے،
LEV 14:16 پھر کاہِنؔ اَپنے داہنی ہاتھ کی اُنگشتِ شہادت کو اَپنی بائیں ہتھیلی میں رکھے ہُوئے تیل میں ڈبوئے اَور اَپنی اُنگلی سے اُس تیل کو سات بار یَاہوِہ کے حُضُور چھڑکے۔
LEV 14:17 اَور کاہِنؔ اَپنی ہتھیلی کے باقی بچے ہویٔے تیل میں سے کچھ پاک قرار دیئے جانے والے کے داہنے کان کی لَو پر، اُس کے داہنے ہاتھ کے انگُوٹھے پر اَور اُس کے داہنے پاؤں کے انگُوٹھے پر لگا دے، جِن پر خطا کی قُربانی کا خُون لگا ہُواہے۔
LEV 14:18 اَور کاہِنؔ اَپنی ہتھیلی کے باقی بچے ہویٔے تیل کو پاک قرار دئیے جانے والے شخص کے سَر پر بھی لگا دے اَور یَاہوِہ کے حُضُور اُس کے لیٔے کفّارہ دے۔
LEV 14:19 ”اَور پھر کاہِنؔ گُناہ کی قُربانی پیش کرنے اَور ناپاکی سے پاک قرار دیئے جانے والے کے لیٔے کفّارہ دے۔ اُس کے بعد کاہِنؔ سوختنی نذر کے جانور کو ذبح کرے۔
LEV 14:20 اَور کاہِنؔ اُسے سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی کے ہمراہ مذبح پر چڑھا کر کفّارہ دے اَور وہ پاک ٹھہرے گا۔
LEV 14:21 ”لیکن اگر وہ شخص غریب ہو اَور اُسے اِتنا مقدور نہ ہو تو وہ اَپنا کفّارہ دینے کی خاطِر ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر خطا کی قُربانی کے واسطے ایک نر برّہ اَور اناج کی نذر کے واسطے تیل مِلا ہُوا ڈیڑھ کِلو مَیدہ اَور ایک تہائی لیٹر تیل،
LEV 14:22 اَور اَپنے مقدور کے مُطابق دو قُمریاں یا کبُوتر کے دو بچّے، جِن میں سے ایک گُناہ کی قُربانی کے لیٔے اَور دُوسرا سوختنی نذر کے لیٔے لے آئے۔
LEV 14:23 ”آٹھویں دِن وہ اُنہیں اَپنے پاک قرار دئیے جانے کے لیٔے خیمہ اِجتماع کے مدخل پر یَاہوِہ کے حُضُور کاہِنؔ کے پاس لایٔے۔
LEV 14:24 اَور کاہِنؔ خطا کی قُربانی کے اُس برّہ کو اَور ایک تہائی لیٹر تیل کو لے کر یَاہوِہ کے حُضُور ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر گزرانے۔
LEV 14:25 پھر کاہِنؔ خطا کی قُربانی کے لیٔے برّہ کو ذبح کرے اَور اُس کا کچھ خُون لے کر پاک قرار دئیے جانے والے شخص کے داہنے کان کی لَو پر، اُس کے داہنے ہاتھ کے انگُوٹھے پر اَور داہنے پاؤں کے انگُوٹھے پر لگائے۔
LEV 14:26 اَور کاہِنؔ اُس تیل میں سے کچھ تیل کو اَپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں اُنڈیلے،
LEV 14:27 اَور کاہِنؔ اَپنے داہنے ہاتھ کی اُنگشتِ شہادت سے اَپنی بائیں ہتھیلی میں رکھے تیل میں سے کچھ تیل کو سات بار یَاہوِہ کے حُضُور چھڑکے۔
LEV 14:28 پھر کاہِنؔ اَپنی ہتھیلی کے تیل میں سے کچھ تیل وہ اُن جگہوں پر لگائے جہاں اُس نے خطا کی قُربانی کا خُون لگایا تھا یعنی پاک قرار دیئے جانے والے کے داہنے کان کی لَو پر، داہنے ہاتھ کے انگُوٹھے پر اَور داہنے پاؤں کے انگُوٹھے پر لگا دے۔
LEV 14:29 اَور کاہِنؔ اَپنی ہتھیلی کے باقی تیل کو پاک قرار دئیے جانے والے شخص کے سَر پر لگا دے تاکہ کاہِنؔ یَاہوِہ کے حُضُور اُس کے لیٔے کفّارہ دے۔
LEV 14:30 پھر وہ قُمریوں یا کبُوتر کے بچّوں میں سے ایک ایک جنہیں وہ لا سَکا ہو، اُن کی قُربانی پیش کرے۔
LEV 14:31 یعنی جو کُچھ اُسے مُیسّر ہُوا ہو، اُس میں سے اناج کی نذر کے ساتھ، ایک گُناہ کی قُربانی کے طور پر اَور ایک سوختنی نذر کے طور پر پیش کرے۔ اِس طرح کاہِنؔ پاک قرار دئیے جانے والے شخص کے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور میں کفّارہ دے۔“
LEV 14:32 یہ اُس شخص کے لیٔے طریقہ ہے جو کوڑھ کی متعدّی بیماری میں مُبتلا ہے اَور اَپنے پاک ہونے کے لیٔے باقاعدہ نذر مُہیّا نہیں کر سَکتا ہے۔
LEV 14:33 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے فرمایا،
LEV 14:34 ”جَب تُم مُلکِ کنعانؔ میں داخل ہو، جسے میں تُمہیں تمہاری مِلکیّت کے طور پر دے رہا ہُوں، اَور مَیں اُس مُلک میں کسی گھر میں متعدّی پھپھُوندی پیدا کروں،
LEV 14:35 تو لازِم ہوگا کہ اُس گھر کا مالک جا کر کاہِنؔ کو بتائے، ’مَیں نے اَپنے گھر میں متعدّی پھپھُوندی جَیسی کویٔی چیز دیکھی ہے۔‘
LEV 14:36 تو کاہِنؔ اُس گھر کا مُعائنہ کرنے سے پیشتر حُکم دے کہ وہ اُس پھپھُوندی والے گھر کو خالی کر دیں تاکہ اُس گھر کی کویٔی چیز ناپاک نہ ٹھہرائی جائے۔ اِس کے بعد کاہِنؔ جا کر اُس گھر کا مُعائنہ کرے۔
LEV 14:37 اَور کاہِنؔ دیواروں پر اُس پھپھُوندی کا مُعائنہ کرے، اَور اگر وہ ہری یا سُرخی مائل لکیروں کی طرح ہو، جو دیوار میں سطح کے اَندر گہری دِکھائی دے،
LEV 14:38 تو کاہِنؔ اُس گھر کے دروازہ سے باہر جائے اَور سات دِن کے لیٔے اُسے بند کر دے۔
LEV 14:39 اَور ساتویں دِن کاہِنؔ اُس گھر کا دوبارہ مُعائنہ کرے۔ اَور اگر وہ پھپھُوندی دیواروں پر پھیل گئی ہو،
LEV 14:40 تو کاہِنؔ حُکم دے کہ پھپھُوندی سے متاثّرہ پتّھروں کو نکال کر شہر سے باہر کسی ملبے کے ڈھیر میں پھینک دئیے جایٔیں۔
LEV 14:41 اَور اِس کے بعد کاہِنؔ حُکم دے کہ گھر کی تمام اَندرونی دیواریں کھُرچی جایٔیں اَور کھُرچن کو شہر سے باہر کسی ملبے کے ڈھیر پر پھینک دئیے جایٔیں۔
LEV 14:42 پھر وہ اُن پتّھروں کی جگہ دُوسرے پتّھر لگائیں اَور تازہ گارے سے اُس گھر کا پلستر کریں۔
LEV 14:43 ”اَور اگر وہ پھپھُوندی اُس گھر میں پتّھر نکالنے، کھُرچنے اَور پلستر کرنے کے بعد بھی دوبارہ نموُدار ہو جایٔے،
LEV 14:44 تو کاہِنؔ اَندر جا کر اُس کا مُعائنہ کرے اَور اگر وہ پھپھُوندی اُس گھر میں پھیل گئی ہو تو وہ متعدّی پھپھُوندی ہے اَور وہ گھر ناپاک ہے۔
LEV 14:45 چنانچہ اُس گھر کو ضروُر گرا دیاجایٔے، وہ اُس کے پتّھر، لکڑیاں اَور اُس کے پلستر کو شہر سے باہر کسی ملبے کے ڈھیر پر پھینک دے۔
LEV 14:46 ”اَور اِس کے علاوہ، اگر کویٔی شخص اُس وقت بند کئے ہویٔے گھر میں داخل ہو، تو وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 14:47 اِسی طرح اگر کویٔی شخص اُس گھر میں سوئے یا کچھ کھائے تو وہ اَپنے کپڑے ضروُر دھولے۔
LEV 14:48 ”لیکن اگر کاہِنؔ اُس کا مُعائنہ کرے اَور دیکھے کہ اُس گھر کا پلستر کرنے کے بعد دوبارہ پھپھُوندی نہیں پھیلی ہے، تو وہ اُس گھر کو پاک ٹھہرائے کیونکہ پھپھُوندی ختم ہو چُکی ہے۔
LEV 14:49 تَب کاہِنؔ اُس گھر کو پاک کرنے کے لیٔے دو پرندے، دیودار کی لکڑی، سُرخ دھاگے اَور زُوفا لے کر،
LEV 14:50 اُن پرندوں میں سے ایک کو بہتے پانی پر مٹّی کے کسی برتن میں ذبح کرے۔
LEV 14:51 اِس کے بعد وہ دیودار کی اُس لکڑی، زُوفا، سُرخ دھاگے اَور اُس زندہ پرندہ کو لے کر اُن کو اُس مُردہ پرندہ کے خُون اَور بہتے پانی میں ڈُبو کر سات بار اُس گھر میں چھڑکے۔
LEV 14:52 اِس طرح وہ اُس گھر کی طہارت اُس پرندہ کے خُون، اَور بہتے ہویٔے پانی، اُس زندہ پرندہ، دیودار کی لکڑی، زُوفا اَور اُس سُرخ دھاگے سے کرے۔
LEV 14:53 پھر وہ اُس زندہ پرندہ کو شہر کے باہر کھُلے میدان میں چھوڑ دے۔ اِس طریقہ سے وہ اُس گھر کے لیٔے کفّارہ دے اَور وہ گھر پاک ٹھہرے گا۔“
LEV 14:54 جِلد کی ہر قِسم کی کوڑھ جَیسی بیماری کے لیٔے یہی ضوابط ہیں: خارِش کے لیٔے،
LEV 14:55 کپڑوں یا گھر میں لگنے والی متعدّی پھپھُوندی کے لیٔے،
LEV 14:56 سُوجن، دانے یا چمکیلے داغ کے لیٔے،
LEV 14:57 اَور یہ فیصلہ کرنے کے لیٔے کہ کب کویٔی چیز پاک یا ناپاک ہے۔ جِلد کی متعدّی بیماریوں اَور متعدّی پھپھُوندی کے لیٔے یہی ضوابط ہیں۔
LEV 15:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے فرمایا،
LEV 15:2 ”بنی اِسرائیل سے کلام کرو اَور اُن سے کہو: ’اگر کویٔی شخص غَیر مَعمولی جِسمانی جریان میں مُبتلا ہو تو وہ جریان ناپاک ہے۔
LEV 15:3 خواہ یہ اُس کے جِسم سے بہتا رہتا ہو یا بندہو گیا ہو، یہ اُس کی ناپاکی کا باعث ہوگا۔ اُس کا جریان ناپاکی کا باعث اِس طرح ہوگا:
LEV 15:4 ” ’جِس بِستر پر جریان کا مریض لیٹے گا وہ بِستر ناپاک ہوگا اَور جِس چیز پر وہ بیٹھے گا وہ چیز ناپاک ہوگی۔
LEV 15:5 اَورجو کویٔی اُس کے بِستر کو چھُوئے اُسے لازِم ہے کہ وہ اَپنے کپڑے دھوکر پانی سے غُسل کرے اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 15:6 اَورجو کویٔی اُس چیز پر بیٹھے جِس پر جریان کا مریض بیٹھا تھا، تو وہ ضروُر اَپنے کپڑے دھوکر پانی سے غُسل کرے اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 15:7 ” ’اَورجو کویٔی جریان کے مریض کو چھُوئے وہ اَپنے کپڑے دھوکر پانی سے غُسل کرے اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 15:8 ” ’اَور اگر جریان کا مریض کسی دُوسرے شخص پرجو پاک ہو تھُوک دے، تو وہ پاک شخص ضروُر اَپنے کپڑے دھوکر پانی سے غُسل کرے اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 15:9 ” ’ہر ایک زین، جِس پر جریان کا مریض سواری کرتا ہے، وہ زین ناپاک ہو جائے گی۔
LEV 15:10 اگر کویٔی شخص اُن چیزوں میں سے کسی چیز کو چھُوئے گا، جِس پر جریان کا مریض بیٹھا ہو، تو وہ شام تک ناپاک رہے گا۔ اَورجو کویٔی اُن چیزوں کو اُٹھاتا ہے وہ ضروُر اَپنے کپڑے دھوکر پانی سے غُسل کرے، اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 15:11 ” ’اَور جریان کا مریض اَپنے ہاتھ دھوئے بغیر جِس کسی کو چھُوئے، تو وہ شخص ضروُر اَپنے کپڑے دھوکر پانی سے غُسل کرے اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 15:12 ” ’اَور اگر جریان کا مریض کسی مٹّی کے برتن کو چھُوئے، تو اُس برتن کو ضروُر توڑ دیا جائے لیکن اگر برتن لکڑی کا ہو، تو اُسے پانی سے دھو لیا جائے۔
LEV 15:13 ” ’اَور جَب کویٔی مریض جریان سے شفایاب ہو جائے، تو وہ رسماً پاک ٹھہرنے کے لیٔے سات دِن گنے؛ تَب وہ اَپنے کپڑے دھوئے اَور بہتے ہویٔے پانی میں غُسل کرے، تَب وہ پاک ہو جایٔےگا۔
LEV 15:14 اَور آٹھویں دِن وہ اَپنے لیٔے دو قُمریاں یا کبُوتر کے دو بچّے لے کر خیمہ اِجتماع کے مدخل پر یَاہوِہ کے حُضُور آئے اَور اُنہیں کاہِنؔ کے حوالہ کرے۔
LEV 15:15 کاہِنؔ اُن میں سے ایک کو گُناہ کی قُربانی کے طور پر اَور دُوسرے کو سوختنی نذر کے طور پر گذرانے۔ یُوں کاہِنؔ یَاہوِہ کے حُضُور اُس شخص کے لیٔے اُس کے جریان کے سبب سے کفّارہ دے۔
LEV 15:16 ” ’اگر کسی مَرد کا نطفہ خارج ہو جایٔے، تو اُسے لازِم ہے کہ وہ پانی سے غُسل کرے اَور شام تک وہ ناپاک رہے گا۔
LEV 15:17 اَور جِس کپڑے یا چمڑے پر نطفہ گِر جایٔے، لازماً اُسے پانی سے دھویا جائے اَور وہ چیز شام تک ناپاک رہے گی۔
LEV 15:18 اَور جَب کویٔی مَرد عورت سے ہم بِستر ہو اَور اُس کا نطفہ خارج ہو جائے، تو وہ دونوں پانی سے غُسل کریں اَور شام تک ناپاک رہیں گے۔
LEV 15:19 ” ’جَب کسی عورت کو حَیض کا خُون جاری ہو جائے، تو وہ عورت سات دِن تک ناپاک رہے گی اَورجو کویٔی اُسے چھُوئے گا، وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 15:20 ” ’اَور حَیض کے دِنوں میں جِس چیز پر بھی وہ لیٹے گی اَور بیٹھے گی وہ ناپاک ہو جائے گی۔
LEV 15:21 لہٰذا جو کویٔی اُس کے بِستر کو چھُوئے، وہ اَپنے کپڑے دھوکر پانی سے غُسل کرے۔ اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 15:22 اَورجو کویٔی اُس چیز کو چھُولے جِس پر وہ بیٹھتی ہو، تو وہ اَپنے کپڑے دھوکر پانی سے غُسل کرے۔ اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 15:23 اَور جِس چیز پر وہ بیٹھی ہو خواہ وہ اُس کا بِستر ہو یا کویٔی اَور چیز، اگر کویٔی اُسے چھُوئے گا، تو وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 15:24 ” ’اگر کویٔی مَرد اُس کے ساتھ ہم بِستر ہو، اَور حَیض کا خُون اُسے لگ جائے تو وہ سات دِن تک ناپاک رہے گا، اَور جِس بِستر پر وہ لیٹے گا وہ بھی ناپاک ہو جائے گا۔
LEV 15:25 ” ’اَور اگر کسی عورت کو حَیض کے دِنوں کے علاوہ یا حَیض کی مُدّت کے بعد بھی بہت دِنوں تک خُون جاری رہے تو وہ خُون جاری رہنے تک ناپاک رہے گی جَیسی حَیض کے دِنوں میں رہتی ہے۔
LEV 15:26 اَور جریان خُون کے دَوران جِس بِستر پر وہ لیٹے گی تو وہ اُسی طرح ناپاک ہوگا جِس طرح اُس کا بِستر حَیض کے دِنوں میں ناپاک ہوتاہے۔ اَور جِس چیز پر وہ بیٹھے گی وہ بھی حَیض کے دِنوں کی ناپاکی کی طرح ناپاک ہوگی۔
LEV 15:27 اَورجو کویٔی اُن چیزوں کو چھُوئے گا وہ ناپاک ہو جائے گی؛ لہٰذا وہ اَپنے کپڑے ضروُر دھوکر پانی سے غُسل کرے۔ اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
LEV 15:28 ” ’اَور جَب وہ عورت اَپنے جریان خُون سے شفایاب ہو جایٔے، تو وہ اَپنے پاک ہونے کے لیٔے سات دِن گنے، اَور اُس کے بعد وہ رسماً پاک ہو جایٔےگی۔
LEV 15:29 اَور آٹھویں دِن لازِم ہے کی وہ اَپنے لیٔے دو قُمریاں یا کبُوتر کے دو بچّے لے کر اُنہیں خیمہ اِجتماع کے مدخل پر کاہِنؔ کے پاس لایٔے۔
LEV 15:30 اَور کاہِنؔ اُن میں سے ایک کو گُناہ کی قُربانی کے لیٔے اَور دُوسرے کو سوختنی نذر کے لیٔے گذرانے۔ اَور یُوں کاہِنؔ اُس کے ناپاک خُون کے جریان کے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور اُس کی طرف سے کفّارہ دے۔‘
LEV 15:31 ” ’اِس طرح تُم بنی اِسرائیل کو اُن کی ناپاکی سے ہمیشہ دُور رکھوگے، تاکہ وہ میری قِیام گاہ کو جو اُن کے درمیان ہے، ناپاک کرنے کی وجہ سے اَپنی ناپاکی میں ہلاک نہ ہوں۔‘ “
LEV 15:32 یہ ضوابط اُس مَرد کے لیٔے ہیں جو نطفہ خارج ہونے کا مریض ہے اَور جِس کا نطفہ خارج ہو رہاہے جِس کی باعث وہ ناپاک ہو گیا ہے،
LEV 15:33 اَور اُس عورت کے لیٔے بھی، جسے حَیض آ رہا ہو، اَور اُس مَرد یا عورت کے لیٔے بھی جو جریان میں مُبتلا ہُوں اَور اُس مَرد کے لیٔے بھی جو رسمی طور پر ناپاک عورت سے ہم بِستر ہو رہاہے۔
LEV 16:1 اَہرونؔ کے دونوں بیٹوں کی وفات کے بعد، یَاہوِہ مَوشہ سے ہم کلام ہُوئے، کیونکہ اُن کے دونوں بیٹے یَاہوِہ کی حُضُوری میں پاک ترین مقام میں داخل ہوکر مَر گیٔے تھے۔
LEV 16:2 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا: ”اَپنے بھایٔی اَہرونؔ کو حُکم دو جَب دِل چاہے تَب پردہ کے پیچھے پاک ترین مقام میں کفّارہ کے سرپوش کے سامنے جو عہد کے صندُوق پر ہے نہ آیا کرے ورنہ وہ مَر جائے گا۔ کیونکہ مَیں کفّارہ کے سرپوش کے اُوپر بادل میں ظاہر ہوتا ہُوں۔
LEV 16:3 ”اِن قوانین پر عَمل کرنے کے بعد ہی اَہرونؔ پاک ترین مقام میں اِس طرح داخل ہُوں، وہ گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک جَوان بچھڑا اَور سوختنی نذر کے لیٔے ایک مینڈھا ساتھ ضروُر لائیں۔
LEV 16:4 وہ کتان کا مُقدّس کُرتہ پہنے اَور کتان کا لباس اَور اَپنے نیچے پاجامہ پہنے ہو؛ اَور کتان کے پٹکے سے اُس کی کمر بندھی ہو، اَور اُس کے سَر پر کتان کا عمامہ بندھا ہو؛ یہ مُقدّس لباس ہیں لہٰذا وہ اُنہیں پہننے سے پیشتر پانی سے غُسل کرے۔
LEV 16:5 اَور وہ اِسرائیلی جماعت سے گُناہ کی قُربانی کے لیٔے دو بکرے اَور سوختنی نذر کے لیٔے ایک مینڈھا لے۔
LEV 16:6 ”اَور اَہرونؔ خُود اَپنی اَور اَپنے گھرانے کی خاطِر گُناہ کی قُربانی کے لیٔے اُس بچھڑے کو پیش کرے تاکہ اُس کے لیٔے اَور اُس کے گھرانے کے لیٔے کفّارہ اَدا ہو۔
LEV 16:7 پھر وہ اُن دونوں بکروں کو لے کر خیمہ اِجتماع کے مدخل پر یَاہوِہ کے حُضُور میں کھڑا کرے۔
LEV 16:8 اَور اَہرونؔ اُن دونوں بکروں پر قُرعہ ڈالیں ایک قُرعہ یَاہوِہ کے لیٔے اَور دُوسرا قُرعہ عزازیلؔ کے لیٔے۔
LEV 16:9 اَور اَہرونؔ اُس بکرے کو جِس پر یَاہوِہ کے نام کا قُرعہ نِکلا تھا، اُسے گُناہ کی قُربانی کے لیٔے گذرانے۔
LEV 16:10 لیکن جِس بکرے پر عزازیلؔ کے نام کا قُرعہ نِکلا تھا، اُسے زندہ ہی یَاہوِہ کے حُضُور میں کفّارہ اَدا کرنے کے لیٔے پیش کیا جا سکے اَور وہ بیابان میں عزازیلؔ کے لیٔے چھوڑ دیاجایٔے۔
LEV 16:11 ”اَور اَہرونؔ خُود اَپنے گُناہ کی قُربانی کے لیٔے اُس بچھڑے کو لایٔے تاکہ اَپنے اَور اَپنے گھرانے کے لیٔے کفّارہ دے اَور وہ اَپنے گُناہ کی قُربانی کے لیٔے اُس بچھڑے کو ذبح کرے۔
LEV 16:12 اَور وہ ایک بخُوردان لے جِس میں یَاہوِہ کے مذبح پر کے آگ کے اَنگارے بھرے ہُوں اَور اَپنی دونوں مُٹھّیوں میں مہین پِسا ہُوا خُوشبودار بخُور لے کر اُسے پردہ کے اَندر لائے،
LEV 16:13 اَور وہ اُس بخُور کو یَاہوِہ کے حُضُور آگ میں ڈال دے تاکہ اُس بخُور کا دُھواں کفّارہ کے سرپوش کو جو شہادت کے صندُوق کے اُوپر ہے چھُپا لے کہ وہ ہلاک نہ ہو۔
LEV 16:14 پھر وہ اُس بچھڑے کا کچھ خُون لے کر اُسے اَپنی اُنگلی سے اُسے مشرقی سمت کی طرف کفّارہ کے سرپوش کے سامنے چھڑکے اَور پھر اُس خُون میں سے کچھ وہ اَپنی اُنگلی سے سات بار کفّارہ کے سرپوش کے آگے چھڑکے۔
LEV 16:15 ”پھر وہ گُناہ کی قُربانی کے بکرے کو ذبح کرے جو اُمّت کے لیٔے ہے اَور اُس کے خُون کو پردہ کے اَندر لے جا کر اُس سے بھی وُہی کرے جو اُس نے بچھڑے کے خُون کے ساتھ کیا تھا؛ وہ اُسے کفّارہ کے سرپوش کے اُوپر اَور اُس کے سامنے چھڑک دے۔
LEV 16:16 اِس طرح وہ بنی اِسرائیل کی ساری ناپاکی، بغاوت اَور گُناہوں کے سبب سے پاک ترین مقام کے لیٔے کفّارہ دے؛ اَور اَیسا ہی وہ خیمہ اِجتماع کے لیٔے بھی کرے جو اُن کے ساتھ اُن کی ناپاکی کے درمیان رہتاہے۔
LEV 16:17 اَور جَب اَہرونؔ کفّارہ دینے کو پاک ترین مقام کے اَندر جایٔیں تو جَب تک وہ اَپنے اَور اَپنے گھرانے اَور بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کے لیٔے کفّارہ دے کر باہر نہ آ جایٔیں اُس وقت تک کویٔی بھی شخص خیمہ اِجتماع کے اَندر مَوجُود نہ رہے۔
LEV 16:18 ”پھر وہ باہر نکل کر اُس مذبح کے پاس جائے جو یَاہوِہ کے حُضُور ہے اَور اُس کے لیٔے کفّارہ دے۔ اَور وہ اُس بچھڑے اَور اُس بکرے کا کچھ خُون لے کر مذبح کے سَب سینگوں پر لگائے۔
LEV 16:19 اَور کچھ خُون اَپنی اُنگلی سے سات بار اُس پر چھڑکے اَور اُسے بنی اِسرائیل کی ناپاکی کی حالتوں سے پاک کرے۔
LEV 16:20 ”اَور جَب اَہرونؔ پاک ترین مقام، اَور خیمہ اِجتماع اَور مذبح کے لیٔے کفّارہ دے چُکیں تو وہ زندہ بکرے کو سامنے لائیں۔
LEV 16:21 اَور اَہرونؔ اَپنے دونوں ہاتھ اُس کے سَر پر رکھ کر اُس کے اُوپر بنی اِسرائیل کی ساری بدکاریوں، نافرمانیوں اَور اُن کے تمام گُناہوں کا اقرار کریں اَور اُنہیں اُس بکرے کے سَر پر ڈال کر، اُس بکرے کو کسی مُقرّر شخص کے ذریعے بیابان میں بھیج دے۔
LEV 16:22 اَور وہ بکرا اُن کے تمام گُناہوں کو اَپنے اُوپر اُٹھاکر اُنہیں کسی ویرانہ میں لے جائے گا چنانچہ وہ شخص اُس بکرے کو بیابان میں چھوڑ دے۔
LEV 16:23 ”اِس کے بعد اَہرونؔ خیمہ اِجتماع میں جا کر کتان کے وہ کپڑے جو اُنہُوں نے پاک ترین مقام میں داخل ہونے سے پیشتر پہنے ہویٔے تھے، اُتار دیں اَور اُنہیں وہیں چھوڑ دیں۔
LEV 16:24 پھر وہ پاک مَقدِس میں پانی سے غُسل کرے اَور اَپنے عام کپڑے پہن لے۔ اَور پھر باہر آکر اَپنے لیٔے اَور اُمّت کے لیٔے سوختنی نذر پیش کرے، اَور اَپنے لیٔے اَور اُمّت کے لیٔے کفّارہ دے۔
LEV 16:25 اَور وہ گُناہ کی قُربانی کی چربی کو مذبح پر آگ میں جَلا دے۔
LEV 16:26 ”اَور وہ شخص جو اُس بکرے کو عزازیلؔ کے لیٔے چھوڑکر آئے، وہ اَپنے کپڑے ضروُر دھوئے اَور پانی سے غُسل کرے؛ اُس کے بعد ہی وہ شخص چھاؤنی میں داخل ہو سکتا ہے۔
LEV 16:27 اَور گُناہ کی قُربانیوں کے بَیل اَور بکرے کو جِن کا خُون کفّارہ دینے کے لیٔے پاک ترین مقام میں لایا گیا تھا؛ اُنہیں چھاؤنی سے باہر ضروُر لے جایا جائے اَور اُن کی کھال، گوشت اَور آنتوں وغیرہ کو آگ میں جَلا دیا جائے۔
LEV 16:28 اَور اُنہیں جَلانے والا شخص ضروُر اَپنے کپڑے دھوئے اَور پانی سے غُسل کرے۔ اِس کے بعد ہی وہ چھاؤنی میں داخل ہو سکتا ہے۔
LEV 16:29 ”اَور تمہارے لیٔے یہ ایک دائمی فرمان ہوگا: تُم ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو اَپنی اَپنی جان کو دُکھ دینا اَور کویٔی بھی خواہ وہ مُلک اِسرائیل کا باشِندہ ہو یا غَیراِسرائیلی جو تمہارے درمیان رہتا ہو کسی طرح کا کام نہ کرے؛
LEV 16:30 کیونکہ اِسی دِن تُمہیں پاک کرنے کے لیٔے تمہاری خاطِر کفّارہ دیا جائے گا۔ تَب تُم یَاہوِہ کے حُضُور اَپنے تمام گُناہوں سے پاک ٹھہروگے۔
LEV 16:31 یہ تمہارے لیٔے ایک خاص آرام کا سَبت ہے لہٰذا تُم اُس دِن اَپنی اَپنی جان کو دُکھ دینا۔ یہ ایک دائمی فرمان ہے۔
LEV 16:32 اَور مُقدّس کتانی لباس پہن کر وُہی کاہِنؔ کفّارہ دے گا جو اَپنے باپ کی جگہ پر جانشین بطور اعلیٰ کاہِن ہونے کے لیٔے مَسح اَور مُقرّر کیا گیا ہو۔
LEV 16:33 اَور وہ پاک ترین مقام، خیمہ اِجتماع، مذبح، کاہِنوں اَور جماعت کے تمام لوگوں کے لیٔے کفّارہ دے گا۔
LEV 16:34 ”یہ تمہارے لیٔے ایک دائمی فرمان ہوگا کہ سال میں ایک بار بنی اِسرائیل کے تمام گُناہوں کا کفّارہ دیا جائے۔“ اَور جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا اُس نے وَیسا ہی کیا۔
LEV 17:1 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 17:2 ”اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں اَور تمام بنی اِسرائیلیوں کو حُکم دو: ’یَاہوِہ نے یہ حُکم دیا ہے:
LEV 17:3 بنی اِسرائیل میں سے جو کویٔی شخص بَیل یا برّہ یا بکرے کو چھاؤنی کے اَندر یا باہر ذبح کرے
LEV 17:4 اُسے خیمہ اِجتماع کے مدخل پر یَاہوِہ کے مَسکن کے آگے یَاہوِہ کے حُضُور میں بطور نذر پیش کرنے کے لیٔے نہ لایٔے، تو وہ شخص خُونی سمجھا جائے گا۔ اُس نے خُون بہایا ہے لہٰذا اُس شخص کو اَپنے لوگوں میں سے خارج کر دیا جائے۔
LEV 17:5 اَیسا اِس لیٔے ہے کہ بنی اِسرائیل اَپنی قُربانیاں جنہیں وہ اَب کُھلے میدانوں میں کر رہے ہیں، اُسے وہ کاہِنؔ کے پاس خیمہ اِجتماع کے مدخل پر یَاہوِہ کے حُضُور لاکر سلامتی کی نذر کے طور پر گزرانیں۔
LEV 17:6 اَور کاہِنؔ اُس خُون کو خیمہ اِجتماع کے مدخل پر یَاہوِہ کے مذبح کے مقابل چھڑکے اَور چربی کو یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو کے طور پر جَلائے۔
LEV 17:7 اَور آئندہ کبھی بھی وہ اُن بکروں کے بُتوں کے لیٔے قُربانیاں نہ گزرانے جِس کی وجہ سے وہ زناکار ٹھہرے ہیں۔ یہ اُن کے لیٔے پُشت در پُشت دائمی فرمان ہوگا۔‘
LEV 17:8 ”اَور اُن سے کہو: ’اگر بنی اِسرائیل کا کویٔی شخص یا کویٔی پردیسی جو اُن کے درمیان رہتاہے سوختنی نذر یا کویٔی اَور قُربانی گزرانے
LEV 17:9 اَور اُسے خیمہ اِجتماع کے مدخل پر یَاہوِہ کے حُضُور میں پیش کرنے کو نہ لایٔے، تو وہ شخص اَپنے لوگوں میں سے خارج کر دیاجایٔے۔
LEV 17:10 ” ’اگر بنی اِسرائیل کا کویٔی شخص یا اُن پردیسیوں میں سے کویٔی شخص جو اُن کے درمیان رہتاہے، اَور خُون کھائے تو میں اُس خُون کھانے والے کے خِلاف ہو جاؤں گا اَور اُسے اُس کے لوگوں سے خارج کر دُوں گا۔
LEV 17:11 کیونکہ جِسم کی جان خُون میں ہوتی ہے اَور اُسے مَیں نے تُمہیں اِس لیٔے دیا ہے کہ وہ مذبح پر تمہاری جانوں کے لیٔے کفّارہ ہو۔ کیونکہ خُون ہی ہے جو کسی جان کے بدلے میں کفّارہ دیتاہے۔
LEV 17:12 چنانچہ مَیں نے بنی اِسرائیل کو حُکم دیا ہے، ”تُم میں سے کویٔی بھی خُون نہ کھائے، اَور نہ ہی کویٔی غَیراِسرائیلی باشِندہ ہو جو تمہارے درمیان رہتاہے خُون کھائے۔“
LEV 17:13 ” ’بنی اِسرائیل میں سے یا اُن غَیراِسرائیلی باشِندوں میں سے کویٔی شخص جو تمہارے درمیان رہتا ہو، اگر کسی جانور یا پرندہ کو جو کھانے کے لائق ہو شِکار کرے، تو وہ اُس کے خُون کو بہہ جانے دے اَور اُس کے خُون کو مٹّی سے ڈھانک دے،
LEV 17:14 کیونکہ ہر جاندار کی جان اُس کے خُون میں ہوتی ہے۔ اِس لیٔے مَیں نے بنی اِسرائیل کو حُکم دیا ہے، ”تُم کسی جاندار کا خُون ہرگز نہ کھانا کیونکہ جاندار کا خُون ہی اُس کی جان ہے؛ اَورجو کویٔی اُسے کھائے اُسے اَپنے لوگوں میں سے خارج کر دیا جایٔےگا۔“
LEV 17:15 ” ’اَورجو شخص کسی مُردار یا جنگلی جانور کے پھاڑے ہویٔے جانور کو کھائے، خواہ وہ مُلک اِسرائیل کا باشِندہ ہو یا غَیراِسرائیلی اَپنے کپڑے دھوئے اَور پانی سے غُسل کرے، اَور وہ شام تک ناپاک رہے گا اَور اُس کے بعد رسماً پاک ہوگا۔
LEV 17:16 لیکن اگر وہ اَپنے کپڑے نہ دھوئے اَور نہ ہی غُسل کرے، تو اُس کا گُناہ اُسی کے سَر پر ہوگا۔‘ “
LEV 18:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 18:2 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُنہیں بتاؤ، ’مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 18:3 تُم وَیسے کام ہرگز نہ کرنا جَیسے مِصر میں لوگ کرتے تھے جہاں تُم رہا کرتے تھے، اَور وَیسے کام بھی نہ کرنا جَیسے لوگ مُلکِ کنعانؔ میں کرتے ہیں، جہاں میں تُمہیں لے جا رہا ہُوں؛ اَور نہ ہی اُن کی رسم و رِواج پر چلنا۔
LEV 18:4 تُم میرے آیٔین کی ضروُر تعمیل کرنا اَور میرے قوانین کو مان کر اُن پر چلنا۔ کیونکہ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 18:5 تُم میرے قوانین اَور آئین پر عَمل کرنا کیونکہ جو شخص اُنہیں مانے گا وہ اُن ہی کی بدولت زندہ رہے گا؛ کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 18:6 ” ’تُم میں سے کویٔی بھی جنسی تعلّقات قائِم کرنے کی غرض سے اَپنے کسی قریبی رشتہ دار کے پاس نہ جائے؛ کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 18:7 ” ’تُم اَپنی ماں سے ہم بِستری کرکے اَپنے باپ کی بے عزّتی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے؛ تُم اُس سے ہم بِستری نہ کرنا۔
LEV 18:8 ” ’تُم اَپنے باپ کی کسی بھی بیوی کے ساتھ ہم بِستری نہ کرنا کیونکہ اُس سے تمہارے باپ کی بےحُرمتی ہوگی۔
LEV 18:9 ” ’تُم اَپنی بہن سے ہم بِستری نہ کرنا خواہ وہ تمہارے باپ سے پیدا ہُوئی ہو یا تمہاری ماں سے پیدا ہُوئی ہو، اَور چاہے وہ تمہارے خاندان میں یا کسی اَور گھر میں پیدا ہُوئی ہو؛ تُم اُن سے ہم بِستری نہ کرنا۔
LEV 18:10 ” ’تُم اَپنی پوتی یا اَپنی نواسی سے ہم بِستری نہ کرنا کیونکہ اُس سے تمہاری اَپنی ہی بےحُرمتی ہوگی۔
LEV 18:11 ” ’تُم اَپنی سَوتیلی ماں کی بیٹی سے ہم بِستری نہ کرنا جو تمہارے باپ سے پیدا ہُوئی ہے، کیونکہ وہ تمہاری سَوتیلی بہن ہے۔
LEV 18:12 ” ’تُم اَپنی پھوپھی سے ہم بِستری نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارے باپ کی قریبی رشتہ دار ہے۔
LEV 18:13 ” ’تُم اَپنی خالہ سے ہم بِستری نہ کرنا کیونکہ وہ تمہاری ماں کی قریبی رشتہ دار ہے۔
LEV 18:14 ” ’تُم اَپنے باپ کے بھایٔی کی بےحُرمتی اُس کی بیوی سے ہم بِستری کرکے نہ کرنا کیونکہ وہ تمہاری چچی ہے۔
LEV 18:15 ” ’تُم اَپنی بہُو سے ہم بِستری نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارے بیٹے کی بیوی ہے۔ اِس لیٔے تُم اُس سے جنسی تعلّقات قائِم نہ کرنا۔
LEV 18:16 ” ’تُم اَپنی بھاوج سے ہم بِستری نہ کرنا؛ کیونکہ اُس سے تمہارے بھایٔی کی بےحُرمتی ہوگی۔
LEV 18:17 ” ’تُم کسی عورت اَور اُس کی بیٹی دونوں سے ہم بِستری نہ کرنا اَور نہ ہی اُس عورت کی پوتی یا نواسی سے ہم بِستری کرنا کیونکہ وہ اُس کی قریبی رشتہ دار ہیں۔ یہ بڑی بدکاری ہے۔
LEV 18:18 ” ’جَب تک تمہاری بیوی زندہ ہے تُم اَپنی سالی کو اَپنی بیوی کی سوتن بنا کر اُس سے ہم بِستری نہ کرنا۔
LEV 18:19 ” ’تُم کسی عورت کے پاس اُس کے حَیض کے دِنوں میں اُس کی ناپاکی کی حالات میں ہم بِستری کے مقصد سے نہ جانا۔
LEV 18:20 ” ’تُم اَپنے ہمسایہ کی بیوی سے ہم بِستری کرکے اُس کے ساتھ خُود کو بےحُرمت نہ کرنا۔
LEV 18:21 ” ’تُم اَپنی اَولاد میں سے کسی کو مولکؔ بُت کے لیٔے بطور آتِشی قُربانی ہرگز نہ گزراننا تاکہ تمہارے خُدا کے نام کی بےحُرمتی نہ ہو؛ کیونکہ مَیں ہی یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 18:22 ” ’تُم مَرد کے ساتھ ہم بِستری نہ کرنا جَیسے عورت سے کی جاتی ہے؛ یہ نہایت ہی مکرُوہ کام ہے۔
LEV 18:23 ” ’تُم کسی جانور سے صحبت کرکے اَپنے آپ کو اُس کے باعث ناپاک نہ کرنا۔ اَور لازِم ہے کہ نہ ہی کویٔی عورت کسی جانور سے جنسی تعلّقات کرنے کو اُس کے سامنے آئے کیونکہ یہ مکرُوہ کام ہے۔
LEV 18:24 ” ’تُم اِن کاموں میں سے کسی بھی کام کو کرکے خُود کو ناپاک نہ کرنا کیونکہ جِن قوموں کو مَیں تمہارے سامنے بے دخل کرنے جا رہا ہُوں اُنہُوں نے اِسی طرح کے مکرُوہ کام کرکے خُود کو نجِس کیا ہے۔
LEV 18:25 یہاں تک کہ اُن کا مُلک بھی اُن کی ناپاکی سے آلُودہ ہو چُکاہے۔ لہٰذا مَیں نے اُس کی بدکاری کی سزا اُسے دی ہے اَور اُس مُلک نے اَپنے باشِندوں کو اُگل دیا ہے۔
LEV 18:26 چنانچہ تُم میرے قوانین اَور آئین کو ضروُر ماَننا۔ اَور تُم میں سے کویٔی بھی خواہ وہ مُلک اِسرائیل کا باشِندہ ہو یا غَیراِسرائیلی جو تمہارے درمیان قِیام کرتا ہو، اِن مکرُوہ کاموں میں سے کسی کام کو کبھی نہ کرے۔
LEV 18:27 کیونکہ اُن لوگوں نے جو پہلے اُس مُلک میں رہتے تھے یہ سَب مکرُوہ کام کرکے مُلک کو آلُودہ کر دیا تھا۔
LEV 18:28 اَور اگر تُم بھی اُس مُلک کی ناپاکی کا باعث ہوگے تو وہ تُم کو بھی اُگل دے گا جَیسے اُس نے اُن قوموں کو جو تُم سے پہلے تھیں اُگل دیا۔
LEV 18:29 ” ’اَور اگر کویٔی شخص اِن مکرُوہ کاموں میں سے کویٔی بھی کام کرے، تو اُن تمام اَیسے اَشخاص کو ضروُر اَپنے لوگوں میں سے خارج کر دیاجایٔے۔
LEV 18:30 اِس لیٔے میرے تقاضوں کو ماَننا اَور وہ مکرُوہ رسمیں جو تُم سے پیشتر رائج تھیں، تُم اُن میں سے کسی مکرُوہ رسموں کو عَمل میں نہ لانا، اَور اُن میں پھنس کرکے خُود کو آلُودہ نہ کرنا۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔‘ “
LEV 19:1 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 19:2 ”بنی اِسرائیل کی ساری جماعت سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے کہو، ’تُم پاک بنو، کیونکہ مَیں جو تمہارا یَاہوِہ خُدا ہُوں، پاک خُدا ہُوں۔
LEV 19:3 ” ’اَور تُم میں سے ہر ایک اَپنی ماں اَور اَپنے باپ کا اِحترام کرے اَور تُم میرے سَبتوں کو ماَننا۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 19:4 ” ’تُم بُتوں کی طرف رُجُوع نہ ہونا اَور نہ ہی اَپنے لیٔے دھات سے ڈھالے ہویٔے معبُود بنانا۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 19:5 ” ’اَور جَب تُم یَاہوِہ کے حُضُور سلامتی کی نذر کی قُربانی پیش کرو، تو اُسے اِس طرح پیش کرنا کہ وہ تمہاری طرف سے مقبُول ہو۔
LEV 19:6 اَور جِس دِن قُربانی پیش کی جائے وہ اُسی دِن یا اگلے دِن تک کھا لی جائے؛ اَور اگر اُس میں سے کچھ تیسرے دِن تک بچا رہ جائے تو اُسے ضروُر آگ میں جَلا دیا جائے۔
LEV 19:7 مگر تیسرے دِن اُس قُربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی کھایا نہ جائے کیونکہ وہ آلُودہ ہو چُکاہے اَور قبُول نہ ہوگا۔
LEV 19:8 اَورجو کویٔی اُسے کھائے گا اُس کا گُناہ اُسی کے سَر لگے گا کیونکہ اُس نے یَاہوِہ کی پاک چیز کو بےحُرمت کیا ہے؛ لہٰذا اُس شخص کو بھی جماعت سے ضروُر خارج کر دیاجایٔے۔
LEV 19:9 ” ’اَور جَب تُم اَپنی زمین کی پیداوار کی فصل کاٹو، تو اَپنے کھیت کے اِنتہائی کناروں تک ساری کی ساری نہ کاٹنا اَور نہ ہی کٹائی کرتے وقت گری ہویٔی بالوں کو چُن لینا۔
LEV 19:10 اَور نہ ہی اَپنے انگوری باغ کے دانہ توڑنے دوبارہ جانا، اَور نہ اَپنے انگوری باغ کے گِرے ہویٔے دانوں کو جمع کرنا؛ بَلکہ اُنہیں غریبوں اَور پردیسیوں کے لیٔے چھوڑ دینا۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 19:11 ” ’تُم چوری نہ کرنا۔ ” ’تُم جھُوٹ مت بولنا۔ ” ’اَور نہ ایک دُوسرے کو دھوکا دینا۔
LEV 19:12 ” ’تُم میرا نام لے کر جھُوٹی قَسم نہ کھانا جِس سے تمہارے خُدا کے نام کی بےحُرمتی ہو۔ کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 19:13 ” ’تُم اَپنے پڑوسی کو مت ٹھگنا اَور نہ ہی اُسے لُوٹنا۔ ” ’اَور نہ کسی مزدُور کی مزدُوری اَپنے پاس رات سے صُبح تک روکے رکھنا۔
LEV 19:14 ” ’تُم بہرے کو نہ بد دعا دینا، اَور نہ ہی اَندھے کے آگے کویٔی اَیسی شَے رکھنا جِس سے وہ ٹھوکر کھائے۔ بَلکہ اَپنے خُدا سے ڈرنا کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 19:15 ” ’تُم فیصلہ کرتے وقت نااِنصافی مت کرنا؛ اَور نہ تو غریب کی طرفداری کرنا اَور نہ ہی بڑے شخص کی طرفداری، لہٰذا راستی سے اَپنے ہمسایہ کا اِنصاف کرنا۔
LEV 19:16 ” ’تُم اَپنے لوگوں میں اِدھر اُدھر افواہیں پھیلاتے نہ پِھرنا۔ ” ’اَور نہ اَپنے پڑوسی کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 19:17 ” ’اَور تُم اَپنے دِل میں اَپنے اِسرائیلی بھایٔی سے نفرت نہ رکھنا۔ تُم اَپنے ہمسایہ کو ضروُر ملامت کرنا، تاکہ تُم اُس کے خطا کے جُرم میں شریک نہ ہونے پاؤ۔
LEV 19:18 ” ’اِنتقام نہ لینا اَور نہ اَپنی قوم کے کسی شخص سے کینہ رکھنا بَلکہ اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 19:19 ” ’میرے قوانین کو ماَننا۔ ” ’اَپنے مویشیوں کو کسی مُختلف جنس کے مویشیوں سے جماع نہ کرنے دینا۔ ” ’اَپنے کھیت میں دو قِسم کے بیج ایک ساتھ نہ بونا۔ ” ’اَیسا کپڑا نہ پہننا جو دو مُختلف قِسم کے دھاگے سے تیّار کیا گیا ہو۔
LEV 19:20 ” ’اگر کویٔی شخص کسی اَیسی لونڈی سے ہم بِستری کر لے جو کسی اَور کی منگیتر ہو لیکن نہ تو اُس کا فدیہ دیا گیا ہو اَور نہ ہی وہ آزاد کی گئی ہو، چنانچہ اُن دونوں کو کویٔی مُناسب سزا ملے تاہم اُنہیں جان سے نہ ماراجائے کیونکہ وہ عورت آزاد نہیں تھی۔
LEV 19:21 اَور وہ شخص اَپنے خطا کی قُربانی کے لیٔے خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر یَاہوِہ کے حُضُور ایک مینڈھا لایٔے۔
LEV 19:22 پھر کاہِنؔ خطا کی قُربانی کے مینڈھے سے یَاہوِہ کے حُضُور اُس شخص کے جُرم کا کفّارہ دے۔ تَب جو گُناہ اُس نے کیٔے ہیں اُسے مُعاف کر دیا جائے گا۔
LEV 19:23 ” ’اَور جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہوکر وہاں تمام قِسم کے پھلدار درخت لگاؤ، تو اُن کا پھل تمہارے لیٔے ممنوع ہوگا اَور تین سال تک ممنوع ہوگا اَور تُم اُنہیں ہرگز نہ کھانا۔
LEV 19:24 اَور چوتھے سال اُن کا تمام پھل خُوشی کے نذرانہ کے طور پر یَاہوِہ کے لیٔے پاک ہوگا۔
LEV 19:25 لیکن پانچویں سال تُم اُن کا پھل کھا سکتے ہو۔ یُوں تمہاری فصل اِفراط کے ساتھ پیدا ہوگی۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 19:26 ” ’تُم اَیسا گوشت نہ کھانا جِس میں ابھی خُون ہو۔ ” ’اَور نہ ہی جادُو ٹونا کرنا، نہ فال دیکھنا۔
LEV 19:27 ” ’تُم اَپنے کنپٹی کے بال مت کاٹنا اَور نہ اَپنی داڑھی کے بالوں کی کانٹ چھانٹ کرنا۔
LEV 19:28 ” ’تُم مُردوں کی خاطِر اَپنے جِسم کو زخمی نہ کرنا اَور نہ اَپنے اُوپر کچھ نقوش گُدوانا کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 19:29 ” ’تُم اَپنی بیٹی کو فاحِشہ بنا کر ذلیل نہ کرنا۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ سارا مُلک جِسم فروشی کی طرف مائل ہوکر بدکاری سے بھر جائے۔
LEV 19:30 ” ’تُم میرے سَبتوں کو ماَننا اَور میرے پاک مَقدِس کی تعظیم کرنا کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 19:31 ” ’تُم جادُوگروں اَور اَرواح پرستوں کے پاس نہ جانا اَور نہ ہی اُن کے طالب ہونا کیونکہ وہ تُمہیں نجِس بنا دیں گے۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 19:32 ” ’عُمر رسیدہ اَشخاص کے اِحترام میں اُٹھ کر کھڑے ہو جانا۔ بُوڑھوں کا اَدب کرنا اَور اَپنے خُدا سے ڈرنا کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 19:33 ” ’اگر کویٔی پردیسی تمہارے ساتھ تمہارے مُلک میں قِیام کرتا ہو، تو اُس کے ساتھ بدسلُوکی نہ کرنا۔
LEV 19:34 جو غَیراِسرائیلی باشِندہ تمہارے ساتھ رہتا ہو، تُم اُس سے وَیسا ہی سلُوک کرنا جَیسا تُم اَپنے ہم وطنوں کے ساتھ کرتے ہو۔ اَور جِس طرح تُم خُود سے مَحَبّت رکھتے ہو، اُسی طرح تُم اُس غَیراِسرائیلی باشِندے سے بھی مَحَبّت رکھنا کیونکہ تُم بھی مِصر میں پردیسی ہی تھے۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 19:35 ” ’تُم اِنصاف کرنے، پیمائش کرنے، اَور وزن کرنے میں، ناقص پیمانوں کو اِستعمال میں نہ لانا۔
LEV 19:36 اَور تمہارے ترازو، باٹ، کِلو، اَور لیٹر پُورے صحیح ہُوں۔ میں ہی تمہارا یَاہوِہ خُدا ہُوں جو تُمہیں مِصر سے نکال کر لایا ہُوں۔
LEV 19:37 ” ’میرے سَب قوانین اَور سارے آئین کو ماَننا اَور اُن پر عَمل کرنا کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
LEV 20:1 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 20:2 ”بنی اِسرائیل سے کہو: ’کویٔی اِسرائیلی یا اِسرائیل میں رہنے والا کویٔی پردیسی جو اَپنی اَولاد میں سے کسی کو مولکؔ بُت کے لیٔے قُربانی کرے، تو وہ ضروُر جان سے ماراجائے۔ جماعت کے لوگ اُسے سنگسار کریں۔
LEV 20:3 اَور مَیں بھی اُس شخص کا مُخالف ہوؤں گا اَور اُسے اُس کے لوگوں میں سے فنا کر دُوں گا کیونکہ اُس نے اَپنے بچّوں کو مولکؔ کے لیٔے قُربانی کرکے میرے پاک مَقدِس کو ناپاک کیا ہے اَور میرے پاک نام کی بےحُرمتی کی ہے۔
LEV 20:4 اَور جِس وقت وہ شخص اَپنی اَولاد میں سے کسی کو مولکؔ کے لیٔے قُربانی کرے اَور جماعت کے لوگ چشم پوشی کرکے اُسے جان سے نہ ماریں،
LEV 20:5 تو میں خُود اُس شخص اَور اُس کے گھرانے کا مُخالف ہو جاؤں گا، اَور اُسے اَور اُن سَب کو قوم میں سے فنا کر دُوں گا جو مولکؔ کی پیروی کرکے زناکاری کرتے ہیں اَور اُس شخص کا ساتھ دیتے ہیں۔
LEV 20:6 ” ’اَورجو شخص حاضراتیوں اَور اَرواح پرستوں سے بات کرنے والوں کے پاس جایٔے اَور اُن کی طرف رُجُوع کرکے زناکاری کرے، تو میں اُس کا مُخالف ہوؤں گا اَور اُسے اُس کے لوگوں میں سے خارج کر دُوں گا۔
LEV 20:7 ” ’لہٰذا تُم اَپنی تقدیس کرکے پاک ہو جاؤ کیونکہ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 20:8 اَور تُم میرے قوانین کو مانو اَور اُن پر عَمل کرو کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں جو تُمہیں پاک کرتا ہُوں۔
LEV 20:9 ” ’اَور اگر کویٔی اَپنے باپ یا ماں پر لعنت کرے وہ ضروُر جان سے مار ڈالا جائے۔ کیونکہ اُس نے اَپنے باپ یا ماں پر لعنت کی ہے، چنانچہ اُن کا خُون اُس کی گردن پر ہوگا۔
LEV 20:10 ” ’اَور اگر کویٔی شخص کسی دُوسرے شخص کی بیوی سے یعنی اَپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے تو زانی اَور زانیہ دونوں کو جان سے ضروُر مار دیاجایٔے۔
LEV 20:11 ” ’اگر کویٔی شخص اَپنی سَوتیلی ماں سے ہم بِستری کرتا ہے، تو اُس نے اَپنے باپ کی بےحُرمتی کی ہے؛ چنانچہ مَرد اَور عورت دونوں کو جان سے مار دیاجایٔے؛ اُن کا خُون اُن ہی کی گردن پر ہوگا۔
LEV 20:12 ” ’اَور اگر کویٔی شخص اَپنی بہُو سے ہم بِستر ہوتاہے تو اُن دونوں کو جان سے مار دیا جائے؛ کیونکہ اُنہُوں نے نہایت مکرُوہ کام کیا ہے اَور اُن کا خُون اُن ہی کی گردن پر ہوگا۔
LEV 20:13 ” ’اگر کویٔی شخص کسی مَرد سے صحبت کرے جَیسا کہ عورت سے کیا جاتا ہے تو اُن دونوں نے نہایت مکرُوہ کام کیا ہے۔ لہٰذا وہ دونوں ضروُر جان سے مار دئیے جایٔیں۔ اُن کا خُون اُن ہی کی گردن پر ہوگا۔
LEV 20:14 ” ’اَور اگر کویٔی شخص کسی عورت اَور اُس کی ماں دونوں سے شادی کرے تو یہ بڑی بدکاری ہے۔ چنانچہ اُن تینوں کو آگ میں جَلا دیاجایٔے تاکہ تمہارے درمیان بدکاری نہ رہے۔
LEV 20:15 ” ’اَور اگر کویٔی مَرد کسی جانور سے صحبت کرے تو وہ جان سے مار دیا جائے اَور اُس جانور کو بھی زندہ نہ چھوڑا جائے۔
LEV 20:16 ” ’اگر کویٔی عورت کسی جانور سے صحبت کرے، تو اُس عورت اَور اُس جانور دونوں کو ضروُر مار ڈالنا۔ لہٰذا وہ دونوں ضروُر جان سے مار دئیے جایٔیں۔ اُن کا خُون اُن ہی کی گردن پر ہوگا۔
LEV 20:17 ” ’اگر کویٔی شخص اَپنی بہن سے شادی کر لے جو اُس کے باپ کی یا اُس کی سَوتیلی ماں کی بیٹی ہو اَور وہ مباشرت کرے تو یہ شرمناک بات ہے۔ لہٰذا وہ دونوں اَپنے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا جائے۔ کیونکہ اُس نے اَپنی بہن کو بےحُرمت کیا۔ اُس کا گُناہ اُسی کے سَر لگے گا۔
LEV 20:18 ” ’اگر کویٔی شخص کسی عورت کے دَورانِ حَیض اُس سے ہم بِستر ہو اَور اُس سے مباشرت کرے تو اُس نے اُس کے خُون کے چشمہ کو کھولا ہے اَور اُس عورت نے بھی اَپنے چشمہ کو کھُلوایا ہے۔ لہٰذا وہ دونوں اَپنے لوگوں میں سے خارج کیٔے جایٔیں۔
LEV 20:19 ” ’تُم اَپنی خالہ یا پھوپھی کے ساتھ ہم بِستری نہ کرنا کیونکہ جو اَیسا کرتا ہے وہ اَپنے ہی قریبی رشتہ دار کی بےحُرمتی کرتا ہے؛ لہٰذا وہ دونوں گُنہگار ہیں اَور اُن کا گُناہ اُن ہی کے سَر پر ہوگا۔
LEV 20:20 ” ’اَور اگر کویٔی شخص اَپنی چچی یا تائی سے ہم بِستری کرتا ہے، تو اُس نے اَپنے چچا یا تاؤ کی بےحُرمتی کی ہے۔ وہ دونوں اَپنے گُناہ کی سزا پائیں گے اَور وہ بے اَولاد مَریں گے۔
LEV 20:21 ” ’اگر کویٔی شخص اَپنے بھایٔی کی بیوی سے شادی کرے تو یہ ناپاک عَمل ہے۔ کیونکہ اُس نے اَپنے بھایٔی کی توہین کی ہے۔ چنانچہ وہ بے اَولاد رہ جایٔیں گے۔
LEV 20:22 ” ’لہٰذا تُم میرے سَب قوانین اَور آئین کو ماَننا اَور اُن پر عَمل کرنا تاکہ وہ مُلک جہاں میں تُمہیں بسانے کو لیٔے جا رہا ہُوں تُمہیں اُگل نہ دے۔
LEV 20:23 اَور تُم اُن قوموں کے رسم و رِواج پر عَمل نہ کرنا جنہیں تمہارے سامنے بے دخل کرنے جا رہا ہُوں۔ کیونکہ اُنہیں نے اِسی طرح کے مکرُوہ کام کیٔے ہیں۔ چنانچہ مُجھے اُن سے نفرت ہو گئی ہے۔
LEV 20:24 لیکن مَیں نے تُم سے فرمایا، ”تُم اُن کے مُلک پر قابض ہوگے؛ اَور مَیں تُمہیں وہ مُلک بطور مِیراث دُوں گا، جِس میں دُودھ اَور شہد کثرت سے پایا جاتا ہے۔“ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں، جِس نے تُمہیں دیگر قوموں سے الگ کیا ہے۔
LEV 20:25 ” ’چنانچہ تُم پاک اَور ناپاک جانوروں میں اَور پاک اَور ناپاک پرندوں میں اِمتیاز کرنا۔ اَور کسی جانور، پرندے یا زمین پر رینگنے والے کسی جاندار سے جنہیں مَیں نے تمہارے لیٔے ناپاک ٹھہرا کر الگ کیا ہے، اُن سے خُود کو نجِس نہ کرنا۔
LEV 20:26 اَور تُم میرے لیٔے پاک بنے رہنا کیونکہ مَیں جو یَاہوِہ ہُوں پاک ہُوں؛ اَور مَیں نے تُمہیں دیگر قوموں سے الگ کیا ہے تاکہ تُم میری خاص قوم بنے رہو۔
LEV 20:27 ” ’اگر تمہارے درمیان کویٔی عورت یا مَرد جادُوگر یا اَرواح سے بات کرانے والا ہو، تو وہ ضروُر جان سے مار دیا جائے۔ تُم اُنہیں سنگسار کرنا؛ اَور اُن کا خُون اُن ہی کی گردن پر ہوگا۔‘ “
LEV 21:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”اَہرونؔ کے بیٹوں سے جو کاہِنؔ ہیں، مُخاطِب ہو اَور اُن سے فرما، ’کویٔی کاہِنؔ اَپنے لوگوں میں سے کسی مُردہ کے باعث خُود کو نجِس نہ کرے،
LEV 21:2 سِوائے کسی قریبی رشتہ دار کے مثلاً ماں یا باپ، بیٹا یا بیٹی، بھایٔی،
LEV 21:3 یا اُس کی کنواری بہن جِس کا شوہر نہ ہو جو دیکھ بھال کے لیٔے اُس کی ذمّہ داری میں ہو، اُن کی خاطِر وہ اَپنے آپ کو نجِس کر سَکتا ہے۔
LEV 21:4 لیکن گھر کا مالک ہونے کے باعث وہ شادی کے ذریعہ رشتہ میں آئے لوگوں کے لئے خُود کو اَیسا آلُودہ نہ کرے کہ ناپاک ہو جائے۔
LEV 21:5 ” ’کاہِنؔ نہ تو اَپنا سَر گنجا کرے نہ ہی اَپنی داڑھی کے بال کو مُنڈوائے اَور نہ ہی اَپنے بَدن میں چیرا لگائے۔
LEV 21:6 وہ اَپنے خُدا کے لیٔے پاک رہیں اَور کبھی اَپنے خُدا کے نام کی بےحُرمتی نہ کریں کیونکہ وہ یَاہوِہ کی آتِشی قُربانیاں پیش کرتے ہیں جو اُن کے خُدا کی غِذا کی قُربانی ہے۔ لہٰذا اُن کا پاک رہنا لازمی ہے۔
LEV 21:7 ” ’کاہِنؔ جِسم فروشی کرنے والی نجِس عورت یا طلاق شُدہ عورت سے ہرگز شادی نہ کرے کیونکہ کاہِنؔ اَپنے خُدا کے لیٔے مُقدّس ہیں۔
LEV 21:8 لہٰذا تُم اُنہیں مُقدّس سمجھو، کیونکہ وہ تمہارے خُدا کے حُضُور میں غِذا کی قُربانی پیش کرتے ہیں۔ اُنہیں مُقدّس سمجھو کیونکہ مَیں یَاہوِہ جو تُمہیں پاک کرتا ہُوں پاک ہُوں۔
LEV 21:9 ” ’اگر کسی کاہِنؔ کی بیٹی فاحِشہ بَن کر اَپنے آپ کو ناپاک کرے، تو وہ اَپنے باپ کی بےحُرمتی کا باعث بنتی ہے۔ لازِم ہے کہ اُسے آگ میں جَلا دیا جائے۔
LEV 21:10 ” ’وہ کاہِنؔ جو اَپنے بھائیوں کے درمیان اعلیٰ کاہِن ہو جِس کے سَر پر مَسح کرنے کا تیل ڈالا گیا ہو اَورجو پاک لباس پہننے کے لیٔے مخصُوص کیا گیا ہو وہ نہ تو اَپنے سَر اُوگھاڑے اَور نہ ہی اَپنے کپڑے پھاڑے۔
LEV 21:11 اَور نہ ہی وہ کسی اَیسے مقام پر جائے جہاں لاش پائی جایٔے، اَور نہ ہی وہ اَپنے باپ یا ماں کی خاطِر خُود کو ناپاک کرے۔
LEV 21:12 اَور نہ ہی وہ اُس کے خُدا کے پاک مَقدِس سے باہر جائے اَور نہ ہی اُس کی بےحُرمتی کرے کیونکہ خُدا کا مَسح کا تیل اُس پر ہے۔ میں ہی یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 21:13 ” ’وہ جِس عورت سے شادی کرے وہ ضروُر کنواری ہو۔
LEV 21:14 وہ کسی بِیوہ، طلاق شُدہ یا کسی فاحِشہ عورت سے ہرگز شادی نہ کرے بَلکہ اَپنی ہی قوم میں سے کسی کنواری سے شادی کرے۔
LEV 21:15 اِس طرح اُس کی اَولاد اَپنی قوم میں بےحُرمت نہ ٹھہرے گی کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں جو اُسے مُقدّس کرتا ہُوں۔‘ “
LEV 21:16 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 21:17 ”اَہرونؔ کو حُکم دو، ’تمہارے فرزندوں میں سے اُن کی پُشت در پُشت میں کویٔی بھی شخص جِس میں عیب ہو تو وہ اَپنے خُدا کے حُضُور غِذا کی قُربانی پیش کرنے نہ آئے۔
LEV 21:18 کویٔی بھی شخص جِس میں کویٔی عیب ہو، وہ خُدا کے حُضُوری میں نہ آئے خواہ وہ اَندھا، لنگڑا، بدصورت یا جِسمانی طور پر معذور ہو۔
LEV 21:19 اَور نہ ہی وہ شخص جو پیر یا ہاتھ سے اَپاہج ہو۔
LEV 21:20 یا جو کُبڑا، بَونا ہو، یا جِس کی آنکھ میں کویٔی نُقص ہو، یا جو کھُجلی سے پریشان ہو، جِس کی جلد پر دانے ہُوں، یا جِس کے خُصیے کُچلے ہویٔے ہُوں۔
LEV 21:21 اَور اَہرونؔ کاہِنؔ کی نَسل میں سے کویٔی بھی شخص جِس میں کویٔی عیب ہو، وہ یَاہوِہ کو آتِشی قُربانیاں گذراننے کو اُن کے حُضُور نہ آئے۔ کیونکہ اُس میں عیب ہے۔ وہ ہرگز اَپنے خُدا کو غِذا کی قُربانی پیش کرنے کی کوشش نہ کرے۔
LEV 21:22 وہ اَپنے خُدا کی نہایت ہی مُقدّس غِذا کو اَور پاک روٹی کو بھی کھا سَکتا ہے۔
LEV 21:23 تاہم اَپنے عیب کی وجہ سے وہ پردہ کے اَندر یا مذبح کے پاس ہرگز نہ جائے۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ میرے پاک مَقدِس کی بےحُرمتی کرے۔ کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں، جو اُن کو پاک کرتا ہُوں۔‘ “
LEV 21:24 لہٰذا مَوشہ نے اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کو اَور تمام بنی اِسرائیل کو یہ سَب باتیں بتائیں۔
LEV 22:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 22:2 ”اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں سے مُخاطِب ہو اَور اُنہیں حُکم دو کہ وہ اُن مُقدّس قُربانیوں کا جو بنی اِسرائیل میرے لیٔے مخصُوص کرتے ہیں اُن کا اِحترام کیا کریں، تاکہ وہ میرے پاک نام کی بےحُرمتی نہ کرنے پائیں کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 22:3 ”اَور اُن سے فرما، ’تمہاری ساری پُشت در پُشت میں جو کویٔی ناپاکی کی حالت میں اُن مُقدّس قُربانیوں کے قریب آئے، جنہیں بنی اِسرائیل مُجھے نذر کرنے کو میرے حُضُور لائیں گے، تو یہ لازِم ہوگا کہ وہ شخص میرے حُضُور سے ہمیشہ کے لیٔے خارج کر دیاجایٔے۔ کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 22:4 ” ’اگر اَہرونؔ کی نَسل میں سے کسی کو جِلدی کوڑھ کی بیماری ہو یا اُسے کسی جریان کا مرض ہو، تو وہ تَب تک مُقدّس قُربانیوں کو نہ کھائے جَب تک وہ پاک نہ ہو جائے۔ اَور اگر وہ کسی لاش کو چھُوئے یا نطفہ خارج ہونے کا مریض ہو، تَب بھی وہ ناپاک ہوگا،
LEV 22:5 یا اگر وہ کسی رینگنے والے ناپاک جاندار کو چھُونے کی وجہ سے ناپاک ہو جایٔے، یا کسی اَیسے شخص کو چھُوئے جِس کے چھُونے سے وہ ناپاک ہو سَکتا ہو، خواہ اُس کی ناپاکی کسی بھی قِسم کی ہو۔
LEV 22:6 جو کویٔی کسی اَیسی چیز کو چھُوئے تو وہ شام تک ناپاک رہے گا۔ اَور وہ مُقدّس قُربانیوں میں سے کسی چیز کو تَب تک نہ کھائے جَب تک وہ پانی سے غُسل نہ کر لے۔
LEV 22:7 اَور جَب آفتاب غروب ہو جائے گا تَب وہ پاک ٹھہرے گا۔ اِس کے بعد پھر وہ اُن مُقدّس قُربانیوں کو کھا سَکتا ہے کیونکہ یہ اُس کی خُوراک ہے۔
LEV 22:8 اَور وہ کسی مُردار جانور یا جنگلی جانوروں کے پھاڑے ہویٔے جانور کو ہرگز نہ کھائے تاکہ اُن کے باعث وہ ناپاک ہو جائے کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 22:9 ” ’کاہِنؔ میرے قوانین کو مانیں تاکہ وہ مُجرم نہ ٹھہریں اَور اُن کی بےحُرمتی کرنے کے باعث فنا نہ ہو جایٔیں۔ مَیں یَاہوِہ ہُوں جو اُنہیں مُقدّس کرتا ہُوں۔
LEV 22:10 ” ’اَور کاہِنؔ کے خاندان سے باہر کا کویٔی بھی شخص اُس مُقدّس قُربانی کو نہ کھائے اَور نہ ہی کاہِنؔ کا مہمان یا اُس کا کویٔی مزدُور اُسے کھائے۔
LEV 22:11 لیکن اگر کویٔی کاہِنؔ قیمت دے کر کسی غُلام کو خریدے یا کویٔی غُلام اُس کے گھر میں پیدا ہُوا ہو، تو وہ اُس کے کھانے میں سے کھا سَکتا ہے۔
LEV 22:12 اگر کسی کاہِنؔ کی بیٹی کسی کاہِنؔ کے علاوہ کسی اَور سے شادی کر لے تو وہ مُقدّس قُربانیوں کی نذروں میں سے کسی کو نہ کھائے۔
LEV 22:13 لیکن اگر کسی کاہِنؔ کی بیٹی بِیوہ ہو جائے یا اُس کی طلاق ہو جایٔے اَور وہ جَوانی میں ہی بے اَولاد کی حالت میں اَپنے باپ کے گھر واپس آکر رہنے لگے، تو وہ اَپنے باپ کے کھانے میں سے کھا سکتی ہے۔ لیکن کویٔی شخص جو کاہِنؔ کے خاندان سے نہ ہو اُسے نہ کھائے۔
LEV 22:14 ” ’اَور اگر کویٔی شخص نادانستہ کسی مُقدّس قُربانی میں سے کھائے تو وہ اُس کی قیمت کے پانچویں حِصّہ کے ساتھ اُس مُقدّس قُربانی کا مُعاوضہ کاہِنؔ کو لَوٹا دے۔
LEV 22:15 اَور کاہِنؔ اُن پاک قُربانیوں کو جو بنی اِسرائیل یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرتے ہیں اُن کی بےحُرمتی نہ کریں۔
LEV 22:16 اَور اِس طرح اُن کی مُقدّس قُربانیوں کو کھانے کے خطا کے باعث مُجرم نہ ٹھہرے۔ کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں جو اُن کو مُقدّس کرنے والا ہُوں۔‘ “
LEV 22:17 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 22:18 ”اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں اَور تمام بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُنہیں حُکم دو، ’اگر تُم میں سے کویٔی خواہ وہ اِسرائیلی ہو یا کویٔی پردیسی جو اِسرائیل کا باشِندہ ہو، جَب وہ اَپنی قُربانی لایٔے، خواہ وہ مَنّت کی قُربانی ہو، یا رضا کی قُربانی ہو، تو وہ بطور سوختنی نذر یَاہوِہ کے لیٔے پیش کریں۔
LEV 22:19 تو تُم بَیلوں یا برّوں یا بکریوں میں سے بے عیب نر بکرا نذر کرنا تاکہ وہ تمہاری طرف سے مقبُول ہو۔
LEV 22:20 اَور اُس جانور کی قُربانی نہ دی جایٔے جِس میں کویٔی عیب ہو، کیونکہ وہ تمہاری طرف سے مقبُول نہ ہوگی۔
LEV 22:21 جَب کویٔی شخص اَپنی کسی خاص مَنّت کی تکمیل کے لیٔے رضا کی قُربانی کے طور پر بَیلوں یا بھیڑ بکریوں میں سے سلامتی کی نذر یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرے، تو قُربانی قبُول ہونے کے لیٔے ضروُری ہے کہ وہ جانور بے عیب ہو اَور اُس میں کویٔی نقش نہ ہو۔
LEV 22:22 اَیسے جانوروں کو جو اَندھا یا اَعضا ٹوٹے ہویٔے، لُولا یا جِن کے رسَولی ہو یا جنہیں ناسور کی بیماری ہو، یَاہوِہ کے حُضُور میں ہرگز نہ لانا اَور مذبح پر اُن کی آتِشی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے لئے نہ گذراننا۔
LEV 22:23 تاہم تُم کسی بڑے یا چُھوٹے اَعضا والے بچھڑے یا برّے کو رضا کی قُربانی کے طور پر پیش کر سکتے ہو مگر کسی مَنّت کی تکمیل کی قُربانی کے لیٔے قبُول نہ ہوگی۔
LEV 22:24 تُم کسی اَیسے جانور کو جِس کے خُصیے زخمی، کٹے پھٹے یا کُچلے ہویٔے ہُوں، یَاہوِہ کے لیٔے قُربان نہ کرنا، اَور نہ ہی اَپنے مُلک میں اُن کی قُربانی پیش کرنا،
LEV 22:25 اَور نہ تُم اَیسے جانوروں کو کسی پردیسی کے ہاتھ سے اَپنے خُدا کے لئے غِذا کی قُربانی کے طور پر قبُول کرنا؛ وہ آپ کی طرف سے قبُول نہیں کئے جائیں گے، کیونکہ اُن میں خرابی اَور عیب ہے۔‘ “
LEV 22:26 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 22:27 ”جَب کویٔی بچھڑا یا بھیڑ یا بکری کا بچّہ پیدا ہو، تو وہ سات دِن تک اَپنی ماں کے ساتھ رہے۔ اَور آٹھویں دِن کے بعد سے، وہ یَاہوِہ کے لیٔے بطور آتِشی قُربانی پیش کیٔے جانے سے مقبُول ہوگا۔
LEV 22:28 لیکن چاہے گائے ہو یا بھیڑ، تُم ماں اَور اُس کے بچّے دونوں کو ایک ہی دِن میں ذبح نہ کرنا۔
LEV 22:29 ”اَور جَب تُم یَاہوِہ کے حُضُور شُکر گزاری کی قُربانی پیش کرو، تو اُسے اِس طریقہ سے پیش کرو کہ وہ تمہاری طرف سے قبُول کی جایٔیں۔
LEV 22:30 اِس قُربانی کو اُسی دِن ضروُر کھا لینا اَور اگلے دِن تک اُس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑنا۔ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 22:31 ”چنانچہ تُم میرے اَحکام کو ماَننا اَور اُن پر عَمل کرنا۔ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 22:32 اَور تُم میرے پاک نام کی بےحُرمتی نہ کرنا، اَور لازِم ہے کہ مُجھے بنی اِسرائیل کے درمیان قُدُّوس مانا جایٔے۔ مَیں یَاہوِہ ہُوں جو تُمہیں مُقدّس کرتا ہُوں،
LEV 22:33 اَورجو تُمہیں مِصر سے نکال لایا ہُوں تاکہ تمہارا خُدا بَن جاؤں۔ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔“
LEV 23:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 23:2 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُنہیں حُکم دو، ’یہ یَاہوِہ کی مُقرّرہ عیدیں ہیں، جنہیں تُم مُقدّس اِجتماعات کے طور پر اعلان کرنا؛ میری مُقرّرہ عیدیں یہ ہیں:
LEV 23:3 ” ’چھ دِن ہیں جِن میں تُم کام کاج کر سکتے ہو لیکن ساتواں دِن مُکمّل آرام کا سَبت اَور مُقدّس اِجتماع کا دِن ہے۔ لہٰذا جہاں کہیں بھی تمہاری رہائش ہو تُم اُس دِن کویٔی بھی کام نہ کرنا کیونکہ یہ یَاہوِہ کے لیٔے ایک سَبت ہوگا۔
LEV 23:4 ” ’یَاہوِہ کی مُقرّرہ عیدیں جِن کا اعلان تُمہیں مُقدّس اِجتماعات کے لیٔے مُقرّرہ وقت پر کرنا ہوگا، یہ ہیں۔
LEV 23:5 یَاہوِہ کا عیدِفسح پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کو شام کے وقت شروع ہوتاہے۔
LEV 23:6 اَور اُسی مہینے کے پندرھویں دِن کو یَاہوِہ کی بے خمیری روٹی کی عید شروع ہوتی ہے؛ سات دِن تک تُم بے خمیری روٹی کھانا۔
LEV 23:7 پہلے دِن مُقدّس اِجتماع ہوگا اَور اِس دِن تُم عام دِنوں کی طرح کویٔی کام بالکُل نہ کرنا۔
LEV 23:8 اَور ساتویں دِن تک تُم یَاہوِہ کو آتِشی قُربانیاں پیش کرنا۔ اَور پھر ساتویں دِن پھر تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو اَور حسبِ معمول کویٔی کام نہ کرنا۔‘ “
LEV 23:9 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 23:10 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُنہیں حُکم دو، ’جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہو جاؤ، جسے میں تُمہیں دینے والا ہُوں اَور وہاں تُم اَپنی پہلی فصل کاٹو، تو تُم اَپنی پہلی فصل کے پُولوں کو کاہِنؔ کے پاس لانا۔
LEV 23:11 اَور کاہِنؔ اِن پُولوں کو یَاہوِہ کے حُضُور بطور لہرانے کی قُربانی گزرانے، تَب وہ تمہاری طرف سے یَاہوِہ کی نظر میں مقبُول ٹھہرے گی؛ اَور کاہِنؔ اُسے سَبت کے بعد اگلے دِن لہرائے۔
LEV 23:12 اَور جِس دِن تُم اُن پُولوں کو لہرانے کی قُربانی کے طور پر پیش کرو، اُسی دِن تُم ایک یک سالہ بے عیب برّہ بطور سوختنی نذر ضروُر یَاہوِہ کے لئے پیش کرنا۔
LEV 23:13 اَور اُس کے ساتھ گلّے کی قُربانی میں تیل اَور ایک ایفہ مَیدہ مِلا کر یَاہوِہ کے حُضُور فرحت بخش خُوشبو کے طور پر آتِشی قُربانی پیش کی جایٔے۔ اَور اِس کے علاوہ اُس کے ساتھ انگوری شِیرے کی نذر کے لیٔے ایک پاؤ ہین انگوری شِیرہ بھی نذر کرنا۔
LEV 23:14 اَور جَب تک تُم اَپنے خُدا کے لیٔے یہ قُربانی نہ لے آؤ، اُس دِن تک تُم نئی فصل کی روٹی، بھُنا ہُوا دانہ یا ہری بالیں ہرگز نہ کھانا۔ یہ تمہاری سَب سکونت گاہوں میں تمہارے سارے خاندان میں تمہاری ساری پُشتوں کے لیٔے ایک دائمی فرمان ہے۔
LEV 23:15 ” ’اَور تُم سَبت کے اگلے دِن سے، جَب ہلانے کی نذر کی قُربانی کے واسطے پُولے لاؤگے، تَب سے گننا شروع کرنا جَب تک پُورے سات ہفتے پُورے نہ ہو جایٔیں۔
LEV 23:16 اَور ساتویں سَبت کے اگلے دِن سے پچاس دِنوں کی گِنتی کرنا؛ پھر تُم یَاہوِہ کے حُضُور نئے اناج کی نذر کی قُربانی پیش کرنا۔
LEV 23:17 اَور جہاں کہیں تمہاری رہائش ہو وہاں سے تُم ہلانے کی نذر کی قُربانی کے واسطے دو دہائی ایفہ مَیدہ کی خمیری روٹیاں لانا؛ جو یَاہوِہ کو پہلے پھلوں کی ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کی جائے۔
LEV 23:18 اَور روٹیوں کے ساتھ سات یک سالہ بے عیب نر برّہ، اَور ایک بچھڑا اَور دو مینڈھے بھی لانا تاکہ یہ سَب اناج کی نذریں اَور تپاون کی نذروں کے ساتھ یَاہوِہ کے حُضُور سوختنی نذر جو غِذا کی فرحت بخش خُوشبو والی آتِشی قُربانی ہو۔
LEV 23:19 اَور پھر ایک بکرا گُناہ کی قُربانی کے لیٔے اَور دو یک سالہ برّے سلامتی کی نذر کے لیٔے ذبح کرنا۔
LEV 23:20 اَور کاہِنؔ دونوں برّے اَور پہلے پھل کے دونوں روٹیاں لے اَور اُنہیں ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور ہلائے۔ یہ یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس قُربانیاں اَور کاہِنؔ کا مُقرّر حِصّہ ہیں۔
LEV 23:21 اُسی دِن تُم مُقدّس اِجتماع کا اعلان کرنا اَور اُس دِن روزمرّہ کا کویٔی کام نہ کرنا۔ یہ تمہاری ساری پُشتوں میں تمہارے لیٔے ایک دائمی فرمان ہے۔
LEV 23:22 ” ’اَور جَب تُم اَپنی زمین کی فصل کاٹو، تو اَپنے کھیت کو کونے کونے تک پُورا نہ کاٹنا اَور نہ ہی اَپنے کھیت کی گری پڑی بالیں جمع کرنا بَلکہ اُنہیں غریبوں اَور تمہارے درمیان رہنے والے پردیسیوں کے لیٔے چھوڑ دینا۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔‘ “
LEV 23:23 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 23:24 ”بنی اِسرائیل کو حُکم دو، ’ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ کو تمہارا یَومِ آرام ہوگا۔ اِس مُقدّس موقع پر اِجتماع کیا جائے اَور یادگاری کے لیٔے زور زور سے نرسنگے پھُونکے جایٔیں۔
LEV 23:25 اُس دِن روزمرّہ کا کویٔی کام نہ کرنا، بَلکہ یَاہوِہ کے حُضُور آتِشی قُربانی پیش کرنا۔‘ “
LEV 23:26 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 23:27 ”اُسی ساتویں مہینے کے دسویں دِن کو یَومِ کفّارہ ہے۔ اُس روز تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو۔ تُم روزہ رکھنا اَور یَاہوِہ کے حُضُور آتِشی قُربانی پیش کرنا۔
LEV 23:28 اُس دِن کویٔی کام نہ کرنا کیونکہ یہ یَومِ کفّارہ ہے، جِس دِن یَاہوِہ تمہارے خُدا کے حُضُور کفّارہ دیا جائے۔
LEV 23:29 جو کویٔی شخص اُس دِن روزہ نہیں رکھتا ہے، تو اُس شخص کو اُس کو اَپنے لوگوں میں سے خارج کر دیاجایٔے۔
LEV 23:30 اَورجو کویٔی اُس دِن کویٔی کام کرےگا اُسے، میں اُس کے لوگوں میں سے فنا کر دُوں گا۔
LEV 23:31 لہٰذا تُم اُس دِن کویٔی کام مت کرنا۔ یہ تمہاری ساری پُشتوں کے لیٔے ایک دائمی فرمان ہے جہاں بھی تُم رہوگے۔
LEV 23:32 یہ تمہارے لیٔے مُکمّل آرام کا سَبت ہے، اَور اِس دِن تُم ضروُر روزہ رکھنا؛ یہ سَبت مہینے کی نویں تاریخ کو شام سے لے کر اگلے دِن کی شام تک مانا جائے۔“
LEV 23:33 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 23:34 ”بنی اِسرائیل کو یہ حُکم دو، ’ساتویں مہینے کے پندرھویں دِن سے لے کر اگلے سات دِن تک یَاہوِہ کے خیموں کی عید شروع ہوتی ہے۔
LEV 23:35 پہلا دِن مُقدّس اِجتماع کا دِن ہے۔ تُم اُس دِن روزمرّہ کا کویٔی کام نہ کرنا۔
LEV 23:36 اَور سات دِن تک یَاہوِہ کے حُضُور آتِشی قُربانیاں پیش کرنا اَور آٹھویں دِن مُقدّس اِجتماع کرنا اَور یَاہوِہ کے حُضُور آتِشی قُربانی پیش کرنا۔ وہ اِس عید کا آخِری اِجتماع ہوگا۔ لہٰذا اُس دِن روزمرّہ کا کویٔی کام نہ کرنا۔
LEV 23:37 ” ’یہ یَاہوِہ کی مُقرّرہ عیدیں ہیں جنہیں منانے کے لیٔے مُقدّس اِجتماعات منعقّد کئے جایٔیں تاکہ تُم یَاہوِہ کے حُضُور مُقرّرہ دِنوں پر سوختنی نذریں اَور اناج کی نذریں، قُربانیاں اَور تپاون کی نذر پیش کرنا۔
LEV 23:38 یہ قُربانیاں اُن قُربانیوں کے علاوہ ہیں جنہیں تُم یَاہوِہ کے سَبتوں کے لیٔے ہدیوں، مَنّتوں اَور رضا کی قُربانیوں کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور میں پیش کرتے ہو۔
LEV 23:39 ” ’لہٰذا زمین کی فصلوں کو جمع کرنے کے بعد ساتویں مہینے کی پندرھویں تاریخ سے شروع کرکے تُم اِس عید کو یَاہوِہ کے لیٔے سات دِن تک منانا۔ پہلا دِن اَور آٹھواں دِن دونوں مُکمّل سَبت کا آرام کا دِن ہوگا۔
LEV 23:40 اَور پہلے دِن تُم درختوں کے چنندہ پھل کھجور کی ڈالیاں، گھنے درختوں کی شاخیں اَور دریاؤں کے کنارے کے بید مجنوں لینا اَور تُم سات دِن تک یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور خُوشی منانا۔
LEV 23:41 اَور تُم ہر سال یہ عید یَاہوِہ کے لیٔے سات دِن تک منایا کرنا۔ تُم یہ عید ساتویں مہینے میں منانا۔ اَور یہ تمہاری آنے والی ساری پُشتوں کے لیٔے ایک دائمی فرمان ہے۔
LEV 23:42 اَور سات دِن تک تُم جھونپڑیوں میں رہنا۔ تمام مقامی باشِندہ کے طور پر پیدا ہونے والے اِسرائیلی جھوپڑوں میں رہیں گے
LEV 23:43 تاکہ تمہاری آنے والی نَسلوں کو مَعلُوم ہو کہ جَب مَیں بنی اِسرائیل کو مِصر سے نکال کر لایا، تو مَیں نے اُنہیں سائبانوں میں رکھّا تھا۔ میں ہی یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔‘ “
LEV 23:44 پس مَوشہ نے بنی اِسرائیل میں یَاہوِہ کی مُقرّرہ عیدوں کا بَیان کیا۔
LEV 24:1 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 24:2 ”تُم بنی اِسرائیل کو حُکم دینا کہ وہ تمہارے پاس کولہو کے ذریعہ نکالا ہُوا زَیتُون کا خالص تیل رَوشنی کے لیٔے لائیں تاکہ چراغ ہمیشہ جلتے رہیں۔
LEV 24:3 اَور اَہرونؔ خیمہ اِجتماع میں عہد کے صندُوق کے پردہ کے باہر شام سے صُبح تک یَاہوِہ کے سامنے بلاناغہ اُن چراغوں کی دیکھ بھال کیا کرے۔ یہ تمہارے لیٔے اَور تمہاری ساری پُشتوں کے لیٔے ایک دائمی فرمان ہے۔
LEV 24:4 اَور اُن چراغوں کو صَاف کرکے ہمیشہ یَاہوِہ کے حُضُور خالص سونے کے چراغدان پر ترتیب سے رکھے۔
LEV 24:5 ”اَور تُم مَیدہ لے کر بَارہ روٹیاں پکانا، ہر ایک روٹی دو دہائی ایفہ مَیدہ سے بنائی جایٔے۔
LEV 24:6 اَور تُم اُنہیں یَاہوِہ کے حُضُور خالص سونے کی میز پر دو قطاروں میں رکھ دینا، ہر قطار میں چھ چھ روٹیاں ہُوں۔
LEV 24:7 اَور ہر قطار کے ساتھ خالص لوبان رکھنا تاکہ یہ روٹیاں یَاہوِہ کے لیٔے یادگاری حِصّہ کے طور پر پیش کی گئی آتِشی قُربانی ہو جایٔے۔
LEV 24:8 اَور بنی اِسرائیل کی طرف سے یہ روٹیاں باقاعدہ ہر سَبت کو یَاہوِہ کے حُضُور ایک دائمی عہد کے طور پر رکھی جایٔیں۔
LEV 24:9 اَور یہ روٹیاں اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کے لیٔے ہوں گے اَور وہ اُنہیں پاک مَقدِس کی جگہ میں ہی کھایٔیں کیونکہ اناج کی قُربانی دائمی حِصّہ کے طور پر فرمان کے مُطابق یَاہوِہ کو گذرانی جانے والی آتِشی قُربانیوں میں سے یہ اُن کا پاک ترین حِصّہ ہے۔“
LEV 24:10 اَور یُوں ہُوا کہ ایک دِن ایک اِسرائیلی عورت کا بیٹا جِس کا باپ مِصری تھا، بنی اِسرائیل کے درمیان چلا گیا اَور چھاؤنی کے اَندر ہی اُس کی ایک اِسرائیلی شخص کے ساتھ آپَس میں مارپیٹ ہو گئی۔
LEV 24:11 اُس اِسرائیلی عورت کے بیٹے نے خُدا کی توہین کی اَور اُس پر لعنت بھیجی؛ لہٰذا وہ اُسے مَوشہ کے پاس لایٔے۔ اُس کی والدہ کا نام شلُومیتؔ تھا جو دانؔ کے قبیلہ کے دِبریؔ کی بیٹی تھی۔
LEV 24:12 اَور اُنہُوں نے یَاہوِہ کی مرضی صَاف صَاف ظاہر ہونے تک اُسے اَپنی حِراست میں رکھا۔
LEV 24:13 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 24:14 ”کُفر بکنے والے کو چھاؤنی سے باہر لے جاؤ، اَور وہ تمام لوگ جنہوں نے اُسے کُفر بکتے ہویٔے سُنا ہے، وہ سَب اُس کے سَر پر اَپنے ہاتھ رکھّیں؛ اِس کے بعد ساری جماعت اُسے سنگسار کرے۔
LEV 24:15 اَور تُم بنی اِسرائیل کو حُکم دو، ’اگر کویٔی شخص اَپنے خُدا پر لعنت بھیجے، تو اُس کا گُناہ اُسی کے سَر پر ہوگا۔
LEV 24:16 اَورجو کویٔی یَاہوِہ کے نام پر کُفر بکے وہ ضروُر جان سے ماراجائے۔ اَور پُوری جماعت اُسے ضروُر سنگسار کرے، خواہ کویٔی مُلک اِسرائیل کا باشِندہ ہو یا غَیراِسرائیلی؛ چنانچہ جَب کویٔی یَاہوِہ کے نام کی توہین کرے تو وہ ضروُر جان سے ماراجائے۔
LEV 24:17 ” ’اَور اگر کویٔی شخص کسی اِنسان کو مار ڈالے تو وہ ضروُر جان سے ماراجائے۔
LEV 24:18 اَور اگر کویٔی شخص کسی چَوپائے کو مار ڈالے تو لازِم ہے کہ وہ اُس کا مُعاوضہ دے یعنی جان کے بدلے جان۔
LEV 24:19 اَور اگر کویٔی شخص اَپنے ہمسایہ کو زخمی کر دے تو جَیسا اُس نے کیا ہے ٹھیک وَیسا ہی اُس کے ساتھ کیا جائے:
LEV 24:20 یعنی ہڈّی توڑنے کے بدلے ہڈّی توڑنا۔ آنکھ کے بدلے آنکھ، اَور دانت کے بدلے دانت۔ اَور جَیسے اُس شخص نے دُوسرے کو زخمی کیا ہے وَیسے ہی اُسے بھی زخمی کیا جائے۔
LEV 24:21 اِسی طرح جِس نے کسی جانور کو مار ڈالا ہو، وہ اُس کا مُعاوضہ دے لیکن جو کویٔی کسی شخص کو مار ڈالے وہ ضروُر جان سے مار ڈالا جائے۔
LEV 24:22 اَور تمہارے درمیان مُلک اِسرائیل کا باشِندہ ہو یا غَیراِسرائیلی دونوں کے لیٔے ایک ہی قانُون ہو۔ کیونکہ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔‘ “
LEV 24:23 پھر مَوشہ نے بنی اِسرائیل سے بات کی اَور اُنہُوں نے اُس کُفر بکنے والے کو چھاؤنی سے باہر لے جا کر سنگسار کر دیا۔ اَور بنی اِسرائیل نے وَیسا ہی کیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
LEV 25:1 اَور یَاہوِہ نے کوہِ سِینؔائی پر مَوشہ سے فرمایا،
LEV 25:2 ”بنی اِسرائیل کو یہ حُکم دو: ’جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہو، جو میں تُمہیں دینے والا ہُوں، تو وہاں کی زمین بھی یَاہوِہ کے لیٔے سَبت منائے۔
LEV 25:3 تُم چھ سال تک اَپنے کھیتوں میں بیج بونا اَور چھ سال تک اَپنے انگوری باغ کو چھانٹنا اَور اُن کے پھل جمع کرنا۔
LEV 25:4 لیکن ساتویں سال زمین کے لیٔے آرام کا سَبت ہو؛ یعنی یَاہوِہ کے لیٔے سَبت۔ لہٰذا ساتویں سال تُم نہ تو اَپنے کھیتوں میں بیج بونا اَور نہ اَپنے انگوری باغ کو چھانٹنا۔
LEV 25:5 اَور نہ اَپنی خُودرَو فصل کو کاٹنا اَور نہ بے چھٹی تاکوں کے انگوروں کو توڑنا؛ چنانچہ یہ زمین کے لیٔے ایک خاص آرام کا سال ہوگا۔
LEV 25:6 اَور سَبت سال کے دَوران جو کچھ زمین سے پیدا ہوگا، وہ تُم سَب کے لیٔے خُوراک ہوگی، یعنی تمہارے لیٔے، تمہارے خادِموں اَور خادِماؤں کے لیٔے، اَور مزدُوروں اَور تمہارے درمیان رہنے والے پردیسی باشِندوں کے لیٔے،
LEV 25:7 تمہارے مویشیوں اَور تمہارے مُلک کے جنگلی جانوروں کے لیٔے بھی ہوگا۔ اَورجو کچھ زمین میں پیدا ہو اُسے سَب کھا سکتے ہیں۔
LEV 25:8 ” ’تُم سات سَبت سالوں کی بھی گِنتی کرنا؛ یعنی سات گُنا سات سال گِن لینا، یُوں تمہارے حِساب سے برسوں کے سات سَبتوں کی کُل مُدّت اُنچاس سال ہوں گے۔
LEV 25:9 تَب تُم ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو ہر جگہ نرسنگا پھنکوانا۔ تُم کفّارہ کے دِن اَپنے سارے مُلک میں نرسنگا پھنکوانا۔
LEV 25:10 تُم پچاسویں بَرس کو مُقدّس جاننا اَور مُلک بھر میں سَب باشِندوں کے لیٔے آزادی کا اعلان کرنا۔ یہ سال تمہارے لیٔے یوویلؔ سال کہلائے گا اَور اِس سال میں تُم میں سے ہر ایک اَپنی اَپنی خاندانی مِلکیّت کا پھر سے مالک ہو جایٔےگا اَور ہر شخص اَپنی اَپنی برادری والوں میں پھر سے شامل ہو جایٔے۔
LEV 25:11 پچاسواں بَرس تمہارے لیٔے یوویلؔ کا سال ہو؛ اِس سال تُم نہ تو کچھ بیج بونا، اَور نہ اَپنے آپ پیدا ہوئی فصل کاٹنا اَور نہ بِنا چھٹی تاکوں کے انگور جمع کرنا۔
LEV 25:12 کیونکہ یہ یوویلؔ کا سال ہے۔ یہ تمہارے لیٔے مُقدّس ٹھہرایا گیا ہے۔ تُم صِرف کھیتوں کی خُودرَو پیداوار پر گُزارا کرنا۔
LEV 25:13 ” ’اِس یوویلؔ کے سال میں ہر ایک اَپنی اَپنی خاندانی مِلکیّت کو پھر سے لَوٹ جایٔے۔
LEV 25:14 ” ’اگر تُم اَپنے پڑوسی کو زمین بیچو یا اُس سے خریدو تو، تُم ایک دُوسرے سے دھوکے سے کام نہ لینا۔
LEV 25:15 اَور جَب تُم اَپنے پڑوسی سے زمین خریدو، تو اُس کی قیمت پچھلے یوویلؔ کے بعد کے سالوں کے شُمار کے مُطابق ہونا ضروُری ہے، اَور بیچنے والا بھی اِس کی قیمت اگلے یوویلؔ کے بچے ہویٔے فصلوں کے برسوں کے شُمار کے مُطابق بیچے۔
LEV 25:16 اَور جَب سالوں کی تعداد زِیادہ ہو تو دام بڑھا دینا اَور جَب کم ہو تو قیمت کو گھٹا دینا کیونکہ جو وہ تُم کو بیچ رہاہے وہ اُن سالوں کی فصلوں کی تعداد ہے۔
LEV 25:17 لہٰذا تُم ایک دُوسرے کو دھوکا مت دینا بَلکہ اَپنے خُدا سے ڈرنا۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 25:18 ” ’پس تُم میرے قوانین پر عَمل کرنا اَور میرے فرمان کو پُوری طرح ماَننا تو تُم اُس مُلک میں سلامتی کے ساتھ بسے رہوگے۔
LEV 25:19 تَب زمین اَپنی پیداوار دے گی اَور تُم پیٹ بھر کر کھاؤگے اَور وہاں سلامتی کے ساتھ بسے رہوگے۔
LEV 25:20 اَور اگر تمہارے ذہن میں یہ سوال اُٹھے، ”جَب ہم نہ تو بوئیں گے اَور نہ ہی اَپنی فصلیں کاٹیں گے تو پھر ہم ساتویں بَرس کیا کھایٔیں گے؟“
LEV 25:21 تَب میں چھٹے بَرس میں تُمہیں اِس قدر برکت دُوں گا کہ آنے والے اگلے تین سال تک تمہارے کھانے واسطے زمین کافی پیداوار دے گی۔
LEV 25:22 اَور آٹھویں سال کے دَوران بیج بوتے وقت تُم وُہی اناج اِستعمال کروگے بَلکہ نویں سال کی فصل جمع کرکے گھر لانے تک بھی اُسی میں سے کھاتے رہوگے۔
LEV 25:23 ” ’اَور زمین ہمیشہ کے لیٔے بیچی نہ جائے کیونکہ زمین میری ہے اَور تُم میری زمین میں محض پردیسی اَور مُسافر ہو جو اُس کی دیکھ بھال کے لیٔے مُقرّر کئے گیٔے ہیں۔
LEV 25:24 اَور جَب بھی تُم زمین کو کسی شخص سے خریدو، تو بعد میں اگر بیچنے والا اَپنی زمین پھر سے خریدنا چاہے تو اُسے اَپنی زمین کو چھُڑانے کا اِختیار ہے۔
LEV 25:25 ” ’اَور اگر تمہارا کویٔی ہم وطن اِسرائیلی غربت کی وجہ سے اَپنی مِلکیّت کا کچھ حِصّہ بیچ دے تو اُس کا نزدیکی رشتہ دار آکر اُس ہم وطن کا بیچا ہُوا حِصّہ چھُڑا لے۔
LEV 25:26 تاہم اگر اُس کا بیچا ہُوا حِصّہ چھُڑانے والا کویٔی نہ ہو اَور وہ خُود اِس قدر خُوشحال ہو جائے کہ اُس حِصّہ کو چھُڑانے کے لیٔے اُس کے پاس کافی وسائل ہُوں،
LEV 25:27 تو وہ اُس حِصّہ کے بیچے جانے کے وقت سے اُس کی قیمت کا تعیُّن کرکے بقایا رقم خریدنے والے کو لَوٹا دے اَور یُوں وہ پھر سے اَپنی مِلکیّت کا مالک ہو سَکتا ہے۔
LEV 25:28 لیکن اگر اُس میں ادائیگی کا مقدور نہ ہو تو جو کچھ اُس نے بیچا وہ یوویلؔ کے سال تک خریدار کے قبضہ میں رہے گا لیکن یوویلؔ کے سال میں یہ خُود ہی چھُوٹ کر اَپنے اصلی مالک کے پاس لَوٹ جائے گا۔
LEV 25:29 ” ’اَور اگر کویٔی شخص کسی فصیلدار شہر میں اَپنے مکان کو بیچتا ہے، تو اُس کی فروخت کے بعد بھی اُسے حق حاصل ہے کہ وہ ایک سال کے پُورا ہونے سے پہلے اُسے چھُڑا سکےگا۔
LEV 25:30 اَور اگر پُورے ایک سال کی میعاد کے اَندر اِسے چھُڑایا نہ جایٔے تو اُس فصیلدار شہر کے مکان پر خریدار اَور اُس کی نَسل کا قبضہ ہمیشہ کے لیٔے قائِم ہو جایٔےگا۔ اَور وہ یوویلؔ والے سال میں بھی واپس نہیں کیا جائے گا۔
LEV 25:31 لیکن جو دیہات والے مکان بغیر فصیلوں کے ہُوں اُنہیں کھیتوں کے برابر سمجھا جائے۔ اُنہیں چھُڑایا جا سَکتا ہے اَور وہ یوویلؔ والے سال میں واپس لَوٹا دئیے جایٔیں گے۔
LEV 25:32 ” ’لیکن لیویوں کو اَپنے شہروں میں اُن مکانات کو جِن کے وہ مالک ہیں چھُڑانے کا حق ہمیشہ ہوگا۔
LEV 25:33 لہٰذا جو بھی مِلکیّت لیویوں کی ہے، اُنہیں چھُڑایا جا سکتا ہے اَور لیویوں کے کسی بھی شہر میں کویٔی مکان جو بیچ دیا گیا ہو اُسے یوویلؔ والے سال میں واپس لَوٹا دیا جائے گا کیونکہ بنی اِسرائیل کے درمیان وہ مکانات جو لیویوں کے شہروں میں ہیں اُن کی مِلکیّت ہیں۔
LEV 25:34 لیکن اُن کے شہروں کی چراگاہوں کو ہرگز نہ بیچا جائے کیونکہ وہ اُن کی دائمی مِلکیّت ہیں۔
LEV 25:35 ” ’اَور اگر تمہارا کویٔی ہم وطن اِسرائیلی مُفلس ہو جائے اَور تمہارے درمیان رہتے ہویٔے بھی تنگ دست ہو تو اُس کی مدد کرنا جَیسا کہ تُم کسی پردیسی یا مُسافر کی کرتے ہو تاکہ وہ تمہارے درمیان بسا رہے۔
LEV 25:36 اَور اُس سے کسی قِسم کا سُود یا فائدہ نہ لینا بَلکہ اَپنے خُدا سے ڈرنا تاکہ تمہارا ہم وطن بھایٔی تمہارے درمیان بسا رہے۔
LEV 25:37 تُم اُسے نہ تو اَپنا رُوپیہ سُود پر دوگے اَور نہ ہی اناج نفع کے لالچ سے دوگے۔
LEV 25:38 مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں جو تُمہیں مِصر سے نکال کر لایا ہُوں تاکہ تُمہیں مُلکِ کنعانؔ دُوں اَور تمہارا خُدا ٹھہروں۔
LEV 25:39 ” ’اگر تمہارے درمیان تمہارا ایک اِسرائیلی ہم وطن مُفلس ہو جائے اَور خُود کو تمہارے ہاتھ میں بیچ دے تو اُس سے غُلام کی مانند خدمت نہ لینا۔
LEV 25:40 بَلکہ وہ تمہارے ساتھ ایک مزدُور یا مُسافر کی طرح تمہارے درمیان رہے۔ اَور وہ یوویلؔ کے سال تک تمہاری خدمت کرتا رہے۔
LEV 25:41 پھر سالِ یوویلؔ کے بعد اُسے اَور اُس کے بچّوں کے ساتھ آزاد کردینا تاکہ وہ اَپنی برادری کے پاس اَور اَپنے آباؤاَجداد کی مِلکیّت کی جگہ واپس چلا جائے۔
LEV 25:42 کیونکہ بنی اِسرائیل میرے خادِم ہیں جنہیں میں مِصر سے نکال کر لایاتھا، لہٰذا اُن کو بطور غُلام ہرگز نہ بیچا جائے۔
LEV 25:43 اَور تُم اُن پر سختی سے حُکمرانی نہ کرنا بَلکہ اَپنے خُدا سے ڈرتے رہنا۔
LEV 25:44 ” ’تمہارے غُلام اَور تمہاری لونڈیاں اُن قوموں میں سے ہُوں جو تمہارے چَوگرد رہتی ہیں؛ اُن ہی میں سے تُم غُلام اَور لونڈی خریدا کرنا۔
LEV 25:45 اِن کے سِوا تمہارے درمیان عارضی مُسافر اَور اُن کی برادریوں کے اُن افراد میں سے بھی جو تمہارے مُلک میں پیدا ہویٔے ہیں اَور تمہارے ساتھ رہتے ہیں اُن میں سے کچھ کو خرید سکتے ہو اَور وہ تمہاری مِلکیّت ہو سکتے ہیں۔
LEV 25:46 اَور تُم اُنہیں مِیراث کے طور پر اَپنی اَولاد کے نام کر سکتے ہو؛ اَور یُوں اُنہیں عمر بھرکے لیٔے غُلام بنا سکتے ہو لیکن تُم اَپنے اِسرائیلی ہم وطنوں پر سختی سے حُکمرانی نہ کرنا۔
LEV 25:47 ” ’اَور اگر تمہارے درمیان کویٔی پردیسی یا عارضی باشِندہ دولتمند ہو جائے اَور تمہارا کویٔی اِسرائیلی بھایٔی مُفلس اَور خُود کو اُس پردیسی یا عارضی باشِندے یا اُس پردیسی کی برادری والوں کے ہاتھ بیچ دے،
LEV 25:48 تو بیچے جانے کے بعد بھی وہ چھُڑایا جا سَکتا ہے اَور اُس کے رشتہ داروں میں سے کویٔی اُسے چھُڑا سَکتا ہے،
LEV 25:49 اُس کا چچا یا چچیرا بھایٔی یا اُس کے گھرانے کا کویٔی قریبی برادری والا اُسے چھُڑا سَکتا ہے یا اگر وہ خُود مالدار ہو جائے تو وہ اَپنے آپ کو چھُڑا سَکتا ہے۔
LEV 25:50 وہ اَپنے خریدار کے ساتھ اَپنے کو فروخت کر دینے کے سال سے لے کر سالِ یوویلؔ تک کی مُدّت کا شُمار کرے؛ اُس کی رِہائی کی قیمت اُن سالوں کے لیٔے کسی مزدُور کو اَدا کی گئی مزدُوری کی شرح کے حِساب سے طے ہو۔
LEV 25:51 اگر سالِ یوویلؔ تک ابھی بہت سال باقی ہُوں تو اَپنے چھُڑائے جانے کے لیٔے قیمت کا ایک بڑا حِصّہ اَدا کرنا ہوگا۔
LEV 25:52 اَور اگر سالِ یوویلؔ کے آنے میں تھوڑے سال ہی باقی رہ گیٔے ہُوں تو وہ اَپنے مالک کے ساتھ اِن کی گِنتی کرے اَور اُن سالوں کے مُطابق اَپنے چھُڑانے کی قیمت اُسے لَوٹا دے۔
LEV 25:53 اَور وہ اَپنے مالک کے ساتھ کسی مزدُور کی طرح رہے جِس کی اُجرت سال بسال ٹھہرائی جاتی ہو، اَور تُم اِس بات کا ضروُر خیال رکھنا کہ اُس کا مالک اُس پر سختی سے حُکمرانی نہ کرے۔
LEV 25:54 ” ’اَور اگر وہ اِن طریقوں میں سے کسی طریقہ سے چھُڑایا نہیں گیا، تو بھی وہ اَور اُس کے بچّے سالِ یوویلؔ میں آزاد کر دئیے جایٔیں گے۔
LEV 25:55 کیونکہ بنی اِسرائیل میرے خادِم ہیں۔ یہ میرے وہ خادِم ہیں جنہیں میں مِصر سے نکال کر لایا ہُوں۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 26:1 ” ’تُم اَپنے لیٔے بُت نہ بنانا اَور نہ کویٔی مُورت یا کویٔی مُقدّس پتّھر کھڑا کرنا اَور نہ اَپنے مُلک میں کویٔی شَبیہ دار پتّھر رکھنا کہ اُس کے آگے سَجدہ کرو۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
LEV 26:2 ” ’اَور تُم میرے سَبتوں کو ماَننا اَور میرے پاک مَقدِس کی تعظیم کرنا کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
LEV 26:3 ” ’اگر تُم میرے قوانین پر عَمل کروگے اَور میرے اَحکام کو ماننے میں محتاط رہوگے،
LEV 26:4 تو مَیں تمہارے لیٔے بروقت بارش کیا کروں گا، اَور زمین اَپنی پیداوار دے گی، اَور میدان کے درخت اَپنے پھل دیں گے۔
LEV 26:5 تمہاری کٹائی انگور کی فصل تک جاری رہے گی، اَور تمہاری انگور کی فصل، بیج کی بُوائی تک جاری رہے گی، چنانچہ تُم بھرپیٹ کھانا کھاؤگے اَور اَپنے مُلک میں سلامتی سے بسے رہوگے۔
LEV 26:6 ” ’اَور مَیں مُلک میں اَمن بخشوں گا، تاکہ تُم چَین سے سوؤ اَور کسی چیز کا تُمہیں خوف نہ ہو۔ اَور مَیں جنگلی حَیوانوں کو تمہارے مُلک سے بھگا دُوں گا، اَور تمہارے مُلک میں کویٔی بھی تلوار سے ہلاک نہ ہوگا۔
LEV 26:7 لیکن تُم اَپنے دُشمنوں کا تعاقب کروگے اَور وہ تمہارے سامنے تلوار سے مارے جایٔیں گے۔
LEV 26:8 تُم میں سے پانچ شخص سَو کو اَور سَو دس ہزار کو کھدیڑ دیں گے، اَور تمہارے دُشمن تمہارے سامنے تلوار سے مارے جایٔیں گے۔
LEV 26:9 ” ’اَور میری تُم پر نظرِکرم ہوگی اَور مَیں تُمہیں سرفراز کروں گا، اَور مَیں تمہاری تعداد کو بڑھاؤں گا اَور تمہارے ساتھ کئےگئے اَپنے عہد کو پُورا کروں گا۔
LEV 26:10 تُم ابھی پچھلے سال کا ہی اناج کھا رہے ہوگے کہ تُمہیں اُسے باہر نکالنا پڑےگا تاکہ تُم نئے فصل کا ذخیرہ گودام میں رکھنے کے واسطے جگہ بنا سکو۔
LEV 26:11 میں اَپنی قِیام گاہ تمہارے درمیان قائِم کروں گا، اَور مَیں تُم سے نفرت نہیں کروں گا۔
LEV 26:12 مَیں تمہارے درمیان چلا پھرا کروں گا، اَور مَیں تمہارا خُدا ہُوں گا اَور تُم میری اُمّت ہوگے۔
LEV 26:13 مَیں یَاہوِہ ہی تمہارا خُدا ہُوں جو تُمہیں مِصر سے نکال لایا تاکہ تُم مِصریوں کے غُلام نہ بنے رہو؛ مَیں نے تمہارے جُوئے کی سلاخیں توڑ ڈالی ہیں اَور تُمہیں سَر اُونچا کرکے چلنے کے لائق بنا دیا۔
LEV 26:14 ” ’لیکن اگر تُم میری نہ سنوگے اَور اِن سَب اَحکام پر عَمل نہ کروگے،
LEV 26:15 اَور اگر میرے قوانین کو مُسترد کروگے اَور میرے اَحکام سے نفرت کروگے، اَور میرے تمام اَحکام کی تعمیل کرنے میں ناکام رہوگے اَور یُوں میرے عہد کی خِلاف ورزی کروگے،
LEV 26:16 تو میں تُم پر اَچانک دہشت، برباد کرنے والی بیماریاں اَور بُخار کو بھیجوں گا جو تمہاری بینائی کو تباہ کر دیں گی اَور تمہاری جان لے لیں گی۔ تمہارا بیج بونا بے فائدہ ہوگا کیونکہ وہ تمہارے دُشمنوں کا لقمہ بَن جائیں گے۔
LEV 26:17 اَور مَیں تمہارا مُخالف ہو جاؤں گا۔ لہٰذا تُم اَپنے دُشمنوں سے شِکست کھاؤگے اَور وہ جو تُم سے نفرت کرتے ہیں تُم پر حُکمرانی کریں گے اَور جَب کویٔی بھی تمہارا تعاقب نہ کر رہا ہوگا، تَب بھی تُم بھاگتے رہوگے۔
LEV 26:18 ” ’اَور اگر تُم یہ سَب ہونے کے باوُجُود بھی میری نہ سنوگے، تو میں تُمہیں تمہارے گُناہوں کے سبب سے سات گُنا سزا دُوں گا۔
LEV 26:19 اَور مَیں تمہاری شہزوری کے تکبُّر کو توڑ ڈالوں گا اَور تمہارے اُوپر آسمان کو لوہے کی مانند اَور نیچے زمین کو کانسے کی مانند بنا دُوں گا۔
LEV 26:20 اَور تمہاری تمام محنت بیکار ثابت ہوگی کیونکہ تمہاری زمین اَپنی پیداوار نہ دے گی اَور نہ ہی مُلک کے درخت اَپنے پھل دیں گے۔
LEV 26:21 ” ’اَور اگر تُم یہ سَب ہونے کے باوُجُود بھی اَپنی فطرت میں تبدیلی نہیں لاؤگے اَور میری مُخالفت کرتے رہوگے اَور میری سُننے سے اِنکار کروگے تو مَیں تمہارے گُناہوں کے مُطابق تمہاری بَلاؤں کو سات گُنا بڑھا دُوں گا۔
LEV 26:22 مَیں تمہارے خِلاف جنگلی جانوروں کو بھیجوں گا، وہ تمہارے بچّوں کو اُٹھالے جایٔیں گے اَور تمہارے چَوپایوں کو تباہ کر دیں گے اَور تمہاری تعداد اِس قدر کم کر دیں گے کہ تمہاری شاہراہیں سُونی پڑ جایٔیں گی۔
LEV 26:23 ” ’اگر اِن باتوں کے باوُجُود بھی تُم میری تربّیت قبُول نہ کرو اَور میری طرف رُجُوع نہ لاؤ بَلکہ تُم میرے خِلاف ہی چلتے رہو،
LEV 26:24 تو میں بھی تمہارے خِلاف چلُوں گا اَور تمہارے گُناہوں کے سبب سے تُمہیں سات گُنا اَور رنجیدہ کروں گا۔
LEV 26:25 اَور تمہاری عہد شکنی کا بدلہ لینے کے لیٔے تُم پر تلوار چلاؤں گا اَور جَب تُم اَپنی حِفاظت کے لیٔے شہروں کے اَندر بھاگ کر جمع ہوگے تو مَیں تمہارے درمیان وَبائی بیماریاں بھیجوں گا اَور تُم دُشمنوں کے ہاتھوں میں دئیے جاؤگے۔
LEV 26:26 اَور جَب مَیں تمہاری رسد مُہیّا کے سلسلہ کو برباد کر دُوں گا تو دس عورتیں ایک ہی تنور میں تمہاری روٹی پکائیں گی اَور تُمہیں وزن کے حِساب سے تھوڑی تھوڑی دیں گی۔ تُم کھاؤگے لیکن سیر نہ ہوگے۔
LEV 26:27 ” ’اَور اگر اِس کے باوُجُود بھی تُم نے میری نہ سُنی اَور میرے خِلاف ہی چلتے رہے،
LEV 26:28 تَب میں اَپنے غضب میں تمہارے خِلاف ہوؤں گا، اَور تمہارے گُناہوں کے سبب میں خُود تُمہیں سات گُنی سزا دُوں گا۔
LEV 26:29 تُم اَپنے بیٹوں اَور اَپنی بیٹیوں کا گوشت کھاؤگے۔
LEV 26:30 اَور مَیں تمہارے اُن اُونچے مقامات کو تباہ کر دُوں گا اَور تمہارے بخُوردان کے مذبحوں کو تباہ کر دُوں گا، اَور تمہارے بے جان بُتوں پر تمہاری لاشوں کا ڈھیر لگا دُوں گا اَور تُم سے نفرت کروں گا۔
LEV 26:31 اَور مَیں تمہارے شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دُوں گا اَور تمہارے معبُودوں کے پاک مَقدِسوں کو برباد کر دُوں گا اَور تمہاری قُربانیوں کی فرحت بخش خُوشبو کو میں قبُول نہیں کروں گا۔
LEV 26:32 مَیں تمہارے مُلک کو ویران کر دُوں گا تاکہ تمہارے دُشمن جو وہاں آباد ہونے آئیں گے، اِسے دیکھ کر خوفزدہ ہو جایٔیں گے۔
LEV 26:33 میں تُمہیں تمام قوموں میں پراگندہ کر دُوں گا، اَور مَیں اَپنی تلوار کھینچ کر تمہارا تعاقب کروں گا اَور تمہارا مُلک ویران اَور تمہارے شہر کھنڈرات ہو جایٔیں گے۔
LEV 26:34 جَب تک تُم اَپنے دُشمنوں کے مُلک میں رہوگے، تَب تک یہ زمین آرام کرےگی اَور اَپنے سَبت کے سال منائے گی۔
LEV 26:35 جَب تک یہ زمین ویران رہے گی اُسے وہ آرام نصیب ہوگا جو اُسے اُن سَبتوں کے دَوران بھی نہ مِلا تھا جَب تُم اِس مُلک میں رہتے تھے۔
LEV 26:36 ” ’اَور تُم میں سے جو باقی بچیں گے میں اُن کے دُشمنوں کے ممالک میں اُن کے دِلوں کو اَیسا خوفزدہ کر دُوں گا کہ ہَوا سے اُڑتے ہُوئے پتّے کی آواز سُن کر بھی وہ بھاگ کھڑے ہوں گے۔ وہ اَیسے بھاگیں گے گویا کویٔی تلوار لیٔے ہویٔے اُن کا پیچھا کر رہا ہو، ہالانکہ کویٔی اُن کا پیچھا بھی نہیں کر رہا ہوگا تو بھی وہ گرتے پڑتے بھاگیں گے۔
LEV 26:37 اَور وہ ٹھوکر کھا کر ایک دُوسرے پر اَیسے گریں گے گویا تلوار سے بچنے کے لیٔے بھاگ رہے ہُوں، حالانکہ کویٔی بھی اُن کا پیچھا نہ کر رہا ہوگا۔ لہٰذا تُم میں اَپنے دُشمنوں کے مقابل کھڑا ہونے کی ہمّت بھی نہ ہوگی۔
LEV 26:38 اَور تُم غَیر قوموں کے درمیان جَلاوطنی میں فنا ہو جاؤگے اَور تمہارے دُشمنوں کی زمین تُمہیں کھا جائے گی۔
LEV 26:39 اَور تُم میں سے جو باقی بچے رہ جایٔیں گے، وہ اَپنے اَور اَپنے آباؤاَجداد کے گُناہوں کے باعث تمہارے دُشمنوں کے مُلک میں ہی فنا ہو جایٔیں گے۔
LEV 26:40 ” ’لیکن اگر وہ اَپنے اَور اَپنے آباؤاَجداد کے گُناہوں کا اقرار کریں گے کہ اُنہُوں نے میرے ساتھ دغا اَور عداوت کی ہے،
LEV 26:41 جِس کے باعث میں بھی اُن کا اَیسا مُخالف ہُوا کہ مَیں نے اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے مُلک میں بھیج دیا؛ اَور جَب اُن کے نامختون دِل حلیم ہو جایٔیں اَور وہ اَپنے گُناہوں کا کفّارہ کر لیں،
LEV 26:42 تو میں اَپنا عہد جو مَیں نے یعقوب، اِصحاقؔ اَور اَبراہامؔ کے ساتھ باندھا تھا یاد کروں گا اَور اُس مُلک کو بھی یاد کروں گا۔
LEV 26:43 لیکن اُن کے نکل جانے کی وجہ سے یہ مُلک ویران ہو جایٔےگا تاکہ یہ زمین اَپنے سَبتوں کے نُقصان کو پُورا کر لے۔ اِسی دَوران وہ اَپنے گُناہوں کا کفّارہ کریں گے؛ کیونکہ اُنہُوں نے میرے آئین کو مُسترد کیا اَور میرے قوانین سے نفرت کی تھی۔
LEV 26:44 تاہم جَب وہ اَپنے دُشمنوں کے مُلک میں ہوں گے، تَب بھی میں اُنہیں مُسترد نہ کروں گا اَور نہ ہی اُن سے اَیسی نفرت کروں گا کہ میں اُن کے ساتھ اَپنے عہد کو توڑ کر اُن کو بالکُل فنا کر دُوں۔ میں ہی یَاہوِہ اُن کا خُدا ہُوں۔
LEV 26:45 لیکن مَیں اُن کی خاطِر اُن کے آباؤاَجداد کے ساتھ باندھا ہُوا عہد یاد کروں گا، جنہیں میں غَیر قوموں کی آنکھوں کے سامنے مِصر سے نکال لایاتھا تاکہ میں اُن کا خُدا ٹھہروں۔ میں ہی یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
LEV 26:46 یہ وہ قوانین، آئین اَور ضوابط ہیں جنہیں یَاہوِہ نے کوہِ سِینؔائی پر مَوشہ کی مَعرفت اَپنے اَور بنی اِسرائیل کے مابین مُقرّر کئے تھے۔
LEV 27:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
LEV 27:2 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُنہیں حُکم دینا، ’اگر کویٔی شخص یَاہوِہ کو نذر کرنے کی کویٔی خاص مَنّت مانے تو اُس شخص کے فدیہ کی قیمت کو اِس طرح مُقرّر کرنا،
LEV 27:3 بیس سال سے لے کر ساٹھ سال کی عمر تک کے مَرد کی قیمت پاک مَقدِس کی ثاقل کے حِساب سے چاندی کی پچاس ثاقل ہو؛
LEV 27:4 اَور اگر وہ عورت ہو تو اُس کی قیمت تیس ثاقل ہو؛
LEV 27:5 اَور اگر وہ شخص پانچ سال سے لے کر بیس سال کی عمر کا ہو تو مَرد کی قیمت بیس ثاقل اَور عورت کی قیمت دس ثاقل ہو؛
LEV 27:6 اَور ایک ماہ سے لے کر پانچ سال کی عمر کے لڑکے کے لیٔے چاندی کی پانچ ثاقل اَور لڑکی کے لیٔے چاندی کی تین ثاقل ہو۔
LEV 27:7 اَور ساٹھ سال یا اِس سے زِیادہ کی عمر کے مَرد کی قیمت پندرہ ثاقل اَور عورت کی دس ثاقل ہو۔
LEV 27:8 لیکن اگر کویٔی مَنّت ماننے والا اِس قدر غریب ہو کہ اُسے مُقرّرہ رقم اَدا کرنے کا مقدور نہ ہو، تو وہ اُس شخص کو کاہِنؔ کے سامنے پیش کرے اَور کاہِنؔ اُس شخص کے فدیہ کی قیمت اُس شخص کے حیثیت کے مُطابق اُس کی قیمت مُقرّر کرے۔
LEV 27:9 ” ’اگر اُس نے کسی اَیسے جانور کی مَنّت مانی ہے جو بطور نذر یَاہوِہ کے لیٔے مقبُول ٹھہرے تو یَاہوِہ کو نذر کیا ہُوا وہ جانور پاک ٹھہرے گا۔
LEV 27:10 اَور مَنّت ماننے والا اُسے ہرگز نہ بدلے، نہ اَچھّے کے عِوض بُرا دے اَور نہ بُرے کے عِوض اَچھّا دے۔ لیکن اگر کویٔی اَیسا عدل بدل کر بھی لیتا ہے، تو وہ جانور اَور اُس کا بدل دُوسرا جانور دونوں ہی پاک ٹھہریں گے۔
LEV 27:11 لیکن اگر مَنّت کا جانور ناپاک ہو اَور یَاہوِہ کو بطور قُربانی کرنے لائق نہ ہو، تو وہ اُس جانور کو لازماً کاہِنؔ کے سامنے پیش کرے۔
LEV 27:12 کاہِنؔ اُس جانور کی اَچھّائی یا بُرائی کا مُعائنہ کرےگا اَور تَب اُس کی جو بھی قیمت کاہِنؔ مُقرّر کرے وُہی اُس کی قیمت ہوگی۔
LEV 27:13 اَور اگر اُس کا مالک اُس جانور کا فدیہ دینا چاہے تو وہ اُس مُقرّرہ قیمت میں اُس کا پانچواں حِصّہ اِضافہ کرکے اُسے اَدا کرے۔
LEV 27:14 ” ’اَور اگر کویٔی شخص اَپنے مکان کو یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کرکے الگ کر دے، تو کاہِنؔ اُس کے اَچھّا یا بُرا ہونے کا مُعائنہ کرے اَور کاہِنؔ جو قیمت مُقرّر کرے وُہی اُس کی قیمت ہوگی۔
LEV 27:15 اَور اگر وہ شخص جِس نے اَپنے مکان کو مخصُوص کر دیا ہے، مگر وہ اَپنے مکان کو فدیہ دے کر اُسے چھُڑانا چاہے، تو وہ مُقرّر قیمت کے علاوہ، اُس کا پانچواں حِصّہ اِضافہ کرکے اَدا کرے تاکہ وہ مکان پھر اُس کا ہو جائے۔
LEV 27:16 ” ’اگر کویٔی شخص اَپنی موروثی زمین کا کچھ حِصّہ یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کرے تو اُس کی قیمت اُس کے لیٔے درکار بیج کی مقدار کے مُطابق مُقرّر ہوگی یعنی جَو کے بیج کے ایک حُومر کے لیٔے پچاس ثاقل۔
LEV 27:17 اَور اگر وہ یوویلؔ والے سال کے دَوران اَپنا کھیت مخصُوص کرے تو اُس کی جو قیمت مُقرّر ہو چُکی ہو وُہی رہے گی۔
LEV 27:18 لیکن اگر وہ اَپنا کھیت یوویلؔ کے بعد مخصُوص کرے تو اگلی یوویلؔ تک جتنے سال باقی رہتے ہُوں اُن کے مُطابق کاہِنؔ اُس کی قیمت مُقرّر کرے اَور اُس کی پہلی قیمت کم کر دے۔
LEV 27:19 اگر وہ شخص جِس نے کھیت مخصُوص کیا ہو اُس کا فدیہ دے کر اُسے چھُڑانا چاہے تو وہ اُس کی قیمت میں اُس کا پانچواں حِصّہ اِضافہ کرکے اَدا کرے تو وہ کھیت پھر اُس کا ہو جائے گا۔
LEV 27:20 تاہم اگر وہ اُس کھیت کو نہ چھُڑائے یا اگر اُس نے اُسے کسی دُوسرے کو بیچ دیا ہو تو پھر اُسے کبھی بھی چھُڑایا نہیں جا سَکتا۔
LEV 27:21 اَور جَب کھیت یوویلؔ والے سال میں چھُڑایا جائے تو وہ یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کئے ہویٔے کھیت کی طرح پاک ہوگا اَور وہ کاہِنؔ کی مِلکیّت ٹھہرے گا۔
LEV 27:22 ” ’اَور اگر کویٔی شخص کویٔی خریدا ہُوا کھیت جو اُس کی موروثی زمین کا حِصّہ نہیں، یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کرے۔
LEV 27:23 تو کاہِنؔ یوویلؔ کے سال تک اُس کی قیمت مُعیّن کرے اَور وہ شخص اُس دِن ضروُر اُس کی قیمت اَدا کرے جو یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس نذرانہ ہوگی۔
LEV 27:24 اَور یوویلؔ کے سال میں وہ کھیت اُس شخص کو جِس سے اُس نے خریدا تھا واپس کر دیا جائے یعنی اُس شخص کو جِس کی وہ موروثی مِلکیّت تھی۔
LEV 27:25 ہر ایک قیمت پاک مَقدِس کی ثاقل کے مُطابق مُقرّر کی جائے یعنی ایک ثاقل بیس گیراہ کا ہو۔
LEV 27:26 ” ’تاہم کویٔی بھی کسی جانور کے پہلوٹھے کو مخصُوص نہ کرے کیونکہ وہ پہلوٹھا پہلے ہی یَاہوِہ کا ہے خواہ وہ بَیل ہو یا بھیڑ، وہ یَاہوِہ ہی کا ہے۔
LEV 27:27 اَور اگر کویٔی ناپاک جانور ہو تو وہ اُس کی مُقرّرہ قیمت میں اُس کا پانچواں حِصّہ اِضافہ کرکے اُسے واپس خرید لے۔ اَور اگر وہ اُس کو نہ چھُڑائے تو اُسے اُس کی مُقرّرہ قیمت پر بیچ دیا جائے۔
LEV 27:28 ” ’لیکن کویٔی شَے جو کسی کی مِلکیّت ہو اَور اُس نے اُسے یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کر دیا ہو خواہ وہ شخص ہو یا جانور یا موروثی زمین تو اُسے بیچا ہی جا سَکتا ہے نہ چھُڑایا جا سَکتا ہے کیونکہ اِس طرح کی مخصُوص کی ہُوئی ہر چیز یَاہوِہ کے لیٔے نہایت پاک ہے۔
LEV 27:29 ” ’کویٔی بھی شخص جو ہلاکت کے لیٔے مخصُوص کیا گیا ہو چھُڑایا نہ جائے بَلکہ جان سے مار دیا جائے۔
LEV 27:30 ” ’زمین سے پیدا ہونے والی ہر چیز کی دہ یکی خواہ وہ زمین سے اناج کی یا درختوں سے پھلوں کی پیداوار ہو یَاہوِہ کی ہے اَور وہ یَاہوِہ کے لیٔے پاک ہے۔
LEV 27:31 اَور اگر کویٔی شخص اَپنی کسی دہ یکی کو چھُڑائے تو وہ اُس کی قیمت میں اُس کا پانچواں حِصّہ اِضافہ کرکے اَدا کرے۔
LEV 27:32 گلّے اَور ریوڑ کی دہ یکی یعنی ہر دسواں جانور جو چرواہے کے عصا کے نیچے سے گزرتا ہے یَاہوِہ کے لیٔے پاک ہوگا۔
LEV 27:33 وہ بُروں میں سے اَچھّوں کا اِنتخاب ہرگز نہ کرے اَور نہ ہی اُنہیں بدلے۔ اَور اگر وہ بدلےگا تو وہ جانور اَور اُس کا بدل دونوں ہی پاک ہوں گے اَور چھُڑائے نہ جا سکیں گے۔‘ “
LEV 27:34 یہ وہ اَحکام ہیں جو یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کے لیٔے مَوشہ کو کوہِ سِینؔائی پر دئیے۔
NUM 1:1 بنی اِسرائیل کے مُلک مِصر سے نکل آنے کے دُوسرے سال کے دُوسرے مہینے کے پہلے دِن سِینؔائی کے بیابان میں یَاہوِہ نے خیمہ اِجتماع میں مَوشہ سے باتیں کیں اَور یہ حُکم دیا:
NUM 1:2 ”تُم بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کی اُن کی برادری اَور خاندانوں کے مُطابق ہر ایک مَرد کا یکے بعد دیگرے نام درج کرکے مردُم شُماری کرو۔
NUM 1:3 تُم اَور اَہرونؔ تمام اِسرائیلی مَردوں کی اُن کہ دستوں کے مُطابق گِنتی کرنا جو بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے ہُوں اَورجو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل ہُوں۔
NUM 1:4 اَور ہر قبیلہ سے ایک آدمی جو اَپنے خاندان کا سردار ہو تمہاری مدد کرے۔
NUM 1:5 ”اَورجو آدمی تمہاری مدد کریں گے اُن کے نام یہ ہیں: ”رُوبِنؔ کے قبیلہ سے شدِیُورؔ کا بیٹا اِلیضُورؔ؛
NUM 1:6 شمعُونؔ کے قبیلہ سے ضُوریشدّؔی کا بیٹا سلُومی ایل؛
NUM 1:7 یہُوداہؔ کے قبیلہ سے عَمّیندابؔ کا بیٹا نحشونؔ؛
NUM 1:8 یِسَّکاؔر کے قبیلہ سے ضُعرؔ کا بیٹا نتنی ایل؛
NUM 1:9 زبُولُون کے قبیلہ سے حیلونؔ کا بیٹا اِلیابؔ؛
NUM 1:10 یُوسیفؔ کے بیٹوں میں سے: اِفرائیمؔ کے قبیلہ سے عمّیہُوؔد کا بیٹا اِلیشمعؔ منشّہ کے قبیلہ سے پِداہضُورؔ کا بیٹا گَملی ایل؛
NUM 1:11 بِنیامین کے قبیلہ سے ابیدانؔ بِن گِدعونیؔ؛
NUM 1:12 دانؔ کے قبیلہ سے احیعزر بِن عمّی شدّؔی؛
NUM 1:13 آشیر کے قبیلہ سے عُکرانؔ کا بیٹا پگعِیلؔ؛
NUM 1:14 گادؔ کے قبیلہ سے دعُوایلؔ کا بیٹا اِلیاسفؔ؛
NUM 1:15 نفتالی کے قبیلہ سے عینانؔ کا بیٹا اَخیرعؔ۔“
NUM 1:16 جماعت میں سے اِن آدمیوں کا جو اَپنے قبیلوں کے سردار تھے تقرّر کیا گیا۔ وہ اِسرائیل کی برادریوں کے سربراہ تھے۔
NUM 1:17 مَوشہ اَور اَہرونؔ نے اُن آدمیوں کو جِن کے نام اُنہیں بتائے گیٔے تھے اَپنے ساتھ لیا۔
NUM 1:18 اَور دُوسرے مہینے کے پہلے دِن ساری جماعت کو جمع کیا۔ لوگوں نے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندانوں کے مُطابق اَپنا حسب و نَسب ظاہر کیا اَورجو مَرد بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے تھے اُن کے نام یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:19 جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا اُسی کے مُطابق اُس نے اُنہیں سِینؔائی کے بیابان میں گِنا۔
NUM 1:20 اِسرائیل کے پہلوٹھے رُوبِنؔ کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:21 اَور رُوبِنؔ کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 46,500 تھی۔
NUM 1:22 شمعُونؔ کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:23 اَور شمعُونؔ کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 59,300 تھی۔
NUM 1:24 گادؔ کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:25 اَور گادؔ کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 45,650 تھی۔
NUM 1:26 یہُوداہؔ کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:27 یہُوداہؔ کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 74,600 تھی۔
NUM 1:28 یِسَّکاؔر کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:29 یِسَّکاؔر کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 54,400 تھی۔
NUM 1:30 زبُولُون کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:31 زبُولُون کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 57,400 تھی۔
NUM 1:32 یُوسیفؔ کی اَولاد: یعنی اِفرائیمؔ کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:33 اِفرائیمؔ کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 40,500 تھی۔
NUM 1:34 منشّہ کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:35 منشّہ کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 32,200 تھی۔
NUM 1:36 بِنیامین کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:37 بِنیامین کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 35,400 تھی۔
NUM 1:38 دانؔ کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:39 دانؔ کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 62,700 تھی۔
NUM 1:40 آشیر کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:41 آشیر کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 41,500 تھی۔
NUM 1:42 نفتالی کی نَسل سے: بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے سبھی مَردوں کے نام جو فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنی اَپنی برادری اَور خاندان کے مُطابق یکے بعد دیگرے درج کئے گیٔے۔
NUM 1:43 نفتالی کے قبیلہ سے جِن آدمیوں کے نام درج کئے گیٔے اُن کی تعداد 53,400 تھی۔
NUM 1:44 مَوشہ اَور اَہرونؔ اَور بنی اِسرائیل کے بَارہ سرداروں نے جِس میں سے ہر ایک اَپنے اَپنے خاندان کا سردار تھا جِن مَردوں کو گِنا وہ یہی تھے۔
NUM 1:45 چنانچہ تمام بنی اِسرائیل میں جتنے مَرد بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے تھے اَورجو اِسرائیل کی فَوج میں خدمت کرنے کے قابل تھے اَپنے اَپنے خاندانوں کے مُطابق شُمار کئے گیٔے۔
NUM 1:46 اُن کی کُل تعداد 6,03,550 تھی۔
NUM 1:47 البتّہ لیوی کے قبیلہ کے خاندانوں کا اَوروں کے ساتھ شُمار نہ کیا گیا۔
NUM 1:48 کیونکہ یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا تھا،
NUM 1:49 ”تُم لیوی کے قبیلہ کا شُمار نہ کرنا اَور نہ ہی اُنہیں دُوسرے اِسرائیلیوں کی مردُم شماری میں شامل کرنا۔
NUM 1:50 بَلکہ تُم لیویوں کو مَسکن اَور اُس کی تمام آرائِش کی چیزوں اَور اُس سے متعلّقہ ہر شَے کا نِگراں مُقرّر کرنا۔ وہ مَسکن اَور اُس کی آرائِش کی چیزوں کو اُٹھائیں اُس کی حِفاظت کریں اَور اُس کے اطراف ڈیرے ڈالیں۔
NUM 1:51 جَب کبھی مَسکن کے خیمہ کو کہیں اَور لے جانے کا وقت آئے تو لیوی اُسے گرائیں اَور جَب کبھی اُسے کھڑا کرنے کا موقع آئے تو لیوی ہی یہ کام کریں۔ اَور اگر کویٔی اَور شخص اُس کے قریب آ جائے تو وہ جان سے ماراجائے۔
NUM 1:52 اَور بنی اِسرائیل اَپنے اَپنے دستوں کے مُطابق اَپنے خیمے کھڑے کریں یعنی ہر شخص اَپنی اَپنی چھاؤنی میں اَور اَپنے اَپنے پرچم کے نیچے خیمہ زن ہو۔
NUM 1:53 البتّہ لیوی شہادت کے مَسکن کے اطراف اَپنے خیمے کھڑے کریں تاکہ بنی اِسرائیل کی جماعت پر غضب نازل نہ ہو۔ لیوی شہادت کے مَسکن کی حِفاظت کے ذمّہ دار ہوں گے۔“
NUM 1:54 چنانچہ بنی اِسرائیل نے وَیسا ہی کیا، جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
NUM 2:1 یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو حُکم دیا:
NUM 2:2 ”بنی اِسرائیل خیمہ اِجتماع کے اِردگرد لیکن اُس سے کچھ فاصلہ پر اَپنے اَپنے پرچموں کے نیچے اَور اَپنے اَپنے آبائی خاندانوں کے پرچموں کے ساتھ اَپنی چھاؤنیاں قائِم کریں۔“
NUM 2:3 اَور مشرق کی جانِب جہاں سے آفتاب طُلوع ہوتاہے: یہُوداہؔ کی چھاؤنی کے دستے اَپنے جھنڈے کے نیچے اَپنے ڈیرے لگائیں اَور عَمّیندابؔ کا بیٹا نحشونؔ یہُوداہؔ کا سردار ہوگا۔
NUM 2:4 اَور اُس کے دستے کے شُمار کَردہ مَردوں کی تعداد 74,600 ہے۔
NUM 2:5 یِسَّکاؔر کا قبیلہ اُن کے مُتّصل خیمہ زن ہو اَور ضُعرؔ کا بیٹا نتنی ایل بنی یِسَّکاؔر کا سردار ہوگا۔
NUM 2:6 اَور اُس کے دستوں کے شُمار کَردہ مَردوں کی تعداد 54,400 ہے۔
NUM 2:7 زبُولُون کا قبیلہ اُن کے مُتّصل ہوگا اَور حیلونؔ کا بیٹا اِلیابؔ بنی زبُولُون کا سردار ہوگا۔
NUM 2:8 اَور اُس کے دستے کے شُمار کئے ہویٔے مَردوں کی تعداد 57,400 ہے۔
NUM 2:9 یہُوداہؔ کی چھاؤنی کے لیٔے نامزد کَردہ تمام مَردوں کی تعداد اُن کے اَپنے دستوں کے مُطابق 1,86,400 ہے۔ پہلے یہی کُوچ کریں گے۔
NUM 2:10 جُنوب کی جانِب رُوبِنؔ کی چھاؤنی کے دستے اَپنے اَپنے جھنڈوں کے نیچے ہوں گے اَور شدِیُورؔ کا بیٹا اِلیضُورؔ بنی رُوبِنؔ کا سردار ہوگا۔
NUM 2:11 اُس کے دستے کے شُمار کَردہ مَردوں کی تعداد 46,500 ہے۔
NUM 2:12 شمعُونؔ کا قبیلہ اُن کے مُتّصل خیمہ زن ہوگا اَور ضُوریشدّؔی کا بیٹا سلُومی ایل بنی شمعُونؔ کا سردار ہوگا۔
NUM 2:13 اُس کے دستے کے شُمار کَردہ مَردوں کی تعداد 59,300 ہے۔
NUM 2:14 گادؔ کا قبیلہ اُن کے مُتّصل ہوگا اَور دعُوایلؔ کا بیٹا اِلیاسفؔ بنی گادؔ کا سردار ہوگا۔
NUM 2:15 اُس کے دستے کے شُمار کَردہ مَردوں کی تعداد 45,650 ہے۔
NUM 2:16 رُوبِنؔ کی چھاؤنی کے لیٔے نامزد کئے ہویٔے تمام مَردوں کی تعداد اُن کے اَپنے دستوں کے مُطابق 1,51,450 ہے۔ کُوچ کے وقت اِن کا دُوسرا مقام ہوگا۔
NUM 2:17 تَب سَب چھاؤنیوں کے درمیان سے خیمہ اِجتماع اَور لیویوں کی چھاؤنی کے افراد کُوچ کریں گے اَور وہ اِسی ترتیب سے جَیسے کے اُن کے ڈیرے کھڑے ہوں گے اَپنی اَپنی جگہ پر اَور اَپنے اَپنے جھنڈے کے نیچے کُوچ کریں گے۔
NUM 2:18 مغرب کی جانِب اِفرائیمؔ کی چھاؤنی کے دستے اَپنے اَپنے پرچم کے نیچے ہوں گے اَور عمّیہُوؔد کا بیٹا اِلیشمعؔ بنی اِفرائیمؔ کا سردار ہوگا۔
NUM 2:19 اُس کے دستے کے شُمار کَردہ مَردوں کی تعداد 40,500 ہے۔
NUM 2:20 منشّہ کا قبیلہ اُن کے مُتّصل ہوگا اَور پِداہضُورؔ کا بیٹا گَملی ایل بنی منشّہ کا سردار ہوگا۔
NUM 2:21 اُس کے لشکر کے شُمار کَردہ مَردوں کی تعداد 32,200 ہے۔
NUM 2:22 پھر بِنیامین کا قبیلہ ہوگا اَور ابیدانؔ بِن گِدعونیؔ بنی بِنیامین کا سردار ہوگا۔
NUM 2:23 اُس کے دستے کے شُمار کَردہ مَردوں کی تعداد 35,400 ہے۔
NUM 2:24 اِفرائیمؔ کی چھاؤنی کے لیٔے نامزد کئے ہویٔے تمام مَردوں کی تعداد اُن کے اَپنے دستوں کے مُطابق 1,08,100 ہے۔ کُوچ کے وقت اُن کا مقام تیسرا ہوگا۔
NUM 2:25 شمال کی جانِب دانؔ کی چھاؤنی کے دستے اَپنے اَپنے پرچموں کے نیچے ہوں گے اَور احیعزر بِن عمّی شدّؔی بنی دانؔ کا سردار ہوگا۔
NUM 2:26 اُس کے دستے کے شُمار کَردہ مَردوں کی تعداد 62,700 ہے۔
NUM 2:27 آشیر کا قبیلہ اُن کے مُتّصل خیمہ زن ہوگا اَور عُکرانؔ کا بیٹا پگعِیلؔ بنی آشیر کا سردار ہوگا۔
NUM 2:28 اُس کے دستے کے شُمار کَردہ مَردوں کی تعداد 41,500 ہے۔
NUM 2:29 پھر نفتالی کا قبیلہ ہوگا اَور عینانؔ کا بیٹا اَخیرعؔ بنی نفتالی کا سردار ہوگا۔
NUM 2:30 اُس کے دستوں کے شُمار کَردہ مَردوں کی تعداد 53,400 ہے۔
NUM 2:31 دانؔ کی چھاؤنی کے لیٔے نامزد کَردہ تمام مَردوں کی تعداد 1,57,600 ہے۔ وہ اَپنے اَپنے پرچموں کے نیچے سَب سے پیچھے کُوچ کریں گے۔
NUM 2:32 یہی وہ اِسرائیلی ہیں جو اَپنے اَپنے آبائی خاندانوں کے مُطابق شُمار کئے گیٔے۔ اَور چھاؤنیوں کے سَب لوگوں کی تعداد جو اَپنے اَپنے دستوں کے مُطابق شُمار کئے گیٔے 6,03,550 ہے۔
NUM 2:33 البتّہ جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا اُس کے مُطابق لیوی دُوسرے اِسرائیلیوں کے ساتھ شُمار نہ کئے گیٔے۔
NUM 2:34 چنانچہ جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا بنی اِسرائیل نے وَیسا ہی کیا اَور اِسی طریقہ سے وہ اَپنی اَپنی برادری والوں اَور خاندان کے ساتھ اَپنے اَپنے پرچموں کے نیچے قِیام کرتے اَور کُوچ کرتے گیٔے۔
NUM 3:1 جِس وقت یَاہوِہ نے کوہِ سِینؔائی پر مَوشہ سے باتیں کیں اُس وقت اَہرونؔ اَور مَوشہ کے خاندان کا نَسب نامہ یہ تھا۔
NUM 3:2 اَہرونؔ کے بیٹوں کے نام نادابؔ جو پہلوٹھا تھا اَبِیہُو الیعزرؔ اَور اِتمارؔ ہیں۔
NUM 3:3 اَہرونؔ کے اُن بیٹوں کے نام جو ممسوح کاہِنؔ تھے اَور کہانت کی خدمت کے لیٔے مُقرّر کئے گیٔے تھے یہی ہیں۔
NUM 3:4 البتّہ نادابؔ اَور اَبِیہُو یَاہوِہ کے حُضُور اُسی وقت مَر گیٔے تھے جَب اُنہُوں نے سِینؔائی کے بیابان میں اُن کے حُضُور ناجائز آگ کے ساتھ نذر گذرانی تھی۔ اُن کے کویٔی اَولاد نہ تھی اِس لیٔے صِرف الیعزرؔ اَور اِتمارؔ ہی اَپنے باپ اَہرونؔ کی زندگی میں کاہِنؔ کی خدمت اَنجام دیتے تھے۔
NUM 3:5 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 3:6 ”لیوی کے قبیلہ کو لاکر اَہرونؔ کاہِنؔ کے سامنے حاضِر کر تاکہ وہ اُس کی مدد کریں۔
NUM 3:7 وہ خیمہ اِجتماع میں مُلاقات کے خیمہ کی نگہبانی کریں اَورجو فرائض اَہرونؔ اَور ساری جماعت کی طرف سے اُن پر عاید کام ہیں اُنہیں بجا لائیں۔
NUM 3:8 وہ خیمہ اِجتماع کی تمام اشیائے آرائِش کی حِفاظت کریں اَور شہادت کے خیمہ میں خدمت اَنجام دیتے ہویٔے بنی اِسرائیل کے مَسکن کے فرائض کو پُورا کریں۔
NUM 3:9 تُم لیویوں کو اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کے سُپرد کر دو۔ بنی اِسرائیل میں سے یہی لوگ اُن کی مدد کے لیٔے مُقرّر کئے گیٔے ہیں۔
NUM 3:10 اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹے ہی بطور کاہِنؔ کہانت کے لیٔے مُقرّر کئے جایٔیں۔ اگر کویٔی اَور شخص پاک مَقدِس کے قریب آئے تو وہ جان سے ماراجائے۔“
NUM 3:11 یَاہوِہ نے مَوشہ سے یہ بھی فرمایا،
NUM 3:12 ”مَیں نے بنی اِسرائیل میں سے لیویوں کو ہر اِسرائیلی عورت کے پہلوٹھے کے عِوض لے لیا ہے۔ لہٰذا لیوی میرے ہیں۔
NUM 3:13 کیونکہ سَب پہلوٹھے میرے ہیں۔ جَب مَیں نے مُلک مِصر میں سَب پہلوٹھوں کو مارا تھا تَب مَیں نے اِسرائیل کے ہر پہلوٹھے کو خواہ وہ اِنسان کا ہو یا حَیوان کا اَپنے لیٔے مخصُوص کر لیا تھا۔ وہ میرے ہیں۔ میں ہی یَاہوِہ ہُوں۔“
NUM 3:14 پھر یَاہوِہ نے سِینؔائی کے بیابان میں مَوشہ سے فرمایا،
NUM 3:15 ”لیویوں کا اُن کے آبائی خاندانوں اَور برادری کے مُطابق شُمار کر۔ ایک ماہ یا اُس سے زِیادہ عمر کے ہر لڑکے کو شُمار کر۔“
NUM 3:16 چنانچہ جَیسا یَاہوِہ نے اَپنے کلام کے ذریعہ حُکم دیا تھا مَوشہ نے اُس کے مُطابق اُن کا شُمار کیا۔
NUM 3:17 لیوی کے بیٹوں کے نام یہ تھے: گیرشون، قُہات اَور مِراریؔ۔
NUM 3:18 گیرشون کے گھرانوں کے نام یہ تھے: لِبنیؔ اَور شِمعیؔ۔
NUM 3:19 قُہاتی کی برادری والے یہ ہیں: عمرامؔ، اِضہاؔر، حِبرونؔ اَور عُزّی ايل
NUM 3:20 مِراریؔ کی برادری والے یہ ہیں: محلیؔ اَور مُوشیؔ۔
NUM 3:21 لِبنیؔ اَور شِمعیؔ کی برادری کا گیرشون سے تعلّق تھا۔ یہ گیرشونیوں کی برادری والے تھے۔
NUM 3:22 اُن میں ایک ماہ یا اُس سے زِیادہ عمر کے لڑکوں کی تعداد جِن کا شُمار کیا گیا تھا 7,500 تھی۔
NUM 3:23 گیرشونیوں کی برادری والوں کو مُلاقات کے مَسکن کے پیچھے مغرب کی جانِب ڈیرے ڈالنے تھے۔
NUM 3:24 اَور لاایلؔ کا بیٹا اِلیاسفؔ گیرشونیوں کی برادری والوں کا سردار تھا۔
NUM 3:25 اَور بنی گیرشون خیمہ اِجتماع میں اِن چیزوں کی دیکھ بھال کے ذمّہ دار تھے، مُلاقات کے خیمہ، اَور اُس کا غلاف، خیمہ اِجتماع کے دروازہ کا پردہ،
NUM 3:26 مُلاقات کے مَسکن اَور مذبح کے گِرد کے صحن کے دروازہ کا پردہ اَور رسّیاں اَور اُن کے اِستعمال سے تعلّق رکھنے والے سارے کام بھی اُن کے ذمّہ تھے۔
NUM 3:27 عمرامی، اِضہاری، حِبرونی اَور عُزّی ایلیوں کی برادری والے قُہات سے تعلّق رکھتے تھے۔ یہ نَسل قُہاتیوں کے خاندان تھے۔
NUM 3:28 اِن میں ایک ماہ یا اُس سے زِیادہ عمر کے لڑکوں کی تعداد، جِن کا شُمار کیا گیا تھا 8,600 تھی۔ قُہاتی پاک مَقدِس کے مذبح کی دیکھ بھال کے ذمّہ دار تھے۔
NUM 3:29 قُہاتی کی برادری والوں کو مُلاقات کے مَسکن کے جُنوب کی جانِب خیمہ زن ہونا تھا
NUM 3:30 اَور عُزّی ايل کا بیٹا اِلیضفنؔ قُہاتی خاندان کی برادری اَور خاندان کا سردار تھا۔
NUM 3:31 صندُوق، میز، چراغدان، مذبحوں، عبادت میں کام آنے والے پاک مَقدِس کے ظروف، پردہ اَور اُن کے لیٔے اِستعمال میں آنے والی ہر چیز کی دیکھ بھال اُن کے ذمّہ تھی۔
NUM 3:32 اَور اَہرونؔ کاہِنؔ کا بیٹا الیعزرؔ لیویوں کا سردار اعلیٰ تھا۔ وہ اُن لوگوں کے اُوپر مُقرّر کیا گیا تھا جو پاک مَقدِس کی حِفاظت کے ذمّہ دار تھے۔
NUM 3:33 محلیؔ اَور مُوشیؔ کی برادری والوں کا تعلّق مِراریؔ سے تھا۔ یہ مِراریؔ نَسل سے تھے۔
NUM 3:34 اُن میں ایک ماہ یا اُس سے زِیادہ عمر کے لڑکوں کی تعداد جِن کا شُمار کیا گیا تھا 6,200 تھی۔
NUM 3:35 اَور اَبی حائیل کا بیٹا ضُوری ایل، مِراریؔ کی برادری کے خاندان کا سردار تھا۔ اُنہیں مُلاقات کے مَسکن کے شمال کی جانِب خیمہ زن ہونا تھا۔
NUM 3:36 بنی مِراریؔ کو مُلاقات کے مَسکن کی چوکھٹوں، اُس کے بینڈوں، سُتونوں اَور خانوں، اُس کے تمام سازوسامان اَور اُن کے اِستعمال سے تعلّق رکھنے والی ہر چیز کی ذمّہ داری سونپی گئی
NUM 3:37 اَور اِردگرد کے صحن کے سُتونوں اَور اُن کے خانوں، خیموں کی میخوں اَور رسّیوں کی دیکھ بھال کرنا بھی اُن کے ذمّہ تھا۔
NUM 3:38 مَوشہ اَور اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کو مُلاقات کے خیمہ کے مشرق کی جانِب جہاں سے آفتاب طُلوع ہوتاہے یعنی خیمہ اِجتماع کے سامنے خیمہ زن ہونا تھا۔ وہ بنی اِسرائیل کی خاطِر پاک مَقدِس کی حِفاظت کے ذمّہ دار تھے۔ اگر کویٔی اَور شخص پاک مَقدِس کے قریب جاتا تو وہ جان سے مار دیا جاتا تھا۔
NUM 3:39 مَوشہ اَور اَہرونؔ نے یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق ایک ماہ یا اُس سے زِیادہ عمر کے لڑکوں سمیت جتنے لیویوں کو اُن کے اَپنے اَپنے گھرانوں کے مُطابق شُمار کیا اُن کی تعداد 22,000 تھی۔
NUM 3:40 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”بنی اِسرائیل کے ایک ماہ یا اُس سے زِیادہ عمر کے تمام پہلوٹھے لڑکوں کا شُمار کر اَور اُن کے نام کی فہرست مُرتّب کر۔
NUM 3:41 اَور بنی اِسرائیل کے سَب پہلوٹھوں کے عِوض لیویوں کو، اَور بنی اِسرائیل کے مویشیوں کے سَب پہلوٹھوں کے عِوض لیویوں کے مویشیوں کو میرے لیٔے لے۔ میں ہی یَاہوِہ ہُوں۔“
NUM 3:42 چنانچہ مَوشہ نے یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق بنی اِسرائیل کے سَب پہلوٹھوں کا شُمار کیا۔
NUM 3:43 اَور ایک ماہ یا اُس سے زِیادہ عمر کے نرینہ پہلوٹھوں کی تعداد اُن کے ناموں کی فہرست کے مُطابق 22,273 تھی۔
NUM 3:44 یَاہوِہ نے مَوشہ سے یہ بھی فرمایا،
NUM 3:45 ”بنی اِسرائیل کے سَب پہلوٹھوں کے عِوض لیویوں کو اَور اُن کے مویشیوں کے عِوض لیویوں کے مویشیوں کو لیں اَور لیوی میرے ہُوں۔ میں ہی یَاہوِہ ہُوں۔
NUM 3:46 اَور بنی اِسرائیل کے 273 پہلوٹھوں کے فدیہ کے لیٔے جو لیویوں کی تعداد سے زِیادہ ہیں
NUM 3:47 پاک مَقدِس کے ثاقل کے حِساب سے جو وزن میں بیس گیراہ کے برابر ہوتاہے فی کس پانچ ثاقل لیں۔
NUM 3:48 اَور وہ رُوپیہ اُن زِیادہ اِسرائیلیوں کے فدیہ کے لیٔے اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کو دیں۔“
NUM 3:49 چنانچہ مَوشہ نے اُن سے جو تعداد میں لیویوں کے چھُڑائے ہوؤں سے زِیادہ تھے فدیہ کا رُوپیہ لیا۔
NUM 3:50 اَور بنی اِسرائیل کے پہلوٹھوں سے اُس نے پاک مَقدِس کے ثاقل کے حِساب سے 1,365 ثاقل چاندی وصول کی۔
NUM 3:51 اَور مَوشہ نے یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق فدیہ کی رقم اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کو دیا۔
NUM 4:1 یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے فرمایا:
NUM 4:2 ”لیویوں کے خاندان میں سے قُہاتی طبقہ کی اُن کے گھرانوں اَور آبائی خاندانوں کے مُطابق مردُم شماری کرو۔
NUM 4:3 تیس سے لے کر پچاس سال کی عمر کے سبھی مَردوں کو جو خیمہ اِجتماع کی خدمت میں ہاتھ بٹانے کے لیٔے آتے ہیں شُمار کرو۔
NUM 4:4 ”خیمہ اِجتماع میں بنی قُہات کا کام یہ ہوگا کہ وہ پاک ترین اَشیا کی حِفاظت کریں۔
NUM 4:5 جَب لشکر کُوچ کرے تَب اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹے اَندر جایٔیں اَور بیچ کے پردے کو اُتاریں اَور اُس سے عہد کے صندُوق کو ڈھانک دیں۔
NUM 4:6 تَب وہ اُس پر دریائی بچھڑوں کی کھالوں کا غلاف چڑھائیں اَور اُس کے اُوپر بالکُل نیلے رنگ کا کپڑا بچھائیں اَور بَلّیاں اَپنی جگہ پر گاڑ دیں۔
NUM 4:7 ”پھر نذر کی روٹی کی میز پر نیلا کپڑا بچھا کر اُس پر طباق، ڈونگے، پیالے اَور تپاون کی نذروں کے مرتبان رکھیں اَور نذر کی روٹی بھی اُس پر لگاتار قائِم رہے۔
NUM 4:8 اُن کے اُوپر وہ سُرخ رنگ کا کپڑا بچھائیں جسے دریائی بچھڑوں کی کھالوں سے ڈھانکیں اَور اُس کی بَلّیاں اَپنی جگہ پر گاڑ دیں۔
NUM 4:9 ”پھر وہ نیلے رنگ کا کپڑا لیں اَور اُس سے چراغدان کو جو رَوشنی کے لیٔے ہے اُس کے چراغوں، اُس کی بتّی کترنے کی قینچیوں اَور کشتیوں اَور اُس کے سَب مرتبانوں سمیت جِن میں زَیتُون کا تیل مہیا کیا جاتا ہے ڈھانک دیں۔
NUM 4:10 تَب وہ اُسے اُس کے تمام سازوسامان کے ساتھ دریائی بچھڑوں کی کھالوں کے غلاف میں لپیٹیں اَور اُسے اُٹھانے والے چوکھٹے پر رکھ دیں۔
NUM 4:11 ”اَور زرّیں مذبح پر وہ نیلا کپڑا پھیلا دیں اَور اُسے دریائی بچھڑوں کی کھالوں سے ڈھانپ دیں اَور اُس کی بَلّیاں اَپنی اَپنی جگہ پر گاڑ دیں۔
NUM 4:12 ”تَب وہ اُن تمام برتنوں کو لے کرجو پاک مَقدِس کی خدمت میں کام آتے ہیں نیلے کپڑے میں لپیٹیں دریائی بچھڑوں کی کھالوں کے غلاف سے ڈھانکیں اَور چوکھٹے پر رکھ دیں۔
NUM 4:13 ”پھر وہ کانسے کے مذبح پر سے سَب راکھ اُٹھاکر اُس کے اُوپر اَرغوانی رنگ کا کپڑا بچھائیں۔
NUM 4:14 پھر وہ اُس کے اُوپر وہ تمام برتن رکھیں جو مذبح پر خدمت کے لیٔے اِستعمال کئے جاتے ہیں جَیسے انگیٹھیاں، سیخیں، بیلچے اَور چھڑکاؤ کے پیالے۔ اُس کے اُوپر وہ دریائی بچھڑوں کی کھالوں کا غلاف بچھائیں اَور اُس کی بَلّیاں اَپنی جگہوں پر گاڑ دیں۔
NUM 4:15 ”جَب اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹے آرائِش کے مُقدّس سازوسامان کو اَور تمام مُقدّس اَشیا کو ڈھانک چکیں اَور جَب چھاؤنی کُوچ کے لیٔے تیّار ہو تَب بنی قُہات اُٹھانے کے لیٔے آئیں۔ لیکن وہ مُقدّس اَشیا کو نہ چھُوئیں کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ مَر جایٔیں۔ بنی قُہات وُہی اَشیا اُٹھائیں جو خیمہ اِجتماع میں ہیں۔
NUM 4:16 ”اَہرونؔ کاہِنؔ کا بیٹا الیعزرؔ رَوشنی کے تیل، خُوشبودار بخُور، دائمی نذر کی قُربانی اَور مَسح کرنے کے زَیتُون کے تیل کی حِفاظت کا نِگراں ہوگا۔ وہ سارے مَسکن اَور اُس کے اَندر کی آرائِش کے مُقدّس سازوسامان سمیت ہر چیز کا ذمّہ دار ہوگا۔“
NUM 4:17 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے کہا،
NUM 4:18 ”خیال رہے کہ قُہاتیوں کے قبائلی خاندان لیویوں سے جُدا نہ ہونے پائیں۔
NUM 4:19 تاکہ جَب وہ نہایت مُقدّس اَشیا کے قریب آئیں تو زندہ رہیں اَور مَر نہ جایٔیں۔ تُم اُن کی خاطِر اَیسا کرنا کہ اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹے پاک مَقدِس کے اَندر جایٔیں اَور یہ طے کریں کہ اُن میں سے ہر ایک کیا کام کرے اَور کون سا بوجھ اُٹھائے۔
NUM 4:20 لیکن قوہاتی مُقدّس چیزوں کو دیکھنے کی خاطِر دَم بھرکے لیٔے بھی اَندر نہ آنے پائیں۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ مَر جایٔیں۔“
NUM 4:21 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 4:22 ”بنی گیرشون کے آبائی خاندانون اَور اُن کے بھی گھرانوں کے مُطابق مردُم شماری کرو۔
NUM 4:23 تیس سے لے کر پچاس سال کی عمر کے سبھی مَردوں کو جو خیمہ اِجتماع کی خدمت میں ہاتھ بٹانے کے لیٔے آتے ہیں شُمار کرو۔
NUM 4:24 ”کام کرنے اَور بوجھ اُٹھانے میں گیرشونیوں کے خاندان یہ خدمت بجا لائیں:
NUM 4:25 وہ مَسکن کے پردے، خیمہ اِجتماع، اُس کے غلاف، دریائی بچھڑوں کی کھالوں کا اُوپری غلاف، خیمہ اِجتماع کے دروازہ کے پردے،
NUM 4:26 مَسکن اَور مذبح کے اِردگرد صحن کے پردے، دروازہ کا پردہ اَور رسّیاں اَور وہ سَب آلات جو اُس کے کام میں اِستعمال ہوتے ہیں، اُٹھایا کریں۔ اَور اُن چیزوں کے ساتھ جو کچھ کیا جاتا ہے وہ سَب گیرشون ہی کیا کریں۔
NUM 4:27 گیرشونیوں کی ساری خدمت خواہ وہ بوجھ اُٹھانا یا دیگر کام کرنا ہو اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کی ہدایات کے مُطابق اَنجام پایٔے۔ جو کچھ اُنہیں اُٹھانا ہے اُس کی ذمّہ داری تُم اُن کے سُپرد کر دو۔
NUM 4:28 خیمہ اِجتماع میں گیرشونیوں کے گھرانوں کی یہی خدمت رہے گی اَور اُن کی خدمات اَہرونؔ کاہِنؔ کے بیٹے اِتمارؔ کی ہدایات کے مُطابق ہوگی۔
NUM 4:29 ”بنی مِراریؔ کو بھی اُن کے گھرانوں اَور آبائی خاندانوں کے مُطابق شُمار کر
NUM 4:30 تیس سے لے کر پچاس سال کی عمر تک کے سبھی مَردوں کو جو خیمہ اِجتماع کی خدمت میں ہاتھ بٹانے کے لیٔے آتے ہیں شُمار کر۔
NUM 4:31 اَور خیمہ اِجتماع میں وہ یہ خدمت اَنجام دیں: مَسکن کے تختے، اُس کے بینڈے، سُتون اَور خانے
NUM 4:32 اَور چاروں طرف کے صحن کے سُتون اَور اُن کے خانے، خیموں کی میخیں، رسّیاں، اُن کے تمام آلات اَور اُن کے اِستعمال میں آنے والی ہر چیز کو وہ اُٹھایا کریں۔ ہر شخص کو خاص خاص چیزیں اُٹھانے کی ذمّہ داری سونپی جائے۔
NUM 4:33 بنی مِراریؔ کے خاندانوں کو خیمہ اِجتماع میں اَہرونؔ کاہِنؔ کے بیٹے اِتمارؔ کی زیرِ ہدایات جو خدمت اَنجام دینا ہے وہ یہی ہے۔“
NUM 4:34 چنانچہ مَوشہ اَور اَہرونؔ اَور جماعت کے سرداروں نے قُہاتیوں کو اُن کے گھرانوں اَور آبائی خاندانوں کے مُطابق شُمار کیا۔
NUM 4:35 تیس سے لے کر پچاس سال کی عمر کے سبھی مَردوں کو جو خیمہ اِجتماع کی خدمت میں ہاتھ بٹانے کے لیٔے آئےتھے
NUM 4:36 جنہیں اُن کے گھرانوں کے مُطابق شُمار کیا گیا اُن کی تعداد 2,750 تھی۔
NUM 4:37 قُہاتی برادریوں کے جتنے لوگ خیمہ اِجتماع میں خدمت کرتے تھے اُن سَب کی تعداد یہی تھی جنہیں مَوشہ اَور اَہرونؔ نے یَاہوِہ کے مَوشہ کو دیئے ہویٔے حُکم کے مُطابق شُمار کیا۔
NUM 4:38 بنی گیرشون کو اُن کے گھرانوں اَور آبائی خاندانوں کے مُطابق شُمار کیا گیا۔
NUM 4:39 تیس سے لے کر پچاس سال کی عمر تک کے سَب مَردوں کو جو خیمہ اِجتماع کی خدمت میں ہاتھ بٹانے کے لیٔے آئےتھے،
NUM 4:40 اُنہیں اُن کے گھرانوں اَور آبائی خاندانوں کے مُطابق گِنا گیا اَور اُن کی تعداد 2,630 تھی۔
NUM 4:41 بنی گیرشون کے برادریوں کے جتنے لوگ خیمہ اِجتماع میں خدمت کرتے تھے اُن سَب کی تعداد اِتنی ہی تھی اَور یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق مَوشہ اَور اَہرونؔ نے اُنہیں شُمار کیا تھا۔
NUM 4:42 بنی مِراریؔ کو اُن کے گھرانوں اَور خاندانوں کے مُطابق شُمار کیا گیا۔
NUM 4:43 تیس سے لے کر پچاس سال کی عمر تک کے سبھی مَردوں کو جو خیمہ اِجتماع کی خدمت میں ہاتھ بٹانے کے لیٔے آئےتھے،
NUM 4:44 اُنہیں اُن کے گھرانوں کے مُطابق شُمار کیا گیا اَور اُن کی تعداد 3,200 تھی۔
NUM 4:45 بنی مِراریؔ کے گھرانوں کے لوگوں کی کُل تعداد یہی تھی جنہیں مَوشہ اَور اَہرونؔ نے یَاہوِہ کے مَوشہ کی مَعرفت دئیے ہویٔے حُکم کے مُطابق شُمار کیا تھا۔
NUM 4:46 چنانچہ مَوشہ، اَہرونؔ اَور بنی اِسرائیل کے سرداروں نے سَب لیویوں کو اُن کے گھرانوں اَور خاندانوں کے مُطابق شُمار کیا۔
NUM 4:47 اَور تیس سے لے کر پچاس سال کی عمر کے سبھی مَردوں کی تعداد جو خدمت کرنے اَور خیمہ اِجتماع کو اُٹھانے کا کام کرنے آئےتھے،
NUM 4:48 اُن کی تعداد 8,580 تھی۔
NUM 4:49 یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق جو اُس نے مَوشہ کو دیا تھا ہر ایک کو اُس کا کام سونپا گیا اَور اُنہیں بتایا گیا کہ کون کیا کیا بوجھ اُٹھائے گا۔ چنانچہ اُسی حُکم کے مُطابق جو یَاہوِہ نے مَوشہ کو دیا تھا اُن کا شُمار کیا گیا۔
NUM 5:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 5:2 ”بنی اِسرائیل کو حُکم دو کہ وہ ہر اُس شخص کو جسے جِلد کی کویٔی متعدّی بیماری ہو یا جریان کا مرض ہو یا جو کسی مُردہ کو چھُونے کے باعث ناپاک ہو چُکاہو، چھاؤنی سے خارج کر دیں۔
NUM 5:3 خواہ وہ مَرد ہو یا عورت، اُنہیں چھاؤنی سے خارج کر دو تاکہ وہ اَپنی چھاؤنی کو ناپاک نہ کر دیں جہاں میں خُود اُن کے درمیان رہتا ہُوں۔“
NUM 5:4 بنی اِسرائیل نے اَیسا ہی کیا۔ اُنہُوں نے اُنہیں چھاؤنی سے خارج کر دیا۔ اُنہُوں نے ٹھیک وَیسا ہی کیا جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
NUM 5:5 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 5:6 ”بنی اِسرائیل سے کہو: ’اگر کویٔی مَرد یا عورت کسی شخص کے ساتھ کسی قِسم کی بدکاری کرے اَور اِس طرح سے یَاہوِہ سے دغا کرے تو وہ شخص مُجرم ٹھہرے گا،
NUM 5:7 اَور اُس نے جو گُناہ کیا ہو وہ اُس کا اقرار کرے اَور کفّارہ کے طور پر اَپنی خطا کے پُورے مُعاوضہ میں اُس کا پانچواں حِصّہ اَور مِلا کر اُس شخص کو دے جِس کا اُس نے قُصُور کیا ہے۔
NUM 5:8 لیکن اگر اُس شخص کا کویٔی قریبی رشتہ دار نہ ہو جسے اُس خطا کا مُعاوضہ دیا جائے تو وہ مُعاوضہ یَاہوِہ کا ہوگا، لہٰذا اُسے اَور کفّارہ کے مینڈھے کو کاہِنؔ کے سُپرد کیا جائے۔
NUM 5:9 بنی اِسرائیل جِتنی بھی مُقدّس نذریں کاہِنؔ کے پاس لائیں وہ سَب کاہِنؔ کی ہُوں گی۔
NUM 5:10 ہر شخص کے مُقدّس نذرانے اُس کے اَپنے ہوں گے لیکن جو چیز وہ کاہِنؔ کو دے گا وہ کاہِنؔ کی ہوگی۔‘ “
NUM 5:11 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 5:12 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے کہو: ’اگر کسی آدمی کی بیوی گُمراہ ہوکر اُس سے دغا کرے اَور
NUM 5:13 کسی غَیر مَرد کے ساتھ ہم بِستر ہو، اَور یہ بات اُس کے خَاوند سے پوشیدہ رہے اَور اُس کی ناپاکی ظاہر بھی نہ ہونے پایٔے (کیونکہ اُس کے خِلاف کویٔی گواہ نہیں اَور نہ ہی وہ عَین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے)،
NUM 5:14 اَور اُس کے خَاوند کے دِل میں بدگُمانی پیدا ہو جائے کہ اُس کی بیوی ناپاک ہو چُکی ہے یا وہ بدظن ہوکر اَپنی بیوی کی پاک دامنی پر شک کرنے لگے حالانکہ وہ ناپاک نہ ہُوئی ہو
NUM 5:15 تو وہ اَپنی بیوی کو کاہِنؔ کے سامنے حاضِر کرے، اَور اَپنے ساتھ ایفہ کا دسواں حِصّہ جَو کا آٹا اُس کی طرف سے نذرانے کے طور پر لے جائے۔ لیکن اُس پر تیل نہ ڈالے، نہ ہی لوبان رکھے کیونکہ یہ اناج کی قُربانی غیرت کی ہے یعنی یادگاری نذر کی قُربانی ہے جو بدی کو یاد دِلانے کے لیٔے ہے۔
NUM 5:16 ” ’تَب کاہِنؔ اُسے نزدیک لایٔے اَور اُسے یَاہوِہ کے حُضُور کھڑا کرے۔
NUM 5:17 اَور کاہِنؔ مٹّی کے برتن میں مُقدّس پانی لے اَور مَسکن کے فرش پر کی کچھ گَرد لے کر اُس پانی میں ڈال دے۔
NUM 5:18 جَب کاہِنؔ اُس عورت کو یَاہوِہ کے حُضُور میں کھڑا کر چُکے تو وہ اُس کے بال کھول دے، اَور اُس کے ہاتھوں میں یادگار کی قُربانی تھما دے جو غیرت کی اناج کی قُربانی ہے اَور خُود اَپنے ہاتھ میں اُس لعنت لانے والے کڑوے پانی کے برتن کو تھامے رہے۔
NUM 5:19 تَب کاہِنؔ عورت کو قَسم کھِلا کر اُس سے کہے، ”اگر کویٔی اَور آدمی تمہارے ساتھ ہم بِستر نہیں ہُواہے اَور تُو اَپنے خَاوند کی ہوتے ہویٔے گُمراہ ہوکر ناپاک نہیں ہُوئی تو یہ کڑوا پانی جو لعنت لاتا ہے تُمہیں ضرر نہ پہُنچائے
NUM 5:20 لیکن اگر تُو اَپنے خَاوند کی ہوتے ہویٔے گُمراہ ہو چُکی ہے اَور اگر تُونے اَپنے خَاوند کے علاوہ کسی اَور شخص کے ساتھ ہم بِستر ہوکر اَپنے آپ کو ناپاک کر دیا ہے۔“
NUM 5:21 یہاں کاہِنؔ اُس عورت کو اُس لعنت کی قَسم دِلائے تو، ”یَاہوِہ تمہاری ران کو سُکھا کر اَور تمہارے پیٹ کو پھُلا کر تمہاری قوم کے لوگوں سے تُجھ پر لعنت اَور ملامت کرائے۔
NUM 5:22 یہ پانی جو لعنت لاتا ہے تمہارے جِسم میں داخل ہو تاکہ تمہارا پیٹ پھُولے اَور تمہاری ران سڑائے۔“ ” ’تَب وہ عورت کہے، ”آمین! آمین۔“
NUM 5:23 ” ’تَب کاہِنؔ اُن لعنتوں کو ایک طُومار میں لِکھ کر اُنہیں اُس کڑوے پانی میں دھو ڈالے
NUM 5:24 اَور وہ کڑوا پانی جو لعنت لاتا ہے اُس عورت کو پلائے اَور یہ پانی اُس میں داخل ہوگا اَور شدید کڑواہٹ پیدا کرےگا۔
NUM 5:25 پھر کاہِنؔ اُس کے ہاتھ میں سے غیرت کی اناج کی قُربانی کو لے کر اُسے یَاہوِہ کے حُضُور ہلائے اَور اُسے مذبح کے پاس لایٔے۔
NUM 5:26 پھر کاہِنؔ اناج کی قُربانی میں سے یادگار کی قُربانی کے طور پر مُٹّھی بھر حِصّہ لے کر اُسے مذبح پر جَلائے۔ پھر وہ اُس عورت کو وہ پانی پلائے۔
NUM 5:27 اگر وہ ناپاک ہو چُکی ہو اَور اَپنے خَاوند سے دغا کر چُکی ہو تو جَب اُسے وہ پانی جو لعنت لاتا ہے پِلایا جائے گا وہ اُس کے پیٹ میں جا کر نہایت شدید کڑواہٹ پیدا کرےگا۔ اُس کا پیٹ پھُول جائے گا اَور اُس کی ران سڑ جائے گی اَور وہ اَپنی قوم میں لعنتی ٹھہرے گی۔
NUM 5:28 البتّہ اگر اُس عورت نے اَپنے آپ کو ناپاک نہ کیا ہو بَلکہ پاک رہی ہو تو وہ بےگُناہ ٹھہرے گی اَور اُس سے اَولاد ہو سکے گی۔
NUM 5:29 ” ’غیرت کے بارے میں، یہی آئین ہے خواہ کویٔی عورت اَپنے خَاوند کی ہوتے ہویٔے گُمراہ ہوکر اَپنے آپ کو ناپاک کر لے،
NUM 5:30 یا کسی آدمی کو اَپنی بیوی پر شک کرنے کی وجہ سے غیرت آئے تو کاہِنؔ اُسے یَاہوِہ کے حُضُور کھڑا کرے اَور اُس آئین پر پُوری طرح عَمل کیا جائے۔
NUM 5:31 خَاوند تو کسی بھی بدی سے بَری ٹھہرے گا البتّہ اُس عورت کو اَپنے گُناہ کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔‘ “
NUM 6:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 6:2 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے کہو: ’اگر کویٔی مَرد یا عورت نذیر کی مَنّت یعنی اَپنے آپ کو یَاہوِہ کے لیٔے الگ رکھنے کی خاص مَنّت مانے،
NUM 6:3 تو وہ مَے اَور شراب سے دُور رہے اَور مَے یا شراب سے بنایا ہُوا سِرکہ نہ پیے۔ وہ انگور کا رس بھی نہ پیے اَور نہ تازہ انگور یا کشمش کھائے۔
NUM 6:4 جَب تک کہ وہ نذیر رہے تَب تک جو کچھ انگور کی بیل سے پیدا ہوتاہے، اُس میں سے کچھ بھی نہ کھائے، بیج اَور چھِلکے بھی نہیں۔
NUM 6:5 ” ’اُس کی نذارت کی مَنّت کی ساری میعاد کے دَوران اُس کے سَر پر اُسترا نہ پھیرا جائے اَور اُس کی یَاہوِہ کے لیٔے الگ رہنے کی مُدّت پُوری ہونے تک وہ پاک رہے اَور اَپنے سَر کے بالوں کو بڑھنے دے۔
NUM 6:6 ” ’اَور یَاہوِہ اَپنی نذارت کی پُوری مُدّت تک وہ کسی لاش کے قریب نہ جائے۔
NUM 6:7 خواہ اُس کا اَپنا باپ یا ماں یا بھایٔی یا بہن بھی مَر جائے تو بھی وہ اُن کو چھُو کر اَپنے آپ کو نجِس نہ کر لے کیونکہ اَپنے یَاہوِہ کے لیٔے الگ رہنے کی علامت اُس کے سَر پر ہے۔
NUM 6:8 وہ اَپنی نذارت کی پُوری مُدّت تک یَاہوِہ کے لیٔے پاک ہے۔
NUM 6:9 ” ’اگر کویٔی اَچانک اُس کی مَوجُودگی میں مَر جائے جِس سے کہ اُس کے نذر کئے ہویٔے بال ناپاک ہو جایٔیں تو وہ اَپنے پاک ہونے کے دِن یعنی ساتویں دِن اَپنا سَر مُنڈائے۔
NUM 6:10 اَور آٹھویں دِن وہ دو قُمریاں یا کبُوتر کے دو بچّے خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر کاہِنؔ کے پاس لایٔے۔
NUM 6:11 اَور کاہِنؔ ایک کو گُناہ کی قُربانی اَور دُوسرے کو سوختنی نذر کے طور پر گذرانے اَور اُس کی خاطِر کفّارہ دے کیونکہ وہ لاش کے پاس مَوجُود رہ کر ناپاک ہو گیا اَور اُسی دِن وہ اُس کے سَر کو پاک کرے۔
NUM 6:12 وہ اَپنے الگ رہنے کی مُدّت تک اَپنے آپ کو یَاہوِہ کے لیٔے نذر کرے اَور ایک سال بھر کا نر برّہ خطا کی قُربانی کے لیٔے لایٔے۔ لیکن گزرے ہویٔے دِن گنے نہیں جایٔیں گے کیونکہ وہ اَپنی نذارت کے ایّام میں ناپاک ہو گیا تھا۔
NUM 6:13 ” ’پھر جَب اُس کی نذرات کی میعاد پُوری ہو جائے تو نذیر کے لیٔے آئین یہ ہے: اُسے خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر حاضِر کیا جائے۔
NUM 6:14 وہاں وہ یَاہوِہ کے لیٔے یہ قُربانیاں پیش کرے: سوختنی نذر کے لیٔے ایک بے عیب یک سالہ نر برّہ گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بے عیب یک سالہ مادہ برّہ اَور سلامتی کی نذر کے لیٔے ایک بے عیب مینڈھا۔
NUM 6:15 اَور ساتھ ہی ساتھ اناج کی نذریں اَور تپاون کی نذروں اَور بے خمیری روٹیوں کی ایک ٹوکری بھی لایٔے جِس میں زَیتُون کا تیل ملے ہویٔے مَیدے کے کُلچے اَور تیل سے چُپڑی ہُوئی بے خمیری ٹکیاں ہُوں۔
NUM 6:16 ” ’کاہِنؔ اُنہیں یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرے اَور اُنہیں گُناہ کی قُربانی اَور سوختنی نذر کے طور پر پیش کرے۔
NUM 6:17 کاہِنؔ بے خمیری روٹیوں کی ٹوکری کے ساتھ اُس مینڈھے کو یَاہوِہ کے حُضُور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر گذرانے اَور اُن کی اناج کی قُربانی اَور اُن کے تپاون بھی لایٔے۔
NUM 6:18 ” ’تَب خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر نذیر اَپنے نذارت کے بال مُنڈوائے۔ پھر وہ اُن بالوں کو لے کر سلامتی کی نذر کی قُربانی کے نیچے والی آگ میں ڈال دے۔
NUM 6:19 ” ’جَب نذیر اَپنی نذارت کے بال مُنڈوا چُکے تَب کاہِنؔ مینڈھے کا اُبالا ہُوا شانہ اَور اُس ٹوکری میں کا ایک کُلچہ اَور ایک ٹکیا جو دونوں بے خمیر کے بنائے گیٔے ہُوں اُس کے ہاتھوں میں دے۔
NUM 6:20 اَور کاہِنؔ اُنہیں ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور ہلائے۔ وہ مُقدّس ہیں اَور ہلائے ہویٔے سینہ اَور پیش کی ہُوئی ران سمیت کاہِنؔ کے ہیں۔ اُس کے بعد نذیر مَے پی سَکتا ہے۔‘
NUM 6:21 ” ’نذیر اَپنی نذارت کے مُطابق یَاہوِہ کے لیٔے جِس چڑھاوے کی مَنّت مانے علاوہ اُس کے جِس کا اُسے مقدور ہو اُن سَب کے متعلّق یہی آئین ہے۔ اُس نے جو مَنّت مانی ہو اُسے نذارت کی آئین کے مُطابق پُورا کیا جائے۔‘ “
NUM 6:22 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 6:23 ”اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں سے کہو، ’تُم بنی اِسرائیل کو اِس طرح برکت دو۔ تُم اُن سے کہو:
NUM 6:24 ” ’یَاہوِہ تُمہیں برکت دیں اَور تُمہیں محفوظ رکھے؛
NUM 6:25 یَاہوِہ اَپنا چہرہ تُجھ پر جلوہ گِر فرمائیں اَور تُجھ پر مہربان ہُوں؛
NUM 6:26 یَاہوِہ اَپنا چہرہ اُٹھائیں اَور تمہاری طرف متوجّہ ہُوں اَور تُمہیں سلامتی بخشیں۔‘ “
NUM 6:27 ”اِس طرح وہ میرے نام کو بنی اِسرائیل پر رکھیں اَور مَیں اُنہیں برکت بخشوں گا۔“
NUM 7:1 جَب مَوشہ مَسکن کو کھڑا کر چُکا تو اُس نے اُسے مَسح کیا اَور اُسے اَور اُس کے سارے سازوسامان کو مُقدّس کیا۔ اُس نے مذبح اَور اُس کے تمام ظروف کو بھی مَسح اَور مُقدّس کیا۔
NUM 7:2 تَب اِسرائیل کے سردار جو شُمار کئے ہوؤں کے اُوپر مُقرّر کئے ہویٔے اَپنے اَپنے خاندانوں کے سربراہ اَور قبیلوں کے نِگراں تھے نذرانے لے آئے۔
NUM 7:3 اَور وہ اَپنے نذرانوں کے طور پر چھ ڈھکی ہُوئی گاڑیاں اَور بَارہ بَیل یَاہوِہ کے پاس لایٔے یعنی ہر سردار کی طرف سے ایک ایک بَیل اَور دو دو سرداروں کی طرف سے ایک ایک گاڑی۔ اُنہیں اُنہُوں نے مَسکن کے سامنے پیش کیا۔
NUM 7:4 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 7:5 ”تُو اُنہیں قبُول کر تاکہ وہ خیمہ اِجتماع کے لیٔے اِستعمال ہُوں اَور تُو اُنہیں لیویوں میں ہر شخص کی خدمت کے مُطابق بانٹ دے۔“
NUM 7:6 چنانچہ مَوشہ نے وہ گاڑیاں اَور بَیل لے کر لیویوں کو دے دئیے۔
NUM 7:7 گیرشون کے گھرانوں کو اُس نے اُن کی خدمت کے مُطابق دو گاڑیاں اَور چار بَیل دئیے۔
NUM 7:8 اَور بنی مِراریؔ کو اُن کی خدمت کے مُطابق چار گاڑیاں اَور آٹھ بَیل دئیے۔ یہ سَب اَہرونؔ کاہِنؔ کے بیٹے اِتمارؔ کی قیادت میں تھے۔
NUM 7:9 لیکن مَوشہ نے بنی قُہات کو کچھ نہ دیا کیونکہ وہ مُقدّس چیزوں کو اَپنے کندھوں پر اُٹھانے کے ذمّہ دار تھے۔
NUM 7:10 پھر جَب مذبح کا مَسح کیا گیا تَب سارے سردار اُس کی تقدیس کے لیٔے اَپنے اَپنے نذرانے لایٔے اَور اُنہیں مذبح کے سامنے پیش کیا۔
NUM 7:11 کیونکہ یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہاتھا، ”ہر روز ایک ہی سردار مذبح کی تقدیس کے لیٔے اَپنا نذرانہ لایٔے۔“
NUM 7:12 لہٰذا جو شخص پہلے دِن اَپنا ہدیہ لایا وہ یہُوداہؔ کے قبیلہ کا نحشونؔ بِن عَمّیندابؔ تھا۔
NUM 7:13 اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:14 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:15 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:16 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:17 اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:18 دُوسرے دِن یِسَّکاؔر کے قبیلہ کا سردار نتنی ایل بِن ضُعرؔ اَپنا ہدیہ لایا۔
NUM 7:19 اَور اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:20 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:21 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:22 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:23 اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:24 تیسرے دِن اِلیابؔ بِن حیلونؔ نے جو زبُولُون کے قبیلہ کا سردار تھا اَپنا ہدیہ گذرانا۔
NUM 7:25 اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:26 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:27 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا، اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:28 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:29 سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:30 چوتھے دِن رُوبِنؔ کے قبیلہ کے سردار اِلیضُورؔ بِن شدِیُورؔ نے اَپنا ہدیہ پیش کیا۔
NUM 7:31 اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:32 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:33 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا، اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:34 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:35 اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:36 پانچویں دِن شمعُونؔ کے قبیلہ کے سردار سلُومی ایل بِن ضُوریشدّؔی نے اَپنا ہدیہ پیش کیا۔
NUM 7:37 اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:38 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:39 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا، اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:40 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:41 اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر گذراننے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:42 چھٹے دِن اِلیاسفؔ بِن دعُوایلؔ نے اَپنا ہدیہ پیش کیا جو گادؔ کے قبیلہ کا سردار تھا۔
NUM 7:43 اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:44 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:45 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا، اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:46 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:47 اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:48 ساتویں دِن اِلیشمعؔ بِن عمّیہُوؔد نے اَپنا ہدیہ پیش کیا جو اِفرائیمؔ کے قبیلہ کا سردار تھا۔
NUM 7:49 اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:50 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:51 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا، اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:52 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:53 اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر گذراننے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:54 آٹھویں دِن گَملی ایل بِن پِداہضُورؔ نے اَپنا ہدیہ پیش کیا جو منشّہ کے قبیلہ کا سردار تھا۔
NUM 7:55 اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:56 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:57 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا، اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:58 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:59 اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:60 نویں دِن بِنیامین کے قبیلہ کے سردار ابیدانؔ بِن گِدعونیؔ نے اَپنا ہدیہ پیش کیا۔
NUM 7:61 اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:62 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:63 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا، اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:64 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:65 اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:66 دسویں دِن دانؔ کے قبیلہ کا سردار احیعزر بِن عمّی شدّؔی اَپنا ہدیہ لایا۔
NUM 7:67 اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:68 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:69 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا، اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:70 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:71 اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر گذراننے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:72 گیارھویں دِن آشیر کے قبیلہ کا سردار پگعِیلؔ بِن عُکرانؔ اَپنا ہدیہ لایا۔
NUM 7:73 اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:74 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:75 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا، اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:76 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:77 اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:78 بارہویں دِن اَخیرعؔ بِن عینانؔ نے جو نفتالی کے قبیلہ کا سردار تھا اَپنا ہدیہ پیش کیا۔
NUM 7:79 اُس کا ہدیہ یہ تھا: ایک سَو تیس ثاقل وزن کا چاندی کا ایک طباق اَور ستّر ثاقل وزن کا چاندی کا چھڑکنے کا ایک پیالہ۔ اِن دونوں کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق تھا اَور ہر ایک میں اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ بھرا تھا؛
NUM 7:80 دس ثاقل وزن کا سونے کا ایک ظرف جو لوبان سے بھرا ہُوا تھا؛
NUM 7:81 سوختنی نذر کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا، اَور ایک یک سالہ نر برّہ؛
NUM 7:82 گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک بکرا؛
NUM 7:83 اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیٔے دو بَیل، پانچ نر مینڈھے، پانچ بکرے اَور پانچ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:84 مذبح کے ممسوح ہونے کے وقت اُس کی تقدیس کے لیٔے بنی اِسرائیل کے سرداروں کے لایٔے ہویٔے عطیات یہی تھے۔ یعنی چاندی کے بَارہ طباق، چاندی کے چھڑکنے کے بَارہ پیالے اَور سونے کے بَارہ ظروف۔
NUM 7:85 ہر چاندی کے طباق کا وزن ایک سَو تیس ثاقل تھا اَور ہر چھڑکنے کا پیالہ ستّر ثاقل کا تھا۔ مجموعی طور پر اُن چاندی کے ظروف کا وزن پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق دو ہزار چار سَو ثاقل تھا۔
NUM 7:86 لوبان سے بھرے ہویٔے سونے کے بَارہ ظروف پاک مَقدِس کے ثاقل کے پیمانہ کے مُطابق دس دس ثاقل کے تھے۔ مجموعی طور پر اُن سونے کے ظروف کا وزن ایک سَو بیس ثاقل تھا۔
NUM 7:87 سوختنی نذر کے لیٔے لایٔے ہویٔے جانوروں کی مجموعی تعداد اَپنی اَپنی اناج کی قُربانیوں سمیت یہ تھی: بَارہ بچھڑے، بَارہ مینڈھے، بَارہ یک سالہ نر برّے اَور گُناہ کی قُربانی کے لیٔے بَارہ بکرے اِستعمال کئے گیٔے۔
NUM 7:88 سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیٔے جانوروں کی کُل تعداد یہ تھی: چوبیس بَیل، ساٹھ مینڈھے، ساٹھ بکرے، اَور ساٹھ یک سالہ نر برّے۔
NUM 7:89 جَب مَوشہ یَاہوِہ سے باتیں کرنے کے لیٔے خیمہ اِجتماع میں داخل ہُوا تو اُس نے کفّارہ کے سرپوش پر سے جو عہد کے صندُوق کے اُوپر رکھا ہُوا تھا دونوں کروبیوں کے درمیان سے وہ آواز سُنی جو اُس سے مُخاطِب تھی اَور یَاہوِہ نے مَوشہ کے ساتھ باتیں کیں۔
NUM 8:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 8:2 ”اَہرونؔ سے مُخاطِب ہو اَور اُس سے کہہ، ’جَب تُو سات چراغوں کو رَوشن کرے تو دیکھنا کہ اُن سے چراغدان کے سامنے کا احاطہ رَوشن ہو۔‘ “
NUM 8:3 چنانچہ اَہرونؔ نے اَیسا ہی کیا۔ اُس نے چراغوں کو اِس طرح جما دیا کہ اُن کے رُخ چراغدان کے سامنے کی طرف تھے جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
NUM 8:4 اَور چراغدان کی ساخت یُوں تھی: وہ اَپنے پیندے سے لے کر پھُولوں تک گڑھے ہویٔے سونے کا بنا تھا اَور چراغدان ٹھیک اُسی نمونہ کا بنا تھا جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو بتایا تھا۔
NUM 8:5 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 8:6 ”لیویوں کو دُوسرے تمام بنی اِسرائیل سے الگ کرکے اُنہیں رسماً پاک کر۔
NUM 8:7 اُنہیں پاک کرنے کے لیٔے تُم یُوں کرنا: اُن پر پاک کرنے کا پانی چھڑک، پھر وہ اَپنے سارے جِسم پر اُسترا پھروائیں اَور اَپنے کپڑے دھوئیں اَور اِس طرح اَپنے آپ کو پاک کر لیں۔
NUM 8:8 تَب وہ ایک بچھڑا اَور اُس کے ساتھ کی اناج کی قُربانی کے لیٔے تیل مِلا ہُوا مَیدہ لیں اَور تُو گُناہ کی قُربانی کے لیٔے ایک دُوسرا بچھڑا لینا۔
NUM 8:9 تَب لیویوں کو خیمہ اِجتماع کے سامنے حاضِر کرنا اَور بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کو جمع کرنا۔
NUM 8:10 تُم لیویوں کو یَاہوِہ کے حُضُور لانا، تَب بنی اِسرائیل اُن پر اَپنے ہاتھ رکھیں
NUM 8:11 اَور اَہرونؔ لیویوں کو یَاہوِہ کے حُضُور بنی اِسرائیل کی طرف سے ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرے تاکہ وہ یَاہوِہ کی خدمت کرنے کے لیٔے تیّار ہُوں۔
NUM 8:12 ”جَب لیوی اَپنے اَپنے ہاتھ بچھڑوں کے سَروں پر رکھ چکیں، تَب تُم ایک کو یَاہوِہ کے لیٔے گُناہ کی قُربانی کے طور پر اَور دُوسرے کو سوختنی نذر کے طور پر پیش کرنا تاکہ لیویوں کا کفّارہ دیا جائے۔
NUM 8:13 پھر تُم لیویوں کو اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کے آگے کھڑا کرنا اَور تَب اُن کو یَاہوِہ کے رُوبرو ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنا۔
NUM 8:14 اِس طرح سے تُم لیویوں کو دُوسرے بنی اِسرائیل سے الگ کرنا اَور لیوی میرے ہوں گے۔
NUM 8:15 ”جَب تُم لیویوں کو پاک کر چُکو اَور ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کر چُکو تَب وہ خیمہ اِجتماع میں اَپنی خدمت بجا لانے کے لیٔے آئیں۔
NUM 8:16 یہ وہ بنی اِسرائیل ہیں جو مُکمّل طور پر مُجھے سونپے جایٔیں۔ مَیں نے اُنہیں پہلوٹھے کے یعنی ہر اِسرائیلی عورت کے پہلے بیٹے کے عِوض اَپنا لیا ہے۔
NUM 8:17 بنی اِسرائیل کا ہر پہلوٹھا خواہ اِنسان کا ہو یا حَیوان کا میرا ہے۔ جَب مَیں نے مُلک مِصر میں سَب پہلوٹھوں کو مار ڈالا تھا، اُسی وقت مَیں نے اُنہیں اَپنے لیٔے مخصُوص کر لیا تھا۔
NUM 8:18 اَور مَیں نے بنی اِسرائیل کے سَب پہلوٹھوں کے عِوض لیویوں کو لے لیا ہے۔
NUM 8:19 تمام بنی اِسرائیل میں سے مَیں نے لیویوں کو اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کو بنی اِسرائیل کی جانِب سے اِس لیٔے عطا کیا ہے کہ وہ خیمہ اِجتماع میں بنی اِسرائیل میں خدمت کریں اَور اُن کے لیٔے کفّارہ دیں تاکہ جَب بنی اِسرائیل پاک مَقدِس کے قریب جایٔیں تو اُن پر کویٔی وَبا نازل نہ ہو۔“
NUM 8:20 چنانچہ مَوشہ، اَہرونؔ اَور بنی اِسرائیل کی ساری جماعت نے لیویوں کے ساتھ ٹھیک وَیسا ہی کیا جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
NUM 8:21 لیویوں نے اَپنے آپ کو پاک کیا اَور اَپنے کپڑے دھو ڈالے۔ تَب اَہرونؔ نے اُنہیں یَاہوِہ کے رُوبرو ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کیا اَور اُنہیں پاک کرنے کے لیٔے اُن کی خاطِر کفّارہ دیا۔
NUM 8:22 اُس کے بعد لیوی اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کی قیادت میں خیمہ اِجتماع میں اَپنی خدمت بجا لانے کے لیٔے چلے آئے۔ اُنہُوں نے لیویوں کے ساتھ ٹھیک وَیسا ہی کیا جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
NUM 8:23 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 8:24 ”لیویوں پر لازِم ہوگا: پچّیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے مَرد خیمہ اِجتماع میں خدمت کرنے آیا کریں۔
NUM 8:25 لیکن پچاس سال کی عمر ہونے پر وہ اَپنی روزمرّہ کی خدمت سے مستعفی ہُوں اَور پھر کام نہ کریں۔
NUM 8:26 وہ اگر چاہیں تو خیمہ اِجتماع کی خدمت میں اَپنے بھائیوں کا ہاتھ بٹائیں لیکن بذاتِ خُود کویٔی کام نہ کریں۔ تُم لیویوں کو اِسی قِسم کی ذمّہ داریاں سونپنا۔“
NUM 9:1 اُن کے مُلک مِصر سے نکل آنے کے دُوسرے سال کے پہلے مہینے میں یَاہوِہ سِینؔائی کے بیابان میں مَوشہ سے مُخاطِب ہُوا۔ اُنہُوں نے کہا،
NUM 9:2 ”بنی اِسرائیل مُقرّرہ وقت پر عیدِفسح منائیں۔
NUM 9:3 اِسی ماہ کی چودھویں تاریخ کی شام کے وقت تُم اُسے مُقرّرہ وقت پر اُس ضوابط کے مُطابق منانا۔“
NUM 9:4 چنانچہ مَوشہ نے بنی اِسرائیل کو عیدِفسح منانے کے لیٔے کہا،
NUM 9:5 اَور اُنہُوں نے پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کی شام کو سِینؔائی کے بیابان میں عیدِفسح منایا اَور بنی اِسرائیل نے وَیسا ہی کیا جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
NUM 9:6 لیکن کچھ لوگ اُس روز عیدِفسح نہ منا سکے کیونکہ اُن میں سے کچھ لوگ اَیسے بھی تھے جو کسی لاش کو چھُونے کے سبب سے ناپاک ہو گئے تھے۔ چنانچہ وہ اُسی دِن مَوشہ اَور اَہرونؔ کے پاس آئے
NUM 9:7 اَور مَوشہ سے کہنے لگے، ”ہم تو کسی لاش کو چھُونے کے سبب سے ناپاک ہو چُکے ہیں پھر ہم لوگ دُوسرے اِسرائیلیوں کے ساتھ مُقرّرہ وقت پر یَاہوِہ کی قُربانی پیش کرنے سے کیوں محروم رکھے جایٔیں؟“
NUM 9:8 مَوشہ نے اُنہیں جَواب دیا، ”جَب تک میں پتا نہ لگاؤں کہ یَاہوِہ تمہارے حق میں کیا حُکم دیتے ہیں تُم ٹھہرے رہو۔“
NUM 9:9 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 9:10 ”بنی اِسرائیل سے کہہ، ’تُم میں سے یا تمہاری نَسل میں سے جو لوگ کسی لاش کو چھُونے کی وجہ سے ناپاک ہو چُکے ہُوں یا کہیں دُور سفر میں ہُوں تو بھی وہ یَاہوِہ کے لیٔے عیدِفسح منائیں۔
NUM 9:11 وہ اُسے دُوسرے مہینے کے چودھویں دِن کی شام کو منائیں اَور فسح کے گوشت کو بے خمیری روٹی اَور کڑوے ساگ پات کے ساتھ کھایٔیں۔
NUM 9:12 اَور اُس میں سے کچھ بھی صُبح تک باقی نہ چھوڑا جائے، اُن کی کوئی بھی ہڈّی نہ توڑی جائے۔ اَور جَب وہ عیدِفسح منائیں تو اُس کی تمام شَریعت پر عَمل کریں۔
NUM 9:13 لیکن جو شخص رسماً پاک ہو اَور سفر میں بھی نہ ہو اگر وہ عیدِفسح نہ منائے تو وہ اَپنی قوم میں سے کاٹ ڈالا جائے کیونکہ اُس نے مُقرّرہ وقت پر یَاہوِہ کی قُربانی پیش نہیں کی۔ اُس آدمی کا گُناہ اُسی کے سَر لگے گا۔
NUM 9:14 ” ’اگر کویٔی مُلک اِسرائیل کا باشِندہ ہو یا غَیراِسرائیلی جو تمہارے ساتھ بُودوباش کرتا ہو یَاہوِہ کے لیٔے فسح کرنا چاہے تو وہ اُسے اُس کے ضوابط کے مُطابق مانے۔ تُم مُلک اِسرائیل کے باشِندے اَور غَیراِسرائیلی باشِندے دونوں کے لیٔے ایک ہی ضوابط رکھنا۔‘ “
NUM 9:15 جِس دِن پاک مَسکن یعنی عہد کا خیمہ نصب ہُوا، اُس دِن اُس پر بادل چھا گیا اَور شام سے لے کر صُبح تک وہ بادل پاک مَسکن کے اُوپر آگ کی مانند نظر آتا رہا۔
NUM 9:16 اَور ہمیشہ اَیسا ہی ہوتا تھا، خیمہ پر بادل چھایا رہتا تھا اَور رات کو وہ آگ کی مانند نظر آتا تھا۔
NUM 9:17 اَور جَب وہ بادل خیمے کے اُوپر سے چھٹ جاتا تھا تو بنی اِسرائیل کُوچ کرتے تھے اَور جہاں وہ بادل جا کر ٹھہر جاتا تھا وہاں اِسرائیلی قِیام کرتے تھے اَور جَب تک وہ بادل ٹھہرا رہتا تھا اِسرائیلی بھی وہاں ڈیرے ڈالے رہتے تھے۔
NUM 9:18 بنی اِسرائیل یَاہوِہ کے حُکم سے کُوچ کرتے اَور اُسی کے حُکم سے وہ ڈیرے بھی ڈالتے تھے، اَور جَب تک بادل مَسکن پر ٹھہرا رہے وہ چھاؤنی میں رہے۔
NUM 9:19 جَب بادل کافی عرصہ تک مَسکن پر ٹھہرا رہتا تھا تو بنی اِسرائیل یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق کُوچ نہ کرتے تھے۔
NUM 9:20 بعض اوقات وہ بادل چند ہی دِنوں تک مَسکن پر رہتا تھا اَور تَب بھی وہ یَاہوِہ کے حُکم سے ڈیرے ڈالے پڑے رہتے اَور جَب وہ حُکم دیتا تو وہ کُوچ کرتے تھے۔
NUM 9:21 کبھی تو وہ بادل شام سے لے کر صُبح تک ہی ٹھہرا رہتا تھا اَور جَب وہ صُبح کو اُٹھ جاتا تھا تو وہ کُوچ کرتے تھے۔ لہٰذا دِن ہو یا رات جَب بھی وہ بادل اُٹھ جاتا تھا وہ روانہ ہو جاتے تھے۔
NUM 9:22 چاہے بادل مَسکن پر دو دِن مہینے بھر یا پُورے سال ٹھہرا رہتا بنی اِسرائیل بھی چھاؤنی میں ٹھہرے رہتے اَور کُوچ نہ کرتے تھے۔ لیکن جَب وہ اُٹھ جاتا تو وہ بھی چل پڑتے تھے۔
NUM 9:23 یَاہوِہ کے حُکم سے وہ خیمہ زن ہوتے اَور یَاہوِہ ہی کے حُکم سے وہ کُوچ کرتے۔ یُوں وہ یَاہوِہ کے حُکم کو بجا لاتے تھے جو اُنہیں مَوشہ کی مَعرفت دیا گیا تھا۔
NUM 10:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 10:2 ”گڑھی ہُوئی چاندی کے دو نرسنگے بنا لے اَور اُنہیں جماعت کو جمع کرنے اَور چھاؤنی کے کُوچ کرنے کے لیٔے کام میں لانا۔
NUM 10:3 اَور جَب دونوں نرسنگے پھُونکے جایٔیں تَب ساری جماعت خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر تمہارے سامنے جمع ہو جائے۔
NUM 10:4 لیکن اگر ایک نرسنگا ہی پھُونکا جائے تو صِرف وہ لوگ جو بنی اِسرائیل کے برادریوں کے رئیس یعنی سربراہ ہیں تمہارے سامنے اِکٹھّے ہُوں۔
NUM 10:5 جَب سانس باندھ کر زور سے نرسنگا پھُونکا جائے تو جو قبیلے مشرق کی جانِب مُقیم ہیں وہ کُوچ کریں۔
NUM 10:6 جَب دوبارہ سانس باندھ کر زور سے نرسنگا پھُونکا جائے تو جُنوب کی جانِب والی چھاؤنیوں کو کُوچ کریں۔ لہٰذا سانس باندھ کر زور سے نرسنگا پھُونکا جانا کُوچ کا اِشارہ ہوگا۔
NUM 10:7 جماعت کو جمع کرنے کے لیٔے بھی نرسنگے پھُونکے جایٔیں لیکن اُن کی آوازوں کو زِیادہ طُول دیا جائے۔
NUM 10:8 ”اَہرونؔ کاہِنؔ کے بیٹے نرسنگے پھُونکیں۔ یہ فرمان تمہارے اَور تمہاری آئندہ پُشتوں کے لیٔے دائمی فرمان قائِم رہے۔
NUM 10:9 جَب تُم اَپنے ہی مُلک میں کسی اَیسے دُشمن سے لڑنے کے لیٔے نکلو جو تُم پر ظُلم ڈھاتا ہے تَب سانس باندھ کر زور سے نرسنگے پھُونکنا۔ تَب تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور یاد کئے جاؤگے اَور اَپنے دُشمنوں سے رِہائی پاؤگے۔
NUM 10:10 اَور اَپنی خُوشی کے موقعوں جَیسے اَپنی مُقرّرہ عیدوں اَور نئے چاند کے جَشن اَور اَپنی سوختنی نذروں اَور سلامتی کی نذر کی قُربانیوں کے موقعوں پر تُم نرسنگے پھُونکو اَور وہ تمہارے خُدا کے حُضُور میں تمہاری یادگارہو جانے کا باعث ہوں گے۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔“
NUM 10:11 دُوسرے سال کے دُوسرے ماہ کے بیسویں دِن وہ بادل شہادت کے مَسکن پر سے اُٹھ گیا۔
NUM 10:12 تَب بنی اِسرائیل نے سِینؔائی کے بیابان سے کُوچ کیا اَور جابجا سفر کرتے رہے یہاں تک کہ وہ بادل پارانؔ کے بیابان میں جا کر ٹھہرگیا۔
NUM 10:13 چنانچہ اُنہُوں نے مَوشہ کی مَعرفت دئیے ہویٔے یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق پہلا کُوچ کیا۔
NUM 10:14 پہلے یہُوداہؔ کی چھاؤنی کے دستے اَپنے جھنڈے اُونچے کرکے روانہ ہویٔے اَور عَمّیندابؔ کا بیٹا نحشونؔ اُن کی قیادت کر رہاتھا۔
NUM 10:15 ضُعرؔ کا بیٹا نتنی ایل یِسَّکاؔر کے قبیلہ کے دستوں کی قیادت کر رہاتھا
NUM 10:16 اَور حیلونؔ کا بیٹا اِلیابؔ زبُولُون کے قبیلہ کے دستوں کی قیادت کر رہاتھا۔
NUM 10:17 تَب مَسکن اُتارا گیا اَور بنی گیرشون اَور بنی مِراریؔ نے جو اُسے اُٹھائے ہویٔے تھے کُوچ کیا۔
NUM 10:18 پھر رُوبِنؔ کی چھاؤنی کے دستے اَپنے جھنڈے اُونچے کرکے روانہ ہویٔے اَور شدِیُورؔ کا بیٹا اِلیضُورؔ اُن کی قیادت کر رہاتھا۔
NUM 10:19 ضُوریشدّؔی کا بیٹا سلُومی ایل شمعُونؔ کے قبیلہ کے دستوں کی قیادت کر رہاتھا۔
NUM 10:20 اَور دعُوایلؔ کا بیٹا اِلیاسفؔ، گادؔ کے قبیلہ کے دستوں کی قیادت کر رہاتھا۔
NUM 10:21 تَب قُہاتیوں نے مُقدّس چیزیں اُٹھائے ہویٔے کُوچ کیا۔ اُن کے پہُنچنے سے پہلے ضروُری تھا کہ مَسکن کھڑا کر دیا جائے۔
NUM 10:22 پھر اِفرائیمؔ کے قبیلہ کے دستے اَپنے جھنڈے اُونچے کرکے روانہ ہویٔے۔ عمّیہُوؔد کا بیٹا اِلیشمعؔ اُن کی قیادت کر رہاتھا۔
NUM 10:23 پِداہضُورؔ کا بیٹا گَملی ایل منشّہ کے قبیلہ کے دستوں کی قیادت کر رہاتھا۔
NUM 10:24 اَور ابیدانؔ بِن گِدعونیؔ بِنیامین کے قبیلہ کے دستوں کی قیادت کر رہاتھا۔
NUM 10:25 اَور آخِر میں دانؔ کی چھاؤنی کے دستے اَپنے جھنڈے کے ساتھ سارے دستوں کے پیچھے روانہ ہویٔے۔ احیعزر بِن عمّی شدّؔی اُن کی قیادت کر رہاتھا۔
NUM 10:26 عُکرانؔ کا بیٹا پگعِیلؔ آشیر کے قبیلہ کے دستوں کی قیادت کر رہاتھا،
NUM 10:27 اَور عینانؔ کا بیٹا اَخیرعؔ نفتالی کے قبیلہ کے دستوں کی قیادت کر رہاتھا۔
NUM 10:28 چنانچہ جَب اِسرائیلی دستے کُوچ کرتے تھے تو اِسی ترتیب کے مُطابق آگے روانہ ہوتے تھے۔
NUM 10:29 مَوشہ نے اَپنے سسُر رِعوایلؔ مِدیانی کے بیٹے حوبابؔ سے کہا، ”ہم اُس مقام کی طرف کُوچ کر رہے ہیں جِس کے متعلّق یَاہوِہ نے فرمایاہے، ’میں اُسے تُمہیں دُوں گا!‘ لہٰذا تُو بھی ہمارے ساتھ چل اَور ہم تمہارے ساتھ نیک سلُوک کریں گے کیونکہ یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل سے نیکی کا وعدہ کیا ہے۔“
NUM 10:30 اُس نے جَواب دیا، ”نہیں میں نہیں چلتا۔ میں تو اَپنے مُلک اَور اَپنے لوگوں میں لَوٹ جاؤں گا۔“
NUM 10:31 لیکن مَوشہ نے کہا، ”مہربانی سے ہمیں چھوڑکر نہ جاؤ کیونکہ تُم ہی بتا سکتے ہو کہ بیابان میں ہم کہاں قِیام کریں: اَور تُم ہمارے لیٔے آنکھوں کا کام دے سکتے ہو۔
NUM 10:32 اگر تُم ہمارے ساتھ چلوگے تو ہر نیکی میں جو یَاہوِہ ہمارے ساتھ کریں گے تُم بھی برابر کے حِصّہ دار ہوگے۔“
NUM 10:33 چنانچہ وہ یَاہوِہ کے پہاڑ سے چل پڑے اَور تین دِن تک سفر کرتے رہے اَور اُن تین دِنوں میں یَاہوِہ کے عہد کا صندُوق اُن کے قِیام کرنے کے لیٔے جگہ تلاش کرتا ہُوا اُن کے آگے آگے چلتا رہا۔
NUM 10:34 اَور جَب وہ اَپنی چھاؤنی سے کُوچ کرتے تو یَاہوِہ کا بادل اُن کے اُوپر دِن بھر سایہ کئے رہتا تھا۔
NUM 10:35 جَب صندُوق کُوچ کرتا تھا تو مَوشہ کہتا تھا، ”اَے یَاہوِہ اُٹھیں! آپ کے دُشمن پراگندہ ہو جایٔیں؛ اَور آپ کے حریف آپ کے سامنے سے بھاگ جایٔیں۔“
NUM 10:36 اَور جَب کبھی وہ ٹھہر جاتا تھا تو وہ کہتا تھا، ”اَے یَاہوِہ، ہزاروں ہزار اِسرائیلیوں میں لَوٹ کر آ جائیں۔“
NUM 11:1 پھر لوگ یَاہوِہ سے اَپنی تکالیف کی شکایت کرنے لگے اَور جَب اُنہُوں نے اُنہیں سُنا تو اُن کا غضب بھڑک اُٹھا۔ تَب یَاہوِہ کی آتِش اُن کے درمیان بھڑکی جِس سے اُن کی چھاؤنی کے چاروں طرف کے علاقے بھسم ہونے لگے۔
NUM 11:2 تَب لوگوں نے مَوشہ سے آہ و زاری کی اَور اُس نے یَاہوِہ سے دعا کی اَور وہ آگ بُجھ گئی۔
NUM 11:3 اِس لیٔے اُس جگہ کا نام تبعیرہؔ پڑا کیونکہ یَاہوِہ کی آگ اُن کے درمیان جَل اُٹھی تھی۔
NUM 11:4 بنی اِسرائیل میں شامل ہونے والے جمع لوگ کھانے کی دُوسری چیزوں کی خواہش کرنے لگے، اَور بنی اِسرائیل بھی آہ و زاری کرنے لگے، ”کاش کہ ہمیں کھانے کو گوشت مِل سَکتا!
NUM 11:5 ہمیں اُس مچھلی کی جسے ہم مِصر میں مُفت کھاتے تھے اَور اُن کھیروں، خربوزوں، گندنوں، ہری پیاز اَور لہسن کی بھی یاد آتی ہے۔
NUM 11:6 لیکن اَب ہماری بھُوک مَر چُکی ہے؛ اَور ہم اِس منّا کے علاوہ اَور کچھ دیکھ ہی نہیں پاتے!“
NUM 11:7 منّا دھنیے کی مانند تھا اَور وہ دال کی طرح دِکھائی دیتا تھا۔
NUM 11:8 لوگ اِدھر اُدھر جا کر اُسے جمع کرتے اَور اُسے چکّی میں پیستے یا اوکھلی میں کُوٹ لیتے تھے۔ پھر اُسے کسی برتن میں پکاتے تھے یا اُس کے پھُلکے بناتے تھے اَور اُس کا مزہ زَیتُون کے تیل کا سا ہوتا تھا۔
NUM 11:9 رات کو جَب چھاؤنی پر اوس پڑتی تھی تَب منّا بھی گِرتا تھا۔
NUM 11:10 مَوشہ نے ہر خاندان کے افراد کو اَپنے اَپنے خیمہ کے دروازہ پر واویلا کرتے ہویٔے سُنا۔ یَاہوِہ نہایت غضبناک ہُوئے اَور مَوشہ بھی پریشان ہو گیا۔
NUM 11:11 مَوشہ نے یَاہوِہ سے پُوچھا، ”آپ اَپنے خادِم پر یہ مُصیبت کیوں لائے؟ آخِر مَیں نے اَیسا کون سا کام کیا تھا آپ کی نظرِکرم مُجھ پر سے اُٹھی جِس سے آپ ناراض ہُوئے اَور اِن سَب لوگوں کا بوجھ مُجھ پر ڈال دیا؟
NUM 11:12 کیا یہ سَب لوگ میرے پیٹ میں پڑے تھے؟ کیا یہ مُجھ ہی سے پیدا ہویٔے؟ پھر آپ مُجھے کیوں کہتے ہیں ’میں ایک دایہ کی مانند جو کسی نَوزائیدہ بچّے کو لیٔے پھرتی ہے اُنہیں اَپنی گود میں اُٹھاکر‘ اُس مُلک میں لے جاؤں جِس کے دینے کی قَسم آپ نے اُن کے آباؤاَجداد سے کھائی ہے؟
NUM 11:13 میں اِن سَب کے لیٔے گوشت کہاں سے لاؤں؟ وہ یہ کہہ کر میرے سامنے گڑگڑاتے ہیں، ’ہمیں گوشت کھانے کو دیں!‘
NUM 11:14 میں اکیلا اِن سَب کو کیسے سنبھالوں؟ یہ بوجھ میری طاقت سے باہر ہے۔
NUM 11:15 اگر آپ میرے ساتھ اَیسا ہی سلُوک کرتے ہیں تو براہِ کرم مجھ سے ابھی میری جان لے لیں۔ اگر مَیں نے آپ سے نظرِکرم پائی ہے تو میں اَپنی تباہی سے دوچار نہ ہونے پاؤں۔“
NUM 11:16 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا: ”بنی اِسرائیل کے بُزرگوں میں سے ستّر اَیسے لوگوں کو میرے حُضُور میں جمع کر جنہیں تُو جانتا ہے کہ وہ قوم کے سردار اَور منصبدار ہیں اَور اُنہیں خیمہ اِجتماع کے پاس لے آنا کہ وہ تمہارے ساتھ وہاں کھڑے ہُوں۔
NUM 11:17 تَب مَیں نیچے اُتر آؤں گا اَور تُجھ سے وہاں باتیں کروں گا اَور مَیں اُس رُوح میں سے جو تُجھ پر ہے کچھ لے کر اُس رُوح کو اُن پر ڈال دُوں گا۔ وہ لوگوں کا بوجھ اُٹھانے میں تمہاری مدد کریں گے تاکہ تُمہیں اکیلے بوجھ اُٹھانا نہ پڑے۔
NUM 11:18 ”لوگوں سے کہو، ’کل گوشت کھانے کے لیٔے اَپنے آپ کو پاک کر لو۔ جَب تُم یہ کہہ کر آہ و زاری کر رہے تھے، ”کاش ہمیں گوشت کھانے کو ملتا! ہم مِصر ہی میں اَچھّے تھے!“ یَاہوِہ نے تمہاری فریاد سُن لی ہے۔ لہٰذا وہ تُمہیں گوشت دیں گے اَور تُم اُسے کھاؤگے۔
NUM 11:19 تُم صِرف ایک یا دو دِن یا پانچ، دس یا بیس دِن ہی نہیں،
NUM 11:20 بَلکہ پُورے ایک ماہ تک اُسے کھاتے رہوگے یہاں تک کہ وہ تمہارے نتھنوں سے نکلنے لگے گا اَور تُمہیں اُس سے گھن آنے لگے گی کیونکہ تُم نے یَاہوِہ کو جو تمہارے درمیان ہے ترک کر دیا اَور اُن کے سامنے یہ کہہ کر آہ و زاری کی، ”ہم مِصر سے کیوں نکل آئے؟“ ‘ “
NUM 11:21 لیکن مَوشہ نے کہا، ”سَب لوگ جو میرے ساتھ ہیں اِن میں چھ لاکھ تو پیادے ہی ہیں اَور آپ کہتے ہیں، ’میں اِنہیں اِتنا گوشت دُوں گا کہ وہ مہینے بھر اُسے کھاتے رہیں گے!‘
NUM 11:22 اگر بھیڑ بکریوں کے گلّے اَور مویشیوں کے ریوڑ بھی اُن کے لیٔے ذبح کئے جایٔیں تو کیا اُن کے لیٔے بس ہوں گے؟ اَور اگر سمُندر کی ساری مچھلیاں لائی جایٔیں تو کیا وہ اُن کے لیٔے کافی ہُوں گی؟“
NUM 11:23 یَاہوِہ نے مَوشہ کو جَواب دیا، ”کیا یَاہوِہ کا ہاتھ اِس قدر چھوٹا ہو گیا ہے؟ اَب تُو دیکھ لے گا کہ میرا قول پُورا ہوتاہے یا نہیں۔“
NUM 11:24 تَب مَوشہ نے باہر جا کر لوگوں کو یَاہوِہ کی باتیں کہہ سُنائیں۔ اُس نے اُن میں سے ستّر سربراہ بُزرگوں کو جمع کیا اَور اُنہیں خیمہ کے اِردگرد کھڑا کر دیا۔
NUM 11:25 تَب یَاہوِہ بادل میں ہوکر اُترے اَور اُنہُوں نے مَوشہ سے باتیں کیں اَور اُس رُوح میں سے جو مَوشہ پر تھا کچھ لے کر اُسے اُن ستّر سردار بُزرگوں پر ڈال دیا۔ اَور جَب وہ رُوح اُن پر اُترا تَب اُنہُوں نے نبُوّت کی لیکن بعد میں پھر کبھی نہ کیا۔
NUM 11:26 البتّہ دو شخص جِن کے نام اِلدادؔ اَور میدادؔ تھے چھاؤنی میں رہ گیٔے تھے۔ اُن کے نام بُزرگوں کی فہرست میں درج تھے لیکن وہ خیمہ کے پاس نہیں آئےتھے۔ پھر بھی اُن پر رُوح اُتر آیا اَور وہ چھاؤنی میں نبُوّت کرنے لگے۔
NUM 11:27 ایک نوجوان دَوڑتا ہُوا مَوشہ کے پاس گیا اَور کہا، ”اِلدادؔ اَور میدادؔ چھاؤنی میں نبُوّت کر رہے ہیں۔“
NUM 11:28 تَب یہوشُعؔ بِن نُونؔ نے، جو اَپنی جَوانی ہی سے مَوشہ کا مُعاوِن رہ چُکاتھا کہا، ”اَے میرے آقا مَوشہ! اُنہیں روک دیں!“
NUM 11:29 لیکن مَوشہ نے جَواب دیا، ”کیا تُمہیں میری خاطِر رشک آتا ہے؟ کاش کہ یَاہوِہ کے سَب لوگ نبی ہوتے اَور یَاہوِہ اَپنی رُوح اُن سَب پر ڈالتے!“
NUM 11:30 تَب مَوشہ اَور بنی اِسرائیل کے بُزرگ چھاؤنی میں لَوٹ آئے۔
NUM 11:31 پھر یَاہوِہ کی طرف سے ایک آندھی چلی اَور سمُندر سے بٹیریں اُڑا لائی اَور اُنہیں چھاؤنی کے چاروں طرف زمین پر ڈال دیا۔ اَور اُن کی کثرت کا یہ حال تھا کہ ایک دِن کی مَسافت تک ہر طرف اُن کی دو دو ہاتھ اُونچی تہہ لگی ہُوئی تھی۔
NUM 11:32 پُورے دِن اَور پُوری رات اَور دُوسرے دِن بھی لوگوں نے باہر جا کر بٹیریں جمع کیں اَور کسی نے بھی دس حُومر سے کم نہ بٹوریں اَور اُنہیں چھاؤنی کے چاروں طرف پھیلا دیا۔
NUM 11:33 لیکن گوشت ابھی اُن کے دانتوں کے درمیان ہی تھا اَور وہ اُسے نگل بھی نہ پایٔے تھے کہ یَاہوِہ کا قہر اُن پر بھڑکا اَور وہ ایک نہایت شدید وَبا کے باعث مار ڈالے گیٔے۔
NUM 11:34 اِس لیٔے اُس جگہ کا نام قِبروتؔ ہتّاوہؔ رکھا گیا کیونکہ وہ لوگ جنہوں نے کسی دُوسری قِسم کی غِذا کی حِرص کی تھی وہاں دفن کئے گیٔے تھے۔
NUM 11:35 تَب وہ لوگ قِبروتؔ ہتّاوہؔ سے سفر کرکے حَضِیروتؔ کو گیٔے اَور وہاں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 12:1 مِریمؔ اَور اَہرونؔ مَوشہ کی کُوشی بیوی کے سبب سے اُس کی بُرائی کرنے لگے کیونکہ اُس نے ایک کُوشی عورت سے بیاہ کر لیا تھا۔
NUM 12:2 اُنہُوں نے کہا، ”کیا یَاہوِہ نے محض مَوشہ ہی سے باتیں کی ہیں؟ کیا اُنہُوں نے ہم سے بھی باتیں نہیں کیں؟“ اَور یَاہوِہ نے اُن کی یہ باتیں سُن لیں۔
NUM 12:3 (مَوشہ نہایت حلیم شخص تھا بَلکہ وہ رُوئے زمین کے ہر شخص سے زِیادہ حلیم تھا۔)
NUM 12:4 یَاہوِہ نے فوراً مَوشہ، اَہرونؔ اَور مِریمؔ سے کہا، ”تُم تینوں نکل کر خیمہ اِجتماع کے پاس حاضِر ہو جاؤ۔“ چنانچہ وہ تینوں باہر نکل آئے۔
NUM 12:5 تَب یَاہوِہ بادل کے ایک سُتون میں ہوکر اُتر آئے اَور خیمہ کے دروازہ پر کھڑے ہوکر اَہرونؔ اَور مِریمؔ کو بُلایا۔ جَب وہ دونوں آگے بڑھے
NUM 12:6 تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”میری باتیں سُنو: ”جَب تمہارے درمیان یَاہوِہ کا کویٔی نبی برپا ہوتاہے، تو میں اَپنے آپ کو، اُس پر رُویا میں ظاہر کرتا ہُوں، اَور خواب میں اُس سے باتیں کرتا ہُوں۔
NUM 12:7 لیکن میرے خادِم مَوشہ کے حق میں اَیسا نہیں ہے؛ وہ میرے سارے خاندان میں قابلِ اِعتماد ہے۔
NUM 12:8 اُس سے میں مُعمّوں میں نہیں بَلکہ کھُلے طور پر اَور رُوبرو باتیں کرتا ہُوں، اُسے یَاہوِہ کا دیدار بھی نصیب ہوتاہے۔ پھر تُمہیں میرے خادِم مَوشہ کی بُرائی کرتے ہویٔے خوف کیوں نہ آیا؟“
NUM 12:9 اَور یَاہوِہ کا غضب اُن پر بھڑکا اَور وہ اُنہیں چھوڑکر چلےگئے۔
NUM 12:10 جَب خیمہ کے اُوپر سے بادل اُٹھ گیا تو مِریمؔ وہاں کھڑی تھی اَور وہ کوڑھ سے برف کی مانند سفید ہو چُکی تھی۔ اَہرونؔ نے مُڑ کر اُس کی طرف دیکھا تو پتا چلا کہ اُسے کوڑھ کا مرض لاحق ہو گیا ہے۔
NUM 12:11 اَور اَہرونؔ نے مَوشہ سے فرمایا، ”اَے میرے آقا براہِ کرم اِس گُناہ کو جو ہم سے نادانی میں سرزد ہُوا اُسے ہمارے خِلاف نہ ٹھہرائیں۔
NUM 12:12 اَور مِریمؔ کو اُس مَرے ہویٔے بچّہ کی مانند نہ رہنے دیں جِس کا جِسم اَپنی ماں کے پیٹ سے نکلنے پر ہی ادھ گلا ہوتاہے۔“
NUM 12:13 تَب مَوشہ نے یہ کہہ کر یَاہوِہ سے مِنّت کی، ”اَے خُدا! براہِ کرم آپ اُسے شفا دیں!“
NUM 12:14 یَاہوِہ نے مَوشہ کو جَواب دیا، ”اگر اِس کے باپ نے اِس کے مُنہ پر صِرف تھُوکا ہی ہوتا تو کیا وہ سات دِن تک پشیمان نہ رہتی؟ لہٰذا سات دِن تک اُسے چھاؤنی کے باہر بند رہنے دیں۔ اُس کے بعد وہ اَندر لائی جا سکتی ہے۔“
NUM 12:15 چنانچہ مِریمؔ سات دِن تک چھاؤنی کے باہر بند رہی اَور اُس کے اَندر آنے تک لوگوں نے کُوچ نہیں کیا۔
NUM 12:16 اُس کے بعد وہ لوگ حَضِیروتؔ سے روانہ ہویٔے اَور پارانؔ کے بیابان میں جا کر خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 13:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 13:2 ”چند آدمیوں کو روانہ کر کہ وہ مُلکِ کنعانؔ کا جسے میں بنی اِسرائیل کو دے رہا ہُوں جائزہ لیں۔ تُم ہر آبائی قبیلہ کے سرداروں میں سے ایک ایک شخص کو بھیجنا۔“
NUM 13:3 چنانچہ مَوشہ نے یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق پارانؔ کے بیابان سے اُنہیں روانہ کیا۔ وہ سَب اِسرائیلی سردار تھے۔
NUM 13:4 اُن کے نام یہ ہیں: رُوبِنؔ کے قبیلہ سے، زکُورؔ کا بیٹا شَمّوعؔ؛
NUM 13:5 شمعُونؔ کے قبیلہ سے حَوریؔ کا بیٹا شافاطؔ؛
NUM 13:6 یہُوداہؔ کے قبیلہ سے یفُنّہؔ کا بیٹا کالبؔ؛
NUM 13:7 یِسَّکاؔر کے قبیلہ سے یُوسیفؔ کا بیٹا اِگالؔ؛
NUM 13:8 اِفرائیمؔ کے قبیلہ سے نُونؔ کا بیٹا ہوشِیعؔ؛
NUM 13:9 بِنیامین کے قبیلہ سے رفُوؔ کا بیٹا پَلطیؔ؛
NUM 13:10 زبُولُون کے قبیلہ سے سودیؔ کا بیٹا گدّی ایل؛
NUM 13:11 منشّہ کے قبیلہ سے (جو یُوسیفؔ کا قبیلہ تھا) سُوسیؔ کا بیٹا گدّی؛
NUM 13:12 دانؔ کے قبیلہ سے گمّلیؔ کا بیٹا عمّی ایل؛
NUM 13:13 آشیر کے قبیلہ سے مِیکاایلؔ کا بیٹا سَتُورؔ؛
NUM 13:14 نفتالی کے قبیلہ سے وُفسیؔ کا بیٹا نَحّبِی؛
NUM 13:15 گادؔ کے قبیلہ سے ماکیؔ کا بیٹا گیُوایلؔ۔
NUM 13:16 یہ اُن لوگوں کے نام ہیں جنہیں مَوشہ نے اُس مُلک کا جائزہ لینے کے لیٔے بھیجا تھا۔ (مَوشہ نے نُونؔ کے بیٹے ہوشِیعؔ کا نام یہوشُعؔ رکھا۔)
NUM 13:17 جَب مَوشہ نے اُنہیں مُلکِ کنعانؔ کا جائزہ لینے کے لیٔے بھیجا تو کہا، ”تُم نِیگیوؔ کی طرف سے ہوتے ہویٔے کوہستانی مُلک میں جانا۔
NUM 13:18 اَور دیکھنا کہ وہ مُلک کیسا ہے اَور وہاں کے باشِندے مضبُوط ہیں یا کمزور؛ تھوڑے ہیں یا بہت؛
NUM 13:19 وہ کِس قِسم کے مُلک میں بسے ہویٔے ہیں؟ وہ اَچھّا ہے یا بُرا؟ وہ کیسے شہروں میں رہتے ہیں؟ کیا وہ بغیر فصیلوں کے ہیں یا فصیلدار ہیں؟
NUM 13:20 وہاں کی زمین کیسی ہے؟ کیا وہ زرخیز ہے یا بنجر؟ اَور اُس میں درخت ہیں یا نہیں؟ ہمّت کرکے اَپنے ساتھ اُس مُلک کا کچھ پھل لے آنا۔“ (وہ انگور کی پہلی فصل کا موسم تھا۔)
NUM 13:21 چنانچہ اُنہُوں نے جا کر صینؔ کے بیابان مدخل لیبو حماتؔ کی جانِب رحوبؔ تک اُس مُلک کا جائزہ لیا۔
NUM 13:22 وہ نِیگیوؔ سے ہوتے ہویٔے حِبرونؔ تک آئے جہاں عناق کے بیٹے احیمانؔ، شیشائی اَور تلمی رہتے تھے۔ (حِبرونؔ مِصر کے ضعنؔ سے سات سال قبل بسایا گیا تھا۔)
NUM 13:23 جَب وہ اِشکلؔ کی وادی میں پہُنچے تو اُنہُوں نے ایک شاخ کاٹ لی جِس میں انگور کا صِرف ایک گُچّھا تھا جسے اُن میں سے دو آدمی ایک لاٹھی پر لٹکایٔے ہویٔے تھے۔ اَور وہ کچھ انار اَور اَنجیر بھی لے آئے۔
NUM 13:24 انگور کے اُس گُچّھے کے سبب جسے اِسرائیلیوں نے وہاں سے کاٹا تھا اُس مقام کا نام وادی اِشکلؔ رکھا گیا۔
NUM 13:25 چالیس دِن کے بعد وہ اُس مُلک کی صورت حال کا جائزہ لے کر لَوٹے۔
NUM 13:26 وہ پارانؔ کے بیابان میں قادِسؔ کے مقام پر مَوشہ، اَہرونؔ اَور بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کے پاس لَوٹ آئے۔ وہاں اُنہُوں نے اُنہیں اَور تمام لوگوں کو سارا حال بتایا اَور اُنہیں اُس مُلک کے پھل بھی دِکھائے۔
NUM 13:27 اُنہُوں نے مَوشہ کو یہ احوال سُنایا: ”ہم اُس مُلک میں گیٔے جہاں تُم نے ہمیں بھیجا اَور وہاں واقعی دُودھ اَور شہد بہتا ہے اَور یہ پھل بھی وہاں کے ہیں۔
NUM 13:28 لیکن جو لوگ وہاں بستے ہیں وہ بڑے مضبُوط ہیں اَور وہاں کے شہر فصیلدار اَور نہایت بڑے ہیں۔ ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا۔
NUM 13:29 نِیگیوؔ میں تو عمالیقی آباد ہیں لیکن حِتّی، یبُوسی اَور امُوری کوہستانی علاقہ میں رہتے ہیں اَور کنعانی سمُندر کے پاس اَور یردنؔ کے ساحِل پر بسے ہویٔے ہیں۔“
NUM 13:30 تَب کالبؔ نے مَوشہ کے سامنے سَب لوگوں کو چُپ کرایا اَور کہا، ”ہم جا کر کیوں نہ اُس مُلک پر قبضہ کر لیں کیونکہ ہم یقیناً اَیسا کر سکتے ہیں۔“
NUM 13:31 لیکن جو لوگ اُس کے ساتھ گیٔے تھے وہ کہنے لگے، ”ہم اُن لوگوں پر حملہ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ہم سے زِیادہ زورآور ہیں۔“
NUM 13:32 اَور اِس طرح اُنہُوں نے بنی اِسرائیل کے درمیان اُس مُلک کے بارے میں جِس کا اُنہُوں نے جائزہ لیا تھا غلط خبر پھیلا دی۔ اُنہُوں نے کہا، ”جِس مُلک کا ہم نے جائزہ لیا وہ اَپنے باشِندوں کو کھا جاتا ہے۔ ہم نے وہاں جتنے لوگ بھی دیکھے وہ سَب بڑے قدآور ہیں۔
NUM 13:33 اَور ہم نے وہاں بنی نفیل کو بھی دیکھا (جو عناقیوں کی نَسل کے نفیلی قوم سے تھے)۔ ہم اُن کے سامنے ٹِڈّوں کی مانند نظر آنے لگے اَور اُنہُوں نے بھی ہمیں ٹِڈّے ہی سمجھا۔“
NUM 14:1 اُس رات قوم کے سَب لوگ اَپنی آواز بُلند کرکے چِلّائے اَور زار زار رُوئے۔
NUM 14:2 تمام اِسرائیلی مَوشہ اَور اَہرونؔ کے خِلاف بُڑبُڑانے لگے اَور ساری جماعت نے اُن سے کہا، ”کاش کہ ہم مِصر ہی میں مَر جاتے یا بیابان ہی میں ڈھیر ہو جاتے!
NUM 14:3 یَاہوِہ ہمیں اِس مُلک میں کیوں لائے ہیں؟ کیا صِرف اِس لیٔے کہ ہم تلواروں سے قتل کئے جایٔیں؟ ہماری بیویاں اَور بچّے لُوٹ کا مال بَن جایٔیں؟ کیا ہمارے لیٔے بہتر نہ ہوگا کہ ہم واپس مِصر چلے جایٔیں؟“
NUM 14:4 اَور وہ آپَس میں کہنے لگے، ”آؤ ہم کسی کو اَپنا سردار بنا لیں اَور مِصر لَوٹ چلیں۔“
NUM 14:5 تَب مَوشہ اَور اَہرونؔ بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کے سامنے جو وہاں جمع تھی مُنہ کے بَل گِرے۔
NUM 14:6 یہوشُعؔ بِن نُونؔ اَور یفُنّہؔ کے بیٹے کالبؔ نے جو اُس مُلک کا جائزہ لینے والوں میں سے تھے اَپنے اَپنے کپڑے پھاڑ ڈالے
NUM 14:7 اَور بنی اِسرائیل کی ساری جماعت سے کہا، ”جِس مُلک میں سے گزر کر ہم نے اُس کا جائزہ لیا وہ نہایت اَچھّا مُلک ہے۔
NUM 14:8 اگر یَاہوِہ ہم سے راضی رہے تو وہ ہمیں اُس مُلک میں پہُنچا دیں گے جہاں دُودھ اَور شہد بہتا ہے اَور اُسے ہمیں دیں گے۔
NUM 14:9 صِرف اِتنا ہو کہ یَاہوِہ کے خِلاف بغاوت نہ کرو اَور نہ اُس مُلک کے لوگوں سے ڈرو کیونکہ ہم اُن کو نگل جایٔیں گے۔ اُنہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ یَاہوِہ ہمارے ساتھ ہیں۔ تُم اُن سے مت ڈرو۔“
NUM 14:10 لیکن ساری جماعت اُنہیں سنگسار کرنے کی باتیں کرنے لگی۔ تَب خیمہ اِجتماع میں تمام بنی اِسرائیل کے سامنے یَاہوِہ کا جلال ظاہر ہُوا۔
NUM 14:11 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”یہ لوگ کب تک میری توہین کرتے رہیں گے؟ اَور باوُجُود اُن تمام معجزوں کے جو مَیں نے اُن کے درمیان کیٔے ہیں وہ کب تک مُجھ پر ایمان نہ لائیں گے؟
NUM 14:12 میں اُنہیں وَبا سے ماروں گا اَور اُنہیں تباہ کر دُوں گا۔ لیکن تُمہیں ایک اَیسی قوم بناؤں گا جو اِن سے بھی عظیم اَور زورآور ہوگی۔“
NUM 14:13 مَوشہ نے یَاہوِہ سے کہا، ”تَب تو مِصری اِس کے بارے میں سُن لیں گے! آپ تو اَپنی قُدرت سے اِن لوگوں کو اُن کے درمیان سے نکال لائے۔
NUM 14:14 اَور وہ اُس مُلک کے باشِندوں کو اِس کے بارے میں بتائیں گے۔ وہ تو سُن چُکے ہیں کہ آپ جو یَاہوِہ ہیں اِن لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اَور یہ کہ آپ جو یَاہوِہ ہیں رُوبرو دِکھائی دیتے ہیں اَور آپ کا بادل اُن پر سایہ کئے رہتاہے اَور آپ دِن کے وقت بادل کے سُتون میں ہوکر اَور رات کو آگ کے سُتون میں ہوکر اُن کے آگے آگے چلا کرتے ہیں۔
NUM 14:15 اگر آپ اِن لوگوں کو ایک ہی وقت جان سے مار ڈالیں تو جِن قوموں نے آپ کے بارے میں یہ حال سُنا ہے وہ کہیں گی:
NUM 14:16 ’چونکہ یَاہوِہ اِس قوم کو اُس مُلک میں نہ لا سکے جِس کا وعدہ اُنہُوں نے اُن سے قَسم کھا کر کیا تھا اِس لیٔے اُنہُوں نے اُنہیں بیابان میں مار ڈالا۔‘
NUM 14:17 ”لہٰذا اَب یَاہوِہ کی قُدرت آپ کے اِس قول کے مُطابق عیاں ہو:
NUM 14:18 ’یَاہوِہ قہر کرنے میں دھیمے شفقت میں غنی اَور گُناہ اَور سرکشی کے بخشنے والے۔ پھر بھی وہ مُجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتے اَور وہ اَولاد کو اُن کے آباؤاَجداد کے گُناہ کی سزا اُن کے بیٹوں اَور پوتوں کو تیسری اَور چوتھی پُشت تک دیتے ہیں۔‘
NUM 14:19 لہٰذا اَپنی لافانی مَحَبّت کے مُطابق جَیسے آپ اُنہیں مِصر سے نکلنے کے بعد سے آج تک مُعاف کرتے آئے ہیں وَیسے ہی اَب بھی اِن لوگوں کا گُناہ بخش دیں۔“
NUM 14:20 یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”مَیں نے تمہاری اِلتجا کے مُطابق اُنہیں مُعاف کر دیا۔
NUM 14:21 البتّہ مُجھے اَپنی حیات کی قَسم کہ جَب تک یَاہوِہ کے جلال سے ساری زمین معموُر ہوتی رہے گی
NUM 14:22 جِس کسی نے میرا جلال دیکھا اَور اُن معجزوں کو بھی دیکھا جو مَیں نے مِصر میں اَور اِس بیابان میں کئے لیکن میرا حُکم نہ مانا اَور دس بار مُجھے آزمایا
NUM 14:23 اُن میں سے ایک شخص بھی اُس مُلک کو ہرگز نہ دیکھ پایٔےگا جِس کے دینے کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر اُن کے آباؤاَجداد سے کیا تھا۔
NUM 14:24 لیکن چونکہ میرے خادِم کالبؔ کی کچھ اَور ہی طبیعت تھی اَور وہ دِل و جان سے میری پیروی کرتا آیا ہے میں اُسے اُس مُلک میں جہاں وہ ہو آیا ہے پہُنچاؤں گا اَور اُس کی اَولاد اُس کی وارِث ہوگی۔
NUM 14:25 چونکہ عمالیقی اَور کنعانی وادیوں میں بسے ہویٔے ہیں لہٰذا کل تُم پلٹ کر بحرِقُلزمؔ کو جانے والی راہ سے بیابان کی طرف کُوچ کرو۔“
NUM 14:26 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے کہا:
NUM 14:27 ”آخِر کب تک یہ بدکار قوم میرے خِلاف بُڑبُڑاتی رہے گی؟ مَیں نے اِن بُڑبُڑانے والے اِسرائیلیوں کی شکائتیں سُن لی ہیں۔
NUM 14:28 سو تُم اُن سے کہہ دو کہ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’مُجھے میری حیات کی قَسم میں تمہارے ساتھ وُہی سلُوک کروں گا، جِس پر تُم نے مُجھے مجبُور کر دیا ہے۔
NUM 14:29 تمہاری لاشیں اِسی بیابان میں پڑی رہ جایٔیں گی۔ تُم میں سے جتنے افراد بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے ہیں جِن کی مردُم شماری ہو چُکی ہے اَورجو میرے خِلاف بُڑبُڑایا کرتے تھے۔
NUM 14:30 اُن میں سے یفُنّہؔ کے بیٹے کالبؔ اَور یہوشُعؔ بِن نُونؔ کے سِوا کویٔی بھی اُس مُلک میں داخل نہ ہونے پایٔےگا جِس میں تُمہیں بسانے کی مَیں نے قَسم کھائی تھی۔
NUM 14:31 البتّہ تمہارے بال بچّوں کو جِن کے متعلّق تُم نے کہاتھا کہ وہ اِغوا کر لیٔے جایٔیں گے میں وہاں لے آؤں گا تاکہ وہ اُس مُلک کی قدر پہچانیں جسے تُم نے ٹھکرا دیا۔
NUM 14:32 لیکن تمہارا یہ حال ہوگا کہ تمہاری لاشیں اِسی بیابان میں پڑی رہیں گی۔
NUM 14:33 تمہاری اَولاد چالیس سال تک یہاں گلّہ بانی کرتی رہے گی اَور تمہاری بدکاری کا پھل برداشت کرتی رہے گی جَب تک کہ تمہاری آخِری لاش بیابان میں پڑی پڑی گل نہ جائے۔
NUM 14:34 اِن چالیس دِنوں کے حِساب سے جَب کہ تُم اُس مُلک کا جائزہ لیتے رہے فی دِن ایک سال کے مُطابق چالیس سال تک تُم اَپنے گُناہوں کا پھل پاتے رہوگے اَور تَب تُمہیں مَعلُوم ہوگا کہ میری مُخالفت کرنے کا اَنجام کیا ہوتاہے؟‘
NUM 14:35 میں یَاہوِہ یہ کہہ چُکا اَور مَیں اُس بدکار قوم کے ساتھ جو میری مُخالفت پر ایکا کر چُکی ہے یقیناً اَیسا ہی کروں گا۔ اُن کا خاتِمہ اِسی بیابان میں ہوگا اَور وہ یہیں مَریں گے۔“
NUM 14:36 لہٰذا جِن لوگوں کو مَوشہ نے مُلک کا جائزہ لینے کے لیٔے بھیجا تھا اَور جنہوں نے لَوٹ کر اُس کے متعلّق غلط اِطّلاع دے کر ساری جماعت کو مَوشہ کے خِلاف بُڑبُڑانے پر اُبھارا تھا۔
NUM 14:37 یہ لوگ جو اُس مُلک کے بارے میں غلط اِطّلاع دینے کے ذمّہ دار تھے یَاہوِہ کے حُضُور وَبا سے مَر گیٔے۔
NUM 14:38 جو لوگ مُلک کا جائزہ لینے گیٔے تھے اُن میں سے صِرف یہوشُعؔ بِن نُونؔ اَور یفُنّہؔ کا بیٹا کالبؔ سلامت بچ گیٔے۔
NUM 14:39 جَب مَوشہ نے تمام بنی اِسرائیل کو یہ ماجرا سُنایا تو وہ بہت دُکھ سے رونے لگے۔
NUM 14:40 دُوسرے دِن علی الصبح وہ یہ کہتے ہویٔے اُس مُلک کی پہاڑیوں پر چڑھنے لگے، ”ہم نے یَاہوِہ کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔ البتّہ ہم اُس مقام تک جایٔیں گے جِس کا وعدہ یَاہوِہ نے کیا ہے۔“
NUM 14:41 لیکن مَوشہ نے کہا، ”تُم یَاہوِہ کے حُکم کی خِلاف ورزی کیوں کر رہے ہو؟ تُم اُس میں کامیاب نہ ہوگے!
NUM 14:42 تُم اُوپر نہ چڑھو کیونکہ یَاہوِہ تمہارے ساتھ نہیں ہیں اَور تُم اَپنے دُشمنوں سے شِکست کھاؤگے،
NUM 14:43 کیونکہ وہاں عمالیقیوں اَور کنعانیوں سے تمہارا سامنا ہوگا اَور چونکہ تُم یَاہوِہ سے برگشتہ ہو گئے ہو وہ تمہارے ساتھ نہ ہوں گے اَور تُم تلوار سے مارے جاؤگے۔“
NUM 14:44 تاہم وہ جَسارت کرکے کوہستانی مُلک کی پہاڑیوں پر چڑھنے لگے اَور مَوشہ اَور یَاہوِہ کے عہد کا صندُوق چھاؤنی میں ہی پڑا رہا۔
NUM 14:45 تَب عمالیقی اَور کنعانی جو اُس کوہستانی مُلک میں رہتے تھے نیچے اُتر آئے اَور اُن پر ٹوٹ پڑے اَور حُرمہؔ تک اُن کو مارتے چلے گیٔے۔
NUM 15:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 15:2 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے فرما، ’جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہو جاؤ جو میں تُمہیں رہنے کے لیٔے دے رہا ہُوں
NUM 15:3 اَور تُم یَاہوِہ کے لیٔے گائے بَیل یا بھیڑ بکریوں کی آتِشی قُربانیاں اَور اناج کی نذریں پیش کرو جو یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو ہُوں۔ خواہ وہ سوختنی نذریں یا کسی خاص مَنّت کے ذبیحے، رضا کی قُربانیاں یا عیدوں کی قُربانیاں ہُوں۔
NUM 15:4 تو جو شخص اَپنا نذرانہ لایٔے وہ یَاہوِہ کے حُضُور چوتھائی ہین تیل مِلا ہُوا ایفہ کا دسواں حِصّہ مَیدہ اناج کی قُربانی کے طور پر گذرانے۔
NUM 15:5 اَور سوختنی نذر کے ہر برّہ یا ذبیحہ کے پیچھے چوتھائی ہین مَے تپاون کے طور پر تیّار کرے۔
NUM 15:6 ” ’ہر مینڈھے کے ساتھ تہائی ہین تیل مِلا ہُوا ایفہ کا پانچواں حِصّہ مَیدہ اناج کی قُربانی کے طور پر،
NUM 15:7 اَور تہائی ہین مَے تپاون کے طور پر تیّار کرنا۔ اِسے یَاہوِہ کے حُضُور فرحت بخش خُوشبو کے طور پر پیش کرنا۔
NUM 15:8 ” ’جَب تُو یَاہوِہ کے حُضُور سوختنی نذر یا خاص مَنّت کے ذبیحے یا سلامتی کی نذر کے ذبیحہ کے طور پر بچھڑا تیّار کرے
NUM 15:9 تو اُس بچھڑے کے ساتھ نِصف ہین تیل مِلا ہُوا ایفہ کے تین دہائی حِصّہ کے برابر مَیدہ اناج کی قُربانی کے طور پر،
NUM 15:10 اَور نِصف ہین مَے تپاون کے طور پر بھی لانا۔ یہ یَاہوِہ کے حُضُور غِذا کی فرحت بخش خُوشبو والی آتِشی قُربانی ہوگی۔
NUM 15:11 ہر بَیل یا مینڈھا اَور ہر برّہ یا بکرا اِسی طرح تیّار کیا جائے۔
NUM 15:12 تُم جتنے بھی جانور تیّار کرو ہر ایک کے ساتھ اَیسا ہی کرنا۔
NUM 15:13 ” ’ہر ایک اِسرائیلی باشِندہ جَب یَاہوِہ کے حُضُور فرحت بخش خُوشبو کے طور پر آتِشی قُربانی پیش کر دے تو وہ یہ سَب کام اِسی طریقہ سے کیا کرے۔
NUM 15:14 آنے والی پُشتوں میں جَب کبھی کویٔی پردیسی یا کسی اَور شخص جو تمہارے ساتھ بُودوباش کرتا ہو یَاہوِہ کے حُضُور فرحت بخش خُوشبو کے طور پر غِذا کی آتِشی قُربانی پیش کرے تو وہ بھی ہُوبہو وَیسا ہی کرے جَیسا تُم کرتے ہو۔
NUM 15:15 جماعت میں تمہارے لیٔے اَور تمہارے ساتھ رہنے والے پردیسی کے لیٔے ایک سے فرمان ہُوں اَور پُشت در پُشت یہ دائمی فرمان ہمیشہ کے لیٔے رہے گا۔ یَاہوِہ کے آگے تُم اَور پردیسی برابر ہیں۔
NUM 15:16 تمہارے لیٔے اَور تمہارے درمیان رہنے والے پردیسیوں کے لیٔے ایک ہی آئین اَور طریقے ہوں گے۔‘ “
NUM 15:17 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
NUM 15:18 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے فرما: جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہو جاؤ، جہاں میں تُمہیں لیٔے جاتا ہُوں
NUM 15:19 اَور تُم اُس مُلک کی پیداوار میں سے کھاؤ تو اُس کا کچھ حِصّہ یَاہوِہ کے لیٔے نذر کرنا۔
NUM 15:20 اَپنے پہلے گوندھے ہویٔے آٹے کی ایک روٹی پیش کرنا اَور اُسے کھلیان کے نذرانہ کے طور پر گذراننا۔
NUM 15:21 تمہاری آنے والی پُشتیں اَپنے پہلے گوندھے ہویٔے آٹے میں سے یَاہوِہ کے لیٔے یہ نذرانہ دیا کریں۔
NUM 15:22 ” ’اگر تُم غَیر اِرادتاً یَاہوِہ کے مَوشہ کو دئیے ہویٔے اِن اَحکام میں سے کسی پر عَمل نہ کرو،
NUM 15:23 یعنی جِس دِن سے یَاہوِہ نے حُکم دینا شروع کیا تَب سے تمام اَحکام جو یَاہوِہ نے آنے والی پُشتوں کے لیٔے مَوشہ کی مَعرفت دئیے۔
NUM 15:24 اَور اگر یہ غَیر اِرادتاً ہُوا ہو اَور جماعت کو اُس کا علم نہ ہو تو ساری جماعت ایک بچھڑا سوختنی نذر کے طور پر پیش کرے تاکہ وہ یَاہوِہ کے حُضُور فرحت بخش خُوشبو ہو اَور اُس کے ساتھ آئین کے مُطابق اُس کی اناج کی قُربانی اَور اُس کا تپاون بھی چڑھائے اَور گُناہ کی قُربانی کے طور پر ایک بکرا پیش کرے۔
NUM 15:25 یُوں کاہِنؔ بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کے لیٔے کفّارہ دے اَور وہ بخش دئیے جایٔیں گے کیونکہ یہ خطا دانستہ طور پر نہیں ہُوئی تھی اَور اُنہُوں نے اَپنی خطا کے عِوض یَاہوِہ کے حُضُور آتِشی قُربانی اَور گُناہ کی قُربانی پیش کر دی تھی۔
NUM 15:26 تَب بنی اِسرائیل کی ساری جماعت اَور اُن کے ساتھ رہنے والے پردیسی مُعاف کئے جایٔیں گے کیونکہ سبھی لوگ اِس نادانستہ خطا میں شریک تھے۔
NUM 15:27 ” ’لیکن اگر صِرف ایک ہی شخص غَیر اِرادتاً گُناہ کرے تو وہ یک سالہ بکری گُناہ کی قُربانی کے طور پر پیش کرے
NUM 15:28 اَور کاہِنؔ غَیر اِرادتاً گُناہ کرنے والے کی خاطِر یَاہوِہ کے حُضُور میں کفّارہ دے اَور جَب اُس کے لیٔے کفّارہ دے دیا جائے گا تو وہ مُعافی پایٔےگا۔
NUM 15:29 غَیر اِرادتاً گُناہ کرنے والے ہر شخص کے لیٔے ایک ہی آئین ہو خواہ وہ مُلک اِسرائیل کا باشِندہ ہو یا غَیراِسرائیلی۔
NUM 15:30 ” ’لیکن جو شخص جان بوجھ کر گُناہ کرے خواہ وہ مُلک اِسرائیل کا باشِندہ ہو یا غَیراِسرائیلی ہو وہ یَاہوِہ کی اہانت کرتا ہے اَور وہ شخص اَپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
NUM 15:31 چونکہ اُس نے یَاہوِہ کے کلام کی تحقیر کی اَور اُن کی حُکم عُدولی کی اِس لیٔے وہ شخص ضروُر کاٹ ڈالا جائے۔ اُس کا گُناہ اُسی کے سَر لگے گا۔‘ “
NUM 15:32 جَب بنی اِسرائیل بیابان میں رہتے تھے تَب ایک شخص سَبت کے دِن لکڑیاں جمع کرتا ہُوا پایا گیا۔
NUM 15:33 جنہوں نے اُسے لکڑیاں جمع کرتے ہویٔے پایاتھا وہ اُسے مَوشہ اَور اَہرونؔ اَور ساری جماعت کے پاس لے آئے
NUM 15:34 اَور اُنہُوں نے اُسے حِراست میں رکھا کیونکہ یہ واضح نہ تھا کہ اُس کے ساتھ کیا سلُوک کیا جائے۔
NUM 15:35 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”یہ آدمی مار ڈالا جائے۔ ساری جماعت چھاؤنی کے باہر اُسے سنگسار کرے۔“
NUM 15:36 چنانچہ جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا اُسی کے مُطابق جماعت نے اُسے چھاؤنی کے باہر لے جا کر سنگسار کیا اَور وہ مَر گیا۔
NUM 15:37 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
NUM 15:38 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے کہہ کہ وہ پُشت در پُشت اَپنے کُرتوں کے کناروں پر جھالریں لگائیں اَور ہر جھالر پر ایک نیلا ڈورا ٹانکیں۔
NUM 15:39 یہ جھالریں اَیسی ہُوں کہ جَب اُن پر تمہاری نگاہ پڑے تو یَاہوِہ کے سَب اَحکام تُمہیں یاد آئیں تاکہ تُم اُن پر عَمل کرو اَور اَپنے دِل اَور آنکھوں کی خواہشوں کی پیروی میں کویٔی فاحِشہ حرکت نہ کر بیٹھو۔
NUM 15:40 تَب تُم یاد کرکے میرے سَب حُکموں پر عَمل کروگے اَور اَپنے خُدا کے واسطے مُقدّس ہوگے۔
NUM 15:41 مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں جو تُمہیں مِصر سے نکال لایا تاکہ تمہارا خُدا ٹھہروں۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔“
NUM 16:1 قورحؔ جو لیوی کا پرپوتا قُہات کا پوتا اَور اِضہاؔر کا بیٹا تھا اِلیابؔ کے بیٹوں داتنؔ اَور ابیرامؔ اَور پِلیتھ کے بیٹے اَونؔ جَیسے چند بنی رُوبِنؔ کے ساتھ مِل کر گستاخی کر بیٹھے۔
NUM 16:2 وہ مَوشہ کے خِلاف اُٹھ کھڑے ہویٔے۔ بنی اِسرائیل میں سے ڈھائی سَو لوگ اُن کے ساتھ تھے جو جماعت کے نامور سردار اَور مجلس کے نامزد رُکن تھے۔
NUM 16:3 وہ مَوشہ اَور اَہرونؔ کی مُخالفت کرنے کے لئے ایک گِروہ کی طور پر اِکٹھّے ہوکر اُن سے کہنے لگے، ”تُم حَد سے بڑھ چُکے ہو! ساری جماعت اَور اُس کا ہر ایک فرد مُقدّس ہے اَور یَاہوِہ اُن کے ساتھ ہیں۔ پھر تُم یَاہوِہ کی جماعت میں اَپنے آپ کو کیوں بالاتر رکھتے ہیں؟“
NUM 16:4 جَب مَوشہ نے یہ باتیں سُنی تو وہ اَپنے مُنہ کے بَل گرا۔
NUM 16:5 تَب اُس نے قورحؔ اَور اُس کے تمام پیروکاروں سے کہا: ”کل صُبح کے وقت یَاہوِہ صَاف ظاہر کر دیں گے کہ کون اُن کا ہے اَور کون مُقدّس ہے اَور وہ اُس شخص کو اَپنے قریب آنے دیں گے۔ جسے وہ آپ نے آپ مُنتخب کریں گے اُسے وہ اَپنی قربت بھی بخشیں گے۔
NUM 16:6 لہٰذا اَے قورحؔ! تُم اَور تمہارے تمام پیروکار اَپنا اَپنا بخُوردان لیں
NUM 16:7 اَور کل اُن میں آگ رکھ کر تُم یَاہوِہ کے حُضُور بخُور جَلاؤ۔ تَب جِس شخص کو یَاہوِہ مُنتخب کریں وُہی مُقدّس ٹھہرے گا۔ اَے لیویو! تُم حَد سے زِیادہ بڑھ گیٔے ہو!“
NUM 16:8 مَوشہ نے قورحؔ سے یہ بھی کہا، ”اَے لیویو سُنو!
NUM 16:9 کیا تمہارے لیٔے یہ کافی نہیں کہ اِسرائیل کے خُدا نے تُمہیں بنی اِسرائیل کی جماعت سے الگ کرکے اَپنی قربت میں لیا ہے تاکہ تُم یَاہوِہ کے مَسکن کی خدمت کرو اَور جماعت کے سامنے کھڑے ہوکر اُس کی بھی خدمت بجا لاؤ۔
NUM 16:10 اِس طرح یَاہوِہ نے تُمہیں اَور تمہارے سَب لیوی بھائیوں کو بھی اَپنی قربت میں لے آئے، لیکن اَب تُم کہانت بھی حاصل کرنا چاہتے ہو۔
NUM 16:11 دراصل وہ یَاہوِہ ہی ہیں جِس کے خِلاف تُم اَور تمہارے سَب پیروکار اِکٹھّے ہو گئے ہو۔ اَہرونؔ کون ہے، جو تُم اُس کے خِلاف بُڑبُڑاتے ہو؟“
NUM 16:12 تَب مَوشہ نے اِلیابؔ کے بیٹوں داتنؔ اَور ابیرامؔ کو بُلوا بھیجا لیکن اُنہُوں نے کہا، ”ہم نہیں آتے!
NUM 16:13 کیا یہ کافی نہیں کہ تُم ہمیں ایک اَیسے مُلک سے جِس میں دُودھ اَور شہد بہتا ہے، اِس لیٔے نکال لائے ہو، ہمیں بیابان میں مار ڈالو؟ اَب تُم حاکم بَن کر ہم پر اِختیار بھی جتاتے ہو؟
NUM 16:14 اِس کے علاوہ تُم نے ہمیں اُس مُلک میں بھی نہیں پہُنچایا جہاں دُودھ اَور شہد بہتا ہے اَور نہ ہمیں کھیتوں اَور تاکستانوں کا وارِث بنایا۔ کیا تُم اُن لوگوں کے ساتھ غُلام جَیسا برتاؤ کرنا چاہتے ہو؟ نہیں، ہم نہیں آئیں گے!“
NUM 16:15 تَب مَوشہ بےحد غُصّہ ہُوا اَور یَاہوِہ سے کہنے لگے، ”اُن کا ہدیہ قبُول نہ کرنا۔ مَیں نے اُن سے ایک گدھا بھی نہیں لیا نہ اُن میں سے کسی کو کویٔی نُقصان پہُنچایا ہے۔“
NUM 16:16 پھر مَوشہ نے قورحؔ سے کہا، ”کل تُم اَپنے سَب پیروکاروں کو ساتھ لے کر یَاہوِہ کے آگے حاضِر ہو۔ تُم، اَور تمہارے وہ لوگ اَور اَہرونؔ بھی۔
NUM 16:17 ہر شخص اَپنا اَپنا بخُوردان لے اَور اُس میں بخُور ڈالے اَور اُسے یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرے۔ کُل ڈھائی سَو بخُوردان ہوں۔ تُم اَور اَہرونؔ بھی اَپنا اَپنا بخُوردان پیش کرنا۔“
NUM 16:18 چنانچہ سارے آدمی اَپنا اَپنا بخُوردان لے کر اُن میں آگ اَور بخُور ڈال کر مَوشہ اَور اَہرونؔ کے ساتھ خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر آ کھڑے ہویٔے۔
NUM 16:19 جَب قورحؔ نے اَپنے سارے فریق والوں کو اُن کے خِلاف خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر جمع کیا تو یَاہوِہ کا جلال ساری جماعت کے سامنے ظاہر ہُوا۔
NUM 16:20 یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے کہا:
NUM 16:21 ”اَپنے آپ کو اِس جماعت سے الگ کر لو تاکہ میں پل بھر میں اُن کا خاتِمہ کر دُوں۔“
NUM 16:22 لیکن مَوشہ اَور اَہرونؔ مُنہ کے بَل گِر کر کہنے لگے، ”اَے خُدا! اَے بنی نَوع اِنسان کی رُوحوں کے خُدا! کیا آپ ساری جماعت پر اَپنا قہر نازل کریں گے جَب کہ صِرف ایک آدمی نے گُناہ کیا ہے؟“
NUM 16:23 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا:
NUM 16:24 ”اِس جماعت سے کہہ، ’وہ قورحؔ داتنؔ اَور ابیرامؔ کے خیموں کے آس پاس سے ہٹ جائے۔‘ “
NUM 16:25 مَوشہ اُٹھ کر داتنؔ اَور ابیرامؔ کی طرف گیا اَور اِسرائیل کے بُزرگ اُس کے پیچھے پیچھے گیٔے۔
NUM 16:26 اُس نے جماعت کو آگاہ کیا، ”اِن بدکار آدمیوں کے خیموں کے پاس سے پیچھے ہٹ جاؤ اَور اُن کی کسی چیز کو نہ چھوؤ۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم بھی اُن کے سَب گُناہوں کے باعث برباد ہو جاؤ۔“
NUM 16:27 چنانچہ وہ قورحؔ، داتنؔ اَور ابیرامؔ کے خیموں کے آس پاس سے ہٹ گیٔے۔ لیکن داتنؔ اَور ابیرامؔ باہر نکل آئے اَور اَپنی بیویوں اَور چُھوٹے بچّوں کے ساتھ اَپنے اَپنے خیموں کے دروازوں پر کھڑے ہو گئے۔
NUM 16:28 تَب مَوشہ نے کہا، ”اِس سے تُم جان لوگے کہ یَاہوِہ نے مُجھے یہ سَب کام کرنے کے لیٔے بھیجا ہے اَور یہ بھی کہ یہ میرا اَپنا منصُوبہ نہیں تھا۔
NUM 16:29 اگر یہ اِنسان قُدرتی موت مَریں اَور اُن کے ساتھ وُہی ہو جو سَب لوگوں کے ساتھ ہُوا کرتا ہے تو میں یَاہوِہ کا بھیجا ہُوا نہیں ہُوں۔
NUM 16:30 لیکن اگر یَاہوِہ کویٔی انوکھا کرشمہ دِکھائیں اَور زمین اَپنا مُنہ کھول دے اَور اُنہیں اَور اُن کا سَب کچھ نگل جائے اَور وہ زندہ ہی قبر میں سما جایٔیں تَب تُم جان لوگے کہ اِن لوگوں نے خُدا کی تحقیر کی ہے۔“
NUM 16:31 جوں ہی اُس نے یہ باتیں ختم کیں اُن کے قدموں کے نیچے کی زمین پھٹ گئی
NUM 16:32 اَور زمین نے اَپنا مُنہ کھول دیا اَور اُنہیں، اُن کے گھر بار اَور قورحؔ کے یہاں کے سَب آدمیوں کو اَور اُن کے تمام مال و اَسباب کو ہڑپ کر لیا۔
NUM 16:33 وہ اَپنے تمام مال و اَسباب کے ساتھ زندہ ہی قبر میں جا پڑے اَور زمین اُن کے اُوپر برابر ہو گئی اَور وہ جماعت میں سے نابود ہو گئے۔
NUM 16:34 اُن کا چِلّانا سُن کر تمام اِسرائیلی جو اُن کے آس پاس تھے وہ یہ کہتے ہویٔے بھاگ نکلے، ”زمین ہمیں بھی نگل لے گی!“
NUM 16:35 تَب یَاہوِہ کے پاس سے آگ نکلی اَور اُن ڈھائی سَو آدمیوں کو بھسم کر گئی جو بخُور چڑھا رہے تھے۔
NUM 16:36 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا:
NUM 16:37 ”اَہرونؔ کاہِنؔ کے بیٹے الیعزرؔ سے کہہ کہ وہ بخُوردانوں کو جھلستے ہویٔے انبار میں سے نکال لے اَور اَنگاروں کو کچھ فاصلہ پر بِکھیر دے کیونکہ وہ بخُوردان مُقدّس ہیں۔
NUM 16:38 وہ اُن آدمیوں کے بخُوردان ہیں جنہوں نے اَپنی ہی جان سے دُشمنی کرکے گُناہ کیا تھا۔ اُن بخُوردانوں کو پِیٹ پِیٹ کر پترے بنالو تاکہ وہ مذبح پر منڈھے جایٔیں کیونکہ اُنہیں یَاہوِہ کے حُضُور رکھا گیا تھا۔ اِس لیٔے وہ پاک ہیں۔ وہ بنی اِسرائیل کے لیٔے ایک نِشان ٹھہریں گے۔“
NUM 16:39 چنانچہ الیعزرؔ کاہِنؔ نے وہ کانسے کے بخُوردان بٹور لئے جنہیں وہ لوگ لے کر آئےتھے جو بعد کو بھسم کر دیئے گیٔے تھے اَور اُس نے اُن بخُوردانوں کو پِٹوا کر اُن کے پترے بنوائے تاکہ اُن سے مذبح کو منڈھا جائے۔
NUM 16:40 جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کی مَعرفت حُکم دیا تھا یہ بنی اِسرائیل کو جتانے کے لیٔے تھا کہ اَہرونؔ کی نَسل کے علاوہ کویٔی غَیر شخص بخُور جَلانے کے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور نہ جائے تاکہ اَیسا نہ ہو کہ اُس کا اَنجام بھی قورحؔ اَور اُس کے فریق والوں کی طرح ہو۔
NUM 16:41 دُوسرے دِن بنی اِسرائیل کی ساری جماعت یہ کہہ کر مَوشہ اَور اَہرونؔ کے خِلاف بُڑبُڑانے لگی، ”تُم نے یَاہوِہ کے لوگوں کو مار ڈالا ہے۔“
NUM 16:42 لیکن جَب وہ جماعت مَوشہ اَور اَہرونؔ کے خِلاف جمع ہو رہی تھی تو اُنہُوں نے خیمہ اِجتماع کی طرف نگاہ کی کہ اَچانک ایک بادل اُن پر چھا گیا اَور یَاہوِہ کا جلال ظاہر ہُوا۔
NUM 16:43 تَب مَوشہ اَور اَہرونؔ خیمہ اِجتماع کے سامنے آئے،
NUM 16:44 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا:
NUM 16:45 ”اِس جماعت کے بیچ سے ہٹ جاؤ تاکہ میں فوراً اُن کا خاتِمہ کر دُوں۔“ تَب وہ مُنہ کے بَل گِرے۔
NUM 16:46 تَب مَوشہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”اَپنا بخُوردان لے اُس میں مذبح پر سے آگ لے کر رکھ اَور اُس پر بخُور ڈال اَور جلدی سے جماعت کے پاس جا کر اُن کے لیٔے کفّارہ دے کیونکہ یَاہوِہ کی طرف سے قہر نازل ہُواہے اَور وَبا شروع ہو چُکی ہے۔“
NUM 16:47 چنانچہ اَہرونؔ نے مَوشہ کے کہنے کے مُطابق کیا اَور وہ دَوڑتا ہُوا جماعت کے درمیان گیا۔ حالانکہ لوگوں میں وَبا پھیل چُکی تھی تو بھی اَہرونؔ نے بخُور جَلایا اَور اُن کے لیٔے کفّارہ دیا۔
NUM 16:48 اَور وہ مُردوں اَور زندوں کے درمیان کھڑا ہُوا اَور وَبا رُک گئی۔
NUM 16:49 اَور قورحؔ کی وجہ سے مَرے ہویٔے لوگوں کے علاوہ مزید چودہ ہزار سات سَو لوگ وَبا سے مَر گیٔے۔
NUM 16:50 تَب اَہرونؔ لَوٹ کر خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر مَوشہ کے پاس آیا کیونکہ وَبا موقُوف ہو چُکی تھی۔
NUM 17:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا:
NUM 17:2 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُن کے آبائی قبیلوں کے سرداروں سے فی کس ایک عصا کے حِساب سے بَارہ عصے لیٔے جایٔیں اَور ہر آدمی کا نام اُس کے عصا پر لِکھّا جائے۔
NUM 17:3 لیوی کے عصا پر اَہرونؔ کا نام لِکھنا کیونکہ ہر آبائی قبیلہ کے سردار کے لیٔے ایک عصا ہوگا
NUM 17:4 اَور اُنہیں خیمہ اِجتماع میں عہد کے صندُوق کے سامنے جہاں میں تُم سے مُلاقات کرتا ہُوں رکھ دیں۔
NUM 17:5 اَور جِس شخص کو میں چُنوں گا اُس کے عصا میں سے کونپلیں پھوٹ نکلیں گی اَور مَیں بنی اِسرائیل کے تمہارے خِلاف مُتواتر بُڑبُڑانے سے چھُٹکارا پاؤں گا۔“
NUM 17:6 چنانچہ مَوشہ نے بنی اِسرائیل سے گُفتگو کی اَور اُن کے سرداروں نے ہر آبائی قبیلہ کے سردار کے پیچھے ایک عصا کے حِساب سے بَارہ عصے اُسے دئیے اَور اَہرونؔ کا عصا بھی اُن میں تھا۔
NUM 17:7 مَوشہ نے سارے عصے لے کر عہد کا خیمہ میں یَاہوِہ کے حُضُور رکھ دئیے۔
NUM 17:8 دُوسرے دِن جَب مَوشہ عہد کے خیمہ میں داخل ہُوا تو دیکھا کہ اَہرونؔ کے عصا میں جو لیویوں کے خاندان کی نُمائندگی کرتا تھا نہ صِرف کونپلیں پھوٹی ہُوئی تھیں بَلکہ پھُول بھی کھِلے ہویٔے تھے اَور بادام بھی لگے ہویٔے تھے۔
NUM 17:9 تَب مَوشہ وہ سارے عصے یَاہوِہ کے حُضُور سے نکال کر تمام بنی اِسرائیل کے پاس لے گئے۔ اُنہُوں نے اُنہیں دیکھا اَور ہر آدمی نے اَپنا اَپنا عصا لے لیا۔
NUM 17:10 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اَہرونؔ کے عصا کو عہد کے صندُوق کے آگے پھر رکھ دیں تاکہ وہ اُن باغیوں کے لیٔے ایک نِشان کے طور پر رکھا رہے۔ اِس سے اُن کا میرے خِلاف بُڑبُڑانا ختم ہو جائے گا تاکہ وہ مَر نہ جایٔیں۔“
NUM 17:11 مَوشہ نے ٹھیک وَیسا ہی کیا جَیسا یَاہوِہ نے اُسے حُکم دیا تھا۔
NUM 17:12 بنی اِسرائیل نے مَوشہ سے کہا، ”ہم مَر جایٔیں گے۔ ہم کہیں کے نہ رہے۔ ہم سَب کہیں کے نہ رہے۔
NUM 17:13 اگر کویٔی یَاہوِہ کے مَسکن کے قریب بھی جاتا ہے تو مارا جاتا ہے۔ تو کیا ہم سَب کے سَب مَر جایٔیں گے؟“
NUM 18:1 یَاہوِہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”پاک مَقدِس کے خِلاف سرزد ہونے والے گُناہوں کا بار تُم پر، تمہارے بیٹوں اَور تمہارے آبائی خاندان پر ہوگا۔ اَور کہانت کے خِلاف سرزد ہونے والے گُناہوں کا بار صِرف تُم پر اَور تمہارے بیٹوں پر ہوگا۔
NUM 18:2 جَب تُم اَور تمہارے بیٹے عہد کے خیمہ کے آگے خدمت کریں تو اَپنے آبائی قبیلہ سے اَپنے لیوی بھائیوں کو بھی اَپنے ساتھ لے آیا کریں تاکہ وہ تمہارے ساتھ مِل کر تمہاری مدد کریں۔
NUM 18:3 وہ تُمہیں جَوابدہ ہوں گے اَور وہ خیمہ کی ساری خدمت اَنجام دیں لیکن وہ پاک مَقدِس کے سازوسامان یا مذبح کے نزدیک نہ جایٔیں۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ اَور تُم دونوں مارے جاؤ۔
NUM 18:4 وہ تمہارے ساتھ مِل کر خیمہ اِجتماع کی حِفاظت کے ذمّہ دار ہوں گے جِس میں خیمہ کے سَب کام شامل ہیں۔ اَور جہاں تُم ہو وہاں کویٔی دُوسرا نہ آنے پایٔے۔
NUM 18:5 ”پاک مَقدِس اَور مذبح کی حِفاظت تُم ہی کرنا تاکہ آئندہ بنی اِسرائیل پر قہر نازل نہ ہو۔
NUM 18:6 مَیں نے خُود تمہارے لیوی بھائیوں کو بنی اِسرائیل کے درمیان سے تمہاری مدد کے لیٔے مُنتخب کیا ہے اَور اُنہیں یَاہوِہ کے لیٔے وقف کیا ہے تاکہ وہ خیمہ اِجتماع میں خدمت بجا لائیں۔
NUM 18:7 لیکن مذبح سے تعلّق رکھنے والی ہر چیز کی اَور پردہ کے اَندر کی کہانت کی خدمات صِرف تُم اَور تمہارے بیٹے ہی اَنجام دیں۔ کہانت کی خدمت کا شرف میں تُمہیں بخشتا ہُوں۔ اگر کویٔی اَور پاک مَقدِس کے قریب آ جائے تو وہ جان سے مار ڈالا جائے۔“
NUM 18:8 تَب یَاہوِہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”مَیں نے خُود تُمہیں اُن نذرانوں کی ذمّہ داری دی ہے جو مُجھے پیش کئے جاتے ہیں۔ جتنے پاک نذرانے بنی اِسرائیل میرے حُضُور پیش کرتے ہیں وہ سَب میں تُمہیں اَور تمہارے بیٹوں کو تمہارے حق میں دائمی حِصّہ کے طور پر دے رہا ہُوں۔
NUM 18:9 نہایت پاک نذرانوں میں سے جو حِصّہ آگ سے بچایا جائے وہ تمہارا ہوگا۔ وہ نذرانے جنہیں وہ نہایت پاک قُربانیوں کے طور پر مُجھے پیش کرتے ہیں خواہ وہ اناج کی نذر، گُناہ کی قُربانی یا خطا کی قُربانیاں ہُوں سَب تُم اَور تمہارے بیٹوں کے لیٔے ہیں۔
NUM 18:10 تُم اُن کو نہایت مُقدّس جان کر کھانا۔ صِرف مَرد اُنہیں کھایٔیں۔ اَور تُم اُنہیں پاک ماَننا۔
NUM 18:11 ”اَور یہ بھی تمہارا ہوگا: جِتنا نذرانہ بنی اِسرائیل ہلانے کی نذروں کی قُربانی کے لیٔے دیں اُسے میں تُمہیں اَور تمہارے بیٹوں اَور بیٹیوں کو اُن کا حق دائمی حِصّہ کے طور پر دیتا ہُوں اُن کا اَبدی حق مُقرّر کر دے رہا ہُوں۔ تمہارے خاندان کا ہر شخص جو رسماً پاک ہو اُنہیں کھا سَکتا ہے۔
NUM 18:12 ”بہترین زَیتُون کا تیل، بہترین نئے انگوری شِیرے اَور اناج جسے وہ اَپنی پہلی فصل کے پہلے پھل کے طور پر یَاہوِہ کو پیش کرتے ہیں وہ سَب میں تُمہیں دیتا ہُوں۔
NUM 18:13 اَپنے مُلک کا سارا پہلا پھل جسے وہ یَاہوِہ کے لیٔے لائیں تمہارا ہوگا۔ تمہارے خاندان کا ہر شخص جو رسماً پاک ہو اُنہیں کھا سَکتا ہے۔
NUM 18:14 ”بنی اِسرائیل کی جو یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کی ہُوئی ہر شَے تمہاری ہوگی۔
NUM 18:15 ہر رِحم کا پہلا بچّہ خواہ وہ اِنسان ہو یا حَیوان جو یَاہوِہ کو نذر کیا گیا ہو تمہارا ہے۔ لیکن تُم اِنسان کے پہلوٹھے اَور ناپاک جانوروں کے پہلوٹھے نر بچّوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دینا۔
NUM 18:16 جَب وہ ایک مہینے کے ہُوں تَب تُم اُنہیں اُن کی فدیہ کی مُقرّرہ قیمت لے کر چھوڑا دینا جو پاک مَقدِس کے بیس گِیرہ کی ثاقل کے حِساب سے چاندی کی پانچ ثاقل ہوگی۔
NUM 18:17 ”لیکن گائے، بھیڑ اَور بکری کے پہلوٹھوں کا فدیہ نہ لینا۔ وہ مُقدّس ہیں۔ تُو اُن کا خُون مذبح پر چھڑکنا اَور اُن کی چربی آتِشی قُربانی کے طور پر جَلا دینا تاکہ وہ یہ یَاہوِہ کے حُضُور غِذا کی فرحت بخش خُوشبو ٹھہرے۔
NUM 18:18 جِس طرح ہلانے کی نذر کی قُربانی کا سینہ اَور داہنی ران تمہارے ہیں اُسی طرح اُن کا گوشت بھی تمہارا ہوگا۔
NUM 18:19 بنی اِسرائیل کی یَاہوِہ کو پیش کی ہُوئی مُقدّس قُربانیوں کی نذروں میں سے جو کچھ الگ رکھا جائے اُسے میں تُمہیں اَور تمہارے بیٹوں اَور بیٹیوں کو تمہارے مُقرّرہ حِصّہ کے طور پر دے دیتا ہُوں۔ یہ یَاہوِہ کے حُضُور تمہارے اَور تمہاری نَسل کے لیٔے نمک کا دائمی عہد ہے۔“
NUM 18:20 یَاہوِہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”اُن کے مُلک میں تمہاری کویٔی مِیراث نہ ہوگی اَور نہ اُن کے درمیان تمہارا کویٔی حِصّہ ہوگا۔ میں ہی بنی اِسرائیل میں تمہارا حِصّہ اَور تمہاری مِیراث ہُوں۔
NUM 18:21 ”اَور مَیں نے لیویوں کو اُس خدمت کے عِوض جو وہ خیمہ اِجتماع میں اَنجام دیتے ہیں اِسرائیل کی ساری دہ یکی مِیراث کے طور پر دی ہے۔
NUM 18:22 آئندہ بنی اِسرائیل خیمہ اِجتماع کے نزدیک ہرگز نہ آئیں۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ گُناہ اُن کے سَر لگے اَور وہ مَر جایٔیں۔
NUM 18:23 بَلکہ لیوی ہی خیمہ اِجتماع کی خدمت کریں اَور وُہی اُن کا بارِ گُناہ اُٹھایا کریں۔ یہ آئندہ پُشتوں کے لیٔے دائمی فرمان ہے۔ اَور بنی اِسرائیل کے درمیان اُنہیں کویٔی مِیراث نہ ملے۔
NUM 18:24 اِس کے عِوض مَیں نے اُس دہ یکی کو جو اِسرائیلی نذر کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرتے ہیں لیویوں کی مِیراث قرار دیا ہے۔ اِس لیٔے مَیں نے اُن کے حق میں کہا ہے: ’بنی اِسرائیل کے درمیان اُنہیں کویٔی مِیراث نہ ملے۔‘ “
NUM 18:25 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
NUM 18:26 ”لیویوں سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے کہہ: ’جَب تُم بنی اِسرائیل سے وہ دہ یکی لو جسے میں تُمہیں مِیراث میں دیتا ہُوں تَب تُم اُس دہ یکی کا دسواں حِصّہ یَاہوِہ کے حُضُور میں اُٹھانے کی قُربانی کے نذرانے کے طور پر گذراننا۔
NUM 18:27 تمہارا یہ نذرانہ تمہارے حق میں کھلیان کے اناج یا مے کے حوض کی طرح سمجھا جائے گا۔
NUM 18:28 اِس طریقہ سے تُم بھی اَپنی سَب دہ یکیوں میں سے جو تُم بنی اِسرائیل کی طرف سے پاؤگے یَاہوِہ کے حُضُور نذرانہ پیش کرنا۔ اُن دہ یکیوں میں سے یَاہوِہ کا حِصّہ اَہرونؔ کاہِنؔ کو دینا۔
NUM 18:29 ہر نذرانہ جو تُمہیں دیا جائے اُس کا بہترین اَور مُقدّس حِصّہ یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کرکے الگ طور پر پیش کیا جائے۔‘
NUM 18:30 ”لیویوں سے کہہ: ’جَب تُم بہترین حِصّہ کی قُربانی کے طور پر پیش کروگے تو وہ تمہارے حق میں کھلیان کی پیداوار یا مے کے حوض کے طور پر گِنا جائے گا۔
NUM 18:31 اَور بقیّہ حِصّہ کو تُم اَور تمہارے خاندان کے لوگ کہیں بھی کھا سکتے ہیں کیونکہ وہ خیمہ اِجتماع میں تمہاری خدمت کا مُعاوضہ ہے۔
NUM 18:32 اَور تُم اُس میں کا بہترین حِصّہ کی قُربانی کے طور پر دینے سے اِس مُعاملہ میں مُجرم نہ ٹھہروگے۔ تُم بنی اِسرائیل کے مُقدّس نذرانوں کو ہرگز ناپاک نہ کرنا ورنہ مارے جاؤگے۔‘ “
NUM 19:1 یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے کہا:
NUM 19:2 ”یَاہوِہ نے جِس آئین کا حُکم دیا ہے اُس کا تَقاضا یہ ہے: بنی اِسرائیل سے کہہ دو کہ وہ تمہارے پاس لال رنگ کی ایک بے عیب اَور بے داغ بچھیا لائیں جِس پر کبھی جُوا نہ رکھا گیا ہو۔
NUM 19:3 پھر تُم اُسے الیعزرؔ کاہِنؔ کو دے دو تاکہ اُسے چھاؤنی کے باہر لے جایا جائے اَور اُس کے سامنے ذبح کیا جائے۔
NUM 19:4 تَب الیعزرؔ کاہِنؔ اَپنی اُنگلی پر اُس کا کچھ خُون لے لیں اَور اُسے خیمہ اِجتماع کے سامنے کی طرف سات مرتبہ چھڑکنا۔
NUM 19:5 تَب اُس بچھیا کو اُس کی کھال، گوشت، خُون اَور انتڑیاں سمیت اُس کے سامنے جَلا دیا جائے۔
NUM 19:6 پھر کاہِنؔ دیودار کی کچھ لکڑی، زُوفا اَور سُرخ رنگ کا اُون لے کر اُس جلتی ہُوئی بچھیا کے اُوپر ڈال دیں۔
NUM 19:7 اُس کے بعد کاہِنؔ اَپنے کپڑے دھوئے اَور پانی سے غُسل کر لے۔ پھر وہ چھاؤنی میں چلے آئے لیکن شام تک وہ ناپاک رہے گا۔
NUM 19:8 اَورجو شخص اُسے جَلائے وہ بھی اَپنے کپڑے دھوئے اَور پانی سے غُسل کر لے اَور وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا۔
NUM 19:9 ”پھر کویٔی پاک شخص اُس بچھیا کی راکھ بٹورے اَور اُسی چھاؤنی کے باہر کسی اَیسی جگہ رکھ چھوڑے جو رسماً پاک ہو۔ بنی اِسرائیل کی جماعت اُسے ناپاکی دُور کرنے کے پانی میں ڈالنے کے لیٔے رکھے۔ اِسے طہارت کے لیٔے اِستعمال کیا جائے۔
NUM 19:10 جو شخص اِس بچھیا کی راکھ کو بٹورے وہ بھی اَپنے کپڑے دھوئے۔ وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا۔ یہ بنی اِسرائیل کے لیٔے اَور اُن کے درمیان رہنے والے پردیسیوں کے لیٔے بھی دائمی فرمان ہوگا۔
NUM 19:11 ”جو شخص کسی لاش کو چھُوئے وہ سات دِن تک ناپاک رہے گا۔
NUM 19:12 وہ شخص اَپنے آپ کو تیسرے دِن اَور ساتویں دِن پانی سے پاک کر لے۔ تَب وہ پاک ہو جائے گا۔ لیکن اگر وہ اَپنے آپ کو تیسرے اَور ساتویں دِن پاک نہ کرے تو وہ پاک نہ ہوگا۔
NUM 19:13 جو شخص کسی لاش کو چھُوتا ہے اَور اَپنے آپ کو پاک نہیں کر پاتا وہ یَاہوِہ کے خیمہ اِجتماع کو ناپاک کرتا ہے۔ وہ شخص اِسرائیل میں سے کاٹ ڈالا جائے۔ چونکہ ناپاکی دُور کرنے کا پانی اُس پر نہیں چھِڑکا گیا اِس لیٔے وہ ناپاک ہے۔ اُس کی ناپاکی قائِم رہے گی۔
NUM 19:14 ”جَب کویٔی شخص خیمہ میں مَر جائے تو اُس پر اِس آئین کا اِطلاق ہوگا: جو کویٔی اُس خیمہ میں داخل ہو یا جو کویٔی اُس میں رہتا ہو وہ سات دِن تک ناپاک رہے گا۔
NUM 19:15 اَور ہر ایک کھُلا برتن جِس پر کویٔی ڈھکنا نہ ہو ناپاک ٹھہرے گا۔
NUM 19:16 ”اَورجو کویٔی میدان میں کسی تلوار سے مارے گیٔے کو یا اُس شخص کو جو طبعی موت مَرا ہو یا اِنسان کی ہڈّی کو یا کسی قبر کو چھُوئے وہ سات دِن تک ناپاک رہے گا۔
NUM 19:17 ”ناپاک شخص کے لیٔے اُس جلی ہُوئی گُناہ کی قُربانی کی کچھ راکھ کسی مرتبان میں لے کر اُس پر تازہ پانی ڈال دو۔
NUM 19:18 تَب کویٔی آدمی جو رسماً پاک ہو زُوفا لے اَور اُسے اُس پانی میں ڈُبو کر اُس خیمہ پر اَور سَب سازوسامان پر اَور جتنے لوگ وہاں تھے اُن پر چھڑکے۔ اَور اُس شخص پر بھی چھڑکے جِس نے اِنسان کی ہڈّی کو یا قبر کو یا مقتول کو یا کسی اَیسے مُردے کو چھُوا ہو جو طبعی موت مَرا ہو۔
NUM 19:19 وہ پاک آدمی تیسرے اَور ساتویں دِن اُس ناپاک شخص پر چھڑکے اَور ساتویں دِن وہ اُسے پاک کر دیں، جِس شخص کو پاک کیا جا رہا ہو وہ اَپنے کپڑے دھوئے اَور پانی سے غُسل کرے تو وہ شام کو پاک ہو جائے گا۔
NUM 19:20 لیکن اگر کویٔی شخص ناپاک ہو اَور اَپنے آپ کو پاک نہ کر لے تو اُسے جماعت سے کاٹ ڈالا جائے کیونکہ اُس نے یَاہوِہ کے پاک مَقدِس کو ناپاک کیا ہے۔ طہارت کا پانی اُس پر چھِڑکا نہیں گیا اِس لیٔے وہ ناپاک ہے۔
NUM 19:21 یہ اُن کے لیٔے ایک دائمی فرمان ہو۔ ”جو کویٔی طہارت کا پانی لے کر چھڑکے وہ بھی اَپنے کپڑے دھوئے اَورجو کویٔی طہارت کے پانی کو چھُوئے وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
NUM 19:22 ناپاک شخص جِس شَے کو بھی چھُوتا ہے وہ شَے ناپاک ہو جاتی ہے اَور وہ چھُونے والا بھی شام تک ناپاک رہے گا۔“
NUM 20:1 پہلے مہینے میں بنی اِسرائیل کی ساری جماعت صینؔ کے بیابان میں پہُنچی اَور وہ لوگ قادِسؔ میں رہنے لگے۔ اَور مِریمؔ نے وہاں وفات پائی اَور وہیں پر دفن ہُوئی۔
NUM 20:2 وہاں اِسرائیل کے لوگوں کے لیٔے پانی نہ مِلا۔ لہٰذا وہ مَوشہ اَور اَہرونؔ کے خِلاف اِکھٹّے ہُوئے۔
NUM 20:3 مَوشہ سے جھگڑا کرکے کہنے لگے، ”کاش ہم بھی اُس وقت ہی مَر گیٔے ہوتے جَب ہمارے بھایٔی یَاہوِہ کے حُضُور مَر گیٔے!
NUM 20:4 تُم یَاہوِہ کی جماعت کو اِس بیابان میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم اَور ہمارے مویشی یہاں مَر جایٔیں؟
NUM 20:5 تُم نے ہمیں مِصر سے نکال کر اِس ہولناک جگہ میں کیوں پہُنچا دیا؟ یہاں نہ تو اناج ہے نہ اَنجیر، نہ انگوری باغ ہیں نہ انار۔ یہاں تک کہ پینے کے لیٔے پانی بھی مُیسّر نہیں ہے!“
NUM 20:6 تَب مَوشہ اَور اَہرونؔ جماعت کے پاس سے خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر جا کر مُنہ کے بَل گِرے اَور یَاہوِہ کا جلال اُن پر ظاہر ہُوا۔
NUM 20:7 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا:
NUM 20:8 ”اُس عصا کو لے لینا اَور تُم اَور تمہارا بھایٔی اَہرونؔ دونوں مِل کر جماعت کو جمع کرو اَور اُن کی آنکھوں کے سامنے اُس چٹّان سے کہو اَور وہ اَپنا پانی اُنڈیل دے گی۔ اِس طرح تُم جماعت کے لیٔے اُس چٹّان سے پانی نکالنا تاکہ وہ اَور اُن کے مویشی پی سکیں۔“
NUM 20:9 چنانچہ مَوشہ نے یَاہوِہ کے حُضُور ٹھیک اُن کے حُکم کے مُطابق وہ عصا لیا
NUM 20:10 اَور اُس نے اَور اَہرونؔ نے جماعت کو اُس چٹّان کے سامنے جمع کیا اَور مَوشہ نے اُن سے کہا، ”اَے باغیو! سُنو کیا ہم تمہارے لیٔے اِسی چٹّان سے پانی نکالیں؟“
NUM 20:11 تَب مَوشہ نے اَپنا ہاتھ اُٹھایا اَور اُس چٹّان پر دو بار عصا مارا اَور پانی بہہ نِکلا، جسے جماعت نے اَور اُن کے مویشیوں نے پیا۔
NUM 20:12 لیکن یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے کہا، ”چونکہ تُم نے مُجھ پر اِتنا بھروسا نہ رکھا کہ بنی اِسرائیل کے سامنے میری تقدیس اَور میرا اِحترام کرتے اِس لیٔے تُم اِس جماعت کو اُس مُلک میں نہیں پہُنچاؤگے جسے میں اُنہیں دے رہا ہُوں۔“
NUM 20:13 مریبہؔ کا چشمہ یہی ہے جہاں بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ سے جھگڑا کیا تھا اَور وہ اُن کے درمیان پاک ثابت ہُوا۔
NUM 20:14 پھر مَوشہ نے قادِسؔ سے اِدُوم کے بادشاہ کے پاس قاصِد روانہ کئے اَور یہ پیغام بھیجا: ”تمہارا بھایٔی اِسرائیل یہ عرض کرتا ہے کہ تُم اُن سَب مُصیبتوں سے واقف ہو جو ہم پر آن پڑی ہیں۔
NUM 20:15 ہمارے آباؤاَجداد مِصر میں گیٔے اَور ہم کیٔی سال وہاں رہے۔ مِصریوں نے ہمارے اَور ہمارے آباؤاَجداد کے ساتھ بُرا سلُوک کیا،
NUM 20:16 لیکن جَب ہم نے یَاہوِہ سے فریاد کی تو اُنہُوں نے ہماری سُنی اَور ایک فرشتہ بھیج کر ہمیں مِصر سے نکال لے آئے۔ ”اَب ہم یہاں قادِسؔ شہر میں ہیں جو تمہاری سلطنت کی سرحد پر واقع ہے۔
NUM 20:17 اَے بادشاہ لہٰذا مہربانی فرما کر ہمیں اَپنے مُلک سے ہوکر جانے کی اِجازت دیں۔ ہم کسی کھیت یا انگوری باغ میں سے ہوکر نہیں گزریں گے اَور نہ کسی کنوئیں کا پانی پیئیں گے۔ ہم شاہراہ سے ہوتے ہویٔے سفر کریں گے اَور جَب تک تمہاری سلطنت سے باہر نہ نکل جایٔیں تَب تک داہنے یا بائیں ہاتھ نہیں مُڑیں گے۔“
NUM 20:18 لیکن اِدُومیوں نے جَواب دیا: ”تُم یہاں سے ہوکر جانے نہ پاؤگے اَور اگر تُم نے کوشش کی تو ہم نکل کر تلوار سے تُم پر حملہ کریں گے۔“
NUM 20:19 اِسرائیلیوں نے پھر کہلا بھیجا: ”ہم بڑی شاہراہ سے ہوتے ہویٔے چلے جایٔیں گے اَور اگر ہم یا ہمارے مویشی تمہارا پانی پیئیں تو اُس کا دام دیں گے۔ ہم صِرف پیدل چلے جانا چاہتے ہیں اَور کچھ نہیں۔“
NUM 20:20 اُنہُوں نے پھر جَواب دیا: ”تُم جانے نہ پاؤگے۔“ تَب اِدُوم بڑی بھاری اَور طاقتور فَوج لے کر اُن کے مُقابلہ کے لیٔے نکل آیا۔
NUM 20:21 چونکہ اِدُوم نے بنی اِسرائیل کو اَپنی سلطنت کی حُدوُد میں سے ہوکر جانے کی اِجازت نہ دی، اِس لیٔے اِسرائیلی لوگ پیچھے مُڑ کر دُوسرے راستہ سے چلے گیٔے۔
NUM 20:22 تَب بنی اِسرائیل کی ساری جماعت قادِسؔ سے کُوچ کرکے کوہِ ہُورؔ پہُنچی۔
NUM 20:23 اَور اِدُوم کی سرحد کے نزدیک کوہِ ہُورؔ پر یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ سے فرمایا،
NUM 20:24 ”اَہرونؔ اَپنے لوگوں میں جا ملے گا۔ وہ اُس مُلک میں داخل نہ ہوں گے جسے میں بنی اِسرائیل کو دے رہا ہُوں کیونکہ تُم دونوں نے مریبہؔ کے چشمہ پر میرے حُکم کے خِلاف بغاوت کی تھی۔
NUM 20:25 لہٰذا تُم اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹے الیعزرؔ کو اَپنے ساتھ لے کر کوہِ ہُورؔ کے اُوپر جانا۔
NUM 20:26 اَور اَہرونؔ کے کاہِنؔ لباس کو اُتار کر اُس کے بیٹے الیعزرؔ کو پہنا دینا کیونکہ اَہرونؔ اَپنے لوگوں میں جا ملے گا۔ وہ وہیں وفات پایٔےگا۔“
NUM 20:27 مَوشہ نے یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق عَمل کیا اَور وہ ساری جماعت کی آنکھوں کے سامنے کوہِ ہُورؔ پر چڑھ گیٔے۔
NUM 20:28 مَوشہ نے اَہرونؔ کے کپڑے اُتار کر اُس کے بیٹے الیعزرؔ کو پہنا دئیے اَور اَہرونؔ وہیں اُس پہاڑ کی چوٹی پر مَر گیا۔ تَب مَوشہ اَور الیعزرؔ پہاڑ پر سے اُتر آئے۔
NUM 20:29 اَور جَب ساری جماعت کو خبر ہُوئی کہ اَہرونؔ وفات پا چُکے ہیں تو تمام بنی اِسرائیل کے خاندان کے لوگ تیس دِن تک اُن کے لیٔے ماتم کرتے رہے۔
NUM 21:1 جَب عَرادؔ کے کنعانی بادشاہ نے جو نِیگیوؔ میں رہتا تھا سُنا کہ اِسرائیل اتھارِمؔ کی راہ سے آ رہاہے تو اُس نے اِسرائیلیوں پر حملہ کیا اَور اُن میں سے کیٔی ایک کو اسیر کر لیا۔
NUM 21:2 تَب اِسرائیل نے یَاہوِہ کے حُضُور یہ مَنّت مانی: ”اگر آپ اِن لوگوں کو ہمارے ہاتھ میں کر دیں تو ہم اُن کے شہروں کو تباہ کر دیں گے۔“
NUM 21:3 یَاہوِہ نے اِسرائیل کی فریاد سُنی اَور کنعانیوں کو اُن کے حوالہ کر دیا۔ اُنہُوں نے اُنہیں اَور اُن کے شہروں کو مُکمّل طور پر تباہ کر دیا۔ اِس لیٔے اُس جگہ کا نام حُرمہؔ رکھا گیا۔
NUM 21:4 پھر اُنہُوں نے کوہِ ہُورؔ سے کُوچ کرکے بحرِقُلزمؔ کی راہ لی تاکہ مُلک اِدُوم کے باہر گھُوم کر جایٔیں لیکن وہ لوگ راستہ میں عاجز آ گئے۔
NUM 21:5 وہ خُدا اَور مَوشہ کے خِلاف بکنے لگے اَور کہا، ”تُم ہمیں مِصر سے نکال کر بیابان میں مرنے کے لیٔے کیوں لے آئے؟ یہاں نہ تو روٹی ہے نہ پانی! اَور ہم اِس نکمّی خُوراک سے بھی عاجز آ چُکے ہیں۔“
NUM 21:6 تَب یَاہوِہ نے اُن لوگوں کے درمیان زہریلے سانپ بھیجے؛ سانپوں نے لوگوں کو کاٹا اَور بہت سے اِسرائیلی مَر گیٔے۔
NUM 21:7 تَب وہ لوگ مَوشہ کے پاس آکر کہنے لگے، ”ہم نے گُناہ کیا ہے کہ ہم نے یَاہوِہ کے حُضُور اَور تمہارے خِلاف زبان درازی کی۔ دعا کرو، یَاہوِہ اِن سانپوں کو ہم سے دُور کر دیں۔“ چنانچہ مَوشہ نے اُن لوگوں کے لیٔے دعا کی۔
NUM 21:8 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”ایک سانپ بنا لینا اَور اُسے کھمبے پر لٹکانا اَور سانپ کا ڈسا ہُوا جو کویٔی بھی فرد اُسے دیکھ لے گا وہ زندہ بچے گا۔“
NUM 21:9 چنانچہ مَوشہ نے کانسے کا ایک سانپ بنا کر اُسے کھمبے پر لٹکا دیا؛ تَب جَب کبھی کسی کو سانپ ڈس لیتا اَور وہ اُس کانسے کے سانپ کی طرف دیکھتا تو زندہ بچ جاتا۔
NUM 21:10 پھر اِسرائیلیوں نے کُوچ کیا اَور اوبُوتؔ میں آکر خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 21:11 اَور اوبُوتؔ سے کُوچ کیا اَور عیّے عباریمؔ میں خیمہ زن ہویٔے جو مشرق کی جانِب مُوآب کے سامنے بیابان میں ہے۔
NUM 21:12 وہاں سے کُوچ کرکے وہ وادی زیِریؔد میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 21:13 وہاں سے کُوچ کرکے وہ دریائے ارنُونؔ کے کنارے پر خیمہ زن ہویٔے جو اُس بیابان میں سے گزرتی ہے اَورجو امُوریوں کے علاقہ میں اَندر تک پھیلا ہُواہے۔ دریائے ارنُونؔ مُوآب اَور امُوریوں کے درمیان مُوآب کی سرحد ہے۔
NUM 21:14 اِس لیٔے یَاہوِہ کے جنگ نامہ میں یُوں لِکھّا ہے: ”واہیبؔ جو سُوفہؔ میں ہے اَور ارنُونؔ کی وادیوں۔
NUM 21:15 اَور اُن وادیوں کے ڈھلان جو عاؔر کے مقام تک پھیلے ہویٔے ہیں اَور مُوآب کی سرحد سے مُتّصِل ہے۔“
NUM 21:16 پھر وہاں سے بیرؔ تک اُنہُوں نے اَپنا سفر جاری رکھا۔ یہ وُہی کنواں ہے جہاں یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہاتھا، ”لوگوں کو جمع کرنا اَور مَیں اُنہیں پانی دُوں گا۔“
NUM 21:17 تَب اِسرائیل نے یہ نغمہ گایا: ”اَے کنوئیں تُو اُبل آ! اُس کے لیٔے گاؤ،
NUM 21:18 اُس کنوئیں کے لیٔے جسے شہزادوں نے تعمیر کیا اَور قوم کے اُمرا نے اَپنے عصائے شاہی اَور عصاؤں سے کھودا۔“ تَب وہ اُس بیابان سے متنّہؔ کو گیٔے۔
NUM 21:19 اَور متنّہؔ سے نحلی ایل کو اَور نحلی ایل سے باموت کو،
NUM 21:20 اَور باموت سے مُوآب کی اُس وادی میں آئے جہاں پِسگہؔ کی چوٹی پر سے یشیمونؔ یعنی بنجر علاقہ نظر آتا ہے۔
NUM 21:21 تَب اِسرائیل نے امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کے پاس قاصِد روانہ کرکے یہ پیغام بھیجا:
NUM 21:22 ”بادشاہ ہمیں اَپنے مُلک میں سے ہوکر جانے دیں۔ ہم مُڑ کر کھیتوں یا تاکستانوں میں نہیں گھُسیں گے اَور نہ ہی کنوؤں کا پانی پیئیں گے۔ اَور جَب تک تمہارے مُلک سے گزر نہ جایٔیں سیدھے شاہراہ پر ہی چلتے رہیں گے۔“
NUM 21:23 لیکن سیحونؔ نے اِسرائیل کو اَپنے مُلک میں سے ہوکر جانے نہ دیا بَلکہ اَپنے تمام فَوج کو جمع کرکے اِسرائیل کے مُقابلہ کے لیٔے بیابان میں نکل آئے اَور جَب وہ یاہضؔ کو پہُنچے تو اِسرائیل سے لڑے۔
NUM 21:24 البتّہ اِسرائیل نے اُسے تلوار سے مار ڈالا اَور اُس کے مُلک پر ارنُونؔ سے لے کر یبّوقؔ تک جہاں بنی عمُّون کی سرحد ہے قبضہ کر لیا کیونکہ اُن کی سرحد مضبُوط تھی۔
NUM 21:25 اِسرائیل نے حِشبونؔ اَور اُس کے اِردگرد کی بستیوں سمیت امُوریوں کے سَب شہروں پر قبضہ کر لیا اَور اُن میں بس گیٔے۔
NUM 21:26 حِشبونؔ امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کا شہر تھا جِس نے مُوآب کے پہلے بادشاہ سے لڑ کر ارنُونؔ تک اُس کا سارا مُلک اُس سے چھین لیا تھا۔
NUM 21:27 اِس لیٔے شعرا کہتے ہیں: ”حِشبونؔ کو آؤ، ہم اِس کو مضبُوطی سے تعمیر کریں گے۔ سیحونؔ کا شہر مضبُوط بُنیادوں پر قائِم ہے۔
NUM 21:28 ”حِشبونؔ سے آگ نکلی یعنی سیحونؔ کے شہر سے شُعلہ بھڑکا جِس نے مُوآب کے عاؔر کو اَور ارنُونؔ کے اُونچے مقامات کے اُمرا کو بھسم کر دیا۔
NUM 21:29 اَے مُوآب! تُجھ پر افسوس! اَے کموشؔ کے لوگو تُم تباہ ہو گئے! اُس نے اَپنے بیٹوں کو بھگوڑوں اَور اَپنی بیٹیوں کو اسیروں کی مانند امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کے حوالہ کر دیا۔
NUM 21:30 ”لیکن ہم نے اُن کا تختہ اُلٹ دیا ہے؛ حِشبونؔ دیبونؔ سمیت تباہ ہو گیا ہے اَور ہم نے اُنہیں نُپاحؔ تک جو میدباؔ تک پھیلا ہُواہے اُجاڑ دیا ہے۔“
NUM 21:31 اِس طرح بنی اِسرائیل امُوریوں کے مُلک میں بس گیٔے۔
NUM 21:32 مَوشہ نے یعزیرؔ کا جائزہ لینے کے لیٔے جاسُوس بھیجے اَور پھر بنی اِسرائیل نے اُس کے اِردگرد کے قصبوں پر قبضہ کر لیا اَور امُوریوں کو وہاں سے نکال دیا۔
NUM 21:33 پھر وہ باشانؔ کے راستہ سے آگے بڑھے اَور باشانؔ کا بادشاہ عوگؔ اَپنے سارے لشکر کے ساتھ نکل کر ادرعیؔ کے مقام پر اُن سے جنگ کرے۔
NUM 21:34 یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”اُس سے خوفزدہ مت ہو کیونکہ مَیں نے اُسے اُس کے سارے لشکر اَور اُس کے مُلک سمیت تمہارے حوالہ کر دیا ہے۔ لہٰذا جَیسا تُم نے امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کے ساتھ کیا، جو حِشبونؔ میں حُکمراں تھا وَیسا ہی اُس کے ساتھ بھی کرنا۔“
NUM 21:35 چنانچہ اُنہُوں نے اُسے اُس کے بیٹوں اَور اُس کے سارے لشکر کو یہاں تک مارا کہ اُن میں سے کویٔی نہ بچا اَور اُنہُوں نے اُس کے مُلک پر قبضہ کر لیا۔
NUM 22:1 تَب بنی اِسرائیل نے مُوآب کے میدانوں کی طرف کُوچ کیا اَور وہ یریحوؔ کے مقابل دریائے یردنؔ کے پار خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 22:2 بنی اِسرائیل نے امُوریوں کے ساتھ جو کچھ کیا تھا وہ سَب بلقؔ بِن صِفُورؔ نے دیکھا تھا۔
NUM 22:3 اِس لیٔے مُوآب نہایت خوفزدہ ہُوا کیونکہ اُن لوگوں کی تعداد بہت زِیادہ تھی۔ سَو مُوآبی بنی اِسرائیل کی وجہ سے بےحد پریشان ہویٔے۔
NUM 22:4 چنانچہ مُوآبیوں نے مِدیانی بُزرگوں سے کہا، ”یہ گِروہ ہمارے آس پاس کی ہر شَے کو اَیسے چٹ کر جائے گا جَیسے کویٔی بَیل کھیت کی گھاس کو چٹ کر جاتا ہے۔“ چنانچہ بلقؔ بِن صِفُورؔ نے جو اُن دِنوں مُوآب کا بادشاہ تھا،
NUM 22:5 بِلعاؔم بِن بعورؔ کو بُلانے کے لیٔے اُس کے پاس قاصِد بھیجے جو بڑے دریا کے کنارے واقع اَپنی جائے رہائش پتھورؔ میں تھا۔ بلقؔ نے کہلا بھیجا: ”ایک قوم مِصر سے نکل کر آئی ہے؛ جِس کے لوگوں سے مُلک کی سطح چھُپ گئی ہے اَور اَب وہ میرے مقابل جم گیٔے ہیں۔
NUM 22:6 لہٰذا تُم آکر اُن لوگوں پر لعنت کرنا کیونکہ وہ مُجھ سے زِیادہ قوی ہیں۔ تَب شاید میں اُنہیں شِکست دے کر مُلک سے باہر نکال سکوں، کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ جنہیں آپ برکت دیتے ہیں اُنہیں برکت ملتی ہے اَور جِن پر آپ لعنت کرتے ہیں وہ ملعُون ہوتے ہیں۔“
NUM 22:7 چنانچہ مُوآبی اَور مِدیانی بُزرگ اَپنے ساتھ فال کھولنے کی اُجرت لے کر روانہ ہویٔے۔ جَب وہ بِلعاؔم کے پاس پہُنچے تو اُسے بلقؔ کا پیغام دے دیا۔
NUM 22:8 بِلعاؔم نے اُن سے کہا، ”تُم رات یہیں گُزارو اَور یَاہوِہ مُجھے جو جَواب دیں گے اُسے مَیں تمہارے پاس لے آؤں گا۔“ چنانچہ مُوآب کے حاکم بِلعاؔم کے ہاں ٹھہر گیٔے۔
NUM 22:9 خُدا نے بِلعاؔم کے پاس آکر پُوچھا، ”تمہارے ساتھ یہ کون آدمی ہیں؟“
NUM 22:10 بِلعاؔم نے خُدا سے کہا، ”مُوآب کے بادشاہ بلقؔ بِن صِفُورؔ نے میرے پاس یہ پیغام بھیجا ہے:
NUM 22:11 ’جو قوم مِصر سے نکل آئی ہے اُس کے لوگوں سے مُلک کی سطح چھُپ گئی ہے۔ لہٰذا تُم آکر میری خاطِر اُن پر لعنت کرنا۔ تَب شاید میں اُن سے جنگ کرکے اُنہیں نکال سکوں۔‘ “
NUM 22:12 لیکن خُدا نے بِلعاؔم سے کہا، ”تُو اُن کے ساتھ مت جا اَور نہ ہی اُن لوگوں پر لعنت کر کیونکہ وہ مُبارک ہیں۔“
NUM 22:13 بِلعاؔم نے صُبح کو اُٹھ کر بلقؔ کے حاکم سے کہا، ”تُم اَپنے مُلک کو لَوٹ جاؤ کیونکہ یَاہوِہ مُجھے تمہارے ساتھ جانے کی اِجازت نہیں دیتے۔“
NUM 22:14 چنانچہ مُوآبی حاکم بلقؔ کے پاس لَوٹ آئے اَور کہا، ”بِلعاؔم نے ہمارے ساتھ آنے سے اِنکار کر دیا۔“
NUM 22:15 تَب بلقؔ نے دُوسرے حاکم روانہ کئے جو تعداد میں زِیادہ اَور پہلوں سے زِیادہ مُعزّز تھے۔
NUM 22:16 وہ بِلعاؔم کے پاس آئے اَور کہا: ”بلقؔ بِن صِفُورؔ نے یُوں کہا ہے، ’میرے پاس آنے سے مت جِھجک،
NUM 22:17 کیونکہ مَیں تُمہیں نہایت فیّاضی سے صِلہ دُوں گا اَورجو کچھ آپ مُجھ سے کہیں گے میں وُہی کروں گا۔ لہٰذا تُم آؤ اَور میری خاطِر اُن لوگوں پر لعنت کرنا۔‘ “
NUM 22:18 لیکن بِلعاؔم نے اُنہیں جَواب دیا، ”چاہے بلقؔ اَپنے محل میں جِتنا چاندی اَور سونا مُجھے دے تَب بھی میں اَپنے یَاہوِہ خُدا کے حُکم سے تجاوُز نہیں کر سَکتا۔
NUM 22:19 لہٰذا تُم اُن لوگوں کی طرح آج کی رات یہیں قِیام کرو تَب میں دیکھوں گا کہ یَاہوِہ مُجھ سے اَور کیا کہتے ہیں۔“
NUM 22:20 اُس رات خُدا بِلعاؔم کے پاس آئے اَور کہا، ”چونکہ یہ آدمی تُجھے بُلانے آئے ہیں لہٰذا تُو اُن کے ساتھ چلا جا لیکن جو مَیں تُجھ سے کہُوں وُہی کرنا۔“
NUM 22:21 چنانچہ بِلعاؔم صُبح کو اُٹھا اَور اَپنی گدھی پر زین کسا اَور مُوآبی حاکم کے ہمراہ چل دیا۔
NUM 22:22 لیکن جَب وہ گیا تو خُدا کا قہر بھڑک اُٹھا اَور یَاہوِہ کا فرشتہ اُس کی مزاحمت کرنے کے لیٔے راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ بِلعاؔم اَپنی گدھی پر سوار تھا اَور اُس کے دو خادِم اُس کے ہمراہ تھے۔
NUM 22:23 جَب اُس گدھی نے یَاہوِہ کے فرشتہ کو اَپنے ہاتھ میں ننگی تلوار لیٔے راستہ روکے کھڑا دیکھا تو وہ راستہ سے ہٹ کر کھیت میں چلی گئی۔ تَب بِلعاؔم نے اُسے مارا تاکہ اُسے راستہ پر واپس لے آئے۔
NUM 22:24 تَب یَاہوِہ کا فرشتہ دو تاکستانوں کے درمیان ایک تنگ پگڈنڈی پر جا کر کھڑا ہو گیا جِس کے دونوں طرف دیواریں تھیں۔
NUM 22:25 جَب اُس گدھی نے یَاہوِہ کے فرشتہ کو دیکھا تو وہ دیوار سے اَیسی چپک گئی کہ بِلعاؔم کا پاؤں دیوار سے ٹکرا گیا۔ چنانچہ اُس نے اُسے پھر مارا۔
NUM 22:26 تَب یَاہوِہ کا فرشتہ آگے بڑھ کر ایک اَیسے تنگ مقام میں کھڑا ہو گیا جہاں داہنی یا بائیں طرف مُڑنے تک کی جگہ نہ تھی۔
NUM 22:27 جَب اُس گدھی نے یَاہوِہ کے فرشتہ کو دیکھا تو وہ بِلعاؔم کو لیٔے ہویٔے بیٹھ گئی۔ وہ اِس قدر خفا ہُوا کہ اُسے اَپنی لاٹھی سے مارا۔
NUM 22:28 تَب یَاہوِہ نے گدھی کا مُنہ کھولا اَور اُس نے بِلعاؔم سے کہا، ”مَیں نے تیرے ساتھ کیا کیا ہے جو تُونے مُجھے تین بار مارا؟“
NUM 22:29 بِلعاؔم نے گدھی کو جَواب دیا، ”تُونے مُجھے بےوقُوف بنایا! اگر میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو مَیں تُجھ کو اِسی وقت مار ڈالتا۔“
NUM 22:30 گدھی نے بِلعاؔم سے کہا، ”کیا میں تیری وُہی گدھی نہیں ہُوں جِس پر تُو آج تک سوار ہوتا آیا ہے؟ کیا مَیں نے تیرے ساتھ پہلے کبھی اَیسا کیا ہے؟“ اُس نے کہا، ”نہیں۔“
NUM 22:31 تَب یَاہوِہ نے بِلعاؔم کی آنکھیں کھولیں اَور اُس نے یَاہوِہ کے فرشتہ کو ہاتھ میں ننگی تلوار لیٔے ہویٔے راہ میں کھڑا دیکھا۔ چنانچہ وہ جھُک کر مُنہ کے بَل گرا۔
NUM 22:32 یَاہوِہ کے فرشتہ نے اُس سے پُوچھا، ”تُونے اَپنی گدھی کو تین بار کیوں مارا؟ مَیں تُجھ سے مزاحمت کرنے اِس لیٔے یہاں آیا ہُوں کہ تیری چال میری نظر میں ٹیڑھی ہے۔
NUM 22:33 اِس گدھی نے مُجھے دیکھا اَور تین بار میرے سامنے سے ہٹ گئی۔ اگر وہ نہ ہٹتی تو یقیناً تُجھ کو تو میں مار ہی ڈالتا لیکن اُسے جیتی چھوڑ دیتا۔“
NUM 22:34 بِلعاؔم نے یَاہوِہ کے فرشتہ سے کہا، ”مَیں نے گُناہ کیا ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ تُو میرا راستہ روکے کھڑا ہے۔ لیکن اگر تُجھے ناگوار گزرتا ہو تو میں واپس چلا جاتا ہُوں۔“
NUM 22:35 یَاہوِہ کے فرشتہ نے بِلعاؔم سے کہا، ”تُو اِن آدمیوں کے ساتھ چلا جا لیکن وُہی بات کہنا جو مَیں تُجھ سے کہُوں۔“ لہٰذا بِلعاؔم بلقؔ کے حاکم کے ساتھ چلا گیا۔
NUM 22:36 جَب بلقؔ نے سُنا کہ بِلعاؔم آ رہاہے تو وہ اُس کے اِستِقبال کے لیٔے مُوآب کے اُس شہر تک گیا جو ارنُونؔ کی سرحد پر اُس کے مُلک کے آخِری کنارے پر ہے۔
NUM 22:37 بلقؔ نے بِلعاؔم سے کہا، ”مَیں نے تُجھے فوراً بُلایا تھا۔ تُونے آنے میں اِتنی تاخیر کیوں کی؟ کیا مَیں تُجھے صِلہ دینے کے قابل نہ تھا؟“
NUM 22:38 بِلعاؔم نے بلقؔ سے کہا، ”اَب تو مَیں تمہارے پاس آ ہی چُکا ہُوں۔ لیکن اَپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ سَکتا؟ جو بات خُدا میرے مُنہ میں ڈالیں گے میں وُہی کہُوں گا۔“
NUM 22:39 تَب بِلعاؔم بلقؔ کے ساتھ ہو لیا اَور وہ قِریت حُصاتؔ پہُنچ گیٔے۔
NUM 22:40 بلقؔ نے مویشی اَور بھیڑوں کی قُربانیاں پیش کیں اَور کچھ گوشت بِلعاؔم اَور اُن اہلکاروں کو دیا جو اُس کے ساتھ تھے۔
NUM 22:41 دُوسرے دِن صُبح کو بلقؔ بِلعاؔم کو باموت بَعل کو عبادت کے مقام پر لے گیا اَور وہاں اُوپر سے اُس نے اِسرائیلی چھاؤنی کے بیرونی حِصّہ کو دُور دُور تک دیکھا۔
NUM 23:1 بِلعاؔم نے بلقؔ سے کہا، ”میرے لیٔے یہاں سات مذبحے تعمیر کرو اَور میرے لیٔے سات بَیل اَور سات مینڈھے بھی تیّار رکھو۔“
NUM 23:2 بلقؔ نے بِلعاؔم کے کہنے کے مُطابق کیا اَور اُن دونوں نے ہر مذبح پر ایک ایک بَیل اَور ایک ایک مینڈھا قُربان کیا۔
NUM 23:3 تَب بِلعاؔم نے بلقؔ سے کہا، ”تُم اَپنی سوختنی نذر کے پاس کھڑے رہو جَب تک میں جاتا ہُوں۔ شاید یَاہوِہ مُجھ سے مُلاقات کرنے آئیں۔ وہ جو کچھ مُجھ پر ظاہر کریں گے میں تُمہیں بتاؤں گا۔“ پھر وہ ایک برہنہ ٹیلے پر جا چڑھا۔
NUM 23:4 وہاں خُدا بِلعاؔم سے مِلے اَور بِلعاؔم نے کہا، ”مَیں نے سات مذبحے بنائے ہیں اَور ہر مذبح پر ایک ایک بَیل اَور ایک ایک مینڈھا چڑھایا ہے۔“
NUM 23:5 تَب یَاہوِہ نے بِلعاؔم کے مُنہ میں اَپنا کلام ڈالا اَور کہا، ”بلقؔ کے پاس لَوٹ جا اَور اُسے میرا پیغام پہُنچا۔“
NUM 23:6 چنانچہ وہ اُس کے پاس لَوٹ کر آیا اَور اُسے مُوآب کے سَب حاکم سمیت اَپنی سوختنی نذر کے پاس کھڑا پایا۔
NUM 23:7 تَب بِلعاؔم نے اَپنا پیغام بَیان کیا: ”بلقؔ نے مُجھے ارام سے، یعنی شاہِ مُوآب نے، مُجھے مشرقی پہاڑوں سے بُلوایا۔ اَور فرمایا، ’آ جاؤ اَور میری طرف سے یعقوب پر لعنت بھیجو؛ آ جاؤ اَور اِسرائیل کو دھمکاؤ۔‘
NUM 23:8 میں اُن پر لعنت کیسے کروں، جِن پر خُدا نے لعنت نہیں کی؟ میں اُنہیں کیسے دھمکی دُوں، جنہیں یَاہوِہ نے دھمکی نہیں دی؟
NUM 23:9 چٹّانوں کی چوٹیوں پر سے وہ مُجھے نظر آتے ہیں، اَور پہاڑوں کی اُونچائی سے اُنہیں دیکھتا ہُوں۔ میں اَیسی قوم کو دیکھ رہا ہُوں جو الگ رہتی ہے اَور دُوسری قوموں میں اَپنا شُمار نہیں کرتی۔
NUM 23:10 یعقوب کی خاک کے ذرّوں کو کون گِن سَکتا ہے یا اِسرائیل کے چوتھے حِصّہ کو کون شُمار کر سَکتا ہے؟ کاش میں راستبازوں کی موت مروں اَور میرا اَنجام بھی اُن ہی کی مانند ہو!“
NUM 23:11 بلقؔ نے بِلعاؔم سے کہا، ”تُونے میرے ساتھ یہ کیا کیا؟ مَیں نے تُجھے اَپنے دُشمنوں پر لعنت کرنے کے لیٔے بُلایا لیکن تُونے اُنہیں برکت دینے کے سِوا کچھ نہ کیا!“
NUM 23:12 اُس نے جَواب دیا، ”کیا میں وہ بات نہ کہُوں جو یَاہوِہ نے میرے مُنہ میں ڈالی ہے؟“
NUM 23:13 تَب بلقؔ نے بِلعاؔم سے کہا، ”اَب میرے ساتھ دُوسری جگہ چلو جہاں سے تُم اُن کو دیکھ سکوگے۔ تُم اُن سَب کو تو نہیں لیکن اُن چھاؤنی کے بیرونی حِصّہ کو دیکھ پاؤگے اَور وہاں سے تُم اُن پر میری خاطِر لعنت کرنا۔“
NUM 23:14 چنانچہ وہ اُسے پِسگہؔ کی چوٹی پر ضوفیمؔ کے میدان میں لے گیا اَور وہاں اُس نے سات مذبحے بنائے اَور ہر مذبح پر ایک ایک بَیل اَور ایک ایک مینڈھا چڑھایا۔
NUM 23:15 بِلعاؔم نے بلقؔ سے کہا، ”تُم یہاں اَپنی سوختنی نذر کے پاس ٹھہرے رہو جَب تک کہ میں وہاں یَاہوِہ سے مِل لُوں۔“
NUM 23:16 اَور یَاہوِہ بِلعاؔم سے ملے اَور اُنہُوں نے اُس کے مُنہ میں اَپنا کلام ڈالا اَور کہا، ”بلقؔ کے پاس لَوٹ جا اَور اُسے یہ پیغام پہُنچا۔“
NUM 23:17 چنانچہ وہ اُس کے پاس لَوٹ آیا اَور اُسے مُوآب کے حاکم سمیت اَپنی سوختنی نذر کے پاس کھڑا پایا۔ بلقؔ نے اُس سے پُوچھا، ”یَاہوِہ نے کیا کہا ہے؟“
NUM 23:18 تَب اُس نے اَپنا پیغام بَیان کیا: ”اُٹھ اَے بلقؔ اَور سُن؛ اَے اِبن صِفُورؔ! میری بات پر کان لگا۔
NUM 23:19 خُدا اِنسان نہیں کہ جھُوٹ بولیں، اَور نہ وہ آدمؔ زاد ہے کہ اَپنا اِرادہ بدلے۔ کیا جو کچھ وہ کہتے ہیں اُس پر عَمل نہیں کرتے؟ اَورجو وعدہ کرتے ہیں اُسے پُورا نہیں کرتے؟
NUM 23:20 مُجھے تو برکت دینے کا حُکم مِلا ہے؛ وہ برکت دے چُکے ہیں اَور مَیں اُسے ردّ نہیں کر سَکتا۔
NUM 23:21 ”یعقوب میں کویٔی بدبختی نہیں پائی جاتی، اَور نہ اِسرائیل کی تباہی اُن کی نظر میں ہے۔ یَاہوِہ اُن کا خُدا اُن کے ساتھ ہے؛ اَور بادشاہ کی للکار اُن کے درمیان ہے۔
NUM 23:22 خُدا اُنہیں مِصر سے نکال کر لائے ہیں؛ اَور اُن میں جنگلی سانڈ کی سِی طاقت ہے۔
NUM 23:23 یعقوب کے خِلاف کویٔی سحر نہیں چلتا، اَور نہ اِسرائیل کے خِلاف فالگیری ہو سکتی ہے۔ بَلکہ یعقوب اَور اِسرائیل کے حق میں اَب یہ کہا جائے گا، ’دیکھو خُدا نے کیسے عجِیب کام کئے ہیں۔‘
NUM 23:24 یہ لوگ شیرنی کی مانند اُٹھتے ہیں، اَور اَپنے آپ کو اُس شیر کی مانند تن کر کھڑا رکھتے ہیں جو اُس وقت تک نہیں سُستاتا جَب تک کہ اَپنا شِکار نہ کھالے اَور اَپنے مقتولوں کا خُون نہ پی لے۔“
NUM 23:25 تَب بلقؔ نے بِلعاؔم سے کہا، ”تُم اُن پر نہ تو لعنت کرنا، نہ ہی اُنہیں برکت دینا!“
NUM 23:26 بِلعاؔم نے بلقؔ کو جَواب دیا، ”کیا مَیں نے تُمہیں نہیں بتایا کہ میں وُہی کروں گا جو یَاہوِہ فرمائیں گے؟“
NUM 23:27 تَب بلقؔ نے بِلعاؔم سے کہا، ”اَچھّا مَیں تُجھے ایک اَور جگہ لے چلتا ہُوں۔ شاید خُدا کو پسند آئے کہ تُو میری خاطِر وہاں سے اُن پر لعنت کرے۔“
NUM 23:28 اَور بلقؔ بِلعاؔم کو پعورؔ کی چوٹی پر لے گیا جہاں سے بنجر علاقہ نظر آتا ہے۔
NUM 23:29 بِلعاؔم نے بلقؔ سے کہا، ”میرے لیٔے یہاں سات مذبحے بنا اَور سات بَیل اَور سات مینڈھے تیّار کر۔“
NUM 23:30 بلقؔ نے بِلعاؔم کے کہنے کے مُطابق کیا اَور ہر مذبح پر ایک بَیل اَور ایک مینڈھا چڑھایا۔
NUM 24:1 جَب بِلعاؔم نے دیکھا کہ یَاہوِہ کی رضا یہی ہے کہ وہ اِسرائیل کو برکت دے تو اُس نے فالگیری دیکھنے کی پرانی عادت چھوڑکر اَپنا مُنہ بیابان کی طرف موڑا۔
NUM 24:2 جَب بِلعاؔم نے نگاہ کی اَور دیکھا کہ بنی اِسرائیل قبیلہ بہ قبیلہ چھاؤنی ہیں تو خُدا کی رُوح اُس پر نازل ہُوئی
NUM 24:3 اَور اُس نے اَپنا پیغام بَیان کیا: ”بِلعاؔم بِن بعورؔ کی نبُوّت، اُس کی الہامی تقریر جِس کی آنکھ رَوشن ہے،
NUM 24:4 بَلکہ یہ اُسی کی الہامی تقریر ہے جو خُدا کا کلام سُنتا ہے، جو سَجدہ میں گرا ہُوا اَپنی بینا آنکھوں سے قادرمُطلق کی رُویا دیکھتا ہے۔
NUM 24:5 ”اَے یعقوب تیرے خیمے اَور اَے بنی اِسرائیل تمہاری قِیام گاہیں کیا ہی خُوبصورت ہیں!
NUM 24:6 ”وہ وادیوں کی طرح پھیلے ہویٔے ہیں، گویا لبِ دریا کے باغیچے، جو یَاہوِہ کے لگائے ہویٔے عُود کے درخت، اَور دریاؤں کے کنارے کے دیودار۔
NUM 24:7 اُن کی نمدار شاخوں سے بوندیں ٹپکیں گی؛ اَور اُن کی جڑوں کو کثرت سے پانی ملے گا۔ ”اُن کا بادشاہ اَگاگؔ سے بھی عظیم تر ہوگا؛ اَور اُن کی سلطنت عروج پایٔے گی۔
NUM 24:8 ”خُدا اُنہیں مِصر سے نکال لایا؛ اُن میں جنگلی سانڈ کی سِی طاقت ہے۔ وہ مُخالف قوموں کو کھا جاتے ہیں اَور اُن کی ہڈّیوں کو چُورچُور کر دیتے ہیں؛ اَور اَپنے تیروں سے اُن کو چھید ڈالتے ہیں۔
NUM 24:9 وہ شیر کی طرح تاک لگا کر بیٹھ جاتے ہیں، بَلکہ شیرنی کی طرح۔ اَب اُنہیں کون چھیڑے؟ ”جو تُمہیں برکت دیں وہ برکت پائیں اَورجو تُجھ پر لعنت کریں وہ ملعُون ہُوں!“
NUM 24:10 تَب بلقؔ کا غُصّہ بِلعاؔم پر بھڑکا۔ اُس نے اَپنے ہاتھ پر ہاتھ مارا اَور اُس سے کہا، ”مَیں نے تُجھے اَپنے دُشمنوں پر لعنت کرنے کے لیٔے بُلایا لیکن تینوں بار تُونے اُنہیں برکت پر برکت دی۔
NUM 24:11 اَب تُو اِسی وقت رخصت ہو اَور اَپنے گھر چلا جا! مَیں نے کہاتھا کہ مَیں تُجھے فیّاضی سے صِلہ دُوں گا لیکن یَاہوِہ نے تُجھے اِس صِلہ سے محروم رکھا ہے۔“
NUM 24:12 بِلعاؔم نے بلقؔ کو جَواب دیا، ”کیا مَیں نے اُن قاصِدوں سے جنہیں تُونے میرے پاس بھیجا تھا یہ نہ کہاتھا،
NUM 24:13 ’اگر بلقؔ اَپنے محل میں جِتنا چاندی اَور سونا مُجھے دے تَب بھی میں اَپنی طرف سے بھلا یا بُرا کچھ بھی نہیں کر سَکتا۔ جو یَاہوِہ کے حُکم کے خِلاف ہو، بَلکہ جو کچھ یَاہوِہ کہیں گے میں وُہی کہُوں گا‘؟
NUM 24:14 اَب مَیں اَپنی اُمّت کے پاس لَوٹ کر جاتا ہُوں لیکن دیکھ میں تُمہیں جتائے دیتا ہُوں کہ یہ لوگ آنے والے دِنوں میں تمہاری قوم کے ساتھ کیسا سلُوک کریں گے۔“
NUM 24:15 تَب اُس نے اَپنا پیغام بَیان کیا: ”بِلعاؔم بِن بعورؔ کی نبُوّت، اُس کی نبُوّت جِس کی آنکھ رَوشن ہے،
NUM 24:16 بَلکہ یہ اُسی کی نبُوّت ہے جو خُدا کا کلام سُنتا ہے، اَور خُداتعالیٰ کا عِرفان رکھتا ہے، جو سَجدہ میں گرا ہُوا اَپنی بینا آنکھوں سے قادرمُطلق کی رُویا دیکھتا ہے۔
NUM 24:17 ”میں اُسے دیکھوں گا، پر ابھی نہیں؛ وہ مُجھے نظر بھی آئے گا، پر نزدیک سے نہیں۔ یعقوب سے ایک ستارہ نکلے گا؛ اَور اِسرائیل میں سے ایک عصائے شاہی بُلند ہوگا۔ وہ مُوآب کی پیشانیوں کو اَور شیتؔ کے سَب بیٹوں کی کھوپڑیوں کو کُچل دے گا۔
NUM 24:18 اِدُوم مغلُوب ہوگا؛ اَور اُس کا دُشمن، سِعِیؔر بھی مغلُوب ہوگا، لیکن اِسرائیل تقویّت پاتا جائے گا۔
NUM 24:19 یعقوب کی نَسل میں سے ایک شہزادہ برپا ہوگا جو شہر کے باقی بچے لوگوں کو تباہ کر ڈالے گا۔“
NUM 24:20 تَب بِلعاؔم نے عمالیقؔ کی طرف نگاہ کی اَور یہ پیغام بَیان کیا: ”عمالیقؔ قوموں میں اوّل تو تھا، لیکن آخِرکار اُس کا اَنجام تباہی ہے۔“
NUM 24:21 تَب اُس نے قینیوں کی طرف دیکھا اَور یہ پیغام بَیان کیا: ”تمہاری قِیام گاہ محفوظ ہے، اَور تمہارا آشیانہ چٹّان میں بنا ہُواہے؛
NUM 24:22 پھر بھی اَے قینیو جَب اشُور تُمہیں اسیر کرےگا تَب تُم تباہ ہو جاؤگے۔“
NUM 24:23 تَب اُس نے اَپنا پیغام جاری رکھا: ”ہائے افسوس! اگر خُدا کی مرضی نہ ہو تو کون زندہ بچے گا؟
NUM 24:24 کِتّیمؔ کے ساحِلوں سے جہاز آئیں گے؛ اَور وہ اشُور اَور عِبرؔ دونوں پر قبضہ کر لیں گے، لیکن وہ بھی تباہ ہو جایٔیں گے۔“
NUM 24:25 تَب بِلعاؔم اُٹھ کر گھر لَوٹا اَور بلقؔ نے اَپنی راہ لی۔
NUM 25:1 اِسرائیلی شِطِّیمؔ میں رہتے تھے اَور لوگوں نے اُن مُوآبی عورتوں کے ساتھ حرام کاری شروع کر دی،
NUM 25:2 جو اُنہیں اَپنے معبُودوں کی قُربانیوں میں آنے کی دعوت دیتی تھیں۔ یہ لوگ وہاں جا کر کھاتے اَور اُن معبُودوں کو سَجدہ کرتے تھے۔
NUM 25:3 اِس طرح بنی اِسرائیل نے پعورؔ کے بَعل کی عبادت میں شرکت کی اَور یَاہوِہ کا قہر اُن پر بھڑکا۔
NUM 25:4 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا: ”اِن لوگوں کے سَب سربراہوں اَور سرغنوں کو لے کر قتل کر اَور اُنہیں یَاہوِہ کے حُضُور دِن کی رَوشنی میں ٹانگ دینا تاکہ یَاہوِہ کا قہرِ شدید بنی اِسرائیل پر سے ٹل جائے۔“
NUM 25:5 چنانچہ مَوشہ نے اِسرائیل کے حاکموں سے کہا، ”تمہارے جِن جِن آدمیوں نے پعورؔ کے بَعل کی عبادت میں شرکت کی وہ سَب قتل کئے جایٔیں۔“
NUM 25:6 اَور جَب بنی اِسرائیل کی ساری جماعت خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر رو رہی تھی تَب ایک اِسرائیلی مَوشہ اَور سَب لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ایک مِدیانی عورت کو اَپنے خاندان میں لے آیا۔
NUM 25:7 تَب الیعزرؔ کے بیٹے فِنحاسؔ نے جو اَہرونؔ کاہِنؔ کا پوتا تھا یہ دیکھا تو اُس نے جماعت میں سے اُٹھ کر ہاتھ میں ایک نیزہ لیا۔
NUM 25:8 اَور اُس اِسرائیلی کے پیچھے پیچھے خیمہ میں داخل ہُوا اَور اُس نے اُس اِسرائیلی مَرد اَور اُس عورت دونوں کے پیٹ میں نیزہ بھونک دیا۔ تَب بنی اِسرائیل پر آئی ہُوئی وَبا جاتی رہی
NUM 25:9 اَور جتنے لوگ وَبا سے مَرے تھے اُن کی تعداد چوبیس ہزار تھی۔
NUM 25:10 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
NUM 25:11 ”الیعزرؔ کے بیٹے فِنحاسؔ نے جو اَہرونؔ کاہِنؔ کا پوتا ہے میرے قہر کو بنی اِسرائیل پر سے ہٹا دیا کیونکہ اُس نے اُن کے درمیان میرے لیٔے اَپنی غیرت کا اَیسا مظاہرہ کیا کہ مَیں نے اَپنی غیرت کے جوش میں اُنہیں نابود نہیں کیا
NUM 25:12 اِس لیٔے اُس سے کہہ کہ میں اُس کے ساتھ اَپنا عہدِ اَمن باندھ رہا ہُوں۔
NUM 25:13 وہ اُس کے اَور اُس کی اَولاد کے لیٔے دائمی کہانت کا عہد ہوگا کیونکہ وہ اَپنے خُدا کے واسطے غیرت مند ہُوا اَور اُس نے بنی اِسرائیل کے لیٔے کفّارہ دیا۔“
NUM 25:14 اُس اِسرائیلی مَرد کا نام جو اُس مِدیانی عورت کے ساتھ مارا گیا وہ زِمریؔ تھا جو شمعُونؔ کے خاندان کا سردار سالوؔ کا بیٹا تھا۔
NUM 25:15 اَور اُس مِدیانی عورت کا نام جو ماری گئی تھی کوزبیؔ تھا۔ وہ ضُورؔ کی بیٹی تھی جو ایک مِدیانی خاندان کا قبائلی سردار تھا۔
NUM 25:16 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
NUM 25:17 ”مِدیانیوں کو حریف جان کر مار ڈالو۔
NUM 25:18 کیونکہ اُنہُوں نے بھی جَب تُمہیں دھوکا دیا تو حریف ہی جانا جَیسا پعورؔ کے مُعاملہ میں اَور اُن کی بہن کوزبیؔ کے مُعاملہ میں ہُوا جو مِدیانی سردار کی بیٹی تھی اَور اُس وَبا میں جو پعورؔ کے سبب پھیلی تھی ماری گئی تھی۔“
NUM 26:1 وَبا کے بعد یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کاہِنؔ کے بیٹے الیعزرؔ سے کہا،
NUM 26:2 ”بنی اِسرائیل کی ساری جماعت میں بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے جتنے لوگ اِسرائیلی لشکر میں خدمت کرنے کے قابل ہُوں اُن سَب کی اُن کے آبائی خاندانوں کے مُطابق مردُم شُماری کرنا۔“
NUM 26:3 چنانچہ مَوشہ اَور الیعزرؔ کاہِنؔ مُوآب کے میدانوں میں یردنؔ کے کنارے یریحوؔ کے مقابل اُن سے مُخاطِب ہویٔے اَور کہا:
NUM 26:4 ”بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے آدمیوں کی مردُم شُماری کرو جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا ہے۔“
NUM 26:5 اِسرائیل کے پہلوٹھے رُوبِنؔ کے بیٹے یہ تھے: حنوخؔ جِس سے حنوخیوں کی برادری چلی؛ پلوّؔ جِس سے پلّویوں کی برادری چلی؛
NUM 26:6 حِضرونؔ جِس سے حضرونیوں کی برادری چلی؛ اَور کرمی جِس سے کرمیوں کی برادری چلی؛
NUM 26:7 یہ رُوبِنیوں کی برادری والے تھے اَور اُن میں سے جو شُمار کئے گیٔے اُن کی تعداد 43,730 تھی۔
NUM 26:8 پلوّؔ کا بیٹا اِلیابؔ تھا،
NUM 26:9 اَور اِلیابؔ کے بیٹے نموایل داتنؔ اَور ابیرامؔ ہیں جو جماعت کے نُمائندے تھے جنہوں نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کے خِلاف سرکشی کی تھی اَور قورحؔ کے پیروکاروں میں سے تھے جَب اُنہُوں نے یَاہوِہ کے خِلاف سرکشی کی تھی۔
NUM 26:10 زمین نے اَپنا مُنہ کھولا اَور اُنہیں قورحؔ سمیت نگل گئی اَور اُس کے پیروکار اُس وقت مَر گیٔے جَب آگ نے ڈھائی سَو لوگوں کو بھسم کیا اَور وہ ایک عِبرت کا نِشان ٹھہرے۔
NUM 26:11 البتّہ قورحؔ کے سارے بیٹے نہیں مَرے تھے۔
NUM 26:12 شمعُونؔ کے بیٹے اَپنی برادریوں کے مُطابق یہ تھے: نموایل جِس سے نموایلیوں کی برادری چلی؛ یمینؔ جِس سے یمینیوں کی برادری چلی؛ یاکِن جِس سے یکینیوں کی برادری چلی؛
NUM 26:13 زیراحؔ جِس سے زیراحیوں کی برادری چلی؛ اَور شاؤل جِس سے شاؤلیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:14 یہ بنی شمعُونؔ کی برادری کے تھے۔ اِن میں آدمیوں کی تعداد 22,200 تھی۔
NUM 26:15 گادؔ کے بیٹے اَپنی برادری کے مُطابق یہ تھے: ضِفونؔ جِس سے ضِفونی کی برادری چلی؛ حگّیؔ جِس سے حگّیوں کی برادری چلی؛ شُونی، جِس سے شُونیوں کی برادری چلی؛
NUM 26:16 اُزنی جِس سے اُزنیوں کی برادری چلی؛ عیری، جِس سے عیریوں کی برادری چلی؛
NUM 26:17 اَرود، جِس سے اَرودیوں کی برادری چلی؛ اَور اَریلی جِس سے اَریلیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:18 یہ بنی گادؔ کی برادری کے تھے اَور اُن میں سے جو شُمار کئے گیٔے اُن کی تعداد 40,500 تھی۔
NUM 26:19 عیرؔ اَور اَونانؔ یہُوداہؔ کے بیٹے تھے لیکن وہ مُلکِ کنعانؔ میں مَر گیٔے۔
NUM 26:20 یہُوداہؔ کے بیٹے اَپنی برادریوں کے مُطابق یہ تھے: شِلحؔ جِس سے شیلانیوں کی برادری چلی؛ پیریزؔ جِس سے پیریزیوں کی برادری چلی؛ اَور زیراحؔ جِس سے زیراحیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:21 پیریزؔ کے بیٹے یہ تھے: حِضرونؔ جِس سے حضرونیوں کی برادری چلی؛ حمُولؔ جِس سے حمُولیوں کی برادری چلی؛
NUM 26:22 یہ یہُوداہؔ کی برادری کے تھے اَور اُن میں سے جو شُمار کئے گیٔے اُن کی تعداد 76,500 تھی۔
NUM 26:23 یِسَّکاؔر کے بیٹے اَپنے برادریوں کے مُطابق یہ تھے: تولعؔ جِس سے تولعیوں کی برادری چلی؛ پُوّہؔ جِس سے پُوّہیوں کی برادری چلی؛
NUM 26:24 یَعشُوبؔ جِس سے یَعشُوبیوں کی برادری چلی؛ اَور شِمرون جِس سے شِمرونیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:25 یہ یِسَّکاؔر کی برادری کے تھے۔ اِن میں سے جو شُمار کئے گیٔے اُن کی تعداد 64,300 تھی۔
NUM 26:26 زبُولُون کے بیٹے اَپنی برادریوں کے مُطابق یہ تھے: سرد جِس سے سردیوں کی برادری چلی؛ ایلون جِس سے ایلونیوں کی برادری چلی؛ اَور یحلی ایل جِس سے یحلی ایلی قبیلہ کی برادری چلی۔
NUM 26:27 یہ زبُولُونیوں کی برادری کے تھے۔ اِن میں سے جو شُمار کئے گیٔے اُن کی تعداد 60,500 تھی۔
NUM 26:28 یُوسیفؔ کے بیٹے اَپنی برادریوں کے مُطابق منشّہ اَور اِفرائیمؔ تھے۔
NUM 26:29 منشّہ کے بیٹے یہ تھے: مکیرؔ جِس سے مکیریوں کی برادری چلی (مکیرؔ سے گِلعادؔ پیدا ہُوا تھا)؛ گِلعادؔ سے گِلعادیوں کی برادری چلی؛
NUM 26:30 گِلعادؔ کے بیٹے یہ ہیں: اِیعزرؔ جِس سے اِیعزریوں کی برادری چلی؛ حِلقؔ جِس سے حِلقیوں کی برادری چلی؛
NUM 26:31 اَسری ایل، جِس اَسری ایلیوں کی برادری چلی؛ شِکیمؔ جِس سے شِکیمؔی برادری چلی؛
NUM 26:32 شمیدعؔ جِس سے شمیدعیوں کی برادری چلی؛ اَور حِفرؔ جِس سے حِفریوں کی برادری چلی۔
NUM 26:33 (ضلافحادؔ بِن حِفرؔ کے ہاں کویٔی بیٹا پیدا نہ ہُوا بَلکہ صِرف بیٹیاں ہی ہُوئیں جِن کے نام محلاہؔ، نوحؔا، حُگلاہؔ، مِلکاہؔ اَور تِرضاؔہ تھے۔)
NUM 26:34 یہ منشّہیوں کی برادری کے تھے۔ اِن میں سے جو شُمار کئے گیٔے اُن کی تعداد 52,700 تھی۔
NUM 26:35 اِفرائیمؔ کے بیٹے اَپنی برادریوں کے مُطابق یہ تھے: شُوتلحؔ جِس سے شُوتلحیوں کی برادری چلی؛ بِکیؔر جِس سے بِکیریوں کی برادری چلی؛ اَور تحنؔ جِس سے تحنیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:36 شُوتلحؔ کے بیٹے یہ تھے: عیرانؔ جِس سے عیرانیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:37 یہ بنی اِفرائیمؔ کی برادری کے تھے۔ اِن میں سے جو شُمار کئے گیٔے اُن کی تعداد 32,500 تھی۔
NUM 26:38 بِنیامین کے بیٹے کی برادری کے مُطابق یہ تھے: بَیلعؔ، جِس سے بَیلعیوں کی برادری چلی؛ اَشبیلؔ، جِس سے اَشبیلیوں کی برادری چلی؛ اخِیرامؔ، جِس سے اخِیرامیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:39 شُوفامؔ جِس سے شُوفامیوں کی برادری چلی؛ اَور حُوپامؔ جِس سے حُوپامیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:40 بَیلعؔ کے دو بیٹے اردؔ اَور نَعمانؔ تھے۔ اردؔ سے اَردیوں کی برادری چلی اَور نَعمانؔ سے نَعمانیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:41 یہ بنی بِنیامین کی برادری کے تھے۔ اِن میں سے جو شُمار کئے گیٔے اُن کی تعداد 45,600 تھی۔
NUM 26:42 دانؔ کے بیٹے کی برادری کے مُطابق یہ تھے: شُوحامؔ جِس سے شُوحامیوں کی برادری چلی؛
NUM 26:43 وہ سبھی شُوحامیوں کی برادری کے تھے اَور اُن میں سے جو شُمار کئے گیٔے اُن کی تعداد 64,400 تھی۔
NUM 26:44 آشیر کے بیٹے کی برادری کے مُطابق یہ تھے: یِمنہؔ جِس سے یمنیوں کی برادری چلی؛ اِشویؔ جِس سے اِشویوں کی برادری چلی؛ اَور بریعہؔ جِس سے بریعاہیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:45 اَور بنی بریعہؔ یہ ہیں: حِبرؔ جِس سے حِبری کی برادری چلی؛ اَور مَلکی ایل جِس سے مَلکی ایلیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:46 (آشیر کی ایک بیٹی تھی جِس کا نام سراحؔ تھا۔)
NUM 26:47 یہ آشیریوں کی برادری کے تھے۔ اِن میں سے جو شُمار کئے گیٔے اُن کی تعداد 53,400 تھی۔
NUM 26:48 نفتالی کے بیٹے اَپنی برادری کے مُطابق یہ تھے: یحصیل جِس سے یحصیلیوں کی برادری چلی؛ گُونی جِس سے گُونیوں کی برادری چلی؛
NUM 26:49 یصر جِس سے یصریوں کی برادری چلی؛ اَور شِلّیمؔ جِس سے شِلّیمیوں کی برادری چلی۔
NUM 26:50 یہ بنی نفتالی کی برادری کے تھے۔ اِن میں سے جو شُمار کئے گیٔے اُن کی تعداد 45,400 تھی۔
NUM 26:51 بنی اِسرائیل کے جِن لوگوں کا شُمار کیا گیا اُن کی کُل تعداد 6,01,730 تھی۔
NUM 26:52 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
NUM 26:53 ”اُنہیں اُن کے ناموں کے شُمار کے مُطابق وہ زمین مِیراث کے طور پر بانٹ دی جائے۔
NUM 26:54 بڑے گِروہ کو زِیادہ حِصّہ دیا جائے اَور چُھوٹے گِروہ کو کم۔ ہر ایک کو اُن کے درج کئے ہویٔے ناموں کی تعداد کے مُطابق مِیراث ملے۔
NUM 26:55 خیال رہے کہ زمین قُرعہ اَندازی کے ذریعہ تقسیم کی جائے۔ ہر قبیلہ جو بھی مِیراث پایٔے وہ اُس کے آبائی قبیلہ کے ناموں کے مُطابق ہو۔
NUM 26:56 اَور ہر مِیراث بڑے اَور چُھوٹے گِروہوں میں قُرعہ اَندازی کے ذریعہ تقسیم کی جائے۔“
NUM 26:57 بنی لیوی جو اَپنی اَپنی برادریوں کے مُطابق شُمار کئے گیٔے یہ ہیں: گیرشون جِس سے گیرشونیوں کی برادری چلی؛ قُہات جِس سے قُہاتیوں کی برادری چلی؛ مِراریؔ جِس سے مِراریوں کی برادری چلی۔
NUM 26:58 یہ بھی لیویوں ہی کی برادری کے تھے: لبنیوں کی برادری، حِبرونیوں کی برادری، محلیوں کی برادری، مُوشیوں کی برادری، قورحؔیوں کی برادری۔ (قُہات عمرامؔ کا آباؤاَجداد تھا۔
NUM 26:59 عمرامؔ کی بیوی کا نام یوکبِدؔ تھا جو لیوی کی نَسل سے تھی اَور مِصر میں لیوی کے ہاں پیدا ہُوئی تھی۔ اُن کے ہاں اَہرونؔ، مَوشہ اَور اُن کی بہن مِریمؔ عمرام سے پیدا ہویٔے۔
NUM 26:60 اَور اَہرونؔ سے نادابؔ، اَبِیہُو، الیعزرؔ اَور اِتمارؔ پیدا ہویٔے۔
NUM 26:61 لیکن نادابؔ اَور اَبِیہُو تو اُس وقت مَر گیٔے جَب اُنہُوں نے یَاہوِہ کے حُضُور میں ناجائز آگ کا نذرانہ چڑھایا۔)
NUM 26:62 لیویوں کے سبھی نرینہ فرزندوں کی تعداد جو ایک ماہ یا اُس سے زِیادہ عمر کے تھے 23,000 تھی۔ وہ بنی اِسرائیل کے ساتھ اِس لیٔے نہیں گنے گیٔے کیونکہ اُنہیں اُن کے ساتھ مِیراث نہ مِلی تھی۔
NUM 26:63 یہی وہ اِسرائیلی لوگ ہیں جنہیں مَوشہ اَور الیعزرؔ کاہِنؔ نے مُوآب کے میدانوں میں یردنؔ کے کنارے پر یریحوؔ کے مقابل گِنا تھا۔
NUM 26:64 لیکن اُن میں سے ایک بھی اُن اِسرائیلیوں میں شامل نہ تھا جنہیں مَوشہ اَور اَہرونؔ کاہِنؔ نے سِینؔائی کے بیابان میں شُمار کیا تھا۔
NUM 26:65 کیونکہ یَاہوِہ نے اُن اِسرائیلیوں کو کہہ دیا تھا کہ وہ یقیناً بیابان میں مَر جایٔیں گے اَور یفُنّہؔ کے بیٹے کالبؔ اَور یہوشُعؔ بِن نُونؔ کے سِوا اُن میں ایک بھی باقی نہیں بچا تھا۔
NUM 27:1 ضلافحادؔ بِن حِفرؔ گِلعادؔ کا پوتا اَور منشّہ کے بیٹے مکیرؔ کا پرپوتا تھا۔ اُس کی بیٹیاں یُوسیفؔ کے بیٹے منشّہ کی برادری کی نَسل سے تھیں۔ اُن بیٹیوں کے نام محلاہؔ نوحؔا حُگلاہؔ مِلکاہؔ اَور تِرضاؔہ تھے۔ وہ آئیں اَور
NUM 27:2 خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر مَوشہ الیعزرؔ کاہِنؔ سربراہوں اَور ساری جماعت کے سامنے کھڑی ہوکر کہنے لگیں:
NUM 27:3 ”ہمارا باپ بیابان میں مَر گیا۔ وہ قورحؔ کے اُن پیروکاروں میں سے نہ تھا جنہوں نے یَاہوِہ کے خِلاف سرکشی کی تھی بَلکہ وہ اَپنے ہی گُناہ میں مَرا اَور اُس کے کویٔی بیٹا نہ تھا۔
NUM 27:4 چنانچہ بیٹا نہ ہونے کے باعث ہمارے باپ کا نام اُس کی برادری سے کیوں مِٹ جائے؟ لہٰذا ہمیں بھی ہمارے باپ کے رشتہ داروں کے ساتھ مِیراث میں حِصّہ دو۔“
NUM 27:5 چنانچہ مَوشہ اُن کا مُعاملہ یَاہوِہ کے حُضُور لے گیا
NUM 27:6 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا:
NUM 27:7 ”ضلافحادؔ کی بیٹیاں ٹھیک کہتی ہیں۔ تُو اُنہیں اُن کے باپ کے رشتہ داروں کے درمیان ضروُر ہی کچھ جائداد بطور مِیراث دینا۔ پس اُن کے باپ کی مِیراث اُن کے سُپرد کر دے۔
NUM 27:8 ”اَور بنی اِسرائیل سے کہہ، ’اگر کویٔی آدمی مَر جائے اَور اُس کا کویٔی بیٹا نہ ہو تو اُس کی مِیراث اُس کی بیٹی کو دینا۔
NUM 27:9 اگر اُس کی کویٔی بیٹی بھی نہ ہو تو اُس کی مِیراث اُس کے بھائیوں کو دینا۔
NUM 27:10 اَور اگر اُس کے کویٔی بھایٔی بھی نہ ہوں تو اُس کی مِیراث اُس کے باپ کے بھائیوں کو دینا۔
NUM 27:11 اگر اُس کے باپ کے بھایٔی بھی نہ ہوں تو اُس برادری میں جو بھی اُس کا سَب سے قریبی رشتہ دار ہو اُسے اُس کی مِیراث دینا تاکہ وہ اُس کی مِلکیّت بَن جائے اَور یہ بنی اِسرائیل کے لیٔے آئین یَاہوِہ کے مَوشہ کو دئیے ہویٔے حُکم کے مُطابق شَرعی فرض ہوگا۔‘ “
NUM 27:12 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”تُو اُس عباریمؔ پہاڑ پر چڑھ کر اُس مُلک کو دیکھ جو مَیں نے بنی اِسرائیل کو عطا کیا ہے۔
NUM 27:13 اُسے دیکھ لینے کے بعد تُو بھی اَپنے بھایٔی اَہرونؔ کی طرح اَپنے لوگوں میں جا ملے گا۔
NUM 27:14 کیونکہ جَب صینؔ کے بیابان میں پانی کے چشمہ کے پاس جماعت نے سرکشی کی تھی تَب تُم دونوں نے میرا حُکم نہ مانا اَور اُن کی آنکھوں کے سامنے میری تقدیس نہ کی۔“ (یہ وُہی مریبہؔ کا چشمہ ہے جو صینؔ کے بیابان قادِسؔ میں ہے۔)
NUM 27:15 مَوشہ نے یَاہوِہ سے کہا،
NUM 27:16 ”یَاہوِہ! تمام نَوع اِنسان کی رُوحوں کے خُدا کسی آدمی کو اِس جماعت پر ایک نِگراں مُقرّر کرنا
NUM 27:17 جو اُن کے سامنے آیا جایا کرے اَورجو اُنہیں باہر لے جانے اَور اَندر لانے میں اُن کا رہبر ہو تاکہ یَاہوِہ کی جماعت اُن بھیڑوں کی طرح نہ ہو جِن کا کویٔی چرواہا نہیں ہوتا۔“
NUM 27:18 چنانچہ یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”تُو یہوشُعؔ بِن نُونؔ کو جو رُوح سے معموُر ہے لے اَور اُس پر اَپنا ہاتھ رکھ۔
NUM 27:19 اُسے الیعزرؔ کاہِنؔ اَور ساری جماعت کے سامنے کھڑا کر اَور اُن کے سامنے اُسے اِختیار دے۔
NUM 27:20 اَپنے کچھ اِختیارات اُس کے سُپرد کردینا تاکہ بنی اِسرائیل کی ساری جماعت اُس کی اِطاعت کرے۔
NUM 27:21 وہ الیعزرؔ کاہِنؔ کے سامنے کھڑا ہُوا کرے جو یَاہوِہ کے حُضُور اُس کی خاطِر اُوریمؔ کا حُکم دریافت کیا کرےگا۔ اِسی کے حُکم سے وہ اَور بنی اِسرائیل کی ساری جماعت باہر جایا کریں اَور اُسی کے حُکم سے وہ اَندر آئیں۔“
NUM 27:22 چنانچہ مَوشہ نے یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق عَمل کیا۔ اُس نے یہوشُعؔ کو لیا اَور الیعزرؔ کاہِنؔ اَور ساری جماعت کے سامنے کھڑا کیا۔
NUM 27:23 تَب یَاہوِہ نے جو ہدایات مَوشہ کی مَعرفت دی تھیں اُن کے مُطابق اُس نے اَپنے ہاتھ یہوشُعؔ پر رکھے اَور اُسے اِختیار بخشا۔
NUM 28:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا:
NUM 28:2 ”بنی اِسرائیل کو یہ حُکم سُنانا اَور اُن سے کہنا، ’تُم میری نذر، یعنی میری وہ غِذا جو میرے لیٔے فرحت بخش خُوشبو والی آتِشی قُربانی ہے مُقرّرہ وقت پر یاد سے پیش کرتے رہنا۔‘
NUM 28:3 اُن سے کہہ کہ یَاہوِہ کے لیٔے تُم جو آتِشی قُربانی پیش کرو وہ یہ ہے: ہر روز حسبِ معمول دو بے عیب یک سالہ برّے سوختنی نذر کے طور پر چڑھایا کرنا۔
NUM 28:4 ایک برّہ صُبح کو اَور دُوسرا شام کو چڑھانا۔
NUM 28:5 اَور ساتھ ہی ایفہ کے دسویں حِصّہ کے برابر مَیدہ میں چوتھائی ہین کُوٹ کر نکالا ہُوا زَیتُون کا تیل مِلا کر اناج کی قُربانی کے طور پر پیش کرنا۔
NUM 28:6 یہ وُہی دائمی سوختنی نذر ہے جو کوہِ سِینؔائی پر مُقرّر کی گئی تھی تاکہ یَاہوِہ کے حُضُور فرحت بخش خُوشبو دینے والی آتِشی قُربانی ٹھہرے۔
NUM 28:7 اَور اُس کے ساتھ فی برّہ کے ساتھ ہین کا چوتھائی حِصّہ مَے انگوری شِیرہ کے طور پر لائی جائے۔ یہ انگوری شِیرہ یَاہوِہ کے لیٔے پاک مَقدِس میں چڑھانا۔
NUM 28:8 دُوسرا برّہ شام کے جھٹپٹے کے وقت چڑھانا اَور اُس کے ساتھ بھی صُبح کی طرح اناج کی قُربانی اَور انگوری شِیرے کی نذر ہو۔ یہ یَاہوِہ کے حُضُور غِذا کی فرحت بخش خُوشبو والی آتِشی قُربانی ہوگی۔
NUM 28:9 ” ’اَور سَبت کے دِن دو بے عیب یک سالہ برّے اَور ایفہ کا پانچواں حِصّہ تیل مِلا ہُوا مَیدہ تپاون کے ساتھ اناج کی قُربانی کے طور پر پیش کرنا۔
NUM 28:10 حسبِ معمول پیش کی جانے والی سوختنی نذر اَور اُس کے تپاون کے علاوہ یہ ہر سَبت کی سوختنی نذر ہے۔
NUM 28:11 ” ’ہر مہینے کے پہلے دِن دو بچھڑے، ایک مینڈھا اَور سات یک سالہ نر برّے جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں سوختنی نذر کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور میں چڑھایا کرنا۔
NUM 28:12 ہر بچھڑے کے ساتھ ایفہ کا تین دہائی حِصّہ اناج کی نذر تیل مِلا ہُوا مَیدہ اَور ہر مینڈھے کے ساتھ ایفہ کا پانچواں حِصّہ اناج کی نذر تیل مِلا ہُوا مَیدہ؛
NUM 28:13 اَور ہر برّہ کے ساتھ ایفہ کا دسواں حِصّہ تیل مِلا ہُوا مَیدہ اناج کی قُربانی کے طور پر پیش کرنا۔ یہ سوختنی نذر یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو دینے والی آتِشی قُربانی ٹھہرے۔
NUM 28:14 ہر بچھڑے کے ساتھ نِصف ہین ہر مینڈھے کے ساتھ ایک تہائی ہین اَور ہر برّہ کے ساتھ پاؤ ہین مَے تپاون کے طور پر دی جائے۔ یہ ماہانہ سوختنی نذر ہے جو سال بھر ہر نئے چاند کے موقع پر پیش کی جائے۔
NUM 28:15 حسبِ معمول پیش کی جانے والی سوختنی نذر اَور اُس کے ساتھ دئیے جانے والے تپاون کے علاوہ ایک بکرا یَاہوِہ کے لیٔے گُناہ کی قُربانی کے طور پر پیش کیا جائے۔
NUM 28:16 ” ’پہلے مہینے کے چودھویں دِن یَاہوِہ کا فسح ہُوا کرے۔
NUM 28:17 اَور اُسی مہینے کے پندرھویں دِن عید منائی جائے اَور سات دِن تک بے خمیری روٹی کھائی جائے۔
NUM 28:18 پہلے دِن مُقدّس اِجتماع ہو اَور عام دِنوں کی طرح کویٔی کام بالکُل نہ کرنا۔
NUM 28:19 اَور یَاہوِہ کے لیٔے آتِشی قُربانی پیش کی جائے جو دو بچھڑوں، ایک مینڈھے اَور سات یک سالہ نر برّوں کی سوختنی نذر پر مُشتمل ہو جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں۔
NUM 28:20 ہر بچھڑے کے ساتھ ایک ایفہ کا تین دہائی حِصّہ زَیتُون کا تیل اناج کی نذر مِلا ہُوا مَیدہ، ہر مینڈھے کے ساتھ ایفہ کا پانچواں حِصّہ زَیتُون کا تیل اناج کی نذر مِلا ہُوا مَیدہ؛
NUM 28:21 اَور ساتوں برّوں میں سے ہر ایک کے ساتھ دسواں حِصّہ نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرنا۔
NUM 28:22 گُناہ کی قُربانی کے طور پر ایک بکرے کا اِضافہ کرنا تاکہ اُس سے تمہارے لیٔے کفّارہ دیا جائے۔
NUM 28:23 اُنہیں صُبح کو حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر کے علاوہ پیش کرنا۔
NUM 28:24 اِسی طرح سات دِن تُم روزانہ آتِشی قُربانی کی یہ غِذا چڑھانا تاکہ وہ یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو ٹھہرے۔ یہ حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر اَور اُس کے تپاون کے علاوہ پیش کی جائے۔
NUM 28:25 ساتویں دِن پھر تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو اَور حسبِ معمول کویٔی کام نہ کرنا۔
NUM 28:26 ” ’پہلے پھلوں کے دِن جَب تُم ہفتوں کی عید کے موقع پر یَاہوِہ کے لیٔے نئی نذر کی قُربانی پیش کرو تَب بھی تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو اَور اُس روز بھی کویٔی حسبِ معمول کام اَنجام نہ دیا جائے۔
NUM 28:27 اَور دو بچھڑے، ایک مینڈھا اَور سات یک سالہ نر برّے سوختنی نذر کے طور پر گذرانو جو یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو ہو۔
NUM 28:28 ہر بچھڑے کے ساتھ اناج کی نذر کی قُربانی کے طور پر ایفہ کا تین دہائی حِصّہ زَیتُون کا تیل مِلا ہُوا مَیدہ ہو، مینڈھے کے ساتھ ایفہ کا پانچواں حِصّہ ہو؛
NUM 28:29 اَور سات برّوں میں سے ہر ایک برّے کے ساتھ ایفہ کا دسواں حِصّہ ہو۔
NUM 28:30 اَور ایک بکرا بھی شامل کر لو تاکہ تمہارے لیٔے کفّارہ دیا جائے۔
NUM 28:31 حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر اَور اُس کی اناج کی نذر کی قُربانی کے علاوہ تُم اُنہیں بھی اُن کے تپاون کی نذروں کے ساتھ پیش کرنا۔ البتّہ خیال رہے کہ سَب جانور بے عیب ہُوں۔
NUM 29:1 ” ’ساتویں مہینے کے پہلے دِن تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو اَور اُس دِن کویٔی حسبِ معمول کام نہ کیا جائے۔ یہ تمہارے لیٔے نرسنگے پھُونکنے کا دِن ہے۔
NUM 29:2 تُم ایک بچھڑا، ایک مینڈھا اَور سات یک سالہ نر برّے جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں سوختنی نذر کے طور پر پیش کرنا تاکہ یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو ٹھہرے۔
NUM 29:3 بچھڑے کے ساتھ اناج کی نذر کی قُربانی کے طور پر ایفہ کا تین دہائی حِصّہ زَیتُون کا تیل مِلا ہُوا مَیدہ ہو؛ مینڈھے کے ساتھ پانچواں حِصّہ
NUM 29:4 اَور سات برّوں میں سے ہر ایک برّے کے ساتھ دسواں حِصّہ ہو۔
NUM 29:5 اَور ایک بکرا بھی شامل کر لو تاکہ تمہارے لیٔے گُناہ کی قُربانی کے طور پر کفّارہ دیا جائے۔
NUM 29:6 یہ مُقرّرہ ماہانہ اَور روزمرّہ دی جانے والی سوختنی نذروں اَور اُن کے ساتھ کی اناج کی نذر اَور تپاون کی نذروں کی قُربانیوں کے علاوہ ہیں۔ یہ یَاہوِہ کے حُضُور فرحت بخش خُوشبو والی آتِشی قُربانیوں کے طور پر پیش کی جایٔیں۔
NUM 29:7 ” ’اِسی ساتویں مہینے کے دسویں دِن تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو۔ اُس دِن تُم اَپنی خُودی کا اِنکار کرنا اَور کویٔی کام نہ کرنا۔
NUM 29:8 اَور یَاہوِہ کے حُضُور فرحت بخش خُوشبو کے لیٔے ایک بچھڑا، ایک مینڈھا اَور سات یک سالہ نر برّے جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں سوختنی نذر کے طور پر پیش کرنا۔
NUM 29:9 بچھڑے کے ساتھ اناج کی نذر کی قُربانی کے طور پر ایفہ کا تین دہائی حِصّہ زَیتُون کا تیل مِلا ہُوا مَیدہ ہو، مینڈھے کے ساتھ پانچواں حِصّہ ہو۔
NUM 29:10 اَور سات برّوں میں سے ہر ایک برّہ کے ساتھ دسواں حِصّہ ہو۔
NUM 29:11 اَور ایک بکرا گُناہ کی قُربانی کے طور پر بھی شامل کر لو جو کفّارہ کے لیٔے دی ہُوئی گُناہ کی قُربانی اَور حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی اَور تپاون کی نذروں کے علاوہ ہو۔
NUM 29:12 ” ’ساتویں مہینے کے پندرھویں دِن پھر تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو۔ اُس دِن تُم کویٔی حسبِ معمول کام نہ کرنا اَور سات دِن تک یَاہوِہ کے لیٔے کی عید منانا۔
NUM 29:13 اَور سوختنی نذر کے طور پر تیرہ بچھڑے، دو مینڈھے اَور چودہ یک سالہ نر برّے جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں گذراننا تاکہ وہ یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو کی آتِشی قُربانی ٹھہرے۔
NUM 29:14 تیرہ بچھڑوں میں سے ہر بچھڑے کے ساتھ اناج کی نذر کی قُربانی کے طور پر ایفہ کا تین دہائی حِصّہ زَیتُون کا تیل مِلا ہُوا مَیدہ ہو اَور دونوں مینڈھوں میں سے ہر مینڈھے کے ساتھ پانچواں حِصّہ ہو۔
NUM 29:15 اَور چودہ برّوں میں سے ہر برّہ کے ساتھ دسواں حِصّہ ہو۔
NUM 29:16 اَور ایک بکرا گُناہ کی قُربانی کے طور پر بھی شامل کر لو جو حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی اَور تپاون کے علاوہ ہو۔
NUM 29:17 ” ’دُوسرے دِن بَارہ بچھڑے، دو مینڈھے اَور چودہ یک سالہ نر برّے جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں چڑھانا۔
NUM 29:18 بچھڑوں، مینڈھوں اَور برّوں کے ساتھ اُن کے اعداد شُمار کے مُطابق اناج کی نذر کی قُربانیاں اَور تپاون کی نذریں بھی گذراننا۔
NUM 29:19 اَور ایک بکرا گُناہ کی قُربانی کے طور پر بھی شامل کر لو جو حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی اَور تپاون کی نذروں کے علاوہ ہو۔
NUM 29:20 ” ’تیسرے دِن گیارہ بچھڑے، دو مینڈھے اَور چودہ یک سالہ نر برّے جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں چڑھانا۔
NUM 29:21 بچھڑوں، مینڈھوں اَور برّوں کے ساتھ اُن کے اعداد شُمار کے مُطابق اناج کی نذر اَور تپاون کی نذروں کی قُربانیاں بھی گذراننا۔
NUM 29:22 اَور ایک بکرا گُناہ کی قُربانی کے طور پر بھی شامل کر لو جو حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی اَور تپاون کے علاوہ ہو۔
NUM 29:23 ” ’چوتھے دِن دس بچھڑے، دو مینڈھے اَور چودہ یک سالہ نر برّے جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں چڑھانا۔
NUM 29:24 بچھڑوں، مینڈھوں اَور برّوں کے ساتھ اُن کے اعداد شُمار کے مُطابق اناج کی نذر اَور تپاون کی نذریں بھی گذراننا۔
NUM 29:25 اَور ایک بکرا گُناہ کی قُربانی کے طور پر بھی شامل کر لو جو حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی اَور تپاون کے علاوہ ہو۔
NUM 29:26 ” ’پانچویں دِن نَو بچھڑے، دو مینڈھے اَور چودہ یک سالہ نر برّے جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں چڑھانا۔
NUM 29:27 بچھڑوں، مینڈھوں اَور برّوں کے ساتھ اُن کے اعداد شُمار کے مُطابق اناج کی نذر اَور تپاون کی نذریں کی قُربانیاں بھی گذراننا۔
NUM 29:28 اَور ایک بکرا گُناہ کی قُربانی کے طور پر بھی شامل کر لو جو حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی اَور تپاون کے علاوہ ہو۔
NUM 29:29 ” ’چھٹے دِن آٹھ بچھڑے، دو مینڈھے اَور چودہ یک سالہ نر برّے جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں چڑھانا۔
NUM 29:30 بچھڑوں، مینڈھوں اَور برّوں کے ساتھ اُن کے اعداد شُمار کے مُطابق اناج کی نذر اَور تپاون کی نذروں کی قُربانیاں بھی گذراننا۔
NUM 29:31 اَور ایک بکرا گُناہ کی قُربانی کے طور پر بھی شامل کر لو جو حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی اَور تپاون کے علاوہ ہو۔
NUM 29:32 ” ’ساتویں دِن سات بچھڑے، دو مینڈھے اَور چودہ یک سالہ نر برّے جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں چڑھانا۔
NUM 29:33 بچھڑوں، مینڈھوں اَور برّوں کے ساتھ اُن کے اعداد شُمار کے مُطابق اناج کی نذر اَور تپاون کی نذریں بھی گذراننا۔
NUM 29:34 اَور ایک بکرا گُناہ کی قُربانی کے طور پر بھی شامل کر لو جو حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی اَور تپاون کے علاوہ ہو۔
NUM 29:35 ” ’آٹھویں دِن تمہارا اِجتماع ہو اَور کویٔی حسبِ معمول کام نہ کیا جائے۔
NUM 29:36 اَور سوختنی نذر کے طور پر ایک بچھڑا، ایک مینڈھا اَور سات یک سالہ نر برّے جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں گذرانو تاکہ وہ یَاہوِہ کے لیٔے فرحت بخش خُوشبو کی آتِشی قُربانی ٹھہرے۔
NUM 29:37 بچھڑے، مینڈھے اَور برّوں کے ساتھ اُن کے اعداد شُمار کے مُطابق اناج کی نذر اَور تپاون کی نذریں بھی گذراننا۔
NUM 29:38 اَور ایک بکرا گُناہ کی قُربانی کے طور پر بھی شامل کر لو جو حسبِ معمول دی جانے والی سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی اَور تپاون کے علاوہ ہو۔
NUM 29:39 ” ’تُم اَپنی مُقرّرہ عیدوں کے موقعوں پر اُن کو یَاہوِہ کے حُضُور اَپنی مَنّتوں اَور رضا کی قُربانیوں کے علاوہ اَپنی سوختنی نذریں، اناج کی نذریں، تپاون کی نذریں اَور سلامتی کی نذریں گذراننا۔‘ “
NUM 29:40 مَوشہ نے بنی اِسرائیل کو وہ سَب کچھ بتا دیا جِس کا حُکم یَاہوِہ نے اُسے دیا تھا۔
NUM 30:1 مَوشہ نے اِسرائیل کے قبیلوں کے سربراہوں سے کہا: ”یَاہوِہ نے یہ حُکم دیا ہے:
NUM 30:2 جَب کویٔی آدمی یَاہوِہ کی مَنّت مانے یا قَسم کھا کر کویٔی عہدوپیمان کر بیٹھے تو وہ اَپنا عہد نہ توڑے بَلکہ جو کچھ اُس نے کہا ہے اُسے پُورا کرے۔
NUM 30:3 ”جَب کویٔی عورت اَپنے باپ کے گھر میں رہتے ہویٔے یَاہوِہ سے مَنّت مانے یا کویٔی عہدوپیمان کر بیٹھے
NUM 30:4 اَور اُس کا باپ اُس کی مَنّت یا عہد کے بارے میں سُن کر اُس سے کچھ نہ کہے تو اُس کی سَب مَنّتیں اَور عہدوپیمان جو اُس نے اَپنے اُوپر فرض کر لیا ہے برقرار رہیں گے۔
NUM 30:5 لیکن اگر اُس کا باپ جَب یہ سُن لے اَور اُسے منع کر دے تو اُس کی کویٔی مَنّت یا کویٔی عہدوپیمان جسے اُس نے اَپنے اُوپر فرض کر لیا ہو برقرار نہیں رہے گا۔ یَاہوِہ اُسے مُعاف کر دیں گے کیونکہ اُس کے باپ نے اُسے منع کیا ہے۔
NUM 30:6 ”اگر وہ مَنّت ماننے کے بعد بیاہ کر لے یا اُس کے ہونٹوں پر ناعاقبت اَندیشی کی وجہ سے کویٔی اَیسی بات آ جائے جو اُس نے اَپنے اُوپر فرض ٹھہرائی ہو
NUM 30:7 اَور اُس کا خَاوند اُن کے بارے میں سُن کر اُس سے کچھ نہ کہے تو اُس کی مَنّتیں یا عہدوپیمان جو اُس نے اَپنے اُوپر فرض ٹھہرائے ہیں برقرار رہیں گے۔
NUM 30:8 لیکن اگر اُس کا خَاوند جَب یہ سُن لے اَور اُسے منع کر دے تو وہ اُس مَنّت کو اَور ناعاقبت اَندیشی کی وجہ سے کئے ہویٔے وعدے کو جو اُس نے اَپنے اُوپر فرض ٹھہرایا ہو منسُوخ کرتا ہے تو یَاہوِہ اُسے مُعاف کر دیں گے۔
NUM 30:9 ”لیکن کویٔی بِیوہ یا مُطلّقہ عورت جو مَنّت مانے یا اَپنے اُوپر کویٔی پابندی عاید کر لے وہ برقرار رہے گی۔
NUM 30:10 ”اگر کویٔی عورت اَپنے خَاوند کے ساتھ رہتے ہویٔے کویٔی مَنّت مانے یا قَسم کھا کر اَپنے اُوپر کویٔی پابندی عاید کر لیتی ہے
NUM 30:11 اَور اُس کا خَاوند ہے سُن کر اُس سے کچھ نہ کہے اَور اُسے منع نہ کرے تو اُس کی ساری مَنّتیں اَور اُس کی اَپنے آپ پر عاید کی ہُوئی پابندیاں برقرار رہیں گی۔
NUM 30:12 لیکن اگر اُس کا خَاوند اُنہیں سُننے کے بعد منسُوخ کر دیتاہے تو اُس کے مُنہ سے نکلی ہُوئی کویٔی مَنّت یا پابندی برقرار نہ رہے گی۔ اُس کے خَاوند نے اُنہیں منسُوخ کیا ہے اَور یَاہوِہ اُسے مُعاف کر دیں گے۔
NUM 30:13 اُس کا خَاوند اُس کی مانی ہُوئی کسی بھی مَنّت کو یا قَسم کھا کر پرہیزگاری کے لیٔے اَپنے اُوپر عاید کی ہُوئی کسی بھی پابندی کو قائِم رکھ سَکتا ہے یا منسُوخ کر سَکتا ہے۔
NUM 30:14 لیکن اگر اُس کا خَاوند اُس کے متعلّق کسی دِن بھی اُس سے کچھ نہ کہے تَب وہ اُس کی تمام مَنّتیں اَور خُود پر عاید کی ہُوئی پابندیاں برقرار رکھتا ہے۔ وہ اِس لیٔے برقرار رہتی ہیں کہ اُس نے اُن کے متعلّق سُن کر بھی اُس سے کچھ نہ کہا۔
NUM 30:15 البتّہ اگر وہ اُن کے بارے میں سُننے کے کچھ عرصہ بعد اُنہیں منسُوخ کرتا ہے تو وہ اُس کے گُناہ کا ذمّہ دار ہوگا۔“
NUM 30:16 خَاوند اَور بیوی کے درمیان اَور باپ اَور اُس کے گھر میں رہتی ہُوئی اُس کی جَوان بیٹی کے درمیان آپَس کے تعلّقات کے متعلّق یَاہوِہ نے یہ ضوابط مَوشہ کو دئیے۔
NUM 31:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
NUM 31:2 ”مِدیانیوں سے بنی اِسرائیل کا اِنتقام لے۔ اُس کے بعد تُو اَپنے لوگوں میں جا ملے گا۔“
NUM 31:3 چنانچہ مَوشہ نے لوگوں سے کہا، ”اَپنے میں سے چند آدمیوں کو مِدیانیوں کے خِلاف جنگ کرنے اَور اُن سے یَاہوِہ کا اِنتقام لینے کے لیٔے مُسلّح کر لو۔
NUM 31:4 اِسرائیل کے ہر قبیلہ میں سے ایک ایک ہزار آدمی جنگ کے لیٔے بھیجنا۔“
NUM 31:5 چنانچہ اِسرائیل کی برادریوں میں سے فی قبیلہ ایک ہزار کے حِساب سے بَارہ ہزار آدمیوں نے جنگ کے لیٔے ہتھیار باندھ لیٔے۔
NUM 31:6 یُوں مَوشہ نے ہر قبیلہ میں سے ایک ہزار آدمیوں کو جنگ کے لیٔے الیعزرؔ کاہِنؔ کے بیٹے فِنحاسؔ کے ساتھ بھیجا جِس نے پاک مَقدِس کے ظروف اَور جنگ کا نعرہ بُلند کرنے کے لیٔے نرسنگے اَپنے ساتھ لیٔے۔
NUM 31:7 اُنہُوں نے یَاہوِہ کے ذریعہ مَوشہ کو دئیے ہویٔے حُکم کے مُطابق وہ مِدیانیوں سے لڑے اَور ہر آدمی کو مار ڈالا
NUM 31:8 جِن لوگوں کو اُنہُوں نے موت کے گھاٹ اُتارا اُن میں عیویؔ، رِقمؔ، ضُورؔ، حُورؔ، رِبعؔ اَور یہ پانچ مِدیانی بادشاہ بھی تھے۔ اُنہُوں نے بِلعاؔم بِن بعورؔ کو بھی تلوار سے قتل کیا۔
NUM 31:9 اِسرائیلیوں نے مِدیانی عورتوں اَور بچّوں کو اسیر کیا اَور مِدیانیوں کے مویشیوں کے تمام ریوڑ بھیڑ اَور بکریوں کے تمام گلّے اَور سارا مال و اَسباب لُوٹ لیا۔
NUM 31:10 اُنہُوں نے اُن تمام شہروں کو جہاں مِدیانی آباد تھے اَور اُن کی سَب چھاؤنی کو نذرِ آتِش کر دیا۔
NUM 31:11 تَب اُنہُوں نے لوگوں اَور جانوروں سمیت تمام مالِ غنیمت کو جمع کیا
NUM 31:12 اَور تمام اسیروں اَور مالِ غنیمت کو مَوشہ، الیعزرؔ کاہِنؔ اَور بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کے پاس اَپنی چھاؤنی میں لے آئے جو یریحوؔ کے مقابل یردنؔ کے کنارے مُوآب کے میدانوں میں تھی۔
NUM 31:13 مَوشہ اَور الیعزرؔ کاہِنؔ اَور جماعت کے سَب سردار اُن کے اِستِقبال کے لیٔے چھاؤنی کے باہر گیٔے۔
NUM 31:14 مَوشہ جنگ سے لَوٹے ہویٔے اُن افسران پر جھلّایا جو ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کی قیادت کر رہے تھے۔
NUM 31:15 مَوشہ نے اُن سے پُوچھا، ”کیا تُم نے سَب عورتوں کو زندہ رہنے دیا؟“
NUM 31:16 پعورؔ میں جو کچھ ہُوا اُس وقت یہی عورتیں بِلعاؔم کی صلاح سے اِسرائیلیوں کو یَاہوِہ سے برگشتہ کرنے کا ذریعہ بنی تھیں اَور یَاہوِہ کے لوگوں میں وَبا پھیلی تھی۔
NUM 31:17 لہٰذا سَب لڑکوں کو مار ڈالو اَور ہر اُس عورت کو بھی مار ڈالو جو کسی مَرد کے ساتھ ہم بِستر ہو چُکی ہو۔
NUM 31:18 لیکن ہر اُس لڑکی کو اَپنے لیٔے بچائے رکھو جو کبھی کسی مَرد کے ساتھ ہم بِستر نہ ہُوئی ہو۔
NUM 31:19 ”تُم سَب جنہوں نے کسی کو قتل کیا ہو یا کسی مقتول کو چھُوا ہو سات دِن تک چھاؤنی کے باہر رہے۔ تیسرے اَور ساتویں دِن تُم اَپنے آپ کو اَور اَپنے اسیروں کو پاک کر لو۔
NUM 31:20 تُم ہر کپڑے کو اَور چمڑے، بکری کے بالوں اَور لکڑی سے بنی ہُوئی ہر شَے کو پاک کر لو۔“
NUM 31:21 تَب الیعزرؔ کاہِنؔ نے اُن سپاہیوں سے جو جنگ کرنے گیٔے تھے کہا، ”یَاہوِہ کی مَوشہ کو دی ہُوئی آئین کا یہ تَقاضا ہے کہ
NUM 31:22 سونا، چاندی، کانسا، لوہا، رانگا اَور سیسہ
NUM 31:23 اَور دُوسری کویٔی شَے جو آگ کی تاب لا سکے اُسے آگ میں ڈالا جائے، تَب وہ صَاف ہوگی۔ لیکن اُسے طہارت کے پانی سے بھی پاک کیا جائے۔ اَورجو کچھ آگ کو برداشت نہ کر سکے اُسے اُس پانی میں ڈالا جائے۔
NUM 31:24 ساتویں دِن تُم اَپنے کپڑے دھونا۔ اَور پاک و صَاف ہوکر چھاؤنی میں آجانا۔“
NUM 31:25 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
NUM 31:26 ”تُو اَور الیعزرؔ کاہِنؔ اَور جماعت کے خاندانوں کے سردار مِل کر اُن لوگوں اَور جانوروں کو شُمار کرو جو اسیر کئے گیٔے تھے۔
NUM 31:27 اَور مالِ غنیمت کو جنگ میں شریک ہونے والے سپاہیوں اَور بقیّہ جماعت کے درمیان تقسیم کرنا۔
NUM 31:28 اُن سپاہیوں کے حِصّہ میں جو جنگ میں لڑے تھے یَاہوِہ کے لیٔے خراج کے طور پر ہر پانچ سَو لوگوں، مویشیوں، گدھوں، بھیڑوں میں سے ایک کے حِساب سے ایک حِصّہ لے لیں۔
NUM 31:29 اُن کے نِصف حِصّہ میں سے تُم یہ خراج لے کر اُسے الیعزرؔ کاہِنؔ کو یَاہوِہ کے نذرانہ کے طور پر دے دینا۔
NUM 31:30 اَور بنی اِسرائیل کے نِصف حِصّہ میں سے ہر پچاس کے پیچھے ایک ایک لینا خواہ وہ اِنسان ہُوں یا مویشی، گدھے، بھیڑیں، یا کویٔی اَور جانور۔ اُنہیں لیویوں کو دینا جو یَاہوِہ کے خیمہ اِجتماع کی حِفاظت کے ذمّہ دار ہیں۔“
NUM 31:31 مَوشہ اَور الیعزرؔ کاہِنؔ نے وُہی کیا۔ جو یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
NUM 31:32 لُوٹ کا مال جو سپاہیوں کے ہاتھ لگا تھا اُس کے علاوہ بچا ہُوا مالِ غنیمت یہ تھا: 6,75,000 بکریاں،
NUM 31:33 72,000 مویشی،
NUM 31:34 61,000 گدھے،
NUM 31:35 32,000 اَیسی عورتیں جو کسی مَرد کے ساتھ ہم بِستر نہ ہُوئی تھیں۔
NUM 31:36 جنگ میں لڑنے والوں کا نِصف حِصّہ یہ تھا: 3,37,500 بھیڑیں
NUM 31:37 جِن میں سے 675 بھیڑیں یَاہوِہ کے لیٔے تھیں
NUM 31:38 36,000 مویشی جِن میں یَاہوِہ کے لیٔے 72 تھے؛
NUM 31:39 گدھے 30,500 جِن میں یَاہوِہ کے لئے 61 تھے؛
NUM 31:40 16,000 مَرد جِن میں 32 یَاہوِہ کے لئے تھے،
NUM 31:41 جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا اُسی کے مُطابق اُس نے وہ رسد الیعزرؔ کاہِنؔ کو یَاہوِہ کے حِصّہ کے طور پر دیا۔
NUM 31:42 بنی اِسرائیل کا نِصف حِصّہ جسے مَوشہ نے جنگی مَردوں کے حِصّہ سے الگ کر لیا تھا:
NUM 31:43 یعنی جماعت کا نِصف حِصّہ یہ 3,37,500 بھیڑیں،
NUM 31:44 36,000 مویشی،
NUM 31:45 30,500 گدھے،
NUM 31:46 16,000 مَرد۔
NUM 31:47 اَور بنی اِسرائیل کے نِصف حِصّہ میں سے مَوشہ نے خُدا کے حُکم کے مُطابق ہر پچاس مَردوں اَور جانوروں کے پیچھے ایک ایک چُن کر لیویوں کو دیا جو یَاہوِہ کے مَسکن کی حِفاظت کے ذمّہ دار تھے۔
NUM 31:48 تَب وہ افسران جو ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کی قیادت کر رہے تھے مَوشہ کے پاس آئے۔
NUM 31:49 اَور مَوشہ سے کہنے لگے، ”تمہارے خادِموں نے اُن سپاہیوں کا جو ہمارے ماتحت تھے شُمار کیا اَور اُن میں سے ایک بھی کم نہ ہُوا۔
NUM 31:50 چنانچہ بازوبند، کنگن، انگُوٹھیاں، کان کی بالیاں اَور گلوبند جَیسی سونے کی چیزوں میں سے جو کچھ ہمارے ہاتھ لگا اُسے ہم یَاہوِہ کے حُضُور میں ہدیہ کے طور پر لایٔے ہیں تاکہ ہمارے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور کفّارہ دیا جائے۔“
NUM 31:51 تَب مَوشہ اَور الیعزرؔ کاہِنؔ نے اُن سے وہ سونا لے لیا جو گڑھے ہویٔے گہنوں کی شکل میں تھا۔
NUM 31:52 ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کے سپہ سالاروں سے لیٔے ہویٔے سونے کا وزن جسے مَوشہ اَور الیعزرؔ نے یَاہوِہ کے حُضُور میں نذرانے کے طور پر پیش کیا تھا جو 16,750 ثاقل تھا۔
NUM 31:53 ہر جنگی سپاہی نے اَپنے لیٔے کچھ نہ کچھ لے لیا تھا۔
NUM 31:54 مَوشہ اَور الیعزرؔ کاہِنؔ نے ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کے سپہ سالاروں سے سونا لے لیا اَور وہ اُسے یَاہوِہ کے حُضُور میں بنی اِسرائیل کی یادگار کے طور پر خیمہ اِجتماع میں لے آئے۔
NUM 32:1 بنی رُوبِنؔ اَور بنی گادؔ نے جِن کے پاس جانوروں کے بڑے بڑے ریوڑ اَور گلّے تھے جَب یہ دیکھا کہ یعزیرؔ اَور گِلعادؔ کے مُلک مویشیوں کے لیٔے نہایت اَچھّے ہیں
NUM 32:2 تو وہ رُوبِنؔ کے قبیلہ اَور مَوشہ اَور الیعزرؔ کاہِنؔ اَور گادؔ کی جماعت کے سربراہوں کے پاس آکر کہنے لگے،
NUM 32:3 ”عطاروتؔ دیبونؔ یعزیرؔ، نِمرہؔ، حِشبونؔ، الیعالہؔ سیبامؔ، نبوؔ اَور بعُونؔ،
NUM 32:4 کا مُلک جِن پر یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کو فتح بخشی مویشیوں کے لیٔے نہایت مُناسب ہے اَور تمہارے خادِموں کے پاس مویشی ہیں۔“
NUM 32:5 پھر اُنہُوں نے کہا، ”اگر ہم پر آپ کی نظرِکرم ہے تو یہ مُلک اَپنے خادِموں کو مِیراث کے طور پر عطا فرما اَور ہم پر یردنؔ پار کرنے کی نَوبَت نہ لا۔“
NUM 32:6 مَوشہ نے بنی گادؔ اَور بنی رُوبِنؔ سے کہا، ”کیا تمہارے بھایٔی جنگ کرنے جایٔیں اَور تُم یہیں بیٹھے رہو؟
NUM 32:7 تُم بنی اِسرائیل کا اُس مُلک میں جانے کا حوصلہ کیوں پست کر رہے ہو جسے یَاہوِہ نے اُنہیں دیا ہے؟
NUM 32:8 جَب مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو قادِسؔ برنیع سے اُس مُلک کا مُعائنہ کرنے کے لیٔے بھیجا تھا تو اُنہُوں نے بھی اَیسا ہی کہاتھا۔
NUM 32:9 جَب وہ اِشکلؔ کی وادی تک پہُنچے تو اُس مُلک کو دیکھ کر اُنہُوں نے بنی اِسرائیل کے حوصلے پست کر دئیے کہ وہ اُس مُلک میں داخل نہ ہُوئے جسے یَاہوِہ نے اُنہیں دیا ہے۔
NUM 32:10 اُس دِن یَاہوِہ کا غضب اُن پر بھڑکا اَور اُنہُوں نے یہ قَسم کھائی:
NUM 32:11 ’چونکہ اُنہُوں نے میری دِل و جان سے پیروی نہیں کی اِس لیٔے اُن میں سے بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کا کویٔی بھی شخص جو مِصر سے نکل آیا ہے اُس مُلک کو نہیں دیکھ پایٔےگا جسے دینے کی قَسم مَیں نے اَبراہامؔ اَور اِصحاقؔ اَور یعقوب سے کھائی ہے؛
NUM 32:12 سِوا یفُنّہؔ قِنزّی کے بیٹے کالبؔ اَور یہوشُعؔ بِن نُونؔ کے جنہوں نے دِل و جان سے یَاہوِہ کی پیروی کی۔‘
NUM 32:13 یَاہوِہ کا قہر اِسرائیل کے خِلاف بھڑک اُٹھا اَور اُنہُوں نے اُنہیں چالیس سال تک بیابان میں مارے مارے پھرنے پر مجبُور کیا۔ یہاں تک کہ اُس پُشت کے سَب لوگ جنہوں نے یَاہوِہ کی نظر میں گُناہ کیا تھا نابود ہو گئے۔
NUM 32:14 ”اَور یہاں تُم ہو۔ اَے گُنہگاروں کی اَولاد جو اَپنے آباؤاَجداد کی جگہ پر کھڑے ہوکر یَاہوِہ کے قہر کو اِسرائیل پر اَور بھی زِیادہ شدید کر رہے ہو۔
NUM 32:15 اگر تُم اُس کی پیروی سے مُنہ موڑوگے تو وہ پھر اُن سَب لوگوں کو بیابان میں چھوڑ دے گا اَور تُم ہی اُن کی تباہی کا باعث ہوگے۔“
NUM 32:16 تَب وہ مَوشہ کے پاس آکر کہنے لگے، ”ہم یہاں اَپنے مویشیوں کے لیٔے بھیڑوں کے باڑے اَور اَپنی عورتوں اَور بچّوں کے لیٔے شہر بنانا چاہتے ہیں۔
NUM 32:17 لیکن ہم ہتھیار باندھ کر بنی اِسرائیل سے آگے آگے چلنے کے لیٔے تیّار ہیں جَب تک کہ اُن کو اُن کی جگہ تک نہ پہُنچائیں۔ اِس اَثنا میں ہماری عورتیں اَور بچّے اِس مُلک کے باشِندوں سے بچنے کے لیٔے فصیلدار شہروں میں رہیں گے۔
NUM 32:18 ہم اُس وقت تک اَپنے گھروں کو نہ لَوٹیں گے جَب تک کہ ہر اِسرائیلی اَپنی اَپنی مِیراث کا مالک نہیں ہو جاتا۔
NUM 32:19 ہم اُن کے ساتھ یردنؔ کے اُس پار کویٔی مِیراث نہ لیں گے کیونکہ ہمیں ہماری مِیراث یردنؔ کے مشرق میں ہی مِل چُکی ہے۔“
NUM 32:20 تَب مَوشہ نے اُن سے کہا، ”اگر تُم یُوں کرو کہ لڑنے کے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور مُسلّح ہو جاؤ،
NUM 32:21 اَور اگر تُم سَب مُسلّح ہوکر یَاہوِہ کے حُضُور یردنؔ پار جاؤ اَور جَب تک وہ اَپنے دُشمنوں کو اَپنے سامنے سے ہٹا نہ دے،
NUM 32:22 اَور وہ مُلک یَاہوِہ کے حُضُور میں قبضہ میں نہ آ جائے تَب تک تُم واپس نہ آنا۔ تَب تُم یَاہوِہ اَور اِسرائیل کے نزدیک اَپنے فرض سے سبکدوش ہو جاؤگے اَور یہ مُلک یَاہوِہ کے حُضُور تمہاری مِلکیّت ہو جائے گا۔
NUM 32:23 ”لیکن اگر تُم اَیسا نہ کروگے تو یَاہوِہ کے گُنہگار ٹھہروگے اَور یقین جانو کہ تمہارا گُناہ تُمہیں پکڑ لے گا۔
NUM 32:24 لہٰذا اَپنی عورتوں اَور بچّوں کے لیٔے شہر تعمیر کرو اَور اَپنے گلّوں کے لیٔے بھیڑوں کے باڑے بناؤ لیکن تُم نے جو وعدہ کیا ہے اُسے پُورا کرو۔“
NUM 32:25 تَب بنی گادؔ اَور بنی رُوبِنؔ نے مَوشہ سے کہا، ”تمہارے خادِم اَپنے آقا کے حُکم کے مُطابق ہی کریں گے۔
NUM 32:26 ہمارے بال بچّے، ہماری بھیڑ بکریوں کے گلّے اَور ہمارے مویشیوں کے ریوڑ یہاں گِلعادؔ کے شہروں میں رہیں گے
NUM 32:27 لیکن تمہارے خادِموں میں سے ہر آدمی جَیسا کہ ہمارا آقا فرماتا ہے لڑائی کے لیٔے مُسلّح ہوکر یَاہوِہ کے حُضُور لڑنے کو یردنؔ پار جائے گا۔“
NUM 32:28 تَب مَوشہ نے اُن کے بارے میں الیعزرؔ کاہِنؔ کو یہوشُعؔ بِن نُونؔ کو اَور اِسرائیلی قبیلوں کے خاندانوں کے سربراہوں کو ہدایات دیں۔
NUM 32:29 مَوشہ نے اُن سے کہا، ”اگر بنی گادؔ اَور بنی رُوبِنؔ کا ہر آدمی لڑائی کے لیٔے مُسلّح ہوکر یَاہوِہ کے حُضُور میں تمہارے ساتھ یردنؔ پار کر لے اَور جَب اُس مُلک پر تمہارا قبضہ ہو جائے تَب تُم گِلعادؔ کا مُلک اُنہیں مِیراث میں دینا۔
NUM 32:30 لیکن اگر وہ مُسلّح ہوکر تمہارے ساتھ پار نہ جایٔیں تو وہ مُلکِ کنعانؔ میں تمہارے ساتھ اَپنی مِیراث قبُول کر لیں۔“
NUM 32:31 تَب بنی گادؔ اَور بنی رُوبِنؔ نے جَواب دیا، ”تمہارے خادِم وَیسا ہی کریں گے جَیسا یَاہوِہ نے حُکم دیا ہے۔
NUM 32:32 ہم مُسلّح ہوکر یَاہوِہ کے حُضُور میں اُس پار مُلکِ کنعانؔ میں جایٔیں گے لیکن جو جائداد ہمیں مِیراث میں ملے وہ یردنؔ کے اِس پار ہی ہو۔“
NUM 32:33 تَب مَوشہ نے بنی گادؔ، بنی رُوبِنؔ اَور یُوسیفؔ کے بیٹے منشّہ کے نِصف قبیلہ کو امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کی اَور باشانؔ کے بادشاہ عوگؔ کی مملکت یعنی اُن کا سارا مُلک دے دیا جِس میں اُن کے تمام شہر اَور اُن کے اِردگرد کے علاقے شامل تھے۔
NUM 32:34 بنی گادؔ نے دیبونؔ، عطاروتؔ، عروعؔر،
NUM 32:35 عطروتؔ شوفانؔ، یعزیرؔ، یُگبِہؔا،
NUM 32:36 بیت نِمرہؔ اَور بیت حارانؔ جَیسے فصیلدار شہر تعمیر کئے اَور اَپنے گلّوں کے لیٔے بھیڑوں کے باڑے بنائے۔
NUM 32:37 اَور بنی رُوبِنؔ نے حِشبونؔ، الیعالہؔ اَور قِریتائم کو اَز سَر نَو تعمیر کیا،
NUM 32:38 اَور نبوؔ اَور بَعل مِعُون (یہ نام تبدیل کئے گیٔے) اَور سِبماہؔ بھی تعمیر کئے۔ اُنہُوں نے اَپنے تعمیر کَردہ نئے شہروں کے دُوسرے نام رکھے۔
NUM 32:39 منشّہ کے بیٹے مکیرؔ کی نَسل کے لوگوں نے گِلعادؔ جا کر اُس پر قبضہ کر لیا اَور وہاں جو امُوری تھے اُنہیں نکال دیا۔
NUM 32:40 چنانچہ مَوشہ نے گِلعادؔ کا علاقہ مکیرؔ بِن منشّہ کو دے دیا اَور اُس کی نَسل کے لوگ وہاں بس گیٔے۔
NUM 32:41 اَور منشّہ کے بیٹے یائیرؔ نے اِردگرد کی بستیوں پر قبضہ کر لیا اَور اُن کا نام حوّوت یائیرؔ رکھا۔
NUM 32:42 اَور نوبحؔ نے قناتؔ اَور اُس کے گرد و نواح کی بستیوں کو اَپنے قبضہ میں لے لیا اَور اُس علاقہ کا نام اَپنے ہی نام پر نوبحؔ رکھا۔
NUM 33:1 جَب بنی اِسرائیل مَوشہ اَور اَہرونؔ کی قیادت میں دستے بنا کر مُلک مِصر سے نکلے تو اُنہُوں نے اَپنے سفر میں حسب ذیل منزلیں طے کیں۔
NUM 33:2 یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق مَوشہ نے اُن کے سفر کی یہ منزلیں درج کر لیں۔ لہٰذا اُن کا مَنزل بہ مَنزل سفر یُوں رہا:
NUM 33:3 پہلے مہینے کے پندرھویں دِن یعنی فسح کے دُوسرے دِن بنی اِسرائیل نے رَعمسیسؔ سے کُوچ کیا۔ وہ سَب مِصریوں کی نظروں کے سامنے نہایت دِلیری سے نکل پڑے
NUM 33:4 جو مِصری اَپنے پہلوٹھوں کو جنہیں یَاہوِہ نے مار ڈالا تھا دفن کرنے میں مصروف تھے کیونکہ یَاہوِہ نے اُن کے معبُودوں کو بھی سزا دی تھی۔
NUM 33:5 بنی اِسرائیل رَعمسیسؔ سے کُوچ کرکے سُکّوتؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:6 اَور سُکّوتؔ سے کُوچ کرکے ایتھامؔ میں جو بیابان کے سِرے پر ہے، خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:7 پھر وہ ایتھامؔ سے کُوچ کرکے بَعل ضِفونؔ کے مشرق کی جانِب پیہاخیروتؔ کو مُڑے اَور مِگدُلؔ کے نزدیک خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:8 تَب اُنہُوں نے پیہاخیروتؔ سے کُوچ کیا اَور سمُندر کے درمیان سے گزر کر بیابان میں داخل ہویٔے اَور ایتھامؔ کے بیابان میں تین دِن کی مَسافات طے کرکے مارہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:9 مارہؔ سے کُوچ کرکے ایلِمؔ کو گیٔے جہاں پانی کے بَارہ چشمے اَور کھجور کے ستّر درخت تھے اَور وہاں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:10 پھر وہ ایلِمؔ سے کُوچ کرکے بحرِقُلزمؔ کے کنارے خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:11 اَور بحرِقُلزمؔ سے کُوچ کرکے سِنؔ کے بیابان میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:12 دشتِ سِنؔ کے بیابان سے کُوچ کرکے وہ دفقہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:13 اَور دفقہؔ سے کُوچ کرکے الُوشؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:14 الُوشؔ سے کُوچ کرکے وہ رفیدیمؔ میں خیمہ زن ہویٔے جہاں لوگوں کو پینے کے لیٔے پانی نہ مِلا۔
NUM 33:15 رفیدیمؔ سے کُوچ کرکے وہ سِینؔائی کے بیابان میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:16 اَور سِینؔائی کے بیابان سے کُوچ کرکے قِبروتؔ ہتّاوہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:17 قِبروتؔ ہتّاوہؔ سے کُوچ کرکے وہ حَضِیروتؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:18 اَور حَضِیروتؔ سے کُوچ کرکے رِتھمہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:19 رِتھمہؔ سے کُوچ کرکے وہ رِمّونؔ پیریزؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:20 اَور رِمّونؔ پیریزؔ سے کُوچ کرکے لِبناہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:21 لِبناہؔ سے کُوچ کرکے وہ ریسّہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:22 اَور ریسّہؔ سے کُوچ کرکے قہیلاتہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:23 قہیلاتہؔ سے کُوچ کرکے وہ کوہِ شافِرؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:24 اَور کوہِ شافِرؔ سے کُوچ کرکے حَرادہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:25 حَرادہؔ سے کُوچ کرکے مقہیلوتؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:26 اَور مقہیلوتؔ سے کُوچ کرکے تحتؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:27 تحتؔ سے کُوچ کرکے وہ تیراحؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:28 اَور تیراحؔ سے کُوچ کرکے مِتقہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:29 مِتقہؔ سے کُوچ کرکے وہ حشمُونہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:30 اَور حشمُونہؔ سے کُوچ کرکے موسِیروتؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:31 موسِیروتؔ سے کُوچ کرکے وہ بنی جعقانؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:32 اَور بنی جعقانؔ سے کُوچ کرکے حور ہَگِدّگَادؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:33 حور ہَگِدّگَادؔ سے کُوچ کرکے وہ یُوطباتؔہ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:34 اَور یُوطباتؔہ سے کُوچ کرکے عبرونہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:35 عبرونہؔ سے کُوچ کرکے وہ عضیُون گیبر میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:36 اَور عضیُون گیبر سے کُوچ کرکے صینؔ کے بیابان میں قادِسؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:37 قادِسؔ سے کُوچ کرکے وہ مُلک اِدُوم کی سرحد پر کوہِ ہُورؔ پر خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:38 اَور بنی اِسرائیل کے مِصر سے نکل آنے کے چالیسویں سال کے پانچویں مہینے کے پہلے دِن اَہرونؔ کاہِنؔ یَاہوِہ سے حُکم پا کر کوہِ ہُورؔ پر چڑھ گیا جہاں اُس نے وفات پائی۔
NUM 33:39 اَور جَب اَہرونؔ نے کوہِ ہُورؔ پر وفات پائی تَب وہ ایک سَو تئیس سال کا تھا۔
NUM 33:40 عَرادؔ کے کنعانی بادشاہ کو جو مُلکِ کنعانؔ کے نِیگیوؔ میں رہتا تھا بنی اِسرائیل کے آنے کی خبر مِلی۔
NUM 33:41 کوہِ ہُورؔ سے کُوچ کرکے وہ ضلمُونہؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:42 اَور ضلمُونہؔ سے کُوچ کرکے فُونونؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:43 فُونونؔ سے کُوچ کرکے وہ اوبُوتؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:44 اَور اوبُوتؔ سے کُوچ کرکے مُوآب کی سرحد پر عیّے عباریمؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:45 عیّم عباریمؔ سے کُوچ کرکے وہ دیبونؔ گادؔ میں خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:46 اَور دیبونؔ گادؔ سے کُوچ کرکے علمونؔ دِبلہ تائیمؔ میں خیمہ زن ہویٔے
NUM 33:47 علمونؔ دِبلہ تائیمؔ سے کُوچ کرکے عباریمؔ کے پہاڑوں پر نبوؔ کے مقابل خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:48 اَور پھر اُنہُوں نے عباریمؔ کے پہاڑوں سے کُوچ کیا اَور مُوآب کے میدانوں میں یردنؔ کے کنارے یریحوؔ کے مقابل خیمہ زن ہویٔے۔
NUM 33:49 اَور وہاں مُوآب کے میدانوں میں اُنہُوں نے یردنؔ کے کنارے پر بیت یسیموتؔ سے لے کر ابیل شِطِّیمؔ تک اَپنے خیمے کھڑے کئے۔
NUM 33:50 تَب یَاہوِہ نے مُوآب کے میدانوں میں یریحوؔ کے مقابل کے یردنؔ کے کنارے پھر مَوشہ سے کہا:
NUM 33:51 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے کہہ، ’جَب تُم یردنؔ کو عبور کرکے مُلکِ کنعانؔ میں داخل ہو
NUM 33:52 تو اُس مُلک کے سبھی باشِندوں کو اَپنے سامنے سے نکال دینا اَور اُن کے تراشے ہویٔے بُتوں اَور ڈھالی ہویٔی مورتیوں کو توڑ ڈالنا اَور اُن کے تمام اُونچے مقامات کو مِسمار کردینا۔
NUM 33:53 تُم اُس مُلک پر قبضہ کرکے اُس میں بُودوباش کرنا کیونکہ مَیں نے وہ مُلک تُمہیں دیا ہے تاکہ تُم اُس کے مالک بنو۔
NUM 33:54 تُم اَپنی برادریوں کے مُطابق قُرعہ اَندازی کے ذریعہ اُس مُلک کو بانٹ لینا۔ بڑے گِروہ کو زِیادہ مِیراث دینا اَور چُھوٹے کو کم۔ جو حِصّہ قُرعہ اَندازی کے ذریعہ اُن کے نام سے نکلے وہ اُن کا ہوگا۔ تُم اَپنے آبائی قبائل کے مُطابق مِیراث تقسیم کرنا۔
NUM 33:55 ” ’لیکن اگر تُم اُس مُلک کے باشِندوں کو نہیں نکالوگے تو جِن کو تُم رہنے دوگے وہ تمہاری آنکھوں میں خار اَور تمہارے پہلوؤں میں کانٹے بَن کر رہ جایٔیں گے اَور جِس مُلک میں تُم بسوگے وہاں وہ تُمہیں دِق کریں گے۔
NUM 33:56 اَور تَب مَیں تمہارے ساتھ وُہی کروں گا جو میں اُن کے ساتھ کرنا چاہتا ہُوں۔‘ “
NUM 34:1 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا:
NUM 34:2 ”بنی اِسرائیل کو حُکم دے اَور اُن سے کہہ کہ جَب تُم مُلکِ کنعانؔ میں داخل ہو جو مِیراث کے طور پر تمہارے سُپرد کیا جائے گا تو اُس کی حُدوُد یہ رہیں گی۔
NUM 34:3 ” ’تمہاری جُنوبی سمت میں مُلک اِدُوم کی سرحد سے لگ کر صینؔ کے بیابان کا کچھ حِصّہ شامل ہوگا۔ مشرق کی جانِب تمہاری جُنوبی سرحد بحرمُردار کے سِرے سے شروع ہوکر،
NUM 34:4 درّۂ عقرابیمؔ کے جُنوب سے ہوتی ہُوئی اَور صینؔ سے گزرتی ہُوئی قادِسؔ برنیع کے جُنوب میں جا نکلے۔ تَب وہ حضارادّاؔر کو جا کر عضمُوؔن تک پہُنچے گی،
NUM 34:5 جہاں وہ عضمُوؔن سے مُڑ کر وادی مِصر سے مِل کر سمُندر پر ختم ہوگی۔
NUM 34:6 تمہاری مغربی سرحد بڑے سمُندر کا ساحِل ہوگی۔ یہی تمہاری مغربی سرحد ہوگی۔
NUM 34:7 شمالی سرحد کے لیٔے بہر رُوم سے کوہِ ہُورؔ تک ایک لکیر کھینچنا،
NUM 34:8 اَور اُسے کوہِ ہُورؔ سے لیبو حماتؔ کے مدخل تک بڑھا لینا۔ تَب وہ سرحد ضِدادؔ تک جائے گی۔
NUM 34:9 اَور زِفروُنؔ تک ہوتی ہُوئی حضار عینانؔ پر ختم ہوگی۔ یہ تمہاری شمالی سرحد ہوگی۔
NUM 34:10 مشرقی سرحد کے لیٔے حضار عینانؔ سے شفامؔ تک ایک لکیر کھینچنا۔
NUM 34:11 پھر وہ سرحد شفامؔ سے نیچے کی طرف عینؔ کے مشرق میں رِبلہؔ کو جائے گی اَور کِنّریتؔ کی جھیل کے مشرق کی ڈھلانوں سے ہوتی ہُوئی نکلے گی۔
NUM 34:12 تَب وہ سرحد یردنؔ کے کنارے سے نکلتی ہُوئی بحرمُردار پر ختم ہوگی۔
NUM 34:13 مَوشہ نے بنی اِسرائیل کو حُکم دیا: ”اُس مُلک کو قُرعہ اَندازی کے ذریعہ بطور مِیراث بانٹ لینا۔ یَاہوِہ نے حُکم دیا ہے کہ اِسے ساڑھے نَو قبیلوں کو دیا جائے،
NUM 34:14 کیونکہ رُوبِنؔ کے قبیلہ اَور گادؔ کے قبیلہ اَور منشّہ کے نِصف قبیلہ کے خاندان اَپنی مِیراث پا چُکے ہیں۔
NUM 34:15 اُن ڈھائی قبیلوں نے یردنؔ کے مشرقی ساحِل پر یریحوؔ کے مقابل جہاں سے آفتاب طُلوع ہوتاہے اَپنی مِیراث پائی ہے۔“
NUM 34:16 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا،
NUM 34:17 ”جو لوگ اِس مُلک کو مِیراث کے طور پر تمہارے سُپرد کریں گے اُن کے نام یہ ہیں: الیعزرؔ کاہِنؔ اَور یہوشُعؔ بِن نُونؔ۔
NUM 34:18 اَور مُلک کو مِیراث کے طور پر بانٹنے میں مدد کرنے کے لیٔے ہر قبیلہ سے ایک سردار کا تقرّر کرنا۔
NUM 34:19 ”اَور اُن کے نام یہ ہیں: ”یہُوداہؔ کے قبیلہ سے یفُنّہؔ کا بیٹا کالبؔ؛
NUM 34:20 شمعُونؔ کے قبیلہ سے عمّیہُوؔد کا بیٹا شموایلؔ؛
NUM 34:21 بِنیامین کے قبیلہ سے کِسلونؔ کا بیٹا، اِلیدادؔ؛
NUM 34:22 دانؔ کے قبیلہ کا سردار یُگلیؔ کا بیٹا بُقّیؔ؛
NUM 34:23 یُوسیفؔ کے بیٹے منشّہ کے قبیلہ کا سردار حنّی ایل بِن افُود۔
NUM 34:24 یُوسیفؔ کے بیٹے اِفرائیمؔ کے قبیلہ کا سردار قمُوایلؔ بِن سِفتانؔ۔
NUM 34:25 زبُولُون کے قبیلہ کا سردار اِلیضفنؔ بِن پرناکؔ۔
NUM 34:26 یِسَّکاؔر کے قبیلہ کا سردار، پَلطیؔ ايلؔ بِن عَزّانؔ؛
NUM 34:27 آشیر کے قبیلہ کا سردار اخیہُودؔ بِن شلُومیؔ۔
NUM 34:28 اَور نفتالی کے قبیلہ کا سردار پِداہیلؔ بِن عمّیہُوؔد۔“
NUM 34:29 یہ وہ لوگ ہیں جنہیں یَاہوِہ نے حُکم دیا کہ مُلکِ کنعانؔ میں بنی اِسرائیل کو مِیراث تقسیم کریں۔
NUM 35:1 یَاہوِہ نے مُوآب کے میدانوں میں جو یریحوؔ کے مقابل یردنؔ کے کنارے پر ہیں مَوشہ سے کہا:
NUM 35:2 ”بنی اِسرائیل کو حُکم دے کہ جو مِیراث تُمہیں ملے گی اُس میں سے تُم لیویوں کو اُن کے رہنے کے لیٔے شہر دینا اَور اُن شہروں کے اطراف کی چراگاہیں بھی اُنہیں دینا۔
NUM 35:3 تَب اُن کے پاس رہنے کے لیٔے شہر اَور اُن کے گائے بَیلوں، بھیڑ بکریوں کے گلّوں اَور اُن کے دُوسرے سبھی مویشیوں کے لیٔے چراگاہیں ہُوں گی۔
NUM 35:4 ”شہر کے اطراف کی جو چراگاہیں تُم لیویوں کو دوگے وہ شہر کی فصیل سے تقریباً چار سَو مِیٹر دُور تک پھیلی ہُوئی ہُوں۔
NUM 35:5 تُم شہر کے باہر مشرق کی جانِب تقریباً نَو سَو مِیٹر، جُنوب کی جانِب تقریباً نَو سَو مِیٹر، مغرب کی جانِب تقریباً نَو سَو مِیٹر اَور شمال کی جانِب تقریباً نَو سَو مِیٹر اِس طرح ناپنا کہ شہر اُن کے درمیان آ جائے۔ شہروں کے اطراف کا یہ علاقہ اُن کے لیٔے چراگاہ ہوگا۔
NUM 35:6 ”جو شہر تُم لیویوں کو دو اُن میں سے چھ پناہ کے لیٔے مخصُوص ہُوں جہاں اَیسا شخص جِس نے کسی کا خُون کیا ہو بھاگ جائے۔ اِن کے علاوہ اُنہیں بِیالیس شہر اَور بھی دے دینا۔
NUM 35:7 کُل مِلا کر تُم لیویوں کو اڑتالیس شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دے دینا۔
NUM 35:8 بنی اِسرائیل کی مِیراث میں سے جو شہر تُم لیویوں کو دو وہ ہر قبیلہ کی مِیراث میں سے اِس اُصُول کے مُطابق لیٔے جایٔیں کہ جِس قبیلہ کے پاس زِیادہ شہر ہُوں اُن سے زِیادہ اَور جِن کے پاس کم ہُوں اُن سے کم طلب کئے جایٔیں۔“
NUM 35:9 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا:
NUM 35:10 ”بنی اِسرائیل سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے کہہ: جَب تُم یردنؔ کو پار کرکے مُلکِ کنعانؔ پہُنچ جاؤ،
NUM 35:11 تو چند شہر اَپنے لیٔے پناہ کے شہروں کے طور پر چُن لینا جہاں وہ شخص جِس سے غَیر اِرادی طور پر کویٔی قتل سرزد ہو گیا ہو بھاگ کر جا سکے۔
NUM 35:12 وہ شہر اِنتقام لینے والے سے پناہ پانے کے مقام ہوں گے تاکہ جَب تک قتل کے فَیصلہ کے لیٔے جماعت کے سامنے کھڑا نہ ہو تَب تک مارا نہ جائے۔
NUM 35:13 یہ چھ شہر جو تُم دوگے تمہارے پناہ کے شہر ہوں گے۔
NUM 35:14 اِن میں سے تین یردنؔ کے اِس پار اَور تین مُلکِ کنعانؔ میں پناہ کے شہروں کے طور پر دے دینا۔
NUM 35:15 یہ چھ شہر بنی اِسرائیل کے لیٔے اَور پردیسیوں اَور اُن لوگوں کے لیٔے پناہ کے شہر ہوں گے جو اُن کے درمیان بُودوباش کرتے ہیں تاکہ جو شخص کسی کو غَیر اِرادی طور پر قتل کرے وہ وہاں بھاگ جائے۔
NUM 35:16 ” ’اگر کویٔی آدمی کسی شخص کو لوہے کی کسی چیز سے اَیسا مارے کہ وہ مَر جائے تو وہ خُونی ٹھہرے گا اَیسا خُونی جان سے ماراجائے۔
NUM 35:17 یا اگر کسی کے ہاتھ میں جان لیوا پتّھر ہو اَور وہ اُس سے کسی کو اَیسا مارے کہ وہ مَر جائے تو وہ خُونی ٹھہرے گا۔ اَیسا خُونی جان سے ماراجائے۔
NUM 35:18 یا اگر کسی کے ہاتھ میں لکڑی کی کویٔی جان لیوا چیز ہو اَور وہ اُس سے کسی کو اَیسا مارے کہ وہ مَر جائے تو وہ خُونی ٹھہرے گا۔ اَیسا خُونی جان سے ماراجائے۔
NUM 35:19 خُون کا اِنتقام لینے والا خُود ہی اُس خُونی کو قتل کرے یعنی جَب بھی اُسے پایٔے اُسی وقت اُسے مار ڈالے۔
NUM 35:20 اگر کویٔی کسی کو عداوت کے باعث اِرادتاً دھکیل دے یا دانستہ طور پر کویٔی شَے اُس کے اُوپر پھینک دے اَور وہ مَر جائے
NUM 35:21 یا دُشمنی سے اُسے اَپنے ہاتھ سے اَیسا مارے کہ وہ مَر جائے تو وہ شخص جان سے مار ڈالا جائے۔ وہ خُونی ہے۔ خُون کا اِنتقام لینے والا جَب بھی اُس خُونی کو پایٔے اُسے اُسی وقت مار ڈالے۔
NUM 35:22 ” ’لیکن اگر کویٔی شخص کسی کو بغیر عداوت کے ناگہاں دھکیل دے یا غَیر اِرادتاً کویٔی شَے اُس کے اُوپر پھینک دے
NUM 35:23 یا اُسے دیکھے بغیر اُس کے اُوپر اَیسا پتّھر گرا دے جو اُس کی جان لے سکے اَور وہ مَر جائے تو چونکہ وہ اُس کا دُشمن نہ تھا اَور نہ اُسے ضرر پہُنچانے کا اِرادہ رکھتا تھا،
NUM 35:24 اِس لیٔے جماعت اُس کے اَور خُون کا اِنتقام لینے والے کے درمیان اِن ضوابط کے مُطابق فَیصلہ کرے۔
NUM 35:25 اَور جماعت اُس قاتل کو خُون کا اِنتقام لینے والے کے ہاتھ سے بچالے اَور اُسے واپس پناہ کے اُس شہر میں بھیج دے جہاں وہ بھاگ گیا تھا۔ مُقدّس تیل سے ممسوح کئے ہویٔے اعلیٰ کاہِن کے زندہ رہنے تک وہ وہیں رہے گا۔
NUM 35:26 ” ’لیکن اگر وہ مُلزم پناہ کے شہر کی حُدوُد کے باہر نکل جائے جہاں وہ بھاگ کر گیا تھا
NUM 35:27 اَور خُون کا اِنتقام لینے والا اُس مُلزم کو شہر کے باہر پا کر قتل کر ڈالے تو بھی وہ خُون بہانے کا مُجرم نہ ٹھہرے گا۔
NUM 35:28 چنانچہ مُلزم اعلیٰ کاہِن کاہِنؔ کی موت تک پناہ کے شہر میں ہی رہے اَور اعلیٰ کاہِن کی موت کے بعد ہی وہ اَپنی موروثی جگہ واپس ہو۔
NUM 35:29 ” ’تُم جہاں بھی رہو تمہاری آنے والی پُشتوں پر آئین کے اِن ہی ضوابط کا اِطلاق ہوگا۔
NUM 35:30 ” ’اگر کویٔی شخص کسی اِنسان کو مار ڈالے تو اِس قاتل کو گواہوں کی شہادت پر ہی قتل کیا جائے۔ لیکن کسی ایک ہی گواہ کی شہادت پر کویٔی شخص قتل نہ کیا جائے۔
NUM 35:31 ” ’سزائے موت کے مُستحق خُونی مُجرم کی جان بحالی کے لیٔے فدیہ قبُول نہ کرنا۔ اُسے لازمی طور پر مار ڈالا جائے۔
NUM 35:32 ” ’اَورجو شخص پناہ کے شہر کو بھاگ گیا ہو اُس کے لیٔے بھی اِس غرض سے فدیہ قبُول نہ کرنا کہ اعلیٰ کاہِن کی موت سے قبل اُسے اَپنے مُلک میں لَوٹ کر رہنے کا موقع مِل سکے۔
NUM 35:33 ” ’جِس مُلک میں تُم ہو اُسے ناپاک نہ کرنا۔ خُونریزی مُلک کو ناپاک کردیتی ہے اَور اُس مُلک کے لیٔے جِس میں خُون بہایا جائے اُس شخص کے خُون کے علاوہ جِس نے خُون بہایا ہو، اَور کسی چیز کا کفّارہ نہیں دیا جا سَکتا۔
NUM 35:34 اُس مُلک کو ناپاک نہ کرو جہاں تُم بستے ہو اَور جہاں میں رہتا ہُوں کیونکہ مَیں جو یَاہوِہ ہُوں بنی اِسرائیل کے درمیان رہتا ہُوں۔‘ “
NUM 36:1 منشّہ کے پوتے اَور مکیرؔ کے بیٹے گِلعادؔ کی برادری کے خاندان کے سربراہوں نے جو یُوسیفؔ کی نَسل کی برادریوں سے تعلّق رکھتے تھے مَوشہ اَور اُن سرداروں کے پاس آکر جو اِسرائیلی خاندانوں کے سربراہ تھے بات چیت کی۔
NUM 36:2 اُنہُوں نے کہا، ”جَب یَاہوِہ نے ہمارے آقا کو یہ مُلک بنی اِسرائیل کو قُرعہ اَندازی کے ذریعہ بطور مِیراث دینے کا حُکم دیا تو اُنہُوں نے تُمہیں حُکم دیا تھا کہ ہمارے بھایٔی ضلافحادؔ کی مِیراث اُس کی بیٹیوں کو دی جائے۔
NUM 36:3 بالفرض وہ بنی اِسرائیل کے دُوسرے قبیلوں کے مَردوں سے بیاہ کر لیتی ہیں تو اُن کی مِیراث ہماری آبائی مِیراث سے نکل کر اُس قبیلہ کی مِیراث میں شامل کی جائے گی جِس سے وہ بیاہی جایٔیں گی اَور اِس طرح ہمیں دی ہُوئی مِیراث کا کچھ حِصّہ لے لیا جائے گا۔
NUM 36:4 اَور جَب بنی اِسرائیل کا یوویلؔ کا سال آئے گا تَب اُن کی مِیراث اُس قبیلہ کی مِیراث میں شامل کی جائے گی جِس میں وہ بیاہی جایٔیں گی اَور اُن کی جائداد ہمارے آباؤاَجداد کی قبائلی مِیراث سے نکل جائے گی۔“
NUM 36:5 تَب یَاہوِہ کے حُکم سے مَوشہ نے بنی اِسرائیل کو یہ ہدایت دی: ”یُوسیفؔ کی نَسل کے قبیلہ کے لوگ ٹھیک کہتے ہیں۔
NUM 36:6 ضلافحادؔ کی بیٹیوں کے حق میں یَاہوِہ کا حُکم یہ ہے، ’وہ جِس کسی کو چاہیں اُس سے بیاہ کر لیں لیکن وہ اَپنے آباؤاَجداد کے قبیلہ کی برادریوں میں ہی بیاہی جایٔیں۔‘
NUM 36:7 بنی اِسرائیل میں مِیراث ایک قبیلہ سے دُوسرے قبیلہ میں جانے نہ پایٔے اَور ہر اِسرائیلی اَپنا مُلک جسے اُس نے اَپنے آباؤاَجداد سے مِیراث میں پایا ہے اَپنے ہی قبضہ میں رکھے۔
NUM 36:8 ہر بیٹی جو بنی اِسرائیل کے کسی قبیلہ میں مِیراث پاتی ہے وہ اَپنے آبائی قبیلہ کے برادریوں میں ہی بیاہی جائے تاکہ ہر اِسرائیلی اَپنے آباؤاَجداد کی مِیراث پر قابض رہے۔
NUM 36:9 کویٔی مِیراث ایک قبیلہ سے دُوسرے قبیلہ میں جانے نہ پایٔے بَلکہ ہر اِسرائیلی قبیلہ اَپنی اَپنی مِیراث اَپنے قبضہ میں رکھے۔“
NUM 36:10 چنانچہ ضلافحادؔ کی بیٹیوں نے وَیسا ہی کیا، جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
NUM 36:11 لہٰذا ضلافحادؔ کی بیٹیاں محلاہؔ، تِرضاؔہ، حُگلاہؔ، مِلکاہؔ، اَور نوحؔا اَپنے چچیرے بھائیوں کے ساتھ بیاہی گئیں۔
NUM 36:12 یعنی وہ یُوسیفؔ کے بیٹے منشّہ کی نَسل کی برادریوں میں بیاہی گئیں اَور اُن کی مِیراث اُن کے آبائی برادری اَور قبیلہ میں ہی قائِم رہی۔
NUM 36:13 جو اَحکام اَور ضوابط یَاہوِہ نے مُوآب کے میدانوں میں یریحوؔ کے پاس یردنؔ کے کنارے پر مَوشہ کی مَعرفت بنی اِسرائیل کو دئیے یہی ہیں۔
DEU 1:1 یہ وُہی باتیں ہیں جو مَوشہ نے سَب اِسرائیلیوں سے یردنؔ کے مشرق میں عراباہؔ کے بیابان میں کیں جو سُوفؔ کے مقابل کے میدان میں پارانؔ اَور طوفلؔ، لابنؔ، حَضِیروتؔ اَور دِیذہبؔ کے درمیان ہے۔
DEU 1:2 (کوہِ حورِبؔ سے کوہِ سِعِیؔر ہوتے ہویٔے قادِسؔ برنیع تک جانے کے لیٔے صِرف گیارہ دِن ہی لگتے ہیں۔)
DEU 1:3 چالیسویں سال کے گیارھویں مہینے کے پہلے دِن مَوشہ نے بنی اِسرائیل کے سامنے اُن سَب باتوں کو بَیان کیا جِن کے بارے میں یَاہوِہ نے اُن کو حُکم دیا تھا۔
DEU 1:4 اِس وقت مَوشہ امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کو جو حِشبونؔ میں حُکمراں تھا اَور باشانؔ کے بادشاہ عوگؔ کو جو عستاراتؔ میں حُکمراں تھا، ادرعیؔ کے مقام پر شِکست دے چُکے تھے۔
DEU 1:5 جَب وہ یردنؔ کے مشرق میں مُوآب کی سرزمین میں ہی تھے، مَوشہ نے اُس آئین کو یُوں بَیان کرنا شروع کیا:
DEU 1:6 یَاہوِہ ہمارے خُدا نے کوہِ حورِبؔ پر ہم سے یہ فرمایا تھا، ”تُم اِس پہاڑ پر کافی عرصہ سے رہتے آئے ہو۔
DEU 1:7 لہٰذا اَب اَپنی چھاؤنی اُٹھالو اَور امُوریوں کے کوہستانی مُلک میں آگے بڑھو اَور عراباہؔ کے گِردونواح کی سَب قوموں میں پہاڑی علاقوں میں، مغربی پہاڑوں کے دامن میں، نِیگیوؔ کے علاقہ میں اَور سمُندر کے ساحِل سے ہوتے ہویٔے کنعانیوں کے مُلک میں اَور لبانونؔ میں یہاں تک کہ بڑے دریائے فراتؔ تک چلے جاؤ۔
DEU 1:8 دیکھو مَیں نے یہ مُلک تُمہیں دے دیا ہے لہٰذا اُس میں داخل ہو جاؤ اَور اُس مُلک پر اَپنا قبضہ جما لو جسے تمہارے آباؤاَجداد، اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کو اَور اُن کے بعد اُن کی نَسل کو دینے کی یَاہوِہ نے قَسم کھائی ہے۔“
DEU 1:9 اُس وقت مَیں نے تُم سے کہاتھا، ”میں اکیلا تمہارا بوجھ نہیں اُٹھا سَکتا۔
DEU 1:10 یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تمہاری تعداد اِس قدر بڑھا دی ہے کہ آج تمہارا شُمار آسمان کے تاروں کے برابر ہو گیا ہے۔
DEU 1:11 یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد کے خُدا تُمہیں اَور ہزار گُنا بڑھائیں اَور اَپنے وعدے کے مُطابق تُمہیں برکت دیں!
DEU 1:12 لیکن مَیں اکیلا تمہارے مسائل تمہارے بوجھ کے اَور تمہارے تنازعوں کو کہاں تک برداشت کر سَکتا ہُوں؟
DEU 1:13 لہٰذا تُم اَپنے ہر قبیلہ میں سے چند دانشمند، ذی فہم اَور قابل اِحترام لوگوں کو چُن لو اَور مَیں اُنہیں تُم پر مُقرّر کر دُوں گا۔“
DEU 1:14 اِس کے جَواب میں تُم نے مُجھ سے کہاتھا، ”آپ جو کرنا چاہتے ہیں وہ ٹھیک ہے۔“
DEU 1:15 چنانچہ مَیں نے تمہارے قبیلوں کے نامور لوگوں کو جو دانشمند اَور قابل اِحترام تھے، لیا اَور اُنہیں ہزار ہزار، سَو سَو، پچاس پچاس اَور دس دس لوگوں پر بطور حاکم مامُور کر دیا۔
DEU 1:16 اَور اُس وقت مَیں نے تمہارے قاضیوں کو یہ تاکید کی تھی، ”کہ تُم اَپنے بھائیوں کے مُقدّمے غور سے سُنا کرو اَور اِنصاف کے ساتھ فیصلہ کیا کرو خواہ وہ مُعاملہ دو اِسرائیلیوں کا ہو یا کسی اِسرائیلی اَور پردیسی کے درمیان کا ہو جو تمہارے درمیان رہتے ہُوں۔
DEU 1:17 فیصلہ کرتے وقت کسی کی طرفداری نہ کرنا بَلکہ بڑے اَور چُھوٹوں دونوں کی باتیں برابر سُننا اَور کسی آدمی سے مت ڈرنا کیونکہ اِنصاف خُدا کا ہے۔ اَورجو مُقدّمہ تمہارے لیٔے مُشکل ہو اُسے میرے پاس لے آنا اَور مَیں اُسے سُنوں گا۔“
DEU 1:18 اَور اُس وقت مَیں نے تُمہیں سَب کچھ جو تُمہیں کرنا تھا صَاف صَاف بتا دیا تھا۔
DEU 1:19 تَب جَیسا یَاہوِہ ہمارے خُدا نے ہمیں حُکم دیا تھا، ہم نے حورِبؔ سے کوچ کیا اَور اُس تمام وسیع اَور خوفناک بیابان میں سے ہوتے ہویٔے جسے خُود تُم نے امُوریوں کے کوہستانی مُلک کے راستے میں دیکھا تھا؛ پھر ہم وہاں سے ہوتے ہویٔے قادِسؔ برنیع میں پہُنچے۔
DEU 1:20 تَب مَیں نے تُم سے کہا، ”تُم امُوریوں کے کوہستانی مُلک میں آ گیٔے ہو، جسے یَاہوِہ ہمارے خُدا ہمیں دے رہے ہیں۔
DEU 1:21 دیکھو، یَاہوِہ تمہارے خُدا نے یہ مُلک تُمہیں دے دیا ہے۔ لہٰذا جاؤ اَور اُس مُلک پر اَپنا قبضہ کر لو جَیسا یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد کے خُدا نے تُم سے فرمایاہے۔ پس تُم خوف نہ کھاؤ اَور نہ ہِراساں ہو۔“
DEU 1:22 یہ سُن تُم سَب میرے پاس آکر کہنے لگے، ”ہم وہاں اَپنے جانے سے پہلے کچھ آدمیوں کو اُس مُلک کی جاسُوسی کرنے کے مقصد سے بھیجیں تاکہ وہ اُس مُلک کا حال دریافت کریں اَور آکر ہمیں بتائیں کہ ہمیں کِس راہ سے جانا ہوگا اَور کون کون سے شہر ہمارے راستے میں پڑیں گے۔“
DEU 1:23 یہ نظریات مُجھے اَچھّی مَعلُوم ہُوئی؛ چنانچہ مَیں نے تمہارے ہر ایک قبیلہ میں سے ایک ایک آدمی کے حِساب سے بَارہ آدمی مُنتخب کیٔے۔
DEU 1:24 پھر وہ روانہ ہویٔے اَور کوہستانی مُلک کی طرف کوچ کیٔے اَور وادیِ اِشکلؔ میں پہُنچ کر اُنہُوں نے اُس کا جائزہ لیا۔
DEU 1:25 اَور اُس مُلک کا کچھ پھل اَپنے ساتھ لے کر ہمارے پاس لَوٹ آئے، اَور ہمیں اِطّلاع دی، ”کہ یَاہوِہ ہمارے خُدا جو مُلک ہمیں دے رہے ہیں وہ واقعی اَچھّا ہے۔“
DEU 1:26 لیکن تُم وہاں جانا نہ چاہتے تھے اَور تُم نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُکم کے خِلاف بغاوت کی۔
DEU 1:27 تُم اَپنے خیموں میں بُڑبُڑائے اَور کہنے لگے، ”یَاہوِہ ہم سے نفرت کرتے ہیں اِس لیٔے وہ ہمیں مِصر سے نکال لایٔے تاکہ ہمیں امُوریوں کے حوالہ کرکے تباہ کر دیں۔
DEU 1:28 ہم کہاں جایٔیں؟ ہمارے بھائیوں نے تو ہمارے حوصلے پست کر دیئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’وہ لوگ ہم سے زِیادہ طاقتور اَور قدآور ہیں اَور کافی لمبے ہیں، اُن کے شہر بھی بڑے ہیں جِن کی فصیلیں آسمان کو چھُوتی ہیں، اِس کے علاوہ ہم نے وہاں عناقیوں کی نَسل کو بھی دیکھاہے۔‘ “
DEU 1:29 تَب مَیں نے تُم سے کہا، ”خوفزدہ نہ ہو اَور نہ اُن سے ڈرو۔
DEU 1:30 یَاہوِہ تمہارے خُدا جو تمہارے آگے آگے چلتے ہیں تمہاری خاطِر لڑیں گے جَیسا کہ اُنہُوں نے مِصر میں خُود تمہاری آنکھوں کے سامنے کیا تھا۔
DEU 1:31 اَور بیابان میں بھی تُم نے دیکھا کہ کس طرح یَاہوِہ تمہارے خُدا نے پُورے راستہ میں اِس طرح سے تُمہیں اُٹھائے رہے جِس طرح ایک باپ اَپنے بیٹے کو اُٹھائے ہویٔے چلتا ہے، جَب تک تُم اِس مقام تک نہیں پہُنچ گیٔے۔“
DEU 1:32 اِس کے باوُجُود بھی تُم نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کا توکّل نہ کیا۔
DEU 1:33 جو تمہارے سفر کے دَوران رات کو آگ میں اَور دِن کے وقت بادل میں ہوکر تمہارے آگے آگے چلتے رہے تاکہ تمہارے چھاؤنی کے لیٔے مُناسب جگہ تلاشے اَور تُمہیں وہ راہ دِکھائے جِس پر تُم کو چلنا تھا۔
DEU 1:34 جَب یَاہوِہ نے تمہاری باتیں سُنیں تو وہ غضبناک ہُوئے، اَور اُنہُوں نے یہ قَسم کھائی:
DEU 1:35 ”اِس بدکار پُشت کا ایک بھی شخص اُس اَچھّے مُلک کو دیکھ نہ پایٔےگا، جسے دینے کی قَسم مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد سے کھائی تھی،
DEU 1:36 سِوا یفُنّہؔ کے بیٹے کالبؔ کے؛ وہ اُسے دیکھے گا اَور جِس زمین پر اُس نے قدم رکھّا ہے اُس مُلک کو میں اُسے اَور اُس کی نَسل کو دُوں گا، کیونکہ وہ دِل و جان سے یَاہوِہ کا وفادار ثابت ہُواہے۔“
DEU 1:37 تمہاری ہی وجہ سے یَاہوِہ مُجھ پر بھی ناراض ہویٔے اَور مُجھ سے فرمایا، ”تُم بھی اُس مُلک میں داخل نہیں ہوگے۔
DEU 1:38 لیکن یہوشُعؔ بِن نُونؔ، جو تمہارا خادِم ہے، اُس مُلک میں داخل ہوگا۔ تُم اُس کی حوصلہ اَفزائی کرو کیونکہ وُہی بنی اِسرائیل کو اُس مُلک پر اِختیار کرنے کے لیٔے رہنمائی کرےگا۔
DEU 1:39 اَور تمہارے چُھوٹے بچّے جِن کے بارے میں تُم نے کہاتھا کہ وہ اسیر ہو جایٔیں گے؛ ہاں وُہی تمہارے اَپنے بچّے جو اَب تک نیک و بد میں فرق کرنا بھی نہیں جانتے، وہ اُس مُلک میں داخل ہوں گے؛ اَور مَیں اُنہیں یہ مُلک دُوں گا اَور وہ اُس پر قابض ہوں گے۔
DEU 1:40 لیکن تُم مُڑ کر بحرِقُلزمؔ کی راہ سے بیابان کی طرف کوچ کرو۔“
DEU 1:41 تَب تُم نے اقرار کیا، ”ہم نے یَاہوِہ کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔ اَب ہم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُکم کے مُطابق کوہستانی مُلک میں جا کر جنگ کریں گے۔“ چنانچہ تُم میں سے ہر ایک نے یہ سوچ کر اَپنے اَپنے ہتھیار باندھ لیٔے کہ، کوہستانی مُلک میں جا کر حملہ کرنا آسان ہے۔
DEU 1:42 لیکن یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”اِن سے کہہ، ’اُوپر جا کر جنگ نہ کریں، کیونکہ اِس کام میں مَیں تمہارے ساتھ نہیں ہوں گا۔ اَور تُم اَپنے دُشمنوں سے شِکست کھاؤگے۔‘ “
DEU 1:43 چنانچہ مَیں نے تُم سے کہہ دیا لیکن تُم نہیں مانے۔ تُم نے یَاہوِہ کے حُکم کے خِلاف بغاوت کی اَور مغروُر ہوکر کوہستانی مُلک کی پہاڑیوں کی طرف بڑھ گیٔے۔
DEU 1:44 لیکن جو امُوری اُس کوہستانی علاقہ میں بستے تھے وہ تمہارے مُقابلہ کو نکل آئے اَور اُنہُوں نے شہد کی مکھّیوں کے جھُنڈ کی مانند تمہارا تعاقب کیا اَور سِعِیؔر سے حُرمہؔ تک تُمہیں مارتے چلے آئے۔
DEU 1:45 تَب تُم لَوٹ کر یَاہوِہ کے حُضُور میں رونے لگے لیکن اُنہُوں نے تمہارے رونے کی طرف توجّہ نہ کی اَور تمہاری ایک نہ سُنی۔
DEU 1:46 اَور اِس طرح تُم کیٔی دِن تک قادِسؔ میں پڑے رہے۔ یہاں تک کہ ایک مُدّت گزر گئی۔
DEU 2:1 تَب یَاہوِہ کی اُس ہدایت کے مُطابق جو اُنہُوں نے مُجھے دی تھی ہم مُڑ کر بحرِقُلزمؔ کی راہ سے بیابان کی طرف کوچ کئے۔ کافی عرصہ تک ہم سِعِیؔر کے پہاڑی علاقہ کے اِردگرد چلتے رہے۔
DEU 2:2 تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا:
DEU 2:3 ”تُم کافی عرصہ تک اِس پہاڑی علاقہ کے اِردگرد چلتے رہے ہو، لہٰذا اَب شمال کا رُخ کرو۔
DEU 2:4 لوگوں کو یہ حُکم دو: ’تُم عیسَوؔ کی نَسل کے اَپنے بھائیوں کے علاقہ سے گزرنے والے ہو جو سِعِیؔر میں رہتے ہیں۔ وہ تُم سے ڈر جایٔیں گے لیکن تُم خُوب احتیاط سے کام لینا۔
DEU 2:5 تُم اُنہیں جنگ کے لیٔے نہ چھیڑنا کیونکہ مَیں تُمہیں اُن کی زمین میں سے کچھ نہیں دوں گا، یہاں تک کہ تمہارے پاؤں رکھنے کے لیٔے بھی نہیں۔ مَیں نے سِعِیؔر کا پہاڑی علاقہ مِیراث کے طور پر عیسَوؔ کے سُپرد کیا ہے۔
DEU 2:6 جو غِذا تُم کھاؤ اَورجو پانی تُم پیو اُسے چاندی کے سِکّوں کے عِوض اُن سے خریدو۔‘ “
DEU 2:7 یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں اَپنے ہاتھوں کے سَب کاموں میں برکت دی ہے۔ اُنہُوں نے اُس وسیع بیابان کے سفر میں تُم پر نظر رکھی ہے۔ اُن چالیس سالوں میں یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے ساتھ رہے اَور تُمہیں کسی چیز کی کمی نہ ہونے دی۔
DEU 2:8 چنانچہ ہم اَپنے بھائیوں بنی عیسَوؔ کے پاس سے جو سِعِیؔر میں رہتے ہیں گزرے۔ ہم نے عراباہؔ کے راستہ سے مُڑ کرجو ایلاتؔ اَور عضیُون گیبر سے اُوپر آتا ہے مُوآب کے بیابان کا راستہ اِختیار کیا۔
DEU 2:9 تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے کہا، ”تُم مُوآبیوں کو دِق نہ کرنا اَور نہ ہی اُنہیں جنگ کے لیٔے چھیڑنا۔ مَیں اُن کی سرزمین کا کویٔی بھی حِصّہ تُمہیں نہ دُوں گا کیونکہ مَیں نے عاؔر شہر کو لَوطؔ کی نَسل کو مِیراث کے طور پر دے دیا ہے۔“
DEU 2:10 (کسی زمانہ میں وہاں ایمیمؔ لوگ بسے ہویٔے تھے جو نہایت طاقتور اَور تعداد میں بے شُمار اَور عناقیمؔ کی مانند لمبے قد کے تھے۔
DEU 2:11 عناقیوں کی طرح اُن کا شُمار بھی رفائیمؔ میں کیا جاتا تھا لیکن مُوآبی اُنہیں ایمیمؔ کہا کرتے تھے۔
DEU 2:12 سِعِیؔر میں حَوریؔ قوم کے لوگ بسے ہویٔے تھے لیکن بنی عیسَوؔ نے اُنہیں اُس مُلک سے نکال دیا تھا اَور اُنہیں نِیست و نابود کرکے خُود اُن کی جگہ بس گیٔے تھے جَیسا کہ بنی اِسرائیل نے اُس مُلک کے ساتھ کیا تھا جو یَاہوِہ نے اُنہیں مِیراث میں دی تھی۔)
DEU 2:13 اَور یَاہوِہ نے فرمایا، ”اَب اُٹھو اَور زیِریؔد دریا کے پار جاؤ۔“ چنانچہ ہم نے اُس وادی کو پار کیا۔
DEU 2:14 اَور ہمارے قادِسؔ برنیع سے روانہ ہوکر زیِریؔد دریا کو پار کرنے تک اڑتیس سال کا عرصہ گزرا۔ اِس اَثنا مَیں یَاہوِہ کی اُن سے کھائی ہُوئی قَسم کے مُطابق اُس پُشت کے سبھی جنگی مَرد فنا ہو گیٔے تھے۔
DEU 2:15 اَور جَب تک وہ مُکمّل طور پر نابود نہ ہو گئے یَاہوِہ کا ہاتھ اُن کے خِلاف بڑھا رہا۔
DEU 2:16 پھر جَب بنی اِسرائیل میں سے سَب جنگی مَرد مَر گیٔے اَور قوم میں سے فنا ہو گیٔے،
DEU 2:17 تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا،
DEU 2:18 ”آج تُم سَب عاؔر شہر سے یعنی مُوآب کی سرحد سے گزر جاؤگے۔
DEU 2:19 جَب تُم بنی عمُّون کے قریب پہُنچو تو اُنہیں ستانا مت اَور نہ اُنہیں جنگ کے لیٔے اُکسانا کیونکہ مَیں بنی عمُّون کے مُلک کا کویٔی بھی حِصّہ تُمہیں مِیراث کے طور پر نہ دُوں گا۔ مَیں نے اُسے بنی لَوطؔ کو مِیراث میں دے دیا ہے۔“
DEU 2:20 وہ مُلک بھی رفائیمؔ کا ہی مانا جاتا تھا جو وہاں رہا کرتے تھے لیکن عمُّونی اُنہیں زمؔزمیم کہتے تھے۔
DEU 2:21 رفائیمؔ لوگ نہایت طاقتور اَور تعداد میں بے شُمار تھے اَور عناقیمؔ کی مانند لمبے قد کے تھے لیکن یَاہوِہ نے عمُّونیوں کے سامنے اُن کو بے دخل کر دیا اَور بنی عمُّون اُن کی جگہ بس گیٔے۔
DEU 2:22 یَاہوِہ نے بنی عیسَوؔ کی خاطِر بھی یہی کیا جو سِعِیؔر میں رہتے تھے جَب اُس نے حَوریوں کو اُن کے سامنے سے مٹا دیا۔ اُنہُوں نے اُنہیں نکال دیا اَور آج تک خُود اُن کی جگہ بسے ہویٔے ہیں۔
DEU 2:23 اَور وَیسے ہی کفتُوریوں نے کفتُور سے آکر عوّیوں کو جو غزّہؔ تک دیہاتوں میں بسے ہویٔے تھے مٹا دیا اَور اُن کی جگہ خُود بس گیٔے۔
DEU 2:24 ”لہٰذا اُٹھو اَور ارنُونؔ کی وادی کے پار جاؤ۔ دیکھو مَیں نے حِشبونؔ کے بادشاہ امُوری سیحونؔ کو اُس کے مُلک سمیت تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔ اُس سے جنگ چھیڑ دو اَور اُس کے مُلک پر قبضہ کرنا شروع کر دو۔
DEU 2:25 آج ہی کے دِن سے میں تمہارا دہشت اَور خوف آسمان کے نیچے کی سَب قوموں پر ڈالنا شروع کروں گا۔ وہ تمہاری خبر سُن کر تھرتھرائیں گی اَور تمہاری وجہ سے بےچین ہو جایٔیں گی۔“
DEU 2:26 اَور مَیں نے دشتِ قدیموتؔ سے حِشبونؔ کے بادشاہ سیحونؔ کے پاس یہ پیغامِ اَمن لے کر قاصِد روانہ کئے کہ،
DEU 2:27 ”ہمیں اَپنے مُلک سے گزر جانے دو۔ ہم صِرف شاہراہ سے ہوکر چلے جایٔیں گے اَور داہنے یا بائیں نہ مُڑیں گے۔
DEU 2:28 تُم ہمیں کھانے کے لیٔے روٹی اَور پینے کے لیٔے پانی چاندی کے سِکّوں کے عِوض بیچنا۔ بس ہمیں پیدل چلے جانے کی اِجازت دو۔
DEU 2:29 ٹھیک اُسی طرح جَیسے سِعِیؔر میں رہنے والے بنی عیسَوؔ نے اَور عاؔر میں رہنے والے مُوآبیوں نے ہمارے ساتھ کیا تھا۔ جَب تک کہ ہم یردنؔ کو پار کرکے اُس مُلک میں نہ پہُنچ جایٔیں جسے یَاہوِہ ہمارے خُدا ہمیں دے رہے ہیں۔“
DEU 2:30 لیکن حِشبونؔ کے بادشاہ سیحونؔ نے ہمیں جانے نہ دیا کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے اُس کا مِزاج کڑا اَور اُس کا دِل سخت کر دیا تھا تاکہ اُسے تمہارے ہاتھ میں کر دے جَیسا کہ اُس نے آج بھی کیا ہے۔
DEU 2:31 یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”دیکھ، مَیں نے سیحونؔ اَور اُس کے مُلک کو تمہارے حوالہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اَب اُس کے مُلک پر قبضہ کرنا شروع کرو تاکہ اُس کے مالک بَن جاؤ۔“
DEU 2:32 جَب سیحونؔ اَپنے سارے لشکر کے ساتھ نکل کر ہم سے لڑنے یاہضؔ پہُنچا،
DEU 2:33 تو یَاہوِہ ہمارے خُدا نے اُسے ہمارے حوالہ کر دیا اَور ہم نے اُسے اُس کے بیٹوں اَور سارے لشکر سمیت مار ڈالا۔
DEU 2:34 اُسی وقت ہم نے اُس کے سَب شہروں پر قبضہ کر لیا اَور اُنہیں مَرد عورتوں اَور بچّوں سمیت بالکُل تباہ کر ڈالا اَور کسی کو باقی نہ چھوڑا۔
DEU 2:35 لیکن مویشی اَور تسخیر کئے ہویٔے شہروں سے جو مالِ غنیمت ہمارے ہاتھ لگا ہم لے آئے۔
DEU 2:36 ارنُونؔ کی وادی کے کنارے پر کے عروعؔر سے اَور اُس وادی میں کے شہر سے لے کر گِلعادؔ تک اَیسا کویٔی شہر نہ تھا جسے فتح کرنا ہمارے لیٔے مُشکل ہُوا ہو۔ یَاہوِہ ہمارے خُدا نے اُن سَب کو ہمارے تابع کر دیا۔
DEU 2:37 لیکن یَاہوِہ خُدا کے حُکم کے مُطابق تُم نے نہ تو بنی عمُّون کے مُلک کے کسی حِصّہ میں نہ دریائے یبّوقؔ کے سیراب کئے ہویٔے علاقہ میں اَور نہ ہی پہاڑوں پر بسے ہویٔے شہروں کے اطراف کے علاقہ میں مداخلت کی۔
DEU 3:1 پھر ہم مُڑ کر باشانؔ کے راستہ سے آگے بڑھے اَور باشانؔ کا بادشاہ عوگؔ اَپنے سارے لشکر کے ساتھ نکل کر ادرعیؔ کے مقام پر ہم سے جنگ کرنے کو آیا۔
DEU 3:2 یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”اُس سے خوفزدہ مت ہو کیونکہ مَیں نے اُسے اُس کے سارے لشکر اَور اُس کے مُلک سمیت تمہارے حوالہ کر دیا ہے۔ لہٰذا جَیسا تُم نے امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کے ساتھ کیا، جو حِشبونؔ میں حُکمراں تھا وَیسا ہی اُس کے ساتھ بھی کرنا۔“
DEU 3:3 چنانچہ یَاہوِہ ہمارے خُدا نے باشانؔ کے بادشاہ عوگؔ کو بھی اُس کے سارے لشکر سمیت ہمارے ہاتھ میں کر دیا اَور ہم نے اُنہیں یہاں تک مارا کہ اُن میں کویٔی باقی نہ بچا۔
DEU 3:4 اَور اُسی وقت ہم نے اُس کے سارے شہر لے لیٔے اَور اُن ساٹھ شہروں میں سے اَیسا کویٔی شہر نہ تھا جسے ہم نے اُن سے نہ لیا ہو یعنی ارگوبؔ کا سارا علاقہ جو باشانؔ میں عوگؔ کی سلطنت میں تھا۔
DEU 3:5 یہ سَب شہر اُونچی اُونچی فصیلوں اَور پھاٹکوں اَور بینڈوں سے مُستحکم کئے گیٔے تھے اَور کیٔی اَیسے دیہات بھی تھے جو فصیلدار نہ تھے۔
DEU 3:6 اَور جِس طرح ہم نے حِشبونؔ کے بادشاہ سیحونؔ کے ساتھ کیا تھا وَیسے ہی اِن سَب کو بالکُل تباہ کر دیا۔ ہر شہر کو مَردوں عورتوں اَور بچّوں سمیت بالکُل نابود کر دیا۔
DEU 3:7 لیکن سَب مویشی اَور اُن کے شہروں کا مالِ غنیمت ہم نے اَپنے لیٔے رکھ لیا۔
DEU 3:8 چنانچہ اُس وقت ہم نے اُن دو امُوری بادشاہوں سے ارنُونؔ کی گھاٹی سے لے کر کوہِ حرمُونؔ تک یردنؔ کے مشرق کا سارا علاقہ اَپنے اِختیار میں کر لیا۔
DEU 3:9 (حرمُونؔ کو صیدونی سِریُونؔ اَور امُوری سنیرؔ کہتے ہیں۔)
DEU 3:10 ہم نے ہموار میدان کے سَب شہر اَور تمام گِلعادؔ اَور سارا باشانؔ، سَلِکہؔ اَور ادرعیؔ تک جو باشانؔ میں واقع عوگؔ کی سلطنت میں تھے سَب اَپنے اِختیار میں کر لیا۔
DEU 3:11 (رفائیمؔ کی نَسل کے لوگوں میں سے صِرف باشانؔ کا بادشاہ عوگؔ ہی رہ گیا تھا۔ اُس کا پلنگ لوہے کا بنا ہُوا تھا جو لمبا 9 ہاتھ اَور چوڑا 4 ہاتھ تھا۔ وہ اَب بھی بنی عمُّون کے شہر ربّہؔ میں مَوجُود ہے۔)
DEU 3:12 پھر ہم نے اُس وقت جو مُلک قبضہ میں لے لیا تھا اُس میں سے ارنُونؔ کی گھاٹی کے پاس کے عروعؔر کے شمال کا علاقہ اَور گِلعادؔ کے کوہستانی مُلک کا نِصف حِصّہ اَور اُس کے شہر، مَیں نے رُوبِنیوں اَور گادیوں کو دے دیا۔
DEU 3:13 گِلعادؔ کا بقیّہ حِصّہ اَور سارا باشانؔ جو عوگؔ کی سلطنت میں تھا مَیں نے منشّہ کے نِصف قبیلہ کو دے دیا۔ (باشانؔ میں ارگوبؔ کا سارا علاقہ رفائیمؔ کا مُلک کہلاتا ہے۔
DEU 3:14 منشّہ کے بیٹے یائیرؔ نے گیشُوریوں اَور معکاتیوں کی سرحد تک کا ارگوبؔ کا پُورا علاقہ لے لیا اَور وہ اُس کے نام سے منسوب ہُوا۔ اِس لیٔے باشانؔ آج کے دِن تک حوّوت یائیرؔ کہلاتا ہے۔)
DEU 3:15 اَور مَیں نے گِلعادؔ مکیرؔ کو دے دیا۔
DEU 3:16 لیکن رُوبِنیوں اَور گادیوں کو مَیں نے گِلعادؔ سے لے کر وادیِ ارنُونؔ تک کا علاقہ دے دیا (جِس کی سرحد وادی کا درمیانی حِصّہ تھا) جو دریائے یبّوقؔ تک جو بنی عمُّون کی سرحد ہے پھیلا ہُوا تھا۔
DEU 3:17 مشرق میں پِسگہؔ کی ڈھلانوں کے نیچے سے عراباہؔ کے کنارے یردنؔ تک اَور کِنّریتؔ سے عراباہؔ کے سمُندر یعنی بحرمُردار تک کے علاقے بھی اُنہیں دے دئیے۔
DEU 3:18 اُس وقت مَیں نے تُمہیں حُکم دیا: ”یَاہوِہ تمہارے خُدا نے یہ مُلک تُمہیں دیا ہے تاکہ تُم اُس کے مالک ہو جاؤ۔ لیکن تمہارے سَب جنگی مَرد ہتھیار باندھ کر اَپنے اِسرائیلی بھائیوں کے آگے آگے دریائے یردنؔ کے پار جایٔیں۔
DEU 3:19 البتّہ تمہاری بیویاں اَور تمہارے بچّے اَور تمہارے مویشی، کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ تمہارے پاس مویشی بہت ہیں، اِس لیٔے یہ سَب تمہارے اُنہیں شہروں میں رہیں جو مَیں نے تُمہیں دئیے ہیں،
DEU 3:20 جَب تک یَاہوِہ تمہارے بھائیوں کو تمہاری مانند چَین نہ بخشے جَیسے تُمہیں بخشا ہے اَور وہ بھی اُس مُلک پر قابض نہ ہو جایٔیں جو یَاہوِہ تمہارے خُدا یردنؔ کے اُس پار اُنہیں دے رہے ہیں۔ اُس کے بعد تُم میں سے ہر ایک اُسی مِلکیّت میں لَوٹ جائے جو مَیں نے تُمہیں دی ہے۔“
DEU 3:21 اُس وقت مَیں نے یہوشُعؔ کو حُکم دیا: ”تُم نے اَپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے اُن دو بادشاہوں کے ساتھ کیا کیا ہے۔ یَاہوِہ وہاں کی تمام سلطنتوں کے ساتھ بھی وَیسا ہی کریں گے جہاں تُم جا رہے ہو۔
DEU 3:22 لہٰذا تُم اُن سے مت ڈرنا۔ یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہاری خاطِر لڑیں گے۔“
DEU 3:23 اُس وقت مَیں نے یَاہوِہ سے مِنّت کی:
DEU 3:24 ”اَے یَاہوِہ قادر، آپ نے اَپنے خادِم کو اَپنی عظمت اَور اَپنا قوی ہاتھ دِکھانا شروع کیا ہے کیونکہ آسمان میں یا زمین پر اَیسا کون معبُود ہے جو آپ کے جَیسا کام اَور عظیم کارنامے اَنجام دے سکے؟
DEU 3:25 لہٰذا مُجھے بھی یردنؔ کے پار کے اُس اَچھّے مُلک یعنی اُس خُوشنما پہاڑی مُلک اَور لبانونؔ کو دیکھ لینے دیجئے۔“
DEU 3:26 لیکن تمہاری وجہ سے یَاہوِہ مُجھ سے خفا ہُوئے اَور اُنہُوں نے میری نہ سُنی۔ بَلکہ یَاہوِہ نے فرمایا، ”بس کر اِس مُعاملہ میں آئندہ مُجھ سے بات نہ کرنا۔
DEU 3:27 پِسگہؔ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جا، اَور مغرب اَور شمال اَور جُنوب اَور مشرق کی طرف نظر دَوڑا۔ اَپنی آنکھوں سے اُس مُلک کا نظارہ کر لے کیونکہ تُو اِس یردنؔ کو پار نہ کر پایٔےگا۔
DEU 3:28 لیکن یہوشُعؔ کو اِختیار بخش اَور اُس کی حوصلہ اَفزائی کرکے اُسے مضبُوط کر کیونکہ وہ اُن لوگوں کو یردنؔ پار لے جائے گا اَور وُہی اُنہیں اُس مُلک میں قابض کرائے گا، جسے تُم دیکھنے والے ہو۔“
DEU 3:29 چنانچہ ہم بیت پعورؔ کے پاس کی وادی میں ہی ٹھہرے رہے۔
DEU 4:1 اَب اَے اِسرائیلیوں! جِن قوانین اَور آئین کو میں تُمہیں سِکھانے کو ہُوں اُنہیں سُنو اَور اُن پر عَمل کرو تاکہ تُم زندہ رہو اَور جا کر اُس مُلک پر قابض ہو جاؤ جو یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد کے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں۔
DEU 4:2 جو حُکم میں تُمہیں دیتا ہُوں اُس میں نہ تو کچھ اِضافہ کرنا اَور نہ اُس میں سے کچھ گھٹانا بَلکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا کے جو اَحکام میں تُمہیں دے رہا ہُوں اُن کے پابند رہنا۔
DEU 4:3 یَاہوِہ نے بَعل پعورؔ میں جو کچھ کیا اُسے تُم نے اَپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔ جِس کسی نے بَعل پعورؔ کی پرستش کی اُسے یَاہوِہ نے تمہارے درمیان سے فنا کر دیا۔
DEU 4:4 لیکن تُم سَب جو یَاہوِہ اَپنے خُدا سے وابستہ رہے آج کے دِن تک زندہ ہو۔
DEU 4:5 دیکھو مَیں نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُکم کے مُطابق تُمہیں قوانین اَور آئین سِکھا دئیے ہیں تاکہ تُم اُس مُلک میں اُن پر عَمل کرو جِس پر قبضہ کرنے جا رہے ہو۔
DEU 4:6 تُم نہایت احتیاط کے ساتھ اُن پر عَمل کرنا کیونکہ اُسی سے اَور قوموں کو تمہاری حِکمت اَور فراست کا ثبوت ملے گا اَور وہ اُن تمام قوانین کو سُن کر کہیں گی، ”کہ واقعی یہ عظیم قوم نہایت عقلمند اَور دانِشور ہے۔“
DEU 4:7 اِس قدر عظیم قوم اَور کون سِی ہے جِس کا معبُود اَپنی قوم کے اِس قدر نزدیک رہتاہے، جَیسے یَاہوِہ، ہمارے خُدا ہمارے نزدیک رہتے ہیں کہ ہم جَب بھی اُن سے دعا کرتے ہیں وہ ہماری مدد کے لیٔے تیّار رہتے ہیں؟
DEU 4:8 اَور دُوسری کون سِی اِس قدر عظیم قوم ہے جِس کے پاس اَیسے راست قوانین اَور آئین ہیں جسے میں آج تمہارے سامنے رکھتا ہُوں؟
DEU 4:9 لہٰذا محتاط اَور نہایت خبردار رہو اَیسا نہ ہو کہ جو کچھ تُم نے اَپنی آنکھوں سے دیکھاہے اُسے ہمیشہ کے لیٔے بھُول جاؤ یا وہ تمہارے دِل سے مِٹ جائے۔ تُم یہ باتیں اَپنی اَولاد کو اَور اُن کے بعد اُن کی اَولاد کو سِکھاتے رہنا۔
DEU 4:10 اُس دِن کو یاد کرو جَب تُم کوہِ حورِبؔ پر یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور میں کھڑے تھے، اَور اُنہُوں نے مُجھ سے فرمایا، ”کہ لوگوں کو میرا کلام سُننے کے لیٔے میرے سامنے جمع کرو تاکہ جَب تک وہ اُس مُلک میں زندہ رہیں میرا خوف ماَننا سیکھیں اَور اَپنی اَولاد کو بھی یہی سکھائیں۔“
DEU 4:11 چنانچہ تُم سَب قریب آکر اُس پہاڑ کے نیچے کھڑے ہو گئے، جو آگ کے شُعلوں میں لپٹا ہُوا تھا اَور اُس کے شُعلے آسمان چُوم رہے تھے، ہر جگہ تاریکی اَور کالی گھٹایٔیں اَور دھوئیں کا غُبار پھیلا ہُوا تھا۔
DEU 4:12 تَب یَاہوِہ نے اُس آگ میں سے تُم سے کلام کیا۔ تُمہیں لفظ اَور آواز تو سُنایٔی دے رہی تھی مگر کویٔی شکل یا صورت نہیں دِکھائی دے رہی تھی۔ صِرف آواز ہی سُنایٔی دے رہی تھی۔
DEU 4:13 تَب یَاہوِہ نے اَپنے عہد کے دسوں اَحکام تُم پر ظاہر کئے اَور اُنہیں ماننے کا حُکم دیا اَور پھر اُنہیں پتّھر کی دو تختیوں پر لِکھ دیا۔
DEU 4:14 اَور اُسی وقت یَاہوِہ نے مُجھے حُکم دیا کہ تُمہیں وہ قوانین اَور آئین سِکھاؤں جِن پر تُم اُس مُلک میں عَمل کروگے جسے تُم یردنؔ کو پار کرکے حاصل کرنے والے ہو۔
DEU 4:15 لہٰذا تُم نہایت احتیاط رکھنا، کیونکہ جِس دِن کوہِ حورِبؔ پر یَاہوِہ نے آگ میں سے ہوکر تُم سے کلام کیا تھا تو تُمہیں اُن کی کسی طرح کی شکل یا صورت نہ دِکھائی دی تھی۔
DEU 4:16 کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم بگڑ جاؤ اَور اَپنے لیٔے کویٔی بُت یا شَبیہ بنالو خواہ وہ مَرد یا عورت کے شکل کی،
DEU 4:17 یا زمین پر کے کسی حَیوان یا ہَوا میں اُڑنے والے کسی پرندے کی،
DEU 4:18 یا زمین پر رینگنے والے کسی جاندار یا پانی کے اَندر کی کسی مچھلی کی مانند ہو۔
DEU 4:19 اَور جَب تُم آسمان کی طرف نگاہ کرو اَور تمام اجرامِ فلکی یعنی آفتاب چاند اَور تاروں کو دیکھو تو اُنہیں سَجدہ کرنے کے لیٔے مائل نہ ہو جاؤ اَور نہ اُن چیزوں کی عبادت کرو جنہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا نے آسمان کے نیچے کی سَب قوموں کے لیٔے رکھ چھوڑا ہے۔
DEU 4:20 لیکن تُمہیں تو یَاہوِہ گویا لوہا تپانے کی بھٹّی یعنی مِصر سے نکال کر لائے ہیں تاکہ تُم اُن کی مِیراث کے لوگ ٹھہرو جَیسا کہ اَب ہو۔
DEU 4:21 یَاہوِہ نے تمہاری وجہ سے مُجھ سے ناراض ہوکر قَسم کھائی کہ میں یردنؔ پار کرکے اُس اَچھّے مُلک میں داخل نہ ہونے پاؤں گا جو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں مِیراث کے طور پر دے رہے ہیں۔
DEU 4:22 میں اِسی مُلک میں مروں گا اَور یردنؔ پار نہ جاؤں گا لیکن تُم پار کرکے اُس اَچھّے مُلک پر قبضہ کر لوگے۔
DEU 4:23 لہٰذا خیال رہے کہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے اِس عہد کو بھُول مت جانا، جو اُس نے تمہارے ساتھ باندھا ہے اَور اَپنے لیٔے کسی اَیسی چیز سے مُشابہ کویٔی بُت بنالو جِس سے یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں منع کیا ہے۔
DEU 4:24 کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا بھسم کر دینے والی آگ ہیں۔ وہ غیرت مند خُدا ہیں۔
DEU 4:25 جَب تمہارے ہاں بیٹے اَور پوتے پیدا ہو چکیں اَور تُم اُس مُلک میں کافی عرصہ تک رہ چُکو اَور تَب اگر تُم بگڑ جاؤ اَور کسی قِسم کا بُت بنالو جو یَاہوِہ تمہارے خُدا کی نظر میں بُرا ٹھہرے اَور اُنہیں غُصّہ دِلائے،
DEU 4:26 تو میں آج کے دِن آسمان اَور زمین کو تمہارے خِلاف گواہ ٹھہرا کر کہتا ہُوں کہ تُم بہت جلد اُس مُلک سے مِٹ جاؤگے جسے تُم یردنؔ پار کرکے حاصل کرنے والے ہو۔ تُم وہاں بہت دِن رہنے نہ پاؤگے بَلکہ یقیناً نِیست و نابود کر دئیے جاؤگے۔
DEU 4:27 یَاہوِہ تُمہیں الگ الگ مُلکوں میں پراگندہ کریں گے اَور جِن قوموں کے درمیان یَاہوِہ تُمہیں پہُنچائیں گے اُن میں تمہاری تعداد گھٹ جائے گی۔
DEU 4:28 وہاں تُم اِنسانوں کے بنائے ہویٔے لکڑی اَور پتّھر کے معبُودوں کی عبادت کروگے جو نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سُن سکتے ہیں نہ کھا سکتے ہیں اَور نہ سونگھ سکتے ہیں۔
DEU 4:29 لیکن وہاں بھی اگر تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کو ڈھونڈوگے تو اُسے پاؤگے بشرطیکہ تُم اَپنے پُورے دِل اَور اَپنی ساری جان سے اُن کی جُستُجو کرو۔
DEU 4:30 جَب تُم مُصیبت میں مُبتلا ہو جاؤگے اَور یہ سَب باتیں تُمہیں پیش آئیں گی تَب بعد کے دِنوں میں تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی طرف لَوٹ آؤگے اَور اُن کی اِطاعت کروگے۔
DEU 4:31 کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا رحیم خُدا ہیں۔ وہ تُمہیں ترک نہیں کریں گے اَور نہ ہی ہلاک کریں گے اَور نہ وہ اُس عہد کو بھُولیں گے جو اُنہُوں نے تمہارے آباؤاَجداد کے ساتھ قَسم کھا کر باندھا تھا۔
DEU 4:32 جَب سے خُدا نے اِنسان کو زمین پر پیدا کیا تَب سے اُن قدیم زمانوں کا حال دریافت کرو جو تمہارے زمانہ سے بہت پہلے گزر چُکے ہیں۔ آسمان کے ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک دریافت کرو۔ کیا اِس طرح کا بڑا کام پہلے کبھی ہُوا تھا یا اَیسی کویٔی بات کبھی سُننے میں آئی تھی؟
DEU 4:33 کیا کبھی کویٔی اَور قوم تمہاری طرح خُدا کی آواز کو آگ میں سے آتے ہویٔے سُن کر زندہ بچی ہے؟
DEU 4:34 یا کیا یَاہوِہ تمہارے خُدا جَیسا کویٔی اَور معبُود بھی ہُواہے، جِس نے اَپنی خاطِر کسی قوم کو کسی دُوسرے مِصر کے درمیان سے نکالنے کے لیٔے حیرت اَنگیز نِشانات اَور عجائب اَور آزمائشوں، مُہیب کارناموں اَور جنگوں اَور قوی ہاتھ کے ذریعے تمہاری آنکھوں کے سامنے نکال لایا ہو؟
DEU 4:35 تُمہیں یہ سَب کچھ دِکھایا گیا تاکہ تُم جانو کہ یَاہوِہ ہی خُدا ہیں اَور اُن کے سِوا کویٔی اَور ہے ہی نہیں۔
DEU 4:36 اُنہُوں نے آسمان میں سے اَپنی آواز تُمہیں سُنایٔی تاکہ تُمہیں تربّیت دیں اَور زمین پر اُنہُوں نے تُمہیں اَپنی بڑی آگ دِکھائی اَور تُم نے اُن کا کلام اُس آگ میں سے سُنا۔
DEU 4:37 چونکہ اُنہیں تمہارے آباؤاَجداد سے مَحَبّت تھی اَور اُنہُوں نے اُن کے بعد اُن کی نَسل کو مُنتخب کیا اِس لیٔے وہ اَپنی مَوجُودگی میں اَور اَپنی عظیم قُدرت سے تُمہیں مِصر سے نکال لائے،
DEU 4:38 تاکہ تُم سے بڑی اَور زورآور قوموں کو تمہارے سامنے سے نکال دیں اَور تُمہیں اُن کے مُلک میں لاکر اُسے مِیراث کے طور پر تُمہیں دیں جَیسا کہ آج کے دِن ظاہر ہے۔
DEU 4:39 لہٰذا آج کے دِن تُم جان لو اَور اَپنے دِل میں یہ بات بِٹھا لو کہ اُوپر آسمان میں اَور نیچے زمین میں یَاہوِہ ہی خُدا ہیں اَور کویٔی دُوسرا نہیں۔
DEU 4:40 اُن کے جو قوانین اَور اَحکام آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں اُن پر عَمل کرو تاکہ تمہارے اَور تمہارے بعد تمہاری اَولاد کی بھی خیر ہو اَور اُس مُلک میں جو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں ہمیشہ کے لیٔے دے رہے ہیں تمہاری عمر دراز ہو۔
DEU 4:41 تَب مَوشہ نے یردنؔ کے مشرق میں تین شہر الگ کر لیٔے،
DEU 4:42 جہاں اَیسا شخص بھاگ کر جا سَکتا تھا جِس نے غَیر اِرادتاً اَور بغیر کسی پرانی عداوت کے اَپنے پڑوسی کو قتل کیا ہو۔ وہ اُن تین میں سے کسی ایک شہر میں بھاگ کر اَپنی جان بچا سَکتا تھا۔
DEU 4:43 وہ شہر یہ تھے: رُوبِنیوں کے لیٔے بضرؔ شہر جو بیابان کی ترائی میں واقع ہے۔ قبیلہ گادؔ کے لیٔے گِلعادؔ کا راموتؔ شہر اَور منشّہیوں کے لیٔے باشانؔ کا گولانؔ شہر۔
DEU 4:44 یہ وہ آئین ہے جسے مَوشہ نے بنی اِسرائیل کے آگے پیش کیا۔
DEU 4:45 یہی وہ اِسرائیلی عہد، قوانین اَور آئین ہیں جو مَوشہ نے اُنہیں اُس وقت دیئے جَب وہ مِصر سے نکل آئےتھے۔
DEU 4:46 اَور یردنؔ کے مشرق میں بیت پعورؔ کے نزدیک کی وادی میں ٹھہرے تھے جو امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کے مُلک میں ہے جو حِشبونؔ پر حُکمراں تھا اَور جسے مَوشہ اَور بنی اِسرائیل نے مِصر سے نکل آنے کے بعد شِکست دی تھی۔
DEU 4:47 اُنہُوں نے اُس کے اَور باشانؔ کے بادشاہ عوگؔ اَور یردنؔ کے مشرق کے دو امُوری بادشاہوں کے مُلکوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
DEU 4:48 یہ مُلک ارنُونؔ کی وادی کے سِرے پر کے عروعؔر سے لے کر کوہِ سِریُونؔ (یعنی کوہِ حرمُونؔ) تک پھیلا ہُواہے،
DEU 4:49 جِس میں یردنؔ کے مشرق کا سارا میدان شامل تھا، جو پِسگہؔ پہاڑی کی ڈھلانوں کے نیچے عراباہؔ کے سمُندر یعنی بحرمُردار تک پھیلا ہُوا تھا۔
DEU 5:1 مَوشہ نے سَب اِسرائیلیوں کو بُلوا کر اُن سے فرمایا: اَے اِسرائیلیوں! جِن قوانین اَور آئین کو آج مَیں تُمہیں سُناتا ہُوں اُنہیں سُن لو۔ اُنہیں سیکھو اَور اُن پر ضروُر عَمل کرنا۔
DEU 5:2 کوہِ حورِبؔ پر یَاہوِہ ہمارے خُدا نے ہمارے ساتھ ایک عہد باندھا تھا۔
DEU 5:3 یہ عہد یَاہوِہ نے ہمارے آباؤاَجداد سے نہیں بَلکہ خُود ہم سَب سے باندھا تھا جو آج تک یہاں زندہ ہیں۔
DEU 5:4 یَاہوِہ نے اُس پہاڑ پر آگ میں سے تُم سے رُوبرو باتیں کی تھیں۔
DEU 5:5 (اُس وقت مَیں یَاہوِہ اَور تمہارے درمیان تُمہیں یَاہوِہ کا کلام سُنانے کے لیٔے کھڑا ہُوا تھا کیونکہ تُم آگ سے ڈر گیٔے تھے اَور پہاڑ کے اُوپر نہیں جانا چاہتے تھے)۔ اَور یَاہوِہ نے فرمایا:
DEU 5:6 یَاہوِہ تمہارا خُدا، جو تُمہیں مُلک مِصر کی غُلامی سے نکال لایا میں ہُوں۔
DEU 5:7 ”میرے حُضُور تُم غَیر معبُودوں کو نہ ماَننا۔
DEU 5:8 تُم کسی بھی شَے کی صورت پر خواہ وہ اُوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا نیچے پانیِوں میں ہو کویٔی بُت نہ بنانا۔
DEU 5:9 تُم اُن کے آگے سَجدہ نہ کرنا اَور نہ ہی اُن کی عبادت کرنا کیونکہ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا غیّور خُدا ہُوں اَورجو مُجھ سے عداوت رکھتے ہیں مَیں اُن کی اَولاد کو تیسری اَور چوتھی پُشت تک اُن کے آباؤاَجداد کی بدکاری کی سزا دیتا ہُوں۔
DEU 5:10 لیکن ہزاروں پُشتیں جو مُجھ سے مَحَبّت رکھتی ہیں اَور میرے حُکموں کو مانتی ہیں میں اُن سے مَحَبّت رکھتا ہُوں۔
DEU 5:11 تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کا نام بے مقصد نہ لینا کیونکہ جو کویٔی اُن کا نام بے مقصد لے گا، یَاہوِہ اُسے بے سزا نہیں چھوڑیں گے۔
DEU 5:12 تُم سَبت کے دِن کو پاک ماننا، جَیسا کہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں حُکم دیا ہے۔
DEU 5:13 چھ دِن تک تُم محنت سے اَپنا سارا کام کاج کرنا۔
DEU 5:14 لیکن ساتواں دِن یَاہوِہ تمہارے خُدا کا سَبت ہے۔ اُس دِن نہ تُم کویٔی کام کرنا، نہ تمہارا بیٹا یا بیٹی نہ تمہارا غُلام یا خادِمائیں نہ تمہارے چَوپائے نہ تمہارا بَیل، نہ گدھا اَور نہ کویٔی پردیسی جو تمہارے پھاٹکوں کے اَندر رہتا ہو، تاکہ تمہارے خادِم اَور خادِمائیں تمہاری طرح آرام کریں۔
DEU 5:15 یاد رکھو کہ تُم مِصر میں غُلام تھے اَور یَاہوِہ تمہارے خُدا وہاں سے تُمہیں اَپنے قوی ہاتھ سے اَور اَپنے بازو بڑھا کر نکال لائے۔ اِس لیٔے یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں سَبت کا دِن ماننے کا حُکم دیا ہے۔
DEU 5:16 اَپنے باپ اَور اَپنی ماں کی عزّت کرنا جَیسا کہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں حُکم دیا ہے تاکہ تمہاری عمر دراز ہو اَورجو مُلک یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں اُس میں تمہاری خیر ہو۔
DEU 5:17 تُم اِنسان کا خُون نہ کرنا۔
DEU 5:18 تُم زنا نہ کرنا۔
DEU 5:19 تُم چوری نہ کرنا۔
DEU 5:20 تُم اَپنے پڑوسی کے خِلاف جھُوٹی گواہی نہ دینا۔
DEU 5:21 تُم اَپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اَور نہ تُم اَپنے پڑوسی کے گھر یا کھیت، نہ اُس کے غُلام یا اُس کی خادِمہ کا، اُس کے بَیل یا گدھے کا اَور نہ اَپنے پڑوسی کی کسی اَور چیز کا۔“
DEU 5:22 یہی وہ اَحکام ہیں جِن کا یَاہوِہ نے اُس پہاڑ پر آگ، بادل اَور گہری تاریکی میں سے بُلند آواز سے تُم سبھی سے یعنی تمہاری ساری جماعت سے فرمایا تھا، اَور اِس سے زِیادہ اَور کچھ نہ کہا۔ پھر اُنہُوں نے اُنہیں پتّھر کی دو تختیوں پر لِکھ کر اُنہیں مُجھے دے دیا۔
DEU 5:23 اَور پھر جَب تُم نے اُس تاریکی میں سے وہ آواز سُنی، جَب وہ پہاڑ آگ سے دہک رہاتھا، تَب تُم سبھی اَپنے قبیلوں کے سَب سربراہ اَور بُزرگ میرے پاس آئے،
DEU 5:24 اَور تُم نے مُجھ سے فریاد کی، ”یَاہوِہ ہمارے خُدا نے اَپنا جلال اَور اَپنی عظمت ہمیں دِکھائی ہے، اَور ہم نے اُن کی آواز آگ میں سے آتی ہُوئی سُنی ہے۔ آج ہم نے رُوبرو دیکھ لیا ہے کہ خُدا اِنسان سے باتیں کرتے ہیں تو بھی اِنسان زندہ رہتے ہیں۔
DEU 5:25 لیکن اَب ہم کیوں مَریں؟ کیونکہ بڑی ہولناک آگ ہمیں بھسم کر دے گی۔ اَور اگر ہمیں یَاہوِہ اَپنے خُدا کی آواز پھر سُننا پڑ جایٔے تَب تو ہم ضروُر فنا ہو جایٔیں گے۔
DEU 5:26 کیونکہ کیا یہ کبھی سُنا بھی گیا ہے کہ کِس فانی اِنسان نے ہماری طرح زندہ خُدا کی آواز کو آگ میں سے آتے ہویٔے سُنا ہو اَور وہ زندہ بچ گیا ہو جَیسے ہم نے سُنی اَور زندہ بچ گیٔے؟
DEU 5:27 لہٰذا آپ ہی نزدیک جا کر سُن لیا کریں کہ یَاہوِہ ہمارے خُدا کیا فرما رہے ہیں؛ اِس کے بعد ہمارے پاس آکر ہمیں وہ بات بتا دیجئے، ہم اُسے سُنیں گے اَور اُس پر عَمل کریں گے۔“
DEU 5:28 جَب تُم مُجھ سے گُفتگو کر رہے تھے تَب یَاہوِہ نے تمہاری باتیں سُن لیں اَور یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”اُن لوگوں نے جو کچھ تُجھ سے کہا مَیں نے سُن لیا ہے۔ اُنہُوں نے جو کچھ کہا وہ سَب ٹھیک ہے۔
DEU 5:29 کاش اُن کے دِل میں ہمیشہ میرا خوف رہتا اَور وہ میرے سَب اَحکام پر ہمیشہ عَمل کرتے رہتے تاکہ اُن کا اَور اُن کی اَولاد کا ہمیشہ خیر ہوتا!
DEU 5:30 ”اِس لیٔے تُم جا کر اُن سے کہہ دو کہ وہ اَپنے خیموں میں لَوٹ جایٔیں۔
DEU 5:31 لیکن تُم یہاں میرے پاس ٹھہر جانا تاکہ میں تُمہیں وہ تمام اَحکام، قوانین اَور آئین دے سکوں، جنہیں تُمہیں اُنہیں سِکھانا ہے تاکہ وہ اُن پر اُس مُلک میں عَمل کریں جسے میں اُن کے قبضہ میں دے رہا ہُوں۔“
DEU 5:32 لہٰذا تُم احتیاط رکھنا اَور جَیسا یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں حُکم دیا ہے وَیسا ہی کرنا، نہ تو اُس سے داہنے یا بائیں کو مُڑنا۔
DEU 5:33 تُم اُن سَب باتوں کے مُطابق چلو جِس کا حُکم یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں دیا ہے تاکہ تُم زندہ رہو اَور تمہاری خیر ہو، اَور تمہاری عمر اُس مُلک میں جِس پر تُم قابض ہوگے وہاں دراز ہو۔
DEU 6:1 یہ وہ اَحکام، قوانین اَور آئین ہیں جنہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں سِکھانے کی مُجھے تاکید کی ہے تاکہ تُم اُن پر اُس مُلک میں عَمل کرو جسے تُم یردنؔ پار کرکے حاصل کرنے والے ہو،
DEU 6:2 تاکہ تُم اَور تمہاری اَولاد اَور اُن کے بعد اُن کی اَولاد یَاہوِہ اَپنے خُدا کے اُن تمام قوانین اَور اَحکام پر عَمل کرکے جو میں تُمہیں دے رہا ہُوں، زندگی بھر اُس کا خوف مانیں اَور لمبی عمر پائیں۔
DEU 6:3 اَے اِسرائیل! سُن اَور احتیاط کے ساتھ اُن پر عَمل کر تاکہ تمہاری خیر ہو اَور تُم یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کے وعدے کے مُطابق اُس مُلک میں جِس میں دُودھ اَور شہد کثرت سے پایا جاتا ہے بہت بڑھ جاؤ۔
DEU 6:4 اَے اِسرائیل! سُن، یَاہوِہ ہمارے خُدا واحد یَاہوِہ ہیں۔
DEU 6:5 تُم اَپنے یَاہوِہ خُدا سے اَپنے سارے دِل، اَپنی ساری جان، اَور ساری طاقت سے مَحَبّت رکھو۔
DEU 6:6 یہ اَحکام جو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں وہ تمہارے دِل پر نقش ہُوں۔
DEU 6:7 تُم اُنہیں اَپنی اَولاد کے ذہن نشین کرو۔ گھر میں بیٹھتے اَور راہ پر چلتے اَور لیٹتے اَور اُٹھتے وقت اِن کا ذِکر کیا کرنا۔
DEU 6:8 تُم اُنہیں اَپنے ہاتھوں پر نِشان کے طور پر باندھنا اَور اَپنی پیشانیوں پر ٹیکوں کی طرح لگا لو۔
DEU 6:9 تُم اُنہیں اَپنے مکانوں کے دروازوں کی چوکھٹوں اَور اَپنے پھاٹکوں پر کندہ کرنا۔
DEU 6:10 اَور جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں اُس مُلک میں لے آئیں جِس کے متعلّق اُس نے تمہارے آباؤاَجداد اَبراہامؔ اِصحاقؔ اَور یعقوب سے قَسم کھائی تھی اَور جِس مُلک کے شہر بہت بڑے اَور نہایت آسُودہ ہیں جنہیں تُم نے نہیں بنایا۔
DEU 6:11 اَور ہر قِسم کی اَچھّی اَچھّی اَشیا سے بھرے ہویٔے مکانات جنہیں تُم نے مُہیّا نہیں کیا، کنوئیں جنہیں تُم نے نہیں کھودا اَور انگوری باغ اَور زَیتُون کے باغات جنہیں تُم نے نہیں لگایا، اَور تُم اُن کا پھل کھا کر سَیر ہو جاؤگے۔
DEU 6:12 تَب ہوشیار رہنا کہ تُم یَاہوِہ کو فراموش نہ کر بیٹھو جو تُمہیں مِصر یعنی غُلامی کے مُلک سے نکال لائے ہیں۔
DEU 6:13 تُم اَپنے یَاہوِہ خُدا ہی سے ڈرنا اَور اُن کو سَجدہ کرنا اَور صِرف اُن ہی کی خدمت کرنا اَور اُن ہی کے نام کی قَسمیں کھانا۔
DEU 6:14 تُم غَیر معبُودوں کی پیروی نہ کرنا، خصوصاً اُن قوموں کے معبُودوں کی جو تمہارے آس پاس رہتی ہیں۔
DEU 6:15 کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا جو تمہارے درمیان ہیں غیرت مند خُدا ہیں۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ اُن کا غضب تمہارے خِلاف بھڑک اُٹھے اَور وہ تُمہیں رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالیں۔
DEU 6:16 تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی آزمائش نہ کرنا؛ جَیسے تُم نے اُنہیں مَسّہؔ میں آزمایا تھا۔
DEU 6:17 یَاہوِہ اَپنے خُدا کے اَحکام اَور اُن کے دئیے ہُوئے معاہدوں اَور قوانین کو ضروُر ماَننا۔
DEU 6:18 وُہی کرنا جو یَاہوِہ کی نظر میں راست اَور اَچھّا ہے تاکہ تمہاری خیر ہو اَور تُم جا کر اُس اَچھّے مُلک پر قابض ہو جاؤ جسے دینے کا وعدہ یَاہوِہ نے تمہارے آباؤاَجداد سے قَسم کھا کر کیا تھا۔
DEU 6:19 اَور تمہارے سَب دُشمن تمہارے سامنے سے دُور کئے جایٔیں گے جَیسا کہ یَاہوِہ نے فرمایاہے۔
DEU 6:20 آئندہ جَب کبھی تمہارا بیٹا تُم سے پُوچھے، ”یَاہوِہ ہمارے خُدا نے جِن معاہدوں قوانین اَور آئین کو ماننے کا تُمہیں حُکم دیا ہے اُس کا مطلب کیا ہے؟“
DEU 6:21 تَب اُس سے کہنا: ”ہم مِصر میں فَرعوہؔ کے غُلام تھے لیکن یَاہوِہ اَپنے قوی ہاتھ سے ہمیں مِصر سے نکال لایٔے۔
DEU 6:22 اَور یَاہوِہ نے ہماری آنکھوں کے سامنے مِصر اَور فَرعوہؔ اَور اُس کے سارے خاندان کے خِلاف نہایت عظیم اَور حیرت اَنگیز نِشانات اَور عجائب دِکھائے۔
DEU 6:23 اَور یَاہوِہ نے ہمیں وہاں سے نکال لیا تاکہ ہمیں وہ مُلک عنایت کریں جسے دینے کا وعدہ اُنہُوں نے ہمارے آباؤاَجداد سے قَسم کھا کر کیا تھا۔
DEU 6:24 تَب یَاہوِہ نے ہمیں اُن سَب قوانین پر عَمل کرنے کا حُکم دیا اَور ہم خُدا کا خوف رکھّیں تاکہ ہم ہمیشہ سرفراز ہوں اَور زندہ رہیں جَیسا آج کے دِن ہیں۔
DEU 6:25 اَور اگر ہم یَاہوِہ ہمارے خُدا کی حُضُوری اُن کے حُکم کے مُطابق اُن سَب اَحکام کو ماننے میں فکر و احتیاط سے کام لیں تو ہم اَپنے خُدا کے حُضُور راستباز ٹھہریں گے۔“
DEU 7:1 جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں اُس مُلک میں لے آئے جسے حاصل کرنے کے لیٔے تُم اُس میں داخل ہو رہے ہو، اَور تمہارے سامنے سے امُوری، کنعانی، حِتّی، پَرزّی، حِوّی یبُوسی اَور گِرگاشی اِن سات قوموں کو جو تُم سے، گِنتی میں زِیادہ اَور زورآور ہیں، وہاں سے نکال دیں گے۔
DEU 7:2 اَور جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا اُنہیں تمہارے حوالہ کر دیں اَور تُم اُنہیں شِکست دو تو اُنہیں بالکُل نابود کردینا۔ اُن کے ساتھ کویٔی عہد نہ باندھنا اَور نہ اُن پر رحم کرنا۔
DEU 7:3 اَور نہ اُن کے ساتھ شادی کرنا، نہ اَپنی بیٹیاں اُن کے بیٹوں کو دینا اَور نہ ہی اُن کی بیٹیاں اَپنے بیٹوں کے لیٔے لینا۔
DEU 7:4 کیونکہ وہ تمہارے بیٹوں کو میری پیروی کرنے سے برگشتہ کر دیں گی تاکہ وہ غَیر معبُودوں کی عبادت کریں۔ یُوں تُم پر یَاہوِہ کا قہر نازل ہوگا اَور وہ تُمہیں جلد ہی مٹا ڈالیں گے۔
DEU 7:5 بَلکہ تُم اُن کے ساتھ اَیسا سلُوک کرنا کہ اُن کے مذبحوں کو ڈھا دینا، اُن کے مُقدّس سُتونوں کو چُورچُور کر ڈالنا، اُن کے اشیراہؔ کے سُتونوں کو کاٹ ڈالنا اَور اُن کے بُتوں کو آگ میں جَلا دینا۔
DEU 7:6 کیونکہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے ایک مُقدّس قوم ہو اَور یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں رُوئے زمین کی تمام قوموں میں سے مُنتخب کیا ہے تاکہ تُم اُن کی اُمّت اَور بیش بہا مِلکیّت ٹھہرو۔
DEU 7:7 یَاہوِہ نے تُم پر مہربان ہوکر تُمہیں مُنتخب اِس لیٔے نہیں کیا تھا کہ تُم شُمار میں دُوسری قوموں سے زِیادہ تھے۔ بَلکہ تُم تو سَب قوموں سے تعداد میں نہایت کم تھے۔
DEU 7:8 چونکہ یَاہوِہ تُم سے مَحَبّت رکھتے تھے اَور وہ اُس قَسم کو بھی پُورا کیٔے جو اُنہُوں نے تمہارے آباؤاَجداد سے کھائی تھی۔ یَاہوِہ نے تُمہیں اَپنے قوی ہاتھ سے غُلامی کے مُلک سے نکال کر مِصر کے بادشاہ فَرعوہؔ کے ہاتھ سے رِہائی بخشی۔
DEU 7:9 چنانچہ جان لو کہ یَاہوِہ تمہارے خُدا ہی حقیقی خُدا ہیں۔ وہ وفادار خُدا ہیں، اَورجو اُن سے مَحَبّت رکھتے اَور اُن کے اَحکام کو مانتے ہیں، اُن پر ہزار پُشتوں تک اَپنے عہد اَور بے پناہ مَحَبّت کو قائِم رکھتے ہیں۔
DEU 7:10 لیکن جو اُن سے عداوت رکھتے ہیں اُنہیں، وہ ہلاک کرنے میں تھوڑا بھی گُریز نہیں کریں گے۔ وہ اَپنے عداوت رکھنے والوں کے حق میں تاخیر نہیں کریں گے بَلکہ اُن سے جلد ہی بدلہ لیں گے۔
DEU 7:11 لہٰذا جو اَحکام قوانین اَور آئین آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں اُن پر عَمل کرنے میں پس و پیش نہ کرنا۔
DEU 7:12 اگر تُم اِن آئین پر غور کروگے اَور اِن پر عَمل کرتے رہوگے، تو یَاہوِہ تمہارے خُدا بھی اَپنے اُس مَحَبّت بھرے عہد کو قائِم رکھیں گے جو اُنہُوں نے تمہارے آباؤاَجداد سے قَسم کھا کر باندھا تھا۔
DEU 7:13 وہ تُم سے مَحَبّت رکھیں گے اَور اُس مُلک میں جسے تُمہیں دینے کی اُنہُوں نے تمہارے آباؤاَجداد سے قَسم کھائی تھی تمہاری اَولاد پر اَور زمین کی پیداوار یعنی تمہارے اناج، نئے انگوری شِیرے اَور زَیتُون کا تیل اَور تمہارے مویشیوں کے بچھڑوں اَور تمہارے گلّوں کے برّوں پر برکت نازل کریں گے۔
DEU 7:14 تُم سَب قوموں سے زِیادہ برکت پاؤگے؛ تمہارے مَردوں اَور عورتوں میں کویٔی بے اَولاد نہ ہوگا اَور نہ ہی تمہارے مویشیوں میں سے کویٔی بانجھ ہوگا۔
DEU 7:15 یَاہوِہ تُمہیں ہر بیماری سے محفوظ رکھّیں گے۔ وہ تُم پر اَیسی ہولناک بیماریاں نازل نہ کریں گے جِن سے تُم مِصر میں واقف تھے۔ لیکن وہ اُنہیں اُن سَب پر نازل کریں گے جو تُم سے عداوت رکھتے ہیں۔
DEU 7:16 تُم اُن سَب قوموں کو نِیست و نابود کرنا جنہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے حوالہ کریں گے۔ تُم اُن پر رحم نہ کھانا نہ اُن کے معبُودوں کی عبادت کرنا کیونکہ یہ تمہارے لیٔے پھندا ثابت ہوگا۔
DEU 7:17 اگر تمہارے دِل میں یہ خیال آئے، ”یہ قومیں ہم سے زِیادہ زورآور ہیں ہم اُنہیں کیسے یہاں سے نکال سکیں گے؟“
DEU 7:18 تو بھی اُن سے مت ڈرنا۔ بَلکہ جو کچھ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے فَرعوہؔ اَور مُلک کے مِصریوں کے ساتھ کیا اُسے ضروُر یاد رکھنا۔
DEU 7:19 تُم نے خُود اَپنی آنکھوں سے اُن بڑی آزمائشوں حیرت اَنگیز نِشانات اَور عجائب، یَاہوِہ کے قوی ہاتھ اَور پھیلے ہویٔے بازو کو دیکھا تھا جِن کی بدولت یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں نکال لایٔے۔ یَاہوِہ تمہارے خُدا اُن سَب لوگوں کے ساتھ بھی اَیسا ہی کریں گے جِن سے تُم خوفزدہ ہو۔
DEU 7:20 اِس کے علاوہ یَاہوِہ تمہارے خُدا اُن کے درمیان بڑی مکھّیوں کو بھیجیں گے یہاں تک کہ اُن میں سے جو بچ کر چھُپ جایٔیں گے وہ بھی فنا ہو جایٔیں گے۔
DEU 7:21 تُم اُن سے خوفزدہ نہ ہونا کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا جو تمہارے درمیان ہیں وہ نہایت عظیم اَور مُہیب خُدا ہیں۔
DEU 7:22 یَاہوِہ تمہارے خُدا اُن قوموں کو تمہارے سامنے سے رفتہ رفتہ دُور کر دیں گے۔ وہ تُمہیں اُنہیں ایک ہی دَم خارج کرنے نہ دیں گے تاکہ کہیں اَیسا نہ ہو کہ تمہارے اِردگرد جنگلی جانوروں کی تعداد بڑھ نہ جائے۔
DEU 7:23 لیکن یَاہوِہ خُدا اُنہیں تمہارے حوالہ کر دیں گے اَور اُنہیں اَیسی اُلجھن میں مُبتلا کر دیں گے کہ وہ تباہ ہو جایٔیں گے۔
DEU 7:24 یَاہوِہ اُن کے بادشاہوں کو تمہارے ہاتھ میں کر دیں گے تاکہ تُم آسمان کے نیچے سے اُن کے نام مٹا ڈالو، اَور کویٔی شخص تمہارا سامنا نہ کر پایٔےگا بَلکہ تُم اُنہیں تباہ کر ڈالوگے۔
DEU 7:25 اُن کے معبُودوں کی شَبیہ کو تُم آگ میں جَلا دینا اَورجو چاندی اَور سونا اُن کے اُوپر منڈھا ہو، اُس کا لالچ نہ کرنا اَور اُسے اَپنے لیٔے نہ لینا، ورنہ وہ تمہارے لیٔے پھندا بَن جائے گا کیونکہ اَیسی چیزیں یَاہوِہ تمہارے خُدا کے نزدیک سخت مکرُوہ ہیں۔
DEU 7:26 کویٔی سخت مکرُوہ شَے اَپنے گھر میں نہ لانا ورنہ تُم بھی اُسی کی مانند ہلاک کیٔے جانے کے لائق بَن جاؤگے۔ تُم اُنہیں نہایت حقیر جاننا اَور اُس سے نفرت کرنا کیونکہ اُسے تباہی کے لیٔے الگ کیا گیا ہے۔
DEU 8:1 وہ سبھی اَحکام، جو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں، تُم اُن پر نہایت احتیاط کے ساتھ عَمل کرنا تاکہ تُم زندہ رہ سکو اَور شُمار میں بڑھتے جاؤ، اَور جا کر اُس مُلک پر قبضہ کر لو، جسے دینے کا وعدہ یَاہوِہ نے تمہارے آباؤاَجداد سے قَسم کھا کر کیا تھا۔
DEU 8:2 اَور یاد رکھو کہ اُن چالیس سالوں مَیں یَاہوِہ تمہارے خُدا نے بیابان کی راہوں میں کِس طرح تمہاری رہنمائی کی تاکہ وہ تُمہیں حلیم بنا سکے، وہ تُمہیں آزماتے رہے تاکہ تمہارے دِل کی بات دریافت کر سکیں کہ تُم اُن کے اَحکام پر عَمل کروگے یا نہیں۔
DEU 8:3 یَاہوِہ نے تُمہیں حلیم کیا اَور بھُوکا بھی رہنے دیا اَور پھر تُمہیں منّا کھِلایا جِس سے نہ تُم اَور نہ تمہارے آباؤاَجداد واقف تھے تاکہ تُمہیں یہ سِکھائے کہ اِنسان صِرف روٹی ہی سے نہیں لیکن یَاہوِہ کے مُنہ سے نکلنے والے ہر کلام سے زندہ رہتاہے۔
DEU 8:4 اُن چالیس سالوں میں نہ تو تمہارے جِسم کے کپڑے پھٹے اَور نہ تمہارے پاؤں میں کبھی سُوجن آئی۔
DEU 8:5 لہٰذا اَپنے دِل میں یہ حقیقت اَچھّی طرح سے بیٹھا لو کہ جِس طرح ایک باپ اَپنے بیٹے کو تنبیہ کرتا ہے اُسی طرح یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں تنبیہ کرتے ہیں۔
DEU 8:6 اِس لیٔے تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے اَحکام پر عَمل کرتے ہویٔے اُن کی راہوں پر چلتے ہویٔے اُن کا خوف ماننا۔
DEU 8:7 کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں ایک بہترین مُلک میں لے جا رہے ہیں جو قُدرتی نالوں اَور پانی کے دریاؤں اَور گہرے چشموں کا مُلک ہے جو وادیوں اَور پہاڑوں میں سے پھوٹ کر نکلتے ہیں۔
DEU 8:8 اِس مُلک میں گندُم، جَو، انگور، اَنجیر، انار، زَیتُون کا تیل اَور شہد بھی ہیں؛
DEU 8:9 ایک اَیسا مُلک جہاں روٹی کی قِلّت نہ ہوگی اَور تُم کسی چیز کے مُحتاج نہ ہوگے۔ وہ ایک اَیسا مُلک ہے جِس کی چٹّانوں میں لوح کے ذخیرے ہیں اَور وہاں کے پہاڑوں میں سے تُم تانبا کھود کر نکال سکوگے۔
DEU 8:10 جَب تُم کھا کر سَیر ہو جاؤ تو یَاہوِہ اَپنے خُدا کی تمجید کرنا کہ اُنہُوں نے تُمہیں بہترین مُلک عنایت کیا ہے۔
DEU 8:11 لہٰذا خبردار رہو کہیں اَیسا نہ ہو کہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کو اَور اُن کے اَحکام، آئین اَور قوانین کو فراموش کر دو، جو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں۔
DEU 8:12 اَیسا نہ ہو کہ جَب تُم کھا کر سَیر ہو جاؤ اَور بہترین مکانات تعمیر کرکے اُن میں رہنے لگو،
DEU 8:13 اَور جَب تمہارے مویشی اَور بھیڑ بکریوں کی تعداد زِیادہ ہو جائے اَور تمہارے پاس چاندی اَور سونے کی مقدار بڑھ جائے اَور تمہاری دولت میں اِضافہ ہو جائے،
DEU 8:14 تَب تمہارے دِلوں میں غُرور کا آنا لازمی ہوگا اَور تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کو فراموش کر دوگے جو تُمہیں مِصر سے یعنی اُس غُلامی کی زندگی سے نکال لایٔے ہیں۔
DEU 8:15 اُنہُوں نے اُس وسیع اَور خوفناک بیابان میں سے تمہاری رہنمائی کی، جو ایک خشک اَور بے آب مُلک تھا جِس میں زہریلے سانپ اَور بِچھُّو تھے۔ وہاں یَاہوِہ نے تمہارے لیٔے ایک پتھریلی چٹّان میں سے پانی نکالا۔
DEU 8:16 یَاہوِہ نے بیابان میں تُمہیں کھانے کو منّا دیا جِس سے تمہارے آباؤاَجداد ناواقِف تھے تاکہ یَاہوِہ تُمہیں حلیم کرکے آزمائیں تاکہ آخِر میں تمہاری ہی خیر ہو۔
DEU 8:17 کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم اَپنے دِل میں یہ کہنے لگو، ”میری ہی طاقت اَور ہاتھوں کے زور سے مُجھے یہ دولت نصیب ہُوئی ہے۔“
DEU 8:18 لیکن تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کو فراموش مت کرنا کیونکہ وُہی تُمہیں دولت حاصل کرنے کی قُوّت دیتے ہیں تاکہ اَپنے اُس عہد کو قائِم رکھّیں جِس کی اُنہُوں نے تمہارے آباؤاَجداد سے قَسم کھائی تھی، جَیسا کہ آج کے دِن تمہارے سامنے ظاہر ہے۔
DEU 8:19 اگر تُم کبھی بھی یَاہوِہ اَپنے خُدا کو فراموش کر دو اَور غَیر معبُودوں کی پیروی کرنے لگو اَور اُن کی عبادت میں مشغُول ہو جاؤ اَور اُن کے آگے سَجدہ کرو، تو میں آج تمہارے خِلاف گواہی دیتا ہُوں کہ تُم یقیناً تباہ ہو جاؤگے۔
DEU 8:20 جِس طرح یَاہوِہ نے دُوسری قوموں کو تمہارے سامنے کھدیڑ کر نِیست و نابود کر دیا تھا ٹھیک اُسی طرح تُم بھی یَاہوِہ اَپنے خُدا کی اِطاعت نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک کر دیئے جاؤگے۔
DEU 9:1 اَے اِسرائیل سُن! آج تُم دریائے یردنؔ کو پار کرنے والے ہو کہ تُم وہاں جا کر اَپنے سے بڑی اَور زورآور قوموں کو اُن کے مُلک سے بے دخل کرکے اُن کے مُلک پر اَپنا قبضہ کر لو، جِن کے شہر اِس قدر بڑے ہیں کہ اُن کی فصیلیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔
DEU 9:2 وہاں بسے ہویٔے عناقی لوگ تُم سے زِیادہ زورآور اَور لمبے قد کے ہیں۔ تُم اُن کا حال جانتے ہو اَور اُن کے متعلّق یہ کہتے ہویٔے بھی سُنا ہے: ”عناقیوں کے سامنے کون ٹھہر سَکتا ہے؟“
DEU 9:3 لیکن آج کے دِن یہ جان لو کہ یہ یَاہوِہ تمہارے خُدا ہی ہیں جو جَلا کر راکھ کر دینے والی آگ کی شکل میں ہوکر تمہارے آگے آگے دریا کو پار کر رہے ہیں۔ وُہی اُنہیں فنا کر دیں گے اَور اُنہیں تمہارے سامنے پست کر دیں گے۔ اَور تُم اُنہیں نکال کر جلد ہی نِیست و نابود کر دوگے جَیسا یَاہوِہ نے تُم سے وعدہ کیا ہے۔
DEU 9:4 جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا اُنہیں تمہارے سامنے سے نکال دیں گے، ”تَب تُم اَپنے دِل میں یُوں نہ کہنا، یہ تو میری ہی راستبازی تھی جِس کے وجہ سے یَاہوِہ نے مُجھے اِس مُلک پر قبضہ کرنے کی قُوّت عطا فرمائی ہے۔“ نہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ اُن قوموں کی بدکاری ہی کی وجہ سے یَاہوِہ نے اُنہیں تمہارے سامنے سے اُن کے مادر وطن سے بے دخل کر رہے ہیں۔
DEU 9:5 تُم اَپنی راستبازی یا اَپنی دیانتداری کے سبب سے اُن کے مُلک پر قبضہ کرنے نہیں جا رہے ہو بَلکہ یہ اُن قوموں کی بدکاری کا نتیجہ ہے جو یَاہوِہ تمہارے خُدا اُنہیں تمہارے سامنے سے نکال رہے ہیں تاکہ یَاہوِہ اُس قول کو پُورا کریں جِس کی قَسم اُنہُوں نے تمہارے آباؤاَجداد اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب سے کھائی تھی۔
DEU 9:6 لہٰذا یہ اَچھّی طرح سے سمجھ لو کہ یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہاری راستبازی کے سبب سے یہ اَچھّا مُلک تمہارے قبضہ میں نہیں دے رہے ہیں، حقیقت میں تو تُم ایک ضِدّی قوم ہو۔
DEU 9:7 اِس بات کو یاد رکھّو اَور کبھی نہ بھُولو کہ تُم نے بیابان میں یَاہوِہ کو کِس طرح سے غُصّہ دِلایا تھا۔ بَلکہ جَب سے تُم مِصر سے نکلے ہو تَب سے لے کر اِس جگہ پہُنچنے تک تُم یَاہوِہ کے خِلاف باغی ہی بنے ہویٔے ہو۔
DEU 9:8 کوہِ حورِبؔ کے نزدیک بھی تُم نے یَاہوِہ کو اِس قدر غُصّہ دِلایا کہ اَپنے غُصّہ میں وہ تُمہیں فنا ہی کر دیتے۔
DEU 9:9 جَب مَیں پتّھر کی دو تختیاں لینے کے لیٔے پہاڑ پر چڑھا تَب میں چالیس دِن اَور چالیس رات پہاڑ کے اُوپر ہی رہا اَور مَیں نے نہ تو روٹی کھائی اَور نہ پانی پیا۔ یہ اُس عہد کی تختیاں تھیں جو یَاہوِہ نے تُم سے باندھا تھا۔
DEU 9:10 اَور یَاہوِہ نے اَپنے ہاتھ سے لکھی ہُوئی پتّھر کی دو تختیاں میرے سُپرد کر دیں۔ اُن پر وُہی سَب اَحکام کندہ تھے جِن کا اعلان یَاہوِہ نے پہاڑ پر آگ کے درمیان سے تُم سے اِجتماع کے دِن کیا تھا۔
DEU 9:11 چالیس دِن اَور چالیس رات کے اِختتام پر یَاہوِہ نے پتّھر کی وہ دو تختیاں یعنی عہد کی تختیاں مُجھے دے دیں۔
DEU 9:12 تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”یہاں سے فوراً نیچے چلے جاؤ کیونکہ تمہارے لوگ جِن کو تُم مِصر سے نکال لایٔے ہو وہ بگڑ گیٔے ہیں۔ جو حُکم مَیں نے اُنہیں دیا تھا اُس سے وہ بہت جلد برگشتہ ہو گئے اَور اَپنے لیٔے ایک بُت ڈھال کر بنا لیا ہے۔“
DEU 9:13 اَور یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”مَیں نے اِن لوگوں کو دیکھ لیا، یہ واقعی ضِدّی لوگ ہیں۔
DEU 9:14 اَب تُو مُجھے اُنہیں ہلاک کرنے سے مت روک، تاکہ میں اُن کا نام آسمان کے نیچے سے مٹا ڈالوں اَور مَیں تُم سے ایک زورآور اَور اِن سے بڑی قوم بناؤں گا۔“
DEU 9:15 چنانچہ میں مُڑ کر پہاڑ سے نیچے اُترا جَب کہ وہ پہاڑ آگ سے دہک رہاتھا۔ اَور میرے ہاتھوں میں عہد کی دونوں تختیاں تھیں۔
DEU 9:16 جَب مَیں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ تُم نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔ تُم نے اَپنے لیٔے بچھڑے کی شکل کا بُت ڈھال کر بنایا تھا۔ تُم بہت جلد اُس راہ سے برگشتہ ہو گئے تھے جِس پر چلنے کا یَاہوِہ نے تُمہیں حُکم دیا تھا۔
DEU 9:17 تَب مَیں نے اَپنے ہاتھوں سے اُن دونوں تختیوں کو پھینک دیا اَور تمہاری آنکھوں کے سامنے اُن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔
DEU 9:18 تَب ایک بار پھر میں چالیس دِن اَور چالیس رات یَاہوِہ کے آگے مُنہ کے بَل پڑا رہا اَور مَیں نے نہ تو روٹی کھائی اَور نہ پانی پیا؛ کیونکہ تُم سے بڑا گُناہ سرزد ہُوا تھا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا، جِس سے تُم نے یَاہوِہ کا غُصّہ بھڑکا دیا تھا۔
DEU 9:19 اَور مَیں یَاہوِہ کے قہر و غضب سے خوفزدہ تھا کیونکہ وہ تُم سے سخت ناراض ہوکر تُمہیں ہلاک کرنے کو تھے۔ لیکن یَاہوِہ نے اِس بار بھی میری سُن لی۔
DEU 9:20 اَور یَاہوِہ اَہرونؔ سے اِس قدر خفا ہُوئے کہ اُسے ہلاک کرنا چاہا، لیکن اُس وقت مَیں نے اَہرونؔ کے لیٔے بھی دعا کی۔
DEU 9:21 اَور مَیں نے تمہاری گُناہ آلُودہ چیز کو یعنی اُس بچھڑے کو جسے تُم نے بنایا تھا، لے کر آگ میں جَلا دیا۔ پھر مَیں نے اُسے کُوٹ کُوٹ کر اَیسا پیسہ کہ راکھ کی مانند اُس کا سفوف بنا دیا اَور اُس راکھ کو اُس دریا میں پھینک دیا جو پہاڑ سے نکل کر نیچے بہتا تھا۔
DEU 9:22 تبعیرہؔ میں اَور مَسّہؔ میں اَور قِبروتؔ ہتّاوہؔ میں بھی تُم نے یَاہوِہ کو غُصّہ دِلایا۔
DEU 9:23 اَور جَب یَاہوِہ نے تُمہیں قادِسؔ برنیع سے یہ کہہ کر روانہ کیا، ”اُوپر جاؤ اَور اُس مُلک پر قبضہ کر لو جو مَیں نے تُمہیں دیا ہے۔“ تَب بھی تُم نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُکم کے خِلاف بغاوت کی اَور نہ تو اُن پر بھروسا کیا اَور نہ اُن کی فرمانبرداری کی۔
DEU 9:24 جِس دِن سے میں تُم سے واقف ہُوا، تُم یَاہوِہ سے بغاوت ہی کرتے آئے ہو۔
DEU 9:25 میں چالیس دِن اَور چالیس رات تک یَاہوِہ کے آگے مُنہ کے بَل پڑا رہا کیونکہ یَاہوِہ نے فرمایا تھا کہ وہ تُمہیں ہلاک کر دیں گے۔
DEU 9:26 مَیں نے یَاہوِہ سے دعا کی اَور کہا، ”اَے یَاہوِہ قادر! اَپنے لوگوں کو ہلاک نہ کریں جو آپ کی اَپنی مِیراث ہیں جنہیں آپ نے اَپنی عظیم قُدرت سے رِہائی بخشی اَور قوی ہاتھ سے مِصر سے نکال لایٔے۔
DEU 9:27 اَپنے خادِموں اَبراہامؔ اِصحاقؔ اَور یعقوب کو یاد کیجئے۔ اِن لوگوں کی ضِد اَور اِن کی بدکاری اَور گُناہ کو نظرانداز کر دیں۔
DEU 9:28 تاکہ اَیسا نہ ہو کہ جِس مُلک سے آپ ہمیں نکال لایٔے ہیں، وہاں کے لوگ کہنے لگیں، ’چونکہ یَاہوِہ اُنہیں اُس مُلک میں جِس کا وعدہ اُنہُوں نے اُن سے کیا تھا پہُنچا نہ سَکا اَور چونکہ اُسے اُن سے نفرت تھی اِس لیٔے وہ اُنہیں نکال لے گیا تاکہ بیابان میں اُنہیں ہلاک کر دے۔‘
DEU 9:29 لیکن وہ تمہاری قوم؛ اَور تمہاری مِیراث ہیں جنہیں تُم اَپنی عظیم قُدرت اَور اَپنے بُلند بازو سے نکال لائے ہیں۔“
DEU 10:1 اُس وقت یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”پہلی تختیوں کی مانند پتّھر کی دو اَور تختیاں تراش لو، اَور میرے پاس اِس پہاڑ پر آ جاؤ۔ اَور لکڑی کا ایک صندُوق بھی بنالو۔
DEU 10:2 میں اُن تختیوں پر وُہی الفاظ لِکھ دُوں گا، جو اُن پہلی تختیوں پر مرقوم تھے جنہیں تُم نے توڑ ڈالا ہے۔ تَب تُم اِن تختیوں کو اُس صندُوق میں رکھ دینا۔“
DEU 10:3 تَب مَیں نے کیکر کی لکڑی کا ایک صندُوق بنایا اَور پہلی تختیوں کی مانند پتّھر کی دو اَور تختیاں تراشیں اَور وہ دونوں تختیاں اَپنے ہاتھوں میں لیٔے ہویٔے پہاڑ پر چڑھ گیا۔
DEU 10:4 اَورجو دس اَحکام یَاہوِہ نے مُقدّس اِجتماع کے دِن پہاڑ پر آگ کے درمیان سے تمہارے سامنے اعلان کیا تھا اُنہیں کو اُن دو تختیوں پر لِکھ دیا جو اُن پہلے کی تختیوں پر لِکھا گیا تھا؛ پھر اُنہیں یَاہوِہ نے میرے سُپرد کر دیا۔
DEU 10:5 تَب میں پہاڑ پر سے نیچے اُتر آیا اَور یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق اُن تختیوں کو اَپنے بنائے ہویٔے صندُوق میں رکھ دیا اَور اَب وہ وہیں مَوجُود ہیں۔
DEU 10:6 (تَب بنی اِسرائیل بنی جعقانیوں کے کنوؤں سے کوچ کرکے موسیرہؔ تک آئے۔ وہیں اَہرونؔ نے وفات پائی اَور دفن بھی ہُوا۔ اَور اُس کے بیٹے الیعزرؔ نے اُس کی جگہ کہانت کا عہدہ سنبھالا۔
DEU 10:7 وہاں سے وہ گُدگُودؔہ سے ہوتے ہویٔے یُوطباتؔہ کے مُلک کی طرف روانہ ہویٔے جِس میں پانی کے تمام دریا بہتے ہیں۔
DEU 10:8 اُس وقت یَاہوِہ نے لیویوں کے قبیلہ کو الگ کر لیا تاکہ وہ یَاہوِہ کے عہد کا صندُوق اُٹھایا کریں اَور یَاہوِہ کے حُضُور میں کھڑے ہوکر اُن کی خدمت کریں اَور یَاہوِہ کے نام سے برکت دیا کریں جَیسا کہ وہ آج تک کرتے آ رہے ہیں۔
DEU 10:9 اِس لیٔے لیویوں کا اُن کے بھائیوں کے درمیان کویٔی حِصّہ یا مِیراث نہیں ہے۔ یَاہوِہ ہی اُن کی مِیراث ہیں جَیسا کہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے اُن سے فرمایا تھا۔)
DEU 10:10 اَور مَیں پہلے کی طرح چالیس دِن اَور چالیس رات پہاڑ پر ٹھہرا رہا اَور اِس دفعہ بھی یَاہوِہ نے میری سُنی اَور تُمہیں ہلاک کرنے کا خیال ہی نکال دیا۔
DEU 10:11 تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”جا اَور اُن لوگوں کی رہنمائی کر تاکہ وہ اُس مُلک میں داخل ہوکر اُس پر قبضہ کر لیں جسے اُنہیں دینے کی مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد سے قَسم کھائی تھی۔“
DEU 10:12 پس اَے اِسرائیل! یَاہوِہ تمہارے خُدا تُم سے اِس کے سِوا اَور کیا چاہتے ہیں کہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کا خوف مانو اَور اُن کی سَب راہوں پر چلو اَور اُن سے مَحَبّت رکھّو اَور اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی خدمت کرو،
DEU 10:13 اَور یَاہوِہ کے جو اَحکام اَور قوانین میں تُمہیں آج دے رہا ہُوں اُن پر عَمل کرو تاکہ تمہاری خیر ہو؟
DEU 10:14 دیکھ آسمان اَور سَب سے اُونچا آسمانوں کا آسمان اَور زمین اَور اُس میں جو کچھ ہے یہ سَب یَاہوِہ تمہارے خُدا ہی کا ہے۔
DEU 10:15 تو بھی یَاہوِہ نے تمہارے آباؤاَجداد سے خُوش ہوکر اُن سے مَحَبّت کی اَور اُنہُوں نے تُمہیں بھی جو اُن کی اَولاد ہو، سَب قوموں میں سے مُنتخب کیا جَیسا کہ آج کے دِن ظاہر ہے۔
DEU 10:16 چنانچہ اَپنے دِلوں کا ختنہ کرو اَور اَب تو ضِد کرنا چھوڑ دو۔
DEU 10:17 کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا خداؤں کا خُدا ہیں، اَور خُداوندوں کا خُداوؔند ہیں۔ وہ خُدائے عظیم، قادر اَور مُہیب خُدا ہیں جو کسی کی طرفداری نہیں کرتے اَور نہ ہی رشوت لیتے ہیں۔
DEU 10:18 وہ یتیموں اَور بیواؤں کا اِنصاف کرتے ہیں اَور پردیسی سے اَیسی مَحَبّت رکھتے ہیں کہ اُسے کھانا اَور کپڑا مُہیّا کرتے ہیں۔
DEU 10:19 اَور تُم بھی اُن سے جو پردیسی ہیں مَحَبّت رکھّو کیونکہ تُم خُود بھی مِصر میں پردیسی تھے۔
DEU 10:20 یَاہوِہ اَپنے خُدا کا خوف مانو اَور اُن کی خدمت کرو۔ اُن سے لپٹے رہو اَور یَاہوِہ کے نام کی قَسم کھاؤ۔
DEU 10:21 وُہی تمہاری حَمد و ثنا کا سزاوار ہیں اَور وُہی تمہارے خُدا ہیں جنہوں نے تمہاری خاطِر عظیم اَور مُہیب کارنامے اَنجام دئیے جنہیں تُم نے اَپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔
DEU 10:22 جَب تمہارے آباؤاَجداد مِصر گیٔے تھے تَب وہ کُل شُمار میں ستّر لوگ تھے اَور اَب یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں آسمان کے سِتاروں کی مانند لاتعداد بنا دیا ہے۔
DEU 11:1 تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا سے مَحَبّت رکھّو اَور اُن کے تمام تقاضوں، قوانین، آئین اَور اُن کے اَحکام پر ہمیشہ عَمل کرتے رہنا۔
DEU 11:2 اَور تُم آج کے دِن یاد رکھّو کہ مَیں تمہارے بال بچّوں سے کلام نہیں کر رہا ہُوں، جنہوں نے نہ تو یَاہوِہ تمہارے خُدا کی تنبیہ کو سمجھا ہے اَور نہ ہی اُنہُوں نے اُن کی عظمت، قوی ہاتھ اَور بڑھائے بازو کو دیکھاہے؛
DEU 11:3 اَور اُن معجزوں کو جسے خُدا نے مِصر میں اَور شاہِ مِصر فَرعوہؔ اَور اُس کے سَب لوگوں کے سامنے عجِیب و غریب کارنامے کیٔے۔
DEU 11:4 اَور یَاہوِہ نے مِصر کی فَوج اَور اُس کے گھوڑوں اَور رتھوں کا کیا حَشر کیا، جَب وہ تمہارا تعاقب کر رہے تھے تو اُنہیں بحرِقُلزمؔ کے پانی میں ڈُبو کر کیسے اُنہیں ہمیشہ کے لیٔے غرق کر دیا۔
DEU 11:5 اَور تمہارے اِس مقام میں پہُنچنے تک تمہارے بچّوں نے نہیں دیکھا تھا کہ یَاہوِہ نے اُس بیابان میں تمہارے ساتھ کیا کیا کیا تھا۔
DEU 11:6 اَور یَاہوِہ نے اِلیابؔ بِن داتنؔ اَور ابیرامؔ کے ساتھ جو رُوبِنؔ کے پوتے تھے کیا کیا تھا، جَب سَب اِسرائیلیوں کے سامنے، زمین نے اَپنا مُنہ کھولا اَور اُنہیں اُن کے گھرانوں، خیموں اَور اُن کے ہر جاندار سمیت نگل لیا۔
DEU 11:7 لیکن تُم نے تو اَپنی آنکھوں سے اِن سَب عظیم کارناموں کو دیکھاہے جسے یَاہوِہ نے اَنجام دیا تھا۔
DEU 11:8 لہٰذا تُم اُن سَب اَحکام پر عَمل کرنا جو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں تاکہ تُم مربوط ہوکر اُس مُلک پر قبضہ کر سکو، جسے حاصل کرنے کے لیٔے تُم یردنؔ کے پار جا رہے ہو۔
DEU 11:9 تاکہ اُس مُلک میں تمہاری عمر دراز ہو، جِس میں دُودھ اَور شہد کا دریا بہتا ہے، اَور جسے تمہارے آباؤاَجداد اَور اُن کی اَولاد کو دینے کا وعدہ یَاہوِہ نے اُن سے قَسم کھا کر کی تھی۔
DEU 11:10 کیونکہ جِس مُلک پر تُم قبضہ کرنے جا رہے ہو، وہ مِصر کی مانند نہیں ہے، جہاں سے تُم نکل آئے ہو، وہاں تُم بیج بوتے تھے اَور سبزی کے باغ کی طرح اُسے پاؤں سے نالیاں بنا کر سینچتے تھے۔
DEU 11:11 لیکن جِس مُلک پر قبضہ کرنے کے لیٔے تُم یردنؔ پار کر رہے ہو، وہ پہاڑوں اَور وادیوں کا مُلک ہے جو آسمان کی بارش سے سیراب ہوتا رہتاہے۔
DEU 11:12 وہ اَیسا مُلک ہے جِس کی فکر یَاہوِہ تمہارے خُدا کرتے ہیں اَور سال کے آغاز سے اُس کے اِختتام تک یَاہوِہ تمہارے خُدا کی نگاہیں اُس پر ہمیشہ لگی رہتی ہیں۔
DEU 11:13 لہٰذا اگر تُم جو اَحکام آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں، اُن پر سچّے دِل سے عَمل کرو یعنی یَاہوِہ اَپنے خُدا سے مَحَبّت رکھّو اَور اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان سے اُس کی خدمت کرو،
DEU 11:14 تو مَیں تمہارے مُلک میں صحیح وقت پر مینہ برساؤں گا خواہ وہ موسمِ خزاں ہو یا موسمِ بہار؛ تاکہ تُم اَپنا اناج اَور نئے انگوری شِیرے اَور زَیتُون کا تیل جمع کر سکو۔
DEU 11:15 مَیں تمہارے مویشیوں کے لیٔے کھیتوں میں گھاس اُگاؤں گا اَور تُم کھاؤگے اَور مطمئن ہو جاؤگے۔
DEU 11:16 لہٰذا خبردار رہو، کہیں اَیسا نہ ہو کہ تمہارا دِل دھوکا کھایٔیں اَور تُم بہک کر غَیر معبُودوں کی عبادت کرنے لگو اَور اُن کے آگے سَجدہ کرو۔
DEU 11:17 تَب یَاہوِہ کا غضب تُم پر بھڑک اُٹھے گا اَور وہ آسمان کے دروازے بند کر دے، تاکہ مینہ نہ برسے اَور زمین میں کچھ پیداوار نہ ہو، اَور تُم اِس بہترین مُلک سے جسے یَاہوِہ تُمہیں دے رہاہے بہت جلد فنا ہو جاؤگے۔
DEU 11:18 اِس لیٔے میرے اِن الفاظ کو اَپنے دِل و دماغ پر نقش کر لو اَور تُم اُنہیں اَپنے ہاتھوں پر نِشان کے طور پر باندھنا اَور اَپنی پیشانیوں پر ٹیکوں کی طرح لگا لو۔
DEU 11:19 گھر میں بیٹھتے، راہ پر چلتے، لیٹتے اَور اُٹھتے ہویٔے، تُم اِن کا ذِکر کیا کرنا؛ اَور اُنہیں اَپنے بچّوں کو سِکھایا کرنا۔
DEU 11:20 تُم اُنہیں اَپنے مکانوں کے دروازوں کی چوکھٹوں پر اَور اَپنے پھاٹکوں پر کندہ کرنا۔
DEU 11:21 تاکہ جَب تک آسمان اَور زمین قائِم ہیں، تمہاری اَور تمہارے اَولاد کی عمر اُس مُلک میں دراز ہو، جسے دینے کا وعدہ یَاہوِہ نے تمہارے آباؤاَجداد سے قَسم کھا کر کیا تھا۔
DEU 11:22 اگر تُم اِن سَب اَحکام کو جو میں تُمہیں دے رہا ہُوں؛ اُن پر عَمل کرو اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا سے مَحَبّت رکھّو، اَور اُن کی سَب راہوں پر چلو اَور اُن سے لپٹے رہو،
DEU 11:23 تَب یَاہوِہ اِن سَب قوموں کو تمہارے سامنے سے بے دخل کر دیں گے اَور تُم اَپنے سے بڑی اَور زورآور قوموں پر قابض ہو جاؤگے۔
DEU 11:24 جہاں جہاں تمہارے قدم پڑیں گے وہ زمین تمہاری ہو جائے گی؛ اَور تمہاری سرحد بیابان سے لے کر مُلک لبانونؔ تک اَور دریائے فراتؔ سے لے کر مغربی سمُندر تک پھیلی ہوگی۔
DEU 11:25 کویٔی بھی شخص تمہارا مُقابلہ نہ کر سکےگا اَور تُم جہاں کہیں جاؤگے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُم سے کئے ہویٔے وعدے کے مُطابق اُس سارے مُلک پر تمہارا خوف اَور دہشت پیدا کر دیں گے۔
DEU 11:26 دیکھو، آج مَیں تمہارے سامنے برکت اَور لعنت دونوں رکھ رہا ہُوں۔
DEU 11:27 برکت اُس حال میں پاؤگے جَب تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے اَحکام پرجو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں عَمل کروگے؛
DEU 11:28 اَور لعنت اُس صورت میں، اگر تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے اَحکام کی فرمانبرداری نہ کرو اَور اُس راہ کو جِس کی بابت میں آج تُمہیں حُکم دیتا ہُوں اُسے چھوڑکر اُن غَیر معبُودوں کی پیروی کرو، جِن سے تُم اَب تک واقف نہ تھے۔
DEU 11:29 جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں اُس مُلک میں پہُنچا دیں گے جِس پر قبضہ کرنے کے لیٔے تُم اُس میں داخل ہو رہے ہو، تَب کوہِ گِرزِیمؔ پر سے برکتیں اَور کوہِ عیبالؔ پر سے لعنتوں کا اعلان کرنا۔
DEU 11:30 جَیسا کہ تُم جانتے ہو کہ یہ کوہِ یردنؔ کے پار مغرب میں آفتاب کے غروب ہونے کی جانِب کچھ ہی فاصلے پر کنعانیوں کے مُلک میں ہیں جو عراباہؔ میں گِلگالؔ کے سامنے مورہؔ کے بڑے بلُوطوں کے نزدیک رہتے ہیں۔
DEU 11:31 کیونکہ تُم اَب یردنؔ کو پار کرکے اُس مُلک میں داخل ہوکر اُس پر قبضہ کرنے جا رہے ہو، جو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں۔ جَب تُم اُس پر قابض ہو جاؤ اَور وہاں رہنے لگو،
DEU 11:32 تَب خبردار رہنا تاکہ تُم اُن تمام قوانین اَور آئین پر عَمل کرنا؛ جنہیں آج مَیں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہُوں۔
DEU 12:1 جَب تک تُم اُس مُلک میں زندہ رہو جسے یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد کے خُدا نے تمہارے قبضہ میں دے دیا ہے، تَب تک اُس مُلک میں اِن قوانین اَور آئین پر نہایت احتیاط سے عَمل کرنا۔
DEU 12:2 تُم اُن تمام اُونچے پہاڑوں اَور ٹیلوں پر کے اَور ہر سرسبز درخت کے نیچے کے اُن تمام مقامات کو پُوری طرح سے نِیست و نابود کردینا جہاں وہ قومیں تھیں جِن کے اَب تُم وارِث ہوگے اَپنے معبُودوں کی عبادت کیا کرتی تھیں۔
DEU 12:3 تُم اُن کے مذبحوں کو ڈھا دینا، اَور اُن کے مُقدّس سُتونوں کو چکنا چُور کر ڈالنا اَور اُن کے اشیراہؔ کے سُتونوں کو آگ لگادینا؛ اُن کے معبُودوں کے بُتوں کو کاٹ کر گرا دینا اَور اُن کے نام تک کو اُن جگہوں سے مٹا دینا۔
DEU 12:4 تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی عبادت اُن کے طریقوں کے مُطابق مت کرنا۔
DEU 12:5 مگر تُم یَاہوِہ کی عبادت اُسی مقام میں کرنا جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے سَب قبیلوں میں سے خُود مُنتخب کریں گے تاکہ وہاں اَپنا نام اَور قِیام قائِم کریں۔ تُم اُسی مقام کے طالب ہوکر وہاں جایا کرنا۔
DEU 12:6 اَور وہیں اَپنی سوختنی نذریں اَور ذبیحے، اَپنی دہ یکیاں اَور خصوصی نذرانے، اَپنی مَنّتوں کی چیزیں اَور اَپنی رضا کی قُربانیاں اَور اَپنے مویشیوں اَور بھیڑ بکریوں کے پہلوٹھوں کو پیش کرنا۔
DEU 12:7 اَور وہیں یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور تُم اَور تمہارا خاندان کھائے اَور اَپنے ہاتھوں کے سارے کاموں اَور کامرانیوں پر خُوشی منائیں جِس میں یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں برکت دی ہے۔
DEU 12:8 اَور جَیسے ہم آج کل یہاں وُہی کرتے ہیں جو ہمیں بھلا لگتا ہے وَیسا تُم وہاں ہرگز نہ کرنا،
DEU 12:9 کیونکہ اَب تک تُم اُس آرامگاہ اَور مِیراث میں نہیں پہُنچے ہو، جو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں۔
DEU 12:10 لیکن تُم یردنؔ پار کرکے اُس مُلک میں بس جاؤگے جو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں مِیراث کے طور پر دے رہے ہیں اَور وہ تُمہیں تمہارے اطراف کے تمام دُشمنوں سے سکون بخشیں گے تاکہ تُم سلامتی سے رہ سکو۔
DEU 12:11 تَب جو مقام یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے نام کے قِیام کے لیٔے مُنتخب کریں گے وہیں تُم یہ سَب چیزیں لے جایا کرنا جِن کا میں تُمہیں حُکم دیتا ہُوں یعنی اَپنی سوختنی نذریں اَور ذبیحے اَپنی دہ یکیاں اَور خصوصی نذرانے اَور اَپنی خاص نذر کی اَشیا جِن کی مَنّت تُم نے یَاہوِہ کے لیٔے مانی ہو۔
DEU 12:12 اَور وہاں تُم تمہارے بیٹے اَور بیٹیاں تمہارے خادِم اَور خادِمائیں اَور تمہارے شہروں کے لیوی جِن کا اَپنا کویٔی حِصّہ یا مِیراث نہیں ہے یَاہوِہ کے حُضُور میں سَب مِل کر خُوشیاں منانا۔
DEU 12:13 خبردار رہنا کہ تُم اَپنی سوختنی نذریں کسی بھی جگہ اَپنی مرضی سے نہ پیش کرنا،
DEU 12:14 مگر تُم صِرف اُسی جگہ سوختنی نذر گزراننا جسے یَاہوِہ تمہارے کسی ایک قبیلہ کی جگہ میں مُنتخب کریں گے اَور تُم وہیں سَب کُچھ کرنا؛ جِس کا حُکم میں تُمہیں دے رہا ہُوں۔
DEU 12:15 البتّہ اَپنے جانوروں کو تُم اَپنے کسی بھی شہر میں ذبح کر سکتے ہو اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کی دی ہُوئی برکت کے مُطابق جِتنا چاہو اُتنا اُن کا گوشت کھا سکتے ہو؛ گویا وہ غزال یا ہِرن کا گوشت ہو اُسے ناپاک اَور پاک و صَاف دونوں طرح کے آدمی کھا سکتے ہیں۔
DEU 12:16 لیکن تُم خُون ہرگز نہ کھانا، اُسے پانی کی طرح زمین پر بہا دینا۔
DEU 12:17 تُم اَپنے اناج، نئے انگوری شِیرے، زَیتُون کے تیل کی دہ یکیاں اَور اَپنے مویشیوں اَور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے پہلوٹھے، اَپنی مَنّت مانی ہُوئی چیزیں اَور اَپنی رضا کی قُربانیاں یا خصوصی نذرانہ کو اَپنے شہروں کے اَندر ہرگز نہ کھانا۔
DEU 12:18 بَلکہ تُم، تمہارے بیٹے اَور بیٹیاں تمہارے خادِم اَور خادِمائیں اَور تمہارے شہروں کے لیوی اُنہیں یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور اُسی جگہ کھایٔیں جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا مُنتخب کریں، اَور تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور اَپنے ہاتھوں کے سَب کاموں پر خُوشی منانا۔
DEU 12:19 اَور خبردار رہنا کہ جَب تک تُم اَپنے مُلک میں زندہ رہو، لیویوں کو بھُلا نہ دینا۔
DEU 12:20 جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے وعدے کے مُطابق جو اُنہُوں نے تُم سے کیا ہے، تمہاری سرحد کو بڑھائیں، اَور تمہارا دِل گوشت کھانے کو کرے اَور تُم کہو، ”میں گوشت کھانا چاہتا ہُوں،“ تو تُم جِتنا دِل چاہے اُتنا کھا سکتے ہو۔
DEU 12:21 اَور اگر وہ جگہ جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا نے اَپنا نام قائِم کرنے کے لیٔے جو مقام مُنتخب کیا ہو، وہ تُم سے کافی دُورہو، تو تُم اَپنے مویشیوں کے ریوڑ میں سے بھیڑ بکری یا جانوروں میں سے جنہیں یَاہوِہ نے تُمہیں دئیے ہیں؛ کسی کو بھی میرے حُکم کے مُطابق ذبح کر سکتے ہو اَور تُم اُن کے گوشت کو اَپنے دِل کی چاہت کے مُطابق اَپنے شہروں میں کھا سکتے ہو۔
DEU 12:22 جَیسے تُم غزال یا ہِرن کا گوشت کھاتے ہو وَیسے ہی تُم اُنہیں کھانا۔ پاک اَور ناپاک دونوں طرح کے آدمی اُسے کھا سکتے ہیں۔
DEU 12:23 لیکن اِتنی احتیاط ضروُر برتنا کہ خُون ہرگز نہ کھانا، کیونکہ خُون ہی تو جان ہے اِس لیٔے تُم جان کو گوشت کے ساتھ ہرگز مت کھانا۔
DEU 12:24 تُم خُون ہرگز نہ کھانا بَلکہ اُسے پانی کی مانند زمین پر اُنڈیل دینا۔
DEU 12:25 تُم اُسے ہرگز نہ کھانا تاکہ تمہارا اَور تمہارے بعد تمہاری اَولاد کی بھی خیر ہو کیونکہ تمہارا یہ فعل یَاہوِہ کی نظر میں راست ٹھہرے گا۔
DEU 12:26 لیکن اَپنی مُقدّس چیزوں اَور اَپنی مَنّت کی چیزوں کو یَاہوِہ کے مُنتخب مقام پر لے جانا۔
DEU 12:27 اَور اَپنی سوختنی نذروں کا گوشت اَور خُون دونوں یَاہوِہ اَپنے خُدا کے مذبح پر نذر کرنا۔ تمہاری قُربانیوں کا خُون بھی یَاہوِہ تمہارے خُدا کے مذبح پر ہی اُنڈیلا جائے لیکن تُم اُن کا گوشت کھا سکتے ہو۔
DEU 12:28 اِن تمام قوانین پرجو میں تُمہیں دے رہا ہُوں نہایت احتیاط سے عَمل کرنا تاکہ تمہارا اَور تمہارے بعد تمہاری اَولاد کی ہمیشہ خیر ہو کیونکہ تمہارا یہ فعل یَاہوِہ تمہارے خُدا کی نظر میں دُرست اَور راست ٹھہرے گا۔
DEU 12:29 جِن قوموں پر تُم حملہ کرنے اَور اُن کے مُلک پر قبضہ کرنے جا رہے ہو، اُنہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے سامنے فنا کر دیں گے۔ لیکن جَب تُم اُنہیں کھدیڑ کر اُن کے مُلک میں بس جاؤ،
DEU 12:30 خبردار رہنا کہ تمہارے سامنے اُن تمام قوموں کے نِیست و نابود ہو جانے کے بعد کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم اُن قوموں کی پیروی میں اُلجھ جاؤ، اَور اُن کے معبُودوں کے متعلّق یہ دریافت کرنے لگو، ”یہ قومیں کِس طرح اَپنے معبُودوں کی عبادت کیا کرتی تھیں؟ ہم بھی وَیسا ہی کریں گے۔“
DEU 12:31 تُم اُن کے طور طریق پر یَاہوِہ اَپنے خُدا کی عبادت ہرگز نہ کرنا کیونکہ اُنہُوں نے اَپنے معبُودوں کی پرستش میں اَیسے مکرُوہ کام کرتے ہیں جِن سے یَاہوِہ کو سخت نفرت ہے۔ وہ تو اَپنے بیٹوں اَور بیٹیوں کو بھی اَپنے معبُودوں کی پرستش میں آتِشی قُربانی کے طور پر نذر کر دیتے ہیں۔
DEU 12:32 تُم بڑی ہوشیاری سے اِن سَب اَحکام پر جنہیں میں تُمہیں دے رہا ہُوں عَمل کرنا؛ اِن میں نہ تو کچھ اِضافہ کرنا اَور نہ ہی اِن میں سے کچھ گھٹانا۔
DEU 13:1 اگر تمہارے درمیان کویٔی نبی یا خواب دیکھ کر پیشن گوئی کرنے والا برپا ہو اَور وہ تُمہیں کسی عجِیب و غریب نِشان یا معجزہ کا اعلان کرے،
DEU 13:2 اَور اگر وہ نِشان یا معجزہ جِس کا اُس نے ذِکر کیا ہو واقعی میں سچ ثابت ہو، اَور وہ نبی کہے، ”آؤ ہم غَیر معبُودوں کی پیروی کریں اَور اُن کی عبادت کریں“ (یعنی اَیسے معبُود جِن کی تُم نے کبھی پرستش نہیں کی ہے)،
DEU 13:3 تو تُم اُس نبی یا خواب دیکھنے والے کی باتوں پر غور نہ کرنا کیونکہ اِس کے ذریعہ یَاہوِہ تمہارے خُدا یہ جاننے کے لیٔے تُمہیں آزماتے ہیں کہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا سے اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان سے مَحَبّت رکھتے ہو یا نہیں۔
DEU 13:4 تُمہیں صرف یَاہوِہ اَپنے خُدا ہی کی پیروی کرنی ہے، اَور صرف اُن ہی کا خوف ماَننا ضروُری ہے۔ اُن ہی کے اَحکام کو ماننا اَور اُن ہی کے فرمانبردار رہنا اَور اُن ہی کی خدمت کرنا اَور اُن ہی سے لپٹے رہنا۔
DEU 13:5 اُس نبی یا خواب دیکھنے والے کو ضروُر قتل کر دیا جائے کیونکہ اُس نے یَاہوِہ تمہارے خُدا سے جنہوں نے تُمہیں مِصر سے نکالا اَور تُمہیں غُلامی کے مُلک سے رِہائی بخشی اُن کے خِلاف بغاوت کرنے کی ترغیب دی تاکہ تُمہیں اُس راہ سے گُمراہ کرے جِس پر چلنے کا حُکم یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں دیا تھا۔ اِس لیٔے تُم اَپنے بیچ میں سے اَیسی بدکاری کو ختم کردینا۔
DEU 13:6 اگر تمہارا سگا بھایٔی یا تمہارا بیٹا یا بیٹی یا تمہاری چہیتی بیوی یا تمہارا کویٔی جگری دوست تُمہیں خُفیہ طور پر یہ کہہ کر ورغلائے کہ چلو، ”ہم غَیر معبُودوں کی عبادت کریں“ (یعنی اَیسے معبُودوں کی جنہیں نہ تُم اَور نہ تمہارے آباؤاَجداد ہی جانتے تھے،
DEU 13:7 یعنی اُن لوگوں کے معبُودوں کی پرستش جو تمہارے ہمسایہ لوگوں کے معبُود ہیں خواہ وہ تمہارے نزدیک کے ہُوں یا دُور کے یا مُلک کے ایک سِرے سے لے کر دُوسرے سِرے تک کے ہُوں)،
DEU 13:8 تُم اُن کی بات ہرگز نہ ماَننا، نہ اُن کی سُننا۔ تُم اُن پر کویٔی رحم بھی نہ کھانا اَور نہ اُنہیں بچانا اَور نہ ہی اُن کی حِفاظت کرنا۔
DEU 13:9 تُم اُنہیں ضروُر قتل کردینا اَور اُنہیں قتل کرتے وقت پہلے تمہارا ہاتھ اُٹھے اَور اُس کے بعد ہی دُوسرے لوگوں کے ہاتھ اُٹھیں۔
DEU 13:10 اَور تُم اُنہیں سنگسار کرنا تاکہ وہ مَر جایٔیں کیونکہ اُن ہی نے تُمہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا سے جو تُمہیں مِصر سے یعنی غُلامی کے مُلک سے نکال لائے برگشتہ کرنا چاہا۔
DEU 13:11 تَب تمام بنی اِسرائیل یہ سُن کر ڈریں گے اَور تمہارے درمیان کویٔی پھر کبھی اَیسی بدکاری نہ کرےگا۔
DEU 13:12 اگر تُم اُن شہروں میں سے جو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں رہنے کو دے رہے ہیں کسی شہر کے متعلّق یہ افواہ سُنو،
DEU 13:13 تُم میں سے چند فتنہ پرور اُٹھ کھڑے ہویٔے ہیں جنہوں نے اَپنے شہر کے لوگوں کو یہ کہہ کر گُمراہ کر دیا ہے، ”چلو ہم غَیر معبُودوں کی عبادت کریں“ (جِن سے تُم واقف نہ تھے)،
DEU 13:14 تَب تُم ضروُر دریافت کرنا اَور خُوب تحقیقات کرکے پتا لگانا۔ اَور اگر یہ بات سچ ہو اَور ثابت ہو جائے کہ اَیسا مکرُوہ کام تمہارے درمیان کیا جا چُکاہے،
DEU 13:15 تَب تُم اُس شہر کے سَب باشِندوں کو تلوار سے مار ڈالنا۔ وہاں کے تمام لوگوں اَور اُن کے سَب مویشیوں کو بالکُل نِیست و نابود کردینا۔
DEU 13:16 اَور اُس شہر کا سارا مالِ غنیمت چَوک کے درمیان جمع کرکے اُس شہر کو اَور وہاں کی ساری لُوٹ کو یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے آتِشی قُربانی کے طور پر جَلا دینا۔ اَور وہ شہر ہمیشہ کے لیٔے ایک کھنڈر کی طرح پڑا رہے اَور پھر کبھی تعمیر نہ کیا جائے،
DEU 13:17 اَور اِن ملامت چیزوں میں سے کویٔی شَے بھی تمہارے ہاتھ میں نہ رہ جایٔے، جو تباہ ہونے کے لیٔے مُقرّر ہو چُکی ہے تاکہ یَاہوِہ کا قہر شدید ٹھنڈا ہو جایٔے، اَور وہ تُم پر رحم اَور مہربانی کرکے تُمہیں شُمار میں خُوب بڑھائیں جَیسا اُنہُوں نے تمہارے آباؤاَجداد سے قَسم کھا کر وعدہ کیا تھا،
DEU 13:18 لہٰذا اگر تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے فرمانبردار رہو۔ اَور اُن سَب اَحکام پر عَمل کرو، جو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں، اَور وُہی کرتے رہو جو یَاہوِہ تمہارے خُدا کی نظر میں بھلا ہو۔
DEU 14:1 تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے فرزند ہو۔ اِس لیٔے مُردوں کی خاطِر اَپنے آپ کو زخمی نہ کرو اَور نہ ہی اَپنے اَبرو کے بال مُنڈواؤ،
DEU 14:2 کیونکہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی مُقدّس قوم ہو۔ اَور یَاہوِہ نے تُمہیں رُوئے زمین کی سَب قوموں میں سے اَپنی خاص مِلکیّت ہونے کے لیٔے مُنتخب کیا ہے۔
DEU 14:3 تُم کویٔی مکرُوہ چیز نہ کھانا۔
DEU 14:4 جِن مویشیوں کو تُم کھا سکتے ہو وہ یہ ہیں: بَیل، بھیڑ، بکری،
DEU 14:5 ہِرن، غزال چکارا، پہاڑی بکری، سابر، نیل گائے، اَور پہاڑی بھیڑ۔
DEU 14:6 جِن چَوپایوں کے کھُر چِرے ہویٔے ہُوں اَورجو جُگالی کرتے ہُوں اُسے تُم کھا سکتے ہو۔
DEU 14:7 لیکن اِن چَوپایوں میں، جو جُگالی کرتے ہیں یا جِن کے کھُر چِرے ہُوئے ہیں، تُم اِن جانوروں کو نہ کھانا، جَیسے اُونٹ، خرگوش اَور سافان۔ حالانکہ یہ جُگالی کرتے ہیں لیکن اِن کے کھُر چِرے ہویٔے نہیں ہیں؛ یہ تمہارے لیٔے رسمی طور پر ناپاک ہیں۔
DEU 14:8 سُؤر بھی ناپاک ہے اگرچہ اُس کے کھُر چِرے ہویٔے تو ہیں مگر وہ جُگالی نہیں کرتا۔ تُم اُن کا گوشت ہرگز نہ کھانا اَور نہ ہی اُن کی لاش کو چھُونا۔
DEU 14:9 آبی جانداروں میں سے تُم اُنہیں کھا سکتے ہو جِن کے پر اَور چھِلکے ہُوں۔
DEU 14:10 لیکن جِن جانداروں کے پر اَور چھِلکے نہ ہوں اُنہیں نہ کھانا۔ وہ تمہارے لیٔے ناپاک ہیں۔
DEU 14:11 تُم ہر پاک پرندہ کو کھا سکتے ہو۔
DEU 14:12 لیکن اِن پرندوں کو ہرگز نہ کھانا: عُقاب، گِدھ، کالا گِدھ،
DEU 14:13 سُرخ چیل، کالی چیل، ہر قِسم کے باز،
DEU 14:14 ہر قِسم کے کوّے،
DEU 14:15 چیخنے والا اُلّو، سینگ والا اُلّو، سمُندری بگلا، اَور ہر قِسم کے باز۔
DEU 14:16 چھوٹا اُلّو، بڑا اُلّو، سفید اُلّو،
DEU 14:17 جنگلی اُلّو، سمُندری عُقاب، ماہی خور سمُندری پرندہ،
DEU 14:18 لق لق، ہر قِسم کے بگلے، ہُدہُد، اَور چمگادڑ۔
DEU 14:19 جھُنڈ میں اُڑنے والے تمام پَردار کیڑے تمہارے لیٔے ناپاک ہیں؛ اُنہیں مت کھانا۔
DEU 14:20 لیکن ہر پاک پرندہ جسے تُم چاہو کھا سکتے ہو۔
DEU 14:21 جو جاندار پہلے سے ہی مَرا ہُواہے، تُم اُسے مت کھانا۔ تُم اُسے کسی پردیسی کو جو تمہارے شہر میں رہتا ہو، کھانے کو دے سکتے ہو، یا تُم اُسے کسی پردیسی کے ہاتھ بیچ سکتے ہو۔ کیونکہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی مُقدّس قوم ہو۔ تُم بکری کے بچّہ کو اُس کی ماں کے دُودھ میں مت اُبالنا۔
DEU 14:22 تُم ہر سال اَپنے کھیتوں کی پیداوار کا دسواں حِصّہ ضروُر نذر کرنے کے لیٔے الگ رکھنا۔
DEU 14:23 اَور تُم اَپنے یَاہوِہ خُدا کے حُضُور اُسی مقام میں جسے وہ اَپنے نام کے قِیام کے لیٔے مُنتخب کریں، اَپنے اناج، نئے انگوری شِیرے اَور زَیتُون کے تیل کی دہ یکی کو، اَور اَپنے گلّوں اَور ریوڑوں کے پہلوٹھوں کو کھانا، تاکہ تُم ہمیشہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کا خوف ماَننا سیکھو۔
DEU 14:24 لیکن جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں برکت بخشیں اَور اگر وہ جگہ جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے نام کو وہاں قائِم کرنے کے لیٔے مُنتخب کریں، جو تمہارے گھر سے کافی دُورہو، (اَور تمہارے لیٔے وہاں دہ یکی لے جانا مُشکل ہو)،
DEU 14:25 تو تُم اَپنی دہ یکی کے عِوض میں چاندی حاصل کرنا اَور اُس چاندی کو اَپنے ساتھ لے کر اُس مقام پر جانا جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا نے مُنتخب کیا ہو۔
DEU 14:26 اَور تُم اُس چاندی سے جو دِل چاہے خریدنا خواہ گائے، بَیل بھیڑ، بکری نئے انگوری شِیرے یا مَے یا اَپنی مرضی کی کویٔی اَور چیز۔ تَب اُسے اَپنے خاندان سمیت یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور کھانا اَور خُوشی منانا۔
DEU 14:27 اَور اَپنے شہر میں رہنے والے لیویوں کو فراموش نہ کرنا کیونکہ اُن کا اَپنا کویٔی حِصّہ یا مِیراث نہیں ہے۔
DEU 14:28 ہر تین سال کے اِختتام پر ضروُری ہے کہ تُم اَپنی پیداوار کی تمام دہ یکیاں لاکر اَپنے شہر میں جمع کر لینا۔
DEU 14:29 تَب لیوی (جِن کا تمہارے درمیان اَپنا کویٔی حِصّہ یا مِیراث نہیں ہے)، اَور پردیسی، یتیم اَور بیوائیں جو تمہارے ہی شہروں میں رہتی ہیں آئیں گے اَور اِس میں سے اَپنے کھانے کے لیٔے لے جا سکیں گے اَور کھا کر مطمئن ہو جایٔیں گے تَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے ہاتھ کے سَب کاموں میں تُمہیں برکت بخشیں گے۔
DEU 15:1 ہر سات سال کے پُورا ہونے پر تُم قرض ضروُر مُعاف کیا کرنا۔
DEU 15:2 اَور مُعاف کرنے کا طریقہ یہ ہو: اگر کسی نے اَپنے اِسرائیلی پڑوسی کو کچھ قرض دیا ہو تو وہ اُسے منسُوخ کر دے؛ وہ اَپنے اِسرائیلی پڑوسی یا بھایٔی سے اُس کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ قرض مُعاف کرنے کے لیٔے یَاہوِہ کے مُعیّنہ وقت کا اعلان کیا جا چُکاہے۔
DEU 15:3 ہاں، تُم کسی پردیسی سے تو اُس کا مطالبہ کر سکتے ہو لیکن جو قرض تمہارے بھایٔی کے پاس واجِبُ الادا ہو، وہ ضروُر مُعاف کر دیا جائے۔
DEU 15:4 مگر تمہارے درمیان کویٔی کنگال نہ رہے کیونکہ جِس مُلک کو یَاہوِہ تمہارے خُدا مِیراث کے طور پر تمہارے قبضہ میں دے رہے ہیں اُس میں وہ تُمہیں بہت برکت بخشیں گے،
DEU 15:5 بشرطیکہ تُم پُورے طور سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی بات مان کر اُن تمام اَحکام پرجو میں آج تُمہیں دے رہا ہُوں نہایت احتیاط کے ساتھ عَمل کرو۔
DEU 15:6 کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے وعدہ کے مُطابق تُمہیں برکت بخشیں گے اَور تُم بہت سِی قوموں کو قرض دوگے لیکن تُم کسی سے قرض نہیں لوگے۔ تُم بہت سِی قوموں پر حُکمرانی کروگے لیکن تُم پر کویٔی حُکمرانی کرنے نہ پایٔےگا۔
DEU 15:7 جو مُلک یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں، اَور اگر اُس مُلک کے کسی شہر میں تمہارے اِسرائیلی بھائیوں میں کُچھ غریب ہُوں، تو اُن غریب بھائیوں کی طرف نہ تو اَپنا دِل سخت کرنا اَور نہ اَپنی مُٹّھی بند رکھنا۔
DEU 15:8 بَلکہ اُن کی جو بھی ضروُرت ہو اُسے پُورا کرنے کے لیٔے اُسے نہایت ہی کھُلے دِل سے مدد کرنا یا بے تکلّفی سے قرض دینا۔
DEU 15:9 خبردار رہو کہ کہیں تمہارے ذہن میں یہ بُرا خیال نہ آئے: ”ساتواں سال جو قرضوں کے مُعاف کرنے کا سال ہے، وہ نزدیک ہے،“ اَور تُم اَپنے حاجت مند اِسرائیلی بھایٔی کی طرف بُری نیّت سے دیکھو اَور اُسے کچھ نہ دو؛ اَور وہ یَاہوِہ سے تمہارے خِلاف فریاد کرے اَور تُم مُجرم ٹھہرو۔
DEU 15:10 تُم اُسے نہایت فراخدلی سے دو اَور اُس کو دیتے وقت تمہارے دِل میں کویٔی گُریز بھی نہ ہو؛ تَب اِس سبب سے یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے سَب کاموں میں اَور سَب مُعاملوں میں جنہیں تُم اَپنے ہاتھ میں لوگے، تُمہیں برکت بخشیں گے۔
DEU 15:11 اَور حالانکہ مُلک میں تو غریب ہمیشہ پایٔے جایٔیں گے۔ اِس لیٔے میں تُمہیں حُکم دیتا ہُوں کہ تُم اَپنے مُلک میں اَپنے بھائیوں اَور مفلسوں اَور مُحتاجوں کے لیٔے اَپنی مُٹّھی کھُلی رکھنا۔
DEU 15:12 اگر کویٔی تمہارا عِبرانی بھایٔی خواہ مَرد ہو یا عورت تُمہیں بیچی گئی ہے، اَور وہ چھ سال تک تمہاری خدمت کر چُکے ہُوں، تو تُم ساتویں سال میں اُنہیں آزاد کردینا۔
DEU 15:13 اَور جَب تُم اُسے آزاد کرو تو اُسے خالی ہاتھ رخصت نہ کرنا۔
DEU 15:14 بَلکہ اَپنے گلّے، کھلیان اَور مے کے حوض میں سے اُنہیں دِل کھول کر جَیسی برکت تُمہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا نے بخشی ہے اُسی کے مُطابق اُنہیں دینا۔
DEU 15:15 اَور یاد رکھنا کہ مِصر میں تُم بھی غُلام تھے اَور یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں اُس سے مخلصی بخشی۔ اِس لیٔے آج مَیں تُمہیں یہ حُکم دیتا ہُوں۔
DEU 15:16 لیکن اگر تمہارا غُلام تُم سے کہے، ”مَیں تمہارے پاس سے جانا نہیں چاہتا،“ کیونکہ مُجھے تُم سے اَور تمہارے خاندان سے مَحَبّت ہے اَور مَیں تمہارے ساتھ رہ کر خُوشحال ہُوں،
DEU 15:17 تَب تُم ایک سُوئے سے دروازہ کی چوکھٹ پر اُس کا کان چھید ڈالنا تو وہ زندگی بھر تمہارا غُلام بنا رہے گا۔ تُم اَپنی لونڈیوں کے ساتھ بھی اَیسا ہی کرنا۔
DEU 15:18 اَپنے غُلام کو آزاد کرنا اَپنے لیٔے بوجھ نہ سمجھنا کیونکہ اُس نے چھ سال دو مزدُوروں کے برابر تمہاری خدمت کی ہے اَور یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے ہر کام میں تُمہیں برکت بخشیں گے۔
DEU 15:19 اَپنے ریوڑوں اَور گلّوں کے جتنے پہلوٹھے نر ہُوں اُنہیں یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے مخصُوص کردینا۔ اَپنے گایوں کے پہلوٹھوں سے کویٔی کام نہ لینا اَور نہ ہی اَپنی بھیڑوں کے پہلوٹھوں کی اُون کترنا۔
DEU 15:20 تُم اُسے ہر سال اَپنے خاندان کے ساتھ یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور اُس مقام میں کھایا کرنا، جسے وہ مُنتخب کریں گے۔
DEU 15:21 اگر کسی جانور میں کویٔی نُقص ہو، مثلاً وہ لنگڑا یا اَندھا ہو یا اُس میں کویٔی اَور بُرا عیب ہو، تو اُسے یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے قُربان نہ کرنا۔
DEU 15:22 تُم اُسے اَپنے اَپنے شہر میں کھانا۔ رسمی طور سے ناپاک اَور پاک دونوں طرح کے آدمی اُسے کھایٔیں جَیسے وہ غزال یا ہِرن کا گوشت کھاتے ہیں۔
DEU 15:23 لیکن اُس کا خُون ہرگز نہ کھانا؛ بَلکہ اُسے پانی کی طرح زمین پر اُنڈیل دینا۔
DEU 16:1 ابیبؔ مہینے کو یاد رکھنا اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کا فسح منانا کیونکہ ابیبؔ کے مہینے میں ہی وہ رات کے وقت تُمہیں مِصر سے نکال لایٔے تھے۔
DEU 16:2 اَورجو جگہ یَاہوِہ اَپنے نام کے قِیام کے لیٔے مُنتخب کریں گے وہیں تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے گائے، بَیل اَور بھیڑ بکریوں میں سے فسح کی قُربانی کرنا۔
DEU 16:3 اُسے خمیری روٹی کے ساتھ نہ کھانا بَلکہ سات دِن تک بے خمیری روٹی ہی کھانا جو مُصیبت کی روٹی ہے کیونکہ تُم مِصر سے جلدبازی میں نکلے تھے۔ اِس عید کا ایک مقصد یہ ہے کہ تُم زندگی بھر مِصر سے نکلنے کے وقت کو یاد رکھ سکو۔
DEU 16:4 اِن سات دِنوں تک تمہارے سارے مُلک میں اَور تمہارے پاس خمیر نظر نہ آئے۔ اَور پہلے دِن کی شام کو تُم جِس برّہ کی قُربانی کرو اُس کا گوشت صُبح تک باقی نہ رہنے پایٔے۔
DEU 16:5 تُم فسح کی قُربانی کو کسی بھی شہر میں نہ کرنا جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں،
DEU 16:6 سِوا اُس مقام کے، جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا نے اَپنے نام کے قِیام کے واسطے مُنتخب کریں گے، وہیں تُم فسح کی قُربانی کو شام کو آفتاب غروب ہونے کے وقت اَپنے مِصر سے روانگی کی سالگرہ پر نذر کرنا۔
DEU 16:7 اَورجو جگہ یَاہوِہ تمہارے خُدا مُنتخب کریں گے۔ اُسی جگہ اُس قُربانی کو بھُون کر کھانا اَور صُبح کو تُم اَپنے اَپنے خیمہ میں لَوٹ جانا۔
DEU 16:8 تُم چھ دِن تک بے خمیری روٹی کھایا کرنا اَور ساتویں دِن یَاہوِہ تمہارے خُدا کے واسطے مُقدّس اِجتماع ہو، اَور اُس دِن تُم کویٔی کام نہ کرنا۔
DEU 16:9 جَب سے تُم درانتی لے کر فصل کاٹنا شروع کرو، تَب سے سات ہفتے گِن کر۔
DEU 16:10 یَاہوِہ تمہارے خُدا کی دی ہُوئی برکت کے مُطابق اُن کے واسطے رضا کی قُربانی گزراننا اَور ہفتوں کی عید منانا۔
DEU 16:11 اَورجو جگہ یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے نام کے قِیام کے واسطے مُنتخب کریں گے وہاں تُم اَپنے بیٹے اَور بیٹیاں، خادِم اَور خادِمائیں، تمہارے شہر کے لیوی اَور پردیسی، تمہارے درمیان رہنے والے یتیم اَور بیوائیں سَب مِل کر یَاہوِہ کے حُضُور خُوشیاں منانا۔
DEU 16:12 یاد رہے کہ تُم مِصر میں غُلام تھے اَور اِن قوانین پر احتیاط کے ساتھ عَمل کرنا۔
DEU 16:13 جَب تُم اَپنے کھلیان اَور مے کے حوض سے پیداوار جمع کر چُکو، تَب سات دِن تک خیموں کی عید منانا۔
DEU 16:14 اَور تُم اَپنے بیٹے اَور بیٹیاں، خادِم اَور خادِمائیں، تمہارے شہر کے لیوی اَور پردیسی، تمہارے درمیان رہنے والے یتیم اَور بیوائیں سَب مِل کر یَاہوِہ کے حُضُور اِس عید کی خُوشیوں میں شامل ہونا۔
DEU 16:15 تُم سات دِن تک یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے یَاہوِہ کے مُنتخب کیٔے ہویٔے مقام پر یَاہوِہ کی عید منانا۔ کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہاری ساری فصل اَور تمہارے ہاتھوں کے سَب کاموں میں برکت بخشیں گے اَور تمہاری خُوشی مُکمّل ہو جایٔےگی۔
DEU 16:16 اَور سال میں تین بار یعنی بے خمیری روٹی کی عید، ہفتوں کی عید اَور خیموں کی عید کے موقعوں پر تمہارے سَب آدمی یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور اُسی مقام مَیں حاضِر ہُوا کریں جسے وہ مُنتخب کریں گے۔ اَور کویٔی شخص یَاہوِہ کے حُضُور خالی ہاتھ نہ آئے۔
DEU 16:17 تُم میں سے ہر ایک شخص اُس برکت کے مُطابق جو اُس نے یَاہوِہ اَپنے خُدا سے پائی ہے اُسے خُدا کے واسطے ہدیہ لے آئے۔
DEU 16:18 تُم اَپنے قبیلوں کے ہر شہروں میں جنہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا دے رہے ہیں، قاضی اَور منصبدار مُقرّر کرنا جو سچّائی سے لوگوں کا اِنصاف کیا کریں۔
DEU 16:19 تُم اِنصاف کا خُون نہ کرنا اَور نہ طرفداری کرنا۔ تُم رشوت نہ لینا کیونکہ رشوت دانشمند کی آنکھوں کو اَندھا کردیتی ہے اَور صادقوں کی باتوں کو بدل ڈالتی ہے۔
DEU 16:20 ہمیشہ اِنصاف ہی پر قائِم رہنا تاکہ تُم زندہ رہو اَور اُس مُلک پر قابض ہو جاؤ جو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں۔
DEU 16:21 تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے جو مذبح بناؤ اُس کے قریب کسی بھی طرح کا لکڑی کا اشیراہؔ کا سُتون کھڑا نہ کرنا۔
DEU 16:22 اَور نہ کسی پتّھر کو مُقدّس پتّھر کے طور پر نصب کرنا کیونکہ اُن سے یَاہوِہ تمہارے خُدا کو سخت نفرت ہے۔
DEU 17:1 تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے کویٔی اَیسا بَیل یا بھیڑ قُربان نہ کرنا جِس میں کویٔی نُقص یا عیب ہو کیونکہ یہ یَاہوِہ تمہارے خُدا کے حُضُور مکرُوہ ہے۔
DEU 17:2 اگر یَاہوِہ تمہارے خُدا کے ذریعے تُمہیں مُہیّا کیٔے گیٔے شہروں میں تمہارے درمیان کویٔی اَیسا مَرد یا عورت ہو، جِس نے یَاہوِہ تمہارے خُدا کا عہد توڑ کر کویٔی اَیسا کام کیا ہے جو اُن کی نظر میں بُرا ہے،
DEU 17:3 اَور میرے حُکم کے خِلاف غَیر معبُودوں، آفتاب یا چاند یا آسمان کے سِتاروں کے آگے جھُک کر سَجدہ اَور اُن کی عبادت کی ہے،
DEU 17:4 اَور یہ بات تُمہیں بتایٔی جایٔے اَور تمہارے سُننے میں آئے تو تُم اِس کی پُوری باریکی سے تحقیقات کرنا اَور اگر یہ سچ ثابت ہو جائے کہ اِسرائیل میں اَیسا مکرُوہ فعل سرزد ہُواہے،
DEU 17:5 تو جِس مَرد یا عورت نے یہ مکرُوہ کام کیا ہو اُسے شہر کے پھاٹک پر لے جانا اَور سنگسار کرکے ہلاک کردینا۔
DEU 17:6 دو یا تین گواہوں کی شہادت پر ہی کویٔی شخص جان سے ماراجائے۔ صرف ایک ہی آدمی کی گواہی سے کویٔی شخص جان سے نہ ماراجائے۔
DEU 17:7 اُسے قتل کرتے وقت سَب سے پہلے گواہوں کے ہاتھ اُس پر اُٹھیں اَور اُس کے بعد ہی باقی لوگوں کے ہاتھ اُٹھیں۔ تُمہیں اَپنے درمیان سے اَیسی بدکاری کو ختم کرنا ضروُری ہے۔
DEU 17:8 اگر تمہاری عدالتوں میں اَیسے مُعاملے پیش آئیں جِن کا اِنصاف کرنا تمہارے لیٔے مُشکل ہو خواہ وہ فَوجداری، دیوانی یا مُختلف قِسم کے مُقدّمہ ہُوں، اُنہیں اُس جگہ لے جانا جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا مُنتخب کریں گے۔
DEU 17:9 وہاں تُم لیوی کاہِنوں اَور اُن دِنوں کے قاضی کے پاس جانا جو اُس دَوران اَپنے دفتر میں کام کرتے ہوں گے۔ اُن سے دریافت کرنا اَور وہ تُمہیں فیصلہ سُنائیں گے۔
DEU 17:10 یَاہوِہ کے مُنتخب کیٔے ہویٔے مقام پر وہ جو فیصلہ تُمہیں سُنائیں، اُسی فیصلہ کو عَمل میں لانا۔ وہ جو کچھ کرنے کی تُمہیں ہدایت دیں، تُم بڑے احتیاط کے ساتھ اُس پر عَمل کرنا۔
DEU 17:11 شَریعت کی جو بھی تعلیم وہ تُمہیں دیں اَورجو فیصلے وہ تُمہیں سُنائیں اُن ہی کے مُطابق عَمل کرنا۔ وہ جو کچھ تُمہیں بتائیں اُس سے ہرگز نہ تو داہنے اَور نہ بائیں مُڑنا۔
DEU 17:12 اَورجو شخص قاضی کی یا اُس کاہِنؔ کی جو وہاں یَاہوِہ تمہارے خُدا کی خدمت میں مشغُول رہتے ہیں توہین کرے اَور اُن کے فیصلہ کو نہ مانے۔ تو وہ ضروُر جان سے مار ڈالا جائے۔ اَور تُم اِسرائیل سے اَیسی بدکاری کو ضروُر ختم کردینا۔
DEU 17:13 تَب سَب لوگ سُن کر ڈر جایٔیں گے اَور پھر توہین نہ کریں گے۔
DEU 17:14 جَب تُم اُس مُلک میں جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہیں ہیں، داخل ہو جاؤ اَور اُس میں قابض ہوکر بس جاؤ، اَور پھر یہ کہنے لگو، ”آؤ ہم اَپنے اِردگرد کی قوموں کی طرح اَپنے واسطے کسی کو بادشاہ بنایٔیں،“
DEU 17:15 تو جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا مُنتخب کریں صرف اُسی کو اَپنا بادشاہ مُقرّر کرنا۔ وہ تمہارے اَپنے اِسرائیلی بھائیوں میں سے ہی ہو۔ کسی پردیسی کو جو تمہارا اِسرائیلی بھایٔی نہیں ہے، اُسے اَپنے اُوپر بادشاہ مُقرّر نہ کرنا۔
DEU 17:16 اِس کے علاوہ، بادشاہ تعداد میں زِیادہ گھوڑے نہ رکھّے یا لوگوں کو مِصر میں گھوڑے خریدنے بھیجے کیونکہ یَاہوِہ نے تُم سے فرمایاہے، ”تُم مِصر میں کبھی واپس نہ جانا۔“
DEU 17:17 بادشاہ اَپنے واسطے بہت سِی بیویاں بھی نہ رکھّے ورنہ اُس کا دِل بہک جائے گا۔ وہ زِیادہ مقدار میں چاندی اَور سونا بھی جمع نہ کرے۔
DEU 17:18 اَور جَب وہ تختِ شاہی پر بیٹھے، تَب وہ اَپنے ہاتھوں سے اَپنے لیٔے اِس آئین کی ایک نقل ایک طُومار پر لکھے، جو لیوی کاہِنوں کے پاس مَوجُود ہے۔
DEU 17:19 اُس طُومار کو بادشاہ اَپنے پاس رکھّے اَور اَپنی ساری عمر اُسے پڑھا کرے تاکہ وہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کا خوف اَور اُس آئین اَور فرمانوں کی سَب باتوں کو بڑے احتیاط سے ماننا سیکھ سکے،
DEU 17:20 اَور بادشاہ اَپنے آپ کو اَپنے اِسرائیلی بھائیوں سے بہتر نہ سمجھے اَور نہ آئین سے داہنے یا بائیں مُڑے۔ تَب وہ اَور اُس کی اَولاد بنی اِسرائیل پر کافی عرصہ تک سلطنت کرتے رہیں گے۔
DEU 18:1 لیوی کاہِنوں کا یعنی سارے لیوی قبیلہ کا اِسرائیل کے ساتھ کویٔی حِصّہ یا مِیراث نہیں دیا گیا ہے۔ وہ یَاہوِہ کے حُضُور میں پیش کی جانے والی آتِشی قُربانیوں پر گزارا کریں گے کیونکہ وُہی اُن کی مِیراث ہے۔
DEU 18:2 اُن کی اَپنے اِسرائیلی بھائیوں کے درمیان کویٔی مِیراث نہ ہوگی؛ یَاہوِہ ہی اُن کی مِیراث ہیں جَیسا کہ یَاہوِہ نے اُن سے وعدہ کیا ہے۔
DEU 18:3 جَب لوگ بَیل یا بھیڑ کی قُربانی کرتے ہیں تو لوگ اُس قُربانی میں سے کاہِنوں کو یہ حِصّہ مُہیّا کریں جِس کے وہ حقدار ہیں یعنی کندھا، سَر اَور اَندرونی اَعضا۔
DEU 18:4 تُم کاہِنوں کو اَپنے اناج کا پہلا پھل، نئے انگوری شِیرے اَور زَیتُون کا تیل، اَور اَپنی بھیڑوں کی وہ اُون دینا جو پہلی بار کتری گئی ہو،
DEU 18:5 کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے اُنہیں اَور اُن کی اَولاد کو تمہارے سَب قبیلوں میں سے مُنتخب کیا ہے تاکہ وہ ہمیشہ یَاہوِہ کے نام سے خدمت کے لیٔے حاضِر رہیں۔
DEU 18:6 اگر کویٔی لیوی اِسرائیل کے کسی بھی شہر سے اَپنی مرضی سے اَپنا گھر چھوڑکر اُس مقام پر پُوری چاہت سے چلا آئے جسے یَاہوِہ نے مُنتخب کیا ہے،
DEU 18:7 تو وہ بھی یَاہوِہ اَپنے خُدا کے نام سے اَپنے سَب لیوی بھائیوں کی مانند خدمت کر سکتا ہے، جو وہاں یَاہوِہ کے حُضُور خدمت کرتے ہیں۔
DEU 18:8 اُسے باقی سَب کاہِنوں کے برابر کا حِصّہ ملے خواہ اُسے اَپنے خاندانی مِیراث بیچنے سے رقم ہی کیوں نہ مِلا ہو۔
DEU 18:9 جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہو جاؤ جو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں تو وہاں کی قوموں کی طرح مکرُوہ رواجوں کی نقل کرنا مت سیکھنا۔
DEU 18:10 تُم میں ہرگز اَیسا کویٔی شخص نہ پایا جائے جو اَپنے بیٹے یا بیٹی کی آتِشی قُربانی کرے، جو فال کھولے، جادُو ٹونا کرے، اَور مُستقبِل بتائے،
DEU 18:11 یا منتر پڑھنے والا ہو یا اَرواح پرست ہو یا جو مُردوں سے مشورہ کرتا ہو۔
DEU 18:12 جو شخص اَیسے کام کرتا ہے وہ یَاہوِہ کے حُضُور مکرُوہ کام ہیں؛ اِن ہی مکرُوہ کاموں کی وجہ سے یَاہوِہ تمہارے خُدا اُن قوموں کو تمہارے سامنے سے کھدیڑ دیں گے۔
DEU 18:13 تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور بے عیب رہنا۔
DEU 18:14 جِن قوموں کو تُم بے دخل کرکے اُن کے مُلک پر قبضہ کروگے وہ جادُوگروں اَور فالگیروں کی باتیں سُنتی رہی ہیں۔ لیکن تُمہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا نے اَیسی حرکت کرنے سے منع کیا ہے۔
DEU 18:15 یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے لیٔے تمہارے درمیان سے، تمہارے اِسرائیلی بھائیوں میں سے میری مانِند ایک نبی بھیجیں گے۔ اَور تُم اُس کی ہر بات ضروُر ماننا۔
DEU 18:16 کیونکہ یہی درخواست تُم نے یَاہوِہ اَپنے خُدا سے کوہِ حورِبؔ پر مُقدّس اِجتماع کے دِن کی تھی۔ تُم نے کہاتھا، ”ہمیں نہ تو یَاہوِہ ہمارے خُدا کی آواز دوبارہ سننی پڑے اَور نہ پھر کبھی اَیسی خوفناک آگ دیکھنی پڑے، ورنہ ہم ہلاک ہو جایٔیں گے۔“
DEU 18:17 اَور یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا: ”وہ جو کچھ کہتے ہیں ٹھیک ہی کہتے ہیں۔
DEU 18:18 میں اُن کے لیٔے اُن ہی کے اِسرائیلی بھائیوں میں سے تمہاری مانند ایک نبی بھیجوں گا اَور مَیں اَپنا کلام اُس کے مُنہ میں ڈالوں گا۔ اَورجو کُچھ میں اُسے حُکم دُوں گا وُہی سَب کچھ اُن سے بَیان کرےگا۔
DEU 18:19 جو کویٔی میری بات جسے وہ میرے نام سے کہے گا، نہ سُنے گا؛ تو میں خُود اُن سے حِساب لُوں گا۔
DEU 18:20 لیکن اگر کویٔی نبی جھُوٹے دعویٰ کرکے میرے نام سے اَیسا کلام کرتا ہے جِس کا مَیں نے اُسے حُکم نہیں دیا تھا، یا کویٔی نبی غَیر معبُودوں کے نام سے کلام کرے، تو وہ ضروُر جان سے ماراجائے۔“
DEU 18:21 تُم شاید اَپنے دِل میں یہ خیال لا سکتے ہو، ”ہمیں یہ مَعلُوم کیسے ہوگا کہ یہ پیغام یَاہوِہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے کہ نہیں؟“
DEU 18:22 جَب کویٔی نبی یَاہوِہ کے نام سے کلام کرے اَور وہ کلام واقعی پُورا نہ ہو یا سچ ثابت نہ ہو، تو جان لینا کہ وہ پیغام یَاہوِہ کی طرف سے نہیں تھا۔ اُس نبی نے وہ کلام گستاخی سے کیا تھا۔ تُم اُس نبی سے بالکُل خوف نہ کھانا۔
DEU 19:1 جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا اُن قوموں کو نِیست و نابود کر چُکے، جِن کا مُلک وہ تُمہیں دے رہے ہیں، اَور جَب تُم اُن کو کھدیڑ چُکو اَور اُن کے شہروں اَور مکانوں میں رہنے لگو،
DEU 19:2 تَب تُم اُس مُلک کے درمیان سے اَپنے لیٔے تین شہر الگ کر لینا جِس مُلک کو یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے قبضہ میں دے رہے ہیں۔
DEU 19:3 اَور تُم اُن شہروں تک جانے کے لیٔے راستے بنانا اَور اُس پُورے مُلک کو جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں مِیراث کے طور پر دے رہے ہیں اُسے تین حِصّوں میں تقسیم کرنا تاکہ وہ شخص جِس نے کسی کا خُون کیا ہو وہاں بھاگ کر اَپنی جان بچانے کے واسطے پناہ لے سکے۔
DEU 19:4 جو شخص کسی کا خُون کرکے اَپنی جان بچانے کے لیٔے اُن شہروں میں بھاگ جائے تاکہ وہ زندہ رہ سکے، اُس کا یہ قانُون ہے؛ اگر کسی نے شخص اَپنے پڑوسی کو غَیر اِرادتاً اَور بغیر کسی پُرانی عداوت کے خیال سے مار ڈالا ہو۔
DEU 19:5 مثلاً کویٔی شخص اَپنے پڑوسی کے ساتھ جنگل میں لکڑی کاٹنے گیا ہو، اَور جوں ہی اُس نے درخت کاٹنے کے لیٔے کُلہاڑی سے درخت پر وار کیا ہو اَور کُلہاڑی دستے سے اُچھل کر اُس کے پڑوسی کو جا لگے اَور وہ مَر جایٔے۔ تو اَیسی صورت میں وہ شخص اُن شہروں میں سے کسی بھی شہر کو بھاگ جایٔے اَور اَپنی جان بچائے۔
DEU 19:6 نہیں تو، کہیں اَیسا نہ ہو کہ خُون کا اِنتقام لینے والا اَپنے جوشِ غضب میں اُس کا تعاقب کرے اَور پناہ گاہ کے شہر سے کافی دُور ہونے کے باعث اُسے راستہ ہی میں پکڑکر قتل کر ڈالے، حالانکہ وہ قتل کے لائق نہ تھا کیونکہ اُس کے ذہن میں اَپنے پڑوسی کی بابت کویٔی عداوت تھی ہی نہیں۔
DEU 19:7 اِس لیٔے میں تُمہیں یہ حُکم دیتا ہُوں کہ اَپنے واسطے تین شہر الگ کر لینا۔
DEU 19:8 اگر یَاہوِہ تمہارے خُدا اُس وعدہ کے مُطابق جو اُنہُوں نے تمہارے آباؤاَجداد سے قَسم کھا کر کیا تھا، تمہاری سرحد کو بڑھا دیں اَور پُورا مُلک تُمہیں مُہیّا کرائیں جِس کے دینے کا وعدہ یَاہوِہ نے تمہارے آباؤاَجداد سے کیا تھا۔
DEU 19:9 اگر تُم نہایت احتیاط سے اِن سَب آئین پر عَمل کرتے ہو، جو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں، یعنی یَاہوِہ اَپنے خُدا سے مَحَبّت رکھّو اَور ہمیشہ اُن کی راہوں پر چلتے رہو، تو تُم اِن تین شہروں کے علاوہ تین اَور شہر بھی الگ کر لینا۔
DEU 19:10 تُم یہ ضروُر کرنا تاکہ تمہارے مُلک میں جو یَاہوِہ تمہارے خُدا مِیراث کے طور پر تُمہیں دے رہے ہیں، کسی بےگُناہ کا خُون بہایا نہ جائے اَور تُم اُس خُون کے مُجرم نہ ٹھہرو۔
DEU 19:11 لیکن اگر کویٔی شخص اَپنے پڑوسی سے عداوت رکھتا ہو اَور اُس کی گھات میں بیٹھے اَور اُس پر حملہ کرکے اُسے مار ڈالے، اَور پھر اُن شہروں میں سے کسی ایک شہر میں بھاگ جائے،
DEU 19:12 تَب اُس شہر کے بُزرگ اُسے وہاں سے واپس بُلوا لیں اَور اُسے اِنتقام لینے والے کے سُپرد کر دیں تاکہ وہ قتل کیا جائے۔
DEU 19:13 اُس پر رحم مت کھانا۔ بَلکہ تُم اِسرائیل سے بےگُناہ شخص کا خُون بہانے کے جُرم کو ختم کردینا تاکہ تمہاری خیر ہو۔
DEU 19:14 تُم اُس مُلک میں جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے قبضہ میں دے رہے ہیں، اَپنے ہمسایہ کی حدّ کا وہ نِشان نہ ہٹانا جسے تمہارے باپ دادوں نے مِیراث کے حِصّہ میں ٹھہرایا ہو۔
DEU 19:15 اگر کسی شخص پر کسی جُرم یا گُناہ کا اِلزام ہو جو اُس سے سرزد ہُوا ہو، تو اُسے گُنہگار قرار دینے کے لیٔے ایک گواہ کافی نہیں ہے۔ بَلکہ دو یا تین گواہوں کی گواہی سے ہی کویٔی بات سچ ثابت ہوگی۔
DEU 19:16 اگر کویٔی جھُوٹا گواہ کسی آدمی پر کسی جُرم کا اِلزام لگانے کے لیٔے کھڑا ہو،
DEU 19:17 تو دونوں فریق جو اُس مُقدّمہ میں اُلجھے ہُوں، یَاہوِہ کے حُضُور کاہِنوں اَور اُن قاضیوں کے آگے کھڑے ہُوں جو اُن دِنوں میں اَپنے دفتر میں بیٹھے ہُوں۔
DEU 19:18 قاضی پُوری باریکی سے تحقیقات کریں اَور اگر گواہ جھُوٹا ثابت ہو، اَور اُس نے اَپنے اِسرائیلی بھایٔی کے خِلاف جھُوٹی گواہی دی ہو،
DEU 19:19 تَب اُس جھُوٹے گواہ کے ساتھ وَیسا ہی سلُوک کرنا جَیسا وہ اَپنے بھایٔی کے ساتھ کرنا چاہتا تھا۔ تُم اَپنے درمیان سے اَیسی بدکاری کو ضروُر ختم کردینا۔
DEU 19:20 تَب باقی لوگ یہ سُن کر ڈریں گے اَور پھر کبھی اَیسی بدکاری تمہارے درمیان نہ ہوگی۔
DEU 19:21 تُم اَیسے مسئلہ میں مُجرم پر کبھی رحم مت کھانا، جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت، ہاتھ کے بدلے ہاتھ، اَور پاؤں کے بدلے پاؤں ہو۔
DEU 20:1 جَب تُم اَپنے دُشمنوں سے جنگ کرنے جاؤ اَور گھوڑوں اَور رتھوں اَور اَپنے سے بھی بڑے لشکر کو دیکھو، تو اُن سے خوفزدہ مت ہونا، کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا جو تُمہیں مِصر سے نکال لایٔے ہیں وہ تمہارے ساتھ رہیں گے۔
DEU 20:2 اَور جَب تُم میدانِ جنگ میں جانے کو ہو، تَب کاہِنؔ آگے بڑھ کر فَوج سے مُخاطِب ہُوں۔
DEU 20:3 اَور کاہِنؔ یُوں کہے: ”اَے اِسرائیلیوں سُنو! آج تُم اَپنے دُشمنوں سے لڑنے کے لیٔے میدانِ جنگ میں جا رہے ہو۔ لہٰذا بُزدل مت بنو یا خوف نہ کھاؤ؛ نہ تو گھبراؤ اَور نہ ہی اُن کے سامنے تُم پر دہشت طاری ہو۔
DEU 20:4 کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہاری خاطِر تمہارے دُشمنوں سے لڑ کر تُمہیں فتح دِلانے کے لیٔے تمہارے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔“
DEU 20:5 پھر فَوجی افسران فَوج سے یُوں مُخاطِب ہُوئے: ”کیا کسی نے نیا گھر تعمیر کیا ہے اَور اُسے مخصُوص نہیں کیا ہے؟ تو وہ گھر لَوٹ جائے؛ کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ جنگ میں ماراجائے اَور کویٔی دُوسرا شخص اُسے مخصُوص کرے۔
DEU 20:6 کیا کسی نے انگوری باغ لگایا ہے اَور اَب تک اُس کا پھل کھانا شروع نہیں کیا؟ تو وہ بھی گھر لَوٹ جائے۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ جنگ میں ماراجائے اَور کویٔی دُوسرا شخص اُس کا پھل کھائے۔
DEU 20:7 کیا کویٔی شخص کسی لڑکی سے منگنی کر چُکاہے لیکن اُس سے شادی کرکے نہیں لایا وہ بھی گھر لَوٹ جائے۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ جنگ میں ماراجائے اَور کویٔی اَور اُس سے شادی کر لے۔“
DEU 20:8 تَب فَوجی افسران یہ بھی کہیں، ”جو آدمی ڈرپوک یا بُزدل ہے وہ بھی گھر لَوٹ جائے تاکہ اُس کے بھائیوں کے حوصلے بھی پست نہ ہو جائیں۔“
DEU 20:9 جَب فَوجی افسران فَوجیوں سے بات کر چکیں، تو فَوج کے اُوپر سپہ سالار مُقرّر کر دیں۔
DEU 20:10 جَب تُم کسی شہر پر حملہ کرنے کے لیٔے اُس کے قریب پہُنچو، تو اُس کے باشِندوں کو اَمن کی پیشکش کرو۔
DEU 20:11 اگر وہ اَمن کی پیشکش قبُول کرتے ہیں اَور اَپنے پھاٹک کھول دیں، تو وہاں کے سَب باشِندے بیگار میں کام کرنے والے ہوں گے جو تمہارے خدمت گزار ہوں گے۔
DEU 20:12 لیکن اگر وہ صُلح کرنے سے اِنکار کریں اَور جنگ پر اُتر آئیں تو تُم اُس شہر کا محاصرہ کرنا۔
DEU 20:13 اَور جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا اُس شہر کو تمہارے ہاتھ میں کر دیں تو اُس میں کے سَب مَردوں کو تلوار سے قتل کردینا۔
DEU 20:14 لیکن عورتوں، بچّوں اَور مویشیوں اَور اُس شہر کی دُوسری چیزوں کو تُم مالِ غنیمت کے طور پر اَپنے لیٔے لے لینا۔ اَورجو مالِ غنیمت یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے دُشمنوں سے تُمہیں دِلائیں اُسے تُم اَپنے کام میں لانا۔
DEU 20:15 اُن تمام شہروں کا بھی یہی حال کرنا جو تُم سے بہت دُور ہیں، اُن قوموں کے شہروں کے ساتھ اَیسا مت کرنا جِس میں تُم ابھی داخل ہونے والے ہو۔
DEU 20:16 صرف اُن شہروں میں جنہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا مِیراث کے طور پر تُمہیں دے رہے ہیں، تُم کسی جاندار کو زندہ نہ چھوڑنا۔
DEU 20:17 بَلکہ جَیسا یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں حُکم دیا ہے تُم حِتّیوں، امُوریوں، کنعانیوں، پَرزّیوں، حِوّیوں اَور یبُوسیوں کو بالکُل نِیست و نابود کردینا
DEU 20:18 ورنہ وہ سَب مکرُوہ کام جو وہ اَپنے معبُودوں کی پرستش کے وقت کرتے ہیں، تُمہیں بھی سکھائیں گے اَور تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے خِلاف گُناہ کرنے لگوگے۔
DEU 20:19 جَب تُم کسی شہر کو فتح کرنے کے لیٔے اُس سے جنگ کرو اَور کافی عرصہ تک اُس کا محاصرہ کئے رہو، تو اُن کے درختوں کو کُلہاڑی سے نہ کاٹنا کیونکہ اُن کا پھل تمہارے کھانے کے کام آسکتا ہے۔ تُم اُنہیں ہرگز نہ کاٹنا۔ کیونکہ میدان کے درخت اِنسان نہیں ہیں کہ تُم اُنہیں کاٹ ڈالو؟
DEU 20:20 بہرحال جِن درختوں کو تُم جانتے ہو کہ وہ پھل نہیں لاتے ہیں، اُنہیں کاٹ ڈالنا اَور اُن کی لکڑی محاصرہ کے بُرج بنانے کے لیٔے اِستعمال کرنا جَب تک کہ وہ شہر جو تمہارے خِلاف جنگ کر رہاہے اَپنی شِکست قبُول نہ کر لے۔
DEU 21:1 اگر اُس مُلک میں جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے قبضہ میں دے رہے ہیں، کسی مقتول کی لاش میدان میں پڑی ہُوئی ملے اَور یہ مَعلُوم نہ ہو کہ اُس کا قاتل کون ہے،
DEU 21:2 تو تمہارے بُزرگ اَور قاضی باہر نکل کر اُس لاش کے چاروں طرف کے نزدیکی شہروں کا فاصلہ ناپیں۔
DEU 21:3 تَب جو شہر اُس مقتول لاش کے بالکُل قریب ہو، وہاں کے بُزرگ ایک بچھیا لیں جِس سے کبھی کویٔی کام نہ لیا گیا ہو نہ ہل جوتنے میں اَور نہ بیج بونے میں۔
DEU 21:4 پھر وہ بُزرگ اُس بچھیا کو ایک اَیسی وادی میں لے جایٔیں جہاں نہ ہل چلایا گیا ہو اَور نہ کچھ بویا گیا ہو اَور جہاں بہتے ہویٔے پانی کا چشمہ ہو۔ اَور وہاں اُس وادی میں اُس بچھیا کی گردن توڑ دیں۔
DEU 21:5 تَب بنی لیوی جو کاہِنؔ ہیں نزدیک آئیں کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے اُنہیں خدمت کرنے اَور یَاہوِہ کے نام سے برکت دینے اَور تمام تنازعوں اَور جھگڑوں کے مُعاملوں کا فیصلہ کرنے کے لیٔے مُنتخب کیا ہے۔
DEU 21:6 تَب اُس شہر کے سَب بُزرگ جو اُس مقتول لاش کے سَب سے قریب رہنے والے ہُوں، اُس بچھیا کے اُوپر اَپنے اَپنے ہاتھ دھوئیں، جِس کی گردن اُس وادی میں توڑی گئی ہو،
DEU 21:7 اَور وہ یُوں اعلان کریں: ”یہ خُون ہمارے ہاتھوں نہیں ہُواہے اَور نہ اِسے ہماری آنکھوں نے ہوتے ہویٔے دیکھاہے۔
DEU 21:8 لہٰذا اَے یَاہوِہ! اَپنی قوم اِسرائیل کے واسطے جسے آپ نے چھُڑایا ہے یہ فدیہ قبُول فرمائیں، اَور کسی بےگُناہ کے خُون کے لیٔے اَپنی قوم کو مُجرم نہ قرار دیں۔“ تَب اُنہیں خُون کے جُرم سے کفّارہ مِل جایٔےگا،
DEU 21:9 اِس طرح تُم بےگُناہ کے خُون کا اِلزام اَپنے اُوپر سے دُور کر دوگے کیونکہ تُم نے وہ کام کیا ہے جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست ہے۔
DEU 21:10 جَب تُم اَپنے دُشمنوں سے جنگ کرنے نکلو اَور یَاہوِہ تمہارے خُدا اُنہیں تمہارے ہاتھ میں کر دیں اَور تُم اُنہیں غُلام بنا کے لاؤ،
DEU 21:11 اَور اُن غُلاموں میں کویٔی حسین عورت دیکھ کر تُم اُس پر فریفتہ ہو جاؤ، تو تُم اُسے اَپنی بیوی بنا سکتے ہو۔
DEU 21:12 تُم اُسے اَپنے گھر لے آنا اَور اُس کا سَر مُنڈوانا اَور ناخون کٹوانا،
DEU 21:13 اَور اسیری کے وقت جو کپڑے وہ پہنے ہویٔے تھی اُنہیں الگ کردینا۔ اَور جَب وہ تمہارے گھر میں رہ کر مُکمّل ایک ماہ تک اَپنے ماں باپ کے لیٔے ماتم کر چُکے، تَب تُم اُس کے پاس جانا اَور اُس کا خَاوند ہو جانا اَور وہ تمہاری بیوی ہوگی۔
DEU 21:14 اَور اگر تُم اُس سے خُوش نہ ہو، تو جہاں وہ جانا چاہے اُسے جانے دینا۔ تُم اُسے قیمت میں ہرگز نہ بیچنا اَور نہ ہی اُس کے ساتھ غُلام کا سا سلُوک کرنا، کیونکہ تُم نے اُسے بےحُرمت کیا ہے۔
DEU 21:15 اگر کسی مَرد کی دو بیویاں ہوں، اَور وہ ایک سے مَحَبّت کرتا ہو اَور دُوسری سے نہیں، اَور دونوں سے اُس کے بیٹے پیدا ہوں، لیکن پہلوٹھا اُس بیوی کا بیٹاہو جِس سے وہ مَحَبّت نہیں کرتا۔
DEU 21:16 تو جَب وہ اَپنے بیٹوں کو اَپنی جائداد کا وارِث بنانے لگے تَب وہ اَپنی محبُوبہ بیوی کے بیٹے کو غَیر محبُوبہ کے پہلوٹھے بیٹے پرجو اُس کا حقیقی پہلوٹھا ہے ترجیح دے کر پہلوٹھا نہ بنائے۔
DEU 21:17 بَلکہ وہ اَپنے غَیر محبُوبہ بیوی کے بیٹے کو پہلوٹھا مان کر اُسے اَپنی جائداد میں سے دُگنا حِصّہ دے۔ کیونکہ وہ بیٹا اَپنے باپ کی قُوّت کا پہلا نِشان ہے۔ اَور پہلوٹھے کا حق اُسی کا ہے۔
DEU 21:18 اگر کسی شخص کا ضِدّی اَور باغی بیٹاہو، جو اَپنے والدین کی فرمانبرداری نہیں کرتا ہے اَور جَب والدین اُسے تنبیہ کرتے ہیں تو اُن کی نہیں سُنتا،
DEU 21:19 تو اُس کے والدین اُسے پکڑکر شہر کے پھاٹک پر بُزرگوں کے پاس لے جایٔیں۔
DEU 21:20 اَور اُس کے والدین شہر کے بُزرگوں سے کہیں، ”ہمارا یہ بیٹا ضِدّی اَور باغی ہے۔ وہ ہمارے حُکموں پر نہیں چلتا۔ وہ پیٹو اَور شرابی ہے۔“
DEU 21:21 تَب اُس کے شہر کے سَب لوگ اُسے سنگسار کرکے مار ڈالیں۔ تُم اَیسی بدکاری کو اَپنے بیچ میں سے ختم کردینا۔ تَب سَب اِسرائیلی اُس کے بارے میں سُن کر خوف کھایٔیں گے۔
DEU 21:22 اگر کسی شخص سے کویٔی سنگین جُرم سرزد ہُوا ہو اَور اُسے قتل کرکے، اُس کی لاش کو درخت سے لٹکا دیا گیا ہو،
DEU 21:23 تو دیکھنا کہ اُس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکتی نہ رہے۔ تُم اُسے اُسی دِن ضروُر دفن کردینا، کیونکہ جو درخت پر لٹکایا گیا ہے وہ خُدا کی طرف سے لعنتی ہے۔ لہٰذا تُم اُس مُلک کو ناپاک نہ کرنا جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا مِیراث کے طور پر تُمہیں دے رہے ہیں۔
DEU 22:1 اگر تُم اَپنے اِسرائیلی بھایٔی کے بَیل یا بھیڑ کو بھٹکتے دیکھو تو اُسے نظرانداز نہ کرنا بَلکہ اُسے اُس کے مالک کے پاس ضروُر پہُنچا دینا۔
DEU 22:2 اگر تمہارا اِسرائیلی بھایٔی تمہارے نزدیک نہ رہتا ہو یا تُمہیں مَعلُوم نہ ہو کہ وہ کون ہے، تو اُس جانور کو اَپنے ساتھ گھر لے آنا اَور اُسے اُس وقت تک رکھے رہنا جَب تک کہ وہ اُسے تلاش کرتا ہُوا تمہارے پاس نہ آئے۔ تَب تُم اُسے اُس کا جانور واپس لَوٹا دینا۔
DEU 22:3 اگر تُمہیں اَپنے اِسرائیلی بھایٔی کا گدھا، کُرتہ یا اُس کی کھوئی ہُوئی کویٔی بھی شَے مِلے، تو اَیسا ہی کرنا۔ اُسے نظرانداز نہ کرنا۔
DEU 22:4 اگر تُمہیں اَپنے اِسرائیلی بھایٔی کا گدھا یا بَیل راستہ میں گرا ہُوا مِلے تو اُسے نظرانداز نہ کرنا۔ بَلکہ تُم اُس کے مالک کی مدد اُنہیں اُٹھانے میں ضروُر کرنا۔
DEU 22:5 کویٔی بھی عورت مَرد کا لباس نہ پہنے، اَور نہ مَرد عورت کا کیونکہ جو اَیسا کرتا ہے تو وہ یَاہوِہ تمہارے خُدا کے نزدیک مکرُوہ ہے۔
DEU 22:6 اگر تُمہیں راہ کے کنارے درخت میں یا زمین پر کسی پرندہ کا گھونسلا ملے، اَور ماں بچّوں یا اَنڈوں پر بیٹھی ہُوئی ہو، تو تُم ماں کو بچّوں کے ساتھ نہ پکڑ لینا۔
DEU 22:7 تُم اگر چاہو تو بچّوں کو لے لینا لیکن ماں کو ضروُر چھوڑ دینا تاکہ تمہاری خیر ہو اَور تمہاری عمر دراز ہو۔
DEU 22:8 جَب تُم کویٔی نیا مکان تعمیر کرو، تو اَپنی چھت کے چاروں طرف منڈیر ضروُر لگاؤ تاکہ اگر کویٔی چھت پر سے گِر جائے تو تمہاری وجہ سے تمہارے گھر پر خُون کا اِلزام نہ لگے۔
DEU 22:9 اَپنے انگوری باغ میں دو قِسم کے بیج نہ بونا؛ اگر تُم اَیسا کروگے تو نہ صِرف ایک بیج کا بَلکہ انگوری باغ کا سارا پھل بھی پاک نہ ٹھہرے گا۔
DEU 22:10 تُم بَیل اَور گدھے دونوں کو ایک ساتھ جوت کر ہل مت چلانا۔
DEU 22:11 تُم اُون اَور کتان دونوں دھاگوں کی مِلاوٹ سے بُنا ہُوا کپڑا نہ پہننا۔
DEU 22:12 اَپنے پہننے والے باہری کپڑے کے چاروں کناروں پر جھالر لگایا کرنا۔
DEU 22:13 اگر کویٔی شخص کسی عورت سے شادی کرتا ہے اَور اُس سے ہم بِستر ہونے کے بعد اُس سے نفرت کرنے لگتا ہے،
DEU 22:14 اَور اُس پر تہمت لگا کر، اُسے یہ کہہ کر بدنام کرتا ہے، ”مَیں نے اِس عورت سے شادی کی لیکن جَب مَیں اُس سے ہم بِستر ہُوا تو مُجھے اُس کے کنواری ہونے کا ثبوت نہیں مِلا۔“
DEU 22:15 تَب اُس لڑکی کے ماں باپ اُس کے کنوارےپن کا ثبوت لے کر شہر کے بُزرگوں کے پاس پھاٹک پر جایٔیں۔
DEU 22:16 اَور لڑکی کا باپ بُزرگوں سے کہے، ”مَیں نے اَپنی بیٹی کی شادی اِس شخص سے کی تھی لیکن یہ اُسے اَب نہیں چاہتاہے۔
DEU 22:17 اَور اَب اُس پر تہمت لگاتا اَور کہتاہے، ’مَیں نے تمہاری بیٹی کو کنواری نہیں پایا۔‘ حالانکہ میری بیٹی کے کنوارےپن کا یہ ثبوت ہے۔“ اَور والدین اُس کپڑے کو شہر کے بُزرگوں کے سامنے پھیلا دیں،
DEU 22:18 تَب شہر کے بُزرگ اُس شخص کو پکڑکر کوڑے لگائیں۔
DEU 22:19 اَور اُس سے چاندی کی سَو ثاقل جُرمانہ کے طور پر وصول کرکے لڑکی کے باپ کو دیں کیونکہ اُس آدمی نے ایک اِسرائیلی کنواری کو بدنام کیا تھا۔ وہ لڑکی اُس کی بیوی بنی رہے گی؛ اَور اُس مَرد کو زندگی بھر اُسے طلاق دینے کا حق نہ ہوگا۔
DEU 22:20 لیکن اگر اِلزام سچ ہو اَور اُس لڑکی کے کنوارےپن کا ثبوت نہ مِل پایٔے،
DEU 22:21 تو اُسے اُس کے باپ کے گھر کے دروازہ پر لایا جائے اَور وہاں اُس کے شہر کے لوگ اُسے سنگسار کریں تاکہ وہ مَر جائے۔ کیونکہ وہ ابھی اَپنے باپ کے گھر ہی میں تھی کہ اُس نے فاحِشہ پن کرکے اِسرائیل میں نہایت شرمناک کام کیا۔ اِس طرح سے تُم اَپنے درمیان سے اَیسی بدکاری ضروُر ختم کردینا۔
DEU 22:22 اگر کویٔی آدمی کسی دُوسرے آدمی کی بیوی کے ساتھ زنا کرتے ہویٔے پکڑا جائے، تو وہ زناکار آدمی، اَور وہ عورت دونوں مار ڈالے جایٔیں۔ اِس طرح تُم اَیسی بدکاری اِسرائیل میں سے ختم کردینا۔
DEU 22:23 اگر کسی کنواری لڑکی کی منگنی طے ہو چُکی ہو اَور کویٔی دُوسرا آدمی اُس کی مرضی سے شہر کے اَندر ہی اُس سے صحبت کرتا ہے،
DEU 22:24 تو تُم اُن دونوں کو اُس شہر کے پھاٹک پر لے آنا اَور اُنہیں سنگسار کرکے مار ڈالنا۔ لڑکی کو اِس لیٔے کہ وہ شہر میں ہوتے ہویٔے بھی مدد کے لیٔے نہیں چِلّائی اَور آدمی کو اِس لیٔے کہ اُس نے دُوسرے شخص کی بیوی کو بےحُرمت کیا۔ اِس طرح سے تُم اَپنے درمیان سے اَیسی بدکاری دُور کردینا۔
DEU 22:25 لیکن اگر کویٔی آدمی کسی لڑکی کو جِس کی منگنی طے ہو چُکی ہو، کسی میدان میں پا کر اُس کے ساتھ زبردستی صحبت کرتا ہے تو صِرف وہ آدمی جِس نے یہ کیا ہو مار ڈالا جائے۔
DEU 22:26 اَور اُس لڑکی کو کویٔی سزا مت دینا؛ اُس نے اَیسا کویٔی گُناہ نہیں کیا کہ وہ سزائے موت کی مُستحق ٹھہرے۔ یہ مُعاملہ کچھ اَیسا ہے جَیسے کویٔی اَپنے ہمسایہ پر حملہ کرکے اُسے مار ڈالے،
DEU 22:27 کیونکہ اُس آدمی نے لڑکی کو کھُلے میدان میں پایا اَور حالانکہ وہ منگنی کی ہویٔی لڑکی چِلّائی تھی لیکن وہاں کویٔی نہ تھا جو اُسے بچاتا۔
DEU 22:28 اگر کسی آدمی کو کویٔی کنواری لڑکی مِل جاتی ہے جِس کی منگنی نہیں ہُوئی ہے اَور وہ اُس کے ساتھ زبردستی صحبت کرتا ہے اَور وہ دونوں پکڑے جاتے ہیں،
DEU 22:29 تو وہ آدمی لڑکی کے باپ کو پچاس ثاقل چاندی اَدا کرے۔ اَور لڑکی سے ضروُر شادی کر لے کیونکہ اُس نے اُس کی بےحُرمتی کی ہے۔ اَور اُس مَرد کو عمر بھر اُسے طلاق دینے کا حق نہ ہوگا۔
DEU 22:30 کویٔی شخص اَپنے باپ کی بیوی سے شادی نہ کرے؛ یعنی اَپنے باپ کے ہم بِستر کی بےحُرمتی نہ کرے۔
DEU 23:1 کویٔی بھی شخص جو نامرد ہے جِس کے اعضائے تناسل کُچل دئیے یا کاٹ دئیے گیٔے ہُوں، وہ یَاہوِہ کی جماعت میں داخل نہ ہونے پایٔے۔
DEU 23:2 کویٔی بھی ناجائز اَولاد اَور نہ اُس کی اَولادیں دسویں پُشت تک، اُس نَسل میں سے کویٔی شخص یَاہوِہ کی جماعت میں داخل ہونے نہ پایٔے۔
DEU 23:3 کویٔی بھی عمُّونی یا مُوآبی یَاہوِہ کی جماعت میں داخل نہ ہونے پایٔے، دسویں پُشت تک اُن کی نَسل میں سے کویٔی شخص یَاہوِہ کی جماعت میں داخل نہ ہونے پایٔے۔
DEU 23:4 کیونکہ جَب تُم مِصر سے نکل کر آ رہے تھے تو وہ راستہ میں روٹی اَور پانی لے کر تمہارے اِستِقبال کو نہیں آئےتھے اَور اُنہُوں نے مسوپتامیہؔ کے پتھورؔ شہر سے بِلعاؔم بِن بعورؔ کو اُجرت پر بُلایا تاکہ وہ تُم پر لعنت بھیجے۔
DEU 23:5 لیکن یَاہوِہ تمہارے خُدا نے بِلعاؔم کی نہ سُنی بَلکہ اُس لعنت کو تمہارے لیٔے برکت میں تبدیل کر دیا، کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا تُم سے مَحَبّت رکھتے ہیں۔
DEU 23:6 تُم زندگی بھر اُن کے ساتھ دوستی کا عہد مت کرنا۔
DEU 23:7 تُم کسی اِدُومی آدمی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھنا کیونکہ وہ تمہارا بھایٔی ہی ہے۔ کسی مِصری کو بھی حقیر نہ جاننا کیونکہ تُم اُن کے مُلک میں ایک پردیسی کی مانند رہتے تھے۔
DEU 23:8 اُن کی تیسری پُشت کے جو بچّے پیدا ہوں وہ یَاہوِہ کی جماعت میں داخل ہو سکتے ہیں۔
DEU 23:9 جَب تُم اَپنے دُشمنوں کے خِلاف خیمہ زن ہو، تو ہر طرح کی ناپاکی سے بچے رہنا۔
DEU 23:10 اگر تُم میں سے کویٔی آدمی رات کے وقت احتلامِ شبینہ سے پاک نہیں رہتاہے تو وہ چھاؤنی کے باہر جائے اَور وہیں رہے۔
DEU 23:11 لیکن جَب شام ہونے لگے تو وہ غُسل کر لے اَور غروب آفتاب کے وقت چھاؤنی میں ضروُر لَوٹ آئے۔
DEU 23:12 چھاؤنی کے باہر تُم ایک جگہ مُقرّر کر لینا جہاں اَپنی حاجت رفع کرنے کے لیٔے جا سکو۔
DEU 23:13 اَپنے ہتھیاروں میں کھودنے کا کویٔی آلہ بھی رکھنا اَور جَب تُم حاجت رفع کر چُکو تو ایک گڑھا کھود کر اَپنے فُضلہ کو مٹّی سے ڈھانک دینا۔
DEU 23:14 کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہاری چھاؤنی میں چلتے پھرتے ہیں تاکہ تمہاری حِفاظت کریں اَور تمہارے دُشمنوں کو تمہارے حوالہ کر دیں۔ تمہاری کا پاک ہونا ضروُری ہے۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ تمہارے درمیان کویٔی نَجاست دیکھے اَور تُم سے دُور چلے جائیں۔
DEU 23:15 اگر کسی غُلام نے تمہارے پاس پناہ لی ہو، تو اُسے اُس کے آقا کے حوالہ نہ کرنا۔
DEU 23:16 اُسے اَپنے درمیان جہاں وہ چاہے اَور جِس شہر کو وہ پسند کرے وہیں رہنے دینا۔ اَور تُم اُس پر ظُلم نہ ڈھانا۔
DEU 23:17 کسی معبُود کے واسطے کویٔی اِسرائیلی عورت یا آدمی بدفعلی کا کام نہ کرے۔
DEU 23:18 تُم کسی عورت یا کسی مَرد کی جِسم فروشی کی کمائی کو کسی مَنّت کو پُورا کرنے کے لیٔے یَاہوِہ اَپنے خُدا کے گھر میں نہ لانا کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا کو اُن دونوں سے سخت نفرت ہے۔
DEU 23:19 تُم اَپنے اِسرائیلی بھایٔی سے سُود وصول نہ کرنا خواہ وہ رُوپیَوں پر، اناج پر یا کسی اَیسی شَے پر ہو جِس پر سُود لیا جاتا ہو۔
DEU 23:20 تُم چاہو تو پردیسیوں سے سُود وصول کر سکتے ہو، لیکن کسی اِسرائیلی بھایٔی سے نہیں تاکہ جِس مُلک پر قبضہ کرنے کے لیٔے تُم داخل ہو رہے ہو وہاں جِس جِس کام میں تُم اَپنا ہاتھ ڈالو اُن سَب میں یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں برکت دیں۔
DEU 23:21 اگر تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی خاطِر مَنّت مانو، تو اُسے پُورا کرنے میں تاخیر نہ کرنا کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا ضروُر اُسے تُم سے طلب کریں گے اَور تَب تُم مُجرم ٹھہروگے۔
DEU 23:22 لیکن اگر تُم مَنّت نہ مانو، تو مُجرم نہ ٹھہروگے۔
DEU 23:23 جو کچھ تمہارے لبوں سے نکلے اُسے ضروُر پُورا کرنا کیونکہ تُم نے خُود اَپنے مُنہ سے رضا کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے مَنّت مانی تھی۔
DEU 23:24 اگر تُم اَپنے ہمسایہ کے انگوری باغ میں داخل ہو، تو جتنے چاہو اُتنے انگور کھا لینا لیکن اَپنی ٹوکری میں کچھ نہ رکھنا۔
DEU 23:25 اگر تُم اَپنے ہمسایہ کے اناج کے کھیت میں داخل ہو، تو تُم اَپنے ہاتھوں سے بالیں توڑ سکتے ہو لیکن اُس کی کھڑی فصل کو درانتی مت لگانا۔
DEU 24:1 اگر کویٔی مَرد کسی عورت سے شادی کر لے لیکن بعد میں اُس میں کویٔی اَیسی شرمناک حرکت کے باعث اُس کے ساتھ رہنے پر راضی نہ ہو، تو وہ طلاق نامہ لِکھ کر اُس کے حوالہ کر دے اَور اُسے اَپنے گھر سے بے دخل کر دے۔
DEU 24:2 اَور اگر اَپنے پہلے شوہر کا گھر چھوڑنے کے بعد وہ کسی دُوسرے آدمی کی بیوی بَن جاتی ہے،
DEU 24:3 اَور اُس کا دُوسرا خَاوند بھی اُسے نا پسند کرے اَور طلاق نامہ لِکھ کر اُس کے حوالہ کرے اَور اُسے اَپنے گھر سے بے دخل کر دے یا خُود مَر جائے،
DEU 24:4 تَب اُس عورت کا پہلا خَاوند جِس نے اُسے طلاق دیا تھا اُس عورت کے ناپاک ہو جانے کے بعد اُس سے دوبارہ شادی نہ کرنے پایٔے، کیونکہ اَیسا کام یَاہوِہ کی نظر میں مکرُوہ ہے۔ تُم اُس مُلک پر گُناہ نہ لانا جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا مِیراث کے طور پر تُمہیں دے رہے ہیں۔
DEU 24:5 اگر کسی آدمی کی ابھی حال ہی میں شادی ہُوئی ہے تو اُسے جنگ کے لیٔے ہرگز نہ بھیجا جائے۔ اَور نہ ہی اُسے کویٔی اَور ذمّہ داری سُپرد کی جائے۔ وہ ایک سال تک آزادی سے گھر میں رہے اَور اَپنی نئی بیوی کو خُوش رکھّے۔
DEU 24:6 چکّی کو یا اُس کے اُوپر کے پاٹ کو گِروی نہ رکھنا کیونکہ اَیسا کرنا تو گویا اِنسان کی کمائی کے ذریعہ کو ہی رہن رکھنے کے برابر ہوگا۔
DEU 24:7 اگر کویٔی شخص اَپنے اِسرائیلی بھائیوں میں سے کسی کو اِغوا کرکے غُلام بنا لے یا بیچ ڈالے اَور پکڑا جائے تو وہ اِغوا کرنے والا شخص مار ڈالا جائے۔ تُم اَیسی بدکاری اَپنے درمیان سے ضروُر دُور کردینا۔
DEU 24:8 کوڑھ کی بیماریوں کے بارے میں لیوی کاہِنؔ جو ہدایات دیں، ٹھیک اُن ہی کے مُطابق احتیاط سے عَمل کرنا۔ مَیں نے اُنہیں جو حُکم دیئے ہیں اُن ہی کے مُطابق غور فرما کر عَمل کرنا۔
DEU 24:9 جَب تُم مِصر سے نکل کر آ رہے تھے تَب یَاہوِہ تمہارے خُدا نے راستہ میں مِریمؔ کے ساتھ جو کچھ کیا اُسے یاد رکھنا۔
DEU 24:10 جَب تُم اَپنے ہمسایہ کو کسی قِسم کا قرض دو تو جو شَے وہ رہن رکھنا چاہے اُسے لینے کے لیٔے اُس کے گھر میں داخل نہ ہونا۔
DEU 24:11 بَلکہ تُم باہر ہی کھڑے رہنا اَور وہ شخص جسے تُم قرض دے رہے ہو خُود اُس رہن رکھی جانے والی چیز کو تمہارے پاس باہر لایٔے۔
DEU 24:12 اگر وہ شخص مسکین ہو تو اُس کی رہن رکھی ہُوئی چادر کو اوڑھ کر نہ سو جانا۔
DEU 24:13 بَلکہ آفتاب کے غروب ہونے تک اُس کا باہری لباس اُسے لَوٹا دینا تاکہ وہ اُسے اوڑھ کر سو سکے۔ تَب وہ تمہارا شُکرگزار ہوگا اَور یہ یَاہوِہ تمہارے خُدا کی نظر میں تمہارے حق میں راستبازی کا کام گِنا جائے گا۔
DEU 24:14 تُم مزدُور کی مفلسی اَور مُحتاجی کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھانا خواہ وہ اِسرائیلی بھایٔی ہو یا کویٔی پردیسی ہو جو تمہارے کسی شہر میں رہتا ہو۔
DEU 24:15 تُم ہر روز آفتاب کے غروب ہونے سے پہلے ہی اُس کی مزدُوری دے دیا کرو کیونکہ وہ غریب ہے اَور اُس پر اُس کی آس لگی ہُوئی ہوتی ہے۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ یَاہوِہ سے تمہارے خِلاف فریاد کرے اَور تُم مُجرم ٹھہرو۔
DEU 24:16 والدین اَپنے بچّوں کے عِوض میں نہ مارے جایٔیں۔ نہ ہی بچّے اَپنے والدین کی خاطِر مارے جایٔیں۔ ہر ایک اَپنے ہی گُناہ کے سبب سے ماراجائے۔
DEU 24:17 کویٔی پردیسی یا یتیم اِنصاف سے محروم نہ رہے اَور نہ کسی بِیوہ کے کپڑے رہن رکھّے جایٔیں۔
DEU 24:18 یاد رکھو کہ تُم مِصر میں غُلام تھے اَور یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں وہاں سے چھُڑایا۔ اِس لیٔے میں تُمہیں یہ کام کرنے کا حُکم دے رہا ہُوں۔
DEU 24:19 جَب تُم اَپنے کھیت کی فصل کاٹ رہے ہو اَور کویٔی پُولا بھُول سے کھیت میں چھُوٹ جائے تو اُسے لینے کے لیٔے لَوٹ کر واپس نہ جانا۔ اُسے پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کے لیٔے رہنے دینا تاکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے سَب کاموں میں جنہیں تُم ہاتھ لگاؤ برکت بخشیں۔
DEU 24:20 جَب تُم اَپنے زَیتُون کے درختوں کو جھاڑو تو شاخوں کو دوبارہ نہ جھاڑنا بَلکہ جو بچا ہو اُسے پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کے لیٔے چھوڑ دینا۔
DEU 24:21 جَب تُم اَپنے انگوری باغ کے انگور جمع کرو تو اُس کے بَیلوں کو دوبارہ نہ ٹٹولنا بَلکہ جو بچا ہے اُسے پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کے لیٔے چھوڑ دینا۔
DEU 24:22 یاد رکھو کہ تُم مِصر میں غُلام تھے۔ اِس لیٔے میں تُمہیں یہ کام کرنے کا حُکم دے رہا ہُوں۔
DEU 25:1 اگر لوگوں میں کسی طرح کا جھگڑا ہو، تو وہ اُسے عدالت میں پیش کریں اَور قاضی مُقدّمہ کا فیصلہ کریں جو بے قُصُور کو بَری کر دیں اَور مُجرم کو سزا دیں۔
DEU 25:2 اگر مُلزم پیٹے جانے کا مُستحق ہو تو قاضی اُسے لٹاکر اَپنی آنکھوں کے سامنے اُس کے جُرم کی سنگینی کے مُطابق گِن کر کوڑے لگوائے۔
DEU 25:3 لیکن وہ اُسے چالیس سے زِیادہ کوڑے نہ لگوائے۔ اگر اُسے اُس سے زِیادہ کوڑے لگوائے گیٔے تو تمہارا بھایٔی تمہاری نظروں میں ذلیل ہو جایٔےگا۔
DEU 25:4 تُم فصل گاہتے وقت بَیل کا مُنہ نہ باندھنا۔
DEU 25:5 اگر سَب بھایٔی ایک ہی خاندان میں ساتھ مِل کر رہتے ہُوں اَور اُن میں سے ایک بھایٔی بے اَولاد مَر جائے تو اُس کی بِیوہ کی شادی کسی اجنبی آدمی سے نہ کی جایٔے جو اُس خاندان سے تعلّق نہ رکھتا ہو۔ اُس کے خَاوند کا بھایٔی اُسے اَپنی بیوی کے طور پر قبُول کرکے اُس سے شادی کر لے اَور اُس کے ساتھ دیور کا حق اَدا کرے۔
DEU 25:6 اَور اُس عورت کے جو پہلا بیٹا ہوگا وہ اُس مرحُوم بھایٔی کے نام کا کَہلایٔےگا تاکہ مرحُوم کا نام اِسرائیل سے مِٹ نہ جایٔے۔
DEU 25:7 لیکن اگر وہ آدمی اَپنی بھاوج سے شادی کرنا نہ چاہے تو وہ عورت پھاٹک پر بُزرگوں کے پاس جائے اَور کہے، ”میرا دیور اَپنے بھایٔی کا نام اِسرائیل میں قائِم رکھنے سے اِنکار کر رہاہے اَور میرے ساتھ دیور کا حق اَدا کرنا نہیں چاہتا۔“
DEU 25:8 تَب اُس شہر کے بُزرگ اُس آدمی کو بُلوا کر اُسے سمجھائیں۔ لیکن اگر وہ اَپنی بات پر قائِم رہے اَور کہے، ”میں اِس عورت سے شادی نہیں کرنا چاہتا ہُوں،“
DEU 25:9 تَب اُس کے بھایٔی کی بِیوہ بُزرگوں کے سامنے اُس کے پاس جا کر اُس کی ایک جُوتی اُتار لے اَور اُس کے مُنہ پر تھُوک دے اَور کہے، ”جو آدمی اَپنے بھایٔی کا گھر آباد نہیں کرنا چاہتا اُس کے ساتھ اَیسا ہی سلُوک کیا جاتا ہے۔“
DEU 25:10 تَب اِسرائیلیوں میں اُس کا نام یُوں جانا جائے گا، یہ اُس آدمی کا گھر ہے جِس کی جُوتی اُتاری گئی ہے۔
DEU 25:11 جَب دو آدمی آپَس میں لڑ رہے ہوں اَور اُن میں سے ایک کی بیوی اَپنے خَاوند کو اُس کے حملہ آور کے ہاتھ سے بچانے کے لیٔے آ جائے اَور اَپنا ہاتھ بڑھا کر اُس کی شرم گاہ کو پکڑ لے،
DEU 25:12 تو تُم اُس عورت کا ہاتھ کاٹ ڈالنا اَور اُس پر رحم نہ کھانا۔
DEU 25:13 تُم اَپنی تھیلی میں ایک ہی طرح کے اَیسے دو باٹ نہ رکھنا کہ ایک بھاری اَور دُوسرا وزن میں ہلکا ہو۔
DEU 25:14 تُم اَپنے گھر میں ایک ہی طرح کے دو پیمانے نہ رکھنا کہ ایک کم ناپ کا ہو اَور دُوسرا زِیادہ کا۔
DEU 25:15 تمہارے وزن کرنے کے باٹ اَور پیمانے صحیح اَور دیانتدارانہ ہوں تاکہ اُس مُلک میں جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں، تمہاری عمر دراز ہو۔
DEU 25:16 کیونکہ اَیسے لوگ جو فریب سے کام لیتے ہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا کی نظر میں مکرُوہ ہیں۔
DEU 25:17 یاد رکھو کہ جَب تُم مِصر سے نکل کر آ رہے تھے تَب راستہ میں عمالیقیوں نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟
DEU 25:18 جَب تُم تھکے ماندے اَور نڈھال تھے تَب اُنہُوں نے تُم پر حملہ کیا اَورجو سَب سے پیچھے تھے اُنہیں قتل کیا اَور اُن کے اَندر خُدا کا خوف نہ تھا۔
DEU 25:19 اِس لیٔے جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں اُس مُلک میں جسے وہ مِیراث کے طور پر تمہارے قبضہ میں دے رہے ہیں، اَور جَب وہ تمہارے اِردگرد کے سَب دُشمنوں سے راحت بخشیں، تو تُم عمالیقیوں کا نام و نِشان آسمان کے نیچے سے مٹا دینا۔ تُم اِس بات کو ہرگز نہ بھُولنا۔
DEU 26:1 جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہو جاؤ، جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں مِیراث کے طور پر دے رہے ہیں اَور اُس پر قبضہ کرکے اُس میں بس جاؤ،
DEU 26:2 تَب جو مُلک یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں، اُن کی زمین میں جو کچھ تُم اُگاؤ، تو اُن سَب کے کچھ پہلے پھل ٹوکری میں رکھ کر اُس جگہ لے جانا جو یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے نام کے قِیام کے واسطے مُنتخب کریں گے۔
DEU 26:3 اَور اُس وقت کے کاہِنؔ کے پاس جا کر اُس سے یہ کہنا، ”آج کے دِن میں یَاہوِہ تمہارے خُدا کے حُضُور اقرار کرتا ہُوں کہ میں اُس مُلک میں آ چُکا ہُوں جسے دینے کی قَسم یَاہوِہ نے ہمارے آباؤاَجداد سے کھائی تھی۔“
DEU 26:4 تَب کاہِنؔ تمہارے ہاتھ سے ٹوکری لے کر اُسے یَاہوِہ تمہارے خُدا کے مذبح کے سامنے رکھ دے۔
DEU 26:5 تَب تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور یُوں کہنا: ”میرے آباؤاَجداد ایک خانہ بدوش ارامی تھے جو چند لوگوں کے ساتھ مِصر میں پردیسی ہوکر گیٔے تھے اَور وہاں بس گیٔے اَور اُن سے ایک بڑی قوم بَن گئی جو نہایت زورآور اَور کثیرُالتعداد تھی
DEU 26:6 لیکن مِصریوں نے ہمارے ساتھ بُرا سلُوک کیا اَور ہمیں اَذیّت پہُنچائی، اَور ہم سے سخت خدمت لی۔
DEU 26:7 تَب ہم نے یَاہوِہ ہمارے آباؤاَجداد کے خُدا سے فریاد کی اَور یَاہوِہ نے ہماری آواز سُنی اَور ہماری مُصیبت محنت اَور مظلومی دیکھی۔
DEU 26:8 چنانچہ یَاہوِہ نے اَپنے قوی ہاتھ اَور پھیلے ہویٔے بازو سے بڑے معجزوں اَور حیرت اَنگیز نِشانات اَور عجائب کے ساتھ ہمیں مِصر سے باہر نکالا۔
DEU 26:9 اَور یَاہوِہ نے ہمیں اِس جگہ پر لاکر ہمیں یہ مُلک عطا فرمایا جِس میں دُودھ اَور شہد کی بھرپوری ہے۔
DEU 26:10 اِس لیٔے اَب اَے یَاہوِہ دیکھو، جو زمین آپ نے مُجھے عطا فرمائی ہے، اُس کا پہلا پھل مَیں آپ کے پاس لے آیا ہُوں۔“ پھر تُم اُس ٹوکری کو یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور رکھ دینا اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کو سَجدہ کرنا۔
DEU 26:11 اَور تُم اَور لیوی اَور تمہارے ساتھ رہنے والے پردیسی، سَب مِل کر اُن سَب نِعمتوں کے لیٔے جنہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں اَور تمہارے خاندان کو بخشا ہے، خُوشی منانا۔
DEU 26:12 جَب تُم تیسرے سال جو دہ یکی کا سال ہے اَپنی پیداوار کا دسواں حِصّہ الگ کر چُکو، تو اُسے لیوی، پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کو دے دینا تاکہ وہ اُسے تمہارے شہروں میں کھایٔیں اَور مطمئن ہوں۔
DEU 26:13 تَب تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور یُوں کہنا: ”مَیں نے آپ کے سَب اَحکام کے مُطابق مُقدّس حِصّہ اَپنے گھر سے نکالا اَور اُسے لیوی، پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کو دے دیا ہے۔ مَیں نے آپ کے کسی حُکم کو نہیں ٹالا ہے اَور نہ ہی اُنہیں بھُلایا ہے۔
DEU 26:14 مَیں نے اَپنے ماتم کے دِنوں میں بھی مُقدّس حِصّہ میں سے کچھ نہ کھایا اَور نہ ہی مَیں نے اُنہیں ناپاکی کی حالت میں الگ کیا اَور نہ مَیں نے اُس میں سے کچھ مُردوں کو نذر کی۔ مَیں نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی اِطاعت کی ہے اَور آپ کے ہر حُکم کے مُطابق عَمل کیا ہے۔
DEU 26:15 آسمان پر سے جو آپ کی مُقدّس قِیام گاہ ہے نظر کریں اَور اَپنی قوم اِسرائیل کو اَور اُس مُلک کو برکت دیں، جسے آپ نے اُس وعدہ کے مُطابق ہمیں عنایت کیا ہے جِس میں دُودھ اَور شہد کی بھرپوری ہے اَور جِس کو آپ نے اُس قَسم کے مُطابق جو آپ نے ہمارے آباؤاَجداد سے کھائی تھی ہمیں عطا کیا ہے۔“
DEU 26:16 یَاہوِہ تمہارے خُدا، آج تُمہیں اِن قوانین اَور آئین کو ماننے کا اَور اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان سے اُن پر عَمل کرنے کا حُکم دے رہے ہیں۔
DEU 26:17 تُم نے آج کے دِن اقرار کیا ہے کہ یَاہوِہ ہی تمہارے خُدا ہیں اَور تُم اُن کی راہوں پر چلوگے اَور تُم اُن کے قوانین، اَحکام اَور آئین کو مانوگے اَور اُن کی اِطاعت کروگے۔
DEU 26:18 اَور یَاہوِہ نے بھی آج کے دِن تُمہیں اَپنے وعدہ کے مُطابق اَپنی خاص قوم اَور بیش قیمت مِیراث قرار دیا ہے تاکہ تُم اُن کے تمام اَحکام کو مانو۔
DEU 26:19 یَاہوِہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ سَب قوموں میں سے جو اُن کی بنائی ہُوئی ہیں، وہ تُمہیں تعریف، شہرت اَور عزّت میں ممتاز کریں گے اَور اُن کے وعدہ کے مُطابق تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی مُقدّس قوم بَن جاؤگے۔
DEU 27:1 پھر مَوشہ اَور بنی اِسرائیل کے بُزرگوں نے لوگوں کو حُکم دیا: ”یہ سَب اَحکام جو آج کے دِن میں تُمہیں دے رہا ہُوں اُنہیں ماَننا۔
DEU 27:2 جَب تُم دریائے یردنؔ پار کرکے اُس مُلک میں پہُنچو جو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں، تَب چند بڑے بڑے پتّھر کھڑے کرکے اُن پر چُونا پوت دینا،
DEU 27:3 اَور جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہوکر یردنؔ پار پہُنچ جاؤ، تو اُن پتّھروں پر اِس آئین کی سَب باتیں لِکھنا، جِس مَیں یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد کے خُدا کے وعدہ کے مُطابق دُودھ اَور شہد کی بھرپوری ہے، جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں۔
DEU 27:4 اَور جَب تُم یردنؔ پار کر چُکو تو جَیسا مَیں نے آج تُمہیں حُکم دیا ہے اُسی کے مُطابق اُن پتّھروں کو کوہِ عیبالؔ پر نصب کردینا اَور اُن پر چُونا پوتنا۔
DEU 27:5 اَور وہاں یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے پتّھروں کا ایک مذبح بنانا لیکن اُن پر لوہے کا کویٔی اوزار اِستعمال نہ کرنا۔
DEU 27:6 یَاہوِہ اَپنے خُدا کا مذبح بے تراشے پتّھروں سے بنانا اَور اُس پر یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے سوختنی نذر پیش کرنا۔
DEU 27:7 اَور وہیں سلامتی کی نذریں گزراننا اَور اُنہیں کھانا اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور خُوشی منانا۔
DEU 27:8 اَور اُن پتّھروں پر جنہیں تُم نصب کروگے آئین کی اِن باتوں کو صَاف صَاف لِکھنا۔“
DEU 27:9 پھر مَوشہ اَور لیوی کاہِنوں نے تمام بنی اِسرائیل سے فرمایا، ”اَے اِسرائیل! خاموش ہو جا اَور سُن! تُم اَب یَاہوِہ اَپنے خُدا کی قوم بَن گیٔے ہو۔
DEU 27:10 یَاہوِہ اَپنے خُدا کی اِطاعت کرو اَور اُن کے اَحکام اَور قوانین پرجو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں عَمل کرو۔“
DEU 27:11 اَور اُسی دِن مَوشہ نے لوگوں کو حُکم دیا،
DEU 27:12 جَب تُم یردنؔ پار کر چُکو، تو شمعُونؔ، لیوی، یہُوداہؔ، یِسَّکاؔر، یُوسیفؔ اَور بِنیامین کے قبیلے لوگوں کو برکت دینے کے لیٔے کوہِ گِرزِیمؔ پر کھڑے ہو جایٔیں۔
DEU 27:13 اَور رُوبِنؔ، گادؔ، آشیر، زبُولُون، دانؔ اَور نفتالی کے قبیلے لعنت کرنے کے لیٔے کوہِ عیبالؔ پر کھڑے ہو جایٔیں۔
DEU 27:14 اَور لیوی سَب اِسرائیلی لوگوں کے سامنے بُلند آواز سے یہ اعلان کریں:
DEU 27:15 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو اَپنی صنعت کاری سے اَیسی بُت تراشے یا بُت ڈھالے جو یَاہوِہ کی نظر میں مکرُوہ ہے اَور اُسے کسی پوشیدہ جگہ میں نصب کرے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 27:16 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو اَپنے باپ یا ماں کو بے عزّت کرے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 27:17 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو اَپنے ہمسایہ کی سرحد کا پتّھر کھسکائے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 27:18 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو کسی نابینا شخص کو راستہ سے گُمراہ کرے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 27:19 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو کسی پردیسی، یتیم یا بِیوہ کو اِنصاف سے محروم رکھّے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 27:20 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو اَپنے باپ کی سابقہ بیوی سے ہم بِستری کرے کیونکہ وہ اَپنے باپ کے مال پر ہاتھ ڈالتا ہے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 27:21 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو کسی جانور کے ساتھ جنسی تعلّقات رکھّے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 27:22 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو اَپنی سَوتیلی بہن سے صحبت کرے خواہ وہ اُس کے باپ کی بیٹی ہو خواہ اُس کی ماں کی بیٹی ہو۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 27:23 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو اَپنی ساس کے ساتھ صحبت کرے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 27:24 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو اَپنے ہمسایہ کو پوشیدگی میں مار ڈالے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 27:25 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو کسی بےگُناہ کو قتل کرنے کے لیٔے رشوت لے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 27:26 ”لعنت ہے اُس آدمی پرجو اِس آئین کی باتوں پر عَمل کرنے کے لیٔے اُن پر قائِم نہ رہے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“
DEU 28:1 اگر تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی پُوری طور سے اِطاعت کروگے اَورجو اَحکام میں آج تُمہیں دے رہا ہُوں اُن پر احتیاط سے عَمل کروگے تو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دُنیا کی سَب قوموں سے زِیادہ سرفراز کریں گے۔
DEU 28:2 اَور اگر تُم واقعی یَاہوِہ اَپنے خُدا کی اِطاعت کروگے تو یہ ساری برکتیں تُم پر نازل ہوں گی اَور تمہارے ساتھ رہیں گی:
DEU 28:3 تُم شہر اَور کھیت میں کام کرتے ہُوئے مُبارک ہوگے۔
DEU 28:4 تمہاری اَولاد مُبارک ہوگی، تمہاری زمین کی پیداوار اَور تمہارے چَوپایوں کے بچّے یعنی گائے بَیل کے بچھڑے اَور بھیڑ بکریوں کے برّے مُبارک ہوں گے۔
DEU 28:5 تمہارا ٹوکرا اَور تمہاری کٹھوتی دونوں مُبارک ہوں گے۔
DEU 28:6 اَور تُم گھر کے اَندر آتے وقت اَور باہر جاتے وقت بھی مُبارک ہوگے۔
DEU 28:7 یَاہوِہ تمہارے دُشمنوں کو جو تمہارے خِلاف سَر اُٹھائیں گے تمہارے سامنے شِکست دِلائیں گے۔ وہ ایک سمت سے آکر تُم پر حملہ کریں گے لیکن سات سمتوں کی طرف تمہارے سامنے سے بھاگ جایٔیں گے۔
DEU 28:8 یَاہوِہ تمہارے اناج کے ذخیروں میں اَور ہر اُس چیز پر جِس میں تُم ہاتھ لگاؤگے برکت نازل کریں گے۔ اَور یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں اُس مُلک میں جسے وہ تُمہیں عنایت کر رہے ہیں برکت بخشیں گے۔
DEU 28:9 اگر تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے اَحکام کو مانوگے اَور اُن کی راہوں پر چلوگے تو یَاہوِہ اَپنی اُس قَسم کے مُطابق جو اُنہُوں نے تُم سے کھائی تھی تُمہیں اَپنی پاک قوم بنا کر قائِم کریں گے۔
DEU 28:10 تَب دُنیا کی سَب قومیں دیکھیں گی کہ تُم یَاہوِہ کی قوم ہو اَور وہ تُم سے ڈریں گی۔
DEU 28:11 جِس مُلک کو تُمہیں دینے کی قَسم یَاہوِہ نے تمہارے آباؤاَجداد سے کھائی تھی اُس میں یَاہوِہ تمہاری اَولاد کو، تمہارے مویشیوں کے بچّوں کو اَور تمہاری زمین کی فصل کو خُوب بڑھا کر تُمہیں کثرت سے ترقّی بخشیں گے۔
DEU 28:12 یَاہوِہ آسمان کو جو اُن کا عظیم مخزن ہے تمہارے لیٔے کھول دیں گے تاکہ تمہارے مُلک میں وقت پر مینہ برسے اَور تمہارے ہاتھ کے سَب کاموں کو جِن میں تُم ہاتھ لگاؤ برکت دیں گے؛ اَور تُم بہت سِی قوموں کو قرض دوگے لیکن آپ کسی کے مقروض نہ ہوگے۔
DEU 28:13 اَور یَاہوِہ تُمہیں دُم نہیں بَلکہ سَر ٹھہرائیں گے؛ بشرطیکہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے اُن اَحکام کو جنہیں آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں، نہایت احتیاط سے اُن پر غور کرو اَور عَمل کرو، تو تُم ہمیشہ سرفراز رہوگے اَور کبھی نیچے نہ ہوگے۔
DEU 28:14 اَورجو اَحکام میں آج تُمہیں دے رہا ہُوں اُن میں سے کسی سے تُم داہنے یا بائیں نہ مُڑنا اَور نہ ہی غَیر معبُودوں کی پیروی اَور خدمت کرنا۔
DEU 28:15 اگر تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی اِطاعت نہ کروگے اَور اُن کے سَب اَحکام اَور قوانین پرجو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں نہایت احتیاط سے عَمل نہ کروگے، تو تُم پر یہ سَب لعنتیں نازل ہوں گی اَور تمہارا یہ حال ہوگا:
DEU 28:16 تُم شہر میں اَور کھیت میں کام کرتے وقت بھی لعنتی ہوگے۔
DEU 28:17 تمہارا ٹوکرا اَور تمہاری کٹھوتی دونوں لعنتی ہوں گے۔
DEU 28:18 تمہاری اَولاد لعنتی ہوگی اَور تمہاری زمین کی پیداوار اَور تمہارے گائے، بَیل کے بچھڑے اَور تمہاری بھیڑ بکریوں کے برّے لعنتی ہوں گے۔
DEU 28:19 تُم گھر کے اَندر آتے وقت اَور باہر جاتے وقت بھی لعنتی ہوگے۔
DEU 28:20 تُم نے یَاہوِہ کو ترک کرکے جو بدکاری کی ہے اُس کے سبب سے یَاہوِہ اُن سَب کاموں پر جِن کو تُم ہاتھ لگاؤگے، لعنتیں، اُلجھن اَور ملامت بھیجتے رہیں گے، جَب تک کہ تُم ہلاک نہ ہو جاؤ اَور جلدی برباد نہ ہو جاؤ۔
DEU 28:21 یَاہوِہ اُس وقت تک تُم پر وبَائیں نازل کرتے رہیں گے، جَب تک کہ وہ تُمہیں اُس مُلک سے جِس پر قبضہ کرنے کے لیٔے تُم اُس میں داخل ہو رہے ہو، نِیست و نابود نہ کر دیں۔
DEU 28:22 یَاہوِہ تُم پر تپِ دِق، بُخار اَور سوزِش، شدید تپش اَور خشک سالی کی مار اَور پالا اَور پھپھُوندی نازل کریں گے جو تمہارے مرنے تک پیچھے لگی رہیں گی۔
DEU 28:23 اَور تمہارے سَر کے اُوپر کا آسمان کانسے کا اَور تمہارے نیچے کی زمین لوہے کی ہو جایٔےگی۔
DEU 28:24 اَور یَاہوِہ تمہارے مُلک میں دُھول اَور ریت کی بارش کو بھیجیں گے؛ اَور جَب تک تُم نِیست و نابود نہیں ہو جاتے یہ آسمان سے برستی ہی رہیں گی۔
DEU 28:25 یَاہوِہ تُمہیں تمہارے دُشمنوں سے شِکست دِلائیں گے۔ تُم اُن پر ایک سمت سے حملہ کروگے لیکن سات سمتوں کی جانِب اُن کے سامنے سے بھاگ جاؤگے؛ اَور دُنیا کی تمام سلطنتوں کے لوگ تمہاری حالت دیکھ کر دہشت کھایٔیں گے۔
DEU 28:26 تمہاری لاشیں ہَوا کے تمام پرندوں اَور زمین کے جنگلی جانوروں کی خُوراک ہوں گی اَور کویٔی نہ ہوگا جو اُنہیں ڈرا کر بھگا سکے۔
DEU 28:27 یَاہوِہ تُمہیں مِصر کے پھوڑوں، گلٹیوں، ناسور اَور خارِش میں اِس طرح مُبتلا کر دیں گے کہ تُم کبھی شفایاب نہ ہو پاؤگے۔
DEU 28:28 یَاہوِہ تُمہیں پاگل پن، نابینائی اَور دِل کی گھبراہٹ میں بھی مُبتلا کر دیں گے۔
DEU 28:29 اَور جَیسا نابینا اَندھیرے میں ٹٹولتا ہے وَیسے ہی تُم دوپہر کے وقت ٹٹولتے پھروگے۔ اَور تُم جو کچھ کروگے اُس میں ناکام رہوگے۔ دِن بہ دِن تُم پر ظُلم ڈھائے جایٔیں گے اَور تُم لُٹتے ہی رہوگے اَور تُمہیں بچانے والا کویٔی نہ ہوگا۔
DEU 28:30 جِس عورت سے تمہاری منگنی ہوگی، کویٔی دُوسرا شخص اُسے اَپنا بنا لے گا اَور اُس سے ہم بِستر ہوگا۔ تُم گھر بناؤگے لیکن اُس میں بسنے نہ پاؤگے۔ تُم انگوری باغ لگاؤگے لیکن اُس کے پھل کا لُطف نہ اُٹھا پاؤگے۔
DEU 28:31 تمہارا بَیل تمہاری آنکھوں کے سامنے ذبح کیا جائے گا لیکن تُم اُس کا گوشت کھانے نہ پاؤگے۔ تمہارا گدھا تُم سے زبردستی چھین لیا جائے گا اَور لَوٹایا نہ جائے گا۔ تمہاری بھیڑیں تمہارے دُشمنوں کو دے دی جایٔیں گی اَور کویٔی اُنہیں بچا نہ پایٔےگا۔
DEU 28:32 تمہارے بیٹے اَور بیٹیاں دُوسری قوم کو دئیے جایٔیں گے اَور تمہاری آنکھیں دِن بہ دِن اُن کا اِنتظار کرتے کرتے تھک جایٔیں گی مگر تمہارا کچھ بس نہ چلے گا۔
DEU 28:33 تمہاری زمین کی پیداوار اَور تمہاری محنت و مشقّت کی کمائی ایک اَیسی قوم کھائے گی جِس سے تُم واقف نہیں ہو اَور عمر بھر شدید ظُلم ہی تمہارے پَلّے پڑےگا۔
DEU 28:34 جو منظر تُم اَپنی آنکھوں سے دیکھوگے وہ تُمہیں پاگل بنا دیں گے۔
DEU 28:35 یَاہوِہ تمہارے گھٹنوں اَور ٹانگوں میں اَیسے دردناک پھوڑے پیدا کریں گے جو لاعلاج ہوں گے اَورجو تمہارے پاؤں کے تلووں سے لے کر سَر کی چاند تک پھیلے ہوں گے۔
DEU 28:36 یَاہوِہ تُمہیں اُس بادشاہ سمیت جسے تُم اَپنے اُوپر مُقرّر کروگے ایک اَیسی قوم میں دفع کریں گے جِس سے تُم اَور تمہارے آباؤاَجداد ناواقِف ہوں گے۔ وہاں تُم غَیر معبُودوں کی عبادت کروگے جو لکڑی اَور پتّھر کے بنے ہویٔے ہیں۔
DEU 28:37 تَب تُم اُن سَب قوموں کے درمیان جہاں یَاہوِہ تُمہیں دفع کریں گے، تُم لوگوں کے لیٔے ایک دہشت کی شَے، ضرب المثل اَور ایک مذاق کا باعث بنوگے۔
DEU 28:38 تُم کھیت میں کافی بیج ڈالوگے لیکن بہت ہی کم فصل کاٹوگے کیونکہ ٹِڈّیاں اُسے کھا جایٔیں گی۔
DEU 28:39 تُم انگوری باغ لگاؤگے اَور اُن میں کاشتکاری کروگے لیکن تُم اُس کا انگوری شِیرہ نہ پیوگے اَور نہ انگور جمع کر پاؤگے کیونکہ اُنہیں کیڑے کھا جایٔیں گے۔
DEU 28:40 تمہارے سارے مُلک میں زَیتُون کے درخت لگے ہوں گے، لیکن تُم زَیتُون کا تیل اِستعمال نہ کر پاؤگے کیونکہ زَیتُون کے پھل جھڑ جایٔیں گے۔
DEU 28:41 تمہارے ہاں بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہوں گی لیکن تُم اُنہیں اَپنے پاس رکھ نہ پاؤگے کیونکہ وہ اسیر ہوکر چلے جایٔیں گے۔
DEU 28:42 تمہارے سَب درختوں اَور تمہاری زمین کی ساری فصلوں پر ٹِڈّیوں کے غول قبضہ کر لیں گے۔
DEU 28:43 تمہارے درمیان رہنے والا پردیسی تُم سے زِیادہ ترقّی کرتا اَور سرفراز ہوتا جائے گا لیکن تُم روز بروز ناکامیاب اَور برباد ہوتے چلے جاؤگے۔
DEU 28:44 وہ پردیسی تُمہیں قرض دیں گے لیکن تُم اُنہیں قرض نہ دے سکوگے۔ اَور وہ سَر ہوں گے اَور تُم دُم ٹھہروگے۔
DEU 28:45 یہ سَب لعنتیں تُم پر نازل ہوں گی۔ وہ تمہارا تعاقب کریں گی اَور تُمہیں دبوچ لیں گی تاکہ تُم فنا ہو جاؤ، کیونکہ تُم نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی اِطاعت نہ کی اَور اُن اَحکام اَور قوانین پر عَمل نہ کیا جو اُنہُوں نے تُمہیں دئیے تھے۔
DEU 28:46 یہ لعنتیں تمہارے اَور تمہاری نَسل کے لیٔے ہمیشہ تک نِشان اَور معجزہ بَن کر رہیں گے۔
DEU 28:47 کیونکہ تُم نے خُوشحالی کے ایّام میں یَاہوِہ اَپنے خُدا کی خُوشی اَور شادمانی کے ساتھ خدمت نہ کی،
DEU 28:48 اِس لیٔے تُم بھُوکے اَور پیاسے اَور عُریانی اَور غربت کی حالت میں، اَپنے دُشمنوں کی خدمت کروگے جنہیں یَاہوِہ تمہارے خِلاف بھیجیں گے اَور وہ تمہاری گردن پر لوہے کا جُوا رکھّے رہیں گے، جَب تک تُمہیں نِیست و نابود نہ کر دیں۔
DEU 28:49 جِس طرح عُقاب جھپٹ کر نیچے آتا ہے اُسی طرح یَاہوِہ دُور دراز سے بَلکہ زمین کے اِنتہا سے ایک اَیسی قوم کو تمہارے اُوپر چڑھا لائیں گے جِس کی زبان کو تُم سمجھ نہ پاؤگے۔
DEU 28:50 وہ ایک غضبناک اَور پتّھر دِل قوم ہوگی جو نہ ضعیفوں کا اِحترام کرےگی اَور نہ جَوانوں پر رحم کھائے گی۔
DEU 28:51 اِس کے علاوہ وہ قوم تَب تک تمہارے مویشیوں کے بچّے اَور تمہاری زمین کی فصل کو کھاتے رہیں گے جَب تک کہ تُم تباہ نہ ہو جاؤ، یعنی وہ تمہارے لیٔے نہ اناج، نہ نئے انگوری شِیرے یا زَیتُون کا تیل نہ گائے، بَیلوں کے بچھڑے یا تمہاری بھیڑ بکریوں کے برّے چھوڑیں گے، جَب تک کہ تُم فنا نہ ہو جاؤ۔
DEU 28:52 وہ تمہارے مُلک کے تمام شہروں کا محاصرہ کئے رہیں گے؛ جَب تک کہ تمہاری اُونچی اُونچی اَور مضبُوط فصیلیں جِن پر تُمہیں بھروسا ہے گِر نہ جایٔیں۔ وہ تمہارے مُلک کے سَب شہروں کا محاصرہ کر لیں گے، جنہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں۔
DEU 28:53 محاصرہ کے دَوران اَپنے دُشمنوں سے پہُنچی ہُوئی اَذیّت سے تنگ آکر تُم اَپنی اَولاد یعنی اَپنے بیٹوں اَور بیٹیوں کا گوشت کھاؤگے، جنہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں دیا ہے۔
DEU 28:54 اُس وقت تمہارے درمیان کا سَب سے نرم دِل اَور حسّاس آدمی بھی اَپنے بھایٔی، اَپنی چہیتی بیوی اَور اَپنے باقی بچے بچّوں پر رحم نہ کھائے گا،
DEU 28:55 اَور وہ اُن میں سے کسی کو بھی اَپنے بچّوں کے گوشت میں سے جو وہ خُود کھا رہا ہوگا کچھ نہ دے گا کیونکہ تمہارے تمام شہروں کے محاصرہ کے دَوران تمہارے دُشمنوں کی نازل کی ہُوئی مُصیبتوں کی وجہ سے اُس کے پاس صِرف وُہی چیز باقی بچی ہوگی۔
DEU 28:56 تمہارے درمیان وہ عورت بھی جو یہاں تک نرم دِل اَور حسّاس ہو کہ اَپنی نزاکت کی وجہ سے اَپنے پاؤں کا تلوا بھی زمین سے لگانے کی جُرأت نہ کرتی ہو، تو بھی وہ اَپنے محبُوب خَاوند اَور اَپنے بیٹے اَور بیٹی کے خِلاف خُود غرض ہو جایٔےگی۔
DEU 28:57 وہ اَپنے رِحم سے نکلی ہُوئی نَوزائیدہ بچّہ کو اَور اَپنے فرزند کو چھُپ چھُپ کر کھانا چاہے گی کیونکہ دُشمنوں کی طرف سے اَذیّت ناک محاصرہ کے دَوران تمام اشیائے خُوردنی کی قِلّت ہو جائے گی۔
DEU 28:58 اگر تُم اِس آئین کی تمام باتوں پرجو اِس کِتاب میں لکھی گئی ہیں نہایت احتیاط سے عَمل نہ کروگے اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کے جلالی اَور مُہیب نام کا خوف نہ مانوگے،
DEU 28:59 تَب یَاہوِہ تُم پر اَور تمہاری اَولاد پر خوفناک بَلائیں نازل کریں گے جو سخت اَور لمبے عرصہ کی آفتیں، لمبی اَور شدید عالمی وبَائیں ہوں گی۔
DEU 28:60 وہ تُمہیں مِصر کی اُن سَب بیماریوں میں مبتلا کر دیں گے جِن سے تُم ڈرتے تھے اَور وہ تُمہیں لگی رہیں گی۔
DEU 28:61 اَور جَب تک تُم فنا نہ ہو جاؤ، یَاہوِہ تُم پر اَور بھی طرح طرح کی ناتوانیاں اَور آفتیں نازل کریں گے جِن کا ذِکر اِس کِتاب تورہ میں نہیں کیا گیا ہے۔
DEU 28:62 تُم جو تعداد میں آسمان کے تاروں کی مانند تھے شُمار میں چند ہی رہ جاؤگے کیونکہ تُم نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی اِطاعت نہ کی۔
DEU 28:63 جَیسے یَاہوِہ تُمہیں خُوشحال کرکے اَور تمہاری تعداد میں اِضافہ کرکے خُوش ہویٔے تھے وَیسے ہی اَب تُمہیں تباہ و برباد کرکے اُنہیں خُوشی ہوگی۔ تُم اُس مُلک سے بے دخل کر دئیے جاؤگے جِس پر قبضہ کرنے کے لیٔے جا رہے ہو۔
DEU 28:64 تَب یَاہوِہ تُمہیں زمین کے ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک سَب قوموں میں پراگندہ کر دیں گے، جہاں تُم لکڑی اَور پتّھر کے بنے ہویٔے معبُودوں کی عبادت کروگے جِن سے نہ تُم اَور نہ تمہارے آباؤاَجداد ہی واقف تھے۔
DEU 28:65 اُن قوموں میں تُمہیں نہ تو راحت ملے گی اَور نہ ہی تمہارے پاؤں کو آرام کی جگہ نصیب ہوگی۔ وہاں یَاہوِہ کی طرف سے تُمہیں فِکرمند دِل، دھُندھلی آنکھیں اَور غمگین رُوح دی جائے گی۔
DEU 28:66 تمہاری جان مُستقِل شک میں مُبتلا رہے گی۔ تُم رات دِن خوفزدہ رہوگے اَور تُمہیں اَپنی زندگی کا کویٔی بھروسا نہ ہوگا۔
DEU 28:67 اُس خوف کے باعث جو تمہارے دِلوں میں سمایا ہوگا اَور اُن نظاروں کے سبب سے جنہیں تمہاری آنکھیں دیکھیں گی تُم صُبح کو کہو گے، ”کاش کہ یہ شام ہوتی!“ اَور شام کو کہو گے، ”کاش یہ صُبح ہوتی!“
DEU 28:68 اَور یَاہوِہ تُمہیں کشتیوں پر سوار کرکے اُس راستہ سے مِصر لَوٹائے گا، جِس کے بارے میں، مَیں نے تُم سے فرمایا تھا کہ اَب تُم اِسے پھر کبھی نہ دیکھوگے۔ تَب تُم وہاں خُود کو اَپنے دُشمنوں کے سامنے غُلاموں اَور لونڈیوں کی طرح بیچنے کے لیٔے پیش کروگے لیکن تمہارا کویٔی خریدار نہ ہوگا۔
DEU 29:1 اِسرائیلیوں سے جِس عہد کے باندھنے کا حُکم یَاہوِہ نے مَوشہ کو مُوآب میں دئیے تھے جو اُس عہد کے علاوہ تھا جو یَاہوِہ نے اُن کے ساتھ حورِبؔ میں باندھا تھا اُس کی شرائط یہ ہیں:
DEU 29:2 پھر مَوشہ نے تمام بنی اِسرائیل کو بُلوا کر اُن سے فرمایا: یَاہوِہ نے مِصر میں فَرعوہؔ اَور اُس کے سَب اہلکاروں اَور اُس کے سارے مُلک کے ساتھ جو کچھ کیا تھا، اُسے تمہاری آنکھوں نے دیکھاہے۔
DEU 29:3 تُم نے خُود اَپنی آنکھوں سے اُن عظیم آفتوں، حیرت اَنگیز نِشانات اَور عظیم کارناموں کو دیکھاہے۔
DEU 29:4 لیکن یَاہوِہ نے آج کے دِن تک تُمہیں نہ تو اَیسا دماغ عطا کیا جو سمجھ سکے نہ وہ آنکھیں بخشیں جو دیکھ سکیں اَور نہ وہ کان بخشے جو سُن سکیں۔
DEU 29:5 پھر بھی یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”چالیس سال تک میں بیابان میں تمہاری رہبری کرتا رہا، اُس دَوران نہ تو تمہارے بَدن کے کپڑے پرانے ہوکر پھٹے اَور نہ تمہارے پاؤں کی جُوتیاں پھٹنے پائیں۔
DEU 29:6 اَور اُس دَوران تُم نے نہ تو دُنیاوی روٹی کھائی نہ انگوری شِیرہ پیا اَور نہ ہی مَے پی۔ مَیں نے یہ اِس لیٔے کیا تاکہ تُم اقرار کر سکو کہ میں ہی یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔“
DEU 29:7 جَب تُم اِس مقام پر پہُنچے، تو حِشبونؔ کا بادشاہ سیحونؔ اَور باشانؔ کا بادشاہ عوگؔ ہم سے جنگ کرنے کو نکلے، لیکن ہم نے اُنہیں شِکست دی۔
DEU 29:8 ہم نے اُن کے مُلک پر قبضہ کرکے اُسے مِیراث کے طور پر رُوبِنیوں، گادیوں اَور منشّہیوں کے نِصف قبیلوں کو دے دیا۔
DEU 29:9 لہٰذا اِس عہد کی شرائط پر احتیاط کے ساتھ عَمل کرنا تاکہ جو کچھ تُم کرو اُس میں کامیاب ہو سکو۔
DEU 29:10 آج کے دِن تُم سبھی یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور کھڑے ہُوئے ہو جِن میں تمہارے سربراہ اَور نُمائندے، تمہارے بُزرگ اَور تمہارے افسران اَور اِسرائیل کے تمام مَرد،
DEU 29:11 تمہارے بچّے، تمہاری بیویاں اَور تمہاری چھاؤنی میں رہنے والے پردیسی جو تمہاری لکڑیاں کاٹتے اَور پانی بھرتے ہیں۔
DEU 29:12 تُم یہاں اِس لیٔے کھڑے ہو کہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کے ساتھ اُس عہد میں شریک ہو جاؤ، جسے یَاہوِہ آج کے دِن تمہارے ساتھ قَسم کھا کر باندھ رہے ہیں۔
DEU 29:13 تاکہ وہ تُمہیں آج کے دِن اَپنی قوم قرار دیں اَور تمہارے خُدا ہوں، جَیسا کہ یَاہوِہ نے تُم سے وعدہ کیا تھا اَور تمہارے آباؤاَجداد، اَبراہامؔ اِصحاقؔ اَور یعقوب سے قَسم کھائی تھی۔
DEU 29:14 اَور مَیں یہ عہد قَسم کے ساتھ نہ صِرف تمہارے ساتھ باندھ رہا ہُوں،
DEU 29:15 جو آج یہاں ہمارے ساتھ یَاہوِہ ہمارے خُدا کے حُضُور کھڑے ہو بَلکہ اُن سَب کے ساتھ بھی جو آج ہمارے ساتھ یہاں مَوجُود نہیں ہیں۔
DEU 29:16 تُم تو خُود جانتے ہو کہ مُلک مِصر میں ہماری زندگی کیسی تھی اَور یہاں آتے وقت ہم راہ میں کِس طرح مُختلف اَقوام میں سے ہوکر گزرے۔
DEU 29:17 اَور تُم نے مِصریوں کے درمیان اُن کی لکڑی، پتّھر، چاندی اَور سونے کی مکرُوہ شَبیہ اَور بُت دیکھے۔
DEU 29:18 لہٰذا خبردار! کہیں اَیسا نہ ہو کہ آج تمہارے درمیان کویٔی مَرد یا عورت، کویٔی برادری یا قبیلہ اَیسا ہو جِس کا دِل یَاہوِہ ہمارے خُدا کی طرف سے برگشتہ ہو، اَور وہ جا کر اُن قوموں کے معبُودوں کی عبادت کرنے لگے؛ یا اَیسا نہ ہو کہ تمہارے درمیان کویٔی اَیسی جڑ ہو جو تلخ اَور زہریلا پھل پیدا کرے۔
DEU 29:19 جَب اَیسا آدمی قَسم کے اِن الفاظ کو سُن کر اَپنے دِل میں خُود کو مُبارک سمجھتے ہیں اَور سوچتے ہیں، ”ہم تو اَپنی مَن مانی کرتے ہویٔے بھی سلامت رہیں گے،“ اَیسا کرکے وہ آدمی سیراب شُدہ زمین اَور خُشک زمین دونوں پر تباہی لے آئیں گے۔
DEU 29:20 لیکن یَاہوِہ اُسے ہرگز مُعاف نہ کریں گے بَلکہ اُن کا غضب اَور غیرت اُن تمام اَشخاص پر نازل ہوگا۔ اَور اِس کِتاب میں درج کی ہُوئی سَب لعنتیں اُن پر آ پڑیں گی اَور یَاہوِہ آسمان کے نیچے سے اُن سَب کا نام و نِشان مٹا دیں گے۔
DEU 29:21 اَور یَاہوِہ اِس عہد کی اُن سَب لعنتوں کے مُطابق جو اِس کِتاب تورہ میں درج ہیں، اُن تمام لوگوں کو اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے سخت سزا دینے کے لیٔے جُدا کریں گے۔
DEU 29:22 تَب آنے والی پُشتوں میں تمہارے بال بچّے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے اَور وہ پردیسی بھی جو دُور دراز مُلکوں سے آئیں گے، اَور جَب وہ اِس مُلک پر نازل ہویٔی بَلاؤں اَور یَاہوِہ کی پھیلائی ہُوئی بیماریوں کو دیکھیں گے۔
DEU 29:23 اَور یہ بھی دیکھیں گے کہ تمام مُلک نمک اَور گندھک بنا پڑا ہے اَور اَیسا جَل گیا ہے کہ نہ تو کچھ بویا جا سکتا ہے، نہ کُچھ اُگتا ہے اَور نہ کسی قِسم کی نباتات پیدا ہوتی ہے۔ اَور وہ ٹھیک سدُومؔ اَور عمورہؔ، اَدمہؔ اَور ضبوئیمؔ کی مانند تباہ ہو گیا ہے جنہیں یَاہوِہ نے اَپنے قہرِ شدید میں تباہ کر دیا تھا۔
DEU 29:24 تَب سَب قومیں پوچھیں گی: ”یَاہوِہ نے اِس مُلک کے ساتھ اَیسا کیوں کیا؟ اَور اِس قدر قہرِ شدید کے بھڑکنے کا کیا سبب ہے؟“
DEU 29:25 اَور جَواب یہ ہوگا: ”اُنہُوں نے یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کے ساتھ باندھے ہُوئے عہد کو توڑ دیا تھا جو یَاہوِہ نے اُن سے مِصر سے نکالتے وقت باندھا تھا۔
DEU 29:26 اُنہُوں نے نافرمانی کرکے اَیسے معبُودوں کی عبادت اَور سَجدہ کیا جِن سے وہ ناواقِف تھے اَور جِن کے بارے میں یَاہوِہ نے سخت منع کیا تھا۔
DEU 29:27 چنانچہ یَاہوِہ کا غضب اِس مُلک پر بھڑکا اَور اُس نے اِس کِتاب میں درج سَب لعنتیں نازل کیں۔
DEU 29:28 اَور یَاہوِہ نے قہرِ شدید اَور اَپنے بڑے غضب میں اُنہیں اُن کے مُلک سے اُکھاڑ پھینکا اَور جَلاوطن کر دیا جَیسا کہ آج کے دِن تک ظاہر ہے۔“
DEU 29:29 غیب کی باتیں تو یَاہوِہ ہمارے خُدا کے لیٔے ہی ہیں لیکن جو باتیں ظاہر کی گئی ہیں وہ ہمیشہ کے لیٔے ہمارے اَور ہماری اَولاد کے لیٔے ہیں تاکہ ہم اُس آئین کی سَب باتوں پر عَمل کریں۔
DEU 30:1 جَب یہ سَب برکتیں اَور لعنتیں جنہیں مَیں نے تمہارے سامنے رکھّی ہیں تُم پر نازل ہو جایٔیں اَور جِن قوموں مَیں یَاہوِہ تُمہیں پراگندہ کریں، اَور اِن سَب باتوں کی اُن مُلکوں میں تُمہیں یاد آئے،
DEU 30:2 اَور جَب تُم اَور تمہاری اَولاد دونوں یَاہوِہ اَپنے خُدا کی طرف رُجُوع کرو اَور اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان سے اُن کے اَحکام پرجو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں عَمل کرو،
DEU 30:3 تَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہاری آزادی کو بحال کریں گے، اَور تُم پر رحم کریں گے اَور تُمہیں اُن تمام قوموں میں سے پھر سے جمع کریں گے جِن میں اُنہُوں نے تُمہیں پراگندہ کیا تھا۔
DEU 30:4 اگر تمہارے لوگ دُنیا کے اِنتہائی حِصّوں میں بھی جَلاوطن کیٔے گیٔے ہوں، تو بھی وہاں سے یعنی آسمان کے نیچے سے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں جمع کرکے واپس لے آئیں گے۔
DEU 30:5 یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں اُس مُلک میں لے آئیں گے جو تمہارے آباؤاَجداد کے قبضہ میں تھا، اَور تُم اُس پر قابض ہو جاؤگے اَور یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں تمہارے آباؤاَجداد سے زِیادہ خُوشحال کریں گے اَور اُن سے زِیادہ تمہاری تعداد بھی بڑھائیں گے۔
DEU 30:6 یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے اَور تمہاری اَولاد کے دِلوں کا ختنہ کریں گے تاکہ تُم اُن سے اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان سے مَحَبّت رکھّو اَور زندہ رہو۔
DEU 30:7 تَب یَاہوِہ تمہارے خُدا یہ سَب لعنتیں تمہارے دُشمنوں پرجو تُم سے نفرت کرتے ہیں اَور تُمہیں ستاتے ہیں، نازل کریں گے۔
DEU 30:8 اَور تُم پھر یَاہوِہ کی طرف رُجُوع کروگے اَور اُن کے تمام اَحکام پر عَمل کروگے جو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں۔
DEU 30:9 تَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں اَپنے ہاتھوں کے سَب کاموں میں، تمہاری اَولاد، تمہارے مویشیوں کے بچّوں اَور تمہاری زمین کی فصل پر بڑی برکت نازل فرمائیں گے۔ کیونکہ جَیسے وہ تمہارے آباؤاَجداد سے خُوش تھے وَیسے ہی یَاہوِہ پھر تُم سے خُوش ہوں گے اَور تُمہیں سرفراز کریں گے۔
DEU 30:10 بشرطیکہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی اِطاعت کرو اَور اُن کے اَحکام اَور قوانین پرجو اِس کِتاب تورہ میں درج ہیں عَمل کرو اَور اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی طرف رُجُوع کرو۔
DEU 30:11 اَب جو حُکم میں آج تُمہیں دے رہا ہُوں وہ نہ تو تمہارے لیٔے بہت مُشکل ہے اَور نہ ہی تمہاری پہُنچ سے باہر ہے۔
DEU 30:12 اَور نہ ہی وہ آسمان میں ہے کہ تُمہیں کسی سے پُوچھنا پڑے، ”ہمارے لئے آسمان پر کون چڑھے گا تاکہ اُسے ہمارے پاس لے آئے اَور ہمیں سُنائے تاکہ ہم اُس پر عَمل کریں؟“
DEU 30:13 نہ ہی وہ سمُندر کے پار ہے کہ تُمہیں کسی سے پُوچھنا پڑے، ”کون ہمارے لیٔے سمُندر کو عبور کرکے جائے گا اَور اُسے ہمارے پاس لاکر ہمیں سُنائے گا تاکہ ہم اُس پر عَمل کریں؟“
DEU 30:14 نہیں، بَلکہ خُدا کا کلام تمہارے پاس ہی ہے؛ بَلکہ وہ تمہارے زبان پر اَور تمہارے دِل میں ہے تاکہ تُم اُس پر عَمل کر سکو۔
DEU 30:15 دیکھو، آج مَیں تمہارے سامنے زندگی اَور خُوشحالی، موت اَور تباہی رکھتا ہُوں۔
DEU 30:16 کیونکہ آج مَیں تُمہیں حُکم دیتا ہُوں کہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا سے مَحَبّت رکھّو اُن کی راہوں پر فرمانبرداری سے چلو اَور اُن کے اَحکام، قوانین اَور آئین پر عَمل کرو؛ تَب تُم زندہ رہوگے اَور شُمار میں بڑھوگے اَور یَاہوِہ تمہارے خُدا اُس مُلک میں تُمہیں برکت بخشیں گے جِس پر تُم قبضہ کرنے کو جا رہے ہو۔
DEU 30:17 لیکن اگر تمہارا دِل برگشتہ ہو جائے اَور تُم فرمانبردار نہ بنو، اَور بہک کر غَیر معبُودوں کے آگے سَجدہ اَور اُن کی عبادت کرنے لگو،
DEU 30:18 تو میں آج کے دِن تمہارے سامنے یہ اعلان کئے دیتا ہُوں کہ تُم یقیناً فنا ہو جاؤگے اَور اُس مُلک میں جِس پر تُم قبضہ کرنے یردنؔ پار جا رہے ہو، وہاں تمہاری عمر دراز نہ ہوگی۔
DEU 30:19 آج کے دِن میں آسمان اَور زمین کو تمہارے برخلاف گواہ ٹھہراتا ہُوں کہ مَیں نے زندگی اَور موت، برکتوں اَور لعنتوں کو تمہارے سامنے رکھّا ہے۔ پس تُم زندگی کا اِنتخاب کرو تاکہ تُم اَور تمہاری اَولاد دونوں زندہ رہو،
DEU 30:20 اَور تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا سے مَحَبّت رکھّو، اُن کی آواز سُنو اَور اُن سے لپٹے رہو۔ کیونکہ یَاہوِہ ہی تمہاری زندگی ہیں اَور وہ تُمہیں اُس مُلک میں عمر درازی بخشیں جِس کو دینے کا وعدہ یَاہوِہ نے قَسم کھا کر تمہارے آباؤاَجداد اَبراہامؔ اِصحاقؔ اَور یعقوب سے کیا تھا۔
DEU 31:1 جَب مَوشہ اِن تمام ہدایات کو سَب اِسرائیلیوں کو دے چُکے:
DEU 31:2 ”تَب مَوشہ نے اِسرائیلیوں سے فرمایا کہ مَیں ایک سَو بیس سال کا ہو چُکا ہُوں اَور اَب مَیں تمہاری رہبری کرنے کے قابل نہیں ہُوں، کیونکہ اَب مُجھ میں پہلے جَیسی طاقت نہیں رہی۔ اَور یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایاہے، ’تُم اِس دریائے یردنؔ کے پار نہیں جاؤگے۔‘
DEU 31:3 اِس لیٔے یَاہوِہ تمہارے خُدا خُود تمہارے آگے آگے پار جایٔیں گے۔ اَور وُہی اُن قوموں کو تمہارے سامنے سے نِیست و نابود کریں گے اَور تُم اُن کے مُلک پر قابض ہو جاؤگے۔ اَور جَیسا یَاہوِہ نے فرمایاہے، یہوشُعؔ بھی تمہارے آگے آگے پار جائے گا۔
DEU 31:4 اَور یَاہوِہ اُن کے ساتھ وَیسا ہی کریں گے جَیسا اُنہُوں نے امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ اَور عوگؔ کے ساتھ کیا تھا، جنہیں اُنہُوں نے اُن کے مُلک کے ساتھ فنا کر دیا تھا۔
DEU 31:5 یَاہوِہ اُنہیں تمہارے حوالہ کر دیں گے اَور تُم اُن کے ساتھ وُہی سَب کرنا جِس کا حُکم مَیں نے تُمہیں دیا ہے۔
DEU 31:6 لہٰذا تُم مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو؛ مت ڈرو اَور اُن سے خوف نہ کھاؤ، کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے ساتھ چل رہے ہیں۔ وہ تُمہیں نہیں چھوڑیں گے اَور نہ تُم سے دست بردار ہوں گے۔“
DEU 31:7 تَب مَوشہ نے یہوشُعؔ کو بُلاکر سَب اِسرائیلیوں کے سامنے اُسے حُکم دیا، ”تُم مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو، کیونکہ تُم اِن لوگوں کے ساتھ اُس مُلک میں جاؤگے جسے یَاہوِہ نے اُن کے آباؤاَجداد کو دینے کی قَسم کھائی تھی اَور تُم اُس مُلک کو اُن کی مِیراث کے طور پر اُن میں ضروُر تقسیم کردینا۔
DEU 31:8 یَاہوِہ خُود تمہارے آگے آگے جا رہے ہیں اَور وہ تمہارے ساتھ رہیں گے؛ وہ تُمہیں نہیں چھوڑیں گے اَور نہ تُم سے دست بردار ہوں گے۔ لہٰذا ڈرو مت اَور نہ ہمّت ہارو۔“
DEU 31:9 چنانچہ مَوشہ نے اِس آئین کو لِکھ کر اُسے کاہِنوں کو جو بنی لیوی تھے اَورجو یَاہوِہ کے عہد کا صندُوق اُٹھایا کرتے تھے اَور اِسرائیل کے سَب بُزرگوں کے سُپرد کر دیا۔
DEU 31:10 تَب مَوشہ نے اُنہیں حُکم دیا: ”ہر سات سال کے اِختتام پرجو قرض مُعاف کرنے کا سال ہے، خیموں کی عید کے موقع پر،
DEU 31:11 جَب سَب اِسرائیلی یَاہوِہ تمہارے خُدا کے حُضُور اُن کے مُنتخب مقام پر آکر حاضِر ہوں، تَب تُم یہ آئین اُن کے سامنے پڑھ کر سُنانا۔
DEU 31:12 تُم لوگوں کو یعنی مَرد، عورتوں، بچّوں اَور اَپنے شہروں میں رہنے والے پردیسیوں کو جمع کرو، تاکہ وہ سُنیں اَور یَاہوِہ تمہارے خُدا کا خوف ماَننا سیکھیں اَور اِس آئین کی سَب باتوں پر احتیاط سے عَمل کریں۔
DEU 31:13 اَور اُن کے بچّے جو اِس آئین سے ناواقِف ہیں، اِسے ضروُر سُنیں، اَور جَب تک تُم اُس مُلک میں زندہ رہو، تَب تک وہ یَاہوِہ تمہارے خُدا کا خوف ماَننا سیکھ سکیں، جِس پر تُم قبضہ کرنے کے لیٔے یردنؔ پار جا رہے ہو۔“
DEU 31:14 پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”اَب تمہاری وفات کا دِن قریب ہے لہٰذا یہوشُعؔ کو بُلا لے اَور تُم دونوں خیمہ اِجتماع مَیں حاضِر ہو جاؤ، جہاں میں یہوشُعؔ کو تمہاری جگہ پر مُقرّر کروں۔“ لہٰذا مَوشہ اَور یہوشُعؔ خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر حاضِر ہویٔے۔
DEU 31:15 تَب یَاہوِہ بادل کے سُتون میں ہوکر خیمہ میں ظاہر ہُوئے اَور وہ بادل خیمہ کے دروازہ کے اُوپر ٹھہرگیا۔
DEU 31:16 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا: ”تُم اَب اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو جاؤگے اَور یہ لوگ بہت جلد ہی جِس مُلک میں وہ داخل ہو رہے ہیں وہاں کے غَیر معبُودوں کی پرستش کرنے لگیں گے اَور مُجھ سے دغابازی کریں گے۔ اَور مُجھ سے برگشتہ ہوکر اُس عہد کو توڑ دیں گے جو مَیں نے اُن کے ساتھ باندھا ہے۔
DEU 31:17 اُس دِن میرا قہر اُن پر نازل ہوگا اَور مَیں اُنہیں ترک کر دُوں گا اَور اُن سے اَپنا مُنہ موڑ لُوں گا؛ اَور وہ فنا ہو جایٔیں گے۔ اَور کیٔی آفتیں اَور مُصیبتیں اُن پر آ پڑیں گی اَور اُس دِن وہ پوچھیں گے، ’کیا یہ آفتیں ہم پر اِس لیٔے نہیں آئیں کیونکہ ہمارا خُدا ہمارے ساتھ نہیں ہے؟‘
DEU 31:18 اَور اُس دِن میں یقیناً اَپنا چہرہ اُن سے چھُپا لُوں گا کیونکہ اُنہُوں نے غَیر معبُودوں کی پرستش کرکے تمام بدکاریاں کی ہیں۔
DEU 31:19 ”لہٰذا تُم یہ نغمہ اَپنے واسطے لِکھ لو اَور اُسے اِسرائیلیوں کو سِکھانا اَور اُنہیں حِفظ کروا دینا تاکہ یہ نغمہ بنی اِسرائیل کے خِلاف میرا گواہ رہے۔
DEU 31:20 جَب مَیں اُنہیں اُس مُلک میں پہُنچا دُوں گا جِس میں دُودھ اَور شہد کی بھرپوری ہے، جسے دینے کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر اُن کے آباؤاَجداد سے کیا تھا اَور جَب وہ پیٹ بھر کھا کر موٹے ہو جایٔیں گے، تَب وہ مُجھے ترک کرکے اَور میرے عہد کو توڑ کر غَیر معبُودوں کی طرف پھر جایٔیں گے اَور اُن کی پرستش کرنے لگیں گے۔
DEU 31:21 اَور جَب اُن پر کیٔی آفتیں اَور مُصیبتیں آ پڑیں گی، تَب یہ نغمہ اُن کے خِلاف گواہی دے گا کیونکہ یہ نغمہ اُن کی نَسل بھلا نہ پایٔے گی۔ کیونکہ اُس مُلک میں اُنہیں پہُنچانے سے پہلے ہی، جسے دینے کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر اُن سے کیا تھا، مُجھے تو یہ مَعلُوم ہے کہ اُن کا کیا اِرادہ ہے۔“
DEU 31:22 لہٰذا مَوشہ نے اُس دِن یہ نغمہ لِکھ دیا اَور اُسے اِسرائیلیوں کو سِکھایا۔
DEU 31:23 اِس کے بعد یَاہوِہ نے یہوشُعؔ بِن نُونؔ یہوشُعؔ کو یہ حُکم دیا: ”تُم مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو کیونکہ تُم اِسرائیلیوں کو اُس مُلک میں لے جاؤگے جِس کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر اُن سے کیا ہے، اَور مَیں خُود تمہارے ساتھ رہُوں گا۔“
DEU 31:24 جَب مَوشہ اِس آئین کی باتوں کو شروع سے لے کر آخِر تک ایک کِتاب میں لِکھ چُکے،
DEU 31:25 تَب مَوشہ نے لیویوں کو جو یَاہوِہ کے عہد کا صندُوق اُٹھایا کرتے تھے یہ حُکم دیا،
DEU 31:26 ”اِس کِتاب تورہ کو لو اَور اُسے یَاہوِہ اَپنے خُدا کے عہد کے صندُوق کے پاس رکھ دو، وہاں وہ تمہارے خِلاف گواہ کے طور پر رکھّی رہے گی۔
DEU 31:27 کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ تُم لوگ کس قدر باغی اَور ضِدّی ہو۔ ابھی جَب مَیں تمہارے ساتھ ہُوں اَور میرے زندہ رہتے ہویٔے بھی تُم یَاہوِہ کے خِلاف بغاوت کرتے آئے ہو، تو میری وفات کے بعد تو تُم لوگ اَور بھی زِیادہ باغی ہو جاؤگے۔
DEU 31:28 اَپنے قبیلوں کے سَب بُزرگوں اَور اَپنے سَب منصبداروں کو میرے سامنے حاضِر کرو تاکہ میں یہ باتیں اُنہیں سُناؤں اَور آسمان اَور زمین کو اُن کے برخلاف گواہ بناؤں۔
DEU 31:29 کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ میرے مرنے کے بعد تُم بالکُل بگڑ جاؤگے اَور اُس راہ سے پھر جاؤگے جِس پر چلنے کا مَیں نے تُمہیں حُکم دیا ہے۔ اَور آنے والے دِنوں میں تُم پر آفتیں نازل ہوں گی کیونکہ تُم اَپنے بدکاری سے یَاہوِہ کو غُصّہ دِلانے کے لیٔے وہ کام کروگے جو اُن کی نظر میں بُرا ہے۔“
DEU 31:30 اَور مَوشہ نے بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کے سامنے اِس نغمہ کے الفاظ کو شروع سے لے کر آخِر تک سُنایا۔
DEU 32:1 اَے آسمانوں، کان لگاؤ کہ میں بولُوں؛ اَور اَے زمین! میرے مُنہ کی باتیں سُن۔
DEU 32:2 میری تعلیم مینہ کی مانند برسے، اَور میری تقریر شبنم کی مانند ٹپکے، جَیسے نئی گھاس پر پھوہار پڑتی ہے، اَور نازک پَودوں پر بارش کی جھڑی۔
DEU 32:3 مَیں یَاہوِہ کے نام کا اعلان کروں گا۔ ہمارے خُدا کی عظمت کی تعظیم کرو!
DEU 32:4 وہ ہماری چٹّان ہیں، اُن کی صنعت کامل ہے، کیونکہ اُن کی سَب راہیں اِنصاف والی ہیں۔ وہ وفادار خُدا ہیں جو بدی سے مُبرّا ہیں، وہ راستباز اَور عادل ہیں۔
DEU 32:5 وہ یَاہوِہ کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آئے یہ اُن کے فرزند نہیں؛ شرم کی بات ہے کہ وہ ایک کجرو اَور ٹیڑھی پُشت ہیں۔
DEU 32:6 اَے احمق اَور کم عقل قوم! کیا تُم یَاہوِہ کو اِس طرح بدلہ دوگے؟ کیا وہ تمہارے باپ اَور تمہارے خالق نہیں، جِس نے تُمہیں بنایا اَور تشکیل کیا؟
DEU 32:7 قدیم ایّام کو یاد کرو؛ اَور نَسل در نَسل گزرے زمانہ پر غور کرو۔ اَپنے باپ سے پُوچھو اَور وہ تُمہیں بتائیں گے، اَور اَپنے بُزرگوں سے دریافت کرو تو وہ تُمہیں سمجھائیں گے۔
DEU 32:8 جَب خُداتعالیٰ نے قوموں کو اُن کی مِیراث بانٹی، جَب اُنہُوں نے بنی آدمؔ کو جُدا کیا، تَب اُنہُوں نے اِسرائیل کے بیٹوں کی تعداد کے مُطابق مُختلف لوگوں کی سرحدیں مُقرّر کیں۔
DEU 32:9 کیونکہ یَاہوِہ کا حِصّہ اُن کے لوگ ہیں، اَور یعقوب اُن کی مخصُوص مِیراث ہے۔
DEU 32:10 اُنہُوں نے اُسے بیابان میں، بنجر اَور ہیبت ناک ویرانے میں پایا۔ اُنہُوں نے اُس کی حِفاظت کی اَور اُس کی خبر لی؛ اَور اَپنی آنکھ کی پتلی کی طرح اُسے محفوظ رکھّا۔
DEU 32:11 جَیسے عُقاب اَپنے گھونسلے کو ہلاتا ہے اَور اَپنے بچّوں کے اُوپر منڈلاتا ہے، اَور اُنہیں سنبھالنے کے لیٔے اَپنے بازو پھیلاتا ہے، اَور اُنہیں اَپنے پروں پر اُٹھا لیتا ہے۔
DEU 32:12 صِرف یَاہوِہ ہی اُن کی رہبری کرتے رہے؛ اَور کویٔی غَیر معبُود اُن کے ساتھ نہ تھا۔
DEU 32:13 یَاہوِہ نے اُسے مُلک کی اُونچی جگہوں پر بِٹھایا اَور کھیتوں کی پیداوار سے اُس کی ضیافت کی۔ یَاہوِہ نے اُس کی پرورش چٹّان کے شہد سے، اَور چقماق کی چٹّان کے تیل سے،
DEU 32:14 ریوڑ اَور گلّے کے دہی اَور دُودھ سے اَور برّوں اَور بکریوں کی چربی سے، اَور باشانؔ کے بہترین مینڈھوں سے اَور گندُم کے بہترین آٹے سے کی۔ اَور تُم نے لال رنگ والا بہترین انگوری شِیرہ پیا۔
DEU 32:15 یسُورُونؔ موٹا ہوکر لات مارنے لگا؛ کھا پی کر وہ بھاری اَور چکنا ہو گیا۔ اَور اُس خُدا کو ترک کیا جِس نے اُسے بنایا اَور اَپنے مُنجّی چٹّان کو خارج کیا۔
DEU 32:16 اُنہُوں نے اَپنے غَیر معبُودوں کے باعث اُسے غیرت دِلائی اَور اَپنے مکرُوہ بُتوں سے اُنہیں غُصّہ دِلایا۔
DEU 32:17 اُنہُوں نے بدرُوحوں کے لیٔے قُربانی گذرانی جو برحق خُدا نہیں ہیں۔ بَلکہ وہ اَیسے معبُود ہیں جِن سے وہ ناواقِف تھے، یعنی نئے معبُود جو حال ہی میں ظاہر ہویٔے، اَور اَیسے معبُود جِن سے تمہارے آباؤاَجداد کبھی نہ ڈرے۔
DEU 32:18 تُم نے اُس چٹّان کو ترک کر دیا جِس نے تُمہیں پیدا کیا؛ تُم اُس خُدا کو بھُول گیٔے جِس نے تُمہیں خلق کیا۔
DEU 32:19 یَاہوِہ نے یہ دیکھا اَور اُنہیں ترک کر دیا کیونکہ اُس کے بیٹوں اَور بیٹیوں نے اُنہیں غُصّہ دِلایا تھا۔
DEU 32:20 تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”میں اُن سے اَپنا مُنہ چھُپا لُوں گا، اَور دیکھوں گا کہ اُن کا اَنجام کیا ہوگا؛ کیونکہ وہ ایک باغی پُشت ہیں، اَیسا فرزند جو وفادار نہیں ہے۔
DEU 32:21 اُنہُوں نے مُجھے ایک اَیسی شَے سے غیرت دِلائی جو خُدا نہیں اَور اَپنے نکمّے بُتوں سے مُجھے غُصّہ دِلایا۔ اَب مَیں تُمہیں اُن سے غیرت دِلاؤں گا جنہیں قوم کا درجہ حاصل نہیں؛ اَور ایک نادان قوم سے اُنہیں غُصّہ دِلاؤں گا۔
DEU 32:22 کیونکہ میرے غُصّہ کے باعث آگ بھڑک اُٹھی ہے، جو عالمِ اَرواح کی تہہ تک جلتی جایٔےگی۔ وہ زمین اَور اُس کی فصلوں کو کھا جائے گی اَور پہاڑوں کی بُنیادوں میں بھی آگ لگا دے گی۔
DEU 32:23 ”میں اُن پر آفتوں کا انبار لگا دُوں گا اَور اَپنے سارے تیر اُن پر برسا دُوں گا۔
DEU 32:24 میں اُن کے خِلاف تباہ کُن قحط، فنا کرنے والی بیماریاں اَور وَبا بھیجوں گا۔ میں اُن کے درمیان پھاڑ کھانے والے جنگلی جانور، اَور زمین پر رینگنے والے زہریلے سانپوں کو بھیجوں گا۔
DEU 32:25 نوجوان مَرد، اَور نوجوان عورتیں، دُودھ پیتے بچّے اَور پکے بال والے، گھروں میں دہشت سے، اَور گلیوں میں تلوار سے بے اَولاد ہوں گے۔
DEU 32:26 مَیں نے کہا کہ میں اُنہیں پراگندہ کروں گا اَور نَوع اِنسان میں سے اُن کی یاد مٹا دُوں گا،
DEU 32:27 لیکن مُجھے دُشمن کے طعنے کا خوف تھا، کہ کہیں رقیب غلط اَندیشہ لگا کر یہ نہ کہنے لگیں، ’یَاہوِہ نے نہیں بَلکہ ہمارے ہی ہاتھوں نے فتح دِلائی ہے۔‘ “
DEU 32:28 وہ ایک بے عقل قوم ہیں، وہ سمجھ سے خالی ہیں۔
DEU 32:29 کاش کہ وہ عقلمند ہوتے اَور اِسے سمجھتے اَور جانتے کہ اُن کا اَنجام کیا ہوگا!
DEU 32:30 بھلا یہ کیسے ممکن ہوتا کہ اُن کا ایک دُشمن ہزار کو، اَور دو دُشمن دس ہزار کو کھدیڑ دیتے، جَب تک بنی اِسرائیل کی چٹّان ہی اُنہیں دُشمنوں کے حوالہ نہ کرتی، اَور یَاہوِہ ہی اُنہیں دُشمنوں سے شِکست نہ دِلاتے؟
DEU 32:31 کیونکہ دُشمنوں کی چٹّان ہماری چٹّان کی مانند نہیں ہے، اِسے تو خُود ہمارے دُشمن بھی تسلیم کرتے ہیں۔
DEU 32:32 کیونکہ اُن کے تاکستان سدُومؔ اَور عمورہؔ کے کھیتوں سے ہیں۔ اُن کے انگور زہریلے، اَور اُن کے گُچّھے کڑوے ہیں۔
DEU 32:33 اُن کی مَے سانپوں کا زہر، اَور کالے ناگوں کا جان لیوا زہر ہے۔
DEU 32:34 ”کیا یہ میرے گودام میں جمع نہیں ہے اَور میرے خزانہ میں مُہر بند نہیں؟
DEU 32:35 اِنتقام لینا میرا کام ہے؛ بدلہ میں ہی دُوں گا۔ مُقرّر وقت پر اُن کا پاؤں پھسل جائے گا؛ اُن کی تباہی کا دِن نزدیک ہے اَور اُن کی بربادی رفتار کے ساتھ اُن پر آ رہی ہے۔“
DEU 32:36 جَب یَاہوِہ دیکھیں گے کہ اُن کی قُوّت جاتی رہی اَور کویٔی بھی باقی نہ بچا، نہ غُلام، نہ آزاد، تو وہ اَپنے لوگوں کا اِنصاف کریں گے اَور اَپنے خادِموں پر رحم کھائیں گے۔
DEU 32:37 اَور وہ کہیں گے: ”اَب اُن کے معبُود کہاں ہیں، وہ چٹّان جِس میں اُنہُوں نے پناہ لی تھی،
DEU 32:38 وہ معبُود جو اُن کے قُربانیوں کی چربی کھاتے تھے اَور اُن کی تپاون کی نذروں کی مَے پیتے تھے؟ وُہی تمہاری مدد کے لیٔے اُٹھیں! اَور تُمہیں پناہ دیں!
DEU 32:39 ”لہٰذا اَب تُم غور سے دیکھ لو کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں! میرے سِوا کویٔی اَور معبُود نہیں۔ میں ہی مارتا اَور مَیں ہی جِلاتا ہُوں میں ہی زخمی کرتا اَور مَیں ہی شفا بخشتا ہُوں، اَور میرے ہاتھ سے کویٔی نہیں چھُڑا سَکتا۔
DEU 32:40 میں ہی ہُوں جو آسمان کی طرف اَپنا ہاتھ اُٹھاکر قَسم کھاتا ہُوں: یقیناً تا اَبد تک میں زندہ ہُوں،
DEU 32:41 جَب مَیں اَپنی چمکنے والی تلوار کو تیز کرکے اِنصاف کرنے کے لیٔے اُسے اَپنے ہاتھ میں لُوں گا، تو میں اَپنے رقیبوں سے اِنتقام لُوں گا اَور مُجھ سے نفرت رکھنے والوں کو میں سزا دُوں گا۔
DEU 32:42 میں اَپنے تیروں کو خُون پلا کر اَور تلوار کو مقتولوں اَور اسیروں کا خُون پلا کر، اَور دُشمن رہنماؤں کے سَر کا، گوشت کھِلا کر مدمست کر دُوں گا۔“
DEU 32:43 اَے قومو! یَاہوِہ کے لوگوں کے ساتھ خُوشی مناؤ، کیونکہ وہ اَپنے خادِموں کے خُون کا اِنتقام لیں گے؛ اَور اَپنے دُشمنوں سے بدلہ لیں گے اَور اَپنے مُلک اَور لوگوں کے لیٔے کفّارہ دیں گے۔
DEU 32:44 مَوشہ نے ہوشِیعؔ یعنی یہوشُعؔ بِن نُونؔ کے ساتھ آکر اِس نغمہ کے سَب الفاظ کو لوگوں کو سُنایا۔
DEU 32:45 جَب مَوشہ یہ سَب الفاظ سارے اِسرائیلیوں کو سُنا چُکے
DEU 32:46 تَب مَوشہ نے اُن سے کہا، ”آج کے دِن مَیں نے تمہارے سامنے جِن باتوں کا اِنتباہ کے طور پر اعلان کیا ہے اُنہیں دِل میں رکھّو تاکہ تُم اَپنے بچّوں کو حُکم دے سکو کہ وہ اِس آئین کی تمام باتوں پر نہایت احتیاط کے ساتھ عَمل کرتے رہیں۔
DEU 32:47 یہ تمہارے لیٔے فُضول باتیں نہیں بَلکہ تمہاری زندگی ہیں اَور اِن کے باعث اُس مُلک میں جِس پر قابض ہونے کے لیٔے تُم یردنؔ پار کر رہے ہو تمہاری عمر دراز ہوگی۔“
DEU 32:48 اُسی دِن یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،
DEU 32:49 ”تُم اِس کوہِ عباریمؔ پر چڑھ کر نبوؔ کی چوٹی پر جاؤ جو مُلک مُوآب میں یریحوؔ کے مقابل ہے اَور کنعانؔ کے مُلک کو دیکھ لے، جسے میں بنی اِسرائیل کو اُن کی مِیراث کے طور پر دے رہا ہُوں۔
DEU 32:50 جَیسے تمہارا بھایٔی اَہرونؔ کوہِ ہُورؔ پر مَر گیا اَور اَپنے لوگوں میں جا مِلا، وَیسے ہی تُم بھی جِس پہاڑ پر چڑھوگے وہیں وفات پاؤگے اَور اَپنے آباؤاَجداد سے جا ملوگے۔
DEU 32:51 اِس لیٔے کہ تُم دونوں نے صینؔ کے بیابان کے قادِسؔ میں مریبہؔ کے چشمہ کے پاس بنی اِسرائیل کے سامنے مُجھ سے دغابازی کی اَور تُم نے اِسرائیلیوں کے درمیان میری تقدیس کو برقرار نہیں رکھا۔
DEU 32:52 اِس لیٔے تُم اُس مُلک کو صِرف دُور ہی سے دیکھ پاؤگے لیکن اُس میں داخل نہ ہو پاؤگے، جسے میں بنی اِسرائیل کو دے رہا ہُوں۔“
DEU 33:1 مَرد خُدا مَوشہ نے اَپنی وفات سے پہلے بنی اِسرائیل کو یہ برکت دی:
DEU 33:2 مَوشہ نے کہا: ”یَاہوِہ سِینؔائی سے تشریف لایٔے اَور سِعِیؔر سے ہم پر ظاہر ہُوئے؛ اَور کوہِ پارانؔ سے جلوہ گِر ہویٔے۔ وہ جُنوب سے اَپنی پہاڑی ڈھلانوں سے لاکھوں مُقدّس فرشتوں کے ساتھ تشریف لایٔے۔
DEU 33:3 بے شک خُدا تو اَپنی قوم سے مَحَبّت رکھتے ہیں؛ سَب مُقدّسین آپ کے تابع میں ہیں، وہ آپ کے قدموں میں سَجدہ کرتے ہیں، اَور آپ سے ہی ہدایت پاتے ہیں،
DEU 33:4 مَوشہ سے ہمیں آئین مِلا، جو یعقوب کی نَسل کی خاص مِیراث ہے۔
DEU 33:5 جَب سَب لوگوں کے رہنما جمع ہویٔے تھے، اَور اِسرائیل کے سَب قبیلے ایک ساتھ تھے، اُس وقت یَاہوِہ یسُورُونؔ میں بادشاہ تھے۔
DEU 33:6 ”رُوبِنؔ کا قبیلہ زندہ رہے اَور فنا نہ ہو، حالانکہ وہ ابھی شُمار میں کم ہیں۔“
DEU 33:7 اَور مَوشہ نے بنی یہُوداہؔ کے متعلّق یہ فرمایا: ”اَے یَاہوِہ! آپ بنی یہُوداہؔ کی فریاد سُنیں؛ اَور اُسے ایک قوم کے طور پر ایک ساتھ لے آئیں۔ اُنہیں اَپنے مقصد کو پُورا کرنے کی طاقت دیں، اَور دُشمنوں کے خِلاف اُن کے مددگار ہوں!“
DEU 33:8 لیوی کے متعلّق مَوشہ نے یہ فرمایا: ”اَے یَاہوِہ! آپ کا تُمّیمؔ اَور اُوریمؔ آپ کے وفادار خادِم بنی لیوی کے پاس ہے۔ آپ نے اُسے مَسّہؔ میں آزمایا؛ آپ نے اُس سے مریبہؔ کے چشمہ پر جدّوجہد کی۔
DEU 33:9 اُس نے اَپنے والدین کے متعلّق اعلان کیا، ’میرے دِل میں اُن کے لیٔے کویٔی عِزّت نہیں۔‘ اُس نے اَپنے بھائیوں کو نہیں پہچانا اَور نہ اَپنے بچّوں کو تسلیم کیا، لیکن بنی لیوی نے آپ کے کلام کی فرمانبرداری کی اَور آپ کے عہد کی حِفاظت کی۔
DEU 33:10 وہ یعقوب کو آپ کا اَحکام اَور اِسرائیل کو آپ کے آئین سِکھاتے ہیں۔ وہ آپ کے حُضُور بخُور اَور مذبح پر مُکمّل آتِشی قُربانی پیش کرتا ہے۔
DEU 33:11 اَے یَاہوِہ! اُس کی تمام ہُنرمندی پر برکت بخشیں، اَور اُس کے ہاتھوں کی خدمت کو قبُول فرمائیں۔ اَور اُس کے دُشمنوں کو فنا کر دیں، تاکہ وہ دوبارہ کبھی اُٹھ نہ سکیں۔“
DEU 33:12 بِنیامین کے متعلّق مَوشہ نے فرمایا: ”یَاہوِہ کا پیارا اُن کی سلامتی میں رہے، کیونکہ وہ اُسے دِن بھر بچائے رکھتے ہیں، اَور جِس سے یَاہوِہ مَحَبّت رکھتے ہیں وہ اُن کے کندھوں کے درمیان سکونت کرتا ہے۔“
DEU 33:13 یُوسیفؔ کے متعلّق مَوشہ نے فرمایا: ”اُس کی زمین یَاہوِہ کی طرف سے مُبارک ہو اَور اُس پر آسمان کی بیش قیمتی شبنم گِرے اَور زمین کے نیچے کا گہرا پانی اُسے ملے؛
DEU 33:14 اُن بہترین اَشیا سے جنہیں آفتاب وُجُود میں لاتا ہے اَور اُن نفیس چیزوں سے جو موسم میں پیدا ہوتی ہیں؛
DEU 33:15 قدیم پہاڑوں کے بہترین پھلوں سے اَور اَبدی پہاڑیوں کی بیش قیمتی چیزوں سے؛
DEU 33:16 زمین کے بہترین تحفوں اَور اُس کی معموُری سے اَور جلتی ہُوئی جھاڑی میں ظاہر ہونے والے کی رضا سے۔ یہ سَب برکتیں یُوسیفؔ کے اُوپر قائِم رہے، اَور اُس کی پیشانی پر رہیں جو اَپنے بھائیوں میں شہزادہ ہے۔
DEU 33:17 شان و شوکت میں وہ گویا پہلوٹھے بَیل کی مانند ہے؛ اُس کے سینگ جنگلی سانڈ کی مانند ہیں۔ اِن ہی سے وہ دُور دراز قوموں کو، زمین کی اِنتہا تک زخمی کر ڈالے گا۔ اِفرائیمؔ کے لاکھوں لاکھ لشکر؛ اَور منشّہ کے ہزاروں ہزار لشکر اَیسے ہیں۔“
DEU 33:18 زبُولُون کے متعلّق مَوشہ نے فرمایا: ”اَے زبُولُون! تُو باہر سفر کرتے وقت ترقّی کرکے خُوش رہ، اَور اَے یِسَّکاؔر! تُو اَپنے خیمہ میں اَپنے گھر کے اَندر ترقّی کر اَور خُوش رہ۔
DEU 33:19 وہ لوگوں کو پہاڑ پر بُلائیں گے تاکہ وہاں راستبازی کی قُربانیاں پیش کریں؛ وہ سمُندر کی دولت سے، اَور ریت میں چھُپے خزانوں سے مالا مال ہوں گے۔“
DEU 33:20 گادؔ کے متعلّق مَوشہ نے فرمایا: ”مُبارک ہے وہ جو گادؔ کی سلطنت کو بڑا کرے! گادؔ وہاں شیر کی مانند رہتاہے، وہ بازو اَور سَر تک کو بھی پھاڑ ڈالتا ہے۔
DEU 33:21 اُس نے اَپنے لیٔے بہترین زمین مُنتخب کی؛ کیونکہ رئیس کا حِصّہ اُس کے لیٔے رکھا گیا تھا۔ جَب لوگوں کے سردار جمع ہویٔے، تَب اُس نے یَاہوِہ کے راستی کو، اَور اِسرائیل کے لیٔے یَاہوِہ کے حُکموں پر عَمل کیا۔“
DEU 33:22 اَور دانؔ کے متعلّق مَوشہ نے فرمایا: ”دانؔ اُس شیرببر کا بچّہ ہے، جو باشانؔ سے کود کر آتا ہے۔“
DEU 33:23 نفتالی کے متعلّق مَوشہ نے فرمایا: ”نفتالی یَاہوِہ کے فیض سے لبریز؛ اَور اُن کی برکتوں سے معموُر ہے؛ وہ جُنوب کی طرف جھیل تک کے علاقہ کا وارِث ہوگا۔“
DEU 33:24 آشیر کے متعلّق مَوشہ نے فرمایا: ”بیٹوں میں سَب سے زِیادہ بابرکت آشیر ہے؛ وہ اَپنے بھائیوں میں مقبُول ہو، اَور وہ اَپنے پاؤں زَیتُون کے تیل میں ڈبوئے۔
DEU 33:25 تمہارے پھاٹکوں کی چٹخنیاں لوہے اَور کانسے کی ہُوں گی، اَور تمہاری قُوّت تمہاری عمر کے مساوی ہوگی۔
DEU 33:26 ”یسُورُونؔ کے خُدا کی مانند کویٔی اَور نہیں، جو تمہاری مدد کے لیٔے آسمان سے بادلوں پر اَپنے جلال میں سواری کر تشریف لاتے ہیں۔
DEU 33:27 اَبدی خُدا تمہاری پناہ گاہ ہے، اَور تُم اُن کے دائمی بازو کے آغوش میں ہو۔ وہ تمہارے سامنے تمہارے دُشمنوں کو کھدیڑ دیں گے، ’اَور اُنہیں فنا کرنے کا حُکم دیں گے،‘
DEU 33:28 لہٰذا اناج اَور نئے انگوری شِیرے کے مُلک میں؛ جہاں آسمانوں سے شبنم گرتا ہے، اِسرائیل سلامتی کے ساتھ سکونت کرےگا؛ اَور یعقوب کی نَسل بغیر پریشانی کے محفوظ رہے گی۔
DEU 33:29 اَے اِسرائیل! تُو مُبارک ہے تمہاری مانند کون ہے، ایک اَیسی قوم جسے یَاہوِہ نے چھُڑایا ہے، یَاہوِہ ہی تمہاری سِپر اَور مددگار اَور تمہاری جلالی تلوار ہے۔ تمہارے دُشمن تمہارے سامنے جھُکیں گے، اَور تُم اُن کے اُونچے مقامات کو روند ڈالوگے۔“
DEU 34:1 اِس کے بعد مَوشہ مُوآب کے میدانوں سے کوہِ نبوؔ کے اُوپر پِسگہؔ کی چوٹی پرجو یریحوؔ کے مقابل ہے چڑھ گیٔے۔ وہاں یَاہوِہ نے اُسے گِلعادؔ سے دانؔ تک کا سارا مُلک،
DEU 34:2 نفتالی کا سارا مُلک، اِفرائیمؔ اَور منشّہ کا علاقہ اَور مغربی سمُندر تک کا یہُودیؔہ کا مُلک،
DEU 34:3 جُنوبی مُلک اَور کھجوروں کے شہر یریحوؔ کی وادی سے لے کر ضُعَرؔ تک کا سارا علاقہ دِکھا دیا۔
DEU 34:4 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”یہ وہ مُلک ہے جِس کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر اَبراہامؔ اِصحاقؔ اَور یعقوب سے کیا تھا اَور فرمایا تھا، ’اِسے مَیں تمہاری نَسل کو دُوں گا۔‘ مَیں نے اُس مُلک کو تُمہیں اَپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع تو دے دیا لیکن تُم اُس پار جا کر اُس میں داخل نہ ہو پاؤگے۔“
DEU 34:5 اَور یَاہوِہ کے کہنے کے مُطابق یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے وہاں مُوآب میں وفات پائی۔
DEU 34:6 اَور یَاہوِہ نے مَوشہ کو مُلک مُوآب میں بیت پعورؔ کے مقابل کی وادی میں دفن کیا لیکن آج کے دِن تک کویٔی نہیں جانتا کہ مَوشہ کی قبر کہاں ہے؟
DEU 34:7 مَوشہ اَپنی وفات کے وقت ایک سَو بیس سال کے تھے، پھر بھی نہ تو اُن کی آنکھیں دھُندھلی ہُوئیں تھیں اَور نہ اُن کی قُوّت میں کویٔی کمی آئی تھی۔
DEU 34:8 اَور بنی اِسرائیل مُوآب کے میدانوں میں مَوشہ کے لیٔے تیس دِن تک روتے رہے، اَور تیس دِن کے بعد اُن کا مَوشہ کے لیٔے ماتم کرنے اَور رونے کا وقت ختم ہُوا۔
DEU 34:9 اَور یہوشُعؔ بِن نُونؔ دانائی کی رُوح سے معموُر ہو چُکے تھے کیونکہ مَوشہ نے اُن پر اَپنے ہاتھ رکھّے تھے اَور بنی اِسرائیل اُن کا حُکم مانتے رہے اَور جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا یہوشُعؔ نے وَیسا ہی کیا۔
DEU 34:10 اِس کے بعد اِسرائیل میں مَوشہ جَیسا کویٔی نبی برپا نہیں ہُوا، جِس سے یَاہوِہ نے رُوبرو باتیں کی ہوں،
DEU 34:11 اَور جسے یَاہوِہ نے مِصر میں فَرعوہؔ اَور اُس کے سَب اہلکاروں اَور اُس کے سارے مُلک کے سامنے تمام حیرت اَنگیز نِشانات اَور عجائب دِکھانے کو بھیجا تھا۔
DEU 34:12 کیونکہ کبھی کسی نے اَیسی زبردست قُدرت اَور مُہیب کارناموں کا مظاہرہ نہیں کیا جَیسا مَوشہ نے تمام بنی اِسرائیل کے سامنے کیٔے تھے۔
JOS 1:1 یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ کی وفات کے بعد یَاہوِہ نے یہوشُعؔ بِن نُونؔ سے جو مَوشہ کا مُعاوِن تھا فرمایا،
JOS 1:2 ”میرا خادِم مَوشہ مَر گیا ہے۔ لہٰذا اَب تُم اُن سَب لوگوں کے ساتھ دریائے یردنؔ کو پار کرکے اُس مُلک میں جانے کے لیٔے تیّار ہو جاؤ جو مَیں اِن لوگوں کو یعنی بنی اِسرائیل کو دیتا ہُوں۔
JOS 1:3 اَور مَوشہ کو دئیے ہُوئے وعدہ کے مُطابق مَیں ہر وہ جگہ جہاں تُم اَپنا قدم رکھوگے تُمہیں دُوں گا۔
JOS 1:4 بیابان سے لے کر لبانونؔ تک اَور بڑے دریائے فراتؔ سے مغرب کی جانِب بڑے سمُندر تک حِتّیوں کا سارا مُلک تمہاری مِلکیّت ہوگا۔
JOS 1:5 زندگی بھر کویٔی شخص تمہارے سامنے کھڑا نہ رہ سکےگا۔ جَیسے مَیں مَوشہ کے ساتھ رہا وَیسے ہی تمہارے ساتھ بھی رہُوں گا؛ نہ مَیں تُمہیں چھوڑوں گا اَور نہ تُم سے دست بردار ہُوں گا۔
JOS 1:6 اِس لیٔے مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو کیونکہ تُم اِن لوگوں کے اُس مُلک کا وارِث بننے کے لیٔے رہنمائی کروگے جسے اُنہیں دینے کی مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد سے قَسم کھائی ہے۔
JOS 1:7 ”پس زور پکڑو اَور نہایت دِلیر ہو جاؤ اَور اُس سارے آئین پر احتیاط کے ساتھ عَمل کرو جو میرے خادِم مَوشہ نے تُمہیں دیا اَور اُس سے نہ تو داہنے ہاتھ مُڑنا اَور نہ بائیں تاکہ جہاں کہیں تُم جاؤ کامیاب ہو جاؤ۔
JOS 1:8 یہ کِتاب تورہ تمہارے مُنہ سے کبھی دُور نہ ہونے پایٔے۔ دِن اَور رات اِسی پر دھیان دیتے رہنا تاکہ جو کچھ اِس میں لِکھّا ہے اُس پر تُم احتیاط کے ساتھ عَمل کر سکو۔ تَب تمہارا اِقبال بُلند ہوگا اَور تُم کامیاب ہوگے۔
JOS 1:9 کیا مَیں نے تُمہیں حُکم نہیں دیا؟ لہٰذا مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو۔ خوف نہ کرو اَور ہِمّت نہ ہارو کیونکہ جہاں جہاں تُم جاؤگے، یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے ساتھ رہیں گے۔“
JOS 1:10 تَب یہوشُعؔ نے لوگوں کے سرداروں کو حُکم دیا:
JOS 1:11 ”چھاؤنی میں ہر طرف جا کر لوگوں کو یہ حُکم دو، ’اَپنے لیٔے توشہ سفر تیّار کر لو کیونکہ تین دِن کے اَندر تُمہیں اِس جگہ یردنؔ کو پار کرکے اُس مُلک پر قابض ہونے کے لیٔے جاناہے جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں مِلکیّت کے طور پر دینے والے ہیں۔‘ “
JOS 1:12 لیکن بنی رُوبِنؔ بنی گادؔ اَور منشّہ کے نِصف قبیلہ سے یہوشُعؔ نے کہا،
JOS 1:13 ”جو بات یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے تُم سے کہی تھی اُسے یاد رکھو، ’اِس مُلک کو تُمہیں دینے کے سبب سے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں آرام بخشنے والے ہیں۔‘
JOS 1:14 تمہاری بیویاں تمہارے بال بچّے اَور تمہارے مویشی اِس مُلک میں رہیں جسے مَوشہ نے یردنؔ کے مشرق میں تُمہیں دیا ہے۔ لیکن تمہارے سبھی جنگجو مَرد مُسلّح ہوکر اَپنے بھائیوں سے آگے آگے پار چلے جایٔیں اَور اُس وقت تک اُن کی مدد کریں
JOS 1:15 جَب تک کہ یَاہوِہ تمہاری طرح اُنہیں آرام نہ بخشیں اَور وہ بھی اُس مُلک پر قابض نہ ہو جایٔیں جو یَاہوِہ تمہارے خُدا اُنہیں دے رہے ہیں۔ اُس کے بعد تُم واپس لَوٹ کر اَپنے مُلک میں سکونت اِختیار کر سکتے ہو جسے یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے یردنؔ کے مشرق میں طُلوع آفتاب کے وقت تُمہیں دیا تھا۔“
JOS 1:16 تَب اُنہُوں نے یہوشُعؔ کو جَواب دیا، ”جو کچھ کرنے کا حُکم آپ نے ہمیں دیا ہے ہم اُسے کریں گے اَور جہاں جہاں آپ ہمیں بھیجیں گے ہم وہاں جایٔیں گے۔
JOS 1:17 جَیسے ہم سَب اُمور میں مَوشہ کے زیرِ فرمان تھے وَیسے ہی آپ کا حُکم بھی مانیں گے۔ ہم صِرف اِتنا چاہتے ہیں کہ یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے ساتھ بھی وَیسے ہی رہیں جَیسے مَوشہ کے ساتھ رہتے تھے۔
JOS 1:18 جو کویٔی آپ کے حُکم کے خِلاف بغاوت کرے یا جو بھی حُکم آپ دے رہے ہیں اُسے نہ مانے وہ جان سے ماراجائے گا۔ آپ فقط مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو۔“
JOS 2:1 تَب یہوشُعؔ بِن نُونؔ نے شِطِّیمؔ سے دو جاسُوسوں کو خُفیہ طور پر روانہ کیا اَور اُن سے کہا، ”جا کر اُس مُلک کا،“ اَور، ”خصوصاً یریحوؔ کا جائزہ لو۔“ چنانچہ وہ چلے گیٔے اَور راحبؔ نام کی کسی فاحِشہ کے گھر میں داخل ہُوئے اَور وہیں قِیام کیا۔
JOS 2:2 یریحوؔ کے بادشاہ کو خبر مِلی، ”دیکھو، آج کی رات چند اِسرائیلی مُلک کی جاسُوسی کرنے کے لیٔے یہاں آئے ہُوئے ہیں۔“
JOS 2:3 تَب یریحوؔ کے بادشاہ نے راحبؔ کے پاس یہ کہلا بھیجا: ”جو لوگ تیرے پاس آئے اَور تیرے گھر میں داخل ہُوئے ہیں اُنہیں نکال اَور یہاں لے آ کیونکہ وہ سارے مُلک کی جاسُوسی کرنے کے لیٔے آئے ہیں۔“
JOS 2:4 لیکن اُس عورت نے اُنہیں لے جا کر کہیں چھُپا دیا اَور کہا، ”ہاں، وہ مَرد میرے پاس آئے تو تھے لیکن مُجھے یہ علم نہ تھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔
JOS 2:5 اَور جَب اَندھیرا ہُوا اَور شہر کا پھاٹک بند کرنے کا وقت ہو گیا تو وہ مَرد چلے گیٔے اَور مَیں نہیں جانتی کہ وہ کدھر گیٔے۔ جلدی سے اُن کا پیچھا کرو تو شاید تُم اُنہیں پکڑ لو۔“
JOS 2:6 (لیکن اُس نے اُنہیں چھت پر لے جا کر سَن کے ڈنٹھلوں کے نیچے چھُپا دیا جو اُس نے وہاں جمع کر رکھے تھے۔)
JOS 2:7 چنانچہ یہ لوگ جاسُوسوں کی تلاش میں اُس راہ پر چل دئیے جو یردنؔ کے گھاٹ کو جاتا ہے اَور پیچھا کرنے والوں کے باہر نکلتے ہی شہر کا پھاٹک بند کر لیا گیا۔
JOS 2:8 اِس سے قبل کہ وہ جاسُوس رات کو لیٹ جاتے وہ چھت پر گئی
JOS 2:9 اَور اُن سے کہا، ”مَیں جانتی ہُوں کہ یَاہوِہ نے یہ مُلک تُمہیں دیا ہے اَور تمہارا شدید خوف ہم پر چھایا ہُواہے اَور اِس مُلک کے تمام باشِندے تمہارے خوف سے کانپ رہے ہیں۔
JOS 2:10 کیونکہ ہم نے سُنا ہے کہ جَب تُم مِصر سے نکلے تو یَاہوِہ نے تمہارے لیٔے بحرِقُلزمؔ کے پانی کو سُکھا دیا اَور تُم نے یردنؔ کے مشرق میں بسے ہُوئے امُوریوں کے دو بادشاہوں سیحونؔ اَور عوگؔ کو بُری طرح تباہ کرکے اُن کے ساتھ کیا سلُوک کیا۔
JOS 2:11 جَب ہم نے یہ ماجرا سُنا تو ہمارے دِل پگھل گیٔے اَور تمہارے سبب ہر شخص کا حوصلہ پست ہو گیا کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا ہی اُوپر آسمان کے اَور نیچے زمین کے خُدا ہیں۔
JOS 2:12 ”لہٰذا اَب یَاہوِہ کی قَسم کھا کر کہو کہ تُم میرے خاندان کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤگے جَیسے مَیں تمہارے ساتھ مہربانی سے پیش آئی اَور مُجھے کویٔی سچّا نِشان دو
JOS 2:13 کہ تُم میرے باپ اَور ماں کی میرے بھائیوں اَور بہنوں کی اَور اُن کے تمام متعلّقین کی جان بخش دوگے اَور ہمیں موت سے بچاؤگے۔“
JOS 2:14 اُن مَردوں نے اُسے یقین دِلایا، ”ہماری جان تمہاری جان کی کفیل ہوگی، بشرطیکہ، ہم جو کر رہے ہیں اُس کا ذِکر تُم کسی سے نہ کرنا اَور جَب یَاہوِہ ہمیں یہ مُلک دیں گے تَب ہم تمہارے ساتھ مہربانی اَور وفاداری سے پیش آئیں گے۔“
JOS 2:15 تَب اُس نے اُنہیں کھڑکی کی راہ سے رسّی کے ذریعہ نیچے اُتار دیا کیونکہ جِس گھر میں وہ رہتی تھی وہ شہرپناہ کا ہی حِصّہ تھا
JOS 2:16 اَور اُس نے اُن سے کہا، ”پہاڑوں پر چلے جاؤ تاکہ تلاش کرنے والے تُمہیں پا نہ سکیں اَور تین دِن تک وہیں چھُپے رہنا جَب تک کہ وہ لَوٹ نہ آئیں اَور تَب تُم اَپنی راہ لینا۔“
JOS 2:17 اُن مَردوں نے اُس سے کہا، ”جو قَسم تُم نے ہمیں دی ہے ہم اُس کے پابند ہوں گے
JOS 2:18 لیکن تُم ہمارے اِس مُلک میں داخل ہوتے وقت اِس لال رسّی کو اُس کھڑکی میں باندھ دینا جِس میں سے تُم نے ہمیں نیچے اُتارا ہے اَور تُم اَپنے باپ اَور ماں اَور بھائیوں اَور اَپنے پُورے خاندان کو اَپنے گھر میں لے آنا۔
JOS 2:19 اگر کویٔی شخص تمہارے گھر سے نکل کر کوچہ میں چلا جائے تو اُس کا خُون خُود اُسی کے سَر پر ہوگا؛ ہم اُس کے ذمّہ دار نہ ہوں گے۔ لیکن جو کویٔی تمہارے ساتھ گھر میں ہوگا اگر اُس پر کسی کا ہاتھ پڑا تو اُس کا خُون ہمارے سَر پر ہوگا۔
JOS 2:20 لیکن اگر تُم ہماری یہ بات کسی اَور پر ظاہر کروگی تو ہم اِس قَسم کے پابند نہیں رہیں گے جو تُم نے ہمیں کھِلائی ہے۔“
JOS 2:21 اُس نے کہا، ”مُجھے منظُور ہے۔ تمہارے قول کے مُطابق ہی ہو۔“ تَب اُس نے اُنہیں روانہ کیا اَور وہ چلے گیٔے اَور اُس نے وہ لال رسّی کھڑکی میں باندھ دی۔
JOS 2:22 اَور وہ جا کر پہاڑوں پر پہُنچے جہاں وہ تین دِن تک رہے یہاں تک کہ اُن کا تعاقب کرنے والے سارے راستے پر اُنہیں ڈھونڈتے رہے اَور نہ پا کر لَوٹ آئے۔
JOS 2:23 تَب وہ دونوں مَرد واپس لَوٹے اَور پہاڑوں پر سے اُتر کر دریا کو پار کرکے یہوشُعؔ بِن نُونؔ کے پاس آئے اَورجو کچھ اُن پر گزرا تھا اُن کو بتا دیا۔
JOS 2:24 اُنہُوں نے یہوشُعؔ سے کہا، ”یقیناً یَاہوِہ نے وہ سارا مُلک ہمارے ہاتھ میں کر دیا ہے کیونکہ تمام لوگ ہمارے سبب سے خوفزدہ ہوکر کانپ رہے ہیں۔“
JOS 3:1 صُبح ہوتے ہی یہوشُعؔ تمام بنی اِسرائیل کے ساتھ شِطِّیمؔ سے کوچ کرکے یردنؔ کے کنارے پر آئے اَور پار اُترنے سے پہلے وہاں قِیام کیا۔
JOS 3:2 تین دِن کے بعد سرداروں نے چھاؤنی کے درمیان جا کر
JOS 3:3 لوگوں کو حُکم دیا: ”جَب تُم لیوی کاہِنوں کو یَاہوِہ اَپنے خُدا کے عہد کا صندُوق اُٹھائے ہُوئے دیکھو تو تُم اَپنی جگہ سے کوچ کرکے اُس کے پیچھے پیچھے چلنے لگنا۔
JOS 3:4 تَب تُم جان لوگے کہ تُمہیں کس راہ سے چلنا ہے کیونکہ اِس سے قبل تُم اِس راستہ سے کبھی نہیں گزرے۔ البتّہ اَپنے اَور صندُوق کے درمیان تقریباً نَو سو میٹر کا فاصلہ رکھنا۔ اُس کے قریب مت جانا۔“
JOS 3:5 یہوشُعؔ نے لوگوں سے فرمایا، ”اَپنے آپ کو مُقدّس کر لو کیونکہ کل کے دِن یَاہوِہ تمہارے درمیان عجِیب و غریب کام کریں گے۔“
JOS 3:6 پھر یہوشُعؔ نے کاہِنوں سے فرمایا، ”تُم عہد کا صندُوق لے کر لوگوں کے آگے آگے چلو۔“ چنانچہ اُنہُوں نے اُسے اُٹھایا اَور وہ اُن کے آگے آگے چلنے لگے۔
JOS 3:7 اَور یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے فرمایا، ”آج کے دِن سے مَیں تمام اِسرائیلیوں کے سامنے تُمہیں سرفراز کرنا شروع کروں گا تاکہ وہ جان لیں کہ جَیسے مَیں مَوشہ کے ساتھ تھا وَیسے ہی تمہارے ساتھ بھی ہُوں۔
JOS 3:8 اَور تُم عہد کا صندُوق اُٹھانے والے کاہِنوں کو یہ حُکم دینا، ’جَب تُم یردنؔ کے کنارے پہُنچو تو پانی میں جا کر کھڑے ہو جانا۔‘ “
JOS 3:9 یہوشُعؔ نے بنی اِسرائیل سے فرمایا، ”پاس آکر یَاہوِہ اَپنے خُدا کا کلام سُنو،
JOS 3:10 یہوشُعؔ نے کہا اُس سے تُم جان جاؤگے کہ زندہ خُدا تمہارے درمیان ہیں اَور وہ یقیناً تمہارے سامنے سے کنعانیوں حِتّیوں حِوّیوں پَرزّیوں گِرگاشیوں امُوریوں اَور یبُوسیوں کو نکال دیں گے۔
JOS 3:11 دیکھو ساری زمین کے خُدا کے عہد کا صندُوق تمہارے آگے آگے یردنؔ میں جانے کو ہے۔
JOS 3:12 اِس لیٔے اَب اِسرائیل کے ہر قبیلہ میں سے ایک ایک آدمی لے کر بَارہ آدمیوں کو مُنتخب کرنا۔
JOS 3:13 اَور جِس گھڑی ساری زمین کے خُدا یَاہوِہ کا عہد کا صندُوق اُٹھانے والے کاہِنوں کے قدم یردنؔ کے پانی میں پڑیں گے اُس وقت یردنؔ کا اُوپر سے بہتا ہُوا پانی تھم جائے گا اَور اُس کا ڈھیر لگ جائے گا۔“
JOS 3:14 تَب لوگوں نے یردنؔ کے پار جانے کے لیٔے اَپنی چھاؤنی سے کوچ کیا اَور عہد کا صندُوق اُٹھائے ہُوئے کاہِنؔ اُن کے آگے آگے ہو لیٔے۔
JOS 3:15 فصل کے تمام ایّام میں یردنؔ کا پانی اَپنے کناروں سے اُوپر چڑھ کر بہا کرتا ہے۔ پھر بھی جوں ہی صندُوق اُٹھانے والے کاہِنؔ یردنؔ پر پہُنچے اَور اُن کے قدموں نے کنارے کے پانی کو چھُوا،
JOS 3:16 تو جو پانی اُوپر کی طرف سے بہہ کر آ رہاتھا وہ بہت دُور آدمؔ کے شہر کے پاس جو ضارِتھانؔ کے پاس ہے رُک کر ایک ڈھیر میں تبدیل ہو گیا اَورجو پانی نیچے عراباہؔ کے سمُندر یعنی بحرمُردار کی طرف جاتا ہے وہ بالکُل الگ ہو چُکاتھا اَور لوگ عَین یریحوؔ کے مقابل پار اُترگئے۔
JOS 3:17 اَور جَب تمام اِسرائیلی پار اُتر رہے تھے تو جو کاہِنؔ یَاہوِہ کے عہد کا صندُوق اُٹھائے ہُوئے تھے وہ یردنؔ کے درمیان خشک زمین پر ڈٹ کر کھڑے رہے جَب تک کہ ساری قوم خشک زمین پر سے گزر نہ گئی۔
JOS 4:1 جَب ساری قوم یردنؔ کے پار اُتر گئی تو یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہا،
JOS 4:2 ”ہر قبیلہ میں سے ایک ایک آدمی لے کر بَارہ آدمی مُنتخب کرو،
JOS 4:3 اَور اُنہیں یہ حُکم دو کہ وہ یردنؔ کے درمیان سے ٹھیک اُس جگہ سے جہاں کاہِنؔ کھڑے تھے بَارہ پتّھر لیں اَور اُنہیں اَپنے ساتھ لے جا کر اُس جگہ رکھیں جہاں آج کی رات تُم قِیام کروگے۔“
JOS 4:4 تَب یہوشُعؔ نے اُن بَارہ آدمیوں کو جنہیں اُنہُوں نے بنی اِسرائیل کے ہر قبیلہ میں سے ایک ایک کرکے مُنتخب کیا تھا بُلایا،
JOS 4:5 اَور یہوشُعؔ نے کہا اُن سے کہا، ”تُم خُدا اَپنے یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے آگے آگے یردنؔ کے درمیان جاؤ اَور تُم میں سے ہر ایک اِسرائیل کے قبیلوں کے شُمار کے مُطابق ایک ایک پتّھر اَپنے کندھے پر اُٹھالے،
JOS 4:6 تاکہ یہ تمہارے درمیان ایک نِشان ہو اَور جَب آئندہ زمانہ میں تمہاری اَولاد یہ پُوچھے، ’اِن پتّھروں کا کیا مطلب ہے؟‘
JOS 4:7 تو تُم اُنہیں یہ جَواب دینا کہ یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے سامنے یردنؔ کے پانی کا بہنا رُک گیا تھا، کیونکہ جَب اُسے یردنؔ کے پار لے جایا جا رہاتھا تَب یردنؔ کا پانی دو حِصّے ہو گیا۔ یُوں یہ پتّھر ہمیشہ کے لیٔے بنی اِسرائیل کے لیٔے یادگار ٹھہریں گے۔“
JOS 4:8 چنانچہ بنی اِسرائیل نے یہوشُعؔ کے حُکم کے مُطابق کیا اَور جَیسا یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہاتھا وَیسا ہی اُنہُوں نے بنی اِسرائیل کے قبیلوں کے شُمار کے مُطابق یردنؔ کے درمیان سے بَارہ پتّھر اُٹھائے اَور اُنہیں اَپنے ساتھ اَپنی قِیام گاہ تک لے جا کر وہاں رکھ دیا۔
JOS 4:9 اَور یہوشُعؔ نے وہ بَارہ پتّھر نصب کئے جو یردنؔ کے درمیان ٹھیک اُس جگہ تھے جہاں عہد کا صندُوق اُٹھانے والے کاہِنؔ کھڑے تھے اَور آج کے دِن تک وہ پتّھر وہیں مَوجُود ہیں۔
JOS 4:10 اَورجو کاہِنؔ صندُوق اُٹھائے ہُوئے تھے وہ اُس وقت تک یردنؔ کے درمیان کھڑے رہے جَب تک کہ جو کچھ بھی یَاہوِہ نے یہوشُعؔ کو حُکم دیا تھا لوگوں نے وہ سَب وَیسا ہی کیا، جَیسا کہ مَوشہ نے یہوشُعؔ کو ہدایت دی تھی۔ لوگ جلدی سے آگے بڑھے۔
JOS 4:11 اَور جَیسے ہی سَب لوگ پار اُترے یَاہوِہ کے عہد کا صندُوق اَور کاہِنؔ بھی لوگوں کے رُوبرو اُس پار اُترگئے۔
JOS 4:12 اَور بنی رُوبِنؔ بنی گادؔ اَور منشّہ کے آدھے قبیلہ کے لوگ مَوشہ کے کہنے کے مُطابق ہتھیار اُٹھائے ہُوئے بنی اِسرائیل کے آگے آگے پار ہُوئے۔
JOS 4:13 تقریباً چالیس ہزار مُسلّح آدمی یَاہوِہ کے حُضُور پار ہوکر یریحوؔ کے میدانوں میں پہُنچے تاکہ جنگ کریں۔
JOS 4:14 اُس دِن یَاہوِہ نے سارے اِسرائیلیوں کے سامنے یہوشُعؔ کو سرفراز کیا اَور جَیسے وہ مَوشہ کا اِحترام کرتے تھے وَیسے ہی زندگی بھر اُن کا اِحترام کرتے رہے۔
JOS 4:15 تَب یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہا،
JOS 4:16 ”گواہی کا صندُوق اُٹھائے ہُوئے کاہِنوں کو حُکم دو کہ وہ یردنؔ میں سے نکل آئیں۔“
JOS 4:17 چنانچہ یہوشُعؔ نے کاہِنوں کو حُکم دیا، ”یردنؔ میں سے نکل آؤ۔“
JOS 4:18 اَور کاہِنؔ یَاہوِہ کے عہد کا صندُوق اُٹھائے ہُوئے دریا میں سے نکل آئے اَور جوں ہی اُنہُوں نے اَپنے قدم خشک زمین پر رکھے یردنؔ کا پانی اَپنی جگہ واپس آ گیا اَور پہلے کی طرح اَپنے کناروں کے اُوپر سے بہنے لگا۔
JOS 4:19 پہلے مہینے کے دسویں دِن لوگ یردنؔ سے نکل کر یریحوؔ کی مشرقی سرحد پر گِلگالؔ میں خیمہ زن ہُوئے۔
JOS 4:20 اَور یہوشُعؔ نے اُن بَارہ پتّھروں کو جنہیں وہ یردنؔ سے نکال لایٔے تھے گِلگالؔ میں نصب کیا۔
JOS 4:21 اَور اُنہُوں نے بنی اِسرائیل سے کہا، ”آئندہ جَب تمہاری اَولاد اَپنے اَپنے آباؤاَجداد سے پُوچھے، ’اِن پتّھروں کا کیا مطلب ہے؟‘
JOS 4:22 تو اُن سے کہنا، ’اِسرائیل خشک زمین پر سے ہوتے ہُوئے یردنؔ پار کر گیٔے تھے۔‘
JOS 4:23 کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تمہارے پار ہونے تک یردنؔ کے پانی کو تمہارے سامنے سے ہٹا کر خشک کر دیا تھا۔ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے یردنؔ کے ساتھ وَیسا ہی کیا جَیسا اُنہُوں نے بحرِقُلزمؔ کے ساتھ کیا تھا جَب اُنہُوں نے اُسے ہمارے پار ہونے تک یردنؔ کے پانی کو سُکھائے رکھا تھا۔
JOS 4:24 اُنہُوں نے یہ اِس لیٔے کیا تاکہ دُنیا کی ساری قومیں جان لیں کہ یَاہوِہ کا ہاتھ زورآور ہے اَور تُم ہمیشہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کا خوف مانتے رہو۔“
JOS 5:1 جَب یردنؔ کے مغرب میں بسے ہُوئے امُوریوں کے تمام بادشاہوں اَور ساحِل پر رہنے والے سَب کنعانی بادشاہوں نے یہ سُنا کہ کس طرح یَاہوِہ نے ہمارے پار ہونے تک بنی اِسرائیل کے سامنے یردنؔ کے پانی کو ہٹا کر خشک کر دیا تو اُن کے دِل پگھل گیٔے اَور اُن میں بنی اِسرائیل کا مُقابلہ کرنے کی ہمّت نہ رہی۔
JOS 5:2 اُس وقت یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”چقماق کی چھُریاں بنوا کر بنی اِسرائیل کا بیابان میں پیدا ہُوئے بچّوں کا ختنہ کرا دیں۔“
JOS 5:3 چنانچہ یہوشُعؔ نے چقماق کی چھُریاں بنائیں اَور گیبیتؔ حارالوتؔ یعنی بُریدہ چمڑیوں کی پہاڑی پر بنی اِسرائیل کا ختنہ کیا۔
JOS 5:4 اَور یہ یہوشُعؔ نے اِس لیٔے ختنہ کیا کہ مِصر سے نکل کر آئے ہُوئے تمام لوگوں میں سے جتنے جنگجو نوجوان تھے وہ مِصر سے نکل آنے کے بعد بیابان میں راستہ ہی میں مَر گیٔے تھے۔
JOS 5:5 اُن تمام لوگوں کا تو ختنہ ہو چُکاتھا جو نکل آئےتھے لیکن اِن سَب کا ختنہ نہ ہُوا تھا جو مِصر سے نکلنے کے بعد سفر کے دَوران بیابان میں پیدا ہُوئے تھے۔
JOS 5:6 بنی اِسرائیل چالیس بَرس تک بیابان میں پھرتے رہے جَب تک کہ مِصر سے نکلے ہُوئے سَب جنگجو نوجوان فنا نہ ہو گیٔے کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کی نافرمانی کی تھی۔ یَاہوِہ نے اُن ہی سے قَسم کھائی تھی کہ وہ اُس مُلک کو جہاں دُودھ اَور شہد کی نہریں بہتی ہیں دیکھ بھی نہ پائیں گے جسے اُنہُوں نے ہمیں دینے کی اُن کے آباؤاَجداد سے قَسم کھائی تھی۔
JOS 5:7 لہٰذا اُن ہی کے بیٹوں کا جو خُدا کی طرف سے اُن کی جگہ برپا کئے گیٔے تھے یہوشُعؔ نے ختنہ کیا۔ وہ اَب تک نامختون تھے کیونکہ راہ میں اُن کا ختنہ نہ ہو پایاتھا۔
JOS 5:8 جَب قوم کے تمام لوگوں کا ختنہ ہو چُکا تو وہ اَچھّے ہونے تک وہیں ہی میں مُقیم رہے۔
JOS 5:9 تَب یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”آج کے دِن مَیں نے تمہاری مِصر والی ملامت کو تُم سے دُور کر دیا۔“ اِس لیٔے وہ جگہ آج تک گِلگالؔ کہلاتی ہے۔
JOS 5:10 اَور بنی اِسرائیل نے اُسی ماہ کی چودھویں تاریخ کی شام کو جَب کہ وہ یریحوؔ کے میدانوں میں گِلگالؔ کے مقام پر خیمہ زن تھے عیدِفسح منائی۔
JOS 5:11 اَور عید فسح کے دُوسرے دِن اُنہُوں نے اُس مُلک کی پیداوار میں سے بے خمیری روٹی اَور اُسی دِن سے بھُنی ہُوئی بالیں بھی کھا لیں۔
JOS 5:12 اَور جِس دِن اُنہُوں نے اُس مُلک کی پیداوار کھانا شروع کی اُس کے دُوسرے دِن سے منّا کا اُترنا موقُوف ہو گیا اَور آگے پھر کبھی بنی اِسرائیل کو منّا نہ مِلا۔ لیکن اُس سال اُنہُوں نے کنعانؔ کی پیداوار کھائی۔
JOS 5:13 اَور جَب یہوشُعؔ یریحوؔ کے نزدیک تھے تو اُنہُوں نے اَپنی آنکھیں اُٹھائیں اَور دیکھا کہ ایک آدمی اَپنے ہاتھ میں ننگی تلوار لیٔے اُن کے مقابل کھڑا ہے۔ یہوشُعؔ نے اُس کے قریب جا کر پُوچھا، ”تُم ہماری طرف ہو، یا ہمارے دُشمنوں کی طرف؟“
JOS 5:14 اُس نے جَواب دیا، ”نہیں بَلکہ مَیں اِس وقت یَاہوِہ کی فَوج کے سپہ سالار کی حیثیت سے آیا ہُوں۔“ تَب یہوشُعؔ نے زمین پر مُنہ کے بَل گِر کر سَجدہ کیا اَور اُس سے پُوچھا، ”میرے آقا کا اَپنے خادِم کے لیٔے کیا پیغام ہے؟“
JOS 5:15 یَاہوِہ کی فَوج کے سپہ سالار نے جَواب دیا، ”اَپنے جُوتے اُتار دو کیونکہ جِس جگہ پر تُم کھڑے ہو وہ مُقدّس ہے۔“ اَور یہوشُعؔ نے وَیسا ہی کیا۔
JOS 6:1 اہلِ یریحوؔ نے بنی اِسرائیل کی وجہ سے شہر کا پھاٹک مضبُوطی سے بند کیا ہُوا تھا۔ نہ کویٔی باہر جاتا اَور نہ کویٔی اَندر آتا تھا۔
JOS 6:2 تَب یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”دیکھ، مَیں نے یریحوؔ کو اُس کے بادشاہ اَور زبردست سُورماؤں سمیت تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔
JOS 6:3 تمام مُسلّح مَردوں کو لے کر شہر کے گِرد گشت لگاؤ۔ چھ دِن تک اَیسا ہی کرتے رہو
JOS 6:4 اَور سات کاہِنؔ صوفار یعنی مینڈھوں کے سینگوں کے سات نرسنگے لیٔے ہُوئے صندُوق کے آگے آگے چلیں۔ ساتویں دِن تُم شہر کے گِرد سات بار گشت لگانا اَور کاہِنؔ اَپنے نرسنگے پھُونکتے رہیں۔
JOS 6:5 جَب تُم اُنہیں نرسنگوں کو زور سے پھُونکتے سُنو تو سَب لوگ زور سے نعرے لگائیں۔ اُس وقت شہر کی فصیل گِر جائے گی اَور لوگ اُس پر اَپنے اَپنے سامنے سیدھے چڑھ جایٔیں گے۔“
JOS 6:6 چنانچہ یہوشُعؔ بِن نُونؔ نے کاہِنوں کو بُلاکر اُن سے کہا، ”یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو اُٹھالو اَور سات کاہِنؔ اُس کے آگے آگے نرسنگے لیٔے ہُوئے چلیں۔“
JOS 6:7 اَور اُنہُوں نے لوگوں کو حُکم دیا، ”آگے بڑھو اَور شہر کے گِرد گشت لگاؤ اَور مُسلّح مَرد یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے آگے آگے چلیں۔“
JOS 6:8 اَور جَب یہوشُعؔ لوگوں سے یہ باتیں کہہ چُکے تو وہ سات کاہِنؔ جو یَاہوِہ کے سامنے سات نرسنگے لیٔے ہُوئے تھے اَپنے نرسنگے پھُونکتے ہُوئے چلے اَور یَاہوِہ کا عہد کا صندُوق اُن کے پیچھے پیچھے چلا۔
JOS 6:9 مُسلّح سپاہی اُن کاہِنوں کے آگے آگے چلے جو نرسنگے پھُونک رہے تھے اَور پچھلے سپاہی صندُوق کے پیچھے پیچھے چلے اَور نرسنگوں کی آواز لگاتار گونج رہی تھی۔
JOS 6:10 یہوشُعؔ نے لوگوں کو حُکم دیا تھا، ”نہ تو جنگ کا نعرہ لگانا نہ اَپنی آوازیں بُلند کرنا بَلکہ اَپنے مُنہ بند رکھنا اَور جَب مَیں تُمہیں للکارنے کا حُکم دُوں تَب للکارنا!“
JOS 6:11 اِس طرح اُنہُوں نے یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کا ایک بار شہر کے گِرد چکّر لگوایا۔ پھر وہ سَب چھاؤنی میں واپس ہُوئے اَور رات وہیں گزاری۔
JOS 6:12 دُوسرے دِن یہوشُعؔ صُبح سویرے اُٹھے اَور کاہِنوں نے یَاہوِہ کے عہد کا صندُوق اُٹھایا۔
JOS 6:13 اَور وہ سات کاہِنؔ نرسنگے لیٔے ہُوئے یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے آگے آگے چل رہے تھے اَور نرسنگے پھُونکتے جا رہے تھے۔ مُسلّح آدمی اُن کے آگے تھے اَور عقب والے سپاہی یَاہوِہ کے صندُوق کے پیچھے اَور نرسنگوں کی آواز گونجتی چلی جا رہی تھی۔
JOS 6:14 اِس طرح دُوسرے دِن بھی اُنہُوں نے شہر کے گِرد ایک بار چکّر لگایا اَور پھر چھاؤنی میں آ گئے۔ وہ چھ دِن تک اَیسا ہی کرتے رہے۔
JOS 6:15 ساتویں دِن وہ علی الصبح اُٹھ کر اِسی طرح شہر کے گِرد گھُومے۔ اُس دِن اُنہُوں نے شہر کے سات چکّر لگائے۔
JOS 6:16 ساتویں بار جَب کہ کاہِنوں نے زور سے نرسنگے پھُونکے تَب یہوشُعؔ نے لوگوں کو حُکم دیا، ”للکارو! کیونکہ یَاہوِہ نے یہ شہر تُمہیں دے دیا ہے!
JOS 6:17 یہ شہر اَورجو کچھ اِس کے اَندر ہے سَب یَاہوِہ کی نذر کیا جائے گا۔ صِرف راحبؔ فاحِشہ اَور اُس کے ساتھ اُس کے گھر کے سَب لوگ زندہ بچیں گے کیونکہ اُس نے ہمارے بھیجے ہُوئے جاسُوسوں کو پناہ دی تھی۔
JOS 6:18 لیکن نذر کی مخصُوص چیزوں کو ہاتھ نہ لگانا۔ کہیں اُن میں سے کویٔی شَے لے کر اَپنے اُوپر تباہی نہ لے آنا۔ اَیسا کروگے تو تُم اِسرائیل کی چھاؤنی پر تباہی لاؤگے اَور اُس پر کویٔی آفت کھڑی کر دوگے۔
JOS 6:19 سَب چاندی اَور سونا اَور کانسے اَور لوہے کے سارے ظروف یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس ہیں اَور وہ اُن ہی کے خزانہ میں جایٔیں گے۔“
JOS 6:20 پھر نرسنگے پھُونکے گیٔے اَور لوگوں نے للکارنا شروع کیا اَور جَب نرسنگوں کی آواز سُن کر لوگوں نے زور سے للکارا تو دیوار گِر گئی اَور ہر آدمی سیدھا اَندر کی طرف لپکا اَور اُنہُوں نے شہر پر قبضہ کر لیا۔
JOS 6:21 اُنہُوں نے شہر کو یَاہوِہ کی نذر کیا اَور اُس کے اَندر کی ہر جاندار چیز کو یعنی مَردوں اَور عورتوں جَوانوں اَور ضعیفوں مویشیوں بھیڑوں اَور گدھوں الغرض ہر کسی کو تلوار سے مار ڈالا۔
JOS 6:22 یہوشُعؔ نے اُن دو آدمیوں سے جنہوں نے مُلک میں جاسُوسی کی تھی کہا، ”اَپنی قَسم کے مُطابق اُس فاحِشہ کے گھر جاؤ، اُسے اَور جتنے لوگ اُس کے گھر میں ہُوں اُنہیں نکال لاؤ۔“
JOS 6:23 چنانچہ وہ نوجوان جنہوں نے جاسُوسی کی تھی اَندر چلے گیٔے اَور راحبؔ کو اُس کے والدین اَور بھائیوں اَور اُن سَب کو جو اُن کے یہاں تھے نکال لایٔے۔ اُنہُوں نے اُس کے پُورے خاندان کو نکال لیا اَور اُنہیں بنی اِسرائیل کی چھاؤنی کے باہر ایک جگہ بِٹھا دیا۔
JOS 6:24 پھر اُنہُوں نے سارے شہر کو اَورجو کچھ اُس میں تھا آگ لگا کر پھُونک ڈالا لیکن چاندی اَور سونے کو اَور کانسے اَور لوہے کے ظروف کو یَاہوِہ کے گھر کے خزانہ میں محفوظ کر دیا۔
JOS 6:25 لیکن یہوشُعؔ نے راحبؔ فاحِشہ اَور اُس کے خاندان کو اَور اُن سَب کو جو اُس کے ساتھ تھے سلامت بچا لیا کیونکہ اُس نے اُن آدمیوں کو چھپایا تھا جنہیں یہوشُعؔ نے جاسُوسوں کے طور پر یریحوؔ بھیجا تھا اَور آج کے دِن تک اُس کی بُودوباش اِسرائیل کے درمیان ہے۔
JOS 6:26 اُس وقت یہوشُعؔ نے یہ قَسم کھائی کہ: ”وہ شخص یَاہوِہ کے حُضُور ملعُون ٹھہرے گا، جو اِس یریحوؔ شہر کو پھر سے تعمیر کرنے کا بیڑا اُٹھائے: ”اُس کی بُنیاد رکھےگا؛ وہ اَپنے بڑے بیٹے کو کھو دے گا، اَور اَپنے چُھوٹے بیٹے کی جان گنوا کر اُس کے پھاٹک لگوائے گا۔“
JOS 6:27 اَور یَاہوِہ یہوشُعؔ کے ساتھ تھے اَور سارے مُلک میں اُن کی شہرت پھیل گئی۔
JOS 7:1 لیکن بنی اِسرائیل نے نذر کی ہُوئی چیزوں میں خیانت کی۔ عکنؔ بِن کرمی بِن زبدیؔ بِن زیراحؔ نے جو بنی یہُوداہؔ کے قبیلہ کا تھا اُن میں سے چند چیزیں لے لی تھیں اِس لیٔے یَاہوِہ کا قہر اِسرائیل پر بھڑکا۔
JOS 7:2 اَور یہوشُعؔ نے یریحوؔ سے عَیؔ کو جو بیت ایل کے مشرق میں بیت آوِنؔ کے قریب واقع ہے کچھ لوگوں کو یہ کہہ کر بھیجا، ”جاؤ اَور اُس علاقہ کا جائزہ لے کر آؤ۔“ چنانچہ اُن لوگوں نے جا کر عَیؔ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
JOS 7:3 جَب وہ یہوشُعؔ کے پاس لَوٹے تو کہا، ”سَب لوگوں کو عَیؔ جانے کی ضروُرت نہیں۔ صِرف دو یا تین ہزار مَرد ہی جا کر اُسے قبضہ میں لے لیں۔ سَب لوگوں کو زحمت نہ دے کیونکہ وہاں تھوڑے سے لوگ ہیں۔“
JOS 7:4 چنانچہ تقریباً تین ہزار لوگوں نے چڑھائی کی لیکن عَیؔ کے لوگوں نے اُنہیں مار بھگایا۔
JOS 7:5 اَور عَیؔ کے باشِندوں نے اُن میں سے تقریباً چھتّیس آدمیوں کو مار بھی ڈالا اَور شہر کے پھاٹک سے پتّھر کے کھدانوں تک اُن کا پیچھا کرکے ڈھلان تک اُن کو مارتے چلے گیٔے۔ اِس وجہ سے سپاہیوں کے دِلوں پر ہیبت طاری ہو گئی۔
JOS 7:6 یہوشُعؔ نے اَپنے کپڑے پھاڑے اَور وہ یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے سامنے مُنہ کے بَل زمین پر گِر پڑے اَور شام تک وہیں پڑے رہے۔ اِسرائیلی بُزرگوں نے بھی اَیسا ہی کیا اَور اَپنے سَر پر خاک ڈالی۔
JOS 7:7 اَور یہوشُعؔ نے کہا، ”ہائے افسوس! اَے یَاہوِہ قادر آپ اِس قوم کو امُوریوں کے ہاتھوں میں دے کر تباہ کرنے کے لیٔے یردنؔ کے اِس پار کیوں لائے؟ کاش کہ ہم یردنؔ کے اُس پار ہی رہنے پر راضی ہو جاتے!
JOS 7:8 اَے خُداوؔند! اَب جَب کہ بنی اِسرائیل نے اَپنے دُشمنوں سے شِکست کھائی ہے تو مَیں کیا کہُوں؟
JOS 7:9 کیونکہ کنعانی اَور اِس مُلک کے اَور لوگ یہ سُن کر ہمیں گھیر لیں گے اَور ہمارا نام زمین پر سے مٹا ڈالیں گے۔ پھر آپ اَپنے عظیم نام کے لیٔے کیا کریں گے؟“
JOS 7:10 یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”اُٹھ کھڑا ہو۔ تُو کیوں اِس طرح اوندھا پڑا ہے؟
JOS 7:11 بنی اِسرائیل نے گُناہ کیا ہے۔ اُنہُوں نے میرے اُس عہد کو توڑا ہے جِس پر مَیں نے اُنہیں قائِم رہنے کا حُکم دیا تھا۔ اُنہُوں نے نذر کی ہُوئی چند چیزیں لی ہیں۔ اُنہُوں نے چوری کی اَور جھُوٹ بولا اَور اُنہیں اَپنے اَسباب میں رکھ دیا۔
JOS 7:12 اِسی وجہ سے بنی اِسرائیل اَپنے دُشمنوں کے سامنے ٹھہر نہیں سکتے۔ وہ اَپنی پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں کیونکہ وہ تباہی کے مُستحق قرار دئیے گیٔے ہیں۔ اَور اگر تُم اَپنے درمیان سے نذر کی ہُوئی ہر چیز کو نِیست و نابود نہ کروگے تو آئندہ مَیں تمہارے ساتھ نہ رہُوں گا۔
JOS 7:13 ”جاؤ، اَور لوگوں کو پاک کرو۔ اُن سے کہو، ’کل کی تیّاری کے لیٔے اَپنے آپ کو پاک کر لیں کیونکہ یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: اَے اِسرائیلیوں! تمہارے درمیان نذر کی ہُوئی چیز مَوجُود ہے اَور جَب تک تُم اُسے دُور نہ کروگے تُم اَپنے دُشمنوں کے سامنے ٹھہر نہیں سکوگے۔
JOS 7:14 ” ’صُبح کو تُم اَپنے اَپنے قبیلہ کے مُطابق حاضِر ہو جاؤ۔ اَور جِس قبیلہ کو یَاہوِہ پکڑیں وہ ایک ایک برادری کرکے آگے آئے۔ اَور جِس برادری کو یَاہوِہ پکڑیں وہ ایک ایک گھر کرکے آگے آئے اَور جِس گھر کو یَاہوِہ پکڑیں وہ ایک ایک آدمی کرکے آگے آئے۔
JOS 7:15 جو کویٔی نذر کی چیزوں کے ساتھ پکڑا جائے وہ اَپنے تمام اَسباب کے ساتھ آگ میں جَلا دیا جائے گا۔ اُس نے یَاہوِہ کے عہد کو توڑا ہے اَور بنی اِسرائیل میں شرمناک کام کیا ہے!‘ “
JOS 7:16 یہوشُعؔ نے صُبح سویرے اُٹھ کر اِسرائیلیوں کو قبیلہ بہ قبیلہ حاضِر کیا اَور بنی یہُوداہؔ کا قبیلہ پکڑا گیا۔
JOS 7:17 تَب بنی یہُوداہؔ کی برادریوں کے سامنے آئے اَور بنی زیراحؔ کی برادری پکڑی گئی۔ پھر بنی زیراحؔ کے تمام لوگوں کو سامنے لایا گیا اَور زبدیؔ پکڑا گیا۔
JOS 7:18 یہوشُعؔ نے اُس کے خاندان کے ایک ایک مَرد کو سامنے بُلایا اَور یہُوداہؔ کے قبیلہ کا عکنؔ پکڑا گیا جو زیراحؔ کے بیٹے زبدیؔ کا پوتا اَور کرمی کا بیٹا تھا۔
JOS 7:19 تَب یہوشُعؔ نے عکنؔ سے کہا، ”اَے میرے بیٹے! یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کی تمجید اَور توصیف کرو اَور مُجھے بتاؤ کہ تُم نے کیا کیا؟ مُجھ سے کچھ نہ چھُپانا۔“
JOS 7:20 عکنؔ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”یہ سچ ہے! مَیں نے یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کا گُناہ کیا ہے۔ مَیں نے یہ کیا:
JOS 7:21 جَب مَیں نے لُوٹ کے مال میں بابیل کی ایک خُوبصورت چادر، دو ثاقل چاندی اَور پچاس ثاقل سونے کی ایک اینٹ دیکھی تو مَیں نے لالچ میں آکر اُنہیں رکھ لیا۔ یہ چیزیں میرے خیمہ میں زمین میں چھُپائی ہُوئی ہیں اَور چاندی اُن کے نیچے ہے۔“
JOS 7:22 چنانچہ یہوشُعؔ نے قاصِد بھیجے اَور وہ دَوڑتے ہُوئے خیمہ میں گیٔے اَور اُنہُوں نے دیکھا کہ وہ چیزیں اُس کے خیمہ میں چھُپائی ہُوئی ہیں اَور چاندی اُن کے نیچے ہے۔
JOS 7:23 اُنہُوں نے وہ چیزیں خیمہ میں سے نکال لیں اَور اُنہیں یہوشُعؔ اَور تمام بنی اِسرائیل کے پاس لاکر یَاہوِہ کے حُضُور پھیلا کر رکھ دیا۔
JOS 7:24 تَب یہوشُعؔ نے سَب اِسرائیلیوں سمیت زیراحؔ کے بیٹے عکنؔ کو اَور اُس چاندی اَور چادر اَور سونے کی اینٹ کو اَور اُس کے بیٹے اَور بیٹیوں کو اُس کے مویشیوں گدھوں اَور بھیڑوں کو؛ اُس کے خیمہ کو اُس کے پاس جو کچھ تھا سَب کو وادیِ عکورؔ میں لے گئے۔
JOS 7:25 یہوشُعؔ نے اُس سے کہا، ”تُم ہم پر یہ آفت کیوں لائے؟ آج کے دِن یَاہوِہ تُم پر آفت نازل کریں گے۔“ تَب سَب اِسرائیلیوں نے اُسے سنگسار کیا اَور پھر اُس کے باقی لوگوں کو بھی سنگسار کرنے کے بعد اُنہیں جَلا دیا۔
JOS 7:26 اَور اُنہُوں نے عکنؔ کے اُوپر پتّھر چُن کر ایک ڈھیر کھڑا کر دیا جو آج کے دِن تک مَوجُود ہے۔ تَب یَاہوِہ کا قہر شدید ٹھنڈا پڑ گیا۔ اِس لیٔے وہ جگہ آج تک وادیِ عکورؔ کے نام سے مشہُور ہے۔
JOS 8:1 تَب یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”خوف نہ کرو اَور ہِراساں نہ ہو۔ سارے لشکر کو اَپنے ساتھ لے جاؤ اَور عَیؔ پر چڑھائی کر دو کیونکہ مَیں نے عَیؔ کے بادشاہ اُس کی رعایا اُس کے شہر اَور اُس کے مُلک کو تمہارے قبضہ میں کر دیا ہے۔
JOS 8:2 تُم عَیؔ اَور اُس کے بادشاہ کے ساتھ وَیسا ہی سلُوک کرنا جَیسا یریحوؔ اَور اُس کے بادشاہ کے ساتھ کیا تھا لیکن اُن کا سارا مال و اَسباب اَور سارے مویشی تُم اَپنے لیٔے مالِ غنیمت کے طور پر لے سکتے ہو۔ لہٰذا شہر کے پیچھے جا کر گھات میں لگے رہو۔“
JOS 8:3 لہٰذا یہوشُعؔ اَور لشکر کے تمام آدمی عَیؔ پر چڑھائی کرنے کے لیٔے نکل پڑے۔ اُنہُوں نے اَپنے بہترین سُورماؤں میں سے تیس ہزار لوگوں کو مُنتخب کرکے اَور اُنہیں رات ہی کو اِن اَحکام کے ساتھ روانہ کیا،
JOS 8:4 غور سے سُنو: ”تُم شہر کے عقب میں گھات لگا کر بیٹھنا۔ شہر سے بہت دُور مت جانا اَور سَب کے سَب چوکنّے رہنا۔
JOS 8:5 میں اَپنے سَب ساتھیوں سمیت شہر کی طرف بڑھوں گا اَور جَب وہ لوگ پہلے کی طرح ہمارے مقابل آئیں گے تو ہم اُن کے سامنے سے بھاگ نکلیں گے۔
JOS 8:6 وہ یہ سوچ کر کہ ہم پہلے کی طرح اُن کے سامنے سے بھاگ رہے ہیں ہمارا تعاقب کریں گے، ’یہاں تک کہ ہم اُنہیں شہر سے دُور نکال لے جایٔیں گے۔‘ لہٰذا جَب ہم اُن کے سامنے سے بھاگ نکلیں،
JOS 8:7 تَب تُم گھات میں سے اُٹھ کر شہر پر قبضہ جما لینا۔ یَاہوِہ تمہارے خُدا اُسے تمہارے قبضہ میں کر دیں گے۔
JOS 8:8 تُم شہر کو اَپنے قبضہ میں لینے کے بعد اُسے آگ لگادینا۔ یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق کام کرنا۔ دیکھو مَیں نے تُمہیں حُکم دے دیا ہے۔“
JOS 8:9 تَب یہوشُعؔ نے اُنہیں روانہ کیا اَور وہ کمین گاہ میں پہُنچ کر بیت ایل اَور عَیؔ کے درمیان عَیؔ کے مغرب کی جانِب جا کر بیٹھ گیٔے۔ لیکن یہوشُعؔ لوگوں کے ساتھ رہے اَور رات وہیں گزاری۔
JOS 8:10 صُبح سویرے یہوشُعؔ نے لوگوں کی حاضری لی اَور بنی اِسرائیل کے بُزرگوں کے ہمراہ آگے آگے عَیؔ کی جانِب کوچ کیا۔
JOS 8:11 اَور سَب جنگی مَرد جو اُن کے ساتھ تھے روانہ ہُوئے اَور نزدیک پہُنچ کر شہر کے سامنے آ گیٔے۔ اُنہُوں نے عَیؔ کے شمال میں اَپنی چھاؤنیاں بنائیں جہاں اُن کے اَور عَیؔ کے بیچ ایک وادی تھی۔
JOS 8:12 یہوشُعؔ نے پانچ ہزار لوگوں کو لے کر اُنہیں بیت ایل اَور عَیؔ کے درمیان شہر کے مغرب کی جانِب گھات میں بِٹھا دیا۔
JOS 8:13 اُنہُوں نے سارے سپاہیوں کو جو شہر کے شمال میں چھاؤنیوں میں تھے اَورجو مغرب کی جانِب گھات میں بیٹھے ہُوئے تھے اَپنی اَپنی جگہ پر تعینات کر دیا۔ اُسی رات یہوشُعؔ وادی میں گئے۔
JOS 8:14 جَب عَیؔ کے بادشاہ نے یہ دیکھا تو وہ اَور شہر کے سَب لوگ صُبح سویرے جلدی جلدی باہر نکلے اَور عراباہؔ کے سامنے ایک مقام پر اِسرائیلیوں سے لڑنے کے لیٔے پہُنچ گیٔے۔ لیکن اُسے علم نہ تھا کہ شہر کے عقب میں لوگ اُس کی گھات میں بیٹھے ہُوئے ہیں۔
JOS 8:15 تَب یہوشُعؔ اَور سَب اِسرائیلی یہ ظاہر کرنے کے لیٔے کہ وہ پسپا ہو گئے ہیں بیابان کی طرف بھاگ نکلے۔
JOS 8:16 عَیؔ کے تمام لوگوں کو اُن کا تعاقب کرنے کے لیٔے بُلایا گیا اَور اُنہُوں نے یہوشُعؔ کا تعاقب کیا اَور اِس طرح سے وہ شہر سے کافی دُور نکل گیٔے۔
JOS 8:17 اَور عَیؔ اَور بیت ایل میں کویٔی آدمی نہ رہا جو اِسرائیلیوں کے پیچھے نہ گیا ہو۔ اُنہُوں نے شہر کو کھُلا چھوڑ دیا اَور اِسرائیلیوں کے تعاقب میں روانہ ہو گئے۔
JOS 8:18 تَب یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”جو نیزہ تمہارے ہاتھ میں ہے اُسے عَیؔ کی طرف بڑھاؤ کیونکہ مَیں اُس شہر کو تمہارے ہاتھ میں دے رہا ہُوں۔“ لہٰذا یہوشُعؔ نے اَپنا نیزہ عَیؔ کی طرف بڑھایا۔
JOS 8:19 اُن کے اَیسا کرتے ہی گھات میں بیٹھے ہُوئے لوگ فوراً اَپنی اَپنی جگہوں سے اُٹھے اَور دَوڑکر شہر میں داخل ہو گئے اَور اُسے اَپنے قبضہ میں لے لیا اَور فوراً آگ لگا دی۔
JOS 8:20 عَیؔ کے لوگوں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو اُنہیں شہر کا دُھواں آسمان کی طرف اُٹھتا ہُوا نظر آیا لیکن اُنہیں کسی بھی طرف سے بچ نکلنے کا موقع نہ تھا کیونکہ جو اِسرائیلی بیابان کی طرف بھاگ گیٔے تھے پلٹے اَور اَپنا تعاقب کرنے والوں پر ٹوٹ پڑے۔
JOS 8:21 کیونکہ جَب یہوشُعؔ اَور سَب اِسرائیلیوں نے دیکھا کہ گھات میں بیٹھے ہُوئے لوگوں نے شہر کو لے لیا ہے اَور شہر سے دُھواں اُٹھ رہاہے تو اُنہُوں نے پلٹ کر عَیؔ کے لوگوں پر حملہ کیا۔
JOS 8:22 گھات میں بیٹھے ہُوئے لوگوں نے بھی شہر سے نکل کر اُن کا مُقابلہ کیا۔ اِس طرح وہ بیچ میں پھنس گیٔے اَور اِسرائیلی اُن کی دونوں جانِب تھے۔ اِسرائیلیوں نے اُنہیں مار گرایا یہاں تک کہ اُن میں سے نہ تو کویٔی زندہ بچا اَور نہ کویٔی بھاگ سَکا۔
JOS 8:23 لیکن اُنہُوں نے عَیؔ کے بادشاہ کو زندہ گِرفتار کر لیا اَور اُسے یہوشُعؔ کے پاس لے آئے۔
JOS 8:24 جَب اِسرائیلیوں نے عَیؔ کے سَب لوگوں کو کھیتوں اَور بیابان میں جہاں اُنہُوں نے اُن کا تعاقب کیا تھا مار ڈالا اَور اُن میں سے ہر ایک تلوار کا لقمہ بَن گیا تو تمام بنی اِسرائیلی عَیؔ کو لَوٹے اَور جتنے لوگ وہاں تھے اُنہیں بھی موت کے گھاٹ اُتار دیا۔
JOS 8:25 اُس دِن مَرد اَور عورتیں کُل مِلا کر بَارہ ہزار لوگ مارے گیٔے اَور وہ سَب عَیؔ کے باشِندے تھے۔
JOS 8:26 کیونکہ جَب تک یہوشُعؔ نے عَیؔ کے سَب باشِندوں کو قتل نہیں کیا اُس نے اَپنا وہ ہاتھ نہیں ہٹایا جِس میں وہ نیزہ پکڑے ہُوئے تھا۔
JOS 8:27 البتّہ اِسرائیلیوں نے یَاہوِہ کے یہوشُعؔ کو دئیے ہُوئے حُکم کے مُطابق اُس شہر کے مویشیوں اَور مالِ غنیمت کو لُوٹ کر اَپنے قبضہ میں لے لیا۔
JOS 8:28 چنانچہ یہوشُعؔ نے عَیؔ کو جَلا کر ہمیشہ کے لیٔے کھنڈروں کا ڈھیر بنا دیا جو آج کے دِن تک ویران پڑا ہے۔
JOS 8:29 اُنہُوں نے عَیؔ کے بادشاہ کو ایک درخت پر لٹکا دیا اَور شام تک اُسے وہیں لٹکا رہنے دیا۔ غروبِ آفتاب کے وقت یہوشُعؔ نے حُکم دیا کہ اُس کی لاش کو درخت سے اُتار کر شہر کے پھاٹک کے سامنے پھینک دیا جائے اَور اُنہُوں نے اُس پر پتّھروں کا انبار لگا دیا جو آج کے دِن تک مَوجُود ہے۔
JOS 8:30 تَب یہوشُعؔ نے کوہِ عیبالؔ پر یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کے واسطے ایک مذبح بنایا۔
JOS 8:31 یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے جو حُکم اِسرائیلیوں کو دیا تھا اَور جَیسا مَوشہ کی کِتاب تورہ میں لِکھّا ہے اُسی کے مُطابق اُس نے وہ مذبح اَیسے پتّھروں سے بنایا جِن کو کسی آہنی اوزار سے نہیں تراشا گیا تھا۔ اِس مذبح پر اُنہُوں نے یَاہوِہ کے لیٔے سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں پیش کیں۔
JOS 8:32 وہاں یہوشُعؔ نے اِسرائیلیوں کے سامنے اُن پتّھروں پر مَوشہ کے آئین کی ایک نقل کندہ کی جسے مَوشہ نے اَپنے ہاتھوں سے لِکھّا تھا۔
JOS 8:33 تمام بنی اِسرائیلی اَپنے بُزرگوں افسران اَور قاضیوں سمیت یَاہوِہ کے عہد کا صندُوق اُٹھانے والے لیوی کاہِنوں کی طرف رُخ کرکے صندُوق کے اِدھر اُدھر کھڑے ہو گئے۔ اُن کے درمیان رہنے والے دیسی اَور پردیسی دونوں وہاں تھے۔ اُن میں سے آدھے لوگ کوہِ گِرزِیمؔ کے سامنے اَور آدھے کوہِ عیبالؔ کے سامنے کھڑے تھے جَیسا کہ یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے حُکم دیا تھا کہ وہ بنی اِسرائیل کو برکت دیں۔
JOS 8:34 اُس کے بعد یہوشُعؔ نے کِتاب تورہ کا وہ کلام پڑھ کر سُنایا جِس میں برکتیں بھی ہیں اَور لعنتیں بھی ٹھیک اُسی طرح سے جِس طرح کہ وہ آئین کِتاب تورہ میں درج ہیں۔
JOS 8:35 جِتنی باتوں کا مَوشہ نے حُکم دیا تھا اُن میں سے کویٔی بات اَیسی نہ تھی جسے یہوشُعؔ نے عورتوں بچّوں اَور اُن کے ساتھ رہنے والے پردیسیوں سمیت بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کو پڑھ کر نہ سُنایٔی ہو۔
JOS 9:1 اَور جَب یردنؔ کے مغرب میں کوہستانی مُلک اَور نشینی علاقہ میں اَور لبانونؔ تک بہر رُوم کے تمام ساحِلی علاقہ میں (حِتّی، امُوری، کنعانی، پَرزّی، حِوّیؔ اَور یبُوسی اُن قوموں کے) تمام بادشاہوں نے اِن خبروں کے بارے میں سُنا تو
JOS 9:2 تو وہ یہوشُعؔ اَور اِسرائیلیوں سے جنگ کرنے کے لیٔے اِکٹھّے ہُوئے۔
JOS 9:3 البتّہ جَب گِبعونؔ کے باشِندوں نے سُنا کہ یہوشُعؔ نے یریحوؔ اَور عَیؔ کے ساتھ کیا کیا ہے
JOS 9:4 تو اُنہُوں نے ایک ہوشیاری کی۔ وہ ایک نُمائندہ وفد کے بھیس میں نکل پڑے جِن کے گدھوں پر پُرانے بورے اَور پُرانی پھٹی ہُوئی اَور مرمّت کی ہُوئی انگوری شِیرے کی مَشکیں لدی ہُوئی تھیں۔
JOS 9:5 اُن آدمیوں نے اَپنے پاؤں میں پُرانی پیوند لگی ہُوئی جُوتیاں اَور بَدن پر پُرانے کپڑے پہنے اَور اُن کا سفر کا توشہ سُوکھی اَور پھپھُوندی لگی ہُوئی روٹی پر مُشتمل تھا۔
JOS 9:6 تَب وہ گِلگالؔ کی چھاؤنی میں یہوشُعؔ کے پاس گیٔے اَور اُن سے اَور سَب اِسرائیلی مَردوں سے کہا، ”ہم ایک دُور کے مُلک سے آئے ہیں اِس لیٔے ہمارے ساتھ عہد کرو۔“
JOS 9:7 اِسرائیل کے مَردوں نے اِن حِوّیوں سے کہا، ”لیکن تُم شاید ہمارے قریب ہی رہتے ہو پھر ہم تُم سے عہد کیسے کر سکتے ہیں؟“
JOS 9:8 اُنہُوں نے یہوشُعؔ سے کہا، ”ہم تمہارے خادِم ہیں۔“ لیکن یہوشُعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تُم کون ہو اَور کہاں سے آئے ہو؟“
JOS 9:9 اُنہُوں نے جَواب دیا: ”تمہارے خادِم بہت دُور کے ایک مُلک سے یَاہوِہ آپ کے خُدا کی شہرت کے باعث آئے ہیں کیونکہ جو کچھ اُنہُوں نے مِصر میں کیا ہم نے اُن کا ذِکر سُنا ہے۔
JOS 9:10 اَورجو کچھ اُنہُوں نے یردنؔ کے مشرق میں امُوریوں کے دو بادشاہوں کے ساتھ کیا یعنی حِشبونؔ کے بادشاہ سیحونؔ اَور باشانؔ کے بادشاہ عوگؔ کے ساتھ جو عستاراتؔ میں حُکومت کرتا تھا۔
JOS 9:11 اَور ہمارے سَب بُزرگوں اَور ہمارے مُلک کے سَب باشِندوں نے ہم سے کہا، ’اَپنے ساتھ توشہ سفر لو اَور جا کر اُن سے مِلو اَور اُن سے کہہ، ”ہم تمہارے خادِم ہیں اِس لئے ہمارے ساتھ عہد کر لو۔“ ‘
JOS 9:12 جِس دِن ہم تُم سے مِلنے نکلے اُس دِن یہ روٹی جو ہم نے اَپنے گھر سے لی تھی گرم تھی مگر اَب دیکھو وہ سُوکھ گئی ہے اَور اُس میں پھپھُوندی لگ گئی ہے۔
JOS 9:13 اَور یہ مَشکیں جو ہم نے بھر کر ساتھ لی تھیں نئی تھیں مگر اَب دیکھو یہ پھٹی جا رہی ہیں۔ اَور ہمارے کپڑے اَور جُوتے طویل سفر کے باعث پھٹ چُکے ہیں۔“
JOS 9:14 اِسرائیل کے مَردوں نے یَاہوِہ سے پُوچھے بغیر اُن کے توشہ سفر میں سے کچھ لے کر چکھا۔
JOS 9:15 تَب یہوشُعؔ نے اُن کے ساتھ اَمن کا اَور جان بخشی کا عہد کیا اَور جماعت کے بُزرگوں نے قَسم کھا کر اُن کی تصدیق کی۔
JOS 9:16 گِبعونیوں سے عہد کرنے کے تین دِن بعد اِسرائیلیوں نے سُنا کہ وہ تو اُن کے پڑوسی تھے جو اُن کے نزدیک ہی رہتے تھے
JOS 9:17 اَور بنی اِسرائیل کوچ کرکے تیسرے دِن اُن کے شہروں گِبعونؔ کفیرہؔ بیروت اَور قِریت یعریمؔ میں آئے۔
JOS 9:18 لیکن بنی اِسرائیل اُن پر حملہ آور نہ ہُوئے کیونکہ جماعت کے بُزرگوں نے یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کی قَسم کھائی تھی اَور وعدہ کیا تھا کہ اُنہیں ہلاک نہیں کریں گے۔ ساری جماعت بُزرگوں کے خِلاف کڑکڑانے لگی۔
JOS 9:19 لیکن بُزرگوں نے اُنہیں جَواب دیا، ”ہم نے اُن سے یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کی قَسم کھا کر وعدہ کیا ہے اِس لیٔے ہم اُنہیں چھُو بھی نہیں سکتے۔
JOS 9:20 ہم اُن کے ساتھ یہی کریں گے کہ اُنہیں جینے دیں تاکہ اُن سے کھائی ہُوئی قَسم کو توڑنے کے سبب سے ہم پر قہر نازل نہ ہو۔“
JOS 9:21 اُنہُوں نے مزید کہا، ”ہم اُنہیں جینے دیں گے لیکن وہ ساری جماعت کے لیٔے لکڑہارے اَور پانی بھرنے والے بنیں گے۔“ اِس طرح سارے بُزرگ اَپنے وعدہ پر قائِم رہے۔
JOS 9:22 تَب یہوشُعؔ نے گِبعونیوں کو بُلاکر کہا، ”تُم نے یہ کہہ کر ہمیں دھوکا کیوں دیا، ’ہم تُم سے بہت دُور رہتے ہیں،‘ حالانکہ تُم ہمارے نزدیک ہی رہتے ہو؟
JOS 9:23 لہٰذا تُم لعنتی ٹھہرے اَور تُم ہمیشہ میرے خُدا کے گھر کے لیٔے لکڑہاروں اَور پانی بھرنے والوں کی طرح خدمت کرتے رہوگے۔“
JOS 9:24 اُنہُوں نے یہوشُعؔ کو جَواب دیا، ”آپ کے خادِموں کو صَاف صَاف بتایا گیا تھا کہ کس طرح یَاہوِہ آپ کے خُدا نے اَپنے خادِم مَوشہ کو حُکم دیا تھا کہ وہ تُمہیں تمام مُلک دے دیں گے اَور اُن کے باشِندوں کو تمہارے سامنے سے نِیست و نابود کر دیں گے۔ یہ سُن کر ہمیں خوف کے سبب جان کے لالے پڑ گیٔے اَور ہم اَیسا کرنے پر مجبُور ہو گئے۔
JOS 9:25 اَب ہم آپ کے ہاتھوں میں ہیں۔ اَب جَیسا آپ کو بھلا اَور ٹھیک اَور لگے وَیسا سلُوک ہمارے ساتھ کریں۔“
JOS 9:26 پس یہوشُعؔ نے اُنہیں بنی اِسرائیل کے ہاتھ سے بچا لیا اَور یُوں اُن کی جان بچ گئی۔
JOS 9:27 اُس دِن یہوشُعؔ نے گِبعونیوں کو جماعت کے لیٔے اَور یَاہوِہ کے چُنے ہُوئے مقام پر بنائے جانے والے مذبح کے لیٔے لکڑہارے اَور پانی بھرنے والے مُقرّر کیا اَور آج تک وہ یہی کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔
JOS 10:1 اَور جَب یروشلیمؔ کے بادشاہ ادونی صِدقؔ نے سُنا کہ یہوشُعؔ نے عَیؔ کو سَر کرکے اُسے نِیست و نابود کر دیا ہے اَور جَیسا اُس نے یریحوؔ اَور اُس کے بادشاہ کے ساتھ کیا وَیسا ہی عَیؔ اَور اُس کے بادشاہ کے ساتھ کیا اَور گِبعونؔ کے باشِندوں نے اِسرائیل کے ساتھ صُلح کا عہد باندھا ہے اَور وہ اُن کے درمیان رہنے لگے ہیں۔
JOS 10:2 تو وہ اَور اُس کی رعایا اِس خبر سے نہایت خوفزدہ ہُوئے کیونکہ گِبعونؔ ایک شاہی شہر کی مانند نہایت اہم شہر تھا۔ وہ عَیؔ سے بھی بڑا تھا اَور اُس کے سبھی مَرد سُورما تھے۔
JOS 10:3 اِس لیٔے یروشلیمؔ کے بادشاہ ادونی صِدقؔ نے حِبرونؔ کے بادشاہ ہوہامؔ اَور یرموتؔ کے بادشاہ پیرامؔ اَور لاکیشؔ کے بادشاہ یافیعؔ اَور عِگلونؔ کے بادشاہ دبیرؔ کو یُوں کہلا بھیجا کہ
JOS 10:4 گِبعونؔ پر حملہ کرنے کے لیٔے، ”میری مدد کو آؤ، کیونکہ اُس نے یہوشُعؔ اَور اِسرائیلیوں سے صُلح کرلی ہے۔“
JOS 10:5 تَب یروشلیمؔ، حِبرونؔ، یرموتؔ، لاکیشؔ اَور عِگلونؔ کے اُن پانچوں امُوری بادشاہوں نے اَپنی فَوجیں جمع کر لیں۔ اُنہُوں نے اَپنی تمام فَوجوں کے ساتھ کُوچ کیا اَور اُنہیں گِبعونؔ کے مقابل تعینات کرکے اُس پر حملہ کر دیا۔
JOS 10:6 تَب گِبعونؔ کے لوگوں نے گِلگالؔ کی چھاؤنی میں یہوشُعؔ کو پیغام بھیجا: ”اَپنے خادِموں سے دست بردار نہ ہو۔ جلد ہمارے پاس پہُنچ کر ہمیں بچاؤ۔ ہماری مدد کرو کیونکہ کوہستانی مُلک کے سَب امُوری بادشاہ اِکٹھّے ہوکر ہمارے خِلاف فَوج کشی کرنے والے ہیں۔“
JOS 10:7 تَب یہوشُعؔ سَب زبردست سُورماؤں سمیت اَپنے تمام فَوج کو لے کر گِلگالؔ سے چل پڑے
JOS 10:8 اَور یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”اُن سے نہ ڈرو۔ مَیں نے اُنہیں تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔ اُن میں سے کویٔی بھی تمہارا مُقابلہ نہیں کر سکےگا۔“
JOS 10:9 یہوشُعؔ گِلگالؔ سے تمام رات کُوچ کرتے ہُوئے اَچانک اُن پر ٹوٹ پڑے۔
JOS 10:10 یَاہوِہ نے اُنہیں اِسرائیلیوں کے سامنے پراگندہ کر دیا۔ یہوشُعؔ نے اُنہیں شِکست دی اَور گِبعونؔ میں عظیم فتح حاصل کی۔ اِسرائیلیوں نے بیت حَورُونؔ تک جانے والی سڑک پر اُن کا تعاقب کیا اَور عزیقاہؔ اَور مقّیدہؔ تک اُن کو مارتے چلے گیٔے۔
JOS 10:11 جَب وہ بیت حَورُونؔ کے اُتار سے عزیقاہؔ تک اِسرائیلیوں کے سامنے سے بھاگ رہے تھے تو یَاہوِہ نے آسمان سے اُن کے اُوپر بڑے بڑے اولے برسائے اَور اُن میں اولوں سے مرنے والوں کی تعداد اِسرائیلیوں کی تلواروں کا لقمہ بننے والوں سے کہیں زِیادہ تھی۔
JOS 10:12 جِس دِن یَاہوِہ نے امُوریوں کو اِسرائیلیوں کے قابُو میں کیا اُس دِن یہوشُعؔ نے یَاہوِہ کے حُضُور بنی اِسرائیل کے سامنے یہ کہا: ”اَے سُورج تُو گِبعونؔ پر، اَے چاند تُو وادی ایّالونؔ میں رُک جا۔“
JOS 10:13 اَور سُورج ساکن رہا، اَور چاند ٹھہرا رہا، جَب تک قوم نے اَپنے دُشمنوں سے اِنتقام نہ لے لیا۔ جَیسا کہ یاشار کی کِتاب میں لِکھّا ہے، سُورج آسمان کے درمیان ٹھہرا رہا اَور تقریباً سارا دِن ڈُوبنے میں جلدی نہ کی۔
JOS 10:14 اَور اَیسا دِن نہ اِس سے پہلے کبھی ہُوا اَور نہ اِس کے بعد ہوگا جِس میں یَاہوِہ نے کسی آدمی کی بات سُنی ہو۔ یقیناً یَاہوِہ اِسرائیل کی خاطِر لڑ رہے تھے!
JOS 10:15 تَب یہوشُعؔ سَب اِسرائیلیوں سمیت گِلگالؔ کی چھاؤنی میں لَوٹ آئے۔
JOS 10:16 اَور وہ پانچوں بادشاہ بھاگ کر مقّیدہؔ کے غار میں جا چھُپے۔
JOS 10:17 جَب یہوشُعؔ کو یہ خبر مِلی کہ وہ پانچوں بادشاہ مقّیدہؔ کے غار میں چھُپے ہُوئے ہیں
JOS 10:18 تو یہوشُعؔ نے حُکم دیا، ”غار کے مُنہ پر بڑے بڑے پتّھر لُڑھکا دو اَور چند آدمیوں کو اُس کی نِگرانی کے لیٔے تعینات کر دو۔
JOS 10:19 لیکن تُم نہ رُکو! اَپنے دُشمنوں کا تعاقب کرو اَور پیچھے سے اُن پر حملہ کر دو۔ وہ اَپنے اَپنے شہروں تک پہُنچنے نہ پائیں کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے اُنہیں تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔“
JOS 10:20 اِس طرح یہوشُعؔ اَور اِسرائیلیوں نے اُنہیں نِیست و نابود کر دیا۔ تقریباً ہر آدمی مارا گیا لیکن چند ایک جو بچ گیٔے اَپنے اَپنے فصیلدار شہر میں پہُنچ گیٔے۔
JOS 10:21 تَب سارا لشکر خیروعافیت کے ساتھ مقّیدہؔ کی چھاؤنی میں یہوشُعؔ کے پاس لَوٹ آیا اَور کسی نے اِسرائیلیوں کے خِلاف ایک لفظ بھی نہ کہا۔
JOS 10:22 تَب یہوشُعؔ نے حُکم دیا، ”غار کا مُنہ کھولو اَور اُن پانچوں بادشاہوں کو نکال کر میرے پاس لے آؤ۔“
JOS 10:23 تَب اُنہُوں نے یروشلیمؔ، حِبرونؔ، یرموتؔ لاکیشؔ اَور عِگلونؔ کے اُن پانچوں بادشاہوں کو غار میں سے باہر نکالا۔
JOS 10:24 جَب وہ اُن بادشاہوں کو یہوشُعؔ کے پاس لے آئے تَب اُس نے اِسرائیل کے سَب آدمیوں کو بُلایا اَور اُس نے لشکر کے اُن سرداروں کو جو اُس کے ساتھ آئےتھے حُکم دیا، ”یہاں آکر اَپنے اَپنے پاؤں اِن بادشاہوں کی گردن پر رکھو۔“ چنانچہ اُنہُوں نے آگے آکر اَپنے اَپنے پاؤں اُن کی گردنوں پر رکھ دئیے۔
JOS 10:25 یہوشُعؔ نے اُن سے کہا، ”خوف نہ کرو اَور ہِراساں نہ ہو۔ تُم مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو۔ اُن تمام دُشمنوں کے ساتھ یَاہوِہ اَیسا ہی کریں گے جِن کا تُم مُقابلہ کروگے۔“
JOS 10:26 تَب یہوشُعؔ نے اُن بادشاہوں کو مارا اَور قتل کر دیا اَور اُنہیں پانچ درختوں پر لٹکا دیا اَور شام تک وہ درختوں پر لٹکے رہے۔
JOS 10:27 سُورج کے ڈُوبتے وقت یہوشُعؔ کے حُکم کے مُطابق اُنہیں درختوں پر سے اُتارا گیا اَور اُسی غار میں پھینک دیا گیا جہاں وہ چھُپے ہُوئے تھے اَور غار کے مُنہ پر بڑے بڑے پتّھر رکھ دیئے گیٔے جو آج تک وہیں ہیں۔
JOS 10:28 اُسی دِن یہوشُعؔ نے مقّیدہؔ کو قبضہ میں لے لیا اَور اُسے اَور اُس کے بادشاہ کو تہِ تیغ کیا اَور اُس میں کے ہر شخص کو نِیست و نابود کر دیا۔ اُس نے کسی کو باقی نہ چھوڑا اَور مقّیدہؔ کے بادشاہ کے ساتھ بھی وُہی سلُوک کیا جو یریحوؔ کے بادشاہ کے ساتھ کیا تھا۔
JOS 10:29 پھر یہوشُعؔ تمام بنی اِسرائیل سمیت مقّیدہؔ سے لِبناہؔ کو گئے اَور اُس پر حملہ کیا۔
JOS 10:30 یَاہوِہ نے وہ شہر اَور اُس کے بادشاہ کو بھی اِسرائیلیوں کے ہاتھ میں دے دیا۔ یہوشُعؔ نے اُسے اَور اُس کے شہر کے ہر جاندار کو تہِ تیغ کر ڈالا۔ اُس نے وہاں کسی کو زندہ نہ چھوڑا اَور اُس نے وہاں کے بادشاہ کے ساتھ بھی وَیسا ہی سلُوک کیا جَیسا یریحوؔ کے بادشاہ کے ساتھ کیا تھا۔
JOS 10:31 پھر یہوشُعؔ تمام بنی اِسرائیل سمیت لِبناہؔ سے لاکیشؔ کو گئے۔ اُنہُوں نے اُس کے مقابل مورچہ باندھا اَور اُس پر حملہ کیا۔
JOS 10:32 یَاہوِہ نے لاکیشؔ کو اِسرائیلیوں کے حوالہ کیا اَور یہوشُعؔ نے دُوسرے دِن اُسے لے لیا اَور اُس نے اُس شہر اَور اُس کے اَندر کے ہر جاندار کو تہِ تیغ کیا ٹھیک اُسی طرح جَیسے اُس نے لِبناہؔ کے ساتھ کیا تھا۔
JOS 10:33 اِسی اَثنا میں گِزرؔ کا بادشاہ ہُورامؔ، لاکیشؔ کی مدد کے لیٔے آ پہُنچا لیکن یہوشُعؔ نے اُسے اَور اُس کی فَوج کو شِکست دی۔ یہاں تک کہ کویٔی شخص زندہ نہ بچا۔
JOS 10:34 پھر یہوشُعؔ تمام بنی اِسرائیل سمیت لاکیشؔ سے عِگلونؔ کو گئے۔ اُنہُوں نے اُس کے مقابل مورچے باندھے اَور اُس پر حملہ کیا۔
JOS 10:35 اُنہُوں نے اُسے اِسی روز قبضہ کر لیا اَور اُسے تہِ تیغ کیا اَور اُس میں جو بھی جاندار تھا اُسے نِیست و نابود کر دیا ٹھیک اُسی طرح جِس طرح اُس نے لاکیشؔ کے ساتھ کیا تھا۔
JOS 10:36 پھر یہوشُعؔ تمام بنی اِسرائیل سمیت عِگلونؔ سے حِبرونؔ کو گئے اَور اُس پر حملہ کیا۔
JOS 10:37 اُنہُوں نے اُس شہر کو لے لیا اَور اُسے اُس کے بادشاہ اُس کے دیہاتوں اَور اُس کے اَندر کے ہر جاندار کو تہِ تیغ کر ڈالا۔ اُنہُوں نے کسی کو زندہ نہ چھوڑا اَور عِگلونؔ کی طرح اُنہُوں نے اُس کا اَور اُس کے اَندر کے ہر جاندار کا بالکُل صفایا کر دیا۔
JOS 10:38 پھر یہوشُعؔ تمام بنی اِسرائیل سمیت لَوٹ کر دبیرؔ پر حملہ آور ہُوئے
JOS 10:39 اُنہُوں نے اُس شہر اُس کے بادشاہ اَور اُس کے قصبوں کو لے لیا اَور اُنہیں تہِ تیغ کر ڈالا۔ اُنہُوں نے اُس میں کے ہر جاندار کو بالکُل نِیست و نابود کر دیا اَور کسی کو زندہ نہ چھوڑا۔ اُنہُوں نے دبیرؔ اَور اُس کے بادشاہ کے ساتھ وُہی کیا جو لِبناہؔ اَور اُس کے بادشاہ اَور حِبرونؔ کے ساتھ کیا تھا۔
JOS 10:40 اِس طرح یہوشُعؔ نے کوہستانی مُلک، جُنوبی خِطّہ، مغربی پہاڑیوں کے دامن اَور نشیب کے مُلک سمیت اُس پُورے علاقہ کو اُن کے سَب بادشاہوں سمیت تسخیر کر لیا۔ اُنہُوں نے کسی کو زندہ نہ چھوڑا۔ اَور یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کے حُکم کے مُطابق ہر جاندار کو بالکُل نِیست و نابود کر دیا۔
JOS 10:41 اَور یہوشُعؔ نے قادِسؔ برنیع سے لے کر غزّہؔ تک اَور گوشینؔ سے لے کر گِبعونؔ تک کے سارے علاقہ کو تسخیر کرلئے۔
JOS 10:42 اِن سَب بادشاہوں اَور اُن کے مُلکوں کو یہوشُعؔ نے ایک ہی معرکہ میں شِکست دی کیونکہ یَاہوِہ اِسرائیل کا خُدا اِسرائیل کی خاطِر لڑے۔
JOS 10:43 تَب یہوشُعؔ سارے بنی اِسرائیل سمیت گِلگالؔ کی چھاؤنی میں لَوٹ آئے۔
JOS 11:1 جَب حَصورؔ کے بادشاہ یابینؔ نے یہ سُنا تو اُس نے مدُونؔ کے بادشاہ یُوبابؔ اَور شِمرون اَور اکشافؔ کے بادشاہوں
JOS 11:2 اَور اُن بادشاہوں کو جو شمال کی جانِب کوہستانی مُلک میں کِنّریتؔ کے جُنوب کے عراباہؔ میں مغربی پہاڑوں کے دامن میں اَور نافوت دورؔ میں رہتے تھے۔
JOS 11:3 اَور مشرق اَور مغرب میں رہنے والے کنعانیوں اَور امُوریوں حِتّیوں پَرزّییوں اَور کوہستانی مُلک کے یبُوسیوں اَور حرمُونؔ کے نیچے مِصفاہؔ کے علاقہ میں رہنے والے حِوّیوں کو بُلوا بھیجا۔
JOS 11:4 وہ اَپنی تمام افواج اَور کثیرُالتعداد گھوڑوں اَور رتھوں کے ساتھ چلے آئے۔ اُس بھاری لشکر کی تعداد سمُندر کے کنارے کی ریت کی مانند تھی۔
JOS 11:5 اُن سَب بادشاہوں نے اَپنی فَوجیں جمع کیں اَور میرومؔ کی جھیل کے پاس اِکٹھّے ڈیرے ڈالے تاکہ اِسرائیلیوں سے لڑیں۔
JOS 11:6 یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”اُن سے نہ ڈر کیونکہ کل اِسی وقت مَیں اُن سَب کو ہلاک کرکے اِسرائیل کے حوالہ کر دُوں گا۔ تُم اُن کے گھوڑوں کی کونچیں کاٹ ڈالنا اَور اُن کے رتھ جَلا دینا۔“
JOS 11:7 چنانچہ یہوشُعؔ اَور اُس کا سارا لشکر میرومؔ کی جھیل پر اَچانک پہُنچ کر اُن پر ٹوٹ پڑا۔
JOS 11:8 اَور یَاہوِہ نے اُنہیں اِسرائیلیوں کے ہاتھ میں کر دیا۔ اُنہُوں نے اُنہیں شِکست دی اَور بڑے شہر صیدونؔ مِسرفوتؔ المائم اَور مشرق میں مِصفاہؔ کی وادی تک اُن کا تعاقب کیا یہاں تک کہ اُن میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑا۔
JOS 11:9 یہوشُعؔ نے یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق اُن کے ساتھ سلُوک کیا یعنی اُن کے گھوڑوں کی کونچیں کاٹ ڈالیں اَور اُن کے رتھ جَلا دئیے۔
JOS 11:10 اُس وقت یہوشُعؔ نے پلٹ کر حَصورؔ پر قبضہ کر لیا اَور اُس کے بادشاہ کو تلوار سے مار ڈالا۔ (حَضُورؔ پہلے اُن سَب سلطنتوں کا سردار تھا)۔
JOS 11:11 اُنہُوں نے اُس کے ہر باشِندے کو تلوار سے مار ڈالا۔ اُنہیں بالکُل نِیست و نابود کر دیا اَور کسی مُتنفِّس کو زندہ نہ چھوڑا۔ پھر اُس نے حَصورؔ کو آگ لگا کر جَلا دیا۔
JOS 11:12 یہوشُعؔ نے اُن سَب شاہی شہروں کو اَور اُن کے بادشاہوں کو زیرِ کرکے تہِ تیغ کر دیا اَور یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ کے حُکم کے مُطابق اُنہیں نِیست و نابود کر دیا۔
JOS 11:13 تاہم اِسرائیلیوں نے ٹیلوں پر بسے ہُوئے شہروں کو کبھی سُپرد آتِش نہیں کیا سِوا حَصورؔ کے جسے یہوشُعؔ نے پھُونک دیا تھا۔
JOS 11:14 بنی اِسرائیل نے اِن شہروں کا تمام مالِ غنیمت اَور مویشی اَپنے قبضہ میں لے لیٔے لیکن تمام لوگوں کو اُنہُوں نے تلوار سے قتل کرکے بالکُل نِیست و نابود کر دیا اَور کسی مُتنفِّس کو زندہ نہ چھوڑا۔
JOS 11:15 جِس طرح یَاہوِہ نے اَپنے خادِم مَوشہ کو حُکم دیا تھا اُسی کے مُطابق مَوشہ نے یہوشُعؔ کو حُکم دیا اَور یہوشُعؔ نے وَیسا ہی کیا۔ اُنہُوں نے یَاہوِہ کے مَوشہ کو دئیے ہُوئے اَحکام میں سے ایک بھی ادھورا نہ چھوڑا۔
JOS 11:16 چنانچہ یہوشُعؔ نے سارا علاقہ لے لیا یعنی وہ کوہستانی مُلک سارا جُنوبی قَطعہ گوشینؔ کا سارا علاقہ مغربی پہاڑوں کے دامن کا علاقہ عراباہؔ اَور اِسرائیل کے پہاڑوں اَور اُن کے دامن کا علاقہ۔
JOS 11:17 اَور کوہِ خلقؔ جو سِعِیؔر کی چڑھائی پر ہے اَور بَعل گادؔ جو لبانونؔ کی وادی میں کوہِ حرمُونؔ کے نیچے ہے۔ اُس نے اُن کے سَب بادشاہوں کو پکڑکر مارا اَور قتل کر دیا۔
JOS 11:18 یہوشُعؔ اُن سَب بادشاہوں سے عرصہ دراز تک جنگ کرتے رہے۔
JOS 11:19 گِبعونؔ میں رہنے والے حِوّیوں کے علاوہ کسی شہر نے اِسرائیلیوں کے ساتھ صُلح کا عہد نہیں کیا بَلکہ سَب کو اُنہُوں نے لڑ کر جیتا
JOS 11:20 کیونکہ یَاہوِہ نے اِسرائیلیوں سے جنگ کرنے کے لیٔے اُن کے دِل سخت کر دئیے تھے تاکہ جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا اُس کے مُطابق یہوشُعؔ اُنہیں بالکُل نِیست و نابود کر دے اَور اُن پر رحم کئے بغیر اُن کا نام و نِشان مٹا دے۔
JOS 11:21 اُس وقت یہوشُعؔ نے کوہستانی مُلک میں آکر حِبرونؔ دبیرؔ اَور عنابؔ اَور یہُوداہؔ اَور اِسرائیل کے تمام پہاڑی علاقہ سے عناقیوں کا صفایا کر دیا اَور اُنہیں اَور اُن کے شہروں کو بالکُل نِیست و نابود کر دیا۔
JOS 11:22 اِسرائیل کے مُلک میں کویٔی عناقی باقی نہ رہا۔ صِرف غزّہؔ گاتؔھ اَور اشدُودؔ میں چند ایک باقی بچے۔
JOS 11:23 لہٰذا جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا اُس کے مُطابق یہوشُعؔ نے تمام مُلک فتح کرکے اُسے اِسرائیلیوں کو اُن کے قبیلوں کے لحاظ سے مِیراث میں دے دیا اَور مُلک کو جنگ سے فراغت مِلی۔
JOS 12:1 یردنؔ کے مشرق میں ارنُونؔ کی وادی سے لے کر حرمُونؔ کے پہاڑ تک عراباہؔ کے مشرق کے علاقہ سمیت جِن ممالک کے بادشاہوں کو اِسرائیلیوں نے شِکست دی اَور اُن کے ممالک پر قبضہ کر لیا اُن کی فہرست یہ ہے،
JOS 12:2 امُوریوں کا بادشاہ سیحونؔ، جو حِشبونؔ میں حُکمران تھا۔ جو ارنُونؔ کی وادی کے کنارے کے عروعؔر سے لے کر یعنی وادی کے بیچ سے یبّوقؔ ندی تک جو عمُّونیوں کی سرحد ہے حُکومت کرتا تھا۔ اُس میں آدھا گِلعادؔ شامل ہے
JOS 12:3 اَور وہ عراباہؔ کے مشرقی علاقہ پر بحرِ کِنّریتؔ سے لے کر عراباہؔ کے سمُندر یعنی بحرمُردار تک اَور بیت یسیموتؔ تک اَور پھر جُنوب کی جانِب پِسگہؔ کی ڈھلانوں کے نِچلے حِصّہ پر حُکومت کرتا تھا۔
JOS 12:4 اَور باشانؔ کے بادشاہ عوگؔ کی سلطنت جو رفائیمؔ کی بقیّہ نَسل سے تھا اَور عستاراتؔ اَور ادرعیؔ میں حُکومت کرتا تھا۔
JOS 12:5 اَور وہ کوہِ حرمُونؔ سَلِکہؔ اَور سارے باشانؔ میں گیشُوریوں اَور معکاتیوں کی سرحد تک اَور حِشبونؔ کے بادشاہ سیحونؔ کی سرحد تک آدھے گِلعادؔ میں حُکومت کرتا تھا۔
JOS 12:6 یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ اَور بنی اِسرائیل نے اُن پر فتح پائی اَور یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے بنی رُوبِنؔ بنی گادؔ اَور منشّہ کے آدھے قبیلہ کو اُن کا مُلک مِیراث میں دیا۔
JOS 12:7 اَور یردنؔ کے مغرب کی جانِب لبانونؔ کی وادی کے بَعل گادؔ سے سِعِیؔر کی چڑھائی کے کوہِ خلقؔ تک کے جِن ممالک کے بادشاہوں کو یہوشُعؔ اَور بنی اِسرائیل نے تسخیر کیا (اَور جِن کے مُلک کو یہوشُعؔ نے بنی اِسرائیل کے قبیلوں کو اُن کی تعداد کے مُطابق تقسیم کرکے مِیراث کے طور پر دیا یہ ہیں۔
JOS 12:8 کوہستانی مُلک مغربی پہاڑوں کے دامن کا علاقہ عراباہؔ پہاڑیوں کا نشینی علاقہ بیابان اَور جُنوبی علاقہ۔ یہ حِتّیوں امُوریوں کنعانیوں پَرزّیوں حِوّیوں اَور یبُوسیوں کے علاقے تھے)۔
JOS 12:9 یریحوؔ کا ایک بادشاہ۔ بیت ایل کے نزدیک عَیؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:10 یروشلیمؔ کا ایک بادشاہ۔ حِبرونؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:11 یرموتؔ کا ایک بادشاہ۔ لاکیشؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:12 عِگلونؔ کا ایک بادشاہ۔ گِزرؔ کا ایک بادشاہ
JOS 12:13 دبیرؔ کا ایک بادشاہ۔ گِدیر کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:14 حُرمہؔ کا ایک بادشاہ۔ عَرادؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:15 لِبناہؔ کا ایک بادشاہ۔ عدُلّامؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:16 مقّیدہؔ کا ایک بادشاہ۔ بیت ایل کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:17 تپُّوحؔ کا ایک بادشاہ۔ حِفرؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:18 افیقؔ کا ایک بادشاہ۔ لشرُونؔ یعنی شارونؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:19 مدُونؔ کا ایک بادشاہ۔ حَصورؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:20 شِمرون مرونؔ کا ایک بادشاہ۔ اکشافؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:21 تعناکؔ کا ایک بادشاہ۔ مگِدّوؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:22 قِدِشؔ کا ایک بادشاہ۔ کرمِلؔ کے یُقنِعامؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:23 نافوت دورؔ میں دورؔ کا ایک بادشاہ۔ گِلگالؔ کے گوئیِمؔ کا ایک بادشاہ۔
JOS 12:24 اَور تِرضاؔہ کا ایک بادشاہ۔
JOS 13:1 جَب یہوشُعؔ ضعیف اَور عمر رسیدہ ہو گئے، تَب یَاہوِہ نے اُن سے کہا، ”تُم بہت ضعیف ہو چُکے ہو اَور مُلک کا کافی حِصّہ ابھی حاصل کرنا باقی ہے۔
JOS 13:2 ”جو علاقہ باقی ہے وہ یہ ہے: ”فلسطینیوں کا سارا علاقہ اَور سَب گیشُوریوں؛
JOS 13:3 مِصر کے مشرق میں واقع دریائے شیحُورؔ سے لے کر شمال کی جانِب عقرونؔ کی حَد تک جو کہ کنعانیوں کا علاقہ گِنا جاتا ہے، (یعنی فلسطینیوں کے پانچ حُکمرانوں کی سرزمین جو غزّہؔ، اشدُودؔ، اشقلونؔ، گاتؔھ اَور عقرونؔ پر مُشتمل ہے؛ اَور عوّیؔ کا علاقہ)۔
JOS 13:4 جُنوب کی طرف سے؛ کنعانیوں کا سارا مُلک، صیدونیوں کے معارہؔ سے لے کر امُوریوں کے علاقہ افیقؔ تک،
JOS 13:5 گبلیوں کا علاقہ؛ اَور مشرق کی طرف کوہِ حرمُونؔ کے نیچے کے بَعل گادؔ سے لے کر لیبو حماتؔ کے مدخل تک سارا لبانونؔ۔
JOS 13:6 ”جہاں تک لبانونؔ سے لے کر مِسرفوتؔ المائم تک کے کوہستانی علاقہ کے باشِندوں کا تعلّق ہے جو سَب کے سَب صیدونی ہیں، اُنہیں میں خُود اِسرائیلیوں کے سامنے سے ہٹا دوں گا۔ جَیسا کہ مَیں نے تُم کو ہدایت کی ہے، اُس کے مُطابق تُم یہ مُلک بنی اِسرائیل کی مِیراث کے لیٔے مخصُوص‏ کردینا۔
JOS 13:7 اَور اُسے اُن نَو قبیلوں اَور منشّہ کے نِصف قبیلہ میں مِیراث کے طور پر بانٹ دینا۔“
JOS 13:8 منشّہ کے دُوسرے نِصف قبیلہ، اَور بنی رُوبِنؔ اَور بنی گادؔ نے اَپنی اَپنی مِیراث پائی تھی جو مَوشہ نے اُنہیں یردنؔ کے مشرق میں دی کیونکہ یَاہوِہ کے اُس خادِم نے اُسے اُن ہی کے لیٔے مخصُوص کیا تھا۔
JOS 13:9 یہ علاقہ ارنُونؔ کی وادی کے کنارے کے عروعؔر سے لے کر، وادی کے بیچ واقع شہر تک پھیلا ہُوا تھا اَور اُس میں دیبونؔ تک میدباؔ کا سارا میدان شامل تھا۔
JOS 13:10 اَور امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کے سَب شہر جو حِشبونؔ عمُّونیوں کی سرحد تک حِشبونؔ میں حُکومت کرتے تھے۔
JOS 13:11 اَور گِلعادؔ اَور گیشُوری اَور معکاتیوں کا علاقہ سارا کوہِ حرمُونؔ اَور سَلِکہؔ تک کا سارا باشانؔ بھی شامل تھا۔
JOS 13:12 یعنی عستاراتؔ اَور ادرعیؔ کے حاکم عوگؔ کا باشانؔ والا سارا علاقہ جو رفائیمؔ کی آخِری نَسل میں سے بچ نِکلا تھا۔ مَوشہ نے اُنہیں شِکست دے کر اُن کے مُلک پر قبضہ کر لیا تھا۔
JOS 13:13 لیکن اِسرائیلیوں نے گیشُوری اَور معکاتی کو اُن کے مُلک سے نہیں نکالا تھا۔ پس وہ آج تک اِسرائیلیوں کے درمیان بسے ہُوئے ہیں۔
JOS 13:14 لیکن لیوی کے قبیلہ کو مَوشہ نے کویٔی مِیراث نہیں دی، یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کے وعدہ کے مُطابق آتِشی قُربانیاں ہی اُن کی مِیراث ہیں۔
JOS 13:15 مَوشہ نے بنی رُوبِنؔ کو اُن کی برادریوں کے مُطابق جو مِیراث دی وہ یہ ہے:
JOS 13:16 اُن کا علاقہ ارنُونؔ کی وادی کے کنارے پر کے عروعؔر سے لے کر اَور وادی کے بیچ کے شہر سے ہوتا ہُوا میدباؔ کے پاس کا سارا میدان،
JOS 13:17 حِشبونؔ تک اَور میدان کے سبھی شہر جِن میں دیبونؔ، باموت بَعل، بیت بَعل مِعُون،
JOS 13:18 یہصہؔ، قدیموتؔ، مِفعتؔ۔
JOS 13:19 قِریتائم، سِبماہؔ، ضرۃ شحرؔ جو وادی کے پہاڑ پر ہے۔
JOS 13:20 بیت پعورؔ اَور پِسگہؔ کا نشینی علاقہ، بیت یسیموتؔ۔
JOS 13:21 میدان کے تمام شہر اَور حِشبونؔ کے حُکمران، امُوریوں کے اُس بادشاہ سیحونؔ کی ساری سلطنت جسے مَوشہ نے مِدیان کے سردار، عیویؔ، رِقمؔ، ضُورؔ، حُورؔ اَور رِبعؔ کے ساتھ جو سیحونؔ کے شریک تھے اَور اُسی مُلک میں رہتے تھے شِکست دی تھی۔
JOS 13:22 اَور لڑائی میں مارے گیٔے لوگوں کے علاوہ اِسرائیلیوں نے بِلعاؔم بِن بعورؔ کو بھی جو نجومی تھا، تلوار سے قتل کیا۔
JOS 13:23 بنی رُوبِنؔ کی سرحد یردنؔ کا کنارہ تھی۔ یہ شہر اَور اُن کے دیہات بنی رُوبِنؔ کی برادریوں کے مُطابق اُن کی مِیراث ٹھہرے۔
JOS 13:24 اَور مَوشہ نے گادؔ کے قبیلہ کو اُن کی برادریوں کے مُطابق جو مِیراث دی وہ یہ ہے:
JOS 13:25 یعزیرؔ کا علاقہ، گِلعادؔ کے سَب شہر، ربّہؔ کے نزدیک عروعؔر تک عمُّونیوں کے مُلک کا نِصف حِصّہ؛
JOS 13:26 حِشبونؔ سے رامتؔ مِصفاہؔ اَور بطُونیمؔ تک، اَور محنایمؔ سے دبیرؔ تک کا علاقہ۔
JOS 13:27 اَور وادی میں بیت ہارمؔ، بیت نِمرہؔ، سُکّوتؔ اَور ضِفونؔ اَور حِشبونؔ کے بادشاہ سیحونؔ کی بقیّہ سلطنت (یردنؔ کے مشرقی ساحِل پر کِنّریتؔ کی جھیل تک کا علاقہ)۔
JOS 13:28 یہ شہر اَور اُن کے دیہات بنی گادؔ کی برادریوں کے مُطابق اُن کی مِیراث ٹھہرے۔
JOS 13:29 اَور مَوشہ نے منشّہ کے آدھے قبیلہ کو یعنی منشّہ کی نَسل کے آدھے قبیلہ کو اُن کی برادریوں کے مُطابق یہ مِیراث دی،
JOS 13:30 سارے باشانؔ سمیت محنایمؔ سے لے کر باشانؔ کے بادشاہ عوگؔ کی تمام سلطنت اَور باشانؔ میں بسے ہُوئے یائیرؔ کے ساٹھ قصبے۔
JOS 13:31 آدھا گِلعادؔ اَور عستاراتؔ اَور ادرعیؔ (جو باشانؔ میں عوگؔ کے شاہی شہر)۔
JOS 13:32 جَب مَوشہ یردنؔ کے اُس پار یریحوؔ کے مشرق میں مُوآب کے میدانوں میں تھے تَب اُنہُوں نے یہی مِیراث بانٹی تھی۔
JOS 13:33 لیکن لیوی کے قبیلہ کو، مَوشہ نے کویٔی مِیراث نہیں دی۔ یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا اُن کی مِیراث ہیں جَیسا کہ اُنہُوں نے اُن سے وعدہ کیا تھا۔
JOS 14:1 جو علاقے بنی اِسرائیل نے کنعانؔ کے مُلک میں بطور مِیراث پایٔے، جنہیں الیعزرؔ کاہِنؔ یہوشُعؔ بِن نُونؔ اَور بنی اِسرائیل کے قبائلی برادریوں کے سربراہوں نے اُن میں تقسیم کیا وہ یہ ہیں،
JOS 14:2 اَور جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کی مَعرفت حُکم دیا تھا، اُن کے مُطابق اُن کی مِیراث اُن ساڑھے نَو قبیلوں میں قُرعہ اَندازی سے تقسیم کی گئی۔
JOS 14:3 مَوشہ نے ڈھائی قبیلوں کو اُن کی مِیراث یردنؔ کے مشرق میں دے رکھی تھی لیکن لیویوں کو دُوسروں کے درمیان کویٔی مِیراث نہ دی گئی
JOS 14:4 کیونکہ یُوسیفؔ کی نَسل سے دو قبیلے وُجُود میں آ چُکے تھے منشّہ اَور اِفرائیمؔ۔ لیویوں کو مُلک کا کویٔی حِصّہ نہ مِلا سِوائے اُن شہروں کے جو اُن کے رہنے کے لیٔے تھے اَور بعض چراگاہیں جو اُن کے گلّوں اَور ریوڑوں کے لیٔے تھیں اُن کے حِصّے میں آئیں۔
JOS 14:5 چنانچہ بنی اِسرائیل نے مُلک کو ٹھیک اُسی طرح بانٹ لیا جَیسا یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا۔
JOS 14:6 تَب یہُوداہؔ گِلگالؔ میں یہوشُعؔ سے مِلنے آئے اَور قِنزّی یفُنّہؔ کے بیٹے کالبؔ نے اُن سے کہا، ”تُم جانتے ہوگے، یَاہوِہ نے قادِسؔ برنیع میں مَرد خُدا مَوشہ سے تمہارے اَور میرے بارے میں کیا فرمایا تھا؟
JOS 14:7 جَب یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے مُجھے قادِسؔ برنیع سے اُس مُلک کا حال مَعلُوم کرنے کے لیٔے بھیجا تھا، تَب میں چالیس بَرس کا تھا اَور مَیں نے واپس آکر اُسے تمام حقیقی حالات سے آگاہ کر دیا تھا۔
JOS 14:8 لیکن جو بھایٔی میرے ہمراہ گیٔے تھے اُنہُوں نے لوگوں کے دِلوں کو دہشت سے بھر دیا۔ البتّہ مَیں نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی پُوری طرح پیروی کی۔
JOS 14:9 چنانچہ اُس روز مَوشہ نے قَسم کھا کر مُجھ سے کہا، ’جِس زمین پر تمہارے قدم پڑے ہیں وہ ہمیشہ کے لیٔے تُم اَور تمہاری اَولاد کی مِیراث ہوگی کیونکہ تُم نے یَاہوِہ میرے خُدا کی پُوری طرح پیروی کی ہے۔‘
JOS 14:10 ”اَور اَب پھر جِس طرح اُنہُوں نے یہ بات مَوشہ سے کہی تَب سے اُن پینتالیس برسوں تک جِن میں بنی اِسرائیل بیابان میں بھٹکتے پھرے، یَاہوِہ نے اَپنے وعدہ کے مُطابق مُجھے زندہ رکھا۔ چنانچہ اَب مَیں پچاسی بَرس کا ہُوں!
JOS 14:11 میں آج بھی اُسی قدر زورآور ہُوں جِس قدر اُس دِن تھا جَب مَوشہ نے مُجھے بھیجا تھا۔ میں آج بھی میدانِ جنگ میں جا کر لڑنے کے لیٔے اُتنی ہی قُوّت رکھتا ہُوں جِتنی تَب رکھتا تھا۔
JOS 14:12 چنانچہ اَب یہ کوہستانی مُلک مُجھے عطا کریں جَیسا یَاہوِہ نے اُس دِن مُجھ سے وعدہ کیا تھا۔ تُم نے خُود اُس وقت سُنا تھا کہ وہاں عناقیمؔ بستے ہیں اَور اُن کے شہر بڑے اَور فصیلدار ہیں۔ لیکن اگر خُداوؔند میرے ساتھ ہوں گے تو میں اُن کے قول کے مُطابق اُنہیں نکال دُوں گا۔“
JOS 14:13 تَب یہوشُعؔ نے یفُنّہؔ کے بیٹے کالبؔ کو برکت دی اَور اُسے حِبرونؔ مِیراث کے طور پر عنایت فرمایا۔
JOS 14:14 تَب سے آج تک حِبرونؔ قِنزّی یفُنّہؔ کے بیٹے کالبؔ کی مِیراث ہے، کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کی پُوری طرح پیروی کی تھی۔
JOS 14:15 (پہلے حِبرونؔ کا نام قِریت اربعؔ تھا اِس لیٔے کہ اربعؔ عناقیوں میں سَب سے بڑا آدمی سمجھا جاتا تھا۔) تَب اُس مُلک کو جنگ سے فراغت نصیب ہُوئی۔
JOS 15:1 اَور یہُوداہؔ کے قبیلہ کا حِصّہ اُن کے برادریوں کے مُطابق اِدُوم کی سرحد تک اَور صینؔ کے بیابان تک پھیلا ہُواہے جو اِنتہائی جُنوب میں واقع ہے۔
JOS 15:2 اُن کی جُنوبی حَد اُس خلیج سے شروع ہُوئی ہے جو بحرمُردار کے جُنوبی سِرے پر ہے۔
JOS 15:3 اَور ادّارؔ عقربؔ سے گزرتی ہُوئی صینؔ سے ہوکر قادِسؔ برنیع کے جُنوب کو گئی ہے۔ پھر حِضرونؔ کے پاس سے ہوکر ادّارؔ تک جا کر قرقعؔ کو مُڑی
JOS 15:4 اَور وہاں سے عضمُوؔن ہوتی ہُوئی وادی مِصر میں جا مِلی اَور بہر رُوم پر ختم ہُوئی۔ یہ اُن کی جُنوبی حَد ہے۔
JOS 15:5 اَور مشرقی سرحد یردنؔ کے دہانہ تک بحرمُردار ہی ٹھہرا۔ شمالی سرحد اُس سمُندر کی خلیج سے شروع ہوتی ہُوئی جو یردنؔ کے دہانے پر ہے
JOS 15:6 بیت حوگلہؔ تک جا کر بیت عراباہؔ کے شمال سے گزر کر رُوبِنؔ کے بیٹے بوہنؔ کے پتّھر تک پہُنچی۔
JOS 15:7 پھر وہ حَد وادیِ عکورؔ سے ہوتی ہُوئی دبیرؔ کو گئی۔ پھر شمال کی جانِب گِلگالؔ کو مُڑ گئی جو درّہ کے جُنوب میں ادُمّیمؔ کے مقابل ہے۔ پھر وہ عینؔ شِمِشؔ کے چشموں سے ہوتی ہُوئی عینؔ روگلؔ جا پہُنچی۔
JOS 15:8 پھر وہ بین ہِنَّومؔ کی وادی سے ہوکر یبُوسیوں کے شہر (یعنی یروشلیمؔ) کے جُنوبی ڈھلان سے گزرتی ہے۔ وہاں سے وہ اُس پہاڑ کی چوٹی کو جا نکلی جو ہِنَّومؔ کی وادی کے مغرب میں اَور رفائیمؔ کی وادی کے شمالی سِرے پر ہے۔
JOS 15:9 پھر وُہی حَد اُس پہاڑ کی چوٹی سے آبِ نفتوحؔ کے چشمے کو گئی۔ وہاں سے وہ کوہِ عِفرونؔ کے شہروں کے پاس نکلی اَور نیچے بعلہؔ کی طرف گئی جو قِریت یعریمؔ بھی کہلاتا ہے۔
JOS 15:10 پھر وہ بعلہؔ سے مغرب کی جانِب کوہِ سِعِیؔر کی طرف گھُوم گئی اَور کوہِ یعریمؔ (یعنی کِسلونؔ) کے شمالی دامن کے پاس سے ہوتی ہُوئی بیت شِمِشؔ کی طرف اُترتی ہُوئی تِمنؔہ کو گئی۔
JOS 15:11 وہاں سے وہ حَد عقرونؔ کے شمال کو جا نکلی اَور شِکّرونؔ کی طرف مُڑی اَور کوہِ بعلہؔ سے ہوتی ہُوئی یبنی ایل تک پہُنچی اَور سمُندر کے کنارے پر ختم ہُوئی۔
JOS 15:12 اَور بہر رُوم کا ساحِل مغربی سرحد تھا۔
JOS 15:13 یہوشُعؔ نے یَاہوِہ کے دئیے ہُوئے حُکم کے مُطابق یفُنّہؔ کے بیٹے کالبؔ کو یہُوداہؔ کے درمیان حِصّہ دیا جو قِریت اربعؔ یعنی حِبرونؔ کہلاتا ہے۔ (اربعؔ عناق کا آباؤاَجداد تھا)۔
JOS 15:14 کالبؔ نے حِبرونؔ سے شیشائی، احیمانؔ اَور تلمی اِن تینوں کو جو عناق کی اَولاد تھے نکال دیا۔
JOS 15:15 اَور وہاں سے اُنہُوں نے دبیرؔ کے باشِندوں پر چڑھائی کی (جو پہلے قِریت سِفرؔ کہلاتا تھا)۔
JOS 15:16 اَور کالبؔ نے کہا، ”جو آدمی قِریت سِفرؔ پر حملہ کرکے اُسے قبضہ میں لے گا میں اُس سے اَپنی بیٹی عکسہؔ کی شادی کر دُوں گا۔“
JOS 15:17 تَب کالبؔ کے بھایٔی عتنی ایل بِن قِنٰز نے اُسے سَر کر لیا، اِس لیٔے کالبؔ نے اَپنی بیٹی عکسہؔ کی شادی اُس سے کر دی۔
JOS 15:18 ایک دِن جَب وہ عتنی ایل کے پاس آئی تو اُس نے اُس سے اِصرار کیا کہ وہ اُس کے باپ سے ایک کھیت طلب کرے۔ جَب وہ اَپنے گدھے پر سے اُتری تو کالبؔ نے اُس سے پُوچھا، ”تُم کیا چاہتی ہو؟“
JOS 15:19 اُس نے کہا، ”مُجھ پر ایک خاص عنایت کرو۔ چونکہ آپ نے مُجھے جُنوب کے مُلک میں کچھ زمین دی ہے، اِس لیٔے مُجھے پانی کے چشمے بھی دیں۔“ چنانچہ کالبؔ نے اُسے اُوپر کے اَور نیچے کے چشمے بھی عطا فرمائے۔
JOS 15:20 یہُوداہؔ کی مِیراث اُن کے برادریوں کے مُطابق یہ ہے،
JOS 15:21 جُنوب کے مُلک میں اِدُوم کی سرحد کے قریب یہُوداہؔ کے قبیلے کے اِنتہائی جُنوبی شہر یہ ہیں، قبضی ایل، عیدرؔ، یگُورؔ،
JOS 15:22 قِینہؔ، دیمونہؔ، عدَعدہؔ،
JOS 15:23 قِدِشؔ، حَصورؔ، اِتنانؔ،
JOS 15:24 زِیفؔ، تلمؔ، بعلوتؔ
JOS 15:25 حَصورؔ حدتّہؔ، قِریوتؔ حِضرونؔ (یعنی حَصورؔ)،
JOS 15:26 اَمامؔ، شِمعؔ، مولادہؔ،
JOS 15:27 حضارگدّہؔ، حِشمونؔ، بیت پیلط،
JOS 15:28 حضار شُعالؔ، بیرشبعؔ، بِزیوتیاہؔ،
JOS 15:29 بعلہؔ، عِییّمؔ، عضِمؔ،
JOS 15:30 اِلتولدؔ، کسیِلؔ، حُرمہؔ،
JOS 15:31 صِقلاگ، مدمنّہؔ، سنسنّاہؔ،
JOS 15:32 لِباؤتؔ، شلحیمؔ، عینؔ اَور رِمّونؔ۔ یہ کل اُنتیس شہر ہیں اَور اُن کے ساتھ دیہات بھی ہیں۔
JOS 15:33 اَور مغرب کے نشینی علاقہ میں، اِستالؔ، ضورعاہؔ، اَشناہؔ،
JOS 15:34 زنوحؔ، عینؔ گنّیمؔ، تپُّوحؔ، عینامؔ،
JOS 15:35 یرموتؔ، عدُلّامؔ، شوکوہؔ، عزیقاہؔ،
JOS 15:36 شعریمؔ، عدِتیَیمؔ اَور گِدیرہؔ یا گِدیرُتَعیمؔ۔ یہ چودہ شہر ہیں اَور اُن کے ساتھ دیہات بھی ہیں۔
JOS 15:37 ضِنانؔ، حداشہؔ، مگدال گادؔ،
JOS 15:38 دلعانؔ، مِصفاہؔ، یُقِتی ایل،
JOS 15:39 لاکیشؔ، بُصقتؔ، عِگلونؔ،
JOS 15:40 کبّوُنؔ، لحماسؔ، کِتلیشؔ،
JOS 15:41 گِدیروتؔ، بیت دگونؔ، نعمہؔ اَور مقّیدہؔ؛ یہ سولہ شہر ہیں اَور اُن کے ساتھ دیہات بھی ہیں۔
JOS 15:42 لِبناہؔ، عترؔ، عشٰنؔ،
JOS 15:43 یِفتاحؔ، اَشناہؔ، نضِیبؔ،
JOS 15:44 قعیلہؔ، اَکزِیبؔ اَور مریشہؔ۔ یہ نَو شہر ہیں اَور اُن کے ساتھ دیہات بھی ہیں۔
JOS 15:45 عقرونؔ اَور اُس کے اطراف کے قصبے اَور گاؤں۔
JOS 15:46 عقرونؔ کا مغربی علاقہ، اشدُودؔ کے قرب و جوار کا تمام علاقہ اَور سارے گاؤں۔
JOS 15:47 اشدُودؔ اَور اُس کے اطراف کے قصبے اَور دیہات؛ غزّہؔ، وادی مِصر اَور بحرِ رُوم کے ساحِل تک اَپنے شہروں اَور دیہاتوں سمیت۔
JOS 15:48 کوہستانی مُلک میں: شمیرؔ، یتّیرؔ، شوکوہؔ،
JOS 15:49 دنّاہؔ، قِریت سنّہؔ (یعنی دبیرؔ)،
JOS 15:50 عنابؔ، اسِتِموہؔ، عنیمؔ،
JOS 15:51 گوشینؔ، حولونؔ اَور گِلوہؔ یہ گیارہ شہر ہیں اَور اُن کے ساتھ اُن کے دیہات بھی ہیں۔
JOS 15:52 عربؔ، دُومہؔ، اِشعانؔ،
JOS 15:53 ینیمؔ، بیت تپُّوحؔ، افیقہؔ،
JOS 15:54 حُمطہؔ، قِریت اربعؔ (یعنی حِبرونؔ) اَور صِیعوُرؔ۔ یہ نَو شہر ہیں اَور اُن کے ساتھ اُن کے دیہات بھی ہیں۔
JOS 15:55 معونؔ، کرمِلؔ، زِیفؔ، یُوطّہؔ،
JOS 15:56 یزرعیلؔ، یُقدِعامؔ، زنوحؔ،
JOS 15:57 قینؔ، گِبعہؔ اَور تِمنؔہ۔ یہ دس شہر ہیں اَور اُن کے ساتھ اُن کے دیہات بھی ہیں۔
JOS 15:58 حلحُولؔ، بیت ضُورؔ، گدُورؔ،
JOS 15:59 معراتھؔ، بیت عنوتؔ اَور ایلتِقونؔ۔ یہ چھ شہر ہیں اَور اُن کے ساتھ اُن کے دیہات بھی ہیں۔
JOS 15:60 قِریت بَعل (یعنی قِریت یعریمؔ) اَور ربّہؔ۔ یہ دو شہر ہیں اَور اُن کے ساتھ اُن کے دیہات بھی ہیں۔
JOS 15:61 اَور بیابان میں، بیت عراباہؔ، مِدّینؔ، سکاکہؔ،
JOS 15:62 نِبشانؔ، نمک کا شہر اَور عینؔ گیدیؔ یہ چھ شہر ہیں اَور اُن کے ساتھ اُن کے دیہات بھی ہیں۔
JOS 15:63 بنی یہُوداہؔ یروشلیمؔ میں بسے ہُوئے یبُوسیوں کو نکال نہ سکے۔ اِس لیٔے آج تک یبُوسی یہُوداہؔ کے ساتھ یروشلیمؔ میں رہتے ہیں۔
JOS 16:1 بنی یُوسیفؔ کا حِصّہ یریحوؔ کے پاس کے یردنؔ سے شروع ہُوا یعنی مشرق میں یریحوؔ کے پانی سے شروع ہوکر اُن کی حَد وہاں سے بیابان میں سے ہوتی ہُوئی بیت ایل کے کوہستانی مُلک کو پہُنچی۔
JOS 16:2 پھر بیت ایل (یعنی لُوزؔ) سے نکل کر عطاروتؔ کے ارکیوں کی سرحد کے پاس سے گزرتی ہُوئی،
JOS 16:3 اَور مغرب کی جانِب یفلِیطیوں کے علاقہ سے ہوتی ہُوئی نِچلے بیت حَورُونؔ کے علاقہ تک پہُنچ کر گِزرؔ کو نکل آئی اَور بحرِ رُوم پر ختم ہُوئی۔
JOS 16:4 اِس طرح بنی یُوسیفؔ یعنی منشّہ اَور اِفرائیمؔ نے اَپنی اَپنی مِیراث پائی۔
JOS 16:5 اِفرائیمؔ کا علاقہ اُن کے برادریوں کے مُطابق یہ تھا، اُن کی مِیراث کی حَد مشرق میں عطاروتؔ ادّارؔ سے اُوپر کے بیت حَورُونؔ تک تھی
JOS 16:6 جو بحرِ رُوم تک چلی گئی۔ پھر شمال میں مِکمِتاتؔ سے وہ مشرق کی جانِب تانت شیلوہؔ کو مُڑی اَور اُس کے پاس سے گزرتی ہُوئی مشرق کی جانِب ینوحاہؔ کو گئی۔
JOS 16:7 پھر وہ ینوحاہؔ سے اُتر کر عطاروتؔ اَور نعراہؔ کو پہُنچی اَور یریحوؔ کو چھُوتی ہُوئی یردنؔ تک نکل گئی۔
JOS 16:8 تپُّوحؔ سے وہ حَد مغرب کی جانِب قاناہؔ کی وادی تک گئی اَور بحرِ رُوم پر ختم ہُوئی۔ یہ اِفرائیمؔ کے قبیلہ کی اُن کی برادریوں کے مُطابق مِیراث تھی۔
JOS 16:9 اُن میں وہ تمام شہر اَور اُن کے دیہات بھی شامل ہیں جو بنی منشّہ کی مِیراث میں بنی اِفرائیمؔ کے لیٔے الگ کئے گیٔے تھے۔
JOS 16:10 اُنہُوں نے گِزرؔ میں بسے ہُوئے کنعانیوں کو نہیں نکالا اِس لیٔے وہ کنعانی آج کے دِن تک بنی اِفرائیمؔ کے درمیان بسے ہُوئے ہیں لیکن اُنہیں بیگار میں کام کرنا پڑتا ہے۔
JOS 17:1 یُوسیفؔ کے پہلوٹھے کی حیثیت سے منشّہ کے قبیلہ کا حِصّہ یہ تھا یعنی مکیرؔ کے لیٔے جو منشّہ کا پہلوٹھا تھا۔ مکیرؔ گِلعادیوں کا باپ تھا۔ اُسے گِلعادؔ اَور باشانؔ ملے تھے کیونکہ مکیرؔ نہایت جنگجو آدمی تھا۔
JOS 17:2 چنانچہ یہ حِصّے منشّہ کی برادریوں کے باقی لوگوں کے لیٔے تھے یعنی ابیعزیر، حِلقؔ، اَسری ایل، شِکیمؔ، حِفرؔ اَور شمیدعؔ کے لیٔے۔ یہ اَپنی برادریوں کے مُطابق یُوسیفؔ کے بیٹے منشّہ کی نرینہ اَولاد تھے۔
JOS 17:3 ضلافحادؔ بِن حِفرؔ بِن گِلعادؔ بِن مکیرؔ بِن منشّہ کے بیٹے نہ تھے بَلکہ صِرف بیٹیاں ہی تھیں جِن کے نام محلاہؔ، نُوعاہؔ، حُگلاہؔ، مِلکاہؔ اَور تِرضاؔہ تھے۔
JOS 17:4 وہ الیعزرؔ کاہِنؔ، یہوشُعؔ بِن نُونؔ اَور سرداروں کے پاس جا کر کہنے لگیں، ”یَاہوِہ نے مَوشہ کو حُکم دیا تھا کہ وہ ہمیں ہمارے بھائیوں کے درمیان مِیراث دیں۔“ چنانچہ یہوشُعؔ نے یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق اُن کے باپ کے بھائیوں کے درمیان اُنہیں مِیراث دی۔
JOS 17:5 منشّہ کو یردنؔ کے مشرق کے گِلعادؔ اَور باشانؔ کے علاوہ دس حِصّے زمین اَور مِلی
JOS 17:6 کیونکہ منشّہ کے قبیلہ کی بیٹیوں نے بھی بیٹوں کے ساتھ مِیراث پائی اَور منشّہ کے باقی بیٹوں کو گِلعادؔ کا مُلک مِلا۔
JOS 17:7 منشّہ کے حِصّہ کی حد آشیر سے لے کر شِکیمؔ کے مشرق میں مِکمِتاتؔ تک پھیلی ہُوئی تھی۔ پھر وہ حَد وہاں سے جُنوب کی جانِب عینؔ تپُّوحؔ کے باشِندوں تک پہُنچی۔
JOS 17:8 (تپُّوحؔ کی زمین تو منشّہ کی تھی لیکن تپُّوحؔ شہر جو منشّہ کی سرحد پر تھا اِفرائیمؔ کا حِصّہ قرار دیا گیا)۔
JOS 17:9 پھر وہ حَد جُنوب کی جانِب بڑھتی ہُوئی قاناہؔ کی وادی تک پہُنچی۔ اِفرائیمؔ کے چند شہر منشّہ کے شہروں کے درمیان تھے لیکن منشّہ کی حَد وادی کے شمال کی طرف سے ہوتی ہُوئی بحرِ رُوم پر ختم ہُوئی۔
JOS 17:10 لہٰذا جُنوب میں اِفرائیمؔ کا مُلک تھا اَور شمال میں منشّہ کا۔ منشّہ کے حِصّہ کی حَد بحرِ رُوم تک تھی اَور شمال میں آشیر اَور مشرق میں یِسَّکاؔر سے مِلی ہُوئی تھی۔
JOS 17:11 یِسَّکاؔر اَور آشیر کی حُدوُد میں منشّہ کو بیت شانؔ، اِبلیعامؔ اَور دورؔ، عینؔ دورؔ، تعناکؔ اَور مگِدّوؔ اَور اُن کے باشِندے اُن کے گِردونواح کے قصبوں کے ساتھ ملے۔ (یہ تیسرا شہر نافوت تھا۔)
JOS 17:12 پھر بھی بنی منشّہ اُن شہروں میں بُودوباش اِختیار نہ کر سکے کیونکہ کنعانیوں نے اُس علاقہ میں بسے رہنے کا تہیہ کر لیا تھا۔
JOS 17:13 البتّہ جَب بنی اِسرائیل زورآور ہو گئے تَب اُنہُوں نے کنعانیوں سے بیگار کا کام لینا شروع کر دیا لیکن اُنہیں وہاں سے پُوری طرح نہیں نکالا۔
JOS 17:14 بنی یُوسیفؔ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”ہم تعداد میں بہت زِیادہ ہیں اَور یَاہوِہ نے ہمیں بڑی برکت دی ہے تُم نے ہمیں صرف ایک ہی حِصّہ مِیراث میں کیوں دیا؟“
JOS 17:15 یہوشُعؔ نے جَواب دیا، ”اگر تُم اِس قدر لاتعداد ہو اَور اِفرائیمؔ کا کوہستانی مُلک تمہارے لیٔے کافی نہیں تو جنگل میں چلے جاؤ اَور وہاں پَرزّیوں اَور رفائیمؔ کے مُلک میں درخت کاٹ کر اَپنے لیٔے زمین صَاف کر لو۔“
JOS 17:16 بنی یُوسیفؔ نے جَواب دیا، ”یہ کوہستانی مُلک ہمارے لیٔے کافی نہیں ہے اَور میدانی علاقہ کے تمام کنعانی باشِندے جو لوہے کے رتھوں کے مالک ہیں خواہ وہ بیت شانؔ اَور اُس کے قصبوں کے ہُوں یا یزرعیلؔ کی وادی کے باشِندے ہُوں۔“
JOS 17:17 لیکن یہوشُعؔ نے یُوسیفؔ کے گھرانے یعنی اِفرائیمؔ اَور منشّہ سے کہا، ”تُم لاتعداد اَور بہت طاقتور بھی ہو۔ تُمہیں صِرف ایک ہی حِصّہ نہ ملے گا۔
JOS 17:18 بَلکہ جنگل سے گھِرا ہُوا کوہستانی مُلک بھی تمہارا ہے۔ اُسے کاٹ کر صَاف کر لو اَور اُس کی دُور دراز کی حُدوُد بھی تمہاری ہیں۔ حالانکہ کنعانیوں کے پاس لوہے کے رتھ ہیں اَور وہ طاقتور ہیں تو بھی تُم اُنہیں نکال دوگے۔“
JOS 18:1 بنی اِسرائیل کی ساری جماعت شیلوہؔ میں جمع ہُوئی اَور وہاں خیمہ اِجتماع کھڑا کیا۔ وہ مُلک اُن کے قبضہ میں آ چُکاتھا۔
JOS 18:2 لیکن اِسرائیلیوں کے سات قبیلے اَیسے تھے جنہوں نے اَب تک اَپنی مِیراث نہ پائی تھی۔
JOS 18:3 اِس لیٔے یہوشُعؔ نے بنی اِسرائیل سے کہا: ”جو مُلک یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد کے خُدا نے تُمہیں عنایت کیا ہے اُس پر قبضہ جمانے کے لیٔے تُم کب تک اِنتظار کرتے رہوگے؟
JOS 18:4 اَب ہر قبیلہ میں سے تین تین شخص مُنتخب کرو۔ میں اُنہیں بھیجوں گا تاکہ وہ مُلک کا جائزہ لیں اَور ہر ایک کی مِیراث کے مُطابق اُس کا حال لکھیں اَور تَب وہ میرے پاس لَوٹ آئیں۔
JOS 18:5 تُم اُس مُلک کو سات حِصّوں میں تقسیم کر لو۔ یہُوداہؔ جُنوب میں اَپنے علاقہ میں رہیں اَور یُوسیفؔ کا گھرانا شمال میں اَپنے حِصّہ میں رہے۔
JOS 18:6 جَب تُم مُلک کے ساتوں حِصّوں کا حال لِکھ چُکو تو اُسے یہاں میرے پاس لاؤ اَور مَیں یَاہوِہ اَپنے خُدا کے سامنے تمہارے لیٔے قُرعہ ڈالوں گا۔
JOS 18:7 البتّہ لیویوں کا تمہارے درمیان کویٔی حِصّہ نہیں ہوگا کیونکہ یَاہوِہ کی کہانت اُن کی مِیراث ہے۔ اَور گادؔ، رُوبِنؔ اَور منشّہ کا نِصف قبیلے یردنؔ کے اِس پار مشرق میں اَپنی مِیراث پا ہی چُکے ہیں جو یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے اُنہیں دی تھی۔“
JOS 18:8 جوں ہی وہ لوگ اُس مُلک کا نقشہ تیّار کرنے کے لیٔے جانے لگے یہوشُعؔ نے اُن کو یہ ہدایات دیں، ”جاؤ اَور اُس مُلک کا جائزہ لو اَور اُس کا حال قلم بند کرو۔ پھر میرے پاس لَوٹ آؤ اَور مَیں یہاں شیلوہؔ مَیں یَاہوِہ کے سامنے تمہارے لیٔے قُرعہ ڈالوں گا۔“
JOS 18:9 چنانچہ وہ لوگ چلے گیٔے اَور مُلک میں گھُومتے رہے۔ اُنہُوں نے ساتوں حِصّوں کے ہر ایک شہر کا حال ایک طُومار پر لِکھّا اَور شیلوہؔ کی چھاؤنی میں یہوشُعؔ کے پاس لَوٹ آئے۔
JOS 18:10 تَب یہوشُعؔ نے شیلوہؔ میں یَاہوِہ کے سامنے اُن کے لیٔے قُرعہ ڈالا اَور وہیں اُنہُوں نے وہ مُلک اِسرائیلیوں کو اُن کے آبائی قبیلوں کے مُطابق بانٹ دیا۔
JOS 18:11 اَور بنی بِنیامین کے قبیلہ کا قُرعہ اُن کے برادریوں کے مُطابق نِکلا اَور اُن کے حِصّہ کی حَد یہُوداہؔ اَور یُوسیفؔ کے قبیلوں کے درمیان نکل آئی،
JOS 18:12 شمال کی جانِب اُن کی حَد یردنؔ سے شروع ہُوئی اَور یریحوؔ کے شمالی نشیب میں سے گزرتی ہُوئی مغرب کی جانِب کوہستانی مُلک سے ہوکر بیت آوِنؔ کے بیابان تک پہُنچی۔
JOS 18:13 وہاں سے وہ لُوزؔ (یعنی بیت ایل) کے جُنوبی نشیب میں پہُنچی اَور وہاں سے اُس پہاڑ کے برابر ہوتی ہُوئی جو نِچلے بیت حَورُونؔ کے جُنوب میں ہے عطاروتؔ ادّارؔ کو جا نکلی۔
JOS 18:14 اَور وہ مغرب کی طرف سے مُڑ کر جُنوب کی طرف نیچے آئی اَور بیت حَورُونؔ کے سامنے کے پہاڑ سے ہوتی ہُوئی جُنوب کی طرف یہُودیوں کے ایک شہر قِریت بَعل (یعنی قِریت یعریمؔ) میں نکل آئی۔ یہ مغربی حَد ٹھہری۔
JOS 18:15 جُنوبی حَد قِریت یعریمؔ کی بیرونی حَد سے شروع ہوکر مغرب کی طرف آبِ نفتوحؔ کے چشمہ تک چلی گئی۔
JOS 18:16 وہاں سے وہ حَد اُس پہاڑ کے دامن تک چلی گئی جو بین ہِنَّومؔ کی وادی کے سامنے ہے اَور رفائیمؔ کی وادی کے شمال میں ہے۔ وہاں سے وہ ہِنَّومؔ کی وادی سے اُترتی ہُوئی اَور یبُوسیوں کے شہر کی جُنوبی ڈھلان سے ہوتی ہُوئی عینؔ روگلؔ کو پہُنچی۔
JOS 18:17 پھر وہ شمال کی جانِب مُڑ کر عینؔ شِمِشؔ سے گزرتی ہُوئی گیلِلَوتؔ کو گئی جو ادُمّیمؔ کے درّہ کے مقابل ہے۔ وہاں سے وہ رُوبِنؔ کے بیٹے بوہنؔ کے پتّھر تک اُتر گئی۔
JOS 18:18 وہاں سے وہ بیت عراباہؔ کی شمالی ڈھلان سے ہوتی ہُوئی عراباہؔ میں جا اُتری۔
JOS 18:19 پھر وہ بیت حوگلہؔ کی شمالی ڈھلان سے ہوتی ہُوئی بحرمُردار کی شمالی خلیج میں جا نکلی جو جُنوب میں یردنؔ کے دہانے پر واقع ہے۔ یہ جُنوبی حَد تھی۔
JOS 18:20 اَور اُس کی مشرقی سمت کی حَد یردنؔ تک تھی۔
JOS 18:21 بنی بِنیامین کے قبیلہ کے شہر اُن کی برادریوں کے مُطابق یہ تھے، یریحوؔ، بیت حوگلہؔ، عمقؔ قصیصؔ،
JOS 18:22 بیت عراباہؔ، صمریمؔ، بیت ایل،
JOS 18:23 عوّیمؔ، پارہؔ، عُفرہؔ،
JOS 18:24 کفرعمّونیؔ، عُفنیؔ، اَور گِبعؔ۔ یہ بَارہ شہر تھے جِن میں اُن کے دیہات بھی شامل تھے۔
JOS 18:25 گِبعونؔ، رامہؔ، بیروت،
JOS 18:26 مِصفاہؔ، کفیرہؔ، موضہؔ،
JOS 18:27 رِقمؔ، یِرفیلؔ، تَرالہؔ،
JOS 18:28 ضِلعؔ، اِلفؔ، یبُوسیوں کا شہر (یعنی یروشلیمؔ)، گِبعہؔ اَور قِریت۔ یہ چودہ شہر تھے اَور اُن کے ساتھ اُن کے دیہات بھی تھے۔
JOS 19:1 دُوسرا قُرعہ شمعُونؔ کے قبیلہ کے حق میں اُن کی برادریوں کے مُطابق نِکلا۔ اُن کی مِیراث یہُوداہؔ کے علاقہ کے درمیان تھی۔
JOS 19:2 اَور اُن کی مِیراث میں: بیرشبعؔ، یا شیبا، مولادہؔ،
JOS 19:3 حضار شُعالؔ، بالاہؔ، عضِمؔ،
JOS 19:4 اِلتولدؔ، بتوُلؔ، حُرمہؔ،
JOS 19:5 صِقلاگ، بیت مرکبوتؔ، حضار سُوسہؔ،
JOS 19:6 بیت لِباؤتؔ اَور شاروحنؔ۔ یہ تیرہ شہر تھے جِن میں اُن کے دیہات بھی شامل تھے۔
JOS 19:7 عینؔ، رِمّونؔ، عترؔ اَور عشٰنؔ؛ یہ چار شہر تھے جِن میں اُن کے دیہات بھی شامل تھے۔
JOS 19:8 اَور بعلاتؔ بیرؔ تک (یعنی رامات کے نِیگیوؔ یا جُنوب کے رامہؔ تک)
JOS 19:9 بنی شمعُونؔ کی مِیراث یہُوداہؔ کے حِصّہ سے لی گئی کیونکہ یہُوداہؔ کا حِصّہ اُن کی ضروُرت سے زِیادہ تھا۔ اِس لیٔے بنی شمعُونؔ نے اَپنی مِیراث یہُوداہؔ کے علاقہ کے درمیان پائی۔
JOS 19:10 تیسرا قُرعہ زبُولُون کے قبیلہ کے حق میں اُن کی برادریوں کے مُطابق نِکلا، اُن کی مِیراث کی حَد سارِیدؔ تک تھی
JOS 19:11 اَور مغرب کی جانِب جاتی ہُوئی وہ مرعلہؔ تک پہُنچی اَور دبّاشتؔ کو چھُوتی ہُوئی اُس وادی تک پہُنچی جو یُقنِعامؔ کے آس پاس ہے۔
JOS 19:12 سارِیدؔ سے وہ مشرق کو مُڑ کر کِسلوت تبورؔ کی سرحد تک گئی اَور دبیرتؔ ہوتی ہُوئی یافیعؔ کو جا نکلی۔
JOS 19:13 پھر وہ مشرق کی طرف بڑھتی ہُوئی گاتؔھ حِفرؔ اَور عِتّہ قاضِینؔ تک جا پہُنچی اَور رِمّونؔ میں نکل آئی اَور نِیعہؔ کی طرف مُڑی۔
JOS 19:14 وہاں سے وہ حَد شمال کو مُڑ کر حنّاتونؔ کو گئی اَور یِفتاحؔ ایل کی وادی میں ختم ہُوئی۔
JOS 19:15 قطّاتؔ، نحلالؔ، شِمرون، اِدالہؔ اَور بیت لحمؔ بھی شامل ہیں؛ زبُولُون کی مِیراث کے بَارہ شہروں میں یہ شہریں اَور اُن کے دیہات بھی شامل تھے۔
JOS 19:16 یہ شہر اَور اُن کے دیہات بنی زبُولُون کی اُن کی برادریوں کے مُطابق مِیراث بنے۔
JOS 19:17 چوتھا قُرعہ یِسَّکاؔر کے قبیلہ کے حق میں اُن کی برادریوں کے مُطابق نِکلا۔
JOS 19:18 اُن کے حِصّہ میں، یزرعیلؔ، کِسُولوتؔ، شُونیمؔ،
JOS 19:19 حفارئیمؔ، شِیُونؔ، اناخراتؔ،
JOS 19:20 ربّیتؔ، قِشیونؔ، ابِضؔ،
JOS 19:21 ریمتؔ، عینؔ گنّیمؔ، عینؔ حدّہؔ اَور بیت فصیصؔ شامل تھے۔
JOS 19:22 اِن کی حَد تبورؔ، شحصیماہؔ اَور بیت شِمِشؔ کو چھُوتی ہُوئی یردنؔ پر ختم ہُوئی۔ یہ سولہ شہر تھے اَور اُن کے ساتھ اُن کے دیہات بھی تھے۔
JOS 19:23 یہ شہر اَور اُن کے دیہات بنی یِسَّکاؔر کی برادریوں کے مُطابق اُن کی مِیراث تھے۔
JOS 19:24 پانچواں قُرعہ آشیر کے قبیلہ کے حق میں اُن کی برادریوں کے مُطابق نِکلا۔
JOS 19:25 اُن کے حِصّہ میں، حِلقتؔ، حلیؔ، بطنؔ، اکشافؔ،
JOS 19:26 المّلکؔ، عَمادؔ اَور مِشالؔ شامل تھے۔ اُن کی حَد مغرب کی جانِب کرمِلؔ اَور شیحُورؔ لِبنات تک پہُنچی۔
JOS 19:27 پھر وہ مشرق کی جانِب مُڑ کر بیت دگونؔ کو گئی اَور زبُولُون اَور یِفتاحؔ ایل کی وادی کو چھُوتی ہُوئی اَپنی بائیں طرف کابُلؔ سے گزرتی ہُوئی شمال کی جانِب بیت عمقؔ اَور نَعِیل ایل تک پہُنچی۔
JOS 19:28 پھر عبدونؔ، رحوبؔ، حمّونؔ اَور قاناہؔ بَلکہ بڑے صیدونؔ تک پہُنچی۔
JOS 19:29 پھر وہ حَد رامہؔ کی طرف مُڑ کر فصیلدار شہر صُورؔ تک چلی گئی۔ پھر حوساہؔ کی طرف مُڑ کر بحرِ رُوم تک کے علاقہ تک پہُنچی جہاں اَکزِیبؔ،
JOS 19:30 عُمّہؔ، افیقؔ اَور رحوبؔ کا علاقہ ہے۔ اِس طرح بائیس شہر اَور اُن کے دیہات اُن کے حِصّے میں آئے۔
JOS 19:31 یہ شہر اَور اُن کے دیہات بنی آشیر کی اُن کی برادریوں کے مُطابق مِیراث تھی۔
JOS 19:32 چھٹا قُرعہ بنی نفتالی کے حق میں اُن کی برادریوں کے مُطابق نِکلا،
JOS 19:33 اُن کی سرحد حلفؔ اَور ضعنِنّیمؔ کے بڑے بلُوط سے ادامی نِقبؔ اَور یبنی ایل ہوتی ہُوئی لقّومؔ تک گئی اَور یردنؔ پر ختم ہُوئی۔
JOS 19:34 اَور وہ حَد ازنُوت تبورؔ سے ہوتی ہُوئی مغرب کی طرف گئی اَور حُقّوقؔ میں آ نکلی۔ وہ جُنوب میں زبُولُون تک مغرب میں آشیر تک اَور مشرق میں یردنؔ یا یہُوداہؔ تک پہُنچی۔
JOS 19:35 اِن کے فصیلدار شہر یہ تھے، صِدّیمؔ، ضِیرؔ، حمّاتؔ، رقّتؔ، کِنّریتؔ،
JOS 19:36 ادامہؔ، رامہؔ، حَصورؔ،
JOS 19:37 قِدِشؔ، ادرعیؔ، عینؔ حَصورؔ،
JOS 19:38 یِرونؔ، مگدال ایل، حُرِیمؔ، بیت عناتؔ اَور بیت شِمِشؔ۔ اَیسے اُنتیس شہر اَور اُن کے دیہات تھے۔
JOS 19:39 یہ شہر اَور اُن کے دیہات بنی نفتالی کی اُن کی برادریوں کے مُطابق مِیراث تھی۔
JOS 19:40 ساتواں قُرعہ بنی دانؔ کے قبیلہ کے حق میں اُن کی برادریوں کے مُطابق نِکلا،
JOS 19:41 اُن کی مِیراث کے حِصّہ میں، ضورعاہؔ، اِستالؔ، عیرشِمِش،
JOS 19:42 شعلبّینؔ، ایّالونؔ، اِتلاہؔ،
JOS 19:43 ایلون، تِمنؔہ، عقرونؔ،
JOS 19:44 اِلتِقیہؔ، گِبّتون، بعلاتؔ،
JOS 19:45 یہُود، بنی برقؔ، گاتؔھ رِمّونؔ
JOS 19:46 مے یرقُونؔ اَور رَقّونؔ اَور یافؔا کے سامنے کے علاقہ شامل تھے۔
JOS 19:47 (لیکن بنی دانؔ کو اَپنے علاقہ کو قبضہ میں رکھنے میں دِقّت پیش آئی۔ چنانچہ اُنہُوں نے وہاں سے کوچ کرکے لِشمؔ پر حملہ کرکے اُسے بزورِ شمشیر قبضہ میں کر لیا اَور وہاں سکونت اِختیار کرلی۔ وہ لِشمؔ میں آباد ہو گئے اَور اَپنے باپ کے نام پر اُس کا نام دانؔ رکھا)۔
JOS 19:48 یہ شہر اَور اُن کے دیہات بنی دانؔ کے قبیلہ کی برادریوں کے مُطابق مِیراث بنے۔
JOS 19:49 جَب وہ مُلک کو مُقرّرہ حِصّوں کے مُطابق بانٹ کر فارغ ہو چُکے تَب بنی اِسرائیل نے یہوشُعؔ بِن نُونؔ کو اَپنے درمیان مِیراث دی۔
JOS 19:50 اُنہُوں نے یہوشُعؔ کے اَپنے مطالبہ کے مُطابق اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں تِمنتھ سیراؔہ شہر اُنہیں دے دیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے حُکم دیا تھا اَور وہ اُس شہر کو تعمیر کرکے اُس میں بس گئے۔
JOS 19:51 یہ وہ حِصّے ہیں جنہیں الیعزرؔ کاہِنؔ یہوشُعؔ بِن نُونؔ اَور بنی اِسرائیل کے قبیلوں کے آبائی برادریوں کے سرداروں نے شیلوہؔ میں خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر یَاہوِہ کے حُضُور قُرعہ اَندازی سے تقسیم کئے تھے۔ اِس طرح اُنہُوں نے مُلک کی تقسیم کے کام سے فراغت پائی۔
JOS 20:1 تَب یَاہوِہ نے یہوشُعؔ سے کہا،
JOS 20:2 ”بنی اِسرائیل سے کہہ دو کہ وہ اُن ہدایات کے مُطابق جو مَیں نے مَوشہ کی مَعرفت دی ہیں پناہ کے شہر مُقرّر کر دیں۔
JOS 20:3 تاکہ اگر کویٔی شخص اِتّفاقاً یا غَیر اِرادتاً کسی کو مار ڈالے تو وہ وہاں بھاگ جائے تاکہ خُون کا اِنتقام لینے والے سے پناہ پا سکے۔
JOS 20:4 جَب وہ اُن میں سے کسی شہر کو بھاگ جائے تو وہ شہر کے پھاٹک پر کھڑا ہوکر اُس شہر کے بُزرگوں کو اَپنی سرگزشت سُنائے۔ تَب وہ اُسے شہر میں داخل ہونے دیں اَور اُسے اَپنے ساتھ لے جا کر رہنے کے لیٔے کویٔی جگہ دیں۔
JOS 20:5 اگر خُون کا اِنتقام لینے والا اُس کے تعاقب میں ہو تو وہ اُس مُلزم کو اُس کے حوالہ نہ کریں کیونکہ اُس نے اَپنے پڑوسی کو غَیر اِرادتاً مارا تھا اَور اُس کی اُس سے کویٔی دیرینہ عداوت نہ تھی۔
JOS 20:6 اَور جَب تک وہ فیصلہ کے لیٔے جماعت کے سامنے کھڑا نہ ہو اَور جَب تک وہ اعلیٰ کاہِن جو اُن دِنوں برسر خدمت ہو مَر نہ جائے تَب تک وہ مُلزم اُسی شہر میں رہے۔ اُس کے بعد وہ اُس شہر میں اَپنے گھر واپس چلا جائے جہاں سے وہ بھاگ کر آیاتھا۔“
JOS 20:7 چنانچہ اُنہُوں نے نفتالی کے کوہستانی مُلک میں گلِیل کے قِدِشؔ کو اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں شِکیمؔ کو اَور یہُوداہؔ کے کوہستانی مُلک میں قِریت اربعؔ یعنی حِبرونؔ کو الگ کیا۔
JOS 20:8 اَور یریحوؔ کے پاس یردنؔ کے مشرق کی جانِب رُوبِنؔ کے قبیلہ کے بیابانی علاقہ کی ہموار سطح پر بسے ہُوئے بضرؔ کو اَور گادؔ کے قبیلہ کے راموتؔ کو جو گِلعادؔ میں ہے اَور منشّہ کے قبیلہ کے گولانؔ کو جو باشانؔ میں ہے مُقرّر کیا۔
JOS 20:9 کویٔی اِسرائیلی یا اُن کے درمیان بسا ہُوا کویٔی پردیسی جو کسی کو اِتّفاقاً مار ڈالے بھاگ کر اُن مُقرّر کَردہ شہروں کو جا سَکتا تھا تاکہ وہ اِنصاف کے لیٔے جماعت کے سامنے پیش ہونے تک خُون کا بدلہ لینے والے کے ہاتھوں ہلاک نہیں ہو سکتا۔
JOS 21:1 تَب لیویوں کے آبائی گھرانوں کے سردار الیعزرؔ کاہِنؔ، یہوشُعؔ بِن نُونؔ اَور بنی اِسرائیل کے قبیلوں کے دُوسرے آبائی گھرانوں کے سرداروں کے پاس آئے
JOS 21:2 اَور مُلکِ کنعانؔ کے شیلوہؔ شہر میں اُن سے کہنے لگے، یَاہوِہ نے مَوشہ کی مَعرفت یہ حُکم دیا تھا، ”تُم ہمیں رہنے کے لیٔے شہر اَور ہمارے مویشیوں کے لیٔے چراگاہیں دو۔“
JOS 21:3 چنانچہ بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق اَپنی اَپنی مِیراث میں سے حسب ذیل شہر اَور چراگاہیں لیویوں کو دیں،
JOS 21:4 پہلا قُرعہ قُہاتیوں کی برادریوں کے حق میں نِکلا جو لیوی تھے اَور اَہرونؔ کاہِنؔ کی نَسل سے تھے۔ اُنہیں یہُوداہؔ شمعُونؔ اَور بِنیامین کے قبیلوں سے تیرہ شہر دئیے گیٔے۔
JOS 21:5 اَور باقی بنی قُہات کو اِفرائیمؔ دانؔ اَور منشّہ کے نِصف قبیلہ کی برادریوں سے دس شہر دئیے گیٔے۔
JOS 21:6 بنی گیرشون کو یِسَّکاؔر آشیر نفتالی اَور باشانؔ میں بسے ہُوئے منشّہ کے نِصف قبیلہ کی برادریوں سے تیرہ شہر دئیے گیٔے۔
JOS 21:7 بنی مِراریؔ کو رُوبِنؔ گادؔ اَور زبُولُون کے قبیلوں سے اُن کی برادریوں کے مُطابق بَارہ شہر ملے۔
JOS 21:8 چنانچہ بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کے مَوشہ کی مَعرفت دئیے ہُوئے حُکم کے مُطابق لیویوں کو یہ شہر اَور اُن کی چراگاہیں دے دیں۔
JOS 21:9 یہُوداہؔ اَور شمعُونؔ کے قبیلوں سے اُنہُوں نے حسب ذیل شہر عنایت کئے جِن کے نام درج کئے گیٔے ہیں،
JOS 21:10 (یہ شہر اَہرونؔ کی نَسل کے اُن لوگوں کے لیٔے تھے جو لیویوں کے قُہاتی برادری کے تھے کیونکہ پہلا قُرعہ اُن کے نام کا تھا)۔
JOS 21:11 اُنہُوں نے یہُوداہؔ کے کوہستانی مُلک میں قِریت اربعؔ (یعنی حِبرونؔ) اُس کے گِردونواح کی چراگاہوں سمیت اُنہیں دیا۔ (اربعؔ عناق کا آباؤاَجداد تھا)
JOS 21:12 لیکن اُس شہر کے اطراف کے کھیت اَور دیہات اُنہُوں نے یفُنّہؔ کے بیٹے کالبؔ کو اُس کی مِیراث کے طور پر دئیے۔
JOS 21:13 چنانچہ اُنہُوں نے اَہرونؔ کاہِنؔ کی نَسل کو حِبرونؔ (جو قتل کے مُلزم کی پناہ کا شہر تھا) لِبناہؔ،
JOS 21:14 یتّیرؔ، اِشتموُعؔ،
JOS 21:15 حولونؔ، دبیرؔ،
JOS 21:16 عینؔ، یُوطّہؔ اَور بیت شِمِشؔ یہ نَو شہر اُن کی چراگاہوں سمیت اُن دو قبیلوں کی طرف سے دئیے۔
JOS 21:17 اَور بِنیامین کے قبیلہ سے گِبعونؔ، گِبعؔ
JOS 21:18 عناتوت اَور علمونؔ یہ چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دئیے۔
JOS 21:19 اِس طرح اَہرونؔ کی نَسل کے کاہِنوں کو کل تیرہ شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دئیے گیٔے۔
JOS 21:20 لیویوں کے بقیّہ قُہاتی برادریوں کو اِفرائیمؔ کے قبیلہ کے شہر دئیے گیٔے۔
JOS 21:21 اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں: اُنہیں شِکیمؔ (جو قتل کے مُلزم کے لیٔے پناہ کا شہر تھا) اَور گِزرؔ،
JOS 21:22 قِبِضَیمؔ اَور بیت حَورُونؔ، یہ چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دئیے گیٔے۔
JOS 21:23 اَور دانؔ کے قبیلہ سے بھی اُنہیں اِلتِقیہؔ، گِبّتون،
JOS 21:24 ایّالونؔ اَور گاتؔھ رِمّونؔ، یہ چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت ملے۔
JOS 21:25 منشّہ کے نِصف قبیلہ سے اُنہیں تعناکؔ اَور گاتؔھ رِمّونؔ، یہ دو شہر اُن کی چراگاہوں سمیت ملے۔
JOS 21:26 یہ سبھی دس شہر اُن کی چراگاہوں سمیت بنی قُہات کی بقیّہ برادریوں کو دئیے گیٔے۔
JOS 21:27 بنی گیرشون کی لیوی برادریوں کو، منشّہ کے نِصف قبیلہ سے باشانؔ میں گولانؔ (جو قتل کے مُلزم کے لیٔے پناہ کا شہر تھا) اَور بِعستِراہؔ، یہ دو شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دئیے گیٔے؛
JOS 21:28 یِسَّکاؔر کے قبیلہ سے قِشیونؔ، دبیرتؔ،
JOS 21:29 یرموتؔ اَور عینؔ گنّیمؔ، یہ چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دئیے گیٔے۔
JOS 21:30 آشیر کے قبیلہ سے مِشالؔ، عبدونؔ،
JOS 21:31 حِلقتؔ اَور رحوبؔ یہ چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دئیے گیٔے۔
JOS 21:32 نفتالی کے قبیلہ سے گلِیل میں کا قِدِشؔ (جو قتل کے مُلزم کے لیٔے پناہ کا شہر تھا)، حمّوتؔ دُور اَور قرتانؔ یہ تین شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دئیے گیٔے۔
JOS 21:33 لہٰذا گیرشونیوں کی برادریوں کے کل شہر اُن کی چراگاہوں سمیت تیرہ تھے۔
JOS 21:34 بنی مِراریؔ کی برادریوں کو (یعنی بقیّہ لیویوں کو)، زبُولُون کے قبیلہ سے، یُقنِعامؔ، قرتاہؔ،
JOS 21:35 دِمنہؔ اَور نحلالؔ یہ چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دئیے گیٔے۔
JOS 21:36 رُوبِنؔ کے قبیلہ سے بضرؔ، یہصہؔ،
JOS 21:37 قدیموتؔ اَور مِفعتؔ یہ چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دئیے گیٔے۔
JOS 21:38 گادؔ کے قبیلہ سے گِلعادؔ میں راموتؔ (جو قتل کے مُلزم کے لیٔے پناہ کا شہر تھا)، محنایمؔ،
JOS 21:39 حِشبونؔ اَور یعزیرؔ یہ کُل چار شہر اُن کی چراگاہوں سمیت دئیے گیٔے۔
JOS 21:40 چنانچہ مِراریؔ کی برادریوں کو جو لیویوں کے بچے ہُوئے لوگ تھے کل بَارہ شہر قُرعہ کے ذریعہ دئیے گیٔے۔
JOS 21:41 بنی اِسرائیل کی اَپنی مِلکیّت کے درمیان لیویوں کے کل اڑتالیس شہر تھے جو اَپنی اَپنی چراگاہوں سمیت تھے۔
JOS 21:42 اِن میں سے ہر ایک شہر کے گِردونواح میں چراگاہیں تھیں۔ یہ سَب شہر اَیسے ہی تھے۔
JOS 21:43 چنانچہ یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کو وہ سارا مُلک دے دیا جسے اُس نے اُن کے آباؤاَجداد کو دینے کی قَسم کھائی تھی اَور وہ اُس پر قابض ہوکر اُس میں بس گیٔے۔
JOS 21:44 اَور یَاہوِہ نے اُنہیں اُس قَسم کے مُطابق جو اُنہُوں نے اُن کے آباؤاَجداد سے کھائی تھی چاروں طرف سے آرام دیا اَور اُن کے دُشمنوں میں سے کویٔی بھی اُن کے سامنے ٹِک نہ سَکا؛ یَاہوِہ نے اُن کے سَب دُشمنوں کو اُن کے حوالہ کر دیا۔
JOS 21:45 جتنے اَچھّے وعدے یَاہوِہ نے اِسرائیل کے گھرانے سے کئے تھے اُن میں سے ایک بھی نہ چھوٹا۔ ہر وعدہ پُورا ہُوا۔
JOS 22:1 تَب یہوشُعؔ نے بنی رُوبِنؔ، بنی گادؔ اَور منشّہ کے نِصف قبیلہ کو بُلایا
JOS 22:2 اَور اُن سے کہا، ”یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے تُمہیں جو حُکم دئیے تھے اُن سَب پر تُم نے عَمل کیا اَور میرے ہر حُکم کی بھی تُم نے تعمیل کی۔
JOS 22:3 اِس طویل عرصہ میں آج کے دِن تک تُم نے اَپنے بھائیوں کو ترک نہیں کیا بَلکہ جو خدمت تمہارے یَاہوِہ نے تمہارے ذمّہ کی اُسے پُورا کیا۔
JOS 22:4 اَب جَب کہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تمہارے بھائیوں کو اَپنے وعدہ کے مُطابق آرام بخشا ہے تُم اُس مُلک میں جو یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے یردنؔ کے اُس پار تُمہیں دیا ہے اَپنے اَپنے گھروں کو لَوٹ جاؤ۔
JOS 22:5 لیکن خیال رہے کہ تُم اُن اَحکام اَور آئین پر ہمیشہ عَمل کرتے رہنا جو یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے تُمہیں دی ہے۔ اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا سے مَحَبّت رکھنا اَور اُن کی سَب راہوں پر چلنا اَور اُن کے حُکموں کو ماَننا، اُن سے لپٹے رہنا اَور اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان سے اُن کی خدمت کرنا۔“
JOS 22:6 تَب یہوشُعؔ نے اُنہیں برکت دی اَور اُنہیں رخصت کیا اَور وہ اَپنے گھروں کو چلے گیٔے۔
JOS 22:7 (منشّہ کے نِصف قبیلہ کو مَوشہ نے باشانؔ میں مُلک عطا کیا تھا اَور دُوسرے نِصف قبیلہ کو یہوشُعؔ نے یردنؔ کے مغرب میں اُن کے بھائیوں کے ساتھ مُلک عطا کیا تھا۔) جَب یہوشُعؔ نے اُنہیں رخصت کیا تو اُنہیں یہ کہہ کر برکت دی،
JOS 22:8 یہوشُعؔ نے کہا، ”تُم بڑی دولت یعنی بڑے بڑے ریوڑ، چاندی، سونا، کانسے اَور لوہا اَور بے شُمار لباسوں کو لے کر اَپنے گھروں کو لَوٹو اَور اَپنے دُشمنوں سے حاصل کئے ہُوئے مالِ غنیمت کو اَپنے بھائیوں کے ساتھ بانٹ لو۔“
JOS 22:9 تَب بنی رُوبِنؔ، بنی گادؔ اَور منشّہ کے نِصف قبیلہ نے مُلکِ کنعانؔ کے شیلوہؔ کے مقام پر بنی اِسرائیل سے رخصت لی تاکہ وہ خُود اَپنے مُلک گِلعادؔ کو لَوٹیں جسے اُنہُوں نے مَوشہ کی مَعرفت دئیے ہُوئے یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق حاصل کیا تھا۔
JOS 22:10 جَب وہ یردنؔ کے نزدیک کنعانؔ کے مُلک میں گیلِلَوتؔ کے مقام پر آئے تو بنی رُوبِنؔ، بنی گادؔ اَور منشّہ کے نِصف قبیلہ نے وہاں یردنؔ کے کنارے پر ایک عالیشان مذبح بنایا۔
JOS 22:11 جَب بنی اِسرائیل نے یہ سُنا کہ اُنہُوں نے بنی رُوبِنؔ، بنی گادؔ اَور منشّہ کے نِصف قبیلہ نے کنعانؔ کی سرحد پر یردنؔ کے نزدیک گیلِلَوتؔ کے مقام پر اِسرائیلیوں کی حُدوُد میں مذبح بنایا ہے،
JOS 22:12 تو بنی اِسرائیل کی ساری جماعت شیلوہؔ میں جمع ہُوئی تاکہ اُن پر چڑھائی کریں۔
JOS 22:13 چنانچہ بنی اِسرائیل نے الیعزرؔ کاہِنؔ کے بیٹے فِنحاسؔ کو گِلعادؔ کے مُلک میں بنی رُوبِنؔ، بنی گادؔ اَور منشّہ کے نِصف قبیلہ کے پاس بھیجا۔
JOS 22:14 اَور بنی اِسرائیل کے ہر قبیلہ کا ایک ایک نُمائندہ لے کر، اِس حِساب سے دس اُمرا اُس کے ساتھ روانہ کئے جو بنی اِسرائیل کے آبائی برادریوں کے سردار تھے۔
JOS 22:15 جَب وہ گِلعادؔ میں بنی رُوبِنؔ، بنی گادؔ اَور منشّہ کے نِصف قبیلہ کے پاس پہُنچے تو اُنہُوں نے اُن سے کہا:
JOS 22:16 ”یَاہوِہ کی ساری جماعت یہ کہتی ہے کہ تُم نے اِسرائیل کے خُدا کے ساتھ اِس طرح کی دغابازی کیوں کی؟ تُم یَاہوِہ کی پیروی سے کیسے برگشتہ ہو گئے کہ اَب تُم نے اَپنے لیٔے ایک مذبح بنا لیا؟
JOS 22:17 کیا پعورؔ کا گُناہ ہمارے لیٔے کافی نہ تھا؟ آج کے دِن تک ہم نے اَپنے آپ کو اِس گُناہ سے پاک نہیں کیا حالانکہ یَاہوِہ کی قوم میں وَبا بھی آئی!
JOS 22:18 اَور اَب بھی تُم یَاہوِہ کی پیروی سے برگشتہ ہو رہے ہو؟ ” ’اگر آج تُم یَاہوِہ سے سرکشی کرتے ہو تو کل وہ اِسرائیل کی ساری قوم سے خفا ہو جائیں گے۔
JOS 22:19 اگر تمہارا مُلک جو تمہاری مِیراث ہے ناپاک ہو تو اُس پار یَاہوِہ کے مُلک میں آ جاؤ جہاں یَاہوِہ کا مَسکن ہے اَور ہمارے ساتھ مِیراث میں حِصّہ دار بَن جاؤ۔ لیکن یَاہوِہ ہمارے خُدا کے مذبح کے علاوہ اَپنے لیٔے کویٔی اَور مذبح بنا کر نہ تو یَاہوِہ سے بغاوت کرو اَور نہ ہم سے۔
JOS 22:20 جَب زیراحؔ کے بیٹے عکنؔ نے مخصُوص اَشیا میں سے خیانت کی تو کیا اِسرائیل کی ساری قوم پر خُدا کا غضب نازل نہ ہُوا؟ عکنؔ اکیلا ہی اَپنی بدکاری کے باعث ہلاک نہیں ہُوا۔‘ “
JOS 22:21 تَب بنی رُوبِنؔ، بنی گادؔ اَور منشّہ کے نِصف قبیلہ نے اِسرائیلی برادریوں کے سرداروں سے کہا،
JOS 22:22 ”قادر خُدا یَاہوِہ‏، قادر خُدا یَاہوِہ‏، وہ سَب کچھ جانتے ہیں اَور اِسرائیلی جان لیں، اگر یہ یَاہوِہ کے خِلاف بغاوت یا نافرمانی کا نتیجہ ہو تو ہمیں آج کے دِن زندہ نہ چھوڑنا۔
JOS 22:23 اگر ہم نے یَاہوِہ سے برگشتہ ہونے کے لیٔے اَور اُس پر سوختنی نذریں اَور اناج کی نذریں یا قُربانیاں سلامتی کی نذر کے ذبیحے چڑھانے کے لیٔے یہ مذبح اَپنے لیٔے بنایا ہے تو یَاہوِہ ہی اِس کا حِساب لیں۔
JOS 22:24 ”نہیں! بَلکہ ہم نے اِس خوف سے یہ کیا کہ کسی دِن تمہاری اَولاد ہماری اَولاد سے یہ نہ کہے، ’تُمہیں یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا سے کیا سروکار ہے؟
JOS 22:25 اَے بنی رُوبِنؔ اَور بنی گادؔ یَاہوِہ نے یردنؔ کو تمہارے اَور ہمارے درمیان حَد مُقرّر کیا ہے! لہٰذا یَاہوِہ میں تمہارا کویٔی حِصّہ نہیں ہے۔‘ اِس طرح تمہاری اَولاد ہماری اَولاد سے یَاہوِہ کے خوف کو دُور کر دے گی۔
JOS 22:26 ”اِس لیٔے ہم نے کہا، ’آؤ اَپنے لیٔے ایک مذبح بنائیں جو سوختنی نذروں یا ذبیحوں کے لیٔے نہ ہو۔‘
JOS 22:27 بَلکہ یہ ہمارے اَور تمہارے اَور آنے والی نَسلوں کے درمیان گواہ ٹھہرے کہ ہم اَپنی سوختنی نذروں اَور سلامتی کی نذر کے ذبیحوں سے یَاہوِہ کی عبادت اُن کے پاک مَقدِس میں کریں۔ تَب آئندہ کو تمہاری اَولاد ہماری اَولاد سے یہ نہ کہہ سکے گی، ’تمہارا یَاہوِہ میں تمہارا کویٔی لینا دینا نہیں۔‘
JOS 22:28 ”اَور ہم نے کہا، ’اگر وہ کبھی ہم سے یا ہماری اَولاد سے یُوں کہیں تو ہم جَواب دیں گے کہ یَاہوِہ کے مذبح کے مُشابہ بنے ہُوئے اِس مذبح کو دیکھو جسے ہمارے آباؤاَجداد نے اِس لیٔے بنایا کہ وہ سوختنی نذروں اَور ذبیحوں کے لیٔے نہ ہو بَلکہ ہمارے اَور تمہارے درمیان گواہ ٹھہرے۔‘
JOS 22:29 ”یَاہوِہ نہ کریں کہ ہم یَاہوِہ سے بغاوت کریں اَور آج یَاہوِہ ہمارے خُدا کے مذبح کے علاوہ جو اُن کے خیمہ کے سامنے ہے سوختنی نذر، اناج کی نذر کی قُربانیوں اَور ذبیحوں کے لیٔے کویٔی اَور مذبح بنا کر اُس سے برگشتہ ہو جایٔیں۔“
JOS 22:30 جَب فِنحاسؔ کاہِنؔ اَور قوم کے اُمرا نے جو اِسرائیلی برادریوں کے سربراہ تھے یہ سَب نے سُنا جو بنی رُوبِنؔ، بنی گادؔ اَور بنی منشّہ نے کہاتھا تو وہ خُوش ہو گئے
JOS 22:31 اَور الیعزرؔ کاہِنؔ کے بیٹے فِنحاسؔ نے بنی رُوبِنؔ، بنی گادؔ اَور بنی منشّہ سے کہا، ”آج ہم جان گیٔے کہ یَاہوِہ ہمارے درمیان ہیں کیونکہ تُم نے اِس مُعاملہ میں یَاہوِہ سے بےوفائی نہیں کی اَور اَب تُم نے بنی اِسرائیل کو یَاہوِہ کے ہاتھ سے چھُڑا لیا ہے۔“
JOS 22:32 تَب الیعزرؔ کاہِنؔ کا بیٹا فِنحاسؔ اَور اُمرا گِلعادؔ میں بنی رُوبِنؔ اَور بنی گادؔ سے مِل کر کنعانؔ میں لَوٹ آئے اَور بنی اِسرائیل کو یہ ماجرا کہہ سُنایا۔
JOS 22:33 تب بنی اِسرائیل یہ سُن کر خُوش ہُوئے اَور اُنہُوں نے خُدا کی حَمد کی اَور پھر کبھی اُن کے خِلاف جنگ کرنے اَور اُس مُلک کو تباہ کرنے کا نام تک نہ لیا جہاں بنی رُوبِنؔ اَور بنی گادؔ رہتے تھے۔
JOS 22:34 اَور بنی رُوبِنؔ اَور بنی گادؔ نے اُس مذبح کا نام عِد رکھا، یہ ہمارے درمیان گواہ ہے کہ یَاہوِہ ہی ہمارے خُدا ہیں۔
JOS 23:1 اُس کے بہت دِنوں بعد جَب یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کو اُن کے اِردگرد کے سَب دُشمنوں سے راحت بخشی تو یہوشُعؔ نے جو اَب تک ضعیف اَور عمر رسیدہ ہو چُکے تھے
JOS 23:2 تب یہوشُعؔ نے سَب اِسرائیلیوں کو اُن کے بُزرگوں اُمرا قاضیوں اَور اہلکاروں سمیت بُلایا اَور اُن سے کہا: ”میں ضعیف ہو چُکا ہُوں۔
JOS 23:3 تُم نے سَب کچھ دیکھ لیا ہے کہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تمہاری خاطِر اُن قوموں کے ساتھ کیا کیا۔ وہ یَاہوِہ تمہارے خُدا ہی تھے جو تمہاری خاطِر لڑے۔
JOS 23:4 یاد کرو کہ کس طرح مَیں نے اُن بچی ہُوئی قوموں کا اَور یردنؔ سے لے کر مغرب میں بڑے سمُندر (بحرِ رُوم) تک کا سارا مُلک جسے مَیں نے فتح کیا قُرعہ اَندازی سے تمہارے قبیلوں کے درمیان بطور مِیراث تقسیم کیا۔
JOS 23:5 یَاہوِہ تمہارے خُدا خُود اُنہیں تمہارے راستے سے ہٹا دیں گے۔ وہ اُنہیں تمہارے سامنے سے دُور کر دیں گے اَور تُم اُن کے مُلک پر قابض ہو جاؤگے جَیسا کہ یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُم سے وعدہ کیا ہے۔
JOS 23:6 ”لہٰذا ہمّت سے کام لو اَورجو کچھ مَوشہ کی کِتاب تورہ میں لِکھّا ہے اُس سے داہنے بائیں مُڑے بغیر اُس پر عَمل کرتے رہو۔
JOS 23:7 اُن قوموں کے ساتھ جو تمہارے درمیان باقی بچی ہیں کسی قِسم کا ربط و ضَبط نہ رکھنا نہ اُن کے معبُودوں کے نام لینا اَور نہ ہی اُن کی قَسم کھانا۔ تُم نہ اُن کی عبادت کرنا نہ اُن کو سَجدہ کرنا۔
JOS 23:8 بَلکہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا سے لپٹے رہنا جَیسا تُم نے آج تک کیا ہے۔
JOS 23:9 ”یَاہوِہ نے تمہارے سامنے سے بڑی بڑی اَور نہایت زورآور قوموں کو باہر نکال دیا ہے اَور آج کے دِن تک کویٔی شخص تمہارے خِلاف کھڑا نہ رہ سَکا۔
JOS 23:10 تُم میں سے ایک آدمی ہزار آدمیوں کو پسپا کر دیتاہے کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے وعدہ کے مُطابق تمہاری خاطِر لڑتے ہیں۔
JOS 23:11 لہٰذا خُوب خبردار رہو اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کی مَحَبّت میں قائِم رہو۔
JOS 23:12 ”لیکن اگر تُم برگشتہ ہو جاؤ اَور اِن قوموں کے بچے ہُوئے لوگوں سے جو تمہارے درمیان رہ گئی ہیں تعلّقات کر لو اَور اُن کے ساتھ شادی بیاہ کر لو یا اُن سے راہ و رسم بڑھا لو
JOS 23:13 تو یقین جانو کہ یَاہوِہ تمہارے خُدا اِن قوموں کو تمہارے سامنے سے ہرگز نہ ہٹائیں گے بَلکہ وہ تمہارے لیٔے جال اَور پھندا تمہاری پیٹھ پر کوڑے اَور تمہاری آنکھوں میں کانٹے بَن جایٔیں گے۔ یہاں تک کہ تُم اِس بھلے مُلک سے جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں دیا ہے نابود ہو جاؤگے۔
JOS 23:14 ”اَب دیکھو میں آج اُسی راستے جانے والا ہُوں جو سارے جہاں کا ہے۔ اَور تُم اَپنے سارے دِل اَور جان سے جانتے ہو کہ اُن سَب اَچھّے وعدوں میں سے جو یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُم سے کئے ایک بھی پُورا ہُوئے بغیر نہ رہا۔ ہر وعدہ پُورا ہُوا۔ کویٔی ایک بھی پُورا ہُوئے بغیر نہیں رہا۔
JOS 23:15 لیکن جِس طرح یَاہوِہ تمہارے خُدا کا ہر اَچھّا وعدہ پُورا ہُوا اُسی طرح یَاہوِہ تُم پر وہ تمام آفتیں نازل کریں گے جِس کا اُنہُوں نے تُمہیں دہشت دِلائی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تُمہیں اُس بھلے مُلک سے جسے اُنہُوں نے تُمہیں دیا ہے نابود کر دیں گے۔
JOS 23:16 اگر تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے عہد کو جِس کا حُکم اُنہُوں نے تُمہیں دیا ہے توڑ دو اَور جا کر غَیر معبُودوں کی عبادت کرو اَور اُن کے آگے سَجدہ کرو تو یَاہوِہ کا غضب تُم پر بھڑک اُٹھے گا اَور تُم اُس بھلے مُلک سے جسے اُنہُوں نے تُمہیں دیا ہے جلد ہی نِیست و نابود ہو جاؤگے۔“
JOS 24:1 تَب یہوشُعؔ نے اِسرائیل کے سَب قبیلوں کو شِکیمؔ میں جمع کیا۔ اُنہُوں نے اِسرائیل کے بُزرگوں، اُمرا، قاضیوں اَور اہلکاروں کو بُلایا اَور وہ خُدا کے حُضُور مَیں حاضِر ہُوئے۔
JOS 24:2 یہوشُعؔ نے سَب لوگوں سے کہا، ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’عرصہ ہُوا جَب تمہارے آباؤاَجداد جِن میں اَبراہامؔ اَور ناحوؔر کا باپ تیراحؔ بھی شامل ہے دریائے فراتؔ کے اُس پار رہتے تھے اَور غَیر معبُودوں کی پرستش کرتے تھے۔
JOS 24:3 لیکن مَیں نے تمہارے باپ اَبراہامؔ کو دریا کے پار کے مُلک سے لے کر کنعانؔ کے سارے مُلک میں اُس کی رہبری کی اَور اُس کی نَسل بڑھائی۔ مَیں نے اُسے اِصحاقؔ عنایت کیا۔
JOS 24:4 اَور اِصحاقؔ کو یعقوب اَور عیسَوؔ بخشے۔ اَور مَیں نے عیسَوؔ کو سِعِیؔر کا کوہستانی مُلک دے دیا لیکن یعقوب اَور اُس کے بیٹے مِصر چلے گیٔے۔
JOS 24:5 ” ’پھر مَیں نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو بھیجا اَور مَیں نے مِصر میں مُصیبتیں برپا کرکے مِصریوں کو خُوب مارا اَور مَیں وہاں سے تُمہیں نکال لایا۔
JOS 24:6 جَب مَیں تمہارے آباؤاَجداد کو مِصر سے نکال لایا تَب تُم سمُندر کے ساحِل تک جا پہُنچے اَور مِصریوں نے رتھوں اَور گُھڑسواروں کے ساتھ بحرِقُلزمؔ تک اُن کا تعاقب کیا۔
JOS 24:7 لیکن اُنہُوں نے یَاہوِہ سے اِمداد کے لیٔے فریاد کی اَور اُنہُوں نے تمہارے اَور مِصریوں کے درمیان اَندھیرا کر دیا۔ وہ سمُندر کو اُن کے اُوپر چڑھا لائے اَور اُنہیں غرق کر دیا۔ تُم نے خُود اَپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مَیں نے مِصریوں کے ساتھ کیا کیا۔ پھر تُم ایک لمبے عرصہ تک بیابان میں رہے۔
JOS 24:8 ” ’مَیں تُمہیں امُوریوں کے مُلک میں لے آیا جو یردنؔ کے مشرق میں رہتے تھے۔ وہ تُم سے لڑے لیکن مَیں نے تُمہیں فتح بخشی۔ مَیں نے اُنہیں تمہارے سامنے نِیست و نابود کر دیا اَور تُم اُن کے مُلک پر قابض ہو گئے۔
JOS 24:9 جَب مُوآب کا بادشاہ بلقؔ بِن صِفُورؔ اِسرائیل پر چڑھائی کی تیّاریاں کرنے لگا تو اُس نے بِلعاؔم بِن بعورؔ کو بُلا بھیجا تاکہ وہ تُم پر لعنت کرے۔
JOS 24:10 لیکن مَیں نے بِلعاؔم کی ایک نہ سُنی اِس لیٔے وہ مجبُور ہو گیا کہ تُمہیں برکت دے۔ یُوں مَیں نے تُمہیں بلقؔ کے ہاتھ سے چھُڑا لیا۔
JOS 24:11 ” ’پھر تُم یردنؔ پار ہوکر یریحوؔ آئے اَور یریحوؔ کے باشِندے، امُوری، پَرزّی، کنعانی، حِتّی، گِرگاشی، حِوّیؔ اَور یبُوسی تُم سے لڑے لیکن مَیں نے اُنہیں تمہارے ہاتھ میں کر دیا۔
JOS 24:12 مَیں نے زنبوروں کو تمہارے آگے بھیجا جنہوں نے اُنہیں اَور دو امُوری بادشاہوں کو تمہارے سامنے سے بھگا دیا۔ یہ تمہاری تلوار یا کمان کا کمال نہیں تھا۔
JOS 24:13 اِس طرح مَیں نے تُمہیں وہ مُلک عطا کیا جِس پر تُم نے محنت نہ کی تھی اَور وہ شہر عنایت کئے جنہیں تُم نے تعمیر نہیں کیا تھا اَور تُم اُن میں بسے ہُوئے ہو اَور اُن تاکستانوں اَور زَیتُون کے باغوں کا پھل کھاتے ہو جو تمہارے لگائے ہُوئے نہیں ہیں۔‘
JOS 24:14 ”لہٰذا اَب تُم یَاہوِہ کا خوف رکھو اَور نہایت وفاداری سے اُن کی عبادت کرو اَور اُن معبُودوں کو پھینک دو جِن کی پرستش تمہارے آباؤاَجداد دریائے فراتؔ کے اُس پار اَور مِصر میں کیا کرتے تھے اَور یَاہوِہ کی پرستش کرو۔
JOS 24:15 اَور اگر یَاہوِہ کی عبادت کرنا تُمہیں ناگوار گزرے تو آج کے دِن اَپنے لیٔے اُسے مُنتخب کرو جِس کی تُم عبادت کرنا چاہتے ہو خواہ اُن معبُودوں کو جِن کی تمہارے آباؤاَجداد دریائے فراتؔ کے اُس پار پرستش کیا کرتے تھے یا اُن امُوریوں کے معبُودوں کو جِن کے مُلک میں تُم بسے ہو۔ لیکن جہاں تک میرا اَور میرے گھرانے کا تعلّق ہے ہم تو یَاہوِہ ہی کی عبادت کریں گے۔“
JOS 24:16 تَب لوگوں نے جَواب دیا، ”خُدا نہ کرے کہ ہم غَیر معبُودوں کی عبادت کرنے کے لیٔے یَاہوِہ کو ترک کر دیں!
JOS 24:17 وہ یَاہوِہ ہمارے خُدا ہی تھے جو ہمیں اَور ہمارے آباؤاَجداد کو اُس غُلامی کے مُلک یعنی مِصر سے نکال لائے اَور ہماری آنکھوں کو بڑے بڑے عجِیب و غریب نِشان دِکھائے۔ اُنہُوں نے ہمارے سارے سفر میں اَور اُن سَب قوموں کے درمیان جِن میں سے ہوکر ہم گزرے ہماری حِفاظت کی۔
JOS 24:18 اَور یَاہوِہ نے ہمارے سامنے سے امُوریوں کو اَور اُن ساری قوموں کو نکال دیا جو اُس مُلک میں بستی تھیں۔ ہم بھی یَاہوِہ ہی کی عبادت کریں گے کیونکہ وہ ہمارے خُدا ہیں۔“
JOS 24:19 یہوشُعؔ نے لوگوں سے کہا، ”تُم سے یَاہوِہ کی عبادت نہیں ہو سکتی۔ وہ پاک خُدا ہیں۔ وہ غیّور خُدا ہیں۔ وہ تمہاری سرکشی اَور تمہارے گُناہ نہیں بخشیں گے۔
JOS 24:20 اگر تُم یَاہوِہ کو ترک کرکے غَیر معبُودوں کی عبادت کرنے لگوگے تو اگرچہ یَاہوِہ تمہارا بھلا کرتے آئے ہُوں وہ پھر کر تُم پر آفت نازل کریں گے اَور تمہارا خاتِمہ کر دیں گے۔“
JOS 24:21 لوگوں نے یہوشُعؔ سے کہا، ”نہیں! ہم یَاہوِہ ہی کی عبادت کریں گے۔“
JOS 24:22 تَب یہوشُعؔ نے کہا، ”تُم آپ ہی اَپنے گواہ ہو کہ تُم نے یَاہوِہ کی عبادت کرنا پسند کیا ہے۔“ اُنہُوں نے کہا، ”ہاں! ہم گواہ ہیں۔“
JOS 24:23 یہوشُعؔ نے کہا، ”تو پھر تمہارے درمیان جو غَیر معبُود ہیں اُنہیں دُور کر دو اَور اَپنے دِل یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کی طرف راغِب کر لو۔“
JOS 24:24 لوگوں نے یہوشُعؔ سے کہا، ”ہم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی عبادت کریں گے اَور اُن ہی کے وفادار رہیں گے۔“
JOS 24:25 اُسی روز یہوشُعؔ نے لوگوں کے ساتھ عہد باندھا اَور شِکیمؔ میں اُن کے لیٔے قوانین اَور آئین مرتّب کئے۔
JOS 24:26 اَور یہوشُعؔ نے یہ باتیں خُدا کی کِتاب تورہ میں درج کر لیں۔ تَب اُنہُوں نے ایک بڑا پتّھر لیا اَور اُسے یَاہوِہ کے پاک مقام کے قریب بلُوط کے درخت کے نیچے نصب کر دیا۔
JOS 24:27 اَور یہوشُعؔ نے اُن سَب لوگوں نے کہا، ”دیکھو! یہ پتّھر ہمارا گواہ رہے گا کیونکہ اُس نے وہ سَب باتیں سُنی ہیں جو یَاہوِہ نے ہم سے کہی ہیں۔ اگر تُم اَپنے خُدا سے بےوفائی کر بیٹھو تو یہ تمہارے خِلاف گواہی دے گا۔“
JOS 24:28 تَب یہوشُعؔ نے لوگوں کو اُن کی اَپنی اَپنی مِیراث کی طرف روانہ کیا۔
JOS 24:29 اِن واقعات کے بعد یَاہوِہ کا خادِم یہوشُعؔ بِن نُونؔ ایک سَو دس بَرس کا ہوکر رحلت کر گیا۔
JOS 24:30 اُنہُوں نے اُسے اُس مِیراث میں تِمنتھ سیراؔہ کے مقام پر دفن کیا جو اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں کوہِ گعشؔ کے شمال میں واقع ہے۔
JOS 24:31 یہوشُعؔ کی زندگی بھر اَور اُن بُزرگوں کی خدمت کی جو یہوشُعؔ کے بعد زندہ رہے اَورجو اُن سَب کاموں سے واقف تھے جو یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کے لیٔے کئے تھے اِسرائیلی یَاہوِہ ہی کی عبادت کرتے رہے۔
JOS 24:32 اَور یُوسیفؔ کی ہڈّیاں جنہیں اِسرائیلی مِصر سے لے آئےتھے شِکیمؔ میں اُس قَطعہ زمین میں دفن کی گئیں جسے یعقوب نے شِکیمؔ کے باپ حمُورؔ کے بیٹوں سے چاندی کے سَو سِکّوں کے عِوض خریدا تھا۔ یہ جگہ یُوسیفؔ کی نَسل کی مِیراث ٹھہری۔
JOS 24:33 اَور اَہرونؔ کے بیٹے الیعزرؔ نے وفات پائی اَور اُسے اُس کے بیٹے فِنحاسؔ کی پہاڑی پر گِبعہؔ میں دفن کیا گیا جو اُسے اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں دی گئی تھی۔
JDG 1:1 یہوشُعؔ کی موت کے بعد بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ سے پُوچھا، ”کنعانیوں سے جنگ کے لیٔے ہماری طرف سے پہلے کون چڑھائی کرے؟“
JDG 1:2 یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”یہُوداہؔ چڑھائی کریں گے کیونکہ مَیں نے وہ مُلک اُن کے ہاتھوں میں دے دیا ہے۔“
JDG 1:3 تَب یہُوداہؔ کے قبیلہ والوں نے اَپنے شمعُونی بھائیوں سے کہا، ”ہمارے ساتھ ہماری مِیراث کے علاقہ کی طرف چلو تاکہ ہم کنعانیوں سے لڑیں اَور اِسی طرح ہم بھی تمہاری مِیراث کے علاقہ میں تمہارے ساتھ چلیں گے۔“ چنانچہ بنی شمعُونؔ اُن کے ساتھ گیٔے۔
JDG 1:4 جَب بنی یہُوداہؔ نے چڑھائی کی تو یَاہوِہ نے کنعانیوں اَور پَرزّیوں کو اُن کے ہاتھوں میں کر دیا اَور اُنہُوں نے بزق کے مقام پر اُن میں سے دس ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔
JDG 1:5 وہاں اُن کا سامنا ادونی بزق سے ہُوا اَور اُنہُوں نے اُس سے جنگ کی اَور کنعانیوں اَور پَرزّیوں کو پسپا کر دیا۔
JDG 1:6 ادونی بزق بھاگ گیا لیکن اُنہُوں نے اُس کا تعاقب کرکے اُسے گِرفتار کر لیا اَور اُس کے ہاتھ پاؤں کے انگُوٹھے کاٹ ڈالے۔
JDG 1:7 تَب ادونی بزق نے کہا، ”ستّر بادشاہ جِن کے ہاتھ پاؤں کے انگُوٹھے کٹے ہُوئے تھے میری میز کے نیچے ٹکڑے بٹورا کرتے تھے۔ جَیسا سلُوک مَیں نے اُن کے ساتھ کیا تھا وَیسا ہی بدلہ اَب یَاہوِہ نے مُجھے دیا ہے۔“ وہ اُسے یروشلیمؔ لے آئے جہاں اُس نے وفات پائی۔
JDG 1:8 بنی یہُوداہؔ نے یروشلیمؔ پر حملہ کیا اَور اُسے اَپنے قبضہ میں لے کر اہلِ شہر کو تہِ تیغ کر دیا اَور شہر کو آگ لگا دی۔
JDG 1:9 اُس کے بعد بنی یہُوداہؔ اُن کنعانیوں سے لڑنے کو گیٔے جو کوہستانی مُلک، جُنوبی علاقہ اَور مغرب کے نشینی علاقہ میں رہتے تھے۔
JDG 1:10 وہ حِبرونؔ (جو پہلے قِریت اربعؔ کہلاتا تھا) میں رہنے والے بنی یہُوداہؔ نے کنعانیوں پر چڑھ آئے اَور شیشائی، احیمانؔ اَور تلمی کو شِکست دی۔
JDG 1:11 وہاں سے آگے جا کر اُنہُوں نے دبیرؔ کے باشِندوں پر چڑھائی کی (جو پہلے قِریت سِفرؔ کہلاتا تھا)۔
JDG 1:12 اَور کالبؔ نے کہا، ”جو آدمی قِریت سِفرؔ پر حملہ کرکے اُسے قبضہ میں لے گا میں اُس سے اَپنی بیٹی عکسہؔ کی شادی کر دُوں گا۔“
JDG 1:13 کالبؔ کے چُھوٹے بھایٔی عتنی ایل بِن قِنٰز نے اُسے سَر کر لیا اِس لیٔے کالبؔ نے اَپنی بیٹی عکسہؔ کی شادی اُس سے کر دی۔
JDG 1:14 ایک دِن جَب وہ عتنی ایل کے پاس آئی تو اُس نے اُس سے اِصرار کیا کہ وہ اُس کے باپ سے ایک کھیت طلب کرے۔ جَب وہ اَپنے گدھے پر سے اُتری تو کالبؔ نے اُس سے پُوچھا، ”تُم کیا چاہتی ہو؟“
JDG 1:15 اُس نے کہا، ”مُجھ پر ایک خاص عنایت کرو۔ چونکہ آپ نے مُجھے جُنوب کے مُلک میں کچھ زمین دی ہے اِس لیٔے مُجھے پانی کے چشمے بھی دیں۔“ چنانچہ کالبؔ نے اُسے اُوپر کے اَور نیچے کے چشمے بھی عطا فرمائے۔
JDG 1:16 مَوشہ کے سسُر کی نَسل کے قینیؔ لوگ کھجوروں کے شہر سے بنی یہُوداہؔ کے ساتھ یہُوداہؔ کے بیابان کو گیٔے جو جُنوب میں عَرادؔ کے نزدیک ہے اَور وہاں اُن کے ساتھ رہنے لگے۔
JDG 1:17 پھر بنی یہُوداہؔ نے اَپنے بنی شمعُونؔ بھائیوں کے ساتھ جا کر صفتؔ میں رہنے والے کنعانیوں پر حملہ کیا اَور اُس شہر کو بالکُل تباہ کر ڈالا۔ اِس لیٔے اُس شہر کا نام حُرمہؔ پڑا۔
JDG 1:18 یہُوداہؔ نے غزّہؔ، اشقلونؔ اَور عقرونؔ شہروں کو اُن کے گِردونواح کے علاقوں سمیت اَپنے قبضہ میں کر لیا۔
JDG 1:19 یَاہوِہ بنی یہُوداہؔ کے ساتھ تھا۔ اُنہُوں نے کوہستانی مُلک پر تو قبضہ کر لیا لیکن وہ ہموار علاقوں سے لوگوں کو نہ نکال سکے کیونکہ اُن لوگوں کے پاس آہنی رتھ تھے۔
JDG 1:20 مَوشہ کے وعدہ کے مُطابق حِبرونؔ کالبؔ کو دیا گیا کیونکہ اُس نے وہاں سے عناق کے تینوں بیٹوں کو نکال دیا تھا۔
JDG 1:21 البتّہ بنی بِنیامین یروشلیمؔ میں سکونت پذیر یبُوسیوں کو وہاں سے ہٹانے میں ناکام رہے۔ اِس لیٔے آج کے دِن تک یبُوسی وہاں بنی بِنیامین کے ساتھ رہتے ہیں۔
JDG 1:22 اَب یُوسیفؔ کے گھرانے نے بیت ایل پر چڑھائی کی اَور یَاہوِہ اُن کے ساتھ تھا۔
JDG 1:23 جَب یُوسیفؔ کے خاندان نے بیت ایل (جو پہلے لُوزؔ کہلاتا تھا) شہر کا جائزہ لینے کے لیٔے لوگوں کو بھیجا
JDG 1:24 تو جاسُوسوں نے ایک شخص کو شہر سے باہر آتے ہُوئے دیکھا اَور اُس سے کہا، ”ہمیں شہر میں داخل ہونے کی راہ بتا تو ہم تمہارے ساتھ مہربانی سے پیش آئیں گے۔“
JDG 1:25 تَب اُس نے اُنہیں راہ بتا دی اَور اُنہُوں نے شہر والوں کو تہِ تیغ کر ڈالا۔ لیکن اُس شخص اَور اُس کے سارے خاندان کو چھوڑ دیا۔
JDG 1:26 تَب وہ حِتّیوں کے مُلک میں گیا اَور وہاں اُس نے ایک شہر بسایا اَور اُس کا نام لُوزؔ رکھا۔ چنانچہ آج تک اُس کا یہی نام ہے۔
JDG 1:27 لیکن منشّہ نے بیت شانؔ، تعناکؔ، دورؔ، اِبلیعامؔ اَور مگِدّوؔ اَور اُن کے گِردونواح کے قصبوں کے لوگوں کو نہ نکالا کیونکہ کنعانی آ سِی مُلک میں رہنے پر بضِد تھے۔
JDG 1:28 جَب بنی اِسرائیل برسرِاقتدار آئے تو اُنہُوں نے کنعانیوں کو بیگار میں کام کرنے پر مجبُور کیا لیکن اُنہیں پُورے طور پر نہیں نکالا۔
JDG 1:29 نہ ہی اِفرائیمؔ نے گِزرؔ میں رہنے والے کنعانیوں کو نکالا بَلکہ کنعانی اُن کے درمیان وہاں بسے رہے۔
JDG 1:30 نہ ہی زبُولُون نے قِطرونؔ اَور نہلولؔ میں رہنے والے کنعانیوں کو نکالا جو اُن کے درمیان بسے رہے۔ البتّہ اُنہُوں نے اُنہیں بیگار میں کام کرنے پر ضروُر مجبُور کیا۔
JDG 1:31 نہ آشیر نے عکّوؔ، صیدونؔ، احلابؔ، اَکزِیبؔ، حلبہؔ، افیقؔ یا رحوبؔ کے باشِندوں کو نکالا۔
JDG 1:32 اَور اِسی وجہ سے بنی آشیر مُلک کے کنعانی باشِندوں کے ساتھ بس گیٔے کیونکہ اُنہُوں نے اُنہیں نہیں نکالا۔
JDG 1:33 نہ ہی نفتالی نے بیت شِمِشؔ یا بیت عناتؔ کے باشِندوں کو نکالا بَلکہ بنی نفتالی بھی کنعانی باشِندوں کے ساتھ بس گیٔے اَور بیت شمسؔ اَور بیت عناتؔ کے باشِندے اُن کے لیٔے بیگار میں کام کرنے لگے۔
JDG 1:34 امُوریوں نے بنی دانؔ کو کوہستانی مُلک تک ہی محدُود رکھا اَور اُنہیں وادی میں نیچے نہ آنے دیا۔
JDG 1:35 اَور امُوری بھی کوہِ حیریسؔ، ایّالونؔ اَور شعلبِیمؔ میں بسے رہنے پر بضِد رہے لیکن جَب یُوسیفؔ کا خاندان برسرِاقتدار آیا تو وہ بھی بیگار میں کام کرنے پر مجبُور ہو گئے۔
JDG 1:36 امُوریوں کی سرحد درّۂ عقرابیمؔ سے سیلاؔ سے پرے تک تھی۔
JDG 2:1 یَاہوِہ کا فرشتہ گِلگالؔ سے بوکیمؔ کو گیا اَور کہنے لگا، ”میں تُمہیں مِصر سے نکال کر اُس مُلک میں لے آیا، جسے مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو دینے کی قَسم کھائی تھی۔ مَیں نے کہاتھا، ’وہ عہد جو مَیں نے تُم سے باندھا تھا میں اُسے ہرگز نہ توڑوں گا،
JDG 2:2 اَور تُم اُس مُلک کے باشِندوں کے ساتھ کویٔی عہد نہ کروگے بَلکہ تُم اُن کے مذبحوں کو ڈھا دوگے۔‘ پھر بھی تُم نے میری نافرمانی کی۔ تُم نے اَیسا کیوں کیا؟
JDG 2:3 اِس لیٔے اَب مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں، ’میں اُنہیں تمہارے سامنے سے نہیں ہٹاؤں گا بَلکہ وہ تمہارے پہلوؤں میں کانٹے اَور اُن کے معبُود تمہارے لیٔے پھندا ثابت ہوں گے۔‘ “
JDG 2:4 جَب یَاہوِہ کا فرشتہ تمام بنی اِسرائیل سے یہ کہہ چُکا تو وہ لوگ چِلّا چِلّا‏‏‏‏کر رونے لگے
JDG 2:5 اَور اُنہُوں نے اُس جگہ کا نام بوکیمؔ رکھا اَور وہاں اُنہُوں نے یَاہوِہ کے لیٔے قُربانیاں پیش کیں۔
JDG 2:6 یہوشُعؔ کے بنی اِسرائیل کو رخصت کرنے کے بعد، وہ اَپنی اَپنی مِیراث میں مُلک کا قبضہ لینے کے لیٔے چلے گیٔے۔
JDG 2:7 یہوشُعؔ کی زندگی بھر اَور اُن بُزرگوں کی خدمت کی جو یہوشُعؔ کے بعد بھی زندہ رہے اَور اُن سَب بڑے بڑے کاموں سے واقف تھے جو یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کے لیٔے کئے تھے اِسرائیلی یَاہوِہ ہی کی عبادت کرتے رہے۔
JDG 2:8 یَاہوِہ کا خادِم یہوشُعؔ بِن نُونؔ ایک سَو دس بَرس میں فوت ہو گئے۔
JDG 2:9 اَور اُنہُوں نے اُسے اُس کی مِیراث میں تِمنتھ حیریشؔ میں دفن کیا جو اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں کوہِ گعشؔ کے شمال میں واقع ہے۔
JDG 2:10 جَب وہ ساری پُشت اَپنے آباؤاَجداد سے جا مِلی تو ایک اَور پُشت پیدا ہُوئی جو نہ یَاہوِہ کو جانتی تھی اَور نہ اُس کام کو جو اُنہُوں نے اِسرائیل کے لیٔے کئے تھے۔
JDG 2:11 اَور بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی اَور وہ بَعل معبُودوں کی پرستش کرنے لگے۔
JDG 2:12 اُنہُوں نے یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کو ترک کر دیا جو اُنہیں مِصر سے نکال لائے تھے۔ وہ اَپنے آس پاس کے لوگوں کے مُختلف معبُودوں کی پیروی اَور پرستش کرنے لگے اَور اُنہُوں نے یَاہوِہ کے غُصّہ کو بھڑکایا۔
JDG 2:13 کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کو ترک کیا اَور بَعل اَور عستوریتؔ کی خدمت کرنے لگے۔
JDG 2:14 یَاہوِہ کا قہر اِسرائیل پر بھڑک اُٹھا اَور اُنہُوں نے اُنہیں لُٹیروں کے حوالہ کر دیا جنہوں نے اُنہیں لُوٹنا شروع کیا اَور خُدا نے اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے ہاتھ بیچا جو اُن کے اِردگرد تھے اَور جِن کا وہ مُقابلہ تک نہیں کر سکتے تھے۔
JDG 2:15 جَب بھی اِسرائیلی لڑنے کے لیٔے جاتے تو یَاہوِہ کا ہاتھ اُنہیں شِکست دینے کے لیٔے اُن کے خِلاف اُٹھتا جَیسا کہ اُنہُوں نے اُن سے قَسم کھا کر کہاتھا۔ لہٰذا وہ بڑی مُصیبت میں گِرفتار ہو گئے۔
JDG 2:16 پھر یَاہوِہ نے قاضی برپا کئے جنہوں نے اُنہیں غارت گروں کے ہاتھوں سے چھُڑایا۔
JDG 2:17 لیکن وہ اَپنے قاضیوں کی بھی نہ مانتے تھے بَلکہ اَور معبُودوں سے ناجائز تعلّقات بڑھا کر اُن کی عبادت کرتے رہے اَور بہت جلد یَاہوِہ کی فرمانبرداری کی اُس راہ سے پھر گیٔے جِس پر اُن کے آباؤاَجداد چلتے آئےتھے۔
JDG 2:18 جَب کبھی یَاہوِہ اُن کے لیٔے کویٔی قاضی برپا کرتے تھے تو وہ اُس قاضی کے ساتھ رہ کر اُس کے جیتے جی اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے ہاتھوں سے چھُڑاتے رہتے تھے کیونکہ جَب وہ ظالموں اَور اَذیّت پہُنچانے والوں کی سختیوں سے تنگ آکر کراہتے تو یَاہوِہ کو اُن پر ترس آتا تھا۔
JDG 2:19 لیکن جَب وہ قاضی مَرجاتا تو لوگ پھر سے غَیر معبُودوں کی پیروی کرکے اُن کی خدمت اَور عبادت میں مصروف ہوکر اَیسی راہوں پر لَوٹ جاتے جو اُن کے آباؤاَجداد کی راہوں سے بھی بدتر تھیں۔ وہ اَپنی بُری روِشوں اَور سرکش راہوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہُوئے۔
JDG 2:20 اِس لیٔے یَاہوِہ بنی اِسرائیل سے بےحد خفا ہُوئے اَور کہا، ”چونکہ اِس قوم نے اُس عہد کو توڑا ہے جو مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد سے باندھا تھا اَور میری بات نہیں مانی،
JDG 2:21 اِس لیٔے جِن قوموں کو یہوشُعؔ مَرتے وقت چھوڑ گیا اُن میں سے کسی بھی قوم کو مَیں بنی اِسرائیل کے سامنے سے دُور نہیں کروں گا۔
JDG 2:22 میں اُنہیں اِسرائیل کی آزمائش کے لیٔے اِستعمال کروں گا اَور یہ دیکھوں گا کہ آیا وہ یَاہوِہ کی راہ پر قائِم رہ کر اَپنے آباؤاَجداد کی طرح اُس پر چلتے بھی ہیں یا نہیں۔“
JDG 2:23 یَاہوِہ نے اُن قوموں کو وہیں رہنے دیا اَور اُنہیں نکالنے میں جلدی نہ کی اَور اُنہیں یہوشُعؔ کے ہاتھ میں بھی نہ جانے دیا تھا۔
JDG 3:1 یَاہوِہ نے اُن قوموں کو رہنے دیا تاکہ اُن سَب اِسرائیلیوں کو آزمائے جو کنعانؔ میں کسی لڑائی میں شریک نہ ہُوئے تھے۔
JDG 3:2 (اُس نے یہ محض اِس لیٔے کیا کہ بنی اِسرائیل کی جِن نَسلوں کو لڑنے کا تجربہ نہ تھا اُنہُوں نے جنگ و جدل کا طریقہ سِکھایا جائے):
JDG 3:3 فلسطینیوں کے پانچوں سردار، سَب کنعانی، صیدونی اَور کوہِ بَعل حرمُونؔ سے لے کر لیبو حماتؔ کے مدخل تک لبانونؔ کی پہاڑیوں میں بسنے والے سبھی حِوّی وہیں رہے۔
JDG 3:4 اُنہیں اِس لیٔے رہنے دیا گیا تاکہ اُن کے ذریعہ اِسرائیلیوں کی آزمائش ہو کہ وہ یَاہوِہ کے اُن اَحکام کو مانیں گے یا نہیں جو اُس نے مَوشہ کی مَعرفت اُن کے آباؤاَجداد کو دئیے تھے۔
JDG 3:5 سو بنی اِسرائیل کنعانیوں، حِتّیوں، امُوریوں، پَرزّیوں، حِوّیوں اَور یبُوسیوں کے درمیان بس گیٔے۔
JDG 3:6 وہ اُن کی بیٹیوں سے بیاہ کرتے اَور اَپنی بیٹیاں اُن کے بیٹوں کو دیتے تھے اَور اُن کے معبُودوں کی پرستش کرتے تھے۔
JDG 3:7 بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی۔ وہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کو بھُول گیٔے اَور بَعل معبُودوں اَور اشیراہؔ کی پرستش کرنے لگے۔
JDG 3:8 یَاہوِہ کا غضب اِسرائیلیوں پر بھڑکا اَور اُس نے اُنہیں ارام نحرائیمؔ یعنی مسوپتامیہؔ کے بادشاہ کوشن رِسعتیمؔ کے ہاتھوں بیچ ڈالا۔ لہٰذا بنی اِسرائیل آٹھ بَرس تک اُس کے مطیع رہے۔
JDG 3:9 لیکن جَب بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ سے فریاد کی تو اُس نے اُن کے لیٔے ایک رِہائی دینے والا برپا کیا جو کالبؔ کے چُھوٹے بھایٔی قِنٰز کا بیٹا عتنی ایل تھا جِس نے اُنہیں رہا کیا۔
JDG 3:10 یَاہوِہ کا رُوح اُس پر نازل ہُوا جِس سے وہ اِسرائیل کا قاضی بَن گیا اَور لڑنے کے لیٔے نِکلا پڑا۔ یَاہوِہ نے ارام کے بادشاہ کوشن رِسعتیمؔ کو عتنی ایل کے حوالہ کر دیا اَور وہ اُس پر غالب آ گیا۔
JDG 3:11 اِس طرح سے مُلک میں قِنٰز کے بیٹے عتنی ایل کی وفات تک چالیس بَرس اَمن قائِم رہا۔
JDG 3:12 ایک بار پھر بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی اَور اُن کی بدی کی وجہ سے یَاہوِہ نے مُوآب کے بادشاہ عِگلونؔ کو اِسرائیل پر حاوی کر دیا۔
JDG 3:13 عِگلونؔ بنی عمُّون اَور بنی عمالیق کو اَپنے ساتھ لے کر آیا اَور اِسرائیل پر حملہ کرکے کھجوروں کے شہر پر قبضہ کر لیا۔
JDG 3:14 بنی اِسرائیل اٹھّارہ بَرس تک مُوآب کے بادشاہ عِگلونؔ کے مطیع رہے۔
JDG 3:15 پھر بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ سے فریاد کی اَور اُس نے بِنیامین کے گھرانے کے ایک فرد گیراؔ کے بیٹے اہُودؔ کو جو اَپنے بائیں ہاتھ سے کام لینے کا عادی تھا اُن کا رِہائی دینے والا مُقرّر کیا۔ بنی اِسرائیل نے اُسی کے ہاتھ مُوآب کے بادشاہ عِگلونؔ کو عطیات روانہ کئے۔
JDG 3:16 اہُودؔ نے تقریباً ڈیڑھ فُٹ لمبی دو دھاری تلوار بنائی جسے اُس نے اَپنے جامے کے نیچے داہنی ران پر باندھ لیا۔
JDG 3:17 اُس نے وہ خراج مُوآب کے بادشاہ عِگلونؔ کی خدمت میں پیش کئے جو نہایت ہی موٹا آدمی تھا۔
JDG 3:18 جَب اہُودؔ خراج پیش کر چُکا تو اُس نے عطیات اُٹھاکر لانے والے خادِموں کو رخصت کیا۔
JDG 3:19 اَور خُود پتّھر کی اُس کان سے جو گِلگالؔ کے نزدیک تھی مُڑ کر بادشاہ کے پاس عِگلونؔ لَوٹ آیا اَور کہنے لگا، ”اَے بادشاہ! میرے پاس تیرے لیٔے ایک خُفیہ پیغام ہے۔“ بادشاہ نے اَپنے خدمت گاروں سے کہا، ”ہمیں چھوڑ دو!“ اَور وہ سَب چلےگئے ابھی کچھ نہ کہہ۔ اِس پر بادشاہ کے سَب خدمت گزار جو اُس کے پاس تھے دُور چلے گیٔے۔
JDG 3:20 بادشاہ اَپنے ہوادار محل کے بالاخانہ میں اکیلا بیٹھا ہُوا تھا۔ اہُودؔ نے اُس کے قریب جا کر کہا، ”میں خُدا کی طرف سے تیرے لیٔے پیغام لایا ہُوں۔“ جُوں ہی بادشاہ اَپنی نشست سے اُٹھا
JDG 3:21 اہُودؔ نے اَپنا بایاں ہاتھ بڑھایا اَور اَپنی داہنی ران سے تلوار کھینچ کر اُسے بادشاہ کی توند میں گھونپ دیا یہاں تک کہ اُس کی نوک دُوسری طرف جا نکلی
JDG 3:22 بَلکہ پھل کے پیچھے کا قبضہ بھی زخم میں دھنس گیا۔ اہُودؔ نے تلوار واپس نہ کھینچی اَور چربی اُس کے پھل کے اُوپر لپٹ گئی۔
JDG 3:23 تَب اہُودؔ برامدے میں نکل آیا اَور بالاخانہ کے دروازوں کو بند کرکے اُن میں قُفل لگا دیا۔
JDG 3:24 جَب وہ چلا گیا تو خادِموں نے آکر دیکھا کہ بالاخانہ کے دروازے مُقفّل ہیں۔ وہ کہنے لگے، ”وہ ضروُر مکان کے اَندرونی کمرہ میں حاجت رفع کر رہا ہوگا۔“
JDG 3:25 وہ باہر ٹھہرے ٹھہرے گھبرا گیٔے اَور جَب اُس نے کمرے کے دروازے نہ کھولے تَب اُنہُوں نے کُنجی لی اَور اُنہیں کھولا اَور دیکھا کہ اُن کا آقا زمین پر مَرا پڑا ہے۔
JDG 3:26 اَور ابھی وہ وہیں کھڑے تھے کہ اہُودؔ بھاگ نِکلا۔ وہ پتّھر کی کان کے پاس ہوتا ہُوا پناہ کے لیٔے سِعِیؔرہ میں جا پہُنچا۔
JDG 3:27 وہاں پہُنچ کر اُس نے اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں نرسنگا پھُونکا اَور بنی اِسرائیل اُس کے ہمراہ پہاڑیوں پر سے نیچے اُترے اَور وہ اُن کے آگے آگے چلنے لگا۔
JDG 3:28 اُس نے اُن سے کہا، ”میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ کیونکہ یَاہوِہ نے تمہارے دُشمنوں یعنی مُوآبیوں کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔“ اِس لئے وہ اُس کے پیچھے پیچھے نیچے اُترے اَور اُنہُوں نے یردنؔ کے اُن گھاٹوں پر قبضہ کر لیا جو مُوآب کی طرف تھے اَور کسی کو بھی پار اُترنے نہ دیا۔
JDG 3:29 اُس وقت اُنہُوں نے تقریباً دس ہزار مُوآبیوں کو جو سَب کے سَب نہایت قوی اَور بہادر تھے قتل کر ڈالا۔ اُن میں سے کویٔی بھی باقی نہ بچا۔
JDG 3:30 اُس دِن مُوآب بنی اِسرائیل کے مطیع اَور مُلک میں اسّی بَرس تک اَمن قائِم رہا۔
JDG 3:31 اہُودؔ کے بعد عناتؔ کا بیٹا شمگرؔ اُٹھا جِس نے بَیل ہانکنے والی لاٹھی سے چھ سَو فلسطینی مار ڈالے۔ اُس نے بھی اِسرائیلیوں کو بچایا۔
JDG 4:1 اہُودؔ کی موت کے بعد بنی اِسرائیل پھر سے اَیسے کام کرنے لگے جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرے تھے۔
JDG 4:2 اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُنہیں کنعانؔ کے ایک بادشاہ یابینؔ کے ہاتھ بیچ دیا جو حَصورؔ میں حُکمران تھا۔ اُس کے فَوج کا سپہ سالار سیسؔرا تھا جو حرُوشیت ہگّوئیمؔ میں رہتا تھا۔
JDG 4:3 چونکہ اُس کے پاس نَو سَو آہنی رتھ تھے اَور اُس نے بیس سال تک بنی اِسرائیل پر بڑا ظُلم و سِتم کیا تھا اِس لیٔے اُنہُوں نے یَاہوِہ سے اِمداد کے لیٔے فریاد کی۔
JDG 4:4 اُس وقت لفیدوتؔ کی بیوی دبورہؔ جو نبیّہ تھی بنی اِسرائیل کی عدالت کیا کرتی تھی۔
JDG 4:5 وہ اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں رامہؔ اَور بیت ایل کے درمیان دبورہؔ کے کھجور کے درخت کے نیچے بیٹھ کر اِنصاف کیا کرتی تھی اَور بنی اِسرائیل اُس کے پاس اَپنے مُقدّموں کے فیصلوں کے لیٔے آتے تھے۔
JDG 4:6 اُس نے نفتالی کے قِدِشؔ سے اَبی نُوعمؔ کے بیٹے بَراقؔ کو بُلایا اَور اُس سے کہا، ”یَاہوِہ اِسرائیل کا خُدا تُجھے حُکم دیتاہے ’تُو جا کر نفتالی اَور زبُولُون کے دس ہزار افراد کو اَپنے ساتھ لے اَور کوہِ تبورؔ پر چڑھنے میں اُن کی رہنمائی کر۔
JDG 4:7 میں یابینؔ کے لشکر کے سردار سیسؔرا کو اُکسا کر اُس کے رتھوں اَور فَوج سمیت قیشونؔ ندی پر لے آؤں گا اَور اُسے تیرے ہاتھوں میں دے دُوں گا۔‘ “
JDG 4:8 بَراقؔ نے اُس سے کہا، ”اگر تُم میرے ساتھ چلوگی تو میں جاؤں گا لیکن اگر تُم میرے ساتھ نہیں چلوگی تو میں نہیں جاؤں گا۔“
JDG 4:9 دبورہؔ نے کہا، ”بہتر ہے، مَیں تیرے ساتھ چلُوں گی لیکن جِس طرح تُم اِس مُعاملہ کو نپٹا رہے ہو تُجھے کویٔی اِعزاز حاصل نہ ہوگا کیونکہ یَاہوِہ سیسؔرا کو ایک عورت کے حوالہ کرےگا۔“ پس دبورہؔ بَراقؔ کے ساتھ قِدِشؔ کو گئی
JDG 4:10 جہاں بَراقؔ نے قِدِشؔ کے لئے زبُولُون اَور نفتالی کو بُلایا۔ دس ہزار آدمی اُس کے پیچھے پیچھے چلے اَور دبورہؔ بھی اُس کے ساتھ گئی۔
JDG 4:11 اَور حِبرؔ قینیؔ نے دُوسرے قینیوں سے جو مَوشہ کے سالی ضعنِنّیمؔ حوبابؔ کی نَسل سے تھے الگ ہوکر قِدِشؔ کے قریب ضعنِنّیمؔ میں بلُوط کے درخت کے پاس اَپنا ڈیرا ڈال لیا تھا۔
JDG 4:12 جَب سیسؔرا کو پتہ لگاکہ اَبی نُوعمؔ کا بیٹا بَراقؔ کوہِ تبورؔ پر چڑھ گیا ہے
JDG 4:13 تو سیسؔرا نے اَپنے نَو سَو آہنی رتھوں اَور حرُوشیت ہگّوئیمؔ سے لے کر قیشونؔ ندی تک کے سبھی مَردوں کو ایک جگہ جمع کیا۔
JDG 4:14 تَب دبورہؔ نے بَراقؔ سے کہا، ”جا! یہی وہ دِن ہے جِس میں یَاہوِہ نے سیسؔرا کو تیرے ہاتھ میں کر دیا ہے۔ کیا یَاہوِہ تیرے آگے نہیں گئے ہیں؟“ لہٰذا بَراقؔ کوہِ تبورؔ سے نیچے اُترا اَور وہ دس ہزار مَرد اُس کے پیچھے پیچھے گیٔے۔
JDG 4:15 جَیسے ہی بَراقؔ آگے بڑھا یَاہوِہ نے سیسؔرا اَور اُس کے رتھوں اَور لشکر کو تلوار سے پسپا کر دیا اَور سیسؔرا اَپنا رتھ چھوڑکر پیدل ہی بھاگ نِکلا۔
JDG 4:16 لیکن بَراقؔ نے رتھوں اَور لشکر کا حرُوشیت ہگّوئیمؔ تک تعاقب کیا۔ سیسؔرا کا سارا لشکر تلوار سے مارا گیا اَور ایک آدمی بھی باقی نہ بچا۔
JDG 4:17 البتّہ سیسؔرا حِبرؔ قینیؔ کی بیوی یاعیلؔ کے خیمہ تک پیدل بھاگ گیا کیونکہ حَصورؔ کے بادشاہ یابینؔ اَور حِبرؔ قینیؔ کے گھرانے کے درمیان دوستانہ تعلّقات تھے۔
JDG 4:18 یاعیلؔ سیسؔرا سے مِلنے باہر چلی گئی اَور اُس سے کہنے لگی، ”آ اَے میرے آقا، اَندر آ جا اَور مت ڈر۔“ چنانچہ وہ اُس کے خیمہ میں داخل ہو گیا اَور اُس نے اُسے کمبل اوڑھا دیا۔
JDG 4:19 اُس نے کہا، ”میں پیاسا ہُوں۔ مُجھے تھوڑا سا پانی پلا دے۔“ اُس نے دُودھ کا مشکیزہ کھول کر اُسے پِلایا اَور اُسے پھر سے کمبل اوڑھا دیا۔
JDG 4:20 اُس نے یاعیلؔ سے کہا، ”خیمہ کے دروازہ میں کھڑی ہو جا اَور اگر کویٔی شخص آکر تُجھ سے پُوچھے، ’یہاں کویٔی مَرد ہے؟‘ تو تُم کہنا، ’کویٔی بھی نہیں ہے۔‘ “
JDG 4:21 لیکن حِبرؔ کی بیوی یاعیلؔ نے خیمہ کی ایک میخ اَور ہتھوڑا اُٹھایا اَور دبے پاؤں اُس کے پاس گئی جَب کہ وہ تھکاوٹ کے مارے گہری نیند سو رہاتھا۔ اُس نے پُوری طاقت سے وہ میخ اُس کی کنپٹی میں ٹھونک دی اَور وہ میخ اُس کی کنپٹی سے پار ہوکر زمین میں گھُس گئی اَور وہ مرگیا۔
JDG 4:22 بَراقؔ سیسؔرا کا تعاقب کرتا ہُوا وہاں آیا اَور یاعیلؔ اُسے مِلنے کے لیٔے باہر گئی۔ اُس نے کہا، ”اِدھر آ، مَیں تُجھے وہ شخص دِکھاؤں گی جسے تُو ڈھونڈ رہاہے۔“ لہٰذا وہ اُس کے ساتھ اَندر گیا اَور دیکھا کہ سیسؔرا مَرا پڑا ہے اَور خیمہ کی میخ اُس کی کنپٹی میں گھُسی ہُوئی ہے۔
JDG 4:23 اُس دِن یَاہوِہ نے کنعانی بادشاہ یابینؔ کو بنی اِسرائیل کے سامنے مغلُوب کیا۔
JDG 4:24 اَور بنی اِسرائیل کا ہاتھ کنعانی بادشاہ یابینؔ کے خِلاف روز بروز مضبُوط ہوتا گیا یہاں تک کہ اُنہُوں نے اُس کا نام و نِشان مٹا دیا۔
JDG 5:1 اُس دِن دبورہؔ اَور اَبی نُوعمؔ کے بیٹے بَراقؔ نے یہ نغمہ گایا،
JDG 5:2 ”جَب اِسرائیل میں قائدین نے قیادت کی، لوگ بخُوشی اَپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ تَب یَاہوِہ کو مُبارک کہو!
JDG 5:3 ”اَے بادشاہو سُنو! اَے حُکمرانو کان لگاؤ! مَیں یَاہوِہ کی سِتائش کروں گی، میں گاؤں گی؛ مَیں یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کی مدح سرائی کروں گی۔
JDG 5:4 ”اَے یَاہوِہ، جَب آپ سِعِیؔر سے نموُدار ہُوئے، اَور اِدُوم کے مُلک سے باہر نکلے، تو زمین لرز گئی اَور آسمان ٹوٹ پڑا، اَور بادل برسنے لگے۔
JDG 5:5 کوہِ سِینؔائی پر دِکھائی دینے والے یَاہوِہ کی حُضُوری میں اِسرائیل کے خُداوؔند کے پہاڑ بھی کانپ اُٹھے۔
JDG 5:6 ”عناتؔ کے بیٹے شمگرؔ کے دِنوں میں، اَور یاعیلؔ کے ایّام میں شاہراہیں سُونی پڑی تھیں؛ اَور مُسافر پگڈنڈیوں سے آتے جاتے تھے۔
JDG 5:7 جَب تک میں، دبورہؔ برپا نہ ہُوئی، اَور جَب تک میں، اِسرائیل میں ماں بَن کر نہ اُٹھی، تَب تک اِسرائیل کے دیہات ویران پڑے رہے۔
JDG 5:8 جَب اُنہُوں نے نئے معبُود مُنتخب کئے، تو جنگ شہر کے پھاٹکوں تک آ گئی، اَور چالیس ہزار اِسرائیلیوں کے درمیان نہ کویٔی سِپر اَور نہ کویٔی نیزہ دِکھائی دیتا تھا۔
JDG 5:9 میرا دِل جَب اِسرائیل کے اُمرا کی طرف، اَور لوگوں کے درمیان خُوش دِل رضاکاروں کی طرف لگا ہے۔ تَب یَاہوِہ کو مُبارک کہو!
JDG 5:10 ”اَے سفید گدھوں پر سوار ہونے والو، اَور نفیس قالینوں پر بیٹھنے والو، اَور اَے راہ گیر، غور کرو،
JDG 5:11 پانی کے چشموں پر گانے والوں کی آواز پر، جو یَاہوِہ کے جلالی کاموں کا، اَور اُن کے اِسرائیلی سُورماؤں کے سچّے کاموں کا ذِکر کرتے ہیں۔ ”تَب یَاہوِہ کے لوگ نیچے شہر کے پھاٹکوں کے پاس پہُنچے۔
JDG 5:12 ’جاگ، جاگ، اَے دبورہؔ! جاگ، جاگ اَور نغمہ گا! اَے بَراقؔ اُٹھ! اَے اَبی نُوعمؔ کے بیٹے اَپنے اسیروں کو باندھ لے۔‘
JDG 5:13 ”تَب جو لوگ باقی بچے تھے وہ اُتر کر اُمرا کے پاس آئے، یَاہوِہ کے لوگ سُورماؤں کے ساتھ میرے پاس آئے۔
JDG 5:14 کچھ اِفرائیمؔ سے آئے، جِن کی جڑ عمالیقؔ میں ہے؛ بِنیامین بھی اُن لوگوں میں تھا جو تیرے پیچھے آئے۔ مکیرؔ میں سے حاکم اُتر آئے، اَور زبُولُون میں سے وہ لوگ آئے جو سپہ سالار کے عصا بردار ہیں۔
JDG 5:15 یِسَّکاؔر کے حاکم دبورہؔ کے ساتھ تھے؛ ہاں، یِسَّکاؔر بَراقؔ کے ساتھ تھا، جو اُس کے حُکم سے اُس کے پیچھے پیچھے تیزی سے وادی میں پہُنچ گیٔے۔ رُوبِنؔ کے علاقوں میں ہر دِل میں بڑا تردّد تھا۔
JDG 5:16 تُو چرواہوں کی سیٹیاں سُننے کے لیٔے جو گلّوں کے لیٔے بجائی جاتی ہیں، بھیڑوں کے باڑوں کے بیچ کیوں بیٹھا رہا؟ رُوبِنؔ کے علاقوں میں، ہر دِل میں بڑا تردّد تھا۔
JDG 5:17 گِلعادؔ یردنؔ کے پار رُکا رہا۔ اَور دانؔ کشتیوں کے پاس کیوں رہ گیا؟ آشیر سمُندر کے ساحِل پر بیٹھا رہا اَور اَپنی کھاڑیوں میں ٹِک گیا۔
JDG 5:18 زبُولُون والے اَپنی جان پر کھیلنے والے لوگ تھے؛ اَور نفتالی نے بھی مُلک کے اُونچے مقامات پر اَیسا ہی کیا۔
JDG 5:19 ”بادشاہ آئے اَور وہ لڑے؛ اَور کنعانؔ کے بادشاہ۔ مگِدّوؔ کے چشموں کے پاس تعناکؔ میں لڑے، لیکن نہ تو اُنہیں چاندی لَوٹ میں مِلی۔
JDG 5:20 آسمان سے سِتاروں نے بھی یلغار کی، اَپنی اَپنی منزلوں سے وہ سیسؔرا کے خِلاف لڑے۔
JDG 5:21 قیشونؔ ندی اُنہیں بہا لے گئی، وُہی قدیم ندی جو قیشونؔ ندی ہے۔ اَے میری جان تُو قدم بڑھا اَور مضبُوط ہو۔
JDG 5:22 پھر گھوڑوں کے کُھر گرجنے لگے اَور اُس کے ٹاپوں کی آواز۔
JDG 5:23 یَاہوِہ کے فرشتہ نے کہا، ’مِیروزؔ پر لعنت بھیجو۔ اُس کے باشِندوں پر سخت لعنت کرو، کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کو مدد نہ بھیجی، وہ سُورماؤں کے مقابل یَاہوِہ کی مدد کو نہ آئے۔‘
JDG 5:24 ”حِبرؔ قینیؔ کی بیوی یاعیلؔ، عورتوں میں نہایت مُبارک ٹھہرے گی، اَور خیمہ نشین عورتوں میں بھی بڑی برکت والی ہوگی۔
JDG 5:25 سیسؔرا نے پانی مانگا اَور یاعیلؔ نے اُسے دُودھ پِلایا؛ اُمرا کے پیالہ میں وہ اُس کے لیٔے مکھّن لائی۔
JDG 5:26 اُس کا ہاتھ خیمہ کی میخ کی طرف، اَور اُس کا داہنا ہاتھ بڑھئی کے ہتھوڑے کی طرف بڑھا۔ اُس نے سیسؔرا پر وار کیا اَور اُس کا سَر پھوڑ دیا، اَور اُس کی کنپٹی کو چھید کر ریزہ ریزہ کر ڈالا۔
JDG 5:27 وہ اُس کے قدموں میں جھُکا، گِر پڑا اَور ڈھیر ہو گیا۔ وہ اُس کے قدموں میں جھُکا اَور گِر کر ساکت ہو گیا۔ اَور جہاں وہ جھُکا تھا وہیں گِر کر مَرا۔
JDG 5:28 ”سیسؔرا کی ماں نے کھڑکی میں سے جھانکا؛ اَور وہ چِلمن کی اوٹ سے چِلّائی، ’سیسؔرا کے رتھ کے آنے میں اِس قدر دیر کیوں ہُوئی؟ رتھ کے پہیّوں کی کھڑکھڑاہٹ سُنایٔی دینے میں تاخیر کیوں ہُوئی؟‘
JDG 5:29 اُس کی دانشمند خواتین نے جَواب دیا؛ بَلکہ اُس نے اَپنے کو آپ ہی جَواب دیا،
JDG 5:30 ’وہ مالِ غنیمت کو بانٹنے میں لگے ہوں گے؛ ہر مَرد کو ایک ایک یا دو دو دوشیزائیں، سیسؔرا کو رنگ برنگے کے کپڑوں کی لُوٹ، بَلکہ بیل بُوٹے کشیدہ کاری کئے ہُوئے رنگین کپڑوں کی لُوٹ، اَور اُن کے گردن پر بیل بُوٹے والے لپٹے ہُوئے کپڑوں کی لُوٹ۔‘
JDG 5:31 ”اَے یَاہوِہ، آپ کے سَب دُشمن اِسی طرح پسپا ہُوں! لیکن آپ سے مَحَبّت رکھنے والے اُس آفتاب کی مانند ہُوں، جو اَپنی آب و تاب کے ساتھ طُلوع ہوتاہے۔“ تَب مُلک میں چالیس بَرس تک اَمن رہا۔
JDG 6:1 بنی اِسرائیل نے پھر یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی اِس لیٔے اُس نے اُنہیں سات بَرس تک مِدیانیوں کے ہاتھ میں رکھا۔
JDG 6:2 مِدیانیوں کا غلبہ اِس قدر شدید تھا کہ اِسرائیلیوں نے پہاڑوں کے شگافوں میں، غاروں میں اَور چٹّانوں پر اَپنے لیٔے پناہ گاہیں بنا لیں۔
JDG 6:3 جَب بھی بنی اِسرائیل بیج بوتے تو مِدیانی، عمالیقی اَور اہلِ مشرق اُن پر چڑھ آتے۔
JDG 6:4 وہ آتے اَور مُلک میں ڈیرے لگا کر غزّہؔ تک ساری فصل تباہ کر ڈالتے اَور بنی اِسرائیل کے لیٔے کویٔی بھیڑ بکری، گائے بَیل یا گدھا الغرض کویٔی جاندار شَے باقی نہ چھوڑتے تھے۔
JDG 6:5 وہ ٹِڈّیوں کے غول کی مانند آتے تھے اَور اَپنے مویشیوں اَور خیموں سمیت آتے تھے۔ اُن لوگوں کا اَور اُن کے اُونٹوں کا شُمار کرنا ناممکن تھا اَور وہ مُلک کو تباہ کرنے کے لیٔے اُس پر حملہ آور ہوتے تھے۔
JDG 6:6 مِدیانیوں نے اِسرائیلیوں کو اِس قدر خستہ حال کر دیا تھا کہ وہ یَاہوِہ سے اِمداد کے لیٔے فریاد کرنے لگے۔
JDG 6:7 جَب بنی اِسرائیل نے مِدیانیوں کے سبب سے یَاہوِہ سے فریاد کی
JDG 6:8 تو اُنہُوں نے اُن کے پاس ایک نبی بھیجا جِس نے کہا، ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: میں تُمہیں غُلامی کے مُلک مِصر سے نکال لایا۔
JDG 6:9 مَیں تُمہیں مِصریوں کے ہاتھ سے اَور اُن سبھوں کے ہاتھوں سے چھُڑا لایا جو تُم پر ظُلم ڈھاتے تھے۔ مَیں نے اُنہیں تمہارے سامنے سے نکال دیا اَور اُن کا مُلک تُمہیں دے دیا۔
JDG 6:10 مَیں نے تُم سے کہاتھا، ’مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں؛ لہٰذا اِن امُوریوں کے معبُودوں کی عبادت نہ کرنا جِن کے مُلک میں تُم رہتے ہو۔‘ لیکن تُم نے میری بات نہ مانی۔“
JDG 6:11 پھر یَاہوِہ کا فرشتہ آیا اَور عُفرہؔ میں یُوآشؔ ابیعزیری کے بلُوط کے درخت کے نیچے بیٹھ گیا جہاں اُس کا بیٹا گدعونؔ مَے کے ایک کولہو میں چھُپ کر گیہُوں جھاڑ رہاتھا تاکہ اُسے مِدیانیوں سے بچائے رکھے۔
JDG 6:12 جَب یَاہوِہ کا فرشتہ گدعونؔ کو دِکھائی دیا تو فرشتہ نے اُس سے کہا، ”اَے زبردست سُورما! یَاہوِہ تیرے ساتھ ہے۔“
JDG 6:13 گدعونؔ نے اُس سے کہا، ”مُعاف کیجئے میرے آقا، اگر یَاہوِہ ہمارے ساتھ ہے تُو یہ سَب ہمارے ساتھ کیوں ہُوا؟ اُس کے وہ عجِیب و غریب کام کہاں گیٔے جِن کا ذِکر ہمارے آباؤاَجداد ہم سے یُوں کرتے تھے کہ کیا یَاہوِہ ہی ہمیں مِصر سے نہیں نکال لایا؟ لیکن اَب یَاہوِہ نے ہمیں چھوڑ دیا ہے اَور ہمیں مِدیانیوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا۔“
JDG 6:14 تَب یَاہوِہ نے اُس پر نگاہ کی اَور کہا، ”تُو اَپنے اِسی زور میں جا اَور بنی اِسرائیل کو مِدیانیوں کے ہاتھ سے چھُڑا۔ کیا مَیں تُجھے نہیں بھیج رہا؟“
JDG 6:15 ”مُعاف کیجئے میرے آقا،“ گدعونؔ نے پُوچھا، ”لیکن مَیں بنی اِسرائیل کو کیسے بچاؤں؟ میرا برادری بنی منشّہ میں نہایت کمزور ہے اَور مَیں اَپنے خاندان میں سَب سے چھوٹا ہُوں۔“
JDG 6:16 یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”مَیں تیرے ساتھ رہُوں گا اَور تُو سَب مِدیانیوں کو ایک ساتھ مار ڈالے گا۔ اَور کوئی بھی باقی نہ رہے گا۔“
JDG 6:17 گدعونؔ نے آپ سے فرمایا، ”اَب اگر مُجھ پر آپ کی نظرِکرم ہُوئی ہے تو مُجھے اِس کا کویٔی نِشان دِکھائیے کہ آپ ہی مُجھ سے باتیں کر رہے ہیں۔
JDG 6:18 مَیں آپ کی مِنّت کرتا ہُوں کہ جَب تک میں نہ لَوٹوں اَور اَپنی نذریں لاکر آپ کے حُضُور نہ رکھوں، تَب تک آپ یہاں سے نہ جانا۔“ اَور یَاہوِہ نے کہا، ”مَیں تیرے لَوٹنے تک ٹھہرا رہُوں گا۔“
JDG 6:19 گدعونؔ نے اَندر جا کر بکری کا ایک بچّہ اَور ایک ایفہ آٹے کی بے خمیری روٹیاں پکائیں۔ تَب وہ گوشت کو ایک ٹوکری میں اَور شوربے کو ایک برتن میں ڈال کر باہر لے آیا اَور اُسے بلُوط کے درخت کے نیچے فرشتہ کے حُضُور میں پیش کر دیا۔
JDG 6:20 خُدا کے فرشتہ نے اُس سے کہا، ”اِس گوشت اَور بے خمیری روٹیوں کو لے کر اُس چٹّان پر رکھ دے اَور شوربے کو اُنڈیل دے۔“ گدعونؔ نے اَیسا ہی کیا۔
JDG 6:21 یَاہوِہ کے فرشتہ نے اُس عصا کی نوک سے جو اُس کے ہاتھ میں تھا گوشت اَور بے خمیری روٹیوں کو چھُوا۔ تَب چٹّان سے اَچانک آگ نکلی جِس نے اُس گوشت اَور بے خمیری روٹیوں کو بھسم کر ڈالا۔ تَب یَاہوِہ کا فرشتہ غائب ہو گیا۔
JDG 6:22 تَب گدعونؔ نے جان لیا کہ وہ یَاہوِہ کا فرشتہ تھا اَور اُس نے کہا، ”ہائے افسوس ہے اَے خُداوؔند تعالیٰ کہ مَیں نے یَاہوِہ کے فرشتہ کو رُوبرو دیکھا۔“
JDG 6:23 لیکن یَاہوِہ نے اُس سے کہا، ”تیری سلامتی ہو! خوف نہ کر۔ تُو مَرے گا نہیں۔“
JDG 6:24 تَب گدعونؔ نے وہاں یَاہوِہ کے لیٔے مذبح بنایا اَور اُس کا نام ”یَاہوِہ شالوم“ (یعنی یَاہوِہ اَمن ہے) رکھا جو آج کے دِن تک ابیعزیریوں کے عُفرہؔ میں مَوجُود ہے۔
JDG 6:25 اُسی رات یَاہوِہ نے اُس سے کہا، ”اَپنے باپ کے ریوڑ میں سے دُوسرا بَیل جو سات بَرس کا ہے لے۔ بَعل کے مذبح کو جو تیرے باپ کا ہے ڈھا دے اَور اُس کے پاس کی اشیراہؔ کو کاٹ ڈال۔
JDG 6:26 پھر اُس بُلندی کی چوٹی پر یَاہوِہ اَپنے خُدا کے واسطے صحیح قاعدہ کے مُطابق مذبح بنا اَور اشیراہؔ کی لکڑی کو جسے تُونے کاٹ ڈالا ہے جَلا کر اُس دُوسرے بَیل کی سوختنی نذر گذرانا۔“
JDG 6:27 چنانچہ گدعونؔ نے اَپنے خادِموں میں سے دس کو لے کر جَیسا یَاہوِہ نے کہاتھا وَیسا ہی کیا۔ لیکن چونکہ اُسے اَپنے خاندان اَور شہر کے لوگوں کا خوف تھا اِس لیٔے اُس نے یہ کام دِن کی بجائے رات کے وقت کیا۔
JDG 6:28 صُبح جَب شہر کے لوگ جاگے تو اُنہُوں نے دیکھا کہ بَعل کا مذبح ڈھایا ہُواہے اَور اُس کے پاس کی اشیراہؔ کٹی ہُوئی ہے اَور نئے سِرے سے بنائے ہُوئے مذبح پر دُوسرے بَیل کی قُربانی چڑھائی گئی ہے۔
JDG 6:29 وہ ایک دُوسرے سے پُوچھنے لگے، ”یہ کس کا کام ہے؟“ جَب وہ تحقیقات کرنے لگے تو اُنہیں بتایا گیا، ”یُوآشؔ کے بیٹے گدعونؔ نے یہ حرکت کی ہے۔“
JDG 6:30 تَب شہر کے لوگوں نے یُوآشؔ سے کہا، ”اَپنے بیٹے کو باہر لے آ تاکہ وہ قتل کیا جائے کیونکہ اُس نے بَعل کا مذبح ڈھا دیا ہے اَور اُس کے پاس کی اشیراہؔ کو کاٹ ڈالا ہے۔“
JDG 6:31 لیکن یُوآشؔ نے اُن لوگوں سے جو اُس کے اِردگرد ہُجوم جمع تھا اَور غُصّہ سے بھرے ہُوئے تھے کہا، ”کیا تُم بَعل کی خاطِر مُقدّمہ لڑوگے؟ کیا تُم اُسے بچانے کی کوشش کر رہے ہو؟ جو کویٔی اُس کی خاطِر جھگڑا کرےگا وہ صُبح تک ماراجائے گا۔ اگر بَعل واقعی خُدا ہے اَور کویٔی اُس کا مذبح ڈھا دے تو وہ اَپنا بچاؤ آپ کر سَکتا ہے۔“
JDG 6:32 اِس لیٔے اُس دِن اُنہُوں نے گدعونؔ کا نام یہ کہہ کر یرُبّعلؔ رکھا، ”کہ بَعل آپ اُس سے جھگڑ لے، کیونکہ اُس نے بَعل کا مذبح ڈھا دیا تھا۔“
JDG 6:33 تَب سَب مِدیانی اَور عمالیقی اَور دُوسرے اہلِ مشرق اِکٹھّے ہُوئے اَور یردنؔ کو پار کرکے یزرعیلؔ کی وادی میں خیمہ زن ہُوئے۔
JDG 6:34 تَب یَاہوِہ کا رُوح گدعونؔ پر نازل ہُوا اَور اُس نے نرسنگا پھُونکا اَور ابیعزیریوں کو اَپنے پیچھے آنے کو کہا۔
JDG 6:35 اُس نے تمام بنی منشّہ کے پاس قاصِد بھیجے اَور اُنہیں مُسلّح ہوکر جنگ پر آمادہ کیا۔ اَور اُس نے آشیر، زبُولُون اَور نفتالی کے پاس بھی قاصِد بھیجے چنانچہ وہ بھی بنی منشّہ سے آ ملے۔
JDG 6:36 تَب گدعونؔ نے خُدا سے کہا، ”اگر آپ اَپنے قول کے مُطابق میرے ہاتھ سے اِسرائیل کو بچا رہے ہیں۔
JDG 6:37 تو دیکھیں میں ایک بھیڑ کی اُون کھلیان میں رکھ دُوں گا۔ اگر اوس صِرف اُس اُون پر پڑے اَور آس پاس کی زمین سُوکھی رہ جائے تو میں جان لُوں گا کہ آپ اَپنے قول کے مُطابق بنی اِسرائیل کو میرے ہی ہاتھوں رِہائی بخشیں گے۔“
JDG 6:38 اَور اَیسا ہی ہُوا۔ گدعونؔ دُوسرے دِن صُبح سویرے اُٹھا اَور اُس نے اُس اُون میں سے اوس نچُوڑی تو پیالہ بھر پانی نِکلا۔
JDG 6:39 تَب گدعونؔ نے خُدا سے کہا، ”مُجھ پر خفا نہ ہو۔ مُجھے صِرف ایک اَور درخواست کرنے دیں۔ مُجھے اُس اُون سے ایک اَور آزمائش کرنے دیں۔ اَب کی بار اُون خشک رہنے دیں اَور اوس آس پاس کی زمین پر پڑے۔“
JDG 6:40 اُس رات خُدا نے اَیسا ہی کیا یعنی اُون خشک رہی اَور ساری زمین اوس سے تر ہو گئی۔
JDG 7:1 تَب یرُبّعلؔ (یعنی گدعونؔ) اَور اُس کے ساتھ سَب لوگوں نے صُبح سویرے اُٹھ کر حرودؔ کے چشمہ کے پاس اَپنے ڈیرے ڈالے۔ مِدیانیوں کی اُن کے شمال کی طرف کوہِ مورہؔ کے پاس کی وادی میں تھی۔
JDG 7:2 یَاہوِہ نے گدعونؔ سے کہا، ”تیرے ساتھ اِس قدر زِیادہ لوگ ہیں کہ میں مِدیانیوں کو اُن کے ہاتھ میں نہیں کر سَکتا۔ اَیسا نہ ہو کہ اِسرائیل میری بجائے اَپنے اُوپر فخر کرنے لگیں، ’مَیں نے اَپنی قُوّت نے خُود کو بچایا۔‘
JDG 7:3 اِس لیٔے لوگوں میں اعلان کر، ’جو کویٔی خوفزدہ ہے وہ کوہِ گِلعادؔ چھوڑکر لَوٹ جائے۔‘ “ چنانچہ بائیس ہزار لوگ تو لَوٹ گیٔے مگر دس ہزار وہیں جمے رہے۔
JDG 7:4 لیکن یَاہوِہ نے گدعونؔ سے کہا، ”اَب بھی لوگ زِیادہ ہیں۔ اُنہیں چشمہ کے پاس نیچے لے جا؛ اَور وہاں مَیں تیری خاطِر اُنہیں آزماؤں گا۔ تَب میں جِس کے بارے میں کہُوں، ’یہ تیرے ساتھ جائے گا،‘ تو وہ جائے گا؛ لیکن اگر مَیں کہُوں، ’یہ تیرے ساتھ نہیں جائے گا،‘ تو وہ نہ جائے گا۔“
JDG 7:5 چنانچہ گدعونؔ اُن لوگوں کو چشمہ کے پاس نیچے لے گیا۔ وہاں یَاہوِہ نے اُس سے کہا، ”دیکھ کون کون اَپنی زبان سے کُتّے کی طرح چپڑ چپڑ کرکے پانی پیتا ہے اَور کون کون اَپنے گھُٹنے ٹیک کر پیتا ہے۔ اُنہیں الگ الگ کر لینا۔“
JDG 7:6 تین سَو لوگوں نے تو چُلُّو میں پانی لے کر اُسے چپڑ چپڑ کرکے پیا اَور باقی سَب نے گھُٹنے ٹیک کر پیے۔
JDG 7:7 یَاہوِہ نے گدعونؔ سے کہا، ”اِن تین سَو آدمیوں کے ذریعہ جنہوں نے چپڑ چپڑ کرکے پیا مَیں تُمہیں بچاؤں گا اَور مِدیانیوں کو تمہارے ہاتھوں میں کر دُوں گا۔ باقی لوگوں کو اَپنی اَپنی جگہ لَوٹ جانے دینا۔“
JDG 7:8 چنانچہ گدعونؔ نے اُن اِسرائیلیوں کو اَپنے اَپنے خیموں کی طرف روانہ کر دیا اَور اُنہُوں نے اَپنے اَپنے توشہ سفر اَور نرسنگے اُن تین سَو افراد کے حوالہ کر دئیے جنہیں گدعونؔ نے اَپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ اَب مِدیانیوں کی اُن کے نیچے وادی میں تھی۔
JDG 7:9 اُسی رات یَاہوِہ نے گدعونؔ سے کہا، ”اُٹھ اَور نیچے اُتر کر پر چڑھائی کر کیونکہ مَیں اُسے تیرے ہاتھ میں دے دُوں گا۔
JDG 7:10 اگر تُو اُن پر حملہ کرنے سے ڈرتا ہے تو اَپنے خادِم پُوراہؔ کے ساتھ نیچے اُن کی چھاؤنی میں جانا
JDG 7:11 اَور سُن کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ تَب تُجھ میں اُس پر حملہ کرنے کی ہمّت پیدا ہو جائے گی۔“ چنانچہ وہ اَپنے خادِم پُوراہؔ کے ساتھ کی بیرونی چوکی پر گیا۔
JDG 7:12 اَور مِدیانی، عمالیقی اَور دُوسرے سَب مشرقی لوگ وادی میں ٹِڈّیوں کی مانند پھیلے ہُوئے تھے۔ اُن کے اُونٹوں کا شُمار کرنا اُتنا ہی مُشکل تھا جِتنا سمُندر کے کنارے کی ریت کا۔
JDG 7:13 جَب گدعونؔ وہاں پہُنچا تو اُس وقت ایک شخص اَپنے دوست سے اَپنا خواب بَیان کر رہاتھا۔ وہ کہہ رہاتھا، ”مَیں نے خواب دیکھا کہ جَو کی ایک گول مول روٹی لُڑھکتی ہُوئی مِدیانیوں کی چھاؤنی میں آئی۔ وہ خیمہ سے اِس قدر زور سے ٹکرائی کہ وہ خیمہ اُلٹ کر گِر گیا اَور زمین پر جا بِچھا۔“
JDG 7:14 اُس کے دوست نے کہا، ”یہ اُس اِسرائیلی مَرد یُوآشؔ کے بیٹے گدعونؔ کی تلوار کے سِوا اَور کچھ نہیں ہو سَکتا۔ خُدا نے مِدیانیوں کو اَور سارے لشکر کو اُس کے ہاتھ میں کر دیا ہے۔“
JDG 7:15 جَب گدعونؔ نے وہ خواب اَور اُس کی تعبیر سُنی تو خُدا کو سَجدہ کیا۔ وہ اِسرائیلیوں کی چھاؤنی میں لَوٹ آیا اَور کہنے لگا، ”اُٹھو! یَاہوِہ نے مِدیانی کی کو تمہارے ہاتھوں میں کر دیا ہے۔“
JDG 7:16 اُس نے اُن تین سَو آدمیوں کو تین دستوں میں تقسیم کیا اَور اُن سَب کے ہاتھوں میں نرسنگے اَور خالی گھڑے دے دئیے اَور ہر گھڑے کے اَندر ایک ایک مشعل تھی۔
JDG 7:17 اُس نے اُن سے کہا، ”جَیسا مُجھے کرتے دیکھو تُم بھی وَیسا ہی کرنا۔ جَب مَیں چھاؤنی کے کنارے جا پہُنچوں تو جو کچھ میں کروں تُم بھی ٹھیک اُسی طرح کرنا۔
JDG 7:18 جَب مَیں اَور میرے سَب ساتھی اَپنے اَپنے نرسنگے پھُونکیں تو تُم کی چاروں طرف سے اَپنے اَپنے نرسنگے پھُونکنا اَور للکارنا، ’یَاہوِہ کے لیٔے اَور گدعونؔ کے لیٔے!‘ “
JDG 7:19 جوں ہی درمیانی پہرا شروع ہَوا اَور بدلے گیٔے گدعونؔ اَور وہ سَو مَرد جو اُس کے ہمراہ تھے چھاؤنی کے کنارے پر پہُنچے۔ اُنہُوں نے نرسنگے پھُونکے اَور ہاتھوں میں تھامے ہُوئے گھڑوں کو توڑ دیا۔
JDG 7:20 تَب اُن تینوں دستوں نے بھی نرسنگے پھُونکے اَور اَپنے گھڑوں کو توڑ ڈالا اَور اَپنے بائیں ہاتھوں میں مشعلیں لیں اَور اَپنے داہنے ہاتھوں میں نرسنگے لے کر اُنہیں پھُونکا اَور زور زور سے نعرے لگانے لگے، ”یَاہوِہ کی اَور گدعونؔ کی تلوار۔“
JDG 7:21 جَب سَب آدمی کی چاروں طرف اَپنی اَپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے تو مِدیانی اُنہیں دیکھ کر گھبرا گیٔے اَور چیخیں مارتے ہُوئے بھاگ نکلے۔
JDG 7:22 اِس لیٔے کہ جَب تین سَو نرسنگے پھُونکے گیٔے تو یَاہوِہ نے اُن کی ساری پر ایک کی تلوار اُس کے ساتھی پر چلوائی تھی اَور سارا لشکر ضریراہؔ کی جانِب بیت شِتّہؔ تک تقریباً طبّاتؔ کے قریب ابیل مِحولہؔ کی سرحد تک بھاگا۔
JDG 7:23 تَب نفتالی، آشیر اَور سارے منشّہیوں کے مُلک سے اِسرائیلی مَرد جمع ہوکر نکلے اَور اُنہُوں نے مِدیانیوں کا تعاقب کیا۔
JDG 7:24 گدعونؔ نے اِفرائیمؔ کے تمام کوہستانی علاقہ میں بھی قاصِد روانہ کئے اَور وہاں کے لوگوں کو کہلا بھیجا، ”مِدیانیوں کے مُقابلہ کے لیٔے نیچے آؤ اَور اُن سے پہلے بیت بَاراہ تک یردنؔ کے گھاٹوں پر قابض ہو جاؤ۔“ چنانچہ سَب اِفرائیمی مَرد جمع ہُوئے اَور اُنہُوں نے بیت بَاراہ تک یردنؔ کے گھاٹوں پر قبضہ کر لیا۔
JDG 7:25 اُنہُوں نے مِدیانیوں کے دو سرداروں عوریبؔ اَور زئیبؔ کو پکڑ لیا اَور عوریبؔ کو عوریبؔ کی چٹّان پر اَور زئیبؔ کو زئیبؔ کے مے کے حوض کے پاس قتل کیا۔ اُنہُوں نے مِدیانیوں کا تعاقب کیا اَور عوریبؔ اَور زئیبؔ کے سَر کاٹ کر یردنؔ کے پاس گدعونؔ کے پاس لے آئے۔
JDG 8:1 تَب اِفرائیمؔ کے لوگوں نے گدعونؔ سے پُوچھا، ”تُم نے ہمارے ساتھ اَیسا سلُوک کیوں کیا؟ جَب تُم مِدیانیوں سے لڑنے گئے تو ہمیں کیوں نہ بُلایا؟“ اَور وہ اُس کے ساتھ زوردار بحث کرنے لگے۔
JDG 8:2 لیکن اُس نے اُنہیں جَواب دیا، ”مَیں نے تمہاری طرح آخِر کیا ہی کیا ہے؟ کیا اِفرائیمؔ کے چھوڑے ہُوئے انگور ابیعزیر کی انگور کی ساری فصل سے بہتر نہیں؟
JDG 8:3 خُدا نے مِدیانیوں کے حاکم عوریبؔ اَور زئیبؔ کو تمہارے ہاتھوں میں دے دیا ہے۔ اگر مَیں تمہاری جگہ ہوتا تو میں بھی کیا کر پاتا؟“ اِس پر اُس کے خِلاف اُن کا غُصّہ ٹھنڈا پڑ گیا۔
JDG 8:4 گدعونؔ اَور اُس کے تین سَو آدمی تھکاوٹ کے باوُجُود تعاقب کرتے کرتے یردنؔ تک آئے اَور اُسے پار کیا۔
JDG 8:5 اُس نے سُکّوتؔ کے لوگوں سے کہا، ”میرے فَوجیوں کو کچھ روٹیاں دو کیونکہ وہ تھک چُکے ہیں اَور مَیں اَب بھی مِدیانی بادشاہوں زِبؔح اَور ضلمُنعؔ کا تعاقب کر رہا ہُوں۔“
JDG 8:6 لیکن سُکّوتؔ کے اہلکار نے کہا، ”کیا زِبؔح اَور ضلمُنعؔ کے ہاتھ تمہارے قبضہ میں آ چُکے ہیں جو ہم تمہاری فَوج کو روٹیاں دیں؟“
JDG 8:7 تَب گدعونؔ نے کہا، ”اَچھّا جَب یَاہوِہ زِبؔح اَور ضلمُنعؔ کو میرے ہاتھ میں کر دے گا تَب میں جنگلی کانٹوں اَور ببول کی چھڑیوں کی مار سے تمہاری دھجّیاں اُڑا دُوں گا۔“
JDG 8:8 وہاں سے وہ پنی ایل گیا اَور اُن سے بھی وُہی درخواست کی۔ لیکن اُنہُوں نے بھی سُکّوتؔ کے لوگوں کی طرح ہی جَواب دیا۔
JDG 8:9 اِس لیٔے اُس نے پنی ایل کے لوگوں سے کہا، ”جَب مَیں فتح پا کر لَوٹوں گا تو اِس بُرج کو ڈھا دُوں گا۔“
JDG 8:10 زِبؔح اَور ضلمُنعؔ تقریباً پندرہ ہزار لوگوں کی فَوج کے ساتھ قرقُورؔ میں تھے کیونکہ اہلِ مشرق کے لشکر میں سے صِرف اِتنے ہی لوگ بچے تھے، اِس لیٔے کہ ایک لاکھ بیس ہزار شمشیر زن مَرد مارے گیٔے تھے۔
JDG 8:11 گدعونؔ نے نوبحؔ اَور یُگبِہؔا کے مشرق میں رہنے والے خانہ بدوشوں کی راہ سے جا کر ناگہاں اُس لشکر پر حملہ کیا جو بے خوف تھا۔
JDG 8:12 مِدیان کے دونوں بادشاہ زِبؔح اَور ضلمُنعؔ بھاگ گیٔے لیکن اُس نے اُن کا تعاقب کرکے اُنہیں گِرفتار کر لیا اَور اُن کی تمام فَوج کو پسپا کر دیا۔
JDG 8:13 یُوآشؔ کا بیٹا گدعونؔ حیریسؔ کے درّہ کی راہ سے جنگ سے لَوٹا۔
JDG 8:14 اُس نے سوکوتھؔ کے ایک نوجوان کو پکڑا اَور اُس سے پُوچھ تاچھ کی اَور اُس نے اُس کے لیٔے سُکّوتؔ کے ستہتّر اہلکاروں اَور شہر کے بُزرگوں کے نام لِکھ دئیے۔
JDG 8:15 تَب گدعونؔ آیا اَور سُکّوتؔ کے لوگوں سے کہنے لگا، ”یہ رہے زِبؔح اَور ضلمُنعؔ جِن کے بارے میں تُم نے مُجھ سے طنزاً کہاتھا، ’کیا زِبؔح اَور ضلمُنعؔ کے ہاتھ تمہارے قبضہ میں آ چُکے ہیں جو ہم تمہارے تھکے ماندہ لوگوں کو روٹی دیں؟‘ “
JDG 8:16 اُس نے شہر کے بُزرگوں کو پکڑا اَور اُنہیں جنگلی کانٹوں اَور ببول کی چھڑیوں سے سزا دے کر سُکّوتؔ کے لوگوں کو سبق سِکھایا۔
JDG 8:17 اُس نے پنی ایل کا بُرج بھی ڈھا دیا اَور شہر کے لوگوں کو قتل کر دیا۔
JDG 8:18 تَب اُس نے زِبؔح اَور ضلمُنعؔ سے دریافت کیا، ”تُم نے تبورؔ میں جِن لوگوں کو قتل کیا تھا وہ کیسے تھے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”وہ تُجھ جَیسے ہی تھے ہر ایک بادشاہ کے شہزادہ کی مانند تھا۔“
JDG 8:19 گدعونؔ نے کہا، ”وہ میرے بھایٔی تھے میری اَپنی ماں کے بیٹے۔ یَاہوِہ کی حیات کی قَسم اگر تُم نے اُنہیں زندہ چھوڑ دیا ہوتا تو میں بھی تُمہیں نہ مارتا۔“
JDG 8:20 تَب اُس نے اَپنے بڑے بیٹے یترؔ کی طرف مُڑ کر کہا، ”اِنہیں قتل کر دے!“ لیکن یترؔ نے اَپنی تلوار نہ کھینچی کیونکہ وہ ابھی لڑکا ہی تھا اَور ڈر گیا تھا۔
JDG 8:21 تَب زِبؔح اَور ضلمُنعؔ نے کہا، ”آؤ اَور تُم خُود ہمیں قتل کرو کیونکہ، ’جَیسا آدمی ہوتاہے وَیسی ہی اُس کی طاقت ہوتی ہے۔‘ “ چنانچہ گدعونؔ آگے بڑھا اَور اُنہیں قتل کر دیا اَور اُن کے اُونٹوں کی گردنوں سے زیورات کی مالائیں اُتار لیں۔
JDG 8:22 تَب بنی اِسرائیل نے گدعونؔ سے کہا، ”تُم ہم پر حُکومت کرو۔ تُم اَور تیرا بیٹا اَور تیرا پوتا بھی۔ کیونکہ تُم نے ہمیں مِدیانیوں کے ہاتھ سے چھُڑا لیا ہے۔“
JDG 8:23 لیکن گدعونؔ نے اُن سے کہا، ”نہ میں تُم پر حُکومت کروں گا اَور نہ ہی میرا بیٹا۔ بَلکہ یَاہوِہ تُم پر حُکومت کرےگا۔“
JDG 8:24 اَور گدعونؔ نے کہا، ”لیکن میری ایک اِلتجا ہے کہ تُم میں سے ہر ایک اَپنی لُوٹ کے حِصّہ میں سے مُجھے ایک ایک بالی دے۔“ (بنی اِشمعیلیوں میں سونے کی بالیاں پہننے کا رِواج تھا)۔
JDG 8:25 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہم بڑی خُوشی سے دیں گے۔“ چنانچہ اُنہُوں نے ایک چادر بچھائی اَور ہر ایک نے اَپنی لُوٹ کے مال میں سے ایک ایک بالی اُس پر ڈال دی۔
JDG 8:26 اُن سونے کی بالیوں کا وزن جنہیں اُس نے طلب کیا تھا ایک ہزار سات سَو ثاقل تھا۔ اُن کے علاوہ زیورات، طوق اَور مِدیانی بادشاہوں کے پہنے ہُوئے اَرغوانی کپڑے بھی تھے اَور وہ مالائیں بھی تھیں جو اُن کے اُونٹوں کی گردنوں میں تھیں۔
JDG 8:27 گدعونؔ نے اُس سونے سے ایک افُود بنایا جسے اُس نے اَپنے شہر عُفرہؔ میں رکھا جہاں سارے اِسرائیلی اُس کی پرستش شروع کرکے بدکاری کرنے لگے اَور وہ گدعونؔ اَور اُس کے خاندان کے لیٔے ایک پھندا بَن گیا۔
JDG 8:28 اِس طرح مِدیانی بنی اِسرائیل کے آگے مغلُوب ہو گئے اَور اُنہُوں نے پھر کبھی اَپنا سَر نہ اُٹھایا۔ اَور گدعونؔ کے ایّام میں چالیس بَرس تک مُلک میں اَمن رہا۔
JDG 8:29 یُوآشؔ کا بیٹا یرُبّعلؔ اَپنے گھر لَوٹ گیا اَور وہاں رہنے لگا۔
JDG 8:30 گدعونؔ کے اَپنے ستّر بیٹے تھے کیونکہ اُس کی بہت سِی بیویاں تھیں۔
JDG 8:31 اُس کی ایک داشتہ تھی جو شِکیمؔ میں رہتی تھی۔ اُس سے بھی ایک بیٹا ہُوا جِس کا نام اُس نے اَبی ملیخ رکھا۔
JDG 8:32 یُوآشؔ کے بیٹے گدعونؔ نے عمر رسیدہ ہوکر وفات پائی اَور وہ ابیعزیریوں کے عُفرہؔ شہر میں اَپنے باپ یُوآشؔ کی قبر میں دفن کیا گیا۔
JDG 8:33 گدعونؔ کے مَرتے ہی بنی اِسرائیل بَعل معبُودوں کی پرستش شروع کرکے بدکاری کرنے لگ گیٔے۔ اُنہُوں نے بَعل برِیتؔ کو اَپنا معبُود بنا لیا۔
JDG 8:34 اَور بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کو یاد نہ رکھا جِس نے اُنہیں اُن کے ہر طرف کے دُشمنوں کے ہاتھ سے چھُڑایا تھا۔
JDG 8:35 نہ اُنہُوں نے یرُبّعلؔ (یعنی گدعونؔ) کے خاندان کے ساتھ اُن سَب نیکیوں کے عِوض جو اُس نے اِسرائیل کے ساتھ کی تھیں کویٔی ہمدردی نہ جتائی۔
JDG 9:1 یرُبّعلؔ کا بیٹا اَبی ملیخ شِکیمؔ میں اَپنی ماں کے بھائیوں کے پاس گیا اَور اُن سے اَور اَپنی ماں کی ساری برادری سے کہا،
JDG 9:2 ”شِکیمؔ کے سَب لوگوں سے پُوچھو، ’تمہارے لیٔے کیا بہتر ہے؟ یہ کہ یرُبّعلؔ کے سَب ستّر بیٹے تُم پر حُکومت کریں یا صِرف ایک آدمی؟‘ یاد رہے کہ میرا اَور تمہارا خُون کا رشتہ ہے۔“
JDG 9:3 جَب اَبی ملیخ کے ماموؤں نے شِکیمؔ کے باشِندوں سے یہ تذکرہ کیا تو وہ اَبی ملیخ کی پیروی پر آمادہ نظر آئے کیونکہ اُنہُوں نے کہا، ”وہ ہمارا بھایٔی ہے۔“
JDG 9:4 اُنہُوں نے اُسے بَعل برِیتؔ کے مَندِر سے ستّر ثاقل چاندی دی جِس کی مدد سے اَبی ملیخ نے بعض بدمعاشوں اَور لفنگوں کو اَپنا پیروکار بنا لیا۔
JDG 9:5 وہ عُفرہؔ میں اَپنے باپ کے گھر گیا اَور اَپنے ستّر بھائیوں کو جو یرُبّعلؔ کے بیٹے تھے ایک ہی پتّھر پر قتل کر دیا۔ لیکن یرُبّعلؔ کا سَب سے چھوٹا بیٹا یُوتامؔ چھُپ گیا اَور بچ نِکلا۔
JDG 9:6 تَب شِکیمؔ اَور بیت مِلّوؔ کے سَب شہری شِکیمؔ میں سُتون کے پاس بلُوط کے نزدیک شاہِ اَبی ملیخ کی تاجپوشی کے لیٔے جمع ہُوئے۔
JDG 9:7 جَب یُوتامؔ کو یہ خبر ہُوئی تو وہ کوہِ گِرزِیمؔ کی چوٹی پر جا کھڑا ہُوا اَور چِلّاکر اُن سے کہنے لگا، ”اَے شِکیمؔ کے شہریو، میری بات سُنو تاکہ خُدا تمہاری بات سُنے۔
JDG 9:8 ایک دِن درخت اَپنے لیٔے ایک بادشاہ کو مَسح کرنے نکلے۔ اُنہُوں نے زَیتُون کے درخت سے کہا، ’ہم پر بادشاہی کر۔‘
JDG 9:9 ”لیکن زَیتُون کے درخت نے جَواب دیا، ’کیا میں اَپنا تیل چھوڑکر جو خُدا اَور اِنسان دونوں کے اِحترام کے لیٔے اِستعمال ہوتاہے درختوں پر حُکمرانی کرنے جاؤں؟‘
JDG 9:10 ”تَب اُن درختوں نے اَنجیر کے درخت سے کہا، ’آ اَور ہم پر بادشاہی کر!‘
JDG 9:11 ”لیکن اَنجیر کے درخت نے جَواب دیا، ’کیا میں اَپنا پھل جو نہایت عُمدہ اَور شیریں ہے چھوڑکر درختوں پر حُکمرانی کرنے جاؤں؟‘
JDG 9:12 ”تَب اُن درختوں نے انگور کی بیل سے کہا، ’آ اَور ہم پر بادشاہی کر!‘
JDG 9:13 ”لیکن انگور کی بیل نے جَواب دیا، ’کیا میں اَپنی مَے چھوڑکر جو معبُود اَور اِنسان دونوں کی فرحت کا باعث ہے درختوں پر حُکمرانی کرنے جاؤں؟‘
JDG 9:14 ”آخِرکار سَب درختوں نے اُونٹ کٹارے سے کہا، ’آ اَور ہم پر بادشاہی کر!‘
JDG 9:15 ”اُونٹ کٹارے نے درختوں سے کہا، ’اگر تُم واقعی مُجھے مَسح کرکے اَپنا بادشاہ بنانا چاہتے ہو تو آؤ اَور میری چھاؤں میں پناہ لو اَور اگر نہیں تو اُونٹ کٹارے سے آگ نکل کر لبانونؔ کے دیوداروں کو بھسم کر دے!‘
JDG 9:16 ”اَب اگر تُم نے اَبی ملیخ کو بادشاہ بنانے میں اعلیٰ ظرفی اَور نیک نیّتی سے کام لیا ہے اَور اگر تُم یرُبّعلؔ اَور اُس کے خاندان کے ساتھ اِنصاف سے پیش آئے ہو اَور اُس کے ساتھ وَیسا ہی سلُوک کیا ہے جِس کا وہ مُستحق ہے۔
JDG 9:17 اَور یہ سوچا ہے کہ میرا باپ تمہاری خاطِر لڑا اَور تُمہیں مِدیانیوں کے ہاتھوں سے رِہائی دِلانے کے لیٔے اَپنی جان خطرے میں ڈال کر تُمہیں اُن کے ہاتھ سے چُھڑا لیا۔
JDG 9:18 لیکن آج تُم نے میرے باپ کے خاندان کے خِلاف بغاوت کی اَور اُس کے ستّر بیٹوں کو ایک ہی پتّھر پر قتل کر دیا اَور اُس کی لونڈی کے بیٹے اَبی ملیخ کو شِکیمؔ کے شہریوں کا بادشاہ بنایا ہے کیونکہ وہ تمہارا بھایٔی ہے۔
JDG 9:19 لہٰذا اگر آج تُم یرُبّعلؔ اَور اُس کے خاندان کے ساتھ اعلیٰ ظرفی اَور نیک نیّتی سے پیش آئے ہو تو تُم اَبی ملیخ سے خُوش رہو اَور وہ تُم سے خُوش رہے۔
JDG 9:20 لیکن اگر تُم نے اَیسا نہیں کیا ہے تو اَبی ملیخ سے آگ نکلے اَور تُم، شِکیمؔ اَور بیت مِلّوؔ کے شہریوں کو بھسم کرے اَور تُم شِکیمؔ اَور بیت مِلّوؔ کے شہریوں سے بھی آگ نکلے اَور وہ اَبی ملیخ کو بھسم کرے!“
JDG 9:21 تَب یُوتامؔ بھاگ کر بیرؔ چلا گیا اَور وہیں رہا کیونکہ وہ اَپنے بھایٔی اَبی ملیخ سے ڈرتا تھا۔
JDG 9:22 ابھی اَبی ملیخ نے اِسرائیل پر تین بَرس تک حُکومت کی تھی کہ
JDG 9:23 تَب خُدا نے اَبی ملیخ اَور شِکیمؔ کے شہریوں کے درمیان ایک بدرُوح بھیجی جِس کے باعث شِکیمؔ کے شہری اَبی ملیخ سے غدّاری پر اُتر آئے۔
JDG 9:24 خُدا نے یہ اِس لیٔے کیا کہ یرُبّعلؔ کے ستّر بیٹوں کے خِلاف کئے ہُوئے گُناہ اَور اُن کا خُون بہانے کا اِنتقام اُن کے بھایٔی اَبی ملیخ سے اَور شِکیمؔ کے شہریوں سے لیا جائے جنہوں نے اَپنے بھائیوں کو قتل کرنے میں اُس کی مدد کی تھی۔
JDG 9:25 اُس کی مُخالفت میں شِکیمؔ کے شہریوں نے پہاڑیوں کی چوٹیوں پر چھاپہ ماروں کو بِٹھا دیا جو آنے جانے والے ہر شخص کو لُوٹ لیتے تھے۔ اِس کی خبر اَبی ملیخ کو دی گئی۔
JDG 9:26 تَب عبیدؔ کا بیٹا گعلؔ اَپنی برادری سمیت شِکیمؔ میں آیا اَور وہاں کے شہریوں نے اُس پر بھروسا کیا۔
JDG 9:27 پھر وہ کھیتوں میں گیٔے اَور انگور جمع کرکے اُن کا رس نکالا۔ اُس کے بعد وہ اَپنے معبُود کے معبد میں جا کر جَشن منانے لگے۔ اَور جَب وہ کھا پی رہے تھے تو اَبی ملیخ پر لعنت بھیجنے لگے۔
JDG 9:28 تَب گعلؔ بِن عبیدؔ نے کہا، ”اَبی ملیخ کون ہے اَور شِکیمؔ کون ہے کہ ہم اُس کی اِطاعت کریں؟ کیا وہ یرُبّعلؔ کا بیٹا نہیں اَور کیا زبُول اُس کا نائب نہیں ہے؟ تُم شِکیمؔ کے باپ حمُورؔ کے لوگوں کی اِطاعت کرو ہم اَبی ملیخ کی اِطاعت کیوں کریں؟
JDG 9:29 کاش کہ یہ لوگ میرے اِختیار میں ہوتے! تَب مَیں اَبی ملیخ سے پیچھا چُھڑاتا۔ مَیں اَبی ملیخ سے کہتا، ’اَپنے سارے لشکر کو بُلا لا!‘ “
JDG 9:30 جَب شہر کے حاکم زبُول نے گعلؔ بِن عبیدؔ کی یہ باتیں سُنیں تو وہ بہت خفا ہُوا۔
JDG 9:31 اُس نے خُفیہ طور پر اَبی ملیخ کے پاس قاصِد بھیجے اَور کہلا بھیجا، ”عبیدؔ کا بیٹا گعلؔ اَور اُس کے برادری والے شِکیمؔ میں آئے ہیں اَور وہ شہر کو تیرے خِلاف بھڑکا رہے ہیں۔
JDG 9:32 لہٰذا تُم اَور تمہارے لوگ رات کو اُٹھیں اَور میدان میں گھات لگا کر بیٹھ جایٔیں
JDG 9:33 اَور صُبح کو سُورج نکلتے ہی شہر پر چڑھائی کریں۔ جَب گعلؔ اَور اُس کے لوگ تمہارا مُقابلہ کرنے آئیں تو جو کچھ تُم سے بَن پڑے وہ کرنا۔“
JDG 9:34 چنانچہ اَبی ملیخ اَور اُس کے لشکر کے سارے آدمی چار ٹکڑیوں میں رات کے وقت آکر شِکیمؔ کے نزدیک چھُپ کر بیٹھ گیٔے،
JDG 9:35 ٹھیک اُس وقت جَب عبیدؔ کا بیٹا گعلؔ باہر جا کر شہر کے پھاٹک پر کھڑا ہُوا اَبی ملیخ اَور اُس کے سپاہی اَپنی کمین گاہ سے کُود پڑے۔
JDG 9:36 جَب گعلؔ نے اُنہیں دیکھا تو زبُول سے کہا، ”دیکھ لوگ پہاڑوں کی چوٹیوں سے نیچے اُتر رہے ہیں!“ زبُول نے اُس سے کہا، ”تُجھے تو پہاڑوں کے سائے بھی آدمی نظر آتے ہیں۔“
JDG 9:37 لیکن گعلؔ نے پھر کہا: ”دیکھ میدان کے درمیان سے لوگ اُترے چلے آ رہے ہیں اَور ایک دستہ فالگیر والے بلُوط کی طرف سے آ رہاہے۔“
JDG 9:38 تَب زبُول نے اُس سے کہا، ”اَب تمہاری وہ شیخی کہاں گئی جو تُم کہتے تھے، ’اَبی ملیخ کون ہے ہم اُس کی اِطاعت کریں؟‘ کیا یہ وہ لوگ نہیں جنہیں تُم نے حقیر جانا تھا؟ اَب جاؤ اَور اُن سے لڑو!“
JDG 9:39 چنانچہ گعلؔ شِکیمؔ کے شہریوں کو لے کر نِکلا اَور اَبی ملیخ سے لڑا۔
JDG 9:40 اَبی ملیخ نے اُسے رگیدا اَور شہر کے پھاٹک تک پہُنچتے پہُنچتے کیٔی لوگ زخمی ہوکر مَر گئے۔
JDG 9:41 اَبی ملیخ نے ارومہؔ میں قِیام کیا اَور زبُول نے گعلؔ اَور اُس کے برادری کو شِکیمؔ سے نکال دیا۔
JDG 9:42 دُوسرے دِن شِکیمؔ کے لوگ میدان میں جانے کے لیٔے نکلے اَور اَبی ملیخ کو اُس کی خبر دی گئی۔
JDG 9:43 چنانچہ اُس نے اَپنے لوگوں کو لیا اَور اُنہیں تین دستوں میں تقسیم کیا اَور میدان میں گھات لگا کے بیٹھ گیا۔ جَب اُس نے لوگوں کو شہر سے باہر آتے دیکھا تو وہ اُن پر حملہ کرنے کے لیٔے اُٹھا۔
JDG 9:44 اَبی ملیخ اَور اُس کے ساتھ کے دستے والے لپک کر شہر کے پھاٹک پر جا کھڑے ہُوئے اَور دو دستے اُن لوگوں کی طرف جھپٹے جو میدان میں تھے اَور اُنہیں مارنے لگے۔
JDG 9:45 اَبی ملیخ دِن بھر شہر سے لڑتا رہا یہاں تک کہ اُسے سَر کر لیا اَور اُن لوگوں کو جو وہاں تھے قتل کر دیا اَور شہر کو مِسمار کرکے اُس پر نمک چھڑکوا دیا۔
JDG 9:46 یہ سُن کر شِکیمؔ کے بُرج کے تمام شہری البریتؔ کے مَندِر کے قلعہ میں جا گھُسے۔
JDG 9:47 جَب اَبی ملیخ نے یہ سُنا کہ وہ لوگ شِکیمؔ کے بُرج پاس جمع ہُوئے ہیں،
JDG 9:48 تو وہ اَور اُس کے سَب لوگ کوہِ ضلمُونؔ پر چڑھ گیٔے۔ اَبی ملیخ نے ایک کُلہاڑا لیا اَور چند شاخیں کاٹ کر اَپنے کندھوں پر رکھ لیں اَور اَپنے ساتھ کے لوگوں سے کہا، ”جو کچھ تُم نے مُجھے کرتے دیکھاہے تُم بھی جلد وُہی کرو۔“
JDG 9:49 چنانچہ سَب لوگوں نے شاخیں کاٹیں اَور وہ اَبی ملیخ کے پیچھے ہو لیٔے اَور قلعہ کے مقابل اُن کا ڈھیر لگا کر اُن میں آگ لگا دی اَور لوگ اَندر پھنسے رہے۔ چنانچہ شِکیمؔ کے بُرج کے اَندر تمام مَرد اَور عورتیں د جِن کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی مَر گیٔے۔
JDG 9:50 اُس کے بعد اَبی ملیخ تبیضؔ گیا اَور اُس کا محاصرہ کرکے اُسے سَر کر لیا۔
JDG 9:51 البتّہ شہر کے اَندر ایک نہایت مضبُوط بُرج تھا جِس میں شہر کی تمام مَرد اَور عورتیں بھاگ کر جا گھُسے اَور اَپنے آپ کو اَندر سے بند کرکے بُرج کی چھت پر چڑھ گیٔے۔
JDG 9:52 اَبی ملیخ بُرج کے پاس گیا اَور اُس پر دھاوا بول دیا، لیکن جَیسے ہی وہ بُرج کے دروازہ پر اُس میں آگ لگانے کے لیٔے پہُنچا
JDG 9:53 کسی عورت نے چکّی کا اُوپر کا پاٹ اَبی ملیخ کے سَر پر گرا دیا جِس سے اُس کی کھوپڑی پھوٹ گئی۔
JDG 9:54 اُس نے فوراً اَپنے سلاح بردار کو آواز دی اَور کہا، ”اَپنی تلوار کھینچ اَور مُجھے قتل کر ڈال تاکہ یہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں، ’ایک عورت نے اُسے مار ڈالا۔‘ “ چنانچہ اُس کے خادِم نے اَپنی تلوار اُس کے جِسم میں بھونک دی اَور اُس کا دَم نکل گیا۔
JDG 9:55 جَب اِسرائیلیوں نے دیکھا کہ اَبی ملیخ مَر گیا ہے تو وہ گھر چلے گیٔے۔
JDG 9:56 اِس طرح خُدا نے اَبی ملیخ کو اُس شرارت کا بدلہ دیا جو اُس نے اَپنے ستّر بھائیوں کو قتل کرکے اَپنے باپ کے ساتھ کی تھی۔
JDG 9:57 خُدا نے شِکیمؔ کے لوگوں کو بھی اُن کی شرارت کی سزا دی اَور یرُبّعلؔ کے بیٹے یُوتامؔ کی لعنت اُن پر آ پڑی۔
JDG 10:1 اَبی ملیخ کے بعد تولعؔ نام کا ایک شخص جو یِسَّکاؔر کے قبیلہ کا تھا اِسرائیل کی چھُڑوتی کے لیٔے اُٹھا۔ وہ دُودؔو کا پوتا اَور پُوعہؔ کا بیٹا تھا۔ وہ اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک شمیرؔ میں رہتا تھا۔
JDG 10:2 وہ تئیس بَرس تک اِسرائیل کا قاضی رہا اَور اَپنی موت کے بعد شمیرؔ میں دفن کیا گیا۔
JDG 10:3 اُس کے بعد گِلعادی یائیرؔ اُٹھا جو بائیس بَرس تک اِسرائیل کا قاضی رہا۔
JDG 10:4 اُس کے تیس بیٹے تھے جو تیس گدھوں پر سوار ہُوا کرتے تھے۔ گِلعادؔ میں تیس شہر اُن کے اِختیار میں تھے جو آج کے دِن تک حوّوت یائیرؔ کہلاتےہیں۔
JDG 10:5 جَب یائیرؔ نے وفات پائی تو وہ قامونؔ میں دفن کیا گیا۔
JDG 10:6 بنی اِسرائیل نے پھر یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی اَور بَعل، عستوریتؔ اَور ارام کے معبُودوں، صیدونؔ کے معبُودوں، مُوآب کے معبُودوں، بنی عمُّون کے معبُودوں اَور فلسطینیوں کے معبُودوں کی پرستش کرنے لگے۔ چونکہ بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کو ترک کر دیا تھا اَور اُس کی عبادت نہ کرتے تھے
JDG 10:7 اِس لیٔے یَاہوِہ بنی اِسرائیل سے خفا ہو گئے اَور اُنہُوں نے اُنہیں فلسطینیوں اَور بنی عمُّون کے ہاتھ بیچ دیا۔
JDG 10:8 جنہوں نے اُس سال بنی اِسرائیل کو خُوب ستایا اَور اُنہیں کُچل ڈالا اَور وہ اٹھّارہ بَرس تک یردنؔ کے مشرق میں امُوریوں کے مُلک گِلعادؔ میں بسے ہُوئے تمام بنی اِسرائیلیوں پر ظُلم ڈھاتے رہے۔
JDG 10:9 بنی عمُّون بھی یردنؔ پار کرکے یہُوداہؔ، بِنیامین اَور اِفرائیمؔ کے خاندان سے لڑنے آ جاتے تھے۔ چنانچہ اِسرائیلی بڑی مُشکل میں پڑ گیٔے تھے۔
JDG 10:10 تَب بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ سے فریاد کی، ”ہم نے تیرے خِلاف گُناہ کیا اَور اَپنے خُدا کو ترک کرکے بَعل معبُودوں کی پرستش کی۔“
JDG 10:11 یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کو جَواب دیا، ”جَب مِصریوں، امُوریوں، بنی عمُّون، فلسطینیوں،
JDG 10:12 صیدونیوں، عمالیقیوں اَور معونیوں نے تُم پر ظُلم ڈھائے اَور تُم نے اِمداد کے لیٔے مُجھ سے فریاد کی، تَب کیا مَیں نے تُمہیں اُن کے ہاتھ سے رِہائی نہیں بخشی؟
JDG 10:13 لیکن تُم نے مُجھے ترک کرکے اَور معبُودوں کی پرستش کی اِس لیٔے اَب مَیں تُمہیں رِہائی نہ دُوں گا۔
JDG 10:14 جاؤ اَور اُن معبُودوں کے سامنے آہ و زاری کرو جنہیں تُم نے اَپنا لیا ہے۔ وُہی تمہاری مُصیبت کے وقت تُمہیں چھُڑائیں۔“
JDG 10:15 لیکن بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ سے کہا، ”ہم نے گُناہ کیا ہے اِس لیٔے ہمارے ساتھ وُہی کیجئے جو آپ بہتر سمجھتے ہیں۔ لیکن اَب ہمیں چھُڑا لیں۔“
JDG 10:16 تَب اُنہُوں نے غَیر معبُودوں کو اَپنے درمیان سے دُور کر دیا اَور وہ یَاہوِہ کی عبادت کرنے لگے اَور خُدا اِسرائیل کی پریشانی کو اَور زِیادہ برداشت نہ کر سکے۔
JDG 10:17 جَب بنی عمُّون مُسلّح ہوکر گِلعادؔ میں کھڑی کر دی تو اِسرائیلی اِکٹھّے ہوکر مِصفاہؔ میں کی۔
JDG 10:18 تَب گِلعادؔ کے لوگوں کے سردار، ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”جو کویٔی بنی عمُّون پر حملہ کا آغاز کرےگا وُہی گِلعادؔ کے سَب باشِندوں کا سردار ہوگا۔“
JDG 11:1 گِلعادی یِفتاحؔ ایک زبردست سُورما تھا۔ وہ گِلعادؔ کا بیٹا تھا اَور اُس کی ماں ایک لونڈی تھی۔
JDG 11:2 گِلعادؔ کی بیوی سے بھی بیٹے پیدا ہُوئے اَور جَب وہ بڑے ہو گئے تو اُنہُوں نے یِفتاحؔ کو یہ کہہ کر نکال دیا، ”تُجھے ہمارے خاندان میں کویٔی مِیراث نہ ملے گی کیونکہ تُو غَیر عورت کا بیٹا ہے۔“
JDG 11:3 تَب یِفتاحؔ اَپنے بھائیوں کے پاس سے بھاگ گیا اَور طوبؔ کے مُلک میں جا بسا جہاں کیٔی بدمعاش اُس کے ساتھی ہو گئے اَور اُس کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔
JDG 11:4 کچھ عرصہ بعد اَیسا ہُوا کہ بنی عمُّون نے بنی اِسرائیل کے خِلاف جنگ چھیڑ دی،
JDG 11:5 جب عمُّونی اِسرائیلیوں سے جنگ کر رہے تھے تَب گِلعادؔ کے بُزرگ یِفتاحؔ کو لانے طوبؔ کے مُلک میں گیٔے
JDG 11:6 اَور یِفتاحؔ سے کہنے لگے کہ، ”چل کر ہمارا سردار بَن جاؤ، تاکہ ہم بنی عمُّون سے لڑ سکیں۔“
JDG 11:7 یِفتاحؔ نے گِلعادؔ کے سرداروں کو جَواب دیا، ”تُم نے تو مُجھ سے دُشمنی کرکے مُجھے اَپنے باپ کے گھر سے نکال دیا تھا اَب مُصیبت آ پڑی، کیوں میرے پیچھے پڑے ہو؟“
JDG 11:8 گِلعادؔ کے بُزرگوں نے یِفتاحؔ سے کہا، ”خیر اَب تو ہم تُجھ سے مدد کے طلب گار ہیں۔ ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم بنی عمُّون سے جنگ کر سکیں اَور تُم ہی ہمارے اَور گِلعادؔ کے سارے باشِندوں کا حاکم ہوگا۔“
JDG 11:9 یِفتاحؔ نے گِلعادؔ کے بُزرگوں کو جَواب دیا، ”فرض کرو کہ تُم مُجھے بنی عمُّون سے لڑنے کے لیٔے لے چلتےہو اَور یَاہوِہ اُنہیں میرے حوالہ کر دیتے ہیں تو کیا واقعی میں تمہارا حاکم ہُوں گا؟“
JDG 11:10 گِلعادؔ کے بُزرگوں نے یِفتاحؔ کو جَواب دیا، ”یَاہوِہ ہمارا گواہ ہے؛ ہم یقیناً وُہی کریں گے جو تُم کہتاہے۔“
JDG 11:11 لہٰذا یِفتاحؔ گِلعادؔ کے بُزرگوں کے ساتھ گیا اَور لوگوں نے اُسے اَپنا حاکم اَور سردار بنایا اَور اُس نے مِصفاہؔ میں یَاہوِہ کے سامنے اَپنے عہدوپیمان دہرائے۔
JDG 11:12 تَب یِفتاحؔ نے بنی عمُّون کے بادشاہ کے پاس قاصِد بھیج کر یہ سوال کیا کہ تُمہیں ہم سے کیا دُشمنی ہے: ”تُم نے ہمارے مُلک پر حملہ کیا ہے؟“
JDG 11:13 بنی عمُّون کے بادشاہ نے یِفتاحؔ کے قاصِدوں کو جَواب دیا، ”جَب بنی اِسرائیل مِصر سے نکل آئےتھے تو اُنہُوں نے ارنُونؔ سے یبّوقؔ اَور یردنؔ تک میرا سارا مُلک لے لیا تھا۔ اَب اُسے صُلح اَور سلامتی کے ساتھ لَوٹا دیں۔“
JDG 11:14 یِفتاحؔ نے عمُّون کے بادشاہ کے پاس پھر قاصِد بھیجے،
JDG 11:15 اَور کہلا بھیجا: ”یِفتاحؔ یُوں کہتاہے کہ بنی اِسرائیل نے نہ تو مُوآب کا مُلک اَور نہ بنی عمُّون کا مُلک چھینا۔
JDG 11:16 لیکن جَب بنی اِسرائیل اِس مِصر سے نکل آئے تو وہ بیابان میں سے ہوتے ہُوئے بحرِقُلزمؔ تک آئے اَور قادِسؔ میں پہُنچے۔
JDG 11:17 تَب اِسرائیلیوں نے اِدُوم کے بادشاہ کے پاس قاصِد روانہ کئے اَور یہ کہلا بھیجا، ’ہمیں اَپنے مُلک میں سے ہوکر جانے کی اِجازت دے۔‘ لیکن اِدُوم کے بادشاہ نے اُن کی نہ مانی۔ اُنہُوں نے مُوآب کے بادشاہ کے پاس بھی یہی پیغام بھیجا اَور اُس نے بھی اِنکار کیا۔ اِس لیٔے اِسرائیلی قادِسؔ میں رہ گیٔے۔
JDG 11:18 ”اُس کے بعد وہ بیابان میں سے ہوتے ہُوئے اِدُوم اَور مُوآب کے مُلکوں کے باہر ہی سے چکّر کاٹ کر مُوآب کے مُلک کے مشرق کی طرف سے گزرتے ہُوئے ارنُونؔ کے اُس پار چھاؤنی میں رہے۔ وہ مُوآب کی سرزمین میں داخل نہ ہُوئے کیونکہ ارنُونؔ اُس کی سرحد ہے۔
JDG 11:19 ”پھر اِسرائیلیوں نے امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کے پاس جو حِشبونؔ میں حُکمران تھا قاصِد روانہ کئے اَور اُس سے کہا، ’ہمیں اَپنے مُلک میں سے ہوتے ہُوئے اَپنی جگہ چلے جانے دے۔‘
JDG 11:20 لیکن سیحونؔ نے اِسرائیلیوں کااِتنا اِعتبار نہ کیا کہ اُنہیں اَپنے مُلک میں سے ہوکر جانے دیتا بَلکہ اُس نے اَپنے سَب لوگوں کو جمع کیا اَور یہصہؔ کے مقام پر کی چھاؤنی لگائی۔ اَور اِسرائیلیوں سے جنگ چھیڑ دی۔
JDG 11:21 ”تَب یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا نے سیحونؔ اَور اُس کے سَب لوگوں کو اِسرائیلیوں کے ہاتھوں میں کر دیا اَور اُنہُوں نے اُنہیں شِکست دے کر اُس مُلک میں رہنے والے امُوریوں کی ساری سرزمین پر قبضہ کر لیا
JDG 11:22 جو ارنُونؔ سے یبّوقؔ اَور بیابان سے یردنؔ کی امُوری سرحدوں تک قابض ہو گئے۔
JDG 11:23 ”اَب جَب کہ یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا نے امُوریوں کو اَپنی قوم اِسرائیل کے سامنے سے نکال دیا ہے تو تُمہیں کیا حق ہے جو اُس پر قبضہ کریں؟
JDG 11:24 اگر تمہارا معبُود کموشؔ تُمہیں کچھ دے تو کیا تُم اُسے نہ لوگے؟ اِسی طرح جو کُچھ یَاہوِہ ہمارے خُدا ہمیں دیں تو کیا ہم اُن پر قابض نہ ہوں؟
JDG 11:25 کیا تُم مُوآب کے بادشاہ بلقؔ بِن صِفُورؔ سے بہتر ہے؟ کیا اُس نے اِسرائیلیوں سے کبھی جھگڑا کیا یا اُن سے لڑا؟
JDG 11:26 جَب اِسرائیلی تین سَو سال سے حِشبونؔ، عروعؔر، گِردونواح کے قصبوں اَور ارنُونؔ کے کنارے کے سَب شہروں پر قابض تھے تو اِتنے عرصہ تک تُم نے اُنہیں آزاد کیوں نہیں کروایا؟
JDG 11:27 مَیں نے تو تمہارا کُچھ نہیں بگاڑا بَلکہ تُم ہی مُجھ سے جنگ چھیڑ کر مُجھ پر ظُلم کر رہاہے۔ اَب تو یَاہوِہ ہی جو عادل ہے آج کے دِن بنی اِسرائیل اَور بنی عمُّون کے درمیان اِس تنازعہ کا فیصلہ کریں گے۔“
JDG 11:28 لیکن عمُّون کے بادشاہ نے یِفتاحؔ کے بھیجے ہُوئے پیغام پر کویٔی دھیان نہ دیا۔
JDG 11:29 تَب یَاہوِہ کا رُوح یِفتاحؔ پر نازل ہُوا اَور وہ گِلعادؔ اَور منشّہ سے گزر کر گِلعادؔ کے مِصفاہؔ سے ہوتا ہُوا بنی عمُّون کی طرف بڑھا۔
JDG 11:30 اَور یِفتاحؔ نے یَاہوِہ کی مَنّت مانی اَور کہا: ”اگر آپ بنی عمُّون کو میرے ہاتھ میں کر دیں
JDG 11:31 تو جَب مَیں بنی عمُّون پر فتحیاب ہوکر لَوٹوں تو اُس وقت جو کویٔی میرے گھر کے دروازہ سے نکل کر میرے اِستِقبال کو آئے وہ یَاہوِہ کا ہوگا اَور مَیں اُسے سوختنی نذر کے طور پر پیش کروں گا۔“
JDG 11:32 تَب یِفتاحؔ بنی عمُّون سے جنگ کرنے نِکلا اَور یَاہوِہ نے اُنہیں اُس کے ہاتھ میں کر دیا۔
JDG 11:33 وہ اُنہیں عروعؔر سے مِنّیتؔ تک کے بیس شہروں بَلکہ ابیل کرامِیمؔ تک تباہ کرتا چلا گیا۔ اِس طرح بنی اِسرائیل بنی عمُّون پر غالب آئے۔
JDG 11:34 جَب یِفتاحؔ مِصفاہؔ میں اَپنے گھر آیا تو اُس کی اَپنی بیٹی اُس کے اِستِقبال کو نکلی۔ وہ دفوں کی دھُن پر رقص کرتی ہُوئی آئی! وہ اُس کی اِکلوتی بیٹی تھی اَور اُس کے علاوہ نہ تو اُس کے کویٔی بیٹا تھا نہ بیٹی۔
JDG 11:35 جَب اُس نے اُسے دیکھا تو اَپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اَور رو دیا اَور کہنے لگا، ”اَے میری بیٹی! تُم ہی میرے درد و غم کا باعث بَن گئی کیونکہ مَیں نے یَاہوِہ سے ایک قَسم کھائی ہے جسے میں توڑ نہیں سَکتا۔“
JDG 11:36 اُس نے کہا، ”اَے میرے باپ! اگر تُم نے یَاہوِہ کی مَنّت مانی تھی تو جو کچھ تمہارے مُنہ سے نِکلا اُسے عَمل میں لاؤ، کیونکہ یَاہوِہ نے تمہارے دُشمنوں بنی عمُّون سے تمہارا اِنتقام لے لیا ہے۔“
JDG 11:37 لیکن میری ایک اِلتجا سُن! اُس نے کہا، ”مُجھے دو ماہ کی مہلت دیں تاکہ میں پہاڑوں پر گھُومتی پھروں اَور اَپنی سہیلیوں کے ساتھ اَپنے کنوارےپن پر روؤں۔“
JDG 11:38 اُس نے کہا، تُو جا سکتی ہے۔ تَب اُس نے اُسے دو ماہ کے لیٔے رخصت دی اَور وہ اَپنی سہیلیوں کے ساتھ پہاڑوں پر گئی اَور اَپنے کنوارےپن پر روتی رہی۔
JDG 11:39 دو ماہ بعد وہ اَپنے باپ کے پاس واپس لَوٹ آئی اَور اُس نے جو مَنّت مانی تھی اُسے پُورا کیا۔ وہ دُنیا سے کنواری ہی رخصت ہُوئی۔ تَب سے بنی اِسرائیل میں روایت چلی آ رہی ہے
JDG 11:40 کہ ہر سال اِسرائیلیوں کی دوشیزائیں چار دِن کے لیٔے باہر چلی جاتی ہیں اَور یِفتاحؔ گِلعادی کی بیٹی کی یاد میں نوحہ کرتی ہیں۔
JDG 12:1 اِفرائیمؔ کے لوگوں نے اَپنی فَوج جمع کی اَور ضِفونؔ کو جا کر یِفتاحؔ سے کہنے لگے، ”تُم ہمیں اَپنے ساتھ لیٔے بغیر بنی عمُّون سے لڑنے کیوں گئے؟ ہم تُمہیں پُورے گھر سمیت جَلا دیں گے۔“
JDG 12:2 یِفتاحؔ نے جَواب دیا، ”میں اَور میرے لوگ بنی عمُّون کے ساتھ بڑے جھگڑے میں اُلجھے ہُوئے تھے اَور جَب مَیں نے تُمہیں بُلایا تو تُم مُجھے اُن کے ہاتھ سے چھُڑانے کے لیٔے نہیں آئے۔
JDG 12:3 جَب مَیں نے دیکھا کہ تُم مدد نہ کروگے تو مَیں نے اَپنی جان ہتھیلی پر رکھی اَور بنی عمُّون کے مُقابلہ کو نِکلا اَور یَاہوِہ نے مُجھے اُن پر فتح بخشی۔ اَب آج تُم مُجھ سے لڑنے کیوں آئے ہو؟“
JDG 12:4 تَب یِفتاحؔ گِلعادؔ کے لوگوں کو جمع کرکے اِفرائیمؔ کے لوگوں سے لڑا اَور گِلعادیوں نے اُنہیں مارا کیونکہ اِفرائیمؔ کے لوگوں نے کہاتھا، ”تُم گِلعادی اِفرائیمؔ اَور منشّہ کو چھوڑکر بھاگے ہُوئے لوگ ہو۔“
JDG 12:5 گِلعادیوں نے یردنؔ کے گھاٹوں پر قبضہ کر لیا جو اِفرائیمؔ کی راہ پر تھا۔ اَور جَب کویٔی اِفرائیمؔ سے بھاگ آتا اَور کہتا، ”مُجھے اُس پار جانے دو،“ تو گِلعادؔ کے لوگ اُس سے پُوچھتے، ”کیا تُم اِفرائیمی ہو؟“ اَور اگر وہ کہتا، ”نہیں،“
JDG 12:6 تو وہ کہتے کہ ٹھیک ہے، ذرا لفظ ”شِبُّولِیتھ،“ تو بولو۔ اگر وہ صحیح تلفّظ کی بجائے، ”سِبُّولِیتھ“ کہتا تو وہ اُسے پکڑکر یردنؔ کے گھاٹ پر مار ڈالتے تھے۔ چنانچہ اُس وقت بِیالیس ہزار بنی اِفرائیمؔ کے لوگ مارے گیٔے۔
JDG 12:7 یِفتاحؔ چھ بَرس تک اِسرائیل کا قاضی رہا۔ تَب یِفتاحؔ گِلعادی نے وفات پائی اَور گِلعادؔ ہی کے کسی شہر میں دفنایا گیا۔
JDG 12:8 اُس کے بعد اِبصانؔ جو بیت لحمؔ کا تھا اِسرائیل کا قاضی بنا۔
JDG 12:9 اُس کے تیس بیٹے اَور تیس بیٹیاں تھیں۔ اُس نے اَپنے برادری کے باہر کے مَردوں سے اَپنی بیٹیاں بیاہ دیں اَور اَپنے بیٹوں کے لیٔے بھی اَپنے برادری کے باہر سے تیس جَوان عورتیں بیاہ کر لایا۔ اِبصانؔ سات سال تک اِسرائیل کا قاضی بنا رہا۔
JDG 12:10 تَب اِبصانؔ مَر گیا اَور بیت لحمؔ میں دفنایا گیا۔
JDG 12:11 اُس کے بعد ایلون زبُولُونی دس بَرس تک اِسرائیل کا قاضی ہُوا۔
JDG 12:12 تَب ایلون مَر گیا اَور زبُولُون کے مُلک ایّالونؔ میں دفنایا گیا۔
JDG 12:13 اُس کے بعد فِرعاتونی ہلّیل کا بیٹا عبدونؔ اِسرائیل کا قاضی ہُوا۔
JDG 12:14 اُس کے چالیس بیٹے اَور تیس پوتے تھے جو ستّر گدھوں پر سوار ہَوا کرتے تھے۔ وہ آٹھ سال تک اِسرائیل کا قاضی رہا۔
JDG 12:15 تَب ہلّیل کا بیٹا عبدونؔ مَر گیا اَور عمالیقیوں کے کوہستانی علاقہ میں اِفرائیمؔ میں فِرعاتون کے مقام پر دفنایا گیا۔
JDG 13:1 اَور بنی اِسرائیل نے پھر یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی۔ اِس لیٔے یَاہوِہ نے چالیس بَرس تک اُنہیں فلسطینیوں کے ہاتھ میں دے دیا۔
JDG 13:2 دانیوں کے برادری سے ضورعاہؔ میں رہنے والا ایک شخص تھا جِس کا نام منوحہؔ تھا۔ اُس کی بیوی بانجھ تھی اِس لیٔے اُس کے کویٔی بچّہ نہ ہُوا۔
JDG 13:3 یَاہوِہ کا فرشتہ اُسے دِکھائی دیا اَور اُس نے کہا، ”دیکھ! تُو بانجھ اَور بے اَولاد ہے لیکن تُو حاملہ ہوگی اَور تیرے ہاں بیٹا ہوگا۔
JDG 13:4 لہٰذا خیال رہے کہ تُم نہ مَے، نہ کویٔی خمیر شُدہ مشروب شَے پینا اَور نہ ہی کویٔی ناپاک چیز کھانا۔
JDG 13:5 کیونکہ تُو حاملہ ہوگی اَور بیٹا جنے گی۔ اُس کے سَر پر کبھی اُسترا نہ پھیرا جائے کیونکہ وہ لڑکا اَپنی ماں کے پیٹ ہی سے خُدا کا نذیر ہوگا اَور وہ اِسرائیلیوں کو فلسطینیوں کے ہاتھ سے رِہائی دینا شروع کرےگا۔“
JDG 13:6 تَب وہ عورت اَپنے خَاوند کے پاس گئی اَور اُسے بتایا، ”ایک مَرد خُدا میرے پاس آئے۔ وہ یَاہوِہ کے فرشتہ کی مانند نہایت مُہیب نظر آئے۔ مَیں نے اُن سے یہ نہیں پُوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہو اَور نہ ہی اُنہُوں نے مُجھے اَپنا نام بتایا۔
JDG 13:7 لیکن اُنہُوں نے مُجھ سے کہا، ’تُو حاملہ ہوگی اَور بیٹا جنے گی۔ اِس لیٔے نہ مَے، نہ کویٔی خمیر شُدہ مشروب شَے پینا اَور نہ ہی کویٔی ناپاک چیز کھانا۔ کیونکہ وہ لڑکا پیدائش سے لے کر اَپنی موت کے دِن تک خُدا کا نذیر رہے گا۔‘ “
JDG 13:8 تَب منوحہؔ نے یَاہوِہ سے دعا کی: ”اَپنے خادِم کو مُعاف کر دیں، اَے خُداوؔند! مَیں آپ کی مِنّت کرتا ہُوں کہ وہ مَرد خُدا جسے آپ نے بھیجا تھا ہمارے پاس پھر آئے اَور ہمیں سِکھائے کہ ہم اُس لڑکے کی جو پیدا ہونے والا ہے کس طرح پرورِش کریں؟“
JDG 13:9 خُدا نے منوحہؔ کی دعا سُن لی اَور جَب وہ عورت کھیت میں تھی تو خُدا کا فرشتہ پھر اُس کے پاس آیا لیکن تَب اُس کا خَاوند منوحہؔ اُس کے ساتھ نہ تھا۔
JDG 13:10 اُس عورت نے دَوڑ کے جا کر اَپنے خَاوند کو اِطّلاع دی، ”وہ آدمی جو اُس دِن مُجھے دِکھائی دیا تھا اَب یہاں ہے۔“
JDG 13:11 منوحہؔ اُٹھ کر اَپنی بیوی کے پیچھے پیچھے گیا۔ جَب وہ اُس آدمی کے پاس پہُنچا تو اُس سے پُوچھا، ”کیا آپ وُہی شخص ہے جِس نے میری بیوی سے باتیں کیں؟“ اُس نے کہا، ”ہاں میں وُہی ہُوں۔“
JDG 13:12 تَب منوحہؔ نے اُس سے پُوچھا، ”جَب آپ کا کہا پُورا ہو جائے تو ہمیں اُس لڑکے کی زندگی اَور کام کاج کے بارے میں کُن باتوں کا خیال رکھنا ہوگا؟“
JDG 13:13 یَاہوِہ کے فرشتہ نے منوحہؔ کو جَواب دیا، ”تیری بیوی اُن سَب باتوں پر عَمل کرے جو مَیں نے اُسے بتایٔی ہیں۔
JDG 13:14 وہ انگور سے پیدا ہونے والی کویٔی شَے نہ کھائے، نہ کویٔی خمیر شُدہ مشروب شَے پینا اَور نہ ہی کویٔی ناپاک چیز کھانا۔ اَور وہ ہر حُکم پرجو مَیں نے اُسے دیا ہے عَمل کرے۔“
JDG 13:15 منوحہؔ نے یَاہوِہ کے فرشتہ سے کہا، ”ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ یہاں رُک جائے تاکہ ہم آپ کے لیٔے بکری کا بچّہ ذبح کریں اَور اُسے پکائیں۔“
JDG 13:16 یَاہوِہ کے فرشتہ نے کہا، ”اگر تُم مُجھے روک بھی لو، تو بھی میں تمہارا کویٔی کھانا نہ کھاؤں گا۔ لیکن اگر تُم سوختنی نذر تیّار کریں تو اُسے یَاہوِہ کے لیٔے پیش کرو۔“ (منوحہؔ کو اِس بات کا احساس نہ تھا کہ وہ یَاہوِہ کا فرشتہ ہے۔)
JDG 13:17 تَب منوحہؔ نے یَاہوِہ کے فرشتہ سے پُوچھا، ”آپ کا نام کیا ہے تاکہ جَب آپ کی باتیں پُوری ہُوں تو ہم آپ کی اِحترام کر سکیں؟“
JDG 13:18 یَاہوِہ کے فرشتہ نے اُس سے کہا، ”تُم میرا نام کیوں پُوچھ رہے ہو، کیونکہ اُسے کویٔی نہیں سمجھ سَکتا۔“
JDG 13:19 تَب منوحہؔ نے اناج کی نذر کی قُربانی سمیت بکری کا ایک بچّہ لے کر اُسے ایک چٹّان پر خُداوؔند کے لئے پیش کیا اَور یَاہوِہ نے منوحہؔ اَور اُس کی بیوی کی نظروں کے سامنے ایک عجِیب کام کیا۔
JDG 13:20 جوں ہی آگ کا شُعلہ مذبح پر سے آسمان کی طرف بُلند ہُوا یَاہوِہ کا فرشتہ اُس شُعلہ میں ہوکر اُوپر چلا گیا۔ یہ دیکھ کر منوحہؔ اَور اُس کی بیوی مُنہ کے بَل زمین پر گِر پڑے۔
JDG 13:21 جَب یَاہوِہ کا فرشتہ منوحہؔ اَور اُس کی بیوی کو نظر نہ آئے تو منوحہؔ نے جانا کہ وہ یَاہوِہ کا فرشتہ تھا۔
JDG 13:22 منوحہؔ نے اَپنی بیوی سے کہا، ”اَب ہم ضروُر مَر جایٔیں گے کیونکہ ہم نے خُدا کو دیکھاہے۔“
JDG 13:23 لیکن اُس کی بیوی نے کہا، ”اگر یَاہوِہ چاہتے کہ ہمیں مار ڈالے تو ہمارے ہاتھ سے سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی قبُول نہ کرتے نہ وہ ہمیں یہ سَب کُچھ دِکھانے اَور نہ ہی اُس وقت ہم سے اَیسی باتیں کہتے۔“
JDG 13:24 اُس عورت کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہُوا اَور اُس نے اُس کا نام شِمشُونؔ رکھا۔ وہ لڑکا بڑا ہُوا اَور یَاہوِہ نے اُسے برکت دی۔
JDG 13:25 اَور جَب وہ ضورعاہؔ اَور اِستالؔ کے درمیان محنے دانؔ میں تھا تو یَاہوِہ کی رُوح نے اُسے متحّرک کرنا شروع کر دیا۔
JDG 14:1 شِمشُونؔ تِمنؔہ کو گیا اَور وہاں اُس کی نظر ایک جَوان فلسطینی دوشیزہ پر پڑی۔
JDG 14:2 جَب وہ لَوٹا تو اَپنے والدین سے کہنے لگا، ”مَیں نے تِمنؔہ میں ایک فلسطینی عورت دیکھی ہے۔ تُم اُس سے میرا بیاہ کرا دو۔“
JDG 14:3 اُس کے والدین نے کہا، ”کیا تیرے رشتہ داروں اَور ہماری ساری قوم میں کویٔی عورت نہیں جو تُجھے پسند ہو؟ کیا یہ ضروُری ہے کہ تُم نامختون فلسطینیوں میں سے اَپنے لیٔے بیوی لایٔے؟“ لیکن شِمشُونؔ نے اَپنے باپ سے کہا، ”میری نظروں میں وہ ہی صحیح ہے، اُسی سے میرا بیاہ کرا دے۔“
JDG 14:4 (اُس کے والدین کو مَعلُوم نہ تھا کہ یہ یَاہوِہ کی طرف سے ہے جو فلسطینیوں کے خِلاف بدلہ لینے کا بہانہ ڈھونڈ رہاتھا کیونکہ اُن دِنوں وہ اِسرائیلیوں پر حُکومت کرتے تھے۔)
JDG 14:5 شِمشُونؔ اَپنے والدین کے ساتھ تِمنؔہ جا رہاتھا کہ تِمنؔہ کے تاکستانوں کے نزدیک پہُنچتے ہی ایک جَوان شیر گرجتا ہُوا اُس کی طرف آ لپکا۔
JDG 14:6 تَب یَاہوِہ کا رُوح اُس پر اِس قدر زور سے نازل ہُوا کہ اُس نے نہتّے ہی اُس شیر کو یُوں چیر ڈالا گویا کویٔی کسی بکری کے بچّہ کو چیر ڈالا ہو۔ لیکن اُس نے اَپنے ماں باپ سے اَپنی اِس حرکت کا ذِکر تک نہیں کیا۔
JDG 14:7 تَب شِمشُونؔ نے نیچے جا کر اُس عورت سے باتیں کیں اَور وہ اُسے پسند آئی۔
JDG 14:8 کچھ دِنوں کے بعد جَب وہ اُس سے بیاہ کرنے گیا تو راہ سے ہٹ کر شیر کی لاش دیکھنے گیا اَور اُسے اُس کے لاش میں شہد کی مکھّیوں کا جھُنڈ اَور شہد کا چھتّا دِکھائی دیا
JDG 14:9 جسے اُس نے اَپنے ہاتھوں سے نکال لیا اَور اُس کا شہد کھاتا ہُوا چل دیا۔ جَب وہ اَپنے ماں باپ سے مِلا تو اُنہیں بھی تھوڑا سا دیا اَور اُنہُوں نے بھی کھایا۔ لیکن اُس نے اُنہیں یہ نہ بتایا کہ وہ شہد اُس نے شیر کے لاش میں سے نکالا تھا۔
JDG 14:10 تَب اُس کا باپ اُس عورت کو دیکھنے کے لیٔے گیا اَور شِمشُونؔ نے وہاں دُلہے کی طرف سے ضیافت کرنے کے رِواج کے مُطابق ضیافت کی۔
JDG 14:11 تِمنتھ کے لوگوں نے تیس افراد کو مُنتخب تاکہ وہ شِمشُونؔ کی رِفاقت میں رہیں۔
JDG 14:12 شِمشُونؔ نے اُن سے کہا، ”مَیں تُمہیں ایک پہیلی سُناتا ہُوں۔ اگر تُم اِس ضیافت کے سات دِنوں میں اُسے بُوجھ کر مُجھے جَواب دوگے تو مَیں تُمہیں تیس کتانی کُرتے اَور تیس جوڑے کپڑے دُوں گا۔
JDG 14:13 اَور اگر تُم مُجھے جَواب نہ دے سکوگے تو تُمہیں مُجھے تیس کتانی کُرتے اَور تیس جوڑے کپڑے دینے ہوں گے۔“ اُنہُوں نے کہا، ”اَپنی پہیلی بَیان کر تاکہ ہم اُسے سُنیں!“
JDG 14:14 اُس نے کہا، کھانے والے میں سے کھانے کی چیز؛ اَور زبردست میں سے مٹھاس نکلی۔ تین دِن تک وہ اُس پہیلی کو ہل نہ کر سکے۔
JDG 14:15 چوتھے دِن اُنہُوں نے شِمشُونؔ کی بیوی سے کہا، ”اَپنے خَاوند کو پھُسلا تاکہ وہ ہمیں اِس پہیلی کا مطلب سمجھائے ورنہ ہم تُجھے اَور تیرے باپ کے گھر کو آگ سے جَلا دیں گے۔ کیا تُم نے ہمیں یہاں لُوٹنے کے لیٔے مدعو کیا تھا؟“
JDG 14:16 تَب شِمشُونؔ کی بیوی اُس کے پاس سسِکیاں بھرتی ہُوئی آئی اَور کہنے لگی، ”تُو مُجھ سے نفرت کرتا ہے! تُجھے مُجھ سے واقعی مَحَبّت نہیں ہے۔ تُونے میری قوم کے لوگوں سے پہیلی پُوچھی لیکن مُجھے اُس کا مطلب بھی نہیں بتایا۔“ اُس نے کہا، ”مَیں نے تو اَپنے ماں باپ کو بھی اِس کا مطلب نہیں بتایا تُجھے کیوں بتاؤں؟“
JDG 14:17 اَور ضیافت کے ساتویں دِن تک وہ اُس کے سامنے روتی رہی۔ چنانچہ ساتویں دِن آخِرکار تنگ آکر اُس نے اُسے بتا دیا اَور اُس نے اُس پہیلی کا مطلب اَپنی قوم کے لوگوں کو سمجھا دیا۔
JDG 14:18 ساتویں دِن سُورج غروب ہونے سے قبل شہر کے لوگوں نے اُس سے کہا، ”شہد سے میٹھا اَور کیا ہوتاہے؟ اَور شیر سے زورآور اَور کون ہے؟“ شِمشُونؔ نے اُن سے کہا، ”اگر تُم میری بچھیا کو ہل میں نہ جوتتے، تو میری پہیلی کو کبھی نہ بُوجھ پاتے۔“
JDG 14:19 تَب یَاہوِہ کی رُوح اُس پر زور سے نازل ہُوئی اَور وہ اشقلونؔ کو گیا اَور اُن کے تیس آدمیوں کو مار ڈالا اَور اُن کا مال و اَسباب لُوٹ کر اُن کے کپڑے پہیلی پُوچھنے والوں کو دئیے۔ پھر وہ غُصّہ میں آگ بگُولہ ہوکر اَپنے باپ کے گھر چلا گیا۔
JDG 14:20 اَور شِمشُونؔ کی بیوی اُس کے ایک دوست کو جو اُس کی ضیافت میں شریک ہُوا تھا بیاہ دی گئی۔
JDG 15:1 کُچھ دِنوں بعد گیہُوں کی فصل کے موسم میں شِمشُونؔ بکری کا ایک بچّہ لے کر اَپنی بیوی سے مِلنے گیا اَور وہاں جا کر کہنے لگا، ”میں اَپنی بیوی کے کمرہ میں جاؤں گا۔“ لیکن اُس کے باپ نے اُسے اَندر جانے سے روک دیا۔
JDG 15:2 اُس نے شِمشُونؔ سے کہا، ”مُجھے قطعی یقین ہو گیا تھا کہ تُو اُس سے سخت نفرت کرتا ہے، اِس لیٔے مَیں نے اُسے تیرے رفاقتی فرد کو دے دیا۔ کیا اُس کی چُھوٹی بہن زِیادہ حسین نہیں؟ لہٰذا تُو اَپنی پہلی بیوی کے عِوض اُس سے بیاہ کر لے۔“
JDG 15:3 شِمشُونؔ نے اُن سے کہا، ”اَب کی بار تو میں فلسطینیوں سے بدلہ لینے کا حقدار ہُوں۔ مَیں اُن کو تباہ کر دُوں گا۔“
JDG 15:4 چنانچہ شِمشُونؔ نے جا کر تین سَو لومڑیاں پکڑیں اَور ہر دو کی دُمیں باندھ کر ہر جوڑی کے دُموں میں ایک ایک مشعل باندھ دی
JDG 15:5 اَور اُن مشعلوں کو آگ لگا کر لومڑیوں کو فلسطینیوں کی کھڑی فصلوں میں چھوڑ دیا۔ یُوں اُس نے پُولوں کے انباروں اَور کھڑی فصلوں کو تاکستانوں اَور زَیتُون کے باغوں سمیت جَلا ڈالا۔
JDG 15:6 جَب فلسطینیوں نے پُوچھا، ”یہ کس نے کیا ہے؟“ تو لوگوں نے کہا، ”یہ تِمنہتی کے داماد شِمشُونؔ کی کارستانی ہے کیونکہ اُس کی بیوی اُس کے رفاقتی فرد کو دے دی گئی۔“ اِس لیٔے فلسطینیوں نے جا کر اُس عورت اَور اُس کے باپ کو جَلا کر مار ڈالا۔
JDG 15:7 شِمشُونؔ نے اُن سے کہا، ”چونکہ تُم نے اَیسا کام کیا ہے اِس لیٔے میں تُم سے بدلہ لینے تک چَین سے نہ بیٹھوں گا۔“
JDG 15:8 اُس نے اُنہیں بڑی بُری طرح مارا اَور اُن کو قتل کر ڈالا۔ پھر وہاں سے چلا گیا اَور عیطامؔ کی چٹّان کے ایک غار میں رہنے لگا۔
JDG 15:9 تَب فلسطینیوں نے جا کر یہُودیؔہ میں ڈیرے ڈالے اَور لحیؔ تک پھیل گیٔے۔
JDG 15:10 یہُودیؔہ کے باشِندوں نے اُن سے پُوچھا، ”تُم ہم سے لڑنے کیوں آئے ہو؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہم شِمشُونؔ کو گِرفتار کرنے آئے ہیں تاکہ ہم بھی اُس کے ساتھ وَیسا ہی سلُوک کریں جَیسا اُس نے ہمارے ساتھ کیا۔“
JDG 15:11 تَب یہُودیؔہ کے تین ہزار باشِندے عیطامؔ کی چٹّان کے غار میں گیٔے اَور شِمشُونؔ سے کہنے لگے، ”کیا تُو نہیں جانتا کہ فلسطینی ہم پر حُکمران ہیں؟ پھر تُونے ہمارے ساتھ اَیسا کیوں کیا؟“ اُس نے کہا، ”مَیں نے اُن کے ساتھ وُہی کیا جو اُنہُوں نے میرے ساتھ کیا۔“
JDG 15:12 اُنہُوں نے اُس سے کہا، ”ہم آئے ہیں تاکہ تُجھے باندھ کر فلسطینیوں کے حوالہ کر دیں۔“ شِمشُونؔ نے کہا، ”مُجھ سے قَسم کھاؤ کہ تُم خُود مُجھے قتل نہ کروگے۔“
JDG 15:13 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہمیں منظُور ہے۔ ہم تُجھے صِرف باندھ کر اُن کے حوالہ کر دیں گے۔ ہم تُجھے جان سے نہیں ماریں گے۔“ چنانچہ اُنہُوں نے اُسے دو نئی رسّیوں سے باندھا اَور چٹّان کے اُوپر سے لے آئے۔
JDG 15:14 جَب وہ لحیؔ کے نزدیک پہُنچا تو فلسطینی للکارتے ہُوئے اُس کی طرف بڑھے۔ تَب یَاہوِہ کی رُوح شِدّت سے اُس پر نازل ہُوئی اَور اُس کی بانہوں پر کی رسّیاں آگ سے جلے ہُوئے سَن کی مانند ہو گئیں اَور اُس کے ہاتھوں کے بندھن کھُل کر گِر پڑے۔
JDG 15:15 اُسے گدھے کے جبڑے کی تازہ ہڈّی مِلی۔ اُس نے اُسے اُٹھالیا اَور اُس سے ایک ہزار لوگوں کو مار گرایا۔
JDG 15:16 تَب شِمشُونؔ نے کہا، ”گدھے کے جبڑے کی ہڈّی سے مَیں نے اُن کے ڈھیر لگا دئیے۔ گدھے کے جبڑے کی ہڈّی سے مَیں نے ایک ہزار لوگوں کو مار گرایا۔“
JDG 15:17 جَب وہ اَپنی بات ختم کر چُکا تو اُس نے جبڑے کی ہڈّی پھینک دی اَور اُس جگہ کا نام رامات لحیؔ پڑ گیا۔
JDG 15:18 چونکہ وہ بہت پیاساتھا اِس لیٔے اُس نے یَاہوِہ کو پُکارا اَور کہا، ”تُونے اَپنے خادِم کے ہاتھ سے عظیم فتح بخشی ہے۔ کیا اَب مَیں پیاسا مروں اَور نامختونوں کے ہاتھ میں پڑوں؟“
JDG 15:19 تَب خُدا نے لحیؔ میں ایک جگہ زمین چاک کر دی اَور اُس میں سے پانی نکل آیا۔ جَب شِمشُونؔ پی چُکا تو اُس کی قُوّت لَوٹ آئی اَور وہ تازہ دَم ہو گیا۔ اِس لیٔے وہ چشمہ عینؔ ہقّورے کہلایا اَور وہ آج تک لحیؔ میں ہے۔
JDG 15:20 شِمشُونؔ فلسطینیوں کے دِنوں میں بیس بَرس تک بنی اِسرائیل کا قاضی رہا۔
JDG 16:1 ایک دِن شِمشُونؔ غزّہؔ گیا جہاں اُس نے ایک فاحِشہ کو دیکھا۔ وہ اُس کے ساتھ رات گُزارنے کے لیٔے اَندر گیا۔
JDG 16:2 غزّہؔ کے لوگوں کو خبر ہُوئی، ”شِمشُونؔ یہاں آیا ہے!“ چنانچہ اُنہُوں نے اُس جگہ کو گھیرلیا اَور رات بھر شہر کے پھاٹک پر اُس کی گھات میں بیٹھے رہے۔ البتّہ ساری رات وہ یہ کہہ کر چُپ چاپ بیٹھے رہے، ”صُبح ہوتے ہی ہم اُسے مار ڈالیں گے۔“
JDG 16:3 لیکن شِمشُونؔ وہاں آدھی رات تک پڑا رہا۔ پھر وہ اُٹھا اَور شہر کے پھاٹک کے کواڑوں اَور دونوں بازوؤں کو پکڑکر بینڈوں سمیت اُکھاڑ لیا اَور اُنہیں اَپنے کندھوں پر رکھ کر اُس پہاڑ کی چوٹی پر لے گیا جو حِبرونؔ کے سامنے ہے۔
JDG 16:4 چند دِنوں کے بعد سُورِقؔ کی وادی میں دلیلہؔ نام کی ایک عورت سے اُسے مَحَبّت ہو گئی۔
JDG 16:5 اَور فلسطینیوں کے سرداروں نے اُس عورت کے پاس جا کر کہا، ”اگر تُو اُس کو پھُسلا کر دریافت کر لے کہ اُس کی قُوّت کا راز کیا ہے اَور ہم کیوں کر اُس پر غالب آسکتے ہیں تاکہ ہم اُسے باندھ کر اُسے اِیذا پہُنچا سکیں، تو ہم میں سے ہر ایک تُجھے گیارہ سَو ثاقل چاندی دے گا۔“
JDG 16:6 تَب دلیلہؔ نے شِمشُونؔ سے کہا، ”مُجھے اَپنی قُوّت کا راز بتا کہ تُجھے کس طرح باندھ کر قابُو میں کیا جا سَکتا ہے؟“
JDG 16:7 شِمشُونؔ نے اُسے جَواب دیا، ”اگر کویٔی مُجھے سات تازہ تانتوں سے باندھ دے جو سِکھائی نہ گئی ہُوں تو میں دیگر آدمیوں کی مانند کمزور ہو جاؤں گا۔“
JDG 16:8 تَب فلسطینی سرداروں نے سات تازہ تانتیں اُسے لاکر دیں جو سِکھائی نہ گئی تھیں اَور اُس نے شِمشُونؔ کو اُن سے باندھ دیا۔
JDG 16:9 اَور چند لوگوں کو کمرہ میں چھُپا کر اُس نے شِمشُونؔ کو پُکار کر کہا، ”اَے شِمشُونؔ، فلسطینی تُجھ پر چڑھ آئے ہیں!“ لیکن اُس نے اُن تانتوں کو اِس آسانی سے توڑ ڈالا جَیسے دھاگا چراغ کی لَو لگتے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ چنانچہ اُس کی طاقت کا راز فاش نہ ہُوا۔
JDG 16:10 تَب دلیلہؔ نے شِمشُونؔ سے کہا، ”تُونے مُجھے احمق بنایا اَور مُجھ سے جھُوٹ بولا۔ اَب مُجھے بتا کہ تُجھے کیسے باندھا جا سَکتا ہے؟“
JDG 16:11 اُس نے کہا، ”اگر کویٔی مُجھے نئی رسّیوں سے جو کبھی اِستعمال نہ ہُوئی ہُوں کس کر باندھے تو میں دیگر آدمیوں کی طرح کمزور ہو جاؤں گا۔“
JDG 16:12 تَب دلیلہؔ نے نئی رسّیاں لیں اَور اُسے اُن سے باندھا۔ پھر چند لوگوں کو کمرہ میں چھُپا کر اُس نے اُسے پُکار کر کہا، ”اَے شِمشُونؔ، فلسطینی تُجھ پر چڑھ آئے ہیں!“ لیکن اُس نے اَپنے بازوؤں پر سے اُن رسّیوں کو دھاگے کی مانند توڑ ڈالا۔
JDG 16:13 تَب دلیلہؔ نے شِمشُونؔ سے کہا، ”اَب تک تو تُو مُجھے احمق بناتا رہا اَور مُجھ سے جھُوٹ بولتا رہا۔ اَب بتا کہ تُجھے کیسے باندھا جائے؟“ اُس نے کہا، ”اگر تُو میرے سَر کے بالوں کی سات لٹوں کو بُن کر کرگھے کے کھونٹے سے کس کر باندھ دے تو میں دیگر آدمیوں کی طرح کمزور ہو جاؤں گا۔“ چنانچہ جَب وہ سو رہاتھا تَب دلیلہؔ نے اُس کے سَر کی سات لٹیں لیں اَور اُنہیں بُن کر
JDG 16:14 کرگھے کے کھونٹے سے کس دیا۔ اَور پھر اُس نے پُکار کر کہا، ”اَے شِمشُونؔ، فلسطینی تُجھ پر چڑھ آئے ہیں!“ وہ نیند میں سے جاگ اُٹھا اَور اُس نے کھونٹے کو کرگھے سمیت اُکھاڑ ڈالا۔
JDG 16:15 تَب اُس نے اُس سے کہا، ”جَب تُجھے مُجھ پر اِعتماد ہی نہیں تو تُو کیسے کہہ سَکتا ہے، ’مَیں تُجھ سے مَحَبّت کرتا ہُوں،‘ یہ تیسری بار ہے جو تُونے مُجھے احمق بنایا اَور مُجھے اَپنی قُوّت کا راز نہیں بتایا۔“
JDG 16:16 وہ اِس قِسم کی نُکتہ چینی سے اُسے ہر روز دِق کرتی رہی یہاں تک کہ اُس کا دَم ناک میں آ گیا۔
JDG 16:17 چنانچہ اُس نے اُسے سَب کچھ بتا دیا۔ اُس نے کہا، ”میرے سَر پر کبھی اُسترا نہیں پھرا کیونکہ مَیں ماں کی پیٹ سے ہی نذیر ہُوں اَور خُدا کے واسطے مخصُوص کیا گیا ہُوں۔ اگر میرا سَر مونڈا جائے تو میری طاقت جاتی رہے گی اَور مَیں دیگر لوگوں کی طرح کمزور ہو جاؤں گا۔“
JDG 16:18 جَب دلیلہؔ نے دیکھا کہ اُس نے سَب کچھ بتا دیا ہے تو اُس نے فلسطینی سرداروں کو کہلا بھیجا، ”ایک بار پھر آ جاؤ؛ کیونکہ اُس نے مُجھے سَب کچھ بتا دیا ہے۔“ چنانچہ فلسطینیوں کے سردار چاندی لے کر آ پہُنچے۔
JDG 16:19 دلیلہؔ نے اَپنے زانوں پر اُسے سُلا کر ایک آدمی کو بُلا بھیجا اَور اُس کے سَر کی ساتوں لٹیں مُنڈوا ڈالیں اَور اُسے اَپنے قابُو میں کرنے لگی۔ اَور اُس کی قُوّت رخصت ہو چُکی تھی۔
JDG 16:20 تَب اُس نے پُکارا، ”اَے شِمشُونؔ فلسطینی تُجھ پر چڑھ آئے ہیں!“ وہ اَپنی نیند سے جاگ اُٹھا اَور سوچا، ”میں باہر جا کر ایک ہی جھٹکے سے پہلے کی طرح چُست ہو جاؤں گا۔“ لیکن اُسے مَعلُوم نہ تھا کہ یَاہوِہ نے اُسے جُدا ہو چُکاہے۔
JDG 16:21 تَب فلسطینیوں نے اُسے پکڑکر اُس کی آنکھیں نکال ڈالیں اَور اُسے غزّہؔ لے گیٔے۔ پھر اُسے کانسے کی زنجیروں میں جکڑ کر قَیدخانہ میں چکّی پیسنے پر لگا دیا۔
JDG 16:22 لیکن اُس کے سَر کے بال مونڈے جانے کے بعد پھر سے بڑھنے لگے۔
JDG 16:23 تَب فلسطینیوں کے سردار اَپنے معبُود دگونؔ کو بڑی قُربانی گذراننے اَور جَشن منانے کے لیٔے یہ کہتے ہُوئے اِکٹھّے ہُوئے، ”ہمارے معبُود نے ہمارے دُشمن شِمشُونؔ کو ہمارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔“
JDG 16:24 جَب لوگ اُسے دیکھتے تَب اَپنے معبُود کی تمجید کرتے ہُوئے کہتے، ”ہمارے معبُود نے ہمارے دُشمن کو ہمارے ہاتھ میں کر دیا ہے، جِس نے ہمارے مُلک کو تاراج کیا اَور ہمارے کیٔی لوگوں کو قتل کر ڈالا۔“
JDG 16:25 جَب اُن کی خُوشی کی اِنتہا نہ رہی تو وہ چِلّا چِلّاکر کہنے لگے، ”شِمشُونؔ کو باہر لے آؤ۔“ تاکہ وہ تماشا کرے اَور ہمارا دِل بہلائے۔ چنانچہ اُنہُوں نے شِمشُونؔ کو قَیدخانہ سے بُلوایا اَور وہ اُن کے لیٔے کھیل تماشا کرنے لگا۔ اَور جَب اُنہُوں نے اُسے دو سُتونوں کے درمیان کھڑا کیا،
JDG 16:26 تو شِمشُونؔ نے اُس خادِم سے جو اُس کا ہاتھ پکڑے ہُوئے تھا کہا، ”مُجھے اُن سُتونوں کے پاس لے چل جِن پر یہ مَندِر قائِم ہے تاکہ میں اُن کا سہارا لے کر کھڑا رہُوں۔“
JDG 16:27 وہ مَندِر مَرد اَور عورتوں کے ہُجوم سے کھچاکھچ بھرا ہُوا تھا اَور فلسطینیوں کے سَب سردار وہاں تھے اَور اُس کی چھت پر تقریباً تین ہزار مَرد اَور عورت تھے جو شِمشُونؔ کا تماشا دیکھ رہے تھے۔
JDG 16:28 تَب شِمشُونؔ نے خُداوؔند سے دعا کی، ”اَے یَاہوِہ قادر مُجھے یاد فرما۔ اَے خُدا! صِرف ایک بار مُجھے طاقت بخش تاکہ میں ایک ہی کوشش میں فلسطینیوں سے اَپنی دونوں آنکھوں کا بدلہ لے سکوں۔“
JDG 16:29 تَب شِمشُونؔ نے اُن دو درمیانی سُتونوں کو ٹٹولا جِن پر وہ مَندِر قائِم تھا اَور ایک پر اَپنا بایاں ہاتھ اَور دُوسرے پر اَپنا داہنا ہاتھ رکھ کر زور لگایا،
JDG 16:30 اَور شِمشُونؔ نے کہا، ”مُجھے فلسطینیوں کے ساتھ مرنے دے!“ پھر شِمشُونؔ نے اَپنی پُوری طاقت سے فلسطینیوں پر زور لگایا اَور وہ مَندِر سارے سرداروں اَور اُن لوگوں پر گِر پڑا جو وہاں مَوجُود تھے۔ اِس طرح اُس نے مَرتے مَرتے اِتنے لوگ مار ڈالے جتنے اُس نے اَپنی زندگی میں بھی نہیں مارے تھے۔
JDG 16:31 تَب اُس کے بھایٔی اَور اُس کے باپ کے گھرانے کے لوگ اُسے لینے کے لیٔے آئے۔ وہ اُسے لے گیٔے اَور اُسے ضورعاہؔ اَور اِستالؔ کے درمیان اُس کے باپ منوحہؔ کی قبر میں دفن کیا۔ وہ بیس بَرس تک اِسرائیلیوں کا قاضی رہا۔
JDG 17:1 اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک کے میکاہؔ نام کے ایک شخص نے
JDG 17:2 اَپنی ماں سے کہا، ”وہ گیارہ سَو ثاقل چاندی جو آپ سے لی گئی تھی اَور جِس کے متعلّق مَیں نے لعنت کرتے سُنا تھا میرے پاس ہے؛ مَیں نے اُسے لیا تھا۔“ تَب اُس کی ماں نے کہا، ”اَے میرے بیٹے، یَاہوِہ تُجھے برکت دے!“
JDG 17:3 جَب اُس نے گیارہ سَو ثاقل چاندی اَپنی ماں کو واپس کی تو اُس کی ماں نے کہا، ”میں خُود ہی اَپنے بیٹے کی خاطِر اَپنی چاندی کو یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس کئے دیتی ہُوں۔ میں اُسے تُجھے واپس دے رہی ہُوں تاکہ تُو اُس سے ایک مُورت تراش سکے۔“
JDG 17:4 چنانچہ جَب اُس نے وہ چاندی اَپنی ماں کو واپس کی تو اُس نے دو سَو ثاقل چاندی لے کر سُنار کو دی جِس سے اُس نے بُت بنایا اَور یہ میکاہؔ کے گھر میں رکھ دئیے۔
JDG 17:5 اُس شخص میکاہؔ کا ایک بُت خانہ تھا اَور اُس نے ایک افُود اَور چند خانگی معبُود بنائے اَور اَپنے بیٹوں میں سے ایک کو اَپنا کاہِنؔ مُقرّر کیا۔
JDG 17:6 اُن دِنوں اِسرائیلیوں کا کویٔی بادشاہ نہ تھا چنانچہ جِس کو جو بھی ٹھیک مَعلُوم ہوتا تھا وہ وُہی کرتا تھا۔
JDG 17:7 یہُودیؔہ کے بیت لحمؔ میں جو بنی یہُوداہؔ کے برادریوں کے مُلک کا ایک لیوی جَوان مُقیم تھا
JDG 17:8 وہ آدمی یہُودیؔہ کا بیت لحمؔ شہر چھوڑکر چلا گیا تاکہ بُودوباش کے لیٔے کویٔی اَور جگہ تلاش کرے۔ راہ میں وہ اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں میکاہؔ کے گھر پہُنچا۔
JDG 17:9 میکاہؔ نے اُس سے پُوچھا، ”تُم کہاں سے آ رہے ہو؟“ اُس نے کہا، ”میں مُلکِ یہُودیؔہ کے بیت لحمؔ شہر کا لیوی ہُوں اَور مَیں بُودوباش کے لیٔے کسی جگہ کی تلاش میں ہُوں۔“
JDG 17:10 تَب میکاہؔ نے اُس سے کہا، ”میرے ساتھ رہ اَور میرا باپ اَور کاہِنؔ بَن جا اَور مَیں تُجھے دس ثاقل چاندی سالانہ اَور پہننے کے لیٔے کپڑے اَور کھانا دیا کروں گا۔“
JDG 17:11 لہٰذا وہ لیوی اُس کے ساتھ رہنے کے لیٔے راضی ہو گیا اَور وہ جَوان اُس کے اَپنے بیٹوں کی مانند تھا۔
JDG 17:12 تَب میکاہؔ نے اُس لیوی کو مخصُوص کیا اَور وہ جَوان بطور کاہِنؔ اُس کے گھر میں رہنے لگا۔
JDG 17:13 اَور میکاہؔ نے کہا، ”اَب مَیں جانتا ہُوں کہ یَاہوِہ میرا بھلا کرےگا کیونکہ ایک لیوی میرا کاہِنؔ بَن چُکاہے۔“
JDG 18:1 اُن دِنوں اِسرائیل میں کویٔی بادشاہ نہ تھا۔ اَور اُن ہی دِنوں میں دانیوں کے قبیلہ کے لوگ اَپنی رہائش کے لیٔے کویٔی جگہ ڈھونڈ رہے تھے کیونکہ اَب تک اُنہیں اِسرائیلی قبیلوں کے درمیان کویٔی مِیراث نہ مِلی تھی۔
JDG 18:2 چنانچہ بنی دانؔ نے ضورعاہؔ اَور اِستالؔ سے پانچ سُورماؤں کو مُلک کا حال جاننے اَور اُس کا جائزہ لینے کے لیٔے روانہ کیا۔ یہ لوگ اَپنے تمام برادریوں کی نُمائندگی کرتے تھے۔ اُنہُوں نے اُن سے کہا، ”جاؤ اَور مُلک کا جائزہ لو۔“ یہ لوگ اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں داخل ہُوئے اَور میکاہؔ کے گھر آئے جہاں اُنہُوں نے رات گزاری۔
JDG 18:3 جَب وہ میکاہؔ کے گھر کے قریب پہُنچے تو اُنہُوں نے اُس جَوان لیوی کی آواز پہچانی اِس لیٔے وہ اُدھر مُڑ گیٔے اَور اُس سے پُوچھنے لگے، ”تُجھے یہاں کون لایا؟ تُم اِس جگہ کیا کر رہے ہو اَور تُم یہاں کیوں آئے ہو؟“
JDG 18:4 اُس نے اُنہیں بتایا کہ میکاہؔ نے اُس کے ساتھ کیسا سلُوک کیا اَور کہا، ”اُس نے مُجھے مُلازم رکھ لیا ہے اَور مَیں اُس کا کاہِنؔ ہُوں۔“
JDG 18:5 تَب اُنہُوں نے اُس سے کہا، ”مہربانی فرما کر خُدا سے دریافت کرنا، تاکہ ہم جانیں کہ ہمارا یہ سفر کامیاب ہوگا بھی یا نہیں؟“
JDG 18:6 کاہِنؔ نے اُن سے کہا، ”سلامتی کے ساتھ جاؤ۔ کیونکہ یَاہوِہ تمہارے سفر پر رضامند ہے۔“
JDG 18:7 چنانچہ وہ پانچ اَشخاص چل دئیے اَور لائش پہُنچے جہاں اُنہُوں نے دیکھا کہ لوگ صیدونیوں کی طرح اَمن و سلامتی کے ساتھ بے خطرہ اَور محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔ اَور چونکہ اُن کے مُلک میں کسی چیز کی کمی نہ تھی اِس لیٔے وہ خُوشحال تھے اَور وہ صَیدانیوں سے بہت دُور رہتے تھے اَور کسی سے اُن کے کویٔی تعلّقات نہ تھے۔
JDG 18:8 جَب وہ ضورعاہؔ اَور اِستالؔ کو لَوٹے، تو اُن کے بھائیوں نے اُن سے پُوچھا کہ، ”تُمہیں وہاں کا ماحول کیسا لگا؟“
JDG 18:9 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”چلو فوراً چل کر، اُن پر حملہ کریں کیونکہ ہم نے دیکھاہے کہ وہ مُلک بہت اَچھّا ہے، اَور تُم چُپ چاپ بیٹھے ہو؟ چلو اُس پر حملہ کریں اَور دیری کئے بغیر اُس پر قبضہ کر لیں۔
JDG 18:10 جَب تُم وہاں پہُنچوگے تو وہاں ایک ناگہاں قوم اَور وسیع مُلک پاؤگے جسے خُدا نے تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔ وہ اَیسی جگہ ہے جہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔“
JDG 18:11 تَب دانیوں کے گھرانے کے چھ سَو مَرد مُسلّح ہوکر ضورعاہؔ اَور اِستالؔ سے روانہ ہُوئے۔
JDG 18:12 وہ بنی یہُوداہؔ کے یہُودیؔہ میں قِریت یعریمؔ کے نزدیک خیمہ زن ہُوئے۔ اِس لیٔے قِریت یعریمؔ کے مغرب کی جگہ آج کے دِن تک محنے دانؔ کہلاتی ہے۔
JDG 18:13 وہاں سے وہ اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک کو روانہ ہُوئے اَور میکاہؔ کے گھر پہُنچے۔
JDG 18:14 تَب جو پانچ مَرد لائش کے مُلک کا جائزہ لینے گیٔے تھے اَپنے بھائیوں سے کہنے لگے، ”کیا تُم جانتے ہو کہ اِن میں سے ایک گھر میں افُود، اَور دُوسرے خانگی معبُود، چاندی سے تراشی ہُوا بُت ہے؟ اَور ایک ڈھلا ہُوا بُت ہے؟ اَب تُم جانتے ہو کہ کیا کرنا چاہئے۔“
JDG 18:15 چنانچہ وہ اُدھر مُڑ کر میکاہؔ کے مکان میں اُس جَوان لیوی کے گھر گیٔے اَور اُسے سلام کیا۔
JDG 18:16 اَور دانؔ کے قبیلہ کے وہ چھ سَو جنگی مَرد جو مُسلّح تھے پھاٹک کے دروازہ پر کھڑے رہے۔
JDG 18:17 وہ پانچ مَرد جنہوں نے مُلک کا جائزہ لیا تھا اَندر داخل ہُوئے اَور تراشی ہُوئی مُورت، افُود، دُوسرے خانگی معبُود لے لیٔے۔ جَب کہ وہ کاہِنؔ اَور چھ سَو ہتھیار بند مَرد پھاٹک پر کھڑے تھے۔
JDG 18:18 جَب یہ لوگ میکاہؔ کے مکان میں داخل ہوکر تراشی ہُوئی مُورت، افُود، دُوسرے خانگی معبُود اُٹھا لایٔے تو اُس کاہِنؔ نے اُن سے کہا، ”تُم کیا کر رہے ہو؟“
JDG 18:19 اُنہُوں نے اُسے جَواب دیا، ”چُپ رہ! ایک لفظ بھی مُنہ سے نہ نکال اَور ہمارے ساتھ چل کر ہمارا باپ اَور کاہِنؔ بَن۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ تُم اِسرائیل کے ایک قبیلہ اَور برادری کی کہانت کرے بہ نِسبت اِس کے محض ایک شخص کے گھر کا کاہِنؔ ہو؟“
JDG 18:20 تَب وہ کاہِنؔ خُوش ہو گیا۔ اُس نے افُود، دُوسرے خانگی معبُود اَور تراشی ہُوئی مُورت لی اَور اُن لوگوں کے ساتھ ہو لیا۔
JDG 18:21 تَب وہ مُڑے اَور روانہ ہو گئے اَور اُن کے بچّے، مویشی اَور اُن کا مال و اَسباب اُن کے آگے آگے تھا۔
JDG 18:22 وہ میکاہ کے گھر سے کُچھ ہی دُور گیٔے تھے کہ میکاہؔ کے آس پاس کے گھروں میں رہنے والے لوگ اِکٹھّے ہُوئے اَور اُنہُوں نے نکل کر بنی دانؔ کو جا لیا۔
JDG 18:23 جَب اُنہُوں نے اُنہیں پُکارا تو بنی دانؔ نے مُڑ کر میکاہؔ سے کہا، ”تُجھے کیا ہو گیا ہے کہ تُم اَپنے لوگوں کو لڑنے کے لیٔے لے آیا ہے؟“
JDG 18:24 اُس نے کہا، ”تُم نے میرے بنوائے ہُوئے معبُودوں اَور میرے کاہِنؔ کو لے لیا اَور چل دئیے۔ میرے پاس اَور کیا باقی رہا؟ ’پھر تُم کیوں کر مُجھ سے پُوچھتے ہو کہ تُجھے کیا ہو گیا ہے؟‘ “
JDG 18:25 بنی دانؔ نے کہا، ”ہم سے بحث نہ کر، کہیں اَیسا نہ ہو کہ چند تُند مِزاج لوگ تُجھ پر حملہ کر بیٹھیں، اَور تُم یعنی تُم اَور تمہارا خاندان اَپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو۔“
JDG 18:26 تَب بنی دانؔ نے اَپنی راہ لی اَور میکاہؔ بھی یہ دیکھ کر کہ وہ اُس سے زِیادہ طاقتور ہیں مُڑا اَور اَپنے گھر لَوٹ گیا۔
JDG 18:27 تَب وہ میکاہؔ کی بنوائی ہُوئی چیزوں اَور اُس کے کاہِنؔ کو لے کر لائش پہُنچے جہاں کے لوگ اَمن و سلامتی سے رہتے تھے۔ اُنہُوں نے اُنہیں تلوار سے مارا اَور اُن کا شہر جَلا دیا۔
JDG 18:28 اُنہیں کویٔی بچانے والا نہ تھا کیونکہ وہ صیدونؔ سے بہت دُور رہتے تھے اَور یہ لوگ کسی سے سروکار نہ رکھتے تھے۔ اَور وہ شہر بیت رحوبؔ کے پاس ایک وادی میں تھا۔ دانیوں نے اُس شہر کو پھر سے تعمیر کیا اَور وہ وہاں مُقیم ہو گئے۔
JDG 18:29 اُنہُوں نے اَپنے باپ دانؔ کے نام پرجو اِسرائیل کی اَولاد تھا اُس شہر کا نام دانؔ رکھا حالانکہ پہلے وہ شہر لائش کہلاتا تھا۔
JDG 18:30 وہاں دانیوں نے اَپنے لیٔے بُت نصب کئے اَور مُلک کی اسیری کے ایّام تک گیرشوم کا بیٹا اَور مَوشہ کا پوتا یُوناتانؔ اَور اُس کے بیٹے دانؔ کے قبیلہ کے کاہِنؔ رہے۔
JDG 18:31 اَور جَب تک خُدا کا گھر شیلوہؔ میں بنا رہا تَب تک وہ میکاہؔ کے بنوائے ہُوئے بُت کی عبادت کرتے رہے۔
JDG 19:1 اُن دِنوں اِسرائیل کا کویٔی بادشاہ نہ تھا۔ تَب ایک لیوی نے جو اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک کے دُور کے علاقہ میں رہتا تھا یہُوداہؔ کے بیت لحمؔ کی ایک عورت کو اَپنی داشتہ بنا لیا۔
JDG 19:2 لیکن اُس داشتہ عورت نے اُس سے بےوفائی کی اَور اُسے چھوڑکر یہُودیؔہ کے بیت لحمؔ میں اَپنے باپ کے گھر چلی گئی۔ جَب اُسے وہاں رہتے ہُوئے چار مہینے گزر گئے
JDG 19:3 تو اُس کا خَاوند اُسے منا کر لانے کے لیٔے اُس کے پاس گیا۔ اُس نے اَپنا نوکر اَور دو گدھے اَپنے ہمراہ لیٔے۔ وہ اُسے اَپنے باپ کے گھر میں لے گئی اَور جَب اُس کے باپ نے اُسے دیکھا تو اُس سے خُوش ہوکر گرم جوشی سے اُس کا اِستِقبال کیا۔
JDG 19:4 اُس کے سسُر یعنی اُس لڑکی کے باپ نے اُسے روک لیا۔ لہٰذا وہ اُس کے پاس تین دِن تک رُکا رہا اَور وہاں کھاتا، پیتا اَور سوتا رہا۔
JDG 19:5 چوتھے دِن وہ جلد اُٹھے اَور جانے کی تیّاری کرنے لگے، لیکن اُس لڑکی کے باپ نے اَپنے داماد سے کہا، ”کچھ کھا کر تازہ دَم ہو جاؤ اَور تَب تُم چلے جانا۔“
JDG 19:6 چنانچہ وہ وہاں بیٹھ گیٔے اَور مِل کر کھایا پیا۔ اُس کے بعد اُس لڑکی کے باپ نے کہا، ”آج پھر رُک جاؤ اَور خُوش دِلی سے رات کاٹ لو۔“
JDG 19:7 جَب وہ آدمی جانے کے لیٔے اُٹھا تو اُس کے سسُر نے اُسے روکا اِس لیٔے وہ اُس رات وہیں رُکا رہا۔
JDG 19:8 پانچویں دِن صُبح جَب وہ جانے کو اُٹھا تَب اُس لڑکی کے باپ نے کہا، ”خاطِر جمع رکھو اَور دوپہر تک رُک جاؤ۔“ تَب اُن دونوں نے مِل کر کھانا کھایا،
JDG 19:9 اَور جَب وہ شخص اَپنی داشتہ اَور اَپنے خادِم کے ساتھ چلنے کو تیّار ہُوا تو اُس کے سسُر یعنی اُس لڑکی کے باپ نے کہا، ”اَب دیکھو شام ہونے کو ہے۔ رات یہیں گزار لو کیونکہ دِن قریب قریب ڈھل چُکاہے لہٰذا رُک جاؤ اَور خُوشی مناؤ۔ البتّہ کل صُبح جلد اُٹھ کر اَپنے گھر کی راہ لینا۔“
JDG 19:10 لیکن وہ شخص ایک اَور رات وہاں گُزارنے پر راضی نہ ہُوا۔ اُس نے اَپنے دو گدھوں پر زین کسی اَور اَپنی داشتہ کے ساتھ یبُوس (یروشلیمؔ) کی جانِب روانہ ہُوا۔
JDG 19:11 جَب وہ یبُوس کے قریب پہُنچے تو دِن تقریباً ڈھل چُکاتھا۔ لہٰذا خادِم نے اَپنے آقا سے کہا، ”آ ہم یبُوسیوں کے اِس شہر میں رُک جایٔیں اَور رات یہیں گُزاریں۔“
JDG 19:12 اُس کے آقا نے کہا، ”نہیں! ہم کسی اَیسے اجنبی شہر میں داخل نہیں ہوں گے جہاں کے باشِندے اِسرائیلی نہ ہوں۔ بَلکہ ہم گِبعہؔ تک جایٔیں گے۔“
JDG 19:13 اُس نے مزید یہ کہا، ”چلو ہم گِبعہؔ یا رامہؔ تک پہُنچنے کی کوشش کریں اَور اُن ہی میں سے کسی ایک مقام پر رات گُزاریں۔“
JDG 19:14 لہٰذا وہ آگے بڑھے اَور بِنیامین کے گِبعہؔ کے نزدیک پہُنچے ہی تھے کہ سُورج ڈُوب گیا۔
JDG 19:15 وہاں گِبعہؔ میں وہ رات گُزارنے کے لیٔے رُک گیٔے اَور شہر کے چَوک میں جا کر بیٹھ گیٔے لیکن کویٔی بھی اُنہیں رات کاٹنے کے لیٔے اَپنے گھر نہ لے گیا۔
JDG 19:16 اُس شام کو اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک کا ایک ضعیف شخص جو گِبعہؔ میں آکر بس گیا تھا (اُس مقام کے باشِندے بِنیامینی تھے) کھیتوں میں کام سے فارغ ہوکر وہاں آیا۔
JDG 19:17 جَب اُس ضعیف شخص نے آنکھیں اُٹھائیں اَور شہر کے چَوک میں مُسافر کو دیکھا تو اُس سے پُوچھا، ”تُم کہاں سے آئے ہو اَور کدھر جا رہےہو؟“
JDG 19:18 اُس نے جَواب دیا، ”ہم یہُودیؔہ کے بیت لحمؔ سے اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک کے آخِر والے علاقہ میں جا رہے ہیں جہاں میرا گھر ہے۔ میں یہُودیؔہ کے بیت لحمؔ گیا ہُوا تھا اَور اَب یَاہوِہ کے گھر کو جا رہا ہُوں لیکن کسی نے مُجھے اَپنے گھر میں پناہ نہیں دی۔
JDG 19:19 ہمارے پاس ہمارے گدھوں کے لیٔے گھاس اَور چارا مَوجُود ہے اَور ہم جو تمہارے بندے ہیں ہمارے لیٔے یعنی میرے، میری لونڈی اَور اِس نوجوان کے لیٔے جو ہمارے ہمراہ ہے روٹی اَور مَے بھی ہے۔ ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔“
JDG 19:20 اُس ضعیف شخص نے کہا، تُم سلامتی سے میرے گھر چلو اَور مُجھے موقع دے کہ تمہاری سَب ضرورتیں پُوری کروں لیکن چَوک میں رات نہ گزار۔
JDG 19:21 چنانچہ وہ اُسے اَپنے گھر لے گیا اَور اُس کے گدھوں کو چارا دیا اَور وہ لوگ بھی اَپنے ہاتھ پاؤں دھوکر کھانے پینے بیٹھ گیٔے۔
JDG 19:22 وہ ابھی کھا پی رہے تھے کہ شہر کے چند بدکار لوگوں نے اُس گھر کو گھیرلیا، اَور دروازہ کو زور زور سے پیٹنا شروع کر دیا اَور اُس بُزرگ یعنی گھر کے مالک سے چِلّا چِلّا‏‏‏‏کر کہنے لگے کہ، ”اُس شخص کو جو تیرے گھر آیا ہے باہر لا تاکہ ہم اُس کے ساتھ صحبت کریں۔“
JDG 19:23 صاحبِ خانہ نے باہر نکل کر اُن سے کہا، ”نہیں، میرے عزیزو! اِس قدر کمینے مت بنو۔ یہ آدمی میرا مہمان ہے اِس لیٔے اَیسی ذلیل حرکت سے باز آؤ۔
JDG 19:24 دیکھو میری ایک کنواری بیٹی ہے اَور اُس شخص کے ساتھ اُس کی داشتہ بھی ہے۔ میں دونوں کو ابھی تمہارے پاس لے آتا ہُوں۔ تُم اُن کی عزّت لُوٹو اَورجو چاہو اُن کے ساتھ کرو لیکن اُس شخص کے ساتھ اَیسی ذلیل حرکت مت کرنا۔“
JDG 19:25 لیکن اُن لوگوں نے اُس کی ایک نہ سُنی۔ اِس لیٔے اُس شخص نے جو مہمان تھا اَپنی داشتہ کو پکڑکر اُن کے پاس باہر بھیج دیا اَور اُنہُوں نے اُس کے ساتھ زبردستی کی اَور ساری رات اُس کے ساتھ بدکاری کرتے رہے اَور صُبح سویرے اُسے جانے دیا۔
JDG 19:26 پَو پھٹتے وقت وہ عورت اُس گھر کو لَوٹی جہاں اُس کا آقا تھا اَور دروازہ پر گِر پڑی اَور رَوشنی ہونے تک وہیں پڑی رہی۔
JDG 19:27 صُبح جَب اُس کا آقا اُٹھا اَور گھر کا دروازہ کھول کر روانہ ہونے کے لیٔے باہر قدم رکھا تو وہاں اَپنی داشتہ کو گھر کے دروازہ پر پڑا ہُوا پایا اَور اُس کے ہاتھ دہلیز پر پھیلے ہُوئے تھے۔
JDG 19:28 اُس نے اُس سے کہا، ”اُٹھ ہم چلیں۔“ لیکن کویٔی جَواب نہ مِلا۔ تَب اُس آدمی نے اُسے اَپنے گدھے پر لاد لیا اَور اَپنے گھر کو چل دیا۔
JDG 19:29 جَب وہ گھر پہُنچا تو اُس نے ایک چھُری لے کر اَپنی داشتہ کے جِسم کو عُضو بہ عُضو بَارہ حِصّوں میں کاٹا اَور اُنہیں اِسرائیل کے سَب علاقوں میں بھیج دیا۔
JDG 19:30 جِس کسی نے بھی یہ دیکھا اُس نے کہا، ”بنی اِسرائیل کے مِصر سے نکل آنے کے وقت سے لے کر آج کے دِن تک اَیسا واقعہ نہ تو کبھی ہُوا نہ دیکھنے میں آیا۔ ذرا سوچو اَور غور کرو اَور ہمیں بتاؤ کہ کیا کیا جائے؟“
JDG 20:1 تَب دانؔ سے لے کر بیرشبعؔ تک کے اَور گِلعادؔ کے مُلک کے تمام بنی اِسرائیل مُتّحد ہوکر نکلے اَور مِصفاہؔ میں یَاہوِہ کے حُضُور اِکٹھّے ہُوئے
JDG 20:2 قوم کے سردار اَور اِسرائیل کے قبیلوں کے سَب خُدا کے لوگ جو چار لاکھ شمشیر زن پیادوں پر مُشتمل تھے، اَپنی اَپنی جگہوں پر تعینات ہو گئے۔
JDG 20:3 (بِنیامین قبیلے کے لوگوں نے سُنا کہ اِسرائیلی مِصفاہؔ کو گیٔے ہیں۔) تَب اِسرائیلیوں نے کہا، ”ہمیں بتاؤ کہ یہ ہولناک واقعہ کیسے ہُوا۔“
JDG 20:4 چنانچہ اُس لیوی نے جو مقتول عورت کا خَاوند تھا کہا، ”میں اَور میری داشتہ بِنیامین کے گِبعہؔ میں رات کاٹنے کے لیٔے آئے۔
JDG 20:5 رات کے وقت گِبعہؔ کے لوگ میرے پیچھے آئے اَور مُجھے مار ڈالنے کے اِرادے سے اُس گھر کو گھیرلیا۔ اُنہُوں نے میری داشتہ سے زبردستی کی اُس کی عصمت لُوٹی یہاں تک کہ وہ مَر گئی۔
JDG 20:6 تَب مَیں نے اَپنی داشتہ کو لے کر اُسے ٹکڑے ٹکڑے کیا اَور اِسرائیل کی مِیراث کے ہر حِصّہ میں ایک ایک ٹکڑا بھیج دیا کیونکہ اُنہُوں نے یہ ذلیل اَور شرمناک کام اِسرائیل میں کیا ہے۔
JDG 20:7 اَب اَے سَب اِسرائیلیوں! بولو اَور اَپنا فیصلہ سُناؤ۔“
JDG 20:8 تَب سَب لوگ ایک تن ہوکر اُٹھے اَور کہنے لگے، ”ہم میں سے کویٔی بھی اَپنے گھر کا رُخ نہ کرےگا اَور نہ ہی کویٔی اَپنے ڈیرے کو جائے گا
JDG 20:9 بَلکہ ہم گِبعہؔ کے ساتھ یُوں پیش آئیں گے کہ ہم قُرعہ اَندازی سے اُس پر چڑھائی کریں گے۔
JDG 20:10 ہم بنی اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے ہر سَو میں سے دس، اَور ہر ہزار آدمیوں میں سے سَو اَور دس ہزار میں سے ایک ہزار آدمی لشکر کے لیٔے توشہ سفر مہیا کرنے کے لیٔے الگ کر لیں گے تاکہ جَب لشکر بِنیامین کے گِبعؔ میں پہُنچے تو اُسے اُس کمینہ پن کی جو اُنہُوں نے اِسرائیل میں کیا ہے مَعقُول سزا دے جِس کے وہ مُستحق ہیں۔“
JDG 20:11 چنانچہ تمام بنی اِسرائیل کے سَب لوگ اِکٹھّے ہوکر اُس شہر کے خِلاف ایک تن ہوکر جُٹ گیٔے۔
JDG 20:12 بنی اِسرائیل کے قبیلوں نے بِنیامین کے سارے قبیلہ میں لوگوں کو روانہ کیا اَور کہلا بھیجا، ”یہ کیسا خوفناک جُرم ہے جو تمہارے درمیان ہُوا؟
JDG 20:13 اَب گِبعہؔ کے اُن بدکار لوگوں کو ہمارے حوالہ کر دو تاکہ ہم اُنہیں قتل کر دیں اَور اِسرائیل میں سے اِس بدی کو دُور کر ڈالیں۔“ لیکن بنی بِنیامین نے اَپنے اِسرائیلی بھائیوں کی بات نہ مانی۔
JDG 20:14 بنی بِنیامین اَپنے اَپنے شہروں سے نکل کر اِسرائیلیوں سے لڑنے کے لیٔے گِبعہؔ میں اِکٹھّے ہو گئے۔
JDG 20:15 بنی بِنیامین نے فوراً گِبعہؔ کے باشِندوں میں سے چُنے ہُوئے سات سَو مَردوں کے علاوہ چھبّیس ہزار اَور شمشیر زن مَرد اَپنے اَپنے شہروں سے جمع کیٔے۔
JDG 20:16 اُن سَب سپاہیوں میں سات سَو چُنے ہُوئے مَرد اَپنے بائیں ہاتھ سے کام لیتے تھے اَور ہر ایک فلاخن سے پتّھر پھینک کر بغیر خطا کئے بال کو بھی نِشانہ بنا سَکتا تھا۔
JDG 20:17 بنی بِنیامین کے علاوہ اِسرائیلیوں نے چار لاکھ شمشیر زن مَرد اِکٹھّے کئے جو سَب کے سَب جنگجو سپاہی تھے۔
JDG 20:18 بنی اِسرائیل بیت ایل کو گیٔے اَور خُدا سے مشورت چاہی۔ اُنہُوں نے کہا، ”ہم میں سے سَب سے پہلے بنی بِنیامین سے لڑنے کون جائے؟“ یَاہوِہ نے فرمایا، ”پہلے یہُوداہؔ جائے۔“
JDG 20:19 اگلے دِن صُبح سویرے اُٹھ کر بنی اِسرائیل نے گِبعہؔ کے نزدیک ڈیرے ڈالے۔
JDG 20:20 اَور اِسرائیل کے لوگ بنی بِنیامین سے لڑنے کے لیٔے نکلے اَور گِبعہؔ میں اُن کے خِلاف صف آرا ہُوئے۔
JDG 20:21 بنی بِنیامین گِبعہؔ سے نکلے اَور اُس دِن اُنہُوں نے بائیس ہزار اِسرائیلیوں کو میدانِ جنگ میں موت کے گھاٹ اُتار دیا۔
JDG 20:22 لیکن اِسرائیلیوں نے ایک دُوسرے کی حوصلہ اَفزائی کی اَور پھر سے اُسی جگہ مورچے سنبھال لیٔے جہاں وہ پہلے دِن صف آرا ہُوئے تھے۔
JDG 20:23 تَب بنی اِسرائیل جا کر شام تک یَاہوِہ کے حُضُور روتے رہے اَور یَاہوِہ سے دریافت کیا، ”کیا ہم دوبارہ اَپنے بنی بِنیامین جو ہمارے بھایٔی ہیں اُن سے لڑنے جایٔیں؟“ یَاہوِہ نے فرمایا، ”اُن پر چڑھائی کرو۔“
JDG 20:24 تَب دُوسرے دِن اِسرائیلی بنی بِنیامین کے نزدیک پہُنچے۔
JDG 20:25 اَب کی بار جَب بنی بِنیامین گِبعہؔ سے اُن کے مُقابلہ پر آئے تو اُنہُوں نے اَور اٹھّارہ ہزار اِسرائیلیوں کو جو سَب کے سَب شمشیر زن تھے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔
JDG 20:26 تَب تمام بنی اِسرائیل اَور سَب فَوجی بیت ایل چلے گیٔے اَور وہاں یَاہوِہ کے حُضُور میں آہ و زاری کرتے رہے۔ اُنہُوں نے اُس دِن شام تک روزہ رکھا اَور یَاہوِہ کے آگے سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں پیش کیں
JDG 20:27 تَب اِسرائیلیوں نے یَاہوِہ سے فریاد کی۔ (اُن دِنوں یَاہوِہ کے عہد کا صندُوق وہاں تھا
JDG 20:28 اَور فِنحاسؔ جو اَہرونؔ کا پوتا اَور الیعزرؔ کا بیٹا تھا اُس کے سامنے خدمت مَیں حاضِر رہتا تھا۔) اُنہُوں نے پُوچھا، ”کیا ہم پھر اَپنے بھایٔی بِنیامین کے لوگوں سے لڑنے جایٔیں یا نہیں؟“ یَاہوِہ نے کہا، جاؤ، کیونکہ کل میں اُنہیں تمہارے ہاتھ میں کر دُوں گا۔
JDG 20:29 تَب اِسرائیلی گِبعہؔ کے اطراف گھات لگا کر بیٹھ گیٔے۔
JDG 20:30 تیسرے دِن اِسرائیلیوں نے بنی بِنیامین کے خِلاف چڑھائی کی اَور گِبعہؔ کے مقابل پہلے کی طرح صف آرا ہو گئے۔
JDG 20:31 بنی بِنیامین اُن کے مُقابلہ کے لیٔے نکل آئے اَور وہ شہر سے دُور کھنچے چلے گیٔے۔ اُنہُوں نے پہلے کی طرح ہی اِسرائیلیوں کو مارنا اَور قتل کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ تقریباً تیس مَرد کھُلے میدان میں اَور شاہراہوں پر ڈھیر ہو گئے۔ اُن میں سے ایک شاہراہ بیت ایل کو اَور دُوسری گِبعہؔ کو جاتی تھی۔
JDG 20:32 جہاں بِن بِنیامین یہ کہتے تھے کہ، ”ہم اُنہیں پہلے کی طرح شِکست دے رہے ہیں وہاں اِسرائیلی یہ کہہ رہے تھے کہ ہم پیچھے ہٹ کر اُنہیں شہر سے دُور شاہراہوں پر کھینچ لائیں۔“
JDG 20:33 اِسرائیل کے سَب لوگ اَپنی اَپنی جگہ سے ہٹ کر بَعل تامارؔ میں صف آرا ہُوئے اَور گھات میں بیٹھے ہُوئے اِسرائیلی گِبعؔ کے مغرب سے اَچانک نکل پڑے۔
JDG 20:34 تَب اِسرائیلیوں کے دس ہزار مَردوں نے سامنے سے گِبعہؔ پر حملہ کیا۔ جنگ اِس قدر شدید تھی کہ بنی بِنیامین کو احساس بھی نہ ہو سَکا کہ تباہی کس قدر نزدیک آ چُکی ہے۔
JDG 20:35 یَاہوِہ نے اِسرائیل کے سامنے بنی بِنیامین کو شِکست دی اَور اُس دِن اِسرائیلیوں نے پچّیس ہزار ایک سَو بنی بِنیامینیوں کو مار ڈالا جو سَب کے سَب شمشیر زن تھے۔
JDG 20:36 تَب بنی بِنیامین نے دیکھا کہ وہ ہار چُکے ہیں۔ اَب اِسرائیلی لوگ بنی بِنیامین کے سامنے سے ہٹ گیٔے کیونکہ اُنہُوں نے اُن لوگوں پر اِعتماد کیا تھا جنہیں اُنہُوں نے گِبعہؔ کے نزدیک گھات میں بِٹھا دیا تھا۔
JDG 20:37 جو لوگ گھات میں بیٹھے تھے وہ اَچانک گِبعہؔ پر ہر طرف سے جھپٹ پڑے اَور سارے شہر کو تہِ تیغ کر ڈالا۔
JDG 20:38 اِسرائیلیوں نے گھات میں بیٹھے ہُوئے لوگوں سے کہہ رکھا تھا کہ جَب وہ شہر سے دھوئیں کا بہت بڑا بادل اُٹھائیں گے
JDG 20:39 تو اِسرائیلی لوگ لڑائی سے مُنہ پھیر لیں گے۔ اِس پر بنی بِنیامین نے اِسرائیلی لوگوں کو مارنا شروع کیا (اَور تقریباً تیس لوگ مَر چُکے تھے) اَور کہنے لگے، پہلی لڑائی کی طرح، ”ہم اُنہیں ہرا رہے ہیں۔“
JDG 20:40 لیکن جَب شہر سے دھوئیں کا سُتون اُٹھنے لگا تو بنی بِنیامین نے پلٹ کر نگاہ کی اَور دیکھا کہ سارے شہر کا دُھواں آسمان کی طرف اُٹھ رہاہے۔
JDG 20:41 تَب اِسرائیلی لوگ اُن پر پلٹ پڑے اَور بنی بِنیامین کے لوگ گھبرا گیٔے کیونکہ وہ جان گیٔے تھے کہ اُن پر آفت آ چُکی ہے۔
JDG 20:42 چنانچہ وہ اِسرائیلیوں کے سامنے سے بیابان کی طرف بھاگ نکلے لیکن وہ لڑائی سے بچ نہ سکے۔ اَورجو اِسرائیلی شہروں میں سے آ رہے تھے اُنہُوں نے اُنہیں وہیں ختم کر دیا۔
JDG 20:43 اُنہُوں نے بنی بِنیامین کا محاصرہ کیا اَور اُنہیں رگیدا اَور گِبعہؔ کے مشرق میں اُنہیں بآسانی پامال کر دیا۔
JDG 20:44 اٹھّارہ ہزار بنی بِنیامین مارے گیٔے جو سَب کے سَب سُورما تھے۔
JDG 20:45 اَور جَیسے ہی وہ مُڑ کر بیابان میں رِمّونؔ کی چٹّان کی طرف بھاگے اِسرائیلیوں نے پانچ ہزار لوگوں کو شاہراہوں پر مار ڈالا اَور وہ بنی بِنیامین کو گِدومؔ تک رگیدتے گیٔے اَور دو ہزار مَرد اَور مار ڈالے گئے۔
JDG 20:46 اُس دِن پچّیس ہزار شمشیر زن بنی بِنیامین کے لوگ مارے گیٔے جو سَب کے سَب سُورما تھے۔
JDG 20:47 لیکن چھ سَو مَرد پلٹ کر بیابان میں رِمّونؔ کی چٹّان کی طرف بھاگ گیٔے جہاں وہ چار ماہ تک رہے۔
JDG 20:48 اِسرائیلی لوگ لَوٹ کر بِنیامین کے علاقہ میں گیٔے اَور اُنہُوں نے ہر شہر کو تہِ تیغ کر ڈالا جِن میں مویشی اَور سَب لوگ جو اُن کے ہاتھ آئے شامل تھے۔ اَور جِس شہر سے بھی اُن کا پالا پڑا اُسے نذرِ آتِش کر دیا۔
JDG 21:1 اِسرائیل کے لوگوں نے مِصفاہؔ میں قَسم کھائی تھی: ”ہم میں سے کویٔی بھی شخص کسی بِنیامینی سے اَپنی بیٹی نہیں بیاہے گا۔“
JDG 21:2 اَور سَب لوگ بیت ایل چلے گیٔے جہاں وہ شام تک خُدا کے حُضُور بیٹھ کر زور زور سے آہ و زاری کرتے رہے۔
JDG 21:3 اَور کہنے لگے، ”اَے یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا، اِسرائیل کے ساتھ یہ سَب کیوں ہُوا؟ آج اِسرائیل میں سے ایک قبیلہ کم ہو گیا۔“
JDG 21:4 دُوسرے دِن صُبح سویرے لوگوں نے وہاں ایک مذبح بنا کر سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں پیش کیں۔
JDG 21:5 تَب بنی اِسرائیل پُوچھنے لگے کہ، ”اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے کون ہے جو یَاہوِہ کے حُضُور میں اِجتماع میں شریک نہیں ہُوا؟“ کیونکہ اُنہُوں نے سخت قَسم کھائی تھی کہ، ”جو کویٔی یَاہوِہ کے حُضُور میں مِصفاہؔ مَیں حاضِر نہ ہوگا وہ یقیناً مار ڈالا جائے گا۔“
JDG 21:6 تَب اِسرائیلی اَپنے بِنیامینی قبیلہ کے آپ نے بھائیوں کے لیٔے رنجیدہ ہُوئے اَور کہنے لگے کہ آج اِسرائیل کا ایک قبیلہ کٹ گیا۔
JDG 21:7 ہم اُن بچے ہُوئے لوگوں کے لیٔے بیویاں کہاں سے لائیں کیونکہ ہم نے یَاہوِہ کی قَسم کھائی ہے کہ ہم اَپنی کویٔی بیٹی اُن سے نہ بیاہیں گے؟
JDG 21:8 تَب اُنہُوں نے پُوچھا کہ، ”اِسرائیل کا کون سا قبیلہ مِصفاہؔ میں یَاہوِہ کے حُضُور جمع نہیں ہو پایا؟“ تَب اُنہیں پتا لگاکہ چھاؤنی میں یبیسؔ گِلعادؔ سے کویٔی شخص اِجتماع میں شریک ہونے نہیں آیاتھا۔
JDG 21:9 کیونکہ جَب اُنہُوں نے لوگوں کا شُمار کیا تھا تو پتا لگاکہ یبیسؔ گِلعادؔ کے لوگوں میں سے کویٔی بھی وہاں نہ تھا۔
JDG 21:10 تَب جماعت نے بَارہ ہزار سُورماؤں کو اِن ہدایات کے ساتھ یبیسؔ گِلعادؔ کو روانہ کیا کہ وہ جایٔیں اَور وہاں کے سَب باشِندوں کو عورتوں اَور بچّوں سمیت تلوار سے قتل کر دیں۔
JDG 21:11 اُنہُوں نے کہا، ”تُمہیں لازِم ہوگا کہ ہر مَرد اَور ہر اُس عورت کو جو کنواری نہ ہو قتل کر ڈالو۔“
JDG 21:12 اُنہُوں نے یبیسؔ گِلعادؔ کے باشِندوں میں چار سَو اَیسی جَوان دوشیزائیں پائیں جو مَرد سے ناواقِف تھیں اَور وہ اُنہیں کنعانؔ کے مُلک میں شیلوہؔ کی چھاؤنی میں لے آئے۔
JDG 21:13 تَب ساری جماعت نے رِمّونؔ کی چٹّان پر بنی بِنیامین کے پاس پیغامِ اَمن بھیجا۔
JDG 21:14 تَب بنی بِنیامین اُسی وقت لَوٹ آئے اَور اُنہیں یبیسؔ گِلعادؔ کی وہ عورتیں دی گئیں جو زندہ بچا لی گئی تھیں۔ لیکن وہ اُن سَب کے لیٔے کافی نہیں تھیں۔
JDG 21:15 اَور لوگ بِنیامین کے باعث رنجیدہ ہُوئے کیونکہ یَاہوِہ نے اِسرائیل کے قبیلوں میں رخنہ ڈال دیا تھا۔
JDG 21:16 اَور جماعت کے بُزرگوں نے کہا، ”چونکہ بِنیامینی عورتیں نِیست و نابود ہو چُکی ہیں لہٰذا اَب ہم اِن بچے ہُوئے مَردوں کو بیویاں کیسے مہیا کریں؟“
JDG 21:17 اُنہُوں نے کہا، ”بچے ہُوئے بنی بِنیامین کے لوگوں کے لیٔے مِیراث ضروُری ہے تاکہ اِسرائیل کا ایک قبیلہ نابود نہ ہو جائے۔
JDG 21:18 ہم اُنہیں اَپنی بیٹیاں نہیں بیاہ سکتے کیونکہ ہم اِسرائیلیوں نے یہ قَسم کھائی ہے: ’وہ شخص ملعُون ہو، جو اَپنی بیٹی کسی بِنیامینی کو دے۔‘
JDG 21:19 لیکن دیکھو شیلوہؔ میں جو بیت ایل کے شمال میں اَور اُس شاہراہ کے مشرق میں ہے جو بیت ایل سے شِکیمؔ کو جاتی ہے اَور لبونہؔ کے جُنوب میں ہے یَاہوِہ کی سالانہ عید ہوتی ہے۔“
JDG 21:20 چنانچہ اُنہُوں نے بنی بِنیامین کو یہ کہہ کر ہدایات دیں، ”جاؤ اَور تاکستانوں میں چھُپ جاؤ
JDG 21:21 اَور دیکھتے رہو۔ جَب شیلوہؔ کی لڑکیاں رقص میں شریک ہونے کے لیٔے آ جائیں تو تُم تاکستانوں میں سے نکل کر اَپنے لیٔے شیلوہؔ کی لڑکیوں میں سے ایک ایک بیوی پکڑ لینا اَور بِنیامین کے مُلک کو چلے جانا۔
JDG 21:22 جَب اُن کے باپ یا بھایٔی ہم سے شکایت کریں گے تو ہم اُن سے کہیں گے، ’اُن کی مدد کرکے ہم پر مہربانی کرو کیونکہ ہم لڑائی کے دَوران اُن کے لیٔے بیویاں نہ لایٔے اَور تُم بےگُناہ ہو کیونکہ تُم نے آپ اَپنی بیٹیاں اُنہیں نہیں دیں۔‘ “
JDG 21:23 چنانچہ بنی بِنیامین نے اَیسا ہی کیا۔ جَب وہ لڑکیاں رقص کر رہی تھیں تو ہر مَرد نے ایک ایک کو پکڑا اَور لے جا کر اُسے اَپنی بیوی بنا لیا۔ تَب وہ اَپنی مِیراث کو لَوٹے اَور شہروں کو دوبارہ تعمیر کرکے اُن میں بس گیٔے۔
JDG 21:24 اُسی وقت اِسرائیلی وہاں سے نکل کر اَپنے اَپنے قبیلہ اَور برادری اَور اَپنے گھرانے کو چلے گیٔے، اِس طرح ہر ایک اَپنی اَپنی مِیراث کو لَوٹا۔
JDG 21:25 اُن دِنوں اِسرائیلیوں کا کویٔی بادشاہ نہ تھا چنانچہ جِس کو جو بھی ٹھیک مَعلُوم ہوتا تھا وہ وُہی کرتا تھا۔
RUT 1:1 جِن دِنوں (بنی اِسرائیل کی) قیادت قُضاتیوں کے ہاتھوں میں تھی اُن دِنوں مُلک میں قحط پڑا اَور یہُودیؔہ کے بیت لحمؔ کا ایک شخص اَپنی بیوی اَور دو بیٹوں سمیت چند دِنوں کے لیٔے مُوآب کے مُلک میں جا کر مُقیم ہو گیا۔
RUT 1:2 اُس شخص کا نام الیمَلِکؔ اَور اُس کی بیوی کا نام نعومیؔ تھا اَور اُس کے دو بیٹوں کے نام محلونؔ اَور کِلیونؔ تھے۔ وہ یہُودیؔہ کے بیت لحمؔ کے اِفراتی گھرانے سے تھے۔ وہ مُوآب کے مُلک میں چلے گیٔے اَور وہیں رہنے لگے۔
RUT 1:3 اَیسا ہُوا کہ نعومیؔ کا خَاوند الیمَلِکؔ مَر گیا اَور وہ اَپنے دو دونوں ںبیٹوں کے ساتھ باقی رہ گئی۔
RUT 1:4 بیٹوں نے دو مُوآبی عورتوں کے ساتھ بیاہ کر لیا، جِن میں سے ایک کا نام عرفہؔ اَور دُوسری کا رُوتؔ تھا۔ تقریباً دس بَرس وہاں رہنے کے بعد،
RUT 1:5 محلونؔ اَور کِلیونؔ بھی مَر گیٔے، اَور نعومیؔ اَپنے دونوں بیٹوں اَور خَاوند سے محروم ہو گئی۔
RUT 1:6 جَب نعومیؔ نے مُوآب کے مُلک میں یہ سُنا کہ یَاہوِہ نے اَپنے لوگوں پر مہربان ہوکر، اُنہیں روٹی مہیا کی ہے تو وہ اَپنی دونوں بہوؤں سمیت وہاں سے اَپنے وطن جانے کی تیّاری کرنے لگی۔
RUT 1:7 اُس نے اَپنی دو بہوؤں کو ساتھ لیا اَور اُس مقام کو خیرباد کہا جہاں وہ رہتی تھی اَور اُس شاہراہ پر ہو لی جو یہُودیؔہ کے مُلک کی طرف جاتی تھی۔
RUT 1:8 نعومیؔ نے اَپنی بہوؤں سے کہا: ”تُم دونوں اَپنے اَپنے میکے لَوٹ جاؤ۔ جَیسے تُم اَپنے مرحُوم شوہروں اَور مُجھ سے مہربانی سے پیش آئیں وَیسے ہی یَاہوِہ تُم پر بھی مہربان ہو۔
RUT 1:9 یَاہوِہ کرے کہ تُم پھر سے بیاہ کر لو اَور اَپنے اَپنے خَاوند کے گھر میں راحت پاؤ۔“ تَب اُس نے اُنہیں چُوما اَور وہ زار زار رونے لگیں۔
RUT 1:10 اَور اُس سے کہا، ”ہم تو تمہارے ساتھ لَوٹ کر تمہارے ہی لوگوں میں جایٔیں گی۔“
RUT 1:11 لیکن نعومیؔ نے کہا: ”میری بیٹیو! تُم اَپنے اَپنے گھر لَوٹ جاؤ۔ تُم میرے ساتھ کیوں آئیں گے؟ کیا میرے اَور بیٹے ہونے والے ہیں جو تمہارے خَاوند بَن سکیں؟
RUT 1:12 جاؤ، گھر لَوٹ جاؤ اَے میری بیٹیو! اَب مَیں اُتنی بُوڑھی ہو چُکی ہُوں کہ دُوسرا خَاوند نہیں کر سکتی۔ اگر مَیں یہ سوچنے لگوں کہ میرے لیٔے اَب بھی اُمّید باقی ہے اَور اگر آج میرا خَاوند ہوتا اَور مَیں بھی بیٹے جنتی۔
RUT 1:13 تو کیا تُم اُن کے جَوان ہونے تک اِنتظار کرتیں؟ کیا تُم اُن کی خاطِر غَیر شادی شُدہ رہتیں؟ نہیں میری بیٹیو! اَیسا سوچنا میرے لیٔے بہ نِسبت تمہارے زِیادہ تلخ ہے کیونکہ یَاہوِہ کا ہاتھ میرے خِلاف اُٹھ چُکاہے!“
RUT 1:14 اِس پر وہ پھر رونے لگیں۔ تَب عرفہؔ نے اَپنی ساس کو چُوما اَور اُسے اَلوِداع کہا، لیکن رُوتؔ اُس سے لپٹ گئی۔
RUT 1:15 نعومیؔ نے کہا: ”دیکھو تمہاری جٹھانی اَپنے لوگوں اَور اَپنے معبُودوں کے پاس لَوٹ رہی ہے۔ تُم بھی اُس کے ساتھ چلی جاؤ۔“
RUT 1:16 لیکن رُوتؔ نے کہا: ”تُم اِصرار نہ کر کہ مَیں تُجھے چھوڑ دُوں یا تُجھ سے بھاگ کر دُور چلی جاؤں۔ جہاں تُم جاؤگی میں بھی وہاں چلُوں گی اَور جہاں تُم رہوگی میں بھی وہیں رہُوں گی۔ تمہارے لوگ میرے لوگ ہوں گے اَور تمہارا خُدا میرا خُدا ہوگا۔
RUT 1:17 جہاں تُم مَروگی میں بھی وہیں مروں گی، اَور وہیں دفن ہو جاؤں گی۔ اگر موت کے سِوا کویٔی اَور چیز مُجھے تُجھ سے جُدا کرے تو یَاہوِہ مُجھ سے اَیسا ہی بَلکہ اِس سے بھی زِیادہ سختی سے پیش آئے۔“
RUT 1:18 جَب نعومیؔ نے دیکھا کہ رُوتؔ نے اُس کے ساتھ جانے کی ٹھان لی ہے تو اُس نے اَور اِصرار نہ کیا۔
RUT 1:19 اَور وہ دونوں چلتی رہیں یہاں تک کہ بیت لحمؔ جا پہُنچیں۔ جَب وہ بیت لحمؔ پہُنچیں، تو اُن کی وجہ سے سارے شہر میں دھوم مچ گئی اَور عورتیں کہنے لگیں، ”یہ تو نعومیؔ ہے۔ اُس کے سِوا کون ہو سکتی ہے؟“
RUT 1:20 اُس نے نعومیؔ سے کہا: ”مُجھے نعومیؔ نہ کہو، بَلکہ مارہؔ کہو کیونکہ قادرمُطلق نے میری زندگی تلخ کر دی ہے۔
RUT 1:21 میں تو بھری پُوری گئی تھی لیکن یَاہوِہ مُجھے خالی واپس لے آئے، مُجھے نعومیؔ کیوں کہتی ہو؟ یَاہوِہ قادرمُطلق نے مُجھ پر آفت نازل کی اَور یَاہوِہ نے مُجھے بدنصیب کر دیا۔“
RUT 1:22 جَب نعومیؔ مُوآب سے اَپنی مُوآبی بہُو رُوتؔ کے ہمراہ لَوٹی، تو بیت لحمؔ میں جَو کی فصل کاٹنے کا موسم شروع ہو چُکاتھا۔
RUT 2:1 نعومیؔ کے خَاوند کا ایک رشتہ دار تھا جِس کا نام بُوعزؔ تھا۔ وہ الیمَلِکؔ کے برادری سے تھا اَور بڑا مالدار تھا۔
RUT 2:2 مُوآبی رُوتؔ نے نعومیؔ سے کہا: ”مُجھے اِجازت دے کہ میں کھیتوں میں جاؤں اَور جِس کسی کی بھی مُجھ پر نظرِ عنایت ہو اُس کے پیچھے پیچھے گری ہوئی بالیں چُننے لگوں۔“ نعومیؔ نے اُس سے کہا: ”جا میری بیٹی۔“
RUT 2:3 چنانچہ وہ چلی گئی، اَور فصل کاٹنے والوں کے پیچھے پیچھے بالیں چُننے لگی۔ اِتّفاق سے وہ کھیت بُوعزؔ کا تھا جو الیمَلِکؔ کی برادری سے تعلّق رکھتا تھا۔
RUT 2:4 اُسی دَوران بُوعزؔ بیت لحمؔ سے آ گیا۔ اُس نے فصل کاٹنے والوں سے کہا: ”یَاہوِہ تمہارے ساتھ ہو!“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”یَاہوِہ تُجھے برکت دیں!“
RUT 2:5 بُوعزؔ نے اَپنے داروغہ سے جو کاٹنے والوں کا نِگران تھا، ”دریافت کیا یہ نوجوان خاتُون کون ہے؟“
RUT 2:6 داروغہ نے جَواب دیا، ”یہ وہ مُوآبی خاتُون ہے جو نعومیؔ کے ساتھ مُوآب کے مُلک سے آئی ہے۔
RUT 2:7 اُس نے مُجھ سے اِلتجا کی تھی، ’میں اُسے کاٹنے والوں کے پیچھے پُولوں کے بیچ گری ہُوئی بالیں چُن کر جمع کرنے دُوں۔‘ چنانچہ وہ کھیت میں گئی اَور صُبح سے اَب تک لگاتار کام کر رہی ہے۔ ہاں تھوڑے وقفہ کے لیٔے اُس نے ڈیرے میں ضروُر آرام کیا تھا۔“
RUT 2:8 اِس پر بُوعزؔ نے رُوتؔ سے کہا: ”میری بیٹی میری بات سُن! اَب کسی دُوسرے کھیت میں بالیں چُننے مت جانا۔ میری خادِماؤں کے ساتھ یہیں رہنا۔
RUT 2:9 اُس کھیت پر جہاں فصل کاٹی جا رہی ہے نظر رکھنا اَور لڑکیوں کے پیچھے پیچھے رہنا۔ مَیں نے لوگوں سے کہہ دیا ہے کہ تُجھے کویٔی نہ چھیڑے۔ اَور جَب تُجھے پیاس لگے تو جا کر اُن صُراحیوں میں سے پانی پی لینا جو میرے خادِموں نے بھر کر رکھی ہیں۔“
RUT 2:10 تَب رُوتؔ سَر جھُکا کر آداب بجا لائی اَور کہنے لگی، ”کیا وجہ ہے کہ تُم مُجھ پردیسن پر اِس قدر مہربانی کر رہےہو؟“
RUT 2:11 بُوعزؔ نے کہا: ”تُم نے اَپنے خَاوند کی موت کے بعد اَپنی ساس کے ساتھ جو سلُوک کیا وہ مُجھے اَچھّی طرح مَعلُوم ہے اَور مَیں یہ بھی جانتا ہُوں کہ تُم کس طرح اَپنے ماں باپ اَور اَپنے وطن کو چھوڑکر اُن لوگوں کے درمیان رہنے کو آئی جنہیں تُم پہلے جانتی بھی نہ تھی۔
RUT 2:12 یَاہوِہ تُجھے تیرے نیک اعمال کا صِلہ دے اَور اِسرائیل کا خُدا جِس کے سایہ میں تُم پناہ لینے آئی ہے تُجھے اَپنی بخششوں سے مالا مال کر دے۔“
RUT 2:13 اُس نے کہا: ”میرے آقا! مُجھ پر تمہاری نظرِکرم رہے اَور حالانکہ مَیں تمہاری خادِماؤں میں بھی کسی کی برابری کے لائق نہیں تو بھی تُم نے لونڈی سے شفقت بھری باتیں کرکے اُسے تسلّی دی۔“
RUT 2:14 کھانے کے وقت بُوعزؔ نے اُس سے کہا، ”آؤ، کچھ روٹی کھالو اَور اَپنا نوالہ سِرکہ میں بھگو لو۔“ وہ کاٹنے والوں کے پاس بیٹھ گئی اَور بُوعزؔ نے اُسے کچھ بھُنا ہُوا اناج پیش کیا۔ اُس نے سیر ہوکر کھایا اَور کچھ بچا لیا۔
RUT 2:15 جوں ہی وہ بالیں چُننے کو اُٹھی تو بُوعزؔ نے اَپنے لوگوں کو حُکم دیا کہ، ”اگر وہ پُولوں کے درمیان سے بھی بالیں جمع کرے تو اُسے روکنا مت۔
RUT 2:16 بَلکہ اُس کی خاطِر پُولوں میں سے چند بالیں نوچ کر چھوڑ دینا تاکہ وہ اُٹھالے اَور اُسے ڈاٹنا مت۔“
RUT 2:17 چنانچہ رُوتؔ شام تک کھیت میں بالیں چُنتی رہی۔ پھر اُس نے جو کچھ چُنا تھا اُسے پھٹکا اَور اُس میں سے تقریباً ایک ایفہ کے برابر جَو نکلے۔
RUT 2:18 جو کچھ اُس نے جمع کیا تھا وہ اُسے اُٹھاکر شہر لے گئی اَور اَپنی ساس کو دِکھایا۔ رُوتؔ نے وہ بھُنا ہُوا اناج بھی جو اُس نے پیٹ بھر کر کھانے کے بعد بچا لیا تھا نکالا اَور اُسے دے دیا۔
RUT 2:19 اُس کی ساس نے اُس سے پُوچھا: ”آج تُم نے کہاں بالیں چُنیں اَور کہاں کام کیا؟ مُبارک ہے وہ آدمی جِس نے تُجھ پر مہربانی کی!“ تَب رُوتؔ نے اَپنی ساس کو اُس شخص کے متعلّق بتایا جِس کے ہاں اُس نے کام کیا تھا۔ اُس نے کہا، ”جِس آدمی کے ہاں آج مَیں نے کام کیا اُس کا نام بُوعزؔ ہے۔“
RUT 2:20 نعومیؔ نے اَپنی بہُو سے کہا، ”یَاہوِہ اُسے برکت دے!“ پھر یہ بھی کہا ”اُس نے زندوں اَور مُردوں دونوں پر مہربانی کی۔ وہ آدمی ہمارا قریبی سرپرست رشتہ دار ہے اَور ہمارے عزیزوں اَور مُربّیوں میں سے ہے۔“
RUT 2:21 تَب مُوآبی رُوتؔ نے کہا، ”اُس نے مُجھ سے یہ بھی کہا، ’جَب تک اُس کے مزدُور اُس کی ساری فصل کاٹ نہ لیں میں اُن کے ساتھ رہُوں۔‘ “
RUT 2:22 نعومیؔ نے اَپنی بہُو رُوتؔ سے کہا: ”میری بیٹی یہ تیرے حق میں اَچھّا ہوگا کہ تُم اُسی کی خادِماؤں کے ساتھ جائے کیونکہ ہو سَکتا ہے کہ کسی اَور کے کھیت میں تُجھے نُقصان پہُنچے۔“
RUT 2:23 چنانچہ رُوتؔ جَو اَور گیہُوں کی ساری فصل کٹنے تک بُوعزؔ کی خادِماؤں کے ساتھ رہ کر بالیں چُنتی رہی اَور اَپنی ساس کے پاس رہتی تھی۔
RUT 3:1 ایک دِن رُوتؔ کی ساس نعومیؔ نے اُس سے کہا: ”میری بیٹی! کیوں نہ مَیں تمہارے لیٔے کویٔی گھر تلاش کروں جہاں تمہاری سَب ضرورتیں پُوری ہُوں۔
RUT 3:2 کیا بُوعزؔ، جِس کی خادِماؤں کے ساتھ تُو رہ چُکی ہے، ہمارا رشتہ دار نہیں؟ آج رات کو وہ کھلیان میں جَو پھٹکے گا۔
RUT 3:3 لہٰذا تُم نہا دھوکر اَپنے جِسم کو خُوشبو لگانا، اَپنے بہترین کپڑے پہن لینا اَور کھلیان کو چلی جانا۔ لیکن جَب تک وہ کھا پی نہ لے اَپنے آپ کو اُس پر ظاہر نہ کرنا۔
RUT 3:4 جَب وہ لیٹ جائے تو اُس کے لیٹنے کی جگہ دیکھ لینا۔ پھر وہاں جانا اَور اُس کے پاؤں پر سے چادر ہٹا کر لیٹ جانا۔ تَب وہ تُجھے بتائے گا کہ تُجھے کیا کرناہے۔“
RUT 3:5 رُوتؔ نے کہا: ”تُم نے جو کچھ کہا میں وُہی کروں گی۔“
RUT 3:6 چنانچہ وہ کھلیان کو گئی اَورجو کچھ اُس کی ساس نے کہاتھا وہ سَب کیا۔
RUT 3:7 جَب بُوعزؔ کھا پی چُکا اَور اُس کا دِل خُوشی سے بھر گیا، تَب وہ اناج کے ڈھیر کے آخِری سِرے پر جا کر لیٹ گیا۔ رُوتؔ دبے پاؤں وہاں گئی اَور بُوعزؔ کے پاؤں پر سے چادر ہٹا کر لیٹ گئی۔
RUT 3:8 آدھی رات کو وہ آدمی چونک پڑا اَور کروٹ بدلی تو دیکھا کہ ایک عورت اُس کے قدموں میں لیٹی ہُوئی ہے۔
RUT 3:9 اُس نے پُوچھا: ”تُم کون ہو؟“ اُس نے کہا، ”مَیں تمہاری خادِمہ رُوتؔ ہُوں۔“ اَپنی چادر کا کو نہ مُجھ پر پھیلا دیں کیونکہ ”آپ ہمارے خاندان کے سرپرست ہیں۔“
RUT 3:10 اُس نے کہا: ”اَے میری بیٹی! یَاہوِہ تُجھے برکت دیں۔ تمہاری یہ مہربانی اُس سے بھی بڑھ کر ہے جو تُم نے پہلے اَپنے خاندان پر دِکھائی تھی۔ تُم کسی اَمیر یا غریب نہ کوئی نوجوان کے پیچھے نہیں گئی۔
RUT 3:11 اَور اَب اَے میری بیٹی تُم خوف نہ کر۔ مَیں تمہارے لئے وہ سَب کروں گا جو تُم کہوگی۔ میرے شہر کے سَب لوگ جانتے ہیں کہ تُم نیک سیرت عورت ہو۔
RUT 3:12 حالانکہ یہ سچ ہے کہ میں تمہارا سرپرست رشتہ دار ہُوں لیکن ایک مُربّی رشتہ دار اَور بھی ہے، جو میری نِسبت مُجھ سے زِیادہ قریب ہے۔
RUT 3:13 تُم رات یہیں گزارنا اَور اگر صُبح وہ سرپرست کے طور پر کا حق اَدا کرنا چاہے تو بہتر ہے اُسے تُمہیں چھُڑانے دو۔ لیکن اگر وہ نہ چاہے تو یَاہوِہ کی حیات کی قَسم میں ہی وہ فرض اَدا کروں گا۔ صُبح تک یہیں لیٹی رہنا۔“
RUT 3:14 چنانچہ صُبح کا اجالا ہونے تک، وہ اُس کے قدموں میں لیٹی رہی لیکن اِس سے پیشتر کہ رَوشنی ہوتی وہ اُٹھ گئی۔ بُوعزؔ نے کہا، ”یہ ظاہر نہ ہونے دینا کہ کویٔی عورت کھلیان میں آئی تھی۔“
RUT 3:15 تَب بُوعزؔ نے اُس سے کہا، ”جو چادر تُم اوڑھے ہُوئے ہو اُسے میرے پاس لانا اَور اُسے پھیلا کر تھام لینا۔“ جَب اُس نے اُسے تھام لیا تو اُس نے چھ پیمانے جَو ناپ کر اُس میں ڈال دیا اَور اُسے اُس پر لاد دیا اَور خُود شہر کو لَوٹ گیا۔
RUT 3:16 جَب رُوتؔ اَپنی ساس کے پاس واپس آئی تو نعومیؔ سے پُوچھا: ”بیٹی! سارا مُعاملہ کیسا رہا؟“ تَب اُس نے وہ سَب کچھ بتایا، ”جو بُوعزؔ نے اُس کی خاطِر کیا تھا۔“
RUT 3:17 اَور کہا، ”اُس نے مُجھے یہ چھ پیمانے بھر کر جَو دیا اَور کہا، ’اَپنی ساس کے پاس خالی ہاتھ نہ لَوٹنا۔‘ “
RUT 3:18 تَب نعومیؔ نے کہا، ”میری بیٹی، جَب تک تُجھے پتہ نہ لگے کہ کیا ہوتاہے۔ تَب تک اِنتظار کرنا۔ کیونکہ جَب تک بُوعزؔ اُس کام کو آج ہی نہ نپٹا لے وہ چَین سے نہ بیٹھے گا۔“
RUT 4:1 اِسی دَوران بُوعزؔ شہر کے پھاٹک پر گیا اَور وہاں بیٹھ گیا اَور جَب وہ سرپرست اَور رشتہ دار جِس کا ذِکر اُس نے کیا تھا آ گیا تو بُوعزؔ نے کہا: ”میرے دوست اِدھر آؤ اَور بیٹھ جاؤ۔“ چنانچہ وہ اُدھر جا کر بیٹھ گیا۔
RUT 4:2 بُوعزؔ نے شہر کے بُزرگوں میں سے دس لوگوں کو بُلاکر وہاں بیٹھنے کو کہا، ”اَور وہ بھی بیٹھ گیٔے۔“
RUT 4:3 تَب اُس نے اُس سرپرست رشتہ دار سے کہا: ”نعومیؔ، جو مُوآب سے لَوٹ آئی ہے، زمین کا ایک حِصّہ جو ہمارے بھایٔی الیمَلِکؔ کی مِلکیّت تھا بیچ رہی ہے۔
RUT 4:4 مَیں نے سوچا کہ یہ مُعاملہ تمہارے سامنے پیش کروں اَور یہ رائے دُوں کہ تُم اُسے اِن لوگوں کے سامنے جو یہاں بیٹھے ہیں اَور میری قوم کے بُزرگوں کے سامنے خرید لو۔ اگر تُم اُسے چھُڑاتا ہے تو چھُڑا لے۔ لیکن اگر تُم نہ چھُڑانا چاہے تو کہہ دو تاکہ مُجھے مَعلُوم ہو جائے۔ کیونکہ تمہارے سِوا اَور کسی کو اُسے چھُڑانے کا حق نہیں ہے اَور تمہارے بعد میں ہُوں۔“ اُس نے کہا: ”میں اُسے چھُڑا لُوں گا۔“
RUT 4:5 تَب بُوعزؔ نے کہا: ”جِس روز تُم وہ زمین نعومیؔ سے خریدے گا اُس روز تُجھے اُس مُوآبی رُوتؔ بِیوہ کو بھی اپنانا ہوگا تاکہ اُس کے مرحُوم شوہر کا نام اُس کی جائداد سے وابستہ رہے۔“
RUT 4:6 تَب اُس کے سرپرست رشتہ دار نے کہا: ”تَب تو میں اُسے نہیں چھُڑا سَکتا کیونکہ اُس سے میری اَپنی جائداد خطرہ میں پڑ جائے گی۔ تُم ہی اُسے چھُڑا لے۔ میں تو اُسے نہیں چھُڑا سَکتا۔“
RUT 4:7 (قدیم زمانہ میں اِسرائیل میں یہ دستور تھا کہ جائداد کے چھُڑانے یا مُنتقل کرنے کا مُعاملہ قطعاً طے کرتے وقت ایک فریق اَپنی جُوتی اُتار کر دُوسرے کو دیتا تھا۔ لین دین کو قانونی طور پر جائز قرار دینے کا اِسرائیل میں یہی طریقہ تھا۔)
RUT 4:8 چنانچہ اُس سرپرست رشتہ دار نے بُوعزؔ سے کہا، ”تُم ہی اُسے خرید لو۔“ اَور اُس نے اَپنی جُوتی اُتار ڈالی۔
RUT 4:9 تَب بُوعزؔ نے بُزرگوں اَور سَب لوگوں کے سامنے اعلان کیا کہ، ”آج تُم گواہ ہو کہ مَیں نے نعومیؔ سے الیمَلِکؔ، کِلیونؔ اَور محلونؔ کی تمام جائداد خرید لی ہے۔
RUT 4:10 مَیں نے محلونؔ کی بِیوہ مُوآبی رُوتؔ کو بھی اَپنی بیوی کے طور پر اَپنا لیا ہے تاکہ مرحُوم کا نام اُس کی جائداد سے وابستہ رہے اَور اُس کا نام اُس کے خاندان سے یا شہر کے دروازہ پر سے مِٹ نہ جائے۔ آج تُم اِس کے گواہ ہو!“
RUT 4:11 تَب بُزرگوں اَور اُن سَب لوگوں نے جو پھاٹک پر جمع ہُوئے تھے کہا: ”ہم گواہ ہیں، جو عورت تمہارے گھر میں آ رہی ہے اُسے یَاہوِہ راخلؔ اَور لِیاہؔ کی مانند کر دے جنہوں نے باہم مِل کر اِسرائیل کا گھر آباد کیا۔ اَور تُم اِفراتہؔ میں بُلند مرتبہ پایٔے اَور بیت لحمؔ میں تمہارا نام رَوشن ہو۔
RUT 4:12 اَور اُس کی اَولاد کے باعث جو یَاہوِہ تُجھے اُس نوجوان عورت سے دے، تمہارا خاندان پیریزؔ کے خاندان کی مانند ہو جو یہُوداہؔ سے تامارؔ کے ہاں پیدا ہُوا۔“
RUT 4:13 لہٰذا بُوعزؔ نے رُوتؔ کو لے لیا اَور وہ اُس کی بیوی بنی اَور وہ اُس کے پاس گیا اَور یَاہوِہ کے فضل سے وہ حاملہ ہُوئی اَور اُس کے بیٹا پیدا ہُوا۔
RUT 4:14 عورتوں نے نعومیؔ سے کہا: ”یَاہوِہ کی سِتائش ہو کہ اُنہُوں نے آج تُجھے ایک سرپرست رشتہ دار کے بِنا نہیں چھوڑا۔ اُس کا نام سارے اِسرائیل میں مشہُور ہو!
RUT 4:15 وہ تیری زندگی بحال کرےگا اَور تیرے بُڑھاپے میں تُجھے سنبھالے گا۔ کیونکہ تمہاری بہُو نے جو تُجھ سے مَحَبّت رکھتی ہے اَورجو تمہارے لیٔے سات بیٹوں سے بھی بڑھ کر ہے جِس نے اُس بیٹے کو پیدا کیا ہے۔“
RUT 4:16 تَب نعومیؔ نے اُس بچّہ کو اُٹھاکر اَپنی گود میں لے لیا اَور اُس کی پرورِش کی۔
RUT 4:17 اُس کی پڑوسنوں نے کہا، ”نعومیؔ کے بیٹا ہُواہے!“ اَور اُنہُوں نے اُس کا نام عوبیدؔ رکھا۔ وہ یِشائی کا باپ تھا اَور یہی یِشائی داویؔد کا باپ تھا۔
RUT 4:18 چنانچہ، پیریزؔ کا نَسب نامہ یہ ہے: پیریزؔ سے حِضرونؔ پیدا ہُوا،
RUT 4:19 حِضرونؔ سے رامؔ، اَور رامؔ سے عَمّیندابؔ پیدا ہُوا،
RUT 4:20 عَمّیندابؔ سے نحشونؔ، اَور نحشونؔ سے سَلمونؔ پیدا ہُوا،
RUT 4:21 سَلمونؔ سے بُوعزؔ، اَور بُوعزؔ سے عوبیدؔ پیدا ہُوا،
RUT 4:22 عوبیدؔ سے یِشائی، اَور یِشائی سے داویؔد پیدا ہُوا۔
1SA 1:1 کوہستان کے اِفرائیمؔ میں راماتائیم ضوفیم کا ایک آدمی تھا، جِس کا نام اِلقانہؔ تھا۔ اَور وہ اِفرائیمی تھا اَور یروحامؔ بِن اِلیہُوؔ بِن توحوؔ بِن صُوفؔ تھا۔
1SA 1:2 اُس کی دو بیویاں تھیں۔ ایک کا نام حنّہؔ تھا اَور دُوسری کا فنِنّہؔ۔ فنِنّہؔ بال بچّوں والی تھی لیکن حنّہؔ بے اَولاد تھی۔
1SA 1:3 یہ آدمی ہر سال اَپنے شہر سے شیلوہؔ میں جہاں عیلیؔ کے دو بیٹے حُفنیؔ اَور فِنحاسؔ یَاہوِہ کے کاہِنؔ تھے قادرمُطلق یَاہوِہ کے حُضُور سَجدہ کرنے اَور قُربانی گزراننے کو جاتے تھے۔
1SA 1:4 اَور جَب بھی اِلقانہؔ کے لیٔے قُربانی کرنے کا دِن آتا، تو وہ اَپنی بیوی فنِنّہؔ اَور اُس کے سَب بیٹوں، بیٹیوں کو اُس قُربانی کے گوشت کے حِصّے دیتا تھا۔
1SA 1:5 لیکن حنّہؔ کو وہ دُگنا حِصّہ دیتا تھا کیونکہ وہ اُس سے مَحَبّت کرتا تھا، لیکن یَاہوِہ نے اُس کا رحم بند رکھا تھا۔
1SA 1:6 اَور چونکہ یَاہوِہ نے اُس کا رحم بند رکھا تھا اِس لیٔے اُس کی سوتن اُسے تنگ کرنے کے لیٔے چھیڑتی رہتی تھی۔
1SA 1:7 اَور یہ سلسلہ سال بسال چلتا رہا۔ جَب بھی حنّہؔ یَاہوِہ کے گھر جاتی تو اُس کی سوتن اُس کو چھیڑتی یہاں تک کہ وہ رونے لگتی اَور کھانا نہ کھاتی تھی۔
1SA 1:8 اُس کا خَاوند اِلقانہؔ اُسے کہتا، ”حنّہؔ تُم کیوں رو رہی ہے؟ تُم کھانا کیوں نہیں کھاتی؟ تُم غمگین کیوں ہو؟ کیا مَیں تمہارے لیٔے دس بیٹوں سے بڑھ کر نہیں ہُوں؟“
1SA 1:9 ایک بار جَب وہ شیلوہؔ میں کھا پی کر فارغ ہُوئے تو حنّہؔ کھڑی ہو گئی۔ اُس وقت عیلیؔ کاہِنؔ یَاہوِہ کے ہیکل کی چوکھٹ کے پاس کُرسی پر بیٹھا ہُوا تھا۔
1SA 1:10 حنّہؔ کا دِل دُکھ سے بھرا ہُوا تھا۔ وہ رو رو کر یَاہوِہ سے دعا کرنے لگی
1SA 1:11 اَور اُس نے یہ کہتے ہُوئے مَنّت مانی، ”اَے قادرمُطلق یَاہوِہ! اگر آپ اَپنی خادِمہ کی خستہ حالت پر نظر عنایت کریں اَور اُسے فراموش نہ کریں بَلکہ یاد رکھیں اَور اُسے ایک بیٹا بخشیں تو میں اُسے زندگی بھرکے لیٔے یَاہوِہ کی نذر کر دوں گی اَور اُس کے سَر پر کبھی اُسترا نہ پھرے گا۔“
1SA 1:12 اَور جَب وہ یَاہوِہ سے دعا کر رہی تھی تو عیلیؔ غور سے اُس کا مُنہ دیکھ رہاتھا۔
1SA 1:13 حنّہؔ دِل ہی دِل میں دعا کر رہی تھی اَور اُس کے ہونٹ ہل رہے تھے مگر اُس کی آواز سُنایٔی نہ دیتی تھی۔ لہٰذا عیلیؔ نے یہ سوچ کر کہ وہ نشہ میں ہے
1SA 1:14 عیلیؔ نے اُس سے کہا، ”تُم کب تک نشہ میں رہوگی؟ مے کو چھوڑ دو۔“
1SA 1:15 حنّہؔ نے جَواب دیا، ”اَیسا نہیں ہے میرے آقا، میں تو ایک غمزدہ عورت ہُوں۔ مَیں نے مَے یا کویٔی اَور نشہ آور شَے نہیں پی ہے۔ بَلکہ میں تو یَاہوِہ کے آگے اَپنے دِل کا غم کو بَیان کر رہی تھی۔
1SA 1:16 تُم اِس خادِمہ کو کویٔی بدکار عورت مت سمجھو۔ میں تو اَپنے دُکھ اَور غم کی شِدّت کے باعث یہاں دعا میں لگی ہُوئی تھی۔“
1SA 1:17 تَب عیلیؔ نے جَواب دیا، ”سلامتی سے رخصت ہو اَور اِسرائیل کا خُدا تمہاری وہ مُراد پُوری کریں جِس کے لیٔے تُم نے اُن سے دعا کی ہے۔“
1SA 1:18 اُس نے کہا، ”اِس خادِمہ پر آپ کی نظرِکرم ہو۔“ تَب وہ وہاں سے چلی گئی اَور کچھ کھانا کھایا اَور پھر بعد کو اُس کا چہرہ اُداس نہ رہا۔
1SA 1:19 اگلے دِن صُبح سویرے اُٹھ کر اُنہُوں نے یَاہوِہ کے حُضُور سَجدہ کیا اَور پھر رامہؔ میں اَپنے گھر کو لَوٹ گیٔے۔ پھر اِلقانہؔ اَپنی بیوی حنّہؔ کے ساتھ ہم بِستر ہُوا اَور یَاہوِہ نے اُسے یاد کیا۔
1SA 1:20 لہٰذا حنّہؔ حاملہ ہُوئی اَور وقت پُورا ہونے پر اُس کے بیٹا پیدا ہُوا۔ اُس نے یہ کہتے ہُوئے، ”مَیں نے اُسے یَاہوِہ سے مانگا ہے اُس کا نام شموایلؔ رکھا۔“
1SA 1:21 اَور جَب وہ آدمی اِلقانہؔ اَپنے سارے گھرانے سمیت یَاہوِہ کے حُضُور سالانہ قُربانی چڑھانے اَور اَپنی مَنّت پُوری کرنے گیا
1SA 1:22 تو حنّہؔ نہ گئی۔ اُس نے اَپنے خَاوند سے کہا، ”جَب لڑکے کا دُودھ چھُڑایا جائے گا؛ تَب میں اُسے لے کر جاؤں گی اَور یَاہوِہ کے حُضُور پیش کروں گی اَور وہ ہمیشہ وہاں رہے گا۔“
1SA 1:23 اَور اُس کے خَاوند اِلقانہؔ نے اُس سے کہا، ”تُجھے جو اَچھّا لگے وُہی کرنا۔ اُس بچّہ کا دُودھ چھُڑانے تک گھر ہی میں رہ۔ فقط اِتنا ہو کہ یَاہوِہ اَپنے قول کو برقرار رکھیں۔“ لہٰذا وہ عورت گھر میں ہی رہی۔ اَور جَب تک بیٹے نے دُودھ پینا نہیں چھوڑا وہ اُسے پلاتی رہی۔
1SA 1:24 اَور جَب اُس کا دُودھ پینا چھُڑایا گیا تو اُس نے اُس لڑکے کو جو ابھی کمسِن تھا ساتھ لیا اَور اُسے ایک تین سالہ بچھڑے، ایک ایفہ آٹے اَور مَے کی ایک مشک کے ساتھ شیلوہؔ میں یَاہوِہ کے گھر میں لے گئی۔
1SA 1:25 اَور جَب وہ اُس بچھڑے کو ذبح کر چُکے تو وہ اُس لڑکے کو عیلیؔ کے پاس لایٔے۔
1SA 1:26 اَور اُس نے عیلیؔ سے کہا آقا، ”مُجھے مُعاف کیجئے آپ کی جان کی قَسم، میں ہی وہ عورت ہُوں جو ایک دِن یہاں تمہارے پاس کھڑی ہوکر یَاہوِہ سے دعا مانگ رہی تھی۔
1SA 1:27 مَیں نے اِس بچّہ کے لیٔے دعا کی اَور یَاہوِہ نے میری مُراد جو مَیں نے اُس سے مانگی تھی پُوری کر دی۔
1SA 1:28 لہٰذا اَب مَیں اُسے یَاہوِہ کو نذر کرتی ہُوں، یعنی اُسے زندگی بھرکے لیٔے یَاہوِہ کو دے دیا جائے گا۔“ اَور وہاں اُن سبھی نے یَاہوِہ کو سَجدہ کیا۔
1SA 2:1 تَب حنّہؔ نے دعا کی اَور کہا: ”میرا دِل یَاہوِہ میں شادمان ہے؛ یَاہوِہ نے میرا سینگ اُونچا کیا ہے۔ میرا مُنہ میرے دُشمنوں پر کُھل گیا ہے، کیونکہ مَیں آپ کی نَجات سے خُوش ہُوں۔
1SA 2:2 ”یَاہوِہ کی مانند کوئی پاک نہیں؛ کیونکہ آپ کے سِوا اَور کویٔی ہے ہی نہیں؛ اَور نہ ہی کویٔی چٹّان ہمارے خُدا کی مانند ہے۔
1SA 2:3 ”اِس قدر مغروُری سے باتیں نہ کرنا اَور تمہارے مُنہ سے مغروُریت کی کوئی بات نہ نکلے، کیونکہ یَاہوِہ اَیسے خُدا ہیں جو خُدائے علیم ہے، وُہی اعمال کے تولنے والے ہیں۔
1SA 2:4 ”سُورماؤں کی کمانیں توڑ دی جاتی ہیں، لیکن لڑکھڑانے والے قُوّت سے کمربستہ ہو جاتے ہیں۔
1SA 2:5 وہ جو آسُودہ تھے روٹی کی خاطِر مزدُور بنے، لیکن وہ جو بھُوکے تھے اَب بھُوکے نہیں ہیں۔ وہ جو بانجھ تھی سات بچّوں کی ماں بنی؛ لیکن وہ جِس کے بہت بچّے ہیں، اُس کی حالت قابل رحم ہے۔
1SA 2:6 ”یَاہوِہ ہی ہیں جو جان لیتے ہیں اَور زندگی بخشتے ہیں؛ وُہی قبر میں اُتارتے ہیں اَور وُہی قبر سے زندہ اُٹھاتے ہیں۔
1SA 2:7 یَاہوِہ ہی مُفلس کر دیتے ہیں اَور وُہی دولتمند بناتے ہیں؛ وُہی پست کرتے ہیں اَور وُہی سرفراز کرتے ہیں۔
1SA 2:8 وہ مسکین کو خاک پر سے اَور وہ ہی مُحتاج کو کُوڑے کے ڈھیر سے باہر نکالتے ہیں؛ وہ اُنہیں اُمرا کے ساتھ بِٹھاتے ہیں اَور جاہ و جلال کے تخت عطا فرماتے ہیں۔ ”کیونکہ زمین کے سُتون یَاہوِہ ہی کے ہیں؛ اَور اُن ہی پر اُنہُوں نے دُنیا قائِم کی ہے۔
1SA 2:9 وہ اَپنے وفادار خادِموں کے قدموں کی نگہبانی کریں گے، لیکن بدکار اَندھیرے میں فنا کر دئیے جایٔیں گے۔ ”کیونکہ اِنسان قُوّت ہی سے فتح نہیں پاتا؛
1SA 2:10 جو یَاہوِہ کی مُخالفت کرتے ہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جایٔیں گے۔ خُداتعالیٰ اُن کے خِلاف آسمان سے گرجیں گے؛ یَاہوِہ دُنیا کے کناروں کا اِنصاف کریں گے۔ ”وہ اَپنے بادشاہ کو قُوّت بخشیں گے، وہ اَپنے ممسوح کے سینگ کو فتح مند کریں گے۔“
1SA 2:11 تَب اِلقانہؔ رامہؔ کو اَپنے گھر لَوٹ گیا لیکن وہ لڑکا عیلیؔ کاہِنؔ کے ماتحت یَاہوِہ کے حُضُور خدمت کرنے لگا۔
1SA 2:12 عیلیؔ کے بیٹے بڑے بدکار تھے۔ نہ ہی اُن کے لیٔے یَاہوِہ کے اِختیار کی کوئی اہمیّت تھی۔
1SA 2:13 اَور کاہِنوں کا لوگوں کے ساتھ یہ دستور تھا کہ جَب کویٔی شخص قُربانی چڑھاتا تھا تو کاہِنؔ کا خدمت گار گوشت اُبالتے وقت ایک تین رُخی کانٹا اَپنے ہاتھ میں لیٔے ہُوئے آتا
1SA 2:14 اَور اُسے کڑاہی یا دیگچے، ہانڈی میں زور سے ڈال کر باہر نکالتا اَور جِتنا گوشت اُس کانٹے میں پھنس کر اُوپر آ جاتا اُسے کاہِنؔ اَپنے لیٔے لے لیتا تھا۔ یہی سلُوک وہ اُن تمام بنی اِسرائیلیوں کے ساتھ کیا کرتے تھے جو شیلوہؔ میں رہتے تھے۔
1SA 2:15 بَلکہ چربی کے جَلائے جانے سے پیشتر ہی کاہِنؔ کا خدمت گار آ مَوجُود ہوتا اَور قُربانی دینے والے آدمی سے کہنے لگتا، ”کاہِنؔ کے لیٔے کباب کے واسطے کچھ گوشت دیں کیونکہ وہ تُجھ سے اُبلا ہُوا گوشت نہیں بَلکہ کچّا ہی لے گا۔“
1SA 2:16 اگر وہ آدمی کہتا، ”پہلے مُجھے چربی جَلا لینے دے اَور پھر جو کچھ تُم چاہے لے لینا،“ تو خدمت گار جَواب دیتا، ”نہیں، ابھی دو۔ اگر تُم نہیں دوگے تو میں زبردستی لے لُوں گا۔“
1SA 2:17 عیلیؔ کے لڑکوں کا یہ گُناہ یَاہوِہ کی نظر میں بہت بڑا تھا کیونکہ اُن کی اِس حرکت سے یَاہوِہ کی قُربانی کی تحقیر ہوتی تھی۔
1SA 2:18 لیکن شموایلؔ جو ابھی لڑکا تھا کتان کا افُود پہنے ہُوئے یَاہوِہ کے حُضُور میں خدمت کرتا تھا۔
1SA 2:19 ہر سال اُس کی ماں اُس کے لیٔے ایک چھوٹا سا جُبّہ بناتی اَور جَب وہ اَپنے خَاوند کے ساتھ وہاں سالانہ قُربانی چڑھانے جاتی تو اِسے اُس کے پاس لے جاتی۔
1SA 2:20 اَور عیلیؔ اِلقانہؔ اَور اُس کی بیوی کو یہ کہتے ہُوئے دعا دیتا، ”یَاہوِہ تُجھے اِس عورت سے اَور بچّے بخشے تاکہ وہ اُس ایک کی جگہ لے لیں جسے اُس نے دعا کے ذریعہ پایا اَور یَاہوِہ کو نذر کر دیا۔“ پھر وہ گھر چلے جاتے۔
1SA 2:21 اَور یَاہوِہ نے حنّہؔ پر مہربانی کی۔ وہ حاملہ ہُوئی اَور اُس کے تین بیٹے اَور دو بیٹیاں اَور پیدا ہُوئیں۔ اِسی دَوران وہ لڑکا شموایلؔ یَاہوِہ کے حُضُور بڑا ہوتا گیا۔
1SA 2:22 اَور عیلیؔ نے جو بہت عمر رسیدہ تھا اُن تمام باتوں کو سُنا جو اُس کے بیٹے سارے اِسرائیل کے ساتھ کیا کرتے تھے اَور کیسے وہ اُن عورتوں کے ساتھ جو خیمہ اِجتماع کے دروازے پر خدمت کرتی تھیں بدکاری کیا کرتے تھے۔
1SA 2:23 لہٰذا اُس نے اُنہیں کہا، ”تُم اَیسے کام کیوں کرتے ہو؟ مَیں تمہارے اِن بُرے کاموں کے متعلّق سارے لوگوں سے سُنتا ہُوں۔
1SA 2:24 نہیں، بیٹو! یہ اَچھّی بات نہیں جسے مَیں یَاہوِہ کے لوگوں کے درمیان پھیلتے سُن رہا ہُوں
1SA 2:25 اگر کویٔی آدمی کسی دُوسرے آدمی کا گُناہ کرے تو خُدا اُن میں ثالثی کر سَکتا ہے لیکن اگر کویٔی شخص یَاہوِہ کا گُناہ کرے تو اُس کی شفاعت کون کرےگا؟“ لیکن اُس کے بیٹوں نے اَپنے باپ کی ڈانٹ ڈپٹ کی پروا نہ کی کیونکہ یَاہوِہ کی یہی مرضی تھی کہ وہ مار ڈالے جایٔیں۔
1SA 2:26 اَور وہ لڑکا شموایلؔ قد وقامت میں اَور یَاہوِہ اَور اِنسانوں کی مقبُولیّت میں بڑھتا گیا۔
1SA 2:27 تَب ایک مَرد خُدا عیلیؔ کے پاس آیا اَور اُس سے کہا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’کیا مَیں نے اَپنے آپ کو تیرے آبائی خاندان پر جَب وہ مِصر میں فَرعوہؔ کی غُلامی میں تھا صَاف ظاہر نہیں کیا تھا؟
1SA 2:28 اَور بنی اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے مَیں نے تیرے باپ کو اَپنا کاہِنؔ ہونے کے لیٔے، اَپنے مذبح کے پاس جانے کے لیٔے، بخُور جَلانے کے لیٔے اَور اَپنی حُضُوری میں افُود پہننے کے لیٔے چُن لیا اَور مَیں نے ہی تیرے آبائی خاندان کے لیٔے سَب غِذا کی نذر بھی مُقرّر کیں جو بنی اِسرائیل آگ سے گزرانتے ہیں۔
1SA 2:29 پس تُم میری اُن قُربانیوں اَور نذروں کی جو مَیں نے اَپنے قِیام کے لیٔے مُقرّر کی ہیں تحقیر کیوں کرتے ہو؟ تیرے بیٹے میری قوم اِسرائیل کے ہر ہدیہ کے عُمدہ سے عُمدہ حِصّوں کو کھا کر اَپنے آپ کو موٹا کرتے ہیں۔ تُم اَپنے بیٹوں کو مُجھ سے زِیادہ عزّت کیوں دیتاہے؟‘
1SA 2:30 ”اِس لیٔے یَاہوِہ اِسرائیل کا خُدا فرماتے ہیں: ’مَیں نے وعدہ کیا تھا کہ تیرا گھرانا اَور تیرا آبائی گھرانا اَبد تک میرے حُضُور میں خدمت کرتا رہے گا۔‘ مگر اَب یَاہوِہ فرماتے ہیں: ’اَب بات بہت بڑھ چُکی ہے! کیونکہ جو میری عزّت کرتے ہیں مَیں اُن کی عزّت کروں گا۔ لیکن وہ جو میری تحقیر کرتے ہیں اُن کی تحقیر ہوگی۔
1SA 2:31 دیکھو وہ دِن آ رہے ہیں کہ میں تیری اَور تیرے باپ کے گھرانے کی قُوّت کو اِس قدر زائل کر دُوں گا کہ تیرے خاندان میں کویٔی بھی لمبی عمر نہیں پایٔےگا۔
1SA 2:32 اَور تُم میرے قِیام میں مُصیبت دیکھوگے اَور اگرچہ اِسرائیل کا بھلا ہوتا رہے گا لیکن تیرے گھرانے میں کسی کی عمر دراز نہ ہوگی۔
1SA 2:33 اَور اگر تُم میں سے کسی کو میں اَپنے مذبح سے الگ نہیں کرتا تو اُسے صِرف تُجھے آنسُو رُلانے اَور تیرے دِل کو دُکھ پہُنچانے کے لیٔے زندہ رہنے دیا جائے گا اَور تیری ساری اَولاد بھری جَوانی میں مَر جائے گی۔
1SA 2:34 ” ’اَورجو کچھ تیرے دونوں بیٹوں حُفنیؔ اَور فِنحاسؔ کے ساتھ ہوگا وہ تیرے لیٔے ایک نِشان ہوگا۔ وہ دونوں ایک ہی دِن مَریں گے۔
1SA 2:35 اَور مَیں اَپنے لیٔے ایک وفادار کاہِنؔ برپا کروں گا جو میری مرضی اَور منشا کے مُطابق عَمل کرےگا میں اُس کے گھر کو پائیداری بخشوں گا اَور وہ ہمیشہ میرے ممسوح کے حُضُور میں خدمت کرےگا۔
1SA 2:36 تَب ہر ایک جو تیرے گھرانے میں بچا رہ جائے گا ایک ٹکڑے چاندی اَور ایک ٹکیا روٹی کے لیٔے اُس کے سامنے آکر سَجدہ کرےگا اَور اِلتجا کرےگا، ”کہانت کا کویٔی کام مُجھے بھی دیا جائے تاکہ کھانے کے لیٔے مُجھے روٹی مُیسّر ہو سکے۔“ ‘ “
1SA 3:1 اَور اُس لڑکے شموایلؔ نے عیلیؔ کے ماتحت یَاہوِہ کے حُضُور میں خدمت کی۔ اُن ایّام میں یَاہوِہ کا کلام کم ہی نازل ہوتا تھا اَور رُویا بھی عام نہ تھی۔
1SA 3:2 ایک رات عیلیؔ، جِس کی آنکھیں اِس قدر کمزور ہو گئی تھیں کہ وہ بمشکل دیکھ سَکتا تھا اَپنی جگہ لیٹا ہُوا تھا
1SA 3:3 اَور خُدا کا چراغ جَل رہاتھا۔ شموایلؔ یَاہوِہ کی ہیکل میں جہاں خُدا کا صندُوق تھا لیٹا ہُوا تھا۔
1SA 3:4 تَب یَاہوِہ نے شموایلؔ کو پُکارا: شموایلؔ نے جَواب دیا، ”مَیں حاضِر ہُوں۔“
1SA 3:5 اَور وہ دَوڑکر عیلیؔ کے پاس گیا اَور کہا، ”آپ نے مُجھے آواز دی تھی، مَیں حاضِر ہُوں۔“ لیکن عیلیؔ نے کہا، ”نہیں مَیں نے تو نہیں بُلایا۔“ جا، جا کر لیٹ جا۔ لہٰذا وہ جا کر لیٹ گیا۔
1SA 3:6 اَور یَاہوِہ نے پھر پُکارا، ”شموایلؔ!“ اَور شموایلؔ اُٹھ کر عیلیؔ کے پاس گیا اَور کہا، ”آپ نے مُجھے پُکارا تھا مَیں حاضِر ہُوں۔“ عیلیؔ نے کہا، ”کہ بیٹا، مَیں نے تُجھے نہیں پُکارا۔ واپس جا اَور لیٹ جا۔“
1SA 3:7 شموایلؔ ابھی تک یَاہوِہ سے آشنا نہ تھا اَور نہ ہی کبھی یَاہوِہ کا کلام اُس پر نازل ہُوا تھا۔
1SA 3:8 پھر یَاہوِہ نے تیسری بار ”شموایلؔ!“ کو پُکارا اَور شموایلؔ اُٹھ کر عیلیؔ کے پاس گیا اَور کہا، ”آپ نے مُجھے پُکارا اِس لیٔے مَیں حاضِر ہُوں۔“ تَب عیلیؔ سمجھ گیا کہ اُس لڑکے کو یَاہوِہ آواز دے رہے تھے۔
1SA 3:9 لہٰذا عیلیؔ نے شموایلؔ سے کہا، ”جا اَور لیٹ جا، اگر تُجھے پھر بُلایا جائے تو کہنا، ’اَے یَاہوِہ! فرمایئے کیونکہ آپ کا بندہ سُن رہاہے۔‘ “ پس شموایلؔ جا کر اَپنی جگہ لیٹ گیا۔
1SA 3:10 تَب یَاہوِہ وہاں آ کھڑے ہُوئے اَور پہلے کی طرح پُکارا، ”شموایلؔ! شموایلؔ!“ تَب شموایلؔ نے کہا، ”فرمایئے کیونکہ آپ کا خادِم سُن رہاہے۔“
1SA 3:11 اَور یَاہوِہ نے شموایلؔ سے کہا: ”دیکھ، مَیں اِسرائیل میں ایک اَیسا کام کرنے والا ہُوں جسے سُن کر ہر ایک کے کان بھنّا اُٹھیں گے۔
1SA 3:12 اُس وقت مَیں عیلیؔ کے خِلاف وہ سَب کچھ جو مَیں نے اُس کے گھرانے کے خِلاف شروع سے لے کر آخِر تک کہا عَمل میں لاؤں گا۔
1SA 3:13 کیونکہ مَیں اُسے بتا چُکا ہُوں کہ میں اُس بدکاری کے باعث جسے وہ جانتا ہے اُس کے گھر کا ہمیشہ کے لیٔے فیصلہ کروں گا۔ اُس کے بیٹے لعنتی کام کرتے رہے اَور وہ اُنہیں روکنے میں ناکام رہا۔
1SA 3:14 اِس لیٔے عیلیؔ کے گھرانے کی بابت مَیں نے قَسم کھائی، ’قُربانی یا ہدیہ سے بھی اُس کے گھرانے کے گُناہ کا کفّارہ نہیں ہوگا۔‘ “
1SA 3:15 اَور شموایلؔ صُبح تک لیٹا رہا۔ تَب اُس نے یَاہوِہ کے گھر کے دروازے کھولے اَور وہ اَپنی رُویا کی بات عیلیؔ کو بتانے سے ڈرتا تھا۔
1SA 3:16 لیکن عیلیؔ نے اُسے بُلایا، ”بیٹا، شموایلؔ۔“ شموایلؔ نے جَواب دیا، ”مَیں حاضِر ہُوں۔“
1SA 3:17 ”وہ کیا بات ہے جو خُدا نے تُجھ سے کہی ہے؟“ تَب عیلیؔ نے پُوچھا، ”اُسے مُجھ سے نہ چھُپا۔ اَور اگر تُم مُجھ سے کویٔی بات جو اُنہُوں نے بتایٔی ہے چھُپاؤگے تو خُدا تُجھ سے وَیسا ہی بَلکہ اُس سے بھی زِیادہ کرے۔“
1SA 3:18 لہٰذا شموایلؔ نے اُسے سَب کچھ بتا دیا اَور اُس سے کچھ بھی نہ چھپایا۔ تَب عیلیؔ نے کہا، ”وہ یَاہوِہ ہیں۔ اُنہیں وہ کام کرنے دیں جو اُن کی نظر میں بھلا ہے۔“
1SA 3:19 اَور جَب شموایلؔ بڑا ہُوا، تو یَاہوِہ اُس کے ساتھ تھے اَور اُنہُوں نے شموایلؔ کے بارے میں اَپنی ساری پیشین گوئیاں پُوری کیں۔
1SA 3:20 اَور تمام اِسرائیل نے دانؔ سے بیرشبعؔ تک تسلیم کر لیا کہ شموایلؔ یَاہوِہ کا مُقرّر کیا ہُوا نبی ہے۔
1SA 3:21 اَور یَاہوِہ شیلوہؔ میں ظاہر ہوتے رہے اَور وہیں پر اُنہُوں نے اَپنے کلام کے وسیلہ سے اَپنے آپ کو شموایلؔ پر ظاہر کیا تھا۔
1SA 4:1 اَور شموایلؔ کا کلام تمام اِسرائیل میں پہُنچا۔ پھر اَیسا ہُوا کہ اِسرائیلی فلسطینیوں سے لڑنے کے لیٔے نکلے۔ اِسرائیلیوں نے اِبن عزرؔ میں نصب کی اَور فلسطینیوں نے افیقؔ میں۔
1SA 4:2 اَور فلسطینی اِسرائیل کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے صف آرا ہُوئے اَور جَب لڑائی نے زور پکڑا تو اِسرائیلیوں نے فلسطینیوں سے شِکست کھائی کیونکہ اُن کے تقریباً چار ہزار آدمی میدانِ جنگ میں قتل کر دئیے گیٔے تھے۔
1SA 4:3 جَب وہ فَوجی سپاہی چھاؤنی میں واپس آئے تو اِسرائیل کے بُزرگوں نے پُوچھا، ”آج یَاہوِہ نے ہمیں فلسطینیوں سے شِکست کیوں دِلوائی؟ آؤ ہم یَاہوِہ کا عہد کا صندُوق شیلوہؔ سے لے آئیں تاکہ وہ ہمارے ساتھ جائے اَور ہمیں ہمارے دُشمنوں کے ہاتھ سے بچائیں۔“
1SA 4:4 لہٰذا اُنہُوں نے شیلوہؔ میں آدمی بھیجے اَور وہ اُس قادرمُطلق یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو لے آئے جو کروبیوں کے درمیان تخت نشین ہے۔ اَور عیلیؔ کے دونوں بیٹے حُفنیؔ اَور فِنحاسؔ وہاں یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے ساتھ تھے۔
1SA 4:5 اَور جَب یَاہوِہ کا عہد کا صندُوق چھاؤنی میں آ گیا تو تمام اِسرائیلیوں نے اِتنے زور سے نعرہ مارا کہ زمین لرز اُٹھی۔
1SA 4:6 اُس شوروغل کو سُن کر فلسطینیوں نے پُوچھا، ”عِبرانیوں کی چھاؤنی میں یہ سَب نعرہ بازی کیسی ہے؟“ اَور جَب اُنہیں مَعلُوم ہُوا کہ یَاہوِہ کا عہد کا صندُوق چھاؤنی میں آ گیا ہے
1SA 4:7 تو فلسطینی ڈر گیٔے اَور کہنے لگے، ”اُن کی چھاؤنی میں تو ایک معبُود آ گیا ہے۔“ مزید کہا ”یہ ایک بَلا ہم پر آئی ہے اِس سے پہلے کبھی اَیسا نہیں ہُوا۔
1SA 4:8 اَب ہماری خیر نہیں! اِن زبردست معبُودوں کے ہاتھ سے ہمیں کون بچائے گا؟ یہ وُہی معبُود ہیں جنہوں نے مِصریوں پر بیابان میں مہلک بَلائیں نازل کیں۔
1SA 4:9 اَے فلسطینیو! مضبُوط بنو اَور مردانگی کے جوہر دِکھاؤ ورنہ تُم عِبرانیوں کے محکُوم ہو جاؤگے جَیسا کہ وہ اِس وقت تمہارے محکُوم ہیں۔ مردانگی سے کام لو اَور لڑو!“
1SA 4:10 پس فلسطینی لڑے اَور اِسرائیلیوں نے شِکست کھائی اَور ہر ایک آدمی اَپنے اَپنے خیمہ کی طرف بھاگ نِکلا۔ وہاں بہت بڑی خُونریزی ہُوئی جِس میں اِسرائیل کے تیس ہزار پیادے کام آئے۔
1SA 4:11 خُدا کا صندُوق اِسرائیل کے ہاتھ سے نکل گیا اَور عیلیؔ کے دونوں بیٹے حُفنیؔ اَور فِنحاسؔ بھی مارے گیٔے۔
1SA 4:12 اَور اُسی دِن بِنیامین کے گھرانے کا ایک آدمی میدانِ جنگ سے بھاگ کر شیلوہؔ پہُنچا۔ اُس کے کپڑے پھٹے ہُوئے تھے اَور اُس نے اَپنے سَر پر خاک ڈال رکھی تھی۔
1SA 4:13 جَب وہ وہاں پہُنچا تو عیلیؔ راہ کے کنارے اَپنی کُرسی پر بیٹھا اِنتظار کر رہاتھا۔ کیونکہ اُس کے دِل میں خُدا کے عہد کے صندُوق کے لیٔے اَندیشہ تھا۔ اَور جَب وہ آدمی قصبہ میں داخل ہُوا اَورجو کچھ واقع ہُوا تھا بتایا تو سارا قصبہ چِلّانے لگا۔
1SA 4:14 عیلیؔ نے چِلّانے کی آواز سُن کر، ”پُوچھا کہ اِس شوروغل کا کیا مطلب ہے؟“ اَور وہ آدمی جلدی سے عیلیؔ کے پاس گیا،
1SA 4:15 عیلیؔ اٹّھانوے سال کا تھا اَور اُس کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں اَور وہ دیکھ نہ سَکتا تھا۔
1SA 4:16 اُس نے عیلیؔ، کو بتایا، ”میں ابھی ابھی میدانِ جنگ سے آیا ہُوں اَور بھاگ کر یہاں پہُنچا ہُوں۔“ تَب عیلیؔ نے پُوچھا، ”بیٹا! لڑائی کا کیا حال رہا؟“
1SA 4:17 جو آدمی خبر لے کر آیاتھا اُس نے جَواب دیا، ”اِسرائیلی فلسطینیوں سے شِکست کھا کر بھاگ نکلے اَور فَوج کا سخت جانی نُقصان ہُواہے۔ تمہارے دونوں بیٹے حُفنیؔ اَور فِنحاسؔ بھی جنگ میں کام آئے ہیں اَور خُدا کے عہد کا صندُوق چھِن گیا ہے۔“
1SA 4:18 جَب اُس نے خُدا کے عہد کے صندُوق کا ذِکر کیا تو وہ اَپنی کُرسی سے پیچھے کی طرف پھاٹک کے پاس گرا اَور اُس کی گردن ٹوٹ گئی اَور وہ مَر گیا کیونکہ وہ ایک ضعیف اَور بھاری بھر کم آدمی تھا۔ اُس نے قاضی کی حیثیت سے چالیس سال تک اِسرائیل کی قیادت کی۔
1SA 4:19 اُس کی بہُو، فِنحاسؔ کی بیوی حاملہ تھی اَور عنقریب جننے والی تھی۔ جَب اُس نے یہ خبر سُنی کہ خُدا کے عہد کا صندُوق چھین لیا گیا اَور اُس کا سسُر اَور خَاوند مَر گیٔے تو وہ دردِزہ میں مُبتلا ہو گئی اَور بچّے کو پیدا کیا۔ مگر وہ دردِزہ سے اِس قدر نڈھال ہو گئی
1SA 4:20 کہ قریبُ المرگ تھی۔ وہ عورتیں جو اُس کی تیمار داری کر رہی تھیں کہنے لگیں، ”مایوس نہ ہو۔ تُم کو بیٹا ہُواہے۔“ مگر اُس نے نہ تو جَواب دیا نہ توجّہ کی۔
1SA 4:21 اَور اُس نے یہ کہتے ہُوئے اُس لڑکے کا نام ایکبودؔ رکھا، خُدا کے عہد کا صندُوق چھِن جانے اَور اُس کے سسُر اَور خَاوند کے اِنتقال کے باعث، ”اِسرائیل سے جلال جاتا رہا۔“
1SA 4:22 اُس نے کہا، ”جلال اِسرائیل سے رخصت ہُوا کیونکہ خُدا کے عہد کا صندُوق چھِن گیا ہے۔“
1SA 5:1 خُدا کے عہد کا صندُوق چھین لینے کے بعد، فلسطینی اُسے اِبن عزرؔ سے اشدُودؔ لے گیٔے۔
1SA 5:2 اَور فلسطینیوں نے خُدا کے صندُوق کو دگونؔ کے مَندِر میں لے جا کر دگونؔ معبُود کے پاس رکھ دیا۔
1SA 5:3 اگلے دِن جَب اشدُودؔ کے لوگ صُبح کو اُٹھے تو دیکھا، وہاں دگونؔ تھا، یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے آگے مُنہ کے بَل زمین پر گرا پڑا ہے! تَب اُنہُوں نے دگونؔ کو اُٹھایا اَور واپس اُس کی جگہ پر رکھ دیا۔
1SA 5:4 لیکن اگلی صُبح جَب وہ اُٹھے، تو وہاں دگونؔ تھا، یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے آگے اوندھے مُنہ زمین پر گرا پڑا تھا! اُس کا سَر اَور بازو توڑ دئیے گیٔے تھے اَور دہلیز پر پڑے ہُوئے تھے۔ صِرف اُس کا دھڑ رہ گیا تھا۔
1SA 5:5 یہی وجہ ہے کہ آج بھی دگونؔ کے پجاری اَور دیگر لوگ جو اشدُودؔ میں دگونؔ کے مَندِر میں آتے ہیں دہلیز پر پاؤں نہیں رکھتے۔
1SA 5:6 اَور یَاہوِہ کا ہاتھ اشدُودؔ اَور اُس کے گِردونواح کے لوگوں پر بھاری تھا۔ یَاہوِہ نے اُن پر تباہی نازل کر دی اَور اُنہیں گِلٹیوں کی تکلیف (طاعون) میں مُبتلا کر دیا۔
1SA 5:7 اشدُودؔ کے لوگوں نے جَب یہ حال دیکھا تو کہنے لگے، ”اِسرائیل کے معبُود کا صندُوق یہاں ہمارے پاس ہرگز نہیں رہنا چاہیے کیونکہ اُن کا ہاتھ ہم پر اَور ہمارے معبُود دگونؔ پر بھاری ہے۔“
1SA 5:8 لہٰذا اُنہُوں نے فلسطینیوں کے تمام سرداروں کو بُلاکر جمع کیا اَور پُوچھا، ”ہم اِسرائیل کے معبُود کے صندُوق کا کیا کریں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”اِسرائیل کے خُدا کا صندُوق گاتؔھ بھجوا دو۔“ لہٰذا اُنہُوں نے اِسرائیل کے خُدا کا صندُوق وہاں مُنتقل کر دیا۔
1SA 5:9 جَب اُنہُوں نے اُسے مُنتقل کر دیا تو یَاہوِہ کا ہاتھ اُس شہر کے خِلاف اُٹھا اَور وہاں بڑا خوف و ہِراس پھیل گیا اَور یَاہوِہ نے اُس شہر کے لوگوں کو چُھوٹے سے بڑے تک گِلٹیوں کی وَبا میں مُبتلا کر دیا۔
1SA 5:10 لہٰذا اُنہُوں نے خُدا کے صندُوق کو عقرونؔ بھیج دیا۔ اَور جوں ہی خُدا کے عہد کا صندُوق عقرونؔ میں داخل ہُوا عقرونؔ کے لوگ چِلّانے لگے، ”وہ ہمیں اَور ہمارے لوگوں کو مارنے کے لیٔے اِسرائیل کے معبُود کا صندُوق اِدھر لایٔے ہیں۔“
1SA 5:11 پس اُنہُوں نے فلسطینیوں کے تمام سرداروں کو بُلاکر جمع کیا اَور کہا، ”اِسرائیل کے معبُود کا صندُوق یہاں سے ہٹا دو اَور اُسے اُس کی اَپنی جگہ پر واپس بھجوا دو ورنہ اُس کی مَوجُودگی ہمیں اَور ہمارے لوگوں کو مار ڈالے گی۔“ وجہ یہ تھی کہ موت نے شہر میں خوف و ہِراس پھیلا دیا تھا اَور خُدا کا ہاتھ اُس شہر پر بہت بھاری تھا۔
1SA 5:12 جو لوگ موت سے بچ گیٔے تھے وہ گِلٹیوں کے مرض میں مُبتلا تھے۔ اَور اُس شہر کی شوروغل آسمان تک جا پہُنچی۔
1SA 6:1 جَب یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو فلسطینیوں کے علاقہ میں سات مہینے ہو گئے،
1SA 6:2 تو فلسطینیوں نے کاہِنوں اَور غیب بینوں کو بُلایا اَور کہا، ”ہم یَاہوِہ کے اِس صندُوق کا کیا کریں؟ ہمیں بتاؤ کہ اگر اِسے اِس کی جگہ اُس کو واپس کس طریقہ سے بھیجا جائے۔“
1SA 6:3 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”اگر تُم اِسرائیل کے معبُود کے صندُوق کو واپس بھیجنا چاہتے ہو تو اِسے خالی نہ بھیجنا بَلکہ اُس کے ساتھ خطا کی قُربانی کے طور پر ہرجانہ بھی ضروُر بھیجنا۔ تَب تُم شفا پاؤگے اَور اُسے جان بھی لوگے ورنہ اُس کا ہاتھ تُم پر بھاری رہے گا۔“
1SA 6:4 فلسطینیوں نے پُوچھا، ”خطا کی قُربانی کے طور پر کیا ہرجانہ بھیجنا چاہیے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”فلسطینی سرداروں کی تعداد کے مُطابق سونے کی پانچ گِلٹیاں اَور سونے کے پانچ چُوہے۔ کیونکہ تُم اَور تمہارے سردار طاعون کی وَبا میں مُبتلا ہُوئے ہو۔
1SA 6:5 لہٰذا تُم اُن گِلٹیوں اَور اُن چُوہوں کے جو مُلک کو ہلاک کر رہے ہیں بُت بناؤ اَور اِسرائیل کے خُدا کا جلال ظاہر کرو۔ تَب شاید وہ تُم، اَور تمہارے معبُودوں اَور تمہارے مُلک پر سے اَپنا دستِ غضب اُٹھا لیں۔
1SA 6:6 تُم کیوں مِصریوں اَور فَرعوہؔ کی طرح اَپنے دِلوں کو سخت کرتے ہو؟ جَب وہ اُن کے ساتھ سختی سے پیش آیا تو کیا اُنہُوں نے اِسرائیلیوں کو مِصر سے باہر نہیں جانے دیا اَور کیا وہ وہاں سے نکل نہیں گیٔے؟
1SA 6:7 ”اَب تُم ایک نئی گاڑی تیّار رکھو اَور اُس کے ساتھ دو گائیں اَیسی لو جِن کے بچھڑے دُودھ پیتے ہُوں اَورجو کبھی جُوتی نہ گئی ہُوں اَور اُنہیں گاڑی کھینچنے کے لیٔے گاڑی میں جوت دو۔ لیکن اُن کے بچھڑوں کو گھر لے جا کر باڑے میں بند کردینا۔
1SA 6:8 اَور یَاہوِہ کا صندُوق لے کر اُس گاڑی پر چڑھانا اَور سونے کی اُن اَشیا کو جنہیں تُم خطا کی قُربانی یعنی ہرجانہ کے طور پر بھیج رہے ہو ایک صندوقچہ میں بند کرکے یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے پاس رکھنا اَور گاڑی کو روانہ کردینا۔
1SA 6:9 مگر اِسے دیکھتے رہنا۔ اگر وہ بیت شِمِشؔ کی طرف اَپنے علاقہ کو جائے تو سمجھ لینا کہ یہ بَلائے عظیم یَاہوِہ ہی نے ہم پر نازل کی ہے۔ لیکن اگر وہ اَپنے علاقہ کو نہ جائے تو ہم جان لیں گے کہ جِس ہاتھ نے ہمیں مارا وہ یَاہوِہ کا ہاتھ نہیں تھا بَلکہ ہمارے ساتھ یہ حادثہ اِتّفاقاً ہو گیا۔“
1SA 6:10 لہٰذا اُنہُوں نے اَیسا ہی کیا اَور اُسی طرح کی دو گائیں لے کر اُنہیں گاڑی میں جوتا اَور اُن کے بچھڑوں کو لے جا کر چُھوٹے باڑے میں باندھا
1SA 6:11 اَور یَاہوِہ کے صندُوق کو گاڑی پر چڑھایا اَور اُس کے ہمراہ وہ صندوقچہ بھی رکھ دیا جِس میں سونے کے چُوہے اَور گِلٹیوں کی بُت بند تھیں۔
1SA 6:12 تَب وہ گائیں راہ پر ڈکارتی ہوئی چلتی ہُوئی جا رہی تھیں اَور سارا راستہ سیدھے بیت شِمِشؔ کی طرف اَور داہنی طرف یا بائیں طرف نہ مُڑیں۔ اَور فلسطینیوں کے سردار بیت شِمِشؔ کی سرحد تک اُن کے پیچھے پیچھے گیٔے۔
1SA 6:13 اُس وقت بیت شِمِشؔ کے لوگ وادی میں اَپنے گیہُوں کی کٹائی کر رہے تھے اَور جَب اُنہُوں نے نگاہ اُٹھاکر اُس صندُوق کو دیکھا تو وہ اُسے دیکھتے ہی خُوشی منانے لگے۔
1SA 6:14 اَور وہ گاڑی بیت شِمِشؔ کے یہوشُعؔ کے کھیت پر پہُنچی اَور وہاں ایک بڑی چٹّان کے پاس رُک گئی۔ تَب اُن لوگوں نے اُس گاڑی کی لکڑی کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اَور دونوں گائیں بطور سوختنی نذر یَاہوِہ کے حُضُور چڑھا دیں۔
1SA 6:15 اَور لیویوں نے یَاہوِہ کے صندُوق کو اَور اُس صندوقچہ کو جِس میں سونے کی اَشیا تھیں لے کر اُنہیں اُس بڑی چٹّان پر رکھ دیا۔ اُس دِن بیت شِمِشؔ کے لوگوں نے یَاہوِہ کے لیٔے سوختنی نذریں چڑھائیں اَور ذبیحے گزرانے۔
1SA 6:16 اَور فلسطینیوں کے پانچوں سرداروں کو یہ سارا ماجرا دیکھ کر اُسی دِن عقرونؔ لَوٹ گیٔے۔
1SA 6:17 وہ سونے کی گِلٹیاں جو فلسطینیوں نے یَاہوِہ کو خطا کی قُربانی یعنی ہرجانہ کے طور پر بھیجیں یہ ہیں: اشدُودؔ، غزّہؔ، اشقلونؔ، گاتؔھ اَور عقرونؔ ہر ایک کے لیٔے ایک ایک
1SA 6:18 اَور سونے کے اُن چُوہوں کی تعداد اُتنی ہی تھی جِتنی کہ اُن فلسطینی قصبوں کی تھی جو اُن سرداروں کے ماتحت تھے۔ اُس میں اُن قلعہ بند قصبوں اَور بغیر فصیل کے دیہات کی تعداد بھی شامل ہے جو اُس بڑی چٹّان تک پھیلے ہُوئے تھے جِس پر اُنہُوں نے یَاہوِہ کے صندُوق کو رکھا تھا۔ وہ چٹّان آج تک یہوشُعؔ بیت شِمِشؔ کے کھیت میں مَوجُود ہے اَور اِس واقعہ کی شاہِد ہے۔
1SA 6:19 لیکن خُدا نے بیت شِمِشؔ کے کچھ لوگوں کو سخت سزا دی اَور اُن میں سے ستّر کو مار ڈالا کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کے صندُوق کے اَندر جھانکا تھا۔ اَور وہاں کے لوگوں نے یَاہوِہ کی اُس بھاری سزا کے باعث بڑا ماتم کیا۔
1SA 6:20 اَور بیت شِمِشؔ کے لوگوں نے پُوچھا، ”کون یَاہوِہ کے حُضُور اِس قُدُّوس خُدا کے حُضُور کھڑا رہ سَکتا ہے؟ یہاں سے صندُوق کس طرف روانہ کیا جائے؟“
1SA 6:21 تَب اُنہُوں نے قِریت یعریمؔ کے لوگوں کے پاس قاصِد بھیج کر پیغام دیا، ”اُن فلسطینیوں نے یَاہوِہ کا صندُوق لَوٹا دیا ہے۔ لہٰذا تُم آؤ اَور اُسے اَپنے یہاں لے جاؤ۔“
1SA 7:1 تَب قِریت یعریمؔ کے لوگوں نے آکر یَاہوِہ کے صندُوق کو اَپنے قبضہ میں لے لیا اَور اُسے ابینادابؔ کے گھر جو پہاڑی پر ہے لے گیٔے اَور اُس کے بیٹے الیعزرؔ کی تقدیس کی کہ وہ یَاہوِہ کے صندُوق کی نگہبانی کرے۔
1SA 7:2 وہ صندُوق بیس سال کے طویل عرصہ تک قِریت یعریمؔ میں ہی رہا۔ اَور اِسرائیل کے سَب لوگ نوحہ کرتے رہے اَور یَاہوِہ کی بخشش کے طلب گار ہُوئے۔
1SA 7:3 اَور شموایلؔ نے تمام بنی اِسرائیل کے گھرانے سے کہا، ”اگر تُم اَپنے سارے دِل سے یَاہوِہ کی طرف رُجُوع کر رہے ہو تو پھر غَیر معبُودوں اَور عستوریتؔ کو اَپنے درمیان سے دُور کرکے اَپنے آپ کو یَاہوِہ کے سُپرد کر دو اَور اگر تُم صِرف اُن ہی کی عبادت کروگے تو وہ تُمہیں فلسطینیوں کے ہاتھ سے چھُڑائیں گے۔“
1SA 7:4 لہٰذا بنی اِسرائیل اَپنے بَعل معبُود اَور عستوریتؔ کو چھوڑکر فقط یَاہوِہ کی عبادت کرنے لگے۔
1SA 7:5 پھر شموایلؔ نے کہا، ”تمام اِسرائیل کو مِصفاہؔ میں جمع کرو اَور مَیں یَاہوِہ سے تمہاری شفاعت کروں گا۔“
1SA 7:6 اَور جَب وہ مِصفاہؔ میں جمع ہُوئے تو اُنہُوں نے کوئیں سے پانی بھر کر یَاہوِہ کے آگے اُنڈیلا اَور اُس دِن اُنہُوں نے روزہ رکھا اَور وہاں اُنہُوں نے اعتراف کیا، ”ہم نے یَاہوِہ کا گُناہ کیا ہے۔“ اَور مِصفاہؔ میں شموایلؔ اِسرائیل کا قاضی تھا۔
1SA 7:7 جَب فلسطینیوں نے سُنا کہ بنی اِسرائیل مِصفاہؔ میں جمع ہُوئے ہیں تو فلسطینیوں کے سردار اُن پر حملہ کرنے کی غرض سے بڑھے۔ جَب اِسرائیلیوں نے یہ سُنا تو وہ فلسطینیوں کی وجہ سے دہشت زدہ ہو گئے۔
1SA 7:8 اَور بنی اِسرائیل نے شموایلؔ سے کہا، ”ہمارے لیٔے یَاہوِہ ہمارے خُدا سے فریاد کرنا بند نہ کرنا تاکہ وہ ہمیں فلسطینیوں کے ہاتھ سے بچائیں۔“
1SA 7:9 تَب شموایلؔ نے ایک دُودھ پیتا برّہ لیا اَور اُسے پُوری سوختنی نذر کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور گزرانا اَور اُس نے بنی اِسرائیل کی طرف سے یَاہوِہ سے فریاد کی اَور یَاہوِہ نے اُس کی سُنی۔
1SA 7:10 اَور جَب شموایلؔ سوختنی نذر گزران رہاتھا تو فلسطینی نزدیک آ پہُنچے تاکہ اِسرائیلیوں سے جنگ کریں۔ لیکن اُس دِن یَاہوِہ فلسطینیوں پر زور سے گرجے اَور اُن میں اَیسا خوف و ہِراس پیدا کر دیا کہ اُنہُوں نے اِسرائیلیوں کے ہاتھوں شِکست کھا کر بھاگ گئے۔
1SA 7:11 اَور اِسرائیل کے لوگوں نے بڑی پھرتی سے مِصفاہؔ سے نکل کر فلسطینیوں کا تعاقب کیا اَور بیت کرؔ سے نیچے ایک مقام تک راستہ بھر اُن کا قتلِ عام کرتے چلے گیٔے۔
1SA 7:12 تَب شموایلؔ نے ایک پتّھر لے کر اُسے مِصفاہؔ اَور شینؔ کے درمیان نصب کر دیا اَور اُس نے یہ کہہ کر اُس کا نام اِبن عزرؔ رکھا کہ، ”اِتنی دُور تک یَاہوِہ نے ہماری مدد کی۔“
1SA 7:13 لہٰذا فلسطینی مغلُوب ہو گئے اَور اُنہُوں نے اِسرائیلی علاقہ پر پھر حملہ نہ کیا۔ اَور شموایلؔ کے لئے زندگی بھر یَاہوِہ کا ہاتھ ہمیشہ فلسطینیوں کے خِلاف رہا۔
1SA 7:14 اَور عقرونؔ سے گاتؔھ تک کے قصبات جو فلسطینیوں نے اِسرائیل سے چھین لیٔے تھے اُن پر پھر سے اِسرائیل کا قبضہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ اِسرائیل نے اَپنے سارے علاقہ کو فلسطینیوں کے تسلُّط سے چھُڑا لیا اَور بنی اِسرائیل اَور امُوریوں کے درمیان بھی صُلح و سلامتی ہو گئی۔
1SA 7:15 شموایلؔ زندگی بھر بنی اِسرائیل کی بطور رہنما عدالت کرتے رہے۔
1SA 7:16 وہ سال بسال بیت ایل سے گِلگالؔ اَور وہاں سے مِصفاہؔ کو دورہ پر جاتے اَور اُن تمام مقامات میں بنی اِسرائیل کی عدالت کرتے تھے۔
1SA 7:17 لیکن وہ ہمیشہ رامہؔ کو جہاں اُن کا گھر تھا واپس چلے جاتے تھے اَور وہاں بھی وہ بنی اِسرائیل کی عدالت کرتے تھے۔ وہیں اُنہُوں نے یَاہوِہ کے لیٔے ایک مذبح بنایا۔
1SA 8:1 جَب شموایلؔ ضعیف ہو گئے تو اُنہُوں نے اَپنے بیٹوں کو بنی اِسرائیل کے لیٔے قاضی مُقرّر کیا۔
1SA 8:2 اُس کے پہلوٹھے کا نام یُوایلؔ تھا اَور اُس کے دُوسرے بیٹے کا نام ابیّاہؔ تھا اَور وہ بیرشبعؔ میں قاضی تھے۔
1SA 8:3 لیکن شموایلؔ کے بیٹے اُس کے نقش قدم پر نہ چلے۔ وہ ناجائز نفع کمانے پرتُلے ہُوئے تھے رشوت لیتے اَور اِنصاف کا خُون کرتے تھے۔
1SA 8:4 لہٰذا بنی اِسرائیل کے سَب بُزرگ جمع ہوکر رامہؔ میں شموایلؔ کے پاس آئے
1SA 8:5 اَور کہنے لگے، ”تُم بُوڑھے ہو گئے ہو، اَور تمہارے بیٹے تمہاری راہوں پر نہیں چلتے، اِس لیٔے تُم دیگر قوموں کی طرح ہم پر کسی کو بادشاہ مُقرّر کر دو۔“
1SA 8:6 لیکن جَب اُنہُوں نے کہا، ”ہماری عدالت کرنے کے لیٔے ہمیں کویٔی بادشاہ دیں،“ تو یہ بات شموایلؔ کو بڑی بُری لگی۔ لہٰذا اُس نے یَاہوِہ سے دعا کی۔
1SA 8:7 اَور یَاہوِہ نے شموایلؔ سے کہا: ”جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اُسے سُن۔ یہ تُم نہیں جسے اُنہُوں نے ردّ کیا ہے بَلکہ اُنہُوں نے مُجھے اَپنے بادشاہ کے طور پر ردّ کیا ہے۔
1SA 8:8 جَب مَیں اُنہیں مِصر سے نکال کر لایا اُس دِن سے آج تک جِس طرح وہ غَیر معبُودوں کی عبادت کرنے کے لیٔے مُجھے چھوڑ چُکے ہیں وَیسے ہی وہ تمہارے ساتھ کر رہے ہیں۔
1SA 8:9 تُم اُن کی بات مان لو لیکن سنجِیدگی سے اُنہیں خبردار کر دو اَور بتا دو کہ وہ بادشاہ جو اُن پر حُکمرانی کرےگا اُس کے ضوابط کیا ہوں گے۔“
1SA 8:10 تَب شموایلؔ نے، اُن لوگوں کو جو اُس سے ایک بادشاہ مُقرّر کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے یَاہوِہ کی سَب باتیں کہہ سُنائیں۔
1SA 8:11 اَور یہ بھی کہا، ”تُم پر حُکومت کرنے والا بادشاہ جو کچھ کرےگا وہ یہ ہے: وہ تمہارے بیٹوں کو لے کر اَپنے رتھوں اَور گھوڑوں کے لیٔے خدمت گار رکھےگا اَور وہ اُس کے رتھوں کے آگے آگے دَوڑیں گے۔
1SA 8:12 بعض کو وہ ہزار ہزار پر اَور بعض کو پچاس پچاس پر سردار مُقرّر کرےگا اَور بعض کو اَپنی زمین میں ہل چلانے اَور اَپنی فصل کاٹنے کے کام پر لگائے گا اَور بعض کو دُوسروں کو جنگ کے ہتھیار بنانے اَور اَپنے رتھوں کے لیٔے سازوسامان تیّار کرنے کے لیٔے رکھےگا۔
1SA 8:13 اَور تمہاری بیٹیوں کو لے کر اُن سے عطر سازی کروائے گا، سالن تیّار کروائے گا اَور روٹیاں پکوائے گا۔
1SA 8:14 وہ تمہارے بہترین کھیتوں اَور تاکستانوں اَور زَیتُون کے باغوں کو لے کر اَپنے خدمت گاروں کو عطا کرےگا۔
1SA 8:15 اَور تمہارے اناج اَور تمہاری انگور کی فصل کا دسواں حِصّہ لے کر اَپنے خادِموں اَور اہلکاروں کو دے گا۔
1SA 8:16 تمہارے خادِموں اَور لونڈیوں اَور تمہارے بہترین مویشیوں اَور گدھوں کو اَپنے اِستعمال کے لیٔے لے لے گا۔
1SA 8:17 وہ تمہاری بھیڑ بکریوں کا دسواں حِصّہ لے لے گا اَور تُم خُود بھی اُس کے غُلام بَن کر رہ جاؤگے۔
1SA 8:18 اَور جَب وہ دِن آئے گا تو تُم اُس بادشاہ سے جسے تُم نے چُنا ہوگا نَجات پانے کے لیٔے فریاد کروگے لیکن اُس دِن یَاہوِہ تمہاری نہ سُنیں گے۔“
1SA 8:19 لیکن لوگوں نے شموایلؔ کی بات سُننے سے اِنکار کر دیا اَور کہا، ”نہیں! ہم اَپنے اُوپر ایک بادشاہ چاہتے ہیں۔
1SA 8:20 تَب ہم بھی اَور سَب قوموں کی مانند ہوں گے اَور ہم پر حُکومت کرنے، ہمارے آگے جانے اَور ہماری لڑائیاں لڑنے کے لیٔے ہمارا بھی ایک بادشاہ ہوگا۔“
1SA 8:21 شموایلؔ نے لوگوں کی سَب باتیں سُنیں اَور اُنہیں یَاہوِہ کے حُضُور دہرایا۔
1SA 8:22 تَب یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”اُن کی بات مان لے اَور اُن کے لیٔے ایک بادشاہ مُقرّر کر دے۔“ تَب شموایلؔ نے بنی اِسرائیل کے ”لوگوں کو اَپنے اَپنے قصبے کو چلے جانے کا حُکم دیا۔“
1SA 9:1 وہاں بِنیامین کے قبیلہ سے ایک آدمی تھا جِس کا نام قیشؔ بِن اَبی ایل بِن ضرورؔ بِن بکورتؔ بِن اپیحؔ بِنیامین تھا۔ وہ ایک صاحبِ حیثیت بھی تھا۔
1SA 9:2 اُس کا شاؤل نامی ایک بیٹا تھا جو جَوان اَور خُوبصورت تھا اَور جِس کا بنی اِسرائیل میں کویٔی ثانی نہ تھا۔ وہ اِتنا قدآور تھا کہ دیگر لوگوں میں سے ہر کویٔی اُس کے کندھے تک آتا تھا۔
1SA 9:3 شاؤل کے باپ قیشؔ کے گدھے کھو گیٔے۔ اِس لئے قیشؔ نے اَپنے بیٹے شاؤل سے کہا، ”ایک خدمت گار کو ساتھ لے کر جاؤ اَور گدھوں کو ڈھونڈو۔“
1SA 9:4 لہٰذا وہ اِفرائیمؔ کے پہاڑی علاقہ اَور شلِیشہؔ کے اِردگرد کے خِطّہ میں اُنہیں ڈھونڈتے پھرے لیکن وہ کہیں نہ ملے۔ تَب وہ اَور آگے شعلیِمؔ کے علاقہ میں گیٔے لیکن گدھے وہاں بھی نہ تھے۔ تَب وہ بِنیامین کے علاقہ میں داخل ہوکر گھُومے پھرے لیکن اُنہیں وہاں بھی نہ پایا۔
1SA 9:5 اَور جَب وہ صُوفؔ کے ضلع میں پہُنچے تو شاؤل اَپنے خدمت گار سے جو اُن کے ساتھ تھا کہنے لگے، ”آؤ، واپس چلیں ورنہ میرے باپ گدھوں کی فکر چھوڑکر ہماری فکر میں مُبتلا ہو جائیں گے۔“
1SA 9:6 لیکن خدمت گار نے جَواب دیا، ”دیکھ! اِس قصبہ میں ایک مَرد خُدا ہیں جِن کا بڑا اِحترام کیا جاتا ہے اَورجو کچھ وہ کہتے ہیں وہ ضروُر پُورا ہوتاہے۔ آؤ، اَب وہاں چلیں۔ شاید وہ ہمیں بتا سکیں کہ ہم کس طرف جایٔیں۔“
1SA 9:7 شاؤل نے اَپنے خدمت گار سے کہا، ”اگر ہم جایٔیں بھی تو اُس آدمی کو کیا دے سکیں گے؟ وہ کھانا جو ہمارے توشہ دان میں تھا ختم ہو چُکاہے۔ ہمارے پاس اُس مَرد خُدا کو پیش کرنے کے لیٔے کویٔی تحفہ نہیں۔ ہمارے پاس ہے کیا؟“
1SA 9:8 اُس خادِم نے شاؤل کو جَواب میں کہا، ”دیکھو! میرے پاس پاؤ بھر ثاقل چاندی ہے جسے میں اُس مَرد خُدا کو دے دُوں گا تاکہ وہ ہمیں بتائیں کہ ہم کس طرف جایٔیں۔“
1SA 9:9 (پچھلے زمانہ میں اِسرائیل میں دستور تھا کہ جَب بھی کویٔی خُدا سے کچھ پُوچھنے جاتا تو وہ کہتا تھا، ”آؤ، کسی غیب بین کے پاس چلیں،“ کیونکہ جسے آج کل نبی کہتے ہیں پہلے وہ غیب بین کہلاتا تھا)۔
1SA 9:10 تَب شاؤل نے اَپنے خدمت گار سے کہا، ”ٹھیک ہے۔ آؤ، چلیں۔“ لہٰذا وہ اُس قصبہ کی طرف جہاں وہ مَرد خُدا تھا روانہ ہو گئے۔
1SA 9:11 اَور جَب وہ اُس قصبہ کی طرف پہاڑی پر چڑھ رہے تھے تو اُنہُوں نے دیکھا کہ قصبہ کی کچھ لڑکیاں باہر پانی بھرنے آ رہی ہیں۔ وہ اُن کے پاس جا کر پُوچھنے لگے، ”کیا وہ غیب بین یہاں ہیں؟“
1SA 9:12 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہاں، وہ یہیں ہیں۔ دیکھو، وہ تمہارے سامنے ہی ہیں۔ جلدی کرو، وہ آج ہی ہمارے قصبہ میں آئے ہیں کیونکہ آج اُونچے مقام پر لوگوں کی طرف سے قُربانی چڑھائی جاتی ہے۔
1SA 9:13 اَور جوں ہی تُم قصبے میں داخل ہو تو اُس سے پہلے کہ وہ اُونچے مقام پر کھانا کھانے کے لیٔے جائیں تُم اُن سے مِل سکوگے۔ لوگ اُن کے آنے تک کھانا نہیں کھایٔیں گے کیونکہ اُن کا قُربانی کو برکت دینا ضروُری ہے۔ اُس کے بعد بُلائے ہُوئے مہمان کھایٔیں گے۔ اَب جاؤ، یہی وقت ہے کہ تُم اُن سے مِل سکوگے۔“
1SA 9:14 وہ اُس قصبہ کی طرف بڑھے اَور جَب وہ اُس میں داخل ہو رہے تھے تو شموایلؔ اُس اُونچے مقام کو جانے کے لیٔے اُن کی طرف آ رہے تھے۔
1SA 9:15 اَور شاؤل کے آنے سے ایک دِن پیشتر ہی یَاہوِہ نے شموایلؔ کو آگاہ کر دیا تھا:
1SA 9:16 ”کل تقریباً اِسی وقت مَیں بِنیامین کی سرزمین سے ایک آدمی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔ اُسے میری قوم اِسرائیل پر حُکمرانی کرنے کے لیٔے مَسح کرنا۔ وہ میرے لوگوں کو فلسطینیوں کے ہاتھ سے چھُڑائے گا۔ مَیں نے اَپنے لوگوں پر نظر کی ہے کیونکہ اُن کی فریاد مُجھ تک پہُنچی ہے۔“
1SA 9:17 لہٰذا جَب شموایلؔ نے شاؤل کو دیکھا تو یَاہوِہ نے شموایلؔ سے کہا، ”یہی وہ آدمی ہے جِس کی بابت مَیں نے تُمہیں بتایا تھا۔ یہی میرے لوگوں پر حُکومت کرےگا۔“
1SA 9:18 اَور شاؤل نے پھاٹک پر شموایلؔ کے پاس جا کر پُوچھا، ”کیا آپ مہربانی کرکے مُجھے بتائیں گے کہ غیب بین کا گھر کہاں ہے؟“
1SA 9:19 شموایلؔ نے شاؤل جَواب دیا، ”مَیں ہی وہ غیب بین ہُوں۔ میرے آگے آگے اُونچے مقام کو چلو کیونکہ آج تُم میرے ساتھ کھانا کھاؤگے اَور صُبح کو مَیں تُمہیں رخصت کروں گا اَورجو کچھ تمہارے دِل میں ہے سَب تُمہیں بتا دُوں گا۔
1SA 9:20 اَور تمہارے گدھے جِن کو کھویٔے ہُوئے تین دِن ہو گئے ہیں اُن کی بابت فکر نہ کرو کیونکہ وہ مِل گیٔے ہیں۔ اَور اگر بنی اِسرائیل کو تمہاری اَور تمہارے آبائی گھرانے کی تمنّا نہیں تو پھر کس کی تمنّا ہے؟“
1SA 9:21 شاؤل نے جَواب دیا، ”کیا میں ایک بِنیامینی یعنی اِسرائیل کے سَب سے چُھوٹے قبیلہ سے نہیں ہُوں؟ اَور کیا میرا خاندان بِنیامین کے قبیلہ کے کل خاندانوں میں سَب سے چھوٹا نہیں؟ پھر آپ مُجھ سے اَیسی بات کیوں کہتے ہو؟“
1SA 9:22 تَب شموایلؔ نے شاؤل اَور اُن کے خدمت گار کو مہمان خانہ میں لاکر سَب مہمانوں سے آگے جو کویٔی تیس آدمی تھے ایک مخصُوص جگہ بِٹھایا۔
1SA 9:23 اَور شموایلؔ نے باورچی سے کہا، ”گوشت کا وہ ٹکڑا لاؤ جو مَیں نے تُمہیں دیا تھا اَور کہاتھا کہ اُسے الگ رکھ چھوڑنا۔“
1SA 9:24 لہٰذا باورچی نے وہ ران اَورجو کچھ اُس پر تھا اُٹھاکر شاؤل کے سامنے رکھ دیا۔ تَب شموایلؔ نے کہا، ”یہ اُس وقت سے تمہارے ہی واسطے رکھی ہُوئی تھی، ’جَب مَیں نے مہمانوں کی ضیافت کرنے کی بات کہی تھی۔ اِسے کھاؤ!‘ “ لہٰذا اُس دِن شاؤل نے شموایلؔ کے ساتھ کھانا کھایا۔
1SA 9:25 اَور اُونچے مقام سے قصبہ میں آنے کے بعد شموایلؔ نے اَپنے گھر کی چھت پر شاؤل سے باتیں کیں۔
1SA 9:26 اگلے دِن کی صُبح کو بیدار ہوتے ہی شموایلؔ نے شاؤل کو پھر گھر کی چھت پر بُلایا اَور کہا، ”تیّار ہو جاؤ تاکہ مَیں تُمہیں رخصت کروں۔“ اَور جَب شاؤل تیّار ہو گئے تو وہ اَور شموایلؔ اِکٹھّے باہر نکلے۔
1SA 9:27 اَور جَب وہ قصبہ کی سرحد سے باہر نکل رہے تھے تو شموایلؔ نے شاؤل سے کہا، ”اَپنے خدمت گار کو حُکم دو کہ وہ آگے چلا جائے۔“ خدمت گار نے وَیسا ہی کیا، ”لیکن تُم ابھی یہاں ٹھہرے رہو کیونکہ مَیں تُمہیں خُدا کی طرف سے ایک پیغام دینا چاہتا ہُوں۔“
1SA 10:1 تَب شموایلؔ نے تیل کی کُپّی لی اَور اُسے شاؤل کے سَر پر اُنڈیلا اَور اُسے چُوم کر کہنے لگا، ”کیا یہ حقیقت نہیں کہ یَاہوِہ نے تُمہیں اَپنی مِیراث یعنی بنی اِسرائیل کا بادشاہ ہونے کے لیٔے مَسح کیا ہے؟
1SA 10:2 جَب تُم آج میرے پاس سے چلے جاؤگے، تو راخلؔ کے مقبرہ کے قریب بِنیامین کے علاقہ میں ضِلضعؔ کے مقام پر دو آدمی تُم سے ملیں گے۔ اَور کہیں گے، ’وہ گدھے جنہیں تُم ڈھونڈنے گئے تھے مِل گیٔے ہیں۔ اَب تمہارے باپ نے اُن کے بارے میں فکر کرنا چھوڑ دیا ہے اَور وہ تمہارے لیٔے فِکرمند ہے اَور کہتے ہیں، ”مَیں اَپنے بیٹے کے لیٔے کیا کروں؟“ ‘
1SA 10:3 ”پھر وہاں سے آگے بڑھ کر جَب تُم تبورؔ کے بڑے بلُوط درخت کے پاس پہُنچوگے تو وہاں تُمہیں تین آدمی ملیں گے جو بیت ایل یعنی خُدا کے گھر کی زیارت کے لیٔے جا رہے ہوں گے۔ ایک بکری کے تین بچّے، دُوسرا تین روٹیاں اَور تیسرا مَے کا ایک مشکیزہ اُٹھائے ہوگا۔
1SA 10:4 وہ تُمہیں سلام کریں گے اَور دو روٹیاں پیش کریں گے جنہیں تُم قبُول کر لینا۔
1SA 10:5 ”اَور اُس کے بعد تُم خُدا کے گِبعہؔ تک پہُنچ جاؤ گئے جہاں فلسطینیوں کی ایک چوکی ہے۔ جَب تُم اُس قصبہ میں داخل ہوگے تو تُمہیں نبیوں کا ایک جلوس اُونچے مقام سے نیچے آتا ہُوا ملے گا جِن کے آگے بربط، دف، بانسری اَور سِتار بجائے جا رہے ہوں گے اَور وہ نبُوّت کر رہے ہوں گے۔
1SA 10:6 تَب یَاہوِہ کا رُوح تُم پر شِدّت سے نازل ہوگا اَور تُم بھی اُن کے ساتھ نبُوّت کرنے لگوگے اَور بالکُل نئی شخصیت بَن جاؤگے۔
1SA 10:7 جَب ایک دفعہ یہ نِشانات پُورے ہو جایٔیں تَب جو کچھ تُمہیں پیش آئے اُسے اَنجام دینا کیونکہ خُدا تمہارے ساتھ ہے۔
1SA 10:8 ”تُم مُجھ سے پیشتر گِلگالؔ کو چلے جانا اَور مَیں سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذر کی قُربانیاں گزراننے یقیناً تمہارے پاس آؤں گا۔ لیکن جَب تک مَیں تمہارے پاس آکر تُمہیں بتا نہ دُوں کہ تُمہیں کیا کرناہے تُم سات دِن تک ضروُر میرا اِنتظار کرنا۔“
1SA 10:9 اَور جوں ہی شاؤل نے شموایلؔ سے رخصت ہونے کے لیٔے پیٹھ پھیری خُدا نے شاؤل کا دِل تبدیل کر دیا۔ اَور یہ تمام نِشانیاں اُس دِن پُوری ہو گئیں۔
1SA 10:10 اَور پھر وہ گِبعہؔ یعنی خُدا کے پہاڑ تک پہُنچ گیا۔ وہاں اُسے نبیوں کا ایک جلوس مِلا اَور خُدا کی رُوح بڑی شِدّت سے اُن پر نازل ہُوا اَور وہ بھی اُن کے ہمراہ نبُوّت کرنے لگے۔
1SA 10:11 اَور جَب اُن کے پہلے سے جاننے والے والوں نے اُنہیں نبیوں کے ہمراہ نبُوّت کرتے دیکھا تو، ”وہ ایک دُوسرے سے پُوچھنے لگے کہ قیشؔ کے بیٹے کو کیا ہو گیا ہے؟ کیا شاؤل بھی نبیوں میں شامل ہے؟“
1SA 10:12 اَور وہاں کے ایک آدمی نے جَواب دیا: ”اُن کا باپ کون ہے؟“ تَب ہی سے یہ ضرب المثل چلی: ”کیا شاؤل بھی نبیوں میں سے ایک ہیں؟“
1SA 10:13 اَور جَب شاؤل نبُوّت کرچکے تو وہ اُونچے مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔
1SA 10:14 وہاں شاؤل کے چچا نے شاؤل سے اَور اُن کے خدمت گار سے پُوچھا، ”تُم کہاں تھے؟“ شاؤل نے جَواب دیا، ”گدھوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ لیکن جَب ہم نے دیکھا کہ وہ نہیں ملتے تو ہم شموایلؔ کے پاس گیٔے۔“
1SA 10:15 شاؤل کے چچا نے کہا، ”مُجھے بتاؤ کہ شموایلؔ نے کیا کچھ کہا۔“
1SA 10:16 شاؤل نے جَواب دیا، ”شموایلؔ نے ہمیں یقین دِلایا کہ گدھے مِل گیٔے ہیں۔“ لیکن اَپنے چچا کو یہ نہیں بتایا، شموایلؔ نے اُن کے بادشاہ بنائے جانے کے بارے میں کیا کہاتھا۔
1SA 10:17 اَور شموایلؔ نے اِسرائیل کے لوگوں کو مِصفاہؔ میں یَاہوِہ کے حُضُور میں طلب کیا۔
1SA 10:18 اَور اُنہُوں نے کہا، ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’میں بنی اِسرائیل کو مِصر سے نکال کر لایا اَور مَیں نے تُمہیں مِصریوں اَور دُوسرے تمام ممالک کے ظُلم و سِتم سے رِہائی بخشی۔‘
1SA 10:19 لیکن تُم نے اَب اَپنے خُدا کو جو تُمہیں تمام آفتوں اَور تکلیفوں سے بچاتے ہیں ردّ کر دیا اَور اُن سے اِصرار کیا، ’ہم پر بادشاہ مُقرّر کریں۔‘ لہٰذا اَب تُم اَپنے اَپنے قبیلوں اَور برادریوں کے مُطابق گِروہ بناؤ اَور اَپنے آپ کو یَاہوِہ کے حُضُور میں پیش کرو۔“
1SA 10:20 جَب شموایلؔ اِسرائیل کے سَب قبیلوں کو نزدیک لائے تو قُرعہ بِنیامین کے برادری کے نام کا نِکلا۔
1SA 10:21 پھر وہ بِنیامین کے قبیلہ کو اُن کے برادریوں کے لحاظ سے آگے لایا اَور قُرعہ مَطریؔ کے برادری کے نام کا نِکلا اَور پھر آخِر میں شاؤل بِن قیشؔ کا نام نِکلا۔ لیکن جَب اُنہُوں نے اُنہیں ڈھونڈا تو وہ نہ مِلا۔
1SA 10:22 لہٰذا اُنہُوں نے یَاہوِہ سے پھر پُوچھا کہ کیا، ”وہ آدمی اِس وقت یہاں مَوجُود ہے کہ نہیں؟“ اَور یَاہوِہ نے کہا، ”ہاں، وہ سامان کے درمیان چھُپا ہُواہے۔“
1SA 10:23 تَب وہ دَوڑے اَور اُسے وہاں سے باہر لایٔے۔ اُس کا قد اِتنا لمبا تھا کہ جَب وہ لوگوں کے درمیان کھڑا ہُوا تو وہ اُس کے کندھے تک آتے تھے۔
1SA 10:24 تَب شموایلؔ نے سارے لوگوں سے کہا، ”کیا تُم اُس آدمی کو دیکھتے ہو جسے یَاہوِہ نے چُناہے؟ سارے آدمیوں میں کویٔی بھی اُس کی مانند نہیں ہے۔“ تَب لوگ نعرے مارنے لگے، ”ہمارا بادشاہ زندہ باد۔“
1SA 10:25 پھر شموایلؔ نے لوگوں کو بادشاہ کے ضوابط بتائے اَور اُس نے اُنہیں طُومار پر لِکھ کر یَاہوِہ کے حُضُور میں حِفاظت سے رکھ دیا۔ اُس کے بعد شموایلؔ نے اُن لوگوں کو اِجازت دی کہ سَب اَپنے اَپنے گھر چلے جایٔیں۔
1SA 10:26 اَور شاؤل بھی اُن سُورما مَردوں کے ہمراہ جِن کے دِلوں پر خُدا نے اثر کیا تھا گِبعہؔ میں اَپنے گھر چلا گیا۔
1SA 10:27 لیکن بعض شر پسندوں نے کہا، ”یہ شخص ہمیں کیسے بچا سَکتا ہے؟“ اُنہُوں نے شاؤل کو حقیر جانا اَور اُن کے لیٔے کویٔی نذرانہ نہ لایٔے لیکن شاؤل نے خاموشی اِختیار کی۔
1SA 11:1 تَب ناحسؔ عمُّونی نے چڑھائی کرکے یبیسؔ گِلعادؔ کا محاصرہ کر لیا، اَور یبیسؔ کے تمام لوگوں نے اُس سے کہا، ”ہمارے ساتھ عہد کر لو اَور ہم آپ کی خدمت کریں گے۔“
1SA 11:2 لیکن ناحسؔ عمُّونی نے جَواب دیا، ”میری ایک شرط ہے کہ تُم میں سے ہر ایک کی داہنی آنکھ نکال ڈالی جائے۔ اِس طرح سارے اِسرائیل کو ذلیل کرنے کے بعد ہی میں تُم سے عہد کروں گا۔“
1SA 11:3 تَب یبیسؔ کے بُزرگوں نے نحس سے کہا، ”ہمیں سات دِن کی مہلت دے تاکہ ہم اِسرائیل کے طُول و عرض میں قاصِد بھیج سکیں۔ اگر ہمیں کویٔی بچانے نہ آیا تو ہم اَپنے آپ کو تمہارے حوالہ کر دیں گے۔“
1SA 11:4 جَب وہ قاصِد شاؤل کے گِبعہؔ میں آئے اَور لوگوں کو اُن شرائط کی اِطّلاع دی تو وہ سَب چِلّا چِلّاکر رونے لگے۔
1SA 11:5 عَین اُس وقت شاؤل اَپنے بَیلوں کے پیچھے کھیتوں سے واپس آ رہے تھے۔ اُنہُوں نے پُوچھا، ”اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ کیوں رو رہے ہیں؟“ تَب اُنہُوں نے یبیسؔ کے لوگوں کی باتیں اُن کے سامنے دہرائیں۔
1SA 11:6 جَب شاؤل نے اُن کی باتیں سُنیں تو خُدا کی رُوح اُن پر بڑی شِدّت سے نازل ہُوا اَور وہ غُصّہ سے آگ بگُولا ہو گئے۔
1SA 11:7 شاؤل نے ایک جوڑی بَیل لیٔے اُن کے ٹکڑے ٹکڑے کئے اَور پھر اُن ٹُکڑوں کو قاصِدوں کے ہاتھ اِس اعلان کے ساتھ اِسرائیل کے سَب حِصّوں میں بھیج دیا، ”کہ جو کویٔی شاؤل اَور شموایلؔ کی پیروی نہیں کرےگا اُس کے بَیلوں کے ساتھ بھی اَیسا ہی کیا جائے گا۔“ تَب لوگوں پر یَاہوِہ کا خوف چھا گیا اَور وہ ایک تن ہوکر آئے۔
1SA 11:8 جَب شاؤل نے بزق میں اُنہیں جمع کرکے گِنا تو اِسرائیل کے مَرد تعداد میں تین لاکھ اَور یہُوداہؔ کے مَرد تعداد میں تیس ہزار تھے۔
1SA 11:9 اَور اُنہُوں نے اُن قاصِدوں کو جو آئےتھے بتایا، ”یبیسؔ گِلعادؔ کے لوگوں کو کہنا، ’کل دھوپ تیز ہونے تک تُمہیں بچا لیا جائے گا۔‘ “ جَب قاصِدوں نے جا کر یبیسؔ کے لوگوں کو یہ اِطّلاع دی تو وہ مارے خُوشی کے پھُول گیٔے
1SA 11:10 اَور اہلِ یبیسؔ نے عمُّونیوں سے کہا، ”کل ہم اَپنے آپ کو تمہارے حوالہ کر دیں گے، تَب جو کچھ تُمہیں اَچھّا لگے ہمارے ساتھ کرنا۔“
1SA 11:11 اگلے دِن صُبح کو شاؤل نے اَپنے آدمیوں کو تین گِروہوں میں تقسیم کیا اَور وہ رات کے آخِری پہر کے دَوران عمُّونیوں کی چھاؤنی میں گھُس گیٔے اَور دھوپ چڑھنے تک اُن کو قتل کرتے رہے اَورجو بچ نکلے وہ اَیسے تِتّر بِتّر ہُوئے کہ دو آدمی بھی کہیں ایک ساتھ نہ رہے۔
1SA 11:12 تَب لوگوں نے شموایلؔ سے کہا، ”وہ کون تھے جنہوں نے کہاتھا، ’کیا شاؤل ہم پر حُکمرانی کرےگا؟‘ اُن آدمیوں کو ہمارے پاس لاؤ ہم اُنہیں موت کے گھاٹ اُتار دیں گے۔“
1SA 11:13 لیکن شاؤل نے کہا، ”آج، کویٔی ہرگز نہیں ماراجائے گا، کیونکہ آج کے دِن یَاہوِہ نے اِسرائیل کو بچایا ہے۔“
1SA 11:14 تَب شموایلؔ نے لوگوں سے کہا، ”آؤ، ہم گِلگالؔ چلیں اَور وہاں بادشاہی کی نئے سِرے سے توثیق کریں۔“
1SA 11:15 لہٰذا تمام لوگ گِلگالؔ کو گیٔے اَور وہاں یَاہوِہ کی حُضُوری میں اُنہُوں نے شاؤل کے مُستقِل طور پر بادشاہ بنائے جانے کا اعلان کیا۔ پھر اُنہُوں نے وہاں یَاہوِہ کے آگے سلامتی کی نذر کی قُربانی گزرانی اَور شاؤل اَور تمام بنی اِسرائیلیوں نے بڑا جَشن منایا۔
1SA 12:1 تَب شموایلؔ نے سَب اِسرائیلیوں سے کہا، ”دیکھو، مَیں نے تمہاری بات مان لی اَور اَب ایک بادشاہ تُم پر مُقرّر کر دیا ہے۔
1SA 12:2 اَور اَب رہنمائی کے لیٔے تمہارے پاس ایک بادشاہ ہے۔ رہی میری بات سو، مَیں تو بُوڑھا ہو گیا اَور میرے سَر کے بال سفید ہو گئے ہیں اَور میرے بیٹے یہاں تمہارے ساتھ ہیں۔ میں اَپنی جَوانی سے لے کر اِس دِن تک تمہارا قائد رہا ہُوں۔
1SA 12:3 میں یہاں تمہارے سامنے کھڑا ہُوں۔ اِس لئے تُم یَاہوِہ اَور اُس کے ممسوح کے آگے میرے مُنہ پر بتاؤ کہ مَیں نے کسی کا بَیل یا کسی کا گدھا لیا ہے؟ مَیں نے کِس کو رشوت لے کر دھوکا دیا؟ کِس پر ظُلم کیا؟ اَپنی آنکھیں بند کرنے کے لیٔے کِس کے ہاتھ سے مَیں نے رشوت لی؟ اگر مَیں نے کویٔی اَیسی بات کی ہے تو بتاؤ میں اُس کی تلافی کروں گا۔“
1SA 12:4 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”تُم نے نہ تو ہم سے دغابازی کی اَور نہ ہی ہم پر ظُلم کیا۔ نہ ہی تُم نے کسی کے ہاتھ سے ناحق کویٔی چیز لی۔“
1SA 12:5 تَب شموایلؔ نے اُن سے کہا، ”یَاہوِہ تمہارا گواہ ہیں اَور شاؤل اُس کا ممسوح بھی آج کے دِن گواہ ہے کہ میرے پاس تمہارا کچھ نہیں نِکلا۔“ اُنہُوں نے کہا، ”یَاہوِہ گواہ ہیں۔“
1SA 12:6 پھر شموایلؔ نے لوگوں سے کہا، ”یہ یَاہوِہ ہی ہیں جنہوں نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو مُقرّر کیا اَورجو تمہارے آباؤاَجداد کو مُلک مِصر سے نکال کر لے آئے۔
1SA 12:7 لہٰذا اَب یہیں کھڑے رہو تاکہ مَیں تمہارے رُوبرو اُن تمام راستی کے کاموں کی شہادت دُوں جو یَاہوِہ نے تمہارے اَور تمہارے آباؤاَجداد کے لیٔے اَنجام دئیے۔
1SA 12:8 ”یعقوب کے مِصر میں داخل ہونے کے بعد تمہارے آباؤاَجداد یَاہوِہ کے سامنے مدد کے لیٔے چِلّائے اَور یَاہوِہ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو بھیجا جو تمہارے آباؤاَجداد کو مِصر سے نکال کر لے آئے اَور اُنہیں اِس جگہ بسایا۔
1SA 12:9 ”لیکن وہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کو بھُول گیٔے۔ لہٰذا اُنہُوں نے اُنہیں حَصورؔ کی فَوج کے سپہ سالار سیسؔرا کے ہاتھ اَور فلسطینیوں کے ہاتھ اَور شاہِ مُوآب کے ہاتھ جو اُن کے خِلاف لڑا بیچ ڈالا۔
1SA 12:10 تَب اُنہُوں نے یَاہوِہ سے فریاد کی اَور کہا، ’ہم نے گُناہ کیا ہے کیونکہ ہم نے یَاہوِہ کو چھوڑ دیا اَور ہم بَعل معبُودوں اَور عستوریتؔ کی پرستش کرنے لگے۔ لیکن اَب ہمیں ہمارے دُشمنوں کے ہاتھ سے چھُڑاؤ اَور ہم پھر سے آپ کی پرستش کرنے لگیں گے۔‘
1SA 12:11 تَب یَاہوِہ نے گدعونؔ (یرُبّعلؔ)، بَراقؔ، یِفتاحؔ (شِمشُونؔ) اَور شموایلؔ کو بھیجا اَور تُمہیں تمہارے دُشمنوں کے ہاتھ سے جو تُمہیں گھیرے ہُوئے تھے چھُڑایا اَور تُم سکون سے رہنے لگے۔
1SA 12:12 ”لیکن جَب تُم نے دیکھا کہ بنی عمُّون کا بادشاہ ناحسؔ تُم پر چڑھائی کر رہاہے تو تُم نے مُجھ سے کہا، ’ہم اَپنے اُوپر حُکومت کرنے کے لیٔے کویٔی بادشاہ چاہتے ہیں،‘ حالانکہ یَاہوِہ تمہارا خُدا تمہارا بادشاہ تھا۔
1SA 12:13 لہٰذا اَب اُس بادشاہ کو دیکھو جسے تُم نے چُن لیا ہے اَور جِس کے لیٔے تُم نے درخواست کی تھی۔ دیکھو یَاہوِہ نے تُم پر بادشاہ مُقرّر کر دیا ہے۔
1SA 12:14 اگر تُم یَاہوِہ سے ڈرتے اُن کی پرستش کرتے رہو اَور اُن کی فرماں برداری کرو اُن کے حُکموں سے سرکشی نہ کرو اَور تُم اَور وہ بادشاہ جو تُم پر حُکمرانی کرے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی پیروی کرتے رہو تو ٹھیک!
1SA 12:15 لیکن اگر تُم یَاہوِہ کی فرماں برداری نہ کرو بَلکہ اُن کے حُکموں سے سرکشی کرو تو یَاہوِہ کا ہاتھ تمہارے خِلاف ہوگا جَیسا کہ تمہارے آباؤاَجداد کے خِلاف تھا۔
1SA 12:16 ”لہٰذا اَب خاموش کھڑے رہو اَور اُس عظیم کام کو دیکھو جسے یَاہوِہ تمہاری آنکھوں کے سامنے کرنے والے ہیں۔
1SA 12:17 کیا اَب گیہُوں کی فصل کی کٹائی کے دِن نہیں؟ میں یَاہوِہ سے عرض کروں گا کہ بادل گرجے اَور مینہ برسے اَور تُم جان لوگے اَور دیکھ بھی لوگے کہ یَاہوِہ کے ہوتے ہُوئے تُم نے اَپنے لیٔے ایک بادشاہ مانگ کر کتنی بڑی غلطی کی۔“
1SA 12:18 پھر شموایلؔ نے یَاہوِہ سے دعا کی اَور اُسی دِن یَاہوِہ کے حُکم سے بادل گرجے اَور مینہ برسنے لگا۔ اَور یَاہوِہ اَور شموایلؔ کی عظمت دیکھ کر سَب لوگوں پر دہشت طاری ہو گئی۔
1SA 12:19 تَب سَب لوگوں نے شموایلؔ سے کہا، ”یَاہوِہ اَپنے خُدا سے اَپنے بندوں کے لیٔے دعا کرو تاکہ ہم ہلاک نہ ہوں کیونکہ ہم نے اَپنے لیٔے ایک بادشاہ مانگ کر اَپنے تمام گُناہوں میں ایک اَور گُناہ کا اِضافہ کیا ہے۔“
1SA 12:20 شموایلؔ نے جَواب دیا، ”خوف نہ کرو۔ یہ گُناہ تو تُم کر ہی چُکے ہو۔ اَب یَاہوِہ کی پیروی سے کنارہ کشی نہ کرو بَلکہ اَپنے سارے دِل سے اُن کی پرستش کرو۔
1SA 12:21 باطِل بُتوں کی طرف مائل نہ ہو۔ وہ تمہارا کویٔی بھلا نہیں کر سکتے اَور نہ ہی تُمہیں بچا سکتے ہیں کیونکہ وہ بیکار ہیں۔
1SA 12:22 اَور یَاہوِہ اَپنے عظیم نام کی خاطِر اَپنے لوگوں کو ترک نہیں کریں گے کیونکہ اُنہیں یہی پسند آیا کہ تُمہیں اَپنی قوم بنائیں۔
1SA 12:23 جہاں تک میرا تعلّق ہے یَاہوِہ نہ کرے کہ میں بھی تمہارے لیٔے دعا کرنے سے باز رہُوں خُدا کا گُنہگار ٹھہروں۔ میں تو تُمہیں وُہی راستہ بتاؤں گا جو دُرست اَور راست ہے۔
1SA 12:24 اَور چاہتا ہُوں کہ تُم یَاہوِہ سے ڈرو اَور اَپنے سارے دِل سے اَور سچّائی سے اُن کی عبادت کرتے رہو۔ ذرا سوچو کہ اُنہُوں نے تمہارے لیٔے کتنے بڑے کام کئے ہیں۔
1SA 12:25 لیکن اگر تُم بدی کرتے رہوگے تو تُم اَور تمہارا بادشاہ دونوں نابود کر دئیے جاؤگے۔“
1SA 13:1 شاؤل کی عمر تیس سال کی تھی جَب وہ بادشاہ بنے اَور اُنہُوں نے بنی اِسرائیل پر بِیالیس سال تک حُکمرانی کی۔
1SA 13:2 ابھی اُنہیں بادشاہ بنے دو سال ہی ہُوئے تھے؛ اُنہُوں نے بنی اِسرائیل میں سے تین ہزار مَرد چُن لیٔے۔ اُن میں سے دو ہزار اُن کے ساتھ مِکماشؔ میں اَور بیت ایل کے پہاڑی علاقہ میں تھے اَور ایک ہزار یُوناتانؔ کے ساتھ گِبعہؔ میں بِنیامین کے علاقہ میں تھے۔ باقی لوگوں کو شاؤل نے اَپنے اَپنے گھر بھیج دیا۔
1SA 13:3 اَور یُوناتانؔ نے گِبعؔ میں فلسطینیوں کی سرحدی چوکی پر حملہ کر دیا اَور فلسطینیوں کو اِس کی خبر ہو گئی۔ اَور شاؤل نے مُلک کے ہر حِصّہ میں نرسنگا پھنکوا کر مُنادی کرادی، ”تاکہ عِبرانی لوگ بھی سُن لیں!“
1SA 13:4 پس تمام بنی اِسرائیل نے اُس خبر کو سُنا: ”شاؤل نے فلسطینیوں کی سرحدی چوکی پر حملہ کر دیا ہے۔ اَور بنی اِسرائیل فلسطینیوں کے لیٔے دردِ سَر بَن گیا ہے۔“ لہٰذا سَب لوگ شاؤل کے ساتھ شامل ہونے کے لیٔے گِلگالؔ میں جمع ہو گئے۔
1SA 13:5 اَور فلسطینی تین ہزار رتھوں، چھ ہزار رتھ بانوں اَور سمُندر کے کنارے کی ریت کی مانند کثیر فَوجی سپاہیوں کے ہمراہ اِسرائیل کے ساتھ لڑنے کے لیٔے جمع ہُوئے۔ اُنہُوں نے پیش قدمی کرکے بیت آوِنؔ کے مشرق میں مِکماشؔ میں پڑاؤ کیا۔
1SA 13:6 جَب اِسرائیل کے آدمیوں نے دیکھا کہ صورت حال تشویشناک ہے اَور اُن کی فَوج پر دباؤ بڑھ رہاہے تو وہ غاروں، گنُجان جھاڑیوں، چٹّانوں، گڑھوں اَور حوضوں میں جا چھُپے۔
1SA 13:7 اَور بعض عِبرانی دریائے یردنؔ پار کرکے گادؔ اَور گِلعادؔ کے علاقہ میں داخل ہو گئے۔ لیکن شاؤل گِلگالؔ ہی میں رہے اَور اُن کے ساتھ سارے فَوجی ڈر کے مارے کانپ رہے تھے۔
1SA 13:8 شاؤل نے سات دِن شموایلؔ کے مُقرّرہ وقت کے مُطابق اِنتظار کیا، لیکن جَب شموایلؔ گِلگالؔ نہ آئے تو شاؤل کے آدمی مُنتشر ہونے لگے۔
1SA 13:9 لہٰذا شاؤل نے کہا، ”سوختنی نذر اَور سلامتی کی نذریں میرے پاس لاؤ۔“
1SA 13:10 جَب وہ اُن سوختنی نذروں کو گزران چُکے تو شموایلؔ آ پہُنچے اَور شاؤل آداب بجا لانے کے لیٔے اُن کے اِستِقبال کو نکلے۔
1SA 13:11 شموایلؔ نے پُوچھا، ”کہ تُم نے کیا کیا ہے؟“ شاؤل نے جَواب دیا، ”جَب مَیں نے دیکھا کہ فَوجی جَوان مُجھے چھوڑکر جا رہے ہیں اَور آپ مُقرّرہ وقت پر نہیں آئے اَور فلسطینی مِکماشؔ میں اِکٹھّے ہو رہے ہیں،
1SA 13:12 مَیں نے سوچا، ’اَب فلسطینی گِلگالؔ میں مُجھ پر آ پڑیں گے، اَور مَیں نے یَاہوِہ کی کرم فرمائی کے لیٔے دعا بھی نہیں کی ہے۔‘ لہٰذا میں سوختنی نذر کرنے پر مجبُور ہو گیا۔“
1SA 13:13 شموایلؔ نے شاؤل سے کہا، ”تُم نے احمقی سے کام لیا ہے اَور اُس حُکم کو جو یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں دیا تھا نہیں مانا۔ اگر مانا ہوتا تو وہ تمہاری بادشاہی اِسرائیل پر ہمیشہ قائِم رکھتے۔
1SA 13:14 لیکن اَب تمہاری بادشاہی قائِم نہ رہے گی۔ یَاہوِہ نے اَپنا دِل پسند آدمی ڈھونڈ کر اُسے اَپنے لوگوں کا رہنما مُقرّر کر دیا ہے کیونکہ تُم نے یَاہوِہ کی حُکم عُدولی کی ہے۔“
1SA 13:15 پھر شموایلؔ گِلگالؔ سے روانہ ہوکر بِنیامین کے علاقہ میں گِبعہؔ چلےگئے۔ شاؤل نے اُن آدمیوں کا جو اُن کے ساتھ تھے شُمار کیا۔ وہ تعداد میں تقریباً چھ سَو تھے۔
1SA 13:16 اَور شاؤل، اُن کا بیٹا یُوناتانؔ اَور اُن کے ساتھ سارے مَرد بِنیامین کے گِبعؔ میں مُقیم تھے۔ فلسطینی جو مِکماشؔ میں چھاؤنیاں ڈالے ہُوئے تھے
1SA 13:17 فلسطینی چھاؤنی سے چھاپہ ماروں کے تین دستے نکلے۔ ایک دستہ شُعالؔ کے گِردونواح میں عُفرہؔ کی طرف مُڑ گیا۔
1SA 13:18 دُوسرا بیت حَورُونؔ کی طرف اَور تیسرا اُس سرحدی علاقہ کی طرف جہاں سے بیابان کے سامنے وادیِ ضبوئیمؔ اُوپر سے دِکھائی دیتی ہے مُڑ گیا۔
1SA 13:19 فلسطینیوں نے اِسرائیل کے سارے مُلک میں ایک بھی لوہار باقی نہ رہنے دیا، ”کیونکہ فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ عِبرانی لوگ لوہاروں سے تلواریں اَور نیزے بنوا لیں گے!“
1SA 13:20 پس تمام اِسرائیلی اَپنی پھالی، اَپنی کُدال، اَپنی کُلہاڑیاں اَور درانتیاں تیز کروانے کے لیٔے فلسطینیوں کے پاس جایا کرتے تھے۔
1SA 13:21 اَور پھالی اَور کُدال کو تیز کرنے کی اُجرت دو تہائی ثاقل۔ اَور کانٹوں اَور کُلہاڑیوں کو تیز کرنے اَور آنکس کو جوڑنے کی اُجرت ایک تہائی ثاقل تھی۔
1SA 13:22 لہٰذا لڑائی کے اُس دِن شاؤل اَور یُوناتانؔ کے ساتھ کسی بھی مَرد کے ہاتھ میں تلوار یا بھالا نہ تھا۔ یہ ہتھیار صِرف شاؤل اَور اُس کے بیٹے یُوناتانؔ کے ہاتھ میں تھے۔
1SA 13:23 اَور فلسطینیوں کی فَوج کا ایک دستہ اَپنی چوکی سے نِکلا اَور مِکماشؔ کے درّہ کی طرف جا نِکلا۔
1SA 14:1 ایک دِن یُوناتانؔ بِن شاؤل نے اَپنے سلاح بردار جَوان سے کہا، ”آؤ، ہم فلسطینیوں کی چوکی کی طرف جو اُس پار ہے چلیں۔“ لیکن اُس نے اَپنے باپ کو نہ بتایا۔
1SA 14:2 شاؤل گِبعہؔ کے سرحدی علاقہ مِگرُونؔ میں انار کے ایک درخت کے نیچے ٹھہرا ہُوئے تھے اَور تقریباً چھ سَو جنگی مَرد شاؤل کے ساتھ تھے
1SA 14:3 جِن میں اخیاہؔ بھی تھا جو افُود پہنے ہُوئے تھا۔ وہ ایکبودؔ کے بھایٔی احِیطوبؔ بِن فِنحاسؔ بِن عیلیؔ کا بیٹا تھا جو شیلوہؔ میں یَاہوِہ کا کاہِنؔ تھا اَور کسی کو خبر نہ تھی کہ یُوناتانؔ وہ جگہ چھوڑکر چلا گیا ہے۔
1SA 14:4 یُوناتانؔ کو فلسطینیوں کی چوکی تک پہُنچنے کے لیٔے جِس درّہ کو پار کرنا تھا اُس کے دونوں طرف ایک ایک نکیلی چٹّان تھی۔ ایک چٹّان کا نام بُوصیصؔ تھا اَور دُوسری کا سِنہؔ۔
1SA 14:5 ایک چٹّان مِکماشؔ کے شمال میں تھی اَور دُوسری گِبعؔ کے جُنوب میں۔
1SA 14:6 اَور یُوناتانؔ نے اَپنے سلاح بردار سے کہا، ”آؤ، ہم اُدھر اُن نامختونوں کی چوکی تک پہُنچنے کی کوشش کریں۔ شاید یَاہوِہ ہمارے خاطِر سرگرم ہو جائیں۔ کیونکہ یَاہوِہ بہُتوں یا تھوڑوں کے ذریعہ بھی فتح دِلا سکتے ہیں اَور اُنہیں کویٔی نہیں روک سَکتا ہے۔“
1SA 14:7 اُن کے سلاح بردار نے اُن سے کہا، ”جو کچھ تمہارے دِل میں ہے سو کرو۔ آگے بڑھو میں دِل و جان سے تمہارے ساتھ ہُوں۔“
1SA 14:8 یُوناتانؔ نے کہا، ”اَچھّا آؤ، ہم پار کرکے اُن کی طرف جایٔیں تاکہ وہ ہمیں دیکھ سکیں۔
1SA 14:9 اگر وہ ہمیں کہیں، ’ہمارے آنے تک وہیں ٹھہرو،‘ تو ہم جہاں ہوں گے وہیں رُک جایٔیں گے اَور اُن کے پاس آگے نہیں جایٔیں گے۔
1SA 14:10 لیکن اگر وہ کہیں گے، ’ہمارے پاس آؤ،‘ تو ہم اُوپر چڑھیں گے۔ یہی ہمارے لیٔے نِشان ہوگا کہ یَاہوِہ نے اُنہیں ہمارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔“
1SA 14:11 پس اُن دونوں نے فلسطینی چوکی کے سپاہیوں کو اَپنی جھلک دِکھائی۔ فلسطینیوں نے کہا، دیکھو! عِبرانی اُن سوراخوں سے جِن میں وہ چھُپے ہُوئے تھے رینگتے ہُوئے باہر نکل رہے ہیں
1SA 14:12 اَور چوکی کے سپاہیوں نے یُوناتانؔ اَور اُس کے سلاح بردار کو چِلّاکر کہا، ”ہمارے پاس اُوپر تو آؤ، ہم تُمہیں سبق سںکھائیں گے۔“ لہٰذا یُوناتانؔ نے اَپنے سلاح بردار سے کہا، ”زور لگاؤ اَور میرے پیچھے پیچھے چڑھتے آؤ کیونکہ یَاہوِہ نے اُنہیں اِسرائیل کے ہاتھ میں کر دیا ہے۔“
1SA 14:13 اَور یُوناتانؔ اَپنے ہاتھوں اَور پاؤں کے سہارے اُوپر چڑھ گیا اَور اُس کا سلاح بردار اُس کے عَین پیچھے تھا۔ فلسطینی یُوناتانؔ کے سامنے گرتے گیٔے اَور اُس کا سلاح بردار اُس کے پیچھے پیچھے اُنہیں قتل کرتا گیا۔
1SA 14:14 اُس پہلے ہی حملہ میں یُوناتانؔ اَور اُس کے سلاح بردار نے تقریباً ایک بیگھہ زمین میں جِن آدمیوں کو مار گرایا اُن کی تعداد بیس کے قریب تھی۔
1SA 14:15 تَب فلسطینیوں کے لشکر کے سارے سپاہیوں میں خوف و ہِراس پھیل گیا خواہ وہ چھاؤنی میں تھے یا میدان میں۔ جو چوکیوں پر تعینات تھے اُن میں اَور چھاپہ مار دستوں میں بھی دہشت کی لہر دَوڑ گئی اَور زمین دہل گئی۔ یہ خوف و ہِراس یَاہوِہ نے نازل کیا تھا۔
1SA 14:16 اَور شاؤل کے نگہبانوں نے جو بِنیامین کے گِبعہؔ میں تھے دیکھا کہ وہ فَوج تمام اطراف میں آہستہ آہستہ نظروں سے غائب ہوتی جا رہی ہے
1SA 14:17 تَب شاؤل نے اُن آدمیوں سے جو اُن کے ساتھ تھے کہا، ”فَوج کا شُمار کرو اَور دیکھو کہ کون ہمیں چھوڑ گیا ہے۔“ اَور جَب اُنہُوں نے شُمار کیا تو یُوناتانؔ اَور اُس کا سلاح بردار دونوں غائب تھے۔
1SA 14:18 اَور شاؤل نے اخیاہؔ سے کہا، ”خُدا کا صندُوق یہاں لے آؤ۔“ (کیونکہ اُس وقت یہ اِسرائیلیوں کے پاس تھا)۔
1SA 14:19 اَور جَب شاؤل اُس کاہِنؔ سے باتیں کر رہے تھے تو اُن فلسطینیوں کی چھاؤنی میں جو کہرام مچا ہُوا تھا وہ اَور بھی بڑھ گیا۔ لہٰذا شاؤل نے اُس کاہِنؔ سے کہا، ”اَپنا ہاتھ کھینچ لیں۔“
1SA 14:20 تَب شاؤل اَور اُن کے سارے آدمی جمع ہوکر لڑنے کو آئے۔ اُنہُوں نے دیکھا کہ فلسطینیوں میں یہاں تک ابتری پھیلی ہُوئی ہے کہ وہ ایک دُوسرے پر تلوار سے وار کر رہے ہیں۔
1SA 14:21 اَور وہ عِبرانی جو پہلے فلسطینیوں کے ساتھ تھے اَور اُن کے ساتھ اُن کی چھاؤنی میں گیٔے تھے وہ بھی اُن کو چھوڑکر اُن اِسرائیلیوں کے ساتھ جا ملے جو شاؤل اَور یُوناتانؔ کے ساتھ تھے۔
1SA 14:22 اَور جَب اُن تمام بنی اِسرائیلیوں نے جو اِفرائیمؔ کے کوہستانی علاقہ میں چھُپے ہُوئے تھے سُنا کہ فلسطینی بھاگ رہے ہیں تو وہ بھی اُن کے تعاقب کے وقت لڑائی میں شامل ہو گئے۔
1SA 14:23 اِس طرح یَاہوِہ نے اُس دِن اِسرائیل کو بچایا اَور جنگ بیت آوِنؔ سے آگے تک پھیل گئی۔
1SA 14:24 اِسرائیلی مَرد اُس دِن بڑے پریشان تھے کیونکہ شاؤل نے لوگوں کو قَسم دے کر کہاتھا، ”کہ جَب تک شام نہ ہو اَور مَیں اَپنے دُشمنوں سے بدلہ نہ لے لُوں اُس وقت تک اگر کویٔی کچھ کھائے تو وہ ملعُون ہو!“ لہٰذا لشکر کے کسی آدمی نے کھانا چکھا تک نہ تھا۔
1SA 14:25 لہٰذا جَب وہ فَوجی جنگل میں پہُنچے تو دیکھا کہ وہاں زمین پر شہد پڑا ہُواہے۔
1SA 14:26 اَور جَب وہ جنگل میں داخل ہو گئے تو اُنہُوں نے دیکھا کہ شہد ٹپک رہاہے لیکن کسی نے اُسے ہاتھ لگا کر اَپنے مُنہ تک لے جانے کی کوشش نہ کی کیونکہ اُنہیں اُس قَسم کا خوف تھا۔
1SA 14:27 لیکن یُوناتانؔ نے یہ بات نہ سُنی تھی کہ اُس کے باپ نے لوگوں کو قَسم دے کر پابند کیا ہُواہے۔ لہٰذا اُس نے اُس عصا کے سِرے کو جو اُس کے ہاتھ میں تھا شہد کے چھتّے میں بھونک دیا اَور اُسے شہد میں تر کرکے اَپنے مُنہ سے لگا لیا جِس سے اُس کی آنکھوں میں تازگی پیدا ہو گئی۔
1SA 14:28 تَب اُن آدمیوں میں سے ایک نے اُسے بتایا، ”تیرے باپ نے ایک سخت قَسم دے کر لوگوں کو آگاہ کر دیا تھا، ’جو کویٔی آج کچھ کھائے گا ملعُون ہوگا!‘ یہی وجہ ہے کہ لوگ بھُوک کی وجہ سے بے ہوش ہونے کو ہیں۔“
1SA 14:29 یُوناتانؔ نے کہا، ”میرے باپ نے لوگوں کو بڑی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ دیکھو! ذرا سا شہد چَکھنے سے ہی میری آنکھوں میں تازگی آ گئی۔
1SA 14:30 کتنا اَچھّا ہوتا اگر سارے لوگ اَپنے دُشمن کے مالِ غنیمت میں سے لے لے کر کھا سکتے۔ پھر تو فلسطینیوں کے قتلِ عام میں کویٔی کسر باقی نہ رہتی؟“
1SA 14:31 اُس دِن اِسرائیلی فلسطینیوں کو مِکماشؔ سے ایّالونؔ تک ڈھیر کرتے چلے گیٔے۔ اَور وہ تھک چُکے تھے۔
1SA 14:32 لہٰذا وہ اُس لُوٹ کے مال پر بُری طرح ٹوٹ پڑے اَور بھیڑیں، گائے بَیل اَور بچھڑے لے کر اُنہیں زمین پر ذبح کرکے خُون سمیت کھاگئے۔
1SA 14:33 تَب کسی نے شاؤل سے کہا، ”دیکھو! خُون سمیت گوشت کھا کر لوگ یَاہوِہ کا گُناہ کر رہے ہیں۔“ شاؤل نے کہا، ”تُم نے وعدہ پُورا نہیں کیا۔ فوراً یہاں پر ایک بڑا پتّھر لاکر نصب کر دو۔“
1SA 14:34 پھر شاؤل نے کہا، ”باہر لوگوں کے درمیان پھیل جاؤ اَور اُنہیں کہو، ’ہر ایک اَپنا بَیل یا بھیڑ یہاں میرے پاس لائے اَور یہاں ذبح کرکے کھائے۔ لیکن خُون سمیت گوشت کھا کر یَاہوِہ کا گُنہگار نہ بنے۔‘ “ لہٰذا اُس رات ہر ایک نے اَپنا بَیل وہاں لاکر اُسے وہاں ذبح کیا۔
1SA 14:35 تَب شاؤل نے یَاہوِہ کے لیٔے ایک مذبح بنایا۔ یہ پہلا مذبح تھا جو شاؤل نے یَاہوِہ کے لیٔے بنایا تھا۔
1SA 14:36 پھر شاؤل نے کہا، ”آؤ رات کے وقت فلسطینیوں کا تعاقب کریں اَور پَو پھٹنے تک اُنہیں لُوٹیں اَور اُن میں سے ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑیں۔“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”تُم جو کچھ بہتر سمجھتے ہو وُہی کرو۔“ لیکن کاہِنؔ نے کہا، ”آؤ ہم یہاں یَاہوِہ کے حُضُور میں جمع ہُوں۔“
1SA 14:37 اَور شاؤل نے یَاہوِہ سے پُوچھا، ”کیا میں فلسطینیوں کے تعاقب میں جاؤں؟ کیا آپ اُنہیں اِسرائیلیوں کے ہاتھ میں کر دیں گے؟“ لیکن اُس دِن یَاہوِہ نے اُنہیں جَواب نہ دیا۔
1SA 14:38 اِس لیٔے شاؤل نے کہا، ”تُم سَب جو فَوج کے سردار ہو یہاں نزدیک آؤ تاکہ ہم مَعلُوم کریں کہ آج کس کے گُناہ کی وجہ سے اَیسا ہُواہے؟
1SA 14:39 اِسرائیل کو بچانے والے یَاہوِہ کی حیات کی قَسم اگر میرے ہی بیٹے یُوناتانؔ نے گُناہ کیا ہے تو وہ ضروُر ماراجائے گا۔“ لیکن اُن لوگوں میں سے کسی نے بھی جَواب نہ دیا۔
1SA 14:40 تَب شاؤل نے تمام بنی اِسرائیلیوں سے کہا، ”تُم ایک طرف کھڑے ہو جاؤ اَور مَیں اَور میرا بیٹا یُوناتانؔ دُوسری طرف کھڑے ہوں گے۔“ لوگوں نے جَواب دیا، ”جو آپ کو بہتر مَعلُوم ہو سو کرو۔“
1SA 14:41 تَب شاؤل نے یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا سے دعا کی اَور پُوچھا، ”آج آپ نے اَپنے خادِم کو جَواب کیوں نہیں دیا؟ اگر قُصُور مُجھ میں ہے یا میرے بیٹے یُوناتانؔ میں ہے تو اُوریمؔ سے جَواب دیں اَور اگر بنی اِسرائیل غلطی پر ہیں تو تُمّیمؔ سے جَواب دیں۔“ تَب قُرعہ ڈالا گیا اَور وہ یُوناتانؔ اَور شاؤل کے نام نِکلا لہٰذا لوگوں پر شُبہ نہ رہا۔
1SA 14:42 تَب شاؤل نے کہا، ”اَب میرے اَور میرے بیٹے یُوناتانؔ کے نام پر قُرعہ ڈالو۔“ اَور یُوناتانؔ پکڑا گیا۔
1SA 14:43 تَب شاؤل نے یُوناتانؔ سے کہا، ”مُجھے بتاؤ کہ تُم نے کیا کیا ہے؟“ یُوناتانؔ نے بتایا، ”مَیں نے تو اَپنے عصا کے سِرے سے بس ذرا سا شہد چکھا تھا۔ کیا میں سچ مُچ مار ڈالا جاؤں گا!“
1SA 14:44 شاؤل نے کہا، ”یُوناتانؔ اگر تُم نہیں مارے جاتے تو خُدا میرے ساتھ بھی یہی بَلکہ اِس سے بھی زِیادہ بُرا کرے۔“
1SA 14:45 لیکن لوگوں نے شاؤل سے کہا، ”کیا یُوناتانؔ کو جو اِسرائیل کے لیٔے اُتنی بڑی فتح کا باعث ہُوا مار ڈالنا ضروُری ہے؟ ہرگز نہیں! یَاہوِہ کی حیات کی قَسم اُس کے سَر کا ایک بال بھی بیکا نہ ہوگا کیونکہ اُس نے آج خُدا کی مدد سے یہ کام کیا ہے۔“ اِس طرح اُن لوگوں نے یُوناتانؔ کو بچا لیا اَور وہ مارا نہ گیا۔
1SA 14:46 پھر شاؤل نے فلسطینیوں کا تعاقب کرنا چھوڑ دیا اَور وہ اَپنے مُلک کو روانہ ہو گئے۔
1SA 14:47 اَور جَب شاؤل نے اِسرائیل پر بادشاہی کرنے کی ذمّہ داری قبُول کرلی تو وہ چاروں طرف اَپنے دُشمنوں، مُوآب، بنی عمُّون، اِدُوم، شاہ ضوباہؔ اَور فلسطینیوں سے لڑے۔ اُس نے جدھر کا رُخ کیا اُسے فتح نصیب ہُوئی۔
1SA 14:48 اُنہُوں نے بڑی بہادری سے لڑ کر عمالیقیوں کو شِکست دی اَور اِسرائیلیوں کو اِن لُٹیروں کے ہاتھ سے چھُڑایا۔
1SA 14:49 شاؤل کے بیٹے یُوناتانؔ، اِشویؔ اَور ملکِیشوعؔ تھے۔ اُس کی بڑی بیٹی کا نام میربؔ اَور چُھوٹی کا نام میکلؔ تھا۔
1SA 14:50 اَور اُس کی بیوی کا نام احِینوعمؔ تھا جو اخِیمعضؔ کی بیٹی تھی اَور شاؤل کی فَوج کے سپہ سالار کا نام ابنیرؔ بِن نیرؔ تھا جو شاؤل کے چچا نیرؔ کا بیٹا تھا۔
1SA 14:51 شاؤل کا باپ قیشؔ اَور ابنیرؔ بِن نیرؔ اَبی ایل کے بیٹے تھے۔
1SA 14:52 شاؤل کی زندگی بھر فلسطینیوں سے سخت جنگ جاری رہی اَور جَب کبھی وہ کسی شہزور یا جنگجو آدمی کو دیکھتے تو اُسے مُلازم رکھ لیتے تھے۔
1SA 15:1 شموایلؔ نے شاؤل سے کہا، ”مَیں وُہی شخص ہُوں جسے یَاہوِہ نے بھیجا ہے کہ وہ اَپنی اِسرائیلی قوم کے اُوپر تُمہیں بطور بادشاہ مَسح کرے۔ لہٰذا اَب توجّہ سے یَاہوِہ کا پیغام سُنو۔
1SA 15:2 قادرمُطلق یَاہوِہ خُدا یُوں فرماتے ہیں، ’جَب اِسرائیلی مِصر سے نکل کر آئے تو اُن کا راستہ روک کر عمالیقیوں نے اُن کے ساتھ جو کچھ کیا اُس کے لیٔے میں اُنہیں سزا دُوں گا۔
1SA 15:3 اِس لیٔے اَب تُم جاؤ اَور عمالیقیوں پر حملہ کرو اَورجو کچھ اُن کا ہے اُسے پُوری طرح تباہ کر دو۔ اَور اُن پر رحم نہ کرنا بَلکہ مَردوں اَور عورتوں، بچّوں اَور شیر خوار بچّوں، گائے بَیلوں، بھیڑوں، اُونٹوں اَور گدھوں، سَب کو قتل کردینا۔‘ “
1SA 15:4 لہٰذا شاؤل نے لوگوں کو طلب کیا اَور طلائمؔ میں اُنہیں جمع کرکے گِنا۔ وہ دو لاکھ پیادے اَور یہُوداہؔ کے دس ہزار مَرد تھے۔
1SA 15:5 اَور شاؤل عمالیقؔ کے شہر کو گیا اَور ایک گہری گھاٹی میں گھات لگا کر بیٹھ گیا
1SA 15:6 تَب شاؤل نے قینیوں سے کہا، ”تُم عمالیقیوں کو چھوڑکر چلے جاؤ تاکہ میں اُن کے ساتھ تُمہیں ہلاک نہ کروں کیونکہ تُم تمام بنی اِسرائیلیوں سے جَب وہ مِصر سے نکل کر آئے مہربانی سے پیش آئےتھے۔“ لہٰذا قینیؔ عمالیقیوں سے پرے ہٹ گیٔے۔
1SA 15:7 تَب شاؤل نے مِصر کے مشرق میں حَویلہؔ سے لے کر شُورؔ تک عمالیقیوں پر حملہ کیا۔
1SA 15:8 اَور عمالیقیوں کے بادشاہ اَگاگؔ کو زندہ پکڑ لیا اَور اُس کے تمام لوگوں کو تلوار سے قتل کر دیا۔
1SA 15:9 لیکن شاؤل اَور اُس کی فَوج نے اَگاگؔ کو اَور بہترین بھیڑوں، گائے بَیلوں، موٹے تازے بچھڑوں اَور برّوں کو الغرض تمام اَچھّی چیزوں کو چھوڑ دیا کیونکہ وہ اُنہیں تباہ کرنے کے لیٔے آمادہ نہ ہُوئے۔ لیکن اُنہُوں نے ہر ایک چیز کو جو ناقص اَور نکمّی تھی بالکُل تباہ کر دیا۔
1SA 15:10 تَب یَاہوِہ کا کلام شموایلؔ کو پہُنچا کہ:
1SA 15:11 ”مُجھے افسوس ہے کہ مَیں نے شاؤل کو بادشاہ بنایا ہے کیونکہ وہ مُجھ سے برگشتہ ہو گیا ہے اَور اُس نے میری ہدایات پر عَمل نہیں کیا۔“ یہ سُن کر شموایلؔ کا غُصّہ بھڑک اُٹھا اَور وہ ساری رات یَاہوِہ سے فریاد کرتے رہے۔
1SA 15:12 شموایلؔ صُبح سویرے اُٹھے اَور شاؤل کو ملنے گیا۔ لیکن اُنہیں بتایا گیا، ”شاؤل کرمِلؔ چلا گیا اَور وہاں اُس نے اَپنے اِعزاز میں ایک یادگار کھڑی کی اَور پھر مُڑ کر گِلگالؔ کو چلا گیا ہے۔“
1SA 15:13 اَور جَب شموایلؔ اُس کے پاس پہُنچے تو شاؤل نے کہا، ”یَاہوِہ آپ کو برکت بخشیں! مَیں نے یَاہوِہ کی ہدایات پر عَمل کیا ہے۔“
1SA 15:14 لیکن شموایلؔ نے کہا، ”پھر میرے کانوں میں بھیڑوں کے ممیانے کی یہ آواز کیسی ہے؟ اَور گائے بَیلوں کے ڈکرانے کی آواز جو میں سُنتا ہُوں کیسی ہے؟“
1SA 15:15 شاؤل نے جَواب دیا، ”فَوجی سپاہی اُن کو عمالیقیوں کے یہاں سے لے آئے ہیں؛ اُنہُوں نے بہترین بھیڑوں اَور گائے بَیلوں کو زندہ رکھا تاکہ اُنہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا کے لیٔے قُربان کریں اَور باقی سَب کو ہم نے نِیست و نابود کر دیا۔“
1SA 15:16 شموایلؔ نے شاؤل سے کہا چُپ رہ کہ گذشتہ رات یَاہوِہ نے جو کچھ مُجھ سے کہا ذرا اُسے بھی سُن لے۔ شاؤل نے جَواب دیا کہ یہ، ضروُر بتائیے۔
1SA 15:17 شموایلؔ نے کہا، ”اگرچہ ایک وقت تُو خُود اَپنی نظر میں حقیر تھا، پھر بھی کیا تُو اِسرائیل کے قبیلوں کا سردار نہ بنا؟ اَور یَاہوِہ نے تُجھے مَسح کیا تاکہ تُو اِسرائیل کا بادشاہ ہو۔
1SA 15:18 اَور یَاہوِہ نے تُجھے ایک مقصد کے لیٔے بھیجا اَور کہا، ’جا اَور اُن بدکار لوگوں یعنی عمالیقیوں کو پُوری طرح تباہ کر؛ اَور جَب تک تُو اُنہیں تباہ نہ کر دے اُن سے جنگ کرتا رہ۔‘
1SA 15:19 تُونے یَاہوِہ کا حُکم کیوں نہ مانا؟ تُو لُوٹ کے مال پر کیوں ٹوٹ پڑا اَور یَاہوِہ کی نظر میں بدی کیوں کی؟“
1SA 15:20 شاؤل نے شموایلؔ سے کہا، ”مَیں نے تو یَاہوِہ کا حُکم مانا اَورجو کام خُدا نے مُجھے سونپا تھا میں اُسے اَنجام دینے کے لیٔے گیا۔ مَیں نے عمالیقیوں کو پُوری طرح تباہ کر دیا ہے اَور اُن کے بادشاہ اَگاگؔ کو لے آیا ہُوں۔
1SA 15:21 اَور فَوجیوں نے لُوٹ کے مال سے بھیڑیں اَور گائے بَیل لے لیٔے چونکہ لُوٹ کے مال کا بہترین حِصّہ یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص تھا، اِس لیٔے وہ چاہتے ہیں کہ گِلگالؔ میں یَاہوِہ تمہارے خُدا کے حُضُور میں اُسے قُربان کریں۔“
1SA 15:22 مگر شموایلؔ نے جَواب دیا: ”کیا یَاہوِہ سوختنی نذروں اَور ذبیحوں سے اِتنا ہی خُوش ہوتے ہیں جِتنا اُس بات سے کہ یَاہوِہ کا حُکم مانا جائے؟ دیکھ حُکم ماَننا، قُربانی چڑھانے سے، اَور کہنے کے مُطابق عَمل کرنا مینڈھوں کی چربی سے بہتر ہے۔
1SA 15:23 کیونکہ بغاوت جادُوگری کے گُناہ کی مانند ہے، اَور تکبُّر بُت پرستی کی بُرائی کی مانند ہے۔ اَور چونکہ تُم نے یَاہوِہ کے کلام کو نہیں مانا، اِس لیٔے اُس نے بھی بطور بادشاہ تُجھے ردّ کر دیا ہے۔“
1SA 15:24 تَب شاؤل نے شموایلؔ سے کہا، ”مَیں نے گُناہ کیا ہے۔ مَیں نے یَاہوِہ کے حُکم کی اَور آپ کی ہدایات کی خِلاف ورزی کی ہے۔ کیونکہ مَیں لوگوں سے ڈرتا تھا، اِس لیٔے مَیں نے اُن کی بات مان لی۔
1SA 15:25 اِس لئے اَب مَیں آپ کی مَنّت کرتا ہُوں کہ میرا گُناہ مُعاف کر دیں اَور میرے ساتھ واپس چلیں تاکہ میں یَاہوِہ کو سَجدہ کروں۔“
1SA 15:26 لیکن شموایلؔ نے شاؤل سے کہا، ”مَیں تیرے ساتھ واپس نہیں جاؤں گا کیونکہ تُونے یَاہوِہ کے کلام کو ردّ کر دیا ہے اَور یَاہوِہ نے تُجھے بطور اِسرائیل کا بادشاہ ردّ کر دیا ہے۔“
1SA 15:27 اَور جَیسے ہی شموایلؔ جانے کے لیٔے مُڑے شاؤل نے اُن کے جُبّہ کا دامن پکڑ لیا اَور وہ چاک ہو گیا۔
1SA 15:28 شموایلؔ نے اُن سے کہا، ”یَاہوِہ نے اِسرائیل کی بادشاہی تُجھ سے آج ہی چاک کرکے چھین لی اَور تیرے ایک پڑوسی کو جو تُجھ سے بہتر ہے دے دی ہے۔
1SA 15:29 وہ جو اِسرائیل کا جلال ہے وہ نہ تو جھُوٹ بولتا ہے اَور نہ اَپنا اِرادہ بدلتا ہے کیونکہ وہ کویٔی اِنسان نہیں ہے کہ اَپنا اِرادہ بدل دے۔“
1SA 15:30 شاؤل نے جَواب دیا، ”مَیں نے گُناہ کیا ہے تو بھی مہربانی کرکے میرے لوگوں کے رہنماؤں کے سامنے اَور اِسرائیل کے سامنے میری عزّت رکھ لیں اَور میرے ساتھ واپس چلیں تاکہ میں یَاہوِہ آپ کے خُدا کو سَجدہ کر سکوں۔“
1SA 15:31 پس شموایلؔ شاؤل کے ساتھ واپس گئے اَور شاؤل نے یَاہوِہ کو سَجدہ کیا۔
1SA 15:32 شموایلؔ نے کہا، ”عمالیقیوں کے بادشاہ اَگاگؔ کو میرے پاس لاؤ۔“ اَگاگؔ بڑی خُوشی کے ساتھ یہ سوچتا ہُوا آیا، ”یقیناً موت کی تلخی اَب گزر چُکی ہے۔“
1SA 15:33 لیکن شموایلؔ نے کہا، ”جَیسے تیری تلوار نے عورتوں کو بے اَولاد کیا ہے، وَیسے ہی تیری ماں بھی عورتوں میں بے اَولاد ہوگی۔“ اَور شموایلؔ نے گِلگالؔ میں یَاہوِہ کے حُضُور میں اَگاگؔ کو قتل کروا دیا۔
1SA 15:34 تَب شموایلؔ رامہؔ چلےگئے لیکن شاؤل اَپنے گھر یعنی شاؤل کے گِبعہؔ کو چلا گیا۔
1SA 15:35 شموایلؔ مَرتے دَم تک شاؤل کو مِلنے نہ گیا حالانکہ شموایلؔ اُس کے لیٔے افسوس کرتا رہا اَور یَاہوِہ شاؤل کو اِسرائیل کا بادشاہ بنانے سے رنجیدہ ہُوا۔
1SA 16:1 یَاہوِہ نے شموایلؔ سے کہا، ”چونکہ مَیں نے شاؤل کو بطور اِسرائیل کے بادشاہ کے ردّ کر دیا ہے، تُو کب تک اُس کے لیٔے افسوس کرتا رہے گا؟ تُو اَپنے سینگ میں تیل بھر اَور اَپنی راہ لے۔ مَیں تُجھے بیت لحمؔ کے یِشائی کے پاس بھیج رہا ہُوں کیونکہ مَیں نے اُس کے بیٹوں میں سے ایک کو بادشاہ ہونے کے لیٔے چُن لیا ہے۔“
1SA 16:2 لیکن شموایلؔ نے کہا، ”میں کیسے جا سَکتا ہُوں؟ کیونکہ شاؤل یہ بات سُنے گا تو مُجھے مار ڈالے گا۔“ یَاہوِہ نے فرمایا، ”اَپنے ساتھ ایک جَوان بچھیا لے جا اَور کہنا، ’میں یَاہوِہ کے لیٔے قُربانی کرنے کے لیٔے آیا ہُوں۔‘
1SA 16:3 اَور یِشائی کو قُربانی کی دعوت دینا۔ پھر مَیں تُجھے بتاؤں گا کہ تُجھے کیا کرناہے اَور اُسی کو جِس کی طرف میں اِشارہ کروں میرے لیٔے مَسح کرنا۔“
1SA 16:4 اَور یَاہوِہ نے جو فرمایا تھا شموایلؔ نے و ہی کیا۔ اَور جَب وہ شہر بیت لحمؔ میں پہُنچے تو اُس قصبہ کے بُزرگ اُن سے ملتے وقت کانپنے لگے اَور اُنہُوں نے پُوچھا، ”کیا آپ سلامتی کے لیٔے آئے ہیں؟“
1SA 16:5 شموایلؔ نے جَواب دیا، ”یہاں، میں سلامتی کے لیٔے ہی آیا ہُوں۔ میں یَاہوِہ کے لیٔے قُربانی چڑھانے آیا ہُوں۔ اَپنے آپ کو پاک صَاف کرو اَور میرے ساتھ قُربانی کے لیٔے آؤ۔“ تَب شموایلؔ نے یِشائی اَور اُس کے بیٹوں کی تقدیس کی اَور اُنہیں قُربانی پر آنے کے لیٔے دعوت دی۔
1SA 16:6 اَور جَب وہ آئے تو شموایلؔ نے اِلیابؔ کو دیکھ کر سوچا، ”کہ یقیناً یَاہوِہ کا ممسوح یہاں یَاہوِہ کے آگے کھڑا ہے۔“
1SA 16:7 لیکن یَاہوِہ نے شموایلؔ سے کہا، ”اُس کی ظاہری شکل و صورت اَور اُس کے دراز قد ہونے کا خیال نہ کر کیونکہ مَیں نے اُسے ردّ کر دیا ہے۔ اِس لیٔے کہ یَاہوِہ اُن باتوں کو اَیسے نہیں دیکھتے جَیسے اِنسان دیکھتا ہے۔ اِنسان ظاہری شکل و صورت کو دیکھتا ہے لیکن یَاہوِہ دِل کو دیکھتے ہیں۔“
1SA 16:8 تَب یِشائی نے ابینادابؔ کو بُلایا اَور اُسے شموایلؔ کے سامنے سے گزارا۔ لیکن شموایلؔ نے کہا، ”یَاہوِہ نے اِسے بھی نہیں چُنا۔“
1SA 16:9 پھر یِشائی نے شمّہ کو قریب سے گزارا لیکن شموایلؔ نے کہا، ”یَاہوِہ نے اُسے بھی نہیں چُنا۔“
1SA 16:10 اَور یِشائی نے اَپنے سات بیٹوں کو شموایلؔ کے آگے چلوایا لیکن شموایلؔ نے اُس سے کہا، ”یَاہوِہ نے اُنہیں نہیں چُناہے۔“
1SA 16:11 پھر اُس نے یِشائی سے پُوچھا، ”تیرے سَب بیٹے یہی ہیں؟“ ”سَب سے چھوٹا ایک اَور بھی ہے لیکن وہ بھیڑوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔“ یِشائی نے جَواب دیا۔ شموایلؔ نے کہا، ”اُسے بُلوا اَور جَب تک وہ نہ آ جائے ہم نہیں بیٹھیں گے۔“
1SA 16:12 سو وہ اُسے بُلوا کر اَندر لایا۔ وہ سُرخ رو، خُوبصورت اَور حسین تھا۔ تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”اُٹھ اَور اُسے مَسح کر کیونکہ وہ یہی ہے۔“
1SA 16:13 پس شموایلؔ نے تیل کا سینگ لیا اَور اُسے اُس کے بھائیوں کی مَوجُودگی میں مَسح کیا۔ اَور اُس دِن سے یَاہوِہ کا رُوح داویؔد پر شِدّت سے نازل ہونے لگا۔ پھر شموایلؔ رامہؔ کو چلےگئے۔
1SA 16:14 یَاہوِہ کا رُوح شاؤل سے جُدا ہو گیا اَور یَاہوِہ کی طرف سے ایک بُری رُوح اُسے ستانے لگی۔
1SA 16:15 اَور شاؤل کے خادِموں نے اُن سے کہا، ”دیکھو یَاہوِہ کی طرف سے ایک بُری رُوح آپ کو ستاتی ہے۔
1SA 16:16 اِس لیٔے ہمارے آقا اَپنے خادِموں کو جو یہاں حاضِر ہیں حُکم دیں کہ وہ ایک اَیسا شخص تلاش کرکے لائیں جو بربط بجانے میں اُستاد ہو۔ اَور جَب بھی خُدا کی طرف سے یہ بُری رُوح آپ پر چڑھے تو وہ بربط بجائے اَور آپ راحت محسُوس کریں۔“
1SA 16:17 لہٰذا شاؤل نے اَپنے خادِموں سے کہا، ”ایک اَچھّا بربط بجانے والا ڈھونڈو اَور اُسے میرے پاس لاؤ۔“
1SA 16:18 اُن خادِموں میں سے ایک نے جَواب دیا، ”مَیں نے بیت لحمؔ کے یِشائی کے ایک بیٹے کو دیکھاہے۔ وہ بربط بجانے میں ماہر ہے۔ وہ ایک بہادر اَور سُورما آدمی ہے۔ وہ خُوش گفتار اَور خُوبصورت مَرد ہے اَور یَاہوِہ اُس کے ساتھ ہیں۔“
1SA 16:19 تَب شاؤل نے یِشائی کے پاس قاصِد بھیجے اَور کہا، ”اَپنے بیٹے داویؔد کو جو بھیڑوں کی نِگرانی کرتا ہے میرے پاس بھیج دے۔“
1SA 16:20 لہٰذا یِشائی نے ایک گدھا لیا جِس پر روٹیاں اَور مَے کا ایک مشکیزہ لدا تھا اَور ایک بکری کا بچّہ لے کر اُنہیں اَپنے بیٹے داویؔد کے ساتھ شاؤل کے پاس بھیج دیا۔
1SA 16:21 داویؔد نے شاؤل کے پاس جا کر اُن کی مُلازمت اِختیار کرلی اَور شاؤل نے اُسے بہت ہی پسند کیا اَور وہ اُس کے سلاح برداروں میں شامل ہو گیا۔
1SA 16:22 تَب شاؤل نے یِشائی کو کہلا بھیجا، ”داویؔد کو میری مُلازمت میں رہنے دے کیونکہ مَیں اُس سے بہت خُوش ہُوں۔“
1SA 16:23 جَب کبھی یَاہوِہ کی طرف سے وہ بُری رُوح شاؤل پر چڑھتی تھی تو داویؔد اَپنی بربط لے کر اُسے بجاتا تھا۔ تَب شاؤل کو راحت ملتی تھی اَور اُس کی حالت بہتر ہو جاتی تھی اَور بُری رُوح اُس میں سے اُتر جاتی تھی۔
1SA 17:1 پھر فلسطینیوں نے جنگ کے لیٔے اَپنی فَوجیں جمع کیں اَور وہ بنی یہُوداہؔ یہُودیؔہ کے شہر شوکوہؔ میں جمع ہُوئے۔ اَور اُنہُوں نے شوکوہؔ اَور عزیقاہؔ کے درمیان اِفس دَمّیمؔ میں بنائی۔
1SA 17:2 اَور شاؤل اَور اِسرائیلیوں نے جمع ہوکر اَیلہ کی وادی میں پڑاؤ کیا۔ اَور فلسطینیوں کا سامنا کرنے کے لیٔے صف آرا ہو گئے۔
1SA 17:3 ایک پہاڑی پر فلسطینی کھڑے تھے اَور دُوسری پہاڑی پر اِسرائیلی اَور اُن کے درمیان وادی تھی۔
1SA 17:4 فلسطینیوں کے پڑاؤ میں سے ایک پہلوان نکل کر آیا جِس کا نام گولیتؔ تھا اَورجو گاتؔھ کا باشِندہ تھا۔ وہ تین مِیٹر سے بھی زِیادہ بُلند قامت تھا۔
1SA 17:5 اُس کے سَر پر کانسے کا خُود تھا اَور وہ کانسے کا ہی زرہ بکتر پہنے ہُوئے تھا جو میخوں سے جُڑا تھا اَورجو پانچ ہزار ثاقل وزنی تھا۔
1SA 17:6 وہ اَپنی ٹانگوں پر بھی کانسے کا بکتر پہنے ہُوئے تھا اَور اُس کے شانہ پر کانسے کا بھالا لٹکا ہُوا تھا۔
1SA 17:7 اُس کے نیزے کی چھڑ اَیسی تھی جَیسے جُلاہے کا شہتیر، اَور اُس کے نیزے کا لوہے کا پھل چھ سَو ثاقل وزنی تھا۔ اَور اُس کا سِپر بردار اُس کے آگے آگے چلتا تھا۔
1SA 17:8 گولیتؔ نے کھڑے ہوکر اِسرائیل کے فَوجیوں کو للکارا، ”تُم کیوں آکر جنگ کے لیٔے صف آرائی کرتے ہو؟ کیا میں فلسطینی نہیں ہُوں اَور کیا تُم شاؤل کے خادِم نہیں ہو؟ اَپنے کسی مَرد کو چُن لو اَور اُسے نیچے میرے پاس بھیجو۔
1SA 17:9 اگر وہ میرے ساتھ لڑ سکے اَور مُجھے قتل کر ڈالے تو ہم تمہارے غُلام بَن جایٔیں گے۔ لیکن اگر مَیں اُس پر غالب آؤں اَور اُسے قتل کر ڈالوں تو تُم ہمارے غُلام بَن جانا اَور ہماری خدمت کرنا۔“
1SA 17:10 پھر اُس فلسطینی نے کہا، ”آج کے دِن میں اِسرائیل کے فَوجیوں کو مُقابلہ کے لیٔے للکارتا ہُوں! کویٔی مَرد ہے تو نکالو تاکہ ہم ایک دُوسرے کے ساتھ لڑیں۔“
1SA 17:11 اُس فلسطینی کی باتیں سُن کر شاؤل اَور تمام بنی اِسرائیلی ہِراساں اَور دہشت زدہ ہو گئے۔
1SA 17:12 اَور داویؔد بنی یہُوداہؔ کے یہُودیؔہ میں بیت لحمؔ کے اُس اِفراتی مَرد کا بیٹا تھا جِس کا نام یِشائی تھا۔ یِشائی کے آٹھ بیٹے تھے اَور شاؤل کے زمانہ میں وہ بُوڑھا اَور کافی عمر رسیدہ تھا۔
1SA 17:13 اَور یِشائی کے تین بڑے بیٹے جو شاؤل کے پیچھے پیچھے جنگ میں گیٔے تھے یہ تھے: اِلیابؔ جو پہلوٹھا تھا۔ دُوسرا ابینادابؔ اَور تیسرا شمّہ۔
1SA 17:14 اَور داویؔد سَب سے چھوٹا تھا۔ اَور وہ تینوں بڑے شاؤل کے پیچھے پیچھے تھے
1SA 17:15 لیکن داویؔد شاؤل کے پاس سے اَپنے باپ کی بھیڑوں کی دیکھ بھال کرنے بیت لحمؔ میں آیا جایا کرتا تھا۔
1SA 17:16 چالیس دِن صُبح اَور شام وہ فلسطینی سامنے آکر اِسرائیلیوں کو مُقابلہ کے لیٔے للکارتا رہا۔
1SA 17:17 اَور یِشائی نے اَپنے بیٹے داویؔد سے کہا، ”بھُنے ہُوئے اناج کا یہ ایفہ اَور یہ دس روٹیاں اَپنے بھائیوں کے لیٔے لے کر جلد اُن کی چھاؤنی میں جا۔
1SA 17:18 اَور اُن کی پلٹن کے سردار کے لیٔے پنیر کی دس ٹکیاں بھی ساتھ لیتا جا اَور دیکھنا تیرے بھائیوں کا کیا حال ہے اَور اُن کی طرف سے کویٔی نِشانی لے کر واپس آنا۔
1SA 17:19 وہ شاؤل اَور تمام اِسرائیلیوں کے ہمراہ اَیلہ کی وادی میں فلسطینیوں کے خِلاف صف آرا ہیں۔“
1SA 17:20 اَور داویؔد صُبح سویرے بھیڑوں کو ایک نگہبان کے پاس چھوڑکر یِشائی کے حُکم کے مُطابق ساری چیزیں لاد کر روانہ ہُوا اَور وہ چھاؤنی میں اُس وقت پہُنچا جَب فَوج نعرے مارتی ہُوئی مورچوں کی طرف بڑھ رہی تھی۔
1SA 17:21 اِسرائیلی اَور فلسطینی ایک دُوسرے کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے صف آرائی کر رہے تھے۔
1SA 17:22 اَور داویؔد اَپنا سامان رسد کے مُحافظ کے پاس چھوڑکر میدانِ جنگ کی صفوں کی طرف دَوڑ گیا اَور وہاں پہُنچ کر اَپنے بھائیوں سے اُن کی خیریت دریافت کرنے لگا۔
1SA 17:23 جَب وہ اُن سے باتیں کر رہاتھا تو گاتؔھ کے فلسطینی پہلوان گولیتؔ نے اَپنی صفوں سے باہر نکل کر حسبِ معمول مُقابلہ کے لیٔے نعرہ مارا اَور داویؔد نے اُسے سُنا۔
1SA 17:24 جَب اِسرائیلیوں نے اُس آدمی کو دیکھا تو وہ سَب بہت خوفزدہ ہوکر اُس کے سامنے سے بھاگ گیٔے۔
1SA 17:25 اِسرائیلی کہہ رہے تھے، ”دیکھو، یہ آدمی کیسے باہر نکل کر آتا رہتاہے؟ وہ اِسرائیلیوں کو مُقابلہ کے لیٔے للکارنے آتا ہے اَور ڈُوب مرنے کے لیٔے کہتاہے۔ جو آدمی اُسے قتل کرےگا بادشاہ اُسے بہت سِی دولت دے گا اَور اَپنی بیٹی بھی اُس سے بیاہ دے گا اَور اِسرائیل میں اُس کے باپ کے گھرانے کو محصُول سے مُستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔“
1SA 17:26 داویؔد نے پاس کھڑے ہُوئے لوگوں سے پُوچھا، ”اُس آدمی کے لیٔے کیا کیا جائے گا جو اِس فلسطینی کو مار کر اِسرائیل سے اِس رُسوائی کو دُور کرےگا؟ یہ نامختون فلسطینی کون ہے جو زندہ خُدا کی افواج کو مُقابلہ کے لیٔے للکارتا ہے؟“
1SA 17:27 اَورجو کچھ وہ کہا کرتے تھے اُنہُوں نے اُس کے سامنے دہرایا اَور اُسے بتایا، ”جو آدمی اُسے قتل کرے اُس کے ساتھ یہ سلُوک کیا جائے گا۔“
1SA 17:28 جَب داویؔد کے سَب سے بڑے بھایٔی اِلیابؔ نے اُسے اُن آدمیوں کے ساتھ گُفتگو کرتے سُنا تو وہ غُصّہ سے آگ بگُولہ ہو گیا اَور پُوچھا، ”تُم یہاں کیوں آئے ہو؟ اَور وہ تھوڑی سِی بھیڑیں بیابان میں تُم نے کس کے پاس چھوڑیں؟ میں جانتا ہُوں کہ تُم کتنے مغروُر ہو اَور تمہارا دِل کتنا شرارت سے بھرا ہے۔ تُم محض لڑائی دیکھنے آئے ہو۔“
1SA 17:29 داویؔد نے کہا، ”مَیں نے کیا کیا ہے؟ کیا میں کسی سے بات بھی نہیں کر سَکتا؟“
1SA 17:30 پھر وہ کسی دُوسرے کی طرف مُڑ گیا اَور اُسی مُعاملہ کے متعلّق پُوچھنے لگا اَور اُن آدمیوں نے اُسے پہلے کی طرح جَواب دیا۔
1SA 17:31 جو کچھ داویؔد نے کہا اَچانک اُسے سُن کر شاؤل کو اِطّلاع دی گئی اَور شاؤل نے اُسے بُلوایا۔
1SA 17:32 اَور داویؔد نے شاؤل سے کہا، ”اِس فلسطینی آدمی کی وجہ سے کویٔی بھی دِل شکستہ نہ ہو۔ آپ کا خادِم جائے گا اَور اُس کے ساتھ لڑے گا۔“
1SA 17:33 شاؤل نے داویؔد کو جَواب دیا، ”تُم اِس فلسطینی کے سامنے جانے کے لیٔے اَور اُس کے ساتھ لڑائی کرنے کے قابل نہیں کیونکہ تُم محض ایک لڑکے ہو اَور وہ اَپنی جَوانی سے ہی ایک جنگجو مَرد ہے۔“
1SA 17:34 لیکن داویؔد نے شاؤل سے کہا، ”آپ کا خادِم اَپنے باپ کی بھیڑیں چَراتا ہے۔ اگر کویٔی شیر یا ریچھ آکر گلّہ میں سے کسی بھیڑ کو اُٹھاکر لے جاتا ہے
1SA 17:35 تو میں اُس کے پیچھے پیچھے جا کر اُسے مار کر بھیڑ کو اُس کے مُنہ سے چھُڑا لاتا ہُوں اَور جَب وہ مُجھ پر جھپٹتا ہے تو میں اُسے اُس کے بالوں سے پکڑکر مارتا ہُوں اَور اُسے ہلاک کر دیتا ہُوں۔
1SA 17:36 آپ کے خادِم نے شیر اَور ریچھ دونوں کو جان سے مارا ہے۔ یہ نامختون فلسطینی بھی اُن میں سے ایک کی مانند ہوگا کیونکہ اُس نے زندہ خُدا کے لشکر کو مُقابلہ کے لیٔے للکارا ہے۔
1SA 17:37 وہ یَاہوِہ جِس نے مُجھے شیر کے پنجہ سے اَور ریچھ کے پنجہ سے محفوظ رکھا، وُہی مُجھے اِس فلسطینی کے ہاتھ سے بھی بچائیں گے۔“ شاؤل نے داویؔد سے کہا، ”اَچھّا جا، یَاہوِہ تمہارے ساتھ ہو۔“
1SA 17:38 تَب شاؤل نے اَپنا فَوجی کوٹ داویؔد کو پہنایا۔ اُسے زرہ بکتر پہنایا اَور کانسے کا ایک خُود اُس کے سَر پر رکھا۔
1SA 17:39 داویؔد نے فَوجی کوٹ پر اُس کی تلوار بھی کس لی اَور اِدھر اُدھر چلنے کی کوشش کی کیونکہ وہ اُن کا عادی نہ تھا۔ تَب اُس نے شاؤل سے کہا، ”میں اِنہیں پہن کر چل بھی نہیں سَکتا کیونکہ مَیں اِن کا عادی نہیں ہُوں۔“ لہٰذا اُس نے اُنہیں اُتار دیا۔
1SA 17:40 تَب اُس نے اَپنی لاٹھی اَپنے ہاتھ میں لی اَور اُس ندی سے پانچ چِکنے چِکنے پتّھر چُن کر اَپنے چرواہے کے تھیلے کی جیب میں رکھ لیٔے، اَپنا فلاخن اَپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اَور اُس فلسطینی کے قریب جانے لگا۔
1SA 17:41 اِس دَوران وہ فلسطینی بھی جِس کا سِپر بردار اُس کے آگے تھا داویؔد کے نزدیک آنے لگا۔
1SA 17:42 جب اُس فلسطینی نے داویؔد پر نگاہ ڈالی اَور جَب دیکھا کہ وہ محض ایک سُرخ رو اَور خُوبصورت لڑکا ہے تو اُس نے اُسے حقیر جانا
1SA 17:43 اَور داویؔد سے کہا، ”کیا میں کویٔی کُتّا ہُوں کہ تُم عصا لے کر میری طرف آئے ہو؟“ اَور اُس فلسطینی نے اَپنے معبُودوں کے نام سے داویؔد پر لعنت بھیجی۔
1SA 17:44 اَور فلسطینی نے داویؔد سے کہا، ”یہاں آؤ، میں تیرا گوشت ہَوا کے پرندوں اَور جنگلی جانوروں کو دُوں گا!“
1SA 17:45 داویؔد نے اُس فلسطینی سے کہا، ”تُم تلوار، بھالا اَور برچھی لیٔے ہُوئے میرے خِلاف آتے ہو لیکن مَیں تیرے خِلاف قادرمُطلق یَاہوِہ کے نام سے آتا ہُوں جو اِسرائیل کے لشکروں کا خُدا ہے اَور جِس کو تُم نے مُقابلہ کے لیٔے للکارا ہے۔
1SA 17:46 آج کے دِن یَاہوِہ تُجھے میرے حوالہ کر دے گا اَور مَیں تُجھے مار گراؤں گا اَور تیرا سَر کاٹ ڈالوں گا۔ آج مَیں فلسطینی لشکر کی لاشیں ہَوا کے پرندوں اَور زمین کے جنگلی جانوروں کو دُوں گا اَور تمام دُنیا جان لے گی کہ اِسرائیل میں ایک خُدا ہے۔
1SA 17:47 اَور وہ تمام جو یہاں جمع ہیں جان لیں گے کہ یَاہوِہ تلوار اَور نیزے کے ذریعہ سے نہیں بچاتے۔ کیونکہ لڑائی تو یَاہوِہ کی ہے اَور وُہی تُم سَب کو ہمارے ہاتھ میں کر دیں گے۔“
1SA 17:48 اَور جوں ہی وہ فلسطینی حملہ کرنے کے لیٔے آگے بڑھا داویؔد اُس کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے جلدی سے لڑائی کے مورچہ کی طرف دَوڑا۔
1SA 17:49 داویؔد نے اَپنے تھیلے میں ہاتھ ڈال کر ایک پتّھر نکالا اَور فلاخن میں رکھ کر اُس فلسطینی کے ماتھے پر مارا۔ پتّھر اُس کے ماتھے کے اَندر گھُس گیا اَور وہ مُنہ کے بَل زمین پر گِر پڑا۔
1SA 17:50 داویؔد نے اُس فلسطینی پر محض ایک فلاخن اَور ایک پتّھر سے فتح پائی اَور اَپنے ہاتھ میں تلوار لیٔے بغیر اُس نے فلسطینی کو مار گرایا اَور اُسے ہلاک کر دیا۔
1SA 17:51 اَور داویؔد دَوڑکر اُس فلسطینی کے اُوپر کھڑا ہو گیا اَور اُس کی تلوار پکڑکر مِیان سے کھینچی اَور اُسے قتل کرنے کے بعد اُسی تلوار سے اُس کا سَر تن سے جُدا کر دیا۔ جَب فلسطینیوں نے دیکھا کہ اُن کا پہلوان مَر چُکاہے تو وہ پلٹ کر بھاگے۔
1SA 17:52 تَب اِسرائیل اَور یہُودیؔہ کے باشِندے نعرے مارتے ہُوئے طُوفان کی لہروں کی طرح آگے بڑھے اَور گاتؔھ کے مدخل اَور عقرونؔ کے پھاٹکوں تک اُن کا تعاقب کرکے اُنہیں مارتے چلے گیٔے یہاں تک کہ فلسطینی شعریمؔ سے گاتؔھ اَور عقرونؔ کو جانے والے راستہ کے ساتھ ساتھ لاشیں ہی لاشیں بِکھری پڑی تھیں۔
1SA 17:53 جَب اِسرائیلی فلسطینیوں کے تعاقب سے واپس لَوٹے تو اُنہُوں نے اُن کی کو لُوٹ لیا۔
1SA 17:54 اَور داویؔد اُس فلسطینی کا سَر لے کر اُسے یروشلیمؔ میں لایا اَور اُس کے ہتھیاروں کو اُس نے اَپنے خیمہ میں رکھ لیا۔
1SA 17:55 جَب شاؤل نے داویؔد کو اُس فلسطینی کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے جاتے دیکھا تو اُس نے فَوج کے سپہ سالار ابنیرؔ سے کہا، ”ابنیرؔ وہ نوجوان کس کا بیٹا ہے؟“ ابنیرؔ نے جَواب دیا، ”اَے بادشاہ! آپ کی حیات کی قَسم، میں نہیں جانتا۔“
1SA 17:56 تَب بادشاہ نے کہا، ”مَعلُوم کرو کہ یہ نوجوان کس کا بیٹا ہے۔“
1SA 17:57 جوں ہی داویؔد اُس فلسطینی کو قتل کرکے لَوٹا ابنیرؔ اُسے ساتھ لے کر شاؤل کے حُضُور میں پہُنچا۔ اُس وقت فلسطینی کا سَر داویؔد کے ہاتھ میں تھا۔
1SA 17:58 تَب شاؤل نے اُس سے پُوچھا، ”اَے نوجوان تُم کس کے بیٹے ہو؟“ داویؔد نے کہا، ”مَیں آپ کے خادِم یِشائی بیت لحمؔ کا بیٹا ہُوں۔“
1SA 18:1 جَب داویؔد شاؤل سے باتیں کرچکے تو یُوناتانؔ کا دِل داویؔد کے دِل سے اِتنا قریب ہو گیا کہ یُوناتانؔ اُس سے اَپنی جان کے برابر مَحَبّت کرنے لگے۔
1SA 18:2 اَور شاؤل نے اُس دِن سے اُنہیں اَپنے ساتھ رکھا اَور پھر اُنہیں اَپنے باپ کے گھر واپس نہ جانے دیا۔
1SA 18:3 اَور یُوناتانؔ نے داویؔد کے ساتھ عہد باندھا کیونکہ وہ اُن سے اَپنی جان کے برابر مَحَبّت رکھتے تھے۔
1SA 18:4 اَور یُوناتانؔ نے وہ لباس جو وہ پہنے ہُوئے تھے اُتار کر داویؔد کو دیا اَور اَپنی پوشاک بَلکہ اَپنی تلوار اَور کمان اَور اَپنا کمربند تک اُنہیں دے دی۔
1SA 18:5 اَور شاؤل نے اُسے جِس بھی مُہم پر بھیجا داویؔد نے اُسے اَیسی کامیابی سے سَر اَنجام دیا کہ شاؤل نے داویؔد کو فَوج میں ایک اعلیٰ عہدہ دے دیا۔ اِس بات سے سَب لوگ اَور داویؔد کے اہلکار بھی بڑے خُوش ہُوئے۔
1SA 18:6 اُس فلسطینی کے داویؔد کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد جَب لوگ گھر لَوٹ رہے تھے تو اِسرائیل کے سَب شہروں کی عورتیں دف اَور بربط کے ساتھ خُوشی کے نغمہ گاتی اَور رقص کرتی ہُوئی شاؤل بادشاہ کا اِستِقبال کرنے باہر نکلیں۔
1SA 18:7 وہ ناچتی ہُوئی یہ نغمہ گا رہی تھیں: ”شاؤل نے ہزاروں کو مارا ہے، اَور داویؔد نے دس ہزار کو مارا ہے۔“
1SA 18:8 شاؤل کو بہت غُصّہ آیا کیونکہ نغمہ کے الفاظ اُسے پسند نہ تھے۔ ”اُنہُوں نے داویؔد کو تو دس ہزار کا مارنے والا کہا،“ اُس نے سوچا، ”لیکن مُجھے صِرف ہزاروں کا۔ لہٰذا اَب تو اُن کی نظر بادشاہی حاصل کرنے پر لگی رہے گی؟“
1SA 18:9 پس اُس دِن سے شاؤل کا دِل داویؔد کی طرف سے بدگُمانی میں مُبتلا ہو گیا۔
1SA 18:10 اگلے دِن خُدا کی طرف سے ایک بُری رُوح بڑے زور سے شاؤل پر نازل ہُوئی اَور وہ گھر کے اَندر نبُوّت کرنے لگے۔ اُس وقت داویؔد معمول کے مُطابق بربط بجا رہے تھے۔ شاؤل کے ہاتھ میں بھالا تھا۔
1SA 18:11 شاؤل نے نیزے کو داویؔد کی طرف زور سے پھینکا کیونکہ اُس کا خیال تھا، ”میں داویؔد کو دیوار کے ساتھ چھید دُوں گا۔“ لیکن داویؔد دو دفعہ اُس سے بچ نکلے۔
1SA 18:12 اَور شاؤل داویؔد سے ڈرتے تھے کیونکہ یَاہوِہ داویؔد کے ساتھ تھے۔ لیکن یَاہوِہ نے شاؤل سے مُنہ پھیر لیا تھا۔
1SA 18:13 پس شاؤل نے داویؔد کو اَپنے سے دُور بھیج دیا اَور اُنہیں ایک ہزار جَوانوں کا سردار بنا دیا اَور داویؔد فَوجی مہموں میں اُن کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔
1SA 18:14 اَورجو کچھ بھی اُس نے کیا اُس میں اُسے بڑی کامیابی مِلی کیونکہ یَاہوِہ داویؔد کے ساتھ تھے۔
1SA 18:15 جَب شاؤل نے دیکھا کہ وہ کس قدر کامیاب ثابت ہُوئے ہیں تو وہ اُن سے خوف کھانے لگے۔
1SA 18:16 لیکن تمام اِسرائیل اَور یہُوداہؔ کے باشِندے داویؔد کو پسند کرتے تھے کیونکہ وہ ہر مُہم میں اُن کی رہنمائی کرتے تھے۔
1SA 18:17 اَور شاؤل نے داویؔد سے کہا، ”یہ میری بڑی بیٹی میربؔ ہے۔ مَیں اُسے تُم سے بیاہ دُوں گا۔ بس بہادری سے میری خدمات سَر اَنجام دیتے رہو اَور یَاہوِہ کی جنگیں لڑو۔“ شاؤل نے اَپنے دِل میں سوچا تھا، ”میں داویؔد کے خِلاف ہاتھ نہیں اُٹھاؤں گا بَلکہ یہ کام تو فلسطینیوں کی ذمّہ داری ہے!“
1SA 18:18 لیکن داویؔد نے شاؤل سے کہا، ”میں کیا ہُوں اَور میرا گھرانا یا میرے باپ کی برادری اِسرائیل میں کیا ہے جو میں بادشاہ کا داماد بنُوں؟“
1SA 18:19 پس جَب شاؤل کی بیٹی میربؔ کا داویؔد سے بیاہ دینے کا وقت آیا تو وہ عدری ایل مِحولاتی سے بیاہ دی گئی۔
1SA 18:20 اَور شاؤل کی بیٹی میکلؔ داویؔد سے مَحَبّت کرتی ہے اَور جَب اُس کی خبر شاؤل کو ہُوئی تو وہ خُوش ہُوا
1SA 18:21 اُس نے سوچا، ”میں اُسے داویؔد ہی کو دُوں گا تاکہ وہ اُس کے لیٔے پھندا ہو اَور فلسطینیوں کا ہاتھ اُس کے خِلاف ہو۔“ لہٰذا شاؤل نے داویؔد سے کہا، ”اَب تمہارے لیٔے میرا داماد بننے کا دُوسرا موقع ہے۔“
1SA 18:22 تَب شاؤل نے اَپنے مُلازمین کو حُکم دیا: ”علیحدگی میں داویؔد سے کہو، ’دیکھو! بادشاہ تُم کو پسند کرتے ہیں اَور اُن کے مُلازمین بھی تُم سے خُوش ہیں۔ لہٰذا اَب بادشاہ کا داماد بَن جاؤ۔‘ “
1SA 18:23 شاؤل کے خادِموں نے یہ تمام باتیں داویؔد کے پاس جا کر دہرائیں۔ لیکن داویؔد نے کہا، ”بادشاہ کا داماد بننے کو کیا تُم کویٔی چُھوٹی سِی بات سمجھتے ہو؟ میں تو محض ایک مسکین اَور غَیر معروف آدمی ہُوں۔“
1SA 18:24 جَب شاؤل کے مُلازمین نے اُسے داویؔد کی کہی ہُوئی باتیں بتائیں
1SA 18:25 تو شاؤل نے جَواب دیا، ”کہ داویؔد سے کہو، ’بادشاہ اَپنے دُشمنوں سے بدلہ لینے کی خاطِر فلسطینیوں کے ختنہ کی سَو کھلڑیوں کے سِوا دُلہن کے لیٔے مَہر کی اَور کویٔی رقم نہیں چاہتا۔‘ “ شاؤل کا منصُوبہ تھا کہ داویؔد کو فلسطینیوں کے ہاتھ سے مروا ڈالے۔
1SA 18:26 جَب اُن مُلازمین نے داویؔد کو یہ باتیں بتائیں تو وہ بادشاہ کا داماد بننے کے لیٔے راضی ہو گیا۔ لہٰذا مُقرّرہ مُدّت گزرنے سے پیشتر
1SA 18:27 داویؔد اَور اُن کے آدمیوں نے باہر جا کر دو سَو فلسطینیوں کو قتل کر دیا۔ وہ اُن کے ختنہ کی کھلڑیاں لے کر آئے اَور پُوری تعداد بادشاہ کو پیش کر دی تاکہ وہ بادشاہ کا داماد بَن جائے۔ تَب شاؤل نے اَپنی بیٹی میکلؔ اُنہیں بیاہ دی۔
1SA 18:28 جَب شاؤل کو احساس ہُوا کہ یَاہوِہ داویؔد کے ساتھ ہیں اَور اُس کی بیٹی میکلؔ داویؔد سے مَحَبّت کرتی ہے
1SA 18:29 تو شاؤل داویؔد سے اَور بھی زِیادہ خوفزدہ ہو گیا اَور زندگی بھر اُس کا دُشمن بنا رہا۔
1SA 18:30 فلسطینی سرداروں نے جنگ کے لیٔے حملے کرنا جاری رکھا اَور جَب بھی اُنہُوں نے حملے کئے تو شاؤل کے دیگر سرداروں کی بہ نِسبت داویؔد نے بہتر عقلمندی کا مظاہرہ کیا اَور اُن کا نام مشہُور ہو گیا۔
1SA 19:1 شاؤل نے اَپنے بیٹے یُوناتانؔ اَور سَب مُلازمین سے کہا کہ داویؔد کو مار ڈالو۔ لیکن یُوناتانؔ داویؔد کو بہت چاہتے تھے۔
1SA 19:2 اِس لیٔے یُوناتانؔ نے داویؔد کو خبردار کر دیا، ”میرا باپ شاؤل تُمہیں قتل کرنے کے لیٔے موقع کی تلاش میں ہے۔ لہٰذا کل صُبح ہوشیار رہنا اَور جا کر کہیں چھُپ جانا اَور وہیں رہنا۔
1SA 19:3 اَور مَیں باہر جا کر اُس میدان میں جہاں تُم ہوگے اَپنے باپ کے پاس کھڑا ہُوں گا۔ اَور مَیں اَپنے باپ سے تمہاری بابت گُفتگو کروں گا اَورجو کچھ مُجھے مَعلُوم ہوگا تُمہیں بتاؤں گا۔“
1SA 19:4 اَور یُوناتانؔ نے اَپنے باپ شاؤل سے داویؔد کی تعریف کی اَور اُن سے کہا، ”بادشاہ اَپنے خادِم داویؔد پر ظُلم نہ کریں۔ اُس نے بھی آپ کے خِلاف کوئی ظُلم نہیں کیا بَلکہ جو کچھ داویؔد نے کیا ہے اُس سے آپ کا بہت فائدہ ہُواہے۔
1SA 19:5 اُس نے اَپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اُس فلسطینی کو مارا اَور یَاہوِہ نے سارے اِسرائیل کے لیٔے ایک بڑی فتح حاصل کی اَور آپ اِسے دیکھ کر خُوش ہُوئے۔ پھر آپ داویؔد جَیسے معصُوم آدمی کو بلاوجہ قتل کرکے کیوں مُجرم بننا چاہتے ہیں؟“
1SA 19:6 شاؤل نے یُوناتانؔ کی بات سُنی اَور قَسم کھائی: ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم داویؔد قتل نہیں کیا جائے گا۔“
1SA 19:7 پس یُوناتانؔ نے داویؔد کو بُلاکر ساری بات چیت کی بابت بتایا اَور وہ اُسے شاؤل کے پاس لایا اَور داویؔد پہلے کی طرح شاؤل کے پاس رہنے لگا۔
1SA 19:8 ایک دفعہ پھر جنگ چھِڑ گئی اَور داویؔد جا کر فلسطینیوں سے لڑے اَور اُنہیں اِتنی شِدّت سے مارا کہ وہ اُن کے سامنے سے فرار ہو گیٔے۔
1SA 19:9 لیکن یَاہوِہ کی طرف سے ایک بُری رُوح شاؤل پر اُس وقت چڑھی جَب وہ ہاتھ میں بھالا لیٔے ہُوئے اَپنے گھر میں بیٹھا ہُوا تھا اَور جَب داویؔد بربط بجا رہے تھے۔
1SA 19:10 شاؤل نے اَپنے نیزے کے ساتھ اُنہیں دیوار کے ساتھ چھید دینے کی کوشش کی۔ لیکن جَب شاؤل نے اَپنا بھالا دیوار کی طرف پھینکا تو داویؔد کسی طرح اُس کے وار سے بچ گئے اَور اُس رات داویؔد نے بھاگ کر اَپنی جان بچائی۔
1SA 19:11 شاؤل نے داویؔد کے گھر قاصِد بھیجے کہ اُس کی تاک میں رہیں اَور صُبح کو اُسے مار ڈالیں۔ مگر داویؔد کی بیوی میکلؔ نے اُنہیں خبردار کر دیا، ”اگر تُم جان بچانے کے لیٔے آج رات بھاگے نہیں تو کل تُم مار ڈالے جاؤ گئے۔“
1SA 19:12 پس میکلؔ نے ایک کھڑکی سے داویؔد کو نیچے اُتار دیا اَور وہ بھاگ کر بچ گئے۔
1SA 19:13 تَب میکلؔ نے ایک بُت لے کر اُسے پلنگ پر لِٹا دیا اَور اُسے کپڑوں سے ڈھانک دیا اَور بکریوں کے کچھ بال سرہانے رکھ دئیے۔
1SA 19:14 جَب شاؤل نے داویؔد کو پکڑنے کے لیٔے قاصِد بھیجے تو میکلؔ نے کہا، ”وہ بیمار ہے۔“
1SA 19:15 تَب شاؤل نے اُن قاصِدوں کو داویؔد کو دیکھنے واپس بھیجا اَور کہا، ”اُسے پلنگ سمیت میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اُسے قتل کروں۔“
1SA 19:16 لیکن جَب وہ قاصِد اَندر گیٔے تو دیکھا کہ پلنگ پر ایک بُت پڑا ہُواہے اَور سرہانے بکریوں کے کچھ بال پڑے ہیں۔
1SA 19:17 تَب شاؤل نے میکلؔ سے کہا، ”تُم نے مُجھے اِس طرح دھوکا کیوں دیا اَور میرے دُشمن کو بچ کر نکل جانے دیا؟“ میکلؔ نے شاؤل کو بتایا، ”داویؔد نے مُجھ سے کہا، ’مُجھے نکل جانے دو ورنہ مَیں تُمہیں مار ڈالوں گا؟‘ “
1SA 19:18 جَب داویؔد فرار ہوکر بچ کر نکل گئے تو وہ رامہؔ میں شموایلؔ کے پاس گئے اَور وہ سَب کچھ جو شاؤل نے اُن کے ساتھ کیا تھا اُنہیں بتایا۔ تَب وہ اَور شموایلؔ نیوتؔ چلے گیٔے اَور وہاں رہنے لگے۔
1SA 19:19 شاؤل کو خبر مِلی: ”داویؔد رامہؔ کے علاقہ میں نیوتؔ میں ہے“؛
1SA 19:20 لہٰذا شاؤل نے داویؔد پکڑنے کے لیٔے قاصِد بھیجے۔ لیکن جَب اُنہُوں نے دیکھا کہ نبیوں کا ایک گِروہ نبُوّت کر رہاہے اَور شموایلؔ اُن کے پیشوا کے طور پر وہاں کھڑے ہیں تو یَاہوِہ کا رُوح شاؤل کے آدمیوں پر نازل ہُوا اَور وہ بھی نبُوّت کرنے لگے۔
1SA 19:21 اَور جَب شاؤل کو یہ خبر مِلی تو اُس نے اَور قاصِد بھیجے اَور وہ بھی نبُوّت کرنے لگے۔ پھر شاؤل نے تیسری بار آدمی بھیجے اَور وہ بھی نبُوّت کرنے لگے۔
1SA 19:22 آخِرکار وہ خُود رامہؔ کے لیٔے روانہ ہُوا اَور سیکوؔ میں اُس بڑے حوض پر پہُنچ کر پُوچھنے لگا، ”شموایلؔ اَور داویؔد کہاں ہیں؟“ تَب اُنہیں پتا چلا، ”وہ رامہؔ کے اَندر نیوتؔ میں ہیں۔“
1SA 19:23 اِس پر شاؤل رامہؔ کے اَندر نیوتؔ کو گئے۔ مگر خُدا کی رُوح اُن پر بھی نازل ہُوا، اَور وہ راہ چلتے چلتے نبُوّت کرتے ہُوئے نیوتؔ آئے۔
1SA 19:24 اَور وہ بھی اَپنے کپڑے اُتار کر شموایلؔ کی مَوجُودگی میں نبُوّت کرنے لگے اَور اُس دِن اَور رات اُسی حالت میں وہاں پڑے رہے۔ اِس لیٔے یہ کہاوت چلی، ”کیا شاؤل بھی نبیوں میں سے ایک ہے؟“
1SA 20:1 تَب داویؔد رامہؔ کے نیوتؔ سے بھاگا اَور یُوناتانؔ کے پاس جا کر پُوچھنے لگا، ”مَیں نے کیا کیا ہے؟ میرا کیا جُرم ہے؟ مَیں نے تمہارے باپ کا کیا بگاڑا ہے جو مُجھے جان سے مار ڈالنا چاہتے ہیں؟“
1SA 20:2 یُوناتانؔ نے جَواب دیا ”ہرگز نہیں، تُم نہیں مارے جاؤگے! دیکھ میرا باپ مُجھے بتائے بغیر چھوٹا یا بڑا کویٔی کام نہیں کرتا۔ بھلا پھر اِس بات کو وہ کیوں چھُپاتا؟ اَیسی بات نہیں ہے۔“
1SA 20:3 لیکن داویؔد نے قَسم کھا کر کہا، ”تمہارے باپ کو بخُوبی مَعلُوم ہے کہ مُجھ پر تمہاری نظرِکرم ہے اَور وہ یہ سوچ رکھتا ہے، ’یُوناتانؔ کو یہ بات مَعلُوم نہ ہو ورنہ وہ رنجیدہ ہوگا۔‘ پھر بھی زندہ یَاہوِہ کی قَسم اَور تمہاری جان کی قَسم مُجھ میں اَور موت میں صِرف ایک قدم کا فاصلہ ہے۔“
1SA 20:4 تَب یُوناتانؔ نے داویؔد سے کہا، ”جو کچھ تُم چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لیٔے کروں میں وُہی کروں گا۔“
1SA 20:5 پس داویؔد نے یُوناتانؔ سے کہا، ”دیکھ، کل نئے چاند کا تہوار ہے اَور میرا بادشاہ کے ساتھ کھانا کھانا متوقع ہے۔ لیکن مُجھے اِجازت دو کہ میں پرسوں شام تک میدان میں چھُپا رہُوں۔
1SA 20:6 اگر اُسے میری عدم مَوجُودگی کا احساس ہونے لگے تو اُسے کہہ دینا، ’داویؔد نے جلدی سے اَپنے قصبہ بیت لحمؔ جانے کے لیٔے مُجھ سے بڑی عاجزی سے اِجازت مانگی تھی کیونکہ وہاں اُس کی ساری برادری کے لیٔے ایک سالانہ قُربانی ہو رہی ہے۔‘
1SA 20:7 اگر وہ کہے، ’اَچھّا، ٹھیک ہے،‘ تَب تیرا خادِم محفوظ ہے لیکن اگر وہ غُصّہ سے لال پیلا ہونے لگے تو تُم یقین کرنا کہ اُس نے مُجھے نُقصان پہُنچانے کا مصمّم اِرادہ کیا ہُواہے۔
1SA 20:8 اَور تُم اَپنے خادِم پر مہربانی کرنا کیونکہ تُم نے یَاہوِہ کے حُضُور میں اُس کے ساتھ ایک عہد کیا ہُواہے۔ اَور اگر مَیں قُصُوروار ہُوں تو تُم خُود مُجھے قتل کردینا۔ مُجھے اَپنے باپ کے حوالہ مت کرنا؟“
1SA 20:9 یُوناتانؔ نے کہا، ”ہرگز نہیں! اگر مُجھے ذرا سا بھی شُبہ ہو تاکہ میرے باپ نے تُجھے نُقصان پہُنچانے کا پکّا اِرادہ کیا ہُواہے تو کیا مَیں تُجھے آگاہ نہ کر دیتا؟“
1SA 20:10 داویؔد نے یُوناتانؔ سے پُوچھا، ”اگر تمہارا باپ تُجھے سخت جَواب دے تو کون مُجھے بتائے گا؟“
1SA 20:11 یُوناتانؔ نے داویؔد سے کہا، ”آؤ، ہم باہر میدان کو چلیں۔“ پس وہ اِکٹھّے وہاں سے چلے گیٔے۔
1SA 20:12 تَب یُوناتانؔ نے داویؔد سے کہا، ”یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کی قَسم پرسوں اِسی وقت تک میں اَپنے باپ کے خیالات مَعلُوم کرلُوں گا۔ اگر وہ تمہارے مُوافق ہُوئے تو کیا مَیں تُجھے کویٔی خبر نہ بھیجوں گا اَور تُجھے آگاہ نہ کروں گا؟
1SA 20:13 لیکن اگر میرا باپ تُجھے نُقصان پہُنچانے پر مائل نظر آئے اَور مَیں نے تُجھے خبر نہ دی اَور سلامتی سے رخصت نہ کیا تو یَاہوِہ یُوناتانؔ کے ساتھ اَیسا ہی بَلکہ اِس سے بھی زِیادہ کرے۔ یَاہوِہ تیرے ساتھ رہیں جَیسا کہ وہ میرے باپ کے ساتھ ہیں۔
1SA 20:14 لیکن جَب تک میں زندہ ہُوں تُم بھی یَاہوِہ کی طرح مُجھ پر مسلسل مہربانی کرتے رہنا تاکہ میں مارا نہ جاؤں۔ اَور میرے گھرانے سے بھی اَپنے دستِ کرم کو باز مت رکھنا۔
1SA 20:15 جَب یَاہوِہ داویؔد کے ایک ایک دُشمن کو رُوئے زمین پر سے مٹا دیں اُس وقت بھی تمہاری مہربانی ہم پر جاری رہے۔“
1SA 20:16 لہٰذا یُوناتانؔ نے داویؔد کے گھرانے کے ساتھ یہ کہتے ہُوئے عہد باندھا، ”یَاہوِہ داویؔد کے دُشمنوں سے اِنتقام لیں۔“
1SA 20:17 اَور یُوناتانؔ نے اُس مَحَبّت کے باعث جو اُسے داویؔد سے تھی اُسے دوبارہ قَسم کھانے کو کہا کیونکہ وہ اُس سے اَپنی جان کے برابر مَحَبّت رکھتا تھا۔
1SA 20:18 اُس کے بعد یُوناتانؔ نے داویؔد سے کہا، ”کل نئے چاند کا تہوار ہے اَور تیری کمی بہت محسُوس ہوگی کیونکہ تمہاری نشست خالی رہے گی۔
1SA 20:19 پرسوں شام کے قریب تُم اُس جگہ پہُنچ جانا جہاں تُم اِس مُصیبت کے شروع ہونے کے وقت چھُپے تھے اَور اُس پتّھر کے پاس جِس کا نام ازلؔ ہے اِنتظار کرنا۔
1SA 20:20 میں اُس طرف تین تیر اِس طرح چلاؤں گا گویا میں کسی نِشانہ پر تیر مار رہا ہُوں۔
1SA 20:21 پھر مَیں ایک لڑکے کو بھیجوں گا اَور کہُوں گا، ’جا اَور تیروں کا پتا لگا۔‘ اگر مَیں اُسے کہُوں، ’دیکھو، وہ تیر تمہاری اِس طرف ہیں، اُنہیں یہاں لے آ،‘ تَب تُم بِلا خوف آجانا کیونکہ یَاہوِہ کی حیات کی قَسم تُم محفوظ رہوگے اَور تُجھے کویٔی خطرہ نہ ہوگا۔
1SA 20:22 لیکن اگر مَیں اُس لڑکے سے کہُوں، ’دیکھ، وہ تیر اُس طرف ہیں،‘ تَب تُم وہاں سے چل دینا کیونکہ یَاہوِہ نے تُجھے رخصت کیا ہے۔
1SA 20:23 اَور وہ وعدے جو ہم نے ایک دُوسرے کے ساتھ کئے ہیں تُم اُنہیں یاد رکھنا کیونکہ یَاہوِہ اَبد تک اُن کے گواہ ہیں۔“
1SA 20:24 لہٰذا داویؔد اُس میدان میں چھُپ گیا اَور جَب نئے چاند کا تہوار آیا تو بادشاہ کھانا کھانے بیٹھا۔
1SA 20:25 اَور بادشاہ اَپنے دستور کے مُطابق دیوار کے پاس اَپنی مسند پر یُوناتانؔ کے بالمقابل بیٹھا اَور ابنیرؔ شاؤل کے پہلو میں بیٹھا۔ لیکن داویؔد کی جگہ خالی تھی۔
1SA 20:26 اُس روز شاؤل نے کچھ نہ کہا کیونکہ اُس نے سوچا، ”داویؔد کے ساتھ ضروُر اَیسی کویٔی بات ہو گئی ہوگی جِس کے باعث وہ ناپاک ہو گیا ہے۔ یقیناً وہ ضروُر ناپاک ہی ہوگا۔“
1SA 20:27 لیکن اگلے دِن بھی جو کہ نئے چاند کے مہینے کا دُوسرا دِن تھا داویؔد کی جگہ خالی رہی۔ تَب شاؤل نے اَپنے بیٹے یُوناتانؔ سے کہا، ”کیا بات ہے کہ یِشائی کا بیٹا کھانے پر نہ تو کل آیا اَور نہ ہی آج؟“
1SA 20:28 یُوناتانؔ نے شاؤل کو جَواب دیا، ”داویؔد نے بڑی عاجزی سے مُجھ سے بیت لحمؔ جانے کے لیٔے اِجازت مانگی تھی۔
1SA 20:29 اُس نے کہاتھا، ’مُجھے جانے دے کیونکہ اُس شہر میں میرا گھرانا قُربانی کر رہاہے اَور میرے بھایٔی نے مُجھے حُکم دیا ہے کہ میں وہاں مَوجُود رہُوں۔ اَور اگر تمہاری مُجھ پر نظرِکرم ہے تو مُجھے اِجازت فرما کہ اَپنے بھائیوں کو دیکھنے چلا جاؤں۔‘ اُسی وجہ سے وہ بادشاہ کے دسترخوان پر حاضِر نہیں ہُوا۔“
1SA 20:30 شاؤل کا غُصّہ یُوناتانؔ پر بھڑکا اَور اُس نے اُس سے کہا، ”اَے کجرو اَور باغی عورت کے بیٹے، مُجھے مَعلُوم ہے کہ تُم نے اَپنی شرم اَور اَپنی ماں کی برہنگی کی شرم کی بہ نِسبت جِس نے تُجھے پیدا کیا، یِشائی کے بیٹے کی زِیادہ طرفداری کی ہے۔
1SA 20:31 جَب تک رُوئے زمین پر یِشائی کا بیٹا زندہ ہے نہ تو تُجھے اَور نہ تیری بادشاہی کو قِیام حاصل ہوگا۔ اَب اُسے بُلوا اَور میرے پاس لا کیونکہ اُس کا مَرنا ضروُر ہے!“
1SA 20:32 تَب یُوناتانؔ نے اَپنے باپ شاؤل سے پُوچھا، ”وہ کیوں ماراجائے؟ اُس نے کیا کیا ہے؟“
1SA 20:33 لیکن شاؤل نے اُسے مارنے کے لیٔے اَپنا بھالا پھینکا۔ تَب یُوناتانؔ جان گیا کہ اُس کا باپ داویؔد کو قتل کرنے کا اِرادہ رکھتا ہے۔
1SA 20:34 یُوناتانؔ سخت غُصّہ میں دسترخوان سے اُٹھ گیا اَور مہینے کے نئے چاند کے اُس دُوسرے دِن اُس نے کھانا نہ کھایا کیونکہ وہ اَپنے باپ کے داویؔد کے ساتھ شرمناک برتاؤ کے باعث سخت رنجیدہ تھا۔
1SA 20:35 صُبح کو یُوناتانؔ داویؔد سے اَپنی مُلاقات کے لیٔے باہر اُس میدان کو گیا اَور اُس کے ساتھ ایک چھوٹا لڑکا بھی تھا۔
1SA 20:36 اُس نے اُس لڑکے سے کہا، ”دَوڑ اَورجو تیر میں چلاؤں اُنہیں ڈھونڈو۔“ جَب وہ لڑکا دَوڑا جا رہاتھا تو اُس نے اَیسا تیر چھوڑا جو اُس کے آگے جا کر گرا۔
1SA 20:37 جَب وہ لڑکا اُس جگہ پہُنچا جہاں یُوناتانؔ کا تیر گرا تھا تو یُوناتانؔ نے اُس کے پیچھے پُکار کر کہا، ”کیا تیر تُجھ سے دُور اُس طرف نہیں گرا؟“
1SA 20:38 اَور پھر یُوناتانؔ نے چِلّاکر یہ کہا، ”جلدی کر، جلدی جا! ٹھہر مت!“ اَور وہ لڑکا اُس تیر کو اُٹھاکر اَپنے آقا کے پاس لَوٹ آیا۔
1SA 20:39 (اِس میں کیا بھید تھا، وہ لڑکا کچھ بھی نہ جانتا تھا۔ صِرف داویؔد اَور یُوناتانؔ ہی جانتے تھے)۔
1SA 20:40 پھر یُوناتانؔ نے اَپنے ہتھیار لڑکے کو دئیے اَور کہا، ”جا اُنہیں واپس شہر میں لے جا۔“
1SA 20:41 جَب وہ لڑکا چلا گیا تو داویؔد اُس پتّھر کے جُنوب کی طرف سے نِکلا اَور تین دفعہ مُنہ کے بَل زمین پر یُوناتانؔ کے سامنے جھُکا۔ تَب اُنہُوں نے ایک دُوسرے کو چُوما اَور خُوب رُوئے۔ لیکن داویؔد بہت ہی زِیادہ رُویا۔
1SA 20:42 یُوناتانؔ نے داویؔد سے کہا، ”سلامتی سے چلا جا کیونکہ ہم دونوں نے یَاہوِہ کے نام سے قَسم کھا کر کہا ہے، ’تمہارے اَور میرے درمیان اَور تیری نَسل اَور میری نَسل کے درمیان یَاہوِہ اَبد تک گواہ ہیں!‘ “ تَب داویؔد رخصت ہُوا اَور یُوناتانؔ واپس شہر کو چلا گیا۔
1SA 21:1 اَور داویؔد نوبؔ میں احِیملکؔ کاہِنؔ کے پاس آئے اَور جَب احِیملکؔ داویؔد سے مِلے تو وہ کانپ اُٹھے اَور اُنہُوں نے پُوچھا، ”آپ اکیلے کیوں؟ آپ کے ساتھ کویٔی اَور کیوں نہیں؟“
1SA 21:2 داویؔد نے احِیملکؔ کاہِنؔ کو جَواب دیا، ”بادشاہ نے ایک خاص کام میرے سُپرد کیا ہے اَور مُجھ سے کہا ہے، ’آپ کے خاص مقصد اَور آپ کی ہدایات کے متعلّق کسی کو کویٔی علم نہ ہو۔‘ میرے آدمیوں کی بات تو مَیں نے اُنہیں بتا دی ہے کہ وہ مُجھے ایک مقام پر ملیں۔
1SA 21:3 اِس وقت آپ کے پاس کیا دستیاب ہے؟ مُجھے پانچ چپاتیاں یا جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے دے دیں۔“
1SA 21:4 لیکن اُس کاہِنؔ نے داویؔد کو جَواب دیا، ”میرے پاس عام روٹیاں نہیں ہیں۔ البتّہ کچھ مُقدّس روٹیاں مَوجُود ہیں، آدمی اُنہیں کھا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ عورتوں سے الگ رہے ہُوں۔“
1SA 21:5 داویؔد نے کاہِنؔ کو جَواب دیا، ”درحقیقت چند روز سے عورتیں ہم سے الگ رہی ہیں۔ چاہے سفر مَعمولی ہی کیوں نہ ہو، جَب کبھی میں روانہ ہوتا ہُوں میرے آدمیوں کے بَدن پاک ہوتے ہیں۔ اَور آج تو وہ مُقدّس کھانے کے لیٔے ضروُر ہی پاک ہوں گے۔“
1SA 21:6 لہٰذا اُس کاہِنؔ نے اُسے نذر کی روٹی دے دی کیونکہ اَور روٹی وہاں نہیں تھی فقط نذر کی روٹی تھی جو یَاہوِہ کے آگے سے اُٹھائی گئی تھی اَور اُس دِن جَب وہ اُٹھائی گئی تو اُس کے عوض گرم روٹی رکھی گئی تھی۔
1SA 21:7 اَور اُس دِن شاؤل کے خادِموں میں سے ایک وہاں یَاہوِہ کے حُضُور میں رُکا ہُوا تھا۔ وہ دوئیگؔ اِدُومی تھا جو شاؤل کے چرواہوں کا سردار تھا۔
1SA 21:8 اَور داویؔد نے احِیملکؔ سے پُوچھا، ”کیا آپ کے پاس یہاں کویٔی بھالا یا تلوار نہیں ہے؟ میں اَپنے ساتھ تلوار یا کویٔی دُوسرا ہتھیار نہیں لا سَکا کیونکہ بادشاہ کا کام فَوری تعمیل طلب تھا۔“
1SA 21:9 اُس کاہِنؔ نے جَواب دیا، ”فلسطینی گولیتؔ کی تلوار جسے تُونے اَیلہ کی وادی میں قتل کیا تھا کپڑے میں لپٹی ہُوئی افُود کے پیچھے رکھی ہے اگر تُم اُسے لینا چاہتاہے تو لے لو۔ اِس ایک کے سِوا یہاں اَور کویٔی تلوار نہیں ہے۔“ داویؔد نے کہا، ”میرے لیٔے اُس جَیسی تلوار کویٔی ہے ہی نہیں۔ وُہی مُجھے دے دیں۔“
1SA 21:10 اُسی دِن داویؔد شاؤل کے ڈر سے بھاگ کر گاتؔھ کے بادشاہ اکِیشؔ کے پاس چلا گیا۔
1SA 21:11 لیکن اکِیشؔ کے خادِموں نے اُس سے کہا، ”کیا یہ مُلک کا بادشاہ داویؔد نہیں؟ کیا یہ وُہی نہیں جِس کے متعلّق وہ رقص کرتے ہُوئے گاتے ہیں: ” ’شاؤل نے تو ہزاروں کو مارا ہے پر داویؔد نے دس ہزار کو مارا ہے‘؟“
1SA 21:12 داویؔد یہ الفاظ سُن کر پریشان ہو گیا اَور اُس کے دِل میں اکِیشؔ شاہِ گاتؔھ کی طرف سے خوف بیٹھ گیا۔
1SA 21:13 لہٰذا اُس نے اُن کی مَوجُودگی میں پاگل پن کا ڈھونگ رچایا اَور جَب وہ اُن کے ہاتھوں میں تھا تو اُس نے دیوانوں کی سِی حرکتیں شروع کر دیں۔ مثلاً وہ پھاٹک کے کواڑوں کو نوچنے لگا اَور تھُوک سے اَپنی داڑھی کو تر کر لیا۔
1SA 21:14 تَب اکِیشؔ نے اَپنے خادِموں سے کہا، ”اِس آدمی کی طرف دیکھو! یہ تو پاگل ہے! اِسے میرے پاس کیوں لایٔے ہو؟
1SA 21:15 کیا میرے پاس پاگلوں کی کمی ہے جو تُم اِس شخص کو یہاں لے آئے ہو کہ میرے سامنے اَیسی حرکتیں کرے؟ کیا یہ آدمی میرے گھر میں قدم رکھنے کے لائق تھا؟“
1SA 22:1 اَور داویؔد گاتؔھ سے روانہ ہُوا اَور بچ کر عدُلّامؔ کے غار کی طرف نکل گیا۔ جَب اُس کے بھائیوں اَور اُس کے باپ کے گھرانے نے اِس کی بابت سُنا تو وہ وہاں اُس کے پاس پہُنچے۔
1SA 22:2 تمام لوگ جو مُصیبت میں تھے یا مقروض تھے یا غَیر مطمئن تھے اُس کے گرد جمع ہو گئے اَور داویؔد اُن کا سردار بَن گیا۔ اَور تقریباً چار سَو آدمی اُس کے ساتھ تھے۔
1SA 22:3 وہاں سے داویؔد مُوآب میں مِصفاہؔ کو گیا اَور شاہِ مُوآب سے کہا، ”کیا اِجازت ہے کہ میرے باپ اَور ماں آپ کے یہاں آکر اُس وقت تک رہیں جَب تک مُجھے مَعلُوم نہ ہو جائے کہ خُدا میرے لیٔے کیا کریں گے؟“
1SA 22:4 پس وہ اُنہیں شاہِ مُوآب کے پاس لے آیا اَور جَب تک داویؔد قلعہ میں رہا وہ اُن کے پاس رہے۔
1SA 22:5 لیکن گادؔ نبی نے داویؔد سے کہا، ”قلعہ میں مت رہو بَلکہ یہُودیؔہ کے مُلک میں چلے جاؤ۔“ پس داویؔد روانہ ہُوا اَور حِریتؔ کے جنگل کو چلا گیا۔
1SA 22:6 شاؤل نے سُنا کہ داویؔد اَور اُن کے آدمیوں کا سُراغ مِل گیا ہے۔ اُس وقت شاؤل بھالا ہاتھ میں لیٔے گِبعہؔ میں پہاڑی پر جھاؤ کے درخت کے نیچے بیٹھا ہُوا تھا اَور اُن کے تمام اہلکار اُس کے چَوگرد کھڑے تھے۔
1SA 22:7 شاؤل نے اُن سے کہا، ”سُنو اَے بنی بِنیامین کے مَردو! کیا یِشائی کا بیٹا تُم سَب کو کھیت اَور تاکستان دے گا؟ کیا وہ تُم سَب کو ہزاروں کا سالار اَور سینکڑوں کا سردار بنائے گا؟
1SA 22:8 کیا اُسی وجہ سے تُم سَب نے میرے خِلاف سازش کی ہے؟ جَب میرا ہی بیٹا یِشائی کے بیٹے سے عہدوپیمان کرتا ہے تو کویٔی بھی مُجھے نہیں بتاتا۔ تُم میں سے کسی کو بھی میری پروا نہیں اَور نہ ہی تُم میں سے کویٔی مُجھے بتاتا ہے کہ میرے بیٹے نے میرے خادِم کو میرے خِلاف گھات لگا کر بیٹھنے کے لیٔے اُکسایا ہے اَور وہ آج بھی یہی کر رہاہے۔“
1SA 22:9 لیکن دوئیگؔ اِدُومی نے جو شاؤل کے اہلکاروں کے ساتھ کھڑا تھا کہا، ”مَیں نے یِشائی کے بیٹے کو نوبؔ میں احِیملکؔ بَن احِیطوبؔ کاہِنؔ کے پاس آتے دیکھا۔
1SA 22:10 اَور احِیملکؔ نے اُس کے لیٔے یَاہوِہ سے دریافت کیا اَور اُسے توشہ سفر اَور گولیتؔ فلسطینی کی تلوار بھی دی۔“
1SA 22:11 تَب بادشاہ نے احِیملکؔ بَن احِیطوبؔ کاہِنؔ کو اَور اُس کے باپ کے سارے گھرانے کو جو نوبؔ میں کاہِنؔ تھے بُلوا بھیجا اَور وہ سَب بادشاہ کے پاس حاضِر ہُوئے۔
1SA 22:12 تَب شاؤل نے کہا، ”اَے احِیطوبؔ کے بیٹے سُن!“ اُس نے جَواب دیا، ”اَے میرے آقا، فرمائیں۔“
1SA 22:13 پھر شاؤل نے اُن سے کہا، ”تُم نے یعنی تُو اَور یِشائی کے بیٹے نے میرے خِلاف سازش کیوں کی ہے کہ اُسے روٹی اَور تلوار دے کر اُس کے لیٔے خُدا سے سوال کیا، اُسی کا نتیجہ ہے کہ اُس نے میرے خِلاف بغاوت کر دی اَور میری گھات میں بیٹھا ہُواہے۔ وہ آج بھی یہی کر رہاہے؟“
1SA 22:14 احِیملکؔ نے بادشاہ کو جَواب دیا، ”آپ کے تمام خادِموں میں سے داویؔد جَیسا وفادار کون ہے؟ وہ بادشاہ کا داماد ہے اَور آپ کے مُحافظ دستے کا سردار ہے۔ وہ آپ کے گھرانے میں بڑا قابل اِحترام سمجھا جاتا ہے۔
1SA 22:15 کیا اُس دِن پہلا موقع تھا کہ مَیں نے خُدا سے اُس کے لیٔے سوال کیا؟ ہرگز نہیں! لہٰذا بادشاہ اَپنے خادِم پر یا اُس کے باپ کے گھرانے میں سے کسی پر اِلزام نہ لگائیں کیونکہ آپ کا خادِم اِس سارے مُعاملہ کے متعلّق کچھ بھی نہیں جانتا۔“
1SA 22:16 لیکن بادشاہ نے کہا، ”اَے احِیملکؔ، تُو اَور تیرا سارا خاندان یقیناً موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے گا۔“
1SA 22:17 بادشاہ نے اَپنے مُحافظ دستے کے سپاہیوں کو جو پاس ہی کھڑے تھے حُکم دیا: ”جاؤ اَور یَاہوِہ کے کاہِنوں کو مار ڈالو کیونکہ اُنہُوں نے بھی داویؔد کی حمایت کی ہے۔ اُنہیں مَعلُوم تھا کہ وہ مفرور ہے پھر بھی اُنہُوں نے مُجھے نہیں بتایا۔“ لیکن بادشاہ کے اہلکار یَاہوِہ کے کاہِنوں پر ہاتھ اُٹھانے اَور اُنہیں مار ڈالنے پر رضامند نہ تھے۔
1SA 22:18 تَب بادشاہ نے دوئیگؔ سے کہا، ”تُو جا اَور کاہِنوں کو مار گرا۔“ لہٰذا اِدُومی دوئیگؔ گیا اَور اُنہیں مار گرایا۔ اُس دِن اُس نے پچاسی آدمیوں کو جو کتان کا افُود پہنے ہُوئے تھے قتل کیا۔
1SA 22:19 اُس نے کاہِنوں کے شہر نوبؔ کو بھی اُس کے مَردوں اَور عورتوں، بچّوں اَور شیرخواروں بَلکہ اُس کے گائے بَیلوں، گدھوں اَور بھیڑوں کو بھی تلوار سے تہِ تیغ کر ڈالا۔
1SA 22:20 لیکن ابیاترؔ جو احِیطوبؔ بِن احِیملکؔ کے بیٹوں میں سے ایک تھا بچ نِکلا اَور داویؔد کے ساتھ شامل ہونے کے لیٔے بھاگ گیا۔
1SA 22:21 ابیاترؔ نے داویؔد کو بتایا، شاؤل نے یَاہوِہ کے کاہِنوں کو قتل کر دیا ہے۔
1SA 22:22 تَب داویؔد نے ابیاترؔ سے کہا، ”اُس دِن جَب دوئیگؔ اِدُومی وہاں تھا تو مُجھے مَعلُوم تھا کہ وہ یقیناً شاؤل کو بتائے گا۔ سو مَیں ہی تیرے سارے خاندان کی موت کا ذمّہ وار ہُوں۔
1SA 22:23 میرے پاس رہ اَور خوف نہ کر۔ جو تیری جان کا خواہاں ہے وہ مُجھے بھی جان سے مار ڈالنا چاہتے ہیں۔ تُو میرے پاس محفوظ رہے گا۔“
1SA 23:1 جَب داویؔد کو خبر مِلی، ”فلسطینی قعیلہؔ کے خِلاف لڑ رہے ہیں اَور کھلیانوں کو لُوٹ رہے ہیں،“
1SA 23:2 تو داویؔد نے یہ کہتے ہُوئے یَاہوِہ سے سوال کیا، ”کیا میں فلسطینیوں پر حملہ کرنے کے لیٔے جاؤں؟“ اَور یَاہوِہ نے داویؔد کو جَواب دیا، ”جاؤ، فلسطینیوں پر حملہ کرو اَور قعیلہؔ کو بچاؤ۔“
1SA 23:3 لیکن داویؔد کے آدمیوں نے اُن سے کہا، ”ہم تو یہاں یہُودیؔہ میں ہی خوفزدہ ہیں، اگر ہم فلسطینی فَوجوں کے خِلاف قعیلہؔ کو جایٔیں گے تو کس قدر زِیادہ خوفزدہ ہوں گے!“
1SA 23:4 تَب داویؔد نے ایک دفعہ پھر یَاہوِہ سے سوال کیا، ”اَور یَاہوِہ نے داویؔد کو جَواب دیا کہ، قعیلہؔ کو جاؤ کیونکہ مَیں فلسطینیوں کو تمہارے ہاتھ میں کر دُوں گا۔“
1SA 23:5 لہٰذا داویؔد اَور اُن کے آدمی قعیلہؔ جا کر فلسطینیوں سے لڑے اَور اُن کے مویشی لے آئے۔ داویؔد نے فلسطینیوں کو سخت جانی نُقصان پہُنچایا اَور قعیلہؔ کے لوگوں کو بچا لیا۔
1SA 23:6 (اَور ابیاترؔ بِن احِیملکؔ جَب داویؔد کے پاس قعیلہؔ میں فرار ہوکر آئےتھے تو وہ اَپنے ساتھ افُود بھی لے آئےتھے)۔
1SA 23:7 جَب شاؤل کو خبر مِلی کہ داویؔد قعیلہؔ کو گئے ہیں تو شاؤل نے کہا، ”خُدا نے اُسے میرے ہاتھ میں کر دیا ہے کیونکہ داویؔد اَیسے شہر میں داخل ہُواہے جِس میں پھاٹک اَور اڑبنگے ہیں۔ اَب وہ وہاں سے نکل نہیں سَکتا۔“
1SA 23:8 شاؤل نے اَپنی تمام فَوجوں کو لڑنے کے لیٔے بُلا لیا اَور حُکم دیا کہ وہ قعیلہؔ جا کر داویؔد اَور اُن کے آدمیوں کا محاصرہ کر لیں۔
1SA 23:9 جَب داویؔد کو مَعلُوم ہُوا کہ شاؤل اُس کے خِلاف سازش کر رہاہے تو داویؔد نے ابیاترؔ کاہِنؔ سے کہا، ”افُود لاؤ۔“
1SA 23:10 اَور داویؔد نے کہا، ”اَے یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا! آپ کے خادِم نے صَاف صَاف سُنا ہے کہ شاؤل نے قعیلہؔ آنے اَور میری وجہ سے اِس شہر کو تباہ کرنے کا منصُوبہ بنایا ہے۔
1SA 23:11 کیا قعیلہؔ کے باشِندے مُجھے اُن کے حوالہ کر دیں گے؟ کیا شاؤل یہاں آئیں گے جَیسا کہ آپ کے خادِم نے سُنا ہے؟ اَے یَاہوِہ، اِسرائیل کے خُدا اَپنے خادِم کو بتا دیں!“ یَاہوِہ نے فرمایا، ”وہ ضروُر آئے گا۔“
1SA 23:12 پھر داویؔد نے دوبارہ پُوچھا، ”کیا قعیلہؔ کے باشِندے مُجھے اَور میرے لوگوں کو شاؤل کے حوالہ کر دیں گے؟“ اَور یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”ضروُر کریں گے۔ وہ تُجھے حوالہ کر دیں گے۔“
1SA 23:13 لہٰذا داویؔد اَور اُن کے آدمی جو کہ تعداد میں تقریباً چھ سَو تھے قعیلہؔ سے نکل گیٔے اَور جگہ بہ جگہ گھُومتے رہے۔ جَب شاؤل کو خبر مِلی کہ داویؔد قعیلہؔ سے بچ کر نکل گیا ہے تو وہ شاؤل کے تعاقب میں نہ گیا۔
1SA 23:14 اَور داویؔد نے بیابان کے قلعوں میں اَور زِیفؔ کے بیابان کی پہاڑیوں میں قِیام کیا۔ شاؤل مُتواتر داویؔد کی تلاش میں رہا لیکن خُدا نے داویؔد کو شاؤل کے ہاتھ نہ آنے دیا۔
1SA 23:15 جَب داویؔد زِیفؔ کے بیابان میں حورِشؔ میں تھے تو اُنہیں مَعلُوم ہُوا کہ شاؤل اُن کی جان لینے کو نکلے ہیں
1SA 23:16 اَور شاؤل کا بیٹا یُوناتانؔ حورِشؔ میں داویؔد کے پاس گیا اَور خُدا پر پُورا بھروسا رکھنے میں اُس کی مدد کی۔
1SA 23:17 اَور کہا، ”خوف نہ کر، میرا باپ شاؤل تُجھ پر ہاتھ نہ ڈالیں گے۔ تُو اِسرائیل پر بادشاہ ہوگا اَور مَیں تُجھ سے دُوسرے درجہ پر ہُوں گا۔ میرے باپ شاؤل بھی یہ جانتے ہیں۔“
1SA 23:18 اَور اُن دونوں نے یَاہوِہ کے آگے عہدوپیمان کیا۔ پھر یُوناتانؔ اَپنے گھر چلا گیا لیکن داویؔد حورِشؔ میں ہی رہے۔
1SA 23:19 اَور زِیفؔ کے لوگوں نے گِبعہؔ میں شاؤل کے پاس جا کر کہا، ”کیا داویؔد ہمارے درمیان حکِیلہؔ کی پہاڑی پر یشعمونؔ کے جُنوب میں حورِشؔ کے قلعہ میں چھُپا ہُوا نہیں ہے؟
1SA 23:20 اَب اَے بادشاہ جَب بھی آپ آنا چاہیں آجائیے اَور ہم داویؔد کو بادشاہ کے حوالہ کرنے کا ذمّہ لیتے ہیں۔“
1SA 23:21 شاؤل نے جَواب دیا کہ، ”میری فکر کرنے کے لیٔے یَاہوِہ تُمہیں برکت بخشے۔
1SA 23:22 جاؤ اَور مزید تیّاری کرو اَور مَعلُوم کرو کہ داویؔد عموماً کہاں جاتا ہے اَور وہاں اُسے کس نے دیکھاہے؟ مُجھے مَعلُوم ہُواہے کہ وہ بڑی مکّاری سے کام لیتا ہے۔
1SA 23:23 تُم چھُپنے کی اُن تمام جگہوں کو جنہیں وہ اِستعمال کرتا ہے دریافت کرو اَور پُختہ اِطّلاع کے ساتھ میرے پاس واپس آؤ۔ اگر وہ اُس علاقہ میں ہُوا تو مَیں تمہارے ساتھ جاؤں گا اَور اُسے یہُوداہؔ کے تمام برادریوں میں تلاش کروں گا۔“
1SA 23:24 لہٰذا وہ روانہ ہُوئے اَور شاؤل سے پیشتر زِیفؔ کے بیابان پہُنچ گیٔے۔ داویؔد اَور اُن کے آدمی یشعمونؔ کے جُنوب میں عراباہؔ میں معونؔ کے بیابان میں تھے۔
1SA 23:25 اَور شاؤل اَور اُس کے آدمیوں نے اُس کی تلاش شروع کی۔ جَب داویؔد کو اِس کے بارے میں خبر مِلی تو وہ نیچے چٹّان کو چلا گیا اَور معونؔ کے بیابان میں جا اُترا۔ جَب شاؤل نے یہ سُنا تو وہ بھی داویؔد کے تعاقب میں معونؔ کے بیابان میں گیا۔
1SA 23:26 شاؤل پہاڑ کے ساتھ ساتھ ایک طرف جا رہاتھا اَور داویؔد اَور اُس کے آدمی پہاڑ کی دُوسری طرف تاکہ جِتنی جلدی ہو شاؤل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جایٔیں۔ جَب شاؤل اَور اُس کی فَوجیں داویؔد اَور اُس کے آدمیوں کو پکڑنے کے لیٔے اَپنا گھیرا تنگ کر رہی تھیں۔
1SA 23:27 تو ایک قاصِد یہ کہنے کے لیٔے شاؤل کے پاس آیا کہ، ”فوراً آئیے کیونکہ فلسطینیوں نے مُلک پر اَچانک حملہ کر دیا ہے۔“
1SA 23:28 تَب شاؤل نے داویؔد کا تعاقب کرنا چھوڑ دیا اَور فلسطینیوں کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے روانہ ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اِس جگہ کو سیلاؔ ہمّخلقوتؔ یا فراری چٹّان کہتے ہیں۔
1SA 23:29 اَور داویؔد وہاں سے نکل گیا اَور عینؔ گیدیؔ کے قلعوں میں رہنے لگا۔
1SA 24:1 جَب شاؤل فلسطینیوں کے تعاقب سے لَوٹا تو اُسے خبر مِلی، ”داویؔد عینؔ گیدیؔ کے بیابان میں ہے۔“
1SA 24:2 لہٰذا شاؤل تمام اِسرائیل میں سے تین ہزار آدمیوں کو لے کر جنگلی بکروں کی چٹّانوں کے قریب داویؔد اَور اُس کے آدمیوں کو تلاش کرنے کے لیٔے روانہ ہُوا۔
1SA 24:3 اَور راستہ میں بھیڑوں کے باڑوں کے پاس پہُنچا۔ وہاں ایک غار تھا۔ شاؤل رفع حاجت کے لیٔے اُس کے اَندر گیا۔ اُسی غار کے پچھلے حِصّہ میں داویؔد اَور اُس کے آدمی بیٹھے تھے۔
1SA 24:4 اُن آدمیوں نے داویؔد سے کہا، ”یہی وہ دِن ہے جِس کی بابت یَاہوِہ نے آپ سے کہاتھا، ’مَیں تیرے دُشمن کو تیرے ہاتھ میں کر دُوں گا اَور تُو جَیسا چاہے اُس کے ساتھ سلُوک کرنا۔‘ “ تَب داویؔد نے دبے پاؤں باہر کی طرف جا کر شاؤل کے جُبّہ کے دامن کا ایک ٹکڑا اَیسے کاٹا کہ شاؤل کو پتا نہ چلا۔
1SA 24:5 بعدازاں شاؤل کے جُبّہ کا دامن کاٹنے کی وجہ سے داویؔد کے ضمیر نے اُسے ملامت کی
1SA 24:6 اَور اُس نے اَپنے آدمیوں سے کہا، ”یَاہوِہ نہ کریں کہ میں اَپنے مالک سے جو یَاہوِہ کا ممسوح ہے اَیسا سلُوک کروں یا اُس کے خِلاف اَپنا ہاتھ اُٹھاؤں کیونکہ وہ یَاہوِہ کا ممسوح ہے۔“
1SA 24:7 اِن الفاظ کے ساتھ داویؔد نے اَپنے آدمیوں کو ڈانٹا اَور اُنہیں شاؤل پر حملہ کرنے سے روک دیا۔ جَب شاؤل غار سے نکل کر اَپنی راہ جا رہاتھا۔
1SA 24:8 تو داویؔد نے غار سے باہر جا کر شاؤل کو آواز دی کہ، ”میرے آقا بادشاہ!“ جَب شاؤل نے پیچھے مُڑ کر دیکھا، تو داویؔد نیچے جھُکا اَور اُن کے سامنے مُنہ کے بَل زمین پر گِر کر اُنہیں سَجدہ کیا۔
1SA 24:9 اُس نے شاؤل سے کہا، ”جَب لوگ کہتے، ’داویؔد آپ کو نُقصان پہُنچانے پر تُلا ہُواہے تو آپ اُن کی باتیں کیوں سُنتے ہیں؟‘
1SA 24:10 اِس دِن آپ نے خُود اَپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ کس طرح یَاہوِہ نے غار میں آپ کو میرے ہاتھوں میں کر دیا اَور بعض نے مُجھے ترغِیب بھی دی کہ مَیں آپ کو قتل کر دُوں لیکن مَیں نے آپ کو قتل نہیں کیا، کیونکہ مَیں نے اَپنے دِل میں اِرادہ کر لیا تھا، ’میں اَپنا ہاتھ اَپنے آقا کے خِلاف ہرگز نہیں اُٹھاؤں گا کیونکہ میرے آقا یَاہوِہ کا ممسوح ہیں۔‘
1SA 24:11 اَبّا، اَپنے جُبّہ کے اِس ٹکڑے کو جو میرے ہاتھ میں ہے دیکھئے! مَیں نے آپ کے جُبّہ کے دامن کو کاٹ لیا لیکن آپ کو قتل نہیں کیا۔ لہٰذا اَب آپ دیکھ لیں اَور سمجھ لیں کہ مَیں نے کویٔی گُناہ نہیں کیا اَور نہ میں بغاوت کا مُجرم ہُوں۔ مَیں نے آپ کو کویٔی نُقصان نہیں پہُنچایا لیکن آپ ہیں کہ میری جان لینے کے لیٔے میرے پیچھے پڑے ہُوئے ہیں۔
1SA 24:12 کاش یَاہوِہ آپ کے اَور میرے درمیان اِنصاف کریں اَورجو بھی ظُلم آپ نے مُجھ پر کیا ہے یَاہوِہ اُس کا اِنتقام لیں گے لیکن مَیں آپ کو ہاتھ تک نہ لگاؤں گا۔
1SA 24:13 حالانکہ پرانی ضرب المثل چلی، ’بدکاروں سے بدی ہوتی ہے،‘ لیکن مَیں آپ کو ہاتھ تک نہ لگاؤں گا۔
1SA 24:14 ”شاہِ اِسرائیل کس کے پیچھے نِکلا ہے؟ آپ کس کے پیچھے پڑے ہیں؟ ایک مَرے ہُوئے کُتّے کے پیچھے؟ ایک پِسُّو کے پیچھے؟
1SA 24:15 پس یَاہوِہ ہی ہمارے مُنصِف ہوں اَور ہمارے درمیان فیصلہ کریں۔ وہ ہی میری وکالت فرمائیں، یہاں تک کہ مُجھے آپ کے ہاتھ سے بچا کر میری بےگُناہی ثابت کریں۔“
1SA 24:16 جَب داویؔد نے یہ کہنا ختم کیا تو شاؤل نے پُوچھا، ”داویؔد میرے بیٹے! کیا یہ تیری ہی آواز ہے؟“ اَور وہ چِلّا چِلّاکر رونے لگا۔
1SA 24:17 اَور اُس نے داویؔد سے کہا، ”تُم مُجھ سے زِیادہ راستباز ہو۔ تُم نے میرے ساتھ اَچھّا برتاؤ کیا ہے لیکن مَیں نے تمہارے ساتھ بُرا سلُوک کیا۔
1SA 24:18 تُم نے ابھی جو بھلائی میرے ساتھ کی ہے اُس سے ظاہر ہے کہ یَاہوِہ نے مُجھے آپ کے ہاتھ میں دے دیا تھا لیکن آپ نے مُجھے قتل نہ کیا۔
1SA 24:19 بھلا کویٔی آدمی اَپنے دُشمن کو پا کر اُسے بغیر نُقصان پہُنچائے جانے دیتاہے؟ یَاہوِہ اُس نیکی کے عوض جو آپ نے مُجھ سے آج کے دِن کی آپ کو نیک اجر دے۔
1SA 24:20 میں خُوب جانتا ہُوں کہ تُم یقیناً بادشاہ بنوگے اَور اِسرائیل کی بادشاہی تمہارے ہاتھ میں آکر اُستوار ہوگی۔
1SA 24:21 اِس لئے اَب مُجھ سے یَاہوِہ کی قَسم کھا کہ تُم میری نَسل کو ہلاک نہیں کروگے اَور میرے باپ کے گھرانے سے میرا نام مٹا نہیں دوگے۔“
1SA 24:22 اِس پر داویؔد نے شاؤل سے قَسم کھائی اَور شاؤل گھر لَوٹ گیا لیکن داویؔد اَور اُس کے آدمی قلعہ میں چلے گیٔے۔
1SA 25:1 اَور اَیسا ہُوا کہ شموایلؔ وفات کی ہو گئی اَور سَب اِسرائیلیوں نے جمع ہوکر اُن کا ماتم کیا اَور اُنہُوں نے اُنہیں رامہؔ میں اُن کے گھر میں دفن کیا۔ تَب داویؔد پارانؔ کے بیابان میں چلےگئے۔
1SA 25:2 اَور معونؔ میں ایک آدمی تھا جِس کی کرمِلؔ میں جائداد تھی۔ وہ بڑا رئیس تھا۔ اُس کی ایک ہزار بکریاں اَور تین ہزار بھیڑیں تھیں۔ وہ کرمِلؔ میں اَپنی بھیڑوں کے بال کتر رہاتھا۔
1SA 25:3 اُس کا نام نابالؔ تھا اَور اُس کی بیوی کا نام ابیگیلؔ تھا۔ وہ بڑی ہوشیار اَور خُوبصورت عورت تھی لیکن اُس کا خَاوند بنی کالبؔ سے تھا اَور وہ بڑا بد مِزاج اَور بدکار تھا۔
1SA 25:4 جَب داویؔد بیابان میں تھے تو اُنہُوں نے سُنا کہ نابالؔ اَپنی بھیڑوں کے بال کاٹ رہاہے۔
1SA 25:5 لہٰذا داویؔد نے دس جَوان آدمیوں کو یہ کہہ کر بھیجا کہ، ”کرمِلؔ میں نابالؔ کے پاس جاؤ اَور میری طرف سے اُسے سلام کرو
1SA 25:6 اَور اُسے کہنا کہ آپ کی عمر دراز ہو، آپ کے اَور آپ کے گھرانے کی سلامتی ہو، آپ کے تمام مال و متاع کی سلامتی ہو!
1SA 25:7 ” ’مُجھے مَعلُوم ہے کہ یہ بھیڑوں کے بال کترنے کا وقت ہے۔ جَب آپ کے چرواہے ہمارے ساتھ تھے تو ہم نے اُن سے کویٔی بدسلُوکی نہ کی اَور جَب تک وہ کرمِلؔ میں تھے اُن کا کچھ بھی گُم نہ ہُوا۔
1SA 25:8 آپ اَپنے خادِموں سے پُوچھیں اَور وہ آپ کو بتائیں گے۔ اِس لیٔے میرے نوجوانوں پر کرم فرمائیں کیونکہ ہم خُوشی کے موقع پر آئے ہیں۔ مہربانی کرکے اَپنے خادِموں کو اَور اَپنے بیٹے داویؔد کو جو کچھ بھی آپ کے پاس اُنہیں دینے کے لیٔے ہے عطا فرمائیں۔‘ “
1SA 25:9 جَب داویؔد کے آدمی وہاں پہُنچے تو اُنہُوں نے داویؔد کے نام سے یہ پیغام نابالؔ کو دیا اَور جَواب کا اِنتظار کرنے لگے۔
1SA 25:10 نابالؔ نے داویؔد کے خادِموں کو جَواب دیا، ”یہ داویؔد کون ہے؟ یہ یِشائی کا بیٹا کون ہے؟ آج کل بہت سے خادِم اَپنے مالکوں کو چھوڑکر چلے جاتے ہیں۔
1SA 25:11 میں اَپنی روٹی اَور پانی اَور ذبح کئے ہُوئے جانوروں کا گوشت جو میرے بال کترنے والوں کے لیٔے ہے لے کر اُن آدمیوں کو کیوں دُوں جو پتا نہیں کہاں سے آئے ہیں؟“
1SA 25:12 یہ سُن کر داویؔد کے آدمی اُلٹے پاؤں پھرے اَور لَوٹ گیٔے۔ اَور جَب وہ واپس پہُنچے تو اُنہُوں نے ساری باتیں بتائیں۔
1SA 25:13 داویؔد نے اَپنے آدمیوں سے کہا، ”اَپنی اَپنی تلوار کمر سے باندھ لو!“ لہٰذا اُنہُوں نے اَپنی تلواریں باندھ لیں۔ اَور داویؔد نے بھی اَپنی تلوار حمائِل کرلی۔ تقریباً چار سَو آدمی داویؔد کے ساتھ گیٔے جَب کہ دو سَو رسد کے پاس ٹھہرے رہے۔
1SA 25:14 نابالؔ کے خادِموں میں سے ایک نے نابالؔ کی بیوی ابیگیلؔ کو بتایا، ”ہمارے آقا کو مُبارکباد دینے کے لیٔے داویؔد نے بیابان سے قاصِد بھیجے تھے، لیکن اُس نے اُن کی بے عزّتی کی۔
1SA 25:15 حالانکہ وہ آدمی ہمارے لیٔے بڑے مفید ثابت ہُوئے تھے۔ اُنہُوں نے ہم سے کبھی بھی بُرا برتاؤ نہ کیا اَور جَب تک ہم اُن کے ساتھ باہر میدانوں میں تھے ہمارا کچھ بھی گُم نہ ہُوا۔
1SA 25:16 بَلکہ جَب تک ہم اَپنی بھیڑیں اُن کے نزدیک چراتے رہے وہ رات اَور دِن ہمارے چاروں طرف دیوار بنے رہے۔
1SA 25:17 اَب تُم خُوب سوچ لو اَور دیکھ لو کہ تُم کیا کر سکتی ہو کیونکہ ہمارے آقا پر اَور اُس کے تمام گھرانے کے اُوپر مُصیبت منڈلا رہی ہے۔ وہ اِس قدر تُند مِزاج آدمی ہے کہ کویٔی اُس سے بات ہی نہیں کر سَکتا۔“
1SA 25:18 تَب ابیگیلؔ نے دیر کئے بغیر دو سَو روٹیاں، دو مشکیزے مَے، پانچ بھیڑوں کے گوشت کا سالن، پانچ پیمانے بھُنا ہُوا اناج، کشمش کی ایک سَو ٹکیاں اَور اَنجیر کی دو سَو ٹکیاں لے کر اُنہیں گدھوں پر لادا۔
1SA 25:19 اَور اُس نے اَپنے خادِموں سے کہا، ”تُم مُجھ سے پہلے چل دو اَور مَیں تمہارے پیچھے پیچھے آتی ہُوں۔“ اُس نے اِن باتوں کو اَپنے خَاوند نابالؔ سے چُھپائے رکھا۔
1SA 25:20 اَور جَب وہ گدھے پر سوار ہوکر پہاڑ کی ایک گہری گھاٹی میں آئی تو وہاں داویؔد اَور اُس کے آدمی پہاڑ سے نیچے اُسی کی طرف آ رہے تھے۔ وہ اُنہیں مِلی۔
1SA 25:21 داویؔد نے تھوڑی دیر پہلے کہاتھا، ”ہم نے جو کچھ کیا بے فائدہ ثابت ہُواہے۔ مَیں نے تو اِس شخص کی جائداد کی بیابان میں پُوری طرح نگہبانی کی جِس کے باعث اُس کا کچھ بھی گُم نہ ہُوا لیکن اُس نے بھلائی کے بدلے مُجھ سے بُرائی کی ہے۔
1SA 25:22 سو اگر مَیں صُبح تک اُس کے سارے لوگوں میں سے ایک مَرد بھی زندہ باقی رہنے دُوں تو خُدا داویؔد کے ساتھ اَیسا ہی بَلکہ اُس سے بھی زِیادہ کریں!“
1SA 25:23 جَب ابیگیلؔ نے داویؔد کو دیکھا تو جلدی سے اَپنے گدھے سے نیچے اُتری اَور مُنہ کے بَل زمین پر داویؔد کے سامنے جُھکی۔
1SA 25:24 اَور اُن کے قدموں میں گِر کر کہا: ”میرے آقا! اصلی قُصُوروار تو میں ہُوں۔ مہربانی سے اَپنی خادِمہ کو بولنے کی اِجازت دیں اَورجو کچھ آپ کی خادِمہ یہ کہنا چاہتی ہے اُسے سُنیں۔
1SA 25:25 میرے آقا! آپ اُس بدکار آدمی نابالؔ کی طرف توجّہ نہ کریں کیونکہ جَیسا اُس کا نام ہے وہ خُود بھی وَیسا ہی ہے۔ اُس کا نام نابالؔ یعنی احمق ہے اَور حماقت اُس کے ساتھ رہتی ہے۔ لیکن مَیں آپ کی خادِمہ نے اُن آدمیوں کو نہیں دیکھا جنہیں میرے آقا نے بھیجا تھا۔
1SA 25:26 اَب اَے میرے آقا! یَاہوِہ کی حیات کی قَسم اَور آپ کی جان کی قَسم چونکہ یَاہوِہ نے آپ کو خُونریزی سے اَور اَپنے ہی ہاتھوں سے اِنتقام لینے سے باز رکھا ہے اِس لیٔے آپ کے دُشمن اَور وہ تمام جو میرے آقا کو نُقصان پہُنچانے کا اِرادہ رکھتے ہیں نابالؔ کی مانند ہُوں۔
1SA 25:27 اَور یہ ہدیہ جو آپ کی خادِمہ اَپنے آقا کے پاس لائی ہے، اُن جَوانوں کو جو میرے آقا کی پیروی کرتے ہیں دیا جائے۔
1SA 25:28 ”مہربانی کرکے اَپنی خادِمہ کا جُرم مُعاف کر دیں۔ یَاہوِہ آپ کے خُدا میرے آقا کے لیٔے ایک مُستقِل خاندان قائِم کریں گے کیونکہ وہ یَاہوِہ کی لڑائیاں لڑتے ہیں اَور جَب تک آپ زندہ ہیں آپ میں کویٔی بدی نہ پائی جائے۔
1SA 25:29 اگرچہ کویٔی اِنسان آپ کی جان لینے کے لیٔے آپ کا تعاقب کر رہاہے لیکن یَاہوِہ میرے آقا کی جان کو سلامت رکھیں گے۔ مگر آپ کے دُشمنوں کی جان کو وہ فلاخن کے پتّھر کی طرح پھینک دیں گے۔
1SA 25:30 جَب یَاہوِہ میرے آقا کے لیٔے وہ سَب نیکیاں جو اُنہُوں نے آپ کے حق میں فرمائی ہیں کر چُکے تو، اَور آپ کو اِسرائیل کا حُکمران مُقرّر کر دیں گے
1SA 25:31 تو میرے آقا کے دِل سے خُون ناحق کا اَور اِنتقام لینے کے احساس کا بوجھ دُورہو جائے گا۔ اَور جَب یَاہوِہ آپ کو کامرانی بخشیں گے تو آپ اَپنی خادِمہ کو یاد فرمانا۔“
1SA 25:32 داویؔد نے ابیگیلؔ سے کہا، ”بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کی سِتائش ہو جِس نے آج تُمہیں مُجھ سے مِلنے کے لیٔے بھیجا۔
1SA 25:33 اِس اَچھّے فیصلہ کے لیٔے اَور مُجھے اِس دِن خُونریزی سے اَور اَپنے ہاتھوں سے اَپنا اِنتقام لینے سے باز رکھنے کے لیٔے خُدا تُمہیں برکت بخشے!
1SA 25:34 ورنہ یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کی قَسم جنہوں نے تُجھے میرے ہاتھ سے بچا لیا۔ اگر تُم مُجھے مِلنے کے لیٔے جلدی سے نہ آتی تو پَو پھٹنے تک نابالؔ سے نِسبت رکھنے والا کویٔی بھی مَرد زندہ نہ رہتا۔“
1SA 25:35 تَب داویؔد نے اُس کے ہاتھ سے جو کچھ وہ اُس کے لیٔے لائی تھی قبُول کر لیا اَور کہا، ”سلامت گھر جا۔ مَیں نے تیری باتیں سُن لی ہیں اَور تیری درخواست قبُول کرلی ہے۔“
1SA 25:36 جَب ابیگیلؔ نابالؔ کے پاس گئی اُس وقت وہ گھر میں ایک بادشاہ کی مانند شاہانہ ضیافت کر رہاتھا۔ وہ بہت مسرُور تھا کیونکہ وہ نشہ میں چُور تھا۔ لہٰذا ابیگیلؔ نے پَو پھٹنے تک اُسے کچھ نہ بتایا۔
1SA 25:37 پھر صُبح کے وقت جَب نابالؔ کا نشہ اُتر چُکاتھا اُس کی بیوی نے یہ تمام باتیں اُسے بتائیں جنہیں سُن کر اُس کا دِل دھک سے رہ گیا اَور وہ پتّھر کی مانند سُن پڑ گیا۔
1SA 25:38 اَور تقریباً دس دِن بعد یَاہوِہ نے نابالؔ کو مارا اَور وہ مَر گیا۔
1SA 25:39 جَب داویؔد نے سُنا کہ نابالؔ مَر گیا ہے تو اُس نے کہا، ”یَاہوِہ کی سِتائش ہو جِس نے نابالؔ کے خِلاف میرے مُقدّمہ کی حمایت کی اَور میری رُسوائی کا بدلہ لیا۔ اُس نے اَپنے خادِم کو بدی سے بچایا اَور نابالؔ کی شرارت اُسی کے سَر پر ڈال دی۔“ تَب داویؔد نے ابیگیلؔ کو پیغام بھیج کر شادی کی درخواست کی اَور
1SA 25:40 اُس کے خادِموں نے کرمِلؔ میں جا کر ابیگیلؔ سے کہا، ”داویؔد نے ہمیں تمہارے پاس شادی کے پیغام کے ساتھ بھیجا ہے اَور ہم تُجھے لینے آئے ہیں۔“
1SA 25:41 وہ مُنہ کے بَل زمین پر سرنِگوں ہُوئی اَور کہنے لگی کہ میرے آقا، ”آپ کی خادِمہ آپ کی خدمت کرنے کے لیٔے اَور اَپنے آقا کے خادِموں کے پاؤں دھونے کے لیٔے تیّار ہے۔“
1SA 25:42 اَور ابیگیلؔ جلدی سے ایک گدھے پر سوار ہُوئی اَور اَپنی پانچ خادِماؤں کے ہمراہ داویؔد کے قاصِدوں کے ساتھ گئی اَور داویؔد سے بیاہ کر لیا۔
1SA 25:43 داویؔد نے یزرعیلؔ کی احِینوعمؔ سے بھی شادی کرلی اَور وہ دونوں اُس کی بیویاں بَن گئیں۔
1SA 25:44 لیکن شاؤل نے اَپنی لڑکی میکلؔ جو داویؔد کی بیوی تھی پَلطیؔ ايلؔ بِن لائش ساکن گلّیمؔ کو دے دی تھی۔
1SA 26:1 اَور اہلِ زِیفؔ نے گِبعہؔ میں شاؤل کے پاس جا کر کہا، ”داویؔد یشعمونؔ کے سامنے حکِیلہؔ کی پہاڑی پر چھُپا ہُواہے۔“
1SA 26:2 لہٰذا شاؤل داویؔد کو تلاش کرنے کے لیٔے اِسرائیل کے چیدہ چیدہ تین ہزار آدمیوں کو ساتھ لے کر زِیفؔ کے بیابان کو گیا۔
1SA 26:3 اَور شاؤل نے یشعمونؔ کے سامنے حکِیلہؔ کی پہاڑی کے اُوپر راہ کے کنارے پڑاؤ کیا۔ لیکن داویؔد بیابان میں رہا۔ جَب اُس نے دیکھا کہ شاؤل وہاں بھی اُس کے تعاقب میں آ پہُنچا ہے
1SA 26:4 تب داویؔد نے جاسُوس بھیج کر مَعلُوم کیا کہ کیا شاؤل واقعی آ گیا ہے۔
1SA 26:5 تَب داویؔد روانہ ہُوا اَور اُس جگہ گیا جہاں شاؤل نے پڑاؤ کیا ہُوا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ شاؤل اَور فَوج کا سپہ سالار ابنیرؔ بِن نیرؔ لیٹے ہیں۔ شاؤل چھاؤنی کے اَندر لیٹا ہُوا تھا اَور اُس کے چاروں طرف فَوج خیمہ زن تھی۔
1SA 26:6 تَب داویؔد نے حِتّی احِیملکؔ اَور ضرویاہؔ کے بیٹے ابیشائی سے جو یُوآبؔ کا بھایٔی تھا پُوچھا، ”کون میرے ساتھ چھاؤنی میں شاؤل کے پاس چلے گا؟“ ابیشائی نے کہا، ”مَیں آپ کے ساتھ چلُوں گا۔“
1SA 26:7 لہٰذا داویؔد اَور ابیشائی رات کے وقت چھاؤنی میں جا گھُسے۔ شاؤل وہاں خیمہ میں پڑا سو رہاتھا اَور اُس کا نیزہ اُس کے سرہانے زمین میں گڑا ہُوا تھا اَور ابنیرؔ اَور لشکر کے لوگ اُس کے اِردگرد سوئے ہُوئے تھے۔
1SA 26:8 تَب ابیشائی نے داویؔد سے کہا، ”آج خُدا نے تمہارے دُشمن کو تمہارے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ مُجھے اِجازت دیں کہ اَپنے نیزہ کے ایک ہی وار سے اُسے زمین سے پیوند کر دُوں۔ دُوسرے وار کی نَوبَت ہی نہیں آئے گی۔“
1SA 26:9 لیکن داویؔد نے ابیشائی سے کہا، ”نہیں اُسے قتل نہ کرنا کیونکہ کون ہے جو یَاہوِہ کے ممسوح پر ہاتھ اُٹھائے اَور بےگُناہ رہے؟“
1SA 26:10 داویؔد نے کہا، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم، یَاہوِہ خُود ہی اُسے ماریں گے یا اُس کے اِنتقال کا وقت آئے گا اَور وہ مَر جائے گا، یا وہ جنگ میں جائے گا اَور فنا ہو جائے گا۔
1SA 26:11 لیکن یَاہوِہ نہ کریں کہ میں یَاہوِہ کے ممسوح پر ہاتھ اُٹھاؤں۔ تُم اُس کے سرہانے کے قریب سے اُس کا نیزہ اَور پانی کی صُراحی لے آؤ، اُس کے بعد ہم چل دیں گے۔“
1SA 26:12 لہٰذا داویؔد نے شاؤل کے سرہانے کے قریب سے وہ نیزہ اَور پانی کی صُراحی اُٹھا لی اَور وہ چل دیئے۔ اَور نہ کسی نے دیکھا اَور نہ کسی کو اِس کی خبر ہُوئی اَور نہ ہی کویٔی جاگا۔ وہ تمام سو رہے تھے کیونکہ یَاہوِہ نے اُنہیں گہری نیند سُلا دیا تھا۔
1SA 26:13 تَب داویؔد وہاں سے نکل کر دُوسری طرف چلا گیا اَور کچھ دُور پہاڑی کی چوٹی پر کھڑا ہو گیا اَور اُن کے درمیان کافی فاصلہ تھا۔
1SA 26:14 داویؔد نے فَوج کو اَور ابنیرؔ بِن نیرؔ کو پُکار کر کہا، ”اَے ابنیرؔ! تُم مُجھے جَواب کیوں نہیں دیتے؟“ ابنیرؔ نے جَواب دیا، ”تُم کون ہو اَور بادشاہ کو کیوں پُکار رہے ہو؟“
1SA 26:15 داویؔد نے ابنیرؔ سے کہا، ”تُم بڑے بہادر شخص ہو نا؟ اَور اِسرائیل میں تمہاری مانند کون ہے؟ پھر تُم نے اَپنے مالک بادشاہ کی نگہبانی کیوں نہیں کی؟ تُمہیں پتا ہے کہ کویٔی تمہارے مالک بادشاہ کو ہلاک کرنے آیاتھا۔
1SA 26:16 اَیسی لاپروائی اَچھّی نہیں۔ یَاہوِہ کی حیات کی قَسم تُم اَور تمہارے آدمی سزائے موت کے لائق ہیں کیونکہ تُم نے اَپنے مالک یَاہوِہ کے ممسوح کی نگہبانی نہیں کی۔ ذرا دیکھو کہ بادشاہ کا نیزہ اَور پانی کی صُراحی جو اُن کے سرہانے کے نزدیک تھی کہاں ہیں؟“
1SA 26:17 تَب شاؤل نے داویؔد کی آواز پہچان کر کہا، ”اَے بیٹے داویؔد! کیا یہ تمہاری آواز ہے؟“ داویؔد نے جَواب دیا، ”اَے میرے آقا بادشاہ! ہاں یہ میری ہی آواز ہے۔“
1SA 26:18 اَور اُس نے مزید کہا، ”میرے آقا اَپنے خادِم کا تعاقب کیوں کر رہے ہیں؟ مَیں نے کیا کیا ہے اَور میرا جُرم کیا ہے؟
1SA 26:19 اَب میرے آقا بادشاہ ذرا اَپنے خادِم کی باتوں کو بھی سُن لیں! اگر یَاہوِہ نے آپ کو میرے خِلاف اُبھارا ہے تو وہ کویٔی ہدیہ قبُول کریں۔ اگر آدمیوں نے آپ کو بھڑکایا ہے تو وہ یَاہوِہ کے آگے ملعُون ہو! کیونکہ اُنہُوں نے مُجھے نکال دیا تاکہ میں یَاہوِہ کی دی ہُوئی مِیراث میں سے اَپنا حِصّہ پانے سے محروم کر دیا جاؤں اَور وہ کہتے ہیں جاؤ، ’دیگر معبُودوں کی پرستش کرو۔‘
1SA 26:20 میری آرزُو تو یہ ہے کہ میرا خُون یَاہوِہ کی حُضُوری سے دُور زمین پر نہ گِرے کیونکہ شاہِ اِسرائیل ایک پِسُّو کی تلاش میں اِس طرح نِکلا ہے جَیسے وہ پہاڑوں میں تیتر پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔“
1SA 26:21 شاؤل نے کہا، ”مَیں نے بڑی غلطی کی ہے۔ اَے میرے بیٹے داویؔد! لَوٹ آ کیونکہ آج تُونے میری جان کو قیمتی سمجھا۔ آئندہ مَیں تُجھے نُقصان پہُنچانے کی کوشش نہیں کروں گا۔ مَیں نے یقیناً حماقت سے کام لیا۔ مُجھ سے واقعی بڑی خطا ہو گئی۔“
1SA 26:22 داویؔد نے کہا، ”دیکھو، یہ ہے بادشاہ کا نیزہ۔ اَپنے جَوانوں میں سے کسی کو بھیج کہ وہ اُسے لے جائے۔
1SA 26:23 یَاہوِہ ہر ایک کو اُس کی راستی اَور ایمانداری کا نیک اجر دیتے ہیں۔ یَاہوِہ نے آج آپ کو میرے ہاتھ میں دے دیا تھا لیکن مَیں نے یَاہوِہ کے ممسوح پر ہاتھ اُٹھانا مُناسب نہ سمجھا۔
1SA 26:24 مُجھے پُوری اُمّید ہے کہ جِس طرح مَیں نے آج آپ کی زندگی کی قدر کی ہے، اُسی طرح یَاہوِہ میری زندگی کی قدر کریں اَور مُجھے تمام تکلیفوں سے نَجات بخشیں۔“
1SA 26:25 تَب شاؤل نے داویؔد سے کہا، ”اَے میرے بیٹے داویؔد! تُم مُبارک ہو۔ تُم بڑے بڑے کام کروگے اَور یقیناً فتح پاؤگے۔“ لہٰذا داویؔد اَپنی راہ چلا گیا اَور شاؤل اَپنے گھر لَوٹ گیا۔
1SA 27:1 لیکن داویؔد نے اَپنے دِل میں سوچا کہ، ”کسی نہ کسی دِن میں شاؤل کے ہاتھوں مارا جاؤں گا۔ لہٰذا میرے لیٔے یہی بہتر ہوگا کہ میں بچ کر فلسطینیوں کی سرزمین کو نکل جاؤں۔ تَب شاؤل نا اُمّید ہوکر اِسرائیل میں ہر جگہ میری جُستُجو کرنا چھوڑ دے گا اَور مَیں اُس کے ہاتھ سے بچ جاؤں گا۔“
1SA 27:2 پس داویؔد اَور اُس کے ہمراہ وہ چھ سَو آدمی روانہ ہُوئے اَور وہ شاہِ گاتؔھ اکِیشؔ بِن معوُکؔ کے پاس چلے گیٔے۔
1SA 27:3 اَور گاتؔھ میں اکِیشؔ کے پاس رہنے لگے۔ ہر آدمی کا خاندان اُس کے ساتھ تھا اَور داویؔد کی دو بیویاں یزرعیلؔ کی احِینوعمؔ اَور نابالؔ کی بِیوہ کرمِلی ابیگیلؔ اُس کے ساتھ تھیں۔
1SA 27:4 جَب شاؤل کو خبر مِلی کہ داویؔد گاتؔھ کو فرار ہو گیا ہے تو اُس نے پھر کبھی کوشش نہ کی کہ اُسے تلاش کرے۔
1SA 27:5 بعدازاں داویؔد نے اکِیشؔ سے کہا، ”اگر تمہاری مُجھ پر نظرِکرم ہے تو مُلک کے کسی شہر میں مُجھے جگہ دیدیں تاکہ میں وہاں رہُوں۔ اَور آپ کا خادِم آپ کے ساتھ دارُالحکومت میں کیوں رہے؟“
1SA 27:6 لہٰذا اُس دِن اکِیشؔ نے اُسے صِقلاگ کا شہر دے دیا اَور تَب سے آج تک یہ شہر یہُوداہؔ کے بادشاہوں کا ہے۔
1SA 27:7 اَور داویؔد فلسطینیوں کے علاقہ میں ایک سال اَور چار مہینے مُقیم رہا۔
1SA 27:8 اَور اَیسا ہُوا کہ داویؔد اَور اُس کے آدمیوں نے جا کر گیشُوریوں، گِرزیوں اَور عمالیقیوں پر حملہ کیا۔ (قدیم زمانہ سے یہ لوگ اِس سرزمین میں جو شُورؔ اَور مِصر تک پھیلی ہُوئی ہے رہتے تھے)۔
1SA 27:9 جَب کبھی داویؔد کسی علاقہ پر حملہ کرتا وہ کسی بھی مَرد یا عورت کو زندہ نہ چھوڑتا۔ لیکن بھیڑیں اَور مویشی، گدھے اَور اُونٹ اَور کپڑے لے لیتا اَور پھر وہ اکِیشؔ کے پاس لَوٹ آتا۔
1SA 27:10 جَب اکِیشؔ پُوچھتا، ”آج تُم حملہ کرنے کہاں گئے؟“ تو داویؔد کہتا، ”یہُوداہؔ کے جُنوب میں یا یرحمئیلیوں کے جُنوب میں یا قینیوں کے جُنوب میں۔“
1SA 27:11 اَور وہ کسی مَرد یا عورت کو گاتؔھ میں لانے کے لیٔے زندہ نہ چھوڑتا تھا کیونکہ اُس کا خیال تھا، ”وہ ہمارا پردہ فاش کر دیں گے اَور کہہ دیں گے، ’داویؔد نے یہ کچھ کیا ہے۔‘ “ اَور جَب تک وہ فلسطینی علاقہ میں رہا اُس کا اَیسا ہی دستور رہا۔
1SA 27:12 اَور اکِیشؔ نے داویؔد کا یقین کرکے اَپنے دِل میں کہا، ”اَب وہ اَپنے لوگوں یعنی اِسرائیلیوں کے لیٔے اِس قدر نفرت کا باعث ہو گیا ہے کہ وہ ہمیشہ تک میرا ہی خادِم بنا رہے گا۔“
1SA 28:1 اُن ہی دِنوں میں اَیسا ہُوا کہ فلسطینیوں نے اِسرائیلیوں سے جنگ کے لیٔے اَپنی فَوجیں جمع کیں اَور اکِیشؔ نے داویؔد سے کہا، ”تُمہیں خُوب سمجھ لینا چاہئے کہ تُمہیں اَور تمہارے آدمیوں کو میرے لشکر کے ساتھ چلنا ہوگا۔“
1SA 28:2 داویؔد نے کہا، ”تَب تو تُم خُود ہی دیکھ لوگے کہ تمہارا خادِم کیا کر سَکتا ہے۔“ اکِیشؔ نے جَواب دیا، ”بہت خُوب، پھر تو میں زندگی بھرکے لیٔے تُمہیں اَپنا ذاتی مُحافظ بنا لُوں گا۔“
1SA 28:3 اَور شموایلؔ کی وفات ہو چُکی تھی اَور تمام اِسرائیلیوں نے اُن کا ماتم کرکے اُنہیں اُن کے اَپنے شہر رامہؔ میں دفن کر دیا تھا۔ اَور شاؤل نے اَرواح پرستوں کے آشناؤں اَور جادُوگروں کو مُلک سے نکال دیا تھا۔
1SA 28:4 اَور فلسطینی جمع ہوکر نکلے اَور اُنہُوں نے شُونیمؔ میں ڈالی۔ اُدھر شاؤل نے بھی تمام اِسرائیلیوں کو جمع کرکے گِلبوعہؔ میں ڈالی۔
1SA 28:5 اَور جَب شاؤل نے فلسطینیوں کی فَوج دیکھی تو وہ ڈر گیا اَور اُس کا دِل کانپنے لگا۔
1SA 28:6 شاؤل نے یَاہوِہ سے دریافت کیا مگر یَاہوِہ نے اُسے نہ تو خوابوں، نہ اُوریمؔ اَور نہ نبیوں کے وسیلہ سے کویٔی جَواب دیا۔
1SA 28:7 تَب شاؤل نے اَپنے خادِموں سے کہا، ”میرے لیٔے کویٔی اَیسی عورت تلاش کرو جِس کا آشنا کویٔی جنّ ہو تاکہ میں جا کر اُس سے پُوچھوں۔“ اُنہُوں نے کہا، ”عینؔ دورؔ میں ایک عورت رہتی ہے جِس کا آشنا جنّ ہے۔“
1SA 28:8 لہٰذا شاؤل نے دُوسرے کپڑے پہن کر اَپنا بھیس بدل لیا اَور رات کو وہ اَور دو آدمی اُس عورت کے پاس گیٔے اَور کہا، ”میری خاطِر کسی جنّ کے ساتھ رابطہ قائِم کر،“ شاؤل نے اُس عورت سے کہا، ”اَور جِس کا میں نام لُوں اُسے میری خاطِر اُوپر لے آ۔“
1SA 28:9 لیکن اُس عورت نے اُس سے کہا، ”تُم اَچھّی طرح جانتے ہو کہ شاؤل نے کیا کیا ہے۔ اُس نے اَرواح پرستوں کے آشناؤں اَور جادُوگروں کو مُلک میں ختم کر دیا ہے۔ تُم کیوں میری جان کے لیٔے پھندا لگا کر مُجھے مروانا چاہتے ہو؟“
1SA 28:10 شاؤل نے اُس سے یَاہوِہ کی قَسم کھائی، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم، اِس کے لیٔے تُمہیں کویٔی سزا نہ دی جائے گی۔“
1SA 28:11 اُس عورت نے پُوچھا، ”مَیں تمہاری خاطِر کسے اُوپر لاؤں؟“ اُس نے کہا، ”شموایلؔ کو بُلا دے۔“
1SA 28:12 جَب اُس عورت نے شموایلؔ کو دیکھا تو زور سے چِلّائی اَور شاؤل سے کہا، ”تُم نے مُجھے دھوکا کیوں دیا ہے؟ تُم شاؤل ہو نا؟“
1SA 28:13 بادشاہ نے شاؤل سے کہا، ”تُم ڈرو مت۔ تُم کیا دیکھتی ہو؟“ اُس عورت نے کہا، ”میں ایک معبُود جَیسا کوئی زمین میں سے اُوپر آتے دیکھ رہی ہُوں۔“
1SA 28:14 اُس نے پُوچھا، ”وہ کیسا دِکھائی دیتاہے؟“ اُس نے کہا، ”ایک بُوڑھا آدمی جُبّہ پہنے ہُوئے اُوپر آ رہاہے۔“ تَب شاؤل جان گیا کہ یہ شموایلؔ ہے۔ لہٰذا وہ نیچے جھُکا اَور مُنہ کے بَل زمین پر گِر کر سَجدہ کیا۔
1SA 28:15 شموایلؔ نے شاؤل سے کہا، ”تُم نے مُجھے اُوپر لاکر پریشان کیوں کیا ہے؟“ شاؤل نے کہا، ”میں نہایت ہی پریشان ہُوں کیونکہ فلسطینی مُجھ سے لڑ رہے ہیں اَور خُدا مُجھ سے الگ ہو گیا ہے اَور اَب وہ نبیوں کے وسیلہ اَور نہ ہی خوابوں کے وسیلہ سے مُجھے جَواب دیتاہے۔ اِس لیٔے مَیں نے آپ سے مُلاقات کی کہ آپ مُجھے بتائیں کہ میں کیا کروں۔“
1SA 28:16 شموایلؔ نے کہا، ”اَب جَب کہ یَاہوِہ تُجھ سے الگ ہو گیا ہے اَور تیرا دُشمن بَن گیا ہے تو مُجھ سے کیوں پُوچھتا ہے؟
1SA 28:17 یَاہوِہ نے وُہی کیا ہے جِس کی اُنہُوں نے میری مَعرفت پیشین گوئی کی تھی۔ یَاہوِہ نے بادشاہی تیرے ہاتھوں سے چھین لی ہے اَور تیرے پڑوسی داویؔد کو دے دی ہے۔
1SA 28:18 کیونکہ تُم نے یَاہوِہ کی بات نہ مانی اَور عمالیقیوں سے اُن کے قہر شدید کے مُوافق پیش نہیں آیا۔ اِسی سبب سے یَاہوِہ نے آج کے دِن تُجھ سے یہ برتاؤ کیا۔
1SA 28:19 اَور یَاہوِہ تُجھے اَور اِسرائیل دونوں کو فلسطینیوں کے حوالہ کر دے گا اَور کل تُو اَور تیرے بیٹے میرے ساتھ ہوں گے۔ یَاہوِہ اِسرائیل کے لشکر کو بھی فلسطینیوں کے حوالہ کر دیں گے۔“
1SA 28:20 تَب شاؤل شموایلؔ کی باتوں کے باعث خوفزدہ ہوکر فوراً زمین پر لمبا ہوکر گرا اَور اُس کی قُوّت جاتی رہی کیونکہ اُس نے اُس سارے دِن اَور ساری رات کچھ نہیں کھایا تھا۔
1SA 28:21 وہ عورت شاؤل کے پاس آئی اَور اُس نے دیکھا کہ وہ بڑا پریشان ہے تو اُس نے کہا، ”دیکھیں، آپ کی لونڈی نے آپ کا حُکم مانا اَور اَپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وُہی کیا جو آپ نے مجھ سے کرنے کے لیٔے کہا۔
1SA 28:22 اَب براہِ مہربانی اَپنی لونڈی کی بات سُنیں اَور اِجازت فرمائیں کہ مَیں آپ کے لیٔے کچھ کھانا لاؤں تاکہ آپ کھائیں اَور اَپنی راہ جانے کے لیٔے طاقت پائیں۔“
1SA 28:23 اُس نے اِنکار کیا اَور کہا، ”میں نہیں کھاؤں گا۔“ لیکن جَب اُس کے آدمی بھی اُس عورت کے ساتھ مِل کر بضِد ہُوئے تو اُس نے اُن کی بات مان لی اَور زمین سے اُٹھ کر پلنگ پر بیٹھ گیا۔
1SA 28:24 اُس عورت کے پاس گھر میں ایک فربہ بچھڑا تھا جسے اُس نے فوراً ذبح کیا اَور پھر کچھ آٹا لے کر اُسے گوندھا اَور بے خمیری روٹیاں پکائیں
1SA 28:25 اَور اُنہیں شاؤل اَور اُس کے آدمیوں کے آگے رکھا اَور اُنہُوں نے کھایا اَور اُسی رات اُٹھ کر چلے گیٔے۔
1SA 29:1 اَور فلسطینیوں نے اَپنی تمام فَوجوں کو افیقؔ میں جمع کیا اَور اِسرائیلیوں نے یزرعیلؔ میں چشمہ کے پاس ڈالی۔
1SA 29:2 جَب فلسطینی سردار سپاہیوں کے سَو کے اَور ہزار کے دستے بنا کر کُوچ کرنے لگے تو داویؔد اَور اُس کے آدمی بھی اُن کے عقب میں اکِیشؔ کے پیچھے پیچھے ہو لئے۔
1SA 29:3 تَب فلسطینی سرداروں نے پُوچھا، ”اِن عِبرانیوں کا یہاں کیا کام ہے؟“ اکِیشؔ نے جَواب دیا، ”کیا یہ داویؔد نہیں جو شاہِ اِسرائیل شاؤل کا مُلازم تھا؟ وہ ایک سال سے زائد عرصہ سے میرے ساتھ ہے اَور جِس دِن سے اُس نے شاؤل کو چھوڑا آج تک مَیں نے اُس میں کویٔی بُرائی نہیں پائی۔“
1SA 29:4 لیکن فلسطینی سردار اُس سے ناراض تھے اَور کہنے لگے، ”اُس آدمی کو واپس بھیج دو تاکہ، وہ اُس جگہ لَوٹ جائے جو اُس کے لیٔے مُقرّر کی گئی ہے۔ وہ جنگ میں ہمارے ساتھ ہرگز نہ جائے۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ ہمارے ہی خِلاف جنگ کرنے لگے۔ اُس کے لیٔے اَپنے آقا کی خُوشنودی دوبارہ حاصل کرنے کے لیٔے ہمارے آدمیوں کے سَروں کو کاٹ دینے سے بہتر کیا ہو سَکتا ہے؟
1SA 29:5 کیا یہ داویؔد وُہی نہیں ہے جِس کے متعلّق اُنہُوں نے ناچتے ہُوئے گا گا کر کہاتھا: ” ’شاؤل نے تو ہزاروں کو قتل کیا ہے، لیکن داویؔد نے دس ہزاروں کو مارا ہے‘؟“
1SA 29:6 لہٰذا اکِیشؔ نے داویؔد کو بُلاکر کہا، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم تُم حق پرست آدمی ہو اَور تُمہیں اَپنی فَوج میں آتا جاتا دیکھ کر مُجھے بڑی خُوشی ہوتی ہے اَور جِس دِن سے تُم آئے ہو تَب سے آج تک مَیں نے تُم میں کویٔی بدی نہیں پائی۔ لیکن میرے سردار تُمہیں پسند نہیں کرتے۔
1SA 29:7 لہٰذا لَوٹ کر سلامت چلے جاؤ اَور کویٔی اَیسا قدم نہ اُٹھنا کہ فلسطینی سرداروں کو ناراض ہونے کا موقع ملے۔“
1SA 29:8 داویؔد نے اکِیشؔ سے پُوچھا، ”مَیں نے کیا کیا ہے؟ جِس دِن سے مَیں آپ کے پاس آیا ہُوں تَب سے آج تک آپ نے اَپنے خادِم کے خِلاف کون سِی بات پائی ہے کہ میں اَپنے آقا بادشاہ کے دُشمنوں کے خِلاف جا کر لڑ نہیں سَکتا؟“
1SA 29:9 اکِیشؔ نے داویؔد کو جَواب دیا، ”میں جانتا ہوں کہ تُم میری نظروں میں اِتنا ہی نیک ہو جِتنا خُدا کا فرشتہ؛ تاہم فلسطینی سرداروں نے کہا ہے، ’وہ جنگ میں ہمارے ساتھ ہرگز نہ جائے۔‘
1SA 29:10 لہٰذا اَب تُم صُبح سویرے رَوشنی ہوتے ہی اَپنے آقا کے خادِموں کے ہمراہ جو تمہارے ساتھ آئے ہیں روانہ ہو جانا۔“
1SA 29:11 لہٰذا داویؔد اَور اُس کے آدمی صُبح سویرے اُٹھ بیٹھے تاکہ فلسطینیوں کے مُلک کو لَوٹ جایٔیں اَور فلسطینی یزرعیلؔ کو لَوٹ گیٔے۔
1SA 30:1 داویؔد اَور اُس کے آدمی تیسرے دِن صِقلاگ جا پہُنچے۔ عمالیقی جُنوبی علاقہ اَور صِقلاگ پر اَچانک چڑھ آئے اَور اُنہُوں نے حملہ کرکے صِقلاگ کو جَلا دیا۔
1SA 30:2 اَور عورتوں کو اَور اُن سَب کو جو اُس میں تھے کیا جَوان کیا ضعیف اسیر کر لیا۔ اُنہُوں نے اُن میں سے کسی کو جان سے نہ مارا لیکن جَب گیٔے تو اُنہیں اُٹھالے گیٔے۔
1SA 30:3 جَب داویؔد اَور اُس کے آدمی صِقلاگ شہر میں آئے تو اُنہُوں نے دیکھا کہ اِسے آگ سے تباہ کر دیا گیا ہے اَور اُن کی بیویوں اَور بیٹے اَور بیٹیوں کو اسیر کر لیا گیا ہے۔
1SA 30:4 لہٰذا داویؔد اَور اُس کے آدمی چِلّا چِلّاکر رونے لگے حتّیٰ کہ اُن میں رونے کی طاقت باقی نہ رہی۔
1SA 30:5 داویؔد کی دونوں بیویاں یزرعیلؔ کی احِینوعمؔ اَور کرمِلؔ کے نابالؔ کی بِیوہ ابیگیلؔ اسیر کرلی گئی تھیں۔
1SA 30:6 داویؔد بڑا پریشان تھا کیونکہ وہ لوگ اُسے سنگسار کرنے کی باتیں کرنے لگے تھے۔ اِس لیٔے کہ ہر ایک کا دِل اَپنے بیٹوں اَور بیٹیوں کے لیٔے بڑا رنجیدہ تھا لیکن داویؔد نے یَاہوِہ اَپنے خُدا میں قُوّت پائی۔
1SA 30:7 تَب داویؔد نے احِیملکؔ کے بیٹے ابیاترؔ کاہِنؔ سے کہا، ”میرے پاس افُود لاؤ۔“ اَور ابیاترؔ اُسے اُس کے پاس لے آیا۔
1SA 30:8 اَور داویؔد نے یَاہوِہ سے پُوچھا، ”کیا میں اُن چھاپہ ماروں کا پیچھا کروں؟ کیا میں اُنہیں جا لُوں گا؟“ یَاہوِہ نے فرمایا، ”اُن کا تعاقب کر۔ یقیناً تُو اُنہیں جا لے گا اَور اسیروں کو چھُڑانے میں کامیاب ہوگا۔“
1SA 30:9 لہٰذا داویؔد اَور وہ چھ سَو آدمی جو اُس کے ساتھ تھے گہری وادی بسورؔ میں پہُنچے۔ وہاں کچھ آدمی پیچھے چھوڑ دئیے گیٔے۔
1SA 30:10 کیونکہ دو سَو آدمی اِس قدر تھکے ماندے تھے کہ وہ بسورؔ ندی کو پار کرنے کے قابل نہ تھے۔ لیکن داویؔد اَور چار سَو آدمیوں نے تعاقب جاری رکھا۔
1SA 30:11 اُنہیں میدان میں ایک مِصری مِلا جسے وہ داویؔد کے پاس لایٔے۔ اُنہُوں نے اُسے پینے کے لیٔے پانی اَور کھانے کے لیٔے روٹی دی
1SA 30:12 اَور اَنجیر کی ٹکیا کا ایک ٹکڑا اَور کشمش کی دو ٹکیاں دیں جنہیں کھا کر وہ تازہ دَم ہو گیا کیونکہ تین دِن اَور تین رات تک نہ تو اُس نے کھانا کھایا تھا، نہ پانی پیا تھا۔
1SA 30:13 تَب داویؔد نے اُس سے پُوچھا، ”تُم کس کے آدمی ہو اَور کہاں سے آئے ہو؟“ اُس نے کہا، ”میں ایک مِصری ہُوں اَور ایک عمالیقی کا غُلام ہُوں۔ تین دِن پیشتر جَب مَیں بیمار ہو گیا تو میرا مالک مُجھے چھوڑ گیا۔
1SA 30:14 ہم نے کریتیوں کے جُنوب میں اَور یہُوداہؔ کے علاقہ اَور کالبؔ کے جُنوب میں لُوٹ مار کی اَور صِقلاگ کو آگ سے پھُونک دیا۔“
1SA 30:15 داویؔد نے اُس سے پُوچھا، ”کیا تُم مُجھے اُس چھاپہ مار دستہ تک لے جا سکتے ہو؟“ اُس نے جَواب دیا کہ اگر آپ مُجھ سے خُدا کی قَسم کھائیں کہ آپ مُجھے قتل نہیں کریں گے اَور نہ ہی مُجھے میرے مالک کے حوالہ کریں گے تو مَیں آپ کو اُن تک لے جاؤں گا۔
1SA 30:16 اَور وہ داویؔد کو لے گیا۔ داویؔد نے دیکھا کہ وہاں وہ ہر طرف پھیلے ہُوئے ہیں اَور کھانے پینے اَور رنگ رلیاں منانے میں مشغُول ہیں کیونکہ اُنہُوں نے فلسطینیوں کے مُلک سے اَور یہُوداہؔ کے مُلک سے بڑی مقدار میں مال لُوٹا تھا۔
1SA 30:17 اَور داویؔد شام کے وقت سے لے کر دُوسرے دِن کی شام تک اُن سے لڑتا رہا اَور اُن میں سے کویٔی بھی بچ کر نہ جا سَکا سِوائے اُن چار سَو جَوانوں کے جو اُونٹوں پر سوار ہوکر بھاگ نکلے تھے۔
1SA 30:18 داویؔد نے وہ سَب کچھ جو عمالیقی لُوٹ کر لے گیٔے تھے واپس لے لیا جِن میں اُس کی دو بیویاں بھی شامل تھیں۔
1SA 30:19 اُن کا کچھ بھی گُم نہ ہُوا۔ نہ کویٔی جَوان یا بُوڑھا۔ نہ کویٔی لڑکا یا لڑکی۔ نہ لُوٹ کا مال یا کویٔی اَور چیز جو وہ اُٹھالے گیٔے تھے۔ ”داویؔد نے ایک ایک چیز واپس لے لی۔“
1SA 30:20 اُس نے تمام بھیڑ بکریاں اَور گائے بَیل لے لیٔے، جنہیں اُس کے آدمی دیگر مویشیوں کے آگے آگے ہانکتے ہُوئے لے آئے اَور اعلان کر دیا کہ، ”یہ داویؔد کا مالِ غنیمت ہے۔“
1SA 30:21 تَب داویؔد اُن دو سَو آدمیوں کے پاس آیا جو بہت زِیادہ تھکے ماندہ ہونے کے باعث داویؔد کے پیچھے نہ جا سکے تھے اَور وادی بسورؔ میں پیچھے چھوڑ دئیے گیٔے تھے۔ وہ داویؔد اَور اُس کے ساتھ کے آدمیوں سے مِلنے کو نکلے۔ جَب داویؔد اَور اُس کے آدمی نزدیک پہُنچے تو اُس نے اُن کی خیروعافیت دریافت کی۔
1SA 30:22 لیکن داویؔد کے ساتھ آنے والے پیروکاروں میں سے اُن تمام بد ذات اَور فتنہ پرداز آدمیوں نے کہا، ”چونکہ وہ ہمارے ساتھ نہیں گیٔے تھے اِس لیٔے ہم اُنہیں لُوٹ کے اِس مال میں سے جو ہم نے واپس لیا ہے کویٔی حِصّہ نہ دیں گے۔ تاہم ہر ایک آدمی اَپنی بیوی بچّے لے کر جا سَکتا ہے۔“
1SA 30:23 داویؔد نے کہا، ”نہیں بھائیو! تُمہیں اُس مال کے ساتھ جو یَاہوِہ نے ہمیں دیا ہے اَیسا نہیں کرنا چاہئے۔ اُنہُوں نے ہمیں بچایا اَور اُس فَوج کو جِس نے ہم پر چڑھائی کی ہمارے ہاتھ میں کر دیا۔
1SA 30:24 جو تُم کہتے ہو اُسے کون مانے گا؟ اُس آدمی کا حِصّہ جو پیچھے رسد کے پاس رہا اُتنا ہی ہے جِتنا اُس کا جو جنگ کے لیٔے گیا۔ سَب کو برابر حِصّہ ملے گا۔“
1SA 30:25 پس داویؔد نے اُس دِن یہی قانُون اَور آئین نافذ کر دیا جو آج تک اِسرائیل میں جاری ہے۔
1SA 30:26 جَب داویؔد صِقلاگ میں آیا تو اُس نے لُوٹ کے مال سے کچھ یہُوداہؔ کے بُزرگوں کو جو اُس کے دوست تھے یہ کہہ کر بھیجا، ”یَاہوِہ کے دُشمنوں سے لُوٹے ہُوئے مال میں سے یہ ہدیہ تمہارے لیٔے ہے۔“
1SA 30:27 اُس نے اُسے اُن کے پاس بھیجا جو بیت ایل، جُنوبی رامات یا رامات کے نِیگیوؔ اَور یتّیرؔ میں تھے۔
1SA 30:28 اَور اُن کے پاس جو عروعؔر، سِفموتؔھ، اِشتموُعؔ میں تھے
1SA 30:29 اَور اُن کے پاس جو رَکلؔ میں تھے اَور اُن کے پاس جو یرحمئیلیوں اَور قینیوں کے شہروں میں تھے
1SA 30:30 اَور اُن کے پاس جو حُرمہؔ، بور عشٰنؔ، عتھاکؔ میں تھے
1SA 30:31 اَور اُن کے پاس جو حِبرونؔ میں تھے اَور سَب جگہ جہاں جہاں داویؔد اَور اُس کے آدمی گھُومے پھرے تھے۔
1SA 31:1 اَور فلسطینی اِسرائیل سے لڑے اَور اِسرائیلی اُن کے سامنے سے بھاگے اَور بہت سے قتل ہوکر گِلبوعہؔ پہاڑی پر گِرے۔
1SA 31:2 اَور فلسطینیوں نے شاؤل اَور اُس کے بیٹوں کا بڑی سرگرمی سے تعاقب کیا اَور اُس کے بیٹوں یُوناتانؔ، ابینادابؔ اَور ملکِیشوعؔ کو مار ڈالا۔
1SA 31:3 جَب شاؤل کے اِردگرد جنگ بہت شدید ہو گئی اَور تیر اَندازوں نے اُسے جا لیا اَور تیروں سے اُسے زخمی کر دیا۔
1SA 31:4 تَب شاؤل نے اَپنے سلاح بردار سے کہا، ”اَپنی تلوار کھینچ اَور میرے جِسم میں گھونپ دے ورنہ وہ نامختون آکر مُجھے چھید کر بے عزّت کر دیں گے۔“ لیکن اُس کا سلاح بردار خوف اَور دہشت کے باعث اَیسا نہ کر سَکا۔ لہٰذا شاؤل نے اَپنی تلوار لی اَور اُس پر جا گرا۔
1SA 31:5 جَب اُس کے سلاح بردار نے دیکھا کہ شاؤل مَر گیا تو وہ بھی اَپنی تلوار پر گرا اَور اُس کے ساتھ مَر گیا۔
1SA 31:6 پس شاؤل، اُس کے تینوں بیٹے، اُس کا سلاح بردار اَور اُس کے تمام آدمی اُسی دِن ایک ساتھ مَر گیٔے۔
1SA 31:7 جَب وادی اَور یردنؔ کے دُوسری طرف تمام اِسرائیلیوں نے دیکھا کہ اِسرائیلی فَوج بھاگ گئی ہے اَور شاؤل اَور اُس کے بیٹے مَر گیٔے ہیں تو وہ بھی اَپنے شہروں کو چھوڑکر بھاگ نکلے اَور فلسطینی آئے اَور وہاں رہنے لگے۔
1SA 31:8 اگلے دِن جَب فلسطینی لاشوں کے کپڑے وغیرہ اُتارنے آئے تو اُنہُوں نے دیکھا کہ شاؤل اَور اُس کے تینوں بیٹوں کی لاشیں گِلبوعہؔ پہاڑ پر پڑی ہُوئی ہیں۔
1SA 31:9 اُنہُوں نے شاؤل کا سَر کاٹ لیا اَور اُس کا زرہ بکتر اُتار لیا۔ اُنہُوں نے فلسطینیوں کے تمام مُلک میں، اَپنے بُت خانوں میں اَور تمام لوگوں کے درمیان اِس خُوشخبری کا اعلان کرنے کے لیٔے قاصِد بھیجے۔
1SA 31:10 اُنہُوں نے اُس کے زرہ بکتر کو عستوریتؔ کے مَندِر میں رکھا اَور اُس کی لاش کو بیت شانؔ کی دیوار پر لٹکا دیا۔
1SA 31:11 جَب یبیسؔ گِلعادؔ کے باشِندوں تک یہ خبر پہُنچی جو فلسطینیوں نے شاؤل سے کیا تھا سُنا
1SA 31:12 تو اُن کے تمام سُورما مَردوں نے رات کو بیت شانؔ تک سفر کیا اَور شاؤل اَور اُس کے بیٹوں کی لاشوں کو بیت شانؔ کی دیوار سے اُتار کر یبیسؔ کو چلے گیٔے اَور وہاں اُن کو جَلا دیا۔
1SA 31:13 اَور اُن کی ہڈّیاں لے کر یبیسؔ میں جھاؤ کے درخت کے نیچے دفن کر دیں اَور سات دِن تک روزہ رکھا۔
2SA 1:1 شاؤل کی موت کے بعد جَب داویؔد عمالیقیوں کو شِکست دے کر لَوٹا اَور صِقلاگ میں دو دِن ٹھہرا
2SA 1:2 تو تیسرے دِن شاؤل کی چھاؤنی سے ایک آدمی آیا جِس کے کپڑے پھٹے ہُوئے تھے اَور اَپنے سَر پر خاک ڈالی ہُوئی تھی۔ جَب وہ داویؔد کے پاس پہُنچا تو اُس کی تعظیم کرنے کے لیٔے زمین پر سَجدہ کیا۔
2SA 1:3 داویؔد نے اُس سے پُوچھا، ”تُم کہاں سے آئے ہو؟“ اُس نے جَواب دیا، ”مَیں اِسرائیلیوں کی چھاؤنی سے بچ کر آیا ہُوں۔“
2SA 1:4 داویؔد نے پُوچھا، ”بتاؤ، کیا بات ہے؟“ اُس نے کہا ”لوگ جنگ میں سے بھاگ گیٔے اَور اُن میں سے بہت سے گِرے اَور مَر گیٔے اَور شاؤل اَور اُس کا بیٹا یُوناتانؔ بھی ہلاک ہو چُکے۔“
2SA 1:5 تَب داویؔد نے اُس جَوان سے جو اُس کے پاس خبر لایاتھا کہا، ”تُجھے کیسے مَعلُوم ہُوا کہ شاؤل اَور اُس کا بیٹا یُوناتانؔ دونوں ہلاک ہو چُکے ہیں؟“
2SA 1:6 اُس جَوان نے کہا، ”میں اِتّفاقاً کوہِ گِلبوعہؔ پر پہُنچ گیا تھا، وہاں شاؤل اَپنے نیزہ پرجھکا ہُوا تھا اَور رتھ اَور سوار اُس کا پیچھا کرتے چلے آ رہے تھے۔
2SA 1:7 اَور جَب اُس نے مُڑ کر مُجھے دیکھا تو آواز دی۔ مَیں نے کہا، ’مَیں کیا کر سَکتا ہُوں؟‘
2SA 1:8 ”اُس نے پُوچھا، ’تُم کون ہو؟‘ ”مَیں نے جَواب دیا: ’مَیں ایک عمالیقی ہُوں۔‘
2SA 1:9 ”تَب اُس نے مُجھ سے کہا، ’میرے نزدیک آ اَور مُجھے قتل کر دے کیونکہ مَیں موت کے عذاب میں گِرفتار ہُوں لیکن ابھی زندہ ہُوں۔‘
2SA 1:10 ”اِس لیٔے مَیں نے اُس کے نزدیک جا کر اُسے قتل کر دیا کیونکہ مُجھے یقین تھا کہ گرنے کے بعد اُس کا بچنا مُشکل ہے۔ میں اُس کے سَر کا تاج اَور بازو کا کنگن یہاں اَپنے آقا کے آپ پاس لایا ہُوں۔“
2SA 1:11 تَب داویؔد اَور اُس کے ساتھ کے سارے لوگوں نے اَپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔
2SA 1:12 اَور اُنہُوں نے شاؤل اَور اُس کے بیٹے یُوناتانؔ کے لیٔے اَور یَاہوِہ کی فَوج اَور اِسرائیل کے گھرانے کے لیٔے ماتم کیا اَور رُوئے اَور شام تک روزہ رکھا، اِس لیٔے کہ وہ تلوار سے مارے گیٔے تھے۔
2SA 1:13 پھر داویؔد نے اُس جَوان سے جو یہ خبر لایاتھا پُوچھا، ”تو کہاں کا ہے؟“ اُس نے جَواب دیا، ”مَیں ایک پردیسی عمالیقی کا بیٹا ہُوں۔“
2SA 1:14 تَب داویؔد نے اُس سے پُوچھا، ”تُم یَاہوِہ کے ممسوح کو ہلاک کرنے کے لیٔے اُس پر وار کرنے سے کیوں نہ ڈرا؟“
2SA 1:15 تَب داویؔد نے اَپنے آدمیوں میں سے ایک کو بُلاکر کہا، ”جاؤ، اَور اُسے مار گراؤ۔“ پس اُس نے اُسے اَیسا مارا کہ وہ مَر گیا۔
2SA 1:16 کیونکہ داویؔد نے اُسے کہاتھا، ”تیرا خُون تیرے ہی سَر ہو کیونکہ جَب تُم نے کہا، ’مَیں نے یَاہوِہ کے ممسوح کو قتل کر دیا تو تُم نے اَپنے ہی مُنہ سے اَپنے خِلاف گواہی دے دی۔‘ “
2SA 1:17 اَور داویؔد نے شاؤل اَور اُس کے بیٹے یُوناتانؔ پر یہ مرثیہ کہا،
2SA 1:18 اَور حُکم دیا کہ یہُوداہؔ کے لوگوں کو کمان کا یہ مرثیہ سِکھایا جائے (یہ یاشار کی کِتاب میں لِکھّا ہے):
2SA 1:19 ”اَے اِسرائیل! تیری ہی بُلندیوں پر تیرا فخر دَم توڑ چُکاہے۔ ہائے وہ شہزور کیسے مارے گیٔے!
2SA 1:20 ”گاتؔھ میں اِس کا ذِکر نہ کرنا، اشقلونؔ کے کوچوں میں اِس کا اعلان نہ کرنا، کہیں اَیسا نہ ہو کہ فلسطینیوں کی بیٹیاں شادمان ہوں، اَور نامختونوں کی بیٹیاں خُوشیاں منائیں۔
2SA 1:21 ”اَے گِلبوعہؔ کی پہاڑیو، تُم پر نہ تو شبنم گِرے، نہ بارش ہو، نہ فصلوں بھرے کھیت ہُوں۔ کیونکہ وہاں شہزوروں کی سِپر خاک آلُودہ پڑی ہے، یعنی شاؤل کی سِپر جِس پر اَب کویٔی تیل نہ ملے گا۔
2SA 1:22 ”مقتولوں کے خُون، اَور شہزوروں کی چربی کے بغیر، یُوناتانؔ کی کمان کبھی واپس نہ ہُوئی، اَور شاؤل کی تلوار کبھی خالی نہ لَوٹی۔
2SA 1:23 شاؤل اَور یُوناتانؔ زندگی بھر محبُوب اَور چہیتے بنے رہے، اَور موت کے بعد بھی جُدا نہ ہُوئے۔ وہ عُقابوں سے زِیادہ تیز، اَور شیروں سے زِیادہ طاقتور تھے۔
2SA 1:24 ”اَے اِسرائیل کی بیٹیو، شاؤل کے لیٔے آنسُو بہاؤ، جِس نے تُمہیں شاندار اَور اَرغوانی کپڑے پہنائے، اَور جِس نے تمہارے لباس کو سونے کے زیورات سے آراستہ کیا۔
2SA 1:25 ”ہائے وہ شہزور جنگ کے دَوران کیسے مارے گیٔے! یُوناتانؔ تیری بُلندیوں پر قتل ہُوا۔
2SA 1:26 مَیں تیرے لیٔے رنجیدہ ہُوں، اَے میرے بھایٔی یُوناتانؔ! تُو مُجھے بہت عزیز تھا۔ میرے لیٔے تیری مَحَبّت عجِیب تھی، عورتوں کی مَحَبّت سے بھی زِیادہ عجِیب۔
2SA 1:27 ”وہ شہزور کیسے ڈھیر ہُوئے! اَور جنگ کے ہتھیار کیسے نابود ہو گئے!“
2SA 2:1 اِسی اَثنا میں داویؔد نے یَاہوِہ سے پُوچھا، ”کیا میں یہُودیؔہ کے شہروں میں سے کسی میں جا بسُوں؟“ یَاہوِہ نے فرمایا، ”جا۔“ داویؔد نے پُوچھا، ”کس شہر میں؟“ یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”حِبرونؔ میں۔“
2SA 2:2 لہٰذا داویؔد اَپنی دونوں بیویوں یزرعیلؔ کی احِینوعمؔ اَور کرمِلؔ کے نابالؔ کی بِیوہ ابیگیلؔ کے ہمراہ وہاں چلا گیا۔
2SA 2:3 اَور داویؔد اُن آدمیوں کو بھی جو اُس کے ساتھ تھے اُن کے خاندانوں سمیت وہاں سے لے گیا اَور وہ حِبرونؔ اَور اُس کے قصبوں میں بس گیٔے۔
2SA 2:4 تَب بنی یہُوداہؔ کے لوگ آئے اَور وہاں اُنہُوں نے داویؔد کو مَسح کرکے یہُوداہؔ کے قبیلہ کا بادشاہ بنا دیا۔ جَب داویؔد کو بتایا گیا کہ یہ یبیسؔ گِلعادؔ کے لوگ تھے جنہوں نے شاؤل کو دفن کیا تھا
2SA 2:5 تو داویؔد نے یبیسؔ گِلعادؔ کے لوگوں کے پاس اُنہیں یہ کہنے کے لیٔے قاصِد بھیجے کہ، ”تُم نے اَپنے آقا شاؤل کو دفن کرکے جِس مہربانی کا اِظہار کیا ہے اُس کے لیٔے یَاہوِہ تُمہیں برکت بخشیں،
2SA 2:6 یَاہوِہ تمہارے ساتھ مہربانی اَور وفاداری کریں اَور مَیں بھی تمہارے ساتھ وَیسی ہی مہربانی کروں گا کیونکہ تُم نے یہ نیک کام کیا ہے۔
2SA 2:7 لہٰذا اَب طاقتور اَور دِلیر بنو کیونکہ تمہارا آقا شاؤل مَر گیا ہے اَور یہُوداہؔ کے گھرانے نے مُجھے مَسح کرکے اَپنا بادشاہ بنایا ہے۔“
2SA 2:8 اِس اَثنا میں ابنیرؔ بِن نیرؔ نے جو شاؤل کی فَوج کا سپہ سالار تھا، شاؤل کے بیٹے اِشبوستؔ کو ساتھ لیا اَور اُسے محنایمؔ میں لے آیا
2SA 2:9 اَور اُسے گِلعادؔ، اشُوری، یزرعیلؔ اَور اِفرائیمؔ، بِنیامین اَور تمام اِسرائیل کا بادشاہ بنایا۔
2SA 2:10 شاؤل کا بیٹا اِشبوستؔ چالیس بَرس کی عمر میں اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے دو بَرس حُکمرانی کی۔ مگر یہُوداہؔ کا قبیلہ داویؔد کا مطیع رہا۔
2SA 2:11 داویؔد حِبرونؔ میں یہُوداہؔ کے گھرانے پر سات سال چھ مہینے تک بادشاہی کرتا رہا۔
2SA 2:12 اَور ابنیرؔ بِن نیرؔ اَور اِشبوستؔ بِن شاؤل کے خادِم محنایمؔ کو خیرباد کہہ کر گِبعونؔ کو گیٔے
2SA 2:13 اَور یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ اَور داویؔد کے آدمی نکلے اَور گِبعونؔ کے تالاب پر اُن سے ملے۔ ایک فریق تالاب کے ایک طرف بیٹھ گیا اَور دُوسرا دُوسری طرف۔
2SA 2:14 تَب ابنیرؔ نے یُوآبؔ سے کہا، ”کہ آؤ ہم چند جَوانوں کو چُن لیں جو ہمارے سامنے ایک دُوسرے سے لڑیں۔“ یُوآبؔ نے کہا، ”کہ ٹھیک ہے۔ اُنہیں اَیسا ہی کرنے دو۔“
2SA 2:15 پس وہ جَوان کھڑے ہو گئے اَور اُن کی گِنتی کی گئی تو بَارہ آدمی بِنیامین اَور اِشبوستؔ بِن شاؤل کی طرف سے اَور بَارہ آدمی داویؔد کی طرف سے تھے۔
2SA 2:16 تَب ہر ایک آدمی نے اَپنے اَپنے مُخالف کو سَر سے پکڑکر اَپنی تلوار اُس کے پہلو میں گھونپ دی اَور وہ ایک ساتھ گِر پڑے۔ اِس لیٔے گِبعونؔ میں اُس جگہ کو حِلقتؔ ہصّورِیمؔ کا نام دیا گیا۔
2SA 2:17 اَور اُس دِن بڑی سخت لڑائی ہُوئی جِس میں ابنیرؔ اَور اِسرائیل کے آدمیوں نے داویؔد کے آدمیوں سے شِکست کھائی۔
2SA 2:18 اَور ضرویاہؔ کے تینوں بیٹے یُوآبؔ، ابیشائی اَور عساہیلؔ وہاں مَوجُود تھے۔ عساہیلؔ جنگلی ہِرن کی مانند سُبک پا تھا۔
2SA 2:19 اَور عساہیلؔ نے ابنیرؔ کا پیچھا کیا اَور اُس کا تعاقب کرتے ہُوئے داہنے یا بائیں ہاتھ نہ مُڑا۔
2SA 2:20 تَب ابنیرؔ نے اَپنے پیچھے کی طرف دیکھ کر، ”پُوچھا کہ اَے عساہیلؔ! کیا تُم ہو؟“ اُس نے جَواب دیا، ”ہاں۔“
2SA 2:21 تَب ابنیرؔ نے اُس سے کہا، ”کہ داہنے یا بائیں، ایک طرف مُڑ جا اَور جَوانوں میں سے کسی کو پکڑکر اُس کے ہتھیار چھین لے۔“ لیکن عساہیلؔ نے اُس کا تعاقب کرنا نہ چھوڑا۔
2SA 2:22 ابنیرؔ نے عساہیلؔ کو پھر مُتنبّہ کیا کہ، ”میرا پیچھا کرنا بند کر! اگر مَیں تُجھے مار گراؤں گا تو پھر تیرے بھایٔی یُوآبؔ کو کیا مُنہ دِکھا سکوں گا؟“
2SA 2:23 لیکن عساہیلؔ تعاقب سے باز نہ آیا۔ تَب ابنیرؔ نے اَپنے نیزے کا بٹ اُس کے پیٹ میں گھونپ دیا اَور وہ اُس کی پیٹھ کے آرپار نکل گیا۔ چنانچہ وہ گرا اَور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ اَورجو آدمی اُس جگہ آیا جہاں عساہیلؔ گرا اَور مَرا تھا وہ وہیں رُک گیا۔
2SA 2:24 لیکن یُوآبؔ اَور ابیشائی نے ابنیرؔ کا تعاقب کیا اَور جَب سُورج غروب ہو رہاتھا تو وہ کوہِ امّہؔ کے پاس پہُنچے جو گیاحؔ کے قریب گِبعونؔ کی بنجر زمین کی راہ پر ہے۔
2SA 2:25 اَور بِنیامین کے لوگ ایک بار پھر ابنیرؔ کے پیچھے جمع ہو گئے اَور اُنہُوں نے ایک دستہ کی صورت میں ایک پہاڑی کی چوٹی پر اَپنا مورچہ قائِم کر لیا۔
2SA 2:26 تَب ابنیرؔ نے یُوآبؔ کو پُکار کر کہا، ”کیا یہ ضروُری ہے کہ تلوار اَبد تک ہلاک کرتی رہے؟ کیا تُم نہیں جانتے کہ اِس کا اَنجام کس قدر تلخ ہوگا؟ تُم اَپنے آدمیوں کو کب حُکم دوگے کہ اَپنے بھائیوں کا تعاقب کرنے سے باز آئیں؟“
2SA 2:27 یُوآبؔ نے جَواب دیا، ”زندہ خُدا کی قَسم، اگر تُم زبان نہ کھولتے تو یہ آدمی صُبح تک اَپنے بھائیوں کا تعاقب جاری رکھتے۔“
2SA 2:28 لہٰذا یُوآبؔ نے نرسنگا پھُونکا اَور سَب آدمی رُک گیٔے اَور پھر اُنہُوں نے اِسرائیل کا تعاقب نہ کیا اَور نہ اُن سے لڑے۔
2SA 2:29 ابنیرؔ اَور اُس کے آدمی ساری رات عراباہؔ کے میدان میں چلتے رہے اَور دریائے یردنؔ کو پار کرکے بِترونؔ سے گزرتے ہُوئے محنایِمؔ کو آئے۔
2SA 2:30 اَور یُوآبؔ نے ابنیرؔ کے تعاقب سے لَوٹ کر اَپنے تمام آدمیوں کو جمع کیا تو عساہیلؔ کے علاوہ داویؔد کے اُنّیس آدمی غائب تھے۔
2SA 2:31 لیکن داویؔد کے آدمیوں نے بنی بِنیامین کے تین سَوساٹھ آدمیوں کو جو ابنیرؔ کے ساتھ تھے مار گرایا۔
2SA 2:32 اُنہُوں نے عساہیلؔ کو اُٹھاکر بیت لحمؔ میں اُس کے باپ کی قبر میں دفن کر دیا اَور یُوآبؔ اَور اُس کے آدمی رات بھرکے سفر کے بعد صُبح سویرے حِبرونؔ جا پہُنچے۔
2SA 3:1 شاؤل اَور داویؔد کے گھرانوں کے مابین طویل عرصہ تک جنگ جاری رہی۔ داویؔد قوی سے قوی تر اَور شاؤل کا خاندان کمزور سے کمزور تر ہوتا گیا۔
2SA 3:2 اَور حِبرونؔ میں داویؔد کے یہاں بیٹے پیدا ہُوئے۔ اُس کا پہلوٹھا امنُونؔ تھا جو یزرعیلی احِینوعمؔ کے بطن سے تھا۔
2SA 3:3 اُس کا دُوسرا بیٹا کِلیابؔ تھا جو کرمِلی نابالؔ کی بِیوہ ابیگیلؔ کے بطن سے تھا۔ تیسرا اَبشالومؔ تھا جو گیشُور کے بادشاہ تلمی کی بیٹی معکہؔ کے بطن سے تھا۔
2SA 3:4 چوتھا ادُونیّاہؔ تھا جو حگِیّت کے بطن سے تھا۔ پانچواں شفطیاہؔ تھا جو ابیطالؔ کے بطن سے تھا
2SA 3:5 اَور چھٹا اِترِعامؔ تھا جو داویؔد کی بیوی عِگلاہؔ کے بطن سے تھا۔
2SA 3:6 شاؤل اَور داویؔد کے گھرانوں کی جنگ کے دَوران ابنیرؔ نے شاؤل کے گھرانے میں اَپنے آپ کو خُوب طاقتور بنا لیا تھا۔
2SA 3:7 اَور شاؤل کی ایک داشتہ تھی جِس کا نام رِصفاہؔ تھا اَورجو ایّہؔ کی بیٹی تھی۔ اَور اِشبوستؔ نے ابنیرؔ سے کہا، ”تُم میرے باپ کی داشتہ کے پاس کیوں گئے؟“
2SA 3:8 اِشبوستؔ کی اِس بات پر ابنیرؔ بہت غُصّہ ہُوا اَور کہنے لگاکہ، ”کیا میں یہُوداہؔ کے کسی کُتّے کا سَر ہُوں؟ آج کے دِن تک مَیں تمہارے باپ شاؤل کے گھرانے، اُس کے کُنبہ اَور دوستوں کا وفادار رہا ہُوں اَور مَیں نے تُجھے داویؔد کے حوالہ نہیں کیا۔ پھر بھی اَب تُم مُجھ پر اِس عورت سے بدکاری کرنے کا اِلزام لگاتے ہو؟
2SA 3:9 خُدا ابنیرؔ کے ساتھ وَیسا ہی بَلکہ اُس سے بھی زِیادہ کریں اگر مَیں داویؔد سے وُہی سلُوک نہ کروں جِس کی یَاہوِہ نے قَسم کھا کر اُس سے وعدہ کیا تھا۔“
2SA 3:10 یعنی یہ کہ بادشاہی شاؤل کے گھرانے سے مُنتقل کرکے داویؔد کے تخت کو اِسرائیل اَور یہُوداہؔ پر دانؔ سے بیرشبعؔ تک قائِم کروں۔
2SA 3:11 اَور اِشبوستؔ نے ابنیرؔ کو کویٔی اَور لفظ کہنے کی جُرأت نہ کی کیونکہ وہ اُس سے ڈرتا تھا۔
2SA 3:12 پھر ابنیرؔ نے اَپنی طرف سے داویؔد کو یہ کہنے کے لیٔے قاصِد بھیجے کہ، ”یہ مُلک کس کا ہے؟ میرے ساتھ عہد کر لے اَور مَیں تمام اِسرائیل کو تمہاری طرف مائل کرنے کے لیٔے تمہاری مدد کروں گا۔“
2SA 3:13 داویؔد نے کہا، اَچھّا، مَیں تمہارے ساتھ عہد کروں گا لیکن مَیں تُجھ سے ایک بات کا مطالبہ کرتا ہُوں کہ جَب تُو مُجھے مِلنے کو آئے تو شاؤل کی بیٹی میکلؔ کو اَپنے ساتھ لے کر آنا ورنہ میرے سامنے مت آنا۔
2SA 3:14 تَب داویؔد نے شاؤل کے بیٹے اِشبوستؔ کے پاس یہ مطالبہ کرتے ہُوئے قاصِد بھیجے، ”کہ میری بیوی میکلؔ جِس کو مَیں نے فلسطینیوں کی سَو کھلڑیاں دے کر بیاہا تھا میرے حوالہ کر دیں۔“
2SA 3:15 لہٰذا اِشبوستؔ نے حُکم دیا اَور اُسے اُس کے خَاوند پَلطیؔ ايلؔ بِن لائش سے چھین لیا
2SA 3:16 تاہم اُس کا خَاوند بحوریمؔ تک راستہ بھر اُس کے پیچھے پیچھے روتا ہُوا اُس کے ساتھ گیا۔ ابنیرؔ نے اُس سے کہا، ”واپس گھر چلا جا۔“ پس وہ واپس چلا گیا۔
2SA 3:17 اَور ابنیرؔ نے اِسرائیل کے بُزرگوں سے صلاح مشورہ کیا اَور کہا، ”کچھ عرصہ ہُوا، تُم داویؔد کو اَپنا بادشاہ بنانا چاہتے تھے۔
2SA 3:18 اَب بنالو کیونکہ یَاہوِہ کا داویؔد سے وعدہ ہے، ’میں اَپنے خادِم داویؔد کے ذریعہ سے اَپنی قوم اِسرائیل کو فلسطینیوں اَور اُن کے تمام دُشمنوں کے ہاتھ سے چھُڑاؤں گا۔‘ “
2SA 3:19 اَور ابنیرؔ نے بنی بِنیامین سے بھی بذاتِ خُود باتیں کیں اَور ابنیرؔ وہ سَب باتیں جو اِسرائیل اَور بِنیامین کے گھرانے کے لوگ کرنا چاہتے تھے داویؔد کو بتانے کے لیٔے حِبرونؔ گئے۔
2SA 3:20 جَب ابنیرؔ جِس کے ہمراہ بیس آدمی تھے حِبرونؔ میں داویؔد کے پاس آیا، تو داویؔد نے اُس کے اَور اُس کے آدمیوں کے لیٔے ضیافت کی۔
2SA 3:21 ابنیرؔ نے داویؔد سے کہا، ”مُجھے اِجازت دو کہ فوراً جاؤں اَور اَپنے آقا بادشاہ کے لیٔے تمام اِسرائیل کو جمع کروں تاکہ وہ آپ کے ساتھ عہدوپیمان کرو اَور تُم اُن سَب پر اَپنی دِلی مرضی کے مُطابق حُکمرانی کرو۔“ چنانچہ داویؔد نے ابنیرؔ کو رخصت کیا اَور وہ سلامت چلا گیا۔
2SA 3:22 عَین اُسی وقت داویؔد کے آدمی اَور یُوآبؔ کِسی دھاوے سے لُوٹ کا بہت سا مال اَپنے ساتھ لے کر آئےتھے۔ لیکن ابنیرؔ داویؔد کے ساتھ حِبرونؔ میں نہ تھا کیونکہ داویؔد نے اُسے رخصت کر دیا تھا اَور وہ سلامت چلا گیا تھا۔
2SA 3:23 اَور جَب یُوآبؔ اَور لشکر کے سَب لوگ اُس کے ہمراہ وہاں پہُنچے تو اُسے بتایا گیا کہ ابنیرؔ بِن نیرؔ بادشاہ کے پاس آیاتھا اَور بادشاہ نے اُسے رخصت کر دیا اَور وہ سلامت چلا گیا۔
2SA 3:24 لہٰذا یُوآبؔ بادشاہ کے پاس گیا اَور کہنے لگاکہ، ”آپ نے کیا کیا؟ دیکھو، ابنیرؔ تمہارے پاس آیاتھا۔ لیکن تُم نے اُسے جانے کیوں دیا؟ اَب تو وہ چلا گیا ہے!
2SA 3:25 کیا آپ نہیں جانتے کہ ابنیرؔ بِن نیرؔ آپ کو دھوکا دینے اَور آپ کی آمدورفت پر نظر رکھنے اَورجو کچھ بھی آپ کر رہے ہو اُس کا بھید لینے آیاتھا۔“
2SA 3:26 پھر یُوآبؔ داویؔد کے پاس سے چلا گیا اَور اُس نے ابنیرؔ کے پیچھے قاصِد بھیجے اَور وہ اُسے سیرہؔ کے کنوئیں سے اَپنے ساتھ لے کر واپس آ گئے۔ لیکن داویؔد کو اِس کا علم نہ ہُوا۔
2SA 3:27 اَور ابنیرؔ کے حِبرونؔ لَوٹ آنے پر یُوآبؔ اُسے الگ پھاٹک کے اَندر لے گیا گویا اُس سے کویٔی راز کی بات کرنا چاہتاہے اَور وہاں اُس نے اَپنے بھایٔی عساہیلؔ کے خُون کا بدلہ لینے کے لیٔے ابنیرؔ کے پیٹ میں چھُرا گھونپ دیا اَور وہ مَر گیا۔
2SA 3:28 بعد میں جَب داویؔد نے اُس کے متعلّق سُنا تو اُس نے کہا، ”مَیں اَور میری بادشاہی یَاہوِہ کے حُضُور میں ہمیشہ تک ابنیرؔ بِن نیرؔ کے خُون سے پاک ہے۔
2SA 3:29 وہ یُوآبؔ اَور اُس کے باپ کے سارے گھرانے کے سَر لگے اَور یُوآبؔ کے گھرانے میں کویٔی نہ کویٔی اَیسا ضروُر مَوجُود رہے جسے جریان کا مرض ہو یا جو کوڑھی ہو یا بیساکھی کے سہارے چلے یا تلوار سے مَرے یا ٹکڑے ٹکڑے کا مُحتاج ہو۔“
2SA 3:30 (یُوآبؔ اَور اُس کے بھایٔی ابیشائی نے ابنیرؔ کو قتل کر دیا کیونکہ اُس نے اُن کے بھایٔی عساہیلؔ کو گِبعونؔ کی جنگ میں مار دیا تھا۔)
2SA 3:31 تَب داویؔد نے یُوآبؔ اَور اُس کے لشکر کے سارے لوگوں سے کہا، ”اَپنے کپڑے پھاڑو اَور ٹاٹ پہنو اَور صُبح کو ابنیرؔ کے آگے ماتم کرتے ہُوئے چلو۔“ اَور داویؔد بادشاہ خُود بھی تابُوت کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔
2SA 3:32 اُنہُوں نے ابنیرؔ کو حِبرونؔ میں دفن کیا اَور بادشاہ ابنیرؔ کی قبر پر چِلّا چِلّاکر رُویا اَور سَب لوگ بھی رُوئے۔
2SA 3:33 بادشاہ نے ابنیرؔ پر یہ مرثیہ کہا: ”کیا یہ لازِم تھا کہ ابنیرؔ ایک باغی کی طرح ماراجائے؟
2SA 3:34 نہ تو تمہارے ہاتھ بندھے ہُوئے تھے، اَور نہ تمہارے پاؤں میں بیڑیاں تھیں۔ پر تُم اَیسے مارےگئے، جَیسے کویٔی بدکاروں کے ہاتھوں ماراجائے۔“ اَور لوگوں نے پھر سے رونا شروع کر دیا۔
2SA 3:35 تَب لوگوں نے آکر داویؔد کو ترغِیب دی کہ ابھی دِن ہے تُم کچھ کھالو؛ لیکن داویؔد نے یہ کہتے ہُوئے قَسم کھائی، ”اگر مَیں سُورج کے ڈُوبنے سے پیشتر روٹی یا اَور کچھ چکھوں تو خُدا مُجھ سے اَیسا بَلکہ اِس سے بھی زِیادہ کرے!“
2SA 3:36 اَور تمام لوگوں نے بادشاہ کی بات کو پسند کیا۔ درحقیقت اُس کے علاوہ جو کچھ بھی بادشاہ نے کیا وہ اُس سے خُوش تھے۔
2SA 3:37 اُس دِن تمام لوگوں اَور تمام اِسرائیل کو مَعلُوم ہو گیا کہ ابنیرؔ بِن نیرؔ کے قتل میں بادشاہ کا ہاتھ نہیں تھا۔
2SA 3:38 تَب بادشاہ نے اَپنے لوگوں سے کہا، ”کیا تُمہیں احساس نہیں کہ آج اِسرائیل میں سے ایک شہزادہ اَور ایک عظیم آدمی ہمیشہ کے لیٔے رخصت ہو گیا ہے؟
2SA 3:39 اَور آج اگرچہ میں مَسح کیا ہُوا بادشاہ ہُوں میں کمزور ہُوں اَور ضرویاہؔ کے یہ بیٹے مُجھ سے زِیادہ طاقتور ہیں۔ یَاہوِہ بدکار کو اُس کی بدی کے مُطابق بدلہ دے!“
2SA 4:1 جَب شاؤل کے بیٹے اِشبوستؔ نے سُنا کہ ابنیرؔ حِبرونؔ میں مَر گیا ہے تو وہ پست ہِمّت ہو گیا اَور اِسرائیل کے سارے لوگوں پر خوف طاری ہو گیا۔
2SA 4:2 شاؤل کے بیٹے کے دو آدمی چھاپہ مار دستوں کے سردار تھے۔ ایک کا نام بعناہ اَور دُوسرے کا ریخابؔ تھا اَور وہ رِمّونؔ بیروتی کے بیٹے تھے جو بِنیامین کے قبیلہ سے تھا۔ بیروت بِنیامین کا حِصّہ سمجھا جاتا ہے۔
2SA 4:3 کیونکہ بیروت کے لوگ گِتَّئیم کو بھاگ گیٔے تھے اَور آج تک وہاں پردیسی کی طرح مُقیم ہیں۔
2SA 4:4 (یُوناتانؔ بِن شاؤل کا ایک بیٹا تھا جو دونوں ٹانگوں سے لنگڑا تھا اَور جَب یزرعیلؔ کی طرف سے شاؤل اَور یُوناتانؔ کے متعلّق خبر مِلی تو وہ پانچ سال کا تھا۔ اُس کی دایہ اُسے جلدی سے اُٹھاکر بھاگی اَور گھبراہٹ میں وہ اُس کی گود سے گِر گیا اَور لنگڑا ہو گیا۔ اُس کا نام مفِیبوستؔ تھا)۔
2SA 4:5 رِمّونؔ بیروتی کے بیٹے ریخابؔ اَور بعناہ اِشبوستؔ کے گھر جانے کے لیٔے روانہ ہُوئے اَور شِدّت کی دھوپ میں وہاں پہُنچے۔ وہ دوپہر کو وہاں آرام کر رہاتھا۔
2SA 4:6 اَور وہ گیہُوں لینے کے بہانے گھر کے اَندرونی حِصّہ میں گھُسے اَور اُنہُوں نے اُس کے پیٹ میں چھُرا گھونپ دیا اَور پھر ریخابؔ اَور اُس کا بھایٔی بعناہ چُپکے سے باہر نکل گیٔے۔
2SA 4:7 وہ اُس گھر میں اُس وقت داخل ہُوئے جَب اِشبوستؔ اَپنی خواب گاہ میں بِستر پر سو رہاتھا۔ اُنہُوں نے اُسے چھُرا گھونپ کر مار ڈالا اَور اُس کا سَر کاٹ لیا۔ اَور اِشبوستؔ کے سَر اَپنے ساتھ لے کر رات بھر عراباہؔ کے میدان کی راہ سے سفر کیا۔
2SA 4:8 وہ اِشبوستؔ کے سَر کو حِبرونؔ میں داویؔد کے پاس لایٔے اَور بادشاہ سے کہنے لگے کہ، ”یہ ہے تمہارے دُشمن شاؤل کے بیٹے اِشبوستؔ کا سَر جِس نے تمہاری جان لینے کی کوشش کی۔ آج یَاہوِہ نے میرے آقا بادشاہ کا اِنتقام شاؤل اَور اُس کی نَسل سے لے لیا ہے۔“
2SA 4:9 داویؔد نے ریخابؔ اَور اُس کے بھایٔی بعناہ کو جو رِمّونؔ بیروتی کے بیٹے تھے جَواب دیا، ”کہ یَاہوِہ کی حیات کی قَسم جِس نے مُجھے ہر مُصیبت سے رِہائی دی ہے۔
2SA 4:10 ایک آدمی نے آکر مُجھے یہ بتایا، ’شاؤل مَر گیا ہے،‘ تو مَیں نے صِقلاگ میں اُسے پکڑکر قتل کر دیا۔ اُس نے سوچا کہ وہ میرے لیٔے اَچھّی خبر لا رہاہے۔ لیکن یہ تھا وہ اِنعام جو مَیں نے اُسے اُس کی خبر کے بدلہ میں دیا۔
2SA 4:11 پس جَب بدکار لوگوں نے ایک بےگُناہ آدمی کو اُسی کے گھر میں اُس کے بِستر پر قتل کیا ہے تو مُجھ پر کس قدر زِیادہ واجِب ہے کہ اُس کے خُون کا بدلہ تُم سے لُوں اَور زمین کو تمہارے وُجُود سے پاک کر دُوں۔“
2SA 4:12 لہٰذا داویؔد نے اَپنے آدمیوں کو اُن کے قتل کا حُکم دیا اَور وہ قتل کر دئیے گیٔے اَور اُنہُوں نے اُن کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اُن کی لاشوں کو حِبرونؔ میں تالاب کے پاس لٹکا دیا۔ لیکن اُنہُوں نے اِشبوستؔ کا سَر لے لیا اَور اُسے حِبرونؔ میں ابنیرؔ کی قبر میں دفن کر دیا۔
2SA 5:1 تَب اِسرائیل کے سَب قبیلے حِبرونؔ میں داویؔد کے پاس آئے اَور کہنے لگے، ”کہ ہم تمہارا اَپنا ہی گوشت اَور خُون ہیں۔
2SA 5:2 کچھ عرصہ پہلے جَب شاؤل ہمارا بادشاہ تھا تو تُم ہی تو تھے جو اِسرائیلیوں کی فَوجی مہموں میں اُن کی قیادت کیا کرتے تھے۔ اَور یَاہوِہ نے تُمہیں فرمایا، ’تُم میری قوم اِسرائیل کی گلّہ بانی کروگے اَور تُم اُن کے حُکمران بَن جاؤگے۔‘ “
2SA 5:3 جَب اِسرائیل کے سَب بُزرگ حِبرونؔ میں داویؔد بادشاہ کے پاس آئے تو بادشاہ نے اُن کے ساتھ حِبرونؔ میں یَاہوِہ کے حُضُور عہد کیا اَور اُنہُوں نے داویؔد کو مَسح کرکے اِسرائیل کا بادشاہ بنایا۔
2SA 5:4 جَب داویؔد بادشاہ بنے تو وہ تیس سال کے تھے اَور اُنہُوں نے چالیس سال حُکمرانی کی۔
2SA 5:5 اُنہُوں نے حِبرونؔ میں یہُوداہؔ پر سات سال چھ مہینے اَور یروشلیمؔ میں تمام اِسرائیل اَور یہُوداہؔ پر تینتیس سال حُکمرانی کی۔
2SA 5:6 پھر بادشاہ اَور اُن کے آدمی یروشلیمؔ پر چڑھائی کرنے گیٔے جہاں یبُوسی رہتے تھے۔ یبُوسیوں نے داویؔد سے کہا، ”آپ شہر میں داخل نہ ہو سکیں گے کیونکہ آپ کو تو اَندھے اَور لنگڑے بھی روک سکتے ہیں۔“ وہ سوچتے تھے، ”داویؔد کا شہر میں داخل ہونا غَیر ممکن ہے۔“
2SA 5:7 تاہم داویؔد نے صِیّونؔ کے قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ اُسے اَب داویؔد کا شہر کہتے ہیں۔
2SA 5:8 اُس دِن داویؔد نے کہا، ”جو کویٔی بھی یبُوسیوں کو مغلُوب کرےگا اُسے داویؔد کے دُشمنوں یعنی لنگڑوں اَور اَندھوں تک پہُنچنے کے لیٔے نالے کو اِستعمال کرنا پڑےگا۔“ اِسی لیٔے ”یہ کہاوت مشہُور ہو گئی کہ اَندھوں اَور لنگڑوں کا محل میں کیا کام؟“
2SA 5:9 پھر داویؔد اُس قلعہ میں رہنے لگے اَور اُنہُوں نے اُس کا نام داویؔد کا شہر رکھا۔ اُنہُوں نے اُس کے اِردگرد کے خِطّہ کو مِلّوؔ سے لے کر اَندرونی جانِب تک مضبُوطی سے تعمیر کیا۔
2SA 5:10 اَور داویؔد زِیادہ سے زِیادہ طاقتور ہوتا گیا کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ خُدا اُس کے ساتھ تھے۔
2SA 5:11 اَور شاہِ صُورؔ حِیرامؔ نے قاصِدوں کو دیودار کی لکڑی، بڑھئی اَور مِعمار دے کر داویؔد کے پاس بھیجا اَور اُنہُوں نے داویؔد کے لیٔے ایک محل بنایا۔
2SA 5:12 اَور داویؔد کو مَعلُوم ہو گیا کہ یَاہوِہ نے اُسے اِسرائیل کے بادشاہ کے طور پر قِیام بخشا ہے اَور اَپنی قوم اِسرائیل کی خاطِر اُس کی بادشاہی کو بڑا ممتاز کیا ہے۔
2SA 5:13 حِبرونؔ سے چلے آنے کے بعد داویؔد نے یروشلیمؔ میں اَپنے حرم میں کیٔی داشتائیں اَور بیویاں داخل کرلی اُن کے یہاں کیٔی بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
2SA 5:14 اَور وہاں یروشلیمؔ میں اُس کے یہاں جو بچّے پیدا ہُوئے اُن کے نام یہ ہیں: شَمّوعؔ، شوبابؔ، ناتنؔ اَور شُلومونؔ،
2SA 5:15 اِبحارؔ، الِیشُوعؔ، نِفیگ، یافیعؔ،
2SA 5:16 اِلیشمعؔ، الیدعؔ اَور الیفلطؔ۔
2SA 5:17 جَب فلسطینیوں نے سُنا کہ داویؔد کو مَسح کرکے اِسرائیل کا بادشاہ بنایا گیا ہے تو وہ سَب لشکر کے ساتھ اِکٹھّے ہوکر اُسے تلاش کرنے نکل پڑے لیکن داویؔد یہ خبر سُن کر قلعہ میں چلا گیا۔
2SA 5:18 اَور فلسطینی آئے اَور رفائیمؔ کی وادی میں پھیل گیٔے۔
2SA 5:19 لہٰذا داویؔد نے یَاہوِہ سے پُوچھا، ”کیا میں جا کر فلسطینیوں پر حملہ کر دُوں؟ کیا آپ اُنہیں میرے حوالے کر دیں گے؟“ یَاہوِہ نے داویؔد کو جَواب دیا، ”جاؤ، مَیں ضروُر فلسطینیوں کو تمہارے حوالے کر دُوں گا۔“
2SA 5:20 لہٰذا داویؔد بَعل پراضیمؔ کو گئے اَور وہاں اُس نے اُنہیں شِکست دی۔ اُس نے کہا، ”جَیسے اَچانک سیلاب کا پانی پھوٹ کر بہہ نکلتا ہے وَیسے ہی یَاہوِہ نے میرے دُشمنوں کو میرے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔“ اِس لیٔے وہ جگہ بَعل پراضیمؔ کہلائی۔
2SA 5:21 فلسطینی اَپنے بُتوں کو وہاں چھوڑ گیٔے اَور داویؔد اَور اُس کے آدمی اُنہیں اُٹھاکر لے گیٔے۔
2SA 5:22 فلسطینی ایک دفعہ پھر آئے اَور وادی رفائیمؔ میں پھیل گیٔے۔
2SA 5:23 لہٰذا داویؔد نے یَاہوِہ سے ہدایت چاہی تو یَاہوِہ نے اُسے جَواب دیا، ”سیدھے جا کر حملہ کرنے کے بجائے اُنہیں پیچھے سے گھیر لینا اَور بید کے درختوں کے سامنے سے اُن پر حملہ کرنا۔
2SA 5:24 اَور جُوں ہی تُم بید کے درختوں کی پھُنگیوں میں قدموں کی آواز سُنو تو جلدی سے حرکت میں آجانا تاکہ وہ سمجھ لیں کہ یَاہوِہ فلسطینیوں کی فَوج کو مارنے کے لیٔے تمہارے آگے گئے ہیں۔“
2SA 5:25 لہٰذا داویؔد نے وَیسا ہی کیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے اُسے حُکم دیا تھا اَور وہ فلسطینیوں کو گِبعؔ سے لے کر گِزرؔ تک مارتا چلا گیا۔
2SA 6:1 داویؔد نے اِسرائیل میں سے آدمیوں کو چُن کر جمع کیا جو تعداد میں تیس ہزار تھے۔
2SA 6:2 اَور داویؔد اَپنے سارے آدمیوں کے ساتھ یہُوداہؔ کے بعلہؔ کو روانہ ہُوا تاکہ خُدا کے صندُوق کو لے آئے جو اُس کے نام یعنی قادرمُطلق یَاہوِہ کے نام سے کہلاتا ہے اَورجو اُن کروبیوں کے درمیان تخت نشین ہے جو صندُوق پر ہیں۔
2SA 6:3 اِس لئے اُنہُوں نے خُدا کے صندُوق کو ایک نئی گاڑی پر رکھا اَور اُسے ابینادابؔ کے گھر سے لے آئے جو پہاڑی پر تھا۔ ابینادابؔ کے بیٹے عُزّاہ اَور اخیوؔ اُس نئی گاڑی کو ہانک رہے تھے
2SA 6:4 جِس پر خُدا کا صندُوق تھا اَور اخیوؔ ابینادابؔ کے آگے آگے چل رہاتھا۔
2SA 6:5 اَور داویؔد اَور تمام بنی اِسرائیل کا گھرانا اَپنی ساری قُوّت کے ساتھ یَاہوِہ کے آگے صنوبر کی لکڑی سے بنے ہر قِسم کے ساز سِتار، بربط، دف، خنجری اَور جھانجھ اَیسے سازوں کو بجاتے ہُوئے خُوشی منا رہے تھے۔
2SA 6:6 اَور جَب وہ نکونؔ کے کھلیان کو آئے بَیلوں نے ٹھوکر کھائی اَور خُدا کا صندُوق گرنے پر تھا اَور عُزّاہ نے آگے بڑھ کر خُدا کے صندُوق کو سنبھال لیا۔
2SA 6:7 اُس نے صندُوق کو ہاتھ لگا کر غلطی کی تھی اِس لیٔے یَاہوِہ کا قہر عُزّاہ پر بھڑکا اَور وہ وہیں خُدا کے صندُوق کے پاس مَر گیا۔
2SA 6:8 داویؔد اِس بات سے بڑا غمگین ہُوا کیونکہ یَاہوِہ کا قہر عُزّاہ کے خِلاف بھڑکا تھا لہٰذا وہ جگہ آج تک پیریزؔ عُزّاہ کہلاتی ہے۔
2SA 6:9 اُس دِن داویؔد یَاہوِہ سے ڈر گیا اَور کہنے لگاکہ، ”یَاہوِہ کا صندُوق میرے یہاں کیسے آسکتا ہے؟“
2SA 6:10 لہٰذا اُس نے نہ چاہا کہ یَاہوِہ کے صندُوق کو داویؔد کے شہر میں اَپنے پاس لے جائے اَور وہ اُسے گِتّی عوبیدؔ اِدُوم کے گھر لے گیا۔
2SA 6:11 اَور یَاہوِہ کا صندُوق تین مہینے تک عوبیدؔ اِدُوم گِتّی کے گھر میں رہا اَور یَاہوِہ نے اُسے اَور اُس کے سارے گھرانے کو برکت بخشی۔
2SA 6:12 اَور جَب داویؔد بادشاہ کو بتایا گیا، ”خُدا کے صندُوق کی وجہ سے یَاہوِہ نے عوبیدؔ اِدُوم کے گھرانے کو اَور اُس کی ہر چیز کو برکت بخشی ہے تو داویؔد گیا۔“ اَور خُدا کے صندُوق کو عوبیدؔ اِدُوم کے گھر سے داویؔد کے شہر میں خُوشی خُوشی لے آئے۔
2SA 6:13 جَب یَاہوِہ کے صندُوق کو اُٹھاکر لے جانے والے چھ قدم چل چُکے تو داویؔد نے ایک بَیل اَور ایک فربہ بچھڑا قُربان کیا۔
2SA 6:14 اَور داویؔد جو کتان کا افُود پہنے ہُوئے تھا پُورے جوش کے ساتھ یَاہوِہ کے حُضُور رقص کرنے لگا۔
2SA 6:15 اِس طرح داویؔد اَور اِسرائیل کے سارے لوگ نعرے لگاتے ہُوئے اَور نرسنگے پھُونکتے ہُوئے یَاہوِہ کے صندُوق کو لے کر آئے۔
2SA 6:16 اَور جَب یَاہوِہ کا صندُوق داویؔد کے شہر میں داخل ہو رہاتھا تو شاؤل کی بیٹی میکلؔ نے ایک کھڑکی سے جھانکا۔ اَور جَب اُس نے داویؔد بادشاہ کو یَاہوِہ کے سامنے اُچھلتے اَور رقص کرتے دیکھا تو اُس کے دِل میں داویؔد کے لیٔے حقارت پیدا ہو گئی۔
2SA 6:17 اُنہُوں نے یَاہوِہ کے صندُوق کو لاکر اُس کی جگہ پر خیمہ میں رکھ دیا جو داویؔد نے اُس کے لیٔے کھڑا کیا تھا۔ اَور داویؔد نے یَاہوِہ کے آگے سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں چڑھائیں۔
2SA 6:18 اَور جَب داویؔد سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں چڑھا چُکے تو اُنہُوں نے قادرمُطلق یَاہوِہ کے نام سے لوگوں کو برکت دی۔
2SA 6:19 پھر اُس نے سارے بنی اِسرائیل کے ہُجوم کو یعنی مَردوں اَور عورتوں کو ایک ایک روٹی، ایک ایک کھجور کی ٹکیا اَور ایک ایک کشمش کی ٹکیا دی۔ پھر سَب لوگ اَپنے اَپنے گھر چلے گیٔے۔
2SA 6:20 جَب داویؔد اَپنے گھرانے کو برکت دینے کے لیٔے گھر لَوٹا تو شاؤل کی بیٹی، میکلؔ اُس کا اِستِقبال کرنے باہر آئی اَور کہنے لگی واہ، ”آج شاہِ اِسرائیل نے اَپنے خادِموں کی لونڈیوں کے سامنے اَپنے آپ کو ایک ادنیٰ آدمی کی طرح ننگا کرکے اَپنے مرتبہ کو کیسی اَذیّت دی ہے!“
2SA 6:21 داویؔد نے میکلؔ سے کہا، ”یہ تو یَاہوِہ کے حُضُور میں تھا جِس نے تیرے باپ اَور اُس کے گھرانے کے کسی فرد کی بجائے مُجھے چُنا تاکہ اَپنی قوم اِسرائیل کا حُکمران بنائے۔ لہٰذا میں یَاہوِہ کے آگے رقص کروں گا۔
2SA 6:22 بَلکہ میں اِس سے بھی زِیادہ نیچا ہوکر اَپنی ہی نظر میں ذلیل ہُوں گا۔ لیکن جِن لونڈیوں کا تُم نے ذِکر کیا ہے وُہی میری عزّت کریں گی۔“
2SA 6:23 اَور شاؤل کی بیٹی میکلؔ اَپنی موت کے دِن تک بے اَولاد رہی۔
2SA 7:1 بعدازاں جَب بادشاہ اَپنے محل میں رہنے لگا اَور یَاہوِہ نے اُسے اُس کے چاروں طرف کے دُشمنوں سے آرام بخشا
2SA 7:2 تو بادشاہ نے ناتنؔ نبی سے کہا، ”اِدھر مَیں ہُوں جو دیودار کی لکڑی کے محل میں رہتا ہُوں اَور اُدھر خُدا کا صندُوق ہے جو خیمہ میں رکھا گیا ہے۔“
2SA 7:3 ناتنؔ نے بادشاہ کو جَواب دیا، ”جو کچھ آپ کے جی میں ہے اُسے اَنجام دیں کیونکہ یَاہوِہ آپ کے ساتھ ہیں۔“
2SA 7:4 اُسی رات یَاہوِہ کا کلام ناتنؔ کو پہُنچا:
2SA 7:5 ”جاؤ اَور میرے خادِم داویؔد کو بتاؤ، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: کیا تُم میرے رہنے کے لیٔے ایک گھر بناؤگے؟
2SA 7:6 جَب مَیں اِسرائیلیوں کو مِصر سے نکال کر لایا اُس دِن سے لے کر آج تک میں کسی گھر میں نہیں رہا بَلکہ خیمہ کو اَپنا قِیام بنا کر جابجا گھُومتا رہا ہُوں۔
2SA 7:7 جہاں کہیں مَیں تمام بنی اِسرائیل کے ساتھ گیا کیا مَیں نے اُن کے اُن حُکمرانوں میں سے جِن کو مَیں نے اَپنی قوم اِسرائیل کی گلّہ بانی کرنے کا حُکم دیا تھا مَیں نے اُن میں سے کسی سے بھی کبھی کہا، ”تُم نے میرے لیٔے دیودار کی لکڑی کا گھر کیوں نہیں بنایا؟“ ‘
2SA 7:8 ”پس تُم میرے خادِم داویؔد کو بتاؤ، ’قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، مَیں نے تُمہیں چراگاہ میں سے جَب تُم بھیڑ بکریوں کے پیچھے پیچھے چلتے تھے تاکہ تُم میری قوم اِسرائیل کے حُکمران ہو۔
2SA 7:9 جہاں کہیں تُم گئے مَیں تمہارے ساتھ رہا اَور مَیں نے تمہارے سارے دُشمنوں کو تمہارے سامنے سے فنا کر دیا۔ اَب مَیں تمہارے نام کو رُوئے زمین کے عظیم آدمیوں کے بڑے ناموں کی مانند عظمت بخشوں گا۔
2SA 7:10 اَور مَیں اَپنی قوم اِسرائیل کو ایک اَیسی سرزمین میں قائِم کروں گا جو اُن کا وطن ہوگا اَور اُنہیں وہاں سے کبھی نہ ہٹایا جا سکےگا۔ اَور بدکار لوگ اُنہیں دُکھ نہ دے سکیں گے جَیسا کہ وہ پہلے کیا کرتے تھے۔
2SA 7:11 اَور جَیسا کہ وہ اُس وقت سے کرتے آ رہے ہیں جَب مَیں نے اَپنی قوم اِسرائیل پر قاضی مُقرّر کرنے کا حُکم دیا تھا اَور تُمہیں تمہارے سَب دُشمنوں سے سکون بھی بخشوں گا۔ ” ’اَور یَاہوِہ تُمہیں فرماتے ہیں کہ یَاہوِہ خُود تمہارے گھرانے کو قائِم رکھیں گے:
2SA 7:12 اَور جَب تیرے دِن پُورے ہو جایٔیں اَور تُو اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو جائے تو مَیں تیرے بعد تیری نَسل کو جو تیرے صُلب سے ہوگی برپا کروں گا اَور اُس کی بادشاہی کو قائِم کروں گا
2SA 7:13 اَور یہی وہ شخص ہوگا جو میرے نام کی حَمد و ثنا کے لیٔے ایک گھر بنائے گا اَور مَیں اُس کی بادشاہی کا تخت ہمیشہ تک قائِم رکھوں گا۔
2SA 7:14 اَور مَیں اُس کا باپ ہوں گا اَور وہ میرا بیٹا ہوگا۔ اَور جَب وہ خطا کرےگا تو مَیں اُسے آدمیوں کے ذریعہ ڈنڈوں اَور کوڑوں سے پِٹواؤں گا۔
2SA 7:15 لیکن جَیسے شاؤل سے میری رحمت جُدا ہو گئی تھی اُس سے میری رحمت کبھی جُدا نہ ہوگی، وُہی شاؤل جسے مَیں نے تیرے راستہ سے ہٹا دیا۔
2SA 7:16 تیرا خاندان اَور تیری بادشاہی میرے حُضُور اَبد تک قائِم رہے گی اَور تیرا تخت اَبد تک قائِم رہے گا۔‘ “
2SA 7:17 چنانچہ ناتنؔ نے یہ ساری باتیں جسے یَاہوِہ نے رُویا میں دِکھایا تھا اُسے داویؔد کو کہہ سُنایٔیں۔
2SA 7:18 تَب داویؔد بادشاہ اَندر گئے اَور یَاہوِہ کے حُضُور بیٹھ کر کہنے لگے: ”اَے یَاہوِہ قادر مَیں کون ہُوں اَور میرا خاندان کیا ہے کہ آپ نے مُجھے یہ مقام عطا کیا؟
2SA 7:19 تو بھی اَے یَاہوِہ قادر آپ کی نظر میں یہ گویا کافی نہ تھا کہ آپ نے اَپنے خادِم کے گھرانے کے مُستقبِل کی خبر بھی دے دی۔ اَے یَاہوِہ قادر کیا آپ اِنسان سے اِسی طرح پیش آتے ہیں؟
2SA 7:20 ”داویؔد آپ سے اِس سے زِیادہ کیا کہہ سَکتا ہے؟ جَب کہ اَے یَاہوِہ قادر آپ اَپنے خادِم کو جانتے ہیں۔
2SA 7:21 آپ نے اَپنے کلام کی خاطِر اَور اَپنی مرضی کے مُطابق یہ عظیم کام کیا ہے اَور اَپنے خادِم کو اِس سے آگاہ کر دیا ہے۔
2SA 7:22 ”اَے یَاہوِہ قادر آپ واقعی کتنے عظیم ہیں! اَور جَیسا کہ ہم نے خُود اَپنے کانوں سے سُنا ہے آپ کی مانند کویٔی نہیں اَور آپ کے سِوا کویٔی خُدا نہیں ہے۔
2SA 7:23 آپ کی قوم اِسرائیل کی مانند کون ہے، یعنی رُوئے زمین پر اَیسی بے نظیر قوم جسے خُدا نے خُود جا کر چھُڑایا تاکہ اُسے اَپنی قوم بنا لے اَور یُوں اَپنے نام کو جلال بخشے اَور اَپنی اُس قوم کے آگے جسے آپ نے مِصر سے نکالا دیگر قوموں اَور اُن کے معبُودوں کو پامال کرکے عظیم اَور مُہیب کارنامے اَنجام دیئے۔
2SA 7:24 آپ نے اَپنی قوم اِسرائیل کو مُقرّر کر دیا کہ وہ ہمیشہ کے لیٔے آپ کی قوم بنی رہے اَور آپ اَے یَاہوِہ اُن کا خُدا ہو گئے۔
2SA 7:25 ”اَور اَب اَے یَاہوِہ خُدا اَپنے اُس وعدہ کو ہمیشہ تک قائِم رکھنا جو آپ نے اَپنے خادِم اَور اُس کے گھرانے کے متعلّق کیا ہے اَور جَیسا آپ نے کہا وَیسا ہی کرنا۔
2SA 7:26 تاکہ ہمیشہ تک آپ کے نام کی عظمت ہو اَور لوگ کہیں، ’قادرمُطلق یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا ہیں!‘ اَور آپ کے خادِم داویؔد کا گھرانا آپ کے حُضُور میں ہمیشہ قائِم رہے!
2SA 7:27 ”اَے قادرمُطلق یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا آپ نے اَپنے خادِم پر ظاہر کیا اَور کہا، ’مَیں تیرے لیٔے ایک خاندان کی بُنیاد رکھوں گا۔‘ لہٰذا آپ کے خادِم کو ہمّت ہُوئی کہ آپ سے یہ دعا کرے۔
2SA 7:28 اَے یَاہوِہ قادر، آپ ہی خُدا ہیں! آپ کا عہد قابلِ اِعتماد ہے اَور آپ نے اَپنے خادِم سے اِن اَچھّی باتوں کا وعدہ کیا ہے۔
2SA 7:29 اَب اَپنے خادِم کے گھرانے کو برکت دینا منظُور فرمائیں تاکہ وہ ہمیشہ آپ کی نظر میں قائِم رہے۔ کیونکہ اَے یَاہوِہ قادر آپ نے فرمایاہے اَور آپ کی برکت سے آپ کے خادِم کا گھرانا اَبد تک مُبارک رہے گا۔“
2SA 8:1 کچھ عرصہ بعد داویؔد نے فلسطینیوں کو شِکست دی اَور اُنہیں مغلُوب کیا اَور خاص شہر میتھیگ امّہؔ کو فلسطینیوں کے ہاتھ سے چھین لیا۔
2SA 8:2 اَور داویؔد نے مُوآبیوں کو بھی شِکست دی۔ اُنہُوں نے اُنہیں زمین پر اُلٹا کر جریبی رسّی سے ناپا اَور رسّی کی ہر دو لمبائیوں تک کے لوگ قتل کر دئیے گیٔے اَور ہر تیسری لمبائی تک کے زندہ رہنے دئیے گیٔے۔ پس مُوآبی داویؔد کے محکُوم ہوکر اُسے خراج دینے لگے۔
2SA 8:3 علاوہ ازیں داویؔد نے ضوباہؔ کے بادشاہ رحوبؔ کے بیٹے ہددعزرؔ کو شِکست دی جَب وہ دریائے فراتؔ پر اَپنی یادگار کو بحال کرنے گیا تھا۔
2SA 8:4 اَور داویؔد کے ایک ہزار رتھ، سات ہزار رتھ بان اَور بیس ہزار پیادہ سپاہی پکڑ لئے۔ اُس نے ایک سَو رتھ کے گھوڑوں کے سِوا باقی سَب کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔
2SA 8:5 اَور جَب دَمشق کے ارامی ضوباہؔ کے بادشاہ ہددعزرؔ کی مدد کو آئے تو داویؔد نے اُن میں سے بائیس ہزار کو قتل کیا۔
2SA 8:6 اَور اُس نے دَمشق کی ارامی بادشاہی میں فَوجی چوکیاں قائِم کر دیں اَور ارامی بھی اُس کے تابع ہوکر خراج دینے لگے۔ اَور جہاں کہیں بھی داویؔد گیا یَاہوِہ نے اُسے فتح بخشی۔
2SA 8:7 داویؔد نے ہددعزرؔ کے فَوجی سرداروں کی سونے کی ڈھالیں لے لیں اَور اُنہیں یروشلیمؔ میں لے آیا۔
2SA 8:8 اَور ہددعزرؔ کے قصبوں طیبحؔ یا بیطح اَور بیروتی سے داویؔد بادشاہ نے کانسے کی بڑی مقدار پر قبضہ کر لیا۔
2SA 8:9 جَب حماتؔ کے بادشاہ تُوعیؔ نے سُنا کہ داویؔد نے ہددعزرؔ کے تمام فَوج کو شِکست دے دی۔
2SA 8:10 تو اُس نے اَپنے بیٹے یُورامؔ کو داویؔد بادشاہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ داویؔد بادشاہ کو ہددعزرؔ پر فتح پا لینے کے لیٔے سلام کہے اَور اُسے مُبارکباد دے کیونکہ ہددعزرؔ تُوعیؔ کے ساتھ لڑتا رہتا تھا۔ اَور یورامؔ چاندی، سونے اَور کانسے کے ظروف اَپنے ساتھ لایا۔
2SA 8:11 داویؔد بادشاہ نے اُنہیں یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کر دیا جَیسا کہ اُس نے ساری مغلُوب قوموں کے سونے چاندی کو کیا تھا۔
2SA 8:12 اِدُومیوں یعنی ارامیوں، مُوآبیوں، بنی عمُّون، فلسطینیوں اَور عمالیقیوں سے حاصل کیا ہُوا سونا چاندی اَور رحوبؔ کے بیٹے ہددعزرؔ، شاہِ ضوباہؔ کا مالِ غنیمت۔
2SA 8:13 جَب داویؔد اٹھّارہ ہزار ارامیوں کو وادی شور میں مار گرانے کے بعد لَوٹا تو اُس کے نام کو بڑی شہرت مِلی۔
2SA 8:14 اَور اُس نے سارے اِدُوم میں فَوجی چوکیاں قائِم کیں اَور تمام اِدُومی داویؔد کے مطیع ہو گئے اَور یَاہوِہ نے داویؔد کو جہاں کہیں وہ گیا فتح بخشی۔
2SA 8:15 داویؔد نے تمام اِسرائیل پر حُکمرانی کی اَور اَپنی ساری رعایا کے ساتھ نہایت ہی اِنصاف اَور راستی سے پیش آتے رہے۔
2SA 8:16 اَور یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ فَوج کا سپہ سالار تھا اَور یہوشافاطؔ بِن احِیلودؔ مورّخ تھا؛
2SA 8:17 اَور صدُوقؔ بِن احِیطوبؔ اَور احِیملکؔ بِن ابیاترؔ کاہِنؔ تھے؛ اَور سِرایاہؔ میر مُنشی تھا؛
2SA 8:18 اَور بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ کریتیوں اَور پِلیتھیوں کا مُنشی تھا؛ اَور داویؔد کے بیٹے کاہِنؔ تھے۔
2SA 9:1 اَور داویؔد نے پُوچھا، ”کیا شاؤل کے گھرانے کا کویٔی شخص اَب تک باقی ہے جِس پر میں یُوناتانؔ کی خاطِر مہربانی کر سکوں؟“
2SA 9:2 اَور شاؤل کے گھرانے کا ایک خادِم باقی تھا جِس کا نام ضیباؔ تھا۔ اُسے داویؔد کے سامنے حاضِر ہونے کے لیٔے بُلایا گیا اَور بادشاہ نے پُوچھا، ”کیا تُو ضیباؔ ہے؟“ اُس نے جَواب دیا، ”ہاں، یہ آپ کا خادِم ضیباؔ ہی ہے۔“
2SA 9:3 تَب بادشاہ نے پُوچھا، ”کیا شاؤل کے گھرانے سے اَب تک کویٔی باقی نہیں جِس پر مَیں خُدا کی طرف سے مہربانی کر سکوں؟“ ضیباؔ نے بادشاہ کو جَواب دیا، ”یُوناتانؔ کا ایک بیٹا اَب تک باقی ہے جو دونوں پاؤں سے لنگڑا ہے۔“
2SA 9:4 تَب بادشاہ نے پُوچھا، ”وہ کہاں ہے؟“ ضیباؔ نے جَواب دیا، ”وہ لُو دِبارؔ میں عمّی ایل کے بیٹے مکیرؔ کے گھر میں ہے۔“
2SA 9:5 لہٰذا داویؔد بادشاہ نے اُسے لُو دِبارؔ سے عمّی ایل کے بیٹے مکیرؔ کے گھر سے بُلوا بھیجا۔
2SA 9:6 جَب مفِیبوستؔ بِن یُوناتانؔ بِن شاؤل داویؔد کے پاس آیا تو اُس نے جھُک کر داویؔد کا اِحترام کیا۔ داویؔد نے کہا، ”مفِیبوستؔ!“ اُس نے جَواب دیا، ”آپ کا خادِم حاضِر ہے۔“
2SA 9:7 پھر داویؔد نے اُس سے کہا، ”ڈرنے کی کوئی بات نہیں، کیونکہ مَیں تو تیرے باپ یُوناتانؔ کی خاطِر تُجھ پر مہربانی کرنا چاہتا ہُوں۔ میں وہ ساری زمین جو تیرے دادا شاؤل کی مِلکیّت تھی تُجھے لَوٹا دُوں گا اَور تُو ہمیشہ میرے دسترخوان پر کھانا کھایا کرےگا۔“
2SA 9:8 مفِیبوستؔ نے آداب بجا لاکر کہا، ”آپ کا خادِم کیا چیز ہے کہ آپ مجھ جَیسے مریل کُتّے کی پروا کریں؟“
2SA 9:9 تَب بادشاہ نے شاؤل کے خادِم ضیباؔ کو طلب کیا اَور اُس سے کہا، ”مَیں نے شاؤل اَور اُس کے گھرانے کی ہر ایک چیز تیرے آقا کے پوتے کو دے دی ہے۔
2SA 9:10 پس تُم، تمہارے بیٹے اَور تمہارے نوکر اُس زمین پر اُس کے لیٔے کاشتکاری کریں اَور فصل لے کر آئیں تاکہ تمہارے آقا کے پوتے کے گھر کا خرچ چلے۔ اَور تیرے آقا کا پوتا مفِیبوستؔ ہمیشہ میرے دسترخوان پر کھانا کھائے گا۔“ (اَور ضیباؔ کے پندرہ بیٹے اَور بیس خادِم تھے)۔
2SA 9:11 تَب ضیباؔ نے بادشاہ سے کہا، ”آپ کا خادِم وُہی کرےگا جِس کا میرے آقا بادشاہ نے اَپنے خادِم کو حُکم دیا ہے۔“ لہٰذا مفِیبوستؔ داویؔد کے دسترخوان پر شہزادوں یعنی بادشاہ کے اَپنے بیٹوں کی طرح کھانا کھانے لگا۔
2SA 9:12 اَور مفِیبوستؔ کا ایک نوجوان بیٹا تھا جِس کا نام میکاؔ تھا اَور ضیباؔ کے گھرانے کے سارے لوگ مفِیبوستؔ کے خادِم تھے۔
2SA 9:13 اَور مفِیبوستؔ یروشلیمؔ میں رہتا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ بادشاہ کے دسترخوان پر کھانا کھاتا تھا اَور وہ دونوں پاؤں سے لنگڑا تھا۔
2SA 10:1 اِس کے بعد عمُّونیوں کا بادشاہ مَر گیا اَور اُس کا بیٹا حنُونؔ بطور بادشاہ اُس کا جانشین ہُوا۔
2SA 10:2 اَور داویؔد نے سوچا کہ، ”میں ناحسؔ کے بیٹے حنُونؔ پر مہربانی کروں گا، جَیسے اُس کے باپ نے مُجھ پر مہربانی کی تھی۔“ لہٰذا داویؔد نے حنُونؔ کے پاس اُس کے باپ کی ماتم پُرسی کرنے کی غرض سے ایک وفد بھیجا۔ جَب داویؔد کے آدمی عمُّونیوں کی سرزمین میں آئے
2SA 10:3 تو عمُّونی اُمرا نے اَپنے مالک حنُونؔ سے کہا، ”کیا تُم یہ سوچتے ہو کہ داویؔد نے تمہارے پاس تمہارے باپ کے اِحترام کے طور پر ماتم پُرسی کے لیٔے سفیر بھیجے ہیں؟ کیا داویؔد نے اُنہیں جاسُوسی کرنے تو نہیں بھیجا کہ وہ شہر کی حالت مَعلُوم کریں اَور پھر داویؔد اُسے تباہ کر دے؟“
2SA 10:4 اِس پر حنُونؔ نے داویؔد کے سفیروں کو پکڑ لیا اَور ہر ایک کی آدھی داڑھی مُنڈوا دی اَور اُن کے لباس کمر سے نیچے تک کٹوا کر اُنہیں رخصت کر دیا۔
2SA 10:5 جَب داویؔد کو اِس کی خبر پہُنچی کہ وہ اِس ذِلّت کی وجہ سے بڑے شرمندہ ہیں تو اُس نے اُن سے مِلنے کو قاصِد بھیجے اَور بادشاہ نے فرمایا، ”جَب تک تمہاری داڑھیاں بڑھ نہ جایٔیں تَب تک تُم یریحوؔ میں ہی رُکے رہو۔ اُس کے بعد واپس آجانا۔“
2SA 10:6 جَب عمُّونیوں کو احساس ہُوا کہ وہ اَپنی حرکت سے داویؔد کی نظر میں ذلیل ٹھہرے ہیں تو اُنہُوں نے بیت رحوبؔ اَور ضوباہؔ سے بیس ہزار ارامی پیادہ سپاہیوں، نیز معکہؔ کے بادشاہ کو ایک ہزار سپاہیوں سمیت اَور طوبؔ کے بَارہ ہزار آدمیوں کو اُجرت پر بُلا لیا۔
2SA 10:7 جَب داویؔد نے یہ سُنا تو اُس نے یُوآبؔ اَور سُورماؤں کے تمام فَوج کو بھیجا
2SA 10:8 تَب بنی عمُّون نے باہر نکل کر اَپنے پھاٹک کے پاس ہی لڑائی کے لیٔے صف باندھی اَور ضوباہؔ اَور رحوبؔ کے ارامی اَور طوبؔ اَور معکہؔ کے لوگ میدان میں الگ تھے۔
2SA 10:9 جَب یُوآبؔ نے دیکھا کہ اُس کے آگے اَور پیچھے لڑائی کے لیٔے صف بندی ہو چُکی ہے تو اُس نے اِسرائیل کے کچھ بہترین فَوجیوں کو چُن کر اُنہیں ارامیوں کے خِلاف صف آرا کیا۔
2SA 10:10 اَور باقی آدمیوں کو اَپنے بھایٔی ابیشائی کی قیادت میں عمُّونیوں کے خِلاف میدان میں اُتارا۔
2SA 10:11 اَور یُوآبؔ نے کہا، ”اگر ارامی مُجھ پر غالب آنے لگیں تو تُم میری مدد کے لیٔے بروقت پہُنچ جانا۔ لیکن اگر عمُّونی تمہارے خِلاف زِیادہ طاقتور ثابت ہُوئے تو مَیں تمہاری رِہائی کو بروقت پہُنچ جاؤں گا۔
2SA 10:12 پس ہمّت باندھو اَور آؤ ہم اَپنی قوم اَور اَپنے خُدا کے شہروں کی خاطِر بہادری سے جنگ کریں اَور یَاہوِہ جو کچھ اُن کی نظر میں بہتر ہوگا وُہی کریں گے۔“
2SA 10:13 تَب یُوآبؔ اَور اُس کے لشکر کے آدمی ارامیوں سے لڑنے کے لیٔے آگے بڑھے اَور ارامی اُن کے سامنے سے بھاگ نکلے۔
2SA 10:14 جَب عمُّونیوں نے دیکھا کہ ارامی بھاگ نکلے تو وہ بھی ابیشائی کے سامنے سے بھاگ کر شہر کے اَندر چلے گیٔے۔ تَب یُوآبؔ عمُّونیوں سے جنگ کرنے کے بعد واپس یروشلیمؔ چلا گیا۔
2SA 10:15 بعد میں جَب ارامیوں نے دیکھا کہ اِسرائیلیوں نے اُنہیں شِکست دے دی ہے تو وہ پھر سے جمع ہونے لگے۔
2SA 10:16 ہددعزرؔ نے دریائے فراتؔ کے پار سے ارامیوں کو بُلوا بھیجا۔ وہ حِلامؔ میں آ گئے اَور ہددعزرؔ کا سپہ سالار شُوبکؔ اُن کی قیادت کر رہاتھا۔
2SA 10:17 جَب داویؔد کو اِس کی خبر مِلی تو اُس نے تمام بنی اِسرائیل کو جمع کیا اَور دریائے یردنؔ کو پار کرکے حِلامؔ کی طرف بڑھا۔ ارامیوں نے داویؔد کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے صف آرائی کی اَور اُس سے لڑے۔
2SA 10:18 لیکن ارامی اِسرائیلیوں کے سامنے ٹِک نہ سکے اَور بھاگ نکلے۔ داویؔد نے اُن کے سات سَو رتھ بانو اَور چالیس ہزار پیادہ فَوجیوں کو قتل کر دیا اَور اُس نے فَوج کے سپہ سالار شُوبکؔ کو بھی مار گرایا اَور وہ وہیں مَر گیا۔
2SA 10:19 جَب اُن تمام بادشاہوں نے جو ہددعزرؔ کے مطیع تھے دیکھا کہ وہ اِسرائیل سے شِکست کھا چُکے ہیں تو اُنہُوں نے بنی اِسرائیل سے صُلح کرلی اَور اُن کے مطیع ہو گئے۔ ارامیوں نے ڈر کے مارے پھر کبھی عمُّونیوں کی مدد کرنے کی جُرأت نہ کی۔
2SA 11:1 موسمِ بہار میں جَب بادشاہ جنگ کرنے نکلتے تھے، تَب داویؔد نے یُوآبؔ کو اَپنے سرداروں اَور ساری بنی اِسرائیل فَوج کے ہمراہ بھیج دیا۔ اُنہُوں نے عمُّونیوں کو ہلاک کیا اَور ربّہؔ کا محاصرہ کر لیا لیکن داویؔد یروشلیمؔ ہی میں رہا۔
2SA 11:2 ایک شام داویؔد بادشاہ اَپنے پلنگ سے اُٹھ کر محل کی چھت پر ٹہلنے لگا۔ اُس نے چھت پر سے دیکھا کہ ایک عورت نہا رہی ہے۔ وہ عورت بڑی خُوبصورت تھی
2SA 11:3 اَور داویؔد نے اُس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیٔے کسی اہم شخص کو بھیجا۔ اُس آدمی نے بتایا کہ، ”وہ بتشیبؔا ہے جو اِلیعامؔ کی بیٹی اَور حِتّی اورِیّاہؔ کی بیوی ہے۔“
2SA 11:4 تَب داویؔد نے اَپنے قاصِدوں کو بھیج کر اُسے بُلوایا اَور وہ اُس کے پاس آ گئی اَور وہ اُس کے ساتھ ہمبستر ہُوا (کیونکہ وہ اَپنی ماہواری نَجاست سے پاک ہو چُکی تھی)۔ پھر وہ واپس گھر چلی گئی۔
2SA 11:5 وہ عورت حاملہ ہو گئی اَور اُس نے داویؔد کو خبر بھیجی کہ، ”میں حاملہ ہُوں۔“
2SA 11:6 لہٰذا داویؔد نے یُوآبؔ کو یہ پیغام بھیجا: ”حِتّی اورِیّاہؔ کو میرے پاس بھیج دے۔“ یُوآبؔ نے اُسے داویؔد کے پاس بھیج دیا۔
2SA 11:7 جَب اورِیّاہؔ اُس کے پاس آیا تو داویؔد نے اُس سے یُوآبؔ کا خیریت پُوچھی اَور یہ بھی کہ سپاہی کیسے ہیں اَور جنگ کیسی چل رہی ہے؟
2SA 11:8 پھر داویؔد نے اورِیّاہؔ سے کہا، ”اَپنے گھر جا اَور اَپنے پاؤں دھوکر آرام کر۔“ اورِیّاہؔ محل سے چلا گیا اَور بادشاہ کی طرف سے اُس کے پیچھے پیچھے ایک تحفہ بھیجا گیا۔
2SA 11:9 لیکن اورِیّاہؔ شاہی محل کے مدخل پر ہی اَپنے مالک کے سَب خادِموں کے ساتھ سو گیا اَور اَپنے گھر نہ گیا۔
2SA 11:10 جَب داویؔد کو مَعلُوم ہُوا، ”اورِیّاہؔ اَپنے گھر نہیں گیا۔“ تو اُس نے اُس سے پُوچھا، ”کیا تُو ابھی ابھی فَوجی مُہم سے نہیں آیا ہے؟ تُو اَپنے گھر کیوں نہیں گیا؟“
2SA 11:11 اورِیّاہؔ نے داویؔد سے کہا، ”عہد کا صندُوق اَور بنی اِسرائیل اَور یہُوداہؔ خیموں میں رہتے ہیں اَور میرا آقا یُوآبؔ اَور میرے مالک کے آدمی کھُلے کھیتوں میں ڈالے ہُوئے ہیں۔ بھلا میں کس طرح کھانے پینے اَور اَپنی بیوی کے ساتھ سونے کے لیٔے گھر جا سَکتا ہُوں؟ آپ کی حیات کی قَسم میں اَیسا کام نہیں کروں گا!“
2SA 11:12 تَب داویؔد نے اُس سے کہا، ”ایک دِن اَور یہاں ٹھہر اَور کل مَیں تُجھے واپس بھیج دُوں گا۔“ اِس لیٔے اورِیّاہؔ اُس دِن اَور اگلے دِن بھی یروشلیمؔ میں رہا۔
2SA 11:13 اَور داویؔد کے بُلانے پر اُس نے اُس کے حُضُور میں کھایا پیا اَور داویؔد نے اُسے خُوب پلا کر متوالا کر دیا۔ لیکن شام کو اورِیّاہؔ اَپنے مالک کے خادِموں کے درمیان اَپنی چٹائی پر سونے کے لیٔے باہر گیا پر اَپنے گھر نہ گیا۔
2SA 11:14 صُبح کو داویؔد نے یُوآبؔ کے نام ایک خط لِکھّا اَور اُسے اورِیّاہؔ کے ہاتھ بھیجا۔
2SA 11:15 اِس خط میں اُس نے لِکھّا کہ، ”اورِیّاہؔ کو محاذِ جنگ کی اگلی صف میں رکھنا جہاں سخت لڑائی جاری ہو اَور پھر اُس کے پیچھے سے ہٹ جانا تاکہ وہ بُری طرح زخمی ہو اَور اَپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔“
2SA 11:16 لہٰذا جَب یُوآبؔ نے شہر کا محاصرہ کر لیا تو اُس نے اورِیّاہؔ کو اَیسی جگہ رکھا جہاں اُسے مَعلُوم تھا کہ بڑے بہادر آدمی شہر کا دفاع کر رہے ہیں۔
2SA 11:17 جَب اُس شہر کے آدمی باہر نکل کر یُوآبؔ کے خِلاف لڑے تو داویؔد کی فَوج کے کچھ آدمی مارے گیٔے اَور حِتّی اورِیّاہؔ بھی مارا گیا۔
2SA 11:18 تَب یُوآبؔ نے قاصِد کے ذریعہ لڑائی کا سارا حال داویؔد کو بھیجا۔
2SA 11:19 اَور قاصِد کو تاکید کی: ”جَب تُو لڑائی کی یہ تفصیل بادشاہ کو بتا چُکے،
2SA 11:20 تو ممکن ہے کہ بادشاہ کا غُصّہ بھڑک اُٹھے اَور وہ پُوچھ لے، ’تُم لڑنے کے لیٔے شہر کے اِس قدر نزدیک کیوں گیٔے تھے؟ کیا تُمہیں مَعلُوم نہیں تھا کہ وہ دیوار پر سے تیروں کی بارش کر دیں گے؟
2SA 11:21 یرُب بشیتؔ کے بیٹے اَبی ملیخ کو کس نے مارا؟ کیا وہ ایک عورت نہ تھی جِس نے تبیضؔ میں چکّی کا پاٹ دیوار پر سے اُس کے اُوپر پھینکا تھا جِس سے وہ مَر گیا؟ پھر تُم دیوار کے نزدیک کیوں گیٔے؟‘ تَب جَواب میں اُسے کہنا، ’تیرا خادِم حِتّی اورِیّاہؔ بھی مَر گیا ہے۔‘ “
2SA 11:22 چنانچہ وہ قاصِد روانہ ہُوا اَور جَب وہاں پہُنچا تو اُس نے داویؔد کو سَب کچھ بتایا جسے بتانے کے لیٔے یُوآبؔ نے اُسے بھیجا تھا
2SA 11:23 قاصِد نے داویؔد سے کہا، ”وہ لوگ ہم پر غالب آئے اَور پھر باہر نکل کر میدان میں ہمارے رُوبرو ہو گئے۔ لیکن ہم نے اُنہیں واپس شہر کے مدخل تک دھکیل دیا۔
2SA 11:24 تَب تیر اَندازوں نے دیوار پر سے آپ کے خادِموں پر تیر برسانے شروع کر دیئے جِن سے بادشاہ کے کچھ آدمی مَر گیٔے اَور آپ کا خادِم حِتّی اورِیّاہؔ بھی مَر گیا۔“
2SA 11:25 تَب داویؔد نے قاصِد سے کہا، ”یُوآبؔ سے کہنا: ’اِس واقعہ سے پریشان ہونے کی ضروُرت نہیں۔ تلوار جَیسے ایک کو اَپنا لقمہ بناتی ہے وَیسے ہی دُوسرے کو بھی کھا جاتی ہے شہر پر شِدّت سے حملہ کر اَور اُسے تباہ کر دے۔‘ اِن باتوں سے یُوآبؔ کی حوصلہ اَفزائی کرنا۔“
2SA 11:26 جَب اورِیّاہؔ کی بیوی نے سُنا کہ اُس کا خَاوند مَر گیا ہے تو اُس نے اُس کے لیٔے ماتم کیا۔
2SA 11:27 اَور جَب ماتم کرنے کی مُدّت ختم ہو گئی تو داویؔد نے اُسے اَپنے گھر بُلوایا اَور وہ اُس کی بیوی بَن گئی اَور اُس سے اُس کے ایک لڑکا پیدا ہُوا۔ لیکن داویؔد کا یہ کام یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا۔
2SA 12:1 یَاہوِہ نے ناتنؔ کو داویؔد کے پاس بھیجا اَور جَب وہ اُس کے پاس آیا تو کہنے لگاکہ، ”کسی شہر میں دو آدمی تھے، ایک اَمیر تھا اَور دُوسرا غریب۔
2SA 12:2 اُس اَمیر آدمی کے پاس بڑی تعداد میں بھیڑیں اَور مویشی تھے۔
2SA 12:3 لیکن غریب آدمی کے پاس ایک چُھوٹی بھیڑ کے سِوا کچھ نہ تھا جسے اُس نے خرید کر پالا تھا اَور وہ اُس کے بال بچّوں کے ساتھ ہی پرورش پائی تھی۔ وہ اُس کی روٹی کے نوالے کھاتی اَور اُس کے پیالے میں سے پیتی تھی اَور اُس کی گود میں ہی سُوتی تھی اَور اُس کے لیٔے بیٹی کی طرح تھی۔
2SA 12:4 ”ایک دِن اُس اَمیر کے یہاں کویٔی مُسافر آیا۔ لیکن وہ اَمیر آدمی جَب اُس مہمان کے لیٔے کھانا تیّار کرنے لگا تو اَپنی بھیڑوں یا مویشیوں میں سے کسی جانور کو ذبح کرنے کی بجائے اُس نے اُس غریب آدمی کی چُھوٹی بھیڑ لے لی اَور اُس سے اَپنے مہمان کے لیٔے کھانا تیّار کیا۔“
2SA 12:5 یہ سُن کر داویؔد غُصّہ سے آگ بگُولا ہو گیا اَور اُس نے ناتنؔ سے کہا، ”زندہ یَاہوِہ کی قَسم وہ آدمی جِس نے یہ کام کیا موت کا سزاوار ہے۔
2SA 12:6 اُسے اُس چُھوٹی بھیڑ کے بدلے میں چار گُنا اَدا کرنا پڑےگا کیونکہ اُس نے اَیسا کام کیا اَور اُسے ترس نہ آیا۔“
2SA 12:7 تَب ناتنؔ نے داویؔد سے کہا، ”وہ آدمی آپ ہی ہو اَور یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’مَیں نے تُجھے مَسح کرکے بنی اِسرائیل کا بادشاہ بنایا اَور مَیں نے تُجھے شاؤل کے ہاتھ سے چھُڑایا۔
2SA 12:8 مَیں نے تیرے مالک کا گھر تیرے حوالہ کر دیا، تیرے مالک کی بیوی کو تیرے بازوؤں میں دے دیا اَور مَیں نے بنی اِسرائیل اَور یہُوداہؔ کا گھرانا تُجھے بخش دیا۔ اگر یہ کم تھا تو مَیں تُجھے اَور بھی زِیادہ دیتا۔
2SA 12:9 پھر تُونے اَیسا بُرا کام کرکے یَاہوِہ کے حُکم کی تحقیر کیوں کی؟ تُونے اورِیّاہؔ حِتّی کو تلوار کا لقمہ بنوایا اَور اُس کی بیوی لے کر اُسے اَپنی بیوی بنا لیا۔ تُونے اُسے عمُّونیوں کی تلوار سے قتل کروایا۔
2SA 12:10 اَب وُہی تلوار تیرے گھرانے سے کبھی الگ نہ ہوگی کیونکہ تُونے مُجھے حقیر جانا اَور اورِیّاہؔ حِتّی کی بیوی کو لے کر اَپنی بیوی بنا لیا۔‘
2SA 12:11 ”اِس لئے یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’مَیں تیرے اَپنے ہی گھر سے تُجھ پر مُصیبت لانے والا ہُوں اَور تیری بیویوں کو لے کر تیری آنکھوں کے بالکُل سامنے تیرے ہمسایہ کو دوں گا جو دِن دہاڑے اُن سے ہمبستر ہوگا۔
2SA 12:12 تُونے یہ حرکت چھُپ کر کی تھی مگر میں دِن دہاڑے تمام بنی اِسرائیل کے سامنے اَیسا ہونے دُوں گا۔‘ “
2SA 12:13 تَب داویؔد نے ناتنؔ سے کہا، ”مَیں نے یَاہوِہ کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔“ ناتنؔ نے جَواب دیا، ”یَاہوِہ نے بھی آپ کا گُناہ بخش دیا ہے اَور آپ نہیں مَریں گے۔
2SA 12:14 لیکن چونکہ آپ نے اِس کام سے یَاہوِہ کے دُشمنوں کو کُفر بکنے کا موقع دیا ہے اِس لیٔے وہ بیٹا جو آپ سے پیدا ہوگا مَر جائے گا۔“
2SA 12:15 اَور ناتنؔ کے اَپنے گھر لَوٹ جانے کے بعد یَاہوِہ نے اُس بچّہ کو مارا جو داویؔد کے یہاں اورِیّاہؔ کی بیوی کے پیٹ سے پیدا ہُوا تھا بیمار ہو گیا۔
2SA 12:16 اِس لیٔے داویؔد نے اُس بچّہ کی صحت یابی کے لیٔے خُدا سے اِلتجا کی اَور روزہ رکھا اَور اَپنے گھر کے اَندر جا کر ساری رات ٹاٹ پہن کر زمین پر پڑے پڑے رات گزاری۔
2SA 12:17 اَور اُس کے گھر کے بُزرگ اُسے زمین پر سے اُٹھانے کے لیٔے اُس کے پاس آ کھڑے ہُوئے لیکن اُس نے اُٹھنے سے اِنکار کر دیا اَور اُن کے ساتھ کھانا بھی نہ کھایا۔
2SA 12:18 اَور ساتویں دِن وہ بچّہ مَر گیا اَور داویؔد کے مُلازم اُسے بچّہ کی موت کی خبر دینے سے ڈر رہے تھے اَور آپَس میں کہہ رہے تھے، ”جَب وہ بچّہ زندہ تھا تو داویؔد کو ہماری کویٔی بات سُننا گوارا نہ تھی۔ اَب ہم اُسے کیسے بتائیں کہ وہ بچّہ مَر گیا ہے؟ ہمیں تو ڈر ہے کہ وہ یہ خبر سُن کر کچھ کر نہ بیٹھے۔“
2SA 12:19 جَب داویؔد نے دیکھا کہ اُس کے مُلازم آپَس میں کانا پھُوسی کر رہے ہیں تو وہ سمجھ گیا کہ بچّہ مَر چُکاہے۔ لہٰذا اُس نے خُود ہی پُوچھا، ”کیا بچّہ مَر گیا؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہاں وہ مَر چُکاہے۔“
2SA 12:20 تَب داویؔد زمین پر سے اُٹھا اَور اُس نے نہانے کے بعد تیل لگایا، کپڑے بدلے اَور یَاہوِہ کے گھر میں جا کر سَجدہ کیا۔ پھر وہ اَپنے گھر گیا اَور کھانا لانے کا حُکم دیا۔ اُنہُوں نے کھانا لاکر اُن کے سامنے رکھا اَور اُنہُوں نے کھایا۔
2SA 12:21 اُن کے مُلازموں نے اُس سے پُوچھا، ”آپ اَیسا کیوں کر رہے ہو؟ جَب وہ بچّہ زندہ تھا تو آپ نے روزہ رکھا اَور آنسُو بہائے اَور جَب کہ وہ بچّہ مَر چُکاہے تو آپ نے اَپنے آپ ہی اُٹھ کر کھانا بھی کھا لیا ہے!“
2SA 12:22 داویؔد نے جَواب دیا، ”جَب تک وہ بچّہ زندہ تھا مَیں نے روزہ رکھا اَور آنسُو بہائے کیونکہ مَیں نے سوچا، ’کون جانتا ہے کہ یَاہوِہ مُجھ پر مہربان ہو جائے اَور اُس بچّہ کو زندہ رہنے دے۔‘
2SA 12:23 لیکن اَب جَب کہ وہ مَر چُکاہے تو میں روزہ کیوں رکھوں گا؟ کیا میں اُسے پھر واپس لا سَکتا ہُوں؟ میں ہی اُس کے پاس جاؤں گا لیکن وہ لَوٹ کر میرے پاس نہیں آئے گا۔“
2SA 12:24 پھر داویؔد نے اَپنی بیوی بتشیبؔا کو تسلّی دی اَور وہ اُس کے پاس گئے اَور ہمبستر ہُوئے۔ اَور اُن کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہُوا اَور اُنہُوں نے اُس کا نام شُلومونؔ رکھا اَور وہ یَاہوِہ کو عزیز تھا۔
2SA 12:25 چونکہ وہ یَاہوِہ کو عزیز تھا اِس لیٔے خُدا نے ناتنؔ نبی کی مَعرفت پیغام بھیج کر اُس کا نام یدیدیاہؔ رکھا۔
2SA 12:26 اِسی دَوران یُوآبؔ نے عمُّونیوں کے ربّہؔ شہر کے خِلاف لڑ کر دارُالحکومت پر قبضہ کر لیا۔
2SA 12:27 تَب یُوآبؔ نے داویؔد کے پاس قاصِد بھیج کر خبر دی، ”مَیں نے ربّہؔ کے خِلاف لڑ کر اُس کے پانی کے ذخیرہ کے شہر پر قبضہ کر لیا۔
2SA 12:28 اَب تُم باقی فَوجیوں کو جمع کرو اَور شہر کا محاصرہ کرکے اُس پر قبضہ کر لو کیونکہ اگر مَیں اُسے فتح کروں گا تو وہ میرے نام سے موسوم ہو جائے گا۔“
2SA 12:29 لہٰذا داویؔد نے تمام فَوج کو جمع کرکے ربّہؔ کی طرف کُوچ کیا اَور اُس پر حملہ کرکے اُسے اَپنے قبضہ میں لے لیا۔
2SA 12:30 اُس نے اُن کے بادشاہ کا تاج اُس کے سَر سے اُتار لیا جِس کا وزن سونے کے ایک تالنت کے برابر تھا اَور اُس میں قیمتی پتّھر جڑے تھے۔ وہ داویؔد کے سَر پر رکھا گیا۔ اَور آپ نے شہر سے بہت سا مالِ غنیمت بھی حاصل کیا۔
2SA 12:31 اَورجو لوگ وہاں تھے اُنہیں باہر نکال کر آروں، لوہے کی کُدالوں اَور کُلہاڑوں سے محنت مزدُوری کرنے اَور اینٹیں بنانے کے کام پر لگا دیا۔ آپ نے عمُّونیوں کے تمام قصبوں کے ساتھ اَیسا ہی کیا۔ پھر داویؔد اَور اُن کی فَوج کے سَب لوگ یروشلیمؔ کو لَوٹ گئے۔
2SA 13:1 اِسی دَوران داویؔد کا بیٹا امنُونؔ تامارؔ پر عاشق ہو گیا۔ وہ داویؔد کے بیٹے اَبشالومؔ کی بہن تھی اَور بڑی خُوبصورت تھی۔
2SA 13:2 امنُونؔ اَپنی بہن تامارؔ کی وجہ سے اِس قدر مایوس ہُوا کہ بیمار پڑ گیا کیونکہ وہ کنواری تھی اَور اُسے اُس کے ساتھ کچھ کرنا دشوار مَعلُوم ہو رہاتھا۔
2SA 13:3 اَور داویؔد کے بھایٔی شِمعہؔ کا بیٹا یوُنادابؔ امنُونؔ کا دوست تھا۔ یوُنادابؔ بڑا ہوشیار تھا۔
2SA 13:4 اُس نے امنُونؔ سے پُوچھا، ”تُم تو بادشاہ کے بیٹے ہو پھر روز بروز تمہارا مُنہ کیوں اُترتا جا رہاہے؟ کیا تُم مُجھے نہیں بتاؤ گے؟“ امنُونؔ نے اُس سے کہا، ”مُجھے اَپنے بھایٔی اَبشالومؔ کی بہن تامارؔ سے مَحَبّت ہو گئی ہے۔“
2SA 13:5 یوُنادابؔ نے اُس سے کہا، ”تُم اَپنے بِستر پر لیٹ جاؤ اَور بیمار ہونے کا بہانہ کر لو، اَور جَب تیرا باپ تُجھے دیکھنے آئے تو اُسے کہنا، ’میری درخواست ہے کہ تُم مہربانی کرکے میری بہن تامارؔ کو آنے دے تاکہ وہ مُجھے کھانا کھِلائے۔ اُسے میرے سامنے کھانا بنانے کی اِجازت دے تاکہ میں اُسے دیکھتا رہُوں اَور پھر اُس ہی کے ہاتھ سے کھانا کھاؤں۔‘ “
2SA 13:6 لہٰذا امنُونؔ لیٹ گیا اَور بیماری کا بہانہ کر لیا۔ جَب بادشاہ اُسے دیکھنے آیا تو امنُونؔ نے اُس سے کہا، ”مہربانی کرکے میری بہن تامارؔ کو آنے دیں کہ وہ میری نظروں کے سامنے کچھ ٹکیاں بنائے تاکہ میں اُس کے ہاتھ سے کھاؤں۔“
2SA 13:7 داویؔد نے محل میں تامارؔ کو پیغام بھیجا: ”اَپنے بھایٔی امنُونؔ کے گھر جا اَور اُس کے لیٔے کچھ کھانا تیّار کر۔“
2SA 13:8 لہٰذا تامارؔ اَپنے بھایٔی امنُونؔ کے گھر گئی۔ وہ بِستر پر پڑا ہُوا تھا۔ اُس نے کچھ آٹا لیا۔ اُسے گوندھا اَور امنُونؔ کی نظروں کے سامنے ٹکیاں پکائیں۔
2SA 13:9 پھر اُس نے اُنہیں طشتری میں رکھ کر اُس کے سامنے رکھا مگر اُس نے کھانے سے اِنکار کر دیا۔ امنُونؔ نے کہا، ”یہاں سے ہر ایک کو باہر بھیج دو۔“ جَب سَب چلے گیٔے
2SA 13:10 تو امنُونؔ نے تامارؔ سے کہا، ”کھانا میری خواب گاہ میں لے آ اَور مُجھے اَپنے ہاتھ سے کھِلا۔“ تامارؔ اُن ٹکیوں کو اُٹھاکر اَپنے بھایٔی امنُونؔ کی خواب گاہ میں لے گئی۔
2SA 13:11 لیکن جَب وہ اُنہیں لے کر اُس کے پاس گئی کہ وہ کھائے تو اُس نے جھپٹ کر اُسے پکڑ لیا اَور کہا، ”اَے میری بہن، میرے ساتھ لیٹ جا۔“
2SA 13:12 اُس نے اُس سے کہا، ”نہیں میرے بھایٔی، میرے ساتھ زبردستی مت کر کیونکہ اِسرائیلیوں میں اَیسا کام نہیں ہونا چاہئے! اَیسی بدی مت کرو۔
2SA 13:13 میرا کیا ہوگا؟ میں تو بُری طرح رُسوا ہو جاؤں گی اَور تیرا کیا ہوگا؟ تُو اِسرائیل میں ایک بدکار احمق کی مانند گِنا جائے گا۔ مہربانی کرکے بادشاہ سے بات کر۔ وہ مُجھے تیرے ساتھ شادی کرنے سے نہ روکے گا۔“
2SA 13:14 لیکن اُس نے اُس کی ایک نہ سُنی اَور چونکہ وہ اُس سے زِیادہ طاقتور تھا اِس لیٔے اُس نے زبردستی کرکے اُس کی عزّت لُوٹ لی۔
2SA 13:15 جَب امنُونؔ اَپنی ہَوس پُوری کر چُکا اُس کی مَحَبّت جِتنی تھی اِس سے کیٔی گُنا نفرت میں بدل گئی۔ لہٰذا امنُونؔ نے اُس سے کہا، ”اُٹھ اَور یہاں سے نکل جا!“
2SA 13:16 تامارؔ نے کہا، ”نہیں! مُجھے یہاں سے نکالنا اُس ظُلم سے کہیں بڑھ کر ہوگا جو تُونے پہلے مُجھ پر کیا ہے۔“ لیکن اُس نے اُس کی ایک نہ سُنی۔
2SA 13:17 اَور اَپنے ذاتی نوکر کو بُلاکر کہا، ”اِس عورت کو یہاں سے باہر نکال دے اَور دروازہ اَندر سے بند کر دے۔“
2SA 13:18 نوکر نے اُس کو باہر نکال دیا اَور اُس کے پیچھے دروازہ کی چٹخنی لگا دی۔ وہ کشیدہ کاری والا جوڑا پہنے ہُوئے تھی کیونکہ شاہی دوشیزائیں اِسی قِسم کا لباس پہنتی تھیں۔
2SA 13:19 تامارؔ نے اَپنے سَر پر خاک ڈال لی اَور کشیدہ کاری والا لباس جو وہ پہنے ہُوئے تھی پھاڑ ڈالا اَور سَر پر ہاتھ رکھ کر زار زار روتی ہُوئی باہر چلی گئی۔
2SA 13:20 اُس کے بھایٔی اَبشالومؔ نے اُس سے کہا، ”کیا تیرے بھایٔی امنُونؔ نے تیرے ساتھ زبردستی کی ہے؟ بہن! اَب چُپ ہو جا کیونکہ وہ تیرا بھایٔی ہے اَور اِس بات کا غم نہ کر۔“ اَور تامارؔ اَپنے بھایٔی اَبشالومؔ کے گھر میں ایک بدنصیب عورت کی طرح پڑی رہی۔
2SA 13:21 جَب داویؔد بادشاہ نے یہ سَب باتیں سُنیں تو اُس کے غُصّہ کی کویٔی اِنتہا نہ رہی۔
2SA 13:22 اَور اَبشالومؔ نے امنُونؔ کو کچھ بُرا بھلا تو نہ کہا لیکن امنُونؔ سے نفرت کرنے لگا کیونکہ اُس نے اُس کی بہن تامارؔ کی عزّت لُوٹی تھی۔
2SA 13:23 دو سال بعد جَب اَبشالومؔ کی بھیڑوں کے بال کترنے والے اِفرائیمؔ کی سرحد کے نزدیک بَعل حَصورؔ میں تھے تو اُس نے بادشاہ کے سَب بیٹوں کو وہاں آنے کی دعوت دی۔
2SA 13:24 اَبشالومؔ نے بادشاہ کے پاس جا کر کہا، ”آپ کے خادِم کے پاس بھیڑوں کے بال کترنے والے آ گیٔے ہیں۔ کیا بادشاہ اَور اُس کے حاکم تشریف لاکر خادِم کو ممنون فرمائیں گے؟“
2SA 13:25 بادشاہ نے جَواب دیا: بیٹا! نہیں، ہم سَب کو نہیں جانا چاہئے کیونکہ ہم تُجھ پر بوجھ نہیں بننا چاہتے۔ حالانکہ اَبشالومؔ نے اُسے بہت ترغِیب دی پھر بھی اُس نے اِنکار کیا مگر اُس کے حق میں دعا ضروُر فرمائی۔
2SA 13:26 تَب اَبشالومؔ نے کہا، ”اگر نہیں تو براہِ کرم میرے بھایٔی امنُونؔ کو ہی میرے ساتھ جانے دیں۔“ بادشاہ نے اُس سے پُوچھا، ”کیا اُس کا جانا ضروُری ہے؟“
2SA 13:27 لیکن جَب اَبشالومؔ ضِد کرنے لگا تو اُس نے امنُونؔ اَور دیگر بادشاہ کے شہزادوں کو اُس کے ساتھ بھیج دیا۔
2SA 13:28 اَبشالومؔ نے اَپنے آدمیوں کو حُکم دیا کہ، ”سُنو! جَب امنُونؔ مَے پی کر بے خُود ہو جائے اَور مَیں تُمہیں کہُوں کہ امنُونؔ کو مارو تو تُم اُسے مار ڈالنا۔ اَور خوف نہ کرنا۔ کیا مَیں تُمہیں حُکم نہیں دے رہا ہُوں؟ پس ہمّت سے کام لینا اَور بہادر بننا۔“
2SA 13:29 لہٰذا اَبشالومؔ کے آدمیوں نے امنُونؔ کے ساتھ وُہی کیا جِس کا اَبشالومؔ نے حُکم دیا تھا۔ تَب بادشاہ کے تمام شہزادے اُٹھ کھڑے ہُوئے اَور اَپنے خچّروں پر سوار ہوکر بھاگ نکلے۔
2SA 13:30 وہ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ داویؔد کو اِطّلاع مِلی: ”اَبشالومؔ نے بادشاہ کے تمام شہزادوں کو مار گرایا ہے اَور اُن میں سے کویٔی بھی باقی نہیں بچا ہے۔“
2SA 13:31 یہ سُن کر بادشاہ اُٹھ کھڑا ہُوا، اُس نے اَپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اَور زمین پر لیٹ گیا اَور اُس کے تمام مُلازم بھی اَپنے اَپنے کپڑے پھاڑ کر اُس کے پاس کھڑے ہو گئے۔
2SA 13:32 لیکن داویؔد کے بھایٔی شِمعہؔ کے بیٹے یوُنادابؔ نے کہا، ”میرا آقا یہ نہ سوچے کہ بادشاہ کے تمام شہزادے مار ڈالے گیٔے ہیں۔ صِرف امنُونؔ ہی مَرا ہے کیونکہ اُس دِن سے جَب امنُونؔ نے اُس کی بہن تامارؔ کی عصمت دری کی تھی، اَبشالومؔ نے اُسے مار ڈالنے کا پکّا اِرادہ کر لیا تھا۔
2SA 13:33 سو میرے آقا بادشاہ کو اِس اِطّلاع سے کہ تمام شہزادے مار ڈالے گیٔے ہیں، پریشان نہیں ہونا چاہئے کیونکہ صِرف امنُونؔ ہی مَرا ہے۔“
2SA 13:34 اِسی دَوران اَبشالومؔ بھاگ گیا۔ اُس آدمی نے جو پہرا دے رہاتھا، ”نگاہ کی تو دیکھا کہ مغرب کی طرف پہاڑی کے دامن میں راستہ پر بہت سے آدمی چلے آ رہے ہیں۔ اُس نے جا کر بادشاہ کو بتایا کہ مَیں نے پہاڑی کے دامن میں حُورونایمؔ کی طرف آدمی دیکھے ہیں۔“
2SA 13:35 تَب یوُنادابؔ نے بادشاہ سے کہا، ”دیکھو بادشاہ کے شہزادے آ گیٔے اَور جَیسا آپ کہ خادِم نے کہاتھا بالکُل وَیسا ہی ہُوا۔“
2SA 13:36 جوں ہی اُس نے اَپنی بات ختم کی شہزادے آ پہُنچے اَور آہ و زاری کرنے لگے اَور بادشاہ اَور اُس کے سَب مُلازم بھی زار زار رُوئے۔
2SA 13:37 اَبشالومؔ بھاگ کر گیشُور کے بادشاہ عمّیہُوؔد کے بیٹے تلمی کے پاس چلا گیا اَور داویؔد اَپنے بیٹے کے لیٔے عرصہ تک ماتم کرتا رہا۔
2SA 13:38 اَبشالومؔ بھاگ کر گیشُور جانے کے بعد تین سال تک وہیں رہا۔
2SA 13:39 داویؔد بادشاہ کے دِل میں اَبشالومؔ تک پہُنچنے کی بڑی آرزُو تھی کیونکہ وہ امنُونؔ کی موت کے غم سے تسلّی پاچُکا تھا۔
2SA 14:1 یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ کو محسُوس ہُوا کہ بادشاہ کا دِل اَبشالومؔ کا متمنّی ہے
2SA 14:2 اِس لیٔے یُوآبؔ نے کسی کو تقوعؔ بھیج کر وہاں سے ایک چالاک عورت کو بُلوایا اَور اُس سے کہا، ”تُو ایک سوگ منانے والی عورت کا بھیس بدل کر ماتمی کپڑے پہن لے اَور کسی طرح کا بناؤ سنگار کئے بغیر ایک اَیسی عورت کی طرح اداکاری کرنا جو بہت دِنوں سے کسی عزیز کی موت کا ماتم کر رہی ہو۔
2SA 14:3 اَور پھر بادشاہ کے پاس جا کر یہ باتیں کہنا جو میں بتا رہا ہُوں۔“ اَور یُوآبؔ نے وہ باتیں اُسے سِکھا دیں
2SA 14:4 اَور جَب تقوعؔ کی وہ عورت بادشاہ کے پاس گئی تو اُن کی تعظیم کے لیٔے مُنہ کے بَل زمین پر گری اَور کہا، ”اَے بادشاہ! میری مدد کرو!“
2SA 14:5 بادشاہ نے اُس سے کہا، ”تُو کس بات سے پریشان ہے؟“ اُس نے کہا، ”درحقیقت میں ایک بِیوہ ہُوں؛ میرا خَاوند مَر چُکاہے۔
2SA 14:6 آپ کی خادِمہ کے دو بیٹے تھے۔ وہ کھیت میں ایک دُوسرے سے لڑنے لگے اَور وہاں اُنہیں چھُڑانے والا کویٔی نہ تھا۔ ایک نے دُوسرے کو اِتنا مارا کہ وہ مَر گیا۔
2SA 14:7 اَور اَب برادری کے سارے لوگ آپ کی خادِمہ کے خِلاف اُٹھ کھڑے ہُوئے ہیں اَور کہتے ہیں کہ جِس نے اَپنے بھایٔی کو مارا ہے اُسے ہمارے حوالہ کرو تاکہ ہم اُسے اَپنے بھایٔی کی جان کے بدلے میں قتل کریں تاکہ کویٔی وارِث ہی نہ رہے۔ وہ اُس ایک اَنگارے کو بھی جو میرے پاس باقی بچ رہاہے، بُجھا دینا چاہتے ہیں تاکہ رُوئے زمین پر میرے خَاوند کا نام و نِشان باقی نہ رہے اَور اُس کی نَسل نابود ہو جائے۔“
2SA 14:8 بادشاہ نے اُس عورت سے کہا، ”تُو گھر جا اَور مَیں تیری خاطِر ایک حُکم نامہ جاری کروں گا۔“
2SA 14:9 لیکن تقوعؔ کی اُس عورت نے کہا، ”میرے آقا بادشاہ! سارا جُرم مُجھ پر اَور میرے باپ کے گھرانے پر ہی رہنے دیں۔ آپ پر اَور آپ کے تخت پر بے اِلزام ٹھہرے۔“
2SA 14:10 بادشاہ نے جَواب دیا کہ، ”اگر کویٔی تُجھے کچھ کہے تو اُسے میرے پاس لے آنا اَور پھر وہ تُجھے تنگ نہیں کرےگا۔“
2SA 14:11 اُس عورت نے کہا، ”بادشاہ سلامت! میری گزارش ہے کہ یَاہوِہ اَپنے خُدا سے اِلتجا کریں کہ خُون کا اِنتقام لینے والا مزید بربادی سے باز آئے اَور میرے بیٹے کو ہلاک نہ کرنے پایٔے۔“ اُس نے کہا، ”زندہ یَاہوِہ کی قَسم، تیرے بیٹے کا ایک بال بھی زمین پر نہیں گرنے پایٔےگا۔“
2SA 14:12 تَب اُس عورت نے کہا، ”اِس خادِمہ کو اَپنے آقا بادشاہ سے ایک بات کہنے کی اِجازت ملے!“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”کہئے۔“
2SA 14:13 اُس عورت نے کہا: ”پھر آپ نے خُدا کے لوگوں کے خِلاف اَیسی تدبیر کیوں کی ہے؟ جَب بادشاہ یہ کہتاہے تو کیا وہ اَپنے آپ کو مُجرم نہیں ٹھہراتا کیونکہ بادشاہ اَپنے جَلاوطن بیٹے کو واپس نہیں لایا؟
2SA 14:14 جَیسے زمین پر گِرے ہُوئے پانی کو دوبارہ جمع نہیں کیا جا سَکتا وَیسے ہی ہمیں موت کے مُنہ میں چلے جاناہے۔ لیکن خُدا کسی کی جان نہیں لیتا بَلکہ اُس کی بجائے وہ اَیسے وسائل پیدا کر دیتاہے کہ جَلاوطن کیا ہُوا شخص بھی اُس سے دُور نہ رہے۔
2SA 14:15 ”چونکہ لوگوں نے مُجھے ڈرا دیا تھا اِس لیٔے میں اَپنے آقا بادشاہ کو یہ کہنے آئی اَور اِس خادِمہ نے سوچا، ’میں بادشاہ سے عرض کروں گی، شاید بادشاہ اَپنی خادِمہ کی عرض پُوری کر دیں۔
2SA 14:16 اَور شاید بادشاہ اَپنی خادِمہ کو اُس آدمی کے ہاتھ سے چھُڑانے کے لیٔے رضامند ہو جائیں جو مُجھے اَور میرے بیٹے دونوں کو اُس مِیراث سے جو خُدا نے ہمیں بخشی ہے خارج کرنے کی کوشش کر رہاہے۔‘
2SA 14:17 ”اَور اَب آپ کی خادِمہ کو اُمّید ہے، ’میرے آقا بادشاہ کی بات مُجھے سکون بخشے گی کیونکہ میرا مالک بادشاہ نیکی اَور بدی کے اِمتیاز میں خُدا کے فرشتہ کی مانند ہے۔ یَاہوِہ آپ کے خُدا آپ کے ساتھ ہُوں۔‘ “
2SA 14:18 تَب بادشاہ نے اُس عورت سے کہا، ”جو کچھ مَیں تُجھ سے پُوچھنے والا ہُوں صَاف صَاف بتانا اَور مُجھ سے کچھ مت چھُپانا۔“ عورت نے کہا، ”میرا آقا بادشاہ فرمائیں!“
2SA 14:19 تَب بادشاہ نے کہا، ”تُجھے یہ سَب کچھ یُوآبؔ نے سِکھا کر بھیجا ہے، ہے نا؟“ عورت نے جَواب دیا: ”آپ کے جان کی قَسم اَے میرے آقا بادشاہ، اِن باتوں سے جو میرے مالک بادشاہ نے فرمائی ہیں کون اِنکار کر سَکتا ہے! ہاں یہ آپ کا خادِم یُوآبؔ ہی تھا جِس نے مُجھے اَیسا کرنے کا حُکم دیا اَور مُجھے پٹّی پڑھا کر بھیجا۔
2SA 14:20 آپ کے خادِم یُوآبؔ نے مَوجُودہ صورت حال کو بدلنے کے لیٔے اَیسا کیا۔ میرا آقا بادشاہ یَاہوِہ کے فرشتہ کی طرح دانشمند ہے جو مُلک میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے۔“
2SA 14:21 تَب بادشاہ نے یُوآبؔ سے کہا، ”ٹھیک! مَیں نے تیری بات مان لی لہٰذا جا اَور اُس جَوان اَبشالومؔ کو واپس لے آ۔“
2SA 14:22 یُوآبؔ نے مُنہ کے بَل زمین پر گِر کر اُسے سَجدہ کیا اَور بادشاہ کو مُبارکباد دی۔ یُوآبؔ کہنے لگا، ”اَے میرے آقا بادشاہ، آج مُجھے یقین ہو گیا کہ مُجھ پر آپ کی نظرِکرم ہے کیونکہ بادشاہ نے اَپنے خادِم کی درخواست قبُول فرمائی ہے۔“
2SA 14:23 پھر یُوآبؔ گیشُور گیا اَور اَبشالومؔ کو واپس یروشلیمؔ لے آیا۔
2SA 14:24 لیکن بادشاہ نے فرمایا، ”وہ سیدھا اَپنے گھر جائے اَور میرا مُنہ نہ دیکھے۔“ لہٰذا اَبشالومؔ اَپنے گھر چلا گیا اَور بادشاہ کا مُنہ تک نہ دیکھ پایا۔
2SA 14:25 اَبشالومؔ اِتنا حسین تھا کہ سارے اِسرائیل میں اُس کا کویٔی ثانی نہ تھا۔ اُس میں سَر سے پاؤں تک کویٔی بھی عیب نہ تھا۔
2SA 14:26 اُس کے سَر کے بال اِتنے گھنے تھے کہ وہ اُنہیں ہر سال منڈوایا کرتا تھا اَور جَب اُن کا وزن کرتا تھا تو وہ شاہی تول کے مُطابق دو سَو ثاقل ہوتا تھا۔
2SA 14:27 اَور اَبشالومؔ سے تین بیٹے پیدا ہُوئے اَور ایک بیٹی۔ بیٹی کا نام تامارؔ تھا اَور وہ بڑی خُوبصورت عورت تھی۔
2SA 14:28 اَبشالومؔ پُورے دو سال یروشلیمؔ میں رہا لیکن اُسے بادشاہ کا مُنہ دیکھنا نصیب نہ ہُوا۔
2SA 14:29 پھر اَبشالومؔ نے یُوآبؔ کو بُلوایا تاکہ اُسے بادشاہ کے پاس بھیجے۔ لیکن یُوآبؔ نے اُس کے پاس آنے سے اِنکار کر دیا۔ اُس نے دوبارہ بُلوایا لیکن وہ نہ آیا۔
2SA 14:30 تَب اُس نے اَپنے خادِموں سے کہا: ”دیکھو میرے کھیت کے بعد یُوآبؔ کا کھیت ہے اَور اُس میں اُس کے جَو ہیں۔ جاؤ اَور اُس میں آگ لگا دو۔“ لہٰذا اَبشالومؔ کے خادِموں نے کھیت میں آگ لگا دی۔
2SA 14:31 تَب یُوآبؔ اَبشالومؔ کے گھر گیا اَور اُس سے کہا، ”تیرے خادِموں نے میرے کھیت میں آگ کیوں لگائی ہے؟“
2SA 14:32 اَبشالومؔ نے یُوآبؔ سے کہا، ”دیکھ، مَیں نے تُجھے پیغام بھیج کر بُلا لیا تھا، ’تاکہ مَیں تُجھے بادشاہ کے پاس یہ پُوچھنے کے لیٔے بھیج سکوں، ”مُجھے گیشُور سے یہاں کس لیٔے لایا گیا ہے؟ میرے لیٔے تو یہی بہتر تھا کہ مَیں ابھی تک وہیں رہتا!“ ‘ اَب مَیں بادشاہ کا مُنہ دیکھنا چاہتا ہُوں اَور اگر مَیں کسی بات کے لیٔے قُصُوروار ہُوں تو وہ مُجھے مار ڈالے۔“
2SA 14:33 پس یُوآبؔ بادشاہ کے پاس گیا اَور اُسے یہ بات بتایٔی۔ تَب بادشاہ نے اَبشالومؔ کو طلب کیا۔ وہ آیا اَور بادشاہ کے سامنے مُنہ کے بَل زمین پر جھُکا اَور بادشاہ نے اَبشالومؔ کا مُنہ چُوم لیا۔
2SA 15:1 اِسی اَثنا میں اَبشالومؔ نے اَپنے لیٔے ایک رتھ اَور گھوڑے اَور اَپنے آگے دَوڑنے کے لیٔے پچاس آدمی حاصل کر لیٔے۔
2SA 15:2 اَبشالومؔ سویرے اُٹھ بیٹھتا اَور شہر کے پھاٹک کو جانے والے راستہ کے کنارے کھڑا ہو جاتا۔ اَور جَب بھی وہ کسی کو اَپنے مُقدّمہ کے فیصلہ کے لیٔے بادشاہ کے پاس جاتے دیکھتا تو اُسے آواز دے کر پُوچھتا، ”تُم کون سے قصبہ سے ہو؟“ وہ جَواب دیتا، ”آپ کے خادِم اِسرائیل کے فُلاں قبیلہ کا ہے۔“
2SA 15:3 تو اَبشالومؔ اُسے کہتا کہ، ”دیکھ تیرا دعویٰ تو صحیح ہے مگر اُسے سُننے کے لیٔے وہاں بادشاہ کا کویٔی نُمائندہ مَوجُود نہیں ہے۔“
2SA 15:4 پھر اَبشالومؔ مزید کہتا، ”کاش میں مُلک کا قاضی بنایا گیا ہوتا! تَب ہر کویٔی اَپنا مُقدّمہ یا دعویٰ لے کر میرے پاس آتا اَور مَیں اُس کا اِنصاف کرتا۔“
2SA 15:5 نیز جَب کویٔی اُسے جھُک کر سلام کرنے کے لیٔے اُس کے قریب آتا تو اَبشالومؔ اَپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے پکڑ لیتا تھا اَور چُومتا تھا۔
2SA 15:6 غرض اَبشالومؔ تمام بنی اِسرائیلیوں کے ساتھ جو اِنصاف کے لیٔے بادشاہ کے پاس آتے تھے، اِس طرح پیش آتا تھا اَور یُوں اُس نے اِسرائیل کے تمام لوگوں کے دِل جیت لیٔے۔
2SA 15:7 چار سال اِس طرح گزر گئے۔ آخِر میں اَبشالومؔ نے بادشاہ سے کہا، ”مُجھے حِبرونؔ جانے اَور اَپنی مَنّت کو جو مَیں نے یَاہوِہ کے لیٔے مانی ہے پُوری کرنے کی اِجازت عطا فرمائی جائے۔
2SA 15:8 جَب آپ کا خادِم ارام کے شہر گیشُور میں رہتا تھا تو مَیں نے یہ مَنّت مانی تھی: ’اگر یَاہوِہ مُجھے واپس یروشلیمؔ لے جائیں تو میں حِبرونؔ میں یَاہوِہ کی عبادت کروں گا۔‘ “
2SA 15:9 بادشاہ نے اُس سے کہا: ”جا، سلامتی سے رخصت ہو!“ لہٰذا وہ حِبرونؔ چلا گیا۔
2SA 15:10 تَب اَبشالومؔ نے اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں خُفیہ طور پر قاصِد بھیج کر مُنادی کرادی، ”جوں ہی نرسنگے کی آواز سُنایٔی دے تو سَب بول اُٹھیں، ’اَبشالومؔ حِبرونؔ میں بادشاہ ہے۔‘ “
2SA 15:11 یروشلیمؔ سے دو سَو آدمی اَبشالومؔ کے ہمراہ گیٔے تھے۔ اُنہیں بطور مہمان دعوت دی گئی تھی اَور وہ بڑی سادہ دِلی کے ساتھ اُس کے ہمراہ ہو لیٔے تھے کیونکہ وہ اِس مُعاملہ سے قطعی ناواقِف تھے۔
2SA 15:12 جَب اَبشالومؔ قُربانیاں گزران رہاتھا تو اُس نے داویؔد کے مُشیر اخِیتُفلؔ گِلونی کو بھی اُس کے آبائی شہر گِلوہؔ سے بُلوایا۔ اِس طرح اُس سازش کو مضبُوطی مِل گئی اَور اَبشالومؔ کے حامی بڑھتے چلے گیٔے۔
2SA 15:13 ایک قاصِد نے آکر داویؔد کو بتایا کہ، ”اِسرائیل کے لوگوں کے دِل اَبشالومؔ کی طرف ہیں۔“
2SA 15:14 تَب داویؔد نے اَپنے تمام مُلازمین سے جو اُس کے ساتھ یروشلیمؔ میں تھے کہا، ”آؤ، ہم بھاگ چلیں ورنہ ہم میں سے کویٔی بھی اَبشالومؔ کے ہاتھ سے بچ کر نکلنے نہ پایٔےگا۔ ہمیں فوراً چل دینا چاہئے ورنہ وہ فوراً کُوچ کرکے ہمیں آ لے گا اَور تباہ کر دے گا اَور سارے شہر کو تلوار سے ہلاک کر ڈالے گا۔“
2SA 15:15 بادشاہ کے مُلازمین نے جَواب دیا کہ، ”جو کچھ ہمارا مالک بادشاہ چاہے، آپ کے خادِم کرنے کو تیّار ہیں۔“
2SA 15:16 تَب بادشاہ وہاں سے نِکلا اَور اُس کا سارا گھرانا اُس کے پیچھے چلا۔ لیکن اُس نے دس داشتاؤں کو محل کی نگہبانی کے لیٔے وہیں چھوڑ دیا۔
2SA 15:17 پس بادشاہ اَپنے تمام لوگوں کے ساتھ جو اُس کے پیچھے پیچھے تھے، روانہ ہُوا۔ وہ کچھ فاصلہ پر ایک جگہ رُک گیٔے۔
2SA 15:18 اَور اُس کے تمام مُلازمین اُس کے آگے ہوکر گزرے۔ نیز سَب کریتی اَور سَب پِلیتھی اَور وہ تمام چھ سَو گِتّی جو گاتؔھ سے بادشاہ کے ساتھ ہو لیٔے تھے، اُس کے سامنے آگے چلے۔
2SA 15:19 بادشاہ نے گِتّی اِتّی سے کہا، ”تُم ہمارے ساتھ کیوں چلتےہو؟ واپس جاؤ اَور اَبشالومؔ بادشاہ کے پاس رہو کیونکہ تُم تو پردیسی ہو اَور جَلاوطن ہے۔
2SA 15:20 اَور تُم کل ہی تو آئے ہو۔ کیا آج مَیں تُجھے اَپنے ساتھ اِدھر اُدھر لیٔے پھروں؟ مُجھے تو یہ بھی مَعلُوم نہیں کہ میں کہاں جا رہا ہُوں؟ لہٰذا واپس ہو جا اَور اَپنے عزیزوں کو بھی ساتھ لیتا جا۔ یَاہوِہ کی رحمت اَور راستی تیرے ساتھ ہُوں!“
2SA 15:21 لیکن اِتّی نے بادشاہ کو جَواب دیا، ”زندہ یَاہوِہ کی قَسم، اَور میرے آقا بادشاہ کی جان کی قَسم جہاں کہیں میرا آقا بادشاہ ہوگا وہیں آپ کا خادِم ہوگا۔ مَیں آپ کے ساتھ ہی جیوں گا اَور آپ کے ساتھ ہی مروں گا۔“
2SA 15:22 داویؔد نے اِتّی سے کہا، ”آگے بڑھ اَور چلنا شروع کر۔“ پس گِتّی اِتّی اَپنے تمام آدمیوں اَور اَپنے بال بچّوں کے ساتھ آگے چل دیا۔
2SA 15:23 اُن لوگوں کو جاتے دیکھ کر دیہات کے سَب لوگ بُلند آواز سے رونے لگے۔ بادشاہ نے بھی قِدرُونؔ کی وادی کو پار کیا اَور تمام لوگ بیابان کی طرف آگے بڑھتے چلے گیٔے۔
2SA 15:24 اَور صدُوقؔ بھی وہاں تھا۔ اَور تمام لیوی جو اُس کے ساتھ آئےتھے خُدا کے عہد کا صندُوق بھی ہمراہ لایٔے۔ اُنہُوں نے خُدا کے صندُوق کو نیچے رکھ دیا۔ ابیاترؔ اُوپر جا کھڑا ہُوا اَور جَب تک کہ تمام لوگ شہر سے باہر نکل نہ آئے وہ وہیں کھڑا رہا۔
2SA 15:25 تَب بادشاہ نے صدُوقؔ سے کہا، ”خُدا کے صندُوق کو واپس شہر میں لے جا۔ اگر مُجھ پر یَاہوِہ کی نظرِکرم ہوگی تو وہ مُجھے واپس لے آئے گا اَور موقع دے گا کہ میں اِسے اَور اِس کی قِیام گاہ کو پھر سے دیکھ سکوں۔
2SA 15:26 لیکن اگر وہ فرمایٔے، ’میں تُم سے خُوش نہیں ہُوں،‘ تَب میں تیّار ہُوں کہ جو کچھ اُسے بھلا مَعلُوم ہو میرے ساتھ کرے۔“
2SA 15:27 اَور بادشاہ نے صدُوقؔ کاہِنؔ سے یہ بھی کہا، ”تُم تو غیب بین ہو، ہے نا؟ پس تُم اَپنے بیٹے اخِیمعضؔ کو اَور ابیاترؔ اَور اُس کے بیٹے یُوناتانؔ کو ساتھ لے کر سلامتی سے شہر واپس چلے جاؤ۔
2SA 15:28 اَور مَیں بیابان کے سبزہ زار میں تمہارے پیغام کا اِنتظار کروں گا۔“
2SA 15:29 سو صدُوقؔ اَور ابیاترؔ خُدا کے صندُوق کو واپس یروشلیمؔ لے گیٔے اَور وہیں رہے۔
2SA 15:30 داویؔد کوہِ زَیتُون کی چڑھائی پر چڑھتا جا رہاتھا اَور اُس کی آنکھوں سے آنسُو بہ رہے تھے۔ اُس کا سَر ڈھکا ہُوا تھا اَور وہ ننگے پاؤں تھا۔ اُس کے ساتھ سَب لوگوں نے بھی اَپنے سَر ڈھانکے ہُوئے تھے اَور وہ روتے ہُوئے اُوپر چڑھتے جا رہے تھے۔
2SA 15:31 داویؔد کو خبر مِلی، ”سازش کرنے والوں میں اَبشالومؔ کے ساتھ اخِیتُفلؔ بھی شامل ہے۔“ لہٰذا داویؔد نے دعا مانگی، ”یَاہوِہ! اخِیتُفلؔ کی صلاح اَور مشورت کو ناکام بنادے۔“
2SA 15:32 تَب داویؔد اُس چوٹی پر پہُنچا جہاں لوگ خُدا کی عبادت کیا کرتے تھے ارکی حُوشائی اُس کا اِستِقبال کرنے کے لیٔے حاضِر تھا۔ اُس نے اَپنی قبا چاک کی ہُوئی تھی اَور سَر پر خاک ڈال رکھی تھی۔
2SA 15:33 داویؔد نے اُس سے کہا: ”اگر تُو میرے ساتھ جائے گا تو مُجھ پر بوجھ بنا رہے گا۔
2SA 15:34 لیکن اگر تُو شہر لَوٹ جائے اَور اَبشالومؔ سے کہے، ’اَے بادشاہ! مَیں آپ کی خدمت مَیں حاضِر ہُوا ہُوں جَیسے مَیں ماضی میں تیرے باپ کا خادِم تھا اَب تمہارا خادِم ہُوں۔‘ اِس طرح سے تُم اخِیتُفلؔ کی صلاح کو ناکام بنا کر میری مدد کر سکتے ہو۔
2SA 15:35 اَور کیا وہاں صدُوقؔ اَور ابیاترؔ کاہِنؔ تیرے ساتھ نہ ہوں گے؟ پس بادشاہ کے محل میں تُم جو کچھ بھی سُنو اُن دونوں کو بتا دیا کرنا۔
2SA 15:36 اُن کے دو بیٹے اخِیمعضؔ بِن صدُوقؔ اَور یُوناتانؔ بِن ابیاترؔ بھی وہاں اُن کے ساتھ ہیں۔ اَورجو بات تُم سُنو، اُن کے ذریعہ مُجھ تک پہُنچا دینا۔“
2SA 15:37 جَب داویؔد کا ہمراز حُوشائی یروشلیمؔ پہُنچا تو اَبشالومؔ شہر میں داخل ہو رہاتھا۔
2SA 16:1 جَب داویؔد پہاڑ کی چوٹی سے تھوڑی دُور آگے نکل گیا تو وہاں مفِیبوستؔ کا خادِم ضیباؔ اُس کا اِستِقبال کرنے کے لیٔے منتظر تھا۔ اُس کے پاس گدھے تھے جِن پر زینیں کسی ہُوئی تھیں اَور جِن پر دو سَو روٹیاں، کشمش کی ایک سَو ٹکیاں، اَنجیر کی ایک سَو ٹکیاں اَور مَے کا ایک مشکیزہ لدا ہُوا تھا۔
2SA 16:2 بادشاہ نے ضیباؔ سے پُوچھا، ”تُم اِنہیں کس لیٔے لائے ہو؟“ ضیباؔ نے جَواب دیا کہ گدھے بادشاہ کے گھرانے کی سواری کے لیٔے ہیں اَور روٹی اَور پھل لوگوں کے کھانے کے لیٔے ہیں اَور مَے اُن لوگوں کے لیٔے ہے جو بیابان میں تھک کر چُور ہو جایٔیں تاکہ اُسے پی کر تازہ دَم ہو سکیں۔
2SA 16:3 تَب بادشاہ نے پُوچھا کہ، ”تیرے آقا کا پوتا کہاں ہے؟“ ضیباؔ نے اُسے جَواب دیا کہ وہ یروشلیمؔ میں ٹھہرا ہُواہے کیونکہ اُس کا خیال ہے کہ آج اِسرائیل کا گھرانا میرے دادا کی بادشاہی مُجھے دے دے گا۔
2SA 16:4 تَب بادشاہ نے ضیباؔ سے کہا، ”وہ سَب جو مفِیبوستؔ کا تھا، اَب تیرا ہے۔“ ”میں جھُک کر آداب بجا لاتا ہُوں۔“ ضیباؔ نے کہا، ”اَے میرے آقا بادشاہ مُجھ پر آپ کی نظرِکرم رہے۔“
2SA 16:5 اَور جَب داویؔد بادشاہ بحوریمؔ کے قریب پہُنچا تو وہاں سے ایک آدمی جو شاؤل ہی کے برادری سے تھا نکل کر باہر آیا۔ اُس کا نام شِمعیؔ بِن گیراؔ تھا۔ باہر آتے ہی اُس نے لعنت بھیجنا شروع کر دیا
2SA 16:6 وہ داویؔد اَور بادشاہ کے تمام مُلازمین پر پتّھر پھینکنے لگا حالانکہ سَب لوگ اَور جنگی جَوان داویؔد کے داہنے اَور بائیں تھے۔
2SA 16:7 لعنت کرتے وقت شِمعیؔ نے کہا: ”دفع ہو جا۔ دُورہو جا۔ او خُونی۔ او بدکار!
2SA 16:8 تُم نے شاؤل کے تخت پر قبضہ جمالیا، اُس کے گھرانے کے لوگوں کا خُون بہایا۔ یَاہوِہ نے تُجھ سے اُسی کا بدلہ لیا ہے۔ یَاہوِہ نے بادشاہی تیرے بیٹے اَبشالومؔ کو دے دی ہے۔ تُو خُونی ہے اِسی لیٔے تباہی اَور بربادی کا شِکار ہو رہاہے۔“
2SA 16:9 تَب ابیشائی بِن ضرویاہؔ نے بادشاہ سے کہا، ”یہ مریل کُتّا اَور میرے آقا بادشاہ پر لعنت کرے؟ مُجھے اِجازت دیں کہ جا کر اُس کا سَر قلم کر دُوں۔“
2SA 16:10 لیکن بادشاہ نے کہا، ”اَے بنی ضرویاہؔ۔ تُم کیوں پریشان ہوتے ہو؟ اگر وہ لعنت کر رہاہے تو اِس لیٔے کہ یَاہوِہ نے اُسے حُکم دیا ہوگا، ’داویؔد پر لعنت کرے،‘ پس کون پُوچھ سکےگا، ’تُم کیوں اَیسا کر رہے ہو؟‘ “
2SA 16:11 پھر داویؔد نے ابیشائی اَور تمام مُلازمین سے کہا، ”جَب میرا ہی بیٹا جو میرا اَپنا خُون اَور گوشت ہے، مُجھے جان سے مار ڈالنا چاہتے ہیں تو یہ بِنیامینی جِتنا بھی کرے کم ہے۔ اُسے چھوڑ دو اَور لعنت کرنے دو کیونکہ یَاہوِہ نے اُسے حُکم دیا ہے۔
2SA 16:12 شاید یَاہوِہ میری ذِلّت پر نظر کریں اَورجو لعنت آج مُجھے مِل رہی ہے آج اَپنی لعنت کے بجائے اَپنی عہد کی نِعمت مُجھے واپس کر دیں۔“
2SA 16:13 لہٰذا داویؔد اَور اُس کے لوگ اُس راستے سے گزرتے گیٔے اَور شِمعیؔ سامنے کی پہاڑی کی ڈھلوان کے ساتھ ساتھ چلتے ہُوئے لعنت کرتا، پتّھر پھینکتا اَور خاک اُڑاتا جا رہاتھا۔
2SA 16:14 اَور بادشاہ اَور اُس کے ہمراہ تمام لوگ تھکے ماندے اَپنی منزلِ مقصود پر پہُنچے اَور تازہ دَم ہُوئے۔
2SA 16:15 اِس دَوران اَبشالومؔ اَور اِسرائیل کے تمام لوگ یروشلیمؔ کو آ گئے اَور اخِیتُفلؔ اُس کے ساتھ تھا۔
2SA 16:16 تَب داویؔد کے ہمراز ارکی حُوشائی نے اَبشالومؔ کے پاس جا کر کہا، ”بادشاہ سلامت رہے! بادشاہ سلامت رہے!“
2SA 16:17 اَبشالومؔ نے حُوشائی سے پُوچھا، ”کیا یہ وہ مَحَبّت تو نہیں جو تیرے دِل میں اَپنے دوست کے لیٔے ہے؟ تُو اَپنے دوست کے ساتھ کیوں نہیں گیا؟“
2SA 16:18 حُوشائی نے اَبشالومؔ سے کہا: ”نہیں، جسے یَاہوِہ نے، اِن لوگوں نے اَور اِسرائیل کے سَب لوگوں نے چُنا میں اُسی کا ہُوں اَور اُسی کی خدمت میں رہُوں گا۔
2SA 16:19 علاوہ اِس کے میں کس کی خدمت کروں؟ کیا مُجھے اُس کے بیٹے کی خدمت نہیں کرنا چاہئے؟ جَیسے مَیں نے تیرے باپ کی خدمت کی وَیسے ہی آپ کی خدمت کروں گا۔“
2SA 16:20 اَبشالومؔ نے اخِیتُفلؔ سے کہا، ”مُجھے صلاح دیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟“
2SA 16:21 اخِیتُفلؔ نے اَبشالومؔ کو جَواب دیا: ”تُم اَپنے باپ کی اُن داشتاؤں کے ساتھ صحبت کر جنہیں وہ محل کی نگہبانی کے لیٔے چھوڑ گیا ہے۔ تَب تمام اِسرائیل سُنے گا کہ تیرے باپ کو تُجھ سے گھِن آنے لگی ہے۔ یُوں جو تیرے ساتھ ہیں اُن کے ہاتھ مضبُوط ہوں گے۔“
2SA 16:22 پس اُنہُوں نے اَبشالومؔ کے لیٔے چھت پر ایک خیمہ لگا دیا اَور وہ تمام اِسرائیل کے سامنے اَپنے باپ کی داشتاؤں کے پاس جانے لگا۔
2SA 16:23 اُن دِنوں اخِیتُفلؔ کی ہر صلاح خُدا داد صلاح کی مانند سَمجھی جاتی تھی۔ داویؔد اَور اَبشالومؔ دونوں اخِیتُفلؔ کی صلاح کو یہی درجہ دیتے تھے۔
2SA 17:1 اَور اخِیتُفلؔ نے اَبشالومؔ سے کہا: ”اگر آپ اِجازت دیں تو میں بَارہ ہزار آدمی چُن کر آج ہی رات کو داویؔد کے تعاقب میں روانہ ہو جاؤں
2SA 17:2 اَور مَیں چاہتا ہُوں کہ جَب وہ تھکا ماندہ اَور کمزور دِکھائی دے اُس وقت اُس پر حملہ کر دُوں۔ میں اُسے خوفزدہ کر دُوں گا اَور سَب لوگ جو اُس کے ساتھ ہیں بھاگ جایٔیں گے۔ میں صِرف بادشاہ کو مار گرانا چاہتا ہُوں
2SA 17:3 تاکہ تمام لوگوں کو واپس آپ کے پاس لے آؤں۔ جِس آدمی کی آپ کو تلاش ہے اُس کی موت کا مطلب ہوگا سَب کی سلامتی۔ اِس طرح وہ سَب کے سَب بچ جایٔیں گے۔“
2SA 17:4 یہ تجویز اَبشالومؔ اَور سَب اِسرائیلی بُزرگوں کو پسند آئی۔
2SA 17:5 لیکن اَبشالومؔ نے کہا، ”ارکی حُوشائی کو بھی طلب کر تاکہ ہم سُن سکیں کہ اُس کی رائے کیا ہے۔“
2SA 17:6 جَب حُوشائی اُس کے پاس آیا تو اَبشالومؔ نے اُسے بتایا، ”اخِیتُفلؔ نے یہ صلاح دی ہے۔ کیا ہمیں اُس کے کہنے کے مُطابق عَمل کرنا چاہئے؟ اگر نہیں تو ہمیں بتا کہ تیری کیا تجویز ہے؟“
2SA 17:7 حُوشائی نے اَبشالومؔ کو جَواب دیا، ”اخِیتُفلؔ نے جو صلاح اِس دفعہ دیا ہے وہ ٹھیک نہیں۔
2SA 17:8 حُوشائی نے مزید کہا کہ آپ اَپنے باپ کو اَور اُن کے آدمیوں کو جانتے ہیں کہ وہ جنگجو ہیں اَور اَیسی جنگلی ریچھنی کی طرح جھلّائے ہُوئے ہیں جِس کے بچّے اُس سے چھین لیٔے گیٔے ہُوں۔ علاوہ ازیں آپ کے باپ ایک تجربہ کار جنگی مَرد ہیں۔ وہ رات کے وقت فَوجیوں کے ساتھ نہیں ٹھہریں گے۔
2SA 17:9 اَور اَب بھی غار میں یا کسی اَور جگہ چھُپے ہُوئے ہوں گے۔ اگر پہلے وہ آپ کے فَوجیوں پر ٹوٹ پڑے تو جو کویٔی بھی اِس کے متعلّق سُنے گا یہ کہے گا، ’اَبشالومؔ کے حمایتی فَوجیوں کی خُونریزی شروع ہو گئی ہے۔‘
2SA 17:10 تَب بہادر سے بہادر اَور شیر دِل سپاہی بھی ڈر سے پگھل کر رہ جائے گا کیونکہ تمام بنی اِسرائیل کو مَعلُوم ہے کہ آپ کے باپ اَور وہ لوگ جو اُن کے ساتھ ہیں بڑے دِلیر سپاہی ہیں۔
2SA 17:11 ”لہٰذا مَیں آپ کو صلاح دیتا ہُوں کہ دانؔ سے لے کر بیرشبعؔ تک تمام اِسرائیلی جو سمُندر کی ریت کی مانند لاتعداد ہیں آپ کے پاس جمع ہُوں اَور آپ خُود جنگ میں اُن کی قیادت کرنا۔
2SA 17:12 تَب جہاں کہیں بھی وہ ہوں گے ہم اُن پر حملہ کریں گے اَور اُن پر اَیسے گریں گے جَیسے شبنم زمین پر گرتی ہے۔ ہم اُنہیں اَور اُن کے کسی آدمی کو بھی زندہ نہ چھوڑیں گے۔
2SA 17:13 اگر وہ کسی شہر میں چلا جائے تو تمام اِسرائیل اِس شہر میں رسّیاں لے آئیں گے اَور ہم اِسے گھسیٹ کر وادی میں لے جائیں گے یہاں تک کہ ایک کنکری بھی باقی نہ رہ جائے۔“
2SA 17:14 تَب اَبشالومؔ اَور سارے اِسرائیلی لوگوں نے کہا، ”ارکی حُوشائی نے جو صلاح دی ہے وہ اخِیتُفلؔ کی صلاح سے بہتر ہے۔“ کیونکہ یَاہوِہ کی طرف سے پہلے ہی سے طے ہو چُکاتھا کہ اخِیتُفلؔ کی بہتر صلاح ناکام ثابت ہو اَور اَبشالومؔ پر آفت نازل ہو۔
2SA 17:15 پھر حُوشائی نے صدُوقؔ کاہِنؔ اَور ابیاترؔ کاہِنؔ، دونوں کو بتایا، ”اخِیتُفلؔ نے اَبشالومؔ کو اَور اِسرائیلی بُزرگوں کو صلاح دی کہ وہ یُوں کریں اَور مَیں نے اُنہیں اَیسا کرنے کی صلاح دی ہے۔
2SA 17:16 اَب جلدی کرو اَور کویٔی قاصِد بھیج کر داویؔد کو بتاؤ، ’وہ بیابان کے سبزہ زار میں رات نہ گُزاریں بَلکہ فوراً دریا کے پار چلے جائیں ورنہ بادشاہ اَور سَب لوگ جو اُن کے ساتھ ہیں نِیست کر دیئے جایٔیں گے۔‘ “
2SA 17:17 یُوناتانؔ اَور اخِیمعضؔ عینؔ روگلؔ کے پاس ٹھہرے ہُوئے تھے۔ ایک خادِمہ جا کر اُنہیں آگاہ کرتی تھی اَور وہ جا کر داویؔد بادشاہ کو بتاتے تھے کیونکہ وہ یہ خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے کہ کویٔی اُنہیں شہر میں داخل ہوتے ہُوئے دیکھ لے۔
2SA 17:18 لیکن ایک نوجوان نے اُنہیں دیکھ لیا اَور اَبشالومؔ کو بتا دیا۔ لہٰذا وہ جلدی سے وہاں سے روانہ ہوکر بحوریمؔ میں ایک آدمی کے گھر چلے گیٔے۔ اُس کے صحن میں ایک کنواں تھا اَور وہ اُس میں اُترگئے۔
2SA 17:19 اُس آدمی کی بیوی نے اُس کنوئیں کے مُنہ پر ایک چادر پھیلا دی اَور اُس پر اناج بِکھیر دیا اَور اِس چال کے بارے میں کسی کو کچھ بھی مَعلُوم نہ ہُوا۔
2SA 17:20 جَب اَبشالومؔ کے آدمی اُس گھر میں اُس عورت کے پاس آئے تو اُنہُوں نے پُوچھا کہ، ”اخِیمعضؔ اَور یُوناتانؔ کہاں ہیں؟“ اُس عورت نے اُنہیں جَواب دیا کہ وہ تو نالہ کے پار چلے گیٔے ہیں۔ اُن آدمیوں نے اُنہیں ڈھونڈا لیکن کسی کو وہاں نہ پایا لہٰذا وہ واپس یروشلیمؔ چلے گیٔے۔
2SA 17:21 اُن کے وہاں سے چلے جانے کے بعد وہ دونوں کنوئیں سے باہر نکلے اَور داویؔد بادشاہ کو خبر دینے پہُنچے۔ اُنہُوں نے اُس سے کہا: ”یہاں سے فوراً روانہ ہوکر دریا پار چلے جائیں کیونکہ اخِیتُفلؔ نے آپ کے خِلاف یہ صلاح دی ہے۔“
2SA 17:22 لہٰذا داویؔد اَور وہ سَب لوگ جو اُن کے ساتھ تھے روانہ ہُوئے اَور دریائے یردنؔ کے پار چلے گیٔے اَور صُبح کی رَوشنی ہونے تک سَب لوگ دریا کو پار کر چُکے تھے۔
2SA 17:23 جَب اخِیتُفلؔ نے دیکھا کہ اُس کی صلاح پر عَمل نہیں کیا گیا تو اُس نے اَپنے گدھے پر زین کسی اَور اَپنے گھر چلا گیا جو شہر میں تھا۔ وہاں اُس نے اَپنے گھرانے کا بندوبست کیا اَور پھر اَپنے آپ کو پھانسی دی اَور مَر گیا اَور اَپنے باپ کی قبر میں دفن ہُوا۔
2SA 17:24 تَب داویؔد محنایمؔ کو چلےگئے اَور اَبشالومؔ تمام بنی اِسرائیلی مَردوں کے ہمراہ دریائے یردنؔ کے پار جا اُترے۔
2SA 17:25 اَبشالومؔ نے یُوآبؔ کی جگہ عماساؔ کو فَوج کا سپہ سالار مُقرّر کیا۔ عماساؔ ایک بنی اِشمعیلی آدمی اِسرائیلی یترؔ کا بیٹا تھا جِس نے ابیگیلؔ سے شادی کی تھی جو ناحسؔ کی بیٹی تھی اَور یُوآبؔ کی ماں ضرویاہؔ کی بہن تھی۔
2SA 17:26 اَور بنی اِسرائیلی اَور اَبشالومؔ نے گِلعادؔ میں لگائی۔
2SA 17:27 اَور جَب داویؔد محنایمؔ کو آئے تو ناحسؔ کا بیٹا شوبیؔ جو بنی عمُّون کے ربّہؔ سے تھا اَور عمّی ایل کا بیٹا مکیرؔ جو لُو دِبارؔ سے تھا اَور برزِلّئیؔ گِلعادی جو روگلیمؔ سے تھا
2SA 17:28 بِسترے، ڈونگے اَور کُمہار کے مٹّی کے برتن لے کر آئے۔ نیز وہ گیہُوں، جَو، آٹا، بھُنا ہُوا اناج، لوبیا کی پھلیاں اَور مسور،
2SA 17:29 شہد اَور دہی، بھیڑ بکری اَور گائے کے دُودھ کا پنیر بھی لایٔے۔ یہ چیزیں داویؔد اَور اُن کے لوگوں کے کھانے کے لیٔے اِس خیال سے لایٔے تھے کہ، ”بیابان میں داویؔد اَور اُن کے لوگ بھُوکے پیاسے اَور تھکے ماندے ہوں گے۔“
2SA 18:1 اَور داویؔد نے اُن مَردوں کو جو اُن کے ساتھ تھے جمع کرکے گِنا اَور ہر ہزار اَور ہر سَو آدمیوں کی ٹکڑیوں پر سردار مُقرّر کئے۔
2SA 18:2 اَور داویؔد نے جِن فَوجیوں کو روانہ کیا اُن کا ایک تہائی یُوآبؔ کے، ایک تہائی یُوآبؔ کے بھایٔی ابیشائی بِن ضرویاہؔ کے، اَور ایک تہائی گِتّی اِتّی کے ماتحت تھا اَور بادشاہ نے اُن لوگوں سے کہا، ”میں خُود بھی ضروُر تمہارے ساتھ چلُوں گا۔“
2SA 18:3 لیکن لوگوں نے کہا، ”آپ کو جانے کی ضروُرت نہیں۔ اگر ہم بھاگنے پر مجبُور ہُوئے تو وہ ہماری پروا نہیں کریں گے اَور خواہ ہم میں سے آدھے بھی مارے جایٔیں وہ پروا نہیں کریں گے۔ لیکن آپ ہمارے دس ہزار کے برابر ہو۔ تمہارے لیٔے بہتر یہی ہے کہ تُم شہر میں رہ کر ہی ہماری مدد کریں۔“
2SA 18:4 بادشاہ نے کہا، ”جو کچھ تُمہیں بہتر مَعلُوم ہوتاہے میں وُہی کروں گا۔“ لہٰذا جَب وہ لوگ سَو سَو اَور ہزار ہزار کی ٹکڑیوں میں باہر نکلے تو بادشاہ پھاٹک کے پاس کھڑے رہے۔
2SA 18:5 اَور بادشاہ نے یُوآبؔ، ابیشائی اَور اِتّی کو حُکم دیا، ”میری خاطِر اُس جَوان اَبشالومؔ کے ساتھ نرمی سے پیش آنا۔“ جَب بادشاہ نے ہر ایک سردار کو اَبشالومؔ کے متعلّق تاکید کی تو تمام لوگ سُن رہے تھے۔
2SA 18:6 سَو وہ لوگ بنی اِسرائیل سے لڑنے کے لیٔے روانہ ہُوئے اَور لڑائی اِفرائیمؔ کے جنگل میں ہُوئی۔
2SA 18:7 اَور اِسرائیل کی فَوج نے داویؔد کے آدمیوں سے شِکست دِلائی اَور اُس دِن اُتنی زِیادہ خُونریزی ہُوئی کہ بیس ہزار آدمی مارےگئے۔
2SA 18:8 وہ لڑائی سارے علاقہ میں پھیل گئی اَور اُس دِن بیشتر جانیں تلوار کی بجائے اُس جنگل کا لقمہ بَن گئیں۔
2SA 18:9 اَور اِتّفاقاً اَبشالومؔ داویؔد کے آدمیوں کے سامنے آ گیا۔ وہ اَپنے خچّر پر سوار تھا اَور جَب وہ خچّر تیز رفتار کے ساتھ ایک بڑے گھنے بلُوط کے درخت کے نیچے سے گزرا تو اَبشالومؔ کا سَر اُس درخت کی شاخوں میں پھنس گیا اَور وہ خچّر جِس پر وہ سوار تھا اُس کے نیچے سے نکل گیا اَور وہ ہَوا میں لٹکتا رہ گیا۔
2SA 18:10 جَب اُن آدمیوں میں سے ایک نے یہ دیکھا تو اُس نے یُوآبؔ کو خبر دی کہ، ”مَیں نے اَبشالومؔ کو ایک بلُوط کے درخت میں لٹکا ہُوا دیکھاہے۔“
2SA 18:11 یُوآبؔ نے اُس سے جِس نے یہ خبر دی تھی کہا: ”کیا! تُونے اُس جنگجو کو لٹکا دیکھا؟ تو اُسے وہیں کیوں نہ مار گرایا کیونکہ مَیں تُجھے دس ثاقل چاندی اَور ایک کمربند عطا کرتا۔“
2SA 18:12 لیکن اُس نے یُوآبؔ کو جَواب دیا، ”خواہ مُجھے ایک ہزار ثاقل چاندی بھی تول کر دے دی جاتی تَب بھی بادشاہ کے بیٹے پر ہاتھ نہ اُٹھاتا۔ کیونکہ ہم سُن رہے تھے جَب بادشاہ نے آپ کو ابیشائی اَور اِتّی کو تاکید کی تھی کہ جَوان اَبشالومؔ پر میری خاطِر آنچ نہ آنے پایٔے۔
2SA 18:13 اگر مَیں اُن سے دغا کرتا تو یہ بات بادشاہ سے پوشیدہ نہ رہتی اَور آپ بھی میری مدد سے ہاتھ دھو لیتے۔“
2SA 18:14 یُوآبؔ نے کہا، ”مَیں تیرے ساتھ یُوں ہی ٹھہرا نہیں رہ سَکتا۔“ لہٰذا اُس نے تین برچھی لیں اَور اُن سے اَبشالومؔ کے دِل کو چھید ڈالا۔ اَبشالومؔ بلُوط کے درخت میں ابھی زندہ ہی تھا
2SA 18:15 کہ یُوآبؔ کے دس سلح برداروں نے اَبشالومؔ کو گھیرلیا اَور قتل کر دیا۔
2SA 18:16 تَب یُوآبؔ نے نرسنگا پھُونکا اَور وہ لوگ جو بنی اِسرائیلیوں کا تعاقب کر رہے تھے لَوٹ آئے کیونکہ یُوآبؔ نے اُنہیں روک دیا تھا۔
2SA 18:17 اَور اُنہُوں نے اَبشالومؔ کو لے کر جنگل کے ایک بڑے گڑھے میں پھینک دیا اَور اُس کے اُوپر پتّھروں کا ایک بڑا ڈھیر لگا دیا۔ اِس دَوران تمام بنی اِسرائیلی اَپنے اَپنے خیموں کو بھاگ گیٔے۔
2SA 18:18 اَبشالومؔ نے اَپنے زندگی بھر ایک سُتون لے کر اُسے شاہی وادی میں اَپنی یادگار کے طور پر کھڑا کیا تھا اَور کیونکہ اِس نے سوچا، ”میرے پاس اَپنے نام کی یاد کو جاری رکھنے کے لئے کوئی بیٹا نہیں ہے۔“ وہ آج تک اَبشالومؔ کی یادگار کہلاتی ہے۔
2SA 18:19 اَور صدُوقؔ کے بیٹے اخِیمعضؔ نے کہا، ”مُجھے اِجازت دیں کہ دَوڑکر یہ خبر بادشاہ کے پاس لے جاؤں کہ یَاہوِہ نے اُنہیں اُن کے دُشمنوں سے رِہائی بخشی ہے۔“
2SA 18:20 لیکن یُوآبؔ نے اُس سے کہا، ”آج نہیں، یہ خبر کسی اَور وقت لے جانا۔ آج اَیسا ہرگز نہ کرنا کیونکہ مرنے والا بادشاہ کا بیٹا تھا۔“
2SA 18:21 تَب یُوآبؔ نے ایک کُوشی آدمی سے کہا، ”جا اَورجو کچھ تُونے دیکھاہے بادشاہ کو بتا۔“ وہ کُوشی یُوآبؔ کے سامنے جھُکا اَور پھر تیزی سے روانہ ہُوا۔
2SA 18:22 تَب اخِیمعضؔ بِن صدُوقؔ نے یُوآبؔ سے پھر کہا، ”خواہ کچھ ہو مہربانی کرکے مُجھے بھی اُس کُوشی کے پیچھے دَوڑ جانے دیں۔“ لیکن یُوآبؔ نے جَواب دیا، ”میرے بیٹے! تُو کیوں جانا چاہتاہے؟ یہ اَیسی خبر نہیں ہے جِس کے عوض تُجھے کویٔی اِنعام ملے گا۔“
2SA 18:23 اُس نے کہا، ”خواہ کچھ ہو۔ میں تو فرار ہونا چاہتا ہُوں۔“ لہٰذا یُوآبؔ نے کہا، ”اَچھّا! دَوڑجا!“ تَب اخِیمعضؔ اُس میدان سے ہوتا ہُوا دَوڑکر کُوشی سے آگے نکل گیا۔
2SA 18:24 اَور جَب داویؔد اَندرونی اَور بیرونی پھاٹکوں کے درمیان بیٹھے ہُوئے تھے تو اُس وقت پہرےدار فصیل کی دیوار پر چڑھ کر پھاٹک کی چھت پر گیا۔ جَب اُس نے نظر دَوڑائی تو دیکھا کہ ایک آدمی اکیلا دَوڑا آ رہاہے۔
2SA 18:25 پہرےدار نے پُکار کر بادشاہ کو یہ اِطّلاع دی۔ بادشاہ نے کہا: ”اگر وہ اکیلا ہے تو ضروُر کویٔی اَچھّی خبر لایا ہوگا۔“ اَور وہ آدمی دَوڑتا ہُوا نزدیک آ گیا۔
2SA 18:26 پھر پہرےدار نے دیکھا کہ ایک اَور آدمی دَوڑا چلا آ رہاہے۔ اُس نے نیچے دربان کو پُکار کر کہا: ”دیکھ ایک اَور آدمی اکیلا دَوڑا آ رہاہے!“ تَب بادشاہ نے کہا: ”وہ بھی ضروُر اَچھّی خبر لا رہا ہوگا۔“
2SA 18:27 پہرےدار نے کہا، ”مُجھے آگے والے شخص کا دَوڑنا صدُوقؔ کے بیٹے اخِیمعضؔ کے دَوڑنے کی طرح لگتا ہے۔“ بادشاہ نے کہا، ”وہ اَچھّا آدمی ہے اَور اَچھّی خبر لے کر آتا ہے۔“
2SA 18:28 تَب اخِیمعضؔ نے بادشاہ کو پُکار کر کہا، ”سَب کچھ ٹھیک ہے!“ اَور نزدیک آکر بادشاہ کے سامنے مُنہ کے بَل زمین پر جھُک کر کہنے لگا، ”یَاہوِہ آپ کے خُدا کی سِتائش ہو! جِن آدمیوں نے میرے آقا بادشاہ کے خِلاف ہاتھ اُٹھائے تھے، خُدا نے اُنہیں ہمارے حوالہ کر دیا ہے۔“
2SA 18:29 بادشاہ نے پُوچھا: کیا وہ جَوان اَبشالومؔ خیریت سے ہے؟ اخِیمعضؔ نے جَواب دیا کہ، ”جَب یُوآبؔ نے بادشاہ کے خادِم یعنی اِس خادِم کو روانہ فرمایا تو مَیں نے بڑی ہلچل دیکھی۔ مگر مُجھے مَعلُوم نہیں کہ وہ کیا تھی۔“
2SA 18:30 بادشاہ نے کہا: ”اَچھّا، اُدھر ایک طرف ہوکر کھڑا رہ۔“ لہٰذا وہ ایک طرف ہٹ گیا اَور وہیں کھڑا رہا۔
2SA 18:31 تَب اُس کُوشی نے آکر کہا، ”اَے میرے آقا بادشاہ! سُنیں، اَچھّی خبر یہ ہے کہ یَاہوِہ نے آپ کو اُن سَب سے نَجات بخشی ہے جنہوں نے آپ کے خِلاف بغاوت کی تھی۔“
2SA 18:32 تَب بادشاہ نے اُس کُوشی سے پُوچھا، ”کیا وہ جَوان اَبشالومؔ خیریت سے ہے؟“ اُس کُوشی نے جَواب دیا، ”میرے آقا بادشاہ کے سَب دُشمن اَور وہ سَب جو آپ کو نُقصان پہچانے کے لیٔے بغاوت کریں اُن کا حَشر اُس جَوان کی مانند ہو۔“
2SA 18:33 یہ سُن کر بادشاہ کا دِل دھک سے رہ گیا اَور وہ روتا ہُوا پھاٹک کے دروازہ کے اُوپر کمرہ کی طرف چل دیا۔ وہ چلتے چلتے یُوں کہتے جاتا تھا: ”ہائے میرے بیٹے اَبشالومؔ! میرے بیٹے، میرے بیٹے اَبشالومؔ! کاش تیرے بدلے میں مَرجاتا۔ اَے اَبشالومؔ، میرے بیٹے، میرے بیٹے!“
2SA 19:1 اَور یُوآبؔ کو بتایا گیا کہ دیکھو، ”بادشاہ اَبشالومؔ کے لیٔے نوحہ اَور ماتم کر رہاہے۔“
2SA 19:2 سَو تمام لوگوں کے لیٔے اُس دِن کی فتح ماتم میں بدل گئی، ”کیونکہ اُس دِن لوگوں نے یہ بات سُنی کہ بادشاہ اَپنے بیٹے کے لیٔے غمگین ہے۔“
2SA 19:3 اَور اُس دِن وہ لوگ شہر میں اَیسی خاموشی کے ساتھ داخل ہُوئے جَیسے میدانِ جنگ سے فرار ہُوئے لوگ شرم کے مارے دبے پاؤں آتے ہیں۔
2SA 19:4 بادشاہ نے اَپنا مُنہ ڈھانک کر بُلند آواز سے چِلّانا شروع کر دیا، ”ہائے میرے بیٹے اَبشالومؔ! ہائے اَبشالومؔ میرے بیٹے۔ میرے بیٹے!“
2SA 19:5 یُوآبؔ گھر میں بادشاہ کے پاس جا کر کہنے لگا، ”آپ نے اَپنے سَب آدمیوں کو شرمندہ کر دیا جنہوں نے آج کے دِن آپ کے بیٹوں اَور بیٹیوں، اَور تمہاری بیویوں اَور داشتاؤں کی جانیں بچائی ہیں۔
2SA 19:6 آپ اُنہیں جو آپ سے نفرت کرتے ہیں مَحَبّت کرتے ہیں اَور اُن سے جو آپ سے مَحَبّت کرتے ہیں نفرت کرتے ہیں۔ آج آپ نے ظاہر کر دیا ہے کہ آپ کی نظر میں اَپنے سرداروں اَور اَپنے آدمیوں کی کویٔی وقعت نہیں۔ میں سمجھتا ہُوں کہ اگر اَبشالومؔ آج زندہ ہوتا اَور ہم سَب مَر گیٔے ہوتے تو آپ زِیادہ خُوش ہوتے۔
2SA 19:7 اَب باہر جاتے اَور اَپنے آدمیوں کی حوصلہ اَفزائی کرتے۔ میں یَاہوِہ کی قَسم کھاتا ہُوں کہ اگر آپ باہر نہ گئے تو رات ہونے تک آپ کے ساتھ ایک بھی آدمی باقی نہ رہے گا۔ اَور آپ کی جَوانی سے لے کر اَب تک آپ پر جِتنی بھی آفتیں آئی ہیں یہ سَب سے زِیادہ بُری ہُوں گی۔“
2SA 19:8 پس بادشاہ اُٹھا اَور پھاٹک میں بیٹھ گیا۔ اَور جَب لوگوں کو بتایا گیا، ”دیکھو بادشاہ پھاٹک میں بیٹھا ہُواہے،“ تو وہ سَب اُن کے سامنے آئے۔ اِس دَوران سارے بنی اِسرائیل اَپنے اَپنے گھروں کو بھاگ گئے۔ اِس دَوران اِسرائیلی بھاگ کر اَپنے اَپنے گھروں کو چلے گیٔے تھے۔
2SA 19:9 اَور بنی اِسرائیل کے تمام قبیلوں میں سَب لوگ آپَس میں یہ بحث کرنے لگے کہ، ”جِس بادشاہ نے ہمیں ہمارے دُشمنوں کے ہاتھ سے چھُڑایا اَور ہمیں فلسطینیوں کے ہاتھ سے بچایا اَب وُہی اَبشالومؔ کے سامنے سے مُلک چھوڑکر بھاگ گیا ہے۔
2SA 19:10 اَور اَبشالومؔ جسے ہم نے مَسح کرکے بادشاہ بنایا وہ بھی جنگ میں مارا گیا ہے، اِس لئے اَب تُم داویؔد بادشاہ کو واپس لانے کی بات کیوں نہیں کرتے؟“
2SA 19:11 تَب داویؔد بادشاہ نے صدُوقؔ اَور ابیاترؔ کاہِنوں کو یہ پیغام بھیجا: ”یہُوداہؔ کے بُزرگوں سے پُوچھو کہ بادشاہ کو اُس کے محل میں لانے کے لیٔے تُم سَب سے پیچھے کیوں ہو جَب کہ اُن ساری باتوں کا چرچا جو اِسرائیل میں ہو رہاہے وہ بادشاہ کی جائے قِیام تک پہُنچ چُکاہے؟
2SA 19:12 تُم میرے بھایٔی ہو اَور میرا اَپنا گوشت اَور خُون ہو، پھر بادشاہ کو واپس لانے میں تُم سَب سے پیچھے کیوں ہو؟
2SA 19:13 اَور عماساؔ سے کہنا، ’کیا تُم میرا اَپنا گوشت اَور خُون نہیں؟ اَب اگر میری فَوج کا سپہ سالار یُوآبؔ کی جگہ تُم نہ ہوتے تو مُجھ پر خُدا کی مار پڑے!‘ “
2SA 19:14 اَور اُس نے بنی یہُوداہؔ کے ہر آدمی کا دِل جیت لیا۔ چنانچہ اُنہُوں نے بادشاہ کو پیغام بھیجا کہ، ”آپ اَپنے سارے آدمیوں کے ساتھ واپس آ جائیں۔
2SA 19:15 تَب بادشاہ لَوٹے اَور یردنؔ تک جاپہنچے۔“ اَور یہُوداہؔ کے آدمی آگے جا کر بادشاہ کا اِستِقبال کرنے اَور اُنہیں یردنؔ پار لانے کے لیٔے گِلگالؔ میں آئے ہُوئے تھے۔
2SA 19:16 اَور بحوریمؔ کا شِمعیؔ بِن گیراؔ بِنیامینی بھی بنی یہُوداہؔ کے آدمیوں کے ہمراہ جلدی سے داویؔد بادشاہ کے اِستِقبال کو آیا۔
2SA 19:17 اُس کے ساتھ ایک ہزار بنی بِنیامین تھے اَور شاؤل کے گھرانے کا خادِم ضیباؔ بھی اَپنے پندرہ بیٹوں اَور بیس مُلازمین سمیت اُس کے ساتھ تھا۔ وہ تیزی سے یردنؔ پر بادشاہ کے پہُنچنے سے پہلے پہُنچے۔
2SA 19:18 تاکہ بادشاہ کے گھر کے لوگوں کو پار لانے میں اُن کی مدد کریں اَورجو کچھ بادشاہ فرمایٔے اُسے اَنجام دیں۔ اَور گیراؔ کا بیٹا شِمعیؔ دریائے یردنؔ کو پار کرتے ہی بادشاہ کے سامنے مُنہ کے بَل گرا
2SA 19:19 اَور کہنے لگا، ”میرا آقا مُجھے مُجرم نہ سمجھے اَور میرے آقا بادشاہ کے یروشلیمؔ چھوڑنے کے دِن آپ کے خادِم نے جو بدسلُوکی کی اُسے بھُول جائیں اَور بادشاہ سے درخواست ہے کہ اُسے اَپنے دِل سے نکال دیں۔
2SA 19:20 کیونکہ آپ کا خادِم جانتا ہے کہ اُس نے گُناہ کیا ہے۔ لیکن آج وہ یُوسیفؔ کے قبیلہ کے آدمیوں میں سَب سے پہلے اَپنے آقا بادشاہ کا اِستِقبال کرنے کے لیٔے یہاں آیا ہے۔“
2SA 19:21 تَب ضرویاہؔ کے بیٹے ابیشائی نے کہا، ”کیا شِمعیؔ کا مارا جانا ضروُری نہیں؟ اُس نے یَاہوِہ کے ممسوح پر لعنت کی۔“
2SA 19:22 داویؔد نے جَواب دیا، ”اَے ضرویاہؔ کے بیٹو! تُمہیں اِس سے کیا؟ کیوں برہم ہو؟ کیا آج اَیسا دِن ہے کہ اِسرائیل میں کسی کو ماراجائے؟ کیا مُجھے خبر نہیں کہ آج اِسرائیل کا بادشاہ میں ہُوں؟“
2SA 19:23 پس بادشاہ نے قَسم کھائی اَور شِمعیؔ کو یقین دِلایا، ”تُجھے کویٔی نہیں مارے گا۔“
2SA 19:24 اَور شاؤل کا پوتا مفِیبوستؔ بھی بادشاہ کے اِستِقبال کو گیا۔ اُس نے بادشاہ کے چلے جانے کے دِن سے لے کر اُس کے خیریت سے واپس آنے تک نہ تو اَپنے پاؤں کے ناخن کٹوائے، نہ اَپنی مونچھیں ترشوائیں اَور نہ ہی اَپنے کپڑے دھلوائے۔
2SA 19:25 اَور جَب وہ یروشلیمؔ سے بادشاہ کا اِستِقبال کرنے کے لیٔے آیا تو بادشاہ نے اُس سے پُوچھا، مفِیبوستؔ، ”تُو میرے ساتھ کیوں نہیں گیا تھا؟“
2SA 19:26 اُس نے کہا: ”میرے آقا بادشاہ! میرے نوکر نے مُجھے دھوکا دیا۔ آپ تو جانتے ہو، ’آپ کا خادِم لنگڑا ہے اِس لیٔے میرا اِرادہ یہ تھا کہ میں اَپنے گدھے پر زین ڈلوا کر اُس پر سوار ہُوں گا،‘ تاکہ میں بادشاہ کے ساتھ جا سکوں۔
2SA 19:27 لیکن میرے نوکر ضیباؔ نے میرے بارے میں جھُوٹ بولا۔ لیکن میرے آقا بادشاہ! آپ تو خُدا کے فرشتہ کی مانند ہو۔ لہٰذا جو کچھ آپ کو بھلا مَعلُوم ہو وُہی کریں۔
2SA 19:28 میرے دادا کی ساری نَسل میرے آقا بادشاہ کی طرف سے صِرف موت کی مُستحق تھی۔ لیکن آپ نے اَپنے خادِم کو اُن لوگوں کے درمیان جگہ دی جو آپ کے دسترخوان پر کھاتے تھے۔ پس مُجھے کیا حق ہے کہ بادشاہ سے اِس سے زِیادہ فریاد کروں؟“
2SA 19:29 بادشاہ نے اُس سے کہا، ”تُجھے مزید کہنے کی کویٔی ضروُرت نہیں۔ میرا فیصلہ یہ ہے کہ تُو اَور ضیباؔ دونوں اُن کھیتوں کو باہم بانٹ لو۔“
2SA 19:30 تَب مفِیبوستؔ نے بادشاہ سے کہا، ”ضیباؔ ہی سَب کچھ لے لے۔ میرے لیٔے یہی بہت ہے کہ میرا آقا بادشاہ سلامتی سے گھر آ گیا ہے۔“
2SA 19:31 اَور برزِلّئیؔ گِلعادی بھی روگلیمؔ سے آیا تاکہ بادشاہ کے ہمراہ یردنؔ کو پار کرے اَور وہاں سے اُنہیں آگے رخصت کرے۔
2SA 19:32 برزِلّئیؔ اسّی سال کا بُوڑھا آدمی تھا اَور اُس نے بادشاہ کو جَب وہ محنایمؔ میں رُکا تھا رسد پہُنچائی تھی کیونکہ وہ ایک اَمیر آدمی تھا۔
2SA 19:33 بادشاہ نے برزِلّئیؔ سے کہا، ”میرے ساتھ پار چل اَور یروشلیمؔ میں میرے پاس رہنا۔ مَیں تیرا ہر طرح خیال رکھوں گا۔“
2SA 19:34 لیکن برزِلّئیؔ نے بادشاہ کو جَواب دیا، ”میری زندگی کے چند سال باقی ہیں، میں یروشلیمؔ جا کر کیا کروں گا؟
2SA 19:35 اَب مَیں اسّی بَرس کا ہو گیا ہُوں جَب مَیں میٹھے اَور کڑوے کے فرق کو محسُوس نہیں کر سَکتا۔ جو کچھ یہ خادِم کھاتا پیتا ہے اُس کا مزہ نہیں لے سَکتا ہے اَور مَردوں اَور عورتوں کے گانے کی آواز نہیں سُن سَکتا۔ تو پھر یہ خادِم کس لیٔے اَپنے آقا بادشاہ پر مزید بوجھ بنے؟
2SA 19:36 آپ کا خادِم یردنؔ کے پار تھوڑی دُور تک ہی بادشاہ کے ساتھ جائے گا۔ بادشاہ کو مُجھے اَیسا بڑا اجر دینے کی کیا ضروُرت ہے؟
2SA 19:37 اَپنے خادِم کو لَوٹ جانے دیں تاکہ وہ اَپنے قصبہ میں اَپنے باپ اَور ماں کی قبر کے پاس مَرے۔ لیکن دیکھو آپ کا خادِم کِمہامؔ حاضِر ہے۔ اُسے اِجازت دیں کہ وہ میرے آقا بادشاہ کے ساتھ پار جائے اَورجو کچھ بادشاہ کو اَچھّا لگے وہ اُس کے لیٔے کریں۔“
2SA 19:38 تَب بادشاہ نے کہا، ”کِمہامؔ میرے ساتھ پار جائے گا اَورجو کچھ آپ چاہیں گے میں اُس کے لیٔے کروں گا۔ مَیں آپ کی خُوشی کے لیٔے بھی سَب کچھ کرنے کو تیّار ہُوں۔“
2SA 19:39 تَب سَب لوگ دریائے یردنؔ کے پار ہُوئے اَور پھر بادشاہ بھی پار ہُوئے۔ اَور بادشاہ نے برزِلّئیؔ کو چُوما اَور اُسے دعا دی اَور وہ اَپنے گھر کو لَوٹ گیا۔
2SA 19:40 جَب بادشاہ گِلگالؔ روانہ ہُوا تو کِمہامؔ بھی اُس کے ساتھ گیا اَور یہُوداہؔ کے سارے لشکر اَور اِسرائیل کے آدھے لشکر نے بادشاہ کو حِفاظت سے پار پہُنچایا۔
2SA 19:41 اَور تھوڑی دیر کے بعد اِسرائیل کے سارے لوگ آکر داویؔد بادشاہ سے کہنے لگے کہ، ”ہمارے بھایٔی یہُوداہؔ بادشاہ کو، اُس کے گھرانے اَور اُس کے آدمیوں کو یردنؔ پار سے چوری سے کیوں لایٔے؟“
2SA 19:42 یہُوداہؔ کے آدمیوں نے اِسرائیل کے آدمیوں کو جَواب دیا، ”یہ اِس لیٔے کہ بادشاہ کا ہم سے قریبی رشتہ ہے۔ تُم اِس بات سے ناراض کیوں ہو؟ کیا ہم نے بادشاہ کے توشہ میں سے کچھ کھایا ہے؟ کیا ہم نے اُن سے کچھ لیا ہے؟“
2SA 19:43 تَب اِسرائیل کے آدمیوں نے یہُوداہؔ کے آدمیوں کو جَواب دیا کہ، ”بادشاہ میں ہمارے دس حِصّے ہیں؛ اِس لئے داویؔد پر ہمارا تُم سے زِیادہ حق ہے۔ پھر تُم نے ہماری حقارت کس لیٔے کی؟ کیا ہمیں اَپنے بادشاہ کو لَوٹا لانے کے لیٔے تُم سے صلاح لینا ضروُری تھا؟“ لیکن یہُوداہؔ کے آدمیوں کا جَواب اِسرائیل کے آدمیوں کی باتوں سے زِیادہ اثردار تھا۔
2SA 20:1 اِتّفاق سے ایک شرارتی بِنیامینی سبعؔ بِن بِکریؔ وہاں مَوجُود تھا۔ اُس نے نرسنگا پھُونکا اَور چِلّاکر کہا، ”داویؔد میں ہمارا کویٔی حِصّہ نہیں ہے، یِشائی کے بیٹے میں کویٔی حِصّہ نہیں! اَے اِسرائیلیوں! سَب اَپنے اَپنے خیمہ کو چلے جاؤ!“
2SA 20:2 پس اِسرائیل کے سَب آدمی سبعؔ بِن بِکریؔ کے پیچھے جانے کے لیٔے داویؔد کا ساتھ چھوڑکر چل دئیے لیکن بنی یہُوداہؔ یردنؔ سے لے کر یروشلیمؔ تک راستہ بھر اَپنے بادشاہ کے ساتھ ہی رہے۔
2SA 20:3 اَور جَب داویؔد بادشاہ یروشلیمؔ میں اَپنے محل کو لَوٹ آیا تو اُس نے اُن دس داشتاؤں کو جنہیں وہ محل کی نِگرانی کے لیٔے چھوڑ گیا تھا لے کر ایک مکان میں نظر بند کر دیا۔ وہ اُنہیں ضروُرت کی ساری چیزیں مہیا کرتا رہا لیکن اُن کے پاس نہ گیا۔ لہٰذا اُنہُوں نے بیواؤں کی طرح زندگی گزاری اَور نظر بندی کی حالت میں وفات پائی۔
2SA 20:4 تَب بادشاہ نے عماساؔ سے کہا، ”تین دِن کے اَندر اَندر بنی یہُوداہؔ کو یہاں میرے جھنڈے تلے جمع کرو اَور تُم خُود بھی یہاں مَوجُود رہنا۔“
2SA 20:5 لیکن جَب عماساؔ بنی یہُوداہؔ کو بُلانے گیا تو اُس نے بادشاہ کے مُقرّرہ وقت سے زِیادہ وقت لگایا۔
2SA 20:6 داویؔد نے ابیشائی سے کہا، ”اَب سبعؔ بِن بِکریؔ ہمیں اَبشالومؔ سے بھی زِیادہ نُقصان پہُنچائے گا۔ اِس لیٔے اَپنے مالک کے آدمیوں کو ساتھ لے کر اُس کا تعاقب کرنا ورنہ وہ کسی فصیلدار شہر کو لے کر ہم سے بچ نکلے گا۔“
2SA 20:7 لہٰذا یُوآبؔ کے آدمی اَور کریتی اَور پِلیتھی اَور تمام جنگجو زبردست سُورما ابیشائی کی زیرِ قیادت نکلے اَور سبعؔ بِن بِکریؔ کا تعاقب کرنے کے لیٔے یروشلیمؔ سے روانہ ہو گئے۔
2SA 20:8 اَور جَب وہ گِبعونؔ میں واقع اُس بڑی چٹّان پر پہُنچے تو عماساؔ اُنہیں مِلنے آیا۔ یُوآبؔ جنگی لباس پہنے ہُوئے تھا اَور اُس کی کمر میں ایک پٹکا بندھا ہُوا تھا جِس کے مِیان میں ایک تلوار لٹک رہی تھی۔ جوں ہی اُس نے قدم آگے رکھا تلوار اُس کی مِیان سے باہر گِر پڑی۔
2SA 20:9 یُوآبؔ نے عماساؔ سے کہا: ”بھایٔی! تُم خیریت سے ہو؟“ اَور ساتھ ہی عماساؔ کو چُومنے کے لیٔے اَپنے داہنے ہاتھ سے اُس کی داڑھی پکڑ لی۔
2SA 20:10 اَور عماساؔ اُس تلوار سے جو یُوآبؔ کے ہاتھ میں تھی بے خبر تھا۔ لہٰذا یُوآبؔ نے اُسے اُس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ اُس کی انتڑیاں باہر نکل کر زمین پر گِر پڑی اَور عماساؔ تلوار کے ایک ہی وار سے مَر گیا۔ تَب یُوآبؔ اَور اُس کے بھایٔی ابیشائی سبعؔ بِن بِکریؔ کے تعاقب میں روانہ ہو گئے۔
2SA 20:11 یُوآبؔ کے آدمیوں میں سے ایک نے عماساؔ کے پاس کھڑے ہوکر کہا، ”جو کوئی یُوآبؔ کی حمایت کرتا ہے اَور داویؔد کی طرف ہے وہ یُوآبؔ کی پیروی کرے!“
2SA 20:12 اَور عماساؔ سڑک کے بیچ اَپنے خُون میں لت پَت لَوٹ رہاتھا اَور اُس آدمی نے دیکھا کہ سَب لوگ رُک گیٔے ہیں۔ جَب اُسے احساس ہُوا کہ ہر کویٔی جو عماساؔ تک آتا ہے وہ رُک جاتا ہے تو وہ اُسے سڑک سے گھسیٹ کر ایک کھیت میں لے گیا اَور اُس پر ایک کپڑا ڈال دیا۔
2SA 20:13 عماساؔ کے سڑک سے ہٹا دیئے جانے کے بعد سَب لوگ یُوآبؔ کے ساتھ سبعؔ بِن بِکریؔ کے تعاقب میں روانہ ہو گئے۔
2SA 20:14 اَور شیبا بنی اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے ہوتا ہُوا ابیل بیت معکہؔ تک گیا اَور بیریوں کے سارے خِطّہ سے ہوکر گزرا تو وہ بھی جمع ہوکر اُس کے پیچھے ہو لیٔے۔
2SA 20:15 اَور سَب فَوجیوں نے جو یُوآبؔ کے ہمراہ تھے بیت معکہؔ کے ابیل میں آکر شیبا کو گھیرلیا۔ اُنہُوں نے شہر کے مقابل ایک دمدمہ بنا لیا جو شہر کی بیرونی فصیل تک بُلند تھا۔ اَور جَب وہ فصیل کو توڑ کر گرانے میں لگے ہُوئے تھے
2SA 20:16 تو ایک سیانی عورت نے شہر میں سے پُکار کر کہا، ”سُنو! سُنو! ذرا یُوآبؔ سے کہو کہ یہاں آئے تاکہ میں اُس سے بات کر سکوں۔“
2SA 20:17 جَب وہ اُس کے نزدیک آیا تو اُس عورت نے پُوچھا، ”کیا تُم یُوآبؔ ہو؟“ اُس نے جَواب دیا، ”ہاں،“ تَب اُس نے کہا، ”اَپنی خادِمہ کی بات سُنیں۔“ اُس نے کہا، ”میں سُن رہا ہُوں۔“
2SA 20:18 تَب وہ کہنے لگی، ”قدیم زمانہ میں یُوں کہا کرتے تھے، ’جو پُوچھنا ہوگا ابیل میں پُوچھ لیں گے،‘ اَور اِس طرح فیصلہ ہوتا تھا۔
2SA 20:19 اَور ہم اِسرائیل میں صُلح پسند لوگ اَور وفادار اَور صُلح پسند لوگ ہیں اَور آپ ایک اَیسے شہر کو تباہ کر رہے ہو جو اِسرائیل میں شہروں کی ماں ہے آپ یَاہوِہ کی مِیراث کو کس لیٔے نگلنا چاہتے ہو؟“
2SA 20:20 یُوآبؔ نے جَواب دیا، ”خُدا نہ کرے! خُدا نہ کرے کہ میں نگل جاؤں!“ یا ”ہلاک کروں!
2SA 20:21 بات یہ نہیں ہے۔ بَلکہ اِفرائیمؔ کے کوہستانی علاقہ کے ایک آدمی سبعؔ بِن بِکریؔ نے بادشاہ کے خِلاف یعنی داویؔد کے خِلاف ہاتھ اُٹھایا ہے۔ بس اُسے میرے حوالہ کر دو تو میں شہر سے چلا جاؤں گا۔“ اُس عورت نے یُوآبؔ سے کہا: ”دیکھو، اُس کا سَر دیوار پر سے تیرے پاس پھینک دیا جائے گا۔“
2SA 20:22 تَب اُس عورت نے جا کر سَب لوگوں کو دانشمندانہ صلاح دی اَور اُنہُوں نے سبعؔ بِن بِکریؔ کا سَر کاٹ کر یُوآبؔ کی طرف پھینک دیا۔ پس اُس نے نرسنگا پھُونکا اَور اُس کے آدمی اُس شہر سے ہٹ گیٔے اَور ہر ایک اَپنے اَپنے گھر کو لَوٹ گیا۔ اَور یُوآبؔ یروشلیمؔ میں بادشاہ کے پاس واپس چلا گیا۔
2SA 20:23 اَور یُوآبؔ اِسرائیل کے تمام فَوج کا سالار تھا اَور بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ کریتیوں اَور پِلیتھیوں پر مامُور تھا۔
2SA 20:24 اَور ادورامؔ خراج کا داروغہ تھا۔ اَور یہوشافاطؔ بِن احِیلودؔ مورّخ تھا۔
2SA 20:25 اَور شیوا مُنشی تھا اَور صدُوقؔ اَور ابیاترؔ کاہِنؔ تھے۔
2SA 20:26 اَور عیراؔ یائرِی داویؔد کا کاہِنؔ تھا۔
2SA 21:1 اَور داویؔد کی حُکمرانی کے دَوران تین سال مسلسل قحط پڑا لہٰذا داویؔد نے یَاہوِہ سے دریافت کیا۔ یَاہوِہ نے فرمایا کہ، ”یہ شاؤل اَور اُس کے خُونریز گھرانے کے سبب سے ہے اَور اِس لیٔے بھی کہ اُس نے گِبعونیوں کو قتل کیا تھا۔“
2SA 21:2 تَب بادشاہ نے گِبعونیوں کو بُلایا اَور اُن سے بات کی۔ (وہ گِبعونی بنی اِسرائیل میں سے نہیں تھے بَلکہ باقی بچے ہُوئے امُوریوں میں سے تھے جِن کی جان بخشی گئی اِسرائیلیوں نے قَسم کھائی تھی لیکن شاؤل نے بنی اِسرائیل اَور یہُوداہؔ کی خاطِر اَپنا جوش دِکھانے کے لیٔے اُنہیں نِیست و نابود کرنے کی کوشش کی تھی)۔
2SA 21:3 داویؔد نے گِبعونیوں سے پُوچھا کہ، ”مَیں تمہارے لیٔے کیا کروں؟ میں کس چیز سے کفّارہ دُوں تاکہ تُم یَاہوِہ کی مِیراث کو دعا دو؟“
2SA 21:4 گِبعونیوں نے اُسے جَواب دیا کہ، ”ہمیں کویٔی حق نہیں کہ شاؤل یا اُس کے گھرانے سے چاندی یا سونے کا مطالبہ کریں۔ نہ ہی ہمیں یہ اِختیار ہے کہ اِسرائیل میں سے کسی کی جان لیں۔“ تَب داویؔد نے اُن سے پُوچھا کہ پھر تُم کیا چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لیٔے کروں؟
2SA 21:5 اُنہُوں نے بادشاہ کو جَواب دیا کہ، ”وہ آدمی جِس نے ہمیں تباہ کیا اَور ہمارے خِلاف منصُوبہ بنایا کہ ہمارے لوگوں کو مار ڈالا جائے اَور ہمارے لیٔے اِسرائیل میں کہیں بھی کویٔی جگہ باقی نہ رہے،
2SA 21:6 ہماری درخواست ہے کہ اُسی کی نَسل میں سے سات آدمی ہمارے حوالہ کئے جایٔیں تاکہ اُنہیں قتل کرکے اُن کی لاشیں یَاہوِہ کے لیٔے یَاہوِہ کے چُنے ہُوئے شاؤل کے گِبعہؔ میں لٹکا دی جایٔیں۔“ بادشاہ نے کہا، ”اَچھّا، میں اُنہیں تمہارے حوالہ کر دُوں گا۔“
2SA 21:7 لیکن بادشاہ نے مفِیبوستؔ بِن یُوناتانؔ بِن شاؤل کو اُس یَاہوِہ کے عہدوپیمان کی وجہ سے جو داویؔد اَور یُوناتانؔ بِن شاؤل کے درمیان باندھا گیا تھا بچائے رکھا
2SA 21:8 لیکن بادشاہ نے ایّہؔ کی بیٹی رِصفاہؔ کے دونوں بیٹوں ارموؔنی اَور مفِیبوستؔ کو جو اُن کے ہاں شاؤل سے پیدا ہُوئے تھے اَور شاؤل کی لڑکی میربؔ یعنی میکلؔ کے پانچ بیٹوں کو جو اُن کے ہاں عدری ایل بِن برزِلّئیؔ مِحولاتی سے پیدا ہُوئے تھے، لے کر
2SA 21:9 گِبعونیوں کے حوالہ کیا جنہوں نے اُنہیں قتل کرکے یَاہوِہ کے آگے ایک پہاڑی پر لٹکا دیا۔ وہ ساتوں ایک ساتھ مَرے۔ اُنہیں فصل کاٹنے کے دِنوں میں عَین اُس وقت جَب جَو کی فصل کی کٹائی شروع ہو رہی تھی قتل کیا گیا۔
2SA 21:10 تَب ایّہؔ کی بیٹی رِصفاہؔ نے ٹاٹ لے کر اُسے اَپنے لیٔے ایک پہاڑی پر بچھا لیا اَور فصل کی کٹائی کے شروع سے لے کر لاشوں پر آسمان سے بارش ہونے تک نہ تو دِن کو پرندوں کو اَور نہ رات کو جنگلی جانوروں کو اُن لاشوں کو چھُونے دیا۔
2SA 21:11 جَب داویؔد کو شاؤل کی داشتہ ایّہؔ کی بیٹی رِصفاہؔ کی اِس حرکت کی خبر مِلی
2SA 21:12 تو داویؔد بادشاہ نے جا کر شاؤل اَور اُس کے بیٹے یُوناتانؔ کی ہڈّیاں یبیسؔ گِلعادؔ کے لوگوں سے لے لیں۔ (یبیسؔ گِلعادؔ کے باشِندوں نے اُن ہڈّیوں کو جو بیت شانؔ کے چَوک سے چوری کی گئی تھیں، جہاں فلسطینیوں نے گِلبوعہؔ میں شاؤل کو مارنے کے بعد لٹکا دیا تھا)۔
2SA 21:13 داویؔد، شاؤل اَور اُس کے بیٹے یُوناتانؔ کی ہڈّیوں کو وہاں سے لے آئے اَور جنہیں قتل کیا گیا تھا اُن کی ہڈّیوں کو بھی جو میدان میں بِکھری پڑی تھیں جمع کیا گیا۔
2SA 21:14 اَور اُنہُوں نے شاؤل کی اَور اُس کے بیٹے یُوناتانؔ کی ہڈّیوں کو ضِلعؔ میں جو بِنیامین کی سرزمین میں ہے شاؤل کے باپ قیشؔ کی قبر میں دفن کیا اَور بادشاہ نے جو کچھ کرنے کا حُکم دیا تھا اُنہُوں نے کیا اَور اِس کے بعد خُدا نے اُس دعا کو سُن لیا جو اُس مُلک کے حق میں مانگی گئی تھی۔
2SA 21:15 اَور فلسطینیوں اَور اِسرائیلیوں کے درمیان ایک دفعہ پھر جنگ چھِڑ گئی اَور داویؔد اَپنے آدمیوں کو لے کر فلسطینیوں سے لڑنے کے لیٔے گئے اَور لڑتے لڑتے تھک گئے۔
2SA 21:16 اَور اِشبی بنوبؔ جو رافاؔ کی نَسل سے تھا اَور جِس کے نیزے کے کانسے کا پھل وزن میں تین سَو ثاقل تھا اَورجو نئی تلوار سے مُسلّح تھا کہنے لگاکہ وہ داویؔد کو قتل کرےگا۔
2SA 21:17 لیکن ضرویاہؔ کا بیٹا ابیشائی داویؔد کے بچانے کے لیٔے بروقت پہُنچ گیا۔ اُس نے اُس فلسطینی کو مار گرایا اَور اُسے قتل کر دیا۔ تَب داویؔد کے آدمیوں نے قَسم کھا کر اُس سے کہا، ”تُم پھر کبھی ہمارے ساتھ لڑائی پر نہیں جاؤگے تاکہ اِسرائیل کا چراغ بُجھنے نہ پایٔے۔“
2SA 21:18 اِسی دَوران گوبؔ میں فلسطینیوں کے ساتھ ایک اَور لڑائی ہُوئی تَب سِبّکائی حُوشاتی نے سافؔ کو قتل کیا جو رافاؔ کی نَسل سے تھا۔
2SA 21:19 گوبؔ میں ہی فلسطینیوں کے ساتھ ایک اَور جنگ میں اِلحنانؔ بِن یارِ اُورگیم نے جو بیت لحمؔ کا تھا گِتّی گولیتؔ کے بھایٔی کو قتل کیا جِس کے نیزے کی چھڑ جُلاہے کے شہتیر کی طرح تھی۔
2SA 21:20 ایک اَور جنگ میں بھی جو گاتؔھ میں ہُوئی ایک بڑا قدآور آدمی تھا جِس کے ہر ہاتھ اَور ہر پاؤں کی چھ چھ اُنگلیاں تھیں یعنی کُل چوبیس تھیں۔ وہ بھی کسی رافاؔ کی نَسل سے تھا۔
2SA 21:21 جَب اُس نے اِسرائیلیوں کو بُرا بھلا کہا تو داویؔد کے بھایٔی شِمعہؔ کے بیٹے یُوناتانؔ نے اُسے قتل کر دیا۔
2SA 21:22 یہ چاروں گاتؔھ میں رافاؔ کی نَسل سے تھے اَور داویؔد اَور اُس کے آدمیوں کے ہاتھوں مارے گیٔے۔
2SA 22:1 جَب یَاہوِہ نے داویؔد کو اُن کے سَب دُشمنوں اَور شاؤل کے حملہ سے بچایا تو آپ نے یَاہوِہ کی حُضُوری میں اِس نغمہ کو گایا۔
2SA 22:2 داویؔد نے کہا: ”یَاہوِہ میری چٹّان، میرا قلعہ اَور میرے چھُڑانے دینے والے ہیں؛
2SA 22:3 میرے خُدا میری چٹّان ہیں، میں جِس میں پناہ لیتا ہُوں، وہ میری سِپر اَور میری نَجات کا سینگ، وہ میرا حصار، میری پناہ گاہ اَور میرا مُنجّی ہیں، جو مُجھے ظالموں سے بچاتے ہیں۔
2SA 22:4 ”مَیں یَاہوِہ کو پُکارتا ہُوں جو سِتائش کے لائق ہیں، اَور دُشمنوں سے مُجھے بچا لیتے ہیں۔
2SA 22:5 موت کی موجوں نے مُجھے گھیرلیا؛ اَور تباہی کے سیلابوں نے مُجھے اَپنی لپیٹ میں لے لیا۔
2SA 22:6 پاتال کی رسّیاں میرے چَوگرد لپٹ گئیں؛ اَور موت کے پھندے میرے سامنے تھے۔
2SA 22:7 ”مَیں نے اَپنی مُصیبت میں یَاہوِہ کو پُکارا؛ مَیں نے اَپنے خُدا سے فریاد کی۔ اُنہُوں نے اَپنی ہیکل میں سے میری آواز سُنی، میری فریاد اُن کے کانوں میں پہُنچی۔
2SA 22:8 زمین کانپ اُٹھی اَور ہل گئی، اَور آسمانوں کی بُنیادیں لرز اُٹھیں؛ وہ ہل گئیں اِس لیٔے کہ وہ غضبناک ہو گئے تھے۔
2SA 22:9 اُن کے نتھنوں سے دُھواں اُٹھا؛ اَور اُن کے مُنہ سے بھسم کرنے والی آگ نکلی، جِس سے کوئلے دہک اُٹھے۔
2SA 22:10 اُنہُوں نے آسمانوں کو جھُکایا اَور نیچے اُتر آئے؛ سیاہ بادل اُن کے پاؤں کے نیچے تھے۔
2SA 22:11 وہ کروبی پر سوار ہوکر اُڑے؛ وہ ہَوا کے بازوؤں پر سوار ہوکر اُڑے۔
2SA 22:12 اُنہُوں نے تاریکی کو اَپنا غلاف۔ اَور آسمان کے کالے بادلوں کو شامیانہ بنا لیا۔
2SA 22:13 اُن کی حُضُوری کی تجلّی سے جو اُن کے سامنے تھی بجلی کڑک اُٹھی۔
2SA 22:14 یَاہوِہ آسمان پر سے گرجے؛ اَور خُداتعالیٰ کی آواز گونج اُٹھی۔
2SA 22:15 اُنہُوں نے اَپنے تیر چلائے اَور دُشمنوں کو پراگندہ کیا، اَور بجلیاں گرا کر اُنہیں شِکست دی۔
2SA 22:16 اَے یَاہوِہ، آپ کی ڈانٹ سے اَور آپ کے نتھنوں کے دَم کے جھونکے سے سمُندر کی وادیاں دِکھائی دینے لگیں اَور زمین کی بُنیادیں نموُدار ہو گئیں۔
2SA 22:17 ”اُنہُوں نے آسمان سے ہاتھ بڑھا کر مُجھے تھام لیا؛ اَور گہرے پانی میں سے کھینچ کر باہر نکالا۔
2SA 22:18 اُنہُوں نے میرے زبردست دُشمن سے مُجھے رِہائی بخشی، اَور اُن مُخالفوں سے، جو میرے مُقابلہ میں زِیادہ طاقتور تھے۔
2SA 22:19 وہ میری مُصیبت کے دِن مُجھ پر ٹوٹ پڑے، لیکن یَاہوِہ میرا سہارا تھے۔
2SA 22:20 وہ مُجھے کشادہ جگہ میں نکال لائے؛ اُنہُوں نے مُجھے بچا لیا کیونکہ وہ مُجھ سے خُوش تھے۔
2SA 22:21 ”یَاہوِہ نے میری راستبازی کے مُطابق مُجھ سے سلُوک کیا؛ اَور میرے ہاتھوں کی پاکیزگی کے مُطابق مُجھے صِلہ دیا۔
2SA 22:22 کیونکہ مَیں یَاہوِہ کی راہوں پر چلتا رہا؛ اَور مَیں نے اَپنے خُدا کے خِلاف کویٔی بدی نہیں کی۔
2SA 22:23 اُن کے سارے آئین میرے سامنے ہیں؛ اَور مَیں نے اُن کے قوانین سے مُنہ نہیں موڑا۔
2SA 22:24 میں اُن کے سامنے بے عیب رہا اَور اَپنے آپ کو گُناہ سے بَری رکھا۔
2SA 22:25 اَور یَاہوِہ نے میری راستبازی کے مُطابق، اَور اَپنے ہاتھوں کی اُس پاکیزگی کے مُطابق جسے وہ دیکھتے تھے مُجھے اجر دیا۔
2SA 22:26 ”وفادار کے ساتھ آپ اَپنے آپ کو وفادار جتاتے ہیں، اَور کامل کے ساتھ اَپنے آپ کو کامل جتاتے ہیں،
2SA 22:27 نیک اِنسان کے ساتھ آپ اَپنے آپ کو نیک جتاتے ہیں، لیکن ٹیڑھے اِنسان کے ساتھ ہوشیاری جتاتے ہیں۔
2SA 22:28 آپ حلیموں کو تو بچاتے ہیں، لیکن مغروُروں پر نظر رکھتے ہیں تاکہ اُنہیں نیچا کریں۔
2SA 22:29 اَے یَاہوِہ، آپ میرے چراغ ہیں؛ اَور یَاہوِہ میری تاریکی کو نُور تبدیل کرتے ہیں۔
2SA 22:30 آپ کی مدد سے میں فَوج پر چڑھائی کر سَکتا ہُوں؛ اَور اَپنے خُدا کی بدولت میں دیوار پھاند سَکتا ہُوں۔
2SA 22:31 ”خُدا کی راہ پکّی ہے؛ یَاہوِہ کا کلام کامل ہے۔ وہ اُن سَب کی سِپر ہے جو اُن میں پناہ لیتے ہیں۔
2SA 22:32 کیونکہ یَاہوِہ کے علاوہ اَور کون خُدا ہے؟ اَور ہمارے خُدا کے سِوا اَور کون چٹّان ہے؟
2SA 22:33 خُدا ہی قُوّت سے مُجھے مُسلّح کرتے ہیں اَور میری راہ کو کامل کرتے ہیں۔
2SA 22:34 وہ میرے پاؤں کو ہِرنی کے پاؤں کی مانند بناتے ہیں؛ اَور مُجھے بُلندیوں پر کھڑا رہنے کے قابل بناتے ہیں۔
2SA 22:35 وہ میرے ہاتھوں کو جنگ کرنا سِکھاتے ہیں؛ اَور یہاں تک کہ میرے بازو کانسے کی کمان کو جھُکا دیتے ہیں۔
2SA 22:36 آپ مُجھے اَپنی فتح کی سِپر دیتے ہیں؛ آپ کی بندہ پروری نے مُجھے بڑا بنا دیا ہے۔
2SA 22:37 آپ میرے قدموں کی راہ کشادہ کرتے ہیں، تاکہ میں پھسلنے نہ پاؤں۔
2SA 22:38 ”مَیں نے اَپنے دُشمنوں کا تعاقب کرکے اُنہیں کُچل ڈالا؛ اَور جَب تک وہ تباہ نہ ہو گئے مَیں واپس نہ لَوٹا۔
2SA 22:39 مَیں نے اُنہیں پُوری طرح کُچل دیا تاکہ وہ اُٹھ نہ پائیں؛ وہ میرے پاؤں کے نیچے گِر گیٔے۔
2SA 22:40 آپ نے مُجھے جنگ کے لیٔے قُوّت سے مُسلّح کیا؛ اَور میرے مُخالفوں کو میرے قدموں میں جھُکا دیا۔
2SA 22:41 آپ نے لڑائی میں میرے دُشمنوں کو پیٹھ دِکھانے پر مجبُور کیا، اَور مَیں نے اَپنے حریفوں کو تباہ کر دیا۔
2SA 22:42 اُنہُوں نے مدد کے لئے پُکارا، لیکن اُنہیں بچانے والا کویٔی نہ تھا۔ اُنہُوں نے یَاہوِہ کی بھی دہائی دی، لیکن اُنہُوں نے جَواب نہ دیا۔
2SA 22:43 مَیں نے اُنہیں پیس پیس کر زمین کی گَرد کی مانند بنا دیا؛ مَیں نے اُنہیں کُچل کر، گلی کوچوں کی کیچڑ کی مانند روند ڈالا۔
2SA 22:44 ”آپ نے مُجھے لوگوں کی یلغار سے بھی چھُڑا لیا؛ آپ نے مُجھے قوموں کا سردار بنانے کے لیٔے محفوظ رکھا۔ اَور جِن لوگوں سے میں واقف بھی نہ تھا وہ میری خدمت کرنے لگے،
2SA 22:45 اَور پردیسی میرے آگے جھکتے ہیں؛ میرا نام سُنتے ہی وہ میری اِطاعت کرنے لگتے ہیں۔
2SA 22:46 وہ سَب گھبرا جاتے ہیں؛ اَور تھرتھراتے ہُوئے اَپنے قلعوں سے باہر نکل آتے ہیں۔
2SA 22:47 ”یَاہوِہ زندہ ہیں! میری چٹّان مُبارک ہو! اَور میرا مُنجّی خُدا ممتاز ہو!
2SA 22:48 وُہی خُدا ہیں جو میرا اِنتقام لیتے ہیں، اَور قوموں کو میرے سامنے جھُکاتے ہیں،
2SA 22:49 وہ مُجھے میرے دُشمنوں سے بچاتے ہیں، آپ نے مُجھے میرے حریفوں پر سرفرازی بخشی؛ اَور تُند خُو لوگوں سے مُجھے بچایا۔
2SA 22:50 اِس لیٔے اَے یَاہوِہ! میں قوموں کے درمیان آپ کی تمجید؛ اَور آپ کے نام کی مدح سرائی کروں گا۔
2SA 22:51 ”وہ اَپنے بادشاہ کے لیٔے رِہائی کا بُرج؛ اَور اَپنے ممسوح داویؔد اَور اُن کی نَسل کو، ہمیشہ اَپنی لافانی شفقت میں رکھیں گے۔“
2SA 23:1 داویؔد کی آخِری الفاظ یہ ہیں: ”یِشائی کے بیٹے داویؔد کے مُنہ کا الہامی کلام، اُس آدمی کا کلام جسے خُداتعالیٰ نے سرفراز کیا، وہ آدمی جسے یعقوب کے خُدا نے مَسح کیا، جو بنی اِسرائیل کا مُغنّی تھا:
2SA 23:2 ”یَاہوِہ کی رُوح نے میری مَعرفت کلام کیا؛ اَور اُس کا سُخن میری زبان پر تھا۔
2SA 23:3 بنی اِسرائیل کے خُدا نے فرمایا، بنی اِسرائیل کی چٹّان نے مُجھ سے کہا: ’جَب کویٔی لوگوں پر راستی سے حُکومت کرتا ہے، جَب وہ خُدا کے خوف کے ساتھ حُکومت کرتا ہے،
2SA 23:4 تو وہ صُبح کی رَوشنی کی مانند ہوگا جَب سُورج نکلتا ہے اَیسی صُبح جِس میں بادل نہ ہوں، بارش کے بعد کی اُس چمک کی مانند جِس سے زمین پر گھاس پیدا ہوتی ہے۔‘
2SA 23:5 ”کیا میرا گھر خُدا کے حُضُور میں راست نہیں؟ کیا خُدا نے میرے ساتھ دائمی عہد نہیں باندھا، جِس کی سَب باتیں مُعیّن اَور پائدار ہیں؟ کیا وہ میری نَجات کی تکمیل نہیں کریں گے اَور میری ہر تمنّا پُوری نہیں کریں گے؟
2SA 23:6 لیکن تمام بدکار آدمی کانٹوں کی مانند ایک طرف پھینک دئیے جاتے ہیں، جنہیں ہاتھ سے جمع نہیں کیا جاتا۔
2SA 23:7 جو کویٔی کانٹوں کو چھوتا ہے وہ لوہے کے اوزار یا نیزے کی چھڑ سے کام لیتا ہے؛ اَور جہاں وہ پڑے ہوتے ہیں وہیں جَلا دئیے جاتے ہیں۔“
2SA 23:8 داویؔد کے جنگجو زبردست سُورماؤں کے نام یہ ہیں: یوشیبؔ بشیبت تحکمونی، جو تین سپہ سالاروں کا سردار تھا۔ اُس نے اَپنا نیزہ آٹھ سَو آدمیوں کے خِلاف اُٹھایا اَور اُنہیں ایک ہی مُقابلہ میں قتل کر ڈالا۔
2SA 23:9 اُس کے بعد الیعزرؔ بِن احُوحی دودائی یعنی دودوؔ تھا۔ یہ اُن تین جنگجو سُورماؤں میں سے ایک تھا جو داویؔد کے ساتھ اُس وقت تھے جَب اُنہُوں نے اُن فلسطینیوں کو جو جنگ کے لیٔے فسدمّیمؔ میں اِکٹھّے ہُوئے تھے طَعنہ دیا تھا اَور اِسرائیلی فَوج پیچھے ہٹ گئی تھی۔
2SA 23:10 لیکن وہ اَپنی جگہ پر قائِم رہا۔ اُس نے فلسطینیوں کو اِتنا مارا کہ اُس کا ہاتھ تھک گیا اَور تلوار سے چپک گیا۔ اُس دِن یَاہوِہ نے بڑی فتح بخشی اَور وہ اِسرائیلی جو شِکست کھا چُکے تھے الیعزرؔ کے پاس صِرف مُردوں کی چیزیں لوٹنے کے لیٔے جمع ہو گئے۔
2SA 23:11 اُس کے بعد شمّہ بِن اَگیؔ ہراری تھا۔ جَب فلسطینیوں نے اُس جگہ جہاں مسور سے بھرا ہُوا کھیت تھا صف بندی کی تو اِسرائیلی فَوج اُن کے آگے سے بھاگ گیٔے تھے۔
2SA 23:12 لیکن شمّہ اُس کھیت کے درمیان اَپنی جگہ قائِم رہا اَور اُس جگہ کی حِفاظت کی اَور فلسطینیوں کو مار گرایا۔ اِس طرح یَاہوِہ نے ایک بڑی فتح بخشی۔
2SA 23:13 فصل کاٹنے کے موسم میں تیس سرداروں میں سے تین سردار چٹّان سے نیچے اُتر کر عدُلّامؔ کے غار میں داویؔد کے پاس آئے جَب کہ اُس وقت فلسطینیوں کا ایک دستہ وادی رفائیمؔ میں چھاؤنی لگائے تھا۔
2SA 23:14 اُس وقت داویؔد قلعہ میں تھے اَور فلسطینیوں کی چوکی بیت لحمؔ میں تھی۔
2SA 23:15 اَور داویؔد کو شِدّت سے پیاس لگی اَور اُنہُوں نے کہا، ”کاش کویٔی مُجھے بیت لحمؔ کے پھاٹک کے نزدیک والے کنوئیں سے پانی لاکر پلائے!“
2SA 23:16 لہٰذا اُن تینوں جنگجو سُورماؤں نے فلسطینیوں کی صفوں کو چیر کر بیت لحمؔ کے نزدیک والے کنوئیں سے پانی بھرا اَور اُسے داویؔد کے پاس لے آئے۔ لیکن اُس نے پینے سے اِنکار کیا اَور اُسے یَاہوِہ کے حُضُور اُنڈیل کر
2SA 23:17 کہنے لگا، ”اَے یَاہوِہ! میں اِسے پیوں؟ مُجھ سے یہ ہرگز نہ ہوگا! کیا یہ اُن آدمیوں کا خُون نہیں جو اَپنی جان کو خطرے میں ڈال کر گیٔے؟“ لہٰذا داویؔد نے اُسے پینا نہ چاہا۔ اُن تینوں جنگجو سُورماؤں نے اَیسے کیٔی کام اَنجام دئیے تھے۔
2SA 23:18 اَور یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ کا بھایٔی ابیشائی اُن تین جنگجو مَردوں کا سردار تھا۔ اُس نے اَپنا نیزہ تین سَو آدمیوں کے خِلاف اُٹھایا اَور اُنہیں قتل کر دیا۔ لہٰذا وہ بھی اُن تینوں کی طرح مشہُور ہو گیا۔
2SA 23:19 وہ اُن تینوں میں مُعزّز ہونے کے باعث اُن کا سردار بَن گیا لیکن وہ اُن پہلے سُورماؤں میں شُمار نہیں کیا جاتا تھا۔
2SA 23:20 بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ قبضی ایل کے ایک سُورما کا بیٹا تھا جِس نے کیٔی بڑے کارنامے اَنجام دئیے تھے۔ اُس نے مُوآب کے اریئیلؔ کے دو بہترین آدمیوں کو مار گرایا۔ ایک دِن جَب برف پڑ رہی تھی اُس نے ایک گڑھے میں اُتر کر ایک شیرببر کو بھی مارا۔
2SA 23:21 اَور اُس نے ایک قدآور مِصری کو مار گرایا اگرچہ اُس مِصری کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ بِنایاہؔ ایک لاٹھی لے کر اُس پر لپکا۔ اُس نے اُس مِصری کے ہاتھ سے نیزہ چھین لیا اَور اُسی کے نیزہ سے اُسے مار ڈالا۔
2SA 23:22 بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ نے اَیسے کیٔی کام کئے۔ وہ بھی اُن تین جنگجو سُورماؤں کی طرح مشہُور تھا۔
2SA 23:23 وہ تیسوں سُورماؤں میں سَب سے زِیادہ مُعزّز سمجھا جاتا تھا لیکن وہ پہلے تین سُورماؤں کے برابر نہیں ہونے پایا۔ اَور داویؔد نے اُسے اَپنے مُحافظ دستہ کا سردار بنا دیا۔
2SA 23:24 تیس سُورما اِن میں سے تھے: یُوآبؔ کا بھایٔی عساہیلؔ، اِلحنانؔ بیت لحمؔ کے دُودؔو کا بیٹا،
2SA 23:25 حرودی شمّہ، حرودی الِقہ،
2SA 23:26 پَلطیؔ خلصؔ، تقوعؔ سے عیراؔ بِن عقیشؔ،
2SA 23:27 عناتوت سے ابیعزیر، حُوشاتی مبونّائی،
2SA 23:28 ضلمُونؔ احُوحی، مہرائی نطُوفاتی،
2SA 23:29 نطُوفاتی حلیب یا حلید بِن بعناہ، بِنیامین کے گِبعہؔ کے اِتھائی بِن رِبائیؔ،
2SA 23:30 فِرعاتونی بِنایاہؔ، گعشؔ کی وادیوں کا ہِدّیؔ،
2SA 23:31 اَبی علبونؔ عرباتی، عزماوتؔ برحومی،
2SA 23:32 الیحبہؔ شعلبُونی، بنی یاشِن یُوناتانؔ،
2SA 23:33 بِن شمّہ ہراری، احی آم بِن شرارؔ ہراری،
2SA 23:34 الیفلطؔ بِن احسبیؔ معکاتی، اِلیعامؔ بِن اخِیتُفلؔ گِلونی،
2SA 23:35 کرمِلی حضرُوؔ، عربی فعریؔ،
2SA 23:36 ضوباہؔ سے ناتنؔ کا بیٹا اِگالؔ، گادی بانیؔ یعنی ہاگریؔ کا بیٹا،
2SA 23:37 صِلقؔ عمُّونی، بیروتی نحریؔ یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ کا سلح بردار،
2SA 23:38 یتری عیراؔ، یتری گاریبؔ،
2SA 23:39 اَور حِتّی اورِیّاہؔ۔
2SA 24:1 یَاہوِہ کا غُصّہ اِسرائیل کے خِلاف ایک دفعہ پھر بھڑکا اَور اُنہُوں نے داویؔد کو یہ کہہ کر اُبھارا کہ، ”جا کر بنی اِسرائیل اَور یہُوداہؔ کی مردُم شماری کر۔“
2SA 24:2 پس بادشاہ نے یُوآبؔ اَور اُس کے ساتھ فَوج کے سپہ سالاروں سے کہا، ”دانؔ سے لے کر بیرشبعؔ تک بنی اِسرائیل کے تمام قبیلوں میں جاؤ اَور اُن لوگوں کا شُمار کرو جو جنگ کرنے کے قابل ہُوں تاکہ مُجھے مَعلُوم ہو کہ اَیسے کتنے آدمی ہیں۔“
2SA 24:3 لیکن یُوآبؔ نے بادشاہ کو جَواب دیا کہ، ”داویؔد تمہارا یَاہوِہ اُن لوگوں کو سَو گُنا بڑھائے اَور میرے آقا بادشاہ کی آنکھیں اُنہیں دیکھیں۔ لیکن میرے آقا بادشاہ نے اَیسا اِرادہ کس غرض سے کیا ہے؟“
2SA 24:4 مگر یُوآبؔ اَور فَوج کے سپہ سالاروں کو بادشاہ کا حُکم ماَننا پڑا۔ لہٰذا وہ بادشاہ کے حُضُور سے نکلے تاکہ بنی اِسرائیل کے اَیسے لوگوں کا شُمار کریں جو جنگ کے قابل ہُوں۔
2SA 24:5 اَور وہ دریائے یردنؔ کو پار کرنے کے بعد عروعؔر کے قریب تنگ گھاٹی میں اُس شہر کے جُنوب میں خیمہ زن ہُوئے۔ پھر گادؔ سے گزر کر آگے یعزیرؔ چلے گیٔے۔
2SA 24:6 اَور پھر وہ گِلعادؔ اَور تحتیمؔ حُدشی کے علاقہ سے گزر کر آگے دانؔ یعن آئے اَور چکّر کاٹ کر صیدونؔ کی جانِب روانہ ہو گئے۔
2SA 24:7 پھر وہ صُورؔ کے قلعہ کی طرف اَور حِوّیوں اَور کنعانیوں کے تمام شہروں سے ہوتے ہُوئے آخِر میں یہُوداہؔ کے جُنوب میں آگے بیرشبعؔ جا پہُنچے۔
2SA 24:8 سارے مُلک میں گشت کرنے کے بعد وہ نَو مہینے اَور بیس دِن میں یروشلیمؔ واپس آئے۔
2SA 24:9 اَور یُوآبؔ نے اُن لوگوں کی تعداد جو جنگ کرنے کے قابل تھے بادشاہ کو بتایٔی۔ اِسرائیل میں آٹھ لاکھ تندرست و توانا آدمی تھے جو شمشیر زنی کر سکتے تھے اَور یہُوداہؔ میں اَیسے آدمیوں کی تعداد پانچ لاکھ تھی۔
2SA 24:10 اَور جنگی مَردوں کی گِنتی کرنے کے بعد داویؔد کے ضمیر نے اُسے پشیمان کیا اَور داویؔد نے یَاہوِہ سے کہا، ”مَیں نے اَیسا کرکے بڑا سنگین گُناہ کیا ہے، اَب اَے یَاہوِہ، مَیں آپ کی مِنّت کرتا ہُوں کہ آپ اَپنے خادِم کا سنگین گُناہ دُور کر دیں کیونکہ مَیں نے یہ بڑی حماقت کی ہے۔“
2SA 24:11 اگلی صُبح داویؔد کے اُٹھنے سے پیشتر، یَاہوِہ کا کلام گادؔ نبی پر، جو داویؔد کا غیب بین تھا نازل ہُوا کہ:
2SA 24:12 ”جا اَور داویؔد کو بتا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ مَیں تیرے سامنے تین بَلائیں لاتا ہُوں۔ اُن میں سے ایک چُن لے جسے مَیں تُجھ پر نازل کروں۔‘ “
2SA 24:13 لہٰذا گادؔ نے داویؔد کے پاس جا کر اُسے بتایا اَور پُوچھا، ”کیا آپ کے مُلک میں تین سال کا قحط ہو؟ یا جَب آپ کے دُشمن آپ کا تعاقب کریں تو آپ تین مہینے تک اُن سے بھاگتے پھرے؟ یا آپ کے مُلک میں تین دِن تک وَبا پھیلے؟ اِس لئے اَب آپ خُوب سوچ لینا اَور فیصلہ کرنا کہ مُجھے بتائیں کہ مَیں اَپنے بھیجنے والے کو کیا جَواب دُوں؟“
2SA 24:14 داویؔد نے گادؔ سے کہا، ”میں بڑی کشمش میں ہُوں۔ بہتر ہے کہ ہم یَاہوِہ کے ہاتھوں میں پڑیں کیونکہ اُن کی رحمتیں عظیم ہیں۔ لیکن مُجھے اِنسان کے ہاتھوں میں پڑنا منظُور نہیں۔“
2SA 24:15 سَو یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل پر اُس صُبح سے لے کر مُقرّرہ مُدّت کے خاتِمہ تک وَبا بھیجی اَور دانؔ سے بیرشبعؔ تک ستّر ہزار لوگ موت کے شِکار ہو گئے۔
2SA 24:16 اَور جَب فرشتہ نے یروشلیمؔ کو تباہ کرنے کے لیٔے اَپنا ہاتھ بڑھایا تو اِس تباہی سے یَاہوِہ ملُول ہُوئے اَور اُنہُوں نے اُس فرشتہ سے جو لوگوں کو ہلاک کر رہاتھا کہا، ”بس کر! اَپنا ہاتھ روک لے۔“ اُس وقت یَاہوِہ کا فرشتہ یبُوسی اُرنانؔ کے کھلیان میں تھا۔
2SA 24:17 جَب داویؔد نے اُس فرشتہ کو جو لوگوں کو مار رہاتھا دیکھا تو اُس نے یَاہوِہ سے کہا، ”گُناہ تو مَیں نے کیا ہے اَور خطا تو مُجھ چرواہے سے ہُوئی ہے اَور یہ تو محض بھیڑیں ہیں۔ اُنہُوں نے کیا کیا ہے؟ لہٰذا آپ کا ہاتھ مُجھ پر اَور میرے گھرانے پر پڑے۔“
2SA 24:18 اُسی دِن گادؔ نے داویؔد کے پاس جا کر اُن سے کہا، ”جا اَور یبُوسی اُرنانؔ کے کھلیان میں یَاہوِہ کے لیٔے ایک مذبح تعمیر کر۔“
2SA 24:19 لہٰذا داویؔد جَیسا کہ یَاہوِہ نے اُسے گادؔ کی مَعرفت حُکم دیا تھا۔
2SA 24:20 جَب اُرنانؔ نے نگاہ اُٹھائی تو دیکھا کہ بادشاہ اَور اُن کے اہلکار اُس کی طرف چلے آ رہے ہیں۔ وہ فوراً باہر نِکلا اَور زمین پر مُنہ رکھ کر بادشاہ کو سَجدہ کیا۔
2SA 24:21 اُرنانؔ نے کہا، ”میرا آقا بادشاہ اَپنے خادِم کے پاس کس لیٔے آئے ہیں؟“ داویؔد نے جَواب دیا، ”تیرا کھلیان خریدنے کے لیٔے تاکہ میں یَاہوِہ کے لیٔے ایک مذبح بنا سکوں۔ تَب لوگوں پر آئی ہُوئی وَبا رُک جائے گی۔“
2SA 24:22 اُرنانؔ نے داویؔد سے کہا، ”میرا آقا بادشاہ جو کچھ آپ کو پسند ہے لے لیں اَور نذر چڑھائیں۔ یہاں سوختنی نذر کے لیٔے بَیل ہیں اَور ایندھن کے لیٔے گاہنے کا اوزار گٹھّا اَور بَیلوں کے جُوئے بھی ہیں۔
2SA 24:23 اَے بادشاہ! اُرنانؔ یہ سَب بادشاہ کو دیتاہے۔“ اروناہؔ نے یہ بھی کہا، ”میری دعا ہے کہ یَاہوِہ آپ کا خُدا آپ کو قبُول فرمائیں۔“
2SA 24:24 لیکن بادشاہ نے اُرنانؔ کو جَواب دیا، ”نہیں، مَیں تُجھے قیمت اَدا کرنے پر اِس لیٔے بضِد ہُوں کہ مَیں یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور میں اَیسی سوختنی نذریں نہیں پیش کروں گا جِن پر میرا کچھ خرچ نہ ہُوا ہو۔“ لہٰذا داویؔد نے وہ کھلیان اَور وہ بَیل پچاس ثاقل چاندی اَدا کرکے خرید لیٔے۔
2SA 24:25 اَور داویؔد نے یَاہوِہ کے لیٔے وہاں ایک مذبح تعمیر کیا اَور سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں چڑھائیں۔ تَب یَاہوِہ نے اُس مُلک کے بارے میں کی گئی دعا کا جَواب دیا اَور اِسرائیل سے وہ وَبا جاتی رہی۔
1KI 1:1 داویؔد بادشاہ کافی بُوڑھے ہو گیٔے تھے، اُنہیں چادریں اُوڑھائی جاتی تھیں، مگر کپڑے اُن کے جِسم کو گرم نہیں رکھ پاتے تھے۔
1KI 1:2 لہٰذا اُن کے خادِموں نے داویؔد سے کہا، ”ہمارے آقا بادشاہ کے لیٔے ایک جَوان کنواری تلاش کی جائے جو بادشاہ کی خدمت مَیں حاضِر رہے اَور آپ کی دیکھ بھال کرے اَور آپ کے بغل میں لیٹا کرے تاکہ ہمارے آقا بادشاہ کا جِسم گرم رہ سکے۔“
1KI 1:3 تَب اُنہُوں نے بنی اِسرائیل کی ساری مملکت میں ایک خُوبصورت لڑکی کو تلاش کرنا شروع کر دیا اَور اُنہیں ایک لڑکی اَبیشگ شُونمیت مِل گئی اَور وہ اُسے بادشاہ کے پاس لے آئے۔
1KI 1:4 وہ لڑکی بڑی خُوبصورت تھی؛ وہ بادشاہ کی خبرگیری اَور خدمت کرنے لگی۔ لیکن بادشاہ نے اُس کے ساتھ کویٔی جنسی تعلّقات نہیں رکھّے۔
1KI 1:5 اُسی وقت حگِیّت کے بیٹے ادُونیّاہؔ نے خُود کو بُلند کرتے ہویٔے یہ اعلان کر دیا، ”اگلا بادشاہ مَیں ہُوں۔“ اُس نے اَپنے لیٔے رتھ اَور گھوڑے اَور اَپنے آگے آگے دَوڑنے کے لیٔے پچاس آدمی بھی تیّار کر لیٔے۔
1KI 1:6 (اُس کے باپ داویؔد نے اُس کی تنبیہ کرتے ہویٔے کبھی نہیں روکا تھا، ”تُم اَیسی حرکتیں کیوں کرتے ہو؟“ ادُونیّاہؔ کافی خُوبصورت بھی تھا اَور اَبشالومؔ کے بعد پیدا ہُوا تھا۔)
1KI 1:7 اَور ادُونیّاہؔ نے یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ اَور ابیاترؔ کاہِنؔ کے ساتھ صلاح مشورہ کیا اَور وہ ادُونیّاہؔ کی طرف ہوکر اُس کی مدد کرنے لگے۔
1KI 1:8 لیکن صدُوقؔ کاہِنؔ، بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ، ناتنؔ نبی، شِمعیؔ اَور ریعیؔ اَور داویؔد کے خاص مُحافظ دستہ نے ادُونیّاہؔ کا ساتھ نہیں دیا۔
1KI 1:9 پھر ادُونیّاہؔ نے عینؔ روگلؔ کے قریب زوحیلتؔھ کے پتّھر پر بھیڑیں، مویشی اَور فربہ بچھڑے قُربان کئے۔ اَور اَپنے سَب بھائیوں، بادشاہ کے بیٹوں کو اَور یہُوداہؔ کے سارے شاہی مُلازم کو دعوت دی۔
1KI 1:10 لیکن ادُونیّاہؔ نے نہ تو ناتنؔ نبی کو، نہ تو بِنایاہؔ کو، نہ تو خاص مُحافظ دستہ کو اَور نہ ہی اَپنے بھایٔی شُلومونؔ کو دعوت دی۔
1KI 1:11 تَب ناتنؔ نے شُلومونؔ کی ماں بتشیبؔا سے دریافت کیا، ”کیا تُم نے نہیں سُنا کہ حگِیّت کا بیٹا ادُونیّاہؔ بادشاہ بَن بیٹھا ہے، اَور ہمارے آقا داویؔد کو یہ مَعلُوم نہیں ہے؟
1KI 1:12 اِس لیٔے اَب تُم میری صلاح سُنو کہ تُم اَپنی اَور اَپنے بیٹے شُلومونؔ کی جان کس طرح بچا سکتی ہو۔
1KI 1:13 تُم داویؔد بادشاہ کے پاس جا کر اُن سے کہو، ’اَے میرے آقا بادشاہ! کیا آپ نے اَپنی لونڈی سے قَسم کھا کر نہیں فرمایا تھا: ”یقیناً تمہارا بیٹا شُلومونؔ ہی میرے بعد بادشاہ ہوگا اَور وُہی میرے تخت پر بیٹھے گا“؟ پھر ادُونیّاہؔ کیوں بادشاہ بَن گیا؟‘
1KI 1:14 اَور جَب تُم وہاں بادشاہ سے گُفتگو کر رہی ہوگی تبھی میں وہاں آ جاؤں گا اَور تمہاری باتوں کی تصدیق کروں گا۔“
1KI 1:15 لہٰذا بتشیبؔا عمر رسیدہ بادشاہ سے مِلنے اُن کے کمرے میں گئی جہاں اَبیشگ شُونمیت اُن کی خدمت میں لگی تھی۔
1KI 1:16 بتشیبؔا نے جھُک کر بادشاہ کو سَجدہ کیا۔ بادشاہ نے دریافت کیا، ”کہ تُم کیا چاہتی ہو؟“
1KI 1:17 اُس نے کہا، ”اَے بادشاہ میرے آقا! آپ نے خُود یَاہوِہ اَپنے خُدا کی قَسم کھا کر اَپنی لونڈی سے کہاتھا: ’تمہارا بیٹا شُلومونؔ ہی میرے بعد بادشاہ ہوگا اَور وہ میرے تخت پر بیٹھے گا۔‘
1KI 1:18 لیکن اَب ادُونیّاہؔ بادشاہ بِن بیٹھا ہے اَور اَے بادشاہ میرے آقا کو اِس کی خبر تک نہیں۔
1KI 1:19 اَور ادُونیّاہؔ نے بڑی تعداد میں مویشی، فربہ بچھڑے اَور بھیڑیں قُربان کئے ہیں اَور بادشاہ کے سَب بیٹوں، ابیاترؔ کاہِنؔ اَور فَوج کا سپہ سالار یُوآبؔ کی دعوت کی ہے۔ لیکن تمہارے خادِم شُلومونؔ کو اُس نے دعوت میں نہیں بُلایا ہے۔
1KI 1:20 اَے بادشاہ میرے آقا! سارے بنی اِسرائیل کی آنکھیں یہ جاننے کے لیٔے آپ پر لگی ہیں کہ میرے آقا بادشاہ کے بعد اُن کے تخت پر کون بیٹھے گا۔
1KI 1:21 ورنہ جوں ہی میرے آقا بادشاہ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو جایٔیں گے، تَب میں اَور میرے بیٹے شُلومونؔ کے ساتھ مُجرموں جَیسا سلُوک کیا جایٔےگا۔“
1KI 1:22 وہ بادشاہ سے باتیں کر ہی رہی تھی کہ ناتنؔ نبی تشریف لے آئے۔
1KI 1:23 بادشاہ کو خبر دی گئی، ”ناتنؔ نبی تشریف لا چُکے ہیں۔“ جَب وہ بادشاہ کے حُضُور پہُنچے تو مُنہ کے بَل زمین پر گِر کر اُنہیں سَجدہ کیا۔
1KI 1:24 ناتنؔ نے کہا، ”اَے میرے آقا بادشاہ! کیا آپ نے اعلان کیا ہے کہ ادُونیّاہؔ آپ کے بعد بادشاہ ہوگا اَور وہ آپ کے تخت پر بیٹھے گا؟
1KI 1:25 کیونکہ اُس نے آج جا کر بڑی تعداد میں مویشی، فربہ بچھڑے اَور بھیڑیں قُربان کئے ہیں اَور اُس نے بادشاہ کے سَب بیٹوں، فَوج کے سپہ سالاروں اَور ابیاترؔ کاہِنؔ کی دعوت کی ہے اَور ٹھیک اِسی وقت وہ اُس کے ساتھ کھا پی رہے ہیں اَور کہہ رہے ہیں، ’ادُونیّاہؔ بادشاہ زندہ باد!‘
1KI 1:26 لیکن مُجھے آپ کے خادِم کو، صدُوقؔ کاہِنؔ، بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ اَور آپ کے خادِم شُلومونؔ کو اُس نے دعوت نہیں دی۔
1KI 1:27 کیا یہ سَب میرے آقا بادشاہ کی طرف سے کیا گیا ہے، اَور آپ نے اَپنے خادِموں کو یہ جانکاری دینا واجِب نہیں سمجھا کہ میرے آقا بادشاہ کے بعد تخت پر کون بیٹھے گا؟“
1KI 1:28 تَب داویؔد بادشاہ نے کہا، ”بتشیبؔا کو اَندر بُلاؤ۔“ چنانچہ وہ بادشاہ کے حُضُور آئی اَور اُن کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
1KI 1:29 تَب بادشاہ نے قَسم کھا کر فرمایا: ”مُجھے زندہ یَاہوِہ کی قَسم جنہوں نے مُجھے ہر مُصیبت سے چھُڑایا،
1KI 1:30 آج مَیں یقیناً وُہی کروں گا جِس کی مَیں نے تُم سے بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے نام سے قَسم کھائی تھی، ’تمہارا بیٹا شُلومونؔ ہی میرے بعد بادشاہ ہوگا،‘ اَور وُہی میری جگہ میرے تخت پر بیٹھے گا۔“
1KI 1:31 تَب بتشیبؔا زمین پر مُنہ کے بَل جُھکی اَور بادشاہ کو سَجدہ کر کہا، ”میرے آقا داویؔد بادشاہ ہمیشہ زندہ رہیں!“
1KI 1:32 داویؔد بادشاہ نے فرمایا، ”صدُوقؔ کاہِنؔ، ناتنؔ نبی اَور بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ کو میرے پاس بُلاؤ۔“ جَب وہ بادشاہ کے حُضُور آئے
1KI 1:33 تو بادشاہ نے فرمایا: ”تُم اَپنے آقا کے مُلازمین کو اَپنے ساتھ لو اَور میرے بیٹے شُلومونؔ کو میرے ہی خچّر پر سوار کراؤ اَور اُسے گیحونؔ لے جاؤ۔
1KI 1:34 تاکہ وہاں صدُوقؔ کاہِنؔ اَور ناتنؔ نبی اُسے مَسح کریں کہ وہ بنی اِسرائیل کا بادشاہ ہو۔ اَور تُم نرسنگا پھُونکنا اَور نعرہ لگانا، ’شُلومونؔ بادشاہ زندہ باد!‘
1KI 1:35 پھر تُم اُس کے ساتھ واپس جانا اَور وہ آکر میرے شاہی تخت پر بیٹھے اَور میری جگہ حُکمرانی کرے کیونکہ مَیں نے اُسے بنی اِسرائیل اَور یہُوداہؔ پر حُکمران مُقرّر کیا ہے۔“
1KI 1:36 تَب بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ نے بادشاہ کے جَواب میں کہا، ”آمین، یَاہوِہ میرے آقا بادشاہ کا خُدا بھی اَیسا ہی اعلان کریں۔
1KI 1:37 یَاہوِہ جَیسے میرے آقا بادشاہ کے ساتھ تھے وَیسے ہی وہ شُلومونؔ کے ساتھ ہوں اَور اُس کے تخت کو میرے آقا داویؔد بادشاہ کے تخت سے بھی زِیادہ اُونچا کریں!“
1KI 1:38 لہٰذا صدُوقؔ کاہِنؔ، ناتنؔ نبی، بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ اَور کریتی اَور پِلیتھی گیٔے اَور شُلومونؔ کو داویؔد بادشاہ کے خچّر پر سوار کرایا اَور اُسے حِفاظت سے گیحونؔ لایٔے۔
1KI 1:39 اَور صدُوقؔ کاہِنؔ نے مُقدّس خیمہ سے تیل کا سینگ لیا اَور شُلومونؔ کو مَسح کیا۔ تَب اُنہُوں نے نرسنگا پھُونکا اَور تمام لوگوں نے نعرہ لگایا، ”شُلومونؔ بادشاہ زندہ باد رہے!“
1KI 1:40 اَور تمام لوگ بانسری بجاتے اَور بڑی خُوشی مناتے ہُوئے بادشاہ کے پیچھے پیچھے چلنے لگے اَور اُن کے شوروغل کی آواز سے زمین گونج اُٹھی۔
1KI 1:41 ادُونیّاہؔ اَور تمام مہمانوں نے جو اُس کے ساتھ تھے ضیافت کے ختم ہوتے ہی نرسنگوں کی آواز سُنی۔ جَیسے ہی یُوآبؔ نے نرسنگوں کی آواز سُنی، تو وہ پُوچھنے لگا، ”شہر میں یہ ہنگامہ اَور شوروغل کا کیا مطلب ہے؟“
1KI 1:42 اَور یُوآبؔ یہ کہہ ہی رہاتھا کہ ابیاترؔ کاہِنؔ کا بیٹا یُوناتانؔ وہاں آ پہُنچا۔ ادُونیّاہؔ نے اُس سے کہا، ”اَندر آ جاؤ۔ تُم لائق آدمی ہو اَور ضروُر کویٔی اَچھّی خبر لایٔے ہوگے۔“
1KI 1:43 یُوناتانؔ نے ادُونیّاہؔ کو جَواب دیا، ”ہرگز نہیں، ہمارے آقا داویؔد بادشاہ نے شُلومونؔ کو بادشاہ بنا دیا ہے۔
1KI 1:44 اَور بادشاہ نے صدُوقؔ کاہِنؔ، ناتنؔ نبی، بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ، کریتیوں اَور پِلیتھیوں کو شُلومونؔ کے ساتھ بھیجا ہے اَور اُنہُوں نے شُلومونؔ کو بادشاہ کے خچّر پر سوار کروایاہے۔
1KI 1:45 اَور صدُوقؔ کاہِنؔ اَور ناتنؔ نبی نے شُلومونؔ کو گیحونؔ میں بطور بادشاہ مَسح کیا ہے اَور وہ وہاں سے خُوشی مناتے اَور چِلاّتے ہُوئے اَور لَوٹے ہیں۔ یہاں تک کہ سارا شہر گونج اُٹھا ہے۔ یہ وُہی شور ہے جو آپ لوگوں کو سُنایٔی دے رہاہے۔
1KI 1:46 اِن سَب کے علاوہ اَب شُلومونؔ تختِ شاہی پر بیٹھ گیٔے ہیں۔
1KI 1:47 نیز شاہی مُلازمین ہمارے آقا داویؔد بادشاہ کو یہ کہتے ہُوئے مُبارکباد دینے آئے ہیں، ’تمہارا خُدا شُلومونؔ کو آپ سے زِیادہ شہرت عطا فرمائے اَور اُس کے تخت کو آپ کے تخت سے زِیادہ اُونچا کرے!‘ یہ سُن کر بادشاہ نے اَپنے بِستر پر ہی سَجدہ کیا۔
1KI 1:48 اَور بادشاہ نے یہ بھی فرمایا، ’بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کی سِتائش ہو جنہوں نے آج میری آنکھوں کو یہ دیکھنا نصیب کیا کہ میرے تخت پر میرا ایک جانشین بیٹھ چُکاہے۔‘ “
1KI 1:49 اِس پر ادُونیّاہؔ کے مہمان دہشت زدہ ہوکر اُٹھ کھڑے ہُوئے اَور مُنتشر ہو گئے۔
1KI 1:50 لیکن ادُونیّاہؔ شُلومونؔ کے خوف کے باعث بھاگا اَور مذبح کے سینگ کو پکڑ لیا۔
1KI 1:51 تَب شُلومونؔ کو بتایا گیا، ”ادُونیّاہؔ شُلومونؔ بادشاہ سے خوفزدہ ہوکر مذبح کے سینگوں کو پکڑے ہویٔے ہے اَور کہتاہے، ’شُلومونؔ بادشاہ آج مُجھ سے قَسم کھائے کہ وہ اَپنے خادِم کو تلوار سے قتل نہیں کرےگا۔‘ “
1KI 1:52 شُلومونؔ نے جَواب دیا، ”اگر وہ اَپنے آپ کو لائق ثابت کرےگا تو اُس کا ایک بھی بال بیکا نہ ہوگا؛ لیکن اگر اُس میں بدی پائی گئی تو وہ ماراجائے گا۔“
1KI 1:53 تَب شُلومونؔ نے آدمی بھیجے اَور اُنہُوں نے اُسے مذبح پر سے اُتار لیا۔ اَور ادُونیّاہؔ آیا اَور شُلومونؔ بادشاہ کو سَجدہ کیا اَور شُلومونؔ نے اُسے حُکم دیا، ”اَپنے گھر چلا جا۔“
1KI 2:1 جَب داویؔد کی وفات کا وقت قریب آیا تو اُنہُوں نے اَپنے بیٹے شُلومونؔ کو یہ حُکم دیا۔
1KI 2:2 اَور فرمایا، ”دُنیا کے دستور کے مُطابق میں جا رہا ہُوں۔ لہٰذا، مضبُوط ہو جاؤ اَور مردانگی دِکھاؤ،
1KI 2:3 اَور جِس بات کا یَاہوِہ تمہارے خُدا نے حُکم دیا ہے اُس پر عَمل کرو، اُن کی راہوں پر چلو اَور اُن کے قوانین اَور اَحکام، آئین اَور طریقے کو بجا لاؤ، جَیسا کہ مَوشہ کے آئین میں لِکھّا ہے۔ اَیسا کرنے سے جو کُچھ تُم کرو اَور جہاں کہیں تُم جاؤ، وہاں تُمہیں پُوری کامیابی حاصل ہوگی۔
1KI 2:4 اَور یَاہوِہ اَپنے اُس وعدہ کو پُورا کریں، جو اُنہُوں نے مُجھ سے کیا تھا، ’اگر تمہاری اَولاد اُس راستہ پر چلے جِس پر اُسے چلنا ہے اَور اگر وہ اَپنی پُوری ایمانداری، دِل و جان سے میرے حُضُور وفاداری سے چلے، تو بنی اِسرائیل کے تخت پر بیٹھنے کے لیٔے تمہارے یہاں جانشین کی کبھی کمی نہ ہوگی۔‘
1KI 2:5 ”اِس کے علاوہ تُمہیں یہ بھی مَعلُوم ہے کہ یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ نے میرے ساتھ کیا کیا غلط سلُوک کیا تھا، اُس نے اِسرائیلی فَوج کے دو سپہ سالاروں ابنیرؔ بِن نیرؔ اَور یترؔ کے بیٹے عماساؔ کے ساتھ کیا کیا تھا۔ یُوآبؔ نے اُنہیں قتل کیا اَور صُلح کے وقت اَیسے خُون بہایا، گویا جنگ جاری ہے اَور اُس نے خُون سے اَپنے کمربند اَور جُوتوں کو آلُودہ کیا۔
1KI 2:6 لہٰذا تُم اُس کے ساتھ دانشمندی سے پیش آنا اَور خیال رکھنا کہ اُس کا سفید سَر قبر میں سلامت نہ جانے پایٔے۔
1KI 2:7 ”لیکن برزِلّئیؔ گِلعادی کے بیٹوں پر خاص مہربانی کرنا اَور اُنہیں اَپنے دسترخوان پر کھانے والوں میں شامل کرنا۔ کیونکہ جَب مَیں تمہارے بھایٔی اَبشالومؔ کے سامنے سے بھاگ رہاتھا تو اُنہُوں نے میری کافی مدد کی تھی۔
1KI 2:8 ”اَور یاد رکھ کہ بِنیامین قبیلے کے بحوریمؔ کے باشِندے شِمعیؔ بِن گیراؔ جو تمہارے ساتھ ہے جِس نے میرے محنایمؔ جانے کے دِن مُجھ پر سخت لعنت بھیجی اَور جَب وہ یردنؔ کے کنارے مُجھ سے مِلنے آئے تو مَیں نے یَاہوِہ کی قَسم کھا کر وعدہ کیا، ’مَیں تُمہیں تلوار سے قتل نہیں کروں گا۔‘
1KI 2:9 لیکن اَب تُم اُسے بے قُصُور نہ ٹھہرانا۔ تُم عقلمند شخص ہو؛ چنانچہ تُمہیں مَعلُوم ہے کہ اُس کے ساتھ کیا کرنا چاہئے۔ چنانچہ تُم اُس کا سفید سَر لہُولُہان کرکے قبر میں اُتارنا۔“
1KI 2:10 تَب داویؔد نے وفات پائی اَور اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گئے اَور داویؔد کو اُنہیں کے شہر میں دفن کیا گیا۔
1KI 2:11 داویؔد نے بنی اِسرائیل پر چالیس سال حُکمرانی کی تھی۔ اُنہُوں نے سات سال حِبرونؔ میں اَور تینتیس سال یروشلیمؔ میں حُکمرانی کی۔
1KI 2:12 تَب شُلومونؔ اَپنے باپ داویؔد کے تخت پر بیٹھے اَور اُن کی حُکومت مضبُوطی کے ساتھ قائِم ہو گئی۔
1KI 2:13 اَور یُوں ہُوا کہ حگِیّت کا بیٹا ادُونیّاہؔ شُلومونؔ کی ماں بتشیبؔا سے مِلنے آیا۔ بتشیبؔا نے اُس سے دریافت کیا، ”کیا تُم صُلح کے خیال سے آئے ہو؟“ اُس نے جَواب دیا، ”ہاں، صُلح کے خیال سے آیا ہُوں۔“
1KI 2:14 پھر اُس نے مزید کہا، ”مُجھے آپ سے کچھ درخواست کرناہے۔“ بتشیبؔا نے جَواب دیا، ”بولو کیا کہنا چاہتے ہو؟“
1KI 2:15 ادُونیّاہؔ نے کہا، ”آپ کو تو مَعلُوم ہی ہے کہ سلطنت تو میری تھی اَور تمام اِسرائیلی مُجھے اَپنا بادشاہ تسلیم کرتے تھے۔ مگر حالات بدل گیٔے اَور بادشاہی میرے بھایٔی کے ہاتھ میں چلی گئی کیونکہ یَاہوِہ کی یہی مرضی تھی۔
1KI 2:16 اَب مَیں آپ سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہُوں۔ اُسے ردّ نہ کرنا۔“ اُس نے کہا، ”تمہاری درخواست کیا ہے؟“
1KI 2:17 لہٰذا ادُونیّاہؔ نے کہا، ”مہربانی کرکے شُلومونؔ بادشاہ سے کہہ کہ وہ اَبیشگ شُونمیت کی شادی مُجھ سے کرا دیں۔ وہ آپ کی بات ہرگز نہ ٹالیں گے۔“
1KI 2:18 ”بہت خُوب،“ بتشیبؔا نے جَواب دیا، ”مَیں تمہارے لیٔے بادشاہ سے بات کروں گی۔“
1KI 2:19 جَب بتشیبؔا نے ادُونیّاہؔ کے لیٔے شُلومونؔ بادشاہ سے بات کرنے گئی تو بادشاہ نے کھڑے ہوکر اُس کا اِستِقبال کیا، اُس کے سامنے جھُکا اَور پھر اَپنے تخت پر بیٹھ گیا۔ بادشاہ کی ماں کے لئے ایک تخت لایا گیا تھا اَور وہ اُس کے داہنی طرف بیٹھ گئی۔
1KI 2:20 اُس نے کہا‏، ”تمہارے پاس ایک چُھوٹی سِی درخواست لے کر آئی ہُوں۔ مُجھے منع مت کرنا۔“ بادشاہ نے فرمایا، ”اَے میری ماں! اِرشاد فرما، میں ہرگز اِنکار نہ کروں گا۔“
1KI 2:21 اُس نے کہا، ”اَبیشگ شُونمیت کی شادی اَپنے بھایٔی ادُونیّاہؔ سے کرانے کی اِجازت دے دو۔“
1KI 2:22 شُلومونؔ بادشاہ نے اَپنی ماں کو جَواب دیا، ”آپ ادُونیّاہؔ سے اَبیشگ شُونمیت کے شادی کی درخواست کیوں کر رہی ہیں۔ آپ چاہیں تو ادُونیّاہؔ کے لیٔے بادشاہی کی بھی درخواست کر سکتی ہیں کیونکہ بہرحال وہ میرا بڑا بھایٔی ہے۔ اُسی کے لیٔے ہی کیوں بَلکہ آپ ابیاترؔ کاہِنؔ اَور یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ کے لیٔے بھی بادشاہی مانگ سکتی ہیں۔“
1KI 2:23 تَب شُلومونؔ بادشاہ نے یَاہوِہ کی قَسم کھا کر فرمایا: ”اگر ادُونیّاہؔ اِس درخواست کے لیٔے قتل نہ کیا جائے تو خُدا میرے ساتھ اَیسا ہی بَلکہ اِس سے بھی بُرا سلُوک کرے۔
1KI 2:24 اَور اَب زندہ یَاہوِہ کی قَسم جِس نے مُجھے میرے باپ داویؔد کے تخت پر بِٹھایا اَور اَپنے وعدہ کے مُطابق میری لیٔے ایک شاہی خاندان کی بُنیاد رکھی، بے شک ادُونیّاہؔ آج ہی قتل کیا جایٔےگا!“
1KI 2:25 چنانچہ شُلومونؔ بادشاہ نے بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ کو حُکم دیا کہ وہ ادُونیّاہؔ کو قتل کرے اَور ادُونیّاہؔ قتل کر دیا گیا۔
1KI 2:26 اَور ابیاترؔ کاہِنؔ کو بادشاہ نے حُکم دیا، ”عناتوت میں اَپنے کھیتوں میں واپس جاؤ۔ آپ مرنے کے مُستحق ہیں، لیکن مَیں اَب آپ کو موت کے گھاٹ نہیں اُتاروں گا، کیونکہ آپ نے میرے باپ داویؔد کے سامنے یَاہوِہ قادر کا صندُوق اُٹھا رکھا تھا اَور میرے باپ کی تمام مُشکلات میں شریک تھے۔“
1KI 2:27 تَب شُلومونؔ نے ابیاترؔ کو یَاہوِہ کے کاہِنؔ کے عہدہ سے برطرف کر دیا اَور یُوں جو کچھ یَاہوِہ نے شیلوہؔ میں عیلیؔ کے گھر کے متعلّق فرمایا تھا وہ پُورا ہو گیا۔
1KI 2:28 جَب یہ خبر یُوآبؔ تک پہُنچی، جِس نے ادُونیّاہؔ کے ساتھ مِل کر سازش کی تھی مگر اَبشالومؔ کا ساتھ نہیں دیا تھا، تو یُوآبؔ یَاہوِہ کے خیمہ کی طرف بھاگا اَور جا کر مذبح کے سینگوں کو پکڑ لیا۔
1KI 2:29 جَب شُلومونؔ بادشاہ کو خبر مِلی کہ یُوآبؔ یَاہوِہ کے خیمہ کی طرف بھاگ گیا ہے اَور مذبح کے پاس ہے تو اُس نے بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ کو حُکم دیا کہا، ”جاؤ اَور اُنہیں وہیں ہلاک کر دو!“
1KI 2:30 چنانچہ بِنایاہؔ یَاہوِہ کے خیمہ میں داخل ہُوا اَور یُوآبؔ سے کہا، ”بادشاہ کا فرمان ہے، ’باہر نکل آؤ!‘ “ لیکن اُس نے جَواب دیا، ”کہ نہیں، مَیں یہیں مروں گا۔“ تَب بِنایاہؔ نے بادشاہ کو خبر دی، ”کہ یُوآبؔ نے مُجھے یُوں جَواب دیا ہے۔“
1KI 2:31 تَب بادشاہ نے بِنایاہؔ کو حُکم دیا، ”جَیسا اُس نے کہا وَیسا ہی کرو۔ اُسے ہلاک کرکے دفن کر دو اَور اِس طرح مُجھے اَور میرے باپ کے گھرانے کو اُس بےگُناہ کے خُون سے جو یُوآبؔ نے بہایا تھا، بَری کر دو۔
1KI 2:32 اَور یَاہوِہ اُس سے اُس خُون کا جو اُس نے بہایا تھا بدلہ لیں گے کیونکہ میرے باپ داویؔد کو بتائے بغیر اُس نے دو آدمیوں کو جو اُس سے کہیں زِیادہ اَچھّے اَور راستباز تھے، یعنی ابنیرؔ بِن نیرؔ اِسرائیلی فَوج کے سپہ سالار اَور یترؔ کے بیٹے عماساؔ جو یہُوداہؔ کے لشکر کے سالار تھے، اُنہیں تلوار سے قتل کر دیا تھا۔
1KI 2:33 اِس لیٔے اُن کے خُون کا گُناہ یُوآبؔ کے سَر پر اَور اُن کی اَولاد پر اَبد تک رہے گا۔ لیکن داویؔد، اُس کی اَولاد، اُس کے خاندان اَور اُس کے تخت پر اَبد تک یَاہوِہ کی سلامتی رہے گی۔“
1KI 2:34 چنانچہ بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ گیا اَور یُوآبؔ پر حملہ کرکے اُسے وہیں قتل کر دیا۔ اَور یُوآبؔ کو بیابان میں اُس کے گھر میں دفن کر دیا گیا۔
1KI 2:35 اَور بادشاہ نے بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ کو یُوآبؔ کی جگہ فَوج کے اُوپر سالار اَور ابیاترؔ کی جگہ صدُوقؔ کو کاہِنؔ مُقرّر کیا۔
1KI 2:36 پھر بادشاہ نے شِمعیؔ کو بُلوایا اَور اُس سے فرمایا، ”یروشلیمؔ میں اَپنے لیٔے ایک گھربنالے اَور وہیں مُقیم ہو جائے اَور وہاں سے کہیں مت جانا۔
1KI 2:37 اَور جِس دِن تُم یروشلیمؔ چھوڑکر قِدرُونؔ کی وادی کے پار جاؤگے، تو تُم یقیناً قتل کر دیئے جاؤ گئے اَور تمہارا خُون تمہارے ہی سَر پر ہوگا۔“
1KI 2:38 شِمعیؔ نے بادشاہ کو جَواب دیا، ”آپ نے واجِب فرمایاہے اَور آپ کا خادِم وُہی کرےگا جو میرے آقا بادشاہ نے فرمایاہے۔“ اَور شِمعیؔ کافی عرصہ تک یروشلیمؔ میں ہی رہا۔
1KI 2:39 لیکن تین سال بعد شِمعیؔ کے دو غُلام گاتؔھ کے بادشاہ اکِیشؔ بِن معکہؔ کے پاس بھاگ گیٔے۔ جَب شِمعیؔ کو خبر مِلی، ”کہ اُس کے غُلام گاتؔھ میں ہیں۔“
1KI 2:40 تو شِمعیؔ نے اَپنے گدھے پر زین کسی اَور اَپنے غُلاموں کی تلاش میں اکِیشؔ کی طرف گاتؔھ میں روانہ ہُوا اَور اَپنے غُلاموں کو گاتؔھ سے واپس لے آیا۔
1KI 2:41 جَب شُلومونؔ کو مَعلُوم ہُوا کہ شِمعیؔ یروشلیمؔ سے گاتؔھ کو گیا تھا اَور پھر واپس آ گیا ہے،
1KI 2:42 تَب بادشاہ نے شِمعیؔ کو طلب کیا اَور فرمایا، ”کیا مَیں نے تُمہیں یَاہوِہ کی قَسم دِلا کر مُتنبّہ نہیں کیا تھا، ’جِس دِن تُم یروشلیمؔ سے باہر جاؤگے یقیناً موت کی سزا پاؤگے‘؟ اُس وقت تُم نے مُجھ سے کہاتھا، آپ نے واجِب فرمایاہے، ’اَور مَیں اُس کی تعمیل کروں گا۔‘
1KI 2:43 پھر تُم نے یَاہوِہ سے کھائی ہُوئی قَسم کیوں توڑ دی اَورجو حُکم مَیں نے تُمہیں دیا تھا اُس کی تعمیل کیوں نہیں کی؟“
1KI 2:44 بادشاہ نے شِمعیؔ سے یہ بھی فرمایا، ”کہ وہ تمام شرارت جو تُم نے میرے باپ داویؔد کے خِلاف کی اُسے تمہارا دِل جانتا ہے۔ اَب یَاہوِہ تُمہیں تمہارے گُناہ کی سزا دیں گے۔
1KI 2:45 لیکن شُلومونؔ بادشاہ برکت پایٔےگا اَور داویؔد کا تخت یَاہوِہ کے حُضُور میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔“
1KI 2:46 پھر بادشاہ نے بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ کو حُکم دیا اَور اُس نے باہر جا کر شِمعیؔ پر اَیسا وار کیا کہ وہ مَر گیا۔ اَور اَب بادشاہی شُلومونؔ کے ہاتھ میں مُستحکم ہو گئی۔
1KI 3:1 شُلومونؔ نے مِصر کے بادشاہ فَرعوہؔ کے ساتھ اِتّحاد کیا اَور اُس کی بیٹی سے شادی کرلی اَور جَب تک اَپنے محل، اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس اَور یروشلیمؔ کے گِرد فصیل کی تعمیر کا کام ختم نہ کر چُکا تَب تک اُسے لاکر داویؔد کے شہر میں رکھا۔
1KI 3:2 لوگ اَب بھی اُونچے مقامات پر قُربانیاں پیش کیا کرتے تھے کیونکہ یَاہوِہ کے نام کے لیٔے کوئی گھر اُس وقت تک تعمیر نہ ہُوا تھا۔
1KI 3:3 شُلومونؔ نے اَپنے باپ داویؔد کے فرمانوں پر چل کر یَاہوِہ سے اَپنی مَحَبّت کا اِظہار کیا لیکن اُس نے اُونچے مقامات پر قُربانیاں گزراننا اَور بخُور جَلانا نہ چھوڑا۔
1KI 3:4 اَور بادشاہ قُربانیاں چڑھانے کے لیٔے گِبعونؔ کو گیا کیونکہ وہ نہایت ہی اہم بُلند مقام تھا اَور شُلومونؔ نے مذبح پر ایک ہزار سوختنی نذریں پیش کیں۔
1KI 3:5 اَور گِبعونؔ میں یَاہوِہ رات کے وقت خواب میں شُلومونؔ کو دِکھائی دیئے اَور خُدا نے فرمایا، ”کہ جو کچھ بھی تُم چاہتے ہو مانگ لو مَیں تُمہیں دُوں گا۔“
1KI 3:6 شُلومونؔ نے جَواب دیا، ”کہ آپ نے اَپنے خادِم میرے باپ داویؔد پر بڑی مہربانی کی ہے کیونکہ وہ آپ کے حُضُور میں ایماندار، نیک دِل اَور راستباز تھے اَور آپ نے داویؔد کے ساتھ اِس بڑی مہربانی کو جاری رکھّا ہے اَور آج آپ نے میرے باپ کو اُن کے تخت پر بیٹھنے کے لیٔے ایک بیٹا بھی بخشا ہے۔
1KI 3:7 ”اَب، اَے یَاہوِہ میرے خُدا! آپ نے میرے باپ داویؔد کی جگہ اَپنے خادِم کو بادشاہ بنایا ہے۔ لیکن مَیں تو ابھی کمسِن لڑکا ہُوں۔ میں نہیں جانتا کہ اَپنے فرائض کو کس طرح اَنجام دُوں۔
1KI 3:8 آپ کا خادِم آپ کے مُنتخب لوگوں کے درمیان ہے جو ایک اَیسی عظیم قوم ہے کہ اُن کا شُمار نہیں کیا جا سکتا۔
1KI 3:9 لہٰذا اِس قوم پر حُکمرانی کرنے کے لیٔے اَور نیک و بد میں اِمتیاز کرنے کے لیٔے اَپنے خادِم کو فہم و بصیرت والا دِل عطا کریں کیونکہ آپ کی اِس عظیم قوم پر حُکمرانی کرنے کے لائق کون ہے؟“
1KI 3:10 یہ بات یَاہوِہ کو پسند آئی کہ شُلومونؔ نے یہ چیز مانگی۔
1KI 3:11 اِس لیٔے خُدا نے اُس سے فرمایا، ”چونکہ تُم نے نہ تو اَپنی عمر درازی، نہ اَپنے واسطے دولت اَور نہ ہی اَپنے دُشمنوں کی موت مانگی ہے، بَلکہ فہم و بصیرت کی درخواست کی تاکہ تُم اِنصاف سے کام لے سکو۔
1KI 3:12 لہٰذا میں وُہی کروں گا جِس کی تُم نے درخواست کی ہے۔ مَیں تُمہیں ایک اَیسا عقلمند اَور سمجھنے والا دِل عطا کروں گا کہ تمہاری مانند نہ تو کویٔی تُم سے پہلے ہُوا اَور نہ کویٔی تمہارے بعد ہوگا۔
1KI 3:13 اِس کے علاوہ مَیں تُمہیں وہ بھی عطا کروں گا جو تُم نے نہیں مانگا یعنی دولت اَور عزّت، اَیسا کہ تمہارے ہم عصر بادشاہوں میں سے زندگی بھر کویٔی بھی تمہارے برابر نہ ہوگا۔
1KI 3:14 اَور اگر تُم میری راہوں پر چلو اَور میرے قوانین اَور اَحکام پر عَمل کرو جَیسے تمہارے باپ داویؔد نے کیا تھا، تو مَیں تُمہیں لمبی عمر عطا کروں گا۔“
1KI 3:15 تَب شُلومونؔ جاگ اُٹھا اَور سمجھ گیا کہ یہ ایک خواب تھا۔ اَور وہ یروشلیمؔ لَوٹ آیا اَور یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے آگے کھڑا ہُوا اَور اُس نے قُربانیاں سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں پیش کیں اَور پھر اَپنے تمام اہلِ دربار کی ضیافت کی۔
1KI 3:16 ایک دِن اَیسا ہُوا کہ دو فاحِشہ عورتیں بادشاہ کے پاس آئیں اَور اُن کے حُضُور کھڑی ہُوئیں۔
1KI 3:17 اُن میں سے ایک نے کہا، ”میرے آقا! یہ عورت اَور مَیں ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ جَب وہ وہاں میرے ساتھ تھی تو مُجھے ایک بچّہ پیدا ہُوا۔
1KI 3:18 میرے بچّے کے پیدا ہونے کے بعد تیسرے دِن اِس عورت کے بھی بچّہ پیدا ہُوا۔ ہم تنہا تھے۔ ہم دونوں کے سِوا گھر میں اَور کویٔی نہ تھا۔
1KI 3:19 ”رات کے وقت اِس عورت کا بچّہ مَر گیا کیونکہ یہ اُس کے اُوپر لیٹ گئی تھی۔
1KI 3:20 چنانچہ وہ آدھی رات کو اُٹھی اَور جِس وقت آپ کی لونڈی سوئی ہُوئی تھی، اُس نے میرے بیٹے کو میرے بغل سے لے کر اَپنی گود میں لیٹا لیا اَور اَپنے مُردہ بچّے کو اُٹھاکر میری گود میں رکھ دیا۔
1KI 3:21 اگلی صُبح جَب مَیں اَپنے بچّے کو دُودھ پِلانے کے لیٔے اُٹھی تو دیکھا کہ بچّہ مَرا ہُواہے۔ لیکن جَب مَیں نے صُبح کی رَوشنی میں اُس پر غور سے نگاہ کی تو دیکھا کہ یہ وہ بچّہ نہیں ہے جسے مَیں نے پیدا کیا تھا۔“
1KI 3:22 تَب یہ عورت کہنے لگی، ”نہیں! زندہ بچّہ میرا ہے اَور مَرا ہُوا بچّہ تمہارا ہے۔“ لیکن پہلی عورت کا اِصرار یہ تھا، ”نہیں! مُردہ بچّہ تمہارا ہے اَور زندہ بچّہ میرا ہے۔“ اِس طرح وہ دونوں بادشاہ کے حُضُور بحث و تکرار کرنے لگیں۔
1KI 3:23 بادشاہ نے فرمایا، ”ایک عورت کہتی ہے، ’میرا بیٹا زندہ ہے اَور تمہارا بیٹا مُردہ ہے،‘ جَب کہ دُوسری کہتی ہے، ’نہیں! تمہارا بیٹا مُردہ ہے اَور میرا زندہ ہے۔‘ “
1KI 3:24 پھر بادشاہ نے فرمایا، ”میرے پاس ایک تلوار لاؤ۔“ چنانچہ بادشاہ کے لیٔے تلوار لائی گئی۔
1KI 3:25 اَور بادشاہ نے حُکم دیا: ”زندہ بچّہ کو کاٹ کر اُس کے دو ٹکڑے کر دو۔ آدھا ایک کو اَور آدھا دُوسری کو دے دو۔“
1KI 3:26 تَب جِس عورت کا بچّہ زندہ تھا اُس کی شفقت اَپنے بیٹے کے لیٔے جاگ اُٹھی اَور وہ بادشاہ سے اِلتجا کرنے لگی، ”میرے آقا، زندہ بچّہ اِسی کو دے دیا جائے مگر اُسے جان سے ہرگز نہ ماراجائے!“ لیکن دُوسری نے کہا، ”اِسے دو حِصّوں میں چیر ڈالا جائے تاکہ وہ نہ میرا رہے اَور نہ اُس کا!“
1KI 3:27 تَب بادشاہ نے اَپنا فیصلہ سُنایا: ”زندہ بچّہ اُس پہلی عورت کو دے دو اُسے جان سے نہ مارو کیونکہ وُہی اُس کی اصلی ماں ہے۔“
1KI 3:28 جَب تمام بنی اِسرائیل نے اِس فیصلہ کو جو بادشاہ نے دیا تھا سُنا تو وہ بادشاہ سے خوفزدہ ہو گئے اَور اُن کا بڑا اِحترام کرنے لگے کیونکہ اُنہُوں نے دیکھا کہ بادشاہ کو اِنصاف کرنے کی حِکمت خُدا کی طرف سے مِلی ہے۔
1KI 4:1 شُلومونؔ بادشاہ نے پُورے مُلک اِسرائیل پر حُکمرانی کی۔
1KI 4:2 اَور شُلومونؔ کے اعلیٰ اہلکار یہ تھے: صدُوقؔ کا بیٹا عزریاہؔ کاہِنؔ تھا۔
1KI 4:3 اَور شیشؔا کے بیٹے الِیحورِفؔ اَور اخیاہؔ مُنشی تھے۔ اَور احِیلودؔ کا بیٹا یہوشافاطؔ کا مورّخ تھا۔
1KI 4:4 اَور بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ سپہ سالار تھا؛ اَور صدُوقؔ اَور ابیاترؔ کاہِنؔ تھے۔
1KI 4:5 اَور ناتنؔ کا بیٹا عزریاہؔ اُس صوبے کے حاکموں کا سربراہ تھا۔ اَور ناتنؔ کا بیٹا زابُودؔ کاہِنؔ اَور بادشاہ کا مُشیر تھا۔
1KI 4:6 اَور احیشار شاہی محل کا دیوان تھا۔ اَور ادُونِیرامؔ بِن عبداؔ، خراج کا داروغہ تھا۔
1KI 4:7 اَور شُلومونؔ نے سارے بنی اِسرائیل کے صوبے کے اُوپر بَارہ حاکم مُقرّر کیٔے تھے، جو بادشاہ اَور اُس کے محل کے لیٔے رسد پہُنچاتے تھے۔ ہر ایک کو سال میں مہینے بھر رسد پہُنچانی پڑتی تھی۔
1KI 4:8 اُن کے نام یہ ہیں: اِفرائیمؔ کے پہاڑی علاقہ میں بِن حُورؔ،
1KI 4:9 اَور ماقاضؔ شہر میں بِن دِقر، شعلبِیمؔ، بیت شِمِشؔ اَور ایلون بیتھ حانانؔ،
1KI 4:10 اَور اروبّوتؔ میں بِن حِصِدؔ کی حُکومت شوکوہؔ اَور پُورے حِفرؔ کی تمام سرزمین پر بھی تھا۔
1KI 4:11 اَور بِن ابینادابؔ پُورے نافات دورؔ کا حاکم تھا۔ اُس کی بیوی کا نام طافاتؔ تھا جو شُلومونؔ کی بیٹی تھی۔
1KI 4:12 اَور بعنہؔ بِن احِیلودؔ، جِس کے تعناکؔ اَور مگِدّوؔ اَور تمام بیت شانؔ تھا، جو ضارِتھانؔ سے آگے اَور یزرعیلؔ کے نیچے بیت شانؔ سے لے کر یُقمعامؔ کے پار ابیل مِحولہؔ تک تھا۔
1KI 4:13 اَور بِن گیبر راموتؔ گِلعادؔ میں مُنتخب حُکمران تھا۔ اُس کے اِختیار میں منشّہ کے بیٹے یائیرؔ کے دیہات بھی تھے، جو گِلعادؔ کے علاقہ میں ہیں۔ اُس کے اِختیار میں ارگوبؔ کا علاقہ بھی تھا جو باشانؔ میں مَوجُود ہے اَور اُس کے ساٹھ فصیلدار شہر بھی اُس کے تھے جِن کے پھاٹکوں میں کانسے کی بَلّیاں لگی ہُوئی تھیں۔
1KI 4:14 اَور محنایمؔ شہر میں عِدّوؔ کا بیٹا احینادابؔ حُکمران تھا۔
1KI 4:15 اَور نفتالی میں اخِیمعضؔ حُکمران تھا۔ جِس کی شادی شُلومونؔ کی بیٹی بسِماتھؔ سے ہُوئی تھی۔
1KI 4:16 اَور حُوشائی کا بیٹا بعنہؔ آشیر اَور عالوتھؔ میں مُنتخب تھا۔
1KI 4:17 اَور یِسَّکاؔر میں فروُحؔ کا بیٹا یہوشافاطؔ حاکم تھا۔
1KI 4:18 اَور بِنیامین میں اَیلہ کا بیٹا شِمعیؔ حاکم تھا۔
1KI 4:19 اَور صوبے گِلعادؔ میں اوری کا بیٹا گیبر حاکم تھا، جو امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کا مُلک اَور باشانؔ کے بادشاہ عوگؔ کا مُلک تھا۔ اُس صوبے کا وُہی اکیلا حاکم تھا۔
1KI 4:20 اَور یہُوداہؔ اَور اِسرائیل میں آبادی سمُندر کے کنارے کی ریت کی مانند تھی۔ اَور وہ کھاتے پیتے اَور ہنسی خُوشی میں زندگی بسر کرتے تھے۔
1KI 4:21 اَور شُلومونؔ دریائے فراتؔ سے لے کر فلسطینیوں کی سرزمین تک اَور مِصر کی سرحد تک تمام مملکتوں پر حُکمران تھے۔ یہ تمام مُلک خراج تحسین اَدا کرتے تھے اَور شُلومونؔ کے زندہ رہنے تک اُن کے مطیع رہے۔
1KI 4:22 شُلومونؔ کی روزانہ کی رسد اِن اَشیا پر مُشتمل تھی، پانچ ہزار کِلو مَیدہ اَور دس ہزار کِلو آٹا،
1KI 4:23 دس پلے ہویٔے بچھڑے، چراگاہوں میں پلے ہُوئے بیس بَیل اَور سَو بھیڑ بکریاں۔ اِن کے علاوہ ہِرن، غزال، نر چکارے اَور موٹے تازہ مُرغ۔
1KI 4:24 کیونکہ وہ تِفساحؔ سے لے کر غزّہؔ تک، دریائے فراتؔ کے تمام مغربی بادشاہوں پر حُکمران تھے اَور تمام اطراف میں صُلح کا دَور تھا۔
1KI 4:25 شُلومونؔ کے دَورِ ایّام میں یہُوداہؔ اَور اِسرائیل دانؔ سے لے کر بیرشبعؔ تک سلامتی سے رہتے تھے یعنی ہر شخص اَپنے انگور اَور اَپنے اَنجیر کے درخت کے نیچے محفوظ تھا۔
1KI 4:26 اَور شُلومونؔ کے اصطبل میں چالیس ہزار جنگی گھوڑے اُن کے رتھوں کے اِستعمال کے لیٔے تھے، اَور بَارہ ہزار رتھ ہانکنے والے تھے۔
1KI 4:27 اَور سبھی صوبے کے حاکم اَپنی باری سے مہینے میں شُلومونؔ بادشاہ کے لیٔے اَور اُن سَب کے لیٔے جو بادشاہ کے دسترخوان پر آتے تھے رسد پہُنچاتے تھے۔ اَور وہ اِس بات کا بھی خیال رکھتے تھے کہ کسی چیز کی کمی نہ ہو۔
1KI 4:28 اَور وہ تیز دَوڑنے والے رتھوں کے گھوڑوں اَور دیگر گھوڑوں کے لیٔے مُقرّرہ مقدار میں جَو اَور بھُوسا اصطبل کے لئے لاتے تھے۔
1KI 4:29 خُدا نے شُلومونؔ کو سمُندر کے کنارے کی ریت کی مانند کثرت سے حِکمت، سمجھ اَور قُوّتِ اِمتیاز عطا کی تھی۔
1KI 4:30 شُلومونؔ کی حِکمت اہلِ مشرق کی حِکمت سے زِیادہ تھی اَور مِصر کی تمام حِکمت سے بڑھ کر تھی۔
1KI 4:31 وہ ہر ایک آدمی سے بَلکہ اِزراحی ایتھانؔ سے ہیمانؔ، سے کال کولؔ سے اَور بنی ماحولؔ کے داردعؔ سے بھی زِیادہ دانشمند تھے اَور اُن کی شہرت اِردگرد کی تمام اَقوام میں پھیل گئی تھی۔
1KI 4:32 شُلومونؔ نے تین ہزار تمثیل کہیں اَور ایک ہزار پانچ نغمے بھی لکھے تھے۔
1KI 4:33 آپ نے نباتات کے بارے میں اَپنا خیال ظاہر کیا، یعنی لبانونؔ کے دیودار سے لے کر دیواروں پر اُگنے والے زُوفے تک کا بَیان کیا ہے۔ آپ نے چرندوں، پرندوں، رینگنے والے جانداروں اَور مچھلیوں کے متعلّق بھی اَپنا علم ظاہر کیا ہے۔
1KI 4:34 اَور سَب اَقوام میں سے زمین کے سَب بادشاہوں کی طرف سے جنہوں نے شُلومونؔ کی حِکمت کی شہرت سُنی تھی، لوگ شُلومونؔ کے حکیمانہ اقوال سُننے آتے تھے۔
1KI 5:1 جَب شاہِ صُورؔ حِیرامؔ نے سُنا کہ شُلومونؔ اَپنے باپ داویؔد کی جگہ بطور بادشاہ مَسح کیا گیا ہے تو اُس نے شُلومونؔ کے پاس اَپنے ایلچی بھیجے کیونکہ داویؔد کے ساتھ اُس کے تعلّقات ہمیشہ دوستانہ رہے تھے۔
1KI 5:2 شُلومونؔ نے حِیرامؔ کے پاس یہ پیغام بھیجا،
1KI 5:3 ”تُمہیں مَعلُوم ہے کہ میرے باپ داویؔد کے خِلاف تمام قوموں نے چاروں طرف سے جنگ چھیڑ رکھّی تھی اَور جَب تک کہ یَاہوِہ نے اُن کے سارے دُشمنوں کو اُن کے پاؤں کے نیچے نہ کر دیا، تَب تک وہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کے نام کی خاطِر ایک بیت المُقدّس تعمیر کرنے میں ناکامیاب ہی رہے تھے۔
1KI 5:4 مگر اَب یَاہوِہ میرے خُدا نے مُجھے چاروں طرف سے آرام بخشا ہے، اَب نہ تو کویٔی میرا مُخالف ہے اَور نہ کویٔی غضب۔
1KI 5:5 لہٰذا جَیسا کہ یَاہوِہ نے میرے باپ داویؔد سے فرمایا تھا، ’تمہارا بیٹا جسے مَیں تمہاری جگہ تمہارے تخت پر بِٹھاؤں گا، وُہی میرے نام کے جلال کی خاطِر بیت المُقدّس تعمیر کرائے گا۔ اِس لیٔے میرا اِرادہ ہے کہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کے لیٔے میں ایک بیت المُقدّس تعمیر کراؤں۔‘
1KI 5:6 ”اِس لیٔے اَب تُم اَپنے خادِموں کو حُکم دو کہ وہ میرے لیٔے لبانونؔ سے دیودار کے درخت کاٹیں۔ میرے آدمی تمہارے آدمیوں کے ساتھ مِل کر کام کریں گے اَور جِتنی بھی اُجرت تُم مُقرّر کروگے مَیں تمہارے آدمیوں کو اَدا کروں گا۔ اَور تُم جانتے ہی ہو کہ ہم لوگوں میں کویٔی بھی اَیسا نہیں جو لکڑی کاٹنے میں صیدونیوں کی طرح ماہر ہو۔“
1KI 5:7 جَب حِیرامؔ نے شُلومونؔ کا پیغام سُنا تو وہ بہت خُوش ہُوا اَور کہنے لگا، ”آج یَاہوِہ کی سِتائش ہو جِس نے اِس بڑی قوم پر حُکمرانی کے لیٔے داویؔد کو ایک عقلمند بیٹا بخشا ہے۔“
1KI 5:8 تَب حِیرامؔ نے شُلومونؔ کو یہ پیغام بھیجا: ”تُم نے جو پیغام مُجھے بھیجا تھا وہ مُجھے مِل گیا ہے دیودار اَور صنوبر کی لکڑی مُہیّا کرنے کے لیٔے جو کچھ تُم چاہتے ہو میں وہ سَب کروں گا۔
1KI 5:9 میرے آدمی اُن لکڑیوں کو لبانونؔ سے کھینچ کر بڑے سمُندر (بحرِ رُوم) تک لے جایٔیں گے۔ پھر اُن کے بیڑے بندھوا دوں گا تاکہ وہ سمُندر کے راستے سے اُس جگہ پہُنچ جایٔیں جہاں تُم چاہتے ہو۔ وہاں اُن لکڑیوں کو کھُلوا کر الگ الگ کر دیا جائے گا۔ پھر تُم اُنہیں لے جا سکوگے اَور مَیں صِرف یہ چاہتا ہُوں کہ تُم میرے شاہی گھرانے کے لیٔے رسد مُہیّا کرتے رہو۔“
1KI 5:10 اِس طرح حِیرامؔ نے شُلومونؔ کو جِتنی دیودار اَور صنوبر کی لکڑیاں چاہئے تھیں مُہیّا کر دیں۔
1KI 5:11 اَور شُلومونؔ نے حِیرامؔ کو اُس کے شاہی گھرانے کے لیٔے بیس ہزار کور گیہُوں اَور بیس ہزار بَت زَیتُون کا تیل بطور رسد مُہیّا کرتا رہا۔ شُلومونؔ کی طرف سے حِیرامؔ کو یہ رسد سال بسال پہُنچتی رہی۔
1KI 5:12 اَور یَاہوِہ نے شُلومونؔ کو اَپنے وعدہ کے مُطابق حِکمت عطا کی، حِیرامؔ اَور شُلومونؔ کے درمیان دوستانہ تعلّقات قائِم رہے کیونکہ اُن دونوں نے باہمی صُلح کا عہد کیا ہُوا تھا۔
1KI 5:13 بادشاہ شُلومونؔ نے تمام بنی اِسرائیل میں سے تیس ہزار مزدُور بیگار پر بھرتی کئے۔
1KI 5:14 اُن میں سے ہر ماہ دس ہزار کی ایک ٹولی لبانونؔ بھیجی جاتی تھی۔ اِس طرح ٹولی کے تمام افراد ایک مہینے لبانونؔ میں اَور دو مہینے اَپنے گھر پر گزارتے تھے۔ اَور ادُونِیرامؔ اُن بیگاروں کا نِگراں تھا۔
1KI 5:15 اَور شُلومونؔ کے پاس پہاڑوں میں ستّر ہزار حملہ آور اسّی ہزار سنگ تراش مَوجُود تھے۔
1KI 5:16 اِن سَب کے علاوہ شُلومونؔ کے تین ہزار تین سَو افسران بھی تھے جو سارے کام پر نِگرانی کرتے اَور کام کرنے والوں کو ہدایات دیتے تھے۔
1KI 5:17 بادشاہ کے حُکم پر اُنہُوں نے بڑے بڑے نفیس پتّھروں کو کھود نکالا، تاکہ اِنہیں تراش کر بیت المُقدّس کی بُنیاد کے واسطے اِستعمال کیا جا سکے۔
1KI 5:18 اِس طرح شُلومونؔ اَور حِیرامؔ کے صنعت کاروں اَور گبلیوں کے مزدُوروں نے مِل کر بیت المُقدّس کی تعمیر کرنے کے لیٔے لکڑی اَور پتّھروں کو کاٹا اَور تراش کر تیّار کر دیا۔
1KI 6:1 شُلومونؔ نے بنی اِسرائیل کے مِصر سے نکل آنے کے چار سَو اسّی ویں سال میں اَور بنی اِسرائیل پر اَپنے دَورِ حُکومت کے چوتھے سال میں زِیوؔ کے مہینے میں جو کہ سال کا دُوسرا مہینہ ہے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو تعمیر کرنا شروع کیا۔
1KI 6:2 اَورجو بیت المُقدّس شُلومونؔ بادشاہ نے یَاہوِہ کے لیٔے تعمیر کیا اُس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ، چوڑائی بیس ہاتھ اَور اُونچائی تیس ہاتھ تھی۔
1KI 6:3 اَور اُس بیت المُقدّس کے بڑے کمرہ کے سامنے برامدہ بنوایا جِس سے اُس بیت المُقدّس کی چوڑائی بیس ہاتھ اَور وسیع ہو گئی۔ اَور وہ اُس بیت المُقدّس کے سامنے والے حِصّہ سے دس ہاتھ آگے نِکلا ہُوا تھا۔
1KI 6:4 شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کی دیواروں کے اُوپر تنگ جالی دار جھروکے بھی بنوائے۔
1KI 6:5 اَور مَقدِس کی باہری اَور اَندرونی دیواروں کے چاروں طرف شُلومونؔ نے تمام بڑے بڑے کمرے تعمیر کروائے، جِس میں حُجرے بھی شامل تھے۔
1KI 6:6 عمارت تین مَنزل اُونچی تھی، سَب سے نِچلی مَنزل پانچ ہاتھ چوڑی تھی، اَور بیچ کی چھ ہاتھ، اَور تیسری مَنزل ساتھ ہاتھ چوڑی تھی۔ شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کی باہری دیوار سُتون پر بنوائی تاکہ بَلّیوں کو بیت المُقدّس کی دیواروں میں سوراخ کرکے اَندر نہ ڈالنا پڑے۔
1KI 6:7 بیت المُقدّس کو تعمیر کرنے کے لیٔے پتّھروں کے صِرف وُہی ٹکڑے اِستعمال کئے گیٔے جو کھدان سے نکالتے وقت تراشے گیٔے تھے۔ اَور جَب وہ بیت المُقدّس تعمیر کیا جا رہاتھا تو وہاں ہتھوڑے، چھینی یا لوہے کے کسی اوزار کی آواز سُنایٔی نہ دی۔
1KI 6:8 سَب سے نِچلی مَنزل کا دروازہ بیت المُقدّس کے جُنوب کی طرف تھا؛ اَور ایک زینہ بیچ والی مَنزل تک اَور پھر وہاں سے تیسری مَنزل تک پہُنچتا تھا۔
1KI 6:9 لہٰذا شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کو تعمیر کرنے کا کام پُورا کیا، اَور بیت المُقدّس کی چھت، دیودار کی شہتیروں اَور پٹریوں سے مُکمّل کی۔
1KI 6:10 اَور شُلومونؔ نے تمام بیت المُقدّس کے اِردگرد حُجرے تعمیر کروائے جِن میں سے ہر ایک کی اُونچائی سَوا دو میٹر تھی اَور وہ دیودار کی لٹک شہتیروں کے ذریعہ بیت المُقدّس کی چھت کو سنبھالے ہویٔے تھے۔
1KI 6:11 اَور یَاہوِہ کا کلام شُلومونؔ پر نازل ہُوا:
1KI 6:12 ”یہ بیت المُقدّس جو تُم تعمیر کر رہے ہو اُس کے متعلّق میرا قوانین یہ ہے کہ اگر تُم میرے آئین پر عَمل کرو اَور میرے تمام اَحکام پر عَمل کروگے اَور اُن کی تعمیل کرو تو میں اَپنا وعدہ جو مَیں نے تمہارے باپ داویؔد سے کیا تھا، اُسے تمہارے ذریعہ پُورا کروں گا۔
1KI 6:13 اَور مَیں بنی اِسرائیل کے درمیان سکونت کروں گا اَور اَپنی اُمّت بنی اِسرائیل کو ترک نہ کروں گا۔“
1KI 6:14 چنانچہ شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کو تعمیر کرنے کا کام مُکمّل کیا۔
1KI 6:15 اَور شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کی اَندرونی دیواروں پر دیودار کے پرت دار لکڑی لگائی اَور بیت المُقدّس کو فرش سے لے کر چھت تک دیودار کی پٹّیوں سے سجا دیا اَور بیت المُقدّس کے فرش کو صنوبر کی پٹریوں سے ڈھانپ دیا۔
1KI 6:16 اَور شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کے اَندر پاک ترین مقام بنانے کے لیٔے، اِس کے پیچھے کی دیوار سے بیس ہاتھ اَندرونی حِصّہ میں ایک دیوار تعمیر کروائی جو زمین سے لے کر چھت تک دیودار کی بنی ہویٔی تھی۔ اِس سے ایک اَندرونی کمرہ تعمیر کیا گیا جو نہایت ہی پاک ترین مقام تھا۔
1KI 6:17 پاک ترین مقام کے سامنے ایک بڑا کمرہ تھا جو چالیس ہاتھ لمبا تھا۔
1KI 6:18 بیت المُقدّس کی دیواروں کا اَندرونی حِصّہ دیودار کی لکڑی سے مُزیّن تھا جِس پر لٹّو اَور کھِلے ہُوئے پھُول کندہ کئےگئے تھے۔ سَب کچھ دیودار سے ڈھکا ہُوا تھا اَور بیت المُقدّس کے اَندرونی دیواروں کا کویٔی بھی پتّھر دِکھائی نہیں دیتا تھا۔
1KI 6:19 اَور شُلومونؔ نے پاک مَقدِس کے اَندر ایک پاک ترین مقام تعمیر کروایا تاکہ اِس کے اَندر یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو وہاں رکھّا جا سکے۔
1KI 6:20 اِس پاک مَقدِس کی لمبائی بیس ہاتھ، چوڑائی بیس ہاتھ، اَور اُونچائی بیس ہاتھ تھی۔ شُلومونؔ نے اِس کے اَندرونی حِصّہ کو اَور دیودار سے بنے ہویٔے مذبح کو بھی خالص سونے سے منڈھوا دیا تھا۔
1KI 6:21 شُلومونؔ نے مَقدِس کے اَندرونی حِصّہ کو خالص سونے سے منڈھوا دیا تھا اَور اَندرونی پاک ترین مقام کے سامنے والے حِصّہ کو سونے کی زنجیروں سے تنوا دیا۔
1KI 6:22 چنانچہ شُلومونؔ نے پُورے بیت المُقدّس کے اَندرونی حِصّہ کو سونے سے منڈھوا دیا۔ اِس کے علاوہ اُنہُوں نے اَندرونی پاک مَقدِس کے پُورے مذبح کو بھی سونے سے منڈھوا دیا۔
1KI 6:23 اَور اُنہُوں نے پاک مَقدِس میں زَیتُون کی لکڑی کے دو کروبیم بنوائے جِن کی اُونچائی دس ہاتھ تھی۔
1KI 6:24 پہلے کروب کے دونوں پر اَور بازو، پانچ پانچ ہاتھ کے برابر تھے، ایک بازو کے سِرے سے لے کر دُوسرے بازو کے سِرے تک لمبائی دس ہاتھ تھی۔
1KI 6:25 اِسی طرح دُوسرے کروب کا بازو بھی دس ہاتھ اُونچا تھا، اَور دونوں کروبیم جِسامت اَور بناوٹ میں یکساں تھے۔
1KI 6:26 اَور ہر ایک کروب کی اُونچائی دس ہاتھ تھی۔
1KI 6:27 شُلومونؔ نے دونوں کروبیم کو بیت المُقدّس کے بالکُل اَندرونی کمرہ میں رکھّا اَور اُن کے پر پھیلے ہُوئے تھے، ایک کروب کا پر ایک دیوار کو چھُوتا تھا جَب کہ دُوسرے کروب کا پر دُوسری دیوار کو چھُوتا تھا اَور اُن کے پر کمرہ کے وَسط میں ایک دُوسرے سے ملے ہُوئے تھے۔
1KI 6:28 اَور شُلومونؔ نے کروبیم کو بھی سونے سے منڈھوا دیا تھا۔
1KI 6:29 اَور اِس کے بعد شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کے اَندرونی اَور بیرونی سبھی دیواروں پر کروبیم، کھجور کے درخت اَور کھِلے ہُوئے پھُولوں کی شَبیہ کندہ کیں۔
1KI 6:30 اَور شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کے اَندرونی اَور بیرونی دونوں ہی پاک کمروں کے فرش کو بھی سونے سے منڈھوا دیا۔
1KI 6:31 اَور اَندرونی پاک مَقدِس میں داخل ہونے کے لیٔے اُنہُوں نے زَیتُون کی لکڑی کے دو دروازے بنائے جو نوک دار محراب کی مانند تھے۔
1KI 6:32 اَور زَیتُون کے دو پَلّے والے دروازوں پر شُلومونؔ نے کروبیم، کھجور کے درخت اَور کھِلے ہُوئے پھُول کندہ کئے، کروبیم اَور کھجور کے درختوں پر سونے کی پرت سے منڈھوا دیا۔
1KI 6:33 اِس طرح بڑے کمرے میں داخل ہونے کے لیٔے اُنہُوں نے زَیتُون کی لکڑی کی چوکور چوکھٹیں بنوائیں۔
1KI 6:34 شُلومونؔ نے دو دروازے صنوبر کی لکڑی کے بھی بنوائے جِن میں سے ہر ایک کے دو دو پَلّے تھے جو قبضے دار اَور مُڑنے والے تھے۔
1KI 6:35 اُنہُوں نے اُن دروازوں پر کروبیم، کھجور کے درخت اَور کھِلے ہُوئے پھُول کندہ کروائے اَور کھجور کے درختوں پر سونے کی پرت سے منڈھوا دیا۔
1KI 6:36 شُلومونؔ نے اَندر کے صحن کے تین ردّے تراشے ہُوئے پتّھر کے اَور ایک ردّا دیودار کے رندہ کئے ہُوئے بَلّیوں سے بنوایا۔
1KI 6:37 چوتھے سال میں زِیوؔ کے مہینے میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی بُنیاد رکھی گئی تھی۔
1KI 6:38 اَور گیارھویں سال کے بُولؔ کے مہینے میں جو اصل میں آٹھواں مہینہ ہے، یَاہوِہ کا بیت المُقدّس اَپنے تمام سَب حِصّوں کے ساتھ اَپنے نقشہ کے عَین مُطابق بَن کر تیّار ہو گیا تھا۔ چنانچہ شُلومونؔ کو اِسے تعمیر کرنے میں سات سال لگے۔
1KI 7:1 اَپنے محل کی تعمیر مُکمّل کرنے میں شُلومونؔ کو تیرہ سال لگے۔
1KI 7:2 اُنہُوں نے اَپنا محل لبانونؔ کی لکڑی سے بنوایا تھا جو پینتالیس میٹر لمبا، تئیس میٹر چوڑا اَور چودہ میٹر اُونچا تھا، جسے لبانونؔ کے جنگل کے محل کے نام سے جانا جاتا تھا کیونکہ اِس میں دیودار کے سُتونوں کی چار قطاریں تھیں اَور اُن کے اُوپر دیودار کی رندہ کی ہُوئی لٹک شہتیروں کو رکھّا گیا تھا۔
1KI 7:3 محل کی چھت دیودار کے پینتالیس سُتونوں پر لٹک شہتیروں کے سہارے ٹِکی ہُوئی تھی۔ ہر قطار میں پندرہ دیودار کے لٹک شہتیر تھے۔
1KI 7:4 محل میں آمنے سامنے کی دیواروں کی اُونچائی پر کُل چھ کھڑکیاں لگائی گئی تھیں جو ایک قطار میں لگی تھیں۔
1KI 7:5 اُن کے دروازوں کی چوکھٹے چوکور تھے اَور کھڑکیاں آمنے سامنے کی دیواروں پر تین تین کے ترتیب میں ایک ہی قطار میں لگی تھیں۔
1KI 7:6 اَور شُلومونؔ نے تئیس میٹر لمبے اَور چودہ میٹر چوڑے سُتونوں کا ایک بڑا کمرہ تعمیر کروایا جِس کے سامنے سُتونوں کا ایک برامدہ تھا جِس کی چھت چھتری نُما تھی۔
1KI 7:7 اَور اُنہُوں نے ایک دیوانِ خاص تعمیر کروایا جہاں اُن کا شاہی تخت لگایا جانا تھا اَور وہاں سے وہ عدالت کرنے والے تھے۔ اَور شُلومونؔ نے اُسے فرش سے لے کر چھت تک دیودار کی پٹّیوں سے ڈھنکوا دیا۔
1KI 7:8 اَور شُلومونؔ کا اَپنا رِہائشی محل اِسی دیوانِ خاص کے پیچھے تھا، شُلومونؔ نے اِسی دیوانِ خاص کی مانند ایک اَور محل فَرعوہؔ کی بیٹی کے لیٔے بھی تعمیر کروایا، جِس سے اُن کی شادی ہُوئی تھی۔
1KI 7:9 یہ تمام عمارتیں بُنیاد سے لے کر چھت تک، اَندرونی اَور بیرونی حِصّے، بیش قیمتی پتّھروں سے تعمیر کیٔے گیٔے تھے، جنہیں بڑے ہوشیاری سے ناپ کے مُطابق کاٹ کر تراشا گیا۔
1KI 7:10 بُنیادیں بھی بیش قیمتی قِسم کے بڑے بڑے پتّھروں کی تھیں، جِن میں بعض پتّھروں کی پیمائش کے لحاظ سے لمبائی ساڑھے چار میٹر اَور چوڑائی ساڑھے تین میٹر تھی۔
1KI 7:11 بُنیاد کے اُوپر نفیس قِسم کے پتّھر ناپ کے مُطابق لگائے گیٔے تھے اَور دیودار کے سُتون بھی لگائے گیٔے تھے۔
1KI 7:12 اَور بڑے صحن کے چاروں دیواروں میں تراشے ہُوئے پتّھروں کی تین تین تہیں تھیں اَور ہر ایک دیوار کی تہوں کے درمیان تراشی ہوئی دیودار کی شہتیر تھی، ٹھیک اَیسی ہی بناوٹ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے اَندرونی صحن اَور اُس کے بیچ والے برامدے کی تھی۔
1KI 7:13 پھر شُلومونؔ بادشاہ نے ایلچی بھیج کر صُورؔ سے حُورامؔ کو آنے کی دعوت دی۔
1KI 7:14 جِس کی ماں نفتالی کے قبیلہ کی ایک بِیوہ تھی اَور جِس کا باپ صُورؔ کا باشِندہ اَور کانسے کا ماہر کاریگر تھا۔ حُورامؔ کانسے کے ہر قِسم کے کام میں بڑا حِکمت والا، سمجھدار اَور ماہر کاریگر تھا۔ اِس لیٔے تشریف لاکر حِیرامؔ نے شُلومونؔ بادشاہ کے تمام کام جو اُسے کے سُپرد کیا گیا تھا پُورا کر دیا۔
1KI 7:15 حِیرامؔ نے کانسے کو ڈھالا اَور دو سُتون بنائے جِن میں سے ہر ایک سُتون کی اُونچائی آٹھ میٹر اَور گولایٔی ساڑھے پانچ میٹر کی تھی۔
1KI 7:16 اَور اُس نے اُن سُتونوں کے بالائی حِصّوں پر رکھنے کے لیٔے کانسے کو ڈھال کر دو تاج بھی بنائے۔ ہر ایک بالائی تاج کی اُونچائی سَوا دو میٹر تھی۔
1KI 7:17 اِس کے بعد حِیرامؔ نے اُن سُتونوں کے بالائی تاجوں کے لیٔے زنجیروں کی سات سات چوکور جالی دار جھالریں بنوائیں۔
1KI 7:18 اِسی طرح اُس نے سُتونوں کے اُوپر تاجوں کو سجانے کے لیٔے جالیوں کے اِردگرد دو قطاروں میں انار بھی لٹکا دئیے۔ ہر سُتون کے تاج کو اُس نے اَیسے ہی سجایا۔
1KI 7:19 اَور برامدے کے سُتونوں کے اُوپر کے تاجوں پر شُوشنؔ کے پھُول کا کام تھا، اِن کی اُونچائی تقریباً دو میٹر تھی۔
1KI 7:20 اَور اُن دونوں سُتونوں کے تاجوں کے اُوپر پیالہ نُما حِصّہ پر جالی سے آگے، سُتونوں کے تاجوں کے چاروں طرف دو قطاروں میں دو سَو انار بنائے گیٔے تھے۔
1KI 7:21 اَور شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کے برامدے میں سُتون بھی بنوائے۔ اَور اُنہُوں نے جُنوبی سُتون کا نام یاکِن اَور شمال کی طرف والے سُتون کا نام بُوعزؔ رکھّا۔ اَور یُوں سُتونوں کا کام پُورا ہُوا۔
1KI 7:22 اَور سُتونوں کی چوٹی پر شُوشنؔ کے پھُول بنائے گیٔے تھے۔ اَور یُوں سُتونوں سے متعلّق سارا کام مُکمّل ہُوا۔
1KI 7:23 پھر شُلومونؔ نے ڈھالی ہُوئی دھات کا پانی کا ایک بڑا حوض بنوایا جِس کی شکل گول تھی اَورجو ایک کنارے سے دُوسرے کنارے تک دس ہاتھ اَور اُونچا پانچ ہاتھ تھا اَور پیمائش کے لحاظ سے اُس کا گھیرا تیس ہاتھ تھا۔
1KI 7:24 اَور اُس کے کنارے کے نیچے اِردگرد دو قطاروں میں لٹّو حوض کے ساتھ ہی ڈھالے گیٔے تھے یعنی ایک میٹر کے فاصلے پر بیس لٹّو تھے۔
1KI 7:25 اَور یہ حوض کانسے کے بَارہ بَیلوں کے اُوپر رکھّا گیا تھا؛ جِن میں سے تین کا مُنہ شمال کی طرف، تین کا مغرب، تین کا جُنوب اَور تین کا مشرق کی طرف تھا۔ حوض اُن کے سِروں پر ٹِکا ہُوا تھا اَور اُن کے پیچھے والے دھڑ اَندر کی طرف تھے۔
1KI 7:26 اِس حوض کے دھات کی موٹائی تقریباً چار اُنگل تھی اَور اُس کا کنارہ پیالے کے کنارہ کی طرح شُوشنؔ کے پھُول کی مانند تھا۔ اَور اِس حوض میں دو ہزار بَت پانی کی گنجائش تھی۔
1KI 7:27 حِیرامؔ نے کانسے کی دس مُنتقل ہونے والی پانی کی گاڑیاں بھی بنائیں جِن میں سے ہر ایک گاڑی کی لمبائی، ایک میٹر اسّی سینٹی میٹر، چوڑائی ایک میٹر اسّی سینٹی میٹر اَور اُونچائی ایک میٹر پینتیس سینٹی میٹر تھی۔
1KI 7:28 یہ گاڑیاں اِس طرح بنائی گئی تھیں کہ اُن میں چوکھٹ کی مانند چوکور اَور سیدھی پٹّیاں لگی ہویٔی تھیں۔
1KI 7:29 اَور چوکور چوکھٹوں اَور سیدھی پٹّییوں پر شیر، بَیل اَور کروبیم بنے ہُوئے تھے۔ اَور اِن کے شَبیہ کے اُوپر اَور نیچے ٹیڑھی جھالریں لٹکی ہویٔی تھیں۔
1KI 7:30 ہر گاڑی کے کانسے کے چار پہیّے اَور کانسے کے دُھرے تھے۔ اَور اِس کے چاروں کونوں پر چلمچی رکھنے کی جگہ تھی۔ اَور اِن کی پیندیوں کو ڈھال کر بنایا گیا تھا جِن کے دونوں کناروں کی طرف جھالریں لٹک رہی تھی۔
1KI 7:31 اَور ہر گاڑی کے اَندر چلمچی کے لیٔے تقریباً آدھا میٹر گہرا ایک گول گڈّھا تھا۔ جسے ایک پیندے پر رکھّا گیا تھا، جو تقریباً ستّر سینٹی میٹر تھا، جِس کے مُنہ پر نقّاشی کی گئی تھی۔ اَور گاڑیوں کی پٹّیاں گول نہیں بَلکہ چوکور تھی۔
1KI 7:32 اَور چاروں پہیّے چوکور پٹّیوں کے نیچے تھے اَور پہیّوں کے دُھرے گاڑی میں لگے ہُوئے تھے اَور ہر پہیّے کی اُونچائی تقریباً ستّر سینٹی میٹر تھی۔
1KI 7:33 اَور گاڑیوں کے پہیّے بالکُل رتھ کے پہیّوں کی مانند بنائے گیٔے تھے؛ اَور اُن کے دُھرے، چرخی، سلاخیں اَور نابھیں وغیرہ سَب حِصّے ڈھالی ہُوئی دھات کے تھے۔
1KI 7:34 اَور ہر گاڑی کے چاروں کناروں پر موڑنے کے لیٔے ایک ایک ہَینڈل تھا اَور یہ ہَینڈل گاڑی کے ساتھ ہی ڈھالے گیٔے تھے۔
1KI 7:35 اَور گاڑی کے سِرے پر ایک گول پٹّی تھی جو تقریباً تئیس سینٹی میٹر چوڑی گول پٹّی لگی ہویٔی تھی۔ اَور گاڑی کے اُوپر کی پٹّیاں اَور کنارے کے کڑے ایک ہی دھات کے ٹکڑے سے ڈھالے گیٔے تھے۔
1KI 7:36 اَور حِیرامؔ نے اُن کڑوں پر اُن کے کناروں پر اَور جہاں بھی جگہ تھی وہاں کروبیم، شیر اَور کھجور کے درخت کندہ کئے تھے اَور اُن کے چاروں طرف جھالریں کندہ کی گئیں تھیں۔
1KI 7:37 حِیرامؔ نے وہ دس گاڑی اِس طرح سے بنائی تھیں کہ وہ تمام گاڑیاں ایک ہی سانچے، ایک ہی ناپ اَور ایک ہی جِسامت میں ڈھالی گئی تھیں۔
1KI 7:38 حِیرامؔ نے کانسے کے دس چُھوٹے چُھوٹے حوض بھی بنائے؛ اَور ہر ایک حوض میں ایک ہزار آٹھ سَو لیٹر پانی کی گنجائش تھی۔ اَور ہر ایک حوض تقریباً دو میٹر گہری تھی اَور دسوں گاڑیوں پر ایک ایک حوض لے جایا جاتا تھا۔
1KI 7:39 حِیرامؔ نے اُن گاڑیوں میں سے پانچ کو بیت المُقدّس کے جُنوب کی طرف اَور پانچ کو شمال کی طرف رکھا اَور بڑے حوض کو جُنوب کی طرف بیت المُقدّس کے جُنوبی مشرقی کونے میں رکھا۔
1KI 7:40 اَور حُورامؔ نے چُھوٹے حوض، بیلچے اَور چھڑکاؤ کرنے والے پیالوں کو بھی بنایا۔ چنانچہ حُورامؔ نے اُن تمام کاموں کو جسے وہ شُلومونؔ بادشاہ کی خاطِر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں بنا رہاتھا، مُکمّل کیا۔
1KI 7:41 دو سُتون؛ اَور اُن دونوں سُتونوں کے اُوپر پیالہ نُما بالائی تاج؛
1KI 7:42 دونوں جالیوں کے لیٔے چار سَو انار؛ یعنی ہر جالی کے لیٔے اناروں کی دو دو قطاریں، سُتونوں کے سِروں پر پیالہ نُما بالائی حِصّہ کو سجانے کے لیٔے لگائی گئیں؛
1KI 7:43 دس گاڑیاں اَور اُن پر رکھے ہویٔے دس حوض،
1KI 7:44 بڑا حوض اَور اُس کے نیچے بَارہ بَیل۔
1KI 7:45 راکھ جمع کرنے والے چُھوٹے حوض، بیلچے اَور قُربانی کے خُون کا چھڑکاؤ کرنے والے پیالے۔ یہ تمام برتن جو حُورامؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے لیٔے شُلومونؔ بادشاہ کی خاطِر بنائے چمچماتے ہویٔے کانسے کے تھے۔
1KI 7:46 بادشاہ نے اِن کی ڈھلایٔی یردنؔ کی وادی میں جو سُکّوتؔ اَور ضارِتھانؔ کے درمیان مٹّی کے سانچوں میں ڈھلوا کر بنوایا تھا۔
1KI 7:47 اَور شُلومونؔ نے اُن تمام ظروف کا وزن نہیں کیا کیونکہ وہ بہت تھے، لہٰذا جو کانسا اِستعمال ہُوا تھا اُس کا وزن مَعلُوم نہ ہو سَکا۔
1KI 7:48 چنانچہ شُلومونؔ نے یہ سازوسامان بھی بنوایا جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں تھا، یعنی سونے کا مذبح، اَور نذر کی روٹی رکھنے والی سونے کی میز:
1KI 7:49 اَور اَندرونی کمرے کے پاک مَقدِس کے سامنے خالص سونے کے چراغدان؛ پانچ دایئں طرف اَور پانچ بایئں طرف، اَور سونے کے پھُول، چراغ چِمٹے، اَور برتن؛
1KI 7:50 اَور خالص سونے کے برتن، گُل تراش، قُربانی کے خُون کا چھڑکاؤ کرنے والے پیالے، ڈونگے اَور بخُوردان۔ اَور سَب سے اَندرونی کمرہ یعنی پاک ترین مقام کے دروازوں کے لیٔے سونے کے قبضے اَور بیت المُقدّس کے بڑے کمرے کے دروازوں کے سونے کے قبضے۔
1KI 7:51 اَور اِس طرح یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کا سارا کام، جو بادشاہ شُلومونؔ نے شروع کیا تھا، ختم ہو گیا۔ تَب شُلومونؔ نے اَپنے باپ داویؔد کی مخصُوص کی ہُوئی نذریں یعنی چاندی اَور سونا اَور سارے برتن کو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے خزانے میں رکھوا دیا۔
1KI 8:1 اِس کے بعد بادشاہ شُلومونؔ نے صِیّونؔ سے یعنی داویؔد کے شہر سے یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو لانے کے لیٔے بنی اِسرائیل کے سَب بُزرگوں اَور قبیلوں کے سَب سردار اَور بنی اِسرائیل کے آبائی خاندانوں کے سربراہوں کو یروشلیمؔ میں اَپنے پاس جمع کیا۔
1KI 8:2 لہٰذا ساتویں مہینے کے ماہِ اِتھنیمؔ میں عید کے موقع پر تمام بنی اِسرائیل کے لوگ بادشاہ شُلومونؔ کے حُضُور جمع ہُوئے۔
1KI 8:3 اَور جَب بنی اِسرائیل کے سَب بُزرگ آ گئے تو کاہِنوں نے صندُوق کو اُٹھایا،
1KI 8:4 کاہِنؔ اَور لیوی یَاہوِہ کے صندُوق، خیمہ اِجتماع اَور اُس کے اَندر کے تمام مُقدّس برتنوں کو اُٹھاکر اَپنے ساتھ لے آئےتھے۔
1KI 8:5 بادشاہ شُلومونؔ اَور بنی اِسرائیل کی تمام جماعت نے جو اُس وقت اُن کے ساتھ وہاں صندُوق کے سامنے جمع ہوئی تھی اَور صندُوق کے آگے اِس کثرت سے بھیڑ، بکریاں اَور بَیل ذبح کر رہے تھے کہ اُن کا شُمار کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔
1KI 8:6 پھر کاہِنوں نے یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو اُس کی مُقرّرہ جگہ یعنی پاک مَقدِس کے اَندرونی پاک ترین مقام میں کروبیم کے پروں کے نیچے لاکر رکھ دیا۔
1KI 8:7 کیونکہ کروبیم صندُوق کی مُقرّر جگہ کے اُوپر اَپنے پروں کو اِس قدر پھیلائے ہُوئے تھے کہ کروبیم کے پر صندُوق کو اَور اُسے اُٹھانے والی بَلّیوں پر سایہ کریں۔
1KI 8:8 اَور یہ بَلّیئیں اِس قدر لمبی تھیں کہ اُن کے سِرے جو اَندرونی پاک مَقدِس کے صندُوق سے باہر نکلے ہُوئے تھے لیکن اَندرونی پاک مقام کے سامنے سے دیکھے جا سکتے تھے مگر اِس کے باہر سے نہیں۔ اَور وہ آج کے دِن تک اُسی حالات میں وہیں ہیں۔
1KI 8:9 اَور صندُوق میں پتّھر کی اُن دو تختیوں کے سِوائے اَور کچھ نہ تھا جنہیں مَوشہ نے حورِبؔ میں رکھ دیا تھا۔ جہاں یَاہوِہ نے اُن سے عہد باندھا تھا، جَب بنی اِسرائیل مِصر سے باہر نکل آئےتھے۔
1KI 8:10 جَب کاہِنؔ پاک ترین مقام سے باہر نکل آئے تو یَاہوِہ کا بیت المُقدّس بادل سے بھر گیا۔
1KI 8:11 یہاں تک کہ کاہِنؔ بادلوں کے باعث اَپنی خدمت اَنجام دینے کے لیٔے وہاں کھڑے نہ رہ سکے کیونکہ یَاہوِہ نے اَپنے جلال سے اَپنے پُورے بیت المُقدّس کو معموُر کر دیا تھا۔
1KI 8:12 تَب شُلومونؔ نے کہا، ”یَاہوِہ نے فرمایاہے وہ سیاہ گھنے بادل میں سکونت کریں گے؛
1KI 8:13 مَیں نے فی الحقیقت آپ کے لئے ایک شاندار بیت المُقدّس تعمیر کروایاہے تاکہ آپ اُس میں تا اَبد تک سکونت کریں۔“
1KI 8:14 جَب بنی اِسرائیل کی ساری جماعت وہاں کھڑی تھی تو بادشاہ نے اُن کی طرف مُخاطِب ہوکر اُنہیں برکت دی۔
1KI 8:15 اَور بادشاہ نے اُن سے فرمایا: ”بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کی سِتائش ہو، جنہوں نے میرے باپ داویؔد سے اَپنے مُنہ سے کئےگئے وعدہ کو اَپنے ہاتھوں سے یہ کہہ کر پُورا کر دیا ہے کہ
1KI 8:16 ’جِس دِن سے میں اَپنی اُمّت بنی اِسرائیل کو مِصر سے باہر نکال لایا ہُوں، مَیں نے بنی اِسرائیل کے کسی بھی قبیلہ میں کسی شہر کو نہیں مُنتخب کیا جہاں میرا بیت المُقدّس تعمیر ہو تاکہ وہاں میرا نام ہو۔ لیکن مَیں نے اَپنی اُمّت بنی اِسرائیل پر حُکمرانی کرنے کے لیٔے داویؔد کو مُنتخب کیا۔‘
1KI 8:17 ”میرے باپ داویؔد کی دِلی تمنّا تھی کہ وہ اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے نام کے لیٔے ایک بیت المُقدّس تعمیر کرایٔیں۔
1KI 8:18 لیکن یَاہوِہ نے میرے باپ داویؔد سے فرمایا، ’تمہارے دِل میں میرے نام کے لیٔے ایک بیت المُقدّس تعمیر کرنے کا خیال آنا، یقیناً بہت ہی عُمدہ ہے۔
1KI 8:19 تاہم وہ بیت المُقدّس تُم نہیں بَلکہ تمہارا بیٹا جو تُم سے پیدا ہوگا، وُہی میرے نام کے جلال کے لیٔے بیت المُقدّس تعمیر کروائے گا۔‘
1KI 8:20 ”آج یَاہوِہ نے اَپنے وعدے کو پُورا کر دیا ہے۔ مَیں اَپنے باپ داویؔد کا جانشین ہُوں اَور اَب بنی اِسرائیل کے تخت پر عَین یَاہوِہ کے وعدہ کے مُطابق تخت نشین ہُوں۔ اَور مَیں نے بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے نام کے جلال کی خاطِر اِس بیت المُقدّس کی تعمیر کروائی ہے۔
1KI 8:21 اَور مَیں نے وہاں صندُوق کے لیٔے ایک جگہ مُقرّر کر دی ہے، جِس میں یَاہوِہ کا وہ عہد ہے جو اُنہُوں نے ہمارے آباؤاَجداد سے اُس وقت باندھا تھا جَب وہ اُنہیں مِصر سے باہر نکال لائے تھے۔“
1KI 8:22 اِس کے بعد شُلومونؔ بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کے سامنے یَاہوِہ کے مذبح کے آگے کھڑے ہُوئے اَور اَپنے ہاتھ پھیلائے
1KI 8:23 اَور دعا مانگی: ”اَے یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا، آپ کی مانند نہ تو اُوپر آسمان میں اَور نہ نیچے زمین پر کویٔی خُدا ہے۔ جو اَپنے اُن خادِموں پر اَپنی بے پناہ مَحَبّت ظاہر کرتے اَور اَپنے عہد کو پُورا کرتے ہیں، جو پُورے دِل سے آپ کی راہ پر چلتے ہیں۔
1KI 8:24 آپ نے اَپنے خادِم میرے باپ داویؔد کے ساتھ کیا ہُوا اَپنا وعدہ پُورا کیا ہے۔ آج آپ نے اَپنے مُنہ کے کلام کو اَپنے ہاتھ سے پُورا کر دیا ہے جَیسا کہ آج کے دِن ظاہر ہے۔
1KI 8:25 ”اَب اَے یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا، آپ اَپنے خادِم میرے باپ داویؔد کے ساتھ کیٔے گیٔے اَپنے اُن وعدوں کو بھی پُورا کرنا، جو آپ نے داویؔد سے کیا تھا، ’میرے حُضُور اِسرائیل کے تخت پر بیٹھنے والے جانشین اَشخاص کی کبھی کمی نہ ہوگی اگر تمہارا خاندان اَپنی سَب راہوں میں احتیاط سے ٹھیک اُسی طرح چلے جَیسا کہ تُم پُورے دِل سے میرے پیچھے چلتےہو۔‘
1KI 8:26 چنانچہ اَب اَے بنی اِسرائیل کے خُدا، آپ اَپنے اُس قول کو پُورا کریں جو آپ نے اَپنے خادِم، میرے باپ داویؔد سے کی تھی۔
1KI 8:27 ”لیکن کیا خُدا واقعی زمین پر سکونت کریں گے؟ آپ تو آسمان بَلکہ سَب سے اُونچے آسمان میں بھی نہیں سما سکتے، تو پھر جو بیت المُقدّس مَیں نے تعمیر کرایا ہے اُس میں آپ کیسے سما سکتے ہیں!
1KI 8:28 پھر بھی اَے یَاہوِہ میرے خُدا، اَپنے رحم و کرم سے اَپنے خادِم کی دعا اَور مِنّت کی طرف مُتوجّہ ہوں، اَور اَپنے خادِم کی اِس دعا اَور فریاد کو سُن لیں جو آج آپ کے حُضُور میں پیش کر رہاہے۔
1KI 8:29 آپ کی آنکھیں اِس بیت المُقدّس کی طرف دِن اَور رات لگی رہیں! آپ نے اِسی مقام کی بابت فرمایا تھا، ’میں اَپنا جلالی نام وہاں قائِم رکھوں گا،‘ تاکہ جو دعا آپ کا خادِم اِس مقام کی طرف رُخ کرکے مانگے اُسے آپ سُن کر جَواب دیں گے۔
1KI 8:30 جَب آپ کا خادِم اَور آپ کی قوم بنی اِسرائیل اِس مقام کی طرف رُخ کرکے آپ سے فریاد کریں۔ تو آپ آسمان پر سے جو آپ کی قِیام گاہ ہے، آپ سُنیں اَور سُن کر مُعاف کر دیں۔
1KI 8:31 ”اَور جَب کویٔی شخص اَپنے پڑوسی پر ظُلم کرے اَور اُسے قَسم کھِلانے کے واسطے حلف اُٹھانے کو کہا جائے اَور وہ آئے اَور اِس بیت المُقدّس میں آپ کے مذبح کے سامنے قَسم کھا کر حلف اُٹھائے،
1KI 8:32 تَب آپ آسمان سے سُن لینا اَور عَمل کرنا اَور اَپنے خادِموں کا اِنصاف کرنا اَور بدکار کو اُس کے کئے کی سزا اَور معصُوم کو بے قُصُور ٹھہرا کر اُسے نیک جزا دینا۔
1KI 8:33 ”اَور جَب آپ کی اُمّت بنی اِسرائیل، آپ کے خِلاف گُناہ کرنے کے باعث اَپنے دُشمنوں سے شِکست کھائے لیکن بعد میں تَوبہ کرکے اَور آپ کے جلالی نام کا اقرار کرکے اِس بیت المُقدّس میں آپ کے حُضُور دعا اَور فریاد کرے،
1KI 8:34 تَب آپ آسمان پر سے سُن کر اَپنی اُمّت بنی اِسرائیل کا گُناہ مُعاف کردینا اَور اُنہیں اِس مُلک میں واپس لے آنا، جو آپ نے اُن کے آباؤاَجداد کو دیا تھا۔
1KI 8:35 ”اَور جَب اِس سبب سے کہ آپ کے لوگوں نے آپ کے خِلاف گُناہ کیا ہے آسمان بندہو جائے اَور بارش نہ ہو اَور آپ اُنہیں مُصیبت میں ڈال دیں اَور وہ اِس مقام کی طرف رُخ کرکے دعا کریں اَور آپ کے نام کا اقرار کریں اَور اَپنے گُناہ سے تَوبہ کریں،
1KI 8:36 تو آپ آسمان پر سے سُن لینا اَور اَپنے خادِموں یعنی اَپنی قوم بنی اِسرائیل کے گُناہ مُعاف کردینا۔ اُنہیں نیک راہ پر چلنے کی ہدایت دینا اَور اُس مُلک پر مینہ برسانا جسے بطور مِیراث آپ نے اَپنے لوگوں کو دیا ہے۔
1KI 8:37 ”اَور جَب اُس مُلک میں قحط یا وَبا یا بادِ سموم یا پھپھُوندی، ٹِڈّیوں یا اِلّیوں کا حملہ ہو، یا کویٔی دُشمن اُن کے کسی شہر کا محاصرہ کر لے، خواہ کویٔی بھی آفت یا بیماری اُن پر آ جایٔے،
1KI 8:38 اَور جَب آپ کی قوم بنی اِسرائیل میں سے کویٔی آدمی اَپنی مُصیبتوں کے باعث اِس بیت المُقدّس کی طرف اَپنے ہاتھ پھیلا کر دعا یا فریاد کرے،
1KI 8:39 تب آپ آسمان پر سے جو آپ کی قِیام گاہ ہے، سُن کر مُعاف کردینا اَور ہر شخص کو جِن کے دِلوں کو آپ جانتے ہیں، اُن کے اعمال کے مُطابق بدلہ دینا؛ کیونکہ صرف آپ ہی اِنسانوں کے دِلوں کو جانتے ہیں،
1KI 8:40 تاکہ جَب تک وہ اِس مُلک میں جسے آپ نے ہمارے آباؤاَجداد کو دیا تھا، زندہ رہیں، اَور آپ کا خوف مانیں۔
1KI 8:41 ”اَور وہ پردیسی جو آپ کی قوم بنی اِسرائیل میں سے نہیں ہے لیکن آپ کے نام کی شہرت سُن کر دُور دراز مُلک سے آئے،
1KI 8:42 کیونکہ وہ آپ کے عظیم نام اَور قوی ہاتھ اَور پھیلائے ہُوئے بازو کا حال سُنیں گے اِس لیٔے جَب وہ آئیں اَور اِس بیت المُقدّس کی طرف رُخ کرکے دعا کریں،
1KI 8:43 تَب آپ آسمان پر سے جو آپ کی قِیام گاہ ہے سُنیں اَورجو کچھ بھی وہ پردیسی آپ سے فریاد کریں، اُس کی مُراد پُوری کریں تاکہ رُوئے زمین کی سَب قومیں آپ کے نام کو جانیں اَور آپ کی اَپنی اُمّت بنی اِسرائیل کی طرح آپ کا خوف مانیں اَور جان لیں کہ یہ بیت المُقدّس جو مَیں نے تعمیر کرائی ہے آپ کے نام سے منسوب ہے۔
1KI 8:44 ”اَور جَب آپ کی قوم اَپنے دُشمنوں کے خِلاف جنگ کرنے کے لیٔے جہاں بھی آپ بھیجیں باہر جایٔیں اَور جَب وہ اِس مُنتخب شہر اَور اِس بیت المُقدّس کی طرف رُخ کرکے یَاہوِہ آپ کے نام سے دعا کریں، جسے مَیں نے آپ کے نام کے لیٔے تعمیر کروایاہے۔
1KI 8:45 تو آپ آسمان پر سے اُن کی دعا اَور مناجات کو سُن کر اُن کے حق میں فیصلہ کرنا۔
1KI 8:46 ”اَور جَب وہ آپ کے خِلاف گُناہ کریں، کیونکہ کویٔی بھی بشر اَیسا نہیں جو گُناہ نہ کرتا ہو، اَور آپ اُن سے ناراض ہو جایٔیں اَور اُنہیں دُشمن کے حوالہ کر دیں جو اُنہیں اسیر کرکے دُور یا نزدیک اَپنے مُلک میں لے جائیں؛
1KI 8:47 اَور اگر اُس مُلک میں جہاں وہ اسیر ہوکر پہُنچائے گیٔے ہُوں، اُن کا دِل بدل جائے اَور وہ تَوبہ کریں اَور اَپنے گُناہ کا اعتراف کریں، ’ہم نے گُناہ کیا ہے اَور ٹیڑھی چال چلے اَور بدکاریاں کی ہیں‘؛
1KI 8:48 اگر وہ اَپنے دُشمنوں کے مُلک میں ہی جنہوں نے اُنہیں اسیر کیا ہے، اَپنے پُورے دِل اَور اَپنی ساری جان سے آپ کی طرف رُجُوع کریں اَور اَپنے آباؤاَجداد کے مُلک کی طرف اَور اِس مُنتخب شہر اَور اِس بیت المُقدّس کی طرف رُخ کرکے دعا کریں جسے مَیں نے آپ کے نام کے لیٔے تعمیر کروایاہے؛
1KI 8:49 تو آپ آسمان پر سے جو آپ کی قِیام گاہ ہے اُن کی دعا اَور مناجات کو سُن لینا اَور اُنہیں اِنصاف مُہیّا کرنا۔
1KI 8:50 اَور اَپنی اُمّت کو جِس نے آپ کے خِلاف گُناہ کیا اَور اُن کی سَب خطائیں جو اُنہُوں نے آپ کے خِلاف سرزد کیں، مُعاف کردینا اَور اُنہیں اِغوا کرنے والوں کے آگے اُن پر رحم کرنا تاکہ وہ اُن پر رحم کریں؛
1KI 8:51 کیونکہ وہ آپ کی اُمّت اَور آپ کی مِیراث ہیں، جنہیں آپ مِصر سے یعنی اُس لوہا گلانے والی بھٹّی میں سے باہر نکال لایٔے ہیں۔
1KI 8:52 ”لہٰذا آپ کی آنکھیں آپ کے خادِم کی فریاد اَور آپ کی اُمّت بنی اِسرائیل کی فریاد کی طرف کھُلی رہیں تاکہ جَب کبھی وہ آپ سے فریاد کریں تو آپ اُن کی سُن لیں۔
1KI 8:53 کیونکہ آپ نے دُنیا کی تمام اَقوام میں سے اُنہیں مُنتخب کیا تاکہ وہ آپ کی مِیراث ہوں، جَیسا کہ اَے یَاہوِہ قادر، آپ نے اَپنے خادِم مَوشہ کی مَعرفت فرمایا تھا جِس وقت آپ ہمارے آباؤاَجداد کو مِصر سے باہر نکال لایٔے۔“
1KI 8:54 جَب شُلومونؔ یَاہوِہ سے یہ تمام دعائیں اَور فریاد کر چُکے، تو وہ یَاہوِہ کے مذبح کے سامنے سے جہاں وہ اَپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر گھُٹنے ٹیکے ہُوئے تھے اُٹھے۔
1KI 8:55 اَور کھڑے ہوکر بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کو بُلند آواز سے یہ کہتے ہُوئے برکت دی:
1KI 8:56 ”یَاہوِہ کی سِتائش ہو، جنہوں نے اَپنی اُمّت بنی اِسرائیل کو اَمن بخشا ہے جَیسا کہ اُنہُوں نے وعدہ کیا تھا۔ کیونکہ وہ تمام وعدے جو اُنہُوں نے اَپنے خادِم مَوشہ کی مَعرفت کئے تھے سَب کے سَب ہُوبہو پُورے ہُوئے۔
1KI 8:57 یَاہوِہ ہمارے خُدا ہمارے ساتھ رہے جَیسے وہ ہمارے آباؤاَجداد کے ساتھ رہے۔ اَیسا کبھی نہ ہو کہ وہ ہمیں چھوڑیں، یا ترک کریں۔
1KI 8:58 وہ ہمارے دِلوں کو اَپنی طرف مائل کریں کہ ہم اُنہیں کے سَب راہوں پر چلیں اَور اُن کے اَحکام، قوانین اَور آئین کو مانیں جو اُنہُوں نے ہمارے آباؤاَجداد کو دئیے تھے۔
1KI 8:59 اَور کاش میری یہ باتیں جنہیں مَیں نے یَاہوِہ کے حُضُور اَپنی فریاد میں پیش کی ہے، دِن اَور رات یَاہوِہ ہمارے خُدا کے نزدیک قائِم رہیں تاکہ وہ ہر دِن ضروُرت کے مُطابق اَپنے خادِم اَور اَپنی اُمّت بنی اِسرائیل کو اِنصاف مُہیّا کرتے رہیں۔
1KI 8:60 تاکہ دُنیا کی تمام قومیں جان لیں کہ یَاہوِہ ہی خُدا ہیں۔ اَور اُس کے سِوا اَور کویٔی نہیں۔
1KI 8:61 اِس لیٔے تمہارا دِل یَاہوِہ ہمارے خُدا کی طرف پُوری طرح سے سچّا بنا رہے اَور اُن کے قوانین اَور اَحکام پر عَمل کرتے رہو، جَیسا کہ تُم آج یہاں اِس وقت کر رہے ہو۔“
1KI 8:62 تَب بادشاہ اَور اُس کے ساتھ تمام بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کے حُضُور میں قُربانیاں پیش کیں۔
1KI 8:63 اَور شُلومونؔ نے یَاہوِہ کے حُضُور میں جو سلامتی کی نذروں کی قُربانیاں پیش کیں، اُس میں بائیس ہزار بَیل اَور ایک لاکھ بیس ہزار بھیڑ بکرے تھے۔ اَور اِس طرح بادشاہ نے اَور تمام بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو مخصُوص کیا۔
1KI 8:64 اُسی دِن بادشاہ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے سامنے کے صحن کے درمیانی حِصّہ کی تقدیس کی اَور وہاں پر سوختنی نذریں، اناج کی نذر کی قُربانیاں اَور سلامتی کی نذروں کی چربی پیش کی کیونکہ یَاہوِہ کے سامنے کانسے کا مذبح اِتنا چھوٹا تھا کہ اُس پر سوختنی نذروں، گلّے کی قُربانیوں اَور سلامتی کی نذروں کی چربی گزرانے کے لیٔے گنجائش نہ تھی۔
1KI 8:65 چنانچہ شُلومونؔ نے اِس موقع پر عید منائی اَور اِس میں تمام بنی اِسرائیل اَور ایک بہت بڑی جماعت شامل ہوئی۔ یہ ایک بہت بڑا اِجتماع تھا جِس میں لیبو حماتؔ سے لے کر وادی مِصر تک کے تمام لوگ تشریف لایٔے تھے۔ اُنہُوں نے یہ عید یَاہوِہ ہمارے خُدا کے حُضُور سات دِن تک اَور مزید سات دِن تک یعنی کُل چودہ دِن تک منائی۔
1KI 8:66 اَور اگلے دِن شُلومونؔ نے لوگوں کو رخصت کر دیا۔ اُنہُوں نے بادشاہ کو مُبارکباد دی اَور وہ اُس تمام نیکی کے لیٔے جو یَاہوِہ نے اَپنے خادِم داویؔد اَور اَپنی اُمّت بنی اِسرائیل کے ساتھ کی تھی اَپنے دِل میں خُوش و خُرّم اَور مسرُور ہوکر اَپنے گھر کو لَوٹ گیٔے۔
1KI 9:1 اَور جَب شُلومونؔ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی اَور شاہی محل کی تعمیر پُورا کر چُکے اَورجو کچھ وہ کرنا چاہتے تھے سَب پُورا کر چُکے،
1KI 9:2 تو یَاہوِہ شُلومونؔ کو دُوسری بار دِکھائی دئیے، جَیسا کہ وہ اُنہیں گِبعونؔ میں دِکھائی دئیے تھے۔
1KI 9:3 اَور یَاہوِہ نے شُلومونؔ سے فرمایا: ”جو دعا اَور فریاد تُم نے میرے سامنے کی ہے وہ مَیں نے سُن لی ہے اَور مَیں نے اِس بیت المُقدّس کو مخصُوص کر دیا ہے جسے تُم نے تعمیر کروائی ہے تاکہ اُس میں میرے نام کی تعظیم ہمیشہ ہوتی رہے۔ میری آنکھیں اَور میرا دِل ہمیشہ وہاں لگا رہے گا۔
1KI 9:4 ”اَور جہاں تک تمہارا تعلّق ہے، اگر تُم ایمانداری، خُلوص دِل اَور راستی سے میرے آگے چلو، جَیسے تمہارا باپ داویؔد چلتا تھا اَور تُم اُن سبھی اَحکام، قوانین اَور آئین پر عَمل کرتے رہو جِن پر عَمل کرنے کا مَیں نے حُکم دیا ہے،
1KI 9:5 تو میں تمہارا شاہی تخت بنی اِسرائیل کے اُوپر ہمیشہ قائِم رکھوں گا، جَیسا مَیں نے تمہارے باپ داویؔد سے وعدہ کیا تھا اَور فرمایا تھا، ’تمہارے یہاں بنی اِسرائیل کے تختِ شاہی پر بیٹھنے کے لیٔے آدمی کی کبھی کمی نہ ہوگی۔‘
1KI 9:6 ”لیکن اگر تُم یا تمہاری اَولاد مُجھ سے برگشتہ ہو جاؤ اَور اُن اَحکام اَور قوانین پرجو مَیں نے دئیے ہیں عَمل نہ کرو اَور غَیر معبُودوں کی عبادت اَور اُنہیں سَجدہ کرنے لگو،
1KI 9:7 تو میں بنی اِسرائیل کو اُس مُلک سے جو مَیں نے اُنہیں عطا کیا ہے بے دخل کر دُوں گا اَور اِس بیت المُقدّس کو جسے مَیں نے اَپنے نام کے لیٔے مخصُوص کیا ہے اَپنی نظروں سے دُور کر دُوں گا۔ تَب بنی اِسرائیل تمام اَقوام میں ضرب المثل اَور مذاق بَن کر رہ جایٔیں گے۔
1KI 9:8 یہ بیت المُقدّس ملبے کا ڈھیر ہو جائے گا۔ لیکن بعد میں جو بھی اِس کے پاس سے گزرے گا وہ حیرت زدہ ہوگا اَور طنز کستے ہویٔے کہے گا، ’یَاہوِہ نے اِس مُلک اَور اِس بیت المُقدّس کے ساتھ اَیسا سلُوک کیوں کیا؟‘
1KI 9:9 تَب لوگ جَواب دیں گے، ’چونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کو جو اُن کے آباؤاَجداد کو مُلک مِصر سے باہر نکال لائے تھے ترک کر دیا اَور غَیر معبُودوں کی پیروی، عبادت اَور خدمت کرنے لگے۔ چنانچہ یَاہوِہ نے اُن پر یہ تمام مُصیبتیں نازل کی ہیں۔‘ “
1KI 9:10 شُلومونؔ کو یَاہوِہ کا بیت المُقدّس اَور شاہی محل اِن دو عمارتوں کی تعمیر کرنے میں بیس سال کا وقت لگا،
1KI 9:11 چونکہ شاہِ صُورؔ حِیرامؔ نے شُلومونؔ کے لیٔے دیودار اَور صنوبر کی لکڑی اَور سونا شُلومونؔ کی فرمایٔش کے مُطابق مُہیّا کیا تھا، بادشاہ شُلومونؔ نے صُورؔ حِیرامؔ کو گلِیل علاقہ میں بیس شہر دے دئیے۔
1KI 9:12 لیکن جَب حِیرامؔ صُورؔ سے اُن شہروں کو دیکھنے آیا، جو شُلومونؔ نے اُسے دئیے تھے، تو وہ اُسے پسند نہ آئے۔
1KI 9:13 ”لہٰذا اُس نے دریافت کیا، اَے میرے بھایٔی یہ کس قِسم کے شہر ہیں جو تُم نے مُجھے عطا کئے؟“ اَور اُس نے اُن کا نام مُلکِ کابُلؔ رکھا اَور آج تک اُن کا یہی نام ہے۔
1KI 9:14 حِیرامؔ بادشاہ شُلومونؔ کے پاس ایک سَو بیس تالنت سونا بھیج چُکے تھے۔
1KI 9:15 اَور بادشاہ شُلومونؔ نے یَاہوِہ کا بیت المُقدّس، اَپنا محل، مِلّوؔ، یروشلیمؔ کی فصیل اَور حَصورؔ، مگِدّوؔ اَور گِزرؔ کو تعمیر کرنے کے لیٔے جِن لوگوں کو زبردستی بیگاری کے کام پر لگایا تھا اُن کی تفصیل یہ ہے۔
1KI 9:16 فَرعوہؔ، شاہِ مِصر نے حملہ کرکے گِزرؔ شہر پر قبضہ کر لیا تھا اَور اُس میں آگ لگا دی تھی۔ اَور اُس نے گِزرؔ کے اُن کنعانی باشِندوں کو قتل کرکے اُسے بطور جہیز اَپنی بیٹی کو جو شُلومونؔ کی بیوی تھی دے دیا تھا۔
1KI 9:17 اَور شُلومونؔ نے گِزرؔ کو دوبارہ تعمیر کیا تھا۔ اَور اُنہُوں نے نِچلے بیت حَورُونؔ،
1KI 9:18 بعلاتؔ اَور بیابان کے علاقہ میں تدمورؔ جَیسے شہر تعمیر کرائے،
1KI 9:19 اَور شُلومونؔ نے ذخیرہ کے سَب شہروں کی بھی تعمیر کروائی، جہاں اُن کے رتھوں، گھوڑوں اَور اِن کے رتھ سوار کو بطور نِگراں رکھا گیا تھا۔ اِن کے علاوہ اُنہُوں نے یروشلیمؔ میں، لبانونؔ اَور اَپنے تمام مُلک میں اَپنی مرضی کے مُطابق عمارتیں تعمیر کروائیں۔
1KI 9:20 اَور تمام لوگ جو امُوریوں، حِتّیوں، پَرزّیوں، حِوّیوں اَور یبُوسیوں میں سے زندہ رہ گیٔے تھے اَور یہ قوم اِسرائیلی نہ تھے۔
1KI 9:21 شُلومونؔ نے اُن کے باقی بچے فرزندوں کو جنہیں بنی اِسرائیل نِیست و نابود نہ کر سکے تھے اُنہیں بطور غُلام، بیگار میں کام کرنے والی جماعت میں جبراً بھرتی کیا، یہ سَب آج بھی غُلام ہی ہیں۔
1KI 9:22 لیکن شُلومونؔ نے کسی اِسرائیلی کو غُلام نہ بنایا۔ بَلکہ وہ اُس کے فَوجی سپاہی، حکومتی عہدیدار، اُس کے اُمرا، فَوجی سردار اَور اُس کے رتھوں اَور رتھ بانوں کے سالار تھے۔
1KI 9:23 وہ شُلومونؔ کے بڑے بڑے کاموں پر مُقرّر اعلیٰ اہلکار بھی تھے۔ سبھی کاموں کے اُوپر اَیسے پانچ سَو پچاس افسران تھے جو عمارت تعمیر کرنے والے مزدُوروں کی نِگرانی کرتے تھے۔
1KI 9:24 اَور جَب فَرعوہؔ کی بیٹی داویؔد کے شہر سے اَپنے اُس محل میں تشریف لے آئی، جو شُلومونؔ نے اُس کے لیٔے بنوایا تھا، تَب شُلومونؔ نے محل کی منڈیریں تعمیر کرایٔیں۔
1KI 9:25 شُلومونؔ سال میں تین بار اُس مذبح پرجو یَاہوِہ کے لئے بنایا تھا، سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں گزرانتے تھے اَور اِس مذبح پر یَاہوِہ کے حُضُور وہ بخُور بھی جَلاتے تھے اَور اِس طرح مَندِر کی ذمّہ داریوں کو پُورا کیا۔
1KI 9:26 اَور شاہِ شُلومونؔ نے عضیُون گیبر میں جہازوں کا ایک بیڑا تیّار کروایا تھا جو مُلکِ اِدُوم میں بحرِقُلزمؔ کے کنارے ایلاتؔ کے قریب ہے۔
1KI 9:27 اَور حِیرامؔ نے اَپنے مُلازم بھیجے جِن میں ملّاح بھی تھے جو سمُندر سے واقف تھے تاکہ وہ شُلومونؔ کے مُلازمین کے ساتھ بحری جہاز میں خدمت کو اَنجام دیں۔
1KI 9:28 اَور وہ بحری سفر پر اوفیرؔ شہر گیٔے اَور وہاں سے تقریباً چودہ ہزار کِلو سونا لے کر لَوٹے۔ اَور اُسے شُلومونؔ بادشاہ کے سُپرد کر دیا۔
1KI 10:1 جَب ملِکہ شیبا نے شُلومونؔ کی شہرت اَور یَاہوِہ کے ساتھ اُن کے رشتے کے بارے میں سُنا، تو وہ مُشکل سوالات لے کر اُنہیں آزمانے آئی۔
1KI 10:2 وہ ایک بڑے قافلہ کے ساتھ یروشلیمؔ پہُنچی۔ اَور اُس کے ساتھ خادِموں کا ایک بڑا دستہ اُونٹوں پر مَسالے، بہت سا سونا اَور بیش قیمتی پتّھر لادے ہویٔے تھا۔ اَور جَب ملِکہ شیبا شُلومونؔ کے پاس پہُنچی تو اُس نے اُن سَب باتوں کے بارے میں جو اُس کے دِل میں تھیں اُن سے گُفتگو کی۔
1KI 10:3 شُلومونؔ نے ملِکہ شیبا کے تمام سوالات کا جَواب دیا کیونکہ بادشاہ کے لیٔے اُن سوالات کا جَواب دینا کویٔی مُشکل بات نہ تھی۔
1KI 10:4 جَب ملِکہ شیبا نے شُلومونؔ کی دانشمندی کو اَور اُس کے محل کو جو اُس نے تعمیر کروایا تھا،
1KI 10:5 اَور اُن کے دسترخوان پر لگے کھانے کو، اُن کے مُلازمین کے بیٹھنے کے طور طریقوں کو، خدمت مَیں حاضِر رہنے والے خادِموں کی وردیوں کو، اُن کے ساقیوں کو اَور اُن سوختنی نذروں کو جو شُلومونؔ کو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں گزرانتے دیکھا تو وہ ہکّا بکّا رہ گئی۔
1KI 10:6 تَب ملِکہ شیبا نے بادشاہ سے کہا، ”آپ کے عظیم کارناموں اَور دانشمندی کے متعلّق جو خبر مَیں نے اَپنے مُلک میں سُنی تھی وہ حقیقی ہے۔
1KI 10:7 لیکن مُجھے اِن باتوں پر تَب تک یقین نہ ہُوا جَب تک کہ مَیں نے آکر خُود اَپنی آنکھوں سے اِسے دیکھ نہیں لیا۔ اَور فی الحقیقت مُجھے تو اِن باتوں کا نِصف بھی نہیں بتایا گیا تھا؛ کیونکہ آپ کی حِکمت، مال و زَر کی فراوانی تو اُس خبر سے جو مَیں نے سُنی کہیں زِیادہ بڑھ کر ہے۔
1KI 10:8 خُوش نصیب ہیں آپ کے لوگ اَور آپ کے یہ درباری جو ہمیشہ آپ کے حُضُور میں کھڑے رہتے ہیں اَور آپ کی حِکمت کی باتیں سُنتے ہیں!
1KI 10:9 آپ کے خُدا یَاہوِہ کی سِتائش ہو، جنہوں نے آپ سے خُوش ہوکر آپ کو بنی اِسرائیل کے تخت پر بِٹھایا ہے۔ چونکہ یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل سے اَزلی مَحَبّت رکھّی ہے، اِس لیٔے اُنہُوں نے عدل اَور راستی قائِم رکھنے کے لیٔے آپ کو بادشاہ مُقرّر کیا ہے۔“
1KI 10:10 ملِکہ شیبا نے بادشاہ کو تحفہ میں ایک سَو بیس تالنت سونا، بڑی مقدار میں مَسالے اَور بیس قیمتی پتّھر دئیے؛ اِتنے مقدار میں مَسالے پھر کبھی نہیں آئے، جتنے ملِکہ شیبا نے شُلومونؔ بادشاہ کو تحفہ میں دیئے تھے۔
1KI 10:11 اِس کے علاوہ حِیرامؔ کے بحری جہاز مُلکِ اوفیرؔ سے سونا لایٔے تھے اَور وہاں سے وہ صندل کی لکڑی اَور بیش قیمتی پتّھر بھی لے کر آئے۔
1KI 10:12 اَور جِس سُرخ صندل کی لکڑی سے شُلومونؔ بادشاہ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے لیٔے اَور اَپنے شاہی محل کے لیٔے سُتون بنوائے تھے اُسی لکڑی سے اُنہُوں نے موسیقاروں کے لیٔے سِتار اَور بربط بنوایا۔ اُس دِن سے لے کر آج تک صندل کی اُتنی لکڑی نہ پھر کبھی درآمد کی گئی اَور نہ کبھی دیکھی گئی۔
1KI 10:13 شُلومونؔ بادشاہ نے ملِکہ شیبا کو وہ سَب کچھ دیا جو اُس نے چاہا اَور درخواست کی اَور اِس کے علاوہ شُلومونؔ نے ملِکہ شیبا کو اَپنی شاہانہ فیّاضی سے بھی عنایت کیا۔ پھر وہ اَپنے مُلازمین کے ساتھ اَپنے مُلک کو لَوٹ گئی۔
1KI 10:14 اُس سونے کا وزن جو شُلومونؔ کو ہر سال دستیاب ہوتا تھا جو چھ سَو چھیاسٹھ تالنت تھا۔
1KI 10:15 لیکن اِس میں وہ سونا شامل نہیں تھا جو سوداگروں اَور تاجروں سے چُنگی کے طور پر اَور عربؔ کے تمام بادشاہوں اَور مُلک کے صُوبہ کے حاکموں سے مال گزاری کے طور پر وصول ہوتا تھا۔
1KI 10:16 اَور شُلومونؔ بادشاہ نے گڑھے ہویٔے سونے کی دو سَو بڑی ڈھالیں بنوائیں۔ ایک ایک ڈھال میں چھ سَو ثاقل گھڑا ہُوا سونا لگا تھا۔
1KI 10:17 اَور اُس نے گڑھے ہویٔے سونے کی تین سَو چُھوٹی ڈھالیں بھی بنوائیں اَور ہر ایک ڈھال میں تقریباً ساڑھے تین کِلو سونا لگا تھا۔ اَور بادشاہ نے اُنہیں اَپنے لبانونؔ کے جنگل کے محل میں رکھوا دیا۔
1KI 10:18 پھر بادشاہ نے ہاتھی دانت کا ایک بڑا تخت بھی بنوایا اَور اُسے خالص سونے سے منڈھوا دیا تھا۔
1KI 10:19 اَور اُس تخت کی چھ قدم والی سیڑھیاں تھیں اَور اُس کے پیچھے کا حِصّہ اُوپر سے گول تھا۔ اَور تخت کے دونوں طرف بازوؤں کے لیٔے دو ہتّھے تھے۔ اَور اُن ہتّھوں سے لگی ہویٔی دونوں طرف کھڑے ہویٔے شیر گڑھے تھے۔
1KI 10:20 اَور اُن چھ سِیڑھیوں کے اِدھر اُدھر بَارہ شیرببر گڑھے ہُوئے کھڑے تھے۔ اَیسا تخت کسی اَور مملکت میں کبھی نہیں تعمیر ہُوا تھا۔
1KI 10:21 اَور شُلومونؔ بادشاہ کے پینے کے سَب برتن سونے کے تھے اَور لبانونؔ کے جنگل کے محل میں اِستعمال کیٔے جانے والے تمام برتن بھی خالص سونے کے تھے۔ چاندی کا بنا ہُوا کچھ بھی نہ تھا کیونکہ شُلومونؔ کے دَورِ حُکومت میں چاندی کی کویٔی قدر نہ تھی۔
1KI 10:22 اَور بادشاہ کے پاس سمُندر میں حِیرامؔ کے جہازوں کے علاوہ تجارتی جہازوں کا ایک بحری جہاز بھی تھا جو ہر تین سال بعد ترشیشؔ کے یہ جہاز سونا، چاندی اَور ہاتھی دانت، بندر اَور لنگور لے کر آتے تھے۔
1KI 10:23 چنانچہ شُلومونؔ بادشاہ کو دولت اَور حِکمت کے لحاظ سے رُوئے زمین کے تمام بادشاہوں پر فوقیت حاصل تھی۔
1KI 10:24 اَور ساری دُنیا شُلومونؔ کی خدمت میں شرف باریابی پانے کی تمنّا رکھتی تھی تاکہ وہ اُن حِکمت کی باتوں کو سُنیں جو خُدا نے اُن کے دِل میں ڈالی تھیں۔
1KI 10:25 اَور سال بسال اُن کا دیدار کرنے والے اَپنے ساتھ اَپنا اَپنا ہدیہ یعنی چاندی اَور سونے کی اَشیا، پوشاک، ہتھیار اَور مَسالے، گھوڑے اَور خچّر لے کر آیا کرتے تھے۔
1KI 10:26 اَور شُلومونؔ نے رتھ اَور گھوڑے جمع کئے۔ یُوں اُن کے پاس ایک ہزار چار سَو رتھ اَور بَارہ ہزار گھوڑے تھے جنہیں بادشاہ نے رتھ کے شہروں میں اَور یروشلیمؔ میں اَپنے پاس بھی رکھا۔
1KI 10:27 اَور بادشاہ نے یروشلیمؔ میں چاندی کو پتّھروں کی مانند عام کر دیا، اَور دیودار کو دامن کوہِ کے گُولر کے درختوں کو اَنجیر کے درختوں کی طرح فراواں کر دیا۔
1KI 10:28 شُلومونؔ کے گھوڑے مِصر اَور کِلکِیؔہ سے درآمد کئے جاتے تھے۔ شاہی سوداگر اُنہیں کِلکِیؔہ سے مَوجُودہ قیمت پر خریدتے تھے۔
1KI 10:29 وہ مِصر سے ایک رتھ چاندی کے چھ سَو ثاقل اَور ایک گھوڑا ایک سَو پچاس ثاقل میں مِصر سے درآمد کرتے تھے اَور اُنہیں حِتّیوں اَور ارامیوں کے تمام بادشاہوں کو بھی برآمد کرتے تھے۔
1KI 11:1 شُلومونؔ بادشاہ عورتوں کے عاشق تھے اُنہُوں نے فَرعوہؔ کی بیٹی کے علاوہ بہت سِی پردیسی عورتوں سے بھی شادیاں کیں جِن میں مُوآبی، عمُّونی، اِدُومی، صیدونی اَور حِتّی عورتیں تھیں۔
1KI 11:2 یہ اُن قوموں کی تھیں جِن کی بابت یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل سے فرمایا تھا، ”تُم اُن سے شادی نہ کرنا کیونکہ وہ یقیناً تمہارے دِلوں کو اَپنے معبُودوں کی طرف مائل کر لیں گی۔“ تاہم شُلومونؔ اُن ہی کی مَحَبّت میں غافل ہو گیٔے۔
1KI 11:3 اُن کے حرم میں سات سَو بیویاں تھیں جو شاہی خاندانوں سے تھیں اَور تین سَو داشتائیں تھیں اَور اُن کی بیویوں نے شُلومونؔ کو گُمراہ کر دیا۔
1KI 11:4 کیونکہ جَب شُلومونؔ بُوڑھے ہو گیٔے تو اُن کی بیویوں نے اُن کے دِل کو غَیر معبُودوں کی طرف مائل کر لیا اَور جَیسے اُن کے باپ داویؔد کا دِل پُوری طرح سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کا وفادار تھا وَیسے شُلومونؔ کا دِل وفادار نہیں رہ گیا تھا۔
1KI 11:5 کیونکہ شُلومونؔ صیدونیوں کی دیوی عستوریتؔ اَور عمُّونیوں کے نہایت مکرُوہ معبُود مولکؔ یا مِلکامؔ کی پیروی کرنے لگے تھے۔
1KI 11:6 لہٰذا شُلومونؔ نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی۔ اَور اُنہُوں نے سچّے دِل سے یَاہوِہ کی پیروی نہ کی جَیسے اُن کے باپ داویؔد نے کی تھی۔
1KI 11:7 اَور شُلومونؔ نے یروشلیمؔ کے مشرق کی طرف ایک پہاڑی پر مُوآب کے نہایت قابل نفرت معبُود کموشؔ کے لیٔے اَور عمُّونیوں کے نہایت مکرُوہ معبُود مولکؔ کے لیٔے ایک پرستش گاہ تعمیر کروائی۔
1KI 11:8 اَور اَیسا ہی اُنہُوں نے اَپنی تمام پردیسی بیویوں کے لیٔے کیا جو اَپنے معبُودوں کے حُضُور بخُور جَلاتیں اَور قُربانیاں پیش کرتی تھیں۔
1KI 11:9 اَور یَاہوِہ شُلومونؔ سے غضبناک ہو گیٔے کیونکہ اُن کا دِل بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ سے برگشتہ ہو گیا تھا جنہوں نے شُلومونؔ پر آپ نے آپ کو دو بار ظاہر کیا تھا۔
1KI 11:10 اگرچہ یَاہوِہ نے شُلومونؔ کو غَیر معبُودوں کی پیروی کرنے سے منع کیا تھا پھر بھی شُلومونؔ نے یَاہوِہ کے حُکم کو نہیں مانا۔
1KI 11:11 اِس لیٔے یَاہوِہ نے شُلومونؔ سے فرمایا، ”چونکہ تمہارا رویّہ اَیسا ہے اَور تُم نے میرے عہد اَور میرے فرمانوں کو نہیں مانا، جِن کو ماننے کا مَیں نے تُمہیں حُکم دیا تھا، اِس لیٔے میں اِس سلطنت کو یقیناً تُم سے چھین کر تمہارے ماتحتوں میں سے ایک کو دے دُوں گا۔
1KI 11:12 تاہم تمہارے باپ داویؔد کی خاطِر مَیں تمہارے زندگی کے ایّام میں اَیسا نہیں کروں گا بَلکہ جَب سلطنت تمہارے بیٹے کے ہاتھ میں ہوگی تَب اُسے چھین لُوں گا۔
1KI 11:13 پھر بھی میں اُس سے ساری سلطنت نہ چھینوں گا، بَلکہ اَپنے خادِم داویؔد اَور یروشلیمؔ کی خاطِر جسے مَیں نے مُنتخب کیا ہے، میں صِرف ایک قبیلہ تمہارے بیٹے کو حُکومت کرنے کے لیٔے چھوڑ دُوں گا۔“
1KI 11:14 تَب یَاہوِہ نے اِدُومی ہددؔ کو جو اِدُوم کے شاہی خاندان سے تھا، شُلومونؔ کا مُخالف بنا کر کھڑا کر دیا۔
1KI 11:15 کیونکہ گزرے زمانہ میں جَب داویؔد اِدُوم کے ساتھ جنگ کر رہے تھے اَور فَوج کے سپہ سالار یُوآبؔ اِس جنگ میں شَہید ہویٔے اِسرائیلی فَوجیوں کو دفن کرنے گیا تھا تو اُس نے مُلک اِدُوم کے تمام آدمیوں کو قتل کر ڈالا تھا۔
1KI 11:16 یُوآبؔ اَور تمام اِسرائیلی فَوج وہاں چھ مہینے تک ٹھہری ہویٔی تھی، اَور اُنہُوں نے اِدُوم کے تمام آدمیوں کو ہلاک کر دیا۔
1KI 11:17 لیکن ہددؔ، جو ابھی لڑکا ہی تھا، اِدُوم کو ساتھ لے کرجو اُس کے باپ کے خادِم تھے وہ مِصر میں شاہِ مِصر فَرعوہؔ کے پاس چلے گیٔے۔
1KI 11:18 وہ مِدیان سے روانہ ہُوئے اَور پارانؔ گئے۔ پھر پارانؔ کے لوگوں کو اَپنے ساتھ لے کر مِصر گئے اَور شاہِ فَرعوہؔ نے ہددؔ کو ایک مکان اَور زمین اَور کھانے کو رسد مُہیّا کی۔
1KI 11:19 اَور فَرعوہؔ، ہددؔ سے اِتنا خُوش ہُوا کہ اُس نے ہددؔ کی شادی اَپنی بیوی ملِکہ تحفنیسؔ کی بہن سے کر دی۔
1KI 11:20 اَور تحفنیسؔ کی بہن سے ہددؔ کا بیٹا گِنُوباتؔھ پیدا ہُوا جِس کی پرورِش تحفنیسؔ نے شاہی محل میں کی اَور گِنُوباتؔھ فَرعوہؔ کے بیٹوں کے ساتھ ہی رہتا تھا۔
1KI 11:21 اَور جَب ہددؔ نے مِصر میں رہتے ہویٔے یہ سُنا کہ داویؔد اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیٔے ہیں اَور فَوج کا سپہ سالار یُوآبؔ کی بھی وفات ہو چُکی ہے، تَب ہددؔ نے فَرعوہؔ سے اِلتجا کی، ”مُجھے اِجازت دیجئے کہ میں اَپنے مُلک کو لَوٹ جاؤں۔“
1KI 11:22 لیکن فَرعوہؔ نے دریافت کیا، ”یہاں تُمہیں کس چیز کی کمی ہے کہ تُم واپس اَپنے مُلک کو جانا چاہتے ہو؟“ ہددؔ نے جَواب دیا، ”کسی چیز کی کمی نہیں ہے، پھر بھی آپ مُجھے رخصت ہونے کی اِجازت دیجئے!“
1KI 11:23 اَور خُدا نے رِزونؔ بِن الیدعؔ کو شُلومونؔ کی مُخالفت میں کھڑا کر دیا جو اَپنے آقا شاہِ ضوباہؔ ہددعزرؔ کے پاس سے جان بچا کر بھاگ آیاتھا۔
1KI 11:24 اَور جَب داویؔد نے ضوباہؔ کی افواج کو تباہ کر دیا تھا تو ہددؔ عزرؔ نے کچھ باغی سربراہوں کا گِروہ اَپنے اِردگرد جمع کر لیا اَور اُس گِروہ کا رہنما بَن گیا؛ یہ سَب دَمشق جا کر وہاں بس گیٔے اَور اَپنی حُکومت قائِم کرلی۔
1KI 11:25 جَب تک شُلومونؔ زندہ رہا، رِزونؔ بنی اِسرائیل کا مُخالف ہی بنا رہا اَور ہددؔ نے بنی اِسرائیل کا نُقصان ہی کیا تھا۔ چنانچہ رِزونؔ ارام میں حُکمرانی کرتا رہا اَور بنی اِسرائیل سے وہ سخت نفرت کرتا تھا۔
1KI 11:26 اَور ضِرِداہؔ شہر کے اِفرائیمی یرُبعامؔ بِن نباطؔ نے بھی بادشاہ کے خِلاف بغاوت کر دی۔ وہ شُلومونؔ کے افسران میں سے ایک تھا، جِس کی ماں کا نام ضِرُوعاہؔ تھا، جو ایک بِیوہ تھی۔
1KI 11:27 اُس کی بادشاہ کے خِلاف بغاوت کی تفصیل یہ ہے، جَب شُلومونؔ مِلّوؔ کے قلعہ کو تعمیر کروا رہے تھے اَور اَپنے باپ داویؔد کے شہر کی فصیل کے شگافوں کو بھروا رہے تھے۔
1KI 11:28 تَب شُلومونؔ نے دیکھا کہ یرُبعامؔ کافی قابل محنتی اَور عُمدہ طریقہ سے اَپنا کام کرنے والا جَوان تھا تو بادشاہ نے اُسے یُوسیفؔ کے قبیلہ کے تمام مزدُوروں کے افراد پر مختار مُقرّر کر دیا۔
1KI 11:29 اُس وقت جَب یرُبعامؔ یروشلیمؔ سے باہر جا رہاتھا تو راہ میں اُسے شیلوہؔ کے نبی اخیاہؔ مِلے جو نئی چادر اوڑھے ہُوئے تھے۔ اَور وہ دونوں باہر میدان میں اکیلے تھے۔
1KI 11:30 اخیاہؔ نبی نے اُس نئی چادر کو جو وہ اوڑھے ہُوئے تھے ہاتھ میں لیا اَور اُس کے بَارہ ٹکڑے کر ڈالے۔
1KI 11:31 تَب اخیاہؔ نبی نے یرُبعامؔ سے فرمایا، ”تُم اَپنے واسطے دس ٹکڑے لے لو کیونکہ یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’دیکھ، میں شُلومونؔ کے ہاتھ سے سلطنت کو چھین کر تمہارے ہاتھ میں دس قبیلوں کا اِختیار دے دوں گا۔
1KI 11:32 لیکن اَپنے خادِم داویؔد اَور یروشلیمؔ شہر کی خاطِر جسے مَیں نے بنی اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے مُنتخب کیا ہے، اُس کے پاس صِرف ایک قبیلہ باقی رہے گا۔
1KI 11:33 میں اَیسا اِس لیٔے کروں گا کیونکہ شُلومونؔ نے مُجھے ترک کر دیا ہے اَور صیدونیوں کی دیوی عستوریتؔ، مُوآبیوں کے معبُود کموشؔ اَور عمُّونیوں کے معبُود مولکؔ یا مِلکامؔ کی پرستش کی ہے۔ اَور وہ نہ تو میری راہوں پر چلا اَور نہ ہی اَپنے باپ داویؔد کی مانند وہ کام کیا جو میری نظر میں دُرست ہے، اَور نہ ہی اُس نے میرے قوانین اَور آئین پر عَمل کیا جَیسے اُس کے باپ داویؔد نے کیا تھا۔
1KI 11:34 ” ’یہ سَب ہونے پر بھی میں شُلومونؔ کے ہاتھ سے ساری مملکت نہیں چھینوں گا، میں شُلومونؔ کو تاعمر حُکمران اَپنے برگُزیدہ خادِم داویؔد کی خاطِر بنے رہنے دوں گا، جِس نے میرے اَحکام اَور قوانین پر عَمل کیا۔
1KI 11:35 لیکن مَیں شُلومونؔ کے بیٹے کے ہاتھ سے سلطنت ضروُر چھین لُوں گا اَور یہ دس قبیلے تُمہیں دے دُوں گا۔
1KI 11:36 میں شُلومونؔ کے بیٹے کو صِرف ایک قبیلہ دُوں گا تاکہ یروشلیمؔ میں میرے حُضُور میرے خادِم داویؔد کا چراغ ہمیشہ جلتا رہے یعنی اُس شہر میں جسے مَیں نے اَپنا نام قائِم رکھنے کے لیٔے مُنتخب کیا ہے۔
1KI 11:37 اَور جہاں تک تمہاری بات ہے، مَیں تُمہیں سرفراز کروں گا اَور تُم اَپنے دِل کی پُوری خواہش کے ساتھ حُکمرانی کروگے اَور تُم بنی اِسرائیل پر بادشاہ ہو جاؤگے۔
1KI 11:38 اَور اگر تُم میرے حُکموں کو سُن کر اُن پر عَمل کرو اَور میری راہوں پر چلو اَور میرے خادِم داویؔد کی مانند میرے قوانین اَور اَحکام پر عَمل کرو اَور وُہی کرو جو میری نظر میں دُرست ہے تو مَیں تمہارے ساتھ رہُوں گا۔ اَور تمہارے لیٔے ایک مُستقِل شاہی خاندان قائِم کروں گا جَیسا مَیں نے داویؔد کے لیٔے کیا اَور بنی اِسرائیل کو تمہارے حوالہ کر دُوں گا۔
1KI 11:39 اَور مَیں داویؔد کی نَسل کو اِس کے باعث دُکھ ضروُر دُوں گا لیکن ہمیشہ کے لیٔے نہیں۔‘ “
1KI 11:40 یہ سُن کر شُلومونؔ نے یرُبعامؔ کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن یرُبعامؔ شاہِ مِصر شیشاقؔ کے پاس جان بچا کر بھاگ گیا اَور شُلومونؔ کی وفات تک وہیں رہا۔
1KI 11:41 اَور شُلومونؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات یعنی سَب کچھ جو اُنہُوں نے کیا وہ اَور اُن کی حِکمت آمیز باتیں شُلومونؔ کے احوال کی کِتاب میں درج نہیں ہیں؟
1KI 11:42 شُلومونؔ نے یروشلیمؔ میں تمام بنی اِسرائیل پر چالیس سال حُکمرانی کی۔
1KI 11:43 پھر شُلومونؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیٔے اَور اَپنے باپ داویؔد کے شہر میں دفن کیٔے گیٔے۔ اَور اُن کا بیٹا رحُبعامؔ بطور بادشاہ اُن کا جانشین ہُوا۔
1KI 12:1 اَور رحُبعامؔ شِکیمؔ کو گیا اِس لیٔے کہ سَب اِسرائیلی اُسے بادشاہ مُقرّر کرنے کے لیٔے شِکیمؔ میں جمع ہُوئے تھے۔
1KI 12:2 جَب یرُبعامؔ بِن نباطؔ نے یہ سُنا جو مِصر میں سکونت کر رہاتھا، وہ شُلومونؔ بادشاہ کے پاس سے اَپنی جان بچا کرچلاگیا تھا، تَب وہ مِصر سے لَوٹ آیا۔
1KI 12:3 لہٰذا بنی اِسرائیل نے پیغام بھیج کر یرُبعامؔ، کو وہاں سے بُلوا لیا، جَب یرُبعامؔ اَور بنی اِسرائیل کی تمام جماعت وہاں جمع ہُوئی تَب اُنہُوں نے رحُبعامؔ کے پاس جا کر اُس سے یہ فریاد کی:
1KI 12:4 ”آپ کے والد نے ہم پر ایک بھاری جُوا ڈال رکھا تھا؛ چنانچہ اَب آپ اُس سخت خدمت کو اَور اُس بھاری جُوئے کو جِس کا بوجھ اُنہُوں نے ہم پر ڈال رکھا تھا ہلکا کر دیجئے تَب ہم آپ کے تابع رہ کر آپ کی خدمت کریں گے۔“
1KI 12:5 رحُبعامؔ نے جَواب دیا، ”ابھی آپ لوگ چلے جایٔیں اَور تین دِن کے بعد میرے پاس پھر آنا، تَب مَیں آپ لوگوں کو جَواب دوں گا۔“ چنانچہ سَب لوگ واپس چلے گیٔے۔
1KI 12:6 تَب رحُبعامؔ بادشاہ نے اُن بُزرگوں سے مشورہ کیا جو اُس کے والد شُلومونؔ کی زندگی بھر اُس کے خدمت گزار تھے، ”اِن لوگوں کو میں کیا جَواب دُوں؟ مُجھے آپ کیا صلاح دینا چاہتے ہیں؟“
1KI 12:7 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”اگر تُم آج کے دِن قوم کے خادِم کی طرح اُن سے پیش آؤگے اَور اُنہیں نرمی سے جَواب دوگے تو وہ تاعمر تمہارے غُلام بنے رہیں گے۔“
1KI 12:8 لیکن رحُبعامؔ نے بُزرگوں کی صلاح قبُول نہ کی بَلکہ جا کر اُن جَوانوں سے مشورہ کیا جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورِش پائی تھی اَورجو اُس کے خادِم تھے۔
1KI 12:9 اُس نے اُن سے پُوچھا، ”اِن لوگوں کی بابت تمہاری صلاح کیا ہے؟ ’جو مُجھ سے یہ کہتے ہُوئے فریاد کرنے آئےتھے، اُس جُوئے کو جو آپ کے والد نے ہم پر رکھا تھا ہلکا کر دیجئے‘؟“
1KI 12:10 اُن جَوانوں نے جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورِش پائی تھی جَواب دیا، ”اِن لوگوں کو جنہوں نے تُم سے یہ فریاد کی ہے، ’آپ کے والد نے ہم پر بھاری جُوا رکھا تھا لیکن آپ ہمارے جوُئے کو ہلکا کر دیجئے، آپ اُنہیں یہ جَواب دیجئے، میرے ہاتھ کی چُھوٹی اُنگلی میرے باپ کی کمر سے بھی موٹی ہے۔
1KI 12:11 اگر میرے باپ نے تُم پر ایک بھاری جُوا رکھا تھا، تو مَیں اُسے اَور بھی زِیادہ بھاری کر دُوں گا۔ میرے باپ نے تو تُمہیں قابُو میں لانے کے لیٔے کوڑوں سے سزا دی تھی لیکن مَیں تُمہیں بِچھُّوؤں کے ذریعہ سزا دُوں گا۔‘ “
1KI 12:12 جَب یرُبعامؔ اَور سَب لوگ تین دِنوں کے بعد لَوٹ کر رحُبعامؔ کے پاس آئے، جَیسا کہ بادشاہ نے فرمایا تھا، ”تین دِن کے بعد میرے پاس پھر آنا۔“
1KI 12:13 تَب بادشاہ نے بُزرگوں کی صلاح کو ردّ کرتے ہویٔے لوگوں کو بڑی سختی سے جَواب دیا۔
1KI 12:14 بادشاہ نے نوجوانوں کی صلاح پر عَمل کیا اَور فرمایا، ”میرے باپ نے تو تمہارا جُوا بھاری کیا تھا، لیکن مَیں اُسے اَور بھی زِیادہ بھاری کر دُوں گا۔ میرے باپ نے تو تُمہیں کوڑے مارنے کی سزا دی تھی لیکن مَیں تُمہیں بِچھُّوؤں سے سزا دُوں گا۔“
1KI 12:15 چنانچہ بادشاہ نے لوگوں کی فریاد نہ سُنی کیونکہ یہ ساری باتیں یَاہوِہ کی طرف سے مُقرّر کی گئی تھیں تاکہ یَاہوِہ کا وہ کلام پُورا ہو جو اُنہُوں نے شیلوہؔ کے نبی اخیاہؔ کی مَعرفت یرُبعامؔ بِن نباطؔ کی بابت فرمایا تھا:
1KI 12:16 جَب بنی اِسرائیل نے دیکھا کہ بادشاہ نے اُن کی فریاد کی طرف غور نہیں کیا ہے، تو اُنہُوں نے جَواب میں بادشاہ سے یُوں کہا: ”پھر داویؔد کے ساتھ ہماری کیا شراکت ہے؟ اَور یِشائی کے بیٹے کے ساتھ ہمارا کیا مِیراث؟ اَے بنی اِسرائیل، اَپنے خیموں کو لَوٹ جاؤ! اَور اَے داویؔد! تو اَب اَپنے ہی گھرانے کو سنبھال!“ تَب بنی اِسرائیل اَپنے خیموں کی طرف لَوٹ گیٔے۔
1KI 12:17 لیکن رحُبعامؔ اُن بنی اِسرائیل پرجو یہُودیؔہ کے شہروں میں رہتے تھے حُکومت کرتا رہا۔
1KI 12:18 تَب رحُبعامؔ بادشاہ نے ادورامؔ کو بنی اِسرائیل کے پاس بھیجا جو خراج کا داروغہ تھا لیکن تمام اِسرائیلیوں نے اُسے سنگسار کرکے مار ڈالا۔ یہ دیکھ کر رحُبعامؔ بادشاہ بغیر دیر کئے اَپنے رتھ پر سوار ہوکر اَپنی جان بچا کر یروشلیمؔ کو فرار ہو گیا۔
1KI 12:19 پس شمالی اِسرائیل آج تک داویؔد کے گھرانے سے باغی ہیں۔
1KI 12:20 جَب تمام بنی اِسرائیلیوں نے یہ سُنا کہ یرُبعامؔ لَوٹ آیا ہے تو اُنہُوں نے اُسے جماعت میں بُلوا بھیجا اَور اُسے سارے بنی اِسرائیل کے اُوپر بادشاہ مُقرّر کر دیا۔ صِرف یہُوداہؔ کا قبیلہ ہی داویؔد کے گھرانے کا وفادار بنا رہا۔
1KI 12:21 جَب رحُبعامؔ یروشلیمؔ پہُنچا تو اُس نے یہُوداہؔ اَور بِنیامین کے قبیلہ سے جو سَب ایک لاکھ اسّی ہزار جنگی مَرد تھے اُنہیں جمع کیا تاکہ بنی اِسرائیل کے گھرانے سے جنگ کرکے رحُبعامؔ بِن شُلومونؔ کے واسطے دوبارہ سلطنت حاصل کرے۔
1KI 12:22 لیکن مَرد خُدا شمعیاہؔ کے پاس یَاہوِہ کا یہ کلام پہُنچا،
1KI 12:23 ”رحُبعامؔ بِن شُلومونؔ شاہِ یہُودیؔہ سے اَور یہُوداہؔ اَور بِنیامین کے سبھی قبیلہ سے اَور دیگر لوگوں سے جا کر یہ فرما،
1KI 12:24 ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ اَپنے اِسرائیلی بھائیوں کے ساتھ لڑنے کے لیٔے حملہ نہ کرو بَلکہ تُم میں سے ہر ایک اَپنے اَپنے گھر چلا جائے کیونکہ ابھی جو کچھ ہُواہے وہ مَیں نے ہی ہونے دیا ہے۔‘ “ چنانچہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کے حُکم کی تعمیل کی اَور اَپنے اَپنے گھرانے کو لَوٹ گیٔے جَیسا کہ یَاہوِہ نے حُکم دیا تھا۔
1KI 12:25 پھر یرُبعامؔ نے اِفرائیمؔ کے پہاڑی علاقہ میں شِکیمؔ کو قلعہ بند کیا اَور وہاں رہنے لگا اَور وہاں سے باہر جا کر اُس پنی ایل کو تعمیر کیا۔
1KI 12:26 اَور یرُبعامؔ نے اَپنے دِل میں کہا، ”اگر مَیں ہوشیار نہ رہُوں گا تو سلطنت پھر سے داویؔد کے گھرانے کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔
1KI 12:27 اگر یہ لوگ یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں قُربانی پیش کرنے جایا کریں گے تو اُن کے دِل پھر سے اَپنے آقا رحُبعامؔ شاہِ یہُودیؔہ کی اِطاعت کی طرف مائل ہو جایٔیں گے۔ اَور وہ مُجھے قتل کر دیں گے اَور بادشاہ رحُبعامؔ کی طرف لَوٹ جایٔیں گے۔“
1KI 12:28 اِس لیٔے بادشاہ نے صلاح لینے کے بعد سونے کے دو بچھڑے ڈھلوائے اَور لوگوں سے کہا، ”تمہارے لیٔے یروشلیمؔ جانا مُشکل ہے۔ اَے بنی اِسرائیل، اَپنے معبُودوں کو دیکھ، جو تُمہیں مِصر سے باہر نکال لایٔے ہیں۔“
1KI 12:29 اَور یرُبعامؔ نے ایک کو بیت ایل میں اَور دُوسرے کو دانؔ میں نصب کیا۔
1KI 12:30 اَور یہ بات گُناہ کا باعث بَن گئی کیونکہ لوگ ایک بچھڑے کی پرستش کرنے کے لیٔے دانؔ جَیسے دُور دراز صُوبہ تک بھی جانے لگے۔
1KI 12:31 اَور یرُبعامؔ نے اُونچے مقامات پر بُتکدے تعمیر کئے اَورجو لوگ بنی لیوی نہ تھے اُن میں سے کاہِنؔ مُقرّر کئے۔
1KI 12:32 اَور یرُبعامؔ نے آٹھویں مہینے کی پندرھویں تاریخ کو اُس عید کی طرح جو یہُوداہؔ میں منائی جاتی تھی ایک عید مُقرّر کر دی، اَور بیت ایل میں مذبح پر اُن بچھڑوں کے لیٔے قُربانیاں گزرانیں جنہیں اُس نے خُود گڑھا تھا۔ اَور بیت ایل میں اُونچے مقامات پر بُتکدوں میں جو اُس نے تعمیر کئے تھے کاہِنؔ بھی مُقرّر کئے۔
1KI 12:33 چنانچہ یرُبعامؔ بیت ایل میں اَپنے ہی بنائے ہویٔے مذبح پر آٹھویں مہینے کی پندرھویں تاریخ کو گیا، مہینہ اَور دِن اُس نے اَپنے ہی عقل سے مُنتخب کیا تھا۔ اِس طرح اُس نے اِسرائیلیوں کے لیٔے ایک عید مُقرّر کر دی تھی اَور پھر بخُور جَلانے کے لیٔے مذبح کے پاس گیا۔
1KI 13:1 جَب یرُبعامؔ بخُور جَلانے کے لیٔے مذبح کے پاس کھڑا تھا تو یَاہوِہ کے حُکم سے ایک مَرد خُدا یہُوداہؔ سے بیت ایل کو تشریف لایٔے۔
1KI 13:2 اَور وہ یَاہوِہ کے حُکم سے مذبح کے خِلاف چِلّاکر کہنے لگے: ”اَے مذبح، اَے مذبح! یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’داویؔد کے خاندان میں یُوشیاہؔ نام کا ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ تَب وہ اُونچے مقامات کے اُن کاہِنوں کی قُربانی کرےگا جو اِس وقت تُجھ پر بخُور جَلا رہے ہیں۔ اَور تُم پر اِنسانوں کی ہڈّیاں جَلائی جایٔیں گی۔‘ “
1KI 13:3 اَور اُسی دِن اُس مَرد خُدا نے اُنہیں ایک نِشان بھی دیا اَور فرمایا: ”یہ وہ نِشان ہے جو یَاہوِہ نے دیا ہے، دیکھو، مذبح پھٹ جائے گا اَور اِس پر رکھی ہویٔی چربی کی راکھ نیچے گِر جائے گی۔“
1KI 13:4 اَور جَب یرُبعامؔ بادشاہ نے مَرد خُدا کے اِن الفاظ کو سُنا جو اُنہُوں نے بیت ایل میں تعمیر کی ہویٔی اُس مذبح کی بابت چِلّاکر فرمائی تھی تو مذبح کے پاس کھڑے یرُبعامؔ نے اَپنا ہاتھ بڑھا کر حُکم دیا، ”اِس شخص کو گِرفتار کر لو!“ لیکن وہ ہاتھ جو اُس نے مَرد خُدا کی طرف بڑھایا تھا یَکایک سُوکھ گیا اَور وہ اُسے واپس اَپنی طرف نہ کھینچ سَکا۔
1KI 13:5 اَور اُس نِشان کے مُطابق جو اُس مَرد خُدا نے، یَاہوِہ کے حُکم سے دیا تھا، وہ مذبح پھٹ گیا اَور اُس کی راکھ گِر گئی۔
1KI 13:6 تَب بادشاہ نے مَرد خُدا سے اِلتجا کی، ”مہربانی سے یَاہوِہ اَپنے خُدا سے میرے لیٔے دعا کیجئے تاکہ کہ میرا ہاتھ پھر سے ٹھیک ہو جائے۔“ لہٰذا مَرد خُدا نے یَاہوِہ سے بادشاہ کے ہاتھ کی شفا کے لیٔے دعا مانگی اَور بادشاہ کا ہاتھ پہلے جَیسا شفایاب ہو گیا۔
1KI 13:7 اَور بادشاہ نے اُس مَرد خُدا سے اِلتجا کی، ”میرے ساتھ گھر چلئے اَور کھانا کھائیے اَور مَیں آپ کو تحفہ بھی دُوں گا۔“
1KI 13:8 لیکن اُس مَرد خُدا نے بادشاہ کو جَواب دیا، ”خواہ تُم اَپنی آدھی جائداد بھی مُجھے دینا چاہو تو بھی مَیں نہ تمہارے ساتھ جاؤں گا اَور نہ ہی روٹی کھاؤں گا نہ یہاں پانی پیوں گا۔
1KI 13:9 کیونکہ مُجھے یَاہوِہ کے کلام کے ذریعہ تاکید کی گئی تھی: ’تُم وہاں نہ روٹی کھانا اَور نہ پانی پینا، اَور نہ اُس راہ سے لَوٹنا جِس سے تُم وہاں گیٔے تھے۔‘ “
1KI 13:10 چنانچہ وہ جِس راہ سے بیت ایل آئےتھے اُس سے نہیں بَلکہ دُوسرے راستہ سے واپس گھر کی طرف لَوٹے۔
1KI 13:11 اَور بیت ایل میں ایک بُوڑھے نبی رہتے تھے جِن کے بیٹوں نے آکر وہ سَب کام جو اُس مَرد خُدا نے اُس روز وہاں کئے تھے اَپنے باپ کو بتائے اَورجو کچھ اُس مَرد خُدا نے بادشاہ سے فرمایا تھا وہ بھی اَپنے باپ سے بَیان کیا۔
1KI 13:12 اُن کے باپ نے اُن سے دریافت کیا، ”وہ کس راہ سے لَوٹے تھے؟“ اَور اُس کے بیٹوں نے وہ راہ دِکھائی جِس سے یہُوداہؔ سے آنے والے مَرد خُدا واپس لَوٹے تھے۔
1KI 13:13 تَب اُس بُوڑھے نبی نے اَپنے لڑکوں سے کہا، ”میرے لیٔے گدھے پر زین کس دو،“ تَب اُنہُوں نے اَپنے باپ کے لیٔے گدھے پر زین کس دی، اَور وہ بُوڑھا نبی اُس پر سوار ہوکر چل دیا۔
1KI 13:14 اَور اُس مَرد خُدا کے پیچھے چلتا گیا اَور اُنہیں بلُوط کے ایک درخت کے نیچے بیٹھے پایا۔ اُس بُوڑھے نبی نے اُس مَرد خُدا سے دریافت کیا، ”کیا آپ ہی وہ مَرد خُدا ہیں جو یہُوداہؔ سے تشریف لایٔے تھے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”بے شک، میں ہی ہُوں۔“
1KI 13:15 تَب اُس بُوڑھے نبی نے اُس مَرد خُدا سے کہا، ”میرے ساتھ میرے گھر چل کر کھانا کھالیجئے۔“
1KI 13:16 لیکن اُس مَرد خُدا نے کہا، ”میں لَوٹ کر تمہارے ساتھ نہیں جا سَکتا اَور نہ تمہارے ساتھ اِس جگہ روٹی کھا سَکتا ہُوں نہ پانی پی سَکتا ہُوں۔
1KI 13:17 کیونکہ یَاہوِہ کی طرف سے مُجھے یہ حُکم مِلا ہے، ’تُم وہاں ہرگز نہ تو روٹی کھانا اَور نہ پانی پینا، اَور نہ ہی اُس راستہ سے واپس لَوٹنا جِس سے تُم یہاں آئےتھے۔‘ “
1KI 13:18 تَب اُس بُوڑھے نبی نے جَواب دیا، ”میں بھی تمہاری طرح نبی ہُوں اَور یَاہوِہ کے حُکم سے ایک فرشتہ نے مُجھ سے کہا ہے: ’اُس مَرد خُدا کو واپس اَپنے ساتھ اَپنے گھر لے آؤ تاکہ وہ روٹی کھائے اَور پانی پیئے۔‘ “ مگر وہ بُوڑھا نبی اُس مَرد خُدا سے جھُوٹ بول رہاتھا۔
1KI 13:19 چنانچہ وہ مَرد خُدا اُس بُوڑھے نبی کے ساتھ لَوٹ گیٔے اَور اُس کے گھر میں روٹی کھائی اَور پانی پیا۔
1KI 13:20 اِسی دَوران جَب وہ دسترخوان پر بیٹھے ہُوئے تھے یَاہوِہ کا کلام اُس بُوڑھے نبی پرجو اُسے واپس لے کر آیاتھا نازل ہُوا
1KI 13:21 اَور اُس بُوڑھے نبی نے اُس مَرد خُدا سے جو یہُوداہؔ سے آئےتھے چِلّاکر کہا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’تُم نے یَاہوِہ کے کلام کی نافرمانی کی ہے اَور اُس حُکم کی تعمیل نہیں کی جو یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں دیا تھا۔
1KI 13:22 بَلکہ تُم نے لَوٹ کر اُسی جگہ میں کھانا کھایا اَور پانی پیا جِس کی بابت خُدا نے تُم سے فرمایا تھا کہ وہاں نہ تو روٹی کھانا اَور نہ پانی پینا؛ اِس لیٔے تمہاری لاش تمہارے آباؤاَجداد کی قبر میں دفن نہ ہوگی۔‘ “
1KI 13:23 اَور جَب وہ مَرد خُدا کھانا کھا چُکے اَور پانی پی چُکے تو اُس بُوڑھے نبی نے جو اُس مَرد خُدا کو واپس لَوٹا لایاتھا، اُن کے واسطے گدھے پر زین کس دی اَور وہ وہاں سے روانہ ہویٔے۔
1KI 13:24 اَور جَب وہ اَپنے سفر میں کُچھ دُور پہُنچے تو اُنہیں راستہ میں ایک شیر مِلا، جِس نے اُنہیں مار ڈالا، اَور اُن کی لاش راستہ میں ہی پڑی رہی اَور گدھا اَور شیر دونوں اُن کی لاش کے پاس کھڑے تھے۔
1KI 13:25 اَور اُس راستہ سے گزرنے والے راہ گیروں نے یہ ماجرا دیکھا کہ ایک لاش راہ میں پڑی ہُوئی ہے اَور شیر اُس لاش کے پاس کھڑا ہے۔ راہ گیروں نے اُس شہر میں جا کر یہ خبر پہُنچا دی، جہاں وہ بُوڑھا نبی رہتا تھا۔
1KI 13:26 اَور جَب وہ بُوڑھا نبی جو اُس مَرد خُدا کو واپس لَوٹا لایاتھا، یہ خبر سُنی تو کہا، ”یہ وُہی مَرد خُدا ہے جِس نے یَاہوِہ کے کلام کی نافرمانی کی تھی چنانچہ یَاہوِہ نے اُسے شیر کے حوالہ کر دیا اَور اُس نے یَاہوِہ کے اُس کلام کے مُطابق جو اُنہُوں اُس مَرد خُدا سے فرمایا تھا اُسے پھاڑا اَور مار ڈالا۔“
1KI 13:27 پھر اُس بُوڑھے نبی نے اَپنے بیٹوں سے کہا، ”میرے لیٔے گدھے پر زین کس دو،“ اَور اُنہُوں نے وَیسا ہی کیا۔
1KI 13:28 تَب وہ بُوڑھا نبی روانہ ہُوا اَور اُس مَرد خُدا کی لاش کو راستہ میں پڑی ہویٔی اَور گدھے اَور شیر کو لاش کے پاس کھڑے پایا۔ شیر نے نہ تو اُس لاش کو کھایا تھا اَور نہ ہی اُس گدھے کو پھاڑا تھا۔
1KI 13:29 تَب اُس بُوڑھے نبی نے اُس مَرد خُدا کی لاش کو اُٹھاکر اُسے گدھے پر رکھا اَور اَپنے شہر لَوٹ آیا، تاکہ مَرد خُدا کے واسطے ماتم کرکے اُسے دفن کر دے۔
1KI 13:30 تَب اُس بُوڑھے نبی نے اُس کی لاش کو اَپنے واسطے تیّار کی گئی قبر میں رکھا، اَور لوگوں نے اُس کے لیٔے یہ کہتے ہویٔے ماتم کیا، ”افسوس میرے بھایٔی!“
1KI 13:31 مَرد خُدا کو دفن کرنے کے بعد اُس نے اَپنے بیٹوں سے کہا، ”جَب مَیں مَر جاؤں تو مُجھے بھی اُسی قبر میں دفن کرنا جِس میں یہ مَرد خُدا دفن کیا گیا ہے، اَور میری ہڈّیوں کو اُس کی ہڈّیوں کے پاس ہی رکھنا۔
1KI 13:32 کیونکہ بیت ایل کے مذبح کے خِلاف اَور سامریہؔ کے شہروں میں سَب اُونچے مقامات میں بنے تمام بُتکدوں کے خِلاف یَاہوِہ نے جو اعلان اُس نبی کی مَعرفت کیا تھا وہ ضروُر پُورا ہوگا۔“
1KI 13:33 اِس ماجرے کے بعد بھی یرُبعامؔ اَپنی بُری روِشوں سے باز نہ آیا، اُس نے تمام اُونچے مقامات کے واسطے اَپنی ساری عوام میں سے کاہِنؔ مُقرّر کئے۔ اَورجو کویٔی کاہِنؔ بننا چاہے اُس نے اُنہیں اُونچے مقامات کے لیٔے کاہِنؔ مخصُوص کر دیا۔
1KI 13:34 اَور یرُبعامؔ کے گھرانے کا یہی سَب سے بڑا گُناہ تھا جو اُس کے زوال اَور اُس کے رُوئے زمین پر سے نِیست و نابود ہو جانے کا باعث ہُوا۔
1KI 14:1 اُس وقت یرُبعامؔ کا بیٹا ابیّاہؔ بیمار ہو گیا۔
1KI 14:2 اَور یرُبعامؔ نے اَپنی بیوی سے کہا، ”جا کر اَپنا حُلیہ بدل لو تاکہ کویٔی نہ پہچان سکے کہ تُم یرُبعامؔ کی بیوی ہو۔ اَور پھر شیلوہؔ کو چلی جاؤ جہاں اخیاہؔ نبی رہتے ہیں، جنہوں نے مُجھے بتایا تھا کہ میں اِس قوم کا بادشاہ بنُوں گا۔
1KI 14:3 اَور اَپنے ساتھ دس روٹیاں، کچھ ٹکیاں اَور ایک مرتبان میں شہد لے کر اُن کے پاس جانا۔ وہ تُمہیں بتائیں گے کہ لڑکے کا کیا حال ہوگا۔“
1KI 14:4 یرُبعامؔ کی بیوی نے وَیسا ہی کیا جَیسا اُس نے کہاتھا اَور اُٹھ کر شیلوہؔ کو گئی اَور اخیاہؔ نبی کے گھر پہُنچ گئی۔ بُڑھاپے کے باعث اخیاہؔ نبی کی آنکھیں دھُندھلی پڑ چُکیں تھیں، اَور وہ دیکھ نہیں سکتے تھے۔
1KI 14:5 لیکن یَاہوِہ نے اخیاہؔ کو بتا دیا تھا، ”یرُبعامؔ کی بیوی اَپنے بیمار بیٹے کے متعلّق پُوچھنے کے لیٔے تمہارے پاس آ رہی ہے، تُم اُس کو فُلاں فُلاں جَواب دینا! جَب وہ آئے گی تو بہانا بنا کر اَپنے آپ کو کویٔی دُوسری عورت بتائے گی۔“
1KI 14:6 لہٰذا جَب اخیاہؔ نے دروازہ پر اُس کے قدموں کی آہٹ سُنی تو کہا، ”اَے یرُبعامؔ کی بیوی اَندر آ جا۔ تُم کیوں اَپنا حُلیہ بدل کر دُوسری عورت ہونے کا دِکھاوا کر رہی ہو؟ کیونکہ میرے پاس تمہارے لیٔے بُری خبر ہے۔
1KI 14:7 جا کر، یرُبعامؔ کو اِطّلاع کردینا کہ یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’مَیں نے تُمہیں عام لوگوں میں سے لے کر سرفرازی بخشی اَور اَپنی قوم بنی اِسرائیل پر بادشاہ مُقرّر کیا۔
1KI 14:8 اَور مَیں نے داویؔد کے گھرانے سے سلطنت چھین لی اَور تُمہیں دے دی۔ لیکن تُم میرے بندے داویؔد کی مانند نہ نکلے، جِس نے میرے حُکم کی اِطاعت کی اَور اَپنے پُورے دِل سے میری پیروی کی یعنی فقط وُہی کیا جو میری نظر میں ٹھیک تھا۔
1KI 14:9 لیکن تُم نے اُن سَب لوگوں سے زِیادہ بدی کی ہے جو تُم سے پہلے زندہ تھے۔ اَور اَپنے لیٔے دیگر معبُود اَور دھات کے بُت بنا لی اَور میرے غُصّہ کو بھڑکا دیا ہے، اَور تُم نے تو مُجھے قطعاً فراموش کر دیا۔
1KI 14:10 ” ’اِس وجہ سے میں یرُبعامؔ کے گھرانے پر مُصیبت نازل کرنے والا ہُوں اَور مَیں یرُبعامؔ کے خاندان سے ہر ایک مَرد کو خواہ وہ اِسرائیل میں غُلام ہو یا آزاد ہو، فنا کر دوں گا۔ اَور مَیں یرُبعامؔ کے خاندان کا اُسی طرح سے صفایا کر دُوں گا جِس طرح لوگ گوبر کو جَلا کر اُس کی راکھ کو پھینک دیتے ہیں۔
1KI 14:11 اَور اگر یرُبعامؔ کے گھرانے کے لوگوں کی موت شہر کے اَندر ہوتی ہے تو اُن کی لاش کو کُتّے کھا جایٔیں گے؛ اَور جِن کی موت کھُلے میدان میں ہوگی تو اُنہیں ہَوا کے پرندے چٹ کر جایٔیں گے۔ یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے!‘
1KI 14:12 ”اِس لیٔے تُم اَب اُٹھ کر واپس اَپنے گھر چلی جاؤ۔ اَور جَیسے ہی تمہارا قدم شہر میں پڑےگا تو وہ لڑکا مَر جائے گا۔
1KI 14:13 اَور تمام بنی اِسرائیل اُس کے لیٔے ماتم کریں گے اَور پھر اُسے دفن کر دیں گے؛ اَور یرُبعامؔ کے خاندان میں صِرف وُہی اکیلا ہوگا جسے دفن کیا جائے گا؛ کیونکہ پُورے یرُبعامؔ کے خاندان میں واحد بچّہ ہے جِس میں اِسرائیل کے خُدا، یَاہوِہ نے کچھ اَچھّائی پائی ہے۔
1KI 14:14 ”اِس کے علاوہ آج ہی یَاہوِہ بنی اِسرائیل میں سے اَپنے لیٔے ایک بادشاہ پیدا کریں گے جو یرُبعامؔ کے خاندان کا صفایا کر دے گا۔ یہ واقعہ آج ہی اَور ابھی مُکمّل ہو جایٔےگا۔
1KI 14:15 پھر یَاہوِہ بنی اِسرائیل کو یُوں ماریں گے جَیسے سَرکنڈا پانی میں ہلایا جاتا ہے۔ اَور وہ بنی اِسرائیل کو اِس اَچھّے مُلک سے جو اُنہُوں نے اُن کے آباؤاَجداد کو دیا تھا جڑ سے اُکھاڑ دیں گے اَور اُنہیں دریائے فراتؔ کے پار پراگندہ کر دیں گے کیونکہ اُنہُوں نے اَپنے لیٔے اشیراہؔ کے سُتونوں کی تعمیر کرکے یَاہوِہ کو غُصّہ دِلایا۔
1KI 14:16 اَور وہ بنی اِسرائیل کو یرُبعامؔ کے اُن گُناہوں کے باعث چھوڑ دیں گے جو اُس نے خُود کئے اَور جِن کے ذریعے اُس نے بنی اِسرائیل سے گُناہ کروایا۔“
1KI 14:17 تَب یرُبعامؔ کی بیوی اُٹھ کر روانہ ہُوئی اَور اَپنے شہر تِرضاؔہ میں آئی اَور جَیسے ہی اُس نے اَپنے گھر کی دہلیز پر قدم رکھّا وہ لڑکا مَر گیا۔
1KI 14:18 اَور جَیسا کہ یَاہوِہ نے اَپنے خادِم اخیاہؔ نبی کی مَعرفت فرمایا تھا سارے اِسرائیل نے اُسے دفن کیا اَور بنی اِسرائیل نے اُس کے لیٔے ماتم کیا۔
1KI 14:19 اَور یرُبعامؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات، اُس کی جنگیں اَور کیسے اُس نے حُکمرانی کی بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج ہیں۔
1KI 14:20 یرُبعامؔ نے بائیس سال حُکمرانی کی اَور پھر وہ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا۔ اَور اُس کا بیٹا نادابؔ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
1KI 14:21 اَور شُلومونؔ کا بیٹا رحُبعامؔ یہُوداہؔ میں بادشاہ تھا۔ وہ اکتالیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ شہر میں سترہ سال تک جسے یَاہوِہ نے اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے مُنتخب کر لیا تھا کہ اَپنا نام وہاں قائِم کرے، حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام نعمہؔ تھا جو عمُّونی قوم کی عورت تھی۔
1KI 14:22 اَور یہُوداہؔ کے لوگوں نے بھی وہ کام کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا۔ اَور اُنہُوں نے اَپنے آباؤاَجداد کے گُناہوں سے بھی بڑھ کر زِیادہ گُناہ کیا اَور خُدا کے غیرت کے قہر کو بھڑکایا۔
1KI 14:23 کیونکہ اُنہُوں نے اَپنے لیٔے اُونچے مقامات، ہر بُلند پہاڑی کے اُوپر اَور ہر ایک ہرے بھرے درخت کے نیچے، مُقدّس پتّھروں اَور اشیراہؔ کے سُتونوں کو تعمیر کیا۔
1KI 14:24 اَور اُس مُلک کے مَندِروں میں مرَدپرستی کرنے والے مَرد رکھّے گیٔے تھے جو اُن تمام مکرُوہ کاموں میں مشغُول تھے جو اُن غَیر قوموں میں کیٔے جاتے تھے، جنہیں یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کے سامنے سے کھدیڑ دیا تھا۔
1KI 14:25 اَور رحُبعامؔ بادشاہ کے پانچویں بَرس میں شیشاقؔ شاہِ مِصر نے یروشلیمؔ پر حملہ کیا۔
1KI 14:26 اَور وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے اَور شاہی محل کے سارے بیس قیمتی خزانے لُوٹ کر لے گیا، جِن میں شُلومونؔ کی بنائی ہُوئی سونے کی ڈھالیں بھی شامل تھیں۔
1KI 14:27 لہٰذا رحُبعامؔ بادشاہ نے اُن کے بدلے کانسے کی ڈھالیں بنوائیں اَور اُنہیں شاہی محل کے مُحافظ دستوں کے سرداروں کے سُپرد کر دیا۔
1KI 14:28 اَور یہ دستور بَن گیا کہ جَب کبھی بادشاہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں تشریف لاتا تھا تو وہ مُحافظ سپاہی اُن ڈھالوں کو لے کر چلتے تھے اَور بادشاہ کے لَوٹ جانے کے بعد اُنہیں واپس اسلحہ خانہ میں رکھ دیتے تھے۔
1KI 14:29 کیا رحُبعامؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور سَب کام جو اُس نے کئے وہ یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہیں؟
1KI 14:30 اَور رحُبعامؔ اَور یرُبعامؔ کے مابین مسلسل جنگ جاری رہی۔
1KI 14:31 اَور رحُبعامؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور داویؔد کے شہر میں اُن کے ساتھ دفن ہُوا۔ اُس کی ماں کا نام نعمہؔ تھا؛ اَور وہ ایک عمُّونی عورت تھی۔ اَور رحُبعامؔ کا بیٹا ابِیامؔ اَپنے باپ کی جگہ پر بادشاہ بنا۔
1KI 15:1 اَور یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے دَورِ حُکومت کے اٹھّارہویں سال میں ابِیامؔ یہُودیؔہ کا بادشاہ بنا،
1KI 15:2 اَور اُس نے یروشلیمؔ میں تین سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام معکہؔ تھا جو اَبی شالومؔ کی بیٹی تھی۔
1KI 15:3 اُس نے وہ تمام گُناہ کئے جو اُس سے پہلے اُس کے باپ نے کئے تھے اَور وہ سچّے دِل سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کا وفادار نہ تھا جَیسا اُس کے باپ داویؔد کا دِل تھا۔
1KI 15:4 تاہم یَاہوِہ اُس کے خُدا نے داویؔد کی خاطِر ابیّاہؔ کو یروشلیمؔ میں ایک چراغ یعنی ایک بیٹا عطا فرمایا تاکہ وہ اُس کا جانشین ہو اَور خُدا نے یروشلیمؔ کو مُستحکم بنائے رکھا۔
1KI 15:5 کیونکہ داویؔد نے وُہی کیا تھا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا اَور اُنہُوں نے تاعمر یَاہوِہ کے اَحکام پر عَمل کیا اَور سِوائے حِتّی اورِیّاہؔ کے مُعاملہ کے اُنہُوں نے کسی بھی حُکم کو ترک نہیں کیا۔
1KI 15:6 اَور رحُبعامؔ اَور یرُبعامؔ کے درمیان زندگی بھر جنگ ہوتی رہی۔
1KI 15:7 کیا ابِیامؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور سَب کچھ جو اُس نے کیا وہ یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہیں؟ اَور ابیّاہؔ اَور یرُبعامؔ کے درمیان جنگ ہوتی رہی۔
1KI 15:8 اَور ابِیامؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور داویؔد کے شہر میں دفن کیا گیا اَور اُس کا بیٹا آساؔ اُس کی جگہ پر بادشاہ بنا۔
1KI 15:9 اَور بنی اِسرائیل کے بادشاہ یرُبعامؔ کے بیسویں سال میں آساؔ یہُودیؔہ کا بادشاہ بنا،
1KI 15:10 اَور اکتالیس سال یروشلیمؔ میں حُکمرانی کرتا رہا۔ اُس کی دادی کا نام معکہؔ تھا جو اَبی شالومؔ کی بیٹی تھی۔
1KI 15:11 اَور آساؔ نے اَپنے آباؤاَجداد داویؔد کی طرح وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا۔
1KI 15:12 آساؔ نے مَندِروں میں سے مرَدپرستوں کو مُلک سے باہر نکال دیا اَور اُن سَب بُتوں کو جنہیں اُس کے آباؤاَجداد نے بنایا تھا نِیست و نابود کر دیا۔
1KI 15:13 اُس نے اَپنی دادی معکہؔ کو بھی مادرِ ملِکہ کے عہدہ سے معزول کر دیا کیونکہ اُس نے اشیراہؔ کی پرستش کی واسطے ایک نفرت اَنگیز بُت بنایا۔ آساؔ نے اُس لکڑی کے بُت کو کٹوا ڈالا اَور اُسے قِدرُونؔ کی وادی میں جَلا دیا۔
1KI 15:14 اگرچہ آساؔ نے اُونچے مقامات کو نہیں گرایا تو بھی عمر بھر آساؔ کا دِل پُوری طرح یَاہوِہ سے وابستہ رہا۔
1KI 15:15 اَور اُس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں سَب مُقدّس چیزیں، سونا، چاندی اَور برتنوں کو لاکر رکھ دیا جسے اُس کے باپ اَور آساؔ نے خُود مخصُوص کیا تھا۔
1KI 15:16 اَور آساؔ اَور شاہِ اِسرائیل بعشاؔ کے درمیان اُن کے دَورِ حُکومت میں ہمیشہ جنگ ہوتی رہی۔
1KI 15:17 اَور شاہِ اِسرائیل بعشاؔ نے یہُوداہؔ پر حملہ کیا اَور اُس نے رامہؔ کی قلعہ بندی کر دی تاکہ کوئی بھی شخص شمالی اِسرائیل کی سرحد سے شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے پاس آنے جانے نہ پائے۔
1KI 15:18 تَب آساؔ نے وہ تمام چاندی اَور سونا جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اَور اُس کے اَپنے محل میں باقی بچے ہویٔے تھے، اُسے لے کر اَپنے افسران کے سُپرد کیا اَور اُنہیں شاہِ ارام بِن ہددؔ کے پاس جو حِزیوُنؔ کے پوتے طبرِمّونؔ کا بیٹا تھا اَور دَمشق میں حُکمرانی کر رہاتھا، اِس پیغام کے ساتھ بھیجا،
1KI 15:19 ”میرے اَور آپ کے درمیان عہد باندھا جائے،“ اُنہُوں نے کہا، ”جَیسا کہ میرے باپ اَور آپ کے والد کے درمیان عہد تھا۔ دیکھو، مَیں آپ کے لیٔے بطور تحفہ چاندی اَور سونے کا نذرانہ بھیج رہا ہُوں۔ لہٰذا اَب آپ شاہِ اِسرائیل بعشاؔ سے اَپنا عہد توڑ دیجئے تاکہ وہ میرے علاقہ سے اَپنی فَوج ہٹا لے۔“
1KI 15:20 بِن ہددؔ نے آساؔ بادشاہ کی بات مان لی اَور اَپنے لشکر کے سرداروں کو اِسرائیل کے شہروں پر حملہ کرنے کو بھیج دیا۔ اُس نے اِسرائیل سلطنت کے شہروں کے خِلاف اَپنے فَوجی افسران بھیج دئیے جنہوں نے نفتالی صُوبہ کے علاوہ عِیونؔ، دانؔ، بیت معکہؔ کے ابیل اَور سارے کِنّریتؔ کو فتح کر لیا۔
1KI 15:21 جَب بعشاؔ کو اِس کی خبر مِلی تو اُس نے رامہؔ کے قلعہ کی تعمیر روک دی اَور تِرضاؔہ کو واپس چلا گیا۔
1KI 15:22 تَب آساؔ بادشاہ نے یہُوداہؔ کے سَب لوگوں کے واسطے فرمان جاری کیا جِس سے کویٔی بھی مُستثنیٰ نہ تھا۔ وہ اُن پتّھروں کو اَور اُن لکڑیوں کو جو بعشاؔ وہاں اِستعمال کر رہاتھا رامہؔ سے اُٹھاکر لے گیٔے اَور اُن سے آساؔ بادشاہ نے بِنیامین کے علاقہ میں گِبعؔ اَور مِصفاہؔ کو تعمیر کیا۔
1KI 15:23 جہاں تک آساؔ بادشاہ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات، اُس کی تمام بہادری اَور ساری کامیابی، اَورجو شہر اُس نے تعمیر کئے وہ سَب یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ میں کیا درج نہیں ہیں؟ لیکن بُڑھاپے میں اُس کے پاؤں میں بیماری لگ گئی تھی۔
1KI 15:24 اَور آساؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُن کے ساتھ اَپنے باپ داویؔد کے شہر میں دفن ہُوا۔ اَور اُس کا بیٹا یہوشافاطؔ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
1KI 15:25 اَور شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے دَورِ حُکومت کے دُوسرے سال میں یرُبعامؔ کا بیٹا نادابؔ اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے اِسرائیل پر دو سال تک حُکمرانی کی۔
1KI 15:26 اَور اُس نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی اَور اَپنے باپ کی روِش اِختیار کیا اَور نادابؔ نے بھی اِسرائیل سے وُہی گُناہ کروایا جو اُس کے باپ نے اِسرائیل سے کروایا تھا۔
1KI 15:27 اَور یِسَّکاؔر کے گھرانے کے بعشاؔ بِن اخیاہؔ نے نادابؔ کے خِلاف سازش کی اَور بعشاؔ نے اُسے فلسطینیوں کی سرحد میں گِبّتون نام کی جگہ میں قتل کر دیا، کیونکہ نادابؔ نے اَپنی ساری اِسرائیلی فَوج لے کر گِبّتونؔ کا محاصرہ کئے ہُوئے تھے۔
1KI 15:28 بعشاؔ نے نادابؔ کو شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے تیسرے سال میں قتل کیا تھا اَور اُس کی جگہ بادشاہ بَن گیا۔
1KI 15:29 اَور بادشاہی ہاتھ میں لگتے ہی اُس نے یرُبعامؔ کے سارے خاندان کو قتل کر دیا اَور جَیسا کہ یَاہوِہ نے اَپنے خادِم شیلوہؔ کے نبی اخیاہؔ کی مَعرفت فرمایا تھا، بعشاؔ نے یرُبعامؔ کے خاندان کا کویٔی شخص زندہ نہ چھوڑا بَلکہ سَب کو ہلاک کر دیا۔
1KI 15:30 اَیسا اِس لیٔے ہُوا کیونکہ یرُبعامؔ نے خُود اَیسے سنگین گُناہ کئے اَور اُس نے اِسرائیل سے بھی وُہی گُناہ کروایا، اِس طرح اُس نے اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے غضب کو بھڑکا دیا تھا۔
1KI 15:31 کیا نادابؔ کا باقی حال اَورجو کچھ اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
1KI 15:32 اَور آساؔ اَور شاہِ اِسرائیل بعشاؔ کے درمیان اُن کے دَورِ حُکومت میں ہمیشہ جنگ ہوتی رہی۔
1KI 15:33 شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے تیسرے سال میں بعشاؔ بِن اخیاہؔ، تِرضاؔہ میں سارے اِسرائیل کا بادشاہ بَن گیا اَور اُس نے چوبیس بَرس حُکمرانی کی۔
1KI 15:34 اَور اُس نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی کیونکہ وہ یرُبعامؔ کے نقش قدم پر چلا اَور اُس کے گُناہوں میں شریک ہوکر اُس نے اِسرائیل سے بھی گُناہ کروایا۔
1KI 16:1 تَب حنانیؔ کے بیٹے یِہُو پر یَاہوِہ کا یہ کلام بعشاؔ کے خِلاف نازل ہُوا،
1KI 16:2 ”مَیں نے تُمہیں خاک پر سے اُٹھاکر سرفراز کیا اَور اَپنی قوم بنی اِسرائیل کا حاکم بنایا مگر تُم یرُبعامؔ کی بد راہوں پر چلے اَور اِسرائیل سے گُناہ کروا کے اُن کے گُناہوں سے مُجھے غُصّہ دِلایا۔
1KI 16:3 لہٰذا میں بعشاؔ اَور اُس کے گھرانے کو نِیست و نابود کر ڈالوں گا اَور تمہارے گھرانے کو یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے گھرانے کی مانند بنا دُوں گا۔
1KI 16:4 اگر بعشاؔ کے خاندان کے لوگوں میں سے کسی کی وفات اگر شہر میں ہوتی ہے تو اُن کے لاش کو کُتّے کھایٔیں گے اَورجو میدان میں مَریں گے اُنہیں ہَوا کے پرندے چٹ کر جایٔیں گے۔“
1KI 16:5 کیا بعشاؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات، اُس کی تمام بہادری اَور ساری کامیابی، اَورجو کچھ اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
1KI 16:6 بعشاؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور تِرضاؔہ میں دفن ہُوا اَور اُس کا بیٹا اَیلہ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
1KI 16:7 اِس کے علاوہ، حنانیؔ کے بیٹے یِہُو نبی کی مَعرفت یَاہوِہ کا کلام بعشاؔ اَور اُس کے سارے خاندان کے خِلاف اِس لیٔے نازل ہُوا، کیونکہ بعشاؔ نے وہ کام کیا تھا، وہ یرُبعامؔ کے گھرانے کی مانند ہوکر اُس نے یَاہوِہ کی نظر میں ہر طرح کی بدی کی اَور اُس نے یرُبعامؔ کے گھرانے کو قتل کر ڈالا تھا، بعشاؔ کے اِن ہی گُناہوں کی وجہ سے یَاہوِہ کا غُصّہ بھڑک اُٹھا تھا۔
1KI 16:8 اَور شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے چھبّیسویں سال میں بعشاؔ کا بیٹا اَیلہ اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے تِرضاؔہ میں دو سال حُکمرانی کی۔
1KI 16:9 لیکن اَیلہ کے خادِم زِمریؔ نے جو اُس کے آدھے رتھوں کا سپہ سالار تھا، کے خِلاف اُس نے اُس وقت سازش کی جَب اَیلہ تِرضاؔہ میں شاہی محل کے دیوان ارضہؔ کے گھر میں نشہ میں چُور تھا۔
1KI 16:10 شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے ستّائیسویں سال میں زِمریؔ نے وہاں پہُنچ کر اَیلہ کو قتل کر دیا اَور اُس کی جگہ بادشاہ بَن گیا۔
1KI 16:11 تخت نشین ہوکر، حُکمرانی شروع کرتے ہی زِمریؔ نے بعشاؔ کے سارے خاندان کو قتل کر دیا، اُس نے بعشاؔ کے خاندان اَور دوستوں کے گھرانے میں سے کسی بھی مَرد کو زندہ باقی نہ چھوڑا۔
1KI 16:12 یُوں زِمریؔ نے یَاہوِہ کے اُس کلام کے مُطابق جو اُنہُوں نے بعشاؔ کے خِلاف یِہُو نبی کی مَعرفت فرمایا تھا، بعشاؔ کے سارے خاندان کو نِیست و نابود کر دیا۔
1KI 16:13 یہ سَب کُچھ اُن گُناہوں کے باعث ہُوا جو خُود بعشاؔ اَور اُس کے بیٹے اَیلہ نے کئے تھے اَور اِسرائیل کو بھی گُناہ کرنے کے لیٔے اُکسایا، اَور اُنہُوں نے اَپنے نکمّے بُتوں کی پرستش سے اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کو غُصّہ دِلایا۔
1KI 16:14 کیا اَیلہ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُن سَب کاموں کے فتوحات جو اُس نے کیا، اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
1KI 16:15 اَور شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے ستّائیسویں سال میں زِمریؔ نے تِرضاؔہ میں سات دِن حُکمرانی کی۔ اُس وقت فَوج ایک فلسطینی شہر گِبّتون کے نزدیک خیمہ زن تھی۔
1KI 16:16 اَور جَب اِسرائیلی فَوج کے سپہ سالار نے سُنا کہ زِمریؔ نے بادشاہ کے خِلاف سازش کرکے اُسے قتل کر دیا ہے تو اُنہُوں نے اُسی دِن میں ہی فَوج کے سپہ سالار عُمریؔ کو بطور اِسرائیل کا بادشاہ اعلان کر دیا۔
1KI 16:17 تَب عُمریؔ اَور اُس کے ہمراہ تمام اِسرائیلی گِبّتون سے پیچھے ہٹ گیٔے اَور اُنہُوں نے تِرضاؔہ کا محاصرہ کر لیا۔
1KI 16:18 جَب زِمریؔ نے دیکھا کہ شہر پر قبضہ ہو گیا ہے تو وہ شاہی محل کے قلعہ میں چلا گیا اَور محل میں آگ لگا لی اَور جَل کر مَر گیا۔
1KI 16:19 اُن گُناہوں کے باعث جو اُس نے کئے یعنی یَاہوِہ کی نظر میں بدی کرنا اَور یرُبعامؔ کی راہوں پر چلنا اَور اُس کے گُناہ کی وُہی روِش اِختیار کرنا جِس سے اُس نے بنی اِسرائیل سے گُناہ کروایا تھا۔
1KI 16:20 کیا زِمریؔ کی حُکمرانی کے دیگر واقعات کا اَور بغاوت اَورجو کچھ اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
1KI 16:21 پھر بنی اِسرائیل کے لوگ دو حِصّوں میں تقسیم ہو گیٔے۔ آدھے لوگ گیناتؔھ کے بیٹے تِبنیؔ کو اَور باقی آدھے لوگ عُمریؔ کو بادشاہ بنانے کی پیروی کرنے لگے۔
1KI 16:22 لیکن عُمریؔ کے پیروکار تِبنیؔ بِن گیناتؔھ کے پیروکاروں پر غالب آئے، لہٰذا تِبنیؔ کو قتل کر دیا گیا اَور عُمریؔ بادشاہ بَن گیا۔
1KI 16:23 شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے دَورِ حُکومت کے اِکتیسویں سال میں عُمریؔ اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے اِسرائیل پر بَارہ سال حُکمرانی کی جِن میں سے چھ بَرس تک وہ تِرضاؔہ کا حُکمران رہا۔
1KI 16:24 اُس نے شِمیرؔ نام کے شخص سے اڑسٹھ کِلو چاندی میں سامریہؔ کی پہاڑی خرید لی اَور اُس پہاڑی پر ایک شہر تعمیر کیا اَور اُس کا نام پہاڑی کے پہلے آقا شِمیرؔ کی نِسبت سے سامریہؔ رکھا۔
1KI 16:25 لیکن عُمریؔ نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی۔ اَور اُس نے اُن سبھی بادشاہوں سے جو اُس سے پہلے ہویٔے تھے زِیادہ گُناہ کئے۔
1KI 16:26 کیونکہ اُس نے یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے نقش قدم پر چلتے ہویٔے وُہی گُناہ کیا جو یرُبعامؔ نے بنی اِسرائیل سے کروایا تھا۔ اِس طرح اُنہُوں نے اَپنے نکمّے معبُودوں کی پرستش سے بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے غُصّہ کو بھڑکایا۔
1KI 16:27 کیا عُمریؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات، اُس کی تمام بہادری اَور ساری کامیابی، اَورجو کچھ اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
1KI 16:28 اَور عُمریؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور سامریہؔ میں دفن کیا گیا اَور اُس کا بیٹا احابؔ اُس کی جگہ پر بادشاہ بنا۔
1KI 16:29 شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے اڑتیسویں سال میں عُمریؔ کا بیٹا احابؔ اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے سامریہؔ میں بنی اِسرائیل پر بائیس سال حُکمرانی کی۔
1KI 16:30 اَور یَاہوِہ کی نظر میں، عُمریؔ کے بیٹے احابؔ نے اَپنے سے پہلے کے تمام بادشاہوں سے بھی زِیادہ بدی کی۔
1KI 16:31 اَور گویا یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے گُناہوں میں شریک ہونا اُس کے لیٔے ایک مَعمولی بات تھی اِس لیٔے اُس نے صیدونیوں کے بادشاہ اِتھبعلؔ کی بیٹی اِیزبِلؔ سے شادی کرلی اَور بَعل کی خدمت اَور پرستش کرنے لگا۔
1KI 16:32 اَور اُس نے سامریہؔ میں بَعل کے لیٔے ایک مَندِر تعمیر کروایا اَور اِس مَندِر میں اُس نے بَعل کے واسطے ایک مذبح بھی تعمیر کروایا۔
1KI 16:33 احابؔ نے ایک اشیراہؔ کا سُتون بھی بنوایا اَور یہ سَب کرکے احابؔ نے بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کو اَپنے سے پہلے مَوجُود اُن تمام بادشاہوں سے بھی زِیادہ بدی کرکے یَاہوِہ کا غُصّہ بھڑکایا۔
1KI 16:34 احابؔ کے زمانہ میں بیت ایل کے حی ایل نے یریحوؔ شہر کو دوبارہ تعمیر کیا۔ اَور جَب اُس نے اِس کی بُنیاد ڈالی تو اُس کا پہلوٹھا بیٹا ابیرامؔ مَر گیا اَور جَب اُس نے شہر کے پھاٹک لگائے تو اُس کا سَب سے چھوٹا بیٹا سِگُوبؔ مَر گیا۔ یہ یَاہوِہ کے کلام کے مُطابق ہُوا جو اُنہُوں نے یہوشُعؔ بِن نُونؔ کی مَعرفت فرمایا تھا۔
1KI 17:1 گِلعادؔ علاقہ کے تِشبےؔ شہر کے باشِندے ایلیّاہ نے احابؔ سے فرمایا، ”بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کی حیات کی قَسم، جِس کی میں خدمت کرتا ہُوں، آنے والے چند برسوں میں بغیر میرے حُکم کے نہ اوس پڑےگی، اَور نہ بارش ہوگی۔“
1KI 17:2 تَب یَاہوِہ کا کلام ایلیّاہ کے پاس پہُنچا،
1KI 17:3 ”یہاں سے روانہ ہو جاؤ اَور مشرق کی سمت اَپنا رُخ کر اَور یردنؔ کے مشرق میں کِریتؔھ کے نالہ کے پاس جا کر چھُپ جاؤ۔
1KI 17:4 تُم اُسی نالہ میں سے پانی پینا اَور مَیں نے کوّوں کو حُکم دیا ہے کہ وہ تمہارے پاس کھانا پہُنچائیں۔“
1KI 17:5 چنانچہ ایلیّاہ نے وُہی کیا جو یَاہوِہ نے فرمایا تھا۔ وہ یردنؔ کے مشرق میں کِریتؔھ کے نالہ کے پاس گیا اَور وہیں رہنے لگے۔
1KI 17:6 اَور کوّے اُن کے لیٔے ہر صُبح و شام روٹی اَور گوشت لاتے تھے اَور وہ اُس نالے میں سے پانی پیا کرتے تھے۔
1KI 17:7 کچھ عرصہ بعد اُس مُلک میں بارش نہ ہونے کے باعث وہ نالہ سُوکھ گیا۔
1KI 17:8 تَب یَاہوِہ کا کلام ایلیّاہ پر نازل ہُوا:
1KI 17:9 ”فوراً اُٹھ کر صیدونؔ کے صارفت شہر کو چلے جاؤ اَور وہیں رہنا۔ اَور مَیں نے وہاں کی ایک بِیوہ کو حُکم دیا ہے کہ وہ تُمہیں کھانا مُہیّا کرے۔“
1KI 17:10 لہٰذا وہ صارفت چلے گیٔے اَور جَب وہ شہر کے پھاٹک پر پہُنچے تو وہاں ایک بِیوہ ایندھن کے لئے لکڑیاں جمع کر رہی تھی۔ ایلیّاہ نے اُسے پُکار کر اِلتجا کی، ”مہربانی کرکے تُم کسی برتن میں تھوڑا سا پانی پینے کے لئے لے آؤ؟“
1KI 17:11 اَور جَب وہ پانی لانے جا رہی تھی تو ایلیّاہ نے پُکار کر کہا، ”مہربانی سے میرے لیٔے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی لیتی آنا۔“
1KI 17:12 اُس عورت نے جَواب دیا، ”یَاہوِہ، تمہارے خُدا کی حیات کی قَسم، میرے پاس روٹی بالکُل نہیں ہے۔ ایک مٹکے میں مُٹّھی بھر آٹا اَور ایک کُپّی میں تھوڑے سے تیل کے علاوہ میرے پاس کُچھ بھی نہیں ہے۔ میں تھوڑی سِی لکڑیاں چُن رہی ہُوں تاکہ اُنہیں گھر لے جاؤں اَور اَپنے لیٔے اَور اَپنے بیٹے کے لیٔے کھانا بناؤں تاکہ ہم اُسے کھایٔیں؛ اُس کے بعد ہماری موت پکّی ہے۔“
1KI 17:13 ایلیّاہ نے اُس سے فرمایا، ”مت ڈر۔ گھر جا اَور جَیسے تُم نے کہا ہے وَیسے ہی کرو۔ لیکن جو تمہارے پاس ہے اُس میں سے پہلے ایک چُھوٹی سِی روٹی پکا کر میرے لیٔے لے آنا اَور پھر اَپنے لیٔے اَور اَپنے بیٹے کے لیٔے کچھ پکا لینا۔
1KI 17:14 کیونکہ یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’جَب تک یَاہوِہ زمین پر مینہ نہ برسائیں، نہ تو مٹکے کا آٹا ختم ہوگا اَور نہ ہی کُپّی کے تیل میں کمی آئے گی۔‘ “
1KI 17:15 چنانچہ وہ گئی اَور اُس نے وُہی کیا جو ایلیّاہ نے اُسے فرمایا تھا۔ لہٰذا ہر روز ایلیّاہ اَور اُس عورت اَور اُس کے گھرانے کے لیٔے کھانا مَوجُود رہتا تھا۔
1KI 17:16 کیونکہ یَاہوِہ کے اُس کلام کے مُطابق جو اُس نے ایلیّاہ کی مَعرفت فرمایا تھا، نہ تو مٹکے کا آٹا ختم ہُوا اَور نہ ہی کُپّی کے تیل میں کمی آئی۔
1KI 17:17 کچھ عرصہ بعد اُس عورت کا لڑکا بیمار ہو گیا جو اُس گھر کی مالکن تھی۔ اَور اُس کی بیماری بڑھتی چلی گئی اَور آخِرکار اُس کا دَم نکل گیا۔
1KI 17:18 تَب اُس عورت نے ایلیّاہ سے کہا، ”اَے مَرد خُدا، کیا آپ یہاں اِس لیٔے آئے ہیں کہ مُجھے میرے گُناہ یاد دِلائیں اَور میرے بیٹے کو مار ڈالیں؟“
1KI 17:19 ایلیّاہ نے اُسے جَواب دیا، ”اَپنا بیٹا مُجھے دو،“ اَور وہ اُسے اُس کی گود سے لے کر بالاخانہ پر جہاں وہ رہتے تھے، لے گیٔے اَور اُسے اَپنے پلنگ پر لیٹا دیا۔
1KI 17:20 تَب ایلیّاہ نے یَاہوِہ سے فریاد کی، ”اَے یَاہوِہ، میرے خُدا، جِس بِیوہ نے مُجھے اَپنے گھر میں پناہ دے رکھی ہے، اُس بِیوہ کے بچّے کو مار کر، آپ نے اُس پر یہ آفت کیوں نازل کی ہے؟“
1KI 17:21 یہ فریاد کرنے کے بعد ایلیّاہ اُس لڑکے پر تین بار لیٹ گیٔے اَور یَاہوِہ سے فریاد کی، ”اَے یَاہوِہ، میرے خُدا، اِس لڑکے کی رُوح اُس کے اَندر پھر سے بھیج دیں!“
1KI 17:22 اَور یَاہوِہ نے ایلیّاہ کی فریاد سُنی؛ اَور اُس لڑکے کی رُوح اُس میں واپس آ گئی اَور وہ زندہ ہو گیا۔
1KI 17:23 تَب ایلیّاہ اُس لڑکے کو اُٹھاکر بالاخانے سے نیچے گھر کے اَندر لے گیٔے اَور اُسے اُس کی ماں کے سُپرد کرکے فرمایا، ”دیکھو، تمہارا بیٹا زندہ ہے!“
1KI 17:24 تَب اُس عورت نے ایلیّاہ سے کہا، ”اَب مَیں جان گئی ہُوں کہ آپ بے شک مَرد خُدا ہیں اَور یَاہوِہ آپ کے ذریعے سے سچّا کلام کرتے ہیں۔“
1KI 18:1 ایک طویل عرصہ کے بعد تیسرے سال میں یَاہوِہ کا یہ کلام ایلیّاہ پر نازل ہُوا: ”جاؤ اَور احابؔ سے مُلاقات کرو اَور مَیں اُس مُلک میں مینہ برساؤں گا۔“
1KI 18:2 چنانچہ ایلیّاہ احابؔ سے مُلاقات کرنے کے لیٔے روانہ ہویٔے۔ اُس وقت سامریہؔ میں سخت قحط تھا۔
1KI 18:3 اَور احابؔ نے عبدیاہؔ کو طلب کیا جو اُس کا شاہی محل کا دیوان تھا۔ عبدیاہؔ یَاہوِہ کا بہت خُداپرست مُومِن تھا اَور وہ یَاہوِہ کی بہت تعظیم کرتا تھا۔
1KI 18:4 اَور جَب اِیزبِلؔ یَاہوِہ کے نبیوں کو قتل کر رہی تھی تو عبدیاہؔ نے ایک سَو نبیوں کو لے کر دو غاروں میں پچاس پچاس کے شُمار میں چھُپا دیا تھا، اَور وہ اُنہیں کھانا اَور پانی بھی مُہیّا کرتا تھا۔
1KI 18:5 اَور احابؔ نے عبدیاہؔ سے فرمایا، ”مُلک کے طُول و عرض میں گشت کرتے ہویٔے پانی کے تمام چشموں اَور وادیوں میں جاؤ، شاید ہمیں گھوڑوں اَور خچّروں کو زندہ رکھنے کے لیٔے گھاس مِل جائے، اَور ہمارے جانوروں میں سے کسی کے مرنے کی نَوبَت نہ آئے۔“
1KI 18:6 لہٰذا اُنہُوں نے اَپنے تمام مُلک میں گشت کرنے کے لیٔے اُسے آپَس میں تقسیم کر لیا۔ احابؔ ایک سمت کی طرف اَور عبدیاہؔ دُوسری سمت کی طرف روانہ ہُوا۔
1KI 18:7 اَور جَب عبدیاہؔ راستہ سے جا رہاتھا تو اُس کی مُلاقات ایلیّاہ سے ہویٔی۔ عبدیاہؔ نے اُنہیں پہچان لیا اَور زمین پر مُنہ کے بَل گِر کر اُنہیں سلام کیا اَور کہا، ”کیا حقیقت میں آپ ہی میرے ایلیّاہ آقا ہیں؟“
1KI 18:8 ایلیّاہ نے جَواب دیا، ”ہاں، میں ہی ہُوں، ’جا کر اَپنے آقا کو بتا کہ ایلیّاہ آ گیا ہے۔‘ “
1KI 18:9 عبدیاہؔ نے دریافت کیا، ”مُجھ سے کیا خطا ہُوئی ہے کہ جو آپ اَپنے خادِم کو سزائے موت کے لیٔے احابؔ کے حوالہ کر رہے ہیں؟
1KI 18:10 اَے ربّ، اَپنے زندہ خُدا کی قَسم، نہ کوئی مُلک ہے اَور نہ کوئی قوم جہاں میرے مالک نے آپ کو ڈھونڈنے کے لیٔے کسی کو نہ بھیجا ہو۔ اَور جَب اُن کو خبر مِلی کہ ایلیّاہ یہاں بھی نہیں ہے تو اُنہُوں نے اِس مُلک اَور قوم سے قَسم کھا کر کہا کہ تلاش کرنے کے باوُجُود وہ تُمہیں نہ پائیں گے۔ یَاہوِہ، آپ کے خُدا کی حیات کی قَسم، اَیسا کویٔی بھی مُلک یا سلطنت نہیں ہے جہاں میرے آقا نے آپ کو تلاش کرنے کے لیٔے کسی کو نہ بھیجا ہو اَور جَب اُنہُوں خبر دی کہ آپ وہاں نہیں ہیں تو احابؔ نے اُن بادشاہوں کو قَسم کھِلائی کہ ایلیّاہ واقعی تلاش کرنے پر بھی نہیں مِلا ہے۔
1KI 18:11 لیکن اَب آپ مُجھ سے فرما رہے ہیں کہ میں اَپنے آقا کے پاس جا کر کہُوں، ’ایلیّاہ یہاں ہیں۔‘
1KI 18:12 اَور جَب مَیں آپ سے رخصت ہوکر جاؤں گا، تو مُجھے مَعلُوم نہیں ہوگا کہ یَاہوِہ کی رُوح آپ کو کہاں لے جائے گی۔ اَور جَب مَیں جا کر احابؔ کو خبر دوں اَور وہ آپ کو یہاں نہ پائیں تو وہ مُجھے قتل کر دیں گے۔ لیکن مَیں آپ کا خادِم تو بچپن سے ہی یَاہوِہ کی ہی عبادت کرتا آیا ہُوں۔
1KI 18:13 کیا میرے آقا نے نہیں سُنا کہ جَب اِیزبِلؔ، یَاہوِہ کے نبیوں کو قتل کر رہی تھی تو مَیں نے کیا کیا؟ مَیں نے یَاہوِہ کے سَو نبیوں کو دو غاروں میں پچاس پچاس کرکے چھُپا دیا تھا اَور اُنہیں کھانا اَور پانی بھی مُہیّا کروایا تھا۔
1KI 18:14 اَور اَب آپ مُجھے حُکم دے رہے ہیں کہ جا کر اَپنے آقا سے کہہ، ’ایلیّاہ یہاں ہیں۔‘ احابؔ جَب یہ سُنیں گے، تو مُجھے یقیناً قتل کر دیں گے!“
1KI 18:15 تَب ایلیّاہ نے اُسے جَواب دیا، ”قادرمُطلق یَاہوِہ کی حیات کی قَسم، جِن کی میں خدمت کرتا ہُوں، آج مَیں خُود کو یقیناً احابؔ کے سامنے پیش کروں گا۔“
1KI 18:16 لہٰذا عبدیاہؔ احابؔ سے مِلنے گیا اَور اُسے یہ خبر دے دی۔ تَب احابؔ ایلیّاہ سے مُلاقات کرنے کے لیٔے روانہ ہُوا۔
1KI 18:17 اَور جَب احابؔ نے ایلیّاہ کو دیکھا تو اُن سے کہا، ”اَچھّا تُم ہی ہو بنی اِسرائیل کو ستانے والے؟“
1KI 18:18 ایلیّاہ نے جَواب دیا، ”بنی اِسرائیل کو ستانے والا میں نہیں، بَلکہ تُم اَور تمہارے باپ کا گھرانا ہے، کیونکہ تُم نے یَاہوِہ کے حُکموں کو ترک کر دیا ہے اَور بَعل معبُودوں کی پرستش کی ہے۔
1KI 18:19 اِس لیٔے اَب آپ تمام بنی اِسرائیل کو کوہِ کرمِلؔ پر مُجھ سے مُلاقات کرنے کا فرمان جاری کرو، اَور آپ بَعل کے چار سَو پچاس نبیوں کو اَور اشیراہؔ کے چار سَو نبیوں کو بھی جو اِیزبِلؔ کے دسترخوان پر کھاتے ہیں جمع کر لینا۔“
1KI 18:20 لہٰذا، احابؔ نے بنی اِسرائیل اَور تمام نبیوں کو کوہِ کرمِلؔ پر جمع ہونے کا حُکم دیا۔
1KI 18:21 تَب ایلیّاہ نے لوگوں کے پاس جا کر فرمایا، ”تُم کب تک دو خیالوں میں ڈگمگاتے رہوگے؟ اگر یَاہوِہ ہی خُدا ہیں تو اُن کی پیروی کرو اَور اگر بَعل خُدا ہیں تو اُن کی پیروی کرو۔“ لیکن لوگوں نے کچھ بھی جَواب نہ دیا۔
1KI 18:22 تَب ایلیّاہ نے اُن سے فرمایا، ”یَاہوِہ کے نبیوں میں سے صِرف میں ہی اکیلا باقی بچا ہُوں، لیکن بَعل کے تو چار سَو پچاس نبی ہیں۔
1KI 18:23 لہٰذا، ہمیں دو بَیل مُہیّا کیٔے جایٔیں اَور وہ ایک بَیل اَپنے واسطے مُنتخب کر لیں اَور اُسے ذبح کرکے اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے لکڑیوں پر سجا دیں لیکن آگ نہ جَلائیں۔ مَیں بھی دُوسرا بَیل تیّار کرکے اُسے لکڑیوں پر رکھوں گا، مگر آگ نہیں جَلاؤں گا۔
1KI 18:24 تَب تُم لوگ اَپنے معبُود سے فریاد کرنا اَور مَیں اَپنے یَاہوِہ سے فریاد کروں گا اَورجو معبُود آگ سے جَواب دے گا، وُہی برحق خُدا ٹھہریں گے۔“ تَب تمام لوگوں نے ایک ہی زبان میں جَواب دیتے ہویٔے کہا، ”آپ نے خُوب فرمایاہے۔“
1KI 18:25 تَب ایلیّاہ نے بَعل کے نبیوں سے کہا، ”تُم دونوں بَیلوں میں سے ایک کو مُنتخب کر لو اَور پہلے اُسے تیّار کرو کیونکہ تُم لوگ شُمار میں زِیادہ ہو، اَور اَپنے معبُود سے فریاد کرو لیکن آگ نہ جَلانا۔“
1KI 18:26 چنانچہ اُنہُوں نے اُس دئیے گیٔے بَیل کو لے کر اُسے قُربانی کے واسطے تیّار کیا۔ اَور پھر وہ صُبح سے دوپہر تک بَعل سے فریاد کرتے رہے اَور چِلّا چِلّا‏‏‏‏کر پُکارتے رہے، ”اَے بَعل ہماری سُن!“ مگر اُنہیں کویٔی جَواب نہ مِلا؛ اَور نہ ہی کویٔی جَواب دینے والا مَوجُود تھا۔ اَور وہ اُس مذبح کے اِردگرد ناچتے کودتے رہے، جسے اُنہُوں نے بنایا تھا۔
1KI 18:27 تَب دوپہر کو ایلیّاہ نے اُن کا مذاق اُڑانا شروع کیا اَور کہا، ”ذرا زور زور سے چِلّاؤ! وہ تو معبُود ہے، شاید وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہُواہے یا مصروف ہے یا پھر کہیں سفر کر رہاہے، ہو سَکتا ہے وہ سو رہا ہو؛ لہٰذا اُسے نیند سے جگانا لازِم ہے۔“
1KI 18:28 چنانچہ وہ اَور بھی بُلند آواز سے پُکارنے لگے اَور اَپنے دستور کے مُطابق تلواروں اَور نیزوں سے اَپنے آپ کو زخمی کرنے لگے جِس سے اُن کا جِسم خُون سے لہُولُہان ہو گیا۔
1KI 18:29 دوپہر کے بعد، وہ شام کی قُربانی کے وقت تک جوش میں پاگلوں کی طرح چِلّاکر نبُوّتیں کرتے رہے، مگر کویٔی نتیجہ نہ نِکلا، نہ تو کسی نے جَواب دیا اَور نہ ہی کویٔی اُن کی طرف مُتوجّہ ہُوا۔
1KI 18:30 تَب ایلیّاہ نے سَب لوگوں سے مُخاطِب ہوکر فرمایا، ”یہاں میرے پاس آ جاؤ۔“ چنانچہ سَب لوگ اُن کے پاس آ گئے اَور اُنہُوں نے یَاہوِہ کے مذبح کو جو ڈھا دیا گیا تھا مرمّت کی۔
1KI 18:31 ایلیّاہ نے یعقوب کے بَارہ قبیلوں کے لحاظ سے بَارہ پتّھر لیٔے۔ یعقوب پر یَاہوِہ کا کلام نازل ہُوا تھا، ”کہ تمہارا نام اَب اِسرائیل ہوگا۔“
1KI 18:32 اَور ایلیّاہ نے اُن بَارہ پتّھروں سے یَاہوِہ کے نام کا ایک مذبح بنایا اَور اُس کے اِردگرد اُس نے اِتنی گہری نالی کھودی کہ اُس میں تقریباً گیارہ کِلو بیج سما سکتے تھے۔
1KI 18:33 پھر ایلیّاہ نے لکڑیوں کو کاٹ کر مذبح پر قرینہ سے رکھ دی اَور بَیل کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اُنہیں لکڑیوں پر رکھ دیا۔ پھر ایلیّاہ نے اُنہیں حُکم دیا، ”چار بڑے مٹکے پانی سے بھر کر سارا پانی سوختنی نذر پر اَور لکڑیوں پر اُنڈیل دو۔“
1KI 18:34 پھر ایلیّاہ نے کہا، یہی دوبارہ کرو اَور اُنہُوں نے دوبارہ وَیسا ہی کیا۔ پھر ایلیّاہ نے کہا، یہی ایک بار پھر کرو۔ اَور اُنہُوں نے تیسری بار بھی وَیسا ہی کیا۔
1KI 18:35 تَب پانی مذبح کے اِردگرد بہنے لگا اَور یہاں تک کہ ساری نالیاں بھی پانی سے بھر گئیں۔
1KI 18:36 اَور قُربانی کے وقت ایلیّاہ نبی نے مذبح کے پاس آکر یہ فریاد کی: ”اَے یَاہوِہ، اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور اِسرائیل کے خُدا، آج یہ سَب کو مَعلُوم ہو جائے کہ بنی اِسرائیل میں صِرف آپ ہی خُدا ہیں اَور یہ بھی کہ میں آپ کا خادِم ہُوں اَور مَیں نے یہ سَب آپ کے ہی حُکم سے کیا ہے۔
1KI 18:37 اَے یَاہوِہ، میری سُنیں اَور مُجھے جَواب دے تاکہ یہ لوگ جان جایٔیں کہ اَے یَاہوِہ آپ ہی برحق خُدا ہیں اَور آپ نے ہی اِن کے دِلوں کو اَپنی طرف دوبارہ مائل کیا ہے۔“
1KI 18:38 تَب فوراً یَاہوِہ کی آگ آسمان سے نازل ہُوئی اَور اُس آگ نے سوختنی نذر، لکڑیوں، پتّھروں اَور مٹّی کو بھسم کر دیا اَور اُس پانی کو پُورا سُوکھا دیا جو نالیوں میں بھرا تھا۔
1KI 18:39 جَب سَب لوگوں نے یہ دیکھا تو مُنہ کے بَل گِرے اَور بُلند آواز سے نعرہ لگایا، ”یَاہوِہ ہی خُدا ہیں، یَاہوِہ ہی خُدا ہیں!“
1KI 18:40 تَب ایلیّاہ نے اُنہیں حُکم دیا، ”بَعل کے نبیوں کو پکڑ لو۔“ اُن میں سے ایک بھی بچ کر نکلنے نہ پایٔے۔ چنانچہ اُنہُوں نے اُنہیں پکڑ لیا اَور ایلیّاہ اُنہیں قیشونؔ کی وادی میں لے گیٔے اَور وہاں اُنہیں قتل کر دیا۔
1KI 18:41 پھر ایلیّاہ نے احابؔ سے فرمایا، ”جاؤ، کھاؤ اَور پیو کیونکہ بھاری بارش کی آواز سُنایٔی دے رہی ہے۔“
1KI 18:42 تَب احابؔ کھانے پینے چلا گیا، لیکن ایلیّاہ کرمِلؔ کی چوٹی پر چڑھ گیٔے اَور زمین پر جھُک کر اَپنے چہرے کو گھٹنوں کے درمیان چُھپالیا۔
1KI 18:43 اَور اَپنے خادِم کو حُکم دیا، ”جاؤ اَور سمُندر کی طرف دیکھ۔“ اُس نے اُوپر جا کر دیکھا۔ اَور آکر خبر دی، ”مُجھے وہاں کچھ بھی دِکھائی نہیں دیا ہے۔“ ایلیّاہ نے سات بار یہ حُکم دیا، ”جاؤ اَور پھر دیکھو۔“
1KI 18:44 اَور ساتویں مرتبہ خادِم نے اِطّلاع کی، ”اِنسانی ہاتھ کے برابر ایک چھوٹا سا بادل سمُندر سے اُٹھ رہاہے۔“ تَب ایلیّاہ نے اَپنے خادِم کو حُکم دیا، ”جاؤ اَور احابؔ سے کہو، ’اَپنا رتھ تیّار کرا کے پہاڑ سے نیچے اُتر جا، کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم بارش میں پھنس جاؤ۔‘ “
1KI 18:45 کُچھ ہی دیر بعد آسمان بادلوں سے سیاہ ہو گیا، ہَوا چلنے لگی اَور تیز بارش شروع ہو گئی اَور احابؔ اَپنے رتھ پر سوار ہوکر یزرعیلؔ کو چل دیا۔
1KI 18:46 اَور یَاہوِہ کی قُوّت ایلیّاہ پر نازل ہُوئی اَور وہ اَپنے کپڑے سمیٹ کر اَپنے کمربند میں لپیٹ کر احابؔ کے رتھ کے آگے آگے یزرعیلؔ تک دَوڑتے چلے گیٔے۔
1KI 19:1 اَور احابؔ نے اِیزبِلؔ کو ایلیّاہ کے سَب کارناموں کا بَیان کیا اَور یہ بھی بتایا کہ کس طرح ایلیّاہ نے سَب نبیوں کو تلوار سے قتل کر دیا۔
1KI 19:2 لہٰذا، اِیزبِلؔ نے ایک قاصِد کو ایلیّاہ کے پاس اِس پیغام کے ساتھ روانہ کیا، ”اگر کل اِسی وقت، مَیں تمہاری جان اُن نبیوں کی طرح نہ لے لُوں تو معبُود مُجھ سے اَیسا ہی بَلکہ اِس سے بھی بدتر سلُوک کریں۔“
1KI 19:3 تَب ایلیّاہ خوفزدہ ہو گیٔے اَور اَپنی جان بچانے کے لیٔے بھاگے اَور جَب وہ یہُوداہؔ کے بیرشبعؔ میں پہُنچے، تو اَپنے خادِم کو اُنہُوں نے وہیں ترک کر دیا۔
1KI 19:4 اَور خُود سارا دِن سفر کرتے ہویٔے بیابان میں پہُنچ گیٔے اَور وہاں ایک جھاؤ کے درخت کے نیچے جا کر بیٹھ گیٔے اَور اِن لفظوں میں اَپنی موت کی دعا مانگی، ”اَے یَاہوِہ، بہت ہو چُکا۔ میری جان لے لے کیونکہ مَیں اَپنے آباؤاَجداد سے بہتر نہیں ہُوں۔“
1KI 19:5 تَب وہ اُس جھاؤ کے درخت کے نیچے لیٹ گیٔے اَور وہیں سو گیٔے۔ اَچانک ایک فرشتہ نے اُنہیں چھُوا اَور کہا، ”اُٹھو اَور کھانا کھاؤ۔“
1KI 19:6 ایلیّاہ نے اَپنے چاروں طرف نگاہ کی تو اَپنے سرہانے اَنگاروں میں پکی ہُوئی ایک روٹی اَور پانی کی صُراحی رکھی دیکھی۔ تَب وہ روٹی کھا کر پانی پی کر پھر لیٹ گیٔے۔
1KI 19:7 یَاہوِہ کا فرشتہ دوبارہ اُن کے پاس حاضِر ہُوا، اَور اُنہیں چھُوا اَور کہا، ”اُٹھو، اَور کھانا کھاؤ کیونکہ آپ کو ایک لمبی سفر طے کرنی ہے۔“
1KI 19:8 تَب ایلیّاہ نے اُٹھ کر کھایا پیا اَور اُس کھانے سے قُوّت پا کر چالیس دِن اَور چالیس رات سفر کرتے ہویٔے وہ خُدا کے پہاڑ حورِبؔ پہُنچ گیٔے۔
1KI 19:9 اَور وہاں پہُنچ کر اُنہُوں نے ایک غار میں رات گزاری۔ اَور یَاہوِہ کا یہ کلام ایلیّاہ پر نازل ہُوا: ”اَے ایلیّاہ! تُم یہاں کیا کر رہے ہو؟“
1KI 19:10 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”قادرمُطلق یَاہوِہ خُدا کا مَیں پُرجوش پیروکار رہا ہُوں۔ لیکن بنی اِسرائیل نے آپ کے عہد کو ترک کر دیا اَور آپ کے مذبحوں کو ڈھا دیا ہے اَور آپ کے نبیوں کو تلوار سے قتل کر ڈالا ہے۔ صِرف مَیں ہی اکیلا بچا ہُوں اَور اَب وہ مُجھے بھی جان سے مار ڈالنا چاہتے ہیں۔“
1KI 19:11 یَاہوِہ نے فرمایا، ”باہر نکل کر پہاڑ پر یَاہوِہ کے حُضُور کھڑے ہو جاؤ کیونکہ یَاہوِہ وہاں سے گزرنے والے ہیں۔ اَور جَب ایلیّاہ وہاں کھڑے ہویٔے۔“ تَب ایک بڑی تیز آندھی یَاہوِہ کے آگے گزری اَور پہاڑوں کو چیر کر چٹّانوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے، لیکن یَاہوِہ آندھی میں مَوجُود نہیں تھے۔ اَور آندھی کے بعد ایک زلزلہ آیا لیکن یَاہوِہ زلزلہ میں بھی نہیں تھے۔
1KI 19:12 اَور زلزلہ کے بعد آگ نازل ہُوئی لیکن یَاہوِہ آگ میں بھی مَوجُود نہیں تھے۔ اَور آگ کے بعد ایک ہلکی سِی دھیمی آواز آئی۔
1KI 19:13 جَب ایلیّاہ نے وہ آواز سُنی تو، اُنہُوں نے اَپنے کپڑے سے اَپنا مُنہ ڈھانپ لیا اَور غار سے باہر نکل کر اُس کے دہلیز پر کھڑے ہو گیٔے۔ تَب اُس آواز نے اُن سے دریافت کیا، ”اَے ایلیّاہ! تُم یہاں کیا کر رہے ہو؟“
1KI 19:14 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”قادرمُطلق یَاہوِہ خُدا کا مَیں پُرجوش پیروکار رہا ہُوں۔ لیکن بنی اِسرائیل نے آپ کے عہد کو ترک کر دیا اَور آپ کے مذبحوں کو ڈھا دیا ہے اَور آپ کے نبیوں کو تلوار سے قتل کر ڈالا ہے۔ صِرف مَیں ہی اکیلا بچا ہُوں اَور اَب وہ مُجھے بھی جان سے مار ڈالنا چاہتے ہیں۔“
1KI 19:15 یَاہوِہ نے ایلیّاہ سے فرمایا، ”جِس راستے سے تُم آئے ہو اُسی راستے سے واپس لَوٹ جاؤ اَور دَمشق کے بیابان کو چلے جاؤ۔ جَب تُم وہاں پہُنچ جاؤ تو، حزائیلؔ کو ارام کا بادشاہ ہونے کے لیٔے مَسح کرنا۔
1KI 19:16 اَور یِہُو بِن نِمشیؔ کو بنی اِسرائیل کا بادشاہ ہونے کے لیٔے مَسح کرنا، اَور ابیل مِحولہؔ کے الِیشعؔ بِن شافاطؔ کو اَپنی جگہ نبی ہونے کے لیٔے مَسح کرنا۔
1KI 19:17 تَب اَیسا ہوگا کہ جو حزائیلؔ کی تلوار سے بچ جائے گا اُسے یہُو قتل کرےگا اَورجو یِہُو کی تلوار سے بچ جایٔےگا اُسے الِیشعؔ قتل کر ڈالے گا۔
1KI 19:18 تو بھی میں مُلکِ اِسرائیل میں اُن سات ہزار آدمیوں کو بچا کر رکھوں گا جنہوں نے نہ ہی بَعل معبُود کی پرستش کی ہے اَور نہ ہی اُس کا بوسہ لیا ہے۔“
1KI 19:19 لہٰذا ایلیّاہ وہاں سے روانہ ہویٔے اَور الِیشعؔ بِن شافاطؔ اُنہیں کھیت میں ہل چلاتے ہویٔے مِلے۔ ہل میں بَارہ جوڑی بَیل جوتے ہویٔے تھے۔ اَور بارہویں جوڑی کو وہ خُود چلا رہے تھے۔ ایلیّاہ نے اُن کے پاس جا کر اَپنی چادر اُن پر ڈال دی۔
1KI 19:20 الِیشعؔ اَپنے بَیلوں کو وہیں چھوڑکر ایلیّاہ کے پیچھے دَوڑے اَور ایلیّاہ سے اِلتجا کی، ”مُجھے اِجازت دیجئے کہ میں اَپنے باپ اَور ماں کو چُومُوں اَور اُنہیں اَلوِداع کہُوں، پھر مَیں آپ کے ساتھ ہو لُوں گا۔“ ایلیّاہ نے جَواب دیا، ”واپس لَوٹ جاؤ مَیں تُمہیں روک نہیں رہا ہُوں؟“
1KI 19:21 لہٰذا الِیشعؔ ایلیّاہ کے پاس سے واپس لَوٹ آئے، اَور اُنہُوں نے اَپنی جوڑی کے بَیلوں کو لیا اَور اُنہیں ذبح کیا اَور ہل چلانے کے سازوسامان سے گوشت پکا کر لوگوں کو دیا اَور اُنہُوں نے اُسے کھایا۔ اِس کے بعد پھر الِیشعؔ ایلیّاہ کے پیچھے چلنے کے لیٔے روانہ ہُوئے اَور ایلیّاہ کے خادِم بَن گیٔے۔
1KI 20:1 ارام کے بادشاہ بِن ہددؔ نے اَپنی تمام فَوج جمع کی۔ اُس کے ساتھ بتّیس بادشاہ، اُن کے گھوڑے اَور رتھ تھے۔ بِن ہددؔ نے سامریہؔ پر حملہ کرکے اُس کا محاصرہ کر لیا۔
1KI 20:2 اِس کے بعد اُس نے قاصِدوں کے ذریعے شہر میں شاہِ اِسرائیل احابؔ کے پاس یہ پیغام بھیجا:
1KI 20:3 ”بِن ہددؔ یُوں فرماتا ہے: ’تمہارا چاندی اَور سونا میرا ہے اَور تمہاری بیویوں اَور بچّوں میں سے جو بہترین ہیں وہ میرے ہیں۔‘ “
1KI 20:4 شاہِ اِسرائیل نے جَواب دیا، ”اَے میرے آقا بادشاہ، آپ کے فرمان کے مُطابق میں اَورجو کچھ میرا ہے سَب آپ کا ہی ہے۔“
1KI 20:5 اَور اُن قاصِدوں نے دوبارہ آکر کہا، ”بِن ہددؔ یُوں فرماتا ہے: ’مَیں نے تُمہیں پیغام بھیجا تھا کہ تُم اَپنی چاندی اَور سونا اَور اَپنی بیویاں اَور لڑکے میرے حوالہ کر دو۔
1KI 20:6 لیکن کل اِسی وقت مَیں اَپنے افسران کو تمہارے محل اَور تمہارے افسران کے گھروں کی تلاشی لینے کے لیٔے بھیج رہا ہُوں۔ اَورجو کچھ تمہاری نگاہ میں قیمتی ہے وہ سَب کُچھ لے کر میرے پاس آ جائیں گے۔‘ “
1KI 20:7 تَب شاہِ اِسرائیل نے مُلک کے سَب بُزرگوں کو بُلاکر اُن سے کہا، ”ذرا غور فرمائیں اَور دیکھیں کہ یہ شخص کس طرح ہم سے جھگڑے کی جڑ تلاش رہاہے، کیونکہ اُس نے میری بیویاں، میرے بچّے، میری چاندی اَور میرا سونا چھیننے کا منصُوبہ باندھا ہے، حالانکہ مَیں نے پہلی دفعہ اُس کی شرط منظُور کرلی تھی۔“
1KI 20:8 تَب سارے بُزرگوں اَور تمام لوگوں نے بادشاہ کو صلاح دی، ”اَب آپ بِن ہددؔ کی کویٔی شرط یا فرمایٔش نہ تو سُنیں اَور نہ ہی اُس کی بات مانیں۔“
1KI 20:9 چنانچہ احابؔ نے بِن ہددؔ کے قاصِدوں سے یہ کہا، ”میرے آقا بادشاہ کو خبر دینا، ’آپ نے اَپنے خادِم سے پہلے جو کچھ طلب کیا تھا، وہ سَب تو کروں گا، مگر آپ کی باقی دُوسری فرمایٔش کو میں پُورا نہیں کر سَکتا۔‘ “ چنانچہ قاصِد واپس چلے گیٔے اَور احابؔ کے جَواب کو بِن ہددؔ تک پہُنچا دیا۔
1KI 20:10 تَب بِن ہددؔ نے احابؔ کے پاس ایک اَور پیغام بھیجا: ”معبُود مُجھ سے اَیسا ہی بَلکہ اِس سے بھی بدتر سلُوک کریں، اگر سامریہؔ کو میں اِس قدر تباہ نہ کر دُوں کہ سامریہؔ میں میرے فَوج کے لیٔے اِتنی بھی مٹّی باقی نہ بچے کہ میرے فَوجی ایک ایک مُٹّھی بھر بھی اِس کی خاک کو اَپنے ساتھ لے جا سکیں۔“
1KI 20:11 شاہِ اِسرائیل نے جَواب دیا، ”بِن ہددؔ سے جا کر کہہ دو: ’ایک جنگجو کو جو ابھی زرہ بکتر پہن رہاہے اُسے اَیسا غُرور نہیں کرنا چاہئے گویا وہ جنگ فتح کر چُکاہے۔‘ “
1KI 20:12 جَب بِن ہددؔ نے جو بادشاہوں کے ساتھ اَپنے خیمہ میں مَے نوشی کر رہاتھا، جَیسے ہی اُس نے احابؔ کا یہ پیغام سُنا، تو فوراً اَپنے فَوج کو حُکم دیا: ”حملہ کرنے کے لیٔے تیّار ہو جاؤ۔“ چنانچہ اُنہُوں نے شہر پر حملہ کرنے کے لیٔے صف آرائی کی۔
1KI 20:13 اِسی دَوران شاہِ اِسرائیل احابؔ کے پاس ایک نبی آیا اَور کہا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’کیا تُم اِس لشکرِ جبّار کو دیکھ رہے ہو؟ آج مَیں اِسے تمہارے ہاتھ میں کر دُوں گا اَور تَب تُم جان جاؤگے کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
1KI 20:14 تَب احابؔ نے دریافت کیا، ”لیکن یہ کون کرےگا؟“ نبی نے جَواب دیا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’صوبے کے حاکموں کے جَوان فَوجی دستے یہ کام کریں گے۔‘ “ پھر اُس نے دریافت کیا، ”جنگ کون شروع کرےگا؟“ نبی نے جَواب دیا، ”آپ شروع کریں گے۔“
1KI 20:15 چنانچہ احابؔ نے صوبوں کے حاکموں کے جَوان فَوجی دستہ کو طلب کیا جو دو سَوبتّیس آدمی تھے؛ اَور اُن کے پیچھے کی قطاروں میں باقی سات ہزار اِسرائیلی فَوجی تھے۔
1KI 20:16 یہ سَب دوپہر کے وقت روانہ ہُوئے جَب بِن ہددؔ اَور اُس کے مددگار بتّیس بادشاہ اَپنے خیموں میں شراب پی کر مدہوش ہو رہے تھے۔
1KI 20:17 صوبوں کے حاکموں کے جَوان فَوجی دستے سَب سے آگے روانہ ہُوئے۔ اَور بِن ہددؔ نے جاسُوسی کرنے کے لیٔے مُخبر بھیجے تھے، ”جنہوں نے اِطّلاع دی کہ سامریہؔ سے فَوج نکل چُکی ہے۔“
1KI 20:18 بِن ہددؔ نے کہا، ”اگر وہ صُلح کے لیٔے نکلے ہیں تو اُنہیں زندہ پکڑ لینا اَور اگر جنگ کرنے کے لیٔے نکلے ہیں تو بھی اُنہیں زندہ ہی پکڑ لینا۔“
1KI 20:19 صوبوں کے حاکموں کے جَوان فَوجی دستے صف آرا ہوکر شہر سے باہر نکلے اَور فَوج اُن کے پیچھے تھی۔
1KI 20:20 اَور ہر ایک نے اَپنے مُخالف کو قتل کیا۔ اِس لیٔے ارامی بھاگنے لگے اَور اِسرائیلی فَوج نے اُن کا تعاقب کیا، مگر شاہِ ارام بِن ہددؔ گھوڑے پر سوار ہوکر اَپنے کچھ گُھڑسواروں کے ساتھ جان بچا کر بھاگ کھڑا ہُوا۔
1KI 20:21 اَور شاہِ اِسرائیل نے پیچھا کرکے گھوڑوں اَور رتھوں کو نِیست و نابود کرکے ارامیوں کو بڑی خُونریزی کے ساتھ قتل کیا۔
1KI 20:22 اِس کے بعد وہ نبی شاہِ اِسرائیل کے پاس تشریف لایٔے اَور فرمایا، ”جاؤ اَور اَپنی فَوج کو مضبُوط بناؤ اَور خیال کرو کہ کیا کرنا لازِم ہے کیونکہ اگلے موسمِ بہار میں شاہِ ارام پھر تُم پر حملہ کرےگا۔“
1KI 20:23 اِسی دَوران شاہِ ارام کے افسران نے اُس سے کہا، ”اُن کا معبُود پہاڑوں کا معبُود ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہم سے زِیادہ طاقتور ثابت ہویٔے ہیں لیکن اگر ہم اُن سے میدان میں جنگ کریں، تو ہم اُن پر ضروُر غالب ہوں گے۔
1KI 20:24 آپ یُوں کریں کہ تمام بادشاہوں کو اُن کے عہدوں سے برطرف کر دیں اَور اُن کی جگہ حاکموں کو مُقرّر کر دیں۔
1KI 20:25 اَورجو فَوج تباہ ہو گئی ہے وَیسی ہی ایک دُوسری فَوج تیّار کریں یعنی گھوڑے کے بدلے گھوڑا اَور رتھ کے بدلے رتھ۔ پھر ہم بنی اِسرائیل سے میدان میں ہی جنگ کریں گے اَور یقیناً ہم اُن سے زِیادہ طاقتور ثابت ہوں گے۔“ بِن ہددؔ نے اُن کی صلاح مان لی اَور وَیسا ہی عَمل کیا۔
1KI 20:26 اگلے موسمِ بہار میں بِن ہددؔ نے ارامیوں کو جمع کیا اَور بنی اِسرائیل سے جنگ کے لیٔے افیقؔ شہر کی طرف کوچ کیا۔
1KI 20:27 تَب اِسرائیلی فَوج بھی جمع ہوئی اَور اُن کی رسد کا اِنتظام کیا گیا اَور وہ اُن سے جنگ کو نکلے۔ جَب اِسرائیلی اُن کے بالمقابل خیمہ زن ہُوئے تو یُوں دِکھائی دیتے تھے گویا بکریوں کے دو چُھوٹے سے ریوڑ جمع ہیں لیکن ارامیوں کی تعداد سے پُورا مُلک بھرا پڑا تھا۔
1KI 20:28 تَب مَرد خُدا آیا اَور اُس نے شاہِ اِسرائیل سے کہا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’چونکہ ارامی سوچتے ہیں کہ یَاہوِہ صِرف پہاڑوں کا معبُود ہے، مگر میدانوں کا معبُود نہیں ہے، اِس لیٔے میں اِس لشکرِ جبّار کو تمہارے ہاتھ میں کر دُوں گا، تَب تُم اَور تمہارے لوگ جان جایٔیں گے کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
1KI 20:29 وہ سات دِن تک ایک دُوسرے کے مقابل خیمہ زن رہے اَور ساتویں دِن جنگ چھڑ گئی اَور بنی اِسرائیل نے ایک ہی دِن میں ارامیوں کے ایک لاکھ پیادے قتل کر دئیے۔
1KI 20:30 اَورجو باقی بچے تھے وہ افیقؔ شہر کے اَندر بھاگ گیٔے، اُن میں سے باقی ستّائیس ہزار کی موت اُن پر فصیل گرنے سے ہو گئی۔ بِن ہددؔ بھی بھاگ کر شہر کے اَندر وہاں ایک اَندرونی کوٹھری میں چھُپ گیا۔
1KI 20:31 تَب اُس کے افسران نے اُس سے کہا، ”دیکھو، ہم نے سُنا ہے کہ بنی اِسرائیل کے گھرانے کے بادشاہ بڑے رحم دِل ہوتے ہیں لہٰذا، اِجازت دے کہ ہم اَپنی اَپنی کمر میں ٹاٹ اَور اَپنے اَپنے سَر پر رسّیاں باندھ کر شاہِ اِسرائیل کے پاس جایٔیں۔ شاید وہ آپ کی جان بخش دیں۔“
1KI 20:32 چنانچہ وہ اَپنی کمر میں ٹاٹ اَور سَروں پر رسّیاں باندھے ہُوئے شاہِ اِسرائیل کے پاس پہُنچے اَور کہا، ”آپ کا خادِم بِن ہددؔ عرض کرتا ہے: ’مہربانی کرکے میری جان بخش دیں۔‘ “ بادشاہ نے اُن سے دریافت کیا، ”کیا وہ ابھی تک زندہ ہے؟ وہ تو میرا بھایٔی ہے۔“
1KI 20:33 اُن آدمیوں نے اِسے ایک اَچھّی علامت خیال کیا اَور اُس کی بات سمجھنے میں جلدی کی اَور کہا، ”ہاں، آپ کا بھایٔی بِن ہددؔ زندہ ہے۔“ تَب بادشاہ نے فرمایا، ”جاؤ اُسے لے آؤ۔“ جَب بِن ہددؔ باہر آیا، تَب احابؔ نے اُسے اَپنے رتھ پر چڑھا لیا۔
1KI 20:34 اَور بِن ہددؔ نے پیشکش کی، ”جِن شہروں کو میرے باپ نے تمہارے باپ سے لے لیا تھا، میں اُنہیں واپس لَوٹا دُوں گا۔ اَور تُم دَمشق میں خُود اَپنے تجارتی مراکز قائِم کر سکتے ہو، جَیسے میرے باپ نے سامریہؔ میں قائِم کئے تھے۔“ احابؔ نے کہا، ”اُس عہدنامہ کی شرائط کی بِنا پر مَیں تُمہیں چھوڑ دُوں گا۔ لہٰذا اُس نے اُس سے عہد باندھا اَور بِن ہددؔ کو رخصت کر دیا۔“
1KI 20:35 نبی کی جماعت میں سے ایک نے یَاہوِہ کے حُکم سے اَپنے ساتھی سے کہا، ”اَپنے ہتھیار سے مُجھ پر حملہ کرو،“ لیکن وہ آدمی راضی نہ ہُوا۔
1KI 20:36 تَب اُس نبی نے کہا، ”چونکہ تُم نے یَاہوِہ کا حُکم نہیں مانا اِس لیٔے جَیسے ہی تُم میرے پاس سے روانہ ہوگے، ایک شیر تُمہیں مار ڈالے گا۔“ اُس آدمی کے جانے کے بعد واقعی اُس کو شیر مِلا جِس نے اُسے مار ڈالا۔
1KI 20:37 پھر اُس نبی کو ایک اَور آدمی مِلا جِس سے اُس نے کہا، ”مہربانی کرکے مُجھ پر حملہ کر۔“ چنانچہ اُس آدمی نے اُسے مارا اَور زخمی کر دیا۔
1KI 20:38 تَب وہ نبی وہاں سے روانہ ہویٔے اَور جا کر راستہ میں بادشاہ کا اِنتظار کرنے لگے، اُس نبی نے اَپنی آنکھوں پر پٹّی باندھ رکھی تھی تاکہ اُن کے اصل حُلیہ کا پتا نہ چل سکے۔
1KI 20:39 اَور جَیسے ہی بادشاہ اُدھر سے گزرا، اُس نبی نے پُکار کر کہا، ”جَب جنگ شِدّت سے جاری تھی تو آپ کا خادِم وہاں جنگِ میدان میں گیا ہُوا تھا۔ وہاں ایک شخص نے ایک قَیدی کو میرے پاس لاکر کہا، ’اِس آدمی کی نگہبانی کر، اگر میرے لوٹنے کے بعد یہ کسی وجہ سے غائب ہو جایٔے یا مُجھے نہ ملے تو، اُس کی جان کے بدلے تمہاری جان لے لی جائے گی یا تُمہیں اُس کے بدلے میں مُجھے پینتیس کِلو چاندی دینی پڑےگی۔‘
1KI 20:40 اَور جَب آپ کا خادِم اِدھر اُدھر مصروف تھا تو وہ آدمی سچ مُچ غائب ہو گیا۔“ شاہِ اِسرائیل نے کہا، ”تمہاری سزا وُہی ہوگی جِس کا تُم نے خُود ہی اعلان کر دیا ہے۔“
1KI 20:41 تَب اُس نبی نے فوراً اَپنی آنکھوں پر سے پٹّی ہٹا دی اَور شاہِ اِسرائیل نے اُسے پہچان لیا کہ وہ نبیوں کی جماعت میں سے ہے۔
1KI 20:42 تَب اُس نبی نے بادشاہ سے فرمایا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’تُم نے ایک اَیسے آدمی کو آزاد کر دیا جسے مَیں نے واجِبُ القتل ٹھہرایا تھا۔ لہٰذا تُمہیں اُس کی جان کے بدلے اَپنی جان اَور اُس کے لوگوں کے بدلے اَپنے لوگ دینے پڑیں گے۔‘ “
1KI 20:43 چنانچہ شاہِ اِسرائیل یہ سُن کر بڑا غمگین ہُوا اَور غُصّہ ہوکر سامریہؔ میں اَپنے محل کو چلا گیا۔
1KI 21:1 کچھ عرصہ بعد ایک اَیسا واقعہ پیش آیا جِس کا تعلّق ایک تاکستان سے تھا جو کہ نبوتؔ یزرعیلی کی مِلکیّت تھی۔ وہ تاکستان یزرعیلؔ میں تھا اَور سامریہؔ کے بادشاہ احابؔ کے محل کے پاس تھا۔
1KI 21:2 احابؔ نے نبوتؔ سے کہا، ”اَپنا تاکستان مُجھے دے تاکہ میں اُسے ترکاری کے باغ کے طور پر اِستعمال کر سکوں کیونکہ وہ میرے محل کے پاس ہے اَور مَیں اُس کے عوض تُمہیں ایک بہتر تاکستان دُوں گا، یا اگر تُمہیں مُناسب مَعلُوم ہو تو جو بھی اُس کی قیمت ہے مَیں تُمہیں اَدا کروں گا۔“
1KI 21:3 لیکن نبوتؔ نے احابؔ سے کہا، ”یَاہوِہ نہ کرے کہ میں اَپنے آباؤاَجداد کی مِیراث تُمہیں دے دُوں۔“
1KI 21:4 احابؔ بڑا خفا ہُوا اَور مایوس ہوکر گھر چلا گیا کیونکہ نبوتؔ یزرعیلی نے کہاتھا، ”میں اَپنے آباؤاَجداد کی مِیراث آپ کو نہیں دُوں گا۔“ وہ اَپنے بِستر پر آزردہ لیٹا رہا اَور کھانا پینا چھوڑ دیا۔
1KI 21:5 تَب اُس کی بیوی اِیزبِلؔ اُس کے پاس آکر پُوچھنے لگی، ”تُم اِتنا اُداس کیوں ہو اَور تُم کھانا کیوں نہیں کھا رہے ہو؟“
1KI 21:6 احابؔ نے اُسے جَواب دیا، ”مَیں نے نبوتؔ یزرعیلی سے کہاتھا، ’اَپنا تاکستان مُجھے دے دے یا اگر تُم مُناسب سمجھو تو میں اُس کے بدلے ایک دُوسرا تاکستان تُمہیں دے دُوں گا۔‘ لیکن اُس نے کہا، ’میں اَپنا تاکستان تُمہیں نہیں دُوں گا۔‘ “
1KI 21:7 اُس کی بیوی اِیزبِلؔ نے کہا، ”تُم بنی اِسرائیل کے بادشاہ ہو۔ تمہارا یہ طرزِ عَمل تُمہیں زیب نہیں دیتا۔ اُٹھو اَور کھانا کھاؤ۔ نبوتؔ یزرعیلی کا تاکستان میں تُمہیں لے کر دُوں گی۔“
1KI 21:8 چنانچہ اُس نے احابؔ کے نام سے خُطوط لکھے اَور اُن پر اُس کی مُہر لگائی اَور اُنہیں نبوتؔ کے شہر میں اُس کے پڑوس میں رہنے والے بُزرگوں اَور اُمرا کے پاس بھیج دیا۔
1KI 21:9 اُن خُطوط میں اُس نے لِکھّا: ”روزہ کی مُنادی کرنے کے بعد نبوتؔ کو لوگوں کے درمیان نُمایاں جگہ پر بِٹھا دینا۔
1KI 21:10 لیکن دو بدمعاشوں کو بھی اُس کے سامنے بِٹھا دو اَور اُن سے یہ گواہی دِلاؤ کہ نبوتؔ نے خُدا پر اَور بادشاہ پر لعنت بھیجی ہے۔ پھر اُسے باہر لے جانا اَور سنگسار کردینا تاکہ وہ مَر جائے۔“
1KI 21:11 چنانچہ نبوتؔ کے شہر میں رہنے والے بُزرگوں اَور اُمرا نے وَیسا ہی کیا جَیسا کہ اِیزبِلؔ نے اَپنے خُطوط میں لِکھّا تھا۔
1KI 21:12 اُنہُوں نے روزہ کا اعلان کیا اَور نبوتؔ کو لوگوں کے درمیان ایک نُمایاں جگہ پر بِٹھا دیا۔
1KI 21:13 پھر دو بدمعاش آئے اَور نبوتؔ کے سامنے بیٹھ گیٔے اَور لوگوں کے سامنے نبوتؔ پر اِلزام لگانے لگے، ”نبوتؔ نے خُدا اَور بادشاہ پر لعنت بھیجی ہے۔“ اِس پر وہ نبوتؔ کو شہر سے باہر لے گیٔے اَور اُسے سنگسار کرکے مار ڈالا۔
1KI 21:14 تَب اُنہُوں نے اِیزبِلؔ کو پیغام بھیجا: ”نبوتؔ سنگسار کر دیا گیا اَور وہ مَر گیا ہے۔“
1KI 21:15 جَیسے ہی اِیزبِلؔ نے سُنا کہ نبوتؔ کو سنگسار کرکے مار ڈالا گیا ہے، اُس نے احابؔ سے کہا، ”اُٹھو اَور نبوتؔ یزرعیلی کے تاکستان پر قبضہ کر لو جسے اُس نے تُمہیں بیچنے سے اِنکار کیا تھا۔ اَب وہ زندہ نہیں بَلکہ مَر چُکاہے۔“
1KI 21:16 جَب احابؔ نے سُنا کہ نبوتؔ مَر چُکاہے تو وہ اُٹھا اَور یزرعیلؔ کے نبوتؔ کے تاکستان پر قبضہ کرنے کے لیٔے چلا گیا۔
1KI 21:17 اَور یَاہوِہ کا کلام تِشبےؔ شہر کے باشِندے ایلیّاہ پر نازل ہُوا،
1KI 21:18 ”سامریہؔ میں حُکمرانی کرنے والے شاہِ اِسرائیل احابؔ سے جا کر مُلاقات کرو۔ اِس وقت وہ نبوتؔ کے تاکستان میں ہے، جہاں وہ اُس پر قبضہ کرنے گیا ہے۔
1KI 21:19 اِس لیٔے تُم احابؔ سے یہ کہنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: کیا تُم نے ایک آدمی کو قتل کرکے اُس کی جائداد پر قبضہ نہیں کر لیا ہے؟‘ پھر اُس سے یہ بھی کہنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: جہاں کُتّوں نے نبوتؔ کا خُون چاٹا ہے، اُسی جگہ وہ تمہارا ہی خُون چاٹیں گے، ضروُر تمہارا!‘ “
1KI 21:20 احابؔ نے ایلیّاہ سے کہا، ”اَے میرے دُشمن!“ ”آخِر تُم نے میری غلطی پکڑ ہی لی!“ ایلیّاہ نے جَواب دیا، ”مَیں نے تمہاری غلطی پکڑ ہی لی، کیونکہ تُم نے یَاہوِہ کی نظر میں خُود کو بدی کرنے کے لیٔے بیچ ڈالا ہے۔
1KI 21:21 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’میں تُم پر تباہی نازل کرنے والا ہُوں۔ مَیں تمہاری نَسل کا صفایا کر دُوں گا اَور بنی اِسرائیل میں سے احابؔ کی نَسل کے ہر مَرد کو خواہ وہ غُلام ہو یا آزاد نِیست و نابود کر دُوں گا۔
1KI 21:22 اَور مَیں تمہارے گھرانے کو یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے گھرانے اَور بعشاؔ بِن اخیاہؔ کے گھرانے کی مانند بنا دُوں گا، کیونکہ تُم نے میرے قہر کو بھڑکایا ہے اَور بنی اِسرائیل سے گُناہ کرایا ہے۔‘
1KI 21:23 ”اَور اِیزبِلؔ کی بابت بھی یَاہوِہ فرماتے ہیں: ’یزرعیلؔ کی فصیل کے پاس کُتّے اِیزبِلؔ کو کھا جایٔیں گے۔‘
1KI 21:24 ”اَور احابؔ کے خاندان کے لوگوں کی جِن کی موت شہر کے اَندر ہوگی اُنہیں کُتّے کھا جایٔیں گے اَورجو باہر میدان میں مَریں گے، اُنہیں ہَوا کے پرندے چٹ کر جایٔیں گے۔“
1KI 21:25 (بے شک احابؔ کی مانند اَیسا کبھی کویٔی پیدا نہیں ہُوا جِس نے اَپنی بیوی اِیزبِلؔ کی ترغِیب پر یَاہوِہ کی نظر میں بدی کرنے کے لیٔے خُود کو بیچ ڈالا ہو۔
1KI 21:26 احابؔ نے نہایت ہی نفرت اَنگیز کام کیا، اُس نے امُوریوں کی طرح بُتوں کی پرستش کی جنہیں یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کے سامنے سے کھدیڑ دیا تھا۔)
1KI 21:27 جَب احابؔ نے یہ باتیں سُنیں تو اَپنے کپڑے پھاڑے اَور ٹاٹ پہن لیا اَور روزہ رکھا۔ وہ ٹاٹ پر ہی لیٹ گیا تھا اَور بہت ہی مایوسی میں ہی اَپنا پُورا دِن گُزارنے لگا تھا۔
1KI 21:28 تَب یَاہوِہ کا کلام تِشبےؔ شہر کے باشِندے ایلیّاہ پر نازل ہُوا،
1KI 21:29 ”کیا تُم نے غور کیا ہے کہ احابؔ کس طرح میرے حُضُور خاکسار بَن گیا ہے؟ چونکہ اُس نے خُود کو حلیم کر لیا ہے، اِس لیٔے میں یہ تباہی اُس کے زندہ رہتے اُس پر نازل نہیں کروں گا بَلکہ اُس کے بیٹے کے ایّام میں اُس کے خاندان پر نازل کروں گا۔“
1KI 22:1 تین سال تک ارام اَور بنی اِسرائیل کے درمیان کویٔی جنگ نہ ہُوئی۔
1KI 22:2 لیکن تیسرے سال میں شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ بنی اِسرائیل کے بادشاہ سے مُلاقات کرنے گیٔے۔
1KI 22:3 شاہِ اِسرائیل نے اَپنے افسران سے فرمایا، ”کیا تُمہیں مَعلُوم نہیں کہ راموتؔ گِلعادؔ ہمارا ہے اَور پھر بھی ہم خاموش بیٹھے ہیں اَور ارام کے بادشاہ سے اُسے واپس لینے کے لیٔے کچھ نہیں کر رہے ہیں؟“
1KI 22:4 لہٰذا اُس نے یہوشافاطؔ سے دریافت کیا، ”کیا آپ راموتؔ گِلعادؔ میں جنگ کرنے میرے ساتھ چلیں گے؟“ یہوشافاطؔ نے شاہِ اِسرائیل کو جَواب دیا، ”بے شک، میں چلُوں گا؛ میں اَور آپ الگ نہیں ہیں، میری فَوج آپ کی فَوج ہے اَور میرے گھوڑے آپ کے گھوڑے ہیں۔“
1KI 22:5 لیکن یہوشافاطؔ نے شاہِ اِسرائیل سے یہ بھی کہا، ”پہلے یَاہوِہ کی مرضی تو مَعلُوم کر لیں۔“
1KI 22:6 چنانچہ شاہِ اِسرائیل نے نبیوں کو جمع کیا جو تقریباً چار سَو آدمی تھے اَور اُن سے پُوچھا، ”کیا میں راموتؔ گِلعادؔ سے جنگ کرنے جاؤں یا نہ جاؤں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”جاؤ، کیونکہ یَاہوِہ اُسے بادشاہ کے قبضے میں کر دیں گے۔“
1KI 22:7 لیکن یہوشافاطؔ نے پُوچھا، ”کیا یہاں اِن نبیوں کے سِوا یَاہوِہ کا کویٔی نبی نہیں ہے جِس سے ہم دریافت کر سکیں؟“
1KI 22:8 تَب شاہِ اِسرائیل نے یہوشافاطؔ کو جَواب دیا، ”ابھی ایک اَور آدمی ہے جِس کے ذریعہ ہم یَاہوِہ سے پُوچھ سکتے ہیں لیکن مُجھے اُس سے نفرت ہے کیونکہ وہ میرے متعلّق کبھی اَچھّی نبُوّت نہیں کرتا بَلکہ ہمیشہ بُری نبُوّت کرتا ہے، اُس کا نام میکایاہؔ بِن اِملہؔ ہے۔“ یہوشافاطؔ نے جَواب دیا، ”بادشاہ کو اَیسا نہیں بولنا چاہئے۔“ اِس پر یہوشافاطؔ نے جَواب دیا، ”بادشاہ کو اَیسا نہیں کہنا چاہئے۔“
1KI 22:9 لہٰذا شاہِ اِسرائیل نے اَپنے ایک افسر کو بُلاکر حُکم دیا، ”میکایاہؔ بِن اِملہؔ کو فوراً یہاں لے آؤ۔“
1KI 22:10 اَور شاہِ اِسرائیل اَور شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ شاہی لباس میں سامریہؔ کے پھاٹک کے مدخل کے قریب ایک کھلیان میں اَپنے اَپنے تخت پر تخت نشین تھے اَور اُن کے سامنے تمام نبی نبُوّت کر رہے تھے۔
1KI 22:11 اَور صِدقیاہؔ بِن کنعانہؔ نے اَپنے لئے لوہے کے سینگ بنوا کر اعلان کیا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’تُم اِن سینگوں سے ارامیوں کو اِس طرح ماروگے کہ وہ نِیست و نابود ہو جایٔیں گے۔‘ “
1KI 22:12 اَور تمام دیگر نبی بھی اَیسی ہی نبُوّت کر رہے تھے اَور کہہ رہے تھے، ”کہ راموتؔ گِلعادؔ پر حملہ کرو اَور فتح پاؤ کیونکہ یَاہوِہ اُسے بادشاہ کے قبضے میں کر دیں گے۔“
1KI 22:13 اَور اُس قاصِد نے جو میکایاہؔ کو بُلانے گیا تھا اُس نے میکایاہؔ کو حُکم دیا، ”دیکھو، سارے نبی ایک زبان ہوکر بادشاہ کی کامیابی کی پیشن گوئی کر رہے ہیں؛ تُم بھی اُن ہی کی طرح پیشن گوئی کرنا اَور بادشاہ کو خُوش کرنے والی اَچھّی بات کرنا۔“
1KI 22:14 لیکن میکایاہؔ نبی نے کہا، ”زندہ یَاہوِہ کی قَسم میں صِرف وُہی کہُوں گا جو یَاہوِہ مُجھے فرمائیں گے۔“
1KI 22:15 جَب میکایاہؔ بادشاہ کے سامنے حاضِر ہویٔے تو بادشاہ نے اُن سے دریافت کیا، ”میکایاہؔ! کیا ہم راموتؔ گِلعادؔ کو جنگ کرنے جایٔیں یا جنگ کا خیال چھوڑ دیں؟“ میکایاہؔ نے بادشاہ کو جَواب دیا، ”حملہ کر اَور فتح مند ہو کیونکہ یَاہوِہ اُسے بادشاہ کے ہاتھ میں دے دیں گے۔“
1KI 22:16 بادشاہ نے میکایاہؔ سے کہا، ”میں کتنی مرتبہ تُمہیں قَسم دِلا کر کہُوں کہ تُم یَاہوِہ کے نام سے سچّی بات کے سِوا مُجھے اَور کچھ مت بتاؤ؟“
1KI 22:17 تَب میکایاہؔ نے جَواب دیا، ”مَیں نے تمام بنی اِسرائیل کو اُن بھیڑوں کی مانند پہاڑوں پر پراگندہ دیکھا جِن کا کویٔی گلّہ، گلّہ بان نہ تھا۔ اَور یَاہوِہ نے فرمایا، ’اِن لوگوں کا کویٔی آقا نہیں ہے۔ اِس لئے ہر ایک اَپنے گھر کو سہی سلامت لَوٹ جائے۔‘ “
1KI 22:18 تَب شاہِ اِسرائیل نے یہوشافاطؔ سے کہا، ”کیا مَیں نے آپ کو نہیں بتایا تھا کہ وہ میرے متعلّق کبھی اَچھّی بات کی نبُوّت نہیں کرتا، صِرف بدی کی ہی نبُوّت کرتا ہے؟“
1KI 22:19 میکایاہؔ نے اَپنی بات جاری رکھتے ہُوئے کہا، ”لہٰذا یَاہوِہ کا کلام سُنو، مَیں نے یَاہوِہ کو اَپنے تخت پر بیٹھے اَور تمام آسمانی فَوج کو اُن کے داہنی اَور بائیں طرف کھڑے دیکھا۔
1KI 22:20 اَور یَاہوِہ نے دریافت کیا، ’احابؔ کو کون ورغلائے گا کہ وہ راموتؔ گِلعادؔ پر حملہ کرے تاکہ وہ وہاں ماراجائے؟‘ ”اَور کسی نے کچھ جَواب دیا اَور کسی نے کچھ اَور۔
1KI 22:21 آخِرکار، ایک خاص رُوح سامنے آئی اَور یَاہوِہ کے حُضُور کھڑی ہوئی اَور کہنے لگی، ’مَیں اُسے ورغلاؤں گی۔‘
1KI 22:22 ” ’مگر کس طرح؟‘ یَاہوِہ نے اُس سے پُوچھا، ”اُس نے جَواب دیا، ’مَیں جاؤں گی اَور بادشاہ کے تمام نبیوں کے مُنہ میں ایک جھُوٹ بولنے والی رُوح بَن جاؤں گی۔‘ “ یَاہوِہ نے فرمایا، ” ’تُم اُسے ورغلانے میں ضروُر کامیاب ہوگی۔ جاؤ اَور اَیسا ہی کرو۔‘
1KI 22:23 ”اِس لئے دیکھ، یَاہوِہ نے تمہارے اِن تمام نبیوں کے مُنہ میں جھُوٹ بولنے والی رُوح ڈال دی ہے۔ یَاہوِہ نے تمہارے بارے میں تباہی کا فرمان جاری کیا ہے۔“
1KI 22:24 تَب صِدقیاہؔ بِن کنعانہؔ نے جا کر میکایاہؔ کے مُنہ پر تھپّڑ مارا اَور پُوچھا، ”آخِرکار یَاہوِہ سے آئی رُوح مُجھ میں سے نکل کر تُم سے کلام کرنے کیسے چلی گئی؟“
1KI 22:25 میکایاہؔ نے جَواب دیا، ”جِس دِن تُم چھُپنے کے لیٔے اَندرونی کوٹھری میں جاؤگے، تَب تُمہیں مَعلُوم ہو جائے گا۔“
1KI 22:26 تَب شاہِ اِسرائیل نے حُکم دیا، ”میکایاہؔ کو پکڑ لو اَور اُسے شہر کے حاکم، امُونؔ اَور شہزادہ یُوآشؔ کے پاس لے جاؤ۔
1KI 22:27 اَور اُن سے کہنا، ’بادشاہ یُوں فرماتا ہے: اِس آدمی کو قَیدخانہ میں رکھو اَور اُس سے مشقّت کراؤ اَور میرے سلامتی سے واپس آنے تک اُسے ذرا سِی روٹی اَور پانی کے سِوا اَور کچھ نہ دیا جائے۔‘ “
1KI 22:28 اِس پر میکایاہؔ نے کہا، ”اگر تُم کبھی صحیح سلامت واپس لَوٹ آئے تو سمجھ لینا کہ یَاہوِہ نے میری مَعرفت کلام ہی نہیں کیا تھا۔“ تَب اُس نے مجمع سے مزید کہا، ”اَے سَب لوگوں! میری باتیں یاد رکھنا!“
1KI 22:29 چنانچہ شاہِ اِسرائیل اَور شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ نے راموتؔ گِلعادؔ پر حملہ کر دیا۔
1KI 22:30 اَور شاہِ اِسرائیل نے یہوشافاطؔ سے کہا، ”میں حُلیہ بدل کر جنگ میں جاؤں گا مگر آپ اَپنا شاہی لباس پہنے رہنا۔“ لہٰذا شاہِ اِسرائیل اَپنا حُلیہ بدل کر جنگ میں گیا۔
1KI 22:31 اُدھر شاہِ ارام نے اَپنے رتھوں کے بتّیس سرداروں کو حُکم دیا تھا، ”سِوائے شاہِ اِسرائیل کے تُم کسی چُھوٹے یا بڑے سے نہ لڑنا۔“
1KI 22:32 جَب رتھوں کے سرداروں نے یہوشافاطؔ کو دیکھا تو اُنہُوں نے سوچا، ”یقیناً شاہِ اِسرائیل یہی ہے۔“ لہٰذا وہ اُس پر حملہ کرنے کے لیٔے نزدیک آئے۔ لیکن جب یہوشافاطؔ چِلّایا،
1KI 22:33 جَب رتھوں کے سرداروں نے دیکھا کہ وہ شاہِ اِسرائیل نہیں ہے، لہٰذا وہ یہوشافاطؔ کا تعاقب کرنے سے باز آئے۔
1KI 22:34 لیکن اِسی وقت کسی فَوجی نے یُوں ہی اَپنی کمان کھینچی اَور ایک تیر چلایا جو سیدھے جا کر شاہِ اِسرائیل کے زرہ بکتر کے بندوں کے درمیان جا لگا۔ تَب بادشاہ نے اَپنے رتھ بان کو حُکم دیا، ”رتھ موڑ لے اَور مُجھے میدانِ جنگ سے باہر لے چل کیونکہ مَیں زخمی ہو گیا ہُوں۔“
1KI 22:35 اُس دِن شدید جنگ ہویٔی اَور بادشاہ نے اَپنے رتھ میں ارامیوں کے مقابل سیدھے کھڑے ہونے کی ترغیب نکالی مگر اُس کے زخموں سے خُون بہہ کر رتھ کے پائدان میں جمع ہوتا رہا اَور اُسی شام کو احابؔ کی موت ہو گئی۔
1KI 22:36 اَور شام کے وقت فَوج میں یہ اعلان کیا گیا: ”ہر شخص اَپنے شہر کو اَور ہر ایک اَپنے مُلک کو لَوٹ جائے!“
1KI 22:37 چنانچہ بادشاہ کی موت ہو گئی اَور اُن کے لاش کو سامریہؔ لایا گیا اَور اُنہُوں نے اُسے وہاں دفن کیا۔
1KI 22:38 اَور اُنہُوں نے بادشاہ کے رتھ کو سامریہؔ کے تالاب کے کنارے دھویا، جہاں طوائفیں غُسل کیا کرتی تھیں، اَور کُتّے بادشاہ کے خُون کو چاٹتے رہے جَیسا کہ یَاہوِہ نے اَپنے کلام کے مَعرفت فرمایا تھا۔
1KI 22:39 کیا احابؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور وہ سارے کام جو اُس نے کئے اَور ہاتھی دانت کی کاریگری والا وہ محل اَورجو شہر اُس نے قلعہ بند کئے، اُن کے حالات اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
1KI 22:40 احابؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُس کا بیٹا احزیاہؔ بطور بادشاہ جانشین ہُوا۔
1KI 22:41 شاہِ اِسرائیل احابؔ کے چوتھے سال میں آساؔ کا بیٹا یہوشافاطؔ یہُودیؔہ کا بادشاہ بنا۔
1KI 22:42 اَور یہوشافاطؔ پینتیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں پچّیس سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام عزُوباہ تھا جو شِلحیؔ کی بیٹی تھی۔
1KI 22:43 وہ ہر بات میں اَپنے باپ آساؔ کے نقش قدم پر چلا اَور اُس سے نہ بھٹکا اَور اُنہُوں نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا۔ تاہم اُونچے مقامات کے مذبح توڑے نہیں گیٔے اَور لوگ وہاں قُربانیاں گزرانتے اَور بخُور جَلاتے رہے۔
1KI 22:44 اَور اِس کے علاوہ یہوشافاطؔ کا شاہِ اِسرائیل کے ساتھ صُلح کا عہد تھا۔
1KI 22:45 کیا یہوشافاطؔ کے دَورِ حُکومت کے واقعات اَور اُن کی بہادری کے کام اَور اُن کے جنگِ فتوحات وغیرہ یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہیں؟
1KI 22:46 اَور اُن کے باپ آساؔ کے دَورِ حُکومت میں باقی رہ گیٔے تمام معبُودوں کے مَندِروں کے مرَدپرستوں کو اُنہُوں نے مُلک سے بے دخل کر دیا۔
1KI 22:47 اَور اُس وقت اِدُوم میں کویٔی بادشاہ نہ تھا بَلکہ ایک حاکم حُکومت کرتا تھا۔
1KI 22:48 اَور یہوشافاطؔ نے اوفیرؔ سے سونا لانے کے لیٔے ترشیشؔ کے جہازوں کا ایک بحری جہاز تیّار کیا تھا مگر وہ بیڑا کبھی بحری سفر پر نہیں گیا کیونکہ وہ عضیُون گیبر میں ہی تباہ ہو گیا تھا۔
1KI 22:49 اُس وقت احابؔ کے بیٹے احزیاہؔ نے یہوشافاطؔ سے درخواست کی، ”اَپنے آدمیوں کے ساتھ میرے آدمیوں کو بھی بحری سفر پر جانے دو،“ لیکن یہوشافاطؔ نے اِنکار کر دیا۔
1KI 22:50 تَب یہوشافاطؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُسے داویؔد کے شہر میں اُن کے آباؤاَجداد کے ساتھ دفن کیا گیا اَور اُس کا بیٹا یہُورامؔ بطور بادشاہ اُن کا جانشین ہُوا۔
1KI 22:51 شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ کے سترھویں سال سامریہؔ میں احابؔ کا بیٹا احزیاہؔ اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُنہُوں نے بنی اِسرائیل پر دو بَرس تک حُکمرانی کی۔
1KI 22:52 اَور احزیاہؔ نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی کیونکہ وہ اَپنے باپ اَور ماں اَور یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے نقش قدم پر چلا جنہوں نے بنی اِسرائیل سے گُناہ کروایا تھا۔
1KI 22:53 اَور وہ اَپنے باپ کے نقش قدم پر چلتا رہا اَور بَعل کی پرستش کرکے اُس نے یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کے غُصّے کو بھڑکا دیا۔
2KI 1:1 احابؔ کی موت کے بعد مُوآب نے بنی اِسرائیل کے خِلاف بغاوت کر دی۔
2KI 1:2 اَور اَیسا ہُوا کہ احزیاہؔ سامریہؔ میں اَپنے شاہی بالاخانہ کے اُوپر کمرے کی جالی دار کھٹرکی سے نیچے گِر پڑا اَور زخمی ہو گیا۔ لہٰذا احزیاہؔ نے قاصِد بھیجے اَور اُن سے فرمایا، ”جا کر عقرونؔ کے معبُود بَعل زبُوبؔ سے پُوچھو کہ کیا مَیں اِس چوٹ سے شفایاب ہو سکوں گا یا نہیں۔“
2KI 1:3 لیکن یَاہوِہ کے فرشتہ نے تِشبےؔ کے باشِندے ایلیّاہ سے فرمایا، ”جاؤ اَور سامریہؔ کے بادشاہ کے قاصِدوں سے مُلاقات کرکے اُن سے پُوچھو، ’کیا بنی اِسرائیل میں کویٔی خُدا نہیں ہے جو تُم عقرونؔ کے معبُود بَعل زبُوبؔ سے دریافت کرنے جا رہے ہو؟‘
2KI 1:4 لہٰذا یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’جِس بِستر پر تُم پڑے ہُوئے ہو، اُس سے ہرگز نہ اُٹھ پاؤگے۔ اَور تُم یقیناً مَر جاؤگے!‘ “ لہٰذا ایلیّاہ نے وُہی کیا جو اُنہیں حُکم دیا گیا تھا۔
2KI 1:5 اَور جَب قاصِد بادشاہ کے پاس لَوٹ آئے تو، احزیاہؔ نے اُن سے دریافت کیا، ”تُم اِتنی جلدی واپس کیوں آ گئے؟“
2KI 1:6 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ایک شخص ہم سے مُلاقات کے لئے آیاتھا، اُسی نے ہمیں حُکم دیا، ’اُس بادشاہ کے پاس لَوٹ جاؤ جِس نے تُمہیں بھیجا ہے، اَور اُس سے کہنا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: کیا اِسرائیل مَیں خُدا نہیں ہے جو تُم عقرونؔ کے معبُود بَعل زبُوبؔ سے دریافت کرنے کے واسطے قاصِد بھیج رہے ہو، اِس لیٔے جِس بِستر پر تُم پڑے ہو اُس پر سے نہ اُٹھ پاؤگے بَلکہ یقیناً مَر جاؤگے!“ ‘ “
2KI 1:7 تَب بادشاہ نے اُن سے دریافت کیا، ”وہ شخص جو تُم سے مُلاقات کے لئے آیاتھا اَور جِس نے تُمہیں یہ خبر دی وہ کیسا دِکھائی دے رہاتھا؟“
2KI 1:8 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”وہ شخص بہت بالوں والا لباس پہنے ہُوئے تھا اَور اُس کی کمر پر چمڑے کی پیٹی بندھی ہُوئی تھی۔“ تَب بادشاہ نے کہا، ”وہ تِشبےؔ شہر کا باشِندہ ایلیّاہ ہی تھا۔“
2KI 1:9 تَب بادشاہ نے پچاس فَوجیوں کے ایک سردار کو ایلیّاہ کو گِرفتار کرنے بھیجا۔ فَوج کے سردار نے وہاں جا کر دیکھا کہ ایلیّاہ پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھے ہویٔے تھے، فَوج کے سردار نے اُنہیں حُکم دیتے ہویٔے فرمایا، ”اَے مَرد خُدا! بادشاہ کا فرمان ہے، ’نیچے اُتر آؤ!‘ “
2KI 1:10 ایلیّاہ نے اُس فَوج کے سردار کو جَواب دیا، ”اگر مَیں مَرد خُدا ہُوں تو آگ آسمان سے نازل ہو اَور تُجھے اَور تیرے پچاس آدمیوں کو بھسم کر ڈالے!“ تَب آسمان سے آگ نے نازل ہوکر اُس سردار کو اَور اُس کے پچاسوں آدمیوں کو بھسم کر ڈالا۔
2KI 1:11 اُس کے بعد بادشاہ نے پچاس فَوجیوں کا ایک دُوسرا دستہ اَور اُس کے سردار کو ایلیّاہ کے پاس بھیجا۔ اُس سردار نے ایلیّاہ کو حُکم دیا، ”اَے مَرد خُدا! بادشاہ کا فرمان ہے، ’فوراً نیچے اُتر آ!‘ “
2KI 1:12 ایلیّاہ نے جَواب دیا، ”اگر مَیں واقعی مَرد خُدا ہُوں، تو آگ آسمان سے نازل ہو اَور تُمہیں اَور تمہارے پچاسوں فَوجیوں کو بھسم کر ڈالے!“ تَب فوراً خُدا کی آگ آسمان سے نازل ہویٔی اَور اُسے اَور اُس کے پچاسوں فَوجیوں کو بھسم کر ڈالا۔
2KI 1:13 بادشاہ نے پچاس فَوجیوں کے ایک تیسرے دستے کو اُس کے سردار کے ساتھ ایلیّاہ کے پاس بھیجا۔ اَور یہ تیسرے سردار نے پہاڑی کے اُوپر چڑھ کر ایلیّاہ کے سامنے گھُٹنے ٹیک کر اُن سے مِنّت کی، ”اَے مَرد خُدا، میری جان اَور اِن پچاسوں فَوجیوں کی جانیں جو آپ کے خادِم ہیں آپ کی نگاہ میں بیش قیمتی ٹھہریں!
2KI 1:14 دیکھئے، آسمان سے آگ نازل ہُوئی تھی، اَور مُجھ سے پہلے آئے دو فَوجی سرداروں اَور اُن کے پچاس پچاس آدمیوں کو بھسم کر ڈالا؛ لیکن اَب آپ میری جان کو ہلاک ہونے سے بچا لیں۔“
2KI 1:15 تَب یَاہوِہ کے فرشتہ نے ایلیّاہ سے کہا، ”اُس کے ساتھ نیچے چلے جاؤ؛ اَور اُس سے خوفزدہ نہ ہو۔“ لہٰذا ایلیّاہ اُٹھے اَور اُس کے ساتھ نیچے بادشاہ کے حُضُور مَیں حاضِر ہُوئے۔
2KI 1:16 ایلیّاہ نے بادشاہ سے کہا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: کیا آپ نے عقرونؔ کے معبُود بَعل زبُوبؔ سے دریافت کرنے کے لیٔے قاصِد بھیجے تھے، کیا اِسرائیل میں خُدا نہیں ہے جِس سے آپ دریافت کرو، چونکہ آپ نے اَیسا کیا ہے اِس لیٔے آپ اَب اِس بِستر پر سے جِس پر آپ پڑے ہو کبھی نہ اُٹھو گے اَور یقیناً مَر جاؤگے!“
2KI 1:17 چنانچہ یَاہوِہ کے اُس کلام کے مُطابق جو اُنہُوں نے ایلیّاہ کی مَعرفت فرمایا تھا، احزیاہؔ کی وفات ہو گئی۔ اَور چونکہ احزیاہؔ کا کویٔی بیٹا نہ تھا، اِس لیٔے اُس کی جگہ پر اُس کا بھایٔی یورامؔ بادشاہ بَن گیا۔ یہ واقعہ شاہِ یہُودیؔہ یہُورامؔ بِن یہوشافاطؔ کے دَورِ حُکومت کے دُوسرے سال سے ہُوا تھا۔
2KI 1:18 جہاں تک احزیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے تمام دیگر واقعات اَورجو کچھ اُس نے کیا، اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 2:1 اَیسا ہُوا کہ جَب یَاہوِہ ایلیّاہ کو آندھی میں آسمان پر اُٹھانے والے تھے، تو ایلیّاہ اَور الِیشعؔ گِلگالؔ سے روانہ ہویٔے۔
2KI 2:2 ایلیّاہ نے الِیشعؔ سے فرمایا، ”اَب تُم یہیں ٹھہر جاؤ کیونکہ یَاہوِہ نے مُجھے بیت ایل جانے کا حُکم دیا ہے۔“ لیکن الِیشعؔ نے کہا، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم اَور آپ کی جان کی قَسم مَیں آپ کو ترک نہیں کروں گا۔“ لہٰذا وہ دونوں بیت ایل کو روانہ ہویٔے۔
2KI 2:3 تَب بیت ایل کے نبیوں کی ایک جماعت الِیشعؔ کے پاس آئی اَور اُن سے دریافت کیا، ”کیا آپ کو مَعلُوم ہے کہ آج یَاہوِہ تمہارے آقا کو تُم سے اُٹھانے والے ہیں؟“ الِیشعؔ نے جَواب دیا، ”ہاں، مُجھے مَعلُوم ہے، اِس لیٔے چُپ رہو۔“
2KI 2:4 پھر ایلیّاہ نے فرمایا، ”اَے الِیشعؔ! تُم یہیں ٹھہرو کیونکہ یَاہوِہ مُجھے یریحوؔ کو بھیج رہے ہیں۔“ مگر الِیشعؔ نے اُن سے کہا، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم اَور آپ کے جان کی قَسم مَیں آپ کو ہرگز ترک نہیں کروں گا۔“ چنانچہ وہ دونوں یریحوؔ کو روانہ ہویٔے۔
2KI 2:5 اَور یریحوؔ کے نبیوں کی ایک جماعت الِیشعؔ کے پاس آئی اَور اُن سے دریافت کیا، ”کیا آپ کو مَعلُوم ہے کہ آج یَاہوِہ تمہارے آقا کو تُم سے اُٹھانے والے ہیں؟“ الِیشعؔ نے جَواب دیا، ”ہاں، مُجھے مَعلُوم ہے، اِس لیٔے چُپ رہو۔“
2KI 2:6 تَب ایلیّاہ نے الِیشعؔ سے فرمایا، ”تُم یہیں ٹھہرو، کیونکہ یَاہوِہ مُجھے یردنؔ کو بھیج رہے ہیں۔“ مگر الِیشعؔ نے کہا، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم اَور آپ کی جان کی قَسم مَیں آپ کو ترک نہیں کروں گا۔“ چنانچہ وہ دونوں آگے چلتے رہے۔
2KI 2:7 نبیوں کی جماعت میں سے پچاس شخص بھی چل دیئے اَور جا کر کچھ فاصلے پر اُن کی طرف رُخ کرکے کھڑے ہو گیٔے، جہاں یردنؔ کے کنارے ایلیّاہ اَور الِیشعؔ کھڑے تھے۔
2KI 2:8 اَور ایلیّاہ نے اَپنی چادر لی اَور اُسے لپیٹ کر پانی پر مارا اَور دریا کا پانی دو حِصّوں میں داہنی اَور بائیں طرف تقسیم ہوکر رُک گیا اَور وہ دونوں خشک زمین پر چل کر پار ہو گئے۔
2KI 2:9 اَور جَب وہ دریا کے پار پہُنچ گیٔے تو ایلیّاہ نے الِیشعؔ سے دریافت کیا، ”اِس سے پیشتر کہ میں تُم سے جُدا ہو جاؤں، مُجھے بتاؤ کہ مَیں تمہارے لیٔے کیا کروں؟“ الِیشعؔ نے اِلتجا کی، ”مُجھے آپ کی رُوح کا دو گُنا حِصّہ مِیراث کے طور پر ملے۔“
2KI 2:10 ایلیّاہ نے کہا، ”تُم نے ایک مُشکل چیز مانگی ہے۔ تو بھی اگر تُم مُجھے خُود سے جُدا ہوتے اَور اُٹھائے جاتے دیکھ لوگے تَب تمہارے لیٔے اَیسا ہی ہوگا ورنہ نہیں۔“
2KI 2:11 اَور جَب وہ باتیں کرتے ہُوئے جا رہے تھے تو اَچانک ایک آتِشی رتھ اَور آتِشی گھوڑے نموُدار ہُوئے اَور اُن دونوں کو ایک دُوسرے سے جُدا کر دیا اَور ایلیّاہ ایک گِردباد میں سوار ہوکر آسمان میں اُٹھا لیٔے گیٔے۔
2KI 2:12 الِیشعؔ یہ ماجرا دیکھ کر چِلّا اُٹھے، ”میرے باپ، میرے باپ! بنی اِسرائیل کے رتھ اَور اُس کے گُھڑسوار!“ اِس کے بعد الِیشعؔ نے ایلیّاہ کو پھر کبھی نہ دیکھا۔ تَب الِیشعؔ نے اَپنے کپڑوں کو پھاڑ کر اُن کے دو حِصّے کر ڈالے۔
2KI 2:13 الِیشعؔ نے اُس چادر کو جو ایلیّاہ کے بَدن سے نیچے گِری تھی، اُٹھالیا اَور پھر واپس لَوٹ کر یردنؔ کے کنارے کھڑا ہُوا۔
2KI 2:14 تَب الِیشعؔ نے اُس چادر کو جو ایلیّاہ کے بَدن سے نیچے گِری تھی لیا اَور اُس سے پانی پر مار کر کہا، ”ایلیّاہ کے یَاہوِہ، خُدا اَب کہاں ہیں؟“ اَور جَب اُس نے پانی پر مارا تو یردنؔ کا پانی دو حِصّوں میں داہنی اَور بائیں طرف تقسیم ہو گیا اَور الِیشعؔ اُس کے پار چلے گیٔے۔
2KI 2:15 اَور یریحوؔ کے نبیوں کی جماعت جو یہ سَب دیکھ رہی تھی، وہ چِلّاکر کہنے لگی، ”ایلیّاہ کی رُوح الِیشعؔ پر ٹھہری ہُوئی ہے،“ اَور وہ الِیشعؔ سے مُلاقات کرنے آئے اَور زمین تک جھُک کر اُن کا اِستِقبال کیا۔
2KI 2:16 نبیوں کی جماعت نے کہا، ”دیکھئے، ہم آپ کے خادِم ہیں، ہمارے پاس پچاس طاقتور جَوان ہیں۔ اُنہیں اِجازت دیں کہ وہ جائیں اَور آپ کے آقا کو تلاش کریں۔ ممکن ہے کہ یَاہوِہ کی رُوح نے اُنہیں اُٹھاکر کسی پہاڑ پر یا کسی وادی میں پہُنچا دیا ہو۔“ الِیشعؔ نے کہا، ”اِس کی کویٔی ضروُرت نہیں ہے اُنہیں مت بھیجو۔“
2KI 2:17 لیکن اُنہُوں نے یہاں تک ضِد کی کہ الِیشعؔ اِنکار نہیں کر سکے۔ چنانچہ اُنہُوں نے کہا، ”اَچھّا، اُنہیں بھیج دو۔“ اَور اُنہُوں نے پچاس طاقتور شخص بھیج دیئے۔ جنہوں نے تین دِن تک ایلیّاہ کو تلاش کیا مگر نہ پایا۔
2KI 2:18 اَور جَب وہ لَوٹ کر الِیشعؔ کے پاس آئے جو یریحوؔ میں ٹھہرے ہویٔے تھے، تَب الِیشعؔ نے اُن سے کہا، ”کیا مَیں نے تُمہیں جانے سے نہیں روکا تھا؟“
2KI 2:19 پھر یریحوؔ شہر کے باشِندوں نے الِیشعؔ سے فریاد کی، ”اَے ہمارے آقا، دیکھئے، یہ شہر واقعی اَچھّی جگہ پر بسا ہے لیکن یہاں کا پانی آلُودہ ہے جِس کے وجہ سے زمین بنجر ہے۔“
2KI 2:20 الِیشعؔ نے فرمایا، ”میرے پاس ایک نئے پیالے میں نمک ڈال کر لاؤ۔“ چنانچہ وہ اُسے اُن کے پاس لے آئے۔
2KI 2:21 پھر الِیشعؔ پانی کے چشمہ کے پاس گیٔے اَور یہ کہتے ہُوئے اُس چشمہ میں نمک ڈال دیا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’مَیں نے اِس پانی کی آلُودگی کو دُرست کر دیا ہے۔ آئندہ یہ کبھی موت یا زمین کے بنجر پن کا باعث نہ ہوگا۔‘ “
2KI 2:22 اِس لیٔے الِیشعؔ کے اُس کلام کے مُطابق اُس چشمہ سے شفّاف پانی آج تک نکل رہاہے۔
2KI 2:23 اِس کے بعد الِیشعؔ وہاں سے بیت ایل کو روانہ ہویٔے۔ اَور جَب وہ اَپنی راہ میں جا رہے تھے تو اُس شہر کے کچھ نوجوان آکر اُن کا مذاق اُڑاتے ہویٔے کہنے لگے، ”اَے گنجے دفع ہو جا یہاں سے، اَے گنجے دفع ہو جا یہاں سے!“
2KI 2:24 تَب الِیشعؔ نے پیچھے مُڑ کر اُن پر نگاہ ڈالی اَور یَاہوِہ کے نام سے اُن پر لعنت بھیجی۔ تَب اُسی وقت جنگل میں سے دو ریچھ نکل کر آئے اَور اُن نوجوانوں میں سے بِیالیس کو زخمی کر دیا۔
2KI 2:25 اَور وہاں سے الِیشعؔ کوہِ کرمِلؔ کو چلے گیٔے اَور پھر سامریہؔ لَوٹ گیٔے۔
2KI 3:1 شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ کے اٹھّارہویں سال میں یہُورامؔ بِن احابؔ سامریہؔ میں اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے بَارہ سال حُکمرانی کی۔
2KI 3:2 اُس نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی حالانکہ وَیسی نہیں جَیسے اُس کے والدین نے کی تھی کیونکہ اُس نے اَپنے باپ کے بنائے ہویٔے بَعل کے مُقدّس سُتونوں کو نِیست و نابود کر دیا تھا۔
2KI 3:3 تاہم وہ یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے اُن گُناہوں میں لپٹا رہا جِن سے یرُبعامؔ نے بنی اِسرائیل سے گُناہ کروایا تھا اَور یہُورامؔ نے اُن گُناہوں سے کنارہ کشی نہ کی۔
2KI 3:4 اَور مُوآب کا بادشاہ میشاؔ بھیڑیں پالتا تھا اَور اُسے شاہِ اِسرائیل کو خراج میں سالانہ ایک لاکھ برّے اَور ایک لاکھ مینڈھوں کی اُون دینی پڑتی تھی۔
2KI 3:5 لیکن احابؔ کی موت کے بعد شاہِ مُوآب نے شاہِ اِسرائیل سے بغاوت کی۔
2KI 3:6 لہٰذا فوراً بادشاہ یہُورامؔ سامریہؔ سے روانہ ہُوا اَور سارے بنی اِسرائیل فَوج کو جمع کیا۔
2KI 3:7 اُس نے شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ کو بھی یہ پیغام بھیجا: ”مُوآب کا بادشاہ مُجھ سے باغی ہو گیا ہے۔ کیا مُوآب سے جنگ کرنے کے لیٔے آپ میری ساتھ چلیں گے؟“ یہوشافاطؔ نے جَواب دیا، ”بے شک مَیں آپ کے ساتھ چلُوں گا کیونکہ مَیں اَور آپ الگ نہیں ہیں، میری فَوج آپ کی فَوج ہے اَور میرے گھوڑے آپ کے گھوڑے ہیں۔“
2KI 3:8 تَب اُس نے دریافت کیا، ”ہم کون سے راستہ سے حملہ کریں گے؟“ یہُورامؔ نے جَواب دیا، ”اِدُوم کے ریگستانی راستہ سے۔“
2KI 3:9 لہٰذا شاہِ اِسرائیل کے ساتھ شاہِ یہُودیؔہ اَور شاہِ اِدُوم بھی شامل ہو گیٔے۔ اَور وہ سات دِن تک چکّر پر چکّر کاٹتے رہے لیکن ریگستان میں نہ تو لشکر کے لیٔے اَور نہ ہی جانوروں کے لیٔے پانی مَوجُود تھا۔
2KI 3:10 تَب شاہِ اِسرائیل چِلّا اُٹھا، افسوس صَد افسوس، کیا یَاہوِہ نے ہم تینوں بادشاہوں کو اِس لیٔے جمع کیا ہے کہ ہمیں مُوآب کے حوالہ کر دیں،
2KI 3:11 لیکن یہوشافاطؔ نے دریافت کیا، ”کیا یہاں یَاہوِہ کا کویٔی نبی نہیں ہے جِس کی مَعرفت سے ہم یَاہوِہ کی مرضی مَعلُوم کر سکیں؟“ تَب شاہِ اِسرائیل کے ایک مُلازم نے جَواب دیا، ”الِیشعؔ بِن شافاطؔ یہیں رہتے ہیں۔ جو ایلیّاہ کے ذاتی خادِم تھے۔“
2KI 3:12 یہوشافاطؔ نے کہا، ”ہاں، یَاہوِہ کا کلام اُن کے پاس نازل ہوتاہے۔“ چنانچہ شاہِ اِسرائیل، یہوشافاطؔ اَور شاہِ اِدُوم تینوں ہی الِیشعؔ سے مُلاقات کرنے چل دیئے۔
2KI 3:13 الِیشعؔ نے شاہِ اِسرائیل کو جَواب دیا، ”میرا تمہارے ساتھ کویٔی واسطہ نہیں ہے، تُم اَپنے والدین کے نبیوں کے پاس جاؤ۔“ بنی اِسرائیل کے بادشاہ نے الِیشعؔ سے کہا، ”اَیسا لگتا ہے کہ خُود یَاہوِہ نے ہم تین بادشاہوں کو اِس لیٔے جمع کیا ہے تاکہ ہمیں مُوآب کے حوالہ کر دیں۔“
2KI 3:14 الِیشعؔ نے فرمایا، ”قادرمُطلق یَاہوِہ کی حیات کی قَسم جِن کی میں خدمت کرتا ہُوں، اگر مُجھے شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ کی مَوجُودگی کا لحاظ نہ ہوتا تو میں نہ تو تمہاری طرف نظر کرتا اَور نہ ہی تمہاری مدد کرتا،
2KI 3:15 لیکن خیر! اَب کسی سارنگی بجانے والے کو میرے پاس لاؤ۔“ اَور جَب سارنگی بجانے والا سارنگی بجا رہاتھا تو یَاہوِہ کی قُوّت الِیشعؔ پر نازل ہویٔی۔
2KI 3:16 اَور الِیشعؔ نے کہا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: میں اِس خشک وادی کو پانی سے بھر دوں گا۔
2KI 3:17 کیونکہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ تُمہیں نہ تو ہَوا آتی دِکھائی دے گی اَور نہ ہی بارش؛ پھر بھی یہ وادی پانی سے بھر جائے گی تُم اَور تمہارے گھوڑے اَور تمہارے سبھی مویشی بھی پانی پیئیں گے۔
2KI 3:18 اَور یہ یَاہوِہ کی نظر میں ایک مَعمولی سِی بات ہے۔ اَور یَاہوِہ مُوآب کی فَوج کو بھی تمہارے حوالہ کر دیں گے۔
2KI 3:19 اِس کے علاوہ تُم ہر فصیلدار شہر اَور ہر بڑے قصبے کو شِکست دوگے اَور اُن کے ہر اَچھّے درخت کو کاٹ ڈالوگے اَور تمام پانی کے چشموں کو بند کر دوگے اَور ہر اَچھّے کھیت کو پتّھروں سے برباد کر دوگے۔“
2KI 3:20 اگلی صُبح قُربانی گزراننے کے وقت یَکایک اِدُوم کی طرف سے پانی بہتا ہُوا آیا اَور تمام زمین پانی سے لبالب ہو گئی۔
2KI 3:21 اَور جَب سَب مُوآبیوں نے سُنا کہ تین بادشاہ اُن سے جنگ کرنے آ چُکے ہیں۔ لہٰذا ہر جَوان یا ضعیف شخص جو ہتھیار باندھنے کے قابل تھا طلب کیا گیا اَور سَب کو سرحد پر مُقرّر کر دیا گیا۔
2KI 3:22 اگلے دِن صُبح کو جَب مُوآبی سو کر اُٹھے تو اُنہیں پانی پر آفتاب کی کرنوں کی چمک کے وجہ سے گویا پانی خُون کی مانند سُرخ دِکھائی دے رہاتھا۔
2KI 3:23 اِس لیٔے اُنہُوں نے ایک دُوسرے سے کہا، یہ تو خُون ہے! لگتا ہے کہ وہ بادشاہ آپَس میں ہی جنگ کرلئے ہیں اَور اُنہُوں نے ایک دُوسرے کو قتل کر دیا ہے۔ لہٰذا اَے مُوآبیوں، اَب لُوٹ کے لیٔے آگے بڑھو!
2KI 3:24 لیکن جَب مُوآبی اِسرائیلیوں کی چھاؤنیوں تک پہُنچے تو اِسرائیلی فَوج اُٹھ کر مُوآبی سے لڑتی رہی یہاں تک کہ وہ بھاگ گئے، اَور اِسرائیلیوں نے اُن کے مُلک پر حملہ کرکے مُوآبیوں کا قتل عام کیا۔
2KI 3:25 اَور اِسرائیلیوں نے قصبوں کو نِیست و نابود کر دیا اَور ہر ایک شخص نے ہر اَچھّے کھیت میں پتّھر پھینک کر اُسے پتّھروں سے بھر دیا۔ اَور تمام پانی کے چشموں کو بند کر دیا اَور ہر اَچھّے درخت کو کاٹ ڈالا۔ اگرچہ صِرف قیرؔ حارسیتھؔ اَور اِس کے پتّھروں کی فصیل باقی رہ گئی تھی لیکن گوفن چلانے والوں نے اُس کا محاصرہ کیا اَور اُس پر بھی حملہ کر دیا۔
2KI 3:26 جَب مُوآب کے بادشاہ نے دیکھا کہ جنگ میں اُس کی فَوج شِکست کھا رہی ہے تو اُس نے سات سَو شمشیر زن مَرد اَپنے ساتھ لیٔے تاکہ وہ صفوں کو چیرتے ہُوئے شاہِ اِدُوم تک پہُنچ جایٔیں۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہُوئے۔
2KI 3:27 تَب اُس نے اَپنے پہلوٹھے بیٹے کو جو اُس کا جانشین بننے والا تھا لیا اَور اُسے شہر کی فصیل پر سوختنی نذر کے طور پر چڑھا دیا۔ اَور بنی اِسرائیل پر قہر شدید نازل ہُوا لہٰذا وہ پیچھے ہٹ گیٔے اَور اَپنے مُلک کو واپس لَوٹ آئے۔
2KI 4:1 نبیوں کی جماعت کے ایک فرد کی بیوی نے الِیشعؔ سے فریاد کی، ”آپ کے خادِم، میرے خَاوند کی وفات ہو چُکی ہے اَور آپ جانتے ہیں کہ وہ یَاہوِہ سے ڈرتے اَور اُن کی تعظیم کرتے تھے۔ لیکن جِس کے وہ قرضدار تھے، اَب وہ قرضدار آیا ہے کہ میرے دونوں بیٹوں کو لے جائے اَور اَپنا غُلام بنا لے۔“
2KI 4:2 الِیشعؔ نے اُس سے دریافت کیا، ”مَیں تمہاری کیا مدد کر سَکتا ہُوں؟ مُجھے بتاؤ کہ تمہارے گھر میں کیا کچھ ہے؟“ اُس عورت نے جَواب دیا، ”آپ کی خادِمہ کے گھر میں ایک مرتبان تیل کے سِوا اَور کچھ نہیں ہے۔“
2KI 4:3 الِیشعؔ نے اُس سے کہا، ”جاؤ اَور اَپنے ہمسایوں سے خالی برتن مانگ لو، لیکن یہ خیال رکھنا کہ وہ تعداد میں تھوڑے نہ ہوں۔
2KI 4:4 پھر تُم اَپنے بیٹوں کو ساتھ لے کر گھر کے اَندر جانا اَور دروازہ بند کر لینا اَور اُن سَب برتنوں میں اَپنے مرتبان سے تیل اُنڈیلنا اَورجو بھر جائے اُسے اُٹھاکر ایک طرف الگ رکھ دینا۔“
2KI 4:5 تَب وہ عورت اُن کے پاس سے چلی گئی اَور اَپنے بیٹوں کے ساتھ اَپنے گھرجاکر اَندر سے دروازہ بند کر لیا۔ اَور اُس کے بیٹے اُس کے پاس برتن لاتے گیٔے اَور وہ اُن میں تیل اُنڈیلتی گئی۔
2KI 4:6 جَب تمام برتن بھر گیٔے، تو اُس نے اَپنے بیٹوں سے کہا، ”میرے پاس ایک اَور برتن لاؤ۔“ لیکن اُس کے بیٹوں نے جَواب دیا، ”اَب اَور کویٔی برتن نہیں ہے۔“ تَب تیل بہنا بندہو گیا۔
2KI 4:7 تَب اُس عورت نے جا کر مَرد خُدا کو خبر دی اَور اُنہُوں نے حُکم دیا، ”جاؤ، یہ تیل بیچ کر اَپنا قرض اَدا کر دو۔ اَورجو تیل باقی بچ جایٔے، اُس سے تُم اَور تمہارے بیٹے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔“
2KI 4:8 اَور ایک روز الِیشعؔ شُونیمؔ کو گیٔے۔ وہاں ایک دولتمند عورت رہتی تھی جِس نے الِیشعؔ کو اَپنے گھر کھانا کھانے کی دعوت دی۔ لہٰذا جَب کبھی وہ اُدھر سے گزرتے تھے تو وہیں رُک کر کھانا کھاتے تھے۔
2KI 4:9 اُس عورت نے اَپنے خَاوند سے کہا، ”مُجھے یہ پُورا یقین ہے کہ یہ شخص جو اکثر اِسی راستہ سے آتے جاتے ہیں وہ ایک مُقدّس مَرد خُدا ہیں۔
2KI 4:10 کیوں نہ ہم اُن کے لیٔے چھت پر ایک چھوٹا سا کمرہ بنا دیں اَور اُس میں ایک پلنگ، ایک میز، ایک کُرسی اَور ایک چراغ رکھ دیں۔ تَب جَب کبھی وہ ہمارے پاس آئیں تو وہاں ٹھہر سکیں۔“
2KI 4:11 پھر ایک دِن جَب الِیشعؔ وہاں تشریف لایٔے تو اُوپر گیٔے اَور اُس کمرہ میں آرام کیا۔
2KI 4:12 اَور الِیشعؔ نے اَپنے خادِم گیحازیؔ سے فرمایا، ”اُس شُونمیت عورت کو بُلا لاؤ۔“ گیحازیؔ نے اُسے بُلایا اَور وہ آکر اُن کے سامنے کھڑی ہوئی۔
2KI 4:13 الِیشعؔ نے گیحازیؔ سے فرمایا، ”تُم اُس سے کہو، ’تُم نے ہمارے لیٔے اِس قدر جو تکلیف اُٹھائی ہے، اِس کے لیٔے ہم شُکرگزار ہیں؛ تو اَب ہم تمہارے لیٔے کیا کر سکتے ہیں، کیا ہم بادشاہ سے یا فَوج کے سپہ سالار سے کسی مسئلہ میں تمہاری سِفارش کریں؟‘ “ اُس عورت نے جَواب دیا، ”نہیں، میں تو اَپنے ہی لوگوں کے درمیان رہتی ہُوں۔“
2KI 4:14 تَب الِیشعؔ نے گیحازیؔ سے دریافت کیا، ”اِس عورت کے لیٔے کیا کیا جا سکتا ہے،“ گیحازیؔ نے جَواب دیا، ”حقیقت تو یہ ہے کہ یہ عورت بے اَولاد ہے اَور اُس کا خَاوند بھی بُوڑھا ہو چُکاہے۔“
2KI 4:15 الِیشعؔ نے کہا، ”اُسے یہاں بُلاؤ۔“ لہٰذا اُس نے اُسے بُلایا اَور وہ آکر دروازہ پر کھڑی ہو گئی۔
2KI 4:16 الِیشعؔ نے اُس سے کہا، ”اگلے سال اِسی موسم بہار میں اِسی وقت تمہاری گود میں ایک بیٹا ہوگا۔“ عورت بولی، ”نہیں، میرے آقا، اَے مَرد خُدا، اَپنی خادِمہ کو جھُوٹی تسلّی نہ دیں۔“
2KI 4:17 مگر وہ عورت حاملہ ہُوئی اَور اگلے سال اُسی موسم بہار میں، عَین وقت پر اُس نے ایک بیٹے کو پیدا کیا، جَیسا الِیشعؔ نے اُس سے فرمایا تھا۔
2KI 4:18 جَب وہ لڑکا بڑا ہُوا تو ایک دِن وہ نِکلا اَور اَپنے باپ کے پاس کھیت کی کٹائی کرنے والوں کے درمیان چلا گیا۔
2KI 4:19 یَکایک اُس نے اَپنے باپ سے شکایت کی، ”ہائے میرا سَر، میرا سَر!“ اُس کے باپ نے اَپنے ایک خادِم سے کہا، ”اُسے اُٹھاکر اُس کی ماں کے پاس لے جاؤ۔“
2KI 4:20 اَور جَب خادِم اُسے اُٹھاکر اُس کی ماں کے پاس لے گئے تو دوپہر تک وہ لڑکا اَپنی ماں کی گود میں بیٹھا رہا اَور پھر مَر گیا۔
2KI 4:21 وہ اُوپر گئی اَور اُسے مَرد خُدا کے پلنگ پر لِٹا دیا اَور خُود دروازہ بند کرکے باہر نکل گئی۔
2KI 4:22 اُس نے اَپنے خَاوند کو بُلایا اَور کہا، ”مہربانی سے ایک نوکر اَور ایک گدھا میرے پاس بھیج دو تاکہ میں فوراً مَرد خُدا کے پاس جا سکوں اَور واپس آ سکوں۔“
2KI 4:23 اُس نے دریافت کیا، ”تُم آج ہی اُن کے پاس کیوں جانا چاہتی ہو، آج نہ تو نئے چاند کا دِن ہے اَور نہ ہی سَبت۔“ اُس نے جَواب دیا، ”سَب کچھ ٹھیک ہے۔“
2KI 4:24 اَور اُس نے گدھے پر زین کس کر اَپنے خادِم کو حُکم دیا، ”گدھے کو تیز ہانکو، اَور جَب تک میں نہ کہُوں سواری کی رفتار دھیمی نہ ہونے پایٔے۔“
2KI 4:25 چنانچہ وہ روانہ ہُوئی اَور کوہِ کرمِلؔ پر مَرد خُدا کے نزدیک پہُنچی۔ جَب مَرد خُدا نے اُسے دُور سے اَپنی طرف آتے دیکھا تو، اُنہُوں نے اَپنے خادِم گیحازیؔ سے کہا، ”دیکھو، وہ شُونمیت ہے!
2KI 4:26 فوراً اُس سے مُلاقات کرنے کے لیٔے دَوڑو اَور اُس سے دریافت کرو، ’کیا سَب خیریت ہے، کیا تمہارا شوہر خیریت سے ہے، اَور کیا تمہارا بیٹا خیریت سے ہے؟‘ “ اُس عورت نے جَواب دیا، ”سَب خیریت ہے۔“
2KI 4:27 تَب جُوں ہی وہ پہاڑ پر مَرد خُدا کے پاس پہُنچی تو اُس نے اُن کے پاؤں پکڑ لیٔے۔ جَب گیحازیؔ اُسے ہٹانے کے لیٔے آگے بڑھا، تَب مَرد خُدا نے اُس سے فرمایا، ”اِسے چھوڑ دو! کیونکہ وہ بہت غمگین ہے، مگر یَاہوِہ نے یہ بات مُجھ سے غیب ہی رکھی اَور مُجھ پر ظاہر نہیں کی۔“
2KI 4:28 تَب وہ عورت کہنے لگی، ”میرے آقا! کیا مَیں نے آپ سے بیٹے کی مِنّت کی تھی، کیا مَیں نے پہلے آپ سے نہیں کہاتھا، ’میری اُمّید کو نہ بڑھائیں؟‘ “
2KI 4:29 تَب الِیشعؔ نے گیحازیؔ کو حُکم دیا، ”اَپنی کمر کس لے اَور میرا عصا ہاتھ میں لے کر دَوڑتے ہویٔے جاؤ۔ اگر کویٔی تُمہیں راستہ میں ملے تو اُس سے حال چال جاننے کے لیٔے جَواب نہ دینا اَور اگر کویٔی تُمہیں سلام کرے تو جَواب نہ دینا۔ تُم فوراً جا کر میرا عصا اُس لڑکے کے چہرے پر رکھ دینا۔“
2KI 4:30 لیکن لڑکے کی ماں نے الِیشعؔ سے کہا، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم اَور آپ کے جان کی قَسم، مَیں آپ کے بغیر گھر واپس نہیں جاؤں گی۔“ تَب الِیشعؔ اُٹھ کر اُس عورت کے ساتھ روانہ ہویٔے۔
2KI 4:31 اَور گیحازیؔ نے اُن سے پہلے پہُنچ کر اُس لڑکے کے مُنہ پر عصا کو رکھ دیا، مگر وہاں نہ تو کویٔی آواز سُنایٔی دی اَور نہ ہی لڑکے کے اَندر زندہ ہونے کی کویٔی نِشانی دِکھائی دی۔ لہٰذا گیحازیؔ نے واپس لَوٹ کر الِیشعؔ کو خبر دی، ”لڑکا زندہ نہیں ہُوا۔“
2KI 4:32 جَب الِیشعؔ اُس گھر میں داخل ہویٔے تو لڑکا اُس پلنگ پر مُردہ پڑا ہُوا تھا۔
2KI 4:33 تَب الِیشعؔ دونوں کو باہر چھوڑکر اکیلے اَندر گیٔے اَور دروازہ بند کرکے یَاہوِہ سے دعا کی۔
2KI 4:34 پھر وہ پلنگ پر چڑھ کر لڑکے پر لیٹ گیٔے اَور اُس کے مُنہ پر اَپنا مُنہ اَور اُس کی آنکھوں پر اَپنی آنکھیں اَور اُس کے ہاتھوں پر اَپنے ہاتھ رکھ دئیے۔ اَور جَب وہ اُس لڑکے کے اُوپر لیٹ گیٔے، تَب لڑکے کا جِسم گرم ہونے لگا۔
2KI 4:35 پھر الِیشعؔ اُٹھے اَور کمرہ کے اَندر ٹہلنے لگے پھر دوبارہ پلنگ پر چڑھ کر اُس لڑکے کے اُوپر لیٹ گیٔے۔ تَب اُس لڑکے نے سات بار چھینکا اَور اَپنی آنکھیں کھول دیں۔
2KI 4:36 الِیشعؔ نے گیحازیؔ کو بُلاکر حُکم دیا، ”اُس شُونمیت عورت کو بُلاؤ۔“ تَب گیحازیؔ نے اُسے بُلایا اَور جَب وہ کمرے کے اَندر آئی تو الِیشعؔ نے اُس عورت سے کہا، ”اَپنے بیٹے کو اُٹھالو۔“
2KI 4:37 وہ اَندر آئی اَور الِیشعؔ کے قدموں پر گِر کر سَجدہ کیا۔ اَور پھر اَپنے بیٹے کو اُٹھاکر باہر چلی گئی۔
2KI 4:38 پھر الِیشعؔ دوبارہ گِلگالؔ کو لَوٹ آئے اَور اُس وقت مُلک میں قحط تھا۔ ایک دِن جَب نبیوں کی جماعت الِیشعؔ کے سامنے بیٹھی ہویٔی تھی تو اُنہُوں نے اَپنے خادِم کو حُکم دیا، ”ایک بڑی دیگ میں نبیوں کی جماعت کے لیٔے کھانا پکاؤ۔“
2KI 4:39 اَور اُن میں سے ایک خادِم کچھ ساگ پات جمع کرنے کے لیٔے باہر کھیتوں میں گیا اَور اُسے ایک جنگلی بیل مِلی، جِس میں سے اُس نے بھاری تعداد میں جنگلی لَوکی توڑ کر اَپنا دامن بھر لیا اَور جَب وہ واپس آیا تو اُنہیں کاٹ کر دیگ میں ڈال دیا۔ اَور کسی کو بھی مَعلُوم نہ تھا کہ وہ کیا چیز ہے۔
2KI 4:40 اَور جَب وہ ترکاری اُن آدمیوں میں بانٹی گئی اَور جُوں ہی اُنہُوں نے کھانا شروع کیا تو وہ چِلّا اُٹھے، ”اَے مَرد خُدا، اِس دیگ میں زہر ہے۔“ چنانچہ وہ اُسے کھا نہ سکے۔
2KI 4:41 تَب الِیشعؔ نے حُکم دیا، ”تھوڑا آٹا لاؤ،“ اَور اُنہُوں نے اُس آٹے کو دیگ میں ڈال کر فرمایا، ”اَب اِسے کھانے کے لیٔے لوگوں میں بانٹ دو۔“ کیونکہ اَب دیگ کا کھانا کھانے لائق ہو چُکاہے۔
2KI 4:42 اَور بَعل شالِیشاہؔ سے ایک شخص فصل کی پہلی پیداوار جَو کی بیس روٹیاں اَور بورے میں نئے اناج کی کچھ بالیں لاکر مَرد خُدا کو دی۔ الِیشعؔ نے فرمایا، ”یہ سَب نبیوں کی جماعت میں کھانے کے لیٔے بانٹ دو۔“
2KI 4:43 اُن کے خادِم نے دریافت کیا، ”اِتنا کم کھانا میں سَو آدمیوں کے سامنے کیسے رکھ سَکتا ہُوں؟“ لیکن الِیشعؔ نے جَواب دیا، ”کھانے کے لیٔے اِسے نبیوں کی جماعت میں بانٹ دو کیونکہ یَاہوِہ کا یہ فرمان ہے: ’اُن کے کھانے کے بعد بھی کچھ باقی بچ جایٔےگا۔‘ “
2KI 4:44 تَب خادِم نے اُن کے سامنے کھانا رکھ دیا۔ اَور یَاہوِہ کے کلام کے مُطابق اُن کے کھانے کے بعد بھی کچھ کھانا باقی بچ گیا۔
2KI 5:1 اَور نَعمانؔ ارام کے بادشاہ کی فَوج کا سپہ سالار تھا۔ وہ اَپنے آقا کی نظر میں مُعزّز اَور بڑا محترم شخص تھا کیونکہ اُس کے وسیلہ سے یَاہوِہ نے ارام کو فتح بخشی تھی۔ اگرچہ وہ ایک سُورما فَوجی تھا مگر وہ کوڑھ کی بیماری میں مُبتلا تھا۔
2KI 5:2 ایک دفعہ اَیسا ہُوا کہ مال غنیمت لُوٹنے والے ارام کا فَوجی دستہ بنی اِسرائیل کی ایک چُھوٹی لڑکی کو اسیر کرکے اَپنے ساتھ لے آیا اَور یہ لڑکی نَعمانؔ کی بیوی کے گھر میں بطور خادِمہ کام کرتی تھی۔
2KI 5:3 اُس لڑکی نے اَپنی مالکن سے کہا، ”کاش میرے آقا سامریہؔ کے نبی سے مُلاقات کرتے تو وہ آقا کو کوڑھ کی بیماری سے شفا بخش دیتے۔“
2KI 5:4 اَور نَعمانؔ اَپنے آقا شاہِ ارام کے پاس گیا اَورجو کچھ بنی اِسرائیل کی لڑکی نے بَیان کیا تھا اُنہیں اِطّلاع دی۔
2KI 5:5 تَب شاہِ ارام نے نَعمانؔ سے فرمایا، ”تُم ابھی اِسی وقت وہاں چلے جاؤ، اَور مَیں شاہِ اِسرائیل کو ایک سفارشی خط بھی تمہارے ہاتھ بھیجوں گا۔“ لہٰذا نَعمانؔ اَپنے ساتھ تقریباً تین سَو چالیس کِلو چاندی، اُنہتّر کِلو سونا اَور دس جوڑے قیمتی کپڑے لے کر روانہ ہُوا
2KI 5:6 اَور نَعمانؔ جِس خط کو شاہِ اِسرائیل کے پاس لے کر روانہ ہُوا تھا اُس کا مضمون یہ تھا: ”میں اَپنے خادِم نَعمانؔ کو تمہارے پاس بھیج رہا ہُوں تاکہ تُم اُسے اُس کی کوڑھ کی بیماری سے شفا بخش دو۔“
2KI 5:7 جَب شاہِ اِسرائیل نے اُس خط کو پڑھا تو اَپنے کپڑے پھاڑتے ہویٔے مایوسی میں کہا، ”کیا میں خُدا ہُوں، کیا میں کسی کو مار کر پھر دوبارہ زندہ کر سَکتا ہُوں، جو اِس شخص نے میرے پاس کسی کوڑھی کو شفا بخشنے کے لیٔے میرے پاس بھیجا ہے، ذرا غور تو کرو کہ یہ شخص کس طرح سے مُجھ سے جھگڑا کرنے کا بہانہ تلاش رہاہے!“
2KI 5:8 مگر جَب مَرد خُدا الِیشعؔ نے سُنا کہ شاہِ اِسرائیل نے اَپنے کپڑے پھاڑ ڈالے تو، اُنہُوں نے بادشاہ کو پیغام بھیجا: ”آپ نے اَپنے کپڑے کیوں پھاڑے، آپ اُس شخص کو میرے پاس بھیج دیں تاکہ اُسے مَعلُوم ہو جایٔے کہ بنی اِسرائیل میں ایک نبی ہے۔“
2KI 5:9 لہٰذا نَعمانؔ اَپنے گھوڑوں اَور رتھوں کے ساتھ روانہ ہُوا اَور الِیشعؔ کے گھر کے دروازہ پر جا کر اِنتظار کرنے لگا۔
2KI 5:10 اَور الِیشعؔ نے اُسے ایک قاصِد کی مَعرفت پیغام بھیجا، ”جاؤ، اَور سات بار دریائے یردنؔ میں غُسل کرو تَب تمہارا جِسم پہلے کی مانند شفایاب ہو جائے گا اَور تُم کوڑھ کی بیماری سے پاک صَاف ہو جاؤگے۔“
2KI 5:11 لیکن یہ سُن کر نَعمانؔ کافی ناراض ہوکر وہاں سے چلا گیا اَور بُڑبُڑانے لگا، ”مَیں نے سوچا تھا کہ نبی ضروُر باہر نکل کر میرے پاس آئیں گے اَور کھڑے ہوکر یَاہوِہ اَپنے خُدا سے دعا کریں گے اَور میرے کوڑھ کے داغ پر اَپنا ہاتھ پھیر کر مُجھے کوڑھ سے شفا بخشیں گے۔
2KI 5:12 کیا دَمشق کے دریا امانہؔ اَور فارپرؔ بنی اِسرائیل کے سَب دریاؤں سے بہتر نہیں ہیں، کیا میں اُن میں غُسل کرکے پاک صَاف نہیں ہو سَکتا تھا؟“ چنانچہ نَعمانؔ مُڑا اَور بڑے غُصّہ میں وہاں سے لَوٹ گیا۔
2KI 5:13 تَب نَعمانؔ کے خادِم اُس کے پاس آئے اَور کہنے لگے، ”اَبّا جان، اگر اُس نبی نے آپ کو کویٔی بڑا کام کرنے کے لیٔے کہا ہوتا تو کیا آپ اُسے نہ کرتے، چنانچہ جَب نبی نے آپ سے فرمایا، ’غُسل کرکے پاک صَاف ہو جاؤ، تو آپ کو اُن کے حُکم کی تعمیل ضروُر کرنی چاہئے!‘ “
2KI 5:14 چنانچہ نَعمانؔ نے اُتر کر مَرد خُدا کے حُکم کے مُطابق دریائے یردنؔ میں سات دفعہ غوطے لگائے تَب اُس کا جِسم پہلے کی مانند شفایاب ہو گیا اَور اُس کی جلد ایک چُھوٹے لڑکے کے جِسم کی مانند پاک ہو گئی اَور اُسے کوڑھ کی بیماری سے شفا مِل گئی۔
2KI 5:15 تَب نَعمانؔ اَپنے تمام دستے کے ساتھ مَرد خُدا کے پاس واپس گیا۔ اَور نَعمانؔ الِیشعؔ کے سامنے کھڑے ہوکر اُن سے مُخاطِب ہُوا، ”اَب مَیں واقعی جان گیا ہُوں کہ بنی اِسرائیل کے خُدا کے سِوا تمام رُوئے زمین پر کہیں اَور کویٔی دُوسرا خُدا نہیں ہے۔ اِس لیٔے اَب کرم فرما کر اَپنے خادِم کا یہ ہدیہ قبُول فرمائیں۔“
2KI 5:16 لیکن الِیشعؔ نے جَواب دیا، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم جِس کی میں خدمت کرتا ہُوں، میں کچھ بھی قبُول نہیں کروں گا۔“ اگرچہ نَعمانؔ نے بہت اِصرار کیا لیکن الِیشعؔ اُس کی درخواست کو نامنظور ہی کرتے رہے۔
2KI 5:17 تَب آخِر میں نَعمانؔ نے اِلتجا کی، ”مَیں آپ سے مِنّت کرتا ہُوں کہ مہربانی کرکے اَپنے خادِم کو یہاں سے جِتنی مٹّی دو خچّر لے جا سکتے ہیں مُجھے لے جانے دیجئے کیونکہ آپ کا یہ خادِم پھر کبھی یَاہوِہ کے سِوا کسی غَیر معبُود کے آگے نہ تو سوختنی نذر گزرانے گا اَور نہ ہی اُنہیں کویٔی قُربانی پیش کرےگا۔
2KI 5:18 لیکن اِس مسئلہ میں یَاہوِہ آپ کے خادِم نَعمانؔ کو مُعاف کریں، جَب میرا آقا پرستش کے لیٔے رِمّونؔ کے مَندِر میں جائے اَور میرے بازو کا سہارا لے کر جھُکے اَور مُجھے بھی رِمّونؔ کے مَندِر میں جھُکنا پڑے، تو یَاہوِہ اِس بات کے لیٔے آپ کے خادِم کو مُعاف کریں۔“
2KI 5:19 الِیشعؔ نے نَعمانؔ سے کہا، ”جاؤ، سلامتی سے رخصت ہو۔“ اَور جَب نَعمانؔ رخصت ہوکر تھوڑی دُور نکل گیا تھا
2KI 5:20 تَب مَرد خُدا الِیشعؔ کے خادِم گیحازیؔ نے اَپنے دِل میں کہا، ”میرے آقا نے تو اُس ارامی نَعمانؔ کو یُوں ہی چھوڑ دیا اَورجو کچھ وہ دینے کے لیٔے لایاتھا اُسے قبُول نہ کیا۔ یَاہوِہ کی حیات کی قَسم میں دَوڑکر اُس کے پیچھے جاؤں گا اَور اُس سے کچھ نہ کچھ تو لے ہی لُوں گا۔“
2KI 5:21 لہٰذا گیحازیؔ جلدی سے نَعمانؔ کے پیچھے دَوڑا۔ جَب نَعمانؔ نے اُسے دَوڑتے ہُوئے اَپنی طرف آتے دیکھا تو وہ اُس سے مُلاقات کے لیٔے رتھ سے اُترا اَور اُس نے دریافت کیا، ”کیا سَب کچھ ٹھیک ہے؟“
2KI 5:22 گیحازیؔ نے جَواب دیا، ”سَب کچھ ٹھیک ہے۔ میرے آقا نے آپ سے یہ درخواست کرنے بھیجا ہے، ’اِفرائیمؔ کے پہاڑی مُلک سے نبیوں کی جماعت سے دو نوجوان ابھی ابھی میرے پاس آئے ہیں۔ اِس لیٔے مہربانی سے اُنہیں تحفہ میں دینے کے لیٔے مُجھے چونتیس کِلو چاندی اَور دو جوڑے کپڑے مُہیّا کر دیں۔‘ “
2KI 5:23 نَعمانؔ نے جَواب دیا، ضروُر، ”ایک تالنت ہی کیوں، خُوشی سے دو تالنت لے جاؤ۔“ اَور نَعمانؔ نے گیحازیؔ کو مجبُور کیا کہ وہ اُس تحفہ کو قبُول فرمایٔے۔ پھر نَعمانؔ نے دو تالنت چاندی اَور دو جوڑے کپڑوں کو دو بوروں میں باندھا اَور اَپنے دو خادِموں کے سُپرد کیا جنہیں اُٹھاکر وہ گیحازیؔ کے آگے آگے چلے۔
2KI 5:24 جَب گیحازیؔ پہاڑی پر پہُنچا تو اُس نے اُن خادِموں سے وہ چیزیں لے لیں اَور اُنہیں گھر میں رکھ دیا اَور اُن آدمیوں کو رخصت کر دیا، اَور وہ چلے گیٔے۔
2KI 5:25 پھر گیحازیؔ اَندر جا کر اَپنے آقا الِیشعؔ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ الِیشعؔ نے اُس سے دریافت کیا، ”گیحازیؔ تُم کہاں گیٔے تھے؟“ گیحازیؔ نے جَواب دیا، ”آپ کا خادِم تو کہیں بھی نہیں گیا تھا۔“
2KI 5:26 لیکن الِیشعؔ نے اُس سے کہا، ”جَب وہ شخص تُم سے مُلاقات کے لیٔے اَپنے رتھ سے نیچے اُترا تھا، تو کیا میری رُوح وہاں مَوجُود نہ تھی، کیا یہ چاندی، کپڑے، زَیتُون کے باغ، انگور کے باغ، بھیڑ، بکریوں، مویشیوں، خادِموں اَور خادِماؤں کے لینے کا مُناسب وقت ہے؟
2KI 5:27 اِس لیٔے تُم اَور تمہاری نَسل نَعمانؔ کے کوڑھ سے ہمیشہ مُبتلا رہے گی۔“ چنانچہ گیحازیؔ الِیشعؔ کے حُضُور گویا برف کی مانند سفید کوڑھی ہوکر باہر چلا گیا۔
2KI 6:1 نبیوں کی جماعت نے الِیشعؔ سے درخواست کی، ”دیکھئے یہ جگہ جہاں ہم آپ کی رہنمائی میں رہتے ہیں، بہت تنگ ہے۔
2KI 6:2 لہٰذا ہمیں دریائے یردنؔ کے کنارے جانے کی اِجازت دیں۔ وہاں سے ہم میں سے ہر ایک اَپنے لیٔے ایک ایک بَلّیاں کاٹے تاکہ وہیں ہم اَپنے رہنے کے لیٔے گھر بنائیں۔“ تَب الِیشعؔ نے اِجازت دی، ”جاؤ۔“
2KI 6:3 تَب اُن میں سے ایک نے کہا، ”مہربانی کرکے آپ بھی اَپنے خادِموں کے ساتھ چلیں۔“ الِیشعؔ نے جَواب دیا، ”بہت خُوب، میں چلُوں گا۔“
2KI 6:4 چنانچہ الِیشعؔ اُن کے ساتھ روانہ ہویٔے۔ اَور وہ یردنؔ کے کنارے پہُنچے اَور درخت کاٹنے لگے۔
2KI 6:5 اَور جَب اُن میں سے ایک شخص درخت کاٹ رہاتھا تو کُلہاڑی کا لوہا بینٹ سے نکل کر پانی میں گِر پڑا۔ تَب وہ شخص چِلّاکر کہنے لگا، ”اَے میرے آقا، یہ تو میں کسی سے اُدھار لایاتھا!“
2KI 6:6 مَرد خُدا نے دریافت کیا، ”وہ کہاں گِری تھی؟“ جَب اُس نے وہ جگہ دِکھائی تو الِیشعؔ نے ایک لکڑی کاٹ کر وہاں پھینک دی جِس سے لوہا پانی پر تیرنے لگا۔
2KI 6:7 تَب الِیشعؔ نے کہا، ”اُسے اُٹھالے۔“ تَب اُس شخص نے اَپنا ہاتھ بڑھا کر کُلہاڑی کو اُٹھالیا۔
2KI 6:8 جَب شاہِ ارام بنی اِسرائیل سے جنگ میں مصروف تھا۔ اَور اُس نے اَپنے افسران کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا، ”میں فُلاں فُلاں جگہ اَپنی قائِم کروں گا۔“
2KI 6:9 مَرد خُدا نے شاہِ اِسرائیل کو پیغام بھیجا: ”ہوشیار رہنا، فُلاں جگہ سے مت گزرنا کیونکہ ارامی پہلے ہی وہاں پہُنچ چُکے ہیں۔“
2KI 6:10 لہٰذا شاہِ اِسرائیل مَرد خُدا کی بتایٔی ہُوئی جگہ پر جانے سے باز رہتا تھا۔ اِس طرح الِیشعؔ نے بادشاہ کو کیٔی بار خبردار کیا اَور وہ اَیسی جگہوں پر جانے سے باز رہا۔
2KI 6:11 چنانچہ شاہِ ارام اِس واقعہ سے بہت غُصّہ سے بھر گیا۔ اُس نے اَپنے تمام افسران کو بُلایا اَور اُن سے سوال کیا، ”کیا تُم لوگ مُجھے خبر نہیں دوگے! ہم میں سے کون شاہِ اِسرائیل کی طرف ہے؟“
2KI 6:12 اُس کے ایک افسر نے جَواب دیا، ”میرے مالک بادشاہ! ہم میں سے تو کویٔی بھی نہیں ہے لیکن الِیشعؔ نبی جو بنی اِسرائیل میں ہے، وہ شاہِ اِسرائیل کو آپ کی اُن باتوں کی بھی خبر دیتاہے جو آپ اَپنی خواب گاہ میں فرماتے ہیں۔“
2KI 6:13 تَب بادشاہ نے حُکم دیا، ”جاؤ اَور مَعلُوم کرو کہ وہ نبی کہاں ہے تاکہ میں اَپنی فَوج بھیج کر اُسے گِرفتار کر سکوں۔“ لیکن خبر مِلی کہ، ”وہ دُتانؔ میں ہے۔“
2KI 6:14 تَب اُس نے گھوڑوں اَور رتھوں کا ایک زبردست فَوجی دستہ وہاں روانہ کیا۔ اُنہُوں نے آکر راتوں رات شہر کا محاصرہ کر لیا۔
2KI 6:15 جَب اگلی صُبح مَرد خُدا کا خادِم اُٹھ کر باہر گیا تو دیکھا کہ ایک فَوج اَپنے گھوڑوں اَور رتھوں کے ساتھ شہر کا محاصرہ کیٔے ہُوئے ہے۔ تَب وہ خادِم آکر کہنے لگا، ”اَے میرے مالک، اَب ہم کیا کریں؟“
2KI 6:16 الِیشعؔ نے جَواب دیا، ”خوف نہ کرو کیونکہ وہ جو ہمارے ساتھ ہیں تعداد میں اُن سے زِیادہ ہیں جو اُن کے ساتھ ہیں۔“
2KI 6:17 تَب الِیشعؔ نے دعا کی، ”اَے یَاہوِہ! میرے خادِم کی آنکھیں کھول دیجئے تاکہ وہ دیکھ سکے۔“ تَب یَاہوِہ نے اُس نوجوان خادِم کی آنکھیں کھولیں اَور اُس نے دیکھا کہ الِیشعؔ کے اِردگرد کی پہاڑیاں آتِشی گھوڑوں اَور رتھوں سے بھری پڑی ہیں۔
2KI 6:18 اَور جَب ارامی فَوج الِیشعؔ کو گِرفتار کرنے آگے بڑھی، تَب الِیشعؔ نے یَاہوِہ سے دعا کی، ”اَے خُدا اِس فَوج کو اَندھا کر دیں۔“ چنانچہ یَاہوِہ نے اُنہیں اَندھا کر دیا۔
2KI 6:19 پھر الِیشعؔ نے اُس فَوج سے کہا، ”یہ وہ راستہ نہیں اَور نہ ہی وہ شہر ہے۔ میرے پیچھے آؤ۔ مَیں تُمہیں اُس شخص کے پاس لے جاؤں گا جِس کی تُم تلاش کر رہے ہو۔“ اَور الِیشعؔ اُنہیں سامریہؔ کو لے گیٔے۔
2KI 6:20 اَور جَب وہ شہر میں داخل ہُوئے تو الِیشعؔ نے دعا کی، ”اَے یَاہوِہ اِن آدمیوں کی آنکھیں کھول دیں تاکہ یہ دیکھ سکیں۔“ تَب یَاہوِہ نے اُن کی آنکھیں کھول دیں اَور اُنہُوں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ سامریہؔ شہر کے اَندر ہیں۔
2KI 6:21 جَب شاہِ اِسرائیل نے اُنہیں دیکھا تو اُس نے الِیشعؔ سے دریافت کیا، ”اَے میرے باپ، کیا میں اِنہیں قتل کروں، حُکم دیجئے، کیا میں اِنہیں قتل کر دُوں؟“
2KI 6:22 الِیشعؔ نے جَواب دیا، ”نہیں، اُنہیں قتل مت کرو۔ کیا تُم اُن جنگی قَیدیوں کو تلوار یا کمان سے قتل کروگے جنہیں کسی دُوسرے شخص نے قَید کیا ہے۔ اُن کے آگے کھانا اَور پانی رکھو، تاکہ وہ کھایٔیں پیئیں اَور پھر اَپنے آقا کے پاس واپس چلے جایٔیں۔“
2KI 6:23 لہٰذا شاہِ اِسرائیل نے اُن کے لیٔے ایک بڑی ضیافت کی اَور جَب وہ کھا پی چُکے تو اُس نے اُنہیں رخصت کیا اَور وہ اَپنے آقا کے پاس لَوٹ گیٔے۔ اِس واقعہ کے بعد ارامی حملہ آوروں نے اِسرائیلی علاقہ پر اَپنے حملے بند کر دئیے۔
2KI 6:24 کچھ عرصہ بعد بِن ہددؔ شاہِ ارام نے اَپنی تمام فَوج جمع کرکے سامریہؔ پر حملہ کر دیا اَور شہر کا محاصرہ کر لیا۔
2KI 6:25 اَور سامریہؔ شہر میں اِس وقت بڑا قحط پھیل گیا۔ دشمن کی فَوج نے محاصرہ جاری رکھا اَور شہر کے حالات اَیسے ہو گیٔے تھے کہ گدھے کا سَر چاندی کے اسّی ثاقل میں اَور ایک چوتھائی کبُوتر کی بیٹ یعنی بیج کی پھلیاں چاندی کے پانچ ثاقل میں فروخت ہونے لگے۔
2KI 6:26 اَور جَب ایک دِن شاہِ اِسرائیل فصیل پر چہل قدمی کر رہے تھے تو ایک عورت نے اُن سے فریاد کی، ”اَے میرے مالک بادشاہ! میری مدد کیجئے!“
2KI 6:27 بادشاہ نے جَواب دیا، ”اگر یَاہوِہ ہی تمہاری مدد نہ کریں تو مَیں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہُوں، میرے پاس نہ تو کھلیان سے کھانا اَور نہ ہی مے کے حوض سے انگوری شِیرہ دینے کو ہے؟“
2KI 6:28 بادشاہ نے اُس عورت سے دریافت کیا، ”تُمہیں کیا تکلیف ہے؟“ اُس عورت نے جَواب دیا، ”اِس عورت نے مُجھ سے اقرار کیا تھا، ’اَپنا بیٹا دو تاکہ آج ہم اُسے کھایٔیں، اَور مَیں اَپنے بیٹے کو کل تُمہیں دوں گی تاکہ اُسے ہم کھایٔیں۔‘
2KI 6:29 تَب مَیں نے اَپنے بیٹے کو دیا اَور ہم نے اُسے پکا کر کھایا، اَور دُوسرے دِن مَیں نے اُس سے کہا، ’اَپنا بیٹا دے تاکہ ہم اُسے کھایٔیں،‘ مگر اُس نے اَپنا بیٹا کہیں چھُپا دیا ہے۔“
2KI 6:30 جَب بادشاہ نے اُس عورت کی باتیں سُنیں تو اَپنے کپڑے پھاڑے اَور جَب وہ فصیل پر چہل قدمی کر رہاتھا تو لوگوں نے دیکھا کہ اُن کے جِسم پر ٹاٹ ہے جو اُنہُوں نے کپڑوں کے نیچے پہنا ہُوا تھا۔
2KI 6:31 بادشاہ نے فرمایا، ”اگر آج شافاطؔ کے بیٹے الِیشعؔ کا سَر اُس کے کندھوں پر رہ جائے تو خُدا مُجھ سے اَیسا بَلکہ اِس سے بھی بدتر سلُوک کرے!“
2KI 6:32 اَور الِیشعؔ اَپنے گھر میں بیٹھے ہویٔے تھے اَور اُن کے ساتھ شہر کے بُزرگ بھی بیٹھے ہُوئے تھے۔ چنانچہ بادشاہ نے اُسی وقت ایک قاصِد کو الِیشعؔ کے پاس بھیجا، مگر قاصِد کے آنے سے پہلے، الِیشعؔ نے بُزرگوں سے کہا، ”دیکھو، اِس خُونی نے میرا سَر قلم کرنے کے لیٔے ایک قاصِد بھیجا ہے۔ دیکھو جَب وہ قاصِد آئے تو دروازہ اَندر سے مضبُوطی سے بند کردینا اَور اُسے ہرگز اَندر آنے نہ دینا کیونکہ قاصِد کے پیچھے پیچھے اُس کا آقا بھی دبے پاؤں چلا آ رہاہے۔“
2KI 6:33 اَور ابھی الِیشعؔ اُن سے یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ قاصِد نے بادشاہ کے پاس آکر اُن سے کہا، ”کیونکہ یہ مُصیبت یَاہوِہ کی طرف سے بھیجی گئی ہے، تو اَب مَیں یَاہوِہ سے رِہائی کی اُمّید کیوں کروں؟“
2KI 7:1 تَب الِیشعؔ نے فرمایا، ”یَاہوِہ کا پیغام سُنو۔ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ کل اِسی وقت کے قریب سامریہؔ کے پھاٹک پر چاندی کے ایک سِکّے میں تین کِلو مَیدہ اَور چاندی کے ایک سِکّے میں چھ کِلو جَو فروخت کیا جایٔےگا۔“
2KI 7:2 تَب اُس شاہی افسر نے جو بادشاہ کا خاص شخص تھا، مَرد خُدا سے کہا، ”اگر خُود یَاہوِہ آسمان کی کھڑکیاں بھی کھول دیں، تَب بھی اَیسا ہونا ممکن ہے کیا؟“ مگر الِیشعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”تُم خُود اِسے اَپنی آنکھوں سے تو دیکھوگے، مگر تُم اُس میں سے کچھ بھی کھانے نہ پاؤگے۔“
2KI 7:3 اُس وقت شہر کے داخلہ پھاٹک پر چار کوڑھی تھے۔ اُنہُوں نے آپَس میں مشورہ کیا، شہر میں خُوراک ختم ہو گئی ہے، ”تو ہم یہاں بیٹھ کر اَپنی موت کا اِنتظار کیوں کریں؟
2KI 7:4 اگر ہم کہیں، ’ہم شہر کے اَندر جایٔیں گے،‘ تو وہاں قحط ہے اَور ہم مَر جایٔیں گے۔ اَور اگر ہم یہاں بیٹھے رہیں تو بھی مَر جایٔیں گے۔ چنانچہ آؤ ہم ارامیوں کی چھاؤنی میں جایٔیں اَور خُود کو اُن کے حوالہ کر دیں۔ اَور اگر وہ رحم کھا کر ہمیں بخش دیں تو ہم زندہ رہیں گے؛ اَور اگر وہ ہمیں قتل کر دیں تو کیا، ہمیں تو وَیسے ہی مَرنا ہی ہے۔“
2KI 7:5 لہٰذا شام کے وقت میں وہ چاروں اُٹھے اَور ارامیوں کی چھاؤنی کی طرف چل دئیے۔ اَور جَب وہ ارامیوں کی چھاؤنی کے پاس پہُنچے تو دیکھا کہ وہاں کویٔی بھی نہ تھا،
2KI 7:6 کیونکہ یَاہوِہ نے ارامی فَوج کو رتھوں اَور گھوڑوں اَور ایک لشکر جبّار اُن کے نزدیک پہُنچنے کی آواز سُنوایٔی تھی۔ اِس لیٔے اُنہُوں نے آپَس میں مشورت کی دیکھو، ”شاہِ اِسرائیل نے ہم پر حملہ کرنے کے لیٔے حِتّیوں اَور مِصریوں کے بادشاہوں کو اُجرت پر بُلایا ہے۔“
2KI 7:7 لہٰذا ارامی فَوج خوفزدہ ہوکر شام کو ہی اَپنے خیمے، گھوڑے اَور گدھوں کو چھوڑکر فرار ہو گیٔے۔ وہ اَپنی جان بچا کر اَپنے کو جَیسا تھا وَیسا چھوڑکر فرار ہو گیٔے۔
2KI 7:8 جَب وہ چاروں کوڑھی چھاؤنی کے کنارے پہُنچ کر ایک خیمہ میں داخل ہُوئے اَور وہاں اُنہُوں نے جی بھر کر خُوب کھایا پیا اَور اَپنے ساتھ چاندی، سونا اَور لباس بھی اُٹھالے گیٔے اَور لے جا کر اُنہیں ایک جگہ چھُپا دیا۔ پھر وہ لَوٹ کر دُوسرے خیمہ میں داخل ہُوئے اَور اُس میں سے بھی کچھ چیزیں اُٹھائیں اَور اُنہیں لے جا کر چھُپا دیا۔
2KI 7:9 تَب اُنہُوں نے آپَس میں مشاورت کرکے کہا، ”ہم جو کر رہے ہیں وہ ناگوار ہے۔ آج کا دِن تو خُوشخبری سُنانے کا دِن ہے اَور ہم خاموش ہیں۔ اگر ہم صُبح کی رَوشنی تک ٹھہرے رہیں تو ہم پر کویٔی نہ کویٔی سزا ضروُر نازل ہوگی۔ چنانچہ آؤ ہم فوراً جا کر شاہی محل کو خبر پہُنچا دیں۔“
2KI 7:10 چنانچہ اُنہُوں نے جا کر شہر کے دربانوں کو پُکارا اَور اُنہیں خبر دی کی، ”ہم ارامی چھاؤنی کے اَندر گیٔے تھے، اَور ہم نے دیکھا کہ وہاں نہ کویٔی فَوجی آدمی ہے، اَور نہ کسی کی آواز سُنایٔی دے رہی ہے۔ صِرف بندھے ہُوئے گھوڑے اَور گدھے تھے مگر خیمے خالی پڑے تھے۔“
2KI 7:11 تَب دربانوں نے بُلند آواز میں پُکار کر شاہی محل تک اَندر خبر پہُنچا دی۔
2KI 7:12 اَور بادشاہ رات میں ہی اُٹھ بیٹھا اَور اَپنے افسران سے فرمایا، ”میں تُمہیں بتاتا ہُوں کہ ارامیوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔ وہ خُوب جانتے ہیں کہ ہم بھُوکے ہیں اِس لیٔے وہ کو چھوڑکر میدان میں چھُپ گیٔے ہیں۔ اَور اِنتظار کر رہے ہیں، ’جَب ہم شہر سے باہر نکلیں گے تو وہ ہمیں زندہ پکڑ لیں گے اَور شہر پر قبضہ کر لیں گے۔‘ “
2KI 7:13 تَب بادشاہ کے افسران میں سے ایک نے صلاح دی، ”ہم باقی بچے ہویٔے گھوڑوں میں سے پانچ کو کُچھ فَوجیوں کے ساتھ وہاں بھیج دیں جو شہر میں بچ گئے ہیں۔ وَیسے بھی جو فَوجی یہاں زندہ بچے رہ گیٔے ہیں اُن کی حالت بھی اُن تمام بنی اِسرائیلی جَیسی ہی ہوگی جو فنا ہونے والے ہیں۔ اِس لیٔے یہی مُناسب ہے کہ وہاں کا حال مَعلُوم کرنے کے لیٔے ہم اُن آدمیوں کو بھیجیں۔“
2KI 7:14 چنانچہ بادشاہ نے دو رتھ گھوڑوں کے ساتھ تیّار کرکے اُنہیں ارامی فَوج کا جائزہ لینے کو بھیجا اَور اُنہُوں نے رتھ بانوں کو حُکم دیا، ”جاؤ اَور مَعلُوم کرو کہ کیا ہُواہے۔“
2KI 7:15 اَور وہ دریائے یردنؔ تک اُن کے پیچھے گیٔے اَور اُنہُوں نے دیکھا کہ سارا راستہ کپڑوں اَور جنگی سازوسامان سے بھرا پڑا ہے جسے ارامیوں نے جلدبازی میں پھینک دیا تھا۔ تَب قاصِد لَوٹے اَور اُنہُوں نے بادشاہ کو اِس کی خبر دی۔
2KI 7:16 یہ بات سُن کر سامریہؔ کے لوگ باہر نکل کر ارامیوں کی چھاؤنی کو لُوٹیں، چنانچہ یَاہوِہ کے کلام کے مُطابق چاندی کے ایک سِکّے میں تین کِلو مَیدہ اَور چاندی کے ایک سِکّے میں چھ کِلو جَو فروخت ہونے لگا۔
2KI 7:17 اَور بادشاہ نے اُس افسر کو جو اُن کا سَب سے خاص تھا داخلہ پھاٹک کا نِگراں مُقرّر کر دیا تھا تاکہ وہ لوگوں کے مجمع کو قابُو میں رکھے۔ مگر لوگوں نے اُسے پھاٹک سے نکلتے وقت افراتفری میں روند ڈالا اَور وہ مَر گیا۔ یہ واقعہ الِیشعؔ کے اُس پیشین گوئی کے مُطابق ہُوا جو اُنہُوں اُس وقت کی تھی جَب بادشاہ مَرد خُدا کے گھر گیٔے تھے۔
2KI 7:18 یہ ٹھیک وَیسا ہی ہُوا جَیسا مَرد خُدا نے بادشاہ سے فرمایا تھا: ”کل اِسی وقت کے قریب چاندی کے ایک سِکّے میں تین کِلو مَیدہ اَور چاندی کے ایک سِکّے میں چھ کِلو جَو سامریہؔ کے پھاٹک پر فروخت ہوگا۔“
2KI 7:19 اَور اُس افسر نے مَرد خُدا سے کہاتھا کہ دیکھ، ”اگر یَاہوِہ آسمان کی کھڑکیاں بھی کھول دیں تَب بھی اَیسا ہونا ممکن ہے کیا؟“ اَور مَرد خُدا نے اُسے جَواب دیا تھا، ”تُم خُود اَپنی آنکھوں سے اُسے دیکھوگے مگر تُم اُس میں سے کچھ بھی کھانے نہ پاؤگے!“
2KI 7:20 لہٰذا اُس کے ساتھ ٹھیک وَیسا ہی ہُوا کیونکہ لوگوں نے اُسے پھاٹک پر افراتفری کے دَوران پاؤں تلے کُچل ڈالا جِس سے اُس کی موت ہو گئی۔
2KI 8:1 اَور جِس عورت کے بیٹے کو الِیشعؔ نے زندہ کیا تھا اُنہُوں نے اُسے حُکم دیا تھا، ”اَپنے خاندان کو لے کر یہاں سے کسی دُوسری جگہ روانہ ہو جاؤ کیونکہ یَاہوِہ نے مُلک میں قحط بھیجنے کا فرمان جاری کیا ہے جو اِس مُلک میں سات سال تک رہے گا۔“
2KI 8:2 تَب اُس عورت نے مَرد خُدا کے حُکم کے مُطابق عَمل کیا اَور وہ اَپنے خاندان کے ساتھ جا کر سات سال تک فلسطینیوں کے مُلک میں رہی۔
2KI 8:3 اَور سات سال پُورے ہونے پر وہ عورت اَپنے خاندان کے ساتھ فلسطینیوں کے مُلک سے لَوٹ آئی اَور اَپنے گھر اَور اَپنی زمین کی بحالی کی اِلتجا لے کر بادشاہ کے پاس گئی۔
2KI 8:4 اُس وقت بادشاہ مَرد خُدا کے خادِم گیحازیؔ سے باتیں کر رہے تھے اَور بادشاہ نے پُوچھا، ”مُجھ سے اُن سَب عظیم کاموں کا بَیان کرو جو الِیشعؔ نے کئے ہیں۔“
2KI 8:5 اَور گیحازیؔ جَب بادشاہ کو یہ بتا رہاتھا کہ کس طرح الِیشعؔ نے مُردہ لڑکے کو زندہ کیا عَین اُسی وقت پر وُہی عورت جِس کے بیٹے کو الِیشعؔ نے زندہ کیا تھا اَپنے گھر اَور اَپنی زمین کی بحالی کی اِلتجا لے کر بادشاہ کے پاس آئی۔ گیحازیؔ نے کہا، ”میرے مالک بادشاہ یہی وہ عورت ہے اَور یہی اُس کا بیٹا ہے جِس کو الِیشعؔ نے زندہ کیا تھا۔“
2KI 8:6 تَب بادشاہ نے اُس عورت سے دریافت کیا کہ کیا یہ بات سچ ہے، تَب اُس عورت نے بادشاہ کو مُکمّل داستان سُنایٔی۔ تَب بادشاہ نے ایک افسر کو اِس حُکم کے ساتھ مُقرّر کر دیا، ”جو کچھ اِس عورت کا تھا وہ سَب کچھ اُسے لَوٹا دیاجایٔے، اَور جِس دِن سے وہ مُلک چھوڑکر گئی تھی، تَب سے لے کر آج تک کی اُس کی زمین کی ساری فصل بھی لَوٹا دو۔“
2KI 8:7 اَور الِیشعؔ دَمشق کو روانہ ہویٔے۔ اُس وقت شاہِ ارام بِن ہددؔ بیمار تھا۔ جَب بادشاہ کو اِطّلاع کیا گیا، ”مَرد خُدا یہاں تشریف لایٔے ہیں۔“
2KI 8:8 تَب بادشاہ نے حزائیلؔ کو حُکم دیا، ”اَپنے ساتھ ایک تحفہ لے کر مَرد خُدا سے مُلاقات کرنے جاؤ اَور اُن کی مَعرفت سے یَاہوِہ سے دریافت کرو، ’کیا میں اَپنی اِس بیماری سے شفا پاؤں گا یا نہیں؟‘ “
2KI 8:9 چنانچہ حزائیلؔ دَمشق کی نفیس ترین چیزوں سے لدے ہُوئے چالیس اُونٹ کے تحفے ساتھ لے کر الِیشعؔ سے مُلاقات کرنے گیا۔ وہاں پہُنچ کر وہ الِیشعؔ کے سامنے کھڑا ہوکر کہنے لگا، ”آپ کے بیٹے شاہِ ارام بِن ہددؔ نے مُجھے آپ سے یہ دریافت کرنے بھیجا ہے، ’کیا مَیں اَپنی اِس بیماری سے شفا پاؤں گا یا نہیں؟‘ “
2KI 8:10 الِیشعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”جا کر بادشاہ سے کہنا، ’آپ ضروُر شفا پائیں گے۔‘ لیکن یَاہوِہ نے مُجھ پر یہ ظاہر کیا ہے کہ بادشاہ کی موت یقیناً ہو جایٔےگی۔“
2KI 8:11 تَب الِیشعؔ حَزائیلؔ کی طرف ٹِکٹِکی باندھ کر دیکھتے رہے یہاں تک کہ حَزائیلؔ شرما گیا۔ پھر مَرد خُدا رونے لگے۔
2KI 8:12 تَب حزائیلؔ نے دریافت کیا، ”میرے مالک آپ کیوں رو رہے ہیں؟“ الِیشعؔ نے جَواب دیا، ”کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ تُم کیا بُرا سلُوک بنی اِسرائیل کے ساتھ کروگے۔ تُم اُن کے قلعوں میں آگ لگا دوگے، اُن کے نوجوانوں کو تلوار سے قتل کر دوگے، اَور اُن کے چُھوٹے بچّوں کو زمین پر پٹک دوگے اَور اُن کی حاملہ عورتوں کو چیر ڈالوگے۔“
2KI 8:13 حزائیلؔ نے الِیشعؔ سے کہا، ”آپ کا یہ خادِم جو محض ایک کُتّا ہے، میری کیا مجال ہے کہ میں اِس طرح کے کام کو اَنجام دُوں؟“ الِیشعؔ نے جَواب دیا، ”یَاہوِہ نے مُجھ پر ظاہر کیا ہے، تُم ارام کے بادشاہ بنوگے۔“
2KI 8:14 تَب حزائیلؔ الِیشعؔ سے رخصت ہوکر اَپنے آقا کے پاس پہُنچا اَور جَب بِن ہددؔ نے دریافت کیا، ”الِیشعؔ نے تُم سے کیا فرمایا؟“ تَب حزائیلؔ نے جَواب دیا ”اُنہُوں نے فرمایاہے کہ آپ ضروُر شفا پائیں گے۔“
2KI 8:15 اگلے دِن حزائیلؔ نے ایک کمبل لیا اَور اُسے پانی میں بھگو کر بادشاہ کے مُنہ پر پھیلا دیا، اَور اُسے وہیں رہنے دیا جَب تک اُس کی موت نہ ہو گئی۔ تَب حزائیلؔ اُس کی جگہ بادشاہ بَن گیا۔
2KI 8:16 شاہِ اِسرائیل احابؔ کے بیٹے یُورامؔ کے دَورِ حُکومت کے پانچویں سال میں جَب یہُورامؔ بِن یہوشافاطؔ نے بطور شاہِ یہُودیؔہ اَپنی حُکمرانی شروع کی۔
2KI 8:17 یہُورامؔ بتّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں آٹھ سال حُکمرانی کی۔
2KI 8:18 اَور وہ شاہانِ بنی اِسرائیل کے نقش قدم پر چلا، اُس نے وُہی کیا جَیسا احابؔ کے خاندان نے کیا تھا؛ کیونکہ اُس نے احابؔ کی بیٹی سے شادی کی تھی۔ چنانچہ یہُورامؔ نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا۔
2KI 8:19 پھر بھی یَاہوِہ اَپنے خادِم داویؔد کی خاطِر یہُوداہؔ کو ہلاک کرنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ اُنہُوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ داویؔد اَور اُس کی نَسل کے لیٔے اَبد تک ایک چراغ قائِم رکھیں گے۔
2KI 8:20 یہُورامؔ کے زمانہ میں اِدُوم نے یہُوداہؔ کے خِلاف بغاوت کی اَور اَپنے اُوپر ایک بادشاہ مُقرّر کیا۔
2KI 8:21 لہٰذا یہُورامؔ یعنی یُورامؔ اَپنے تمام رتھوں کو ساتھ لے کر ضعِیرؔ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہُوا۔ لیکن اِدُومیوں نے اُسے اَور اُس کے رتھوں کے سرداروں کو چاروں طرف سے گھیرلیا تھا، لیکن یہُورامؔ نے رات میں اُٹھ کر اِدُومی فَوج پر حملہ کر دیا، مگر یہُورامؔ کی فَوج شِکست کھا کر واپس اَپنے گھر کو فرار ہو گئی۔
2KI 8:22 اَور اِدُوم آج کے دِن تک یہُوداہؔ کی اِطاعت سے منحرف ہے۔ عَین اُسی وقت لِبناہؔ نے بھی بغاوت کر دی تھی۔
2KI 8:23 کیا یہُورامؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور سَب کچھ جو اُس نے کیا وہ یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ میں درج نہیں ہیں؟
2KI 8:24 جَب یہُورامؔ کی وفات ہوئی، تو اُسے اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ داویؔد کے شہر میں دفن کیا گیا۔ اَور اُس کی جگہ پر اُس کا بیٹا احزیاہؔ بادشاہ بنا۔
2KI 8:25 یُورامؔ بِن احابؔ شاہِ اِسرائیل کے دَورِ حُکومت کے بارہویں سال میں احزیاہؔ بِن یہُورامؔ شاہِ یہُودیؔہ پر حُکمرانی کرنے لگا۔
2KI 8:26 جَب احزیاہؔ بائیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں ایک سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام عتلیاہؔ تھا جو شاہِ اِسرائیل عُمریؔ کی پوتی تھی۔
2KI 8:27 احزیاہؔ احابؔ کے گھرانے کی راہوں پر چلا، اَور اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا، کیونکہ احزیاہؔ احابؔ کے گھرانے کا داماد تھا۔
2KI 8:28 احزیاہؔ یُورامؔ بِن احابؔ کے ساتھ مِل کر شاہِ ارام حزائیلؔ کے خِلاف جنگ کرنے کے لیٔے راموتؔ گِلعادؔ کو گیا۔ اَور ارامی فَوج نے یُورامؔ کو زخمی کر دیا۔
2KI 8:29 لہٰذا اُن زخموں کے علاج کے لیٔے وہ یزرعیلؔ کو لَوٹ گیا۔ جو رامہؔ میں شاہِ حزائیلؔ کے ساتھ جنگ میں اُسے ارامی فَوج کے ہاتھ سے راموتؔ گِلعادؔ کی جنگ میں لگے تھے۔ تَب شاہِ یہُودیؔہ احزیاہؔ بِن یہُورامؔ، یُورامؔ بِن احابؔ کے حالت کا جائزہ لینے یزرعیلؔ گیا کیونکہ یُورامؔ بیمار تھا۔
2KI 9:1 اَور الِیشعؔ نبی نے نبیوں کی جماعت میں سے ایک شخص کو بُلاکر حُکم دیا، ”اَپنی کمر باندھ اَور تیل کی یہ کُپّی اَپنے ساتھ لے کر راموتؔ گِلعادؔ روانہ ہو جاؤ۔
2KI 9:2 اَور جَب تُم وہاں پہُنچو تو یِہُو بِن یہوشافاطؔ بِن نِمشیؔ کو تلاش کرنا۔ اَور اُس کے کمرے میں جانا اَور وہ اَپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوگا۔ اُسے اُس کے ساتھیوں سے الگ کرکے ایک اَندرونی کوٹھری میں لے جانا۔
2KI 9:3 تَب اِس کُپّی کے تیل کو اُس کے سَر پر اُنڈیل دینا اَور اعلان کرنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ مَیں تُمہیں بنی اِسرائیل کے بادشاہ کے طور پر مَسح کرتا ہُوں۔‘ پھر تُم دروازہ کھول کر فرار ہو جانا وہاں مت ٹھہرنا!“
2KI 9:4 چنانچہ وہ نوجوان نبی راموتؔ گِلعادؔ کو گیا۔
2KI 9:5 اَور وہاں پہُنچ کر اُس نے فَوج کے افسروں کو ایک ساتھ بیٹھے پایا۔ اُس نے اعلان کیا، ”اَے فَوج کے سپہ سالار میرے پاس آپ کے لیٔے ایک پیغام ہے۔“ یِہُو نے دریافت کیا، ”ہم میں سے کس کے لیٔے ہے؟“ نبی نے جَواب دیا، ”اَے فَوج کے سپہ سالار، آپ کے لیٔے۔“
2KI 9:6 اِس پر یِہُو اُٹھ کھڑا ہُوا اَور کمرے کے اَندر گیا۔ تَب اُس نبی نے وہ تیل اُس کے سَر پر اُنڈیل دیا اَور اعلان کیا، ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’مَیں نے تُمہیں یَاہوِہ کی قوم بنی اِسرائیل کا بادشاہ ہونے کے لئے مَسح کیا ہے۔
2KI 9:7 اَور تُم اَپنے آقا احابؔ کے گھرانے کو نِیست و نابود کردینا تاکہ میں اَپنے خادِموں، نبیوں کے خُون کا اَور یَاہوِہ کے سارے خادِموں کے خُون کا اِنتقام لُوں جنہیں اِیزبِلؔ نے بہایا تھا۔
2KI 9:8 کیونکہ احابؔ کا سارا گھرانا فنا ہو جائے گا، میں احابؔ کی نَسل میں سے ہر شخص کو خواہ وہ غُلام ہو یا آزاد اِسرائیل میں سے نِیست و نابود کر دُوں گا۔
2KI 9:9 میں احابؔ کے گھرانے کو یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے گھرانے کی مانند اَور بعشاؔ بِن اخیاہؔ کے گھرانے کی مانند کر دُوں گا۔
2KI 9:10 اَور اِیزبِلؔ کو یزرعیلؔ کے کھیت میں کُتّے کھایٔیں گے اَور اُسے دفن کرنے والا وہاں کویٔی نہ ہوگا۔‘ “ تَب وہ نبی دروازہ کھول کر وہاں سے فرار ہو گیا۔
2KI 9:11 جَب یِہُو اَپنے ساتھی سرداروں کے پاس باہر آیا، تو وہ اُس سے دریافت کرنے لگے، ”کیا سَب کچھ ٹھیک ہے، یہ پاگل شخص تمہارے پاس کیوں آیاتھا؟“ یِہُو نے اُنہیں جَواب دیا، ”تُم اُس شخص سے اَور اُس کی باتوں سے خُوب واقف ہو۔“
2KI 9:12 اُنہُوں نے کہا، ”نہیں، نہیں، ہم نہیں جانتے ہیں۔ ہمیں سچ سچ سَب بتاؤ۔“ یِہُو نے جَواب دیا، ”نبی نے مُجھ سے یُوں کہا: ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: مَیں نے تُمہیں بنی اِسرائیل کا بادشاہ ہونے کے لئے مَسح کیا ہے۔‘ “
2KI 9:13 یہ سُنتے ہی اُنہُوں نے فوراً اَپنی اَپنی چادر اُتار کر اُسے یِہُو کے سامنے سِیڑھیوں پر بچھا دی اَور پھر اُنہُوں نے نرسنگے کے ساتھ اعلان کیا، ”یہُو بادشاہ ہے۔“
2KI 9:14 لہٰذا یِہُو بِن یہوشافاطؔ بِن نِمشیؔ نے یہُورامؔ کے خِلاف سازش کی۔ اُس وقت یہُورامؔ اَور بنی اِسرائیل کے سارے شخص شاہِ ارام حزائیلؔ کے ڈر سے راموتؔ گِلعادؔ کی حِفاظت میں لگے ہُوئے تھے
2KI 9:15 مگر یہُورامؔ بادشاہ ارامی فَوج اَور شاہِ ارام حزائیلؔ کے ساتھ جنگ میں زخمی ہو گیا تھا اَور اُن زخموں کے علاج کے لیٔے وہ یزرعیلؔ لَوٹ آیاتھا۔ اَور یِہُو نے یہ اعلان کیا، ”اگر تُم سَب کی یہی مرضی ہے کہ اَب مَیں بادشاہ بنُوں، تو کسی کو بھی شہر سے نکلنے مت دینا کہ وہ یزرعیلؔ جا کر یہ خبر دے سکے۔“
2KI 9:16 تَب یِہُو اَپنے رتھ پر سوار ہوکر یزرعیلؔ روانہ ہُوا کیونکہ یہُورامؔ وہیں آرام کر رہاتھا اَور احزیاہؔ شاہِ یہُودیؔہ اُس کی خیریت مَعلُوم کرنے وہاں آیا ہُوا تھا۔
2KI 9:17 جَب یزرعیلؔ کے بُرج پر مُعیّن نگہبان نے یِہُو اَور اُس کے فَوجیوں کو قریب آتے دیکھا تو وہ پُکار پُکار کر کہنے لگا، ”میں کچھ فَوجیوں کو آتے دیکھ رہا ہُوں۔“ یہُورامؔ نے حُکم دیا، ”ایک گُھڑسوار کو اُن سے مُلاقات کرنے اَور دریافت کرنے کے لیٔے بھیجو، ’کیا سَب خیریت ہے اَور تُم لوگ اَمن کے ساتھ آ رہے ہو؟‘ “
2KI 9:18 تَب ایک گُھڑسوار یِہُو سے مُلاقات کرنے روانہ ہُوا اَور اُس نے یہُو سے دریافت کیا، ”بادشاہ یُوں فرماتے ہیں، ’کیا تُم اَمن کے ساتھ آ رہے ہو؟‘ “ یِہُو نے جَواب دیا، ”تُمہیں اَمن سے کیا لینا دینا؟ بس تُم میرے پیچھے ہو لو۔“ تَب نگہبان نے اِطّلاع دی، ”قاصِد اُن کے پاس پہُنچ تو گیا ہے لیکن وہ واپس نہیں آ رہا۔“
2KI 9:19 تَب بادشاہ نے دُوسرے گُھڑسوار کو بھیجا۔ جَب وہ اُن کے پاس پہُنچا تو اُس نے کہا، ”بادشاہ یُوں فرماتے ہیں، ’کیا سَب اَمن ہے اَور تُم لوگ اَمن کے ساتھ آ رہے ہو؟‘ “ یِہُو نے جَواب دیا، ”تُمہیں اَمن سے کیا لینا دینا؟ بس تُم میرے پیچھے ہو لو۔“
2KI 9:20 نگہبان نے دوبارہ اِطّلاع دی، ”دُوسرا گُھڑسوار اُن کے پاس پہُنچ تو گیا ہے لیکن وہ بھی واپس نہیں آ رہا۔ ہاں ایک رتھ آتا دِکھائی دے رہاہے گویا نِمشیؔ بِن یِہُو ہانک رہا ہو کیونکہ وہ ایک پاگل کی طرح رتھ ہانکتا ہے۔“
2KI 9:21 تَب یہُورامؔ نے حُکم دیا، ”فوراً میرا رتھ تیّار کرو،“ اَور جَب اُسے تیّار کر دیا گیا تَب شاہِ اِسرائیل یُورامؔ اَور شاہِ یہُودیؔہ احزیاہؔ دونوں ہی اَپنے اَپنے رتھوں پر سوار ہوکر یہُو سے مُلاقات کرنے نکل پڑے اَور یزرعیلی نبوتؔ کے کھیت میں یِہُو سے اُن کی مُلاقات ہوئی۔
2KI 9:22 یِہُو کو دیکھتے ہی یہُورامؔ نے اُس سے دریافت کیا، ”یِہُو کیا تُم لوگ اَمن کے ساتھ آ رہے ہو؟“ یِہُو نے جَواب دیا، ”جَب تک تمہاری ماں اِیزبِلؔ کی سَر پرستی میں بُت پرستی اَور جادُوگری کی فراوانی ہے، تَب تک اَمن کیسے ہوگا؟“
2KI 9:23 تَب یہ سُنتے ہی یہُورامؔ نے گھوڑوں کی باگ موڑکر فرار ہوتے ہُوئے احزیاہؔ کو پُکار کر کہا، ”بغاوت احزیاہؔ! بغاوت۔“
2KI 9:24 تَب یِہُو نے پُوری طاقت سے اَپنی کمان کھینچی اَور یہُورامؔ کے دونوں شانوں کے درمیان تیر مارا جِس نے یہُورامؔ کا دِل چیر ڈالا اَور وہ اَپنے رتھ میں ہی فوراً گِر پڑا۔
2KI 9:25 تَب یِہُو نے اَپنے رتھ کے سردار بِدقرؔ کو حُکم دیا، ”اُسے اُٹھاکر یزرعیلی نبوتؔ کے کھیت میں پھینک دو۔ یاد کرو جَب مَیں اَور تُم دونوں مِل کر اُس کے باپ احابؔ کے پیچھے پیچھے رتھوں میں سوار ہوکر جا رہے تھے تو یَاہوِہ نے اُس کے متعلّق یہ نبُوّت کی تھی:
2KI 9:26 ٹھیک جِس طرح کل مَیں نے نبوتؔ اَور اُس کے بیٹوں کا خُون بہتے دیکھا تھا، یقیناً میں اِسی کھیت مَیں تُجھے بدلہ دُوں گا۔ اِس لیٔے اَب یَاہوِہ کے فرمان کے مُطابق اُسے اُٹھاکر اُسی کھیت میں پھینک دو۔“
2KI 9:27 جَب شاہِ یہُودیؔہ احزیاہؔ نے یہ سَب دیکھا تو وہ بیت ہگّان شہر کی سمت میں فرار ہونے لگا۔ یِہُو نے اُس کا تعاقب کیا اَور چِلاّتے ہُوئے حُکم دیا، ”اِسے بھی تیروں سے مار ڈالو!“ اَور یِہُو کی فَوج نے احزیاہؔ کو گُر کی چڑھائی پر چڑھتے ہُوئے اِبلیعامؔ کے نزدیک اُسے اُس کے رتھ میں زخمی کر دیا لیکن وہ مگِدّوؔ کی طرف فرار ہو گیا جہاں پہُنچ کر اُس کی وفات ہو گئی۔
2KI 9:28 اَور اُس کے خادِم آکر اُسے اُس کے رتھ میں یروشلیمؔ لے گیٔے اَور اُسے داویؔد کے شہر میں اُس کے آباؤاَجداد کے ساتھ دفن کر دیا۔
2KI 9:29 احابؔ بِن یُورامؔ کے دَورِ حُکومت کے گیارھویں سال میں احزیاہؔ نے یہُودیؔہ پر حُکمرانی کرنا شروع کیا تھا۔
2KI 9:30 اَور جَب یِہُو یزرعیلؔ شہر پہُنچا تو اِیزبِلؔ کو سارا واقعہ مَعلُوم چلا۔ اُس نے اَپنی آنکھوں میں سُرمہ لگایا، اَپنے بال سنوارے اَور کھڑکی سے باہر کا نظارہ دیکھنے لگی۔
2KI 9:31 اَور جوں ہی یِہُو پھاٹک میں داخل ہُوا، تو اِیزبِلؔ نے اُس سے دریافت کیا، ”اَے زِمریؔ اَپنے آقا کے قاتل، سَب خیریت ہے؟“
2KI 9:32 تَب اُس نے کھڑکی کی طرف نظر اُٹھاکر دریافت کیا، ”میری طرف کون کون ہے؟“ تَب دو تین خواجہ سراؤں نے نیچے اُس کی طرف دیکھا۔
2KI 9:33 یِہُو نے حُکم دیا، ”اُسے نیچے پھینک دو!“ چنانچہ اُنہُوں نے اُسے اُٹھاکر نیچے پھینک دیا۔ اَور اُس کے خُون کی چھینٹے دیوار پر اَور گھوڑوں پر پڑے اَور گھوڑوں نے اُسے روند ڈالا۔
2KI 9:34 پھر یِہُو شاہی محل کے اَندر گیا اَور اُس نے کھایا پیا اَور پھر حُکم دیا، ”اُس لعنتی عورت کو اُٹھاکر اُسے دفن کر دو کیونکہ وہ شہزادی ہے۔“
2KI 9:35 لیکن جَب وہ اُسے دفن کرنے کی غرض سے باہر نکلے تو اُنہیں اِیزبِلؔ کی کھوپڑی، اُس کے پاؤں اَور ہاتھوں کے سِوا اَور کچھ نہ مِلا۔
2KI 9:36 چنانچہ وہ لَوٹ آئے اَور یِہُو کو خبر دی، ”یہ تِشبےؔ شہر کے باشِندے ایلیّاہ کی نبُوّت کے مُطابق ہُواہے، جو یَاہوِہ نے اَپنے بندہ کی مَعرفت فرمایا تھا: یزرعیلؔ کے کھیت میں کُتّے اِیزبِلؔ کا گوشت کھایٔیں گے۔
2KI 9:37 اَور اِیزبِلؔ کی لاش یزرعیلؔ کے کھُلے میدان میں کھیت کے گوبر کی طرح پڑی رہے گی یہاں تک کہ کویٔی نہ کہے گا، ’یہ اِیزبِلؔ ہے۔‘ “
2KI 10:1 سامریہؔ میں احابؔ کے گھرانے کے ستّر بیٹے تھے لہٰذا یِہُو نے سامریہؔ میں یزرعیلؔ کے افسران، بُزرگوں اَور احابؔ کے بیٹوں کے سرپرستوں کو خُطوط بھیجے جِس میں یہ لِکھا ہُوا تھا،
2KI 10:2 ”چونکہ تمہارے آقا کے بیٹے تمہارے پاس ہیں اَور تمہارے پاس رتھ اَور گھوڑے، ایک قلعہ بند شہر اَور ہتھیار بھی ہیں لہٰذا جُوں ہی تُمہیں یہ خط ملے،
2KI 10:3 اَپنے آقا کے بیٹوں میں سَب سے اَچھّے اَور لائق کو مُنتخب کر اُس کے باپ کے تخت پر تخت نشین کر دو اَور پھر اَپنے آقا کے گھرانے کے لیٔے جنگ کرنے کو تیّار ہو جاؤ۔“
2KI 10:4 لیکن وہ دہشت زدہ ہوکر کہنے لگے، ”جَب دو بادشاہ مِل کر اُس کا مُقابلہ نہ کر سکے تو ہم کیسے کر سکیں گے؟“
2KI 10:5 لہٰذا شاہی محل کے دیوان، شہر کے حاکم اَور بُزرگوں، اَور شہزادوں کے سرپرستوں نے یِہُو کو یہ پیغام بھیجا: ”ہم سَب آپ کے خادِم ہیں اَورجو کچھ آپ فرمائیں گے ہم وُہی کریں گے اَور ہم کسی کو بادشاہ نہیں بنائیں گے اَورجو کچھ آپ کی نظر میں بہتر ہے آپ وُہی کریں۔“
2KI 10:6 تَب یِہُو نے اُنہیں ایک دُوسرا خط لِکھ کر بھیجا، ”بہت خُوب! اگر تُم سَب میری طرف ہو اَور میرا حُکم مانوگے تو اَپنے آقا کے بیٹوں کے سَر لے کر کل یزرعیلؔ میں اِسی وقت میرے پاس آ جاؤ۔“ اُس وقت بادشاہ کے ستّر شہزادے شہر کے نامور لوگوں کی سَر پرستی میں رہ کر پرورِش پا رہے تھے۔
2KI 10:7 جَیسے ہی اُنہیں یِہُو کا خط مِلا، اُنہُوں نے بادشاہ کے تمام ستّر شہزادوں کو لے جا کر قتل کر دیا اَور اُن کے سَر ٹوکریوں میں رکھ کر یزرعیلؔ میں یِہُو کے پاس بھیج دئیے۔
2KI 10:8 جَب قاصِد آیا تو اُس نے یِہُو کو خبر دی، ”وہ بادشاہ کے شہزادوں کے سَر لایٔے ہیں۔“ تَب یِہُو نے حُکم دیا، ”تُم اِن سَروں کے دو ڈھیر بنا کر شہر کے پھاٹک پر صُبح تک کے لئے رکھ دو۔“
2KI 10:9 اَور اگلی صُبح یِہُو باہر گیا اَور کھڑے ہوکر سارے مجمع سے مُخاطِب ہُوا، ”آپ سَب بے قُصُور ہیں۔ مَیں نے ہی اَپنے آقا کے خِلاف سازش کی اَور اُنہیں مار ڈالا لیکن اِن ستّر شہزادوں کا قتل کس نے کیا ہے؟
2KI 10:10 لہٰذا جان لو کہ احابؔ کے گھرانے کے خِلاف یَاہوِہ کی فرمائی ہوئی کویٔی بھی بات خالی نہیں جائے گی کیونکہ جو کچھ یَاہوِہ نے اَپنے خادِم ایلیّاہ کی مَعرفت فرمائی تھی اُسے یقیناً پُورا کر دیا ہے۔“
2KI 10:11 یہ کہتے ہُوئے یِہُو نے اُن سَب کو بھی جو احابؔ کے گھرانے سے تعلّق رکھتے تھے اَور یزرعیلؔ میں رہتے تھے قتل کر دیا۔ اَور اُس نے احابؔ کے خاندان کے باقی بچے مخصُوص آدمیوں، قریبی دوستوں اَور اُس کے کاہِنوں کو بھی قتل کر ڈالا یہاں تک کہ احابؔ کے خاندان میں ایک بھی شخص زندہ نہ بچا۔
2KI 10:12 پھر یِہُو وہاں سے سامریہؔ کے لئے روانہ ہُوا، اَور راستہ میں جَب وہ چرواہوں کے بیت اِقدؔ نام کی جگہ میں تھا،
2KI 10:13 تَب اُس کی مُلاقات شاہِ یہُودیؔہ احزیاہؔ کے کچھ رشتہ داروں سے ہوئی۔ یِہُو نے اُن سے دریافت کیا، ”آپ لوگ کون ہیں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہم احزیاہؔ کے رشتہ دار ہیں اَور ہم یہاں آئے ہیں کہ بادشاہ اَور مادرِ ملِکہ کے گھرانے کی خیریت مَعلُوم کر سکیں۔“
2KI 10:14 یِہُو نے اَپنے آدمیوں کو حُکم دیا، ”اُنہیں زندہ پکڑ لو۔“ چنانچہ اُنہُوں نے تقریباً بِیالیس اَشخاص کو زندہ پکڑا اَور اُنہیں بیت اِقدؔ کے کوئیں کے پاس لے جا کر قتل کر دیا۔ اَور یِہُو نے اُن میں سے ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑا۔
2KI 10:15 پھر جَب یہُو وہاں سے رخصت ہُوا تو اُس کی مُلاقات یوُنادابؔ بِن ریخابؔ سے ہوئی، جو اُس کے اِستِقبال کو آ رہاتھا۔ یِہُو نے اُسے سلام کرنے کے بعد پُوچھا، ”کیا تُم مُجھ سے مُتّفِق ہو جَیسا کہ مَیں تُم سے ہُوں؟“ یوُنادابؔ نے جَواب دیا، ”بے شک ہاں، مَیں آپ سے مُتّفِق ہُوں۔“ تَب یِہُو نے فرمایا، ”اگر اَیسا ہے تو اَپنا ہاتھ میری طرف بڑھاؤ۔“ چنانچہ جَب اُس نے اَپنا ہاتھ بڑھایا تو یِہُو نے اُسے اَپنے رتھ پر چڑھا لیا۔
2KI 10:16 اَور یِہُو نے اُس سے فرمایا، ”میرے ساتھ چل اَور میری غیرت کو جو یَاہوِہ کے لیٔے ہے اَپنی آنکھوں سے دیکھ۔“ تَب یوُنادابؔ اَور یِہُو رتھ پر سوار ہوکر روانہ ہُوئے۔
2KI 10:17 جَب یِہُو سامریہؔ میں آیا تو اُس نے جَیسا کہ یَاہوِہ نے ایلیّاہ کی مَعرفت احابؔ کے خاندان کے بارے میں فرمایا تھا احابؔ کے خاندان کے سبھی بچے ہُوئے لوگوں کو جو سامریہؔ میں تھے مار ڈالا؛ اُس نے اُنہیں نِیست و نابود کر دیا۔
2KI 10:18 تَب یِہُو نے سَب لوگوں کو جمع کیا اَور اُن سے فرمایا، ”احابؔ نے تو بَعل کی تھوڑی پرستش کی لیکن یِہُو اُس کی زِیادہ پرستش کرےگا۔
2KI 10:19 چنانچہ اَب تُم بَعل کے سَب نبیوں، اُس کے تمام خادِموں اَور کاہِنوں کو بُلاؤ اَور اُن میں سے کویٔی بھی غَیر حاضِر نہ رہے کیونکہ مَیں بَعل کے لیٔے ایک بڑی قُربانی کرنے والا ہُوں اَورجو کویٔی غَیر حاضِر رہے وہ زندہ نہ بچے گا۔“ مگر یہ یِہُو کی سازش تھی کہ بَعل کے سَب پرستار کو نِیست و نابود کر دے تاکہ کوئی بھی زندہ نہ بچے۔
2KI 10:20 تَب یِہُو نے فرمان جاری کیا، ”بَعل کے اِعزاز میں ایک خاص جلسہ کا اعلان کرو۔“ لہٰذا اُنہُوں نے سَب جگہ مُنادی کر دی۔
2KI 10:21 اَور یِہُو نے تمام بنی اِسرائیل میں سے بَعل کے تمام پرستار کو بُلا لیا اَور کویٔی بھی غَیر حاضِر نہ تھا۔ اَور اِن سَب کا بَعل کے مَندِر میں ہُجوم جمع ہُوا اَور بَعل کے تمام پرستار سے مَندِر ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک پُوری طرح سے بھر گیا۔
2KI 10:22 اَور یِہُو نے توشہ خانہ کے نِگران کو حُکم دیا، ”بَعل کے تمام پرستار کے لیٔے لباس لے آؤ۔“ چنانچہ وہ اُن کے لیٔے لباس لے آئے۔
2KI 10:23 تَب یِہُو اَور یوُنادابؔ بِن ریخابؔ بَعل کے مَندِر میں داخل ہُوئے اَور یِہُو نے بَعل کے پرستار سے فرمایا، ”اَپنے چاروں طرف دیکھو اَور اِطمینان کر لو کہ یہاں یَاہوِہ کے خادِموں میں سے تو کویٔی تمہارے درمیان مَوجُود نہیں، صِرف بَعل کے پرستار ہی مَوجُود ہیں۔“
2KI 10:24 چنانچہ اُنہُوں نے قُربانی اَور سوختنی نذریں گزراننے کا کام اَندر جا کر شروع کیا اَور یِہُو نے باہر اسّی شخص مُقرّر کئے ہُوئے تھے جنہیں اُس نے یہ ہدایت دی تھی: ”اگر تُم میں سے کوئی اِن آدمیوں کو جنہیں مَیں تمہارے ہاتھ میں سُپرد کر رہا ہُوں، کسی کو بھی بچ کر فرار ہونے دے گا تو، اُن کی جان کے بدلے اُسے اَپنی جان دینی پڑےگی۔“
2KI 10:25 تَب جُوں ہی یِہُو نے سوختنی نذریں گزراننے کا کام ختم کیا، اُس نے پہرےداروں اَور شاہی افسران کو حُکم دیا: ”اَندر داخل ہوکر سَب کو قتل کر دو؛ اَور ایک بھی بچنے نہ پائے۔“ چنانچہ اُنہُوں نے سَب کو تلوار سے قتل کر دیا اَور پہرےداروں اَور شاہی افسران نے اُن کی لاشیں باہر پھینک دیں۔ تَب وہ بَعل کے بُتکدے کے اَندرونی کمرے میں گئے۔
2KI 10:26 اَور وہاں سے اُنہُوں نے بَعل کے مَندِر کے مُقدّس سُتون کو اُکھاڑ کر باہر لاکر جَلا دیا۔
2KI 10:27 اُنہُوں نے بَعل کے مُجسّمے کو پُوری طرح سے نِیست و نابود کر دیا اَور بَعل کے مَندِر کو ڈھا دیا اَور لوگ آج تک اُسے بطور بیت الخلا اِستعمال کر رہے ہیں۔
2KI 10:28 اِس طرح یِہُو نے بَعل کی پرستش کو بنی اِسرائیل کے درمیان سے نِیست و نابود کر دیا۔
2KI 10:29 تاہم یِہُو یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے گُناہوں سے جِن میں اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کر دیا تھا باز نہ آیا یعنی اُس نے سونے کے بچھڑوں کی پرستش سے جو بیت ایل اَور دانؔ میں تھے کنارہ نہیں کیا۔
2KI 10:30 اَور یَاہوِہ نے یِہُو سے فرمایا، ”چونکہ تُم نے جو کچھ میری نظر میں دُرست ہے وُہی کام کیا ہے اَور احابؔ کے گھرانے کے ساتھ جَیسا میں کرنا چاہتا تھا وَیسا ہی کیا ہے اِس لیٔے تمہاری اَولاد چوتھی پُشت تک بنی اِسرائیل کے تخت پر تخت نشین رہے گی۔“
2KI 10:31 مگر یِہُو نے پُورے دِل سے اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے آئین پر عَمل نہیں کیا۔ اُس نے یرُبعامؔ کے گُناہوں سے کنارہ نہ کیا جِن میں اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کر دیا تھا۔
2KI 10:32 یِہُو کے دَورِ حُکومت میں ہی یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کی سرحد کو کم کرنا شروع کر دیا تھا اَور حزائیلؔ نے بنی اِسرائیل کی تمام علاقوں کو فتح کر لیا تھا۔
2KI 10:33 یردنؔ کے مشرقی علاقے سے لے کر پُورا گِلعادؔ، گادؔ، رُوبِنؔ اَور منشّہ کا علاقہ، عروعؔر سے ارنُونؔ کی وادی تک یعنی گِلعادؔ سے باشانؔ تک کا سارا علاقہ حزائیلؔ نے فتح کر لیا تھا۔
2KI 10:34 اَور کیا یِہُو کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور فتوحات وہ سَب جو اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 10:35 اَور یِہُو اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور سامریہؔ میں دفن کیا گیا اَور اُس کی جگہ پر اُس کا بیٹا یہُوآحازؔ بادشاہ بنا۔
2KI 10:36 یِہُو نے سامریہؔ میں اِسرائیل پر اٹّھائیس سال تک حُکمرانی کی۔
2KI 11:1 جَب احزیاہؔ کی ماں عتلیاہؔ کو مَعلُوم ہُوا کہ اُس کے بیٹے کی موت ہو چُکی ہے تو اُس نے جا کر شاہی گھرانے کے تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا۔
2KI 11:2 مگر یہُورامؔ بادشاہ کی بیٹی اَور احزیاہؔ کی بہن یہوشیبعؔ نے احزیاہؔ کے بیٹے یُوآشؔ کو اُن شہزادوں کے درمیان سے جو قتل کئے جانے والے تھے چُرا کر وہاں سے دُور لے گئی۔ اَور یُوآشؔ کو اَور اُس کی دایہ کو عتلیاہؔ سے بچانے کے لیٔے ایک کوٹھری میں چھُپا دیا۔ لہٰذا اُس کا قتل نہیں کیا گیا۔
2KI 11:3 اَور جَب تک عتلیاہؔ مُلک میں حُکمران رہی یُوآشؔ اَپنی دایہ سمیت چھ سال تک یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں چھُپا رہا۔
2KI 11:4 عتلیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے ساتویں سال میں یہویادعؔ نے سَو سَو آدمیوں کے دستوں کے سرداروں، کاریوں یعنی شاہی مُحافظوں اَور مُقرّر پہرےداروں کو بُلوایا اَور اُنہیں اَپنے پاس یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جمع کیا۔ تَب یہویادعؔ نے اُن کے ساتھ ایک عہد کیا اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اُنہیں قَسم کھِلائی، پھر اُس کے بعد بادشاہ کے بیٹے کو اُنہیں دِکھایا۔
2KI 11:5 تَب یہویادعؔ نے اُنہیں حُکم دیا، تُمہیں یہ کام کرناہے، تُم جو تین دستے میں ہو، ”تُم میں سے ایک تہائی فَوجی جو سَبت پر یہاں کام کرنے آتے ہیں، وہ شاہی محل پر پہرا دیں گے۔
2KI 11:6 اَور دُوسری ایک تہائی دستہ صُورؔ نام کے پھاٹک پر اَور تیسری ایک تہائی دستہ پہرےداروں کے پیچھے کے پھاٹک پر پہرا دینا اِس طرح تُم بیت المُقدّس کی حِفاظت کرنا۔
2KI 11:7 اَور تمہارے دو دستے جو عام طور پر سَبت کو فارغ ہو جاتے ہیں، وہ بادشاہ کے آس پاس رہ کر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی نگہبانی کریں۔
2KI 11:8 تُم اَپنے اَپنے ہاتھوں میں ہتھیار لیٔے ہُوئے بادشاہ کو چاروں طرف سے گھیرے رہنا، اَورجو کویٔی تمہاری صفوں کے نزدیک آئے وہ ضروُر قتل کر دیا جائے۔ اَور جہاں بھی بادشاہ آئیں یا جائیں تُم اُن کا تحفُّظ کرنا۔“
2KI 11:9 اَور سَو سَو کے دستوں کے سرداروں نے وَیسا ہی کیا جَیسا کہ یہویادعؔ کاہِنؔ نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔ اَور ہر ایک سردار نے اَپنے آدمیوں کو جِن کو سَبت کے دِن اَندر آکر پہرا دینے اَور پہرا دے کر فارغ ہونے کی باری تھی وہ اُنہیں اَپنے ساتھ لے کر یہویادعؔ کاہِنؔ کے پاس گئے۔
2KI 11:10 تَب کاہِنؔ نے داویؔد بادشاہ کے نیزے اَور سپریں جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں تھیں اُن سرداروں کو دیں
2KI 11:11 تَب ہر ایک مُحافظ دستہ اَپنے ہاتھ میں ہتھیار لیٔے ہُوئے بیت المُقدّس اَور مذبح کے قریب جُنوبی جانِب سے لے کر شمالی جانِب تک بادشاہ کے اِردگرد کھڑے ہو گئے۔
2KI 11:12 پھر یہویادعؔ کاہِنؔ بادشاہ کے بیٹے کو باہر لاکر اُس کے سَر پر تاج رکھا اَور خُدا کے عہد کی ایک نقل اُسے دی اَور اُس کا مَسح کرکے بادشاہ ہونے کا اعلان کیا۔ اَور لوگوں نے تالیاں بجائیں اَور بُلند آواز سے نعرہ لگایا، ”بادشاہ سلامت رہے!“
2KI 11:13 جَب عتلیاہؔ نے مُحافظ دستہ اَور لوگوں کا شوروغل سُنا تو وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لوگوں کے درمیان آئی؛
2KI 11:14 اَور اُس نے دیکھا کہ بادشاہ حسبِ دستور سُتون کے پاس کھڑا ہے اَور افسر اَور نرسنگا پھُونکنے والے بادشاہ کے قریب کھڑے ہیں اَور مُلک کے تمام لوگ خُوشی منا رہے اَور نرسنگے پھُونک رہے ہیں۔ تَب عتلیاہؔ نے اَپنے کپڑے پھاڑے اَور چِلّاکر کہا، ”غدّاری! غدّاری!“
2KI 11:15 تَب یہویادعؔ کاہِنؔ نے سَو سَو کے دستوں کے فَوجی سرداروں کو حُکم دیا: ”اُسے صفوں کے بیچ سے نکال کر باہر لے آؤ اَور اگر کویٔی اُسے بچانے کی کوشش کرے تو اُنہیں تہِ تیغ کر دو۔“ کیونکہ کاہِنؔ نے حُکم دے رکھا تھا، ”عتلیاہؔ کا قتل یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے اَندر نہ کیاجایٔے۔“
2KI 11:16 لہٰذا فَوجی سرداروں نے عتلیاہؔ کو باہر جانے کو مجبور کیا اَور جَب وہ گھوڑوں کے لئے مُقرّر پھاٹک سے ہوکر شاہی محل کے میدان میں داخل ہوئی تو وہاں اُسے قتل کر دیا گیا۔
2KI 11:17 اَور یہویادعؔ نے اِس موقع پر یَاہوِہ اَور بادشاہ اَور لوگوں کے درمیان یہ عہد باندھا کی وہ صِرف یَاہوِہ کے لوگ ہوں گے۔ اَور یہویادعؔ نے بادشاہ اَور لوگوں کے درمیان بھی ایک عہد قائِم کرایا۔
2KI 11:18 اَور مُلک کے سَب لوگ بَعل کے مَندِر گیٔے اَور اُسے پُوری طرح سے نِیست و نابود کر ڈالا اَور اُس کے مذبحوں اَور بُتوں کو چکنا چُور کر دیا اَور بَعل کے کاہِنؔ متّانؔ کو مذبحوں کے سامنے قتل کر دیا۔ تَب یہویادعؔ کاہِنؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے لیٔے مُحافظ مُقرّر کئے۔
2KI 11:19 اَور اُس نے سَو سَو آدمیوں کے دستوں کے سرداروں اَور کاریوں یعنی شاہی مُحافظوں اَور پہرےداروں اَور مُلک کے تمام لوگوں کو ساتھ لیا اَور وہ باہم مِل کر بادشاہ کو اَپنی حِفاظت میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس سے لے کر آئے اَور پہرےداروں کے پھاٹک سے گزر کر شاہی محل میں داخل ہُوئے اَور پھر بادشاہ تختِ شاہی پر تخت نشین ہُوئے۔
2KI 11:20 تَب مُلک کے تمام لوگوں نے خُوشی منائی اَور شہر میں اَمن قائِم ہو گیا۔ کیونکہ عتلیاہؔ شاہی محل میں تہِ تیغ کی جا چُکی تھی۔
2KI 11:21 جَب یُوآشؔ سات سال کا تھا تَب وہ حُکومت کرنے لگا۔
2KI 12:1 یِہُو کے حُکمرانی کے ساتویں سال میں یُوآشؔ یا یہُوآشؔ نے حُکمرانی کرنا شروع کیا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں چالیس سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام ضِبیاہؔ تھا جو بیرشبعؔ کی تھی۔
2KI 12:2 یُوآشؔ نے تاعمر جَب تک یہویادعؔ کاہِنؔ اُسے تعلیم و ہدایت دیتا رہا وُہی کام کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا۔
2KI 12:3 تو بھی اُونچے مقامات ڈھائے نہ گیٔے اَور لوگ وہاں قُربانیاں گزرانتے اَور بخُور جَلاتے رہے۔
2KI 12:4 اَور ایک دِن شاہِ یُوآشؔ نے کاہِنوں کو حُکم دیا، ”مُقدّس نذرانے کی وہ سَب نقدی جمع کرو جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لائی جاتی ہے چاہے وہ نقدی ہر شخص کے مردُم شماری کا ہو، چاہے وہ نقدی ذاتی منّتوں سے حاصل ہُوا ہو یا جو رضا کا نذرانہ بیت المُقدّس میں لائی گئی ہو۔
2KI 12:5 کاہِنؔ خزانچی سے نقدی لے کر اُن سے بیت المُقدّس میں جہاں کہیں دراڑیں دِکھائی دیں، اُن کی مرمّت کے لیٔے اِستعمال کیاجایٔے۔“
2KI 12:6 مگر شاہِ یُوآشؔ کے تئیسویں سال تک کاہِنوں نے بیت المُقدّس کی دراڑوں کی مرمّت کا کوئی بھی کام نہ کیا تھا۔
2KI 12:7 اِس لیٔے شاہِ یُوآشؔ نے یہویادعؔ کاہِنؔ اَور دیگر کاہِنوں کو طلب کرکے اُن سے دریافت کیا، ”آپ لوگ بیت المُقدّس کی دراڑوں کی مرمّت کا کام کیوں نہیں کروا رہے ہیں؟ چنانچہ اَب اَپنے جان پہچان والے خزانچی سے نقدی لینا بند کر دو، تاکہ وہ اُس نقدی کا اِستعمال مرمّت کے کام میں لگایا جائے۔
2KI 12:8 پس کاہِنوں نے منظُور کر لیا کہ نہ تو وہ لوگوں سے آئندہ نقدی جمع کریں گے اَور نہ وہ خُود بیت المُقدّس کی مرمّت کریں گے۔“
2KI 12:9 تَب یہویادعؔ کاہِنؔ نے ایک صندُوق لے کر اُس کے ڈھکنے میں ایک سوراخ کرکے اُسے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے دروازہ کے داہنی طرف جہاں سے لوگ داخل ہوتے تھے، مذبح کے پاس رکھ دی وہ کاہِنؔ جو دروازہ پر نگہبان تھے، یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں آتے ساری نقدی کو اُسی صندُوق میں ڈال دیتے تھے۔
2KI 12:10 اَور جَب وہ دیکھتے تھے کہ صندُوق میں چاندی کے سِکّے بھر گئے ہیں تو شاہی مُنشی اَور اعلیٰ کاہِن آکر اُس نقدی کو تھیلے میں بھرتے اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں آئی نقدی کی گِنتی کرلیتے تھے۔
2KI 12:11 اَور نقدی کی گِنتی کے بعد اُنہیں وزن کیا جاتا تھا اَور یہ اُن تعمیراتی نِگرانوں کو مُہیّا کر دیا جاتا تھا جو اصل میں بیت المُقدّس کی مرمّت کے کام پر مُقرّر تھے اَور وہ اُس نقدی سے اُن بڑھئیوں اَور مِعماروں کو مزدُوری اَدا کرتے تھے جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں مرمّت کا کام کرتے تھے۔
2KI 12:12 یہ تعمیراتی نِگران مِعماروں اَور سنگ تراشوں کی مزدُوری، لکڑی اَور تراشے ہُوئے پتّھروں کا اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت اَور بحالی کے لیٔے دیگر اخراجات کے لیٔے ضروُری سامان کو خریدتے اَور اُن کی قیمت اَدا کرتے تھے۔
2KI 12:13 مگر جو نقدی بیت المُقدّس میں لائی جاتی تھی اُس سے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اِستعمال ہونے والے چاندی کی چلمچیاں، گُلگیر، چھڑکاؤ کرنے والے پیالے، نرسنگے یا سونے یا چاندی کی کویٔی دیگر برتن یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لائی گئی رقم سے نہیں بنوائے گئے۔
2KI 12:14 کیونکہ اِس رقم سے اُن کاریگروں کو مزدُوری اَدا کی جاتی تھی جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت کا کام کر رہے تھے۔
2KI 12:15 اِس کے علاوہ وہ اُن تعمیراتی نِگرانوں سے جنہیں وہ کاریگروں کو دینے کے لئے رقم سُپرد کرتے تھے، اُن سے کویٔی حِساب نہیں مانگا کرتے تھے کیونکہ وہ پُورے ایماندار اَور قابلِ اِعتبار تھے۔
2KI 12:16 اَور گُناہ کی قُربانی اَور خطا کی قُربانی کی نقدی کو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں نہیں لائی جاتی تھی۔ یہ رقم کاہِنوں کو دیئے جانے کے لئے مُقرّر کیا گیا تھا۔
2KI 12:17 اِسی دَوران شاہِ ارام حزائیلؔ نے گاتؔھ پر حملہ کرکے اُس پر قبضہ کر لیا۔ مگر جَب حزائیلؔ یروشلیمؔ پر حملہ کرنے کے لئے اُس کی طرف رخ کیا۔
2KI 12:18 تَب شاہِ یہُودیؔہ یُوآشؔ نے سَب مُقدّس چیزیں جنہیں اُس کے آباؤاَجداد یہوشافاطؔ، یہُورامؔ اَور احزیاہؔ شاہانِ یہُوداہؔ نے نذر کی تھی اَور وہ تمام عطیات جو یُوآشؔ نے خُود نذر کی تھی اَور سارا سونا جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے خزانوں اَور شاہی محل میں رکھا گیا تھا، اُسے لے کر شاہِ ارام حزائیلؔ کو تحفہ میں دے دیا۔ جِس کی وجہ سے حزائیلؔ یروشلیمؔ پر حملہ کرنے سے باز رہا۔
2KI 12:19 کیا یُوآشؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور سَب کچھ جو اُس نے کیا وہ یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ میں درج نہیں ہیں؟
2KI 12:20 اَور یُوآشؔ کے افسران نے اُس کے خِلاف سازش کی اَور بیت مِلّوؔ میں اُس کا قتل کر دیا جو سِلاّ شہر کی راہ کی ڈھلوان پر تعمیر ہے۔
2KI 12:21 جِن افسران نے اُسے قتل کیا وہ یُوزبادؔ بِن شیمیتھ اَور یہُوزبادؔ بِن شومیرؔ تھے۔ چنانچہ یُوآشؔ کی وفات ہو گئی اَور اُنہیں اُن کے آباؤاَجداد کے ساتھ داویؔد کے شہر میں دفن کیا گیا اَور اُن کی جگہ اُن کا بیٹا اماضیاہؔ بادشاہ بنا۔
2KI 13:1 شاہِ یہُودیؔہ احزیاہؔ بِن یُوآشؔ کے دَورِ حُکومت کے تئیسویں سال میں یہُوآحازؔ بِن یِہُو سامریہؔ میں اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے سترہ سال حُکمرانی کی۔
2KI 13:2 اَور اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا، اَور اُس نے یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے اُن گُناہوں کی پیروی کی جِن سے اُس نے بنی اِسرائیل سے گُناہ کروایا تھا؛ اَور وہ اُن گُناہوں سے کنارہ نہ کیا۔
2KI 13:3 لہٰذا یَاہوِہ کا غضب بنی اِسرائیل پر بھڑکا اَور اُنہُوں نے طویل عرصہ تک اِسرائیل کو شاہِ ارام حزائیلؔ اَور اُس کے بیٹے بِن ہددؔ کے تابع میں رکھا۔
2KI 13:4 اَور پھر یہُوآحازؔ نے یَاہوِہ سے فریاد کی اَور یَاہوِہ نے اُس کی فریاد سُنی کیونکہ اُنہُوں نے اِسرائیل قوم پر ہو رہے ظُلم و سِتم کو دیکھا کہ کس قدر شاہِ ارام اُنہیں اَذیّت دے رہاتھا۔
2KI 13:5 اَور یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کو ایک نَجات دینے والا عنایت فرمایا چنانچہ وہ ارام کے اِختیار سے آزاد ہو گئے اَور پہلے کی طرح بنی اِسرائیل اَپنے گھروں میں بحِفاظت سے رہنے لگے۔
2KI 13:6 اِتنا سَب ہونے کے باوُجُود بھی وہ یرُبعامؔ کے گھرانے کے اُن گُناہوں سے کنارہ نہیں کیٔے؛ جِن میں اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کر رکھا تھا بَلکہ وہ اُنہیں گُناہوں میں ڈُوبے رہے یہاں تک کہ اشیراہؔ بُت کا سُتون بھی سامریہؔ میں وُہی رہا۔
2KI 13:7 اَب یہُوآحازؔ کی فَوج میں صرف پچاس گُھڑسوار، دس رتھ اَور دس ہزار پیادوں کے سِوا اَور کچھ باقی نہیں بچا تھا کیونکہ باقیوں کو شاہِ ارام نے اُنہیں تباہ کر دیا اَور خاک کی مانند پیس ڈالا تھا۔
2KI 13:8 کیا یہُوآحازؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور فتوحات سَب کچھ جو اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 13:9 اَور یہُوآحازؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور سامریہؔ میں دفن کیا گیا اَور اُس کا بیٹا یہُوآشؔ اُس کی جگہ پر بادشاہ مُقرّر ہُوا۔
2KI 13:10 یُوآشؔ شاہِ یہُودیؔہ کے سینتیسویں سال میں یہُوآشؔ بِن یہُوآحازؔ سامریہؔ میں اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے سولہ سال حُکمرانی کی۔
2KI 13:11 اَور اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا اَور وہ یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے اُن گُناہوں سے جِن میں اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کیا ہُوا تھا باز نہ آیا بَلکہ اُن ہی میں ڈوبا رہا۔
2KI 13:12 کیا یہُوآشؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور وہ سَب جو اُس نے کیا اَور اُس کی قُوّت اَور اماضیاہؔ شاہِ یہُودیؔہ کے ساتھ اُس کا جنگ کرنا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 13:13 اَور یہُوآشؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور یرُبعامؔ اُس کی جگہ تخت نشین ہُوا۔ اَور یہُوآشؔ سامریہؔ میں شاہانِ بنی اِسرائیل کے ساتھ دفن کیا گیا۔
2KI 13:14 اِس وقت الِیشعؔ ایک جان لیوا مرض میں اِس قدر مُبتلا ہو گیٔے تھے کہ وہ مرنے والے تھے۔ شاہِ اِسرائیل یہُوآشؔ اُن سے مُلاقات کرنے گیا اَور الِیشعؔ کے سامنے جا کر روتے ہُوئے کہنے لگا، اَے میرے باپ، اَے میرے باپ، بنی اِسرائیل کے رتھ اَور اُس کے گُھڑسوار!
2KI 13:15 الِیشعؔ نے فرمایا، ”اَپنا کمان اَور کچھ تیر لو،“ چنانچہ بادشاہ نے وَیسا ہی کیا۔
2KI 13:16 تَب الِیشعؔ نے بنی اِسرائیل کے بادشاہ کو حُکم دیا، کمان کھینچ اَور جَب اُس نے اُسے کھینچا تو الِیشعؔ نے اَپنے ہاتھ بادشاہ کے ہاتھوں پر رکھ دیا۔
2KI 13:17 تَب الِیشعؔ نے حُکم دیا، ”مشرق کی طرف کی کھڑکی کھول دو۔ اَور بادشاہ نے اُسے کھول دیا۔“ الِیشعؔ نے فرمایا، ”تیر چلاؤ اَور اُس نے تیر چلایا۔ تَب الِیشعؔ نے اعلان کیا، یہ یَاہوِہ کے فتح کا تیر ہے یعنی مُلک ارام پر فتح پانے کا تیر۔ تُم افیقؔ میں ارامیوں سے تَب تک جنگ کرنا جَب تک اُنہیں پُوری طرح سے نِیست و نابود نہ کر دو۔“
2KI 13:18 پھر الِیشعؔ نے دوبارہ فرمایا، تیروں کو لے لو اَور بادشاہ نے اُنہیں لے لیا۔ تَب الِیشعؔ نے اِسرائیل کے بادشاہ کو حُکم دیا، ”زمین پر تیر چلاؤ۔“ اَور بادشاہ نے زمین پر تین بار تیر چلایا اَور پھر رُک گیا۔
2KI 13:19 تَب مَرد خُدا اُس پر غُصّہ کرتے ہُوئے فرمایا، ”تُمہیں کم سے کم پانچ یا چھ بار زمین پر تیر چلانا تھا۔ تبھی تُم ارام کو اَیسی شِکست دیتے کہ وہ پُوری طرح سے نِیست و نابود ہو جاتا۔ مگر اَب تُم اُسے صِرف تین بار ہی شِکست دے سکوگے۔“
2KI 13:20 تَب الِیشعؔ کی وفات ہو گئی اَور اُنہُوں نے الِیشعؔ کو سُپرد خاک کر دیا۔ اَور ہر سال موسمِ بہار میں مال غنیمت لوٹنے والوں کا ایک مُوآبی دستہ مُلک میں داخل ہُوا کرتا تھا،
2KI 13:21 ایک دفعہ جَب کچھ اِسرائیلی ایک شخص کو دفن کر رہے تھے تو اَچانک اُنہُوں نے مال غنیمت لوٹنے والوں کے ایک دستہ کو آتے دیکھا۔ اَور اُنہُوں نے اُس شخص کی لاش کو الِیشعؔ کی قبر میں پھینک دیا۔ اَور جوں ہی وہ لاش الِیشعؔ کی ہڈّیوں سے ٹکرائی اُس میں جان آ گئی اَور مُردہ شخص زندہ ہوکر اَپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا۔
2KI 13:22 اَور یہُوآحازؔ کے پُورے دَورِ حُکومت میں شاہِ ارام حزائیلؔ بنی اِسرائیل کو مسلسل اَذیّت ہی دیتا رہا۔
2KI 13:23 مگر یَاہوِہ اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کے ساتھ اَپنے عہد کی وجہ سے اُن پر مہربان تھے اَور اُنہُوں نے اُن پر رحم کیا اَور اُن کی خبرگیری کی اَور آج تک اُنہیں ہلاک نہیں ہونے دیا اَور نہ ہی اُنہیں اَپنی حُضُوری سے دُور کیا۔
2KI 13:24 جَب حزائیلؔ شاہِ ارام نے وفات پائی تو اُس کا بیٹا بِن ہددؔ اُس کی جگہ بادشاہ مُقرّر ہُوا۔
2KI 13:25 اِس وقت یہُوآشؔ بِن یہُوآحازؔ نے حزائیلؔ کے بیٹے بِن ہددؔ سے وہ سَب شہر چھین لیٔے جو اُس کے باپ یہُوآحازؔ سے جنگ میں چھین لیٔے گیٔے تھے۔ یہُوآشؔ نے تین بار بِن ہددؔ کو شِکست دی تھی اَور اِس طرح اُس نے بنی اِسرائیل کے شہر واپس لے لئے۔
2KI 14:1 شاہِ اِسرائیل یہُوآشؔ بِن یہُوآحازؔ کے دَورِ حُکومت کے دُوسرے سال میں شاہِ یہُودیؔہ اماضیاہؔ بِن یُوآشؔ نے حُکمرانی کرنا شروع کیا۔
2KI 14:2 وہ پچّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں اُنتیس سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام یِہوعدّان تھا اَور وہ یروشلیمؔ کی باشِندہ تھی۔
2KI 14:3 اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا لیکن اَپنے باپ داویؔد کی طرح نہیں کیا بَلکہ ہر بات میں اَپنے باپ یُوآشؔ کے نقش قدم پر چلا۔
2KI 14:4 تو بھی اُونچے مقامات ڈھائے نہ گیٔے اَور لوگ وہاں قُربانیاں گزرانتے اَور بخُور جَلاتے رہے۔
2KI 14:5 اَور سلطنت اُس کے ہاتھ میں مُستحکم ہوتے ہی، اُس نے اُن افسران کو جنہوں نے اُس کے باپ بادشاہ کو قتل کیا تھا جان سے مار ڈالا۔
2KI 14:6 تاہم اُس نے قاتلوں کے بیٹوں کو جان سے نہیں مارا کیونکہ مَوشہ کی کِتاب تورہ میں یَاہوِہ کا یہ حُکم درج ہے: ”والدین اَپنے بچّوں کے عِوض میں نہ مارے جایٔیں اَور نہ ہی بچّے اَپنے والدین کی خاطِر مارے جایٔیں۔ ہر ایک اَپنے ہی گُناہ کے سبب سے ماراجائے۔“
2KI 14:7 یہی وہ شخص تھا جِس نے وادی شور میں دس ہزار اِدُومیوں کو شِکست دی اَور جنگ کرکے سیلاؔ پر قبضہ کر لیا اَور اُسے یُقِتی ایل نام دیا جو آج تک اِسی نام سے مشہُور ہے۔
2KI 14:8 پھر اماضیاہؔ نے شاہِ اِسرائیل یہُوآشؔ بِن یہُوآحازؔ بِن یِہُو کے پاس قاصِد کی مَعرفت پیغام بھیجا: ”اگر ہمّت ہے تو آ اَور آمنے سامنے ہوکر میرے ساتھ جنگ کرو۔“
2KI 14:9 لیکن شاہِ اِسرائیل یہُوآشؔ نے شاہِ یہُودیؔہ اماضیاہؔ کو پیغام بھیجا: ”لبانونؔ کی ایک کٹیلی جھاڑی نے لبانونؔ کے مضبُوط دیودار کو پیغام بھیجا، ’اَپنی بیٹی کی شادی میرے بیٹے سے کر دو۔‘ اِتنے میں لبانونؔ کا ایک جنگلی حَیوان اُدھر سے گُزرا جِس نے اُس جھاڑی کو پاؤں تلے روند ڈالا۔
2KI 14:10 یہ سچ ہے کہ تُم نے اِدُوم کو شِکست دی اَور اَب تُم غُرور سے بھر گئے ہو۔ اِس لئے اَپنی فتح پر فخر کرو اَور گھر میں بیٹھے رہو! مُصیبت کو دعوت دے رہے ہو۔ تُم تو ڈُبو گے ہی، ساتھ ہی یہُودیؔہ کو بھی لے ڈُبو گے۔“
2KI 14:11 تاہم اماضیاہؔ نے اُس کی بات نہیں مانی۔ لہٰذا شاہِ اِسرائیل یہُوآشؔ نے اُس پر حملہ کر دیا اَور اُن دونوں کا مُقابلہ یہُودیؔہ کے بیت شِمِشؔ کے مقام پر ہُوا۔
2KI 14:12 بنی یہُوداہؔ نے بنی اِسرائیل سے شِکست کھائی اَور اُن کے سَب آدمی اَپنے اَپنے خیموں کو فرار ہو گیٔے۔
2KI 14:13 اَور شاہِ اِسرائیل یہُوآشؔ نے شاہِ یہُودیؔہ اماضیاہؔ بِن یہُوآشؔ بِن احزیاہؔ کو بیت شِمِشؔ میں قَید کر لیا۔ اَور اُسے لے کر پھر یہُوآشؔ یروشلیمؔ آیا اَور وہاں اُس نے اِفرائیمؔ کے پھاٹک سے لے کر کونے والے پھاٹک تک تقریباً ایک سَو اسّی میٹر تک یروشلیمؔ کی فصیل توڑ ڈالی۔
2KI 14:14 اَور اُس نے سَب سونے اَور چاندی اَور تمام ظروف کو جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اَور شاہی محل کے خزانوں میں ملے، اُنہیں اَور جنگی قَیدیوں کو ساتھ لے کر سامریہؔ کو لَوٹ گیا۔
2KI 14:15 کیا یہُوآشؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اماضیاہؔ شاہِ یہُودیؔہ کے خِلاف اُس کی جنگ اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 14:16 اَور یہُوآشؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور شاہانِ بنی اِسرائیل کے ساتھ سامریہؔ میں دفن کیا گیا اَور اُس کا بیٹا یرُبعامؔ اَپنے باپ کی جگہ پر بادشاہ بنا۔
2KI 14:17 شاہِ یہُودیؔہ اماضیاہؔ بِن یُوآشؔ شاہِ اِسرائیل یہُوآشؔ بِن یہُوآحازؔ کے مرنے کے بعد بھی پندرہ سال تک زندہ رہا۔
2KI 14:18 کیا اماضیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کے کارنامے یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 14:19 پھر اَیسا ہُوا کہ یروشلیمؔ میں اماضیاہؔ کے خِلاف سازش کی گئی، اَور وہ لاکیشؔ کو فرار ہو گیا؛ لیکن سازش کرنے والوں نے اَپنے آدمی بھیج کر لاکیشؔ تک اُس کا تعاقب کیا اَور وہیں اُس کا قتل کر دیا۔
2KI 14:20 تَب وہ اُس کی لاش گھوڑے پر لاد کر واپس لایٔے اَور اُسے اُس کے آباؤاَجداد کے ساتھ داویؔد کے شہر یروشلیمؔ میں دفن کر دیا۔
2KI 14:21 تَب یہُوداہؔ کے سَب لوگوں نے عزریاہؔ کو جو سولہ سال کا تھا، اُس کے باپ اماضیاہؔ کی جگہ پر بادشاہ بنایا۔
2KI 14:22 اَور اماضیاہؔ بادشاہ کی وفات کے بعد، عزریاہؔ نے ایلاتؔ شہر کو دوبارہ تعمیر کیا اَور اُسے پھر سے یہُوداہؔ کی مملکت میں شامل کر لیا۔
2KI 14:23 اَور شاہِ یہُودیؔہ اماضیاہؔ بِن یُوآشؔ کے دَورِ حُکومت کے پندرھویں سال میں شاہِ اِسرائیل یرُبعامؔ بِن یہُوآشؔ سامریہؔ میں بادشاہ بنا اَور اُس نے اکتالیس سال تک حُکمرانی کی۔
2KI 14:24 اَور اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا۔ اَور اُس نے یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے اُن گُناہوں سے کنارہ نہیں کیا جِن سے اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کیا تھا۔
2KI 14:25 اَور اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے اُس قول کے مُطابق جو اُنہُوں نے گاتؔھ حِفرؔ کے باشِندہ یُوناہؔ بِن امِتّائی بِن نبی کی مَعرفت فرمایا تھا، یرُبعامؔ نے بنی اِسرائیل کی سرحدوں کو لیبو حماتؔ کے مدخل سے لے کر عراباہؔ کے سمُندر یعنی بحرِ مُردار تک بحال کیا۔
2KI 14:26 کیونکہ یَاہوِہ نے دیکھا کہ بنی اِسرائیل میں ہر کویٔی خواہ وہ غُلام ہو یا آزاد کتنی سخت مُصیبت اُٹھا رہاہے اَور اُن کی مدد کرنے والا کویٔی نہیں۔
2KI 14:27 چونکہ یَاہوِہ نے تو اَیسا نہیں فرمایا تھا کہ وہ آسمان کے نیچے سے بنی اِسرائیل کا نام و نِشان مٹا دیں گے، اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُنہیں یرُبعامؔ بِن یہُوآشؔ کے ذریعہ رِہائی بخشی۔
2KI 14:28 کیا یرُبعامؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور سَب کچھ جو اُس نے کیا اَور اُس کی قُوّت، اُس کے جنگی اُصُول اَور اُس کے دَمشق اَور حماتؔ، جو یہُوداہؔ سے تعلّق رکھتے تھے، کس طرح بحال کیا، اُس کو دوبارہ حاصل کرنے کا بَیان، اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 14:29 اَور یرُبعامؔ اَپنے آباؤاَجداد شاہانِ بنی اِسرائیل کے ساتھ سو گیا اَور اُس کا بیٹا زکریاؔہ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
2KI 15:1 شاہِ اِسرائیل یرُبعامؔ کے ستّائیسویں سال میں عزریاہؔ بِن اماضیاہؔ شاہِ یہُودیؔہ نے سلطنت کرنا شروع کیا۔
2KI 15:2 اَور اُس وقت اُس کی عمر سولہ سال تھی جب بادشاہ بنا۔ اَور اُس نے یروشلیمؔ میں باون سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام یکولیاہؔ تھا جو یروشلیمؔ کی باشِندہ تھی۔
2KI 15:3 اَور عزریاہؔ نے بالکُل اَپنے باپ اماضیاہؔ کی طرح وُہی کام کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست ہے۔
2KI 15:4 تو بھی اُونچے مقامات ڈھائے نہ گیٔے اَور لوگ وہاں قُربانیاں گزرانتے اَور بخُور جَلاتے رہے۔
2KI 15:5 اَور بادشاہ پر یَاہوِہ کی اَیسی مار پڑی کہ وہ مرنے کے دِن تک کوڑھ میں مُبتلا رہا اَور ایک الگ گھر میں رہتا تھا۔ تَب بادشاہ کا بیٹا یُوتامؔ محل کا مالک بَن گیا اَور وُہی مُلک کے لوگوں پر حُکومت بھی کرنے لگا۔
2KI 15:6 کیا عزریاہؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور سَب کچھ جو اُس نے کیا یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہیں؟
2KI 15:7 اَور عزریاہؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُسے داویؔد کے شہر میں اُس کے آباؤاَجداد کے ساتھ دفن کیا گیا اَور اُس کا بیٹا یُوتامؔ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
2KI 15:8 شاہِ یہُودیؔہ عزریاہؔ کے اڑتیسویں سال میں زکریاؔہ بِن یرُبعامؔ سامریہؔ میں بنی اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے چھ مہینے تک بادشاہی کی۔
2KI 15:9 اَور اُس نے بھی یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی، ٹھیک وَیسا ہی جَیسا اُس کے آباؤاَجداد نے کیا تھا، اَور اُس نے یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے اُن گُناہوں سے کنارہ نہیں کیا، جِس میں اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کر رکھا تھا۔
2KI 15:10 اَور شلُّومؔ بِن یابیسؔ نے زکریاؔہ کے خِلاف سازش کی۔ اُس نے لوگوں کے سامنے ہی اُس پر حملہ کرکے اُسے قتل کر دیا اَور اِبلیعامؔ کی جگہ بادشاہ بَن گیا۔
2KI 15:11 کیا زکریاؔہ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہیں؟
2KI 15:12 چنانچہ یَاہوِہ کا وہ قول پُورا ہُوا جو اُنہُوں نے یِہُو سے فرمایا تھا: ”تمہاری اَولاد چوتھی پُشت تک بنی اِسرائیل کے تخت پر تخت نشین رہے گی۔“
2KI 15:13 شاہِ یہُودیؔہ عُزّیاہؔ کے اُنتالیسویں سال میں شلُّومؔ بِن یابیسؔ بادشاہ بنا اَور اُس نے سامریہؔ میں ایک مہینے حُکمرانی کی۔
2KI 15:14 اُسی دَوران مناخِمؔ بِن گادیؔ تِرضاؔہ سے سامریہؔ آیا اَور اُس نے سامریہؔ میں شلُّومؔ بِن یابیسؔ پر حملہ کرکے اُسے قتل کر دیا اَور اُس کی جگہ خُود بادشاہ بَن گیا۔
2KI 15:15 شلُّومؔ کی حُکمرانی کے دیگر واقعات اَورجو سازش اُس نے کی، کیا وہ بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہیں؟
2KI 15:16 اِس کے بعد مناخِمؔ نے تِرضاؔہ سے روانہ ہوکر تِفساحؔ شہر پر حملہ کرکے تِرضاؔہ سے لے کر سَب سرحدی علاقے کے باشِندوں کو تہِ تیغ کر دیا کیونکہ اِن شہروں کے باشِندوں نے ہتھیار ڈالنے اَور پھاٹکوں کو کھولنے سے اِنکار کر دیا تھا۔ اِس لئے اُس نے تِفساحؔ کو نِیست و نابود کر دیا اَور وہاں کی سَب حاملہ عورتوں کے پیٹ چیر ڈالے۔
2KI 15:17 اَور شاہِ یہُودیؔہ عزریاہؔ کے اُنتالیسویں سال میں مناخِمؔ بِن گادیؔ بنی اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے سامریہؔ میں دس سال حُکمرانی کی۔
2KI 15:18 اَور اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا اَور اَپنے تمام دَورِ حُکومت میں اُس نے یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے اُن گُناہوں سے کنارہ نہیں کیا، جِس سے اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کر دیا تھا۔
2KI 15:19 تَب شاہِ اشُور پُولؔ نے مُلک پر حملہ کر دیا۔ مناخِمؔ نے اُس کی حمایت حاصل کرنے اَور حُکومت پر اَپنی گرفت مضبُوط کرنے میں مدد کے لیٔے اُسے تقریباً پینتیس ٹن چاندی نذر کی۔
2KI 15:20 مناخِمؔ نے بنی اِسرائیل کے سارے دولتمند اَشخاص سے جبراً آدھا کِلو چاندی محصُول کے طور پر وصول کی تاکہ اُسے شاہِ اشُور کو تحفہ میں دی جا سکے۔ لہٰذا شاہِ اشُور واپس چلا گیا اَور مُلک میں نہ ٹھہرا۔
2KI 15:21 کیا مناخِمؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور سَب کچھ جو اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 15:22 اَور مناخِمؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُس کی جگہ اُس کا بیٹا پِقاحِیاہؔ بادشاہ بنا۔
2KI 15:23 شاہِ یہُودیؔہ عزریاہؔ کے پچاسویں سال میں پِقاحِیاہؔ بِن مناخِمؔ سامریہؔ میں بنی اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے دو سال حُکمرانی کی۔
2KI 15:24 پِقاحِیاہؔ نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا، وہ یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے اُن گُناہوں سے باز نہ آیا جِس سے اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کیا تھا۔
2KI 15:25 تَب پِقاحؔ کی فَوج کے سپہ سالار پِقاحؔ بِن رملیاہؔ نے جو اُس کے اعلیٰ افسروں میں سے ایک تھا، گِلعادیوں کے پچاس اَشخاص کے ساتھ مِل کر اُس کے خِلاف سازش کی اَور اُس نے اَپنے ساتھ ارگوبؔ اَور ارِیہؔ کو لے کر سامریہؔ میں شاہی محل کے قلعہ میں پِقاحِیاہؔ کو قتل کر دیا۔ اَور خُود اُس کی جگہ بادشاہ بَن گیا۔
2KI 15:26 اَور پِقاحِیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کے سارے کارنامے بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہیں۔
2KI 15:27 اَور شاہِ یہُودیؔہ عزریاہؔ کے باونویں سال میں پِقاحؔ بِن رملیاہؔ سامریہؔ میں بنی اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے بیس سال حُکمرانی کی۔
2KI 15:28 اُس نے بھی وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا، وہ یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے اُن گُناہوں سے باز نہ آیا، جِس سے اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کر دیا تھا۔
2KI 15:29 اَور شاہِ اِسرائیل پِقاحؔ کے دَورِ حُکومت میں شاہِ اشُور تِگلتؔ پلیسِر نے حملہ کیا اَور آکر عِیونؔ، بیت معکہؔ کے ابیل، ینوحاہؔ، قِدِشؔ اَور حَصورؔ گِلعادؔ، گلِیل اَور نفتالی کا سارے علاقے کو اَپنے قبضہ میں لے لیا۔ اَور وہاں کے سَب باشِندوں کو قَید کرکے اشُور لے گیا۔
2KI 15:30 تَب اُسی دَوران ہوشِیعؔ بِن اَیلہ نے پِقاحؔ بِن رملیاہؔ کے خِلاف سازش کی اَور حملہ کرکے اُسے قتل کر دیا اَور اُس کی جگہ پر بادشاہ بَن گیا۔ یہ واقعہ یُوتامؔ بِن عُزّیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے بیسویں سال میں ہُوا۔
2KI 15:31 کیا پِقاحؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور سَب کچھ جو اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 15:32 شاہِ اِسرائیل پِقاحؔ بِن رملیاہؔ کے دُوسرے سال میں شاہِ یہُودیؔہ یُوتامؔ بِن عُزّیاہؔ نے حُکمرانی شروع کی۔
2KI 15:33 یُوتامؔ پچّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں سولہ سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام یرُوشاؔ تھا جو صدُوقؔ کی بیٹی تھی۔
2KI 15:34 اَور اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا۔ بالکُل وَیسے ہی جَیسے اُس کے باپ عُزّیاہؔ نے کیا تھا۔
2KI 15:35 تو بھی اُونچے مقامات ڈھائے نہ گیٔے اَور لوگ وہاں قُربانیاں گزرانتے اَور بخُور جَلاتے رہے اَور یُوتامؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے بالائی پھاٹک کو دوبارہ تعمیر کیا۔
2KI 15:36 کیا یُوتامؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَورجو کارنامے اُس نے اَنجام دئیے وہ یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہیں؟
2KI 15:37 اُن ایّام میں یَاہوِہ نے شاہِ ارام رِضینؔ اَور پِقاحؔ بِن رملیاہؔ کو یہُوداہؔ کے خِلاف بھیجنا شروع کر دیا تھا۔
2KI 15:38 اَور یُوتامؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور داویؔد کے شہر میں اُن کے ساتھ دفن کیا گیا اَور اُس کا بیٹا آحازؔ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
2KI 16:1 اَور پِقاحؔ بِن رملیاہؔ کے سترھویں سال میں شاہِ یہُودیؔہ آحازؔ بِن یُوتامؔ حُکمرانی کرنے لگا۔
2KI 16:2 اَور آحازؔ بیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں سولہ سال حُکمرانی کی اَور اُس نے اَپنے آباؤاَجداد داویؔد کی مانند کام نہیں کیا جو یَاہوِہ اُس کے خُدا کی نظر میں دُرست تھا۔
2KI 16:3 بَلکہ وہ شاہانِ بنی اِسرائیل کی راہوں پر چلا اَور اُس نے اُن قوموں کے مکرُوہات دستور کے مُطابق اَپنے بیٹے کو بھی آگ میں قُربان کر دیا؛ حالانکہ اِن دستوروں کو یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کے درمیان سے باہر نکال دیا تھا۔
2KI 16:4 آحازؔ غَیر قوموں کی پرستش گاہوں پر یعنی بُلند مقامات پر، پہاڑیوں کی چوٹیوں پر اَور ہر ایک ہرے درخت کے نیچے قُربانیاں گذرانتا اَور بخُور جَلایا کرتا تھا۔
2KI 16:5 تَب شاہِ ارام رِضینؔ اَور شاہِ اِسرائیل پِقاحؔ بِن رملیاہؔ نے جنگ کی غرض سے یروشلیمؔ پر چڑھائی کی اَور آحازؔ کو گھیرلیا؛ مگر وہ اُس پر غالب نہ ہو سکے۔
2KI 16:6 اُسی دَوران شاہِ ارام رِضینؔ نے یہُودیؔہ کے یہُودیوں کو نکال کر ایلاتؔ کو دوبارہ ارام میں شامل کر لیا اَور پھر اِدُومی وہاں آکر رہنے لگے اَور وہ آج بھی وہیں بسے ہُوئے ہیں۔
2KI 16:7 آحازؔ بادشاہ نے شاہِ اشُور تِگلتؔ پلیسِر کے پاس قاصِدوں کی مَعرفت یہ پیغام بھیجا، ”مَیں آپ کا خادِم اَور جاگیردار ہُوں۔ پَس آپ آکر مُجھے شاہِ ارام اَور شاہِ اِسرائیل سے میری حِفاظت کیجئے جو مُجھ پر حملہ کر رہے ہیں۔“
2KI 16:8 اَور آحازؔ کو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اَور شاہی محل کے خزانوں میں جِتنا چاندی اَور سونا مِلا، وہ سَب اُس نے بطور نذرانہ شاہِ اشُور کو بھیج دیا۔
2KI 16:9 اَور شاہِ اشُور نے آحازؔ کی بات مان کر دَمشق پر حملہ کرکے اُس پر قبضہ کر لیا اَور اُس کے باشِندوں کو قَید کرکے قیرؔ میں جَلاوطن کر دیا اَور وہیں اُس نے رِضینؔ کو قتل کر دیا۔
2KI 16:10 تَب آحازؔ بادشاہ شاہِ اشُور تِگلتؔ پلیسِر سے مُلاقات کرنے دَمشق روانہ ہُوا۔ اَور اُس نے دَمشق میں ایک مذبح دیکھا اَور اُس مذبح کا نقشہ اَور اُس کی تعمیر کے لیٔے خاکے اَور دیگر تفصیلات اورِیّاہؔ کاہِنؔ کے پاس بھیجا۔
2KI 16:11 لہٰذا اورِیّاہؔ کاہِنؔ نے اُن تمام نقشوں کے مُطابق جو آحازؔ بادشاہ نے دَمشق سے بھیجے تھے ایک مذبح تعمیر کیا اَور آحازؔ بادشاہ کے لَوٹنے سے پیشتر اُسے مُکمّل کر دیا۔
2KI 16:12 جَب بادشاہ نے دَمشق سے واپس آکر اُسے دیکھا تو وہ اُوپر گیا اَور اُس پر نذریں چڑھائیں۔
2KI 16:13 اُس نے اَپنی سوختنی نذر اَور اناج کی نذر کی قُربانی گزرانی اَور تپاون اُنڈیلا اَور تمام سلامتی کی نذروں کے خُون کو اُس مذبح پر چھِڑکا۔
2KI 16:14 اَور آحازؔ نے یَاہوِہ کے سامنے رکھی کانسے کے اُس مذبح کو جو بیت المُقدّس کے سامنے تھا اُسے اَپنے نئے مذبح اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے درمیان سے اُٹھوا کر اَپنے نئے مذبح کے شمال کی طرف رکھوا دیا۔
2KI 16:15 تَب آحازؔ بادشاہ نے اورِیّاہؔ کاہِنؔ کو یہ حُکم دیا: ”اُس بڑے نئے مذبح پر صُبح کی سوختنی نذر، شام کی اناج کی نذر، بادشاہ کی سوختنی نذر اَور اُس کی اناج کی نذر، مُلک کے سَب لوگوں کی سوختنی نذریں اَور اُن کی اناج کی نذر گزراننا اَور اُن کے تپاون کی نذر اُنڈیلنا۔ اَور سوختنی نذروں اَور ذبیحوں کا سارا خُون اُس پر چھڑکنا۔ مگر یہ کانسے کے مذبح صرف میرے اِستعمال کے لیٔے چھوڑ دینا تاکہ میں اُس کے ذریعے یَاہوِہ کی رہنمائی حاصل کر سکوں۔“
2KI 16:16 اَور آحازؔ بادشاہ نے جَیسا حُکم دیا تھا اورِیّاہؔ کاہِنؔ نے بالکُل وَیسے ہی کیا۔
2KI 16:17 اَور آحازؔ بادشاہ نے مُنتقل ہونے والی پانی کی گاڑیوں کے بازوؤں کے چوکھٹوں کو کاٹے اَور اُن پر کے پانی کے حوضوں کو ہٹا دیا اَور اُس بڑی کانسے کے حوض کو جو بَیلوں کے اُوپر رکھی ہُوئی تھی اُتار کر پتّھروں کے چبُوترے پر رکھ دیا۔
2KI 16:18 اَور آحازؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے سائبان کو جو سَبت پر اِستعمال کے لیٔے اَور بادشاہ کی آمدورفت کے لیٔے باہری پھاٹک بنایا گیا تھا اُسے شاہِ اشُور کا لحاظ کرتے ہُوئے بیت المُقدّس سے ہٹا دیا۔
2KI 16:19 کیا آحازؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کے کارنامے یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 16:20 اَور آحازؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور داویؔد کے شہر میں اُن کے ساتھ دفن کیا گیا اَور اُس کی جگہ پر اُس کا بیٹا حِزقیاہؔ بادشاہ بنا۔
2KI 17:1 اَور شاہِ یہُودیؔہ آحازؔ کے بارہویں سال میں ہوشِیعؔ بِن اَیلہ سامریہؔ میں بنی اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے نَو سال تک حُکمرانی کی۔
2KI 17:2 اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا، مگر بنی اِسرائیل کے اُن بادشاہوں کی مانند نہیں کیا جو اُس سے پیشتر تھے۔
2KI 17:3 اَور شاہِ اشُور شلمنسرؔ نے ہوشِیعؔ پر حملہ کر دیا اَور ہوشِیعؔ نے اُس کی جاگیرداری قبُول کرلی اَور اُس کو بہت زِیادہ خراج دینا پڑتا تھا۔
2KI 17:4 لیکن شاہِ اشُور کو ہوشِیعؔ کی سازش کے بارے میں مَعلُوم ہُوا کہ اُس نے شاہِ مِصر سَواؔ کے پاس سفیر بھیجے ہیں اَور اُس نے شاہِ اشُور کو مُقرّر خراج بھی اَدا نہیں کی تھی، جَیسا وہ سال بسال اَدا کیا کرتا تھا۔ اِس لیٔے شلمنسرؔ نے اُسے گِرفتار کرکے قَیدخانہ میں ڈال دیا۔
2KI 17:5 اِس کے بعد شاہِ اشُور نے سارے اِسرائیل مُلک پر حملہ کرکے قبضہ کر لیا اَور سامریہؔ کے خِلاف فَوج کشی کرکے تین سال تک اُس کا محاصرہ جاری رکھا۔
2KI 17:6 اَور ہوشِیعؔ کے دَورِ حُکومت کے نویں سال میں شاہِ اشُور نے سامریہؔ پر قبضہ کر لیا اَور بنی اِسرائیل کو غُلام بنا کر اشُور میں جَلاوطن کر دیا اَور پھر اُس نے اُنہیں حالاحؔ اَور حابُورؔ علاقے میں آباد کر دیا۔ یہ دونوں علاقے مادیوں کے سرحدی شہر اَور دریائے گُوزانؔ کے کنارے مَوجُود ہیں۔
2KI 17:7 یہ سَب کچھ اِس لیٔے ہُوا کیونکہ بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کے خِلاف جنہوں نے اُنہیں شاہِ مِصر فَرعوہؔ کی غُلامی سے مِصر سے باہر نکال لائے تھے؛ گُناہ کیا اَور غَیر معبُودوں کی عبادت کی تھی۔
2KI 17:8 اَور اُن اَقوام کے رسم و رِواج پر عَمل کرنے لگے تھے جنہیں یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کے سامنے سے کھدیڑ دیا تھا دیا تھا، اِس کے علاوہ وہ شاہانِ بنی اِسرائیل کے طور طریقوں پر عَمل کرنے لگے تھے۔
2KI 17:9 اَور بنی اِسرائیل نے چوری چھُپے وہ سَب کام کئے جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرے تھے اَور اُنہُوں نے اَپنے سَب شہروں میں نگہبانوں کے بُرج سے لے کر فصیلدار شہر تک اَپنے لیٔے اُونچے اُونچے مقامات تعمیر کئے۔
2KI 17:10 اَور ہر اُونچی پہاڑی پر اَور ہر ہرے درخت کے نیچے اُنہُوں نے مُقدّس پتّھر اَور اشیراہؔ کے سُتون نصب کئے۔
2KI 17:11 اَور وہ سَب اُونچے پہاڑوں پر اُن قوموں کی مانند جنہیں یَاہوِہ نے اُن کے سامنے سے کھدیڑ دیا تھا، بخُور جَلایا اَور اُنہُوں نے اَپنے مکرُوہ کاموں سے یَاہوِہ کے غُصّہ کو بھڑکایا۔
2KI 17:12 وہ بُتوں کی پرستش کرتے رہے، جِن کی بابت یَاہوِہ نے اُنہیں تاکید کی تھی، ”تُم اَیسا مت کرنا۔“
2KI 17:13 پھر بھی یَاہوِہ بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ کو اَپنے نبیوں اَور رَوشن ضمیروں کی مَعرفت سے آگاہ کرتے رہے: ”تُم اَپنی بُری روِشوں سے باز آؤ اَور اُن سَب اَحکام اَور قوانین کے مُطابق جِس کو ماننے کا حُکم مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو دیا تھا اَور جسے مَیں نے اَپنے خادِموں نبیوں کی مَعرفت تُمہیں دیا ہے، میرے اَحکام اَور فرمانوں کو مانو۔“
2KI 17:14 باوُجُود اِس کے اُنہُوں نے نہ سُنی اَور اَپنے دِل کو سخت کر لیا؛ جَیسا اُن کے آباؤاَجداد نے کیا تھا، جنہوں نے یَاہوِہ اَپنے خُدا پر بالکُل توکّل نہیں کیا۔
2KI 17:15 اُنہُوں نے یَاہوِہ کے قوانین کو ردّ کر دیا اَور اُس عہد کو حقیر جانا جسے یَاہوِہ نے اُن کے آباؤاَجداد کے ساتھ باندھا تھا۔ اُنہُوں نے اُن کی رسموں کو ترک کر دیا جِن کی مَعرفت سے یَاہوِہ اُنہیں آگاہ کرنا چاہتے تھے۔ اَور اُنہُوں نے نکمّے بُتوں کی پرستش کی اَور بطالت کے شِکار ہو گئے۔ اَور اَپنے اِردگرد کی پڑوسی قوموں کی مانند ہو گئے۔ حالانکہ یَاہوِہ نے اُنہیں بالکُل صَاف لفظوں میں تاکید کی تھی، ”تُم اُن قوموں کے نقش قدم پر مت چلنا۔“
2KI 17:16 اُنہُوں نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کے سَب اَحکام کو ترک کر دیا اَور اَپنے لیٔے دھات کے دو بُت بچھڑوں کی صورت میں ڈھال لئے تھے اَور اُنہُوں نے اَپنے لئے اشیراہؔ کا سُتون تعمیر کی تھا اَور لاتعداد تاروں کے آسمانی لشکر اَور بَعل کی پرستش میں مصروف ہو گئے تھے۔
2KI 17:17 اِس کے بعد اُنہُوں نے اَپنے بیٹوں اَور بیٹیوں کی آتِشی قُربانی دی۔ اُنہُوں نے فالگیری اَور جادُوگری کا عَمل جاری رکھا۔ اَور خُود کو اُن تمام مکرُوہ کاموں میں مبتلا کر دیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرے تھے اَور جِن سے یَاہوِہ کا قہر شدید نازل ہو گیا۔
2KI 17:18 لہٰذا یَاہوِہ بنی اِسرائیل سے کافی ناراض ہُوئے اِس لئے اُنہیں اَپنے حُضُوری سے دُور کر دیا۔ صِرف یہُوداہؔ کا قبیلہ ہی مُلک میں باقی رہ گیا تھا۔
2KI 17:19 مگر بنی یہُوداہؔ نے بھی یَاہوِہ اَپنے خُدا کے اَحکام پر عَمل نہ کیا۔ اُنہُوں نے اُن ہی طریقوں پر عَمل کیا جو بنی اِسرائیل نے متعارف کروائے تھے۔
2KI 17:20 چنانچہ یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کی سبھی نَسل کو ردّ کر دیا اَور اُنہیں دُکھ پہُنچایا اَور لُٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا اَور اُنہیں اَپنی حُضُوری سے دُور کر دیا۔
2KI 17:21 جَب یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کو داویؔد کے گھرانے سے جُدا کر دیا، تَب اُنہُوں نے یرُبعامؔ بِن نباطؔ کو اَپنا بادشاہ مُقرّر کر لیا۔ اَور یرُبعامؔ نے بنی اِسرائیل کو یَاہوِہ کی پیروی کرنے سے دُور کر دیا اَور بنی اِسرائیل سے ایک بڑا گُناہ کروایا۔
2KI 17:22 اَور بنی اِسرائیل نے یرُبعامؔ کے تمام گُناہوں میں شرکت جاری رکھی اَور اُن سے کبھی باز نہ آئے۔
2KI 17:23 جَب تک کہ یَاہوِہ نے اُنہیں اَپنی حُضُوری سے دُور نہ کر دیا جَیسا اُنہُوں نے پہلے سے ہی اَپنے خادِم نبیوں کی مَعرفت فرمایا تھا۔ لہٰذا بنی اِسرائیل کے لوگ اَپنے مُلک سے دُور اشُور میں جَلاوطن کئے گیٔے اَور وہ ابھی تک وہیں ہیں۔
2KI 17:24 اَور شاہِ اشُور نے بابیل، کُوتھاہؔ، عوّاؔ، حماتؔ اَور سِفروائِمؔ کے لوگوں کو لاکر بنی اِسرائیل کی جگہ سامریہؔ کے شہروں میں آباد کر دیا اَور وہ سامریہؔ پر قبضہ کرکے اُس کے شہروں میں بس گیٔے۔
2KI 17:25 جَب وہ شروع میں وہاں آباد ہُوئے تو اُنہُوں نے یَاہوِہ کی عبادت نہ کی۔ لہٰذا یَاہوِہ نے اُن کے درمیان شیر بھیج دئیے جنہوں نے اُن کے کچھ لوگوں کو مار ڈالا۔
2KI 17:26 لہٰذا شاہِ اشُور کو لوگوں نے اِطّلاع دی: ”جِن لوگوں کو لے جا کر تُم نے سامریہؔ کے شہروں میں بسایا ہے وہ نہیں جانتے کہ اُس مُلک کے معبُود کی مَذہَبی رسومات کیا ہیں کیونکہ اُس نے اُن کے درمیان شیر بھیج دئیے ہیں جو اُنہیں پھاڑ رہے ہیں کیونکہ لوگوں کو مَعلُوم نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتاہے۔“
2KI 17:27 تَب شاہِ اشُور نے یہ حُکم دیا: ”سامریہؔ کے جِن کاہِنوں کو اسیر کرکے لایا گیا ہے، اُن میں سے ایک کاہِنؔ کو وہاں واپس بھیج دیا جائے تاکہ وہ وہاں رہ کر لوگوں کو سِکھائے کہ اُس مُلک کے معبُود کی مَذہَبی رسومات کیا ہیں۔“
2KI 17:28 لہٰذا سامریہؔ سے مُلک بدر کئے گیٔے کاہِنوں میں سے ایک بیت ایل میں رہنے کے لیٔے آیا اَور اُس نے اُنہیں یَاہوِہ کی عبادت کے ضوابط سِکھائے۔
2KI 17:29 تاہم ہر قوم کے لوگوں نے اَپنے شہروں میں جہاں وہ مُقیم تھے اَپنے لیٔے معبُودوں کے بُت بنا کر اُنہیں اُن اُونچے مقامات میں نصب کر دیا جو سامریہؔ کے لوگوں نے اُونچے مقامات پر بنائے تھے۔
2KI 17:30 بابیل سے آئے ہُوئے لوگوں نے سُکّوتؔ بناتھ کا بُت اَور کُوتھ سے آنے والوں نے نیرگلؔ بُت اَور حماتؔ والوں نے اشِیماؔ بُت کو تعمیر کیا۔
2KI 17:31 عوّیوں نے نیبھازؔ اَور تارتقؔ بُت کو اَور سِفرویوں نے اَپنے بچّوں کو سِفروائِمؔ کے معبُودوں ادرمّلکؔ اَور عنّملِخ کے لیٔے آتِشی قُربانی جاری رکھی۔
2KI 17:32 اِس طرح اُنہُوں نے خوفزدہ ہوکر یَاہوِہ کی پرستش کرنے کے لئے اَپنے ہی لوگوں میں سے بعض کو کاہِنؔ مُقرّر کر دیا تاکہ وہ اُونچے مقامات میں کاہِنوں کی طرح بُتکدوں پر قُربانیاں پیش کریں۔
2KI 17:33 چنانچہ وہ یَاہوِہ کی پرستش کے ساتھ ساتھ اَپنے اَپنے قوموں کے دستور کے مُطابق جِن میں سے وہ نکل کر آئےتھے اَپنے اَپنے معبُودوں کی پرستش بھی کیا کرتے تھے۔
2KI 17:34 آج کے دِن تک وہ اَپنے پہلے دستور پر قائِم ہیں۔ نہ تو وہ یَاہوِہ کی پرستش کرتے ہیں اَور نہ ہی اُن کے قوانین اَور ضوابط، آئین اَور اَحکام کو مانتے ہیں، جِن پر عَمل کرنے کا حُکم یَاہوِہ نے یعقوب کی نَسل کو دیا تھا، جنہیں وہ بنی اِسرائیل کے نام سے بُلاتے تھے۔
2KI 17:35 جِن کے ساتھ یَاہوِہ نے عہد کیا تھا اَور اُنہیں یہ حُکم دیا تھا: ”تُم غَیر معبُودوں کی عبادت مت کرنا، نہ اُنہیں سَجدہ کرنا، نہ اُن کی خدمت کرنا اَور نہ اُن کے لیٔے قُربانی گذراننا۔
2KI 17:36 بَلکہ تُم اُسی واحد یَاہوِہ کی عبادت کرنا جو بڑی قُوّت کے ساتھ اَپنے بازو پھیلا کر تُمہیں مُلک مِصر سے باہر نکال لایاتھا۔ تُم صِرف اُسی کو سَجدہ کرنا اَور صِرف اُسی کے لیٔے قُربانیاں گذراننا۔
2KI 17:37 اِس کے علاوہ جو قوانین اَور ضوابط، اَور آئین اَور اَحکام اُنہُوں نے تمہارے لیٔے قلم بند کئے ہیں اُنہیں تُم ہمیشہ بڑی احتیاط کے ساتھ عَمل کرنا اَور غَیر معبُودوں کی عبادت مت کرنا۔
2KI 17:38 اَور اُس عہد کو جو مَیں نے تُم سے کیا ہے بھُول نہ جانا اَور نہ غَیر معبُودوں کی عبادت کرنا۔
2KI 17:39 بَلکہ تُم صِرف یَاہوِہ اَپنے خُدا ہی کی عبادت کرنا اَور وُہی تُمہیں تمہارے سَب دُشمنوں سے چھُڑائیں گے۔“
2KI 17:40 لیکن اُنہُوں نے اِس ہدایت پر عَمل نہ کیا بَلکہ اَپنے سابقہ دستوروں پر قائِم رہے۔
2KI 17:41 چنانچہ یہ قومیں یَاہوِہ کی خدمت کے ساتھ ساتھ اَپنے بُتوں کی عبادت بھی کرتی رہیں اَور آج کے دِن تک اُن کے پوتوں پوتیوں کی نَسل وَیسے ہی کر رہے ہیں جَیسے اُن کے آباؤاَجداد کیا کرتے تھے۔
2KI 18:1 اَور شاہِ اِسرائیل ہوشِیعؔ بِن اَیلہ کے دَورِ حُکومت کے تیسرے سال میں شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ بِن آحازؔ حُکومت کرنے لگا۔
2KI 18:2 حِزقیاہؔ پچّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں اُنتیس سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام ابیّاہؔ تھا جو زکریاؔہ کی بیٹی تھی۔
2KI 18:3 اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا جَیسے اُس کے آباؤاَجداد داویؔد نے کیا تھا۔
2KI 18:4 اُس نے اُونچے مقامات کو ڈھا دیا اَور مُقدّس پتّھروں کو توڑ ڈالا اَور اشیراہؔ کے سُتونوں کو کاٹ ڈالا اَور اُس نے کانسے کے سانپ کو جسے مَوشہ نے بنایا تھا چکنا چُور کر دیا کیونکہ بنی اِسرائیل اُن دِنوں تک اُس کے آگے بخُور جَلایا کرتے اَور اُسے نحُشتان نام سے پُکارتے تھا۔
2KI 18:5 حِزقیاہؔ بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ پر توکّل کرتا تھا، اَور یہُوداہؔ کے تمام بادشاہوں میں جو اُس سے پہلے یا اُس کے بعد ہُوئے تھے اُس کی مانند کویٔی بھی نہ تھا۔
2KI 18:6 کیونکہ یَاہوِہ پر اُس کا ایمان بڑا پُختہ تھا۔ وہ ہمیشہ یَاہوِہ کی پیروی کرتا رہا اَور اُن اَحکام پر عَمل کرتا رہا جنہیں یَاہوِہ نے مَوشہ کو عطا فرمایا تھا۔
2KI 18:7 اِس لئے یَاہوِہ اُس کے ساتھ تھے اَور جہاں بھی وہ گیا وہاں اُسے اُس کے کام میں اِقبالمندی حاصل ہوئی۔ اُس نے شاہِ اشُور کے خِلاف بغاوت کر دی اَور اُسے خراج دینے سے منع کر دیا۔
2KI 18:8 اُس نے فلسطینیوں کو غزّہؔ اَور اُس کی سرحدوں تک یعنی نگہبانوں کے بُرج سے لے کر فصیلدار شہر تک شِکست دی۔
2KI 18:9 حِزقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے چوتھے سال میں جو شاہِ اِسرائیل ہوشِیعؔ بِن اَیلہ کے دَورِ حُکومت کا ساتواں سال تھا، شاہِ اشُور شلمنسرؔ نے سامریہؔ پر حملہ کیا اَور اُس کو گھیرلیا۔
2KI 18:10 اَور تین سال کے آخِر میں اشُوریوں نے اُس پر قبضہ کر لیا۔ لہٰذا سامریہؔ پر حِزقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے چھٹے سال میں اَور شاہِ اِسرائیل ہوشِیعؔ کے دَورِ حُکومت کے نَوویں سال میں قبضہ کر لیا۔
2KI 18:11 اَور شاہِ اشُور بنی اِسرائیل کو اسیر کرکے مُلکِ اشُور میں لے گیا اَور اُنہیں دریائے گُوزانؔ کے کنارے پر حالاحؔ اَور حابُورؔ نامی مقاموں میں اَور مادیوں کے شہروں میں آباد کر دیا۔
2KI 18:12 اَیسا اِس لیٔے ہُوا کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کا حُکم نہ مانا بَلکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کے عہد کو توڑ دیا یعنی اُن تمام باتوں کی خِلاف ورزی کی جِن پر عَمل کرنے کا حُکم یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے دیا تھا۔ نہ تو اُنہُوں نے اُن حُکموں کو سُنا اَور نہ ہی اُن پر عَمل کیا۔
2KI 18:13 شاہِ حِزقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے چودھویں سال میں شاہِ اشُور صینخربؔ نے یہُوداہؔ پر حملہ کرکے اُس کے تمام فصیلدار شہروں پر قبضہ کر لیا۔
2KI 18:14 لہٰذا شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ نے شاہِ اشُور کو لاکیشؔ شہر میں یہ پیغام بھیجا: ”مُجھ سے خطا ہُوئی ہے۔ یہاں سے اَپنی فَوجوں کو ہٹا لیجئے اَور آپ جِتنا خراج مطالبہ کریں گے میں اُسے اَدا کروں گا۔“ چنانچہ شاہِ اشُور نے شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ سے دس میٹرک ٹن چاندی اَور ایک ٹن سونا بطور خراج مُقرّر کر دیا۔
2KI 18:15 تَب شاہِ حِزقیاہؔ نے ساری چاندی جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس اَور شاہی محل کے خزانوں میں مِلی اُسے شاہِ اشُور کو نذرانہ میں پیش کر دیا۔
2KI 18:16 ساتھ ہی شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ نے یَاہوِہ کی بیت المُقدّس کے دروازوں اَور دروازوں کے سُتونوں کا وہ سونا جو خُود اُس نے اُن پر منڈھوایا تھا اُترواکر شاہِ اشُور کو دے دیا۔
2KI 18:17 پھر بھی شاہِ اشُور نے لاکیشؔ سے شاہِ حِزقیاہؔ کے پاس اَپنے فَوج کے سپہ سالار اَعظم، اَپنے اعلیٰ افسروں اَور فَوج کے سپہ سالار کو ایک لشکرِ جبّار کے ساتھ یروشلیمؔ بھیجا۔ اَور وہ یروشلیمؔ تک آئے اَور بالائی حوض کی نالی کے پاس جو دھوبی گھاٹ کو جانے والی راہ پر ہے رُک گیٔے۔
2KI 18:18 تَب شاہی محل کے دیوان خِلقیاہؔ کے بیٹا اِلیاقیؔم، شبناہؔ جو مُنشی تھا اَور آسفؔ کا بیٹا یُوآخؔ جو محرِّر تھا اُس سے مِلنے کے لیٔے باہر آئے۔
2KI 18:19 فَوج کے سپہ سالار نے اُنہیں حُکم دیا، ”حِزقیاہؔ سے کہو: ” ’مُلکِ مُعظّم شاہِ اشُور یُوں فرماتے ہیں: تُم کس پر اِعتماد کئے بیٹھے ہو؟
2KI 18:20 تُم کہتے ہو کہ میرے پاس جنگ کی مصلحت بھی ہے اَور فَوجی قُوّت بھی ہے مگر یہ محض باتیں ہی ہیں۔ آخِر کس پر اِعتماد رکھ کر تُم نے مُجھ سے بغاوت کی ہے؟
2KI 18:21 سُنو، تُم اُس ٹوٹے ہُوئے سَرکنڈے کا عصا یعنی مِصر پر بھروسا کئے بیٹھو ہو۔ اگر کویٔی اُس پر ٹیک لگاتاہے تو وہ اُس کے ہاتھ میں چُبھ جاتا ہے اَور اُسے زخمی کر دیتاہے! شاہِ مِصر فَرعوہؔ اُن سَب کے لیٔے جو اُس پر بھروسا کرتے ہیں اَیسا ہی ثابت ہوتاہے۔
2KI 18:22 اَور اگر تُم مُجھ سے کہتے ہو، ”ہم تو یَاہوِہ اَپنے خُدا پر توکّل کرتے ہیں۔“ تو کیا یہ وُہی نہیں ہیں جِن کے اُونچے مقامات اَور مذبحوں کو حِزقیاہؔ نے نِیست و نابود کر دیا ہے اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کو حُکم دیا، ”تُم یروشلیمؔ میں اِسی مذبح کے آگے سَجدہ کرنا“؟
2KI 18:23 ” ’اِس لئے اَب ذرا میرے آقا شاہِ اشُور کے ساتھ سَودا کر لو، مَیں تُمہیں دو ہزار گھوڑے دُوں گا بشرطیکہ تُم اَپنی طرف سے اُن کے لیٔے دو ہزار گُھڑسوار لا سکو!
2KI 18:24 پھر تُم اَپنی اِس چُھوٹی فَوج سے میرے آقا کے فَوج کے سَب سے کمزور دستے کے افسر کو للکارنے کی سوچ بھی کیسے سکتے ہو، جَب کہ تُم رتھوں اَور گُھڑسواروں کے لیٔے مِصر پر بھروسا کئے بیٹھے ہو؟
2KI 18:25 کیا میں یَاہوِہ کے فرمان کے بغیر ہی اِس مقام پر حملہ کرنے اَور اُسے تباہ کرنے آیا ہُوں، خُود یَاہوِہ نے مُجھ سے اِس مُلک پر حملہ کرنے اَور اِسے غارت کرنے کے لیٔے مُجھے حُکم دیا ہے۔‘ “
2KI 18:26 تَب اِلیاقیؔم بِن خِلقیاہؔ اَور شبناہؔ اَور یُوآخؔ نے فَوج کے سپہ سالار سے اِلتجا کی، ”مہربانی سے اَپنے خادِموں سے ارامی زبان میں بات کیجئے کیونکہ ہم اُسے سمجھتے ہیں اَور ہم سے یہُودیؔہ کی عِبرانی زبان میں بات نہ کریں کیونکہ فصیل پرجو لوگ بیٹھے ہیں وہ ہماری گُفتگو سُن رہے ہیں۔“
2KI 18:27 لیکن فَوج کے سپہ سالار نے جَواب دیا، ”کیا میرے آقا نے یہ باتیں صرف تُم سے اَور تمہارے آقا سے کہنے کے لیٔے بھیجا ہے، کیا اِن فصیل پر بیٹھنے والوں کے پاس نہیں بھیجا جِن کی یہی سزا مُقرّر ہے کہ وہ تمہارے ساتھ خُود اَپنا فُضلہ کھائیں اَور اَپنا پیشاب پیئیں؟“
2KI 18:28 پھر فَوج کے سپہ سالار نے کھڑے ہوکر یہُودیؔہ کی عِبرانی زبان میں بُلند آواز سے کہا، ”مُلکِ مُعظّم شاہِ اشُور کا پیغام سُنو!
2KI 18:29 بادشاہ یُوں فرماتے ہیں، حِزقیاہؔ کے فریب میں مت آؤ کیونکہ وہ تُمہیں بچا نہ سکےگا۔
2KI 18:30 اَور حِزقیاہؔ تُمہیں یہ کہہ کر یَاہوِہ پر توکّل رکھنے کی ترغِیب دینے نہ پایٔے، ’یَاہوِہ ہمیں ضروُر چھُڑائیں گے اَور یہ شہر شاہِ اشُور کے قبضہ میں ہرگز نہ ہوگا۔‘
2KI 18:31 ”حِزقیاہؔ کی نہ سُنو کیونکہ شاہِ اشُور یُوں فرماتے ہیں: میرے ساتھ صُلح کرو اَور نکل کر میرے پاس آؤ۔ تَب تُم میں سے ہر ایک اَپنے ہی تاکستان اَور اَنجیر کے درخت کا پھل کھا پایٔےگا اَور اَپنے ہی حوض کا پانی پیا کرےگا۔
2KI 18:32 جَب تک میں آکر تُمہیں ایک اَیسے مُلک میں نہ لے جاؤں جو تمہارے ہی مُلک کی مانند اناج اَور تازہ مَے کا مُلک، روٹی اَور تاکستانوں کا مُلک، زَیتُون کے درختوں اَور شہد کا مُلک ہے؛ تاکہ تُم زندگی اَور موت دونوں میں سے زندگی کو مُنتخب کر لو! ”حِزقیاہؔ کی بات مت سُنو کیونکہ وہ تُمہیں یہ کہتے ہُوئے گُمراہ کر رہاہے، ’یَاہوِہ ہمیں چھُڑائیں گے۔‘
2KI 18:33 کیا کسی قوم کے معبُود نے اَپنے مُلک کو کبھی شاہِ اشُور کے ہاتھ سے چھُڑایا ہے؟
2KI 18:34 حماتؔ اَور ارفادؔ کے معبُود کہاں ہیں؟ ہینعؔ اَور عِوّاہؔ اَور سِفروائِمؔ کے معبُود کہاں ہیں؟ اَور کیا اُنہُوں نے سامریہؔ کو میرے ہاتھ سے بچا لیا؟
2KI 18:35 جَب اُن قوموں کے تمام معبُودوں میں سے کون اَپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے بچانے کے قابل نِکلا تو یَاہوِہ یروشلیمؔ کو میرے ہاتھوں سے کیسے بچا سکیں گے؟“
2KI 18:36 لیکن سَب لوگ خاموش رہے اَور جَواب میں کچھ نہ کہا کیونکہ حِزقیاہؔ بادشاہ نے اُنہیں حُکم دے رکھا تھا، ”اُنہیں جَواب نہ دینا۔“
2KI 18:37 تَب شاہی محل کے دیوان اِلیاقیؔم بِن خِلقیاہؔ اَور شبناہؔ راوی اَور محرِّر یُوآخؔ بِن آسفؔ نے اَپنے کپڑے چاک کئے ہُوئے حِزقیاہؔ کے پاس گیٔے اَورجو کچھ فَوج کے سپہ سالار نے کہاتھا اُسے بَیان کیا۔
2KI 19:1 اَب جَب حِزقیاہؔ بادشاہ نے سُنا تو اَپنے کپڑے پھاڑے اَور ٹاٹ پہن کر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں داخل ہُوا۔
2KI 19:2 اُس نے شاہی محل کے دیوان اِلیاقیؔم اَور شبناہؔ مُنشی اَور بڑے کاہِنوں کو ٹاٹ اوڑھ کر یَشعیاہ بِن آموصؔ نبی کے پاس بھیجا۔
2KI 19:3 اَور اُنہُوں نے جا کر یَشعیاہ نبی کو خبر دی، ”حِزقیاہؔ یُوں درخواست کرتے ہیں، آج کا دِن دُکھ، ملامت اَور رُسوائی کا دِن ہے کیونکہ دردِ حَمل کا وقت آ گیا ہے، لیکن ماؤں میں اُنہیں پیدا کرنے کی طاقت نہیں رہ گئی ہے۔
2KI 19:4 ممکن ہے فَوج کے سپہ سالار کی ساری باتیں یَاہوِہ آپ کے خُدا نے سُنی ہوں جسے اُس کے آقا شاہِ اشُور نے زندہ خُدا کی توہین کرنے کے لئے بھیجا تھا، اَور شاید یَاہوِہ آپ کے خُدا اُن باتوں کو سُن کر اُسے ملامت کریں۔ چنانچہ آپ مہربانی کرکے اُن زندہ بچے ہُوئے لوگوں کے واسطے دعا کرو۔“
2KI 19:5 جَب حِزقیاہؔ بادشاہ کے خادِم یَشعیاہ نبی کے پاس پہُنچے۔
2KI 19:6 تَب یَشعیاہ نے اُن سے فرمایا، ”اَپنے آقا سے کہنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ تُم اُن باتوں کو سُن کر خوفزدہ نہ ہو جو شاہِ اشُور کے آدمیوں نے میری توہین کی غرض سے کہی ہیں۔
2KI 19:7 سُنو، میں اُس میں ایک اَیسی رُوح ڈال دُوں گا کہ وہ ایک افواہ سُنتے ہی اَپنے مُلک کو لَوٹ جائے گا اَور مَیں اُسے اُس کے مُلک میں ہی تلوار سے قتل کروا دوں گا۔‘ “
2KI 19:8 جَب فَوجی سپہ سالار نے سُنا کہ شاہِ اشُور لاکیشؔ سے چلا گیا تو وہ لَوٹا اَور بادشاہ کو لِبناہؔ سے جنگ کرتے ہُوئے پایا۔
2KI 19:9 پھر صینخربؔ کو اِطّلاع مِلی کہ کُوشؔ کا بادشاہ تِرہاقہؔ اُس سے جنگ کرنے کو نکل چُکاہے۔ لہٰذا اُس نے پھر حِزقیاہؔ کے پاس اَپنے قاصِدوں کو بھیجا اَور کہا:
2KI 19:10 ”شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ سے کہنا کہ جِس خُدا پر تُم توکّل کرتے ہو، وہ تُمہیں یہ کہہ کر فریب نہ دے، ’وہ یروشلیمؔ کو شاہِ اشُور کے قبضہ میں نہ جانے دے گا۔‘
2KI 19:11 یقیناً تُم نے سُن لیا ہے کہ شاہانِ اشُور نے تمام ممالک کو کیسے تباہ کیا ہے۔ اِس لئے کیا تُم محفوظ رہ سکوگے؟
2KI 19:12 گُوزانؔ، حارانؔ اَور رصفؔ میں رہنے والی جِن قوموں کو اَور تِلاسارؔ میں رہنے والے بنی عدنؔ کو میرے آباؤاَجداد نے ہلاک کیا۔ کیا اُن کے معبُودوں نے اُنہیں بچا سکے تھے؟
2KI 19:13 حماتؔ کا بادشاہ، ارفادؔ کا بادشاہ، لیئر کے بادشاہ کہاں ہیں، سِفروائِمؔ شہر کا بادشاہ اَور ہینعؔ اَور عِوّاہؔ کے بادشاہ کہاں گیٔے؟“
2KI 19:14 حِزقیاہؔ نے قاصِدوں سے خط لیا اَور اُسے پڑھا۔ پھر وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں گیا اَور اُسے یَاہوِہ کے حُضُور پھیلا دیا۔
2KI 19:15 اَور حِزقیاہؔ نے یَاہوِہ سے یُوں دعا کی: ”اَے قادرمُطلق یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا جو کروبیم کے درمیان تخت نشین ہیں، زمین کی تمام سلطنتوں کا اکیلے آپ ہی خُدا ہیں۔ آپ ہی آسمان اَور زمین کے خالق ہیں۔
2KI 19:16 اَے یَاہوِہ، اَپنے کان میری طرف لگا کر سُنیں، اَے یَاہوِہ، اَپنی آنکھیں کھولیں اَور دیکھیں، اَور زندہ خُدا کی توہین کرنے کے لیٔے جو پیغام صینخربؔ نے بھیجا ہے اُسے سُن لیں۔
2KI 19:17 ”اَے یَاہوِہ! یہ تو سچ ہے کہ اشُور کے بادشاہوں نے اُن قوموں کو اَور اُن کے ممالک کو تباہ کر دیا ہے۔
2KI 19:18 اُنہُوں نے اُن کے معبُودوں کو آگ میں جَلا کر نِیست و نابود کر دیا کیونکہ وہ خُدا نہ تھے بَلکہ محض لکڑی اَور پتّھر کے بُت تھے جنہیں اِنسانی ہاتھوں نے تراشا تھا۔
2KI 19:19 اَب اَے یَاہوِہ ہمارے خُدا! ہمیں اُس کے ہاتھ سے بچا لیجئے تاکہ رُوئے زمین کی سَب ممالک جان لیں کہ یَاہوِہ، آپ ہی واحد خُدا ہیں۔“
2KI 19:20 تَب یَشعیاہ بِن آموصؔ نے حِزقیاہؔ کے پاس یہ پیغام بھیجا: ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: چونکہ تُم نے شاہِ اشُور صینخربؔ کی بابت مجھ سے دعا کی ہے اُسے مَیں نے سُنا ہے۔“
2KI 19:21 اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُس کے حق میں یُوں فرمایا: ” ’اَے صِیّونؔ کی کنواری بیٹی تُجھے حقیر جان کر تیرا مذاق اُڑاتی ہے۔ یروشلیمؔ کی بیٹی تیرے شِکست کھا کر فرار ہوتے پیٹھ دیکھ کر اَپنا سَر ہلاتی ہے۔
2KI 19:22 وہ کون ہے جِس کی تُونے توہین اَور تکفیر کی ہے؟ تُونے کس کے خِلاف اَپنی آواز بُلند کی اَور تکبُّر سے اَپنی آنکھیں اُوپر اُٹھائیں؟ اِسرائیل کے قُدُّوس کے خِلاف!‘ “
2KI 19:23 تُم نے اَپنے قاصِدوں کے ذریعہ یَاہوِہ کی بےحُرمتی کی ہے۔ تُم نے ڈینگ ماری، ”میں اَپنے کثیر رتھوں کے ساتھ پہاڑوں کی چوٹیوں پر، بَلکہ لبانونؔ کی آخِری سرحدوں تک چڑھ آیا ہُوں۔ مَیں نے سَب سے اُونچے دیودار کے درخت کاٹ ڈالے ہیں، اَور اُس کے عُمدہ صنوبر کو بھی۔ میں اُس کے نہایت ہی دُور دراز کے مقاموں میں داخل ہو چُکا ہُوں، ہاں اُس کے گھنے جنگلوں میں بھی۔
2KI 19:24 مَیں نے پردیسی مُلکوں میں کنوئیں کھودے ہیں اَور وہاں کا پانی پیا ہے۔ اَور اَپنے پاؤں کے تلووں سے مِصر کے تمام دریاؤں کو خشک کر ڈالا۔“
2KI 19:25 ” ’کیا تُم نے نہیں سُنا؟ بہت پہلے سے مَیں نے یہ ٹھانا تھا۔ اَور میرا یہ منصُوبہ قدیم ایّام سے تھا؛ اَب مَیں نے اُسی کو پُورا کیا، جَب کہ تُم نے فصیلدار شہروں کو کھنڈر بنا کر رکھ دیا۔
2KI 19:26 اِسی وجہ سے اُن لوگوں کی طاقت چھین لی گئی، اَور وہ دہشت زدہ اَور شرمسار ہو گئے، وہ کھیتوں میں اُگے ہُوئے پَودوں کی مانند ہیں، بالکُل نازک ہرے پَودوں کی طرح، اَور چھتوں پر خُود اُگنے والی گھاس کی مانند، جو بڑھنے سے پہلے ہی مُرجھا جاتی ہے۔
2KI 19:27 ” ’لیکن مَیں تمہاری مجلس اَور آمدورفت کو جانتا ہُوں، اَور میرے خِلاف تمہاری جھنجھلاہٹ کو بھی جانتا ہُوں۔
2KI 19:28 چونکہ تُم مُجھ پر طیش میں آتے ہو اَور تمہارا تکبُّر میرے کانوں تک پہُنچ گیا ہے، اِس لیٔے مَیں اَپنی نکیل تمہاری ناک میں اَور اَپنی لگام تمہارے مُنہ میں ڈالوں گا، اَور جِس راستہ سے تُم آئے ہو، مَیں تُمہیں اُسی راستہ سے واپس لَوٹا دوں گا۔‘
2KI 19:29 ”اَے حِزقیاہؔ تمہارے لیٔے یہ نِشان ہوگا، ”اِس سال تُم وُہی فصل کو کھاؤگے جو خُود بخُود اُگتی ہے: اَور دُوسرے سال جو اُن میں سے اُگے گی لیکن تیسرے سال تُم بیج بوؤگے اَور فصل کاٹوگے، تاکستان لگاؤگے اَور اُن کا پھل کھاؤگے۔
2KI 19:30 ایک دفعہ پھر یہُوداہؔ کے گھرانے کے باقی بچے ہُوئے لوگ پھر سے گہری جڑ پکڑیں گے اَور درخت اُوپر تک پھُولے اَور پھلیں گے۔
2KI 19:31 کیونکہ یروشلیمؔ میں سے باقی بچے ہُوئے، اَور کوہِ صِیّونؔ سے فرار ہُوئے لوگ ہی نکلیں گے۔“ ”قادرمُطلق یَاہوِہ کی غیّوری یہ کر دِکھائے گی۔
2KI 19:32 ”چنانچہ شاہِ اشُور کی بابت یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ” ’وہ نہ تو اِس شہر میں داخل ہوگا، اَور نہ ہی وہ یہاں کویٔی تیر چلانے پایٔےگا۔ وہ ڈھال لے کر اِس کے سامنے نہیں آئے گا اَور نہ ہی اِس کے خِلاف گھیرا باندھے کے لیٔے کوئی دمدمہ بنا سکےگا۔
2KI 19:33 جِس راستے سے وہ آیا ہے، اُسی راستے سے واپس چلا جائے گا؛ وہ اِس شہر میں ہرگز داخل نہ ہو پایٔےگا۔ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
2KI 19:34 کیونکہ مَیں اَپنے جلال کی خاطِر اَور اَپنے بندہ داویؔد کی خاطِر، اِس شہر کی حِفاظت کروں گا اَور اِسے بچاؤں گا۔‘ “
2KI 19:35 چنانچہ اُسی رات یَاہوِہ کے ایک فرشتہ نے اشُوریوں کی لشکرگاہ میں داخل ہوکر ایک لاکھ پچاسی ہزار فَوجیوں کو مار ڈالا اَور اگلی صُبح کو جَب لوگ اُٹھے تو دیکھا کہ وہاں صِرف لاشیں پڑی ہُوئی ہیں۔
2KI 19:36 لہٰذا شاہِ اشُور صینخربؔ چھوڑکر اَپنے مُلک لَوٹ گیا اَور نینوہؔ شہر میں رہنے لگا۔
2KI 19:37 ایک دِن جَب وہ اَپنے معبُود نِسروکؔ کے مَندِر میں پرستش کر رہاتھا تو اُس کے بیٹے ادرمّلکؔ اَور شاریضرؔ نے اُسے تلوار سے قتل کرکے اراراطؔ کی سرزمین کو فرار ہو گیٔے اَور اُس کی جگہ پر اُس کا بیٹا اسرحدّونؔ بادشاہ بنا۔
2KI 20:1 اُن دِنوں حِزقیاہؔ بیمار ہو گیا یہاں تک کہ مرنے کی نَوبَت آ گئی۔ تَب یَشعیاہ بِن آموصؔ نبی اُن سے مُلاقات کرنے آئے اَور حِزقیاہؔ سے فرمایا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ تُم اَپنے گھرانے کو سیدھا کرو کیونکہ تُم مرنے والے ہو اَور اِس بیماری سے شفایاب ہونا ممکن نہیں ہے۔“
2KI 20:2 تَب یہ سُن کر حِزقیاہؔ نے اَپنا مُنہ دیوار کی طرف کرکے یَاہوِہ سے یہ دعا کی،
2KI 20:3 ”اَے یَاہوِہ یاد فرمائیں کہ مَیں آپ کے حُضُور مُکمّل جان نثاری اَور پُوری وفاداری سے چلتا رہا ہُوں اَور مَیں نے وُہی کیا ہے جو آپ کی نظروں میں دُرست ہے۔“ اَور تَب حِزقیاہؔ زار زار رونے لگا۔
2KI 20:4 یَشعیاہ کے محل درمیانی صحن سے باہر نکلنے سے پیشتر ہی، یَاہوِہ کا کلام اُن پر نازل ہُوا کہ:
2KI 20:5 ”واپس جا کر میری قوم کے رہنما حِزقیاہؔ سے فرما، ’یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد داویؔد کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، مَیں نے تمہاری دعا سُن لی ہے اَور مَیں نے تمہارے آنسُو دیکھے ہیں۔ مَیں تُمہیں شفا بخشوں گا اَور آج سے تین دِن کے بعد تُم یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جاؤگے۔
2KI 20:6 اَور مَیں تمہاری عمر پندرہ بَرس اَور بڑھا دُوں گا اَور تُمہیں اَور اِس شہر کو شاہِ اشُور کے اِختیار سے آزاد کر دُوں گا۔ میں اَپنے جلال کی خاطِر اَور اَپنے خادِم داویؔد کی خاطِر اِس شہر کی حِفاظت کروں گا۔‘ “
2KI 20:7 تَب یَشعیاہ نے حِزقیاہؔ کے خادِموں کو حُکم دیا، ”سُوکھنے اَنجیر کی ایک ٹکیا تیّار کرکے لاؤ۔“ تَب اُنہُوں نے وَیسا ہی کیا اَور اُسے بادشاہ کے پھوڑے پر باندھ دیا۔ تَب وہ شفایاب ہو گیا۔
2KI 20:8 حِزقیاہؔ نے یَشعیاہ سے دریافت کیا تھا کہ، ”اِس کا کیا نِشان ہوگا کہ یَاہوِہ مُجھے شفا بخشیں گے اَور مَیں اَب سے تیسرے دِن بعد یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جاؤں گا۔“
2KI 20:9 یَشعیاہ نے جَواب دیا، ”یَاہوِہ کے وعدہ پُورا ہونے کا یہ نِشان ہوگا، کیا سایہ یا تو دس قدم آگے بڑھ جائے گا، یا دس قدم پیچھے ہو جائے گا؟“
2KI 20:10 حِزقیاہؔ نے حُکم دیا، ”سایہ کا دس قدم آگے جانا تو مَعمولی سِی بات ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ سایہ دس قدم پیچھے ہو جائے۔“
2KI 20:11 تَب یَشعیاہ نبی نے یَاہوِہ سے دعا کی اَور یَاہوِہ نے اُس سایہ کو جو آحازؔ کی دھوپ گھڑی میں دس قدم ڈھل چُکاتھا، وہ دس قدم پیچھے چلا گیا۔
2KI 20:12 اُس وقت شاہِ بابیل مرُودکؔ بلادانؔ بِن بلادانؔ نے حِزقیاہؔ کے پاس خُطوط اَور تحفے بھیجے کیونکہ اُس نے حِزقیاہؔ کی بیماری کی خبر سُنی تھی۔
2KI 20:13 حِزقیاہؔ نے سفیروں کا اِستِقبال کیا اَورجو کچھ اُس کے گوداموں میں تھا یعنی چاندی، سونا، مَسالہ اَور نفیس عطر اَور اَپنا اسلحہ خانہ اَورجو کچھ اُس کے خزانوں میں مَوجُود تھا اُنہیں دِکھایا۔ اَور اُس کے محل میں یا اُس کی تمام مملکت میں کویٔی چیز اَیسی نہ تھی جو حِزقیاہؔ نے اُنہیں نہ دِکھائی ہو۔
2KI 20:14 تَب یَشعیاہ نبی نے حِزقیاہؔ بادشاہ کے پاس جا کر پُوچھا، ”اُن لوگوں نے کیا کہا اَور وہ کہاں سے آئےتھے؟“ حِزقیاہؔ نے جَواب دیا، ”وہ دُور کے مُلک، بابیل سے میرے پاس آئےتھے۔“
2KI 20:15 تَب نبی نے پُوچھا، ”اُنہُوں نے آپ کے محل میں کیا کیا دیکھا؟“ حِزقیاہؔ نے کہا، ”اُنہُوں نے وہ سَب کچھ دیکھا جو میرے محل میں ہے۔ میرے خزانوں میں اَیسی کویٔی شَے نہیں جو مَیں نے اُنہیں نہیں دِکھائی۔“
2KI 20:16 تَب یہ سُن کر یَشعیاہ نے حِزقیاہؔ سے فرمایا، ”یَاہوِہ کا کلام سُنو،
2KI 20:17 یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ وہ دِن یقیناً آنے والے ہیں، جَب تمہارے محل کی ہر ایک چیز اَور سَب کچھ جو تمہارے آباؤاَجداد نے آج تک جمع کیا ہے، بابیل کو لے جایا جائے گا اَور یہاں کچھ بھی باقی نہ رہ جائے گا۔
2KI 20:18 اَور تمہارے بیٹوں میں سے بعض کو جو تمہارے اَپنے گوشت اَور خُون ہیں اُنہیں اسیری میں لے جایا جائے گا اَور اُنہیں شاہِ بابیل کے محل کے خواجہ سرا بنا دیا جائے گا۔“
2KI 20:19 تَب حِزقیاہؔ نے یَشعیاہ کو جَواب دیا، ”یَاہوِہ کا کلام جو آپ نے سُنایا بھلا ہی ہے،“ کیونکہ اُس نے سوچا، ”جَب تک میں زندہ ہُوں تَب تک اَمن و سلامتی قائِم رہے گی۔“
2KI 20:20 اَور حِزقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کے کارنامے اَور یہ کہ اُس نے کس طرح تالاب اَور سُرنگ کی تعمیر کرائی، جِس کے ذریعہ شہر کے اَندر پانی لایا گیا، کیا وہ یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 20:21 حِزقیاہؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُس کی جگہ پر اُس کا بیٹا منشّہ بادشاہ بنا۔
2KI 21:1 منشّہ بَارہ سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں پچپن سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام حِپضیباہؔ تھا۔
2KI 21:2 اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا؛ اُس نے اُن قوموں کے مکرُوہ دستوروں کی پیروی کی جنہیں یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کے سامنے سے کھدیڑ دیا تھا۔
2KI 21:3 کیونکہ اُس نے اُن اُونچے مقامات کو جنہیں اُس کے باپ حِزقیاہؔ نے مِسمار کر دیا تھا دوبارہ تعمیر کروایٔے، اَور شاہِ اِسرائیل احابؔ کی مانند بَعل کے لیٔے مذبحے تعمیر کروائے اَور اشیراہؔ کا سُتون بنوایا، وہ آسمانی سِتاروں اَور اُن کے لشکر کو سَجدہ اَور پرستش کرتا تھا۔
2KI 21:4 اَور اُس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں تمام غَیر معبُودوں کے مذبحے تعمیر کروایٔے جِس کی بابت یَاہوِہ نے فرمایا تھا، ”کہ میں یروشلیمؔ میں اَپنا نام قائِم کروں گا۔“
2KI 21:5 اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے دونوں صحنوں میں اُس نے تمام اجرامِ فلکی کے لیٔے مذبحے بنائے
2KI 21:6 منشّہ نے اَپنے ہی بیٹے کی آتِشی قُربانی گزرانی۔ وہ جادُوگری، فالگیری اَور مُردوں سے مشورہ اَور اَرواح پرست بَن گیا تھا اَور اُس نے یَاہوِہ کی نظر میں نہایت بدی کی اَور اُن کے قہر شدید کو بھڑکا دیا تھا۔
2KI 21:7 منشّہ نے اُس اشیراہؔ دیوی کے ڈھالے ہوئے بُت کو بیت المُقدّس میں نصب کر دیا، جِس کی بابت یَاہوِہ نے داویؔد اَور اُن کے بیٹے شُلومونؔ سے فرمایا تھا، ”میں اِس گھر میں اَور یروشلیمؔ میں جسے مَیں نے بنی اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے مُنتخب کیا ہے، میں اَپنا نام اَبد تک قائِم رکھوں گا۔
2KI 21:8 اَور اِس کے علاوہ میں بنی اِسرائیل کے قدموں کو اِس مُلک سے باہر ہرگز آوارہ پھرنے نہ دوں گا جسے مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد کو عطا فرمایا تھا بشرطیکہ وہ آئین کی اُن سَب باتوں کو جِن کا مَیں نے اُنہیں حُکم دیا ہے یعنی تمام آئین پرجو میرے خادِم مَوشہ نے اُنہیں عطا کئے بڑی احتیاط سے عَمل کریں۔“
2KI 21:9 مگر بنی اِسرائیل نے اُن پر عَمل نہ کیا اَور منشّہ نے بھی اُنہیں اِس قدر گُمراہ کر دیا کہ اُنہُوں نے اُن غَیر قوموں کی بہ نِسبت زِیادہ بدی کی جنہیں یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کے سامنے سے نِیست و نابود کر دیا تھا۔
2KI 21:10 لہٰذا یَاہوِہ نے اَپنے خادِموں اَور نبیوں کی مَعرفت یُوں فرمایا:
2KI 21:11 ”چونکہ شاہِ یہُودیؔہ منشّہ نے یہ مکرُوہ کام کئے ہیں اَور اُس نے اُن امُوریوں سے بھی زِیادہ بدی کی ہے جو اُس سے پہلے مَوجُود تھے اَور اَپنے بُتوں کی پرستش کروا کے یہُوداہؔ سے بھی گُناہ کروایاہے۔
2KI 21:12 اِس لیٔے یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: میں یروشلیمؔ پر اَور یہُوداہؔ پر اَیسی مُصیبت لاؤں گا کہ جو بھی اُس کے بارے میں سُنے گا اُس کے کان جھنجھنا جائیں گے۔
2KI 21:13 مَیں یروشلیمؔ پر سامریہؔ کی طرح ایک پیمائشی جریب اَور احابؔ کے خاندان کی طرح ساہول کا اِستعمال کروں گا۔ مَیں یروشلیمؔ کو اِس طرح مٹا دوں گا جَیسے برتن کو پونچھ دیا جاتا ہے، مَیں اِسے پونچھ کر اُلٹا کر دوں گا۔
2KI 21:14 اَور مَیں اَپنی مِیراث کے باقی بچے ہُوئے لوگوں کو ترک کرکے اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے حوالہ کر دُوں گا اَور وہ اَپنے سَب دُشمنوں کے لئے لُوٹ اَور شِکار بَن جائیں گے۔
2KI 21:15 کیونکہ اُنہُوں نے وُہی کیا ہے جو میری نظر میں بُرا ہے، اَور اَیسا کرکے اُنہُوں نے میرے قہر شدید کو بھڑکا دیا ہے، اَیسی حرکت وہ جَب سے اُن کے آباؤاَجداد مِصر سے نکلے ہیں تَب سے لے کر آج کے دِن تک کرتے آ رہے ہیں۔“
2KI 21:16 اُس گُناہ کے علاوہ جو منشّہ نے یہُوداہؔ سے کروایا تھا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا، منشّہ نے بے شُمار بے قُصُوروں کا قتل عام کروایا کہ سارا یروشلیمؔ ایک سِرے سے لے کر دُوسرے سِرے تک خُون سے بھر گیا۔
2KI 21:17 منشّہ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کے سارے کارنامے اَور وہ گُناہ جِس کا وہ مُرتکب ہُوا، کیا وہ یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 21:18 اَور منشّہ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اَپنے اُس محل کے باغ میں جو عُزّاؔ کے باغ میں ہے دفن کیا گیا۔ اَور اُس کی جگہ پر اُس کا بیٹا امُونؔ بادشاہ بنا۔
2KI 21:19 امُونؔ بائیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں دو سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام میسُلّیمِتؔ تھا جو یُوطبہؔ شہر کی باشِندہ اَور حروصؔ کی بیٹی تھی۔
2KI 21:20 اَور اُس نے اَپنے باپ منشّہ کی طرح وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا۔
2KI 21:21 اَور وہ پُوری طرح اَپنے باپ کے نقش قدم پر چلا۔ اُس نے اُن بُتوں کی پرستش اَور سَجدہ کیا جِن کی پرستش اَور سَجدہ اُس کا باپ کیا کرتا تھا۔
2KI 21:22 اَور اِس طرح اُس نے اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا یَاہوِہ کو ترک کر دیا اَور اُن کی راہ پر نہ چلا۔
2KI 21:23 امُونؔ کے منصبداروں نے اُس کے خِلاف سازش کی اَور بادشاہ کو اُس کے محل میں قتل کر دیا۔
2KI 21:24 تَب مُلک کی عوام نے اُن تمام لوگوں کو قتل کر دیا، جنہوں نے امُونؔ بادشاہ کے خِلاف سازش کی تھی اَور اُس کے بیٹے یُوشیاہؔ کو اُس کی جگہ بادشاہ بنایا۔
2KI 21:25 کیا امُونؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کے کارنامے یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 21:26 اُسے عُزّاؔ کے باغ میں اُس کی قبر میں دفن کیا گیا اَور یُوشیاہؔ اُس کا بیٹا اُس کی جگہ پر بادشاہ بنا۔
2KI 22:1 یُوشیاہؔ آٹھ سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں اِکتیس سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام یدِیداہؔ تھا جو عدایاہؔ کی بیٹی تھی اَور بُصقتؔ کی باشِندہ تھی۔
2KI 22:2 اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا اَور اَپنے آباؤاَجداد داویؔد کی سَب راہوں پر چلا اَور اُس سے نہ تو داہنی یا بائیں طرف مُڑا۔
2KI 22:3 بادشاہ یُوشیاہؔ نے اَپنی حُکمرانی کے اٹھّارہویں سال میں اَپنے مُنشی شافانؔ بِن اصلیاہؔ بِن مِشُلّامؔ کو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں یہ کہہ کر بھیجا:
2KI 22:4 ”خِلقیاہؔ اعلیٰ کاہِن کے پاس جاؤ تاکہ وہ اُس نقدی کو گنے جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لائی گئی ہے اَور جسے دربانوں نے عوام سے لے کر جمع کیا ہے۔
2KI 22:5 اَور یہ رقم اُن آدمیوں کے حوالہ کر دی جائے جو بیت المُقدّس کی مرمّت کے کام کی نِگرانی پر مامُور ہیں تاکہ وہ اُن کاریگروں کو مُہیّا کرایٔیں جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت کا کام کر رہے ہیں۔
2KI 22:6 یعنی بڑھئیوں، مِعماروں اَور سنگ تراشوں کو ادائیگی کریں اَور اَیسا بندوبست کرنا کہ وہ بیت المُقدّس کی مرمّت کرنے کے لیٔے لکڑی اَور تراشا ہُوا پتّھر خرید لیں۔
2KI 22:7 لیکن تعمیر کرانے والوں سے اُس نقدی کا جو اُنہیں سُپرد کی جائے حِساب لینے کی ضروُرت نہیں کیونکہ وہ راستی سے کام کر رہے ہیں۔“
2KI 22:8 خِلقیاہؔ اعلیٰ کاہِن نے شافانؔ مُنشی کو اِطّلاع دی، ”مُجھے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں کِتاب تورہ مِلی ہے اَور اُس نے وہ کِتاب شافانؔ کو دے دی۔“ اَور وہ اُسے پڑھنے لگا۔
2KI 22:9 اَور پھر شافانؔ مُنشی نے بادشاہ کے پاس جا کر اُنہیں اِطّلاع دی: ”آپ کے خادِموں نے وہ ساری نقدی جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں مِلی تھی، اُسے لے کر آپ کے منصبداروں اَور کاریگروں کے ہاتھ میں سُپرد کر دی ہے جنہیں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت کا نِگراں مُقرّر کیا ہے۔“
2KI 22:10 اِس کے بعد شافانؔ مُنشی نے بادشاہ کو یہ بھی خبر دی، ”خِلقیاہؔ کاہِنؔ نے مُجھے ایک کِتاب دی ہے۔“ اَور شافانؔ نے اُسے بادشاہ کے حُضُور پڑھ کر سُنایا۔
2KI 22:11 جَب بادشاہ نے کِتاب تورہ کی باتیں سُنیں تو اُنہُوں نے اَپنے کپڑے پھاڑ دئیے۔
2KI 22:12 اَور خِلقیاہؔ کاہِنؔ، احیقامؔ بِن شافانؔ، عکبورؔ بِن میکایاہؔ، شافانؔ مُنشی اَور بادشاہ کے خادِم عسایاہؔ کو یہ حُکم دیا:
2KI 22:13 ”اِس کِتاب میں ہماری بابت جو لِکھا ہے، اُس کے بارے میں، میری طرف سے، عوام کی طرف سے، اَور سارے یہُوداہؔ کی طرف سے بیت المُقدّس میں جا کر یَاہوِہ کی مرضی دریافت کرو۔ کیونکہ یَاہوِہ کا بڑا غضب ہم پر اِسی سبب سے نازل ہُواہے؛ کیونکہ ہمارے آباؤاَجداد نے اِس کِتاب میں درج حُکموں کی تعمیل نہ کی اَورجو کچھ اِس میں ہمارے لئے لِکھا ہے اُس کے مُطابق عَمل نہیں کیا۔“
2KI 22:14 تَب خِلقیاہؔ کاہِنؔ، احیقامؔ، عکبورؔ، شافانؔ اَور عسایاہؔ مِل کر حُلدہؔ نبیّہ سے مشورہ کرنے اُس کے پاس گیٔے، جو توشہ خانہ کے داروغہ شلُّومؔ بِن تِقوہؔ کی بیوی تھی، جو ہرحاسؔ کے بیٹے، وہ یروشلیمؔ کے نئے محلّہ میں رہتی تھی۔
2KI 22:15 حُلدہؔ نبیّہ نے اُنہیں جَواب دیا، ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: جِس شخص نے تُمہیں میرے پاس بھیجا ہے اُس سے یہ کہنا،
2KI 22:16 ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ اِس کِتاب کی اُن سَب باتوں کے مُطابق جنہیں شاہِ یہُودیؔہ نے پڑھا ہے، میں اِس مُلک پر اَور اِس کے سَب باشِندوں پر بَلائیں نازل کرنے والا ہُوں۔
2KI 22:17 کیونکہ اُنہُوں نے مُجھے ترک کر دیا ہے اَور غَیر معبُودوں کے آگے بخُور جَلایا اَور اَپنے ہاتھوں سے تعمیر کی ہوئی تمام چیزوں سے مُجھے غُصّہ دِلایا ہے۔ لہٰذا میرا قہر اِس مقام پر بھڑکے گا اَور ٹھنڈا نہ ہوگا۔‘
2KI 22:18 لیکن تُم شاہِ یہُودیؔہ سے جِس نے تُمہیں یَاہوِہ سے دریافت کرنے کے لیٔے بھیجا ہے کہنا: ’جو کلام تُم نے سُنا ہے اُس کے متعلّق، یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے:
2KI 22:19 کیونکہ تمہارا دِل حلیم ہے، اَور تُم نے خُود کو یَاہوِہ کے حُضُور حلیم کیا ہے، جَب تُم نے وہ بات سُنی جو مَیں نے اِس مقام اَور اِس کے باشِندوں کے متعلّق کہا ہے کہ وہ لعنتی ٹھہریں گے اَور تباہ کر دئیے جایٔیں گے، تو تُم نے اَپنے کپڑے پھاڑے اَور تُم نے میرے حُضُور ماتم کیا ہے۔ لہٰذا یہ یَاہوِہ کا پیغام ہے کہ مَیں نے بھی تمہاری فریاد سُن لی ہے۔
2KI 22:20 چنانچہ سُنو! میں تُمہیں تمہارے آباؤاَجداد کے ساتھ مِلا دُوں گا اَور تُم سلامتی کے ساتھ قبر میں اُتارے جاؤگے اَور تمہاری آنکھیں اُس تمام آفت کو نہ دیکھ پائیں گی جو میں اِس جگہ پر اَور یہاں کے باشِندوں پر لانے والا ہُوں۔‘ “ تَب اُنہُوں نے لَوٹ کر بادشاہ کو حُلدہؔ نبیّہ کا یہ پیغام سُنایا۔
2KI 23:1 تَب بادشاہ نے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سَب بُزرگوں کو اَپنے پاس بُلوا کر جمع کیا۔
2KI 23:2 اَور بادشاہ، بنی یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سَب لوگوں اَور کاہِنؔ اَور نبیوں کے ساتھ کیا چُھوٹے کیا بڑے، سَب لوگوں کو ساتھ لے کر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو گیا اَور بادشاہ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں پائی گئی اُس عہد کی کِتاب کی تمام باتیں بُلند آواز سے پڑھ کر اُنہیں سُنائیں۔
2KI 23:3 تَب بادشاہ نے سُتون کے پاس کھڑے ہوکر یَاہوِہ کے حُضُور میں یہ عہد کیا کہ وہ یَاہوِہ کی پیروی کریں گے۔ اُس کے اَحکام، رسمیں اَور قوانین کو اَپنے سارے دِل اَور ساری جان سے عَمل کریں گے اَور عہدنامہ کی ساری باتوں پرجو اِس کِتاب میں مرقوم ہیں عَمل کریں گے۔ تَب وہاں مَوجُود سَب عوام نے اُس عہد پر قائِم رہنے کا عہد لیا۔
2KI 23:4 پھر بادشاہ نے اعلیٰ کاہِن خِلقیاہؔ اَور اُس کے تحت کام کرنے والے کاہِنوں کو اَور دربانوں کو حُکم دیا کہ وہ اُن تمام اَشیا کو جو بَعل اَور اشیراہؔ اَور سِتاروں کے آسمانی لشکر کے لیٔے بنائی گئی ہیں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس سے باہر نکال دیں۔ اَور بادشاہ نے اُنہیں یروشلیمؔ سے باہر قِدرُونؔ کی وادی کے میدانوں میں جَلا دیا اَور اُن کی راکھ کو بیت ایل لے گئے۔
2KI 23:5 یُوشیاہؔ نے اُن بُت پرست کاہِنوں کو جنہیں یہُوداہؔ کے بادشاہوں نے یہُودیؔہ کے شہروں اَور یروشلیمؔ کے اِردگرد کے اُونچے مقامات میں بخُور جَلانے کو مُقرّر کیا تھا اُنہیں ہٹا دیا اَور اُنہیں بھی جو بَعل، آفتاب اَور چاند، کواکب اَور سِتاروں کے سارے آسمانی لشکر کے لیٔے بخُور جَلاتے تھے بَرخواست کر دیا۔
2KI 23:6 بادشاہ نے اشیراہؔ کو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس سے نکلوا کر یروشلیمؔ سے باہر قِدرُونؔ کی وادی میں لے جا کر جَلا دیا اَور اُسے پیس کر راکھ بنا کر عوام کی قبروں پر بِکھیر دیا۔
2KI 23:7 اَور بادشاہ نے مَندِر کے مرَدپرستوں کے مکانوں کو بھی ڈھا دیا جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے صحن میں تعمیر کئےگئے تھے، جہاں عورتیں اشیراہؔ دیوی کے لیٔے پردے بُنا کرتی تھیں ڈھا دیا۔
2KI 23:8 یُوشیاہؔ نے یہُوداہؔ کے تمام شہروں سے سارے کاہِنوں کو یروشلیمؔ میں جمع کرکے گِبعؔ سے لے کر بیرشبعؔ تک اُن تمام اُونچے مقامات کو جہاں کاہِنؔ بخُور جَلایا کرتے تھے، اُنہیں ناپاک کر دیا۔ پھر پھاٹکوں پر مَوجُود اِحترام والے اُن اُونچے اُونچے پرستش کے مقاموں کو نِیست و نابود کر ڈالا جو شہر کے حاکم یہوشُعؔ کے پھاٹک کے مدخل کی بائیں طرف تعمیر کئےگئے تھے۔
2KI 23:9 تو بھی اُونچے مَندِروں کے کاہِنوں کو یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے مذبح کی خدمت کرنے کی مناہی تھی کیونکہ اُنہُوں نے غَیر قوموں کے اُونچے مقامات میں خدمت کی تھی۔ پھر بھی وہ اَپنے ہم خدمت کاہِنوں کے ساتھ بے خمیری روٹی کے کھانے میں ضروُر شرکت کرتے تھے۔
2KI 23:10 یُوشیاہؔ نے تُوفتؔ کو جو بین ہِنَّومؔ کی وادی میں تھا اُسے ناپاک کر دیا تاکہ اِس کے بعد کویٔی بھی شخص اَپنے بیٹے یا بیٹی کو مولکؔ کے واسطے آتِشی قُربانی کرنے کے لئے اِس کا اِستعمال نہ کر سکے۔
2KI 23:11 اَور اُس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے مدخل سے اُن گھوڑوں کے بُت کو ہٹا دیا جنہیں یہُوداہؔ کے بادشاہوں نے آفتاب معبُود کے لیٔے مخصُوص کیا تھا۔ وہ گھوڑے خواجہ سرا ناتان ملِکؔ کے کمرے کے صحن میں قائِم کئےگئے تھے۔ پھر یُوشیاہؔ نے آفتاب کے رتھوں کو بھی آگ میں جَلا دیا۔
2KI 23:12 اَور یُوشیاہؔ نے اُن مذبح کو جو یہُوداہؔ کے بادشاہوں نے آحازؔ کے بالاخانہ کی چھت پر تعمیر کرائے تھے اَورجو منشّہ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے دونوں صحنوں میں تعمیر کئے تھے اُنہیں نِیست و نابود کر دیا اَور اُنہیں ریزہ ریزہ کرکے قِدرُونؔ کی وادی میں پِھکوا دیا۔
2KI 23:13 اَور بادشاہ نے اُن اُونچے مقامات کو بھی جو یروشلیمؔ کے مقابل کوہِ ہلاکت کے جُنوب میں تھے، ناپاک کر دیا جنہیں شاہِ اِسرائیل شُلومونؔ نے صیدونیوں کی نہایت مکرُوہ دیوی عستوریتؔ، مُوآب کے نہایت مکرُوہ معبُود کموشؔ اَور عمُّون کے لوگوں کے نہایت ہی مکرُوہ معبُود مولکؔ یا مِلکامؔ کے واسطے تعمیر کئے تھے۔
2KI 23:14 یُوشیاہؔ نے سُتونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اَور اشیراہؔ کے سُتونی بُتوں کو کاٹ ڈالا اَور اُن خالی مقاموں کو اِنسانی ہڈّیوں سے بھر دیا۔
2KI 23:15 اِس کے علاوہ اُس مذبح کو جو بیت ایل میں تعمیر کی گئی تھی اَور اُن مَندِروں کو جنہیں یرُبعامؔ بِن نباطؔ نے تعمیر کرایا تھا، اَور جِس نے بنی اِسرائیل سے بدی کروائی تھی، یُوشیاہؔ نے اُس مذبح اَور اُن اُونچے مَندِر کو نِیست و نابود کر دیا۔ اَور اُنہیں ریزہ ریزہ کر دیا اَور اشیراہؔ کے بُتوں کو آگ میں جَلا دیا۔
2KI 23:16 جَب یُوشیاہؔ نے چاروں طرف نگاہ ڈالی اَور اُن قبروں کو دیکھا جو پہاڑ میں کھودی گئی تھیں، تَب اُس نے خادِموں کو بھیج کر اُن کے اَندر سے ہڈّیاں نکلوائیں اَور اُنہیں اُس مذبح پر جَلا کر اُسے ناپاک کر دیا، یہ یَاہوِہ کے اُس قول کے مُطابق ہُوا جِس کی بابت اُس مَرد خُدا نے چِلّاکر پیشین گوئی کی تھی۔
2KI 23:17 تَب بادشاہ نے دریافت کیا، ”وہ لَوحِ مزار جو مَیں دیکھ رہا ہُوں کس کی ہے؟“ شہر کے لوگوں نے اُنہیں جَواب دیا، ”یہ اُس مَرد خُدا کی قبر ہے جِس نے یہُوداہؔ سے آکر اِسی بیت ایل کے مذبح کے خِلاف چِلّاکر اِن ہی کاموں کی نبُوّت کی تھی جسے آج آپ نے بیت ایل کے مذبح کے ساتھ پُورا کر دیا ہے۔“
2KI 23:18 تَب بادشاہ نے حُکم دیا، ”اُسے نہ چھیڑنا اَور کویٔی اُس کی ہڈّیوں کو دَرہم برہم نہ کرنے پایٔے۔“ چنانچہ اُنہُوں نے اُن کی ہڈّیوں کو اَور اُس نبی کی ہڈّیوں کو جو سامریہؔ سے آیاتھا وہیں رہنے دیا۔
2KI 23:19 یُوشیاہؔ نے اُن سارے اُونچے مقامات پر بُتکدوں کو بھی جو شاہانِ بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کو غُصّہ دِلانے کے لیٔے سامریہؔ کے شہروں میں تعمیر کی تھیں معدوم کر دیا۔ ٹھیک اُسی طرح جَیسا اُنہُوں نے بیت ایل میں کیا تھا۔
2KI 23:20 اَور یُوشیاہؔ نے اُن اُونچے مقامات پر بُتکدوں کے سَب کاہِنوں کو جو وہاں مَوجُود تھے اُن مذبحوں پر قتل کرکے اُن پر اِنسانی ہڈّیاں جَلائیں۔ اِس کے بعد بادشاہ یروشلیمؔ لَوٹ گئے۔
2KI 23:21 اَور بادشاہ نے سَب لوگوں کو یہ حُکم دیا: ”جَیسا اِس عہد کی کِتاب میں درج ہے، یَاہوِہ اَپنے خُدا کے لیٔے عیدِفسح مناؤ۔“
2KI 23:22 قاضیوں کے زمانہ میں جنہوں نے بنی اِسرائیل کی قیادت کی اَور شاہانِ بنی اِسرائیل اَور یہُوداہؔ کے تمام بادشاہوں کے ایّام میں اَیسی عیدِفسح کبھی نہیں منائی گئی تھی۔
2KI 23:23 لیکن یُوشیاہؔ بادشاہ کے دَورِ حُکومت کے اٹھّارہویں سال میں یَاہوِہ کے لیٔے یہ عیدِفسح یروشلیمؔ میں منائی گئی۔
2KI 23:24 اِس کے علاوہ یُوشیاہؔ نے جادُوگروں اَور اَرواح پرستوں، خانگی معبُودوں، بُتوں اَور ساری مکرُوہ چیزوں کو جو یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ میں جہاں کہیں نظر آئیں اُنہیں یُوشیاہؔ نے اِس خیالات سے نِیست و نابود کر دیا کہ وہ آئین کے اُن تقاضوں کو جو اُس کِتاب میں درج تھیں اُن کی تصدیق کر سکے جو خِلقیاہؔ کاہِنؔ کو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں مِلی تھی۔
2KI 23:25 یُوشیاہؔ کی مانند نہ تو اُس سے پیشتر اَور نہ ہی اُس کے بعد میں اَیسا کوئی بھی بادشاہ پیدا ہُوا، جو اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان اَور اَپنے سارے طاقت سے مَوشہ کے تمام آئین کے مُطابق یَاہوِہ کی طرف رُجُوع لایا ہو۔
2KI 23:26 تاہم یَاہوِہ کا قہر شدید جو یہُوداہؔ پر بھڑکا تھا ٹھنڈا نہیں ہُوا کیونکہ منشّہ نے اَپنی ساری بدکاریوں سے یَاہوِہ کے غضب کو بھڑکا دیا تھا۔
2KI 23:27 لہٰذا یَاہوِہ نے فرمایا، ”میں یہُوداہؔ کو بھی اَپنی حُضُوری سے دُور کر دُوں گا جَیسے مَیں نے بنی اِسرائیل کو دُور کر دیا ہے۔ اَور مَیں اِس شہر کو بھی ترک کر دُوں گا، جسے مَیں نے خُود مُنتخب کیا ہے یعنی یروشلیمؔ کے اُس بیت المُقدّس کو بھی جِس کی بابت مَیں نے اعلان کیا تھ، ’میرا نام وہاں قائِم رہے گا۔‘ “
2KI 23:28 کیا یُوشیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کے سارے کارنامے یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 23:29 یُوشیاہؔ بادشاہ کے ایّام سلطنت میں شاہِ مِصر فَرعوہؔ، نِکوہؔ شاہِ اشُور کی مدد کرنے کے لیٔے دریائے فراتؔ کو گیا۔ اَور یُوشیاہؔ بادشاہ جنگ میں اُس کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے نِکلا لیکن نِکوہؔ نے مگِدّوؔ میں اُسے دیکھتے ہی قتل کر دیا۔
2KI 23:30 اَور یُوشیاہؔ کے مُلازم اُس کی لاش کو ایک رتھ میں مگِدّوؔ سے یروشلیمؔ لے گیٔے اَور اُسے اُس کی اَپنی ہی قبر میں دفن کر دیا اَور مُلک کے لوگوں نے یُوشیاہؔ کے بیٹے یہُوآحازؔ کو لے کر مَسح کیا اَور اُسے اُس کے باپ کی جگہ بادشاہ مُقرّر کر دیا۔
2KI 23:31 یہُوآحازؔ تئیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا۔ اَور اُس نے یروشلیمؔ میں تین مہینے حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام حمُوطلؔ تھا جو لِبناہؔ شہر کے باشِندے یرمیاہؔ کی بیٹی تھی۔
2KI 23:32 یہُوآحازؔ نے بھی اَپنے آباؤاَجداد کی مانند وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا۔
2KI 23:33 اَور فَرعوہؔ نِکوہؔ نے اُسے مُلک حماتؔ کے رِبلہؔ شہر میں قَید کر دیا تاکہ وہ یروشلیمؔ میں سلطنت نہ کر سکے اَور یہُوداہؔ کے مُلک پر ایک سَو تالنت چاندی اَور ایک تالنت سونا خراج کے طور پر مُقرّر کر دیا۔
2KI 23:34 فَرعوہؔ نِکوہؔ نے یُوشیاہؔ کے بیٹے اِلیاقیؔم کو اُس کے باپ یُوشیاہؔ کی جگہ بادشاہ بنایا اَور اُس کا نام بدل کر یہُویقیمؔ رکھ دیا۔ لیکن وہ یہُوآحازؔ کو اسیر کرکے مِصر لے گیا جہاں اُس نے وفات پائی۔
2KI 23:35 یہُویقیمؔ نے فَرعوہؔ نِکوہؔ کو وہ چاندی اَور سونا تحفہ میں تو بھجوا دیا جِس کا اُس نے مطالبہ کیا تھا۔ مگر اِس وجہ سے اُس نے مُلک پر محصُول لگا دیا کہ فَرعوہؔ کے حُکم کے مُطابق اُسے وہ رقم مُہیّا کرائے۔ اِس لئے اُس نے اَپنے ہی شُمار کے مُطابق لوگوں سے مُقرّرہ مقدار جبراً چاندی اَور سونا وصول کرنے لگا۔
2KI 23:36 یہُویقیمؔ پچّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے گیارہ سال تک یروشلیمؔ پر حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام زیبِدہؔ تھا جو روماہؔ کے باشِندے پِدائیاہؔ کی بیٹی تھی۔
2KI 23:37 اَور یہُویقیمؔ نے بھی اَپنے آباؤاَجداد کی مانند وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا۔
2KI 24:1 یہُویقیمؔ کے دَورِ حُکومت میں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے مُلک پر حملہ کیا اَور یہُویقیمؔ تین سال تک اُس کا جاگیردار بنا رہا۔ لیکن بعد میں اُس نے اَپنی اِطاعت سے منحرف ہوکر نبوکدنضرؔ کے خِلاف بغاوت کر دی۔
2KI 24:2 اَور یَاہوِہ نے کَسدی، ارامی، مُوآبی اَور عمُّونی مال غنیمت لُوٹنے والے دستے بھیجے تاکہ یہ یہُوداہؔ کو ہلاک کر دیں، یہ یَاہوِہ کے اُس کلام کے مُطابق ہُوا تھا جو اُنہُوں نے اَپنے خادِموں، نبیوں کی مَعرفت اعلان کیا تھا۔
2KI 24:3 بے شک یہ باتیں یہُوداہؔ کے ساتھ یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق ہُوئیں تاکہ منشّہ کے گُناہوں اَور اِس کے کئے ہُوئے تمام کاموں کی وجہ سے اُنہیں اِس کی حُضُوری سے دُور کیا جا سکے۔
2KI 24:4 منشّہ کا ایک گُناہ یہ بھی تھا کہ اُس نے بے قُصُوروں کا خُون بہایا تھا اَور سارے یروشلیمؔ کو اُن کے خُون سے بھر دیا تھا۔ لہٰذا یَاہوِہ اُسے مُعاف کرنا نہیں چاہتے تھے۔
2KI 24:5 کیا یہُویقیمؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کے سارے کارنامے یہُوداہؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2KI 24:6 اَور یہُویقیمؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُس کا بیٹا یہُویاکینؔ اُس کی جگہ پر بادشاہ بنا۔
2KI 24:7 شاہِ مِصر پھر کبھی اَپنے مُلک سے باہر نہ نِکلا کیونکہ شاہِ بابیل نے وادی مِصر سے لے کر دریائے فراتؔ تک اُس کا تمام علاقہ اَپنے قبضہ میں کر لیا تھا۔
2KI 24:8 یہُویاکینؔ اٹھّارہ سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں تین ماہ حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام نحُشتاؔ تھا جو یروشلیمؔ کے باشِندے الناتھانؔ کی بیٹی تھی۔
2KI 24:9 اُس نے اَپنے آباؤاَجداد کی مانند وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا۔
2KI 24:10 اُس کے دَورِ حُکومت میں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے فَوجی اعلیٰ افسران نے یروشلیمؔ پر حملہ کرکے شہر کا محاصرہ کر لیا۔
2KI 24:11 اَور جَب شہر کا محاصرہ جاری تھا تو شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ خُود بھی وہاں آیا۔
2KI 24:12 تَب شاہِ یہُودیؔہ یہُویاکینؔ نے اَپنی ماں، اَپنے مُلازمین، اُمرا اَور اہلکاروں کے ساتھ خُود کو بھی اُس کے تابع کر دیا۔ اَور شاہِ بابیل نے اَپنی سلطنت کے آٹھویں سال میں یہُویاکینؔ کو گِرفتار کر لیا۔
2KI 24:13 تَب نبوکدنضرؔ نے یَاہوِہ کے کلام کے مُطابق یَاہوِہ کے بیت المُقدّس اَور شاہی محل کے سارے خزانے وہاں سے نکال کر اَپنے ساتھ لے گیا۔ اُس نے سونے کے ظروف بھی اَپنے قبضہ میں لے لیٔے جنہیں شاہِ اِسرائیل شُلومونؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے لیٔے بنوایا تھا۔
2KI 24:14 اَور نبوکدنضرؔ نے اَپنے ساتھ پُورے یروشلیمؔ کو یعنی تمام سرداروں اَور جنگجو مَردوں، تمام دستکاروں اَور کاریگروں کو جِن کا شُمار مِلا کر دس ہزار تھا اُنہیں اسیر کرکے لے گیا۔ چنانچہ مُلک میں صرف کنگالوں کے سِوا اَور کویٔی باقی نہ رہا۔
2KI 24:15 نبوکدنضرؔ یہُویاکینؔ کو اسیر کرکے بابیل لے گیا۔ وہ بادشاہ کی ماں، اُس کی بیویوں، اُس کے خواجہ سراؤں اَور مُلک کے اُمرا کو بھی یروشلیمؔ سے بابیل لے گیا۔
2KI 24:16 اَور شاہِ بابیل نے سات ہزار جنگجو مَردوں کو اَور ایک ہزار دستکاروں ہُنرمند کارکن اَور کاریگر کو بھی اسیر کرکے بابیل لے گیا۔
2KI 24:17 اُس شاہِ بابیل نے یہُویاکینؔ کے چچا متّنیاہؔ کو اُس کی جگہ بادشاہ بنا دیا اَور اُس کا نام بدل کر صِدقیاہؔ رکھ دیا۔
2KI 24:18 جَب صِدقیاہؔ بادشاہ بنا، تَب وہ اکّیس سال کا تھا اَور اُس نے گیارہ سال تک یروشلیمؔ پر حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام حمُوطلؔ تھا جو لِبناہؔ شہر کے باشِندے یرمیاہؔ کی بیٹی تھی۔
2KI 24:19 اُس نے بھی یہُویقیمؔ کی مانند وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا
2KI 24:20 یَاہوِہ کے غضب کی بنا پر یروشلیمؔ اَور یہُودیؔہ کا یہ حال ہُوا اَور آخِرکار یَاہوِہ نے اُنہیں اَپنے سامنے سے دُور ہی کر دیا۔ اَور صِدقیاہؔ نے شاہِ بابیل کے خِلاف بغاوت کر دی تھی۔ پھر بعد میں صِدقیاہؔ نے بھی شاہِ بابیل کے خِلاف بغاوت کر دی۔
2KI 25:1 صِدقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے نویں سال کے دسویں مہینے کی دسویں تاریخ کو شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے اَپنے سارے لشکر کے ساتھ یروشلیمؔ پر حملہ کر دیا اَور شہر کے باہر خیمہ زن ہوکر شہر کا چاروں طرف سے محاصرہ کرکے دیوار بنا لی۔
2KI 25:2 اَور صِدقیاہؔ بادشاہ کے دَورِ حُکومت کے گیارھویں سال تک شہر کا محاصرہ رہا۔
2KI 25:3 اَور چوتھے مہینے کے نویں دِن سے شہر میں قحط کی شِدّت میں اِس قدر اِضافہ ہو گیا کہ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ رہا۔
2KI 25:4 تَب یروشلیمؔ شہر کی فَوج نے شہرپناہ میں دراڑ کی اَور تمام فَوج فرار ہو گئی۔ حالانکہ کَسدی یعنی بابیل کی فَوج شہر کے گِردونواح کا محاصرہ کئے ہُوئے تھی تَب بھی وہ سَب شاہی باغ کے نزدیک دو دیواروں کے درمیان والے پھاٹک سے رات کے وقت فرار ہو گئے اَور عراباہؔ کی جانِب بھاگے۔
2KI 25:5 لیکن کَسدی فَوج نے بادشاہ کا تعاقب کیا اَور یریحوؔ کے میدان میں اُسے گِرفتار کر لیا اَور اُس کے تمام فَوجی اُس سے جُدا ہوکر پراگندہ ہو گئے۔
2KI 25:6 اُنہُوں نے صِدقیاہؔ کو گرفتار کر لیا اَور رِبلہؔ میں شاہِ بابیل کے پاس پیش کیا جہاں اُسے سزا سُنایٔی گئی۔
2KI 25:7 اُنہُوں نے صِدقیاہؔ کے بیٹوں کو اُس کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا، اِس کے بعد اُنہُوں نے صِدقیاہؔ کی آنکھیں نکال ڈالیں اَور اُسے کانسے کی زنجیروں سے جکڑ کر بابیل لے گیٔے۔
2KI 25:8 اَور شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے اُنّیسویں سال کے پانچویں مہینے کے ساتویں دِن شَہنشاہی مُحافظ دستے کا سپہ سالار نبوزرادانؔ جو شاہِ بابیل کا ایک افسران تھا، یروشلیمؔ آیا۔
2KI 25:9 اُس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس، شاہی محل اَور یروشلیمؔ کے تمام مکانات کو آگ لگوا کر جَلا دیا۔ اُس نے ہر اہم عمارت کو جَلا ڈالا۔
2KI 25:10 شاہی پہرےداروں کے سردار کی زیرِ قیادت کَسدیوں کی تمام فَوج نے یروشلیمؔ کے چاروں طرف کی فصیلوں کو گرا دیا۔
2KI 25:11 اَورجو لوگ شہر میں باقی رہ گیٔے تھے اَورجو شاہِ بابیل کی پناہ میں چلےگئے تھے اَور وہ باقی عام عوام بھی جو شہر میں رہ گئی تھی، اِن سَب کو شَہنشاہی مُحافظ دستے کے سپہ سالار نبوزرادانؔ نے اُنہیں قَید کرکے اَور اسیر کرکے بابیل لے گیا۔
2KI 25:12 مگر شَہنشاہی مُحافظ دستے کے سپہ سالار نے مُلک کے کنگالوں کو تاکستان اَور کھیتوں میں کام کرنے کے لیٔے وہیں چھوڑ دیا۔
2KI 25:13 اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جو کانسے کے سُتون تھے اُنہیں اَور کُرسیوں اَور کانسے کے بڑے حوض کو کَسدیوں نے توڑ ڈالا اَور اُن کے سَب کانسے بابیل لے گئے۔
2KI 25:14 اَور وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے اُن دیگوں، بیلچے، گل تراش، ڈونگے اَور کانسے کے اُن تمام برتنوں کو بھی جو بیت المُقدّس میں بوقتِ عبادت کے کام آتے تھے اُنہیں اَپنے ساتھ لے گیٔے۔
2KI 25:15 اِن کے علاوہ بخُوردان اَور چھڑکاؤ کرنے والے پیالوں وغیرہ کو، غرض جو کچھ سونے اَور چاندی کے بنے ہُوئے تھے اُنہیں شَہنشاہی مُحافظ دستے کا سپہ سالار اَپنے ساتھ لے گیا۔
2KI 25:16 اَور اُن دونوں سُتونوں، اَور بڑے حوض اَور مُنتقل ہونے والی پانی کی گاڑیوں کا وزن بے حِساب تھا جنہیں شُلومونؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے لیٔے تعمیر کروایا تھا۔
2KI 25:17 ہر ایک سُتون کی اُونچائی تقریباً آٹھ میٹر تھی جِن کے اُوپر کانسے کا تاج تھا اَور ہر ایک تاج کی اُونچائی تقریباً ڈیڑھ میٹر تھی اَور وہ چاروں طرف سے جالیوں اَور کانسے کے اناروں سے مُزیّن تھا۔ اَور دُوسرا سُتون بھی جالی دار کام کے لحاظ سے وَیسا ہی تھا۔
2KI 25:18 اِس کے بعد پہرےداروں کے سردار نے اعلیٰ کاہِن سِرایاہؔ اَور کاہِنؔ ثانی صفنیاہؔ کو اَور بیت المُقدّس کے تینوں دربانوں کو گِرفتار کیا۔
2KI 25:19 اَور شہر میں سے جنگی مَردوں کے سردار اَور پانچ شاہی مُشیروں کو جو وہیں شہر میں تھے، گِرفتار کر لیا، اَور فَوج کے اعلیٰ افسر کے مُقدّم مُنشی کو بھی جو مُلک کے لوگوں کو فَوج میں شامل کرتا تھا اَور مُلک کے ساٹھ آدمیوں کو جو اُس وقت شہر میں ملے، اُنہیں اَپنے ساتھ قَید کرکے لے گیا۔
2KI 25:20 سردار نبوزرادانؔ نے اُن سَب کو لے کر رِبلہؔ میں شاہِ بابیل کے پاس پیش کر دیا۔
2KI 25:21 تَب شاہِ بابیل نے مُلکِ حماتؔ میں رِبلہؔ کے علاقہ میں اُنہیں قتل کر دیا۔ اِس طرح سے بنی یہُوداہؔ اسیر ہوکر اَپنے مُلک سے بے دخل کر دیا گیا۔
2KI 25:22 اَور شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے اُن لوگوں پر جنہیں اُس نے یہُوداہؔ کی سَر زمین میں چھوڑ دیا تھا، گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ بِن شافانؔ کو حاکم مُقرّر کر دیا۔
2KI 25:23 جَب تمام لشکر کے افسروں اَور اُن کے فَوجیوں نے سُنا کہ شاہِ بابیل نے گِدلیاہؔ کو حاکم مُقرّر کیا ہے تو وہ سَب یعنی اِشمعیل بِن نتنیاہؔ، یوحانانؔ بِن قاریحؔ، سِرایاہؔ بِن تنحُومیتؔ نطُوفاتی، یازنیاہؔ بِن معکاتی اَپنے لوگوں کے ساتھ مِصفاہؔ میں گِدلیاہؔ کے پاس آئے۔
2KI 25:24 گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ نے اُنہیں اَور اُن کے فَوجیوں کو یقین دِلانے کے لیٔے قَسم کھائی اَور اُس نے کہا، ”بابیل کے فَوجیوں سے ڈرنے کی ضروُرت نہیں ہے۔ اِسی مُلک میں سکونت کرو اَور شاہِ بابیل کی خدمت کرتے رہو، اِسی میں تمہاری خیریت ہے۔“
2KI 25:25 لیکن ساتویں مہینے میں اِشمعیل بِن نتنیاہؔ بِن اِلیشمعؔ جو شاہی نَسل سے تھا، اُس نے دس فَوجیوں کو اَپنے ساتھ لے جا کر گِدلیاہؔ پر اَیسا حملہ کیا کہ اُس کی موت ہو گئی۔ اِس کے علاوہ اُس نے یہُودیؔہ کے یہُودیوں اَور بابیل کے اُن آدمیوں کو بھی قتل کر دیا جو مِصفاہؔ میں اُس کے ساتھ تھے۔
2KI 25:26 تَب چُھوٹے بڑے سَب عوام کے لوگ، فَوج کے افسروں کے ساتھ کَسدی لوگوں کے ڈر سے مِصر کو فرار ہو گیٔے۔
2KI 25:27 شاہِ یہُودیؔہ یہُویاکینؔ کی جَلاوطنی کے سینتیسویں سال کے بارہویں مہینے کے ستّائیسویں دِن، جَب شاہِ بابیل اوِیل مرُودکؔ بادشاہ بنا تو اُس نے اَپنے پہلے سال میں شاہِ یہُودیؔہ یہُویاکینؔ کو قَید سے رہا کر دیا۔
2KI 25:28 اَور اُس سے نہایت مہربانی سے پیش آیا اَور اُس وقت جتنے اَور بادشاہ بابیل میں اُس کے پاس تھے، اُن سَب سے بڑھ کر اُسے اعلیٰ نشست عطا کی۔
2KI 25:29 چنانچہ یہُویاکینؔ نے اَپنے قَیدخانہ کے کپڑے اُتار دئیے اَور تاعمر باقاعدہ شاہی دسترخوان پر شاہِ بابیل کے ساتھ کھانا کھاتا رہا۔
2KI 25:30 اَور عمر بھر اُسے شاہِ بابیل کی طرف سے روزمرّہ کے خرچہ کے لئے روزانہ وظیفہ ملتا رہا۔
1CH 1:1 آدمؔ، شیتؔ، انُوشؔ،
1CH 1:2 قینانؔ، مہلل ایل، یاردؔ،
1CH 1:3 حنوخؔ، متُوسِلحؔ، لمکؔ، نُوح۔
1CH 1:4 بنی نُوح: شِمؔ، حامؔ اَور یافیتؔ۔
1CH 1:5 بنی یافیتؔ یہ ہیں: گومرؔ، ماگوگؔ، مِدائی، یاوانؔ، تُوبل، میشکؔ اَور تیِراسؔ تھے۔
1CH 1:6 بنی گومرؔ یہ ہیں: اشکِنازؔ، ریفتؔ اَور توغرمہؔ تھے۔
1CH 1:7 بنی یاوانؔ یہ ہیں: اِلیشہؔ، ترشیشؔ، کِتّیمؔ اَور رودانیم تھے۔
1CH 1:8 بنی حامؔ یہ ہیں: کُوشؔ، مِصر، فُوطؔ اَور کنعانؔ ہُوئے۔
1CH 1:9 بنی کُوشؔ یہ ہیں: سیبا، حَویلہؔ، سبتہؔ، رعماہؔ اَور سبتیکا۔ بنی رعماہؔ: شیبا اَور دِدانؔ۔
1CH 1:10 کُوشؔ نِمرودؔ کا باپ تھا، نِمرودؔ جو رُوئے زمین پر پہلا زبردست سُورما کے طور پر مشہُور ہُوا۔
1CH 1:11 بنی مِصر: لُودیؔم، عنامیمؔ، لہابیمؔ، نفتوحیؔم،
1CH 1:12 فتروسیم، کسلوحیم (جِن سے فلسطینی قوم نکلی) اَور کفتُوری۔
1CH 1:13 بنی کنعانؔ اُس کا پہلوٹھا صیدونؔ پیدا ہُوا اَور حِتّی،
1CH 1:14 یبُوسی، امُوری، گِرگاشی،
1CH 1:15 حِوّیؔ، عَرکی، سیِنی،
1CH 1:16 اَروادیؔ، ضِماریؔ اَور حماتیؔ تھے۔
1CH 1:17 بنی شِمؔ یہ ہیں: عیلامؔ، اشُور، اَرفاکسَدؔ، لُودؔ اَور ارام تھے۔ اَور بنی ارام یہ ہیں: عُوضؔ، حُولؔ، گیتھرؔ اَور میشکؔ۔
1CH 1:18 اَرفاکسَدؔ شِلحؔ کا باپ تھا، اَور شِلحؔ عِبرؔ کا باپ تھا۔
1CH 1:19 اَور عِبرؔ کے دو بیٹے پیدا ہویٔے: ایک کا نام پِلِگ تھا کیونکہ اُن کے ایّام میں دُنیا کے لوگ تمام زبانوں میں تقسیم ہُوئے تھے اَور اُن کے بھایٔی کا نام یُقطانؔ تھا۔
1CH 1:20 بنی یُقطانؔ یہ ہیں: اَلمُودادؔ، شِلفؔ، حَصارمِبیتؔھ، یِراحؔ،
1CH 1:21 ہَدورامؔ، اُوزالؔ، دِقلہؔ،
1CH 1:22 عُبالؔ یا عیبالؔ، اَبی ماایلؔ، شیبا،
1CH 1:23 اوفیرؔ، حَویلہؔ اَور یُوبابؔ پیدا ہویٔے۔ یہ سَب یُقطانؔ کے بیٹے تھے۔
1CH 1:24 شِمؔ، اَرفاکسَدؔ، شِلحؔ،
1CH 1:25 عِبرؔ، پِلِگ، رِعوؔ،
1CH 1:26 سِروگ، ناحوؔر، تیراحؔ،
1CH 1:27 اَبرامؔ (یعنی اَبراہامؔ)۔
1CH 1:28 اَبراہامؔ کے بیٹے: اِصحاقؔ اَور اِشمعیل تھے۔
1CH 1:29 اُن کی نَسل یہ ہے: اِشمعیل کا پہلوٹھا نبایوتؔ جو اُس کے بعد، قیدارؔ، ادبیلؔ، مبسامؔ،
1CH 1:30 مِشماعؔ، دُومہؔ، مَسّا، حددؔ، تیماؔ
1CH 1:31 یطُورؔ، نافیشؔ اَور قِدمہؔ۔
1CH 1:32 اَبراہامؔ کی داشتہ قِطورہؔ کی اَولاد یہ ہیں: زِمرانؔ، یُقشانؔ، مِدان، مِدیان، اِشبقؔ اَور شُوعؔح۔ اَور بنی یُقشانؔ سے: شیبا اَور دِدانؔ۔
1CH 1:33 اَور بنی مِدیان یہ ہیں: عیفاہؔ، عِفرؔ، حنوخؔ، اَبیداعؔ اَور اِلدعؔح تھے۔
1CH 1:34 اَبراہامؔ اِصحاقؔ کے والد تھے۔ بنی اِصحاقؔ: عیسَوؔ اَور اِسرائیل۔
1CH 1:35 عیسَوؔ کے بیٹے یہ ہیں: اِلیفزؔ، رِعوایلؔ، یعُوسؔ، یعلامؔ اَور قورحؔ۔
1CH 1:36 بنی اِلیفزؔ: تیمانؔ، اومرؔ، ضیفوؔ، گعتامؔ اَور قِنٰز؛ تِمنع سے عمالیقؔ۔
1CH 1:37 رِعوایلؔ کے بیٹے یہ ہیں: ناحات، زیراحؔ، شمّہ اَور مِزّہؔ۔
1CH 1:38 بنی سِعِیؔر: لوطانؔ، شوبلؔ، ضِبعونؔ اَور عناہؔ، دیشونؔ، ایضرؔ اَور دیشانؔ۔
1CH 1:39 بنی لوطانؔ یہ ہیں: حَوریؔ اَور ہومامؔ۔ لوطانؔ کی ایک بہن بھی تھی جِس کا نام تِمنؔا تھا۔
1CH 1:40 بنی شوبلؔ یہ ہیں: علوانؔ، مناحاتؔ، عیبالؔ، شِفوؔ اَور اونامؔ۔ بنی ضِبعونؔ یہ ہیں: ایّہ اَور عنہؔ۔
1CH 1:41 عناہؔ کا بیٹا دیشونؔ تھا۔ دیشونؔ کے بیٹے یہ ہیں: حیمدانؔ، اِشبانؔ، اِترانؔ اَور کِرانؔ۔
1CH 1:42 بنی ایضرؔ: بِلہانؔ، زعوانؔ اَور عقانؔ۔ دیشانؔ کے بیٹے یہ ہیں: عُوضؔ اَور اَرانؔ۔
1CH 1:43 یہ وہ بادشاہ ہیں جو اِسرائیلی بادشاہوں سے پیشتر مُلک اِدُوم میں حُکمرانی کی: بَیلعؔ بِن بعورؔ۔ اُس کے شہر کا نام دِنہاباؔ تھا۔
1CH 1:44 بَیلعؔ کی وفات کے بعد، اُس کی جگہ پر زیراحؔ بِن یُوبابؔ بادشاہ بنا۔ وہ بُضراؔہ کا باشِندہ تھا۔
1CH 1:45 اَور یُوبابؔ کی وفات کے بعد، حُشامؔ اُس کا جانشین ہُوا۔ جو تیمانیوں کے مُلک کا باشِندہ تھا۔
1CH 1:46 حُشامؔ کی وفات کے بعد اُس کی جگہ پر ہددؔ بِن بِددؔ جِس نے مُوآب کے مُلک میں مِدیانیوں کو شِکست دی تھی بادشاہ بنا۔ اَور اُس کے شہر کا نام عَوِیتؔ تھا۔
1CH 1:47 ہددؔ کی وفات کے بعد، شَملہؔ اُس کی جگہ بادشاہ بنا جو مَشرِقہؔ کا باشِندہ تھا۔
1CH 1:48 شَملہؔ کی وفات کے بعد شاؤل اُس کا جانشین ہُوا جو دریائے فراتؔ کے کنارے کے رحوبوتھؔ کا باشِندہ تھا۔
1CH 1:49 شاؤل کی وفات کے بعد، اُس کی جگہ پر بَعل حنانؔ بِن عکبورؔ بادشاہ بنا۔
1CH 1:50 بَعل حنانؔ بِن عکبورؔ کی وفات کے بعد اُس کی جگہ پر ہددؔ بادشاہ بنا۔ اُس کے شہر کا نام پؔاؤُ تھا اَور اُس کی بیوی کا نام مہیطبیلؔ تھا جو مطرِدؔ کی بیٹی اَور میضاہابؔ کی نواسی تھی۔
1CH 1:51 اِس کے بعد حددؔ کی بھی وفات ہو گئی۔ مُلکِ اِدُوم کے سرداروں کے نام یہ ہیں جو ہددؔ کے بعد حُکمرانی کئے: تِمنؔا، عَلوہؔ، یتیتؔ،
1CH 1:52 اُہلِیبامہؔ، اَیلہ، پِنونؔ،
1CH 1:53 قِنٰز، تیمانؔ، مِبضارؔ،
1CH 1:54 مَگدِایلؔ اَور عِرامؔ۔
1CH 2:1 بنی اِسرائیل یہ تھے: رُوبِنؔ، شمعُونؔ، لیوی، یہُوداہؔ، یِسَّکاؔر اَور زبُولُون،
1CH 2:2 دانؔ، یُوسیفؔ، بِنیامین، نفتالی، گادؔ اَور آشیر۔
1CH 2:3 بنی یہُوداہؔ: عیرؔ، اَونانؔ اَور شِلحؔ۔ یہ تینوں یہُوداہؔ کی کنعانی بیوی بَت شُوعؔ کے بطن سے پیدا ہُوئے تھے۔ (یہُوداہؔ کا پہلوٹھا عیرؔ یَاہوِہ کی نظر میں بدکار تھا اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُسے مار ڈالا۔)
1CH 2:4 اَور یہُوداہؔ کی بہُو تامارؔ سے یہُوداہؔ کے بیٹے پیریزؔ اَور زیراحؔ پیدا ہُوئے۔
1CH 2:5 بنی پیریزؔ: حِضرونؔ اَور حمُولؔ۔
1CH 2:6 بنی زیراحؔ: زِمریؔ، ایتھانؔ، ہیمانؔ، کال کولؔ اَور داراؔ۔ کُل پانچ بیٹے تھے۔
1CH 2:7 بنی کرمی: عکار، یعنی اِسرائیل کی مُصیبت، جِس نے مخصُوص کی ہُوئی چیزوں میں خیانت کرکے اِسرائیل کے لیٔے مُصیبت پیدا کی تھی۔
1CH 2:8 ایتھانؔ کا بیٹا عزریاہؔ تھا۔
1CH 2:9 بنی حِضرونؔ جو اُس سے پیدا ہُوئے: یرحمئیلؔ، رامؔ اَور کالبؔ۔
1CH 2:10 رامؔ سے عَمّیندابؔ اَور عَمّیندابؔ سے نحشونؔ پیدا ہُوئے۔ نحشونؔ بنی یہُوداہؔ کا سردار ہُوا۔
1CH 2:11 نحشونؔ سالماؔ یا سَلمونؔ پیدا ہُوئے، اَور سَلمونؔ سے بُوعزؔ،
1CH 2:12 اَور بُوعزؔ سے عوبیدؔ پیدا ہُوا اَور عوبیدؔ سے یِشائی۔
1CH 2:13 بنی یِشائی یہ تھے: اُس کا پہلوٹھا بیٹا اِلیابؔ؛ دُوسرا بیٹا ابینادابؔ اَور تیسرا بیٹا شِمعاؔ۔
1CH 2:14 چوتھا بیٹا نتنی ایل، اَور پانچواں بیٹا ردّای،
1CH 2:15 چھٹا بیٹا اوضمؔ اَور ساتواں بیٹا داویؔد۔
1CH 2:16 اَور ضرویاہؔ اَور ابیگیلؔ اُن کی بہنیں تھیں۔ اَور ابیشائی، یُوآبؔ اَور عساہیلؔ یہ تینوں ضرویاہؔ کے بیٹے تھے۔
1CH 2:17 اَور ابیگیلؔ سے عماساؔ پیدا ہُوا اَور اُس کا باپ یترؔ اِشمعیلی تھا۔
1CH 2:18 کالبؔ بِن حِضرونؔ کی بیوی عزُوباہ اَور یریعوتؔ سے یہ فرزند پیدا ہُوئے: یشرؔ، شوبابؔ اَور اردونؔ۔
1CH 2:19 اَور جَب عزُوباہ کی وفات ہو گئی تو کالبؔ نے اِفراتہؔ سے شادی کرلی۔ جِس کے بطن سے حُورؔ پیدا ہُوا۔
1CH 2:20 حُورؔ سے اوری پیدا ہُوا اَور اوری سے بصل ایل پیدا ہُوا۔
1CH 2:21 اُس کے بعد حِضرونؔ گِلعادؔ کے باپ مکیرؔ کی بیٹی کے پاس گیا جِس سے اُس نے ساٹھ بَرس کی عمر میں بیاہ کیا تھا اَور اُس کے بطن سے سِگُوبؔ پیدا ہُوا۔
1CH 2:22 اَور سِگُوبؔ سے یائیرؔ پیدا ہُوا جو گِلعادؔ کے مُلک کے تئیس شہروں پر مُسلّط تھا۔
1CH 2:23 (مگر گیشُور اَور ارام نے حوّوت یائیرؔ اَور قناتؔ پر اُس کے گِردونواح کے ساٹھ قصبوں پر قبضہ کر لیا)۔
1CH 2:24 اَور حِضرونؔ کے کالبؔ اِفراتہؔ میں مَر جانے کے بعد اُس کی بیوی ابیّاہؔ کے بطن سے اُس کا بیٹا اشہُورؔ پیدا ہُوا جو تقوعؔ کا باپ تھا۔
1CH 2:25 حِضرونؔ کے پہلوٹھے یرحمئیلؔ کے بیٹے: رامؔ اُس کا پہلوٹھا بیٹا تھا، بُونہؔ، اورنؔ، اوضمؔ اَور اخیاہؔ۔
1CH 2:26 اَور یرحمئیلؔ کی ایک اَور بیوی تھی جِس کا نام عطارہؔ تھا؛ وہ اونامؔ کی ماں تھی۔
1CH 2:27 یرحمئیلؔ کے پہلوٹھے رامؔ کے بیٹے: ماعصؔ، یمینؔ اَور عیقرؔ تھے۔
1CH 2:28 اونامؔ کے بیٹے: شمّائیؔ اَور یدعؔ۔ اَور شمّائیؔ کے بیٹے: نادابؔ اَور ابیشُورؔ تھے۔
1CH 2:29 ابیشُورؔ کی بیوی کا نام اَبی حائیل تھا، اُس کے بطن سے احبانؔ اَور مولِدؔ پیدا ہُوئے۔
1CH 2:30 نادابؔ کے بیٹے: سِلِدؔ اَور افّائمؔ تھے لیکن سِلِدؔ بے اَولاد مَر گیا۔
1CH 2:31 افّائمؔ کا بیٹا: یَشعیؔ تھا جو شیشانؔ کا باپ تھا اَور شیشانؔ احلائی کا باپ تھا۔
1CH 2:32 اَور شمّائیؔ کے بھایٔی یدعؔ کے بیٹے: یترؔ اَور یُوناتانؔ تھے۔ اَور یترؔ بے اَولاد مَر گیا۔
1CH 2:33 یُوناتانؔ کے بیٹے: پِلیتھ اَور زازاؔ تھے۔
1CH 2:34 اَور شیشانؔ کا کویٔی بیٹا نہ تھا، صِرف بیٹیاں تھیں۔ اَور شیشانؔ کا ایک مِصری نوکر تھا جِس کا نام یارحاؔ تھا۔
1CH 2:35 شیشانؔ نے اَپنی بیٹی کو اَپنے نوکر یارحاؔ سے بیاہ دیا اَور اُن کے ہاں عتّئیؔ پیدا ہُوا۔
1CH 2:36 اَور عتّئیؔ سے ناتنؔ پیدا ہُوا، اَور ناتنؔ سے زابادؔ،
1CH 2:37 زابادؔ سے اِفلالؔ پیدا ہُوا، اَور اِفلالؔ سے عوبیدؔ،
1CH 2:38 اَور عوبیدؔ سے یہُو پیدا ہُوا، اَور یہُو سے عزریاہؔ،
1CH 2:39 اَور عزریاہؔ سے خلصؔ، پیدا ہُوا اَور خلصؔ سے ایلعساہؔ،
1CH 2:40 اَور ایلعساہؔ سے سِسمائیؔ پیدا ہُوا اَور سِسمائیؔ سے شلُّومؔ،
1CH 2:41 اَور شلُّومؔ سے یقامِیاہؔ پیدا ہُوا اَور یقامِیاہؔ سے اِلیشمعؔ۔
1CH 2:42 اَور یرحمئیلؔ کے بھایٔی کالبؔ کے بیٹے یہ ہیں: میشاؔ اُس کا پہلوٹھا بیٹا تھا جو زِیفؔ کا باپ تھا، اَور اُس کا بیٹا مریشہؔ جو حِبرونؔ کا باپ تھا۔
1CH 2:43 بنی حِبرونؔ یہ ہیں: قورحؔ، تپُّوحؔ، رِقمؔ اَور شِمعؔ۔
1CH 2:44 اَور شِمعؔ سے رحامؔ پیدا ہُوا اَور رحامؔ سے یُرقعامؔ۔ رِقمؔ سے شمّائیؔ پیدا ہُوا
1CH 2:45 اَور شمّائیؔ سے معونؔ اَور معونؔ سے بیت ضُورؔ پیدا ہُوا۔
1CH 2:46 اَور کالبؔ کی داشتہ عیفاہؔ سے حارانؔ، موضاؔ اَور گازیز پیدا ہُوئے اَور حارانؔ سے گازیز۔
1CH 2:47 بنی یہدائیؔ یہ ہیں: رِگیمؔ، یُوتامؔ، گیشنؔ، پِلیتؔ، عیفاہؔ اَور شعفؔ۔
1CH 2:48 اَور کالبؔ کی داشتہ معکہؔ شِبرؔ اَور ترحاناؔ کی ماں تھی۔
1CH 2:49 اِس نے مدمنّہؔ کے باپ شعفؔ کو بھی پیدا کیا اَور مکبینہؔ اَور گِبعؔ کے باپ شیوا کو بھی پیدا کیا۔ اَور کالبؔ کی ایک بیٹی عکسہؔ تھی۔
1CH 2:50 یہ سَب بنی کالبؔ تھے۔ اِفراتہؔ کے پہلوٹھے حُورؔ کے بیٹے: قِریت یعریمؔ کا باپ شوبلؔ۔
1CH 2:51 بیت لحمؔ کا باپ سالماؔ اَور بیت گادِرؔ کا باپ حارِف۔
1CH 2:52 اَور قِریت یعریمؔ کے باپ شوبلؔ کی نَسل: ہاروایحؔ اَور مناحاتؔ کے آدھے لوگ،
1CH 2:53 اَور قِریت یعریمؔ کی برادری: یتری، پُوتیؔ، شُماتیؔ اَور مِشراعیؔ۔ اِن ہی سے زَوراہتیوں اَور اِشتاؤلیؔ نکلے ہیں۔
1CH 2:54 بنی سالماؔ: بیت لحمؔ، نطُوفاتی، عطروتؔ بیت یُوآبؔ اَور مناحاتی کے آدھے لوگ اَور زوریتی،
1CH 2:55 اَور یعبِیضؔ کے باشِندے مُنشیوں کی برادری: تِرعاتی، شیمیتھائی اَور سُوکاتی۔ یہ وہ قینیؔ ہیں جو ریخابؔ کے گھرانے کے باپ حمّاتؔ کی نَسل سے تھے۔
1CH 3:1 یہ داویؔد کے وہ بیٹے ہیں جو حِبرونؔ میں اُس سے پیدا ہُوئے: پہلوٹھا امنُونؔ جو یزرعیلی احِینوعمؔ کے بطن سے تھا۔ دُوسرا دانی ایل کرمِلی ابیگیلؔ کے بطن سے تھا۔
1CH 3:2 تیسرا اَبشالومؔ جو گیشُور کے بادشاہ تلمی کی بیٹی معکہؔ کا بیٹا تھا۔ چوتھا ادُونیّاہؔ جو حگِیّت کے بطن سے تھا۔
1CH 3:3 پانچواں شفطیاہؔ جو ابیطالؔ کے بطن سے تھا۔ اَور چھٹا اِترِعامؔ جو اُس کی بیوی عِگلاہؔ سے تھا۔
1CH 3:4 یہ چھ داویؔد سے حِبرونؔ میں پیدا ہُوئے جہاں اُس نے سات سال اَور چھ مہینے تک سلطنت کی۔
1CH 3:5 وہاں یروشلیمؔ میں اُس کے جو بچّے پیدا ہُوئے یہ ہیں: شِمعاؔ، شوبابؔ، ناتنؔ اَور شُلومونؔ۔ یہ چاروں عمّی ایل کی بیٹی بَت شُوعؔ کے بطن سے تھے۔
1CH 3:6 اَور یہ نَو یعنی اِبحارؔ، اِلیشمعؔ، الیفلطؔ،
1CH 3:7 نوگاہؔ، نِفیگ، یافیعؔ،
1CH 3:8 اَور اِلیشمعؔ، الیدعؔ اَور الیفلطؔ کُل نَو فرزند۔
1CH 3:9 اَور داشتاؤں کے بیٹے جو اُن کے علاوہ تھے۔ یہ سَب داویؔد کے بیٹے تھے، اَور تامارؔ اُن کی بہن تھی۔
1CH 3:10 رحُبعامؔ بِن شُلومونؔ، ابیّاہؔ بِن رحُبعامؔ، آساؔ بِن ابیّاہؔ، یہوشافاطؔ بِن آساؔ،
1CH 3:11 یُورامؔ بِن یہوشافاطؔ، احزیاہؔ بِن یُورامؔ، یُوآشؔ بِن احزیاہؔ،
1CH 3:12 اماضیاہؔ بِن یُوآشؔ، عزریاہؔ بِن اماضیاہؔ یُوتامؔ بِن عزریاہؔ،
1CH 3:13 آحازؔ بِن یُوتامؔ، حِزقیاہؔ بِن آحازؔ، منشّہ بِن حِزقیاہؔ،
1CH 3:14 امُونؔ بِن منشّہ، یُوشیاہؔ بِن امُونؔ،
1CH 3:15 یُوشیاہؔ کے بیٹے: پہلوٹھا یوحانانؔ، دُوسرا یہُویقیمؔ، تیسرا صِدقیاہؔ، اَور چوتھا شلُّومؔ۔
1CH 3:16 یہُویقیمؔ کے جانشین: یہُویاکینؔ یا یکونیاہؔ بِن یہُویقیمؔ، اَور صِدقیاہؔ بِن یہُویاکینؔ۔
1CH 3:17 یکونیاہؔ جو اسیر تھا اُس کے بیٹے یہ ہیں: شیالتی ایل بِن یہُویاکینؔ
1CH 3:18 مالخیرمؔ، پِدائیاہؔ، شِیناضرّؔ، یقامِیاہؔ، ہوشمعؔ اَور نِدابیاہؔ
1CH 3:19 پِدائیاہؔ کے بیٹے: زرُبّابِیل اَور شِمعیؔ۔ زرُبّابِیل کے بیٹے: مِشُلّامؔ اَور حننیاہؔ، اَور شلُومیتؔ اُن کی بہن تھی۔
1CH 3:20 اَور پانچ اَور بھی بیٹے تھے: حشُوبہؔ، عوحیلؔ، بیرکیاہ، حسدیاہؔ، اَور یُوشب حسدؔ۔
1CH 3:21 بنی حننیاہؔ: پیلاطیاہؔ اَور یِشعیہ، اَور رِفایاہؔ کے بیٹے ارنانؔ، عبدیاہؔ اَور شِکنیاہؔ کے بیٹے۔
1CH 3:22 بنی شِکنیاہؔ: شمعیاہؔ بِن شِکنیاہؔ کے بیٹے یہ ہیں: حطُّوشؔ، اِگالؔ، برِیاہؔ، نعریاہؔ اَور شافاطؔ، کل چھ بھایٔی تھے۔
1CH 3:23 نعریاہؔ کے بیٹے: الیوعینائی، حِزقیاہؔ اَور عزریقامؔ کل تین تھے۔
1CH 3:24 اَور الیوعینائی کے بیٹے: ہُوداویاہؔ، اِلیاشبؔ، پِلائییاہؔ، عقُّوبؔ، یوحانانؔ۔ دِلائیاہؔ اَور عنانیؔ۔ کل سات بھایٔی تھے۔
1CH 4:1 بنی یہُوداہؔ یہ ہیں: پیریزؔ، حِضرونؔ، کرمی، حُورؔ، شوبلؔ،
1CH 4:2 رِیایاہؔ بِن شوبلؔ سے یاحاتؔھ اَور یاحاتؔھ سے احُومائیؔ اَور لاہادؔ پیدا ہُوئے۔ یہ زَوراہتیوں کی برادری کے تھے۔
1CH 4:3 اَور بنی عیطامؔ یہ ہیں: یزرعیلؔ، اِشمع اَور اِدباشؔ۔ اَور اُن کی بہن کا نام ہاصلیلپونیؔ تھا۔
1CH 4:4 اَور پنی ایل سے گدُورؔ پیدا ہُوئے اَور عزرؔ سے حُوشاہؔ پیدا ہُوئے۔ بیت لحمؔ کے باپ، اِفراتہؔ کے پہلوٹھے حُورؔ کے بیٹے یہ ہیں:
1CH 4:5 اَور تقوعؔ بِن اشہُورؔ کی دو بیویاں تھیں: حیلاہؔ اَور نعراہؔ۔
1CH 4:6 اَور نعراہؔ کے بطن سے احُوضّامؔ، حِفرؔ، تِمینیؔ اَور ہاحشتاریؔ پیدا ہُوئے۔ یہ سَب نعراہؔ کی اَولاد تھی۔
1CH 4:7 حیلاہؔ کے بیٹے: ضرۃ، ضُحرؔ اَور اِتھننؔ تھے۔
1CH 4:8 اَور کوزؔ سے عنُوبؔ اَور حضوبیباہؔ اَور حارومؔ کے بیٹے اَحرحیلؔ کی برادری میں پیدا ہُوئے تھے۔
1CH 4:9 اَور یعبِیضؔ اَپنے بھائیوں کی بہ نِسبت زِیادہ مُعزّز تھا اَور اُس کی ماں نے اُس کا نام یہ کہتے ہُوئے یعبِیضؔ رکھا، ”مَیں نے اُسے غم کے ساتھ پیدا کیا۔“
1CH 4:10 اَور یعبِیضؔ نے اِسرائیل کے خُدا سے یہ دعا کی، ”کاش آپ مُجھے برکت دیں اَور میری سرحدوں کو بڑھائیں! اَور اِس کے علاوہ آپ کے ہاتھ میرے ساتھ ہُوں سَب بدکاریوں سے مُجھے دُور رکھیں تاکہ وہ میرے غم کا باعث نہ ہوں۔“ اَورجو کچھ اُس نے مانگا تھا، خُدا نے اُسے عطا فرمایا۔
1CH 4:11 اَور شُوحاہؔ کے بھایٔی کلُوبؔ سے مِحیرؔ پیدا ہُوا جو اِشتُونؔ کا باپ تھا۔
1CH 4:12 اِشتُونؔ سے بیت رافاؔ اَور پاسیخؔ۔ اَور تِحنّہ پیدا ہُوئے۔ تِحنّہ عیرؔ ناحسؔ کا باپ تھا۔ یہی رخاہؔ کی اَولاد ہیں۔
1CH 4:13 بنی قِنٰز یہ ہیں: عتنی ایل اَور سِرایاہؔ تھے۔ اَور بنی عتنی ایل یہ ہیں: حتتؔ اَور معنوتائی تھے۔
1CH 4:14 اَور معنوتائی سے عُفرہؔ پیدا ہُوا۔ اَور سِرایاہؔ سے یُوآبؔ پیدا ہُوا، جو گے ہراشیمؔ کا باپ تھا۔ یہ گے ہراشیمؔ اِس لئے کہلائے کیونکہ یہ کاریگر تھے اَور کاریگروں کی وادی سے تعلّق رکھتے تھے۔
1CH 4:15 اَور کالبؔ بِن یفُنّہؔ کے بیٹے یہ ہیں: عِیرُوؔ، اَیلہ اَور ناعمؔ تھے۔ اَور بنی اَیلہ یہ ہیں: قِنٰز۔
1CH 4:16 بنی یہللِئیلؔ یہ ہیں: زِیفؔ، زِیفاہؔ، تیرئیاؔ اَور اساريلؔ تھے۔
1CH 4:17 بنی عزراہؔ یہ ہیں: یترؔ، مِرِدؔ، عِفرؔ اَور یالونؔ؛ اَور مِرِدؔ کی ایک بیوی کے بطن سے مِریمؔ، شمّائیؔ اَور اِشتموُعؔ کے باپ اِشباحؔ پیدا ہُوئے۔
1CH 4:18 یہ فَرعوہؔ کی بیٹی بتیاہؔ کے بطن سے پیدا ہُوئے۔ جِس سے مِرِدؔ نے شادی کی تھی۔ اُس کی یہُوداہؔ کے قبیلے کی یہُودی بیوی کے بطن سے گدُورؔ کے باپ یاردؔ، شوکوہؔ کے باپ حِبرؔ اَور زنوحؔ کے باپ یقُوتی ایل۔
1CH 4:19 ناحمؔ کی بہن اَور ہُودیاہؔ کی بیوی کے بیٹے: گارمی کے قعیلہؔ اَور معکاتی بِن اِشتموُعؔ تھے۔
1CH 4:20 بنی شمعُونؔ یہ ہیں: امنُونؔ، رِنّہؔ، بِن حاننؔ اَور تِیلونؔ۔ اَور بنی یَشعیؔ یہ ہیں: زوحِتؔ اَور بِن زوحِتؔ۔
1CH 4:21 بنی یہُوداہؔ یہ تھے: شِلحؔ بِن یہُوداہؔ عیرؔ لِکاہؔ کا باپ تھا، لعدہؔ مریشہؔ کا باپ تھا جو بیت اشبیعؔ میں اُس برادری کے خاندان سے تھے جِس میں مہین کتان کے کپڑے کا کام ہوتا تھا؛
1CH 4:22 اِن کے علاوہ یوقیمؔ اَور کوزیباؔ کے لوگ، اَور یُوآشؔ اَور سارفؔ جو مُوآب پر حُکومت کرتے رہے، پھر یَعشُوبی لحم کو لَوٹ گئے۔ یہ باتیں قدیم زمانہ کی تاریخ سے ماخوذ ہیں۔
1CH 4:23 یہ سبھی کُمہار تھے جو نتائیمؔ اَور گِدیرہؔ کے باشِندے تھے؛ وہ وہاں بادشاہ کے ساتھ اُس کا کام کرنے کے لئے رہتے تھے۔
1CH 4:24 بنی شمعُونؔ یہ ہیں: نموایل، یمینؔ، یرِیبؔ، زیراحؔ اَور شاؤل۔
1CH 4:25 اَور شاؤل کا بیٹا شلُّومؔ اَور شلُّومؔ کا بیٹا مبسامؔ اَور مبسامؔ کا بیٹا مِشماعؔ۔
1CH 4:26 بنی مِشماعؔ یہ ہیں: حمُّوایلؔ بِن مِشماعؔ، زکُورؔ بِن حمُّوایلؔ؛ اَور شِمعیؔ بِن زکُورؔ۔
1CH 4:27 شِمعیؔ کے سولہ بیٹے اَور چھ بیٹیاں تھیں لیکن اُس کے بھائیوں کی بہت اَولاد نہ ہُوئی۔ اِس لیٔے اُن کا برادری یہُوداہؔ کے لوگوں کی مانند زِیادہ نہ بڑھا۔
1CH 4:28 وہ بیرشبعؔ، مولادہؔ، حضار شُعالؔ،
1CH 4:29 بِلہاہؔ، عضِمؔ، تولادؔ،
1CH 4:30 بیتُھوایلؔ، حُرمہؔ، صِقلاگ،
1CH 4:31 بیت مرکبوتؔ، حضار سُوسیمؔ، بیت بیؔری اَور شعریمؔ کے شہروں میں بستے تھے۔ داویؔد کی سلطنت تک یہی اُن کے شہر تھے۔
1CH 4:32 اَور عیطامؔ، عینؔ، رِمّونؔ، توکنؔ اَور عشٰنؔ، اُن کے گِردونواح کے قصبے تھے یعنی پانچ قصبے تھے۔
1CH 4:33 اَور اِن قصبوں کے اِردگرد کے دیہات تھے جو بَعل تک پھیلے ہُوئے تھے۔ یہ لوگ اِن ہی مقامات پر بسے ہُوئے تھے۔
1CH 4:34 مِشوبابؔ، یاملیخؔ؛ یوشاہؔ بِن اماضیاہؔ؛
1CH 4:35 یُوایلؔ؛ یہُو بِن یُوشِبیاہؔ بِن سِرایاہؔ بِن عاسی ایل؛
1CH 4:36 اَور الیوعینائی؛ یعقوباہؔ؛ یشوہایاہؔ؛ عسایاہؔ؛ عدی ایل؛ یِسیمی ایل؛ بِنایاہؔ؛
1CH 4:37 اَور زیزاؔ بِن شِفعیؔ بِن الُّونؔ بِن یِدایاہؔ بِن شِمریؔ بِن شمعیاہؔ۔
1CH 4:38 جِن مَردوں کے نام اُوپر فہرست میں لکھے گیٔے وہ اَپنے اَپنے برادریوں کے سردار تھے۔ اَور اُن کے آبائی خاندان بہت بڑھتا چلا گیا،
1CH 4:39 اَور وہ گدُورؔ کے بیرونی علاقے تک یعنی اُس وادی کے مشرق تک اَپنے گلّوں کے لیٔے چراگاہیں ڈھونڈنے گیٔے۔
1CH 4:40 وہاں اُنہُوں نے زرخیز اَور اَچھّی چراگاہ پائی اَور وہ قَطعہ زمین کشادہ، پُراَمن اَور پُرسکون تھا۔ پہلے وہاں بنی حامؔ بسے ہُوئے تھے۔
1CH 4:41 وہ مَرد جِن کے نام مُندرجہ ذیل فہرست میں دئیے گیٔے ہیں وہ شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ کے ایّام میں آئے اَور اُنہُوں نے بنی حامؔ کی قِیام گاہوں پر حملہ کیا اَور معُونیم کو بھی جو وہاں تھے قتل کر دیا اَور اُنہیں مُکمّل طور پر تباہ کر دیا۔ اَب اُن کا نام و نِشان تک باقی نہیں۔ تَب وہ اُن کی جگہ رہنے لگے کیونکہ وہاں اُن کے گلّوں کے لیٔے چراگاہ تھی۔
1CH 4:42 اَور پانچ سَو بنی شمعُونؔ نے بنی یَشعیؔ یعنی پیلاطیاہؔ، نعریاہؔ، رِفایاہؔ اَور عُزّی ایل کی زیرِ قیادت کوہِ سِعِیؔر پر حملہ کیا۔
1CH 4:43 اَور اُنہُوں نے باقی بچے عمالیقیوں کو جو وہاں تھے قتل کر ڈالا اَور بنی شمعُونؔ تَب سے آج تک وہیں بسے ہُوئے ہیں۔
1CH 5:1 اِسرائیل کے پہلوٹھے رُوبِنؔ کے بیٹے (وہ پہلوٹھا تھا لیکن جَب اُس نے اَپنے باپ کے بچھونے کو ناپاک کیا تو اُس کے پہلوٹھے ہونے کے حُقُوق یُوسیفؔ بِن اِسرائیل کے بیٹوں کو دئیے گیٔے اِس لیٔے نَسب نامہ میں اُس کا اندراج پہلوٹھے پن کے مُطابق نہ ہو سَکا حالانکہ یہ پہلوٹھا تھا۔
1CH 5:2 اَور اگرچہ یہُوداہؔ اَپنے تمام بھائیوں سے زِیادہ طاقتور تھا اَور حُکمران اُسی میں سے نکلے لیکن پہلوٹھے کا حق یُوسیفؔ کا ہُوا)۔
1CH 5:3 اِسرائیل کے پہلوٹھے رُوبِنؔ کے بیٹے یہ ہیں: حنوخؔ، پلوّؔ، حِضرونؔ اَور کرمی۔
1CH 5:4 یُوایلؔ کے بیٹے یہ ہیں: اُس کا بیٹا شمعیاہؔ اَور اُس کا بیٹا گوگ، اَور اُس کا بیٹا شِمعیؔ،
1CH 5:5 اَور اُس کا بیٹا میکاہؔ، اَور اُس کا بیٹا رِیایاہؔ اَور اُس کا بیٹا بَعل،
1CH 5:6 اَور اُس کا بیٹا بِیرہ جِس کو تِگلتؔ پلیسِر شاہِ اشُور اسیر کرکے لے گیا۔ بِیرہ بنی رُوبِنؔ کا سردار تھا۔
1CH 5:7 اُن کے رشتہ دار جِن کا اُن کے برادریوں کے لحاظ سے نَسب نامہ تحریر میں آیا یہ تھے: سردار یعی ایل اَور زکریاؔہ،
1CH 5:8 اَور بَیلعؔ بِن عزازؔ بِن شِمعؔ بِن یُوایلؔ۔ وہ عروعؔر سے لے کر نبوؔ اَور بَعل مِعُون تک کے علاقہ میں بسے ہُوئے تھے۔
1CH 5:9 اَور مشرق کی طرف وہ اُس سرزمین پر قابض تھے جو دریائے فراتؔ تک پھیلے ہُوئے صحرا کے کنارے تک ہے۔ کیونکہ گِلعادؔ میں اُن کے مویشی بہت بڑھ گیٔے تھے۔
1CH 5:10 اُنہُوں نے شاؤل کے دَورِ حُکومت میں ہاگریؔ کے خِلاف جنگ شروع کی اَور اُنہیں شِکست دی اَور وہ گِلعادؔ کے تمام مشرقی علاقے کے ہاگریوں کی قِیام گاہوں پر قابض ہو گئے۔
1CH 5:11 اَور بنی گادؔ بنی رُوبِنؔ کے مقابل مُلک باشانؔ میں سَلِکہؔ تک بسے ہُوئے تھے:
1CH 5:12 اوّل یُوایلؔ تھا اَور شافامؔ دُوسرا اَور یعناعیؔ اَور شافاطؔ باشانؔ میں تھے۔
1CH 5:13 اَور آبائی خاندانوں کے مُطابق اُن کے رشتہ دار یہ تھے: مِیکاایلؔ، مِشُلّامؔ، شیبا، یورائیؔ، یعکانؔ، زیعؔا اَور عِبرؔ، کل سات آدمی۔
1CH 5:14 یہ بنی اَبی حائیل بِن حُوریؔ بِن یاروحؔ بِن گِلعادؔ بِن مِیکاایلؔ بِن یشیشائیؔ بِن یاحدوؔ بِن بوز تھے۔
1CH 5:15 احی عبدی ایل بِن گُونی اُن کے آبائی خاندانوں کا سردار تھا۔
1CH 5:16 بنی گادؔ باشانؔ کے شہروں میں، گِلعادؔ میں، اَور اُس کے دُور بیرونی شہروں میں اَور شارونؔ کی ساری چراگاہوں کے آخِری کناروں تک بسے ہُوئے تھے۔
1CH 5:17 یہُودیؔہ کے بادشاہ یُوتامؔ اَور اِسرائیل کے بادشاہ یرُبعامؔ کے ایّام میں اِن سَب کو اُن نَسب ناموں میں درج کیا گیا تھا۔
1CH 5:18 اَور بنی رُوبِنؔ، بنی گادؔ اَور منشّہ کے آدھے قبیلہ میں چوالیس ہزار سات سَوساٹھ مَرد فَوجی خدمت کے لیٔے تیّار تھے یعنی تندرست و توانا مَرد جو سِپر بردار، شمشیر زن اَور تیر اَندازی میں ماہر تھے اَور جنگ آزمودہ تھے۔
1CH 5:19 اُنہُوں نے ہاگریوں اَور اُن کے اِتّحادیوں یطُورؔ، نافیشؔ اَور نودابی قبیلوں پر حملہ کیا۔
1CH 5:20 اَور خُدا نے ہاگریوں اَور اُن کے اِتّحادیوں کو اُن کے حوالہ کر دیا کیونکہ جنگ کے دَوران اُنہُوں نے خُدا سے دعا کی اَور خُدا نے اُن کی دعا قبُول فرمائی، اِس لیٔے کہ اُنہُوں نے اُن پر اِعتماد رکھا۔
1CH 5:21 اُنہُوں نے ہاگریوں کے مویشیوں پر قبضہ کر لیا جو کہ پچاس ہزار اُونٹ، دو لاکھ پچاس ہزار بھیڑ بکریاں اَور دو ہزار گدھے تھے۔ اُنہُوں نے ایک لاکھ آدمیوں کو بھی قَید کر لیا۔
1CH 5:22 اَور بہت سے آدمیوں کو قتل کر دیا کیونکہ وہ جنگ یَاہوِہ کی تھی۔ اَور وہ جَلاوطنی کے وقت تک اُس مُلک پر قابض رہے۔
1CH 5:23 منشّہ کے آدھے قبیلہ کے لوگ بہت زِیادہ تھے اَور وہ باشانؔ سے لے کر بَعل حرمُونؔ یعنی سنیرؔ (کوہِ حرمُونؔ) تک پھیلے ہُوئے تھے۔
1CH 5:24 اُن کے آبائی خاندانوں کے سردار یہ تھے: عِفرؔ، یَشعیؔ، الی ایل، عزری ایل، یرمیاہؔ، ہُوداویاہؔ اَور یحدی ایل۔ یہ بڑے دِلیر، جنگجو، نامور اَور اَپنے آبائی خاندانوں کے سردار تھے۔
1CH 5:25 لیکن اُنہُوں نے اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا سے بےوفائی کی اَور جِس مُلک کے باشِندوں کو خُدا نے اُن کے سامنے سے ہلاک کیا تھا اُن ہی کے معبُودوں کی پیروی کرکے اُنہُوں نے زناکاری کی۔
1CH 5:26 تَب اِسرائیل کے خُدا نے شاہِ اشُور پُولؔ یعنی تِگلتؔ پلیسِر کے دِل میں جوش پیدا کیا اَور وہ رُوبِنیوں، گادّیوں اَور منشّہ کے آدھے قبیلہ کو اسیر کرکے لے گیا اَور اُنہیں حالاحؔ، حابُورؔ، ہاراؔ اَور دریائے گُوزانؔ کے پاس لے آیا اَور آج کے دِن تک وہ وہیں سکونت کر رہے ہیں۔
1CH 6:1 بنی لیوی: گیرشون، قُہات اَور مِراریؔ۔
1CH 6:2 بنی قُہات: عمرامؔ، اِضہاؔر، حِبرونؔ اَور عُزّی ايل۔
1CH 6:3 اَور عمرامؔ کی اَولاد: اَہرونؔ۔ مَوشہ اَور مِریمؔ۔ اَور بنی اَہرونؔ: نادابؔ، اَبِیہُو، الیعزرؔ اَور اِتمارؔ۔
1CH 6:4 الیعزرؔ سے فِنحاسؔ پیدا ہُوا، اَور فِنحاسؔ سے ابیشُوعؔ،
1CH 6:5 اَور ابیشُوعؔ سے بُقّیؔ، اَور بُقّیؔ سے عُزّی تھا،
1CH 6:6 عُزّی سے زراخیاہؔ اَور زراخیاہؔ سے مرایوتؔ۔
1CH 6:7 اَور مرایوتؔ سے امریاہؔ اَور امریاہؔ سے احِیطوبؔ۔
1CH 6:8 اَور احِیطوبؔ سے صدُوقؔ اَور صدُوقؔ سے اخِیمعضؔ۔
1CH 6:9 اَور اخِیمعضؔ سے عزریاہؔ اَور عزریاہؔ سے یوحانانؔ۔
1CH 6:10 اَور یوحانانؔ سے عزریاہؔ۔ یہ وُہی عزریاہؔ تھا جو شُلومونؔ کی مَعرفت سے تعمیر کردہ یروشلیمؔ کے بیت المُقدّس میں کاہِنؔ تھا۔
1CH 6:11 اَور عزریاہؔ سے امریاہؔ پیدا ہُوا اَور امریاہؔ سے احِیطوبؔ۔
1CH 6:12 اَور احِیطوبؔ سے صدُوقؔ اَور صدُوقؔ سے شلُّومؔ۔
1CH 6:13 اَور شلُّومؔ سے خِلقیاہؔ اَور خِلقیاہؔ سے عزریاہؔ۔
1CH 6:14 اَور عزریاہؔ سے سِرایاہؔ اَور سِرایاہؔ سے یہُوصدقؔ۔
1CH 6:15 اَور جَب یَاہوِہ نے نبوکدنضرؔ کے ہاتھ سے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کو جَلاوطن کرایا تو یہُوصدقؔ بھی اسیروں میں شامل تھا۔
1CH 6:16 بنی لیوی یہ ہیں: گیرشون، قُہات اَور مِراریؔ ہیں۔
1CH 6:17 گیرشون کے بیٹوں کے نام یہ ہیں: لِبنیؔ اَور شِمعیؔ۔
1CH 6:18 بنی قُہات: عمرامؔ، اِضہاؔر، حِبرونؔ اَور عُزّی ايل۔
1CH 6:19 بنی مِراریؔ: محلیؔ اَور مُوشیؔ۔
1CH 6:20 گیرشوم کا: اُس کا بیٹا لِبنیؔ اَور اُس کا بیٹا یاحاتؔھ، اَور اُس کا بیٹا زِمّہؔ
1CH 6:21 اَور اُس کا بیٹا یُوآخؔ، اَور اُس کا بیٹا عِدّوؔ اَور اُس کا بیٹا زیراحؔ اَور اُس کا بیٹا یاتیرائیؔ۔
1CH 6:22 بنی قُہات: اُس کا بیٹا عَمّیندابؔ، اُس کا بیٹا قورحؔ، اُس کا بیٹا اَسّیر،
1CH 6:23 اُس کا بیٹا اِلقانہؔ، اُس کا بیٹا اَبی آسفؔ، اُس کا بیٹا اَسّیر۔
1CH 6:24 اُس کا بیٹا تحتؔ، اُس کا بیٹا اوری ایل، اُس کا بیٹا عُزّیاہؔ اَور اُس کا بیٹا شاؤل۔
1CH 6:25 اِلقانہؔ کے بیٹے: عماسیؔ اَور احیموتؔ۔
1CH 6:26 اِلقانہؔ بِن احیموتؔ: اُس کا بیٹا صُوفائیؔ، اُس کا بیٹا نحتؔ،
1CH 6:27 اُس کا بیٹا اِلیابؔ، اُس کا بیٹا یروحامؔ، اُس کا بیٹا اِلقانہؔ اَور اُس کا بیٹا شموایلؔ۔
1CH 6:28 بنی شموایلؔ: یُوایلؔ اُس کا پہلوٹھا اَور دُوسرا بیٹا ابیّاہؔ۔
1CH 6:29 بنی مِراریؔ: محلیؔ، اُس کا بیٹا لِبنیؔ، اُس کا بیٹا شِمعیؔ، اُس کا بیٹا عُزّاہ،
1CH 6:30 اُس کا بیٹا شِمعاؔ، اُس کا بیٹا حگِّیاہؔ اَور اُس کا بیٹا عسایاہؔ۔
1CH 6:31 وہ جنہیں داویؔد نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں عہد کے صندُوق کے لائے جانے کے بعد مُستقِل طور پر موسیقی کا نِگران مُقرّر کیا یہ ہیں:
1CH 6:32 اَور جَب تک شُلومونؔ یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس نہ بنوا چُکا یہ لوگ خیمہ اِجتماع کے مَسکن کے سامنے موسیقی کا اہتمام کرتے رہے اَور مُقرّر کَردہ ضوابط کے مُطابق اَپنے اَپنے فرائض اَنجام دیتے رہے۔
1CH 6:33 وہ جنہوں نے اَپنے بیٹوں کے ہمراہ (خیمہ اِجتماع کے مَسکن کے سامنے موسیقی کے ذریعہ) خدمت کی یہ ہیں: قُہاتیوں میں سے: ہیمانؔ موسیقار، بِن یُوایلؔ بِن شموایلؔ،
1CH 6:34 بِن اِلقانہؔ بِن یروحامؔ بِن الی ایل بِن توآحؔ،
1CH 6:35 بِن صُوفؔ بِن اِلقانہؔ بِن ماحاتھؔ بِن عماسیؔ،
1CH 6:36 بِن اِلقانہؔ بِن یُوایلؔ بِن عزریاہؔ بِن صفنیاہؔ
1CH 6:37 بِن تحتؔ بِن اَسّیر بِن اَبی آسفؔ بِن قورحؔ
1CH 6:38 بِن اِضہاؔر بِن قُہات بِن لیوی بِن اِسرائیل؛
1CH 6:39 اَور ہیمانؔ کا ہم خدمت بھایٔی آسفؔ جو بوقتِ خدمت اُس کے داہنے ہاتھ کھڑا ہوتا تھا یعنی آسفؔ بِن بیرکیاہ بِن شِمعاؔ
1CH 6:40 بِن مِیکاایلؔ بِن بعسیاہؔ بِن ملکیاہؔ
1CH 6:41 بِن اتھنیؔ بِن زیراحؔ بِن عدایاہؔ،
1CH 6:42 بِن ایتھانؔ بِن زِمّہؔ بِن شِمعیؔ
1CH 6:43 بِن یاحاتؔھ، بِن گیرشوم بِن لیوی؛
1CH 6:44 اَور اُن کے ہم خدمت بھائیوں میں سے بنی مِراریؔ جو اُس کے بائیں ہاتھ کھڑے ہوتے تھے: یعنی ایتھانؔ بِن قیشی، بِن عبدی، بِن مَلُّوکؔ،
1CH 6:45 بِن حشبیاہؔ بِن اماضیاہؔ بِن خِلقیاہؔ
1CH 6:46 بِن امصیؔ بِن بانیؔ، بِن شِمیرؔ،
1CH 6:47 بِن محلیؔ، بِن مُوشیؔ بِن مِراریؔ، بِن لیوی۔
1CH 6:48 اَور اُن کے دیگر بنی لیوی ساتھی خُدا کے گھر کے خیمہ (مَسکن) کی دیگر خدمات پر مُقرّر تھے۔
1CH 6:49 لیکن اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹے سوختنی نذر کی قُربانی کے مذبح اَور بخُور کی قُربان گاہ دونوں پر پاک ترین مقام کی ساری خدمت اَنجام دینے اَور اِسرائیل کے لیٔے کفّارہ دینے کے لیٔے جِس طرح خُدا کے خادِم مَوشہ نے حُکم دیا تھا قُربانی گذرانتے تھے۔
1CH 6:50 اَور بنی اَہرونؔ یہ تھے: اُس کا بیٹا الیعزرؔ، اُس کا بیٹا فِنحاسؔ، اُس کا بیٹا ابیشُوعؔ،
1CH 6:51 اُس کا بیٹا بُقّیؔ، اُس کا بیٹا عُزّی، اُس کا بیٹا زراخیاہؔ،
1CH 6:52 اُس کا بیٹا مرایوتؔ، اُس کا بیٹا امریاہؔ، اُس کا بیٹا احِیطوبؔ،
1CH 6:53 اُس کا بیٹا صدُوقؔ اَور اُس کا بیٹا اخِیمعضؔ۔
1CH 6:54 اُن کی خیمہ گاہوں کے مُطابق اُن کی آبادیوں کی سرحدیں اِس طرح مُقرّر کی گئیں (بنی اَہرونؔ میں سے قُہاتیوں کے برادریوں کو جو علاقے سُپرد کئے گیٔے یہ ہیں کیونکہ پہلا قُرعہ اُن کے نام کا نِکلا تھا):
1CH 6:55 اُنہیں یہُوداہؔ میں حِبرونؔ اَور اُس کے گِردونواح کی چراگاہیں دی گئیں۔
1CH 6:56 (لیکن شہر کے اِردگرد کے کھیت اَور گاؤں یفُنّہؔ کے بیٹے کالبؔ کو دئیے گیٔے تھے۔)
1CH 6:57 پس بنی اَہرونؔ کو حِبرونؔ (پناہ کا ایک شہر) لِبناہؔ، یتّیرؔ، اِشتموُعؔ،
1CH 6:58 حیلِنؔ، دبیرؔ،
1CH 6:59 عشٰنؔ، یُوطّہؔ اَور بیت شِمِشؔ مع اُن کی چراگاہوں کے۔
1CH 6:60 اَورجو بِنیامین کے قبیلہ سے تھے اُنہیں گِبعونؔ، گِبعؔ، علیمتؔ اَور عناتوت سمیت اُن کی چراگاہوں کو دئیے گیٔے۔
1CH 6:61 منشّہ کے آدھے قبیلہ کی برادریوں میں سے دس شہر باقی بنی قُہات میں بذریعہ قُرعہ اَندازی تقسیم کئے گیٔے۔
1CH 6:62 گیرشون کے بیٹوں کو اُن کے برادریوں کے مُطابق یِسَّکاؔر کے برادری، آشیر کے قبیلہ، نفتالی کے قبیلہ اَور باشانؔ میں بسے ہُوئے منشّہ کے قبیلہ سے تیرہ شہر ملے۔
1CH 6:63 بنی مِراریؔ کو اُن کے برادریوں کے مُطابق رُوبِنؔ، گادؔ اَور زبُولُون کے قبیلوں سے بَارہ شہر ملے۔
1CH 6:64 یُوں بنی اِسرائیل نے لیویوں کو یہ شہر اَور اُن کی چراگاہیں بھی دے دیں۔
1CH 6:65 یہُوداہؔ، شمعُونؔ اَور بِنیامین کے قبیلوں سے اُنہیں وہ شہر جِن کا پہلے ذِکر ہو چُکاہے بذریعہ قُرعہ اَندازی دئیے گیٔے۔
1CH 6:66 بعض قُہاتی برادریوں کو اُن کے علاقہ کے طور پر اِفرائیمؔ کے قبیلہ سے شہر دئیے گیٔے۔
1CH 6:67 اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں اُنہیں شِکیمؔ (پناہ کا ایک شہر) اَور گِزرؔ،
1CH 6:68 یُقمعامؔ، بیت حَورُونؔ،
1CH 6:69 ایّالونؔ، گاتؔھ رِمّونؔ، اِردگرد کی چراگاہوں سمیت دئیے گیٔے۔
1CH 6:70 اَور منشّہ کے آدھے قبیلہ میں سے بنی اِسرائیل نے عانیرؔ اَور بِلعاؔم مع اُن کی چراگاہوں کے بنی قُہات کے باقی برادریوں کو دئیے۔
1CH 6:71 بنی گیرشون کو مُندرجہ ذیل علاقے ملے: منشّہ کے آدھے قبیلہ کے برادری سے اُن کو باشانؔ میں گولانؔ اَور عستاراتؔ اِردگرد کی چراگاہوں سمیت ملے؛
1CH 6:72 یِسَّکاؔر کے قبیلہ سے اُنہیں قِدِشؔ، دبیرتؔ،
1CH 6:73 راموتؔ اَور عنیمؔ اِردگرد کی چراگاہوں کی زمین سمیت ملے۔
1CH 6:74 اَور آشیر کے قبیلہ میں سے ماشالؔ، عبدونؔ،
1CH 6:75 حُقّوقؔ اَور رحوبؔ اِردگرد کی چراگاہوں سمیت ملے؛
1CH 6:76 اَور نفتالی کے قبیلہ میں سے گلِیل میں قِدِشؔ، حمّونؔ اَور قِریتائم مع اُن کی چراگاہوں کے ملے۔
1CH 6:77 اَور لیویوں میں سے باقی بنی مِراریؔ کو جو زبُولُون کے قبیلہ میں سے، یُقنِعامؔ، قرتاہؔ، رِمّونؔ، تبورؔ اِردگرد کی چراگاہوں سمیت ملے۔
1CH 6:78 اَور یردنؔ کے پار یریحوؔ کے مشرق میں رُوبِنؔ کے قبیلہ میں سے بیابان میں بضرؔ، یہصہؔ،
1CH 6:79 قدیموتؔ اَور مِفعتؔ مع چراگاہوں کے ساتھ ملے۔
1CH 6:80 اَور گادؔ کے قبیلہ میں سے گِلعادؔ میں راموتؔ، محنایمؔ،
1CH 6:81 حِشبونؔ یعزیرؔ جِن میں اِردگرد کی چراگاہیں بھی شامل تھیں۔
1CH 7:1 بنی یِسَّکاؔر: تولعؔ، پُوعہ، یَعشُوبؔ اَور شِمرون۔ کُل چار۔
1CH 7:2 اَور بنی تولعؔ: عُزّی، رِفایاہؔ، یری ایل، یحمائیؔ، اِبسامؔ اَور شموایلؔ جو اَپنے آبائی خاندانوں کے سردار تھے۔ داویؔد کے دَورِ حُکومت میں بنی تولعؔ کے جو افراد اَپنے نَسب ناموں میں بطور جنگجو درج کئے گیٔے وہ شُمار میں بائیس ہزار چھ سَو تھے۔
1CH 7:3 عُزّی کا بیٹا اِزراحیاہؔ تھا۔ اِزراحیاہؔ کے بیٹے: مِیکاایلؔ، عبدیاہؔ، یُوایلؔ، یشیاہؔ۔ یہ پانچوں سَب کے سَب سردار تھے۔
1CH 7:4 اُن کے آبائی نَسب ناموں کے مُطابق اُن کے پاس جنگ کے لیٔے تیّار چھتّیس ہزار جَوان تھے کیونکہ اُن کی بیویاں اَور بچّے بہت تھے۔
1CH 7:5 وہ رشتہ دار جو جنگجو مَرد تھے اَور یِسَّکاؔر کے تمام برادریوں سے تعلّق رکھتے تھے اُن کی کُل تعداد اُن کے نَسب ناموں کے مُطابق ستاسی ہزار تھی۔
1CH 7:6 بِنیامین کے تین بیٹے تھے: بَیلعؔ، بِکیؔر اَور یدیع ایل۔
1CH 7:7 بنی بَیلعؔ: اِضبُنؔ، عُزّی، عُزّی ایل، یریموتؔ اَور عیری۔ یہ کل پانچ جو اَپنے آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے۔ یہ اَپنے نَسب ناموں کے مُطابق بائیس ہزار چونتیس جنگجو مَرد تھے۔
1CH 7:8 بنی بِکیؔر: زمِیرہؔ، یُوآشؔ، الیعزرؔ، الیوعینائی، عُمریؔ، یریموتؔ، ابیّاہؔ، عناتوت اَور علیمتؔ۔ یہ سَب بِکیؔر کے بیٹے تھے
1CH 7:9 جو اَپنے آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے۔ نَسب ناموں کے مُطابق اُن کے جنگجو مَردوں کی تعداد بیس ہزار دو سَو تھی۔
1CH 7:10 یدیع ایل کا بیٹا: بِلہانؔ تھا۔ بنی بِلہانؔ: یعُوسؔ، بِنیامین، اہُودؔ، کنعانہؔ، زیتانؔ، ترشیشؔ اَور اخیشاحارؔ۔
1CH 7:11 یدیع ایل کے یہ تمام بیٹے اَپنے آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے۔ یہ سترہ ہزار دو سَو جنگجو مَرد تھے جو جنگ کے لیٔے تیّار رہتے تھے۔
1CH 7:12 بنی عیرؔ: حُوشیمؔ یا شُفّیمؔ اَور حُفّیمؔ تھے اَور حُشیمؔ احیرؔ کے بیٹے تھے۔
1CH 7:13 بنی نفتالی: یحصیل، گُونی، یصرؔ اَور شلُّومؔ یہ تمام بنی بِلہاہؔ تھے۔
1CH 7:14 بنی منشّہ: منشّہ کے ایک بیٹے کا نام اَسری ایل تھا اَور اُس کی ارامی داشتہ کے بطن سے گِلعادؔ کا باپ مکیرؔ پیدا ہُوا۔
1CH 7:15 حُفّیمؔ اَور شُفّیمؔ کی ایک بہن تھی جِس کا نام معکہؔ تھا جِس سے مکیرؔ نے بیاہ کر لیا۔ دُوسرے کا نام ضلافحادؔ تھا جِس کی صِرف بیٹیاں ہی تھیں۔
1CH 7:16 مکیرؔ کی بیوی معکہؔ نے ایک بیٹے کو پیدا کیا اَور اُس کا نام پِریسؔ رکھا اَور اُس کے بھایٔی کا نام شِرِسؔ تھا اَور اُس کے بیٹے اولامؔ اَور رِقیمؔ تھے۔
1CH 7:17 اولامؔ کا بیٹا: بدانؔ تھا۔ یہ گِلعادؔ بِن مکیرؔ بِن منشّہ کے پرپوتے تھے۔
1CH 7:18 اَور اُس کی بہن ہَمّولکِتؔ سے اِشہُودؔ، ابیعزیر اَور محلاہؔ پیدا ہُوئے۔
1CH 7:19 اَور بنی شمیدعؔ یہ تھے: احیانؔ، شِکیمؔ، لِقحی اَور انِیعامؔ۔
1CH 7:20 بنی اِفرائیمؔ: شُوتلحؔ، اُس کا بیٹا بیردؔ، اُس کا بیٹا تحتؔ، اُس کا بیٹا اِلِیعدہ، اُس کا بیٹا تحتؔ،
1CH 7:21 اُس کا بیٹا زابادؔ اَور اُس کا بیٹا شُوتلحؔ، عِزیرؔ اَور اِلِیعدؔ۔ دونوں کو گاتؔھ کے مقامی باشِندوں نے مار ڈالا جَب وہ اُن کے مویشی چھیننے کے لیٔے اُن پر حملہ آور ہُوئے۔
1CH 7:22 اُن کے باپ اِفرائیمؔ نے بہت دِنوں تک اُن کا ماتم کیا اَور اُس کے رشتہ دار اُسے تسلّی دینے آئے۔
1CH 7:23 اُس کے بعد وہ اَپنی بیوی کے پاس گیا اَور وہ حاملہ ہُوئی اَور ایک بیٹے کو پیدا کیا اَور اُس کا نام بریعہؔ رکھا کیونکہ اُس کے گھرانے پر آفت آئی تھی۔
1CH 7:24 اُس کی بیٹی شِراہؔ جِس نے نشیبی اَور بالائی بیت حَورُونؔ کو اَور عُزّنؔ شِراہؔ کو بھی بنایا تھا۔
1CH 7:25 اُس کا بیٹا رِفاحؔ تھا اَور اُس کا بیٹا رِشِفؔ اَور اُس کا بیٹا تیلاحؔ اَور اُس کا بیٹا تحنؔ،
1CH 7:26 اَور اُس کا بیٹا لعدانؔ اَور اُس کا بیٹا عمّیہُوؔد اَور اُس کا بیٹا اِلیشمعؔ،
1CH 7:27 اَور اُس کا بیٹا نُونؔ اَور اُس کا بیٹا یہوشُعؔ۔
1CH 7:28 اُن کی آراضی میں بستیاں یہ تھیں: بیت ایل اَور اُس کے گِردونواح کے دیہات، مشرق کی طرف نعرانؔ اَور مغرب کی طرف گِزرؔ اَور اُس کے دیہات اَور شِکیمؔ اَور اُس کے دیہات، عیّاہؔ اَور اُس کے دیہات تک۔
1CH 7:29 اَور بنی منشّہ کی حُدوُد کے پاس بیت شانؔ اَور اُس کے دیہات، تعناکؔ، مگِدّوؔ اَور دورؔ اَور اُن کے دیہات۔ اِن میں بنی یُوسیفؔ بِن اِسرائیل کی بستیاں تھیں۔
1CH 7:30 بنی آشیر: یِمنہؔ، اِشواہؔ، اِشویؔ، بریعہؔ اَور اُن کی بہن سراحؔ۔
1CH 7:31 بریعہؔ کے بیٹے: حِبرؔ اَور مَلکی ایل جو بِرزائیتؔ کا باپ تھا۔
1CH 7:32 اَور حِبرؔ سے یفلِیطؔ، شومیرؔ، حوتھامؔ اَور اُن کی بہن شُوعؔ پیدا ہُوئے۔
1CH 7:33 بنی یفلِیطؔ: پاساخؔ، بیمہالؔ اَور عسواتؔ۔
1CH 7:34 اَور بنی شومیرؔ: احی، روہگاہؔ، حُبّہؔ اَور ارام۔
1CH 7:35 اَور اُس کے بھایٔی ہِیلمؔ کے بیٹے: صُوفح، یِمنہؔ، شِلشؔ اَور عملؔ۔
1CH 7:36 بنی صُوفح: سُعاحؔ، حارنیفرؔ، شُعالؔ، بیؔری اَور اِمراہؔ،
1CH 7:37 بضرؔ، ہُودؔ، شمّاؔ، شِلشہؔ، اِترانؔ اَور بِیراؔ۔
1CH 7:38 اَور بنی یترؔ یا اِترانؔ: یفُنّہؔ، پسپاؔ اَور آراؔ۔
1CH 7:39 اَور بنی عُلّہؔ: ارخؔ، حنّی ایل اَور رضیاہؔ۔
1CH 7:40 یہ تمام بنی آشیر تھے یعنی وہ جو اَپنے آبائی خاندانوں کے سربراہ، چیدہ افراد، زبردست سُورما اَور نُمایاں سربراہ تھے۔ اُن کے نَسب ناموں کے مُطابق جنگ کرنے کے لائق جَوانوں کی تعداد چھبّیس ہزار تھی۔
1CH 8:1 بِنیامین کا پہلوٹھا بیٹا بَیلعؔ تھا۔ اَشبیلؔ اُس کا دُوسرا بیٹا اَور احرحؔ تیسرا بیٹا تھا۔
1CH 8:2 نُوحاہؔ چوتھا اَور رافاؔ پانچواں تھا۔
1CH 8:3 بَیلعؔ کے بیٹے: ادّارؔ، گیراؔ، اَبِیہُودؔ،
1CH 8:4 ابیشُوعؔ، نَعمانؔ اَور احوحؔ
1CH 8:5 اَور گیراؔ، شپوپانؔ اَور حُورامؔ۔
1CH 8:6 اہُودؔ کے بیٹے جو گِبعؔ میں رہنے والوں کے آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے اَور جنہیں اسیر بنا کر مناحاتؔ لے جایا گیا تھا وہ یہ تھے:
1CH 8:7 نَعمانؔ، اخیاہؔ اَور گیراؔ جِس نے اُنہیں مُلک بدر کیا اَور جِس سے عُزّاؔ اَور اخیہُودؔ پیدا ہُوئے۔
1CH 8:8 اَور شحریمؔ سے مُوآب کے مُلک میں اَپنی دونوں بیویوں حُوشیمؔ اَور بعراہؔ کو چھوڑدینے کے بعد جو لڑکے پیدا ہُوئے یہ ہیں:
1CH 8:9 اُس کی بیوی ہُودشؔ کے بطن سے یُوبابؔ، ضِبیاہؔ، میشاؔ، اَور ملکامؔ،
1CH 8:10 اَور یعُوضؔ، سکیاہؔ اَور مِرمہؔ۔ اُس کے یہ بیٹے آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے۔
1CH 8:11 اَور حُوشیمؔ کے بطن سے ابِیطوبؔ اَور ایلپعلؔ۔
1CH 8:12 اَور بنی ایلپعلؔ: عِبرؔ، مِشعامؔ اَور شیمیدؔ (اُسی نے اُونوؔ اَور لُودؔ شہروں کو بنوایا اَور اُس کے گِردونواح کے دیہات آباد کئے)۔
1CH 8:13 اَور بریعہؔ اَور شِمعؔ بھی ایّالونؔ کے باشِندوں کے درمیان آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے اَور جنہوں نے گاتؔھ کے باشِندوں کو نکال دیا تھا۔
1CH 8:14 اَور اخیوؔ، شاشقؔ، یریموتؔ،
1CH 8:15 زبدیاہؔ، عَرادؔ، عیدرؔ،
1CH 8:16 مِیکاایلؔ، اِسپاہؔ، یوحا جو بنی بریعہؔ تھے۔
1CH 8:17 اَور زبدیاہؔ، مِشُلّامؔ، حزقی، حِبرؔ،
1CH 8:18 ایشمیرائی، یزلیہؔ اَور یُوبابؔ جو بنی ایلپعلؔ تھے۔
1CH 8:19 اَور یاقیمؔ، زکریؔ، زبدیؔ،
1CH 8:20 العینائی، ضِلّیتائیؔ، الی ایل،
1CH 8:21 عدایاہؔ، برایاہؔ اَور شمراتھؔ جو بنی شِمعیؔ تھے۔
1CH 8:22 اِسفانؔ، عِبرؔ، الی ایل،
1CH 8:23 عبدونؔ، زکریؔ، حنانؔ،
1CH 8:24 حننیاہؔ، عیلامؔ، عنتوتیاہؔ،
1CH 8:25 یفدیاہؔ، پنی ایل جو بنی شاشقؔ تھے۔
1CH 8:26 اَور شمشرئیؔ، شحاریاہؔ، عتلیاہؔ،
1CH 8:27 یعرشیاہؔ، ایلیّاہ اَور زکریؔ جو بنی یروحامؔ تھے۔
1CH 8:28 یہ تمام اَپنے آبائی خاندانوں کے نَسب نامے کے مُطابق سربراہ اَور سردار تھے اَور وہ یروشلیمؔ میں رہتے تھے۔
1CH 8:29 اَور گِبعونؔ کا باپ یعی ایل گِبعونؔ میں رہتا تھا جِس کی بیوی کا نام معکہؔ تھا۔
1CH 8:30 اَور اُس کا پہلوٹھا بیٹا عبدونؔ تھا اُس کے بعد ضُورؔ، قیشؔ، بَعل، نیرؔ، نادابؔ،
1CH 8:31 گدُورؔ، اخیوؔ، زِکرؔ۔
1CH 8:32 اَور مِقلوتؔ شِمعہؔ کا باپ تھا۔ یہ بھی اَپنے رشتہ داروں کے نزدیک یروشلیمؔ ہی میں رہتے تھے۔
1CH 8:33 اَور نیرؔ سے قیشؔ پیدا ہُوا اَور قیشؔ سے شاؤل اَور شاؤل یُوناتانؔ، ملکِیشوعؔ، ابینادابؔ اَور اشبعلؔ کا باپ تھا۔
1CH 8:34 اَور بنی یُوناتانؔ یہ ہیں: مریبعلؔ جو میکاہؔ کا باپ تھا۔
1CH 8:35 اَور بنی میکاہؔ: پیتونؔ، ملِکؔ، تاریعؔ اَور آحازؔ۔
1CH 8:36 اَور آحازؔ سے یہُوعدّہؔ، یہُوعدّہؔ سے علیمتؔ، عزماوتؔ اَور زِمریؔ پیدا ہُوئے۔ اَور زِمریؔ سے موضاؔ
1CH 8:37 اَور موضاؔ سے بِنعہؔ، بِنعہؔ کا بیٹا رافاؔ اَور رافاؔ کا بیٹا ایلعساہؔ اَور ایلعساہؔ کا بیٹا اضیلؔ۔
1CH 8:38 اَور اضیلؔ کے چھ بیٹے تھے جِن کے نام یہ ہیں: عزریقامؔ، بوخیرُوؔ، اِشمعیل، شعریاہؔ، عبدیاہؔ اَور حانانؔ۔ یہ تمام اضیلؔ کے بیٹے تھے۔
1CH 8:39 اُس کے بھایٔی عیشقؔ کے بیٹے یہ ہیں: اُس کا پہلوٹھا اولامؔ، دُوسرا بیٹا یعُوسؔ، اَور تیسرا الیفلطؔ۔
1CH 8:40 اَور اولامؔ کے بیٹے زبردست سُورما اَور تیر اَنداز تھے اَور اُن کے بہت سے بیٹے اَور پوتے تھے جو کُل ڈیڑھ سَو تھے۔ یہ تمام بنی بِنیامین تھے۔
1CH 9:1 تمام بنی اِسرائیل اُن نَسب ناموں کے مُطابق گِنا گیا جو بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی کِتاب میں درج ہیں۔ یہُوداہؔ کے لوگ اَپنی دغابازی کے باعث گِرفتار ہُوئے اَور بابیل لے جائے گیٔے۔
1CH 9:2 اَورجو پہلے اَپنی مِلکیّت اَور اَپنے شہروں میں بسے وہ اِسرائیلی، کاہِنؔ، لیوی اَور بیت المُقدّس کے خُدّام تھے۔
1CH 9:3 اَور بنی یہُوداہؔ، بنی بِنیامین، بنی اِفرائیمؔ اَور بنی منشّہ کے وہ لوگ جو یروشلیمؔ میں رہتے تھے مُندرجہ ذیل تھے:
1CH 9:4 عوطیؔ بِن عمّیہُوؔد بِن عُمریؔ بِن اِمریؔ بِن بانیؔ جو پیریزؔ بِن یہُوداہؔ کی اَولاد میں سے تھا۔
1CH 9:5 شیلونیوں میں سے: عسایاہؔ اُس کا پہلوٹھا اَور اُس کے بیٹے۔
1CH 9:6 بنی زیراحؔ میں سے: یعوایلؔ،
1CH 9:7 بنی بِنیامین میں سے: سلُّوؔ بِن مِشُلّامؔ بِن ہُوداویاہؔ بِن ہسّنوآہ؛
1CH 9:8 اَور اِبنیاہؔ بِن یروحامؔ اَور اَیلہ بِن عُزّی بِن مِکریؔ؛ اَور مِشُلّامؔ بِن شفطیاہؔ بِن رِعوایلؔ بِن اِبنیاہؔ۔
1CH 9:9 بِنیامینیوں کے جو لوگ اَپنے نَسب ناموں کے مُطابق درج ہُوئے اُن کا شُمار نَو سَو چھپّن تھا۔ یہ تمام افراد اَپنے آبائی خاندانوں کے سردار تھے۔
1CH 9:10 اَور کاہِنوں میں سے: یدعیاہؔ، یہُویرِیبؔ، یاکِن؛
1CH 9:11 عزریاہؔ بِن خِلقیاہؔ بِن مِشُلّامؔ بِن صدُوقؔ بِن مرایوتؔ بِن احِیطوبؔ جو خُدا کے گھر کا مختار تھا۔
1CH 9:12 عدایاہؔ بِن یروحامؔ بِن پشحُورؔ بِن ملکیاہؔ؛ اَور معسی بِن عدی ایل بِن یحزیراہؔ بِن مِشُلّامؔ بِن مسلّمیتؔ بِن اِمّیرؔ۔
1CH 9:13 وہ کاہِنؔ جو اَپنے آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے شُمار میں ایک ہزار سات سَوساٹھ تھے۔ خُدا کے گھر میں خدمت کرنے کا کام اُن کے ذمّہ تھا۔
1CH 9:14 اَور لیویوں میں سے: شمعیاہؔ بِن حشُوبؔ بِن عزریقامؔ جو بنی مِراریؔ کے ایک فرد حشبیاہؔ کا بیٹا تھا؛
1CH 9:15 بقبقّرؔ، حیریشؔ، گلالؔ اَور متّنیاہؔ بِن میکاؔ بِن زکریؔ بِن آسفؔ؛
1CH 9:16 عبدیاہؔ بِن شمعیاہؔ بِن گلالؔ بِن یدُوتونؔ؛ اَور بیرکیاہؔ بِن آساؔ بِن اِلقانہؔ جو نطُوفاتیوں کے دیہاتوں میں رہتے تھے۔
1CH 9:17 اَور دربانوں میں سے یہ لوگ تھے: شلُّومؔ، عقُّوبؔ، طلمُونؔ، احیمانؔ اَور اُن کے بھایٔی۔ شلُّومؔ اُن کا سردار تھا۔
1CH 9:18 یہ مشرق کی طرف بادشاہ کے محل کے دروازہ پر مُعیّن تھے اَور بنی لیوی کی لشکرگاہ کے نگہبان تھے۔
1CH 9:19 اَور شلُّومؔ بِن قورؔے بِن اَبی آسفؔ بِن قورحؔ اَور اُس کے آبائی خاندان میں سے اُس کے ساتھی دربان (یعنی قوراحی) خیمہ کے پھاٹکوں کی نگہبانی کے ذمّہ دار تھے، بالکُل اُسی طرح جَیسے اُن کے آباؤاَجداد یَاہوِہ کے قِیام کے مدخل کی نگہبانی کے ذمّہ دار تھے۔
1CH 9:20 اُس سے پیشتر فِنحاسؔ بِن الیعزرؔ دربانوں کا سردار تھا اَور یَاہوِہ اُس کے ساتھ تھے۔
1CH 9:21 زکریاؔہ بِن مِشلمیاہؔ خیمہ اِجتماع کے دروازہ کا نگہبان تھا۔
1CH 9:22 وہ جو دربان ہونے کے لیٔے چُنے گیٔے کُل مِلا کر دو سَو بَارہ تھے۔ اُنہیں دیہات میں اُن کے نَسب ناموں کے مُطابق گِنا گیا۔ دربانوں کو اُن کے قابلِ اِعتبار منصب پر داویؔد اَور شموایلؔ غیب بین نے مُقرّر کیا تھا۔
1CH 9:23 وہ اَور اُن کے بیٹے یَاہوِہ کے گھر یعنی مَسکن کے پھاٹکوں کی نگہبانی پر مامُور تھے۔
1CH 9:24 دربان مشرق، مغرب، شمال اَور جُنوب میں چاروں طرف مُقرّر کئے گیٔے تھے
1CH 9:25 اَور اُن کے بھایٔی جو اَپنے اَپنے گاؤں میں تھے اُنہیں سات سات دِن کے بعد اَپنی اَپنی باری کے اوقات پر اَپنے فرائض کی ادائیگی کے لیٔے آنا پڑتا تھا۔
1CH 9:26 مگر خُدا کے گھر کے حُجروں اَور خزانوں کی ذمّہ داری دربانوں کے چاروں لیوی سرداروں کے سُپرد تھی۔
1CH 9:27 اَور وہ رات بھر نگہبانی کے لیٔے خُدا کے گھر کے پاس ہی رہتے تھے۔ اَور ہر صُبح اُسے کھولنے والی چابی اُن کے پاس رہتی تھی۔
1CH 9:28 اُن میں سے بعض افراد مَقدِس کی خدمات میں اِستعمال ہونے والے ظروف کے ناظِم تھے۔ وہ اُنہیں گِن کر مَقدِس کے اَندر لاتے تھے اَور گِن کر مَقدِس سے باہر لے جاتے تھے۔
1CH 9:29 اُن میں سے بعض کے ذمّہ سازوسامان اَور پاک مَقدِس کی دیگر اَشیا، نیز مَیدہ، مَے اَور تیل، لوبان اَور خُوشبودار مَسالوں کی نگہداشت تھی۔
1CH 9:30 مگر بعض کاہِنؔ خُوشبودار مَسالوں کو باہم مِلانے پر مامُور تھے۔
1CH 9:31 اَور متّتیاہؔ نامی ایک لیوی کو جو بنی قورحؔ شلُّومؔ کا پہلوٹھا بیٹا تھا جسے نذر کی روٹی تیّار کرنے کی ذمّہ داری سُپرد کی گئی تھی۔
1CH 9:32 اَور اُن کے بعض قُہاتی بھایٔی ہر سَبت کو نذر کی روٹیاں تیّار کرنے اَور اُنہیں ترتیب سے رکھنے پر مامُور تھے۔
1CH 9:33 اَور لیویوں کے آبائی خاندانوں کے سردار جو موسیقار تھے وہ مَقدِس کے حُجروں میں رہتے تھے اَور دیگر فرائض سے مُستثنیٰ تھے کیونکہ وہ دِن رات اَپنے کام میں مشغُول رہتے تھے۔
1CH 9:34 جَیسا کہ اُن کے نَسب ناموں میں درج ہے یہ سَب اَپنے اَپنے آبائی لیوی خاندانوں کے سربراہ اَور سردار تھے اَور یروشلیمؔ میں رہتے تھے۔
1CH 9:35 اَور گِبعونؔ کا باپ یعی ایل گِبعونؔ میں رہتا تھا۔ جِس کی بیوی کا نام معکہؔ تھا۔
1CH 9:36 اَور اُس کا پہلوٹھا بیٹا عبدونؔ تھا۔ اُس کے بعد ضُورؔ، قیشؔ، بَعل، نیرؔ، نادابؔ،
1CH 9:37 گدُورؔ، اخیوؔ، زکریاؔہ اَور مِقلوتؔ،
1CH 9:38 اَور مِقلوتؔ شِمعامؔ کا باپ تھا۔ یہ بھی اَپنے رشتہ داروں کے نزدیک یروشلیمؔ ہی میں رہتے تھے۔
1CH 9:39 اَور نیرؔ سے قیشؔ پیدا ہُوا اَور قیشؔ سے شاؤل، اَور شاؤل یُوناتانؔ، ملکِیشوعؔ، ابینادابؔ اَور اشبعلؔ کا باپ تھا۔
1CH 9:40 اَور بنی یُوناتانؔ یہ ہیں: مریبعلؔ جو میکاہؔ کا باپ تھا۔
1CH 9:41 اَور بنی میکاہؔ: پیتونؔ، ملِکؔ، تحریعؔ اَور آحازؔ۔
1CH 9:42 اَور آحازؔ سے یعرہؔ پیدا ہُوا اَور یعرہؔ سے علیمتؔ، عزماوتؔ اَور زِمریؔ پیدا ہُوئے۔ اَور زِمریؔ سے موضاؔ پیدا ہُوا
1CH 9:43 اَور موضاؔ سے بِنعہؔ اَور بِنعہؔ سے رِفایاہؔ اَور رِفایاہؔ سے ایلعساہؔ اَور ایلعساہؔ سے اضیلؔ۔
1CH 9:44 اضیلؔ کے چھ بیٹے تھے جِن کے نام یہ ہیں: عزریقامؔ، بوخیرُوؔ، اِشمعیل، شعریاہؔ، عبدیاہؔ اَور حانانؔ۔ یہ اضیلؔ کے بیٹے تھے۔
1CH 10:1 اَور فلسطینی اِسرائیل سے لڑے اَور اِسرائیلی اُن کے سامنے سے بھاگے اَور بہت سے قتل ہوکر گِلبوعہؔ پہاڑی پر گِرے۔
1CH 10:2 اَور فلسطینیوں نے شاؤل اَور اُس کے بیٹوں کا بڑی سرگرمی سے تعاقب کیا اَور اُس کے بیٹوں یُوناتانؔ، ابینادابؔ اَور ملکِیشوعؔ کو مار ڈالا۔
1CH 10:3 جَب شاؤل کے اِردگرد جنگ بہت شدید ہو گئی اَور تیر اَندازوں نے اُسے جا لیا اَور تیروں سے اُسے زخمی کر دیا۔
1CH 10:4 تَب شاؤل نے اَپنے سلاح بردار سے کہا، ”اَپنی تلوار کھینچ اَور میرے جِسم میں گھونپ دے ورنہ وہ نامختون آکر مُجھے چھید کر بے عزّت کر دیں گے۔“ لیکن اُس کا سلاح بردار خوف اَور دہشت کے باعث اَیسا نہ کر سَکا۔ لہٰذا شاؤل نے اَپنی تلوار لی اَور اُس پر جا گرا۔
1CH 10:5 جَب اُس کے سلاح بردار نے دیکھا کہ شاؤل مَر گیا تو وہ بھی اَپنی تلوار پر گرا اَور اُس کے ساتھ مَر گیا۔
1CH 10:6 پس شاؤل اَور اُس کے تینوں بیٹے مَر گیٔے اَور اُس کا سارا خاندان نابود ہو گیا۔
1CH 10:7 جَب وادی کے تمام بنی اِسرائیل نے دیکھا کہ اِسرائیلی فَوج بھاگ گئی ہے اَور شاؤل اَور اُس کے بیٹے مَر گیٔے ہیں تو وہ بھی اَپنے شہروں کو چھوڑکر بھاگ نکلے اَور فلسطینی آئے اَور وہاں رہنے لگے۔
1CH 10:8 اگلے دِن جَب فلسطینی لاشوں کے کپڑے وغیرہ اُتارنے آئے تو اُنہُوں نے دیکھا کہ شاؤل اَور اُس کے بیٹوں کی لاشیں گِلبوعہؔ پہاڑ پر پڑی ہُوئی ہیں۔
1CH 10:9 اِس لئے اُنہُوں نے اُسے برہنہ کیا اَور شاؤل کا سَر کاٹ لیا اَور اُس کے زرہ بکتر اُتار لیٔے اَور فلسطینیوں کے مُلک میں چاروں طرف اَپنے بُت خانوں میں اَور تمام لوگوں کے درمیان اِس خُوشخبری کا اعلان کرنے کے لیٔے قاصِد بھیجے۔
1CH 10:10 اُنہُوں نے اُس کے زرہ بکتر کو اَپنے معبُودوں کے مَندِر میں رکھا اَور اُس کے سَر کو دگونؔ کے مَندِر میں ٹانگ دیا۔
1CH 10:11 جَب یبیسؔ گِلعادؔ کے تمام باشِندوں تک یہ خبر پہُنچی جو فلسطینیوں نے شاؤل سے کیا تھا سُنا
1CH 10:12 تو اُن کے تمام سُورما مَرد گیٔے اَور شاؤل اَور اُس کے بیٹوں کی لاشیں اُٹھاکر یبیسؔ میں لے آئے۔ اُنہُوں نے اُن کی ہڈّیاں یبیسؔ میں بلُوط کے درخت کے نیچے دفن کر دیں اَور سات دِن تک روزہ رکھا۔
1CH 10:13 شاؤل اِس لیٔے مَرا کہ اُس نے دغا کی تھی اَور یَاہوِہ کے حُکم کی خِلاف ورزی کی تھی یہاں تک کہ اُس نے اَپنی رہنمائی کے لیٔے اَرواح کو طلب کرنے والی عورت سے مشورہ کیا۔
1CH 10:14 اَور یَاہوِہ سے دریافت نہ کیا۔ اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُسے مار ڈالا اَور سلطنت یِشائی کے بیٹے داویؔد کے ہاتھوں میں دے دی۔
1CH 11:1 تَب سَب اِسرائیلی حِبرونؔ میں داویؔد کے پاس جمع ہوکر کہنے لگے، ”ہم تمہارا اَپنا گوشت اَور خُون ہیں۔
1CH 11:2 کچھ عرصہ پہلے جَب شاؤل بادشاہ تھا اُس وقت بھی اِسرائیل کی فَوجوں کی کمان تمہارے ہاتھ میں تھی اَور یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تُمہیں فرمایا، ’تُم میری قوم اِسرائیل کی گلّہ بانی کروگے اَور تُم اُن کے حُکمران بَن جاؤگے۔‘ “
1CH 11:3 پس اِسرائیل کے سَب بُزرگ حِبرونؔ میں داویؔد بادشاہ کے پاس آئے، بادشاہ نے اُن کے ساتھ یَاہوِہ کے حُضُور عہد کیا، اَور اُنہُوں نے داویؔد کو مَسح کرکے اِسرائیل کا بادشاہ بنایا جَیسا کہ یَاہوِہ نے شموایلؔ کی مَعرفت وعدہ کیا تھا۔
1CH 11:4 داویؔد اَور تمام بنی اِسرائیل نے یروشلیمؔ (یعنی یبُوس) پر چڑھائی کی اَور یبُوسیوں نے جو وہاں کے باشِندے تھے
1CH 11:5 یبُوسیوں نے داویؔد سے کہا، ”تُم یہاں داخل نہ ہو سکوگے۔“ تاہم داویؔد نے صِیّونؔ کا قلعہ فتح کر لیا جسے اَب داویؔد کا شہر کہتے ہیں۔
1CH 11:6 داویؔد نے کہاتھا، ”جو کویٔی یبُوسیوں پر حملہ کرنے میں پہل کرےگا اُسے سپہ سالار بنا دیا جائے گا۔“ یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ جو پہلے حملہ آور ہُوا سپہ سالار بنا دیا گیا۔
1CH 11:7 اَور داویؔد قلعہ میں رہنے لگے اِس لیٔے یہ داویؔد کا شہر کہلانے لگا۔
1CH 11:8 اُس نے مِلّوؔ سے لے کر اُس کے اِردگرد کے سارے علاقہ کو مضبُوط کیا اَور یُوآبؔ نے باقی شہر کی مرمّت کی
1CH 11:9 اَور داویؔد زِیادہ سے زِیادہ طاقتور ہوتے گئے کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ خُدا اُن کے ساتھ تھے۔
1CH 11:10 اَور داویؔد کے لشکروں کے جنگجو سُورما یہ تھے جنہوں نے اُن کی حُکومت کی حمایت کی اَور سارے اِسرائیل کے ساتھ مِل کر اُنہیں بادشاہ بنایا تھا جَیسا کہ یَاہوِہ کا اِسرائیل سے وعدہ تھا۔
1CH 11:11 داویؔد کے جنگجو سُورماؤں کی فہرست یہ ہے: یسُوبعامؔ بنی حکمُونیؔ جو اعلیٰ افسران تھا۔ اُس نے اَپنا نیزہ تین سَو آدمیوں کے خِلاف اُٹھایا اَور ایک ہی حملہ میں اُنہیں قتل کر ڈالا۔
1CH 11:12 اُس کے بعد الیعزرؔ بِن احُوحی دودائی یعنی دودوؔ تھا جو اُن تین جنگجو سُورماؤں میں سے ایک تھا۔
1CH 11:13 وہ داویؔد کے ساتھ فسدمّیمؔ میں تھا جَب فلسطینی جنگ کے لیٔے وہاں جمع ہُوئے۔ وہاں ایک کھیت جَو سے بھرا ہُوا تھا۔ جہاں اِسرائیلی فَوج فلسطینیوں کے آگے سے بھاگی۔
1CH 11:14 لیکن وہ کھیت کے درمیان پہُنچ کر مُقابلہ کے لیٔے ڈٹ گیٔے اَور اُن کا بچاؤ کیا اَور فلسطینیوں کو مار گرایا۔ یَاہوِہ کی مدد سے اُنہیں بڑی فتح حاصل ہُوئی۔
1CH 11:15 تیس سرداروں میں سے تین سردار چٹّان سے نیچے اُتر کر عدُلّامؔ کے غار میں داویؔد کے پاس آئے۔ جَب کہ اُس وقت فلسطینیوں کا ایک دستہ وادی رفائیمؔ میں چھاؤنی لگائے ہُوئے تھا۔
1CH 11:16 اُس وقت داویؔد قلعہ میں تھے اَور فلسطینیوں کی چوکی بیت لحمؔ میں تھی۔
1CH 11:17 اَور داویؔد کو شِدّت سے پیاس لگی اَور اُنہُوں نے کہا، ”کاش کویٔی مُجھے بیت لحمؔ کے پھاٹک کے نزدیک والے کنوئیں سے پانی لاکر پلائے!“
1CH 11:18 تَب اُن تینوں نے فلسطینیوں کی صفوں کو چیر کر بیت لحمؔ کے نزدیک والے کنوئیں سے پانی بھرا، اَور داویؔد کے پاس لے آئے۔ لیکن اُنہُوں نے پینے سے اِنکار کیا اَور اُسے یَاہوِہ کے حُضُور اُنڈیل دیا۔
1CH 11:19 اَور کہا، ”خُدا نہ کرے کہ میں اَیسا کروں۔ کیا میں اُن آدمیوں کا خُون پیوں جو اَپنی جان خطرے میں ڈال کر گیٔے؟“ لہٰذا داویؔد نے اُسے پینا نہ چاہا۔ اُن تینوں جنگجو سُورماؤں نے اَیسے کیٔی کام اَنجام دئیے تھے۔
1CH 11:20 اَور یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ کا بھایٔی ابیشائی بھی اُن تین جنگجو مَردوں کا سردار تھا۔ اُس نے اَپنا نیزہ تین سَو آدمیوں کے خِلاف اُٹھایا اَور اُنہیں قتل کر دیا لہٰذا وہ بھی اُن تینوں کی طرح مشہُور ہو گیا۔
1CH 11:21 اُسے اُن تینوں سے دُگنا اِعزاز مِلا اَور وہ اُن کا سپہ سالار بنا لیکن وہ اُن پہلے والے تین سرداروں کا ہم پلّہ نہ ہو سَکا۔
1CH 11:22 بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ قبضی ایل کے ایک سُورما کا بیٹا تھا جِس نے کیٔی بڑے کارنامے اَنجام دئیے تھے۔ اُس نے مُوآب کے اریئیلؔ کے دو بہترین آدمیوں کو مار گرایا۔ ایک دِن جَب برف پڑ رہی تھی اُس نے ایک گڑھے میں اُتر کر ایک شیرببر کو بھی مارا۔
1CH 11:23 اَور اُس نے ایک مِصری کو جو ساڑھے سات فُٹ لمبا تھا مار گرایا حالانکہ اُس مِصری کے ہاتھ میں جُلاہے کے شہتیر کا سا ایک نیزہ تھا۔ لیکن بِنایاہؔ ایک لاٹھی لے کر اُس کے پاس گیا، اُس مِصری کے ہاتھ سے نیزہ چھین لیا اَور اُسی کے نیزہ سے اُسے قتل کر دیا۔
1CH 11:24 بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ نے اَیسے کیٔی کام کئے۔ وہ بھی اُن تین جنگجو سُورماؤں کی طرح مشہُور تھا۔
1CH 11:25 وہ تیس سُورماؤں میں سَب سے زِیادہ مُعزّز سمجھا جاتا تھا لیکن وہ پہلے تین سُورماؤں کے برابر نہیں ہونے پایا۔ اَور داویؔد نے اُسے اَپنے مُحافظ دستہ کا سردار بنا دیا۔
1CH 11:26 دیگر جنگجو سُورما یہ تھے: یُوآبؔ کا بھایٔی عساہیلؔ، بیت لحمؔ کا اِلحنانؔ بِن دُودؔو،
1CH 11:27 حروری شمّوتھؔ پلونی خلصؔ،
1CH 11:28 تقوعؔ کے عیراؔ بِن عقیشؔ، عناتوت سے ابیعزیر،
1CH 11:29 حُوشاتی سِبّکائی، احُوحی عیلیؔ،
1CH 11:30 نطُوفاتی مہرائی، نطُوفاتی حلید بِن بعناہ،
1CH 11:31 بِنیامین کے خاندان سے گِبعہؔ کے اِتھائی بِن رِبائیؔ، فِرعاتونی بِنایاہؔ،
1CH 11:32 گعشؔ کی وادیوں کا باشِندہ حُورائی، عرباتی اَبی ایل،
1CH 11:33 باحارُومی عزماوتؔ، شعلبُونی الیحبہؔ،
1CH 11:34 گیزونی بنی ہشیمؔ، یُوناتانؔ بِن ہراری شاگیؔ،
1CH 11:35 احی آم بِن ہراری سکارؔ، اِلیفالؔ بِن اُورؔ،
1CH 11:36 مکیراتی حِفرؔ، پلونی اخیاہؔ،
1CH 11:37 کرمِلی حضرُوؔ، نعرائیؔ بِن ازبائیؔ،
1CH 11:38 ناتنؔ کا بھایٔی یُوایلؔ، مبہارؔ بِن ہاگریؔ،
1CH 11:39 صِلقؔ عمُّونی، بیروتی نحریؔ جو یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ کا سلاح بردار تھا۔
1CH 11:40 یتری عیراؔ یتری گاریبؔ،
1CH 11:41 حِتّی اورِیّاہؔ، زابادؔ بِن احلائی،
1CH 11:42 بنی رُوبِنؔ کے خاندان کا عدینا بِن شیزاؔ جو رُوبِنیوں کا سردار تھا اَور جِس کے ساتھ تیس جَوان تھے۔
1CH 11:43 حانانؔ بِن معکہؔ، مِتھنی یہوشافاطؔ،
1CH 11:44 عَستِراتی عُزّیاہؔ، عروعری کے باشِندے حوتھامؔ کے بیٹے شاماعؔ اَور یعی ایل۔
1CH 11:45 یدیع ایل بِن شِمریؔ اَور اُس کا بھایٔی یوحا تیتصیؔ،
1CH 11:46 محاوی الی ایل اَور النعمؔ کے بیٹے یرِیبائیؔ اَور یُوسویاہؔ اَور مُوآبی یِتھماہؔ۔
1CH 11:47 الی ایل، عوبیدؔ اَور مضوبائی یعسی ایل۔
1CH 12:1 یہ وہ مَرد تھے جو داویؔد کے پاس صِقلاگ میں اُس وقت آئےتھے جَب وہ شاؤل بِن قیشؔ کی حُضُوری سے روپوش ہو چُکاتھا (اَور وہ اُن بہادروں میں سے تھے جو جنگ میں اُس کے مددگار تھے۔
1CH 12:2 وہ کمانوں سے مُسلّح تھے اَور اُلٹے یا سیدھے، دونوں ہاتھ سے تیر چلانے اَور فلاخن سے پتّھر مارنے میں ماہر تھے۔ اَور وہ بِنیامین کے قبیلہ سے تھے اَور شاؤل کے رشتہ دار تھے):
1CH 12:3 احیعزر اُن کا سردار تھا اَور یُوآشؔ یہ دونوں گبعاتھی شِماعاؔ کے بیٹے تھے؛ یزی ایل اَور پِلیتؔ جو عزماوتؔ کے بیٹے تھے؛ براکاہؔ اَور عناتوتی یِہُو،
1CH 12:4 اَور گِبعونی اِشماعیاہؔ جو اُن تیسوں میں ایک جنگجو مَرد تھا اَورجو اُن تیسوں کا سردار تھا؛ یرمیاہؔ، یحزی ایل، یوحانانؔ، گِدیرہاتی یُوزبادؔ،
1CH 12:5 اِلعوزائی، یریموتؔ، بعلیاہؔ، شِماریاہؔ اَور حاروفی شفطیاہؔ،
1CH 12:6 اِلقانہؔ، یشیاہؔ، عزرایلؔ، یُوعزرؔ اَور یسُوبعامؔ جو قورحؔ کی نَسل تھے۔
1CH 12:7 اَور یوعیلاہؔ اَور زبدیاہؔ جو یروحامؔ گدُورؔ کے بیٹے تھے۔
1CH 12:8 اَور بنی گادؔ میں سے بعض الگ ہوکر بیابان کے قلعہ میں داویؔد سے آ ملے۔ وہ زبردست جنگجو تھے اَور میدانِ جنگ میں اُترنے کے لیٔے تیّار تھے۔ وہ ڈھالوں اَور نیزوں سے مُسلّح تھے اَور اُن کے چہرے شیروں کے چہروں کی مانند تھے اَور وہ پہاڑی غزالوں کی طرح تیز رفتار تھے۔
1CH 12:9 عزرؔ افسر اعلیٰ تھا، عبدیاہؔ کا درجہ دُوسرا تھا اَور اِلیابؔ کا تیسرا،
1CH 12:10 مشمنّہؔ چوتھا، یرمیاہؔ پانچواں۔
1CH 12:11 عتّئیؔ چھٹا۔ الی ایل ساتواں،
1CH 12:12 یوحانانؔ آٹھواں، اِلزبادؔ نواں،
1CH 12:13 یرمیاہؔ دسواں، مکبنّائی گیارھواں۔
1CH 12:14 یہ بنی گادؔ فَوج کے سپہ سالار تھے۔ اُن میں سَب سے چھوٹا سَو مَردوں کا مُقابلہ کر سَکتا تھا اَور سَب سے بڑا ہزار کا۔
1CH 12:15 یہ وہ ہیں جو پہلے مہینے میں اُس وقت یردنؔ کے پار گیٔے جَب وہ طغیانی پر تھا اَور اُنہُوں نے وادیوں کے سَب لوگوں کو مشرق اَور مغرب کی طرف بھگا دیا۔
1CH 12:16 دیگر بنی بِنیامین اَور بنی یہُوداہؔ کے کچھ لوگ بھی قلعہ میں داویؔد کے پاس آئے۔
1CH 12:17 داویؔد اُن کے اِستِقبال کو نکلے اَور اُن سے کہنے لگے، ”اگر تُم سلامتی کے ساتھ میری مدد کے لیٔے میرے پاس آئے ہو تو مَیں تُمہیں اَپنے ساتھ مِلانے کے لیٔے تیّار ہُوں لیکن اگر تُم غدّاری کرکے مُجھے میرے دُشمنوں کے حوالہ کرنے آئے ہو جَب کہ میرے ہاتھ ظُلم سے پاک ہیں تو ہمارے آباؤاَجداد کا خُدا اُسے دیکھیں اَور تُمہیں ملامت کریں۔“
1CH 12:18 تَب عماسیؔ پرجو اُن تیسوں کا سردار تھا پاک رُوح نازل ہُوا اَور فرمایا: ”اَے داویؔد! ہم تمہارے ہیں۔ اَے یِشائی کے بیٹے! ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ آپ فتح مند ہُوں اَور فتح مند ہُوں، اَورجو کوئی آپ کا مددگار ہو اُس کی بھی فتح ہو، کیونکہ آپ کے خُدا آپ کی مدد کرتے ہیں۔“ یہ سُن کر داویؔد نے اُنہیں قبُول کیا اَور اُنہیں اَپنے چھاپہ مار دستوں کے سردار بنا دیا۔
1CH 12:19 جَب داویؔد شاؤل کے خِلاف فلسطینیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیٔے تیّار ہو ہی رہے تھے تبھی بنی منشّہ کے چند لوگ داویؔد کے ساتھ ہو گئے۔ (پھر بھی داویؔد فلسطینیوں کے ساتھ جنگ میں نہیں گئے کیونکہ فلسطینیوں کے حاکموں نے آپَس میں صلاح مشورہ کرکے اُن کو اِس شک کے ساتھ لَوٹا دیا، ”وہ تو اَپنے آقا شاؤل سے جا ملیں گے اَور ہم مارے جایٔیں گے۔“)
1CH 12:20 جَب داویؔد صِقلاگ کو گئے تو منشّہ میں سے جو لوگ اُن سے جا ملے وہ یہ تھے: عدناہؔ، یُوزبادؔ، یدیع ایل، مِیکاایلؔ، یُوزبادؔ، اِلیہُوؔ اَور ضِلّیتائیؔ جو بنی منشّہ میں ایک ایک ہزار جَوانوں کے سردار تھے۔
1CH 12:21 اُنہُوں نے چھاپہ مار دستوں کے خِلاف داویؔد کی مدد کی کیونکہ وہ سَب زبردست جنگجو اَور لشکر کے سردار تھے۔
1CH 12:22 اَور داویؔد کے مددگاروں کی تعداد روز بروز بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ ایک بڑی فَوج جمع ہو گئی جو خُدا کے لشکر کی مانند تھا۔
1CH 12:23 اَورجو لوگ جنگ کے لیٔے مُسلّح ہوکر حِبرونؔ میں داویؔد کے پاس آئے تاکہ یَاہوِہ کے فرمان کے مُطابق شاؤل کی مملکت اُس کے سُپرد کریں اُن کا شُمار یہ ہے:
1CH 12:24 بنی یہُوداہؔ جو ڈھالیں اَور نیزے لیٔے ہُوئے جنگ کے لیٔے مُسلّح تھے، چھ ہزار آٹھ سَو؛
1CH 12:25 بنی شمعُونؔ میں سے جنگ کے لیٔے تیّار جنگجو سات ہزار ایک سَو؛
1CH 12:26 بنی لیوی میں سے چار ہزار چھ سَو،
1CH 12:27 جِن میں یہُویدعؔ بھی شامل تھا جو اَہرونؔ کے خاندان کا سردار تھا اَور جِس کے ساتھ تین ہزار سات سَو جَوان مَرد تھے
1CH 12:28 اَور صدُوقؔ ایک جَوان بہادر جنگجو اَور اُس کے آبائی خاندان کے بائیس سردار؛
1CH 12:29 اَور بِنیامینیوں میں سے شاؤل کے تین ہزار رشتہ دار جِن میں بیشتر اُس وقت تک شاؤل کے گھرانے کے وفادار تھے؛
1CH 12:30 اَور بنی اِفرائیمؔ میں سے بیس ہزار آٹھ سَو زبردست سُورما جو اَپنے آبائی برادریوں میں مشہُور و معروف آدمی تھے؛
1CH 12:31 اَور منشّہ کے آدھے قبیلہ کے لوگ جو نام بنام بُلائے گیٔے کہ آکر داویؔد کو بادشاہ بنائیں اٹھّارہ ہزار تھے؛
1CH 12:32 اَور بنی یِسَّکاؔر میں سے دو سَو سردار جو بڑے وقت شناس تھے کہ اِسرائیل کو کب کیا کرنا مُناسب ہے۔ وہ اَپنے تمام رشتہ داروں کے ساتھ تھے جو اُن کے فرمانبردار تھے؛
1CH 12:33 اَور زبُولُون کے جَوان مَرد جو تجربہ کار فَوجی تھے اَور جنگ کے وقت بڑی ثابت قدمی سے داویؔد کی مدد کرنے کے لیٔے ہر قِسم کے ہتھیاروں سے لیس تھے جو شُمار میں پچاس ہزار تھے؛
1CH 12:34 اَور نفتالی میں سے ایک ہزار افسران جِن کے ساتھ سینتیس ہزار سِپر اَور نیزہ بردار جَوان تھے؛
1CH 12:35 اَور دانیوں میں سے اٹّھائیس ہزار چھ سَو جنگی فَوجی؛
1CH 12:36 اَور بنی آشیر میں سے میدانِ جنگ کے لیٔے تیّار اَور تجربہ کار چالیس ہزار فَوجی؛
1CH 12:37 اَور دریائے یردنؔ کے مشرق سے بنی رُوبِنؔ، بنی گادؔ اَور منشّہ کے آدھے قبیلہ کے جَوان مَرد جو ہر قِسم کے جنگی آلات سے لیس تھے ایک لاکھ بیس ہزار۔
1CH 12:38 یہ تمام جنگجو مَرد تھے جنہوں نے بطور فَوجی اَپنی خدمات پیش کیں۔ وہ داویؔد کو اِسرائیل کا بادشاہ بنانے کے لیٔے مصمّم اِرادے کے ساتھ حِبرونؔ میں آئے اَور باقی سَب اِسرائیلی بھی داویؔد کو بادشاہ بنانے پر مُتّفِق تھے۔
1CH 12:39 اَور اُنہُوں نے وہاں تین دِن داویؔد کے ساتھ کھاتے پیتے گزارے کیونکہ اُن کے رشتہ داروں نے اُنہیں سَب کچھ مُہیّا کر دیا تھا۔
1CH 12:40 اَور اُن کے وہ قریبی لوگ جو یِسَّکاؔر، زبُولُون اَور نفتالی کے علاقوں سے تھے وہ بھی گدھوں، اُونٹوں، خچّروں اَور بَیلوں پر اشیائے خُوردنی لاد کر لایٔے جو روٹیوں، مَیدہ سے بنے پکوان، اَنجیر کی ٹکیوں، کشمش کی ٹکیوں، مَے اَور تیل پر مُشتمل تھیں اَور مویشیوں اَور بھیڑوں کی کثیر تعداد اُن کے ساتھ تھی۔ اِس لیٔے کہ اِسرائیل میں جَشن منایا جا رہاتھا۔
1CH 13:1 داویؔد نے اَپنے تمام سرداروں سے جو ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کی قیادت کر رہے تھے صلاح مشورہ کیا۔
1CH 13:2 اَور تَب داویؔد نے بنی اِسرائیل کی ساری جماعت سے کہا، ”اگر تُمہیں یہ اَچھّا لگے اَور اگر یہ یَاہوِہ ہمارے خُدا کی مرضی ہو تو آؤ ہم دُور دُور تک ہر طرف اِسرائیل کے تمام قصبوں میں اَپنے باقی بھائیوں اَور نواحی دار علاقوں میں اُن کے ساتھ رہنے والے کاہِنوں اَور لیویوں کو بھی کہلا بھیجیں کہ وہ آئیں اَور ہمارے ساتھ شامل ہو جایٔیں۔
1CH 13:3 اَور ہم اَپنے خُدا کے عہد کے صندُوق کو پھر سے اَپنے پاس لے آئیں کیونکہ شاؤل کے دَورِ حُکومت میں ہم نے اُس کی پروا نہ کی۔“
1CH 13:4 تمام جماعت اَیسا کرنے پر رضامند ہو گئی کیونکہ سَب لوگوں کو یہ تجویز اَچھّی مَعلُوم ہُوئی۔
1CH 13:5 تَب داویؔد نے مِصر کے دریا شیحُورؔ سے لے کر لیبو حماتؔ تک تمام اِسرائیلیوں کو جمع کیا تاکہ خُدا کے عہد کے صندُوق کو قِریت یعریمؔ سے لے آئیں۔
1CH 13:6 اَور داویؔد اَور اُس کے ساتھ تمام اِسرائیلی بعلہؔ یعنی قِریت یعریمؔ کو جو یہُوداہؔ میں ہے گیٔے تاکہ یَاہوِہ خُدا کے عہد کے صندُوق کو وہاں سے لے آئیں جو وہاں کروبیوں کے درمیان تخت نشین یَاہوِہ کے نام سے مشہُور ہے۔
1CH 13:7 اَور وہ خُدا کے صندُوق کو ابینادابؔ کے گھر سے ایک نئی بَیل گاڑی پر رکھ کر باہر نکلے جسے عُزّاہ اَور اخیوؔ ہانک رہے تھے۔
1CH 13:8 اَور داویؔد اَور تمام بنی اِسرائیل خُدا کے حُضُور خُوب زور زور سے نغمہ گاتے اَور بربط، سِتار، دف، جھانجھ بجاتے اَور نرسنگے پھُونکتے ہُوئے چلے آتے تھے۔
1CH 13:9 جَب وہ کیدونؔ کے کھلیان پر پہُنچے تو عُزّاہ نے صندُوق کو سنبھالنے کے لیٔے اَپنا ہاتھ بڑھایا کیونکہ بَیلوں نے ٹھوکر کھائی تھی۔
1CH 13:10 تَب یَاہوِہ کا قہر عُزّاہ پر بھڑکا اَور یَاہوِہ نے اُسے مار ڈالا۔ کیونکہ اُس نے صندُوق کو ہاتھ لگا کر غلطی کی تھی اِس لیٔے وہ وہیں خُدا کے حُضُور مَر گیا۔
1CH 13:11 داویؔد اِس بات سے بڑا غمگین ہُوا کیونکہ یَاہوِہ کا قہر عُزّاہ کے خِلاف بھڑکا تھا لہٰذا وہ جگہ آج تک پیریزؔ عُزّاہ کہلاتی ہے۔
1CH 13:12 اُس دِن داویؔد خُدا سے ڈر گئے اَور کہنے لگے کہ، ”میں خُدا کے عہد کے صندُوق کو اَپنے یہاں کیسے لاؤں؟“
1CH 13:13 چنانچہ داویؔد خُدا کے عہد کے صندُوق کو اَپنے یہاں شہر داویؔد میں نہ لائے بَلکہ اُسے باہر ہی باہر گِتّی عوبیدؔ اِدُوم کے گھر لے گئے۔
1CH 13:14 پس خُدا کے عہد کا صندُوق عوبیدؔ اِدُوم کے گھرانے کے ساتھ اُس گھر میں تین مہینے تک رکھا رہا اَور یَاہوِہ نے عوبیدؔ اِدُوم کے گھرانے اَور اُس کی ساری چیزوں کو برکت دی۔
1CH 14:1 اَور شاہِ صُورؔ حِیرامؔ نے اَپنے قاصِدوں کے ہمراہ دیودار کی لکڑی، مِعمار اَور بڑھئی داویؔد کے پاس بھیجے تاکہ وہ اُن کے لیٔے محل بنائیں۔
1CH 14:2 اَور داویؔد کو مَعلُوم ہو گیا کہ یَاہوِہ نے اُسے اِسرائیل کے بادشاہ کے طور پر قِیام بخشا ہے اَور اَپنی قوم اِسرائیل کی خاطِر اُس کی بادشاہی کو بڑا ممتاز کیا ہے۔
1CH 14:3 یروشلیمؔ میں داویؔد نے اَور بیویاں بیاہ لیں اَور اِس طرح وہ کیٔی بیٹوں اَور بیٹیوں کا باپ بَن گئے۔
1CH 14:4 وہاں یروشلیمؔ میں اُن کے جو بچّے پیدا ہُوئے اُن کے نام یہ ہیں: شَمّوعؔ، شوبابؔ، ناتنؔ اَور شُلومونؔ،
1CH 14:5 اِبحارؔ، الِیشُوعؔ، الیپلطؔ،
1CH 14:6 نوگاہؔ، نِفیگ، یافیعؔ،
1CH 14:7 اِلیشمعؔ، بیعلیادعؔ اَور الیفلطؔ۔
1CH 14:8 جَب فلسطینیوں نے سُنا کہ داویؔد کو مَسح کرکے اِسرائیل کا بادشاہ بنایا گیا ہے تو وہ سَب لشکر کے ساتھ اِکٹھّے ہوکر اُنہیں تلاش کرنے نکل پڑے لیکن جَب داویؔد نے یہ سُنا تو وہ اُن کے مُقابلہ کو نکلے
1CH 14:9 اَور فلسطینی آئے اَور رفائیمؔ کی وادی میں پھیل گیٔے۔
1CH 14:10 تَب داویؔد نے خُدا سے پُوچھا، ”کیا میں جا کر فلسطینیوں پر حملہ کر دُوں؟ کیا آپ اُنہیں میرے حوالے کر دیں گے؟“ یَاہوِہ نے داویؔد کو جَواب دیا، ”جاؤ مَیں اُنہیں تمہارے حوالے کر دُوں گا۔“
1CH 14:11 اِس لئے داویؔد اَور اُس کے جَوان بَعل پراضیمؔ کو گئے اَور وہاں اُس نے اُنہیں شِکست دی اَور کہا، ”جَیسے اَچانک سیلاب کا پانی پھوٹ کر بہہ نکلتا ہے، وَیسے ہی خُدا نے میرے ہاتھ سے میرے دُشمنوں کو پھاڑ ڈالا ہے۔“ اِس لیٔے وہ جگہ بَعل پراضیمؔ کہلائی۔
1CH 14:12 فلسطینی اَپنے معبُود وہاں چھوڑ گیٔے تھے جنہیں داویؔد کے حُکم سے آگ کے سُپرد کیا گیا۔
1CH 14:13 فلسطینی ایک دفعہ پھر آئے اَور اُس وادی میں داخل ہو گئے۔
1CH 14:14 داویؔد نے خُدا سے پھر پُوچھا اَور خُدا نے اُسے جَواب دیا، ”تُم اُن کا پیچھا کرنے کے بجائے کَترا کر آگے نکل جانا اَور بید کے درختوں کے سامنے سے اُن پر حملہ کرنا۔
1CH 14:15 اَور جُوں ہی تُم بید کے درختوں کی پھُنگیوں میں قدموں کی آواز سُنو تو جلدی سے حرکت میں آجانا تاکہ وہ سمجھ لیں کہ یَاہوِہ فلسطینیوں کی فَوج کو مارنے کے لیٔے تمہارے آگے گئے ہیں۔“
1CH 14:16 اَور داویؔد نے جَیسا خُدا نے اُسے فرمایا تھا کیا اَور وہ اَور اُس کے جَوان فلسطینیوں کی فَوج کو گِبعونؔ سے گِزرؔ تک قتل کرتے چلے گیٔے۔
1CH 14:17 داویؔد کی شہرت سَب مُلکوں میں پھیل گئی اَور یَاہوِہ نے سَب قوموں پر اُس کا خوف بِٹھا دیا۔
1CH 15:1 جَب داویؔد، شہر داویؔد میں اَپنے لیٔے عمارتیں بنا چُکے تو اُس کے بعد اُنہُوں نے معبُود کے صندُوق کے لیٔے ایک جگہ تیّار کی اَور وہاں خیمہ کھڑا کیا۔
1CH 15:2 تَب داویؔد نے کہا، ”لیویوں کے سِوا اَور کویٔی خُدا کے صندُوق کو ہاتھ نہ لگائے کیونکہ خُدا نے اُن کو ہی چُناہے کہ وہ خُدا کے صندُوق کو اُٹھایا کریں اَور ہمیشہ یَاہوِہ کے حُضُور خدمت اَنجام دیتے رہیں۔“
1CH 15:3 اَور داویؔد نے سارے اِسرائیل کو یروشلیمؔ میں جمع کیا تاکہ یَاہوِہ کے صندُوق کو اُس جگہ لے آئیں جو اُنہُوں نے اُس کے لیٔے تیّار کی تھی۔
1CH 15:4 اَور داویؔد نے بنی اَہرونؔ اَور بنی لیوی کو جمع کیا۔
1CH 15:5 جِن میں بنی قُہات میں سے اوری ایل سردار اَور اُس کے ایک سَو بیس رشتہ دار؛
1CH 15:6 بنی مِراریؔ میں سے عسایاہؔ سردار اَور اُس کے دو سَو بیس رشتہ دار؛
1CH 15:7 بنی گیرشوم میں سے یُوایلؔ سردار اَور اُس کے ایک سَو تیس رشتہ دار؛
1CH 15:8 اِلیضفنؔ میں سے شمعیاہؔ سردار اَور اُس کے دو سَو رشتہ دار؛
1CH 15:9 بنی حِبرونؔ میں سے الی ایل سردار اَور اُس کے اسّی رشتہ دار؛
1CH 15:10 بنی عُزّی ايل میں سے عَمّیندابؔ سردار اَور اُس کے ایک سَو بَارہ رشتہ دار تھے۔
1CH 15:11 اَور داویؔد نے صدُوقؔ اَور ابیاترؔ کاہِنوں کو اَور اوری ایل، عسایاہؔ، یُوایلؔ، شمعیاہؔ، الی ایل اَور عَمّیندابؔ لیویوں کو بُلایا
1CH 15:12 اَور اُن سے فرمایا، ”تُم لیویوں کے آبائی خاندانوں کے سردار ہو؛ تُمہیں اَور تمہارے ہم خدمت لیوی ساتھیوں کو اَپنے آپ کو پاک کرناہے اَور یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کے صندُوق کو اُس جگہ لانا ہے جو مَیں نے اُن کے لیٔے تیّار کی ہے۔
1CH 15:13 کیونکہ جَب تُم لیویوں نے پہلی بار اُسے نہ اُٹھایا تو یَاہوِہ ہمارے خُدا کا قہر ہمارے خِلاف یَکایک بھڑک اُٹھا کیونکہ ہم نے اُن سے یہ نہ پُوچھا تھا کہ مُقرّرہ طریقہ کے مُطابق ہمیں یہ کام کس طرح اَنجام دینا چاہئے۔“
1CH 15:14 تَب کاہِنوں اَور لیویوں نے اَپنے آپ کو پاک کیا تاکہ وہ یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کے صندُوق کو لا سکیں۔
1CH 15:15 اَور بنی لیوی نے خُدا کے صندُوق کو بَلّیوں سے اَپنے کندھوں پر اُٹھالیا جَیسا کہ مَوشہ نے یَاہوِہ کے کلام کے مُطابق حُکم دیا تھا۔
1CH 15:16 اَور داویؔد نے لیویوں کے سرداروں کو فرمایا کہ اَپنے بھائیوں میں سے گانے والوں کو مُقرّر کریں تاکہ موسیقی کے ساز یعنی سِتار، بربط اَور جھانجھ بجاتے ہُوئے زور زور سے خُوشی کے نغمہ گائیں۔
1CH 15:17 پس لیویوں نے ہیمانؔ بِن یُوایلؔ کو اَور اُس کے بھائیوں میں سے آسفؔ بِن بیرکیاہ کو اَور اُن کے مِراریؔ بھائیوں میں سے ایتھانؔ بِن قُوشیّاہؔ کو مُقرّر کیا۔
1CH 15:18 اَور اُن کے ساتھ اُن کے دُوسرے رشتہ داروں میں سے یہ لوگ تھے: زکریاؔہ، بین، یعزی ایل، شمیراموتؔ، یحی ایل، عُنّیؔ، اِلیابؔ، بِنایاہؔ، معسیاہؔ، متّتیاہؔ، الفِلہُوؔ، مِقنیاہؔ، عوبیدؔ اِدُوم اَور یعی ایل جو دربان تھے۔
1CH 15:19 موسیقار ہیمانؔ، آسفؔ اَور ایتھانؔ کو کانسے کی جھانجھوں کو زور زور سے بجانے کے لیٔے مُقرّر کیا گیا؛
1CH 15:20 اَور زکریاؔہ، یعزی ایل یا عزی ایل، شمیراموتؔ، یحی ایل، عُنّیؔ، اِلیابؔ، معسیاہؔ، اَور بِنایاہؔ کے ذمّہ سِتار کو علاموت سُر کے مُطابق بجانا تھا۔
1CH 15:21 اَور متّتیاہؔ، الفِلہُوؔ، مِقنیاہؔ، عوبیدؔ اِدُوم، یعی ایل اَور عززیاہؔ کے ذمّہ سِتار کو شمینِت سُر کے مُطابق بجانا تھا۔
1CH 15:22 اَور قنانیاہؔ جو لیویوں کا سردار تھا گانے والوں کا ہادی تھا۔ یہ اُس کی ذمّہ داری تھی کیونکہ وہ موسیقی میں ماہر تھا۔
1CH 15:23 اَور بیرکیاہؔ اَور اِلقانہؔ عہد کے صندُوق کے دربان تھے۔
1CH 15:24 اَور شِبنیاہ، یہوشافاطؔ، نتنی ایل، عماسیؔ، زکریاؔہ، بِنایاہؔ اَور الیعزرؔ کاہِنوں کی ذمّہ داری یہ تھی کہ وہ خُدا کے عہد کے صندُوق کے آگے آگے نرسنگے پھُونکتے جایٔیں۔ اَور عوبیدؔ اِدُوم اَور یحیاہؔ بھی عہد کے صندُوق کے دربان تھے۔
1CH 15:25 تَب داویؔد اَور اِسرائیل کے بُزرگ اَور ہزار ہزار کے فَوجی دستوں کے سپہ سالار روانہ ہُوئے کہ یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو عوبیدؔ اِدُوم کے گھر سے ناچتے گاتے ہُوئے لائیں۔
1CH 15:26 چونکہ خُدا نے اُن لیویوں کی جو یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو اُٹھائے ہُوئے تھے مدد کی تو اُنہُوں نے سات بَیل اَور سات مینڈھے قُربان کئے۔
1CH 15:27 داویؔد، اَور سَب لیوی جو صندُوق کو اُٹھائے ہُوئے تھے اَور موسیقار اَور قنانیاہؔ جو گلوکاروں کا نِگراں تھا، کتانی لباس پہنے ہُوئے تھے اَور داویؔد بھی کتان کا افُود پہنے ہُوئے تھے۔
1CH 15:28 یُوں سَب اِسرائیلی نعرے لگاتے، صوفار یعنی مینڈھوں کے سینگوں، تُرہیوں اَور جھانجھوں کی آواز کے ساتھ سِتار اَور بربط بجاتے ہُوئے یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو لایٔے۔
1CH 15:29 اَور جَب یَاہوِہ کا عہد کا صندُوق داویؔد کے شہر میں داخل ہو رہاتھا تو شاؤل کی بیٹی میکلؔ نے ایک کھڑکی سے جھانکا اَور جَب اُس نے داویؔد کو رقص کرتے اَور خُوشی مناتے دیکھا تو اُس کے دِل میں داویؔد بادشاہ کے لیٔے حقارت پیدا ہو گئی۔
1CH 16:1 تَب وہ خُدا کا صندُوق لے آئے اَور اُسے اُس خیمہ میں جو داویؔد نے اُس کے لیٔے کھڑا کیا تھا رکھ دیا اَور سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں خُدا کے حُضُور گذرانی۔
1CH 16:2 اَور جَب داویؔد سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں چڑھا چُکے تو اُنہُوں نے قادرمُطلق یَاہوِہ کے نام سے لوگوں کو برکت دی۔
1CH 16:3 اَور پھر ہر اِسرائیلی مَرد اَور عورت کو ایک ایک روٹی، گوشت کا ایک ٹکڑا اَور کھجور کی ٹکیا اَور ایک کشمش کی ٹکیا تقسیم کی۔
1CH 16:4 اَور داویؔد نے لیویوں میں سے بعض کو یَاہوِہ کے صندُوق کے آگے مناجات کرنے، شُکر گزاری کرنے اَور یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کی حَمد و ثنا کرنے کی خدمات پر مُقرّر کیا۔
1CH 16:5 آسفؔ افسر اعلیٰ تھا۔ زکریاؔہ اُس کا نائب تھا۔ اُس کے بعد یعزی ایل، شمیراموتؔ، یحی ایل، متّتیاہؔ، اِلیابؔ، بِنایاہؔ، عوبیدؔ اِدُوم اَور یعی ایل تھے۔ اُنہیں سِتار اَور بربط بجانے کی ذمّہ داری دی گئی اَور آسفؔ کا کام یہ تھا کہ وہ زور زور سے جھانجھ بجایا کرے۔
1CH 16:6 اَور بِنایاہؔ اَور یحزی ایل کاہِنوں کی ذمّہ داری یہ تھی کہ وہ خُدا کے عہد کے صندُوق کے آگے دستور کے مُطابق نرسنگے بجایا کریں۔
1CH 16:7 پہلے اُسی دِن داویؔد نے آسفؔ اَور اُس کے ہم خدمت ساتھیوں کو ہدایت دی کہ وہ یَاہوِہ کی شُکر گُزاری کے لیٔے یہ زبُور گائیں:
1CH 16:8 یَاہوِہ کا شُکر بجا لاؤ۔ اُن کے نام سے دعا کرو؛ قوموں کو اُن کے کاموں کے بارے میں بتاؤ۔
1CH 16:9 اُن کی سِتائش میں گاؤ، اُن کی مدح سرائی کرو؛ اُن کے تمام حیرت اَنگیز کارناموں کا بَیان کرو۔
1CH 16:10 اُن کے پاک نام پر فخر کرو، جو یَاہوِہ کے طالب ہیں اُن کے دِل شادمان ہوں۔
1CH 16:11 یَاہوِہ اَور اُن کی قُوّت کے طالب ہو؛ اَور ہمیشہ اُن کے دیدار کے خواہاں رہو۔
1CH 16:12 اُن کے حیرت اَنگیز کارناموں کو جو اُنہُوں نے اَنجام دئیے، اُن کے معجزات کو اَور اُن کے سُنائے ہُوئے فیصلوں کو یاد کرو،
1CH 16:13 تُم جو اُن کے خادِم اِسرائیل کی نَسل ہو، اَور تُم جو یعقوب کی اَولاد اَور اُن کے برگُزیدہ ہو!
1CH 16:14 وُہی یَاہوِہ، ہمارے خُدا ہیں؛ ساری دُنیا میں اُن ہی کے فیصلے رائج ہیں۔
1CH 16:15 وہ اَپنے عہد کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں، یعنی اُس کلام کو جو اُنہُوں نے ہزار پُشتوں کے لیٔے فرمایاہے،
1CH 16:16 وہ عہد، جو اُنہُوں نے اَبراہامؔ سے باندھا، اَور وہ قَسم، جو اُنہُوں نے اِصحاقؔ سے کھائی۔
1CH 16:17 اَور اُسی کو اُنہُوں نے یعقوب کے لیٔے قوانین، اَور اِسرائیل کے لیٔے اَبدی عہد ٹھہرایا:
1CH 16:18 مَیں کنعانؔ کا مُلک تُمہیں دُوں گا جو تمہارا قَطعہ، موروثی حِصّہ ہوگا۔
1CH 16:19 اُس وقت خُدا کے لوگ تعداد میں بہت کم تھے، یعنی بالکُل تھوڑے اَور اُس مُلک میں پردیسی تھے،
1CH 16:20 وہ ایک قوم سے دُوسری قوم میں، اَور ایک سلطنت سے دُوسری سلطنت میں پھرتے رہے۔
1CH 16:21 خُدا نے کسی آدمی کو اُن پر سِتم نہیں کرنے دیا؛ بَلکہ خُدا نے خُود بادشاہوں کو اُن کی خاطِر یہ تنبیہ دی:
1CH 16:22 کہ میرے ممسوحوں کو مت چھُونا؛ اَور میرے نبیوں کو کویٔی نُقصان مت پہُنچانا۔
1CH 16:23 اَے سَب اہلِ زمین! یَاہوِہ کے لیٔے گاؤ؛ روز بروز اُن کی نَجات کی بشارت دو۔
1CH 16:24 قوموں میں یَاہوِہ کے جلال کا ذِکر کرو، اَور اُمّتوں میں اُن کے حیرت اَنگیز کارناموں کا بَیان کرو۔
1CH 16:25 کیونکہ یَاہوِہ عظیم ہیں اَور ہر سِتائش کے لائق ہیں؛ اَور سَب معبُودوں سے بڑھ کر تعظیم کے لائق ہیں۔
1CH 16:26 کیونکہ قوموں کے سَب معبُود محض بُت ہیں، لیکن یَاہوِہ نے آسمانوں کو بنایا۔
1CH 16:27 شان و شوکت اُن کے سامنے ہیں؛ اَور قُدرت اَور شادمانی اُن کی حُضُوری میں ہیں۔
1CH 16:28 اَے قوموں کے قبیلو! یَاہوِہ کے لیٔے، جلال اَور قُوّت یَاہوِہ ہی کے لیٔے مخصُوص کرو،
1CH 16:29 یَاہوِہ کے نام کی عظمت کو اُن ہی سے منسوب کرو۔ اُن کی حُضُوری میں اَپنے عطیات لے کر آؤ؛ پاکیزگی کی شوکت میں ہوکر یَاہوِہ کی عبادت کرو۔
1CH 16:30 اَے سَب اہلِ زمین، اُن کی حُضُوری میں کانپتے رہو! دُنیا مضبُوطی سے قائِم ہے، اُسے سرکایا نہیں جا سَکتا۔
1CH 16:31 افلاک خُوش ہوں، اَور زمین شادمان ہو؛ وہ قوموں میں اعلان کریں کہ، ”یَاہوِہ سلطنت کرتے ہیں!“
1CH 16:32 سمُندر اَور اُس کی معموُری شور مچائے؛ میدان اَورجو کچھ اُن میں ہے، خُوشی منائے!
1CH 16:33 تَب جنگل کے سَب درخت گائیں گے، وہ خُوشی سے یَاہوِہ کے حُضُور میں نعرے ماریں گے، کیونکہ وہ دُنیا کی عدالت کرنے آ رہے ہیں۔
1CH 16:34 یَاہوِہ کا شُکر بجا لاؤ کیونکہ وہ بھلےہیں؛ اَور اُن کی شفقت اَبدی ہے۔
1CH 16:35 پُکار پُکار کر کہو کہ اَے مُنجّی خُدا، ”ہمیں بچا لیں؛ اَور قوموں میں سے جمع کر لیں اَور اُن سے ہمیں رِہائی عطا فرمائیں، تاکہ ہم آپ کے پاک نام کا شُکر کریں، اَور آپ کی سِتائش کرنے میں فخر محسُوس کریں۔“
1CH 16:36 بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ، اَزل سے اَبد تک مُبارک ہوں۔ سَب لوگ کہیں: ”آمین“ اَور ”یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔“
1CH 16:37 اَور داویؔد نے آسفؔ اَور اُس کے ہم خدمت ساتھیوں کو یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے آگے چھوڑا تاکہ وہ وہاں اَپنی اَپنی ذمّہ داریوں کے مُطابق روزانہ خدمت کیا کریں۔
1CH 16:38 اَور اُس نے عوبیدؔ اِدُوم اَور اُس کے اڑسٹھ ساتھیوں کو بھی اُس کے ہمراہ خدمت کرنے کے لیٔے وہاں چھوڑا اَور عوبیدؔ اِدُوم بِن یدُوتونؔ اَور حوساہؔ کو دربان بنا دیا۔
1CH 16:39 اَور داویؔد نے صدُوقؔ کاہِنؔ اَور اُس کے ہم خدمت ساتھیوں کو گِبعونؔ میں اُونچے مقام پر یَاہوِہ کے مَسکن کے آگے چھوڑا،
1CH 16:40 تاکہ وہ اُن سارے آئین کے مُطابق جو یَاہوِہ کی طرف سے اِسرائیل کو دی گئی ہیں ہر صُبح اَور شام سوختنی نذر کی قُربانی کے مذبح پر یَاہوِہ کے لیٔے سوختنی نذریں گذرانیں۔
1CH 16:41 اَور اُن کے ساتھ ہیمانؔ اَور یدُوتونؔ اَور باقی مُنتخب لوگ تھے جنہیں نام بنام گِنا گیا تھا تاکہ یَاہوِہ کا شُکر کریں، ”کیونکہ یَاہوِہ کی شفقت اَبدی ہے۔“
1CH 16:42 ہیمانؔ اَور یدُوتونؔ کے ذمّہ نرسنگے اَور جھانجھ بجانا اَور خُدا کے لئے مُقدّس نغموں کے لیٔے دیگر ساز بجانا تھا۔ اَور یدُوتونؔ کے بیٹے پھاٹکوں پر تعینات تھے۔
1CH 16:43 تَب سَب لوگ اَپنے اَپنے گھر چلے گیٔے اَور داویؔد بھی گھر لَوٹے تاکہ اَپنے گھرانے کو برکت دیں۔
1CH 17:1 جَب داویؔد محل میں رہنے لگے تو اُنہُوں نے ناتنؔ نبی سے فرمایا، ”میں تو دیودار کے محل میں رہتا ہُوں۔ جَب کہ یَاہوِہ کا عہد کا صندُوق خیمہ میں ہے۔“
1CH 17:2 ناتنؔ نے داویؔد سے کہا، ”جو کچھ آپ کے دِل میں ہے اُسے کریں کیونکہ خُدا آپ کے ساتھ ہیں۔“
1CH 17:3 اَور اُسی رات خُدا کا کلام ناتنؔ پر نازل ہُوا:
1CH 17:4 ”جاؤ اَور میرے خادِم داویؔد کو بتاؤ، ’جو کچھ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: میرے رہنے کے لیٔے تُم میرے لیٔے ایک گھر نہ بنانا۔
1CH 17:5 کیونکہ جَب سے مَیں بنی اِسرائیل کو مِصر سے نکال لایا ہُوں، تَب سے آج کے دِن تک میں کسی گھر میں نہیں رہا بَلکہ ایک خیمہ سے دُوسرے خیمہ میں اَور ایک قِیام گاہ سے دُوسری قِیام گاہ میں مُنتقل ہوتا رہا ہُوں۔
1CH 17:6 جہاں کہیں مَیں تمام بنی اِسرائیل کے ساتھ گیا کیا مَیں نے اُن کے سرداروں میں سے جِن کو مَیں نے اَپنی قوم اِسرائیل کی گلّہ بانی کرنے کا حُکم دیا تھا مَیں نے اُن میں سے کسی سے بھی کبھی کہا، ”تُم نے میرے لیٔے دیودار کی لکڑی کا گھر کیوں نہیں بنایا؟“ ‘
1CH 17:7 ”پس تُم میرے خادِم داویؔد کو بتاؤ، قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’مَیں نے تُمہیں چراگاہ میں سے جَب تُم بھیڑ بکریوں کے پیچھے پیچھے چلتے تھے تاکہ تُم میری قوم اِسرائیل کے حاکم ہو۔
1CH 17:8 جہاں کہیں تُم گئے مَیں تمہارے ساتھ رہا اَور مَیں نے تمہارے سارے دُشمنوں کو تمہارے سامنے سے فنا کر دیا۔ اَب مَیں تمہارے نام کو رُوئے زمین کے عظیم آدمیوں کے ناموں کی مانند عظمت بخشوں گا۔
1CH 17:9 اَور مَیں اَپنی قوم اِسرائیل کو ایک اَیسی سرزمین میں قائِم کروں گا جو اُن کا وطن ہوگا اَور اُنہیں وہاں سے کبھی نہ ہٹایا جا سکےگا۔ اَور بدکار لوگ اُنہیں دُکھ نہ دے سکیں گے جَیسا کہ وہ پہلے کیا کرتے تھے۔
1CH 17:10 اَور جَیسا کہ وہ اُس وقت سے کرتے آ رہے ہیں جَب مَیں نے اَپنی قوم اِسرائیل پر قاضی مُقرّر کرنے کا حُکم دیا تھا اَور مَیں تُمہیں تمہارے سَب دُشمنوں پر غلبہ بخشوں گا۔ ” ’اَور مَیں تُمہیں یہ بھی بتاتا ہُوں کہ یَاہوِہ تمہارے خاندان کو قائِم رکھیں گے اَور تُمہیں ایک شاہی خاندان کے طور پر قائِم کریں گے۔
1CH 17:11 اَور جَب تمہارے دِن پُورے ہو جایٔیں گے تَب تُم دُنیا سے رخصت ہوکر اَپنے آباؤاَجداد سے جا مِلوگے۔ تَب مَیں تمہاری نَسل کو تمہارا جانشین بناؤں گا یعنی تمہارے بیٹوں میں سے ایک کو اَور مَیں اُس کی سلطنت کو استحکام بخشوں گا۔
1CH 17:12 اَور وُہی میرے لیٔے گھر بنائے گا اَور مَیں اُس کے تخت کو اَبد تک قائِم رکھوں گا۔
1CH 17:13 مَیں اُس کا باپ ہُوں گا اَور وہ میرا بیٹا ہوگا اَور میری رحمت اُس کے سَر سے کبھی نہیں جُدا ہوگی جَیسے مَیں نے اُن پر سے ہٹا لی تھی جو تُم سے پہلے حُکمران تھا۔
1CH 17:14 اَور مَیں اُسے اَپنے گھر اَور اَپنی مملکت میں ہمیشہ تک قائِم رکھوں گا اَور اُس کا تخت اَبد تک قائِم رہے گا۔‘ “
1CH 17:15 چنانچہ ناتنؔ نے یہ ساری باتیں جسے یَاہوِہ نے رُویا میں دِکھایا تھا اُسے داویؔد کو کہہ سُنایٔیں۔
1CH 17:16 تَب داویؔد بادشاہ اَندر گئے اَور یَاہوِہ کے حُضُور بیٹھ کر کہنے لگے: ”اَے یَاہوِہ خُدا، مَیں کون ہُوں اَور میرا خاندان کیا ہے کہ آپ نے مُجھے یہ مقام عطا کیا۔
1CH 17:17 اَور اَے خُدا آپ کی نظر میں یہ گویا کافی نہ تھا اِس لیٔے آپ نے اَپنے خادِم کے گھر کے مُستقبِل کے متعلّق بہت کچھ فرمایاہے۔ اَور آپ نے اَے یَاہوِہ خُدا، مُجھ پر اَیسی نظر کی ہے گویا مَیں تمام آدمیوں سے زِیادہ سربُلند ہُوں۔
1CH 17:18 ”آپ نے اَپنے خادِم کی جو عزّت اَفزائی کی ہے اُس کی نِسبت داویؔد آپ سے اَور زِیادہ کیا کہے؟ کیونکہ آپ اَپنے خادِم کو جانتے ہیں۔
1CH 17:19 اَے یَاہوِہ آپ نے اَپنے خادِم کی خاطِر اَپنی ہی مرضی سے یہ سَب عظیم کام کر دِکھایا ہے اَور اَپنے سارے عظیم وعدے اَپنے خادِم پر ظاہر کئے ہیں۔
1CH 17:20 ”اَے یَاہوِہ، آپ کی مانند اَیسا کویٔی نہیں اَور جَیسے ہم نے خُود اَپنے کانوں سے سُنا آپ کے سِوا اَور کویٔی خُدا نہیں ہے۔
1CH 17:21 اَور رُوئے زمین پر آپ کی قوم اِسرائیل کی طرح اَور کون سِی قوم ہے جسے چھُڑانے کے لیٔے خُدا خُود آگے آیا، تاکہ اُسے اَپنی اُمّت بنا لے اَور اُسے مِصر کی غُلامی سے نَجات دِلائے اَور اُس کے سامنے سے دُوسری قوموں کو دُور کرکے بڑے عظیم اَور مُہیب کارنامے اَنجام دے اَور اَپنا نام بُلند کرے؟
1CH 17:22 کیونکہ آپ نے اَپنی قوم اِسرائیل کو ہمیشہ کے لیٔے اَپنی قوم بنا لیا ہے اَور آپ نے اَپنے آپ کو اَے یَاہوِہ اُن کا خُدا مُقرّر کیا ہے۔
1CH 17:23 ”اَور اَب اَے یَاہوِہ، اَپنے اُس وعدہ کو جو آپ کے خادِم اَور اُس کے گھرانے سے تعلّق رکھتا ہے اَبد تک قائِم رکھیں اَور جَیسا آپ نے وعدہ کیا وَیسا ہی کریں۔
1CH 17:24 تاکہ ہمیشہ تک آپ کے نام کی عظمت ہو۔ تَب لوگ کہیں گے، ’قادرمُطلق یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا ہیں!‘ اَور آپ کے خادِم داویؔد کا گھرانا آپ کے حُضُور میں ہمیشہ قائِم رہے گا۔
1CH 17:25 ”کیونکہ آپ نے اَے میرے خُدا اَپنے خادِم پر ظاہر کیا ہے کہ آپ ایک گھر تعمیر کریں گے۔ لہٰذا آپ کے خادِم نے آپ کے حُضُور دعا کرنے کا حوصلہ پایا۔
1CH 17:26 اَے یَاہوِہ آپ ہی خُدا ہیں! اَور آپ نے اَپنے خادِم سے یہ پُرفضل وعدہ کیا ہے۔
1CH 17:27 اَور آپ کو یہ پسند آیا ہے کہ آپ اَپنے خادِم کے گھرانے کو برکت بخشیں تاکہ وہ اَبد تک آپ کی نظر میں قائِم رہے۔ اَے یَاہوِہ، آپ نے اُسے برکت دی ہے چنانچہ وہ اَبد تک مُبارک ہے۔“
1CH 18:1 اِسی کے بعد، داویؔد نے فلسطینیوں کو شِکست دی اَور اُنہیں مغلُوب کیا، اَور گاتؔھ کو اَور اُس کے گِردونواح کے قصبوں کو جو فلسطینیوں کے زیرِ تسلُّط تھے اَپنے ہاتھ میں لے لیا۔
1CH 18:2 داویؔد نے مُوآبیوں کو بھی شِکست دی اَور وہ اُس کے مطیع ہو گئے اَور خراج اَدا کرنے لگے۔
1CH 18:3 اِس کے علاوہ داویؔد نے ضوباہؔ حماتؔ کے بادشاہ ہددعزرؔ کو بھی شِکست دی جَب وہ دریائے فراتؔ تک کے علاقہ کو اَپنے قبضہ میں لینا چاہتا تھا۔
1CH 18:4 اَور داویؔد کے ایک ہزار رتھ، سات ہزار رتھ بان اَور بیس ہزار پیادہ سپاہی پکڑ لئے۔ اُس نے ایک سَو رتھ کے گھوڑوں کے سِوا باقی سَب کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔
1CH 18:5 اَور جَب دَمشق کے ارامی ضوباہؔ کے بادشاہ ہددعزرؔ کی مدد کو آئے تو داویؔد نے اُن میں سے بائیس ہزار کو قتل کیا۔
1CH 18:6 اُس نے دَمشق کی ارامی سلطنت میں اَپنے فَوجیوں کی چوکیاں قائِم کیں اَور ارامی اُن کے مطیع ہو گئے اَور خراج اَدا کرنے لگے۔ اَور جہاں کہیں داویؔد گئے یَاہوِہ نے اُنہیں فتح بخشی۔
1CH 18:7 ہددعزرؔ کے فَوجی سرداروں کے پاس سونے کی ڈھالیں تھیں۔ داویؔد نے اُن پر قبضہ کر لیا اَور اُنہیں یروشلیمؔ لے آئے۔
1CH 18:8 اَور داویؔد ہددعزرؔ کے قصبوں طیبحؔ اَور کُونؔ سے بہت سا کانسا لائے جسے شُلومونؔ نے ایک بڑا حوض اَور سُتون اَور برتن بنانے کے لیٔے اِستعمال کیا۔
1CH 18:9 جَب حماتؔ کے بادشاہ توعُوؔ نے سُنا کہ داویؔد نے ضوباہؔ کے بادشاہ ہددعزرؔ کے تمام فَوج کو شِکست دے دی۔
1CH 18:10 تَب توعُوؔ نے اَپنے بیٹے ہَدورامؔ کو داویؔد بادشاہ کے پاس بھیجا تاکہ اُنہیں سلام کرے اَور مُبارکباد دے کیونکہ داویؔد نے جنگ کرکے ہددعزرؔ کو مارا تھا کیونکہ ہددعزرؔ توعُوؔ سے جنگ کیا کرتا تھا، اَور ہَدورامؔ سونے، چاندی اَور کانسے کی ہر قِسم کی اَشیا اَپنے ساتھ نذرانہ کے طور پر لایاتھا۔
1CH 18:11 جنہیں داویؔد بادشاہ نے یَاہوِہ کو نذر کر دیا جَیسا کہ اُنہُوں نے دیگر اَقوام یعنی اِدُوم، مُوآب، بنی عمُّون، فلسطینیوں اَور عمالیقؔ سے حاصل کَردہ چاندی اَور سونا یَاہوِہ کو نذر کیا تھا۔
1CH 18:12 ابیشائی بِن ضرویاہؔ نے وادی شور میں اٹھّارہ ہزار اِدُومیوں کو مارا
1CH 18:13 اَور اُس نے اِدُوم میں مُحافظ فَوجی چوکیاں قائِم کیں اَور تمام اِدُومی داویؔد کے مطیع ہو گئے اَور داویؔد جہاں بھی جاتے تھے یَاہوِہ اُنہیں فتح بخشتے تھے۔
1CH 18:14 داویؔد نے تمام اِسرائیل پر حُکمرانی کی اَور اَپنی ساری رعایا کے ساتھ نہایت ہی اِنصاف اَور راستی سے پیش آتے رہے۔
1CH 18:15 اَور یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ فَوج کا سپہ سالار تھا؛ اَور یہوشافاطؔ بِن احِیلودؔ مورّخ تھا؛
1CH 18:16 اَور صدُوقؔ بِن احِیطوبؔ اَور اَبی ملیخ بِن ابیاترؔ کاہِنؔ تھے اَور شاوساؔ مُنشی تھا۔
1CH 18:17 اَور بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ کریتیوں اَور پِلیتھیوں کا اعلیٰ اہلکار تھا اَور داویؔد کے بیٹے بادشاہ کے اعلیٰ حاکم تھے۔
1CH 19:1 اِس کے بعد اَیسا ہُوا کہ بنی عمُّون کا بادشاہ ناحسؔ مَر گیا اَور اُس کا بیٹا اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
1CH 19:2 تو داویؔد نے چاہا، ”وہ ناحسؔ کے بیٹے حنُونؔ پر مہربانی کرے کیونکہ اُس کے باپ نے مُجھ پر مہربانی کی تھی۔“ لہٰذا حنُونؔ سے اُس کے باپ کے بارے میں ہمدردی کا اِظہار کرنے کے لیٔے داویؔد نے قاصِدوں کا ایک وفد بھیجا۔ جَب داویؔد کے آدمی بنی عمُّون کے مُلک میں حنُونؔ کے پاس اُسے تسلّی دینے آئے
1CH 19:3 تَب عمُّونی اُمرا نے حنُونؔ سے کہا، ”کیا تُو یہ خیال کرتا ہے کہ ہمدردی ظاہر کرنے کے لیٔے سفیر بھیج کر داویؔد تمہارے باپ کی عزّت اَفزائی کر رہے ہیں؟ کیا اُن کے سفیر تمہارے پاس مُلک کا حال دریافت کرنے، جاسُوسی کرنے اَور اُسے تباہ کرنے نہیں آئے؟“
1CH 19:4 تَب حنُونؔ نے داویؔد کے سفیروں کو پکڑ لیا اَور پھر اُنہیں واپس بھیج دیا لیکن اُن کی حالت یہ تھی کہ اُن کی داڑھیاں اَور مونچھیں غائب تھیں اَور اُن کے زیرِ جامے کولہوں سے لے کر نیچے تک پھٹے ہُوئے تھے۔
1CH 19:5 جَب کسی نے آکر داویؔد کو اُن آدمیوں کے بارے میں خبر دی تو داویؔد نے اُن کے اِستِقبال کے لیٔے قاصِد بھیجے کیونکہ وہ اُن کے سامنے آنے سے شرما رہے تھے۔ بادشاہ نے اُنہیں کہلا بھیجا، ”جَب تک تمہاری داڑھیاں نہ بڑھ جایٔیں تُم یریحوؔ میں ٹھہرے رہو۔ اُس کے بعد لَوٹ آنا۔“
1CH 19:6 جَب عمُّونیوں کو احساس ہُوا کہ وہ داویؔد کے غُصّے کا نِشانہ بننے والے ہیں تو حنُونؔ اَور بنی عمُّون نے ارام نحرائیمؔ یعنی مسوپتامیہؔ، ارام معکہؔ اَور ضوباہؔ سے رتھ اَور رتھ بان کرائے پر منگوانے کے لیٔے چونتیس ہزار کِلوگرام چاندی بھیجی۔
1CH 19:7 اِس طرح اُنہُوں نے بتّیس ہزار رتھوں اَور رتھ بانوں نیز معکہؔ کے بادشاہ اَور اُس کی افواج کو کرائے پر لیا اَور وہ آکر میدباؔ کے سامنے خیمہ زن ہو گئے اَور بنی عمُّون اَپنے شہروں سے جمع ہُوئے اَور جنگ کرنے کو آئے۔
1CH 19:8 جَب داویؔد نے یہ سُنا تو اُس نے یُوآبؔ اَور سُورماؤں کے تمام فَوج کو بھیجا۔
1CH 19:9 تَب بنی عمُّون نے باہر نکل کر اَپنے شہر کے پھاٹک کے پاس ہی لڑائی کے لیٔے صف باندھی جَب کہ وہ بادشاہ جو آئےتھے اُن سے الگ میدان میں تھے۔
1CH 19:10 جَب یُوآبؔ نے دیکھا کہ اُس کے آگے اَور پیچھے لڑائی کے لیٔے صف بندی ہو چُکی ہے تو اُس نے اِسرائیل کے بہترین فَوجیوں میں سے بعض کو چُن کر ارامیوں کے مقابل صف آرا کیا۔
1CH 19:11 اَور باقی آدمیوں کو اَپنے بھایٔی ابیشائی کی قیادت میں عمُّونیوں کے خِلاف میدان میں اُتارا۔
1CH 19:12 یُوآبؔ نے کہا، ”اگر ارامی مُجھ پر غالب آنے لگیں تو تُم میری مدد کے لیٔے بروقت پہُنچ جانا لیکن اگر عمُّونی تمہارے خِلاف زِیادہ طاقتور ثابت ہُوئے تو مَیں تمہاری مدد کے لئے بروقت پہُنچ جاؤں گا۔
1CH 19:13 پس ہمّت باندھو اَور آؤ ہم اَپنی قوم اَور اَپنے خُدا کے شہروں کی خاطِر بہادری سے جنگ کریں اَور یَاہوِہ جو کچھ اُن کی نظر میں بہتر ہوگا وُہی کریں گے۔“
1CH 19:14 تَب یُوآبؔ اَور اُس کے لشکر کے آدمی ارامیوں سے لڑنے کے لیٔے آگے بڑھے اَور ارامی اُن کے سامنے سے بھاگ نکلے۔
1CH 19:15 جَب عمُّونیوں نے دیکھا کہ ارامی بھاگ نکلے تو وہ بھی اُس کے بھایٔی ابیشائی کے سامنے سے بھاگ کر شہر کے اَندر چلے گیٔے۔ تَب یُوآبؔ واپس یروشلیمؔ چلا گیا۔
1CH 19:16 جَب ارامیوں نے دیکھا کہ اُنہُوں نے بنی اِسرائیل سے شِکست کھائی تو قاصِد بھیج کر دریائے فراتؔ کے پار کے ارامیوں کو بُلوا لیا جِن کی کمان ہددعزرؔ کے سپہ سالار سوفکؔ کے ہاتھ میں تھی۔
1CH 19:17 جَب داویؔد کو اِطّلاع پہُنچی تو اُس نے تمام اِسرائیل کو جمع کیا اَور دریائے یردنؔ کے پار جا اُترے اَور اُنہُوں نے پیش قدمی کرکے اُن کے خِلاف مورچے سنبھال لیٔے۔ اَور جَب داویؔد نے ارامیوں کو مُقابلہ کے لیٔے للکارا تو وہ اُن سے لڑے۔
1CH 19:18 لیکن اِسرائیل نے اُنہیں شِکست دی اَور داویؔد نے ارامیوں کے سات ہزار رتھ بانوں اَور چالیس ہزار پیادہ فَوجیوں کو ہلاک کیا اَور اُن کے سپہ سالار سوفکؔ کو بھی قتل کر ڈالا۔
1CH 19:19 جَب اُن تمام بادشاہوں نے جو ہددعزرؔ کے مطیع تھے دیکھا کہ وہ اِسرائیل سے شِکست کھا چُکے ہیں تو اُنہُوں نے داویؔد سے صُلح کرلی اُن کے مطیع ہو گئے۔ اَور ارامی آئندہ کبھی بنی عمُّون کی مدد پر راضی نہ ہُوئے۔
1CH 20:1 موسمِ بہار میں اُس وقت جَب بادشاہ جنگ کرنے نکلتے ہیں یُوآبؔ نے مُسلّح افواج کے ساتھ چڑھائی کی اَور بنی عمُّون کے مُلک کو اُجاڑ ڈالا اَور ربّہؔ کو چلےگئے اَور اُس کا محاصرہ کیا۔ لیکن داویؔد یروشلیمؔ میں ہی رہے۔ اَور یُوآبؔ نے ربّہؔ پر حملہ کرکے اُسے تباہ کر دیا۔
1CH 20:2 اَور جَب داویؔد ربّہؔ پہُنچے تَب اُنہُوں نے اُن کے بادشاہ کے سَر سے سونے کا تاج اُتار لیا جِس کا وزن چونتیس کِلو تھا اَور اُس میں بیش قیمتی جواہر جڑے ہُوئے تھے۔ یہ تاج داویؔد کے سَر پر رکھا گیا۔ داویؔد کو اُس شہر سے لُوٹ کا اَور بھی بہت سا مال مِلا۔
1CH 20:3 اَور داویؔد شہر کے باشِندوں کو وہاں سے نکال لائے اَور اُنہیں جتّھوں میں تقسیم کرکے اُنہیں آروں لوہے کی کُدالوں اَور کُلہاڑوں سے بیگار میں کام کرنے پر لگایا۔ داویؔد نے بنی عمُّون کے تمام شہروں سے اَیسا ہی سلُوک کیا۔ اُس کے بعد داویؔد اَور اُن کی تمام فَوج کے سارے آدمی یروشلیمؔ لَوٹ آئے۔
1CH 20:4 اُس کے بعد گِزرؔ میں فلسطینیوں کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی۔ تَب حُوشاتی سِبّکائی نے سپّائیؔ کو جو قدیم زمانے کے بڑے جِسامت والے اِنسانی رفائیمؔ کی نَسل سے تھا، قتل کیا اَور فلسطینی مغلُوب ہو گئے۔
1CH 20:5 فلسطینیوں کے ساتھ ایک اَور جنگ میں اِلحنانؔ بِن یائیرؔ نے گِتّی گولیتؔ کے بھایٔی لاحمیؔ کو جِس کے نیزے کی چھڑ جُلاہے کے شہتیر کے برابر تھی مار ڈالا۔
1CH 20:6 ایک اَور جنگ میں بھی جو گاتؔھ میں ہُوئی ایک بڑا قدآور آدمی تھا جِس کے ہر ہاتھ اَور ہر پاؤں کی چھ چھ اُنگلیاں تھیں یعنی کُل چوبیس تھیں۔ وہ بھی کسی رافاؔ کی نَسل سے تھا۔
1CH 20:7 جَب اُس نے اِسرائیل کی توہین کی تو داویؔد کے بھایٔی شِمعاؔ کے بیٹے یُوناتانؔ نے اُسے مار ڈالا۔
1CH 20:8 یہ تمام لوگ گاتؔھ میں رافاؔ کی نَسل سے تھے اَور داویؔد اَور اُس کے آدمیوں کے ہاتھوں مارے گیٔے۔
1CH 21:1 اِسرائیل کے خِلاف شیطان اُٹھ کھڑا ہُوا اَور اُس نے اِسرائیل کی مردُم شماری کرنے کے لیٔے داویؔد کو اُکسایا۔
1CH 21:2 چنانچہ داویؔد نے یُوآبؔ سے اَور فَوج کے سپہ سالاروں سے فرمایا، ”جاؤ بیرشبعؔ سے لے کر دانؔ تک اِسرائیل کی مردُم شماری کرو اَور پھر واپس مُجھے اِطّلاع دو تاکہ مُجھے مَعلُوم ہو کہ وہ تعداد میں کتنے ہیں۔“
1CH 21:3 تَب یُوآبؔ نے کہا، ”یَاہوِہ اَپنے لوگوں کی تعداد جِتنی بھی ہے اُس سے سَو گُنا زِیادہ کرے۔ لیکن اَے میرے آقا بادشاہ کیا وہ سَب کے سَب میرے آقا کی رعِیّت نہیں ہیں؟ پھر میرے آقا اَیسا کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ وہ اِسرائیل کے لیٔے خطا کا باعث کیوں بنے؟“
1CH 21:4 تاہم بادشاہ نے اَپنے فرمان سے یُوآبؔ کے اِعتراض کو مُسترد کر دیا۔ لہٰذا یُوآبؔ رخصت ہُوا اَور تمام اِسرائیل میں ہر جگہ گھُوم پھر کر واپس یروشلیمؔ لَوٹ آیا
1CH 21:5 اَور یُوآبؔ نے جنگجو مَردوں کی تعداد داویؔد کو بتایٔی۔ اَور تمام اِسرائیل میں گیارہ لاکھ شمشیر زن مَرد مَوجُود تھے جِن میں یہُوداہؔ کے چار لاکھ ستّر ہزار شمشیر زن مَرد بھی شامل تھے۔
1CH 21:6 لیکن یُوآبؔ نے اِس مردُم شماری میں بنی لیوی اَور بنی بِنیامین کو شامل نہ کیا کیونکہ بادشاہ کا فرمان اُس کے نزدیک نامُناسب تھا۔
1CH 21:7 یہ خُدا کی نظر میں بھی بُرا تھا اِس لیٔے خُدا نے اِسرائیل کو سزا دی۔
1CH 21:8 تَب داویؔد نے خُدا سے دعا کی، ”مُجھ سے بڑا سنگین گُناہ ہُوا، مَیں نے اَیسا کام کیا۔ اَب مَیں آپ کی مِنّت کرتا ہُوں کہ اَپنے خادِم کا سنگین گُناہ دُور کر دیں کیونکہ مَیں نے یہ بڑی حماقت کی ہے۔“
1CH 21:9 اَور یَاہوِہ نے داویؔد کے غیب بین گادؔ سے فرمایا،
1CH 21:10 ”جا اَور داویؔد کو بتا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ مَیں تیرے سامنے تین بَلائیں لاتا ہُوں۔ اُن میں سے ایک چُن لے جسے مَیں تُجھ پر نازل کروں۔‘ “
1CH 21:11 تَب گادؔ نے داویؔد کے پاس جا کر فرمایا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’آپ جسے چاہیں اُسے مُنتخب کر لیں:
1CH 21:12 یا تو قحط کے تین بَرس یا تمہارے دُشمنوں کی تلواریں تین بَرس تک تمہارا پیچھا کرتی رہیں اَور تُم اُن کے آگے بھاگتے پھرو یا تین دِن تک یَاہوِہ کی تلوار یعنی مُلک میں وَبا پھیلی رہے اَور یَاہوِہ کا فرشتہ اِسرائیل کے ہر حِصّہ میں تباہی مچاتا رہے۔‘ اَب سوچ لو کہ مَیں اَپنے بھیجنے والے کو کیا جَواب دُوں۔“
1CH 21:13 داویؔد نے گادؔ سے کہا، ”میں بڑی مُصیبت میں پھنس گیا ہُوں۔ مُجھے یَاہوِہ ہی کے ہاتھوں میں پڑنے دے کیونکہ وہ بڑے ہی رحیم ہیں۔ لیکن مُجھے آدمیوں کے ہاتھوں میں پڑنا منظُور نہیں۔“
1CH 21:14 تَب یَاہوِہ نے اِسرائیل میں وَبا بھیجی اَور اِسرائیل کے ستّر ہزار لوگ مَر گیٔے۔
1CH 21:15 اَور یَاہوِہ نے ایک فرشتہ کو بھیجا کہ یروشلیمؔ کو تباہ کر ڈالے۔ لیکن جَب فرشتہ یہ کام کرنے لگا تو یَاہوِہ اُس تباہی کو دیکھ کر ملُول ہُوئے اَور اُنہُوں نے اُس فرشتہ سے جو لوگوں کو ہلاک کر رہاتھا فرمایا، ”بس کر، اَپنا ہاتھ روک لے!“ یَاہوِہ کا فرشتہ اُس وقت یبُوسی اُرنانؔ کے کھلیان کے پاس کھڑا تھا۔
1CH 21:16 اَور داویؔد نے اُوپر نگاہ کی تو دیکھا کہ یَاہوِہ کا فرشتہ آسمان اَور زمین کے درمیان کھڑا ہے اَور ایک شمشیرِ برہنہ اُس کے ہاتھ میں ہے جو یروشلیمؔ کی طرف بڑھی ہُوئی ہے۔ تَب داویؔد اَور بُزرگ ٹاٹ اوڑھے ہُوئے مُنہ کے بَل سَجدہ میں گِرے۔
1CH 21:17 اَور داویؔد نے خُدا سے کہا، ”کیا وہ مَیں ہی نہیں تھا جِس نے جنگجو مَردوں کے گنے جانے کا حُکم دیا تھا؟ گُناہ تو مَیں نے کیا ہے، خطا تو مُجھ چرواہے سے ہُوئی ہے۔ اَور یہ تو محض بھیڑیں ہیں؟ اُنہُوں نے کیا کیا ہے؟ اَے یَاہوِہ میرے خُدا! آپ کا ہاتھ میرے اَور میرے خاندان کے خِلاف اُٹھے لیکن اِس وَبا کو اَپنے لوگوں کے درمیان سے اُٹھا لیں۔“
1CH 21:18 تَب یَاہوِہ کے فرشتہ نے گادؔ کو حُکم دیا کہ جا اَور داویؔد سے کہہ کہ وہ یبُوسی اُرنانؔ کے کھلیان میں یَاہوِہ کے لیٔے ایک مذبح بنائے۔
1CH 21:19 تَب داویؔد نے یَاہوِہ کے اُس حُکم کے مُطابق جو اُسے گادؔ کے ذریعہ دیا گیا تھا وہاں روانہ ہُوا۔
1CH 21:20 اُس وقت اُرنانؔ گیہُوں کی بالوں میں سے دانے نکال رہاتھا۔ جَب وہ مُڑا تو اُس نے بھی فرشتہ کو دیکھا۔ اُس کے چاروں بیٹے جو اُس کے ساتھ تھے چھُپ گیٔے۔
1CH 21:21 تَب داویؔد اُرنانؔ کے پاس پہُنچے اَور جَب ارنانؔ نے نگاہ کی اَور داویؔد کو دیکھا تو وہ کھلیان چھوڑکر داویؔد کے سامنے آکر زمین پر مُنہ کے بَل گرا۔
1CH 21:22 تَب داویؔد نے اُرنانؔ سے کہا، ”اَپنے کھلیان کی یہ جگہ مُجھے دے دے۔ میں چاہتا ہُوں کہ یہاں یَاہوِہ کے لیٔے ایک مذبح بناؤں تاکہ لوگ وَبا سے نَجات پائیں۔ اِسے مُجھے فروخت کر۔ میں پُوری قیمت دینے کو تیّار ہُوں۔“
1CH 21:23 اُرنانؔ نے داویؔد سے کہا، ”تُم اِسے لے لو اَور میرے آقا بادشاہ جَیسے آپ کو پسند ہو کریں۔ دیکھیں میں اِن بَیلوں کو سوختنی نذروں کے لیٔے، گاہنے کا اوزار ایندھن کے لیٔے اَور گیہُوں اناج کی نذر کے لیٔے بِلا قیمت دُوں گا۔“
1CH 21:24 لیکن داویؔد بادشاہ نے اُرنانؔ کو جَواب دیا، ”کہ نہیں، میں تو پُوری قیمت اَدا کرکے ہی رہُوں گا کیونکہ جو تمہارا ہے اُسے میں یَاہوِہ کے لیٔے ہرگز مُفت نہ لُوں گا۔ اَور نہ ہی اَیسی سوختنی نذر گذرانوں گا جِس پر میرا کچھ بھی خرچ نہ ہُوا ہو۔“
1CH 21:25 چنانچہ داویؔد نے اُرنانؔ کو اُس کھلیان کے لیٔے سات کِلو سونا دیا۔
1CH 21:26 اَور داویؔد نے وہاں یَاہوِہ کے لیٔے مذبح بنایا اَور آتِشی قُربانیاں اَور سلامتی کی نذریں گذرانیں اَور اُنہُوں نے یَاہوِہ سے دعا کی اَور یَاہوِہ نے اُس کی دعا کے جَواب میں آسمان پر سے سوختنی نذر کی قُربانی کے مذبح پر آگ نازل فرمائی۔
1CH 21:27 اَور یَاہوِہ نے اُس فرشتہ کو حُکم دیا اَور اُس نے اَپنی تلوار پھر مِیان میں رکھ لی۔
1CH 21:28 اُس وقت داویؔد نے یہ دیکھ کر کہ یَاہوِہ نے یبُوسی اُرنانؔ کے کھلیان ہی میں اُس کی دعا سُن لی ہے اُس نے وہیں قُربانی گذرانی۔
1CH 21:29 کیونکہ اُس وقت یَاہوِہ کا مَسکن جسے مَوشہ نے بیابان میں بنایا تھا اَور سوختنی نذر کی قُربانی کا مذبح گِبعونؔ کی اُونچی جگہ پر تھا۔
1CH 21:30 لیکن داویؔد خُدا کو سَجدہ کرنے کے لیٔے اُوپر نہ جا سکے کیونکہ وہ یَاہوِہ کے فرشتہ کی تلوار کے سبب سے خوفزدہ تھے۔
1CH 22:1 تَب داویؔد نے فرمایا، ”یہی یَاہوِہ خُدا کا بیت المُقدّس اَور اِسرائیل کی سوختنی نذر کی قُربانی کا مذبح ہے۔“
1CH 22:2 اَور داویؔد نے مُلک اِسرائیل میں رہنے والے پردیسیوں کو جمع کرنے کا حُکم دیا اَور اُن میں جتنے سنگ تراش تھے داویؔد نے اُنہیں خُدا کے گھر کی تعمیر کے لیٔے پتّھر تراشنے کے کام پر مُقرّر کیا۔
1CH 22:3 اَور داویؔد نے دروازوں کے کواڑوں کی کیلوں اَور قبضوں کے لیٔے بہت سا لوہا فراہم کیا اَور کانسے بھی جِس کا وزن کرنا مُشکل تھا۔
1CH 22:4 داویؔد نے دیودار کی بے شُمار لکڑی بھی فراہم کیں کیونکہ صیدونی اَور صُوری کثرت سے اُنہیں داویؔد کے پاس لاتے رہتے تھے۔
1CH 22:5 اَور داویؔد نے کہا، ”میرا بیٹا شُلومونؔ کمسِن اَور ناتجربہ کار ہے اَور یَاہوِہ کے لیٔے تعمیر کیا جانے والا گھر نہایت ہی شاندار ہونا چاہئے تاکہ سَب ممالک میں اُس کی شہرت اَور نام ہو۔“ اِس لیٔے میں شُلومونؔ کے لیٔے سارا سامان تیّار رکھوں گا۔ چنانچہ داویؔد نے اَپنی وفات سے پیشتر خُوب تیّاری کی۔
1CH 22:6 تَب داویؔد نے اَپنے بیٹے شُلومونؔ کو بُلایا اَور یَاہوِہ، اِسرائیل کے خُدا کے لیٔے ایک گھر تعمیر کرنے کا کام اُس کے سُپرد کیا۔
1CH 22:7 داویؔد نے شُلومونؔ سے فرمایا: ”میری دِلی تمنّا تھی کہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کے نام کے لیٔے ایک گھر تعمیر کروں؛
1CH 22:8 لیکن مُجھے یَاہوِہ کا یہ کلام پہُنچا، ’تُم نے بہت خُون بہایا ہے اَور بہت سِی جنگیں لڑی ہیں۔ اِس لیٔے تُم میرے نام کے لیٔے گھر نہ بنانا۔ تُم نے زمین پر میرے سامنے بہت خُونریزی کی ہے۔
1CH 22:9 لیکن تمہارا بیٹا جو مَرد صُلح ہوگا اَور مَیں اُسے چاروں طرف کے دُشمنوں سے امان بخشوں گا۔ اُس کا نام شُلومونؔ ہوگا اَور مَیں اُس کے دَورِ حُکومت میں اِسرائیل کو اَمن و سلامتی بخشوں گا۔
1CH 22:10 اَور وُہی میرے نام کے لیٔے ایک گھر تعمیر کرےگا۔ وہ میرا بیٹا ہوگا اَور مَیں اُس کا باپ ہوں گا۔ اَور مَیں بنی اِسرائیل پر اُس کی بادشاہی کا تخت اَبد تک قائِم رکھوں گا۔‘
1CH 22:11 ”اَب اَے میرے بیٹے، یَاہوِہ تمہارے ساتھ رہیں اَور تُم اِقبالمند ہو اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کا گھر بناؤ جَیسا کہ یَاہوِہ نے تمہارے حق میں فرمایاہے۔
1CH 22:12 میری دعا ہے کہ یَاہوِہ تُمہیں شعور و فہم عطا کریں جَب وہ تُمہیں بنی اِسرائیل پر حُکمرانی بخشیں تاکہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے آئین کے پابند رہو۔
1CH 22:13 تَب تُم اِقبالمند ہوگے بشرطیکہ تُم اُن قوانین اَور آئین پرجو یَاہوِہ نے مَوشہ کو اِسرائیل کے لیٔے دئیے احتیاط کے ساتھ عَمل کرو۔ چنانچہ مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو اَور خوف نہ کرو اَور ہِراساں نہ ہو۔
1CH 22:14 ”دیکھو مَیں نے بڑی محنت اَور کوشش سے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے لیٔے تین ہزار چار سَو ٹن سونا، چونتیس ہزار ٹن چاندی اَور بے شُمار کانسے اَور لوہا جمع کر رکھا ہے۔ کیونکہ وہ کثرت سے ہیں اَور لکڑی اَور پتّھر بھی مَیں نے تیّار کئے ہیں اَور تُم اُنہیں اَور بڑھا سکتے ہو۔
1CH 22:15 اَور تمہارے پاس بہت سے کاریگر مثلاً پتّھر کاٹنے والے، مِعمار، بڑھئی، نیز ہر قِسم کے ماہر فنکار مَوجُود ہیں۔
1CH 22:16 سونا، چاندی، کانسے اَور لوہے میں بھی صنعت کاروں کی کثرت ہے۔ اَب اُٹھو اَور کام شروع کر دو اَور یَاہوِہ تمہارے ساتھ رہیں۔“
1CH 22:17 پھر داویؔد نے اِسرائیل کے سَب سرداروں کو اَپنے بیٹے شُلومونؔ کی مدد کرنے کا حُکم دیا۔
1CH 22:18 اُس نے اُنہیں حُکم دیا، ”کیا یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے ساتھ نہیں ہیں؟ اَور کیا اُنہُوں نے تُمہیں چاروں طرف سے آرام نہیں دیا ہے؟ کیونکہ یَاہوِہ نے اِس مُلک کے اصلی باشِندوں کو میرے ہاتھ میں کر دیا ہے اَور مُلک یَاہوِہ اَور اُن کے لوگوں کا محکُوم ہے۔
1CH 22:19 چنانچہ اَب تُم دِل و جان سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی جُستُجو میں لگ جاؤ اَور یَاہوِہ خُدا کا پاک مَقدِس بنانا شروع کر دو تاکہ تُم یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو اَور خُدا سے متعلّق پاک اَشیا کو اُس بیت المُقدّس میں لا سکو جو یَاہوِہ کے نام کے لیٔے تعمیر ہوگی۔“
1CH 23:1 جَب داویؔد بُوڑھے اَور عمر رسیدہ ہو گئے تو اُنہُوں نے اَپنے بیٹے شُلومونؔ کو اِسرائیل کا بادشاہ مُقرّر کر دیا۔
1CH 23:2 داویؔد نے اِسرائیل کے تمام سرداروں، نیز کاہِنوں اَور لیویوں کو جمع کیا۔
1CH 23:3 تیس بَرس اَور اُس سے زِیادہ عمر کے لیویوں کا شُمار کیا گیا تو وہ تعداد میں اڑتیس ہزار نکلے۔
1CH 23:4 داویؔد نے فرمایا، ”اِن میں سے چوبیس ہزار یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے کام کی نِگرانی کریں گے اَور چھ ہزار اہلکار اَور مُنصِف ہوں گے،
1CH 23:5 اَور چار ہزار دربان ہوں گے اَور چار ہزار موسیقی کے اُن سازوں کے ساتھ جو مَیں نے مُہیّا کئے ہیں یَاہوِہ کی حَمد و ثنا کیا کریں گے۔“
1CH 23:6 اَور داویؔد نے اُنہیں لیوی کے بیٹوں گیرشون، قُہات اَور مِراریؔ کے ناموں سے گھرانوں میں تقسیم کیا۔
1CH 23:7 بنی گیرشون میں سے: لعدانؔ اَور شِمعیؔ۔
1CH 23:8 اَور لعدانؔ کے بیٹے: یحی ایل، زیتھامؔ اَور یُوایلؔ۔ کُل تین۔
1CH 23:9 شِمعیؔ کے بیٹے: شلُوموتھؔ، حاضی ایل اَور حارانؔ، کُل تین (یہ لعدانؔ کے آبائی خاندانوں کے سردار تھے۔)
1CH 23:10 اَور شِمعیؔ کے بیٹے: یاحاتؔھ، زیزاؔ، یعُوسؔ اَور بریعہؔ۔ یہ چاروں شِمعیؔ کے بیٹے تھے۔
1CH 23:11 (یاحاتؔھ پہلوٹھا تھا اَور زیزاؔ دُوسرا۔ لیکن یعُوسؔ اَور بریعہؔ کے بیٹے بہت نہ تھے۔ اِس لیٔے وہ ایک ہی آبائی خاندان میں گنے گیٔے جِن کے ذمّہ ایک ہی مُقرّرہ کام تھا۔)
1CH 23:12 قُہات کے بیٹے: عمرامؔ، اِضہاؔر، حِبرونؔ اَور عُزّی ايل۔ کُل چار۔
1CH 23:13 عمرامؔ کے بیٹے: اَہرونؔ اَور مَوشہ۔ اَہرونؔ کو یہ اِعزاز دیا گیا کہ وہ اَور اُس کی نَسل اَبد تک پاک ترین مقام میں خدمت اَنجام دیں اَور یَاہوِہ کے آگے آتِشی قُربانیاں گزرانیں اَور بخُور جَلائیں اَور ہمیشہ اُن کا نام لے کر برکت دیں۔
1CH 23:14 مَرد خُدا مَوشہ کے بیٹے لیوی کے قبیلہ میں شُمار کئے گیٔے۔
1CH 23:15 مَوشہ کے بیٹے: گیرشوم اَور الیعزرؔ۔
1CH 23:16 گیرشوم کے بیٹے: شُوبائیلؔ جو پہلوٹھا تھا۔
1CH 23:17 الیعزرؔ کا بیٹا: الیعزرؔ کا ایک ہی بیٹا رحابیّاہؔ تھا، اُس کے علاوہ اُس کی اَور کوئی دُوسری اَولاد نہ تھی؛ لیکن رحابیّاہؔ کے بہت سے بیٹے پیدا ہُوئے۔
1CH 23:18 اِضہاؔر کا بیٹا: شلُومیتؔ جو خاندان کا سربراہ تھا۔
1CH 23:19 حِبرونؔ کے بیٹے: یرِیاہؔ پہلوٹھا تھا، امریاہؔ دُوسرا، یحزی ایل تیسرا اَور یُقمعامؔ چوتھا تھا۔
1CH 23:20 عُزّی ايل کے بیٹے: میکاہؔ پہلوٹھا تھا اَور یشیاہؔ دُوسرا۔
1CH 23:21 مِراریؔ کے بیٹے: محلیؔ اَور مُوشیؔ۔ محلیؔ کے بیٹے: الیعزرؔ اَور قیشؔ۔
1CH 23:22 اَور الیعزرؔ کی وفات بغیر بیٹے کی ہی ہو گئی، اُس سے صِرف بیٹیاں پیدا ہُوئی تھیں۔ جِن کے چچازاد بھائیوں نے یعنی قیشؔ کے بیٹوں نے اُن سے شادیاں کر لیں۔
1CH 23:23 مُوشیؔ کے تین بیٹے پیدا ہُوئے: محلیؔ، عیدرؔ اَور یریموتؔ۔
1CH 23:24 لیوی کے بیٹے اَپنے اَپنے آبائی خاندانوں کے مُطابق یہی تھے یعنی آبائی خاندانوں کے سربراہوں کے طور پر اَپنے اَپنے ناموں کے تحت فرداً فرداً درج فہرست کئے گیٔے تھے۔ بیس بَرس یا اُس سے زِیادہ عمر کے یہی تھے جنہوں نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں خدمت کے کام کئے تھے۔
1CH 23:25 کیونکہ داویؔد نے خیال کیا تھا، ”چونکہ یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا نے اَپنے لوگوں کو آرام بخشا ہے اَور وہ اَبد تک یروشلیمؔ میں سکونت کریں گے،
1CH 23:26 اَور آئندہ لیویوں کو بھی یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو اَور اُس کے لیٔے وقف شُدہ ظروف کو اُٹھائے پھرنے کی خدمت نہ ہوگی۔“
1CH 23:27 داویؔد کی سابقہ ہدایات کے مُطابق بیس بَرس اَور اُس سے زِیادہ عمر کے لیویوں کی مردُم شماری کی گئی تھی۔
1CH 23:28 لیویوں کا کام یہ تھا کہ وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اَہرونؔ کی نَسل کی مُختلف خدمات میں مدد کرنا۔ صحنوں اَور حُجروں کی نِگرانی میں، تمام مُقدّس برتنوں اَور اَشیا کو صَاف سُتھرا رکھنے میں اَور خُدا کے گھر کے دیگر فرائض کے کاموں میں اُن کی مدد کرنا شامل تھا۔
1CH 23:29 اَور اِن کے علاوہ اُن کی جَوابدہی نذر کی روٹیاں، مَیدہ کے اناج کی نذر کی قُربانی، بے خمیری روٹیوں، توے پر پکی ہُوئی گول روٹیاں یا تلی ہُوئی چیزوں کی دیکھ بھال کرنا، اَور سَب کی تول اَور تمام پیمانوں کی نِگرانی کرنا۔
1CH 23:30 اَور اُن کا یہ بھی فرض تھا کہ ہر صُبح و شام کھڑے ہوکر یَاہوِہ کی شُکر گزاری اَور سِتائش کریں
1CH 23:31 اَور سَبتوں، نئے چاند کی عیدوں اَور مُقرّرہ اِجتماعات میں کھڑے ہوکر یَاہوِہ کی شُکر گزاری اَور سِتائش کریں گے اَور ہمیشہ یَاہوِہ کی حُضُور پُوری تعداد میں سَب سوختنی نذریں گزرانیں جو اُس قائد کے مُطابق ہیں عَمل کریں۔
1CH 23:32 اَور یُوں بنی لیوی اَپنے بھائیوں بنی اَہرونؔ کے ماتحت یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں خیمہ اِجتماع کی حِفاظت اَور پاک مقام کے ظروف کی نِگرانی کی خدمات اَنجام دیتے رہیں۔
1CH 24:1 اَور بنی اَہرونؔ کے فریق یہ تھے: اَہرونؔ کی اَولاد نادابؔ، اَبِیہُو، الیعزرؔ اَور اِتمارؔ۔
1CH 24:2 لیکن نادابؔ اَور اَبِیہُو اَپنے باپ کے سامنے ہی مَر گیٔے اَور اُن کی اَولاد نہ تھی۔ لہٰذا الیعزرؔ اَور اِتمارؔ نے کہانت کے فرائض اَنجام دئیے۔
1CH 24:3 الیعزرؔ کی اَولاد میں سے صدُوقؔ اَور اِتمارؔ کی اَولاد میں سے احِیملکؔ کی مدد سے داویؔد نے کاہِنوں کو اُن کی خدمت کی ترتیب کے مُطابق تقسیم کیا۔
1CH 24:4 اَور اِتمارؔ کی اَولاد کی بہ نِسبت الیعزرؔ کی اَولاد میں قائد زِیادہ پایٔے گیٔے لہٰذا اُن کی تقسیم بھی اُسی نِسبت سے ہُوئی یعنی الیعزرؔ کی اَولاد میں سے آبائی خاندانوں کے سربراہ سولہ تھے اَور اِتمارؔ کی اَولاد میں سے آبائی خاندانوں کے سربراہ آٹھ تھے۔
1CH 24:5 اَور اُنہُوں نے غَیر جانِبداری سے قُرعہ ڈال کر اُنہیں تقسیم کیا کیونکہ پاک مَقدِس کے اہلکاروں اَور خُدا کے سرداروں کی زِیادہ تعداد الیعزرؔ اَور اِتمارؔ دونوں کی اَولاد میں سے تھی۔
1CH 24:6 اَور نتنی ایل مُنشی کے بیٹے شمعیاہؔ نے جو لیویوں میں سے تھا بادشاہ اَور منصبداروں، صدُوقؔ کاہِنؔ، احِیملکؔ بِن ابیاترؔ اَور کاہِنوں اَور لیویوں کے آبائی خاندانوں کے سربراہوں کی مَوجُودگی میں اُن کے نام لکھے یعنی جَب الیعزرؔ کے ایک آبائی خاندان میں سے کویٔی نام لِکھّا جاتا تھا تو اِتمارؔ کے ایک آبائی خاندان سے بھی ایک نام لِکھّا جاتا تھا۔
1CH 24:7 پہلا قُرعہ یہُویرِیبؔ کے نام کا نِکلا، دُوسرا یدعیاہؔ کے نام کا،
1CH 24:8 تیسرا حارِمؔ کا، چوتھا سعوریمؔ کا،
1CH 24:9 پانچواں ملکیاہؔ کا، چھٹا مِیامِینؔ کا،
1CH 24:10 ساتواں حقوضؔ کا، آٹھواں ابیّاہؔ کا،
1CH 24:11 نواں یہوشُعؔ کا، دسواں شِکنیاہؔ کا،
1CH 24:12 گیارہواں اِلیاشبؔ کا، بارہواں یاقیمؔ کا،
1CH 24:13 تیرہواں حُپّاہؔ کا، چودہواں یشِبیابؔ کا،
1CH 24:14 پندرہواں بِلگاہؔ کا، سولہواں اِمّیرؔ کا،
1CH 24:15 سترہواں حزیرؔ کا، اٹھّارہواں حَفّضِیض کا،
1CH 24:16 اُنّیسواں پِتھائیاہؔ کا، بیسواں حزقی ایل کا،
1CH 24:17 اِکیّسواں یاکِن کا، بائیسواں گمولؔ کا،
1CH 24:18 تئیسواں دِلائیاہؔ کا، چوبیسواں معزیاہؔ کا۔
1CH 24:19 وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں خدمت کے لیٔے اُس ترتیب کے مُطابق داخل ہوتے تھے جو اُن قوانین پر مَبنی تھی جنہیں اُن کے آباؤاَجداد اَہرونؔ نے اُن کے لیٔے مُقرّر کیا تھا ہُوبہو جَیسا کہ یَاہوِہ، اِسرائیل کے خُدا نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
1CH 24:20 بقیّہ بنی لیوی کی تقسیم: عمرامؔ کے بیٹوں میں سے شُوبائیلؔ؛ شُوبائیلؔ کے بیٹوں میں سے یہدِیاہؔ۔
1CH 24:21 رحابیّاہؔ کے بیٹوں میں پہلوٹھا یشیاہؔ تھا۔
1CH 24:22 اِضہاریوں میں شلُوموتھؔ؛ اَور شلُوموتھؔ کے بیٹوں میں سے یاحاتؔھ۔
1CH 24:23 اَور بنی حِبرونؔ میں سے: یرِیاہؔ پہلا تھا، امریاہؔ دُوسرا، یحزی ایل تیسرا اَور یُقمعامؔ چوتھا تھا۔
1CH 24:24 بنی عُزّی ايل میں سے: میکاہؔ؛ بنی میکاہؔ میں سے: شمیرؔ۔
1CH 24:25 میکاہؔ کا بھایٔی: یشیاہؔ؛ بنی یشیاہؔ میں سے زکریاؔہ۔
1CH 24:26 مِراریؔ کے بیٹے: محلیؔ اَور مُوشیؔ؛ یعزیاہؔ کا بیٹا: بِنُوؔ۔
1CH 24:27 بنی مِراریؔ: یعزیاہؔ سے: بِنُوؔ، شوہامؔ، زکُورؔ اَور عِبری۔
1CH 24:28 محلیؔ سے: الیعزرؔ، جِس کا کویٔی بیٹا نہ تھا۔
1CH 24:29 قیشؔ سے: قیشؔ کا بیٹا: یرحمئیلؔ۔
1CH 24:30 اَور مُوشیؔ کے بیٹے: محلیؔ، عیدرؔ اَور یریموتؔ۔
1CH 24:31 اُنہُوں نے بھی اَپنے بھائیوں بنی اَہرونؔ کی طرح داویؔد بادشاہ اَور صدُوقؔ، احِیملکؔ اَور کاہِنوں اَور لیویوں کے آبائی خاندانوں کے سربراہوں کی مَوجُودگی میں اَپنا اَپنا قُرعہ ڈالا اَورجو حق آبائی خاندانوں کے سرداروں کا تھا وُہی حق اُن کے سَب سے چُھوٹے بھائیوں کے خاندانوں کا بھی تھا۔
1CH 25:1 پھر داویؔد اَور فَوج کے سپہ سالاروں نے آسفؔ، ہیمانؔ اَور یدُوتونؔ کے بیٹوں میں سے بعضوں کو اِس خدمت کے لیٔے الگ کیا تاکہ وہ بربط، سِتار اَور جھانجھ کے ساتھ نبُوّت کریں۔ اَور جِن اَشخاص کو اِس خدمت کی مُختلف ذمّہ داریاں سُپرد کی گئیں وہ یہ ہیں،
1CH 25:2 بنی آسفؔ میں سے: زکُورؔ، یُوسیفؔ، نتنیاہؔ اَور آساریلاہؔ۔ آسفؔ کے یہ بیٹے اَپنے والد کی رہنمائی میں خدمت کرتے تھے اَور بادشاہ کی نِگرانی میں نبُوّت کرتے تھے۔
1CH 25:3 بنی یدُوتونؔ میں سے: گِدلیاہؔ، ضریؔ، یَشعیاہ، شِمعیؔ، حشبیاہؔ اَور متّتیاہؔ، یہ چھ اَپنے باپ یدُوتونؔ کے ماتحت تھے جو یَاہوِہ کی شُکر گزاری اَور حَمد میں بربط بجاتے ہُوئے نبُوّت کیا کرتے تھے۔
1CH 25:4 اَور بنی ہیمانؔ میں سے: بُقیّاہؔ، متّنیاہؔ، عُزّی ایل، شُوبائیلؔ، یریموتؔ، حننیاہؔ، حنانیؔ، اِلیاتھاہ، گدّالتیؔ، رومامتی عزرؔ، یُسبِقاشہؔ، ملُّوتیؔ، ہوتِیرؔ اَور محازیوتؔ۔
1CH 25:5 یہ سَب بادشاہ کے غیب بین ہیمانؔ کے بیٹے تھے اَورجو نبُوّت کے ذریعہ یَاہوِہ کی تمجید کیا کرتے تھے۔ اَور خُدا کے وعدے کے مُطابق ہیمانؔ کو چودہ بیٹے اَور تین بیٹیاں ہُوئیں۔
1CH 25:6 یہ تمام یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جھانجھ، سِتار اَور بربط کے ساتھ موسیقی کے لیٔے اَور خُدا کے گھر میں خدمت کے لیٔے اَپنے اَپنے باپ کے ماتحت تھے اَور آسفؔ، یدُوتونؔ اَور ہیمانؔ بادشاہ کے ماتحت تھے۔
1CH 25:7 اَور اِن سَب کی تعداد جو یَاہوِہ کے لیٔے فن موسیقی میں ماہر تھے اَپنے رشتہ داروں کے ساتھ مِلا کر دو سَو اٹھاسی تھی۔
1CH 25:8 اَور اُنہُوں نے چُھوٹے، بڑے اَور اُستاد، شاگرد کا اِمتیاز کئے بغیر ایک ہی طریقہ سے اَپنے اَپنے فرائض کے لیٔے قُرعہ ڈالا۔
1CH 25:9 پہلا قُرعہ بنی آسفؔ کے نام کا تھا، جو یُوسیفؔ کے بیٹے اَور اُس کے رشتہ داروں کے لئے تھا جِن کی کُل تعداد بَارہ تھی۔ دُوسرا قُرعہ گِدلیاہؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:10 تیسرا قُرعہ زکُورؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:11 چوتھا قُرعہ یضریؔ کے، اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:12 پانچواں نتنیاہؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:13 چھٹا بُقیّاہؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:14 ساتواں یساریلاہؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:15 آٹھواں یِشعیہ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:16 نواں متّنیاہؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:17 دسواں شِمعیؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:18 گیارھواں عزرایلؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:19 بارھواں حشبیاہؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:20 تیرہواں شُوبائیلؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:21 چودھواں متّتیاہؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:22 پندرھواں یریموتؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:23 سولہواں حننیاہؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:24 سترھواں یُسبِقاشہؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:25 اٹھّارہواں حنانیؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:26 اُنّیسواں ملُّوتیؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:27 بیسواں اِلیاتھاہ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:28 اِکیّسواں ہوتِیرؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:29 بائیسواں گدّالتیؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:30 تئیسواں محازیوتؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 25:31 چوبیسواں رومامتی عزرؔ اَور اُس کے بَارہ بیٹوں اَور رشتہ داروں کے نام کا تھا۔
1CH 26:1 دربانوں کی تقسیم: بنی قورحؔ میں سے: مِشلمیاہؔ بِن قورؔے جو بنی آسفؔ میں سے تھا۔
1CH 26:2 اَور بِن مِشلمیاہؔ میں سے: زکریاؔہ، پہلا؛ یدیع ایل، دُوسرا؛ زبدیاہؔ، تیسرا؛ یتنی ایل، چوتھا؛
1CH 26:3 عیلامؔ، پانچواں؛ یِہُوحنانؔ، چھٹا اَور الِیہُوعنائی ساتواں۔
1CH 26:4 اَور بنی عوبیدؔ اِدُوم میں سے: شمعیاہؔ، پہلا؛ یہُوزبادؔ، دُوسرا؛ یُوآخؔ، تیسرا؛ سکارؔ، چوتھا؛ نتنی ایل، پانچواں؛
1CH 26:5 عمّی ایل، چھٹا؛ اِشکارؔ، ساتواں؛ پیعُلّتائیؔ آٹھواں: کیونکہ خُدا نے عوبیدؔ اِدُوم کو برکت بخشی تھی۔
1CH 26:6 اَور اُس کے بیٹے شمعیاہؔ کے ہاں بھی بیٹے پیدا ہُوئے جو اَپنے آبائی خاندان میں سربراہ سمجھے جاتے تھے کیونکہ وہ نہایت لائق اِنسان تھے۔
1CH 26:7 شمعیاہؔ کے بیٹے: عُتنیؔ، رِفاایل، عوبیدؔ اَور اِلزبادؔ؛ اَور اُن کے رشتہ دار اِلیہُوؔ اَور سمکیاہؔ بھی بڑے طاقتور تھے۔
1CH 26:8 یہ سَب عوبیدؔ اِدُوم کی اَولاد میں سے تھے؛ اَور وہ اُن کے بیٹے اَور رشتہ دار بڑے طاقتور تھے اَور خدمت کرنے کے لئے لائق اِنسان تھے۔ یُوں کل بنی عوبیدؔ اِدُوم باسٹھ تھے۔
1CH 26:9 مِشلمیاہؔ کے بیٹے اَور رشتہ دار جو بڑے طاقتور تھے، اُن کی کُل تعداد اٹھّارہ تھی۔
1CH 26:10 اَور بنی مِراریؔ میں سے حوساہؔ کے ہاں بیٹے تھے: جِن میں شِمریؔ کا ایک پہلا درجہ تھا (حالانکہ وہ پہلوٹھا نہ تھا اُس کے باپ نے اُسے پہلوٹھا مُقرّر کیا تھا)،
1CH 26:11 خِلقیاہؔ، دُوسرا؛ طبلیاہؔ، تیسرا؛ اَور زکریاؔہ، چوتھا تھا۔
1CH 26:12 دربانوں کے یہ فریق اَپنے بھائیوں کی طرح اَپنے سرداروں کی رہنمائی میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں خدمت کرنے کے فرائض اَدا کرتے تھے۔
1CH 26:13 اَور اُنہُوں نے کیا چُھوٹے کیا ضعیف اَپنے اَپنے آبائی خاندانوں کے مُطابق بغیر کسی اِمتیاز کے یہ مَعلُوم کرنے کے لئے قُرعہ ڈالا کہ اُنہیں کس پھاٹک پر خدمت کرنی ہے۔
1CH 26:14 اَور قُرعہ کے ذریعے مشرقی پھاٹک کی ذمّہ داری شلمیہؔ کے نام نکلی۔ پھر اُس کے بیٹے زکریاؔہ کے لیٔے بھی جو ایک دانشمند مُشیر تھا قُرعہ کے ذریعے شمالی پھاٹک کے لیٔے کی ذمّہ داری نکلی۔
1CH 26:15 جُنوبی پھاٹک کے لیٔے قُرعہ عوبیدؔ اِدُوم کے نام نِکلا اَور مخزن کے لیٔے قُرعہ کے ذریعہ ذمّہ داری اُس کے بیٹوں کے نام نکلی۔
1CH 26:16 پھر قُرعہ شُپّیمؔ اَور حوساہؔ کے نام مغربی پھاٹک کے لئے ذمّہ داری نکلی کہ وہ شلِّکتؔ پھاٹک کے پاس چڑھائی کی سڑک پر،
1CH 26:17 مشرق کی طرف روزانہ چھ لیوی تھے، شمال کی طرف روزانہ چار، جُنوب کی طرف روزانہ چار، اَور مخزن پر ہر وقت دو مُقرّر تھے۔
1CH 26:18 اَور مغرب کے پھاٹک کی طرف جدھر صحن تھا اُس کے اَندر دو اَور باہر سڑک پر چار تھے۔
1CH 26:19 یہ دربانوں کے فریق تھے جو بنی قورحؔ اَور بنی مِراریؔ تھے۔
1CH 26:20 بنی لیوی میں سے اخیاہؔ خُدا کے گھر کے خزانوں اَور مخصُوص اَشیا کے خزانوں کا مختار تھا۔
1CH 26:21 اَور بنی لعدانؔ میں سے یہ تھے یعنی اُن گیرشون کی اَولاد تھے جو لعدانؔ کے نَسل سے تھے یعنی لعدانؔ اَور گیرشون کے آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے جِن میں سے ایک یحی ایلی تھا۔
1CH 26:22 یحی ایلی کے بیٹے زیتھامؔ اَور اِس کا بھایٔی یُوایلؔ۔ وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے خزانوں کے مختار تھے۔
1CH 26:23 عمرامیوں، اِضہاریوں، حِبرونیوں اَور عُزّی ایلیوں میں سے:
1CH 26:24 بنی شُوبائیلؔ سے گیرشوم بِن مَوشہ خزانوں پر مختار تھا۔
1CH 26:25 اَور اُس کے رشتہ دار الیعزرؔ کی جانِب سے اُس کا بیٹا رحابیّاہؔ اَور اُس کا بیٹا یَشعیاہ اَور اُس کا بیٹا یُورامؔ اَور اُس کا بیٹا زکریؔ اَور اُس کا بیٹا شلُومیتؔ۔
1CH 26:26 شلُومیتؔ اَور اُس کے رشتہ دار اُن تمام اَشیا کے خزانوں کے مختار تھے جو داویؔد بادشاہ نے اَور آبائی خاندانوں کے اُن سربراہوں نے جو ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کے اعلیٰ سرداروں اَور دیگر سپہ سالاروں نے نذر کی تھیں۔
1CH 26:27 اُنہُوں نے مالِ غنیمت میں سے کچھ حِصّہ بچا کر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت کے لیٔے وقف کیا تھا۔
1CH 26:28 اَورجو کچھ شموایلؔ غیب بین اَور شاؤل بِن قیشؔ، ابنیرؔ بِن نیرؔ اَور یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ نے مخصُوص کیا تھا اَور دُوسری تمام مخصُوص اَشیا شلُومیتؔ اَور اُس کے رشتہ داروں کی نِگرانی میں تھیں۔
1CH 26:29 اَور اِضہاریوں میں سے: قنانیاہؔ اَور اُس کے بیٹوں کو بیت المُقدّس سے باہر اِسرائیل پر حاکموں اَور قاضیوں کے فرائض اَنجام دینے کے لیٔے مُقرّر کیا گیا۔
1CH 26:30 حِبرونیوں میں سے: حشبیاہؔ اَور اُس کے رشتہ دار جو ایک ہزار سات سَو بہادر مَرد تھے یردنؔ کے پار مغرب کی طرف اِسرائیلیوں پر مُقرّر کئے گیٔے تاکہ وہ یَاہوِہ کے سَب کام اَور بادشاہ کی خدمت اَنجام دیں۔
1CH 26:31 حِبرونیوں میں سے: اُن کے آبائی خاندانوں کے نَسب ناموں کے دستاویزوں کے مُطابق یرِیاہؔ اُن کا سردار تھا۔ داویؔد کے دَورِ حُکومت کے چالیسویں بَرس میں اِن دستاویزوں کے مُطابق مَعلُوم ہُوا کہ گِلعادؔ میں یعزیرؔ کے مقام پر حِبرونیوں میں کیٔی لائق اِنسان مَوجُود ہیں۔
1CH 26:32 یرِیاہؔ کے دو ہزار سات سَو رشتہ دار تھے جو بڑے دِلیر اَور آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے اَور داویؔد بادشاہ نے اُنہیں رُوبِنیوں، گادیوں اَور منشّہ کے آدھے قبیلہ پر خُدا کے سارے کاموں اَور شاہی مُعاملات کا مختار مُقرّر کر دیا تھا۔
1CH 27:1 یہ فہرست اِسرائیلیوں کی ہے یعنی آبائی خاندانوں کے سربراہوں، ہزاروں اَور سینکڑوں کے سپہ سالاروں اَور اُن کے افسران کی ہے جو سال بھر اَپنی ماہانہ باری کے مُطابق آتے جاتے رہتے تھے اَور فَوجی دستوں سے متعلّق تمام اُمور میں بادشاہ کی خدمت کرتے تھے۔ ہر دستہ چوبیس ہزار جَوانوں پر مُشتمل تھا۔
1CH 27:2 یسُوبعامؔ بِن زبدیؔ ایل پہلے دستہ کا سربراہ تھا جسے پہلے مہینے میں خدمت کی ذمّہ داری سُپرد کی گئی تھی، اُس کے دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:3 وہ بنی پیریزؔ کے خاندان سے تھا اَور پہلے مہینے کے لیٔے تمام فَوج کے افسروں کا اعلیٰ افسر تھا۔
1CH 27:4 احُوحی دودائی دُوسرے مہینے کے لئے مُقرّر فَوجی دستے کا سپہ سالار تھا؛ اَور مِقلوتؔ اُس کے تابع تھا جو اُس کا ایک اہم افسر تھا۔ اُس کے دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:5 تیسرے مہینے کے لیٔے تیسرا فَوجی سپہ سالار بِنایاہؔ بِن یہُویدعؔ کاہِنؔ تھا۔ وہ سپہ سالارِ اعلیٰ تھا اَور اُس کے فَوجی دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:6 یہ وُہی بِنایاہؔ تھا جو تیسوں بہادروں میں سَب سے بڑا بہادر تھا۔ اُس کے بعد اُس کا بیٹا عمّیزابادؔ اُس دستے کے سپہ سالار کے طور پر مُنتخب تھا۔
1CH 27:7 چوتھے مہینے کے لیٔے چوتھا سپہ سالار یُوآبؔ کا بھایٔی عساہیلؔ تھا۔ اُس کے بعد اُس کا بیٹا زبدیاہؔ سپہ سالار تھا۔ اُس کے دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:8 پانچویں مہینے بنی اِضہارؔ کے خاندان سے پانچواں سپہ سالار شمہُوتؔ تھا اَور اُس کے دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:9 چھٹے مہینے کے لیٔے تقوعؔ کا باشِندہ عیراؔ بِن عقیشؔ تھا۔ اُس کے دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:10 ساتویں مہینے کے لیٔے ساتواں سپہ سالار بنی اِفرائیمؔ میں سے پلونی خلصؔ تھا۔ اُس کے دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:11 آٹھویں مہینے کے لیٔے آٹھواں سپہ سالار بنی زیراحؔ کی نَسل سے حُوشاتی سِبّکائی تھا۔ اُس کے دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:12 نویں مہینے کے لیٔے نواں سپہ سالار بنی بِنیامین میں سے عناتوت ابیعزیر تھا۔ اُس کے دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:13 دسویں مہینے کے لیٔے دسواں سپہ سالار بنی زیراحؔ کی نَسل سے نطُوفاتی مہرائی تھا۔ اُس کے دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:14 گیارھویں مہینے کے لیٔے گیارھواں سپہ سالار بنی اِفرائیمؔ میں سے فِرعاتونی بِنایاہؔ تھا۔ اُس کے دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:15 بارہویں مہینے کے لیٔے بارھواں سپہ سالار بنی عتنی ایل میں سے نطُوفاتی حلدائی تھا۔ اُس کے دستے میں چوبیس ہزار فَوجی تھے۔
1CH 27:16 بنی اِسرائیل کے قبیلوں کے سردار یہ تھے: بنی رُوبِنؔ پر الیعزرؔ بِن زکریؔ؛ بنی شمعُونی پر شفطیاہؔ بِن معکہؔ؛
1CH 27:17 بنی لیوی پر حشبیاہؔ بِن قمُوایلؔ؛ بنی اَہرونؔ پر صدُوقؔ؛
1CH 27:18 یہُوداہؔ پر، داویؔد کا ایک بھایٔی اِلیہُوؔ؛ یِسَّکاؔر پر عُمریؔ بِن مِیکاایلؔ؛
1CH 27:19 زبُولُون پر اِشماعیاہؔ بِن عبدیاہؔ؛ نفتالی پر یریموتؔ بِن عزری ایل؛
1CH 27:20 بنی اِفرائیمؔ پر ہوشِیعؔ بِن عززیاہؔ؛ منشّہ کے آدھے قبیلہ پر یُوایلؔ بِن پِدائیاہؔ؛
1CH 27:21 گِلعادؔ میں منشّہ کے آدھے قبیلہ پر عِدّوؔ بِن زکریاؔہ؛ بِنیامین پر یعسی ایل بِن ابنیرؔ؛
1CH 27:22 دانؔ پر عزرایلؔ بِن یروحامؔ؛
1CH 27:23 داویؔد نے بیس بَرس یا اُس سے کم عمر کے مَردوں کا شُمار نہ کیا کیونکہ یَاہوِہ کا وعدہ تھا کہ میں بنی اِسرائیل کو آسمان کے تاروں کی مانند بڑھاؤں گا۔
1CH 27:24 یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ نے مَردوں کی گِنتی کا کام شروع کیا لیکن اُسے ختم نہ کر پایا۔ وجہ یہ تھی کہ اُس گِنتی کے باعث اِسرائیل پر قہر نازل ہُوا اَور باقیوں کی تعداد داویؔد بادشاہ کی تاریخ کی کتابوں میں درج نہ ہُوئی۔
1CH 27:25 عزماوتؔ بِن عدی ایل شاہی مخزن پر مُقرّر تھا۔ اَور یُوناتانؔ بِن عُزّیاہؔ نواحی علاقوں، قصبوں، دیہات اَور چوکیوں کے گوداموں پر نِگران تھا۔
1CH 27:26 عزری بِن کلُوبؔ کاشتکاری کے لیٔے کھیتوں میں کام کرنے والوں پر مُقرّر تھا۔
1CH 27:27 راماتی شِمعیؔ انگوری باغات پر مُقرّر تھا۔ اَور شِفامی زبدیؔ انگوری باغ کی کاشتکاری کے لیٔے انگوری باغات کی پیداوار پر مُقرّر تھا۔
1CH 27:28 اَور بَعل حنانؔ گِدیری مغربی کوہِ دامن میں زَیتُون کے باغوں اَور گُولر کے درختوں پر مُقرّر تھا۔ اَور یُوآشؔ زَیتُون کا تیل فراہم کرنے پر مُقرّر تھا۔
1CH 27:29 اَور شارونی شطرائی شارونؔ علاقے کے گائے بَیلوں کے گلّوں پر مُقرّر تھا۔ اَور شافاطؔ بِن عدلائی وادیوں کے گلّوں پر مُقرّر تھا۔
1CH 27:30 اَور اوبِلؔ اِشمعیلی اُونٹوں پر مُختار مُقرّر تھا۔ اَور مِرونوتی یہدِیاہؔ گدھوں پر مُقرّر تھا۔
1CH 27:31 اَور ہاگریؔ یازِیزؔ بھیڑ بکریوں کے ریوڑوں پر مُختار مُقرّر تھا۔
1CH 27:32 اَور یُوناتانؔ داویؔد بادشاہ کا چچازاد جو کہ ایک دانشمند آدمی تھا بادشاہ کا کاتب اَور مُشیر تھا۔ اَور یحی ایل بِن حکمُونیؔ شہزادوں کا مُصاحب تھا۔
1CH 27:33 اَور اخِیتُفلؔ بادشاہ کا مُشیر تھا۔ اَور ارکی حُوشائی بادشاہ کا ہمراز تھا۔
1CH 27:34 اَور یہُویدعؔ بِن بِنایاہؔ اَور ابیاترؔ اخِیتُفلؔ کے بعد اُن کی جگہ پر مُصاحب مُقرّر ہُوئے۔ اَور یُوآبؔ شاہی فَوج کا سپہ سالارِ اعلیٰ تھا۔
1CH 28:1 اَور داویؔد بادشاہ نے بنی اِسرائیل کے تمام اُمرا کو یعنی بنی اِسرائیل کے قبیلوں کے افسران، بادشاہ کی مُلازمت میں، ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کے سرداروں، بادشاہ اَور اُس کے بیٹوں کے مال و مویشیوں پر مُقرّر اہلکاروں، نیز شاہی محل کے خواجہ سراؤں، سُورماؤں اَور جنگجو بہادروں کو یروشلیمؔ میں جمع کیا۔
1CH 28:2 تَب داویؔد بادشاہ اَپنے پاؤں پر اُٹھ کھڑے ہُوئے اَور فرمایا: ”اَے میرے بھائیوں اَور میرے لوگوں، میری سُنو! میرے دِل میں تھا کہ یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے لیٔے آرامگاہ اَور اَپنے خُدا کے قدموں کے لیٔے مسند بناؤں اَور مَیں نے اُس کی تعمیر کرنے کی تیّاری بھی کی تھی۔
1CH 28:3 لیکن خُدا نے مُجھ سے فرمایا، ’تُم میرے نام کے لیٔے گھر نہ بنانا کیونکہ تُم جنگجو مَرد ہو اَور تُم نے خُون بہایا ہے۔‘
1CH 28:4 ”تاہم یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا نے میرے تمام خاندان میں سے مُجھے ہمیشہ کے لیٔے بنی اِسرائیل کا بادشاہ ہونے کے واسطے مُنتخب کیا۔ خُدا نے بنی یہُوداہؔ کو رہنما ہونے کے لیٔے مُنتخب کیا اَور یہُوداہؔ کے گھرانے میں سے اُس نے میرے خاندان کو مُنتخب کیا اَور میرے باپ کے بیٹوں میں سے مُجھے تمام اِسرائیل کا بادشاہ مُقرّر کرنا پسند کیا۔
1CH 28:5 یَاہوِہ نے مُجھے بہت سے بیٹے دئیے ہیں اَور میرے سَب بیٹوں میں سے اُس نے میرے بیٹے شُلومونؔ کو بنی اِسرائیل پر یَاہوِہ کی بادشاہی کے تخت پر تخت نشین ہونے کے واسطے مُنتخب کیا۔
1CH 28:6 یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ’تمہارا بیٹا شُلومونؔ میرے گھر اَور میری بارگاہوں کی تعمیر کرےگا کیونکہ مَیں نے اُسے اَپنا بیٹا ہونے کے لیٔے مُنتخب کیا ہے اَور مَیں اُس کا باپ ہوں گا۔
1CH 28:7 اَور اگر وہ میرے اَحکام اَور قوانین پر عَمل کرنے میں ثابت قدم رہے جَیسا کہ آج کے دِن ہے تو مَیں اُس کی بادشاہی ہمیشہ تک قائِم رکھوں گا۔‘
1CH 28:8 ”پس اَب مَیں تمام اِسرائیل اَور یَاہوِہ کی جماعت کے رُوبرو اَور یَاہوِہ کی حُضُوری میں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ تُم محتاط ہوکر یَاہوِہ اَپنے خُدا کے سَب اَحکام پر عَمل کرو تاکہ تُم اِس اَچھّے مُلک کے وارِث بنے رہو اَور بطور مِیراث ہمیشہ کے لیٔے اُسے اَپنی اَولاد کے لیٔے چھوڑ جاؤ۔
1CH 28:9 ”اَور تُم اَے میرے بیٹے شُلومونؔ، اَپنے باپ کے خُدا کو پہچان اَور پُورے دِل و جان سے اُن کی خدمت کرو؛ کیونکہ یَاہوِہ سَب کے دِلوں کو جانچتے ہیں اَور ہر خیال اَور ہر اَندیشہ کو سمجھتے ہیں۔ اگر تُم اُنہیں ڈھونڈو تو وہ تُمہیں مِل جائیں گے؛ لیکن اگر تُم اُنہیں ترک کر دوگے تو وہ ہمیشہ کے لیٔے تُمہیں ردّ کر دیں گے۔
1CH 28:10 پس غور کرو کیونکہ یَاہوِہ نے تُمہیں مُنتخب کیا ہے کہ تُم پاک مَقدِس کے لیٔے ایک گھر کی تعمیر کرو۔ لہٰذا کمر باندھ لو اَور اِس کام کو اَنجام دو۔“
1CH 28:11 تَب داویؔد نے اَپنے بیٹے شُلومونؔ کو بیت المُقدّس کے برامدے، اُس کی عمارتوں، گوداموں، اُس کے بالائی حِصّوں، اَندرونی کمروں اَور کفّارہ گاہ کی جگہ کے نقشے دئیے۔
1CH 28:12 اَور بادشاہ نے اُسے اُن سَب چیزوں کے نقشے بھی دئیے جو پاک رُوح نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے صحنوں، اِردگرد کے حُجروں اَور خُدا کے بیت المُقدّس کے خزانوں اَور نذر کَردہ اَشیا کے خزانوں کے متعلّق اُن کے دِل میں ڈالے تھے۔
1CH 28:13 اَور بادشاہ نے اُسے کاہِنوں اَور لیویوں کے فریقوں اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں خدمت کرنے کے تمام کاموں نیزعبادت میں اِستعمال ہونے والی تمام اَشیا کے متعلّق ہدایات دیں۔
1CH 28:14 داویؔد نے ہر قِسم کی خدمت میں کام آنے والے سونے کے ظروف کے لیٔے سونے کا وزن مُقرّر کیا اَور چاندی کے ظروف کے لیٔے چاندی کا وزن مُقرّر کیا۔
1CH 28:15 اَور سونے کے چراغدان اَور اُن کے چراغوں کے لیٔے سونے کا وزن یعنی ہر چراغدان اَور اُس کے چراغ کا وزن اَور چاندی کے ہر چراغدان اَور اُس کے چراغ کا وزن ہر چراغدان کے اِستعمال کے مُطابق مُقرّر کیا۔
1CH 28:16 اَور نذر کی روٹی کی میزوں کے واسطے ہر سونے کی میز کے لیٔے سونے کا وزن، چاندی کی میزوں کے لیٔے چاندی کا وزن؛
1CH 28:17 کانٹوں، چھڑکنے والے پیالوں اَور صُراحیوں کے لیٔے خالص سونے کا وزن اَور سونے کی ہر ڈونگے کے لیٔے سونے کا وزن؛ چاندی کے ڈونگے کے لئے چاندی کا وزن
1CH 28:18 اَور بخُور کی قُربان گاہ کے لیٔے خالص سونے کا وزن۔ اَور داویؔد نے اُسے رتھ کا نقشہ بھی دیا جو اَیسا دِکھائی دیتا تھا گویا سونے کے کروبیم ہیں جو پر پھیلائے یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو ڈھانکے ہُوئے ہیں۔
1CH 28:19 داویؔد نے فرمایا، ”یَاہوِہ کا ہاتھ مُجھ پر تھا اَور اُنہُوں نے مُجھے سَب کچھ سمجھایا۔ اَب مَیں اِن سَب کاموں کی تفصیل لِکھ کر نقشوں سمیت تمہارے حوالے کرتا ہُوں۔“
1CH 28:20 اَور داویؔد نے اَپنے بیٹے شُلومونؔ سے یہ بھی فرمایا، ”مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو اَور اِس کام کو اَنجام دو۔ خوف نہ کرو اَور ہِراساں نہ ہو کیونکہ یَاہوِہ خُدا، میرے خُدا تمہارے ساتھ ہیں۔ اَور جَب تک یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی خدمت کا سارا کام پُورا نہ ہو جائے وہ تُمہیں نہ تو ہِراساں کریں گے، نہ ترک کریں گے۔
1CH 28:21 کاہِنوں اَور لیویوں کے تمام فریق خُدا کے بیت المُقدّس کی ساری خدمت کے لیٔے تیّار ہیں اَور ہر طرح کی دستکاری میں ماہر آدمی ہر کام میں بخُوشی تمہاری مدد کریں گے اَور تمام اُمرا اَور تمام لوگ تمہارا ہر حُکم بجا لائیں گے۔“
1CH 29:1 اَور داویؔد بادشاہ نے ساری جماعت سے فرمایا، ”خُدا نے فقط میرے بیٹے شُلومونؔ کو مُنتخب کیا ہے اَور وہ ابھی لڑکا ہے اَور ناتجربہ کار ہے۔ یہ کام بڑا ہے کیونکہ یہ شاندار عمارت اِنسان کے لیٔے نہیں بَلکہ یَاہوِہ خُدا کے لیٔے ہے۔
1CH 29:2 اَور جہاں تک مُجھ سے بَن پڑا مَیں نے اَپنے خُدا کے بیت المُقدّس کے لیٔے سونے کی چیزوں کے لیٔے سونا اَور چاندی کی چیزوں کے لیٔے چاندی، کانسے کی چیزوں کے لیٔے کانسا، لوہے کی چیزوں کے لیٔے لوہا، لکڑی کی چیزوں کے لیٔے لکڑیاں بھی کثیر تعداد میں جمع کرلی ہیں۔ مَیں نے اِن کے علاوہ عقِیق پتّھر اَور باقی بیش قیمتی پتّھر اَور پچّی کاری کے لیٔے رنگ برنگے کے سنگِ سُلیمانی اَور ہر قِسم کے بیش قیمت فیروزہ اَور سنگِ مرمر بکثرت فراہم کیا ہے۔
1CH 29:3 اِن سَب کے علاوہ میرے خُدا کے بیت المُقدّس میں میرا دِل لگے رہنے کی وجہ سے اَپنے خُود کے خزانے میں سے سونے اَور چاندی، میں اَپنے خُدا کے بیت المُقدّس کے واسطے دے رہا ہُوں۔ یہ اُن سَب چیزوں کے علاوہ ہیں جو مَیں نے پہلے ہی سے اُس بیت المُقدّس کے لیٔے مُہیّا کی ہیں۔
1CH 29:4 یعنی ایک لاکھ کِلو اوفیرؔ کا سونا اَور دو لاکھ پینتیس ہزار کِلو خالص چاندی، اَپنے خُدا کے بیت المُقدّس کی دیواروں پر منڈھنے کے لیٔے،
1CH 29:5 یہ سَب سونے اَور چاندی سے بننے والی دیگر اَشیا کے لیٔے دیتا ہُوں جو ماہر کاریگروں سے بنوائے جایٔیں گے۔ پس آپ لوگوں میں سے اَپنی دِلی خُوشی سے یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کرنے کے واسطے نذرانے لانے کے لئے کون تیّار ہے؟“
1CH 29:6 تَب آبائی خاندانوں کے سرداروں اَور بنی اِسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں، ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کے سرداروں اَور شاہی کام کے نِگران منصبداروں نے اَپنی خُوشی سے آمادگی ظاہر کی۔
1CH 29:7 اَور خُدا کے بیت المُقدّس کے کام کے لیٔے بنی اِسرائیل نے ایک سَو ستّر ٹن سونا اَور دس ہزار دِرہم سونے کے سِکّے؛ تین سو چالیس ٹن چاندی، چھ سو دس ٹن کانسے اَور تین ہزار چار سَو ٹن لوہا نذرانے میں دیا۔
1CH 29:8 اَور جِن کے پاس جواہر پتّھر تھے اُنہُوں نے اَپنے جواہر گیرشونی یحی ایل کے ہاتھ میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے خزانے کے لیٔے دے دئیے۔
1CH 29:9 لوگ بڑے خُوش ہُوئے کہ اُن کے سرداروں نے اَپنی دِلی خُوشی اَور پُوری رضامندی سے یَاہوِہ کے لیٔے دیا۔ اَور داویؔد بادشاہ بھی نہایت شادمان ہُوئے۔
1CH 29:10 تَب داویؔد نے تمام جماعت کی مَوجُودگی میں یہ کہتے ہُوئے یَاہوِہ کی تعریف کی، ”اَے یَاہوِہ ہمارے باپ اِسرائیل کے خُدا، آپ کی حَمد و سِتائش ابدُالآباد ہوتی رہے۔
1CH 29:11 اَے یَاہوِہ، عظمت، قُدرت، جلال، شان و شوکت، یعنی آسمان اَور زمین کی ہر چیز آپ ہی کا ہے۔ اَے یَاہوِہ بادشاہی بھی آپ ہی کی ہے؛ اَور بطور حاکم آپ ہی سَب پر سرفراز ہیں۔
1CH 29:12 اَور دولت اَور عزّت آپ کی طرف سے آتی ہیں؛ اَور آپ ہی سَب چیزوں پر حُکمران ہیں۔ اِختیار اَور قُدرت آپ ہی کے ہاتھ میں ہیں، اَور سَب کو توانائی اَور سرفرازی آپ ہی بخشتے ہیں۔
1CH 29:13 اِس لئے اَے ہمارے خُدا، ہم آپ کے شُکر گذار ہیں، اَور آپ کے جلالی نام کی تعریف کرتے ہیں۔
1CH 29:14 ”لیکن مَیں کون ہُوں اَور میرے لوگ کیا ہیں کہ اِس طرح فراخدلی سے دینے کے قابل ہوں؟ کیونکہ سَب چیزیں آپ ہی کی طرف سے ملتی ہیں اَورجو کچھ آپ کے ہاتھ سے ہمیں ملتا ہے اُسی میں سے ہم نے دیا ہے۔
1CH 29:15 کیونکہ ہم آپ کی نظر میں پردیسی اَور مُسافر ہیں جَیسے ہمارے آباؤاَجداد تھے اَور ہمارے دِن رُوئے زمین پر سایہ کی مانند بے قِیام ہیں۔
1CH 29:16 اَے یَاہوِہ ہمارے خُدا، یہ ساری چیزیں جو ہم نے جمع کی ہیں اِس لیٔے ہیں کہ آپ کے پاک نام کے لیٔے ایک بیت المُقدّس کی تعمیر کیا جائے۔ یہ ہمیں آپ ہی کے ہاتھ سے مِلی ہیں اَور اِن سَب کے مالک آپ ہی ہیں۔
1CH 29:17 اَے میرے خُدا، میں یہ بھی جانتا ہُوں کہ آپ دِل کو جانچتے ہیں اَور دیانتداری میں آپ کی خُوشنودی ہے۔ مَیں نے یہ تمام چیزیں اَپنی صدق دِلی اَور نیک نیّت سے دی ہیں اَور مُجھے یہ دیکھ کر بڑی مسرّت حاصل ہُوئی ہے کہ آپ کے لوگ جو یہاں حاضِر ہیں یہ سَب کچھ اَپنی خُوشی سے دے رہے ہیں۔
1CH 29:18 اَے یَاہوِہ، ہمارے آباؤاَجداد اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور اِسرائیل کے خُدا، اَپنے لوگوں کے دِل میں یہ خواہش ہمیشہ قائِم رکھیں تاکہ اُن کے دِل ہمیشہ آپ کی طرف مائل رہیں
1CH 29:19 اَور میرے بیٹے شُلومونؔ کو اَیسا کامل دِل عطا کریں کہ وہ آپ کے اَحکام، رسمیں اَور قوانین پر عَمل کرے اَور اِس عظیم بیت المُقدّس کی تعمیر کرائے جِس کے لیٔے مَیں نے یہ سَب تیّاری کی ہے۔“
1CH 29:20 تَب داویؔد نے تمام جماعت سے فرمایا کہ، ”یَاہوِہ اَپنے خُدا کو مُبارک کہو۔“ تَب سَب نے یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کی حَمد و تعریف کی اَور سَر جھُکا کر یَاہوِہ اَور بادشاہ کے آگے سَجدہ کیا۔
1CH 29:21 اَور اگلے دِن اُنہُوں نے یَاہوِہ کو ذبیحوں کی قُربانیاں اَور سوختنی نذریں گذرانیں یعنی ایک ہزار بَیل، ایک ہزار نر مینڈھے اَور ایک ہزار برّے اَور مے کی مشروبات نذر کے طور پر گذرانیں اَور بکثرت دیگر قُربانیاں گذرانی جو سارے اِسرائیل کے لیٔے تھیں۔
1CH 29:22 اَور اُنہُوں نے اُس دِن بڑی خُوشی کے ساتھ یَاہوِہ کی حُضُوری میں کھایا پیا۔ تَب اُنہُوں نے دُوسری مرتبہ داویؔد کے بیٹے شُلومونؔ کو بطور بادشاہ تسلیم کیا اَور اُسے حُکمران ہونے کے لئے صدُوقؔ کو کاہِنؔ ہونے کے لئے یَاہوِہ کی حُضُوری میں مَسح کیا۔
1CH 29:23 تَب شُلومونؔ یَاہوِہ کے تخت پر اَپنے باپ داویؔد کی جگہ بطور بادشاہ تخت نشین ہُوئے۔ وہ بڑے اِقبالمند ہُوئے اَور سارا اِسرائیل اُن کا مطیع ہُوا۔
1CH 29:24 تمام افسران اَور سُورماؤں، نیز داویؔد بادشاہ کے سَب بیٹوں نے شُلومونؔ بادشاہ کی اِطاعت کرنے کا عہد کیا۔
1CH 29:25 یَاہوِہ نے سارے اِسرائیل کی نظر میں شُلومونؔ کو بڑی سرفرازی بخشی اَور اُسے اَیسی شاہانہ شان و شوکت عطا کی جو اُس سے پہلے اِسرائیل میں کسی بادشاہ کو نصیب نہ ہوئی تھی۔
1CH 29:26 اَور داویؔد بِن یِشائی سارے اِسرائیل کے بادشاہ تھے۔
1CH 29:27 داویؔد نے چالیس بَرس تک اِسرائیل پر حُکمرانی کی یعنی سات سال حِبرونؔ میں اَور تینتیس سال یروشلیمؔ میں،
1CH 29:28 اَور داویؔد نے خُوب عمر رسیدہ ہوکر اَور دولت اَور عزّت سے آسُودہ ہوکر وفات پائی اَور اُس کا بیٹا شُلومونؔ بطور بادشاہ اُس کا جانشین ہُوا۔
1CH 29:29 اَور داویؔد بادشاہ کے دَورِ حُکومت کے شروع سے لے کر آخِر تک کے اہم واقعات غیب بین شموایلؔ نبی کی تاریخ میں، ناتنؔ نبی کی تاریخ میں اَور غیب بین گادؔ کی تاریخ میں قلم بند ہیں۔
1CH 29:30 یعنی اُن کی حُکومت اَور طاقت اَور اُن کے اَور اِسرائیل کے گِردوپیش کے واقعات اَور تمام دیگر مملکتوں کے حالات اُن میں تفصیل سے مندرج ہیں۔
2CH 1:1 اَور شُلومونؔ بِن داویؔد نے اَپنی مملکت میں مضبُوطی سے اَپنا تسلُّط قائِم کر لیا کیونکہ یَاہوِہ اُن کے خُدا اُن کے ساتھ تھے اَور یَاہوِہ نے شُلومونؔ کو بے اِنتہا عظمت عطا فرمائی۔
2CH 1:2 اَور شُلومونؔ نے تمام اِسرائیل یعنی ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کے سالاروں، قاضیوں اَور تمام اِسرائیل کے سربراہوں سے جو آبائی خاندانوں کے سردار تھے باتیں کیں۔
2CH 1:3 اَور شُلومونؔ ساری جماعت سمیت گِبعونؔ کے اُونچے مقام کی طرف روانہ ہُوئے کیونکہ خُدا کا خیمہ اِجتماع وہیں تھا جسے یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ نے بیابان میں تعمیر کیا تھا۔
2CH 1:4 لیکن خُدا کے صندُوق کو داویؔد قِریت یعریمؔ سے اُس مقام میں اُٹھا لائے تھے جو اُنہُوں نے صندُوق کے لئے تیّار کیا تھا کیونکہ داویؔد نے اُس کے لئے یروشلیمؔ میں ایک خیمہ کھڑا کیا تھا۔
2CH 1:5 لیکن کانسے کا وہ مذبح جسے بصل ایل بِن اوری بِن حُورؔ نے گِبعونؔ میں تعمیر کروایا تھا وہیں یَاہوِہ کے خیمہ اِجتماع کے آگے ہی تھا۔ پس شُلومونؔ اَور ساری جماعت نے اِس سے یَاہوِہ کی مرضی دریافت کی۔
2CH 1:6 اَور شُلومونؔ وہاں کانسے کے مذبح کے پاس یَاہوِہ کے حُضُور آئے جہاں خیمہ اِجتماع تھا اَور اُس پر ایک ہزار سوختنی نذریں گذرانیں۔
2CH 1:7 اُسی رات خُدا شُلومونؔ پر ظاہر ہُوئے، اَور اُن سے فرمایا کہ مانگو، جو کچھ تُم چاہتے ہو، ”میں تُمہیں دُوں اُسے مانگو۔“
2CH 1:8 شُلومونؔ نے خُدا سے اِلتجا کی، ”آپ نے میرے باپ داویؔد پر بڑی مہربانی کی اَور مُجھے اُن کی جگہ بادشاہ بنایا۔
2CH 1:9 اَب اَے یَاہوِہ! جو وعدہ آپ نے میرے باپ داویؔد سے کیا تھا اُس کی تصدیق کریں کیونکہ آپ نے مُجھے ایک اَیسی قوم کا بادشاہ بنایا ہے جو زمین کی خاک کے ذرّوں کی طرح کثرت سے ہے۔
2CH 1:10 چنانچہ مُجھے حِکمت و علم عنایت کریں، تاکہ میں اِس قوم کی رہنمائی کر سکوں کیونکہ آپ کی اِس عظیم قوم پر کون حُکومت کر سَکتا ہے؟“
2CH 1:11 تَب خُدا نے شُلومونؔ سے فرمایا، ”چونکہ یہ تمہاری دِلی تمنّا ہے اَور تُم نے نہ تو دولت، نہ مال، نہ عزّت، نہ اَپنے دُشمنوں کی موت مانگی اَور نہ عمر کی درازی طلب کی بَلکہ میری قوموں پر جِن پر مَیں نے تُمہیں بادشاہ بنایا ہے حُکمرانی کرنے کے لیٔے حِکمت و علم مانگا ہے،
2CH 1:12 اِس لیٔے حِکمت و علم تُمہیں عطا کی جائے گی اَور مَیں تُمہیں مال و دولت اَور عزّت بھی بخشوں گا، اِس قدر کہ نہ تُم سے پہلے کسی بادشاہ کو کبھی نصیب ہُوئی اَور نہ تمہارے بعد کسی کو نصیب ہوگی۔“
2CH 1:13 پھر شُلومونؔ گِبعونؔ کے اُونچے ٹیلے سے یعنی خیمہ اِجتماع کے آگے سے یروشلیمؔ کو واپس لَوٹ آئے اَور اِسرائیل پر حُکومت کرنے لگے۔
2CH 1:14 اَور شُلومونؔ نے رتھ اَور گھوڑے جمع کئے۔ یُوں اُن کے پاس ایک ہزار چار سَو رتھ اَور بَارہ ہزار گھوڑے تھے جنہیں بادشاہ نے رتھ کے شہروں میں اَور یروشلیمؔ میں اَپنے پاس بھی رکھا۔
2CH 1:15 اَور بادشاہ نے یروشلیمؔ میں چاندی اَور سونے کو پتّھروں کی مانند عام کر دیا اَور دیودار کو دامن کوہِ کے گُولر کے درختوں کو اَنجیر کے درختوں کی طرح فراواں کر دیا۔
2CH 1:16 شُلومونؔ کے گھوڑے مِصر اَور کِلکِیؔہ سے درآمد کئے جاتے تھے۔ شاہی سوداگر اُنہیں کِلکِیؔہ سے مَوجُودہ قیمت پر خریدتے تھے۔
2CH 1:17 وہ مِصر سے ایک رتھ چاندی کے چھ سَو ثاقل میں اَور ایک گھوڑا ایک سَو پچاس ثاقل میں مِصر سے درآمد کرتے تھے اَور اُنہیں حِتّیوں اَور ارامیوں کے تمام بادشاہوں کو بھی برآمد کرتے تھے۔
2CH 2:1 اَور شُلومونؔ نے یَاہوِہ کے نام کے لیٔے ایک بیت المُقدّس اَور اَپنے لیٔے ایک محل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔
2CH 2:2 شُلومونؔ نے ستّر ہزار آدمی بطور بردار اَور اسّی ہزار آدمی پہاڑوں میں پتّھر کاٹنے کے لیٔے اَور تین ہزار چھ سَو آدمی اُن پر نِگرانی کے لیٔے مُنتخب کئے۔
2CH 2:3 اَور شُلومونؔ نے صُورؔ کے بادشاہ حِیرامؔ کو یہ پیغام بھیجا: ”جَیسے آپ نے میرے باپ داویؔد کے لئے دیودار کی لکڑی بھیجی تھی تاکہ وہ اَپنے لیٔے ایک محل کی تعمیر کرا سکیں، وَیسے ہی دیودار کی لکڑی مُجھے بھی بھیجیں۔
2CH 2:4 کیونکہ اَب مَیں یَاہوِہ اَپنے خُدا کے نام کے لیٔے ایک بیت المُقدّس تعمیر کرنے والا ہُوں تاکہ اُن کے لئے مخصُوص کروں اَور اُن کے آگے خُوشبودار مَسالے کا بخُور جَلاؤں اَور وہ سَبتوں، نئے چاندوں اَور یَاہوِہ ہمارے خُدا کی مُقرّرہ عیدوں پر دائمی نذر کی روٹی اَور صُبح اَور شام کی سوختنی نذروں کے لئے ہو کیونکہ یہ اِسرائیل کے لیٔے دائمی فرمان ہے۔
2CH 2:5 ”اَور وہ بیت المُقدّس جو میں تعمیر کرنے کو ہُوں عظیمُ الشّان ہوگا کیونکہ ہمارے خُدا دیگر سَب معبُودوں سے عظیم ہیں۔
2CH 2:6 لیکن کون ہے جو اُن کے لیٔے بیت المُقدّس تعمیر کر سکے؟ وہ آسمان بَلکہ سَب سے اُونچے آسمانوں میں بھی سما نہیں سکتے۔ تو اَچھّا مَیں کون ہُوں جو اُن کے حُضُور آتِشی قُربانیاں گذراننے کے سِوا کسی اَور خیال سے اُن کے لیٔے بیت المُقدّس تعمیر کر سکوں؟
2CH 2:7 ”اِس لیٔے میرے پاس ایک اَیسا آدمی بھیجیں جو سونے اَور چاندی، کانسے اَور لوہے اَور اَرغوانی، قِرمزی اَور نیلے کپڑے کے کام میں ماہر ہو اَور فن نقّاشی کا بھی تجربہ رکھتا ہو، تاکہ وہ یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ میں میرے ماہر کاریگروں کے ساتھ کام کرے جنہیں میرے باپ داویؔد نے مُقرّر کیا ہے۔
2CH 2:8 ”اَور لبانونؔ سے دیودار، صنوبر اَور صندل کے لٹّھے بھی مُجھے بھیجیں کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ آپ کے خادِم وہاں لکڑی کاٹنے میں ماہر ہیں اَور میرے خادِم آپ کے خادِموں کے ساتھ کام کریں گے،
2CH 2:9 اَور میرے لئے بہت سِی لکڑی مُہیّا کریں گے کیونکہ وہ بیت المُقدّس جو میں تعمیر کرنے کو ہُوں وہ عظیم اَور عالیشان ہوگا۔
2CH 2:10 اَور مَیں تمہارے خادِموں یعنی لکڑی کاٹنے والوں کو بیس ہزار کور گیہُوں اَور بیس ہزار کور جَو، بیس ہزار بَت انگور کا شِیرہ اَور بیس ہزار بَت زَیتُون کا تیل دُوں گا۔“
2CH 2:11 تَب شاہِ صُورؔ حِیرامؔ نے بذریعہ خط شُلومونؔ کو جَواب دیا: ”چونکہ یَاہوِہ اَپنے لوگوں سے مَحَبّت کرتے ہیں اِس لیٔے اُنہُوں نے آپ کو اُن کا بادشاہ مُقرّر کیا ہے۔“
2CH 2:12 اَور حِیرامؔ نے یہ بھی کہا: ”بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کی سِتائش ہو جنہوں نے آسمان اَور زمین کو خلق کیا، اُنہُوں نے داویؔد بادشاہ کو ایک دانا بیٹا بخشا ہے جو فہم و فراست سے معموُر ہے تاکہ وہ یَاہوِہ کے لیٔے ایک بیت المُقدّس اَور اَپنے واسطے ایک شاہی محل کی تعمیر کروائے۔
2CH 2:13 ”میں حُورامؔ اَبی کو آپ کے پاس بھیج رہا ہُوں جو کہ بڑا ہُنرمند آدمی ہے۔
2CH 2:14 جِس کی ماں دانؔ کے قبیلہ سے تھی اَور جِس کا باپ صُورؔ کا باشِندہ تھا۔ وہ سونے اَور چاندی، کانسے اَور لوہے، پتّھر اَور لکڑی کے کام میں اَور اَرغوانی، نیلے، قِرمزی اَور نفیس کتانی کپڑے کے کام میں ماہر ہے اَور ہر طرح کی نقّاشی میں تجربہ کار ہے اَور ہر کام کر سَکتا ہے۔ وہ آپ کے کاریگروں اَور میرے آقا آپ کے والد داویؔد کے کاریگروں کے ساتھ کام کر چُکے ہیں۔
2CH 2:15 ”چنانچہ اَب میرے آقا! اَپنے وعدہ کے مُطابق اَپنے خادِموں کے لیٔے گیہُوں، جَو، زَیتُون کا تیل اَور انگوری شِیرہ بھیج دیجئے۔
2CH 2:16 اَور جِتنی لکڑی آپ کو درکار ہے ہم لبانونؔ سے کاٹیں گے اَور اُن کے بیڑے بنوا کر سمُندری راستے سے آپ کے پاس یافؔا پہُنچائیں گے۔ پھر آپ اُنہیں وہاں سے یروشلیمؔ لے جا سکتے ہیں۔“
2CH 2:17 اَور شُلومونؔ نے اِسرائیل میں رہنے والے تمام پردیسیوں کی مردُم شماری کی جَیسا کہ اُس کے باپ داویؔد نے کی تھی اَور وہ ایک لاکھ ترپن ہزار چھ سَو پایٔے گیٔے۔
2CH 2:18 اَور شُلومونؔ نے اُن میں سے ستّر ہزار کو بار برداری اَور اسّی ہزار کو پہاڑوں میں پتّھر کاٹنے کے لیٔے اَور تین ہزار چھ سَو کو کام کروانے کے لیٔے بطور نِگران مُقرّر کیا۔
2CH 3:1 پھر شُلومونؔ نے یروشلیمؔ میں کوہِ موریاہؔ پر یَاہوِہ کا بیت المُقدّس تعمیر کروانا شروع کیا یہ وُہی جگہ تھی جہاں یَاہوِہ نے اُس کے باپ داویؔد پر خُود کو یبُوسی اُرنانؔ کے کھلیان میں ظاہر کیا تھا۔ یہ جگہ داویؔد نے بیت المُقدّس کے واسطے تیّار کرکے مُقرّر کی تھی۔
2CH 3:2 شُلومونؔ نے اَپنے دَورِ حُکومت کے چوتھے سال کے دُوسرے مہینے کی دُوسری تاریخ کو بیت المُقدّس کی تعمیر کا کام شروع کیا۔
2CH 3:3 اَورجو بُنیاد شُلومونؔ نے خُدا کے بیت المُقدّس کو تعمیر کے لیٔے ڈالی وہ اِس طرح ہے: قدیم زمانے کی پیمائش کے مُطابق بیت المُقدّس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ اَور چوڑائی بیس ہاتھ تھی۔
2CH 3:4 اَور بیت المُقدّس کے سامنے کے برامدے کی لمبائی خُدا کے بیت المُقدّس کے برابر تھی اَور اُس کی لمبائی بیس ہاتھ چوڑائی اُونچائی بیس ہاتھ۔ اَور شُلومونؔ نے اُسے اَندر سے خالص سونے سے منڈھوایا تھا۔
2CH 3:5 بادشاہ نے بڑے کمرے کی چھت صنوبر کے تختوں سے پَٹوائی اَور اُسے خالص سونے سے منڈھوایا اَور کھجور کے درختوں اَور زنجیروں کے نقوش سے اُسے آراستہ کیا۔
2CH 3:6 شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کو بیش قیمتی جواہرات سے مُزیّن کیا اَورجو سونا بادشاہ نے اِستعمال کیا وہ پروائِمؔ نامی جگہ سے منگوایا گیا تھا۔
2CH 3:7 شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کی چھت، سُتونوں، دروازوں کے چوکھٹوں، دیواروں اَور کواڑوں کو سونے سے منڈھوایا اَور دیواروں پر کروبیوں کی صورت کندہ کی۔
2CH 3:8 شُلومونؔ نے بیت المُقدّس میں پاک ترین مقام کے واسطے ایک کمرہ بنوایا جِس کی لمبائی اَور چوڑائی بیت المُقدّس کی چوڑائی کے برابر یعنی بیس بیس ہاتھ تھی۔ اَور اُنہُوں نے اُس کمرہ کو بیس ہزار کِلو خالص سونے سے منڈھوایا۔
2CH 3:9 اَور سونے کی کیلوں کا وزن جو اِستعمال کے لئے بنے تھے تقریباً آدھا کِلو کا تھا۔ اَور اُنہُوں نے اُس کے بالائی حُجروں کو بھی سونے سے منڈھوایا۔
2CH 3:10 پاک ترین مقام میں شُلومونؔ نے دو کروبیوں کے مُجسّمے ڈھال کر بنوائے اَور اُنہیں سونے سے منڈھوایا۔
2CH 3:11 اَور کروبیوں کے پھیلے ہُوئے پروں کا درمیانی فاصلہ بیس ہاتھ کا تھا۔ پہلے کروبی کا ایک پر پانچ ہاتھ لمبا تھا جو بیت المُقدّس کی دیوار کو چھُو رہاتھا، جَب کہ اُس کا دُوسرا پر بھی جو پانچ ہاتھ لمبا تھا اَور دُوسرے کروبی کے پر کو چھُو رہاتھا۔
2CH 3:12 اِسی طرح دُوسرے کروبی کا ایک پر پانچ ہاتھ لمبا تھا اَور بیت المُقدّس کی دُوسری دیوار کو چھُو رہاتھا۔ اَور اُس کا دُوسرا پر بھی پانچ ہاتھ لمبا تھا اَور پہلے کروبی کے پر کو چھُو رہاتھا۔
2CH 3:13 اِن دونوں کروبیوں کے پھیلے ہُوئے پروں کی لمبائی بیس ہاتھ تھی اَور وہ اَپنے پاؤں پر کھڑے تھے اَور اُن کے چہرے عمارت کے خاص کمرے کی طرف کئے ہُوئے تھے۔
2CH 3:14 اَور شُلومونؔ نے ایک پردہ بنوایا جو نیلے، اَرغوانی اَور سُرخ کپڑے اَور مہین کتان کا تھا اَور اُس پر کروبی کڑھے ہُوئے تھے۔
2CH 3:15 اَور بیت المُقدّس کے سامنے اُس نے دو سُتون بنائے جِن کی اُونچائی پینتیس ہاتھ ‏تھی اَور ہر ایک سُتون کا بالائی تاج نُما حِصّہ پیمائش میں پانچ ہاتھ تھا۔
2CH 3:16 اَور شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کے سامنے ہار نُما زنجیریں بنوائیں اَور اُنہیں سُتونوں کے سِروں پر لگوایا۔ پھر بادشاہ نے سَو انار بنوا کر اُنہیں زنجیروں میں لگا دیا۔
2CH 3:17 اَور شُلومونؔ نے بیت المُقدّس کے سامنے سُتون بھی بنوائے۔ ایک جُنوب کی طرف اَور ایک شمال کی طرف۔ اُنہُوں نے جُنوبی سُتون کا نام یاکِن اَور شمال کی طرف والے سُتون کا نام بُوعزؔ رکھّا۔
2CH 4:1 اِس کے بعد شُلومونؔ نے کانسے کا ایک مذبح بنوایا جِس کی لمبائی اَور چوڑائی برابر یعنی بیس ہاتھ تھی اَور اِس کی اُونچائی دس ہاتھ تھی۔
2CH 4:2 پھر شُلومونؔ نے ڈھالی ہُوئی دھات کا پانی کا ایک بڑا حوض بنوایا جِس کی شکل گول تھی اَورجو ایک کنارے سے دُوسرے کنارے تک دس ہاتھ اَور اُونچا پانچ ہاتھ تھا اَور پیمائش کے لحاظ سے اُس کا گھیرا تیس ہاتھ تھا۔
2CH 4:3 اِس پانی کے کنارے کے نیچے اَور اِس کے چاروں طرف بَیلوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں جو ایک ہاتھ کے اَندر بَیلوں کی دس صورتیں پُورے حوض کو گھیرے ہُوئے تھیں۔ اِن بَیلوں کی صورتیں اُس بڑے حوض کے ساتھ ہی دو قطاروں میں ڈھالی گئی تھیں۔
2CH 4:4 اَور یہ حوض کانسے کے بَارہ بَیلوں کے اُوپر رکھّا گیا تھا؛ جِن میں سے تین کا مُنہ شمال کی طرف، تین کا مغرب، تین کا جُنوب اَور تین کا مشرق کی طرف تھا۔ حوض اُن کے سِروں پر ٹِکا ہُوا تھا اَور اُن کے پیچھے والے دھڑ اَندر کی طرف تھے۔
2CH 4:5 اِس حوض کے دھات کی موٹائی تقریباً چار اُنگل تھی اَور اُس کا کنارہ پیالہ کے کنارے کی طرح شُوشنؔ کے پھُول کی مانند تھا۔ اَور اُس حوض میں تین ہزار بَت پانی کی گنجائش تھی۔
2CH 4:6 پھر شُلومونؔ نے دھونے کے لیٔے دس چُھوٹی چلمچیاں بنوائیں جِن میں سے پانچ کو شُلومونؔ نے جُنوب اَور پانچ کو شمال کی طرف رکھا، جِن کا کام سوختنی نذروں میں اِستعمال ہونے والی اَشیا کو دھونا تھا مگر وہ بڑا حوض کاہِنوں کے غُسل کے لیٔے تھا۔
2CH 4:7 شُلومونؔ نے اُن ہدایات کے مُطابق جو اُسے مِلی تھیں سونے کے دس چراغدان بنوائے اَور اُنہیں بیت المُقدّس میں رکھا۔ پانچ جُنوب کی طرف اَور پانچ شمال کی طرف رکھے گیٔے۔
2CH 4:8 شُلومونؔ نے دس میزیں بھی بنوائیں اَور اُنہیں بیت المُقدّس میں رکھا۔ پانچ کو جُنوب کی طرف اَور پانچ کو شمال کی طرف اَور شُلومونؔ نے سونے کے ایک سَو پیالے بھی بنوائے جو چھڑکاؤ کرنے کے کام میں آتے تھے۔
2CH 4:9 اِس کے بعد شُلومونؔ نے کاہِنوں کے واسطے ایک صحن اَور ایک بہت بڑا صحن اَور اُن کے لئے دروازوں کو بھی بنوایا اَور اِن کے دروازوں کو کانسے سے منڈھوایا۔
2CH 4:10 شُلومونؔ نے بڑے حوض کو جُنوبی مشرقی کونے میں قائِم کر دیا۔
2CH 4:11 حُورامؔ اَبی نے برتن، بیلچے اَور چھڑکاؤ کرنے کے پیالے بھی بنوائے۔ حُورامؔ اَبی نے بادشاہ شُلومونؔ کے لئے خُدا کے بیت المُقدّس کی تعمیر و ساخت کا سارا کام پُورا کر دیا۔
2CH 4:12 دو سُتون؛ اَور اُن دونوں سُتونوں کے اُوپر پیالہ نُما بالائی تاج؛ اَور اُن سُتونوں کے سِروں پر دونوں پیالہ نُما حِصّوں کو ڈھانکنے کے لیٔے دو جوڑی جالیاں؛
2CH 4:13 اَور دونوں جالیوں کے لیٔے چار سَو انار (یعنی ہر جالی کے لیٔے اناروں کی دو دو قطاریں، سُتونوں کے سِروں پر پیالہ نُما بالائی حِصّہ کو سجانے کے لیٔے لگائی گئیں)؛
2CH 4:14 بادشاہ نے چوکیاں بنوائیں اَور اُن پر رکھنے کے لئے چلمچیاں بھی بنوائیں؛
2CH 4:15 بڑا حوض اَور اُس کے نیچے بَارہ بَیل؛
2CH 4:16 برتن، بیلچے، کانٹے اَور اِن سے تعلّق رکھنے والے دیگر ظروف۔ اَور تمام اَشیا جو حُورامؔ اَبی نے شُلومونؔ بادشاہ کے حُکم سے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے لیٔے بنوائیں وہ چمکدار کانسے کی تھیں۔
2CH 4:17 اَور بادشاہ نے اِن کی ڈھلایٔی یردنؔ کے میدان میں سُکّوتؔ اَور ضِرِداہؔ کے درمیان پائی جانے والی مٹّی کے سانچوں میں ڈھلوائی۔
2CH 4:18 یہ تمام ظروف جو شُلومونؔ نے بنوائے اِتنے زِیادہ تھے کہ اُن کا وزن تعیُّن نہ ہو سَکا۔
2CH 4:19 اَور شُلومونؔ نے اُن تمام سازوسامان کو بھی جو خُدا کے بیت المُقدّس میں تھا بنوایا: یعنی سونے کا مذبح؛ اَور میزیں جِن پر نذر کی روٹی رکھی جاتی تھی؛
2CH 4:20 اَور خالص سونے کے چراغدان اَور اُن کے اُوپر رکھے جانے والے چراغ، تاکہ وہ حسبِ دستور اَندرونی پاک مَقدِس کے سامنے جلتے رہیں؛
2CH 4:21 اَور سونے کے پھُول، چراغ چِمٹے، اَور برتن؛
2CH 4:22 اَور گُلگیر، چھڑکاؤ کرنے کے پیالے، ڈونگے اَور بخُوردان، یہ سَب خالص سونے کے تھے اَور بیت المُقدّس کے سونے کے دروازے یعنی پاک ترین مقام کے اَندرونی دروازے اَور بڑے کمرے کے دروازے، یہ سَب خالص سونے کے بنے تھے۔
2CH 5:1 اِس طرح یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کا سارا کام، جو شُلومونؔ نے شروع کیا تھا وہ مُکمّل ہو گیا۔ تَب وہ اَپنے باپ داویؔد کی مخصُوص اَشیا یعنی چاندی اَور سونا اَور تمام سازوسامان کو اَندر لے آئے اَور اُنہیں خُدا کے بیت المُقدّس کے خزانوں میں جمع کر دیا۔
2CH 5:2 تَب شُلومونؔ نے یروشلیمؔ میں بنی اِسرائیل کے سَب بُزرگوں اَور قبیلوں کے سَب سردار اَور بنی اِسرائیل کے آبائی خاندانوں کے سرداروں کو طلب کیا تاکہ وہ یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو داویؔد کے شہر صِیّونؔ سے لے آئیں۔
2CH 5:3 اَور تمام بنی اِسرائیل کے لوگ ساتویں مہینے میں عید کے موقع پر جمع ہوکر بادشاہ کے پاس حاضِر ہُوئے۔
2CH 5:4 اَور جَب بنی اِسرائیل کے سَب بُزرگ آ گئے تو لیویوں نے یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو اُٹھایا۔
2CH 5:5 اَور وہ اَپنے ساتھ صندُوق، خیمہ اِجتماع کو اَور اُس کے تمام مُقدّس اَشیا کو لے آئے۔ یہ سَب کاہِنؔ جو لیوی تھے اُنہیں اُٹھاکر لایٔے۔
2CH 5:6 بادشاہ شُلومونؔ اَور بنی اِسرائیل کی تمام جماعت نے جو اُس وقت اُن کے ساتھ وہاں صندُوق کے سامنے جمع ہوئی تھی اَور صندُوق کے آگے اِس کثرت سے بھیڑ، بکریاں اَور بَیل ذبح کر رہے تھے کہ اُن کا شُمار کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔
2CH 5:7 پھر کاہِنوں نے یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کو اُس کی مُقرّرہ جگہ یعنی پاک مَقدِس کے اَندرونی پاک ترین مقام میں کروبیم کے پروں کے نیچے لاکر رکھ دیا۔
2CH 5:8 اَور کروبی اَپنے پروں کو عہد کے صندُوق کی جگہ کے اُوپر پھیلائے ہُوئے تھے اَور یُوں صندُوق اَور اُس کو اُٹھانے والی بَلّیوں کو ڈھانکے ہُوئے تھے۔
2CH 5:9 اَور یہ بَلّیئیں اِس قدر لمبی تھیں کہ اُن کے سِرے جو اَندرونی پاک مَقدِس کے صندُوق سے باہر نکلے ہُوئے تھے لیکن اَندرونی پاک مقام کے سامنے سے دیکھے جا سکتے تھے مگر اِس کے باہر سے نہیں۔ اَور وہ آج کے دِن تک اُسی حالات میں وہیں ہیں۔
2CH 5:10 اَور عہد کے صندُوق میں اُن دو تختیوں کے سِوا اَور کچھ نہ تھا جنہیں کوہِ حورِبؔ پر مَوشہ نے اُس وقت رکھا تھا جَب مِصر سے نکلنے کے بعد یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل سے عہد باندھا تھا۔
2CH 5:11 تَب کاہِنؔ پاک مقام سے باہر نکل آئے اَور تمام کاہِنوں نے جو وہاں تھے خواہ وہ کسی بھی فریق سے تھے اُنہُوں نے اَپنے آپ کو پاک صَاف کیا۔
2CH 5:12 تمام لیوی جو موسیقار تھے یعنی آسفؔ، ہیمانؔ اَور یدُوتونؔ اَور اُن کے بیٹے اَور رشتہ دار نفیس کتانی کپڑے پہنے اَور ہاتھوں میں جھانجھ، سِتار اَور بربط لیٔے ہُوئے مذبح کے مشرق کی طرف کھڑے تھے اَور اُن کے ساتھ ایک سَو بیس کاہِنؔ تھے جو نرسنگے پھُونک رہے تھے۔
2CH 5:13 اَور نرسنگے پھُونکنے والے اَور گانے والے مِل کر یَاہوِہ کی حَمد اَور شُکر گزاری کرنے کے لیٔے تیّار ہُوئے اَور نرسنگوں اَور جھانجھوں اَور دیگر سازوں کے ہمراہ یَاہوِہ کی حَمد و ثنا یہ کہتے ہُوئے کرنے لگے: ”وہ بھلےہیں؛ اُن کی شفقت اَبدی ہے۔“ جوں ہی اُن کی آوازیں بُلند ہُوئیں یَاہوِہ کا وہ بیت المُقدّس بادلوں سے معموُر ہو گیا،
2CH 5:14 یہاں تک کہ کاہِنؔ بادلوں کے باعث اَپنی خدمت اَنجام دینے کے لیٔے وہاں کھڑے نہ رہ سکے۔ کیونکہ یَاہوِہ خُدا نے اَپنے جلال سے پُورے بیت المُقدّس کو معموُر کر دیا تھا۔
2CH 6:1 تَب شُلومونؔ نے کہا، ”یَاہوِہ نے فرمایاہے وہ سیاہ گھنے بادل میں سکونت کریں گے؛
2CH 6:2 مَیں نے آپ کے لئے ایک شاندار بیت المُقدّس تعمیر کروایاہے تاکہ آپ اُس میں تا اَبد تک سکونت کریں۔“
2CH 6:3 جَب بنی اِسرائیل کی ساری جماعت وہاں کھڑی تھی تو بادشاہ نے اُن کی طرف مُخاطِب ہوکر اُنہیں برکت دی۔
2CH 6:4 اَور بادشاہ نے فرمایا: ”بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کی سِتائش ہو جنہوں نے میرے باپ داویؔد سے اَپنے مُنہ سے کئےگئے وعدہ کو اَپنے ہاتھوں سے پُورا کر دیا ہے کیونکہ اُنہُوں نے فرمایا تھا،
2CH 6:5 ’جِس دِن سے میں اَپنے لوگوں کو مِصر سے باہر نکال لایا تَب سے مَیں نے اِسرائیل کے کسی قبیلہ میں نہ تو کسی اَیسے شہر کا اِنتخاب کیا جہاں میرے لیٔے ایک اَیسا بیت المُقدّس تعمیر کیا جائے تاکہ وہاں میرا نام جلال پائے؛ اَور نہ ہی مَیں نے کسی شخص کا اِنتخاب کیا ہے کہ وہ میری قوم اِسرائیل پر حاکم ہو؛
2CH 6:6 لیکن اَب مَیں نے یروشلیمؔ کا اِنتخاب کیا ہے کہ وہاں میرا نام جلال پائے اَور اَپنی قوم اِسرائیل پر حُکمرانی کرنے کے لیٔے مَیں نے داویؔد کا اِنتخاب کیا ہے۔‘
2CH 6:7 ”میرے باپ داویؔد کی دِلی تمنّا تھی کہ وہ اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے نام کے لیٔے ایک بیت المُقدّس تعمیر کرایٔیں۔
2CH 6:8 لیکن یَاہوِہ نے میرے باپ داویؔد سے فرمایا، ’تمہارے دِل میں میرے نام کے لیٔے ایک بیت المُقدّس تعمیر کرنے کا خیال آنا، یقیناً بہت ہی عُمدہ ہے۔
2CH 6:9 تاہم وہ بیت المُقدّس تُم نہیں بَلکہ تمہارا بیٹا جو تُم سے پیدا ہوگا، وُہی میرے نام کے جلال کے لیٔے بیت المُقدّس تعمیر کروائے گا۔‘
2CH 6:10 ”آج یَاہوِہ نے اَپنے وعدے کو پُورا کر دیا ہے۔ مَیں اَپنے باپ داویؔد کا جانشین ہُوں اَور اَب بنی اِسرائیل کے تخت پر عَین یَاہوِہ کے وعدہ کے مُطابق تخت نشین ہُوں۔ اَور مَیں نے بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے نام کے جلال کی خاطِر اِس بیت المُقدّس کی تعمیر کروائی ہے۔
2CH 6:11 اَور مَیں نے اِس بیت المُقدّس میں اُس صندُوق کو رکھ دیا ہے جِس میں یَاہوِہ کا وہ عہد ہے جو اُنہُوں نے بنی اِسرائیل سے کیا تھا۔“
2CH 6:12 اِس کے بعد شُلومونؔ بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کے سامنے یَاہوِہ کے مذبح کے آگے کھڑے ہُوئے اَور اَپنے ہاتھ پھیلائے۔
2CH 6:13 شُلومونؔ نے کانسے کا ایک مِنبر بنوایا تھا جو پانچ ہاتھ لمبا، سَوا دو میٹر چوڑا اَور تین ہاتھ اُونچا تھا، جسے اُس نے بیرونی صحن کے وَسط میں قائِم کیا تھا۔ وہ اُس مِنبر پر کھڑے ہُوئے اَور پھر بنی اِسرائیل کی ساری جماعت کے سامنے اُس پر گھُٹنے ٹیکے اَور آسمان کی طرف اَپنے ہاتھ پھیلائے۔
2CH 6:14 اَور شُلومونؔ نے دعا کی: ”اَے یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا، آپ کی مانند نہ تو اُوپر آسمان میں اَور نہ نیچے زمین پر کویٔی خُدا ہے۔ جو اَپنے اُن خادِموں پر اَپنی بے پناہ مَحَبّت ظاہر کرتے اَور اَپنے عہد کو پُورا کرتے ہیں، جو پُورے دِل سے آپ کی راہ پر چلتے ہیں۔
2CH 6:15 آپ نے اَپنے خادِم میرے باپ داویؔد کے ساتھ کیا ہُوا اَپنا وعدہ پُورا کیا ہے۔ آج آپ نے اَپنے مُنہ کے کلام کو اَپنے ہاتھ سے پُورا کر دیا ہے جَیسا کہ آج کے دِن ظاہر ہے۔
2CH 6:16 ”چنانچہ اَب اَے یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا، آپ اَپنے خادِم میرے باپ داویؔد کے ساتھ کیٔے گیٔے اَپنے اُن وعدوں کو بھی پُورا کرنا جو آپ نے داویؔد سے کیا تھا، ’میرے حُضُور اِسرائیل کے تخت پر بیٹھنے والے جانشین اَشخاص کی کبھی کمی نہ ہوگی، اگر تمہارا خاندان میرے آئین کے مُطابق احتیاط سے ٹھیک اُسی طرح چلے جَیسا کہ تُم پُورے دِل سے میرے پیچھے چلتےہو۔‘
2CH 6:17 پس اَب اَے یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا، اَپنے اُس قول کو جو آپ نے اَپنے خادِم داویؔد سے کیا تھا اُسے پُورا کریں۔
2CH 6:18 ”لیکن کیا خُدا کی مَوجُودگی آدمیوں کے ساتھ زمین پر سکونت کرےگی؟ کیونکہ جَب آسمانوں میں بَلکہ سَب سے اُونچے آسمانوں میں بھی خُدا سما نہیں سکتے تو پھر، یہ بیت المُقدّس جو مَیں نے تعمیر کروائی ہے اُن کے مُقابلے میں تو کچھ بھی نہیں ہے؟
2CH 6:19 پھر بھی اَے یَاہوِہ میرے خُدا، اَپنے رحم و کرم سے اَپنے خادِم کی دعا اَور مِنّت کی طرف مُتوجّہ ہوں اَور اَپنے خادِم کی اِس دعا اَور فریاد کو سُن لیں جو آج آپ کے حُضُور میں پیش کر رہاہے۔
2CH 6:20 آپ کی آنکھیں اِس بیت المُقدّس کی طرف دِن اَور رات لگی رہیں آپ نے اِسی مقام کی بابت فرمایا تھا کہ میں اَپنا جلالی نام وہاں قائِم رکھوں گا۔ تاکہ جو دعا آپ کا خادِم اِس مقام کی طرف رُخ کرکے مانگے اُسے آپ سُن کر جَواب دیں گے۔
2CH 6:21 اَور جَب آپ کا خادِم اَور آپ کی قوم بنی اِسرائیل اِس مقام کی طرف رُخ کرکے آپ سے فریاد کریں تو آپ آسمان پر سے جو آپ کی قِیام گاہ ہے، آپ سُنیں؛ اَور سُن کر مُعاف کر دیں۔
2CH 6:22 ”اَور جَب کویٔی شخص اَپنے پڑوسی پر ظُلم کرے اَور اُسے قَسم کھِلانے کے واسطے حلف اُٹھانے کو کہا جائے اَور وہ آئے اَور اِس بیت المُقدّس میں آپ کے مذبح کے سامنے قَسم کھا کر حلف اُٹھائے،
2CH 6:23 تَب آپ آسمان سے سُن لینا اَور عَمل کرنا اَور اَپنے خادِموں کا اِنصاف کرنا اَور بدکار کو اُس کے کئے کی سزا اَور معصُوم کو بے قُصُور ٹھہرا کر اُسے نیک جزا دینا۔
2CH 6:24 ”اَور جَب آپ کی اُمّت بنی اِسرائیل، آپ کے خِلاف گُناہ کرنے کے باعث اَپنے دُشمنوں سے شِکست کھائے لیکن بعد میں تَوبہ کرکے اَور آپ کے جلالی نام کا اقرار کرکے اِس بیت المُقدّس میں آپ کے حُضُور دعا اَور فریاد کرے،
2CH 6:25 تَب آپ آسمان پر سے سُن کر اَپنی اُمّت بنی اِسرائیل کا گُناہ مُعاف کردینا اَور اُنہیں اِس مُلک میں واپس لے آنا، جو آپ نے اُن کے آباؤاَجداد کو دیا تھا۔
2CH 6:26 ”اَور جَب اِس سبب سے کہ آپ کے لوگوں نے آپ کے خِلاف گُناہ کیا ہے آسمان بندہو جائے اَور بارش نہ ہو اَور آپ اُنہیں مُصیبت میں ڈال دیں اَور وہ اِس مقام کی طرف رُخ کرکے دعا کریں اَور آپ کے نام کا اقرار کریں اَور اَپنے گُناہ سے تَوبہ کریں،
2CH 6:27 تو آپ آسمان پر سے سُن لینا اَور اَپنے خادِموں یعنی اَپنی قوم بنی اِسرائیل کے گُناہ مُعاف کردینا۔ اُنہیں نیک راہ پر چلنے کی ہدایت دینا اَور اُس مُلک پر مینہ برسانا جسے بطور مِیراث آپ نے اَپنے لوگوں کو دیا ہے۔
2CH 6:28 ”اَور جَب اُس مُلک میں قحط یا وَبا یا بادِ سموم یا پھپھُوندی، ٹِڈّیوں یا اِلّیوں کا حملہ ہو، یا جَب دُشمن اُن کے کسی شہر کا محاصرہ کر لے، خواہ کویٔی بھی آفت یا بیماری اُن پر آ جایٔے،
2CH 6:29 مگر جَب آپ کی قوم بنی اِسرائیل میں سے کویٔی آدمی اَپنی مُصیبتوں کے باعث اِس بیت المُقدّس کی طرف اَپنے ہاتھ پھیلا کر اَور اَپنی یا ساری قوم بنی اِسرائیل کی طرف سے دعا یا فریاد کرے،
2CH 6:30 تب آپ آسمان پر سے جو آپ کی قِیام گاہ ہے، سُن لینا اَور مُعاف کردینا اَور ہر شخص کو جِن کے دِلوں کو آپ جانتے ہیں، اُن کے اعمال کے مُطابق بدلہ دینا، کیونکہ صرف آپ ہی اِنسانوں کے دِلوں کو جانتے ہیں۔
2CH 6:31 تاکہ جَب تک وہ اُس مُلک میں جسے آپ نے ہمارے آباؤاَجداد کو دیا تھا، تاعمر زندہ رہیں، آپ کا خوف مانیں اَور آپ کی راہوں پر چلیں۔
2CH 6:32 ”اِسی طرح جَب کوئی پردیسی بھی، جو آپ کی قوم بنی اِسرائیل میں سے نہیں ہیں، جَب وہ آپ کے عظیم نام اَور عظیم کام اَور آپ کے قوی ہاتھ کی بابت سُن کر دُور دراز مُلک سے آئیں اَور آکر اِس بیت المُقدّس کی طرف رُخ کرکے دعا کریں،
2CH 6:33 تَب آپ آسمان پر سے جو آپ کی قِیام گاہ ہے سُنیں اَورجو کچھ بھی وہ پردیسی آپ سے فریاد کریں، اُس کی مُراد پُوری کریں تاکہ رُوئے زمین کی سَب قومیں آپ کے نام کو جانیں اَور آپ کی اَپنی اُمّت بنی اِسرائیل کی طرح آپ کا خوف مانیں اَور جان لیں کہ یہ بیت المُقدّس جو مَیں نے تعمیر کرائی ہے آپ کے نام سے منسوب ہے۔
2CH 6:34 ”اَور جَب آپ کی قوم اَپنے دُشمنوں کے خِلاف جنگ کرنے کے لیٔے جہاں بھی آپ بھیجیں باہر جایٔیں اَور جَب وہ اِس مُنتخب شہر اَور اِس بیت المُقدّس کی طرف جسے مَیں نے آپ کے نام کے لیٔے تعمیر کروایاہے رُخ کرکے آپ سے دعا کریں،
2CH 6:35 تو آپ آسمان پر سے اُن کی دعا اَور مناجات کو سُن کر اُن کے حق میں فیصلہ کرنا۔
2CH 6:36 ”اَور جَب وہ آپ کے خِلاف گُناہ کریں، کیونکہ کویٔی بھی بشر اَیسا نہیں جو گُناہ نہ کرتا ہو، اَور آپ اُن سے ناراض ہو جایٔیں اُنہیں دُشمن کے حوالہ کر دیں جو اُنہیں اسیر کرکے کسی دُور یا نزدیک مُلک میں لے جائیں،
2CH 6:37 اَور اگر اُس مُلک میں جہاں وہ اسیر ہوکر پہُنچائے گیٔے ہُوں، اُن کا دِل بدل جائے اَور وہ تَوبہ کریں اَور اَپنے گُناہ کا اعتراف کریں، ’ہم نے گُناہ کیا ہے اَور ٹیڑھی چال چلے اَور بدکاریاں کی ہیں‘؛
2CH 6:38 اَور اگرچہ وہ اَپنی اسیری کے مُلک میں جہاں اُن کو اسیر کرکے لے گیٔے ہوں، دِل و جان سے آپ کی طرف رُجُوع کریں اَور اَپنے مُلک کی طرف جو آپ نے اُن کے آباؤاَجداد کو دیا اَور اِس شہر کی طرف جسے آپ نے اِنتخاب کیا ہے اَور اِس بیت المُقدّس کی طرف جو مَیں نے آپ کے نام کے لیٔے تعمیر کروایاہے، رُخ کرکے دعا کریں؛
2CH 6:39 تو آپ آسمان پر سے جو آپ کی قِیام گاہ ہے اُن کی دعا اَور مناجات سُن لینا اَور اُن کے حق میں فیصلہ کرنا اَور اَپنی قوم کو جنہوں نے آپ کے خِلاف گُناہ کیا ہے مُعاف کردینا۔
2CH 6:40 ”چنانچہ اَب اَے میرے خُدا، مَیں آپ سے درخواست کرتا ہُوں کہ آپ اُن دعاؤں کی طرف جو اِس مقام میں کی جایٔیں مُتوجّہ ہوں اَور اُنہیں سُنیں۔
2CH 6:41 ”اِس لئے اَب اَے یَاہوِہ خُدا، تشریف لائیں، اَور اَپنی آرامگاہ میں داخل ہوں،
2CH 6:42 اَے یَاہوِہ خُدا، اَپنے ممسوح کو ردّ نہ کریں،
2CH 7:1 اَور جَب شُلومونؔ دعا کر چُکے تو آسمان سے آگ نازل ہُوئی اَور اُس آگ نے سوختنی نذریں اَور ذبیحوں کو راکھ کر دیا اَور یَاہوِہ خُدا کے جلال سے بیت المُقدّس معموُر ہو گیا۔
2CH 7:2 اَور کاہِنؔ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں داخل نہ ہو سکے اِس لیٔے کہ وہ یَاہوِہ کے جلال سے معموُر تھا۔
2CH 7:3 اَور جَب تمام بنی اِسرائیل نے آگ کو آسمان سے نازل ہوتے ہُوئے اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو اُن کے جلال سے معموُر ہوتے ہُوئے دیدار کیا، تو اُنہُوں نے زمین پر وہیں مُنہ کے بَل گِر کر یَاہوِہ کو سَجدہ کیا اَور اُنہُوں نے یَاہوِہ کی شُکر گزاری کرتے ہُوئے کہا، ”وہ بھلےہیں؛ اُن کی رحمت اَبدی ہے۔“
2CH 7:4 تَب بادشاہ اَور سَب لوگوں نے یَاہوِہ کے حُضُور قُربانیاں پیش کیں۔
2CH 7:5 شُلومونؔ بادشاہ نے بائیس ہزار بَیلوں اَور ایک لاکھ بیس ہزار بھیڑ بکریوں کی قُربانی گذرانی۔ یُوں بادشاہ اَور سَب لوگوں نے خُدا کے بیت المُقدّس کو مخصُوص کیا۔
2CH 7:6 کاہِنؔ اَپنے فرائض کی ادائیگی کے لیٔے اَپنی اَپنی جگہ کھڑے تھے اَور لیوی بھی یَاہوِہ کی سِتائش کے لئے مُقرّر موسیقی کے اُن سازوں سامان کے ساتھ کھڑے تھے جنہیں داویؔد بادشاہ نے یَاہوِہ کی حَمد و سِتائش کے مقصد سے بنوایا تھا تاکہ وہ اُن موسیقی کے دھُن پر جَب اُنہُوں نے داویؔد کا یہ نغمہ شروع کیا جسے وہ جانتے تھے، ”اُن کی رحمت اَبدی ہے،“ اَور کاہِنؔ اُن کے آگے آگے نرسنگے پھُونکنے لگے تو تمام بنی اِسرائیلی جماعت کھڑی رہی۔
2CH 7:7 اَور شُلومونؔ نے اُس صحن کے وسطیٰ حِصّہ کی جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے سامنے تھا تقدیس کی اَور وہاں اُنہُوں نے سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذروں کے ذبیحوں کی چربی گذرانی کیونکہ کانسے کے اُس مذبح پر جسے اُس نے بنوایا تھا سوختنی نذروں، اناج کی نذروں اَور چربی کے لیٔے گنجائش نہ تھی۔
2CH 7:8 شُلومونؔ نے اِس موقع پر سات دِن تک عید منائی اَور لیبو حماتؔ کے مدخل سے لے کر وادی مِصر تک کے سارے بنی اِسرائیل کی ایک بہت بڑی جماعت اُن کے ساتھ مَوجُود تھی۔
2CH 7:9 آٹھویں دِن اُنہُوں نے ایک مُقدّس اِجتماع کا اہتمام کیا۔ سات دِن تک وہ مذبح کی تقدیس کے کرنے میں اَور سات دِن عید منانے میں مصروف رہے۔
2CH 7:10 ساتویں مہینے کی تئیسویں تاریخ کو شُلومونؔ نے لوگوں کو رخصت کیا تاکہ وہ اَپنے اَپنے گھر کو جایٔیں۔ وہ لوگ اُن نیکیوں کے باعث جو یَاہوِہ نے داویؔد، شُلومونؔ اَور اَپنی قوم بنی اِسرائیل سے کی تھیں خُوش و خُرّم اَور مسرُور تھے۔
2CH 7:11 جَب شُلومونؔ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس اَور شاہی محل کی تعمیر کر چُکے اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اَور اَپنے محل میں جو کچھ تعمیر کرنا چاہتے تھے، اُسے کامیابی کے ساتھ بنا چُکے،
2CH 7:12 تَب ایک رات یَاہوِہ شُلومونؔ پر ظاہر ہُوئے اَور فرمایا: ”مَیں نے تمہاری دعا سُن لی ہے اَور مَیں نے اِس مقام کو اَپنے لیٔے قُربانی کے بیت المُقدّس کے طور پر اِنتخاب کیا ہے۔
2CH 7:13 ”اَور جَب مَیں آسمانوں کو بند کر دُوں تاکہ بارش نہ ہو یا ٹِڈّیوں کو حُکم دُوں کہ مُلک کو اُجاڑ ڈالیں یا اَپنی قوم میں وَبا بھیج دُوں،
2CH 7:14 اگر میری قوم جو میرے نام سے جانی جاتی ہے، فروتن ہوکر دعا کرے اَور میرے دیدار کی طالب ہو اَور اَپنی بُری روِشوں سے تَوبہ کرے، تو میں آسمان پر سے اُن کی سُنوں گا اَور اُن کے گُناہ مُعاف کر دُوں گا اَور اُن کے مُلک کو پھر سے شفا بخشوں گا۔
2CH 7:15 اَب سے جو دعائیں اِس مقام میں کی جایٔیں گی میری آنکھیں اُن کی طرف کھُلی رہیں گی اَور میرے کان اُن کی طرف لگے رہیں گے۔
2CH 7:16 مَیں نے اِس بیت المُقدّس کو مُنتخب کر لیا ہے اَور اِسے مُقدّس ٹھہرایا ہے تاکہ اِس مقام میں میرے نام کا جلال ہمیشہ یہاں قائِم رہے اَور میری آنکھیں اَور میرا دِل دونوں ہمیشہ یہیں لگے رہیں۔
2CH 7:17 ”اگر تُم اَپنے والد داویؔد کی مانند میرے حُضُور وَیسے ہی چلتے رہو جَیسے تمہارے والد داویؔد چلتے تھے، اَورجو کچھ مَیں نے تُمہیں حُکم دیا ہے اُن کے مُطابق میرے قوانین اَور آئین پر عَمل کرے،
2CH 7:18 تو مَیں تیرے تختِ شاہی کو استحکام بخشوں گا جَیسا کہ مَیں نے تیرے والد داویؔد سے عہد کرکے فرمایا تھا کہ بنی اِسرائیل پر حُکمرانی کرنے کے لیٔے تیرے ہاں مَرد کی کبھی کمی نہ ہوگی۔
2CH 7:19 ”لیکن اگر تُم مُجھ سے مُنہ موڑ لوگے اَور میرے قوانین اَور اَحکام کو جو مَیں نے دئیے ہیں ترک کر دوگے اَور غَیر معبُودوں کی عبادت کرنے لگ جاؤگے اَور اُنہیں سَجدہ کروگے
2CH 7:20 تو پھر مَیں بنی اِسرائیل کو اَپنے مُلک سے جسے مَیں نے اُنہیں دیا ہے، جڑ سے اُکھاڑ پھینکوں گا اَور اِس بیت المُقدّس کو جسے مَیں نے اَپنے نام کے لیٔے مُقدّس کیا ہے اَپنے سامنے سے دُور کر دُوں گا۔ اَور اِسے قوموں میں ضرب المثل اَور ذِلّت کا نِشان بنا دُوں گا۔
2CH 7:21 اگرچہ اَب یہ بیت المُقدّس اِس قدر عالیشان ہے مگر تَب جو بھی اِس کے پاس سے گزرے گا حیرت زدہ ہوکر کہے گا ’یَاہوِہ نے اِس مُلک اَور اِس بیت المُقدّس کے ساتھ اَیسا سلُوک کیوں کیا؟‘
2CH 7:22 تَب لوگ جَواب دیں گے، ’چونکہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کو جو اُن کے آباؤاَجداد کو مُلک مِصر سے باہر نکال لائے تھے ترک کر دیا اَور غَیر معبُودوں کی پیروی، عبادت اَور خدمت کرنے لگے۔ چنانچہ یَاہوِہ نے اُن پر یہ تمام مُصیبتیں نازل کی ہیں۔‘ “
2CH 8:1 اَور شُلومونؔ کو یَاہوِہ کا بیت المُقدّس اَور اَپنا محل تعمیر کروانے میں بیس سال گذر گئے،
2CH 8:2 شُلومونؔ نے وہ دیہات جو حِیرامؔ نے اُسے دئیے تھے نئے سِرے سے تعمیر کروائے اَور بنی اِسرائیل کو وہاں بسایا۔
2CH 8:3 تَب شُلومونؔ ضوباہ حماتؔ کو گئے۔ اَور اُس پر قبضہ کر لیا۔
2CH 8:4 اَور شُلومونؔ نے صحرا میں تدمورؔ کو اَور حماتؔ کے سَب ذخیروں کے شہروں کو بھی تعمیر کیا۔
2CH 8:5 اُنہُوں نے بالائی اَور نِچلے دونوں بیت حَورُونؔ کے شہروں کو فصیلوں، پھاٹکوں اَور سلاخوں کے ذریعہ قلعہ بند کیا اَور اُنہیں نئے سِرے سے تعمیر کیا۔
2CH 8:6 پھر شُلومونؔ نے بعلاتؔ کو اَور اَپنے دیگر ذخیروں کے تمام شہروں کو بھی تعمیر کروایا جہاں اَپنے رتھوں، گھوڑوں اَور گُھڑسواروں کو رکھا۔ اِن کے علاوہ اُنہُوں نے یروشلیمؔ، لبانونؔ اَور اَپنے سارے مُلک میں اَپنی مرضی کے مُوافق عمارتیں تعمیر کروائیں۔
2CH 8:7 اَور مُلک میں اَب بھی چند اَیسے لوگ بچے ہُوئے تھے جو بنی اِسرائیل کی نَسل سے نہیں تھے۔ یہ حِتّی، امُوری، پَرزّی، حِوّی اَور یبُوسی نَسل میں سے باقی بچے ہُوئے تھے۔
2CH 8:8 حقیقت میں یہ اُن اَقوام کی اَولاد تھیں جنہیں بنی اِسرائیل نے ہلاک نہیں کیا تھا۔ تَب شُلومونؔ نے اُنہیں بیگار کے لیٔے بھرتی کیا جَیسا کہ آج کے دِن تک اِسی عہدے پر کام کرتے ہیں۔
2CH 8:9 لیکن شُلومونؔ نے اَپنے کام کے لیٔے اِسرائیلیوں میں سے کسی کو غُلام نہ بنایا بَلکہ وہ اُس کے جنگجو فَوجی، لشکروں کے سپہ سالار اَور اُس کے رتھوں اَور رتھ بانوں کے سردار بنائے جاتے تھے۔
2CH 8:10 شُلومونؔ بادشاہ نے دو سَو پچاس اعلیٰ اہلکاروں کو اِن سَب کے اُوپر حُکومت کرنے کے لئے اِنتخاب کیا تھا۔
2CH 8:11 اِس کے بعد شُلومونؔ فَرعوہؔ کی بیٹی کو داویؔد کے شہر سے اُس محل میں جو اُنہُوں نے اُس کے لیٔے تعمیر کروایا تھا لے آئے کیونکہ اُنہُوں نے کہا، ”میری بیوی کو اِسرائیل کے بادشاہ داویؔد کے محل میں نہیں رہنا چاہئے کیونکہ وہ علاقہ یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کی مَوجُودگی کے باعث مُقدّس ہے۔“
2CH 8:12 تَب شُلومونؔ نے یَاہوِہ کے اُس مذبح پر جسے اُنہُوں نے برامدے کے سامنے تعمیر کروایا تھا، یَاہوِہ کو سوختنی نذریں گذرانیں۔
2CH 8:13 جَیسا کہ مَوشہ کے حُکم کے مُطابق لوگوں کا فرض تھا کہ وہ سَبتوں، نئے چاندوں اَور تین سالانہ عیدوں یعنی بے خمیری روٹی کی عید، ہفتوں کی عید اَور خیموں کی عید پر قُربانیاں گذرانی۔
2CH 8:14 اَور اُنہُوں نے اَپنے باپ داویؔد کے فرمان کے مُطابق کاہِنوں کے فریقوں کو اُن کے کاموں پر اَور لیویوں کو حَمد و سِتائش میں پیشوائی کرنے کے اَور ہر روز کے فرض کے مُطابق کاہِنوں کی مدد کرنے کے لیٔے مُقرّر کیا۔ اُنہُوں نے دربانوں کو بھی اُن کے فریقوں کے مُطابق مُختلف پھاٹکوں پر مُقرّر کیا کیونکہ مَرد خُدا داویؔد نے اَیسا ہی حُکم دیا تھا۔
2CH 8:15 اَور وہ بادشاہ کے اَحکام پر ہمیشہ عَمل کرتے رہے جو اُنہُوں نے اُن باتوں کے بارے میں اَور خزانوں کے متعلّق کاہِنوں یا لیویوں کو دئیے تھے۔
2CH 8:16 اِس طرح شُلومونؔ کی مَعرفت سے شروع کیا گیا سارا کام یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی بُنیاد ڈالنے کے دِن سے لے کر اُس کے تعمیر ہو جانے تک اَچھّی طرح جاری رہا، تَب یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی تعمیر کا کام پُورا ہو گیا۔
2CH 8:17 پھر شُلومونؔ مُلکِ اِدُوم میں سمُندر کے کنارے آباد شہر عضیُون گیبر اَور ایلاتؔ کو گئے۔
2CH 8:18 اَور حِیرامؔ بادشاہ نے اُنہیں بحری جہاز بھیجے جِن پر اُن کے اَپنے افسر اَور ملّاح مُعیّن تھے اَور وہ اَیسے خادِم تھے جو سمُندر سے واقف تھے۔ وہ شُلومونؔ کے مُلازمین کے ہمراہ اوفیرؔ کے سمُندری سفر پر روانہ ہُوئے اَور وہاں سے وہ 450 تالنت سونا لے کر آئے جو شُلومونؔ کے لیٔے تھا۔
2CH 9:1 جَب ملِکہ شیبا نے شُلومونؔ کی شہرت سُنی تو وہ مُشکل سوالوں کے ساتھ شُلومونؔ کی حِکمت کا اِمتحان لینے کے لیٔے ایک بہت بڑے قافلے کے ساتھ یروشلیمؔ آئی۔ اُس کے اُونٹوں پر مَسالہ اَور بڑی مقدار میں سونا اَور جواہرات لدے تھے۔ وہ شُلومونؔ کے پاس آئی اَورجو جو باتیں اُس کے دِل میں تھیں اُن سَب کے بارے میں اُس سے گُفتگو کی۔
2CH 9:2 شُلومونؔ نے اُس کے سَب سوالوں کا جَواب دیا کیونکہ اُس کے لیٔے کویٔی بھی سوال اَیسا مُشکل نہ تھا جِس کا وہ جَواب نہ دے سکے۔
2CH 9:3 جَب ملِکہ شیبا نے شُلومونؔ کی دانشمندی کو اَور اُس کے محل کو جو اُس نے تعمیر کروایا تھا،
2CH 9:4 اَور اُس کے دسترخوان کے کھانوں کو اَور اُس کے درباریوں کی نشست اَور اُس کے خدمت گار مُلازمین کے لباس کو اَور ساقیوں کو اُن کی پوشاک کو اَور اُس زینے کو جِس سے شُلومونؔ ایک بڑے جلوس کے ساتھ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں کس طرح داخل ہوتے تھے تو اُس کے ہوش اُڑ گئے۔
2CH 9:5 ملِکہ شیبا نے بادشاہ سے کہا، ”آپ کے عظیم کارناموں اَور دانشمندی کے متعلّق جو خبر مَیں نے اَپنے مُلک میں سُنی تھی وہ حقیقی ہے۔
2CH 9:6 لیکن مَیں نے اُس سُنی ہوئی خبر پر یقین ہی نہیں کیا تھا، جَب تک مَیں نے یہاں آکر اَپنی آنکھوں سے یہ سَب کچھ نہ دیکھ لیا۔ درحقیقت آپ کی حِکمت اِتنی بڑی ہے کہ مُجھے تو اِس کا آدھا حِصّہ بھی نہیں بتایا گیا تھا۔ آپ کی شہرت جو مَیں نے سُنی تھی آپ اُس سے کہیں زِیادہ بڑھ کر ہیں۔
2CH 9:7 خُوش نصیب ہیں آپ کے لوگ اَور آپ کے یہ درباری جو ہمیشہ آپ کے حُضُور میں کھڑے رہتے ہیں اَور آپ کی حِکمت کی باتیں سُنتے ہیں!
2CH 9:8 یَاہوِہ آپ کے خُدا کی سِتائش ہو جو آپ سے اَیسا راضی ہُوئے کہ آپ کو اَپنے تخت پر تخت نشین کیا تاکہ آپ یَاہوِہ اَپنے خُدا کی طرف سے بادشاہ ہوں۔ چونکہ آپ کے خُدا کو بنی اِسرائیل سے مَحَبّت تھی کہ اُنہیں ہمیشہ کے لیٔے قائِم کریں، اِس لیٔے اُنہُوں نے آپ کو اُن کا بادشاہ بنایا تاک آپ عدل اَور راستی کو بحال رکھیں۔“
2CH 9:9 پھر ملِکہ شیبا نے بادشاہ کو ایک سَو بیس تالنت سونا، بڑی مقدار میں مَسالے اَور جواہرات تحفہ میں دئیے اَورجو مَسالے ملِکہ شیبا نے شُلومونؔ کو دئیے وہ اُنہیں پہلے کبھی مُیسّر نہ ہُوئے تھے۔
2CH 9:10 (اَور اِس کے علاوہ حِیرامؔ کے مُلازمین اَور شُلومونؔ کے مُلازمین اوفیرؔ سے سونا لایٔے اَور وہ وہاں سے لال صندل کی لکڑی اَور جواہرات بھی لایٔے۔
2CH 9:11 اَور بادشاہ نے صندل کی لکڑی سے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے لیٔے اَور اَپنے محل کے لیٔے چبُوترے اَور موسیقاروں کے لیٔے بربط اَور سِتار تیّار کروائے؛ اَور اَیسی چیزیں یہُوداہؔ کے مُلک میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھیں۔)
2CH 9:12 پھر شُلومونؔ بادشاہ نے ملِکہ شیبا کو جو کچھ اُس نے خواہش کی اَور مانگا، اُس سے زِیادہ جو وہ بادشاہ کے لئے لائی تھی مُہیّا کیا، تَب وہ اَپنے قافلے کے ساتھ اَپنے مُلک کو واپس چلی گئی۔
2CH 9:13 اُس سونے کا وزن جو شُلومونؔ کو ہر سال دستیاب ہوتا تھا جو چھ سَو چھیاسٹھ تالنت تھا۔
2CH 9:14 اَور یہ اُس کے علاوہ تھا جو تاجر اَور سوداگر لاتے تھے۔ اَور عربؔ کے سَب بادشاہ اَور مُلک کے حاکم بھی شُلومونؔ کے پاس سونا اَور چاندی لاتے تھے۔
2CH 9:15 اَور شُلومونؔ بادشاہ نے گڑھے ہویٔے سونے کی دو سَو بڑی ڈھالیں بنوائیں۔ ایک ایک ڈھال میں چھ سَو ثاقل گھڑا ہُوا سونا لگا تھا۔
2CH 9:16 اَور اُس نے گڑھے ہویٔے سونے کی تین سَو چُھوٹی ڈھالیں بھی بنوائیں۔ اَور ہر ایک ڈھال میں تقریباً ساڑھے تین کِلو سونا لگا تھا۔ اَور بادشاہ نے اُنہیں اَپنے لبانونؔ کے جنگل کے محل میں رکھوا دیا۔
2CH 9:17 پھر بادشاہ نے ہاتھی دانت کا ایک بڑا تخت بنوایا اَور اُس پر خالص سونا منڈھوایا۔
2CH 9:18 اَور اِس تخت کی چھ سیڑھیاں تھیں اَور سونے کا ایک پائدان بھی تخت سے جُڑا ہُوا تھا۔ اَور بیٹھنے کی جگہ کے دونوں طرف بازو کے لیٔے ایک ایک ٹیک بنی تھی۔ اَور اُنہیں ٹیک سے لگ کر دونوں طرف ایک ایک شیرببر گڑھے ہُوئے کھڑے تھے۔
2CH 9:19 اَور اُن چھ سِیڑھیوں کے اِدھر اُدھر بَارہ شیرببر گڑھے ہُوئے کھڑے تھے۔ اَیسا تخت کسی اَور مملکت میں کبھی نہیں تعمیر ہُوا تھا۔
2CH 9:20 اَور شُلومونؔ بادشاہ کے پینے کے سَب برتن سونے کے تھے۔ اَور لبانونؔ کے جنگل کے محل میں اِستعمال کیٔے جانے والے تمام برتن بھی خالص سونے کے تھے۔ چاندی کا کچھ بھی بنا ہُوا نہ تھا کیونکہ شُلومونؔ کے دَورِ حُکومت میں چاندی کی کویٔی قدر نہ تھی۔
2CH 9:21 بادشاہ کے پاس تجارتی جہازوں کا ایک بحری بیڑا بھی تھا جِس کے جہاز بادشاہ کوچک حِیرامؔ کے آدمی تھے۔ اَور ہر تین سال بعد ترشیشؔ کے یہ جہاز سونا، چاندی اَور ہاتھی دانت، بندر اَور لنگور لے کر آتے تھے۔
2CH 9:22 شُلومونؔ بادشاہ کو دولت اَور حِکمت کے لحاظ سے رُوئے زمین کے تمام بادشاہوں پر فوقیت حاصل تھی۔
2CH 9:23 اَور رُوئے زمین کے سَب بادشاہ شُلومونؔ کی خدمت میں شرف باریابی چاہتے تھے تاکہ وہ اُن حِکمت کی باتوں کو سُنیں جو خُدا نے اُن کے دِل میں ڈالی تھیں۔
2CH 9:24 اَور سال بسال اُن کا دیدار کرنے والے اَپنے ساتھ اَپنا اَپنا ہدیہ یعنی چاندی اَور سونے کی اَشیا، پوشاک، ہتھیار اَور مَسالے، گھوڑے اَور خچّر لے کر آیا کرتے تھے۔
2CH 9:25 اَور شُلومونؔ کے پاس گھوڑوں اَور رتھوں کے لیٔے چار ہزار اصطبل اَور بَارہ ہزار سوار تھے جنہیں بادشاہ رتھوں کے شہروں میں اَور یروشلیمؔ میں اَپنے پاس بھی رکھتے تھے۔
2CH 9:26 اَور وہ دریائے فراتؔ سے لے کر فلسطینیوں کے مُلک تک جہاں کہ مِصر کی سرحد شروع ہوتی ہے تمام بادشاہوں پر حُکمران تھے۔
2CH 9:27 اَور بادشاہ نے یروشلیمؔ میں چاندی کو پتّھروں کی مانند عام کر دیا، اَور دیودار کو دامن کوہِ کے گُولر کے درختوں کو اَنجیر کے درختوں کی طرح فراواں کر دیا۔
2CH 9:28 اَور شُلومونؔ کے گھوڑے مِصر اَور دیگر ممالک سے گھوڑے درآمد کئے جاتے تھے۔
2CH 9:29 شُلومونؔ کے دَورِ حُکومت کے شروع سے لے کر آخِر تک کے دیگر واقعات، کیا ناتنؔ نبی کی کِتاب، شیلوہؔ کے نبی اخیاہؔ کی نبُوّت اَور عِدّوؔ غیب بین کی رُویتوں میں جو یرُبعامؔ بِن نباطؔ سے متعلّق تھیں مندرج نہیں ہیں؟
2CH 9:30 شُلومونؔ نے یروشلیمؔ میں تمام بنی اِسرائیل پر چالیس سال حُکمرانی کی۔
2CH 9:31 پھر شُلومونؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیٔے اَور اَپنے باپ داویؔد کے شہر میں دفن کیٔے گیٔے اَور اُن کا بیٹا رحُبعامؔ بطور بادشاہ اُن کا جانشین ہُوا۔
2CH 10:1 اَور رحُبعامؔ شِکیمؔ کو گیا اِس لیٔے کہ سَب اِسرائیلی اُسے بادشاہ مُقرّر کرنے کے لیٔے شِکیمؔ میں جمع ہُوئے تھے۔
2CH 10:2 جَب یرُبعامؔ بِن نباطؔ نے یہ سُنا جو مِصر میں سکونت کر رہاتھا، وہ شُلومونؔ بادشاہ کے پاس سے اَپنی جان بچا کرچلاگیا تھا، تَب وہ مِصر سے لَوٹ آیا۔
2CH 10:3 لہٰذا بنی اِسرائیل نے پیغام بھیج کر یرُبعامؔ، کو وہاں سے بُلوا لیا۔ جَب یرُبعامؔ اَور تمام بنی اِسرائیل وہاں جمع ہُوئے تَب اُنہُوں نے رحُبعامؔ کے پاس جا کر اُس سے یہ فریاد کی:
2CH 10:4 ”آپ کے والد نے ہم پر ایک بھاری جُوا ڈال رکھا تھا؛ چنانچہ اَب آپ اُس سخت خدمت کو اَور اُس بھاری جُوئے کو جِس کا بوجھ اُنہُوں نے ہم پر ڈال رکھا تھا ہلکا کر دیجئے تَب ہم آپ کے تابع رہ کر آپ کی خدمت کریں گے۔“
2CH 10:5 رحُبعامؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”تین دِن کے بعد میرے پاس پھر آنا۔“ چنانچہ سَب لوگ واپس چلے گیٔے۔
2CH 10:6 تَب رحُبعامؔ بادشاہ نے اُن بُزرگوں سے مشورہ کیا جو اُس کے والد شُلومونؔ کی زندگی بھر اُن کے خدمت گزار تھے، ”اِن لوگوں کو میں کیا جَواب دُوں؟ مُجھے آپ کیا صلاح دینا چاہتے ہیں؟“
2CH 10:7 اُنہُوں نے اُسے جَواب دیا، ”اگر آپ اِن لوگوں پر مہربان ہوں گے اَور اُنہیں خُوش کرے اَور اُنہیں اُمّید دِلانے والے الفاظ سے مُخاطِب ہو، تو وہ ہمیشہ آپ کے خادِم بنے رہیں گے۔“
2CH 10:8 لیکن رحُبعامؔ نے بُزرگوں کی صلاح قبُول نہ کی بَلکہ جا کر اُن جَوانوں سے مشورہ کیا جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورِش پائی تھی اَورجو اُس کے خادِم تھے۔
2CH 10:9 اُس نے اُن سے پُوچھا، ”اِن لوگوں کی بابت تمہاری صلاح کیا ہے؟ ’جو مُجھ سے یہ کہتے ہُوئے فریاد کرنے آئےتھے، اُس جُوئے کو جو آپ کے والد نے ہم پر رکھا تھا ہلکا کر دیجئے‘؟“
2CH 10:10 اُن جَوانوں نے جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورِش پائی تھی جَواب دیا، ”اُن لوگوں کو جنہوں نے تُم سے یہ فریاد کی ہے، ’آپ کے والد نے ہم پر بھاری جُوا رکھا تھا لیکن آپ ہمارے جوُئے کو ہلکا کر دیجئے، آپ اُنہیں یہ جَواب دیجئے، میرے ہاتھ کی چُھوٹی اُنگلی میرے باپ کی کمر سے بھی موٹی ہے۔
2CH 10:11 اگر میرے باپ نے تُم پر ایک بھاری جُوا رکھا تھا، تو مَیں اُسے اَور بھی زِیادہ بھاری کر دُوں گا۔ میرے باپ نے تو تُمہیں قابُو میں لانے کے لیٔے کوڑوں سے سزا دی تھی لیکن مَیں تُمہیں بِچھُّوؤں کے ذریعہ سزا دُوں گا۔‘ “
2CH 10:12 جَب یرُبعامؔ اَور سَب لوگ تین دِنوں کے بعد لَوٹ کر رحُبعامؔ کے پاس آئے، جَیسا کہ بادشاہ نے فرمایا تھا، ”تین دِن کے بعد میرے پاس پھر آنا۔“
2CH 10:13 تَب بادشاہ رحُبعامؔ نے بُزرگوں کی صلاح کے برعکس اُنہیں سختی سے جَواب دیا۔
2CH 10:14 بادشاہ نے نوجوانوں کی صلاح پر عَمل کیا اَور فرمایا، ”میرے باپ نے تو تمہارا جُوا بھاری کیا تھا، لیکن مَیں اُسے اَور بھی زِیادہ بھاری کر دُوں گا۔ میرے باپ نے تو تُمہیں کوڑے مارنے کی سزا دی تھی لیکن مَیں تُمہیں بِچھُّوؤں سے سزا دُوں گا۔“
2CH 10:15 چنانچہ بادشاہ نے لوگوں کی فریاد نہ سُنی کیونکہ یہ ساری باتیں خُدا ہی کی طرف سے مُقرّر کی گئی تھیں تاکہ یَاہوِہ کا وہ کلام پُورا ہو جو اُنہُوں نے شیلوہؔ کے نبی اخیاہؔ کی مَعرفت یرُبعامؔ بِن نباطؔ کی بابت فرمایا تھا۔
2CH 10:16 جَب بنی اِسرائیل نے دیکھا کہ بادشاہ نے اُن کی فریاد کی طرف غور نہیں کیا ہے، تو اُنہُوں نے جَواب میں بادشاہ سے یُوں کہا: ”پھر داویؔد کے ساتھ ہماری کیا شراکت ہے؟ اَور یِشائی کے بیٹے کے ساتھ ہمارا کیا مِیراث؟ اَے بنی اِسرائیل، اَپنے خیموں کو لَوٹ جاؤ! اَور اَے داویؔد! تو اَب اَپنے ہی گھرانے کو سنبھال!“ تَب تمام بنی اِسرائیل اَپنے خیموں کی طرف لَوٹ گیٔے۔
2CH 10:17 لیکن رحُبعامؔ اُن بنی اِسرائیل پرجو یہُودیؔہ کے شہروں میں رہتے تھے حُکومت کرتا رہا۔
2CH 10:18 تَب رحُبعامؔ بادشاہ نے ادُونِیرامؔ کو بنی اِسرائیل کے پاس بھیجا جو خراج کا داروغہ تھا لیکن اِسرائیلیوں نے اُسے سنگسار کرکے مار ڈالا۔ یہ دیکھ کر رحُبعامؔ بادشاہ بغیر دیر کئے اَپنے رتھ پر سوار ہوکر اَپنی جان بچا کر یروشلیمؔ کو فرار ہو گیا۔
2CH 10:19 پس شمالی اِسرائیل آج تک داویؔد کے گھرانے سے باغی ہیں۔
2CH 11:1 اَور جَب رحُبعامؔ یروشلیمؔ پہُنچا، تو اُس نے شمالی اِسرائیل سے جنگ کرنے کے لیٔے یہُوداہؔ اَور بِنیامین کے گھرانے سے ایک لاکھ اسّی ہزار جنگجو مَرد چُن کر جمع کئے تاکہ رحُبعامؔ مُکمّل سلطنت کو پھر سے اَپنے قبضہ میں کر لے۔
2CH 11:2 لیکن مَرد خُدا شمعیاہؔ کے پاس یَاہوِہ کا یہ کلام پہُنچا،
2CH 11:3 ”رحُبعامؔ بِن شُلومونؔ شاہِ یہُودیؔہ اَور سارے اِسرائیل سے جو یہُوداہؔ اَور بِنیامین صوبے میں رہتے ہیں اعلان کرو،
2CH 11:4 ’یَاہوِہ فرماتے ہیں: تُم اَپنے بھائیوں سے لڑنے کے لیٔے حملہ نہ کرو۔ بَلکہ تُم میں سے ہر ایک اَپنے اَپنے گھر چلا جائے کیونکہ ابھی جو کچھ ہُواہے وہ مَیں نے ہی ہونے دیا ہے۔‘ “ چنانچہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کے کلام پر عَمل کیا، اَور یرُبعامؔ پر حملہ کئے بغیر لَوٹ گیٔے۔
2CH 11:5 رحُبعامؔ یروشلیمؔ میں مُقیم ہو گیا اَور اُس نے یہُوداہؔ میں حِفاظت کے لیٔے شہروں کو تعمیر کیا۔
2CH 11:6 یعنی بیت لحمؔ، عیطامؔ، تقوعؔ،
2CH 11:7 بیت ضُورؔ، شوکوہؔ، عدُلّامؔ،
2CH 11:8 گاتؔھ، مریشہؔ، زِیفؔ،
2CH 11:9 ادوریمؔ، لاکیشؔ، عزیقاہؔ،
2CH 11:10 ضورعاہؔ، ایّالونؔ اَور حِبرونؔ۔ یہ قلعہ بند شہر یہُوداہؔ اَور بِنیامین صوبے میں بنائے گیٔے تھے۔
2CH 11:11 رحُبعامؔ نے اُن کے قلعوں کو مضبُوط کیا، اُن میں فَوجی سپہ سالار مامُور کئے اَور زَیتُون کے تیل اَور انگوری شِیرہ کے ذخیروں کا اِنتظام کیا۔
2CH 11:12 اَور اُن تمام شہروں میں ڈھالیں اَور نیزے رکھوا کر اُنہیں خُوب مُستحکم کر دیا۔ اِس طرح یہُوداہؔ اَور بِنیامین کے صوبے رحُبعامؔ کے قبضہ میں رہے۔
2CH 11:13 اَور اِسرائیل کے ایک کونے سے لے کر دُوسرے کونے تک جتنے بھی کاہِنؔ اَور لیوی تھے وہ سَب اَپنے اَپنے علاقوں سے نکل کر اُس کے پاس آ گئے۔
2CH 11:14 اَور لیویوں نے تو اَپنی چراگاہوں اَور املاک تک کو ترک کر دیا اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ میں آ گیٔے کیونکہ یرُبعامؔ اَور اُس کے بیٹوں نے اُنہیں بطور کاہِنؔ یَاہوِہ کی خدمت اَنجام دینے سے منع کر دیا تھا۔
2CH 11:15 اَور یرُبعامؔ نے اُونچے مقامات پر، بکروں اَور بچھڑوں کے بُتوں کو قائِم کیا اَور اُن کے لیٔے اَپنے کاہِنؔ مُقرّر کر دئیے تھے۔
2CH 11:16 اَور شمالی اِسرائیل کے ہر قبیلہ کے لوگ جنہوں نے اَپنے دِل یَاہوِہ، اِسرائیل کے خُدا کی جُستُجو میں لگا رکھے تھے لیویوں کے پیچھے پیچھے یروشلیمؔ میں آئے کہ یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کے حُضُور قُربانیاں گزرانیں۔
2CH 11:17 اَور اُنہُوں نے یہُوداہؔ کی سلطنت کو مُستحکم کیا اَور تین سال تک داویؔد اَور شُلومونؔ کی راہوں پر چلتے ہُوئے رحُبعامؔ بِن شُلومونؔ کی تائید اَور حمایت کی۔
2CH 11:18 اَور رحُبعامؔ نے ماحلتھ کو جو یریموتؔ بِن داویؔد اَور اِلیابؔ بِن یِشائی کی بیٹی اَبی حائیل تھی اُس سے شادی کرلی۔
2CH 11:19 اَور ماحلتھ سے پیدا ہُوئے رحُبعامؔ کے بیٹے یہ ہیں: یعُوسؔ، شِماریاہؔ اَور زہمؔ۔
2CH 11:20 اِس کے بعد اُس نے اَبشالومؔ کی بیٹی معکہؔ کو بیاہ لیا جِس کے اُس سے ابیّاہؔ، عتّئیؔ، زیزاؔ اَور شلُومیتؔ پیدا ہُوئے۔
2CH 11:21 اَور اِس کے بعد رحُبعامؔ اَبشالومؔ کی بیٹی معکہؔ کو اَپنی سَب بیویوں اَور داشتاؤں سے زِیادہ مَحَبّت کرتا تھا۔ کُل مِلا کر اُس کی اٹھّارہ بیویاں اَور ساٹھ داشتاؤں سے اٹّھائیس بیٹے اَور ساٹھ بیٹیاں پیدا ہُوئی تھیں۔
2CH 11:22 اَور رحُبعامؔ نے ابیّاہؔ بِن معکہؔ کو اُس کے سارے بھائیوں کے اُوپر اعلیٰ سردار مُقرّر کر دیا کیونکہ اُس کی مرضی تھی کہ اُس کے بعد وُہی بادشاہ بنے۔
2CH 11:23 اَور اُس نے دانشمندی سے کام لے کر اَپنے سارے بیٹوں کو یہُودیؔہ اَور بِنیامین کے تمام علاقوں میں اَور تمام قلعہ بند شہروں میں الگ الگ بھیج دیا اَور اُنہیں با اِفراط اشیائے خُوردنی بھی عطا فرمائی اَور اُن کے واسطے تمام بیویاں مُہیّا کروائیں۔
2CH 12:1 جَب بحیثیت بادشاہ رحُبعامؔ کے قدم جم گیٔے اَور اُس کی حُکومت مُستحکم ہو گئی تو اُس نے اَور اُس کے ساتھ تمام بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کے آئین کو ترک کر دیا۔
2CH 12:2 کیونکہ وہ یَاہوِہ کی نافرمانی کرنے لگے تھے، اِس لیٔے رحُبعامؔ بادشاہ کی سلطنت کے پانچویں سال میں شیشاقؔ شاہِ مِصر نے یروشلیمؔ پر حملہ کر دیا۔
2CH 12:3 اُس کے ساتھ بَارہ سَو رتھ اَور ساٹھ ہزار گُھڑسوار تھے اَور لیبیا، سُکّیمی اَور کُوشی ممالک کے بے شُمار فَوجی تھے جو اُس کے ساتھ مِصر سے آئےتھے۔
2CH 12:4 اُس نے یہُوداہؔ صُوبہ کے قلعہ بند شہروں پر قبضہ کر لیا اَور یروشلیمؔ تک آ پہُنچا۔
2CH 12:5 تَب شمعیاہؔ نبی، رحُبعامؔ اَور یہُوداہؔ کے سرداروں کے پاس جو شیشاقؔ کے ڈر سے یروشلیمؔ میں جمع ہو گئے تھے آئے اَور اُن سے فرمایا، یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”تُم لوگوں نے مُجھے ترک کر دیا، ’لہٰذا مَیں نے بھی تُمہیں شیشاقؔ کے ہاتھ میں ترک کر دیا ہے۔‘ “
2CH 12:6 تَب اِسرائیل کے اُمرا اَور بادشاہ حلیم ہوکر کہنے لگے، ”یَاہوِہ راست ہیں۔“
2CH 12:7 جَب یَاہوِہ نے دیکھا کہ اُنہُوں نے حلیمی اِختیار کی تو یَاہوِہ کا کلام شمعیاہؔ پر نازل ہُوا: ”چونکہ اَب اُنہُوں نے اَپنے کو حلیم بنایا ہے اِس لیٔے میں اُنہیں ہلاک نہیں کروں گا بَلکہ جلد ہی رِہائی بخشوں گا اَور میرا غضب شیشاقؔ کے ذریعہ یروشلیمؔ پر نازل نہ ہوگا۔
2CH 12:8 تاہم وہ شیشاقؔ کے خادِم ہو جایٔیں گے تاکہ میری خدمت اَور دیگر ممالک کے بادشاہوں کی خدمت کرنے میں اِمتیاز کرنا سیکھ سکیں۔“
2CH 12:9 جَب شیشاقؔ، شاہِ مِصر نے یروشلیمؔ پر حملہ کیا تو اُس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے خزانوں کو اَور شاہی محل کے خزانوں کو لُوٹ لیا اَور وہ سونے کی اُن ڈھالوں سمیت جو شُلومونؔ نے بنوائی تھیں سَب کچھ لے گیا۔
2CH 12:10 لہٰذا رحُبعامؔ بادشاہ نے اُن کے بدلے کانسے کی ڈھالیں بنوائیں اَور اُنہیں شاہی محل کے مُحافظ دستوں کے سرداروں کے سُپرد کر دیا۔
2CH 12:11 جَب بھی بادشاہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو جاتا تھا تو دستے کے مُحافظ سپاہی اُن ڈھالوں کو اُٹھاکر اُس کے ساتھ جاتے تھے اَور بادشاہ کے وہاں سے لوٹنے پر پھر اِنہیں واپس لاکر اسلحہ خانہ میں رکھ دیتے تھے۔
2CH 12:12 چنانچہ رحُبعامؔ نے خُود کو حلیم بنا لیا، اِس لئے یَاہوِہ کا غُصّہ اُس پر سے ٹل گیا اَور وہ مُکمّل طور پر تباہ نہ کیا گیا۔ اَور اِس وقت یہُوداہؔ کے حالات کُچھ بہتر تھیں۔
2CH 12:13 رحُبعامؔ بادشاہ نے دارُالحکومت یروشلیمؔ میں خُود کو پھر سے مضبُوط کیا، اَور یہُوداہؔ پر حُکمرانی کرنے لگا۔ وہ اکتالیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ شہر میں سترہ سال تک جسے یَاہوِہ نے اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے مُنتخب کر لیا تھا کہ اَپنا نام وہاں قائِم کرے، حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام نعمہؔ تھا جو عمُّونی قوم کی عورت تھی۔
2CH 12:14 رحُبعامؔ نے بدی کی کیونکہ اُس کا دِل یَاہوِہ کا طالب نہیں تھا۔
2CH 12:15 اَور رحُبعامؔ کے دَورِ حُکومت کے شروع سے لے کر آخِر تک کے کارنامے شمعیاہؔ نبی اَور عِدّوؔ غیب بین کے رُویتوں میں جو نَسب ناموں سے متعلّق ہیں قلم بند ہیں۔ اَور رحُبعامؔ اَور یرُبعامؔ کے درمیان مُتواتر جنگ جاری رہی۔
2CH 12:16 اَور رحُبعامؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور داویؔد کے شہر میں دفن کیا گیا۔ اَور اُس کی جگہ پر اُس کا بیٹا ابیّاہؔ بطور بادشاہ تخت نشین ہُوا۔
2CH 13:1 یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے دَورِ حُکومت کے اٹھّارہویں سال میں ابیّاہؔ یہُودیؔہ کا بادشاہ بنا۔
2CH 13:2 اَور اُس نے یروشلیمؔ میں تین سال سلطنت کی۔ اُس کی ماں کا نام میکایاہؔ تھا جو گِبعہؔ کے باشِندے اوری ایل کی بیٹی تھی۔ اَور ابیّاہؔ اَور یرُبعامؔ کے درمیان جنگ ہُوئی۔
2CH 13:3 اَور ابیّاہؔ چار لاکھ جنگجو مَردوں کے لشکر کے ساتھ میدان میں اُترا اَور یرُبعامؔ نے اُس کے خِلاف آٹھ لاکھ کے لشکر کے ساتھ صف آرائی کی۔
2CH 13:4 اَور ابیّاہؔ صمریمؔ کے پہاڑ پرجو اِفرائیمؔ کے کوہستانی مُلک میں ہے کھڑا ہوکر کہنے لگا، ”اَے یرُبعامؔ اَور سَب اِسرائیلیوں، میری بات سُنو!
2CH 13:5 کیا تُمہیں مَعلُوم نہیں کہ یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا نے اِسرائیل کی سلطنت نمک کے عہد کے ساتھ ہمیشہ کے لیٔے داویؔد اَور اُس کے بیٹوں کو دی ہے؟
2CH 13:6 تاہم یرُبعامؔ بِن نباطؔ نے جو شُلومونؔ بِن داویؔد کا ایک اہلکار تھا، اَپنے آقا کے خِلاف بغاوت کی۔
2CH 13:7 کچھ نکمّے اَور بد ذات لوگ اُس کے گِرد جمع ہو گئے اَور اُنہُوں نے رحُبعامؔ بِن شُلومونؔ کی اُس وقت مُخالفت کی جَب کہ وہ ابھی نوجوان تھا، کمزور دِل والا تھا اَور اُس میں اُن کا مُقابلہ کرنے کی طاقت بھی نہ تھی۔
2CH 13:8 ”اَور اَب تمہارا منصُوبہ یہ ہے کہ یَاہوِہ کی بادشاہی کا جو داویؔد کی اَولاد کے ہاتھ میں ہے مُقابلہ کرو۔ مان لیا کہ تمہارا لشکرِ جبّار ہے اَور تمہارے پاس وہ سُنہرے بچھڑے بھی ہیں جنہیں یرُبعامؔ نے بنایا کہ تمہارے معبُود ہوں۔
2CH 13:9 لیکن کیا تُم نے اَہرونؔ کے بیٹوں اَور لیویوں کو جو یَاہوِہ کے کاہِنؔ تھے نکال نہیں دیا تھا اَور دیگر ممالک کی اَقوام کی طرح اَپنے لیٔے کاہِنؔ مُقرّر نہیں کئے تھے؟ جو کویٔی بھی اَپنی تقدیس کرنے کے لیٔے ایک بچھڑا اَور سات مینڈھے لے کر آیا اُن معبُودوں کا کاہِنؔ بنا دیا گیا جو حقیقت میں معبُود نہیں تھے۔
2CH 13:10 ”لیکن جہاں تک ہمارا تعلّق ہے یَاہوِہ ہمارے خُدا ہیں اَور ہم نے اُنہیں ترک نہیں کیا۔ اَور وہ کاہِنؔ جو یَاہوِہ کی خدمت کرتے ہیں اَہرونؔ کے بیٹے ہیں اَور لیوی اُن کے مددگار ہیں۔
2CH 13:11 ہر صُبح اَور شام وہ یَاہوِہ کے حُضُور سوختنی نذریں گذرانتے اَور خُوشبودار بخُور جَلاتے ہیں اَور وہ دستور کے مُطابق پاک میز پر نذر کی روٹیاں رکھتے اَور ہر شام سونے کے چراغدان پر چراغوں کو رَوشن کرتے ہیں کیونکہ ہم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی مرضی کے مُطابق عَمل کر رہے ہیں۔ لیکن تُم نے اُنہیں ترک کر دیا ہے۔
2CH 13:12 خُدا ہمارے ساتھ ہیں، وہ ہمارے رہنما ہیں اَور اُن کے کاہِنؔ نرسنگے لیٔے ہُوئے ہیں۔ وہ اَپنے سینے پھُلا کر زور سے اُنہیں پھُونکیں گے۔ اَے بنی اِسرائیل یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا سے مت لڑو کیونکہ تُم کامیاب نہ ہو پاؤگے۔“
2CH 13:13 لیکن یرُبعامؔ نے اَپنی فَوج کو اُن کے عقب میں کمین گاہ میں بھیج دیا تاکہ جَب بنی یہُوداہؔ اُس کے سامنے آئے تو وہ پیچھے سے گھات لگا کر حملہ کر دے۔
2CH 13:14 جَب بنی یہُوداہؔ نے مُڑ کر نگاہ کی تو دیکھا کہ اُن پر آگے اَور پیچھے دونوں طرف سے حملہ ہو رہاہے تَب اُنہُوں نے یَاہوِہ سے فریاد کی۔ کاہِنوں نے اَپنے نرسنگے پھُونکے۔
2CH 13:15 تَب یہُوداہؔ کے مَردوں نے جنگ کا نعرہ مارا اَور اُن کے جنگی نعرہ کی آواز پر خُدا نے ابیّاہؔ اَور یہُوداہؔ کے آگے یرُبعامؔ اَور تمام اِسرائیل کو شِکست فاش دی۔
2CH 13:16 اَور اِسرائیلی یہُوداہؔ کے آگے سے بھاگ کھڑے ہُوئے اَور یَاہوِہ نے اُنہیں یہُوداہؔ کے ہاتھ میں کر دیا۔
2CH 13:17 اَور ابیّاہؔ اَور اُس کے لشکر نے اُنہیں زبردست جانی نُقصان پہُنچایا اَور اِسرائیل کے پانچ لاکھ آدمی میدانِ جنگ میں ڈھیر ہو گئے۔
2CH 13:18 یُوں اِسرائیلی اُس وقت مغلُوب ہُوئے اَور یہُوداہؔ کے لوگ فتح مند ہُوئے کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا پر اِعتماد کیا تھا۔
2CH 13:19 ابیّاہؔ نے یرُبعامؔ کا تعاقب کیا اَور اُس سے بیت ایل، یشانہؔ اَور عِفرونؔ کے شہر اُن کے گِردونواح کے دیہات سمیت اَپنے اِختیار میں کرلئے۔
2CH 13:20 اَور ابیّاہؔ کے دَورِ حُکومت میں یرُبعامؔ دوبارہ سے خُود کو طاقتور نہ کر سَکا اَور یَاہوِہ نے اُسے مارا اَور وہ مَر گیا۔
2CH 13:21 لیکن ابیّاہؔ کی طاقت بڑھتی چلی گئی اَور اُس نے چودہ عورتوں سے شادی کی جِن سے بائیس بیٹے اَور سولہ بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
2CH 13:22 اَور ابیّاہؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کے کارنامے اَور اقوال وغیرہ عِدّوؔ نبی کی کِتاب میں مندرج ہیں۔
2CH 14:1 اَور ابیّاہؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور داویؔد کے شہر میں دفن کیا گیا۔ اَور اُس کا بیٹا آساؔ اُس کی جگہ پر بادشاہ بنا اَور اُس کے دِنوں میں دس سال تک مُلک میں اَمن رہا۔
2CH 14:2 اَور آساؔ نے وُہی کیا جو یَاہوِہ اُس کے خُدا کی نظر میں دُرست اَور راست تھا۔
2CH 14:3 کیونکہ آساؔ نے غَیر قوموں کے مذبحوں اَور اُونچے مقامات پر مَوجُود زیارت گاہوں کو نِیست و نابود کر دیا، مُقدّس پتّھر کے سُتونوں کو گرا دیا اَور اشیراہؔ کے سُتونوں کو کاٹ ڈالا۔
2CH 14:4 آساؔ نے یہُوداہؔ کو حُکم دیا کہ وہ یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کے طالب ہوں اَور اُن کے آئین اَور اَحکام پر عَمل کریں۔
2CH 14:5 آساؔ نے یہُوداہؔ کے تمام شہروں سے بُلند مقامات پر مَوجُود زیارت گاہوں اَور بخُور جَلانے کے مذبحوں کو ڈھا دیا اَور اُس کی مملکت میں اَمن رہا۔
2CH 14:6 اَمن کے ایّام میں اُس نے یہُوداہؔ کے فصیلدار شہر تعمیر کئے۔ اُسے اُن سالوں میں جنگ کرنے کی ضروُرت بھی پیش نہ آئی کیونکہ یَاہوِہ نے اُسے آرام عطا فرمایا تھا۔
2CH 14:7 آساؔ نے یہُوداہؔ کو حُکم دیا تھا، ”آؤ ہم یہ شہر تعمیر کریں اَور اُنہیں فصیلوں، بُرجوں، سلاخوں اَور پھاٹکوں سے مُستحکم کریں۔ یہ مُلک اَب بھی ہمارا ہے کیونکہ ہم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے طالب ہُوئے ہیں۔ ہم اُن کے طالب ہُوئے اَور یَاہوِہ نے ہمیں چاروں طرف سے سلامتی بخشی ہے۔“ چنانچہ وہ شہر تعمیر کرتے گئے اَور کامیابی حاصل کرتے گئے۔
2CH 14:8 آساؔ کے پاس یہُوداہؔ کے تین لاکھ جَوانوں کا لشکر تھا جو ڈھالوں اَور نیزوں سے مُسلّح تھے۔ اَور بِنیامین کے دو لاکھ اسّی ہزار جَوانوں کا لشکر تھا جو چُھوٹی ڈھالوں اَور تیر کمانوں سے مُسلّح تھے۔ یہ سَب زبردست جنگجو مَرد تھے۔
2CH 14:9 اَور زیراحؔ کُوشی دس لاکھ فَوجیوں اَور تین سَو رتھ کا لشکر لے کر یہُوداہؔ پر حملہ کرنے کو نِکلا اَور مریشہؔ تک آ پہُنچا۔
2CH 14:10 اَور آساؔ اُس کے مُقابلہ کو گیا اَور اُنہُوں نے مریشہؔ کے قریب وادی صفاتھؔا میں جنگ کے لئے صف آرائی کی۔
2CH 14:11 تَب آساؔ نے یَاہوِہ اَپنے خُدا سے فریاد کی، اَے یَاہوِہ جنگ کی صورت میں زورآور کے خِلاف ناتواں کی مدد کرنے کو آپ کے علاوہ اَور کویٔی نہیں ہے جو مدد کے لئے مَوجُود ہو۔ اِس لئے اَے یَاہوِہ ہمارے خُدا، ہماری مدد کر کیونکہ ہم صرف آپ پر ہی اُمّید رکھتے ہیں اَور آپ ہی کے نام سے اِس لشکرِ جبّار کا مُقابلہ کرنے آئے ہیں۔ اَے یَاہوِہ آپ ہی ہمارے خُدا ہیں۔ اَیسا کبھی نہ ہو کہ اِنسان آپ کے مُقابلے میں غالب ہونے پایٔے۔
2CH 14:12 تَب یَاہوِہ نے آساؔ اَور یہُوداہؔ کی فَوج کے سامنے کُوشی فَوج کو شِکست دی اَور کُوشی میدانِ جنگ سے بھاگ کھڑے ہُوئے۔
2CH 14:13 اَور آساؔ اَور اُس کی فَوج نے گِراؔر تک اُن کا تعاقب کیا۔ کُوشی اِتنی بڑی تعداد میں مارے گیٔے کہ پھر وہ دوبارہ حملہ نہ سکے۔ کیونکہ وہ یَاہوِہ اَور اُن کی افواج کے سامنے کُچل ڈالے گیٔے تھے اَور یہُوداہؔ کی فَوج نے بہت سا مالِ غنیمت حاصل کیا۔
2CH 14:14 یہُوداہؔ کی فَوج نے گِراؔر کے اطراف کے تمام شہروں کو نِیست و نابود کر دیا کیونکہ یَاہوِہ کی دہشت اُن پر چھاگئی تھی۔ اَور یہُوداہؔ کی فَوج نے اُن تمام شہروں کو لُوٹ لیا کیونکہ وہاں بہت سا مالِ غنیمت تھا۔
2CH 14:15 اَور اُنہُوں نے اُن کے گلّہ بانوں کے ڈیروں پر بھی حملہ کیا اَور اِن سے فَوج نے کثرت سے بھیڑ بکریاں اَور اُونٹ لے کر یروشلیمؔ لَوٹ گیٔے۔
2CH 15:1 خُدا کی رُوح عزریاہؔ بِن عودِدؔ پر نازل ہُوئی۔
2CH 15:2 اَور عزریاہؔ آساؔ بادشاہ سے مُلاقات کرنے باہر گیا، جَب وہ میدانِ جنگ سے واپس آ رہاتھا۔ اَور عزریاہؔ نے آساؔ سے کہا، ”اَے آساؔ اَور تمام یہُوداہؔ اَور بِنیامین کے لوگوں، میری سُنو۔ یَاہوِہ اُس وقت تک تمہارے ساتھ ہیں جَب تک تُم اُن کے ساتھ ہو اَور اگر تُم اُن کے طالب ہوگے تو وہ تُمہیں ملیں گے۔ لیکن اگر تُم یَاہوِہ کو ترک کروگے تو وہ تُمہیں ترک کر دیں گے۔
2CH 15:3 بنی اِسرائیل ایک طویل عرصہ تک بغیر سچّے خُدا، بغیر تعلیم دینے والے کاہِنؔ اَور بغیر آئین کے رہتے چلے آئے ہیں۔
2CH 15:4 لیکن جَب اُن پر مُصیبت آئی وہ بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کی طرف پھرے اَور اُن کے طالب ہُوئے تو یَاہوِہ اُنہیں مِل گئے۔
2CH 15:5 اُن دِنوں میں لوگوں کی آمدورفت محفوظ نہ تھی کیونکہ تمام ممالک کے باشِندے بڑی افراتفری کے شِکار تھے۔
2CH 15:6 ایک قوم دُوسری قوم کو اَور ایک شہر دُوسرے شہر کو نِیست و نابود کر رہے تھے کیونکہ خُدا نے اُنہیں مُختلف مُصیبتیں دے کر مُبتلا کر رکھا تھا۔
2CH 15:7 مگر تُم لوگ مضبُوط بنو اَور اَپنے ہاتھوں کو ڈھیلے نہ ہونے دو کیونکہ تُم اَپنے کام کا اجر پاؤگے۔“
2CH 15:8 جَب آساؔ نے اِن باتوں کو اَور عزریاہؔ بِن عودِدؔ نبی کی نبُوّت کو سُنا تو اُس نے ہمّت کی اَور بنی یہُوداہؔ اَور بِنیامین کے سارے مُلک سے اَور اِفرائیمؔ کی پہاڑیوں کے اُن شہروں میں سے مکرُوہ بُتوں کو جِن پر اُس نے قبضہ کر لیا تھا نِیست و نابود کر دیا۔ اَور اُس نے یَاہوِہ کے برامدے کے سامنے کے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے مذبح کی دوبارہ مرمّت کروائی۔
2CH 15:9 پھر آساؔ نے سارے یہُوداہؔ، بِنیامین اَور اِن کے علاوہ اِفرائیمؔ، منشّہ اَور شمعُونؔ میں سے جو لوگ اُس کے درمیان آباد تھے جمع کیا۔ کیونکہ جَب شمالی اِسرائیل نے یہ دیکھا کہ یَاہوِہ اُن کا خُدا آساؔ کے ساتھ ہے تو وہ بکثرت اُس کے پاس چلے آئےتھے۔
2CH 15:10 آساؔ کے دَورِ حُکومت کے پندرھویں سال کے تیسرے مہینے میں یہ سَب لوگ یروشلیمؔ میں جمع ہُوئے۔
2CH 15:11 اَور اُس وقت اُنہُوں نے مالِ غنیمت میں سے جو وہ لے کر واپس آئےتھے سات سَو گائے بَیل، سات ہزار بھیڑیں یَاہوِہ کے حُضُور قُربان کیں۔
2CH 15:12 اَور اُن سَب لوگوں نے عہد باندھا کہ ہم دِل و جان سے یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کے طالب ہوں گے۔
2CH 15:13 اَور اُنہُوں نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ جو یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے خُدا کے طالب نہ ہوں، خواہ وہ عام آدمی ہوں یا بڑے آدمی، مَرد ہوں یا عورتیں؛ وہ سَب کے سَب موت کے گھاٹ اُتار دئیے جایٔیں گے۔
2CH 15:14 اِس کے علاوہ اُنہُوں نے تُرہیوں اَور نرسنگوں کی آواز کے ساتھ زور زور سے للکارتے ہُوئے یَاہوِہ کے حُضُور میں قَسم کھائی۔
2CH 15:15 یہ قَسم کھا کر سارے یہُوداہؔ کے لوگوں نے خُوشی کا اِظہار کیا کیونکہ اُنہُوں نے اَپنے پُورے دِل سے قَسم کھائی تھی اَور وہ کمال آرزُو سے خُدا کے طالب ہُوئے اَور یَاہوِہ اُنہیں مِلے۔ لہٰذا یَاہوِہ نے اُنہیں چاروں طرف سے سلامتی بخشی۔
2CH 15:16 اَور آساؔ بادشاہ نے اَپنی دادی معکہؔ کو بھی مادرِ ملِکہ کے عہدہ سے معزول کر دیا کیونکہ اُس نے اشیراہؔ کا نفرت اَنگیز بُت بنایا تھا۔ آساؔ نے اِس بُت کو کاٹ کر اُسے قِدرُونؔ کی وادی میں جَلا کر راکھ کر دیا۔
2CH 15:17 اگرچہ اُس نے اِسرائیل سے بُلند مقامات پر مَوجُود زیارت گاہوں کو دُور نہ کیا تو بھی عمر بھر آساؔ کا دِل پُوری طرح یَاہوِہ سے وابستہ رہا۔
2CH 15:18 اَور وہ چاندی اَور سونے کی اُن چیزوں کو خُدا کے بیت المُقدّس میں لے آیا جو اُس نے اَور اُس کے باپ نے نذر کے طور پر مخصُوص کی تھیں۔
2CH 15:19 اَور آساؔ کے دَورِ حُکومت کے پینتیسویں سال تک کویٔی جنگ نہ ہُوئی۔
2CH 16:1 آساؔ کے دَورِ حُکومت کے چھتّیسویں سال میں شاہِ اِسرائیل بعشاؔ نے یہُوداہؔ پر حملہ کیا اَور اُس نے رامہؔ کی قلعہ بندی کر دی تاکہ کوئی بھی شخص شمالی اِسرائیل کی سرحد سے شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے پاس آنے جانے نہ پائے۔
2CH 16:2 تَب آساؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے خزانوں سے اَور اَپنے شاہی محل سے چاندی اَور سونا نکال کر دَمشق میں ارام کے بادشاہ بِن ہددؔ کے پاس اِس پیغام کے ساتھ بھیجا۔
2CH 16:3 ”میرے اَور آپ کے درمیان عہد باندھا جائے،“ اُنہُوں نے کہا، ”جَیسا کہ میرے باپ اَور آپ کے والد کے درمیان عہد تھا۔ دیکھو، مَیں آپ کے لیٔے چاندی اَور سونے کا نذرانہ بھیج رہا ہُوں۔ لہٰذا اَب آپ شاہِ اِسرائیل بعشاؔ سے اَپنا عہد توڑ دیجئے تاکہ وہ میرے علاقہ سے اَپنی فَوج ہٹا لے۔“
2CH 16:4 بِن ہددؔ نے آساؔ بادشاہ کی بات مان لی اَور اَپنے فَوجی دستوں کے سپہ سالاروں کو اِسرائیل کے شہروں پر حملہ کرنے کا حُکم دیا اَور اُنہُوں نے عِیونؔ، دانؔ، ابیل مائیمؔ اَور نفتالی کے ذخیرہ کے سَب شہروں پر قبضہ کر لیا۔
2CH 16:5 جَب بعشاؔ نے یہ سُنا تو اُس نے رامہؔ کی قلعہ بندی کی تعمیر کرنا روک دیا۔
2CH 16:6 تَب آساؔ بادشاہ نے یہُوداہؔ کے تمام لوگوں کو ہمراہ لیا اَور وہ رامہؔ سے وہ پتّھر اَور لکڑی جسے بعشاؔ تعمیر کے لیٔے اِستعمال کر رہاتھا اُٹھاکر لے آئے اَور اُن سے اُس نے گِبعؔ اَور مِصفاہؔ کو تعمیر کیا۔
2CH 16:7 اُسی وقت حنانیؔ غیب بین نے شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے پاس آکر فرمایا: ”کیونکہ آپ نے ارام کے بادشاہ پر اِعتبار کیا ہے اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا پر اِعتماد نہیں رکھا اِس لیٔے ارام کے بادشاہ کی فَوج آپ کے ہاتھ سے بچ نکلی ہے۔
2CH 16:8 کیا کُوشی اَور لیبیا کی زبردست فَوج، رتھوں اَور گُھڑسواروں کے ساتھ آپ سے جنگ کرنے نہیں آئی تھی؟ تاہم جَب آپ نے یَاہوِہ پر اِعتماد کیا تو اُنہُوں نے اُنہیں آپ کے ہاتھ میں کر دیا۔
2CH 16:9 کیونکہ یَاہوِہ کی آنکھیں ساری زمین کو دیکھتی رہتی ہیں تاکہ وہ اُن لوگوں کو مضبُوط کریں جِن کے دِل ہمیشہ یَاہوِہ سے پُوری طرح وابستہ رہتے ہیں۔ آپ نے حماقت سے کام لیا ہے لہٰذا اَب سے آپ جنگ میں اُلجھے رہیں گے۔“
2CH 16:10 یہ سُن کر آساؔ غیب بین سے کافی ناراض ہو گیا اَور اِس قدر غضبناک ہُوا کہ اُس نے اُسے قَیدخانہ میں ڈال دیا۔ اَور اُس وقت آساؔ نے کیٔی لوگوں کو اَپنے ظُلم و تشدّد کا شِکار بنایا۔
2CH 16:11 آساؔ کے دَورِ حُکومت کے شروع سے لے کر آخِر تک کے کارناموں کا بَیان یہُوداہؔ اَور اِسرائیل کے بادشاہوں کی کِتاب میں قلم بند ہیں۔
2CH 16:12 اَور آساؔ کے دَورِ حُکومت کے اُنتالیسویں سال میں آساؔ کے پاؤں میں کوئی لاعلاج بیماری لگ گئی؛ پھر بھی اُس نے اَپنی بیماری کی حالات میں بھی یَاہوِہ کی تلاش نہیں کی بَلکہ صِرف طبیبوں پر تکیہ کرتا رہا۔
2CH 16:13 آساؔ نے اَپنے دَورِ حُکومت کے اکتالیسویں سال میں وفات پائی اَور اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا۔
2CH 16:14 اَور اُنہُوں نے اُسے داویؔد کے شہر میں اُس قبر میں دفن کیا جو اُس نے اَپنے لیٔے کھُدوائی تھی۔ اُنہُوں نے اُسے تابُوت میں لِٹا دیا جِس میں مَسالے اَور مُختلف قِسم کے اعلیٰ عطر ڈالے گیٔے تھے اَور اُنہُوں نے آساؔ کے اِحترام میں بڑی آگ اَور بخُور جَلایا۔
2CH 17:1 اَور آساؔ کی جگہ اُس کا بیٹا یہوشافاطؔ بطور بادشاہ تخت نشین ہُوا اَور اُس نے اِسرائیل کے مُقابلہ میں اَپنے آپ کو خُوب مضبُوط کر لیا۔
2CH 17:2 یہوشافاطؔ نے یہُوداہؔ کے تمام قلعہ بند شہروں میں فَوجی دستے مُقرّر کئے اَور یہُوداہؔ اَور اِفرائیمؔ کے اُن قصبوں میں فَوجی دستوں کی چوکیاں قائِم کیں جِن پر اُس کے والد آساؔ نے قبضہ کیا تھا۔
2CH 17:3 اَور یَاہوِہ یہوشافاطؔ کے ساتھ تھے کیونکہ وہ اَپنے دَورِ حُکومت کے اِبتدائی سالوں میں اَپنے باپ داویؔد ہی کے طور طریقوں پر چلا اَور بَعل و اشیراہؔ کے بُتوں کی پرستش نہیں کی۔
2CH 17:4 اَور اِسرائیل کے دستور کے مُوافق عَمل کرنے کی بجائے یہوشافاطؔ اَپنے والد کے خُدا کا طالب ہُوا اَور اُن کے حُکموں پر عَمل کرتا رہا۔
2CH 17:5 چنانچہ یَاہوِہ نے اُس کی بادشاہی کو بڑا اِستحکام بخشا اَور تمام یہُودیؔہ کے باشِندوں نے یہوشافاطؔ کو نذرانے کے طور پر تحفے پیش کئے جِس کے باعث اُسے بڑی دولت اَور عزّت حاصل ہُوئی۔
2CH 17:6 اُس کا دِل ہمیشہ یَاہوِہ کی راہوں کا مُشتاق رہا اَور اُس نے یہُودیؔہ میں سے بُلند مقامات پر مَوجُود زیارت گاہوں اَور اشیراہؔ کے سُتونوں کو نِیست و نابود کر دیا۔
2CH 17:7 یہوشافاطؔ کے دَورِ حُکومت کے تیسرے سال میں اُس نے اَپنے اہلکاروں میں سے بِن خیلؔ، عبدیاہؔ، زکریاؔہ، نتنی ایل اَور میکایاہؔ کو یہُودیؔہ کے شہروں میں تعلیم دینے کے لیٔے بھیجا۔
2CH 17:8 اَور لیویوں میں سے شمعیاہؔ، نتنیاہؔ، زبدیاہؔ، عساہیلؔ، شمیراموتؔ، یُوناتانؔ، ادُونیّاہؔ، طُوبیاہؔ اَور طوب ادُونیّاہؔ کو اَور کاہِنوں میں سے اِلیشمعؔ اَور یہُورامؔ کو اُن کے ساتھ بھیجا۔
2CH 17:9 اُن کے پاس یَاہوِہ کی کِتاب تورہ تھی جِس کی تعلیم اُنہُوں نے سارے یہُودیؔہ مُلک کو دی۔ یعنی وہ یہُوداہؔ کے سَب شہروں میں لوگوں کو تعلیم دیتے پھرے۔
2CH 17:10 اَور یہُوداہؔ کے اِردگرد کے ممالک کی تمام سلطنتوں میں یَاہوِہ کا اَیسا خوف چھا گیا کہ اُنہُوں نے یہوشافاطؔ سے پھر کبھی جنگ نہیں کی۔
2CH 17:11 بعض فلسطینی خراج کے طور پر چاندی لایٔے اَور اُنہُوں نے یہوشافاطؔ کو نذرانے کے طور پر تحفے بھی پیش کئے۔ مُلکِ عربؔ کے لوگوں نے یہوشافاطؔ کے پاس سات ہزار سات سَو مینڈھے اَور سات ہزار سات سَو بکرے نذرانے کے طور پر پیش کئے۔
2CH 17:12 یہوشافاطؔ طاقتور ہوتا چلا گیا اَور اُس نے یہُودیؔہ میں قلعہ اَور ذخیرہ کے شہر تعمیر کئے۔
2CH 17:13 اَور یہُودیؔہ کے شہروں میں اُس نے ضروریات کے بڑے بڑے مخزن تعمیر کروائے۔ اُس نے یروشلیمؔ میں تجربہ کار جنگجو مَردوں کا بھی اِنتخاب کرکے رکھّا تھا۔
2CH 17:14 جِن کا شُمار اُن کے آبائی خاندانوں کے مُطابق یہ تھا: بنی یہُوداہؔ میں کُل تین لاکھ فَوجی مَوجُود تھے جو ہزار ہزار سپہ سالار کے دستے میں تقسیم تھے: اعلیٰ سپہ سالار عدناہؔ کے تابع تین لاکھ فَوجی سُورما تھے؛
2CH 17:15 عدناہؔ کے ماتحت سپہ سالار یِہُوحنانؔ تھا جِس کے تابع دو لاکھ اسّی ہزار فَوجی سُورما تھے۔
2CH 17:16 اُس کے بعد اماصیاہؔ بِن زکریؔ تھا جِس نے اَپنی خُوشی اَور رضامندی سے اَپنے آپ کو یَاہوِہ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ اُس کے تابع دو لاکھ سُورما تھے۔
2CH 17:17 اَور بِنیامینیوں کے قبیلہ میں سے: الیدعؔ نام کا ایک فَوجی سُورما تھا، اَور اُس کے ساتھ کمان اَور سِپر سے مُسلّح دو لاکھ جَوان تھے؛
2CH 17:18 اُس کے ماتحت یہُوزبادؔ تھا جِس کے ساتھ ایک لاکھ اسّی ہزار مُسلّح جَوان تھے جو جنگ کے لیٔے تیّار رہتے تھے۔
2CH 17:19 یہ سَب بادشاہ کے خدمت گذار تھے اَور اُن کے علاوہ تھے جنہیں اُس نے یہُودیؔہ کے ہر حِصّہ کے قلعہ بند شہروں میں رکھّا تھا۔
2CH 18:1 یہوشافاطؔ کی دولت اَور عزّت بہت بڑھ گئی اَور اُس نے شادی کے ذریعہ احابؔ سے اَپنے گھرانے کا رشتہ جوڑ لیا۔
2CH 18:2 اَور چند سالوں کے بعد وہ احابؔ سے مِلنے سامریہؔ گیا۔ احابؔ نے یہوشافاطؔ اَور اُس کے ساتھیوں کے شاہی اِحترام میں بہت سِی بھیڑ بکریاں اَور بَیل ذبح کروائے پھر احابؔ نے یہوشافاطؔ کو راموتؔ گِلعادؔ پر حملہ کرنے کے لئے جوش دِلایا۔
2CH 18:3 اَور شاہِ اِسرائیل احابؔ نے شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ سے پُوچھا، ”کیا آپ راموتؔ گِلعادؔ پر حملہ کرنے میرے ساتھ چلیں گے؟“ یہوشافاطؔ نے جَواب دیا، ”مَیں آپ کے ساتھ ہُوں، اَور میری فَوج آپ کی فَوج ہے، چنانچہ جنگ میں ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔“
2CH 18:4 لیکن یہوشافاطؔ نے شاہِ اِسرائیل سے یہ بھی کہا، ”پہلے یَاہوِہ کی مرضی تو مَعلُوم کر لیں۔“
2CH 18:5 شاہِ اِسرائیل نے نبیوں کو جمع کیا جو تعداد میں چار سَو آدمی تھے اَور اُن سے پُوچھا، ”کیا میں راموتؔ گِلعادؔ سے جنگ کرنے جاؤں یا نہ جاؤں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ضروُر جاؤ کیونکہ خُدا اُسے بادشاہ کے قبضے میں کر دیں گے۔“
2CH 18:6 لیکن یہوشافاطؔ نے پُوچھا، ”کیا یہاں اِن نبیوں کے سِوا یَاہوِہ کا کویٔی نبی نہیں ہے جِس سے ہم دریافت کر سکیں؟“
2CH 18:7 تَب شاہِ اِسرائیل نے یہوشافاطؔ کو جَواب دیا، ”ابھی ایک اَور آدمی ہے جِس کے ذریعہ ہم یَاہوِہ سے پُوچھ سکتے ہیں لیکن مُجھے اُس سے نفرت ہے کیونکہ وہ میرے متعلّق کبھی اَچھّی نبُوّت نہیں کرتا بَلکہ ہمیشہ بُری نبُوّت کرتا ہے، اُس کا نام میکایاہؔ بِن اِملہؔ ہے۔“ یہوشافاطؔ نے جَواب دیا، ”بادشاہ کو اَیسا نہیں بولنا چاہئے۔“
2CH 18:8 لہٰذا شاہِ اِسرائیل نے اَپنے ایک افسر کو بُلاکر حُکم دیا، ”میکایاہؔ بِن اِملہؔ کو فوراً یہاں لے آؤ۔“
2CH 18:9 اَور شاہِ اِسرائیل اَور شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ شاہی لباس میں سامریہؔ کے پھاٹک کے مدخل کے قریب ایک کھلیان میں اَپنے اَپنے تخت پر تخت نشین تھے اَور اُن کے سامنے تمام نبی نبُوّت کر رہے تھے۔
2CH 18:10 اَور صِدقیاہؔ بِن کنعانہؔ نے اَپنے لئے لوہے کے سینگ بنوا کر اعلان کیا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’تُم اِن سینگوں سے ارامیوں کو اِس طرح ماروگے کہ وہ نِیست و نابود ہو جایٔیں گے۔‘ “
2CH 18:11 اَور تمام دیگر نبی بھی اَیسی ہی نبُوّت کر رہے تھے اَور کہہ رہے تھے، ”کہ راموتؔ گِلعادؔ پر حملہ کرو اَور فتح پاؤ کیونکہ یَاہوِہ اُسے بادشاہ کے قبضے میں کر دیں گے۔“
2CH 18:12 اَور اُس قاصِد نے جو میکایاہؔ کو بُلانے گیا تھا اُس نے میکایاہؔ کو حُکم دیا، ”دیکھو، سارے نبی ایک زبان ہوکر بادشاہ کی کامیابی کی پیشن گوئی کر رہے ہیں؛ تُم بھی اُن ہی کی طرح پیشن گوئی کرنا اَور بادشاہ کو خُوش کرنے والی اَچھّی بات کرنا۔“
2CH 18:13 لیکن میکایاہؔ نے کہا، ”زندہ یَاہوِہ کی قَسم میں وُہی کہُوں گا جو میرا خُدا مُجھ سے فرمائیں گے۔“
2CH 18:14 جَب وہ بادشاہ کے حُضُور پہُنچا، تو بادشاہ نے اُس سے پُوچھا، ”اَے میکایاہؔ کیا ہم راموتؔ گِلعادؔ سے جنگ کرنے جایٔیں یا باز رہیں؟“ میکایاہؔ نے جَواب دیا، ”تُم حملہ کرو، فتح تمہاری ہوگی کیونکہ وہ تمہارے حوالے کر دئیے جایٔیں گے۔“
2CH 18:15 بادشاہ نے میکایاہؔ سے کہا، ”میں کتنی مرتبہ تُمہیں قَسم دِلا کر کہُوں کہ تُم یَاہوِہ کے نام سے سچّی بات کے سِوا مُجھے اَور کچھ مت بتاؤ؟“
2CH 18:16 تَب میکایاہؔ نے جَواب دیا، ”مَیں نے تمام بنی اِسرائیل کو اُن بھیڑوں کی مانند پہاڑوں پر پراگندہ دیکھا جِن کا کویٔی گلّہ بان نہ تھا۔ اَور یَاہوِہ نے فرمایا، ’اِن لوگوں کا کویٔی آقا نہیں ہے۔ اِس لئے ہر ایک اَپنے گھر کو سہی سلامت لَوٹ جائے۔‘ “
2CH 18:17 اِس پر شاہِ اِسرائیل نے یہوشافاطؔ سے کہا، ”کیا مَیں نے آپ کو نہیں بتایا تھا کہ وہ میرے متعلّق کبھی اَچھّی بات کی نبُوّت نہیں کرتا، صِرف بدی کی ہی نبُوّت کرتا ہے؟“
2CH 18:18 میکایاہؔ نے اَپنی بات جاری رکھتے ہُوئے کہا، ”لہٰذا یَاہوِہ کا کلام سُنو، مَیں نے یَاہوِہ کو اَپنے تخت پر بیٹھے اَور تمام آسمانی فَوج کو اُن کے داہنی اَور بائیں طرف کھڑے دیکھا۔
2CH 18:19 اَور یَاہوِہ نے دریافت کیا، ’شاہِ اِسرائیل احابؔ کو کون ورغلائے گا کہ وہ راموتؔ گِلعادؔ پر حملہ کرے تاکہ وہ وہاں ماراجائے؟‘ ”اَور کسی نے کچھ جَواب دیا اَور کسی نے کچھ اَور۔
2CH 18:20 آخِرکار ایک خاص رُوح سامنے آئی اَور یَاہوِہ کے حُضُور کھڑی ہوئی اَور کہنے لگی، ’مَیں اُسے ورغلاؤں گی۔‘ ” ’مگر کس طرح؟‘ یَاہوِہ نے اُس سے پُوچھا۔
2CH 18:21 ”اُس نے جَواب دیا، ’مَیں جاؤں گی اَور بادشاہ کے تمام نبیوں کے مُنہ میں ایک جھُوٹ بولنے والی رُوح بَن جاؤں گی۔‘ ” ’تَب یَاہوِہ نے فرمایا، تُم اُسے ورغلانے میں ضروُر کامیاب ہوگی۔ جاؤ اَور اَیسا ہی کرو۔‘
2CH 18:22 ”اِس لئے دیکھ، یَاہوِہ نے تمہارے اِن تمام نبیوں کے مُنہ میں جھُوٹ بولنے والی رُوح ڈال دی ہے اَور یَاہوِہ نے تمہارے بارے میں تباہی کا فرمان جاری کیا ہے۔“
2CH 18:23 تَب صِدقیاہؔ بِن کنعانہؔ نے جا کر میکایاہؔ کے مُنہ پر تھپّڑ مارا اَور پُوچھا، ”آخِرکار یَاہوِہ سے آئی رُوح مُجھ میں سے نکل کر تُم سے کلام کرنے کیسے چلی گئی؟“
2CH 18:24 میکایاہؔ نے جَواب دیا، ”جِس دِن تُم چھُپنے کے لیٔے اَندرونی کوٹھری میں جاؤگے، تَب تُمہیں مَعلُوم ہو جائے گا۔“
2CH 18:25 تَب شاہِ اِسرائیل نے حُکم دیا، ”میکایاہؔ کو پکڑ لو اَور اُسے شہر کے حاکم امُونؔ اَور بادشاہ کے بیٹے یُوآشؔ کے پاس لے جاؤ۔
2CH 18:26 اَور اُن سے کہنا، ’بادشاہ یُوں فرماتا ہے: اِس آدمی کو قَیدخانہ میں رکھو اَور اُس سے مشقّت کراؤ اَور میرے سلامتی سے واپس آنے تک اُسے ذرا سِی روٹی اَور پانی کے سِوا اَور کچھ نہ دیا جائے۔‘ “
2CH 18:27 اِس پر میکایاہؔ نے کہا، ”اگر تُم کبھی صحیح سلامت واپس لَوٹ آئے تو سمجھ لینا کہ یَاہوِہ نے میری مَعرفت کلام ہی نہیں کیا تھا۔“ تَب اُس نے مجمع سے مزید کہا، ”اَے سَب لوگوں! میری باتیں یاد رکھنا!“
2CH 18:28 چنانچہ شاہِ اِسرائیل اَور شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ نے راموتؔ گِلعادؔ پر حملہ کر دیا۔
2CH 18:29 اَور شاہِ اِسرائیل نے یہوشافاطؔ سے کہا، ”میں حُلیہ بدل کر جنگ میں جاؤں گا مگر آپ اَپنا شاہی لباس پہنے رہنا۔“ لہٰذا شاہِ اِسرائیل اَپنا حُلیہ بدل کر جنگ میں گیا۔
2CH 18:30 اُدھر شاہِ ارام نے اَپنے رتھوں کے سرداروں کو حُکم دیا تھا، ”سِوائے شاہِ اِسرائیل کے تُم کسی چُھوٹے یا بڑے سے نہ لڑنا۔“
2CH 18:31 جَب رتھوں کے سرداروں نے یہوشافاطؔ کو دیکھا تو اُنہُوں نے زور سے چِلّاکر کہا، ”شاہِ اِسرائیل یہی ہے۔“ اِس لیٔے اُنہُوں نے اُس پر حملہ کرنے کی غرض سے اُسے چاروں طرف سے گھیرلیا لیکن یہوشافاطؔ نے چِلّاکر دعا کی اَور یَاہوِہ نے اُس کی مدد کی۔ اَور خُدا نے ارامی رتھوں کے سرداروں کو اُس کے پاس سے ہٹا دیا۔
2CH 18:32 جَب رتھوں کے سرداروں نے دیکھا کہ وہ شاہِ اِسرائیل نہیں ہے لہٰذا وہ یہوشافاطؔ کا تعاقب کرنے سے باز آئے۔
2CH 18:33 لیکن کسی فَوجی نے بِلا مقصد اَپنی کمان کھینچی تیر چلایا اَور اُس کا تیر شاہِ اِسرائیل کے زرہ بکتر کے بندوں کے درمیان جا لگا۔ تَب بادشاہ نے اَپنے رتھ بان کو حُکم دیا، ”رتھ موڑ لے اَور مُجھے میدانِ جنگ سے باہر لے چل کیونکہ مَیں زخمی ہو گیا ہُوں۔“
2CH 18:34 اَور اُس دِن خُونریزی جنگ ہُوئی، شاہِ اِسرائیل نے شام تک ارامیوں کے مقابل اَپنے رتھ پر اَپنے آپ کو کسی نہ کسی طرح سنبھالے رکھا مگر آفتاب کے غروب ہونے کے قریب مَر گیا۔
2CH 19:1 جَب شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ یروشلیمؔ میں اَپنے محل میں صحیح سلامت واپس لَوٹ آیا،
2CH 19:2 تو یِہُو بِن حنانیؔ غیب بین اُس سے مُلاقات کرنے آیا اَور یہوشافاطؔ بادشاہ سے کہا، ”کیا آپ کو زیب دیتاہے کہ آپ بدکاروں کی مدد کریں اَور یَاہوِہ سے دُشمنی کرنے والوں سے مَحَبّت رکھّیں؟ اِس سبب سے آپ یَاہوِہ کے قہر کے سزاوار ہیں۔
2CH 19:3 تاہم آپ کے اَندر کچھ خُوبیاں بھی ہیں کیونکہ آپ نے اشیراہؔ کے سُتونوں سے مُلک کو پاک کیا اَور دِل سے خُدا کی جُستُجو کرتے چلے آ رہے ہیں۔“
2CH 19:4 یہوشافاطؔ یروشلیمؔ میں مُقیم رہا۔ پھر ایک دفعہ وہ باہر نکل کر بیرشبعؔ سے لے کر اِفرائیمؔ کے پہاڑی مُلک تک لوگوں کے درمیان گیا اَور اَپنی کوششوں سے اُنہیں پھر سے یَاہوِہ اُن کے آباؤاَجداد کے خُدا کی طرف رُجُوع کیا۔
2CH 19:5 یہوشافاطؔ نے یہُوداہؔ کے ہر قلعہ بند شہر میں قاضیوں کو مُقرّر کیا۔
2CH 19:6 اَور قاضیوں سے اُس نے کہا، ”جو کچھ تُم کرو احتیاط سے سوچ سمجھ کر کرنا کیونکہ تُم آدمیوں کی طرف سے نہیں بَلکہ یَاہوِہ کی طرف سے عدالت کرتے ہو اَور جَب بھی تُم کویٔی فتویٰ سُناتے ہو خُدا تمہارے ساتھ ہوتاہے۔
2CH 19:7 لہٰذا تُمہیں یَاہوِہ کا خوف رہے اِس لیٔے احتیاط سے فیصلہ سُنانا کیونکہ یَاہوِہ ہمارے خُدا کے ہاں نااِنصافی یا جانِبداری یا رشوت خوری نہیں ہے۔“
2CH 19:8 یہوشافاطؔ نے یروشلیمؔ میں بھی بعض لیویوں، کاہِنوں اَور اِسرائیل کے آبائی خاندانوں کے سرداروں کو یَاہوِہ کے آئین نافذ کرنے اَور جھگڑے طے کرنے کے لیٔے مُقرّر کیا اَور وہ یروشلیمؔ میں رہنے لگے۔
2CH 19:9 اَور بادشاہ نے اُنہیں یہ حُکم دیا: ”تُم ہمیشہ یَاہوِہ کا خوف کرتے ہُوئے وفاداری سے اَور پُورے دِل سے خدمت کرنا۔
2CH 19:10 جَب تمہارے ہم وطنوں کی طرف سے جو شہروں میں رہتے ہیں کویٔی اَیسا مُقدّمہ آئے جو قتل و غارت یا آئین اَور اَحکام یا قوانین یا فرائض سے تعلّق رکھتا ہو تو، تُم اُنہیں ضروُر آگاہ کرنا تاکہ وہ یَاہوِہ کے خِلاف گُناہ نہ کریں۔ ورنہ اُس کا غضب تُم پر اَور تمہارے بھائیوں پر نازل ہوگا۔ تُم یہ کروگے تو تُم سے خطا نہ ہوگی۔
2CH 19:11 ”اَور امریاہؔ اعلیٰ کاہِن یَاہوِہ سے تعلّق رکھنے والے ہر مُعاملہ میں تمہارا ہادی ہوگا اَور بادشاہ کے سَب مُعاملوں میں زبدیاہؔ بِن اِشمعیل جو یہُوداہؔ کے قبیلہ کا سردار ہے تمہاری رہنمائی کرےگا۔ اَور لیوی عہدہ دار بھی تمہاری خدمت کے لیٔے مَوجُود ہیں۔ پس ہمّت سے کام لو۔ یَاہوِہ ہمیشہ نیک کام کرنے والوں کے ساتھ رہتے ہیں۔“
2CH 20:1 اِس کے بعد اَیسا ہُوا کہ مُوآبی، عمُّونی اَور معونی، فَوج نے مِل کر یہوشافاطؔ سے جنگ کرنے کا اعلان کر دیا۔
2CH 20:2 تَب کچھ لوگوں نے آکر یہوشافاطؔ کو خبر دی، ”سمُندر پار اِدُوم یا ارام کی طرف سے آپ پر حملہ کرنے کے لئے ایک لشکرِ جبّار چلا آ رہاہے اِس وقت وہ فَوج یعنی حَصّونؔ تامارؔ عینؔ گیدیؔ“ میں پہُنچ چُکی ہے۔
2CH 20:3 یہوشافاطؔ نے خوفزدہ ہوکر یَاہوِہ سے مدد مانگنے کا اِرادہ کیا اَور سارے یہُودیؔہ کے شہروں میں روزہ رکھنے کی مُنادی کرائی۔
2CH 20:4 چنانچہ سارے یہُودیؔہ کے لوگ یَاہوِہ سے مدد مانگنے کے لیٔے جمع ہُوئے؛ حقیقت تو یہ ہے کہ یہُودیؔہ کا کویٔی بھی شہر اَیسا نہ تھا جہاں سے لوگ یَاہوِہ سے مدد مانگنے نہ آئے ہُوں۔
2CH 20:5 تَب یہوشافاطؔ یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کی جماعت کے درمیان یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں نئے صحن کے آگے دعا کرنے کھڑا ہُوا
2CH 20:6 اَور یُوں فریاد کی: ”اَے یَاہوِہ ہمارے آباؤاَجداد کے خُدا، آپ وُہی خُدا نہیں ہیں جو آسمان میں ہیں۔ اَور آپ قوموں کی تمام مملکتوں پر حُکمران ہیں۔ اِختیار اَور قُدرت آپ کے ہی ہاتھوں میں ہے اِس وجہ سے کویٔی بھی آپ کا مُقابلہ نہیں کر سَکتا۔
2CH 20:7 اَے ہمارے خُدا، کیا آپ نے اِس مُلک کے باشِندوں کو اَپنی قوم اِسرائیل کے آگے سے نہیں نکالا تھا اَور اِس مُلک کو اَپنے دوست اَبراہامؔ کی نَسل کو ہمیشہ کے لیٔے نہیں عطا فرمایا تھا؟
2CH 20:8 چنانچہ وہ اِس میں آباد ہیں اَور اُنہُوں نے آپ کے نام کے لیٔے اِس میں ایک پاک مَقدِس یہ کہتے ہُوئے تعمیر کیا،
2CH 20:9 ’اگر کویٔی مُصیبت ہم پر تلوار یا وَبا یا قحط کے ذریعہ آ پڑے، اَور جَب ہم آپ کے حُضُور اِس بیت المُقدّس میں جہاں آپ کا جلال سکونت کرتا ہے، ہم آکر کھڑے ہوکر اَپنی اُس مُصیبت کے وقت آپ سے فریاد کریں تو آپ ہماری فریاد سُنیں گے اَور ہمیں رِہائی بخشیں گے۔‘
2CH 20:10 ”چنانچہ اَب دیکھیں، عمُّون، مُوآب اَور کوہِ سِعِیؔر کے لوگ جِن پر آپ نے بنی اِسرائیل کو جَب وہ مِصر سے نکل کر باہر آ رہے تھے، تَب اُنہیں حملہ کرنے سے روک دیا تھا بَلکہ اُنہیں آپ نے دُوسری طرف موڑ دیا تھا اَور وہ ہلاک ہونے سے بچ گیٔے تھے۔
2CH 20:11 دیکھو اَب وُہی لوگ ہمیں کیسا بدلہ دے رہے ہیں کہ ہمیں اُس مِیراث سے جِس کا آپ نے ہمیں مالک بنایا ہے بے دخل کرنے آ رہے ہیں۔
2CH 20:12 اَے ہمارے خُدا، کیا آپ اُن کی عدالت نہیں کریں گے؟ کیونکہ ہم میں تو اِس لشکرِ جبّار کا جو ہم پر حملہ کرنے آ رہاہے مُقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اَیسی حالات میں کیا کریں۔ البتّہ ہماری آنکھیں تو آپ پر ہی لگی ہیں۔“
2CH 20:13 اِس وقت سارے یہُودیؔہ کے تمام مَرد اَپنی بیویوں، چُھوٹے بچّوں کے ساتھ یَاہوِہ کے حُضُور میں کھڑے تھے۔
2CH 20:14 تَب بنی آسفؔ میں سے ایک لیوی یحزی ایل بِن زکریاؔہ بِن بِنایاہؔ بِن یعی ایل بِن متّنیاہؔ پرجو جماعت میں کھڑا تھا یَاہوِہ کی رُوح نازل ہُوئی۔
2CH 20:15 اَور یحزی ایل جماعت سے مُخاطِب ہوکر کہنے لگا: ”اَے یہوشافاطؔ بادشاہ اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے تمام باشِندو، سُنو! ’تمہارے لئے یَاہوِہ کا پیغام یہ ہے، اِس لشکرِ جبّار سے خوف نہ کرو اَور ہِراساں نہ ہو کیونکہ یہ جنگ تمہاری نہیں بَلکہ یَاہوِہ کی ہے۔
2CH 20:16 کل تُم اُن کا سامنا کرنے کے لیٔے جانا۔ وہ صیصؔ کے درّہ کے طرف سے حملہ کرنے کو آ رہے ہوں گے۔ تُم اُنہیں یروئیلؔ کے ریگستان کے سامنے والی وادی کے سِرے پر پاؤگے۔
2CH 20:17 اَے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ تُمہیں جنگ کرنے کی ضروُرت نہیں۔ بس صفیں باندھ کر اُنہیں دُرست کر لینا اَور چُپ چاپ کھڑے رہنا اَور اُس نَجات کو دیکھنا جو یَاہوِہ تُمہیں مُہیّا کریں گے۔ تُم خوف نہ کرو اَور نہ ہِراساں ہو۔ کل اُن کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے نکلنا کیونکہ یَاہوِہ تمہارے ساتھ ہوں گے۔‘ “
2CH 20:18 یہوشافاطؔ یہ سُن کر زمین پر سَجدہ میں چلا گیا اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے تمام لوگوں نے یَاہوِہ کے آگے گِر کر اُنہیں سَجدہ کیا۔
2CH 20:19 پھر قُہاتی اَور قورحؔی کے کچھ لیوی کھڑے ہوکر بڑی بُلند آواز سے یَاہوِہ، اِسرائیل کے خُدا کی حَمد و سِتائش کرنے لگے۔
2CH 20:20 اَور وہ صُبح سویرے اُٹھ کر دشتِ تقوعؔ کے لیٔے روانہ ہُوئے اَور چلتے وقت یہوشافاطؔ نے کھڑے ہوکر اُن سے فرمایا، ”اَے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے باشِندو، میری سُنو، یَاہوِہ اَپنے خُدا پر ایمان رکھّو تو تُم سلامت رہوگے۔ اُن کے نبیوں کا یقین کرو تو تُم کامیاب ہوگے۔“
2CH 20:21 لوگوں سے صلاح مشورہ کرنے کے بعد یہوشافاطؔ نے کچھ لوگوں کو مُقرّر کیا کہ وہ پاکیزگی سے آراستہ ہوکر لشکر کے آگے آگے چلتے ہُوئے حُسن تقدُّس کے ساتھ یَاہوِہ کے لیٔے گائیں اَور اُن کی سِتائش کریں اَور کہیں: ”یَاہوِہ کی شُکر گزاری کرو، کیونکہ اُن کی رحمت اَبدی ہے۔“
2CH 20:22 اَور جَب اُنہُوں نے نغمہ گائے اَور حَمد کرنا شروع کیا تو یَاہوِہ نے عمُّون، مُوآب اَور کوہِ سِعِیؔر کے لوگوں کے خِلاف جو یہُودیؔہ پر حملہ کر کرنے آ رہے تھے گھات لگا کر حملہ کرنے والے چھاپہ مار فَوج بِٹھا رکھی تھی جِس نے حملہ کیا اَور عمُّون، مُوآب اَور کوہِ سِعِیؔر کے لوگ مارے گیٔے۔
2CH 20:23 کیونکہ عمُّون اَور مُوآب کے لوگ کوہِ سِعِیؔر کے باشِندوں کے خِلاف اُٹھ کھڑے ہُوئے تاکہ اُنہیں نِیست و نابود کر دیں اَور جَب وہ کوہِ سِعِیؔر کے باشِندوں کو قتل کر چُکے تو ایک دُوسرے کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔
2CH 20:24 جَب یہُودیؔہ کے لوگ ایک پہرےداروں کے بُرج پر پہُنچے جو بیابان میں تھا اَور جہاں سے بیابان صَاف صَاف نظر آ رہاتھا اَور جَب اُنہُوں نے اُس لشکرِ جبّار پر نظر کی تو دیکھا کہ زمین پر ہر طرف لاشیں بِکھری پڑی ہیں اَور اُن میں کویٔی بھی زندہ نہ بچا تھا۔
2CH 20:25 اَور جَب یہوشافاطؔ اَور اُس کے لوگ اَپنا مالِ غنیمت لینے کے لیٔے گیٔے تو اُنہیں لاشوں کے درمیان اِس کثرت سے سازوسامان اَور کپڑے اَور قیمتی اَشیا ملیں کہ وہ اُنہیں اُٹھاکر لے جا بھی نہ سکتے تھے۔ اَور مالِ غنیمت اِس قدر زِیادہ تھا کہ اُسے جمع کرنے میں تین دِن لگ گیٔے۔
2CH 20:26 اَور چوتھے دِن وہ براکاہؔ کی وادی میں جمع ہُوئے اَور وہاں اُنہُوں نے یَاہوِہ کی حَمد و سِتائش کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دِن تک وہ وادی براکاہؔ کہلاتی ہے۔
2CH 20:27 اُس کے بعد یہوشافاطؔ کی قیادت میں یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سَب باشِندے خُوشی خُوشی یروشلیمؔ کو لَوٹے کیونکہ یَاہوِہ نے اُنہیں اَپنے دُشمنوں پر خُوشی منانے کا ایک موقع بخشا تھا۔
2CH 20:28 اَور وہ یروشلیمؔ میں داخل ہُوئے اَور سِتار، بربط اَور نرسنگے لیٔے ہُوئے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں آئے۔
2CH 20:29 اَور جَب اُنہُوں نے سُنا کہ اِسرائیل کے دُشمنوں کے خِلاف یَاہوِہ نے جنگ کی ہے تو اُن ممالک کی تمام سلطنتوں پر خُدا کا خوف چھا گیا۔
2CH 20:30 اَور یہوشافاطؔ کی سلطنت میں اَمن قائِم رہا کیونکہ اُن کے خُدا نے اُسے چاروں طرف سے سلامتی بخشی تھی۔
2CH 20:31 پس یہوشافاطؔ یہُودیؔہ پر حُکمرانی کرتا رہا۔ وہ پینتیس سال کا تھا جَب وہ یہُوداہؔ کا بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں پچّیس سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام عزُوباہ تھا جو شِلحیؔ کی بیٹی تھی۔
2CH 20:32 وہ اَپنے باپ آساؔ کی راہوں پر چلتا رہا اَور اُن سے ذرا بھی نہ بھٹکا۔ اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا۔
2CH 20:33 تاہم اُونچے مقامات مذبحے اُسی طرح قائِم رہے اَور لوگ ابھی تک پُورے دِل سے اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کی طرف مائل نہ ہُوئے تھے۔
2CH 20:34 یہوشافاطؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات شروع سے لے کر آخِر تک یِہُو بِن حنانیؔ کی تاریخ میں درج ہیں جو اِسرائیل کے بادشاہوں کی کِتاب میں درج ہے۔
2CH 20:35 اِس کے کچھ عرصے بعد شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ نے اِسرائیل کے بادشاہ احزیاہؔ سے جو بڑا بدکار تھا اِتّحاد کر لیا۔
2CH 20:36 اَور اُس کے ساتھ مِل کر ایک تجارتی بحری جہاز تعمیر کرنے کو راضی ہُوئے تاکہ ترشیشؔ سے مال منگوایا جائے۔ جَب بڑے بحری جہاز عضیُون گیبر میں تعمیر ہوکر تیّار ہو گیٔے۔
2CH 20:37 تَب الیعزرؔ بِن دُوداواہوؔ نے جو مریشہؔ کا تھا یہوشافاطؔ کے خِلاف یہ کہتے ہُوئے نبُوّت کی، ”چونکہ آپ نے احزیاہؔ سے اِتّحاد کیا ہے اِس لیٔے یَاہوِہ تمہارے اِرادوں کو خاک میں مِلا دیں گے۔“ پس وہ جہاز تباہ ہو گئے اَور ترشیشؔ کے لیٔے روانہ نہ ہو سکے۔
2CH 21:1 تَب یہوشافاطؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُسے داویؔد کے شہر میں اُن کے آباؤاَجداد کے ساتھ دفن کیا گیا اَور اُن کا بیٹا یہُورامؔ بطور بادشاہ اُن کا جانشین ہُوا۔
2CH 21:2 اَور اُس کے بھایٔی جو یہوشافاطؔ کی اَولاد تھے یہ تھے: عزریاہؔ، یحی ایل، زکریاؔہ، عزریاہؔ، مِیکاایلؔ اَور شفطیاہؔ۔ یہ تمام شاہِ اِسرائیل یہوشافاطؔ کے بیٹے تھے۔
2CH 21:3 اُن کے باپ نے اُنہیں چاندی اَور سونے کے بہت سے تحفے اَور قیمتی اَشیا اَور یہُودیؔہ میں فصیلدار شہر بھی دے رکھے تھے۔ لیکن بادشاہی اُس نے یہُورامؔ کو دی کیونکہ وہ اُس کا پہلوٹھا بیٹا تھا۔
2CH 21:4 جَب یہُورامؔ اَپنے باپ کی سلطنت پر پُوری طرح مُستحکم ہو گیا تو اُس نے اَپنے تمام بھائیوں کو اِسرائیل کے بعض اُمرا سمیت تلوار سے ہلاک کر دیا۔
2CH 21:5 یہُورامؔ بتّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں آٹھ سال حُکمرانی کی۔
2CH 21:6 اَور وہ شاہانِ بنی اِسرائیل کے نقش قدم پر چلا، اُس نے وُہی کیا جَیسا احابؔ کے خاندان نے کیا تھا؛ کیونکہ اُس نے احابؔ کی بیٹی سے شادی کی تھی۔ چنانچہ یہُورامؔ نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا۔
2CH 21:7 تاہم یَاہوِہ نے اَپنے اُس عہد کی وجہ سے جو اُنہُوں نے داویؔد سے باندھا تھا داویؔد کے گھرانے کو ہلاک کرنا نہ چاہا۔ وہ عہد یہ تھا کہ میں داویؔد اَور اُس کی نَسل کو ایک اَیسا چراغ بخشوں گا جو اَبد تک رَوشن رہے گا۔
2CH 21:8 یہُورامؔ کے زمانہ میں اِدُوم نے یہُوداہؔ کے خِلاف بغاوت کی اَور اَپنے اُوپر ایک بادشاہ مُقرّر کیا۔
2CH 21:9 اِس لیٔے یہُورامؔ اَپنے منصبداروں اَور اَپنے تمام رتھوں کے ساتھ وہاں گیا۔ اَور اِدُومیوں نے اُسے اَور اُس کے رتھوں کے سرداروں کو گھیرلیا لیکن وہ اُٹھا اَور رات کے وقت اُن کا گھیرا توڑ کر نکل گیا۔
2CH 21:10 اَور اِدُوم آج کے دِن تک یہُوداہؔ کی اِطاعت سے منحرف ہے۔ عَین اُسی وقت لِبناہؔ نے بھی بغاوت کر دی تھی کیونکہ یہُورامؔ نے یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کو ترک کر دیا تھا۔
2CH 21:11 اَور یہُودیؔہ کی پہاڑیوں پر زیارت گاہیں تعمیر کیں اَور یروشلیمؔ کے لوگوں کو زناکار بنایا اَور بنی یہُوداہؔ کو گُمراہ کیا۔
2CH 21:12 اَور یہُورامؔ کو ایلیّاہ نبی کی جانِب سے ایک خط مِلا جِس میں یہ پیشن گوئی کی گئی تھی: ”تمہارے آباؤاَجداد داویؔد کے خُدا یَاہوِہ کا یہ پیغام ہے: ’کیونکہ تُم نہ تو اَپنے باپ یہوشافاطؔ کی راہوں اَور نہ اَپنے دادا شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کی راہوں پر چلے،
2CH 21:13 بَلکہ تُم اِسرائیل کے بادشاہوں کی راہوں پر چلے ہو، اَور تُم نے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں کو زناکاری پر مائل کیا جَیسے احابؔ کے گھرانے نے کیا تھا۔ اَور تُم نے خُود اَپنے ہی بھائیوں کو یعنی اَپنے ہی باپ کے گھرانے کے لوگوں کو قتل کیا جو کہ تُم سے کہیں بہتر تھے۔
2CH 21:14 اِس لیٔے یَاہوِہ اَب آپ کے لوگوں، تمہارے بیٹوں، تمہاری بیویوں اَور ہر ایک چیز کو جو تمہاری ہے بڑی وَباؤں کا نِشانہ بنا دیں گے۔
2CH 21:15 اَور تُم خُود بھی آنتوں کی ایک بڑی بُری بیماری میں مُبتلا ہو جاؤگے چنانچہ اِس بیماری سے تمہاری انتڑیاں روزانہ باہر نکلتی جائیں گی۔‘ “
2CH 21:16 تَب یَاہوِہ نے فلسطینیوں اَور عربوں کو جو کُوشیوں کی سرحد کے پاس مُقیم تھے، یہُورامؔ کے خِلاف جنگ کے لئے اُکسایا۔
2CH 21:17 اُنہُوں نے یہُودیؔہ پر حملہ کیا اَور اُس کے اَندر گھُس آئے اَور سارے مال کو جو بادشاہ کے شاہی محل میں تھا اَور اُس کے بیٹوں اَور بیویوں کو بھی لے گیٔے۔ اَور اُس کے سَب سے چُھوٹے بیٹے یہُوآحازؔ یا احزیاہؔ کے سِوا اُس کے پاس کویٔی بیٹا باقی نہ رہا۔
2CH 21:18 اِن سَب کے بعد یَاہوِہ نے یہُورامؔ کو آنتوں کے لاعلاج مرض میں مُبتلا کر دیا۔
2CH 21:19 مرض روزانہ بڑھتا ہی گیا اَور دو سال کے اِختتام پر بیماری کے باعث اُس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں اَور شدید درد میں اُس کی موت ہو گئی۔ لوگوں نے اُس کے اِحترام میں کویٔی بڑی آگ اَور بخُور نہیں جَلائی جَیسا کہ اُنہُوں نے اُس کے باپ دادوں کے لیٔے جَلائی تھی۔
2CH 21:20 یہُورامؔ بتّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے آٹھ سال یروشلیمؔ میں حُکمرانی کی۔ اُس کی وفات پر کسی نے ماتم نہ کیا اَور وہ داویؔد کے شہر میں دفن کیا گیا لیکن شاہی قبروں میں نہیں۔
2CH 22:1 اَور یروشلیمؔ کے لوگوں نے یہُورامؔ کے سَب سے چُھوٹے بیٹے احزیاہؔ کو یہُورامؔ کی جگہ بادشاہ بنایا۔ کیونکہ چھاپہ ماروں نے جو عربوں کے ہمراہ لشکرگاہ میں گھُس آئےتھے اُنہُوں نے اُس کے سَب بڑے بیٹوں کو قتل کر دیا تھا۔ چنانچہ احزیاہؔ بِن یہُورامؔ یہُودیؔہ پر حُکمرانی کرنے لگا۔
2CH 22:2 جَب احزیاہؔ بائیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں ایک سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام عتلیاہؔ تھا جو عُمریؔ کی پوتی تھی۔
2CH 22:3 وہ بھی احابؔ کے گھرانے کی راہوں پر چلا کیونکہ اُس کی ماں بدی کے کام کرنے میں اُس کی حوصلہ اَفزائی کیا کرتی تھی۔
2CH 22:4 اَور اُس نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی جَیسے احابؔ کے گھرانے نے کی تھی۔ کیونکہ اُس کے باپ کی موت کے بعد احابؔ کے گھرانے کے لوگ ہی اُس کے مُشیر تھے اَور اُس کی تباہی کا باعث ہُوئے۔
2CH 22:5 اَور اُس وقت بھی اُس نے اُن کے مشورہ پر عَمل کیا جَب وہ شاہِ اِسرائیل یہُورامؔ یعنی یُورامؔ بِن احابؔ کے ساتھ شاہِ ارام حزائیلؔ سے راموتؔ گِلعادؔ میں جنگ کرنے گیا۔ ارامیوں نے یُورامؔ کو زخمی کر دیا۔
2CH 22:6 لہٰذا اُن زخموں کے علاج کے لیٔے جو حزائیلؔ کے ساتھ جنگ میں اُسے ارامی فَوج کے ہاتھ سے رامہؔ یعنی راموتؔ کی جنگ میں لگے تھے وہ یزرعیلؔ کو لَوٹ گیا۔ تَب شاہِ یہُودیؔہ عزریاہؔ یعنی احزیاہؔ بِن یہُورامؔ، یُورامؔ بِن احابؔ کے حالت کا جائزہ لینے یزرعیلؔ گیا کیونکہ یُورامؔ بیمار تھا۔
2CH 22:7 خُدا نے احزیاہؔ کی یُورامؔ یعنی یہُورامؔ سے مُلاقات کو احزیاہؔ کی ہلاکت کا باعث بنا دیا۔ جَب احزیاہؔ آیا تو وہ یُورامؔ کے ہمراہ یِہُو بِن نِمشیؔ سے جنگ کرنے گیا جسے یَاہوِہ نے احابؔ کے گھرانے کو تباہ کرنے کے لیٔے مَسح کیا تھا۔
2CH 22:8 اَور جَب یِہُو احابؔ کے گھرانے سے اِنتقام لے رہاتھا تو اُس نے یہُوداہؔ کے اُمرا اَور احزیاہؔ کے بھتیجوں کو دیکھا جو احزیاہؔ کی خدمت میں تھے اَور اُس نے اُنہیں قتل کر دیا۔
2CH 22:9 پھر وہ احزیاہؔ کی تلاش میں نِکلا، جسے اُس کے آدمیوں نے اُس وقت گِرفتار کر لیا جَب وہ سامریہؔ میں چھُپا ہُوا تھا۔ اَور اُنہُوں نے اُسے یِہُو کے پاس لاکر موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اُنہُوں نے اُسے دفن کیا کیونکہ وہ کہنے لگے کہ، ”وہ یہوشافاطؔ کا بیٹا ہے جو اَپنے سارے دِل سے یَاہوِہ کا طالب رہا۔“ اَور اخزیاہؔ کے گھرانے میں کویٔی بھی اِتنا طاقتور نہ تھا کہ سلطنت کو پھر دوبارہ قائِم کر سکے۔
2CH 22:10 جَب احزیاہؔ کی ماں عتلیاہؔ کو مَعلُوم ہُوا کہ اُس کے بیٹے کی موت ہو چُکی ہے تو اُس نے جا کر بنی یہُوداہؔ کے شاہی گھرانے کے تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا۔
2CH 22:11 لیکن یہُورامؔ بادشاہ کی بیٹی یہوشیبعؔ نے احزیاہؔ کے بیٹے یُوآشؔ کو اُن شہزادوں کے درمیان سے جو قتل کئے جانے والے تھے چُرا لیا اَور اُس کو اَور اُس کی دایہ کو خواب گاہ میں رکھا۔ یہوشیبعؔ جو یہُورامؔ بادشاہ کی بیٹی اَور یہویادعؔ کاہِنؔ کی بیوی تھی احزیاہؔ کی بہن تھی۔ اُس نے بچّے کو عتلیاہؔ سے چُھپائے رکھا اَور اِس لیٔے وہ اُسے قتل نہ کر سکی۔
2CH 22:12 اَور جَب مُلک پر عتلیاہؔ حُکمرانی کر رہی تھی، تو اُس دَوران چھ سال تک یُوآشؔ کو خُدا کے بیت المُقدّس میں چُھپائے رکھّا۔
2CH 23:1 لیکن ساتویں سال میں کاہِنؔ یہویادعؔ نے ہمّت سے کام لے کر سینکڑوں کے سرداروں یعنی عزریاہؔ بِن یروحامؔ، اِشمعیل بِن یِہُوحنانؔ، عزریاہؔ بِن عوبیدؔ، معسیاہؔ بِن عدایہ اَور الِیسافطؔ بِن زکریؔ کے ساتھ ایک عہد کیا۔
2CH 23:2 وہ یہُودیؔہ میں ایک کونے سے لے کر دُوسرے کونے تک پھرے اَور تمام شہروں سے لیویوں اَور اِسرائیلیوں کے آبائی خاندانوں کے سرداروں کو جمع کیا اَور جَب وہ یروشلیمؔ میں آئے
2CH 23:3 تو ساری جماعت نے خُدا کے بیت المُقدّس میں بادشاہ کے ساتھ ایک عہد کیا۔ کاہِنؔ یہویادعؔ نے اُن سے کہا، جَیسا یَاہوِہ نے داویؔد کی نَسل کی نِسبت وعدہ کیا ہے، ”بادشاہ کا یہ بیٹا حُکمرانی کرےگا۔
2CH 23:4 اَب تُمہیں جو کچھ کرناہے وہ یہ ہے کہ تُم کاہِنوں اَور لیویوں میں سے جو سَبت کو آتے ہوں، اُن میں سے ایک تہائی دربان کے طور پر دروازوں پر پہرا دیں۔
2CH 23:5 اَور تُم میں سے ایک تہائی شاہی محل پر اَور ایک تہائی بُنیاد کے پھاٹک پر رہیں گے اَور باقی سَب لوگ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے صحنوں میں ہوں گے۔
2CH 23:6 اَور اُن کاہِنوں اَور لیویوں کے سِوا جو خدمت پر ہوں اَور کویٔی یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں داخل نہ ہونے پایٔے۔ صِرف وُہی اَندر آئیں گے کیونکہ وہ وہاں خدمت کے لیٔے مخصُوص کئے گیٔے ہیں۔ لیکن باقی سَب لوگ اُن چیزوں پر نظر رکھیں جو خُدا نے اُن کے سُپرد کی ہیں۔
2CH 23:7 اَور لیوی بادشاہ کے چاروں طرف کھڑے رہیں اَور ہر ایک لیوی کے ہاتھ میں ہتھیار ہو اَور اگر کویٔی بیت المُقدّس میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو اُسے قتل کر دیا جائے اَور جہاں بھی بادشاہ آئے اَور جائے، تُم ہر وقت اُس کے ساتھ رہو۔“
2CH 23:8 اَور لیویوں نے اَور یہُوداہؔ کے تمام لوگوں نے یہویادعؔ کاہِنؔ کے حُکم کے مُطابق عَمل کیا۔ یہویادعؔ کاہِنؔ نے چھُٹّی پر جا رہے کسی فریق کو چھُٹّی پر جانے نہیں دیا، چنانچہ جو چھُٹّی پر جا رہے وہ اَورجو سَبت کو خدمت کے لیٔے اَندر آ رہے تھے وہ سَب وہاں جمع ہو گئے۔
2CH 23:9 پھر یہویادعؔ کاہِنؔ نے خُدا کے بیت المُقدّس میں جمع داویؔد بادشاہ کی چُھوٹی اَور بڑی ڈھالیں اَور برچھیاں سینکڑوں کے سرداروں کو دیں۔
2CH 23:10 اَور اُس نے اُن سَب لوگوں کو جِن میں سے ہر ایک اَپنا اَپنا ہتھیار اَپنے ہاتھ میں لیٔے ہُوئے تھا بیت المُقدّس کی جُنوبی حَد سے لے کر شمالی حَد تک مذبح اَور بیت المُقدّس کے پاس بادشاہ کے چاروں طرف کھڑا کر دیا تاکہ اُس کی حِفاظت کریں۔
2CH 23:11 پھر کاہِنؔ یہویادعؔ اَور اُس کے بیٹے بادشاہ کے بیٹے کو باہر لایٔے اَور اُس کے سَر پر تاج رکھا۔ پھر اُنہُوں نے اُسے عہدنامہ پیش کیا اَور اُس کے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ اُنہُوں نے اُسے مَسح کیا اَور نعرہ لگایا کہ، ”بادشاہ زندہ باد۔“
2CH 23:12 جَب عتلیاہؔ نے لوگوں کے دَوڑنے اَور بادشاہ کے لیٔے بُلند آواز سے نعرہ لگاتے سُنا تو وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اُن کے پاس آئی۔
2CH 23:13 اُس نے نگاہ کی اَور دیکھا کہ وہاں پھاٹک پر اَپنے سُتون کے پاس بادشاہ کھڑا ہے اَور بادشاہ کے نزدیک اُمرا اَور نرسنگے بجانے والے مَوجُود ہیں اَور ساری مملکت کے لوگ خُوشی منا رہے ہیں اَور نرسنگے پھُونک رہے ہیں اَور گانے والے اَپنے سازوں کے ساتھ مدح سرائی کرنے والوں کی پیشوائی کر رہے ہیں۔ تَب عتلیاہؔ نے اَپنے کپڑے پھاڑے اَور چِلّاکر کہا، ”یہ غدّاری ہے غدّاری!“
2CH 23:14 تَب یہویادعؔ کاہِنؔ نے سینکڑوں کے سرداروں کو جو فَوجیوں پر مُقرّر تھے باہر بھیجا اَور اُن سے کہا: ”عتلیاہؔ کو فَوج کی صفوں کے درمیان باہر لے آؤ اَورجو کویٔی اُس کے لئے وفاداری دِکھائے اُسے تلوار سے قتل کر دو،“ کیونکہ یہویادعؔ کاہِنؔ نے پہلے ہی حُکم دیا تھا ”عتلیاہؔ کو قتل یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں نہ کرنا۔“
2CH 23:15 تَب اُنہُوں نے اُسے جانے دیا لیکن جَیسے ہی وہ شاہی محل کے علاقہ میں گھوڑا پھاٹک کے مدخل کے پاس پہُنچی، اُنہُوں نے اُسے گِرفتار کر لیا اَور وہیں اُسے قتل کر دیا۔
2CH 23:16 پھر یہویادعؔ نے یَاہوِہ سے ایک عہد باندھا کہ وہ، سَب لوگ اَور بادشاہ یَاہوِہ کے لوگ ہوں گے۔
2CH 23:17 اَور سَب لوگ بَعل کے مَندِر کو گیٔے اَور اُسے ڈھا کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اَور اُنہُوں نے اُس کے مذبحوں اَور اُس کی بُتوں کو چَکنا چُور کر دیا اَور بَعل کے پجاری متّانؔ کو مذبحوں کے سامنے قتل کیا۔
2CH 23:18 پھر یہویادعؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی نِگرانی لیوی کاہِنوں کے ہاتھوں میں سُپرد کر دی جنہیں داویؔد نے بیت المُقدّس میں خدمت پر مُقرّر کیا تھا کہ اُنہُوں نے داویؔد کے اَحکام کے مُطابق خُوشی مناتے ہُوئے اَور گاتے ہُوئے یَاہوِہ کی سوختنی نذریں گزرانیں جَیسا کہ مَوشہ کے تمام آئین میں لِکھا ہے۔
2CH 23:19 اُس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے پھاٹکوں پر بھی دربان مُقرّر کئے تاکہ کویٔی بھی جو کسی طرح سے ناپاک ہو اَندر نہ آسکے۔
2CH 23:20 اَور اُس نے سینکڑوں کے سرداروں، اُمرا، لوگوں کے حاکموں اَور مُلک کے سَب لوگوں کو ساتھ لیا اَور بادشاہ کو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں سے لے کر آیا اَور وہ بالائی پھاٹک کے راستے محل میں گیٔے اَور بادشاہ کو تختِ شاہی پر بِٹھایا۔
2CH 23:21 تَب مُلک کے سَب لوگوں نے خُوشی منائی۔ اَور شہر میں اَمن ہو گیا کیونکہ عتلیاہؔ تلوار سے قتل کی جا چُکی تھی۔
2CH 24:1 یُوآشؔ سات سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں چالیس سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام ضِبیاہؔ تھا اَور وہ بیرشبعؔ کی تھی۔
2CH 24:2 اَور یُوآشؔ نے یہویادعؔ کاہِنؔ کے زندہ رہتے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا۔
2CH 24:3 اَور یہویادعؔ کاہِنؔ نے یُوآشؔ کے لیٔے دو بیویاں اِنتخاب کیں جِن سے اُس کے بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہُوئیں۔
2CH 24:4 کچھ عرصہ بعد یُوآشؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت کرانے کا فیصلہ کیا۔
2CH 24:5 اُس نے کاہِنوں اَور لیویوں کو جمع کیا اَور اُن سے فرمایا، ”بغیر وقت ضائع کئے بنی یہُودیؔہ کے شہروں میں جا کر سارے بنی اِسرائیل سے سالانہ وصول کئے جانے والا محصُول جمع کرو تاکہ اُس سے اَپنے خُدا کے بیت المُقدّس کی مرمّت کی جا سکے۔“ لیکن لیویوں نے اِس پر فوراً عَمل نہ کیا۔
2CH 24:6 لہٰذا بادشاہ نے اعلیٰ کاہِن یہویادعؔ کو طلب کیا اَور اُس سے پُوچھا، ”آپ نے لیویوں کو یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ سے محصُول لانے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جو یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ اَور اِسرائیل کی جماعت نے عہد کے خیمہ کے لیٔے مُقرّر کیا تھا؟“
2CH 24:7 کیونکہ اُس بدکار عورت عتلیاہؔ کے بیٹوں نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں داخل ہوکر بیت المُقدّس کی مخصُوص سَب اَشیا کو لے کر بَعل کے بُتوں کی پرستش میں اِستعمال کیا تھا۔
2CH 24:8 لہٰذا بادشاہ کے حُکم پر ایک صندُوق بنایا گیا اَور اُسے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے پھاٹک پر باہر رکھ دیا گیا۔
2CH 24:9 اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ میں باقاعدہ سرکاری اعلان کیا گیا کہ سَب لوگ یَاہوِہ کے لیٔے وہ محصُول لائیں جِس کا خُدا کے خادِم مَوشہ نے بیابان میں اِسرائیل سے مطالبہ کیا تھا۔
2CH 24:10 اَور تمام اُمرا اَور تمام لوگ خُوشی سے اَپنا اَپنا محصُول لاکر صندُوق میں ڈالنے لگے جِس سے وہ بھر گیا۔
2CH 24:11 جَب بھی لیوی صندُوق لے کر شاہی حُکاّم کے پاس آتے اَور وہ دیکھتے کہ اُس میں بہت نقدی ہے تَب شاہی مُنشی اَور اعلیٰ کاہِن کا نائب آکر اُس صندُوق کو خالی کرکے واپس اُس کی جگہ رکھ دیتے تھے۔ وہ یہ معمول کے مُطابق روزانہ کرتے رہے اَور یُوں کثیر مقدار میں نقدی جمع کرلی۔
2CH 24:12 بادشاہ اَور یہویادعؔ کاہِنؔ نے یہ رقم اُن آدمیوں کے حوالہ کر دی جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے ضروُری کاموں سے وابستہ تھے اَور اُنہُوں نے مِعماروں اَور بڑھئیوں کو خُدا کے بیت المُقدّس کو بحال کرنے کے لیٔے اَور لوہے اَور کانسے کا کام کرنے والوں کو بیت المُقدّس کی مرمّت کرنے کے لیٔے اُجرت پر رکھ لیا۔
2CH 24:13 کاریگر جو کام پر لگائے گیٔے تھے وہ بڑے محنتی تھے اَور اُن کے ماتحت مرمّت کے کام میں ترقّی ہوتی گئی۔ اُنہُوں نے خُدا کے بیت المُقدّس کو اُس کی سابقہ صورت پر بحال کرکے اَور بھی مضبُوط بنایا۔
2CH 24:14 جَب وہ سارا کام ختم کر چُکے تو باقی رُوپیہ بادشاہ اَور یہویادعؔ کاہِنؔ کے پاس لایٔے اَور اُس سے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے لیٔے کیٔی چیزیں یعنی خدمت کے لیٔے اَور سوختنی نذروں کے لیٔے کام میں آنے والی اَشیا اَور ظروف وغیرہ اَور سونے اَور چاندی کی دیگر اَشیا تیّار کی گئیں۔ جَب تک یہویادعؔ کاہِنؔ زندہ رہا، یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لگاتار آتِشی قُربانیاں گذرانی جاتی رہیں۔
2CH 24:15 یہویادعؔ کاہِنؔ نے بُوڑھا اَور عمر رسیدہ ہوکر ایک سَو تیس سال کی عمر میں وفات پائی۔
2CH 24:16 اَور یہویادعؔ کاہِنؔ اَپنے اَچھّے کام کی وجہ سے اِسرائیل میں خُدا اَور اُن کے بیت المُقدّس کے لیٔے کیا تھا داویؔد کے شہر میں بادشاہوں کے ساتھ دفن کیا گیا۔
2CH 24:17 یہویادعؔ کاہِنؔ کی وفات کے بعد یہُودیؔہ کے اہلکار آئے اَور اُنہُوں نے بادشاہ کو خِراج عقیدت پیش کیا اَور بادشاہ کو اَپنی بات منوانے پر راضی کر لیا۔
2CH 24:18 پھر اُنہُوں نے یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کے بیت المُقدّس کو ترک کر دیا، وہ اشیراہؔ کے سُتونوں اَور بُتوں کی پرستش کرنے لگے۔ تَب اُن کی خطا کے باعث خُدا کا غضب یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ پر نازل ہُوا۔
2CH 24:19 اگرچہ یَاہوِہ نے اُن لوگوں کے پاس نبی بھی بھیجے تاکہ وہ اُنہیں یَاہوِہ کی طرف واپس پھیر لائیں اَور اگرچہ وہ نبی اُنہیں تنبیہ کرتے رہے لیکن اُنہُوں نے اُن کی ایک نہ سُنی۔
2CH 24:20 تَب خُدا کی رُوح یہویادعؔ کاہِنؔ کے بیٹے زکریاؔہ پر نازل ہُوئی اَور وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہوکر کہنے لگا، ”خُدا یُوں فرماتے ہیں، ’تُم یَاہوِہ کے حُکموں کی خِلاف ورزی کیوں کرتے ہو؟ اَیسا کرنے سے تمہاری ہرگز ترقّی نہ ہوگی۔ چونکہ تُم نے یَاہوِہ کو ترک کر دیا ہے اِس لیٔے اُنہُوں نے بھی تُمہیں ترک کر دیا ہے۔‘ “
2CH 24:21 لیکن یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے رہنماؤں نے مِل کر زکریاؔہ کے خِلاف سازش کی اَور بادشاہ کے حُکم سے اُنہُوں نے اُسے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے صحن میں سنگسار کر دیا۔
2CH 24:22 یُوں شاہِ یُوآشؔ نے زکریاؔہ کے باپ یہویادعؔ کی اُس مہربانی کو جو اُس نے یُوآشؔ پر کی تھی یاد نہ رکھا بَلکہ اُس کے بیٹے کو قتل کیا جِس نے مَرتے وقت کہا، ”کاش یَاہوِہ اِسے دیکھے اَور تُم سے اِس کا اِنتقام لے۔“
2CH 24:23 اُسی سال کے آخِر میں ارام کی فَوج نے یُوآشؔ پر حملہ کیا اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ میں داخل ہوکر لوگوں میں سے قوم کے سَب سرداروں کو ہلاک کر دیا اَور سارا مالِ غنیمت دَمشق میں اَپنے بادشاہ کے پاس بھیج دیا۔
2CH 24:24 اگرچہ ارامی فَوج چند فَوجیوں کے ساتھ آئی تھی لیکن یَاہوِہ نے ایک بہت بڑی فَوج کو اُن کے ہاتھ میں کر دیا۔ کیونکہ بنی یہُوداہؔ نے یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کو ترک کر دیا تھا۔ پس یُوآشؔ کو اُس کے کئے کا بدلہ مِل گیا۔
2CH 24:25 اَور جَب ارامی فَوج یُوآشؔ کو کافی زخمی کرکے چھوڑکر واپس چلی گئی۔ تَب یُوآشؔ ہی کے مُلازمین نے اُس کے خِلاف سازش کی اَور اُسے اُس کے بِستر پر ہی قتل کر دیا۔ یہ یہویادعؔ کاہِنؔ کے بیٹے کو قتل کرنے کی سزا تھی۔ لہٰذا یُوآشؔ کی وفات ہو گئی اَور اُسے داویؔد کے شہر میں دفنایا گیا لیکن لوگوں نے اُسے شاہی قبروں میں نہیں دفنایا۔
2CH 24:26 اَور یُوآشؔ کے خِلاف سازش کرنے والے یہ تھے، ایک عمُّونی عورت شیمیتھؔ کا بیٹا زابادؔ اَور ایک مُوآبی عورت شِمریتؔھ کا بیٹا یہُوزبادؔ۔
2CH 24:27 اُس کے بیٹوں کا حال، اَور اُس کے خِلاف متعدّد پیشن گوئیاں اَور خُدا کے بیت المُقدّس کے مرمّت کی تفصیل وغیرہ سلاطین کی کِتاب کی تفسیر میں مندرج ہے۔ تَب اِس کے بعد اُس کا بیٹا اماضیاہؔ یُوآشؔ کی جگہ بادشاہ بنا۔
2CH 25:1 اماضیاہؔ پچّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں اُنتیس سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام یِہوعدّان تھا اَور وہ یروشلیمؔ کی باشِندہ تھی۔
2CH 25:2 اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا لیکن پُورے دِل سے نہیں کیا۔
2CH 25:3 اَور جَب سلطنت مضبُوطی سے بادشاہ کے ہاتھ میں آ گئی تو اُس نے اُن درباریوں کو جو اُس کے باپ کے قاتل تھے ہلاک کروا دیا۔
2CH 25:4 تاہم اُن کے بیٹوں کو اُس نے قتل نہ کیا بَلکہ مَوشہ کی کِتاب تورہ کے مُطابق عَمل کیا جہاں یَاہوِہ کا حُکم ہے: ”بیٹوں کے بدلے آباؤاَجداد نہ مارے جایٔیں اَور نہ آباؤاَجداد کے بدلے بیٹے مارے جایٔیں بَلکہ ہر ایک اَپنے ہی گُناہ کے سبب سے ماراجائے۔“
2CH 25:5 اَور اماضیاہؔ نے بنی یہُوداہؔ کے لوگوں کو جمع کیا اَور اُنہیں اُن کے آبائی خاندانوں کے مُطابق تمام بنی یہُوداہؔ اَور بِنیامین میں ہزار ہزار کے اَور سَو سَو کے سرداروں کے ماتحت کر دیا۔ پھر اُس نے بیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر والوں کو جمع کیا تو مَعلُوم ہُوا کہ تین لاکھ آدمی فَوجی خدمت کے لائق ہیں جو برچھی اَور ڈھال سے کام لے سکتے ہیں۔
2CH 25:6 اَور اماضیاہؔ نے ایک سَو تالنت چاندی دے کر شمالی اِسرائیل سے ایک لاکھ جنگجو مَرد کرایہ پر بھی لے لیٔے۔
2CH 25:7 لیکن ایک مَرد خُدا نے اُس کے پاس آکر فرمایا، ”اَے بادشاہ، اِسرائیل کے اِن جَوانوں کو اَپنے ساتھ ہرگز مت لے جانا کیونکہ یَاہوِہ شمالی اِسرائیل کے ساتھ نہیں ہے اَور نہ ہی بنی اِفرائیمؔ کے ساتھ ہے۔
2CH 25:8 اَور اگر تُو میدان جنگ میں جائے اَور بہادری سے جنگ لڑے، پھر بھی خُدا تُجھے دُشمن کے آگے شِکست دے گا کیونکہ فتح یا شِکست دینے میں خُدا ہی میں قُدرت ہے۔“
2CH 25:9 تَب اماضیاہؔ نے اُس مَرد خُدا سے پُوچھا، ”پھر میرے اُن ایک سَو تالنت چاندی کا کیا ہوگا جو مَیں نے اِن اِسرائیلی فَوجیوں کے لیٔے اَدا کئے ہیں؟“ اُس مَرد خُدا نے جَواب دیا، ”یَاہوِہ تُمہیں اُس سے کہیں زِیادہ دے سکتے ہیں۔“
2CH 25:10 پس اماضیاہؔ نے اُن جَوانوں کو جو مُلکِ اِفرائیمؔ سے آئےتھے بَرخواست کر دیا اَور اُنہیں واپس جانے کو کہا۔ اُنہیں بنی یہُوداہؔ پر بڑا غُصّہ آیا اَور وہ غیظ و غضب سے بھرے ہُوئے اَپنے اَپنے گھر کو روانہ ہو گئے۔
2CH 25:11 پھر اماضیاہؔ نے اَپنے جَوانوں کو صف آرا کیا اَور وادی شور کی طرف فَوج کشی کی اَور وہاں اُس نے بنی سِعِیؔر کے دس ہزار آدمیوں کو قتل کیا۔
2CH 25:12 اَور یہُودیؔہ کی فَوج نے دس ہزار آدمیوں کو زندہ پکڑ لیا اَور اُنہیں پہاڑی کی چوٹی پر لے جا کر نیچے پھینک دیا اَور وہ سَب ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔
2CH 25:13 اِسی دَوران اُن جَوانوں نے جنہیں اماضیاہؔ نے واپس بھیج دیا تھا اَور جنگ میں حِصّہ لینے کی اِجازت نہیں دی تھی، سامریہؔ سے لے کر بیت حَورُونؔ تک بنی یہُودیؔہ کے شہروں پر چھاپا مارا۔ اُنہُوں نے تین ہزار لوگوں کو قتل کیا اَور بہت سا مالِ غنیمت لے کر چلے گیٔے۔
2CH 25:14 جَب اماضیاہؔ اِدُومیوں کے قتلِ عام سے واپس لَوٹا تو وہ وہاں سے بنی سِعِیؔر کے معبُودوں کے بُتوں کو ساتھ لے آیا اَور اُنہیں اَپنا معبُود بنا کر نصب کر دیا اَور اُن کی پرستش کرنے اَور اُن کے حُضُور بخُور جَلانے لگا۔
2CH 25:15 تَب یَاہوِہ کا قہر اماضیاہؔ کے خِلاف بھڑک اُٹھا اَور یَاہوِہ نے ایک نبی کو اُس کے پاس بھیجا۔ نبی نے اُس سے فرمایا، ”تُم اِن معبُودوں کی طرف کیوں رُجُوع ہُوئے جو اَپنے ہی لوگوں کو تمہارے ہاتھ سے نہ بچا سکے؟“
2CH 25:16 ابھی وہ باتیں کر ہی رہاتھا کہ بادشاہ نے پُوچھا، ”تُمہیں کس نے بادشاہ کا شاہی مُشیر مُقرّر کیا ہے؟ اَپنا مُنہ بند رکھ! کیا مرنے کا اِرادہ ہے؟“ پس وہ نبی یہ کہہ کر چُپ ہو گیا، ”میں جانتا ہُوں کہ خُدا نے تُمہیں ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ تُونے اَیسا کیا ہے اَور میری نصیحت پر عَمل نہیں کیا ہے۔“
2CH 25:17 اَور جَب اماضیاہؔ شاہِ یہُودیؔہ اَپنے مُشیروں سے صلاح مشورہ کر چُکا تو اُس نے اِسرائیل کے بادشاہ یہُوآشؔ بِن یہُوآحازؔ بِن یِہُو کے پاس یہ پیغام بھیجا: ”ہمّت ہے تو ذرا میدان جنگ میں میرا سامنا کر۔“
2CH 25:18 لیکن شاہِ اِسرائیل یہُوآشؔ نے شاہِ یہُودیؔہ اماضیاہؔ کو پیغام بھیجا: ”لبانونؔ کی ایک کٹیلی جھاڑی نے لبانونؔ کے مضبُوط دیودار کو پیغام بھیجا، ’اَپنی بیٹی کی شادی میرے بیٹے سے کر دو۔‘ اِتنے میں لبانونؔ کا ایک جنگلی حَیوان اُدھر سے گُزرا جِس نے اُس جھاڑی کو پاؤں تلے روند ڈالا۔
2CH 25:19 تُم تو کہتے ہو کہ دیکھ مَیں نے اِدُوم کو شِکست دی ہے۔ اِس گمان نے تُمہیں مغروُر اَور متکبّر بنا دیا ہے۔ لیکن گھر ہی میں خاموش بیٹھے رہو! کیوں مُصیبت کو دعوت دیتے ہو۔ تُم تو ڈُبو گے ہی، ساتھ ہی یہُودیؔہ کو بھی لے ڈُبو گے۔“
2CH 25:20 لیکن اماضیاہؔ نے ایک نہ سُنی اَور خُدا کی مرضی بھی یہی تھی کہ وہ یہُوآشؔ کے حوالہ کیاجایٔے کیونکہ وہ اِدُوم کے معبُودوں کا طالب ہُوا تھا۔
2CH 25:21 پس یہُوآشؔ شاہِ اِسرائیل نے حملہ کیا اَور وہ اَور یہُودیؔہ کا بادشاہ اماضیاہؔ یہُوداہؔ میں بیت شِمِشؔ کے مقام پر ایک دُوسرے کے مقابل صف آرا ہُوئے۔
2CH 25:22 بنی یہُوداہؔ نے بنی اِسرائیل سے شِکست کھائی اَور اُن کے سَب آدمی اَپنے اَپنے خیموں کو فرار ہو گیٔے۔
2CH 25:23 اَور یہُوآشؔ شاہِ اِسرائیل نے شاہِ یہُودیؔہ اماضیاہؔ بِن یُوآشؔ بِن احزیاہؔ کو بیت شِمِشؔ میں پکڑ لیا اَور اُسے یروشلیمؔ لایا اَور مُلکِ اِفرائیمؔ کے پھاٹک سے لے کر کونے کے پھاٹک تک یروشلیمؔ کی فصیل کا تقریباً ایک سَو اسّی میٹر حِصّہ گرا دیا۔
2CH 25:24 عوبیدؔ اِدُوم کے قبضے میں رکھے گئے اَورجو خُدا کے بیت المُقدّس میں رکھے ہُوئے سَب سونا اَور چاندی اَور تمام اُس سے بنے ہُوئے ظروف اَور شاہی محل کے تمام خزانوں اَور جنگی قَیدیوں کو ساتھ لے کر یہُوآشؔ سامریہؔ لَوٹ گیا۔
2CH 25:25 شاہِ یہُودیؔہ اماضیاہؔ بِن یُوآشؔ شاہِ اِسرائیل یہُوآشؔ بِن یہُوآحازؔ کے مرنے کے بعد بھی پندرہ سال تک زندہ رہا۔
2CH 25:26 اَور کیا اماضیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات شروع سے لے کر آخِر تک یہُوداہؔ اَور بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
2CH 25:27 اَور جَب اماضیاہؔ نے یَاہوِہ کی پیروی سے مُنہ موڑا تو یروشلیمؔ میں اماضیاہؔ کے خِلاف سازش کی گئی، اَور وہ لاکیشؔ کو فرار ہو گیا۔ لیکن سازش کرنے والوں نے اَپنے آدمی بھیج کر لاکیشؔ تک اُس کا تعاقب کیا اَور وہیں اُس کا قتل کر دیا۔
2CH 25:28 اماضیاہؔ کی لاش گھوڑے پر واپس لائی گئی اَور اُسے یہُودیؔہ کے شہر میں اُس کے آباؤاَجداد کے ساتھ داویؔد کے شہر یروشلیمؔ میں دفن کر دیا گیا۔
2CH 26:1 تَب یہُودیؔہ کے تمام باشِندوں نے عُزّیاہؔ کو جو سولہ سال کا تھا اُس کے باپ اماضیاہؔ کی جگہ بادشاہ بنایا۔
2CH 26:2 اماضیاہؔ بادشاہ کے اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو جانے کے بعد عُزّیاہؔ ہی تھا جِس نے ایلاتؔ کو دوبارہ تعمیر کیا اَور اُسے یہُوداہؔ میں شامل کر دیا۔
2CH 26:3 عُزّیاہؔ سولہ سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں باون سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام یکولیاہؔ تھا جو یروشلیمؔ کی باشِندہ تھی۔
2CH 26:4 عُزّیاہؔ نے بالکُل اَپنے باپ اماضیاہؔ کی طرح وُہی کام کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست ہے۔
2CH 26:5 اَور زکریاؔہ کے دِنوں میں وہ یَاہوِہ کا طالب ہُوا جِس نے اُسے خُدا ترسی کی تعلیم دی۔ اَور جَب تک وہ یَاہوِہ کا طالب رہا خُدا نے اُسے کامیابی بخشی۔
2CH 26:6 اُس نے فلسطینیوں کے خِلاف جنگ کی اَور گاتؔھ، یابنح اَور اشدُودؔ کی فصیلیں توڑ کر گرا دیں۔ پھر اُس نے فلسطینیوں کے درمیان اشدُودؔ کے قریب اَور دیگر علاقوں میں دوبارہ شہر تعمیر کئے۔
2CH 26:7 اَور خُدا نے فلسطینیوں کے خِلاف اَور عربوں کے خِلاف جو گُر بَعل اَور معُونیم میں رہتے تھے عُزّیاہؔ کی مدد کی۔
2CH 26:8 اَور عمُّونی عُزّیاہؔ کو خراج اَدا کرنے لگے۔ عُزّیاہؔ کی شہرت مِصر کی سرحد تک پھیل گئی کیونکہ وہ بہت طاقتور ہو گیا تھا۔
2CH 26:9 اِن کے علاوہ عُزّیاہؔ نے یروشلیمؔ میں کونے کے پھاٹک پر اَور وادی کے پھاٹک پر اَور فصیل کے موڑ پر بُرج بنائے اَور اُنہیں مضبُوط کیا۔
2CH 26:10 اُس نے بیابان میں بھی بُرج بنوائے اَور بہت سے انگوری باغ کے حوض کھُدوائے کیونکہ کوہِ کے دامن کی پہاڑیوں میں اَور میدان میں اُس کے پاس کافی تعداد میں مویشی تھے۔ اُس نے اَپنے کھیتوں میں، پہاڑیوں میں، اَپنے تاکستانوں میں اَور زرخیز زمینوں پر کام کرنے والے آدمی رکھے ہُوئے تھے کیونکہ اُسے کاشتکاری بےحد پسند تھی۔
2CH 26:11 اِس کے علاوہ عُزّیاہؔ کے پاس ایک بڑی اَچھّی تربّیت یافتہ فَوج تھی جو ایک شاہی مُلازمین حننیاہؔ کے ماتحت جنگ پر جانے کے لیٔے تیّار رہتی تھی جسے یعی ایل مُنشی اَور معسیاہؔ افسر نے گِن کر مُختلف دستوں میں تقسیم کر دیا تھا۔
2CH 26:12 آبائی خاندانوں کے جنگجو سردار تعداد میں دو ہزار چھ سَو تھے۔
2CH 26:13 اُن کی زیرِ کمان جنگ کے لیٔے تربّیت یافتہ تین لاکھ سات ہزار پانچ سَو آدمیوں کی فَوج تھی جو دُشمنوں کے خِلاف بادشاہ کی مدد کرنے کے لیٔے پُوری طاقت سے جنگ کرتی تھی۔
2CH 26:14 عُزّیاہؔ نے تمام فَوج کو ڈھالیں، برچھیاں، خُود، زرہ بکتر، کمانیں اَور فلاخن کے لیٔے پتّھر مُہیّا کئے۔
2CH 26:15 اَور اُس نے یروشلیمؔ میں ہُنرمند آدمیوں کے تیّار کئے ہُوئے نقشوں کے مُطابق اَیسے آلات بنائے جنہیں بُرجوں اَور فصیلوں پر سے فَوجی تیر چلانے اَور بڑے بڑے پتّھر پھینکنے کے لیٔے اِستعمال کیا جا سَکتا تھا۔ اُس کی شہرت دُور دُور تک پھیل گئی کیونکہ اُسے بڑے عجِیب طریقہ سے مدد مِلی اَور وہ بڑا طاقتور اَور مضبُوط ہو گیا۔
2CH 26:16 لیکن جَب عُزّیاہؔ زورآور ہو گیا تو اُس کا غُرور اُس کے زوال کا باعث ہُوا۔ اُس نے یَاہوِہ اَپنے خُدا سے دغا کی۔ ایک بار جَب وہ بخُور کی قُربان گاہ پر بخُور جَلانے کے لیٔے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں داخل ہُوا۔
2CH 26:17 تو عزریاہؔ کاہِنؔ اَور اُس کے ساتھ یَاہوِہ کے اسّی دیگر بہادر کاہِنؔ اُس کے پیچھے اَندر گیٔے۔
2CH 26:18 اُنہُوں نے اُس کا سامنا کیا اَور کہا، ”اَے بادشاہ عُزّیاہؔ، یَاہوِہ کے حُضُور بخُور جَلانا تمہارے لیٔے اَچھّی بات نہیں ہے۔ یہ صِرف کاہِنوں یعنی اَہرونؔ کے بیٹوں کا کام ہے کیونکہ بخُور جَلانے کے لیٔے اُن کی تقدیس کی گئی ہے۔ تُم پاک مَقدِس سے باہر چلے جاؤ کیونکہ تُم نے بےوفائی کی ہے۔ اَب یَاہوِہ خُدا کی نظر میں تمہاری کویٔی قدر و منزِلت نہیں رہی۔“
2CH 26:19 تَب عُزّیاہؔ کو جو بخُور جَلانے کے لیٔے بخُوردان ہاتھ میں لیٔے ہُوئے تھا بڑا غُصّہ آیا۔ اَور جَب وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں بخُور کے جَلانے کے مذبحوں کے آگے کاہِنوں کے خِلاف طیش میں آیا ہُوا تھا تو اُن کی مَوجُودگی میں اُس کے ماتھے پر کوڑھ پھوٹ پڑا۔
2CH 26:20 اَور جَب عزریاہؔ اعلیٰ کاہِن اَور دیگر کاہِنوں نے اُس پر نگاہ ڈالی تو اُنہُوں نے دیکھا کہ اُس کے ماتھے پر کوڑھ پھوٹ نِکلا ہے۔ اِس لیٔے اُنہُوں نے فوراً اُسے باہر نکال دیا۔ درحقیقت وہ خُود ہی جلدی سے باہر نکل جانا چاہتا تھا کیونکہ یَاہوِہ نے اُسے کوڑھ میں مُبتلا کر دیا تھا۔
2CH 26:21 اَور عُزّیاہؔ بادشاہ، مَرتے دَم تک کوڑھی رہا۔ وہ ایک الگ مکان میں رہتا تھا یعنی وہ کوڑھی تھا اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس سے خارج کر دیا گیا تھا۔ اَور اُس کا بیٹا یُوتامؔ شاہی محل کا مُختار تھا اَور وہ مُلک کے لوگوں پر حُکومت کرتا تھا۔
2CH 26:22 عُزّیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے شروع سے لے کر آخِر تک کے واقعات یَشعیاہ بِن آموصؔ نبی نے قلم بند کئے ہیں۔
2CH 26:23 اَور عُزّیاہؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُن کے قریب ہی ایک شاہی قبرستان میں دفن کیا گیا کیونکہ لوگوں نے کہا، ”وہ کوڑھی ہے۔“ اَور اُس کا بیٹا یُوتامؔ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
2CH 27:1 یُوتامؔ پچّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے سولہ سال یروشلیمؔ میں حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام یرُوشاؔ تھا جو صدُوقؔ کی بیٹی تھی۔
2CH 27:2 اَور اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا، ٹھیک وَیسے ہی جَیسے اُس کے باپ نے کیا تھا۔ لیکن اَپنے باپ عُزّیاہؔ کی طرح اُس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں کبھی جانے کی گستاخی نہ کی مگر لوگوں نے اَپنے بُرے دستور جاری رکھے۔
2CH 27:3 یُوتامؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے بالائی پھاٹک کو دوبارہ تعمیر کیا اَور عوفیلؔ کی دیوار پر بہت کچھ تعمیر کیا۔
2CH 27:4 اَور اُس نے یہُودیؔہ کی پہاڑیوں میں شہر تعمیر کئے اَور جنگلی علاقوں میں قلعے اَور بُرج بنوائے۔
2CH 27:5 یُوتامؔ نے عمُّونیوں کے بادشاہ کے خِلاف جنگ چھیڑی اَور اُنہیں مطیع کیا۔ چنانچہ اُسی سال عمُّونیوں نے اُسے اُسی سال ایک سَو تالنت چاندی، دس ہزار کور گیہُوں اَور دس ہزار کور جَو نذرانہ میں دئیے۔ بنی عمُّون نے اُتنا ہی دُوسرے اَور تیسرے سال بھی اُسے نذرانے میں دیا۔
2CH 27:6 اَور یُوتامؔ طاقتور ہوتا گیا کیونکہ وہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور میں راہِ راست پر گامزن رہا۔
2CH 27:7 اَور یُوتامؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر کارنامے جِن میں اُس کی سَب لڑائیاں شامل ہیں، مُلکِ اِسرائیل اَور مُلکِ یہُودیؔہ کے بادشاہوں کی کِتاب میں درج ہیں۔
2CH 27:8 وہ پچّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں سولہ سال حُکمرانی کی۔
2CH 27:9 یُوتامؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور داویؔد کے شہر میں دفن کیا گیا اَور اُس کا بیٹا آحازؔ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
2CH 28:1 آحازؔ بیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں سولہ سال حُکمرانی کی۔ اَور اُس نے اَپنے آباؤاَجداد داویؔد کی مانند کام نہیں کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا۔
2CH 28:2 وہ اِسرائیل کے بادشاہوں کی راہوں پر چلا اَور اُس نے بَعل کے ڈھالے ہُوئے بُتوں کو بنوایا اَور اُن کی پرستش کی۔
2CH 28:3 اَور جِن اَقوام کو یَاہوِہ نے اِسرائیل کے سامنے سے کھدیڑ دیا تھا اُن کی ہی مکرُوہات کی پیروی کرتے ہُوئے وہ وادی بین ہِنَّومؔ میں بخُور جَلاتا تھا اَور اُس نے اَپنے بیٹوں کی آتِشی قُربانیاں گذرانیں۔
2CH 28:4 آحازؔ غَیر قوموں کی پرستش گاہوں پر یعنی بُلند مقامات پر، پہاڑیوں کی چوٹیوں پر اَور ہر ایک ہرے درخت کے نیچے قُربانیاں گذرانتا اَور بخُور جَلایا کرتا تھا۔
2CH 28:5 اِس لیٔے یَاہوِہ اُس کے خُدا نے اُسے شاہِ ارام کے ہاتھ میں کر دیا۔ ارامیوں نے اُسے شِکست دی اَور اُس کے بہت سے لوگوں کو اسیر بنا لیا اَور اُنہیں دَمشق لے گئے۔ اَور وہ شاہِ اِسرائیل کے ہاتھوں میں بھی کر دیا گیا جِس نے خُونریزی کرکے اُسے زبردست نُقصان پہُنچایا۔
2CH 28:6 اَور پِقاحؔ بِن رملیاہؔ نے ایک ہی دِن میں یہُوداہؔ کے ایک لاکھ بیس ہزار فَوجیوں کو قتل کر دیا کیونکہ یہُوداہؔ نے یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کو ترک کر دیا تھا۔
2CH 28:7 اَور اِفرائیمی زکریؔ نے جو ایک جنگجو تھا بادشاہ کے بیٹے معسیاہؔ، محل کے ناظِم عزریقامؔ اَور اِلقانہؔ کو جو بادشاہ کا وزیر تھا قتل کر دیا۔
2CH 28:8 اَور بنی اِسرائیل نے اَپنے ہی رشتہ داروں کو اَور اُن کی بیویوں، بیٹوں اَور بیٹیوں کو جِن کی تعداد دو لاکھ تھی اسیر بنا لیا۔ اُنہُوں نے بہت سا مالِ غنیمت حاصل کیا جسے وہ سامریہؔ لے گیٔے۔
2CH 28:9 لیکن وہاں یَاہوِہ کے ایک نبی تھے جِن کا نام عودِدؔ تھا۔ جَب فَوج سامریہؔ کو واپس آئی تو وہ اُس کے اِستِقبال کو گئے اَور فرمایا، ”چونکہ یَاہوِہ آپ کے آباؤاَجداد کے خُدا یہُوداہؔ سے قہر شدید میں تھے اِس لیٔے اُنہُوں نے اُنہیں تمہارے ہاتھ میں کر دیا۔ لیکن تُم نے اَیسے طیش میں اُن کا قتلِ عام کیا جِس نے آسمان تک کو ہلا دیا ہے۔
2CH 28:10 اَور اَب تُم یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے مَردوں اَور عورتوں کو اَپنا غُلام بنا کر رکھنا چاہتے ہو۔ کیا تُم بھی اَپنے یَاہوِہ خُدا کی نظر میں اِس کارنامے کے سبب سے گُناہ کا مُجرم نہ ہو؟
2CH 28:11 اَب میری سُنو! اَپنے اِن بھائیوں کو جنہیں تُم اسیر کرکے لایٔے ہو آزاد کرکے بھیج دو کیونکہ یَاہوِہ کا قہر شدید تُم پر بھڑکنے ہی والا ہے۔“
2CH 28:12 تَب اِفرائیمؔ کے سرداروں میں سے بعض نے یعنی عزریاہؔ بِن یِہُوحنانؔ، بیرکیاہ بِن مِشلِّموتؔھ، یحزقیّاہؔ بِن شلُّومؔ اَور عماساؔ بِن حادلائیؔ جنگ سے واپس آنے والوں کے سامنے کھڑے ہو گئے
2CH 28:13 اَور اِنہُوں نے اُن سے کہا، ”تُم اِن اسیروں کو یہاں مت لاؤ۔ اگر اَیسا کروگے تو ہم یَاہوِہ کے حُضُور گُنہگار ٹھہریں گے۔ کیا تُم ہمارے گُناہوں اَور خطاؤں میں اِضافہ کرنا چاہتے ہو؟ کیونکہ ہماری خطا تو پہلے ہی سے عظیم ہے اَور بنی اِسرائیل تو پہلے ہی سے یَاہوِہ کے قہر شدید کا نِشانہ بنا ہُواہے۔“
2CH 28:14 لہٰذا اُن مُسلّح فَوجیوں نے اُمرا کی اَور تمام جماعت کی مَوجُودگی میں اسیروں اَور مالِ غنیمت کو لاکر ترک کر دیا۔
2CH 28:15 تَب جِن لوگوں کے نام مُندرجہ ذیل نامزد ہیں اُنہُوں نے اُن اسیروں کو لیا اَور اُن تمام کو جو ننگے تھے لُوٹ کے مال میں سے کپڑے لے کر پہنائے۔ اُنہُوں نے اُنہیں کپڑے، جُوتے، خُوراک اَور پانی دیا اَور اُن کے زخموں کی مرہم پٹّی بھی کی اَور اُن تمام کو جو کمزور تھے گدھوں پر بِٹھایا۔ اِس طرح وہ اُنہیں واپس اَپنے بھائیوں کے پاس کھجوروں کے شہر یریحوؔ میں لے گیٔے اَور اُنہیں وہاں چھوڑکر پھر سامریہؔ لَوٹ آئے۔
2CH 28:16 اُس وقت آحازؔ بادشاہ نے اشُور کے بادشاہ کو مدد کے لیٔے درخواست کی۔
2CH 28:17 کیونکہ اِدُومیوں نے آکر پھر سے یہُودیؔہ پر حملہ کر دیا تھا اَور لوگوں کو اسیر بنا کر لے گیٔے تھے۔
2CH 28:18 اَور اِسی دَوران فلسطینیوں نے پہاڑیوں کے دامن کے اَور یہُودیؔہ کے جُنوب کے شہروں پر چھاپے مارے اَور وہ بیت شِمِشؔ، ایّالونؔ اَور گِدیروتؔ کو اَور ساتھ ہی شوکوہؔ، تِمنؔہ اَور گِمضوؔ کو اُن کے گِردونواح کے دیہات دیہاتوں کو بھی فتح کرکے اُن پر قابض ہو گئے تھے۔
2CH 28:19 یَاہوِہ نے شاہِ اِسرائیل آحازؔ کے باعث یہُودیؔہ کو پست کیا کیونکہ آحازؔ نے یہُودیؔہ میں بڑی بدکاری کا اِضافہ کیا تھا اَور وہ یَاہوِہ کی نافرمانی کا مُرتکب ہُوا تھا۔
2CH 28:20 اَور شاہِ اشُور تِگلتؔ پلیسِر اُس کے پاس آیا لیکن مدد کی بجائے اُس نے اُسے تکلیف ہی دی۔
2CH 28:21 آحازؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس سے اَور شاہی محل سے اَور شہزادوں سے کچھ چیزیں لے کر اشُور کے بادشاہ کو پیش کیں تو بھی اُسے کویٔی فائدہ نہ ہُوا۔
2CH 28:22 اَور اَپنی تنگی کے وقت آحازؔ بادشاہ یَاہوِہ سے بےوفائی کرکے اَور بھی گُنہگار ہو گیا۔
2CH 28:23 اُس نے دَمشق کے معبُودوں کو جو اُس کی شِکست کا باعث بنے تھے قُربانیاں گذرانیں، ”کیونکہ اُس نے سوچا کہ چونکہ ارام کے بادشاہوں کے معبُودوں نے اُن کی مدد کی ہے اِس لیٔے میں اُن کے لیٔے قُربانی چڑھاؤں گا تاکہ وہ میری بھی مدد کریں۔“ لیکن وُہی اُس کے اَور تمام اِسرائیل کے زوال کا باعث بنے۔
2CH 28:24 آحازؔ نے خُدا کے بیت المُقدّس سے تمام ظروف جمع کئے اَور اُنہیں ٹکڑے ٹکڑے کرکے لے گیا۔ اُس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے دروازے بند کر دئیے اَور یروشلیمؔ کے ہر کونے پر مذبحوں کو بنایا۔
2CH 28:25 اَور مُلکِ یہُودیؔہ کے ہر قصبہ میں دیگر معبُودوں کو آتِشی قُربانیاں گذراننے کے لیٔے اُونچے مقامات تعمیر کئے اَور یُوں یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کو قہر دِلایا۔
2CH 28:26 اُس کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کے سَب ضوابط شروع سے لے کر آخِر تک یہُوداہؔ اَور اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے۔
2CH 28:27 آحازؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور یروشلیمؔ کے شہر میں دفن کیا گیا۔ وہ اُسے اِسرائیل کے بادشاہوں کے قبرستان میں نہ لایٔے اَور اُس کا بیٹا حِزقیاہؔ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
2CH 29:1 حِزقیاہؔ پچّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں اُنتیس سال حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام ابیّاہؔ تھا جو زکریاؔہ کی بیٹی تھی۔
2CH 29:2 اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا جَیسے اُس کے آباؤاَجداد داویؔد نے کیا تھا۔
2CH 29:3 اَپنے دَورِ حُکومت کے پہلے سال کے پہلے مہینے میں اُس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے دروازے کھولے اَور اُن کی مرمّت کروائی۔
2CH 29:4 اَور کاہِنوں اَور لیویوں کو اَندر لایا اَور اُنہیں مشرق کی جانِب میدان میں جمع کیا۔
2CH 29:5 اَور فرمایا: ”اَے بنی لیوی، میری سُنو! اَب اَپنے آپ کو پاک کرو اَور یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو پاک کرو اَور پاک مَقدِس سے تمام ناپاکی کو دُور کرو۔
2CH 29:6 ہمارے آباؤاَجداد دغاباز ثابت ہُوئے، اُنہُوں نے یَاہوِہ ہمارے خُدا کی نظر میں بُرائی کی اَور اُسے ترک کر دیا۔ اُنہُوں نے یَاہوِہ کی قِیام گاہ کی طرف سے اَپنے مُنہ پھیر لیٔے اَور اَپنی پیٹھ اُن کی طرف کر دی۔
2CH 29:7 اُنہُوں نے برامدے کے دروازے بھی بند کر دئیے اَور چراغوں کو بُجھا دیا۔ اُنہُوں نے پاک مَقدِس میں بنی اِسرائیل کے خُدا کے حُضُور میں نہ تو بخُور جَلایا اَور نہ ہی سوختنی نذریں گذرانیں۔
2CH 29:8 اِس لیٔے یَاہوِہ کا قہر یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ پر نازل ہُواہے اَور خُدا نے اُنہیں مُصیبت، دہشت اَور حیرت کے سُپرد کر دیا ہے جَیسا کہ تُم خُود اَپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو۔
2CH 29:9 یہی وجہ ہے کہ ہمارے آباؤاَجداد تلوار سے مارے گیٔے اَور ہمارے بیٹے، بیٹیاں اَور ہماری بیویاں اسیری میں ہیں۔
2CH 29:10 اَب میرا اِرادہ ہے کہ میں یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کے ساتھ عہد باندھوں تاکہ اُن کا قہر شدید ہم پر سے ٹل جائے۔
2CH 29:11 میرے بیٹوں! اَب لاپروائی نہ کرو کیونکہ یَاہوِہ نے تُمہیں اَپنے حُضُور میں کھڑا ہونے، خدمت کرنے، خدمت کی ترتیب اَدا کرنے اَور بخُور جَلانے کے لیٔے مُنتخب کیا ہے۔“
2CH 29:12 تَب جو لیوی یہ خدمت اَنجام دینے کے لیٔے کمربستہ ہُوئے وہ یہ ہیں: قُہاتیوں میں سے: ماحاتھؔ بِن عماسیؔ اَور یُوایلؔ بِن عزریاہؔ؛ اَور بنی مِراریؔ میں سے: قیشؔ بِن عبدی اَور عزریاہؔ بِن یہللِئیلؔ؛ اَور بنی گیرشون میں سے: یُوآخؔ بِن زِمّہؔ اَور عدنؔ بِن یُوآخؔ۔
2CH 29:13 اَور بنی اِلیضفنؔ میں سے: شِمریؔ اَور یعی ایل؛ اَور بنی آسفؔ میں سے: زکریاؔہ اَور متّنیاہؔ؛
2CH 29:14 اَور بنی ہیمانؔ میں سے: یحی ایل اَور شِمعیؔ؛ اَور بنی یدُوتونؔ میں سے: شمعیاہؔ اَور عُزّی ایل۔
2CH 29:15 جَب وہ اَپنے بھائیوں کو جمع کرکے اَپنے آپ کو پاک کر چُکے تو وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو پاک کرنے کے لیٔے اَندر گیٔے جَیسا کہ بادشاہ نے یَاہوِہ کے کلام کی پیروی کرتے ہُوئے اُنہیں حُکم دیا تھا۔
2CH 29:16 اَور کاہِنؔ یَاہوِہ کے پاک مَقدِس کو پاک کرنے کے لیٔے اُس کے اَندر گیٔے اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جو بھی ناپاک چیز اُنہیں مِلی وہ اُسے باہر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے صحن میں لے آئے اَور لیویوں نے اُسے جمع کیا اَور اُٹھاکر باہر قِدرُونؔ کی وادی کو لے گیٔے۔
2CH 29:17 اُنہُوں نے پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو تقدیس کا کام شروع کیا اَور مہینے کی آٹھویں تاریخ تک وہ یَاہوِہ کے برامدے تک پہُنچ گیٔے۔ اَور مزید آٹھ روز تک اُنہُوں نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی ہی تقدیس کی اَور وہ پہلے مہینے کی سولہ تاریخ کو اِس کام سے فارغ ہو گئے۔
2CH 29:18 تَب وہ محل میں حِزقیاہؔ بادشاہ کے پاس گیٔے اَور اُسے اِطّلاع دی: ”ہم نے یَاہوِہ کے سارے بیت المُقدّس، سوختنی نذر کی قُربانیوں کے مذبح اَور اُس کے برتنوں اَور نذر کی روٹیوں کی میز اَور اُس کے تمام ظروف کو پاک کر دیا ہے۔
2CH 29:19 اَور اِس کے علاوہ وہ ظروف جنہیں آحازؔ بادشاہ نے اَپنے عہدِ سلطنت میں خُدا سے دغابازی کے باعث ردّ کر دیا تھا، ہم نے اُنہیں اِستعمال کرنے کے لائق تیّار کرکے اُنہیں پاک کر دیا ہے۔ اَب وہ یَاہوِہ کے مذبح کے سامنے مَوجُود ہیں۔“
2CH 29:20 اگلے دِن سویرے ہی حِزقیاہؔ بادشاہ نے شہر کے اُمرا کو جمع کیا اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی طرف روانہ ہُوا۔
2CH 29:21 وہ سات بَیل، سات مینڈھے، سات نر برّے اَور سات بکرے مملکت کے لیٔے، پاک مَقدِس کے لیٔے اَور یہُوداہؔ کے لیٔے گُناہ کی قُربانی کے طور پر لایٔے اَور بادشاہ نے کاہِنوں کو یعنی بنی اَہرونؔ کو اُنہیں یَاہوِہ کے مذبح پر قُربانی کرنے کا حُکم دیا۔
2CH 29:22 لہٰذا اُنہُوں نے بَیلوں کو ذبح کیا اَور کاہِنوں نے اُن کا خُون لے کر مذبح پر چھِڑکا۔ پھر اُنہُوں نے مینڈھوں کو ذبح کیا اَور اُن کا خُون مذبح پر چھِڑکا۔ پھر اُنہُوں نے برّوں کو ذبح کیا اَور اُن کا خُون مذبح پر چھِڑکا۔
2CH 29:23 پھر گُناہ کی قُربانی کے بکرے بادشاہ اَور جماعت کے سامنے لایٔے گیٔے اَور اُنہُوں نے اَپنے ہاتھ اُن پر رکھّے۔
2CH 29:24 پھر کاہِنوں نے بکروں کو ذبح کیا اَور تمام بنی اِسرائیل کا کفّارہ دینے کے لیٔے اُن کا خُون گُناہ کی قُربانی کے لیٔے مذبح پر چھِڑکا کیونکہ بادشاہ نے حُکم دیا تھا کہ تمام بنی اِسرائیل کے لیٔے سوختنی نذریں اَور خطا کی قُربانیاں گذرانی جایٔیں۔
2CH 29:25 اَور اِس کے بعد حِزقیاہؔ نے داویؔد اَور بادشاہ کے غیب بین گادؔ اَور ناتنؔ نبی کے حُکم کے مُطابق لیویوں کو جھانجھ، سِتار اَور بربط کے ساتھ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں مامُور کیا اَور یہ یَاہوِہ کا حُکم تھا جو یَاہوِہ نے اَپنے نبیوں کی مَعرفت دیا تھا۔
2CH 29:26 لہٰذا لیوی داویؔد کے سازوں کو اَور کاہِنؔ اَپنے نرسنگوں کو لیٔے ہُوئے تیّار کھڑے تھے۔
2CH 29:27 حِزقیاہؔ نے مذبح پر سوختنی نذر گذراننے کا حُکم دیا اَور جَب سوختنی نذر گذراننا شروع ہُوئی تو شاہِ اِسرائیل داویؔد کے سازوں اَور نرسنگوں کے ساتھ یَاہوِہ کے لیٔے نغمہ سرائی کی۔
2CH 29:28 اَور ساری جماعت عبادت میں مشغُول تھی، گانے والے نغمہ گا رہے تھے اَور نرسنگے پھُونکنے والے نرسنگے پھُونک رہے تھے۔ یہ سَب اُس وقت تک قائِم تھا جَب تک کہ سوختنی نذر کی قُربانیوں کے گذراننے کا کام مُکمّل نہ ہو گیا۔
2CH 29:29 اَور جَب سوختنی نذریں پیش کی جا چُکیں تو بادشاہ اَور سَب لوگوں نے جو اُس کے ساتھ مَوجُود تھے جھُک کر سَجدہ کیا۔
2CH 29:30 پھر حِزقیاہؔ بادشاہ اَور اُس کے اہلکاروں نے لیویوں کو حُکم دیا کہ داویؔد اَور آسفؔ غیب بین کے نغمہ گا کر یَاہوِہ کی حَمد کریں۔ لہٰذا اُنہُوں نے خُوشی سے مدح سرائی کی اَور اَپنے سَر جُھکائے اَور سَجدہ کیا۔
2CH 29:31 پھر حِزقیاہؔ نے فرمایا، ”اَب تُم نے اَپنے آپ کو یَاہوِہ کے لیٔے پاک کر لیا ہے؛ اِس لئے قریب آکر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں قُربانیاں اَور شُکر گزاری کی نذریں لاؤ۔“ لہٰذا جماعت قُربانیاں اَور شُکر گزاری کے لیٔے نذرانے لائی اَور وہ سَب خُوش دِلی کے ساتھ سوختنی نذریں لایٔے۔
2CH 29:32 جو سوختنی نذریں جماعت لائی اُن کی تعداد یہ تھی: ستّر بَیل، ایک سَو مینڈھے اَور دو سَو نر برّے، یہ تمام یَاہوِہ کے حُضُور آتِشی قُربانیوں کے لیٔے تھے۔
2CH 29:33 اَور وہ جانور جو قُربانیوں کے لیٔے مُقدّس کئے گیٔے تھے اُن کی تعداد یہ تھی: چھ سَو بَیل، تین ہزار بھیڑیں اَور بکریاں۔
2CH 29:34 مگر کاہِنؔ سوختنی نذر کے سارے جانوروں کی کھالیں اُتارنے کے لیٔے کافی نہ تھے۔ لہٰذا اُن کے رشتہ دار لیویوں نے اُن کی مدد کی جَب تک کہ کام ختم نہ ہو گیا اَور دیگر کاہِنوں کی تقدیس نہ ہو گئی کیونکہ لیوی اَپنی تقدیس کے بارے میں کاہِنوں کی بہ نِسبت زِیادہ دیانتدار تھے۔
2CH 29:35 سوختنی نذریں بڑی کثرت سے تھیں اَور اُن کے ساتھ سلامتی کی نذروں کی چربی اَور سوختنی نذروں کے تپاون بھی تھے۔ لہٰذا یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں خدمت کی ترتیب پھر سے شروع ہو گئی۔
2CH 29:36 اَور حِزقیاہؔ اَور تمام لوگ بڑی خُوشی منانے لگے کیونکہ خُدا نے بغیر کسی تاخیر کے اَپنے بیت المُقدّس میں سارے ضروُری کاموں کو پھر سے بحال کر دیا تھا۔
2CH 30:1 حِزقیاہؔ نے تمام مُلکِ اِسرائیل اَور یہُودیؔہ کو پیغام بھیجا اَور بنی اِفرائیمؔ اَور بنی منشّہ کو خُطوط بھی لکھے کہ وہ یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے لیٔے عیدِفسح منانے آئیں۔
2CH 30:2 اَور بادشاہ اَور اُس کے اہلکاروں اَور یروشلیمؔ میں ساری جماعت نے دُوسرے مہینے میں عیدِفسح منانے کا فیصلہ کیا۔
2CH 30:3 کیونکہ وہ اِسے معمول کے مُطابق اِس لئے نہیں منا سکے تھے کیونکہ کاہِنوں کی ایک کثیر تعداد نے اَپنے آپ کو پاک نہیں کیا تھا اَور لوگ بھی یروشلیمؔ میں جمع نہ ہو پایٔے تھے۔
2CH 30:4 یہ بات بادشاہ اَور ساری جماعت کو مُناسب مَعلُوم ہُوئی۔
2CH 30:5 لہٰذا اُنہُوں نے بیرشبعؔ سے لے کر دانؔ تک مُلکِ اِسرائیل میں ہر جگہ اعلان کروا دیا کہ سَب لوگ یروشلیمؔ آکر یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے خُدا کے لیٔے عیدِفسح منائیں کیونکہ اُنہُوں نے کثیر تعداد میں شَریعت کے مُطابق یہ عید نہیں منائی تھی۔
2CH 30:6 چنانچہ قاصِد شاہی فرمان کے مُطابق بادشاہ اَور اُس کے سرداروں کے خُطوط لے کر مُلکِ اِسرائیل اَور یہُودیؔہ میں ہر جگہ گیٔے۔ اُن خُطوط میں یُوں لِکھا تھا: ”اَے بنی اِسرائیل! یَاہوِہ اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور اِسرائیل کے خُدا کی طرف رُجُوع کرو تاکہ وہ بھی تمہاری طرف مُتوجّہ ہوں، جو اشُور کے بادشاہوں کے ہاتھ سے باقی بچ نکلے ہو۔
2CH 30:7 اَپنے آباؤاَجداد اَور بھائیوں کی مانند نہ بنو جنہوں نے یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کی نافرمانی کی جِس کی وجہ سے یَاہوِہ نے اُنہیں ہلاکت کے سُپرد کر دیا جَیسا کہ تُم آج دیکھ رہے ہو۔
2CH 30:8 اِس لئے اَب اَپنے آباؤاَجداد کی مانند ضِدّی نہ بنو، بَلکہ یَاہوِہ کی اِطاعت اِختیار کرو۔ اُن کے پاک مَقدِس میں آؤ جِس کی اُنہُوں نے ہمیشہ کے لیٔے تقدیس کر دی ہے۔ یَاہوِہ اَپنے خُدا کی عبادت کرو تاکہ اُن کا قہر شدید تُم پر سے ٹل جائے۔
2CH 30:9 اگر تُم یَاہوِہ کی طرف رُجُوع کروگے تو پھر تمہارے بھائیوں اَور بچّوں کو اسیر کرنے والے اُن پر ترس کھایٔیں گے اَور وہ اِس مُلک کو واپس آ جایٔیں گے۔ کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا بڑے مہربان اَور رحیم ہیں۔ اگر تُم اُن کی طرف پھروگے تو وہ تُم سے اَپنا مُنہ نہ پھیریں گے۔“
2CH 30:10 قاصِد اِفرائیمؔ اَور منشّہ میں قصبہ بہ قصبہ ہوتے ہُوئے زبُولُون تک گیٔے لیکن لوگوں نے اُن کی تحقیر کی اَور اُن کا مذاق اُڑایا۔
2CH 30:11 تاہم آشیر، منشّہ اَور زبُولُون کے چند آدمیوں نے فروتنی اِختیار کی اَور یروشلیمؔ آئے۔
2CH 30:12 لیکن یہُودیؔہ پر بھی خُدا کا ہاتھ تھا اَور یَاہوِہ نے اُنہیں مُتّحد کر دیا تاکہ وہ اُن کے کلام کی پیروی میں بادشاہ اَور اُن کے اہلکاروں کے حُکم کی تعمیل کریں۔
2CH 30:13 دُوسرے مہینے میں بے خمیری روٹی کی عید منانے کے لیٔے لوگوں کا ایک بہت بڑا ہُجوم یروشلیمؔ میں جمع ہُوا۔
2CH 30:14 اَور یکدل ہوکر اُنہُوں نے جو مذبح بُتوں کے واسطے یروشلیمؔ میں تعمیر کئے تھے اُنہیں ڈھا دیا اَور بخُور جَلانے کے مذبحوں کو بھی نِیست و نابود کر دیا اَور اُن کو اُٹھاکر قِدرُونؔ کی وادی میں پھینک دیا۔
2CH 30:15 پھر دُوسرے مہینے کی چودھویں تاریخ کو اُنہُوں نے فسح کے برّہ کو ذبح کیا اَور کاہِنوں اَور لیویوں نے شرمسار ہوکر اَپنے آپ کو پاک کیا اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں سوختنی نذریں لایٔے۔
2CH 30:16 اَور وہ اَپنے دستور کے مُطابق اَپنی اَپنی جگہوں پر کھڑے ہو گئے جَیسا کہ مَرد خُدا مَوشہ کے تمام آئین میں مُقرّر کی گئی تھیں۔ اَور کاہِنوں نے اُس خُون کو جو لیویوں نے اُن کے ہاتھ میں دیا تھا چھِڑکا۔
2CH 30:17 چونکہ ہُجوم میں سے اکثر نے اَپنے آپ کو پاک نہ کیا تھا اِس لیٔے لیویوں کو اُن سَب کے لیٔے فسح کے برّے ذبح کرنے پڑے جو رسمی طور پر پاک نہ تھے اَور نہ ہی اَپنے برّے یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کر سکے تھے۔
2CH 30:18 اگرچہ کثیر تعداد میں لوگوں نے جو اِفرائیمؔ، منشّہ، یِسَّکاؔر اَور زبُولُون کے مُلکوں سے آئےتھے، اُنہُوں نے خود کو پاک نہیں کیا تھا، پھر بھی اُنہُوں نے شَریعت کو توڑتے ہُوئے فسح کھا لی تھی، لیکن حِزقیاہؔ نے اُن کے لیٔے یہ کہتے ہُوئے دعا مانگی، ”یَاہوِہ جو بھلےہیں وہ ہر کسی کو مُعاف کریں،
2CH 30:19 جو دِل سے اَپنے خُدا کا یعنی یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کا طالب ہے، چاہے وہ پاک مَقدِس کے قوانین کے مُطابق اَپنے آپ کو پاک نہ بھی کئے ہوں۔“
2CH 30:20 تَب بھی یَاہوِہ نے حِزقیاہؔ کی دعا سُنی اَور لوگوں کو پھر سے شفا بخشی۔
2CH 30:21 اَور اُن بنی اِسرائیل نے جو یروشلیمؔ میں مَوجُود تھے، بڑی خُوشی سے سات دِن تک بے خمیری روٹی کی عید منائی اَور اِس دَوران لیوی اَور کاہِنؔ یَاہوِہ کی حَمد کے سازوں کی دُھنوں کے ساتھ ہر روز یَاہوِہ کی سِتائش کرتے رہے۔
2CH 30:22 حِزقیاہؔ نے اُن تمام لیویوں کو شاباشی دی اَور اُن کی حوصلہ اَفزائی کی جنہوں نے یَاہوِہ کی عبادت کرتے وقت ذی فہم کا مظاہرہ کیا۔ تَب وہ مُقرّرہ سات دِن تک فسح کھاتے رہے اَور سلامتی کی نذروں کے ذبیحوں کو گذرانتے اَور اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کے سامنے اَپنے گُناہوں کا اقرار کرتے رہے۔
2CH 30:23 پھر تمام جماعت نے مزید سات دِن اَور عید منانے پر اِتّفاق کیا۔ وہ بڑی خُوشی سے مزید سات دِن عید مناتے رہے۔
2CH 30:24 شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ نے جماعت کے لیٔے ایک ہزار بَیل اَور سات ہزار بھیڑیں اَور بکریاں مُہیّا کیں اَور سرداروں نے اُنہیں ایک ہزار بَیل اَور دس ہزار بھیڑیں اَور بکریاں مُہیّا کیں اَور کاہِنوں کی ایک کثیر تعداد نے اَپنے آپ کو پاک کیا۔
2CH 30:25 اَور یہُودیؔہ کی ساری جماعت نے کاہِنوں اَور لیویوں اَور اُن پردیسیوں کے ساتھ مِل کر خُوشی منائی جو مُلکِ اِسرائیل سے آئےتھے اَورجو یہُودیؔہ میں رہتے تھے۔
2CH 30:26 اَور یروشلیمؔ میں ہر طرف شادمانی ہی شادمانی نظر آتی تھی کیونکہ شُلومونؔ بِن داویؔد شاہِ اِسرائیل کے زمانہ سے یروشلیمؔ میں اَیسی بات کبھی نہ ہُوئی تھی۔
2CH 30:27 پھر کاہِنؔ اَور لیوی لوگوں کو برکت دینے کے لیٔے کھڑے ہُوئے اَور خُدا نے اُن کی سُنی کیونکہ اُن کی دعا خُدا کی مُقدّس قِیام گاہ آسمان تک پہُنچ گئی تھی۔
2CH 31:1 اِس تقریب کے خاتِمہ پر تمام بنی اِسرائیل جو وہاں حاضِر تھے، یہُودیؔہ کے شہروں میں گیٔے اَور بُتوں کے مُقدّس سُتونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اَور اشیراہؔ کے لکڑی کے سُتونوں کو کاٹ ڈالا۔ اُنہُوں نے بنی یہُوداہؔ، بِنیامین، اِفرائیمؔ اَور منشّہ میں ہر جگہ کے بُلند مقامات اَور مذبحوں کو تباہ کر دیا اَور کسی کو سالِم نہ چھوڑا۔ اِس کے بعد تمام بنی اِسرائیل اَپنے شہروں میں اَپنی اَپنی مِلکیّت میں واپس چلےگئے۔
2CH 31:2 حِزقیاہؔ نے کاہِنوں اَور لیویوں کو اُن کے فریقوں کے مُطابق کام سُپرد کیا یعنی کاہِنوں اَور لیویوں میں سے ہر ایک کو اُن کے فرائض کے مُطابق سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں گذراننے، عبادت اَور شُکر گزاری کرنے اَور یَاہوِہ کے قِیام کے پھاٹکوں پر سِتائش کرنے کی ذمّہ داریاں سُپرد کیں۔
2CH 31:3 اَور بادشاہ نے صُبح اَور شام کی سوختنی نذروں کے لیٔے اَور جَیسے یَاہوِہ کے آئین میں لِکھا ہے سَبتوں، نئے چاندوں اَور مُقرّرہ عیدوں کی آتِشی قُربانیوں کے لیٔے اَپنی مِلکیّت میں سے اِمداد مُقرّر کر دی۔
2CH 31:4 اَور حِزقیاہؔ نے اُن لوگوں کو جو یروشلیمؔ میں رہتے تھے حُکم دیا کہ کاہِنوں اَور لیویوں کو اُن کا واجِبُ الادا حِصّہ دیں تاکہ وہ اَپنی خدمات کو یَاہوِہ کے آئین کی تعلیم کے لیٔے وقف کر سکیں۔
2CH 31:5 اِس فرمان کے جاری ہوتے ہی بنی اِسرائیل اَپنے اناج کے پہلے پھل، نیا انگوری شِیرہ، زَیتُون کے تیل اَور شہد اَور کھیتوں کی پیداوار بڑی فراخدلی سے لانے لگے۔ اِس کے علاوہ وہ بڑی تعداد میں اِن سَب کا دسواں حِصّہ بھی خُوشی سے دینے لگے۔
2CH 31:6 اَور اِسرائیل اَور یہُودیؔہ کے لوگ جو یہُودیؔہ کے شہروں میں رہتے تھے، اُنہُوں نے تو اَپنے جانوروں کے گلّوں اَور ریوڑوں کا دسواں حِصّہ، اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کی خاطِر مُقدّس کی ہُوئی اَشیا کا دسواں حِصّہ بھی لایٔے اَور اُن کے ڈھیر کے ڈھیر لگا دئیے۔
2CH 31:7 اُنہُوں نے تیسرے مہینے میں اِن کا ڈھیر لگانا شروع کیا اَور اِس کا خاتِمہ ساتویں مہینے کے آخِر میں ہی ہو سَکا۔
2CH 31:8 جَب حِزقیاہؔ اَور اُس کے اہلکاروں نے آکر اُن ذخیروں کو دیکھا تو اُنہُوں نے یَاہوِہ کی سِتائش کی اَور اُن کی اُمّت بنی اِسرائیل کو مُبارکباد دی۔
2CH 31:9 جَب حِزقیاہؔ نے کاہِنوں اَور لیویوں سے اُن ذخیروں کے بارے میں پُوچھا۔
2CH 31:10 تو اعلیٰ کاہِن عزریاہؔ نے جو صدُوقؔ کے خاندان کا تھا جَواب دیا، ”جَب سے لوگ اَپنی اَپنی نذرانے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لانے لگے ہیں، تَب سے ہمیں کھانے کو کافی ملتا رہاہے اَور بہت کچھ ابھی بھی باقی پڑا ہے کیونکہ یَاہوِہ نے اَپنی اُمّت کو برکت دی ہے اَور یہ بڑا ذخیرہ اُسی بقیّہ سامان کا ہے۔“
2CH 31:11 تَب حِزقیاہؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اُس سامان کے ذخیرہ کے لیٔے کمرے تعمیر کرانے کا حُکم دیا۔ لہٰذا وہ تیّار کئے گیٔے۔
2CH 31:12 پھر وہ وفاداری سے نذرانے، دہ یکیاں اَور نذر کئے گیٔے تحفے لاتے رہے۔ اَور کونعنیاہؔ ایک لیوی اِن چیزوں کا مختار تھا اَور اُس کا بھایٔی شِمعیؔ اُس کا نائب تھا۔
2CH 31:13 اَور یحی ایل، عززیاہؔ ناحات، عساہیلؔ، یریموتؔ، یُوزبادؔ، الی ایل، یسماخیاہؔ، ماحاتھؔ اَور بِنایاہؔ، جِن کی تقرّری حِزقیاہؔ بادشاہ اَور خُدا کے بیت المُقدّس کے مختار عزریاہؔ نے کی تھی کونعنیاہؔ اَور اُس کے بھایٔی شِمعیؔ کے ماتحت کار گزار تھے۔
2CH 31:14 اَور مشرقی پھاٹک کا دربان قورؔے بِن یِمنہؔ لیوی خُدا کے حُضُور پیش کی گئی رضا کی قُربانیوں پر مُقرّر تھا تاکہ یَاہوِہ کو دئیے گیٔے ہدیوں اَور پاک ترین چیزوں کو تقسیم کر دیا کرے۔
2CH 31:15 اُس کے وفادار ماتحت عدنؔ، مِنیامین، یہوشُعؔ، شمعیاہؔ، امریاہؔ اَور شِکنیاہؔ کاہِنوں کے شہروں میں مُقرّر کئے گیٔے تھے تاکہ اَپنے چُھوٹے بڑے کاہِنؔ بھائیوں کو اُن کے فریقوں کے مُطابق اُن کا حِصّہ دیانتداری سے یکساں طور پر تقسیم کریں۔
2CH 31:16 اِس کے علاوہ اُنہُوں نے اُن لڑکوں کو حِصّہ تقسیم کیا جو تین سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے تھے اَور جِن کے نام نَسب ناموں میں درج تھے یعنی اُن سَب کو جو روزانہ اَپنی ذمّہ داریوں اَور اَپنے فریقوں کے مُطابق اَپنے فرائض کو اَنجام دینے کے لیٔے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں داخل ہوتے تھے۔
2CH 31:17 اَور اُنہُوں نے اُن کو بھی حِصّہ تقسیم کیا جِن کے نام آبائی خاندانوں کے حِساب سے کاہِنوں کے نَسب ناموں میں درج تھے۔ اَور اِسی طرح لیویوں کو بھی جو بیس سال سے زِیادہ عمر کے تھے اُن کی ذمّہ داریوں اَور اُن کے فریقوں کے مُطابق اُن کا حِصّہ تقسیم کیا۔
2CH 31:18 اَور اُنہُوں نے اُن کی ساری جماعت کے چُھوٹے بچّوں، بیویوں اَور بیٹے اَور بیٹیوں کو بھی جِن کے نام نَسب ناموں میں درج تھے حِصّہ پانے والوں میں شامل کیا کیونکہ اُن لیویوں کو اَپنے مُقرّرہ کاموں کے اَنجام دینے کے لیٔے وفاداری سے اَپنے آپ کو مخصُوص رکھنا پڑتا تھا۔ لہٰذا وہ دُوسرے کام نہیں کر سکتے تھے۔
2CH 31:19 جہاں تک کاہِنوں یعنی اَہرونؔ کی اَولاد کا تعلّق ہے وہ جو اَپنے شہروں کے اطراف کھیتوں میں یا کسی دُوسرے شہر میں رہتے تھے اُن کے ہر مَرد کو اَور اُن سَب کو جِن کے نام لیویوں کے نَسب ناموں میں درج تھے اُن کا حِصّہ تقسیم کرنے کے لیٔے بھی آدمی نامزد کئے گیٔے۔
2CH 31:20 اَورجو کچھ یَاہوِہ اُن کے خُدا یَاہوِہ کی نظر میں اَچھّا، دُرست اَور راست تھا وُہی حِزقیاہؔ نے یہُوداہؔ کے ہر حِصّہ میں کیا۔
2CH 31:21 اَور خُدا کے بیت المُقدّس کی خدمت اَور آئین اَور اَحکام کی تعمیل کرتے ہُوئے جو کام بھی اُس نے شروع کیا اُس میں وہ خُدا کا طلب گار ہُوا اَور اُسے پُورے دِل سے کیا اَور کامیاب ہُوا۔
2CH 32:1 حِزقیاہؔ کی اِس وفاداری کے باوُجُود شاہِ اشُور صینخربؔ نے یہُودیؔہ پر حملہ کر دیا اَور یہُودیؔہ میں داخل ہُوا اَور اُس نے قلعہ بند شہروں کو اَپنے لیٔے فتح کرنے کے خیال سے اُن کا محاصرہ کر لیا۔
2CH 32:2 جَب حِزقیاہؔ نے دیکھا کہ صینخربؔ نزدیک آ گیا ہے اَور اُس کا مقصد یروشلیمؔ پر حملہ کرنے کا ہے،
2CH 32:3 تَب حِزقیاہؔ نے شہر کے باہر چشموں سے پانی روکنے کے لیٔے اَپنے اُمرا اَور لشکر کے بہادروں سے صلاح مشورہ کیا اَور اِس کام میں اُنہُوں نے اُس کی مدد کی۔
2CH 32:4 اَور اِس کام کے لئے بہت سے آدمیوں کو جمع کرکے اُنہُوں نے اُن تمام چشموں کو اَور اُس سرزمین میں بہنے والے دریا کو بند کر دیا اَور اُنہُوں نے کہا، ”جَب شاہانِ اشُور حملہ کرنے آئے تو اُنہیں کثرت سے پانی کیوں ملے؟“
2CH 32:5 لہٰذا حِزقیاہؔ نے بڑے ہمّت سے کام لے کر فصیل کے ٹُوٹے حِصّوں کی دوبارہ مرمّت کروائی اَور اُس پر بُرج تعمیر کئے۔ اِس کے علاوہ اُس نے فصیل کے باہر ایک اَور فصیل بنوائی اَور داویؔد کے شہر میں اُس نے چھتوں کو مُستحکم کیا۔ پھر اُس نے بہت بڑی تعداد میں ہتھیار اَور ڈھالیں بھی بنوائیں۔
2CH 32:6 اَور لوگوں کے اُوپر فَوجی افسران مُقرّر کئے اَور اُنہیں میدان میں شہر کے پھاٹک پر اَپنے سامنے جمع کیا اَور اُنہیں تسلّی دیتے ہُوئے فرمایا:
2CH 32:7 ”مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو۔ شاہِ اشُور اَور اُس کے ساتھ لشکرِ جبّار کی وجہ سے خوف نہ کرو، اَور ہِراساں نہ ہو کیونکہ ہمارے ساتھ اُس کی بہ نِسبت زِیادہ بڑی طاقت ہے۔
2CH 32:8 اُس کے ساتھ صِرف گوشت کا بازو ہے یعنی لشکری طاقت ہے مگر ہماری مدد کرنے اَور ہماری جنگ لڑنے کے لیٔے یَاہوِہ ہمارے خُدا یَاہوِہ ہمارے ساتھ ہیں۔“ اَورجو کچھ شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ نے فرمایا اُس سے لوگوں کو بڑا حوصلہ مِلا۔
2CH 32:9 اِس کے بعد جَب شاہِ اشُور صینخربؔ اَور اُس کی افواج لاکیشؔ کا محاصرہ کر رہی تھیں تو اُس نے اَپنے افسران کو اِس پیغام کے ساتھ شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ اَور یہُودیؔہ کی فَوج کو بھیجا جو یروشلیمؔ میں ڈالے ہوئی تھی،
2CH 32:10 ”شاہِ اشُور صینخربؔ یُوں فرماتا ہے کہ مَیں نے یروشلیمؔ کا محاصرہ کر لیا ہے۔ اَب تُم کس پر اِعتماد کئے بیٹھے ہو؟
2CH 32:11 جَب حِزقیاہؔ کہتاہے، ’یَاہوِہ ہمارے خُدا ہمیں شاہِ اشُور کے ہاتھ سے بچائیں گے،‘ تو وہ تُمہیں بہکا رہاہے تاکہ تُمہیں بھُوک اَور پیاس سے مَر جانے دے۔
2CH 32:12 کیا یہ وُہی حِزقیاہؔ نہیں جِس نے معبُودوں کے بُلند مقامات اَور مذبحوں کو نِیست و نابود کروا دیا اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کو حُکم دیا، ’تُم صِرف ایک ہی مذبح کے آگے سَجدہ کرنا اَور اُسی پر قُربانیاں گذراننا‘؟
2CH 32:13 ”کیا تُمہیں مَعلُوم نہیں کہ مَیں نے اَور میرے آباؤاَجداد نے دیگر ممالک کے تمام لوگوں کے ساتھ کیا کچھ کیا؟ کیا اُن اَقوام کے معبُود میرے ہاتھ سے اُن کے مُلک کو بچا سکے؟
2CH 32:14 اُن قوموں کو جنہیں میرے آباؤاَجداد نے تباہ کیا اُن قوموں کے تمام معبُودوں میں سے کون اَپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے بچانے کے قابل نِکلا؟ تو پھر تمہارے معبُود تُمہیں میرے ہاتھوں سے کیسے بچا سکیں گے؟
2CH 32:15 پس تُم حِزقیاہؔ کے فریب میں مت آؤ! اُس کا یقین مت کرو کیونکہ کسی بھی قوم یا مملکت کا اَیسا کویٔی معبُود نہیں ہے جو اَپنے لوگوں کو میرے یا میرے آباؤاَجداد کے ہاتھ سے بچا سکے، تو تمہارا معبُود تُمہیں میرے ہاتھ سے کیسے بچا سکےگا!“
2CH 32:16 اَور صینخربؔ کے افسران نے یَاہوِہ خُدا کے خِلاف اُن کے خادِم حِزقیاہؔ کے خِلاف بہت سِی اَور باتیں بھی کہیں۔
2CH 32:17 اَور اُس بادشاہ نے یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے خُدا کی توہین کرتے ہُوئے اَور اُس کے خِلاف یہ کہتے ہُوئے خط لکھے: ”جِس طرح دیگر ممالک کے معبُود اَپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے نہ بچا سکے وَیسے ہی حِزقیاہؔ کا معبُود بھی اَپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے نہ بچا سکےگا۔“
2CH 32:18 پھر اُنہُوں نے یروشلیمؔ کے اُن لوگوں کو جو فصیل پر تھے یہی باتیں یہُودیؔہ کی عِبرانی زبان میں بڑے زور زور سے سُنائیں تاکہ اُنہیں ڈرا دھمکا کر شہر پر قبضہ کر لیں۔
2CH 32:19 اَور اُنہُوں نے یروشلیمؔ کے خُدا کے بارے میں بھی وُہی باتیں کہیں جو اُنہُوں نے دُنیا کی دیگر اَقوام کے معبُودوں کے بارے میں کہی تھیں جو اِنسان کے ہاتھوں کی کاریگری ہیں۔
2CH 32:20 تَب حِزقیاہؔ بادشاہ اَور یَشعیاہ بِن آموصؔ نبی نے آسمان کی طرف مُنہ کرکے دعا کی اَور دہائی دی۔
2CH 32:21 اَور یَاہوِہ نے ایک فرشتہ بھیجا جِس نے شاہِ اشُور کے لشکرگاہ میں تمام سُورماؤں اَور سپہ سالاروں اَور افسران کو ہلاک کر دیا۔ پس وہ بڑی ذِلّت کے ساتھ اَپنے مُلک کو پسپا ہو گیا اَور جَب وہ اَپنے معبُود کے مَندِر میں گیا تو اُس کے بیٹوں میں سے بعض نے اُسے تلوار سے قتل کر دیا۔
2CH 32:22 لہٰذا یَاہوِہ نے حِزقیاہؔ اَور یروشلیمؔ کے لوگوں کو شاہِ اشُور صینخربؔ کے ہاتھ سے اَور تمام دُوسروں کے ہاتھ سے بچایا اَور اُنہیں ہر طرف سے مدد پہُنچائی۔
2CH 32:23 بہت سے لوگ یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے لیٔے عطیات اَور حِزقیاہؔ شاہِ یہُودیؔہ کے لیٔے قیمتی تحائف لایٔے اَور تَب سے تمام قوموں میں اُس کا بڑا اِحترام ہونے لگا۔
2CH 32:24 اُن دِنوں حِزقیاہؔ بیمار ہو گیا یہاں تک کہ مرنے کی نَوبَت آ گئی۔ اُس نے یَاہوِہ سے دعا کی جِس نے اُسے جَواب دیا اَور اُسے ایک معجزاتی نِشان دیا۔
2CH 32:25 لیکن حِزقیاہؔ کا دِل غُرور سے بھرا ہُوا تھا اَور اُس نے اُس مہربانی کے لیٔے جو اُس کے ساتھ کی گئی تھی خُدا کا شکریہ بھی اَدا نہ کیا۔ اِس لیٔے اُس پر، اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ پر یَاہوِہ کا قہر بھڑکا۔
2CH 32:26 تَب حِزقیاہؔ نے اَپنے دِل کے غُرور سے تَوبہ کی اَور وَیسے ہی یروشلیمؔ کے لوگوں نے بھی تَوبہ کرکے خاکساری اِختیار کی۔ اِس لیٔے حِزقیاہؔ کے ایّام میں یَاہوِہ کا قہر اُن پر نازل نہ ہُوا۔
2CH 32:27 حِزقیاہؔ کی دولت اَور شان و شوکت کی کویٔی حَد نہ تھی اَور اُس نے اَپنی چاندی، سونے، جواہر، مَسالوں۔ ڈھالوں اَور تمام قَسم کی قیمتی اَشیا کے لیٔے خزانے بنوائے۔
2CH 32:28 اَور اناج، نیا انگوری شِیرہ اَور تیل کا ذخیرہ کرنے کے لیٔے گودام تعمیر کروائے اَور مُختلف قِسم کے مویشیوں کے لیٔے اصطبل اَور بھیڑ بکریوں کے لیٔے باڑے بنوائے۔
2CH 32:29 اُس نے دیہات تعمیر کئے اَور بڑی تعداد میں گائے بَیل بھیڑ بکریاں حاصل کئے کیونکہ خُدا نے اُسے بہت زِیادہ دولت بخشی تھی۔
2CH 32:30 یہ حِزقیاہؔ ہی تھا جِس نے گیحونؔ کے چشمہ کے پانی نکلنے کے بالائی راستہ کو بند کرکے پانی کو دُوسرے راستہ سے داویؔد کے شہر کے مغرب کی طرف پہُنچایا اَور وہ ہر کام میں جو اُس نے شروع کیا کامیاب ہُوا۔
2CH 32:31 لیکن جَب بابیل کے اُمرا نے اُس معجزاتی نِشان کے متعلّق جو اُس مُلک میں رونما ہُوا تھا جاننے کے لیٔے اُس کے پاس سفیر بھیجے تو خُدا نے اُسے آزمانے کے لیٔے اَور اُس کے دِل کا حال جاننے کے لیٔے اُسے ترک کر دیا۔
2CH 32:32 حِزقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور اُس کی جان نثاری کے کارنامے یَشعیاہ بِن آموصؔ نبی کی رُویا میں اَور یہُوداہؔ اَور اِسرائیل کے بادشاہوں کی کِتاب میں درج نہیں ہے۔
2CH 32:33 اَور حِزقیاہؔ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اُس پہاڑی پر جہاں داویؔد کی اَولاد کی قبریں ہیں دفن کیا گیا۔ اَور جَب اُس نے وفات پائی تو یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سَب لوگوں نے اُسے خِراج عقیدت پیش کیا اَور اُس کا بیٹا منشّہ بطور بادشاہ اُس کا جانشین ہُوا۔
2CH 33:1 منشّہ بَارہ سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں پچپن سال حُکمرانی کی۔
2CH 33:2 اُس نے اُن قوموں کے مکرُوہ کاموں کی پیروی کی جنہیں یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کے سامنے سے نکال دیا تھا اَور اِس طرح وہ یَاہوِہ کی نظر میں بدی کا مُرتکب ہُوا۔
2CH 33:3 اُس نے اُن اُونچے مقامات کو جنہیں اُس کے باپ حِزقیاہؔ نے مِسمار کر دیا تھا دوبارہ تعمیر کروائی۔ اَور منشّہ نے بَعل نامی بُتوں کے لیٔے مذبحے اَور اشیراہؔ کے لکڑی کے سُتون تیّار کروائے۔ اَور اُس نے تمام اجرامِ فلکی کو سَجدہ کیا اَور اُن کی پرستش کرتا رہا۔
2CH 33:4 منشّہ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں تمام مذبحے بنوائے جِس کے متعلّق یَاہوِہ نے فرمایا تھا کہ، ”میرا نام یروشلیمؔ میں ہمیشہ قائِم رہے گا۔“
2CH 33:5 اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے دونوں صحنوں میں اُس نے تمام اجرامِ فلکی کے لیٔے مذبحے بنائے
2CH 33:6 اَور اُس نے بین ہِنَّومؔ کی وادی میں اَپنے بیٹوں کی آتِشی قُربانی دی۔ اَور اُس نے قیاس آرائی، شگون ماننا، کالا جادُو کرنا اَور وہ اَرواح پرستوں کے آشناؤں اَور قِسمت کا حال بتانے والوں کی طرف رُجُوع کیا۔ اُس نے یَاہوِہ کی نظر میں بہت بدکاری کی اَور اُنہیں غُصّہ دِلایا۔
2CH 33:7 اَورجو ایک تراشا ہُوا بُت اُس نے بنوایا اُس نے اُسے خُدا کے بیت المُقدّس میں نصب کروا دیا، جِس کی بابت خُدا نے داویؔد اَور اُس کے بیٹے شُلومونؔ سے فرمایا تھا، ”اِس بیت المُقدّس میں اَور یروشلیمؔ میں جنہیں مَیں نے بنی اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے اِنتخاب کیا ہے، میں اَپنا نام وہاں اَبد تک قائِم رکھوں گا۔
2CH 33:8 اَور مَیں بنی اِسرائیل کے قدموں کو پھر سے اُس سرزمین پر سے جو مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد کو عنایت کی تھی پھر کبھی بے دخل نہ ہونے دُوں گا بشرطیکہ وہ آئین کی اُن سَب باتوں کو جِن کا مَیں نے اُنہیں حُکم دیا ہے یعنی اُن تمام آئین، قوانین اَور ضوابط کو جو مَوشہ نے اُنہیں عطا کئے ہیں بڑی احتیاط سے عَمل کرتے رہیں۔“
2CH 33:9 لیکن منشّہ نے بنی یہُوداہؔ اَور یروشلیمؔ کے لوگوں کو یہاں تک گُمراہ کر دیا کہ اُنہُوں نے اُن قوموں سے بھی زِیادہ بدکاری کی جنہیں یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کے سامنے سے نِیست و نابود کر دیا تھا۔
2CH 33:10 اَور یَاہوِہ نے منشّہ اَور اُس کے لوگوں سے کلام کیا لیکن اُنہُوں نے اُس کلام پر کویٔی توجّہ نہ دی۔
2CH 33:11 اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُن کے خِلاف اشُور کے بادشاہ کے سپہ سالاروں کو اُن پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا، جو منشّہ کو اسیر کرکے اَور اُس کی ناک میں کانٹا لگا کر کانسے کی زنجیروں کے اَور بِیڑیوں سے جکڑ کر بابیل لے گیٔے۔
2CH 33:12 تَب اَپنی سخت مُصیبت میں اُس نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی مہربانی حاصل کرنے کے لئے مِنّت کی اَور اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کے حُضُور بڑی خاکساری اِختیار کی۔
2CH 33:13 جَب اُس نے یَاہوِہ سے دعا کی تو یَاہوِہ نے اُس کی فریاد سُنی اَور اُس کی دعا قبُول فرمائی اَور اُسے اُس کی مملکت میں ہی یروشلیمؔ کو واپس لَوٹا لایا۔ تَب منشّہ نے جان لیا کہ یَاہوِہ ہی خُدا ہیں۔
2CH 33:14 تَب اُس نے وادی میں گیحونؔ کے مغرب کی طرف مچھلی پھاٹک کے مدخل تک اَور عوفیلؔ کی پہاڑی کے اِردگرد داویؔد کے شہر کی بیرونی دیوار کو دوبارہ تعمیر کیا اَور اُس کی اُونچائی زِیادہ کر دی۔ اِس کے بعد اُس نے یہُودیؔہ کے تمام فصیلدار شہروں میں لشکر کے سپہ سالار مُقرّر کئے۔
2CH 33:15 اَور اُس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس سے اُن غَیر معبُودوں اَور اُس بُت کو اَور اُن سَب مذبحوں کو جو اُس نے بیت المُقدّس کی پہاڑی پر اَور یروشلیمؔ میں تعمیر کروائی تھی اُنہیں توڑ ڈالا اَور اُنہیں شہر کے باہر پھنکوا دیا۔
2CH 33:16 پھر اُس نے یَاہوِہ کے مذبح کی دوبارہ مرمّت کروائی اَور اُس پر سلامتی کی نذر اَور شُکر گزاری کی قُربانیاں گذرانی اَور منشّہ نے سارے بنی یہُوداہؔ کو حُکم دیا کہ وہ صِرف بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کی پرستش کریں۔
2CH 33:17 تاہم لوگ اُونچے مقامات پر قُربانی پیش کرتے رہے لیکن اُن کا کہنا تھا کہ ہماری قُربانی ہمارے یَاہوِہ خُدا کے لیٔے ہے۔
2CH 33:18 اَور منشّہ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات، اَپنے خُدا سے اُس کی گئی دعا اَورجو کلام رَوشن ضمیروں نے بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے نام سے اُسے سُنایا تھا، وہ تمام بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ میں درج ہے۔
2CH 33:19 اُس کی دعا اَور کس طرح خُدا نے اُس کی اِلتجا قبُول فرمائی، اَور اُس کے خاکساری اِختیار کرنے سے پیشتر کے تمام گُناہ، اُس کی دغابازی اَور وہ جگہیں جہاں اُس نے اُونچے مقامات تعمیر کروائے اَور اشیراہؔ کے سُتون کھڑے کئے اَور بُت نصب کئے، اِن سَب کا بَیان غیب بین ہوشِیعؔ کے رُویتوں میں مرقوم ہے۔
2CH 33:20 منشّہ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور اَپنے محل میں دفن کیا گیا۔ اَور اُس کا بیٹا امُونؔ بطور بادشاہ اُس کا جانشین ہُوا۔
2CH 33:21 امُونؔ بائیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں دو سال حُکمرانی کی۔
2CH 33:22 اُس نے اَپنے باپ منشّہ کی طرح وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا امُونؔ نے اُن تمام بُتوں کو جنہیں منشّہ نے بنوایا تھا پرستش کی اَور اُنہیں کی قُربانیاں گذرانی۔
2CH 33:23 لیکن وہ یَاہوِہ کے حُضُور خاکسار نہ بنا جَیسے اُس کا باپ منشّہ خاکسار بنا تھا۔ بَلکہ امُونؔ خطاؤں پر خطا کرتا رہا۔
2CH 33:24 امُونؔ کے درباریوں نے اُس کے خِلاف سازش کی اَور اُسے اُس کے محل میں ہی قتل کر دیا۔
2CH 33:25 تَب مُلک کی عوام نے اُن تمام لوگوں کو قتل کر دیا، جنہوں نے امُونؔ بادشاہ کے خِلاف سازش کی تھی اَور اُس کے بیٹے یُوشیاہؔ کو اُس کی جگہ بادشاہ بنایا۔
2CH 34:1 یُوشیاہؔ آٹھ سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں اِکتیس سال حُکمرانی کی۔
2CH 34:2 اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں دُرست تھا اَور وہ اَپنے آباؤاَجداد داویؔد کی راہوں پر چلتا رہا نہ داہنی طرف مُڑا نہ بائیں طرف۔ اَور اُن سے کبھی الگ نہ ہُوا۔
2CH 34:3 اَپنی سلطنت کے آٹھویں سال میں جَب وہ ابھی لڑکا ہی تھا وہ اَپنے باپ داویؔد کے خُدا کا طالب ہُوا۔ اَور بارہویں سال میں اُس نے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کو بُلند مقامات، اشیراہؔ کے سُتون، تراشے ہُوئے بُتوں اَور ڈھالی ہُوئی مورتوں سے پاک کرنا شروع کیا۔
2CH 34:4 بادشاہ کی ہدایت پر لوگوں نے بَعل معبُودوں کے مذبحوں کو ڈھا دیا اَور بخُور جَلانے کے مذبحوں کو جو بَعل کے مذبحوں کے اُوپر تھے کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اَور اشیراہؔ کے سُتونوں، تراشے ہُوئے بُتوں کو اَور ڈھالی ہُوئی مورتوں کو توڑ ڈالا اَور اُنہیں گَرد میں تبدیل کرکے اُن لوگوں کی قبروں پر بِکھیر دیا جنہوں نے اُنہیں قُربانیاں گذرانی تھیں۔
2CH 34:5 اِس کے بعد بادشاہ نے اُن کاہِنوں کی ہڈّیاں اُنہیں مذبحوں پر جَلائیں اَور اِس طرح یُوشیاہؔ نے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کو پاک صَاف کر دیا۔
2CH 34:6 اَور منشّہ، اِفرائیمؔ اَور شمعُونؔ کے قصبوں، حتّیٰ کہ نفتالی اَور اُن کے اِردگرد کے کھنڈرات میں بھی
2CH 34:7 اُس نے مذبحوں اَور اشیراہؔ کے سُتونوں کو ڈھا دیا اَور بُتوں کو توڑ کر چکنا چُور کر دیا اَور بادشاہ نے پُورے مُلک اِسرائیل میں مَوجُود ہر جگہ کے بخُور جَلانے کے مذبحوں کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کروا دیا۔ پھر وہ واپس یروشلیمؔ لَوٹ گیا۔
2CH 34:8 یُوشیاہؔ نے اَپنی حُکمرانی کے اٹھّارہویں سال میں جَب وہ مُلک اِسرائیلؔ اَور بیت المُقدّس کو پاک و صَاف کر چُکا تو اُس نے شافانؔ بِن اصلیاہؔ اَور شہر کے حاکم معسیاہؔ اَور اُن کے ہمراہ یُوآخؔ بِن یُوآحازؔ مورّخ کو اَپنے خُدا یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت کرنے کے لیٔے بھیجا۔
2CH 34:9 وہ خِلقیاہؔ اعلیٰ کاہِن کے پاس گیٔے اَور وہ نقدی جو خُدا کے بیت المُقدّس میں لائی گئی تھی، جسے دربان لیویوں نے بنی منشّہ، بنی اِفرائیمؔ اَور اِسرائیل کے تمام باقی بچے لوگوں سے اَور پُورے بنی یہُوداہؔ اَور بِنیامین اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں سے لے کر جمع کیا تھا اُسے خِلقیاہؔ کے سُپرد کر دیا۔
2CH 34:10 اَور اُنہُوں نے اُسے اُن آدمیوں کے حوالہ کیا جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت کے کام کی نِگرانی پر معموُر تھے۔ پھر یہ رقم اُن کارندوں کو اَدا کی گئی جنہوں نے بیت المُقدّس کو مرمّت کرکے بحال کیا۔
2CH 34:11 اُنہُوں نے بڑھئیوں اَور مِعماروں کو بھی نقدی دی تاکہ وہ تراشیدہ پتّھر اَور جوڑوں کے لیٔے لکڑی اَور اُن عمارتوں کے لیٔے لکڑی کے شہتیر خرید سکیں جنہیں یہُوداہؔ کے بادشاہوں نے تباہ ہو جانے دیا تھا۔
2CH 34:12 اُن آدمیوں نے بنی مِراریؔ کے بیٹے لیوی یاحاتؔھ اَور عبدیاہؔ اَور قُہاتیوں کے گھرانے سے زکریاؔہ اَور مِشُلّامؔ کی نِگرانی میں وفا شعاری سے کام کیا جو اُن پر بطور نِگران مُقرّر تھے۔ وہ سَب طرح کے کام کی نِگرانی کرتے تھے جِن میں بعض لیوی مُصنِّف، نِگران دربان اَور بعض ساز بجانے میں ماہر تھے۔
2CH 34:13 وہ مزدُوروں کے کام کی نِگرانی کرتے اَور ہر کام پرجو کارندوں کے سُپرد کیا گیا تھا اُس پر نظر رکھتے تھے۔ لیویوں میں بعض مُنشی، بعض کاتب اَور بعض دربان تھے۔
2CH 34:14 جَب وہ اُس نقدی کو جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لائی گئی تھی اُسے باہر نکال رہے تھے تو خِلقیاہؔ کاہِنؔ کو مَوشہ کی مَعرفت دی گئی یَاہوِہ کی کِتاب تورہ مِلی۔
2CH 34:15 تَب خِلقیاہؔ نے شافانؔ مُنشی سے کہا، ”یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں مُجھے کِتاب تورہ مِلی ہے۔“ تَب خِلقیاہؔ نے اُسے شافانؔ کے حوالہ کر دیا۔
2CH 34:16 تَب شافانؔ وہ کِتاب بادشاہ کے پاس لے گیا اَور اُسے اِطّلاع دی: ”آپ کے خادِموں کو جو جو کام سُپرد گیٔے تھے وہ اُنہیں اَنجام دے رہے ہیں۔
2CH 34:17 اَورجو نقدی یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں تھی وہ نِگرانوں اَور کارندوں کے حوالہ کر دی گئی ہے۔“
2CH 34:18 پھر شافانؔ مُنشی نے بادشاہ کو بتایا، ”خِلقیاہؔ کاہِنؔ نے مُجھے ایک کِتاب دی ہے۔“ تَب شافانؔ نے اُس میں سے کچھ بادشاہ کے حُضُور میں پڑھا۔
2CH 34:19 جَب بادشاہ نے تورہ کی آئین کی باتیں سُنیں تو اُس نے اَپنے کپڑے پھاڑے۔
2CH 34:20 پھر بادشاہ نے خِلقیاہؔ، احیقامؔ بِن شافانؔ، عبدونؔ بِن میکاہؔ، شافانؔ مُنشی اَور بادشاہ کے خادِم عسایاہؔ کو یہ حُکم دیا،
2CH 34:21 ”جاؤ، اَور میری طرف سے اَور بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ کے باقی بچے لوگوں کی طرف سے اِس کِتاب میں مندرج باتوں کے متعلّق یَاہوِہ سے دریافت کرو کیونکہ یَاہوِہ کا قہر شدید جو ہم پر نازل ہُواہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے آباؤاَجداد نے یَاہوِہ کے کلام کو نہیں مانا اَورجو کچھ اِس میں لِکھا ہُواہے اُنہُوں نے اُس پر عَمل نہیں کیا ہے۔“
2CH 34:22 تَب خِلقیاہؔ اَور وہ لوگ جنہیں بادشاہ نے اُس کے ساتھ بھیجا تھا، حُلدہؔ نبیّہ کے پاس جو توشہ خانہ کے داروغہ شلُّومؔ بِن توقہتؔ بِن حسرہؔ کی بیوی تھی اُس سے دریافت کرنے گیٔے۔ حُلدہؔ کا گھر یروشلیمؔ کے نئے مُحلّے میں تھا۔
2CH 34:23 حُلدہؔ نبیّہ نے اُنہیں جَواب دیا، ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: جِس شخص نے تُمہیں میرے پاس بھیجا ہے، اُس سے یہ کہنا:
2CH 34:24 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’میں اِس جگہ پر اَور یہاں کے باشِندوں پر آفت لانے والا ہُوں یعنی اُس کِتاب میں لکھی ہُوئی سَب لعنتیں جو شاہِ یہُودیؔہ کی مَوجُودگی میں پڑھی گئی ہیں۔
2CH 34:25 کیونکہ اُنہُوں نے مُجھے ترک کر دیا ہے اَور غَیر معبُودوں کے آگے بخُور جَلایا اَور مُجھے اَپنے ہاتھوں کے سَب کاموں سے غُصّہ دِلایا ہے، لہٰذا میرا قہر شدید اِس جگہ پر نازل ہُواہے اَور وہ پر سکون نہیں ہوگا۔‏‘
2CH 34:26 لیکن تُم شاہِ یہُودیؔہ سے جِس نے تُمہیں یَاہوِہ سے دریافت کرنے کے لیٔے بھیجا ہے کہنا: ’جو کلام تُم نے سُنا ہے اُس کے متعلّق، یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے:
2CH 34:27 چونکہ تمہارا دِل حلیم ہُوا اَور تُم نے خُدا کے حُضُور اَپنے آپ کو اُس وقت خاکسار بنایا جَب تُم نے اُس کلام کو سُنا جو اُس نے اِس جگہ اَور یہاں کے باشِندوں کے خِلاف فرمایاہے اَور چونکہ تُم نے میرے حُضُور خود کو فروتن بنایا، اَپنے کپڑے پھاڑ کر اَور میرے حُضُور ماتم کیا، اِس لیٔے مَیں نے بھی تمہاری فریاد سُن لی ہے۔ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
2CH 34:28 سُنو، اَب مَیں تُمہیں تمہارے آباؤاَجداد کے ساتھ مِلا دُوں گا اَور تُم سلامتی کے ساتھ قبر میں اُتارے جاؤگے اَور تمہاری آنکھیں اُس تمام آفت کو نہ دیکھ پائیں گی جو میں اِس جگہ پر اَور یہاں کے باشِندوں پر لانے والا ہُوں۔‘ “ تَب اُنہُوں نے لَوٹ کر بادشاہ کو حُلدہؔ نبیّہ کا یہ پیغام سُنایا۔
2CH 34:29 تَب بادشاہ نے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سَب بُزرگوں کو اَپنے پاس بُلوا کر جمع کیا۔
2CH 34:30 اَور بادشاہ، بنی یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سَب لوگوں اَور کاہِنؔ اَور لیویوں کے ساتھ کیا چُھوٹے کیا بڑے، سَب لوگوں کو ساتھ لے کر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو گیا اَور بادشاہ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں پائی گئی اُس عہد کی کِتاب کی تمام باتیں بُلند آواز سے پڑھ کر اُنہیں سُنائیں۔
2CH 34:31 اَور بادشاہ نے اَپنے مخصُوص مقام پر کھڑے ہوکر یَاہوِہ کی حُضُوری میں اُس عہد کی تجدید کی کہ وہ اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان سے یَاہوِہ کی پیروی کرےگا اَور اُن کے اَحکام، رسمیں اَور قوانین کو مانے گا اَور اِس عہد کی تمام باتوں پرجو اِس کِتاب میں لکھی ہیں عَمل کرےگا۔
2CH 34:32 اِس کے علاوہ بادشاہ نے وہاں مَوجُود یروشلیمؔ اَور بِنیامین کے لوگوں میں سے ہر ایک کو اِس عہد میں شریک کیا۔ اَور یروشلیمؔ کے لوگوں نے خُدا یعنی اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کے عہد کے مُطابق عَمل کیا۔
2CH 34:33 اَور یُوشیاہؔ نے بنی اِسرائیل کے تمام علاقوں سے تمام مکرُوہ بُتوں کو دُور کیا اَور اِسرائیل میں مَوجُود تمام لوگوں سے یَاہوِہ اُن کے خُدا کی عبادت کروائی اَور جَب تک اُس کی سلطنت قائِم رہی تَب تک اُنہُوں نے یَاہوِہ اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کی پیروی کرنے میں کویٔی کسر نہ رکھی۔
2CH 35:1 تَب یُوشیاہؔ نے یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے لیٔے عیدِفسح منائی اَور فسح کا برّہ پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کو ذبح کیا گیا۔
2CH 35:2 اُس نے کاہِنوں کو اَپنے اَپنے فرائض اَنجام دینے کے لیٔے مُقرّر کیا اَور اُنہیں ترغِیب دی کہ وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں خدمت کریں۔
2CH 35:3 اَور بادشاہ نے اُن تمام لیویوں کو جو تمام بنی اِسرائیل کو تعلیم دینے کے لئے مُقرّر اَور مخصُوص کئےگئے تھے یہ حُکم دیا: ”پاک صندُوق کو اُس بیت المُقدّس میں رکھ دو جسے شاہِ اِسرائیل شُلومونؔ بِن داویؔد نے تعمیر کروایا تھا۔ آئندہ تُمہیں اِسے اَپنے کندھوں پر اُٹھاکر اِدھر اُدھر لے جانے کی ضروُرت نہ ہوگی۔ اَب تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا اَور اُن کی اُمّت بنی اِسرائیل کی خدمت میں لگ جاؤ۔
2CH 35:4 اَور شاہِ اِسرائیل داویؔد اَور اُن کے بیٹے شُلومونؔ کے تحریر شُدہ ہدایات کے مُطابق اَپنے اَپنے آبائی خاندانوں اَور فریقوں کے مُطابق، کام کو اَنجام دینے کے لیٔے کمربستہ ہو جاؤ۔
2CH 35:5 ”اِس کے علاوہ تُم پاک مقام میں حاضری دو اَور دیکھو کہ جِس گِروہ کی باری ہے اُس کا ہر فرد لیویوں کے آبائی خاندانوں کی تقسیم کے مُطابق ضروُر کھڑے ہُوں۔
2CH 35:6 اَپنی تقدیس کرکے فسح کے برّے کو ذبح کرو اَور جَیسے یَاہوِہ نے مَوشہ کی شَریعت میں حُکم دیا ہے اُس کے مُطابق عَمل کرتے ہُوئے فسح کی قُربانی کو اَپنے بھائیوں کے لیٔے تیّار کرو۔“
2CH 35:7 اَور یُوشیاہؔ نے تمام لوگوں کے لیٔے جو وہاں مَوجُود تھے تیس ہزار بھیڑ بکریاں اَور تین ہزار بَیل فسح کی قُربانیوں کے لیٔے مُہیّا کئے اَور یہ سَب بادشاہ کی مِلکیّت میں سے تھے۔
2CH 35:8 بادشاہ کے سرداروں نے بھی لوگوں، کاہِنوں اَور لیویوں کے لئے اَپنی مرضی سے رضا کی قُربانی کے طور پر ہدیہ دیا۔ اَور خُدا کے بیت المُقدّس کے ناظِم خِلقیاہؔ، زکریاؔہ اَور یحی ایل نے کاہِنوں کو فسح کی قُربانی کے لیٔے دو ہزار چھ سَو بھیڑ بکریاں اَور تین سَو بَیل دئیے۔
2CH 35:9 اِن کے علاوہ لیویوں کے سرداروں کونعنیاہؔ، اَور اُس کے بھائیوں شمعیاہؔ اَور نتنی ایل، اَور حشبیاہؔ، یعی ایل اَور یُوزبادؔ نے لیویوں کو فسح کی قُربانی کے لیٔے پانچ ہزار بھیڑ بکریاں اَور پانچ سَو بَیل مُہیّا کئے۔
2CH 35:10 یُوں عبادت کی تیّاری ہو گئی اَور جَیسے بادشاہ نے حُکم دیا تھا وَیسے ہی کاہِنؔ اَپنی اَپنی جگہ پر اَور لیوی اَپنے اَپنے فریق کے مُطابق کھڑے ہو گئے۔
2CH 35:11 تَب فسح کے برّے ذبح کئے گیٔے اَور کاہِنوں نے اُن کے ہاتھ سے خُون لے کر چھِڑکا اَور لیوی جانوروں کی کھال اُتارتے گیٔے۔
2CH 35:12 تَب اُنہُوں نے سوختنی نذروں کو الگ کیا تاکہ وہ لوگوں کے آبائی خاندانوں کی ہر شاخ کے افراد میں تقسیم کی جایٔیں اَور وہ اُنہیں یَاہوِہ کے حُضُور میں پیش کریں جَیسا کہ مَوشہ کی کِتاب میں لِکھا ہے۔ اَور بَیلوں کی قُربانی کے ساتھ بھی اَیسا ہی کیا گیا۔
2CH 35:13 تَب دستور کے مُطابق اُنہُوں نے فسح کے جانوروں کو آگ پر بھُونا اَور پاک نذروں کو ہانڈیوں، دیگوں اَور کڑاہیوں میں پکایا اَور اُنہیں جلدی سے لوگوں کو کھِلایا۔
2CH 35:14 اِس کے بعد اُنہُوں نے اَپنے لیٔے اَور کاہِنوں کے لیٔے بھی فسح کی قُربانی کا اِنتظام کیا کیونکہ بنی اَہرونؔ کے کاہِنؔ رات ہونے تک سوختنی نذریں اَور چربی قُربانی چڑھانے میں مصروف رہتے تھے۔ پس لیویوں کو خُود اَپنے لیٔے اَور بنی اَہرونؔ کے کاہِنوں کے لیٔے تیّاری کرنی پڑی۔
2CH 35:15 اَور گانے والے جو بنی آسفؔ میں سے تھے وہ بادشاہ داویؔد، آسفؔ، ہیمانؔ اَور بادشاہ داویؔد کے غیب بین یدُوتونؔ کی مُقرّر کَردہ جگہوں پر کھڑے ہُوئے تھے۔ اَور ہر پھاٹک پر پہرےداروں کو اَپنی چوکی چھوڑکر جانے کی ضروُرت نہ پڑی کیونکہ اُن کے لیوی بھائیوں نے اُن کے لیٔے فسح کی تیّاریاں پہلے سے ہی کرلی تھیں۔
2CH 35:16 لہٰذا جَیسا یُوشیاہؔ بادشاہ نے عیدِفسح منانے اَور یَاہوِہ کے مذبح پر سوختنی نذریں گذراننے کا حُکم دیا تھا ٹھیک وَیسا ہی اُس وقت یَاہوِہ کی عبادت کامل طور پر سَر اَنجام دی گئی۔
2CH 35:17 چنانچہ اِس موقع پر وہاں جو بنی اِسرائیل مَوجُود تھے، اُنہُوں نے اُس وقت فسح اَور بے خمیری روٹی کی عید سات دِن تک منائی۔
2CH 35:18 شموایلؔ نبی کے ایّام سے لے کر اَب تک بنی اِسرائیل میں پہلے فسح کی عید اِس طرح کبھی نہیں منائی گئی تھی۔ اَور نہ ہی بنی اِسرائیل کے کسی بھی بادشاہ نے کبھی کاہِنوں لیویوں اَور سارے بنی یہُوداہؔ اَور وہاں مَوجُود بنی اِسرائیل اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں کے ساتھ اِس طرح سے عیدِفسح منائی تھی جَیسے یُوشیاہؔ نے منائی۔
2CH 35:19 یہ عیدِفسح یُوشیاہؔ بادشاہ کے دَورِ حُکومت کے اٹھّارہویں سال میں منائی گئی تھی۔
2CH 35:20 اِن باتوں کے بعد، جَب یُوشیاہؔ بیت المُقدّس کو پُوری طرح سے دُرست کر چُکا، تَب شاہِ مِصر نِکوہؔ نے جنگ کے لیٔے دریائے فراتؔ کے کنارے کرکمیشؔ شہر پر حملہ کیا اَور یُوشیاہؔ اُس سے جنگ کرنے کو نِکلا۔
2CH 35:21 لیکن نِکوہؔ نے اُسے قاصِدوں کے ذریعہ سے پیغام بھیجا، ”اَے شاہِ یہُودیؔہ، آپ سے میری کوئی عداوت نہیں ہے؟ اِس وقت مَیں آپ سے جنگ کرنے نہیں بَلکہ اُس خاندان کے خِلاف آیا ہُوں، جِس سے میری عداوت ہے اَور خُدا نے ہی مُجھے جلدی کرنے کا حُکم دیا ہے؛ لہٰذا تُم خُدا سے جو میرے ساتھ ہے مُخالفت کرنا چھوڑ دو ورنہ وہ تُمہیں ہلاک کر دے گا۔“
2CH 35:22 پھر بھی یُوشیاہؔ اُس کا مُقابلہ کرنے سے باز نہ آیا بَلکہ جنگ میں اُسے اُلجھانے کے لیٔے اَپنا حُلیہ بدل لیا۔ اَور خُدا کے حُکم سے جو کچھ نِکوہؔ نے کہا اُسے نہ سُنا اَور مگِدّوؔ کی وادی میں جا پہُنچا تاکہ اُس کے ساتھ جنگ کرے۔
2CH 35:23 تَب مِصری تیر اَندازوں نے یُوشیاہؔ بادشاہ کو تیر مارا اَور اُس نے اَپنے خادِموں سے فرمایا، ”میں سخت زخمی ہو گیا ہُوں؛ مُجھے یہاں سے لے چلو۔“
2CH 35:24 لہٰذا اُنہُوں نے اُسے اُس کے رتھ میں سے نکال کر ایک دُوسرے رتھ پر چڑھایا اَور اُسے یروشلیمؔ لے آئے جہاں اُس کی موت ہو گئی اَور اُسے اُس کے آباؤاَجداد کی قبروں میں دفن کیا گیا، تَب سارے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں نے یُوشیاہؔ کے لیٔے ماتم کیا۔
2CH 35:25 اَور یرمیاہؔ نبی نے یُوشیاہؔ پر نوحہ کیا اَور تمام مرثیہ گانے والے مَرد اَور عورتیں آج بھی اُس کی یاد میں نوحہ خوانی کرتی ہیں۔ اَیسی نوحہ خوانی بنی اِسرائیل میں ایک روایت بَن گئی ہے اَور اَیسے کیٔی نوحے، نوحوں کے مجموعوں میں شامل کئے گیٔے ہیں۔
2CH 35:26 یُوشیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور جَیسا یَاہوِہ کے آئین میں لِکھا ہے اُس کے مُطابق اُس کے عقیدتی اعمال،
2CH 35:27 اَور کیٔی دُوسرے کام شروع سے لے کر آخِر تک مُلکِ اِسرائیل اَور مُلکِ یہُودیؔہ کے بادشاہوں کی کِتاب میں درج ہیں۔
2CH 36:1 اَور مُلک کے لوگوں نے یُوشیاہؔ کے بیٹے یہُوآحازؔ کو اُس کے باپ کی جگہ یروشلیمؔ میں بادشاہ بنایا۔
2CH 36:2 یہُوآحازؔ تئیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے تین مہینے یروشلیمؔ میں سلطنت کی۔
2CH 36:3 شاہِ مِصر نے اُسے یروشلیمؔ میں تخت سے اُتار دیا اَور یہُودیؔہ پر ایک سَو تالنت چاندی اَور ایک تالنت سونے کا محصُول لگا دیا۔
2CH 36:4 تَب شاہِ مِصر نے یہُوآحازؔ کے بھایٔی اِلیاقیؔم کو یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کا بادشاہ بنا دیا اَور اِلیاقیؔم کا نام بدل کر یہُویقیمؔ رکھا۔ مگر نِکوہؔ اِلیاقیؔم کے بھایٔی یہُوآحازؔ کو پکڑکر مِصر لے گیا۔
2CH 36:5 یہُویقیمؔ پچّیس سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے گیارہ سال تک یروشلیمؔ پر حُکمرانی کی۔ اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ اُس کے خُدا کی نظر میں بُرا تھا۔
2CH 36:6 تَب شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے اُس پر حملہ کیا اَور اُسے بابیل لے جانے کے لیٔے کانسے کی بیڑیاں پہنا دیں۔
2CH 36:7 اِس کے علاوہ نبوکدنضرؔ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے کچھ ظروف بھی بابیل لے گیا اَور وہاں اُنہیں اَپنے مَندِر میں رکھ دیا۔
2CH 36:8 یہُویقیمؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اُس کے مکرُوہ کام اَور وہ جُرم جِن کا وہ مُرتکب ہُوا سَب کے سَب مُلکِ اِسرائیل اَور مُلکِ یہُوداہؔ اَور اِسرائیل کے بادشاہوں کی کِتاب میں درج ہیں۔ اَور اُس کا بیٹا یہُویاکینؔ اُس کی جگہ پر بادشاہ بنا۔
2CH 36:9 یہُویاکینؔ اٹھّارہ سال کا تھا جَب وہ بادشاہ بنا اَور اُس نے یروشلیمؔ میں تین مہینے اَور دس دِن حُکمرانی کی۔ اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا۔
2CH 36:10 اَور موسمِ بہار میں اُسے نبوکدنضرؔ بادشاہ کے حُکم سے بابیل لایا گیا اَور اُس کے ساتھ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے قیمتی ظروف بھی بابیل لایٔے گیٔے۔ اَور اُس نے یہُویاکینؔ کے چچا صِدقیاہؔ کو مُلکِ یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ پر بطور بادشاہ مُقرّر کیا۔
2CH 36:11 جَب صِدقیاہؔ بادشاہ بنا، تَب وہ اکّیس سال کا تھا اَور اُس نے گیارہ سال تک یروشلیمؔ پر حُکمرانی کی۔
2CH 36:12 اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ اُس کے خُدا کی نظر میں بُرا تھا اَور اُس نے یرمیاہؔ نبی کے سامنے جنہوں نے اُسے یَاہوِہ کا کلام سُنایا تھا خُود کو حلیم نہیں کیا۔
2CH 36:13 اُس نے نبوکدنضرؔ بادشاہ کے خِلاف بھی بغاوت کر دی جِس نے اُسے وفادار بنے رہنے کے لئے خُدا کی قَسم کھِلائی تھی۔ وہ مغروُر اَور اِس قدر پتّھر دِل ہو گیا کہ بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کی طرف بھی رُجُوع نہ ہُوا۔
2CH 36:14 اِس کے علاوہ کاہِنوں کے تمام سرداروں اَور لوگوں نے دیگر اَقوام کے نفرتی دستوروں کی پیروی کرکے بڑی دغا کی اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو جسے اُس نے یروشلیمؔ میں مُقدّس ٹھہرایا تھا ناپاک کر ڈالا۔
2CH 36:15 اَور یَاہوِہ اُن کے آباؤاَجداد کے خُدا نے بار بار اُن کے پاس اَپنے پیغمبروں کے ذریعہ اَپنا پیغام بھیجا کیونکہ اُسے اَپنے لوگوں اَور اَپنی قِیام گاہ پر ترس آتا تھا۔
2CH 36:16 لیکن اُنہُوں نے خُدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھّوں میں اُڑایا، اُن کے کلام کی تحقیر کی اَور اُن کے پیغمبروں کی اَیسی ہنسی اُڑائی کہ یَاہوِہ کا قہر اَپنے لوگوں کے خِلاف اَیسا بھڑکا کہ حالات بے قابُو ہو گئے۔
2CH 36:17 چنانچہ یَاہوِہ اُن پر حملہ کرنے کو شاہِ بابیل کو لے آئے، جِس نے اُن کے جَوانوں کو پاک مَقدِس ہی کے اَندر تلوار سے قتل کر دیا؛ اَور بادشاہ نے کسی نوجوان مَرد یا عورت، بُوڑھے اَور عمر رسیدہ کو نہ چھوڑا۔ خُدا نے اُن سَب کو نبوکدنضرؔ کے ہاتھ میں دے دیا۔
2CH 36:18 وہ خُدا کے بیت المُقدّس سے چُھوٹے بڑے سَب ظروف اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے خزانے اَور بادشاہ اَور اُس کے اُمرا کے خزانے بابیل لے گیا۔
2CH 36:19 تَب اُنہُوں نے خُدا کے بیت المُقدّس کو آگ لگا دی اَور یروشلیمؔ کی فصیلوں کو ڈھا دیا اَور اُنہُوں نے تمام شاہی محلوں اَور تمام مضبُوط عمارتوں کو جَلا دیا اَور وہاں کے تمام قیمتی چیزوں کو تلف کر دیا۔
2CH 36:20 جو تلوار سے باقی بچ گیٔے تھے اُنہیں وہ بابیل لے گیا اَور وہ فارسؔ کی سلطنت کے عروج پانے تک شاہِ بابیل کی اَور اُس کے بیٹوں کی غُلامی میں رہے۔
2CH 36:21 یُوں یَاہوِہ کا کلام جو یرمیاہؔ نبی کی زبانی دیا گیا تھا وہ پُورا ہو گیا کہ زمین ستّر سال تک سَبت کا آرام پایٔے گی یعنی ویران رہے گی۔
2CH 36:22 اَور شاہِ فارسؔ خورشؔ کے دَورِ حُکومت کے پہلے سال میں یَاہوِہ کا وہ کلام جو یرمیاہؔ نبی کی زبانی فرمایا گیا تھا وہ پُورا ہُوا؛ یَاہوِہ نے شاہِ فارسؔ خورشؔ کے دِل کو اِس بات پر اُکسایا کہ وہ اَپنی ساری مملکت میں باضابطہ اعلان کرے اَور اِس مضمون کا فرمان جاری کروائے،
2CH 36:23 ”شاہِ فارسؔ خورشؔ یُوں کہتاہے: ” ’آسمان کے خُدا یَاہوِہ نے زمین کی تمام مملکتیں مُجھے عطا فرمائی ہیں اَور اُس نے مُجھے مُقرّر کیا ہے کہ میں یہُودیؔہ کے یروشلیمؔ میں اُس کے لیٔے ایک بیت المُقدّس تعمیر کراؤں۔ لہٰذا تمہارے درمیان جو کویٔی بھی یَاہوِہ کے لوگوں میں سے ہے وہ وہاں جا سَکتا ہے۔ یَاہوِہ اُس کا خُدا اُس کے ساتھ ہو۔‘ “
EZR 1:1 اَور شاہِ فارسؔ خورشؔ کے دَورِ حُکومت کے پہلے سال میں یَاہوِہ کا وہ کلام جو یرمیاہؔ نبی کی زبانی فرمایا گیا تھا وہ پُورا ہُوا؛ یَاہوِہ نے شاہِ فارسؔ خورشؔ کے دِل کو اِس بات پر اُکسایا کہ وہ اَپنی ساری مملکت میں باضابطہ اعلان کرے اَور اِس مضمون کا فرمان جاری کروائے:
EZR 1:2 ”شاہِ فارسؔ خورشؔ یُوں کہتاہے: ” ’آسمان کے خُدا یَاہوِہ نے زمین کی تمام مملکتیں مُجھے عطا فرمائی ہیں اَور اُنہُوں نے مُجھے مُقرّر کیا ہے کہ میں یہُودیؔہ کے یروشلیمؔ میں خُدا یَاہوِہ کے لیٔے ایک بیت المُقدّس تعمیر کراؤں۔
EZR 1:3 لہٰذا اُس کی اُمّت میں سے جو کویٔی ہمارے درمیان مَوجُود ہے، خُدا اُس کے ساتھ ہو! وہ یہُودیؔہ کے شہر یروشلیمؔ چلا جائے اَور وہاں اِسرائیل کے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو تعمیر کریں۔ خُدا وُہی ہے جو یروشلیمؔ میں ہے۔
EZR 1:4 اَورجو لوگ یہاں یروشلیمؔ میں رہ جایٔیں وہ سَب کے سَب اُسے چاندی، سونا، سامان، مال مویشی اَور یَاہوِہ خُدا کے بیت المُقدّس کے لیٔے رضاکارانہ نذریں مُہیّا کریں۔‘ “
EZR 1:5 تَب یہُوداہؔ اَور بِنیامین کے آبائی خاندانوں کے سردار، کاہِنؔ اَور لیوی اَور ہر کویٔی جِس کے دِل میں یَاہوِہ نے تحریک پیدا کی یروشلیمؔ جانے اَور وہاں یَاہوِہ خُدا کا بیت المُقدّس تعمیر کرنے کے لیٔے تیّار ہو گئے۔
EZR 1:6 اُن کے تمام پڑوسیوں نے چاندی، سونا، سامان، مال مویشی، قیمتی تحائف اَور کیٔی اَور چیزیں خُوشی خُوشی مُہیّا کرکے اُن کی مدد کی۔
EZR 1:7 شاہِ خورشؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی اُن اَشیا کی واپسی کا اعلان بھی کیا جنہیں نبوکدنضرؔ یروشلیمؔ سے لے گیا تھا اَور جنہیں اُس نے اَپنے معبُود کے ہیکل میں رکھا تھا۔
EZR 1:8 خورشؔ شاہِ فارسؔ نے اَپنے خزانچی مترداتؔ کے ذریعہ اُن چیزوں کو منگوایا جِس نے اُنہیں گِن کر یہُوداہؔ کے حُکمراں شیس بضرؔ کے حوالہ کیا۔
EZR 1:9 اَور اُن اَشیا کی فہرست اِس طرح تھی: سونے کی 30 تھالیاں چاندی کی 1,000 تھالیاں، چاندی کی 29 چھُریاں،
EZR 1:10 سونے کے 30 پیالے، چاندی کے ایک جَیسے 410 پیالے دیگر 1,000 اَشیا۔
EZR 1:11 سونے اَور چاندی کی یہ کل اَشیا 5,400 تھیں۔ اَور جَب جَلاوطن کئے ہُوئے لوگ بابیل سے واپس یروشلیمؔ آئے تو شیس بضرؔ یہ تمام اَشیا اَپنے ساتھ لایا۔
EZR 2:1 یہ صُوبہ کے وہ لوگ ہیں جنہیں نبوکدنضرؔ شاہِ بابیل اسیر کرکے بابیل لے گیا تھا اَورجو جَلاوطنی سے لَوٹ کر (یروشلیمؔ اَور یہُوداہؔ میں اَپنے اَپنے شہروں کو واپس آ گئے ہیں۔
EZR 2:2 زرُبّابِیل، یہوشُعؔ، نحمیاہ، سِرایاہؔ، رعلایاہؔ، مردکیؔ، بِلشانؔ، مِسفارؔ، بِگوئی، رِحُومؔ اَور بعناہ اُن کے ہمراہ تھے۔
EZR 2:3 بنی پرعوش کے 2,172 لوگ۔
EZR 2:4 بنی شفطیاہؔ کے 372 لوگ۔
EZR 2:5 بنی ارخؔ کے 775 لوگ۔
EZR 2:6 بنی پخت مُوآب جو یہوشُعؔ اَور یُوآبؔ کی نَسل میں سے دو ہزار آٹھ سو بَارہ لوگ،
EZR 2:7 بنی عیلامؔ کے ایک ہزار دو سَو چوون لوگ۔
EZR 2:8 بنی زتُّو کے ‏ 945 لوگ۔
EZR 2:9 بنی زکّائیؔ کے 760 لوگ۔
EZR 2:10 بنی بانیؔ کے 642 لوگ۔
EZR 2:11 بنی ببئیؔ کے 623 لوگ۔
EZR 2:12 بنی عزگادؔ کے ایک ہزار دو سو بائیس لوگ۔
EZR 2:13 بنی ادُونِقامؔ کے 666 لوگ۔
EZR 2:14 بنی بِگوئی کے دو ہزار چھپّن لوگ۔
EZR 2:15 بنی عدِین کے 454 لوگ۔
EZR 2:16 حِزقیاہؔ کے خاندان میں سے بنی اطِیرؔ کے 98 لوگ۔
EZR 2:17 بنی بضَیؔ کے 323 لوگ۔
EZR 2:18 بنی یُورہؔ کے 112 لوگ۔
EZR 2:19 بنی حاشُومؔ کے 223 لوگ۔
EZR 2:20 بنی گِبّارؔ کے 95 لوگ۔
EZR 2:21 بنی بیت لحمؔ کے 123 لوگ۔
EZR 2:22 اہلِ نطوفہؔ کے 56 لوگ۔
EZR 2:23 عناتوت کے 128 لوگ۔
EZR 2:24 بنی عزماوتؔ کے 42 لوگ۔
EZR 2:25 قِریت یعریمؔ، کفیرہؔ اَور بیروت کے سات سَو تینتالیس لوگ۔
EZR 2:26 رامہؔ اَور گِبعؔ کے چھ سَو اکّیس‏‏ لوگ‏۔
EZR 2:27 اہلِ مِکماشؔ کے ایک سَو بائیس لوگ۔
EZR 2:28 بیت ایل اَور عَیؔ کے دو سَو تئیس لوگ۔
EZR 2:29 بنی نبوؔ کے 52 لوگ۔
EZR 2:30 بنی مگبیشؔ کے 156 لوگ۔
EZR 2:31 دُوسرے عیلامؔ کی اَولاد کے ایک ہزار دو سَوچون لوگ۔
EZR 2:32 بنی حارِمؔ کے تین سَو بیس لوگ۔
EZR 2:33 لُودؔ، حادِیدؔ اَور اُونوؔ کی اَولاد کے سات سَو پچیس لوگ تھے۔
EZR 2:34 یریحوؔ کے تین سَوپنتالیس لوگ۔
EZR 2:35 بنی سناآہ کے تین ہزار چھ سو تیس لوگ۔
EZR 2:36 پھر کاہِنوں: (یعنی یہوشُعؔ کے خاندان میں سے) یدعیاہؔ کی اَولاد کے نَو تہتّر لوگ۔
EZR 2:37 بنی اِمّیرؔ کے ایک ہزار باون لوگ۔
EZR 2:38 بنی پشحُور کے ایک ہزار دو سَو سینتالیس لوگ۔
EZR 2:39 بنی حارِمؔ کے ایک ہزار سترہ لوگ۔
EZR 2:40 اَور لیوی: یعنی ہُوداویاہؔ کی نَسل میں سے یہوشُعؔ اَور قدمی ایل کی اَولاد کے 74 لوگ۔
EZR 2:41 موسیقاروں میں سے: یعنی بنی آسفؔ کے ایک سَو اٹّھائیس لوگ۔
EZR 2:42 اَور دربان: بنی شلُّومؔ، اطِیرؔ، طلمُونؔ، عقُّوبؔ، حطیطاؔ اَور شوبائی کی اَولاد ایک سَو انتالیس تھی۔
EZR 2:43 بیت المُقدّس کے خُدّام: بنی ضیحاؔ، بنی حسُوفا، بنی طبعوت،
EZR 2:44 بنی قِروسؔ، بنی سیعہاؔ، بنی پدُونؔ،
EZR 2:45 بنی لیباناہ، بنی حگابہ، بنی عقُّوبؔ،
EZR 2:46 بنی حگابؔ، بنی شلمئیؔ، بنی حنانؔ،
EZR 2:47 بنی گِدّیلؔ، بنی گحار بنی رِیایاہؔ،
EZR 2:48 بنی رِضینؔ، بنی نقُودا، بنی گزّامؔ،
EZR 2:49 بنی عُزّاؔ، بنی پاسیخؔ، بنی بِسئیؔ،
EZR 2:50 بنی اسناہؔ، بنی معُونیم، بنی نفُوشسیم،
EZR 2:51 بنی بقبُوق، بنی حقُوفاؔ، بنی حرحُورؔ،
EZR 2:52 بنی بصلُوتؔ، بنی محِیداؔ، بنی حرشاؔ،
EZR 2:53 بنی برقُوسؔ، بنی سیسؔرا، بنی تمحؔ،
EZR 2:54 بنی نضیاحؔ، بنی حطیفاؔ،
EZR 2:55 شُلومونؔ کے خادِموں کی اَولاد: بنی سُوطائی، بنی حسُوفِریتؔ، بنی پرُوداؔ،
EZR 2:56 بنی یعلہ، بنی درقُونؔ، بنی گِدّیلؔ۔
EZR 2:57 بنی شفطیاہؔ، بنی حطّیلؔ، بنی پوکرتؔ حضبائیم، بنی امیؔ۔
EZR 2:58 بیت المُقدّس کے خُدّام اَور شُلومونؔ کے خادِموں کی اَولاد کے 392 لوگ۔
EZR 2:59 مُندرجہ ذیل جو تل مِلحؔ، تل حرشاؔ، کروب، ادّانؔ اَور اِمّیرؔ کے قصبوں سے آئےتھے یہ ثابت نہ کر سکے کہ اُن کے خاندان اِسرائیل کی نَسل کے ہیں:
EZR 2:60 بنی دِلائیاہؔ، بنی طُوبیاہؔ، بنی نقُودا کے 652 لوگ تھے۔
EZR 2:61 اَور کاہِنوں کی اَولاد میں سے: بنی حُبایاہ، بنی حقوضؔ، بنی برزِلّئیؔ (جِس نے برزِلّئیؔ گِلعادی کی بیٹیوں میں سے ایک کو بیاہ لیا تھا۔ اِس لیٔے وہ اُس نام سے موسوم ہُوا)۔
EZR 2:62 اِنہُوں نے اَپنے خاندانوں کے نَسب نامے تلاش کئے لیکن وہ نہ ملے۔ لہٰذا اُنہیں ناپاک قرار دے کر کہانت سے خارج کر دیا گیا۔
EZR 2:63 اَور حاکم نے اُنہیں حُکم دیا کہ جَب تک کویٔی کاہِنؔ اُوریمؔ اَور تُمّیمؔ پہنے ہُوئے نہ آئے تَب تک وہ پاک ترین اَشیا میں سے کویٔی چیز نہ کھایٔیں۔
EZR 2:64 کُل جماعت کی گِنتی 42,360 تھی،
EZR 2:65 اُن کے علاوہ 7,337 خادِم اَور خادِمائیں اَور 200 موسیقار مَرد اَور خواتین بھی تھے۔
EZR 2:66 اُن کے پاس 736 گھوڑے، 245 خچّر،
EZR 2:67 435 اُونٹ اَور چھ ہزار سات سو بیس گدھے تھے۔
EZR 2:68 جَب وہ یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے گھر پہُنچے تو آبائی خاندانوں کے بعض سرداروں نے خُدا کا گھر اُس کے پرانے مقام پر دوبارہ تعمیر کرنے کے لیٔے عطیات پیش کئے۔
EZR 2:69 اُنہُوں نے اُس کام کے لیٔے اَپنی قُوّت کے مطابق سونے کے اکسٹھ ہزار دِرہم اَور چاندی کے پانچ ہزار مِنہ اَور کاہِنوں کے لیٔے 100 پیراہن خزانہ میں دئیے۔
EZR 2:70 کاہِنؔ، لیوی، موسیقار، دربان اَور بیت المُقدّس کے خُدّام، بعض دیگر لوگوں کے ہمراہ اَپنے اَپنے قصبوں میں بس گیٔے اَور باقی بنی اِسرائیل اَپنے قصبوں میں آباد ہو گئے۔
EZR 3:1 جَب ساتواں مہینے آیا اَور بنی اِسرائیل اَپنے اَپنے شہروں میں آباد ہو گئے تَب لوگ یک تن ہوکر یروشلیمؔ میں جمع ہو گئے۔
EZR 3:2 تَب یہوشُعؔ بِن یُوصدقؔ اَور اُس کے ساتھی کاہِنؔ اَور زرُبّابِیل بِن شیالتی ایل اَور اُس کے رشتہ داروں نے خُدا کے خادِم مَوشہ کے تمام آئین میں لکھے ہُوئے اَحکام کے مُطابق سوختنی نذریں چڑھانے کے لیٔے اِسرائیل کے خُدا کا مذبح بنانا شروع کیا۔
EZR 3:3 اِردگرد کی قوموں کے خوف کے باوُجُود اُنہُوں نے مذبح کو اُس کی سابقہ بُنیاد پر تعمیر کیا اَور یَاہوِہ کو سوختنی نذریں چڑھائیں، یعنی صُبح اَور شام دونوں وقت کی قُربانیاں۔
EZR 3:4 پھر جَیسا لِکھّا ہُواہے اُس کے مُطابق ہر روز کے لیٔے واجِب سوختنی نذروں کی مُقرّرہ تعداد کے ساتھ اُنہُوں نے خیموں کی عید منائی۔
EZR 3:5 اُس کے بعد اُنہُوں نے سوختنی نذریں، نئے چاند کی قُربانیاں، اَور یَاہوِہ کی تمام مُقرّرہ عیدوں کی قُربانیاں اَور یَاہوِہ کے لیٔے لائی گئی نذریں بھی باقاعدہ پابندی کے ساتھ چڑھانا شروع کر دیں۔
EZR 3:6 ساتویں مہینے کے پہلے دِن سے وہ یَاہوِہ کے لیٔے سوختنی نذریں چڑھانے لگے۔ اگرچہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی بُنیاد ابھی تک رکھی نہیں گئی تھی۔
EZR 3:7 پھر اُنہُوں نے مِعماروں اَور بڑھئیوں کو نقدی دی اَور صیدونی اَور صُورؔ کے لوگوں کو کھانے پینے کی اَشیا اَور تیل دیا تاکہ وہ لبانونؔ سے دیودار کے لٹھّے سمُندر کے راستے یافؔا تک لائیں جَیسا کہ خورشؔ شاہِ فارسؔ کی طرف سے اُن کو اِجازت دی گئی تھی۔
EZR 3:8 پھر یروشلیمؔ میں خُدا کے گھر میں آنے کے بعد دُوسرے سال کے دُوسرے مہینے میں زرُبّابِیل بِن شیالتی ایل، یہوشُعؔ بِن یُوصدقؔ اَور اُن کے دُوسرے بھائیوں (کاہِنوں، لیویوں اَور وہ جو اسیری سے یروشلیمؔ واپس لَوٹے تھے) نے بیس سال اَور اُس سے زِیادہ عمر کے لیویوں کو یَاہوِہ کے گھر کی تعمیر کی نِگرانی کرنے پر مُقرّر کرکے کام شروع کیا۔
EZR 3:9 یہوشُعؔ اَور اُس کے بیٹے اَور بھایٔی اَور قدمی ایل اَور اُس کے بیٹے (جو یہُوداہؔ کی نَسل سے تھے) اَور بنی حِندادؔ اَور اُن کے بیٹے اَور بھایٔی جو سَب لیوی تھے یَاہوِہ کے گھر کے کام کی نِگرانی کے لیٔے باہم اِکٹھّے ہُوئے۔
EZR 3:10 جَب مِعماروں نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی بُنیاد رکھی تو کاہِنؔ اَپنے پیراہن پہنے اَور نرسنگے لیٔے ہُوئے اَور لیوی (بنی آسفؔ) اَپنی جھانجھیں لیٔے ہُوئے اَپنی اَپنی جگہ کھڑے ہُوئے تاکہ شاہِ اِسرائیل داویؔد کے مُقرّر کئے ہُوئے طریقہ کے مُطابق یَاہوِہ کی حَمد و ثنا کریں۔
EZR 3:11 اُنہُوں نے یَاہوِہ کی تعریف میں سِتائش اَور شُکر گزاری کا یہ نغمہ گایا: ”وہ بھلےہیں؛ کیونکہ بنی اِسرائیل سے اُن کی مَحَبّت ہمیشہ تک قائِم ہے۔“ اَور تمام لوگوں نے بُلند آواز سے یَاہوِہ کی تمجید کا نعرہ مارا کیونکہ یَاہوِہ کے گھر کی بُنیاد رکھی گئی تھی۔
EZR 3:12 مگر بہت سے عمر رسیدہ کاہِنؔ، لیوی اَور آبائی خاندانوں کے سرداروں جنہوں نے پہلی بیت المُقدّس دیکھی تھی جَب اُن کی آنکھوں کے سامنے اِس بیت المُقدّس کی بُنیاد رکھی گئی تو وہ زور زور سے چِلّاکر رونے لگے جَب کہ بعض دُوسرے لوگ خُوشی کے نعرے مار رہے تھے۔
EZR 3:13 خُوشی کے نعروں اَور رونے کی آواز میں اِمتیاز کرنا مُشکل تھا کیونکہ لوگ بڑے زور و شور سے نعرے مار رہے تھے اَور اُن کی آواز دُور تک سُنایٔی دے رہی تھی۔
EZR 4:1 جَب یہُوداہؔ اَور بِنیامین کے دُشمنوں نے سُنا کہ جَلاوطنی سے لَوٹے ہُوئے لوگ یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے خُدا کے لیٔے ایک بیت المُقدّس تعمیر کر رہے ہیں
EZR 4:2 تو وہ زرُبّابِیل اَور آبائی خاندانوں کے سرداروں کے پاس آئے اَور کہنے لگے، ”ہمیں بھی اِجازت دو کہ ہم بھی تعمیر کے کام میں تمہاری مدد کریں کیونکہ تمہاری مانند ہم بھی تمہارے خُدا کے طالب ہیں۔ اَور اسرحدّونؔ شاہِ اشُور کے زمانہ سے جو ہمیں یہاں لایاتھا خُدا کے لیٔے قُربانی چڑھاتے آ رہے ہیں۔“
EZR 4:3 لیکن زرُبّابِیل، یہوشُعؔ اَور آبائی خاندانوں کے دیگر سرداروں نے جَواب دیا کہ، ”ہمارے خُدا کے بیت المُقدّس تعمیر کرنے میں تمہارا ہمارے ساتھ کویٔی حِصّہ نہیں۔ ہم یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے خُدا کے لیٔے اکیلے ہی اُسے اَنجام دیں گے جَیسا کہ شاہِ فارسؔ خورشؔ بادشاہ نے ہمیں حُکم دیا ہے۔“
EZR 4:4 تَب اُن کے اِردگرد کے لوگ یہُوداہؔ کے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنے اَور اُنہیں تعمیر کرنے سے ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا۔
EZR 4:5 وہ خورشؔ شاہِ فارسؔ کے تمام دَورِ حُکومت سے لے کر داریاویشؔ شاہِ فارسؔ کے دَورِ حُکومت تک اُن کے خِلاف کاروائی کرنے اَور اُن کی تجاویز کو ناکام بنانے کے لیٔے مُشیروں کو رشوت دیتے رہے۔
EZR 4:6 اُنہُوں نے احسویروسؔ کے دَورِ حُکومت کے شروع میں یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے لوگوں کے خِلاف شکایت لِکھ کر بھیجی۔
EZR 4:7 اَور ارتخشستاؔ شاہِ فارسؔ کے ایّام میں بِشلام، مترداتؔ طابیل اَور اُس کے باقی ساتھیوں نے ارتخشستاؔ کو خط لِکھّا۔ یہ خط ارامی حُروف اَور ارامی زبان میں تھا۔
EZR 4:8 رِحُومؔ دیوان اَور شِمشیؔ مُنشی نے ارتخشستاؔ بادشاہ کو یروشلیمؔ کے بارے میں مُندرجہ ذیل خط لِکھّا:
EZR 4:9 رِحُومؔ دیوان اَور شِمشیؔ مُنشی اَور اُن کے باقی ساتھیوں کی طرف سے یعنی وہ قاضی اَور حاکم جو فارسؔ، اِریؔخ، بابیل سے لایٔے گیٔے لوگوں اَور شُوشنؔ سے لایٔے گیٔے عیلامی لوگوں پر مُقرّر ہیں،
EZR 4:10 نیز جو اُن لوگوں پر مُقرّر ہیں جنہیں بُزرگ اَور محترم اسنپارؔ یا اشُور بنیپال نے جَلاوطن کرکے سامریہؔ کے شہر میں اَور دریائے فراتؔ کے پار دیگر مقامات پر بسا دیا تھا۔
EZR 4:11 (جو خط اُنہُوں نے اُسے بھیجا یہ اُس کی نقل ہے۔) شاہِ ارتخشستاؔ کے نام، آپ کے خادِموں یعنی دریائے فراتؔ کے پار رہنے والے لوگوں کی جانِب سے۔
EZR 4:12 بادشاہ کو مَعلُوم ہو کہ یہُودی لوگ جو آپ کی طرف سے اِدھر بھیجے گیٔے تھے یروشلیمؔ پہُنچ گیٔے ہیں اَور اُس باغی فسادی شہر کو دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں۔ وہ اُس کی فصیلوں کو بحال کر رہے ہیں اَور اُس کی بُنیادوں کی مرمّت کر رہے ہیں۔
EZR 4:13 مزید برآں بادشاہ کو مَعلُوم ہو کہ اگر یہ شہر تعمیر ہو جاتا ہے اَور اُس کی فصیلیں بحال ہو جاتی ہیں تو آئندہ یہ لوگ کویٔی چُنگی، خراج یا محصُول اَدا نہ کریں گے اَور شاہی آمدنی کم ہو جائے گی۔
EZR 4:14 چونکہ ہم نے شاہی محل کا نمک کھایا ہُواہے ہمارے لیٔے یہ مُناسب نہیں کہ بادشاہ کی تحقیر ہوتے دیکھیں۔ اِس لیٔے بادشاہ کو اِطّلاع دینے کے لیٔے ہم یہ پیغام بھیج رہے ہیں
EZR 4:15 تاکہ آپ کے آباؤاَجداد کی تلاش کی جا سکے۔ اُن کے دستاویزوں میں آپ کو مَعلُوم ہوگا کہ یہ شہر ایک باغی شہر ہے، بادشاہوں اَور صوبوں کے لیٔے پریشان کُن، فتنہ کی ایک طویل تاریخ کے ساتھ ایک جگہ ہے۔ اِس لیٔے یہ شہر تباہ ہُوا۔
EZR 4:16 ہم بادشاہ کو آگاہ کرتے ہیں کہ اگر یہ شہر پھر سے تعمیر ہو جاتا ہے اَور اُس کی فصیلیں بحال ہو جاتی ہیں تو پھر دریائے فراتؔ کے پار عملداری ختم ہو جائے گی۔
EZR 4:17 بادشاہ نے یہ جَواب بھیجا: بنام رِحُومؔ دیوان، شِمشیؔ مُنشی اَور اُن کے مُعاوِن جو سامریہؔ اَور دریائے فراتؔ کے پار دیگر مقامات پر سکونت پذیر ہیں: تمہاری سلامتی ہو۔
EZR 4:18 جو خط آپ نے ہمیں بھیجا ہے وہ میری مَوجُودگی میں پڑھا اَور ترجمہ کیا گیا ہے۔
EZR 4:19 میرے حُکم کے مُطابق تفتیش کی گئی تو پتہ چلا کہ بادشاہوں کے خِلاف سرکشی کرتے رہنا اِس شہر کا معمول رہاہے اَور یہ بغاوت اَور باغیانہ سرگرمیوں کا مرکز بھی رہاہے۔
EZR 4:20 یروشلیمؔ میں طاقتور بادشاہ بھی ہُوئے ہیں جنہوں نے دریائے فراتؔ کے پار کے تمام علاقہ پر حُکمرانی کی اَور جنہیں چُنگی، خراج اَور محصُول اَدا کیا جاتا تھا۔
EZR 4:21 اَب اُن آدمیوں کو حُکم دو کہ کام بند کر دیں اَور جَب تک میں حُکم نہ دُوں یہ شہر نہ بنایا جائے۔
EZR 4:22 خبردار! اِس مُعاملہ میں غفلت مت کرنا۔ اِس خطرہ کو جو شاہی مفاد کے لیٔے نُقصان دہ ثابت ہو سَکتا ہے بڑھنے کیوں دیا جائے؟
EZR 4:23 جوں ہی ارتخشستاؔ بادشاہ کے خط کی نقل رِحُومؔ اَور شِمشیؔ مُنشی اَور اُن کے ساتھیوں کو پڑھ کر سُنایٔی گئی وہ فوراً یروشلیمؔ میں یہُودیوں کے پاس گیٔے اَور اُنہیں کام کرنے سے جبراً روک دیا۔
EZR 4:24 اِس طرح یروشلیمؔ میں خُدا کے گھر کی تعمیر کا کام شاہِ فارسؔ کے داریاویشؔ دَورِ حُکومت کے دُوسرے سال تک بالکُل رُکا رہا۔
EZR 5:1 پھر حگّیؔ نبی نے اَور زکریاؔہ بِن عِدّوؔ نبی نے مُلک یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے یہُودیوں میں بنی اِسرائیل کے خُداتعالیٰ کے نام سے نبُوّت کی۔
EZR 5:2 تَب زرُبّابِیل بِن شیالتی ایل اَور یہوشُعؔ بِن یُوصدقؔ نے یروشلیمؔ میں خُدا کا گھر تعمیر کرنے کا کام شروع کر دیا۔ اَور اُن کی مدد کرنے کے لیٔے خُدا کے نبی اُن کے ساتھ تھے۔
EZR 5:3 اُس وقت فراتؔ کے پار کے حاکم تتّنیؔ اَور شتھر بوزنئی اَور اُن کے ساتھی اُن کے پاس گئے اَور پُوچھا، ”تُمہیں کس نے اِس ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے اَور پُورا کرنے کا اِختیار دیا؟“
EZR 5:4 اُنہُوں نے یہ بھی پُوچھا کہ، ”اِس عمارت کو تعمیر کرنے والے آدمیوں کے نام کیا ہیں؟“
EZR 5:5 مگر یہُودیوں کے بُزرگ خُدا کی نظر میں تھے اِس لیٔے داریاویشؔ کے پاس شکایت پہُنچنے اَور اُس کا جَواب آنے تک اُنہیں تعمیر کے کام سے روکا نہ گیا۔
EZR 5:6 دریائے فراتؔ کے پار کے حاکم تتّنیؔ اَور شتھر بوزنئی اَور اُن کے رُفقاء یعنی دریائے فراتؔ کے پار کے منصبداروں نے جو خط داریاویشؔ بادشاہ کو بھیجا یہ اُس کی نقل ہے۔
EZR 5:7 جو شکایت اُنہُوں نے اُسے بھیجی وہ حسب ذیل ہے: داریاویشؔ بادشاہ کے نام: تہہ دِل سے آداب۔
EZR 5:8 بادشاہ کو مَعلُوم ہو کہ ہم یہُوداہؔ کے علاقہ میں خُدائے عظیم کے ہیکل کی طرف گیٔے تو دیکھا کہ لوگ بڑے بڑے پتّھروں سے اُسے تعمیر کر رہے ہیں اَور دیواروں پر کڑیاں اَور شہتیر رکھ رہے ہیں۔ یہ کام بڑی جانفشانی اَور مُستعدی سے ہو رہاہے اَور اُن کی زیرِ نِگرانی بڑی تیزی سے ترقّی کر رہاہے۔
EZR 5:9 ہم نے اُن کے بُزرگوں سے سوال کیا اَور پُوچھا کہ، ”اِس ہیکل کو تعمیر کرنے اَور اِس عمارت کو بحال کرنے کا اِختیار تُمہیں کس نے دیا ہے؟“
EZR 5:10 ہم نے اُن کے نام بھی پُوچھے تاکہ آپ کی اِطّلاع کے لیٔے اُن کے سربراہوں کے نام لِکھ کر بھیج سکیں۔
EZR 5:11 اُنہُوں نے ہمیں جو جَواب دیا وہ حسب ذیل ہے: ”ہم زمین و آسمان کے خُدا کے خادِم ہیں اَور وُہی ہیکل دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں جسے بہت بَرس پہلے اِسرائیل کے ایک عظیم بادشاہ نے بنا کر تیّار کیا تھا۔
EZR 5:12 چونکہ ہمارے آباؤاَجداد نے آسمان کے خُدا کو غُصّہ دِلایا اِس لیٔے اُنہُوں نے اُنہیں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کَسدی کے ہاتھ میں کر دیا جِس نے ہیکل کو تباہ کیا اَور لوگوں کو مُلک بدر کرکے بابیل بھیج دیا۔
EZR 5:13 ”تاہم خورشؔ شاہ بابیل نے اَپنی سلطنت کے پہلے سال میں خُدا کے اِس گھر کو تعمیر کرنے کے لیٔے فرمان جاری کیا۔
EZR 5:14 اُس نے سونے چاندی کے اُن ظروف کو بھی بابیل کے ہیکل سے نکلوایا جنہیں نبوکدنضرؔ نے یروشلیمؔ کی ہیکل سے لے جا کر بابیل میں اَپنے ہیکل میں رکھا ہُوا تھا۔ شاہِ خورشؔ نے اُنہیں شیس بضرؔ نامی ایک شخص کے حوالہ کیا جسے اُس نے یہُوداہؔ کا حاکم مُقرّر کیا تھا،
EZR 5:15 اَور اُس نے اُس سے کہا، ’یہ چیزیں لے جا اَور جا کر یروشلیمؔ کے ہیکل میں رکھ۔ اَور خُدا کے گھر کو اِس کی جگہ پر دوبارہ تعمیر کر۔‘
EZR 5:16 ”چنانچہ اُس شخص شیس بضرؔ نے یروشلیمؔ میں آکر خُدا کے گھر کی بُنیادیں رکھیں۔ اَور اُس دِن سے آج تک یہ گھر زیرِ تعمیر ہے مگر ابھی تک مُکمّل نہیں ہُوا۔“
EZR 5:17 اَب اگر بادشاہ سلامت پسند کریں تو یہ جاننے کے لیٔے کہ کیا شاہِ خورشؔ نے واقعی خُدا کے اِس گھر کو یروشلیمؔ میں دوبارہ تعمیر کرنے کا فرمان جاری کیا تھا بابیل کے شاہی دَفتر خانہ میں (خورشؔ بادشاہ کے فرمان کی) تلاش کی جائے۔ پھر بادشاہ سلامت کا اِس بارے میں جو بھی فیصلہ ہو اُس سے ہمیں آگاہ کیا جائے۔
EZR 6:1 تَب داریاویشؔ بادشاہ نے فرمان جاری کیا کہ بابیل کے خزانہ میں رکھی ہُوئی تاریخی دستاویزوں کی جانچ پڑتال کی جائے۔
EZR 6:2 آخِر مِدائی کے صُوبہ میں واقع اکبتاناؔ کے محل میں ایک طُومار مِلا جِس میں یہ لِکھّا تھا: یادداشت خط:
EZR 6:3 شاہِ خورشؔ کے دَورِ حُکومت کے پہلے سال میں بادشاہ نے یروشلیمؔ میں خُدا کے ہیکل کے متعلّق فرمان جاری کیا: ہیکل کو دوبارہ تعمیر کیا جائے تاکہ اُس جگہ قُربانیاں چڑھائی جایٔیں اَور اُس کی بُنیادیں رکھی جایٔیں۔ اُس کی اُونچائی ساٹھ ہاتھ اَور چوڑائی ساٹھ ہاتھ ہو۔
EZR 6:4 اَور اُس کے تین ردّے بڑے بڑے پتّھروں کے اَور ایک ردّہ عمارتی لکڑی کے شہتیروں کا ہو۔ خرچ شاہی خزانہ سے اَدا کیا جائے۔
EZR 6:5 خُدا کے گھر کے سونے اَور چاندی کے ظروف جنہیں نبوکدنضرؔ یروشلیمؔ میں خُدا کے گھر سے نکال کر بابیل لے گیا تھا واپس کئے جایٔیں اَور یروشلیمؔ کے خُدا کے گھر میں اَپنی اَپنی جگہ پہُنچائے جایٔیں۔ یعنی خُدا کے گھر میں رکھے جایٔیں۔
EZR 6:6 لہٰذا اَے تتّنیؔ دریائے فراتؔ کے پار کے حاکم اَور شتھر بوزنئی اَور اُس صُوبہ میں اُن کے دُوسرے عہدیدار! اُس مقام سے دُور رہو۔
EZR 6:7 خُدا کے گھر کے کام میں مداخلت مت کرو۔ یہُودیوں کے حاکم کو اَور اُن کے بُزرگوں کو خُدا کے گھر کو اُس کی سابقہ جگہ پر تعمیر کرنے دو۔
EZR 6:8 علاوہ اَزیں خُدا کا یہ گھر تعمیر کرنے میں تُم نے یہُودیوں کے بُزرگوں کے لیٔے کیا کچھ کرناہے میں اُس کے لیٔے حُکم دیتا ہُوں: اِن آدمیوں کے تمام اخراجات شاہی خزانہ سے یعنی دریائے فراتؔ کے پار کے خراج میں سے اَدا کئے جایٔیں تاکہ کام نہ رُکے۔
EZR 6:9 اَور آسمان کے خُدا کی سوختنی نذریں چڑھانے کے لئے جو کچھ بھی درکار ہو یعنی بچھڑے، مینڈھے اَور نر برّے اَور گیہُوں، نمک، مَے اَور تیل وغیرہ جِس کی یروشلیمؔ کے کاہِنؔ فرمائش کریں وہ اُنہیں ہر روز بلاناغہ مُہیّا کیا جائے
EZR 6:10 تاکہ وہ آسمان کے خُدا کی رضا جوئی کے لیٔے قُربانیاں چڑھائیں اَور بادشاہ اَور اُس کے بیٹوں کی فلاح و بہبُود کے لیٔے دعا کریں۔
EZR 6:11 مزید برآں میں حُکم دیتا ہُوں کہ اگر کویٔی اِس فرمان کو بدلے تو اُس کے مکان کا شہتیر نکال لیا جائے اَور اُسے اُسی کے اُوپر میخیں ٹھونک کر لٹکا دیا جائے اَور اُس جُرم کی وجہ سے اُس کا مکان کوڑے کرکٹ کا ڈھیر بنا دیا جائے۔
EZR 6:12 جو بھی بادشاہ یا لوگ اِس فرمان کو بدلنے یا یروشلیمؔ میں اِس ہیکل کو تباہ کرنے کے لیٔے ہاتھ بڑھائیں تو خُدا جِس نے وہاں اَپنا نام قائِم کیا ہے اُنہیں غارت کرے۔ مَیں نے یعنی داریاویشؔ نے یہ فرمان جاری کیا ہے لہٰذا اِس کی فوراً تعمیل کی جائے۔
EZR 6:13 تَب اُس فرمان کے باعث جو داریاویشؔ بادشاہ نے بھیجا تھا دریائے فراتؔ کے پار کے حاکم تتّنیؔ اَور شتھر بوزنئی اَور اُن کے مُعاوِنوں نے اُس پر بڑی سرگرمی سے عَمل کیا۔
EZR 6:14 پس یہُودیوں کے بُزرگوں نے حگّیؔ نبی اَور زکریاؔہ بِن عِدّوؔ کی نبُوّت کے زیرِ اثر تعمیری سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اُنہُوں نے اِسرائیل کے خُدا کے حُکم اَور شاہانِ فارسؔ خورشؔ، داریاویشؔ اَور ارتخشستاؔ کے اَحکام کے مُطابق اُس عمارت کو مُکمّل کیا۔
EZR 6:15 اِس طرح ہیکل آدارؔ مہینے کے تیسرے دِن اَور داریاویشؔ بادشاہ کے دَورِ حُکومت کے چھٹے سال میں پایۂ تکمیل کو پہُنچا۔
EZR 6:16 تَب بنی اِسرائیل، کاہِنوں، لیویوں اَور دیگر لوگوں نے جو اسیری کے بعد واپس آئےتھے خُوشی سے خُدا کے گھر کی تقدیس کے جشن کو منایا۔
EZR 6:17 خُدا کے اِس گھر کی تقدیس کے لیٔے اُنہُوں نے ایک سَو بَیل، دو سَو مینڈھے اَور چار سَو نر برّے قُربان کئے اَور سارے بنی اِسرائیل کے واسطے خطا کی قُربانی کے طور پر ہر قبیلہ کے لیٔے ایک بکرے کے حِساب سے بَارہ بکرے چڑھائے۔
EZR 6:18 اَورجو کچھ مَوشہ کی کِتاب میں لِکھّا ہے اُس کے مُطابق اُنہُوں نے یروشلیمؔ میں خُدا کی عبادت کے لیٔے کاہِنوں کو اُن کی تقسیم اَور لیویوں کو اُن کے فریقوں کے مُطابق تعینات کیا۔
EZR 6:19 پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کو بابیل کی اسیری سے لَوٹنے والوں نے عیدِفسح منائی۔
EZR 6:20 کیونکہ کاہِنوں اَور لیویوں نے اَپنے آپ کو پاک کیا تھا اَور وہ تمام رسمی طور پر پاک تھے۔ لیویوں نے تمام جَلاوطن اسیروں کے لیٔے، اَپنے بھائیوں یعنی کاہِنوں کے لیٔے اَور اَپنے لیٔے عیدِفسح کا برّہ ذبح کیا۔
EZR 6:21 اَور جَلاوطنی سے واپس لَوٹنے والے اِسرائیلیوں نے اُسے اُن لوگوں کے ساتھ کھایا جنہوں نے یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کے طالب ہونے کے لیٔے اَپنے آپ کو غَیریہُودی قوموں کی ناپاک رسموں سے الگ کر لیا تھا اُنہُوں نے فسح کا کھانا کھایا۔
EZR 6:22 سات دِن تک اُنہُوں نے بے خمیری روٹی کی عید منائی کیونکہ یَاہوِہ نے اُنہیں بڑی خُوشی بخشی تھی اَور شاہِ اشُور کے رویّہ میں تبدیلی پیدا کی تاکہ وہ خُدا یعنی بنی اِسرائیل کے خُدا کے گھر کے تعمیر کرنے میں اُن کی مدد کی۔
EZR 7:1 اِن باتوں کے بعد ارتخشستاؔ شاہِ فارسؔ کے دَورِ حُکومت میں ایک شخص عزراؔ بِن سِرایاہؔ بِن عزریاہؔ بِن خِلقیاہؔ
EZR 7:2 بِن شلُّومؔ بِن صدُوقؔ بِن احِیطوبؔ
EZR 7:3 بِن امریاہؔ بِن عزریاہؔ بِن مرایوتؔ
EZR 7:4 بِن زراخیاہؔ بِن عُزّی بِن بُقّیؔ،
EZR 7:5 بِن ابیشُوعؔ بِن فِنحاسؔ بِن الیعزرؔ بِن اَہرونؔ اعلیٰ کاہِن
EZR 7:6 بابیل سے آیا۔ وہ مَوشہ کے تمام آئین کا جو یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا نے دی تھی بڑا ماہر اُستاد تھا۔ چونکہ یَاہوِہ اُس کے خُدا کا ہاتھ عزراؔ پر تھا اِس لیٔے ہر ایک شَے جِس کی اُس نے درخواست کی بادشاہ نے اُسے عطا فرمائی۔
EZR 7:7 بادشاہ ارتخشستاؔ کے ساتویں سال میں بعض اِسرائیلی بھی جِن میں کاہِنؔ، لیوی، موسیقار، دربان اَور بیت المُقدّس کے خُدّام شامل تھے یروشلیمؔ آئے۔
EZR 7:8 عزراؔ بادشاہ اَپنے دَور حُکومت کے ساتویں سال کے پانچویں مہینے میں یروشلیمؔ پہُنچا۔
EZR 7:9 اُس نے بابیل سے اَپنا سفر پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو شروع کیا اَور وہ یروشلیمؔ میں پانچویں مہینے کی پہلی تاریخ کو پہُنچا کیونکہ خُدا کا مہربان ہاتھ اُس پر تھا۔
EZR 7:10 اِس لیٔے کہ عزراؔ نے اَپنے آپ کو یَاہوِہ کے آئین کے مطالعہ اَور اُس پر عَمل کرنے اَور اُس کے قوانین اَور آئین اِسرائیل کو سِکھانے کے لیٔے وقف کر رکھا تھا۔
EZR 7:11 یہ اُس خط کی نقل ہے جو ارتخشستاؔ بادشاہ نے اِسرائیل کے یَاہوِہ کے اَحکام اَور قوانین کے ماہر فقیہ اَور مُعلّم عزراؔ کاہِنؔ کو دیا تھا:
EZR 7:12 بادشاہ ارتخشستاؔ کی جانِب سے، عزراؔ کاہِنؔ کے نام جو کہ آسمان کے خُدا کی شَریعت کا مُعلّم ہے: تُو سلامت رہے!
EZR 7:13 مَیں یہ فرمان جاری کرتا ہُوں کہ میری مملکت کے اِسرائیلیوں میں سے کاہِنوں اَور لیویوں سمیت جو بھی تیرے ساتھ یروشلیمؔ جانا چاہیں جا سکتے ہیں
EZR 7:14 تُو بادشاہ اَور اُس کے ساتوں مُشیروں کی جانِب سے بھیجا جا رہاہے تاکہ اَپنے خُدا کے آئین کے مُطابق جو تیرے ہاتھ میں ہے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کا حال دریافت کرے۔
EZR 7:15 مزید یہ کہ تُم وہ چاندی اَور سونا اَپنے ساتھ لے جانا جو بادشاہ اَور اِس کے مُشیروں نے اِسرائیل کے خُدا کو جِس کی سکونت یروشلیمؔ میں ہے آزادانہ طور پر دیا ہے۔
EZR 7:16 اَور وہ تمام چاندی اَور سونا جو بابیل کے صُوبہ سے تُجھے حاصل ہوگا، نیز یروشلیمؔ میں خُدا کے گھر کے لیٔے لوگوں اَور کاہِنوں کی رضاکارانہ نذریں بھی تُجھے ہی اَپنے ہمراہ لے جانا ہوں گی۔
EZR 7:17 لازِم ہے کہ تُو اُس نقدی سے بَیل، مینڈھے اَور نر برّے اَور ساتھ ہی اُن کے اناج کی نذر اَور تپاون کی نذروں کے لیٔے درکار اَشیا خرید کر اُنہیں یروشلیمؔ میں اَپنے خُدا کے ہیکل کے مذبح پر بطور قُربانی گزرانے۔
EZR 7:18 اُس کے بعد باقی بچے چاندی اَور سونے کو اَپنے خُدا کی رضا کے مُطابق جَیسے تُجھے اَور تیرے یہُودی بھائیوں کو بھلا مَعلُوم ہو اِستعمال کرنا۔
EZR 7:19 تیرے خُدا کے ہیکل میں عبادت کے لیٔے جو اَشیا تیرے سُپرد کی گئی ہیں اُنہیں یروشلیمؔ کے خُدا کے حُضُور دے دینا۔
EZR 7:20 اَور اگر تُجھے اَپنے خُدا کے ہیکل کے لیٔے درکار کسی چیز کے خریدنے کی ضروُرت پڑے تو تُو شاہی خزانہ سے رقم اَدا کرنا۔
EZR 7:21 اَب مَیں بادشاہ ارتخشستاؔ دریائے فراتؔ کے پار سارے خزانچیوں کو حُکم دیتا ہُوں کہ عزراؔ کاہِنؔ جو آسمان کے خُدا کی شَریعت کا مُعلّم ہے جو کچھ بھی تُم سے طلب کرے وہ فوراً دیا جائے۔
EZR 7:22 یعنی سَو تالنت چاندی، سَو کور گیہُوں اَور سَو بَت مَے اَور سَو بَت زَیتُون کا تیل اَور نمک کی کثیر مقدار۔
EZR 7:23 جو کچھ بھی آسمان کے خُدا نے حُکم دیا ہے اُس کی آسمان کے خُدا کے ہیکل کے لیٔے پُورے طور پر تعمیل کی جائے تاکہ اَیسا نہ ہو کہ بادشاہ کی مملکت اَور اُس کے بیٹوں کے خِلاف قہر خُداوندی بھڑک اُٹھے۔
EZR 7:24 تُمہیں یہ بھی مَعلُوم ہونا چاہئے کہ تُمہیں کاہِنوں، لیویوں، موسیقاروں، دربانوں اَور بیت المُقدّس کے خُدّام پر یا خُدا کے گھر کے دیگر کارندوں پر محصُول، خراج یا چُنگی لگانے کا کویٔی اِختیار نہیں۔
EZR 7:25 اَے عزراؔ! تُو اَپنے خُدا کی اُس دانش کے مُطابق جو تُجھے عطا ہُوئی ہے حاکم اَور قاضی مُقرّر کرنا تاکہ وہ دریائے فراتؔ کے پار کے تمام لوگوں کا جو تیرے خُدا کی شَریعت کو جانتے ہیں اِنصاف کریں۔
EZR 7:26 جو کویٔی تیرے خُدا کے آئین کو اَور بادشاہ کے حُکم کو نہ مانے اُسے فوراً موت، جَلاوطنی، جائداد کی ضبطی یا قَید کی سزا دی جائے۔
EZR 7:27 یَاہوِہ ہمارے آباؤاَجداد کے خُدا کی سِتائش ہو جِس نے بادشاہ کے دِل میں یہ ڈالا کہ وہ یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے گھر کی اِس طرح تعظیم و تکریم کرے
EZR 7:28 اَور جِس نے بادشاہ، اُس کے مُشیروں اَور بادشاہ کے عالی قدر اُمرا کے سامنے مُجھ پر اَپنی مہربانی کی۔ چونکہ مُجھ پر یَاہوِہ میرے خُدا کا ہاتھ تھا اِس لیٔے مَیں نے ہِمّت پا کر اِسرائیل کے سرکردہ افراد کو جمع کیا تاکہ وہ میرے ہمراہ چلیں۔
EZR 8:1 ارتخشستاؔ بادشاہ کے دَورِ حُکومت میں جو لوگ بابیل سے میرے ہمراہ آئے اُن کے آبائی خاندانوں کے سردار اَور اُن کے ساتھ شاملِ فہرست کے افراد یہ ہیں:
EZR 8:2 بنی فِنحاسؔ میں سے؛ گیرشوم: بنی اِتمارؔ سے دانی ایل؛ بنی داویؔد میں سے حطُّوشؔ
EZR 8:3 بنی شِکنیاہؔ؛ بنی پرعوش میں سے زکریاؔہ، اَور اُس کے ساتھ نَسب نامہ کی رو سے 150 مَرد درج کئے گیٔے؛
EZR 8:4 بنی پخت مُوآب میں سے: الِیہُوعنائی بِن زراخیاہؔ اَور اُس کے ساتھ 200 مَرد؛
EZR 8:5 اَور بنی زتُّو میں سے شِکنیاہؔ بِن یحزی ایل اَور اُس کے ساتھ 300 مَرد۔
EZR 8:6 اَور بنی عدِین میں سے عبیدؔ بِن یُوناتانؔ اَور اُس کے ساتھ 50 مَرد؛
EZR 8:7 اَور بنی عیلامؔ میں سے یِشعیہ بِن عتلیاہؔ اَور اُس کے ساتھ 70 مَرد؛
EZR 8:8 اَور بنی شفطیاہؔ میں سے زبدیاہؔ بِن مِیکاایلؔ اَور اُس کے ساتھ 80 مَرد؛
EZR 8:9 اَور بنی یُوآبؔ سے عبدیاہؔ بِن یحی ایل اَور اُس کے ساتھ 218 مَرد؛
EZR 8:10 اَور بنی بانیؔ میں سے شلُومیتؔ بِن یُوسفیاہؔ اَور اُس کے ساتھ 160 مَرد؛
EZR 8:11 اَور بنی ببئیؔ میں سے زکریاؔہ بِن ببئیؔ اَور اُس کے ساتھ 28 مَرد؛
EZR 8:12 اَور بنی عزگادؔ میں سے یوحانانؔ بِن حقّاطانؔ اَور اُس کے ساتھ 110 مَرد؛
EZR 8:13 اَور آخِر میں بنی ادُونِقامؔ میں جو لوگ آئے اُن کے نام یہ ہیں: الیفلطؔ اَور یعی ایل اَور شمعیاہؔ اَور اُن کے ساتھ 60 مَرد؛
EZR 8:14 اَور بنی بِگوئی میں سے عوطیؔ اَور زکُورؔ اَور اُن کے ساتھ 70 مَرد؛
EZR 8:15 مَیں نے اُنہیں اُس نہر کے پاس جو اہاواؔ کی طرف بہتا ہے جمع کیا اَور ہم نے وہاں تین دِن پڑاؤ کیا۔ جَب مَیں نے لوگوں اَور کاہِنوں کا جائزہ لیا تو بنی لیوی میں سے کسی کو نہ پایا۔
EZR 8:16 پس مَیں نے الیعزرؔ، اریئیلؔ، شمعیاہؔ، الناتھانؔ، یرِیبؔ، الناتھانؔ، ناتنؔ، زکریاؔہ اَور مِشُلّامؔ کو جو سردار تھے اَور یُویرِیبؔ اَور الناتھانؔ کو جو مُعلّم تھے بُلوایا۔
EZR 8:17 اَور مَیں نے اُنہیں عِدّوؔ کے پاس بھیجا جو کَسِیفیاؔ میں رہنما تھا اَور اُنہیں بتایا کہ کَسِیفیاؔ جا کر عِدّوؔ اَور اُس کے بھائیوں سے جو بیت المُقدّس کے خُدّام ہیں کیا کچھ کہنا ہے تاکہ وہ وہاں سے خُدا کے گھر کے لیٔے خدمت گار ہمارے پاس لے آئیں۔
EZR 8:18 چونکہ ہمارے خُدا کا مہربان ہاتھ ہم پر تھا اِس لیٔے وہ محلیؔ بِن لیوی بِن اِسرائیل کی اَولاد میں سے ایک ہوشیار شخص شیرِبیاہؔ کو اَور اُس کے بیٹوں اَور بھائیوں یعنی اٹھّارہ آدمیوں کو؛
EZR 8:19 اَور حشبیاہؔ کو اَور اُس کے ساتھ بنی مِراریؔ میں سے یِشعیہ کو اَور اُس کے بھائیوں اَور اُن کے بیٹوں کو یعنی 20 آدمیوں کو ہمارے پاس لے آئے۔
EZR 8:20 وہ دو سَو بیس بیت المُقدّس کے خُدّام کو بھی لے کر آئے۔ یہ اُن لوگوں میں سے تھے جنہیں داویؔد اَور اُمرا نے لیویوں کی مدد کے لیٔے مُقرّر کیا تھا۔ سبھوں کو نام بنام فہرست میں درج کئےگئے تھے۔
EZR 8:21 وہاں اہاواؔ نہر کے پاس مَیں نے روزہ رکھنے کی مُنادی کرائی تاکہ ہم اَپنے آپ کو خُدا کے حُضُور حلیم بنائیں اَور خُدا سے دعا کریں کہ وہ ہمارے سفر کو مُبارک کریں اَور ہمیں، ہمارے بال بچّوں اَور مال و متاع کو محفوظ رکھیں۔
EZR 8:22 چونکہ ہم نے بادشاہ سے کہاتھا کہ، ”ہمارے خُدا کا مہربان ہاتھ اُس پر بھروسا کرنے والے ہر ایک شخص پر ہوتاہے لیکن اُن سَب پر اُن کا عتاب نازل ہوتاہے جو اُنہیں ترک کر دیتے ہیں۔ اِس لیٔے میں شرماتا تھا کہ بادشاہ سے راستے میں دُشمنوں سے حِفاظت کے لیٔے فَوجی سپاہیوں اَور گُھڑسواروں کے لیٔے درخواست کروں۔
EZR 8:23 سَو ہم نے روزہ رکھا اَور اُس بارے میں اَپنے خُدا کی بارگاہ میں اِلتماس کی۔ اَور اُنہُوں نے ہماری دعا کا جَواب دیا۔“
EZR 8:24 پھر مَیں نے شیرِبیاہؔ، حشبیاہؔ اَور اُن کے دس بھائیوں سمیت بَارہ سربراہ کاہِنوں کو الگ کیا۔
EZR 8:25 اَور چاندی اَور سونے کے عطیات اَور وہ اَشیا جو بادشاہ، اُس کے مُشیروں اَور اُس کے افسروں اَور وہاں مَوجُود تمام اِسرائیلیوں نے ہمارے خُدا کے گھر کے لیٔے نذر کی تھیں تول کر اُنہیں دیں۔
EZR 8:26 مَیں نے اُنہیں 650 تالنت چاندی، چاندی کے برتن 100 تالنت، سونا 100 تالنت،
EZR 8:27 20 سونے کے پیالے جِن کی قیمت 1,000 دِرہم تھی اَور چمکائے ہُوئے کانسے کے دو نفیس برتن جو سونے کی طرح قیمتی تھے تول کر دیئے۔
EZR 8:28 مَیں نے اُن سے کہا، ”تُم بھی اَور یہ اَشیا بھی یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس ہیں۔ یہ چاندی سونا تمہارے آباؤاَجداد کے خُدا یَاہوِہ کے لیٔے رضا کی قُربانی ہے۔
EZR 8:29 جَب تک تُو اُنہیں سرکردہ کاہِنوں، لیویوں اَور اِسرائیل کے آبائی خاندانوں کے سرداروں کے سامنے تول کر یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے گھر کے مال خانوں میں جمع نہ کروادے تَب تک احتیاط سے اُن کی حِفاظت کرنا۔“
EZR 8:30 تَب کاہِنوں اَور لیویوں نے چاندی، سونا اَور مُقدّس برتن تول کر لے لیٔے تاکہ اُنہیں یروشلیمؔ میں ہمارے خُدا کے گھر پہُنچا دیں۔
EZR 8:31 پہلے مہینے کی بارہویں تاریخ کو ہم اہاواؔ نہر سے یروشلیمؔ جانے کے لیٔے روانہ ہُوئے۔ ہمارے خُدا کا ہاتھ ہم پر تھا اَور اُنہُوں نے راستہ میں ہمیں دُشمنوں اَور رَہزنوں سے محفوظ رکھا۔
EZR 8:32 اِس طرح ہم یروشلیمؔ پہُنچے اَور وہاں تین دِن تک ٹھہرے رہے۔
EZR 8:33 چوتھے دِن ہم نے چاندی اَور سونا اَور مُقدّس ظروف کو تول کر یَاہوِہ کے گھر میں مریموتؔ بِن اورِیّاہؔ کاہِنؔ کے ہاتھ میں دے دیا۔ اُس وقت الیعزرؔ بِن فِنحاسؔ اُس کے ساتھ تھا۔ اَور اِسی طرح لیوی یُوزبادؔ بِن یہوشُعؔ اَور نوعیدیاہؔ بِن بِنّوئی بھی اُس کے ساتھ تھے۔
EZR 8:34 تمام اَشیا کا اُن کی تعداد اَور وزن کے مُطابق پُورا پُورا حِساب دیا گیا اَور تمام وزن اُسی وقت درج کر لیا گیا۔
EZR 8:35 تَب بابیل کی اسیری سے واپس آنے والوں نے تمام اِسرائیل کے لیٔے بَارہ بچھڑے، چھیانوے مینڈھے اَور ستّر نر برّے لیٔے اَور گُناہ کی قُربانی کے لیٔے بَارہ بکرے لیٔے اَور اُنہیں اِسرائیل کے یَاہوِہ کے لیٔے سوختنی نذروں کے طور پر چڑھایا۔
EZR 8:36 اُنہُوں نے بادشاہ کے فرمان بھی دریائے فراتؔ کے پار صُوبہ داروں اَور حاکموں کے حوالہ کئے اَور اُنہُوں نے بھی لوگوں کی اَور خُدا کے گھر کی مدد کی۔
EZR 9:1 اِن چیزوں کے مُکمّل ہونے کے بعد سربراہوں نے میرے پاس آکر کہا، ”اِسرائیل کے لوگ جِن میں کاہِنؔ اَور لیوی بھی شامل ہیں اَپنے پڑوسی اَقوام یعنی کنعانیوں، حِتّیوں، پَرزّیوں، یبُوسیوں، عمُّونیوں، مُوآبیوں، مِصریوں اَور امُوریوں کے مکرُوہ کاموں سے اَپنے آپ کو الگ نہیں رکھا۔
EZR 9:2 اُنہُوں نے اَپنی بیٹیوں میں سے کچھ کو اَپنے اَور اَپنے بیٹوں کے لیٔے بیویاں بنا لیا ہے اَور مُقدّس قوم کو اَپنے اِردگرد کے لوگوں کے ساتھ مِلا دیا ہے۔ اَور رہنما اَور اہلکاروں نے اِس بےوفائی کی راہ لی ہے۔“
EZR 9:3 جَب مَیں نے یہ سُنا تو اَپنے پیراہن اَور اَپنی چادر کو چاک کر دیا، سَر اَور داڑھی کے بال نوچے اَور خوفزدہ ہوکر بیٹھ گیا۔
EZR 9:4 تَب وہ سَب جو بنی اِسرائیل کے خُدا کی باتوں سے کانپتے تھے جَلاوطنی سے آنے والوں کی اِس بےوفائی کے باعث میرے گِرد جمع ہو گئے۔ اَور مَیں شام کی قُربانی تک خوفزدہ وہاں بیٹھا رہا۔
EZR 9:5 پھر شام کی قُربانی کے وقت میں اَپنے چاک پیراہن اَور پھٹی چادر کے ساتھ ہی اَپنی ماتمی حالت کو بھُول کر اُٹھا اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کے آگے اَپنے ہاتھ پھیلا کر گھٹنوں کے بَل گِر پڑا
EZR 9:6 اَور دعا کی: ”اَے میرے خُدا! میں اِس قدر شرمندہ اَور ذلیل ہُوں کہ مَیں آپ کے سامنے، اَے میرے خُدا، اَپنا مُنہ اُٹھانے تک کے لائق نہیں کیونکہ ہمارے گُناہ بڑھ کر ہمارے سَروں سے بھی بُلند ہو گئے ہیں اَور ہماری خطائیں آسمانوں تک جا پہُنچی ہیں۔
EZR 9:7 ہمارے آباؤاَجداد کے دَور سے لے کر اَب تک ہم سے بڑی خطائیں سرزد ہُوئی ہیں اَور اَپنے گُناہوں کے باعث ہم، ہمارے بادشاہ اَور ہمارے کاہِنؔ غَیر مُلکی بادشاہوں کی تلوار، اسیری، لُوٹ مار اَور تذلیل کا شِکار رہے ہیں جَیسا کہ آج کے دِن ہے۔
EZR 9:8 ”مگر اَب تھوڑے عرصہ کے لیٔے یَاہوِہ ہمارے خُدا ہم پر مہربان ہُوئے ہیں کہ ہماری قوم کے ایک حِصّہ کو باقی رہنے دیں اَور اُسے اَپنے پاک مَقدِس میں پائداری بخشیں۔ اَور یُوں ہمارے خُدا ہماری آنکھیں رَوشن کریں اَور ہماری اسیری میں ہمیں تسکین عطا فرمائیں۔
EZR 9:9 اگرچہ ہم غُلام ہیں تاہم ہمارے خُدا نے ہمیں ہماری غُلامی میں ترک نہیں کیا بَلکہ اُنہُوں نے فارسؔ کے بادشاہوں کے سامنے ہم پر اَپنی شفقت کا مظاہرہ کیا۔ اُنہُوں نے ہمیں نئی زندگی دی کہ ہم اَپنے خُدا کے گھر کو پھر سے تعمیر کریں اَور اُس کے کھنڈرات کی مرمّت کریں اَور اُنہُوں نے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ میں ہمیں محفوظ کر دیا ہے۔
EZR 9:10 ”لیکن اَب اَے ہمارے خُدا! اِس کے بعد ہم اَور کیا کہیں؟ کیونکہ ہم نے اُن اَحکام کو نظرانداز کیا ہے
EZR 9:11 جو آپ نے اَپنے خادِموں یعنی نبیوں کی مَعرفت دئیے جَب آپ نے فرمایا: ’جِس مُلک میں تُم داخل ہو رہے ہو کہ اُس پر قابض ہو سکو وہ اَیسا مُلک ہے جو وہاں کی اَقوام کی بد عنوانیوں کے باعث نجِس ہو چُکاہے۔ اَپنے نہایت ہی مکرُوہ اعمال کے باعث اُنہُوں نے اُسے ایک سِرے سے لے کر دُوسرے سِرے تک اَپنی ناپاکی سے بھر دیا ہے۔
EZR 9:12 اِس لیٔے نہ تو اَپنی بیٹیوں کا اُن کے بیٹوں سے اَور نہ اُن کی بیٹیوں سے اَپنے بیٹوں کا بیاہ کرو۔ اُن کے ساتھ کبھی بھی دوستی کا عہد نہ کرنا تاکہ تُم مضبُوط بنو اَور مُلک کی اَچھّی چیزیں کھاؤ اَور اُسے اَپنے بچّوں کے لیٔے ہمیشہ کے لیٔے مِیراث میں چھوڑ جاؤ۔‘
EZR 9:13 ”جو کچھ ہم پر گزرا ہے وہ ہمارے بُرے کاموں اَور ہماری بہت سِی جرائم کا نتیجہ ہے۔ اَور پھر بھی اَے ہمارے خُدا آپ نے ہمیں ہمارے گُناہوں کی واجبی سزا کی بہ نِسبت کم سزا دی ہے اَور ہمیں باقی رہنے دیا ہے۔
EZR 9:14 کیا ہم پھر آپ کے حُکم کو توڑ دیں اَور اِن لوگوں سے شادی کریں جو اَیسے مکرُوہ کام کرتے ہیں؟ کیا آپ ہم پر اِتنا غُصّہ نہیں کریں گے کہ ہم کو تباہ کر دیں، ہمارے لیٔے کوئی باقی بچ جانے والا نہیں؟
EZR 9:15 لیکن اَے یَاہوِہ، اِسرائیل کے خُدا! آپ بڑے راستباز ہیں! آپ نے ہمیں آج تک باقی رہنے دیا۔ ہم اَپنے جرائم کے ساتھ یہاں آپ کے سامنے حاضِر ہیں حالانکہ اُن کے باعث ہم میں سے ایک بھی آپ کی بارگاہ میں کھڑا نہیں رہ سَکتا۔“
EZR 10:1 جَب عزراؔ رو رو کر خُدا کے گھر کے سامنے گِر کر دعا اَور گُناہوں کا اقرار کر رہاتھا تو اِسرائیلی مَردوں، عورتوں اَور بچّوں کا ایک بڑا ہُجوم اُس کے گِرد جمع ہو گیا۔ وہ بھی زار زار رُوئے۔
EZR 10:2 تَب بنی عیلامؔ میں سے شِکنیاہؔ بِن یحی ایل نے عزراؔ سے کہا، ”ہم اَپنے اِردگرد کی اَقوام کی غَیر معبُودی عورتوں سے بیاہ کرکے اَپنے خُدا سے بےوفائی کے مُرتکب ہویٔے ہیں۔ لیکن اِس کے باوُجُود اَب بھی اِسرائیل کے لیٔے اُمّید باقی ہے۔
EZR 10:3 میرے آقا! ہم آپ کے اَور ہمارے خُدا کے اَحکام کا ڈر ماننے والوں کے مشورہ کے مُطابق کیوں نہ خُدا کے سامنے عہد کریں کہ ہم اَیسی تمام عورتوں اَور اُن کے بچّوں کو دُور کر دیں گے اَور یہ کام شَریعت کے مُطابق کیا جائے گا۔
EZR 10:4 پس اُٹھیں، کیونکہ یہ مُعاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے اَور ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پس ہمّت کریں اَور اِسے اَنجام دیں۔“
EZR 10:5 تَب عزراؔ اُٹھا اَور سربراہ کاہِنوں، لیویوں اَور تمام بنی اِسرائیل سے قَسم لی کہ وہ اِس تجویز پر عَمل کریں گے اَور اُنہُوں نے قَسم کھائی۔
EZR 10:6 تَب عزراؔ خُدا کے گھر کے سامنے سے ہٹ کر یِہُوحنانؔ بِن اِلیاشبؔ کے کمرے میں گیا اَور جَب تک وہ وہاں رہا نہ اُس نے کھانا کھایا نہ پانی پیا کیونکہ وہ جَلاوطنی سے واپس آنے والوں کی بےوفائی پر ماتم کر رہاتھا۔
EZR 10:7 پھر تمام یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ میں مُنادی کی گئی کہ بابیل سے لَوٹنے والے تمام جَلاوطن لوگ یروشلیمؔ میں جمع ہُوں۔
EZR 10:8 اَورجو کویٔی تین دِن کے اَندر حاضِر نہ ہوگا وہ سرداروں اَور بُزرگوں کے فیصلہ کے مُطابق اَپنی تمام جائداد سے محروم ہو جائے گا اَور خُود اُسے سابقہ اسیروں کی جماعت سے نکال دیا جائے گا۔
EZR 10:9 تین دِنوں کے اَندر یہُوداہؔ اَور بِنیامین کے تمام مَرد یروشلیمؔ میں جمع ہُوئے۔ نویں مہینے کے بیسویں دِن تمام لوگ خُدا کے گھر کے سامنے چَوک میں اِس سانِحہ کے باعث اَور بارش کی وجہ سے ٹھٹھرے ہُوئے بیٹھے تھے۔
EZR 10:10 تَب عزراؔ کاہِنؔ نے کھڑے ہوکر کہا، ”تُم نے بےوفائی کی ہے اَور غَیر معبُودی عورتوں سے بیاہ کرکے اِسرائیل کے جرائم میں اِضافہ کیا ہے۔
EZR 10:11 اَب یَاہوِہ اَپنے خُدا کے سامنے اقرار کرو اَور اُن کی مرضی پر عَمل کرو اَور اَپنے آپ کو اِردگرد کی قوموں سے اَور اَپنی غَیر معبُودی بیویوں سے الگ کر لو۔“
EZR 10:12 تَب تمام جماعت نے بُلند آواز سے جَواب دیا: ”جو کچھ آپ نے فرمایاہے بجا ہے! ہم پر لازِم ہے کہ اُس پر عَمل کریں۔
EZR 10:13 لیکن یہاں پر لوگ بہت ہیں اَور یہ برسات کا موسم ہے اِس لیٔے ہم لوگ باہر کھڑے نہیں رہ سکتے۔ علاوہ اَزیں اِس مسئلہ کو ایک دو دِن میں سُلجھانا ممکن نہیں کیونکہ اِس مُعاملہ میں ہمارا گُناہ بہت سنگین ہے۔
EZR 10:14 اِس بارے میں ہماری جماعت کے سرداروں کو کاروائی کرنے کی ذمّہ داری سونپی جائے۔ تَب ہمارے شہروں میں سے وہ سَب جنہوں نے غَیر معبُودی عورتوں سے شادیاں کی ہُوئی ہیں مُقرّرہ وقت پر ہر ایک قصبہ کے بُزرگوں اَور قاضیوں کے ہمراہ آئیں جَب تک کہ اِس مُعاملہ کا تصفیہ نہ ہو جائے اَور ہمارے خُدا کا قہر شدید ہم پر سے ٹل نہ جائے۔“
EZR 10:15 صِرف یُوناتانؔ بِن عساہیلؔ اَور یحزیاہؔ بِن تِقوہؔ نے مِشُلّامؔ اَور شبّتائی لیوی کی تائید و حمایت سے اِس تجویز کی مُخالفت کی۔
EZR 10:16 لیکن سابقہ اسیروں نے وَیسا ہی کیا جَیسا کہ تجویز کیا گیا تھا۔ عزراؔ کاہِنؔ نے ایک آدمی فی خاندان کے حِساب سے اَیسے آدمیوں کا انِتخاب کیا جو آبائی خاندانوں کے سردار تھے اَور اُن سَب کا تقرّر نام بنام کیا گیا۔ دسویں مہینے کی پہلی تاریخ کو وہ اِن مُقدّموں کی تفتیش کرنے کے لیٔے بیٹھے۔
EZR 10:17 اَور پہلے مہینے کی پہلی تاریخ تک اُنہُوں نے اُن سَب کے بارے میں جنہوں نے غَیر معبُودی عورتوں سے شادیاں کی ہُوئی تھیں ضروُری کاروائی مُکمّل کرلی۔
EZR 10:18 کاہِنوں کی اَولاد میں سے مُندرجہ ذیل نے غَیر معبُودی عورتوں سے شادیاں کرلی تھیں: بنی یہوشُعؔ میں سے یُوصدقؔ کا بیٹا اَور اُس کے بھایٔی معسیاہؔ، الیعزرؔ، یرِیبؔ اَور گِدلیاہؔ۔
EZR 10:19 (اِن سَب نے اَپنی بیویوں کو دُور کرنے کا عہد کیا اَور اَپنی خطا کے بدلے میں ہر ایک نے اَپنے گلّے میں سے ایک ایک مینڈھا خطا کی قُربانی کے طور پر نذر کیا۔)
EZR 10:20 بنی اِمّیرؔ میں سے: حنانیؔ اَور زبدیاہؔ۔
EZR 10:21 اَور بنی حارِمؔ میں سے: معسیاہؔ، ایلیّاہ، شمعیاہؔ، یحی ایل اَور عُزّیاہؔ۔
EZR 10:22 اَور بنی پشحُور میں سے: الیوعینائی، معسیاہؔ، اِشمعیل، نتنی ایل، یُوزبادؔ اَور ایلعاسہؔ۔
EZR 10:23 اَور لیویوں میں سے: یُوزبادؔ، شِمعیؔ، قِلایاہؔ (یعنی قِلیطاؔ)، پِتھائیاہؔ، یہُوداہؔ اَور الیعزرؔ۔
EZR 10:24 اَور گانے والوں میں سے: اِلیاشبؔ۔ اَور دربانوں میں سے: شلُّومؔ، تلمؔ اَور اوری۔
EZR 10:25 اَور اِسرائیل میں سے: بنی پرعوش میں سے رمیاہؔ، یزیّه، ملکیاہؔ، مِیامِینؔ، الیعزرؔ، ملکیاہؔ اَور بِنایاہؔ۔
EZR 10:26 اَور بنی عیلامؔ میں سے: متّنیاہؔ، زکریاؔہ، یحی ایل، عبدی، یریموتؔ اَور ایلیّاہ۔
EZR 10:27 اَور بنی زتُّو میں سے: الیوعینائی، اِلیاشبؔ، متّنیاہؔ، یریموتؔ، زابادؔ اَور عزیزا۔
EZR 10:28 اَور بنی ببئیؔ میں سے: یِہُوحنانؔ، حننیاہؔ، زبّئی اَور عطلئی۔
EZR 10:29 اَور بنی بانیؔ میں سے: مِشُلّامؔ، مَلُّوکؔ، عدایاہؔ، یَعشُوبؔ، شیالؔ اَور یریموتؔ۔
EZR 10:30 اَور بنی پخت مُوآب میں سے: عدناؔ، کلالؔ، بِنایاہؔ، معسیاہؔ، متّنیاہؔ، بصل ایل، بِنّوئی اَور منشّہ۔
EZR 10:31 اَور بنی حارِمؔ میں سے: الیعزرؔ، یشیاہؔ، ملکیاہؔ، شمعیاہؔ اَور شمعُونؔ۔
EZR 10:32 بِنیامین، مَلُّوکؔ اَور شِماریاہؔ۔
EZR 10:33 اَور بنی حاشُومؔ میں سے: متّنیؔ، متّتاہؔ، زابادؔ، الیفلطؔ، یریمیؔ، منشّہ اَور شِمعیؔ۔
EZR 10:34 اَور بنی بانیؔ میں سے: معدائیؔ، عمرامؔ اَور عوایلؔ،
EZR 10:35 بِنایاہؔ، بدیاہؔ اَور کلُوہیؔ،
EZR 10:36 اَور ونیاہؔ، مریموتؔ اَور اِلیاشبؔ،
EZR 10:37 اَور متّنیاہؔ، متّنیؔ اَور یعشوؔ۔
EZR 10:38 اَور بانیؔ بنی بِنّوئی میں سے: شِمعیؔ،
EZR 10:39 شلمیہؔ، ناتنؔ اَور عدایاہؔ،
EZR 10:40 مکندبیؔ، ششائیؔ اَور شارَئی،
EZR 10:41 عزرایلؔ، شلمیہؔ، شِماریاہؔ،
EZR 10:42 شلُّومؔ، امریاہؔ اَور یُوسیفؔ۔
EZR 10:43 بنی نبوؔ میں سے: یعی ایل، متّتیاہؔ، زابادؔ، زِبینا، یدّائی، یُوایلؔ اَور بِنایاہؔ۔
EZR 10:44 اِن سَب نے غَیر معبُودی عورتوں سے شادیاں کی ہُوئی تھیں اَور اُن عورتوں سے اُن کے بچّے بھی تھے۔
NEH 1:1 نحمیاہ بِن حکلیاہؔ کے الفاظ: بیسویں سال کے کِسلیو کے مہینے میں جَب مَیں شُوشنؔ کے قلعہ میں تھا۔
NEH 1:2 تو میرے بھائیوں میں سے ایک جِس کا نام حنانیؔ تھا۔ چند آدمیوں کے ساتھ یہُوداہؔ سے آیا۔ مَیں نے اُس سے پُوچھا کہ وہ یہُودی جو جَلاوطن ہونے سے باقی بچ گیٔے تھے کیسے ہیں اَور یروشلیمؔ کا کیا حال ہے؟
NEH 1:3 اُنہُوں نے مُجھے بتایا، ”وہ جو جَلاوطنی سے بچ گیٔے ہیں اَور صُوبہ میں رہتے ہیں بڑی مُصیبت اَور ذِلّت میں ہیں۔ یروشلیمؔ کی دیواریں ٹُوٹی پڑی ہیں اَور اُس کے پھاٹک آگ سے جَلا دیئے گیٔے ہیں۔“
NEH 1:4 جَب مَیں نے یہ باتیں سُنیں تو بیٹھ کر رونے لگا۔ مَیں نے کیٔی دِنوں تک ماتم کیا اَور روزہ رکھا اَور آسمان کے خُدا کے حُضُور دعا کی۔
NEH 1:5 پھر مَیں نے کہا: ”یَاہوِہ، آسمان کے خُدائے عظیم اَور مُہیب خُدا، جو اَپنے پیار کے عہد کو اُن لوگوں کے ساتھ رکھتے ہیں جو اُن سے مَحَبّت کرتے ہیں اَور اُن کے اَحکام پر عَمل کرتے ہیں۔
NEH 1:6 اَپنے بندہ کی اِس دُعا کو سُننے کے لیٔے اَپنے کان لگائیں اَور اَپنی آنکھیں کھُلی رکھیں جسے وہ دِن رات آپ کے خادِموں یعنی بنی اِسرائیل کے لیٔے کرتے ہیں۔ مَیں اُن گُناہوں کا اقرار کرتا ہُوں جو ہم اِسرائیلیوں نے، ساتھ ہی میں اَور میرا آبائی خاندان بھی شامل ہے آپ کے خِلاف کئے ہیں۔
NEH 1:7 ہم نے آپ کے خِلاف بڑی بدی کی ہے۔ یعنی ہم نے اُن اَحکام، قوانین اَور آئین کو نہیں مانا جو آپ نے اَپنے بندہ مَوشہ کو دئیے تھے۔
NEH 1:8 ”اُن ہدایات کو یاد کریں جو آپ نے اَپنے خادِم مَوشہ کو دی تھیں، ’اگر تُم نافرمانی کروگے تو مَیں تُمہیں تمام قوموں کے درمیان پراگندہ کر دُوں گا۔
NEH 1:9 لیکن اگر تُم میری طرف پھروگے اَور میرے حُکموں کو مانوگے تو مَیں تمہارے لوگوں کو خواہ وہ زمین پر کہیں بھی جَلاوطن کئے گیٔے ہُوں جمع کرکے اُس جگہ لاؤں گا جسے مَیں نے اَپنے نام کو قائِم رکھنے کے لئے چُناہے۔‘
NEH 1:10 ”وہ آپ کے خادِم اَور آپ کے لوگ ہیں جنہیں آپ نے اَپنی بڑی قُوّت اَور قوی ہاتھ کے ذریعہ چھُڑایا۔
NEH 1:11 یَاہوِہ اَپنے اِس خادِم کی دعا سُنیں اَور اَپنے اُن خادِموں کی دعاؤں پرجو آپ کے نام کی بڑی تعظیم کرتے ہیں کان لگائیں۔ جَب آپ کا خادِم اُس شخص (بادشاہ) کے حُضُور میں اَپنی درخواست لے کر جاتا ہے تو اَپنے خادِم پر کرم فرمائیں اَور اُسے کامیابی سے ہمکنار کریں۔“ اُس وقت میں بادشاہ کا ساقی تھا۔
NEH 2:1 ارتخشستاؔ بادشاہ کے بیسویں سال میں نیسانؔ کے مہینے میں جَب اُس کے لیٔے مَے لائی گئی تو مَیں نے ایک جام مَے لے کر بادشاہ کو پیش کیا۔ میں اُن کے حُضُور میں پہلے کبھی اُداس صورت بنائے حاضِر نہیں ہُوا تھا۔
NEH 2:2 اِس لیٔے بادشاہ نے مُجھ سے پُوچھا، ”تیرا چہرہ اِتنا اُداس کیوں ہے حالانکہ تُو بیمار بھی نہیں ہے؟ یہ دِل کی اُداسی کے سِوا کچھ نہیں ہو سکتا؟“ میں بہت ڈر گیا۔
NEH 2:3 لیکن مَیں نے بادشاہ سے کہا، ”بادشاہ تا اَبد سلامت رہیں۔ میرا چہرہ اُداس کیوں نہ دِکھائی دے جَب کہ وہ شہر جہاں میرے آباؤاَجداد دفن ہیں ویران پڑا ہے اَور اُس کے پھاٹک آگ سے جَلا دئیے گیٔے ہیں؟“
NEH 2:4 بادشاہ نے فرمایا، ”تُو کیا چاہتاہے؟“ تَب مَیں نے آسمان کے خُدا سے دعا کی
NEH 2:5 اَور مَیں نے بادشاہ کو جَواب دیا، ”اگر بادشاہ سلامت پسند فرمایٔے اَور اگر آپ کے خادِم پر آپ کی نظرِکرم ہے تو اُسے یہُودیؔہ کے شہر میں جہاں اُس کے آباؤاَجداد دفن ہیں جانے کی اِجازت دی جائے تاکہ وہ اُسے دوبارہ تعمیر کر سکے۔“
NEH 2:6 تَب بادشاہ نے جَب کہ ملِکہ بھی اُس کے پاس میں بیٹھی ہُوئی تھی مُجھ سے پُوچھا، ”تیرا سفر کتنی مُدّت کا ہوگا اَور تُو کب واپس آئے گا؟“ بادشاہ مُجھے بھیجنے کے لیٔے رضامند ہو گیا۔ پس مَیں نے اُسے اَپنے رخصت ہونے کی تاریخ بتا دی۔
NEH 2:7 مَیں نے یہ بھی کہا، ”اگر بادشاہ کو پسند آئے تو مُجھے دریائے فراتؔ کے پار کے صُوبہ داروں کے نام لِکھ کر فرمان دیں تاکہ وہ مُجھے آپ کی ریاست سے ہوکر یہُوداہؔ پہُنچنے تک مُجھے حِفاظت سے گزر جانے دیں۔
NEH 2:8 اَور شاہی جنگل کے مُحافظ آسفؔ کے نام بھی مُجھے فرمان دیا جائے تاکہ وہ ہیکل کے قلعہ کے پھاٹکوں، شہر کی فصیل کے دروازوں اَور میری رہائش گاہ کی چھت کے لیٔے شہتیر بنانے کی لکڑیاں پہُنچائیں؟“ چونکہ میرے خُدا کا مہربان ہاتھ مُجھ پر تھا بادشاہ نے مُجھے فرمان عطا فرمائے۔
NEH 2:9 چنانچہ مَیں نے دریائے فراتؔ کے پار کے صُوبہ داروں کے پاس جا کر اُنہیں بادشاہ کے فرمان دئیے۔ بادشاہ نے فَوجی افسروں اَور سواروں کو بھی میرے ساتھ بھیجا تھا۔
NEH 2:10 جَب سنبلّطؔ حُورونی اَور طُوبیاہؔ عمُّونی اہلکار نے سُنا کہ کویٔی اِنسان اِسرائیلیوں کی فلاح و بہبُود کے لیٔے کام کرنے آیا ہے تو وہ بڑے برہم ہُوئے۔
NEH 2:11 میں یروشلیمؔ پہُنچا اَور وہاں تین دِن کے قِیام کے بعد
NEH 2:12 میں رات کے وقت چند آدمیوں کے ہمراہ باہر نِکلا۔ مَیں نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ یروشلیمؔ کے لیٔے خُدا نے میرے دِل میں کیا کچھ ڈالا ہے۔ جِس جانور پر میں سوار تھا اُس کے سِوا کویٔی اَور جانور میرے ساتھ نہ تھا۔
NEH 2:13 رات کے وقت وادی کے پھاٹک سے باہر نکل کر میں چشمہ شُغال اَور گوبر کے پھاٹک کو گیا اَور یروشلیمؔ کی فصیل کو جو توڑ دی گئی تھی اَور اُس کے پھاٹکوں کو جو آگ سے جَلا دئیے گیٔے تھے دیکھا۔
NEH 2:14 پھر مَیں چشمہ کے پھاٹک اَور بادشاہ کے تالاب کی طرف آگے بڑھ گیا۔ لیکن وہاں اُس جانور کے لیٔے جِس پر میں سوار تھا گزرنے کے لیٔے جگہ نہ تھی۔
NEH 2:15 اِس لیٔے میں رات کے وقت فصیل کا مُعائنہ کرتے ہُوئے وادی کی طرف گیا۔ پھر مَیں مُڑا اَور وادی کے پھاٹک سے داخل ہوکر واپس اَندر آ گیا۔
NEH 2:16 اَور حُکاّم کو مَعلُوم بھی نہ ہُوا کہ میں کہاں گیا تھا اَور کیا کر رہاتھا کیونکہ ابھی تک مَیں نے یہُودیوں، کاہِنوں، اُمرا، حُکاّم یا دُوسرے کام کرنے والے اَشخاص میں سے کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔
NEH 2:17 پھر مَیں نے اُنہیں کہا، ”تُم دیکھتے ہو کہ ہم کیسی مُصیبت میں ہیں یعنی یروشلیمؔ کھنڈر بَن چُکاہے اَور اُس کے پھاٹک آگ سے جَلا دئیے گیٔے ہیں۔ آؤ ہم یروشلیمؔ کی فصیل کو دوبارہ تعمیر کریں تاکہ آئندہ ذِلّت سے بچے رہیں۔“
NEH 2:18 مَیں نے اُنہیں اَپنے اُوپر خُدا کے مہربان ہاتھ کے متعلّق بھی بتایا اَور یہ بھی بتایا کہ بادشاہ نے مُجھ سے کیا کیا باتیں کہی تھیں۔ اُنہُوں نے کہا، ”آؤ ہم اُٹھیں۔“ اَور دوبارہ تعمیر شروع کریں۔ چنانچہ اُنہُوں نے یہ نیک کام شروع کیا۔
NEH 2:19 لیکن جَب سنبلّطؔ حُورونی، طُوبیاہؔ عمُّونی اہلکار اَور گیشمؔ عربی نے یہ سُنا تو اُنہُوں نے ہمارا مذاق اُڑایا اَور بڑی حقارت سے کہنے لگے، ”یہ کیا ہے جو تُم کر رہے ہو؟ کیا تُم بادشاہ کے خِلاف بغاوت کر رہے ہو؟“
NEH 2:20 مَیں نے اُنہیں جَواب میں کہا، ”آسمان کا خُدا ہمیں کامیابی بخشےگا۔ ہم جو اُن کے خادِم ہیں دوبارہ تعمیر شروع کریں گے۔ لیکن جہاں تک تمہارا تعلّق ہے، اِس کام میں تمہارا کویٔی حِصّہ نہیں، نہ ہی تمہارا کویٔی حق ہے نہ ہی یروشلیمؔ میں تمہاری کویٔی یادگار ہے۔“
NEH 3:1 اِلیاشبؔ اعلیٰ کاہِن اَور اُس کے ساتھی کاہِنوں نے کام شروع کیا اَور اُنہُوں نے بھیڑ پھاٹک کو دوبارہ تعمیر کیا۔ اُنہُوں نے اُس کی تقدیس کی اَور اُس کے کواڑوں کو اَپنی جگہ پر لگایا۔ پھر اُنہُوں نے ہمّیاہؔ کے بُرج اَور حَنن ایل کے بُرج تک اُسے مخصُوص کیا۔
NEH 3:2 پھر وہاں سے آگے کا حِصّہ یریحوؔ کے لوگوں نے تعمیر کیا اَور اُس کے بعد کا حِصّہ زکُورؔ بِن اِمریؔ نے تعمیر کیا۔
NEH 3:3 بنی ہسّیناہ نے مچھلی پھاٹک کو تعمیر کیا۔ اُنہُوں نے اُس کی کڑیاں رکھیں اَور اُس کے دروازے، چٹکنیاں اَور اڑبنگے لگائے۔
NEH 3:4 اُن سے آگے مریموتؔ بِن اورِیّاہؔ بِن حقوضؔ نے مرمّت کی اَور اُن سے آگے مِشُلّامؔ بِن بیرکیاہ بِن مشیز بیلؔ نے مرمّت کی اَور اُن سے آگے صدُوقؔ بِن بعنہؔ نے بھی مرمّت کی۔
NEH 3:5 تقوعؔ کے لوگوں نے اُس کے بعد والے حِصّہ کی مرمّت کی۔ لیکن اُن کے اُمرا نے اَپنے نِگرانوں کے ماتحت اِس کام میں حِصّہ نہ لیا۔
NEH 3:6 پرانے پھاٹک کی مرمّت یُویدعؔ بِن پاسیخؔ اَور مِشُلّامؔ بِن بسُودیاہؔ نے کی۔ اُنہُوں نے ہی اُس کی کڑیاں رکھیں اَور اُس کے دروازے، چٹکنیاں اَور اڑبنگے لگائے۔
NEH 3:7 اُن سے آگے گِبعونؔ اَور مِصفاہؔ کے لوگوں یعنی ملطیاہؔ گِبعونی اَور یَادُون مِرونوتی نے جو دریائے فراتؔ کے پار کے حاکم کے ماتحت تختِ شاہی کی مرمّت کی۔
NEH 3:8 عُزّی ایل بِن حرہیاؔہ نے جو سُناروں میں سے تھا اُس کے بعد کے حِصّہ کی مرمّت کی اَور حننیاہؔ نے جو عطّاروں میں سے ایک تھا اُس سے آگے کے حِصّہ کی مرمّت کی۔ اِس طرح یروشلیمؔ کو چوڑی فصیل تک مرمّت کرکے بحال کر دیا گیا۔
NEH 3:9 رِفایاہؔ بِن حُورؔ نے جو یروشلیمؔ کے آدھے حلقہ کا سردار تھا بعد کے حِصّہ کی مرمّت کی۔
NEH 3:10 اَور اُس کے مُتّصِل اَور اَپنے مکان کے سامنے کی فصیل کا حِصّہ یِدایاہؔ بِن حرُومفؔ نے مرمّت کیا اَور اُس سے آگے کے حِصّہ کی حطُّوشؔ بِن حشبانیاہؔ نے مرمّت کی۔
NEH 3:11 ملکیاہؔ بِن حارِمؔ اَور حشُوبؔ بِن پخت مُوآب نے ایک دُوسرے حِصّہ کی اَور تنوروں کے بُرج کی مرمّت کی۔
NEH 3:12 شلُّومؔ بِن ہلُوحیشؔ نے جو یروشلیمؔ کے آدھے حلقہ کا سردار تھا اَپنی بیٹیوں کی مدد سے اگلے حِصّہ کی مرمّت کی۔
NEH 3:13 وادی کے پھاٹک کی حنُونؔ اَور زنوحؔ کے باشِندوں نے مرمّت کی۔ اُنہُوں نے اُسے تعمیر کیا اَور اُس کے دروازوں، چٹکنیوں اَور اڑبنگوں کو اَپنی جگہ پر لگایا۔ اُنہُوں نے گوبر پھاٹک تک چار سو پچاس میٹر فصیل کی بھی مرمّت کی۔
NEH 3:14 گوبر پھاٹک کی مرمّت ملکیاہؔ بِن ریخابؔ نے کی جو بیت ہکرمؔ کے حلقہ کا سردار تھا۔ اُس نے اُسے تعمیر کیا اَور اُس کے دروازے، چٹکنیاں اَور اڑبنگے لگائے۔
NEH 3:15 فوّارہ پھاٹک کی مرمّت شلّونؔ بِن کول حوزہؔ نے کی جو کہ مِصفاہؔ کے حلقہ کا سردار تھا۔ اُس نے اِسے تعمیر کیا۔ اِس پر چھت ڈالی اَور اُس کے کواڑوں، چٹکنیوں اَور اڑبنگوں کو اَپنی جگہ پر لگایا۔ اُس نے شاہی باغ کے پاس شِلحؔ کے حوض کی دیوار کو بھی اُس سیڑھی تک تعمیر کی جو داویؔد کے شہر سے نیچے اُترتی ہے۔
NEH 3:16 اُس سے آگے بیت ضُورؔ کے آدھے حلقہ کے سردار نحمیاہ بِن عزبُق نے داویؔد کی قبروں کے سامنے کی جگہ سے لے کر مصنوعیؔ تالاب اَور سُورماؤں کے گھر تک مرمّت کی۔
NEH 3:17 اُس کے بعد رِحُومؔ بِن بانیؔ کے ماتحت لیویوں نے مرمّت کی۔ اُس کے علاوہ قعیلہؔ کے آدھے حلقہ کے سردار حشبیاہؔ نے اَپنے حِصّہ کی مرمّت کی۔
NEH 3:18 اُس سے آگے قعیلہؔ کے آدھے حلقہ کے سردار بوّائی یعنی بِنّوئی بِن حِندادؔ کے ماتحت اُس کے بھائیوں نے مرمّت کی۔
NEH 3:19 اُس سے آگے مِصفاہؔ کے سردار عزرؔ بِن یہوشُعؔ نے ایک دُوسرے حِصّہ کی جو اسلحہ خانہ کے سامنے چڑھائی کے مقابل موڑ کے نزدیک ہے مرمّت کی۔
NEH 3:20 اُس سے آگے باروکؔ بِن زبّئی نے موڑ سے لے کر اِلیاشبؔ اعلیٰ کاہِن کے گھر تک ایک دُوسرے حِصّہ کی بڑی سرگرمی سے مرمّت کی۔
NEH 3:21 اُس سے آگے مریموتؔ بِن اورِیّاہؔ بِن حقوضؔ نے اِلیاشبؔ کے گھر کے دروازہ سے لے کر اُس کے آخِر تک ایک دُوسرے حِصّہ کی مرمّت کی۔
NEH 3:22 اُس کے آگے کی مرمّت کا کام اِردگرد کے کاہِنوں نے اَنجام دیا۔
NEH 3:23 اُن سے آگے بِنیامین اَور حشُوبؔ نے اَپنے گھروں کے سامنے کے حِصّہ کی مرمّت کی اَور اُن سے آگے عزریاہؔ بِن معسیاہؔ بِن عننیاہؔ نے اَپنے گھر کے ساتھ کے حِصّہ کی مرمّت کی۔
NEH 3:24 اُس سے آگے بِنّوئی بِن حِندادؔ نے عزریاہؔ کے گھر سے لے کر دیوار کے موڑ اَور کونے تک ایک دُوسرے حِصّہ کی مرمّت کی۔
NEH 3:25 اَور پالالؔ بِن اُوزئی نے موڑ کے سامنے کی اَور اُس بُرج کی مرمّت کی جو پہرےداروں کے صحن کے پاس کے بالائی شاہی محل سے باہر نِکلا ہُواہے۔ اُس سے آگے پِدائیاہؔ بِن پرعوش نے مرمّت کی۔
NEH 3:26 اَور عوفیلؔ کی پہاڑی پر رہنے والے بیت المُقدّس کے خُدّام نے پانی کے پھاٹک کے سامنے مشرق کی طرف اَور باہر کو نکلے ہُوئے بُرج کی جانِب ایک ٹکڑے کی مرمّت کی۔
NEH 3:27 اُن سے آگے بڑے اُبھرے ہُوئے بُرج سے لے کر عوفیلؔ کی دیوار تک ایک دُوسرے ٹکڑے کی تقوعؔ کے لوگوں نے مرمّت کی۔
NEH 3:28 گھوڑا پھاٹک کے اُوپر کاہِنوں نے اَپنے اَپنے گھر کے سامنے مرمّت کی۔
NEH 3:29 اُن سے آگے صدُوقؔ بِن اِمّیرؔ نے اَپنے گھر کے سامنے مرمّت کی۔ اُس سے آگے مشرقی پھاٹک کے دربان شمعیاہؔ بِن شِکنیاہؔ نے مرمّت کی۔
NEH 3:30 اُس سے آگے ایک دُوسرے حِصّہ کی حننیاہؔ بِن شلمیہؔ اَور صلفؔ کے چھٹے بیٹے حنُونؔ نے مرمّت کی۔ اُن سے آگے مِشُلّامؔ بِن بیرکیاہ نے اَپنی رہائش گاہ کے سامنے مرمّت کی۔
NEH 3:31 اُس سے آگے مُعائنہ پھاٹک کے سامنے بیت المُقدّس کے خُدّام اَور سوداگروں کے مکان تک اَور کونے کے اُوپر کے کمرے تک سُناروں میں سے ایک ملکیاہؔ نامی شخص نے مرمّت کی۔
NEH 3:32 اَور کونے کے اُوپر کے کمرہ اَور بھیڑ پھاٹک کے درمیان کے حِصّہ کی سُناروں اَور سوداگروں نے مرمّت کی۔
NEH 4:1 جَب سنبلّطؔ نے سُنا کہ ہم فصیل کو دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں تو وہ خفا ہُوا اَور غُصّہ سے آگ بگُولہ ہو گیا۔ اَور یہُودیوں کا مذاق اُڑانے لگا۔
NEH 4:2 وہ اَپنے ساتھیوں اَور سامریہؔ کی فَوج کی مَوجُودگی میں کہنے لگاکہ، ”یہ ناتواں یہُودی کیا کر رہے ہیں؟ کیا وہ اَپنی فصیل پھر سے کھڑی کر سکیں گے؟ کیا وہ قُربانیاں چڑھائیں گے؟ کیا وہ ایک ہی دِن میں سَب کچھ کر لیں گے؟ کیا وہ جلے ہُوئے پتّھروں کو کوڑوں کے ڈھیر سے نکال کر پھر سے نیا بنا سکیں گے؟“
NEH 4:3 طُوبیاہؔ عمُّونی نے جو اُس کے ساتھ تھا کہا، ”جو کچھ وہ تعمیر کر رہے ہیں اگر کویٔی لومڑی بھی اُس پر چڑھ جائے تو وہ پتّھروں کی اِس فصیل کو گرا دے گی۔“
NEH 4:4 اَے ہمارے خُدا! ہماری سُنیں کیونکہ ہماری تحقیر و توہین کی گئی ہے۔ اُن کی ملامت کو اُن ہی کے سَر ڈال دیں۔ اُنہیں اسیری کے مُلک میں مالِ غنیمت بنا کر رکھ دیں۔
NEH 4:5 اُن کے قُصُور آپ کی نگاہ سے مٹائے نہ جائیں اَور اُن کے گُناہ قائِم رہیں کیونکہ اُنہُوں نے مِعماروں کے سامنے بُرا بھلا کہا ہے۔
NEH 4:6 پس ہم نے فصیل کو دوبارہ تعمیر کیا یہاں تک کہ وہ اَپنی آدھی اُونچائی تک پہُنچ گئی کیونکہ لوگوں نے خُوب دِل لگا کر کام کیا تھا۔
NEH 4:7 لیکن جَب سنبلّطؔ، طُوبیاہؔ، عربوں، عمُّونیوں اَور اشدُودؔ کے لوگوں نے سُنا کہ یروشلیمؔ کی فصیل کی مرمّت شروع ہو چُکی ہے اَور شگاف بند کئے جا رہے ہیں تو وہ بڑے طیش میں آئے۔
NEH 4:8 اَور اُن سَب نے باہم مِل کر یروشلیمؔ کے خِلاف جنگ چھیڑ دینے کی سازش کی تاکہ شہر میں ابتری پھیل جائے۔
NEH 4:9 لیکن ہم نے اَپنے خُدا سے دعا کی اَور اُس خطرے کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے دِن رات پہرا بِٹھاتے رکھا۔
NEH 4:10 اِسی دَوران یہُوداہؔ کے لوگوں نے کہا، ”اَب مزدُوروں کے بازوؤں میں طاقت نہیں رہی اَور ملبہ ابھی تک وَیسے ہی پڑا ہُواہے۔ لگتا ہے کہ ہم فصیل تعمیر نہیں کر سکیں گے۔“
NEH 4:11 ہمارے دُشمنوں کا بھی کہنا ہے کہ، ”اِس سے پیشتر کہ ہمیں مَعلُوم ہو یا ہم اُنہیں دیکھ سکیں وہ ہمارے درمیان پہُنچ جایٔیں گے اَور ہمیں مار ڈالیں گے اَور کام بند کروا دیں گے۔“
NEH 4:12 تَب اُن یہُودیوں نے جو اُن کے قرب و جوار میں رہتے تھے آکر دس مرتبہ ہمیں یہی بات بتایٔی، ”خواہ ہم کہیں کا رُخ کریں دُشمن ہم پر حملہ کر دیں گے۔“
NEH 4:13 اِس وجہ سے فصیل کی سَب سے نیچی جگہوں کے پیچھے اُن مقامات پر جہاں سے حملہ کا خطرہ تھا مَیں نے کچھ لوگوں کو اُن کی تلواروں، نیزوں اَور کمانوں کے ساتھ اُن کے خاندانوں کے مُطابق تعینات کر دیا۔
NEH 4:14 اُس اِنتظام کے بعد مَیں نے کھڑے ہوکر اُمرا، اہلکاروں اَور دیگر لوگوں سے کہا، ”اُن سے مت ڈرو۔ یَاہوِہ کو یاد کرو جو عظیم اَور مُہیب ہے۔ اَور اَپنے خاندانوں، بیٹوں، بیٹیوں اَور اَپنی بیویوں اَور اَپنے گھروں کی خاطِر جنگ کرو۔“
NEH 4:15 جَب ہمارے دُشمنوں کو بھی مَعلُوم ہو گیا کہ ہمیں اُن کی سازش کا پتا چل گیا ہے اَور خُدا نے اُن کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے، تو ہم سَب اَپنے اَپنے کام پر فصیل کی طرف لَوٹ آئے۔
NEH 4:16 اُس دِن کے بعد سے میرے آدھے آدمی کام کرتے اَور باقی آدھے نیزوں، ڈھالوں، کمانوں اَور زرہ بکتر سے مُسلّح رہتے اَور وہ جو حاکم تھے یہُوداہؔ کے سارے لوگوں کے پیچھے مَوجُود رہتے تھے۔
NEH 4:17 جو فصیل تعمیر کر رہے تھے۔ اَور وہ جو بوجھ اُٹھاتے اَور ڈھوتے تھے اُن میں سے ہر ایک اَپنے ایک ہاتھ سے کام کرتا تھا اَور دُوسرے ہاتھ میں ہتھیار لیٔے رہتا تھا۔
NEH 4:18 اَور مِعماروں میں سے ہر ایک کام کرتے وقت اَپنی کمر پر تلوار باندھے رہتا تھا لیکن نرسنگا پھُونکنے والا آدمی میرے پاس مَوجُود رہتا تھا۔
NEH 4:19 پھر مَیں نے اُمرا، حُکاّم اَور باقی لوگوں سے کہا، ”کام بہت بڑا ہے اَور دُور تک پھیلا ہُواہے اَور ہم فصیل پر الگ الگ ایک دُوسرے سے دُور رہتے ہیں۔
NEH 4:20 لہٰذا جہاں کہیں بھی تُم نرسنگے کی آواز سُنو وہاں سے آکر ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ اَور ہمارے خُدا ہماری طرف سے لڑیں گے۔“
NEH 4:21 یُوں ہم پَو پھٹنے سے لے کر تاروں کے نکلنے تک آدھے نیزہ بردار آدمیوں کے ساتھ کام جاری رکھتے تھے۔
NEH 4:22 اُس وقت مَیں نے لوگوں سے یہ بھی کہا، ”ہر ایک آدمی اَپنے مددگار کے ہمراہ رات کو یروشلیمؔ کے اَندر ٹھہرے تاکہ رات کو وہ ہمارے لیٔے پہرا دیا کریں اَور دِن کو کام کیا کریں۔“
NEH 4:23 نہ میں، نہ میرے بھایٔی، نہ میرے آدمی اَور نہ میرے پہرےدار اَپنے کپڑے اُتارتے بَلکہ ہر کویٔی سِوائے نہاتے وقت ہتھیار بند ہی رہتا تھا۔
NEH 5:1 پھر آدمیوں اَور اُن کی بیویوں نے اَپنے یہُودی بھائیوں کے خِلاف شوروغل مچانا شروع کر دیا۔
NEH 5:2 بعض کہتے تھے کہ، ”ہم اَور ہمارے بیٹے اَور بیٹیاں بہت ہیں۔ ہمیں اناج مِلنا چاہئے تاکہ ہم کھایٔیں اَور زندہ رہیں۔“
NEH 5:3 بعض کہتے تھے کہ قحط میں اناج حاصل کرنے کے لیٔے ہم نے اَپنے کھیتوں، ”اَپنے انگوری باغات اَور اَپنے گھروں کو گروی رکھ دیا ہے۔“
NEH 5:4 اَور کیٔی تھے جو کہتے تھے کہ، ”ہم نے اَپنے کھیتوں اَور انگوری باغات پر بادشاہ کا لگان اَدا کرنے کے لیٔے قرض لیا تھا۔
NEH 5:5 اگرچہ ہم اَور ہمارے بھایٔی ایک ہی گوشت اَور خُون کے بنے ہُوئے ہیں اَور ہمارے بیٹے بھی اُتنے ہی اَچھّے ہیں جتنے اُن کے تاہم ہمیں اَپنے بیٹے اَور بیٹیوں کو مُلازمت کے لیٔے غُلامی قبُول کرنی پڑتی ہے۔ اَور ہماری کچھ بیٹیاں تو پہلے ہی غُلامی میں پہُنچ چُکی ہیں۔ لیکن ہم بےبس ہیں کیونکہ ہمارے کھیت اَور انگوری باغ دُوسروں کے قبضہ میں ہیں۔“
NEH 5:6 جَب مَیں نے اُن کی شوروغل اَور یہ شکایت سُنیں تو مُجھے بڑا غُصّہ آیا
NEH 5:7 مَیں نے اَپنے دِل میں سوچا اَور اُمرا اَور حُکاّم کو قُصُوروار ٹھہرایا۔ مَیں نے اُنہیں ملامت کی کہ، ”تُم اَپنے ہی بھائیوں سے سُود لیتے ہو!“ اَور اُن کے خِلاف کاروائی کرنے کے لیٔے مَیں نے بہت سے لوگوں کو جمع کیا
NEH 5:8 اَور کہا: ”جہاں تک ممکن تھا ہم نے اُن یہُودی بھائیوں کو جو غَیریہُودیوں کو بیچ دئیے گیٔے تھے خرید کر چھُڑا لیا۔ اَب تُم اَپنے ہی یہُودی بھائیوں کو بیچ رہے ہو کہ وہ پھر واپس ہمیں ہی بیچ دئیے جایٔیں!“ وہ خاموش رہے کیونکہ اُن کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔
NEH 5:9 چنانچہ مَیں نے مزید کہا، ”جو کچھ تُم کر رہے ہو وہ دُرست نہیں ہے۔ کیا تمہارے لیٔے لازِم نہیں کہ اَپنے خُدا کے خوف میں چلو اَور اَپنے غَیریہُودی دُشمنوں کی ملامت سے بچو؟
NEH 5:10 مَیں نے اَور میرے بھائیوں اَور میرے مُلازمین نے بھی لوگوں کو نقدی اَور اناج قرض پر دیا ہے۔ ہمیں یہ سُود مُعاف کردینا چاہئے!
NEH 5:11 اُن کے کھیت، انگوری باغ، زَیتُون کے باغ اَور مکان فوراً اُنہیں واپس کر دو اَور وہ بھاری سُود بھی جو تُم نقدی، اناج، نئی مے اَور تیل کے سَوویں حِصّہ کے طور پر جبراً وصول کرتے ہو لَوٹا دو۔“
NEH 5:12 تَب اُنہُوں نے کہا، ”ٹھیک ہے، ہم واپس کر دیں گے اَور ہم اُن سے اَور کسی چیز کا مطالبہ بھی نہیں کریں گے۔ جَیسے آپ نے فرمایاہے ہم وَیسا ہی کریں گے۔“ تَب مَیں نے کاہِنوں کو طلب کیا اَور اُمرا اَور حاکموں کو قَسم دِلائی کہ وہ وُہی کریں گے جِس کا اُنہُوں نے وعدہ کیا ہے۔
NEH 5:13 پھر مَیں نے اَپنی چادر کے شکنوں کو بھی جھاڑا اَور کہا، ”خُدا بھی اِسی طرح اُس آدمی کے گھر اَور مال و متاع کو جھاڑ دے جو اَپنے وعدہ پر قائِم نہ رہے۔ اَیسا آدمی اِسی طرح جھاڑا اَور نکال پھینکا جائے۔“ اِس پر ساری جماعت نے کہا، ”آمین،“ اَور یَاہوِہ کی تمجید کی۔ اَور لوگوں نے وَیسا ہی کیا جَیسا کہ اُنہُوں نے وعدہ کیا تھا۔
NEH 5:14 علاوہ اَزیں ارتخشستاؔ بادشاہ کی سلطنت کے بیسویں بَرس سے لے کر جَب مَیں یہُودیؔہ کی سرزمین کا حاکم مُقرّر ہُوا اُس کے بتّیسویں سال تک یعنی بَارہ بَرس کے عرصہ تک نہ مَیں نے اَور نہ ہی میرے بھائیوں نے وہ کھانا جو حاکم کے لیٔے مخصُوص ہوتاہے کھایا۔
NEH 5:15 لیکن میرے پیش رَو حاکم لوگوں پر ایک بھاری بوجھ بنے ہُوئے تھے۔ وہ رعایا سے غِذا اَور مَے کے علاوہ چالیس ثاقل چاندی لیتے تھے اَور اُن کے مُلازمین بھی لوگوں پر حُکومت جتاتے تھے۔ لیکن خُدا کے خوف کی وجہ سے مَیں نے اَیسا نہ کیا
NEH 5:16 بَلکہ اُس فصیل کے کام میں برابر مشغُول رہا۔ اَور میرے تمام مُلازمین بھی وہاں جمع ہوکر کام کرتے تھے۔ ہم نے تو زمین تک نہیں خریدی۔
NEH 5:17 علاوہ اَزیں ایک سَو پچاس یہُودی اَور اہلکار نیز وہ بھی جو گِردونواح کی اَقوام سے ہمارے پاس آتے تھے میرے دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے۔
NEH 5:18 میرے لیٔے ہر روز ایک بَیل، چھ موٹی تازی بھیڑیں اَور مُرغ وغیرہ تیّار کئے جاتے تھے۔ اَور ہر دسویں روز ہر قِسم کی مَے کثرت سے مُہیّا کی جاتی تھی۔ اِن سَب کے باوُجُود مَیں نے حاکم کے لیٔے مخصُوص خُوراک کبھی طلب نہ کی کیونکہ لوگ پہلے ہی غُلامی کے بوجھ تلے دبے ہُوئے تھے۔
NEH 5:19 اَے میرے خُدا! جو کچھ مَیں نے لوگوں کے لیٔے کیا ہے اُسے آپ مُجھ پر کرم فرما کے یاد رکھیں۔
NEH 6:1 جَب سنبلّطؔ، طُوبیاہؔ، گیشمؔ عربی اَور ہمارے باقی دُشمنوں کو خبر مِلی کہ مَیں نے دیوار دوبارہ تعمیر کرلی ہے اَور اُس میں کویٔی بھی شگاف باقی نہیں رہا۔ اگرچہ مَیں نے ابھی تک پھاٹکوں میں دروازے نہیں لگائے تھے۔
NEH 6:2 سنبلّطؔ اَور گیشمؔ نے مُجھے یہ پیغام بھیجا: ”بڑا اَچھّا ہوگا اگر ہم اُونوؔ کے میدان کے کسی گاؤں میں باہم مُلاقات کر سکیں۔“ مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ مُجھے ضرر پہُنچانے کے منصُوبے باندھ رہے تھے۔
NEH 6:3 اِس لیٔے مَیں نے اِس جَواب کے ساتھ اُن کی طرف قاصِد بھیجے: ”میں ایک بڑے منصُوبہ پر کام میں مصروف ہُوں اِس لیٔے نہیں آسکتا۔ یہ کام چھوڑکر تمہارے پاس میرے آنے سے کام کیوں بندہو؟“
NEH 6:4 چار بار اُنہُوں نے مُجھے یہی پیغام بھیجا اَور مَیں نے بھی ہر دفعہ اُنہیں یہی جَواب دیا۔
NEH 6:5 تَب پانچویں مرتبہ سنبلّطؔ نے یہی پیغام دے کر اَپنے ایک مُعاوِن کو میرے پاس بھیجا جو اَپنے ہاتھ میں ایک کھُلا خط لیٔے ہُوئے تھا
NEH 6:6 جِس میں لِکھّا تھا: ”قوموں میں یہ افواہ پھیلی ہُوئی ہے اَور گیشمؔ کہتاہے کہ یہ سچ ہے کہ تُو اَور یہُودی مِل کر بغاوت کرنے کی سازش کر رہے ہو۔ اَور اِسی لیٔے تُو فصیل تعمیر کر رہاہے۔ اِن باتوں سے صَاف ظاہر ہے کہ تُو اُن کا بادشاہ بننا چاہتاہے۔
NEH 6:7 اَور تُونے یروشلیمؔ میں نبی بھی مُقرّر کئے ہیں جو تیرے حق میں یہ اعلان کریں: ’یہُوداہؔ میں ایک بادشاہ ہے!‘ اَب یہ خبر بادشاہ تک بھی جا پہُنچے گی۔ لہٰذا آ ہم باہم صلاح مشورہ کریں۔“
NEH 6:8 مَیں نے اُسے یہ جَواب بھیجا: ”جو کچھ تُو کہتاہے اَیسی کویٔی بات نہیں ہُوئی اَور یہ صِرف تیرے اَپنے دماغ کی ایجاد ہے۔“
NEH 6:9 وہ سَب یہ سوچ کر ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے، ”ہمارے ہاتھ کام کرنے کے لیٔے کمزور پڑ جایٔیں، لہٰذا کام مُکمّل نہیں ہو پایٔےگا۔“ لیکن مَیں نے دعا کی، ”میرے ہاتھوں کو مضبُوط کیجئے۔“
NEH 6:10 ایک دِن میں شمعیاہؔ بِن دلایاہ بِن مہَیطبیلؔ کے گھر گیا جو اَپنے کمرہ میں بند تھا۔ اُس نے کہا، ”آؤ، ہم خُدا کے گھر میں ہیکل کے اَندر ملیں اَور ہیکل کے دروازے اَندر سے بند کر لیں کیونکہ وہ لوگ تُجھے قتل کرنے پرتُلے ہُوئے ہیں۔ یقیناً وہ رات ہی کے وقت آئیں گے کہ تُجھے قتل کر ڈالیں۔“
NEH 6:11 لیکن مَیں نے کہا، ”کیا میرے جَیسا کوئی آدمی بھاگ نکلے؟ یا کیا مُجھ جَیسا آدمی ہیکل میں گھُس کر زندہ رہ پایٔےگا؟ میں نہیں جاؤں گا!“
NEH 6:12 تَب مُجھے مَعلُوم ہُوا کہ اُس کی نبُوّت خُدا کی طرف سے نہیں تھی بَلکہ اُس نے میرے خِلاف صِرف اِس لیٔے پیشین گوئی کی تھی کیونکہ سنبلّطؔ اَور طُوبیاہؔ نے اُسے کچھ رقم دی تھی۔
NEH 6:13 مُجھے پست ہمّت کرنے کے لیٔے اُسے اُجرت دی گئی تھی تاکہ مَیں یہ کرکے گُناہ کا مُرتکب ٹھہروں اَور وہ میری ساکھ ختم کرنے کے لیٔے مُجھے بدنام کر سکیں۔
NEH 6:14 اَے میرے خُدا! طُوبیاہؔ اَور سنبلّطؔ کی اِس حرکت کو یاد رکھنا۔ نبیّہ نوعیدیاہؔ اَور باقی نبیوں کو بھی یاد رکھنا جو مُجھے پست ہمّت کرنے کی کوشش میں لگے ہُوئے ہیں۔
NEH 6:15 چنانچہ فصیل باون دِن میں الُولؔ مہینے کی پچّیسویں تاریخ کو مُکمّل ہو گئی۔
NEH 6:16 جَب ہمارے سَب دُشمنوں نے سُنا تو اِردگرد کی تمام قومیں ڈر گئیں اَور اُن کی خُود اِعتمادی جاتی رہی کیونکہ اُنہُوں نے جان لیا کہ یہ کام ہم نے اَپنے خُدا کی مدد سے کیا ہے۔
NEH 6:17 اُن دِنوں میں بھی یہُوداہؔ کے اُمرا طُوبیاہؔ کو خُطوط بھیجتے رہتے تھے اَور طُوبیاہؔ کی جانِب سے اُنہیں جَواب بھی آتے رہتے تھے۔
NEH 6:18 کیونکہ یہُوداہؔ میں سے بعض نے اُس سے عہدوپیمان کر رکھے تھے، اِس لیٔے کہ وہ شِکنیاہؔ بِن ارخؔ کا داماد تھا اَور اُس کے بیٹے یِہُوحنانؔ نے مِشُلّامؔ بِن بیرکیاہ کی بیٹی سے شادی کی ہُوئی تھی۔
NEH 6:19 وہ میرے سامنے اُس کے اَچھّے کاموں کا ذِکر کرتے تھے اَورجو کچھ میں کہتا تھا، جا کر اُسے بتا دیتے تھے۔ اَور طُوبیاہؔ مُجھے پست ہمّت کرنے کے لیٔے خُطوط بھی بھیجتا رہتا تھا۔
NEH 7:1 فصیل کی دوبارہ تعمیر کے بعد جَب مَیں اُس کے دروازوں کو اُن کی جگہ پر لگا چُکا اَور دربان اَور موسیقار اَور لیوی مُقرّر کر دیئے گیٔے
NEH 7:2 تو مَیں نے یروشلیمؔ کو اَپنے بھایٔی حنانیؔ اَور قصر کے حاکم حننیاہؔ کے سُپرد کیا کیونکہ وہ دیانتدار تھا اَور دُوسروں کی نِسبت زِیادہ خُدا سے ڈرنے والا تھا۔
NEH 7:3 مَیں نے اُنہیں کہا، ”جَب تک تیز دھوپ نہ نکلے یروشلیمؔ کے پھاٹک نہ کھولے جایٔیں اَور دربانوں کے پہرے پر مَوجُودگی کے وقت ہی دروازے بند کرکے اڑبنگے لگا دئیے جایٔیں۔ اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں کو بھی پہرےدار مُقرّر کئے جائیں۔ بعض کو اُن کی مُلازمت کی جگہ پر اَور بعض کو اُن کے گھروں کے قریب کھڑے کئے جائیں۔“
NEH 7:4 اگرچہ شہر بڑا وسیع اَور کشادہ تھا اُس میں لوگ نہ ہونے کے برابر تھے اَور مکانات ابھی تک تعمیر نہیں ہُوئے تھے۔
NEH 7:5 چنانچہ خُدا ہی نے میرے دِل میں ڈالی یہ بات کہ میں اُمرا، اہلکاروں اَور عوام کے خاندانوں کے مُطابق شُمار کرنے کی غرض سے جمع کروں۔ اَور مُجھے اُن لوگوں کا شجرہ نَسب بھی مِل گیا جو ہم سے پہلے آئےتھے۔ اُس میں مَیں نے جو کچھ لِکھّا پایا وہ حسب ذیل ہے:
NEH 7:6 یہ صُوبہ کے وہ لوگ ہیں جنہیں نبوکدنضرؔ شاہِ بابیل اسیر کرکے بابیل لے گیا تھا اَورجو جَلاوطنی سے لَوٹ کر (یروشلیمؔ اَور یہُوداہؔ میں اَپنے اَپنے شہروں کو واپس آ گئے ہیں۔
NEH 7:7 یہ لوگ زرُبّابِیل، یہوشُعؔ، نحمیاہ، عزریاہؔ، رعمیاہؔ، ناحمانیؔ، مردکیؔ، بِلشانؔ، مِسفرتؔ، بِگوئی، نحُومؔ اَور بعناہ کے ہمراہ واپس آئےتھے):
NEH 7:8 بنی پرعوش کے 2,172 لوگ۔
NEH 7:9 بنی شفطیاہؔ کے 372 لوگ۔
NEH 7:10 بنی ارخؔ کے 652 لوگ۔
NEH 7:11 بنی پخت مُوآب (جو یہوشُعؔ اَور یُوآبؔ کی نَسل میں سے تھے) دو ہزار آٹھ سَو اٹھّارہ‏؛
NEH 7:12 بنی عیلامؔ کے ایک ہزار دو سَو چوون لوگ‏؛
NEH 7:13 بنی زتُّو کے 845 لوگ
NEH 7:14 بنی زکّائیؔ کے 760 لوگ
NEH 7:15 بنی بِنّوئی کے 648 لوگ
NEH 7:16 بنی ببئیؔ کے 628 لوگ
NEH 7:17 بنی عزگادؔ کے دو ہزار تین سَوبتّیس لوگ
NEH 7:18 بنی ادُونِقامؔ کے 667 لوگ
NEH 7:19 بنی بِگوئی کے دو ہزار سڑسٹھ لوگ
NEH 7:20 بنی عدِین کے 655 لوگ
NEH 7:21 حِزقیاہؔ کے خاندان میں سے بنی اطِیرؔ کے 98 لوگ
NEH 7:22 بنی حاشُومؔ کے 328 لوگ
NEH 7:23 بنی بضَیؔ کے 324 لوگ
NEH 7:24 بنی حارِف کے 112 لوگ
NEH 7:25 بنی گِبعونؔ کے 95 لوگ
NEH 7:26 بیت لحمؔ اَور نطوفہؔ کے 188 لوگ
NEH 7:27 عناتوت کے 128 لوگ
NEH 7:28 بیت عزماوتؔ کے 42
NEH 7:29 قِریت یعریمؔ، کفیرہؔ اَور بیروت کے سات سَو تینتالیس لوگ
NEH 7:30 رامہؔ اَور گِبعؔ کے چھ سَو اکّیس‏‏ لوگ
NEH 7:31 مِکماشؔ کے ایک سَو بائیس لوگ
NEH 7:32 بیت ایل اَور عَیؔ کے ایک سَو تئیس لوگ‏
NEH 7:33 دُوسرے نبوؔ کے 52 لوگ
NEH 7:34 دُوسرے عیلامؔ کی اَولاد کے ایک ہزار دو سَوچون لوگ؛
NEH 7:35 بنی حارِمؔ کے تین سَو بیس‏ لوگ‏
NEH 7:36 یریحوؔ کے تین سَوپنتالیس‏ لوگ‏
NEH 7:37 لُودؔ، حادِیدؔ اَور اُونوؔ کی اَولاد کے سات سَو اکّیس لوگ تھے؛
NEH 7:38 بنی سناآہ کے تین ہزار نَو سَو تیس۔
NEH 7:39 پھر کاہِنوں: (یعنی یہوشُعؔ کے خاندان میں سے) یدعیاہؔ کی اَولاد کے نَو تہتّر لوگ‏۔
NEH 7:40 بنی اِمّیرؔ کے ایک ہزار باون لوگ؛
NEH 7:41 بنی پشحُور کے ایک ہزار دو سَو سینتالیس
NEH 7:42 بنی حارِمؔ کے ایک ہزار سترہ لوگ۔
NEH 7:43 پھر لیوی: یعنی ہُوداویاہؔ کی نَسل میں سے یہوشُعؔ اَور قدمی ایل کی نَسل کے 74 لوگ۔
NEH 7:44 موسیقاروں میں سے: یعنی بنی آسفؔ کے ایک سَو اڑتالیس لوگ۔
NEH 7:45 اَور دربان: بنی شلُّومؔ، اطِیرؔ، طلمُونؔ، عقُّوبؔ، حطیطاؔ اَور شوبائی کی اَولاد ایک سَو اڑتیس ‏ تھی۔
NEH 7:46 اَور بیت المُقدّس کے خُدّام: بنی ضیحاؔ، بنی حسُوفا، بنی طبعوت،
NEH 7:47 بنی قِروسؔ، بنی سیعا، بنی پدُونؔ،
NEH 7:48 بنی لیباناہ، بنی حگابہ، بنی شلمئیؔ،
NEH 7:49 بنی حنانؔ، بنی گِدّیلؔ، بنی گحار،
NEH 7:50 بنی رِیایاہؔ، بنی رِضینؔ، بنی نقُودا،
NEH 7:51 بنی گزّامؔ، بنی عُزّاؔ، بنی پاسیخؔ،
NEH 7:52 بنی بِسئیؔ، بنی معُونیم، بنی نفُوشسیم،
NEH 7:53 بنی بقبُوق، بنی حقُوفاؔ، بنی حرحُورؔ،
NEH 7:54 بنی بصلُوتؔ، بنی محِیداؔ، بنی حرشاؔ،
NEH 7:55 بنی برقُوسؔ، بنی سیسؔرا، بنی تمحؔ،
NEH 7:56 بنی نضیاحؔ، بنی حطیفاؔ
NEH 7:57 شُلومونؔ کے خادِموں کی اَولاد: بنی سُوطائی، بنی سُوفِریتھ، بنی پریدا،
NEH 7:58 بنی یعلہ، بنی درقُونؔ، بنی گِدّیلؔ،
NEH 7:59 بنی شفطیاہؔ، بنی حطّیلؔ، بنی پوکرتؔ حضبائیم اَور بنی امُونؔ
NEH 7:60 سَب بیت المُقدّس کے خُدّام اَور شُلومونؔ کے خادِموں کی اَولاد کے 392 لوگ۔
NEH 7:61 مُندرجہ ذیل جو تل مِلحؔ، تل حرشاؔ، کروب، ادُّونؔ اَور اِمّیرؔ کے قصبوں سے آئےتھے یہ ثابت نہ کر سکے کہ اُن کے خاندان اِسرائیل کی نَسل کے ہیں:
NEH 7:62 بنی دِلائیاہؔ، بنی طُوبیاہؔ، بنی نقُودا کے 642 لوگ۔
NEH 7:63 اَور کاہِنوں کی اَولاد میں سے: بنی حُبایاہ، بنی حقوضؔ، بنی برزِلّئیؔ (جِس نے برزِلّئیؔ گِلعادی کی بیٹیوں میں سے ایک کو بیاہ لیا تھا۔ اِس لیٔے وہ اُس نام سے موسوم ہُوا)۔
NEH 7:64 اِنہُوں نے اَپنے خاندانوں کے نَسب نامے تلاش کئے لیکن وہ نہ ملے۔ لہٰذا اُنہیں ناپاک قرار دے کر کہانت سے خارج کر دیا گیا۔
NEH 7:65 اَور حاکم نے اُنہیں حُکم دیا کہ جَب تک کویٔی کاہِنؔ اُوریمؔ اَور تُمّیمؔ پہنے ہُوئے نہ آئے تَب تک وہ پاک ترین اَشیا میں سے کویٔی چیز نہ کھایٔیں۔
NEH 7:66 کُل جماعت کی گِنتی 42,360 تھی،
NEH 7:67 اُن کے علاوہ 7,337 خادِم اَور خادِمائیں اَور 245 موسیقار مَرد اَور خواتین بھی تھے۔
NEH 7:68 اُن کے پاس 736 گھوڑے، 245 خچّر،
NEH 7:69 اُونٹ 435 اَور گدھے 6,720 تھے۔
NEH 7:70 آبائی خاندانوں کے سرداروں میں سے بعض نے کام کے لیٔے عَطیّہ بھی دیا۔ حاکم نے خزانہ میں سے سونے کے 1,000 دِرہم اَور 50 پیالے اَور کاہِنوں کے لیٔے 530 پیراہن دئیے۔
NEH 7:71 آبائی خاندانوں کے بعض سرداروں نے کام کے لیٔے خزانہ میں سونے کے 20,000 دِرہم اَور 2,200 مِنہ چاندی دی۔
NEH 7:72 اَور باقی لوگوں نے جو کچھ دیا وہ کُل مِلا کر سونے کے 20,000 دِرہم اَور 2,000 مِنہ چاندی اَور کاہِنوں کے لیٔے 67 پیراہن تھے۔
NEH 7:73 اَور کاہِنؔ اَور لیوی اَور دربان اَور موسیقار اَور بیت المُقدّس کے خُدّام بعض دیگر لوگوں اَور باقی بنی اِسرائیل کے ہمراہ اَپنے قصبوں میں بس گیٔے۔ جَب ساتواں مہینہ آیا اَور بنی اِسرائیل اَپنے شہروں میں آباد ہو گئے۔
NEH 8:1 جَب ساتواں مہینہ آیا اَور اِسرائیلی اَپنے اَپنے شہروں میں بسے ہُوئے تھے تو تمام لوگ اِکٹھّے جَیسے ایک ہوکر پانی کے پھاٹک کے سامنے کے چَوک میں جمع ہُوئے۔ اُنہُوں نے شَریعت کے مُعلّم عزراؔ سے کہا کہ مَوشہ کی کِتاب تورہ کو جِس کا یَاہوِہ نے اِسرائیل کو حُکم دیا تھا لایٔے۔
NEH 8:2 چنانچہ ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ کو عزراؔ کاہِنؔ تورہ (شَریعت) کو مَردوں اَور عورتوں اَور اُن سبھوں کی جماعت کے سامنے لے آیا جو اُسے سُن کر سمجھ سکتے تھے۔
NEH 8:3 اَور اُس نے اُسے صُبح سے لے کر دوپہر تک پانی کے پھاٹک کے سامنے چَوک کی طرف مُنہ کرکے مَردوں، عورتوں اَور دُوسرے سمجھدار لوگوں کے سامنے بُلند آواز سے پڑھا اَور سَب لوگ کِتاب تورہ کو پُوری توجّہ سے سُنتے رہے۔
NEH 8:4 شَریعت کا مُعلّم عزراؔ ایک بُلند چوبی مِنبر پرجو اُس موقع کے لیٔے بنایا گیا تھا کھڑا ہو گیا۔ اُس کے ساتھ داہنی طرف متّتیاہؔ، شِمعؔ، عنایاہؔ، اورِیّاہؔ، خِلقیاہؔ اَور معسیاہؔ کھڑے ہُوئے۔ اَور بائیں طرف پِدائیاہؔ، میشاایلؔ، ملکیاہؔ، حاشُومؔ، حشبدّانہؔ، زکریاؔہ اَور مِشُلّامؔ تھے۔
NEH 8:5 عزراؔ نے کِتاب تورہ کھولی۔ سَب لوگ اُسے دیکھ سکتے تھے کیونکہ وہ اُن سَب سے اُونچی جگہ پر کھڑا تھا۔ اَور جَب اُس نے اُسے کھولا تو لوگ کھڑے ہو گئے۔
NEH 8:6 عزراؔ نے یَاہوِہ خُدائے عظیم کی تمجید کی اَور تمام لوگوں نے ہاتھ کھڑے اُٹھاکر، ”جَواب میں آمین آمین بولا!“ پھر اُنہُوں نے مُنہ کے بَل زمین پر جھُک کر یَاہوِہ کو سَجدہ کیا۔
NEH 8:7 اَور یہوشُعؔ، بانیؔ، شیرِبیاہؔ، یامِنؔ، عقُّوبؔ، شبّتائی، ہُودیاہؔ، معسیاہؔ قِلیطاؔ، عزریاہؔ، یُوزبادؔ، حاننؔ، پِلائییاہؔ اَور لیوی لوگوں کو تورہ سمجھاتے گیٔے اَور اُس دَوران لوگ اَپنی اَپنی جگہ کھڑے رہے۔
NEH 8:8 پہلے اُنہُوں نے خُدا کی کِتاب تورہ میں سے صَاف صَاف پڑھا، پھر اُس کی تشریح کرکے اُس کے معنی بتائے تاکہ جو کچھ پڑھا جا رہاتھا لوگ اُسے سمجھ سکیں۔
NEH 8:9 تَب نحمیاہ حاکم، عزراؔ کاہِنؔ اَور شَریعت کے مُعلّم اَور لیویوں نے جو لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے اُن سَب سے کہا، ”یہ دِن یَاہوِہ تمہارے خُدا کے لیٔے مُقدّس ہے۔ نہ ماتم کرو نہ روؤ۔“ کیونکہ تمام لوگ تورہ کی باتیں سُنتے وقت رو رہے تھے۔
NEH 8:10 نحمیاہ نے کہا، ”جاؤ اَور اَپنا پسندِیدہ کھانا کھاؤ اَور میٹھے شربت پیو اَور اُن کے لیٔے بھی کچھ بھیجو جِن کے پاس کچھ تیّار نہیں۔ یہ دِن ہمارے خُدا کے لیٔے مُقدّس ہے۔ رنجیدہ نہ ہو کیونکہ یَاہوِہ کی شادمانی ہی تمہاری قُوّت ہے۔“
NEH 8:11 لیویوں نے لوگوں کو یہ کہتے ہُوئے چُپ کرایا کہ، ”خاموش ہو جاؤ کیونکہ یہ مُقدّس دِن ہے۔ پس رنجیدہ مت ہو۔“
NEH 8:12 تَب لوگ کھانے پینے اَور کھانے کا کچھ حِصّہ بھیجنے اَور خُوشی سے جَشن منانے کے لیٔے چلے گیٔے کیونکہ اَب اُنہُوں نے اُن باتوں کو جو اُنہیں سُنایٔی گئی تھیں، سمجھ لیا تھا۔
NEH 8:13 مہینے کے دُوسرے دِن آبائی خاندانوں کے سردار کاہِنوں اَور لیویوں کے ہمراہ شَریعت کے مُعلّم عزراؔ کے پاس جمع ہویٔے تاکہ تورہ کی باتوں پر غور کریں۔
NEH 8:14 اَور اُنہیں تورہ میں یہ لِکھّا مِلا جِس کا یَاہوِہ نے مَوشہ کی مَعرفت حُکم دیا تھا کہ اِسرائیل ساتویں مہینے کی عید کے دَوران جھونپڑیوں میں رہا کریں۔
NEH 8:15 اَور وہ اَپنے تمام شہروں میں اَور یروشلیمؔ میں اِشتہار دیں اَور مُنادی کرایٔیں: ”پہاڑی علاقہ میں جاؤ اَور جھونپڑیاں بنانے کے لیٔے زَیتُون اَور مہندی کی شاخیں اَور کھجور کی اَور گھنے درختوں کی شاخیں لے کر آؤ،“ جَیسا کہ لِکھّا ہے۔
NEH 8:16 پس لوگ باہر جا کر شاخیں لایٔے اَور اُنہُوں نے اَپنے اَپنے مکان کی چھت پر، اَپنے صحن میں، خُدا کے گھر میں، پانی کے پھاٹک کے پاس میدان میں اَور اِفرائیمؔ کے پھاٹک کے پاس اَپنے لیٔے جھونپڑیاں بنائیں۔
NEH 8:17 لوگوں کی ساری جماعت جو جَلاوطنی سے واپس آئی تھی جھونپڑیاں بنا کر اُن میں رہی۔ یہوشُعؔ بِن نُونؔ کے دِنوں سے لے کر اُس دِن تک اِسرائیلیوں نے اِسے کبھی اِس طرح نہیں منایا تھا اَور اُن کی خُوشی کا کویٔی ٹھکانا نہ تھا۔
NEH 8:18 عزراؔ نے پہلے دِن سے لے کر آخِری دِن تک روزانہ خُدا کی کِتاب تورہ میں سے پڑھا اَور اُنہُوں نے سات دِن تک عید منائی اَور آٹھویں دِن دستور کے مُطابق اِجتماع ہُوا۔
NEH 9:1 اُس مہینے کے چوبیسویں دِن تمام بنی اِسرائیل روزہ رکھ کر اَور ٹاٹ اوڑھ کر اَور اَپنے سَروں پر خاک ڈال کر اِکٹھّے ہُوئے۔
NEH 9:2 بنی اِسرائیلی نَسل کے لوگ تمام غَیریہُودی لوگوں سے الگ ہوکر اَپنی اَپنی جگہ کھڑے ہو گئے اَور اَپنے گُناہوں کا اَور اَپنے آباؤاَجداد کی گُناہوں کا اقرار کرنے لگے۔
NEH 9:3 وہ جہاں بھی تھے وہیں کھڑے رہے اَور اُنہُوں نے دِن کا ایک چوتھائی حِصّہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کی کِتاب تورہ کی تِلاوت کرنے میں اَور ایک چوتھائی حِصّہ گُناہوں کا اقرار کرنے اَور اَپنے یَاہوِہ خُدا کو سَجدہ کرنے میں گزارا۔
NEH 9:4 بنی لیوی کی سِیڑھیوں پر یہوشُعؔ، بانیؔ، قدمی ایل، شِبنیاہؔ، بُنّی، شیرِبیاہؔ، بانیؔ اَور قینانی کھڑے تھے۔ اُنہُوں نے بُلند آواز سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کو پُکارا۔
NEH 9:5 اَور لیویوں یعنی یہوشُعؔ، قدمی ایل، بانیؔ، حشبانیاہؔ، شیرِبیاہؔ، ہُودیاہؔ، شِبنیاہؔ اَور پِتھائیاہؔ نے کہا: ”کھڑے ہو جاؤ اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کی جو اَزل سے اَبد تک ہے تمجید کرو اَور کہو۔“ ”آپ کا جلالی نام مُبارک ہو جو تمام حَمد و تعریف سے بھی بڑھ کر بُلند و بالا ہے۔“
NEH 9:6 آپ ہی واحد یَاہوِہ ہو۔ آپ نے آسمانوں، سَب سے اُونچے آسمانوں اَور اُن کے اجرامِ فلکی کو، زمین کو اَور اُن میں مَوجُود ہر چیز کو، سمُندر کو پیدا کیا ہے۔ آپ ہر شَے کو زندگی بخشتے ہیں اَور آسمانی فَوج آپ کو سَجدہ کرتے ہیں۔
NEH 9:7 ”آپ وہ یَاہوِہ خُدا ہیں جنہوں نے اَبرامؔ کو چُن لیا اَور اُسے کَسدیوں کے اُورؔ سے نکال لائے اَور اُس کا نام اَبراہامؔ رکھا۔
NEH 9:8 آپ نے اُس کا دِل اَپنے حُضُور وفادار پایا اَور کنعانیوں، حِتّیوں، امُوریوں، پَرزّیوں، یبُوسیوں اَور گِرگاشیوں کا مُلک اُس کی نَسل کو دینے کا عہد باندھا۔ آپ نے اَپنا وعدہ پُورا کیا کیونکہ آپ صادق ہیں۔
NEH 9:9 ”آپ نے مِصر میں ہمارے آباؤاَجداد کی مُصیبت پر نظر کی اَور آپ نے بحرِقُلزمؔ کے کنارے اُن کی فریاد سُنی۔
NEH 9:10 آپ نے فَرعوہؔ اَور اُس کے عہدیدار اَور اُس کی سرزمین کے تمام لوگوں کے سامنے حیرت اَنگیز نِشانات اَور عجائبات دِکھائے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ مِصری اُن کے ساتھ کس قدر مغروُری سے پیش آئےتھے۔ اِس لئے آپ کا بڑا نام ہُوا جَیسا کہ آج بھی ہے۔
NEH 9:11 اَور آپ نے اُن کے آگے سمُندر کو دو حِصّے کر دیا جِس کے باعث وہ اُس میں خشک زمین پر سے گزر گئے۔ لیکن آپ نے اُن کا تعاقب کرنے والوں کو پتّھر کی طرح سمُندر کی گہرائیوں میں پھینک دیا۔
NEH 9:12 اَور دِن کے وقت آپ نے بادل کے سُتون سے اُن کی رہنمائی کی اَور رات کے وقت آگ کے سُتون سے تاکہ جِس راستے پر اُنہیں چلنا تھا اُس میں اُنہیں رَوشنی ملے۔
NEH 9:13 ”اَور آپ کوہِ سِینؔائی پر اُتر آئے؛ اَور آپ نے آسمان سے اُن کے ساتھ باتیں کیں اَور آپ نے اُنہیں اَیسے فرائض اَور آئین، قوانین اَور اَحکام دئیے جو راستی اَور اِنصاف ہیں۔
NEH 9:14 آپ نے اُنہیں اَپنے مُقدّس سَبت سے واقف کیا اَور اَپنے خادِم مَوشہ کی مَعرفت اُنہیں اَحکام، قوانین اَور آئین عطا کئے۔
NEH 9:15 اَور آپ نے اُن کی بھُوک مٹانے کو آسمان سے روٹی دی اَور اُن کی پیاس بُجھانے کو چٹّان میں سے پانی نکالا اَور اُنہیں فرمایا کہ وہ جا کر اُس مُلک پر قبضہ کریں جسے دینے کی آپ نے ہاتھ اُٹھاکر قَسم کھائی تھی۔
NEH 9:16 ”لیکن وہ یعنی ہمارے آباؤاَجداد مغروُر اَور سرکش ہو گئے۔ اُنہُوں نے آپ کی حُکم عُدولی کی،
NEH 9:17 سُننے سے اِنکار کیا اَورجو معجزے آپ نے اُن کے درمیان دِکھائے تھے، اُنہیں یاد نہ رکھا۔ وہ سرکش ہو گئے اَور اُنہُوں نے بغاوت کرکے پھر واپس اَپنی غُلامی میں جانے کے لیٔے اَپنا ایک رہنما مُقرّر کر لیا۔ مگر خُدا آپ غفور، رحیم و کریم، قہر کرنے میں دھیمے اَور شفقت میں غنی ہیں۔ اِس لیٔے آپ نے اُنہیں ترک نہ کیا۔
NEH 9:18 جَب وہ اَپنے لیٔے ایک بچھڑے کا بُت ڈھال کر کہنے لگے، ’یہ ہمارا خُدا ہے جو ہمیں مُلک مِصر سے نکال لایا ہے،‘ یا جَب وہ نہایت ہی بُرے کام کرکے کُفر کے مُرتکب ہُوئے۔
NEH 9:19 ”تو بھی اَپنے بڑے رحم کے باعث آپ نے اُنہیں بیابان میں چھوڑ نہ دیا۔ دِن کے وقت بادل کے سُتون نے اُنہیں راہ دِکھانا بند نہ کیا اَور نہ ہی رات کے وقت آگ کے سُتون نے اُس راستے میں رَوشنی کرنا چھوڑا جِس پر اُنہیں چلنا تھا۔
NEH 9:20 اُن کی تعلیم و تربّیت کے لیٔے آپ نے اُنہیں اَپنی نیک رُوح بخشی اَور آپ نے اَپنا منّا اُن کے مُنہ سے نہ روکا اَور آپ نے اُن کی پیاس بُجھانے کے لیٔے اُنہیں پانی دیا۔
NEH 9:21 چالیس سال تک بیابان میں آپ نے اُن کی پرورِش کی اَور اُنہیں کسی چیز کا مُحتاج نہ ہونے دیا۔ نہ اُن کے کپڑے پھٹے اَور نہ ہی اُن کے پاؤں سُوجے۔
NEH 9:22 ”آپ نے اُنہیں مملکتیں اَور اُمّتیں عطا فرمائیں اَور دُور دراز کے علاقے اُن میں بانٹ دئیے۔ اُنہُوں نے حِشبونؔ کے بادشاہ سیحونؔ کے مُلک پر اَور باشانؔ کے بادشاہ عوگؔ کے مُلک پر قبضہ کر لیا۔
NEH 9:23 آپ نے اُن کی اَولاد کو بڑھا کر آسمان کے سِتاروں کی مانند کر دیا اَور آپ اُنہیں اُس سرزمین میں لے آئے جِس میں داخل ہونے اَور جِس پر قبضہ کرنے کی بابت آپ نے اُن کے آباؤاَجداد سے کہاتھا
NEH 9:24 اُن کی اَولاد نے جا کر اُس مُلک پر قبضہ کر لیا۔ آپ نے اُن کے آگے کنعانیوں کو جو وہاں رہتے تھے مغلُوب کر دیا۔ آپ نے کنعانیوں کو اُن کے بادشاہوں اَور مُلک کے لوگوں سمیت اُن کے قابُو میں کر دیا تاکہ اُن کے ساتھ جَیسا چاہیں سلُوک کریں۔
NEH 9:25 اُنہُوں نے فصیلدار شہروں اَور زرخیز زمین کو فتح کر لیا اَور وہ ہر قِسم کی اَچھّی چیزوں سے بھرے ہُوئے گھروں، پہلے سے کھودے ہُوئے کُوؤں، انگوری باغات، زَیتُون کے باغوں اَور بہت سے پھلدار درختوں کے مالک بَن گیٔے۔ پھر اُنہُوں نے سیر ہوکر کھایا اَور موٹے تازہ ہو گئے۔ اَور اُنہُوں نے آپ کے بڑے اِحسَان کے باعث خُوب مزے اُڑائے۔
NEH 9:26 ”لیکن وہ نافرمان تھے اَور آپ سے باغی ہو گئے۔ اُنہُوں نے آپ کی تورہ کو پس پُشت ڈال دیا۔ اُنہُوں نے آپ کے اُن نبیوں کو جو اُنہیں آپ کی طرف واپس پھیرنے کے لیٔے عذاب سے ڈراتے رہتے تھے قتل کیا اَور بڑے بڑے کُفر آمیز کام کئے۔
NEH 9:27 اِس لیٔے آپ نے اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے حوالہ کر دیا جنہوں نے اُنہیں ستایا۔ لیکن اُنہُوں نے اَپنے دُکھ درد میں آپ سے فریاد کی اَور آپ نے آسمان سے اُن کی فریاد سُنی اَور اَپنے بڑے کرم سے اُنہیں رِہائی دینے والے دئیے جنہوں نے اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے ہاتھ سے چھُڑایا۔
NEH 9:28 ”لیکن جوں ہی اُنہیں آرام مِلا اُنہُوں نے پھر وُہی کچھ کیا جو آپ کی نظر میں بُرا تھا۔ تَب آپ نے اُنہیں دُشمنوں کے ہاتھ میں چھوڑ دیا۔ وہ اُن پر غالب آئے۔ تو بھی جَب اُنہُوں نے پھر آپ سے فریاد کی تو آپ نے آسمان سے اُن کی فریاد سُنی اَور اَپنے بڑے رحم سے اُنہیں بار بار چھُڑایا۔
NEH 9:29 ”آپ نے اُنہیں مُتنبّہ کیا کہ وہ آپ کی تورہ کی طرف پھریں لیکن اُنہُوں نے مغروُر ہوکر آپ کی نافرمانی کی اَور آپ کے اَحکام کی، ’جنہیں ماننے سے اِنسان زندہ رہتاہے۔‘ خِلاف ورزی کرکے گُناہ کیا۔ اَپنی گردن کشی کے باعث نافرمان رہے اَور باغی ہوکر سُننے سے اِنکار کر دیا۔
NEH 9:30 تو بھی آپ برسوں تک اُن کو برداشت کرتے رہے اَور اَپنی رُوح سے اَپنے نبیوں کی مَعرفت اُنہیں تنبیہ کرتے رہے۔ تاہم اُنہُوں نے کویٔی توجّہ نہ دی۔ پس آپ نے اُنہیں پڑوسی اَقوام کے ہاتھ میں دے دیا۔
NEH 9:31 لیکن آپ نے اَپنی بڑی رحمت سے نہ تو اُنہیں نابود کیا نہ ترک کیا کیونکہ آپ رحیم و کریم خُدا ہیں۔
NEH 9:32 ”اِس لیٔے اَب اَے ہمارے خُدائے عظیم، آپ جو قادر اَور مُہیب خُدا ہیں؛ آپ جو اَپنی مَحَبّت کے عہد کو قائِم رکھتے ہیں، یہ دُکھ درد جو شاہانِ اشُور کے زمانہ سے لے کر آج تک ہمارے بادشاہوں، سرداروں، کاہِنوں، نبیوں اَور ہمارے آباؤاَجداد اَور ہمارے تمام لوگوں نے برداشت کئے آپ کے حُضُور میں مَعمولی نہ سمجھے جایٔیں
NEH 9:33 جو کچھ بھی ہم پر گزری ہے اُس سَب میں آپ صادق رہے کیونکہ آپ صداقت سے پیش آئے مگر ہم نے بدی کی۔
NEH 9:34 ہمارے بادشاہوں، ہمارے سرداروں، ہمارے کاہِنوں اَور ہمارے آباؤاَجداد نے آپ کی تورہ کی پیروی نہ کی۔ اُنہُوں نے آپ کے اَحکام اَور آپ کی رسموں کی کویٔی پروا نہ کی۔
NEH 9:35 اُس وقت بھی جَب وہ اَپنی مملکت کی وسیع اَور زرخیز زمین میں جو آپ نے اُنہیں عطا کی تھیں آپ کے بڑے اِحسَان سے لُطف اَندوز ہو رہے تھے اُنہُوں نے آپ کی عبادت نہ کی اَور اَپنی بُری روِشوں سے باز نہ آئے۔
NEH 9:36 ”لیکن دیکھو آج ہم غُلام ہیں۔ اُسی مُلک میں غُلام ہیں جو آپ نے ہمارے آباؤاَجداد کو دیا تھا تاکہ وہ اُس کے پھل اَور دُوسری اَچھّی چیزیں جو وہاں پیدا ہوتی ہیں کھا سکیں۔
NEH 9:37 اُس کی بیشتر فصل اُن بادشاہوں کو چلی جاتی ہے جنہیں آپ نے ہمارے گُناہوں کے باعث ہم پر مُسلّط کیا ہے۔ ہمارے جِسم اَور ہمارے مویشی پُوری طرح اُن کے اِختیار میں ہیں۔ ہم بڑی مُصیبت میں ہیں۔
NEH 9:38 ”اِن تمام باتوں کو پیشِ نظر رکھتے ہُوئے ہم پُختہ عہد کرتے ہیں اَور لِکھ بھی دیتے ہیں اَور ہمارے سردار، ہمارے لیوی اَور ہمارے کاہِنؔ اُس پر مُہر لگاتے ہیں۔“
NEH 10:1 اَور جنہوں نے مُہر لگائی وہ تھے: حاکم: نحمیاہ بِن حکلیاہؔ۔ اَور صِدقیاہؔ،
NEH 10:2 سِرایاہؔ، عزریاہؔ، یرمیاہؔ،
NEH 10:3 پشحُور، امریاہؔ، ملکیاہؔ،
NEH 10:4 حطُّوشؔ، شِبنیاہؔ، مَلُّوکؔ،
NEH 10:5 حارِمؔ، مریموتؔ، عبدیاہؔ،
NEH 10:6 دانی ایل، گنّتونؔ، باروکؔ،
NEH 10:7 مِشُلّامؔ، ابیّاہؔ، مِیامِینؔ،
NEH 10:8 معزیاہؔ، بِلگائیؔ اَور شمعیاہؔ۔ یہ کاہِنؔ تھے۔
NEH 10:9 لیوی یہ تھے: یہوشُعؔ بِن ازنیاہؔ، بنی حِندادؔ میں سے بِنّوئی، قدمی ایل،
NEH 10:10 اَور اُن کے بھایٔی شِبنیاہؔ، ہُودیاہؔ، (قِلیطاؔ، ساتھی) پِلائییاہؔ، حاننؔ،
NEH 10:11 میکاؔ، رحوبؔ، حشبیاہؔ،
NEH 10:12 زکُورؔ، شیرِبیاہؔ، شِبنیاہؔ،
NEH 10:13 ہُودیاہؔ، بانیؔ بنِینُو۔
NEH 10:14 لوگوں کے رئیس یہ تھے: پرعوش، پخت مُوآب، عیلامؔ، زتُّو، بانیؔ،
NEH 10:15 بُنّی، عزگادؔ، ببئیؔ،
NEH 10:16 ادُونیّاہؔ، بِگوئی، عدِین،
NEH 10:17 اطِیرؔ، حِزقیاہؔ، عزُّورؔ،
NEH 10:18 ہُودیاہؔ، حاشُومؔ، بضَیؔ،
NEH 10:19 حارِف، عناتوت، نبئییؔ،
NEH 10:20 مگفیعاسؔ، مِشُلّامؔ، حزیرؔ،
NEH 10:21 مشیز بیلؔ، صدُوقؔ، یدُّوعؔ،
NEH 10:22 پیلاطیاہؔ، حاننؔ، عنایاہؔ،
NEH 10:23 ہوشِیعؔ، حننیاہؔ، حشُوبؔ،
NEH 10:24 ہلُوحیشؔ، پلحاؔ، شوبیق،
NEH 10:25 رِحُومؔ، حشبناہؔ، معسیاہؔ،
NEH 10:26 اخیاہؔ، حاننؔ، عنانؔ،
NEH 10:27 مَلُّوکؔ، حارِمؔ اَور بعناہ۔
NEH 10:28 ”باقی بچے لوگ کاہِنؔ، لیوی، دربان، موسیقار، بیت المُقدّس کے خُدّام اَور وہ تمام جنہوں نے خُدا کی تورہ کی پیروی کی خاطِر اَپنے آپ کو پڑوسی اَقوام سے الگ کر لیا تھا مع اَپنی بیویوں اَور بیٹے، بیٹیوں کے جو سمجھدار تھے۔
NEH 10:29 اَب اَپنے بھائیوں اَور اُمرا کے ساتھ مِل کر اِس قَسم میں شامل ہُوئے کہ وہ خُدا کے خادِم مَوشہ کی مَعرفت دی گئی خُدا کی تورہ کی پیروی کریں گے اَور بڑی احتیاط کے ساتھ یَاہوِہ اَپنے خُدا کے تمام اَحکام، ضوابط اَور قوانین کو مانیں گے۔ اگر نہیں تو ملعُون ٹھہریں گے۔
NEH 10:30 ”ہم وعدہ کرتے ہیں کہ شادی کے لیٔے ہم اَپنی بیٹیاں اَپنے اِردگرد کی اَقوام کو نہیں دیں گے اَور نہ ہی اَپنے بیٹوں کے لیٔے اُن کی بیٹیاں لیں گے۔
NEH 10:31 ”اگر پڑوسی مُلک تِجارت کا سامان یا اناج بیچنے کے لیٔے سَبت کے دِن لائیں تو ہم سَبت کے دِن یا کسی مُقدّس دِن اُسے اُن سے ہرگز نہ خریدیں گے۔ ہر ساتویں سال ہم زمین نہیں جوتیں گے اَور قرض دی ہُوئی رقم مُعاف کر دیں گے۔
NEH 10:32 ”اَپنے خُدا کے گھر کی خدمت کے لیٔے ہر سال ثاقل کا تیسرا حِصّہ دینے کے حُکم کی تعمیل کی ہم ذمّہ داری لیتے ہیں۔
NEH 10:33 یعنی نذر کی روٹی کے لیٔے، اناج کی دائمی نذروں اَور سوختنی نذروں کے لیٔے، سَبتوں، نئے چاند کی عیدوں اَور مُقرّرہ عیدوں کے لیٔے، پاکیزگی کی نذروں کے لیٔے اَور اِسرائیل کے کفّارے کے لئے گُناہ کی قُربانی کی نذروں کے لیٔے اَور اَپنے خُدا کے گھر میں دیگر فرائض کے لیٔے۔
NEH 10:34 ”ہم نے یعنی کاہِنوں، لیویوں اَور لوگوں نے قُرعے ڈالے تاکہ مَعلُوم کریں کہ تورہ کے مُطابق ہر سال مُقرّرہ اوقات پر یَاہوِہ اَپنے خُدا کے مذبح پر جَلانے کے لیٔے ہم میں سے ہر ایک خاندان اَپنے حِصّہ کی لکڑی کب یَاہوِہ کے گھر میں لایا کرے۔
NEH 10:35 ”ہم ہر سال اَپنی فصلوں اَور درختوں کا پہلا پھل یَاہوِہ کے گھر میں لانے کی بھی ذمّہ داری لیتے ہیں۔
NEH 10:36 ”جَیسا کہ تورہ میں بھی لِکھّا ہے ہم اَپنے پہلوٹھے بیٹوں اَور اَپنے مویشیوں، ریوڑوں اَور گلّوں کے پہلوٹھے بچّوں کو اَپنے خُدا کے گھر میں کاہِنوں کے پاس لائیں گے جو وہاں خدمت کرتے ہیں۔
NEH 10:37 ”نیز ہم اَپنے پسے ہُوئے آٹے کو، اَپنے پہلے اناج کی نذروں کو، اَپنے درختوں کے پہلے پھلوں کو، اَپنی نئی مَے اَور تیل میں سے پہلے پھل کو اَپنے خُدا کے گھر کے خزانوں کے لیٔے کاہِنوں کے پاس لائیں گے اَور اَپنی فصلوں کا دسواں حِصّہ لیویوں کو دیں گے کیونکہ لیوی ہی ہر ایک شہر میں جہاں ہم کاشتکاری کرتے ہیں کھیت کی دہ یکی جمع کرتے ہیں۔
NEH 10:38 جَب لیوی دہ یکی لیں تو اَہرونؔ کی نَسل کا ایک کاہِنؔ اُن کے ہمراہ ہونا چاہئے اَور لیویوں کو دہ یکی کا دسواں حِصّہ ہمارے خُدا کے گھر کے خزانوں میں لانا چاہئے۔
NEH 10:39 بنی اِسرائیل، جِن میں لیوی بھی شامل ہیں اناج، نئی مَے اَور تیل کی نذریں بیت المال کے خزانوں میں لائیں جہاں پاک مَقدِس کے ظروف رکھے جاتے ہیں اَور جہاں کاہِنؔ، دربان اَور موسیقار اَپنی اَپنی خدمت اَنجام دیتے ہیں۔ ”اَور ہم اَپنے خُدا کے گھر کو نظرانداز نہیں کریں گے۔“
NEH 11:1 اَب لوگوں کے سردار یروشلیمؔ میں آباد ہو گئے اَور باقی لوگوں نے قُرعہ اَندازی کی تاکہ ہر دس آدمیوں میں سے ایک مُقدّس شہر یروشلیمؔ میں رہے اَور باقی بچے نَو اَپنے شہروں میں رہیں۔
NEH 11:2 لوگوں نے اُن تمام آدمیوں کو دعا دی جو اَپنی خُوشی سے یروشلیمؔ میں آکر بس گیٔے تھے۔
NEH 11:3 صُوبہ کے وہ سردار جو یروشلیمؔ میں آ بسے یہ ہیں؛ اُس وقت کچھ اِسرائیلی، کاہِنؔ، لیوی، بیت المُقدّس کے خُدّام اَور شُلومونؔ کے خادِموں کے نَسل یہُودیؔہ کے شہروں میں رہتے تھے یعنی ہر ایک اَپنے شہروں میں اَپنی اَپنی مِلکیّت میں رہتا تھا۔
NEH 11:4 جَب کہ بنی یہُوداہؔ اَور بِنیامینیوں میں سے کچھ لوگ یروشلیمؔ میں رہتے تھے): بنی یہُوداہؔ میں سے: عتایاہؔ بِن عُزّیاہؔ بِن زکریاؔہ، بِن امریاہؔ، بِن شفطیاہؔ، بِن مہلل ایل، بنی پیریزؔ میں سے؛
NEH 11:5 اَور معسیاہؔ بِن باروکؔ بِن کول حوزہؔ بِن حزائیاہؔ بِن عدایاہؔ بِن یُویرِیبؔ بِن زکریاؔہ، بنی شِلحؔ۔
NEH 11:6 اَور پیریزؔ کی نَسل جو یروشلیمؔ میں بس گیٔے اُن میں جنگجو مَردوں کی تعداد 468 تھی۔
NEH 11:7 بِنیامینیوں میں سے: سلُّوؔ بِن مِشُلّامؔ بِن یُوئیدؔ بِن پِدائیاہؔ بِن قولایاہؔ بِن معسیاہؔ بِن اِتھی ایل بِن یِشعیہ
NEH 11:8 اَور اُس کے بعد گبّئیؔ اَور سلّائی کے 928 آدمی۔
NEH 11:9 یُوایلؔ بِن زکریؔ اُن کا ناظِم اعلیٰ تھا اَور یہُوداہؔ بِن ہسّنوآہ شہر کے نئے حِصّے کا نائب ناظِم تھا۔
NEH 11:10 کاہِنوں میں سے: یدعیاہؔ بِن یُویرِیبؔ اَور یاکِن؛
NEH 11:11 سِرایاہؔ بِن خِلقیاہؔ بِن مِشُلّامؔ بِن صدُوقؔ بِن مرایوتؔ بِن احِیطوبؔ خُدا کے گھر کا مختار،
NEH 11:12 اَور اُن کے ساتھی جو ہیکل میں کام کرتے تھے، 822 آدمی؛ عدایاہؔ بِن یروحامؔ بِن پِلائییاہؔ بِن امصیؔ بِن زکریاؔہ بِن پشحُورؔ بِن ملکیاہؔ
NEH 11:13 اَور اُن کے بھایٔی جو آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے، 242 آدمی؛ عمشسئیؔ بِن عزرایلؔ بِن اخزائیؔ بِن مِشلِّموتؔھ بِن اِمّیرؔ،
NEH 11:14 اَور اُن کے بھایٔی جو جنگجو مَرد 128 تھے۔ اُن کا ناظِم اعلیٰ زبدیؔ ایل بِن ہگّدولیمؔ تھا۔
NEH 11:15 لیویوں میں سے: شمعیاہؔ بِن حشُوبؔ بِن عزریقامؔ بِن حشبیاہؔ بِن بُنّی؛
NEH 11:16 شبّتائی اَور یُوزبادؔ لیویوں کے اُمرا میں سے جو خُدا کے گھر کے باہر کام پر مُقرّر تھے؛
NEH 11:17 اَور متّنیاہؔ بِن میکاؔ بِن زبدیؔ بِن آسفؔ جو شُکر گزاری کی عبادت کا ناظِم اَور ہادی تھا؛ بقبُوقیاہؔ جو اُس کے ساتھیوں میں سے دُوسرے درجہ پر تھا؛ عبداؔ بِن شَمّوعؔ بِن گلالؔ بِن یدُوتونؔ۔
NEH 11:18 مُقدّس شہر میں لیویوں کی کُل تعداد 284 تھی۔
NEH 11:19 دربانوں میں سے: عقُّوبؔ اَور طلمُونؔ اَور اُن کے بھایٔی جو پھاٹکوں پر 172 آدمی پہرا دیتے تھے۔
NEH 11:20 باقی اِسرائیلی مع کاہِنوں اَور لیویوں کے یہُوداہؔ کے تمام شہروں میں اَپنی اَپنی موروثی مِلکیّت میں رہتے تھے۔
NEH 11:21 لیکن بیت المُقدّس کے خُدّام عوفیلؔ کی پہاڑی پر رہتے تھے اَور ضیحاؔ اَور گِشپاؔ اُن کے نِگران تھے۔
NEH 11:22 یروشلیمؔ میں لیویوں کا سردار عُزّی بِن بانیؔ بِن حشبیاہؔ بِن متّنیاہؔ بِن میکاؔ تھا۔ عُزّی اُن بنی آسفؔ میں سے ایک تھا جو خُدا کے گھر میں موسیقی کی خدمت پر مامُور تھے۔
NEH 11:23 موسیقار بادشاہ کے حُکم کے مُطابق خدمت بجا لاتے تھے اَور اُن کی روزمرّہ کی ذمّہ داریاں طے شُدہ تھیں۔
NEH 11:24 پِتھائیاہؔ بِن مشیز بیلؔ جو زیراحؔ بِن یہُوداہؔ کی اَولاد میں سے تھا لوگوں میں ‏‏سے ‏‏‏‏متعلّقہ تمام اُمور کے لیٔے بادشاہ کا نُمائندہ تھا۔
NEH 11:25 جہاں تک گاؤں اَور وہاں کے کھیتوں کا تعلّق ہے یہُوداہؔ کے کچھ لوگ قِریت اربعؔ اَور اُس کے اِردگرد کے قصبوں دیبونؔ میں اَور اُس کی آبادیوں میں اَور یقبضی ایل اَور اُس کے دیہات میں رہتے تھے۔
NEH 11:26 اَور یہوشُعؔ میں اَور مولادہؔ میں اَور بیت پیلط میں،
NEH 11:27 اَور حضار شُعالؔ اَور بیرشبعؔ اَور اُس کی آبادیوں میں،
NEH 11:28 اَور صِقلاگ اَور مقُوناہؔ اَور اُس کے دیہات میں،
NEH 11:29 اَور عینؔ رِمّونؔ اَور ضورعاہؔ اَور یرموتؔ میں،
NEH 11:30 زنوحؔ، عدُلّامؔ اَور اُن کے گاؤں میں لاکیشؔ اَور اُس کے کھیتوں میں، عزیقاہؔ اَور اُس کے دیہات میں۔ یُوں وہ بیرشبعؔ سے لے کر ہِنَّومؔ کی وادی تک بس گیٔے۔
NEH 11:31 بنی بِنیامین گِبعؔ سے لے کر آگے مِکماشؔ، عیّاہؔ اَور بیت ایل اَور اُس کے دیہات میں،
NEH 11:32 عناتوت، نوبؔ اَور عننیاہؔ،
NEH 11:33 اَور حَصورؔ، رامہؔ اَور گِتَّئیم میں،
NEH 11:34 اَور حادِیدؔ، ضبوئیمؔ اَور نبلّاطؔ،
NEH 11:35 اَور لُودؔ، اُونوؔ اَور کاریگروں کی وادی گے ہراشیمؔ میں رہتے تھے۔
NEH 11:36 اَور یہُودیؔہ کے علاقہ میں رہنے والے بعض لیوی بِنیامین کے علاقہ میں جا بسے۔
NEH 12:1 جو کاہِنؔ اَور لیوی زرُبّابِیل بِن شیالتی ایل اَور یہوشُعؔ کے ساتھ واپس لَوٹے وہ یہ تھے: سِرایاہؔ، یرمیاہؔ، عزراؔ،
NEH 12:2 امریاہؔ، مَلُّوکؔ، حطُّوشؔ،
NEH 12:3 شِکنیاہؔ، رِحُومؔ، مریموتؔ،
NEH 12:4 عِدّوؔ، گنّتونؔ، ابیّاہؔ،
NEH 12:5 مِیامِینؔ، مُعدیاہؔ، بِلگاہؔ،
NEH 12:6 شمعیاہؔ، یُویرِیبؔ، یدعیاہؔ،
NEH 12:7 سلُّوؔ، عمُوقؔ، خِلقیاہؔ، یدعیاہؔ۔
NEH 12:8 اَور لیوی یہ تھے: یہوشُعؔ، بِنّوئی، قدمی ایل، شیرِبیاہؔ، یہُوداہؔ اَور متّنیاہؔ بھی جو اَپنے بھائیوں کے ہمراہ شُکر گزاری کے نغمہ گانے کا ہادی تھا۔
NEH 12:9 اُن کے ساتھ بقبُوقیاہؔ اَور عُنّی عبادت کے وقت اُن کے سامنے کھڑے ہوتے تھے۔
NEH 12:10 یہوشُعؔ یُویقیمؔ کا باپ تھا، یُویقیمؔ اِلیاشبؔ کا باپ تھا، اِلیاشبؔ یُویدعؔ کا باپ تھا،
NEH 12:11 یُویدعؔ یُوناتانؔ کا باپ تھا اَور یُوناتانؔ یدُّوعؔ کا باپ تھا۔
NEH 12:12 یُویقیمؔ کے دِنوں میں کاہِنوں کے آبائی خاندانوں کے سردار یہ تھے: سِرایاہؔ کے خاندان سے مرایاہؔ؛ یرمیاہؔ کے خاندان سے حننیاہؔ؛
NEH 12:13 عزراؔ کے خاندان سے مِشُلّامؔ؛ امریاہؔ کے خاندان سے یِہُوحنانؔ؛
NEH 12:14 مَلُّوکؔ کے خاندان سے یُوناتانؔ؛ شِبنیاہؔ کے خاندان سے یُوسیفؔ؛
NEH 12:15 حارِمؔ کے خاندان سے عدناؔ؛ مرایوتؔ کے خاندان سے خلقیؔ
NEH 12:16 عِدّوؔ کے خاندان سے زکریاؔہ؛ گنّتونؔ کے خاندان سے مِشُلّامؔ؛
NEH 12:17 ابیّاہؔ کے خاندان سے زکریؔ؛ مِنیامین اَور مُعدیاہؔ کے خاندان سے پلطئی؛
NEH 12:18 بِلگاہؔ کے خاندان سے شَمّوعؔ؛ شمعیاہؔ کے خاندان سے یُوناتانؔ؛
NEH 12:19 یُویرِیبؔ کے خاندان سے متّنیؔ؛ یدعیاہؔ کے خاندان سے عُزّی؛
NEH 12:20 سلُّوؔ کے خاندان سے قلّیؔ؛ عمُوقؔ کے خاندان سے عِبرؔ؛
NEH 12:21 خِلقیاہؔ کے خاندان سے حشبیاہؔ؛ یدعیاہؔ کے خاندان سے نتنی ایل؛
NEH 12:22 اِلیاشبؔ، یُویدعؔ، یوحانانؔ اَور یدُّوعؔ کے دِنوں میں لیویوں کے آبائی خاندانوں کے سردار اَور کاہِنوں کے داریاویشؔ شاہِ فارسؔ کی سلطنت میں
NEH 12:23 بنی لیوی کے آبائی خاندانوں کے سردار، یوحانانؔ بِن اِلیاشبؔ کے دِنوں تک تواریخ کی کِتاب میں لکھے جاتے تھے۔
NEH 12:24 اَور حشبیاہؔ، شیرِبیاہؔ، یہوشُعؔ بِن قدمی ایل اَپنے بھائیوں سمیت لیویوں کے قائد تھے جو آمنے سامنے کھڑے ہُوا کرتے تھے اَور خُدا کے خادِم داویؔد کی ہدایت اَور ترتیب کے مُطابق اَپنی اَپنی باری پر حَمد و ثنا کیا کرتے تھے۔
NEH 12:25 اَور متّنیاہؔ، بقبُوقیاہؔ، عبدیاہؔ، مِشُلّامؔ طلمُونؔ اَور عقُّوبؔ دربان تھے جو پھاٹکوں پر گوداموں کی نِگرانی کے لیٔے مُقرّر تھے۔
NEH 12:26 اُنہُوں نے یُویقیمؔ بِن یہوشُعؔ بِن یُوصدقؔ کے دِنوں میں اَور نحمیاہ حاکم اَور عزراؔ کاہِنؔ اَور شَریعت کے مُعلّم کے دِنوں میں خدمت کی۔
NEH 12:27 یروشلیمؔ کی فصیل کی تقدیس کے وقت لیویوں کو جہاں کہیں بھی وہ رہتے تھے تلاش کیا گیا اَور اُنہیں یروشلیمؔ لایا گیا تاکہ وہ جھانجھ، سِتار اَور بربط کے ساتھ خُوشی سے شُکر گزاری کے نغمہ گا کر مخصُوصیت کی رسومات اَدا کریں۔
NEH 12:28 موسیقاروں کو بھی یروشلیمؔ کے اِردگرد کے علاقوں سے لایا گیا۔ وہ نطُوفاتیوں کے دیہات سے
NEH 12:29 اَور بیت گِلگالؔ سے اَور گِبعؔ اَور عزماوتؔ کے علاقہ سے اِکٹھّے کئے گیٔے کیونکہ موسیقاروں نے یروشلیمؔ کے اطراف میں اَپنے لیٔے دیہات بنا لیٔے تھے۔
NEH 12:30 جَب کاہِنؔ اَور لیوی اَپنے آپ کو رسمی طور پر پاک کر چُکے تو اُنہُوں نے لوگوں کو، پھاٹکوں کو اَور فصیل کو پاک کیا۔
NEH 12:31 میں یہُوداہؔ کے اُمرا کو فصیل کے اُوپر لے گیا اَور شُکر گزاری کرنے کے لیٔے مَیں نے گانے والوں کے دو بڑے گِروہ بھی مُقرّر کئے کہ ایک گِروہ فصیل کے اُوپر مشرق کی طرف گوبر پھاٹک کی طرف چلے۔
NEH 12:32 اَور ہوشعیاہؔ اَور یہُوداہؔ کے آدھے سربراہ اُن کے پیچھے پیچھے چلیں۔
NEH 12:33 اَور عزریاہؔ، عزراؔ، مِشُلّامؔ،
NEH 12:34 یہُوداہؔ، بِنیامین، شمعیاہؔ، یرمیاہؔ اُن کے ساتھی تھے۔
NEH 12:35 کچھ کاہِنؔ بھی نرسنگے لیٔے ہُوئے اَور زکریاؔہ بِن یُوناتانؔ بِن شمعیاہؔ بِن متّنیاہؔ بِن میکایاہؔ بِن زکُورؔ بِن آسفؔ بھی اُن کے ہمراہ تھا۔
NEH 12:36 اَور اُس کے بھایٔی شمعیاہؔ، عزرایلؔ، مِلالائی، گِلَلائی، ماعیؔ، نتنی ایل، یہُوداہؔ اَور حنانیؔ مَرد خُدا داویؔد کے موسیقی کے ساز لیٔے ہُوئے تھے۔ اَور شَریعت کا مُعلّم عزراؔ جلوس کی رہنمائی کر رہاتھا۔
NEH 12:37 چشمہ پھاٹک پر سے وہ سیدھے آگے چلتے گیٔے اَور داویؔد کے شہر کی سِیڑھیوں کے اُوپر سے فصیل کی چڑھائی کی جانِب اَور داویؔد کے محل کے اُوپر سے گزر کر مشرق کی طرف پانی کے پھاٹک کو گیٔے۔
NEH 12:38 موسیقاروں کا دُوسرا گِروہ اُن کی مُخالف سمت کو گیا اَور مَیں فصیل کے اُوپر دیگر لوگوں کے ہمراہ اُن کے پیچھے پیچھے چلا اَور تنوروں کے بُرج کے پاس سے ہوکر چوڑی فصیل تک اَور
NEH 12:39 اِفرائیمؔ کے پھاٹک، یشانہؔ پھاٹک یعنی پرانے پھاٹک، مچھلی پھاٹک، حَنن ایل کے بُرج، ہمّیاہؔ کے بُرج پر سے ہوتے ہُوئے بھیڑ پھاٹک تک گیٔے اَور پہرے والوں کے پھاٹک پر رُک گیٔے۔
NEH 12:40 شُکر گُزاری کرنے والے دونوں گِروہ خُدا کے گھر میں اَپنی اَپنی جگہ کھڑے ہو گئے۔ مَیں نے اَور میرے ساتھ والے آدھے اُمرا نے بھی یہی کیا۔
NEH 12:41 اَور کاہِنؔ یعنی اِلیاقیؔم، معسیاہؔ، مِنیامین، میکایاہؔ، الیوعینائی، زکریاؔہ اَور حننیاہؔ نرسنگے لیٔے ہُوئے تھے
NEH 12:42 اَور معسیاہؔ، شمعیاہؔ، الیعزرؔ، عُزّی، یِہُوحنانؔ، ملکیاہؔ عیلامؔ اَور عزرؔ اَور گانے والے گِروہ نے اَپنے سردار یزرحیاہؔ کی زیرِ ہدایت خُوب نغمہ گائے۔
NEH 12:43 اَور اُس دِن اُنہُوں نے خُوشی سے بہت سِی قُربانیاں چڑھائیں کیونکہ خُدا نے اُنہیں بڑی خُوشی عطا فرمائی تھی۔ عورتوں اَور بچّوں نے بھی خُوشی منائی اَور یروشلیمؔ میں جَشن منانے کی آواز دُور تک سُنایٔی دیتی تھی۔
NEH 12:44 اُس وقت پہلے پھلوں اَور دہ یکیوں کے لیٔے گوداموں کے نِگران مُقرّر کئے گیٔے تاکہ جو حِصّے کاہِنوں اَور لیویوں کے لیٔے تورہ کے مُطابق نذرانے مُقرّر کئے گیٔے تھے اُنہیں شہروں کے اِردگرد کھیتوں سے جمع کرکے گوداموں میں جمع کروایا۔ کیونکہ بنی یہُوداہؔ خدمت کرنے والے کاہِنوں اَور لیویوں سے خُوش تھے۔
NEH 12:45 داویؔد اَور اُس کے بیٹے شُلومونؔ کے اَحکام کے مُطابق اُنہُوں نے اَور اَیسے ہی موسیقاروں اَور دربانوں نے اَپنے خُدا کی عبادت کی اَور طہارت کے انتظامات کی نِگرانی کی
NEH 12:46 کیونکہ بہت عرصہ پیشتر داویؔد اَور آسفؔ کے دِنوں میں خُدا کی حَمد و ثنا اَور شُکر گزاری کے موسیقاروں کے لیٔے ہادی ہُوا کرتے تھے۔
NEH 12:47 چنانچہ زرُبّابِیل اَور نحمیاہ کے دِنوں میں بھی تمام بنی اِسرائیل موسیقاروں اَور دربانوں کی ضروُرت کے مُطابق روزانہ حِصّے دیتے تھے۔ وہ لیویوں کے لیٔے الگ حِصّے مخصُوص کرتے تھے اَور لیوی بنی اَہرونؔ کے لیٔے حِصّے مخصُوص کرتے تھے۔
NEH 13:1 اُس دِن مَوشہ کی کِتاب تورہ بُلند آواز سے پڑھی گئی جو سَب کے سُنائی دے سکے اَور وہاں یہ لِکھّا ہُوا مِلا کہ کویٔی عمُّونی یا مُوآبی خُدا کی جماعت میں داخل نہ ہونے پایٔے،
NEH 13:2 کیونکہ وہ کھانا اَور پانی لے کر اِسرائیلیوں سے مِلنے نہ آئے بَلکہ اُن پر لعنت کرنے کے لیٔے اُنہُوں نے بِلعاؔم کو اُجرت پر رکھ لیا۔ لیکن ہمارے خُدا نے اُس لعنت کو برکت میں بدل دیا۔
NEH 13:3 جَب لوگوں نے آئین کی یہ بات سُنی تو اُنہُوں نے مخصُوص نَسل کے تمام لوگوں کو اِسرائیل سے خارج کر دیا۔
NEH 13:4 اِس سے پیشتر اِلیاشبؔ کاہِنؔ ہمارے خُدا کے گھر کے گوداموں کا نِگران تھا۔ اُس کا طُوبیاہؔ کے ساتھ بڑا نزدیکی تعلّق تھا۔
NEH 13:5 اَور اُس نے اُسے ایک بڑا کمرہ دے رکھا تھا جو کہ پہلے اناج کی نذروں، لوبان اَور ہیکل کی اَشیا، نیز لیویوں، موسیقاروں اَور دربانوں کے لیٔے مخصُوص دہ یکی، نیز نئی مے اَور زَیتُون کا تیل کاہِنوں کے لیٔے وقف کیا ہُوا مال رکھنے کے لیٔے اِستعمال ہوتا تھا۔
NEH 13:6 لیکن جَب یہ سَب ہو رہاتھا تَب میں یروشلیمؔ میں نہ تھا کیونکہ مَیں ارتخشستاؔ شاہِ بابیل کے بتّیسویں سال میں بادشاہ کے پاس واپس گیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد مَیں نے اُس سے اِجازت چاہی
NEH 13:7 اَور واپس یروشلیمؔ آ گیا۔ یہاں مُجھے مَعلُوم ہُوا کہ طُوبیاہؔ کو خُدا کے گھر کے صحن میں کمرہ مُہیّا کرکے اِلیاشبؔ نے بڑی بُری حرکت کی ہے۔
NEH 13:8 مُجھے بہت غُصّہ آیا اَور مَیں نے طُوبیاہؔ کا تمام گھریلو سامان کمرے سے باہر پھینک دیا۔
NEH 13:9 اَور کمرے کو پاک صَاف کرنے کا حُکم دیا۔ تَب مَیں نے خُدا کے گھر کے ظروف، اناج کی نذروں اَور لوبان کو واپس وہاں رکھ دیا۔
NEH 13:10 مُجھے یہ بھی مَعلُوم ہُوا کہ لیویوں کے مخصُوص حِصّے اُن کو نہیں دئیے گیٔے تھے اَور تمام لیوی اَور موسیقار جو ہیکل میں خدمت گزار تھے اَپنے اَپنے کھیتوں کو واپس چلے گیٔے ہیں۔
NEH 13:11 پس مَیں نے حاکموں کو ڈانٹا اَور اُن سے پُوچھا، ”خُدا کے گھر کو کیوں نظرانداز کیا گیا؟“ پھر مَیں نے لیویوں کو جمع کرکے بُلایا اَور اُنہیں اُن کی جگہوں پر مُقرّر کر دیا۔
NEH 13:12 تمام اہلِ یہُوداہؔ اناج، نئی مَے اَور تیل اِن سَب اَشیا کا دسواں حِصّہ خزانوں میں لایٔے۔
NEH 13:13 اَور مَیں نے کاہِنؔ شلمیہؔ، صدُوقؔ محرِّر اَور ایک لیوی بنام پِدائیاہؔ کو خزانچی مُقرّر کیا اَور حاننؔ بِن زکُورؔ بِن متّنیاہؔ کو اُن کا مددگار بنایا کیونکہ یہ لوگ قابلِ اِعتماد سمجھے جاتے تھے۔ اَور یہ اُن کا کام تھا کہ وہ اَپنے ساتھی لیویوں کو اُن کے حِصّے تقسیم کریں۔
NEH 13:14 اَے میرے خُدا، مُجھے اِس کا نیک اجر دینا اَورجو کچھ مَیں نے اَپنے خُدا کے گھر اَور اُن کے خادِموں کے لیٔے کیا ہے آپ کی نظر میں رہے۔
NEH 13:15 اُن ہی دِنوں میں، مَیں نے دیکھا کہ یہُوداہؔ میں بعض لوگ سَبت کے دِن بھی انگور کُچلتے اَور اُن کا رس مے کے حوض سے نکالتے ہیں اَور اناج، مَے، انگور، اَنجیر اَور دیگر اَشیا کے بوجھ گدھوں پر لادتے ہیں۔ وہ یہ سَب کچھ سَبت کے دِن یروشلیمؔ میں لاتے ہیں۔ لہٰذا مَیں نے اُنہیں سخت تنبیہ کی کہ سَبت کے دِن اشیائے خُوردنی ہرگز فروخت نہ کی جایٔیں۔
NEH 13:16 صُورؔ کے لوگ جو یروشلیمؔ میں رہتے تھے وہ بھی مچھلی اَور ہر قِسم کا مالِ تِجارت یروشلیمؔ میں لاکر سَبت کے دِن یہُوداہؔ کے لوگوں کو فروخت کرتے تھے۔
NEH 13:17 مَیں نے یہُوداہؔ کے اُمرا کو ڈانٹا اَور اُنہیں کہا، ”تُم اَیسی بُری حرکت کیوں کرتے ہو جِس سے سَبت کی بےحُرمتی ہوتی ہے؟
NEH 13:18 یہی تمہارے آباؤاَجداد نے کیا جِس کے باعث ہمارے خُدا یہ تمام آفات ہم پر اَور اِس یروشلیمؔ شہر پر لائے۔ اَب تُم سَبت کی بےحُرمتی کرکے اِسرائیل پر پہلے سے بھی زِیادہ غضب لانے کا باعث بَن رہے ہو۔“
NEH 13:19 اِس لئے جَب سَبت سے پیشتر یروشلیمؔ کے پھاٹکوں پر شام کا دھُندلکا چھانے لگا تو مَیں نے حُکم دیا کہ پھاٹک بند کر دئیے جایٔیں اَور جَب تک سَبت گزر نہ جائے اُنہیں کھولا نہ جائے۔ مَیں نے اَپنے کچھ آدمی پھاٹکوں پر مُقرّر کر دئیے تاکہ سَبت کے دِن کویٔی بھی بوجھ شہر کے اَندر نہ لایا جا سکے۔
NEH 13:20 سوداگروں اَور ہر قِسم کا سازوسامان فروخت کرنے والوں نے ایک یا دو دفعہ رات یروشلیمؔ کے باہر گزاری۔
NEH 13:21 لیکن مَیں نے اُنہیں تنبیہ کی اَور کہا، ”تُم رات فصیل کے پاس کیوں گزارتے ہو؟ اگر تُم پھر اَیسا کروگے تو مَیں تُمہیں گِرفتار کرلُوں گا۔“ اُس کے بعد وہ سَبت کے دِن پھر کبھی نہ آئے۔
NEH 13:22 تَب مَیں نے لیویوں کو حُکم دیا کہ جاؤ، اَور سَبت کے دِن کے تقدُّس کو قائِم رکھنے کے لیٔے پھاٹکوں کی نگہبانی کرو۔ اَے میرے خُدا! مُجھے اِس کا نیک اجر دینا اَور اَپنی لافانی مَحَبّت کے مُطابق مُجھ پر رحم کرنا۔
NEH 13:23 اُن ہی دِنوں میں، مَیں نے یہُودیؔہ کے اُن مَردوں کو دیکھا جنہوں نے اشدُودؔ، عمُّون اَور مُوآب کی عورتوں سے شادیاں کی ہُوئی تھیں۔
NEH 13:24 اُن کے آدھے بچّے اشدُودؔ کی زبان یا دیگر اَقوام کی کویٔی زبان بولتے تھے لیکن یہُودی زبان میں بات نہیں کر سکتے تھے۔
NEH 13:25 مَیں نے اُنہیں ڈانٹ ڈپٹ کی اَور اُن پر لعنت کی۔ کچھ لوگوں کو مَیں نے مارا پِیٹا اَور اُن کے بال تک نوچ ڈالے۔ مَیں نے اُنہیں خُدا کے نام پر قَسم کھِلائی اَور کہا: ”تُم اُن کے بیٹوں کے ساتھ اَپنی بیٹیاں ہرگز نہیں بیاہوگے اَور نہ ہی اَپنا اَور اَپنے بیٹوں کا بیاہ اُن کی لڑکیوں سے کروگے۔
NEH 13:26 کیا شُلومونؔ شاہِ اِسرائیل کے گُناہ کرنے کا باعث اَیسی ہی شادیاں نہ تھیں؟ اگرچہ بہت سِی اَقوام میں اُس کی مانند کویٔی بادشاہ نہ تھا، اُس کے خُدا اُس سے مَحَبّت کرتے تھے اَور خُدا نے اُسے تمام اِسرائیل کا بادشاہ بنایا۔ تو بھی غَیریہُودی عورتوں نے اُسے گُناہ میں پھنسایا۔
NEH 13:27 کیا یہ ضروُری ہے کہ ہم تمہاری سُنیں کہ تُم بھی وُہی ہولناک بُرائی کرو اَور غَیریہُودی عورتوں سے شادیاں کرکے ہمارے خُدا کی بےوفائی کرو؟“
NEH 13:28 اِلیاشبؔ اعلیٰ کاہِن کے بیٹے یُویدعؔ کے بیٹوں میں سے ایک سنبلّطؔ حُورونی کا داماد تھا اَور مَیں نے اُسے اَپنے پاس سے بھگا دیا۔
NEH 13:29 اَے میرے خُدا! اُن کی اِس بدی کو یاد رکھنا کیونکہ اُنہُوں نے کہانت کو اَور کہانت اَور لیویوں کے عہد کو ناپاک کیا ہے۔
NEH 13:30 پس مَیں نے کاہِنوں اَور لیویوں کو غَیر قوموں کی رسم و رِواج سے پاک کیا اَور ہیکل میں مُقرّرہ خدمات اَنجام دینے کے لیٔے اُن کی باریاں مُقرّر کر دیں۔
NEH 13:31 مَیں نے مُقرّرہ اوقات پر لکڑی کی رسد اَور پہلے پھلوں کی فراہمی کا بھی اِنتظام کر دیا۔ اَے میرے خُدا مُجھے اِس کا نیک اجر دینا۔
EST 1:1 فارسؔ کا بادشاہ احسویروسؔ (جِس کی مملکت ہندوستانؔ سے کُوشؔ تک کے ایک سَو ستّائیس صوبے شامل تھے)
EST 1:2 اُس وقت بادشاہ احسویروسؔ شُوشنؔ کے قلعہ میں اَپنے تختِ شاہی سے حُکومت کرتا تھا،
EST 1:3 اَور اَپنی سلطنت کے تیسرے سال اُس نے ایک زبردست خُوشی کا جَشن منایا جِس میں مِدائی سے لے کر فارسؔ تک کے تمام منصبدار، حاکم اَور اُمرا مدعو کئے گیٔے تھے۔
EST 1:4 اِس جَشن کے موقع پر بادشاہ نے پُورے ایک سَو اسّی دِن اَپنی بے پناہ دولت و جلال کی شان و شوکت سے پُر مظاہرہ کیا۔
EST 1:5 جَب یہ دِن گزر گئے تو بادشاہ نے ایک ضیافت دی جو سات دِن تک شاہی محل کے بند باغ میں تمام چُھوٹے سے بڑے لوگوں کے لئے جو شُوشنؔ کے قلعہ میں تھے۔
EST 1:6 باغ میں سفید اَور نیلے رنگ کے کتان کے پردے لٹکے ہُوئے تھے، جو سفید کتان کی ڈوریوں اَور اَرغوانی رنگ کے مواد سے جڑے ہُوئے تھے جو کہ سنگ مرمر کے سُتونوں پر چاندی کے کڑے تھے۔ آتِش فشانی چٹّان، سنگ مرمر، بیش قیمتی موتی اَور دیگر قیمتی رنگ برنگے پتّھروں کے فرش پر سونے اَور چاندی کے تخت تھے۔
EST 1:7 مے سونے کے پیالوں میں پیش کی جاتی تھی، ہر ایک دُوسرے سے مُختلف تھا، اَور شاہی مے بہت زِیادہ تھی، بادشاہ کے شاہی کرم مُطابق۔
EST 1:8 بادشاہ نے اَپنے عہدہ داروں کو ہدایت دے رکھی تھی کہ کسی کو مے نوشی پر مجبُور نہ کیا جائے لیکن قاعدہ کے مُطابق ہر کویٔی اَپنی پسند کے مُطابق جِس قدر چاہے نوش فرمایٔے۔
EST 1:9 اُس وقت ملِکہ وَشتیؔ نے بھی بادشاہ احسویروسؔ کے شاہی محل میں عورتوں کی ضیافت کا اہتمام کیا۔
EST 1:10 جَشن کے آخِری دِن جَب بادشاہ احسویروسؔ سُرور میں تھا تو اُس نے اَپنی خدمت میں رہنے والے ساتوں خواجہ سراؤں، مہُومانؔ، بِزتھاؔ، حربُوناؔ، بِگتھاؔ، ابگھتاؔ، زتارؔ اَور کرکسؔ کو حُکم دیا کہ وہ
EST 1:11 ملِکہ وَشتیؔ کو خُوب بنا سجا کر اَور شاہی تاج پہناکر دربار میں پیش کریں تاکہ بادشاہ اَور اُس کے اُمرا کے سامنے اُس کے بے پناہ حُسن کا مظاہرہ کر سکیں۔
EST 1:12 مگر جَب بادشاہ احسویروسؔ کا حُکم خواجہ سراؤں کے ذریعہ ملِکہ وَشتیؔ کو دیا گیا تو اُس نے دربار میں آنے سے صَاف اِنکار کر دیا۔ جَب بادشاہ کو اِس کی اِطّلاع دی گئی تو وہ نہایت ہی غضبناک ہُوا۔
EST 1:13 بادشاہ کا دستُور تھا کہ عدل و اِنصاف کے مُعاملات میں وہ اَپنے ماہرین سے صلاح لیا کرتا تھا کیونکہ نہ وہ صِرف اُن مُعاملات سے بَلکہ فارسؔ کے سارے حالات اَور ماحول سے پُوری طرح واقف تھے۔
EST 1:14 فارسؔ اَور مِدائی کے یہ سات سربراہ کارشِیناؔ، شتھر، ادماتاؔ، ترشیشؔ، مِریسؔ، مرسِناؔ اَور ممُوکانؔ شاہی دربار سے وابستہ تھے اَور بادشاہ کے مقرّبین میں سے تھے اَور یہ بادشاہ کی طرف سے اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔
EST 1:15 جَب اُن سے پُوچھا گیا کہ اَیسے موقع پر کیا کرنا چاہئے اَور ”قانُون کے مُطابق ملِکہ وَشتیؔ کی اُس حُکم عُدولی کی مُناسب سزا کیا ہو سکتی ہے کیونکہ جَب خواجہ سراؤں کی زبانی اُسے دربار میں آنے کا حُکم دیا گیا تو اُس نے بادشاہ احسویروسؔ کے حُکم کی تعمیل نہیں کی؟“
EST 1:16 ممُوکانؔ نے بادشاہ اَور اُمرا کے حُضُور میں عرض کیا کہ، ”ملِکہ وَشتیؔ نے نہ صِرف بادشاہ احسویروسؔ کی، بَلکہ دربار کے تمام اُمرا اَور اِس وسیع سلطنت کے ہر آدمی کی توہین کی ہے۔
EST 1:17 کیونکہ ملِکہ وَشتیؔ کی اُس حرکت سے شہ پا کر سلطنت کی تمام عورتیں اَپنے شوہروں کی حُکم عُدولی کرنے لگیں گی اَور کہیں گی، جَب احسویروسؔ بادشاہ نے اَپنی ملِکہ وَشتیؔ کو اَپنے آپ آنے کا حُکم بھیجا تو وہ نہ آئی۔
EST 1:18 اَور آج ہی جَب اِس واقعہ کی خبر فارسؔ اَور مِدائی کی سَب ملِکاؤں کو ہوگی تو وہ تمام بادشاہ کے اُمرا بھی اَیسا ہی رویّہ اپنانے لگیں گی اَور سلطنت میں چاروں طرف نفرت و غُصّہ کی لہر دَوڑ جائے گی۔
EST 1:19 ”پس اگر بادشاہ احسویروسؔ سلامت کو منظُور ہو تو ہم چاہتے ہیں کہ ایک شاہی فرمان جاری کیا جائے جو فارسؔ اَور مِدائی کے آئین میں بھی درج کیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو اَیسی جُرأت نہ ہو سکے اَور ملِکہ وَشتیؔ کو شاہی حرم سے نکال دیا جائے اَور اُس کی جگہ کسی دُوسری بہتر ملِکہ کا انِتخاب کیا جائے۔
EST 1:20 پس جَب بادشاہ کی وسیع مملکت میں اِس فرمانِ شاہی کا اعلان کیا جائے گا تو ہر عورت کو اَپنے شوہر کا اِحترام کرنا فرض ہوگا چاہے وہ کسی بھی اعلیٰ یا ادنیٰ عہدہ پر مامُور ہو۔“
EST 1:21 بادشاہ اَور اُس کے تمام اُمرا کو ممُوکانؔ کی یہ صلاح پسند آئی اَور بادشاہ نے ممُوکانؔ کے کہنے کے مُطابق کیا۔
EST 1:22 بادشاہ نے مملکت کے تمام صوبوں میں اُن کی مقامی زبان اَور اُن کے رسمُ الخط میں خُطوط بھیج کر اعلان کروا دیا کہ ہر آدمی اَپنے گھر کا مالک ہے اَور وہ اَپنی قوم کی زبان اِستعمال کر سَکتا ہے۔
EST 2:1 اِن باتوں کے بعد جَب بادشاہ احسویروسؔ کا غُصّہ ٹھنڈا پڑ گیا تو اُسے یاد آیا کہ وَشتیؔ نے کیا کیا تھا اَور یہ بھی کہ اُسے کیا سزا دی گئی تھی۔
EST 2:2 تَب وہ مُلازمین جو خاص طور پر بادشاہ کی خدمت پر مامُور تھے یُوں عرض کرنے لگے کہ اگر بادشاہ سلامت کا حُکم ہو تو، ”آپ کے لیٔے خُوبصورت اَور کنواری دوشیزائیں تلاش کی جایٔیں۔
EST 2:3 بادشاہ اَپنی مملکت کے ہر صُوبہ میں اَیسے حاکم مامُور فرمائیں جو اَیسی تمام خُوبصورت کنواریوں کو شُوشنؔ کے قلعہ کے حرم سَرا میں جمع کریں اَور اُنہیں آپ کے خواجہ سرا ہگائیؔ کی مُحافظت میں رکھا جائے جو مستورات پر بطور نِگران مامُور ہے۔ اُنہیں اِس کی خُوبصُورتی کی علاجی اَشیا اَور تمام ضروُری سامان دیا جائے۔
EST 2:4 پھر وہ جَوان کنواری جو بادشاہ کو خُوش کرے وَشتیؔ کی بجائے اُسے ملِکہ بنایا جائے۔“ یہ صلاح بادشاہ کو پہُنچی، اَور اُس نے اِس پر عَمل کیا۔
EST 2:5 شُوشنؔ کے قلعہ میں بِنیامین قبیلہ کا ایک یہُودی تھا جِس کا نام مردکیؔ بِن یائیرؔ بِن شِمعیؔ بِن قیشؔ تھا
EST 2:6 جو یروشلیمؔ کے اُن یہُودیوں میں سے تھا جنہیں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ شاہِ یہُودیؔہ یکونیاہؔ کے ساتھ اسیر کرکے لے گیا تھا۔
EST 2:7 مردکیؔ کی ایک بھتیجی تھی جِس کا نام ہدسّاہؔ عُرف ایسترؔ تھا جسے اُس نے گود لے لیا تھا اَور اُس کی پرورِش کی تھی کیونکہ ایسترؔ کے والدین مَر چُکے تھے۔ وہ نہایت ہی حسین اَور خُوبصورت تھی۔ اُس کے والدین کی وفات کے بعد مردکیؔ نے اُسے اَپنی بیٹی کی طرح پالا تھا۔
EST 2:8 بادشاہ کے فرمان کے جاری اَور مُشتہر ہو جانے کے بعد بہت سِی خُوبصورت کنواریاں شُوشنؔ کے قلعہ میں لائی گئیں اَور ہگائیؔ کے سُپرد ہُوئیں۔ ایسترؔ بھی بادشاہ کے محل میں پہُنچائی گئی اَور وہ بھی ہگائیؔ کے سُپرد کی گئی جو حرم سَرا کا نِگران تھا۔
EST 2:9 یہ لڑکی اُسے بہت اَچھّی لگی اَور اُس کی منظورِ نظر ہو گئی۔ ہگائیؔ نے فوراً ہی اُسے اُس کی خُوبصُورتی کے علاجی اَشیا اَور خصوصی کھانے کا اِنتظام کیا گیا۔ اُس نے شاہی محل کی سات خادِماؤں کو ایسترؔ کی رِفاقت کے لئے چُنا اَور حرم سَرا کے ایک خاص کمرے میں اُن کے رہنے کا بندوبست کر دیا تاکہ ایسترؔ طہارت اَور سنگار کے طور طریقوں سے خُوب واقف ہو جائے۔
EST 2:10 ایسترؔ نے اَپنی قوم اَور اَپنے خاندان کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا کیونکہ مردکیؔ نے اُسے پہلے ہی تاکید کر دی تھی کہ وہ یہ باتیں کسی کو نہ بتائے۔
EST 2:11 مردکیؔ ایسترؔ کی خیریت کا حال دریافت کرنے کے لیٔے ہر روز حرم سَرا کے صحن کے سامنے چکّر لگایا کرتا تھا۔
EST 2:12 ہر خُوبصورت کنواریوں کو اَپنی باری پر بادشاہ احسویروسؔ کے پاس جانے سے پہلے بَارہ مہینوں تک عورتوں کے خُوبصُورتی کے علاجی اَشیا اَور طہارت کے طور طریقوں سے آگاہ ہونا لازمی تھا۔ اُن میں چھ مہینے روغن مُر سے مالش کروانے اَور چھ مہینے دیگر خُوشبوؤں اَور عطریات کے اِستعمال میں گزارے جاتے تھے۔
EST 2:13 بادشاہ کے حُضُور جانے کا طریقہ یہ تھا کہ لڑکی حرم سَرا سے جو کچھ اَپنے ساتھ محل میں لے جانا چاہتی تھی وہ اُسے دیا جاتا تھا۔
EST 2:14 شام کو وہ محل میں جاتی اَور صُبح ہوتے ہی وہاں سے واپس آجاتی اَور پھر خواجہ سرا کے ایک دُوسرے حِصّہ میں شعشگزؔ کے سُپرد کر دی جاتی تھی جو بادشاہ کی داشتاؤں کا مُحافظ تھا۔ جَب تک بادشاہ کسی دوشیزہ کو اَپنی خُوشی سے اُس کا نام لے کر طلب نہ فرماتا تھا تَب تک وہ بادشاہ کے پاس واپس نہیں جا سکتی تھی۔
EST 2:15 جَب ایسترؔ کی باری آئی (جسے مردکیؔ نے پالا پوسا تھا اَورجو اُس کے چچا اَبی حائیل کی بیٹی تھی) کہ وہ بادشاہ کے پاس جائے تو وہ فقط وُہی کچھ لے کر بادشاہ کے حُضُور پہُنچی جو خواجہ سرا کے نِگران ہگائیؔ نے تجویز کیا تھا۔ ایسترؔ ہر دیکھنے والے کی نظر میں مرغوب تھی۔
EST 2:16 ایسترؔ شاہی محل میں بادشاہ کی سلطنت کے ساتویں سال کے دسویں مہینے میں جسے طیبتؔ کہتے ہیں بادشاہ احسویروسؔ کے حُضُور پیش کی گئی۔
EST 2:17 بادشاہ دُوسری لڑکیوں کی بہ نِسبت ایسترؔ کی طرف زِیادہ مُتوجّہ ہُوا اَور وہ تمام کنواریوں سے کہیں بڑھ کر بادشاہ کی منظورِ نظر ٹھہری۔ بادشاہ نے شاہی تاج اُس کے سَر پر رکھا اَور اُسے وَشتیؔ کی جگہ اَپنی ملِکہ بنا لیا۔
EST 2:18 بادشاہ نے ایک عظیم ضیافت ”ضیافت ایسترؔ“ کے نام سے ترتیب دی اَور اَپنے تمام اُمرا و وُزراء کو شرکت کی دعوت دی۔ اِس خُوشی میں تمام صوبوں میں تعطیل کا اعلان کروایا گیا اَور شاہی کرم کے مُطابق انعامات تقسیم کئے گیٔے۔
EST 2:19 جَب کنواریاں دُوسری بار جمع کی گئی تھیں مردکیؔ شاہی محل کے دروازہ پر بیٹھا ہُوا تھا۔
EST 2:20 ایسترؔ نے ابھی تک مردکیؔ کی تاکید کے مُطابق اَپنے خاندانی حالات اَور اَپنی قومیت کو پوشیدہ رکھا ہُوا تھا کیونکہ جَب سے مردکیؔ نے اُس کی پرورِش شروع کی تھی تَب سے وہ ہمیشہ مردکیؔ کے کہے پر عَمل کرتی آ رہی تھی۔
EST 2:21 جَب مردکیؔ شاہی محل کے دروازہ پر بیٹھا ہُوا تھا تو بادشاہ کے دو خواجہ سراؤں بِگتھانؔ اَور ترشؔ نے جو محل کے دروازہ پر پہرا دیتے تھے بادشاہ کی کسی بات پر ناراض ہوکر بادشاہ احسویروسؔ کو قتل کرنے کا قصد کیا۔
EST 2:22 لیکن مردکیؔ کو اِس سازش کا علم ہو گیا اَور اُس نے ملِکہ ایسترؔ کے ذریعہ بادشاہ کو خبر کر دی۔
EST 2:23 جَب اِس بات کی تفتیش کی گئی اَور وہ سچ ثابت ہُوئی تو وہ دونوں خواجہ سرا پھانسی پر لٹکایٔے گیٔے۔ یہ واقعہ بادشاہ کے سامنے ہی شاہی تاریخ کی کِتاب میں درج کر لیا گیا۔
EST 3:1 اِن واقعات کے بادشاہ احسویروسؔ نے ہامانؔ بِن ہمّداتھاؔ اگاگی کو ترقّی دے کر اَپنے تمام اُمرا و وُزراء میں سَب سے اعلیٰ نشست عطا کی۔
EST 3:2 شاہی فرمان کے مُطابق تمام شاہی مُلازمین جو محل کے دروازہ پر مامُور تھے ہامانؔ کے سامنے سَجدہ ریز ہوکر اُسے آداب بجا لاتے تھے لیکن مردکیؔ نہ تو اُس کے سامنے جھُکتا تھا اَور نہ ہی کھڑے ہوکر اُس کی تعظیم کرتا تھا۔
EST 3:3 تَب اُن شاہی مُلازمین نے جو محل کے دروازہ پر مامُور تھے مردکیؔ سے پُوچھا کہ، ”تُو بادشاہ کے حُکم پر عَمل کیوں نہیں کرتا؟“
EST 3:4 وہ ہر روز اُسے بادشاہ کے حُکم پر عَمل کرنے کے لیٔے کہتے تھے لیکن وہ اُسے ماننے سے اِنکار کر دیتا تھا۔ لہٰذا اُنہُوں نے ہامانؔ کو خبر دی۔ دراصل وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا مردکیؔ کے اِس رویّہ کو برداشت کرتا ہے یا نہیں کیونکہ مردکیؔ نے اُنہیں بتا دیا تھا کہ وہ یہُودی ہے۔
EST 3:5 جَب ہامانؔ نے دیکھا کہ مردکیؔ نہ تو اُس کے سامنے جھُکتا ہے نہ ہی اُس کی تعظیم کرتا ہے تو وہ غُصّہ سے بھر گیا۔
EST 3:6 اُسے یہ بات تو مَعلُوم ہو گئی تھی کہ مردکیؔ یہُودی ہے اِس لیٔے ہامانؔ نے صِرف مردکیؔ کو ٹھکانے لگانا کسرِ شان سمجھا اَور اِرادہ کیا کہ مردکیؔ کے تمام ہم قوم لوگوں یعنی یہُودیوں کو ہلاک کر دیا جائے جو احسویروسؔ کی مملکت میں جابجا مُقیم تھے۔
EST 3:7 شاہِ احسویروسؔ کی حُکومت کے بارہویں سال کے پہلے مہینے یعنی نیسانؔ میں ہامانؔ کی مَوجُودگی میں پُور یعنی قُرعہ ڈالا گیا تاکہ یہُودیوں کے قتل کا کویٔی مہینہ اَور دِن مُقرّر کیا جائے۔ قُرعہ میں بارہویں مہینے یعنی آدارؔ مہینہ نِکلا۔
EST 3:8 تَب ہامانؔ نے شاہ احسویروسؔ سے عرض کیا کہ، ”بادشاہ کی مملکت کے تمام صوبوں میں رعایا میں بعض اَیسے لوگ بھی پھیلے ہُوئے ہیں جِن کے رسم و رِواج دُوسروں سے مُختلف ہیں اَورجو بادشاہ کے قوانین پر بھی عَمل نہیں کرتے۔ اَیسے لوگوں کی اِس حرکت کو برداشت کئے جانا بادشاہ کے لیٔے خطرناک ثابت ہو سَکتا ہے۔
EST 3:9 اگر بادشاہ سلامت پسند فرمائیں تو اِن لوگوں کے ہلاک کئے جانے کا فرمان جاری کیا جائے اَور مَیں چاندی کے دس ہزار تالنت شاہی خزانہ میں جمع کراؤں گا تاکہ وہ اُس کام پر خرچ کئے جایٔیں۔“
EST 3:10 بادشاہ نے اَپنی اُنگلی سے شاہی مُہر والی انگُوٹھی اُتار کر یہُودیوں کے دُشمن ہامانؔ بِن ہمّداتھاؔ اگاگی کے سُپرد کر دی اَور
EST 3:11 بادشاہ نے ہامانؔ سے کہا، ”تُو اَپنی رقم اَپنے ہی پاس رکھ اَور اُن لوگوں سے جَیسا تُو مُناسب سمجھے وُہی کر۔“
EST 3:12 تَب پہلے مہینے کی تیرہویں تاریخ کو شاہی محرِّر بُلائے گیٔے اَور ہامانؔ کے کہنے کے مُطابق ہر صُوبہ کی زبان اَور رسم الخط میں ہر قوم کے لوگوں کے لیٔے اَحکام تحریر کروائے گیٔے اَور بادشاہ کے سَب صُوبہ داروں، حاکموں اَور مُختلف اَقوام کے سرداروں کو بھجوائے گیٔے۔ یہ اَحکام بادشاہ احسویروسؔ کے نام سے لکھے گیٔے تھے اَور اُن پر انگُوٹھی سے شاہی مُہر لگا دی گئی تھی۔
EST 3:13 یہ فرمان ہرکاروں کے ذریعہ بادشاہ کے تمام صوبوں میں بھیجے گیٔے۔ اُن میں تحریر تھا کہ یہُودی قوم کے تمام ضعیفوں، جَوانوں، عورتوں اَور بچّوں کو بارہویں مہینے یعنی آدارؔ کی تیرہویں تاریخ کو ایک ہی دِن میں موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے اَور اُن کا مال و اَسباب لُوٹ لیا جائے۔
EST 3:14 اِس فرمان کی ایک ایک نقل تمام صوبوں میں بھیج کر بطور قانُون شائع کی جائے اَور ہر قوم کے لوگوں کے علم میں لائی جائے تاکہ وہ اُس دِن کے لیٔے تیّار رہیں۔
EST 3:15 ہرکارے اِس شاہی فرمان کو لے کر تیزی سے روانہ ہو گئے اَور شُوشنؔ کے قلعہ میں بھی اِس فرمان کو مُشتہر کر دیا گیا۔ شُوشنؔ کے سارے شہر میں افراتفری پھیلی ہُوئی تھی لیکن بادشاہ اَور ہامانؔ بیٹھے ہُوئے شراب نوشی میں مشغُول تھے۔
EST 4:1 جَب مردکیؔ کو اُن سَب باتوں کا علم ہُوا تو اُس نے اَپنے کپڑے پھاڑ ڈالے، ٹاٹ اوڑھ لیا اَور اَپنے سَر پر راکھ ڈال کرچیختا، چِلّاتا اَور سینہ کُوبی کرتا ہُوا شہر کے چَوک میں جا پہُنچا۔
EST 4:2 لیکن وہ شاہی محل کے دروازہ پر رُک گیا کیونکہ کسی کو ٹاٹ اوڑھے ہُوئے محل کے اَندر داخل ہونے کی اِجازت نہ تھی۔
EST 4:3 ہر صُوبہ میں جہاں جہاں بادشاہ کا فرمان پہُنچا یہُودیوں میں نوحہ اَور ماتم شروع ہو گیا۔ اُنہُوں نے کھانا پینا چھوڑکر روزہ سے ہو گئے اَور آہ و زاری کرنے میں مشغُول ہو گئے۔ کیٔی لوگوں نے ٹاٹ اوڑھ لیا اَور اَپنے سَروں پر راکھ ڈال لی۔
EST 4:4 جَب ایسترؔ کی خادِمائیں اَور خواجہ سرا یہ خبر لے کر ایسترؔ کے پاس آئے تو وہ بہت غمگین ہُوئی۔ اُس نے کچھ کپڑے لیٔے اَور اُنہیں مردکیؔ کو بھیج کر درخواست کی کہ وہ اُنہیں پہن لے لیکن مردکیؔ نے اُنہیں لینے سے اِنکار کر دیا۔
EST 4:5 تَب ایسترؔ نے بادشاہ کے خواجہ سراؤں میں سے ایک خواجہ سرا ہتاکؔ کو جو ملِکہ کی خدمت مَیں حاضِر رہنے کے لیٔے مُقرّر کیا گیا تھا بُلایا اَور اُسے حُکم دیا کہ وہ جائے اَور پتا لگائے کہ مردکیؔ پر کیا مُصیبت آ پڑی ہے اَور اُس کا سبب کیا ہے؟
EST 4:6 چنانچہ ہتاکؔ باہر نِکلا اَور شہر کے چَوک میں مردکیؔ گیا جو شاہی محل کے دروازہ کے دروازہ کے سامنے تھا۔
EST 4:7 مردکیؔ نے اُسے پُوری سرگزشت کہہ سُنایٔی اَور اُس رقم کے بارے میں بھی بتایا جِس کے شاہی خزانہ میں جمع کرانے کا ہامانؔ نے وعدہ کیا تھا تاکہ اُسے یہُودیوں کو ہلاک کرنے پر خرچ کیا جائے۔
EST 4:8 مردکیؔ نے ہتاکؔ کو اُس فرمان کی ایک نقل بھی دی جو یہُودیوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں شُوشنؔ میں مُشتہر کیا گیا تھا تاکہ وہ ایسترؔ کو دِکھا سکے اَور اُس سے درخواست کرے کہ وہ فوراً بادشاہ سلامت کی حُضُوری میں جائے اَور اَپنی قوم کے لوگوں کے لیٔے رحم کی بھیک مانگے۔
EST 4:9 ہتاکؔ نے واپس جا کر ملِکہ ایسترؔ کو سَب کچھ جو مردکیؔ نے کہاتھا کہہ سُنایا۔
EST 4:10 اِس پر ایسترؔ نے ہتاکؔ کو تاکید کی کہ وہ مردکیؔ کو یہ بتائے کہ،
EST 4:11 ”بادشاہ کے تمام صوبوں کے حُکاّم اَور باشِندے جانتے ہیں کہ اگر کویٔی شخص بادشاہ کی اَندرونی بارگاہ میں بِن بُلائے داخل ہوتاہے تو بادشاہ کے حُکم کے مُطابق قتل کر دیا جاتا ہے لیکن جِس کی طرف بادشاہ اَپنا طلائی عصائے شاہی بڑھاتاہے اُس کی جان سلامت رہ سکتی ہے۔ جہاں تک میرا تعلّق ہے پُورے تیس دِن ہو گئے ہیں کہ مُجھے بھی بادشاہ سلامت کی طرف سے طلب نہیں کیا گیا ہے۔“
EST 4:12 جَب ایسترؔ کے یہ الفاظ مردکیؔ کو سُنائے گیٔے،
EST 4:13 تو مردکیؔ نے جَواب میں کَہلوا بھیجا: ”ایسترؔ تُو یہ مت سوچ کہ تُو بادشاہ کے محل میں سکونت پذیر ہے اِس لیٔے یہُودیوں میں سے صِرف تُو ہی سلامت بچی رہے گی۔
EST 4:14 اگر تُو اَب بھی زبان بند رکھے گی تو یہُودیوں کو تو کسی اَور طرف سے مدد اَور نَجات پہُنچ جائے گی لیکن تُو اَپنے باپ کے گھرانے سمیت ہلاک ہوگی۔ کون جانتا ہے کہ تُو اَیسے مُشکل وقت میں ہماری مدد کرنے کے لیٔے اِس شاہی مرتبہ تک پہُنچی ہے؟“
EST 4:15 تَب ایسترؔ نے مردکیؔ کو یہ پیغام بھجوایا:
EST 4:16 ”جا، اَور شُوشنؔ میں مَوجُود تمام یہُودیوں کو جمع کر اَور تُم سَب میرے لیٔے تین دِن اَور رات تک روزہ رکھو، کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ لو۔ میں اَور میری خادِمائیں بھی تمہاری طرح روزہ رکھیں گی۔ اِس کے بعد میں بادشاہ کے حُضُور میں جاؤں گی حالانکہ یہ خِلاف قانُون ہے لیکن اگر مُجھے ہلاک ہونا ہی ہے تو ہونے دو۔“
EST 4:17 چنانچہ مردکیؔ چلا گیا اَور ایسترؔ نے جو کچھ کہاتھا اُس پر عَمل کیا۔
EST 5:1 تیسرے دِن ایسترؔ نے اَپنا شاہی لباس زیب تن فرمایا اَور شاہی محل کی اَندرونی بارگاہ میں جا کر ایوانِ تخت کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ بادشاہ تختِ شاہی پر جلوہ افروز تھا۔
EST 5:2 جَب اُس نے ملِکہ ایسترؔ کو باہر صحن میں کھڑی دیکھا تو اُسے بڑی خُوشی ہُوئی اَور اُس نے طلائی عصائے شاہی کو جو اُس کے ہاتھ میں تھا ایسترؔ کی طرف بڑھایا۔ ایسترؔ آگے بڑھی اَور اُس نے عصائے شاہی کی نوک کو ہاتھ سے چھُو لیا۔
EST 5:3 اِس پر بادشاہ نے فرمایا کہ، ”ملِکہ ایسترؔ! کیا بات ہے؟ تُو کیا چاہتی ہے؟ تُو چاہے تو میں اَپنی آدھی سلطنت بھی تُجھے دے سَکتا ہُوں۔“
EST 5:4 ایسترؔ نے جَواب دیا کہ، ”میری اِلتجا یہ ہے کہ آج بادشاہ سلامت ہامانؔ، کو ساتھ لے کر اُس ضیافت میں تشریف لائیں جِس کا اہتمام مَیں نے آپ کے لیٔے کیا ہے۔“
EST 5:5 بادشاہ نے فرمایا، ”ہامانؔ کو فوراً طلب کیا جائے، تاکہ ہم ایسترؔ کے کہنے کے مُطابق ضیافت میں شریک ہو سکیں۔“ پس بادشاہ اَور ہامانؔ ایسترؔ کی ضیافت میں شریک ہونے کے لیٔے روانہ ہو گئے۔
EST 5:6 جَب مے کا دَور چل رہاتھا تو بادشاہ نے ایسترؔ سے پُوچھا کہ، ”بتا تیری درخواست کیا ہے؟ تُو جو کچھ مانگے گی تُجھے دیا جائے گا۔ تیری کیا ہے؟ اگر تُو میری نِصف سلطنت بھی چاہے گی تو وہ بھی تُجھے دے دی جائے گی۔“
EST 5:7 ایسترؔ نے جَواب دیا کہ، ”میری اِلتماس اَور میری درخواست یہ ہے کہ
EST 5:8 اگر مَیں بادشاہ کی نظر میں مقبُول ٹھہروں اَور بادشاہ میری اِلتماس قبُول کرنے میں خُوشی محسُوس کریں تو بادشاہ سلامت ہامانؔ کے ساتھ کل پھر میری ضیافت میں جِس کا مَیں نے اہتمام کیا ہے شرکت فرمائیں۔ اُس وقت مَیں بادشاہ سلامت کے حُضُور اَپنے سوال کا جَواب پیش کروں گی۔“
EST 5:9 اُس دِن ہامانؔ خُوشی سے بھرا ہُوا باہر نِکلا لیکن جَب اُس نے مردکیؔ کو شاہی محل کے دروازہ پر بیٹھا پایا اَور دیکھا کہ وہ اُس کی تعظیم کو کھڑا نہیں ہُوا تو اُسے بڑا غُصّہ آیا۔
EST 5:10 لیکن ہامانؔ نے ضَبط سے کام لیا اَور خاموشی سے اَپنے گھر چلا گیا۔ اُس نے اَپنے دوستوں اَور اَپنی بیوی زِیرشؔ کو بُلوایا اَور
EST 5:11 ہامانؔ اُن کے سامنے شیخی مار کر کہنے لگاکہ میرے پاس بے اِنتہا دولت ہے، کیٔی بیٹے ہیں اَور بادشاہ نے میری اِس قدر عزّت اَفزائی کی ہے کہ مُجھے اعلیٰ مرتبہ عطا فرمایاہے اَور تمام اُمرا اَور وُزراء پر مُجھے فضیلت بخشی ہے۔
EST 5:12 اَور ہامانؔ نے مزید کہا صِرف یہی نہیں بَلکہ ملِکہ ایسترؔ نے بھی بادشاہ کے ساتھ مُجھے ہی اَپنی ضیافت میں مدعو کیا اَور کل پھر دعوت دی ہے۔
EST 5:13 لیکن اِن باتوں سے مُجھے کویٔی راحت نصیب نہیں ہُوئی کیونکہ وہ یہُودی مردکیؔ مُجھے ہمیشہ شاہی محل کے دروازہ پر بیٹھا دِکھائی دیتاہے۔
EST 5:14 اُس کی بیوی زِیرشؔ اَور اُس کے دوستوں نے کہا، ”تُو ایک سُولی بنوا جو پچاس ہاتھ اُونچی ہو اَور صُبح کو بادشاہ سے کہہ کہ مردکیؔ اُس پر چڑھایا جائے۔ اُس کے بعد خُوشی خُوشی بادشاہ کے ساتھ ضیافت میں جانا۔“ یہ تجویز ہامانؔ کو بہت پسند آئی اَور اُس نے ایک سُولی بنوانے کا حُکم دے دیا۔
EST 6:1 اُس رات بادشاہ کو نیند نہ آئی اِس لیٔے اُس نے اَپنی مملکت کے واقعات کی تواریخی کِتاب منگوائی تاکہ وہ بادشاہ کے حُضُور میں پڑھی جائے۔
EST 6:2 اُس میں ایک جگہ مذکور تھا کہ مردکیؔ نے بِگتھانؔ اَور ترشؔ کی بادشاہ احسویروسؔ کو قتل کرنے کی سازش کو بے نقاب کیا تھا۔ یہ دونوں بادشاہ کے خواجہ سراؤں میں سے تھے اَور قصرِ شاہی کے دروازہ پر پہرا دیا کرتے تھے۔
EST 6:3 بادشاہ نے پُوچھا کہ مردکیؔ کو اِس کا کیا اجر دیا گیا یا اُسے کیا منصب عطا فرمایا گیا؟ بادشاہ کے مُلازمین نے جو اُس کی خدمت میں تھے عرض کیا کہ کچھ بھی نہیں۔
EST 6:4 بادشاہ نے کہا، ”دیکھو صحن میں کون ہے؟“ اُس وقت ہامانؔ بادشاہ سے مردکیؔ کے سُولی پر چڑھائے جانے کے بارے میں بات کرنے کی غرض سے بارگاہ میں داخل ہو چُکاتھا۔
EST 6:5 بادشاہ کے مُلازمین نے جَواب دیا، ”ہامانؔ بارگاہ مَیں حاضِر ہے۔“ بادشاہ نے فرمایا، ”اُسے اَندر آنے دیا جائے۔“
EST 6:6 جَب ہامانؔ اَندر آیا تو بادشاہ نے اُس سے پُوچھا، ”جِس شخص سے بادشاہ خُوش ہو اُسے کیا اِعزاز مِلنا چاہئے؟“ ہامانؔ نے اُس وقت اَپنے دِل میں سوچا، ”بادشاہ سلامت کی طرف سے اِعزاز پانے کے لائق مُجھ سے بہتر اَور کون ہوگا؟“
EST 6:7 لہٰذا ہامانؔ نے جَواب دیا، ”اگر بادشاہ سلامت کسی سے خُوش ہوکر اُسے اِعزاز عطا فرمانا چاہیں،
EST 6:8 تو اُسے شاہی لباس پہنایا جائے، شاہی اصطبل سے شاہی طغرے والا گھوڑا لاکر اُس پر اُسے سوار کیا جائے،
EST 6:9 یہ پوشاک اَور گھوڑا کسی عالی نَسب اَمیر کے سُپرد کیا جائے تاکہ وہ اُس آدمی کو جسے بادشاہ سلامت خُوش ہوکر اِعزاز عطا فرمانا چاہیں خلعت شاہی پہنائے اَور گھوڑے پر سوار کرے۔ پھر اُس شخص کو شہر کے چَوک میں لے جا کر گھُمایا جائے اَور اُس کے آگے آگے مُنادی کی جائے، ’جو شخص بادشاہ کی خُوشی کا باعث ہوتاہے اُسے اِسی طرح سرفراز کیا جاتا ہے!‘ “
EST 6:10 بادشاہ نے ہامانؔ کو حُکم دیا، ”فوراً جاؤ،“ اَور ”خلعت اَور گھوڑا لے کر اُس یہُودی مردکیؔ کے حوالہ کر دے جو محل کے دروازہ کے دروازہ پر بیٹھا ہُواہے اَور اُس کی عزّت اَفزائی کر اَورجو کچھ تُونے کہا ہے بالکُل وَیسا ہی کیا جائے۔ اُس میں کویٔی کسر نہ رہنے پایٔے۔“
EST 6:11 پس ہامانؔ خلعت شاہی اَور گھوڑا لایا۔ اُس نے مردکیؔ کو خلعت پہناکر گھوڑے پر سوار کیا اَور شہر کے چَوک میں گھُمایا اَور مُنادی کروائی، ”اَیسا اِعزاز اُسے عطا کیا جاتا ہے جو بادشاہ کی خُوشی کا موجب بنتا ہے۔“
EST 6:12 اُس کے بعد مردکیؔ شاہی محل کے دروازہ پر واپس آ گیا لیکن ہامانؔ نے آزردہ خاطِر ہوکر اَپنا چہرہ چھُپا لیا اَور فوراً اَپنے گھر چلا گیا۔
EST 6:13 ہامانؔ نے اَپنی بیوی زِیرشؔ اَور اَپنے دوستوں کو اُس واقعہ کی خبر دی جو اُسے پیش آیاتھا۔ اُس کے مُشیروں اَور اُس کی بیوی زِیرشؔ نے اُس سے کہا، ”اگر مردکیؔ آپ کی ذِلّت کا باعث ہُواہے جو ایک یہُودی ہے تو آپ کا اُس پر غالب آنا ممکن نہیں بَلکہ آپ خُود تباہ ہوکر رہ جائیں گے!“
EST 6:14 ابھی یہ گُفتگو جاری ہی تھی کہ بادشاہ کے خواجہ سرا پہُنچ گیٔے تاکہ ہامانؔ کو جلدی سے ملِکہ ایسترؔ کی ترتیب دی ہُوئی ضیافت میں لے جایٔیں۔
EST 7:1 تو بادشاہ اَور ہامانؔ دونوں ملِکہ ایسترؔ کے یہاں ضیافت میں پہُنچے کہ وہاں کھایٔیں اَور پیئیں۔
EST 7:2 یہ ضیافت کا دُوسرا دِن تھا۔ جَب مے کا دَور چل رہاتھا تو بادشاہ نے ملِکہ ایسترؔ سے ایک بار پھر پُوچھا، ”اَے ملِکہ ایسترؔ، تیری اِلتماس کیا ہے؟ تُو جو کچھ چاہے گی وہ تُجھے عطا کیا جائے گا۔ بتا تُجھے کیا چاہئے؟ اگر تُو میری آدھی سلطنت بھی مانگے گی تو وہ بھی تُجھے بخش دی جائے گی۔“
EST 7:3 تَب ملِکہ ایسترؔ نے جَواب دیا کہ، ”اگر مَیں بادشاہ سلامت کی نظر میں مقبُول ٹھہری ہُوں تو مُجھ پر بادشاہ کا کرم ہو اَور نہ صِرف میری جان بخشی ہو بَلکہ میری ایک اَور اِلتماس بھی ہے کہ میری قوم کے لوگوں کی جان بھی بخشی جائے۔
EST 7:4 کیونکہ مُجھے اَور میری قوم کے لوگوں کو بیچ دیا گیا ہے تاکہ ہم سَب ہلاک کئے جایٔیں اَور ہمارا نام و نِشان مِٹ جائے۔ اگر ہم لوگ غُلام اَور باندیوں کی طرح بیچے جاتے تو مَیں خاموش رہتی کیونکہ یہ کویٔی اَیسا بڑا سانِحہ نہ ہوتا جسے بادشاہ کو بتا کر پریشان کیا جاتا۔“
EST 7:5 بادشاہ احسویروسؔ نے ملِکہ ایسترؔ سے پُوچھا کہ، ”وہ کون ہے اَور کہاں ہے جِس نے اَیسا سوچنے کی جُرأت کی؟“
EST 7:6 ایسترؔ نے کہا: ”ہمارا وہ مُخالف اَور دُشمن یہی خبیث ہامانؔ ہے!“ یہ سُن کر ہامانؔ پر بادشاہ اَور ملِکہ کے سامنے ہی لرزہ طاری ہو گیا۔
EST 7:7 اَور بادشاہ غضبناک ہوکر اُٹھ کھڑا ہُوا، جام ہاتھ سے رکھ دیا اَور محل کے باغ میں چلا گیا۔ ہامانؔ سمجھ گیا کہ بادشاہ نے اُسے سزا دینے کی ٹھان لی ہے لہٰذا وہ وہیں رُکا رہا اَور ملِکہ ایسترؔ سے زندگی کی بھیک مانگنے کے لئے کھڑا رہا۔
EST 7:8 جَب بادشاہ محل کے باغ سے ضیافت کے کمرہ میں واپس آیا تو اُس نے دیکھا کہ ہامانؔ اُسی دیوان پر جھُکا ہُواہے جِس پر ملِکہ ایسترؔ تشریف فرما تھی۔ بادشاہ نے کہا، ”یہ میرے گھر میں میرے ہی سامنے ملِکہ کی عزّت پر ہاتھ ڈالنے پر آمادہ ہے؟“ جَیسے ہی یہ الفاظ بادشاہ کی زبان سے نکلے خدمت گاروں نے ہامانؔ کے مُنہ پر کپڑا ڈال دیا۔
EST 7:9 حربُوناؔ خواجہ سرا نے جو بادشاہ کے خادِموں میں سے تھا بادشاہ سے عرض کی، ”حُضُور! ایک سُولی پچاس ہاتھ اُونچی ہامانؔ کے گھر کے پاس تیّار کی گئی ہے۔ وہ ہامانؔ نے مردکیؔ کے لیٔے تیّار کروائی ہے جِس نے بادشاہ سلامت کو ایک بڑے خطرہ سے آگاہ کیا تھا۔“ بادشاہ نے کہا: ”ہامانؔ کو اُسی سُولی پر ٹانگ دو۔“
EST 7:10 پس اُنہُوں نے ہامانؔ کو اُسی سُولی پر ٹانگ دیا جو اُس نے مردکیؔ کے لیٔے تیّار کروائی تھی۔ تَب کہیں بادشاہ کا غُصّہ ٹھنڈا ہُوا۔
EST 8:1 احسویروسؔ بادشاہ نے اُسی دِن یہُودیوں کے دُشمن ہامانؔ کی جاگیر ملِکہ ایسترؔ کو عطا فرمائی اَور مردکیؔ بادشاہ کی خدمت مَیں حاضِر ہُوا کیونکہ ایسترؔ نے بادشاہ کو بتا دیا تھا کہ مردکیؔ کا اُس کے ساتھ رشتہ کیا ہے۔
EST 8:2 بادشاہ نے اَپنی انگُوٹھی اُتاری جو اُس نے ہامانؔ سے واپس لے لی تھی اَور مردکیؔ کو دے دی اَور ملِکہ ایسترؔ نے مردکیؔ کو ہامانؔ کی جاگیر پر بطور مختار مامُور کر دیا۔
EST 8:3 ایسترؔ نے بادشاہ کے قدموں پر گِر کر روتے ہُوئے یہ مِنّت بھی کی کہ یہُودیوں کو ہلاک کروانے کا منصُوبہ جو اگاگی ہامانؔ نے بنایا تھا ردّ کیا جائے۔
EST 8:4 تَب بادشاہ نے اَپنا طلائی عصائے شاہی ایسترؔ کی طرف بڑھایا۔ وہ اُٹھی اَور بادشاہ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
EST 8:5 اَور کہنے لگی، ”اگر بادشاہ سلامت مُجھ سے راضی ہیں اَور مَیں اُن کی منظورِ نظر ہُوں تو کیا بادشاہ سلامت میری یہ درخواست بھی قبُول فرمائیں گے کہ وہ اَحکام منسُوخ کئے جایٔیں جنہیں ہامانؔ بِن ہمّداتھاؔ اگاگی نے اُن سَب یہُودیوں کو جو بادشاہ کی مملکت کے مُختلف صوبوں میں بسے ہُوئے ہیں ہلاک کرنے کے لیٔے جاری کیا تھا؟
EST 8:6 بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اَپنی آنکھوں سے اَپنی قوم کے لوگوں کو تباہ ہوتے ہُوئے دیکھوں؟ میں اَپنے رشتہ داروں کی ہلاکت کیسے برداشت کر سکتی ہُوں؟“
EST 8:7 بادشاہ احسویروسؔ نے ملِکہ ایسترؔ اَور یہُودی مردکیؔ سے کہا: ”کیونکہ ہامانؔ نے یہُودیوں کو اَپنا نِشانہ بنانا چاہا تھا مَیں نے ہامانؔ کا گھر لے کر ایسترؔ کو دے دیا اَور ہامانؔ کو سُولی پر ٹنگوا دیا۔
EST 8:8 اَب تُم بھی ایک فرمان بادشاہ کے نام سے یہُودیوں کے بارے میں جَیسا تُمہیں مُناسب مَعلُوم ہو تیّار کرو۔ اُس پر میری انگُوٹھی کی مُہر لگائی جائے کیونکہ جو فرمان بادشاہ کی انگُوٹھی کی مُہر کے ساتھ جاری کیا جاتا ہے اُسے کویٔی ردّ نہیں کر سَکتا۔“
EST 8:9 اُسی وقت یعنی تیسرے مہینے سیوانؔ کی تئیسویں تاریخ کو شاہی مُنشی بُلائے گیٔے۔ اُنہُوں نے مردکیؔ کے اَحکام تحریر کئے جو یہُودیوں اَور ہندوستانؔ سے کُوشؔ تک کے ایک سَو ستّائیس صوبوں کے حاکموں اَور اُمرا کے نام تھے۔ یہ اَحکام ہر صُوبہ کی زبان میں جو لوگوں میں اُس وقت رائج تھی لکھے گیٔے اَور یہُودیوں کو اُن کی زبان اَور اُن کے رسمُ الخط میں لِکھ کر بھیجے گیٔے۔
EST 8:10 مردکیؔ کے یہ تحریری اَحکام شاہ احسویروسؔ کے نام سے جاری کئے گیٔے اَور اُنہیں بھیجنے سے پہلے اُن پر شاہی انگُوٹھی سے مُہر لگائی گئی۔ اُن اَحکام کو سرکاری ہرکارے عُمدہ نَسل کے تیز رفتار گھوڑوں پرجو بادشاہ کے لیٔے پالے جاتے تھے لے کر روانہ ہُوئے۔
EST 8:11 بادشاہ نے اِن اَحکام کے ذریعہ ہر شہر کے یہُودیوں کو اِجازت دی کہ وہ اَپنے دفاع کے لیٔے اِکٹھّے ہوکر لڑ سکتے ہیں اَور ہر مُسلّح فَوج کو خواہ وہ کسی قوم کی ہو جو اُن پر، اُن کی بیویوں اَور اُن کے بال بچّوں پر حملہ کرے ہلاک کرکے نابود کر دیں اَور اُن کا مال و اَسباب لُوٹ لیں۔
EST 8:12 یہُودیوں کو اَیسا اقدام کرنے کی اِجازت صِرف ایک دِن کے لیٔے تھی۔ اِس کے لیٔے بارہویں مہینے یعنی آدارؔ کی تیرہویں تاریخ مُقرّر کی گئی اَور اِس کا اطلاق بادشاہ احسویروسؔ کے تمام صوبوں پر تھا۔
EST 8:13 اِس فرمان کو ایک قانُون کی حیثیت دی گئی اَور اُس کی نقل ہر صُوبہ میں مُشتہر کی گئی تاکہ ہر قوم کے لوگ اُس سے آگاہ ہو جایٔیں اَور اُس دِن یہُودی اَپنے دُشمنوں سے اِنتقام لینے کے لیٔے تیّار رہیں۔
EST 8:14 بادشاہ کے حُکم کے مُطابق سرکاری ہرکارے شاہی گھوڑوں پر سوار ہوکر تیزی سے روانہ ہُوئے اَور یہ فرمان شُوشنؔ کے قلعہ میں بھی مُشتہر کیا گیا۔
EST 8:15 جَب مردکیؔ بادشاہ کے حُضُور سے باہر نِکلا تو وہ نیلے اَور سفید رنگ کا شاہانہ لباس، سونے کا بڑا سا تاج اَور باریک کتان کا اَرغوانی شاہی لباس پہنے ہُوئے تھا۔ سارے شُوشنؔ شہر میں جَشن کا ماحول تھا۔
EST 8:16 یہُودیوں کے لیٔے یہ خُوشی اَور خُرّمی کا موقع تھا کیونکہ اُنہیں بڑی عزّت اَور شادمانی حاصل ہُوئی تھی۔
EST 8:17 ہر صُوبہ اَور شہر میں جہاں بھی بادشاہ کا یہ فرمان پہُنچا یہُودیوں میں خُوشی اَور شادمانی کی لہر دَوڑ گئی، ضیافتیں ہُوئیں اَور عید منائی گئی۔ یہُودیوں کے خوف سے کیٔی قوموں کے لوگ یہُودی ہو گئے۔
EST 9:1 آدارؔ یعنی بارہویں مہینے کی تیرہویں تاریخ کے شاہی مُہر والے فرمان کی تعمیل کا وقت آ پہُنچا۔ اُس دِن یہُودیوں کے دُشمنوں کو پُوری اُمّید تھی کہ وہ یہُودیوں پر غلبہ حاصل کر لیں گے لیکن اَب چونکہ حالات بالکُل برعکس ہو گئے تھے اِس لیٔے یہُودیوں نے اُلٹا اَپنے نفرت کرنے والوں پر غلبہ حاصل کر لیا۔
EST 9:2 بادشاہ احسویروسؔ کے تمام صوبوں کے یہُودی اَپنے اَپنے شہروں میں جمع ہُوئے تاکہ اُن پرجو اُن کی بربادی کے خواہاں تھے حملہ آور ہُوں۔ اُن کے مقابل کسی کو کھڑا ہونے کی جُرأت نہ ہُوئی کیونکہ ساری قوموں پر دہشت طاری ہو چُکی تھی۔
EST 9:3 اَور صوبوں کے تمام اُمرا اَور بادشاہ کے حاکموں نے یہُودیوں کی مدد کی کیونکہ وہ مردکیؔ سے بہت مرعوب ہو چُکے تھے۔
EST 9:4 مردکیؔ شاہی محل میں بڑی اہمیّت کاحامل تھا۔ اُس کی شہرت تمام صوبوں میں پھیل چُکی تھی اَور وہ روز بروز طاقتور ہوتا چلا گیا۔
EST 9:5 یہُودیوں نے اَپنے سارے دُشمنوں کو تلوار کا نِشانہ بنایا اَور اُنہیں ہلاک کرکے تباہ و برباد کر دیا اَور اَپنے نفرت کرنے والوں کے ساتھ جیسا چاہا سو کیا۔
EST 9:6 یہُودیوں نے شُوشنؔ کے قلعہ ہی میں پانچ سَو آدمیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا۔
EST 9:7 اُنہُوں نے پرشنداتاؔ، دلفُونؔ اَور اسفاتاؔ،
EST 9:8 پوراتاؔ، ادلیاہؔ اَور اردتاؔ،
EST 9:9 اَور پرماشتاہؔ، ارِیسیؔ، ارِدیؔ اَور وَیزاتھاؔ کو بھی قتل کر ڈالا۔
EST 9:10 کیونکہ ہامانؔ بِن ہمّداتھاؔ یہُودیوں کا کٹّر دُشمن تھا اِس لیٔے ہامانؔ کے یہ دسوں بیٹے قتل کئے گیٔے۔ لیکن یہُودیوں نے لُوٹ مار نہ کی۔
EST 9:11 شہر شُوشنؔ کے قلعہ میں قتل ہونے والوں کی خبر بادشاہ کو اُسی دِن پہُنچا دی گئی تھی۔
EST 9:12 بادشاہ نے ملِکہ ایسترؔ سے کہا: ”یہُودیوں نے شُوشنؔ کے قلعہ ہی میں پانچ سَو افراد کو قتل کرکے نابود کر دیا ہے اَور ہامانؔ کے دس بیٹوں کو مار ڈالا ہے تو اُنہُوں نے مملکت کے دُوسرے شاہی صوبوں میں کیا کچھ کیا ہوگا؟ اَب تیری اِلتماس کیا ہے؟ وہ بھی منظُور کی جائے گی۔ بتا! تُو اَور کیا چاہتی ہے؟ تُجھے وہ بھی مِل جائے گا۔“
EST 9:13 ایسترؔ نے جَواب دیا، ”اگر بادشاہ کو منظُور ہو تو شُوشنؔ کے یہُودیوں کو اِجازت دی جائے کہ اُنہُوں نے آپ کے فرمان کے مُطابق جَیسا آج کیا ہے کل بھی کریں۔ اَور یہ بھی حُکم دیا جائے کہ ہامانؔ کے دسوں بیٹے سُولی پر چڑھائے جایٔیں۔“
EST 9:14 بادشاہ نے حُکم فرمایا کہ یہ بھی کیا جائے۔ پس شُوشنؔ میں فرمان جاری کیا گیا اَور ہامانؔ کے دسوں بیٹے سُولی پر چڑھا دئیے گیٔے۔
EST 9:15 شُوشنؔ میں رہنے والے یہُودی آدارؔ کے مہینے کی چودھویں تاریخ کو جمع ہُوئے اَور اُنہُوں نے تین سَو آدمی اَور قتل کر ڈالے لیکن اُس دِن بھی لُوٹ مار نہ کی۔
EST 9:16 باقی یہُودی جو بادشاہ کے صوبوں میں تھے جمع ہُوئے تاکہ پُوری تیّاری کے ساتھ اَپنے دُشمنوں پر غالب آکر اُن سے چھُٹکارا پائیں۔ اُنہُوں نے پچھتّر ہزار افراد کو ہلاک کر دیا لیکن اُن کا مال و اَسباب نہ لُوٹا۔
EST 9:17 آدارؔ کے مہینے کی تیرہویں تاریخ کو یہ کام ختم کرکے اُنہُوں نے چودھویں تاریخ کو آرام کیا اَور اُسے ضیافت اَور عید کا دِن ٹھہرایا۔
EST 9:18 شُوشنؔ میں رہنے والے یہُودی آدارؔ کی تیرہویں اَور چودھویں تاریخ کو اِکٹھّے ہُوئے اَور پندرھویں تاریخ کو آرام کیا اَور اُسے ضیافت اَور عید کا دِن ٹھہرایا۔
EST 9:19 یہی وجہ ہے کہ دیہات میں رہنے والے یہُودی آدارؔ مہینے کی چودھویں تاریخ کو عید مناتے اَور ضیافت کرتے ہیں اَور ایک دُوسرے کو تحفے بھیجتے ہیں۔
EST 9:20 مردکیؔ نے اِن واقعات کو قلم بند کیا اَور شاہِ احسویروسؔ کی ساری مملکت میں دُور اَور نزدیک کے تمام یہُودیوں کو خُطوط روانہ کئے
EST 9:21 کہ وہ ہر سال آدارؔ کی چودھویں اَور پندرھویں تاریخ کو عید منایا کریں۔
EST 9:22 یہ دو دِن وہ ہیں جِن میں یہُودیوں نے اَپنے دُشمنوں سے نَجات پائی اَور یہ وہ مہینہ ہے جِس میں اُن کا غم خُوشی اَور خُرّمی میں اَور اُن کا ماتم فرحت اَور شادمانی میں تبدیل ہو گیا۔ اُس نے لِکھ کر حُکم دیا کہ یہ دِن ضیافتوں کے ساتھ عید کے طور پر منائے جایٔیں اَور ایک دُوسرے کو کھانے پینے کی چیزیں تحفہ کے طور پر دی جایٔیں اَور غریبوں میں خیرات تقسیم کی جائے۔
EST 9:23 تمام یہُودیوں نے اِن دِنوں کو عید کے طور پر منانے پر اِتّفاق کیا اَور مردکیؔ نے جو کچھ اُنہیں لِکھّا تھا اُس پر عَمل کیا۔
EST 9:24 کیونکہ ہامانؔ بِن ہمّداتھاؔ اگاگی نے جو یہُودیوں کا دُشمن تھا یہُودیوں کے خِلاف سازش کی تھی کہ اُنہیں ہلاک کر دیا جائے اَور اُن کی تباہی اَور بربادی کا دِن مُقرّر کرنے کے لیٔے پُور یعنی قُرعہ ڈالا تھا۔
EST 9:25 لیکن جَب بادشاہ کو اِس سازش کی خبر دی گئی تو بادشاہ نے خُطوط بھیج کر حُکم دیا کہ ہامانؔ کا فتویٰ جو اُس نے یہُودیوں کے خِلاف جاری کیا تھا اُلٹا اُسی کے سَر آ پڑے اَور وہ اَور اُس کے بیٹے سُولی پر چڑھائے جایٔیں۔
EST 9:26 اِس لیٔے یہ ایّام لفظ پُور کی نِسبت سے پُوریم کہلاتےہیں۔ اُن تمام باتوں کے پیشِ نظر جو اُن خُطوط میں درج تھیں اَورجو کچھ اُنہُوں نے خُود دیکھا تھا اَور اُنہیں پیش آیاتھا
EST 9:27 یہُودیوں نے اَپنی قوم پر واجِب ٹھہرایا کہ وہ سَب اَور اُن کے بعد اُن کی ساری نَسل اَور وہ بھی جو اُن کے ساتھ مِل جایٔیں گے ہر سال یہ دو دِن مُقرّرہ وقت پر دستور کے مُطابق بطور عید مانتے رہیں گے۔
EST 9:28 یہ دِن پُشت در پُشت بھی ہر خاندان، ہر صُوبہ اَور ہر شہر میں یاد سے منائے جاتے رہیں گے۔ یہ عیدِ پُوریم یہُودیوں میں کبھی موقُوف نہ ہوگی، نہ ہی اُن کی یاد اُن کی نَسل سے محو ہونے پایٔے گی۔
EST 9:29 پس ملِکہ ایسترؔ بنت اَبی حائیل اَور یہُودی مردکیؔ نے پُورے اِختیار کے ساتھ پُوریم کے بارے میں خط تحریر فرمایا
EST 9:30 اَور مردکیؔ نے شاہ احسویروسؔ کی مملکت کے ایک سَو ستّائیس صوبوں کے تمام یہُودیوں کو مُبارکباد کے خُطوط بھیج کر اُن کی خیرسگالی اَور یقین دہانی فرمائی کہ
EST 9:31 وقتِ مُقرّرہ پر جَیسا کہ مردکیؔ اَور ملِکہ ایسترؔ نے فیصلہ کیا تھا پُوریم کی عید منایا کریں اَور جَیسا اُنہُوں نے اَپنے لیٔے ٹھہرایا تھا وَیسا ہی تمام یہُودی اَور اُن کی آنے والی نَسل کے لیٔے ٹھہرایا کہ وہ روزوں اَور ماتم کے دِنوں کو ہرگز فراموش نہ کریں گے
EST 9:32 ملِکہ ایسترؔ نے فرمان کے ذریعہ پُوریم کی ساری رسموں کی تصدیق کی اَور اُسے قوانین اَور ضوابط کی کِتاب میں درج کیا گیا۔
EST 10:1 بادشاہ احسویروسؔ نے اَپنی مملکت کے تمام صوبوں اَور سمُندر کے جزیروں پر خراج مُقرّر کیا۔
EST 10:2 کیا اُس کی قُوّت اَور طاقت کے تمام کارنامے اَور جِس عظمت پر بادشاہ نے مردکیؔ کو پہُنچایا تھا اُس کی مُکمّل داستان مِدائی اَور فارسؔ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں؟
EST 10:3 بادشاہ احسویروسؔ کے بعد مردکیؔ یہُودیوں کے درمیان دُوسرا ممتاز تھا۔ وہ سارے یہُودیوں میں مُعزّز تھا اَور اَپنے لوگوں میں بڑی قدر و منزِلت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا کیونکہ وہ اُن کا خیرخواہ تھا اَور سَب کی فلاح اَور بہبُود کے لیٔے کوشاں رہتا تھا۔
JOB 1:1 عُوضؔ کی سرزمین میں ایُّوب نام کے ایک شخص رہتے تھے۔ وہ کامل اَور راستباز اِنسان تھے، ایُّوب خُدا سے ڈرتے اَور بدی سے دُور رہتے تھے۔
JOB 1:2 اُن کے سات بیٹے اَور تین بیٹیاں تھیں،
JOB 1:3 اَور اُن کے پاس سات ہزار بھیڑیں، تین ہزار اُونٹ، پانچ سَو جوڑی بَیل اَور پانچ سَو گدھیاں، اَور اُن کے پاس بے شُمار خادِم بھی تھے۔ غرض اہلِ مشرق میں ایُّوب کا مرتبہ نہایت ہی بُلند تھا۔
JOB 1:4 اُن کے بیٹے اَپنے دستور کے مُطابق اَپنی باری باری سے اَپنے اَپنے گھروں میں ضیافت کیا کرتے تھے اَور اَپنی تینوں بہنوں کو بھی دعوت دیتے تھے تاکہ وہ بھی اُن کے ساتھ دسترخوان پر شریک ہُوں۔
JOB 1:5 جَب ضیافت کا دَور پُورا ہو جاتا تھا تو ایُّوب اُنہیں بُلاتے اَور اُن کی طہارت کے بعد صُبح کو سویرے اُٹھ کر ہی اُن سَب کے لیٔے سوختنی نذر پیش کرتے تھے کیونکہ وہ سوچتے تھے، ”شاید میرے بچّوں سے کویٔی خطا ہویٔی ہو، اَور اُنہُوں نے اَپنے دِل میں خُدا کی تکفیر کی ہو۔“ اَیسا کرنا ایُّوب کا دستور بَن گیا تھا۔
JOB 1:6 ایک دِن خُدا کے بیٹے یعنی فرشتے یَاہوِہ کے رُوبرو حاضِر ہُوئے اَور شیطان بھی اُن کے ساتھ حاضِر ہُوا۔
JOB 1:7 یَاہوِہ نے شیطان سے پُوچھا، ”تُو کہاں سے آ رہاہے؟“ شیطان نے یَاہوِہ کو جَواب دیا، ”میں پُورے زمین کی سَیر کرتا ہُوا اَور اُس میں اِدھر اُدھر گھُومتے پھرتے آ رہا ہُوں۔“
JOB 1:8 تَب یَاہوِہ نے شیطان سے پُوچھا، ”کیا تُونے میرے خادِم ایُّوب پر غور کیا ہے؟ کیونکہ پُوری زمین پر اُس کی مانند کامل اَور راستباز شخص کویٔی نہیں ہے جو خُدا سے ڈرتا اَور بدی سے دُور رہتا ہو۔“
JOB 1:9 شیطان نے یَاہوِہ کو جَواب دیا، ”کیا ایُّوب بلاوجہ خُدا سے ڈرتا ہے؟“
JOB 1:10 ”کیا آپ نے اُس کے، اَور اُس کے خاندان کے اَور اُس کی ہر چیز کے اِردگرد حِفاظتی باڑ نہیں لگا رکھی ہے؟ آپ نے اُس کے ہاتھوں کے کاموں میں برکت بخشی ہے جِس کے باعث اُس کے بھیڑ بکریوں اَور گائے بَیلوں کی تعداد بڑھ کر سارے مُلک میں پھیل گیٔے ہیں۔
JOB 1:11 لیکن ذرا اَپنا ہاتھ بڑھائیں اَور اُس کا سَب کچھ برباد کر دیں تو وہ یقیناً آپ کے مُنہ پر آپ کی تکفیر کرےگا۔“
JOB 1:12 یَاہوِہ نے شیطان سے کہا، ”بہت خُوب! اُس کی ہر شَے پر مَیں تُجھے اِختیار دیتا ہُوں، لیکن ایُّوب کو ہاتھ مت لگانا۔“ تَب شیطان یَاہوِہ کے حُضُور سے چلا گیا۔
JOB 1:13 ایک دِن جَب ایُّوب کے بیٹے اَور بیٹیاں اَپنے بڑے بھایٔی کے گھر میں ضیافت کر رہے تھے اَور انگوری شِیرہ نوشی میں مصروف تھے،
JOB 1:14 تبھی ایک قاصِد ایُّوب کے پاس آیا اَور کہنے لگا، ”بَیل کھیت میں ہل چلا رہے تھے اَور گدھے اُن کے نزدیک چَر رہے تھے،
JOB 1:15 کہ کچھ مُلکِ شیبا کے لوگ آئے اَور اُن پر ٹوٹ پڑے اَور اُنہیں لے گیٔے۔ اُنہُوں نے تلوار سے خادِموں کو تہِ تیغ کر ڈالا اَور صِرف میں ہی اکیلا بچ نِکلا تاکہ آپ کو خبر دُوں۔“
JOB 1:16 وہ ابھی یہ کہہ ہی رہاتھا کہ ایک اَور قاصِد آیا اَور کہنے لگا، ”آسمان سے خُدا کی آگ نازل ہویٔی اَور بھیڑوں اَور خادِموں کو بھسم کر دیا اَور صِرف میں ہی اکیلا بچ نِکلا تاکہ آپ کو خبر دُوں۔“
JOB 1:17 وہ ابھی یہ کہہ ہی رہاتھا کہ ایک اَور قاصِد آکر کہنے لگا، ”کَسدی تین گِروہوں میں تقسیم ہوکر آپ کے اُونٹوں پر ٹوٹ پڑے اَور اُنہیں لے گیٔے۔ اُنہُوں نے خادِموں کو تلوار سے تہِ تیغ کر ڈالا اَور صِرف میں ہی اکیلا بچ نِکلا تاکہ آپ کو خبر دُوں۔“
JOB 1:18 وہ ابھی یہ کہہ ہی رہاتھا کہ ایک اَور قاصِد آیا اَور کہنے لگا، ”آپ کے بیٹے اَور بیٹیاں اَپنے بڑے بھایٔی کے گھر میں ضیافت کر رہے تھے اَور انگوری شِیرہ نوشی میں مصروف تھے،
JOB 1:19 کہ اَچانک بیابان کی جانِب سے ایک زوردار آندھی آئی اَور مکان کے چاروں کونوں سے یُوں ٹکرائی کہ وہ اُن جَوانوں پر گِر پڑا اَور سَب مَر گیٔے۔ صِرف میں ہی اکیلا بچ نِکلا تاکہ آپ کو خبر دُوں۔“
JOB 1:20 تَب ایُّوب اُٹھ کھڑے ہُوئے اَور رنجیدہ ہوکر اَپنا لباس چاک کیا اَور سَر مُنڈوایا اَور زمین پر گِر کر خُدا کو سَجدہ کیا
JOB 1:21 اَور کہا: ”میں اَپنی ماں کے پیٹ سے ننگا نِکلا، اَور ننگا ہی واپس چلا جاؤں گا۔ یَاہوِہ نے دیا اَور یَاہوِہ نے لے لیا؛ یَاہوِہ کے نام کی سِتائش ہو۔“
JOB 1:22 اِن سَب باتوں میں، ایُّوب نے نہ تو گُناہ کیا اَور نہ خُدا کو اِن سَب باتوں کا ذمّہ دار ٹھہرا کر کُفر بکا۔
JOB 2:1 ایک اَور دِن خُدا کے بیٹے یعنی فرشتے حاضِر ہویٔے تاکہ یَاہوِہ کے رُوبرو پیش ہُوں اَور شیطان بھی اُن کے ساتھ آیا تاکہ وہ بھی یَاہوِہ کے سامنے پیش ہو۔
JOB 2:2 اَور یَاہوِہ نے شیطان سے پُوچھا، ”تُو کہاں سے آ رہاہے؟“ شیطان نے یَاہوِہ کو جَواب دیا، ”میں پُورے زمین کی سَیر کرتا ہُوا اَور اُس میں اِدھر اُدھر گھُومتے پھرتے آ رہا ہُوں۔“
JOB 2:3 تَب یَاہوِہ نے شیطان سے پُوچھا، ”کیا تُونے میرے خادِم ایُّوب پر غور کیا ہے؟ کیونکہ پُوری زمین پر اُس کی مانند کامل اَور راستباز شخص کویٔی نہیں ہے جو خُدا سے ڈرتا اَور بدی سے دُور رہتا ہو۔ اَور وہ اَپنی راستبازی پر ابھی تک قائِم ہے، حالانکہ تُونے مُجھے بلاوجہ اُسے برباد کرنے کے لیٔے اُکسایا تھا۔“
JOB 2:4 ”کھال کے بدلے کھال!“ شیطان نے یَاہوِہ کو جَواب دیا۔ ”اِنسان اَپنی جان کو بچانے کی خاطِر اَپنا سَب کچھ لُٹا دے گا۔
JOB 2:5 لیکن اَب ذرا اَپنا ہاتھ تو بڑھا اَور ایُّوب کے جِسم کو دُکھ تکلیف دے پھر دیکھنا کہ وہ آپ کے مُنہ پر ہی آپ کی تکفیر یقیناً کرنے لگے گا۔“
JOB 2:6 یَاہوِہ نے شیطان سے کہا، ”بہت خُوب، وہ تیرے اِختیار میں ہے لیکن تُو اُس کی جان کو ضروُر محفوظ رکھنا۔“
JOB 2:7 تَب شیطان یَاہوِہ کے حُضُور سے چلا گیا اَور اُس نے ایُّوب پر اَیسا حملہ کیا کہ اُن کے جِسم میں سَر سے پاؤں تک دردناک پھوڑے نکل آئے۔
JOB 2:8 تَب ایُّوب ٹُوٹے ہُوئے مٹّی کے برتن کا ایک ٹکڑا لے کر راکھ میں بیٹھ گیٔے اَور اَپنا بَدن کھجلانے لگے۔
JOB 2:9 اُن کی بیوی نے ایُّوب سے کہا، ”کیا تُم اَب بھی اَپنی راستبازی پر قائِم رہوگے؟ خُدا پر لعنت بھیجو اَور مَر جاؤ۔“
JOB 2:10 ایُّوب نے جَواب دیا، ”تُم بےوقُوف عورت کی طرح باتیں کر رہی ہو۔ کیا ہم خُدا کی طرف سے صِرف سُکھ ہی قبُول کریں اَور دُکھ قبُول نہ کریں۔“ اِن سَب باتوں میں، ایُّوب نے اَپنی زبان سے کویٔی گُناہ نہیں کیا۔
JOB 2:11 جَب ایُّوب کے تینوں دوستوں کو اُن کی تمام مُصیبتوں اَور دردناک حالات کی خبر مِلی جو ایُّوب پر نازل ہُوئی تھیں، تو تینوں اَپنے اَپنے گھر سے ایُّوب سے مِلنے آئے، تیمانؔ سے اِلیفزؔ، شوحی سے بِلددؔ اَور نَعمات سے صُوفرؔ۔ اِن تینوں نے آپَس میں عہد کیا تھا کہ جا کر ایُّوب سے ہمدردی جتائیں گے اَور اُنہیں تسلّی دیں گے۔
JOB 2:12 جَب اُنہُوں نے ایُّوب کو دُور سے دیکھا تو بڑی مُشکل سے پہچان پایٔے۔ وہ رنجیدہ ہوکر زار زار رونے لگے اَور اَپنے لباس چاک کرکے اَپنے سَروں پر خاک ڈال لی۔
JOB 2:13 پھر وہ سات دِن اَور سات رات تک آپ کے پاس زمین پر بیٹھے رہے اَور کچھ نہ کہہ سکے کیونکہ ایُّوب کی تکلیف کی شِدّت بَیان سے باہر تھی۔
JOB 3:1 اِس کے بعد ایُّوب نے اَپنا مُنہ کھول کر اَپنی پیدائش کے دِن پر لعنت بھیجنے لگے۔
JOB 3:2 ایُّوب نے فرمایا:
JOB 3:3 ”نابود ہو جائے وہ دِن جِس دِن میں پیدا ہُوا تھا، اَور وہ رات بھی جِس میں یہ اعلان کیا گیا، ’پیٹ میں لڑکا حاملہ ہُواہے!‘
JOB 3:4 وہ دِن تاریکی میں تبدیل ہو جائے؛ اَور خُدا آسمان سے بھی اُس کی طرف غور نہ کرے؛ اَور نہ ہی اُس پر کویٔی رَوشنی چمکے۔
JOB 3:5 تاریکی اَور موت کا گہرا سایہ اُس پر قابض ہو؛ بدلی اُس پر ہمیشہ چھائی رہے؛ اَور وہ رَوشنی سے محروم ہوکر سخت دہشت زدہ ہو جائے۔
JOB 3:6 گہری تاریکی اُس رات پر قابض ہو جائے؛ اُسے نہ تو سال کے دِنوں میں، اَور نہ ہی کسی مہینے کے دِنوں میں دوبارہ شُمار کیا جائے۔
JOB 3:7 کاش وہ رات بانجھ ہو جاتی؛ اَور اُس میں خُوشی کی کویٔی صدا سُنایٔی نہ دیتی۔
JOB 3:8 وہ جو دِنوں پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں، اَور لِویاتان اَژدہے کو تحریک میں لانے کے قابل ہوتے ہیں، وُہی اُس رات پر بھی لعنت کریں۔
JOB 3:9 اُس کی صُبح کے سِتارے تاریک ہو جایٔیں؛ اَور دِن کی رَوشنی کا اِنتظار بے فائدہ ہی رہے اَور نہ ہی وہ صُبح کی پہلی کرنوں کو دیکھنے پایٔے،
JOB 3:10 کیونکہ اُس نے میری ماں کو مُجھے پیدا کرنے سے نہیں روکا، ورنہ یہ تمام مُصیبت میری آنکھوں سے چھپی رہتی۔
JOB 3:11 ”میں پیدائش کے وقت ہی ہلاک کیوں نہ ہو گیا، یا رحم سے نکلتے ہی مَر کیوں نہ گیا؟
JOB 3:12 میرے اِستِقبال کے لیٔے گھُٹنے کیوں تھے اَور ماں کی چھاتِیوں نے مُجھے دُودھ کیوں پِلایا؟
JOB 3:13 ورنہ اِس وقت مَیں سکون سے لیٹا ہوتا؛ اَور آرام کی نیند سو رہا ہوتا۔
JOB 3:14 دُنیا کے بادشاہوں اَور مُشیروں کے ساتھ، جنہوں نے اَپنے لیٔے مقبرے بنائے جو اَب کھنڈرات بَن کر رہ گیٔے ہیں،
JOB 3:15 یا میں اُن حُکمرانوں کے ساتھ ہوتا جِن کے پاس سونا تھا، اَور جنہوں نے اَپنے مکان چاندی سے بھر لیٔے تھے۔
JOB 3:16 یا ایک ساقط حَمل کی مانند زمین کے اَندر ہی چھُپا رہتا، یا اُس بچّہ کی طرح کیوں نہ دفنایا گیا جِس نے کبھی دِن کی رَوشنی ہی نہ دیکھی ہو؟
JOB 3:17 وہاں بدکار اِنسان بھی اَپنی بے لگام حرکتوں سے بعض رہتے ہیں، اَور خستہ حال بھی راحت پاتے ہیں۔
JOB 3:18 وہاں قَیدی بھی اَپنی رِہائی کا لُطف اُٹھاتے ہیں؛ اَب اُنہیں پہرےداروں کا چِلّانا سُنایٔی نہیں دیتا۔
JOB 3:19 ادنیٰ و اعلیٰ سَب وُہی ہیں، اَور غُلام اَپنے آقا سے آزاد ہو چُکے ہیں۔
JOB 3:20 ”خُدا مُصیبت زدوں کو رَوشنی، اَور تلخ جان والوں کو زندگی کیوں عطا کرتے ہیں،
JOB 3:21 جو موت کا نہایت ہی بے تابی سے اِنتظار کرتے ہیں لیکن اُنہیں نصیب نہیں ہوتی، وہ اُسے پوشیدہ خزانہ سے بھی زِیادہ تلاش کرتے ہیں، مگر پاتے نہیں،
JOB 3:22 جَب اُنہیں قبر نصیب ہو جاتی ہے تو، وہ نہایت شادمان اَور جَشن مناتے ہیں؟
JOB 3:23 اَیسے شخص کو جِس کی راہ پوشیدہ ہے زندگی کیوں ملتی ہے، جِس کے خُدا نے سارے راستے بند کر دئیے ہیں؟
JOB 3:24 غِذا کی بجائے مُجھے آہیں کھانے کو ملتی ہیں؛ میرا کراہنا پانی کی دھار کی طرح جاری ہے۔
JOB 3:25 کیونکہ جِس بات کا مُجھے خوف تھا وُہی مُجھ پر آن پڑی؛ آخِر وُہی ہُوا جِس کا مُجھے ڈر تھا۔
JOB 3:26 مُجھے نہ سکون حاصل ہے نہ اِطمینان؛ آرام مُیسّر نہیں، بس پریشانی ہی پریشانی ہے۔“
JOB 4:1 تَب تیمانی شہری اِلیفزؔ نے ایُّوب کو جَواب دیا:
JOB 4:2 ”اگر کوئی آپ سے کوئی بات کرے تو کیا آپ صبر رکھ کر میری بات غور سے سنوگے؟ اِس لیٔے کہ کون اَپنا مُنہ بند کرکے چُپ رہ سَکتا ہے؟
JOB 4:3 ذرا غور کرو آپ نے کس طرح کیٔی لوگوں کی ہدایت فرمائی، اَور کس طرح آپ نے کمزور ہاتھوں کو تقویّت دی۔
JOB 4:4 آپ کے الفاظ نے لڑکھڑاتے ہوؤں کو سہارا دیا؛ اَور آپ نے لرزتے ہُوئے گھٹنوں کو قُوّت بخشی۔
JOB 4:5 لیکن اَب جَب آپ پر آفت آئی تو آپ نے ہمّت ہار دی؛ اُس نے آپ کو ہاتھ لگایا اَور آپ پریشان ہو گئے۔
JOB 4:6 کیا آپ کو اَپنی راستی پر بھروسا نہیں اَور اَپنے بے اِلزام طور طریقوں پر آپ کو کویٔی اُمّید نہیں؟
JOB 4:7 ”ذرا غور تو کرو، کیا کویٔی بے قُصُور کبھی ہلاک ہُواہے؟ یا راستباز کبھی نِیست نابود ہُوئے ہیں؟
JOB 4:8 جہاں تک مَیں نے دیکھاہے کہ جو بدی کی کھیتی کا ہل چلاتے ہیں اَور نُقصان کا بیج بوتے ہیں، وہ وَیسی ہی فصل کاٹتے بھی ہیں۔
JOB 4:9 اَیسے لوگ خُدا کی ایک پھُونک سے ہلاک ہو جاتے ہیں؛ اَور اُن کے غضب کی آندھی سے فنا ہو جاتے ہیں۔
JOB 4:10 شیر چاہے جِتنا دھاڑ مارے اَور غُرّائے، پھر بھی خُونخوار شیر ببروں کے دانت توڑ دئیے جاتے ہیں۔
JOB 4:11 شِکار نہ مِلنے کی وجہ سے شیر ہلاک ہو جاتا ہے، اَور شیرنی کے بچّے پراگندہ ہو جاتے ہیں۔
JOB 4:12 ”ایک بات چُپکے سے مُجھ تک پہُنچائی گئی، اَور میرے کانوں میں اُس کی آواز سُنایٔی دی۔
JOB 4:13 رات کو مَیں نے ایک پریشان کر دینے والی رُویا دیکھی، جَب اِنسان گہری نیند میں سویا ہوتاہے،
JOB 4:14 تَب خوف اَور تھرتھراہٹ نے مُجھے آن دبوچا اَور میری تمام ہڈّیوں کو جھنجوڑ ڈالا۔
JOB 4:15 تَب ایک رُوح میرے سامنے سے گزری، اَور میرے جِسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
JOB 4:16 وہ رُوح ایک جگہ کھڑی ہو گئی، لیکن مَیں اُسے پہچان نہ پایا۔ بس ایک صورت سِی میری آنکھوں کے سامنے تھی، پھر مُجھے ایک دھیمی آواز سُنایٔی دی:
JOB 4:17 ’کیا فانی اِنسان خُدا سے زِیادہ راستباز ہو سَکتا ہے؟ یا آدمی اَپنے خالق خُدا سے زِیادہ پاک ہو سَکتا ہے؟
JOB 4:18 اگر خُدا اَپنے آسمانی خادِموں پر اِعتبار نہیں کرتا، اَور اَپنے فرشتوں کو بھی خطاکار قرار ٹھہراتا ہے،
JOB 4:19 تو پھر اُن کی حیثیت کیا ہے جو مٹّی کے گھروں میں رہتے ہیں، جِن کی بُنیاد خاک میں ہے، اَورجو کیڑے کی طرح مسل دئیے جاتے ہیں!
JOB 4:20 صُبح کو تو وہ زندہ ہیں لیکن شام تک وہ فنا ہو جاتے ہیں، وہ نِیست و نابود ہو جاتے ہیں اَور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔
JOB 4:21 کیا اُن کے خیمہ کی رسّیاں کھولی نہیں جاتی ہیں اَور اُن کا خیمہ گِر جاتا ہے، اَور وہ جہالت میں مَر جاتے ہیں؟‘
JOB 5:1 ”ذرا آواز دو، کیا کویٔی ہے جو تُمہیں جَواب دے گا؟ تُم مُقدّسین میں سے کس کی طرف رُجُوع کروگے؟
JOB 5:2 کیونکہ رنجیدگی بےوقُوف کو مار ڈالتی ہے، اَور حَسد سادہ دِلوں کی جان لے لیتا ہے۔
JOB 5:3 مَیں نے خُود ایک بےوقُوف کو جڑ پکڑتے دیکھاہے، لیکن اَچانک اُس کا گھر لعنتی ہو گیا۔
JOB 5:4 اُس کی اَولاد سلامتی سے دُور رہتی ہے، اُنہیں عدالت میں کسی مُحافظ کے نہ ہونے سے روندا جاتا ہے۔
JOB 5:5 بھُوکے اُس کی فصل کھا جاتے ہیں، یہاں تک کہ کانٹے دار باڑوں میں محفوظ فصل بھی لے لیتے ہیں، اَور لالچی اُس کی دولت نگل جاتے ہیں۔
JOB 5:6 کیونکہ مُصیبت خاک میں سے نہیں نکلتی، اَور نہ ہی آفت زمین سے اُگتی ہے۔
JOB 5:7 جَیسے چنگاریاں اُوپر کی طرح ہی اُٹھتی ہیں۔ وَیسے ہی اِنسان بھی دُکھ اُٹھانے کے لیٔے پیدا ہُواہے۔
JOB 5:8 ”لیکن اگر مَیں تمہاری جگہ ہوتا تو میں خُدا سے اِلتجا کرتا؛ اَور مَیں اَپنا مُعاملہ خُدا کے سامنے رکھتا۔
JOB 5:9 خُدا اِس قدر حیرت اَنگیز کام کرتے ہیں جو سمجھ سے باہر ہیں، اَور اِتنے معجزے کرتے ہیں جنہیں گِنا نہیں جا سَکتا۔
JOB 5:10 وہ رُوئے زمین پر مینہ برساتے ہیں؛ اَور کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔
JOB 5:11 وہ مسکینوں کو اُونچے مقاموں پر بِٹھاتے ہیں، اَور ماتم کرنے والوں کو سلامتی بخشتے ہیں۔
JOB 5:12 وہ عیّاروں کے منصُوبے ناکام کر دیتے ہیں، تاکہ اُن کے ہاتھ ناکامی حاصل ہو۔
JOB 5:13 وہ داناؤں کو اُن ہی کی چالاکی میں پھنسا دیتے ہیں، اَور بدکار اِنسانوں کے منصُوبے مٹّی میں مِلا دیتے ہیں۔
JOB 5:14 دِن کے وقت اُن پر اَندھیرا چھا جاتا ہے؛ اَور دوپہر کے وقت بھی وہ اَیسے ٹٹولتے پھرتے ہیں جَیسے رات کو۔
JOB 5:15 حاجتمندوں کو وہ اُن کی مُنہ کی تلوار سے بچاتے ہیں؛ اَور اُنہیں زبردست کے قبضے سے مخلصی بخشتے ہیں۔
JOB 5:16 چنانچہ مُحتاج اُمّید رکھتے ہیں، اَور نااِنصافی اَپنا مُنہ بند کر لیتی ہے۔
JOB 5:17 ”مُبارک ہے وہ شخص جِس کی تنبیہ خُدا کرتے ہیں؛ چنانچہ قادرمُطلق کی تادیب کو حقیر نہ جانو۔
JOB 5:18 کیونکہ وُہی زخمی کرتے ہیں لیکن مرہم پٹّی بھی باندھتے ہیں؛ وُہی مجروح کرتے ہیں لیکن اُن کے ہاتھ شفا بھی بخشتے ہیں۔
JOB 5:19 خُدا تُمہیں چھ آفتوں سے بچائیں گے؛ اَور اگر سات بھی ہُوں تو بھی تُمہیں چھُونے نہ پائیں گی۔
JOB 5:20 خشک سالی میں وہ تُمہیں موت سے بچائیں گے، اَور جنگ میں تُمہیں تلوار کی دھار سے۔
JOB 5:21 تُم زبان کے کوڑے سے محفوظ رکھے جاؤگے، اَور جَب تباہی آئے گی تو تُمہیں خوف نہ ہوگا۔
JOB 5:22 تُم بربادی اَور خشک سالی پر ہنسوگے، اَور زمین کے جنگلی جانوروں سے خوف نہ کھاؤگے۔
JOB 5:23 میدان کے پتّھروں سے تمہارا عہد ہوگا، اَور جنگلی جانور تمہارے ساتھ اَمن سے رہیں گے۔
JOB 5:24 تُم جانوگے کہ تمہارا خیمہ محفوظ ہے؛ تُم اَپنی مِلکیّت کا حِساب لوگے اَور کویٔی شَے غائب نہ پاؤگے۔
JOB 5:25 تُمہیں مَعلُوم ہوگا کہ تمہاری اَولاد بہت ہوگی، اَور تمہاری نَسل زمین کی گھاس کی طرح بڑھےگی۔
JOB 5:26 جَیسے اناج کے پُولے اَپنے وقت پر اِکٹھّے کیٔے جاتے ہیں، وَیسے ہی تُم بھی عمر رسیدہ ہوکر قبر تک پہُنچوگے۔
JOB 5:27 ”ہم نے اِس بات کی تحقیق کی ہے اَور اُسے صحیح پایا ہے۔ لہٰذا اِسے سُنو اَور اِسے اَپنی زندگی میں عَمل کرو۔“
JOB 6:1 تَب ایُّوب نے جَواب دیا:
JOB 6:2 ”کاش کہ میری تکلیف کا اَندازہ لگایا جاتا اَور میری ساری مُصیبت ترازو میں تولی جاتی!
JOB 6:3 یقیناً وہ سمُندر کی ریت سے زِیادہ وزنی ہوتی، مُجھے میرے جذبات نے بولنے پر مجبُور کر دیا ہے۔
JOB 6:4 قادرمُطلق کے تیر مُجھ میں پیوست ہیں، میری رُوح اُن کا زہر پی رہی ہے۔ خُدا کی دہشت میرے خِلاف صف آرا ہے
JOB 6:5 جَب گورخر کو گھاس مِل جاتی ہے تو کیا اُس کا رینکنا بند نہیں ہو جاتا؟ یا بَیل کے پاس چارا ہو تو کیا اُس کا ڈکارنا موقُوف نہیں ہو جاتا؟
JOB 6:6 کیا پھیکی چیز بغیر نمک کے کھائی جا سکتی ہے، یا اَنڈے کی سفیدی میں کویٔی مزہ ہوتاہے۔
JOB 6:7 میں اُس کھانے کو چھُونا بھی پسند نہ کروں گا، اَیسی غِذا سے مُجھے گھِن آتی ہے۔
JOB 6:8 ”کاش کہ میری اِلتجا سُنی جاتی، اَور خُدا میری اُمّید بر لاتا۔
JOB 6:9 کہ خُدا مُجھے کُچل ڈالنے پر راضی ہوتا، اَور اَپنا ہاتھ بڑھاتا اَور مُجھے ختم کر دیتا۔
JOB 6:10 تاکہ مُجھے یہ تسلّی تو ہوتی، کہ شدید درد کے باوُجُود میں خُوش رہا۔ اَور مَیں نے قُدُّوس خُدا کی باتوں کو ٹھکرایا نہیں۔
JOB 6:11 ”مُجھ میں اِس قدر ہمّت کہاں کہ اَب بھی کویٔی اُمّید رکھوں، اَور کس توقع پر صبر کرتا رہُوں۔
JOB 6:12 کیا مُجھ میں چٹّان کی سِی قُوّت ہے یا میرا جِسم کانسے کا ہے؟
JOB 6:13 اَب جَب کہ میں کامرانی سے محروم کر دیا گیا ہُوں تو مُجھ میں اُتنی ہمّت کہاں کہ اَپنی مدد آپ کر سکوں۔
JOB 6:14 ”مایوس اِنسان چاہتاہے کہ اُس کے دوست مہربان رہیں، خواہ اُس کے دِل سے قادرمُطلق کا خوف جاتا رہے۔
JOB 6:15 لیکن میرے بھایٔی برساتی نالوں کی طرح ناقابلِ اِعتبار ہیں، بَلکہ اَیسا دریا جو لبریز ہو جاتا ہے۔
JOB 6:16 جَب برف پگھلتی ہے تو اُن کا پانی مَیلا ہو جاتا ہے، اَور اُن میں طغیانی آجاتی ہے۔
JOB 6:17 لیکن وہ خشک موسم میں غائب ہو جاتے ہیں، اَور گرمیوں میں سُوکھ جاتے ہیں۔
JOB 6:18 قافلے جو اَپنی راہ بدل لیتے ہیں، اَور ویرانہ میں جا کر غائب ہو جاتے ہیں۔
JOB 6:19 تیماؔ کے شہری کارواں پانی کی تلاش میں ہیں، شیبا نامی جگہ کے سوداگر اَپنے سفر کے دَوران اُمّید لگائے بیٹھے ہیں۔
JOB 6:20 اُنہیں پُورا یقین تھا لیکن اُنہیں شرمندہ ہونا پڑا، وہ وہاں پہُنچے تو صحیح لیکن مایوسی سے دوچار ہُوئے۔
JOB 6:21 اَب تُم نے بھی ثابت کر دیا کہ تُم کسی کام کے نہیں، تُم میری مُصیبت دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے ہو۔
JOB 6:22 کیا مَیں نے کبھی کہا، ’میری خاطِر کچھ دو؟ یا اَپنے مال میں سے میرے لیٔے کسی کو رشوت دو۔
JOB 6:23 مُجھے دُشمن کے ہاتھ سے بچالو، سنگدلوں کے شکنجہ سے مُجھے رِہائی دِلاؤ؟‘
JOB 6:24 ”مُجھے سمجھاؤ تو میں مان بھی جاؤں گا، مُجھے بتاؤ کہ مَیں نے کہاں غلطی کی۔
JOB 6:25 سچّی باتیں بڑی تکلیف دہ ہوتی ہیں! لیکن تُم دلیلوں سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟
JOB 6:26 کیا یہ کہ میری باتیں غلط ہیں؟ یا ایک مایوس اِنسان کے الفاظ کی کویٔی حقیقت نہیں؟
JOB 6:27 تُم تو یتیم پر قُرعہ ڈالنے سے بھی نہ ہچکچاؤگے اَور اگر اَپنے دوست کا سَودا کرنا پڑا تو وہ بھی کر گزروگے۔
JOB 6:28 ”لیکن اَب براہِ کرم مُجھ پر نگاہ کرو، کیا مَیں تمہارے مُنہ پر جھُوٹ بولُوں گا؟
JOB 6:29 رحم کرو، اِنصاف سے کام لو، ایک بار پھر سوچ لو کیونکہ میری راستبازی کا اِمتحان لیا جا رہاہے۔
JOB 6:30 کیا میرے لبوں پر کویٔی مکر کی بات ہے؟ کیا مُجھے اِتنی بھی سمجھ نہیں کہ بدی کو پہچان سکوں؟
JOB 7:1 ”کیا اِنسان زمین پر محنت و مشقّت نہیں کرتا؟ اَور کیا اُس کے دِن ایک مزدُور کے سے نہیں ہوتے؟
JOB 7:2 جَیسا کہ ایک غُلام شام ہونے کی راہ دیکھتا ہے، اَور مزدُور اَپنی اُجرت کا منتظر رہتاہے،
JOB 7:3 اِسی طرح میرے حِصّہ میں آنے والے مہینے فُضول ہیں، اَور میری راتیں میری پریشانی کا باعث ہیں۔
JOB 7:4 جَب مَیں لیٹتا ہُوں تو یہی سوچتا رہتا ہُوں، ’دِن کب نکلے گا؟‘ رات لمبی ہو جاتی ہے اَور مَیں صُبح تک کروٹیں بدلتا رہتا ہُوں۔
JOB 7:5 میرا جِسم کیچوؤں اَور گارے سے ڈھکا ہے، میری جلد پھٹ رہی ہے اَور میرے زخم سڑ رہے ہیں۔
JOB 7:6 ”میرے دِن جُلاہے کی ڈھرکی سے بھی زِیادہ تیز رفتار ہیں، جِن کی کوئی اُمّید باقی نہیں رہتی۔
JOB 7:7 یا خُدا! یاد کریں کہ میری زندگی ہَوا کی مانند ہے؛ میری آنکھیں پھر کبھی خُوشی نہ دیکھیں گی۔
JOB 7:8 وہ آنکھ جو مُجھے اَب دیکھ رہی ہے پھر کبھی نہ دیکھے گی؛ آپ کی آنکھیں میری جُستُجو میں ہوں گی لیکن مَیں نہ ہوں گا۔
JOB 7:9 جِس طرح ایک بادل دفعتاً غائب ہو جاتا ہے اَور پھر نظر نہیں آتا، اُسی طرح جو قبر میں اُتر جاتا ہے پھر کبھی نہیں لَوٹتا۔
JOB 7:10 وہ اَپنے گھر پھر کبھی نہ لَوٹے گا؛ اُس کی جگہ اُسے پھر نہ پہچانے گی۔
JOB 7:11 ”چنانچہ مَیں خاموش نہ رہُوں گا؛ شدید رُوحانی تلخی کی حالت میں بولُوں گا، جان کنی کے وقت شکایت کروں گا۔
JOB 7:12 کیا میں سمُندر ہُوں یا کویٔی خوفناک بحری اَژدہا ہُوں، کہ تُم نے مُجھ پر پہرا لگا دیا ہے؟
JOB 7:13 جَب مَیں سوچتا ہُوں کہ میرا بِستر مُجھے آرام پہُنچائے گا اَور میرا پلنگ میری تکلیف کم کر دے گا،
JOB 7:14 تَب بھی آپ خوابوں سے مُجھے ڈراتے ہیں اَور رُویتوں سے مُجھے دہشت دِلاتے ہیں،
JOB 7:15 تاکہ میں پھانسی لے کر مَر جاؤں، اَور میرا وُجُود باقی نہ رہے۔
JOB 7:16 مُجھے اَپنی زندگی سے نفرت ہے، میں ہمیشہ زندہ نہیں رہُوں گا۔ مُجھے میرے حال پر چھوڑ دو کیونکہ میری زندگی کا اَب کویٔی مقصد نہیں۔
JOB 7:17 ”آخِر اِنسان کی بساط ہی کیا ہے کہ آپ اُسے سرفراز کریں، اَور اُس کا خیال دِل میں لائیں،
JOB 7:18 اَور ہر صُبح اُس کی خبر لیں اَور ہر لمحہ اُسے آزماتے رہیں؟
JOB 7:19 کیا آپ کبھی بھی اَپنی نگاہ میری طرف سے نہیں پھیریں گے، اَور مُجھے پل بھرکے لیٔے بھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے؟
JOB 7:20 اَے بنی آدمؔ کے نگہبان! اگر مَیں نے گُناہ کیا تو مَیں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے؟ آپ نے مُجھے اَپنا نِشانہ کیوں بنایا؟ کیا مَیں آپ پر بوجھ بَن گیا ہُوں؟
JOB 7:21 آپ میری خطائیں مُعاف کیوں نہیں کرتے اَور میرے گُناہ کیوں نہیں بخشتے، میں تو بہت جلد خاک میں مِل جاؤں گا؛ آپ مُجھے ڈھونڈیں گے پر میں نہ ملوں گا۔“
JOB 8:1 تَب شوحی مُلک کا بِلددؔ کہنے لگا:
JOB 8:2 ”تُم کب تک بولتے رہوگے؟ تمہاری باتیں ایک تُند آندھی کی مانند ہیں۔
JOB 8:3 کیا خُدا اِنصاف سے کام نہیں لیتا؟ کیا قادرمُطلق اِنصاف کا خُون کرتا ہے؟
JOB 8:4 جَب تمہارے فرزندوں نے خُدا کے خِلاف گُناہ کیا، خُدا نے اُنہیں اُن کے گُناہ کی سزا دی۔
JOB 8:5 لیکن اگر تُم خُدا سے رُجُوع کروگے اَور قادرمُطلق سے اِلتجا کروگے،
JOB 8:6 اگر تُم پاک دِل اَور راستباز ہو، تو خُدا اَب بھی تمہاری طرف مُتوجّہ ہوں گے اَور تُمہیں اَپنے صحیح مقام پر بحال کریں گے۔
JOB 8:7 تمہاری گذشتہ شان و شوکت کے مُقابلہ میں، تمہارا مُستقبِل زِیادہ رَوشن ہوگا۔
JOB 8:8 ”پچھلے زمانہ کے لوگوں سے دریافت کرو اَور پتہ لگاؤ کہ اُن کے آباؤاَجداد کی معلومات کیا تھیں،
JOB 8:9 کیونکہ ہم تو کل ہی پیدا ہُوئے ہیں اَور کچھ بھی نہیں جانتے، اَور ہمارے دِن زمین پر سایہ کی طرح ہیں۔
JOB 8:10 کیا وہ آباؤاَجداد تُمہیں نہ بتائیں گے اَور نہ سکھائیں گے؟ کیا وہ اَپنی عقل کے دہانے نہ کھولیں گے؟
JOB 8:11 جہاں دلدل نہیں کیا وہاں نرسل کا پَودا اُگ سَکتا ہے؟ کیا سَرکنڈا بغیر پانی کے بڑھ سَکتا ہے؟
JOB 8:12 وہ ابھی ہرے ہی ہوتے ہیں اَور کاٹے جانے کے لائق بھی نہیں ہوتے، کہ گھاس سے بھی پہلے سُوکھ جاتے ہیں۔
JOB 8:13 خُدا کو بھُول جانے والوں کا یہی اَنجام ہوتاہے؛ اَور اِسی طرح بےدینوں کی اُمّید ٹوٹ جاتی ہے۔
JOB 8:14 اَیسے آدمی کا اِعتماد کمزور ہو جاتا ہے؛ اَور اُس کا بھروسا مکڑی کا جالا ہے۔
JOB 8:15 وہ اَپنے جالے کا سہارا لیتا ہے لیکن وہ ٹوٹ جاتا ہے؛ اَور اِتنا مضبُوط نہیں ہوتا کہ اُسے تھامے رہے۔
JOB 8:16 وہ ایک پَودے کی مانند ہے جو دھوپ میں بھی سیراب رہتاہے، جو اَپنی ڈالیاں باغ میں پھیلاتا ہے؛
JOB 8:17 اُس کی جڑیں چٹّانوں کے انبار کو جکڑ لیتی ہیں اَور پتّھروں میں جگہ ڈھونڈ کر پھیل جاتی ہیں۔
JOB 8:18 لیکن جَب وہ اَپنی جگہ سے اُکھاڑ دیا جاتا ہے، تَب وہ جگہ بھی اُس سے دست بردار ہو جاتی ہے اَور کہتی ہے، ’مَیں نے تُمہیں کبھی نہیں دیکھا۔‘
JOB 8:19 یقیناً اُس کی زندگی ختم ہو جاتی ہے، اَور زمین سے دُوسرے پَودے اُگ پڑتے ہیں۔
JOB 8:20 ”خُدا کسی بے قُصُور اِنسان کو ہرگز نہیں ٹھکراتے نہ بدکار اِنسان کے ہاتھ مضبُوط کرتے ہیں۔
JOB 8:21 وہ اَب بھی تمہارا مُنہ ہنسی سے بھر دیں گے اَور تمہارے لبوں پر خُوشی کے نعرے ہوں گے۔
JOB 8:22 تمہارے دُشمن ندامت سے مُلبّس ہوں گے، اَور بدکاروں کے خیمے اُکھاڑ دئیے جایٔیں گے۔“
JOB 9:1 تَب ایُّوب نے جَواب دیا:
JOB 9:2 ”میں خُوب جانتا ہُوں کہ یہ سچ ہے۔ لیکن ایک فانی اِنسان خُدا کے حُضُور کیسے راستباز ٹھہر سَکتا ہے؟
JOB 9:3 اگر وہ اُس سے بحث کرنا بھی چاہے، تو اُن کی ہزار باتوں میں سے ایک کا بھی جَواب نہ دے سکےگا۔
JOB 9:4 اُن کی حِکمت لا محدُود اَور طاقت بے اَندازہ ہے۔ کون اُن کے مُقابلہ میں کھڑا ہُوا اَور صحیح و سالِم بچ نِکلا؟
JOB 9:5 وہ پہاڑوں کو ہٹا دیتے ہیں اَور اُنہیں خبر بھی نہیں ہو پاتی، وہ اَپنے قہر میں اُنہیں تہہ و بالا کر دیتے ہیں۔
JOB 9:6 اَور زمین کو اُس کی جگہ سے ہلا دیتے ہیں، اَور اُس کے سُتون ڈگمگا جاتے ہیں۔
JOB 9:7 وہ آفتاب کو حُکم دیتے ہیں تو وہ طُلوع نہیں ہوتا؛ وہ سِتاروں پر مُہر لگا دیتے ہیں۔
JOB 9:8 وہ افلاک کو تنہا ہی تانتے ہیں اَور سمُندر کی لہروں پر چلتے ہیں۔
JOB 9:9 اُن ہی نے ثریّا اَور جبّار، اَور جُنوب کے کواکب کو بنایا۔
JOB 9:10 وہ بڑے حیرت اَنگیز کام کرتے ہیں جو عقل و فہم سے باہر ہیں، اَور اَیسے معجزے جو لاتعداد ہیں۔
JOB 9:11 جَب وہ میرے پاس سے گزرتے ہیں، میں اُنہیں دیکھ نہیں پاتا؛ جَب وہ گزر جاتے ہیں تو مُجھے پتہ بھی نہیں چلتا۔
JOB 9:12 اگر وہ کچھ چھیننا چاہیں تو اُنہیں کون روک سَکتا ہے؟ اُن سے کون کہے، ’تُم کیا کر رہے ہو؟‘
JOB 9:13 خُدا اَپنا غُصّہ نہیں روکتے؛ یہاں تک کہ راحبؔ کی ٹولیاں اُن کے قدموں میں جھُک جاتی ہیں۔
JOB 9:14 ”پھر میں اُن سے بحث کیسے کروں؟ اَپنی دلائل کے لیٔے الفاظ کہاں سے لاؤں؟
JOB 9:15 میں بے قُصُور بھی ہوتا تو اُنہیں جَواب نہ دیتا؛ میں اَپنے مُنصِف سے صِرف رحم کی بھیک مانگتا۔
JOB 9:16 اگر مَیں اُنہیں پُکارتا اَور وہ آ جاتے، تو بھی میں یقین نہ کرتا، کہ وہ میری سُنیں گے۔
JOB 9:17 وہ مُجھے طُوفان سے ریزہ ریزہ کر ڈالتے، اَور بلاوجہ میرے زخموں کو بڑھا دیتے۔
JOB 9:18 وہ مُجھے دَم بھی نہ لینے دیں گے، بَلکہ میرے اُوپر مُصیبتوں کا پہاڑ کھڑا کر دیتے۔
JOB 9:19 اگر طاقت کی بات ہو، تو وہ قادر ہیں! اَور اگر اِنصاف کا مُعاملہ ہو تو میری باری کب آئے گی؟
JOB 9:20 اگر مَیں بے قُصُور بھی ہوتا، تو میرا ہی مُنہ مُجھے مُلزم ٹھہراتا؛ اگر مَیں بےگُناہ ہوتا، تو وہ مُجھے گُنہگار قرار دیتا۔
JOB 9:21 ”حالانکہ میں بے قُصُور ہُوں، مُجھے اَپنی زندگی کی پروا نہیں؛ میں اُسے حقیر سمجھتا ہُوں۔
JOB 9:22 بات ایک ہی ہے، اِسی لیٔے میں کہتا ہُوں، کہ خُدا بےگُناہ اَور بدکار اِنسان دونوں کو ہلاک کرتے ہیں۔
JOB 9:23 جَب کویٔی آفت موت لے کر آتی ہے، ’تو وہ بے قُصُور کی بے بَسی کا مذاق اُڑاتی ہے۔‘
JOB 9:24 جَب زمین پر بدکار لوگ قبضہ کرلیتے ہیں، تو وہ اِنصاف کرنے والوں کی آنکھوں پر پٹّی باندھ دیتے ہیں۔ اگر یہ وُہی نہیں تو پھر کون ہے؟
JOB 9:25 ”میری زندگی کے دِن ہرکارے سے بھی زِیادہ تیزرَو ہیں؛ وہ میری خُوشی نہیں دیکھتے، بس پھُر سے اُڑ جاتے ہیں۔
JOB 9:26 وہ اَیسے گزر جاتے ہیں، جَیسے نرسل کی کشتیاں، جَیسے عُقاب جو اَپنے شِکار پر جھپٹ پڑتے ہیں۔
JOB 9:27 اگر مَیں کہُوں، ’میں اَپنی شکایت بھُلادوں گا، میں اَپنے چہرہ کی اُداسی کو مُسکراہٹ میں بدل دُوں گا،‘
JOB 9:28 پھر بھی میں اَپنے سارے دُکھوں سے ڈرتا ہُوں، کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ آپ مُجھے بے قُصُور نہ ٹھہرائیں گے۔
JOB 9:29 چونکہ میں تو پہلے ہی گُنہگار ٹھہرایا جاچُکا ہُوں، بَری ہونے کے لیٔے عبث زحمت کیوں اُٹھاؤں؟
JOB 9:30 اگر مَیں اَپنے آپ کو عرق سے دھو لُوں، اَور اَپنے ہاتھ خُوب صَاف کرلُوں،
JOB 9:31 تَب بھی آپ مُجھے کیچڑ میں دھکیل دیں گے، یہاں تک کہ میرے کپڑے بھی مُجھ سے دُور بھاگیں گے۔
JOB 9:32 ”وہ میری طرح اِنسان نہیں کہ میں اُنہیں جَواب دُوں، اَور عدالت میں ہم ایک دُوسرے کے مقابل کھڑے ہُوں۔
JOB 9:33 کاش میرے اَور خُدا کے درمیان کویٔی ثالث ہوتا، جو ہم دونوں پر اَپنا ہاتھ رکھتا،
JOB 9:34 خُدا کی لاٹھی مُجھ پر سے ہٹا دیتا، اَور اُس کے غضب سے مُجھے خوفزدہ نہ ہونے دیتا۔
JOB 9:35 تَب میں بولتا اَور اُس سے نہ ڈرتا، لیکن فی الحال میں بذاتِ خُود کچھ نہیں کر سَکتا۔
JOB 10:1 ”میں اَپنی زندگی سے بیزار ہو چُکا ہُوں؛ لہٰذا میں دِل کھول کر شکوہ کروں گا۔ اَور تلخ رُوح کی بھڑاس نکال دُوں گا۔
JOB 10:2 میں خُدا سے کہُوں گا کہ مُجھے قُصُوروار نہ ٹھہرا، بَلکہ مُجھے بتا، کہ میرے خِلاف اِلزامات کیا ہیں۔
JOB 10:3 کیا مُجھ پر ظُلم کرنے سے تُمہیں خُوشی ہوتی ہے، اَور اَپنے ہاتھوں کی صنعت کی حقارت کرنا اَچھّا لگتا ہے، تُو بدکار اِنسانوں کے منصُوبوں پر مُسکراتا ہے؟
JOB 10:4 کیا تیری آنکھیں گوشت کی بنی ہُوئی ہیں؟ کیا تُو بشر کی مانند دیکھتا ہے؟
JOB 10:5 کیا تیرے زندگی کے دِن فانی اِنسان کے دِنوں کی طرح ہیں، اَور تیرے سال آدمی کے سالوں کی طرح،
JOB 10:6 کیا تُو میری بُرائیاں ڈھونڈے، اَور میری خطاؤں کی تفتیش کرے؟
JOB 10:7 آپ کو علم ہے کہ میں مُجرم نہیں ہُوں، اَور کویٔی شخص مُجھے آپ کے ہاتھ سے نہیں بچا سَکتا۔
JOB 10:8 ”تیرے ہی ہاتھوں نے مُجھے اِس شکل میں ڈھالا اَور بنایا، کیا تُم اَب مُجھے بدل کر برباد کر دے گا؟
JOB 10:9 یاد کر کہ تُونے مُجھے چکنی مٹّی کی طرح گوندھا۔ تو کیا اَب تُو مُجھے پھر خاک میں مِلائے گا؟
JOB 10:10 کیا تُم نے مُجھے دُودھ کی طرح نہیں اُنڈیلا اَور پنیر کی طرح نہیں جمایا؟
JOB 10:11 پھر گوشت اَور پوست سے ملبوس کرکے مُجھے ہڈّیوں اَور رگوں سے جوڑ نہیں دیا؟
JOB 10:12 تُونے مُجھے زندگی دی اَور مُجھ پر رحم کیا، اَور اَپنے فضل سے میری رُوح کی حِفاظت کی۔
JOB 10:13 ”لیکن یہ بات تُم نے اَپنے دِل میں چُھپائے رکھی، اَور مَیں جانتا ہُوں کہ یہی تیرا منشا تھا کہ
JOB 10:14 اگر مَیں گُناہ کروں تو تُو دیکھ لے گا اَور مُجھے میری بدکاری کی سزا ضروُر دے گا۔
JOB 10:15 اگر مَیں گُنہگار ہُوں، تو مُجھ پر افسوس! میں تو بے قُصُور ہوتے ہُوئے بھی اَپنا سَر نہیں اُٹھا سَکتا، کیونکہ مَیں شرم سے لبریز ہُوں، اَور تکلیف میں ڈوبا ہُوا ہُوں۔
JOB 10:16 اگر مَیں اَپنا سَر اُٹھاؤں، تو تُو مُجھے شیر کی طرح دبوچ لے گا، اَور اَپنی دہشت اَنگیز قدر ت کا مظاہرہ کرےگا۔
JOB 10:17 تُو میرے خِلاف نئے نئے گواہ لے آتا ہے اَور اَپنا قہر مُجھ پر بڑھاتاہے؛ تیرے لشکر موجوں کی طرح مُجھ پر چڑھے آتے ہیں۔
JOB 10:18 ”پھر تُونے مُجھے میری ماں کے رحم سے نکالا ہی کیوں؟ اِس سے قبل کہ کویٔی آنکھ مُجھے دیکھتی کہ کاش میں مَر گیا ہوتا۔
JOB 10:19 کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہُوا ہوتا، یا رحم سے سیدھا قبر میں پہُنچا دیا جاتا!
JOB 10:20 کیا میری زندگی چند روزہ نہیں؟ مُجھے چھوڑ دے تاکہ میں چند لمحے خُوشی میں گزار سکوں۔
JOB 10:21 اِس سے قبل کہ میں چلا جاؤں، جہاں سے کویٔی واپس نہیں آتا، ظلمت اَور موت کے سایہ کی جگہ،
JOB 10:22 وہ مقام جہاں راتیں بڑی تاریک، سائے بڑے گہرے اَور ہر چیز بے ترتیب ہوتی ہے، جہاں رَوشنی بھی تاریکی کی مانند ہے۔“
JOB 11:1 تَب نَعماتی باشِندہ صُوفرؔ نے جَواب دیا:
JOB 11:2 ”کیا اِن سَب باتوں کا جَواب نہ دیا جائے؟ اَور یہ بکواسی شخص چھوڑ دیا جائے؟
JOB 11:3 کیا تمہاری بےہوُدہ باتیں سُن کر لوگ چُپ رہیں؟ تمہاری مذاق اُڑائے اَور کویٔی تُمہیں نہ ڈانٹے؟
JOB 11:4 تُم خُدا سے کہتے ہو، ’میرے عقیدے بے عیب ہیں اَور مَیں تمہاری نگاہ میں پاک ہُوں،‘
JOB 11:5 کیا ہی اَچھّا ہو کہ خُدا بولیں، اَور اَپنے لب تمہارے خِلاف کھولیں
JOB 11:6 اَور تُم پر حِکمت کے راز فاش کر دیں، کیونکہ اُس کے کیٔی پہلو ہوتے ہیں، لیکن یہ جان لو، کہ خُدا نے تمہاری بعض خطاؤں پر پردہ ڈالا ہے۔
JOB 11:7 ”کیا تُم جُستُجو کرکے خُدا کے اسرار جان سکتے ہو؟ کیا تُم قادرمُطلق کی وسعتوں کو دریافت کر سکتے ہو؟
JOB 11:8 وہ تو آسمان سے بھی زِیادہ اُونچی ہیں، تُم کیا کر سکتے ہو؟ وہ تو پاتال سے بھی زِیادہ گہری ہیں، تُم کیا جان سکتے ہو؟
JOB 11:9 اُس کی ناپ زمین سے زِیادہ لمبی اَور عرض سمُندر سے بھی زِیادہ چوڑا ہے۔
JOB 11:10 ”اگر خُدا آکر تُمہیں قَیدخانہ میں ڈال دیں اَور تمہاری عدالت کریں، تو اُن کون روک سَکتا ہے؟
JOB 11:11 وہ دھوکےبازوں کو خُوب پہچانتے ہیں؛ جَب وہ بدکاری دیکھتے ہیں تو کیا اُسے نہیں پہچانتے۔
JOB 11:12 جِس طرح گورخر کا بچّہ اِنسان بَن کر پیدا نہیں ہو سَکتا اُسی طرح بےوقُوف اِنسان بھی عقلمند نہیں بَن سَکتا۔
JOB 11:13 ”پھر بھی اگر تُم دِل سے اُن کی طرف راغِب ہو، اَور اَپنے ہاتھ خُدا کی طرف بڑھاؤ،
JOB 11:14 اگر تُم اَپنے گُناہ آلُودہ ہاتھ دھولو اَور اَپنے خیمہ میں بدکاری کو پنپنے نہ دو،
JOB 11:15 تَب تُم اَپنا مُنہ ندامت کے بغیر اُونچا کروگے؛ تُم ثابت قدم رہوگے اَور خوفزدہ نہ ہوگے۔
JOB 11:16 تُم یقیناً اَپنی پریشانی بھُول جاؤگے، محض اُس کی یاد بہہ جانے والے پانی کی طرح باقی رہ جائے گی۔
JOB 11:17 زندگی دوپہر سے بھی زِیادہ رَوشن ہوگی، اَور تاریکی صُبح کی مانند ہو جائیگی۔
JOB 11:18 تُم اِطمینان پاؤگے کیونکہ اَیسی ہی اُمّید ہے؛ تُم اَپنے چاروں طرف نظر دَوڑاؤگے اَور مطمئن ہوکر آرام کروگے۔
JOB 11:19 تُم لیٹ جاؤگے اَور کویٔی تُمہیں ڈرانے کا نہیں، اَور کیٔی لوگ تمہاری مہربانی کے طلب گار ہوں گے۔
JOB 11:20 لیکن بدکاروں کی آنکھیں دھُندلا جایٔیں گی، اَور وہ بچ کر نکل نہ سکیں گے؛ اُن کی اُمّید موت کی ہچکی میں بدل جائے گی۔“
JOB 12:1 تَب ایُّوب نے جَواب دیا:
JOB 12:2 ”بے شک تُم ہی وہ لوگ ہو، جو حِکمت کو ساتھ لے کر مروگے!
JOB 12:3 میں بھی تمہاری طرح سمجھ رکھتا ہُوں؛ میں تُم سے کسی طرح کم نہیں۔“ بھلا یہ سَب باتیں کون نہیں جانتا؟
JOB 12:4 ”میں اَپنے دوستوں کے لیٔے مذاق بَن چُکا ہُوں، حالانکہ خُدا میری فریاد سُن کر جَواب دیتے رہے؛ لیکن مَیں راستباز اَور بےگُناہ ہوتے ہُوئے بھی لوگوں کی ہنسی کا باعث بنا رہا!“
JOB 12:5 آسُودہ لوگ بدنصیبی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ اُن کی قِسمت میں لکھی ہُوئی ہے جِن کے قدم پھسلتے رہتے ہیں۔
JOB 12:6 ڈاکوؤں کے خیموں کو کویٔی نہیں چھیڑتا، اَورجو لوگ خُدا کو غُصّہ دِلاتے ہیں وہ محفوظ رہتے ہیں، اُن کا معبُود گویا اُن کے ہاتھ میں ہے!
JOB 12:7 ”جانوروں سے پُوچھو اَور وہ تُمہیں سکھائیں گے، یا ہَوا کے پرندوں سے مَعلُوم کرو اَور وہ تُمہیں بتائیں گے؛
JOB 12:8 یا زمین سے پُوچھو تو وہ تُمہیں سِکھائے گی، سمُندر کی مچھلیاں تُمہیں بتائیں گی۔
JOB 12:9 اِن سَب میں سے کون ہے جو نہیں جانتا، کہ یہ سَب یَاہوِہ کے ہاتھ کے کام ہیں؟
JOB 12:10 ہر مخلُوق کی زندگی اَور تمام بنی آدمؔ کا دَم اُن کے ہاتھ میں ہے؟
JOB 12:11 کیا کان باتوں کو نہیں پرکھ لیتا، جَیسا کہ زبان کھانے کو چکھ لیتی ہے؟
JOB 12:12 کیا، عمر رسیدہ میں حِکمت نہیں پائی جاتی؟ کیا طویل عمر سمجھ کو پُختہ نہیں کرتی؟
JOB 12:13 ”خُدا حِکمت اَور قُدرت کے مالک ہیں؛ مصلحت اَور دانائی بھی اُن ہی کی ہے۔
JOB 12:14 جسے اُنہُوں نے ڈھا دیا، اُسے کویٔی دوبارہ کھڑا نہیں کر سَکتا؛ جسے اُنہُوں نے قَید کیا، اُسے کویٔی آزاد نہیں کر سَکتا۔
JOB 12:15 اگر وہ مینہ روک دیں تو سُوکھا پڑ جاتا ہے؛ اَور اگر وہ اُسے برساتے رہیں تو زمین تباہ ہو جاتی ہے۔
JOB 12:16 قُوّت اَور حِکمت خُدا کے ہاتھ میں ہے؛ فریب کھانے والا اَور فریبی دونوں اُن ہی کے ہیں۔
JOB 12:17 وہ مُشیروں کو بے نقاب کرتے ہیں اَور مُنصِفوں کو بےوقُوف بناتے ہیں۔
JOB 12:18 وہ بادشاہوں کے کمربند اُترواکر اُنہیں لنگوٹ پہناکر غُلام بنا دیتے ہیں۔
JOB 12:19 وہ کاہِنوں کے کپڑے اُترواکر اُنہیں جَلاوطن کر دیتے ہیں اَور جابروں کو نیچا دِکھانے ہیں۔
JOB 12:20 وہ مُعتبر مُشیروں کے لب سِی دیتے ہیں اَور بُزرگوں کی بصیرت چھین لیتے ہیں۔
JOB 12:21 وہ اُمرا پر ذِلّت برساتے ہیں اَور زور آوروں کو خالی ہاتھ کر دیتے ہیں۔
JOB 12:22 وہ اَندھیروں میں چُھپے ہُوئے راز آشکار کرتے ہیں، اَور گہرے سایوں کو رَوشنی میں لاتے ہیں۔
JOB 12:23 وہ قوموں کو عظمت عطا فرماتے ہیں اَور وُہی اُنہیں تباہ کرتے ہیں؛ وہ قوموں کو وسعت بخشتے ہیں اَور وُہی اُن میں انتشار پیدا کر دیتے ہیں
JOB 12:24 وہ دُنیا کے رہنماؤں کے ذہن کند کر دیتے ہیں؛ وہ اُنہیں بے راہ بیابان میں بھٹکا دیتے ہیں۔
JOB 12:25 وہ اَندھیرے میں چراغ کے بغیر ٹٹولتے پھرتے ہیں؛ اَور اُنہیں متوالوں کی طرح لڑکھڑاتے رہنے پر مجبُور کر دیتے ہیں۔
JOB 13:1 ”میری آنکھوں نے یہ سَب کچھ دیکھ لیا ہے، میرے کانوں نے سُنا اَور اُسے سمجھ لیا ہے۔
JOB 13:2 جو تُم جانتے ہو اُسے میں بھی جانتا ہُوں؛ میں تُم سے کچھ کم نہیں۔
JOB 13:3 لیکن مَیں قادرمُطلق سے گُفتگو کرنا چاہتا ہُوں، اَور اَپنا دعویٰ خُدا کے حُضُور پیش کرنا چاہتا ہُوں۔
JOB 13:4 لیکن تُم مُجھ پر تہمت لگاتے ہو؛ تُم سَب کے سَب نکمّے طبیب ہو!
JOB 13:5 کاش تُم بالکُل خاموش ہو جاتے! یہ تمہاری دانشمندی کا ثبوت ہوتا۔
JOB 13:6 اَب میری دلیل سُنو؛ میرے مُنہ کے دعویٰ پر کان لگاؤ۔
JOB 13:7 کیا تُم خُدا کی طرف سے شر اَنگیز بات کہو گے؟ اَور اُن کے حق میں فریب سے کام لوگے؟
JOB 13:8 کیا تُم اُن کی طرفداری کروگے؟ کیا تُم خُدا کی طرف سے مُقدّمہ لڑوگے؟
JOB 13:9 اگر وہ تمہاری تفتیش کریں، تو کیا یہ تمہارے حق میں اَچھّا ہوگا؟ کیا تُم خُدا کو دھوکا دے سکوگے جَیسے آدمیوں کو دیتے ہو؟
JOB 13:10 اگر تُم نے خُفیہ طور پر طرفداری سے کام لیا تو وہ تُمہیں ضروُر تنبیہ کریں گے۔
JOB 13:11 کیا اُن کی شوکت تُمہیں ڈرائے گی نہیں؟ کیا تُم پر اُن کا خوف نہ چھا جائے گا؟
JOB 13:12 تمہارے اُصُول راکھ کی تمثیلیں ہیں؛ اَور تمہاری فصیلیں مٹّی کی فصیلیں ہیں۔
JOB 13:13 ”خاموش رہو اَور مُجھے بولنے دو؛ پھر مُجھ پرجو گزرے سو گزرے۔
JOB 13:14 میں خوامخواہ خطرہ کیوں مول لُوں اَور اَپنی جان ہتھیلی پر کیوں رکھوں گا؟
JOB 13:15 خواہ خُدا میرے قتل کا حُکم دے، پھر بھی میں اُن سے اُمّید رکھوں گا؛ اَور اُن کے رُوبرو حُجّت کرتا رہُوں گا۔
JOB 13:16 یہی میری نَجات کا باعث ہوگا، کیونکہ کویٔی بے دین خُدا کے سامنے آنے کی جَسارت نہ کرےگا!
JOB 13:17 میری باتیں غور سے سُنو؛ جو کچھ میں کہتا ہُوں تمہارے کانوں میں پڑے۔
JOB 13:18 اَب جَب کہ مَیں نے اَپنا دعویٰ دُرست کر لیا ہے، مُجھے یقین ہے کہ فیصلہ میرے حق میں ہوگا۔
JOB 13:19 اگر اَب بھی کویٔی میرے خِلاف اِلزام لگاتاہے، تو میں چُپ سادھ لُوں گا اَور اَپنی جان دے دُوں گا۔
JOB 13:20 ”اَے خُدا، صِرف میری دو باتیں مان لیں، پھر مَیں آپ سے چھُپا نہ رہُوں گا:
JOB 13:21 اَپنا ہاتھ مُجھ سے دُور ہٹا لیں، اَور مُجھے اَپنے غضب سے ڈرانا بند کر دیں۔
JOB 13:22 تَب مُجھے طلب کریں اَور مَیں جَواب دُوں گا، یا مُجھے بولنے دیں اَور آپ جَواب دیں۔
JOB 13:23 آخِر مَیں نے کتنے جُرم اَور گُناہ کئے ہیں؟ مُجھے میری خطا اَور میرا گُناہ بتائیں۔
JOB 13:24 آپ اَپنا چہرہ کیوں چھپاتے ہیں؟ اَور مُجھے اَپنا دُشمن کیوں سمجھتا ہے؟
JOB 13:25 کیا آپ ہَوا کے اُڑائے ہُوئے پتّوں کو اَذیّت پہُنچائیں گے؟ کیا سُوکھنے بھُس کے پیچھے پڑیں گے؟
JOB 13:26 کیونکہ آپ میرے خِلاف کڑوی باتیں لِکھتے ہیں اَور میری جَوانی کے گُناہ مُجھ پر واپس لاتے ہیں۔
JOB 13:27 آپ میرے پاؤں بِیڑیوں سے جکڑتے ہیں؛ اَور میرے پاؤؤں کے تلووں پر نِشان لگا کر میری تمام راہوں کی سخت نِگرانی کرتے ہیں۔
JOB 13:28 ”پس اِنسان ایک سڑی ہُوئی چیز کی طرح ضائع ہو جاتا ہے، گویا ایک کپڑے کی طرح، جسے کیڑا کھا گیا ہو۔
JOB 14:1 ”اِنسان جو عورت سے پیدا ہوتاہے، چند روزہ ہے اَور مُصیبت کا مارا ہُوا بھی۔
JOB 14:2 وہ پھُول کی طرح کھِلتا، اَور مُرجھا جاتا ہے؛ وہ تیزی سے گزرتے ہُوئے سایہ کی طرح قائِم نہیں رہتا۔
JOB 14:3 کیا تُم اَیسے اِنسان پر اَپنی آنکھیں جمائے رکھتا ہے؟ کیا تُم میرے ساتھ عدالت میں جاؤگے؟
JOB 14:4 وہ کون ہے جو ناپاک میں سے پاک شَے نکال سکے؟ کویٔی بھی نہیں!
JOB 14:5 اِنسان کے دِن مُعیّن ہیں؛ تُم نے اُس کے مہینوں کی تعداد طے کر رکھی ہے اَور اُس کی حُدوُد مُقرّر کر دی ہیں جنہیں وہ پار نہیں کر سَکتا۔
JOB 14:6 چنانچہ اُس سے نظر ہٹا لیں اَور اُسے آرام کرنے دیں، جَب تک کہ وہ ایک مزدُور کی طرح اَپنا دِن پُورا نہ کر لے۔
JOB 14:7 ”درخت کو تو اُمّید رہتی ہے؛ اگر اُسے کاٹ ڈالا جائے تو وہ پھر سے پھوٹ نکلے گا، اَور اُس کی نئی کونپلیں معدوم نہ ہوں گی۔
JOB 14:8 اگرچہ اُس کی جڑیں زمین میں پرانی ہو جایٔیں اَور اُس کا تنا مٹّی میں گل جائے،
JOB 14:9 تو بھی پانی کی خُوشبو ہی سے اُس میں شگوفے پھوٹ نکلیں گے اَور وہ پَودے کی طرح شاخیں نکالے گا۔
JOB 14:10 لیکن اِنسان مَرجاتا ہے اَور پھر نہیں اُٹھتا؛ وہ آخِری سانس لیتا ہے اَور باقی نہیں رہتا۔
JOB 14:11 جِس طرح پانی سمُندر سے غائب ہو جاتا ہے اَور دریا کی شاہراہ سُوکھ جاتی ہے،
JOB 14:12 اُسی طرح اِنسان مرجاتا ہے اَور پھر نہیں اُٹھتا؛ جَب تک آسمان ٹل نہ جایٔیں اِنسان نہیں بیدار ہوں گے نہ اَپنی نیند سے بیدار کئے جائیں گے۔
JOB 14:13 ”کاش کہ آپ مُجھے قبر میں چھُپا لیتے اَور اَپنا غضب ٹلنے تک مُجھے چُھپائے رکھتے! کاش کہ آپ میرے لیٔے کویٔی وقت مُقرّر کرتے اَور پھر مُجھے یاد فرماتے!
JOB 14:14 اگر اِنسان مَر جائے تو کیا وہ پھر سے جی سکےگا؟ اَپنی مشقّت کے تمام ایّام تک میں اَپنی مخلصی کا منتظر رہُوں گا۔
JOB 14:15 آپ آواز دیں گے اَور مَیں تُمہیں جَواب دُوں گا؛ آپ اَپنے ہاتھوں سے بنائی ہُوئی مخلُوق کی طرف متوجّہ ہوں گے۔
JOB 14:16 تَب آپ میرے قدم ضروُر گنیں گے لیکن میرے گُناہ کا حِساب نہ رکھیں گے۔
JOB 14:17 میری خطائیں ایک تھیلی میں مُہر بند کر دی جایٔیں گی؛ آپ میرے گُناہ پر پردہ ڈالیں گے۔
JOB 14:18 ”لیکن جِس طرح ایک پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر گِر جاتا ہے، اَور ایک چٹّان اَپنی جگہ سے ہٹائی جاتی ہے۔
JOB 14:19 جِس طرح پانی پتّھروں کو گھِس ڈالتا ہے اَور سیلاب مٹّی کو بہا لے جاتا ہے، اُسی طرح آپ اِنسان کی اُمّید پر پانی پھیر دیتے ہیں۔
JOB 14:20 آپ ہمیشہ کے لیٔے اُس پر غالب آتے ہیں اَور وہ چل بستا ہے؛ آپ اُس کا چہرہ بدل دیتے ہیں اَور وہ رحلت کر جاتا ہے۔
JOB 14:21 اگر اُس کے بیٹے عزّت پاتے ہیں تو اُس کا بھی اُسے علم نہیں ہوتا؛ اَور اگر وہ ذلیل کئے جاتے ہیں تو اُنہیں خبر تک نہیں ہوتی۔
JOB 14:22 وہ صِرف اَپنے ہی جِسم کا درد محسُوس کرتے ہیں اَور صِرف اَپنے ہی لیٔے ماتم کرتے ہیں۔“
JOB 15:1 تَب اِلیفزؔ تیمانی نے جَواب دیا:
JOB 15:2 ”کیا ایک عقلمند شخص بے تُکا جَواب دے یا اَپنا پیٹ گرم مشرقی ہَوا سے بھر لے؟
JOB 15:3 کیا وہ اَپنی بحث میں بے معنی الفاظ اِستعمال کرے، یا اَیسی تقریریں جِن کی کویٔی قدر و قیمت نہ ہو؟
JOB 15:4 لیکن تُم تو تقویٰ کو بیکار سمجھتے ہو اَور خُدا کے خوف کو درگزر کرتے ہو۔
JOB 15:5 تمہارا گُناہ تمہارا مُنہ کھُلواتا ہے؛ اَور تمہاری زبان سے عیّاری ظاہر ہوتی ہے۔
JOB 15:6 خُود تمہارا مُنہ تُمہیں مُلزم ٹھہراتا ہے نہ کہ میرا؛ تمہارے ہی ہونٹ تمہارے خِلاف گواہی دیتے ہیں۔
JOB 15:7 ”کیا تُم ہی پہلا اِنسان ہو جو پیدا ہویٔے ہو؟ کیا تُم پہاڑوں سے پہلے وُجُود میں آئےتھے؟
JOB 15:8 کیا تُم خُدا کی مشورت پر کان لگاتے ہو؟ یا حِکمت کو صِرف اَپنی حَد تک محدُود رکھتے ہو؟
JOB 15:9 تُم اَیسی کون سِی بات جانتے ہو جو ہم نہیں جانتے؟ تُم میں اَیسی کیا بصیرت ہے جو ہم میں نہیں؟
JOB 15:10 سفیدریش اَور بُزرگ لوگ ہماری جانِب ہیں، جو تمہارے باپ سے بھی زِیادہ عمر رسیدہ ہیں۔
JOB 15:11 کیا خُدا کی تسلّی تمہارے لیٔے کافی نہیں، وہ الفاظ جو دھیرے سے مُجھے کہے گیٔے؟
JOB 15:12 تمہارے دِل نے تُمہیں اَپنی طرف کیوں کھینچ لیا، اَور تمہاری آنکھیں کیوں چوندھیا گئیں،
JOB 15:13 یہاں تک کہ تُم خُدا کے خِلاف اَپنے غُصّہ کا مظاہرہ کرتے ہو اَور اَپنے مُنہ سے اَیسی باتیں نکالتے ہو؟
JOB 15:14 ”اِنسان ہے ہی کیا، کہ وہ پاک ہو، یا وہ جو عورت سے پیدا ہُوا راستباز کیسے ٹھہرے؟
JOB 15:15 اگر خُدا اَپنے مُقدّسوں پر اِعتبار نہیں کرتا، اگر آسمان بھی اُن کی نگاہ میں پاک نہیں ہیں۔
JOB 15:16 تو پھر اِنسان کیا چیز ہے جو حقیر اَور فاسق ہے، اَورجو بدی کو پانی کی طرح پی لیتا ہے!
JOB 15:17 ”تُم میری سُنو تو میں تُمہیں سمجھا دُوں گا؛ اَور بتاؤں گا کہ مَیں نے کیا دیکھاہے،
JOB 15:18 وہ جِن کا عقلمندوں نے اعلان کیا، جسے اَپنے آباؤاَجداد سے حاصل کرکے بِنا چُھپائے پیش کیا۔
JOB 15:19 (صِرف اُن ہی کو مُلک دیا گیا تھا اَور کویٔی بیگانہ اُن کے درمیان نہیں آیا):
JOB 15:20 بدکار آدمی عمر بھر شدید درد سے کراہتا ہے۔ تمام عمر کی بے دردی سنگدل کے لیٔے جمع کر دی گئی ہے۔
JOB 15:21 خوفناک آوازیں اُس کے کان میں گونجتی ہیں؛ اُس کی خُوشحالی کے وقت لُٹیرے اُس پر دھاوا بول دیتے ہیں۔
JOB 15:22 اُسے تاریکی سے نکلنے کا بالکُل یقین نہیں؛ تلوار اُس کی منتظر ہے۔
JOB 15:23 وہ روٹی کی جُستُجو میں مارا مارا پھرتاہے؛ اَور جانتا ہے کہ موت اَب قریب ہے۔
JOB 15:24 مُصیبت اَور سخت تکلیف سے وہ نہایت خوفزدہ ہے؛ یہ آفتیں اُسے خوفزدہ کئے ہُوئے ہیں جَیسے کویٔی بادشاہ حملہ کرنے پر آمادہ ہو۔
JOB 15:25 اِس لیٔے کہ وہ خُدا کو مُکّا دِکھاتا ہے اَور قادرمُطلق کے خِلاف شیخی بگھارتا ہے۔
JOB 15:26 ایک موٹی اَور مضبُوط سِپر سے مُسلّح ہوکر اُس پر لپکتا ہے۔
JOB 15:27 ”حالانکہ اُس کا چہرہ چربی سے پھُولا ہُواہے اَور اُس کی کمر کا گوشت لٹکنے لگا ہے،
JOB 15:28 وہ ویران شہروں میں بسے گا اَیسے مکانوں میں جِن میں کویٔی نہ رہتا ہو، اَیسے گھروں میں جو نہایت خستہ حالت میں ہیں۔
JOB 15:29 اُس کی دولتمندی ختم ہو جائے گی اَور اُس کا مال جاتا رہے گا، نہ ہی اُس کی مِلکیّت وسیع ہوگی۔
JOB 15:30 وہ اَندھیرے سے بچ کر نکل نہ سکےگا؛ بھڑکتی ہُوئی آگ کا شُعلہ اُس کی شاخوں کو جھُلس دے گا، اَور خُدا کے مُنہ کا دَم اُسے اُڑا دے گا۔
JOB 15:31 باطِل پر بھروسا کرکے وہ اَپنے آپ کو دھوکا نہ دے، کیونکہ اُس کے بدلہ میں وہ کچھ نہ پایٔےگا۔
JOB 15:32 اَپنے وقت سے پہلے ہی اُسے پُورا اجر مِل جائے گا، اَور اُس کی شاخیں پھیل نہ پائیں گی۔
JOB 15:33 وہ انگور کی اُس بیل کی طرح ہوگا جِس کے انگور پکنے سے پہلے ہی جھڑ جاتے ہیں، یا زَیتُون کے اُس درخت کی طرح جِس کے پھُول گِر رہے ہُوں۔
JOB 15:34 کیونکہ بےدینوں کی محفل ویران ہوگی، اَور رشوت خوروں کے خیمے آگ کی نذر ہوں گے۔
JOB 15:35 وہ بدی کے حامل ہوتے ہیں اَور اُن سے بدی پیدا ہوتی ہے؛ اُن کے بطن میں فریب پرورِش پاتاہے۔“
JOB 16:1 تَب ایُّوب نے جَواب دیا:
JOB 16:2 ”میں اِس طرح کی بہت سِی باتیں سُن چُکا ہُوں؛ تمہاری غم خواری کسی کام کی نہیں!
JOB 16:3 کیا یہ طُول کلامی کبھی ختم نہ ہوگی؟ تُمہیں کیا تکلیف ہے کہ تُم حُجّت کئے جا رہے ہو؟
JOB 16:4 اگر تُم میری جگہ ہوتے تو میں بھی تمہاری طرح بولتا؛ تمہارے خِلاف باتیں گڑھتا اَور تمہارے سامنے اَپنا سَر ہلاتا۔
JOB 16:5 لیکن میرے مُنہ سے ہمّت اَفزا باتیں نکلیں گی؛ میرے لبوں کی غمگساری تُمہیں راحت پہُنچائے گی۔
JOB 16:6 ”لیکن جَب مَیں بولتا ہُوں تو میرا درد کم نہیں ہوتا؛ اَور اگر چُپ سادھ لُوں تَب بھی وہ مُجھے نہیں چھوڑتا۔
JOB 16:7 اَے خُدا، آپ نے مُجھے تھکا دیا؛ آپ نے میرے سارے گھر بار کو تباہ کر دیا۔
JOB 16:8 آپ نے مُجھے جکڑ لیا، میری حالت میری گواہ ہے؛ میرا لاغر بَدن کھڑا ہوکر میرے خِلاف گواہی دیتاہے۔
JOB 16:9 خُدا مُجھ پر چڑھ آتے ہیں اَور اَپنے غضب میں مُجھے پھاڑ کر رکھ دیتے ہیں، اَور وہ مُجھ پر دانت پیستے ہیں؛ اَور میرا مُخالف مُجھے آنکھیں دِکھاتا ہے۔
JOB 16:10 لوگ مُنہ کھول کر میرا مذاق اُڑاتے ہیں؛ حقارت سے میرے گال پر تھپّڑ مارتے ہیں اَور میرے خِلاف اِکٹھّے ہو جاتے ہیں۔
JOB 16:11 خُدا نے مُجھے بُرے لوگوں کے حوالہ کر دیا اَور مُجھے بدکاروں کے شکنجہ میں ڈال دیا۔
JOB 16:12 میں بالکُل ٹھیک تھا، لیکن خُدا نے مُجھے چُورچُور کرکے رکھ دیا؛ اُنہُوں نے مُجھے گردن سے پکڑکر جھنجوڑ ڈالا۔ اُنہُوں نے مُجھے اَپنا نِشانہ بنایا،
JOB 16:13 اُن کے تیر اَندازوں نے مُجھے گھیر رکھا ہے۔ وہ بے رحمی سے میرے گُردوں کو چھید ڈالتے ہیں۔ اَور میرے پِت کو زمین پر گراتے ہیں۔
JOB 16:14 وہ مُجھ پر وار پر وار کئے جاتے ہیں؛ اَور ایک جنگجو سپاہی کی طرح مُجھ پر دھاوا بولتے ہیں۔
JOB 16:15 ”مَیں نے اَپنی جلد پر ٹاٹ سِی لیا ہے اَور اَپنی عزّت مٹّی میں مِلا دی ہے۔
JOB 16:16 میرا چہرہ روتے روتے سُرخ ہو گیا ہے، اَور میری آنکھوں پر اَندھیرا چھا گیا ہے؛
JOB 16:17 پھر بھی میرے ہاتھوں نے تشدّد سے کام نہیں لیا اَور میری دعا پاک ہے۔
JOB 16:18 ”اَے زمین، میرے خُون پر پردہ نہ ڈال؛ میری فریاد کو کبھی سکون نہ ملے!
JOB 16:19 اَب بھی میرا گواہ آسمان پر ہے؛ اَور میرا وکیل عالمِ بالا پر۔
JOB 16:20 جَب میری آنکھیں خُدا کے حُضُور آنسُو بہاتی ہیں میرا دوست میری شفاعت کرتا ہے؛
JOB 16:21 جِس طرح ایک اِنسان اَپنے دوست کی وکالت کرتا ہے اُسی طرح وہ خُدا سے اِنسان کی وکالت کرتا ہے۔
JOB 16:22 ”اَب چند سال جو باقی ہیں وہ بھی گزر جایٔیں گے پھر مَیں سفر پر روانہ ہو جاؤں گا اَور واپس نہ آؤں گا۔
JOB 17:1 میری رُوح شکستہ ہے، میرے زندگی کے دِن گھٹا کر کم کر دیئے گئے، قبر میرے اِنتظار میں ہے۔
JOB 17:2 یقیناً ٹھٹّھا کرنے والے مُجھے گھیرے ہُوئے ہیں؛ اُن کی اشتعال اَنگیزی میری نظروں کے سامنے ہے۔
JOB 17:3 ”یا خُدا، جو ضمانت آپ مُجھ سے چاہتے ہیں اُس کا اِنتظام کریں۔ اَور کون ہے جو میری ضمانت دے گا؟
JOB 17:4 آپ نے اُنہیں دانشمندی سے محروم کر دیا؛ اِس لیٔے آپ اُنہیں کبھی سرفرازی نہ بخشیں گے۔
JOB 17:5 اگر کویٔی اِنسان ذاتی مفاد کی خاطِر اَپنے دوستوں کو مُلزم قرار دیتاہے، تو اُس کے بچّوں کی آنکھیں جاتی رہیں گی۔
JOB 17:6 ”خُدا نے مُجھے ہر کسی کے لیٔے ضرب المثل بنا رکھا ہے، یعنی اَیسا آدمی جِس کے مُنہ پر لوگ تھُوکتے ہیں۔
JOB 17:7 میری آنکھیں غم سے دھُندلا گئی ہیں؛ مُجھے ہر صورت سائے کی طرح لگتی ہے
JOB 17:8 راستباز لوگ یہ دیکھ کر حیران ہو گئے؛ صادق بےدینوں کے خِلاف جوش میں آ گئے۔
JOB 17:9 تو بھی راستباز ثابت قدم رہیں گے، اَور صَاف ہاتھوں والے زورآور ہوں گے۔
JOB 17:10 ”لیکن تُم سَب واپس چلے آؤ، اَور پھر زور لگاؤ! مُجھے تُم میں ایک بھی عقلمند نہ ملے گا۔
JOB 17:11 میری زندگی کے دِن تمام ہو گئے، میرے منصُوبے مٹّی میں مِل گیٔے، اَور میرے دِل کے ارمانوں پر پانی پھر گیا۔
JOB 17:12 یہ لوگ رات کو دِن کہتے ہیں، تاریکی کے ہوتے ہُوئے بھی کہتے ہیں کہ رَوشنی ہے۔
JOB 17:13 اگر پاتال ہی وہ گھر ہے جِس کی میں اُمّید کروں، اَور مَیں اَندھیرے میں اَپنا بِستر بچھا لُوں،
JOB 17:14 اگر تعفّن کو اَپنا باپ کہنے لگوں، اَور کیڑے کو اَپنی ماں یا بہن کہہ کے پُکاروں،
JOB 17:15 تو پھر میری اُمّید کہاں رہی؟ اَور میرے لیٔے اُمّید کی توقع کسے ہوگی؟
JOB 17:16 کیا وہ بھی پاتال کے دروازے تک میرے ساتھ چلے گی؟ کیا ہم ایک ساتھ خاک میں مِل جایٔیں گے؟“
JOB 18:1 تَب بِلددؔ شوحی نے جَواب دیا:
JOB 18:2 ”آخِر تمہاری باتیں کب ختم ہُوں گی؟ تُم سمجھ سے کام لو تو ہم بات چیت کر سکتے ہیں۔
JOB 18:3 ہم مویشیوں میں کیوں شُمار کیٔے جاتے ہیں؟ اَور تمہاری نگاہ میں بےوقُوف ٹھہرے ہیں؟
JOB 18:4 تُم جو غُصّے میں خُود اَپنے ہی ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہو، کیا تمہاری خاطِر زمین اُجڑ جائے گی؟ یا چٹّانیں اَپنی جگہ سے ہٹا دی جایٔیں گی؟
JOB 18:5 ”بدکار کا چراغ بُجھا دیا جاتا ہے؛ اُس کی آگ کا شُعلہ بُجھ کر رہ جاتا ہے۔
JOB 18:6 اُس کے خیمہ کی رَوشنی تاریک ہو جاتی ہے؛ اُس کا چراغ خاموش ہو جاتا ہے۔
JOB 18:7 اُس کی قُوّت کے قدم ڈگمگانے لگتے ہیں؛ اُس کے اَپنے منصُوبے اُسے نیچے گرا دیتے ہیں۔
JOB 18:8 اُس کے پاؤں اُسے جال میں پھنسا دیتے ہیں اَور وہ اُس کے پھندوں میں اُلجھ کر رہ جاتا ہے۔
JOB 18:9 جال اُسے اِیڑی سے پکڑتا ہے اَور بُری طرح جکڑ لیتا ہے۔
JOB 18:10 کمند اُس کے لیٔے زمین میں چھپادی جاتی ہے؛ اَور شکنجہ اُس کی راہ میں پڑا رہتاہے۔
JOB 18:11 دہشت ہر طرف سے اُسے گھبراہٹ میں مُبتلا کردیتی ہے اَور ہر قدم پر اُس کا پیچھا کرتا ہے۔
JOB 18:12 مُصیبت اُس کی بھُوکی ہے؛ اَور آفت اُس کے گرنے کا اِنتظار کرتی ہے۔
JOB 18:13 وہ اُس کی جلد کو کُتر ڈالتی ہے؛ اَور موت کا پہلوٹھا اُس کے اَعضا کو چٹ کر جاتا ہے۔
JOB 18:14 اُسے اُس کے خیمہ کی سلامتی سے محروم کر دیا جاتا ہے اَور دہشت کے بادشاہ کے حُضُور پیش کیا جاتا ہے۔
JOB 18:15 آگ اُس کے خیمہ میں بستی ہے؛ اَور جلتی ہُوئی گندھک اُس کے مَسکن پر بِکھیر دی جاتی ہے۔
JOB 18:16 اُس کی جڑیں نیچے سے سُوکھ جاتی ہیں اَور اُوپر اُس کی شاخیں مُرجھا جاتی ہیں۔
JOB 18:17 زمین پر سے اُس کی یاد مِٹ جاتی ہے؛ اَور مُلک میں اُس کا نام تک باقی نہیں رہتا۔
JOB 18:18 وہ اجالے سے اَندھیرے میں ہانک دیا جاتا ہے اَور دُنیا سے جَلاوطن کر دیا جاتا ہے۔
JOB 18:19 اُس کی قوم میں نہ اُس کی نَسل باقی رہے گی نہ بال بچّے، اُس کے مکان میں رہنے والا کویٔی نہ ہوگا۔
JOB 18:20 آنے والی نَسلیں اُس کے اَنجام پر حیران ہُوں گی؛ جَیسے پہلے وقتوں کے لوگ خوفزدہ ہو گئے تھے۔
JOB 18:21 یقیناً بدکاروں کے مَسکن اَیسے ہی ہوتے ہیں؛ اَورجو خُدا کو نہیں جانتا اُس کی جگہ اَیسی ہی ہوتی ہے۔“
JOB 19:1 تَب ایُّوب نے جَواب دیا:
JOB 19:2 ”تُم کب تک میری جان کھاتے رہوگے اَور باتوں سے میرے ٹکڑے ٹکڑے کرتے رہوگے؟
JOB 19:3 اَب تک دس بار تُم نے مُجھے ملامت کی ہے؛ مُجھ پر حملہ کرتے ہو، تُمہیں ذرا بھی شرم نہیں آتی۔
JOB 19:4 اگر واقعی، میں راہ سے بھٹک گیا ہُوں، تو میری خطا صِرف میرا اَپنا مُعاملہ ہے۔
JOB 19:5 اگر حقیقت یہ ہے کہ تُم اَپنے آپ کو مُجھ سے برتر سمجھتے ہو اَور میری تذلیل کو میرے خِلاف پیش کرتے ہو،
JOB 19:6 تُم یہ جان لو کہ خُدا نے میرے ساتھ بےاِنصافی کی ہے اَور مُجھے اَپنے جال سے گھیرلیا ہے۔
JOB 19:7 ”حالانکہ میں پُکار پُکار کر کہتا ہُوں، ’مُجھ پر ظُلم ہُواہے!‘ تَب بھی مُجھے کویٔی جَواب نہیں ملتا؛ حالانکہ میں مدد کے لیٔے دہائی دیتا ہُوں لیکن اِنصاف نہیں ملتا۔
JOB 19:8 خُدا نے میرا راستہ اَیسا مسدود کر دیا ہے کہ میں گزر نہیں سَکتا؛ اُنہُوں نے میری راہوں پر تاریکی کا پردہ ڈال دیا ہے۔
JOB 19:9 اُنہُوں نے مُجھے میری عزّت سے محروم کر دیا اَور میرے سَر سے تاج اُتار ڈالا۔
JOB 19:10 وہ مُجھے ہر طرف سے چیرپھاڑ کر ختم کر دیتے ہیں؛ اَور میری اُمّید کو درخت کی طرح اُکھاڑ ڈالتے ہیں
JOB 19:11 اُن کا غُصّہ میرے خِلاف بھڑک اُٹھتا ہے؛ وہ مُجھے اَپنے دُشمنوں میں شُمار کرتا ہے۔
JOB 19:12 اُس کی فَوجیں تیزی سے آگے بڑھتی ہیں؛ اَور اَپنے لیٔے راستہ بنا کر میرے خیمہ کے چاروں طرف خیمہ زن ہو جاتی ہیں۔
JOB 19:13 ”اُنہُوں نے نے میرے بھائیوں کو مُجھ سے دُور کر دیا؛ اَور میرے شناسا مُجھ سے بالکُل بیگانہ ہو گئے ہیں۔
JOB 19:14 میرے رشتہ دار مُجھے چھوڑکر چل دئیے؛ اَور میرے احباب مُجھے بھُول گیٔے۔
JOB 19:15 میرے مہمان اَور میری خادِمائیں مُجھے اجنبی سمجھتی ہیں؛ مَیں اُن کی نگاہ میں بیگانہ ہُوں
JOB 19:16 میں اَپنے خادِم کو بُلاتا ہُوں لیکن وہ جَواب نہیں دیتا، حالانکہ میں اَپنے مُنہ سے اُس کی مِنّت کرتا ہُوں۔
JOB 19:17 میری سانس سے میری بیوی کو گھِن آتی ہے؛ میرے اَپنے بھایٔی مُجھے مکرُوہ سمجھتے ہیں۔
JOB 19:18 چُھوٹے بچّے تک میری حقارت کرتے ہیں؛ مُجھے دیکھ کر میرا مضحکہ اُڑاتے ہیں۔
JOB 19:19 میرے سبھی گہرے دوست مُجھ سے نفرت کرتے ہیں؛ اَور جنہیں میں پسند کرتا ہُوں وہ میرے خِلاف ہو گئے ہیں۔
JOB 19:20 میں چمڑی اَور ہڈّیوں کے سِوا کچھ نہ رہا؛ میں پوپلا ہوکر رہ گیا۔
JOB 19:21 ”مُجھ پر ترس کھاؤ، اَے میرے دوستوں! ترس کھاؤ، کیونکہ خُدا کا ہاتھ مُجھ پر بھاری ہے۔
JOB 19:22 تُم خُدا کی طرح میرے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ کیا میرے گوشت سے تمہارا پیٹ نہیں بھرا؟
JOB 19:23 ”کاش میرے الفاظ درج کئے جاتے، کاش وہ کسی کِتاب میں قلم بندہو جاتے،
JOB 19:24 کاش کہ وہ لوہے کے قلم سے سیسے پر نقش کئے جاتے، یا پتّھر پر ہمیشہ کے لیٔے کندہ کر دئیے جاتے!
JOB 19:25 میں جانتا ہُوں کہ میرا نَجات دِہندہ زندہ ہے، اَور آخِرکار وہ زمین پر کھڑا ہوگا۔
JOB 19:26 حالانکہ میرا جِسم فنا ہو جائے گا، میں اَپنے جِسم سمیت ہی خُدا کو دیکھوں گا؛
JOB 19:27 میں ہی خُود اُنہیں دیکھوں گا خُود اَپنی آنکھوں سے میں اُن پر نگاہ کروں گا، کویٔی اَور نہیں۔ (اُس گھڑی کے لیٔے) میرا دِل اَندر ہی اَندر کس قدر بے قرار ہو رہاہے!
JOB 19:28 ”اگر تُم کہو کہ ہم ایُّوب کے پیچھے پڑے ہی رہیں گے، کیونکہ مُصیبت کی جڑ وُہی، ہے،
JOB 19:29 تو تُمہیں خُود بھی تلوار سے ڈرنا چاہئے؛ کیونکہ خُدا کا قہر تلوار بَن کے تُم پر ٹُوٹے گا، تَب تُم روزِ عدالت کی حقیقت سے واقف ہوگے۔“
JOB 20:1 تَب صُوفرؔ نَعماتی نے جَواب دیا:
JOB 20:2 ”میں اَپنے پریشان خیالات کے باعث جَواب دینے پر مجبُور ہُوں کیونکہ مَیں بہت مُضطرب ہُوں۔
JOB 20:3 میں تُم سے یہ تنبیہ سُن کر بے عزّتی محسُوس کر رہا ہُوں، اَور میری سمجھ مُجھے جَواب دینے پر آمادہ کر رہی ہے۔
JOB 20:4 ”یقیناً تُم جانتے ہو کہ زمانہ قدیم سے یہی ہوتا آیا ہے، جَب سے بنی نَوع اِنسان نے زمین پر قدم رکھا،
JOB 20:5 بدکار کی عیش و عشرت چند روزہ ہیں، اَور بے دین کی خُوشی دَم بھر کی ہوتی ہے۔
JOB 20:6 خواہ اُس کا غُرور آسمان تک بُلند ہو جائے اَور اُس کا سَر بادلوں کو چھُولے،
JOB 20:7 وہ اَپنے فُضلہ کی طرح ہمیشہ کے لیٔے فنا ہو جائے گا؛ جنہوں نے اُسے دیکھاہے، پُوچھیں گے کہ وہ کہاں ہے؟
JOB 20:8 وہ خواب کی طرح اُڑ جاتا ہے اَور پھر نہیں ملتا، رات کی رُویا کی طرح دُورہو جاتا ہے۔
JOB 20:9 جِن آنکھوں نے اُسے دیکھا تھا اُسے پھر نہ دیکھیں گی؛ وہ اُن کی قِیام گاہ کو خالی پائیں گی۔
JOB 20:10 اُس کی اَولاد غریبوں سے بھیک مانگے گی؛ اُس کے اَپنے ہاتھ اُس کی دولت واپس دیں گے۔
JOB 20:11 اُس کی ہڈّیوں میں سمائی ہُوئی جَوان قُوّت اُس کے ساتھ خاک میں مِل جائے گی۔
JOB 20:12 ”خواہ بدی اُس کے مُنہ میں میٹھی لگے اَور وہ اُسے زبان کے نیچے چھُپا لے،
JOB 20:13 خواہ وہ اُسے باہر نکلنے نہ دے اَور اُسے اَپنے مُنہ میں دبائے رکھے،
JOB 20:14 تَب بھی اُس کا کھانا اُس کے پیٹ میں جا کر؛ سانپوں کے زہر میں تبدیل ہو جائے گا۔
JOB 20:15 اُس نے جو دولت نگل رکھی ہے، اُسے اُگل دے گا؛ خُدا اُس کے پیٹ کو اُسے باہر نکالنے پر مجبُور کرےگا۔
JOB 20:16 وہ افعی کا زہر چُوسے گا؛ اَور افعی کے دانت اُسے مار ڈالیں گے۔
JOB 20:17 وہ جھرنوں کا لُطف نہ اُٹھا سکےگا، نہ ہی شہد اَور ملائی کی بہتی ہُوئی دریاؤں کا۔
JOB 20:18 جو چیز اُس نے مشقّت سے حاصل کی اُسے بغیر کھائے واپس کر دے گا؛ نہ ہی وہ اَپنے کاروبار کے منافع سے مستفید ہوگا۔
JOB 20:19 کیونکہ اُس نے غریبوں پر ظُلم ڈھائے اَور اُنہیں اَور بھی کنگال بنا دیا؛ اَور اُس نے اُن گھروں پر قبضہ جمالیا جنہیں اُس نے نہیں بنایا تھا۔
JOB 20:20 ”اُس کی تمنّا ہرگز پُوری نہ ہوگی؛ اُس کی دولت اُس کے کام نہ آئے گی،
JOB 20:21 اَیسی کویٔی شَے نہیں بچی جِس پر اُس نے ہاتھ نہ مارا ہو؛ اُس کی خُوشحالی قائِم نہ رہے گی۔
JOB 20:22 فراوانی کے باوُجُود بھی تنگی اُسے آ پکڑے گی؛ مُصیبتوں کا پہاڑ اُس پر ٹوٹ پڑےگا۔
JOB 20:23 ابھی وہ سیر بھی نہ ہُوا ہوگا، کہ خُدا اَپنا قہر شدید اُس پر نازل کریں گے اَور اُس پر مُکّے برسائیں گے۔
JOB 20:24 چاہے وہ لوہے کے ہتھیار سے بچ کر بھاگ نکلے، تیر کا کانسے کا سِرا اُسے چھید ڈالے گا۔
JOB 20:25 وہ اُس کی پیٹھ میں سے گزر جائے گا، اُس کی چمکدار نوک اُس کا جگر چاک کر دے گی۔ اَور اُس پر دہشت چھا جائے گی؛
JOB 20:26 مُکمّل تاریکی اُس کے خزانوں پر گھات لگائے بیٹھی ہے۔ آگ بھڑکنے سے پہلے ہی اُسے بھسم کر دے گی اَور اُس کے خیمہ میں جو کچھ بچا ہوگا اُسے پھُونک ڈالے گی۔
JOB 20:27 افلاک اُس کے گُناہ ظاہر کر دیں گے؛ زمین اُس کے خِلاف اُٹھ کھڑی ہوگی۔
JOB 20:28 خُدا کے روز قہر کا تُند سیلاب، اُس کے گھر کا مال و اَسباب بہا لے جائے گا۔
JOB 20:29 خُدا نے یہ اَنجام بدکار آدمی کی تقدیر میں لِکھ دیا ہے، اُس کے لیٔے خُدا کی مُقرّر کی ہُوئی مِیراث یہی ہے۔“
JOB 21:1 تَب ایُّوب نے جَواب دیا:
JOB 21:2 ”میری باتوں کو غور سے سُنو؛ یہ میری تسلّی کا باعث ہوگا۔
JOB 21:3 جَب تک میں بولُوں، میری برداشت کرو، اَور جَب مَیں بول چُکوں تَب میرا مضحکہ اُڑانا۔
JOB 21:4 ”کیا میری شکایت اِنسان سے ہے؟ پھر مَیں صبر کیسے کروں؟
JOB 21:5 مُجھے دیکھو اَور تعجُّب کرو؛ اَور اَپنا ہاتھ اَپنے مُنہ پر رکھ لو۔
JOB 21:6 جَب مَیں اِس بارے میں سوچتا ہُوں تو گھبرا جاتا ہُوں؛ اَور مُجھ پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔
JOB 21:7 بدکار کیوں جیتے رہتے ہیں، خُوشحال اَور دولتمند ہو جاتے ہیں؟
JOB 21:8 وہ اَپنے بچّوں کو اَپنے اِردگرد، اَور اَپنی اَولاد اَپنی آنکھوں سے قائِم ہوتے دیکھتے ہیں۔
JOB 21:9 اُن کے گھر محفوظ اَور خوف سے بَری ہیں؛ خُدا کی لاٹھی اُن پر نہیں پڑتی۔
JOB 21:10 اُن کے سانڈ نَسل بڑھاتے رہتے ہیں؛ اُن کی گائیں وقت پر بچھڑا دیتی ہیں۔
JOB 21:11 وہ اَپنے چُھوٹے بچّوں کو بھیڑوں کی طرح کھُلا چھوڑ دیتے ہیں؛ اَور اُن کے لڑکے اُچھلتے کودتے رہتے ہیں۔
JOB 21:12 وہ دف اَور بربط کے ساتھ نغمہ گاتے ہیں؛ اَور بانسری کی آواز سُن کر خُوش ہونے لگتے ہیں۔
JOB 21:13 وہ اَپنے سال خُوشحالی میں گزارتے ہیں، اَور اِطمینان سے پاتال میں اُتر جاتے ہیں۔
JOB 21:14 وہ خُدا سے کہتے ہیں کہ ہمیں آپ سے کویٔی مطلب نہیں! ہم آپ کی راہیں جاننے کے خواہاں نہیں۔
JOB 21:15 آخِر قادرمُطلق ہے کون جو ہم اُن کی خدمت کریں؟ اُن سے دعا کریں تو ہمیں کیا حاصل ہوگا؟
JOB 21:16 لیکن اُن کی اِقبالمندی اُن کے اَپنے ہاتھ میں نہیں ہے، بدکاروں کے منصُوبے میری سمجھ سے باہر ہیں۔
JOB 21:17 ”پھر بھی کتنی بار بدکار کا چراغ بُجھایا جاتا ہے؟ یا کتنی بار اُن پر آفت آتی ہے جِس کے وہ مُستحق ہوتے ہیں، اَور کتنی بار اُن پر خُدا اَپنا قہر نازل کرتے ہیں؟
JOB 21:18 اُن کی حالت اَیسی ہو جائے جَیسے ہَوا کے سامنے بھُوسی، جَیسا کہ کٹی ہُوئی گھاس جسے آندھی اُڑا لے جاتی ہے؟
JOB 21:19 کہتے ہیں کہ خُدا اِنسان کی سزا اُس کی اَولاد کے لیٔے رکھ چھوڑتے ہیں۔ لیکن ہونا تو یہ چاہئے کہ اِنسان کی سزا اُسی کو ملے تاکہ وہ اُسے جان سکے!
JOB 21:20 اَور وہ اَپنی آنکھوں سے اَپنی تباہی دیکھ لے؛ وہ قادرمُطلق کا قہر بھی خُود ہی پیئے۔
JOB 21:21 کیونکہ اُس کی اَپنی زندگی کی میعاد خاتِمہ پر ہوگی، اُسے اَپنے خاندان کی کیا پروا ہوگی جسے وہ پیچھے چھوڑ جاتا ہے؟
JOB 21:22 ”کیا خُدا کو کویٔی علم سِکھا سَکتا ہے، جَب کہ سرفرازوں تک کی بھی عدالت وُہی کرتے ہیں؟
JOB 21:23 ایک شخص بھری جَوانی میں مَرجاتا ہے، جَب کہ اُسے ہر طرح کا عیش و آرام مُیسّر ہوتاہے،
JOB 21:24 اَور اُس کا جِسم توانا ہوتاہے، اَور اُس کی ہڈّیاں گُودے سے بھری ہوتی ہیں۔
JOB 21:25 دُوسرا شخص اَپنے جی میں تلخی سے مَرجاتا ہے، وہ کسی اَچھّی چیز کا لُطف نہیں اُٹھاتا۔
JOB 21:26 دونوں کے جِسم ساتھ ساتھ مٹّی میں پڑے رہتے ہیں، اَور اُن میں کیڑے بھر جاتے ہیں۔
JOB 21:27 ”مَیں تمہارے خیالات کو بخُوبی جانتا ہُوں، اَور اُن منصُوبوں کو بھی جو میرے خِلاف گڑھے جا رہے ہیں۔
JOB 21:28 تُم پُوچھتے ہو، ’اَب اِس بڑے آدمی کا گھر کہاں رہا، وہ خیمے کہاں گیٔے جہاں بدکار بستے تھے؟‘
JOB 21:29 کیا تُم نے مُسافروں سے کبھی نہیں پُوچھا؟ تُم اُن کے نِشانات کو تو جھٹلا نہیں سکتے،
JOB 21:30 کہ بُرا آدمی بھی آفت کے دِن تک بچا رہتاہے، اَور غضب کے دِن حاضِر کیا جاتا ہے۔
JOB 21:31 کون اُس کے مُنہ پر اُس کے چال چلن کی ملامت کرےگا؟ کون اُسے اُس کے کئے کی سزا دے گا؟
JOB 21:32 اُسے قبر تک لے جایا جاتا ہے، اَور اُس کے مزار پر پہرا بِٹھایا جاتا ہے۔
JOB 21:33 وادی کی مٹّی اُسے مرغوب ہے؛ لوگوں کا ہُجوم اُس کے پیچھے چلے جا رہے ہیں، جَیسے بے شُمار لوگ اُس سے پہلے چلے گیٔے۔
JOB 21:34 ”تُم فُضول باتوں سے مُجھے کیسے تسلّی دے سکتے ہو؟ جَب کہ تمہارے جَوابوں میں جھُوٹ کے سِوا اَور کچھ باقی نہیں بچا۔“
JOB 22:1 تَب اِلیفزؔ تیمانی نے جَواب دیا:
JOB 22:2 ”کیا کویٔی اِنسان خُدا کے کام آسکتا ہے؟ کیا کویٔی عقلمند اِنسان بھی اُسے فائدہ پہُنچا سَکتا ہے؟
JOB 22:3 تمہارے راستباز ہونے سے قادرمُطلق کو کیا خُوشی ملے گی؟ اَور اگر تمہاری راہیں راست ہُوں تو اُنہیں کیا فائدہ؟
JOB 22:4 ”کیا وہ تمہاری پاک دامنی کے باعث تُمہیں ملامت کرتا، اَور تُمہیں عدالت میں لاتا ہے؟
JOB 22:5 کیا تمہاری بدی بڑی نہیں؟ اَور کیا تمہارے گُناہ غَیر محدُود نہیں؟
JOB 22:6 تُم نے اَپنے بھائیوں سے بلاوجہ ضمانت طلب کی؛ تُم نے لوگوں کے کپڑے اُتار لیٔے اَور اُنہیں برہنہ کر دیا؟
JOB 22:7 تُم نے تھکے ماندوں کو پانی نہ پِلایا اَور بھُوکوں کو کھانے سے محروم رکھا،
JOB 22:8 حالانکہ تُم ایک زبردست آدمی تھے، زمینوں کے مالک تھے، اَور ایک باعزّت اِنسان کی طرح اُن میں بسے ہُوئے تھے۔
JOB 22:9 اَور تُم نے بیواؤں کو خالی ہاتھ لَوٹایا اَور یتیموں کے بازو توڑ دئیے۔
JOB 22:10 اِسی لیٔے تمہارے چاروں طرف پھندے لگے ہُوئے ہیں، اَور ناگہانی خطرے تُمہیں خوفزدہ کرتے ہیں،
JOB 22:11 آخِر اِس قدر تاریکی کیوں ہے کہ تُم دیکھ نہیں پاتے، اَور سیلاب تُمہیں بہا لے جاتا ہے۔
JOB 22:12 ”کیا آسمان کی بُلندیوں میں خُدا نہیں ہے؟ دیکھو، بُلند سِتارے کس قدر شان سے چمکتے ہیں!
JOB 22:13 پھر بھی تُم کہتے ہو کہ خُدا کیا جانتے ہیں؟ کیا وہ اَیسے اَندھیرے میں سے دیکھ کر اِنصاف کرتے ہیں؟
JOB 22:14 جَب وہ گُنبَدِ افلاک میں گشت لگاتے ہیں اَور گھنے بادل اُنہیں گھیر لیتے ہیں، تو وہ ہمیں دیکھ نہیں سکتے۔
JOB 22:15 کیا تُم اِسی پرانی راہ پر چلتے رہوگے جِس پر بدکار لوگ چلتے آئے ہیں؟
JOB 22:16 وہ وقت سے قبل ہی اُٹھا لیٔے گیٔے، سیلاب اُن کی بُنیادیں بہا لے گیا۔
JOB 22:17 اُنہُوں نے خُدا سے کہا: ’ہمیں آپ سے کویٔی مطلب نہیں!‘ آپ جو قادرمُطلق ہیں ہمارا کیا بِگاڑ سکتے ہیں؟
JOB 22:18 پھر بھی اُن ہی نے اُن کے گھر نِعمتوں سے بھر دئیے، بدکاروں کے منصُوبے میری سمجھ سے باہر ہیں۔
JOB 22:19 صادق اُن کی بربادی دیکھ کر خُوش ہوتے ہیں؛ اَور بے قُصُور یہ کہہ کر اُن کی ہنسی اُڑاتے ہیں،
JOB 22:20 ہمارے دُشمن واقعی تباہ ہو گئے، اَور آگ نے اُن کے خزانے بھسم کر دئیے۔
JOB 22:21 ”خُدا کی اِطاعت کر اَور اُن کے ساتھ سلامتی سے رہو؛ اِس سے تمہارے پاس خُوشحالی آئے گی۔
JOB 22:22 اُن کی ہدایات کو قبُول کرو اَور اُن کے کلام کو اَپنے دِل میں جگہ دو۔
JOB 22:23 اگر تُم قادرمُطلق سے رُجُوع ہوگے تو بحال کئے جاؤگے: بشرطیکہ تُم بدی کو اَپنے خیمہ سے دُور کرو،
JOB 22:24 اَور اَپنے خزانوں کو خاک، اَور اَپنے اوفیرؔ کے سونے کو وادی کے پتّھروں کے برابر سمجھو۔
JOB 22:25 تَب قادرمُطلق تمہارا خزانہ ہوں گے، اَور تمہارے لیٔے خالص چاندی بَن جائیں گے۔
JOB 22:26 تَب قادرمُطلق کی صحبت تمہاری لذّت کا باعث ہوگی، اَور تُم اَپنا مُنہ خُدا کی طرف اُٹھاؤگے۔
JOB 22:27 تُم اُن سے دعا کروگے اَور وہ تمہاری سُنیں گے، اَور تُم اَپنی مَنّتیں پُوری کروگے۔
JOB 22:28 جِس بات کا اِرادہ کروگے وہ پُوری ہوگی، اَور تمہاری راہیں رَوشن ہُوں گی۔
JOB 22:29 جَب لوگ پست کئے جایٔیں گے اَور ’تُم کہو گے کہ اُنہیں سنبھالیں!‘ تو خُدا گِرے ہوؤں کو بچا لیں گے۔
JOB 22:30 خُدا بے قُصُور کو بھی نَجات دیں گے، وہ تمہارے ہاتھوں کی پاکیزگی کے باعث نَجات پایٔےگا۔“
JOB 23:1 تَب ایُّوب نے جَواب دیا:
JOB 23:2 ”آج بھی میری شکایت تلخ ہے؛ میرے کراہنے کے باوُجُود، خُدا کا ہاتھ مُجھ پر بھاری ہوتا جا رہاہے۔
JOB 23:3 کاش کہ میں جانتا کہ خُدا مُجھے کہاں مِل سکتے ہیں؛ کاش کہ میں اُن کے مَسکن تک جا سَکتا!
JOB 23:4 میں اَپنا حال اُن کے سامنے بَیان کرتا، اَور اَپنے مُنہ سے دلائل پیش کرتا۔
JOB 23:5 میں پتہ لگاتاکہ وہ مُجھے کیا جَواب دیں گے، اَورجو کچھ وہ کہتے اُس پر غور کرتا۔
JOB 23:6 کیا وہ اَپنی عظیم قُدرت سے میرا مُقابلہ کریں گے؟ نہیں، وہ مُجھے مُلزم نہ گردانیں گے۔
JOB 23:7 وہاں ایک راستباز آدمی اُن کے ساتھ بحث کر سَکتا ہے، اَور مَیں اَپنے مُنصِف کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیٔے رِہائی پاؤں گا۔
JOB 23:8 ”لیکن اگر مَیں مشرق کو جاتا ہُوں تو وہ وہاں نہیں ملتے؛ اَور اگر مغرب کو جاتا ہُوں تو اُنہیں وہاں بھی نہیں پاتا۔
JOB 23:9 جَب وہ شمال میں مصروف رہتے ہیں، میں اُنہیں دیکھ نہیں پاتا؛ اَور جَب وہ جُنوب کا رخ کرتے ہیں، میری نگاہ اُن پر نہیں پڑتی۔
JOB 23:10 لیکن وہ اُن راہ سے واقف ہیں جِس پر میں چلتا ہُوں؛ جَب وہ مُجھے پرکھ چُکیں گے تو میں بھٹّی سے کندن بَن کر نکلوں گا۔
JOB 23:11 میرے پاؤں اُن کے نقش قدم پر چلتے رہتے ہیں؛ مَیں اُن کی راہ سے نہیں ہٹا۔
JOB 23:12 مَیں نے اُن کے لبوں کے اَحکام کو نہیں ٹالا؛ اَور اُن کے مُنہ کی باتوں کو اَپنی روز کی روٹی سے بھی زِیادہ عزیز سمجھا۔
JOB 23:13 ”لیکن وہ اَپنی مرضی کے مالک ہیں۔ کون اُن کا اِرادہ بدل سَکتا ہے؟ وہ جو چاہتے ہیں اُسے کرکے رہتے ہیں۔
JOB 23:14 جو کچھ میرے لیٔے قوانین مُقرّر کیا گیا ہے، وہ اُسے پُورا ہونے دیں گے، اَور اَیسے اَور بھی کیٔی اُمور اُن کے سامنے ہیں۔
JOB 23:15 اِسی لیٔے میں اُن کے سامنے جانے سے ڈرتا ہُوں؛ جَب مَیں اِن سَب باتوں کو سوچتا ہُوں تو مُجھ پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے
JOB 23:16 خُدا نے مُجھے بُزدل بنا دیا؛ قادرمُطلق نے مُجھے ہِراساں کر دیا۔
JOB 23:17 پھر بھی میری زندگی کا چراغ خاموش نہیں ہُوا، اُنہُوں نے موت کی گھنی تاریکی کو مُجھ سے دُور کر رکھا ہے۔
JOB 24:1 ”قادرمُطلق نے عدالت کے اوقات کیوں مُقرّر نہیں کیٔے؟ جو اُن کو جانتے ہیں اُنہیں بھی اَیسے دِنوں کی خبر نہیں؟
JOB 24:2 لوگ حُدوُد کے پتّھروں کو سرکاتے ہیں؛ وہ گلّوں کو ہانک لے جاتے ہیں اَور اُنہیں چَرانے لگتے ہیں۔
JOB 24:3 وہ یتیم کا گدھا چُرا لے جاتے ہیں اَور بِیوہ کا بَیل رہن رکھ لیتے ہیں۔
JOB 24:4 وہ مُحتاج کو راہ سے ہٹا دیتے ہیں اَور مُلک کے تمام غریب چھپتے پھرتے ہیں۔
JOB 24:5 ویرانہ کے گورخروں کی طرح، غُربا اَپنی خُوراک کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں؛ اَور بنجر زمین اُن کے بچّوں کو خُوراک بہم پہُنچاتی ہے۔
JOB 24:6 وہ کھیتوں میں سے چارا کاٹتے ہیں اَور بدکاروں کے لیٔے تاکستانوں کے انگور توڑتے ہیں۔
JOB 24:7 کپڑے نہ ہونے کے باعث وہ رات بھر ننگے پڑے رہتے ہیں؛ اَور سردی سے بچنے کے لیٔے اُن کے پاس اوڑھنے کو کچھ نہیں ہوتا۔
JOB 24:8 وہ پہاڑوں کی بارش سے بھیگتے ہیں اَور کویٔی پناہ نہ مِلنے پر چٹّانوں سے لپٹ جاتے ہیں۔
JOB 24:9 یتیم کا بچّہ چھاتی سے جُدا کر دیا جاتا ہے؛ اَور غریب کا بچّہ قرض کے عوض گروی رکھ لیا جاتا ہے۔
JOB 24:10 وہ کپڑوں کے بغیر ننگے پھرتے رہتے ہیں؛ اَور پُولے ڈھوتے ہُوئے بھی بھُوکے رہتے ہیں۔
JOB 24:11 وہ تیل نکالنے کے لیٔے چٹّانوں پر زَیتُون کُچلتے ہیں؛ وہ مے کے حوضوں کے انگور روند کر اُن کا رس نکالتے ہیں لیکن خُود پیاسے رہتے ہیں۔
JOB 24:12 مرنے والوں کے کراہنے کی آوازیں شہر سے اُٹھتی ہیں، اَور زخمیوں کی جانیں دہائی دیتی ہیں۔ تو بھی خُدا کسی کو بدی کا ذمّہ دار نہیں ٹھہراتا۔
JOB 24:13 ”اَیسے بھی لوگ ہیں جو نُور سے بغاوت کرتے ہیں، اَور اُس کی راہوں کو نہیں جانتے نہ اُس کے سامنے آتے ہیں۔
JOB 24:14 شام ہوتے ہی خُونی اُٹھ کھڑا ہوتاہے اَور غریب اَور مُحتاج کو قتل کرتا ہے؛ اَور رات کو چور کی طرح نقب لگاتاہے۔
JOB 24:15 زناکار کی آنکھ شام کی منتظر رہتی ہے؛ ’وہ سوچتا ہے کہ اُس وقت کسی کی نگاہ مُجھ پر نہ پڑےگی،‘ اَور وہ اَپنا چہرہ چُھپائے پھرتاہے۔
JOB 24:16 اَندھیرے میں یہ لوگ گھروں میں جا گھُستے ہیں، لیکن دِن نکلتے ہی چھُپ جاتے ہیں؛ اُنہیں نُور سے کویٔی سروکار نہیں۔
JOB 24:17 اُن سَب کی صُبح موت کے سایہ کی مانند ہے؛ تَب اُنہیں پتہ چلتا ہے کہ موت کے سایہ کی دہشت کیسی ہوتی ہے۔
JOB 24:18 ”پھر بھی وہ پانی کی سطح پر کا جھاگ ہیں؛ زمین پر اُن کا حِصّہ ملعُون قرار دیا گیا ہے، تاکہ کویٔی تاکستانوں کو نہ جائے۔
JOB 24:19 جِس طرح گرمی اَور خُشکی پگھلتی ہُوئی برف کو ہڑپ لیتی ہے، اُسی طرح قبر گُنہگاروں کو کھا جاتی ہے۔
JOB 24:20 (ماں کا) رحم اُن کو بھلا دیتاہے، اَور کیڑا اُنہیں مزے سے کھاتا ہے؛ بُرے لوگوں کو کویٔی یاد نہیں کرتا بَلکہ وہ درخت کی طرح کاٹ ڈالے جاتے ہیں۔
JOB 24:21 وہ بانجھ اَور بے اَولاد عورت کو نگل جاتے ہیں، اَور بِیوہ کے ساتھ ہمدردی نہیں جتاتے۔
JOB 24:22 لیکن خُدا اَپنی قُوّت سے سُورماؤں کو گھسیٹ لے جاتے ہیں؛ حالانکہ وہ مضبُوطی سے قائِم نظر آتے ہیں لیکن اُن کی زندگی کا کویٔی بھروسا نہیں۔
JOB 24:23 حالانکہ وہ اُنہیں سلامتی سے جینے دیتے ہیں، لیکن اُن کی آنکھیں اُن کی راہوں پر لگی رہتی ہیں۔
JOB 24:24 چند لمحوں کے لیٔے وہ سرفراز کئے جاتے ہیں اَور پھر چل بستے ہیں؛ وہ پست کئے جاتے ہیں اَوروں کی طرح دفن کیٔے جاتے ہیں؛ اَور اناج کی بالوں کی طرح کاٹ ڈالے جاتے ہیں۔
JOB 24:25 ”اگر یہ یُوں نہیں ہے تو کویٔی ہے جو مُجھے جھُوٹا ثابت کرے اَور میری باتوں کو فُضول ٹھہرائے۔“
JOB 25:1 تَب بِلددؔ شوحی نے جَواب دیا:
JOB 25:2 ”خُدا سلطنت اَور دبدبہ کے مالک ہیں؛ وہ آسمان کی بُلندیوں میں اَمن قائِم رکھتے ہیں۔
JOB 25:3 کیا اُن کے لشکروں کی تعداد گنی جا سکتی ہے؟ وہ کون ہے جِس پر اُن کا سُورج نہیں چمکتا؟
JOB 25:4 پھر اِنسان کیسے خُدا کے حُضُور راست ٹھہر سَکتا ہے؟ جو عورت سے پیدا ہُوا ہو وہ کیسے پاک ہو سَکتا ہے؟
JOB 25:5 جَب چاند بھی رَوشن نہیں اَور سِتارے اُن کی نظر میں پاک نہیں،
JOB 25:6 پھر بھلا اِنسان کا کیا ذِکر جو محض کیڑا ہے، ایک آدمؔ زاد چیونٹی سے زِیادہ حیثیت نہیں رکھتا!“
JOB 26:1 تَب ایُّوب نے جَواب دیا:
JOB 26:2 ”تُم نے ایک بےبس اِنسان کی کیسی مدد کی! اَور ایک ناتواں بازو کو کیسے سنبھالا!
JOB 26:3 ایک نادان کو کیسی صلاح دی! تُم نے کیسی عظیم دانائی کا مظاہرہ کیا!
JOB 26:4 تُم نے یہ باتیں کہاں سے سیکھی ہیں؟ اَور کس کی رُوح تُم میں ہوکر بولی ہے؟
JOB 26:5 ”مُردوں کی رُوحیں سخت عذاب میں ہیں، وہ جو پانی کے نیچے ہیں اَور وہ سَب جو اُس میں رہتے ہیں لرزاں ہیں۔
JOB 26:6 پاتال خُدا کے سامنے بے حجاب ہے؛ جہنّم بے پردہ ہو چُکی ہے۔
JOB 26:7 خُدا شمال کو خلا میں پھیلا دیتے ہیں؛ اَور زمین کو بغیر سہارے کے لٹکاتے ہیں۔
JOB 26:8 وہ پانی کو اَپنے بادلوں میں سمیٹ لیتے ہیں، پھر بھی بادل اُن کے بوجھ سے پھٹتے نہیں۔
JOB 26:9 وہ ماہِ کامل کا چہرہ، اَپنے بادل پھیلا کر ڈھانک لیتے ہیں۔
JOB 26:10 اُنہُوں نے پانی کی سطح پر اُفق کا دائرہ بنا دیا ہے تاکہ رَوشنی اَور تاریکی کے درمیان حَد قائِم ہو جائے۔
JOB 26:11 آسمان کے سُتون اُن کی تادیب سے لرزنے لگتے ہیں،
JOB 26:12 اَپنی قُدرت سے اُنہُوں نے سمُندر کو موجزن کیا؛ اَور اَپنی حِکمت سے راحبؔ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔
JOB 26:13 اُن کی پھُونک سے آسمان صَاف ہو گئے؛ اُن کے ہاتھ نے بڑے سانپ کو چھیدا ہے۔
JOB 26:14 لیکن یہ تو اُن کے عجائب کی ایک جھلک ہے؛ اُن کی آواز کس قدر دھیمی سُنایٔی دیتی ہے! پھر بھلا اُن کی جبّاری کی گرج سُننے کی کس کو سمجھ ہوگی؟“
JOB 27:1 اَور ایُّوب نے اَپنی تمثیل جاری رکھی:
JOB 27:2 ”زندہ خُدا کی قَسم جنہوں نے مُجھ سے اِنصاف نہیں کیا، اُن قادرمُطلق کی قَسم جنہوں نے میری جان کو تلخ کیا،
JOB 27:3 جَب تک میرے جِسم میں جان ہے، اَور خُدا کا دَم میرے نتھنوں میں ہے،
JOB 27:4 میرے ہونٹوں پر دغا کی بات نہ آئے گی، اَور میری زبان سے فریب کی بات نہ نکلے گی۔
JOB 27:5 مَیں کبھی تسلیم نہ کروں گا کہ تُم راستی پر ہو؛ میں مَرتے دَم تک اَپنی دیانتداری پر قائِم رہُوں گا۔
JOB 27:6 میں اَپنی راستبازی برقرار رکھوں گا اَور اُسے ہرگز نہ چھوڑوں گا؛ جَب تک میں زندہ ہُوں میرا ضمیر مُجھے ملامت نہ کرےگا۔
JOB 27:7 ”میرے دُشمن بدکاروں کی مانند ہُوں، اَور میرے مُخالف ناراستوں کی طرح!
JOB 27:8 جَب خُدا کا مُنکر مرتا ہے اَور خُدا اُس کی رُوح قبض کر لیتا ہے، تو اُس کی کویٔی اُمّید باقی نہیں رہتی۔
JOB 27:9 جَب اُس پر مُصیبت آتی ہے، تو کیا خُدا اُس کی فریاد سُنتے ہیں؟
JOB 27:10 کیا وہ قادرمُطلق سے خُوش ہوگا؟ کیا وہ ہر گھڑی خُدا سے دعا کرےگا؟
JOB 27:11 ”میں تُمہیں خُدا کی قُدرت کی تعلیم دُوں گا؛ قادرمُطلق کے طریقے تُم سے نہ چھُپاؤں گا۔
JOB 27:12 تُم سَب نے خُود دیکھ لیا ہے۔ پھر یہ فُضول باتیں کیوں کرتے ہو؟
JOB 27:13 ”خُدا کی طرف سے بدکار اِنسان کا اَیسا ہی حَشر ہوتاہے، قادرمُطلق ظالموں کو اَیسی ہی مِیراث دیتے ہیں:
JOB 27:14 اُس کے بچّے کتنے ہی زِیادہ ہُوں، وہ تلوار کا لقمہ بنیں گے؛ اُس کی اَولاد بھُوکی مَرے گی۔
JOB 27:15 جو باقی بچیں گے اُنہیں وَبا دفن کر دے گی، اَور اُن کی بیوائیں اُن کے لیٔے ماتم نہ کریں گی۔
JOB 27:16 خواہ وہ مٹّی کی طرح چاندی کا ڈھیر لگا لے اَور گارے کی طرح کپڑوں کا ذخیرہ کر لے،
JOB 27:17 وہ جو بھی جمع کرےگا اُسے راستباز پہنے گا، اَور بے قُصُور اُس کی چاندی بانٹ لیں گے۔
JOB 27:18 جو گھر وہ بناتا ہے وہ مکڑی کے گھر کی مانند ہے، گویا ایک چوکیدار کی جھوپڑی۔
JOB 27:19 دولتمندی کے بِستر پر اُس کی نیند ختم ہونے والی ہے؛ جَب اُس کی آنکھ کھُلے گی تو سَب کچھ جاچُکا ہوگا۔
JOB 27:20 اُسے دہشتیں سیلاب کی طرح آ پکڑتی ہیں؛ رات کو طُوفان اُسے جھپٹ لیتا ہے۔
JOB 27:21 مشرقی ہَوا اُسے اُڑا لے جاتی ہے اَور وہ جاتا رہتاہے؛ وہ اُسے اَپنی جگہ سے اُکھاڑ پھینکتی ہے۔
JOB 27:22 وہ ہَوا اُسے نہایت ہی بے رحمی سے اُکھاڑ پھیکتی ہے جَیسے ہی وہ اُس کی زد سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے
JOB 27:23 لوگ تالیاں بجا کر اُس کا مذاق اُڑاتے ہیں اَور اُسے اُس کی جگہ سے دُور کھدیڑ دیتی ہے۔
JOB 28:1 چاندی کی کان ہوتی ہے اَور سونے کی بھٹّی جہاں وہ کندن بنتا ہے۔
JOB 28:2 لوہا زمین سے نکالا جاتا ہے، اَور کانسے کچّی دھات میں سے گلایا جاتا ہے۔
JOB 28:3 اِنسان تاریکی کی تہہ تک پہُنچتا ہے؛ اَور سنگریزوں کی جُستُجو میں ظلمات کے گوشہ گوشہ کو چھان ڈالتا ہے۔
JOB 28:4 وہ آبادی سے دُور کے اَیسی قِیام گاہوں میں سرنگ لگاتاہے، جہاں آنے جانے والوں کے قدم نہیں پہُنچ پاتے؛ لوگوں سے دُور وہ جھولتا اَور لٹکتا ہے۔
JOB 28:5 زمین جِس میں سے اناج اُگتا ہے، اَندر ہی اَندر پلٹ دی جاتی ہے گویا اُس میں آگ لگ گئی ہو؛
JOB 28:6 زمین کے پتّھروں میں نیلم، اَور زمین کی خاک میں سونے کے ذرّے ملتے ہیں۔
JOB 28:7 کویٔی شِکاری پرندہ وہ خُفیہ راہ نہیں جانتا، نہ کسی باز کی آنکھ نے اُسے دیکھاہے۔
JOB 28:8 درندے اُس پر قدم نہیں مارتے، نہ کویٔی خُونخوار شیر اُدھر سے گزرتا ہے۔
JOB 28:9 اِنسان کا ہاتھ چقماق کی چٹّان کو توڑ ڈالتا ہے، اَور پہاڑوں کو جڑ سے اُلٹ دیتاہے۔
JOB 28:10 وہ چٹّانوں میں سے سُرنگ کھودتا ہے؛ اُن کی آنکھیں اُن کے تمام خزانوں کو دیکھ لیتی ہیں۔
JOB 28:11 وہ دریاؤں کے منبعوں کو کھوج نکالتے ہیں اَور خُفیہ اَشیا رَوشنی میں لاتے ہیں۔
JOB 28:12 ”لیکن حِکمت کہاں مِل سکتی ہے؟ اَور سمجھ کہاں بستی ہے؟
JOB 28:13 اِنسان اُن کی قدر و قیمت کا ادراک نہیں کر سَکتا: وہ زندوں کی سرزمین میں نہیں پائی جاتی۔
JOB 28:14 گہراؤ کہتاہے، ”وہ مُجھ میں نہیں“؛ اَور سمُندر کہتاہے، ”وہ میرے پاس نہیں ہے“؛
JOB 28:15 اُسے خالص سونے سے خریدا نہیں جا سَکتا، نہ ہی اُس کی قیمت چاندی سے اَدا کی جا سکتی ہے۔
JOB 28:16 اوفیرؔ کے سونے سے اُس کی قیمت اَدا نہیں کی جا سکتی، نہ ہی قیمتی سنگِ سُلیمانی اَور نیلم سے۔
JOB 28:17 نہ سونا نہ بِلّوری شیشہ سے اُس کا مُقابلہ کیا جا سَکتا ہے، نہ ہی اُسے جواہرات کے عوض حاصل کیا جا سَکتا ہے۔
JOB 28:18 مرجان اَور بِلّور ناقابل ذِکر ہیں؛ حِکمت کی قیمت سنگِ یَشب سے کہیں زِیادہ ہے۔
JOB 28:19 کُوشؔ کا پکھراج اُس کی برابری نہیں کر سَکتا؛ نہ ہی خالص سونے سے اُس کا مول ہو سَکتا ہے۔
JOB 28:20 پھر، حِکمت کہاں سے آتی ہے؟ اَور سمجھ کہاں بستی ہے؟
JOB 28:21 وہ ہر جاندار کی نگاہ سے پوشیدہ ہے، ہَوا کے پرندوں سے بھی چھُپائی گئی ہے۔
JOB 28:22 تباہی اَور موت یہ کہتے ہیں، ”اُس کی محض افواہ ہی ہمارے کانوں تک پہُنچی ہے۔“
JOB 28:23 خُدا اُس تک جانے والی راہ جانتے ہیں اَور صِرف وُہی اُس کے مقام سے واقف ہیں،
JOB 28:24 کیونکہ وہ زمین کی اِنتہا تک نظر کرتے ہیں اَور آسمان کے نیچے کی ہر چیز کو بھی دیکھتے ہیں۔
JOB 28:25 جَب اُنہُوں نے ہَوا کا دباؤ مُقرّر کیا اَور پانی کو پیمانہ سے ناپا،
JOB 28:26 جَب اُنہُوں نے مینہ کے لیٔے حُکم جاری کیا اَور برق و رَعد کی راہ مُقرّر کی،
JOB 28:27 تَب اُنہُوں نے حِکمت پر نظر کی اَور اُس کا جائزہ لیا؛ اُسے قائِم کیا اَور اُسے پرکھا۔
JOB 28:28 اَور خُدا نے اِنسان سے فرمایا، ”دیکھو، یَاہوِہ کا خوف ہی حِکمت ہے، اَور بدی سے دُور رہنا دانشمندی ہے۔“
JOB 29:1 ایُّوب نے اَپنی تمثیل جاری رکھی:
JOB 29:2 ”کاش میرے وہ گزرے مہینے پھر سے لَوٹ آئیں، خصوصاً وہ دِن جَب خُدا میرے مُحافظ تھے،
JOB 29:3 جَب خُدا کا چراغ میرے سَر پرروشن تھا اَور اُن ہی کا نُور تاریکی میں میری رہنمائی کرتا تھا!
JOB 29:4 آہ میں اُن دِنوں کے لئے ترستا ہُوں جَب میرا عالمِ شباب تھا، جَب میرا خیمہ خُدا کی رِفاقت کے سایہ میں تھا،
JOB 29:5 جَب قادرمُطلق ہُنوز میرے ساتھ تھے اَور میرے بچّے مُجھے گھیرے رہتے تھے،
JOB 29:6 جَب میرے پاؤں مکھّن سے دھوئے جاتے تھے اَور چٹّانیں میرے لیٔے زَیتُون کے تیل کی دریا بہاتی تھیں۔
JOB 29:7 ”جَب مَیں شہر کے پھاٹک پر جاتا تھا اَور چَوک میں اَپنی نشست سنبھالتا تھا،
JOB 29:8 تو جَوان مُجھے دیکھ کر پرے ہٹ جاتے تھے اَور عمر رسیدہ لوگ اُٹھ کر کھڑے ہو جاتے تھے؛
JOB 29:9 اُمرا خاموش ہو جاتے تھے اَور اَپنے ہاتھ مُنہ پر رکھ لیتے تھے؛
JOB 29:10 اُمرا چُپ سادھ لیتے تھے، اَور اُن کی زبان تالُو سے چپک جاتی تھی۔
JOB 29:11 جو میری بات سُنتا تھا ’مُجھے داد دیتا تھا،‘ اَورجو دیکھتا تھا میری تعریف کرتا تھا،
JOB 29:12 کیونکہ جَب کویٔی غریب فریاد کرتا تو میں اُس کی دادرسی کرتا تھا، اَور یتیم کی بھی، جِس کا کویٔی مددگار نہ ہوتا تھا۔
JOB 29:13 دَم توڑتا ہُوا آدمی مُجھے دعا دیتا تھا؛ میں بِیوہ کے دِل کو شادمان کرتا تھا۔
JOB 29:14 مَیں نے راستی کا لباس پہن رکھا تھا؛ اِنصاف میرا جُبّہ اَور عمامہ تھا۔
JOB 29:15 میں اَندھوں کے لیٔے آنکھیں تھا اَور لنگڑوں کے لیٔے پاؤں۔
JOB 29:16 میں مُحتاجوں کے لیٔے باپ کی طرح تھا؛ اَور پردیسیوں کے مسائل حل کرتا تھا۔
JOB 29:17 میں بدکاروں کے جبڑے توڑ ڈالتا تھا اَور شِکار کو اُن کے دانتوں میں سے کھینچ نکالتا تھا۔
JOB 29:18 ”میرا خیال تھا کہ میں اَپنے ہی گھر میں مروں گا، اَور میرے دِن ریت کے ذرّوں کی طرح لاتعداد ہوں گے۔
JOB 29:19 میری جڑیں پانی تک پھیل جایٔیں گی، اَور رات بھر میری شاخیں اوس سے تر رہیں گی۔
JOB 29:20 میری عظمت مُجھ میں تازہ رہے گی، میرے ہاتھ میں ہمیشہ نئی کمان رہے گی۔
JOB 29:21 ”لوگ مُجھے سُننے کے متمنّی رہتے تھے، اَور میری مشورت کا اِنتظار کرتے تھے۔
JOB 29:22 میرے بولنے کے بعد وہ پھر نہ بولتے تھے؛ میری باتیں اُن کے کانوں پر بار نہ ہوتی تھیں۔
JOB 29:23 وہ میرا اَیسا اِنتظار کرتے تھے، جَیسے بارش کا، اَور میرے الفاظ اَیسے پی لیتے تھے جَیسے وہ بہار کی بارش کے قطرے ہیں۔
JOB 29:24 جَب مَیں اُن پر مُسکراتا تھا تو وہ مُشکل سے یقین کرتے تھے؛ میرے چہرے کی بشاشت ہی اُن کے لیٔے بیش قیمتی شَے تھی۔
JOB 29:25 میں اُن کے لیٔے راہ چُنتا اَور اُن کے پیشوا کی حیثیت سے بیٹھتا تھا؛ میں اَیسے رہتا تھا جَیسے بادشاہ اَپنی فَوج میں؛ اَور مَیں غمزدہ کو تسلّی دیتا تھا۔
JOB 30:1 ”لیکن اَب وہ لوگ میرا مذاق اُڑاتے ہیں، جو عمر میں مُجھ سے چُھوٹے ہیں، اَور جِن کے آباؤاَجداد کو میں اَپنے گلّہ کے کُتّوں کے ساتھ بھی رکھنا پسند نہ کرتا۔
JOB 30:2 اُن کے ہاتھوں کی قُوّت میرے کس کام کی تھی، جَب کہ اُن کی قُوّت جاتی رہی تھی؟
JOB 30:3 افلاس اَور بھُوک سے بدحال ہوکر، وہ گرم اَور خشک زمین پر ویران، بنجر اَور تاریک مقاموں میں مارے مارے پھرتے تھے۔
JOB 30:4 وہ گھنی جھاڑیوں میں سے نمکین ترکاری جمع کرتے تھے، اَور جھاؤ کی جڑیں اُن کی غِذا تھیں۔
JOB 30:5 وہ اَپنے مُعاشرے سے باہر نکال دئیے گئے، لوگ اُن پر اَیسے چِلاّتے تھے جَیسا کہ وہ چور ہُوں۔
JOB 30:6 اُنہیں سُوکھے دریاؤں کے راستوں میں، چٹّانوں کے درمیان اَور زمین کے بھٹّوں میں رہنے پر مجبُور کیا جاتا تھا۔
JOB 30:7 وہ جھاڑیوں کے درمیان رینکتے اَور گھاس پھُوس میں اِدھر اُدھر پڑے رہتے تھے۔
JOB 30:8 احمقوں اَور کمینوں کی طرح، وہ زمین سے بے دخل کر دئیے گئے۔
JOB 30:9 ”اَور اَب اُن کے بیٹے مُجھ پر آوازے کستے ہیں؛ میں اُن کے لیٔے ضرب المثل بَن گیا ہُوں۔
JOB 30:10 اُنہیں مُجھ سے گھِن آتی ہے اَور وہ مُجھ سے دُور کھڑے رہتے ہیں؛ اَور میرے مُنہ پر تھُوکنے سے نہیں ہچکچاتے۔
JOB 30:11 اَب جَب کہ خُدا نے میری کمان ڈھیلی کر دی اَور مُجھے لاچار بنا دیا ہے، اِس لیٔے وہ میرے سامنے بے لگام ہو گئے ہیں۔
JOB 30:12 میری داہنی طرف سے ایک گِروہ دھاوا بولتا ہے؛ وہ میرے پاؤں کے لیٔے پھندا ڈالتے ہیں، وہ میرا محاصرہ کر لینا چاہتے ہیں۔
JOB 30:13 وہ میرے راستے کو بگاڑتے ہیں؛ اَور مُجھے تباہی اَور بربادی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، گویا میرا کویٔی مددگار نہیں۔
JOB 30:14 وہ اَیسے بڑھتے ہیں جَیسے کسی بڑے شگاف میں سے باہر نکلے ہیں؛ اَور کھنڈروں میں لُڑکتے ہُوئے آئے ہیں۔
JOB 30:15 مُجھ پر دہشت طاری ہے؛ میری عظمت جا چُکی ہے جَیسے ہَوا اُسے اُڑا لے گئی ہو، میری سلامتی بادل کی طرح غائب ہو چُکی ہے۔
JOB 30:16 ”اَور اَب میری جان نکلنے کو ہے؛ دُکھ کے دِنوں نے مُجھے جکڑ لیا ہے۔
JOB 30:17 رات میری ہڈّیاں چھید ڈالتی ہے؛ درد جو مُجھے کھائے جا رہے ہیں، کبھی دَم نہیں لیتے۔
JOB 30:18 اَپنی عظیم قُدرت میں خُدا میرے لیٔے پوشاک بَن جاتے ہیں اَور میرا پیراہن مُجھے گریبان کی طرح لپیٹ لیتا ہے۔
JOB 30:19 مُجھے کیچڑ میں پھینک دیا گیا ہے، اَور مَیں خاک اَور راکھ بَن کر رہ گیا ہُوں۔
JOB 30:20 ”مَیں آپ سے فریاد کرتا ہُوں اَے خُدا، لیکن آپ جَواب نہیں دیتے؛ میں کھڑا ہوتا ہُوں لیکن آپ پروا بھی نہیں کرتے۔
JOB 30:21 آپ مُجھ سے سنگدلی سے پیش آتے ہیں؛ اَپنے بازو کی قُوّت سے آپ مُجھ پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
JOB 30:22 آپ مُجھے اُوپر اُٹھاکر ہَوا پر سوار کر دیتے ہیں؛ اَور طُوفان میں اُچھالتے ہیں۔
JOB 30:23 میں جانتا ہُوں کہ آپ مُجھے موت تک پہُنچا دیں گے، اُس جگہ تک جو سَب جانداروں کے لیٔے مُقرّر ہے۔
JOB 30:24 ”جَب کویٔی پست ہمّت اِنسان دُکھ کی حالت میں مدد کے لیٔے پُکارتا ہے، تو کویٔی بھی اُس کی طرف مدد کا ہاتھ نہیں بڑھاتا۔
JOB 30:25 کیا میں دردمند کے لیٔے نہیں رُویا؟ کیا میری جان غریب کے لیٔے آزردہ نہیں ہُوئی؟
JOB 30:26 پھر بھی جَب مَیں نے بھلائی کی تمنّا کی بُرائی آئی؛ جَب مَیں نے رَوشنی کی توقع رکھی تو تاریکی چلی آئی۔
JOB 30:27 میرے اَندر اُٹھا ہُوا طُوفان تھما ہی نہیں؛ مُصیبت کے دِن میرے سامنے ہیں۔
JOB 30:28 میں کالا پڑتا جا رہا ہُوں، لیکن دھوپ سے نہیں؛ میں مجمع میں کھڑا ہوکر مدد کے لیٔے دہائی دیتا ہُوں۔
JOB 30:29 میں گیدڑوں کا بھایٔی بَن گیا ہُوں، اَور شتر مرغوں کا ساتھی۔
JOB 30:30 میری جلد کالی پڑ گئی ہے اَور اُتری جا رہی ہے؛ میرا جِسم بُخار سے جَل رہاہے۔
JOB 30:31 میری بربط سے ماتم کی دھُن، اَور میری بانسری سے آہ و زاری کی آواز سُنایٔی دیتی ہے۔
JOB 31:1 ”مَیں نے اَپنی آنکھوں سے عہد کیا کہ میں کسی جَوان لڑکی کو بُری نگاہ سے نہ دیکھوں گا۔
JOB 31:2 بھلا خُدا کی طرف سے ہمیں کیا ورثہ نصیب ہوتاہے، اَور عالی مقام میں قادرمُطلق کی طرف سے ہماری مِیراث کیا ہے؟
JOB 31:3 کیا بدکار کے لیٔے بربادی، اَور بدکاروں کے لیٔے تباہی نہیں؟
JOB 31:4 کیا خُدا میری راہوں کو نہیں دیکھتا اَور میرا ہر قدم شُمار نہیں کرتا؟
JOB 31:5 ”اگر مَیں بطالت کی راہ پر چلا ہُوں، یا میرا پاؤں دغا کی طرف عجلت سے بڑھا ہو،
JOB 31:6 تو خُدا مُجھے صحیح ترازو میں تو لیں۔ تاکہ وہ جان لیں کہ میں بےگُناہ ہُوں۔
JOB 31:7 اگر میرے قدم راہ سے بھٹک گیٔے ہُوں، اگر میرے دِل نے میری آنکھوں کی پیروی کی ہو، یا اگر میرے ہاتھ آلُودہ ہُوں،
JOB 31:8 تَب جو مَیں نے بویا اُسے دُوسرے کھایٔیں، اَور میری فصلیں اُکھاڑ دی جایٔیں۔
JOB 31:9 ”اگر میرا دِل کسی عورت پر فریفتہ ہُوا ہو، یا میں اَپنے پڑوسی کے دروازہ پر گھات میں بیٹھا ہُوں،
JOB 31:10 تو میری بیوی دُوسرے شخص کا اناج پیسے، اَور غَیر مَرد اُس کے ساتھ سوئیں۔
JOB 31:11 کیونکہ یہ بڑی شرمناک بات ہوتی، ایک اَیسا گُناہ ہوتا جسے حِساب میں لایا جاتا۔
JOB 31:12 اَیسی آگ جو جَلا کر بھسم کردیتی؛ اُس نے میری تیّار فصل کو جڑ سے اُکھاڑ دیا ہوتا۔
JOB 31:13 ”اگر مَیں نے اَپنے خادِم یا خادِمہ سے نااِنصافی کی ہو جَب اُنہیں مُجھ سے کویٔی شکایت تھی،
JOB 31:14 تو خُدا کے سامنے میں کیا کروں گا؟ جَب بازپُرس ہوگی تو میں کیا جَواب دُوں گا؟
JOB 31:15 کیا اُن ہی خُدا نے اُنہیں نہیں بنایا جنہوں نے مُجھے رحم میں بنایا؟ کیا اُن ہی نے ہمیں اَپنی اَپنی ماؤں کے اَندر تشکیل نہیں کیا؟
JOB 31:16 ”اگر مَیں نے مُحتاجوں کے مطالبے ٹھکرائے ہُوں یا کسی بِیوہ کی آنکھوں کو ترسایا ہو،
JOB 31:17 اگر مَیں فقط اَپنا ہی پیٹ بھرتا رہا، اَور کبھی کسی یتیم کو روٹی تک نہ دی،
JOB 31:18 لیکن مَیں اَپنی جَوانی سے ہی اُسے باپ کی طرح پالتا پوستا رہا ہُوں، اَور اَپنی پیدائش سے ہی بِیوہ کا رہنما رہا ہُوں۔
JOB 31:19 اگر مَیں نے کسی کو کپڑے نہ ہونے کی وجہ سے مَرتے دیکھا، یا کسی مُحتاج کو بغیر لباس دیکھا،
JOB 31:20 اَور اَپنی بھیڑوں کی اُون سے اُسے گرمی پہُنچانے کے لیٔے اُس کے دِل نے مُجھے دعا نہ دی ہو،
JOB 31:21 اگر مَیں نے کسی یتیم کے خِلاف اَپنا ہاتھ اُٹھایا ہو، شہر کے دروازے میں اَپنے رسوخ کے پیشِ نظر،
JOB 31:22 تو میرا بازو میرے شانے سے الگ ہو جائے، اَور جوڑ سے ٹوٹ جائے۔
JOB 31:23 کیونکہ مُجھے خُدا کی طرف سے تباہی کا خوف تھا، اَور اُس کی شوکت کے رُعب کی وجہ سے میں اَیسی حرکت نہ کر سَکا۔
JOB 31:24 ”اگر مَیں نے سونے پر بھروسا کیا ہو اَور تپائے ہُوئے سونے سے کہا ہو کہ ’تُجھ میں میری سلامتی ہے،‘
JOB 31:25 اگر مَیں اَپنی دولت کی فراوانی پر نازاں ہُوا ہُوں، دولت جسے میرے ہاتھوں نے کمایا تھا،
JOB 31:26 اگر مَیں نے سُورج کی رَوشنی پر یا چاند پرجو خُوب شوکت سے گردش کرتا ہے نظر ڈالی ہو،
JOB 31:27 یہاں تک کہ میرا دِل اَندر ہی اَندر اُن پر فریفتہ ہو گیا ہوتا، اَور میرے ہاتھوں نے اُنہیں بوسہ دیا ہوتا،
JOB 31:28 یہ بھی وہ گُناہ ہوتے جنہیں حِساب میں لایا جاتا، کیونکہ اِن سے میری خُدا سے بےوفائی کا اِظہار ہوتا۔
JOB 31:29 ”اگر مَیں اَپنے دُشمن کی بدنصیبی پر خُوش ہُوا یا اُس پر نازل شُدہ آفت سے شادمان ہُوا،
JOB 31:30 مَیں نے اَپنے مُنہ کو اُس گُناہ سے باز رکھا کہ اُس کی زندگی پر لعنت بھیجتا۔
JOB 31:31 اگر میرے خاندان کے لوگوں نے کبھی نہ کہا ہو، کہ اَیسا کون ہے جو ’ایُّوب کے دسترخوان سے سیر نہ ہُوا؟‘
JOB 31:32 لیکن کسی پردیسی کو گلی میں رات کاٹنے کی ضروُرت نہ پڑی، کیونکہ میرا دروازہ مُسافر کے لیٔے ہمیشہ کھُلا رہا۔
JOB 31:33 اَپنی تقصیر اَپنے سینہ میں چھُپا کر، اگر مَیں نے اَور بنی آدمؔ کی طرح اَپنے گُناہ پر پردہ ڈالا ہو
JOB 31:34 کیا، مُجھے عوامُ الناس سے اِس قدر ڈر تھا؟ اَور کیا، برادری کی حقارت سے خوفزدہ تھا؟ کیا، مَیں خاموش ہو گیا اَور گھر سے باہر نہیں نِکلا؟
JOB 31:35 (”کاش کہ کویٔی میری سُننے والا ہوتا! لو اَب مَیں اَپنے مَحضرنامہ پر دستخط کرتا ہُوں، قادرمُطلق مُجھے جَواب دیں؛ میرا مُدّعی بھی اَپنا دعویٰ تحریر کرکے پیش کرے۔
JOB 31:36 یقیناً میں اُسے اَپنے کندھے پر لیٔے پھروں گا، میں اُسے تاج کی طرح سَر پر رکھ لُوں گا۔
JOB 31:37 میں خُدا کو اَپنے ہر قدم کا حِساب دُوں گا؛ ایک حُکمراں کی طرح میں اُن کے پاس جاؤں گا۔)
JOB 31:38 ”اگر میری زمین میرے خِلاف دہائی دیتی ہے اَور اُس کی تمام کیاریاں آنسُوؤں سے تر ہیں،
JOB 31:39 اگر مَیں نے بغیر قیمت اَدا کئے اُس کی پیداوار کھائی ہے یا اُس کے مالکوں کی ہمّت پست کی ہے،
JOB 31:40 تو اُس میں گیہُوں کے بدلے اُونٹ کٹارے اَور جَو کی بجائے جنگلی گھاس اُگ جائے۔“ ایُّوب کی تقریریں ختم ہُوئیں۔
JOB 32:1 تَب یہ تینوں دوست ایُّوب کو جَواب دینے سے باز آئے کیونکہ ایُّوب اَپنے آپ کو راستباز سمجھتے تھے۔
JOB 32:2 لیکن بوزی براکیلؔ کا بیٹا اِلیہُوؔ جو رامؔ کے خاندان سے تھا بےحد خفا ہُوا کیونکہ ایُّوب نے خُدا کو نہیں بَلکہ اَپنے آپ کو راست ٹھہرایا تھا۔
JOB 32:3 وہ تینوں دوستوں سے بھی خفا تھے کیونکہ اُنہُوں نے ایُّوب کے خیالات کی تردید کرنے کی بجائے اُلٹا اُن ہی کو مُجرم قرار دیا۔
JOB 32:4 اِلیہُوؔ ایُّوب سے گُفتگو کرنے سے اِس لیٔے رُکا رہا کہ وہ تینوں اُن سے عمر میں بڑے تھے۔
JOB 32:5 لیکن جَب اِلیہُوؔ نے دیکھا کہ اُن تینوں دوستوں کے پاس کہنے کو اَور کچھ نہیں رہا تو اُس کا غُصّہ بھڑک اُٹھا۔
JOB 32:6 چنانچہ بوزی براکیلؔ کے بیٹے اِلیہُوؔ نے کہا: ”میں جواں سال ہُوں، اَور آپ لوگ ضعیف ہیں؛ اِسی لیٔے میں ڈرتا تھا، اَور اَپنی رائے ظاہر کرنے کی ہمّت نہ کر پایا۔
JOB 32:7 مَیں نے سوچا، ’سالخوردہ ہی بولیں، عمر رسیدہ ہی حِکمت سکھائیں۔‘
JOB 32:8 لیکن اِنسان میں رُوح ہے، یعنی قادرمُطلق کا دَم جو اُسے خِرد بخشتا ہے۔
JOB 32:9 صِرف بُوڑھے ہی عقلمند نہیں ہوتے، نہ ہی صِرف عمر رسیدہ لوگ حقیقت کو سمجھتے ہیں۔
JOB 32:10 ”اِس لیٔے میں کہتا ہُوں کہ ’میری سُنو؛ اَب مَیں بھی اَپنی رائے ظاہر کرتا ہُوں۔‘
JOB 32:11 جَب تک تُم بولتے رہے میں رُکا رہا، جَب تُم الفاظ تلاش رہے تھے؛ مَیں تمہاری دلیلیں سُنتا رہا۔
JOB 32:12 مَیں نے تمہاری باتوں پر خُوب غور کیا۔ لیکن تُم میں سے ایک نے بھی ایُّوب کو غلط ثابت نہیں کیا؛ تُم میں سے کسی نے بھی اُن کی دلیلوں کا جَواب نہیں دیا۔
JOB 32:13 یہ نہ کہو، ’ہم بڑے دانشمند ہیں؛ خُدا ہی اُن کی تردید کر سکتے ہیں نہ کہ اِنسان۔‘
JOB 32:14 لیکن ایُّوب نے مُجھے اَب تک اَپنی باتوں کا نِشانہ نہیں بنایا ہے، اَور نہ میں اُنہیں تمہاری دلیلوں کی مدد سے جَواب دُوں گا۔
JOB 32:15 ”وہ ہمّت ہار گیٔے اَور اَب اُن کے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہا، اَب تو اُن کے پاس جَواب دینے کو الفاظ بھی نہ رہے۔
JOB 32:16 کیا میں رُکا رہُوں، اَب جَب کہ وہ خاموش ہو گئے ہیں؟ وہ جَواب نہیں دیتے، وہ بولتے نہیں۔
JOB 32:17 اَب مَیں ہی بولُوں گا؛ اَب مَیں بھی اَپنی رائے دُوں گا۔
JOB 32:18 کیونکہ میرے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، جو رُوح میرے اَندر ہے مُجھے مجبُور کر رہی ہے؛
JOB 32:19 میں انگوری شِیرے سے بھرا ہُوا ہُوں جو باہر نکلنے کے لیٔے بیتاب ہے، نئے انگوری شِیرے کی مَشکوں کی طرح جو پھٹنے کو ہُوں۔
JOB 32:20 مُجھے بولنا ہی ہوگا تاکہ تسلّی پاؤں، مُجھے اَپنے لب کھول کر جَواب دینا ہوگا۔
JOB 32:21 میں کسی کی طرفداری نہ کروں گا، نہ کسی اِنسان کی خُوشامد کروں گا؛
JOB 32:22 کیونکہ اگر مَیں خُوشامد کرنے میں مہارت رکھتا، تو میرا خالق خُدا مُجھے جلد اُٹھا لیتا۔
JOB 33:1 ”پھر بھی، اَے ایُّوب میری باتوں پر غور فرمائیے؛ میری ہر بات پر غور فرمائیے۔
JOB 33:2 میں اَب اَپنا مُنہ کھولنے ہی کو ہُوں؛ اَور میرے الفاظ میری زبان پر ہیں۔
JOB 33:3 میری باتیں ایک راستباز دِل سے نکل رہی ہیں؛ جو میں جانتا ہُوں اُسے میرے لب خُلوص سے بَیان کرتے ہیں۔
JOB 33:4 خُدا کی رُوح نے مُجھے بنایا ہے؛ قادرمُطلق کا دَم مُجھے زندگی بخشتا ہے۔
JOB 33:5 اگر ممکن ہو تو مُجھے جَواب دیں؛ تیّار ہو اَور میرا مُقابلہ کریں۔
JOB 33:6 میں خُدا کے سامنے بالکُل آپ کی طرح ہُوں؛ میں بھی مٹّی سے بنایا گیا ہُوں۔
JOB 33:7 میرا رُعب تُمہیں ہِراساں نہ کرے، نہ میرا ہاتھ آپ پر بھاری ثابت ہو۔
JOB 33:8 ”مَیں نے تُمہیں بہت کچھ بولتے سُنا ہے، ایک ایک لفظ سُنا ہے۔
JOB 33:9 ’میں پاک ہُوں اَور بےگُناہ؛ میں صَاف ہُوں اَور خطا سے آزاد۔
JOB 33:10 پھر بھی خُدا نے مُجھ میں خامی پائی؛ وہ مُجھے اَپنا دُشمن سمجھتے ہیں۔
JOB 33:11 وہ میرے پاؤں زنجیروں میں کستے ہیں؛ اَور میری سَب راہوں پر نظر رکھتے ہیں۔‘
JOB 33:12 ”لیکن مَیں تُمہیں کہتا ہُوں، اِس بات میں تُم حق پر نہیں ہو، کیونکہ خُدا اِنسان سے عظیم ہیں۔
JOB 33:13 تُم کیوں خُدا سے شکایت کرتے ہو کہ وہ اِنسان کی کسی بات کا جَواب نہیں دیتے؟
JOB 33:14 خُدا بولتے ضروُر ہیں، کبھی اِس طرح، کبھی اُس طرح، خواہ اِنسان کو اُس کا احساس نہ ہو۔
JOB 33:15 خواب میں، رات کی رُویا میں، جَب لوگوں پر گہری نیند طاری ہوتی ہے، اَور وہ اَپنے بِستر پر سوتے ہیں۔
JOB 33:16 یا تو وہ اُن کے کانوں میں کچھ کہتے ہیں اَور تنبیہ سے اُنہیں ڈراتے ہیں،
JOB 33:17 تاکہ اِنسان اَپنے بدی سے باز رہے اَور غُرور سے پرہیز کرے۔
JOB 33:18 تاکہ اُس کی جان قبر سے بچے، اَور اُس کی زندگی تلوار کی مار سے۔
JOB 33:19 ”یا اِنسان اَپنی ہڈّیوں کے مُستقِل کرب کے ساتھ درد کے بِستر پر تنبیہ پایٔے،
JOB 33:20 یہاں تک کہ اُس کا جی کھانے سے اُچاٹ ہو جائے اَور اُس کی جان مرغوب غِذا سے بھی نفرت کرنے لگے۔
JOB 33:21 اُس کا گوشت اَیسا سُوکھ جاتا ہے کہ دِکھائی نہیں دیتا، اَور اُس کی ہڈّیاں جو پوشیدہ تھیں باہر نکل آتی ہیں۔
JOB 33:22 اُس کی جان قبر کی گہرائی تک، اَور اُس کی زندگی مُردوں کے پاس جا پہُنچتی ہے۔
JOB 33:23 پھر بھی خُدا کے ہزاروں فرشتوں میں سے ایک، جو اُس کا شفاعتی ہو کہ اِنسان کو یہ بتائے کہ اُس کے حق میں کیا دُرست ہے،
JOB 33:24 جو اُس پر مہربان ہو اَور کہے، ’اِسے قبر کی گہرائی میں جانے سے بچا؛ مُجھے اِس کا فدیہ مِل گیا ہے۔
JOB 33:25 پھر اُس کا جِسم ایک بچّہ کے جِسم کی طرح تازہ ہو جائے گا؛ اَور اُس کی جَوانی بحال کر دی جائے گی۔‘
JOB 33:26 وہ خُدا سے دعا کرتا ہے اَور وہ اُس پر مہربان ہوتے ہیں، وہ خُدا کا چہرہ دیکھتا ہے اَور خُوشی سے چِلّا اُٹھتا ہے؛ خُدا اُس شخص کی صحت کو پُورا بحال کرتے ہیں۔
JOB 33:27 پھر وہ لوگوں کے پاس آکر کہتاہے، ’مَیں نے گُناہ کیا اَور حق کو بدل دیا، لیکن میرا وہ اَنجام نہ ہُوا جِس کا میں مُستحق تھا۔
JOB 33:28 خُدا نے میری جان کو قبر میں جانے سے بچا لیا، اَور مَیں رَوشنی کا لُطف اُٹھانے کے لیٔے جیئوں گا۔‘
JOB 33:29 ”خُدا اِنسان کے ساتھ یہ سَب دو دفعہ بَلکہ تین دفعہ کرتے ہیں۔
JOB 33:30 خُدا اُس کی جان قبر سے واپس لاتے ہیں، تاکہ وہ زندگی کی رَوشنی سے رَوشن ہو۔
JOB 33:31 ”اَے ایُّوب، غور سے میری بات سُنو؛ خاموش رہو اَور مُجھے بولنے دو۔
JOB 33:32 اگر تُمہیں کچھ کہنا ہے تو مُجھے جَواب دو؛ بولئے، کیونکہ مَیں چاہتا ہُوں کہ تُم سچّے ثابت ہو۔
JOB 33:33 لیکن اگر نہیں تو میری سُنو؛ خاموش رہو اَور مَیں تُمہیں دانائی سِکھاؤں گا۔“
JOB 34:1 تَب اِلیہُوؔ نے اَپنی بات جاری رکھی:
JOB 34:2 ”اَے عقلمند لوگوں، میری باتیں سُنو؛ اَے اہلِ علم، میری طرف کان لگاؤ۔
JOB 34:3 کیونکہ کان باتوں کو پرکھتا ہے جِس طرح زبان کھانے کو چکھتی ہے۔
JOB 34:4 آؤ ہم خُود دیکھیں کہ سچ کیا ہے؛ آؤ ہم مِل کر سیکھیں کہ بھلائی کس میں ہے۔
JOB 34:5 ”ایُّوب دعویٰ کرتے ہیں، ’میں بے قُصُور ہُوں،‘ لیکن خُدا نے میری حق تلفی کی ہے۔
JOB 34:6 اگرچہ میں حق پر ہُوں، تو بھی میں جھُوٹا ٹھہرایا جاتا ہُوں؛ حالانکہ میں بے قُصُور ہُوں، اُس نے مُجھے بُری طرح زخمی کر دیا ہے۔
JOB 34:7 ایُّوب کی طرح اَور کون ہوگا، جو ذِلّت کو پانی کی طرح پی جائے؟
JOB 34:8 وہ بدکرداروں کی صحبت میں رہتے ہیں؛ اَور بدکاروں سے راہ و رسم رکھتے ہیں۔
JOB 34:9 کیونکہ ایُّوب فرماتے ہیں، ’اِنسان کو کویٔی فائدہ نہیں جَب وہ خُدا کو خُوش کرنے کی کوشش کرے۔‘
JOB 34:10 ”اِس لیٔے اَے اہلِ خِرد، میری سُنو، یہ خُدا کے شایانِ شان نہیں کہ وہ بدی کریں، یا قادرمُطلق کویٔی غلط کام کریں۔
JOB 34:11 وہ اِنسان کو اُس کے اعمال کے مُطابق بدلہ دیتے ہیں؛ اَور اُس کے ساتھ وُہی کریں گے جِس کا وہ مُستحق ہوگا۔
JOB 34:12 یہ ممکن ہی نہیں کہ خُدا بدی کریں، یا قادرمُطلق اِنصاف سے کام نہ لیں۔
JOB 34:13 کس نے اُنہیں زمین پر مامُور کیا؟ کس نے اُنہیں ساری دُنیا پر اِختیار بخشا؟
JOB 34:14 اگر وہ چاہتے تو وہ اَپنی رُوح اَور اَپنا دَم واپس لے لیتے،
JOB 34:15 اَور تمام بنی نَوع اِنسان بیک وقت فنا ہو جاتے اَور اِنسان خاک میں مِل جاتے۔
JOB 34:16 ”اگر آپ میں سمجھ ہے تو سُنیں؛ اَور میری باتوں پر کان لگائیں۔
JOB 34:17 کیا وہ جسے اِنصاف سے نفرت ہو، حُکومت کر سَکتا ہے؟ کیا تُم خُدا کو جو عادل اَور قادر ہیں، مُلزم ٹھہراؤگے؟
JOB 34:18 کیا وُہی نہیں جو بادشاہوں سے فرماتے ہیں کہ تُم نکمّے ہو، اَور اشراف سے کہ تُم بدکارہو،
JOB 34:19 جو اُمراؤں کی طرفداری نہیں کرتا اَور دولتمندوں کو غریبوں پر ترجیح نہیں دیتا، کیونکہ وہ سَب خُدا کے ہاتھ کی کاریگری ہیں؟
JOB 34:20 وہ رات ہی رات میں کسی لمحہ مَر جاتے ہیں؛ لوگ لرزنے لگتے ہیں اَور چل بستے ہیں؛ سُورما ہاتھ لگائے بغیر اُٹھا لیٔے جاتے ہیں۔
JOB 34:21 ”خُدا کی آنکھیں اِنسان کی راہوں پر لگی رہتی ہیں؛ وہ اُن کی ہر روِش دیکھتے ہیں۔
JOB 34:22 کویٔی اَیسی تاریک جگہ نہیں، نہ گہرا سایہ، جہاں بدکار چھُپ سکیں۔
JOB 34:23 خُدا کو کویٔی ضروُرت نہیں کہ وہ اِنسان کو اَپنی عدالت میں بُلائیں، اَور اُس سے جرح کریں۔
JOB 34:24 وہ زور آوروں کو بُلا تفتیش پاش پاش کر دیتے ہیں اَور اُن کی جگہ دُوسروں کو مامُور کرتے ہیں۔
JOB 34:25 کیونکہ وہ اُن کے اعمال کا حِساب رکھتے ہیں، اَور رات کے وقت اُن کا تختہ اُلٹ دیتے ہیں، اَور وہ کُچل دئیے جاتے ہیں۔
JOB 34:26 وہ اُنہیں اُن کی بدکاری کی سزا دیتے ہیں اَیسی جگہ جہاں ہر کویٔی اُنہیں دیکھ سکے،
JOB 34:27 کیونکہ اُنہُوں نے خُدا کی پیروی سے مُنہ موڑا اَور خُدا کی کسی راہ کا لحاظ نہ کیا۔
JOB 34:28 اُن کی وجہ سے غریبوں کی پُکار خُدا تک پہُنچی، اَور اُنہُوں نے مُصیبت زدوں کی فریاد سُنی۔
JOB 34:29 لیکن اگر آدمی خاموش رہے تو اُسے کون مُلزم ٹھہرائے گا؟ اگر وہ اَپنا مُنہ چھُپا لے تو کون اُسے دیکھ سکےگا؟ پھر بھی وہ ہر فرد اَور ہر قوم کے ساتھ یکساں سلُوک کرتے ہیں،
JOB 34:30 تاکہ خُدا کا مُنکر حُکومت نہ کر سکے، اَور لوگوں کو پھندے میں پھنسانے سے باز رہے۔
JOB 34:31 ”ممکن ہے کہ کویٔی شخص خُدا سے کہے، ’میں گُنہگار ہُوں لیکن اَب اَیسا نہ کروں گا،
JOB 34:32 جو مُجھے دِکھائی نہیں دیتا وہ مُجھے سکھائیں؛ اگر مَیں نے بُرائی کی ہے تو دوبارہ اَیسا نہ کروں گا۔‘
JOB 34:33 کیا خُدا تمہاری مرضی کے مُطابق سزا دیں گے، جَب کہ تُم تَوبہ کرنے سے اِنکار کرتے ہو؟ فیصلہ تُمہیں کرناہے نہ کہ مُجھے؛ اِس لیٔے جو کچھ تُم جانتے ہو مُجھے بتاؤ۔
JOB 34:34 ”اہلِ خِرد اعلان کرتے ہیں، عقلمند لوگ جو میری بات سُنتے ہیں، مُجھ سے کہتے ہیں:
JOB 34:35 ’ایُّوب نادانی سے بولتا ہے؛ اُن کی باتیں حِکمت سے خالی ہیں۔‘
JOB 34:36 کاش کہ ایُّوب سے ایک بدکار کی طرح جَواب دینے کے لیٔے پُوری طرح تفتیش کی جاتی!
JOB 34:37 گُناہ کے ساتھ ساتھ وہ سرکشی بھی کرتے ہیں؛ اَور ہمارے درمیان حقارت آمیزی سے تالیاں بجاتے ہیں اَور خُدا کے خِلاف بہت سِی باتیں بناتے ہیں۔“
JOB 35:1 پھر اِلیہُوؔ نے مزید کہا:
JOB 35:2 ”کیا تیرا یہ کہنا صحیح ہے؟ ’میں خُدا سے زِیادہ صادق ہُوں؟‘
JOB 35:3 پھر بھی تُم اُس سے پُوچھتے ہو، ’مُجھے اُس سے کیا فائدہ، اگر مَیں گُناہ نہ کروں تو میرا کیا بھلا ہوتاہے؟‘
JOB 35:4 ”مَیں تُمہیں جَواب دینا چاہوں گا، اَور تیرے ساتھ تیرے دوستوں کو بھی۔
JOB 35:5 افلاک کی طرف نظر اُٹھا اَور دیکھ؛ بادلوں کی طرف نگاہ کرجو تُجھ سے اِس قدر اُونچائی پر ہیں۔
JOB 35:6 اگر تُو گُناہ کرتا ہے تو اُس سے خُدا کا کیا بگاڑتا ہے؟ اگر تیرے گُناہ بڑھ جایٔیں تو اُسے کیا ہوگا؟
JOB 35:7 اگر تُو راستباز ہے تو اُسے کیا دیتاہے، یا وہ تیرے ہاتھوں کیا پاتاہے؟
JOB 35:8 تیری بدکاری صِرف تُجھ جَیسے اِنسان ہی پر اثر اَنداز ہوتی ہے، اَور تیری راستبازی صِرف آدمؔ زاد پر۔
JOB 35:9 ”ظُلم کے بوجھ سے دَب کر لوگ چِلّا اُٹھتے ہیں؛ زورآور کے بازو سے مخلصی پانے کے لیٔے وہ دہائی دیتے ہیں۔
JOB 35:10 لیکن کویٔی یہ نہیں کہتا کہ ’میرا بنانے والا خُدا کہاں ہے، جو رات کے وقت نغمے عنایت کرتا ہے،
JOB 35:11 جو ہمیں زمین کے جانوروں سے زِیادہ سِکھاتا ہے، اَور ہَوا کے پرندوں سے زِیادہ عقلمند بناتا ہے۔‘
JOB 35:12 لوگ مدد کی دہائی دیتے ہیں اَور خُدا بدکاروں کے غُرور کی وجہ سے جَواب نہیں دیتا۔
JOB 35:13 تُو یقین کر کہ خُدا اُن کی جھُوٹی فریاد نہیں سُنتا؛ اَور قادرمُطلق اُس کی طرف غور نہیں کرتا۔
JOB 35:14 جَب تُو کہتاہے کہ تُو اُسے نہیں دیکھتا تو پھر تُجھے کیسے مَعلُوم ہوگا؟ تیرا مُعاملہ اُس کے سامنے ہے اَور تُمہیں اُس کا اِنتظار کرنا لازمی ہے،
JOB 35:15 مزید یہ کہ، اگر اُس نے غُصّہ میں آکر سزا نہیں دی، تو یہ مطلب نہیں کہ وہ بدکاری کو نظر میں لاتا ہی نہیں۔
JOB 35:16 پس ایُّوب ایک بے معنی بحث کے لیٔے مُنہ کھولتے ہیں؛ اَور بغیر جانے بوجھے بولتے جاتے ہیں۔“
JOB 36:1 اِلیہُوؔ نے اَپنا بَیان جاری رکھا:
JOB 36:2 ”ذرا صبر کریں، مُجھے بولنے دیں، کیونکہ خُدا کے حق میں مُجھے کچھ اَور بھی کہنا ہے۔
JOB 36:3 مَیں نے دُور دُور سے علم حاصل کیا ہے؛ میں اَپنے خالق کو عادل تسلیم کرتا ہُوں۔
JOB 36:4 یقین رکھو کہ میری باتیں جھُوٹی نہیں ہیں؛ ایک کامل علم شخص، تمہارے ساتھ ہے۔
JOB 36:5 ”خُدا قادر ہیں لیکن وہ لوگوں کو حقیر نہیں جانتے؛ وہ قوی ہیں اَور اَپنے اِرادہ میں مصمّم۔
JOB 36:6 وہ بدکار کو زندہ نہیں چھوڑتے لیکن مُصیبت کے ماروں کو اُن کا حق بخشتے ہیں۔
JOB 36:7 وہ راستبازوں کی طرف سے اَپنی نگاہ نہیں ہٹاتے؛ اَور اُنہیں بادشاہوں کے ساتھ تخت نشین کرتے ہیں، اَور ہمیشہ کے لیٔے سرفراز کرتے ہیں۔
JOB 36:8 لیکن اگر لوگ زنجیروں میں جکڑے ہُوئے ہیں، اَور مُصیبت کی رسّیوں سے بندھے ہویٔے ہیں،
JOB 36:9 تو وہ اُنہیں اُن کی کرتوتیں بتاتے ہیں، اَور یہ کہ اُنہُوں نے تکبُّر میں گُناہ کیا۔
JOB 36:10 وہ تادیب کے لیٔے اُن کے کان کھولتے ہیں، اَور اُنہیں حُکم دیتے ہیں کہ اَپنی بدی سے باز آئیں۔
JOB 36:11 اگر وہ حُکم مانیں اَور اُن کی اِطاعت کریں، تو وہ اَپنی زندگی کے باقی بچے ایّام خُوشحالی میں اَور زندگی آسودگی میں گُزاریں گے۔
JOB 36:12 لیکن اگر وہ نہ سُنیں، تو تلوار سے ہلاک ہوں گے اَور بغیر علم کے وہ مَر جائیں گے۔
JOB 36:13 ”بےدینوں کے دِل میں خفگی بستی ہے؛ وہ اُنہیں قَید کرتے ہیں تَب بھی وہ مدد کے لیٔے دہائی نہیں دیتے۔
JOB 36:14 وہ اَپنی جَوانی ہی میں مَر جاتے ہیں، اُن کی زندگی بُتکدوں میں بدفعلوں کے درمیان برباد ہو جاتی ہے۔
JOB 36:15 جو مُصیبت زدہ ہیں خُدا اُنہیں اُن کی مُصیبت سے چھُٹکارا دیتے ہیں؛ اَور دُکھ درد کے ذریعہ اُن کے کان کھولتے ہیں۔
JOB 36:16 ”خُدا تُمہیں تنگی کے جَبڑوں سے نکال کر، ایک اَیسی کشادہ جگہ لے جاتے ہیں، جہاں تُم دسترخوان پر چُنے ہُوئے بہترین کھانوں سے لُطف اَندوز ہو سکتے ہو۔
JOB 36:17 لیکن اِس وقت تُم اَیسی سزا پا رہے ہو جو ایک بدکار کو ملنی چاہئے تھی؛ پھر بھی فیصلہ اَور اِنصاف ہوکر ہی رہے گا۔
JOB 36:18 خبردار، دولت تمہارا دِل نہ لُبھا لے؛ کویٔی بڑی رشوت تُمہیں گُمراہ نہ کر دے۔
JOB 36:19 کیا تمہاری دولت یا قُوّت و توانائی تُمہیں مُصیبت سے بچانے کے لیٔے کافی ہیں؟
JOB 36:20 اُس رات کی تمنّا نہ کرو، جِس میں لوگوں کو اُن کے گھروں سے اَچانک اُٹھالیا جاتا ہے۔
JOB 36:21 بدی کی طرف مائل نہ ہو، جسے تُم مُصیبتوں پر ترجیح دیتے ہویٔے نظر آتے ہو۔
JOB 36:22 ”خُدا کی قُدرت عظیم ہے۔ کیا کویٔی اُستاد اُن کی مانند ہے؟
JOB 36:23 کس نے اُن کے لیٔے راہیں تجویز کیں، یا اُن سے کہا ہو، ’تُم نے ناراستی کی ہے‘؟
JOB 36:24 خُدا کے کاموں کی تعریف کرنا نہ بھُولو، جنہیں لوگوں نے گانا گا کر اُن کی سِتائش کی ہے،
JOB 36:25 تمام نَوع اِنسان نے اُنہیں دیکھاہے؛ لوگ دُور سے اُن پر نظر جمائے رہتے ہیں۔
JOB 36:26 خُدا کس قدر عظیم ہیں، ہماری سمجھ سے باہر! اُن کے برسوں کا شُمار دریافت سے باہر ہے!
JOB 36:27 ”وہ پانی کے قطروں کو اُوپر کھینچتے ہیں، جو بخارات سے مینہ میں ڈھل کر چشموں میں گرتا ہے؛
JOB 36:28 بادل اَپنی رطوبت اُنڈیل دیتے ہیں، اَور بنی نَوع اِنسان پر کثرت سے بارش ہوتی ہے۔
JOB 36:29 کون سمجھ سَکتا ہے کہ وہ بادلوں کو کیسے پھیلاتے ہیں، یا اَپنی شہ نشین سے کیسے گرجتے ہیں؟
JOB 36:30 دیکھو وہ اَپنی بجلی کو اَپنے چَوگرد کیسے مُنتشر کرتے ہیں، جو سمُندر کی گہرائیوں کو بھی جگمگا دیتی ہے۔
JOB 36:31 اُن ہی سے وہ قوموں میں اَپنا نظام قائِم کرتے ہیں اَور اُنہیں کثرت سے خُوراک بہم پہُنچاتے ہیں۔
JOB 36:32 وہ بجلی کو اَپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اَور حُکم دیتے ہیں کہ نِشانہ پر جا گِرے۔
JOB 36:33 اُن کی گرج آنے والے طُوفان کا اعلان کرتی ہے؛ چَوپائے تک طُوفان کی آمد کی خبر کر دیتے ہیں۔
JOB 37:1 ”اِس بات سے بھی میرا دِل کانپتا ہے اَور اَپنی جگہ سے اُچھل پڑتا ہے۔
JOB 37:2 سُنو! خُدا کی آواز کی گرج سُنو، اَور وہ زمزمہ جو اُن کے مُنہ سے نکلتا ہے۔
JOB 37:3 وہ اَپنی بجلی کو سارے آسمان کے نیچے چمکاتے ہیں اَور اُسے زمین کی اِنتہا تک پہُنچا دیتے ہیں۔
JOB 37:4 اُس کے بعد اُن کے گرجنے کی آواز آتی ہے؛ وہ اَپنی جلالی آواز سے گرجتے ہیں۔ جَب اُن کی آواز گونجتی ہے، تو وہ اُسے بالکُل نہیں روکتا۔
JOB 37:5 خُدا کی آواز عجِیب و غریب طور پر گرجتی ہے؛ وہ غَیر مَعمولی کام کرتے ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔
JOB 37:6 وہ برف سے کہتے ہیں، ’تُو زمین پر گِر،‘ اَور مینہ سے ’تُو موسلادھار بارش بَن جا۔‘
JOB 37:7 یُوں ہر شخص کو مشقّت سے روکتے ہیں، تاکہ وہ تمام لوگ جنہیں خُدا نے بنایا ہے اُن کے کام کو جانیں۔
JOB 37:8 جانور غاروں میں چھُپ جاتے ہیں؛ وہ اَپنی اَپنی ماند میں پڑے رہتے ہیں۔
JOB 37:9 آندھی اَپنی جُنوب کی سمت سے نکل آتی ہے، اَور تیز ہوایٔیں سردی لے آتی ہیں۔
JOB 37:10 خُدا کے دَم سے برف جم جاتی ہے، اَور وسیع سطحِ سمُندر منجمد ہو جاتی ہے۔
JOB 37:11 وہ بادلوں میں رطوبت بھر دیتے ہیں؛ اَور اُن میں سے اَپنی بجلی مُنتشر کرتے ہیں۔
JOB 37:12 خُدا کے اِشارے پر وہ تمام کرۂ زمین کا چکّر کاٹتے ہیں تاکہ اُن کے حُکم کی تعمیل کریں۔
JOB 37:13 کبھی اَپنی زمین کو سیراب کرنے اَور اَپنی مَحَبّت جتانے کے لیٔے۔
JOB 37:14 ”اَے ایُّوب اِسے سُنو؛ چُپکے رہو اَور خُدا کے حیرت اَنگیز کارناموں پر غور کرو۔
JOB 37:15 کیا تُم جانتے ہو کہ خُدا بادلوں کو کیسے قابُو میں رکھتے ہیں اَور اَپنی بجلی کیسے چمکاتے ہیں؟
JOB 37:16 کیا تُم جانتے ہو کہ بادل اَپنا توازن کیسے قائِم رکھتا ہے؟ یہ اُسی علمِ کامل کے حیرت اَنگیز کارنامے ہیں۔
JOB 37:17 جَب زمین پر جُنوبی ہَوا کے زیرِ اثر سنّاٹا ہو جاتا ہے، تو تُم اَپنے لباس میں تپنے لگتے ہو۔
JOB 37:18 کیا تُم آسمانوں کو پھیلانے میں اُس کی مدد کر سکتے ہو، جو ڈھلے ہُوئے کانسے کے آئینہ کی مانند مضبُوط ہوتے ہیں؟
JOB 37:19 ”ہمیں بتاؤ کہ ہم خُدا سے کیا کہیں؛ کیونکہ ہم تو تاریکی میں ہیں ہم اُس سے بحث کرنے کے لیٔے دلائل کہاں سے لائیں۔
JOB 37:20 کیا خُدا کو بتایا جائے کہ میں بولنا چاہتا ہُوں؟ اَیسی درخواست تو زندہ نگل لیٔے جانے کے مترادف ہوگی۔
JOB 37:21 سُورج جِس آب و تاب سے آسمانوں میں چمکتا ہے، کویٔی اُس کی طرف دیکھ نہیں سَکتا، خصوصاً جَب ہَوا بادلوں کو صَاف کردیتی ہے۔
JOB 37:22 شمال کی جانِب سے سُنہری کرنیں اَپنا جلوہ دِکھاتی ہیں خُدا کی اِس مُہیب شوکت پر کس کی نظر ٹِکے گی۔
JOB 37:23 قادرمُطلق تک ہماری رسائی نہیں ہو سکتی، وہ قُدرت میں اعلیٰ ہیں؛ وہ اَپنے عدل میں عظیم اَور راستبازی میں غنی ہیں، وہ ہم پر ظُلم نہیں کرتے۔
JOB 37:24 اِسی لیٔے لوگ خُدا سے ڈرتے ہیں، کیا اُنہیں دانا دِلوں کی پروا نہیں؟“
JOB 38:1 تَب یَاہوِہ نے ایُّوب کو بگولے میں سے جَواب دیا:
JOB 38:2 ”یہ کون ہے جو فُضول باتوں سے میری مشورت پر پردہ ڈال رہاہے؟
JOB 38:3 مَرد کی مانند اَپنی کمر باندھو؛ میں تُم سے سوال پُوچھوں گا، اَور تُم مُجھے جَواب دوگے۔
JOB 38:4 ”جَب مَیں نے زمین کی بُنیاد رکھی تَب تُم کہاں تھے؟ اگر تُم دانشمند ہو تو مُجھے بتاؤ۔
JOB 38:5 کس نے اُس کی جِسامت کو قائِم کیا، کیا تُمہیں مَعلُوم ہے؟ کس نے اُسے پیمائشی جریب سے ناپا؟
JOB 38:6 کس چیز پر اُس کی بُنیادیں ڈالی گئیں، یا کس نے اُس کے کونےکا پتّھر رکھا؟
JOB 38:7 جَب صُبح کے سِتارے مِل کر گا رہے تھے اَور تمام ملائک خُوشی سے للکار رہے تھے، تَب تُم کہاں تھے؟
JOB 38:8 ”کس نے سمُندر کو دروازوں سے بند کیا جَب وہ اَیسا پھوٹ نِکلا گویا بطن سے،
JOB 38:9 جَب مَیں نے بادلوں کو اُس کی پوشاک بنایا اَور گہری تاریکی میں اُسے لپیٹ دیا،
JOB 38:10 جَب مَیں نے اُس کے لئے حُدوُد مُقرّر کیں اَور اُس کے دروازے اَور سلاخیں اَپنی اَپنی جگہ پیوست کیں،
JOB 38:11 جَب مَیں نے سمُندر سے کہا: ’یہاں تک تُو آسکتا ہے، لیکن اُس کے آگے نہیں یہیں پر تمہاری بپھری ہُوئی موجیں رُک جایٔیں‘؟
JOB 38:12 ”تُم نے کبھی صُبح کو حُکم دیا ہے، یا طُلوع صُبح کو اَپنی جگہ بتایٔی ہے،
JOB 38:13 تاکہ وہ زمین کو کناروں سے پکڑکر جھٹکائے اَور بدکاروں کو اُس میں سے نکال دے۔
JOB 38:14 جِس طرح چکنی مٹّی مُہر کے نیچے بدلتی ہے وَیسے ہی زمین بھی تشکیل پاتی ہے؛ اُس کے خدوخال پوشاک کی طرح نُمایاں ہوتے ہیں۔
JOB 38:15 بدکاروں کو اُن کی رَوشنی سے محروم کر دیا جاتا ہے، اَور اُن کا بُلند بازو توڑ دیا جاتا ہے۔
JOB 38:16 ”کیا تُم سمُندر کے چشموں میں اُترے ہو یا اتھاہ گہرائیوں میں چلے ہو؟
JOB 38:17 کیا موت کے دروازے تمہارے لیٔے کھولے گیٔے ہیں؟ کیا تُم نے موت کے سایہ کے پھاٹک دیکھے ہیں؟
JOB 38:18 کیا تُم زمین کی پہنائی کو سمجھ پائے ہو؟ اگر تُم یہ سَب جانتے ہو تو مُجھے بتاؤ۔
JOB 38:19 ”نُور کے مَسکن کا راستہ کہاں ہے؟ اَور تاریکی کہاں رہتی ہے؟
JOB 38:20 کیا تُم اُنہیں اُن کی جگہ لے جا سکتے ہو؟ تُمہیں اُن کی قِیام گاہوں کا راستہ مَعلُوم ہے؟
JOB 38:21 یقیناً تُم جانتے ہو کیونکہ اُس وقت تُم پیدا ہو چُکے تھے! اَور تُم اِتنے سال سے زندہ ہو!
JOB 38:22 ”کیا تُم برف کے مخزنوں میں داخل ہُوئے ہو یا تُم نے اولوں کے انبار کو دیکھاہے،
JOB 38:23 جنہیں مَیں نے مُصیبت کے اوقات، اَور لڑائی اَور جنگ کے دِنوں کے لیٔے محفوظ رکھا ہے؟
JOB 38:24 اِس جگہ کا راستہ کون سا ہے جہاں بجلی تقسیم ہوتی ہے، یا وہ جگہ جہاں مشرقی ہوایٔیں زمین پر پھیلائی جاتی ہیں؟
JOB 38:25 نیز سیلاب کے لیٔے نہریں کون کاٹتا ہے، اَور طُوفان برق و باد کے لیٔے راہیں کون نکالتا ہے،
JOB 38:26 تاکہ غَیر آباد زمین کو سیراب کرے، اَور ایک بیابان میں، جِس میں کویٔی اِنسان نہیں رہتا،
JOB 38:27 تاکہ ویران اَور بنجر زمین کی پیاس بُجھے اَور اُس میں گھاس اُگ آئے؟
JOB 38:28 کیا بارش کا کویٔی باپ ہے؟ یا اوس کے قطرے کون پیدا کرتا ہے؟
JOB 38:29 برف کس کے بطن سے نکلتی ہے؟ آسمانوں سے پالے کون پیدا کرتا ہے
JOB 38:30 کب پانی پتّھر کی طرح سخت ہو جاتا ہے، اَور سمُندر کی سطح کب منجمد ہو جاتی ہے؟
JOB 38:31 ”کیا تُم ثریّا کو باندھ سکتے ہو؟ کیا تُم جبّار کی رسّیاں کھول سکتے ہو؟
JOB 38:32 کیا تُم کواکب کو اُن کے موسموں پر نکال سکتے ہو یا بناتُ النّعش کی اُن کی سہیلیوں کے ساتھ رہبری کر سکتے ہو؟
JOB 38:33 کیا تُم افلاک کے آئین جانتے ہو؟ کیا تُم اُنہیں زمین پر قائِم کر سکتے ہو؟
JOB 38:34 ”کیا تُم بادلوں تک اَپنی آواز بُلند کر سکتے ہو یا اُن کی موسلادھار بارش میں چھُپ سکتے ہو؟
JOB 38:35 کیا تُم بجلی کے کوندوں کو اُن کی راہ پر روانہ کر سکتے ہو؟ کیا وہ تُم سے کہتی ہے: مَیں حاضِر ہُوں؟
JOB 38:36 باطِن کو حِکمت سے کس نے مُزیّن کیا، یا مُرغ کو فہم کس نے عطا کیا؟
JOB 38:37 کس میں اُتنی حِکمت ہے کہ بادلوں کو گِن سکے؟ آسمان کی مَشکوں کے مُنہ کون کھول سَکتا ہے۔
JOB 38:38 جَب زمین تودہ بَن جاتی ہے، اَور اُس کے ڈھیلے باہم چپک جاتے ہیں؟
JOB 38:39 ”کیا تُم شیرنی کے لیٔے شِکار مارتے ہو، اَور شیروں کی بھُوک مٹاتے ہو
JOB 38:40 جَب وہ اَپنی ماندوں میں دبک کر بیٹھتے ہیں، یا گنُجان جھاڑیوں میں گھات لگا کر بیٹھتے ہیں؟
JOB 38:41 پہاڑی کوّے کے لیٔے غِذا کون مُہیّا کرتا ہے، جَب اُس کے بچّے خُدا سے فریاد کرتے، اَور خُوراک کے بغیر اُڑتے پھرتے ہیں؟
JOB 39:1 ”کیا تُم جانتے ہو کہ پہاڑی بکریاں کب بچّے دیتی ہیں؟ اَور ہِرنی کب بچّے دیتی ہے؟
JOB 39:2 کیا تُم اُن کے حَمل کے مہینوں کا شُمار رکھتے ہو؟ یا جانتے ہو، وہ کس موسم میں جنتی ہیں؟
JOB 39:3 وہ جھکتی ہیں اَور اَپنا بچّہ دیتی ہیں؛ اَور دردِزہ سے رِہائی پاتی ہیں۔
JOB 39:4 اُن کے بچّے جنگلوں میں بڑھتے اَور قُوّت پاتے ہیں؛ وہ چلے جاتے ہیں اَور اَپنی ماؤں کے پاس واپس نہیں آتے۔
JOB 39:5 ”گورخر کو کس نے آزاد کیا؟ اُس کے بند کس نے کھولے؟
JOB 39:6 مَیں نے بنجر زمین کو اُس کا گھر بنایا، اَور زمینِ شور کو اُس کا مَسکن۔
JOB 39:7 شہر کا شوروغل اُس تک نہیں پہُنچ پاتا؛ وہ گاڑی بان کی ہُنکار نہیں سُنتا۔
JOB 39:8 وہ چراگاہوں کی کھوج میں، پہاڑیوں پر گھُومتا ہے اَور سبزہ زاروں کی جُستُجو میں لگا رہتاہے۔
JOB 39:9 ”کیا کویٔی جنگلی سانڈ تمہاری خدمت کرنے پر راضی ہوگا؟ کیا وہ تمہاری چرنی کے پاس رات کاٹے گا؟
JOB 39:10 کیا تُم جنگلی سانڈ کو رسّی سے باندھ کر ریگھاری میں چلا سکتے ہو؟ کیا وہ تمہارے پیچھے پیچھے وادی میں ہل جوتیں گے؟
JOB 39:11 کیا تُم اُس کی بڑی طاقت کی بنا پر اُس پر بھروسا کروگے؟ کیا تُم اَپنا بھاری کام اُس پر چھوڑ دوگے؟
JOB 39:12 کیا تُم اُس سے اُمّید کروگے کہ وہ تمہاری فصل ڈھوئے اَور اُسے تمہارے کھلیان میں جمع کرے؟
JOB 39:13 ”شتر مُرغ کے پر خُوشی سے پھڑپھڑاتے ہیں، لیکن اُن کا لق لق کے پر و بازو سے کیا مُقابلہ۔
JOB 39:14 اُس کی مادہ اَپنے اَنڈے زمین پر چھوڑ جاتی ہے اَور اُنہیں ریت میں گرم ہونے دیتی ہے۔
JOB 39:15 لیکن بھُول جاتی ہے کہ کسی کا پاؤں اُنہیں کُچل سَکتا ہے، یا کویٔی جنگلی جانور اُنہیں روند سَکتا ہے۔
JOB 39:16 وہ اَپنے بچّوں پر سختی کرتی ہے، گویا وہ اُس کے اَپنے نہیں؛ اگر اُس کی محنت رائگاں جائے تو اُسے کیا پروا،
JOB 39:17 کیونکہ خُدا نے اُسے حِکمت سے محروم رکھا ہے نہ ہی اُسے فہم بخشا ہے۔
JOB 39:18 پھر بھی جَب وہ دَوڑنے کے لیٔے اَپنے بازو پھیلاتی ہے، تو گھوڑے اَور اُس کے سوار کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔
JOB 39:19 ”کیا گھوڑے کو اُس کی طاقت تُم دیتے ہو یا اُس کی گردن کو لہراتی ہُوئی ایال تُم نے پہنائی ہے؟
JOB 39:20 کیا تُم اُسے ٹِڈّی کی طرح کُداتے ہو، جِس کی تیز ہنہناہٹ ہیبت پیدا کرتی ہے؟
JOB 39:21 وہ شان سے اکڑتا ہے اَور زور سے کُھر مارتا ہے، اَور جنگی میدان میں کود پڑتا ہے۔
JOB 39:22 خوف اُس کے سامنے کیا ہے، وہ کسی شَے سے نہیں ڈرتا؛ نہ ہی تلوار سے مُنہ موڑتا ہے۔
JOB 39:23 ترکش، چمکدار نیزہ اَور بھالا، اُس کے بازو سے کھڑکھڑاتے ہُوئے نکل جاتے ہیں۔
JOB 39:24 دیوانگی و جوش میں وہ زمین کھود ڈالتا ہے؛ نرسنگے کی آواز سُن کر وہ خاموش کھڑا ہی نہیں رہ سَکتا۔
JOB 39:25 نرسنگے کی آواز سُن کر وہ ہنہناتا ہے گویا، ’آہا!‘ کہتا ہو، اَور سپہ سالاروں کی للکار اَور لڑائی کے نعروں کا اَندازہ لگا لیتا ہے۔
JOB 39:26 ”کیا باز تمہاری حِکمت سے اُڑان بھرتاہے اَور اَپنے بازو جُنوب کی طرف پھیلاتا ہے؟
JOB 39:27 کیا عُقاب تمہارے حُکم سے بُلندی پر پرواز کرتا ہے اَور چٹّان کی چوٹی پر اَپنا گھونسلہ بناتا ہے؟
JOB 39:28 وہ چٹّان پر رہتاہے اَور رات کو وہیں بسیرا کرتا ہے؛ ایک پتھریلی ناہموار چٹّان اُس کی جائے پناہ ہے۔
JOB 39:29 وہیں سے وہ اَپنا شِکار ڈھونڈتا ہے؛ جسے اُس کی آنکھیں دُور سے تاڑ لیتی ہیں۔
JOB 39:30 اُس کے بچّوں کو خُون مرغوب ہے، اَور جہاں مقتول ہیں وہاں وہ ہے۔“
JOB 40:1 تَب یَاہوِہ نے ایُّوب سے فرمایا:
JOB 40:2 ”جو قادرمُطلق کی شکایت کرتا ہے، کیا اُس کی تادیب نہیں ہونا چاہئے؟ جو خُدا پر اِلزام لگاتاہے اُسے اُن باتوں کا جَواب بھی دینا ہوگا۔“
JOB 40:3 تَب ایُّوب نے یَاہوِہ کو جَواب دیا:
JOB 40:4 ”میں ناچیز ہُوں۔ مَیں آپ کو کیسے جَواب دُوں؟ میں اَپنا ہاتھ اَپنے مُنہ پر رکھتا ہُوں۔
JOB 40:5 میں ایک بار بول چُکا ہُوں لیکن مُجھے جَواب نہیں مِلا بَلکہ دو بار، پر اَب اَور نہ بولُوں گا۔“
JOB 40:6 تَب یَاہوِہ نے ایُّوب کو بگولے میں سے جَواب دیا:
JOB 40:7 ”مَرد کی مانند اَپنی کمر باندھو؛ میں تُم سے سوال کروں گا، اَور تُم مُجھے جَواب دوگے۔
JOB 40:8 ”کیا، تُم میرے اِنصاف کو باطِل ٹھہراؤگے؟ خُود کو راست ٹھہرانے کے لیٔے کیا تُم مُجھے مُلزم قرار دوگے؟
JOB 40:9 کیا تمہارا بازو خُدا کا سا ہے اَور کیا، تُم اُن کی آواز کی طرح گرج سکتے ہو؟
JOB 40:10 خُود کو جلال اَور شوکت سے آراستہ کرو، اَور حشمت اَور جلال سے ملبوس ہو جاؤ۔
JOB 40:11 اَپنے قہر کا سیلاب بہا دو، ہر مغروُر اِنسان کو دیکھو اَور اُسے نیچا دِکھاؤ۔
JOB 40:12 ہر مغروُر اِنسان پر نظر ڈالو اَور اُسے فروتن کرو، بدکار جہاں کھڑے ہُوں وہیں اُنہیں پامال کر دو۔
JOB 40:13 اُن سَب کو ایک ساتھ مٹّی میں دفن کر دو؛ اُن کے چہروں کو قبر میں کفن سے ڈھانک دو۔
JOB 40:14 تَب میں خُود قائل ہو جاؤں گا، کہ تمہارا اَپنا داہنا ہاتھ تُمہیں بچا سَکتا ہے۔
JOB 40:15 ”دریائی گھوڑے کو دیکھو جسے مَیں نے تمہارے ساتھ ساتھ بنایا، جو بَیل کی طرح گھاس کھاتا ہے۔
JOB 40:16 اُس کا زور اُس کی کمر میں ہے، اَور اُس کے پیٹ کے پٹھّے کس قدر مضبُوط ہیں!
JOB 40:17 اُس کی دُم دیودار کی طرح ہلتی ہے اُس کی رانوں کی نسیں باہم مربوط ہیں؛
JOB 40:18 اُس کی ہڈّیاں کانسے کی نلیوں کی طرح، اَور اُس کے اَعضا لوہے کی سلاخوں کی مانند ہیں۔
JOB 40:19 وہ خُدا کی تخلیق کا شاہکار ہے، پھر بھی اُس کا خالق تلوار لے کر ہی اُس کے پاس آسکتا ہے۔
JOB 40:20 پہاڑیاں اُس کے لیٔے چارا لاتی ہیں، جہاں تمام جنگلی جانور آس پاس کھیلتے کودتے ہیں۔
JOB 40:21 کنول کے پَودوں کے نیچے وہ لیٹتا ہے، اَور دلدل کے سَرکنڈوں کی آڑ میں چھُپا رہتاہے۔
JOB 40:22 کنول اَپنی چھاؤں میں اُسے چھُپا لیتے ہیں؛ دریا کے بید کے درخت اُسے گھیر لیتے ہیں۔
JOB 40:23 اگر دریا میں باڑھ بھی ہو تو وہ نہیں گھبراتا؛ خواہ دریائے یردنؔ اُس کے مُنہ تک چڑھ آئے وہ محفوظ رہتاہے۔
JOB 40:24 کیا کویٔی اُسے جَب وہ ہوشیار ہو تو پکڑ سَکتا ہے، یا پھندا لگا کر اُس کی ناک چھید کر نتھ پہنا سَکتا ہے؟
JOB 41:1 ”کیا تُم لِویاتان کو مچھلی پکڑنے والے کانٹے سے پانی میں سے کھینچ سکتے ہو؟ یا اُس کی زبان کو رسّی سے باندھ سکتے ہو؟
JOB 41:2 کیا تُم اُس کی ناک میں رسّی ڈال سکتے ہو، یا اُس کا جَبڑا کانٹے سے چھید سکتے ہو؟
JOB 41:3 کیا وہ تمہاری مَنّت سماجت کرتا رہے گا؟ یا وہ تُم سے میٹھی میٹھی باتیں کرےگا؟
JOB 41:4 کیا وہ تمہارے ساتھ کویٔی عہد باندھے گا کہ تُم اُسے عمر بھرکے لیٔے غُلام بنا لوگے؟
JOB 41:5 کیا تُم اُسے چڑیا کی طرح پالتو بنا سکوگے یا اَپنی جَوان لڑکیوں کی خاطِر اُسے باندھ کر رکھوگے؟
JOB 41:6 کیا تاجر اُس کا سَودا کریں گے؟ کیا وہ اُسے سوداگروں میں تقسیم کریں گے؟
JOB 41:7 کیا تُم اُس کی کھال کو بھالوں سے یا اُس کے سَر کو مچھیروں کی برچھیوں سے بھر سکتے ہو؟
JOB 41:8 اگر تُم اَپنا ہاتھ اُس پر رکھو، تو تُم اُس کشمش کو کبھی نہ بھُولوگے اَور پھر کبھی اَیسا نہ کروگے!
JOB 41:9 اُسے قابُو میں کرنے کی ہر اُمّید جھُوٹی ہے؛ وہ ہمّت ہارتا ہے آدمی نیچے گِر جاتا ہے۔
JOB 41:10 کویٔی اِس قدر تُندخو نہیں جو اُسے چھیڑنے کی جُرأت کرے۔ پھر وہ کون ہے جو میرے سامنے کھڑا ہو سکے؟
JOB 41:11 کون ہے جو مُجھ سے دعویٰ کے ساتھ مطالبہ کرتا ہے جسے میں اَدا کروں؟ آسمان کے نیچے کی ہر شَے میری ہے۔
JOB 41:12 ”میں اُس کے اَعضا، اُس کی عظیم طاقت، اَور اُس کے خُوبصورت ڈیل ڈول کے بارے میں بولنے سے باز نہ آؤں گا۔
JOB 41:13 اُس کے اُوپر کا لباس کون اُتار سَکتا ہے؟ اَور کون اُسے لگام دے گا؟
JOB 41:14 اُس کے مُنہ کے دروازے کھولنے کی کون جُرأت کرےگا، جو اُس کے دہشت ناک دانتوں کے دائرے سے گھرے ہُوئے ہیں؟
JOB 41:15 اُس کی پیٹھ پر ڈھالیں صف آرا ہیں؛ جو نہایت مضبُوطی سے ایک دُوسرے سے جُڑی ہُوئی ہیں۔
JOB 41:16 وہ ایک دُوسرے سے اِس قدر مِلی ہُوئی ہیں کہ اُن کے درمیان سے ہَوا بھی گزر نہ سکے۔
JOB 41:17 وہ باہم پیوستہ ہیں؛ اَور ایک دُوسرے سے اَیسی جُڑی ہُوئی ہیں کہ جُدا نہیں کی جا سکتیں۔
JOB 41:18 اُس کی چھینک گویا رَوشنی کی شعائیں پھینکتی ہے؛ اَور اُس کی آنکھیں صُبح کی جھلملاتی کرنوں کی مانند ہیں۔
JOB 41:19 اُس کے مُنہ سے جلتی ہُوئی مشعلیں نکلتی ہیں؛ گویا آگ کی چنگاریاں تیروں کی طرح اُڑتی ہُوں۔
JOB 41:20 اُس کے نتھنوں سے اَیسا دُھواں نکلتا ہے جَیسے اُبلتی ہُوئی دیگ سے جو جلتے ہویٔے سَرکنڈوں پر رکھی ہو۔
JOB 41:21 اُس کا سانس کوئلوں کو دہکا دیتاہے، اَور اُس کے مُنہ سے شُعلے لپکتے ہیں۔
JOB 41:22 طاقت اُس کی گردن میں سمائی ہُوئی ہے؛ اَور دہشت اُس کے آگے آگے چلتی ہے۔
JOB 41:23 اُس کے گوشت کی تہیں مضبُوطی سے جُڑی ہُوئی ہیں؛ جو بڑی پیوستہ اَور غَیر متحّرک ہیں۔
JOB 41:24 اُس کا سینہ چٹّان کی طرح سخت ہے، ہُوبہو چکّی کے نِچلے پاٹ کی طرح۔
JOB 41:25 جَب خُدا اُٹھ کھڑا ہوتاہے تو بہادر لوگ ڈر جاتے ہیں؛ اِس سے قبل کہ وہ اُن پر ٹوٹ پڑے، وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
JOB 41:26 تلوار کا وار اُس پر کویٔی اثر نہیں کرتا، نہ ہی نیزہ، تیر یا برچھی۔
JOB 41:27 وہ لوہے کو بھُوسا سمجھتا ہے، اَور کانسے کو سڑی ہُوئی لکڑی کی مانند۔
JOB 41:28 تیر اُس کو بھگا نہیں پاتے؛ فلاخن کے پتّھر اُس کے لیٔے بھُوسا ہیں۔
JOB 41:29 لٹھ اُسے گھاس کے تنکے مَعلُوم ہوتے ہیں؛ اَور برچھی کے کھڑکھڑانے پر وہ ہنستا ہے۔
JOB 41:30 اُس کے نیچے کے حِصّے تیز ٹھیکروں کی مانند ہیں، جو وزنی ہتھوڑے کی طرح مٹّی میں نِشان چھوڑ جاتے ہیں۔
JOB 41:31 وہ گہراؤ کو اُبلتی ہُوئی دیگ کی طرح کھَولاتا ہے اَور سمُندر کو مرہم (کے مرتبان) کی طرح ہلاتا ہے۔
JOB 41:32 وہ اَپنے پیچھے پانی کی ایک چمکتی دمکتی ہموار لکیر چھوڑ جاتا ہے؛ جِس سے یہ لگتا ہے کہ گہراؤ سفید بالوں والا ہو گیا ہے۔
JOB 41:33 زمین پر اُس کا کویٔی ثانی نہیں ایک بے خوف مخلُوق۔
JOB 41:34 وہ بُلندیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے؛ وہ مغروُروں پر بادشاہی کرتا ہے۔“
JOB 42:1 تَب ایُّوب نے یَاہوِہ کو جَواب دیا:
JOB 42:2 ”اَے یَاہوِہ، میں جانتا ہُوں کہ آپ سَب کچھ کر سکتے ہیں؛ آپ کا کویٔی منصُوبہ غَیر ممکن نہیں۔
JOB 42:3 آپ نے پُوچھا، یہ کون ہے جو نادانی سے میری مشورت پر پردہ ڈالتا ہے؟ یقیناً مَیں نے اَیسی باتیں کہیں جنہیں میں نہ سمجھتا تھا، اَیسی چیزیں جنہیں جاننا میرے لیٔے بہت ہی عجِیب تھا۔
JOB 42:4 ”آپ نے کہا: ’اَب تُم سُنو، اَور مَیں بولُوں گا؛ میں تُم سے سوال پُوچھوں گا، اَور تُم مُجھے جَواب دوگے۔‘
JOB 42:5 میرے کانوں نے تمہارے بارے میں سُنا تھا، لیکن اَب میری آنکھوں نے آپ کو دیکھ لیا ہے۔
JOB 42:6 اِس لیٔے مُجھے اَپنے آپ سے نفرت ہے، اَور مَیں خاک اَور راکھ میں تَوبہ کرتا ہُوں۔“
JOB 42:7 جَب یَاہوِہ ایُّوب سے یہ باتیں فرما چُکے، تَب خُدا نے اِلیفزؔ تیمانی سے فرمایا: ”میں تُم سے اَور تمہارے دونوں دوستوں سے خفا ہُوں کیونکہ تُم نے میرے بارے میں وہ نہ کہا جو سچ ہے جَیسا کہ میرے خادِم ایُّوب نے کہا۔
JOB 42:8 پس اَب سات بَیل اَور سات مینڈھے لے کر اَور میرے خادِم ایُّوب کے پاس جا کر اَپنے لیٔے سوختنی نذر پیش کرو۔ میرا خادِم ایُّوب تمہارے لیٔے دعا کرےگا، اَور مَیں اُس کی دعا قبُول کروں گا، اَور مَیں تمہاری حماقت کے مُطابق تُم سے سلُوک نہ کروں گا۔ تُم نے میرے بارے میں وہ نہیں کہا جو حق ہے جَیسے میرے خادِم ایُّوب نے کہاتھا۔“
JOB 42:9 چنانچہ اِلیفزؔ تیمانی، بِلددؔ شوحی اَور صُوفرؔ نَعماتی نے جا کر وُہی کیا جو یَاہوِہ نے اُنہیں فرمایا تھا اَور یَاہوِہ نے ایُّوب کی دعا قبُول فرمائی۔
JOB 42:10 ایُّوب نے اَپنے دوستوں کے لیٔے دعا مانگی اَور اُس کے بعد یَاہوِہ نے ایُّوب کو پھر سے سرفراز کیا اَورجو اُن کے پاس پہلے تھا اُس سے بھی دُگنا زِیادہ دے دیا۔
JOB 42:11 ایُّوب کے تمام بھایٔی اَور بہنیں اَور ہر کویٔی جو اُن کو پہلے سے جانتے تھے آئے اَور اُنہُوں نے ایُّوب کے گھر میں اُن کے ساتھ کھانا کھایا اَور اُن تمام بَلاؤں کے لیٔے جو یَاہوِہ نے ایُّوب پر بھیجی تھیں اُن کو تسلّی دی۔ اَور ہر ایک نے ایُّوب کو چاندی کا ایک ایک سِکّہ اَور سونے کی ایک ایک انگُوٹھی دی۔
JOB 42:12 یَاہوِہ نے ایُّوب کو اُن کے آخِری ایّام میں پہلے کی بہ نِسبت زِیادہ برکت بخشی۔ اُن کے پاس چودہ ہزار بھیڑیں، چھ ہزار اُونٹ، بَیل کی ایک ہزار جوڑیاں اَور ہزار گدھیاں ہو گئیں۔
JOB 42:13 اَور اُن کے سات بیٹے اَور تین بیٹیاں بھی ہُوئیں۔
JOB 42:14 ایُّوب نے پہلی بیٹی کا نام یمیمہؔ، دُوسری کا قصیاہؔ اَور تیسری کا قَرنؔ ہپّوک رکھا۔
JOB 42:15 اُس ساری سرزمین میں اَیسی عورتیں کہیں بھی نہ تھیں جو ایُّوب کی بیٹیوں کی طرح خُوبصورت ہُوں اَور اُن کے باپ نے اُنہیں اُن کے بھائیوں کے ساتھ مِیراث دی۔
JOB 42:16 اُس کے بعد ایُّوب ایک سَو چالیس بَرس زندہ رہے اَور اَپنے بیٹوں اَور اُن کے بچّوں کی چوتھی پُشت تک دیکھی۔
JOB 42:17 اَور اِس طرح ایُّوب نے بُوڑھے اَور ضعیف ہوکر وفات پائی۔
PSA 1:1 وہ آدمی مُبارک ہے جو بدکار لوگوں کی صلاح پر نہیں چلتا، اَور نہ گُنہگاروں کی راہ میں قدم رکھتا ہے اَور نہ ٹھٹّھے بازوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے،
PSA 1:2 بَلکہ یَاہوِہ کے آئین میں اُس کی مسرّت ہے، اَورجو اُس کی شَریعت پر دِن رات غوروخوض کرتا رہتاہے۔
PSA 1:3 وہ اُس درخت کی مانند ہے جو پانی کی نہروں کے کنارے لگایا گیا ہو، جو اَپنے موسم میں پھلتا ہے۔ اَور جِس کے پتّے مُرجھاتے نہیں۔ لہٰذا اَیسا آدمی جو کچھ کرتا ہے بارآور ہوتاہے۔
PSA 1:4 لیکن بدکار لوگ اَیسے نہیں ہوتے! وہ اُس بھُوسے کی مانند ہوتے ہیں، جسے ہَوا اُڑا لے جاتی ہے۔
PSA 1:5 اِسی لیٔے بدکار لوگ عدالت میں قائِم نہ رہ سکیں گے، اَور نہ گُنہگار صادقوں کی جماعت میں ٹھہر پائیں گے۔
PSA 1:6 کیونکہ: یَاہوِہ صادقوں کی راہ پہچانتے ہیں، لیکن بدکار لوگوں کی راہ نِیست و نابود ہو جائے گی۔
PSA 2:1 قومیں طیش میں کیوں ہیں؟ اَور اُمّتوں نے فُضول منصُوبے باندھے؟
PSA 2:2 یَاہوِہ کے خِلاف اَور اُن کے ممسوح کی مُخالفت کی زمین کے بادشاہ اُٹھ کھڑے ہویٔے اَور حُکمراں جمع ہوکر کہنے لگے:
PSA 2:3 ”آؤ، ہم اُن کے بندھن توڑ ڈالیں، اَور اُن کی بیڑیاں اُتار کر پھینک دیں۔“
PSA 2:4 وہ جو آسمان پر تخت نشین ہیں اُن پر ہنستے ہیں، اَور خُداوؔند اُن کا مضحکہ اُڑاتے ہیں۔
PSA 2:5 تَب وہ اَپنے غُصّہ میں اُنہیں تنبیہ کریں گے اَور اَپنے غضب میں اُن کو یہ کہتے ہُوئے ڈرایئں گے،
PSA 2:6 ”میں تو اَپنے بادشاہ کو اَپنے مُقدّس کوہِ صِیّونؔ پر بِٹھا چُکا ہُوں۔“
PSA 2:7 میں یَاہوِہ کے قوانین کا اعلان کروں گا: اُنہُوں نے مُجھ سے فرمایا، ”تُم میرے بیٹے ہو؛ آج سے میں تمہارا باپ بَن گیا ہُوں۔
PSA 2:8 مُجھ سے مانگ، اَور مَیں قوموں کو تمہاری مِیراث، اَور ساری زمین کو تمہاری مِلکیّت بنا دُوں گا۔
PSA 2:9 تُم لوہے کے شاہی عصا کی مدد سے اُن پر حُکومت کروگے؛ اَور اُنہیں کُمہار کے مٹّی کے برتنوں کی مانند چکنا چُور کر دوگے۔“
PSA 2:10 اِس لیٔے اَب اَے بادشاہو، دانشمند بنو؛ اَور اَے زمین کے حُکمرانو، خبردار ہو جاؤ۔
PSA 2:11 خوف کے ساتھ یَاہوِہ کی پرستش کرو؛ اَور کانپتے ہُوئے خُوشی مناؤ۔
PSA 2:12 اُن کے بیٹے کو چُومو۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ خفا ہو جایئں اَور تُم اَپنی راہ ہی میں فنا ہو جاؤ، کیونکہ خُدا کا غضب پل بھر میں بھڑک سَکتا ہے۔ مُبارک ہیں وہ سَب جو اُن میں پناہ لیتے ہیں۔
PSA 3:1 یہ داویؔد کا زبُور۔ اُس وقت لِکھّا گیا، جَب اُنہیں اَپنے فرزند اَبشالومؔ کے سامنے سے فرار ہونا پڑا۔ اَے یَاہوِہ! میرے حریف کتنے بڑھ گیٔے ہیں! اَورجو میرے خِلاف بغاوت کرتے ہیں بہت ہیں!
PSA 3:2 کیٔی تو میرے متعلّق یہ کہتے ہیں، ”خُدا اُسے نَجات نہیں دیں گے۔“
PSA 3:3 لیکن، اَے یَاہوِہ، آپ چاروں طرف سے میری سِپر ہو، آپ نے مُجھے جلال بخشا ہے اَور میرا سَر اُونچا کرتے ہیں۔
PSA 3:4 یَاہوِہ! میں بُلند آواز سے آپ کو پُکارتا ہُوں، اَور آپ اَپنے مُقدّس پہاڑ پر سے مُجھے جَواب دیتے ہیں۔
PSA 3:5 میں لیٹ کر سو جاتا ہُوں؛ اَور پھر جاگ اُٹھتا ہُوں، کیونکہ یَاہوِہ مُجھے سنبھالتے ہیں۔
PSA 3:6 میں اُن دس ہزار دُشمنوں سے بھی خوف نہیں کھاتا جو میرے خِلاف چاروں طرف سے صف آرا ہیں۔
PSA 3:7 اُٹھئے اَے یَاہوِہ! اَے میرے خُدا، مُجھے رِہائی بخشئے میرے تمام دُشمنوں کے جَبڑوں پر وار کریں؛ اَور بدکار لوگوں کے دانت توڑ ڈالئے۔
PSA 3:8 نَجات یَاہوِہ کی طرف سے ہے، آپ کے لوگوں پر آپ کی رحمت ہو!
PSA 4:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ تاردار سازوں کے ساتھ۔ داویؔد کا زبُور۔ جَب مَیں آپ کو پُکاروں، تو مُجھے جَواب دیں! اَے میرے عادل خُدا، مُجھے میری تکلیف سے بَری کریں؛ مُجھ پر مہربانی کریں اَور میری دعا سُنئے۔
PSA 4:2 اَے لوگو! تُم کب تک میری عظمت کو ندامت میں بدلتے رہوگے؟ تُم کب تک بطالت سے مَحَبّت رکھوگے، اَور جھُوٹے معبُودوں کو ڈھونڈتے رہوگے؟
PSA 4:3 جان رکھو کہ یَاہوِہ نے صادقوں کو اَپنے لیٔے الگ کر رکھا ہے؛ جَب مَیں یَاہوِہ کو پُکاروں گا تو وہ سُن لیں گے۔
PSA 4:4 تھرتھراؤ اَور تُم گُناہ سے باز رہو؛ خاموش رہو، اَور جَب تُم اَپنے بِستر پر لیٹتے ہو، اَور تُم اَپنے دِلوں کو ٹٹولو۔
PSA 4:5 صداقت کی قُربانیاں راستی سے گزرانو اَور یَاہوِہ پر توکّل کرو۔
PSA 4:6 کیٔی لوگ پُوچھتے ہیں، ”کون ہمیں کچھ بھلائی دِکھائے گا؟“ اَے یَاہوِہ، اَپنے چہرہ کا نُور ہم پر چمکائیں،
PSA 4:7 آپ نے میرے دِل میں اِس سے کہیں زِیادہ خُوشی بخشی ہے، جو اُنہیں اناج، اَور نئے انگوری شِیرے کی فراوانی سے حاصل ہوتی ہے۔
PSA 4:8 میں لیٹ کر اِطمینان سے سو جاؤں گا، کیونکہ اَے یَاہوِہ، صِرف آپ ہی ہیں جو مُجھے بحِفاظت آرام کرنے دیتے ہیں۔
PSA 5:1 موسیقی ہدایت کار۔ بانسری نوازوں کے واسطے۔ داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، میری باتوں پر کان لگائیں، اَور میری آہوں پر توجّہ فرمایئں۔
PSA 5:2 اَے میرے خُدا، اَے میرے بادشاہ، میری دہائی سُنیں، کیونکہ اَے یَاہوِہ، مَیں آپ ہی سے دعا کرتا ہُوں۔
PSA 5:3 اَے یَاہوِہ، آپ صُبح کو میری آواز سُنیں گے؛ کیونکہ مَیں صُبح دَم ہی اَپنی اِلتجائیں آپ کے حُضُور پیش کرتا ہُوں اَور اُمّید لگائے بیٹھا رہتا ہُوں۔
PSA 5:4 کیونکہ آپ اَیسے خُدا نہیں جو بدی سے خُوش ہوتے ہیں؛ بدکار لوگ آپ کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔
PSA 5:5 مغروُر آپ کی حُضُوری میں کھڑے نہیں رہ سکتے؛ آپ سَب بدکرداروں سے نفرت کرتے ہیں۔
PSA 5:6 آپ اُن کو، جو جھُوٹ بولتے ہیں ہلاک کر دیتے ہیں؛ اَور خُونی اَور دغابازوں سے، یَاہوِہ، کو نفرت ہے۔
PSA 5:7 لیکن مَیں آپ کی لافانی مَحَبّت کی کثرت کے باعث، آپ کے گھر میں داخل ہوؤں گا؛ اَور آپ کا خوف مان کر آپ کے مُقدّس ہیکل کی جانِب رُخ کرکے سَجدہ کروں گا۔
PSA 5:8 اَے یَاہوِہ، میرے دُشمنوں کے سبب سے۔ اَپنی راستبازی میں میری رہبری کریں اَور میرے آگے اَپنی راہ ہموار کریں۔
PSA 5:9 اُن کے مُنہ سے نکلے ہُوئے کسی بھی لفظ پر یقین نہیں کیا جا سَکتا؛ اَور اُن کا دِل تباہی سے بھرا ہُواہے۔ اُن کے حلق کھُلی ہویٔی قبروں کی مانِند ہیں؛ اَور اُن کی زبانوں سے دغابازی کی باتیں نکلتی ہیں۔
PSA 5:10 اَے خُدا! آپ اُنہیں مُجرم قرار دیں، اُن کی سازشیں ہی اُن کے زوال کا باعث ہوں۔ اُنہیں اُن کے گُناہوں کی کثرت کے باعث خارج کر دیں، کیونکہ اُنہُوں نے آپ سے بغاوت کی ہے۔
PSA 5:11 لیکن جتنے آپ میں پناہ لیتے ہیں وہ سَب شادمان ہوں؛ اَور ہمیشہ خُوشی سے گاتے رہیں۔ اَپنا سایہ عاطفت اُن پر پھیلائیں، تاکہ جو آپ کے نام سے مَحَبّت رکھتے ہیں، آپ میں خُوش رہیں۔
PSA 5:12 یقیناً، اَے یَاہوِہ، آپ راستبازوں کو برکت بخشتے ہیں؛ اَور اَپنی نظر کرم سے اُنہیں سِپر کی مانند ڈھانپے رہتے ہیں۔
PSA 6:1 موسیقی ہدایت کار کے لئے، تاردار سازوں کے ساتھ، شمینِت‏ کے سُرپر مَبنی داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، آپ اَپنے قہر میں مُجھے نہ جھڑکیں، اَور نہ اَپنے غضب میں مُجھے تنبیہ کریں۔
PSA 6:2 اَے یَاہوِہ، مُجھ پر رحم کریں کیونکہ مَیں پژمردہ ہو چُکا ہُوں؛ اَے یَاہوِہ، مُجھے شفا بخشیں، میری ہڈّیاں شدید تکلیف میں مُبتلا ہیں۔
PSA 6:3 میری جان بھی نہایت پریشان ہے، اَے یَاہوِہ، آخِر کب تک آپ کی مدد کا منتظر رہُوں؟
PSA 6:4 اَے یَاہوِہ، توجّہ فرمائیں اَور مُجھے رِہائی بخشیں؛ اَپنی لافانی مَحَبّت کے باعث مُجھے رِہائی بخشیں۔
PSA 6:5 کیونکہ مرنے کے بعد آپ کو کویٔی یاد نہیں کرتا۔ قبر میں سے کون آپ کی تمجید کر سَکتا ہے؟
PSA 6:6 میں کراہتے کراہتے تھک گیا؛ رات بھر رو رو کر میں اَپنا بِستر بھگوتا ہُوں اَور اَپنا پلنگ آنسُوؤں سے تربتر کرتا ہُوں۔
PSA 6:7 میری آنکھیں غم کے مارے پژمردہ ہو رہی ہیں؛ اَور میرے سَب حریفوں کی وجہ سے وہ دھُندلانے لگی ہیں۔
PSA 6:8 اَے بدکردارو، تُم سَب میرے پاس سے دُورہو جاؤ، کیونکہ یَاہوِہ نے میرے رونے کی آواز سُن لی ہے۔
PSA 6:9 یَاہوِہ نے میری فریاد سُن لی؛ یَاہوِہ میری دعا قبُول فرماتے ہیں۔
PSA 6:10 میرے سارے دُشمن شرمندہ اَور دہشت زدہ ہوں گے؛ وہ ناگہاں رُسوا ہوکر لَوٹ جایٔیں گے۔
PSA 7:1 داویؔد کا شگایون ‏ جو داویؔد نے کُوشؔ بِنیامینی کی باتوں کے سبب یَاہوِہ کے حُضُور گایا۔ اَے یَاہوِہ، میرے خُدا! مَیں آپ میں پناہ لیتا ہُوں؛ اِن سَب سے جو میرا تعاقب کرتے ہیں مُجھے بچائیں اَور رِہائی بخشیں،
PSA 7:2 کہیں اَیسا نہ ہو کہ شیر کی مانند وہ میری جان کو پھاڑ کر میرے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں، اَور میرا چھُڑانے والا کویٔی نہ ہو۔
PSA 7:3 اَے یَاہوِہ، میرے خُدا! اگر مَیں نے اَیسا کام کیا ہے، اَور میرے ہاتھ گُناہ آلُود ہیں،
PSA 7:4 اگر مَیں نے اَپنے رفیق کے ساتھ بُرائی کی ہے، یا بلاوجہ اَپنے حریف کو لُوٹا ہے،
PSA 7:5 تو میرا دُشمن تعاقب کرکے مُجھے آ پکڑے؛ اَور میری زندگی کو زمین پر پامال کر دے اَور مُجھے خاک میں مِلا دے۔
PSA 7:6 اَے یَاہوِہ، اَپنے قہر میں اُٹھیں؛ اَور میرے دُشمنوں کے غیظ و غضب کے خِلاف کھڑے ہو جائیں۔ جاگیں، اَے میرے خُدا! اَور اِنصاف کا حُکم دیں۔
PSA 7:7 آپ کے اِردگرد مُختلف مُلکوں کی قوموں کی جماعت ہو اَور عالمِ بالا سے آپ اُن پر حُکومت کریں؛
PSA 7:8 یَاہوِہ ہی قوموں کا قاضی ہیں، اَے یَاہوِہ، میری راستی کے مُطابق، اَور اَے خُداتعالیٰ، میری دیانتداری کے مُطابق میرا اِنصاف کریں۔
PSA 7:9 بدکار لوگوں کی بدی کا خاتِمہ کر دیں اَور راستبازوں کو قِیام بخشیں۔ آپ ہی واحد خُدا ہیں۔ جو دِلوں اَور دماغوں کو جانچتے ہیں۔
PSA 7:10 خُداتعالیٰ میری سِپر ہیں، جو راست دِلوں کو بچاتے ہیں۔
PSA 7:11 خُدا عادل قاضی ہیں، وہ اَیسے خُدا، جو ہر روز اَپنا قہر دِکھانے ہیں۔
PSA 7:12 اگر آدمی بُرائی سے باز نہ آئے، تو خُدا اَپنی تلوار تیز کریں گے؛ اَور اَپنی کمان کو جھُکا کر ڈور کھینچ لیں گے۔
PSA 7:13 خُدا نے اَپنے مہلک ہتھیار تیّار کر لیٔے ہیں؛ اَور وہ اَپنے شُعلہ بار تیروں کو بھی تیّار رکھتے ہیں۔
PSA 7:14 جو شخص بدی کا مُجسّمہ اَور شرارت کا پتلا ہو، اُس سے جھُوٹ ہی پیدا ہوتاہے۔
PSA 7:15 جِس نے زمین میں گڑھا کھود کر اُسے گہرا کیا وہ اَپنی کھودی ہُوئی خندق میں خُود ہی جا گرا۔
PSA 7:16 جو مُصیبت کھڑی کرتا ہے اُلٹی اُسی پر آ پڑےگی؛ اُس کا تشدّد اُسی کے سَر پر اُترے گا۔
PSA 7:17 میں یَاہوِہ کی راستی کے باعث اُن کا شُکرگزار ہوں گا اَور یَاہوِہ خُداتعالیٰ کے نام کی سِتائش کروں گا۔
PSA 8:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے؛ گِتّیت‏ کے سُرپر مَبنی داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، ہمارے خُداوؔند، آپ کا نام ساری زمین پر کیسا زبردست ہے! آپ نے آسمان پر اَپنا جلال قائِم کیا ہے۔
PSA 8:2 اَپنے دُشمنوں کے باعث بچّوں اَور شیرخواروں کے لبوں سے بھی آپ نے اَپنی حَمد کروائی، تاکہ اَپنے حریفوں اَور اِنتقام لینے والوں کو خاموش کر دیں،
PSA 8:3 جَب مَیں آپ کے آسمان پر، جو آپ کی دستکاری ہے، اَور چاند اَور سِتاروں پر، جنہیں آپ نے اُن کی جگہوں پر قائِم کیا ہے،
PSA 8:4 تو پھر اِنسان کیا چیز ہے کہ آپ اُس کا خیال کریں؟ اَور اِبن آدمؔ کیا ہے کہ آپ اُس کی خبرگیری کریں؟
PSA 8:5 اَور آپ نے اِنسان کے سَر پر جلال اَور عِزّت کا تاج پہنایا، کیونکہ خُدا آپ نے اُسے فرشتوں سے کچھ ہی کمتر بنایا ہے۔
PSA 8:6 خُدا آپ نے اُسے اَپنی دستکاری پر تسلُّط بخشا؛ اَور سَب کچھ اُن کے قدموں کے نیچے کر دیا:
PSA 8:7 یعنی سَب بھیڑ بکریاں اَور گائے بَیل، اَور جنگل کے درندے،
PSA 8:8 آسمان کے پرندے، اَور سمُندر کی مچھلیاں، اَور جتنے جاندار سمُندروں کی راہوں میں تیرتے ہیں۔
PSA 8:9 اَے یَاہوِہ، ہمارے خُداوؔند، آپ کا نام زمین پر کیسا زبردست ہے!
PSA 9:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے، موتھ لبّین والی دھُن پر مَبنی، داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، میں اَپنے پُورے دِل سے آپ کی تمجید کروں گا؛ اَور آپ کے تمام عجِیب کارناموں کا ذِکر کروں گا۔
PSA 9:2 مَیں آپ سے خُوش اَور مسرُور رہُوں گا؛ اَور اَے خُداتعالیٰ، مَیں آپ کے نام کی مدح سرائی کروں گا۔
PSA 9:3 جَب میرے دُشمن پیچھے ہٹتے ہیں؛ وہ آپ کی حُضُوری کے سبب سے ٹھوکر کھا کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔
PSA 9:4 کیونکہ آپ نے میرے حق کی اَور میرے مُقدّمہ کی تائید کی ہے؛ اَور اَپنے تخت پر جلوہ افروز ہوکر راستی سے میری عدالت کی ہے۔
PSA 9:5 آپ نے غَیر قوموں کو جِھڑکا اَور بدکاروں کو تباہ کیا ہے؛ اَور اُن کا نام اَبد تک کے لیٔے مٹا دیا ہے۔
PSA 9:6 دائمی تباہی نے میرے دُشمنوں کو آ پکڑا ہے، آپ نے اُن کے شہروں کو مُستقِل کھنڈر بنا ڈالا؛ یہاں تک کہ اُن کی یادگار تک باقی نہ رہی۔
PSA 9:7 لیکن یَاہوِہ اَبد تک تخت نشین رہے گا؛ اُنہُوں نے اِنصاف کے لیٔے اَپنا تخت قائِم کیا ہے۔
PSA 9:8 وہ دُنیا پر حُکمرانی؛ اَور قوموں کا اِنصاف راستبازی سے کریں گے۔
PSA 9:9 یَاہوِہ مظلوموں کے لیٔے پناہ، اَور مُصیبت کے ایّام میں قلعہ ہے۔
PSA 9:10 جو آپ کا نام جانتے ہیں، آپ پر توکّل کریں گے، اَے یَاہوِہ، کیونکہ جنہوں نے آپ سے دعا کی، آپ نے اَپنے طالبوں کو کبھی نہیں چھوڑا۔
PSA 9:11 یَاہوِہ کی سِتائش کرو، جو صِیّونؔ میں تخت نشین ہے؛ اَور قوموں کے درمیان اُس کے کارناموں کا اعلان کرو۔
PSA 9:12 کیونکہ خُون کا اِنتقام لینے والا، اُن کو یاد رکھتا ہے؛ اَور وہ مُصیبت زدوں کی فریاد کو نظرانداز نہیں کرتا۔
PSA 9:13 اَے یَاہوِہ، مُجھ پر نظرِکرم! دیکھ کہ میرے دُشمن مُجھے کیسا دُکھ دیتے ہیں، آپ ہی ہیں، جو مُجھے موت کے پھاٹکوں کے پاس سے اُٹھاتے ہیں،
PSA 9:14 تاکہ میں صِیّونؔ کی بیٹی کے پھاٹکوں کے پاس آپ کی سِتائش کر سکوں، اَور وہاں آپ کی دی ہُوئی نَجات سے خُوش ہوؤں۔
PSA 9:15 قومیں اَپنے ہی کھودے ہُوئے، گڑھے میں گِر چُکی ہیں؛ اَورجو جال اُنہُوں نے بچھایا تھا اُسی میں اُن کے پاؤں اُلجھ گیٔے ہیں۔
PSA 9:16 یَاہوِہ نے خُود کو ظاہر کر دیا، اُنہُوں نے اِنصاف کیا ہے؛ اَور بدکار لوگ اَپنے ہاتھوں کے کاموں میں پھنس جاتے ہیں۔
PSA 9:17 بدکار لوگ عالمِ اسفل میں اُتر جاتے ہیں، اَور وہ سَب قومیں بھی، جو خُدا کو بھُول جاتی ہیں۔
PSA 9:18 لیکن مسکین ہمیشہ کے لیٔے بھُلائے نہ جایٔیں گے؛ اَور نہ مُصیبت زدوں کی اُمّید کبھی ٹوٹے گی۔
PSA 9:19 اَے یَاہوِہ، اُٹھیں، اِنسان غالب نہ ہونے پایٔے؛ اَور قوموں کی عدالت آپ ہی کے سامنے کی جائے۔
PSA 9:20 اَے یَاہوِہ! آپ اُنہیں خوف دِلائیں؛ اَور قومیں جان لیں کہ وہ محض بشر ہی ہیں۔
PSA 10:1 اَے یَاہوِہ، آپ اِس قدر دُور کیوں کھڑے رہتے ہیں؟ اَور میری مُصیبت کے ایّام میں خُود کو کیوں چھپاتے ہیں؟
PSA 10:2 ناتواں بدکار لوگ غُرور کا شِکار ہوتے ہیں، اَور بدکار لوگ اَپنے بنائے ہُوئے منصُوبوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔
PSA 10:3 بدکار اَپنی نَفسانی خواہشوں پر فخر کرتا ہے؛ اَور حریص کو برکت دیتاہے اَور یَاہوِہ کی تحقیر کرتا ہے۔
PSA 10:4 بدکار آدمی اَپنے تکبُّر میں خُدا کو نہیں ڈھونڈتا؛ اُس کے ذہن میں یہی خیالات ہیں: کویٔی خُدا ہے ہی نہیں۔
PSA 10:5 بدکار لوگوں کی راہیں ہمیشہ اُستوار ہوتی ہیں؛ اُس کی نگاہ میں آپ کے آئین کی کویٔی اہمیّت نہیں ہے؛ وہ حقارت سے اَپنے تمام دُشمنوں کی ہنسی اُڑاتا ہے۔
PSA 10:6 وہ اَپنے دِل میں کہتاہے: ”مُجھے جنبش نہ ہوگی؛ پُشت در پُشت مُجھ پر کبھی کویٔی مُصیبت نہ آئے گی۔“
PSA 10:7 اُس کا مُنہ لعنت، فریب اَور ظُلم سے بھرا رہتاہے؛ شرارت اَور بدی اُس کی زبان پر ہیں۔
PSA 10:8 وہ دیہاتوں کے پاس اِنتظار میں بیٹھا رہتاہے؛ اَور کمین گاہ سے بے قُصُور کو قتل کرتا ہے۔ اَور اُس کی آنکھیں لاچار کی تاک میں لگی رہتی ہیں؛
PSA 10:9 وہ دبک کر بیٹھا رہتاہے، جَیسے جھاڑی میں شیر۔ اَور بے قُصُور اَور غریب کو پکڑنے کے لیٔے گھات لگائے رہتاہے، اَور اُنہیں پکڑکر اَپنے جال میں گھسیٹ کر لے جاتا ہے۔
PSA 10:10 مظلوم لوگ کُچلے، اَور شکستہ حال ہوکر گِر جاتے ہیں؛ اَور بےکس زورآور ہاتھوں سے پٹکے جاتے ہیں۔
PSA 10:11 وہ اَپنے دِل میں سوچتا ہے، ”خُدا بھُول چکےہیں؛ وہ اَپنا مُنہ چھپاتے ہیں، وہ ہرگز نہیں دیکھیں گے۔“
PSA 10:12 اَے یَاہوِہ، اُٹھیں، اَپنا ہاتھ اُٹھائیں، اَے خُدا! اَور مظلوموں کو فراموش نہ کریں۔
PSA 10:13 بدکار آدمی خُدا کی ناقدری کرتے ہُوئے اَپنے دِل میں اِنسان کیوں کہتا رہتاہے، ”خُدا مُجھ سے بازپُرس نہ کریں گے؟“
PSA 10:14 اَے خُدا، لیکن آپ شرارت اَور غم کو دیکھ رہے ہیں؛ آپ اُن کے غموں پر غور کریں اَور اِسے اَپنے ہاتھ میں لے لیں۔ بےکس خُود کو آپ کی پناہ میں دیتے ہیں؛ آپ ہی یتیموں کے مددگار ہیں۔
PSA 10:15 سنگدل اَور بدکار اِنسان کا بازو توڑ دیں؛ اَور اُس کی ساری پوشیدہ شرارت کا اُس سے حِساب لیں۔ جَب تک کہ بدکار کی شرارت باقی نہ رہے۔
PSA 10:16 یَاہوِہ ابدُالآباد بادشاہ ہیں؛ قومیں اُن کے مُلک میں سے نابود ہو جایٔیں گی۔
PSA 10:17 اَے یَاہوِہ، آپ مظلوموں کی استدعا سُنتے ہیں؛ اُن کے دِلوں کو تیّار کرتے ہیں اَور اُن کی فریاد پر کان لگاتے ہیں،
PSA 10:18 یتیموں اَور مظلوموں کا اِنصاف کرتے ہیں، تاکہ خاک سے بنا اِنسان پھر دہشت نہ پھیلایٔے۔
PSA 11:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے، داویؔد کا زبُور۔ میں یَاہوِہ میں پناہ لیتا ہُوں۔ پھر تُم مُجھ سے کیونکر کہتے ہو: ”چڑیا کی مانند اَپنے پہاڑ پر اُڑ جا۔
PSA 11:2 خبردار! کیونکہ بدکار لوگ اَپنی کمان کھینچتے ہیں؛ وہ اَپنے تیر کمان کی ڈوریوں پر رکھتے ہیں، تاکہ چھاؤں میں بیٹھے ہُوئے سیدھے لوگوں کے دِلوں پر تیر چلائیں۔
PSA 11:3 جَب بُنیادیں ہی ڈھا دی جایٔیں، تو راستباز کیا کر سَکتا ہے؟“
PSA 11:4 یَاہوِہ اَپنے مُقدّس ہیکل میں ہیں؛ اُن کا تخت آسمان پر نشین ہے۔ وہ بنی آدمؔ پر نگاہ رکھے ہُوئے ہیں؛ اَور اُن کی آنکھیں اُنہیں جانچتی ہیں۔
PSA 11:5 یَاہوِہ راستباز اَور بدکار دونوں کو پرکھتے ہیں، یَاہوِہ کی رُوح تشدّد پسندوں سے نفرت کرتی ہے۔
PSA 11:6 بدکار لوگوں پر وہ پھندے برسائیں گے، آگ کے اَنگارے اَور جلتی ہُوئی گندھک برسائیں گے؛ اَور اُن کے پیالہ کا حِصّہ جھُلسا دینے والی لُو ہوگی۔
PSA 11:7 کیونکہ یَاہوِہ راستباز ہیں؛ وہ عدل پسند کرتے ہیں؛ راستباز اُن کا دیدار حاصل کریں گے۔
PSA 12:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ شمینِت‏ کے سُرپر مَبنی داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، ہماری مدد کریں کیونکہ کویٔی دیندار نہ رہا؛ ایماندار لوگ بنی آدمؔ کے درمیان سے مِٹ گیٔے۔
PSA 12:2 ہر شخص اَپنے ہمسایہ سے جھُوٹ بولتا ہے؛ اُن کے خُوشامدی لب ایک دُوسرے سے دو رنگی باتیں کرتے ہیں۔
PSA 12:3 یَاہوِہ تمام خُوشامدی لبوں کو اَور ہر شیخی باز زبان کو کاٹ ڈالیں گے۔
PSA 12:4 جو یہ کہتی ہے، ”ہم اَپنی زبان سے غالب آئیں گے؛ ہمارے لب تو ہمارے قبضے میں ہیں۔ ہمارا مالک کون ہے؟“
PSA 12:5 یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”مظلوموں پر ظُلم ڈھانے کے سبب سے، اَور حاجتمندوں کے کراہنے کے باعث اَب مَیں اُٹھوں گا،“ اَور جِن پر وہ تہمت لگاتے ہیں، ”مَیں اُن کی حِفاظت کروں گا۔“
PSA 12:6 یَاہوِہ کا کلام خالص ہے، اُس چاندی کی مانند جو مٹّی کی بھٹّی میں تائی گئی ہو، اَور سات بار صَاف کی گئی ہو۔
PSA 12:7 اَے یَاہوِہ، آپ ہمیں محفوظ رکھیں گے اَور اَیسے بدکار لوگوں سے ہمیشہ کے لیٔے بچائے رکھیں گے۔
PSA 12:8 جَب بنی آدمؔ میں کمینہ پن کی قدر ہونے لگتی ہے تو بدکار لوگ بے روک ٹوک اکڑ کر چلتے ہیں۔
PSA 13:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، کب تک؟ کیا آپ ہمیشہ مُجھے بھُولے رہیں گے؟ آپ کب تک اَپنا چہرہ مُجھ سے چُھپائے رکھیں گے؟
PSA 13:2 میں کب تک اَپنے خیالات سے اُلجھتا رہُوں؟ اَور کب تک ہر روز اَپنے دِل میں غم کرتا رہُوں؟ کب تک میرا دُشمن مُجھ پر غالب رہے گا؟
PSA 13:3 اَے یَاہوِہ، میرے خُدا! میری طرف توجّہ فرمائیں اَور مُجھے جَواب دیں، میری آنکھیں رَوشن کر دیں، ورنہ میں موت کی نیند سو جاؤں گا،
PSA 13:4 اَیسا نہ ہو کہ میرا دُشمن کہے، ”میں اُس پر غالب آ گیا،“ اَور جَب مَیں ڈگمگانے لگوں تو میرے بد خواہ خُوش ہُوں۔
PSA 13:5 لیکن مُجھے آپ کی لافانی مَحَبّت پر توکّل ہے، میرا دِل آپ کی نَجات سے مسرُور ہوتاہے۔
PSA 13:6 میں یَاہوِہ کے لیٔے نغمہ گاؤں گا، کیونکہ اُنہُوں نے مُجھ پر بہت اِحسَان کئے ہیں۔
PSA 14:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ احمق اَپنے دِل میں کہتاہے، ”کویٔی خُدا ہے ہی نہیں۔“ وہ سبھی بگڑ گیٔے ہیں اَور اُن کی روِشیں نہایت شرمناک ہیں؛ اُن میں کویٔی نہیں، جو نیکی کرتا ہو۔
PSA 14:2 یَاہوِہ آسمان پر سے نیچے بنی آدمؔ پر نگاہ کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ کویٔی دانشمند، اَور کویٔی خُدا کا طالب ہے یا نہیں۔
PSA 14:3 وہ سَب کے سَب خُدا سے گُمراہ ہو گئے، اَور سَب ایک ساتھ بگڑ گیٔے؛ اُن میں کویٔی بھی اِنسان نہیں جو نیکی کرتا ہو، ایک بھی نہیں۔
PSA 14:4 خُدا پُوچھتے ہیں کیا بدکار یہ کبھی نہ سیکھیں گے؟ جو میری اُمّت کو اَیسے کھا جاتے ہیں، جَیسے اِنسان روٹی کھاتا ہے؛ اَور یَاہوِہ کا نام کبھی نہیں لیتے؟
PSA 14:5 لیکن وہاں اُن پر بےحد خوف طاری ہو گیا، کیونکہ خُدا راستبازوں کی نَسل کے ساتھ رہتاہے۔
PSA 14:6 تُم مظلوموں کو شرمسار کرنے کے منصُوبے بناتے ہو، لیکن یَاہوِہ اُن کی پناہ ہیں۔
PSA 14:7 کاش کہ اِسرائیل کی نَجات صِیّونؔ میں سے ہوتی! جَب یَاہوِہ اَپنے لوگوں کو بحال کریں گے، تَب یعقوب خُوش اَور اِسرائیل شادمان ہوگا!
PSA 15:1 داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، آپ کے مَقدِس میں کون رہے گا؟ آپ کے مُقدّس پہاڑ پر کون سکونت کرےگا؟
PSA 15:2 اَور جِس کا کِردار بے اِلزام ہے، وہ جو راستبازی پر چلتا ہے، اَور اَپنے دِل سے سچ بولتا ہے،
PSA 15:3 جو اَپنی زبان سے جھُوٹے اِلزام نہیں لگاتا، اَور اَپنے ہمسایہ سے بدی نہیں کرتا اَور نہ کسی پڑوسی کو بدنام کرتا ہے،
PSA 15:4 یَاہوِہ کی نگاہ میں جو کمینے اِنسان کو حقیر جانتا ہے، لیکن جو یَاہوِہ کا خوف مانتے ہیں اُن کا اِحترام کرتا ہے؛ جو قَسم کھا کر اُسے توڑتا نہیں خواہ اُسے نُقصان ہی کیوں نہ اُٹھانا پڑے؛
PSA 15:5 جو اَپنا رُوپیہ سُود پر نہیں دیتا؛ اَور بے قُصُور کے خِلاف رشوت نہیں لیتا۔ اَیسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھائے گا۔
PSA 16:1 داویؔد کا ایک مِکتام۔‏ اَے خُدا، مُجھے محفوظ رکھیں، کیونکہ مَیں آپ ہی میں پناہ لیتا ہُوں۔
PSA 16:2 یَاہوِہ سے مَیں نے کہا، ”آپ ہی میرے خُداوؔند ہیں؛ آپ کے سِوا میری بھلائی نہیں۔“
PSA 16:3 زمین پرجو مُقدّس لوگ ہیں، ”وُہی برگُزیدہ ہیں اَور اُن ہی سے میری ساری خُوشی وابستہ ہے۔“
PSA 16:4 جو غَیر معبُودوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، اُن کا غم بڑھ جائے گا۔ میں اُن کے خُون والے تپاون نہ تپاؤں گا اَور نہ اُن کا نام اَپنے ہونٹوں پر لاؤں گا۔
PSA 16:5 اَے یَاہوِہ، آپ ہی میرا حِصّہ ہیں، اَور آپ ہی میرا پیالہ ہیں؛ آپ نے میری مِیراث محفوظ رکھی ہے۔
PSA 16:6 میرے لیٔے جریب خوشگوار مقامات جگہوں پر پڑی ہے؛ یقیناً میری مِیراث خُوب ہے۔
PSA 16:7 میں یَاہوِہ کی سِتائش کروں گا، جو مُجھے صلاح دیتے ہیں؛ میرا دِل رات کو بھی میری تربّیت کرتا ہے۔
PSA 16:8 مَیں نے ہمیشہ یَاہوِہ کی مَوجُودگی کا احساس اَپنے سامنے دیکھاہے۔ کیونکہ وہ میری داہنی طرف ہیں، اِس لیٔے مُجھے جُنبش نہ ہوگی۔
PSA 16:9 چنانچہ میرا دِل خُوش ہے اَور میری زبان شادمان؛ بَلکہ میرا جِسم بھی اُمّید میں قائِم رہے گا،
PSA 16:10 کیونکہ آپ میری جان کو قبر میں چھوڑ نہیں دیں گے، اَور نہ ہی اَپنے مُقدّس فرزند کے سَڑنے کی نَوبَت ہی آنے دیں گے۔
PSA 16:11 آپ نے مُجھے زندگی کی راہ دِکھائی، آپ اَپنے دیدار کی خُوشی سے مُجھے بھر دیں گے، اَور اَپنے داہنے ہاتھ کی طرف دائمی فرحت بخشیں گے۔
PSA 17:1 داویؔد کی دعا۔ اَے یَاہوِہ، میرے عادل میری سچّی اِلتجا کو سُنیں؛ میری فریاد پر، توجّہ فرمائیں۔ میری دعا پر کان لگائیں، جو فریبی لبوں سے نہیں نکلے ہیں۔
PSA 17:2 میرے مُقدّمہ کا فیصلہ آپ کی طرف سے ہو؛ آپ کی آنکھیں راستی پر لگی رہتی ہیں۔
PSA 17:3 حالانکہ آپ میرے دِل کو ٹٹولتے اَور رات کے وقت مُجھے آزماتے ہیں، اَور مُجھے پرکھتے ہیں، لیکن کویٔی خرابی نہیں پاتے؛ مَیں نے ٹھان لیا ہے کہ میرا مُنہ خطا نہ کرے۔
PSA 17:4 یہاں تک کہ مُجھے لوگوں نے رشوت دینے کی کوشش کی، مَیں نے آپ کے لبوں کے کلام کی مدد سے اَپنے آپ کو ظالموں کی راہوں سے باز رکھا ہے۔
PSA 17:5 میرے قدم آپ کی راہوں پر جمے رہے؛ اَور میرے پاؤں پھسلنے نہ پایٔے۔
PSA 17:6 اَے خُدا، مَیں آپ سے دعا کرتا ہُوں کیونکہ آپ مُجھے جَواب دیں گے؛ اَپنا کان میری طرف لگائیں اَور میری اِلتجا سُن لیں۔
PSA 17:7 آپ جو اَپنے داہنے ہاتھ سے اَپنے پناہ گزینوں کو اُن کے مُخالفوں سے رِہائی بخشتے ہیں، اَپنی بڑی شفقت و مَحَبّت کا کرشمہ دِکھائیں۔
PSA 17:8 مُجھے اَپنی آنکھ کی پتلی کی طرح محفوظ رکھیں؛ اَور اَپنے پروں کے سایہ میں چُھپائے رکھیں
PSA 17:9 اُن بدکار لوگوں سے جو مُجھ پر ظُلم ڈھاتے ہیں، اَور میرے جانی دُشمنوں سے جو مُجھے گھیرے ہُوئے ہیں۔
PSA 17:10 اُنہُوں نے اَپنے دِل سخت کر لیٔے ہیں، اَور اُن کے مُنہ سے تکبُّر کی باتیں نکلتی ہیں۔
PSA 17:11 اُنہُوں نے میرا سُراغ لگا لیا، اَور اَب مُجھے گھیر رکھا ہے، اَور وہ تاک میں ہیں کہ مُجھے زمین پر پٹک دیں۔
PSA 17:12 وہ اُس شیر کی مانند ہیں جو اَپنے شِکار کے لیٔے بھُوکا ہو، کسی بڑے شیرببر کی مانند جو گھات لگائے پوشیدہ جگہ میں بیٹھا رہتاہے۔
PSA 17:13 اُٹھیں، اَے یَاہوِہ، اُن کا سامنا کریں اَور اُنہیں گرا دیں؛ اَپنی تلوار سے میری جان کو بدکار لوگوں سے بچائیں۔
PSA 17:14 اَے یَاہوِہ، اَپنے ہاتھ سے مُجھے اَیسے لوگوں سے بچائیں، اِس جہاں کے لوگوں سے جِن کا اجر اِسی زندگی میں ہے۔ آپ جنہیں عزیز رکھتے ہیں اُنہیں آسُودہ حال کرتے ہیں؛ اُن کی اَولاد سیر ہوتی ہے، اَور وہ اَپنے پوتوں کے لیٔے مال و دولت جمع کرکے چھوڑ جاتے ہیں۔
PSA 17:15 لیکن مَیں تو صداقت میں آپ کا دیدار حاصل کروں گا؛ اَور جَب مَیں جاگوں گا تو آپ کی حُضُوری میں تسلّی پاؤں گا۔
PSA 18:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ یَاہوِہ کے خادِم داویؔد کا زبُور۔ آپ نے یَاہوِہ کی حُضُوری میں اِس نغمہ کو گایا جَب یَاہوِہ نے داویؔد کو اُن کے سَب دُشمنوں اَور شاؤل کے حملہ سے بچایا چنانچہ داویؔد نے یُوں کہا: اَے یَاہوِہ، اَے میری قُوّت، مَیں آپ سے مَحَبّت رکھتا ہُوں۔
PSA 18:2 یَاہوِہ میری چٹّان، میرا قلعہ اَور میرے چھُڑانے والے ہیں؛ میرے خُدا، میری چٹّان ہیں، میں جِس میں پناہ لیتا ہُوں، وہ میری سِپر اَور میری نَجات کا سینگ، وہ میرا حصار۔
PSA 18:3 مَیں یَاہوِہ کو جو سِتائش کے لائق ہیں پُکارتا ہُوں، اَور دُشمنوں سے مُجھے بچا لیتے ہیں۔
PSA 18:4 موت کی موجوں نے مُجھے گھیرلیا؛ اَور تباہی کے سیلابوں نے مُجھے اَپنی لپیٹ میں لے لیا۔
PSA 18:5 پاتال کی رسّیاں میرے چَوگرد لپٹ گئیں؛ اَور موت کے پھندے میرے سامنے تھے۔
PSA 18:6 مَیں نے اَپنے خُدا سے فریاد کی؛ مَیں نے اَپنی مُصیبت میں یَاہوِہ کو پُکارا۔ اُنہُوں نے اَپنی ہیکل میں سے میری آواز سُنی؛ میری فریاد اُن کے کانوں میں پہُنچی۔
PSA 18:7 تَب زمین کانپ اُٹھی اَور ہل گئی، اَور پہاڑوں کی بُنیادیں لرز اُٹھیں؛ وہ ہل گئیں اِس لیٔے کہ یَاہوِہ غضبناک ہو گئے تھے۔
PSA 18:8 اُن کے نتھنوں سے دُھواں اُٹھا؛ اَور اُن کے مُنہ سے بھسم کرنے والی آگ نکلی، جِس سے کوئلے دہک اُٹھے،
PSA 18:9 اُنہُوں نے آسمانوں کو جھُکایا اَور نیچے اُتر آئے؛ سیاہ بادل اُن کے پاؤں کے نیچے تھے۔
PSA 18:10 وہ کروبی پر سوار ہوکر اُڑے؛ وہ ہَوا کے بازوؤں پر سوار ہوکر اُڑے؛
PSA 18:11 اُنہُوں نے تاریکی کو اَپنا غلاف، اَور آسمان کے کالے بادلوں کو شامیانہ بنا لیا۔
PSA 18:12 اُن کی حُضُوری کی تجلّی سے بادل اَور اولے، اَور کڑکتی بجلی کی چمک دھمک سے آگے بڑھ رہے تھے۔
PSA 18:13 یَاہوِہ آسمان پر سے گرجے؛ اَور خُداتعالیٰ کی آواز گونج اُٹھی۔
PSA 18:14 اُنہُوں نے اَپنے تیر چلائے اَور دُشمنوں کو پراگندہ کیا، اَور بجلیاں گرا کر اُنہیں شِکست دی۔
PSA 18:15 اَے یَاہوِہ، آپ کی ڈانٹ سے، اَور آپ کے نتھنوں کے دَم کے جھونکے سے، سمُندر کی وادیاں دِکھائی دینے لگیں اَور زمین کی بُنیادیں نموُدار ہو گئیں۔
PSA 18:16 اُنہُوں نے آسمان سے ہاتھ بڑھا کر مُجھے تھام لیا؛ اَور گہرے پانی میں سے کھینچ کر باہر نکالا۔
PSA 18:17 اُنہُوں نے میرے زبردست دُشمن سے مُجھے رِہائی بخشی، اَور اُن مُخالفوں سے، جو میرے مُقابلہ میں زِیادہ طاقتور تھے۔
PSA 18:18 وہ میری مُصیبت کے دِن مُجھ پر ٹوٹ پڑے، لیکن یَاہوِہ میرا سہارا تھے۔
PSA 18:19 یَاہوِہ مُجھے کشادہ جگہ میں نکال لائے؛ اُنہُوں نے مُجھے بچا لیا کیونکہ وہ مُجھ سے خُوش تھے۔
PSA 18:20 یَاہوِہ نے میری راستبازی کے مُطابق مُجھ سے سلُوک کیا؛ اَور میرے ہاتھوں کی پاکیزگی کے مُطابق مُجھے صِلہ دیا۔
PSA 18:21 کیونکہ مَیں یَاہوِہ کی راہوں پر چلتا رہا؛ اَور مَیں نے اَپنے خُدا کے خِلاف کویٔی بدی نہیں کی۔
PSA 18:22 اُن کے سارے آئین میرے سامنے ہیں؛ اَور مَیں نے اُن کے قوانین سے مُنہ نہیں موڑا۔
PSA 18:23 میں اُن کے سامنے بے عیب رہا، اَور اَپنے آپ کو گُناہ سے بَری رکھا۔
PSA 18:24 یَاہوِہ نے میری راستبازی کے مُطابق، اَور اَپنے ہاتھوں کی اُس پاکیزگی کے مُطابق جسے وہ دیکھتے تھے مُجھے اجر دیا۔
PSA 18:25 وفادار کے ساتھ آپ اَپنے آپ کو وفادار جتاتے ہیں، اَور کامل کے ساتھ اَپنے آپ کو کامل جتاتے ہیں،
PSA 18:26 نیک اِنسان کے ساتھ آپ اَپنے آپ کو نیک جتاتے ہیں، لیکن ٹیڑھے اِنسان کے ساتھ ہوشیاری جتاتے ہیں۔
PSA 18:27 آپ حلیموں کو تو بچاتے ہیں لیکن اُن لوگوں کو نیچا دِکھانے ہیں جِن کی آنکھوں میں مغروُریت ہوتی ہے۔
PSA 18:28 اَے یَاہوِہ، آپ میرے چراغ رَوشن رکھیں؛ میرے خُدا میری تاریکی کو نُور تبدیل کرتے ہیں۔
PSA 18:29 آپ کی مدد سے میں فَوج پر چڑھائی کر سَکتا ہُوں؛ اَور اَپنے خُدا کی بدولت میں دیوار پھاند سَکتا ہُوں۔
PSA 18:30 خُدا کی راہ پکّی ہے؛ یَاہوِہ کا کلام کامل ہے۔ وہ اُن سَب کی سِپر ہے جو اُن میں پناہ لیتے ہیں۔
PSA 18:31 کیونکہ یَاہوِہ کے علاوہ اَور کون خُدا ہے؟ اَور ہمارے خُدا کے سِوا اَور کون چٹّان ہے؟
PSA 18:32 خُدا ہی قُوّت سے مُجھے مُسلّح کرتے ہیں اَور میری راہ کو کامل کرتے ہیں۔
PSA 18:33 وہ میرے پاؤں کو ہِرنی کے پاؤں کی مانند بناتے ہیں؛ اَور مُجھے بُلندیوں پر کھڑا رہنے کے قابل بناتے ہیں۔
PSA 18:34 وہ میرے ہاتھوں کو جنگ کرنا سِکھاتے ہیں؛ اَور یہاں تک کہ میرے بازو کانسے کی کمان کو جھُکا دیتے ہیں۔
PSA 18:35 آپ مُجھے اَپنی فتح کی سِپر دیتے ہیں، اَور آپ کا داہنا ہاتھ مُجھے سنبھالے ہُوئے ہے؛ آپ کی بندہ پروری نے مُجھے بڑا بنا دیا ہے۔
PSA 18:36 آپ میرے قدموں کی راہ کشادہ کرتے ہیں، تاکہ میں پھسلنے نہ پاؤں۔
PSA 18:37 مَیں نے اَپنے دُشمنوں کا تعاقب کرکے اُنہیں کُچل ڈالا؛ اَور جَب تک وہ تباہ نہ ہو گئے مَیں واپس نہ لَوٹا۔
PSA 18:38 مَیں نے اُنہیں کُچل دیا تاکہ وہ اُٹھ نہ پائیں؛ وہ میرے پاؤں کے نیچے گِر گیٔے۔
PSA 18:39 آپ نے مُجھے جنگ کے لیٔے قُوّت سے مُسلّح کیا؛ اَور میرے مُخالفوں کو میرے قدموں میں جھُکا دیا۔
PSA 18:40 آپ نے لڑائی میں میرے دُشمنوں کو پیٹھ دِکھانے پر مجبُور کیا، اَور مَیں نے اَپنے حریفوں کو تباہ کر دیا۔
PSA 18:41 اُنہُوں نے مدد کے لئے پُکارا، لیکن اُنہیں بچانے والا کویٔی نہ تھا۔ اُنہُوں نے یَاہوِہ کی بھی دہائی دی، لیکن اُنہُوں نے جَواب نہ دیا۔
PSA 18:42 تَب مَیں نے اُنہیں پیس پیس کر ہَوا میں اُڑتی ہُوئی گَرد کی مانند بنا دیا؛ اَور مَیں نے اُنہیں گلی کوچوں کی کیچڑ کی مانند روند ڈالا۔
PSA 18:43 آپ نے مُجھے لوگوں کی یلغار سے بھی چھُڑا لیا؛ اَور مُجھے قوموں کا سردار بنا دیا؛ اَور جِن لوگوں سے میں واقف بھی نہ تھا وہ میری خدمت کرنے لگے۔
PSA 18:44 میرا نام سُنتے ہی وہ میری اِطاعت کرنے لگتے ہیں؛ پردیسی میرے آگے جھکتے ہیں۔
PSA 18:45 وہ سَب گھبرا جاتے ہیں؛ اَور تھرتھراتے ہُوئے اَپنے قلعوں سے باہر نکل آتے ہیں۔
PSA 18:46 یَاہوِہ زندہ ہیں! میری چٹّان مُبارک ہو! اَور میرا مُنجّی خُدا ممتاز ہو!
PSA 18:47 وُہی خُدا ہیں جو میرا اِنتقام لیتے ہیں، اَور قوموں کو میرے سامنے جھُکاتے ہیں،
PSA 18:48 وہ مُجھے میرے دُشمنوں سے بچاتے ہیں، آپ نے مُجھے میرے حریفوں پر سرفرازی بخشی؛ اَور تُند خُو لوگوں سے مُجھے بچایا۔
PSA 18:49 اِس لیٔے اَے یَاہوِہ، میں قوموں کے درمیان آپ کی تمجید؛ اَور آپ کے نام کی مدح سرائی کروں گا۔
PSA 18:50 وہ اَپنے بادشاہ کے لیٔے رِہائی کا بُرج؛ اَور اَپنے ممسوح داویؔد اَور اُن کی نَسل کو ہمیشہ اَپنی لافانی مَحَبّت میں رکھیں گے۔
PSA 19:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ آسمان خُدا کا جلال ظاہر کرتا ہے؛ اَور فِضا اُس کی دستکاری دِکھاتی ہے۔
PSA 19:2 ہر دِن اگلے دِن کے لیٔے خُدا کی شان کے بارے میں بات کرتا ہے؛ اَور رات اگلی رات کو حِکمت کو ظاہر کرتی ہے۔
PSA 19:3 آسمان و فضا کی کویٔی اَیسی زبان، یا کلام نہیں؛ جِس میں اُس کی آواز نہ سُنایٔی دیتی ہو۔
PSA 19:4 پھر بھی اُن کی آواز ساری رُوئے زمین پر، اَور اُن کا کلام دُنیا کی اِنتہا تک پہُنچتا ہے۔ خُدا نے آسمان میں آفتاب کے لیٔے ایک خیمہ کھڑا کیا ہے۔
PSA 19:5 آفتاب جو دُلہا کی مانند، اَپنی خلوت گاہ سے نکلتا ہے، جَیسے کویٔی پہلوان، اَپنی دَوڑ دَوڑنے کے لیٔے خُوش ہوتاہے۔
PSA 19:6 وہ آسمان کے ایک سِرے سے نکلتا ہے، اَور دُوسرے سِرے تک گشت کرتا ہے؛ اَور اُس کی حرارت سے کویٔی چیز پوشیدہ نہیں رہتی۔
PSA 19:7 یَاہوِہ کے آئین کامل ہے، جو جان کو تقویّت بخشتی ہے، یَاہوِہ کے شہادتیں قابلِ اِعتماد ہیں، جو سادہ دِل کو دانشمند بنا دیتے ہیں۔
PSA 19:8 یَاہوِہ کے فرمان راست ہیں، جو دِل کو راحت بخشتے ہیں۔ یَاہوِہ کے اَحکام درخشاں ہیں، جو آنکھوں کو مُنوّر کرتے ہیں۔
PSA 19:9 یَاہوِہ کا خوف پاک ہے، جو اَبد تک قائِم رہتاہے۔ یَاہوِہ کے قوانین یقینی، اَور بالکُل راست ہیں۔
PSA 19:10 وہ قوانین سونے سے بیش قیمت ہیں، بَلکہ کندن سے بھی زِیادہ، وہ شہد سے بھی زِیادہ شیریں ہیں، بَلکہ چھتّے سے ٹپکتے ہُوئے شہد سے بھی زِیادہ شیریں۔
PSA 19:11 اُن ہی سے آپ کا خادِم تنبیہ پاتاہے؛ اُن پر عَمل کرنے میں بڑا اجر ہے۔
PSA 19:12 اَپنی خطاؤں کو کون سمجھ سَکتا ہے؟ میرے نادانستہ عیب مُعاف فرمائیں۔
PSA 19:13 اَپنے خادِم کو دانستہ گُناہوں سے بھی باز رکھیں؛ وہ مُجھ پر غالب نہ آئیں۔ تَب میں بے اِلزام ٹھہروں گا، اَور گُناہِ کبیرہ سے بچا رہُوں گا۔
PSA 19:14 اَے میرے یَاہوِہ، میری چٹّان اَور میرے نَجات دِہندہ، میرے مُنہ کا کلام اَور میرے دِل کی خُوشی آپ کے حُضُور مقبُول ٹھہرے۔
PSA 20:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ جَب آپ مُصیبت کا شِکار ہو تو یَاہوِہ آپ کی فریاد سُن کر جَواب دیں گے؛ یعقوب کے خُدا کا نام آپ کی حِفاظت کرے۔
PSA 20:2 وہ پاک مَقدِس سے آپ کے لیٔے مدد بھیجیں اَور صِیّونؔ سے تُمہیں سہارا دیں۔
PSA 20:3 وہ آپ کی سَب نذریں یاد رکھیں، اَور آپ کی سوختنی نذروں کو قبُول فرمائیں۔
PSA 20:4 وہ آپ کی دِلی تمنّا پُوری کریں، اَور آپ کے سَب منصُوبوں میں تُمہیں کامیابی عطا فرمائے۔
PSA 20:5 جَب تُم نَجات پاؤ تو ہم خُوشی کے نعرے لگائیں گے اَور اَپنے خُدا کے نام پر اَپنے جھنڈے بُلند کریں گے۔ یَاہوِہ آپ کی تمام درخواستیں پُوری کریں۔
PSA 20:6 اَب مَیں جان گیا کہ یَاہوِہ اَپنے ممسوح کو بچا لیتے ہیں؛ وہ اَپنے داہنے ہاتھ کی نَجات بخش قُوّت سے اُسے اَپنے مُقدّس آسمان پر سے جَواب دیتے ہیں۔
PSA 20:7 بعض لوگوں کو جنگی رتھوں پر بھروسا ہوتاہے اَور بعض کو گھوڑوں پر، لیکن ہم تو یَاہوِہ اَپنے خُدا ہی کے نام پر بھروسا کریں گے۔
PSA 20:8 وہ مغلُوب ہُوئے اَور گِر گیٔے، لیکن ہم اُٹھے اَور ثابت قدم رہے۔
PSA 20:9 اَے یَاہوِہ، بادشاہ کو فتح بخشیں! اَور جَب ہم پُکاریں تو ہمیں جَواب دیں!
PSA 21:1 داویؔد کا زبُور۔ برائے موسیقی ہدایت کار۔ اَے یَاہوِہ، آپ کی قُوّت سے بادشاہ خُوش ہوتاہے، آپ کی بخشی ہُوئی نَجات کے باعث اُس کی خُوشی کس قدر بڑھ جاتی ہے!
PSA 21:2 آپ نے اُس کے دِل کی تمنّا پُوری کی ہے، اَور اُس کے لبوں کی اِلتجا کو ردّ نہ کیا۔
PSA 21:3 آپ نے بیش قیمتی برکتوں کے ساتھ اُس کا اِستِقبال کیا اَور خالص سونے کا تاج اُس کے سَر پر رکھا۔
PSA 21:4 اُس نے آپ سے زندگی طلب کی اَور آپ نے اُسے وہ بخشی۔ بَلکہ ہمیشہ کے لیٔے عمر کی درازی بخشی۔
PSA 21:5 آپ کی دی ہُوئی فتوحات کے باعث اُس کا جلال عظیم ہو گیا؛ آپ نے اُسے شان و شوکت سے نوازا ہے۔
PSA 21:6 یقیناً آپ نے اُسے اَبدی برکتیں بخشی ہیں اَور اَپنی حُضُوری کی خُوشی سے اُسے شادمان کیا ہے۔
PSA 21:7 کیونکہ بادشاہ کا توکّل یَاہوِہ پر ہے؛ اَور خُداتعالیٰ کی لافانی مَحَبّت کے باعث وہ ڈگمگانے نہ پایٔےگا۔
PSA 21:8 آپ کا ہاتھ آپ کے سارے دُشمنوں کو پکڑ لے گا؛ آپ کا داہنا ہاتھ آپ کے حریفوں کو گرفتار کر لے گا۔
PSA 21:9 جَب آپ ظاہر ہوں گے تو اُنہیں جلتے ہُوئے تنور کی مانند کر دیں گے۔ اَپنے غضب میں یَاہوِہ اُنہیں نگل جائیں گے، اَور اُن کی آگ اُنہیں بھسم کر ڈالے گی۔
PSA 21:10 آپ اُن کی اَولاد کو رُوئے زمین پر سے، اَور اُن کی نَسل کو بنی آدمؔ میں سے نابود کر دیں گے۔
PSA 21:11 حالانکہ وہ آپ کے خِلاف بدی کرنا چاہتے ہیں اَور شرارت آمیز منصُوبے بناتے ہیں، تو بھی وہ کامیاب نہیں ہو سکتے؛
PSA 21:12 کیونکہ جَب آپ اُن پر اَپنی کمان کھینچیں گے تَب آپ اُنہیں پیٹھ دِکھانے پر مجبُور کر دیں گے۔
PSA 21:13 اَے یَاہوِہ، اَپنی قُوّت میں سرفراز ہو؛ ہم آپ کی قُدرت کی تعریف میں نغمہ گائیں گے۔
PSA 22:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ ”آہوئے فجر“ یعنی صُبح کی ہِرنی کے سُرپر مَبنی داویؔد کا زبُور۔ اَے میرے خُدا، اَے میرے خُدا، آپ نے مُجھے کیوں چھوڑ دیا؟ آپ میری مخلصی کے نالوں سے کیوں دُور رہتے ہیں؟
PSA 22:2 اَے میرے خُدا، میں دِن کو پُکارتا ہُوں لیکن آپ جَواب نہیں دیتے، اَور رات کو بھی فریاد کرنے سے باز نہیں آتا۔
PSA 22:3 پھر بھی آپ بحیثیت قُدُّوس تخت نشین ہیں؛ اَور آپ اِسرائیل کا ممدوح ہیں اَور اِسرائیل آپ کی تمجید کرتا ہے۔
PSA 22:4 آپ ہی پر ہمارے آباؤاَجداد نے توکّل کیا؛ اُنہُوں نے توکّل کیا اَور آپ نے اُنہیں چھُڑایا۔
PSA 22:5 اُنہُوں نے آپ سے فریاد کی اَور رِہائی پائی؛ اُنہُوں نے آپ پر توکّل کیا اَور مایوس نہ ہُوئے۔
PSA 22:6 لیکن مَیں تو کیڑا ہُوں، اِنسان نہیں، جِس سے آدمی نفرت کرتے ہیں اَور لوگ اُسے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
PSA 22:7 وہ سَب جو مُجھے دیکھتے ہیں، میرا مضحکہ اُڑاتے ہیں؛ اَور اَپنے سَر ہلا ہلا کر یہ کہتے ہُوئے طَعنہ زنی کرتے ہیں،
PSA 22:8 ”اُس کا توکّل یَاہوِہ پر ہے؛ اَب یَاہوِہ ہی اُسے بچائیں۔ چونکہ وہ اُن سے خُوش ہے، لہٰذا وُہی اُسے چھُڑائیں گے۔“
PSA 22:9 پھر بھی آپ نے مُجھے رحم میں سے نکالا؛ اَور میری شیر خواری کے دِنوں ہی سے آپ نے مُجھے سِکھایا کہ مَیں آپ پر توکّل کروں۔
PSA 22:10 پیدائش ہی سے مُجھے آپ پر چھوڑ دیا گیا؛ میری ماں کے بطن ہی سے آپ میرے خُدا ہیں۔
PSA 22:11 مُجھ سے دُور نہ رہیں، کیونکہ مُصیبت قریب ہے اَور کویٔی مددگار نہیں ہے۔
PSA 22:12 بہت سے سانڈوں نے مُجھے گھیرلیا ہے؛ باشانؔ کے علاقہ کے زورآور سانڈ مُجھے چاروں طرف سے گھیرے ہُوئے ہیں۔
PSA 22:13 جَیسے دھاڑنے والے شیر اَپنے شِکار کو پھاڑتے ہیں۔ وَیسے ہی وہ اَپنا مُنہ میرے سامنے پسارتے ہیں۔
PSA 22:14 میں پانی کی مانند اُنڈیل دیا گیا ہُوں، اَور میری سَب ہڈّیاں جوڑوں سے اُکھڑ گئی ہیں۔ میرا دِل موم ہو گیا ہے؛ اَور وہ میرے اَندر پگھل گیا ہے۔
PSA 22:15 میری قُوّت ٹھیکرے کی مانند خشک ہو چُکی ہے، اَور میری زبان میرے تالُو سے چپک گئی ہے؛ اَور آپ نے مُجھے موت کی خاک میں مِلا دیا۔
PSA 22:16 کیونکہ کُتّوں نے مُجھے اَپنے نرغہ میں لے لیا ہے؛ اَور بدکاروں کی جماعت مُجھے چاروں طرف سے گھیرے ہُوئے ہے، اُنہُوں نے میرے ہاتھ اَور میرے پاؤں چھید ڈالے ہیں۔
PSA 22:17 میں اَپنی سَب ہڈّیاں گِن سَکتا ہُوں؛ لوگ مُجھے تاکتے ہیں اَور میری طرف للچائی ہُوئی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
PSA 22:18 اُنہُوں نے میرے کپڑے آپَس میں تقسیم کر لیٔے، اَور میری پوشاک پر قُرعہ ڈالا۔
PSA 22:19 لیکن اَے یَاہوِہ، آپ دُور نہ رہیں؛ اَے میرے چارہ ساز! میری مدد کے لیٔے جلدی آئیں۔
PSA 22:20 میری جان کو تلوار سے بچائیں، اَور میری انمول زندگی کو کُتّوں کی گرفت سے چھُڑائیں۔
PSA 22:21 مُجھے شیر کے مُنہ سے بچائیں؛ اَور مُجھے جنگلی سانڈوں کے سینگوں سے محفوظ رکھیں۔
PSA 22:22 میں اَپنی اُمّت کے سامنے آپ کے نام کا اعلان کروں گا؛ اَور جماعت میں آپ کی سِتائش کروں گا۔
PSA 22:23 اَے یَاہوِہ، سے ڈرنے والو! اُن کی سِتائش کرو! اَے یعقوب کی اَولاد! سَب اُن کی تعظیم کرو! اَور اَے اِسرائیل کی نَسل! سَب اُن کا ڈر مانو!
PSA 22:24 کیونکہ یَاہوِہ نے مظلوموں کی تکلیف کو نہ تو حقیر جانا اَور نہ ہی اُس سے نفرت کی؛ اُنہُوں نے اُن سے اَپنا چہرہ بھی نہیں چھپایا بَلکہ اُن کی فریاد سُنی۔
PSA 22:25 بڑے اِسرائیلی مجمع میں آپ ہی میری ثنا خوانی کا باعث ہیں؛ میں اَپنی قَسمیں آپ کا خوف ماننے والوں کے سامنے پُوری کروں گا۔
PSA 22:26 غریب کھا کر سیر ہوں گے؛ وہ جو یَاہوِہ کے طالب ہیں اُن کی سِتائش کریں گے۔ تمہارے دِل اَبد تک زندہ رہیں!
PSA 22:27 زمین کی اِنتہا تک سَب اِنسان یَاہوِہ کو یاد کریں گے اَور اُن کی طرف رُجُوع لائیں گے، دُنیا کی قوموں کے سَب خاندان اُن کے آگے سَجدہ کریں گے،
PSA 22:28 کیونکہ سلطنت یَاہوِہ ہی کی ہے اَور وُہی قوموں پر حُکومت کرتے ہیں۔
PSA 22:29 دُنیا کے تمام اَمیر عید منائیں گے اَور عبادت کریں گے؛ وہ سَب جو خاک میں مِل جاتے ہیں اُن کے آگے گھُٹنے ٹیکیں گے، اَورجو اَپنی جان کو نہیں بچا سکتے۔
PSA 22:30 میری نَسل اُن کی خدمت کرےگی؛ اَور آئندہ پُشتوں میں خُداوؔند کا ذِکر کیا جائے گا۔
PSA 22:31 مُستقبِل میں اُن لوگوں کو جو اُس وقت پیدا بھی نہیں ہُوئے اُن کو بتائیں گے۔ وہ اُن کی راستبازی کا اعلان کریں گے، کیونکہ یہ تمام کام یَاہوِہ نے کئے ہیں۔
PSA 23:1 داویؔد کا زبُور۔ یَاہوِہ میرا چوپان ہیں، مُجھے کویٔی کمی نہ ہوگی۔
PSA 23:2 وہ مُجھے سبز و شاداب چراگاہوں میں بِٹھاتے ہیں، وہ مُجھے سکون بخش چشموں کے پاس لے جاتے ہیں،
PSA 23:3 اَور میری جان کو بحال کرتے ہیں۔ وہ اَپنے نام کی خاطِر صداقت کی راہوں پر میری رہنمائی کرتے ہیں۔
PSA 23:4 خواہ میں موت کی تاریک وادی میں سے ہوکر گزروں، تو بھی میں کسی بُلا سے نہ خوف کھاؤں گا، کیونکہ آپ میرے ساتھ ہیں، آپ کا عصا اَور آپ کی چھڑی، مُجھے تسلّی بخشتے ہیں۔
PSA 23:5 آپ میرے دُشمنوں کے رُوبرو میرے لیٔے دسترخوان بچھاتے ہیں۔ آپ نے میرے سَر پر تیل مِلا ہے؛ میرا پیالہ لبریز ہوتاہے۔
PSA 23:6 یقیناً نیکی اَور شفقت و مَحَبّت عمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی، اَور مَیں ہمیشہ یَاہوِہ کے گھر میں، سکونت کروں گا۔
PSA 24:1 داویؔد کا زبُور۔ یہ زمین اَور اُس کی ساری چیزیں یَاہوِہ ہی کی مِلکیّت ہیں، جہان اَور اہلِ جہان بھی جو اِس میں رہتے سَب اُن ہی کے ہیں؛
PSA 24:2 کیونکہ اُن ہی نے سمُندروں کے اُوپر اُس کی بُنیاد رکھی اَور سیلابوں پر اُسے قائِم کیا۔
PSA 24:3 یَاہوِہ کے پہاڑ پر کون چڑھے گا؟ اَور اُن کے پاک مَقدِس میں کون کھڑا رہے گا؟
PSA 24:4 وُہی جِس کے ہاتھ صَاف اَور دِل پاک ہو، جسے بُتوں سے کویٔی رغبت نہیں اَورجو جھُوٹی قَسم نہیں کھاتا۔
PSA 24:5 وہ یَاہوِہ کی طرف سے برکت پایٔےگا اَور اَپنے مُنجّی خُدا کی طرف سے بَری ہونے کا حق۔
PSA 24:6 آپ کے طالبوں کی پُشت اَیسی ہی ہوتی ہے، یہی آپ کی نظرِکرم کے خواہاں ہیں، اَے یعقوب کے خُدا۔
PSA 24:7 اَے پھاٹکو! اَپنے سربُلند کرو؛ اَے قدیم دروازو! اُونچے ہو جاؤ، تاکہ جلال کا بادشاہ داخل ہو۔
PSA 24:8 یہ جلال کا بادشاہ کون ہے؟ یَاہوِہ، جو قوی اَور قادر، یَاہوِہ جو جنگ میں زورآور ہیں۔
PSA 24:9 اَے پھاٹکو، اَپنے سربُلند کرو؛ اَے قدیم دروازو! اُونچے ہو جاؤ، تاکہ جلال کا بادشاہ داخل ہو۔
PSA 24:10 یہ جلال کا بادشاہ کون ہے؟ قادرمُطلق یَاہوِہ خُدا۔ وُہی جلال کا بادشاہ ہیں۔
PSA 25:1 داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، میرے خُدا! میں اَپنی جان آپ کی طرف اُٹھاتا ہُوں، کیونکہ میرا توکّل آپ پر ہے۔
PSA 25:2 اَے میرے خُدا، مَیں نے آپ پر توکّل کیا ہے۔ مُجھے شرمندہ نہ ہونے دیں، نہ میرے دُشمنوں کو فتح کے شادیانے بجانے دیں۔
PSA 25:3 جو آپ سے اُمّید لگائے بیٹھا ہو وہ کبھی شرمندہ نہ ہوگا، لیکن جو ناحق بےوفائی کرتے ہیں، شرمندہ ہوں گے۔
PSA 25:4 اَے یَاہوِہ، مُجھے اَپنی راہ دِکھائیں، اَور مُجھے اَپنی راہوں کی تعلیم دیں؛
PSA 25:5 اَپنی سچّائی پر مُجھے چلائیں اَور تعلیم دیں، کیونکہ آپ میرے مُنجّی خُدا ہیں، اَور دِن بھر میں آپ ہی سے اُمّید لگائے رہتا ہُوں۔
PSA 25:6 اَے یَاہوِہ، اَپنی بڑی شفقت و مَحَبّت کو یاد کریں، کیونکہ وہ اَزل سے ہیں۔
PSA 25:7 میری جَوانی کے گُناہوں کو اَور میرے باغی طریقوں کو یاد نہ کریں؛ اَپنی شفقت کے مُطابق مُجھے یاد فرمائیں، کیونکہ اَے یَاہوِہ، آپ نیک ہیں۔
PSA 25:8 یَاہوِہ نیک اَور راست ہیں؛ اِس لیٔے وہ گُنہگاروں کو اَپنی راہوں کی تعلیم دیتے ہیں۔
PSA 25:9 وہ حلیموں کو بھلائی کی ہدایت کرتے ہیں، اَور اُنہیں اَپنی تعلیم کی راہ پر چلاتے ہیں۔
PSA 25:10 جو یَاہوِہ کے عہد کی شَریعت پر عَمل کرتے ہیں، اُن کے لیٔے اُس کی سَب راہیں شفقت آمیز اَور سچّی ہوتی ہیں۔
PSA 25:11 اَے یَاہوِہ، اَپنے نام کی خاطِر، میری بدکاری مُعاف کر دیں، حالانکہ وہ سنگین ہے۔
PSA 25:12 یَاہوِہ کا خوف رکھنے والا شخص کون ہے؟ وہ اُسے اُس راہ کی تعلیم دیں گے جو اُس کے لیٔے چُنی گئی ہے۔
PSA 25:13 وہ اَپنے دِن خُوشحالی میں گزارے گا، اَور اُس کی اَولاد زمین کی وارِث ہوگی۔
PSA 25:14 یَاہوِہ اَپنے خوف رکھنے والوں پر اَپنے راز کھولتے ہیں؛ اَور اَپنا عہد اُن پر ظاہر کرتے ہیں۔
PSA 25:15 میری آنکھیں سدا یَاہوِہ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ صِرف وُہی میرے پاؤں کو پھندے سے چھُڑائیں گے۔
PSA 25:16 میری طرف متوجّہ ہوکر اَور مُجھ پر مہربانی کریں، کیونکہ مَیں اکیلا اَور مُصیبت زدہ ہُوں۔
PSA 25:17 میرے دِل کی بڑھی ہوئی پریشانیوں کو دُور کریں، مُجھے میری تکلیف سے رِہائی بخشیں۔
PSA 25:18 میری مُصیبت اَور تکلیف پر نظر کریں، اَور میرے سَب گُناہ مُعاف فرمائیں۔
PSA 25:19 میرے دُشمنوں کو دیکھ وہ شُمار میں کتنے بڑھ گیٔے ہیں اَور مُجھ سے کس قدر سخت عداوت رکھتے ہیں!
PSA 25:20 میری جان کی حِفاظت کریں اَور مُجھے چھُڑائیں؛ مُجھے شرمندہ نہ ہونے دیں، کیونکہ مَیں آپ ہی میں پناہ لیتا ہُوں۔
PSA 25:21 صداقت اَور راستبازی میری حِفاظت کریں، کیونکہ مُجھے یَاہوِہ آپ کی ہی آس ہے۔
PSA 25:22 اَے خُدا، اِسرائیل کو بچائیں، اُس کی ساری مُشکلات سے چھُڑا لیں۔
PSA 26:1 داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، میرا اِنصاف کریں، کیونکہ مَیں نے پاک زندگی گزاری ہے؛ مَیں نے پس و پیش کئے بغیر یَاہوِہ پر توکّل کیا ہے۔
PSA 26:2 اَے یَاہوِہ، مُجھے جانچیں اَور آزمائیں، میرے دِل اَور دماغ کو پرکھیں؛
PSA 26:3 کیونکہ آپ کی لافانی مَحَبّت ہمیشہ میرے سامنے ہے، اَور مَیں مسلسل آپ کی سچّائی کی راہ پر گامزن ہُوں۔
PSA 26:4 میں دغابازوں کی صحبت میں نہیں بیٹھتا، اَور نہ ریاکاروں کے ہمراہ چلتا ہُوں؛
PSA 26:5 بدکاروں کی محفل سے مُجھے نفرت ہے اَور بدکار لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے دُور بھاگتا ہُوں۔
PSA 26:6 میں اَپنے ہاتھ دھوکر اَپنی بےگُناہی ثابت کروں گا، اَے یَاہوِہ، اَور تَب آپ کے مذبح کا طواف کروں گا،
PSA 26:7 تاکہ بُلند آواز سے آپ کی سِتائش کروں اَور آپ کے سَب عجِیب کارناموں کو بَیان کروں۔
PSA 26:8 اَے یَاہوِہ، مَیں آپ کی قِیام گاہ، اَور آپ کی جلالی بارگاہ کو عزیز رکھتا ہُوں۔
PSA 26:9 آپ میری جان کو اُن گُنہگاروں کے ساتھ، اَور میری زندگی کو اُن خُونخواروں کے ساتھ نہ لیں،
PSA 26:10 جِن کے ہاتھوں میں بُرے منصُوبے ہیں، اَور جِن کے داہنے ہاتھ رشوتوں سے بھرے ہُوئے ہیں۔
PSA 26:11 لیکن مَیں بے عیب زندگی گزارتا ہُوں؛ مُجھے چھُڑا لیں اَور مُجھ پر رحم فرمائیں۔
PSA 26:12 میرے پاؤں ہموار جگہ پر قائِم رہتے ہیں؛ میں بڑے مجمع میں یَاہوِہ کی سِتائش کروں گا۔
PSA 27:1 داویؔد کا زبُور۔ یَاہوِہ میری رَوشنی اَور میری نَجات ہیں۔ مُجھے کس کا ڈر ہے؟ یَاہوِہ میری زندگی کا محکم قلعہ ہیں۔ مُجھے کس کی ہیبت ہے؟
PSA 27:2 جَب بدکار مُجھے کھا ڈالنے کے لیٔے مُجھ پر چڑھ آئیں گے، جَب میرے دُشمن اَور میرے مُخالف مُجھ پر حملہ کریں گے، تو وہ خُود ہی ٹھوکر کھا کر گِر پڑیں گے۔
PSA 27:3 خواہ لشکر میرا محاصرہ کر لے، میرا دِل خوف نہ کھائے گا؛ خواہ میرے خِلاف جنگ چھڑ جائے، تَب بھی میں خُدا پر بھروسا رکھوں گا۔
PSA 27:4 مَیں نے یَاہوِہ سے ایک درخواست کی ہے، میں یہ چاہتا ہُوں: عمر بھر میں یَاہوِہ کے گھر میں رہُوں، یَاہوِہ کا جمال دیکھتا رہُوں اَور اُنہیں اُس کے مَقدِس میں ڈھونڈتا رہُوں۔
PSA 27:5 کیونکہ مُصیبت کے دِن وہ مُجھے اَپنے مَسکن میں محفوظ رکھیں گے؛ وہ مُجھے اَپنے خیمہ میں پناہ دے کر چُھپائے رکھیں گے؛ اَور مُجھے چٹّان پر چڑھا دیں گے۔
PSA 27:6 تَب میرا سَر اُن دُشمنوں سے اُونچا ہوگا، جنہوں نے مُجھے گھیر رکھا ہے اَور مَیں خُوشی سے للکار کر اُن کے خیمہ میں قُربانی گزرانوں گا؛ میں یَاہوِہ کے لیٔے گاؤں گا اَور مدح سرائی کروں گا۔
PSA 27:7 اَے یَاہوِہ، جَب مَیں پُکاروں تو میری آواز سُنیں؛ مُجھ پر رحم فرمائیں اَور مُجھے جَواب دیں۔
PSA 27:8 میرا دِل آپ کے متعلّق کہتاہے، ”آپ کے دیدار کا طالب ہو!“ اَے یَاہوِہ، مَیں آپ کے دیدار کا طالب رہُوں گا۔
PSA 27:9 مُجھ سے روپوش نہ ہوں، اَپنے خادِم کو غُصّہ میں آکر نہ نکالیں؛ کیونکہ آپ میرے مددگار رہے ہیں۔ اَے میرے مُنجّی خُدا، مُجھے مُسترد نہ کریں اَور نہ ہی ترک کریں۔
PSA 27:10 خواہ میرے باپ اَور ماں مُجھے ترک کر دیں، تو بھی یَاہوِہ مُجھے قبُول فرمائیں گے۔
PSA 27:11 اَے یَاہوِہ، مُجھے اَپنی راہ سکھائیں؛ اَور مُجھ پر ظُلم ڈھانے والوں کے سبب سے مُجھے راہِ راست پر چلائیں۔
PSA 27:12 مُجھے میرے مُخالفوں کی مرضی پر نہ چھوڑیں، کیونکہ جھُوٹے گواہ اَور تشدّد بھڑکانے والے، میرے خِلاف اُٹھے ہیں۔
PSA 27:13 مُجھے اَب بھی اِس بات کا یقین ہے: کہ میں زندوں کی زمین پر یَاہوِہ کے اِحسَان کو دیکھ لُوں گا۔
PSA 27:14 یَاہوِہ کا اِنتظار کرو؛ ثابت قدم رہ کر حوصلہ رکھو، اَور یَاہوِہ پر آس رکھو۔
PSA 28:1 داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، مَیں آپ ہی کو پُکاروں گا؛ آپ ہی میری چٹّان ہیں، میری طرف سے کان بند نہ کریں، کیونکہ اگر آپ خاموش رہیں، تو میں اُن لوگوں کی مانند ہو جاؤں گا جو پاتال میں چلے جاتے ہیں۔
PSA 28:2 جَب مَیں آپ کے پاک ترین مقام کی طرف جَیسے ہی اَپنے ہاتھ اُٹھاؤں، جَب مَیں آپ سے مدد کے لئے فریاد کروں، تَب میری رحم کی اِلتجا کو سُن لیں۔
PSA 28:3 مُجھے اُن بدکار لوگوں کے عذاب میں شامل نہ کریں، جو بدکاری کرتے رہتے ہیں، جو اَپنے ہمسایوں سے صُلح کی باتیں کرتے ہیں لیکن اَپنے دِلوں میں عداوت رکھتے ہیں۔
PSA 28:4 اُن کے اعمال کے مُطابق اُنہیں بدلہ دیں، اَور اُنہُوں نے جو بُرائیاں کی ہیں؛ اُن کے ہاتھ کے کاموں کے مُطابق اُن کو سزا دیں، اَور اُنہیں وہ بدلہ دیں جِس کے وہ مُستحق ہیں۔
PSA 28:5 چونکہ وہ یَاہوِہ کے کاموں کا اَور اُن کی دستکاری پر توجّہ نہیں کرتے، وہ اُنہیں پچھاڑ دیں گے اَور پھر کبھی بھی اُٹھنے نہ دیں گے۔
PSA 28:6 یَاہوِہ کی سِتائش ہو، کیونکہ اُنہُوں نے میری فریاد سُن لی ہے۔
PSA 28:7 یَاہوِہ میری قُوّت اَور میری سِپر ہیں؛ میرا دِل اُن پر توکّل کرتا ہے، اَور اُن ہی سے مُجھے مدد مِلی ہے۔ اِس لیٔے میرا دِل شادمان ہے اَور مَیں نغمہ سرائی کرکے اُن کی سِتائش کروں گا۔
PSA 28:8 یَاہوِہ اَپنے لوگوں کی قُوّت ہیں، اَور اَپنے ممسوح کے لیٔے نَجات کا محکم قلعہ ہیں۔
PSA 28:9 اَے یَاہوِہ اَپنے لوگوں کو بچائیں اَور اَپنی مِیراث کو برکت دیں؛ اُن کی پاسبانی کریں اَور ہمیشہ اُنہیں سنبھالے رہیں۔
PSA 29:1 داویؔد کا زبُور۔ اَے آسمانی مخلُوق! یَاہوِہ کی حَمد کرو، صِرف یَاہوِہ ہی کے جلال اَور اُن کی قُدرت کی تعظیم کرو۔
PSA 29:2 یَاہوِہ کے نام کے مطابق اُن کو جلال دو؛ پاکیزگی کی شوکت میں ہوکر یَاہوِہ کی عبادت کرو۔
PSA 29:3 یَاہوِہ کی آواز زورآور سمُندر کی سطح پر گونجتی ہے؛ خُدائے ذُوالجلال گرجتے ہیں، یَاہوِہ گھنے بادلوں کے اُوپر گرجتے ہیں۔
PSA 29:4 یَاہوِہ کی آواز میں قُدرت ہے؛ یَاہوِہ کی آواز جلالی ہے۔
PSA 29:5 یَاہوِہ کی آواز دیوداروں کو توڑ ڈالتی ہے؛ یَاہوِہ لبانونؔ کے دیوداروں کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے ہیں۔
PSA 29:6 یَاہوِہ لبانونؔ کو بچھڑے کی طرح، اَور سِریُونؔ کو جنگلی سانڈ کی مانند کُداتے ہیں۔
PSA 29:7 یَاہوِہ کی آواز بجلی کے شُعلوں سے ضرب لگاتی ہے۔
PSA 29:8 یَاہوِہ کی آواز بیابان کو ہلا دیتی ہے؛ یَاہوِہ قادِسؔ کے بیابان پر لرزہ طاری کر دیتے ہیں۔
PSA 29:9 یَاہوِہ کی آواز سے ہِرنیوں کے حَمل گِر جاتے ہیں؛ وہ جنگلوں کو بے برگ کردیتی ہے۔ اَور اُن کے ہیکل میں ہر کویٔی پُکار اُٹھتا ہے، ”یَاہوِہ کا جلال ہی جلال!“
PSA 29:10 یَاہوِہ طُوفان پر تخت نشین ہیں؛ بَلکہ یَاہوِہ ہمیشہ کے لیٔے بادشاہ بَن کر تخت نشین رہتے ہیں۔
PSA 29:11 یَاہوِہ اَپنی اُمّت کو قُوّت بخشتے ہیں؛ یَاہوِہ اَپنی اُمّت کو سلامتی کی برکت دیتے ہیں۔
PSA 30:1 داویؔد کا زبُور۔ ہیکل کی تقدیس کا نغمہ۔ اَے یَاہوِہ، مَیں آپ کی تمجید کروں گا، کیونکہ آپ نے مُجھے گہرائیوں میں سے نکال کر سربُلند کیا اَور میرے دُشمنوں کو مُجھ پر خُوش ہونے کا موقع نہ دیا۔
PSA 30:2 اَے یَاہوِہ، میرے خُدا! مَیں نے آپ سے فریاد کی، اَور آپ نے مُجھے شفا بخشی۔
PSA 30:3 اَے یَاہوِہ، آپ مُجھے پاتال میں سے نکال لائے ہیں؛ اَور آپ نے مُجھے قبر میں نہیں جانے دیا۔
PSA 30:4 اَے یَاہوِہ کے مُقدّسو، اُن کی سِتائش کے نغمہ گاؤ؛ اُن کے پاک نام کی سِتائش کرو۔
PSA 30:5 کیونکہ اُن کا قہر چند وقفوں تک رہتاہے، لیکن اُن کی نظرِکرم عمر بھر تک رہتی ہے؛ کہرام شاید رات بھر جاری رہے، لیکن صُبح کو خُوشی لَوٹ آتی ہے۔
PSA 30:6 مَیں نے اِطمینان کے وقت اَپنے آپ سے کہاتھا: ”مَیں کبھی نہ ڈگمگاؤں گا۔“
PSA 30:7 اَے یَاہوِہ، جَب آپ نے مُجھ پر نظرِکرم کی، تَب آپ نے مُجھے پہاڑ کی مانند ثابت قدم کر دیا؛ لیکن جَب آپ نے اَپنا چہرہ چھُپا لیا، تو میرے اوسان خطا ہو گئے۔
PSA 30:8 اَے یَاہوِہ، مَیں نے آپ سے فریاد کی؛ اَے خُداوؔند، مَیں نے آپ سے رحم کی مِنّت کی:
PSA 30:9 ”میری تباہی سے، اَور میرے پاتال میں جانے سے کیا فائدہ؟ کیا خاک آپ کی سِتائش کرےگی؟ کیا وہ آپ کی صداقت کا اعلان کرےگی؟
PSA 30:10 اَے یَاہوِہ، سُنیں اَور مُجھ پر رحم کریں؛ اَے یَاہوِہ، میرا مددگار ہوں۔“
PSA 30:11 آپ نے میرے ماتم کو رقص سے بدل دیا؛ آپ نے میرے غم کا ٹاٹ اُتار ڈالا اَور مُجھے خُوشی سے مُلبّس کیا،
PSA 30:12 تاکہ میرا دِل آپ کی سِتائش کرے اَور خاموش نہ رہے، اَے یَاہوِہ، میرے خُدا! میں ہمیشہ آپ کا شُکر بجا لاتا رہُوں گا۔
PSA 31:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، مَیں نے آپ میں پناہ لی ہے؛ مُجھے کبھی شرمندہ نہ ہونے دیں؛ اَے خُدا اَپنی راستبازی کی خاطِر مُجھے رِہائی بخشیں۔
PSA 31:2 اَپنا کان میری طرف لگائیں، اَور جلدی سے مُجھے بچائیں؛ میری پناہ کی چٹّان بنیں، اَور مُجھے بچانے کے لیٔے محکم قلعہ بنیں۔
PSA 31:3 چونکہ آپ میری چٹّان اَور میرا قلعہ ہیں، اِس لیٔے اَپنے نام کی خاطِر میری رہبری اَور رہنمائی کریں۔
PSA 31:4 مُجھے اِس جال میں سے چھُڑا لیں جو میرے لیٔے بچھایا گیا ہے، کیونکہ آپ میری پناہ گاہ ہیں
PSA 31:5 میں اَپنی جان آپ کے ہاتھوں میں سونپتا ہُوں؛ اَے یَاہوِہ، سچّائی کے خُدا! میرا فدیہ دیں۔
PSA 31:6 مُجھے اُن لوگوں سے نفرت ہے جو جھوٹے بُتوں کی پرستش کرتے ہیں؛ میں تو یَاہوِہ پر توکّل کرتا ہُوں۔
PSA 31:7 مَیں آپ کی شفقت و مَحَبّت سے خُوش و خُرّم ہوں گا، کیونکہ آپ نے میری جان کے دُکھ کو دیکھاہے اَور آپ میری جان کی مُصیبت سے واقف ہیں۔
PSA 31:8 آپ نے مُجھے دُشمن کے ہاتھ میں نہیں جانے دیا بَلکہ میرے پاؤں کشادہ جگہ میں قائِم کر دئیے۔
PSA 31:9 اَے یَاہوِہ، مُجھ پر رحم کریں کیونکہ مَیں مُصیبت میں ہُوں؛ اَور میری آنکھیں غم کے مارے کمزور ہو چُکی ہیں، اَور میری جان اَور میرا جِسم رنج سے گھُل گیٔے ہیں۔
PSA 31:10 میری زندگی سخت تکلیف میں ہے؛ میری عمر کراہتے کراہتے فنا ہو گئی؛ میری بدکاریوں کے باعث میری قُوّت گھٹ گئی، اَور میری ہڈّیاں کمزور ہو گئیں۔
PSA 31:11 میرے سارے دُشمنوں کے سبب سے، میں اَپنے ہمسایوں کے لیٔے حقارت کا؛ اَور اَپنے دوستوں کے لیٔے خوف کا باعث بَن گیا ہُوں۔ یہاں تک کہ جو مُجھے باہر دیکھتے ہیں وہ مُجھ سے دُور بھاگتے ہیں۔
PSA 31:12 اُنہُوں نے مُجھے اَیسا بھُلا دیا ہے گویا میں مَر چُکا ہُوں؛ میں ٹوٹے ہُوئے مٹّی کے برتن کی مانند ہو چُکا ہُوں۔
PSA 31:13 کیونکہ مَیں کیٔی لوگوں کی طرف سے بدنام کیا جا رہا ہُوں؛ ”ہر طرف خوف ہی خوف ہے!“ وہ میرے خِلاف سازش کرتے ہیں، اَور میری جان لینے کے منصُوبے باندھتے ہیں۔
PSA 31:14 لیکن اَے یَاہوِہ، میرا توکّل آپ پر ہے؛ میں کہتا ہُوں، ”آپ میرے خُدا ہیں۔“
PSA 31:15 میرے ایّام آپ کے ہاتھ میں ہیں؛ مُجھے میرے دُشمنوں سے اَور میرا تعاقب کرنے والوں سے چھُڑا لیں۔
PSA 31:16 اَپنے خادِم پر اَپنا چہرہ جلوہ گِر فرمائیں؛ اَور اَپنی لافانی مَحَبّت سے مُجھے بچا لیں۔
PSA 31:17 یَاہوِہ! مُجھے شرمندہ نہ ہونے دیں، کیونکہ مَیں نے آپ کو پُکارا ہے؛ بدکار لوگ شرمندہ ہُوں اَور پاتال میں خاموشی سے پڑے رہیں۔
PSA 31:18 اُن کے دروغ گو لب خاموش ہو جایٔیں، کیونکہ وہ غُرور اَور حقارت سے راستبازوں کے خِلاف تکبُّر آمیز باتیں کرتے ہیں۔
PSA 31:19 آپ نے اَپنے ڈرنے والوں کے لیٔے، کتنی بڑی نِعمت رکھ چھوڑی ہے، جسے آپ بنی آدمؔ کے سامنے اُنہیں عطا کرتے ہیں جو آپ میں پناہ لیتے ہیں۔
PSA 31:20 آپ اُنہیں لوگوں کی سازشوں سے اَپنی حُضُوری کی پناہ گاہ میں چُھپائے رکھتے ہیں اَور اَپنے مَسکن میں اُنہیں اِلزام تراش زبانوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔
PSA 31:21 یَاہوِہ کی سِتائش ہو! کیونکہ جَب مَیں اَیسے شہر میں تھا جسے دُشمنوں نے گھیر رکھا تھا تو اُنہُوں نے مُجھے اَپنی عجِیب شفقت و مَحَبّت دِکھائی۔
PSA 31:22 مَیں نے گھبرا کر عجلت میں کہہ دیا تھا، ”مَیں آپ کے سامنے سے کاٹ ڈالا گیا ہُوں!“ لیکن جَب مَیں نے آپ سے فریاد کی تَب آپ نے میری رحم کی اِلتجا کو سُن لیا۔
PSA 31:23 یَاہوِہ سے مَحَبّت رکھو، اَے اُن کے سَب وفادار مُقدّسین! یَاہوِہ سچّے مُومِنین کو سلامت رکھتے ہیں، لیکن مغروُروں کو خُوب بدلہ دیتے ہیں۔
PSA 31:24 لہٰذا تُم سَب جو یَاہوِہ پر آس رکھتے ہو، مضبُوط ہو جاؤ اَور ہمّت باندھو!
PSA 32:1 داویؔد کا زبُور۔ مشکیل۔‏ مُبارک ہیں وہ لوگ، جِن کی خطائیں بخشی گئیں، اَور جِن کے گُناہوں کو ڈھانکا گیا۔
PSA 32:2 مُبارک ہے وہ آدمی، جِن کے گُناہ یَاہوِہ کبھی حِساب میں نہیں لائیں گے۔ اَور جِس کے دِل میں فریب نہیں ہے۔
PSA 32:3 جَب مَیں خاموش رہا، تو دِن بھرکے کراہنے سے میری ہڈّیاں گھُل گئیں۔
PSA 32:4 کیونکہ رات دِن آپ کا ہاتھ مُجھے پر بھاری تھا؛ اَور میری قُوّت زائل ہو گئی جَیسی گرمیوں کے خشک موسم میں ہو جاتی ہے۔
PSA 32:5 تَب مَیں نے آپ کے سامنے اَپنا گُناہ تسلیم کر لیا، اَور اَپنی بدکاری پر پردہ نہ ڈالا۔ مَیں نے کہا، ”میں یَاہوِہ کے حُضُور اَپنی خطاؤں کا اقرار کروں گا۔“ اَور جَب مَیں نے آپ کے سامنے گُناہ کو قبُول کیا تَب آپ نے میرے گُناہ کی بدی کو مُعاف کیا۔
PSA 32:6 لہٰذا ہر دیندار، آپ سے اَیسے وقت میں دعا کرے جَب آپ مِل سکتے ہیں؛ جَب زور کا سیلاب آئے گا، تو بھی وہ اُن تک ہرگز نہیں پہُنچے گا۔
PSA 32:7 آپ میرے چھُپنے کی جگہ ہیں؛ آپ ہی مُجھے تکلیف سے بچائیں گے اَور رِہائی کے نغموں سے گھیر لیں گے۔
PSA 32:8 میں تُمہیں ہدایت دُوں گا اَور بتاؤں گا کہ تُمہیں کس راہ پر چلنا ہوگا؛ میں تُمہیں صلاح دُوں گا اَور تُم پر نگاہ رکھوں گا۔
PSA 32:9 تُم گھوڑے اَور خچّر کی مانند نہ بنو، جو سمجھ نہیں رکھتے بَلکہ اُنہیں باگ اَور لگام سے قابُو میں رکھنا پڑتا ہے ورنہ وہ تمہارے پاس آنے کے بھی نہیں۔
PSA 32:10 بدکار لوگوں پر کافی مُصیبتیں آئیں گی، لیکن یَاہوِہ کی لافانی مَحَبّت اُن پر توکّل کرنے والے کو گھیرے رہتی ہے۔
PSA 32:11 اَے راستبازو، یَاہوِہ میں خُوش اَور شادمان رہو؛ اَے راست دِلو! تُم سَب نغمہ گاؤ۔
PSA 33:1 اَے راستبازو، یَاہوِہ کے حُضُور خُوشی سے گاؤ؛ کیونکہ اُن کی سِتائش کرنا راستبازوں کو زیب دیتاہے۔
PSA 33:2 سِتار کے ساتھ یَاہوِہ کی سِتائش کرو؛ دس تار والے بربط کے ساتھ اُس کے لیٔے نغمہ سرائی کرو۔
PSA 33:3 یَاہوِہ کے لیٔے کویٔی نیا نغمہ گاؤ؛ اَچھّی طرح ساز بجاؤ اَور خُوشی سے للکارو۔
PSA 33:4 کیونکہ یَاہوِہ کا یہ کلام حق اَور راست ہے؛ اَور اُس کے سَب کام وفاداری کے ہیں۔
PSA 33:5 یَاہوِہ راستبازی اَور اِنصاف کو پسند کرتا ہے؛ زمین اُس کی لافانی مَحَبّت سے معموُر ہے۔
PSA 33:6 آسمان یَاہوِہ کے کلام سے، اَور اجرامِ فلکی اُس کے مُنہ کے دَم سے بنے۔
PSA 33:7 وہ سمُندر کا پانی گویا مرتبان میں جمع کرتا ہے؛ اَور گہرے سمُندروں کو اَپنے مخزنوں میں رکھتے ہیں۔
PSA 33:8 ساری زمین یَاہوِہ سے ڈرے؛ جہان کے سَب باشِندے اُس کا خوف مانیں۔
PSA 33:9 کیونکہ اُنہُوں نے فرمایا اَور زمین وُجُود میں آئی؛ اُنہُوں نے حُکم دیا اَور یہ قائِم ہو گئی۔
PSA 33:10 یَاہوِہ قوموں کے منصُوبوں کو خاک میں مِلا دیتاہے؛ اَور اُمّتوں کے اِرادوں کو پُورا نہیں ہونے دیتا۔
PSA 33:11 لیکن یَاہوِہ کے منصُوبے اَبد تک، اَور اُس کے دِل کے اِرادے پُشت در پُشت قائِم رہتے ہیں۔
PSA 33:12 مُبارک ہے وہ قوم، جِس کا خُدا یَاہوِہ ہے، اَور وہ اُمّت، جسے اُنہُوں نے اَپنی مِیراث کے لیٔے چُن لیا۔
PSA 33:13 یَاہوِہ آسمان میں سے نیچے نگاہ کرتا ہے، اَور سَب بنی آدمؔ کو دیکھتا ہے؛
PSA 33:14 وہ اَپنی قِیام گاہ سے زمین کے سَب باشِندوں پر نظر رکھتے ہیں۔
PSA 33:15 وُہی ہیں جو سَب کے دِلوں کو بناتے ہیں، اَور اُن کے سَب کاموں کا خیال رکھتے ہیں۔
PSA 33:16 کویٔی بادشاہ اَپنی فَوج کی کثرت ہی کے باعث سلامت نہیں رہتا؛ اَور کسی سُورما کو اُس کی بڑی قُوّت بچا نہ سکے گی۔
PSA 33:17 فتح کے لئے گھوڑے پر اُمّید رکھنا فُضول ہے؛ اَپنی بڑی قُوّت کے باوُجُود وہ بچا نہیں سَکتا۔
PSA 33:18 دیکھو، یَاہوِہ کی آنکھیں اُس سے ڈرنے والوں پر، اَور اُن پر لگی رہتی ہیں جِن کی اُمّید اُس کی لافانی مَحَبّت پر ہے،
PSA 33:19 تاکہ وہ اُنہیں موت سے چھُڑائے اَور قحط کے وقت صحیح و سالِم رکھے۔
PSA 33:20 ہم یَاہوِہ پر آس لگائے بیٹھے ہیں؛ وہ ہماری مدد اَور ہماری سِپر ہے۔
PSA 33:21 اُس میں ہمارے دِل شادمان ہیں، کیونکہ اُس کے پاک نام پر ہمارا توکّل ہے۔
PSA 33:22 اَے یَاہوِہ، آپ کی لافانی مَحَبّت ہم پر ہو، ہماری آپ ہی پر آس ہے۔
PSA 34:1 داویؔد کا زبُور۔ جَب داویؔد نے اَبی ملیخ کے سامنے پاگل پن کا بہانہ بنایا۔ اَبی ملکِ نے اُسے نکال دیا اَور وہ چلا گیا۔ میں ہر وقت یَاہوِہ کی تعریف کروں گا؛ اُن کی سِتائش ہمیشہ میرے لبوں پر ہوگی۔
PSA 34:2 میری جان یَاہوِہ پر فخر کرےگی؛ حلیم اُسے سُنیں گے اَور خُوش ہوں گے۔
PSA 34:3 میرے ساتھ یَاہوِہ کی تمجید کرو؛ آؤ ہم مِل کر اُن کے نام کی تعظیم کریں۔
PSA 34:4 میں یَاہوِہ کا طالب ہُوا اَور اُنہُوں نے مُجھے جَواب دیا؛ اَور اُنہُوں نے مُجھے سارے خوف سے آزاد کر دیا۔
PSA 34:5 جو اُن کی طرف نظر اُٹھاتے ہیں مُنوّر ہو جاتے ہیں؛ اُن کے چہروں پر کبھی شرمندگی نہ آئے گی۔
PSA 34:6 اِس غریب نے پُکارا اَور یَاہوِہ نے اُس کی سُنی؛ اَور اُنہُوں نے اُسے اُس کی ساری پریشانیوں سے بچا لیا۔
PSA 34:7 یَاہوِہ سے ڈرنے والوں کے چاروں طرف اُن کا فرشتہ خیمہ زن ہوتاہے؛ اَور اُنہیں بچاتا ہے۔
PSA 34:8 آزما کر دیکھو کہ یَاہوِہ کیسے مہربان ہیں؛ مُبارک ہے وہ آدمی جو اُن میں پناہ لیتا ہے۔
PSA 34:9 یَاہوِہ سے ڈرو، اَے اُن کے مُقدّسین، کیونکہ جو اُن سے ڈرتے ہیں اُنہیں کچھ کمی نہیں ہوتی۔
PSA 34:10 شیرببر کمزور اَور بھُوکے ہو سکتے ہیں، لیکن یَاہوِہ کے طالب کسی اَچھّی چیز کے مُحتاج نہ ہوں گے۔
PSA 34:11 اَے میرے بچّو! آؤ، میری سُنو؛ میں تُمہیں یَاہوِہ کا خوف ماَننا سِکھاؤں گا۔
PSA 34:12 تُم میں سے جو کویٔی زندگی سے مَحَبّت رکھتا ہے اَورجو بھلائی اَور عمر درازی کا خواہشمند ہے،
PSA 34:13 وہ اَپنی زبان کو بدی سے اَور اَپنے لبوں کو جھُوٹ بولنے سے دُور رکھے۔
PSA 34:14 بدی سے دُور رہے اَور نیکی کرے؛ صُلح کا طالب ہو اَور اُس کی کوشش میں رہے۔
PSA 34:15 یَاہوِہ کی آنکھیں راستبازوں پر لگی رہتی ہیں اَور اُن کے کان اُن کی دعاؤں پر لگے رہتے ہیں؛
PSA 34:16 مگر یَاہوِہ بدکاروں کے خِلاف رہتے ہیں، تاکہ اُن کا نام زمین پر سے مٹا ڈالیں۔
PSA 34:17 راستباز فریاد کرتے ہیں اَور یَاہوِہ اُن کی سُنتے ہیں؛ اَور اُنہیں اُن کی تمام پریشانیوں سے چُھڑاتے ہیں۔
PSA 34:18 یَاہوِہ شکستہ دِل اِنسانوں کے قریب ہیں اَور وہ خستہ جانوں کو بچاتے ہیں۔
PSA 34:19 خواہ راستباز پر کتنی ہی مُصیبتیں آ پڑی ہُوں، تو بھی یَاہوِہ اُسے اُن سَب سے رِہائی بخشتے ہیں؛
PSA 34:20 وہ اُس کی ساری ہڈّیوں کو محفوظ رکھتے ہیں، اُن میں سے ایک بھی توڑی نہ جائے گی۔
PSA 34:21 بدی بدکار لوگوں کو ہلاک کرےگی؛ اَور راستباز کے حریف مُجرم قرار دیئے جایٔیں گے۔
PSA 34:22 یَاہوِہ اَپنے خادِموں کی جانوں کا فدیہ دیتے ہیں؛ اَورجو کویٔی اُن میں پناہ لے وہ مُجرم نہ ٹھہرے گا۔
PSA 35:1 داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، جو مُجھ سے جھگڑتے ہیں آپ اُن سے جھگڑیں؛ اَورجو مُجھ سے لڑتے ہیں آپ اُن سے لڑیں۔
PSA 35:2 سِپر اَور ڈھال لے کر؛ کھڑا ہو اَور میری مدد کے لیٔے آجائیے۔
PSA 35:3 میرا تعاقب کرنے والوں کے راستہ میں نیزہ لے کر کھڑا ہو جائیے۔ میری جان سے کہو، ”مَیں آپ کی نَجات ہُوں۔“
PSA 35:4 جو میری جان کے خواہاں ہیں وہ رُسوا اَور شرمندہ ہُوں؛ جو میری بربادی کا منصُوبہ باندھتے ہیں وہ دہشت زدہ ہوکر پسپا کئے جایٔیں۔
PSA 35:5 وہ اَیسے ہو جایٔیں جَیسے ہَوا کے آگے بھُوسی، اَور یَاہوِہ کا فرشتہ اُنہیں ہانکتا رہے؛
PSA 35:6 اُن کی راہ تاریک اَور پھسلنی ہو جائے، اَور یَاہوِہ کا فرشتہ اُن کو رگیدتا چلا جائے۔
PSA 35:7 کیونکہ اُنہُوں نے بلاوجہ میرے لیٔے جال بچھایا ہے اَور ناحق میرے لیٔے گڑھا کھودا ہے،
PSA 35:8 اُن پر ناگہاں تباہی آ جائے، اَورجو جال اُنہُوں نے بچھایا ہے اُس میں وہ خُود ہی جا پھنسیں، وہ گڑھے میں گِر جایٔیں اَور تباہ ہوں۔
PSA 35:9 تَب میری جان یَاہوِہ میں خُوش ہوگی اَور اُن کی نَجات سے شادمان ہوگی۔
PSA 35:10 میرا کُل وُجُود یہ کہے گا، ”اَے یَاہوِہ، آپ کی مانند کون ہے؟ آپ غریبوں کو اُن کے ہاتھ سے جو زِیادہ زورآور ہیں، اَور مسکینوں اَور مُحتاجوں کو غارت گروں سے چُھڑاتے ہیں۔“
PSA 35:11 سنگدل گواہ میرے خِلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں؛ اَور مُجھ سے اَیسی باتوں کے متعلّق پُوچھتے ہیں جنہیں میں نہیں جانتا۔
PSA 35:12 وہ مُجھ سے نیکی کے بدلے بدی کرتے ہیں اَور میری جان کو لاچار کر دیتے ہیں۔
PSA 35:13 تو بھی جَب وہ بیمار تھے تو مَیں نے ٹاٹ اوڑھا اَور روزے رکھ کر نَفس کُشی کی۔ جَب میری نامقبُول دعائیں میرے پاس لَوٹ آئیں۔
PSA 35:14 تو میں ماتم کرنے لگا گویا اَپنے دوست یا بھایٔی کے لیٔے ہی کر رہا ہُوں۔ اَور غم کے مارے میرا سَر جھُک گیا گویا میں اَپنی ماں کے لیٔے رو رہا ہُوں۔
PSA 35:15 لیکن جَب مَیں لڑکھڑایا تو وہ خُوش ہوکر اِکٹھّے ہو گئے؛ حملہ آور میرے خِلاف جمع ہو گئے اَور مُجھے اُس کا علم بھی نہ تھا۔ اَور مُجھ پر بہتان باندھنے سے باز نہ آئے۔
PSA 35:16 بےدینوں کی طرح اُنہُوں نے عداوت سے میرا مضحکہ اُڑایا؛ اَور مُجھ پر دانت پیسے۔
PSA 35:17 اَے خُداوؔند، آپ کب تک دیکھتے رہیں گے؟ میری جان کو اُن کی غارت گری سے، ہاں، میری قیمتی جان اُن دُشمنوں سے چھُڑا لے جو مُجھ پر شیروں کی مانند حملہ کرتے ہیں۔
PSA 35:18 مَیں بڑے اِسرائیلی مجمع میں آپ کا شکریہ اَدا کروں گا؛ مَیں لوگوں کے ہُجوم میں آپ کی سِتائش کروں گا؛
PSA 35:19 جو لوگ ناحق میرے دُشمن بَن گیٔے ہیں وہ مُجھ پر شادیانے نہ بجائیں؛ جو بلاوجہ مُجھ سے کینہ رکھتے ہیں وہ چشمک زنی نہ کریں۔
PSA 35:20 کیونکہ وہ صُلح کی باتیں نہیں کرتے، بَلکہ مُلک کے اَمن پسندوں کے خِلاف بھی جھُوٹے اِلزام لگاتے ہیں۔
PSA 35:21 وہ میرے، سامنے مُنہ پھاڑ پھاڑ کر کہتے ہیں، ”آہ! آہ! ہم نے تو اَپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔“
PSA 35:22 اَے یَاہوِہ، آپ نے تو خُود یہ دیکھاہے؛ لہٰذا خاموش نہ رہیں۔ اَے خُداوؔند، مُجھ سے دُور نہ ہو۔
PSA 35:23 جاگیں اَور میرے بچاؤ کے لیٔے اُٹھیں! اَے میرے خُدا اَور میرے خُداوؔند! میری عدالت کریں۔
PSA 35:24 اَے یَاہوِہ، میرے خُدا! اَپنی صداقت کے مُطابق میرا اِنصاف کر؛ اُنہیں مُجھ پر شادمان نہ ہونے دیں۔
PSA 35:25 اُنہیں یہ سوچنے کا موقع نہ دے کہ آہا، ”یہی تو ہم چاہتے تھے!“ اَور نہ یہ کہنے کا، ”کہ ہم اُسے نگل گیٔے ہیں۔“
PSA 35:26 جو میری بربادی پر خُوش ہوتے ہیں وہ شرمندہ اَور پریشان ہو جایٔیں؛ جو میرے مُقابلہ میں اَپنی بڑائی کی ڈینگیں مارتے ہیں، وہ شرم اَور رُسوائی سے مُلبّس ہُوں۔
PSA 35:27 جو میرے بَری ہو جانے کے حق میں ہیں وہ خُوشی اَور شادمانی سے للکاریں؛ اَور وہ ہمیشہ یہ کہیں، ”کہ یَاہوِہ کی تمجید ہو، جو اَپنے خادِم کی سلامتی پر خُوش ہوتاہے۔“
PSA 35:28 میری زبان آپ کی راستبازی کا ذِکر کرےگی وہ دِن بھر آپ کی سِتائش کرتی رہے گی۔
PSA 36:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ یَاہوِہ کے خادِم داویؔد کا زبُور۔ بدکار لوگوں کی بدی کے متعلّق میرے دِل میں یہ خیال آتا ہے: نہ ہی اُن کی آنکھوں میں خُدا کا خوف ہے۔
PSA 36:2 کیونکہ وہ خُود اَپنی نظر میں اَپنے آپ کو خُوش قِسمت سمجھتا ہے کہ اُس کا گُناہ نہ تو فاش ہوگا اَور نہ مکرُوہ ہی سمجھا جائے گا۔
PSA 36:3 اُس کے مُنہ کا کلام بد اَور پُر فریب ہوتاہے؛ اَور وہ دانشمندی اَور نیکی سے دست بردار ہو چُکاہے۔
PSA 36:4 وہ اَپنے بِستر پر بھی بُرائی کے منصُوبے باندھتا ہے؛ اَور گُناہ آلُودہ راہ اِختیار کرتا ہے اَور بدکاری سے باز نہیں آتا۔
PSA 36:5 اَے یَاہوِہ، آپ کی شفقت و مَحَبّت آسمان تک پہُنچتی ہے، اَور آپ کی وفا شعاری فلک کو چھُوتی ہے۔
PSA 36:6 آپ کی راستبازی اُونچے پہاڑوں کی مانند ہے، اَور آپ کا اِنصاف گہرے سمُندر کی طرح۔ اَے یَاہوِہ، آپ اِنسان اَور حَیوان دونوں کا مُحافظ ہیں۔
PSA 36:7 اَے خُدا! آپ کی لافانی مَحَبّت کس قدر بیش قیمتی ہے! کیونکہ اِنسانوں میں کیا اعلیٰ اَور کیا ادنیٰ، سبھی آپ کے بازوؤں کے سایہ میں پناہ لیتے ہیں۔
PSA 36:8 وہ آپ کے گھر کی نِعمتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں؛ اَور آپ اَپنی خُوشنودی کے دریا میں سے اُنہیں پِلاتے ہیں۔
PSA 36:9 کیونکہ زندگی کا چشمہ آپ کے پاس ہے؛ اَور آپ کے نُور کی بدولت ہم رَوشنی پاتے ہیں۔
PSA 36:10 اَپنے شناساؤں پر اَپنی شفقت و مَحَبّت، اَور راست دِل والوں پر اَپنی راستبازی جاری رکھو۔
PSA 36:11 مغروُر مُجھ پر لات اُٹھانے نہ پایٔے، نہ بدکار لوگوں کا ہاتھ مُجھے ہانکنے پایٔے۔
PSA 36:12 دیکھو، بدکار کیسے گِر پڑے۔ یُوں نیچے پھینکے گیٔے کہ اَب اُٹھ بھی نہیں پاتے۔
PSA 37:1 داویؔد کا زبُور۔ بدکرداروں کے باعث پریشان نہ ہو، اَور خطاکاروں پر رشک نہ کرو۔
PSA 37:2 کیونکہ وہ گھاس کی مانند جلد مُرجھا جایٔیں گے، اَور سبز پَودوں کی طرح جلد پژمردہ ہو جایٔیں گے۔
PSA 37:3 یَاہوِہ پر بھروسا رکھ اَور نیکی کرو؛ مُلک میں آباد رہ اَور محفوظ چراگاہ کا لُطف اُٹھا۔
PSA 37:4 یَاہوِہ میں مسرُور رہ اَور وہ تمہاری دِلی مُرادیں پُوری کریں گے۔
PSA 37:5 اَپنی راہ یَاہوِہ کے سُپرد کرو؛ اُن پر توکّل رکھ اَور وُہی سَب کچھ پُورا کریں گے:
PSA 37:6 وہ تمہاری راستبازی کو سحر کی طرح، اَور تمہارے حق و اِنصاف کو دوپہر کی دھوپ کی مانند رَوشن کریں گے۔
PSA 37:7 یَاہوِہ کے سامنے خاموشی سے کھڑے رہو اَور صبر سے اُن کی آس رکھیں؛ جَب لوگ اَپنی روِشوں میں کامیاب ہُوں، اَور اَپنے بُرے منصُوبے پایۂ تکمیل تک پہُنچائیں، تَب آپ پریشان نہ ہوں۔
PSA 37:8 قہر سے باز آؤ اَور غضب کو چھوڑ دو؛ بے زار نہ ہو ورنہ آپ سے بدی سرزد ہوگی۔
PSA 37:9 بدکردار تو کاٹ ڈالے جایٔیں گے، لیکن جِن کا توکّل یَاہوِہ پر ہے وہ زمین کے وارِث ہوں گے۔
PSA 37:10 کچھ ہی دیر باقی ہے، پھر بدکار باقی نہ رہیں گے؛ تُم اُنہیں تلاش کروگے تو بھی اُنہیں نہ پاؤگے۔
PSA 37:11 لیکن حلیم مُلک کے وارِث ہوں گے اَور خُوب خُوشحالی اَور اِطمینان سے رہیں گے۔
PSA 37:12 بدکار لوگ راستبازوں کے خِلاف سازش کرتے ہیں اَور اُن پر دانت پیستے ہیں؛
PSA 37:13 لیکن خُداوؔند بدکار لوگوں پر ہنستے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اُن کی بربادی کا دِن (یعنی عدالت کا دِن) آ رہاہے۔
PSA 37:14 بدکار لوگ تلوار کھینچتے اَور کمان کو خم کرتے ہیں تاکہ غریبوں اَور مُحتاجوں کو گرا دیں، اَور سیدھی راہ پر چلنے والوں کو قتل کر دیں۔
PSA 37:15 لیکن اُن کی تلواریں اُن ہی کے دِلوں کو چھیدیں گی، اَور اُن کی کمانیں توڑ دی جایٔیں گی۔
PSA 37:16 راستبازوں کی تھوڑی سِی پُونجی بدکاروں کی بہت سِی دولت سے بہتر ہے؛
PSA 37:17 کیونکہ بدکاروں کی قُوّت توڑ دی جائے گی، لیکن یَاہوِہ راستبازوں کو سنبھالتا ہے۔
PSA 37:18 یَاہوِہ کامل لوگوں کی زندگی کے ایّام کو جانتے ہیں، اُن کی مِیراث ہمیشہ تک قائِم رہے گی۔
PSA 37:19 وہ آفت کے وقت مُرجھائیں گے نہیں؛ وہ قحط کے دِنوں میں بھی آسُودہ رہیں گے۔
PSA 37:20 لیکن بدکار نِیست و نابود ہو جایٔیں گے: یَاہوِہ کے دُشمن کھیتوں کی شادابی کی مانند ہوں گے، وہ دھوئیں جَیسے دفعتاً غائب ہو جایٔیں گے۔
PSA 37:21 بدکار قرض لیتے ہیں لیکن اَدا نہیں کرتے، لیکن راستباز فیّاضی سے دیتے ہیں؛
PSA 37:22 جنہیں یَاہوِہ برکت دیں گے وہ مُلک کے وارِث ہوں گے، لیکن جِن پر وہ لعنت کریں گے وہ ہلاک کر دیئے جایٔیں گے۔
PSA 37:23 اگر یَاہوِہ کسی اِنسان کی روِش سے خُوش ہوتے ہیں، تو اُسے ثابت قدم رکھتے ہیں؛
PSA 37:24 اگر وہ ٹھوکر بھی کھائے تو گرتا نہیں، کیونکہ یَاہوِہ اُسے اَپنے ہاتھ سے تھامے رہتے ہیں۔
PSA 37:25 میں جَوان تھا لیکن اَب ضعیف ہو چُکا ہُوں، تو بھی مَیں نے راستبازوں کو بے یارومددگار اَور اُن کی اَولاد کو بھیک مانگتے ہُوئے نہیں دیکھا۔
PSA 37:26 دیندار لوگ ہمیشہ فیّاضی سے پیش آتے ہیں اَور فراخدلی سے قرض دیتے ہیں، اَور اُن کی اَولاد برکت پایٔے گی۔
PSA 37:27 بدی سے باز رہو اَور نیکی کرو؛ تَب تُم مُلک میں ہمیشہ آباد رہوگے۔
PSA 37:28 کیونکہ یَاہوِہ صادقوں کی پسندوں کو عزیز رکھتے ہیں اَور وہ اَپنے وفادار بندوں کو ترک نہیں کریں گے۔ اُن کی ہمیشہ حِفاظت کی جائے گی، لیکن بدکار لوگوں کی اَولاد کاٹ ڈالی جائے گی؛
PSA 37:29 راستباز مُلک کے وارِث ہوں گے اَور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔
PSA 37:30 راستباز کے مُنہ سے دانائی کی باتیں نکلتی ہیں، اَور اُس کی زبان اِنصاف کی بولی بولتی ہے۔
PSA 37:31 اُس کے خُدا کے آئین اُس کے دِل میں ہے؛ اَور اُس کے پاؤں نہیں پھسلتے۔
PSA 37:32 بدکار راستبازوں کی تاک میں رہتے ہیں، اَور اُن کی جان کے درپے ہوتے ہیں؛
PSA 37:33 یَاہوِہ اُنہیں بُرے لوگوں کے ہاتھ میں نہیں چھوڑیں گے اَور جَب وہ عدالت میں پیش ہوں گے تو اُنہیں مُجرم نہیں ٹھہرائیں گے۔
PSA 37:34 یَاہوِہ کی آس رکھو اَور اُس کی راہ پر چلتے رہو۔ وہ تُمہیں سرفراز کریں گے تاکہ تُم زمین کا وارِث بنو؛ جَب بدکار کاٹ ڈالے جایٔیں گے تو تُم اَپنی آنکھوں سے دیکھوگے۔
PSA 37:35 مَیں نے ایک بدکار اَور سنگدل اِنسان کو اَیسے بڑے اقتدار میں دیکھا جَیسے کویٔی سرسبز درخت اَپنی اصلی زمین میں پھلتا پھُولتا ہے،
PSA 37:36 لیکن جلد ہی جاتا رہا اَور باقی نہ رہا؛ مَیں نے اُسے تلاش کیا لیکن وہ مِلا ہی نہیں۔
PSA 37:37 مَرد کامل پر نگاہ کرو، راستباز کو دیکھو؛ اَمن پرست شخص کا مُستقبِل رَوشن ہوتاہے۔
PSA 37:38 لیکن سَب گُنہگار ہلاک کر دئیے جایٔیں گے؛ بدکار لوگوں کی نَسل کاٹ ڈالی جائے گی۔
PSA 37:39 راستبازوں کی نَجات یَاہوِہ کی طرف سے ہے؛ مُصیبت کے وقت وہ اُن کا محکم قلعہ ہیں۔
PSA 37:40 یَاہوِہ اُن کی مدد کرتے اَور اُنہیں رِہائی بخشتے ہیں؛ وہ اُنہیں بدکاروں سے چُھڑاتے اَور بچا لیتے ہیں، کیونکہ وہ لوگ اُن میں پناہ لیتے ہیں۔
PSA 38:1 داویؔد کا زبُور۔ ایک عرضداشت۔ اَے یَاہوِہ، آپ مُجھے اَپنے قہر میں ملامت نہ کریں اَور نہ اَپنے غضب میں مُجھے تنبیہ کریں۔
PSA 38:2 کیونکہ آپ کے تیروں نے مُجھے چھید ڈالا ہے، اَور آپ کا ہاتھ مُجھ پر آ پڑا ہے۔
PSA 38:3 آپ کے قہر کے باعث میرے جِسم میں توانائی نہیں؛ اَور میرے گُناہ کے باعث میری ہڈّیاں سالِم نہیں۔
PSA 38:4 میری بدی میرے لیٔے ناقابل برداشت بوجھ بَن کر رہ گئی ہے۔
PSA 38:5 میری گُناہ آلُودہ حماقت کے باعث میرے زخم سڑ گیٔے اَور اُن میں بدبُو پیدا ہو گئی ہے۔
PSA 38:6 میں کُبڑا ہوکر زمین سے جا لگا ہُوں؛ میں دِن بھر ماتم کرتا رہتا ہُوں۔
PSA 38:7 میری کمر میں شدید درد ہے؛ اَور میرے جِسم میں ذرا بھی صحت نہیں۔
PSA 38:8 میری نقاہت بڑھ گئی ہے اَور مَیں نہایت کُچلا ہُوا ہُوں؛ اَور دِل کی بےچینی کے باعث کراہتا رہتا ہُوں۔
PSA 38:9 اَے خُداوؔند، میری تمام تمنّاؤں کا دفتر آپ کے سامنے کھُلا پڑا ہے؛ اَور میری آہیں آپ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
PSA 38:10 میرا دِل دھڑکتا ہے اَور میری قُوّت گھٹتی جا رہی ہے؛ اَور میری آنکھوں کی رَوشنی چلی گئی ہے۔
PSA 38:11 میرے زخموں کے باعث میرے عزیزو اقارب مُجھ سے گُریز کرنے لگے ہیں؛ اَور میرے ہمسایے دُور رہتے ہیں۔
PSA 38:12 جو میری جان کے خواہاں ہیں وہ اَپنے جال بچھاتے ہیں، جو مُجھے نُقصان پہُنچانا چاہتے ہیں وہ میری بربادی کی باتیں کرتے ہیں؛ اَور دِن بھر مکر و فریب کے منصُوبے باندھتے ہیں۔
PSA 38:13 میں ایک بہرے اِنسان کی مانند ہُوں جو سُن ہی نہیں سَکتا، ایک گُونگے کی مانند جو اَپنا مُنہ نہیں کھولتا؛
PSA 38:14 میں اُس آدمی کی طرح ہُوں جسے سُنایٔی نہیں دیتا، اَور جِس کا مُنہ جَواب نہیں دے سَکتا۔
PSA 38:15 اَے یَاہوِہ، مَیں آپ پر آس لگائے بیٹھا ہُوں؛ اَے خُداوؔند، میرے خُدا! آپ جَواب دیں گے۔
PSA 38:16 کیونکہ مَیں نے کہا: ”کہیں وہ مُجھ پر شادیانہ نہ بجائیں یا جَب میرا پاؤں پھسلے تو میرے خِلاف تکبُّر نہ کریں۔“
PSA 38:17 کیونکہ مَیں گرنے کو ہُوں، اَور میرا درد برابر میرے ساتھ لگا ہُواہے۔
PSA 38:18 میں اَپنی بدکاری کا خُدا سے اقرار کرتا ہُوں؛ اَور مَیں اَپنے گُناہ کے باعث پریشان ہُوں۔
PSA 38:19 اَیسے بہت ہیں جو میرے سخت دُشمن ہیں؛ اَور مُجھ سے بلاوجہ نفرت کرنے والے بھی تعداد میں بہت ہو گئے ہیں۔
PSA 38:20 وہ میری نیکی کا بدلہ بدی سے دیتے ہیں اَور جَب مَیں نیکی کی پیروی کرتا ہُوں تو بہتان تراشی کرتے ہیں۔
PSA 38:21 اَے یَاہوِہ، مُجھے ترک نہ کریں؛ اَے میرے خُدا! مُجھ سے دُور نہ ہو۔
PSA 38:22 اَے میرے مُنجّی خُداوؔند، میری مدد کے لیٔے جلد آئیں۔
PSA 39:1 موسیقاروں کے سربراہ۔ یدُوتونؔ کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ مَیں نے اَپنے آپ سے کہا، ”میں اَپنی روِش پر احتیاط کی نظر رکھوں گا؛ اَور اَپنی زبان کو خطا سے باز رکھوں گا، جَب تک بدکار لوگ میرے سامنے ہیں میں اَپنے مُنہ کو لگام دئیے رہُوں گا۔“
PSA 39:2 لیکن جَب مَیں گُونگے کی طرح خاموش رہا، اَور کویٔی بھلائی کی بات بھی نہ کہہ سَکا، تو میری پریشانی اَور بڑھ گئی۔
PSA 39:3 میرا دِل اَندر ہی اَندر جَل رہاتھا، جَب مَیں نے غور کیا تو آگ اَور بھڑک اُٹھی؛ تَب میری زبان یُوں گویا ہُوئی:
PSA 39:4 ”اَے یَاہوِہ! مُجھے میری زندگی کا اَنجام اَور میری عمر کی میعاد بتا دیں؛ مُجھے یہ بتائیں کہ میری زندگی کتنی تیزرَو ہے۔
PSA 39:5 آپ نے میری عمر بالشت بھر کی رکھی ہے؛ میری زندگی کی میعاد آپ کے سامنے ہیچ ہے۔ ہر آدمی کی زندگی محض دَم بھر کی ہے، خواہ وہ کتنا طاقتور ہو۔
PSA 39:6 ”دراصل اِنسان محض ایک چلتا پھرتا سایہ ہے: وہ سرگرم رہتاہے لیکن اُس سے کیا فائدہ؛ وہ دولت جمع کرتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ وہ کس کے ہاتھ لگے گی۔
PSA 39:7 ”لیکن اَب اَے خُداوؔند، میں کس بات کے لیٔے ٹھہروں؟ میری اُمّید آپ ہی سے ہے۔
PSA 39:8 مُجھے میری ساری خطاؤں سے بچائیں؛ مُجھے احمقوں کی تحقیر کا نِشانہ نہ بنائیں۔
PSA 39:9 مَیں خاموش رہا اَور اَپنا مُنہ نہ کھولا، کیونکہ آپ نے ہی یہ کیا ہے۔
PSA 39:10 اَپنی بُلا مُجھ سے دُور کر دیں؛ آپ کے ہاتھ کی مار سے میرا بُرا حال ہے۔
PSA 39:11 آپ لوگوں کو اُن کے گُناہوں کے باعث تنبیہ کرتے اَور سزا دیتے ہیں؛ اَور آپ اُن کی مرغوب اَشیا کو کیڑے کی مانند تلف کر دیتے ہیں۔ اِنسان کی ہستی محض دَم بھر کی ہے۔
PSA 39:12 ”اَے یَاہوِہ، میری دعا سُنیں، میری فریاد پر کان لگائیں، میرے رونے پر نظر کریں؛ کیونکہ مَیں آپ کے حُضُور پردیسی ہُوں، اَور اَپنے سَب آباؤاَجداد کی مانند اجنبی ہُوں۔
PSA 39:13 مُجھ سے نظر ہٹا لیں تاکہ میں تازہ دَم ہو جاؤں اِس سے پہلے کہ رحلت کروں اَور نِیست ہو جاؤں۔“
PSA 40:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ میں صبر سے یَاہوِہ کا منتظر رہا؛ اُنہُوں نے میری طرف توجّہ فرمائی اَور میری فریاد سُنی۔
PSA 40:2 اُنہُوں نے مُجھے ہولناک گڑھے، اَور کیچڑ اَور دلدل سے باہر کھینچ لیا؛ اُنہُوں نے میرے پاؤں چٹّان پر رکھے اَور کھڑے رہنے کے لیٔے مضبُوط جگہ دی۔
PSA 40:3 یَاہوِہ نے ہمارے خُدا کی سِتائش کا نیا نغمہ، میرے مُنہ میں ڈالا۔ کیٔی لوگ یہ دیکھیں گے، اَور ڈریں گے اَور یَاہوِہ پر توکّل کریں گے۔
PSA 40:4 مُبارک ہے وہ آدمی جِس کا توکّل یَاہوِہ پر ہے، وہ مغروُروں اَور اُن لوگوں کی طرف مائل نہیں ہوتا، جو جھُوٹے معبُودوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
PSA 40:5 اَے یَاہوِہ، میرے خُدا! آپ نے کیٔی عجِیب کارنامے کئے ہیں۔ جو تدبیریں آپ نے ہمارے لیٔے کی ہیں اُنہیں کویٔی شُمار نہیں کر سَکتا؛ اگر مَیں اُن کا ذِکر کروں یا اُنہیں بَیان کرنا چاہُوں، تو وہ اِس قدر زِیادہ ہیں کہ بَیان سے بھی باہر ہیں۔
PSA 40:6 آپ قُربانیاں اَور نذریں نہیں چاہتے، لیکن آپ نے میرے کان کھول دئیے ہیں۔ سوختنی نذروں اَور خطا کی قُربانیوں کی آپ کو حاجت نہ تھی۔
PSA 40:7 تَب مَیں نے کہا، ”اَے خُدا، دیکھئے مَیں حاضِر ہُوں؛ جَیسا کہ چمڑے کے نوشتے میں میری بابت لِکھّا ہُواہے۔
PSA 40:8 اَے خُدا، آپ کی مرضی کو پُوری کرنا ہی میری خُوشی کا باعث ہے؛ کیونکہ آپ کے آئین میرے دِل میں ہے۔“
PSA 40:9 میں بڑے اِسرائیلی مجمع میں صداقت کی بشارت دیتا ہُوں؛ میں اَپنا مُنہ بند نہیں کرتا، اَے یَاہوِہ، یہ تو آپ کو مَعلُوم ہی ہے۔
PSA 40:10 مَیں آپ کی راستبازی اَپنے دِل میں چھُپا کر نہیں رکھتا؛ مَیں آپ کی وفاداری اَور نَجات کا اِظہار کرتا ہُوں۔ مَیں آپ کی شفقت و مَحَبّت اَور آپ کی سچّائی کو بڑے اِسرائیلی مجمع میں پوشیدہ نہیں رکھتا۔
PSA 40:11 اَے یَاہوِہ، اَپنی رحمت سے مُجھے محروم نہ رکھیں؛ آپ کی شفقت و مَحَبّت اَور آپ کی سچّائی ہمیشہ میری حِفاظت کریں۔
PSA 40:12 بے شُمار مُصیبتوں نے مُجھے گھیرلیا ہے؛ میرے گُناہوں نے مُجھے آ پکڑا ہے؛ یہاں تک کہ میں دیکھ نہیں سَکتا۔ میرے گُناہ میرے سَر کے بالوں سے بھی زِیادہ ہیں، اَور میرا دِل میرے اَندر ٹوٹ چُکاہے۔
PSA 40:13 اَے یَاہوِہ، براہِ کرم مُجھے جلد نَجات بخشیں؛ اَے یَاہوِہ، میری مدد کے لیٔے جلد آئیں۔
PSA 40:14 جو میری جان کے درپے ہیں وہ سَب شرمندہ اَور پریشان ہوں؛ اَورجو میری بربادی کے خواہاں ہیں وہ سَب رُسوا ہوکر پسپا کئے جایٔیں۔
PSA 40:15 وہ جو میرے دشمن مُجھ پر، ”آہ! آہ!“ کرتے ہیں! وہ سَب اَپنی رُسوائی کے باعث تباہ کئے جایٔیں۔
PSA 40:16 لیکن جو آپ کی جُستُجو میں ہیں آپ میں خُوش و شادمان ہوں؛ اَورجو آپ کی نَجات کے مُشتاق ہیں وہ ہمیشہ یہ کہا کریں، ”یَاہوِہ عظیم ہیں!“
PSA 40:17 اَے خُداوؔند، میں تو مسکین اَور مُحتاج ہُوں؛ اِس لئے مُجھ پر نظرِکرم کریں۔ آپ ہی میرے مددگار اَور میرے چھُڑانے والے ہیں؛ ”آپ میرے خُدا ہیں!“ اَب دیر نہ کریں۔
PSA 41:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ مُبارک ہے وہ جو کمزور کا خیال رکھتا ہے؛ یَاہوِہ اُسے مُصیبت کے وقت بچاتے ہیں۔
PSA 41:2 یَاہوِہ اُس کی حِفاظت کریں گے اَور اُسے زندہ رکھیں گے؛ اَور اُسے زمین پر برکت دیں گے اَور اُسے اُس کے حریفوں کی مرضی پر نہ چھوڑیں گے۔
PSA 41:3 یَاہوِہ اُسے اُس کے بِستر علالت پر سنبھالیں گے اَور اُسے بیماری کے بِستر سے اُٹھا کھڑا کریں گے۔
PSA 41:4 مَیں نے دعا کی: ”اَے یَاہوِہ، مُجھ پر رحم کریں؛ مُجھے شفا بخشیں کیونکہ مَیں نے آپ کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔“
PSA 41:5 میرے دُشمن عداوت سے میرے متعلّق کہتے ہیں کہ ”یہ کب مَرے گا اَور اُس کا نام کب مٹے گا؟“
PSA 41:6 جَب کویٔی میری عیادت کو آتا ہے، تو وہ جھُوٹ بَکتا ہے اَور اُس کا دِل بدی کی باتوں سے بھرا ہوتاہے؛ تَب وہ باہر جا کر اُس کا ذِکر کرتا ہے۔
PSA 41:7 میرے سارے دُشمن میرے خِلاف سرگوشی کرتے ہیں؛ وہ میرے بارے میں اَپنے ذہن میں بُرے خیالات رکھتے ہیں
PSA 41:8 اَور کہتے ہیں، ”اُسے کویٔی گھِنونا مرض لاحق ہو گیا ہے؛ اَور جہاں وہ اَب پڑا ہے وہاں سے ہرگز نہ اُٹھ پایٔےگا۔“
PSA 41:9 بَلکہ میرے عزیز دوست نے بھی، جِس پر مُجھے بھروسا تھا، اَورجو میری روٹی کھاتا ہے، وُہی مُجھ پر لات اُٹھاتا ہے۔
PSA 41:10 لیکن اَے یَاہوِہ، آپ مُجھ پر رحم کریں؛ مُجھے اُٹھا کھڑا کریں تاکہ میں اُنہیں بدلہ دُوں۔
PSA 41:11 اُس سے میں جان گیا کہ آپ مُجھ سے خُوش ہیں، کہ میرا دُشمن مُجھ پر فتح نہیں پاتا۔
PSA 41:12 آپ میری راستی میں مُجھے سنبھالتے ہیں اَور ہمیشہ اَپنی حُضُوری میں قائِم رکھتے ہیں۔
PSA 41:13 بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ، اَزل سے اَبد تک سِتائش ہو،
PSA 42:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ بنی قورحؔ کا مشکیل۔‏ جِس طرح ہِرنی پانی کے نالوں کو ترستی ہے، وَیسے ہی اَے میرے خُدا، میری جان آپ کے لیٔے ترستی ہے۔
PSA 42:2 میری جان خُدا کی بَلکہ زندہ خُدا کی پیاسی ہے۔ میں کب جا کر خُدا کی خدمت مَیں حاضِر ہو سکوں گا؟
PSA 42:3 دِن اَور رات میرے آنسُو میری خُوراک ہیں، جَب کہ میرے دشمن دِن بھر مُجھ سے پُوچھتے ہیں، آپ کا خُدا کہاں ہے؟
PSA 42:4 اِن باتوں کو یاد کرکے میرا دِل بھر آتا ہے: کہ مَیں کس طرح لوگوں کے ساتھ جایا کرتا تھا، اَور اُس جَشن منانے والے ہُجوم کے ساتھ، خُوشی سے للکارتا ہُوا اَور سِتائش کرتا ہُوا ”خُدائے قادر کے گھر تک اُن کی قیادت کیا کرتا تھا۔“
PSA 42:5 اَے میری جان، تُو کیوں اُداس ہے؟ اَور میرے اَندر اِس قدر بےچینی کیوں ہے؟ خُدا سے اُمّید رکھو، کیونکہ مَیں پھر اَپنے مُنجّی اَور اَپنے خُدا کی، سِتائش کروں گا۔
PSA 42:6 اَے میرے خُدا! میری جان مُجھ میں اُداس ہے؛ اِس لیٔے میں یردنؔ کی سرزمین سے اَور حرمُونؔ کی بُلندیوں، یعنی کوہِ مِصفاؔر پر سے خُدا آپ کو یاد کروں گا۔
PSA 42:7 آپ کی آبشاروں کی گرج سُن کر گہراؤ گہراؤ کو پُکارتا ہے؛ آپ کی سَب لہریں اَور موجیں میرے اُوپر سے تیزی سے گزر گئیں۔
PSA 42:8 دِن کو یَاہوِہ اَپنی شفقت و مَحَبّت ظاہر کرتے ہیں، اَور رات کو اُن کا نغمہ میرے لبوں پر رہتاہے۔ جسے میں اَپنی حیات کے خُدا کے حُضُور دعا کے طور پر پیش کرتا ہُوں۔
PSA 42:9 میں خُدا سے جو میری چٹّان ہے کہتا ہُوں، ”آپ نے مُجھے کیوں فراموش کر دیا؟ میں دُشمن کے ظُلم کے باعث، کیوں ماتم کرتا پھروں؟“
PSA 42:10 میرے دُشمنوں کی طَعنہ زنی سے میری ہڈّیاں چُورچُور ہونے لگتی ہیں، جو دِن بھر مُجھ سے کہتے رہتے ہیں، ”آپ کا خُدا کہاں ہے؟“
PSA 42:11 اَے میری جان، تُو کیوں اُداس ہے؟ اَور تُو میرے اَندر اِس قدر بےچین کیوں ہے؟ خُدا سے اُمّید رکھ، کیونکہ مَیں پھر اَپنے مُنجّی اَور اَپنے خُدا کی سِتائش کروں گا۔
PSA 43:1 اَے خُدا، میرا اِنصاف کریں، اَور ایک بے دین قوم کے خِلاف میری وکالت کریں؛ اَور دغاباز اَور بدکار لوگوں سے مُجھے چھڑائیں۔
PSA 43:2 آپ ہی خُدا میرے محکم قلعہ ہیں، آپ نے کیوں مُجھے ترک کر دیا؟ میں دُشمن کے ظُلم کے باعث، کیوں ماتم کرتا پھروں؟
PSA 43:3 اَپنا نُور اَور اَپنی سچّائی ظاہر کریں، وُہی میری رہبری کریں؛ وُہی مُجھے آپ کے مُقدّس پہاڑ پر، اَور آپ کی قِیام گاہ تک پہُنچا دیں۔
PSA 43:4 تَب میں خُدا کے مذبح کے پاس جاؤں گا، اَور خُدا کے پاس جو میری خُوشی اَور میری شادمانی ہیں۔ اَے خُدا، میرے خُدا! میں بربط پر آپ کی سِتائش کروں گا۔
PSA 43:5 اَے میری جان، تُو کیوں اُداس ہے؟ اَور تُو میرے اَندر اِس قدر بےچین کیوں ہے؟ خُدا سے اُمّید رکھ، کیونکہ مَیں پھر اَپنے مُنجّی اَور اَپنے خُدا کی سِتائش کروں گا۔
PSA 44:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ بنی قورحؔ کی تصنیفمشکیل۔‏ اَے خُدا، ہم نے اَپنے کانوں سے سُنا، اَور ہمارے آباؤاَجداد نے ہم سے کہا، کہ آپ نے اُن کے دِنوں میں، قدیم زمانہ میں آپ نے کیا کیا کام کیٔے۔
PSA 44:2 آپ نے اَپنے ہاتھ سے قوموں کو بے دخل کر دیا اَور ہمارے آباؤاَجداد کو آباد کیا؛ آپ نے مُختلف اُمّتوں کو تباہ کر دیا اَور ہمارے آباؤاَجداد کو آسُودہ کر دیا۔
PSA 44:3 کیونکہ آپ کے لوگ نہ تو اَپنی تلوار کے بَل پر اُس مُلک پر قابض ہُوئے، اَور نہ اُن کے بازو کی طاقت ہی نے اُنہیں فتح بخشی؛ بَلکہ وہ آپ کے داہنے ہاتھ، آپ کے بازو کی طاقت، اَور آپ کے چہرہ کے نُور سے فتحیاب ہُوئے، کیونکہ آپ کو اُن سے مَحَبّت تھی۔
PSA 44:4 کیونکہ آپ میرے بادشاہ اَور میرے خُدا ہیں، جو یعقوب کے حق میں نَجات کا حُکم صادر فرماتے ہیں۔
PSA 44:5 آپ کی بدولت ہم اَپنے دُشمنوں کو پیچھے دھکیلتے ہیں؛ اَور آپ کے نام کی بدولت ہم اَپنے مُخالفوں کو پامال کرتے ہیں۔
PSA 44:6 مُجھے اَپنی کمان پر اِعتماد نہیں، اَور میری تلوار مُجھے فتح نہیں دیتی؛
PSA 44:7 لیکن آپ ہمیں اَپنے دُشمنوں پر فتحیاب کرتے ہیں، اَور ہمارے مُخالفوں کو شرمندہ کرتے ہیں۔
PSA 44:8 ہم دِن بھر خُدا پر فخر کرتے ہیں، اَور ہم ہمیشہ آپ کے نام کی سِتائش کریں گے۔
PSA 44:9 لیکن اَب آپ نے ہمیں ترک کر دیا اَور ہمیں رُسوا کیا؛ اَور اَب آپ ہمارے لشکروں کے ساتھ نہیں جاتے۔
PSA 44:10 آپ نے ہمیں دُشمن کے سامنے سے پسپا کر دیا، اَور ہمارے مُخالفوں نے ہمیں لُوٹ لیا۔
PSA 44:11 آپ نے ہمیں بھیڑوں کی مانند ذبح ہونے کے لیٔے دے دیا اَور ہمیں مُختلف قوموں میں تِتّر بِتّر کر دیا۔
PSA 44:12 آپ نے اَپنی اُمّت کو بُلا قیمت بیچ ڈالا، اَور اُس سودے میں کچھ بھی منافع نہ کمایا۔
PSA 44:13 آپ نے ہمیں اَپنے ہمسایوں کی ملامت کا نِشانہ، اَور ہمارے اِردگرد کے لوگوں کی تضحیک و تحقیر اَور تمسخر کا باعث بنا دیا۔
PSA 44:14 آپ نے ہمیں قوموں کے درمیان ضرب المثل بنا دیا؛ مُختلف اُمّتوں کے لوگ ہمیں دیکھ کر سَر ہلاتے ہیں۔
PSA 44:15 میری رُسوائی دِن بھر میرے سامنے رہتی ہے، اَور میرے چہرہ پر شرم کا پردہ پڑا رہتاہے
PSA 44:16 جو ملامت کرنے والوں اَور بُرا بھلا کہنے والوں کی طَعنہ زنی کے سبب سے ہے، اَور دُشمن کی وجہ سے ہے جو اِنتقام لینے پر آمادہ ہے۔
PSA 44:17 یہ سَب کچھ ہم پر واقع ہُوا، حالانکہ ہم نے آپ کو فراموش نہیں کیا تھا اَور نہ ہی آپ کے عہد کو جُھٹلایا تھا۔
PSA 44:18 ہمارے دِل برگشتہ نہ ہُوئے؛ اَور نہ ہمارے قدم آپ کی راہ سے بہکے۔
PSA 44:19 لیکن آپ نے ہمیں کُچل کر گیدڑوں کا ٹھکانا بنا دیا اَور ہمیں گہری تاریکی سے ڈھانک دیا۔
PSA 44:20 اگر ہم اَپنے خُدا کا نام فراموش کر چُکے ہوتے یا اَپنے ہاتھ کسی غَیر معبُود کے آگے دعا کے لئے پھیلائے ہوتے،
PSA 44:21 تو کیا خُدا نے اُسے دریافت نہ کر لیا ہوتا، جَب کہ وہ دِل کے بھید جانتے ہیں؟
PSA 44:22 ہم تو آپ کی خاطِر سارا دِن موت کا سامنا کرتے رہتے ہیں؛ ہم ذبح ہونے والی بھیڑوں کی مانند سمجھے جاتے ہیں۔
PSA 44:23 جاگو، اَے خُداوؔند، آپ کیوں سوتے ہیں؟ اُٹھیں، ہمیں ہمیشہ کے لیٔے ترک نہ کریں۔
PSA 44:24 آپ اَپنا مُنہ کیوں چھپاتے ہیں اَور ہماری مُصیبت اَور مظلومی کو بھُول جاتے ہیں؟
PSA 44:25 ہم خاک میں مِلا دیئے گیٔے ہیں؛ اَور ہمارے جِسم زمین سے جا لگے ہیں۔
PSA 44:26 اُٹھیں اَور ہماری مدد کریں؛ اَور اَپنی لافانی مَحَبّت کے باعث ہمارا فدیہ دیں۔
PSA 45:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ ”شُوشنؔ“ کی دھُن پر مَبنی۔ بنی قورحؔ کی تصنیف۔ ایک مشکیل‏ ایک نغمۂ عروسی۔ جَب مَیں بادشاہ کے حق میں اَپنے اشعار سُنانے لگتا ہُوں تو میرے دِل میں ایک نفیس موضوع جوش مارتا ہے؛ میری زبان ایک ماہر کاتب کا قلم بَن جاتی ہے۔
PSA 45:2 آپ بنی نَوع اِنسان میں سَب سے زِیادہ شکیل ہیں آپ کے ہونٹ فضل سے بھرے ہُوئے ہیں، کیونکہ خُدا نے آپ کو ہمیشہ کے لیٔے برکت دی ہے۔
PSA 45:3 اَے زبردست! اَپنی تلوار کو اَپنی کمر پر کس لیں؛ اَور شان و شوکت سے مُسلّح ہو جائیں۔
PSA 45:4 اَور سچّائی اَور حلیمی اَور راستبازی کی خاطِر شان و شوکت کے ساتھ فاتحانہ اَنداز سے سوار ہو جائیں؛ اَور اَپنے داہنے ہاتھ کو مُہیب کارنامے اَنجام دینے دیں۔
PSA 45:5 آپ کے تیز تیر بادشاہ کے دُشمنوں کے دِلوں کو چھید ڈالیں؛ اَور قومیں آپ کے قدموں میں گِر جایٔیں۔
PSA 45:6 اَے خُدا، آپ کا تخت ابدُالآباد تک قائِم رہے گا؛ آپ کی بادشاہی کا عصا اِنصاف کا عصا ہوگا۔
PSA 45:7 آپ نے راستبازی سے مَحَبّت اَور بدکاری سے نفرت رکھی؛ اِس لیٔے خُدا یعنی آپ کے خُدا نے آپ کو شادمانی کے تیل سے مَسح کرکے آپ کے ساتھیوں کی نِسبت آپ کو زِیادہ سرفراز کیا۔
PSA 45:8 آپ کے ہر لباس سے مُر، عُود اَور تج کی خُوشبو آتی ہے؛ ہاتھی دانت سے سجے ہُوئے محلوں میں سے آتی ہُوئی تاردار سازوں کی موسیقی آپ کو خُوش کرتی ہے۔
PSA 45:9 آپ کی سلطنت میں مُعزّز خواتین کے عہدے پر بادشاہوں کی شاہزادیاں ہیں؛ شاہی دُلہن آپ کے داہنے ہاتھ کھڑی ہے جو اوفیرؔ کے سونے سے آراستہ ہے۔
PSA 45:10 اَے شہزادی! سُنیں، غور کریں اَور کان لگائیں: اَپنے لوگوں اَور اَپنے باپ کے گھر کو بھُول جاؤ۔
PSA 45:11 بادشاہ تمہارے حُسن کا گرویدہ ہیں؛ کیونکہ وہ آپ کے خُداوؔند ہیں تُم اُن کو سَجدہ کرو۔
PSA 45:12 صُورؔ شہر کی شہزادی تحفہ لے کر آئے گی، اُمرا آپ کی نظرِکرم کے مُحتاج ہوں گے۔
PSA 45:13 بادشاہ کی شہزادی اَپنی خلوت گاہ میں عظمت و جلال کا پیکر بنی ہُوئی ہے؛ اُس کا چوغہ سُنہری کشیدہ کاری سے مُزیّن ہے۔
PSA 45:14 وہ کشیدہ کاری لباس پہنے ہُوئے بادشاہ کے پاس پہُنچائی جاتی ہے؛ اُن کی کنواری سہیلیاں جو اُن کے پیچھے پیچھے چلتی ہیں، تمہارے سامنے اُن کو حاضِر کیا جائے گا۔
PSA 45:15 خُوشی اَور مسرّت اُن کے ہمراہ ہے؛ اَور وہ بادشاہ کے محل میں داخل ہُوئی ہیں۔
PSA 45:16 آپ کے بیٹے آپ کے آباؤاَجداد کے جانشین ہوں گے؛ اَور تُم سارے اُمراؤں کو مُلک میں حاکم مُقرّر کروگے۔
PSA 45:17 مَیں آپ کی یاد کو پُشت در پُشت قائِم رکھوں گا؛ اِس لیٔے قومیں ابدُالآباد تک آپ کی سِتائش کریں گی۔
PSA 46:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ بنی قورحؔ کی تصنیف۔ علاموت‏ کے سُرپر مَبنی ایک نغمہ۔ خُدا ہماری پناہ اَور قُوّت ہیں، مُصیبت میں مُستعد مددگار
PSA 46:2 اِس لیٔے ہمیں کویٔی خوف نہیں خواہ زمین اُلٹ جائے اَور پہاڑ سمُندر کی تہہ میں جا گریں۔
PSA 46:3 خواہ اُس کا پانی شور مچائے اَور موجزن ہو جائے اَور پہاڑ اُس کے تلاطم سے لرزنے لگیں۔
PSA 46:4 ایک دریا ہے جِس کی نہریں خُدا کے شہر کو، یعنی اُس پاک مقام کو جہاں خُداتعالیٰ کا مَسکن ہے شاداب کرتی ہیں۔
PSA 46:5 خُدا اُس شہر میں ہے، اُنہیں کبھی جنبش نہ ہوگی؛ صُبح سویرے خُدا اُن کی مدد کریں گے۔
PSA 46:6 قومیں اضطراب میں مُبتلا ہیں اَور سلطنتوں میں انقلاب آ گیا؛ وہ اَپنی آواز بُلند کرتے ہیں اَور زمین پگھل جاتی ہے۔
PSA 46:7 قادرمُطلق یَاہوِہ ہمارے ساتھ ہیں؛ یعقوب کا خُدا ہمارا قلعہ ہیں۔
PSA 46:8 آؤ اَور یَاہوِہ کے کاموں پر نظر ڈالو، کہ اُنہُوں نے زمین پر کیسی کیسی ویرانیاں برپا کی ہیں۔
PSA 46:9 وہ زمین کی اِنتہا تک لڑائیاں موقُوف کراتے ہیں؛ وہ کمان توڑتے اَور نیزے کے ٹکڑے کر ڈالتے ہیں، اَور رتھوں کو آگ سے جَلا دیتے ہیں۔
PSA 46:10 خُدا نے فرمایا، ”خاموش ہو جاؤ اَور جان لو کہ میں خُدا ہُوں؛ میں قوموں کے درمیان سرفراز ہوں گا، میں زمین پر سرفراز ہوں گا۔“
PSA 46:11 قادرمُطلق یَاہوِہ ہمارے ساتھ ہیں؛ یعقوب کا خُدا ہمارا قلعہ ہیں۔
PSA 47:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ بنی قورحؔ کی تصنیف ایک زبُور۔ اَے سَب قوموں تالیاں بجاؤ؛ خُوش آوازی سے خُدا کے لیٔے نعرے مارو۔
PSA 47:2 یَاہوِہ خُداتعالیٰ کس قدر مُہیب ہے، جو تمام رُوئے زمین کے عظیم بادشاہ ہے!
PSA 47:3 اُنہُوں نے قوموں کو ہمارے قدموں میں کر دیا، اَور مُختلف اُمّتوں کو ہمارے قدموں کے نیچے ڈال دیا۔
PSA 47:4 اُنہُوں نے ہمارے لیٔے ہماری مِیراث چُن لی، جو اُس کے عزیز یعقوب کے لیٔے فخر کا باعث ہے۔
PSA 47:5 خُدا نے خُوشی کے نعروں کے ہمراہ، اَور یَاہوِہ نے نرسنگوں کی آواز کے درمیان صعُود فرمایا۔
PSA 47:6 خُدا کی مدح سرائی کرو، مدح سرائی کرو؛ ہمارے بادشاہ کی مدح سرائی کرو، مدح سرائی کرو۔
PSA 47:7 کیونکہ خُدا ساری زمین کا بادشاہ ہے؛ اُس کی تعریف میں نغمہ سِرا ہو جاؤ۔
PSA 47:8 خُدا قوموں پر حُکمرانی کرتا ہے؛ خُدا اَپنے مُقدّس تخت پر بیٹھا ہے۔
PSA 47:9 قوموں کے سردار اَبراہامؔ کے خُدا کی اُمّت میں شامل ہونے کے لیٔے اِکٹھّے ہو جاتے ہیں، کیونکہ زمین کے ڈھالیں خُدا کی ہیں؛ وہ نہایت ہی بُلند ہے۔
PSA 48:1 ایک نغمہ، بنی قورحؔ کی تصنیف زبُور۔ ہمارے خُدا کے شہر میں یعنی اُس کے مُقدّس پہاڑ پر، یَاہوِہ عظیم اَور بےحد قابل سِتائش ہے۔
PSA 48:2 ضِفونؔ کی چوٹیوں کی طرح، کوہِ صِیّونؔ، جو عظیم بادشاہ کا شہر ہے، اَپنی شان و شوکت کے لحاظ سے اعلیٰ ہے، اَور سارے جہان کے لیٔے باعثِ مسرّت ہے۔
PSA 48:3 خُدا اُس کے قلعوں میں پناہ لئے ہُوئے ہیں؛ اُنہُوں نے اَپنے آپ کو اُن کی پناہ گاہ ٹھہرایا ہے۔
PSA 48:4 جَب بادشاہوں نے اَپنی فَوجیں جمع کیں، اَور مِل کر آگے بڑھے،
PSA 48:5 تو اُس شہر کو دیکھ کر دنگ رہ گیٔے؛ اَور ڈر کے مارے بھاگ نکلے۔
PSA 48:6 وہاں اُن پر کپکپی طاری ہو گئی، اَور وہ ایک زچّہ کی مانند سخت درد کی سِی تکلیف میں مُبتلا ہو گئے۔
PSA 48:7 آپ نے اُنہیں ترشیشؔ شہر کے جہازوں کی مانند تباہ کر ڈالا، اَیسی تباہی جو بادِ مشرق لاتی ہے۔
PSA 48:8 جَیسا ہم نے سُنا تھا، یعنی اَپنے لشکروں کے یَاہوِہ کے شہر میں، جَیسا ہم نے سُنا تھا، وَیسا ہی ہم نے دیکھا قادرمُطلق یَاہوِہ کے شہر میں، خُدا اُسے ہمیشہ محفوظ رکھےگا۔
PSA 48:9 اَے خُدا، ہم نے آپ کے ہیکل کے اَندر، آپ کی لافانی مَحَبّت پر غور کیا۔
PSA 48:10 اَے خُدا، جَیسا آپ کا نام ہے، وَیسی ہی آپ کی سِتائش زمین کی اِنتہا تک پہُنچتی ہے؛ آپ کا داہنا ہاتھ راستی سے معموُر ہے۔
PSA 48:11 آپ کے فیصلوں کے باعث کوہِ صِیّونؔ مسرُور ہے، اَور یہُوداہؔ کے دیہات خُوش ہیں۔
PSA 48:12 صِیّونؔ کے گِرد پھرو، اُس کا طواف کرو، اُس کے بُرجوں کا شُمار کرو،
PSA 48:13 اُس کی شہرپناہ کو غور سے دیکھو، اُس کے قلعوں پر نظر ڈالو، تاکہ تُم آنے والی پُشتوں کو اُن کے متعلّق بتا سکو۔
PSA 48:14 کیونکہ یہ خُدا ابدُالآباد تک ہمارا خُدا ہے؛ وہ موت تک ہمارا ہادی بنا رہے گا۔
PSA 49:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ بنی قورحؔ کی تصنیف ایک زبُور۔ اَے سَب اُمّتو! یہ سُنو؛ اَے اِس جہاں کے سَب باشِندو! کان لگاؤ،
PSA 49:2 کیا ادنیٰ کیا اعلیٰ، کیا اَمیر، کیا فقیر اِنسان:
PSA 49:3 میرے مُنہ سے حِکمت کا کلام نکلے گا؛ اَور میرے دِل کا اِظہار خِرد کا سرچشمہ ہوگا۔
PSA 49:4 میں تمثیل کی طرف اَپنا کان لگاؤں گا؛ اَور اَپنا مُعمّہ بربط پر بَیان کروں گا:
PSA 49:5 جَب بُرے دِن آئیں تو میں کیوں خوفزدہ ہوؤں، اَور اَیسے بدکار لوگ دغاباز مُجھے گھیر لیں۔
PSA 49:6 جِن کا بھروسا اَپنی دولت پر ہے اَورجو اَپنے مال و زَر کی کثرت پر فخر کرتے ہیں؟
PSA 49:7 کویٔی شخص کسی دُوسرے کی جان کا مُعاوضہ نہیں دے سَکتا نہ خُدا کو اُس کا فدیہ اَدا کر سَکتا ہے۔
PSA 49:8 کیونکہ جان کا فدیہ بیش قیمتی ہے، کویٔی مُعاوضہ کبھی بھی کافی نہیں ہوتا۔
PSA 49:9 تاکہ وہ اَبد تک جیتا رہے اَور قبر میں نہ سڑے۔
PSA 49:10 کیونکہ سَب لوگ دیکھتے ہیں کہ اہلِ حِکمت بھی مَر جاتے ہیں؛ احمق اَور جاہل دونوں ہلاک ہو جاتے ہیں، اَور اَپنی دولت دُوسروں کے لیٔے چھوڑ جاتے ہیں۔
PSA 49:11 اُن کی قبریں ہی اَبد تک اُن کے گھر، اَور پُشت در پُشت اُن کی قِیام گاہیں بنی رہیں گی، حالانکہ اُنہُوں نے مُلکوں کو اَپنے نام سے نامزد کیا تھا۔
PSA 49:12 لیکن اِنسان اَپنی دولت کے باوُجُود قائِم نہیں رہتا؛ وہ اُن حَیوانوں کی مانند ہے جو فنا ہو جاتے ہیں۔
PSA 49:13 یہ اُن لوگوں کا حَشر ہے جو اَپنے آپ پر بھروسا رکھتے ہیں، اَور اُن کے پیروکاروں کا بھی جو اُن کی باتوں کی تائید کرتے ہیں،
PSA 49:14 وہ بھیڑوں کی مانند پاتال کے لیٔے وقف کئے گیٔے ہیں، اَور وہ موت کا لقمہ بَن جایٔیں گے۔ صُبح کے وقت دیانتدار اُن پر حُکومت کریں گے؛ اَور اُن کی صورتیں اُن کے شاہی محلوں سے دُور، پاتال میں سڑ جایٔیں گی۔
PSA 49:15 لیکن خُدا میری جان کو پاتال کے اِختیار سے چھُڑا لے گا؛ وہ یقیناً مُجھے قبُول فرمایٔے گا۔
PSA 49:16 جَب کویٔی اِنسان مالدار ہو جائے، اَور اُس کے گھر کی شوکت بڑھ جائے، تو تُم خوفزدہ نہ ہونا؛
PSA 49:17 کیونکہ جَب وہ مَرے گا تو کچھ بھی اَپنے ساتھ نہ لے جاپائے گا، اَور نہ اُس کی شوکت اُس کے ساتھ قبر میں جائے گی۔
PSA 49:18 خواہ جیتے جی وہ خُود کو مُبارک ہی سمجھتا رہا ہو۔ اَور جَب تمہارا اِقبال بُلند ہوتاہے تو لوگ تمہاری تعریف کرتے ہی ہیں۔
PSA 49:19 تو بھی وہ اَپنے آباؤاَجداد کی نَسل سے جا ملے گا جو زندگی کا نُور ہرگز نہ دیکھیں گے۔
PSA 49:20 جو آدمی صاحبِ زَر ہو لیکن باشعور نہ ہو، وہ اُن حَیوانوں کی مانند ہے جو فنا ہو جاتے ہیں۔
PSA 50:1 آسفؔ کا زبُور۔ قادر یَاہوِہ‏ خُدا کلام کرتے ہیں، اَور طُلوع آفتاب سے غروب تک، دُنیا کو بُلاتے ہیں،
PSA 50:2 صِیّونؔ سے جو حُسن میں کامل ہے، خُدا جلوہ گِر ہوتے ہیں۔
PSA 50:3 ہمارے خُدا آتے ہیں اَور وہ خاموش نہ رہیں گے؛ آگ اُن کے آگے بھسم کرتی جائے گی، اَور اُن کے چاروں طرف تیز آندھی چلے گی۔
PSA 50:4 خُدا اَپنی اُمّت کا اِنصاف کرنے کے لیٔے، اُوپر سے آسمان کو اَور زمین کو بُلاتے ہیں۔
PSA 50:5 اُنہُوں نے فرمایا، ”میرے مُقدّسین کو میرے سامنے جمع کرو، جنہوں نے قُربانی کے ذریعہ میرے ساتھ عہد باندھا ہے۔“
PSA 50:6 اَور آسمان اُن کی راستبازی کا اعلان کریں گے، کیونکہ خُود خُدا ہی مُنصِف ہیں۔
PSA 50:7 ”اَے میری اُمّت سُنو، میں کلام کروں گا؛ اَے اِسرائیل! مَیں تمہارے خِلاف گواہی دُوں گا: میں خُدا ہُوں، تمہارا خُدا میں ہی ہُوں۔
PSA 50:8 میں تُمہیں تمہاری قُربانیوں کے سبب سے تنبیہ نہیں کر رہا نہ ہی تمہاری سوختنی نذروں کے باعث جو ہمیشہ میرے سامنے رہتی ہیں۔
PSA 50:9 مُجھے آپ کے مویشی خانہ میں سے کسی بَیل کی قُربانی کی حاجت نہیں، اَور نہ آپ کے باڑوں میں سے بکروں کی،
PSA 50:10 کیونکہ جنگل کا ہر جاندار، اَور ہزاروں پہاڑوں پر کے مویشی میرے ہی ہیں۔
PSA 50:11 میں پہاڑوں پر کے ہر پرندہ کو جانتا ہُوں، اَور میدان کے حَیوانات میرے ہی ہیں۔
PSA 50:12 اگر مَیں بھُوکا ہوتا تو آپ سے نہ کہتا، کیونکہ دُنیا اَورجو کچھ اُس میں ہے وہ میرا ہے۔
PSA 50:13 کیا میں بَیلوں کا گوشت کھاؤں اَور بکروں کا خُون پِیؤں؟
PSA 50:14 ”خُدا کے لیٔے شُکر گُزاری کی قُربانیاں گزرانو، اَور خُداتعالیٰ کے لیٔے اَپنی مَنّتیں پُوری کرو،
PSA 50:15 اَور مُصیبت کے دِن مُجھے پُکارو؛ میں تُمہیں چُھڑاؤں گا اَور تُم میری تمجید کروگے۔“
PSA 50:16 لیکن بدکار سے خُدا کہتے ہیں: ”تُمہیں میرے اَحکام بَیان کرنے کا کیا حق ہے اَور تُم میرے عہد کو اَپنے لبوں پر کیوں لاتے ہو؟
PSA 50:17 تُم میری ہدایت سے نفرت کرتے ہو اَور میرے کلام کو پیٹھ پیچھے پھینک دیتے ہو۔
PSA 50:18 جَب تُم کسی چور کو دیکھ لیتے ہو، تُم اُس سے مِل جاتے ہو؛ اَور زانیوں کا شریک بَن جاتے ہو۔
PSA 50:19 تُم اَپنا مُنہ بدی کے لیٔے اَور اَپنی زبان فریب گھڑنے کے لیٔے اِستعمال کرتے ہو۔
PSA 50:20 تُم اَپنے بھایٔی کے خِلاف بولتے ہی رہتے ہو اَور اَپنی ہی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتے ہو۔
PSA 50:21 تُم نے یہ کام کئے اَور مَیں خاموش رہا؛ تُم نے سوچا کہ میں بھی گویا تُم ہی سا ہُوں۔ لیکن مَیں تُمہیں تنبیہ کروں گا۔ اَور تمہارے مُنہ پر تُمہیں اِلزام دُوں گا۔
PSA 50:22 ”اَب اَے خُدا کو فراموش کرنے والو! اُن پر توجّہ کرو، اَیسا نہ ہو کہ میں تُمہیں پھاڑ ڈالوں اَور کویٔی چھُڑانے والا نہ ہو:
PSA 50:23 جو شُکر گُزاری کی قُربانی پیش کرتا ہے وہ میری تمجید کرتا ہے، اَور وہ اَپنی روِش دُرست رکھتا ہے، تاکہ میں اُسے خُدا کی نَجات دِکھاؤں۔“
PSA 51:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ داویؔد کے بتشیبؔا کے ساتھ زنا کرنے کے بعد جَب ناتنؔ نبی اُن کے پاس آئے۔ اَے خُدا، اَپنی لافانی مَحَبّت کے مُطابق، اَپنی بڑی شفقت کی کثرت سے؛ مُجھ پر رحم کریں، میری خطائیں مٹا دیں۔
PSA 51:2 میری ساری بدی دھو ڈالیں اَور میرے گُناہ سے مُجھے پاک کر دیں۔
PSA 51:3 کیونکہ مَیں اَپنے خطاؤں کو جانتا ہُوں، اَور میرا گُناہ ہمیشہ میرے سامنے رہتاہے۔
PSA 51:4 مَیں نے فقط آپ کے، ہی خِلاف گُناہ کیا ہے، اَور مَیں نے وُہی کام کیا ہے، جو آپ کی نظر میں بُرا ہے؛ اَور آپ اَپنے اِنصاف میں حق بجانب ثابت ہو، تاکہ جو کچھ آپ فرمائیں راست ٹھہرے۔
PSA 51:5 یقیناً میں اَپنی پیدائش کے وقت سے گُناہ آلُودہ تھا، بَلکہ، اُس وقت سے، جَب مَیں اَپنی ماں کے رحم میں پڑا۔
PSA 51:6 یقیناً، آپ باطِن کی سچّائی کو پسند فرماتے ہیں؛ اَور مُجھے میرے باطِن ہی میں حِکمت سِکھاتے ہیں۔
PSA 51:7 زُوفے سے مُجھے صَاف کریں، تو میں پاک صَاف ہو جاؤں گا؛ مُجھے دھو ڈالیں، تو میں برف سے بھی زِیادہ سفید ہو جاؤں گا۔
PSA 51:8 مُجھے خُوشی اَور مسرّت کی خبر سُننے دیں؛ جو ہڈّیاں آپ نے کُچل دی ہیں وہ شاد ہُوں۔
PSA 51:9 میرے گُناہوں کی طرف سے چشم پوشی کریں اَور میری ساری بدی مٹا دیں۔
PSA 51:10 اَے خُدا، میرے اَندر پاک دِل پیدا کریں، اَور میرے باطِن میں اَز سرِ نَو مُستقیم رُوح ڈال دیں۔
PSA 51:11 مُجھے اَپنی حُضُوری سے خارج نہ کریں اَور اَپنی پاک رُوح مُجھ سے جُدا نہ کریں۔
PSA 51:12 اَپنی نَجات کی خُوشی مُجھے پھر سے عنایت کریں، اَور وہ مُستعد رُوح بخشیں جو مُجھے سنبھالے رہے۔
PSA 51:13 تَب میں مُجرموں کو آپ کی راہوں کی تعلیم سِکھاؤں گا، اَور گُنہگار آپ کی طرف رُجُوع کریں گے۔
PSA 51:14 اَے خُدا، اَے میرے مُنجّی خُدا، مُجھے خُون کے جُرم سے نَجات بخش دیں، اَور میری زبان آپ کی راستبازی کا نغمہ گائے گی۔
PSA 51:15 اَے خُداوؔند، میرے لبوں کو کھول دیں، اَور میرے مُنہ سے آپ کی سِتائش نکلے گی۔
PSA 51:16 قُربانی سے آپ خُوش نہیں ہوتے، ورنہ میں اُسے پیش کرتا، اَور سوختنی نذروں میں بھی آپ کی خُوشی نہیں ہوتی۔
PSA 51:17 شکستہ رُوح کی قُربانی آپ کی حُضُوری میں قابل قبُول ہے؛ شکستہ اَور تائب دِل کو، اَے خُدا، آپ حقیر نہ جانیں گے۔
PSA 51:18 اَپنے کرم کے مُطابق صِیّونؔ کو آسُودہ کریں، اَور یروشلیمؔ کی فصیلوں کی اَز سرِ نَو تعمیر کریں۔
PSA 51:19 تَب صداقت کی قُربانیاں آپ کو فرحت بخشنے کے لیٔے پُوری سوختنی نذریں پیش کی جایٔیں گی؛ اَور آپ کے مذبح پر بَیل چڑھائے جایٔیں گے۔
PSA 52:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا مشکیل۔‏ جَب دوئیگؔ اِدُومی نے جا کر شاؤل کو بتایا، ”داویؔد احِیملکؔ کے گھر میں ٹھہرے ہیں۔“ اَے زبردست اِنسان، آپ بدی پر فخر کیوں کرتے ہیں؟ تُم جو خُدا کی نظر میں ذلیل ہو، دِن بھر شیخی کیوں بگھارتے ہو؟
PSA 52:2 اَے دغاباز تمہاری زبان محض تباہی کے منصُوبے بناتی ہے، وہ ایک تیز اُسترے کی مانند ہے۔
PSA 52:3 تُم نیکی کی بہ نِسبت بدی کو، اَور سچّائی کی بہ نِسبت جھُوٹ کو زِیادہ عزیز رکھتے ہو
PSA 52:4 اَے دغاباز زبان، تُو ہر ضرر رساں بات کو پسند کرتی ہے۔
PSA 52:5 یقیناً خُدا تُجھے ہمیشہ کے لیٔے برباد کر ڈالیں گے؛ وہ تُمہیں تمہارے خیمہ میں سے پکڑکر نکال دیں گے؛ اَور تُجھے زندوں کی زمین سے اُکھاڑ ڈالیں گے۔
PSA 52:6 راستباز اُسے دیکھ کر ڈر جایٔیں گے؛ اَور یہ کہہ کر اُس پر ہنسیں گے:
PSA 52:7 ”دیکھو، یہ وُہی آدمی ہے جِس نے خُدا کو اَپنی محکم قلعہ بنانے کی بجائے اَپنی دولت کی فراوانی پر بھروسا کیا اَور دُوسروں کو تباہ کرکے خُود مضبُوط بَن گیا!“
PSA 52:8 لیکن مَیں زَیتُون کے اُس درخت کی مانند ہُوں جو خُدا کے گھر میں سرسبز و شاداب رہتاہے؛ میں خُدا کی لافانی مَحَبّت پر ابدُالآباد تک بھروسا رکھتا ہُوں۔
PSA 52:9 خُدا، آپ ہی نے جو کچھ کیا ہے اُس کے لیٔے میں ہمیشہ آپ کی سِتائش کرتا رہُوں گا؛ مُجھے آپ کے ہی نام کی آس ہوگی۔ اَور مَیں آپ کے مُقدّسین کے سامنے آپ کے نام کی خوبیاں بَیان کروں گا۔
PSA 53:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ ماحلتھ‏ کے سُرپر مَبنی داویؔد کا مشکیل۔‏ احمق اَپنے دِل میں کہتاہے، ”کویٔی خُدا ہے ہی نہیں۔“ وہ سبھی بگڑ گیٔے ہیں اَور اُن کی روِشیں نہایت شرمناک ہیں؛ اُن میں کویٔی نہیں جو نیکی کرتا ہو۔
PSA 53:2 خُدا آسمان پر سے نیچے بنی آدمؔ پر نگاہ کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ کویٔی دانشمند اَور کویٔی خُدا کا طالب ہے یا نہیں۔
PSA 53:3 وہ سَب کے سَب خُدا سے گُمراہ ہو گئے، اَور سَب ایک ساتھ بگڑ گیٔے؛ اُن میں کویٔی بھی اِنسان نہیں جو نیکی کرتا ہو، ایک بھی نہیں۔
PSA 53:4 خُدا پُوچھتے ہیں کیا بدکار یہ کبھی نہ سیکھیں گے؟ جو میری اُمّت کو اَیسے کھا جاتے ہیں جَیسے اِنسان روٹی کھاتا ہے اَورجو خُدا کا نام کبھی نہیں لیتے۔
PSA 53:5 لیکن وہاں اُن پر بےحد خوف طاری ہو گیا، جہاں ڈرنے کی کویٔی بات ہی نہ تھی۔ خُدا نے تمہارا محاصرہ کرنے والوں کی ہڈّیاں بِکھیر دیں؛ تُم نے اُنہیں شرمندہ کر دیا کیونکہ خُدا نے اُنہیں ذلیل کیا۔
PSA 53:6 کاش کہ اِسرائیل کی نَجات صِیّونؔ میں سے ہوتی! جَب خُدا اَپنے لوگوں کو بحال کریں گے، تَب یعقوب خُوش اَور اِسرائیل شادمان ہوگا!
PSA 54:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ تاردار سازوں کے ساتھ۔ داویؔد کا مشکیل۔‏ جَب زِیفیوں نے جا کر شاؤل سے کہا کہ کیا، ”داویؔد ہمارے درمیان پناہ لئے ہُوئے نہیں؟“ اَے خُدا، اَپنے نام کے وسیلہ سے مُجھے بچائیں؛ اَپنی قُدرت سے میرا اِنصاف کریں۔
PSA 54:2 اَے خُدا، میری دعا سُن لیں؛ میرے مُنہ کی باتوں پر کان لگائیں۔
PSA 54:3 میرے بیگانے میرے خِلاف اُٹھے ہیں؛ سنگدل لوگ میری جان کے خواہاں ہیں، اَیسے لوگ جو خُدا کا کویٔی لحاظ نہیں کرتے۔
PSA 54:4 یقیناً خُدا ہی میرے مددگار ہیں؛ خُداوؔند ہی ہیں جو میری جان کو سنبھالتے ہیں۔
PSA 54:5 جو مُجھ پر تہمت لگاتے ہیں اُن کی بُرائی اُن ہی پر لَوٹا دیں؛ خُدا اَپنی صداقت کے مُطابق اُنہیں تباہ کر دیں۔
PSA 54:6 مَیں آپ کی خاطِر رضا کی قُربانی چڑھاؤں گا؛ اَے یَاہوِہ، مَیں آپ کے نام کی سِتائش کروں گا، کیونکہ وہ خُوب ہے۔
PSA 54:7 کیونکہ اُنہُوں نے مُجھے میری تمام مُصیبتوں سے چھُڑایا ہے، اَور میری آنکھوں نے میرے دُشمنوں کی شِکست دیکھ لی ہے۔
PSA 55:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ تاردار سازوں کے ساتھ۔ داویؔد کا مشکیل۔‏ اَے خُدا، میری دعا پر کان لگائیں، میری مِنّت کو نظرانداز نہ کریں؛
PSA 55:2 میری سُنیں اَور مُجھے جَواب دیں۔ میرے اَندیشے مُجھے پریشان کرتے ہیں اَور مَیں مُضطرب ہُوں
PSA 55:3 میرے دُشمنوں کا کہرام، اَور بدکار لوگوں کے گھُورنے کے سبب سے؛ کیونکہ وہ مُجھے اَذیّت پہُنچاتے اَور غُصّہ میں بُرا بھلا کہتے ہیں۔
PSA 55:4 میرا دِل اَندر ہی اَندر بیتاب ہے؛ اَور موت کی ہیبت مُجھ پر طاری ہے۔
PSA 55:5 خوف اَور کپکپی نے مُجھے پکڑ لیا ہے؛ اَور دہشت سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔
PSA 55:6 مَیں نے کہا: ”کاش کہ میرے کبُوتر کے سے پر ہوتے! تو میں اُڑ جاتا اَور آرام پاتا۔
PSA 55:7 میں اُڑتے اُڑتے دُور نکل جاتا، اَور بیابان میں بسیرا کرتا؛
PSA 55:8 اَور آندھی اَور طُوفان سے دُور، اَپنے لیٔے پناہ گاہ ڈھونڈ لیتا۔“
PSA 55:9 اَے خُداوؔند، بدکار لوگوں کو دَرہم برہم کر دیں اَور اُن کی زبان میں اِختلاف ڈال دیں، کیونکہ مَیں شہر میں ظُلم و فساد ہوتا دیکھ رہا ہُوں۔
PSA 55:10 وہ دِن رات اُس کی فصیلوں پر گشت لگاتے ہیں؛ کینہ، بدسلُوکی اُن کے اَندر ہے۔
PSA 55:11 شہر میں تخریبی عناصر کار فرما ہیں؛ دھمکیاں اَور فریب اُن کے کوچوں سے دُور نہیں ہوتے۔
PSA 55:12 اگر کویٔی دُشمن میری توہین کرتا، تو میں اُسے برداشت کر لیتا؛ اگر کویٔی حریف میرے خِلاف سَر اُٹھاتا، تو میں اُس سے چھُپ جاتا۔
PSA 55:13 لیکن وہ تو آپ ہی تھے میری طرح ایک اِنسان، میرے رفیق اَور میرے دِلی دوست،
PSA 55:14 جِس کی شیریں گفتگو سے میں اُس وقت لُطف اَندوز ہوتا تھا جَب ہم ہُجوم کے ساتھ خُدا کے گھر میں پرستاروں کے ساتھ پھرتے تھے۔
PSA 55:15 میرے دُشمنوں کو موت اَچانک آ دبائے؛ اَور وہ جیتے جی ہی پاتال میں اُتار دئیے جایٔیں، کیونکہ بدی اُن کے اَندر سکونت پذیر ہے۔
PSA 55:16 لیکن مَیں خُدا کو مدد کے لئے پُکارتا ہُوں، اَور یَاہوِہ مُجھے بچاتے ہیں۔
PSA 55:17 صُبح، شام اَور دوپہر کو میں درد سے کراہتا اَور فریاد کرتا ہُوں، اَور وہ میری آواز سُنتے ہیں۔
PSA 55:18 میرے خِلاف جنگ کرنے والوں سے اُنہُوں نے مُجھے سلامت چھُڑا لیا، حالانکہ میرے مُخالف بہت ہیں۔
PSA 55:19 خُدا جو اَبد تک تخت نشین، سُنیں گے اَور اُنہیں ذلیل کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اَپنی روِشیں کبھی نہیں بدلتے اَور خُدا کا خوف نہیں رکھتے۔
PSA 55:20 میرا ساتھی ہی اَپنے دوستوں پر حملہ کرتا ہے؛ اَور اَپنے عہد سے دست بردار بھی ہوتاہے۔
PSA 55:21 اُس کی تقریر مکھّن کی مانند چکنی ہے، تو بھی اُس کے دِل میں جنگ ہے؛ اُس کی باتیں تیل سے زِیادہ تسکین بخش ہیں، مگر وہ ننگی تلواریں ہیں۔
PSA 55:22 اَپنی فکریں یَاہوِہ پر ڈال دو اَور وہ تُمہیں سنبھالیں گے؛ وہ صادق کو کبھی گرنے نہ دیں گے۔
PSA 55:23 لیکن اَے خُدا آپ، بدکاروں کو ہلاکت کے گڑھے میں اُتاریں گے؛ خُونخوار اَور دغاباز لوگ اَپنی آدھی عمر بھی جی نہ پائیں گے۔ پر میں تو آپ ہی پر بھروسا رکھوں گا۔
PSA 56:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے ”دُور بلُوطوں پر فاختہ یا کبُوتری“ کے سُرپر مَبنی داویؔد کا زبُور۔ مِکتام‏ جَب فلسطینیوں نے اُنہیں گاتؔھ میں گرفتار کیا ہُوا تھا۔ اَے خُدا، مُجھ پر رحم کریں کیونکہ لوگ شِدّت سے میرا تعاقب کرتے ہیں؛ وہ دِن بھر اَپنا حملہ جاری رکھتے ہیں۔
PSA 56:2 میرے دُشمن دِن بھر میرا تعاقب کرتے ہیں؛ اَیسے مغروُر لڑنے والوں کی تعداد بہت زِیادہ ہے۔
PSA 56:3 جَب مُجھ پر دہشت طاری ہوگی، تو مَیں آپ پر توکّل کروں گا۔
PSA 56:4 اُس خُدا پر جِس کا وعدہ میرے لیٔے باعثِ تعریف ہے، اُسی خُدا پر میں توکّل کرتا ہُوں اِس لیٔے مُجھے دہشت نہ ہوگی۔ فانی اِنسان میرا کیا بِگاڑ سَکتا ہے؟
PSA 56:5 دِن بھر وہ میری باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں؛ وہ ہمیشہ مُجھے نُقصان پہُنچانے کے درپے رہتے ہیں۔
PSA 56:6 وہ ساز باز کرکے میری گھات میں بیٹھتے ہیں، اَور میرے ہر قدم پر نگاہ رکھتے ہیں، کیونکہ وہ میری جان کے خواہاں ہیں۔
PSA 56:7 اُن کی بدکاری سے اُنہیں ہرگز بچ کر نکلنے نہ دینا؛ اَے خُدا، اَپنے قہر میں اُمّتوں کو زوال سے دوچار کریں۔
PSA 56:8 میرے نالوں کو لِکھ لے؛ میرے آنسُوؤں کو اَپنے طُومار میں درج کر لیں۔ کیا آپ اُن کا حِساب نہیں رکھتے؟
PSA 56:9 جَب مَیں مدد کے لیٔے آپ کو پُکاروں گا تو میرے دُشمن پسپا ہو جایٔیں گے۔ تَب میں جان لُوں گا کہ خُدا میری طرف ہیں۔
PSA 56:10 خُدا کا وعدہ میرے لیٔے باعثِ فخر ہے، میں یَاہوِہ کے کلام کی تعریف کرتا ہُوں۔
PSA 56:11 اِسی خُدا پر میرا توکّل ہے اِس لیٔے میں نہ ڈروں گا، اِنسان میرا کیا بِگاڑ سَکتا ہے؟
PSA 56:12 اَے خُدا، مَیں نے آپ کی مَنّتیں مانی ہیں؛ میں اَپنی شُکر گُزاری کے نذرانے آپ کے حُضُور پیش کروں گا۔
PSA 56:13 کیونکہ آپ نے میری جان کو موت سے میری حِفاظت کی، اَور میرے پاؤں کو پھسلنے سے بچایا ہے، تاکہ میں خُدا کے سامنے زندگی کے نُور میں چلُوں۔
PSA 57:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ ”التشخیتھ“ کے سُرپر مَبنی داویؔد کا زبُور۔ مِکتام‏‏ جَب وہ شاؤل سے بچ کر غار میں چھُپے ہُوئے تھے۔ مُجھ پر رحم کریں اَے خُدا، مُجھ پر رحم کریں، کیونکہ آپ میں میری جان پناہ لیتی ہے۔ جَب تک آفت ٹل نہ جائے مَیں آپ کے پروں کے سایہ میں پناہ لُوں گا۔
PSA 57:2 مَیں خُداتعالیٰ سے فریاد کرتا ہُوں، اُس خُدا سے جو مُجھے بے قُصُور ٹھہراتا ہے۔
PSA 57:3 وہ آسمان سے جَواب دیں گے اَور مُجھے بچا لیں گے، اَورجو مُجھے ستاتے ہیں اُنہیں تنبیہ کرتے ہیں؛ خُدا اَپنی شفقت و مَحَبّت اَور صداقت بھیجتے ہیں۔
PSA 57:4 میں شیر ببروں کے درمیان ہُوں، میں بھُوکے درندوں کے درمیان پڑا ہُوا ہُوں۔ یعنی اَیسے اِنسانوں کے درمیان جِن کے دانت گویا نیزے اَور تیر ہیں، اَور جِن کی زبانیں تیز تلواروں کی مانند ہیں۔
PSA 57:5 اَے خُدا آپ آسمان کے اُوپر سرفراز ہوں؛ آپ کا جلال ساری زمین پر ہو۔
PSA 57:6 میرے دُشمنوں نے میرے پاؤں کے لیٔے جال پھیلایا ہے۔ میری کمر درد کے مارے جھُک گئی ہے۔ اُنہُوں نے میری راہ میں گڑھا کھودا تھا، لیکن وہ خُود اُس میں گِر گیٔے۔
PSA 57:7 میرا دِل ثابت قدم ہے اَے خُدا، میرا دِل ثابت قدم ہے؛ میں گاؤں گا اَور نغمہ سرائی کروں گا۔
PSA 57:8 اَے میری جان بیدار ہو! اَے بربط اَور سِتار بیدار ہو! میں صُبح کو بیدار کر دُوں گا۔
PSA 57:9 اَے خُداوؔند، میں قوموں میں آپ کی سِتائش کروں گا؛ اَور مُختلف مُلکوں میں آپ کی حَمد کروں گا۔
PSA 57:10 کیونکہ آپ کی شفقت و مَحَبّت آسمانوں سے بھی بُلند ہے؛ اَور آپ کی صداقت فَضا تک پہُنچتی ہے۔
PSA 57:11 اَے خُدا آپ آسمان کے اُوپر سرفراز ہوں؛ اَور آپ کا جلال ساری زمین پر ہو۔
PSA 58:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ ”التشخیتھ“ کے سُرپر مَبنی داویؔد کا زبُور۔ مِکتام‏ کی تصنیف۔ اَے حُکمرانو! کیا تُم واقعی راست گو ہو؟ کیا تُم اِنسانوں میں دیانتداری سے اِنصاف کرتے ہو؟
PSA 58:2 نہیں! بَلکہ تُم اَپنے دِل میں بےاِنصافی کو جگہ دیتے ہو، اَور تمہارے ہاتھ زمین پر تشدّد پھیلاتے ہیں۔
PSA 58:3 بدکار لوگ پیدائش ہی سے گُمراہ ہو جاتے ہیں؛ ماں کے پیٹ سے ہی جھُوٹ پھیلا کر راہ سے بھٹک جاتے ہیں۔
PSA 58:4 اُن کا زہر سانپ کے زہر کی مانند ہوتاہے، اُس ناگ کے زہر کی طرح جو اَپنے کان بند کر لیتا ہے،
PSA 58:5 اَور سپیرے کی بین کی طرف توجّہ ہی نہیں دیتا، خواہ وہ دلفریبی ہو اَور کتنی ہی مہارت کیوں نہ رکھتا ہو۔
PSA 58:6 اَے خُدا، اُن کے مُنہ کے دانت توڑ دیں؛ اَے یَاہوِہ، اُن شیر ببروں کی داڑھیں ریزہ ریزہ کر دیں!
PSA 58:7 اُنہیں بہتے ہُوئے پانی کی مانند غائب کر دیں؛ اَور جَب وہ کمان کھینچیں تو اُن کے تیر کُند ہو جایٔیں۔
PSA 58:8 گھُونگے کے مانند جو چلتے چلتے پگھل جاتا ہے، یا عورت کے ساقط حَمل کی مانند وہ بھی سُورج کی رَوشنی نہ دیکھ پائیں۔
PSA 58:9 اِس سے پہلے کہ تمہاری ہڈّیوں کو کانٹوں کی آنچ لگے۔ خواہ وہ ہرے ہوں یا خشک۔ بگُولا اُنہیں اُڑا لے جائے۔
PSA 58:10 راستباز اِس اِنتقام سے خُوش ہوں گے، اَور اَپنے پاؤں بدکاروں کے خُون میں دھولیں گے۔
PSA 58:11 تَب لوگ کہیں گے، ”یقیناً راستباز اَب بھی اجرپاتے ہیں؛ بے شک خُدا ہے جو زمین پر اِنصاف کرتا ہے۔“
PSA 59:1 موسیقی ہدایت کار کے لئے۔ ”التشخیتھ“ کے سُرپر مَبنی داویؔد کا مِکتام‏ کی تصنیف۔ جَب شاؤل نے لوگوں کو داویؔد کے گھر کو گھیر لینے کے لیٔے بھیجا تاکہ اُنہیں ہلاک کر دیا جائے۔ اَے خُدا، مُجھے میرے دُشمنوں سے رِہائی بخشیں؛ میرے خِلاف اُٹھنے والوں سے میری حِفاظت کریں۔
PSA 59:2 مُجھے بدکرداروں سے چھُڑائیں اَور خُونخوار آدمیوں سے بچائیں۔
PSA 59:3 دیکھو، وہ کیسے مُجھے ہلاک کرنے کی تاک میں بیٹھے ہیں! اَے یَاہوِہ، مَیں نے کویٔی خطا یا گُناہ نہیں کیا تو بھی خُونخوار لوگ میرے خِلاف سازش کر رہے ہیں۔
PSA 59:4 مَیں نے کویٔی قُصُور نہیں کیا تو بھی وہ مُجھ پر حملہ کرنے کے لیٔے تیّار بیٹھے ہیں۔ میری مدد کے لیٔے اُٹھیں، میری حالت دیکھیں!
PSA 59:5 اَے قادرمُطلق یَاہوِہ خُدا، اِسرائیل کے خُدا، سَب قوموں کو سزا دینے کے لیٔے جاگیں؛ کسی بھی بدکار دغاباز پر رحم نہ کریں۔
PSA 59:6 میرے دشمن شام کو کُتّوں کی مانند غرّاتے ہُوئے لَوٹ آتے ہیں، اَور شہر کے گِرد گشت لگاتے ہیں۔
PSA 59:7 دیکھو، وہ اَپنے مُنہ سے کیا اُگلتے ہیں، اُن کے لبوں سے تلواریں نکلتی ہیں، وہ اَپنے آپ سے کہتے ہیں، ”اَب کویٔی سُننے والا نہیں؟“
PSA 59:8 لیکن اَے یَاہوِہ، آپ اُن پر قہقہہ لگائیں؛ آپ اُن سَب قوموں کا مضحکہ اُڑائیں۔
PSA 59:9 اَے میری قُوّت! مُجھے آپ کی ہی آس ہے؛ اَے خُدا، آپ میرا قلعہ ہیں،
PSA 59:10 میرے خُدا، میرے حبیب۔ خُدا میرے آگے آگے چلیں گے، اَور مُجھ پر بہتان باندھنے والوں پر مُجھے خُوش ہونے کا موقع دیں گے۔
PSA 59:11 لیکن اَے خُداوؔند، اَے ہماری سِپر، اُنہیں قتل نہ کریں، کہیں اَیسا نہ ہو کہ میرے لوگ بھُول جائیں۔ بَلکہ اَپنی قُدرت سے اُنہیں مُنتشر کر دیں اَور اُنہیں پست کر دیں۔
PSA 59:12 تاکہ اَپنے مُنہ کے گُناہوں، اَور اَپنے لبوں کے کلام کے باعث، وہ اَپنے غُرور میں پکڑے جایٔیں۔ اُن کی لعنت اَور دروغ گوئی کے باعث،
PSA 59:13 اُنہیں اَپنے غضب میں فنا کر دیں، یہاں تک کہ وہ نِیست و نابود ہو جایٔیں۔ تَب دُنیا کی اِنتہا تک سَب کو مَعلُوم ہو جائے گا کہ خُدا یعقوب پر حُکمرانی کرتے ہیں۔
PSA 59:14 میرے دشمن شام کو، کُتّوں کی مانند غرّاتے ہُوئے لَوٹ آتے ہیں، اَور شہر کے گِرد گشت لگاتے ہیں۔
PSA 59:15 وہ کھانے کے لیٔے مارے مارے پھرتے ہیں اَور اگر سَیر نہ ہوں تو چیختے چلاّتے ہیں۔
PSA 59:16 لیکن مَیں آپ کی قُدرت کا نغمہ گاؤں گا، اَور صُبح کو آپ کی شفقت و مَحَبّت کا نغمہ گاؤں گا؛ کیونکہ آپ میرا قلعہ ہیں، مُصیبت میں میری پناہ گاہ۔
PSA 59:17 اَے میری قُوّت! مَیں آپ کی مدح سرائی کروں گا؛ کیونکہ اَے خُدا آپ میرا قلعہ ہیں، اَور میرے حبیب خُدا ہیں۔
PSA 60:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ ”شُوشنؔ ایدوتھ“ یعنی شُوشنؔ شہادت کے سُرپر مَبنی داویؔد کا مِکتام‏ کی تصنیف تعلیم کے لیٔے۔ جَب آپ نے ارام نحرائیمؔ یعنی مسوپتامیہؔ اَور ارام ضوباہؔ سے جنگ کی۔ اَور جَب یُوآبؔ نے لَوٹ کر وادی شور میں بَارہ ہزار اِدُومیوں کو ہلاک کیا۔ اَے خُدا، آپ نے ہمیں ردّ کر دیا اَور ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں؛ آپ خفا ہو چُکے ہیں۔ اَب ہمیں بحال کریں!
PSA 60:2 آپ نے زمین کو لرزا دیا ہے اَور اُسے پھاڑ ڈالا ہے؛ اُس کے شگاف بھر دیں کیونکہ وہ تھرتھرا رہی ہے۔
PSA 60:3 آپ نے اَپنے لوگوں کو مایوس کُن لمحے دِکھائے؛ آپ نے ہمیں لڑکھڑا دینے والا انگوری شِیرہ پِلایا۔
PSA 60:4 لیکن جو آپ کا خوف مانتے ہیں اُن کی خاطِر آپ نے ایک پرچم برپا کیا ہے جہاں وہ کمانوں کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے جمع ہو سکیں۔
PSA 60:5 اَپنے داہنے ہاتھ سے ہمیں بچائیں اَور ہماری مدد کریں، تاکہ آپ کے محبُوب رِہائی پائیں۔
PSA 60:6 خُدا نے اَپنے پاک مَقدِس سے فرمایاہے: ”میں فخر و مسرّت کے ساتھ شِکیمؔ کے شہر کو تقسیم کروں گا اَور سُکّوتؔ کی وادی کی پیمائش کروں گا۔
PSA 60:7 گِلعادؔ کا مُلک میرا ہے اَور منشّہ کے مُلک پر بھی میرا حق ہے؛ اِفرائیمؔ کا مُلک میرے سَر کا خُود ہے، یہُوداہؔ کا مُلک میرا عصا ہے۔
PSA 60:8 مُوآب کا مُلک میرا مُنہ دھونے کا طشت ہے، اِدُوم کے مُلک پر میں جُوتا پھینکتا ہُوں؛ اَور فلسطین کے مُلک پر میں فاتحانہ نعرہ مارتا ہُوں۔“
PSA 60:9 مُجھے اُس محکم شہر میں کون پہُنچائے گا؟ اِدُوم کے مُلک تک میری قیادت کون کرےگا؟
PSA 60:10 اَے خُدا، کیا آپ وہ نہیں جِس نے ہمیں ردّ کر دیا ہے اَورجو اَب ہمارے لشکروں کے ساتھ نہیں جاتے؟
PSA 60:11 دُشمن کے خِلاف ہمیں مدد پہُنچائیں، کیونکہ اِنسان کی مدد فُضول ہے۔
PSA 60:12 ہم خُدا کی مدد سے فتح حاصل کریں گے، اَور وُہی ہمارے دُشمنوں کو پامال کریں گے۔
PSA 61:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ تاردار سازوں کے ساتھ۔ داویؔد کا زبُور۔ اَے خُدا، میری فریاد سُنیں؛ میری دعا پر توجّہ فرمائیں۔
PSA 61:2 میرا دِل اَفسُردہ ہوتا جاتا ہے، میں دُنیا کی اِنتہا سے آپ کو پُکارتا ہُوں؛ مُجھے اُس چٹّان پر لےچلیں جو مُجھ سے اُونچی ہے۔
PSA 61:3 کیونکہ آپ میری پناہ گاہ رہے ہیں، اَور دُشمنوں سے بچنے کے لئے ایک مضبُوط بُرج۔
PSA 61:4 میں ہمیشہ کے لیٔے آپ کے خیمہ میں سکونت پزیر ہونے اَور آپ کے پروں کی آڑ میں پناہ لینے کا خواہاں ہُوں۔
PSA 61:5 کیونکہ اَے خُدا، آپ نے میری مَنّتیں سُنی ہیں؛ اَور آپ نے مُجھے اُن لوگوں کی مِیراث عطا فرمائی ہے جو آپ کے نام سے ڈرتے ہیں۔
PSA 61:6 آپ بادشاہ کی عمر کو دراز کر دیں، اَور اُن کو زندگی میں بہت سِی پُشتیں دیکھنے کے مواقع بخشیں۔
PSA 61:7 وہ خُدا کے حُضُور ہمیشہ تخت نشین رہے؛ اَپنی شفقت و مَحَبّت اَور صداقت کو اُن کی حِفاظت کے لیٔے مُہیّا کریں۔
PSA 61:8 تَب میں ہمیشہ تک آپ کے نام کی سِتائش کرتا رہُوں گا اَور روزانہ اَپنی مَنّتیں پُوری کروں گا۔
PSA 62:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ یدُوتونؔ کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ میری جان صِرف خُدا ہی میں تسکین پاتی ہے؛ میری نَجات اُسی سے ہے۔
PSA 62:2 صِرف وُہی میری چٹّان اَور میری نَجات ہیں؛ وہ میرا قلعہ ہیں، مُجھے جنبش نہ ہوگی۔
PSA 62:3 تُم کب تک اَیسے شخص پر حملہ کرتے رہوگے؟ کیا تُم سَب مِل کر اُسے نیچے دھکیل دوگے۔ وہ جو جھکی ہُوئی دیوار اَور گرتی ہُوئی باڑ کی مانند ہے؟
PSA 62:4 وہ تو اُسے اُس کے اُونچے مرتبہ سے گرانے کا مصمّم اِرادہ کر چُکے ہیں؛ وہ جھُوٹ سے خُوش ہوتے ہیں، وہ اَپنے مُنہ سے تو برکت دیتے ہیں، لیکن دِل میں لعنت کرتے ہیں۔
PSA 62:5 اَے میری جان، صِرف خُدا ہی کی آس رکھیں؛ کیونکہ اُسی سے مُجھے اُمّید ہے۔
PSA 62:6 صِرف وُہی میری چٹّان اَور میری نَجات ہیں؛ وہ میرا قلعہ ہیں، مُجھے جنبش نہ ہوگی۔
PSA 62:7 میری نَجات اَور میری عزّت خُدا پر مُنحصر ہے؛ وہ میری مضبُوط چٹّان اَور میری پناہ گاہ ہیں۔
PSA 62:8 اَے لوگو! ہر وقت خُدا پر توکّل کرو؛ اَپنا دِل اُن کے سامنے کھول دو، کیونکہ خُدا ہماری پناہ گاہ ہیں۔
PSA 62:9 ادنیٰ اِنسان دَم بھرکے لیٔے ہیں، اَور اعلیٰ اِنسان جھُوٹے ہیں؛ اگر وہ تمام لوگ ترازو میں تو لے جایٔیں، تو ہلکے پایٔے جاتے ہیں؛ وہ سَب محض سانس کی مانند ہیں۔
PSA 62:10 ظُلم پر توکّل نہ کرو اَور لُوٹے ہُوئے مال پر مت پھُولو؛ خواہ تمہاری دولت بڑھ بھی جائے، اُس پر اَپنا دِل نہ لگاؤ۔
PSA 62:11 خُدا نے ایک بات فرمائی ہے، مَیں نے یہ دو باتیں سُنی ہیں: ”اَے خُدا، آپ جلیلُ القدر ہیں،
PSA 62:12 اَور یہ کہ اَے خُداوؔند، آپ کی لافانی مَحَبّت ہے“؛ یقیناً، ”آپ ہر شخص کو اُس کے اعمال کے مُطابق اجر دیں گے۔“
PSA 63:1 داویؔد کا زبُور۔ جَب وہ یہُوداہؔ کے بیابان میں تھے۔ اَے خُدا، آپ میرے خُدا ہیں، مَیں آپ کو دِل سے ڈھونڈتا ہُوں؛ خشک اَور پیاسی زمین میں جہاں پانی نہیں ہے، میری جان آپ کے لئے پیاسی ہے، اَور میرا جِسم آپ کا مُشتاق ہے۔
PSA 63:2 مَیں نے پاک مَقدِس میں آپ پر نگاہ کی، اَور آپ کی قُدرت اَور آپ کے جلال کو بھی دیکھا۔
PSA 63:3 چونکہ آپ کی شفقت و مَحَبّت زندگی سے بہتر ہے، اِس لیٔے میرے لب آپ کی تمجید کریں گے۔
PSA 63:4 میں عمر بھر آپ کی سِتائش کروں گا، دعا میں اَپنے ہاتھ اُٹھاکر آپ کا نام لیا کروں گا۔
PSA 63:5 میری جان سیر ہوگی جَیسی کہ مُرغّن غِذا سے ہوتی ہے؛ میرے نغمہ زیرِ لب اَور دہن آپ کی حَمد و ثنا کریں گے۔
PSA 63:6 میں اَپنے بِستر پر آپ کو یاد کرتا ہُوں؛ اَور رات کے ایک ایک پہر میں مُجھے آپ کا خیال آتا ہے۔
PSA 63:7 کیونکہ آپ میرے مددگار رہے ہیں، مَیں آپ کے پروں کے سایہ میں نغمہ سِرا ہُوں۔
PSA 63:8 میری جان آپ سے وابستہ ہے؛ اَور آپ کا داہنا ہاتھ مُجھے سنبھالتا ہے۔
PSA 63:9 جو میری جان لینے کے درپے ہیں وہ تباہ ہوں گے؛ اَور وہ زمین کی گہرائی میں اُتر جایٔیں گے۔
PSA 63:10 وہ تلوار کے حوالہ کئے جایٔیں گے، اَور گیدڑوں کا لقمہ بَن جایٔیں گے۔
PSA 63:11 لیکن بادشاہ تو خُدا میں شادمان ہوگا؛ جو خُدا کے نام کی قَسم کھاتے ہیں وہ اُن کی مدح سرائی کریں گے، لیکن جھوٹوں کے مُنہ بند کر دئیے جایٔیں گے۔
PSA 64:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ اَے خُدا، جَب مَیں دعا میں فریاد کروں تو آپ اُسے سُن لیں؛ اَور میری جان کو دُشمن کی دھمکیوں سے بچائے رکھیں۔
PSA 64:2 بدکار لوگوں کی سازش، اَور بدکرداروں کے ہنگامہ سے مُجھے محفوظ رکھیں۔
PSA 64:3 وہ اَپنی زبانوں کو تلوار کی مانند تیز کرتے ہیں اَور اَپنی باتوں کے مہلک تیر چلاتے ہیں۔
PSA 64:4 وہ بے قُصُور اِنسان کو چھُپ کر نِشانہ بناتے ہیں؛ اَور کسی خوف کے بغیر اَچانک وار کرتے ہیں۔
PSA 64:5 وہ بُرے منصُوبے باندھنے میں ایک دُوسرے کو مشتعل کرتے ہیں، اَور اَپنے جال پھیلانے کی باتیں کرتے ہیں؛ اَور خُود سے پُوچھتے ہیں، ”اُنہیں کون دیکھے گا؟“
PSA 64:6 وہ لوگ بُرائی کے منصُوبے بناتے ہیں اَور ایک دُوسرے سے کہتے ہیں، ”ہم نے کیا ہی خُوب منصُوبہ بنایا!“ یقیناً اِنسان کے دِل اَور دماغ بڑے چالاک ہوتے ہیں۔
PSA 64:7 لیکن خُدا اُن پر تیر برسائیں گے؛ اَور وہ ناگہاں زخمی ہو جایٔیں گے۔
PSA 64:8 وہ اُن کی اَپنی زبانوں کو اُن کے خِلاف گویا کرکے اُنہیں برباد کر دیں گے؛ اَور سَب لوگ اُنہیں دیکھ دیکھ کر حقارت سے اَپنے سَر ہلائیں گے۔
PSA 64:9 تمام بنی آدمؔ ڈر جایٔیں گے؛ اَور خُدا کے کاموں کا ذِکر کریں گے اَورجو کچھ خُدا نے کیا ہے اُس پر غوروخوض کریں گے۔
PSA 64:10 راستباز یَاہوِہ میں شادمان ہوں اَور اُس میں پناہ لیں؛ سَب جو راست دِل ہیں اُن کی سِتائش کریں!
PSA 65:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ ایک نغمہ۔ اَے خُدا، صِیّونؔ میں تعریف آپ کی منتظر ہے؛ اَور آپ کے لیٔے ہماری مَنّتیں پُوری کی جایٔیں گی۔
PSA 65:2 اَے دعا کے سُننے والے، سَب لوگ آپ کے پاس آئیں گے۔
PSA 65:3 جَب ہمارے گُناہ ہم پر غالب آ گئے، تَب آپ نے ہماری خطائیں بخش دیں۔
PSA 65:4 مُبارک ہیں وہ لوگ جنہیں آپ چُن کر اَپنے قریب لاتے ہیں، تاکہ وہ آپ کی بارگاہوں میں رہیں! ہم آپ کے گھر کی یعنی آپ کے مُقدّس ہیکل کی نِعمتوں سے سَیر ہو گئے۔
PSA 65:5 آپ ہمیں صداقت کے مُہیب کرشموں سے جَواب دیتے ہیں، اَے ہمارے مُنجّی خُدا، زمین کے سَب کناروں اَور دُور دراز کے سمُندروں پر رہنے والے مُقدّسین کی اُمّید ہیں۔
PSA 65:6 جِس نے اَپنے آپ کو قُوّت سے مُسلّح کرکے، اَپنی قُدرت سے پہاڑ بنائے،
PSA 65:7 جِس نے سمُندر کے شور کو، اَور اُس کی موجوں کے شور کو، اَور قوموں کے ہنگامہ کو موقُوف کر دیا۔
PSA 65:8 دُور دراز علاقوں میں رہنے والے آپ کے حیرت اَنگیز کام دیکھ کر ڈرتے ہیں؛ آپ سُورج کے طُلوع اَور غروب ہونے والے علاقوں کے لوگوں سے شادمانی کے نغمے گانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
PSA 65:9 آپ زمین کا خیال رکھتے ہیں اَور اُسے سیراب کرتے ہیں؛ آپ اُسے خُوب زرخیز بنا دیتے ہیں۔ خُدا کے دریا پانی سے بھرے ہُوئے ہیں تاکہ لوگوں کو اناج مہیا ہو، کیونکہ آپ نے اَیسا ہی حُکم جاری کیا ہے۔
PSA 65:10 آپ اُس کی ریگھاریوں کو سیراب کرتے ہیں اَور اُس کی اُونچی نیچی سطحوں کو ہموار کر دیتے ہیں؛ آپ اُسے بارش سے نرم کرتے ہیں اَور اُس کی فصلوں کو برکت دیتے ہیں۔
PSA 65:11 آپ سال کو اَپنی نِعمتوں کا تاج پہناتے ہیں، اَور تمہاری گاڑیاں فصل کی کثرت سے لدی رہتی ہیں۔
PSA 65:12 بیابان کی چراگاہیں ہری بھری گھاس سے بھر جاتی ہیں؛ اَور پہاڑیاں خُوشی کے لباس سے آراستہ ہیں۔
PSA 65:13 سبزہ زاروں میں بھیڑ بکریوں کے غول پھیلے ہوتے ہیں؛ اَور وادیاں اناج سے ڈھکی ہوتی ہیں؛ وہ خُوشی کے مارے للکارتی اَور نغمہ گاتی ہیں۔
PSA 66:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ ایک نغمہ۔ ایک زبُور۔ اَے ساری زمین کے لوگو، خُوشی کے ساتھ خُدا کے لیٔے نعرہ مارو!
PSA 66:2 اُن کے نام کے جلال کا نغمہ گاؤ؛ اُن کی سِتائش کرتے ہُوئے تمجید کرو!
PSA 66:3 خُدا سے کہو، ”آپ کے کارنامے کیا ہی مُہیب ہیں! آپ کی قُدرت اِس قدر عظیم ہے کہ آپ کے دُشمن آپ کے سامنے عاجزی کرنے لگتے ہیں۔
PSA 66:4 ساری زمین آپ کو سَجدہ کرتی ہے؛ ساری قومیں آپ کے سامنے نغمہ گاتی ہیں اَور آپ کے نام کی سِتائش کرتی ہیں۔“
PSA 66:5 آؤ اَور دیکھو کہ خُدا نے کیا کچھ کیا ہے، بنی آدمؔ کی خاطِر اُن کے کارنامے کس قدر مُہیب ہیں!
PSA 66:6 اُنہُوں نے سمُندر کو خشک زمین میں بدل دیا، اَور وہ دریا میں سے پیدل گزر گئے۔ آؤ ہم اُن میں خُوشی منائیں۔
PSA 66:7 وہ اَپنی قُدرت سے اَبد تک سلطنت کرتے ہیں، اُن کی آنکھیں قوموں پر نگاہ رکھے ہُوئے ہیں۔ لہٰذا بغاوت پر آمادہ لوگ اُن کے خِلاف سرکشی نہ کریں۔
PSA 66:8 اَے سَب قوموں! ہمارے خُدا کی سِتائش کرو، اُن کی تعریف میں تمہاری صدا گونج اُٹھے؛
PSA 66:9 اُنہُوں نے ہماری جانیں بچائی ہیں اَور ہمارے پاؤں کو پھسلنے نہیں دیا۔
PSA 66:10 کیونکہ اَے خُدا، آپ نے ہمیں آزما لیا ہے؛ اَور ہمیں آگ میں تائی ہُوئی چاندی کی مانند پاک کر دیا ہے۔
PSA 66:11 آپ ہمیں قَیدخانہ میں لے آئے اَور ہماری پیٹھ پر بوجھ لاد دئیے۔
PSA 66:12 آپ نے لوگوں کو ہمارے سَر پر سوار کیا اَور ہم آگ اَور پانی میں سے گزرے، لیکن آپ ہمیں اَیسے مقام پر لے آئے جہاں فراوانی ہی فراوانی ہے۔
PSA 66:13 میں سوختنی نذریں لے کر آپ کے ہیکل میں آؤں گا اَور اَپنی وہ مَنّتیں آپ کے لئے پُوری کروں گا۔
PSA 66:14 جِن کا میری مُصیبت کے ایّام میں میرے لبوں نے وعدہ کیا اَورجو میرے مُنہ سے نکلیں،
PSA 66:15 مَیں آپ کے لیٔے موٹے تازہ جانوروں کی سوختنی نذر اَور مینڈھوں کے چڑھاوے؛ اَور بَیل اَور بکرے پیش کروں گا۔
PSA 66:16 اَے خُدا سے ڈرنے والے لوگو! سَب آؤ اَور سُنو؛ تاکہ میں بتاؤں کہ اُنہُوں نے میرے لیٔے کیا کچھ کیا ہے۔
PSA 66:17 مَیں نے اَپنے مُنہ سے اُنہیں پُکارا؛ اُن کی تمجید میری زبان پر تھی۔
PSA 66:18 اگر مَیں بدی کو اَپنے دِل میں رکھتا، تو خُداوؔند میری دعا نہ سُنتے؛
PSA 66:19 لیکن خُدا نے یقیناً سُن لیا ہے؛ اَور میری دعا کی آواز پر توجّہ فرمائی ہے۔
PSA 66:20 مُبارک ہیں خُدا، جنہوں نے نہ تو میری دعا کو ردّ کیا اَور نہ اَپنی شفقت و مَحَبّت سے مُجھے محروم رکھا!
PSA 67:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ تاردار سازوں کے ساتھ۔ ایک زبُور۔ ایک نغمہ۔ خُدا ہم پر مہربانی کریں اَور ہمیں برکت دیں اَور اَپنا چہرہ ہم پر جلوہ گِر فرمائیں،
PSA 67:2 تاکہ آپ کی راہیں زمین پر، اَور آپ کی نَجات تمام قوموں پر ظاہر ہو جائے۔
PSA 67:3 اَے خُدا، اُمّتیں آپ کی سِتائش کریں؛ سَب لوگ آپ کی سِتائش کریں۔
PSA 67:4 اُمّتیں شادمان ہوں اَور خُوشی سے للکاریں، کیونکہ آپ راستی سے لوگوں پر حُکومت کرتے ہیں اَور زمین پر قوموں کی ہدایت کریں گے۔
PSA 67:5 اَے خُدا، اُمّتیں آپ کی سِتائش کریں؛ سَب لوگ آپ کی سِتائش کریں۔
PSA 67:6 تَب زمین اَپنی پیداوار دے گی، اَور خُدا، ہمارے خُدا، ہم پر اَپنی نظرِکرم بنائے رکھیں۔
PSA 67:7 خُدا ہمیں برکت بخشیں گے، اَور زمین کی اِنتہا تک سَب لوگ اُن کا خوف مانیں گے۔
PSA 68:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ ایک نغمہ۔ خُدا اُٹھیں، اُن کے دُشمن پراگندہ ہوں؛ اُن کے مُخالف اُن کے سامنے سے بھاگ جایٔیں۔
PSA 68:2 جِس طرح ہَوا دھوئیں کو اُڑا لے جاتی ہے، وَیسے ہی آپ اُنہیں اُڑا دیں؛ جَیسے موم آگ کے سامنے پگھل جاتا ہے، وَیسے ہی بدکار لوگ خُدا کے سامنے فنا ہو جایٔیں۔
PSA 68:3 لیکن صادق شادمان ہوں اَور خُدا کے سامنے خُوشی منائیں؛ وہ خُوب خُوش اَور مسرُور ہُوں۔
PSA 68:4 خُدا کے لیٔے نغمہ گاؤ، اُن کے نام کی مدح سرائی کرو، اُن کی تعریف کرو جو بادلوں پر سواری کرتے ہیں۔ اُن کا نام یَاہوِہ ہے۔ اَور اُن کے سامنے خُوشی مناؤ۔
PSA 68:5 خُدا اَپنے مُقدّس قِیام میں، یتیموں کا باپ اَور بیواؤں کا مُحافظ ہیں۔
PSA 68:6 خُدا تنہا اِنسان کا گھر بساتے ہیں، اَور قَیدیوں کی نغموں سے قیادت کرتے ہیں؛ لیکن باغی خشک زمین میں رہتے ہیں۔
PSA 68:7 اَے خُدا، جَب آپ اَپنے لوگوں کے آگے آگے چلے، اَور جَب آپ ویرانے میں سے گزرے،
PSA 68:8 تو زمین کانپ اُٹھی، آسمان نے مینہ برسایا، اَور خُدا کے سامنے یعنی کوہِ سِینؔائی کے خُدا، اَور اِسرائیل کے خُدا کے سامنے،
PSA 68:9 اَے خُدا، آپ نے خُوب مینہ برسایا؛ اَور اَپنی تھکی ہوئی مِیراث کو تازگی بخشی۔
PSA 68:10 آپ کی اُمّت اُس مُلک میں بس گئی، اَور اَے خُدا، آپ نے اَپنے فیض سے، مسکینوں کی ضرورتیں پُوری کیں۔
PSA 68:11 خُداوؔند نے جو حُکم دیا، خواتین کی ایک بڑی جماعت نے خُوشخبری کو سُنایا:
PSA 68:12 ”بادشاہ کے دشمن اَور اُن کے لشکر فوراً بھاگ جاتے ہیں؛ اَور لشکرگاہوں میں لوگ مالِ غنیمت تقسیم کرتے ہیں۔
PSA 68:13 جَب تُم بھیڑوں کے باڑوں میں پڑے سو رہے ہوتے ہو، تو میرے کبُوتر کے بازو چاندی سے، اَور اُس کے پر چمکدار سونے سے منڈھے ہوتے ہیں۔“
PSA 68:14 جَب قادرمُطلق خُدا نے بادشاہوں کو مُلک میں پراگندہ کیا، تو یُوں لگا گویا کوہِ ضلمُونؔ پر برف باری ہُوئی ہے۔
PSA 68:15 باشانؔ کے پہاڑ، معبُودوں کے نہایت دلکش پہاڑ ہیں؛ اَور باشانؔ کے پہاڑ بہت اُونچے بھی ہیں۔
PSA 68:16 لیکن اَے اُونچے پہاڑو! تُم اُس پہاڑ پر کیوں حَسد بھری نظر ڈالتے ہو، جسے خُدا نے اَپنی سکونت کے لیٔے اِنتخاب کیا ہے، اَور جہاں یَاہوِہ اَبد تک سکونت پذیر ہوں گے؟
PSA 68:17 خُدا کے رتھ ہزارہا ہیں بَلکہ ہزاروں ہزار ہیں؛ خُداوؔند پاک کوہِ سِینؔائی سے اَپنے مَقدِس میں آئے۔
PSA 68:18 جَب وہ آسمان پر چڑھے، تو قَیدیوں کو اَپنے ساتھ لے گیٔے؛ آپ نے اَپنی اُمّت سے، بَلکہ باغی اِنسانوں سے بھی انعامات قبُول فرمایٔے۔ تاکہ اَے یَاہوِہ، خُدا وہاں سکونت کر سکیں۔
PSA 68:19 یَاہوِہ ہمارے مُنجّی خُداوؔند کی سِتائش ہو، جو روزانہ ہمارے بوجھ اُٹھاتے ہیں۔
PSA 68:20 ہمارے خُدا وہ خُدا ہیں جو بچاتے ہیں؛ موت سے نَجات یَاہوِہ قادر کی طرف سے ملتی ہے۔
PSA 68:21 یقیناً خُدا اَپنے دُشمنوں کے سَر، اَور اُن لوگوں کی بالدار کھوپڑیاں کُچل ڈالیں گے جو مُتواتر گُناہ کرتے رہتے ہیں۔
PSA 68:22 خُداوؔند فرماتے ہیں: ”میں اُنہیں باشانؔ سے لے آؤں گا؛ بَلکہ میں اُنہیں سمُندر کی تہہ سے بھی نکال لاؤں گا،
PSA 68:23 تاکہ تُم اَپنے پاؤں اَپنے مُخالفوں کے خُون میں تر کر سکو، اَور تمہارے کُتّوں کی زبانیں بھی اَپنا حِصّہ پائیں۔“
PSA 68:24 اَے خُدا، آپ کا جلوس سَب کی نگاہ میں ہے، میرے خُدا اَور بادشاہ کی پاک مَقدِس میں تشریف آوری کا جلوس۔
PSA 68:25 موسیقار آگے آگے ہیں اَور سازندے اُن کے پیچھے ہیں؛ اَور اُن کے ساتھ دف بجاتی ہُوئی جَوان لڑکیاں ہیں۔
PSA 68:26 بڑے مجمع میں خُدا کی مدح سرائی کرو؛ اِسرائیل کے مجمع میں یَاہوِہ کو مُبارک کہو۔
PSA 68:27 کہیں بِنیامین کا چھوٹا قبیلہ اُن کی قیادت کر رہاہے، تو کہیں یہُوداہؔ کے اُمرا کا بڑا ہُجوم، اَور کہیں زبُولُون اَور نفتالی کے اُمرا نظر آتے ہیں۔
PSA 68:28 اَے خُدا، اَپنی قُدرت کو ظاہر کریں، اَے خُدا، ہمیں وُہی قُدرت دِکھائیں جِس سے آپ نے اِس سے قبل ہماری مدد کی تھی۔
PSA 68:29 آپ کے یروشلیمؔ کے ہیکل کے سبب سے بادشاہ آپ کی لیٔے عطیات لائیں گے۔
PSA 68:30 نَیستان کے سرکنڈوں کے درمیان حَیوان کو، اَور سانڈوں کے گلّہ کو جو قوموں کے بچھڑوں کے درمیان ہیں، اُن کو دھمکا دیں، تاکہ عاجز ہوکر وہ چاندی کی اینٹیں لائیں۔ اُن قوموں کو پراگندہ کر دیں جو جنگ کا شوق رکھتی ہیں۔
PSA 68:31 مِصر سے سفیر آئیں گے؛ اَور کُوشؔ خُدا کے طابع ہو جائے گا۔
PSA 68:32 اَے زمین کی مملکتو! خُدا کے لیٔے گاؤ، خُداوؔند کی مدح سرائی کرو،
PSA 68:33 جو قدیم آسمانوں پر سواری کرتے ہیں، اَورجو زوردار آواز سے گرجتے ہیں۔
PSA 68:34 خُدا کی قُدرت کا اعلان کرو، جِن کی حشمت اِسرائیل میں، اَور جِن کی قُدرت آسمانوں پر ہے۔
PSA 68:35 اَے خُدا، آپ اَپنے پاک مَقدِس میں مُہیب ہیں؛ اِسرائیل کے خُدا اَپنی اُمّت کو قُوّت اَور طاقت بخشتے ہیں۔ خُدا کی تمجید ہو!
PSA 69:1 اَے خُدا، مُجھے بچا لیں، کیونکہ سیلاب کا پانی میری گردن تک آ پہُنچا ہے۔
PSA 69:2 میں گہری دلدل میں دھنسا جا رہا ہُوں، جہاں پاؤں رکھنے کو جگہ نہیں ہے۔ میں گہرے پانی میں آ پڑا ہُوں؛ اَور سیلاب مُجھے گھیرے ہُوئے ہے۔
PSA 69:3 میں مدد کے لیٔے چلاّتے چلاّتے تھک گیا ہُوں؛ میرا گلا سُوکھ گیا ہے۔ اَور اَپنے خُدا کے اِنتظار میں، میری آنکھیں پتھرا گئی ہیں۔
PSA 69:4 جو مُجھ سے بلاوجہ عداوت رکھتے ہیں اُن کی تعداد میرے سَر کے بالوں سے بھی زِیادہ ہے؛ جو ناحق میرے دُشمن بنے ہُوئے ہیں، اَورجو میری بربادی پرتُلے ہُوئے ہیں وہ بھی بہت ہیں۔ جو مَیں نے نہیں لیا وہ مُجھ سے وصول کیا جاتا ہے۔
PSA 69:5 اَے خُدا، آپ میری حماقت سے واقف ہیں؛ اَور میرا جُرم آپ سے پوشیدہ نہیں ہے۔
PSA 69:6 اَے خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ! آپ کی آس رکھنے والے میری وجہ سے شرمندہ نہ ہوں، اَور اَے اِسرائیل کے خُدا، آپ کے طالب میرے سبب سے پشیمان نہ ہوں۔
PSA 69:7 کیونکہ آپ کی خاطِر مَیں نے ذِلّت برداشت کی، اَور میرے مُنہ پر شرمندگی چھائی ہُوئی ہے۔
PSA 69:8 میں اَپنے اِسرائیلی خاندانی بھائیوں میں اجنبی، اَور اَپنی ہی ماں کے بیٹوں میں بیگانہ ٹھہرا؛
PSA 69:9 آپ کے گھر کی غیرت مُجھے کھائے جاتی ہے، اَور آپ کے ملامت کرنے والوں کی ملامتیں مُجھ پر آ پڑی ہیں۔
PSA 69:10 جَب مَیں روتا اَور روزہ رکھتا ہُوں، تَب بھی مُجھے ذِلّت کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛
PSA 69:11 جَب مَیں ٹاٹ اوڑھتا ہُوں، تو لوگ میرا مضحکہ اُڑاتے ہیں۔
PSA 69:12 شہر کے پھاٹک پر بیٹھنے والے، میرا مذاق اُڑاتے ہیں، اَور مَیں نشہ بازوں کا نغمہ بَن گیا ہُوں۔
PSA 69:13 لیکن اَے یَاہوِہ، میری آپ سے یہ دعا ہے، کہ اَپنی نظرِکرم کے وقت؛ اَور اَے خُدا، اَپنی بڑی شفقت و مَحَبّت کے طفیل، مُجھے جَواب دیں اَور نَجات کا یقین دِلائیں۔
PSA 69:14 مُجھے دلدل میں سے بچا کر نکال لیں، اَور دھنسنے نہ دیں؛ مُجھ سے عداوت رکھنے والو، اَور گہرے پانی سے بچا لیں۔
PSA 69:15 سیلاب مُجھے گھیرے میں نہ لے سکیں اَور نہ گہراؤ مُجھے نگل پایٔے اَور نہ ہی پاتال مُجھے ہڑپ کر سکے۔
PSA 69:16 اَے یَاہوِہ، اَپنی بے پایاں رحمت سے مُجھے جَواب دیں؛ اَور اَپنی بڑی شفقت و مَحَبّت سے میری طرف متوجّہ ہوں۔
PSA 69:17 اَپنے خادِم سے روپوشی نہ کریں؛ مُجھے جلد جَواب دیں کیونکہ مَیں مُصیبت میں ہُوں۔
PSA 69:18 میرے پاس آکر مُجھے رِہائی بخش دیں؛ میرے دُشمنوں سے مُجھے محفوظ رکھیں۔
PSA 69:19 آپ میری ذِلّت، رُسوائی اَور شرمندگی سے واقف ہیں؛ میرے سارے دُشمن آپ کے سامنے ہیں۔
PSA 69:20 ذِلّت کی وجہ سے میرا دِل ٹوٹ گیا ہے اَور مَیں بے یارومددگار ہوکر رہ گیا ہُوں؛ میں کسی ہمدرد کا منتظر تھا لیکن وہاں کویٔی نہ تھا، تسلّی دینے والوں کو بھی ڈھونڈا، لیکن کویٔی نہ مِلا۔
PSA 69:21 اُنہُوں نے میرے کھانے میں پِت مِلا دیا، اَور میری پیاس بُجھانے کے لیٔے مُجھے سِرکہ پِلایا۔
PSA 69:22 اُن کا دسترخوان اُن کے لیٔے ایک پھندا بَن جائے؛ اَور اُن کی اَمن و سلامتی اُن کے لیٔے ایک جال بَن جائے۔
PSA 69:23 اُن کی آنکھوں پر اَندھیرا چھا جائے تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں، اَور اُن کی کمریں ہمیشہ جُھکی رہیں۔
PSA 69:24 اَپنا غضب اُن پر اُنڈیل دیں؛ اَور آپ کا شدید قہر اُن پر آ پڑے۔
PSA 69:25 اُن کا مقام ویران ہو جائے؛ اَور اُن کے خیموں میں بسنے والا کویٔی نہ ہو،
PSA 69:26 کیونکہ جنہیں آپ زخمی کرتے ہیں اُنہیں وہ ستاتے ہیں اَور جنہیں آپ نے اِیذا پہُنچائی اُن کے درد کا چرچا کرتے ہیں۔
PSA 69:27 اُن پر قُصُور پر قُصُور کرنے کے اِلزام لگے؛ اَور اُنہیں اَپنی راستبازی میں شریک نہ ہونے دیں۔
PSA 69:28 اُن کے نام کِتاب حیات میں سے مٹا دئیے جایٔیں اَور وہ صادقوں کے ساتھ مندرج نہ ہوں۔
PSA 69:29 میں درد اَور تکلیف میں ہُوں؛ اَے خُدا، آپ کی نَجات میری حِفاظت کرے۔
PSA 69:30 میں گا کر خُدا کے نام کی سِتائش کروں گا، اَور شُکر گُزاری کے ساتھ اُن کی تمجید کروں گا۔
PSA 69:31 یہ یَاہوِہ کو بَیل سے زِیادہ، بَلکہ سینگوں اَور کھُروں والے بچھڑے کی قُربانی سے بھی زِیادہ پسند آئے گا۔
PSA 69:32 حلیم یہ دیکھ کر خُوش ہوں گے۔ اَے خُدا کے طالبو! تمہارے دِل زندہ رہیں!
PSA 69:33 یَاہوِہ ضروُرت مندوں کی دعا کو سُنتے ہیں، اَور اَپنے اسیروں کی حقارت نہیں کرتے۔
PSA 69:34 آسمان اَور زمین، اَور سمُندر اَورجو کچھ اُن میں چلتے پھرتے ہیں اُن کی سِتائش کریں
PSA 69:35 کیونکہ خُدا صِیّونؔ کو بچائیں گے۔ اَور یہُوداہؔ صُوبہ کے شہروں کو اَز سرِ نَو تعمیر کریں گے۔ تَب لوگ وہاں بسیں گے اَور اُس علاقے پر قابض ہوں گے؛
PSA 69:36 اَور خُدا کے خادِموں کی اَولاد اُن کی وارِث ہوگی، اَور اُن کے نام سے مَحَبّت رکھنے والے اُن میں بسیں گے۔
PSA 70:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ ایک درخواست۔ اَے خُدا، براہِ کرم مُجھے جلد نَجات بخشیں؛ اَے یَاہوِہ، میری مدد کے لیٔے جلد آئیں۔
PSA 70:2 جو میری جان کے درپے ہیں وہ شرمندہ اَور پریشان ہوں؛ اَورجو میری بربادی کے خواہاں ہیں وہ سَب رُسوا ہوکر پسپا کئے جایٔیں۔
PSA 70:3 وہ جو میرے دشمن مُجھ پر، ”آہ! آہ“ کرتے ہیں! وہ سَب اَپنی رُسوائی کے باعث پسپا ہو جایٔیں۔
PSA 70:4 لیکن جو آپ کی جُستُجو میں ہیں آپ میں خُوش و شادمان ہوں؛ اَورجو آپ کی نَجات کے مُشتاق ہیں، وہ ہمیشہ یہ کہا کریں، ”یَاہوِہ عظیم ہیں!“
PSA 70:5 لیکن مَیں تو مسکین اَور مُحتاج ہُوں؛ اَے خُدا میرے پاس جلد آئیں، آپ ہی میرے مددگار اَور میرے چھُڑانے والے ہیں؛ اَے یَاہوِہ، اَب دیر نہ کریں۔
PSA 71:1 اَے یَاہوِہ، مَیں نے آپ میں پناہ لی ہے؛ مُجھے کبھی شرمندہ نہ ہونے دیں۔
PSA 71:2 اَے خُدا اَپنی راستبازی کی خاطِر مُجھے رِہائی بخشیں؛ اَپنا کان میری طرف لگائیں اَور مُجھے بچائیں۔
PSA 71:3 میری پناہ کی چٹّان بنیں، جہاں میں ہمیشہ محفوظ رہ سکوں؛ میری نَجات کا حُکم جاری کریں، کیونکہ آپ میری چٹّان اَور میرا قلعہ ہیں۔
PSA 71:4 اَے میرے خُدا! مُجھے بدکار لوگ کے ہاتھ سے، اَور بدکار اَور ستمگر لوگوں کی گرفت سے رِہائی بخشیں۔
PSA 71:5 کیونکہ اَے یَاہوِہ قادر! آپ ہی میری اُمّید ہیں، اَور لڑکپن سے آپ میرے راز داں رہے ہیں۔
PSA 71:6 پیدائش ہی سے مَیں آپ پر اِعتماد کرتا آیا ہُوں؛ آپ نے مُجھے میری ماں کے رحم سے بحِفاظت پیدا کیا۔ میں ہمیشہ آپ کی سِتائش کرتا رہُوں گا۔
PSA 71:7 میں بہُتوں کے لیٔے باعثِ حیرت ہُوں، لیکن آپ میری محکم پناہ گاہ ہیں۔
PSA 71:8 میرا مُنہ آپ کی سِتائش سے معموُر ہے، اَور وہ دِن بھر آپ کی شوکت بَیان کرتا ہے۔
PSA 71:9 جَب مَیں ضعیف ہو جاؤں تو مُجھے اَپنی نظر سے دُور نہ کردینا؛ اَور جَب مَیں اَپنی قُوّت کھو بیٹھوں تو مُجھے ترک نہ کرنا۔
PSA 71:10 کیونکہ میرے دُشمن میرے خِلاف باتیں کرتے ہیں؛ اَورجو میری جان کی گھات میں ہیں وہ مِل کر سازش کرتے ہیں۔
PSA 71:11 وہ ایک دُوسرے سے کہتے ہیں، ”خُدا نے اُسے ترک کر دیا ہے؛ تعاقب کرکے اُسے پکڑ لو، کیونکہ اُسے کویٔی نہیں چھُڑائے گا۔“
PSA 71:12 اَے خُدا، مُجھ سے دُور نہ رہیں؛ اَے میرے خُدا! میری مدد کے لیٔے جلد آئیں۔
PSA 71:13 مُجھ پر اِلزام لگانے والے شرمندہ ہوکر فنا ہو جایٔیں؛ جو مُجھے نُقصان پہُنچانا چاہتے ہیں؛ ذِلّت اَور رُسوائی کے شِکار ہوں۔
PSA 71:14 لیکن مَیں ہمیشہ اُمّید رکھوں گا؛ اَور آپ کی سِتائش زِیادہ سے زِیادہ کروں گا۔
PSA 71:15 میرا مُنہ آپ کی راستی، اَور نَجات کا تذکرہ دِن بھر کرتا رہے گا، لیکن کس حَد تک اُس کا مُجھے اَندازہ نہیں ہے۔
PSA 71:16 اَے یَاہوِہ قادر، مَیں آپ کے عظیم کارناموں کا ذِکر کروں گا؛ مَیں آپ کی اَور صِرف آپ کی ہی راستبازی کا اعلان کروں گا۔
PSA 71:17 اَے خُدا، لڑکپن ہی سے آپ مُجھے سِکھاتے آئے ہیں، اَور آج کے دِن تک مَیں آپ کے عجِیب کارناموں کا ذِکر کرتا آیا ہُوں۔
PSA 71:18 اِس لیٔے اَے خُدا، جَب مَیں ضعیف ہو جاؤں اَور میرے بال سفید ہو جایٔیں، مُجھے ترک نہ کردینا، جَب تک کہ مَیں آپ کی قُدرت آئندہ پُشت پر، اَور آپ کی عظمت ہر آنے والے پر ظاہر نہ کر دُوں۔
PSA 71:19 اَے خُدا، آپ کی راستبازی آسمان تک پہُنچتی ہے، آپ نے عظیم کارنامے کئے ہیں۔ اَے خُدا، آپ کی مانند کون ہے؟
PSA 71:20 حالانکہ آپ نے مُجھے بہت سِی مُصیبتیں دیکھنے پر مجبُور کیا ہے، تو بھی آپ میری زندگی کو بحال کریں گے؛ اَور زمین کی گہرائیوں میں سے مُجھے پھر اُوپر لے آئیں گے۔
PSA 71:21 آپ میری عزّت بڑھائیں گے اَور مُجھے پھر سے تسلّی دیں گے۔
PSA 71:22 اَے میرے خُدا! آپ کی سچّائی کی خاطِر میں سِتار بجا کر آپ کی مدح سرائی کروں گا؛ اَے اِسرائیل کے مُقدّس خُدا! میں بربط کے ساتھ آپ کی حَمد کروں گا۔
PSA 71:23 جَب مَیں، جِس کا آپ نے فدیہ دیا آپ کی مدح سرائی کروں۔ تو میرے لب خُوشی سے للکاریں گے۔
PSA 71:24 میری زبان دِن بھر آپ کی راستی کے کاموں کا ذِکر کرتی رہے گی۔ کیونکہ میرے بد خواہ شرمندہ اَور رُسوا ہو چُکے ہیں۔
PSA 72:1 شُلومونؔ کا زبُور۔ اَے خُدا، بادشاہ کو اَپنے اِنصاف سے، اَور شہزادہ کو اَپنی راستبازی سے مُزیّن کریں۔
PSA 72:2 وہ راستی سے آپ کے لوگوں کی، اَور اِنصاف سے آپ کے مُصیبت زدہ لوگوں کی عدالت کرےگا۔
PSA 72:3 پہاڑوں سے لوگوں کے لیٔے خُوشحالی کے، اَور پہاڑیوں سے راستی کے پھل پیدا ہوں گے۔
PSA 72:4 لوگوں میں جو مُصیبت زدہ ہیں وہ اُن کے حُقُوق کا تحفُّظ کرےگا، اَور مُحتاجوں کے بچّوں کو بچائے گا؛ اَور ظالِم کو چُورچُور کر دے گا۔
PSA 72:5 جَب تک سُورج اَور چاند قائِم ہیں، آپ کے لوگ پُشت در پُشت آپ کا خوف مانیں گے۔
PSA 72:6 بادشاہ اُس کھیت پر مینہ کی مانند برسے گا جِس کی گھاس کاٹی گئی ہو، اَور اُس بارش کی مانند آئے گا جو زمین کو سیراب کرتی ہے۔
PSA 72:7 اُس کے ایّام میں راستباز سرفراز ہوں گے؛ اَور جَب تک چاند قائِم ہے خُوب خُوشحالی رہے گی۔
PSA 72:8 وہ سمُندر سے سمُندر تک اَور دریائے فراتؔ سے زمین کی اِنتہا تک حُکومت کرےگا۔
PSA 72:9 بیابان کے قبیلے اُس کے آگے جھُکیں گے اَور اُس کے دُشمن خاک چاٹیں گے۔
PSA 72:10 ترشیشؔ اَور دُور دراز کے جزیروں کے بادشاہ اُسے نذرانے پیش کریں گے؛ شیبا اَور سیبا کے بادشاہ اُس کے لیٔے عطیات لائیں گے۔
PSA 72:11 سَب بادشاہ اُس کے آگے سَجدہ کریں گے اَور ساری قومیں اُس کی اِطاعت کریں گی۔
PSA 72:12 بادشاہ فریاد کرنے والے مُحتاجوں، اَور بے یارومددگار مُصیبت کے مارو کو چھُڑائے گا۔
PSA 72:13 وہ کمزوروں اَور مُحتاجوں پر ترس کھائے گا اَور مُحتاجوں کو موت سے بچائے گا۔
PSA 72:14 وہ اُنہیں ظُلم و تشدّد سے رِہائی بخشےگا، کیونکہ اُن کا خُون اُس کی نظر میں نہایت قیمتی ہے۔
PSA 72:15 اُس کی عمر دراز ہو! شیبا کا سونا اُسے دیا جائے۔ لوگ ہمیشہ اُس کے حق میں دعا کرتے رہیں اَور دِن بھر اُسے برکت دیتے رہیں۔
PSA 72:16 مُلک میں ہر طرف کثرت سے اناج ہو؛ پہاڑیوں کی چوٹیوں پر وہ لہلہائے۔ اُس کی پیداوار لبانونؔ کی طرح بڑھے؛ اَور شہری لوگ میدان کی گھاس کی مانند سرسبز رہیں گے۔
PSA 72:17 بادشاہ کا نام اَبد تک مُبارک ہو؛ اَور جَب تک سُورج ہے، وہ بھی قائِم رہے۔ اُس کے ذریعہ سَب قومیں برکت پائیں گی، اَور وہ اُسے مُبارک کہیں گی۔
PSA 72:18 یَاہوِہ خُدا! اِسرائیل کے خُدا کی سِتائش ہو، فقط وُہی عجِیب و غریب کام کرتے ہیں۔
PSA 72:19 بادشاہ کا جلالی نام اَبد تک مُبارک ہو؛ اَور ساری زمین اُن کے جلال سے معموُر ہو۔
PSA 72:20 یِشائی کے بیٹے داویؔد کی دعائیں یہاں ختم ہوتی ہیں۔
PSA 73:1 آسفؔ کا زبُور۔ بے شک خُدا اِسرائیل پر، یعنی پاک دِل والوں پر مہربان ہیں۔
PSA 73:2 لیکن میرے پاؤں پھسلنے ہی والے تھے؛ میرے قدموں کے نیچے کی زمین گویا کھسکنے کو تھی۔
PSA 73:3 کیونکہ جَب مَیں بدکار لوگوں کی خُوشحالی دیکھتا تھا تو مُجھے مغروُروں پر رشک آتا تھا۔
PSA 73:4 وہ کسی قِسم کی کشمش میں مُبتلا نہیں ہوتے؛ اَور اُن کے جِسم تندرست اَور طاقتور ہوتے ہیں۔
PSA 73:5 وہ اُن تکلیفوں سے بَری ہوتے ہیں جو عام آدمی اُٹھاتا ہے؛ اَور اُن پر اِنسانی آفتیں نازل نہیں ہوتیں۔
PSA 73:6 اِس لیٔے غُرور اُن کے گلے کا ہار بَن جاتا ہے؛ اَور وہ ظُلم سے مُلبّس ہو جاتے ہیں۔
PSA 73:7 اُن کی آنکھیں چربی سے پھُولی ہُوئی ہوتی ہیں؛ اَور اُن کے بُرے تصوّرات کی کویٔی حَد نہیں ہوتی۔
PSA 73:8 وہ ٹھٹّا مارتے ہیں اَور دُشمنی کی باتیں کرتے ہیں؛ اَور ضِد میں آکر ظُلم و سِتم کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
PSA 73:9 اُن کے مُنہ آسمان سے باتیں کرتے ہیں، اَور اُن کی زبانیں زمین پر قبضہ جتاتی ہیں۔
PSA 73:10 اِس لیٔے خُدا کے لوگ اُن کی طرف رُجُوع ہوتے ہیں اَور جی بھر کر پانی پیتے ہیں۔
PSA 73:11 بدکار لوگ کہتے ہیں: ”خُدا کو کیسے مَعلُوم ہوگا؟ کیا خُداتعالیٰ کو کچھ علم ہے؟“
PSA 73:12 بدکار لوگ اَیسے ہی ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ بے فکری سے دولت جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
PSA 73:13 مَیں نے تو خوامخواہ اَپنے دِل کو صَاف رکھا؛ اَور خوامخواہ اَپنے ہاتھ بےگُناہ رکھے۔
PSA 73:14 میں دِن بھر آفت میں مُبتلا رہا؛ اَور ہر صُبح سزا پاتا رہا۔
PSA 73:15 اگر مَیں کہتا کہ یُوں کہُوں گا تو مَیں آپ کے فرزندوں کی پُشت کے ساتھ بےوفائی کرتا۔
PSA 73:16 جَب مَیں نے یہ سَب سمجھنے کی کوشش کی، تو یہ میرے لیٔے دشوار ثابت ہُوا
PSA 73:17 یہاں تک کہ میں خُدا کے مَقدِس میں داخل ہُوا؛ تَب کہیں میں اُن بدکاروں کا اَنجام سمجھ سَکا۔
PSA 73:18 یقیناً آپ نے اُنہیں پھسلنی جگہوں میں رکھا ہے؛ اَور اُنہیں گرا کر تباہ کر دیتاہے۔
PSA 73:19 اَچانک ہی وہ کیسے تباہ ہو گئے، اَور دہشت کے باعث بالکُل فنا ہو گئے!
PSA 73:20 جِس طرح کویٔی جاگ اُٹھنے کے بعد خواب کو وہم قرار دیتاہے، اَے خُداوؔند، وَیسے ہی جَب آپ اُٹھیں گے، تو اُن کی صورتیں حقیر جانی جایٔیں گی۔
PSA 73:21 جَب میرا دِل رنجیدہ ہُوا اَور میرا جگر چھِد گیا،
PSA 73:22 میں اَپنے ہوش کھو بیٹھا اَور جاہل تھا؛ مَیں آپ کے سامنے وحشی کی مانند تھا۔
PSA 73:23 تو بھی میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہُوں گا؛ آپ میرا داہنا ہاتھ پکڑکر مُجھے تھامتے ہیں۔
PSA 73:24 آپ اَپنی مصلحت سے میری رہنمائی کرتے ہیں، اَور تَب آخِرکار مُجھے اَپنے جلال میں قبُول فرمائیں گے۔
PSA 73:25 آسمان پر آپ کے سِوا میرا کون ہے؟ اَور زمین پر آپ کے سِوا میں کسی کا مُشتاق نہیں۔
PSA 73:26 خواہ میرا جِسم اَور میرا دِل جَواب دے دیں، تو بھی خُدا ہمیشہ میرے دِل کی قُوّت اَور میرا بَخرہ ہیں۔
PSA 73:27 جو آپ سے دُور رہتے ہیں وہ فنا ہو جایٔیں گے؛ اَورجو آپ سے بےوفائی کرتے ہیں اُن سَب کو آپ ہلاک کر دیتے ہیں۔
PSA 73:28 لیکن میرے لیٔے یہی بہتر ہے کہ میں خُدا کی قربت میں رہُوں، مَیں نے یَاہوِہ قادر کو اَپنی پناہ گاہ بنا لیا ہے؛ مَیں آپ کے سَب کاموں کا بَیان کروں گا۔
PSA 74:1 آسفؔ کا مشکیل۔‏ اَے خُدا، آپ نے ہمیں ہمیشہ کے لیٔے کیوں ترک کر دیا؟ آپ کی چراگاہ کی بھیڑوں پر آپ کا قہر کیوں بھڑک رہاہے؟
PSA 74:2 یاد کریں اَپنی اُمّت کو، جنہیں آپ نے قدیم ہی سے خریدا ہُوا تھا، اَور اَپنی مِیراث کے لوگوں کو جِس کا آپ نے فدیہ دیا تھا۔ اَور اُس صِیّونؔ کے پہاڑ کو جِس پر آپ نے سکونت کی تھی یاد کریں۔
PSA 74:3 اَپنے قدم اُن دائمی کھنڈروں کی طرف موڑیں، یعنی اُن تمام خرابیوں کی طرف جو دُشمن نے پاک مَقدِس میں کی ہیں۔
PSA 74:4 جِس مقام پر آپ ہم سے مِلے وہاں آپ کے مُخالف گرجتے رہے ہیں؛ اُنہُوں نے نِشان کے طور پر اَپنے جھنڈے کھڑے کئے ہیں۔
PSA 74:5 وہ اُن آدمیوں کی مانند ہیں جو گھنے جنگل میں درختوں پر کُلہاڑے چلاتے ہیں۔
PSA 74:6 اُنہُوں نے تمام نقش کاری کو اَپنی کُلہاڑیوں اَور ہتھوڑوں سے توڑ ڈالا۔
PSA 74:7 اُنہُوں نے آپ کے مَقدِس کو آگ سے جَلا کر مِسمار کر دیا؛ اَور آپ کے نام کی قِیام گاہ کو ناپاک کر ڈالا۔
PSA 74:8 اُنہُوں نے اَپنے دِل میں کہا: ”ہم اُنہیں نابود کر دیں گے!“ اَور مُلک کے ہر اُس مقام کو نذرِ آتِش کر دیا جہاں خُدا کی عبادت کی جاتی تھی۔
PSA 74:9 ہمیں کویٔی معجزانہ نِشان نہیں دیا جاتا؛ اَور نہ کویٔی نبی باقی رہا، اَور ہم میں سے کویٔی نہیں جانتا کہ یہ حال کب تک رہے گا۔
PSA 74:10 اَے خُدا، دُشمن کب تک میرا مضحکہ اُڑائے گا؟ کیا مُخالف ہمیشہ آپ کے نام پر کُفر بَکتا رہے گا؟
PSA 74:11 آپ اَپنا ہاتھ اَپنا سیدھا ہاتھ کیوں روکے ہُوئے ہیں؟ اُسے اَپنی بغل سے نکالیں اَور اُنہیں تباہ کریں!
PSA 74:12 لیکن اَے خُدا، آپ عہدِ قدیم سے میرے بادشاہ ہیں؛ آپ زمین پر نَجات کا کام کرتے ہیں۔
PSA 74:13 وہ آپ ہی تھے جِس نے اَپنی قُدرت سے سمُندر کے دو حِصّے کر دئیے؛ آپ نے پانی میں اَژدہوں کے سَر کُچل دئیے۔
PSA 74:14 آپ ہی نے لِویاتان کے سَر کو پاش پاش کر دیا، اَور اُسے بیابان کی مخلُوقات کو خُوراک کے طور پر دے دیا۔
PSA 74:15 یہ آپ ہی تھے جِس نے چشمے اَور نالے کھول دئیے؛ اَور سدا بہنے والی دریاؤں کو خشک کر دیا۔
PSA 74:16 دِن آپ کا ہے اَور رات بھی آپ کی ہے؛ آپ ہی نے سُورج اَور چاند کو قائِم کیا۔
PSA 74:17 زمین کی تمام حُدوُد آپ ہی نے ٹھہرائیں؛ آپ ہی نے گرمی اَور سردی کے موسم بنائے۔
PSA 74:18 اَے یَاہوِہ، یاد رکھیں کہ کس طرح دُشمن نے آپ کا مضحکہ اُڑایا، اَور کس طرح ایک جاہل قوم نے آپ کے نام کی بےحُرمتی کی۔
PSA 74:19 اَپنی فاختہ کی جان جنگلی درندوں کے حوالہ نہ کریں؛ اَور اَپنے دکھیاروں کی جان کو ہمیشہ کے لیٔے فراموش نہ کریں۔
PSA 74:20 اَپنے عہد کا لحاظ رکھیں، کیونکہ مُلک کے تاریک مقامات ظُلم و تشدّد کے اڈّے بَن چُکے ہیں۔
PSA 74:21 مظلوم کو شرمندہ ہوکر لوٹنے نہ دیں؛ مسکین اَور مُحتاج آپ کے نام کی سِتائش کریں۔
PSA 74:22 اَے خُدا، اُٹھیں اَور اَپنا مُقدّمہ آپ ہی لڑیں؛ یاد کریں کہ احمق دِن بھر کس طرح آپ کا مضحکہ اُڑاتے ہیں۔
PSA 74:23 اَپنے مُخالفوں کا شوروغل، اَور اَپنے دُشمنوں کا غُلغُلہ جو ہمیشہ بُلند ہوتا رہتاہے نہ بھُولیں۔
PSA 75:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ ”التشخیتھ“ کے سُرپر مَبنی آسفؔ کا زبُور۔ ایک نغمہ۔ اَے خُدا، ہم آپ کا شُکر بجا لاتے ہیں، لوگ آپ کے عجِیب کارناموں کا ذِکر کرتے ہیں۔ ہم آپ کا شُکر بجا لاتے ہیں کیونکہ آپ کا نام نزدیک ہے؛
PSA 75:2 آپ کا فرمان ہے: ”میں وقتِ مُعیّن پر؛ راستی سے اِنصاف کرتا ہُوں۔
PSA 75:3 جَب زمین اَور اُس کے سَب لوگ تھرتھرانے لگتے ہیں، تَب میں ہی اُس کے سُتونوں کو مضبُوطی سے قائِم رکھتا ہُوں۔
PSA 75:4 مغروُروں سے کہتا ہُوں، ’اَب اَور شیخی نہ بگھارو،‘ اَور بدکار لوگوں سے کہتا ہُوں، ’اَپنے سینگ اُونچے نہ کرو۔
PSA 75:5 اَپنے سینگ خُداتعالیٰ کے خِلاف نہ اُٹھاؤ؛ اَور گردن کشی سے بات نہ کرو۔‘ “
PSA 75:6 اِنسان کو نہ تو کویٔی مشرق سے اَور نہ مغرب سے اَور نہ ہی بیابان سے سرفراز کر سَکتا ہے۔
PSA 75:7 بَلکہ خُدا ہی اِنصاف کرتا ہے؛ وہ کسی کو پست کرتا ہے اَور کسی کو سرفراز۔
PSA 75:8 یَاہوِہ کے ہاتھ میں پیالہ ہے جو مَسالہ مِلا ہُوا جھاگ والے انگوری شِیرہ سے بھرا ہُواہے؛ وہ اُسے اُنڈیلتا ہے اَور دُنیا کے تمام بدکار لوگ اُسے اُس کی تلچھٹ تک پی جاتے ہیں۔
PSA 75:9 میں ہمیشہ یہ اعلان کرتا رہُوں گا؛ میں یعقوب کے خُدا کی مدح سرائی کروں گا۔
PSA 75:10 مَیں، ”تمام بدکار لوگوں کے سینگ کاٹ ڈالوں گا، لیکن صادقوں کے سینگ اُونچے کئے جایٔیں گے۔“
PSA 76:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ تاردار سازوں کے ساتھ۔ آسفؔ کا زبُور۔ ایک نغمہ۔ خُدا یہُوداہؔ میں مشہُور ہے؛ اُن کا نام اِسرائیل میں عظیم ہے۔
PSA 76:2 اُن کا خیمہ شالمؔ میں، اَور اُن کی قِیام گاہ صِیّونؔ میں ہے۔
PSA 76:3 وہاں اُنہُوں نے چمکدار تیروں کو، اَور ڈھالوں، تلواروں اَور اسلحہ جنگ کو توڑ ڈالا۔
PSA 76:4 آپ جلال سے مُنوّر ہیں، اَور اُن پہاڑوں سے بھی زِیادہ دلکش ہے جو شِکار کئے جانے والے جانوروں سے بھرے پڑے ہیں۔
PSA 76:5 سُورما فَوجی لُٹ گیٔے، اَور اَپنی آخِری نیند سو رہے ہیں؛ سُورماؤں میں سے کسی کا ہاتھ بھی کام نہیں کرتا۔
PSA 76:6 اَے یعقوب کے خُدا! آپ کی ڈانٹ سے، گھوڑے اَور رتھ، دونوں بے حس و حرکت پڑے ہیں۔
PSA 76:7 صِرف آپ ہی سے ڈرنا چاہئے، اَور جَب آپ خفا ہو تو کون آپ کے سامنے کھڑا رہ سَکتا ہے؟
PSA 76:8 آپ نے آسمان پر سے فیصلہ سُنایا، اَور زمین ڈر کر چُپ ہو گئی۔
PSA 76:9 جَب آپ اَے خُدا، اِنصاف کرنے کے لیٔے اُٹھیں، تاکہ مُلک کے تمام مظلوم بچا لئے جائیں،
PSA 76:10 بے شک اِنسان کے خِلاف آپ کا غضب، آپ کی سِتائش کا باعث بنتا ہے، اَورجو آپ کے غضب سے بچ جاتے ہیں عِبرت حاصل کرتے ہیں۔
PSA 76:11 یَاہوِہ، اَپنے خُدا کے لیٔے مَنّت مانو اَور پُوری کرو؛ اَور اِردگرد کے سَب لوگ اُن کے لیٔے جِن سے ڈرنا واجِب ہے، عطیات لائیں۔
PSA 76:12 خُدا حُکمرانوں کے حوصلے پست کرتے ہیں؛ اَور دُنیا کے بادشاہ اُن کا خوف مانتے ہیں۔
PSA 77:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے؛ یدُوتونؔ کے لیٔے۔ آسفؔ کا زبُور۔ مَیں نے بُلند آواز سے خُدا سے فریاد کی؛ مَیں نے خُدا کو پُکارا کہ وہ میری سُنیں۔
PSA 77:2 جَب مَیں مُصیبت میں مُبتلا ہُوا تو مَیں نے خُداوؔند کی تلاش کی؛ رات کو میں اَپنے ہاتھ پھیلائے رہا جو ڈھیلے نہ ہُوئے اَور میری جان تسکین نہ پا سکی۔
PSA 77:3 اَے خُدا، مَیں نے آپ کو یاد کیا اَور کراہتا رہا؛ واویلا کرتے کرتے میری جان نڈھال ہو گئی ہے۔
PSA 77:4 آپ نے میری آنکھوں کو بند نہیں ہونے دیا؛ مُجھ میں بولنے کی تاب نہ تھی۔
PSA 77:5 میں گذشتہ ایّام، اَور بیتے ہُوئے سالوں کے بارے میں سوچتا رہا؛
PSA 77:6 رات کو مُجھے اَپنے نغمہ یاد آئے، میرا دِل غور کرتا رہا اَور میری رُوح جانچتی رہی:
PSA 77:7 ”کیا خُداوؔند ہمیشہ کے لیٔے ترک کر دیں گے؟ کیا وہ پھر کبھی مہربان نہ ہوں گے؟
PSA 77:8 کیا اُن کی لافانی مَحَبّت ہمیشہ کے لیٔے جاتی رہی؟ کیا اُن کا وعدہ سدا کے لیٔے جھُوٹا ٹھہرا؟
PSA 77:9 کیا خُدا رحم کرنا بھُول گئے؟ کیا اُنہُوں نے قہر میں اَپنی رحمت کو روک لیا ہے؟“
PSA 77:10 تَب مَیں نے خیال کیا، ”مَیں اِس کے لیٔے فریاد کروں گا اَور پُوچھوں گا: کہ خُداتعالیٰ کے داہنے ہاتھ سے جو برکتیں مُجھے سالہا سال ملتی رہیں۔
PSA 77:11 مَیں یَاہوِہ کے کارنامے یاد کروں گا؛ ہاں، مَیں آپ کے قدیم وقتوں کے معجزے یاد کروں گا۔
PSA 77:12 مَیں آپ کے سَب کاموں پر غور کروں گا اَور آپ کے سَب عظیم کارناموں دھیان کروں گا۔“
PSA 77:13 اَے خُدا، آپ کی روِشیں مُقدّس ہیں۔ کون سا معبُود ہمارے خُدا کی مانند عظیم ہے؟
PSA 77:14 آپ وہ خُدا ہیں جو عجِیب کام کرتے ہیں؛ آپ مُختلف قوموں کے درمیان اَپنی قُوّت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
PSA 77:15 آپ نے اَپنے قوی بازو سے اَپنی قوم، یعنی یعقوب اَور یُوسیفؔ کی نَسل کو رِہائی بخشی۔
PSA 77:16 اَے خُدا، سمُندروں نے آپ کو دیکھا، سمُندر آپ کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے؛ اُن کی تہیں کانپ اُٹھیں۔
PSA 77:17 بادلوں نے مینہ برسایا، افلاک گرجنے لگے؛ اَور آپ کے تیر ہر طرف چلے۔
PSA 77:18 بگولے میں سے آپ کی گرج کی آواز آئی، اَور آپ کی برق نے جہاں کو رَوشن کر دیا؛ اَور زمین لرزی اَور کپکپائی۔
PSA 77:19 حالانکہ آپ کا راستہ سمُندر میں سے ہوتا ہُوا گزرا، اَور آپ کی راہیں زورآور سمُندروں میں سے، لیکن آپ کے نقش قدم دِکھائی نہ دئیے۔
PSA 77:20 آپ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کے ذریعہ گلّہ کی مانند اَپنے لوگوں کی رہبری کی۔
PSA 78:1 آسفؔ کا مشکیل۔‏ اَے میری اُمّت! میری تعلیم سُنو؛ میرے مُنہ کے کلام پر کان لگاؤ۔
PSA 78:2 میں تمثیلوں کے لیٔے اَپنا مُنہ کھولوں گا، میں قدیم زمانہ کی پوشیدہ باتیں بتاؤں گا۔
PSA 78:3 جنہیں ہم نے سُنا اَور جان لیا، اَور جنہیں ہمارے آباؤاَجداد نے ہمیں بتایا۔
PSA 78:4 ہم اُنہیں اُن کی اَولاد سے پوشیدہ نہ رکھیں گے؛ بَلکہ آنے والی نَسل کو یَاہوِہ کے قابل تعریف کارناموں، اُن کی قُدرت اَور اُن کے کئے ہُوئے عجِیب کارناموں کے متعلّق سَب کچھ بتا دیں گے۔
PSA 78:5 اُنہُوں نے یعقوب میں قوانین کی گواہی قائِم کی اَور اِسرائیل میں شَریعت مُقرّر کی، جِن کے متعلّق ہمارے آباؤاَجداد کو حُکم دیا کہ وہ اَپنی اَولاد کو اُن کی تعلیم دیں،
PSA 78:6 لہٰذا اگلی پُشت اُنہیں جانے گی، اَور وہ فرزند بھی جانیں گے جو ابھی پیدا ہونے والے ہیں، اَور وہ اُنہیں اَپنی اَولاد کو بتائیں گے۔
PSA 78:7 تَب وہ خُدا پر ایمان لائیں گے اَور اُن کے کارناموں کو فراموش نہ کریں گے، بَلکہ اُن کے اَحکام پر عَمل کریں گے۔
PSA 78:8 وہ اَپنے آباؤاَجداد کی مانند نہ ہوں گے۔ جو ایک ضِدّی اَور باغی پُشت ہے، جِن کا دِل ہی خُدا کا وفادار نہ رہا، اَور نہ اُن کی رُوح۔
PSA 78:9 اِفرائیمؔ کے سپاہیوں نے کمانوں سے مُسلّح ہوتے ہُوئے بھی، لڑائی کے دِن پیٹھ دِکھا دی؛
PSA 78:10 اُنہُوں نے خُدا کے عہد کو قائِم نہ رکھا اَور اُن کے آئین پر چلنے سے اِنکار کیا۔
PSA 78:11 اُنہُوں نے اُن کے حیرت اَنگیز کاموں کو، جو اُنہیں دِکھائے گیٔے تھے، فراموش کر دیا۔
PSA 78:12 اُنہُوں نے اُن کے آباؤاَجداد کی نگاہوں کے سامنے مُلک مِصر اَور ضعنؔ کے علاقے میں عجِیب و غریب کارنامے کئے۔
PSA 78:13 اُنہُوں نے سمُندر کے دو حِصّے کئے اَور اُنہیں پار اُتارا؛ اَور پانی کو دیوار کی مانند کھڑا کر دیا۔
PSA 78:14 اُنہُوں نے دِن کے وقت بادل کے ذریعہ اَور رات کو آگ کی رَوشنی سے اُن کی رہنمائی کی۔
PSA 78:15 اُنہُوں نے بیابان میں چٹّانوں کو چاک کیا اَور اُنہیں سمُندر کی طرح بہتات سے پانی دیا۔
PSA 78:16 اُنہُوں نے چٹّان والی گھاٹی میں ندیاں جاری کیں اَور دریاؤں کی طرح پانی بہایا۔
PSA 78:17 لیکن عِبرانی لوگ اُن کے خِلاف گُناہ کرتے ہی گیٔے، اَور بیابان میں خُداتعالیٰ سے بغاوت کرتے رہے۔
PSA 78:18 اُنہُوں نے اَپنی پسند کی خُوراک مانگ کر جان بوجھ کر خُدا کو آزمایا۔
PSA 78:19 اُنہُوں نے یہ کہتے ہُوئے خُدا کے خِلاف بدگوئی کی؛ کیا خُدا، ”بیابان میں دسترخوان بچھانے پر قادر ہے؟
PSA 78:20 جَب اُنہُوں نے چٹّان کو مارا تو پانی پھوٹ نِکلا، اَور ندیاں کثرت سے بہہ نکلیں۔ لیکن کیا وہ ہمیں روٹی بھی دے سکتے ہیں؟ کیا وہ اَپنے لوگوں کے لیٔے گوشت مہیا کر سکتے ہیں؟“
PSA 78:21 جَب یَاہوِہ نے اُن کی باتیں سُنیں تو وہ نہایت غضبناک ہُوئے؛ لہٰذا یعقوب کے خِلاف اُن کے غُصّہ کی آگ بھڑک اُٹھی، اَور اِسرائیل پر اُن کا قہر ٹوٹ پڑا،
PSA 78:22 کیونکہ وہ خُدا پر ایمان نہ لایٔے اَور اُن کی نَجات پر بھروسا نہ کیا۔
PSA 78:23 تو بھی اُنہُوں نے اُوپر افلاک کو حُکم دیا اَور آسمان کے دروازے کھول دئیے؛
PSA 78:24 اُنہُوں نے اُمّت کے کھانے کے لیٔے مَنّا برسایا، اَور اُنہیں آسمانی خُوراک عنایت فرمائی۔
PSA 78:25 اِنسانوں نے فرشتوں کی غِذا کھائی؛ اَور جِتنی رسد اُنہیں درکار تھی اُتنی بھیج دی۔
PSA 78:26 اُنہُوں نے آسمان میں مشرقی ہَوا چلائی اَور اَپنی قُدرت سے جُنوبی ہَوا چلائی۔
PSA 78:27 اُنہُوں نے خاک کی مانند اُن پر گوشت برسایا، اَور سمُندر کے کنارے کی ریت کی طرح بے شُمار پرندے بھیجے۔
PSA 78:28 خُدا نے اُنہیں اُن کی قِیام گاہ میں، اَور اُن کے خیموں کے اطراف گرا دیا۔
PSA 78:29 اُنہُوں نے جی بھرکے کھایا، کیونکہ اُنہُوں نے اُن کی دِلی تمنّا پُوری کی تھی۔
PSA 78:30 لیکن اِس سے پہلے کہ اُن کا دِل اِس غِذا سے بھرجاتا جِس کے لیٔے وہ ترستے تھے، اَور ابھی وہ اُن کے مُنہ میں ہی تھی،
PSA 78:31 خُدا کا قہر اُن پر بھڑک اُٹھا؛ اَور خُدا نے اُن کے موٹے اَور بھاری بھر کم لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا، اَور اِسرائیلی جَوانوں کو مار گرایا۔
PSA 78:32 اِس کے باوُجُود وہ گُناہ کرتے رہے؛ اَور اُن کے معجزوں کے باوُجُود وہ ایمان نہ لایٔے۔
PSA 78:33 اِس لیٔے خُدا نے اُن کے دِنوں کو رائگاں کر دیا اَور اُن کے سالوں کو دہشت میں گزر جانے دیا۔
PSA 78:34 جَب کبھی خُدا اُنہیں قتل کرتے، وہ خُدا کے طالب ہوتے؛ اَور دِل و جان سے دوبارہ اُن کی طرف رُجُوع کرتے۔
PSA 78:35 اَور اُنہیں یاد آتا کہ خُدا اُن کی چٹّان ہیں، اَور خُداتعالیٰ اُن کے نَجات دِہندہ ہیں۔
PSA 78:36 لیکن تَب وہ اَپنے مُنہ سے اُن کی جھُوٹی خُوشامد کرتے، اَور اَپنی زبان سے اُن سے جھُوٹ بولتے؛
PSA 78:37 اُن کے دِل میں اُن کے لیٔے خُلوص نہ تھا، اَور نہ وہ اُن کے عہد ہی کے وفادار نکلے۔
PSA 78:38 تو بھی خُدا نے رحم کیا، خُدا نے اُن کی بدکاریاں بخش دیں اَور اُنہیں ہلاک نہیں کیا۔ بارہا خُدا نے اَپنے قہر کو روکا اَور اَپنے غضب کو پُورے طور پر بھڑکنے نہ دیا۔
PSA 78:39 خُدا کو یاد تھا کہ وہ محض بشر ہیں، اَور ہَوا کا جھونکا جو واپس نہیں آتا۔
PSA 78:40 کتنی بار ویرانہ میں اُنہُوں نے خُدا سے بغاوت کی اَور صحرا میں اُنہیں آزردہ کیا!
PSA 78:41 اُنہُوں نے بار بار خُدا کو آزمایا؛ اَور اِسرائیل کے مُقدّس خُدا کو رنج پہُنچایا۔
PSA 78:42 اُنہُوں نے خُدا کی قُدرت کو یاد نہ کیا۔ نہ اُس دِن کو جَب خُدا نے فدیہ دے کر اُنہیں ظالِم سے نَجات دِلائی تھی،
PSA 78:43 اَور اُس دِن کو جَب خُدا نے مِصر میں اَپنے معجزانہ نِشان، اَور ضعنؔ کے علاقہ میں اَپنے کارنامے دِکھائے تھے۔
PSA 78:44 خُدا نے مِصریوں کی ندیوں کو خُون بنا دیا؛ اَور وہ اَپنے دریاؤں سے پی نہ سکے۔
PSA 78:45 اُنہُوں نے مکھّیوں کے غول بھیجے جو اُنہیں کھاگئے، اَور مینڈک جنہوں نے اُنہیں تباہ کر دیا۔
PSA 78:46 خُدا نے اُن کی فصل کے کیڑوں کو، اَور اُن کی پیداوار ٹِڈّیوں کو دے دی۔
PSA 78:47 خُدا نے اُن کی انگور کی بَیلوں کو اولے سے اَور اُن کے گُولر کے درختوں کو پالے سے تباہ کر دیا۔
PSA 78:48 اُنہُوں نے اُن کے گھریلو گائے بَیلوں کو اولوں کے حوالہ کیا، اَور اُن کی گھریلو بھیڑ بکریوں کو بجلی کے ذریعہ۔
PSA 78:49 خُدا نے اَپنے غیظ و غضب، طیش اَور عداوت۔ یعنی ہلاکت کے فرشتوں کا لشکر بھیج کر، اَپنا شدید قہر اُن پر نازل کیا۔
PSA 78:50 اُنہُوں نے اَپنے قہر کے لیٔے راستہ بنایا؛ اَور اُنہیں موت سے نہیں بچایا بَلکہ اُنہیں وَبا کے حوالہ کر دیا۔
PSA 78:51 اُنہُوں نے مِصر کے سَب پہلوٹھوں کو، یعنی حامؔ کے خیمہ میں اُن کی قُوّتِ مَردی کے پہلے پھل کو مار ڈالا۔
PSA 78:52 لیکن وہ اَپنے لوگوں کو گلّہ کی مانند نکال لائے؛ اَور بیابان میں اُن کی بھیڑوں کی طرح رہنمائی کی۔
PSA 78:53 وہ اُنہیں سلامتی سے لے گئے اِس لیٔے وہ ڈرے نہیں؛ لیکن اُن کے دُشمنوں کو سمُندر نے ہڑپ کر لیا۔
PSA 78:54 اِس طرح وہ اُنہیں اَپنے مُقدّس مُلک کی سرحد تک لے آئے، یعنی اُس کوہستانی مُلک تک جسے اُن کے داہنے ہاتھ نے حاصل کیا تھا۔
PSA 78:55 اُنہُوں نے دُوسری قوموں کو اُن کے سامنے سے نکال دیا اَور اُن کی زمین اُنہیں مِیراث جریب کے طور پر بانٹ دی؛ اَور اِسرائیلی قبیلوں کو اُن کے خیموں میں بسا دیا۔
PSA 78:56 لیکن اُنہُوں نے خُدا کو آزمایا، اَور خُداتعالیٰ سے بغاوت کی؛ اَور اُن کے قوانین کو نہ مانا۔
PSA 78:57 اَور اَپنے آباؤاَجداد کی طرح بےوفا اَور بےایمان نکلے؛ اَور ایک ناقص کمان کی مانند پلٹ گیٔے۔
PSA 78:58 اُنہُوں نے اَپنے معبُودوں کے لیٔے مذبحے بنانے کے باعث اُنہیں غُصّہ دِلایا؛ اَور اَپنے بُتوں سے اُنہیں غیرت دِلائی۔
PSA 78:59 جَب خُدا نے اُن کی باتیں سُنیں تو وہ نہایت غضبناک ہُوئے؛ اَور اِسرائیل سے متنفّر ہو گئے۔
PSA 78:60 اُنہُوں نے شیلوہؔ کے خیمہ اِجتماع کو ترک کر دیا، یعنی اُس خیمہ کو جو اُنہُوں نے بنی آدمؔ کے درمیان کھڑا کیا تھا۔
PSA 78:61 اُنہُوں نے اَپنی قُوّت کے صندُوق کو اسیری میں، اَور اَپنی شوکت کو دُشمن کے ہاتھ میں جانے دیا۔
PSA 78:62 اُنہُوں نے اَپنے لوگوں کو تلوار کے حوالہ کر دیا؛ اَور وہ اَپنی مِیراث سے نہایت غضبناک ہو گئے۔
PSA 78:63 آگ اُن کے جَوانوں کو کھا گئی، اَور اُن کی کنواریوں کے لیٔے نغماتِ عروسی نہ گائے گیٔے؛
PSA 78:64 اُن کے کاہِنؔ تلوار سے مارے گیٔے، اَور اُن کی بیوائیں ماتم تک نہ کر سکیں۔
PSA 78:65 تَب خُداوؔند گویا نیند سے جاگ اُٹھے، جَیسے ایک آدمی انگوری شِیرہ کی مخموری سے جاگ اُٹھتا ہے۔
PSA 78:66 اُنہُوں نے اَپنے دُشمنوں کو مار کر پسپا کر دیا؛ اَور اُنہیں ہمیشہ کے لیٔے رُسوا کیا۔
PSA 78:67 پھر خُدا نے یُوسیفؔ کے خیموں کو ردّ کر دیا، اُنہُوں نے اِفرائیمؔ کے قبیلہ کو نہ چُنا؛
PSA 78:68 بَلکہ یہُوداہؔ کے قبیلہ کو چُنا، یعنی کوہِ صِیّونؔ کو جسے وہ پسند کرتے تھے۔
PSA 78:69 خُدا نے اَپنے پاک مَقدِس کو آسمانوں کی مانند بہت اُونچا تعمیر کیا، اَور زمین کی مانند بنایا جسے اُنہُوں نے ہمیشہ کے لیٔے قائِم کیا۔
PSA 78:70 اُنہُوں نے اَپنے خادِم داویؔد کو چُنا اَور اُنہیں بھیڑ کے گلّہ میں سے لے لیا؛
PSA 78:71 وہ اُنہیں بھیڑوں کی گلّہ بانی کرنے سے ہٹا لائے تاکہ وہ اُن کی قوم یعقوب، اَور اُن کی مِیراث اِسرائیل کی گلّہ بانی کریں۔
PSA 78:72 اَور داویؔد خُلوص دِل سے اُن کی پاسبانی؛ اَور اَپنے ماہر ہاتھوں سے اُن کی رہنمائی کرتے رہے۔
PSA 79:1 آسفؔ کا زبُور۔ اَے خُدا، قومیں خُدا کی مِیراث میں داخل ہو گئی ہیں؛ اُنہُوں نے خُدا کے مُقدّس ہیکل کو ناپاک کیا ہے، اُنہُوں نے یروشلیمؔ کو کھنڈر بنا دیا ہے۔
PSA 79:2 اُنہُوں نے خُدا کے خادِموں کی لاشوں کو ہَوا کے پرندوں کے واسطے۔ اَور خُدا کے مُقدّسین کے گوشت کو زمین کے درندوں کی خُوراک بنا دیا ہے۔
PSA 79:3 اُنہُوں نے یروشلیمؔ کے چاروں طرف اُن کا خُون پانی کی طرح بہایا ہے، اَور اُنہیں دفن کرنے والا کویٔی نہیں ہے۔
PSA 79:4 ہم اَپنے ہمسایوں کے لیٔے ملامت کا، اَور اَپنے آس پاس کے لوگوں کے لیٔے مذاق اَور تمسخر کا باعث بَن گیٔے۔
PSA 79:5 اَے یَاہوِہ، کب تک؟ کیا خُدا ہمیشہ تک خفا رہیں گے؟ خُدا کی غیرت کب تک آگ کی طرح بھڑکتی رہے گی؟
PSA 79:6 اَپنا قہر اُن قوموں پر اُنڈیل دیں جو آپ کو نہیں جانتیں، اَور اُن مملکتوں پر جو خُدا کا نام نہیں لیتیں؛
PSA 79:7 کیونکہ اُنہُوں نے یعقوب کو کھا لیا اَور اُن کے وطن کو تباہ کر دیا ہے۔
PSA 79:8 ہمارے آباؤاَجداد کے گُناہوں کو ہمارے خِلاف شُمار نہ کریں؛ خُدا کی رحمت ہم تک جلد پہُنچے، کیونکہ ہم بہت ہی پست ہو چُکے ہیں۔
PSA 79:9 اَے ہمارے مُنجّی خُدا! اَپنے نام کے جلال کی خاطِر، ہماری مدد کریں؛ اَپنے نام کی خاطِر ہمیں نَجات دیں اَور ہمارے گُناہ بخش دیں۔
PSA 79:10 قومیں یہ کیوں کہیں کہ ”اُن کا خُدا کہاں ہے؟“ ہماری آنکھوں کے سامنے، قوموں پر واضح کر دیں کہ خُدا ہی اَپنے خادِموں کے بہائے ہُوئے خُون کا اِنتقام لیتے ہیں۔
PSA 79:11 قَیدیوں کا کراہنا خُدا کے حُضُور تک پہُنچے؛ اَپنے بازو کی قُوّت سے اُنہیں بچا لیں جِن کے قتل کا حُکم صادر ہو چُکاہے۔
PSA 79:12 اَے خُداوؔند، ہمارے ہمسایوں نے جو لعنتیں آپ پر برسائی ہیں خُدا اُنہیں سات گُنا بڑھا کر اُن ہی کے دامن میں ڈال دیں۔
PSA 79:13 تَب ہم جو خُدا کے لوگ اَور خُدا کی چراگاہ کی بھیڑیں ہیں، ہمیشہ خُدا کی سِتائش کریں گے؛ اَور پُشت در پُشت خُدا کی مدح سرائی کرتے رہیں گے۔
PSA 80:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ ”عہد کے شُوشنؔ“ کے سُرپر مَبنی آسفؔ کا زبُور۔ اَے اِسرائیل کے چوپان، ہماری سُنیں، خُدا جو گلّہ کی مانند یُوسیفؔ کی رہنمائی کرتے ہیں۔ خُدا جو کروبیم کے درمیان تخت نشین ہیں، جلوہ گِر ہوں!
PSA 80:2 اِفرائیمؔ، بِنیامین اَور منشّہ کے سامنے اَپنی قُدرت کو بیدار کریں؛ اَور آکر ہمیں بچائیں۔
PSA 80:3 اَے خُدا، ہمیں بحال کریں؛ اَپنے چہرہ کا نُور ہم پر جلوہ گِر فرمائیں، تاکہ ہم نَجات پائیں۔
PSA 80:4 اَے یَاہوِہ، قادرمُطلق خُدا، اَپنے لوگوں کی دعاؤں کے خِلاف خُدا کا قہر کب تک بھڑکتا رہے گا؟
PSA 80:5 خُدا نے اُنہیں آنسُوؤں کی روٹی کھِلائی؛ اَور اُنہیں پیالے بھر بھرکے آنسُو پلائے۔
PSA 80:6 خُدا نے ہمیں اَپنے پڑوسیوں کے لیٔے تنازعہ کا باعث بنا دیا ہے، اَور ہمارے دُشمن ہمارا مضحکہ اُڑاتے ہیں۔
PSA 80:7 اَے قادرمُطلق خُدا! ہمیں بحال کریں؛ اَپنے چہرہ کا نُور ہم پر جلوہ گِر فرمائیں، تاکہ ہم بچ جایٔیں۔
PSA 80:8 خُدا مُلک مِصر سے ایک انگور کی بیل لے آئے؛ اَور قوموں کو اُکھاڑ کر اُسے لگایا۔
PSA 80:9 خُدا نے اُس کے لیٔے زمین تیّار کی، اَور اُس نے جڑ پکڑ لی اَور سارے مُلک میں پھیل گئی۔
PSA 80:10 پہاڑ اُس کے سایہ سے، اَور مضبُوط دیودار خُدا کی شاخوں سے ڈھک گیٔے۔
PSA 80:11 اُس نے اَپنی شاخیں سمُندر (بحرِ رُوم) تک، اَور اُس کی ٹہنیاں دریا (دریائے فراتؔ) تک پھیلا دیں۔
PSA 80:12 خُدا نے اُس کی باڑیں کیوں گرا دیں، کہ سَب آنے جانے والے انگور توڑتے ہیں؟
PSA 80:13 جنگلی سُؤر اُسے برباد کرتے ہیں اَور جنگل کے جانور اُسے کھا جاتے ہیں۔
PSA 80:14 اَے قادرمُطلق خُدا! ہمارے پاس لَوٹ آئیں، آسمان پر سے نیچے نگاہ کریں اَور دیکھیں! اِس انگور کی بیل کی نگہبانی کریں،
PSA 80:15 جو جڑ خُدا کے داہنے ہاتھ نے لگائی ہے، اَورجو شاخ خُدا نے اَپنے لیٔے بُلند کی ہے۔
PSA 80:16 خُدا کی تاک کاٹ ڈالی گئی اَور آگ میں جَلا دی گئی؛ اَور خُدا کی ڈانٹ سے ہی لوگ تباہ ہو جاتے ہیں۔
PSA 80:17 خُدا کا ہاتھ خُدا کی داہنی طرف کے اِنسان پر رہے، یعنی اِبن آدمؔ پر جسے خُدا نے اَپنے لیٔے برپا کیا ہے۔
PSA 80:18 تَب ہم خُدا سے برگشتہ نہ ہوں گے؛ ہمیں بحال کریں اَور ہم خُدا کا نام لیا کریں گے۔
PSA 80:19 اَے یَاہوِہ، قادرمُطلق خُدا! ہمیں بحال کریں؛ اَپنے چہرہ کا نُور ہم پر جلوہ گِر فرمائیں، تاکہ ہم بچ جایٔیں۔
PSA 81:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ گِتّیت‏ کے سُرپر مَبنی آسفؔ کی تصنیف۔ خُدا کے حُضُور جو ہماری قُوّت ہیں بُلند آواز سے گاؤ؛ یعقوب کے خُدا کے حُضُور میں نعرے مارو!
PSA 81:2 ساز چھیڑو اَور دف بجاؤ، خُوش آہنگ سِتار اَور بربط بجاؤ۔
PSA 81:3 نئے چاند کے موقع پر، اَور ہماری عید کے دِن جَب پُورا چاند ہو قَرنا بجاؤ؛
PSA 81:4 کیونکہ یہ اِسرائیل کے لیٔے اَحکام، اَور یعقوب کے خُدا کا حُکم ہے۔
PSA 81:5 جَب خُدا مُلک مِصر کے خِلاف نکلیں، خُدا نے اُسے یُوسیفؔ کے لیٔے قانُون ٹھہرایا۔ اَور جہاں ہم نے اَیسی آواز سُنی جِس سے ہم آشنا نہ تھے۔
PSA 81:6 خُداوؔند فرماتے ہیں: ”مَیں نے اُن کے کندھوں پر سے بوجھ اُتار دیا؛ اَور اُن کے ہاتھ ٹوکری ڈھونے سے بَری کر دئیے گیٔے۔
PSA 81:7 تُم نے اَپنی مُصیبت میں پُکارا اَور مَیں نے تُمہیں چھُڑا لیا، اَور مَیں نے گرجتے بادل میں سے تُمہیں جَواب دیا؛ مَیں نے تُمہیں مریبہؔ کے چشمہ پر آزمایا۔
PSA 81:8 اَے میری اُمّت! سُنو، میں تُمہیں آگاہ کرتا ہُوں۔ اَے اِسرائیل! کاش کہ خُدا میری سُنتے!
PSA 81:9 خُدا کے درمیان کویٔی غَیر معبُود نہ ہو؛ خُدا کے سِوا کسی غَیر معبُود کو سَجدہ نہ کرو۔
PSA 81:10 میں، یَاہوِہ، تمہارا خُدا ہُوں، جو تُمہیں مُلک مِصر سے نکال لائے۔ تُم اَپنا مُنہ خُوب کھولو اَور مَیں اُسے بھروں گا۔
PSA 81:11 ”لیکن میری اُمّت نے میری نہ سُنی؛ اِسرائیل نے میری اِطاعت نہ کی۔
PSA 81:12 اِس لیٔے مَیں نے اُنہیں اُن کی اِحسَان فراموشی کے حوالہ کر دیا تاکہ وہ اَپنی ہی راہوں پر چلیں۔
PSA 81:13 ”کاش کہ میری اُمّت میری سُنتی، اَور اِسرائیل میری راہوں پر چلتا،
PSA 81:14 تو میں فوراً اُن کے دُشمنوں کو مغلُوب کر دیتا اَور اُن کے مُخالفوں پر اَپنا ہاتھ چلاتا!
PSA 81:15 یَاہوِہ سے عداوت رکھنے والے اُن کے آگے عاجز آ جاتے، اَور اُن کی سزا اَبد تک قائِم رہتی۔
PSA 81:16 لیکن تُمہیں بہترین گیہُوں کھِلایا جاتا؛ اَور مَیں تُمہیں چٹّان میں کے شہد سے سیر کرتا۔“
PSA 82:1 آسفؔ کا زبُور۔ بڑی جماعت میں خُدا ہی صدرِ عدالت ہوتی ہے؛ اَور ”معبُودوں“ کے درمیان اِنصاف کرتے ہیں:
PSA 82:2 ”تُم کب تک ناراستوں کی حمایت کروگے اَور بدکار لوگوں کی طرفداری کروگے؟
PSA 82:3 مظلوموں اَور یتیموں کی حمایت؛ مسکینوں اَور مظلوموں کے حُقُوق کی حِفاظت کرو۔
PSA 82:4 کمزوروں اَور مُحتاجوں کو بچاؤ؛ اَور اُنہیں بدکار لوگ کے ہاتھ سے چھُڑاؤ۔
PSA 82:5 ”وہ، ’معبُود‘ نہ تو کچھ جانتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ اَور تاریکی میں چلتے پھرتے ہیں؛ زمین کی تمام بُنیادیں ہلتی ہیں۔
PSA 82:6 ”مَیں نے کہا، ’تُم ”معبُود“ ہو؛ تُم سَب خُداتعالیٰ کے فرزند ہو۔‘
PSA 82:7 تو بھی تُم محض اِنسانوں کی طرح مروگے؛ اَور حُکمرانوں میں سے کسی کی طرح گِر جاؤگے۔“
PSA 82:8 اَے خُدا! اُٹھیں اَور زمین کا اِنصاف کریں، کیونکہ تمام قومیں آپ کی مِیراث ہیں۔
PSA 83:1 ایک نغمہ۔ آسفؔ کا زبُور۔ اَے خُدا، خاموش نہ رہیں؛ نہ نظر اَنداز کریں اَے خُدا، مُجھ سے دُور نہ ہوں۔
PSA 83:2 دیکھیں، آپ کے دُشمنوں نے کیسا اودھم مچا رکھا ہے، اَور آپ کے مخالفین نے سَر اُٹھایا ہے۔
PSA 83:3 وہ مکّاری سے آپ کے لوگوں کے خِلاف سازش کرتے ہیں؛ اَور جنہیں آپ عزیز رکھتے ہیں اُن کے خِلاف منصُوبے باندھتے ہیں۔
PSA 83:4 اُنہُوں نے خُود سے کہا، ”آؤ، ہم اُس ساری قوم ہی کو تباہ کر ڈالیں، تاکہ اِسرائیل کا نام و نِشان ہی باقی نہ رہے۔“
PSA 83:5 وہ یکدل ہوکر باہم مشورہ کرتے ہیں؛ اَور آپ کے خِلاف عہد باندھتے ہیں۔
PSA 83:6 یعنی اِدُوم کے اہلِ خیمہ اَور اِشمعیلی، مُوآبی اَور ہاگریؔ،
PSA 83:7 گیبلی، عمُّونی اَور عمالیقی، اَور اہلِ صُورؔ، فلسطینی باشِندوں سمیت۔
PSA 83:8 اشُوری بھی اُن سے ملے ہُوئے ہیں تاکہ بنی لَوطؔ کو مدد پہُنچائیں۔
PSA 83:9 آپ اُن کے ساتھ وَیسا ہی سلُوک کریں جَیسا مِدیانیوں کے ساتھ، اَور جَیسا دریائے قیشونؔ پر سیسؔرا اَور یابینؔ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
PSA 83:10 جو عینؔ دورؔ میں ہلاک ہُوئے وہ گویا زمین کی کھاد بَن گیٔے۔
PSA 83:11 اُن کے اُمرا کو عوریبؔ اَور زئیبؔ کی، بَلکہ اُن کے سَب اُمرا کو زِبؔح اَور ضلمُنعؔ کی مانند بنادے،
PSA 83:12 جنہوں نے کہا، ”آؤ ہم خُدا کی چراگاہوں پر قابض ہو جائیں۔“
PSA 83:13 اَے میرے خُدا! اُنہیں گھاس پھُوس کی مانند، اَور ہَوا سے اُڑتی ہُوئی بھُوسی کی مانند بنا دیں۔
PSA 83:14 اَور اُس آگ کی مانند جو جنگل کو جَلا ڈالتی ہے، یا اُس شُعلہ کی طرح جو پہاڑوں میں آگ لگا دیتاہے۔
PSA 83:15 لہٰذا اَپنی آندھی سے اُن کا تعاقب کریں اَور اَپنے طُوفان سے اُنہیں پریشان کریں۔
PSA 83:16 اُن کے دُشمنوں کے چہروں کو شرمندگی سے بھر دیں تاکہ اَے یَاہوِہ، لوگ آپ کے نام کے طالب ہُوں۔
PSA 83:17 وہ ہمیشہ شرمندہ اَور پریشان رہیں؛ اَور رُسوا ہوکر نِیست و نابود ہوں۔
PSA 83:18 تاکہ وہ جان لیں کہ آپ جِس کا نام یَاہوِہ ہے۔ آپ ساری زمین پر سَب سے اعلیٰ خُدا ہیں۔
PSA 84:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ گِتّیت‏ کے سُرپر مَبنی بنی قورحؔ کی تصنیف ایک زبُور۔ اَے قادرمُطلق یَاہوِہ، آپ کی قِیام گاہ کیا ہی دلکش ہے۔
PSA 84:2 میری جان یَاہوِہ کی بارگاہوں کے لیٔے تڑپتی ہے بَلکہ بےچین ہو جاتی ہے، میرا دِل اَور میرا جِسم زندہ خُدا کے لیٔے خُوشی سے للکارتے ہیں۔
PSA 84:3 اَے قادرمُطلق یَاہوِہ، میرے بادشاہ اَور میرے خُدا! آپ کے مذبح کے نزدیک، چڑیا نے بھی اَپنا آشیانہ پایا، اَور ابابیل نے اَپنے لیٔے گھونسلہ، جہاں وہ اَپنے بچّے رکھ سکے۔
PSA 84:4 مُبارک ہیں وہ جو آپ کے گھر میں بستے ہیں؛ وہ ہمیشہ آپ کی سِتائش کرتے رہیں گے۔
PSA 84:5 مُبارک ہیں وہ آدمی جو آپ سے قُوّت پاتے ہیں، جِن کے دِل میں کوہِ صِیّونؔ کی زیارت کا جذبہ موجزن ہے۔
PSA 84:6 وہ وادی بُکا میں سے گزرتے ہُوئے، اُسے چشموں کا مقام بنا دیتے ہیں؛ اَور موسمِ خزاں کی برسات بھی اُس میں پانی کے کیٔی گڑھے بنا دیتی ہے۔ پہلی بارش اُس علاقہ کو برکتوں سے معموُر کردیتی ہے۔
PSA 84:7 وہ طاقت پر طاقت پاتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ ہر ایک صِیّونؔ میں خُدا کے حُضُور مَیں حاضِر ہو جاتے ہیں۔
PSA 84:8 اَے یَاہوِہ، قادرمُطلق خُدا! میری دعا سُنیں؛ اَے یعقوب کے خُدا! میری طرف کان لگائیں۔
PSA 84:9 اَے خُدا، ہماری سِپر پر نظر کریں؛ اَپنے ممسوح بادشاہ پر آپ کی نظرِ التفات ہو۔
PSA 84:10 آپ کی بارگاہ میں ایک دِن کسی اَور جگہ کے ہزار دِنوں سے بہتر ہے؛ میں اَپنے خُدا کے گھر کا دربان ہونا بدکار لوگوں کے خیموں میں بسنے سے زِیادہ پسند کروں گا۔
PSA 84:11 کیونکہ یَاہوِہ خُدا آفتاب اَور سِپر ہیں؛ یَاہوِہ فضل اَور جلال بخشتے ہیں؛ اَور جِن کی روِش بے اِلزام ہو اُنہیں کسی نِعمت سے محروم نہیں رکھتے۔
PSA 84:12 اَے قادرمُطلق یَاہوِہ خُدا! مُبارک ہے وہ آدمی جو آپ پر توکّل رکھتا ہے۔
PSA 85:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ بنی قورحؔ کی تصنیف ایک زبُور۔ اَے یَاہوِہ، آپ اَپنے مُلک پر مہربان رہے ہیں؛ اَور یعقوب کی خُوشحالی بحال کر چُکے ہیں۔
PSA 85:2 آپ نے اَپنے لوگوں کی بدکاری مُعاف کر دی ہے اَور اُن کے تمام گُناہ ڈھانک دئیے ہیں۔
PSA 85:3 آپ نے اَپنا سارا غضب ہٹا لیا ہے اَور اَپنے شدید قہر سے باز آئے ہیں۔
PSA 85:4 اَے ہمارے مُنجّی خُدا! ہمیں بحال کریں، اَپنا غضب ہم سے دُور کریں۔
PSA 85:5 کیا آپ سدا ہم سے خفا رہیں گے؟ کیا آپ اَپنے قہر کو پُشت در پُشت جاری رکھیں گے؟
PSA 85:6 کیا آپ ہمیں پھر سے تازہ دَم نہ کریں گے، تاکہ آپ کے لوگ آپ میں مسرُور ہوں؟
PSA 85:7 اَے یَاہوِہ، آپ اَپنی لافانی مَحَبّت ہمیں دِکھائیں، اَور ہمیں اَپنی نَجات بخشیں۔
PSA 85:8 مَیں کان لگائے رہُوں گا کہ یَاہوِہ خُدا کیا فرماتے ہیں؛ وہ اَپنے لوگوں اَور اَپنے مُقدّسین سے سلامتی کا وعدہ کرتے ہیں۔ لیکن وہ پھر احمقانہ راہوں سے دُور رہیں۔
PSA 85:9 یقیناً اُن کی نَجات اُن کے قریب ہے جو اُن سے ڈرتے ہیں، تاکہ اُن کا جلال ہمارے مُلک میں بسے۔
PSA 85:10 شفقت و مَحَبّت اَور وفاداری باہم ملتے ہیں؛ راستبازی اَور اَمن ایک دُوسرے کا بوسہ لیتے ہیں۔
PSA 85:11 زمین سے اِنسانی وفاداری پھوٹ نکلتی ہے، اَور خُدا کی راستبازی آسمان پر سے جھانکتی ہے۔
PSA 85:12 بے شک یَاہوِہ اَچھّی چیز ہی عنایت کریں گے، اَور ہماری زمین اَپنی پیداوار دے گی۔
PSA 85:13 راستبازی یَاہوِہ کے آگے آگے چلے گی اَور اُن کے قدموں کے لیٔے راہ تیّار کرےگی۔
PSA 86:1 داویؔد کی دعا۔ اَے یَاہوِہ، میری دعا سُنیں اَور مُجھے جَواب دیں، کیونکہ مَیں مسکین اَور مُحتاج ہُوں۔
PSA 86:2 میری جان کی حِفاظت کریں کیونکہ مَیں آپ کا جاں نثار ہُوں؛ اَپنے خادِم کو بچا لیں جِس کا آپ پر توکّل ہے۔ آپ میرے خُدا ہیں؛
PSA 86:3 اَے خُداوؔند، مُجھ پر رحم کریں، کیونکہ مَیں دِن بھر آپ سے فریاد کرتا ہُوں۔
PSA 86:4 اَپنے خادِم کے دِل کو شاد کر دیں، کیونکہ اَے خُداوؔند، میں اَپنی جان آپ کی طرف اُٹھاتا ہُوں۔
PSA 86:5 اَے خُداوؔند، آپ غفور اَور بھلےہیں، اَور جتنے آپ کو پُکارتے ہیں، اُن سَب پر آپ کی بڑی شفقت و مَحَبّت ہے۔
PSA 86:6 اَے یَاہوِہ، میری دعا سُنیں؛ اَور رحم کے لیٔے میری فریاد پر کان لگائیں۔
PSA 86:7 میں اَپنی مُصیبت کے دِن آپ کو پُکاروں گا، کیونکہ آپ مُجھے جَواب دیں گے۔
PSA 86:8 اَے خُداوؔند، معبُودوں میں آپ سا کویٔی نہیں؛ اَور آپ کی صنعت گری بے نظیر ہے۔
PSA 86:9 اَے خُداوؔند، جِتنی قومیں آپ نے بنائی ہیں سَب آکر آپ کو سَجدہ کریں گی؛ اَور آپ کے نام کی تمجید کریں گی۔
PSA 86:10 کیونکہ آپ عظیم ہیں اَور عجِیب و غریب کام کرتے ہیں؛ صِرف آپ ہی خُدا ہیں۔
PSA 86:11 اَے یَاہوِہ، مُجھے اَپنی راہ کی تعلیم دیں، اَور مَیں آپ کی راہِ راست پر چلُوں گا؛ میرے دِل کو یکسوئی عنایت فرمائیں۔ تاکہ مَیں آپ کے نام کا خوف مانوں۔
PSA 86:12 اَے میرے خُداوؔند، خُدا، میں پُورے دِل سے آپ کی حَمد کروں گا؛ میں اَبد تک آپ کے نام کی تمجید کروں گا۔
PSA 86:13 کیونکہ مُجھ پر آپ کی بڑی شفقت و مَحَبّت ہے؛ اَور آپ نے مُجھے پاتال کی گہرائیوں سے چُھڑا لیا ہے۔
PSA 86:14 اَے خُدا، مغروُر مُجھ پر حملہ کر رہے ہیں؛ اَور سنگدل لوگوں کی جماعت میری جان کے درپے ہے۔ اَیسے لوگ آپ کو پیشِ نظر نہیں رکھتے۔
PSA 86:15 لیکن اَے خُداوؔند، آپ رحیم و کریم خُدا ہیں، جو قہر کرنے میں دھیمے اَور شفقت اَور وفاداری میں غنی ہیں۔
PSA 86:16 میری طرف متوجّہ ہوں اَور مُجھ پر رحم کریں؛ اَپنے خادِم کو اَپنی قُوّت بخشیں اَور اَپنی خادِمہ کے بیٹے کو بچا لیں۔
PSA 86:17 مُجھے اَپنی بھلائی کا کویٔی نِشان دِکھائیں، تاکہ میرے دُشمن اُسے دیکھیں اَور شرمندہ ہوں، کیونکہ آپ نے اَے یَاہوِہ، میری مدد کی اَور مُجھے تسلّی بخشی ہے۔
PSA 87:1 بنی قورحؔ کی تصنیف ایک زبُور۔ ایک نغمہ۔ یَاہوِہ نے اَپنی بُنیاد مُقدّس پہاڑ پر رکھی ہے؛
PSA 87:2 یَاہوِہ صِیّونؔ کے پھاٹکوں کو یعقوب کے سَب قِیام گاہوں سے زِیادہ عزیز رکھتے ہیں۔
PSA 87:3 اَے خُدا کے شہر! آپ کے بارے میں شاندار باتیں کہی جاتی ہیں:
PSA 87:4 ”میں راحبؔ اَور بابیل کے نام اَپنے جاننے والوں کی فہرست میں درج کروں گا، فلسطین اَور کُوشؔ بھی صُورؔ سمیت اُن میں شامل ہوں گے۔ اَور کہُوں گا، ’یہ صِیّونؔ میں پیدا ہُوا تھا۔‘ “
PSA 87:5 بے شک، صِیّونؔ کے متعلّق یہ کہا جائے گا، ”فُلاں فُلاں اَشخاص اُس میں پیدا ہُوئے تھے، اَور خُداتعالیٰ آپ اُسے قائِم کریں گے۔“
PSA 87:6 یَاہوِہ کِتاب اَقوام میں درج کریں گے: ”یہ شخص صِیّونؔ میں پیدا ہُوا تھا۔“
PSA 87:7 جوں ہی ساز چھیڑا جائے گا لوگ گائیں گے، ”میرے سَب چشمے آپ ہی میں ہیں۔“
PSA 88:1 ایک نغمہ۔ بنی قورحؔ کی تصنیف زبُور۔ موسیقاروں کے ہدایت کار کے واسطے۔ ماحلتھ لعنّوتؔ‏ کی طرز پر مَبنی، ہیمانؔ اِزراحی کا مشکیل۔‏ اَے یَاہوِہ، میرے نَجات بخشنے والے خُدا! میں رات دِن آپ کے سامنے روتے ہُوئے فریاد کرتا ہُوں۔
PSA 88:2 میری دعا آپ کے حُضُور پہُنچے؛ میری فریاد پر کان لگائیں۔
PSA 88:3 میری جان دُکھوں سے بھری ہے اَور میری زندگی پاتال کے نزدیک پہُنچ چُکی ہے۔
PSA 88:4 میرا شُمار اُن لوگوں میں ہوتاہے جو قبر میں اُتر جاتے ہیں؛ اَور مَیں ایک ناتواں شخص کی مانند ہُوں۔
PSA 88:5 جِس طرح مقتول قبر میں پڑے رہتے ہیں، اُسی طرح میں مُردوں کے درمیان ڈال دیا گیا ہُوں، جنہیں آپ پھر کبھی یاد نہیں کرتے، اَورجو آپ کی حِفاظت سے محروم کر دئیے گیٔے ہیں۔
PSA 88:6 آپ نے مُجھے پاتال کی، نہایت ہی تاریک گہرائیوں میں ڈال دیا ہے۔
PSA 88:7 آپ کا غضب مُجھ پر بھاری ہے؛ آپ نے اَپنی سَب موجوں سے میرا ناک میں دَم کر رکھا ہے۔
PSA 88:8 آپ نے مُجھ سے میرے گہرے دوست چھین لیٔے اَور مُجھے اُن کے لیٔے گھِنونا بنا دیا ہے۔ میں قَید میں ہُوں اَور نکل نہیں سَکتا؛
PSA 88:9 رنج سے میری آنکھیں دھُندلا گئیں۔ اَے یَاہوِہ، میں ہر روز آپ کو پُکارتا ہُوں؛ اَور اَپنے ہاتھ آپ کے سامنے دعا کے لئے اُٹھاتا ہُوں۔
PSA 88:10 کیا آپ مُردوں کو اَپنے حیرت اَنگیز کاموں کو دِکھانے ہیں؟ کیا جو مَر چُکے ہیں وہ اُٹھ کر آپ کی سِتائش کرتے ہیں؟
PSA 88:11 کیا قبر میں آپ کی شفقت و مَحَبّت، اَور فنا کے عالَم میں آپ کی وفاداری کا ذِکر ہوتاہے؟
PSA 88:12 کیا آپ کے حیرت اَنگیز کام تاریکی میں، اَور آپ کے راستی کے کارنامے بھُولے بسرے مُلک میں جانے جایٔیں گے؟
PSA 88:13 لیکن اَے یَاہوِہ، میں مدد کے لئے آپ کو پُکارتا ہُوں؛ صُبح کو میری دعا آپ کے حُضُور میں پہُنچتی ہے۔
PSA 88:14 اَے یَاہوِہ، آپ مُجھے کیوں ردّ کرکے اَپنا چہرہ مُجھ سے چھُپا لیتے ہیں؟
PSA 88:15 اَپنے لڑکپن ہی سے میں مُصیبت زدہ اَور قریبُ المرگ ہُوں؛ آپ کی دہشت کے باعث میں مایوس ہو چُکا ہُوں۔
PSA 88:16 آپ کا قہر مُجھ پر آ پڑا ہے؛ اَور آپ کی دہشت نے مُجھے تباہ کر دیا ہے۔
PSA 88:17 دِن بھر وہ سیلاب کی طرح میرے چاروں طرف ہیں؛ اُنہُوں نے پُوری طرح مُجھے گھیرلیا ہے۔
PSA 88:18 آپ نے میرے عزیز و اقارب کو مُجھ سے چھین لیا ہے؛ اَب تاریکی ہی میری قریبی دوست ہے۔
PSA 89:1 ایتھانؔ اِزراحی کا مشکیل‏۔ میں یَاہوِہ کی بڑی شفقت و مَحَبّت کے نغمہ ہمیشہ گاؤں گا؛ میں پُشت در پُشت اَپنے مُنہ سے آپ کی وفاداری کا بَیان کرتا رہُوں گا۔
PSA 89:2 میں اعلان کروں گا کہ آپ کی شفقت و مَحَبّت اَبد تک لازوال ہے، اَور یہ کہ آپ نے اَپنی وفاداری کو آسمان ہی پر استحکام بخشا ہے۔
PSA 89:3 آپ نے کہا، ”مَیں نے اَپنے برگُزیدہ کے ساتھ عہد باندھا ہے، اَور اَپنے خادِم داویؔد سے قَسم کھائی ہے،
PSA 89:4 ’میں تمہاری نَسل کو ہمیشہ تک قائِم رکھوں گا اَور آپ کا تخت پُشت در پُشت بنائے رکھوں گا۔‘ “
PSA 89:5 اَے یَاہوِہ، افلاک مُقدّسین کی جماعت میں آپ کے عجائب کی، اَور آپ کی وفاداری کی تعریف کرتے ہیں۔
PSA 89:6 کیونکہ اُوپر آسمانوں میں یَاہوِہ کا ثانی کون ہو سَکتا ہے؟ فرشتوں میں یَاہوِہ کی مانند کون ہے؟
PSA 89:7 مُقدّسوں کی مجلس میں خُدا کا بےحد خوف مانا جاتا ہے؛ وہ اَپنے اِردگرد کے سَب رہنے والوں سے زِیادہ مُہیب ہے۔
PSA 89:8 اَے یَاہوِہ، قادرمُطلق خُدا! آپ کی مانند کون ہے؟ اَے یَاہوِہ، آپ زبردست ہیں اَور آپ کی وفاداری آپ کے گِردوپیش ہے۔
PSA 89:9 سمُندر کی طغیانی پر آپ ہی حُکمرانی کرتے ہیں؛ جَب اُس کی موجیں تلاطم برپا کرتی ہیں تو آپ ہی اُنہیں ساکت کرتے ہیں۔
PSA 89:10 آپ نے راحبؔ کو مقتول کی مانند کُچل دیا؛ اَور اَپنے مضبُوط بازو سے اَپنے دُشمنوں کو پراگندہ کر دیا۔
PSA 89:11 آسمان آپ کا ہے اَور زمین بھی آپ کی ہے؛ آپ نے ہی دُنیا اَور اُس کی ساری معموُری کی بُنیاد ڈالی۔
PSA 89:12 آپ نے ہی شمال اَور جُنوب پیدا کئے؛ کوہِ تبورؔ اَور کوہِ حرمُونؔ آپ کے نام کے سبب سے خُوشی مناتے ہیں۔
PSA 89:13 آپ کا بازو قُدرت سے آراستہ ہے؛ آپ کا ہاتھ قوی اَور آپ کا داہنا ہاتھ بُلند ہے۔
PSA 89:14 راستبازی اَور اِنصاف آپ کے تخت کی بُنیاد ہیں؛ شفقت و مَحَبّت اَور وفاداری آپ کے آگے آگے چلتی ہیں۔
PSA 89:15 مُبارک ہیں وہ جنہوں نے آپ کی تحسین و آفرین کے نعرے بُلند کرنا سیکھا ہے، اَورجو اَے یَاہوِہ، آپ کی حُضُوری کے نُور میں چلتے ہیں۔
PSA 89:16 وہ دِن بھر آپ کے نام سے مسرُور ہوتے ہیں؛ اَور آپ کی راستبازی سے سرفرازی پاتے ہیں۔
PSA 89:17 کیونکہ اُن کی شان اَور قُوّت آپ ہی ہیں، اَور اَپنے لُطف و کرم سے ہمارے سینگ بُلند کرتے ہیں۔
PSA 89:18 بے شک ہماری سِپر یَاہوِہ کی طرف سے، اَور ہمارے بادشاہ اِسرائیل کے مُقدّس خُدا کی طرف سے ہیں۔
PSA 89:19 ایک بار آپ نے رُویا میں کلام کیا، اَور اَپنے مُقدّسین سے فرمایا: ”مَیں نے ایک سُورما کو قُوّت بخشی ہے؛ مَیں نے اُمّت میں سے ایک نوجوان کو سرفراز کیا ہے۔
PSA 89:20 مَیں نے اَپنے خادِم داویؔد کو اُن کا بادشاہ مُقرّر کیا؛ اَور اَپنے مُقدّس تیل سے اُسے مَسح کیا۔
PSA 89:21 میرا ہاتھ اُسے سنبھالے گا؛ یقیناً میرا بازو اُسے تقویّت پہُنچائے گا۔
PSA 89:22 اَور داویؔد کا کویٔی دُشمن اُسے مطیع نہ کر پایٔےگا؛ اَور کویٔی بدکار آدمی اُس پر ظُلم نہ ڈھائے گا۔
PSA 89:23 میں اُس کے مُخالفوں کو اُس کے سامنے کُچل دُوں گا اَور اُس کے رقیبوں کو مار ڈالوں گا۔
PSA 89:24 میری وفاداری اَور شفقت و مَحَبّت اُس کے ساتھ ہوگی، اَور میرے نام کے ذریعہ اُس کا اِقبال بُلند ہوگا۔
PSA 89:25 میں اُس کا ہاتھ سمُندر تک، اَور اُس کے داہنے بازو کو دریاؤں تک بڑھاؤں گا۔
PSA 89:26 وہ مُجھے پُکار کر کہے گا: ’آپ میرے باپ ہیں، میرے خُدا اَور میری نَجات کی چٹّان ہیں۔‘
PSA 89:27 میں اُسے اَپنا پہلوٹھا، اَور دُنیا کا بادشاہ مُقرّر کروں گا۔
PSA 89:28 میں اُس کے لیٔے اَپنی شفقت و مَحَبّت اَبد تک قائِم رکھوں گا، اَور اُس کے ساتھ میرا عہد ہمیشہ اُستوار رہے گا۔
PSA 89:29 میں اُس کی نَسل کو ہمیشہ تک قائِم رکھوں گا، اَور اُس کے تخت کو اُس وقت تک، جَب تک آسمان قائِم ہے۔
PSA 89:30 ”اگر اُس کے فرزند آئین کو ترک کر دیں اَور میری شہادتوں پر عَمل نہ کریں،
PSA 89:31 اگر وہ میرے قوانین کو توڑ دیں اَور میرے اَحکام نہ مانیں،
PSA 89:32 تو میں اُن کے جُرم کی سزا چھڑی سے، اَور اُن کی بدکاری کی سزا کوڑوں سے دُوں گا؛
PSA 89:33 لیکن مَیں اَپنی شفقت و مَحَبّت اُس پر سے نہ ہٹاؤں گا، نہ اَپنی وفاداری پر آنچ آنے دُوں گا۔
PSA 89:34 میں اَپنا عہد نہ توڑوں گا اَور نہ اَپنے لبوں سے نکلے ہُوئے کلام کو بدلوں گا۔
PSA 89:35 ایک بار میں اَپنے تقدُّس کی قَسم کھا چُکا ہُوں، اَور مَیں داویؔد سے جھُوٹ نہ بولُوں گا۔
PSA 89:36 کہ اُس کی نَسل ہمیشہ قائِم رہے گی اَور اُس کا تخت میرے سامنے آفتاب کی مانند قائِم رہے گا؛
PSA 89:37 اَور وہ اُس ماہتاب کی مانند ہمیشہ کے لیٔے اُستوار کیا جائے گا، جو آسمان میں مُعتبر گواہ ہے۔“
PSA 89:38 لیکن آپ نے تو ترک کر دیا اَور ٹھکرا دیا، اَور آپ اَپنے ممسوح سے بہت ناراض ہو گئے۔
PSA 89:39 آپ اَپنے خادِم کے ساتھ کئے ہُوئے عہد سے دست بردار ہو گئے اَور آپ نے اُس کے تاج کو خاک میں مِلا کر ناپاک کر دیا۔
PSA 89:40 آپ نے اُس کی سَب فصیلیں توڑ ڈالیں اَور اُس کے محکم قلعوں کو کھنڈر بنا دیا۔
PSA 89:41 سَب آنے جانے والوں نے اُسے لُوٹ لیا؛ اَور وہ اَپنے ہمسایوں میں ملامت کا باعث ہو گیا۔
PSA 89:42 آپ نے اُس کے مُخالفوں کا داہنا ہاتھ بُلند کیا ہے؛ آپ نے اُس کے سَب دُشمنوں کو مسرُور کیا۔
PSA 89:43 آپ نے اُس کی تلوار کی دھار کو موڑ دیا اَور میدانِ جنگ میں اُس کے قدم جمنے نہ دئیے۔
PSA 89:44 آپ نے اُس کی شوکت کا خاتِمہ کر دیا اَور اُس کا تخت زمین پر پٹک دیا۔
PSA 89:45 آپ نے اُس کے جَوانی کے دِن گھٹا دئیے؛ اَور اُسے شرم کا نقاب پہنا دیا۔
PSA 89:46 اَے یَاہوِہ، کب تک؟ کیا آپ اَپنے آپ کو ہمیشہ کے لیٔے چُھپائے رکھیں گے؟ آپ کا غضب کب تک آگ کی مانند بھڑکتا رہے گا؟
PSA 89:47 یاد کریں کہ میری زندگی کس قدر تیزرَو ہے، آپ نے سَب بنی آدمؔ کو فُضول ہی پیدا کیا!
PSA 89:48 وہ کون سا شخص ہے جو ہمیشہ زندہ رہے اَور موت کو نہ دیکھے، یا اَپنے آپ کو پاتال میں جانے سے بچا سکے؟
PSA 89:49 اَے خُداوؔند، آپ کی وہ پہلی شفقت و مَحَبّت کہاں گئی، اَپنی وفاداری کے نام میں جِس کی قَسم آپ نے داویؔد سے کھائی تھی؟
PSA 89:50 اَے خُداوؔند، یاد کریں کہ کس طرح آپ کے بندوں کا مضحکہ اُڑایا گیا، اَور مَیں اَپنے سینے میں ساری قوموں کے طعنے لیٔے پھرتا ہُوں۔
PSA 89:51 اَے یَاہوِہ، وہ طعنے جِن کے ذریعہ آپ کے دُشمنوں نے مضحکہ اُڑایا، جِس کے ساتھ اُنہُوں نے آپ کے ممسوح کا قدم قدم پر مضحکہ اُڑایا۔
PSA 89:52 یَاہوِہ کی ابدُالآباد سِتائش ہوتی رہے!
PSA 90:1 مَرد خُدا مَوشہ کی دعا۔ خُداوؔند! پُشت در پُشت آپ ہی ہماری قِیام گاہ رہے ہیں۔
PSA 90:2 اِس سے پہلے کہ پہاڑ پیدا ہُوئے یا آپ زمین اَور دُنیا کو وُجُود میں لائے، اَزل سے اَبد تک آپ ہی خُدا ہیں۔
PSA 90:3 آپ اِنسانوں کو یہ کہتے ہُوئے، ”پھر خاک میں لَوٹاتے ہیں کہ اَے بنی آدمؔ! خاک میں لَوٹ جاؤ۔“
PSA 90:4 کیونکہ آپ کی نظر میں ہزار بَرس گزرے ہُوئے کل کی مانند ہیں، یا رات کے ایک پہر کی طرح۔
PSA 90:5 آپ آدمیوں کو موت کے سیلاب میں بہا لے جاتے ہیں؛ وہ صُبح کو اُگنے والی گھاس کی مانند ہوتے ہیں۔
PSA 90:6 اَیسی سرسبز گھاس جو صُبح کو لہلہاتی ہے، لیکن شام کو مُرجھاتی اَور سُوکھ جاتی ہے۔
PSA 90:7 ہم آپ کے قہر سے فنا ہو گئے اَور آپ کی خفگی سے گھبرا گیٔے ہیں۔
PSA 90:8 آپ نے ہماری بد کرداریوں کو اَپنے سامنے، اَور ہمارے پوشیدہ گُناہوں کو اَپنی حُضُوری کی رَوشنی میں رکھا ہُواہے۔
PSA 90:9 ہمارے زندگی کے تمام دِن آپ کے غضب میں بیت جاتے ہیں؛ اَور ہم اَپنے سال آہ کی طرح گزارتے ہیں۔
PSA 90:10 ہماری عمر کی میعاد محض ستّر بَرس ہے، اَور اگر ہم میں قُوّت ہو تو اسّی بَرس؛ لیکن یہ عرصہ محض مشقّت اَور رنج و غم میں گزر جاتا ہے، کیونکہ یہ دِن جلد چلے جاتے ہیں اَور ہم رخصت ہو جاتے ہیں۔
PSA 90:11 آپ کے قہر کی شِدّت کو کون جانتا ہے؟ کیونکہ آپ کے غضب اَور آپ کے خوف کی شِدّت یکساں ہے۔
PSA 90:12 ہمیں صحیح طور سے اَپنی زندگی کے دِن گننا سکھائیں، تاکہ ہمارے دِل کو دانائی حاصل ہو۔
PSA 90:13 اَے یَاہوِہ! ترس کھایٔیں، آخِر یہ کب تک ہوتا رہے گا؟ اَپنے خادِموں پر رحم فرمائیں۔
PSA 90:14 صُبح کو ہمیں اَپنی لافانی مَحَبّت سے آسُودہ کریں، تاکہ ہم خُوشی سے گائیں اَور عمر بھر شادمان رہیں۔
PSA 90:15 جتنے دِن آپ نے ہمیں دُکھ دیا اَور جتنے سال ہم مُصیبت میں رہے، اُتنے ہی عرصہ تک ہمیں خُوشی عنایت فرمائیں۔
PSA 90:16 آپ کے کارنامے آپ کے خادِموں پر، اَور آپ کی شوکت اُن کی اَولاد پر ظاہر ہو۔
PSA 90:17 ہمارے خُداوؔند خُدا کا لُطف و کرم ہم پر بنا رہے؛ ہمارے ہاتھوں کے کام ہمارے لیٔے کامیابی لائیں۔ آپ ہمارے ہاتھوں کے کام کو ترقّی بخشیں۔
PSA 91:1 جو خُداتعالیٰ کی پناہ گاہ میں رہتاہے، وہ قادرمُطلق کے سایہ میں سکونت کرےگا۔
PSA 91:2 میں یَاہوِہ کے متعلّق کہُوں گا: ”وہ میری پناہ گاہ اَور میرا قلعہ ہیں، وہ میرے خُدا ہیں جِن پر میں بھروسا رکھتا ہُوں۔“
PSA 91:3 یقیناً وہ تُمہیں صیّاد کے دام سے اَور مہلک وَبا سے بچائیں گے۔
PSA 91:4 وہ تُمہیں اَپنے پروں سے ڈھانک لیں گے، اَور تُم اُن کے بازوؤں کے نیچے پناہ پاؤگے؛ اُن کی سچّائی تمہاری سِپر اَور قلعہ ہوگی۔
PSA 91:5 تُم نہ رات کی ہیبت سے ڈروگے، اَور نہ دِن کو چلنے والے تیر سے،
PSA 91:6 نہ اُس وَبا سے جو تاریکی میں پھیلتی ہے، اَور نہ اُس ہلاکت سے جو دوپہر کو ویران کرتی ہے۔
PSA 91:7 تمہارے آس پاس ایک ہزار گِر جایٔیں گے، اَور تمہارے داہنے ہاتھ کی طرف دس ہزار، لیکن وہ تمہارے نزدیک نہ آئے گی۔
PSA 91:8 تُم محض اَپنی آنکھوں سے اُنہیں دیکھوگے اَور بدکار لوگوں کا اَنجام تمہارے سامنے ہوگا۔
PSA 91:9 اگر تُم، ”خُداتعالیٰ کو اَپنا مَسکن بنالو، یعنی یَاہوِہ کو، جو میری بھی پناہ گاہ ہیں۔“
PSA 91:10 تُمہیں نہ تو کویٔی اِیذا پہُنچے گی، اَور نہ ہی کویٔی آفت تمہارے خیمہ کے نزدیک آئے گی۔
PSA 91:11 کیونکہ وہ اَپنے فرشتوں کو تمہارے متعلّق حُکم دیں گے کہ وہ آپ کی سَب راہوں میں آپ کی خُوب حِفاظت کریں؛
PSA 91:12 وہ فرشتے آپ کو اَپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے، تاکہ آپ کے پاؤں کو کسی پتّھر سے ٹھیس نہ لگنے پایٔے۔
PSA 91:13 تُم شیرببر اَور ناگ کو روندوگے؛ اَور جَوان شیر اَور اَژدہے کو پامال کروگے۔
PSA 91:14 یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اُسے مُجھ سے مَحَبّت ہے،“ اِس لیٔے، ”مَیں اُسے چُھڑاؤں گا؛ میں اُس کی حِفاظت کروں گا کیونکہ اُس نے میرا نام پہچانا ہے۔
PSA 91:15 وہ مُجھے پُکارے گا، اَور مَیں اُسے جَواب دُوں گا؛ میں مُصیبت میں اُس کے ساتھ رہُوں گا، میں اُسے چُھڑاؤں گا اَور عزّت بخشوں گا۔
PSA 91:16 میں اُسے عمر کی درازی سے آسُودہ کروں گا اَور اَپنی نَجات اُسے دِکھاؤں گا۔“
PSA 92:1 ایک زبُور۔ ایک نغمہ۔ سَبت کے دِن پر مَبنی۔ یَاہوِہ کی سِتائش کرنا اَے خُداتعالیٰ، آپ کے نام کی مدح سرائی کرنا خُوب ہے،
PSA 92:2 صُبح کو آپ کی شفقت و مَحَبّت کا اَور رات کو آپ کی وفاداری کا،
PSA 92:3 دس تار والے بربط کے ساز پر اَور سِتار کے خُوش آہنگ نغموں کے ساتھ اِظہار کرنا کیا ہی بھلا ہے۔
PSA 92:4 کیونکہ اَے یَاہوِہ، آپ اَپنے کارناموں سے مُجھے خُوش کرتے ہیں؛ اَور آپ کے ہاتھوں کی کاریگری کے باعث میں خُوشی سے گاتا ہُوں۔
PSA 92:5 اَے یَاہوِہ، آپ کے کارنامے کس قدر عظیم ہیں، اَور آپ کے خیالات کس قدر عمیق ہیں!
PSA 92:6 بے حس اِنسان نہیں جانتے، اَور احمق یہ نہیں سمجھتے،
PSA 92:7 حالانکہ بدکار لوگ گھاس کی مانند اُگ آتے ہیں اَور سَب بد کِردار پھلتے پھُولتے ہیں، تو بھی وہ ہمیشہ کے لیٔے تباہ کر دئیے جایٔیں گے۔
PSA 92:8 لیکن اَے یَاہوِہ، آپ ابدُالآباد سرفراز رہیں گے۔
PSA 92:9 لیکن اَے یَاہوِہ، دیکھیں! آپ کے دُشمن، ہاں، آپ کے دُشمن یقیناً فنا ہوں گے؛ سَب بد کِردار پراگندہ کر دئیے جایٔیں گے۔
PSA 92:10 آپ نے میرا سینگ جنگلی سانڈ کے سینگ کی مانند بُلند کیا ہے؛ اَور مُجھے بڑے خالص تیل سے مَسح کیا ہے۔
PSA 92:11 میری آنکھوں نے میرے دُشمنوں کی شِکست دیکھی ہے؛ اَور میرے کانوں نے میرے بدکار مُخالفوں کی پسپائی سُن لی ہے۔
PSA 92:12 راستباز کھجور کے درخت کی مانند لہلہائیں گے، اَور لبانونؔ کے دیودار کی مانند بڑھیں گے؛
PSA 92:13 جو یَاہوِہ کے گھر میں لگائے گیٔے ہیں، وہ ہمارے خُدا کی بارگاہوں میں سرسبز ہوں گے۔
PSA 92:14 وہ بڑی عمر میں بھی پھل لائیں گے، اَور تروتازہ اَور سرسبز رہیں گے،
PSA 92:15 اَور ظاہر کریں گے کہ، ”یَاہوِہ راست ہیں؛ وہ میری چٹّان ہیں، اَور اُن میں ناراستی نہیں۔“
PSA 93:1 یَاہوِہ بادشاہی کرتے ہیں، وہ عظمت و جلال سے مُلبّس ہیں؛ یَاہوِہ عظمت و جلال سے کمربستہ ہیں اَور طاقت سے مُسلّح ہیں۔ دُنیا اَپنی جگہ پر مضبُوطی سے قائِم ہے؛ اُسے اُس کے مقام سے ہٹایا نہیں جا سَکتا۔
PSA 93:2 آپ کا تخت قدیم سے قائِم ہے؛ آپ اَزل سے ہیں۔
PSA 93:3 اَے یَاہوِہ، سمُندر موجزن ہو گئے ہیں، سمُندروں نے غُلغُلہ مچا رکھا ہے؛ اَور سمُندروں کی لہریں تلاطم خیز ہیں۔
PSA 93:4 زبردست سمُندروں کی گرج سے زِیادہ اَور سمُندر کی طُوفانی موجوں سے بھی بڑھ کر قوی تر ہیں، آسمانوں کے، اعلیٰ قادر یَاہوِہ۔
PSA 93:5 آپ کے قوانین پائدار ہیں، اَے یَاہوِہ، ابدُالآباد تک؛ تقدُّس آپ کے گھر کی زینت ہے۔
PSA 94:1 اَے یَاہوِہ، اَے اِنتقام لینے والے خُدا، اَے خدائے مُنتقِم! جلوہ گِر ہوں۔
PSA 94:2 اَے جہاں کا اِنصاف کرنے والے اُٹھیں؛ اَور مغروُروں کو بدلہ دیں جِس کے وہ مُستحق ہیں۔
PSA 94:3 اَے یَاہوِہ، بدکار لوگ کب تک، کب تک فخر کرتے رہیں گے؟
PSA 94:4 وہ گھمنڈ بھری باتیں کرتے ہیں؛ سَب بد کِردار تکبُّر سے بھرے ہُوئے ہیں۔
PSA 94:5 اَے یَاہوِہ، وہ آپ کے لوگوں کو کُچل دیتے ہیں؛ اَور آپ کی مِیراث پر ظُلم ڈھاتے ہیں۔
PSA 94:6 وہ بِیوہ اَور پردیسی کو قتل کرتے ہیں؛ اَور یتیم کو مار ڈالتے ہیں۔
PSA 94:7 وہ کہتے ہیں: ”یَاہوِہ نہیں دیکھتے؛ یعقوب کے خُدا خیال نہیں کرتے۔“
PSA 94:8 اَے قوم کے نادانوں! غور کرو؛ اَے احمقو! تُمہیں کب عقل آئے گی؟
PSA 94:9 جِس نے کان بنائے، کیا وہ خُود نہیں سُنتے؟ اَور جِس نے آنکھ بنائی، کیا وہ آپ نہیں دیکھتے؟
PSA 94:10 کیا وہ جو قوموں کو تنبیہ کرتے ہیں، سزا نہ دیں گے؟ اَورجو اِنسانوں کو تعلیم دیتے ہیں، کیا اُن کے پاس علم کی کمی ہے؟
PSA 94:11 یَاہوِہ اِنسانوں کے خیالات جانتے ہیں؛ اُنہیں مَعلُوم ہے کہ وہ باطِل ہیں۔
PSA 94:12 اَے یَاہوِہ، مُبارک ہے وہ آدمی جسے آپ تنبیہ کرتے ہیں، اَور وہ آدمی جسے آپ اَپنی آئین کی تعلیم دیتے ہیں؛
PSA 94:13 آپ اُسے مُصیبت کے دِنوں میں آرام بخشتے ہیں، جَب کہ بدکاروں کے لیٔے گڑھا کھودا جاتا ہے۔
PSA 94:14 کیونکہ یَاہوِہ اَپنے لوگوں کو ترک نہ کریں گے؛ وہ اَپنی مِیراث کو چھوڑیں گے نہیں۔
PSA 94:15 عدل کی بُنیاد پھر سے راستی پر ڈالی جائے گی، اَور سَب راست دِل اُن کی پیروی کریں گے۔
PSA 94:16 میری خاطِر بدکاروں کے خِلاف کون کھڑا ہوگا؟ اَور بدکرداروں کے خِلاف میری حمایت کون کرےگا؟
PSA 94:17 اگر یَاہوِہ نے میری مدد نہ کی ہوتی، تو میں بہت جلد عالمِ خاموشی میں جا بسا ہوتا۔
PSA 94:18 جَب مَیں نے کہا، ”میرا پاؤں پھسل رہاہے،“ تَب اَے یَاہوِہ، آپ کی لافانی مَحَبّت نے مُجھے سنبھال لیا۔
PSA 94:19 جَب مَیں بےحد فِکرمند تھا، تَب آپ کی تسلّی نے میری جان کو راحت بخشی۔
PSA 94:20 کیا جِس تخت پر ظالِم حُکمراں مُسلّط ہو اَورجو قوانین کی آڑ لے کر بُرائی کا باعث بَن جائے، آپ سے رابطہ رکھ سَکتا ہے؟
PSA 94:21 وہ صادقوں کے خِلاف اِکٹھّے ہو جاتے ہیں اَور بے قُصُوروں کو سزائے موت سُناتے ہیں۔
PSA 94:22 لیکن یَاہوِہ میرا قلعہ بَن گئے ہیں، اَور میرے خُدا میری چٹّان؛ میں جِس میں پناہ لیتا ہُوں۔
PSA 94:23 خُدا اُنہیں اُن کے گُناہوں کا بدلہ دیں گے، اَور اُن کی بدکاری کے باعث اُنہیں فنا کر ڈالیں گے؛ یَاہوِہ ہمارے خُدا یقیناً اُنہیں تباہ کر ڈالیں گے۔
PSA 95:1 آؤ ہم یَاہوِہ کے لیٔے خُوشی سے گائیں؛ آؤ ہم اَپنی نَجات کی چٹّان کے سامنے خُوشی کے نعرے ماریں۔
PSA 95:2 آؤ ہم شُکر گُزاری کے ساتھ اُن کے رُوبرو حاضِر ہُوں اَور نغموں اَور سازوں کے ساتھ اُن کی تعریف کریں۔
PSA 95:3 کیونکہ یَاہوِہ خُدائے عظیم ہیں، اَور سارے معبُودوں میں بادشاہ وُہی ہیں۔
PSA 95:4 زمین کی گہرائیاں یَاہوِہ ہی کے ہاتھ میں ہیں، اَور پہاڑوں کی چوٹیاں بھی اُن ہی کی ہیں۔
PSA 95:5 سمُندر اُن کا ہے کیونکہ اُن ہی نے اُسے بنایا، اَور اُن ہی کے ہاتھوں نے خشک زمین کو تشکیل کیا۔
PSA 95:6 آؤ ہم اُس کی عبادت کریں اَور اُسے سَجدہ کریں، اَور یَاہوِہ اَپنے خالق کے سامنے گھُٹنے ٹیکیں؛
PSA 95:7 کیونکہ وہ ہمارے خُدا ہیں اَور ہم اُن کی چراگاہ کے لوگ، اَور اُن کے گلّہ کی بھیڑیں ہیں۔ اگر آج تُم اُن کی آواز سُنو،
PSA 95:8 تُم اَپنے دِلوں کو سخت نہ کرو، جَیسا تمہارے آباؤاَجداد نے مریبہؔ میں کیا تھا، اَور جَیسا اُنہُوں نے اُس دِن بیابان میں مَسّہؔ کے مقام پر کیا تھا،
PSA 95:9 جہاں تمہارے آباؤاَجداد نے مُجھے آزمایا اَور میرا اِمتحان لیا، حالانکہ مَیں نے جو کچھ کیا اُسے اُنہُوں نے دیکھا تھا۔
PSA 95:10 چالیس سال تک میں اُس پُشت سے ناراض رہا؛ اَور مَیں نے کہا کہ یہ اَیسے لوگ ہیں جِن کے دِل گُمراہ ہوتے رہتے ہیں، اَور اِنہُوں نے میری راہوں کو نہیں پہچانا۔
PSA 95:11 لہٰذا مَیں نے اَپنے قہر میں قَسم کھا کر اعلان کیا، کہ یہ لوگ میری اُس آرامگاہ میں ہرگز داخل نہ ہوں گے۔
PSA 96:1 یَاہوِہ کے حُضُور ایک نیا نغمہ گاؤ؛ اَے سَب اہلِ زمین! یَاہوِہ کے لیٔے گاؤ۔
PSA 96:2 یَاہوِہ کے لیٔے گاؤ۔ اُن کے نام کی سِتائش کرو؛ روز بروز اُن کی نَجات کی بشارت دو۔
PSA 96:3 قوموں میں یَاہوِہ کے جلال کا ذِکر کرو، اَور اُمّتوں میں اُن کے حیرت اَنگیز کارناموں کا بَیان کرو۔
PSA 96:4 کیونکہ یَاہوِہ عظیم ہیں اَور ہر سِتائش کے لائق ہیں؛ اَور سَب معبُودوں سے بڑھ کر تعظیم کے لائق ہیں۔
PSA 96:5 کیونکہ قوموں کے سَب معبُود محض بُت ہیں، لیکن یَاہوِہ نے آسمانوں کو بنایا
PSA 96:6 شان و شوکت اُن کے سامنے ہیں؛ اَور قُدرت اَور جلال اُن کے پاک مَقدِس میں ہیں۔
PSA 96:7 اَے قوموں کے قبیلو! یَاہوِہ کے لیٔے، جلال اَور قُوّت یَاہوِہ ہی کے لیٔے مخصُوص کرو۔
PSA 96:8 یَاہوِہ کی تمجید کرو جو اُن کے نام کے شایان ہے؛ اُن کی حُضُوری میں اَپنے عطیات لے کر آؤ۔
PSA 96:9 پاکیزگی کی شوکت میں ہوکر یَاہوِہ کی عبادت کرو؛ اَے سَب اہلِ زمین! اُن کی حُضُوری میں کانپتے رہو۔
PSA 96:10 قوموں میں اعلانیہ کہو، ”یَاہوِہ ہی سلطنت کرتے ہیں،“ دُنیا مضبُوطی سے قائِم ہے، اُسے سرکایا نہیں جا سَکتا؛ وہ اُمّتوں کا اِنصاف راستی سے کریں گے۔
PSA 96:11 افلاک خُوش ہوں اَور زمین شادمان ہو؛ اَور سمُندر اَور اُس کی معموُری شور مچائے؛
PSA 96:12 میدان اَورجو کچھ اُن میں ہے خُوش ہوں۔ تَب جنگل کے سَب درخت خُوشی سے گانے لگیں گے؛
PSA 96:13 وہ یَاہوِہ، کے سامنے گائیں گے کیونکہ وہ آ رہے ہیں، وہ جہان کی عدالت کرنے آ رہے ہیں۔ وہ راستی سے دُنیا کی اَور اَپنی سچّائی سے قوموں کی عدالت کریں گے۔
PSA 97:1 یَاہوِہ سلطنت کرتے ہیں۔ زمین شادمان ہو؛ تمام جزیرے خُوشی منائیں۔
PSA 97:2 بادل اَور گہری تاریکی اُن کے اِردگرد ہیں؛ راستی اَور اِنصاف اُن کے تخت کی بُنیاد ہیں۔
PSA 97:3 آگ اُن کے آگے آگے چلتی ہے اَور اُن کے مُخالفوں کو چاروں طرف بھسم کردیتی ہے۔
PSA 97:4 اُن کی بجلی جہاں کو رَوشن کرتی ہے؛ اَور زمین دیکھ کر لرزاں ہے۔
PSA 97:5 پہاڑ یَاہوِہ کے سامنے موم کی طرح پگھل جاتے ہیں، یعنی ساری زمین کے یَاہوِہ کے سامنے۔
PSA 97:6 آسمان اُن کی راستی کا اعلان کرتا ہے، اَور سَب قومیں اُن کا جلال دیکھتی ہیں۔
PSA 97:7 بُتوں کی پرستش کرنے والے، اَور بُتوں پر فخر کرنے والے، سَب کے سَب شرمندہ کر دئیے گیٔے، اَے معبُودو! یَاہوِہ کی عبادت کرو!
PSA 97:8 اَے یَاہوِہ، صِیّونؔ سُن کر خُوش ہوتاہے، اَور یہُوداہؔ کے دیہات آپ کے اِنصاف کے باعث شادمان ہیں۔
PSA 97:9 کیونکہ اَے یَاہوِہ، آپ ساری زمین پر بُلند و بالا ہیں؛ آپ سَب معبُودوں سے کہیں اعلیٰ ہیں۔
PSA 97:10 یَاہوِہ سے مَحَبّت رکھنے والے بدی سے نفرت کریں، کیونکہ وہ اَپنے مُقدّسین کی جانوں کی حِفاظت کرتے ہیں، اَور اُنہیں بدکار لوگ کے ہاتھ سے رِہائی بخشتے ہیں۔
PSA 97:11 صادقوں پر رَوشنی کا ظہُور ہوتاہے اَور راست دِلوں پر خُوشی کا۔
PSA 97:12 اَے راستبازو، یَاہوِہ میں خُوش رہو، اَور خُدا کے پاک نام کی سِتائش کرو۔
PSA 98:1 ایک زبُور۔ یَاہوِہ کے لیٔے ایک نیا نغمہ گاؤ، کیونکہ یَاہوِہ نے حیرت اَنگیز کام کئے ہیں؛ اُن کے داہنے ہاتھ اَور اُن کے مُقدّس بازو نے فتح حاصل کی ہے۔
PSA 98:2 یَاہوِہ نے قوموں پر اَپنی نَجات ظاہر کی ہے اَور اَپنی راستی کا جلوہ دِکھایا ہے۔
PSA 98:3 خُدا نے اِسرائیل کے گھرانے کے حق میں اَپنی شفقت و مَحَبّت اَور وفاداری کو یاد فرمایاہے؛ دُنیا کی اِنتہا تک لوگوں نے ہمارے خُدا کی نَجات دیکھی ہے۔
PSA 98:4 یَاہوِہ کے حُضُور میں سَب اہلِ زمین خُوشی سے للکارو، سازوں کے ساتھ خُوشی کا نغمہ گاؤ؛
PSA 98:5 بربط پر یَاہوِہ کے لیٔے نغمہ سرائی کرو، ہاں، سِتار اَور سریلی آواز کے ساتھ۔
PSA 98:6 نرسنگوں سے اَور قَرنا کی آواز سے یَاہوِہ، یعنی ہمارے بادشاہ، کے سامنے خُوشی سے نعرے بُلند کرو۔
PSA 98:7 سمُندر اَور اُس کے اَندر کی ہر شَے اُس میں خُوشی سے للکاریں، اَور دُنیا اَور اُس کے سَب باشِندے بھی۔
PSA 98:8 دریا تالیاں بجائیں، اَور پہاڑ مِل کر خُوشی سے گائیں؛
PSA 98:9 وہ سَب یَاہوِہ کی حُضُوری میں گائیں، کیونکہ یَاہوِہ زمین کی عدالت کرنے آ رہے ہیں۔ اُن کا اِنصاف راستبازی سے پُورا ہوگا؛ اَور اِنسانوں کی عدالت اَپنی صداقت کے مُطابق کریں گے۔
PSA 99:1 یَاہوِہ سلطنت کرتے ہیں، قومیں کانپنے لگیں؛ وہ کروبیم کے درمیان تخت نشین ہیں، زمین لرز جائے۔
PSA 99:2 یَاہوِہ صِیّونؔ میں عظیم ہیں؛ اَور وہ سَب قوموں پر بُلند و بالا ہیں۔
PSA 99:3 تمام لوگ آپ کے عظیم و مُہیب نام کی سِتائش کریں۔ وہ قُدُّوس ہیں۔
PSA 99:4 بادشاہ جبّار ہے، اُسے عدل عزیز ہے، آپ نے اِنصاف قائِم کیا ہے؛ آپ نے یعقوب میں وُہی کیا جو اِنصاف اَور راستی ہے۔
PSA 99:5 تُم یَاہوِہ، ہمارے خُدا کی تمجید کرو، اَور خُدا کے پاؤں کی چوکی پر سَجدہ کرو؛ وہ قُدُّوس ہیں۔
PSA 99:6 مَوشہ اَور اَہرونؔ خُدا کے کاہِنوں میں سے تھے، اَور شموایلؔ اُن کا نام لینے والوں میں سے تھے؛ اُنہُوں نے یَاہوِہ کو پُکارا اَور یَاہوِہ نے اُنہیں جَواب دیا۔
PSA 99:7 خُدا نے بادل کے سُتون میں سے اُن سے کلام کیا؛ اُنہُوں نے خُدا کے قوانین کو اَور اُن آئین کو مانا جو خُدا نے اُن کو دئیے تھے۔
PSA 99:8 اَے یَاہوِہ، ہمارے خُدا، خُدا نے اُنہیں جَواب دیا؛ آپ اِسرائیل کے لیٔے غفور خُدا رہے، حالانکہ آپ اُن کی بداعمالیوں کی سزا بھی دیا کرتے تھے۔
PSA 99:9 یَاہوِہ ہمارے خُدا کی تمجید کرو، اَور اُن کے مُقدّس پہاڑ پر خُدا کی عبادت کرو، کیونکہ یَاہوِہ ہمارے خُدا قُدُّوس ہیں۔
PSA 100:1 شُکر گُزاری کے لیٔے زبُور۔ اَے سَب اہلِ زمین! خُوشی سے یَاہوِہ کو للکارو۔
PSA 100:2 خُوشی سے یَاہوِہ کی عبادت کرو؛ خُوشی کے نغمہ گاتے ہُوئے اُن کے سامنے آؤ۔
PSA 100:3 جان لو کہ یَاہوِہ ہی خُدا ہیں۔ اُن ہی نے ہمیں بنایا اَور ہم اُن ہی کے ہیں؛ ہم اُن کی اُمّت اَور اُن کی چراگاہ کی بھیڑیں ہیں۔
PSA 100:4 شُکر گُزاری کے ساتھ اُن کے پھاٹکوں میں اَور حَمد کرتے ہُوئے اُن کی بارگاہوں میں داخل ہو جاؤ؛ اُن کا شُکر بجا لاؤ اَور اُن کے نام کو مُبارک کہو۔
PSA 100:5 کیونکہ یَاہوِہ بھلےہیں اَور اُن کی شفقت اَبدی ہے؛ اَور اُن کی وفاداری پُشت در پُشت جاری رہتی ہے۔
PSA 101:1 داویؔد کا زبُور۔ مَیں آپ کی شفقت و مَحَبّت اَور اِنصاف کا نغمہ گاؤں گا؛ اَے یَاہوِہ، مَیں آپ کی حَمد کروں گا۔
PSA 101:2 میں بے عیب زندگی گُزارنے میں محتاط رہُوں گا، آپ میرے پاس کب آئیں گے؟ اَپنے گھر میں میری روِش ایک پاک دِل کے مُطابق ہوگی۔
PSA 101:3 میں ہر خباثت کو نظر سے دُور رکھوں گا۔ بےایمان لوگوں کے اعمال سے مُجھے نفرت ہے؛ وہ مُجھ سے لپٹے نہ رہیں گے۔
PSA 101:4 کجرو دِل والے لوگ مُجھ سے بہت دُور رہیں گے؛ مُجھے بدی سے کویٔی سروکار نہ ہوگا۔
PSA 101:5 اگر کویٔی شخص درپردہ اَپنے ہمسایہ کی غیبت کرےگا، تو میں اُسے خاموش کر دُوں گا؛ جِس کی نظر میں تکبُّر اَور دِل میں غُرور ہوگا، اُسے میں برداشت نہ کروں گا۔
PSA 101:6 مُلک کے وفاداروں پر میری آنکھیں لگی رہیں گی، تاکہ وہ میرے ساتھ رہیں؛ جِس کی روِش بے عیب ہے وُہی میری خدمت کرےگا۔
PSA 101:7 کوئی بھی دغاباز میرے گھر میں نہ رہے گا؛ اَور کویٔی دروغ گو میرے رُوبرو کھڑا نہ ہوگا۔
PSA 101:8 میں ہر صُبح مُلک کے سَب بدکاروں کو ہلاک کروں گا؛ تاکہ کویٔی بدکار یَاہوِہ کے شہر میں باقی نہ رہے۔
PSA 102:1 مُصیبت زدہ کی دعا۔ جَب وہ اَفسُردہ ہوکر یَاہوِہ کے سامنے آہ و زاری کرتا ہے۔ اَے یَاہوِہ، میری دعا سُنیں؛ میری فریاد آپ تک پہُنچے۔
PSA 102:2 میری مُصیبت کے وقت اَپنا مُنہ مُجھ سے نہ چھُپائیں۔ میری طرف متوجّہ ہوں؛ اَور اَپنا کان میری طرف لگائیں؛ مُجھے جلد جَواب دیں۔
PSA 102:3 کیونکہ میری زندگی کے دِن دھوئیں کی مانند اُڑے جاتے ہیں؛ اَور میری ہڈّیاں دہکتے ہُوئے اَنگاروں کی مانند جَل رہی ہیں۔
PSA 102:4 میرا دِل جھُلس کر گھاس کی مانند سُوکھ گیا ہے؛ اَور مَیں اَپنی روٹی کھانا بھی بھُول جاتا ہُوں۔
PSA 102:5 زور زور سے کراہنے کی وجہ سے میری ہڈّیاں کھال سے چپک کر رہ گئیں۔
PSA 102:6 مَیں بیابان کے اُلّو کی مانند ہُوں، اَیسے اُلّو کی مانند جو کھنڈروں میں پایا جاتا ہے۔
PSA 102:7 مَیں پڑا جاگتا رہتا ہُوں؛ اُس چڑیا کی مانند جو چھت پر تنہا ہو،
PSA 102:8 دِن بھر میرے دُشمن مُجھے ملامت کرتے ہیں؛ اَور میری مُخالفت کرنے والے میرا نام لے کر لعنت کرتے ہیں۔
PSA 102:9 کیونکہ راکھ میری غِذا بَن چُکی ہے اَور میرے پینے کی چیز میں میرے آنسُو ملے ہوتے ہیں۔
PSA 102:10 یہ آپ کے سخت غضب کی وجہ سے ہُوا، کیونکہ آپ نے مُجھے سرفراز کرکے زمین پر پٹک دیا ہے۔
PSA 102:11 میری زندگی کے دِن ڈھلنے والے سایہ کی مانند ہیں؛ میں گھاس کی طرح مُرجھا کر رہ گیا ہُوں۔
PSA 102:12 لیکن آپ اَے یَاہوِہ، اَبد تک تخت نشین رہیں گے؛ اَور آپ کی عظمت پُشت در پُشت قائِم رہے گی۔
PSA 102:13 آپ اُٹھیں گے اَور صِیّونؔ پر رحم کریں گے، یہ وہ وقت ہے کہ آپ اُس پر ترس کھایٔیں، کیونکہ مُعیّن وقت آ چُکاہے۔
PSA 102:14 کیونکہ اُس کے پتّھر آپ کے بندوں کو عزیز ہیں؛ اَور اُس کی خاک پر بھی اُنہیں ترس آتا ہے۔
PSA 102:15 قومیں یَاہوِہ کے نام سے خوف کھایٔیں گی، اَور زمین کے سَب بادشاہ آپ کے جلال کی تعظیم کریں گے۔
PSA 102:16 کیونکہ یَاہوِہ صِیّونؔ کو دوبارہ تعمیر کریں گے اَور اَپنے جلال میں ظاہر ہوں گے۔
PSA 102:17 وہ بےکسوں کی دعا کا جَواب دیں گے؛ اَور اُن کی عرض کو حقیر نہ جانیں گے۔
PSA 102:18 یہ آئندہ پُشت کے لیٔے لِکھّا جائے، کہ ایک قوم جو ابھی وُجُود میں نہیں آئی، یَاہوِہ کی سِتائش کرےگی:
PSA 102:19 ”یَاہوِہ نے اَپنے بُلند پاک مَقدِس سے نیچے نگاہ کی، آسمان سے اُنہُوں نے زمین پر نظر ڈالی،
PSA 102:20 تاکہ اسیروں کا کراہنا سُنیں اَور اُنہیں چھُڑا لیں جنہیں سزائے موت سُنایٔی گئی ہے۔“
PSA 102:21 چنانچہ صِیّونؔ میں یَاہوِہ کے نام کا ذِکر ہوگا اَور یروشلیمؔ میں اُن کی تعریف ہوگی
PSA 102:22 جَب مُختلف قومیں اَور مملکتیں یَاہوِہ کی عبادت کے لیٔے جمع ہوں گی۔
PSA 102:23 میرے جیتے جی یَاہوِہ نے میری قُوّت توڑ دی؛ اَور میری عمر گھٹا دی۔
PSA 102:24 اِس لیٔے مَیں نے کہا: ”اَے میرے خُدا! مُجھے آدھی عمر میں نہ اُٹھائیں؛ آپ کے بَرس پُشت در پُشت چلتے رہتے ہیں۔
PSA 102:25 آپ نے اِبتدا میں زمین کی بُنیاد رکھی، اَور آسمان آپ کے ہی ہاتھوں کی کاریگری ہے۔
PSA 102:26 زمین اَور آسمان نِیست ہو جایٔیں گے مگر آپ قائِم رہیں گے؛ وہ سَب پوشاک کی مانند پُرانے ہو جایٔیں گے۔ آپ اُنہیں پوشاک کی مانند لپیٹیں گے اَور وہ پوشاک کی طرح بدل دئیے جایٔیں گے۔
PSA 102:27 لیکن یَاہوِہ ہمیشہ سے لاتبدیل ہیں، اَور یَاہوِہ کی زندگی کے سال کبھی ختم نہ ہوں گے۔
PSA 102:28 آپ کے بندوں کی اَولاد آپ کی حُضُوری میں زندگی بسر کرےگی؛ اَور اُن کی نَسل آپ کے سامنے قائِم رہے گی۔“
PSA 103:1 داویؔد کا زبُور۔ اَے میری جان، یَاہوِہ کی سِتائش کر؛ اَور میرے جِسم کا ایک ایک حِصّہ آپ کے پاک نام کو مُبارک کہہ۔
PSA 103:2 اَے میری جان، یَاہوِہ کی سِتائش کر، اَور اُن کی کسی نِعمت کو فراموش نہ کر۔
PSA 103:3 وہ تمہارے سارے گُناہ مُعاف کرتے ہیں اَور تُمہیں سَب بیماریوں سے شفا دیتے ہیں۔
PSA 103:4 یَاہوِہ تمہاری جان کو ہلاکت سے بچا لیتے ہیں اَور تمہارے سَر پر شفقت و مَحَبّت اَور رحمت کا تاج رکھتے ہیں۔
PSA 103:5 وہ تمہاری تمنّاؤں کو اَچھّی چیزوں سے آسُودہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ تمہاری جَوانی عُقاب کی مانند اَز سَر نَو بحال ہو جاتی ہے۔
PSA 103:6 یَاہوِہ سَب مظلوموں کے لیٔے راستبازی اَور اِنصاف سے کام لیتے ہیں۔
PSA 103:7 خُدا نے مَوشہ پر اَپنی راہیں، اَور بنی اِسرائیل پر اَپنے کارنامے ظاہر کیٔے:
PSA 103:8 یَاہوِہ رحیم و کریم ہیں، وہ قہر کرنے میں دھیمے اَور شفقت میں غنی ہیں۔
PSA 103:9 وہ سدا اِلزام ہی نہیں لگاتا رہیں گے، اَور نہ اَپنا قہر ہمیشہ ہم پر جاری رکھیں گے؛
PSA 103:10 وہ ہمارے گُناہوں کے مُطابق ہم سے سلُوک نہیں کرتے اَور نہ ہماری بدکاریوں کے مُطابق ہمیں اجر ہی دیتے ہیں۔
PSA 103:11 کیونکہ آسمان زمین سے جِس قدر بُلند ہے، اُسی قدر اُن کی شفقت و مَحَبّت اُن لوگوں پر ہے جو اُن کا خوف رکھتے ہیں۔
PSA 103:12 مشرق اَور مغرب میں جِتنی دُوری ہے، یَاہوِہ نے ہماری خطائیں ہم سے اُتنی ہی دُور کر دی ہیں۔
PSA 103:13 جِس طرح باپ اَپنے بچّوں پر ترس کھاتا ہے، اُسی طرح یَاہوِہ اُن لوگوں پر ترس کھاتے ہیں جو اُن کا خوف رکھتے ہیں؛
PSA 103:14 کیونکہ وہ ہماری فطرت سے واقف ہیں، اَور اُنہیں یاد ہے کہ ہم خاکی ہیں۔
PSA 103:15 اِنسان کی عمر گھاس کی مانند ہوتی ہے، وہ میدان کے پھُول کی طرح کھِلتا ہے؛
PSA 103:16 جوں ہی اُس کے اُوپر ہَوا چلتی ہے، وہ ضائع ہو جاتا ہے، اَور پھر اَپنی پرانی جگہ دِکھائی نہیں دیتا کہ گُل کس جگہ کھِلا تھا۔
PSA 103:17 لیکن یَاہوِہ کی شفقت و مَحَبّت اُن کا خوف رکھنے والوں پر اَزل سے اَبد تک، اَور آپ کی راستی پُشت در پُشت قائِم رہتی ہے۔
PSA 103:18 یعنی اُن کے ساتھ جو اُن کے عہد پر قائِم رہتے ہیں اَور اُن کے فرمان کی اِطاعت کرنا یاد رکھتے ہیں۔
PSA 103:19 یَاہوِہ نے اَپنا تخت آسمان پر قائِم کیا ہے، اَور اُن کی سلطنت سَب پر مُسلّط ہے۔
PSA 103:20 اَے یَاہوِہ کے فرشتو، تُم جو زورآور ہو اَور اُن کا حُکم بجا لاتے ہو، اَور اُن کے کلام پر عَمل کرتے ہو، اُن کی سِتائش کرو۔
PSA 103:21 اَے یَاہوِہ، کے تمام آسمانی فَوجوں، تُم جو اُن کے خادِم ہو اَور اُن کی مرضی بجا لاتے ہو، یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔
PSA 103:22 یَاہوِہ کی مخلُوقات، جو اُن کی مملکت کے طُول و عرض میں ہے، اُن کی سِتائش کرو۔ اَے میری جان، یَاہوِہ کی مدح سرائی کر۔
PSA 104:1 اَے میری جان، یَاہوِہ کی سِتائش کر۔ اَے یَاہوِہ، میرے خُدا! آپ نہایت عظیم ہیں؛ آپ شان و شوکت سے مُلبّس ہیں۔
PSA 104:2 یَاہوِہ نے اَپنے آپ کو رَوشنی سے پوشاک کی طرح لپیٹ رکھا ہے؛ وہ آسمان کو سائبان کی طرح تانتے ہیں۔
PSA 104:3 وہ اُن کے پانی پر اَپنے بالاخانہ کے شہتیر ٹکاتے ہیں۔ اَور بادلوں کو اَپنا رتھ بناتے ہیں اَور ہَوا کے بازوؤں پر سوار ہوتے ہیں۔
PSA 104:4 آپ ہَواؤں کو اَپنا قاصِد، اَور اَپنے خادِموں کو گویا آگ کے شُعلوں کی مانند بناتے ہیں۔
PSA 104:5 اُنہُوں نے زمین کو اُس کی بُنیادوں پر قائِم کیا، جو اَپنے مقام سے کبھی ہٹائی نہیں جا سکتی۔
PSA 104:6 آپ نے اُسے گہرے سمُندر سے پوشاک کی طرح ڈھانپ دیا؛ اَور پانی پہاڑوں سے بھی بُلند تر تھا۔
PSA 104:7 لیکن آپ کی ڈانٹ سے پانی بھاگ گیا، آپ کی گرج کی آواز سے وہ رفو چکّر ہو گیا؛
PSA 104:8 پانی پہاڑوں پر سے بہتا ہُوا، نیچے وادیوں میں اُتر گیا، اَور اُس مقام تک جو آپ نے اُس کے لیٔے مُقرّر کیا تھا۔
PSA 104:9 آپ نے حَد باندھ دی جِس سے پانی آگے نہ بڑھے؛ اَور پھر کبھی وہ زمین کو ڈھانپنے نہ پایٔے۔
PSA 104:10 آپ ہی نالوں کو چشموں سے پانی پہُنچاتے ہیں وہ پہاڑوں کے درمیان بہتے ہیں۔
PSA 104:11 وہ میدان کے سَب جانوروں کو پانی مہیا کرتے ہیں؛ اَور گورخر بھی اَپنی پیاس بُجھا لیتے ہیں۔
PSA 104:12 ہَوا کے پرندے پانی کے آس پاس گھونسلے بناتے ہیں؛ اَور ڈالیوں پر چہچہاتے ہیں۔
PSA 104:13 یَاہوِہ اَپنے بالا خانوں سے پہاڑوں کو سیراب کرتے ہیں؛ اَور آپ ہی کی صنعتوں کے پھل سے زمین آسُودہ ہے۔
PSA 104:14 وہ مویشیوں کے لیٔے گھاس اُگاتے ہیں، اَور اِنسان خُوراک کے لیٔے کاشتکاری کی غرض سے پَودے۔ تاکہ زمین میں سے اشیائے خوردنی پیدا ہو:
PSA 104:15 اَور انگوری شِیرہ جو اِنسان کے دِل کو خُوش کرتا ہے، اَور روغن جو اِنسان کے چہرہ کو چمکاتا ہے، اَور روٹی جو اِنسان کے دِل کو تقویّت پہُنچاتی ہے۔
PSA 104:16 یَاہوِہ کے درخت شاداب رہتے ہیں، یعنی لبانونؔ کے دیودار جو یَاہوِہ نے لگائے۔
PSA 104:17 وہاں پرندے اَپنے گھونسلے بناتے ہیں؛ صنوبر کے درختوں پر لق لق بسیرا کرتا ہے۔
PSA 104:18 اُونچے پہاڑ جنگلی بکروں کے لیٔے ہیں؛ اَور چٹّانیں سافانوں کے پناہ گاہ ہیں۔
PSA 104:19 چاند موسموں میں اِمتیاز کرنے کا نِشان ہے، اَور سُورج اَپنے غروب ہونے کا وقت جانتا ہے۔
PSA 104:20 آپ تاریکی لے آتے ہیں تو وہ رات بَن جاتی ہے، اَور جنگل کے سَب جانور گھُومنے پھرنے لگتے ہیں۔
PSA 104:21 شیرببر اَپنے شِکار کے لیٔے گرجتے ہیں اَور خُدا سے اَپنی خُوراک طلب کرتے ہیں۔
PSA 104:22 سُورج طُلوع ہوتے ہی شیرببر دبے پاؤں چلے جاتے ہیں؛ اَور اَپنی ماندوں میں پڑے رہتے ہیں۔
PSA 104:23 تَب اِنسان اَپنے کام پر نکل پڑتے ہیں، اَور شام تک محنت کرتے رہتے ہیں۔
PSA 104:24 اَے یَاہوِہ! آپ کی صنعتیں بے شُمار ہیں! آپ نے اُن سَب کو حِکمت سے بنایا؛ زمین آپ کی مخلُوقات سے معموُر ہے۔
PSA 104:25 سمُندر کو دیکھو کس قدر عظیم اَور وسیع ہے، جو لاتعداد رینگنے والے جانداروں سے بھرا ہُواہے۔ جِن میں چُھوٹے اَور بڑے سبھی جانور شامل ہیں۔
PSA 104:26 اُس میں جہاز بھی چلتے ہیں، اَور لِویاتان بھی، جسے آپ نے اُس میں کھیلنے کے لیٔے بنایا۔
PSA 104:27 اِن سَب کو آپ کا ہی آسرا رہتاہے کہ آپ اُنہیں مُناسب وقت پر خُوراک بہم پہُنچائیں۔
PSA 104:28 جَب آپ اُنہیں فراہم کرتے ہیں، تو وہ اُسے جمع کرتے ہیں؛ جَب آپ اَپنی مُٹّھی کھولتے ہیں، تو وہ اَچھّی چیزوں سے سیر ہوتے ہیں۔
PSA 104:29 جَب آپ اَپنا چہرہ چھُپا لیتے ہیں، تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں؛ اَور جَب آپ اُن کا دَم روک دیتے ہیں، تو وہ مَر جاتے ہیں اَور خاک میں مِل جاتے ہیں۔
PSA 104:30 جَب آپ اَپنی رُوح بھیجتے ہیں، تو وہ پیدا ہوتے ہیں، اَور آپ رُوئے زمین کو نیا بنا دیتے ہیں۔
PSA 104:31 یَاہوِہ کا جلال اَبد تک قائِم رہے؛ یَاہوِہ اَپنے کاموں سے خُوش ہو۔
PSA 104:32 وہ زمین کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ کانپ جاتی ہے، اَور پہاڑوں کو چھُوتے ہیں تو اُن میں سے دُھواں نکلنے لگتا ہے۔
PSA 104:33 میں عمر بھر یَاہوِہ کے لیٔے نغمہ گاتا رہُوں گا؛ اَور جَب تک جیتا رہُوں گا، میں اَپنے خُدا کی مدح سرائی کروں گا۔
PSA 104:34 میرا مُراقبہ بھی اُن کو پسند آئے، کیونکہ یَاہوِہ ہی میری خُوشی کا ذریعہ ہیں۔
PSA 104:35 گُنہگار رُوئے زمین پر سے مِٹ جایٔیں، اَور بدکار لوگ باقی نہ رہیں۔ میری جان، یَاہوِہ کو مُبارک کہہ۔ یَاہوِہ کی حَمد کرو۔
PSA 105:1 یَاہوِہ کا شُکر بجا لاؤ۔ اُن کے نام سے دعا کرو؛ قوموں کو اُن کے کاموں کے بارے میں بتاؤ۔
PSA 105:2 اُن کی سِتائش میں گاؤ، اُن کی مدح سرائی کرو؛ اُن کے تمام حیرت اَنگیز کارناموں کا بَیان کرو۔
PSA 105:3 اُن کے پاک نام پر فخر کرو؛ اُن کے دِل، جو یَاہوِہ کے طالب ہیں، شادمان ہوں۔
PSA 105:4 یَاہوِہ اَور اُن کی قُوّت کے طالب ہو؛ اَور ہمیشہ اُن کے دیدار کے خواہاں رہو۔
PSA 105:5 اُن کے حیرت اَنگیز کارناموں کو جو اُنہُوں نے اَنجام دئیے، اُن کے معجزات کو اَور اُن کے سُنائے ہُوئے فیصلوں کو یاد کرو،
PSA 105:6 تُم جو اُن کے خادِم اَبراہامؔ کی نَسل ہو، اَور تُم جو یعقوب کی اَولاد اَور اُن کے برگُزیدہ ہو۔
PSA 105:7 وُہی یَاہوِہ، ہمارے خُدا ہیں؛ ساری دُنیا میں اُن ہی کے فیصلے رائج ہیں۔
PSA 105:8 وہ اَپنے عہد کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں، یعنی اُس کلام کو جو اُنہُوں نے ہزار پُشتوں کے لیٔے فرمایاہے،
PSA 105:9 وہ عہد، جو اُنہُوں نے اَبراہامؔ سے باندھا، اَور وہ قَسم، جو اُنہُوں نے اِصحاقؔ سے کھائی۔
PSA 105:10 اَور اُسی کو اُنہُوں نے یعقوب کے لیٔے قوانین، اَور اِسرائیل کے لیٔے اَبدی عہد ٹھہرایا:
PSA 105:11 ”مَیں کنعانؔ کا مُلک تُمہیں دُوں گا۔ جو تمہارا قَطعہ، موروثی حِصّہ ہوگا۔“
PSA 105:12 اُس وقت خُدا کے لوگ تعداد میں بہت کم تھے، یعنی بالکُل تھوڑے اَور اُس مُلک میں پردیسی تھے،
PSA 105:13 وہ ایک قوم سے دُوسری قوم میں، اَور ایک سلطنت سے دُوسری سلطنت میں پھرتے رہے۔
PSA 105:14 خُدا نے کسی آدمی کو اُن پر سِتم نہیں کرنے دیا؛ بَلکہ خُدا نے خُود بادشاہوں کو اُن کی خاطِر یہ تنبیہ دی؛
PSA 105:15 ”میرے ممسوحوں کو مت چھُونا؛ اَور میرے نبیوں کو کویٔی نُقصان مت پہُنچانا!“
PSA 105:16 تَب خُدا نے زمین پر قحط نازل کیا اَور اُن کے اشیائے خوردنی کے تمام ذرائع تباہ کر ڈالے؛
PSA 105:17 اَور خُدا نے اُن سے پہلے ایک آدمی کو بھیجا۔ اُن کا نام یُوسیفؔ تھا جنہیں غُلام کے طور پر بیچا گیا۔
PSA 105:18 اُنہُوں نے یُوسیفؔ کے پاؤں کو بِیڑیوں کے ذریعہ اِیذا پہُنچائی، اَور اُن کی گردن لوہے کی زنجیروں سے جکڑی رہی،
PSA 105:19 جَب تک کہ اُن کی پیشین گوئی پُوری نہ ہو گئی، اَور یَاہوِہ کے کلام نے اُنہیں حق ثابت کر دیا۔
PSA 105:20 تَب مِصر کے بادشاہ نے یُوسیفؔ کو چھُڑانے کا حُکم بھیجا، اَور قوموں کے حُکمراں نے اُنہیں آزاد کیا۔
PSA 105:21 اُس نے اُنہیں اَپنے گھر کا مختار، اَور اَپنی ساری مِلکیّت پر حاکم مُقرّر کیا۔
PSA 105:22 تاکہ یُوسیفؔ اُن کے حاکموں کو جَب چاہے ہدایت دیں اَور اُن کے وزیروں کو دانش سکھائیں۔
PSA 105:23 تَب اِسرائیل مِصر میں داخل ہُوا؛ اَور یعقوب حامؔ کی سرزمین میں مُسافر رہے۔
PSA 105:24 اَور یَاہوِہ نے اَپنے لوگوں کو خُوب برکت دی، اَور اُن کے مُخالفوں کی بہ نِسبت اُن کا شُمار بڑھا دیا؛
PSA 105:25 خُدا نے مِصریوں کے دِل برگشتہ کر دئیے، تاکہ اُن میں اُن کی اُمّت کے خِلاف عداوت پیدا ہو جائے، اَور وہ خُدا کے خادِموں کے خِلاف سازش کرنے لگے۔
PSA 105:26 تَب خُدا نے اَپنے خادِم مَوشہ کو بھیجا، اَور اَہرونؔ کو بھی بھیجا جسے خُدا نے چُن لیا تھا۔
PSA 105:27 اُنہُوں نے اُن کے درمیان اُس کے کرشمے، اَور حامؔ کی سرزمین میں عجائبات دِکھائے۔
PSA 105:28 خُدا نے اَندھیرا بھیج کر مُلک کو تاریک کر دیا۔ کیونکہ اُنہُوں نے اُن کے کلام سے بغاوت کی تھی۔
PSA 105:29 خُدا نے اُن کے دریاؤں کے پانی کو خُون میں بدل دیا، جِس کے باعث اُن کی مچھلیاں مَر گئیں۔
PSA 105:30 اُن کا مُلک مینڈکوں سے بھر گیا، جو اُن کے بادشاہوں کی خوابگاہوں میں داخل ہو گیٔے۔
PSA 105:31 خُدا نے حُکم فرمایا اَور مکھّیوں کے غول آ گئے، اَور مچھّر آکر اُن کے سارے مُلک میں پھیل گیٔے۔
PSA 105:32 بارش کے بدلے خُدا نے اُن پر اولے برسائے، اَور سارے مُلک میں بجلی گرا کر؛
PSA 105:33 خُدا نے اُن کی انگور کی بیلیں اَور اَنجیر کے درخت اَور اُن کے حُدوُد میں تمام درخت تباہ کر دئیے۔
PSA 105:34 اُنہُوں نے حُکم فرمایا تو ٹِڈّیاں آ گئیں، اَور بے شُمار ٹِڈّے بھی نکل آئے؛
PSA 105:35 اَور وہ اُن کے مُلک کی تمام سرسبز چیزیں چٹ کر گیٔے، اَور اُن کی زمین کی سَب پیداوار کھا لی۔
PSA 105:36 تَب خُدا نے مُلک مِصر کے تمام خاندانوں کے سَب پہلوٹھوں کو مار ڈالا، جو اُن کی قُوّتِ مردانہ کے پہلے پھل تھے۔
PSA 105:37 پھر وہ اِسرائیلیوں کو مع چاندی اَور سونے کے نکال لائے، اَور اُن کے قبیلوں میں سے کسی کے قدم نہ ڈگمگائے۔
PSA 105:38 جَب وہ چلے گیٔے تو مِصری خُوش تھے، کیونکہ اُن پر اِسرائیلیوں کا خوف طاری تھا۔
PSA 105:39 خُدا نے ایک بادل کو سائبان کے طور پر پھیلا دیا، اَور آگ کو مُقرّر کیا کہ وہ اُنہیں رات کو رَوشنی دے۔
PSA 105:40 اِسرائیلیوں کے مانگنے پر خُدا نے اُن کے لیٔے بٹیریں بھیجیں؛ اَور اُنہیں آسمانی روٹی سے سَیر کیا۔
PSA 105:41 خُدا نے چٹّان کو چیرا اَور پانی نکل آیا؛ اَور وہ بیابان میں ندی کی مانند بہنے لگا۔
PSA 105:42 کیونکہ اُنہیں اَپنا مُقدّس وعدہ یاد آیا جو اُنہُوں نے اَپنے خادِم اَبراہامؔ سے کیا تھا۔
PSA 105:43 وہ اَپنے لوگوں کو خُوشی مناتے ہُوئے، اَور اَپنے برگُزیدوں کو نغمہ گاتے ہُوئے نکال لائے؛
PSA 105:44 اَور خُدا نے اُنہیں اِسرائیلیوں کے مُلک دے دئیے، اَور وہ دُوسروں کی محنت کے پھل کے وارِث بَن گیٔے۔
PSA 105:45 تاکہ وہ اُن کے اَحکام پر چلیں اَور اُن کے آئین پر عَمل کریں۔ یَاہوِہ کی حَمد کرو۔
PSA 106:1 یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔ یَاہوِہ کا شُکر بجا لاؤ کیونکہ وہ بھلےہیں؛ اَور اُن کی شفقت اَبدی ہے۔
PSA 106:2 یَاہوِہ کی قُدرت کے کاموں کو کون بَیان کر سَکتا ہے یا اُن کی پُوری سِتائش کر سَکتا ہے؟
PSA 106:3 مُبارک ہیں وہ جو عدل قائِم کرتے ہیں، اَور ہر وقت راستی کے کام کرتے ہیں۔
PSA 106:4 اَے یَاہوِہ، جَب آپ اَپنے لوگوں پر نظرِکرم فرمائیں، تو مُجھے بھی یاد فرمانا، جَب آپ اُنہیں نَجات دیں تو میری مدد کو آئیں۔
PSA 106:5 تاکہ مَیں آپ کے برگُزیدوں کی اِقبالمندی سے لُطف اَندوز ہو سکوں، اَور آپ کی قوم کی خُوشی میں شریک ہو سکوں، اَور آپ کی مِیراث کے لوگوں کے ساتھ مِل کر فخر کر سکوں۔
PSA 106:6 ہم نے اَپنے آباؤاَجداد کی طرح گُناہ کیا ہے؛ ہم نے جُرم کیا ہے، ہمارے طرز عَمل میں بدی تھی۔
PSA 106:7 جَب ہمارے آباؤاَجداد مِصر میں تھے، تَب اُنہُوں نے آپ کے عجائبات کی طرف غور نہ کیا؛ نہ ہی آپ کی شفقت و مَحَبّت کو یاد کیا، اَور اُنہُوں نے سمُندر یعنی بحرِقُلزمؔ کے کنارے بغاوت کی۔
PSA 106:8 تو بھی خُدا نے اَپنے نام کی خاطِر اُنہیں بچا لیا، تاکہ اَپنی عظیم قُدرت ظاہر فرمائیں۔
PSA 106:9 تَب خُدا نے بحرِقُلزمؔ کو ڈانٹا اَور وہ خشک ہو گیا؛ اَور وہ اُنہیں گہراؤ میں سے اَیسے لے گئے گویا وہ کویٔی بیابان تھا۔
PSA 106:10 خُدا نے اُنہیں کینہ ور کے ہاتھ سے بچا لیا؛ اَور دُشمن کے ہاتھ سے چھُڑا لیا۔
PSA 106:11 پانی نے اُن کے حریفوں کو نگل لیا؛ اَور اُن میں سے ایک بھی نہ بچا۔
PSA 106:12 تَب خُدا کے لوگوں نے اُن کے وعدوں کا یقین کیا اَور اُن کی مدح سرائی کی۔
PSA 106:13 لیکن وہ بہت جلد بھُول گیٔے کہ خُدا نے کیا کیا تھا اَور اُن کی مشورت کا اِنتظار نہ کیا۔
PSA 106:14 وہ بیابان میں حِرص کے شِکار ہو گئے؛ اَور صحرا میں خُدا کو آزمایا۔
PSA 106:15 تَب خُدا نے اُن لوگوں کو اُن کی مُنہ مانگی چیز تو دے دی، لیکن ساتھ ہی اُن پر لاغر کرنے والی وَبا بھی نازل کر دی۔
PSA 106:16 وہ خیمہ گاہ میں مَوشہ پر اَور اَہرونؔ پرجو یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کئےگئے تھے، حَسد کرنے لگے۔
PSA 106:17 لہٰذا زمین پھٹی اَور داتنؔ کو نگل گئی؛ اَور ابیرامؔ کی جماعت کو کھا گئی۔
PSA 106:18 اَور اُن کے پیروکاروں کی جماعت کے درمیان آگ بھڑکی؛ اَور ایک شُعلے نے بدکار لوگوں کو بھسم کر دیا۔
PSA 106:19 کوہِ حورِبؔ میں اُنہُوں نے ایک بچھڑا بنایا اَور ڈھالے ہُوئے بچھڑے کے بُت کی پرستش کی۔
PSA 106:20 اُنہُوں نے اَپنے جلالی خُدا کو محض ایک گھاس کھانے والے بَیل کی شکل سے بدل دیا۔
PSA 106:21 اُنہُوں نے اُس خُدا کو فراموش کر دیا جِس نے اُنہیں نَجات بخشی تھی، اَور جِس نے مِصر میں بڑے بڑے کام کئے تھے،
PSA 106:22 اَور حامؔ کی سرزمین میں عجائبات اَور بحرِقُلزمؔ کے ساحِل پر مُہیب کارنامے اَنجام دئیے۔
PSA 106:23 چنانچہ خُدا نے اِرادہ کیا کہ وہ اُنہیں تباہ کر ڈالیں گے۔ اَور یہ ہو گیا ہوتا اگر خُدا کا برگُزیدہ مَوشہ موقع پر شفاعت کرنے کھڑے نہ ہو جاتے کہ خُدا اَپنے غضب کو روک دیں اَور اُنہیں تباہ نہ کریں۔
PSA 106:24 بعد میں اُنہُوں نے اُس دلپذیر مُلک کو حقیر جانا؛ اَور اُس کے وعدہ کا یقین نہ کیا۔
PSA 106:25 وہ اَپنے خیموں میں بُڑبُڑانے لگے اَور یَاہوِہ کی اِطاعت سے مُنہ موڑ لیا۔
PSA 106:26 تَب یَاہوِہ نے ہاتھ اُٹھاکر قَسم کھائی اَور اُنہیں جتا دیا کہ وہ اُنہیں بیابان میں ہی مٹّی میں مِلا دیں گے،
PSA 106:27 اَور اُن کی نَسلوں کو قوموں کے سامنے زیرِ کرکے الگ الگ مُلکوں میں پراگندہ کر دیں گے۔
PSA 106:28 اُنہُوں نے پعورؔ کے بَعل سے وابستگی پیدا کرلی اَور بے جان بُتوں کو چڑھائی ہُوئی قُربانیوں کا گوشت کھانے لگے؛
PSA 106:29 اَپنی شرارت آمیز حرکتوں سے اُنہُوں نے یَاہوِہ کو ناراض کیا، تو اُن کے درمیان وَبا پھیل گئی۔
PSA 106:30 تَب فِنحاسؔ اُٹھا اَور اُن کے درمیان آ جانے کی وجہ سے، وَبا موقُوف ہو گئی،
PSA 106:31 یہ کام اُن کے حق میں پُشت در پُشت ہمیشہ کے لیٔے راستبازی گُنا گیا۔
PSA 106:32 اُنہُوں نے مریبہؔ کے چشمہ کے پاس بھی یَاہوِہ کو غُصّہ دِلایا، اَور اُن کی وجہ سے مَوشہ کو نُقصان پہُنچا؛
PSA 106:33 کیونکہ اُنہُوں نے خُدا کی رُوح کے خِلاف بغاوت کی، اَور مَوشہ کے لبوں سے ناگوار الفاظ نکلے۔
PSA 106:34 جِن لوگوں کے متعلّق یَاہوِہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا اُن لوگوں کو اُنہُوں نے ہلاک نہیں کیا۔
PSA 106:35 بَلکہ وہ اُن قوموں ہی سے مِل گیٔے اَور اُن کے ضوابط اِختیار کر لیٔے۔
PSA 106:36 وہ اُن کے بُتوں کی پرستش کرنے لگے، جو اُن کے لیٔے پھندا بَن گیٔے۔
PSA 106:37 اُنہُوں نے اَپنے بیٹے اَور بیٹیوں کو شَیاطِین کے لیٔے قُربان کیا۔
PSA 106:38 اُنہُوں نے بے قُصُوروں کا خُون بہایا، یعنی اَپنے بیٹوں اَور بیٹیوں کا خُون، جنہیں اُنہُوں نے کنعانؔ کے بُتوں کے آگے قُربان کیا، اَور مُلک اُن کے خُون سے ناپاک ہو گیا۔
PSA 106:39 وہ تو اَپنے ہی کاموں سے ناپاک ہو گئے؛ اَور اَپنے افعال سے زناکار ٹھہرے۔
PSA 106:40 اِس لیٔے یَاہوِہ کا قہر اَپنے لوگوں پر بھڑکا اَور اُن کو اَپنی مِیراث سے نفرت ہو گئی۔
PSA 106:41 خُدا نے اُنہیں غَیر قوموں کے حوالہ کر دیا، اَور اُن کے مُخالف اُن پر حُکومت کرنے لگے۔
PSA 106:42 اُن کے دُشمنوں نے اُن پر ظُلم ڈھائے اَور اُنہیں اَپنا مطیع بنا لیا۔
PSA 106:43 کیٔی بار اُنہُوں نے اُنہیں چھُڑایا، لیکن وہ بغاوت پر اُڑے رہے اَور وہ اَپنی بدکاریوں کے باعث کمزور ہوتے چلے گیٔے۔
PSA 106:44 لیکن جَب خُدا نے اُن کی فریاد سُنی، تَب اُنہُوں نے اُن کے دُکھ پر نظر کی؛
PSA 106:45 اُن کی خاطِر خُدا نے اَپنے عہد کو یاد فرمایا، اَور اَپنی بڑی شفقت و مَحَبّت کے باعث اُن پر ترس کھایا۔
PSA 106:46 اَور جنہوں نے اُنہیں اسیر کر رکھا تھا اُن کے دِل رحم سے بھر دئیے۔
PSA 106:47 اَے یَاہوِہ، ہمارے خُدا! ہمیں بچا لیں، اَور ہمیں قوموں میں سے جمع کر لیں، تاکہ ہم آپ کے پاک نام کا شُکر کریں، اَور آپ کی سِتائش کرنے میں فخر محسُوس کریں۔
PSA 106:48 بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ، اَزل سے اَبد تک مُبارک ہوں۔ سَب لوگ کہیں، ”آمین،“ یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔
PSA 107:1 یَاہوِہ کا شُکر بجا لاؤ کیونکہ وہ بھلےہیں؛ اَور اُس کی شفقت اَبد تک ہے۔
PSA 107:2 یَاہوِہ کے چھُڑائے ہُوئے یہی کہیں۔ جنہیں اُس نے فدیہ دے کر مُخالف کے ہاتھ سے چھُڑا لیا،
PSA 107:3 جنہیں اُس نے مُختلف مُلکوں سے، مشرق اَور مغرب سے اَور شمال اَور جُنوب سے جمع کیا۔
PSA 107:4 بعض لوگ بیابانوں اَور صحراؤں میں مارے مارے پھرے، لیکن بسنے کے لیٔے کسی شہر کی راہ نہ پائی۔
PSA 107:5 وہ بھُوک پیاس کی وجہ سے، مرنے کے قریب تھے۔
PSA 107:6 تَب اَپنی مُصیبت میں اُنہُوں نے یَاہوِہ سے فریاد کی، اَور یَاہوِہ نے اُنہیں اُن کی تکلیفوں سے رِہائی بخشی۔
PSA 107:7 اُس نے اُنہیں سیدھی راہ پر ڈال دیا تاکہ وہ کسی شہر میں جا کر بس جایٔیں۔
PSA 107:8 کاش یَاہوِہ کی لافانی مَحَبّت کی خاطِر اَور بنی آدمؔ کے کئے ہُوئے عجِیب کارناموں کے باعث لوگ اُن کا شُکر بجا لائیں،
PSA 107:9 کیونکہ وہ پیاسوں کی پیاس بُجھاتے ہیں، اَور اَچھّی چیزوں سے بھُوکوں کا پیٹ بھرتے ہیں۔
PSA 107:10 کچھ لوگ اَندھیرے اَور گہری مایوسی میں، قَیدیوں کی مانند لوہے کی زنجیروں سے جکڑے ہُوئے بیٹھے تھے،
PSA 107:11 کیونکہ اُنہُوں نے خُدا کے کلام سے بغاوت کی اَور خُداتعالیٰ کی مشورت کو حقیر جانا۔
PSA 107:12 چنانچہ خُدا نے اُنہیں سخت مشقّت میں ڈالا؛ وہ ٹھوکریں کھاتے پھرے لیکن کویٔی نہ تھا جو اُن کی مدد کرتا۔
PSA 107:13 تَب اَپنی مُصیبت میں اُنہُوں نے یَاہوِہ سے فریاد کی، اَور یَاہوِہ نے اُنہیں اُن کی تکلیفوں سے رِہائی بخشی۔
PSA 107:14 خُدا نے اُنہیں اَندھیرے اَور گہری مایوسی میں سے نکال لیا اَور اُن کی زنجیریں توڑ ڈالیں۔
PSA 107:15 کاش یَاہوِہ کی لافانی مَحَبّت کی خاطِر اَور بنی آدمؔ کے لیٔے کئے ہُوئے عجِیب کارناموں کے باعث لوگ اُن کا شُکر بجا لائیں،
PSA 107:16 کیونکہ وہ پیتل کے پھاٹک توڑ دیتے اَور لوہے کی سلاخوں کو کاٹ ڈالتے ہیں۔
PSA 107:17 بعض لوگ اَپنی باغی روِشوں کے باعث حماقت کے شِکار ہو گئے اَور اَپنی بدکاریوں کے باعث اَذیّت اُٹھانے لگے۔
PSA 107:18 اُنہیں ہر قِسم کے کھانے سے نفرت ہو گئی اَور وہ موت کے دروازوں کے نزدیک پہُنچ گیٔے۔
PSA 107:19 تَب اَپنی مُصیبت میں اُنہُوں نے یَاہوِہ سے فریاد کی، اَور یَاہوِہ نے اُنہیں اُن کے دُکھوں سے رِہائی بخشی۔
PSA 107:20 اُنہُوں نے اَپنا کلام بھیجا اَور اُنہیں شفا بخشی؛ اَور اُنہیں قبر سے بچا لیا۔
PSA 107:21 کاش یَاہوِہ کی لافانی مَحَبّت کی خاطِر اَور بنی آدمؔ کے لیٔے کئے ہُوئے کارناموں کے باعث، لوگ اُن کا شُکر بجا لائیں۔
PSA 107:22 وہ شُکر گُزاری کی قُربانیاں گزرانیں اَور خُوشی کے نغمہ گاتے ہُوئے اُن کے کاموں کا بَیان کریں۔
PSA 107:23 کچھ اَور لوگ جہازوں میں سوار ہوکر سمُندر میں گیٔے؛ وہ سوداگر تھے اَور زورآور سمُندروں میں مشغُول سفر رہے۔
PSA 107:24 اُنہُوں نے یَاہوِہ کے کام دیکھے، اَور اُن عجِیب و غریب کاموں کو بھی دیکھا جو وہ گہراؤ میں کرتے ہیں۔
PSA 107:25 کیونکہ یَاہوِہ نے حُکم فرمایا اَور طُوفانی ہَوا چلنے لگی جِس سے اُونچی اُونچی لہریں اُٹھیں،
PSA 107:26 جِن کے باعث وہ آسمان تک بُلند ہو جاتے اَور پھر گہراؤ میں اُتر آتے؛ اَیسے خطرہ کی صورت میں اُن کے حوصلے نہایت پست ہو جاتے۔
PSA 107:27 وہ جھومتے اَور متوالوں کی مانند لڑکھڑاتے؛ اَور اُن کی ساری حِکمت گویا جاتی رہتی۔
PSA 107:28 تَب اَپنی مُصیبت میں اُنہُوں نے یَاہوِہ سے فریاد کی، اَور یَاہوِہ نے اُنہیں اُن کے دُکھوں سے رِہائی بخشی۔
PSA 107:29 یَاہوِہ نے طُوفانی ہَوا کو دھیما کر دیا؛ اَور سمُندر کی لہریں ٹھہر گئیں۔
PSA 107:30 جَب سنّاٹا چھا گیا تو وہ خُوش ہو گئے، اَور یَاہوِہ نے اُنہیں اُن کی بندرگاہِ مقصود تک پہُنچا دیا۔
PSA 107:31 کاش یَاہوِہ کی لافانی مَحَبّت کی خاطِر اَور بنی آدمؔ کے لیٔے کئے ہُوئے کارناموں کے باعث لوگ اُن کا شُکر بجا لائیں۔
PSA 107:32 کاش وہ لوگوں کے مجمع میں اُن کی بڑائی اَور بُزرگوں کی مجلس میں اُن کی مدح سرائی کریں۔
PSA 107:33 خُدا نے دریاؤں کو بیابان میں بدل دیا، اَور بہتے چشموں کو خشک زمین بنا دیا،
PSA 107:34 اَور زرخیز زمین کو صحرائے شور کر دیا، کیونکہ وہاں کے باشِندے بدکاری سے بھرے ہُوئے تھے۔
PSA 107:35 یَاہوِہ نے بیابان کو جھیلوں میں بدل دیا اَور خشک زمین کو پانی کے چشمے بنا دیا؛
PSA 107:36 وہاں وہ بھُوکوں کو بسنے کے لیٔے لے آئے، اَور اُنہُوں نے شہر بسایا جہاں وہ آباد ہو گئے۔
PSA 107:37 اُنہُوں نے کھیت بوئے اَور تاکستان لگائے جِن میں اَچھّی فصل پیدا ہُوئی؛
PSA 107:38 یَاہوِہ نے اُنہیں برکت دی اَور اُن کی تعداد میں بہت اِضافہ ہُوا، اَور یَاہوِہ نے اُن کے مویشیوں کی تعداد بھی کم نہ ہونے دی۔
PSA 107:39 پھر ظُلم، مُصیبت اَور غم کے باعث، اُن کی تعداد گھٹ گئی اَور اُنہیں پست ہونا پڑا۔
PSA 107:40 خُدا جو اُمرا کو ذِلّت سے دوچار کرتے ہیں اُنہُوں نے اُنہیں بے راہ ویرانہ میں بھٹکایا۔
PSA 107:41 لیکن یَاہوِہ نے مسکینوں کو اُن کے افلاس میں سے نکال کر سرفراز کیا اَور اُن کے خاندانوں کو گلّوں کی مانند بڑھا دیا۔
PSA 107:42 راستباز یہ دیکھ کر خُوش ہوتے ہیں، لیکن بدکاروں کے مُنہ پر تالا لگ جاتا ہے۔
PSA 107:43 جو کویٔی دانا ہو وہ اِن باتوں پر دھیان دے اَور یَاہوِہ کی شفقت و مَحَبّت پر غور کرے۔
PSA 108:1 ایک نغمہ۔ داویؔد کا زبُور۔ اَے خُدا، میرا دِل ثابت قدم ہے؛ میں گاؤں گا اَور اَپنی ساری جان سے نغمہ سرائی کروں گا۔
PSA 108:2 اَے بربط اَور سِتار، بیدار ہو! میں صُبح کو بیدار کر دُوں گا۔
PSA 108:3 اَے یَاہوِہ، مَیں قوموں میں آپ کی سِتائش کروں گا؛ اَور مُختلف مُلکوں میں آپ کی حَمد کروں گا۔
PSA 108:4 کیونکہ آپ کی شفقت و مَحَبّت آسمانوں سے بھی بُلند ہے؛ اَور آپ کی صداقت فَضا تک پہُنچتی ہے۔
PSA 108:5 اَے خُدا، آپ آسمان کے اُوپر سرفراز ہوں، اَور آپ کا جلال ساری زمین پر چھا جائے۔
PSA 108:6 اَپنے داہنے ہاتھ سے ہمیں بچائیں اَور ہماری مدد کریں، تاکہ آپ کے محبُوب رِہائی پائیں۔
PSA 108:7 خُدا نے اَپنے پاک مَقدِس سے فرمایاہے: ”میں فخر و مسرّت کے ساتھ شِکیمؔ کے شہر کو تقسیم کروں گا، اَور سُکّوتؔ کی وادی کی پیمائش کروں گا۔
PSA 108:8 گِلعادؔ کا مُلک میرا ہے اَور منشّہ کے مُلک پر بھی میرا حق ہے؛ اِفرائیمؔ کا مُلک میرے سَر کا خُود ہے، یہُوداہؔ میرا عصا ہے۔
PSA 108:9 مُوآب کا مُلک میرا مُنہ دھونے کا طشت ہے، اِدُوم پر میں جُوتا پھینکتا ہُوں؛ اَور فلسطین کے مُلک پر میں فاتحانہ نعرہ مارتا ہُوں۔“
PSA 108:10 مُجھے اُس محکم شہر میں کون پہُنچائے گا؟ اِدُوم کے مُلک تک میری قیادت کون کرےگا؟
PSA 108:11 اَے خُدا، کیا آپ وہ نہیں جِس نے ہمیں ردّ کر دیا ہے اَورجو اَب ہمارے لشکروں کے ساتھ نہیں جاتے؟
PSA 108:12 دُشمن کے خِلاف ہمیں مدد پہُنچائیں، کیونکہ اِنسان کی مدد فُضول ہے۔
PSA 108:13 ہم خُدا کی مدد سے فتح حاصل کریں گے، اَور وُہی ہمارے دُشمنوں کو پامال کریں گے۔
PSA 109:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ اَے خُدا، آپ جِس کی میں سِتائش کرتا ہُوں، خاموش نہ رہیں،
PSA 109:2 کیونکہ بدکار لوگ اَور دغاباز لوگوں نے میرے خِلاف مُنہ کھولا ہے؛ اُن کی زبان سے میرے خِلاف جھُوٹی باتیں نکلی ہیں۔
PSA 109:3 وہ عداوت کی باتوں سے مُجھے گھیر لیتے ہیں؛ اَور بلاوجہ مُجھ سے لڑتے ہیں۔
PSA 109:4 میری مَحَبّت کے جَواب میں وہ مُجھ پر اِلزام لگاتے ہیں، لیکن میرے مُنہ سے دعا ہی نکلتی ہے۔
PSA 109:5 اُنہُوں نے بھلائی کے عوض مُجھ سے بُرائی کی، اَور میری مَحَبّت کا جَواب دُشمنی سے دیا۔
PSA 109:6 میرے دشمن کہتے ہیں آپ کسی بدکار کو اُس کے مقابل مُقرّر کر دیں؛ کویٔی مُدّعی ہی اُس کے داہنے ہاتھ کھڑا رہے۔
PSA 109:7 جَب اُس پر مُقدّمہ چلے تو وہ مُجرم قرار دیا جائے، اَور اُس کی اَپنی دعائیں اُسے گُنہگار ٹھہرائیں۔
PSA 109:8 اُس کی عمر مُختصر ہو؛ اَور اُس کا عہدہ کویٔی اَور سنبھال لے۔
PSA 109:9 اُس کے بچّے یتیم ہو جایٔیں اَور اُس کی بیوی بِیوہ ہو جائے۔
PSA 109:10 اُس کے بچّے آوارہ پھریں اَور بھیک مانگا کریں؛ اَور وہ اَپنے ویران مکانوں سے بھی نکال دئیے جایٔیں۔
PSA 109:11 قرض خواہ اُس کا سَب کچھ چھین لے؛ اَور بیگانے اُس کی محنت کا پھل لُوٹ لیں۔
PSA 109:12 کویٔی اُس کی طرف دستِ شفقت نہ بڑھائے نہ اُس کے یتیم بچّوں پر ترس کھائے۔
PSA 109:13 اُس کی نَسل کاٹ ڈالی جائے، اَور اگلی پُشت سے اُن کے نام مٹا دئیے جایٔیں۔
PSA 109:14 یَاہوِہ کے حُضُور میں اُس کے آباؤاَجداد کی بدکاری کا ذِکر ہوتا رہے؛ اَور اُس کی ماں کا گُناہ کبھی نہ مٹایا جائے۔
PSA 109:15 اُن کے گُناہ ہمیشہ یَاہوِہ کے سامنے رہیں، تاکہ وہ زمین پر اُن کا ذِکر نابود کر دیں۔
PSA 109:16 کیونکہ اُس آدمی کے دِل میں ترس کرنے کا خیال کبھی نہ آیا، بَلکہ وہ مفلسوں، مُحتاجوں اَور شکستہ دِل اِنسانوں کو ستایا کرتا تاکہ وہ زندہ نہ رہیں۔
PSA 109:17 لعنت کرنا اُسے بہت پسند تھا، کاش کہ وہ خُود لعنت کا شِکار ہو؛ برکت دینے میں وہ کویٔی خُوشی محسُوس نہ کرتا تھا۔ کاش کہ وہ خُود بھی برکت سے دُور رہے۔
PSA 109:18 اُس نے لعنت کو پوشاک کی مانند پہن رکھا تھا؛ اَور وہ اُس کے جِسم میں پانی کی مانند، اَور اُس کی ہڈّیوں میں تیل کی مانند سما گئی تھی۔
PSA 109:19 کاش کہ وہ اُس کے لیٔے چوغہ کی مانند ہو جسے وہ اوڑھے رہے۔ اَور اُس پٹکے کی مانند جو سدا اُس کی کمر سے لپٹا رہے۔
PSA 109:20 مُجھ پر اِلزام لگانے والوں اَور میری بُرائی کرنے والوں کو، یَاہوِہ کی طرف سے یہی بدلہ ملے۔
PSA 109:21 لیکن آپ اَے یَاہوِہ قادر، اَپنے نام کی خاطِر مُجھ پر اِحسَان کریں؛ اَور اَپنی شفقت و مَحَبّت کی خوبی کے مُطابق مُجھے رِہائی بخشیں۔
PSA 109:22 کیونکہ مَیں غریب اَور مُحتاج ہُوں، اَور میرا دِل میرے پہلو میں زخمی ہو چُکاہے۔
PSA 109:23 میں شام کے سایہ کی مانند ڈھل رہا ہُوں؛ اَور ٹِڈّی کی مانند اُڑا دیا گیا ہُوں۔
PSA 109:24 فاقہ کرتے کرتے میرے گھُٹنے کمزور ہو گئے؛ میرے جِسم میں چربی نہیں اَور وہ سُوکھ کر رہ گیا ہے۔
PSA 109:25 میں اَپنے مُخالفوں کے نزدیک لعنت کا باعث ٹھہرا ہُوں؛ جَب وہ مُجھے دیکھتے ہیں تو اَپنے سَر ہلاتے ہیں۔
PSA 109:26 اَے یَاہوِہ، میرے خُدا! میری مدد کریں؛ اَور اَپنی لافانی مَحَبّت کے مُطابق مُجھے بچا لیں۔
PSA 109:27 تاکہ میرے دُشمن جان لیں کہ اِس میں آپ کا ہاتھ ہے، اَور آپ ہی نے اَے یَاہوِہ، یہ کیا ہے۔
PSA 109:28 وہ لعنت کرتے ہیں لیکن آپ برکت دیں گے؛ جَب وہ حملہ کریں تو پشیمان ہوں گے، لیکن آپ کا خادِم شادمان ہوگا۔
PSA 109:29 میرے مُخالف رُسوائی سے مُلبّس ہوں گے، اَور شرمندگی کو جُبّہ کی طرح اوڑھے رہیں گے۔
PSA 109:30 میں اَپنے مُنہ سے یَاہوِہ کی بڑی تعریف کروں گا؛ اَور بڑے اِجتماع میں اُن کی حَمد کروں گا۔
PSA 109:31 کیونکہ یَاہوِہ مظلوموں کے داہنے ہاتھ کھڑے رہتے ہیں، تاکہ سزا کا حُکم نافذ کرنے والوں سے اُن کی جان کو بچا سکے۔
PSA 110:1 داویؔد کا زبُور۔ یَاہوِہ نے میرے خُداوؔند سے فرمایا: ”میری داہنی طرف بیٹھو جَب تک کہ مَیں تمہارے دُشمنوں کو تمہارے پاؤں کے نیچے نہ کر دُوں۔“
PSA 110:2 یَاہوِہ آپ کی طاقت کا عصا صِیّونؔ سے آگے بڑھائیں گے، ”آپ اَپنے دُشمنوں میں حُکمرانی کریں گے!“
PSA 110:3 آپ کی لشکر کشی کے دِن آپ کے لوگ اَپنی مرضی سے خدمات پیش کریں گے، مُقدّس شوکت سے آراستہ ہوکر اَور صُبح صادق کے بطن سے پیدا ہونے والی جَوانی کی شبنم کی مانند۔
PSA 110:4 یَاہوِہ نے قَسم کھائی ہے، اَور وہ اَپنا اِرادہ بدلیں گے نہیں: ”آپ ملکِ صِدقؔ کے طور پر اَبد تک کاہِنؔ ہیں۔“
PSA 110:5 خُداوؔند آپ کے داہنے ہاتھ پر؛ اَپنے غضب کے دِن بادشاہوں کو کُچل ڈالیں گے۔
PSA 110:6 وہ قوموں کا اِنصاف کریں گے اَور لاشوں کے ڈھیر لگا دیں گے، اَور تمام رُوئے زمین کے حُکمرانوں کو کُچل ڈالیں گے۔
PSA 110:7 وہ راہ کے کنارے کی ندی سے پانی پیئیں گے، اِس لیٔے وہ اَپنے سَر کو اُونچا کریں گے۔
PSA 111:1 یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔ راستبازوں کی مجلس میں اَور جماعت میں میں اَپنے سارے دِل سے یَاہوِہ کی حَمد کروں گا۔
PSA 111:2 یَاہوِہ کے کام عظیم ہیں؛ اُن پر غور کرنے والوں کو بڑی راحت ملتی ہے۔
PSA 111:3 اُن کے کام پُرجلال اَور با حشمت ہیں، اَور اُن کی راستی اَبد تک قائِم ہے۔
PSA 111:4 یَاہوِہ نے اَپنے عجائبات کی یادگار قائِم کی ہے؛ یَاہوِہ رحیم و کریم ہیں۔
PSA 111:5 وہ اَپنے خوف ماننے والوں کو خُوراک مہیا کرتے ہیں؛ اَور اَپنا عہد اَبد تک یاد رکھتے ہیں۔
PSA 111:6 اُنہُوں نے غَیر قوموں کی مِیراث اَپنی اُمّت کو دے کر، اَپنے کاموں کی قُوّت اُنہیں دِکھائی ہے۔
PSA 111:7 اُن کے ہاتھوں کے کام عدل اَور صداقت پر مَبنی ہیں؛ اَور اُن کے تمام قوانین قابلِ اِعتماد ہیں۔
PSA 111:8 اُن کا کلام ابدُالآباد قائِم رہے گا، اُن کی بُنیاد صداقت اَور راستی پر رکھی گئی ہے۔
PSA 111:9 اُنہُوں نے اَپنے لوگوں کا فدیہ دیا؛ اَور اَپنا عہد ہمیشہ کے لیٔے ٹھہرایا ہے۔ اُن کا نام قُدُّوس اَور مُہیب ہے۔
PSA 111:10 یَاہوِہ کا خوف حِکمت کی اِبتدا ہے؛ اُن کے اَحکام پر عَمل کرنے والے دانشمند ہیں۔ یَاہوِہ کی ہی سِتائش اَبد تک ہوتی رہے۔
PSA 112:1 یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔ مُبارک ہے وہ آدمی جو یَاہوِہ کا خوف مانتا ہے، اَور جسے اُن کے اَحکام بہت عزیز ہیں۔
PSA 112:2 اُس کی پُشت مُلک میں زورآور ہوگی؛ راستبازوں کی نَسل برکت پایٔے گی۔
PSA 112:3 اُس کا گھر مال و دولت سے بھرا رہتاہے، اَور اُس کی راستبازی ہمیشہ قائِم رہتی ہے۔
PSA 112:4 تاریکی میں بھی راستبازوں کے لیٔے نُور چمکتا ہے، وہ رحیم و کریم اَور صادق ہے۔
PSA 112:5 سخی اِنسان اَور فراخدلی سے قرض دینے والے کا بھلا ہوگا، وہ اَپنا کاروبار راستی سے چلاتاہے۔
PSA 112:6 یقیناً وہ کبھی نہ ڈگمگائے گا؛ راستباز اِنسان ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔
PSA 112:7 اُسے کسی بُری خبر کا خوف نہ ہوگا؛ اَور اُس کا دِل یَاہوِہ پر توکّل کرنے سے قائِم رہتاہے۔
PSA 112:8 اُس کا دِل مُستحکم ہے، اُسے کویٔی خوف نہ ہوگا؛ آخِر میں وہ اَپنے مُخالفوں پر فاتحانہ نگاہ ڈالے گا۔
PSA 112:9 اُنہُوں نے بِکھیرا ہے، اُنہُوں نے مسکینوں کو دیا ہے، اُن کی راستبازی ہمیشہ تک قائِم رہے گی؛ اَور اُن کا سینگ باعزّت بُلند کیا جائے گا۔
PSA 112:10 بدکار یہ دیکھ کر کُڑھے گا، وہ اَپنے دانت پیسے گا اَور گھُل جائے گا؛ بدکار لوگوں کی مُرادیں بر نہ آئیں گی۔
PSA 113:1 یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔ اَے یَاہوِہ، کے خادِمو، سِتائش کرو؛ یَاہوِہ کے نام کی سِتائش کرو۔
PSA 113:2 اَب سے اَبد تک، یَاہوِہ کا نام مُبارک ہو۔
PSA 113:3 طُلوع آفتاب سے غروب ہونے تک، یَاہوِہ کے نام کی سِتائش کی جائے۔
PSA 113:4 یَاہوِہ سَب قوموں پر بُلند و بالا ہیں، اُن کا جلال آسمان سے بھی اُونچا ہے۔
PSA 113:5 یَاہوِہ ہمارے خُدا کی مانند کون ہے؟ جو عالمِ بالا پر تخت نشین ہیں،
PSA 113:6 جو فروتنی سے آسمان اَور زمین پر نظر کرتے ہیں؟
PSA 113:7 وہ مسکین کو خاک پر سے اَور وہ ہی مُحتاج کو کُوڑے کے ڈھیر سے باہر نکالتے ہیں؛
PSA 113:8 اَور اُنہیں اُمرا کے ساتھ یعنی اَپنی اُمّت کے اُمرا کے ساتھ بِٹھاتے ہیں۔
PSA 113:9 وہ بانجھ عورت کو بچّوں کی خُوشی دیتے ہیں اَور اُسے اَپنے گھر میں ایک دلشاد ماں کی طرح بساتے ہیں۔ یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔
PSA 114:1 جَب اِسرائیل، مُلک مِصر میں سے نکل آئے، یعنی یعقوب کا گھرانا اجنبی زبان بولنے والوں میں سے نکلے،
PSA 114:2 تَب یہُوداہؔ خُدا کا پاک مَقدِس ٹھہرا، اَور اِسرائیل اُن کی مملکت۔
PSA 114:3 سمُندر یہ دیکھ کر بھاگ نِکلا، اَور دریائے یردنؔ پیچھے ہٹ گیا؛
PSA 114:4 پہاڑ مینڈھوں کی مانند اُچھلے، اَور پہاڑیاں برّوں کی مانند کُودنے لگیں۔
PSA 114:5 اَے سمُندر، تُمہیں کیا ہُوا جو تُم بھاگے، اَور اَے یردنؔ تُم کیوں پیچھے ہٹے؟
PSA 114:6 اَے پہاڑو! تُم کیوں مینڈھوں کی مانند اُچھلے اَور اَے پہاڑیو! تُمہیں کیا ہُوا کہ تُم برّوں کی مانند کوُدنے لگیں؟
PSA 114:7 اَے زمین یَاہوِہ کے سامنے، یعقوب کے خُدا کے سامنے تھرتھرا،
PSA 114:8 جِس نے چٹّان کو جھیل، اَور چقماق کو پانی کا چشمہ بنا دیا۔
PSA 115:1 ہمیں نہیں، اَے یَاہوِہ، ہمیں نہیں، بَلکہ آپ اَپنے ہی نام کو اَپنی شفقت و مَحَبّت اَور سچّائی کے باعث جلال عطا فرمائیں۔
PSA 115:2 قومیں کیوں کہتی ہیں، ”اُن کا خُدا کہاں ہے؟“
PSA 115:3 ہمارے خُدا تو آسمان پر ہیں؛ وہ جو چاہتاہے وُہی کرتے ہیں۔
PSA 115:4 لیکن اُن کے بُت تو چاندی اَور سونا ہیں، جو آدمی کی دستکاری ہیں۔
PSA 115:5 اُن بُتوں کے مُنہ ہیں لیکن وہ بول نہیں سکتے، آنکھیں ہیں لیکن وہ دیکھ نہیں سکتے؛
PSA 115:6 اُن کے کان ہیں لیکن وہ سُن نہیں سکتے، نتھنے ہیں لیکن وہ سونگھ نہیں سکتے؛
PSA 115:7 اُن کے ہاتھ ہیں لیکن وہ چھُو نہیں سکتے، پاؤں ہیں لیکن وہ چل نہیں سکتے؛ نہ وہ اَپنے گلے سے آواز نکال سکتے ہیں۔
PSA 115:8 جو اُنہیں بناتے ہیں وہ اُن ہی کی مانند ہو جایٔیں گے، اَور وہ سَب بھی جو اُن پر بھروسا رکھتے ہیں۔
PSA 115:9 اَے اِسرائیل کے گھرانے! یَاہوِہ پر توکّل کرو۔ وُہی اُن کی مدد اَور سِپر ہیں۔
PSA 115:10 اَے اَہرونؔ کے گھرانے! یَاہوِہ پر توکّل کرو۔ وُہی اُن کی مدد اَور سِپر ہیں۔
PSA 115:11 یَاہوِہ سے ڈرنے والے یَاہوِہ پر توکّل کرتے ہیں۔ وُہی اُن کی مدد اَور سِپر ہیں۔
PSA 115:12 یَاہوِہ ہمیں یاد رکھتے ہیں اَور ہمیں برکت دیں گے؛ وہ اِسرائیل کے گھرانے کو برکت دیں گے، وہ اَہرونؔ کے گھرانے کو برکت دیں گے،
PSA 115:13 کیا چُھوٹے، کیا بڑے، جو یَاہوِہ کا خوف مانتے ہیں، وہ اُنہیں برکت دیں گے۔
PSA 115:14 یَاہوِہ تُمہیں بڑھائے، تُمہیں اَور تمہاری اَولاد کو بھی۔
PSA 115:15 تُم یَاہوِہ کی طرف سے برکت پاؤ، جو آسمان اَور زمین کے خالق ہیں۔
PSA 115:16 سَب سے اُونچا آسمان یَاہوِہ کا ہے، لیکن زمین اُنہُوں نے بنی آدمؔ کو دی ہے۔
PSA 115:17 مُردے یَاہوِہ کی سِتائش نہیں کرتے، اَور نہ وہ جو خاموشی کے عالَم میں اُتر جاتے ہیں؛
PSA 115:18 بَلکہ ہم، اَب سے اَبد تک، یَاہوِہ کو مُبارک کہیں گے۔ یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔
PSA 116:1 میں یَاہوِہ سے مَحَبّت رکھتا ہُوں کیونکہ اُنہُوں نے میری صدا سُنی؛ اُنہُوں نے میری مِنّت سُنی۔
PSA 116:2 چونکہ اُنہُوں نے میری طرف کان لگایا، اِس لیٔے میں عمر بھر اُن سے دعا کرتا رہُوں گا۔
PSA 116:3 موت کی رسّیوں نے مُجھے جکڑ لیا، اَور پاتال کی اَذیّت مُجھ پر آ پڑی؛ میں دُکھ اَور غم میں مُبتلا ہو گیا۔
PSA 116:4 تَب مَیں نے یَاہوِہ سے دعا کی: ”اَے یَاہوِہ، مُجھے بچا لیں!“
PSA 116:5 یَاہوِہ کریم اَور صادق ہیں؛ ہمارے خُدا رحیم ہیں۔
PSA 116:6 یَاہوِہ سادہ دِل لوگوں کی حِفاظت کرتے ہیں؛ اشد ضروُرت کے وقت اُنہُوں نے مُجھے بچا لیا۔
PSA 116:7 اَے میری جان، پھر سے مطمئن ہو جا، کیونکہ یَاہوِہ نے تمہارے ساتھ بھلائی کی ہے۔
PSA 116:8 کیونکہ اَے یَاہوِہ آپ نے، میری جان کو موت سے، اَور میری آنکھوں کو آنسُو بہانے سے، اَور میرے پاؤں کو ٹھوکر کھانے سے بچایا ہے،
PSA 116:9 تاکہ میں زندوں کی دُنیا میں یَاہوِہ کے حُضُور میں چلتا رہُوں۔
PSA 116:10 اِسی لیٔے جَب مَیں نے کہا، ”میں بڑی مُصیبت میں ہُوں“؛ تَب بھی میں اَپنے یَاہوِہ پر ایمان میں قائِم رہا۔
PSA 116:11 اَور مَیں نے مایوسی کے عالَم میں کہہ دیا: ”سَب لوگ جھُوٹے ہیں۔“
PSA 116:12 یَاہوِہ نے مُجھ پرجو جو مہربانیاں کی ہیں، اُن کا مُعاوضہ میں کیسے اَدا کر سَکتا ہُوں؟
PSA 116:13 میں نَجات کا پیالہ اُٹھاکر یَاہوِہ سے دعا کروں گا۔
PSA 116:14 میں یَاہوِہ کے لیٔے اَپنی مَنّتیں اُس کی ساری اُمّت کے سامنے پُوری کروں گا۔
PSA 116:15 یَاہوِہ کی نگاہ میں اُن کے مُقدّسین کی موت بیش قیمتی ہے،
PSA 116:16 اَے یَاہوِہ، واقعی مَیں آپ کا خادِم ہُوں؛ مَیں آپ کا خادِم اَور آپ کی خادِمہ کا فرزند ہُوں؛ آپ نے مُجھے میری زنجیروں سے آزاد کر دیا۔
PSA 116:17 مَیں آپ کے لیٔے شُکر گُزاری کی قُربانی چڑھاؤں گا، اَور یَاہوِہ سے دعا کروں گا۔
PSA 116:18 میں یَاہوِہ کے لیٔے اَپنی مَنّتیں اُن کی ساری اُمّت کے سامنے پُوری کروں گا،
PSA 116:19 یَاہوِہ کے گھر کے صحنوں میں، اَے یروشلیمؔ، تمہارے درمیان۔ یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔
PSA 117:1 اَے سَب قوموں، یَاہوِہ کی حَمد کرو؛ اَے سَب اُمّتوں، اُن کی سِتائش کرو۔
PSA 117:2 کیونکہ ہم پر اُن کی بڑی شفقت و مَحَبّت ہے، اَور یَاہوِہ کی سچّائی اَبد تک قائِم ہے۔ یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔
PSA 118:1 یَاہوِہ کا شُکر بجا لاؤ کیونکہ وہ بھلےہیں؛ اَور اُن کی شفقت اَبدی ہے۔
PSA 118:2 اِسرائیل کہے: ”اُن کی شفقت اَبدی ہے۔“
PSA 118:3 اَہرونؔ کا گھرانا کہے: ”اُن کی شفقت اَبدی ہے۔“
PSA 118:4 یَاہوِہ کا خوف ماننے والے کہیں: ”اُن کی شفقت اَبدی ہے۔“
PSA 118:5 مَیں نے مُصیبت میں یَاہوِہ کو پُکارا، اُنہُوں نے میری سُنی اَور مُجھے چھُڑایا۔
PSA 118:6 یَاہوِہ میرے ساتھ ہیں، میں خوف نہ کروں گا۔ اِنسان میرا کیا بِگاڑ سَکتا ہے؟
PSA 118:7 یَاہوِہ میرے ساتھ ہیں، وہ میرے مددگار ہیں۔ اِس لیٔے میں فتح پاؤں گا اَور اَپنے دُشمنوں کا زوال دیکھوں گا۔
PSA 118:8 یَاہوِہ میں پناہ لینا اِنسان پر بھروسا رکھنے سے بہتر ہے۔
PSA 118:9 یَاہوِہ میں پناہ لینا اُمرا پر بھروسا رکھنے سے بہتر ہے۔
PSA 118:10 سَب قوموں نے مُجھے گھیرلیا، لیکن یَاہوِہ کے نام سے میں اُنہیں کاٹ ڈالوں گا۔
PSA 118:11 وہ مُجھے ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں، لیکن یَاہوِہ کے نام سے میں اُنہیں نابود کر دُوں گا۔
PSA 118:12 اُنہُوں نے شہد کی مکھّیوں کی مانند مُجھے گھیرلیا، لیکن وہ کانٹوں کی آگ کی طرح جلد بُجھ گیٔے؛ یَاہوِہ کے نام سے مَیں نے اُنہیں نابود کر دیا۔
PSA 118:13 مُجھے دھکیل دیا گیا اَور مَیں گرنے ہی کو تھا، کہ یَاہوِہ نے میری مدد کی۔
PSA 118:14 یَاہوِہ میری قُوّت اَور میرا نغمہ ہیں؛ وہ میری نَجات بَن گئے۔
PSA 118:15 راستبازوں کے خیموں میں خُوشی اَور فتح کی للکاریں گونج رہی ہیں: ”یَاہوِہ کے داہنے ہاتھ نے زبردست کام کئے ہیں!
PSA 118:16 یَاہوِہ کا داہنا ہاتھ بُلند ہُواہے؛ یَاہوِہ کے داہنے ہاتھ نے زبردست کام کئے ہیں!“
PSA 118:17 میں مروں گا نہیں بَلکہ جیتا رہُوں گا، اَور بَیان کرتا رہُوں گا کہ یَاہوِہ خُدا نے کیا کیا ہے۔
PSA 118:18 یَاہوِہ نے مُجھے سخت تنبیہ تو کی، لیکن اُنہُوں نے مُجھے موت کے حوالہ نہیں کیا۔
PSA 118:19 میرے لیٔے صداقت کے پھاٹک کھول دو؛ میں اُن میں سے داخل ہوکر یَاہوِہ کا شُکر بجا لاؤں گا۔
PSA 118:20 یہی یَاہوِہ کا پھاٹک ہے جِس سے راستباز اَندر جا سکتے ہیں۔
PSA 118:21 مَیں آپ کا شُکر بجا لاؤں گا کیونکہ آپ نے میری دعا کا جَواب دیا؛ آپ خُود میری نَجات بَن گئے ہیں۔
PSA 118:22 جسے تُم مِعماروں نے ردّ کر دیا لیکن وُہی کونے کے سِرے کا پتّھر ہو گئے؛
PSA 118:23 یہ کام یَاہوِہ نے کیا ہے، اَور ہماری نظر میں یہ تعجُّب اَنگیز ہے۔
PSA 118:24 یہ وُہی دِن ہے جسے یَاہوِہ نے مُقرّر کیا؛ آؤ ہم اُس میں شادمان ہوں اَور خُوشی منائیں۔
PSA 118:25 اَے یَاہوِہ، ہمیں بچائیں؛ اَے یَاہوِہ، ہمیں کامیابی عنایت کریں۔
PSA 118:26 مُبارک ہے وہ جو یَاہوِہ کے نام سے آتا ہے۔ ہم تُمہیں یَاہوِہ کے گھر سے برکت بخشتے ہیں۔
PSA 118:27 یَاہوِہ ہی خُدا ہیں، اَور اُنہُوں نے اَپنا نُور ہم پر چمکایا ہے۔ ہاتھ میں شاخیں لیٔے ہویٔے، مذبح کے سینگوں تک، خُوشی کے جلوس میں شریک ہو جاؤ۔
PSA 118:28 آپ میرے خُدا ہیں، اَور مَیں آپ کا شُکر بجا لاؤں گا؛ آپ میرے خُدا ہیں اَور مَیں آپ کی تمجید کروں گا۔
PSA 118:29 یَاہوِہ کا شُکر بجا لاؤ کیونکہ وہ بھلےہیں؛ اَور اُن کی شفقت اَبدی ہے۔
PSA 119:1 مُبارک ہیں وہ جو بے اِلزام ہیں، اَورجو یَاہوِہ کے آئین کے مُطابق چلتے ہیں۔
PSA 119:2 مُبارک ہیں وہ جو یَاہوِہ کی شہادتوں پر عَمل کرتے ہیں اَور اَپنے پُورے دِل سے اُس کے طالب ہیں۔
PSA 119:3 وہ کویٔی غلط کام نہیں کرتے؛ اَور یَاہوِہ کی راہوں پر چلتے ہیں۔
PSA 119:4 اَے یَاہوِہ، آپ نے فرمان جاری کر دیا ہے، کہ آپ کے قوانین پُوری طرح مانے جایٔیں،
PSA 119:5 کاش کہ آپ کے قوانین کی اِطاعت کے لیٔے میری روِشیں اُستوار ہو جایٔیں!
PSA 119:6 جَب مَیں آپ کے سَب اَحکام کا لحاظ رکھوں گا تو میں شرمندہ نہ ہوں گا۔
PSA 119:7 جَب مَیں آپ کی صداقت کی شَریعت سیکھ لُوں گا، تو سچّے دِل سے آپ کی سِتائش کروں گا۔
PSA 119:8 مَیں آپ کے قوانین پر عَمل کروں گا؛ مُجھے بالکُل ہی ترک نہ کردینا۔
PSA 119:9 جَوان اَپنی روِش کس طرح پاک رکھے؟ آپ کے کلام کے مُطابق زندگی گُزارنے سے۔
PSA 119:10 میں پُورے دِل سے آپ کی جُستُجو میں لگا ہُوا ہُوں؛ تاکہ آپ مُجھے اَپنے اَحکام سے بھٹکنے نہ دیں۔
PSA 119:11 مَیں نے آپ کا کلام اَپنے دِل میں محفوظ کر لیا ہے، تاکہ مَیں آپ کے خِلاف گُناہ نہ کروں۔
PSA 119:12 اَے یَاہوِہ، آپ کی سِتائش ہو؛ مُجھے اَپنے قوانین سکھائیں۔
PSA 119:13 آپ کے مُنہ سے نِکلا ہُوا تمام آئین کا بَیان، میرے لبوں پر رہتاہے۔
PSA 119:14 مُجھے آپ کی شہادتوں کو بجا لانے سے وَیسی ہی مسرّت حاصل ہوتی ہے، جِتنا کہ ہر طرح کی دولت سے ہوتی ہے۔
PSA 119:15 مَیں آپ کے قوانین پر غور کرتا ہُوں، اَور آپ کی بَیان کَردہ راہوں کو نگاہ میں رکھتا ہُوں۔
PSA 119:16 آپ کے قوانین میرے لیٔے خُوشی کا باعث ہیں، مَیں آپ کے کلام کو فراموش نہ کروں گا۔
PSA 119:17 اَپنے خادِم پر اِحسَان کریں تاکہ میں جیتا رہُوں؛ اَور آپ کے کلام پر عَمل کرتا رہُوں۔
PSA 119:18 آپ میری آنکھیں کھول دیں تاکہ مَیں آپ کے آئین کے حیرت اَنگیز حَقائِق دیکھ سکوں۔
PSA 119:19 میں زمین پر صِرف ایک مُسافر ہُوں؛ اَپنے اَحکام مُجھ سے پوشیدہ نہ رکھیں۔
PSA 119:20 ہر وقت آپ کے آئین کے اشتیاق میں میری رُوح تڑپتی رہتی ہے۔
PSA 119:21 آپ اُن کو ڈانٹتے ہیں جو مغروُر، اَور ملعُون ہیں، اَورجو آپ کے اَحکام سے گُمراہ ہو جاتے ہیں۔
PSA 119:22 ملامت اَور ذِلّت کو مُجھ سے دُور کر دیں، کیونکہ مَیں آپ کی شہادتوں پر عَمل کرتا ہُوں۔
PSA 119:23 حُکمراں اِکٹھّے بیٹھ کر میرے خِلاف باتیں کرتے ہیں، تو بھی آپ کا خادِم آپ کے قوانین پر توجّہ کرتا رہے گا۔
PSA 119:24 آپ کی شہادتیں میرے لیٔے باعثِ مسرّت ہیں؛ وہ میرے مُشیر ہیں۔
PSA 119:25 میں خاک کے سُپرد کر دیا گیا ہُوں؛ آپ اَپنے کلام کے مُطابق میری زندگی کا تحفُّظ کریں۔
PSA 119:26 مَیں نے اَپنی روِشیں بَیان کیں اَور آپ نے مُجھے جَواب دیا؛ مُجھے اَپنے قوانین سکھائیں۔
PSA 119:27 اَپنے قوانین کے اُصُول میرے ذہن نشین کر دیں؛ تَب مَیں آپ کے عجائب پر غور کروں گا۔
PSA 119:28 غم کے مارے میری جان خستہ حال ہے؛ اَپنے کلام کے مُطابق مُجھے تقویّت بخشیں۔
PSA 119:29 جھُوٹ کی راہوں سے مُجھے دُور رکھیں؛ اَپنے آئین کے ذریعہ مُجھ پر مہربانی فرمائیں۔
PSA 119:30 مَیں نے راستی کی راہ اِختیار کرلی ہے؛ اَور اَپنا دِل آپ کے آئین کے اَحکام پر لگائے رکھا ہے۔
PSA 119:31 اَے یَاہوِہ، مَیں آپ کی شہادتوں سے لپٹا ہُوا ہُوں؛ مُجھے شرمندہ نہ ہونے دیں۔
PSA 119:32 مَیں آپ کے اَحکام کی راہ میں دَوڑتا ہُوں، کیونکہ آپ نے میری سمجھ میں کشادگی عطا فرمائی ہے۔
PSA 119:33 اَے یَاہوِہ، مُجھے اَپنے قوانین پر چلنا سکھائیں؛ تَب میں آخِر تک اُن پر عَمل کرتا رہُوں گا۔
PSA 119:34 مُجھے فہم عطا کریں اَور مَیں آپ کے آئین پر عَمل کروں گا اَور اَپنے پُورے دِل سے اُس پر چلُوں گا۔
PSA 119:35 مُجھے اَپنے اَحکام کی راہ پر چلائیں، کیونکہ اُس میں میری خُوشنودی ہے۔
PSA 119:36 میرے دِل کو اَپنے شہادتوں کی طرف پھیر دیں؛ نہ کہ خُود غرضی کی طرف۔
PSA 119:37 میری آنکھوں کو بیکار چیزوں کی طرف سے پھیر دیں؛ اَپنے کلام کے مُطابق میری زندگی کی راہوں کا تحفُّظ کریں۔
PSA 119:38 اَپنے خادِم کے ساتھ اَپنا وعدہ پُورا کریں، تاکہ لوگ آپ کا خوف مانتے رہیں۔
PSA 119:39 جِس ملامت کا مُجھے خوف ہے اُسے دُور کر دیں، کیونکہ آپ کے آئین بھلی ہے۔
PSA 119:40 دیکھو مَیں آپ کے قوانین کا کس قدر مُشتاق ہُوں! اَپنی راستبازی سے میری زندگی کا تحفُّظ کریں۔
PSA 119:41 اَے یَاہوِہ، آپ کی لافانی مَحَبّت اَور آپ کی نَجات، آپ کے وعدہ کے مُطابق مُجھے بھی نصیب ہو؛
PSA 119:42 تَب میں اُسے جو مُجھ پر طَعنہ زنی کرتا ہے، جَواب دے سکوں گا، کیونکہ میرا توکّل آپ کے کلام پر ہے۔
PSA 119:43 میرے مُنہ سے حق بات کو کبھی جُدا نہ ہونے دیں، کیونکہ مَیں نے آپ کے آئین پر اُمّید لگا رکھی ہے۔
PSA 119:44 میں ابدُالآباد، آپ کے آئین پر عَمل کرتا رہُوں گا۔
PSA 119:45 میں آزادی سے چلُوں گا، کیونکہ مَیں آپ کے قوانین کا طالب رہا ہُوں۔
PSA 119:46 میں بادشاہوں کے سامنے آپ کی شہادتیں بَیان کروں گا اَور شرمندہ نہ ہوں گا،
PSA 119:47 مَیں آپ کے اَحکام سے مسرّت حاصل کروں گا کیونکہ وہ مُجھے عزیز ہیں۔
PSA 119:48 میں اَپنے ہاتھ آپ کے اَحکام کی طرف اُٹھاتا ہُوں، وہ مُجھے عزیز ہیں۔ اَور مَیں آپ کے آئین پر دھیان کروں گا۔
PSA 119:49 جو کلام آپ نے اَپنے خادِم سے کیا اُسے یاد کریں، کیونکہ آپ نے مُجھے اُمّید دِلائی ہے۔
PSA 119:50 میری مُصیبت میں میری تسلّی یہی ہے: آپ کا وعدہ میری زندگی کا تحفُّظ کرتا ہے۔
PSA 119:51 مغروُر بے دھڑک میرا مضحکہ اُڑاتے ہیں، لیکن مَیں آپ کے آئین سے کنارہ نہیں کرتا۔
PSA 119:52 اَے یَاہوِہ، مَیں آپ کی قدیم شَریعت کو یاد کرتا ہُوں، مُجھے اُن سے بڑی تسلّی ملتی ہے۔
PSA 119:53 جِن بدکار لوگوں نے آپ کے آئین کو ترک کر دیا، اُن کے سبب سے میں سخت طیش میں آ گیا ہُوں۔
PSA 119:54 جہاں کہیں میرا قِیام ہوتاہے وہاں آپ کے قوانین میرے نغمہ کا مضمون بَن جاتے ہیں۔
PSA 119:55 اَے یَاہوِہ، میں رات کو آپ کے نام کا ذِکر کرتا ہُوں، اَور مَیں آپ کے آئین پر عَمل کروں گا۔
PSA 119:56 یہ میرا دستورِ عَمل ہے کہ آپ کے فرمانوں کو مانتا رہُوں۔
PSA 119:57 اَے یَاہوِہ، آپ میرا حِصّہ ہیں؛ مَیں نے آپ کے کلام کو ماننے کا وعدہ کیا ہے۔
PSA 119:58 اَور اَپنے پُورے دِل سے آپ کی خیرسگالی کا طلب گار ہُوں؛ اَپنے وعدہ کے مُطابق مُجھ پر مہربانی فرمائیں۔
PSA 119:59 مَیں نے اَپنی روِشوں پر غور کیا اَور اَپنے قدم آپ کی شہادتوں کی جانِب موڑ دئیے۔
PSA 119:60 اَب مَیں تاخیر سے کام نہیں لُوں گا مَیں آپ کے اَحکام ماننے میں جلدی کروں گا۔
PSA 119:61 خواہ بدکار لوگ مُجھے رسّیوں کے پھندے سے جکڑ لیں، تو بھی مَیں آپ کے آئین کو فراموش نہ کروں گا۔
PSA 119:62 آپ کی صداقت کی شَریعت کی خاطِر، میں آدھی رات کو آپ کا شُکر بجا لانے کو اُٹھتا ہُوں۔
PSA 119:63 میں اُن سَب کا رفیق ہُوں جو آپ کا خوف مانتے ہیں، اَورجو آپ کے فرمانوں پر چلتے ہیں۔
PSA 119:64 اَے یَاہوِہ، زمین آپ کی شفقت و مَحَبّت سے معموُر ہے؛ مُجھے اَپنے قوانین سکھائیں۔
PSA 119:65 اَے یَاہوِہ، اَپنے کلام کے مُطابق، اَپنے خادِم کا بھلا کریں،
PSA 119:66 مُجھے علم اَور صحیح اِمتیاز سکھائیں، کیونکہ آپ کے اَحکام پر میرا توکّل ہے۔
PSA 119:67 مُصیبت میں پڑنے سے پہلے میں گُمراہ تھا، لیکن اَب مَیں آپ کے کلام کو مانتا ہُوں۔
PSA 119:68 آپ بھلےہیں اَور آپ جو کچھ کرتے ہیں وہ بھی بھلا ہے؛ مُجھے اَپنے قوانین سکھائیں۔
PSA 119:69 حالانکہ مغروُروں نے مُجھ پر بہتان باندھا ہے، تو بھی میں صَاف دِلی سے آپ کے قوانین کو مانتا ہُوں۔
PSA 119:70 اُن کے دِل سخت اَور بے حِس ہو گئے ہیں، لیکن مَیں آپ کے آئین میں مسرُور رہتا ہُوں۔
PSA 119:71 مُصیبت میں مُبتلا ہونا میرے حق میں اَچھّا ہے تاکہ مَیں آپ کے قوانین سیکھ سکوں۔
PSA 119:72 آپ کے مُنہ کے آئین میرے لیٔے چاندی اَور سونے کے ہزاروں سِکّوں سے زِیادہ افضل ہے۔
PSA 119:73 آپ کے ہاتھوں نے مُجھے بنایا اَور تشکیل کیا؛ مُجھے فہم عطا فرمائیں تاکہ آپ کے فرمان سیکھ سکوں۔
PSA 119:74 آپ کا خوف ماننے والے جَب مُجھے دیکھیں تو خُوش ہوں، کیونکہ میری اُمّید آپ کے کلام پر ہے۔
PSA 119:75 اَے یَاہوِہ، میں جانتا ہُوں کہ آپ کے آئین راست ہے، اَور وفاداری ہی سے آپ نے مُجھے دُکھ پہُنچایا۔
PSA 119:76 اَپنے خادِم سے کئے ہُوئے وعدہ کے مُطابق، آپ کی لافانی مَحَبّت میری تسلّی کا باعث ہو۔
PSA 119:77 آپ کی رحمت مُجھے نصیب ہو تاکہ میں زندہ رہُوں، کیونکہ آپ کے آئین میری خُوشنودی ہے۔
PSA 119:78 مغروُر شرمندہ ہُوں کیونکہ وہ میرے ساتھ ناحق بُرائی کرتے ہیں؛ لیکن مَیں آپ کے فرمانوں پر دھیان کروں گا۔
PSA 119:79 جو آپ سے ڈرتے ہیں، اَورجو آپ کی شہادتیں سمجھتے ہیں، میری طرف رُجُوع ہُوں۔
PSA 119:80 میرا دِل آپ کے قوانین پر کامل طور سے عَمل کرے، تاکہ مُجھے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
PSA 119:81 میری جان آپ کی نَجات کے لیٔے بیتاب ہے، لیکن مَیں نے آپ کے کلام پر اَپنی اُمّید لگا رکھی ہے۔
PSA 119:82 آپ کے وعدہ کے اِنتظار میں میری آنکھیں دھُندلا گئیں؛ اَور مَیں پُوچھ رہا ہُوں، ”آپ مُجھے کب تسلّی بخشیں گے؟“
PSA 119:83 حالانکہ میں دھوئیں میں رکھے ہُوئے مشکیزہ کی مانند ہو گیا ہُوں، تو بھی مَیں آپ کے قوانین کو نہیں بھُولتا۔
PSA 119:84 مَیں آپ کا خادِم کب تک اِنتظار کروں؟ آپ میرے ستانے والوں پر کب فتویٰ دیں گے؟
PSA 119:85 مغروُروں نے آپ کے آئین کے اُصُولوں کے خِلاف، میرے لیٔے گڑھے کھودے ہیں۔
PSA 119:86 آپ کے سبھی اَحکام برحق ہیں؛ میری مدد کریں کیونکہ میرے دشمن خوامخواہ مُجھے ستاتے ہیں۔
PSA 119:87 اُنہُوں نے مُجھے زمین پر سے تقریباً مٹا ہی ڈالا تھا، لیکن مَیں نے آپ کے فرمانوں کو ترک نہیں کیا۔
PSA 119:88 اَپنی لافانی مَحَبّت کے مُطابق میری زندگی کا تحفُّظ کریں، تاکہ مَیں آپ کے مُنہ سے نکلی ہوئی شہادتوں پر عَمل کرتا رہُوں گا۔
PSA 119:89 اَے یَاہوِہ، آپ کا کلام اَبدی ہے؛ وہ آسمان پر مُستقِل طور پر قائِم رہتاہے۔
PSA 119:90 آپ کی وفاداری پُشت در پُشت جاری رہتی ہے؛ آپ نے زمین کو قائِم کیا اَور اُسے استحکام بخشا۔
PSA 119:91 آپ کے آئین آج تک قائِم ہے، کیونکہ سَب چیزیں آپ کی خدمت گزار ہیں۔
PSA 119:92 اگر آپ کے آئین میرے لیٔے باعثِ مسرّت نہ ہوتی، تو میں اَپنی مُصیبت میں ہلاک ہو چُکا ہوتا۔
PSA 119:93 مَیں آپ کے قوانین کو کبھی نہ بھُولوں گا، کیونکہ اُن ہی کے وسیلہ سے آپ نے مُجھے محفوظ رکھا ہے۔
PSA 119:94 مُجھے بچا لیں کیونکہ مَیں آپ کا ہُوں؛ اَور آپ کے فرمانوں کا طالب رہا ہُوں۔
PSA 119:95 بدکار لوگ مُجھے تباہ کرنے پر آمادہ ہیں، لیکن مَیں آپ کی شہادتوں پر غور کروں گا۔
PSA 119:96 مَیں نے دیکھا کہ ہر کمال کی کویٔی نہ کویٔی حَد ہوتی ہے؛ لیکن آپ کے اَحکام لامحدود ہیں۔
PSA 119:97 آہ، مُجھے آپ کے آئین کتنی عزیز ہے! میں دِن بھر اُسی پر غوروخوض کرتا رہتا ہُوں۔
PSA 119:98 آپ کے اَحکام مُجھے میرے دُشمنوں سے زِیادہ دانشمند بنا دیتے ہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہیں۔
PSA 119:99 میں اَپنے تمام اُستادوں سے بھی زِیادہ فہم رکھتا ہُوں، کیونکہ مَیں آپ کی شہادتوں پر غور کرتا رہتا ہُوں،
PSA 119:100 مَیں آپ کے قوانین پر عَمل کرتا ہُوں، میں بُزرگوں سے زِیادہ سمجھ رکھتا ہُوں۔
PSA 119:101 آپ کے کلام پر عَمل کرنے سے، مَیں نے ہر بُری راہ سے اَپنے قدم باز رکھے ہیں۔
PSA 119:102 مَیں آپ کے آئین سے کنارہ کش نہ ہُوا، کیونکہ خُود آپ نے مُجھے تعلیم دی ہے۔
PSA 119:103 آپ کے اقوال کا ذائقہ کس قدر شیریں ہے، وہ میرے مُنہ میں شہد سے بھی زِیادہ میٹھے لگتے ہیں!
PSA 119:104 میں ہر جھُوٹی روِش سے نفرت کرتا ہُوں؛ کیونکہ آپ کے قوانین سے مُجھے فہم حاصل ہوتاہے۔
PSA 119:105 آپ کا کلام میرے قدموں کے لیٔے چراغ، اَور میری راہ کے لیٔے رَوشنی ہے۔
PSA 119:106 مَیں نے قَسم کھائی ہے اَور اُس پر قائِم ہُوں، کہ مَیں آپ کے آئین کی صداقت کے اَحکام پر عَمل کروں گا۔
PSA 119:107 اَے یَاہوِہ، مَیں نے بہت دُکھ سہا ہے؛ اَپنے کلام کے مُطابق میری زندگی کو محفوظ رکھیں۔
PSA 119:108 اَے یَاہوِہ، میرے مُنہ سے رضا کی قُربانی قبُول فرمائیں، اَور مُجھے اَپنی آئین کی تعلیم عطا کریں۔
PSA 119:109 حالانکہ میری جان ہر وقت میری ہتھیلی پر ہے، تو بھی مَیں آپ کے آئین کو فراموش نہیں کرتا۔
PSA 119:110 بدکار لوگوں نے میرے لیٔے پھندا لگایا ہے، لیکن مَیں آپ کے فرمانوں سے نہیں بھٹکا۔
PSA 119:111 آپ کی شہادتیں میری اَبدی مِیراث ہیں؛ وہ میرے دِل کا سُرور ہیں۔
PSA 119:112 میں آخِر تک پُورے دِل سے آپ کے قوانین کو مانتا رہُوں گا۔
PSA 119:113 مُجھے دوغلے لوگوں سے نفرت ہے، لیکن مُجھے آپ کے آئین پسند ہے۔
PSA 119:114 آپ میری پناہ گاہ اَور میری سِپر ہیں؛ میری اُمّید آپ کے کلام پر ہے۔
PSA 119:115 اَے بدکردارو! مُجھ سے دُورہو جاؤ، تاکہ میں اَپنے خُدا کے اَحکام پر عَمل کر سکوں!
PSA 119:116 اَپنے وعدہ کے مُطابق مُجھے سنبھالیں اَور مَیں زندہ رہُوں گا؛ میری اُمّید ٹوٹنے نہ پایٔے۔
PSA 119:117 مُجھے سنبھالیں اَور مَیں محفوظ رہُوں گا؛ میں ہمیشہ آپ کے قوانین کا لحاظ رکھوں گا۔
PSA 119:118 جو آپ کے اَحکام سے بھٹک جاتے ہیں آپ اُن سَب کو ردّ کر دیتے ہیں، کیونکہ اُن کی مکّاری لاحاصل ہے۔
PSA 119:119 آپ زمین کے سَب بدکار لوگوں کو دھات کے میل کی مانند چھانٹ دیتے ہیں؛ اِس لیٔے مَیں آپ کی شہادتوں کو عزیز رکھتا ہُوں۔
PSA 119:120 آپ کے خوف سے میرا جِسم کانپتا ہے؛ اَور مَیں آپ کے آئین کے فیصلوں سے ڈرتا ہُوں۔
PSA 119:121 مَیں نے وُہی کیا جو راست اَور بجا ہے؛ مُجھے سِتم ڈھانے والوں کے ہاتھ میں نہ چھوڑیں۔
PSA 119:122 اَپنے خادِم کی فلاح و بہبودی کے ضامن ہوں؛ مغروُر مُجھ پر ظُلم نہ ڈھائیں۔
PSA 119:123 آپ کی نَجات اَور صداقت کے وعدے کے اِنتظار میں، میری آنکھیں تھک گئیں۔
PSA 119:124 اَپنے خادِم مُجھ سے اَپنی شفقت و مَحَبّت کے مُطابق سلُوک کریں اَور مُجھے اَپنے قوانین سکھائیں۔
PSA 119:125 مَیں آپ کا خادِم ہُوں، مُجھے فہم عنایت فرمائیں، تاکہ مَیں آپ کی شہادتوں کو سمجھ سکوں۔
PSA 119:126 اَے یَاہوِہ، اَب وقت آ گیا ہے کہ آپ کوئی سزا کے لئے قدم اُٹھائیں؛ کیونکہ آپ کے آئین کی خِلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
PSA 119:127 چونکہ مَیں آپ کے اَحکام کو سونے سے بَلکہ خالص سونے سے بھی زِیادہ عزیز رکھتا ہُوں،
PSA 119:128 اَور چونکہ مَیں آپ کے قوانین کو برحق سمجھتا ہُوں، اِس لیٔے ہر جھُوٹی راہ سے مُجھے نفرت ہے۔
PSA 119:129 آپ کی شہادتیں تعجُّب اَنگیز ہیں؛ اِس لیٔے میں اُن پر عَمل کرتا ہُوں۔
PSA 119:130 آپ کے کلام کی تشریح نُور بخشتی ہے؛ اَور سادہ دِلوں کو سمجھ عطا کرتی ہے۔
PSA 119:131 آپ کے اَحکام کے اشتیاق میں، میں اَپنا مُنہ کھول کر ہانپتا ہُوں۔
PSA 119:132 میری طرف پھریں اَور مُجھ پر رحم فرمائیں۔ جَیسے آپ اَپنے نام سے مَحَبّت رکھنے والوں پر ہمیشہ کرتے ہیں۔
PSA 119:133 اَپنے کلام کے مُطابق میرے قدموں کی رہنمائی کریں؛ کویٔی بدی مُجھ پر غالب نہ آئے۔
PSA 119:134 لوگوں کے ظُلم سے مُجھے چھُڑا لیں، تاکہ مَیں آپ کے فرمانوں پر عَمل کر سکوں۔
PSA 119:135 اَپنا چہرہ اَپنے خادِم پر جلوہ گِر فرمائیں اَور اَپنے اَحکام مُجھے سکھائیں۔
PSA 119:136 میری آنکھوں سے آنسُوؤں کے چشمے جاری ہیں، کیونکہ لوگ آپ کے آئین پر عَمل نہیں کر رہے ہیں۔
PSA 119:137 اَے یَاہوِہ، آپ راستباز ہیں، اَور آپ کے آئین بھی برحق ہیں۔
PSA 119:138 آپ کی مُقرّر کی ہوئی شہادتیں برحق ہیں؛ وہ مُکمّل طور پر قابل یقین ہیں۔
PSA 119:139 میری غیرت مُجھے کھا جاتی ہے، کیونکہ میرے دُشمن آپ کے کلام کو بھُول جاتے ہیں۔
PSA 119:140 آپ کے وعدے پُوری طرح خالص ثابت ہُوئے، اَور آپ کا خادِم میں اُنہیں عزیز رکھتا ہُوں۔
PSA 119:141 حالانکہ میں ادنیٰ اَور حقیر ہُوں، تو بھی آپ کے قوانین کو فراموش نہیں کرتا۔
PSA 119:142 آپ کی راستبازی اَبدی ہے اَور آپ کے آئین برحق ہیں۔
PSA 119:143 مُصیبت اَور تکلیف نے مُجھے دبا رکھا ہے، لیکن آپ کے اَحکام میری خُوشنودی کا باعث ہیں۔
PSA 119:144 آپ کی شہادتیں اَبد تک راست ہیں؛ مُجھے فہم عنایت فرمائیں تاکہ میں زندہ رہُوں۔
PSA 119:145 میں سارے دِل سے آپ کو پُکارتا ہُوں، اَے یَاہوِہ، مُجھے جَواب دیں، اَور مَیں آپ کے قوانین پر عَمل کروں گا۔
PSA 119:146 مَیں نے آپ کو پُکارتا ہُوں، مُجھے بچا لیں اَور مَیں آپ کی شہادتوں پر عَمل کروں گا۔
PSA 119:147 میں صُبح سویرے اُٹھتا ہُوں اَور مدد کے لئے پُکارتا ہُوں؛ مُجھے آپ کے کلام پر اِعتبار ہے۔
PSA 119:148 رات کے ہر پہر میری آنکھیں کھُل جاتی ہیں، تاکہ مَیں آپ کے وعدہ پر دھیان کروں۔
PSA 119:149 اَپنی شفقت و مَحَبّت کے مُطابق میری آواز سُنیں؛ اَے یَاہوِہ، اَپنے آئین کے مُطابق میری زندگی کو محفوظ رکھیں۔
PSA 119:150 شرارت آمیز منصُوبے بنانے والے قریب آ گئے ہیں، لیکن وہ آپ کے آئین سے بہت دُور ہیں۔
PSA 119:151 تو بھی اَے یَاہوِہ، آپ بہت قریب ہیں، اَور آپ کے سَب اَحکام حق ہیں۔
PSA 119:152 بہت پہلے ہی مُجھے آپ کی شہادتوں سے یہ حقیقت مَعلُوم ہو گئی تھی کہ آپ نے اُنہیں اَبد تک کے لیٔے قائِم کیا ہے۔
PSA 119:153 میری تکلیف پر نظر کریں اَور مُجھے اُس سے رِہائی بخشیں، کیونکہ مَیں نے آپ کے آئین کو فراموش نہیں کیا۔
PSA 119:154 میری وکالت کریں اَور مُجھے رِہائی بخشیں؛ اَپنے وعدے کے مُطابق میری زندگی کی حِفاظت کریں۔
PSA 119:155 نَجات بدکار لوگوں سے دُور ہے، کیونکہ وہ آپ کے قوانین کی جُستُجو میں نہیں رہتے۔
PSA 119:156 اَے یَاہوِہ، آپ کی رحمت عظیم ہے؛ اَپنے آئین کے مُطابق میری زندگی کی حِفاظت کریں۔
PSA 119:157 مُجھ پر سِتم ڈھانے والے اَور میرے مُخالف بہت ہیں، لیکن مَیں آپ کی شہادتوں سے کنارہ کش نہ ہُوا۔
PSA 119:158 میں دغابازوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہُوں، کیونکہ وہ آپ کے کلام پر عَمل نہیں کرتے۔
PSA 119:159 دیکھو، مُجھے آپ کے قوانین سے کیسی مَحَبّت ہے؛ اَے یَاہوِہ، اَپنی شفقت و مَحَبّت کے مُطابق میری زندگی کا تحفُّظ کریں۔
PSA 119:160 آپ کے کلام کا اصل حق پر قائِم ہے؛ اَور آپ کے سَب سچّے اَحکام اَبدی ہیں۔
PSA 119:161 حُکمراں بلاوجہ مُجھے ستاتے ہیں، لیکن میرے دِل میں آپ کے کلام کا ڈر ہے۔
PSA 119:162 جَیسے کویٔی لُوٹ کا مال پا کر خُوش ہوتاہے وَیسے ہی مَیں آپ کے وعدہ کے سبب سے خُوش ہُوں۔
PSA 119:163 مُجھے جھُوٹ سے نفرت اَور کراہیّت ہے لیکن آپ کے آئین سے مُجھے مَحَبّت ہے۔
PSA 119:164 آپ کی برحق شَریعت کی خاطِر میں دِن میں سات بار آپ کی مدح سرائی کرتا ہُوں۔
PSA 119:165 آپ کے آئین سے مَحَبّت رکھنے والے بےحد مطمئن ہوتے ہیں، وہ کسی چیز سے بھی ٹھوکر نہیں کھاتے۔
PSA 119:166 اَے یَاہوِہ، مَیں آپ کی نَجات کا منتظر ہُوں، اَور آپ کے اَحکام پر عَمل کرتا آیا ہُوں۔
PSA 119:167 مَیں آپ کی شہادتوں کو مانتا ہُوں، کیونکہ وہ مُجھے بےحد عزیز ہیں۔
PSA 119:168 مَیں آپ کے درجات اَور شہادتوں پر عَمل کرتا ہُوں، کیونکہ میری سَب روِشیں آپ کو مَعلُوم ہیں۔
PSA 119:169 اَے یَاہوِہ، میری فریاد آپ کے حُضُور میں پہُنچے؛ اَپنے کلام کے مُطابق مُجھے فہم عطا فرمائیں۔
PSA 119:170 میری مِنّت آپ کے حُضُور میں پہُنچے؛ اَپنے وعدہ کے مُطابق مُجھے چھُڑائیں۔
PSA 119:171 میرے لبوں سے ہمیشہ آپ کی سِتائش نکلے، کیونکہ آپ مُجھے اَپنے قوانین سِکھاتے ہیں۔
PSA 119:172 میری زبان آپ کے کلام کا نغمہ گائے، کیونکہ آپ کے سَب اَحکام برحق ہیں۔
PSA 119:173 آپ کا ہاتھ میری مدد پر آمادہ رہے، کیونکہ مَیں نے آپ کے قوانین اِختیار کئے ہیں۔
PSA 119:174 اَے یَاہوِہ، مَیں آپ کی نَجات کا مُشتاق ہُوں، اَور آپ کے آئین میری خُوشی کا باعث ہے۔
PSA 119:175 مُجھے سلامت رکھیں تاکہ مَیں آپ کی سِتائش کر سکوں، اَور آپ کے آئین مُجھے سنبھالے رہے۔
PSA 119:176 میں کھوئی ہُوئی بھیڑ کی مانند بھٹک گیا ہُوں۔ آپ ہی اَپنے خادِم کو تلاش کریں، کیونکہ مَیں نے آپ کے اَحکام فراموش نہیں کئے ہیں۔
PSA 120:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ میری اَذیّت کے وقت میں یَاہوِہ سے فریاد کرتا ہُوں، اَور وہ مُجھے جَواب دیتے ہیں۔
PSA 120:2 اَے یَاہوِہ، دروغ گو لبوں اَور دغاباز زبان سے مُجھے بچائیں۔
PSA 120:3 خُدا آپ کے ساتھ کیا کریں گے؟ اَور اُس کے علاوہ اَور کیا کریں گے، اَے دغاباز زبان؟
PSA 120:4 کہ وہ تُجھے زورآور کے تیروں سے، اَور جھاؤ کے اَنگاروں کے ذریعہ سزا دیں گے۔
PSA 120:5 مُجھ پر افسوس کہ میں مُلکِ میشکؔ میں بستا ہُوں، اَور قیدارؔ کے خیموں میں رہتا ہُوں!
PSA 120:6 صُلح کے دُشمنوں کی صحبت میں رہتے ہُوئے مُجھے بڑی مُدّت ہو گئی۔
PSA 120:7 میں صُلح پسند آدمی ہُوں؛ لیکن جَب بولتا ہُوں تو وہ لڑنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
PSA 121:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ میں اَپنی آنکھیں پہاڑوں کی طرف اُٹھاتا ہُوں۔ میری مدد کہاں سے آئے گی؟
PSA 121:2 میری مدد یَاہوِہ کی طرف سے ہے، جو آسمان اَور زمین کے خالق ہیں۔
PSA 121:3 یَاہوِہ تمہارا پاؤں پھسلنے نہ دیں گے؛ جو تمہارے مُحافظ ہیں وہ اُونگھتے نہیں۔
PSA 121:4 دراصل اِسرائیل کے مُحافظ نہ تو کبھی اُونگھتے ہیں نہ سوتے ہیں۔
PSA 121:5 یَاہوِہ تمہارے مُحافظ ہیں۔ یَاہوِہ تمہارے داہنے ہاتھ پر تمہارے سائبان ہیں؛
PSA 121:6 دِن کو آفتاب تُمہیں ضرر نہیں پہُنچائے گا، اَور نہ رات کو ماہتاب۔
PSA 121:7 یَاہوِہ ہر بُلا سے تُمہیں محفوظ رکھیں گے۔ وہ تمہاری جان کی حِفاظت کریں گے؛
PSA 121:8 یَاہوِہ تمہاری آمدورفت میں اَب سے ہمیشہ تک تمہاری حِفاظت کریں گے۔
PSA 122:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ داویؔد کا زبُور۔ مَیں نے اُن لوگوں کے ساتھ مِل کر خُوشی منائی جنہوں نے مُجھ سے کہا: ”آؤ ہم یَاہوِہ کے گھر چلیں۔“
PSA 122:2 اَے یروشلیمؔ تمہارے پھاٹکوں کے اَندر ہم کھڑے ہو گئے ہیں۔
PSA 122:3 یروشلیمؔ ایک اَیسے شہر کی مانند تعمیر کیا گیا، جو گنُجان آباد ہو۔
PSA 122:4 جہاں قبیلے، یعنی یَاہوِہ کے قبیلے اِسرائیل کو دئیے ہُوئے قوانین کے مُطابق یَاہوِہ کے نام کی سِتائش کرنے جاتے ہیں۔
PSA 122:5 جہاں اِنصاف کے تخت، یعنی داویؔد کے گھرانے کے تخت قائِم ہیں۔
PSA 122:6 یروشلیمؔ کی سلامتی کے لیٔے دعا کرو: ”آپ سے مَحَبّت رکھنے والے سلامت رہیں۔
PSA 122:7 اَے یروشلیمؔ، تمہاری فصیلوں کے اَندر خُوشحالی اَور تمہارے قلعوں میں سکون رہے۔“
PSA 122:8 اَپنے بھائیوں اَور دوستوں کی خاطِر، میں کہُوں گا، ”تمہارے درمیان سلامتی قائِم رہے۔“
PSA 122:9 یَاہوِہ، ہمارے خُدا کے گھر کی خاطِر، میں تمہاری بھلائی کا طالب رہُوں گا۔
PSA 123:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ میں اَپنی آنکھیں آپ کی طرف اُٹھاتا ہُوں، آپ کی طرف جِس کا تخت آسمان پر ہے۔
PSA 123:2 جِس طرح غُلاموں کی آنکھیں اَپنے خُداوؔند کی طرف، اَور خادِمہ کی آنکھیں اَپنی مالکن کے ہاتھ کی طرف لگی رہتی ہیں، اُسی طرح ہماری آنکھیں یَاہوِہ، ہمارے خُدا کی طرف لگی رہتی ہیں، جَب تک وہ ہم پر رحم نہ فرمائیں۔
PSA 123:3 ہم پر رحم کریں اَے یَاہوِہ، ہم پر رحم کریں، کیونکہ ہم دُوسروں سے بہت ذِلّت اُٹھا چُکے ہیں۔
PSA 123:4 ہم نے مغروُروں کے تمسخر، اَور گستاخوں کی حقارت کی بہت برداشت کی۔
PSA 124:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ داویؔد کا زبُور۔ اگر یَاہوِہ ہماری طرف نہ ہوتے۔ اِسرائیل یُوں کہے،
PSA 124:2 اگر یَاہوِہ اُس وقت ہماری طرف نہ ہوتے جَب لوگوں نے ہم پر حملہ کیا،
PSA 124:3 جَب اُن کا قہر ہم پر بھڑکا، تو وہ ہمیں زندہ ہی نگل جاتے؛
PSA 124:4 سیلاب نے ہمیں غرق کر دیا ہوتا، تیزرَو موجیں ہم پر سے گزر جاتیں،
PSA 124:5 اَور پانی کا جوش و خروش ہمیں بہا لے جاتا۔
PSA 124:6 یَاہوِہ کی سِتائش ہو، جنہوں نے ہمیں اُن کے دانتوں کا شِکار نہ ہونے دیا۔
PSA 124:7 ہم ایک چڑیا کی مانند صیّاد کے جال میں سے بچ نکلے؛ جال ٹوٹ گیا، اَور ہم بچ نکلے۔
PSA 124:8 ہماری مدد یَاہوِہ کے نام سے ہے، جو آسمان اَور زمین کے خالق ہیں۔
PSA 125:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ یَاہوِہ پر توکّل رکھنے والے کوہِ صِیّونؔ کی مانند ہیں، جو ہلتا نہیں ہے بَلکہ ہمیشہ قائِم ہے۔
PSA 125:2 جِس طرح پہاڑ یروشلیمؔ کو گھیرے ہُوئے ہیں، اُسی طرح اَب سے اَبد تک یَاہوِہ اَپنے لوگوں کو گھیرے رہتے ہیں۔
PSA 125:3 بدکار لوگوں کا عصا راستبازوں کی مِیراث پر قائِم نہ ہوگا، تاکہ صادق لوگ اَپنے ہاتھ بدکاری کی طرف نہ بڑھانے پائیں۔
PSA 125:4 اَے یَاہوِہ، نیک لوگوں کا، اَور راست دِل والوں کا بھلا کریں۔
PSA 125:5 لیکن جو ٹیڑھی راہوں کی طرف مُڑ کر اُن پر چلنے لگتے ہیں، اُنہیں یَاہوِہ بدکرداروں کے ساتھ باہر نکال دیں گے۔ اِسرائیل کی سلامتی ہو!
PSA 126:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ جَب یَاہوِہ اسیروں کو واپس صِیّونؔ لے آئے، تَب ہم اَیسے تھے گویا خواب دیکھ رہے ہیں۔
PSA 126:2 تَب ہمارا مُنہ ہنسی سے بھرا تھا، اَور ہماری زبان پر خُوشی کے نغمے تھے۔ تَب قوموں کے درمیان یہ کہا جانے لگا، ”یَاہوِہ نے اُن کے لیٔے بڑے بڑے کام کئے ہیں۔“
PSA 126:3 یَاہوِہ نے ہمارے لیٔے عظیم کام کئے ہیں، اَور ہم خُوشی سے پھُولے نہیں سماتے۔
PSA 126:4 اَے یَاہوِہ، نِیگیوؔ کی دریاؤں کی مانند، ہمیں بحال کر دیں۔
PSA 126:5 جو آنسُوؤں کے ساتھ بوتے ہیں وہ خُوشی کے نغموں کے ساتھ کاٹیں گے۔
PSA 126:6 جو بونے کے لیٔے بیج اُٹھاکر روتا ہُوا جاتا ہے، وہ پُولے اُٹھاکر ہنستا ہُوا واپس ہوگا۔
PSA 127:1 نغمۂ صعُود (ہیکل کی زیارت کا نغمہ)۔ اَز شُلومونؔ۔ اگر یَاہوِہ گھر نہ بنائیں، تو بنانے والوں کی محنت عبث ہے۔ اگر یَاہوِہ ہی شہر کی حِفاظت نہ کریں، تو نگہبانوں کا جاگنا عبث ہے۔
PSA 127:2 تُم خوامخواہ سویرے جلد اُٹھتے ہو، اَور رات کو دیر تک جاگتے رہتے ہو، اَور مشقّت کی روٹی کھاتے ہو۔ کیونکہ جِن سے یَاہوِہ مَحَبّت رکھتے ہیں اُنہیں آرام کی نیند بھی بخشتے ہیں۔
PSA 127:3 بچے یَاہوِہ کی دی ہُوئی مِیراث ہیں، اَور بچّے اُن کی طرف سے اجر ہیں۔
PSA 127:4 جَوانی کے بیٹے زورآور کے ہاتھ میں تیروں کی مانند ہوتے ہیں۔
PSA 127:5 مُبارک ہے وہ آدمی، جِس کا ترکش اُن سے بھرا ہوتاہے! جَب وہ شہر کے پھاٹک پر اَپنے دُشمنوں سے اُلجھیں گے تو شرمندہ نہ ہوں گے۔
PSA 128:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ مُبارک ہیں وہ جو یَاہوِہ سے ڈرتے ہیں، اَور اُن کی راہوں پر چلتے ہیں۔
PSA 128:2 تُم اَپنی محنت کا پھل کھاؤگے؛ اَور برکت اَور سعادت مندی تمہارے قدم چُومے گی۔
PSA 128:3 تمہاری بیوی تمہارے گھر میں پھلدار انگور کی بیل کی مانند ہوگی؛ اَور تمہارے دسترخوان کے چاروں طرف تمہارے بیٹے زَیتُون کی شاخوں کی مانند ہوں گے۔
PSA 128:4 یَاہوِہ کا خوف ماننے والا اِنسان اِسی طرح برکت پاتاہے۔
PSA 128:5 یَاہوِہ عمر بھر تُمہیں صِیّونؔ میں سے برکت دیں، اَور تُم یروشلیمؔ کی اِقبالمندی دیکھ پاؤگے۔
PSA 128:6 اَور تُم اَپنے بچّوں کے بچّے دیکھنے کے لیٔے جیتے رہوگے۔ اِسرائیل پر سلامتی ہو۔
PSA 129:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ ”میرے دُشمنوں نے میری جَوانی سے مُجھے بہت ستایا،“ اِسرائیل اَب یہ کہے؛
PSA 129:2 ”میری جَوانی ہی سے اُنہُوں نے مُجھے بہت ستایا ہے، لیکن وہ مُجھ پر غالب نہ آئے۔
PSA 129:3 ہل جوتنے والوں نے میری پیٹھ پر ہل چلائے اَور اَپنی ریگھاریاں لمبی بنائیں۔
PSA 129:4 لیکن یَاہوِہ صادق ہیں؛ اُنہُوں نے ہی بدکار لوگوں کی رسّیاں کاٹ کر مُجھے آزاد کر دیا۔“
PSA 129:5 صِیّونؔ سے نفرت کرنے والے سَب شرم کے مارے پسپا ہُوں۔
PSA 129:6 وہ چھت پر کی گھاس کی مانند ہوں، جو بڑھنے سے پہلے ہی سُوکھ جاتی ہے؛
PSA 129:7 فصل کاٹنے والا اُس سے اَپنی مُٹّھی بھی نہیں بھر پاتا، اَور نہ پُولے باندھنے والے کی باہیں بھر پاتی ہیں۔
PSA 129:8 آس پاس سے گزرنے والے یہ نہیں کہہ پاتے، ”تُم پر یَاہوِہ کی برکت ہو؛ ہم تُمہیں یَاہوِہ کے نام سے برکت دیتے ہیں۔“
PSA 130:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ اَے یَاہوِہ، میں گہرائیوں میں سے آپ کو پُکارتا ہُوں؛
PSA 130:2 اَے خُداوؔند، میری آواز سُن لیں۔ میری اِلتجائے رحم پر آپ کے کان متوجّہ ہوں۔
PSA 130:3 اگر آپ اَے یَاہوِہ، گُناہوں کو حِساب میں لائیں، تو اَے خُداوؔند، کون کھڑا رہ سکےگا؟
PSA 130:4 لیکن مغفرت آپ کے ہاتھ میں ہے؛ تاکہ آپ کا خوف مانا جائے۔
PSA 130:5 میں یَاہوِہ کی راہ دیکھتا ہُوں، میری جان منتظر ہے، اَور مَیں اُن کے کلام پر بھروسا رکھتا ہُوں۔
PSA 130:6 پہرےدار صُبح کا جِتنا اِنتظار کرتے ہیں اُن کے صُبح کے اِنتظار سے کہیں زِیادہ، میری جان خُداوؔند کی منتظر ہے۔
PSA 130:7 اَے اِسرائیل! یَاہوِہ پر اُمّید لگائے رکھو، کیونکہ اُن کے ہاتھ میں لافانی مَحَبّت ہے اَور اُن ہی کے پاس پُورا فدیہ ہے۔
PSA 130:8 یَاہوِہ خُود اِسرائیل کا فدیہ دے کر، اُنہیں اُن کی تمام بدکاری سے چھُڑائیں گے۔
PSA 131:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، میرا دِل مغروُر نہیں ہے، اَور نہ میری آنکھیں گھمنڈی ہیں؛ میں بڑے بڑے مُعاملوں سے کویٔی سروکار نہیں رکھتا اَور نہ اُن باتوں سے جو میری سمجھ سے باہر ہوں۔
PSA 131:2 لیکن مَیں نے اَپنی جان کو تھپکیاں دے کر خاموش کر دیا ہے؛ جَیسے ایک دُودھ چھُڑایا ہُوا بچّہ اَپنی ماں کی گود میں ہوتاہے، میری جان میرے اَندر ایک دُودھ چھُڑائے ہُوئے بچّے کے مانند ہی ہے۔
PSA 131:3 اَے اِسرائیل! اَب سے اَبد تک یَاہوِہ ہی سے اَپنی اُمّید وابستہ رکھ۔
PSA 132:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ اَے یَاہوِہ، داویؔد کو اَور اُن تمام مُصیبتوں کو جو اُنہُوں نے اُٹھائی ہیں، یاد فرمائیں۔
PSA 132:2 اُنہُوں نے یَاہوِہ سے قَسم کھائی اَور یعقوب کے قادر سے مَنّت مانی ہے:
PSA 132:3 ”میں اَپنے گھر میں داخل نہ ہوں گا اَور نہ اَپنے پلنگ پر جاؤں گا۔
PSA 132:4 نہ میں اَپنی آنکھوں میں نیند آنے دُوں گا، اَور نہ اَپنی پلکوں کو جھپکنے دُوں گا،
PSA 132:5 جَب تک کہ میں یَاہوِہ کے لیٔے کویٔی مقام، اَور یعقوب کے قادر خُدا کے لیٔے کویٔی مَسکن نہ ڈھونڈ لُوں۔“
PSA 132:6 ہم نے اِفراتہؔ میں اُس کی خبر سُنی، اَور یعؔار کے کھیتوں میں اُسے پا لیا:
PSA 132:7 ”چلو ہم اُن کی قِیام گاہ میں چلیں؛ اَور ہم اُن کے پاؤں کی چوکی کے آگے سَجدہ کریں۔
PSA 132:8 ’اَے یَاہوِہ خُدا، اُٹھیں، آپ اَپنی قُدرت کے صندُوق سمیت، اَپنی آرامگاہ میں داخل ہوں۔
PSA 132:9 آپ کے کاہِنؔ راستی سے مُلبّس ہوں؛ اَور آپ کے مُقدّسین خُوشی کے نعرے ماریں۔‘ “
PSA 132:10 اَپنے خادِم داویؔد کی خاطِر، اَپنے ممسوح کو ردّ نہ کریں۔
PSA 132:11 یَاہوِہ نے داویؔد سے قَسم کھا کر وعدہ کیا ہے، ایک سچّا وعدہ جسے وہ ہرگز نہ توڑیں گے: ”اُن کی نَسل میں سے ایک شخص اُن کے تخت پر بیٹھے گا۔
PSA 132:12 اگر تمہارے فرزند میرے عہد اَور میری شہادتوں پرجو میں اُنہیں سِکھاؤں گا عَمل کریں، تو اُن کے فرزند بھی ہمیشہ آپ کے تخت پر بیٹھیں گے۔“
PSA 132:13 کیونکہ یَاہوِہ نے صِیّونؔ کو چُن لیا ہے، یَاہوِہ نے اُسے اَپنے مَسکن کے لیٔے پسند فرمایاہے:
PSA 132:14 ”یہ ہمیشہ کے لیٔے میری آرامگاہ ہے؛ اَور یہاں میں تخت نشین رہُوں گا کیونکہ یہی میری خواہش ہے۔
PSA 132:15 میں اُس کے رزق میں بڑی برکت دُوں گا؛ اَور اُس کے مسکینوں کو روٹی سے سیر کروں گا۔
PSA 132:16 میں اُس کے کاہِنوں کو نَجات سے مُلبّس کروں گا، اَور اُس کے مُقدّس ہمیشہ خُوشی سے گاتے رہیں گے۔
PSA 132:17 ”یہاں میں داویؔد کے لیٔے ایک سینگ پیدا کروں گا اَور اَپنے ممسوح کے لیٔے ایک چراغ رَوشن کروں گا۔
PSA 132:18 میں اُس کے دُشمنوں کو شرم کا لباس پہناؤں گا، لیکن اُس کے سَر کا تاج جگمگاتا رہے گا۔“
PSA 133:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ داویؔد کا زبُور۔ یہ کیسی پسندِیدہ اَور خُوشی کی بات ہے کہ خُدا کے لوگ باہم اِتّفاق سے رہیں!
PSA 133:2 یہ اُس بیش قیمت تیل کی مانند ہے جو اَہرونؔ کے سَر پر اُنڈیلا گیا، اَور داڑھی تک جا پہُنچا، یعنی اَہرونؔ کی داڑھی تک، اَور پھر اُن کے چوغے کے گلوبند تک جا پہُنچا۔
PSA 133:3 گویا یہ کوہِ حرمُونؔ کی اوس ہے جو کوہِ صِیّونؔ پر پڑ رہی ہے۔ کیونکہ وہیں یَاہوِہ اَپنی برکت، بَلکہ ہمیشہ کی زندگی نازل فرماتے ہیں۔
PSA 134:1 نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ اَے یَاہوِہ کے سَب خادِمو، یَاہوِہ کی سِتائش کرو، تُم جو رات کو یَاہوِہ کے گھر میں خدمت کرتے ہو۔
PSA 134:2 پاک مَقدِس میں اَپنے ہاتھ اُوپر اُٹھاکر یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔
PSA 134:3 یَاہوِہ آسمان اَور زمین کا خالق، صِیّونؔ میں سے تُمہیں برکت عنایت فرمائیں۔
PSA 135:1 یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔ یَاہوِہ کے نام کی حَمد کرو؛ اَے یَاہوِہ، کے خادِمو،
PSA 135:2 تُم جو یَاہوِہ کے گھر میں، اَور ہمارے خُدا کے گھر کے صحنوں مَیں حاضِر رہتے ہو۔
PSA 135:3 یَاہوِہ کی حَمد کرو کیونکہ یَاہوِہ نیک ہیں؛ اُن کے نام کی مدح سرائی کرو، اُس سے دِل کو خُوشی ہوتی ہے۔
PSA 135:4 کیونکہ یَاہوِہ نے یعقوب کو اَپنے لیٔے، اَور اِسرائیل کو اَپنی خاص مِلکیّت کے طور پر چُن لیا ہے۔
PSA 135:5 میں جانتا ہُوں کہ یَاہوِہ عظیم ہیں، کہ ہمارے یَاہوِہ تمام معبُودوں سے زِیادہ عظیم ہیں۔
PSA 135:6 آسمان میں اَور زمین پر، سمُندروں میں اَور اُن کی تمام گہرائیوں میں، یَاہوِہ جو چاہتے ہیں وُہی کرتے ہیں۔
PSA 135:7 وہ زمین کی اِنتہا سے بادل لاتے ہیں؛ اَور بارش کے ساتھ بجلی بھیجتے ہیں اَور اَپنے ذخیروں میں سے ہَوا کو باہر لاتے ہیں۔
PSA 135:8 اُن ہی نے مِصر کے پہلوٹھوں کو مار ڈالا، کیا اِنسان کے، کیا حَیوان کے۔
PSA 135:9 اَے مِصر! اُنہُوں نے تُم میں فَرعوہؔ اَور اُس کے سَب خادِموں پر، اَپنے نِشانات اَور عجائب ظاہر کئے۔
PSA 135:10 اُن ہی نے کیٔی قوموں کو مار ڈالا اَور زبردست بادشاہوں کو قتل کیا۔
PSA 135:11 یعنی امُوریوں کا بادشاہ سیحونؔ، باشانؔ کا بادشاہ عوگؔ اَور کنعانؔ کے تمام بادشاہ۔
PSA 135:12 اَور اُن کے مُلک اُنہُوں نے مِیراث میں دے دئیے، یعنی اَپنی قوم اِسرائیل کی مِیراث میں۔
PSA 135:13 اَے یَاہوِہ، آپ کا نام اَبد تک کے لیٔے ہے، اَور آپ کی شہرت، اَے یَاہوِہ، پُشت در پُشت قائِم رہتی ہے۔
PSA 135:14 کیونکہ یَاہوِہ اَپنے لوگوں کو بےگُناہ قرار دیں گے، اَور اَپنے بندوں پر رحم کریں گے۔
PSA 135:15 قوموں کے بُت تو چاندی اَور سونا ہیں، جو آدمی کی دستکاری ہیں۔
PSA 135:16 اُن بُتوں کے مُنہ ہیں لیکن وہ بول نہیں سکتے، آنکھیں ہیں لیکن وہ دیکھ نہیں سکتے؛
PSA 135:17 اُن کے کان ہیں لیکن وہ سُن نہیں سکتے، اُن کے مُنہ میں سانس ہے ہی نہیں۔
PSA 135:18 جو اُنہیں بناتے ہیں وہ اُن ہی کی مانند ہو جایٔیں گے، اَور وہ سَب بھی جو اُن پر بھروسا رکھتے ہیں۔
PSA 135:19 اَے اِسرائیل کے گھرانے والو! یَاہوِہ کو مُبارک کہو؛ اَے اَہرونؔ کے گھرانے والو! یَاہوِہ کو مُبارک کہو؛
PSA 135:20 اَے لیوی کے گھرانے والو! یَاہوِہ کو مُبارک کہو؛ اَے خُدا کا خوف ماننے والو! یَاہوِہ کو مُبارک کہو۔
PSA 135:21 یَاہوِہ جو یروشلیمؔ میں سکونت پذیر ہیں، وہ صِیّونؔ میں مُبارک ہوں۔ یَاہوِہ کی سِتائش ہو۔
PSA 136:1 یَاہوِہ کا شُکر بجا لاؤ کیونکہ وہ بھلےہیں۔
PSA 136:2 معبُودوں کے خُدا کا شُکر بجا لاؤ۔
PSA 136:3 خُداوندوں کے خُدا کا شُکر بجا لاؤ:
PSA 136:4 اُن کا جو اکیلے بڑے بڑے عجِیب کام کرتے ہیں،
PSA 136:5 جنہوں نے اَپنی حِکمت سے آسمان بنایا،
PSA 136:6 جنہوں نے زمین کو پانی پر پھیلایا،
PSA 136:7 جنہوں نے بڑے بڑے نیّر بنائے۔
PSA 136:8 یعنی دِن پر حُکومت کرنے کے لیٔے سُورج،
PSA 136:9 اَور رات پر حُکومت کرنے کے لیٔے چاند اَور سِتارے بنائے؛
PSA 136:10 اُن کا جنہوں نے مِصر کے پہلوٹھوں کو مارا
PSA 136:11 اَور مِصریوں کے درمیان سے اِسرائیل کو نکال لائے
PSA 136:12 قوی ہاتھ اَور بُلند بازو سے؛
PSA 136:13 اُن کا جنہوں نے بحرِقُلزمؔ کو دو حِصّے کر دیا
PSA 136:14 اَور اِسرائیل کو اُس کے بیچ سے پار لے گئے،
PSA 136:15 خُدا نے مُلک مِصر کے بادشاہ فَرعوہؔ اَور اُس کے لشکر کو بحرِقُلزمؔ میں غرق کر دیا؛
PSA 136:16 اُن ہی نے اَپنی اُمّت کی بیابان میں رہبری کی،
PSA 136:17 جنہوں نے بڑے بڑے بادشاہوں کو مارا،
PSA 136:18 اَور زبردست بادشاہوں کو قتل کیا۔
PSA 136:19 یعنی امُوریوں کے بادشاہ سیحونؔ کو
PSA 136:20 اَور باشانؔ کے بادشاہ عوگؔ کو۔
PSA 136:21 اَور اُن کے مُلک مِیراث میں دئیے،
PSA 136:22 یعنی اَپنے خادِم اِسرائیل کو مِیراث میں دئیے؛
PSA 136:23 اُن کا جنہوں نے ہمیں ہماری پست حالی میں یاد کیا
PSA 136:24 اَور ہمیں ہمارے دُشمنوں سے رِہائی بخشی،
PSA 136:25 جو ہر مخلُوق کو روزی فراہم کرتے ہیں۔
PSA 136:26 آسمان کے خُدا کا شُکر بجا لاؤ
PSA 137:1 جَب ہمیں صِیّونؔ کی یاد آئی تو ہم بابیل کی دریاؤں کے کنارے پر بیٹھ کر خُوب رُوئے۔
PSA 137:2 وہاں بید کے درختوں پر ہم نے اَپنی سِتار لٹکا دئیے،
PSA 137:3 کیونکہ ہمیں اسیر کرنے والوں نے ہم سے نغمہ گانے کو کہا، ہمیں اَذیّت پہُنچانے والوں نے ہم سے خُوشی منانے کو کہا؛ اُنہُوں نے کہا: ”صِیّونؔ کے نغموں میں سے کویٔی نغمہ ہمارے لیٔے گاؤ!“
PSA 137:4 ہم پردیس میں رہتے ہُوئے یَاہوِہ کے نغمے کیسے گا سکتے ہیں؟
PSA 137:5 اَے یروشلیمؔ! اگر مَیں تُمہیں بھُلا دُوں، تو میرا داہنا ہاتھ بیکار ہو جائے۔
PSA 137:6 اگر مَیں تُمہیں یاد نہ رکھوں گا، اگر مَیں یروشلیمؔ کو، اَپنی سَب سے بڑی خُوشی نہ سمجھوں، تو میری زبان میرے تالُو سے چپک جائے۔
PSA 137:7 اَے یَاہوِہ، یاد کریں کہ جِس دِن یروشلیمؔ پر اُن کا قبضہ ہُوا۔ اُس دِن اِدُومیوں نے کیا کہا۔ اُنہُوں نے چِلّاکر کہا: ”اِسے ڈھا دو، بُنیاد تک اِسے ڈھا دو!“
PSA 137:8 اَے بابیل کی بیٹی یعنی بابیل کے لوگ جو تباہ ہونے کو ہیں، مُبارک ہے وہ جو تُجھے اِس سلُوک کا بدلہ دے جو تُونے ہم سے کیا۔
PSA 137:9 جو تیرے بچّوں کو لے کر چٹّانوں پر پٹک دے۔
PSA 138:1 اَز داویؔد۔ اَے یَاہوِہ، میں اَپنے سارے دِل سے آپ کا شُکر کروں گا؛ ”معبُودوں“ کے سامنے میں آپ کی سِتائش کروں گا۔
PSA 138:2 مَیں آپ کے مُقدّس ہیکل کی طرف رخ کرکے سَجدہ کروں گا، اَور آپ کی لافانی مَحَبّت اَور آپ کی صداقت کی خاطِر آپ کے نام کی سِتائش کروں گا۔ کیونکہ آپ نے اَپنے نام اَور اَپنے کلام کو ہر چیز پر فوقیت بخشی ہے۔
PSA 138:3 جَب مَیں نے آپ کو پُکارا، تو آپ نے مُجھے جَواب دیا؛ اَور میری جان کو دِلیر اَور حوصلہ مند بنا دیا۔
PSA 138:4 اَے یَاہوِہ، زمین کے سَب بادشاہ آپ کی سِتائش کریں گے، کیونکہ اُنہُوں آپ کے مُنہ کا کلام سُنا ہے،
PSA 138:5 وہ یَاہوِہ کی راہوں کا نغمہ گائیں گے، کیونکہ یَاہوِہ کا جلال عظیم ہے۔
PSA 138:6 حالانکہ یَاہوِہ عالمِ بالا پر ہیں، پھر بھی وہ خاکساروں کی طرف نگاہ کرتے ہیں، لیکن مغروُروں کو وہ دُور ہی سے پہچان لیتے ہیں۔
PSA 138:7 حالانکہ میں مُصیبتوں میں سے گزرتا ہُوں، تو بھی آپ میری جان کی حِفاظت کرتے ہیں؛ اَور میرے دُشمنوں کے قہر کے خِلاف اَپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں، اَور اَپنے داہنے ہاتھ سے مُجھے بچا لیتے ہیں۔
PSA 138:8 یَاہوِہ میرے لیٔے اَپنا مقصد پُورا کریں گے؛ اَے یَاہوِہ، آپ کی شفقت و مَحَبّت اَبدی ہے۔ اَپنے ہاتھوں کے کاموں کو ترک نہ کریں۔
PSA 139:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا ایک زبُور۔ اَے یَاہوِہ، آپ نے مُجھے جانچ لیا ہے، اَور آپ مُجھے جانتے ہیں۔
PSA 139:2 آپ میرا اُٹھنا بیٹھنا جانتے ہیں، آپ یہ سَب کچھ جانتے ہیں؛ اَور آپ دُور ہی سے میرے خیالات مَعلُوم کرلیتے ہیں۔
PSA 139:3 میرا باہر جانا اَور آرام کے لیٔے لیٹنا آپ کی نظر میں ہے؛ آپ میری سَب روِشوں سے بخُوبی واقف ہیں۔
PSA 139:4 اِس سے پہلے کہ کویٔی لفظ میری زبان پر آئے، اَے یَاہوِہ، آپ اُسے پُوری طرح سے جانتے ہیں۔
PSA 139:5 آپ آگے اَور پیچھے سے مُجھے گھیرے ہُوئے ہے؛ آپ اَپنا ہاتھ مُجھ پر ہمیشہ رکھے رہتے ہیں۔
PSA 139:6 یہ علم میرے لیٔے نہایت عجِیب ہے، یہ بہت اُونچا ہے اَور میری پہُنچ سے باہر ہے۔
PSA 139:7 مَیں آپ کی رُوح سے بچ کر کہاں جاؤں؟ اَور آپ کی حُضُوری سے بچ کر کدھر بھاگوں؟
PSA 139:8 اگر آسمان پر چڑھ جاؤں، تو آپ وہاں ہیں؛ اَور اگر پاتال میں اَپنا بِستر بچھا لُوں، تو آپ وہاں بھی ہیں۔
PSA 139:9 اگر مَیں فجر کے پر لگا کر اُڑ جاؤں، اَور سمُندر کے اُس پار جا بسُوں،
PSA 139:10 تو وہاں بھی آپ کا ہاتھ میری رہنمائی کرےگا، آپ کا داہنا ہاتھ مُجھے مضبُوطی سے سنبھالے رہے گا۔
PSA 139:11 اگر مَیں کہُوں: ”یقیناً آپ کی تاریکی مُجھے چھُپا لے گی اَور میرے چاروں طرف کی رَوشنی رات بَن جائے گی،“
PSA 139:12 تو تاریکی بھی آپ کے لیٔے تاریکی نہ ہوگی؛ اَور آپ کے لئے رات بھی دِن کی مانند چمکے گی، آپ کے سامنے تو تاریکی اَور رَوشنی ایک جَیسے ہی ہیں۔
PSA 139:13 کیونکہ آپ نے میرے وُجُود کو پیدا کیا؛ اَور آپ نے مُجھے میری ماں کے رحم میں صورت بخشی ہے۔
PSA 139:14 مَیں آپ کا شُکر کرتا ہُوں کہ میں اِس قدر عجِیب طور سے بنایا گیا ہُوں؛ آپ کے کام حیرت اَنگیز ہیں، اَور مَیں یہ اَچھّی طرح سے جانتا ہُوں۔
PSA 139:15 اُس وقت میرا قالب آپ سے چھُپا نہ تھا۔ جَب مَیں پوشیدگی میں بنایا جا رہاتھا، جَب مَیں زمین کی گہرائیوں میں مُرتّب کیا جا رہاتھا،
PSA 139:16 آپ کی آنکھوں نے میرے غَیر مُرتّب اجزا کو دیکھا تھا؛ میرے مُقرّرہ ایّام کا کُل حِساب آپ کی کِتاب میں درج کر دیا گیا تھا، حالانکہ اُن میں سے ایک کا بھی وُجُود نہیں تھا۔
PSA 139:17 اَے خُدا، آپ کے خیالات میرے لیٔے کس قدر بیش قیمتی ہیں! اُن کا مجموعہ کتنا بڑا ہے!
PSA 139:18 اگر مَیں اُنہیں شُمار میں لاؤں، تو وہ ریت کے ذرّوں سے بھی زِیادہ ہیں۔ جَب مَیں جاگتا ہُوں، تو آپ کو اَپنے نزدیک پاتا ہُوں۔
PSA 139:19 اَے خُدا، کاش کہ آپ بدکار کو قتل کر ڈالتے! اَے خُونخوار لوگو! مُجھ سے دُورہو جاؤ!
PSA 139:20 یہ لوگ آپ کے متعلّق بُری نیّت سے بات کرتے ہیں؛ آپ کے دُشمن آپ کے نام کو بے فائدہ لیتے ہیں۔
PSA 139:21 اَے یَاہوِہ، کیا مَیں آپ کے عداوت رکھنے والوں سے عداوت نہ رکھوں گا، اَور اُن سے نفرت نہ کروں جو آپ کے خِلاف سَر اُٹھاتے ہیں؟
PSA 139:22 میرے پاس اُن کے لیٔے نفرت کے سِوا اَور کچھ بھی نہیں؛ میں اُنہیں اَپنا دُشمن سمجھتا ہُوں۔
PSA 139:23 اَے خُدا، آپ مُجھے جانچیں اَور میرے دِل کو پہچانیں؛ مُجھے آزمائیں اَور میرے مُضطرب خیالات کو جان لیں۔
PSA 139:24 دیکھیں، مُجھ میں کویٔی بُری روِش تو نہیں، اَور میری اَبدی راہ میں رہنمائی کریں۔
PSA 140:1 موسیقی ہدایت کار کے لیٔے داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، مُجھے بدکردار اِنسانوں سے چھُڑائیں؛ ظالموں سے میری حِفاظت کریں،
PSA 140:2 جو اَپنے دِل میں بُرے منصُوبے باندھتے ہیں اَور ہر روز جنگ برپا کرتے ہیں۔
PSA 140:3 وہ اَپنی زبانوں کو سانپ کی مانند تیز کرتے ہیں؛ اَور اُن کے لبوں پر افعی کا زہر ہوتاہے۔
PSA 140:4 اَے یَاہوِہ، مُجھے بدکاروں کے ہاتھ سے بچائیں؛ اَور ظالموں سے میری حِفاظت کریں جِن کا اِرادہ ہے کہ میرے پاؤں اُکھاڑ دیں۔
PSA 140:5 مغروُروں نے میرے لیٔے ایک پھندا چھُپا رکھا ہے؛ اُنہُوں نے اَپنے جال کی رسّیاں پھیلا دی ہیں اَور میری راہ میں میرے لیٔے پھندے لگا رکھے ہیں۔
PSA 140:6 اَے یَاہوِہ، مَیں آپ سے کہتا ہُوں، ”آپ میرے خُدا ہیں۔“ اَے یَاہوِہ، میری فریاد پر کان لگائیں۔
PSA 140:7 اَے یَاہوِہ قادر، میری نَجات کی قُوّت، جو جنگ کے دِن میرے سَر کی حِفاظت کرتا ہے۔
PSA 140:8 اَے یَاہوِہ، بدکار لوگوں کی مُرادیں پُوری نہ ہونے دیں؛ اُن کے منصُوبے کامیاب نہ ہونے پائیں، ورنہ وہ مغروُر ہو جایٔیں گے۔
PSA 140:9 میرے گھیرنے والے دُشمنوں کے سَر پر؛ اُن ہی کے لبوں کی شرارت آ پڑے۔
PSA 140:10 اُن پر دہکتے اَنگارے گریں؛ اَور وہ آگ میں پھینک دئیے جایٔیں، اَور کیچڑ سے بھرے ہُوئے گڑھوں میں ڈالے جایٔیں کہ پھر کبھی اُٹھ نہ سکیں۔
PSA 140:11 بدگو مُلک میں قدم نہ جما سکیں؛ اَور تشدّد پسند لوگ مُصیبت کا شِکار ہو جایٔیں۔
PSA 140:12 میں جانتا ہُوں کہ یَاہوِہ غریبوں کا اِنصاف کرتے ہیں اَور مُحتاجوں کی حمایت کرتے ہیں۔
PSA 140:13 یقیناً راستباز آپ کے نام کی سِتائش کریں گے اَور صادق آپ کی حُضُوری میں رہیں گے۔
PSA 141:1 داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، مَیں نے آپ کو پُکارا ہے، جلد میری طرف آ جائیں۔ جَب مَیں آپ کو پُکاروں تو میری آواز پر کان لگائیں۔
PSA 141:2 میری دعا بخُور کی مانند آپ کے حُضُور پہُنچ جائے؛ اَور میرے اُٹھے ہُوئے ہاتھ شام کی قُربانی بَن جایٔیں۔
PSA 141:3 اَے یَاہوِہ، میرے مُنہ پر پہرا بِٹھائیں؛ اَور میرے لبوں کے دروازہ کی نگہبانی کریں۔
PSA 141:4 میرے دِل کو کسی بُرائی کی طرف مائل نہ ہونے دیں، اَور نہ اُسے بدکرداروں کے ساتھ مِل کر شرارت کے کاموں میں شرکت کرنے دیں؛ مُجھے اُن کے لذیذ کھانوں سے دُور رکھیں۔
PSA 141:5 اگر راستباز شخص مُجھے مارے تو یہ مہربانی ہوگی؛ اگر وہ مُجھے تنبیہ کرے تو یہ میرے سَر کا روغن بَن جائے گی۔ جِس سے میرا سَر اِنکار نہ کرےگا، پھر بھی میری دعا ہمیشہ بدکرداروں کے اعمال کے خِلاف ہوگی۔
PSA 141:6 اُن دُشمنوں کے حُکمراں چٹّانوں کے کناروں پر سے گرا دئیے جائیں گے، اَور بدکار لوگ جان لیں گے کہ میرے مُنہ سے اَچھّی باتیں نکلی تھیں۔
PSA 141:7 وہ کہیں گے، ”جَیسے کویٔی ہل چلاتا اَور زمین کو توڑتا ہے، اُسی طرح ہماری ہڈّیاں پاتال کے مُنہ پر بِکھیر دی گئی ہیں۔“
PSA 141:8 لیکن اَے یَاہوِہ قادر، میری آنکھیں آپ پر لگی ہُوئی ہیں؛ مَیں آپ کی پناہ لیتا ہُوں، مُجھے موت کے حوالہ نہ کریں۔
PSA 141:9 بدکرداروں نے جو پھندے اَورجو جال میرے لیٔے بچھا رکھے ہیں، اُن سے مُجھے دُور رکھیں۔
PSA 141:10 بدکار لوگ خُود اَپنے ہی جالوں میں پھنس کر رہ جایٔیں، اَور مَیں سلامت بچ نکلوں۔
PSA 142:1 داویؔد کا مشکیل‏ جَب وہ غار میں تھے۔ ایک دعا۔ میں چِلّاکر یَاہوِہ کو مدد کے لئے پُکارتا ہُوں؛ میں اَپنی آواز بُلند کرکے یَاہوِہ سے مِنّت کرتا ہُوں۔
PSA 142:2 میں یَاہوِہ کے حُضُور میں اَپنی مُصیبت بَیان کرتا ہُوں؛ اَور اَپنا حالِ زار اُن ہی کو کہہ سُناتا ہُوں۔
PSA 142:3 جَب میری رُوح میرے اَندر نڈھال ہو جاتی ہے، تَب آپ ہی میری راہ جانتے ہیں۔ جِس راہ پر میں چلتا ہُوں اُس میں میرے دُشمنوں نے میرے لیٔے پھندا لگا رکھا ہے۔
PSA 142:4 میری داہنی طرف نگاہ کریں اَور دیکھیں؛ کسی کو میری جان کی پروا نہیں ہے۔ اَور میرے لیٔے کویٔی جائے پناہ نہیں؛ اَور کویٔی میری جان کی فکر نہیں کرتا۔
PSA 142:5 اَے یَاہوِہ، ”مَیں آپ سے فریاد کرتا ہُوں؛ میں کہتا ہُوں کہ آپ میری پناہ ہیں، زندوں کی زمین میں آپ میرا سَب کچھ ہیں۔“
PSA 142:6 میری فریاد کی طرف کان لگائیں، میں نہایت پریشان ہُوں؛ میرا تعاقب کرنے والوں سے مُجھے بچائیں، کیونکہ وہ مُجھ سے زِیادہ زورآور ہیں۔
PSA 142:7 مُجھے میری قَید سے آزاد کر دیں، تاکہ آپ کے نام کی سِتائش کر سکوں۔ تَب راستباز میرے گِرد جمع ہو جایٔیں گے کیونکہ آپ نے مُجھ پر اِحسَان کیا ہے۔
PSA 143:1 داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، میری دعا سُن لیں، میری رحم کی فریاد پر کان لگائیں؛ اَپنی وفاداری اَور راستی کے مُطابق میری نَجات کے لیٔے آئیں۔
PSA 143:2 اَپنے خادِم کو عدالت میں نہ لائیں، کیونکہ زندوں میں سے کویٔی آپ کی نگاہ میں راستباز نہیں۔
PSA 143:3 دُشمن میرا تعاقب کر رہاہے، اُس نے میری جان کو کُچل کر خاک میں مِلا دیا ہے؛ اُس نے مُجھے تاریکی میں اَیسے لوگوں کی مانند رکھ چھوڑا ہے جو عرصہ ہُوا مَر چُکے ہیں۔
PSA 143:4 اِس سبب سے میری رُوح میرے اَندر نڈھال ہو چُکی ہے؛ اَور میرا دِل بےچین ہے۔
PSA 143:5 مُجھے پُرانے دِن یاد آتے ہیں؛ مَیں آپ کے سَب کاموں کو دھیان میں لاتا ہُوں اَور آپ کی دستکاری پر غور کرتا ہُوں۔
PSA 143:6 میں اَپنے ہاتھ آپ کی طرف پھیلاتا ہُوں؛ میری جان خشک زمین کی طرح آپ کی پیاسی ہے۔
PSA 143:7 اَے یَاہوِہ، مُجھے جلد جَواب دیں؛ میری رُوح نڈھال ہو چُکی ہے۔ اَپنا چہرہ مُجھ سے نہ چھُپائیں اَیسا نہ ہو کہ مَیں اُن کی مانند ہو جاؤں جو پاتال میں اُتر جاتے ہیں۔
PSA 143:8 صُبح، میرے لیٔے آپ کی لافانی مَحَبّت کی خبر لے کر آئے، کیونکہ میرا توکّل آپ پر ہے۔ مُجھے وہ راہ بتائیں جِس پر میں چلُوں، کیونکہ میری جان کی اُمّید آپ ہی سے وابستہ ہے۔
PSA 143:9 اَے یَاہوِہ، مُجھے میرے دُشمنوں سے چھُڑائیں، کیونکہ میرے چھُپنے کی جگہ آپ ہی ہیں۔
PSA 143:10 مُجھے سکھائیں کہ آپ کی مرضی پُوری کر سکوں، کیونکہ آپ میرے خُدا ہیں؛ آپ کی نیک رُوح، ہموار زمین پر میری رہنمائی کرے۔
PSA 143:11 اَے یَاہوِہ، اَپنے نام کی خاطِر، میری جان کی حِفاظت کریں؛ اَپنی راستبازی کے مُطابق میری جان کو مُصیبت سے رِہائی بخشیں۔
PSA 143:12 اَپنی لافانی مَحَبّت کے مُطابق میرے دُشمنوں کو نابود کر دیں؛ میرے تمام مُخالفوں کو تباہ کر دیں، کیونکہ مَیں آپ کا خادِم ہُوں۔
PSA 144:1 داویؔد کا زبُور۔ یَاہوِہ میری چٹّان مُبارک ہو، جو میرے ہاتھوں کو جنگ کرنے، اَور میری اُنگلیوں کو لڑنے کے قابل بناتے ہیں۔
PSA 144:2 وہ میرے شفیق خُدا اَور میرا قلعہ ہیں، میرے محکم بُرج اَور میرے چھُڑانے والے، میری سِپر اَور میری جائے پناہ ہیں، اَورجو میری اُمّت کو میرے تابع کرتے ہیں۔
PSA 144:3 اَے یَاہوِہ، اِنسان کیا ہے کہ آپ اُس کے لیٔے فِکرمند ہوں، اَور آدمؔ زاد کیا ہے کہ آپ اُس کا خیال کریں؟
PSA 144:4 اِنسان سانس کی طرح ہے؛ اُس کے ایّام ڈھلتے ہُوئے سایہ کی مانند ہیں۔
PSA 144:5 اَے یَاہوِہ، اَپنے آسمان کو جھُکا کر نیچے اُتر آئیں؛ پہاڑوں کو چھُوئیں تو اُن میں سے دُھواں نکلے گا۔
PSA 144:6 بجلی گرائیں اَور دُشمنوں کو پراگندہ کر دیں؛ اَپنے تیر چلائیں اَور اُنہیں شِکست دیں۔
PSA 144:7 اُوپر سے اَپنا ہاتھ بڑھائیں؛ اَور زورآور سیلابوں سے مُجھے بچائیں اَور پردیسیوں کے ہاتھ سے مُجھے رِہائی دیں،
PSA 144:8 جِن کے مُنہ میں جھُوٹ بھرا ہے، اَور جِن کے داہنے ہاتھ دغاباز ہیں، چھُڑا لیں۔
PSA 144:9 اَے خُدا، مَیں آپ کے لیٔے ایک نیا نغمہ گاؤں گا؛ دس تار والے بربط پر مَیں آپ کے لیٔے نغمہ سرائی کروں گا۔
PSA 144:10 اُن کے لیٔے جو بادشاہوں کو فتح عنایت کرتے ہیں، اَور اَپنے خادِم داویؔد کو بچاتے ہیں۔ مہلک تلوار سے۔
PSA 144:11 چھُڑا لیں؛ مُجھے پردیسیوں کے ہاتھ سے۔ جِن کے مُنہ میں جھُوٹ بھرا ہے، اَور جِن کا داہنا ہاتھ دغاباز ہے۔
PSA 144:12 تَب ہمارے بیٹے اَپنی جَوانی میں بڑھتے ہُوئے پَودوں کی مانند ہوں گے، اَور ہماری بیٹیاں اُن سُتونوں کی مانند ہوں گی جو کسی محل کی شان بڑھانے کے لیٔے تراشے گیٔے ہوں۔
PSA 144:13 ہمارے کھتّے، ہر قِسم کی جنس سے بھرے ہوں گے۔ ہماری بھیڑیں ہزاروں کی تعداد میں بڑھیں گی، بَلکہ ہمارے کھیتوں میں وہ کیٔی گُنا زِیادہ ہو جایٔیں گی؛
PSA 144:14 ہمارے بَیل خُوب لدے ہوں گے، دیواریں شگافوں سے محفوظ رہیں گی، نہ لوگوں کو اسیر ہوکر جانا پڑےگا، نہ ہی ہمارے گلی کوچوں میں چیخنے چِلّانے کی آواز سُنایٔی دے گی۔
PSA 144:15 مُبارک ہے وہ قوم جِس پر یہ حال صادق آتا ہے؛ مُبارک ہے وہ اُمّت جِن کے خُدا، یَاہوِہ ہیں۔
PSA 145:1 حَمد کا نغمہ، داویؔد کا زبُور۔ میرے خُدا، آپ میرے بادشاہ ہیں۔ مَیں آپ کی تمجید کروں گا؛ میں ابدُالآباد آپ کے نام کی سِتائش کروں گا۔
PSA 145:2 میں ہر روز آپ کو مُبارک کہُوں گا اَور ابدُالآباد آپ کے نام کی تمجید کروں گا۔
PSA 145:3 یَاہوِہ عظیم ہیں اَور بڑی سِتائش کے لائق ہیں؛ اُن کی عظمت ادراک سے باہر ہے۔
PSA 145:4 آپ کے کاموں کی تعریف اَور آپ کی قُدرت کا بَیان؛ پُشت در پُشت ہوتا رہے گا۔
PSA 145:5 وہ آپ کی جلالی شان و شوکت کا تذکرہ کریں گے، اَور مَیں آپ کے عجِیب و غریب کاموں پر غور کروں گا۔
PSA 145:6 وہ آپ کے حیرت اَنگیز کاموں کی قُدرت کا ذِکر کریں گے، اَور مَیں آپ کے عظیم کاموں کا اعلان کروں گا۔
PSA 145:7 وہ آپ کی بڑی مہربانیوں کا جَشن منائیں گے اَور خُوشی سے آپ کی راستبازی کا نغمہ گائیں گے۔
PSA 145:8 یَاہوِہ رحیم و کریم ہیں، قہر کرنے میں دھیمے اَور شفقت میں غنی ہیں۔
PSA 145:9 یَاہوِہ سَب پر مہربان ہیں؛ اَور اُن کا کرم اُن کی ساری مخلُوق پر ہے۔
PSA 145:10 اَے یَاہوِہ، آپ کی ساری مخلُوق آپ کی مدح سرائی کرےگی؛ اَور آپ کے مُقدّسین آپ کی تمجید کریں گے۔
PSA 145:11 وہ آپ کی بادشاہی کے جلال کا ذِکر اَور آپ کی قُدرت کا بَیان کریں گے،
PSA 145:12 تاکہ سَب اِنسان آپ کے عظیم کاموں کو جانیں اَور آپ کی بادشاہی کی جلالی شان و شوکت سے واقف ہو جائیں۔
PSA 145:13 آپ کی بادشاہی اَبدی بادشاہی ہے، اَور آپ کی حُکومت پُشت در پُشت قائِم رہتی ہے۔ یَاہوِہ اَپنے سارے وعدے پُورے کرتے ہیں اَور اَپنی تمام مخلُوق پر مہربان ہیں۔
PSA 145:14 یَاہوِہ سَب گرتے ہوؤں کو سنبھالتے ہیں اَور سَب جھُکے ہوؤں کو اُٹھا کھڑا کرتے ہیں۔
PSA 145:15 سَب کی آنکھیں آپ کی طرف لگی رہتی ہیں، اَور آپ اُنہیں وقت پر اُن کی خُوراک مہیا کرتے ہیں۔
PSA 145:16 تُم اَپنی مُٹّھی فیّاضی سے کھولتے ہو اَور ہر جاندار کی خواہش پُوری کرتے ہو۔
PSA 145:17 یَاہوِہ اَپنی سَب راہوں میں صادق ہیں اَور اَپنے تمام کاموں میں رحیم ہیں۔
PSA 145:18 یَاہوِہ اُن سَب کے قریب ہیں جو اُنہیں پُکارتے ہیں، یعنی اُن سَب کے قریب، جو اُنہیں سچّے دِل سے پُکارتے ہیں۔
PSA 145:19 وہ اُن کی مُرادیں بر لاتے ہیں جو اُن کا خوف مانتے ہیں؛ وہ اُن کی فریاد سُنتے ہیں اَور اُنہیں بچاتے ہیں۔
PSA 145:20 یَاہوِہ اُن سَب کی حِفاظت کرتے ہیں، جو اُن سے مَحَبّت رکھتے ہیں، لیکن وہ سَب بدکار لوگوں کو فنا کر دیں گے۔
PSA 145:21 میرے مُنہ سے یَاہوِہ کی سِتائش ہوگی۔ ہر مخلُوق ابدُالآباد اُن کے پاک نام کی مدح سرائی کرے۔
PSA 146:1 یَاہوِہ کی سِتائش ہو۔ اَے میری جان، یَاہوِہ کی حَمد کر۔
PSA 146:2 میں عمر بھر یَاہوِہ کی سِتائش کروں گا؛ جَب تک میں زندہ ہُوں، اَپنے خُدا کی مدح سرائی کروں گا۔
PSA 146:3 اُمرا پر ہی بھروسا کرو، نہ فانی اِنسان پرجو بچا نہیں سکتے۔
PSA 146:4 جَب اُن کی رُوح پرواز کر جاتی ہے تو وہ خاک میں مِل جاتے ہیں؛ اُسی دِن اُن کے منصُوبے مِٹ جاتے ہیں۔
PSA 146:5 مُبارک ہے وہ شخص جِس کے مددگار یعقوب کے خُدا ہیں، جِس کی اُمّید یَاہوِہ اَپنے خُدا پر ہے۔
PSA 146:6 خُدا نے آسمانوں اَور زمین اَور سمُندر کو اَورجو کچھ اُن میں مَوجُود ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ یعنی یَاہوِہ جو ہمیشہ تک وفادار ہیں۔
PSA 146:7 وہ مظلوموں کی حمایت کرتے ہیں اَور بھُوکوں کو کھانا کھِلاتے ہیں۔ یَاہوِہ قَیدیوں کو آزاد کرتے ہیں،
PSA 146:8 یَاہوِہ اَندھوں کو بینائی بخشتے ہیں، اَور یَاہوِہ جھُکے ہوؤں کو اُٹھا کھڑا کرتے ہیں، یَاہوِہ صادقوں کو عزیز رکھتے ہیں۔
PSA 146:9 یَاہوِہ پردیسیوں کی حِفاظت کرتے ہیں اَور یتیم اَور بِیوہ کو سنبھالتے ہیں، لیکن وہ بدکاروں کی راہوں کو کَج کر دیتے ہیں۔
PSA 146:10 اَے صِیّونؔ! یَاہوِہ آپ کے خُدا اَبد تک سلطنت کرتے رہیں گے، اُن کی سلطنت پُشت در پُشت قائِم رہے گی۔ یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔
PSA 147:1 یَاہوِہ کی حَمد کرو۔ ہمارے خُدا کی مدح سرائی کرنا کتنا اَچھّا ہے، اُن کی سِتائش کرنا کتنا دِل پسند اَور مُناسب ہے!
PSA 147:2 یَاہوِہ یروشلیمؔ کو تعمیر کرتے ہیں؛ وہ اِسرائیل کے جَلاوطنوں کو جمع کرتے ہیں۔
PSA 147:3 یَاہوِہ شکستہ دِلوں کو شفا بخشتے ہیں اَور اُن کے زخم باندھتے ہیں۔
PSA 147:4 وہ تاروں کی تعداد مُقرّر کرتے ہیں اَور ہر ایک کو نام بنام پُکارتے ہیں۔
PSA 147:5 ہمارے یَاہوِہ عظیم اَور بڑی قُدرت والے ہیں؛ اُن کی حِکمت کی کوئی اِنتہا نہیں۔
PSA 147:6 یَاہوِہ حلیموں کو سنبھالتے ہیں لیکن بدکاروں کو خاک میں مِلا دیتے ہیں۔
PSA 147:7 یَاہوِہ کے لیٔے شُکر گُزاری کے ساتھ نغمہ گاؤ؛ سِتار پر ہمارے خُدا کی مدح سرائی کرو۔
PSA 147:8 وہ آسمان کو بادلوں سے ڈھانک دیتے ہیں؛ اَور زمین پر مینہ برساتے ہیں اَور پہاڑوں پر گھاس اُگاتے ہیں۔
PSA 147:9 وہ مویشیوں کو خُوراک مہیا کرتے ہیں اَور کوّے کے بچّوں کو بھی جَب وہ کائیں کائیں کرتے ہیں۔
PSA 147:10 گھوڑے کی قُوّت میں اُنہیں کویٔی دلچسپی نہیں، نہ جنگجو کی پنڈلیاں اُنہیں پسند آتی ہیں۔
PSA 147:11 یَاہوِہ اُن سے خُوش ہوتے ہیں جو اُن سے ڈرتے ہیں، اَورجو اُن کی لافانی مَحَبّت کے اُمّیدوار ہیں۔
PSA 147:12 اَے یروشلیمؔ! یَاہوِہ کی تمجید کر؛ اَے صِیّونؔ! اَپنے خُدا کی سِتائش کر۔
PSA 147:13 کیونکہ وہ تمہارے پھاٹکوں کی سلاخیں مضبُوط کرتے ہیں اَور وہ تمہارے شہر کے اَندر تمہارے لوگوں کو برکت دیتے ہیں۔
PSA 147:14 وہ تمہاری سرحدوں پر اَمن قائِم رکھتے ہیں اَور تُمہیں اَچھّے سے اَچھّے گیہُوں سے آسُودہ کرتے ہیں۔
PSA 147:15 وہ اَپنا حُکم زمین پر بھیجتے ہیں؛ اُن کا کلام نہایت تیزرَو ہے۔
PSA 147:16 وہ برف کو اُون کی مانند گراتے ہیں اَور برف کے گالوں کو اُون کی مانند بِکھیرتے ہیں۔
PSA 147:17 وہ اَپنے اولوں کو کنکریوں کی طرح پھینکتے ہیں، اُن کے سرد جھونکوں کو کون برداشت کر سَکتا ہے؟
PSA 147:18 وہ اَپنا کلام نازل فرما کر اُنہیں پگھلا دیتے ہیں؛ اَور اَپنی ہوایٔیں چلاتے ہیں اَور ندیاں بہنے لگتی ہیں۔
PSA 147:19 اُنہُوں نے اَپنا کلام یعقوب پر نازل کیا ہے، اَور اَپنے آئین اَور قوانین اِسرائیل پر ظاہر کئے۔
PSA 147:20 اُنہُوں نے اَیسا سلُوک کسی اَور قوم کے ساتھ نہیں کیا؛ وہ اُن کے آئین سے واقف نہیں۔ یَاہوِہ کی سِتائش ہو۔
PSA 148:1 یَاہوِہ کی سِتائش ہو۔ آسمان پر سے یَاہوِہ کی سِتائش کرو، عالمِ بالا پر اُن کی سِتائش کرو۔
PSA 148:2 اَے یَاہوِہ کے فرشتو! سَب اُن کی سِتائش کرو، اَے اُن کے آسمانی فَوج! سَب اُن کی سِتائش کرو۔
PSA 148:3 اَے سُورج! اَے چاند! اُن کی سِتائش کرو، اَے نُورانی سِتارو! سَب اُن کی سِتائش کرو۔
PSA 148:4 اَے فلک الافلاک، اُن کی سِتائش کرو، اَور تُو بھی اَے فِضا پر کے پانی۔
PSA 148:5 یہ سَب یَاہوِہ کے نام کی سِتائش کریں، کیونکہ اُنہُوں نے حُکم دیا اَور یہ پیدا ہو گیٔے۔
PSA 148:6 کیونکہ اُنہُوں نے اُسے ابدُالآباد کے لیٔے قائِم کیا؛ اُنہُوں نے ایک قوانین جاری کیا جو اٹل ہے۔
PSA 148:7 زمین پر سے یَاہوِہ کی سِتائش کرو، اَے سَب بڑی بڑی سمُندری مخلُوقات اَور تمام گہرے سمُندرو،
PSA 148:8 اَے بجلی اَور اولو، اَور برف اَور بادلو، اَور طُوفانی ہواؤ جو اُن کے حُکم کی تعمیل کرتی ہو،
PSA 148:9 اَے پہاڑو اَور سَب ٹِیلو، اَے میوہ دار درختو اَور سَب دیودارو،
PSA 148:10 اَے جنگلی جانورو اَور سَب مویشیو، اَے رینگنے والے کیڑے مکوڑو اَور اُڑنے والے پرندو،
PSA 148:11 اَے زمین کے بادشاہو اَور سَب قومو، اَے اُمرا اَور زمین کے سَب حاکمو،
PSA 148:12 اَے نوجوانو اَور کنواریو، اَے عمر رسیدہ اَور بچّو۔
PSA 148:13 یہ سَب یَاہوِہ کے نام کی سِتائش کریں، کیونکہ صِرف اُن ہی کا نام ممتاز ہے؛ اَور اُن کی شان و شوکت زمین اَور آسمان سے بُلند ہے۔
PSA 148:14 اُنہُوں نے اَپنی اُمّت کے سینگ کو بُلند کیا ہے، جو اُن کے سَب مُقدّسین کے لیٔے فخر کا، اَور اَپنی مُقرّب قوم بنی اِسرائیل کے لیٔے تعریف کا باعث ہو۔ یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔
PSA 149:1 یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔ یَاہوِہ کے لیٔے نیا نغمہ گاؤ، مُقدّسین کے مجمع میں اُن کی سِتائش کرو۔
PSA 149:2 اِسرائیل اَپنے خالق میں شادمان رہے؛ اَور فرزندانِ صِیّونؔ اَپنے بادشاہ کے سبب سے شادمان ہوں۔
PSA 149:3 اِسرائیلی رقص کرتے ہُوئے اُن کے نام کی سِتائش کریں اَور دف اَور سِتار بجا کر اُن کی مدح سرائی کریں۔
PSA 149:4 کیونکہ یَاہوِہ اَپنے لوگوں سے خُوش رہتے ہیں؛ اَور حلیموں کو نَجات کا تاج پہناتے ہیں۔
PSA 149:5 مُقدّسین اِس اِعزاز سے خُوش ہُوں، اَور اَپنے بِستروں پر بھی خُوشی سے نغمہ سرائی کریں۔
PSA 149:6 خُدا کی تمجید اُن کے مُنہ میں اَور دو دھاری تلوار اُن کے ہاتھ میں رہے،
PSA 149:7 تاکہ قوموں سے اِنتقام لیں اَور اُمّتوں کو سزا دیں،
PSA 149:8 اَور اُن کے بادشاہوں کو زنجیروں سے جکڑیں، اَور اُن کے اُمرا کو لوہے کی بیڑیاں پہنائیں،
PSA 149:9 تاکہ جو سزا اُن کے لیٔے مُقرّر تھی وہ اُسے پُورا کریں۔ اُن کے سَب مُقدّسین کو یہ شرف بخشا گیا ہے۔ یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔
PSA 150:1 یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔ خُدا کی اُن کے پاک مَقدِس میں سِتائش کرو؛ اُن کے زبردست آسمانوں میں اُن کی سِتائش کرو۔
PSA 150:2 یَاہوِہ کی قُدرت کی کاریگری کے سبب سے اُن کی سِتائش کرو؛ اُن کی بڑی عظمت کے سبب سے اُن کی سِتائش کرو۔
PSA 150:3 نرسنگے کی آواز کے ساتھ اُن کی سِتائش کرو، بربط اَور سِتار کے ساتھ اُن کی سِتائش کرو،
PSA 150:4 دف اَور رقص کے ساتھ اُن کی سِتائش کرو، تاردار سازوں اَور بانسری کے ساتھ اُن کی سِتائش کرو،
PSA 150:5 جھنجھناتی جھانجھ کے ساتھ اُن کی سِتائش کرو، گونجتی ہُوئی جھانجھ کے ساتھ اُن کی سِتائش کرو۔
PSA 150:6 ہر جاندار مخلُوق، یَاہوِہ کی سِتائش کرے۔ یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔
PRO 1:1 داویؔد کے بیٹے اِسرائیل کے بادشاہ شُلومونؔ کی امثال:
PRO 1:2 جو حِکمت اَور تربّیت حاصل کرنے؛ فہم اَور ادراک کی باتیں سمجھنے؛
PRO 1:3 تربّیت پذیر اَور مصلحت اَندیش زندگی حاصل کرنے، اَور اَیسے کام کرنے کے لیٔے ہیں جو صحیح راست اَور عادلانہ ہو؛
PRO 1:4 اَورجو سادہ دِلوں کو ہوشیاری، اَور جَوان کو علم اَور شعور بخشنے کے لیٔے ہیں۔
PRO 1:5 تاکہ دانا اُنہیں سُن کر اَپنی سمجھ میں اِضافہ کریں، اَور صاحبِ فہم ہدایت پائیں۔
PRO 1:6 اَور تمثیلوں، اُن کے معنوں، اَور دانشمندوں کے اقوال اَور مُعمّوں کو سمجھ سکیں۔
PRO 1:7 یَاہوِہ کا خوف حِکمت کی اِبتدا ہے لیکن احمق حِکمت اَور تربّیت کو حقیر جانتے ہیں۔
PRO 1:8 اَے میرے بیٹے! اَپنے باپ کی ہدایت پر کان لگاؤ اَور اَپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کرو۔
PRO 1:9 وہ تمہارے سَر کی زینت بڑھانے کے لیٔے سِہرا اَور تمہارے گلے کی زیبائش کے لیٔے ہار ہوں گے۔
PRO 1:10 اَے میرے بیٹے! اگر گُناہ آلُودہ لوگ تُمہیں پھُسلائیں، تو تُم اُن کی باتوں میں نہ آنا۔
PRO 1:11 اگر وہ کہیں، ”ہمارے ساتھ چلو؛ آؤ ہم کسی کا خُون بہانے کے لیٔے تاک میں بیٹھیں، اَور کسی بے قُصُور اِنسان کے لیٔے ناحق گھات لگائیں؛
PRO 1:12 آؤ ہم اُنہیں قبر کی مانند زندہ، اَور پاتال کی مانند سالِم نگل جایٔیں گے؛
PRO 1:13 ہم ہر قِسم کی قیمتی اَشیا حاصل کریں گے اَور اَپنے گھروں کو لُوٹ کے مال سے بھر لیں گے؛
PRO 1:14 ہمارے ساتھ مِل جاؤ، اَور ہم سَب کی ایک ہی تھیلی ہوگی۔“
PRO 1:15 اَے میرے بیٹے! تُم اُن کے ہمراہ نہ جانا، نہ اُن کی راہ پر قدم رکھنا؛
PRO 1:16 کیونکہ اُن کے پاؤں بدی کی طرف دَوڑتے ہیں، اَور وہ خُون بہانے کے لیٔے جلدی کرتے ہیں۔
PRO 1:17 کیونکہ شِکاری کا پرندوں کی آنکھوں کے سامنے جال بچھانا کس قدر بے فائدہ ہے!
PRO 1:18 یہ لوگ تو اَپنا ہی خُون بہانے کے لیٔے تاک میں بیٹھتے ہیں؛ وہ اَپنی ہی جان کے لیٔے گھات لگاتے ہیں!
PRO 1:19 ناجائز آمدنی کے پیچھے جانے والوں کا اَنجام اَیسا ہی ہوتاہے؛ جو اُسے حاصل کرتے ہیں وہ اَپنے ہی پڑوسی کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
PRO 1:20 حِکمت کوچہ میں زور سے پُکارتی ہے۔ اَور چوراہوں پر اَپنی آواز بُلند کرتی ہے؛
PRO 1:21 وہ پُر شور بازاروں میں پُکارتی ہے، اَور شہر کے پھاٹکوں پر زور زور سے کہتی ہے:
PRO 1:22 ”اَے نادانو! تُم کب تک اَپنی نادانی کو عزیز رکھوگے؟ ٹھٹّھےباز کب تک ٹھٹّھےبازی سے خُوش ہوں گے اَور احمق علم سے عداوت رکھیں گے؟
PRO 1:23 اگر تُم میری سرزنش کو قبُول کرتے، تو میں اَپنا دِل تمہارے لیٔے اُنڈیل دیتی اَور اَپنی تعلیمات کا تُم پر اِظہار کرتی۔
PRO 1:24 لیکن جَب مَیں نے تُمہیں بُلایا تو تُم نے مُجھے مُسترد کر دیا، اَور جَب مَیں نے ہاتھ پھیلایا تو کسی نے دھیان نہ دیا،
PRO 1:25 اَور چونکہ تُم نے میری تمام مشورت کو نظرانداز کر دیا اَور میری تنبیہ کو قبُول نہ کیا،
PRO 1:26 اِس لیٔے میں بھی تمہاری مُصیبت پر ہنسوں گی؛ اَور جَب تُم پر دہشت چھا جائے گی تو مضحکہ اُڑاؤں گی۔
PRO 1:27 جَب آفت آندھی کی مانند تُم پر آ پڑےگی، اَور مُصیبت گردوغبار کی طرح تُمہیں اَپنی لپیٹ میں لے گی، اَور جَب تکلیفیں اَور پریشانیاں تُم پر حاوی ہو جایٔیں گی۔
PRO 1:28 ”تَب وہ مُجھے مدد کے لئے پُکاریں گے لیکن مَیں جَواب نہ دُوں گی؛ وہ مُجھے ڈھونڈیں گے پر نہ پائیں گے۔
PRO 1:29 چونکہ اُنہُوں نے علم سے عداوت رکھی اَور اُنہُوں نے ہمیشہ یَاہوِہ کی اِطاعت کرنے سے اِنکار کیا۔
PRO 1:30 چونکہ اُنہیں میری صلاح پسند نہ آئی اَور اُنہُوں نے میری تنبیہ کو حقیر جانا،
PRO 1:31 اِس لیٔے وہ اَپنی روِش کا پھل کھایٔیں گے اَور اَپنے منصُوبوں کے پھل سے پیٹ بھریں گے۔
PRO 1:32 کیونکہ نادانوں کو اُن کی برگشتگی ختم کر دے گی، اَور احمقوں کی لاپروائی اُن کی تباہی کا باعث بَن جائے گی؛
PRO 1:33 لیکن جو میری سُنتا ہے، وہ سلامتی سے رہے گا اَور ضرر سے بے خوف ہوکر، مطمئن رہے گا۔“
PRO 2:1 اَے میرے بیٹے! اگر تُم میری باتیں قبُول کرو اَور میرے اَحکام اَپنے دِل میں رکھو،
PRO 2:2 اَور حِکمت کی طرف کان لگاؤ اَور فہم سے اَپنا دِل لگائے رکھو،
PRO 2:3 اَور اگر تُم بصیرت کے لیٔے پُکارو اَور فہم کے لیٔے آواز بُلند کرو،
PRO 2:4 اَور تُم اُسے چاندی کی مانند ڈھونڈو اَور کسی پوشیدہ خزانہ کی مانند اُس کی تلاش کرو،
PRO 2:5 تَب تُم یَاہوِہ کے خوف کو سمجھ پاؤگے اَور یَاہوِہ کا علم حاصل کروگے۔
PRO 2:6 کیونکہ یَاہوِہ حِکمت بخشتے ہیں؛ اَور علم اَور فہم اُن ہی کے مُنہ سے نکلتے ہیں۔
PRO 2:7 وہ راستبازوں کے لیٔے مدد تیّار رکھتے ہیں، اَور راست رَو کے لیٔے ڈھال ثابت ہوتے ہیں،
PRO 2:8 کیونکہ وہ اِنصاف کے راستوں کی نگہبانی کرتے ہیں اَور اَپنے وفاداروں کی راہ کی حِفاظت کرتے ہیں۔
PRO 2:9 تَب تُم حق اَور راستی اَور صحیح، الغرض ہر اَچھّی راہ کو سمجھ پاؤگے۔
PRO 2:10 کیونکہ حِکمت تمہارے دِل میں داخل ہوگی، اَور علم تمہاری جان کو فرحت بخشےگا۔
PRO 2:11 شعور تمہارا نگہبان ہوگا، اَور فہم تمہاری حِفاظت کرےگا۔
PRO 2:12 حِکمت تُمہیں بدکار لوگوں کی راہوں سے، اَور کَج گو کی باتوں سے بچائے گی،
PRO 2:13 جو راہ راست کو چھوڑ دیتے ہیں تاکہ تاریک راہوں پر چلیں،
PRO 2:14 جو بدکاری سے خُوش ہوتے ہیں اَور شرارت کے کام کرکے مسرُور ہوتے ہیں،
PRO 2:15 جِن کی راہیں ٹیڑھی ہیں اَور جِن کی روِشیں پُر فریب ہیں۔
PRO 2:16 وہ تُمہیں فاحِشہ عورت سے، اَور اُس بدچلن بیوی کی دلفریب باتوں سے بھی بچائے گی،
PRO 2:17 جِس نے اَپنی جَوانی کے ساتھی کو چھوڑ دیا اَور اُس عہد کو بھُول گئی جو اُس نے خُدا کے سامنے باندھا تھا۔
PRO 2:18 کیونکہ اُس فاحِشہ کا گھر موت کی طرف کھینچتا ہے اَور اُس کی راہیں پاتال کو جاتی ہیں۔
PRO 2:19 جو بھی اُس کے پاس جاتا ہے لَوٹ کر نہیں آتا اَور نہ عتّئیؔ کبھی زندگی کی راہیں پاتاہے۔
PRO 2:20 حِکمت سے تُم نیک لوگوں کی راہوں پر چلوگے اَور راستبازوں کے راہوں پر قائِم رہوگے۔
PRO 2:21 کیونکہ راستباز مُلک میں آباد رہیں گے، اَور کامل اُس میں بسے رہیں گے؛
PRO 2:22 لیکن بدکار زمین پر سے کاٹ ڈالے جایٔیں گے، اَور بدکار اُس مُلک میں سے اُکھاڑ پھینکے جایٔیں گے۔
PRO 3:1 اَے میرے بیٹے، میری تعلیم کو فراموش نہ کرنا، بَلکہ میرے اَحکام کو اَپنے دِل میں جگہ دو،
PRO 3:2 کیونکہ تمہاری تعلیم عمر کو دراز کرےگی اَور تُمہیں خُوشحال اَور سلامت رکھے گی۔
PRO 3:3 مَحَبّت اَور سچّائی تُم سے جُدا نہ ہونے پائیں؛ بَلکہ تُم اُنہیں اَپنے گلے کا ہار بنائے رکھنا، اَور اَپنے دِل کی تختی پر لِکھ لینا۔
PRO 3:4 تَب تُم خُدا اَور اِنسان کی نگاہ میں مقبُول ہوگے اَور نیک نام حاصل کروگے۔
PRO 3:5 اَپنے پُورے دِل سے یَاہوِہ پر توکّل رکھو، اَور اَپنے فہم پر تکیہ نہ کرو؛
PRO 3:6 اَپنی سَب روِشوں میں یَاہوِہ کو یاد رکھو، اَور وہ تمہاری راہیں ہموار کریں گے۔
PRO 3:7 تُم اَپنی ہی نگاہ میں دانشمند نہ بنو؛ یَاہوِہ سے ڈرو اَور بدی سے دُور رہو۔
PRO 3:8 اُس سے تمہارا جِسم تندرست رہے گا اَور تمہاری ہڈّیاں تقویّت پائیں گی۔
PRO 3:9 اَپنی دولت سے، اَور اَپنی فصلوں کے پہلے پھلوں سے یَاہوِہ کی تعظیم کرو؛
PRO 3:10 تَب تمہارے کھتّے لبالب بھرے رہیں گے، اَور تمہارے حوض نئے انگوری شِیرے سے لبریز ہوں گے۔
PRO 3:11 اَے میرے بیٹے، یَاہوِہ کی تربّیت کو ناچیز نہ جانو، اَور اُن کی تنبیہ کا بُرا نہ مانو،
PRO 3:12 کیونکہ جِس سے یَاہوِہ مَحَبّت رکھتے ہیں اُسے تنبیہ بھی کرتے ہیں، جَیسے باپ، اُس بیٹے کی ملامت کرتا ہے جسے وہ عزیز رکھتا ہے۔
PRO 3:13 مُبارک ہے وہ آدمی جو حِکمت پاتاہے، اَور وہ جو دانش حاصل کرتا ہے،
PRO 3:14 کیونکہ وہ چاندی سے مفید تر ہے اَور سونے سے زِیادہ نفع بخش ہے۔
PRO 3:15 وہ لعلوں سے زِیادہ بیش قیمتی ہے؛ تمہاری کسی بھی مرغوب چیز کا اُس سے موازنہ نہیں کیا جا سَکتا۔
PRO 3:16 اُس کے داہنے ہاتھ میں لمبی عمر ہے؛ اَور بائیں ہاتھ میں دولت اَور عزّت ہے۔
PRO 3:17 اُس کی راہیں خُوشگوار راہیں ہیں، اَور اُس کے سَب راستے پُراَمن ہیں۔
PRO 3:18 جو اُسے گلے لگاتے ہیں، اُن کے لیٔے وہ شجرِ حیات ہے؛ مُبارک ہیں وہ جو اُسے حاصل کرلیتے ہیں۔
PRO 3:19 یَاہوِہ نے حِکمت ہی سے زمین کی بُنیاد رکھی ہے، اَور فہم سے آسمان کو قائِم کیا ہے؛
PRO 3:20 اُن ہی کے علم سے گہراؤ سے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں، اَور افلاک شبنم کی بوندیں ٹپکاتے ہیں۔
PRO 3:21 اَے میرے بیٹے، عقل سلیم اَور شعور کا تحفُّظ کرنا، اِنہیں اَپنی نگاہ سے اوجھل نہ ہونے دینا؛
PRO 3:22 وہ تمہارے لیٔے زندگی، اَور تمہارے گلے کے لیٔے زینت ثابت ہوں گی۔
PRO 3:23 تَب تُم اَپنی راہ پر سلامتی سے چل سکوگے، اَور تمہارے پاؤں ٹھوکر نہ کھایٔیں گے؛
PRO 3:24 جَب تُم لیٹو گے تو خوف نہ کھاؤگے؛ بَلکہ جَب تُم بِستر پر دراز ہوگے تو میٹھی نیند سوؤگے۔
PRO 3:25 کسی ناگہاں آفت کا خوف نہ کرو اَور نہ اَیسی بربادی کا جو بدکار پر آ پڑتی ہے،
PRO 3:26 کیونکہ یَاہوِہ تمہارا سہارا ہوں گے وہ تمہارے پاؤں کو پھندے میں پھنسنے نہ دیں گے۔
PRO 3:27 جَب تمہارے مقدور میں ہو، تو بھلائی کے حقداروں کو بھلائی سے محروم نہ رکھنا۔
PRO 3:28 جَب تمہارے پاس دینے کو کچھ ہو، تو اُس وقت اَپنے ہمسایہ سے یہ نہ کہنا، ”ابھی جاؤ، پھر آنا؛ یہ میں تُمہیں کل دُوں گا۔“
PRO 3:29 اَپنے ہمسایہ کے خِلاف بدی کا کویٔی منصُوبہ نہ باندھنا، جَب کہ وہ تمہارے پڑوس میں بے خوف رہتاہے۔
PRO 3:30 کسی آدمی پر بلاوجہ اِلزام نہ لگانا۔ جَب کہ اُس نے تُمہیں کچھ نُقصان نہ پہُنچایا ہو۔
PRO 3:31 کسی ہمسایہ ظالِم پر رشک نہ کرنا نہ اُس کی کویٔی راہ اِختیار کرنا۔
PRO 3:32 کیونکہ یَاہوِہ کجرو سے نفرت کرتے ہیں لیکن راستبازوں کے ساتھ اُن کی رِفاقت ہے۔
PRO 3:33 بدکار کے گھر پر یَاہوِہ کی لعنت ہوتی ہے، لیکن راستباز کے مَسکن کو وہ برکت دیتے ہیں۔
PRO 3:34 یَاہوِہ مغروُر ٹھٹّھے بازوں کا مذاق اُڑاتے ہیں لیکن خاکسار اَور حلیموں پر مہربانی کرتے ہیں۔
PRO 3:35 دانشمند اِعزاز کے وارِث ہوتے ہیں، لیکن احمقوں کو وہ شرمندہ کرکے چھوڑتے ہیں۔
PRO 4:1 اَے میرے بیٹو! باپ کی تربّیت پر کان لگاؤ؛ متّوجہ ہو اَور فہم حاصل کرو۔
PRO 4:2 میں تُمہیں اَچھّی باتیں سِکھا رہا ہُوں، لہٰذا میری تعلیم کو ترک نہ کرنا۔
PRO 4:3 میں بھی کبھی اَپنے باپ کے گھر میں بیٹا تھا، اَور ابھی نازک اندام اَور اَپنی ماں کا لاڈلا تھا،
PRO 4:4 تَب باپ نے مُجھے تعلیم دی اَور کہا: ”اَپنے سارے دِل سے میری باتوں کو اَپنالو؛ اَور میرے اَحکام بجا لاؤ اَور زندہ رہو۔
PRO 4:5 حِکمت حاصل کرو، فہم کو اَپنالو؛ میری باتوں کو فراموش نہ کرو اَور نہ اُن سے منحرف ہونا۔
PRO 4:6 حِکمت کو ترک نہ کرو اَور وہ تمہاری حِفاظت کرےگی؛ اُس سے مَحَبّت رکھو اَور وہ تمہاری نگہبانی کرےگی۔
PRO 4:7 حِکمت اعلیٰ ترین شَے ہے اِس لیٔے حِکمت حاصل کرو۔ خواہ تمہاری ساری پُونجی خرچ ہو جائے تو بھی فہم حاصل کرو۔
PRO 4:8 حِکمت کی قدر کرو، تو وہ تُمہیں سرفراز کرےگی؛ اُسے گلے لگا لو اَور وہ تُمہیں عزّت بخشے گی۔
PRO 4:9 وہ تمہارے سَر پر فضیلت کا سِہرا باندھے گی اَور تُمہیں جلالی تاج عطا کرےگی۔“
PRO 4:10 اَے میرے بیٹے! سُنو اَور مَیں جو کچھ کہتا ہُوں اُسے قبُول کر لو، اَور تمہاری عمر دراز ہوگی۔
PRO 4:11 مَیں نے تُمہیں حِکمت کی راہ بتایٔی ہے، اَور راہ راست پر تمہاری رہنمائی کی ہے۔
PRO 4:12 جَب تُم چلوگے تو تمہارے قدموں میں رُکاوٹ پیش نہ آئے گی؛ اَور جَب تُم دَوڑوگے تو ٹھوکر نہ کھاؤگے۔
PRO 4:13 تربّیت کو پکڑے رہو؛ اُسے جانے نہ دو؛ اُس کی اَچھّی طرح حِفاظت کرو کیونکہ وہ تمہاری زندگی ہے۔
PRO 4:14 بدکاروں کے راستہ پر قدم نہ رکھنا، نہ بدکرداروں کی راہ میں چلنا۔
PRO 4:15 اُس سے بچنا۔ اُن راہوں پر بھی مت جانا؛ اُس سے مُڑ کر اَپنی راہ الگ لینا۔
PRO 4:16 کیونکہ بدکار بُرائی کئے بغیر سو نہیں سکتے؛ اَور جَب تک وہ کسی کو گرا نہ دیں، اُنہیں نیند نہیں آتی۔
PRO 4:17 وہ بدی کی روٹی کھاتے ہیں اَور ظُلم کا انگوری شِیرہ پیتے ہیں۔
PRO 4:18 راستبازوں کی راہ صُبح کی پہلی کِرن کی مانند ہوتی ہے، جِس کی رَوشنی دوپہر تک بڑھتی ہی جاتی ہے۔
PRO 4:19 لیکن بدکاروں کی راہ گہری تاریکی کی مانند ہوتی ہے؛ وہ نہیں جانتے کہ وہ کِن چیزوں سے ٹھوکر کھا جایٔیں گے۔
PRO 4:20 اَے میرے بیٹے! میں جو کچھ کہتا ہُوں اُس پر توجّہ کرو؛ میرے کلام پر کان لگاؤ۔
PRO 4:21 اُسے اَپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دینا، بَلکہ اُنہیں اَپنے دِل میں رکھنا؛
PRO 4:22 کیونکہ جو اُسے پا لیتے ہیں، اُن کے لیٔے وہ زندگی ہے اَور اِنسان کے سارے جِسم کے لیٔے صحت۔
PRO 4:23 سَب سے بڑھ کر اَپنے دِل کی حِفاظت کرنا، کیونکہ وہ زندگی کا سرچشمہ ہے۔
PRO 4:24 اَپنے مُنہ کو کَج گوئی سے دُور رکھنا؛ اَور بدگوئی کو اَپنے لبوں کے پاس تک نہ آنے دینا۔
PRO 4:25 تمہاری آنکھیں سامنے ہی دیکھیں، اَور تمہاری نگاہ آگے کی طرف جمی رہے۔
PRO 4:26 اَپنے پاؤں کے لیٔے ہموار راہیں تیّار کرو اَور اُن ہی پُختہ راہوں پر قدم بڑھاؤ۔
PRO 4:27 نہ داہنے مُڑو نہ بائیں؛ بَلکہ اَپنے پاؤں کو بدی سے ہٹائے رکھو۔
PRO 5:1 اَے میرے بیٹے! میری حِکمت پر توجّہ کرو، میرے فہم کی باتوں کو خُوب اَچھّی طرح سُنو،
PRO 5:2 تاکہ تُم نیکی اَور بدی میں تمیز کر سکو اَور تمہارے لب علم کی حِفاظت کر سکیں۔
PRO 5:3 کیونکہ زانیہ کے لبوں سے شہد ٹپکتا ہے، اَور اُس کی باتیں تیل سے بھی زِیادہ چکنی ہوتی ہیں؛
PRO 5:4 لیکن آخِر میں اُن کا مزا پِت کی مانند کڑوا ثابت ہوتاہے، اَور دو دھاری تلوار کی مانند تیز۔
PRO 5:5 اُس کے پاؤں موت کی طرف بڑھتے ہیں؛ اَور اُس کے قدم پاتال تک لے جاتے ہیں۔
PRO 5:6 وہ راہِ زندگی کا کویٔی خیال نہیں کرتی؛ اُسے خبر تک نہیں کہ اُس کے راستے ٹیڑھے ہیں۔
PRO 5:7 اِس لیٔے اَے میرے بیٹو! میری سُنو؛ اَور مَیں جو کہُوں اُس سے برگشتہ نہ ہو۔
PRO 5:8 اَیسی راہ پر چلو جو اَیسی عورت سے دُورہو، اَور اُس کے گھر کے دروازہ کے پاس بھی نہ جانا،
PRO 5:9 کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم اَپنی عزّت دُوسروں کے حوالہ کر دو اَور اَپنے سال کسی ظالِم کو دے دو،
PRO 5:10 اَیسا نہ ہو کہ بیگانہ تمہاری دولت سے عید منائیں اَور تمہاری محنت کی کمائی کسی اجنبی کے گھر جائے۔
PRO 5:11 اَپنی زندگی کے آخِر میں، جَب تمہارا گوشت اَور تمہارا جِسم گھُل جایٔیں گے تَب تُم نوحہ کروگے۔
PRO 5:12 اَور تَب وہ شکوہ کرےگا، ”مَیں نے تربّیت سے کیسی عداوت رکھی! اَور میرے دِل نے ملامت کو کیسے ٹھکرایا!
PRO 5:13 مَیں نے اَپنے اُستادوں کا کہا نہ مانا، اَور اَپنی تربّیت کرنے والوں کی نہ سُنی۔
PRO 5:14 یہاں تک کہ میں ساری جماعت کے سامنے، تقریباً ہر بُرائی میں مُبتلا کھڑا ہوں۔“
PRO 5:15 تُم اَپنے ہی حوض کا پانی پینا، اَور اَپنے ہی کوئیں سے بہتا ہُوا پانی اِستعمال میں لانا۔
PRO 5:16 کیا تمہارے چشمے گلی کوچوں میں، اَور پانی کی ندیاں چوراہوں میں بہہ جایٔیں؟
PRO 5:17 وہ صِرف تمہارے ہی لیٔے ہُوں، تمہارے ساتھ اَور بیگانوں کے لیٔے نہیں۔
PRO 5:18 تمہارا سوتا مُبارک ہو، اَور تُم اَپنی جَوانی کی بیوی کے ساتھ مسرُور رہو۔
PRO 5:19 جو ایک پیاری سِی ہِرنی اَور دلربا غزال کی مانند ہے۔ اُس کی چھاتِیاں تُمہیں ہمیشہ راحت بخشیں، اَور اُس کی مَحَبّت کے تُم ہمیشہ فریفتہ رہو۔
PRO 5:20 اَے میرے بیٹے! تُم کسی زانیہ پر کیوں فریفتہ ہو؟ اَور کسی دُوسرے کی بیوی کو آغوش میں کیوں لو؟
PRO 5:21 کیونکہ اِنسان کی راہیں یَاہوِہ کی نگاہ میں ہیں، اَور وہ اُس کی تمام راہوں کو جانچتے ہیں۔
PRO 5:22 بدکار کی بدکاریاں اُسے پھندے میں پھنسا لیتی ہیں؛ اُس کے گُناہوں کی رسّیاں اُسے مضبُوطی سے جکڑ لیتی ہیں۔
PRO 5:23 وہ تربّیت نہ پانے کے سبب، اَور اَپنی حماقت کی کثرت کے باعث گُمراہ ہوکر ہلاک ہو جائے گا۔
PRO 6:1 اَے میرے بیٹے! اگر تُم نے اَپنے پڑوسی کی ضمانت دی ہے، اَور اگر تُم نے کسی اجنبی سے شرط لگا کر ذمّہ داری قبُول کی ہے،
PRO 6:2 اگر تُم اَپنی ہی باتوں کے پھندے میں پھنس گئے ہو۔ اَور اَپنے ہی مُنہ کی باتوں سے پکڑے گئے ہو،
PRO 6:3 تو اَے میرے بیٹے! اَپنے آپ کو بچانے کی تدبیر کرو، کیونکہ تُم اَپنے پڑوسی کے ہاتھ میں پڑ چُکے ہو: جاؤ اَور نہایت خاکساری سے؛ اَپنے پڑوسی سے اِلتجا کرو!
PRO 6:4 اَپنی آنکھوں میں نیند نہ آنے دو، اَور نہ اَپنی پلکوں کو جھپکنے دو۔
PRO 6:5 تُم اَپنے آپ کو ہِرنی کی مانند شِکاری کے ہاتھ سے، اَور چڑیا کی مانند صیّاد کے جال سے چھُڑا لو۔
PRO 6:6 اَے کاہل! چیونٹی کے پاس جا؛ اَور اُس کی روِشوں پر غور کر اَور دانشمند بَن جا!
PRO 6:7 اُس کا کویٔی قائد نہیں ہوتا، نہ ہی کویٔی نِگراں یا حاکم ہوتاہے،
PRO 6:8 تو بھی وہ گرمی کے موسم میں اَپنی خُوراک بٹورتی ہے اَور فصل کٹتے وقت اَپنے لیٔے غِذا جمع کرتی ہے۔
PRO 6:9 اَے کاہل! تُو کب تک وہاں پڑا رہے گا؟ تُو اَپنی نیند سے کب بیدار ہوگا؟
PRO 6:10 تھوڑی سِی نیند، ذرا سِی جھپکی، تھوڑی دیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے پڑے رہنا۔
PRO 6:11 تَب تُم پر راہزن کی مانند مفلسی اَور مُسلّح آدمی کی مانند تنگ دستی آ پڑےگی۔
PRO 6:12 بدمعاش اَور بدکار آدمی، جِس کا مُنہ بدگوئی سے بھرا ہُواہے،
PRO 6:13 جو آنکھ مارتا ہے، اَور اَپنے پاؤں پٹکتا ہے اَور اَپنی اُنگلیوں سے اِشارہ کرتا ہے،
PRO 6:14 جو اَپنے دِل میں مکر رکھ کر بُرے منصُوبے باندھتا ہے۔ اَور ہمیشہ فتنہ برپا کرتا ہے۔
PRO 6:15 اِس لیٔے اُس پر آفت ناگہاں آ پڑےگی؛ وہ بغیر کسی علاج کے یک لخت تباہ ہو جائے گا۔
PRO 6:16 چھ باتوں سے یَاہوِہ کو نفرت ہے، بَلکہ سات ہیں جِن سے اُنہیں کراہیّت ہے:
PRO 6:17 مغروُر آنکھیں، جھُوٹی زبان، بے قُصُور کا خُون بہانے والے ہاتھ،
PRO 6:18 بدی کے منصُوبے باندھنے والا دِل، شرارت کے لیٔے تیزرَو پاؤں،
PRO 6:19 جھُوٹا گواہ جو دروغ گوئی سے کام لیتا ہے اَور وہ آدمی جو بھائیوں میں نفاق ڈالتا ہے۔
PRO 6:20 اَے میرے بیٹے! اَپنے باپ کے اَحکام بجا لاؤ اَور اَپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کرو۔
PRO 6:21 اُنہیں اَپنے دِل پر ہمیشہ باندھے رکھو؛ اَور اَپنے گلے کا ہار بنالو۔
PRO 6:22 جَب تُم چلوگے تو وہ تمہاری رہنمائی؛ سوؤگے تو وہ تمہاری نگہبانی؛ اَور جَب جاگوگے تو وہ تُم سے باتیں کرےگی۔
PRO 6:23 کیونکہ یہ اَحکام چراغ، اَور یہ تعلیم رَوشنی ہے، اَور تربّیت کے لیٔے سرزنش زندگی کی راہ ہے۔
PRO 6:24 جو تُمہیں بداخلاق عورت سے، اَور بدچلن بیوی کی چاپلوس زبان سے بچاتا ہے۔
PRO 6:25 اُس کے حُسن پر اَپنے دِل میں شہوت سے مغلُوب نہ ہو اَور اُس کی آنکھوں کا شِکار ہونے سے بچے رہنا۔
PRO 6:26 کیونکہ فاحِشہ تُمہیں روٹی کے ٹُکڑوں کا مُحتاج بنا دیتی ہے، اَور زانیہ تمہاری جان ہی کا شِکار کر لیتی ہے۔
PRO 6:27 کیا یہ ممکن ہے کہ آدمی اَپنے دامن میں آگ بٹورے اَور اُس کے کپڑے نہ جلیں؟
PRO 6:28 کیا یہ ممکن ہے کہ کویٔی اَنگاروں پر چلے اَور اُس کے پاؤں نہ جھلسیں؟
PRO 6:29 وہ آدمی بھی اَیسا ہی ہے جو کسی دُوسرے آدمی کی عورت کے پاس جاتا ہے؛ جو کویٔی اُسے چھُوئے وہ بے سزا نہ رہے گا۔
PRO 6:30 چور اگر بھُوک کے مارے اَپنا پیٹ بھرنے کے لیٔے چوری کرے تو لوگ اُسے حقیر نہیں جانتے۔
PRO 6:31 لیکن اگر وہ چوری کرتا پکڑا جائے، تو اُسے سات گُنا اَدا کرنا ہوگا، خواہ اُسے اَپنے گھر کا سارا مال ہی کیوں نہ دینا پڑے۔
PRO 6:32 جو آدمی زنا کرتا ہے وہ کم عقل ہے؛ اَیسا کرنے والا اَپنے آپ کو تباہ کر لیتا ہے۔
PRO 6:33 وہ گھونسے کھاتا اَور ذِلّت اُٹھاتا ہے، اُس کی رُسوائی کبھی نہ مٹےگی؛
PRO 6:34 کیونکہ حَسد خَاوند کے قہر کو بھڑکاتا ہے، اَور وہ اِنتقام کے وقت ہرگز ترس نہ کھائے گا۔
PRO 6:35 وہ کویٔی مُعاوضہ قبُول نہ کرےگا؛ اَور رشوت لینے سے بھی اِنکار کرےگا خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔
PRO 7:1 اَے میرے بیٹے! میری باتوں کو مانو اَور میرے حُکموں کو اَپنے دِل میں رکھو۔
PRO 7:2 میرے اَحکام بجا لاؤ تو تُم زندہ رہوگے؛ اَور میری تعلیم کی اَپنی آنکھ کی پتلی کی طرح حِفاظت کرنا۔
PRO 7:3 میری تعلیم اَپنی اُنگلیوں پر باندھ لینا؛ اَور اَپنے دِل کی تختی پر لِکھ لینا۔
PRO 7:4 حِکمت سے کہو، ”تُو میری بہن ہے،“ اَور فہم کو ”اَپنا رشتہ دار قرار دو،“
PRO 7:5 وہ تُمہیں زانیہ سے، اَور گُمراہ بیوی اَور اُس کی شہوت پرست باتوں سے بچائے رکھے گی۔
PRO 7:6 مَیں نے اَپنے گھر کی کھڑکی یعنی اَپنے جھروکے میں سے جھانکا۔
PRO 7:7 تَب مَیں نے نادان لوگوں میں، اَور جَوانوں کے درمیان، ایک نوجوان کو دیکھا جِس میں سمجھ کی کمی تھی۔
PRO 7:8 وہ اُس کے گھر کے موڑ کے پاس کی گلی پر چلا جا رہاتھا، اُس نے اُس کے گھر کی راہ لی
PRO 7:9 شام کے وقت جَب دِن ڈھل رہاتھا، اَور رات کی تاریکی گہری ہو رہی تھی۔
PRO 7:10 ایک عورت اُس سے مِلنے آئی، جو فاحِشہ کا لباس پہنے ہُوئے تھی اَور بڑی چالاک دِکھائی دیتی تھی۔
PRO 7:11 (وہ بُلند آواز اَور چنچل تھی، اَور اُس کے پاؤں گھر میں نہیں ٹکتے تھے؛
PRO 7:12 کبھی کوچوں میں تو کبھی چوراہوں پر، بَلکہ ہر موڑ پر وہ تاک میں بیٹھی رہتی تھی۔)
PRO 7:13 اُس نے اُسے پکڑکر چُوما اَور نہایت بے حیائی سے اُس سے کہنے لگی:
PRO 7:14 ”میرے گھر پر سلامتی کی نذروں کی قُربانیاں فرض تھیں آج مَیں نے خُدا کے لئے اَپنی مَنّتیں پُوری کی ہیں۔
PRO 7:15 اِس لیٔے میں تُم سے مِلنے کو نکلی؛ مَیں نے تُمہیں تلاش کیا اَور تُمہیں پالیاہے!
PRO 7:16 مَیں نے اَپنے بِستر پر مِصر کے رنگین سُوت کے پلنگ پوش بچھائے ہیں۔
PRO 7:17 مَیں نے اَپنے بِستر کو مُر اَور عُود اَور دارچینی سے مہکایا ہے۔
PRO 7:18 آؤ، ہم صُبح تک پیار کے جام نوش کریں؛ اَور عشق بازی سے لُطف اَندوز ہوں!
PRO 7:19 میرا خَاوند گھر میں نہیں ہے؛ وہ لمبے سفر پر چلا گیا ہے۔
PRO 7:20 وہ رُوپوں سے بھری ہُوئی تھیلی اَپنے ساتھ لے گیا ہے اَور پُورے چاند تک لَوٹ کر نہیں آئے گا۔“
PRO 7:21 اُس نے اَپنی میٹھی میٹھی باتوں سے اُسے پھُسلا لیا؛ اَور اَپنی چکنی چُپڑی باتوں سے اُسے بہکا لیا۔
PRO 7:22 احمق فوراً اُس کے پیچھے ہو لیا جَیسے بَیل ذبح ہونے کے لیٔے جاتا ہو، یا ہِرنی جال میں پھنسنے کے لیٔے
PRO 7:23 یہاں تک کہ ایک تیر اُس کے جگر کے پار ہو جاتا ہے، جَیسے ایک چڑیا صیّاد کے دام کی طرف تیزی سے کھنچی چلی جاتی ہے۔
PRO 7:24 لہٰذا اَے میرے بیٹو! میری سُنو؛ مَیں جو کچھ کہتا ہُوں اُس پر دھیان دو۔
PRO 7:25 اَپنے دِل کو اَیسی عورت کی راہوں کی طرف مائل نہ ہونے دو نہ اُس کے راستوں سے دھوکا کھاؤ۔
PRO 7:26 اُس نے کیٔی ایک کو شِکار کرکے مار گرایا ہے؛ اُس کے مقتول بے شُمار ہیں۔
PRO 7:27 اُس کا گھر پاتال کی شاہراہ ہے، جو موت کی کوٹھریوں کی طرف لے جاتی ہے۔
PRO 8:1 کیا حِکمت پُکار نہیں رہی؟ اَور فہم اَپنی آواز بُلند نہیں کر رہا؟
PRO 8:2 وہ تو راہ کے کنارے کی اُونچائیوں پر، جہاں راستے ملتے ہیں، کھڑی ہو جاتی ہے؛
PRO 8:3 پھاٹکوں کے پاس جو شہر کے مدخل پر ہیں، یعنی دروازوں پر وہ زور سے پُکارتی ہے:
PRO 8:4 ”اَے لوگو! میں تُمہیں پُکارتی ہُوں؛ مَیں تمام بنی آدمؔ کو آواز دیتی ہُوں۔
PRO 8:5 تُم جو سادہ دِل ہو، ہوشیاری سیکھو؛ تُم جو احمق ہو، دانائی حاصل کرو۔
PRO 8:6 سُنو، کیونکہ میرے پاس کہنے کو قابلِ اِعتماد باتیں ہیں؛ میں راستی کی بات کہنے کے لیٔے اَپنے لب کھولتی ہُوں۔
PRO 8:7 میرا مُنہ صِرف سچ کہتاہے، کیونکہ میرے لبوں کو بدی سے نفرت ہے۔
PRO 8:8 میرے مُنہ کی سَب باتیں صداقت ہیں؛ اُن میں سے ایک بھی ٹیڑھی ترچھی نہیں ہے۔
PRO 8:9 صاحبِ فہم کے لیٔے وہ سَب صحیح ہیں؛ اَور صاحبِ علم کے لیٔے وہ راست ہیں۔
PRO 8:10 چاندی کے عوض میری تربّیت اِختیار کر لو، اَور خالص سونے کی بجائے علم،
PRO 8:11 کیونکہ حِکمت لعل سے زِیادہ بیش قیمتی ہے، تمہاری کسی بھی دِل پسند چیز کا اُس سے موازنہ نہیں کیا جا سَکتا۔
PRO 8:12 ”میں جو حِکمت ہُوں، میرا اَور ہوشیاری کا مَسکن ایک ہی ہے؛ میں علم اَور شعور رکھتی ہُوں۔
PRO 8:13 یَاہوِہ کا خوف ماَننا، بدی سے عداوت رکھناہے، مُجھے غُرور، شیخی، بُرے چال چلن اَور کجگو مُنہ سے نفرت ہے۔
PRO 8:14 مشورت اَور نصیحت میرے پاس ہیں؛ میں فہم اَور قُدرت کی مالک ہُوں۔
PRO 8:15 میری بدولت بادشاہ حُکومت کرتے ہیں اَور حُکمراں عادلانہ قوانین نافذ کرتے ہیں؛
PRO 8:16 میری بدولت اُمرا، اَور تمام حاکم جو زمین پر راستی سے حُکمرانی کرتے ہیں۔
PRO 8:17 جو مُجھ سے مَحَبّت رکھتے ہیں، میں اُن سے مَحَبّت رکھتی ہُوں، اَورجو مُجھے ڈھونڈتے ہیں، وہ مُجھے پا لیتے ہیں۔
PRO 8:18 دولت اَور عزّت میرے پاس ہے، بَلکہ پائدار سرمایہ اَور خُوشحالی بھی۔
PRO 8:19 میرا پھل خالص سونے سے بھی بہتر ہے؛ اَور میری پیداوار خالص چاندی سے افضل ہے۔
PRO 8:20 میں راستبازی کی راہ پر؛ اِنصاف کے راستوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہُوں۔
PRO 8:21 اَورجو مُجھ سے مَحَبّت رکھتے میں اُن کو مالا مال کرتی اَور اُن کے خزانے بھر دیتی ہُوں۔
PRO 8:22 ”اَپنی قدیم صنعتیں قائِم کرنے سے پہلے، یَاہوِہ نے مُجھے اَپنی اَوّلین صنعت کے طور پر پیدا کیا؛
PRO 8:23 اَیسا اَزل ہی سے مُقرّر تھا، یعنی اِبتدا سے جَب کہ دُنیا وُجُود میں نہ آئی تھی۔
PRO 8:24 جَب سمُندر بھی نہ تھے، اَور نہ پانی سے بھرے ہُوئے چشمے تھے؛ مُجھے پیدا کیا گیا۔
PRO 8:25 اِس سے قبل کہ پہاڑ اَور ٹیلے اَپنی اَپنی جگہ پر قائِم کئے جاتے، مُجھے پیدا کیا گیا،
PRO 8:26 بَلکہ اِس سے بھی قبل کہ خُدا زمین کو یا اُس کے میدانوں کو بناتا یا زمین کی خاک کو وُجُود میں لاتا۔
PRO 8:27 جَب خُدا نے آسمان کو قائِم کیا، تَب میں وہیں تھی، جَب اُنہُوں نے گہراؤ کی سطح پر اُفق کا دائرہ کھینچا،
PRO 8:28 جَب اُنہُوں نے اُوپر بادل بنائے اَور گہراؤ میں مضبُوطی سے چشمے قائِم کئے،
PRO 8:29 جَب اُنہُوں نے سمُندر کی حدیں باندھیں تاکہ پانی حُکم سے باہر نہ جائے، اَور جَب اُنہُوں نے زمین کی بُنیادوں کے نِشان لگائے۔
PRO 8:30 تَب میں ہی ماہر کاریگر کے طور پر خُدا کے پاس تھی، میری خُوشی میں روز بروز اِضافہ ہوتا تھا، اَور مَیں اُن کی حُضُوری میں ہمیشہ شادمان رہتی تھی،
PRO 8:31 مَیں اُن کی ساری دُنیا سے خُوش تھی اَور بنی آدمؔ کی صحبت میں مُجھے خُوشی ملتی تھی۔
PRO 8:32 ”اِس لیٔے اَب اَے میرے بیٹو، میری سُنو؛ مُبارک ہیں وہ جو میری راہوں پر چلتے ہیں۔
PRO 8:33 میری ہدایت کو سُنو اَور دانشمند بنو، اُسے نظرانداز نہ کرو۔
PRO 8:34 مُبارک ہے وہ آدمی جو میری سُنتا ہے، اَور ہر روز میرے پھاٹکوں پر ہوشیار کھڑا رہتاہے، اَور میرے دروازہ پر میرا اِنتظار کرتا ہے۔
PRO 8:35 کیونکہ جو مُجھے پاتاہے، زندگی پاتاہے اَور اُس پر یَاہوِہ کی نظرِ عنایت ہوتی ہے۔
PRO 8:36 لیکن جو مُجھے نہیں پاتا، وہ اَپنا ہی نُقصان کرتا ہے؛ اَورجو مُجھ سے عداوت رکھتے ہیں، وہ سَب موت سے مَحَبّت رکھتے ہیں۔“
PRO 9:1 حِکمت نے اَپنا گھر بنا لیا؛ اُس نے اَپنے ساتوں سُتون تراش لیٔے ہیں۔
PRO 9:2 اُس نے اَپنا قُربانی کا گوشت پکا لیا اَور اَپنے جام میں شراب اُنڈیل لی ہے؛ اَور اَپنا دسترخوان بھی آراستہ کر لیا ہے۔
PRO 9:3 وہ اَپنی سہیلیوں کو اُس خبر کے ساتھ روانہ کر چُکی ہے اَور خُود بھی شہر کے بالا ترین مقام سے پُکار رہی ہے۔
PRO 9:4 ”جو کوئی سادہ دِل ہے وہ یہاں آ جائے!“ نادان لوگوں سے وہ یہ کہتی ہے:
PRO 9:5 ”آؤ، میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو جاؤ۔ اَور میرے تیّار کئے ہُوئے جامِ شراب میں سے شراب لے کر پیو۔
PRO 9:6 سادہ پن چھوڑ دو تاکہ زندہ رہو؛ اَور فہم کی راہ پر چلو۔“
PRO 9:7 جو کسی ٹھٹّھےباز کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے وہ ذِلّت کا مُنہ دیکھتا ہے؛ اَورجو بدکار کو تنبیہ کرتا ہے گالِیاں کھاتا ہے۔
PRO 9:8 ٹھٹّھےباز کو مت ڈانٹو، اَیسا نہ ہو وہ تُم سے نفرت کرنے لگے؛ لیکن دانشمند کو ڈانٹ تو وہ تُم سے مَحَبّت رکھےگا۔
PRO 9:9 اَور تُم سے تربّیت پا کر اَور بھی دانا ہو جائے گا؛ صادق کو تعلیم دو، تو اُس کے علم میں اِضافہ ہوگا۔
PRO 9:10 یَاہوِہ کا خوف حِکمت کی اِبتدا ہے، اَور اُس قُدُّوس خُدا کا عِرفان ہی دانش ہے۔
PRO 9:11 کیونکہ میری بدولت تمہارے ایّام بڑھ جایٔیں گے، اَور تمہاری زندگی کے بَرس زِیادہ ہو جایٔیں گے۔
PRO 9:12 اگر تُم دانشمند ہو تو تمہاری دانشمندی تمہارا اجر ہے؛ اَور اگر تُم دانش کا مذاق اُڑاتے ہو، تُم خُود ہی بھگتوگے۔
PRO 9:13 بےوقُوف عورت شور مچاتی ہے؛ وہ نادان ہے اَور کچھ نہیں جانتی۔
PRO 9:14 وہ اَپنے گھر کے دروازہ پر، اَور شہر کے کسی اُونچے مقام پر بیٹھ جاتی ہے،
PRO 9:15 اَور اُن راہ گیروں کو، جو اَپنے اَپنے راستہ پر سیدھے چلے جا رہے ہیں، یہ کہہ کر پُکارتی ہے کہ
PRO 9:16 ”جو کوئی سادہ دِل ہے، وہ یہاں آ جائے!“ نادان لوگوں سے وہ یہ کہتی ہے،
PRO 9:17 ”چوری کا پانی میٹھا ہوتاہے؛ اَور پوشیدگی کی روٹی لذیذ ہوتی ہے!“
PRO 9:18 لیکن اَیسے جاہل لوگ شاید ہی جانتے ہیں کہ وہاں جانے والے دَم توڑ چُکے ہیں، اَور اُس عورت کے مہمان پاتال کی گہرائی میں پہُنچ چُکے ہیں۔
PRO 10:1 شُلومونؔ کی امثال: دانا بیٹا اَپنے باپ کے لیٔے خُوشی لاتا ہے، لیکن احمق بیٹا اَپنی ماں کے غم کا باعث ہوتاہے۔
PRO 10:2 ناجائز طور پر حاصل کئے خزانے کویٔی فائدہ نہیں پہُنچاتے، لیکن راستی موت سے نَجات دِلاتی ہے۔
PRO 10:3 یَاہوِہ صادق کو بھُوکا نہیں رہنے دیتے، لیکن وہ بدکار کی خواہشات کبھی پُوری نہیں ہونے دیتے۔
PRO 10:4 کاہل ہاتھ اِنسان کو مُفلس بنا دیتے ہیں، لیکن محنتی ہاتھ دولت لاتے ہیں۔
PRO 10:5 جو گرمی کے دِنوں میں فصل جمع کرتا ہے وہ دانا بیٹا ہے، لیکن جو فصل کاٹنے کے وقت سوتا رہتاہے وہ باعث شرم ہے۔
PRO 10:6 راستباز کے سَر پر برکتوں کا تاج ہوتاہے، لیکن بدکار کے چہرہ سے ظُلم جھانکتا ہے۔
PRO 10:7 راستبازوں کی یاد مُبارک ہے، لیکن بدکاروں کا نام سڑ جائے گا۔
PRO 10:8 دانا دِل اَحکام بجا لاتے ہیں، لیکن بکواس کرنے والا احمق برباد ہو جاتا ہے۔
PRO 10:9 دیندار آدمی بے خوف ہوکر چلتا ہے، لیکن جو ٹیڑھی راہ اِختیار کرتا ہے وہ پہچان لیا جاتا ہے۔
PRO 10:10 آنکھ مارنے والا رنج پہُنچاتا ہے، لیکن بکواس کرنے والا احمق برباد ہو جاتا ہے۔
PRO 10:11 صادق کا مُنہ چشمہ حیات ہے، لیکن بدکار کے مُنہ سے ظُلم جھانکتا ہے۔
PRO 10:12 عداوت تنازعہ پیدا کرتی ہے، لیکن مَحَبّت سَب خطاؤں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
PRO 10:13 صاحبِ فہم کے لبوں پر حِکمت پائی جاتی ہے، لیکن کم عقل کی پیٹھ کے لیٔے لٹھ ہے۔
PRO 10:14 دانا آدمی علم جمع کرتے ہیں، لیکن احمق کا مُنہ ہلاکت کو دعوت دیتاہے۔
PRO 10:15 اَمیروں کی دولت اُن کا محکم شہر ہے، لیکن غریبی مُفلس کی بربادی ہے۔
PRO 10:16 صادقوں کی کمائی اُن کے لیٔے زندگی کا باعث ہوتی ہے، لیکن بدکاروں کی آمدنی اُن کے لیٔے بُرائی لاتی ہے۔
PRO 10:17 جو تربّیت قبُول کرتا ہے وہ زندگی کی راہ بتاتا ہے، لیکن جو تنبیہ کو ٹھکراتا ہے وہ دُوسروں کو گُمراہ کرتا ہے۔
PRO 10:18 جو اَپنی عداوت کو چھُپاتا ہے اُس کے ہونٹ جھُوٹے ہوتے ہیں، اَور تہمت لگانے والا احمق ہے۔
PRO 10:19 کلام کی کثرت گُناہ سے خالی نہیں ہوتی، لیکن جو اَپنی زبان کو قابُو میں رکھتا ہے دانا ہے۔
PRO 10:20 راستباز کی زبان خالص چاندی کی مانند ہے، لیکن بدکار کے دِل کی کویٔی قیمت نہیں ہوتی۔
PRO 10:21 راستباز کے ہونٹ بہُتوں کو تقویّت دیتے ہیں، لیکن احمق نادانی کمی کے سبب مَرتے ہیں۔
PRO 10:22 یَاہوِہ کی برکت دولت بخش ہے، اَور وہ اُس کے ساتھ دُکھ نہیں مِلاتا۔
PRO 10:23 احمق اَپنی شرارت کو کھیل سمجھتا ہے، لیکن دانشمند حِکمت سے خُوش ہوتاہے۔
PRO 10:24 بدکار کا خوف اُسے آ لے گا؛ صادقوں کی مُرادیں پُوری ہُوں گی۔
PRO 10:25 جَب طُوفان گزر جاتا ہے تو بدکار بھی اُس کے ساتھ غائب ہو جاتے ہیں لیکن صادق ہمیشہ ثابت قدم رہتے ہیں۔
PRO 10:26 جِس طرح سِرکہ دانتوں کے لیٔے اَور دُھواں آنکھوں کے لیٔے باعثِ پریشانی ہوتاہے، وَیسا ہی سُست آدمی اَپنے بھیجنے والوں کے لیٔے ہے۔
PRO 10:27 یَاہوِہ کا خوف عمر کی درازی بخشتا ہے، لیکن بدکار کی عمر گھٹا دی جاتی ہے۔
PRO 10:28 صادقوں کی اُمّید خُوشی لاتی ہے، لیکن بدکاروں کی اُمّید خاک میں مِل جاتی ہے۔
PRO 10:29 یَاہوِہ کی راہ صادقوں کے لیٔے پناہ گاہ ہے، لیکن وہ بدکرداروں کی بربادی ہے۔
PRO 10:30 صادقوں کو کبھی جنبش نہ ہوگی، لیکن بدکار مُلک میں باقی نہ رہیں گے۔
PRO 10:31 صادق کے مُنہ سے حِکمت نکلتی ہے، لیکن بدگو زبان کاٹ ڈالی جائے گی۔
PRO 10:32 صادقوں کے ہونٹ پسندِیدہ بات سے آشنا ہیں، لیکن بدکار کا مُنہ صِرف بدگوئی سے واقف ہوتاہے۔
PRO 11:1 دغا کے ترازو سے یَاہوِہ کو نفرت ہے، لیکن صحیح وزن والے باٹ اُس کی خُوشی کا باعث ہیں۔
PRO 11:2 غُرور اَپنے ساتھ رُسوائی بھی لے آتا ہے، لیکن خاکساری اَپنے ساتھ حِکمت لاتی ہے۔
PRO 11:3 راستبازوں کی راستی اُن کی رہنمائی کرتی ہے، لیکن دغاباز اَپنی ریاکاری کے باعث تباہ ہو جاتے ہیں۔
PRO 11:4 خُدا کے قہر کے دِن دولت کام نہیں آتی، لیکن راستی موت سے رِہائی بخشتی ہے۔
PRO 11:5 بے عیب کی راستبازی اُن کی راہ کو ہموار کرتی ہے، لیکن بدکار خُود اَپنی ہی شرارت کی وجہ سے گِر جاتے ہیں۔
PRO 11:6 راستبازوں کی راستبازی اُن کی نَجات کا باعث ہوتی ہے، لیکن دغاباز اَپنی بُری خواہشات کا شِکار ہو جاتے ہیں۔
PRO 11:7 جَب بدکار اِنسان مرتا ہے تو اُس کی اُمّید بھی فنا ہو جاتی ہے؛ اُس کی کویٔی توقع بھی پُوری نہیں ہوتی۔
PRO 11:8 صادق مُصیبت سے رِہائی پاتاہے، اَور بدکار اُس میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔
PRO 11:9 بے دین اَپنے مُنہ سے اَپنے ہمسایہ کو تباہ کرتا ہے، لیکن صادق علم کے ذریعہ بچ جاتا ہے۔
PRO 11:10 جَب صادق سرفراز ہوتاہے تو شہر کے لوگ خُوش ہوتے ہیں؛ اَور جَب بدکار ہلاک ہوتے ہیں تو لوگ خُوشی کے نعرے لگاتے ہیں۔
PRO 11:11 راستبازوں کی برکت سے شہر سرفراز ہوتاہے، لیکن بدکاروں کے مُنہ کی باتوں سے وہ تباہ ہو جاتا ہے۔
PRO 11:12 کم عقل آدمی اَپنے ہمسایہ کی تحقیر کرتا ہے، لیکن صاحبِ فہم اَپنی زبان پر قابُو رکھتا ہے۔
PRO 11:13 گپ بازی کرنے سے راز افشا ہو جاتا ہے، لیکن ایک قابلِ اِعتماد آدمی رازداری سے کام لیتا ہے۔
PRO 11:14 ہدایت کے بغیر قوم گِر جاتی ہے، لیکن متعدّد مُشیر فتح کو یقینی بنا دیتے ہیں۔
PRO 11:15 جو کسی بیگانے کی ضمانت دیتاہے، یقیناً نُقصان اُٹھاتا ہے، لیکن جو ضمانت دینے سے اِنکار کرتا ہے وہ سلامت رہتاہے۔
PRO 11:16 رحم دِل عورت عزّت پاتی ہے، لیکن سنگدل لوگوں کو محض دولت ملتی ہے۔
PRO 11:17 رحم دِل اِنسان اَپنی جان کے ساتھ نیکی کرتا ہے، لیکن بےرحم اَپنے جِسم کو دُکھ دیتاہے۔
PRO 11:18 بدکار دھوکے سے روزی کماتا ہے، لیکن راستی بونے والا سچ مُچ اجر پاتاہے۔
PRO 11:19 راستی پر چلنے والا زندگی پاتاہے، لیکن بدی کا پیرو اَپنی موت سے ہمکنار ہوتاہے۔
PRO 11:20 کَج دِلوں سے یَاہوِہ کو نفرت ہے لیکن کامل روِش والوں سے وہ خُوش رہتاہے۔
PRO 11:21 یقین رکھو کہ بدکار بے سزا نہیں چُھوٹے گا، لیکن جو صادق ہیں وہ آزاد ہو جایٔیں گے۔
PRO 11:22 حسین عورت جو بے تمیز ہے وہ سُؤرنی کی ناک میں سونے کی نتھ کی مانند ہوتی ہے۔
PRO 11:23 نیکی سے صادقوں کی خواہش پُوری ہو جاتی ہے، لیکن بدکاروں کی اُمّید کا پھل غضبِ خُداوندی ہوتاہے۔
PRO 11:24 کویٔی فیّاضی سے دیتاہے اَور پھر بھی بہت زِیادہ پاتاہے؛ اَور دُوسرا بہت محتاط ہوکر بھی مُفلس ہو جاتا ہے۔
PRO 11:25 فیّاض آدمی سرفراز ہوگا؛ جو دُوسروں کو تازگی بخشتا ہے خُود بھی تازگی پایٔےگا۔
PRO 11:26 جو اَپنا اناج جمع کرکے بیچتا نہیں لوگ اُس پر لعنت بھیجتے ہیں، لیکن جو اُسے بیچتا ہے وہ برکت کا تاج پہنے گا۔
PRO 11:27 جو بھلائی ڈھونڈتا ہے اُسے خُوشی حاصل ہوتی ہے، لیکن جو بدی ڈھونڈتا ہے، اُسے بدی ہی ملتی ہے۔
PRO 11:28 جو اَپنے مال و زَر پر بھروسا کرتا ہے وہ گِر پڑےگا، لیکن صادق ہرے پتّوں کی مانند سرسبز رہیں گے۔
PRO 11:29 جو اَپنے خاندان کو دُکھ پہُنچاتا ہے وہ ہَوا کا وارِث ہوگا، اَور احمق دانا آدمی کا غُلام بنے گا۔
PRO 11:30 صادق کا پھل زندگی کا درخت ہے، اَور دانا ہے وہ جو دِلوں کو جیتتا ہے۔
PRO 11:31 اگر راستباز کو زمین پر بدلہ دیا جائے گا، تو بے دین اَور گُنہگار کا حَشر کیا ہوگا!
PRO 12:1 جو تربّیت کو عزیز رکھتا ہے وہ علم کو عزیز رکھتا ہے، لیکن جو تنبیہ سے نفرت رکھتا ہے وہ وحشی جانور کی طرح احمق ہے۔
PRO 12:2 نیک آدمی پر یَاہوِہ کی نظرِکرم ہوتی ہے، لیکن یَاہوِہ بُری نیّت والے آدمی کو مُجرم ٹھہراتا ہے۔
PRO 12:3 آدمی بدکاری سے قائِم نہیں رہ سَکتا، لیکن صادق کی جڑ کو جنبش نہ ہوگی۔
PRO 12:4 نیک سیرت عورت اَپنے خَاوند کے لئے تاج ہوتی ہے، لیکن رُسوا بیوی اُس کی ہڈّیوں میں سڑن کی مانند ہے۔
PRO 12:5 صادقوں کے منصُوبے راست ہوتے ہیں، لیکن بدکاروں کی صلاح پُر فریب ہوتی ہے۔
PRO 12:6 بدکاروں کی باتیں خُون بہانے پر اُکساتی ہیں، لیکن صادقوں کی باتیں اُنہیں رِہائی دیں گی۔
PRO 12:7 بدکار لوگ گرا دئیے جاتے ہیں اَور نِیست ہو جاتے ہیں، لیکن راستبازوں کا گھر قائِم رہتاہے۔
PRO 12:8 اِنسان کی تعریف اُس کی ہوشیاری کے مُطابق کی جاتی ہے، لیکن بے عقل حقارت کا شِکار ہوتاہے۔
PRO 12:9 جو فروتن ہے لیکن ایک نوکر کا مالک ہے وہ اُس شیخی باز سے جو روٹی کا مُحتاج ہو بہتر ہے۔
PRO 12:10 راستباز اَپنے جانور کی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے، لیکن بدکار کی رحمدلی بھی ظُلم سے کم نہیں۔
PRO 12:11 جو اَپنی زمین میں کاشتکاری کرتا ہے، وہ کثرت سے خُوراک پایٔےگا، لیکن جو خیالی پُلاؤ پکاتا رہتاہے مُحتاج رہے گا۔
PRO 12:12 بدکاروں کی نظر بدکرداروں کی لُوٹ پر ہے، لیکن صادقوں کی جڑ پھلدار رہتی ہے۔
PRO 12:13 بدکار اَپنے لبوں کی گُناہ آلُودگی کے باعث پھندے میں پھنستا ہے، لیکن صادق مُصیبت سے بچ نکلتا ہے۔
PRO 12:14 آدمی اَپنے ہونٹوں کے پھل کی نِعمت سے سیر ہوتاہے اَور اُس کے ہاتھوں کے کام کا اجر اُسے ضروُر ملتا ہے۔
PRO 12:15 احمق کو اَپنی روِش دُرست نظر آتی ہے، لیکن دانشمند نصیحت کو سُنتا ہے۔
PRO 12:16 احمق کا غُصّہ فوراً ظاہر ہو جاتا ہے، لیکن ہوشیار آدمی بدنامی کو نظرانداز کرتا ہے۔
PRO 12:17 صادق گواہ سچّی گواہی دیتاہے، لیکن جھُوٹا گواہ جھُوٹ بولتا ہے۔
PRO 12:18 بےہوُدہ باتیں تلوار کی مانند چھیدتی ہیں، لیکن دانشمند کی زبان شفا بخشتی ہے۔
PRO 12:19 سچّے ہونٹ ہمیشہ تک قائِم رہیں گے، لیکن جھُوٹی زبان کچھ دیر تک ہی ٹکتی ہے۔
PRO 12:20 بدی کے منصُوبے باندھنے والوں کے دِل میں دغا ہوتی ہے، لیکن جو صُلح کا مشورہ دیتے ہیں خُوش ہوتے ہیں۔
PRO 12:21 راستباز کو کویٔی ضرر نہیں پہُنچتا، لیکن بدکار مُصیبت میں ڈُوب جاتے ہیں۔
PRO 12:22 جھُوٹے لبوں سے یَاہوِہ کو نفرت ہے، لیکن راست گو سے وہ خُوش ہوتاہے۔
PRO 12:23 ہوشیار آدمی اَپنا علم خُود تک محدُود رکھتا ہے، لیکن احمقوں کا دِل حماقت کی مُنادی کرتا ہے۔
PRO 12:24 محنتی ہاتھوں والے حُکمرانی کریں گے، لیکن کاہل آدمی غُلام بَن کر رہ جایٔیں گے۔
PRO 12:25 دِل مُضطرب ہو تو اِنسان بھی اُداس ہو جاتا ہے، لیکن ایک مَحَبّت بھرا لفظ اُسے خُوش کر دیتاہے۔
PRO 12:26 راستباز اِنسان اَپنے ہمسایہ کی رہنمائی کرتا ہے، لیکن بدکاروں کی روِش اُنہیں گُمراہ کردیتی ہے۔
PRO 12:27 کاہل آدمی اَپنے شِکار کو بھُونتا بھی نہیں، لیکن محنتی آدمی بیش قیمتی دولت پاتاہے۔
PRO 12:28 راستی کی راہ زندگی کی طرف جاتی ہے؛ اُس راہ میں موت نہیں ہوتی۔
PRO 13:1 دانشمند بیٹا اَپنے باپ کی تربّیت پر دھیان دیتاہے، لیکن ٹھٹّھےباز سرزنش پر کان نہیں لگاتا۔
PRO 13:2 صادق اِنسان اَپنے لبوں کے پھل سے لُطف اَندوز ہوتاہے، لیکن دغاباز لوگ تشدّد پر آمادہ رہتے ہیں۔
PRO 13:3 جو اَپنے مُنہ کی نگہبانی کرتا ہے وہ اَپنی جان کی حِفاظت کرتا ہے، لیکن جسے اَپنی زبان پر قابُو نہیں وہ برباد ہو جائے گا۔
PRO 13:4 کاہل آدمی آرزُو کرتا ہے پر کچھ نہیں پاتا، لیکن محنت کش کی تمنّائیں پُوری ہو جاتی ہیں۔
PRO 13:5 صادق جھُوٹ سے نفرت کرتے ہیں، لیکن بدکار شرم اَور رُسوائی لاتا ہے۔
PRO 13:6 راستبازی دیانتدار کی حِفاظت کرتی ہے، لیکن بدی بدکار کو گرا دیتی ہے۔
PRO 13:7 ایک آدمی اَپنے آپ کو دولتمند جتاتا ہے لیکن نادار ہوتاہے؛ اَور دُوسرا مُفلس جتاتا ہے، جَب کہ بہت مالدار ہوتاہے۔
PRO 13:8 اِنسان کی دولت اُس کی جان کا کفّارہ دے سکتی ہے، لیکن مُفلس کو کویٔی دھمکی سُنایٔی نہیں دیتی۔
PRO 13:9 صادق کی رَوشنی تیز چمکتی ہے، لیکن بدکاروں کا چراغ بُجھا دیا جاتا ہے۔
PRO 13:10 غُرور سے صِرف جھگڑے پیدا ہوتے ہیں، لیکن جو لوگ صلاح مانتے ہیں اُن میں حِکمت پائی جاتی ہے۔
PRO 13:11 بےایمانی سے حاصل کی ہُوئی دولت گھٹ جاتی ہے، لیکن محنت سے جمع کیا ہُوا رُوپیہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔
PRO 13:12 اُمّید کے بر آنے میں تاخیر ہو جائے تو دِل آزردہ ہو جاتا ہے، لیکن آرزُو کا پُورا ہونا شجرِ حیات ہے۔
PRO 13:13 جو تربّیت کی تحقیر کرتا ہے وہ سزا پایٔےگا، لیکن جو حُکم بجا لاتا ہے وہ اجر پاتاہے۔
PRO 13:14 دانشمند کی تعلیم زندگی کا چشمہ ہے، جو اِنسان کو موت کے پھندوں سے بچائے رکھتا ہے۔
PRO 13:15 اَچھّے فہم والے لوگ مقبُول ہوتے ہیں، لیکن دغابازوں کی راہ مُشکل ہوتی ہے۔
PRO 13:16 ہر ہوشیار آدمی سوچ سمجھ کر کام کرتا ہے، لیکن احمق اَپنی حماقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔
PRO 13:17 بدکار ایلچی مُصیبت میں مُبتلا ہو جاتا ہے، لیکن قابلِ اِعتماد سفیر کی آمد صحت بخشتی ہے۔
PRO 13:18 تربّیت کو نظرانداز کرنے والا مفلسی اَور شرمندگی سے دوچار ہوتاہے، لیکن جو اِصلاح کو مانتا ہے اُس کا اِحترام کیا جاتا ہے۔
PRO 13:19 تمنّا کا پُورا ہونا جان کے لیٔے شیریں ہوتاہے، لیکن احمقوں کو بدی کو ترک کرنا بڑا بُرا لگتا ہے۔
PRO 13:20 جو دانشمندی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے وہ دانشمند بنتا ہے، لیکن احمقوں کا ساتھی نُقصان اُٹھاتا ہے۔
PRO 13:21 آفت گُنہگاروں کا تعاقب کرتی ہے، لیکن اِقبالمندی صادقوں کا اجر ہے۔
PRO 13:22 نیک آدمی اَپنے پوتوں کے لیٔے مِیراث چھوڑتا ہے، لیکن خطاکار کی دولت صادقوں کے لیٔے فراہم کی جاتی ہے۔
PRO 13:23 مُفلس کا کھیت کثرت سے اناج پیدا کر سَکتا ہے، لیکن بےاِنصافی اُسے غائب کردیتی ہے۔
PRO 13:24 جو نظم و ضَبط کی چھڑی سے کام نہیں لیتا وہ اَپنے بیٹے سے بَیر رکھتا ہے، لیکن جو اُسے عزیز رکھتا ہے اُسے تنبیہ بھی کرتا رہتاہے۔
PRO 13:25 صادقوں کو پیٹ بھر کر کھانا ملتا ہے، لیکن بدکاروں کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔
PRO 14:1 دانا عورت اَپنا گھر بناتی ہے، لیکن بےوقُوف اُسے اَپنے ہی ہاتھوں سے گرا دیتی ہے۔
PRO 14:2 راست یَاہوِہ سے ڈرتا ہے، لیکن جِس کی راہیں ٹیڑھی ہیں وہ اُس کی حقارت کرتا ہے۔
PRO 14:3 احمق کی پُر غُرور باتیں اُس کی پیٹھ کے لیٔے ڈنڈا بَن جاتی ہیں، لیکن دانشمندوں کے لب اُن کی حِفاظت کرتے ہیں۔
PRO 14:4 جہاں ہل چلانے والے بَیل نہیں ہوتے وہاں چرنی بھی خالی رہتی ہے، لیکن بَیل ہی کے زور سے اناج کی کثرت ہوتی ہے۔
PRO 14:5 سچّا گواہ دھوکا نہیں دیتا، لیکن جھُوٹا گواہ صرف جھُوٹ ہی اُگلتا ہے۔
PRO 14:6 ٹھٹّھےباز حِکمت تلاش کرتا ہے لیکن نہیں پاتا، لیکن صاحبِ فہم کو علم بآسانی حاصل ہوتاہے۔
PRO 14:7 احمق سے دُور رہنا، کیونکہ تُم اُس کے لبوں پر علم کی باتیں نہیں پاؤگے۔
PRO 14:8 ہوشیاروں کی حِکمت یہ ہے کہ اَپنی روِشوں پر غور کریں، لیکن احمقوں کی حماقت دغا دینا ہے۔
PRO 14:9 احمق گُناہ کی تلافی کرنے کو مذاق سمجھتے ہیں، لیکن راستبازوں کے درمیان رضامندی پائی جاتی ہے۔
PRO 14:10 ہر دِل اَپنی تلخی سے واقف ہوتاہے، اَور کویٔی بیگانہ اُس کی خُوشی میں شریک نہیں ہو سَکتا۔
PRO 14:11 بدکار کا گھر تباہ ہو جائے گا، لیکن راستباز کا خیمہ آباد رہے گا۔
PRO 14:12 اَیسی راہ بھی ہے جو اِنسان کو راست مَعلُوم ہوتی ہے، لیکن اُس کا اَنجام موت ہے۔
PRO 14:13 ہنسی کے موقع پر بھی دِل اُداس ہو سَکتا ہے، اَور خُوشی رنج میں بدل سکتی ہے۔
PRO 14:14 بےوفا اَپنی روِشوں کا پُورا اجر پائیں گے، اَور نیک آدمی اَپنی روِش کا۔
PRO 14:15 سادہ لَوح ہر بات کا یقین کر لیتا ہے، لیکن ہوشیار آدمی سوچ سمجھ کر قدم اُٹھاتا ہے۔
PRO 14:16 دانشمند یَاہوِہ کا خوف مانتا اَور بدی سے گُریز کرتا ہے، لیکن احمق شیخی باز اَور بے فکر ہوتاہے۔
PRO 14:17 تنک مِزاج حماقت کے کام کرتا ہے، اَور بداندیش آدمی قابل نفرت ہوتاہے۔
PRO 14:18 نادان حماقت کی مِیراث پاتے ہیں، لیکن ہوشیاروں کو علم کا تاج پہنایا جاتا ہے۔
PRO 14:19 بدکردار، نیک لوگوں کے سامنے، اَور بدکار راستبازوں کے دروازوں پر جھُکیں گے۔
PRO 14:20 کنگالوں سے اُن کے ہمسایے بھی نفرت کرتے ہیں، لیکن دولتمندوں کے عزیز بہت ہوتے ہیں۔
PRO 14:21 جو اَپنے ہمسایہ کو حقیر جانتا ہے، گُناہ کرتا ہے، لیکن مُبارک ہے وہ جو مُحتاج پر رحم کرتا ہے۔
PRO 14:22 کیا بُرے منصُوبے باندھنے والے گُمراہ نہیں ہوتے؟ لیکن جو خیر اَندیش ہوتے ہیں اُن کے لیٔے شفقت اَور سچّائی ہے۔
PRO 14:23 ہر طرح کی مشقّت میں منافع ہے، لیکن خالی باتیں کرنا غربت تک پہُنچاتا ہے۔
PRO 14:24 دانشمندوں کی دولت اُن کا تاج ہے، لیکن احمقوں کی حماقت سے حماقت ہی پیدا ہوتی ہے۔
PRO 14:25 سچّا گواہ کسی کی جانیں بچاتا ہے، لیکن جھُوٹا گواہ دغابازی کرتا ہے۔
PRO 14:26 یَاہوِہ کا خوف رکھنے والے کے لیٔے یَاہوِہ محفوظ قلعہ ہے، اَور اُس کی اَولاد کے لیٔے وہ پناہ گاہ ہے۔
PRO 14:27 یَاہوِہ کا خوف زندگی کا چشمہ ہے، جو اِنسان کو موت کے پھندوں سے چھُڑا لیتا ہے۔
PRO 14:28 رعایا کی کثرت میں بادشاہ کی شان ہے، لیکن رعایا کے بِنا حاکم تباہ ہو جاتا ہے۔
PRO 14:29 صَابر آدمی بڑے فہم کا مالک ہوتاہے، لیکن زُود رنج سے حماقت ہی سرزد ہوتی ہے۔
PRO 14:30 مطمئن دِل جِسم میں جان ڈال دیتاہے، لیکن حَسد ہڈّیوں کو سڑا دیتاہے۔
PRO 14:31 مفلسوں پر ظُلم ڈھانے والا اُن کے خالق کی توہین کرتا ہے، لیکن جو کویٔی مُحتاجوں پر رحم کھاتا ہے وہ خُدا کی تعظیم کرتا ہے۔
PRO 14:32 جَب آفت آتی ہے تَب بدکار پست کر دئیے جاتے ہیں، لیکن راستباز موت کے وقت بھی خُدا کی پناہ مانگتے ہیں۔
PRO 14:33 حِکمت، عقلمند کے دِل میں قائِم رہتی ہے اَور احمقوں کے دِل علم کو جانتے بھی نہیں۔
PRO 14:34 راستباز قوم کو سرفراز کرتی ہے، لیکن گُناہ اُمّتوں کی رُسوائی ہے۔
PRO 14:35 عقلمند بادشاہ خادِم سے خُوش ہوتاہے، لیکن شرمناک کام کرنے والے پر اُس کا غضب نازل ہوتاہے۔
PRO 15:1 نرم جَواب غُصّہ کو دُور کرتا ہے، لیکن تلخ لفظ سے قہر بھڑک اُٹھتا ہے۔
PRO 15:2 دانشمند کی زبان علم کی تعریف کرتی ہے، لیکن احمق کا مُنہ حماقت اُگلتا ہے۔
PRO 15:3 یَاہوِہ کی آنکھیں ہر جگہ لگی رہتی ہیں، وہ نیک اَور بد دونوں کو دیکھتی ہیں۔
PRO 15:4 صحت بخش زبان حیات کا درخت ہے، لیکن دغاباز زبان رُوح کو کُچل دیتی ہے۔
PRO 15:5 احمق اَپنے باپ کی تربّیت کو حقیر جانتا ہے، لیکن تنبیہ کو ماننے والا ہوشیاری سے کام لیتا ہے۔
PRO 15:6 راستباز کے گھر میں بہت بڑا خزانہ ہوتاہے، لیکن بدکاروں کی آمدنی اُن کے لیٔے مُصیبت کھڑی کردیتی ہے۔
PRO 15:7 دانشمندوں کے لب علم پھیلاتے ہیں، لیکن احمقوں کے دِل اَیسا نہیں کرتے۔
PRO 15:8 یَاہوِہ کو بدکاروں کی قُربانی سے نفرت ہے، لیکن راستباز کی دعا اُنہیں پسند آتی ہے۔
PRO 15:9 یَاہوِہ کو بدکار کی روِش سے نفرت ہے لیکن وہ راستبازی کی پیروی کرنے والوں سے مَحَبّت رکھتے ہیں۔
PRO 15:10 نیکی کی راہ سے بھٹکنے والا سخت سزا پایٔےگا؛ اَور تنبیہ سے بَیر رکھنے والا ہلاک ہوگا۔
PRO 15:11 جَب یَاہوِہ پاتال اَور جہنّم کے حال سے خُوب واقف ہے۔ تو بنی آدمؔ کے دِلوں کا تو ذِکر ہی کیا!
PRO 15:12 ٹھٹھّےباز کو تنبیہ کرنا نا پسند ہے؛ وہ دانشمندوں سے صلاح نہیں لیتا۔
PRO 15:13 دِل خُوش ہو تو چہرہ پُر رونق ہو جاتا ہے، لیکن دِل کا درد رُوح کو کُچل دیتاہے۔
PRO 15:14 صاحبِ فہم کا دِل علم کی کھوج میں رہتاہے، لیکن حماقت احمق کے مُنہ کی خُوراک بنی رہتی ہے۔
PRO 15:15 مُصیبت زدوں کے تمام ایّام دُکھ بھرے ہوتے ہیں، لیکن زندہ دِل مُتواتر جَشن مناتے ہیں۔
PRO 15:16 پریشانی کے ساتھ رکھے ہُوئے بڑے خزانے سے تھوڑی سِی پُونجی جو یَاہوِہ کے خوف کے ساتھ رکھی جائے، کہیں بہتر ہے۔
PRO 15:17 جِس گھر میں مَحَبّت ہو وہاں ساگ پات والا کھانا بھی عداوت والے گھر کے فربہ بچھڑے کا گوشت کھانے سے بہتر ہے۔
PRO 15:18 غُصّے والا آدمی جھگڑے پیدا کرتا ہے، لیکن صَابر اِنسان جھگڑا مٹاتا ہے۔
PRO 15:19 کاہل کی راہ میں کانٹے بچھے ہوتے ہیں، لیکن راستباز کی راہ، شاہراہ کی طرح ہموار ہوتی ہے۔
PRO 15:20 دانشمند بیٹا اَپنے باپ کے لیٔے خُوشی لاتا ہے، لیکن احمق آدمی اَپنی ماں کی تحقیر کرتا ہے۔
PRO 15:21 کم عقل کو حماقت سے خُوشی ہوتی ہے، لیکن صاحبِ فہم سیدھی راہ اِختیار کرتا ہے۔
PRO 15:22 اِرادے مشوروں کے بغیر ناکام ہو جاتے ہیں، لیکن صلاح کاروں کی کثرت سے وہ پُورے ہوتے ہیں۔
PRO 15:23 مُناسب جَواب دینے سے اِنسان خُوشی محسُوس کرتا ہے۔ اَور وہ بات جو وقت پر کہی جائے کیا خُوب ہے!
PRO 15:24 عقلمند کو زندگی کی راہ اُوپر لے جاتی ہے تاکہ اُسے نیچے قبر میں اُترنے سے بچالے۔
PRO 15:25 یَاہوِہ مغروُر کا گھر ڈھا دیتے ہیں لیکن وہ بِیوہ کا ٹھکانہ محفوظ رکھتے ہیں۔
PRO 15:26 یَاہوِہ کو بدکاروں کے خیالات سے نفرت ہے، لیکن پاک لوگوں کے خیالات اُنہیں پسند آتے ہیں۔
PRO 15:27 لالچی اِنسان اَپنے خاندان کے لیٔے مُشکل کھڑی کرتا ہے، لیکن جسے رشوت سے نفرت ہے وہ زندہ رہتاہے۔
PRO 15:28 راستبازوں کا دِل سوچ سمجھ کر جَواب دیتاہے، لیکن بدکار کا مُنہ بدی اُگلتا ہے۔
PRO 15:29 یَاہوِہ بدکاروں سے دُور رہتے ہیں لیکن وہ صادقوں کی دعا سُنتے ہیں۔
PRO 15:30 خُوشی کی نظر دِل کو راحت پہُنچاتی ہے، اَور خُوشی کی خبر ہڈّیوں کو تازگی بخشتی ہے۔
PRO 15:31 جو زندگی بخش تنبیہ پر کان لگاتاہے وہ دانشمندوں کے ساتھ آرام سے رہے گا۔
PRO 15:32 جو تربّیت کو نظرانداز کرتا ہے اَپنی ہی جان کا دُشمن ہے، لیکن جو تنبیہ کو سُنتا ہے وہ فہم حاصل کرتا ہے۔
PRO 15:33 یَاہوِہ کا خوف اِنسان کو حِکمت سِکھاتا ہے، اَور سرفرازی سے پہلے فروتنی آتی ہے۔
PRO 16:1 دِل کی تدبیریں اِنسان کی ہوتی ہیں، لیکن زبان کا جَواب یَاہوِہ کی طرف سے آتا ہے۔
PRO 16:2 اِنسان کو اَپنی تمام روِشیں اَپنی نظر میں پاک نظر آتی ہیں، لیکن یَاہوِہ ہی اُس کے ضمیر کو جانچتے ہیں۔
PRO 16:3 تُم جو کچھ کرو اُسے یَاہوِہ کے سُپرد کر دو، تَب تمہارے منصُوبے کامیاب ہوں گے۔
PRO 16:4 یَاہوِہ ہر چیز کسی خاص مقصد کے لیٔے بناتے ہیں۔ یہاں تک کہ بدکاروں کو بھی بُرے دِن کے لیٔے بنایا۔
PRO 16:5 مغروُر دِلوں والے یَاہوِہ کے نزدیک نفرت اَنگیز ہیں۔ وہ لوگ بے سزا نہ ٹھہریں گے۔
PRO 16:6 بے لوث مَحَبّت اَور وفاداری سے گُناہ کا کفّارہ ہوتاہے؛ اَور یَاہوِہ کے خوف سے اِنسان بدی سے دُور رہتاہے۔
PRO 16:7 جَب اِنسان کی روِشیں یَاہوِہ کو پسند آتی ہیں، تَب وہ اُس کے دُشمنوں کو بھی اُس کے ساتھ صُلح سے رہنے دیتے ہیں۔
PRO 16:8 راستی سے حاصل کیا ہُوا تھوڑا سا مال نااِنصافی سے حاصل کئے ہُوئے بڑے منافع سے بہتر ہے۔
PRO 16:9 اِنسان اَپنے دِل میں اَپنی راہ کا منصُوبہ بناتا ہے، لیکن اُس کے قدموں کی ہدایت یَاہوِہ کی طرف سے ہوتی ہے۔
PRO 16:10 بادشاہ کے لبوں سے گویا کلامِ الٰہی صادر ہوتاہے، لہٰذا اُس کا مُنہ اِنصاف کرنے میں کویٔی خطا نہ کرے۔
PRO 16:11 صحیح ترازو اَور پلڑے یَاہوِہ کی طرف سے ہوتے ہیں؛ تھیلی کے سَب باٹ اُسی کے بنائے ہُوئے ہیں۔
PRO 16:12 غلط کام بادشاہ کے نزدیک نفرت اَنگیز ہیں، کیونکہ تخت کی پائداری راستبازی سے ہے۔
PRO 16:13 اِنصاف پسند ہونٹ بادشاہوں کی خُوشی کا باعث ہوتے ہیں؛ اَور وہ حق بولنے والے آدمی کی قدر کرتے ہیں۔
PRO 16:14 بادشاہ کا غضب موت کا قاصِد ہے، لیکن دانشمند اِنسان اُسے ٹھنڈا کرتا ہے۔
PRO 16:15 بادشاہ کا تابندہ چہرہ، زندگی کی علامت ہے؛ اَور اُس کی نظرِ عنایت موسمِ بہار کی طرح ہے۔
PRO 16:16 حِکمت حاصل کرنا سونے کے حُصُول سے، اَور فہم حاصل کرنا چاندی کے حُصُول سے کہیں بہتر ہے۔
PRO 16:17 راستبازی کی شاہراہ بدی سے الگ رہتی ہے؛ اَور اَپنی راہ کا نگہبان اَپنی جان کی حِفاظت کرتا ہے۔
PRO 16:18 تباہی سے پہلے تکبُّر، اَور زوال سے پہلے خُود بینی ہوتی ہے۔
PRO 16:19 فروتن بَن کر مظلوموں کے ساتھ رہنا مغروُروں کے ساتھ مِل کر لُوٹ کا مال حاصل کرنے سے بہتر ہے۔
PRO 16:20 جو تربّیت پر دھیان دیتاہے وہ خُوشحال ہوتاہے، اَور مُبارک ہے وہ جو یَاہوِہ پر بھروسا رکھتا ہے۔
PRO 16:21 دانا دِل والے اہلِ بصیرت کہلایٔیں گے، اَور شیریں زبانی سے علم کو فروغ ملتا ہے۔
PRO 16:22 ہوشیار اِنسان کے لیٔے عقل چشمہ حیات ہے، لیکن احمقوں کی حماقت اُن کے لیٔے سزا کا باعث بَن جاتی ہے۔
PRO 16:23 دانشمند کا دِل اُس کے مُنہ کی تربّیت کرتا ہے، اَور اُس کے لبوں کے علم کو بڑھاتاہے۔
PRO 16:24 دِل پسند باتیں شہد کا چھتّا ہیں، وہ جان کے لیٔے میٹھی اَور ہڈیّوں کے لیٔے شفا بخش ہوتی ہیں۔
PRO 16:25 اَیسی راہ بھی ہے جو اِنسان کو راست مَعلُوم ہوتی ہے، لیکن اُس کا اَنجام موت ہے۔
PRO 16:26 مزدُور کی بھُوک اُس سے مزدُوری کراتی ہے؛ اَور اُس کی بھُوک اُسے اُبھارتی رہتی ہے۔
PRO 16:27 بدمعاش بدی کا منصُوبہ بناتا ہے، اُس کی زبان سے بھڑکتی ہُوئی آگ نکلتی ہے۔
PRO 16:28 کجرو آدمی فتنہ برپا کرتا ہے، اَور غیبت گوئی گہرے دوستوں میں جدائی پیدا کردیتی ہے۔
PRO 16:29 تُند خُو آدمی اَپنے ہمسایہ کو ورغلاتا ہے اَور اُسے اَیسی راہ پر لے چلتا ہے جو تباہ کُن ہوتی ہے۔
PRO 16:30 آنکھ مارنے والا بُرا اِرادہ رکھتا ہے؛ اَور اَپنے ہونٹ چبانے والا شرارت کرنے پر تُلا ہُواہے۔
PRO 16:31 بُڑھاپے کے سفید بال شان و شوکت کا وہ تاج ہیں؛ جسے راستباز زندگی کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے۔
PRO 16:32 صبر سے کام لینے والا پہلوان سے، اَور اَپنے غُصّہ پر قابُو پانے والا شہر پر قبضہ کرنے والے سے بہتر ہوتاہے۔
PRO 16:33 قُرعہ تو گود میں ڈالا جاتا ہے، لیکن اُس کا ہر فیصلہ یَاہوِہ کی طرف سے ہوتاہے۔
PRO 17:1 اِطمینان اَور سکون کے ساتھ کھایا جانے والا خشک نوالہ اُس گھر کی نِعمتوں سے بہتر ہے جہاں جھگڑا ہو۔
PRO 17:2 دانشمند نوکر رُسوا بیٹے پر حُکم چلائے گا، اَور بھائیوں کے ساتھ مِیراث میں شریک ہوگا۔
PRO 17:3 چاندی کے لیٔے کُٹھالی اَور سونے کے لیٔے بھٹّی ہوتی ہے، لیکن دِل کو یَاہوِہ ہی پرکھتے ہیں۔
PRO 17:4 بدکار آدمی بُرے ہونٹوں کی بات سُنتا ہے؛ اَور دروغ گو فساد بھڑکانے والی زبان کی طرف کان لگاتاہے۔
PRO 17:5 مسکین کا مذاق اُڑانے والا اُس کے خالق کی توہین کرتا ہے؛ اَور کسی دُوسرے کی مُصیبت پر خُوش ہونے والا بے سزا نہیں چُھوٹے گا۔
PRO 17:6 بیٹوں کے بیٹے بُوڑھوں کے لیٔے تاج ہیں، اَور والدین اَپنے بچّوں کا فخر ہوتے ہیں۔
PRO 17:7 خُوش گفتار ہونٹ احمق پر نہیں سجتے۔ تو دروغ گو لب حاکم کو کیا زیب دیں گے!
PRO 17:8 رشوت دینے والے کے ہاتھ میں جادُو کا کام کرتی ہے؛ وہ ہر موڑ پر کامیاب ہو جاتا ہے۔
PRO 17:9 جو خطا پر پردہ ڈالتا ہے وہ میل مِلاپ کا خواہاں ہے، لیکن جو اُسے بار بار دہراتا ہے، وہ گہرے دوستوں میں جدائی پیدا کر دیتاہے۔
PRO 17:10 صاحبِ فہم پر ایک جھڑکی احمق پر سَو کوڑوں سے زِیادہ اثر کرتی ہے۔
PRO 17:11 بدکار محض سرکشی کا موقع ڈھونڈتا ہے؛ اِس لیٔے اُس کے خِلاف ایک سنگدل افسر ہی بھیجا جائے گا۔
PRO 17:12 احمق کی حماقت کے وقت اُس کے سامنے آنے سے اُس ریچھنی سے دوچار ہونا بہتر ہے جِس کے بچّے پکڑ لیٔے گیٔے ہوں۔
PRO 17:13 اگر کویٔی آدمی نیکی کا بدلہ بدی سے دیتاہے، تو اُس کے گھر سے بدی ہرگز دُور نہ ہوگی۔
PRO 17:14 جھگڑے کا آغاز کرنا بند میں سوراخ کرنے کی مانند ہے؛ اِس لیٔے اِس سے پہلے کہ جھگڑا پیدا ہو، مُعاملہ کو رفع دفع کر دو۔
PRO 17:15 مُلزم کو بَری کرنا اَور صادق کو مُلزم قرار دینا؛ دونوں یَاہوِہ کے نزدیک مکرُوہ ہیں۔
PRO 17:16 احمق کے ہاتھ میں رقم بھی مَوجُود ہو تو کیا فائدہ، جَب کہ اُسے حِکمت حاصل کرنے کی تمنّا ہی نہیں؟
PRO 17:17 دوست ہر وقت مَحَبّت دِکھاتا ہے، لیکن بھایٔی مُصیبت میں کام آنے کے لیٔے پیدا ہوتاہے۔
PRO 17:18 نادان آدمی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر قَسم کھاتا ہے اَور اَپنے ہمسایہ کے لیٔے ضامن ہو جاتا ہے۔
PRO 17:19 جھگڑا پسند کرنے والا گُناہ کو بھی پسند کرتا ہے؛ اَور اُونچا دروازہ بنانے والا تباہی کو دعوت دیتاہے۔
PRO 17:20 ٹیڑھے دِل والا خُوشحال نہیں ہوتا؛ جِس کی زبان ٹیڑھی ہو وہ مُصیبت میں پڑتا ہے۔
PRO 17:21 جسے احمق بیٹا نصیب ہُوا اُسے گویا رنج مِلا؛ کیونکہ احمق کے باپ کو خُوشی نہیں۔
PRO 17:22 شادمان دِل صحت بخشتا ہے، لیکن اَفسُردہ رُوح ہڈّیوں کو خشک کردیتی ہے۔
PRO 17:23 بدکار خُفیہ طور پر رشوت لیتا ہے تاکہ وہ عدالتی کارروائی سے بچا رہے۔
PRO 17:24 صاحبِ فہم، حِکمت پر نظر رکھتا ہے، لیکن احمق کی آنکھیں زمین کی اِنتہا تک بھٹکتی رہتی ہیں۔
PRO 17:25 احمق بیٹا اَپنے باپ کے لیٔے رنج اَور اَپنی ماں کے لیٔے تلخی لاتا ہے۔
PRO 17:26 کسی بے قُصُور کو سزا دینا اَچھّا نہیں ہے، نہ ہی اہلکاروں کو ناحق کوڑے لگانا۔
PRO 17:27 صاحبِ علم سوچ سمجھ کر بات کرتا ہے، اَور صاحبِ فہم متانت سے کام لیتا ہے۔
PRO 17:28 اگر احمق اَپنا مُنہ بند رکھے تو دانشمند گِنا جاتا ہے، اَور اگر اَپنی زبان کو قابُو میں رکھے تو صاحبِ بصیرت سمجھا جاتا ہے۔
PRO 18:1 ہر کسی کو غَیر سمجھنے والا آدمی خُود غرض ہوتاہے، وہ ہر مَعقُول بات سے برہم ہو جاتا ہے۔
PRO 18:2 احمق کو فہم سے کویٔی خُوشی نہیں ہوتی۔ وہ صِرف اَپنی مرضی ظاہر کرکے خُوش ہوتاہے۔
PRO 18:3 جَب بدکاری آتی ہے تو رُسوائی اُس کے ساتھ ہوتی ہے، اَور شرم کا کام اَپنے ساتھ رُسوائی لاتا ہے۔
PRO 18:4 اِنسان کے مُنہ کی باتیں گہرے پانی کی مانند ہیں، لیکن حِکمت کا چشمہ بہتی ہُوئی نہر ہے۔
PRO 18:5 بدکار کی جانِبداری کرنا یا بے قُصُور کو اِنصاف سے محروم رکھنا، اَچھّا نہیں۔
PRO 18:6 احمق کے لب اُس کے لیٔے فتنہ برپا کرتے ہیں، اَور اُس کا مُنہ تھپّڑ کھانا چاہتاہے۔
PRO 18:7 احمق کا مُنہ اُس کی ہلاکت ہے، اَور اُس کے ہونٹ اُس کی جان کے لیٔے پھندا ہیں۔
PRO 18:8 غیبت گو کی باتیں لذیذ نوالوں کی مانند؛ اِنسان کے اَندر اُتر جاتی ہیں۔
PRO 18:9 جو کوئی اِنسان اَپنے کام میں سُستی کرتا ہے وہ تباہ کرنے والے کا بھایٔی ہے۔
PRO 18:10 یَاہوِہ کا نام محکم بُرج ہے؛ راستباز اُس میں بھاگ جاتے ہیں اَور محفوظ رہتے ہیں۔
PRO 18:11 اَمیروں کی دولت اُن کا محکم شہر ہے؛ وہ اُسے ناقابلِ عبور فصیل سمجھتے ہیں۔
PRO 18:12 اِنسان کے دِل کا تکبُّر اُس کے لیٔے ہلاکت لاتا ہے، لیکن فروتنی اُس کے لیٔے عزّت لاتی ہے۔
PRO 18:13 جو آدمی بات سُننے سے پہلے ہی اُس کا جَواب دیتاہے۔ اُس سے اُس کی حماقت اَور خجالت ظاہر ہوتی ہے۔
PRO 18:14 اِنسان کی رُوح ناتوانی میں اُسے سنبھالتی ہے، لیکن شکستہ رُوح کو کون برداشت کر سَکتا ہے۔
PRO 18:15 صاحبِ فہم کا دِل علم حاصل کرتا ہے؛ اَور دانشمند کے کان اُس کی تلاش میں رہتے ہیں۔
PRO 18:16 آدمی کا نذرانہ اُس کے لیٔے راہ کھول دیتاہے، اَور اُسے بڑے بڑے لوگوں تک پہُنچا دیتاہے۔
PRO 18:17 جو آدمی پہلے اَپنا دعویٰ پیش کرتا ہے وُہی راست مَعلُوم ہوتاہے جَب تک کہ کویٔی اَور آگے آکر اُس سے جرح نہ کرے۔
PRO 18:18 قُرعہ اَندازی سے جھگڑے موقُوف ہو جاتے ہیں اَور اُس سے زورآور فریقوں کو باہم اُلجھنے سے روکا جاتا ہے۔
PRO 18:19 رنجیدہ بھایٔی کو منانا محکم شہر کو لے لینے سے زِیادہ مُشکل ہوتاہے، اَور جھگڑے، قلعہ کی سلاخوں کی مانند ہوتے ہیں۔
PRO 18:20 اِنسان کا پیٹ اُس کے مُنہ کے پھل سے بھرتاہے؛ اَور اَپنے لبوں کی پیداوار سے وہ سیر ہوتاہے۔
PRO 18:21 زبان کو زندگی اَور موت پر قُدرت حاصل ہے، اَورجو اُسے عزیز رکھتے ہیں، اُس کا پھل کھایٔیں گے۔
PRO 18:22 جِس نے بیوی پائی اُس نے گویا تحفہ پا لیا اَور اُس پر یَاہوِہ کا فضل ہُوا۔
PRO 18:23 مُحتاج رحم کی بھیک مانگتاہے، لیکن دولتمند سخت جَواب دیتاہے۔
PRO 18:24 بہت سے دوست رکھنے والا آدمی تباہ و برباد ہو سَکتا ہے، لیکن کویٔی اَیسا دوست بھی ہوتاہے جو بھایٔی سے بھی زِیادہ مَحَبّت دِکھاتا ہے۔
PRO 19:1 ایک مُفلس آدمی جو سیدھی راہ چلتا ہے، اُس احمق سے بہتر ہے جو ہمیشہ جھُوٹ بولتا ہے۔
PRO 19:2 علم کے بغیر جوش اَچھّا نہیں، اَور جلدبازی کرکے راہ سے بھٹک جانا ٹھیک نہیں۔
PRO 19:3 اِنسان کی اَپنی حماقت اُس کی زندگی تباہ کردیتی ہے، اَور اُس کا دِل یَاہوِہ سے بیزار ہو جاتا ہے۔
PRO 19:4 دولت بہت سے دوست لے آتی ہے، لیکن غریب کا دوست بھی اُس سے الگ ہو جاتا ہے۔
PRO 19:5 جھُوٹا گواہ بے سزا نہ چُھوٹے گا، اَور جھُوٹی باتیں کہنے والا رِہائی نہ پایٔےگا۔
PRO 19:6 بہت سے لوگ حاکم کی خُوشامد کرتے ہیں، اَور ہر آدمی تحفہ دینے والے کا دوست بَن جاتا ہے۔
PRO 19:7 جَب ایک مُفلس سے اُس کے اَپنے بھایٔی ہی دُور رہنا پسند کرتے ہیں۔ تو اُس کے دوست تو اَور بھی زِیادہ اُس سے دُور بھاگیں گے! حالانکہ وہ مَنّت سماجت کرتے ہُوئے اُن کے پیچھے جاتا ہے، لیکن وہ اُسے کہیں نہیں ملتے۔
PRO 19:8 جو حِکمت حاصل کرتا ہے اَپنی جان کو عزیز رکھتا ہے؛ اَورجو فہم سے لو لگائے رہتاہے، کامیاب ہوتاہے۔
PRO 19:9 جھُوٹا گواہ بے سزا نہ چُھوٹے گا، اَورجو جھُوٹ بولتا ہے وہ فنا ہو جائے گا۔
PRO 19:10 جَب احمق کو عیش و عشرت کی زندگی زیب نہیں دیتی۔ تَب اُمرا پر غُلام کا حُکمراں ہونا کس قدر نامُناسب ہوگا۔
PRO 19:11 آدمی کی حِکمت اُسے صبر عطا کرتی ہے؛ اَور خطا سے دَرگُذر کرنے میں اُس کی شان ہے۔
PRO 19:12 بادشاہ کا غُصّہ شیر کی گرج کی مانند ہے، لیکن اُس کی نظرِ عنایت اَیسی ہے جَیسی گھاس پر شبنم۔
PRO 19:13 احمق بیٹا اَپنے باپ کے لیٔے مُصیبت ہے، اَور جھگڑالو بیوی اَیسی ہوتی ہے جَیسے سدا کا ٹپکا۔
PRO 19:14 گھر اَور مال، ماں باپ سے مِیراث کے طور پر حاصل ہوتے ہیں، لیکن عقلمند بیوی یَاہوِہ کی طرف سے ملتی ہے۔
PRO 19:15 سُستی گہری نیند طاری کرتی ہے، اَور کاہل آدمی بھُوکا رہتاہے۔
PRO 19:16 خُدا کے حُکموں پر عَمل کرنے والا، اَپنی زندگی کو محفوظ رکھتا ہے، لیکن جو اَپنی راہوں سے غافل ہوگا ہلاک ہو جائے گا۔
PRO 19:17 جو مسکینوں پر رحم کرتا ہے، یَاہوِہ کو قرض دیتاہے، اَور وہ اُسے اُس کے کئے کا اجر دے گا۔
PRO 19:18 جَب تک اُمّید باقی ہے، اَپنے بیٹے کی تادیب کئے جا؛ اُس کی موت کا خیال دِل میں مت لا۔
PRO 19:19 گرم مِزاج اِنسان کو اَپنے غضب کی قیمت چُکانی ہی ہوگی؛ کیونکہ اگر تُم اُسے رِہائی دوگے تو بار بار تُمہیں اَیسا ہی کرنا پڑےگا۔
PRO 19:20 مشورت کو سُنو اَور اَپنی اِصلاح کرو، تاکہ آخِرکار تُم دانشمند ہو جاؤ۔
PRO 19:21 اِنسان کے دِل میں کیٔی منصُوبے ہوتے ہیں، لیکن صِرف یَاہوِہ کا اِرادہ ہی قائِم رہتاہے۔
PRO 19:22 آدمی کو اِحسَان کی تمنّا رہتی ہے؛ مُفلس ہونا فریبی ہونے سے بہتر ہوتاہے۔
PRO 19:23 یَاہوِہ کا خوف زندگی بخشتا ہے، خُدا ترس مطمئن رہتاہے اَور بدی میں مُبتلا نہیں ہوتا۔
PRO 19:24 کاہل اَپنا ہاتھ تھالی میں تو ڈالتا ہے؛ لیکن اِتنا بھی نہیں کرتا کہ پھر اُسے اُٹھاکر اَپنے مُنہ تک لایٔے۔
PRO 19:25 ٹھٹھّےباز کو کوڑے لگا تو سادہ لَوح بھی ہوشیار ہو جائے گا؛ صاحبِ فہم کو تنبیہ کر تو وہ علم حاصل کرےگا۔
PRO 19:26 وہ بیٹا جو اَپنے باپ کو لُوٹتا اَور اَپنی ماں کو نکال دیتاہے خجالت اَور رُسوائی کا کام کرتا ہے۔
PRO 19:27 اَے میرے بیٹے! اَیسی تنبیہ کو خاطِر میں مت لا، جو تُمہیں علم سے برگشتہ کرتی ہو۔
PRO 19:28 رشوت خور گواہ اِنصاف کا مذاق اُڑاتا ہے، بدکار کا مُنہ بدی کو ہڑپ کر لیتا ہے۔
PRO 19:29 ٹھٹّھا کرنے والوں کے لیٔے سزائیں تجویز کی جاتی ہیں، اَور احمق کی پیٹھ کے لیٔے کوڑے۔
PRO 20:1 مَے مضحکہ خیز ہوتی ہے اَور شراب ہنگامہ برپا کرتی ہے؛ اَورجو کویٔی اُن کی وجہ سے بہک جاتا ہے وہ دانا نہیں ہے۔
PRO 20:2 بادشاہ کا غضب شیر کی گرج کے مانند ہوتاہے؛ جو کویٔی اُسے غُصّہ دِلاتا ہے اَپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
PRO 20:3 جھگڑے سے دُور رہنے میں اِنسان کی عزّت ہے، لیکن ہر احمق جھگڑنے کے لیٔے تیّار رہتاہے۔
PRO 20:4 کاہل آدمی وقت پر ہل نہیں چلاتا؛ اِس لیٔے فصل کاٹنے کے وقت وہ ڈھونڈتا ہے لیکن کچھ نہیں پاتا۔
PRO 20:5 مشورے اِنسان کے دِل میں گہرے پانی کی مانند ہوتے ہیں، لیکن صاحبِ فہم اُنہیں اُوپر کھینچ نکالتا ہے۔
PRO 20:6 اکثر آدمی دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کی لافانی مَحَبّت ہے، لیکن وفادار آدمی کسے ملے گا؟
PRO 20:7 راستباز آدمی نیک زندگی گزارتا ہے؛ اُس کے بعد اُس کے بچّے مُبارک ہوتے ہیں۔
PRO 20:8 جَب ایک بادشاہ اَپنے تخت پر اِنصاف کرنے کے لیٔے بیٹھتا ہے، تو وہ اَپنی آنکھوں ہی سے ساری بدی کو پھٹک لیتا ہے۔
PRO 20:9 کون کہہ سَکتا ہے، ”مَیں نے اَپنے دِل کو پاک صَاف کر لیا ہے؛ میں گُناہ سے پاک ہُوں؟“
PRO 20:10 دو طرح کے پیمانے اَور دو طرح کے پیمانے۔ یَاہوِہ کو اُن دونوں سے نفرت ہے۔
PRO 20:11 بچّہ بھی اَپنی حرکتوں سے پہچانا جاتا ہے، کہ اُس کا چال چلن پاک اَور راست ہے یا نہیں۔
PRO 20:12 سُننے والے کان اَور دیکھنے والی آنکھیں۔ اُن دونوں کو یَاہوِہ نے بنایا ہے۔
PRO 20:13 نیند کا عزیز نہ ہو ورنہ تُم مُفلس ہو جاؤگے؛ اَپنی آنکھیں کھُلی رکھو، اَور تمہارے پاس ضروُرت سے زائد خُوراک ہوگی۔
PRO 20:14 خریدار کہتاہے، ”یہ ٹھیک نہیں، یہ اَچھّا نہیں!“ لیکن جَب چل پڑتا ہے تو اَپنی خرید پر فخر کرتا ہے۔
PRO 20:15 سونا بہت ہے اَور لعل بھی کثرت سے ہیں، لیکن علم والے ہونٹ اَیسے ہیرے ہیں جو بہت کم پایٔے جاتے ہیں۔
PRO 20:16 جو کسی بیگانہ کا ضامن ہو، اُس کا کپڑا چھین کر رکھ لو؛ اَور اگر اُس نے کسی اجنبی عورت کی ضمانت دی ہو تو اُس کے کپڑے کو گروی رکھ لو۔
PRO 20:17 دھوکے سے حاصل کیا ہُوا کھانا آدمی کو میٹھا لگتا ہے، لیکن آخِرکار اُس کا مُنہ کنکروں سے بھرجاتا ہے۔
PRO 20:18 منصُوبے بنانے سے پہلے مشورہ کرو؛ اَور جنگ چھیڑنے سے قبل رہنمائی لو۔
PRO 20:19 چُغل خور پر بھروسا نہیں کیا جا سَکتا؛ لہٰذا تُم بکواسی آدمی سے دُور ہی رہو۔
PRO 20:20 اگر کویٔی آدمی اَپنے باپ یا اَپنی ماں پر لعنت کرتا ہے، تو اُس کا چراغ گہری تاریکی میں بُجھایا جائے گا۔
PRO 20:21 اِبتدا میں جو مِیراث یک لخت مِل جاتی ہے اُس کا اَنجام مُبارک نہیں ہوتا۔
PRO 20:22 تُم یہ نہ کہنا، ”میں بدی کا بدلہ لُوں گا!“ یَاہوِہ کی آس رکھو اَور وہ تُمہیں رِہائی بخشیں گے۔
PRO 20:23 غلط اوزان والے باٹ یَاہوِہ کے نزدیک مکرُوہ ہیں، اَور دغا کے ترازو اُسے نا پسند ہیں۔
PRO 20:24 آدمی کے قدم یَاہوِہ کی ہدایت کے مُطابق اُٹھتے ہیں۔ پس کویٔی اَپنی راہ سے کس طرح آشنا ہو سَکتا ہے؟
PRO 20:25 کسی شَے کو بے سوچے سمجھے مُقدّس قرار دینا اَور مَنّت ماننے کے بعد اُس پر غور کرنا، آدمی کے لیٔے پھندا ہے۔
PRO 20:26 دانشمند بادشاہ بدکاروں کو پھٹکتا ہے؛ اَور گاہنے کا پہیّا اُن پر چلواتا ہے۔
PRO 20:27 یَاہوِہ کا چراغ، اِنسان کی رُوح کو ٹٹولتا ہے؛ وہ اُس کے باطِن کا حال دریافت کرلیتے ہیں۔
PRO 20:28 شفقت اَور سچّائی بادشاہ کی حِفاظت کرتی ہیں؛ اَور شفقت ہی سے اُس کا تخت قائِم رہتاہے۔
PRO 20:29 جَوانوں کی شان اُن کی قُوّت ہے، اَور سفید بال بُزرگوں کی زینت ہوتے ہیں۔
PRO 20:30 کوڑوں کی سزا بدی کو دھو ڈالتی ہے، اَور تازیانوں کی مار سے باطِن دُھل جاتا ہے۔
PRO 21:1 بادشاہ کا دِل یَاہوِہ کے ہاتھ میں ندی کی مانند ہوتاہے؛ وہ اُسے جدھر چاہتاہے پھیر دیتاہے۔
PRO 21:2 اِنسان اَپنی تمام روِشوں کو راست سمجھتا ہے، لیکن یَاہوِہ دِلوں کو جانچتے ہیں۔
PRO 21:3 حق اَور راستی یَاہوِہ کے نزدیک قُربانیوں سے زِیادہ پسندِیدہ ہیں۔
PRO 21:4 آنکھوں کا غُرور اَور دِل کا تکبُّر، بدکاروں کا عروج، گُناہ ہیں۔
PRO 21:5 محنتی آدمی کے منصُوبے منافع بخش ہوتے ہیں، لیکن جلدبازی کا نتیجہ یقیناً مفلسی ہوتاہے۔
PRO 21:6 دروغ گوئی سے حاصل کیا ہُوا خزانہ، بخارات کی طرح اُڑ جاتا ہے اَور مہلک پھندا ثابت ہوتاہے۔
PRO 21:7 بدکاروں کا تشدّد اُنہیں نابود کر دے گا، کیونکہ وہ نیک کام کرنے سے اِنکار کرتے ہیں۔
PRO 21:8 گُنہگار کی راہ ٹیڑھی ہوتی ہے، لیکن راستباز کا عَمل دُرست ہوتاہے۔
PRO 21:9 جھگڑالو بیوی کے ساتھ گھر میں رہنے سے چھت پر کسی کونے میں رہنا بہتر ہے۔
PRO 21:10 بدکار ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتاہے؛ وہ اَپنے ہمسایہ پر رحم نہیں کرتا۔
PRO 21:11 جَب ٹھٹّھےباز کو سزا ملتی ہے تو سادہ دِل عقلمند ہو جاتے ہیں؛ جَب کویٔی دانا تربّیت پاتاہے تو وہ علم حاصل کرتا ہے۔
PRO 21:12 صادق بدکار کے گھر پر نظر رکھتا ہے، اَور بدکار کو برباد کر دیتاہے۔
PRO 21:13 جو کویٔی مسکین کی آہ سُن کر اَپنے کان بند کر لیتا ہے، تو جَب وہ آپ بھی آہ و زاری کرےگا، تَب کویٔی اُس کی نہ سُنے گا۔
PRO 21:14 خُفیہ طور پر دیا ہُوا تحفہ، غُصّہ کو ٹھنڈا کرتا ہے، اَور چوغہ میں چھُپا کر دی ہُوئی رشوت بھی شدید غضب کو ٹھنڈا کرتی ہے۔
PRO 21:15 اِنصاف کرنے سے صادق کو خُوشی ہوتی ہے لیکن بدکردار ہیبت زدہ ہو جاتے ہیں۔
PRO 21:16 جو آدمی حِکمت کی راہ سے بھٹکتا ہے، اُسے مُردوں کی جگہ نصیب ہوتی ہے۔
PRO 21:17 عیش و عشرت کو پسند کرنے والا مُفلس بَن جائے گا؛ اَور مَے اَور روغن کا شوقین دولتمند نہ ہوگا۔
PRO 21:18 بدکار صادق کا فدیہ ہوگا، اَور دغاباز راستبازوں کے بدلہ میں دیا جائے گا۔
PRO 21:19 بیابان میں رہنا جھگڑالو اَور بد مِزاج بیوی کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے۔
PRO 21:20 دانشمند اِنسان کے گھر میں مرغوب خُوراک اَور روغن کے خزانے ہوتے ہیں، لیکن احمق اُنہیں اُڑا دیتاہے۔
PRO 21:21 جو آدمی راستی اَور شفقت کی پیروی کرتا ہے زندگی، اِقبالمندی اَور عزّت پاتاہے۔
PRO 21:22 دانشمند سپاہی زبردستوں کے شہر پر حملہ کرتا ہے اَور جِن فصیلوں پر اُن کا اِعتماد ہوتاہے، اُنہیں ڈھا دیتاہے۔
PRO 21:23 جو اَپنے مُنہ اَور اَپنی زبان پر قابُو رکھتا ہے، وہ اَپنے آپ کو آفت سے بچاتا ہے۔
PRO 21:24 مغروُر اَور متکبّر آدمی جو ”ٹھٹّھےباز“ کہلاتا ہے؛ نہایت تکبُّر سے پیش آتا ہے۔
PRO 21:25 کاہل کی تمنّا اُس کی موت کا باعث بَن جاتی ہے، کیونکہ اُس کے ہاتھ محنت کرنے سے اِنکار کرتے ہیں۔
PRO 21:26 دِن بھر وہ زِیادہ پانے کی تمنّا کرتا رہتاہے، لیکن صادق دیتاہے اَور دریغ نہیں کرتا۔
PRO 21:27 بدکار کی قُربانی خُدا کے لئے بڑی نفرت اَنگیز ہوتی ہے۔ خصوصاً جَب وہ بُری نیّت سے چڑھائی جائے۔
PRO 21:28 جھُوٹا گواہ ہلاک ہو جائے گا، لیکن جو کویٔی سچّائی سے واقف ہے وہ چُپ نہ رہے گا۔
PRO 21:29 بدکار اَپنے مُنہ کو سخت کرتا ہے، لیکن راستکار اَپنی راہ پر غور کرتا ہے۔
PRO 21:30 کویٔی حِکمت، کویٔی بصیرت، اَور کویٔی منصُوبہ اَیسا نہیں جو یَاہوِہ کے مقابل ٹھہر سکے۔
PRO 21:31 جنگ کے دِن کے لیٔے گھوڑا تو تیّار کیا جاتا ہے، البتّہ فتح یَاہوِہ کی طرف سے ملتی ہے۔
PRO 22:1 نیک نامی بڑی دولت اَور خزانوں سے بھی افضل ہے؛ اَور اِحسَان سونے چاندی سے بہتر ہے۔
PRO 22:2 اَمیر اَور غریب دونوں ایک سے ہیں؛ کیونکہ یَاہوِہ ہی اُن سَب کے خالق ہیں۔
PRO 22:3 ہوشیار آدمی خطرہ دیکھ کر پناہ ڈھونڈ لیتا ہے، لیکن نادان آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اَور نُقصان اُٹھاتے ہیں۔
PRO 22:4 فروتنی اَور یَاہوِہ کے خوف سے؛ دولت، عزّت اَور زندگی حاصل ہوتی ہے۔
PRO 22:5 بدکار کی راہ میں کانٹے اَور پھندے ہوتے ہیں، لیکن جو اَپنی جان کی حِفاظت کرتا ہے وہ اُن سے دُور رہتاہے۔
PRO 22:6 بچّہ کو اُسی راہ کے مُوافق تربّیت کرو جِس پر اُسے جاناہے، اَور جَب وہ بُوڑھا ہو جائے گا تَب بھی اُس سے نہ ہٹے گا۔
PRO 22:7 اَمیر، غریب پر حُکومت کرتا ہے، اَور اُدھار لینے والا، اُدھار دینے والے کا خادِم بَن جاتا ہے۔
PRO 22:8 جو آدمی بدی بوتا ہے وہ مُصیبت کاٹے گا، اَور اُس کے قہر کی لاٹھی ٹوٹ جائے گی۔
PRO 22:9 فیّاض آدمی خُود بھی برکت پایٔےگا، کیونکہ وہ اَپنے کھانے میں سے غریبوں کو دیتاہے۔
PRO 22:10 ٹھٹھّےباز کو نکال دو تو فساد جاتا رہتاہے؛ اَور لڑائی جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں۔
PRO 22:11 جو پاک دِل ہوتاہے اَور جِس کی باتیں لُطف اَنگیز ہوتی ہیں، بادشاہ اُسے اَپنا مُصاحب عزیز بنا لیتا ہے۔
PRO 22:12 یَاہوِہ کی آنکھیں علم کی حِفاظت کرتی ہیں، لیکن وہ دغابازوں کی باتوں کو اُلٹ دیتے ہیں۔
PRO 22:13 کاہل کہتاہے: ”شیر باہر کھڑا ہے! یا میں کوچوں میں قتل کر دیا جاؤں گا!“
PRO 22:14 زانیہ کا مُنہ گہرا گڑھا ہے؛ جِس پر یَاہوِہ کا غضب ہوتاہے، وُہی اُس میں گِرے گا۔
PRO 22:15 حماقت بچّہ کے دِل سے وابستہ رہتی ہے، لیکن تربّیت کی چھڑی اُسے اُس سے دُور کر دے گی۔
PRO 22:16 جو آدمی اَپنی دولت بڑھانے کے لیٔے کنگالوں پر ظُلم ڈھاتا ہے، اَورجو دولتمندوں کو تحفے پیش کرتا ہے؛ دونوں غربت کا شِکار ہو جاتے ہیں۔
PRO 22:17 کان لگا کر دانشمندوں کے اقوال سُنو؛ اَور میری تعلیم پر دِل لگاؤ۔
PRO 22:18 اگر تُم اُنہیں اَپنے دِل میں رکھو، اَور وہ سَب تمہارے لبوں پر رہیں، تو یہ نہایت ہی خُوشی کی بات ہوگی۔
PRO 22:19 مَیں نے آج کے دِن تُمہیں ہاں تُم ہی کو یہ دانشمندی کی باتیں سِکھائی ہیں، تاکہ تمہارا توکّل یَاہوِہ پر ہو۔
PRO 22:20 کیا مَیں نے تمہارے لیٔے تیس مقولے نہیں لکھے، وہ مشورت اَور علم کے اقوال،
PRO 22:21 جو تُمہیں سچّی اَور قابلِ اِعتماد باتیں سِکھاتے ہیں، تاکہ جِس نے تُمہیں بھیجا ہے، تُم اُسے مَعقُول جَواب دے سکو؟
PRO 22:22 مسکینوں کو اُن کے مسکین ہونے کے باعث مت لُوٹو اَور نہ عدالت میں کسی مُحتاج کو دبانے کی کوشش کرو۔
PRO 22:23 کیونکہ یَاہوِہ اُن کا مُعاملہ اَپنے ہاتھ میں لیں گے اَورجو اُنہیں لُوٹتے ہیں، اُنہیں وہ لُوٹیں گے۔
PRO 22:24 غُصّہ ور آدمی سے دوستی نہ کرو، اَور غضبناک آدمی سے رابطہ نہ رکھو۔
PRO 22:25 کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم اُس کے ضوابط سیکھو اَور اَپنے آپ کو پھندے میں پھنسا لو۔
PRO 22:26 تُم اَیسے آدمی نہ بنو جو کسی کے قرض اَدا کرنے کا ذمّہ لیتے ہیں، یا قرضداروں کی ضمانت دیتے ہیں؛
PRO 22:27 کیونکہ اگر تمہارے پاس اَدا کرنے کو کچھ نہ ہو، تو تمہارے نیچے سے تمہارا بِستر بھی کھینچ لیا جائے گا۔
PRO 22:28 تُم اُس قدیم حَد کا پتّھر نہ ہٹانا جسے تمہارے آباؤاَجداد نے قائِم کیا تھا۔
PRO 22:29 کیا تُم نے کویٔی اَیسا آدمی دیکھاہے جو اَپنے فن میں ماہر ہے؟ وہ بادشاہوں کے حُضُور میں کسی کام پر سرفراز ہوگا؛ نہ کہ ادنیٰ اہلکاروں کے سامنے۔
PRO 23:1 جَب تُم حاکم کے ساتھ کھانے کے لیٔے بیٹھو، تو نہایت غور سے دیکھو کہ تمہارے سامنے کون ہے۔
PRO 23:2 اَور اگر تُم کھانے کے شوقین ہو تو اَپنے گلے پر چھُری رکھو۔
PRO 23:3 اُس کے لذیذ کھانے کا خواستگار نہ ہو، کیونکہ وہ کھانا دھوکے کا ہے۔
PRO 23:4 مالدار ہونے کے لیٔے دَوڑ دھوپ نہ کرو؛ بَلکہ حِکمت سے کام لو اَور خُود پر قابُو پا لو۔
PRO 23:5 دولت تمہارے دیکھتے دیکھتے غائب ہو جائے گی، کیونکہ اُس میں یقیناً عُقاب کی مانند پر لگ جایٔیں گے، اَور وہ آسمان کی طرف اُڑ جائے گی۔
PRO 23:6 تُم کنجوس آدمی کی روٹی نہ کھانا، اَور نہ اُس کے لذیذ کھانے کی تمنّا کرنا؛
PRO 23:7 کیونکہ وہ اَیسا آدمی ہے جو دِل کا کنجوس ہے وہ تُم سے کہتاہے، ”کھائیے اَور پیجئے!“ لیکن یہ بات اُس کے دِل سے نہیں، صِرف مُنہ سے نکلتی ہے۔
PRO 23:8 تُم نے جو تھوڑا بہت کھایا ہوگا اُسے تُم اُگل دوگے، اَور تمہارے تعریفی کلمات بے سُود ثابت ہوں گے۔
PRO 23:9 احمق سے ہم کلام نہ ہو، وہ تمہارے حِکمت بھرے الفاظ کی تحقیر کرےگا۔
PRO 23:10 قدیم حَد کے پتّھر کو نہ ہٹانا، نہ یتیموں کے کھیتوں پر قبضہ کرنا۔
PRO 23:11 کیونکہ اُن کا بچانے والا زبردست طاقتور ہے، وہ تمہارے خِلاف اُن کا مُقدّمہ لڑے گا۔
PRO 23:12 تربّیت پر اَپنا دِل لگاؤ اَور علم کی باتوں کو غور سے سُنو۔
PRO 23:13 لڑکے کی تربّیت سے کوتاہی نہ کرو؛ کیونکہ اگر تُم اُسے چھڑی سے مارو بھی، تو وہ نہ مَرے گا۔
PRO 23:14 اُسے چھڑی سے مارو اَور اُس کی جان کو پاتال سے بچالو۔
PRO 23:15 اَے میرے بیٹے! اگر تمہارا دِل دانا ہے، تو میرا دِل بھی خُوش ہوگا؛
PRO 23:16 جَب تمہارے لبوں سے جائز باتیں نکلیں گی تو میرا دِل بھی شادمان ہوگا۔
PRO 23:17 تمہارا دِل گُنہگاروں پر رشک نہ کرے، بَلکہ تُم ہمیشہ یَاہوِہ کے خوف میں زندگی گُزارو۔
PRO 23:18 کیونکہ تمہارا اجر یقینی ہے، اَور تمہاری اُمّید نہ ٹُوٹے گی۔
PRO 23:19 اَے میرے بیٹے! سُنو اَور دانا بنو، اَور اَپنا دِل سیدھی راہ پر قائِم رکھو:
PRO 23:20 شرابیوں اَور کبابیوں کی صحبت سے دُور رہنا،
PRO 23:21 کیونکہ متوالوں اَور پیٹو مُفلس ہو جایٔیں گے، اَور نیند اُنہیں چیتھڑے پہنائے گی۔
PRO 23:22 اَپنے باپ کی سُنو جنہوں نے تُمہیں زندگی بخشی، اَور اَپنی ماں کی ضعیفی میں اُن کی تحقیر نہ کرنا۔
PRO 23:23 سچّائی کو خرید لو اَور اُسے فروخت نہ کرنا؛ اَور حِکمت، تربّیت اَور فہم کو حاصل کرنا۔
PRO 23:24 راستباز آدمی کے باپ کو بڑی خُوشی ہوگی؛ جِس کے ہاں دانشمند بیٹا ہوگا، وہ باپ بھی اُس سے خُوش ہوگا۔
PRO 23:25 تمہارے والدین تُم سے خُوش ہوں؛ اَور جِس ماں نے تُمہیں پیدا کیا وہ تمہارے باعث خُوشی منائے!
PRO 23:26 اَے میرے بیٹے! اَپنا دِل مُجھے دو اَور تمہاری آنکھیں میری راہوں پر لگی رہیں،
PRO 23:27 کیونکہ فاحِشہ ایک گہرا گڑھا ہے اَور بدچلن بیوی ایک تنگ کنواں ہے۔
PRO 23:28 وہ ایک راہزن کی طرح گھات میں بیٹھتی ہے، اَور آدمیوں میں دغابازوں کی تعداد بڑھاتی ہے۔
PRO 23:29 کون افسوس کرتا ہے؟ کون غمزدہ ہے؟ کون جھگڑوں میں پھنسا ہے؟ کسے شکایتیں ہیں؟ کون بے سبب زخمی ہے اَور کس کی آنکھیں سُرخ ہو گئی ہیں؟
PRO 23:30 اُن کی، جو خُوب مَے نوشی کرتے ہیں، وُہی جو مِلی جلی شراب کے نمونوں کے جام چَکھنے جاتے ہیں۔
PRO 23:31 جَب مَے سُرخ نظر آئے، جَب اُس کا جام بھی چمک رہا ہو، اَور جَب وہ روانی کے ساتھ گلے سے نیچے اُترتی ہے، تَب تُم اُس کی طرف سے نظریں ہٹا لینا!
PRO 23:32 کیونکہ آخِرکار وہ سانپ کی طرح کاٹتی ہے اَور افعی کی مانند ڈس لیتی ہے۔
PRO 23:33 تمہاری آنکھیں عجِیب نظارے دیکھیں گی اَور تمہارے دماغ میں عجِیب عجِیب خیال آئیں گے۔
PRO 23:34 تُم سمُندر کے درمیان لیٹنے والے، یا مستُول کے سِرے پر سونے والے کی مانند ہوگے۔
PRO 23:35 تُم کہو گے، ”اُنہُوں نے مُجھے مارا لیکن مُجھے چوٹ نہیں لگی! اُنہُوں نے مُجھے پِیٹا لیکن مُجھے مَعلُوم تک نہ ہُوا! میں کب جاگوں گا تاکہ ایک اَور جام نوش کر سکوں؟“
PRO 24:1 بدکاروں پر رشک نہ کرنا، اَور نہ اُن کی صحبت کی خواہش رکھنا؛
PRO 24:2 کیونکہ اُن کے دِل تشدّد کے منصُوبے بناتے ہیں، اَور اُن کے ہونٹوں پر شرارت کا ذِکر رہتاہے۔
PRO 24:3 حِکمت سے گھر تعمیر کیا جاتا ہے، اَور فہم سے اُسے قائِم کیا جاتا ہے؛
PRO 24:4 اَور علم کے وسیلہ سے اُس کے کمرے نادر اَور نفیس مال سے بھر دئیے جاتے ہیں۔
PRO 24:5 دانشمند اِنسان نہایت زورآور ہوتاہے، اَور صاحبِ علم کا زور بڑھتا رہتاہے؛
PRO 24:6 جنگ کرنے کے لیٔے رہنمائی کی ضروُرت ہوتی ہے، اَور مُشیروں کی کثرت فتحیابی کا باعث بنتی ہے۔
PRO 24:7 حِکمت احمق کے لیٔے بہت بُلند ہے؛ وہ پھاٹک پر مجمع میں مُنہ نہیں کھول سَکتا۔
PRO 24:8 جو کوئی بُرے منصُوبے باندھتا ہے وہ فتنہ اَنگیز کہلائے گا۔
PRO 24:9 حماقت کے منصُوبے گُناہ ہوتے ہیں، اَور لوگ ٹھٹّھےباز سے نفرت کرتے ہیں۔
PRO 24:10 اگر تُم مُصیبت کے ایّام میں ڈگمگانے لگتے ہو، تو تمہاری قُوّت کتنی کم ہے!
PRO 24:11 جو قتل کے لیٔے لے جائے جا رہے ہیں اُنہیں چھُڑاؤ؛ اَورجو ذبح کئے جانے کے لیٔے گھسیٹے جا رہے ہیں اُنہیں بچاؤ۔
PRO 24:12 اگر تُم یُوں کہو، ”ہمیں اُس کا بالکُل علم نہ تھا۔“ تو کیا خُدا جو تمہارے دِلوں کو جانچنے والے یہ نہیں سمجھتے؟ اَور کیا تمہاری جان کے نگہبان یہ نہیں جانتے؟ کیا وہ ہر آدمی کو اُس کے اعمال کے مُطابق بدلہ نہ دیں گے؟
PRO 24:13 اَے میرے بیٹے! شہد کھاؤ کیونکہ وہ اَچھّا ہوتاہے؛ اَور شہد کا چھتّا بھی جو تالُو کو میٹھا لگتا ہے۔
PRO 24:14 یہ بھی جان لو کہ حِکمت تمہاری جان کے لیٔے میٹھی ہوگی: اگر تُم اُسے حاصل کروگے، تو تمہارا اَنجام بھلا ہوگا، اَور تمہاری اُمّید نہ ٹُوٹے گی۔
PRO 24:15 اَے بدکار! تُو راستباز کے گھر کی گھات میں نہ بیٹھنا، اَور اُن کی قِیام گاہ کو مت ڈھانا؛
PRO 24:16 کیونکہ راستباز سات بار گِرے تو بھی اُٹھ کھڑا ہوتاہے، لیکن بدکار آفت میں مُبتلا ہوکر پڑے ہی رہتے ہیں۔
PRO 24:17 جَب تمہارا دُشمن گِر جائے تو خُوشی نہ منانا؛ اَور جَب وہ ٹھوکر کھائے تو تمہارا دِل شادمان نہ ہو،
PRO 24:18 ممکن ہے کہ یَاہوِہ تمہارے رویّہ کو نا پسند فرمایٔے اَور اَپنا غضب اَپنے دُشمنوں پر سے ہٹا لے۔
PRO 24:19 بدکرداروں کے باعث پریشان نہ ہو اَور بدکاروں پر رشک نہ کرو،
PRO 24:20 کیونکہ بدکردار کے لیٔے کویٔی اُمّید باقی نہیں، اَور بدکاروں کا چراغ بُجھا دیا جائے گا۔
PRO 24:21 اَے میرے بیٹے! یَاہوِہ کا اَور بادشاہ کا خوف مانو، اَور باغی اہلکاروں کی صحبت میں نہ رہنا،
PRO 24:22 کیونکہ اُن دونوں کی طرف سے ناگہاں مُصیبت نازل ہوتی ہے، اَور اُس مُصیبت کا اَندازہ کون لگا سَکتا ہے؟
PRO 24:23 یہ بھی دانشمندوں کے اقوال ہیں: اِنصاف کرتے وقت جانِبداری سے کام لینا اَچھّا نہیں:
PRO 24:24 جو خطاکار سے کہے، ”تُم بے قُصُور ہو،“ لوگ اُس پر لعنت کریں گے اَور قومیں اُس سے نفرت کریں گی۔
PRO 24:25 لیکن جو لوگ خطاکاروں کو سزا دیتے ہیں اُن کے حق میں بھلا ہوگا، اَور اُن پر بڑی برکت نازل ہوگی۔
PRO 24:26 سچّا جَواب لبوں پر بوسہ دینے کی مانند ہے۔
PRO 24:27 پہلے اَپنا باہر کا کام پُورا کر لو اَور کھیتوں کا کام بھی ختم کر لو، اَور اُس کے بعد اَپنے لیٔے گھر تعمیر کرنا۔
PRO 24:28 اَپنے ہمسایہ کے خِلاف بلاوجہ گواہی نہ دینا، اَور نہ اَپنے ہونٹ دغابازی کے لیٔے اِستعمال کرنا۔
PRO 24:29 یہ نہ کہہ، ”میں اُس کے ساتھ وَیسا ہی کروں گا جَیسا اُس نے میرے ساتھ کیا؛ میں اُس آدمی کو اُس کے کئے کا بدلہ دُوں گا۔“
PRO 24:30 ایک کاہل آدمی کے کھیت کے پاس سے، اَور ایک بے عقل کے تاکستان کے پاس سے میرا گزر ہُوا؛
PRO 24:31 وہاں ہر جگہ کانٹے اُگے ہُوئے تھے، اَور زمین بِچھُّو بُوٹی سے ڈھکی پڑی تھی، اَور اُس کی پتھّروں کی دیوار گِر چُکی تھی۔
PRO 24:32 مَیں نے جو کچھ دیکھا اُس پر نہایت سنجِیدگی سے غور کیا، اَورجو کچھ دیکھا اُس سے یہ عِبرت حاصل کی؛
PRO 24:33 تھوڑی سِی نیند، ذرا سِی جھپکی، تھوڑی دیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے پڑے رہنا۔
PRO 24:34 تَب تُم پر راہزن کی مانند مفلسی اَور مُسلّح آدمی کی مانند تنگ دستی آ پڑےگی۔
PRO 25:1 یہ شُلومونؔ کی مزید امثال ہیں جنہیں یہُودیؔہ کے بادشاہ حِزقیاہؔ کے لوگوں نے نقل کیا:
PRO 25:2 خُدا کا جلال رازداری میں ہے؛ اَور بادشاہوں کا جلال مُعاملات کی تفتیش کرنے میں ہے۔
PRO 25:3 جِس طرح آسمان کی اُونچائی اَور زمین کی گہرائی تک پہُنچنا مُشکل ہے، اُسی قدر بادشاہوں کے دِلوں کا حال جاننا مُشکل ہے۔
PRO 25:4 چاندی سے اُس کا مَیل دُور کر دیا جائے، تو وہ سُنار کے لیٔے برتن بنانے کے کام آتی ہے؛
PRO 25:5 اگر بدکار بادشاہ کی حُضُوری سے نکال دئیے جایٔیں، تو اُس کا تخت راستی کی بُنیاد پر قائِم رہے گا۔
PRO 25:6 بادشاہ کے سامنے اَپنی بڑائی نہ کرنا، اَور نہ مُعزّز لوگوں کے درمیان نشست طلب کرنا؛
PRO 25:7 بہتر یہ ہوگا، ”وہ تُم سے کہے، اِدھر اُوپر آ جاؤ،“ بہ نِسبت اُس کہ سَب کی نظروں کے سامنے۔ تُمہیں نیچی جگہ پر جانے کے لیٔے کہا جائے۔
PRO 25:8 اُسے عدالت میں بَیان کرنے میں جلدبازی سے کام مت لینا، آخِرکار، اگر تمہارا ہمسایہ تُمہیں جھُوٹا ثابت کر دے، تَب تُم کیا کروگے؟
PRO 25:9 اگر تُم اَپنے ہمسایہ کے ساتھ اَپنے دعویٰ کے سلسلہ میں جھگڑا کرتے ہو، تو کسی اَور کا راز فاش نہ کرنا،
PRO 25:10 کہیں اَیسا نہ ہو کہ جو اُسے سُنے، تُمہیں بدنام کر دے اَور تمہاری رُسوائی کبھی دُور نہ ہو۔
PRO 25:11 جو بات مُناسب وقت پر کہی جائے وہ چاندی کی رکابی میں سونے کے سیب کی مانند ہوتی ہے۔
PRO 25:12 سُننے والے کان کے لیٔے دانشمند کی ملامت سُنہری بالی یا خالص سونے کے گہنے کے مانند ہے۔
PRO 25:13 قابلِ اِعتماد قاصِد، اَپنے بھیجنے والوں کے لیٔے گرم موسم کی برف کی ٹھنڈک کی مانند ہوتاہے؛ وہ اَپنے مالکوں کی جان کو تازہ دَم کر دیتاہے۔
PRO 25:14 جو عطیے کسی کو بھی نہ دئیے جایٔیں، اُن کی خوبیاں بَیان کرنے والا آدمی بے بارش بادلوں اَور خشک ہَوا کی مانند ہوتاہے۔
PRO 25:15 صبر و تحمُّل سے حاکم کو راضی کیا جا سَکتا ہے، اَور نرم زبان ہڈّی کو بھی توڑ سکتی ہے۔
PRO 25:16 اگر تُم نے شہد پایا، تو اُسے حَد سے زِیادہ مت کھانا، اگر زِیادہ کھا لوگے تو اُسے تُم اُگل دوگے۔
PRO 25:17 ہمسایہ کے گھر میں زِیادہ آنا جانا ٹھیک نہیں، اَیسا کرنے سے وہ تُم سے نفرت کرنے لگے گا۔
PRO 25:18 جو آدمی اَپنے ہمسایہ کے خِلاف جھُوٹی گواہی دیتاہے، وہ ہتھوڑے یا تلوار، یا تیز تیر کی مانند ہے۔
PRO 25:19 مُصیبت کے وقت کسی بےوفا پر اِعتماد کرنا، ٹُوٹے ہُوئے دانت، یا لنگڑے پاؤں کی طرح ہے۔
PRO 25:20 کسی غمگین کے سامنے نغمہ گانے والا، جاڑے میں کسی کے کپڑے اُتار لینے والے یا زخم پر سِرکہ ڈالنے والے کی مانند ہے۔
PRO 25:21 اگر تمہارا دُشمن بھُوکا ہو، تو اُسے کھانا کھِلاؤ؛ اگر وہ پیاسا ہو، تو اُسے پانی پِلاؤ۔
PRO 25:22 کیونکہ اَیسا کرنے سے تُم اُس کے سَر پر دہکتے اَنگاروں کا ڈھیر لگاؤگے، اَور یَاہوِہ تُمہیں اجر دیں گے۔
PRO 25:23 جِس طرح شمالی ہَوا بارش لاتی ہے، وَیسے ہی دروغ گو زبان تُرش روئی لاتی ہے۔
PRO 25:24 جھگڑالو بیوی کے ساتھ گھر میں رہنے سے، چھت پر کسی کونے میں رہنا بہتر ہے۔
PRO 25:25 دُور کے مُلک سے آئی ہُوئی خُوشخبری اَیسی ہوتی ہے، جَیسے تھکی ماندی جان کے لیٔے ٹھنڈا پانی۔
PRO 25:26 جو صادق بدکار کے آگے گھُٹنے ٹیک دیتاہے وہ اَیسا چشمہ ہے جو گدلا اَور اَیسا سوتا ہے جو ناپاک ہو گیا ہے۔
PRO 25:27 زِیادہ شہد کھانا اَچھّا نہیں ہوتا، نہ ہی خُود اَپنی بُزرگی کے راگ گاتے رہنے سے عزّت بڑھتی ہے۔
PRO 25:28 جِس آدمی کو اَپنے نَفس پر قابُو نہیں وہ اُس شہر کی مانند ہے جِس کی فصیلیں گِر چُکی ہوں۔
PRO 26:1 جِس طرح موسم گرما میں برف کا گرنا یا فصل کے کاٹنے کے وقت بارش ہونے لگنا ٹھیک نہیں ہوتا، وَیسے ہی احمق کے لیٔے عزّت ٹھیک نہیں ہوتی۔
PRO 26:2 جِس طرح چڑیا اِدھر سے اُدھر اُڑتی پھرتی ہے یا ابابیل محوپرواز رہتی ہے، اُسی طرح ناواجَب لعنت کو بھی ٹھکانہ نہیں ملتا۔
PRO 26:3 جِس طرح گھوڑے کے لیٔے چابک اَور گدھے کے لیٔے لگام ہے، وَیسے ہی احمقوں کی پیٹھ کے لیٔے چھڑی ہے!
PRO 26:4 احمق کو اُس کی حماقت کے مُطابق جَواب نہ دو، کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم بھی اُس کی مانند ہو جاؤ۔
PRO 26:5 احمق کو اُس کی حماقت کے مُطابق جَواب دو، نہیں تو وہ خُود کو عقلمند سمجھنے لگے گا۔
PRO 26:6 احمق کے ہاتھ پیغام بھیجنا اَپنے پاؤں پر کُلہاڑا مارنے یا ظُلم کا پیالہ پینے کے برابر ہے۔
PRO 26:7 جَیسے لنگڑے کی ٹانگیں لڑکھڑاتی ہیں وَیسے ہی احمق کے مُنہ میں تمثیل ہوتی ہے۔
PRO 26:8 احمق کو اِعزاز بخشنا فلاخن میں پتّھر باندھ دینے کے برابر ہے۔
PRO 26:9 احمق کے مُنہ میں تمثیل متوالے کے ہاتھ میں کانٹے دار جھاڑی کی مانند ہے۔
PRO 26:10 جو کسی احمق یا راہگزارو کو مزدُوری پر لگاتاہے وہ اُس تیرانداز کی مانند ہے جو سَب کو زخمی کرتا ہے۔
PRO 26:11 جِس طرح کُتّا اَپنی قَے کو پھر سے چٹ کر جاتا ہے، اُسی طرح احمق اَپنی حماقت کو دہراتا رہتاہے۔
PRO 26:12 اگر تُم اَیسے آدمی کو دیکھتے ہو جو اَپنی نگاہ میں عقلمند بنتا ہے، تو اُس کی نِسبت احمق کے لیٔے زِیادہ اُمّید ہے۔
PRO 26:13 کاہل کہتاہے، ”شیر راہ میں ہے، شیر گلیوں میں گھُوم رہاہے!“
PRO 26:14 جِس طرح دروازہ اَپنی چُولوں پر گھُومتا ہے، اُسی طرح کاہل اَپنے بِستر پر کروٹ بدلتا رہتاہے۔
PRO 26:15 کاہل اَپنا ہاتھ تھالی میں تو ڈالتا ہے؛ لیکن سُستی کے باعث اُسے واپس مُنہ تک نہیں لاتا۔
PRO 26:16 کاہل اَپنے آپ کو مُدلّل جَواب دینے والے سات شَخصوں سے بھی زِیادہ دانا سمجھتا ہے۔
PRO 26:17 جو راہ گیر پرائے جھگڑے میں دخل اَنداز ہوتاہے وہ اُس آدمی کی مانند ہے جو کُتّے کو کان سے پکڑتا ہے۔
PRO 26:18 جَیسے کویٔی پاگل جلتی لکڑیاں اَور مہلک تیر پھینکتا ہے
PRO 26:19 وَیسے ہی وہ آدمی ہے جو اَپنے ہمسایہ کو دھوکا دے کر کہتاہے اَور کہتے ہیں، ”میں تو مذاق کر رہاتھا!“
PRO 26:20 جَیسے لکڑی نہ ہونے سے آگ بُجھ جاتی ہے؛ وَیسے ہی جہاں چُغل خور نہیں ہوتا وہاں جھگڑا مِٹ جاتا ہے۔
PRO 26:21 جَیسے اَنگاروں کے لیٔے کوئلہ اَور آگ کے لیٔے لکڑی درکار ہوتی ہے، اُسی طرح فتنہ اَنگیز آدمی جھگڑا برپا کرنے کے لیٔے ہے۔
PRO 26:22 غیبت گو کی باتیں لذیذ نوالوں کی مانند؛ اِنسان کے اَندر اُتر جاتی ہیں۔
PRO 26:23 اگر دِل بُرا ہو تو ہونٹوں کی مٹھاس اَیسی ہوتی ہے جَیسے مٹّی کے برتن پر کھوٹی چاندی کی تہہ جمی ہو۔
PRO 26:24 کینہ پرور اِنسان اَپنے لبوں سے تو بھولی بھالی باتیں کہتاہے، لیکن اُس کا دِل دغا سے بھرا ہوتاہے۔
PRO 26:25 اُس کی باتیں بڑی میٹھی ہوتی ہیں، تو بھی اُس کا یقین نہ کرنا، کیونکہ اُس کا دِل نفرت سے بھرا ہوتاہے۔
PRO 26:26 اُس کی عداوت اُس کے مکر سے چھُپ بھی جائے، لیکن اُس کی شرارت مجمع عام میں عیاں ہو جائے گی۔
PRO 26:27 اگر کویٔی دُوسروں کے لیٔے گڑھا کھودتا ہے، تو وہ آپ ہی اُس میں گِر جائے گا؛ اَور اگر کویٔی پتّھر لڑھکاتا ہے تو وہ پتّھر پلٹ کر اُسی پر آ پڑےگا۔
PRO 26:28 جھُوٹی زبان اَپنے زخمیوں سے نفرت کرتی ہے، اَور خُوشامدی مُنہ بربادی لاتا ہے۔
PRO 27:1 آنے والے کل پر گھمنڈ نہ کرو، کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ اُس دِن کیا ہوگا۔
PRO 27:2 بہتر یہ ہے کہ غَیر تمہاری تعریف کریں، نہ کہ تمہارا اَپنا مُنہ؛ کویٔی بیگانہ کرے، نہ کہ تمہارے اَپنے ہونٹ۔
PRO 27:3 پتّھر بھاری ہوتاہے، اَور ریت وزنی، لیکن احمق کا غُصّہ اُن دونوں سے بھاری ہے۔
PRO 27:4 غُصّہ سخت بے رحمی اَور غضب، سیلاب ہے، لیکن حَسد کے سامنے کون ٹِک سَکتا ہے؟
PRO 27:5 چھپی مَحَبّت سے کھُلی ملامت بہتر ہے۔
PRO 27:6 جو زخم عزیز دوست کے ہاتھ سے لگیں، اُن پر بھروسا کیا جا سَکتا ہے، لیکن دُشمن کے بوسے شُمار میں زِیادہ ہوتے ہیں۔
PRO 27:7 جو آدمی سیر ہو چُکاہے، اُسے شہد بھی اَچھّا نہیں لگتا، لیکن بھُوکے اِنسان کے لیٔے کڑوی شَے بھی میٹھی ہوتی ہے۔
PRO 27:8 جو آدمی اَپنا گھر چھوڑ دیتاہے وہ اُس پرندے کی مانند ہے جو اَپنے گھونسلے سے بھٹک گیا ہو۔
PRO 27:9 عطر اَور لوبان دِل کو فرحت بخشتے ہیں، اِسی طرح دوست کی سچّی مشورت سے جان راحت پاتی ہے۔
PRO 27:10 اَپنے دوست اَور اَپنے باپ کے دوست کو ترک نہ کرو، اَور جَب تُم پر مُصیبت آ پڑے تو اَپنے بھایٔی کے گھر نہ جاؤ۔ قریب رہنے والا ہمسایہ دُور رہنے والے بھایٔی سے بہتر ہے۔
PRO 27:11 اَے میرے بیٹے! دانشمند بنو اَور میرے دِل کو شاد کرو؛ تاکہ میں اَپنے ملامت کرنے والے کو جَواب دے سکوں۔
PRO 27:12 ہوشیار آدمی خطرہ دیکھ کر پناہ ڈھونڈ لیتا ہے، لیکن نادان آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اَور نُقصان اُٹھاتے ہیں۔
PRO 27:13 جو کسی بیگانہ کا ضامن ہو، اُس کا کپڑا چھین کر رکھ لو؛ اَور اگر اُس نے کسی اجنبی عورت کی ضمانت دی ہو تو اُس کے کپڑے کو گروی رکھ لو۔
PRO 27:14 اگر کویٔی آدمی صُبح سویرے اُٹھ کر اَپنے ہمسایہ کے لیٔے بُلند آواز سے دُعائے خیر کرتا ہے، تو اُسے لعنت گِنا جائے گا۔
PRO 27:15 جھگڑالو عورت اَور جھڑی کے دِن کا مُتواتر ٹپکا یکساں ہوتے ہیں؛
PRO 27:16 اُسے روکنا، ہَوا کو روکنے کی طرح ہے یا تیل کو ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کرنا۔
PRO 27:17 جِس طرح لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے، وَیسے ہی ایک آدمی دُوسرے آدمی کی ذہانت کو تیز کرنے کا باعث بنتا ہے۔
PRO 27:18 جو اَنجیر کے درخت کی حِفاظت کرتا ہے، وہ اُس کا پھل کھائے گا، اَورجو اَپنے آقا کا خیال رکھتا ہے، عزّت پایٔےگا۔
PRO 27:19 جِس طرح پانی میں آدمی کا اَور اُس کے چہرہ کا عکس ایک سا دِکھائی دیتاہے، اُسی طرح آدمی کا عکس آدمی کے دِل سے ظاہر ہوتاہے۔
PRO 27:20 جِس طرح موت اَور ہلاکت کا بھر جانا ممکن نہیں، اُسی طرح اِنسان کی آنکھیں سیر نہیں ہوتیں۔
PRO 27:21 چاندی کے لیٔے کُٹھالی اَور سونے کے لیٔے بھٹّی ہوتی ہے، وَیسے ہی اِنسان اَپنی تعریف سے آزمایا جاتا ہے۔
PRO 27:22 چاہے تُم احمق کو اوکھلی میں ڈال کر کُوٹو، جَیسے اناج کو موسل سے کُوٹتے ہیں، تو بھی اُس کی حماقت اُس سے دُور نہ ہوگی۔
PRO 27:23 اَپنے مویشیوں کی حالت اَچھّی دیکھ کر مطمئن ہو، اَور اَپنے گلّوں کا اَچھّی طرح سے خیال رکھو؛
PRO 27:24 کیونکہ دولت سدا نہیں رہتی، اَور نہ تاج پُشت در پُشت محفوظ رہتاہے۔
PRO 27:25 جَب سُوکھی گھاس جمع کرلی جاتی ہے، تو نئی پیدا ہو جاتی ہے اَور پہاڑیوں پر سے چارہ کاٹ کر جمع کر لیا جاتا ہے،
PRO 27:26 برّے تُمہیں لباس مُہیّا کریں گے، اَور بکریاں کھیتوں کی قیمت اَدا کریں گی۔
PRO 27:27 تمہارے پاس بکریوں کا دُودھ کثرت سے ہوگا جو تمہارے اَور تمہارے خاندان کے پینے کے لیٔے اَور تمہاری خادِماؤں کے گذارے کے لیٔے کافی ہوگا۔
PRO 28:1 بدکار بھاگتا چلا جاتا ہے، خواہ اُس کے تعاقب میں کویٔی بھی نہ ہو، لیکن صادق، شیرببر کی مانند دِلیر ہوتے ہیں۔
PRO 28:2 مُلک میں بغاوت کے باعث حاکموں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، لیکن صاحبِ علم اِنسان ہی اَمن برقرار رکھتا ہے۔
PRO 28:3 مُحتاجوں پر ظُلم ڈھانے والا حاکم اُس موسلادھار مینہ کی مانند ہے جو فصل کو باقی نہیں چھوڑتا۔
PRO 28:4 ہدایات کو ترک کر دینے والے بدکاروں کی تعریف کرتے ہیں، لیکن شَریعت پر عَمل کرنے والے، اُن کی مزاحمت کرتے ہیں۔
PRO 28:5 بدکردار اِنصاف کو نہیں سمجھتے، لیکن جو یَاہوِہ کے طالب ہوتے ہیں، وہ اُسے بخُوبی سمجھتے ہیں۔
PRO 28:6 کجرو دولتمند سے راست رَو مُفلس بہتر ہے۔
PRO 28:7 ہدایات پر عَمل کرنے والا بیٹا صاحبِ فہم کہلاتا ہے، لیکن کھاؤ لوگوں کا ساتھی اَپنے باپ کو رُسوا کرتا ہے۔
PRO 28:8 جو ناجائز سُود وصول کرکے اَپنی دولت بڑھاتاہے وہ اُس کے لیٔے جمع کرتا ہے جو مُحتاجوں پر رحم کرےگا۔
PRO 28:9 جو کویٔی ہدایات پر کان نہیں لگاتا، اُس کی دعائیں بھی مکرُوہ ہوتی ہیں۔
PRO 28:10 جو کسی راستباز کو بُری راہ پر لگاتاہے وہ آپ ہی اَپنے پھندے میں پھنس جائے گا۔ لیکن کامل لوگ نِعمتوں کے وارِث ہوں گے۔
PRO 28:11 دولتمند اَپنی نگاہ میں دانِشور ہے، لیکن صاحبِ فہم مسکین، اُسے مَعلُوم کر لیتا ہے۔
PRO 28:12 جَب صادق اِنسان فتحیاب ہوتے ہیں، تو بڑی خُوشی منائی جاتی ہے؛ لیکن جَب بدکار برسرِاقتدار آتے ہیں تو خِلقت روپوش ہو جاتی ہے۔
PRO 28:13 جو اَپنے گُناہ چھُپاتا ہے، کامیاب نہیں ہوتا، لیکن جو اقرار کرکے اُن کو ترک کرتا ہے، اُس پر رحم کیا جائے گا۔
PRO 28:14 مُبارک ہے وہ آدمی جو سدا خُدا کا خوف رکھتا ہے، لیکن جو اَپنا دِل سخت کر لیتا ہے، مُصیبت میں پڑ جاتا ہے۔
PRO 28:15 بے یارومددگار لوگوں پر حُکومت کرنے والا اگر ظالِم ہو تو وہ گرجنے والے شیرببر اَور حملہ کرنے والے ریچھ کی مانند ہے۔
PRO 28:16 اگر حاکم فہم نہ رکھتا ہو تو وہ بڑا ظُلم کرتا ہے، لیکن جسے ناجائز منافع سے نفرت ہوتی ہے، اُس کی عمر دراز ہوتی ہے۔
PRO 28:17 قتل کے گُناہ کا مُرتکب آدمی اَپنی موت تک بھاگتا پھرے گا اُسے کوئی نہ روکے۔
PRO 28:18 بے عیب رِہائی پایٔےگا، لیکن کجرو ناگہاں گِر پڑےگا۔
PRO 28:19 جو اَپنی زمین میں کاشتکاری کرتا ہے، کثرت سے خُوراک پایٔےگا، لیکن جو خیالی پُلاؤ پکاتا رہتاہے، مفلسی سے دوچار ہوگا۔
PRO 28:20 قابلِ اِعتبار آدمی، بے شُمار برکتیں پایٔےگا، لیکن جو دولتمند ہونے کے لیٔے جلدبازی کرتا ہے، ضروُر بے سزا نہ چُھوٹے گا۔
PRO 28:21 طرفداری کرنا اَچھّا نہیں۔ پھر بھی اِنسان روٹی کے ٹکڑے کی خاطِر یہ ظُلم کرتا ہے۔
PRO 28:22 کنجوس آدمی دولتمند بننے کا مُشتاق ہوتاہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ مفلسی اُس کی منتظر ہے۔
PRO 28:23 جو کسی آدمی کو تنبیہ کرتا ہے، آخِرکار وہ، زبانی خُوشامد کرنے والے آدمی سے زِیادہ مقبُول ہو جاتا ہے۔
PRO 28:24 جو اَپنے باپ یا اَپنی ماں کو لُوٹتا ہے اَور کہتاہے، ”اِس میں کچھ گُناہ نہیں ہے،“ وہ غارت گِر کا ساتھی ہے۔
PRO 28:25 لالچی اِنسان جھگڑا پیدا کرتا ہے، لیکن جو یَاہوِہ پر توکّل رکھتا ہے وہ خُوشحال ہوگا۔
PRO 28:26 جو اَپنے آپ پر بھروسا رکھتا ہے، وہ احمق ہے، لیکن جو عقلمندی سے چلتا ہے، محفوظ رہے گا۔
PRO 28:27 جو مُحتاجوں کی مدد کرتا ہے، اُسے کچھ کمی نہ ہوگی، لیکن جو اُن کی طرف سے اَپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے، بڑا ملعُون ہوتاہے۔
PRO 28:28 جَب بدکار برسرِاقتدار آتے ہیں، تو لوگ روپوش ہونے لگتے ہیں؛ لیکن جَب بدکار فنا ہو جاتے ہیں، تو صادق ترقّی کرتے ہیں۔
PRO 29:1 جو آدمی بار بار مُتنبّہ کئے جانے پر بھی سرکشی کرتا ہے وہ ناگہاں تباہ کیا جائے گا، اَور اُس کا کویٔی چارہ نہ ہوگا۔
PRO 29:2 جَب صادق فروغ پاتے ہیں، تو لوگ خُوش ہوتے ہیں؛ لیکن جَب بدکار حُکومت کرتے ہیں، تو لوگ آہیں بھرتے ہیں۔
PRO 29:3 جو آدمی حِکمت سے مَحَبّت رکھتا ہے وہ اَپنے باپ کو خُوش کرتا ہے، لیکن جو فاحِشہ عورتوں کی صحبت میں رہتاہے، اَپنی دولت اُڑا دیتاہے۔
PRO 29:4 بادشاہ عدل سے مُلک کو مُستحکم کرتا ہے، لیکن، جو رشوتوں کا لالچی ہوتاہے، اُسے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالتا ہے۔
PRO 29:5 جو اَپنے ہمسایہ کی خُوشامد کرتا ہے، وہ اُس کے پاؤں کے لیٔے جال بچھاتا ہے۔
PRO 29:6 بدکردار آپ ہی اَپنے گُناہ میں پھنس جاتا ہے، لیکن راستباز گاتا اَور خُوشی مناتا ہے۔
PRO 29:7 صادق مسکینوں کے مُعاملہ کا اِنصاف چاہتاہے، لیکن بدکار کو اُس کے مُعاملہ کو جاننے کی پروا بھی نہیں ہوتی۔
PRO 29:8 ٹھٹّھےباز شہر میں ہنگامہ برپا کر دیتے ہیں، لیکن دانشمند ہنگامہ دُور کرتے ہیں۔
PRO 29:9 اگر کویٔی دانشمند عدالت میں کسی احمق سے بحث کرتا ہے، تو وہ احمق وہاں شور مچاتا، ٹھٹّھابازی کرتا اَور بدامنی پھیلاتا ہے۔
PRO 29:10 خُونریز اِنسان دیانتدار آدمی سے کینہ رکھتے ہیں، اَور راستباز کی جان لینا چاہتے ہیں۔
PRO 29:11 احمق اَپنا قہر اُگل دیتاہے، لیکن دانشمند اُس پر قابُو پاتاہے۔
PRO 29:12 اگر کویٔی حاکم جھُوٹ پر کان لگاتاہے، تو اُس کے تمام اہلکار بدکارہو جاتے ہیں۔
PRO 29:13 مسکین اَور ظالِم ایک دُوسرے سے اِس بات میں ملتے ہیں: کہ دونوں کی آنکھوں کو بینائی یَاہوِہ ہی دیتاہے۔
PRO 29:14 جو بادشاہ مسکینوں کا راستی سے اِنصاف کرتا ہے، اُس کا تخت ہمیشہ قائِم رہتاہے۔
PRO 29:15 تادیب کی چھڑی حِکمت بخشتی ہے، لیکن جو بچّہ تربّیت سے محروم رہا ہو، وہ اَپنی ماں کو رُسوا کرتا ہے۔
PRO 29:16 جَب بدکار فروغ پاتے ہیں تو بدی بھی بڑھتی ہے، لیکن راستباز اُن کا زوال دیکھیں گے۔
PRO 29:17 اَپنے بیٹے کی تربّیت کرو اَور وہ تُمہیں چَین اَور آرام دے گا؛ وہ تمہاری جان کو مسرُور کرےگا۔
PRO 29:18 جہاں رُویا نہیں وہاں لوگ بے قابُو ہو جاتے ہیں؛ لیکن مُبارک ہے وہ آدمی جو ہدایت پر عَمل کرتا ہے۔
PRO 29:19 خادِم محض باتوں سے نہیں سدھارا جاتا؛ حالانکہ وہ سمجھتا ہے تو بھی پروا نہیں کرتا۔
PRO 29:20 کیا کویٔی بے تامّل بولنے والا آدمی تمہاری نظر میں ہے؟ اُس کے مُقابلہ میں احمق سے زِیادہ اُمّید کی جا سکتی ہے۔
PRO 29:21 جو آدمی لڑکپن ہی سے اَپنے خادِم کے ناز اُٹھانے لگتا ہے، اُسے آخِر میں: رنج کا سامنا کرنا پڑےگا۔
PRO 29:22 غُصّہ ور آدمی فتنہ برپا کرتا ہے، اَور گرم مِزاج آدمی سے کیٔی گُناہ سرزد ہوتے ہیں۔
PRO 29:23 اِنسان کی مغروُری اُسے پست کرتی ہے، لیکن فروتن رُوح والا اِنسان عزّت پاتاہے۔
PRO 29:24 چور کا ساتھی اَپنی ہی جان کا دُشمن ہوتاہے؛ وہ قَسم کھانے کے بعد بھی گواہی دنیے کی ہمّت نہیں کرتا۔
PRO 29:25 اِنسان کا خوف پھندا ثابت ہو سَکتا ہے، لیکن جو یَاہوِہ پر اِعتقاد رکھتا ہے، محفوظ رہے گا۔
PRO 29:26 بہت لوگ چاہتے ہیں کہ حاکم سے تعلّقات پیدا ہوں، لیکن اِنسان صِرف یَاہوِہ ہی سے اِنصاف کی اُمّید کر سَکتا ہے۔
PRO 29:27 صادق بدکاروں سے؛ اَور بدکار راستبازوں سے نفرت کرتا ہے۔
PRO 30:1 یاقہؔ کے بیٹے اگُوؔر کے مؤثر اقوال۔ اِس آدمی نے اِتی ایل سے کہا، ہاں اِتھی ایل اَور اُکالؔ کے لئے کہا: ”اَے خُدا! میں تھک گیا ہوں، لیکن مَیں غالب آسکتا ہوں۔
PRO 30:2 یقیناً میں بنی آدمؔ نہیں، صِرف ایک وحشی ہُوں؛ مُجھ میں اِنسان سا فہم نہیں ہے۔
PRO 30:3 مَیں نے حِکمت نہیں سیکھی، نہ مُجھے اُس قُدُّوس کا عِرفان حاصل ہے۔
PRO 30:4 کون آسمان پر چڑھا اَور پھر نیچے اُترا؟ کس نے ہَوا کو اَپنی مُٹّھی میں بند کیا؟ کس نے پانی کو اَپنی چادر میں باندھا؟ کس نے زمین کی سَب حدیں مُقرّر کیں؟ اُن کا نام کیا ہے اَور اُن کے بیٹے کا نام کیا ہے؟ اگر آپ جانتے ہیں تو مُجھے بتائیں!
PRO 30:5 ”خُدا کا ہر سُخن خالص ہے؛ وہ اُن کی سِپر ہیں، جو اُن میں پناہ لیتے ہیں۔
PRO 30:6 تُم خُدا کے کلام میں کویٔی اِضافہ نہ کرنا، مَبادا وہ تُمہیں تنبیہ کریں اَور تُم جھُوٹے ٹھہرو۔
PRO 30:7 ”اَے یَاہوِہ! مَیں نے آپ سے دو چیزوں کی درخواست کی ہے؛ میرے مرنے سے پہلے، مُجھے اُن سے محروم نہ کریں:
PRO 30:8 بطالت اَور دروغ گوئی کو مُجھ سے دُور رکھیں؛ مُجھے نہ مفلسی دیں اَور نہ دولت، بَلکہ مُجھے صِرف میری روز کی روٹی عطا فرمائیں۔
PRO 30:9 اَیسا نہ ہو کہ میں سیر ہوکر آپ کا اِنکار کروں اَور کہُوں، ’کون ہیں یَاہوِہ؟‘ یا مُفلس ہوکر چوری کروں، اَور اِس طرح اَپنے خُدا کے نام کی بےحُرمتی کروں۔
PRO 30:10 ”خادِم پر اُس کے آقا کے سامنے تہمت نہ لگاؤ، اَیسا نہ ہو کہ وہ تُم پر لعنت کرے اَور تُمہیں نتیجہ بھگتنا پڑے؛
PRO 30:11 ”ایک پُشت اَیسی بھی ہے جو اَپنے آباؤاَجداد پر لعنت بھیجتی ہے، اَور اَپنی ماں کو مُبارک نہیں کہتی؛
PRO 30:12 بعض اَیسے لوگ ہیں جو اَپنی نگاہ میں تو پاک ہیں لیکن پھر بھی اَپنی گندگی سے پاک نہیں ہو پایٔے؛
PRO 30:13 اَیسے لوگ بھی ہیں جِن کی آنکھوں میں ہمیشہ گھمنڈ سمایا رہتاہے، اَور جِن کی نگاہوں سے حقارت برستی ہے؛
PRO 30:14 جِن کے دانت، تلواریں ہیں، اَور جبڑے، چھُریاں تاکہ زمین کے کنگالوں کو، اَور بنی آدمؔ میں سے مُحتاجوں کو کھا جایٔیں۔
PRO 30:15 ”جونک کی دو بیٹیاں ہیں۔ جو چِلّاتی ہیں، ’دو اَور دو!‘ ”تین چیزیں کبھی مطمئن نہیں ہوتیں، بَلکہ چار ہیں جو کبھی، ’بس نہیں کہتیں!‘
PRO 30:16 پاتال اَور بانجھ کا رحم؛ زمین جو کبھی پانی سے سیر نہیں ہوتی، آگ جو کبھی ’بس نہیں کہتی!‘
PRO 30:17 ”آنکھ جو باپ کا مذاق اُڑاتی ہے، اَور ماں کی فرمانبرداری کو حقیر جانتی ہے، وادی کے کوّے اُسے نوچ نوچ کر نکال لیں گے، عُقاب اُسے چٹ کر جایٔیں گے۔
PRO 30:18 ”تین چیزیں میرے نزدیک نہایت عجِیب ہیں، بَلکہ چار جنہیں میں نہیں جانتا:
PRO 30:19 آسمان میں عُقاب کی راہ، چٹّان پر سانپ کی راہ، سمُندر کے درمیان جہاز کی راہ، اَور مَرد کی راہ کنواری کے ساتھ۔
PRO 30:20 ”زانیہ کی روِش اَیسی ہے: وہ کھا کر اَپنا مُنہ پونچھتی ہے اَور کہتی ہے، ’مَیں نے کویٔی بدی نہیں کی۔‘
PRO 30:21 ”تین صورتوں میں زمین لرزتی ہے، بَلکہ چار ہیں جِن کی وہ برداشت نہیں کرتی:
PRO 30:22 غُلام جَب وہ بادشاہی کرنے لگے، احمق جَب وہ کھا کر سیر ہو جائے،
PRO 30:23 نامقبُول عورت جو بیاہی گئی ہو، اَور لونڈی جو اَپنی مالکن کی وارِث ہو جائے۔
PRO 30:24 ”زمین پر کی یہ چار چیزیں بہت چُھوٹی ہوتی ہیں، لیکن وہ بہت دانا ہیں:
PRO 30:25 چیونٹیاں نہایت کمزور مخلُوق ہیں، تو بھی گرمی کے موسم میں اَپنے لیٔے خُوراک جمع کرکے رکھتی ہیں؛
PRO 30:26 سافان اگرچہ ناتواں مخلُوق ہیں، تو بھی چٹّانوں میں اَپنا گھر بناتے ہیں؛
PRO 30:27 ٹِڈّیاں، جِن کا کویٔی بادشاہ نہیں ہوتا، تو بھی وہ پرے باندھ کر نکلتی ہیں؛
PRO 30:28 چھپکلی جِس کو ہاتھ سے پکڑا جا سَکتا ہے، وہ بھی بادشاہوں کے محلوں میں پائی جاتی ہے۔
PRO 30:29 ”تین خُوش رفتار جاندار ہیں، بَلکہ چار ہیں جِن کی چال خُوشنما ہے:
PRO 30:30 شیرببر جو سَب حَیوانات میں بہادر ہے، اَور کسی کے سامنے سے پیچھے نہیں ہٹتا؛
PRO 30:31 اکڑ کر چلتا مُرغ، بکرا، اَور بادشاہ جِس کے چاروں طرف لشکر ہو۔
PRO 30:32 ”اگر تُم نے حماقت اَور غُرور سے کام لیا ہے، یا کویٔی بُرا منصُوبہ باندھا ہے، تو اَپنا ہاتھ اَپنے مُنہ پر رکھ لو!
PRO 30:33 کیونکہ جَیسے دُودھ بلونے سے مکھّن نکلتا ہے، اَور ناک مروڑنے سے خُون، اُسی طرح سے قہر بھڑکانے سے فساد برپا ہوتاہے۔“
PRO 31:1 لموایلؔ بادشاہ کے اقوال۔ جو اُن کی ماں نے اُنہیں سِکھائے:
PRO 31:2 اَے میرے بیٹے! اَے میرے بطن سے پیدا ہونے والے! جسے مَیں نے اَپنی مَنّتوں کے جَواب میں پایا!
PRO 31:3 اَپنی قُوّت عورتوں پر ضائع نہ کرنا، نہ اَپنی زبردستی اُن پرجو بادشاہوں کو برباد کرتی ہیں۔
PRO 31:4 بادشاہوں کو، اَے لموایلؔ۔ بادشاہوں کو مےخواری زیب نہیں دیتی، نہ حاکموں کو شراب نوشی،
PRO 31:5 اَیسا نہ ہو کہ وہ پی کر شَریعت کے اَحکام کو بھُول جایٔیں، اَور سارے مظلوموں کو اُن کے حُقُوق سے محروم کر دیں۔
PRO 31:6 شراب اُنہیں دو جو دَم توڑ رہے ہیں، اَور مَے اُنہیں جو سخت تکلیف میں ہیں!
PRO 31:7 تاکہ وہ پی کر اَپنی تنگ دستی کو فراموش کر سکیں اَور اَپنی تباہ حالی کو پھر یاد نہ کریں۔
PRO 31:8 بے زبانوں کے لیٔے اَپنا مُنہ کھولو، تاکہ بےکسوں کے حُقُوق کا تحفُّظ ہو سکے۔
PRO 31:9 اَپنا مُنہ کھولو اَور راستی سے اِنصاف کرو؛ اَور مفلسوں اَور مُحتاجوں کے حُقُوق کی حِفاظت کرو۔
PRO 31:10 نیک چلن بیوی کون پا سَکتا ہے؟ کیونکہ وہ لعلوں سے بھی زِیادہ قیمتی ہے۔
PRO 31:11 اُس کے خَاوند کو اُس پر پُورا اِعتماد ہوتاہے اَور کویٔی کمی محسُوس نہیں ہوتی۔
PRO 31:12 وہ اَپنی زندگی کے تمام ایّام میں، اُس سے بھلائی ہی کرتی ہے، اُسے ضرر نہیں پہُنچاتی۔
PRO 31:13 وہ اُون اَور کتان جمع کرتی ہے اَور نہایت شوق سے اَپنے ہاتھوں سے کام کرتی ہے۔
PRO 31:14 وہ سوداگروں کے جہازوں کی مانند، اَپنی خُوراک دُور سے لے آتی ہے۔
PRO 31:15 ابھی اَندھیرا ہی ہوتاہے کہ وہ اُٹھ جاتی ہے؛ اَور اَپنے خاندان کو کھانا کھِلاتی ہے اَور اَپنی خادِماؤں کو اُن کے حِصّہ کا کام بانٹتی ہے۔
PRO 31:16 وہ کسی کھیت کے بارے میں سوچتی ہے تو اُسے خرید لیتی ہے؛ اَور اَپنی آمدنی سے تاکستان لگاتی ہے۔
PRO 31:17 وہ کمر باندھ کر اَپنے کام کاج میں لگ جاتی ہے؛ اُس کے بازو اُس کے کاموں کے لیٔے مضبُوط ہوتے ہیں۔
PRO 31:18 وہ خیال رکھتی ہے کہ اُس کی تِجارت سُود مند ہو، اُس کا چراغ رات کو نہیں بُجھتا۔
PRO 31:19 وہ تکلے پر اَپنے ہاتھ سے سُوت تیّار کرتی ہے اَور کپڑا بھی خُود ہی بُنتی ہے۔
PRO 31:20 وہ مسکینوں کے لیٔے ہتھیلی کھولتی ہے اَور مُحتاجوں کے لیٔے اَپنے ہاتھ بڑھاتی ہے۔
PRO 31:21 جَب برف باری ہوتی ہے تَب اُسے اَپنے گھر بار کے لیٔے خوف نہیں ہوتا؛ کیونکہ وہ سَب بالوں کے سُرخ لباس پہنے ہُوئے ہوتے ہیں۔
PRO 31:22 وہ اَپنے بِستر کے لیٔے پلنگ پوش بنا لیتی ہے؛ اُس کا لباس نفیس کتان اَور اَرغوانی رنگ کا ہوتاہے۔
PRO 31:23 شہر کے پھاٹک پر اُس کے خَاوند کا اِحترام کیا جاتا ہے، جہاں وہ مُلک کے بُزرگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے۔
PRO 31:24 وہ مہین کتانی کپڑے بنا کر اُنہیں فروخت کرتی ہے، اَور سوداگروں کو کمر کے پٹکے مہیا کرتی ہے۔
PRO 31:25 وہ قُوّت اَور حُرمت سے مُلبّس رہتی ہے؛ اَور آنے والے دِنوں پر ہنستی ہے۔
PRO 31:26 وہ اَپنا مُنہ حِکمت سے کھولتی ہے، اَور شفقت کی تعلیم اُس کی زبان پر ہوتی ہے۔
PRO 31:27 وہ اَپنے گھر کے حالات پر نظر رکھتی ہے اَور کاہلی کی روٹی نہیں کھاتی۔
PRO 31:28 اُس کے بچّے اُٹھ کر اُسے مُبارک کہتے ہیں؛ اَور اُس کا خَاوند بھی، اَور وہ اُس کی یُوں تعریف کرتا ہے:
PRO 31:29 ”کیٔی عورتیں بھلے کام کرتی ہیں، لیکن تُمہیں سَب پر سبقت حاصل ہے۔“
PRO 31:30 حُسن دھوکا ہے اَور جمال ناپائیدار ہے؛ لیکن یَاہوِہ کا خوف رکھنے والی عورت قابل تعریف ہے۔
PRO 31:31 اُس کی محنت کا اجر اُسے دو، اَور اُس کے کاموں کی شہر کے پھاٹکوں پر سِتائش کی جائے۔
ECC 1:1 یروشلیمؔ کے بادشاہ داویؔد کے بیٹے شُلومونؔ واعظ کے الفاظ۔
ECC 1:2 ”واعظ فرماتا ہے باطِل ہی باطِل! بالکُل باطِل ہے! سَب کچھ باطِل ہے۔“
ECC 1:3 اِس دُنیا میں اِنسان اَپنی ساری محنت و مشقّت سے سُورج کے نیچے کیا حاصل کرتا ہے؟
ECC 1:4 ایک پُشت جاتی ہے اَور دُوسری پُشت آتی ہے، لیکن زمین ہمیشہ قائِم رہتی ہے۔
ECC 1:5 آفتاب طُلوع اَور غروب ہوتاہے، اَور جِس جگہ سے طُلوع ہوتاہے وہیں پھر جلد واپس چلا جاتا ہے۔
ECC 1:6 ہَوا جُنوب کی طرف چلتی ہے اَور شمال کی طرف مُڑ جاتی ہے؛ اَور ہمیشہ چکّر لگاتی ہُوئی، اَپنی راہ پر واپس لَوٹ آتی ہے۔
ECC 1:7 سَب دریا سمُندر میں گرتے ہیں، پھر بھی سمُندر کبھی نہیں بھرتا۔ دریا دوبارہ اُسی جگہ پر بہنے لگتے ہیں، جہاں وہ پہلے بہ رہیں تھے۔
ECC 1:8 سَب چیزیں اِتنی تھکانے والی ہیں، کہ اِنسان اُس کا بَیان نہیں کر سَکتا۔ آنکھ دیکھنے سے سیر نہیں ہوتی، اَور نہ ہی کان سُننے سے کبھی مطمئن۔
ECC 1:9 جو ہو چُکاہے وُہی پھر ہوگا، جو کچھ کیا جا چُکاہے، وُہی پھر کیا جائے گا؛ چنانچہ اِس دُنیا میں کچھ بھی نیا نہیں۔
ECC 1:10 کیا کویٔی اَیسی چیز ہے جِس کی بابت کویٔی کہہ سَکتا ہے، ”دیکھو! یہ تو نئی چیز ہے؟“ یہ تو ہمارے زمانہ سے پہلے ہی گویا قدیم زمانہ سے ہی مَوجُود تھی۔
ECC 1:11 پرانے زمانہ کے لوگوں کو کویٔی یاد نہیں رکھتا، اَور اِس زمانہ کے لوگوں کو بھی آنے والے زمانہ کے لوگ یاد نہیں رکھیں گے۔
ECC 1:12 میں، واعظ، یروشلیمؔ میں بنی اِسرائیل کا بادشاہ تھا۔
ECC 1:13 اَور مَیں نے اَپنی پُوری عقل اِس بات پر لگائی کہ جو کچھ آسمان تلے کیا جاتا ہے اُس کی حِکمت کے ذریعہ تفتیش و تحقیق کروں۔ خُدا نے اِنسان کو یہ سخت دُکھ دیا ہے کہ وہ محنت و مشقّت میں مُبتلا رہے۔
ECC 1:14 مَیں نے سَب کاموں پرجو آسمان تلے کئے جاتے ہیں، نظر کی۔ اَور یہی نتیجہ نِکلا کہ سَب کُچھ باطِل اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔
ECC 1:15 جو ٹیڑھا ہے اُسے سیدھا نہیں کیا جا سَکتا؛ اَورجو مَوجُود ہی نہیں اُس کا شُمار کیسے ہو سَکتا۔
ECC 1:16 مَیں نے اَپنے دِل میں کہا، ”دیکھ، یروشلیمؔ میں مُجھ سے پیشتر جتنے بھی بادشاہ ہُوئے، مَیں نے حِکمت میں اُن سَب سے زِیادہ ترقّی کی ہے؛ اَور حِکمت اَور علم میں میرا تجربہ اُن سے کہیں زِیادہ ہے۔“
ECC 1:17 چنانچہ مَیں نے اَپنا دِل حِکمت، حماقت اَور جہالت کو جاننے اَور سمجھنے میں لگایا تو مَعلُوم کیا کہ یہ بھی ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔
ECC 1:18 کیونکہ جہاں حِکمت بہت ہے وہاں غم بھی بہت ہے؛ اَور علم میں اِضافہ کرنا بھی دُکھ میں اِضافہ کرنا ہی ہے۔
ECC 2:1 مَیں نے اَپنے دِل سے کہا، ”چلو میں تُمہیں عیش و عشرت سے آزماؤں گا۔“ اَور مَعلُوم کروں گا کہ اِس میں اَچھّا کیا ہے۔ لیکن یہ تجربہ بھی باطِل ہی نِکلا۔
ECC 2:2 مَیں نے ہنسی کی بابت کہا، ”ہنسی بھی احمقی ہے اگر اِس سے ہمیں کویٔی دائمی فائدہ نہیں ہوتا“ اَور عیش و عشرت کی بابت، ”اِس سے کیا حاصل ہُوا؟“
ECC 2:3 مَیں نے ہر وقت حِکمت کے اُصُولوں کو مدِّ نظر رکھتے ہُوئے، احمقی کی حد تک اَپنے آپ کو مَے نوشی سے خُوش کرنے کی کوشش کی تاکہ میں مَعلُوم کر سکوں کہ کیا یہ کام آسمان کے تلے بنی آدمؔ کے لیٔے مفید ہے جسے وہ ساری زندگی اَنجام دیتے رہیں۔
ECC 2:4 مَیں نے بڑے بڑے کام شروع کئے: مَیں نے اَپنے لیٔے مکانات تعمیر کئے اَور تاکستان لگائے۔
ECC 2:5 مَیں نے باغیچے اَور سَیر گاہیں تیّار کیں اَور اُن میں ہر قِسم کے پھلدار درخت لگائے۔
ECC 2:6 مَیں نے جنگلی درختوں کے ذخیرہ کی آبپاشی کے لیٔے تالاب بنائے۔
ECC 2:7 مَیں نے غُلام اَور لونڈیاں مول لیں اَور میرے پاس دیگر خانہ زاد مُلازمین بھی تھے اَور جتنے بھی مُجھ سے پیشتر یروشلیمؔ میں تھے میرے پاس اُن سَب سے زِیادہ گائے بَیلوں اَور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ تھے۔
ECC 2:8 مَیں نے اَپنے لیٔے سونا اَور چاندی اَور بادشاہوں اَور صوبوں کے خزانے جمع کئے۔ مَیں نے گانے والے مَرد خواتین اَور خُوبصورت لونڈیاں فراہم کیں جو اِنسان کے لیٔے اسبابِ عیش ہیں۔
ECC 2:9 اَور مَیں اُن سَب کی بہ نِسبت جو مُجھ سے پہلے یروشلیمؔ کے شہر میں تھے، زِیادہ افضل اَور عظمت والا بَن گیا اَور اِن سَب باتوں میں میری حِکمت نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔
ECC 2:10 اَور مَیں نے اَپنے آپ کو کسی بھی چیز سے جِس کی میری آنکھوں نے تمنّا کی، باز نہ رکھا؛ اَور مَیں نے اَپنے دِل کو کسی بھی عیش و عشرت سے باز نہ رکھا۔ میرا دِل میری ساری محنت سے خُوش ہُوا، اَور میری ساری محنت و مشقّت کا یہ اِنعام تھا۔
ECC 2:11 تاہم جَب مَیں نے اَپنے ہاتھوں کے تمام کاموں کا جائزہ لیا، اُس محنت و مشقّت کا جنہیں مَیں نے کیا تھا تو نتیجہ یہی نِکلا کہ سَب باطِل ہے اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے؛ اَور دُنیا میں اِس کا کویٔی دائمی فائدہ نہیں۔
ECC 2:12 پھر مَیں نے اَپنے خیالات کو حِکمت، بےہودگی اَور حماقت پر غور کرنے میں لگایا۔ بادشاہ کے جانشین آدمی کو کیا کرنا چاہئے؟ اُسے پچھلے بادشاہ کی مثال پر عَمل کرنا چاہئے۔
ECC 2:13 مَیں نے مَعلُوم کیا کہ جَیسے رَوشنی تاریکی سے بہتر ہے، وَیسے ہی حِکمت حماقت سے بہتر ہے۔
ECC 2:14 دانِشور کی آنکھیں اُس کے سَر میں ہوتی ہیں، جَب کہ احمق اَندھیرے میں چلتا ہے۔ لیکن مَیں نے مَعلُوم کیا کہ دونوں کو موت کا شِکار ہونا پڑتا ہے۔
ECC 2:15 تَب مَیں نے اَپنے دِل سے کہا، جو حَشر احمق کا ہوتاہے وُہی میرا بھی ہوگا۔ پھر مُجھے دانِشور ہونے سے کیا فائدہ مِلا؟ چنانچہ مَیں نے اَپنے دِل سے کہا، ”یہ بھی باطِل ہے۔“
ECC 2:16 کیونکہ احمق کی طرح دانِشور آدمی کی یاد بھی طویل عرصہ تک باقی نہ رہے گی؛ اَور آنے والے دِنوں میں دونوں ہی بھُلا دئیے جایٔیں گے۔ احمق کی طرح دانِشور کو بھی مَرنا ہی ہے!
ECC 2:17 چنانچہ میں زندگی سے نفرت کرنے لگا کیونکہ جو بھی کام دُنیا میں کیا جاتا ہے وہ میرے لیٔے تکلیف دہ تھا۔ کیونکہ سَب کچھ باطِل اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔
ECC 2:18 اِس لیٔے مَیں نے جو بھی محنت و مشقّت اِس دُنیا میں کی تھی اُس سے مُجھے سخت نفرت ہو گئی کیونکہ مُجھے لازماً اُنہیں اَپنے بعد آنے والے شخص کے لیٔے چھوڑنا پڑےگا۔
ECC 2:19 اَور کون جانتا ہے کہ وہ دانشمند ہوگا یا احمق؟ بہرحال وہ میرے اُن تمام چیزوں کا مالک ہوگا جسے حاصل کرنے کے لیٔے مَیں نے دُنیا میں اَپنی پُوری طاقت و حِکمت خرچ کی ہے۔ یہ بھی باطِل ہی ہے۔
ECC 2:20 لہٰذا میرا دِل اُن سارے محنت کے کاموں سے جسے مَیں نے دُنیا میں کیا مایوس ہو گیا۔
ECC 2:21 کیونکہ خواہ کویٔی آدمی اَپنا کام حِکمت، علم اَور ہُنر سے کیوں نہ کرتا ہو، آخِرکار اُسے سَب کچھ لازماً کسی دُوسرے کے لیٔے چھوڑکر جانا پڑتا ہے جِس نے اُس کے لیٔے کچھ محنت ہی نہیں کی۔ یہ بھی باطِل اَور ایک بڑی بدقسمتی ہے۔
ECC 2:22 کسی آدمی کو اُن تمام مشقّت اَور جانفشانی کے بدلہ میں جو وہ دُنیا میں کرتا ہے، کیا حاصل ہوتاہے؟
ECC 2:23 حقیقت میں عمر بھر اُن کی پُوری محنت باعثِ رنج و غم ہے، یہاں تک کہ رات کو بھی اُس کے دِل و ذہن کو سکون نہیں ملتا۔ یہ بھی باطِل ہے۔
ECC 2:24 آدمی کے لیٔے اِس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ کھائے پیئے اَور اَپنی محنت و مشقّت کے پھل کے پھل کا لُطف اُٹھائے اَور خُود کو یقین دِلائے کہ اُس کی محنت فائدہ مند ہے، مَیں نے یہ بھی مَعلُوم کیا ہے کہ اَیسا استحقاق خُدا کی طرف سے ہی نصیب ہوتاہے۔
ECC 2:25 کیونکہ خُدا کے رحم و کرم کے بغیر کون کھا پی یا عیش و آرام سے رہ سَکتا ہے؟
ECC 2:26 جو اِنسان خُدا کو پسند آتا ہے اُسے وہ دانائی، علم اَور خُوشی عطا کرتا ہے لیکن گُنہگار کو وہ دولت جمع کرنے اَور اُس کے انبار لگانے کی ذمّہ داری دیتاہے تاکہ بعد میں یہ دولت خُدا کو پسند آنے والے شخص کے حوالہ کی جائے۔ یہ بھی باطِل اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔
ECC 3:1 ہر چیز کے لیٔے ایک وقت ہوتاہے، اَور آسمان کے تلے ہر ایک کام کرنے کا ایک موقع ہوتاہے:
ECC 3:2 پیدا ہونے کا اَور مَرنے کا وقت، درخت لگانے کا اَور اُسے اُکھاڑ دینے کا وقت،
ECC 3:3 مار ڈالنے کا اَور شفا دینے کا وقت، ڈھا دینے کا اَور تعمیر کرنے کا وقت،
ECC 3:4 رونے کا اَور ہنسنے کا وقت، ماتم کرنے اَور ناچنے کا وقت،
ECC 3:5 پتّھر پھینکنے کا اَور پتّھر جمع کرنے کا وقت، گلے مِلنے اَور اِس سے باز رہنے کا وقت۔
ECC 3:6 تلاش کرنے کا اَور ترک کر دینے کا وقت۔ محفوظ رکھنے کا اَور پھینک دینے کا وقت۔
ECC 3:7 پھاڑنے کا اَور سینے کا وقت۔ خاموش رہنے کا اَور بولنے کا وقت۔
ECC 3:8 مَحَبّت کرنے کا اَور نفرت کرنے کا وقت۔ جنگ کرنے کا اَور صُلح کرنے کا وقت۔
ECC 3:9 چنانچہ کام کرنے والے کو اَپنی محنت و مشقّت سے کیا فائدہ ہوتاہے؟
ECC 3:10 مَیں نے اُس بھاری بوجھ کو بغور احتیاط سے تفتیش کی ہے جسے خُدا نے بنی آدمؔ کے کندھوں پر رکھا ہے۔
ECC 3:11 خُدا نے ہر ایک چیز کو اَپنے وقت کے لیٔے خُوبصورت بنایا ہے۔ اَور اُس نے اِنسان کے دِل میں اَبدیّت بھی ڈالی ہے۔ گو اِنسان خُدا کے کاموں کو جو اُس نے شروع سے لے کر آخِر تک کیا ہے اُسے کبھی سمجھ نہیں سَکتا ہے۔
ECC 3:12 میں جانتا ہُوں کہ اِنسان کے لیٔے اِس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ خُوش رہے اَور جَب تک زندہ رہے نیکی کرنے میں مشغُول رہے۔
ECC 3:13 اَور ہر ایک شخص کھائے، پیئے اَور اَپنی تمام محنت و مشقّت کے کاموں کے پھل سے مطمئن رہے۔ یہ بھی خُدا کی طرف سے اِنسانوں کے لیٔے بخشش ہے۔
ECC 3:14 میں جانتا ہُوں کہ جو کچھ خُدا کرتا ہے، وہ ہمیشہ تک قائِم رہے گا۔ اُس میں نہ کچھ بڑھایا جا سَکتا اَور نہ کچھ گھٹایا جا سَکتا ہے۔ اَور خُدا نے اَیسا اِس لیٔے کیا ہے کہ سَب اِنسان اُس کا خوف مانیں۔
ECC 3:15 جو کچھ مَوجُودہ میں ہے وہ پہلے سے ہی ہو چُکاہے، اَورجو مُستقبِل میں ہونے والا ہے وہ بھی پہلے ہی ہو چُکاہے؛ اَورجو کچھ ماضی میں گزر چُکاہے خُدا اُسے پھر سے دہراتا ہے۔
ECC 3:16 اِس کے علاوہ مَیں نے دُنیا میں یہ بھی دیکھا: اِنصاف کی جگہ ظُلم ہوتاہے، اَور قانُون کے گھر میں نااِنصافی ہے۔
ECC 3:17 اَور مَیں نے اَپنے دِل سے کہا، ”خُدا راستبازوں اَور بدکاروں دونوں کی عدالت کرےگا، کیونکہ ہر ایک کام اَور ہر مُعاملہ کا ایک وقت مُقرّر ہے۔“
ECC 3:18 مَیں نے یہ بھی کہا، ”جہاں تک اِنسانوں کا تعلّق ہے، خُدا اُن کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ سمجھ لیں کہ وہ حَیوانوں کی مانند ہیں۔
ECC 3:19 کیونکہ اِنسان اَور حَیوان کا ایک ہی اَنجام ہے۔ اِنسان اَور حَیوان دونوں سانس لیتے ہیں۔ جَیسے ایک مرتا ہے وَیسے ہی دُوسرا بھی مرتا ہے۔ اِنسان حَیوان سے کسی بھی طرح سے بہتر نہیں ہے کیونکہ سَب کچھ باطِل ہی ہے۔
ECC 3:20 سَب کی مَنزل ایک ہے۔ سَب خاک سے بنے ہیں اَور خاک میں دوبارہ لَوٹ جاتے ہیں۔“
ECC 3:21 کسے مَعلُوم ہے کہ اِنسان کی رُوح اُوپر آسمان کی طرف اَور حَیوان کی نیچے عالمِ اَرواح میں جاتی ہے؟
ECC 3:22 غرض مَیں نے سمجھ لیا کہ کسی اِنسان کے لیٔے اِس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ اَپنے کاموں میں خُوش رہے، یہی اُس کا حِصّہ ہے۔ کیونکہ اُسے یہ دیکھنے کے لیٔے کہ اُس کے بعد کیا ہوگا، کون اُسے واپس لا سَکتا ہے؟
ECC 4:1 پھر مَیں نے نظر دَوڑائی اَور اُس تمام ظُلم و سِتم کو دیکھا جو دُنیا میں ہو رہاتھا: مَیں نے مظلوموں کے آنسُو دیکھے، جنہیں تسلّی دینے والا کویٔی نہ تھا؛ اقتدار ظُلم و سِتم کرنے والوں کے ہاتھ میں ہے۔ اَور مظلوموں کو تسلّی دینے والا کویٔی نہیں ہے۔
ECC 4:2 اِس لیٔے مَیں نے مُردوں کو جو مَر چُکے ہیں، اُن زندوں سے جو ابھی مَوجُود ہیں، زِیادہ مُبارک سمجھا۔
ECC 4:3 لیکن اِن دونوں سے زِیادہ مُبارک وہ شخص ہے جو ابھی پیدا ہی نہیں ہُوا، اَور جِس نے اُن تمام بُرائیوں کو دیکھا تک نہیں جو اِس دُنیا میں کیٔے جا رہے ہیں۔
ECC 4:4 اَور مَیں نے یہ بھی پایا کہ ساری محنت اَور ساری کامیابی ہی اِنسان اَور اُس کے ہمسایہ کے درمیان حَسد کی وجہ ہے۔ یہ بھی باطِل اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔
ECC 4:5 احمق اَپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہتاہے اَور خُود کو برباد کرتا ہے۔
ECC 4:6 سکون کے ساتھ حاصل ہونے والی تھوڑی سِی دولت سخت محنت و مشقّت سے حاصل ہونے والی اُس اِفراط دولت سے زِیادہ بہتر ہے جو ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔
ECC 4:7 ایک بار پھر مَیں نے دُنیا میں کچھ اَیسی چیز دیکھی جو باطِل ہے:
ECC 4:8 ایک آدمی بالکُل تنہا تھا؛ اُس کا نہ تو کویٔی بیٹا اَور نہ ہی کویٔی بھایٔی تھا۔ اُس کی محنت و مشقّت کی کویٔی اِنتہا نہ تھی، پھر بھی اُس کی آنکھیں اُس کی دولت سے مطمئن نہ تھیں۔ اُس نے پُوچھا، ”میں کس کے لیٔے محنت و مشقّت کر رہا ہُوں، اَور مَیں کیوں اَپنے آپ کو عیش و عشرت سے محروم رکھے ہُوئے ہُوں؟“ یہ بھی باطِل ہے۔ اَور بڑے دُکھ کی بات ہے!
ECC 4:9 ایک سے بہتر دو ہوتے ہیں، کیونکہ اُنہیں اَپنے کام سے بڑا فائدہ ہوتاہے:
ECC 4:10 اَور اگر اُن میں سے ایک نیچے گِر جائے تو، دُوسرا اَپنے دوست کو اُوپر اُٹھالے گا۔ لیکن افسوس اُس آدمی پرجو گرتا ہے اَور اُسے اُٹھانے والا کویٔی دُوسرہ مَوجُود نہیں ہوتا!
ECC 4:11 اگر دو شخص اِکٹھّے سوتے ہیں تو دونوں گرم رہیں گے۔ لیکن اکیلا شخص خُود کو کیسے گرم رکھ سَکتا ہے؟
ECC 4:12 کویٔی اکیلا ہو تو وہ مغلُوب ہو سَکتا ہے، لیکن دو ہُوں تو وہ اَپنا تحفُّظ کر سکتے ہیں۔ جَیسا کہ کہاوت ہے تین تو اَور بہتر ہیں کیونکہ تین لڑیوں کی ڈوری آسانی سے نہیں توڑی جا سکتی۔
ECC 4:13 ایک غریب عقلمند نوجوان بادشاہ کسی احمق بُوڑھے بادشاہ سے بہتر ہے جو خُود کو مشورت سے بے نیاز سمجھتا ہو۔
ECC 4:14 چاہے وہ نوجوان قَیدخانہ سے نکل کر بادشاہی پائی ہو یا اَپنی سرزمین میں غربت ہی پیدا کیوں نہ ہُوا ہو۔
ECC 4:15 مَیں نے پھر غور کیا کہ وہ سَب جو دُنیا میں زندہ چلتے پھرتے ہیں، اُس دُوسرے نوجوان کے پیچھے ہو لیٔے جو بادشاہ کا جانشین تھا۔
ECC 4:16 وہ اَپنے زمانہ کے بے شُمار لوگوں کا اَور بعد میں آنے والی بے شُمار پُشت کا بادشاہ تھا، لیکن بعد میں آنے والی بے شُمار پُشت اُس جانشین سے خُوش نہ تھی اَور نہ ہی اُنہُوں نے اُس کے کاموں کی تعریف کی۔ بے شک یہ بھی باطِل اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔
ECC 5:1 جَب تُم خُدا کے گھر کو جاؤ تو اَپنے طرز عَمل کی بابت ہوشیار رہنا۔ بہتر ہے کہ تُم سُننے اَور حُکم ماننے کی غرض سے نزدیک جاؤ نہ کہ محض احمقوں کی مانند صِرف قُربانی پیش کرو جو یہ جانتے ہی نہیں کہ وہ کیا غلط کر رہے ہیں؟
ECC 5:2 بولنے میں عجلت نہ کرو، اَور تمہارا دِل جلدبازی سے خُدا کے حُضُور میں کچھ نہ کہے۔ کیونکہ خُدا آسمان پر ہے اَور تُم زمین پر، لہٰذا بہتر ہے کہ تمہاری باتیں مُختصر ہُوں۔
ECC 5:3 کیونکہ جَیسے زِیادہ سوچنے کی باعث خواب آتا ہے، وَیسے ہی زِیادہ بولنے کی عادت ایک احمق کی پہچان ہوتی ہے۔
ECC 5:4 جَب تُم خُدا کے حُضُور مَنّت مانو تو اُسے پُورا کرنے میں دیر نہ کرو۔ کیونکہ وہ احمقوں سے خُوش نہیں ہوتا۔ چنانچہ تُم اَپنی مَنّت کو پُوری کرو۔
ECC 5:5 مَنّت مان کر اُسے پُورا نہ کرنے سے تو بہتر ہے کہ تُم مَنّت ہی نہ مانو۔
ECC 5:6 تمہارا مُنہ تُم سے گُناہ نہ کروائے اَور ہیکل کے کاہِنؔ سے مت کہو، ”میری مِنّت ایک غلطی تھی۔“ خُدا تمہاری بات سے کیوں ناراض ہو اَور تمہارے ہاتھوں کے کام کو تباہ کر دے؟
ECC 5:7 خوابوں کی کثرت اَور محض باتیں ہی باتیں باطِل ہیں۔ لہٰذا خُدا کا خوف کرو۔
ECC 5:8 اگر تُم اَپنے ضلع میں غریبوں پر ظُلم ہوتے اَور عدل و اِنصاف اَور اُنہیں اُن کے حُقُوق سے محروم ہوتے دیکھو تو اُس پر تعجُّب نہ کرنا کیونکہ ایک حاکم کی ایک حاکم نگہبانی کرتا اَور اُن دونوں کے اُوپر بھی اعلیٰ حاکم ہوتے ہیں۔
ECC 5:9 زمین کی پیداوار سے سَب مستفید ہوتے ہیں۔ بادشاہ خُود بھی کاشتکاری سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔
ECC 5:10 جو کویٔی دولت کو عزیز رکھتا ہے، وہ کبھی دولت سے مطمئن نہ ہوگا خواہ اُس کے پاس کتنی زِیادہ دولت کیوں نہ ہو؛ اَورجو کویٔی دولت سے پیار کرتا ہے وہ اُس میں اِضافہ ہونے سے بھی مطمئن نہیں ہوگا۔ یہ بھی باطِل ہی ہے۔
ECC 5:11 جَب مال کی زیادتی ہوتی ہے، تو اُس کے کھانے والوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔ اَور اُس کے مالک کو اُس کا کیا فائدہ ہے سِوائے اِس کے وہ اُنہیں دیکھ کر ہی مطمئن ہو اَور اُن کا لُطف اُٹھائے۔
ECC 5:12 ایک مزدُور کی نیند میٹھی ہوتی ہے، خواہ وہ کم کھائے یا زِیادہ، لیکن دولتمند کی فراوانی اُسے سونے نہیں دیتی۔
ECC 5:13 مَیں نے دُنیا میں ایک شدید بُرائی دیکھی ہے: مالک نے اَپنی دولت خُود کو نُقصان پہُنچانے کے لیٔے ہی کمائی تھی،
ECC 5:14 کیونکہ وہ مال کسی حادثہ سے برباد ہو جاتا ہے، اَور جَب مالک کے گھر میں بیٹا پیدا ہُوا تو اُن کے لیٔے کچھ بھی مِیراث باقی نہیں رہی۔
ECC 5:15 ہر اِنسان ماں کے پیٹ سے ننگا آتا ہے، اَور جَیسے وہ ننگا آتا ہے، وَیسے ہی ننگا چلا بھی جاتا ہے۔ اَور اُسے اَپنی کمائی سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا جسے وہ اَپنے ساتھ لے جا سکے۔
ECC 5:16 یہ بھی ایک شدید بُرائی ہے: اِنسان جَیسے آتا ہے وَیسا ہی چلا بھی جاتا ہے، آخِر اُسے کیا فائدہ ہُوا، اُس کی ساری محنت و مشقّت تو ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے؟
ECC 5:17 عمر وہ بھر تاریکی میں گزارتا ہے، وہ غُصّے، مایوسی اَور مُصیبت میں اَپنے دِن کاٹتا ہے۔
ECC 5:18 پھر مُجھے احساس ہُوا کہ اِنسان کے لیٔے اَچھّا اَور مُناسب یہ ہے کہ خُدا نے دُنیا میں جو چند روزہ زندگی اُسے بخشی ہے، وہ کھائے پیئے اَور اَپنی ساری محنت کا پھل پایٔے کیونکہ یہی اُس کا حِصّہ ہے۔
ECC 5:19 اِس کے علاوہ جَب خُدا کسی آدمی کو دولت کے ساتھ صحت بھی عطا کرتے ہیں تاکہ وہ اَپنی دولت کا لُطف اُٹھا سکے۔ تو اُسے چاہئے کہ اَپنے کام میں خُوش رہے اَور زندگی میں اَپنے حِصّہ کو قبُول کرے کیونکہ یہ بھی خُدا کی طرف سے ایک بخشش ہے۔
ECC 5:20 اَیسے شخص کو اَپنی زندگی کے ایّام پر غور و فکر کرنے کا کم ہی وقت ملتا ہے کیونکہ خُدا اُسے اُس کے دِل کی خُوشی میں مصروف رکھتا ہے۔
ECC 6:1 مَیں نے دُنیا میں ایک اَور بُرائی دیکھی ہے جو لوگوں کے دِلوں پر بڑی گراں ہے۔
ECC 6:2 خُدا ایک آدمی کو دولت، جائداد اَور عزّت بخشتا ہے لہٰذا اُسے کسی چیز کی جسے اُس کا دِل چاہتاہے، کمی نہیں۔ تاہم خواہ وہ کتنا عرصہ زندہ رہے، خُدا اُسے اُن سے لُطف اَندوز ہونے کی تَوفیق نہیں بخشتا اَور اُس کی بجائے کویٔی اجنبی اُن سے لُطف اُٹھاتا ہے۔ یہ باطِل اَور ایک شدید خرابی ہے۔
ECC 6:3 اگر کسی آدمی کے سَو بچّے ہُوں اَور وہ برسوں تک زندہ رہے تاہم خواہ وہ کتنا ہی عرصہ زندہ رہے، اگر وہ اَپنی خُوشحالی سے لُطف اَندوز نہیں ہو سَکتا اَور اُس کی مُناسب تجہیزوتکفین نہیں ہوتی تو میں کہتا ہُوں کہ ماں کے پیٹ سے ہی مَرا ہُوا پیدا ہونے والا بچّہ اُس سے زِیادہ اَچھّا ہے۔
ECC 6:4 کیونکہ وہ دُنیا میں فُضول آتا ہے اَور تاریکی میں چلا جاتا ہے اَور اُس کا نام بھی تاریکی میں ہی چھُپا رہتاہے۔
ECC 6:5 اگرچہ نہ اُس نے سُورج کو دیکھا اَور نہ کچھ جانا۔ وہ پہلے والے کی بہ نِسبت زِیادہ آرام میں ہے۔
ECC 6:6 یعنی اُس دُوسرے کی بہ نِسبت جو خواہ دو ہزار سال بھی زندہ رہے لیکن اَپنی آسودگی سے لُطف اَندوز ہونے میں ناکام رہے۔ کیا سَب کے سَب ایک ہی جگہ نہیں جاتے؟
ECC 6:7 آدمی کی ساری جدّوجہد اُس کے مُنہ کے لیٔے ہے، پھر بھی اُس کی بھُوک نہیں مٹتی۔
ECC 6:8 دانشمند کو احمق پر کیا فضیلت ہے؟ اَور غریب کو یہ جاننے سے کیا حاصل کہ زندوں کے سامنے وہ کیسا طرزِ عَمل اِختیار کرے؟
ECC 6:9 آنکھوں سے دیکھ لینا نَفس کی آوارگی سے بہتر ہے۔ یہ بھی باطِل اَور ہَوا کے تعاقب میں جانے کی طرح ہے۔
ECC 6:10 جو کچھ بھی مَوجُود ہے اُس کا نام رکھا جا چُکاہے، اَور یہ بھی مَعلُوم ہے کہ اِنسان کیا ہے؛ کویٔی بھی آدمی خُود سے زِیادہ زورآور کے ساتھ مُقابلہ نہیں کر سَکتا۔
ECC 6:11 الفاظ جتنے زِیادہ ہوتے ہیں، معنی اُتنے ہی کم، تو اُس سے کویٔی اِنسان کیوں کر فائدہ اُٹھا سَکتا ہے؟
ECC 6:12 کیونکہ کون جانتا ہے کہ اِنسان کی چند روزہ باطِل زندگی کے دَوران جسے وہ پرچھائیں کی مانند بسر کرتا ہے، اُس کے لیٔے کیا اَچھّا ہے؟ اُسے کون بتائے کہ اُس کے رخصت ہو جانے کے بعد دُنیا میں کیا ہوگا؟
ECC 7:1 نیک نامی قیمتی عطر سے بہتر ہے، اَور موت کا دِن پیدائش کے دِن سے بہتر ہے۔
ECC 7:2 ماتم کے گھر میں جانا ضیافت کے گھر میں جانے سے بہتر ہے، کیونکہ موت ہی ہر اِنسان کا اَنجام ہے؛ اَورجو زندہ ہیں اُنہیں سنجِیدگی سے اِس کا احساس کرنا چاہئے۔
ECC 7:3 اَور غمگینی ہنسی سے بہتر ہے، کیونکہ اُداس چہرہ دِل کو سدھار دیتاہے۔
ECC 7:4 دانا کا دِل ماتم کے گھر میں ہے، لیکن احمقوں کا دِل عشرت خانہ میں ہے۔
ECC 7:5 دانِشور کی سرزنش پر کان دھرنا، احمقوں کا نغمہ سُننے سے بہتر ہے۔
ECC 7:6 جَیسا ہانڈی کے نیچے کانٹوں کا چٹکنا، وَیسا ہی احمقوں کا ہنسنا ہے۔ یہ بھی باطِل ہے۔
ECC 7:7 زبردستی رقم ہتھیا لینا، ایک دانِشور کو احمق بنا دیتاہے، اَور رشوت دِل کو بِگاڑ دیتی ہے۔
ECC 7:8 کسی مُعاملہ کا اَنجام اُس کے آغاز سے بہتر ہے، اَور صبر تکبُّر سے بہتر ہے۔
ECC 7:9 تُم دِل کو تیزی سے طیش میں نہ آنے دینا، کیونکہ غُصّہ احمقوں کے آغوش میں رہتاہے۔
ECC 7:10 تُم یہ نہ کہو، ”پرانے دِن اِن دِنوں سے بہتر کیوں تھے؟“ کیونکہ اَیسے سوالات پُوچھنا دانائی نہیں ہے۔
ECC 7:11 حِکمت، مِیراث کی مانند ایک اَچھّی چیز ہے اَور اُنہیں جو زندہ ہیں، فائدہ پہُنچاتی ہے۔
ECC 7:12 حِکمت وَیسی ہی پناہ گاہ ہے جَیسا کہ دولت، لیکن علم کا خاص فائدہ یہ ہے: حِکمت، صاحبِ حِکمت اِنسان کی جان کی مُحافظ ہے۔
ECC 7:13 جو کچھ خُدا نے کیا ہے اُس پر غور کرو: جسے اُنہُوں نے ٹیڑھا بنایا ہے اُسے کون سیدھا کر سَکتا ہے؟
ECC 7:14 جَب وقت اَچھّا ہو، خُوش رہو؛ لیکن جَب بُرا وقت آ جائے تو غور کرو: جَیسے خُدا نے ایک کو بنایا ہے وَیسے ہی دُوسرے کو بھی۔ لہٰذا آدمی اَپنے مُستقبِل کے متعلّق کچھ بھی مَعلُوم نہیں کر سَکتا۔
ECC 7:15 مَیں نے اَپنی اِس باطِل زندگی میں اِن دونوں کو دیکھاہے: کویٔی راستباز آدمی تو اَپنی راستبازی میں مَر رہاہے، اَور کویٔی بدکار آدمی اَپنی بداعمالی کے باوُجُود طویل عرصہ تک زندگی کے مزے لُوٹ رہاہے۔
ECC 7:16 حَد سے زِیادہ راستباز نہ بنو، اَور نہ ہی حَد سے زِیادہ دانشمند۔ اَپنے آپ کو برباد کرنے کی ضروُرت کیا ہے؟
ECC 7:17 حَد سے زِیادہ بدکردار نہ ہو، اَور نہ ہی احمق بنو۔ کیا تُم وقت سے پہلے مَرنا چاہتے ہو؟
ECC 7:18 اَچھّا ہوتا کہ تُم ایک کو پکڑے رہو اَور دُوسرے کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دو۔ وہ آدمی جو خُدا سے ڈرتا ہے کبھی حَد سے تجاوُز نہیں کرتا۔
ECC 7:19 حِکمت ایک عقلمند آدمی کو شہر کے دس حاکموں سے بھی زِیادہ طاقتور بنا دیتی ہے۔
ECC 7:20 زمین پر اَیسا کویٔی راستباز اِنسان نہیں ہے جو صِرف نیکی ہی نیکی کرے اَور کبھی خطا نہ کرے۔
ECC 7:21 تُم لوگوں کی ہر بات پرجو وہ کہتے ہیں کان مت لگاؤ، اَیسا نہ ہو کہ تُم سُن لو کہ تمہارا نوکر بھی تُم پر لعنت کر رہاہے۔
ECC 7:22 کیونکہ تُم اَپنے دِل میں جانتے ہو کہ کیٔی دفعہ تُم نے خُود بھی دُوسروں پر لعنت کی ہے۔
ECC 7:23 مَیں نے یہ سَب حِکمت سے آزمایا اَور کہا، میں تہیہ کر چُکا ہُوں کہ میں دانشمند بنُوں گا۔ لیکن حِکمت میری پہُنچ سے باہر تھی۔
ECC 7:24 حِکمت جو کچھ بھی ہو، وہ بہت بعید اَور عمیق ہے۔ اُسے کون پا سَکتا ہے؟
ECC 7:25 لہٰذا مَیں نے سوچا، کیوں نہ میں حِکمت کو سمجھنے، اُس کی تحقیق اَور جُستُجو کرنے اَور ہر شَے کو جاننے کی کوشش کروں اَور مَعلُوم کروں کہ بدی حماقت ہے اَور حماقت پاگل پن۔
ECC 7:26 تَب مَیں نے موت سے بھی تلخ تر اُس عورت کو پایا، جِس کا دِل خُود ایک پھندا اَور جِس کے ہاتھ زنجیریں ہیں۔ وہ آدمی جو خُدا کو خُوش رکھتا ہے، اُس سے بچا رہے گا، لیکن گُنہگار کو وہ اَپنے جال میں پھنسا لے گی۔
ECC 7:27 واعظ کہتاہے، ”دیکھو،“ یہ ہے جو مَیں نے دریافت کیا ہے: ”اَشیا کی حقیقت کو دریافت کرنے کے لیٔے مَیں نے ایک شَے کو دُوسری سے مِلا کر دیکھا۔
ECC 7:28 میں ابھی تلاش کر ہی رہاتھا لیکن پا نہیں رہاتھا، تو مَیں نے ہزاروں میں ایک راست مَرد کو پایا، لیکن اُن تمام میں ایک بھی راست عورت نہ تھی۔
ECC 7:29 مَیں نے صِرف یہ مَعلُوم کیا ہے: کہ خُدا نے نَوع اِنسان کو راستکار بنایا، لیکن اِنسان نے بہت سِی بندشیں تجویز کیں۔“
ECC 8:1 کون دانِشور کی مانند ہے؟ اُمور کی تفسیر کون جانتا ہے؟ حِکمت آدمی کے چہرہ کو رَوشن کرتی ہے، اَور اُس کی سختی کو بدل دیتی ہے۔
ECC 8:2 میں کہتا ہُوں کہ بادشاہ کے فرمان کو مانو کیونکہ تُم نے خُدا کے سامنے قَسم کھائی تھی۔
ECC 8:3 بادشاہ کی حُضُوری چھوڑنے میں جلدبازی نہ کرنا اَور کسی بُرے مقصد کے لیٔے کھڑے نہ ہونا۔ جو کچھ وہ چاہتے ہیں، کرتے ہیں۔
ECC 8:4 چونکہ بادشاہ کا حُکم سَب سے اُونچا ہوتاہے لہٰذا اُنہیں کون کہہ سَکتا ہے، ”آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟“
ECC 8:5 جو کویٔی اُن کا حُکم مانتا ہے اُسے کویٔی ضرر نہ پہُنچے گا، اَور دانشمند کا دِل مُناسب موقع اَور اِنصاف کو سمجھتا ہے۔
ECC 8:6 کیونکہ ہر کام کا ایک مُناسب وقت اَور طریقہ ہوتاہے، لیکن آدمی مُصیبت کے بھاری بوجھ تلے دَب کر رہ جاتا ہے۔
ECC 8:7 چونکہ مُستقبِل کو کویٔی آدمی بھی نہیں جانتا لہٰذا کون اُسے بتا سَکتا ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے؟
ECC 8:8 کسی آدمی کو اِختیار نہیں ہے کہ اَپنی رُوح کو روک لے، لہٰذا اَپنی موت کے دِن پر کسی آدمی کا اِختیار نہیں ہے۔ جَیسے جنگ کے وقت کسی کو چھُٹّی نہیں دی جاتی، وَیسے ہی بدکاری، بدکاروں کو نہیں چھوڑے گی۔
ECC 8:9 دُنیا میں جو کچھ ہوتاہے، مَیں نے سَب دیکھا، جَب مَیں نے تمام واقعات پر غور کیا۔ ایک وقت آتا ہے کہ جَب کویٔی آدمی دُوسروں پر ظُلم کرکے اُنہیں ضرر پہُنچاتا ہے۔
ECC 8:10 پھر بھی مَیں نے دیکھا کہ وہ بدکار اُس شہر میں جہاں اُنہُوں نے یہ سَب کیا تھا عزّت سے دفنائے گیٔے ہیں اَورجو پاک مقام کو آتے جاتے رہتے تھے، فراموش کر دئیے گیٔے ہیں۔ یہ بھی باطِل ہے۔
ECC 8:11 جَب کسی جُرم کی سزا کے حُکم نامہ پر فوراً عَمل نہیں ہوتا تو لوگوں کے دِل بدی کرنے کے منصُوبوں سے بھر جاتے ہیں۔
ECC 8:12 اگرچہ گُنہگار سَو جُرم کرتا ہے اَور پھر بھی لمبی عمر پاتاہے۔ لیکن مَیں جانتا ہُوں کہ خُدا کا خوف کرنے والے اِسی خوف کے باعث نیک جزا پائیں گے۔
ECC 8:13 تاہم جو بدکار ہیں اَور خُدا سے نہیں ڈرتے، اُن کا بھلا نہ ہوگا اَور اُن کی عمر دراز نہ ہوگی۔
ECC 8:14 ایک اَور بھی باطِل بات جو زمین پر واقع ہوتی ہے یہ ہے کہ نیکوکاروں کو بھی وُہی پیش آتا ہے جو بدکاروں کو پیش آنا چاہئے اَور بدکاروں کو وہ ملتا ہے جِس کے مُستحق نیکوکار ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہُوں کہ یہ بھی باطِل ہے
ECC 8:15 لہٰذا میں زندگی سے لُطف اَندوز ہونے کی تائید کرتا ہُوں کیونکہ دُنیا میں کسی آدمی کے لیٔے اِس سے بہتر کچھ نہیں کہ کھائے، پیئے اَور خُوش رہے۔ تَب زندگی کے تمام دِنوں میں جو خُدا نے اُسے دُنیا میں بخشے ہیں، اُس کی ساری محنت و مشقّت میں شادمانی اُس کے ساتھ رہے گی۔
ECC 8:16 جَب مَیں نے حِکمت کو جاننے اَور زمین پر اُس آدمی کی محنت کا مشاہدہ کرنے کے لیٔے دماغ لڑایا، جِس کی آنکھوں میں نہ دِن کو نیند آتی ہے نہ رات کو۔
ECC 8:17 تَب مَیں نے خُدا کی ساری کاریگری دیکھی۔ جو کچھ دُنیا میں ہو رہاہے کویٔی بھی اُسے پُوری طرح سمجھ نہیں سَکتا۔ اِس کا جائزہ لینے کے لیٔے اَپنی تمام کوششوں کے باوُجُود کویٔی بھی آدمی اُس کے معنی دریافت نہیں کر سَکتا۔ اگر کویٔی دانشمند آدمی یہ دعویٰ کرے بھی کہ وہ جانتا ہے تو بھی فی الحقیقت وہ اُسے پُوری طرح سمجھ نہیں سَکتا۔
ECC 9:1 چنانچہ مَیں نے اُن تمام باتوں پر غور و فکر کیا اَور یہ نتیجہ نکالا کہ راستباز اَور دانشمند اَور اُن کے سارے کام خُدا کے ہاتھ میں ہیں لیکن کویٔی بھی آدمی نہیں جانتا کہ اُسے مَحَبّت نصیب ہوگی یا عداوت۔
ECC 9:2 سَب کا اَنجام ایک ہی ہے یعنی کیا نیکوکار کیا بدکار، کیا اَچھّا اَور کیا بُرا؛ کیا پاک اَور کیا ناپاک، کیا وہ جو قُربانیاں گذرانتے ہیں اَور کیا وہ جو خُدا کے لئے نہیں گذرانتے۔ جَیسا اَنجام اَچھّے آدمی کا ہوتاہے، وَیسا ہی گُنہگار کا ہوتاہے؛ اَور جَیسا اُن کے ساتھ ہوتاہے جو قَسم کھاتے ہیں، وَیسا ہی اُن کے ساتھ ہوتاہے جو قَسم کھانے سے ڈرتے ہیں۔
ECC 9:3 وہ بُرائی جو دُنیا کی ساری چیزوں میں پائی جاتی ہے یہ ہے کہ ایک ہی حادثہ سَب پر گزرتا ہے۔ علاوہ ازیں بنی آدمؔ کے دِل بدی سے اَور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں اَور اُس کے بعد وہ مَر جاتے ہیں۔
ECC 9:4 ہر ایک جو زندوں میں ہے اُمّید رکھتا ہے اِس لیٔے ایک زندہ کُتّا بھی مُردہ شیر سے بہتر ہے!
ECC 9:5 کیونکہ وہ جو زندہ ہیں جانتے ہیں کہ وہ مَر جایٔیں گے، لیکن مُردے کچھ نہیں جانتے؛ اَور نہ آئندہ اُن کے لیٔے کویٔی اجر ہے، اَور اُن کی یاد بھی بھلا دی جاتی ہے۔
ECC 9:6 اُن کی مَحَبّت، اُن کی نفرت اَور اُن کا حَسد بہت عرصہ سے غائب ہو چُکے ہیں؛ اَور پھر دُنیا میں جو کچھ وقوع میں آتا ہے اُس میں اُن کا ہرگز کویٔی حِصّہ نہ ہوگا۔
ECC 9:7 پس جاؤ، خُوشی سے اَپنی روٹی کھاؤ اَور مسرُور دِل سے اَپنا انگوری شِیرہ پیو کیونکہ یہی وقت ہے کہ خُدا تمہارے اعمال سے راضی ہو۔
ECC 9:8 ہمیشہ سفید لباس پہنو اَور اَپنے سَر پر تیل لگاؤ۔
ECC 9:9 اَور اِس فانی زندگی کے تمام ایّام جو خُدا نے تُمہیں دُنیا میں بخشے ہیں، اَپنی بیوی کے ساتھ جِس سے تُم مَحَبّت کرتے ہو، عیش و آرام میں گُزارو کیونکہ دُنیا میں تمہاری محنت و مشقّت سے بھری زندگی میں تمہارا یہی حِصّہ ہے۔
ECC 9:10 جو کچھ بھی تمہارے ہاتھوں کو کرنا پڑے اُسے اَپنی ساری قُوّت سے کرو کیونکہ قبر میں جہاں تُم جانے کو ہو وہاں نہ کویٔی کام ہے نہ ہی کویٔی منصُوبہ؛ نہ علم ہے نہ حِکمت۔
ECC 9:11 مَیں نے دُنیا میں کچھ اَور بھی ہوتے دیکھاہے: کہ نہ تو دَوڑ میں تیز رفتار کو سبقت حاصل ہوتی ہے نہ جنگ میں زورآور کو فتح، نہ دانشمند کو روٹی ملتی ہے نہ عالِم کو دولت نہ فاضل کو عزّت؛ لیکن اُن کے مِلنے کا وقت اَور موقع سَب کے لیٔے ہے۔
ECC 9:12 علاوہ ازیں کویٔی آدمی نہیں جانتا کہ اُس کی گھڑی کب آ جائے گی: جَیسے مچھلیاں ہلاکت کے جال میں پھنس جاتی ہیں، یا چڑیاں پھندے میں، وَیسے ہی اَچانک بدبختی آتی ہے اَور بنی آدمؔ کو اَپنے جال میں پھنسا لیتی ہے۔
ECC 9:13 مَیں نے دُنیا میں حِکمت کی یہ مثال بھی دیکھی جِس نے مُجھے بڑا متاثر کیا:
ECC 9:14 کسی زمانہ میں ایک چھوٹا سا شہر تھا جِس میں تھوڑے سے لوگ تھے جِس پر ایک طاقتور بادشاہ نے چڑھائی کرکے اُسے گھیرے میں لے لیا اَور اُس کے مقابل بڑے بڑے دمدمے باندھے۔
ECC 9:15 وہاں اُس شہر میں ایک آدمی رہتا تھا جو تھا تو غریب مگر عقلمند تھا، جِس نے اَپنی حِکمت سے اُس شہر کو بچا لیا۔ لیکن کسی نے بھی اُس غریب آدمی کو یاد نہ رکھا۔
ECC 9:16 تَب مَیں نے کہا، ”حِکمت زور سے بہتر ہے۔“ لیکن غریب کی حِکمت کی تحقیر ہوتی ہے اَور اُس کی باتوں کو کویٔی نہیں سُنتا۔
ECC 9:17 احمقوں کے حاکم کی چِلّاکر کہی ہُوئی باتوں کی بہ نِسبت دانشمند کی نرمی سے کہی ہُوئی باتیں زِیادہ توجّہ کے لائق ہوتی ہیں۔
ECC 9:18 حِکمت جنگ کے ہتھیاروں سے بہتر ہے، لیکن ایک گُنہگار بہت سِی نیکی کو برباد کر دیتاہے۔
ECC 10:1 جِس طرح مُردہ مکھّیاں عطر کو بدبودار کردیتی ہیں، اُسی طرح تھوڑی سِی حماقت، حِکمت اَور عزّت کو بِگاڑ دیتی ہے۔
ECC 10:2 دانشمند کا دِل اُس کی داہنی طرف ہے، لیکن احمق کا دِل بائیں طرف۔
ECC 10:3 جَب احمق راہ چلتا ہے، تو وہ عقل سے محروم ہو جاتا ہے اَور وہ سَب پر ظاہر کر دیتاہے کہ وہ کتنا احمق ہے۔
ECC 10:4 اگر کسی حاکم کو تُم پر غُصّہ آئے، تو تُم اَپنی جگہ نہ چھوڑنا؛ کیونکہ برداشت بڑے بڑے گُناہوں کو دبا دیتی ہے۔
ECC 10:5 ایک خرابی ہے جو مَیں نے دُنیا میں دیکھی ہے، وہ اَیسی خطا ہے جو حاکم سے سرزد ہوتی ہے:
ECC 10:6 احمق بہت سے اعلیٰ عہدوں پر لگا دیئے جاتے ہیں، جَب کہ دولتمند ادنیٰ مراتب پر فائز ہوتے ہیں۔
ECC 10:7 مَیں نے غُلاموں کو گھوڑوں پر سوار دیکھاہے، جَب کہ اُمرا غُلاموں کی مانند پیدل جاتے ہیں۔
ECC 10:8 جو کویٔی گڑھا کھودتا ہے وہ اُس میں گِر بھی سَکتا ہے؛ اَورجو کویٔی دیوار توڑتا ہے اُسے سانپ ڈس سَکتا ہے۔
ECC 10:9 کان سے پتّھر نکالنے والا، اُن سے چوٹ کھا سَکتا ہے؛ اَور شہتیروں کو چیرنے والا اُن سے خطرے میں پڑ سَکتا ہے۔
ECC 10:10 اگر کُلہاڑا کُند ہے اَور اُس کی دھار تیز نہیں، تو زِیادہ زور لگانے کی ضروُرت پڑتی ہے لیکن ہُنرمندی کامیابی دِلاتی ہے۔
ECC 10:11 اگر سانپ سدھارے جانے سے پیشتر ہی سپیرے کو کاٹ لے، تو سپیرے کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
ECC 10:12 دانشمند کے مُنہ کی باتیں ایک نِعمت ہیں، لیکن احمق کے اَپنے ہونٹ اُسے جَلا دیتے ہیں۔
ECC 10:13 شروع میں تو اُس کی باتیں محض احمقانہ ہوتی ہیں؛ اَور آخِر میں وہ بڑی دیوانگی کی حَد تک پہُنچ جاتی ہیں۔
ECC 10:14 اَور احمق بہت باتیں بناتا ہے۔ کویٔی اِنسان نہیں جانتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ کون اُسے بتا سَکتا ہے کہ اُس کے بعد کیا ہوگا؟
ECC 10:15 احمق کی محنت اُسے تھکا دیتی ہے؛ وہ شہر کو جانے کا راستہ بھی نہیں جانتا۔
ECC 10:16 اَے مُلک تُجھ پر افسوس اگر تیرا بادشاہ نابالغ ہو اَور جِس کے اُمرا صُبح اُٹھتے ہی ضیافتیں کھانے لگیں۔
ECC 10:17 مُبارک ہے تُو اَے مُلک جِس کا بادشاہ عالی نَسب ہے اَور جِس کے اُمرا مُناسب وقت پر توانائی کے لیٔے کھانا کھاتے ہیں، بدمست ہونے کے لیٔے نہیں۔
ECC 10:18 اگر کویٔی آدمی کاہل ہے تو چھت کی کڑیاں جھُک جاتی ہیں؛ اگر اُس کے ہاتھ ڈھیلے ہُوں تو مکان ٹپکتا ہے۔
ECC 10:19 ضیافت ہنسنے کے لیٔے کی جاتی ہے، اَور مَے جان کو خُوش کرتی ہے، لیکن دولت سے سَب مقصد پُورے ہو جاتے ہیں۔
ECC 10:20 تُم اَپنے دِل میں بھی بادشاہ کو ملعُون نہ کہنا، اَور اَپنی خواب گاہ میں بھی مالدار پر لعنت نہ کرنا، کیونکہ کویٔی ہَوا کی چڑیا تمہاری بات کو لے اُڑے گی، اَور کویٔی اُڑتا پرندہ تمہاری بات کو کھول دے گا۔
ECC 11:1 اَپنی روٹی پانی میں ڈال دو، کیونکہ تُم بہت دِنوں کے بعد اُسے پھر پا لوگے۔
ECC 11:2 سات کو بَلکہ آٹھ کو حِصّہ دو، کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ زمین پر کیا بُلا آئے گی۔
ECC 11:3 جَب بادل پانی سے بھرے ہوتے ہیں، تو وہ زمین پر بارش برساتے ہیں۔ کویٔی درخت خواہ وہ جُنوب کی طرف گِرے یا شمال کی طرف، جہاں گرتا ہے وہیں پڑا رہے گا۔
ECC 11:4 جو کویٔی ہَوا کا رخ دیکھتا ہے، وہ بوتا نہیں؛ اَورجو کویٔی بادلوں کو دیکھتا ہے وہ فصل کاٹتا نہیں۔
ECC 11:5 جَیسے تُم ہَوا کی راہ نہیں جانتے، یہ نہیں جانتے کہ ماں کے رحم میں بچّہ کیسے بڑھتا ہے، وَیسے ہی تُم سَب چیزوں کے بنانے والے خُدا کے کاموں کو نہیں جان سکتے۔
ECC 11:6 صُبح کو اَپنا بیج بوؤ، اَور شام کو بھی اَپنے ہاتھوں کو بیکار نہ رہنے دو، کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ کون سا کامیاب ہوگا، یہ یا وہ، یا دونوں ہی یکساں برومند ہوں گے۔
ECC 11:7 نُور شیریں ہے، اَور آفتاب کو دیکھنا آنکھوں کو اَچھّا لگتا ہے۔
ECC 11:8 خواہ آدمی برسوں زندہ رہے، اُسے اُن سَب سے لُطف اَندوز ہونا چاہئے۔ لیکن تاریکی کے دِنوں کو یاد رکھنا چاہئے، کیونکہ وہ بہت ہوں گے۔ سَب کچھ جو آتا ہے باطِل ہے۔
ECC 11:9 اَے جَوان اَپنی جَوانی کے دِنوں میں خُوش رہو، تمہارا دِل تمہارے عالمِ شباب میں تُمہیں مسرُور رکھے۔ تُم اَپنے دِل کی راہوں کی اَورجو کچھ تمہاری آنکھیں دیکھتی ہیں اُس کی پیروی کرو۔ لیکن یاد رکھو کہ اِن سَب باتوں کے لیٔے خُدا تُمہیں عدالت میں لائیں گے۔
ECC 11:10 پس غم کو اَپنے دِل سے دُور کرو اَور اَپنے جِسم کی تکلیفوں کو نکال دو، کیونکہ جَوانی اَور جوشِ جَوانی دونوں باطِل ہیں۔
ECC 12:1 اَپنی جَوانی کے دِنوں میں اَپنے خالق کو یاد رکھو، پیشتر اِس کہ مُصیبت کے دِن آئیں اَور وہ بَرس قریب پہُنچیں جَب تُم کہو، میں اُن میں کویٔی خُوشی نہیں پاتا۔
ECC 12:2 پیشتر اُس کہ سُورج اَور رَوشنی اَور چاند اَور سِتارے تاریک ہو جایٔیں، اَور بارش کے بعد بادل لَوٹ جایٔیں۔
ECC 12:3 جَب گھر کے مُحافظ تھرتھرانے لگیں، اَور طاقتور آدمی کُبڑے ہو جایٔیں، اَور آٹا پیسنے والیوں کا کام رُک جائے کیونکہ وہ بہت کم ہیں، اَور وہ جو کھڑکیوں سے جھانک رہی ہیں، اُن کی آنکھیں دھُندلا جایٔیں؛
ECC 12:4 اَور گلی کے کواڑے بندہو جایٔیں اَور چکّی کی آواز مدھم پڑ جائے؛ جَب آدمی چڑیوں کی آواز سے چونک اُٹھے، اُن کے تمام نغمہ مدھم پڑ جایٔیں؛
ECC 12:5 جَب لوگ اُونچی جگہوں سے اَور گلیوں میں خطرات سے ڈرنے لگیں؛ جَب بادام کے درخت میں پھُول آئیں اَور ٹِڈّی ایک بوجھ مَعلُوم ہو اَور خواہش مُردہ سِی ہو جائے۔ تَب آدمی اَپنے اَبدی مکان میں چلا جاتا ہے اَور ماتم کرنے والے گلی گلی پھرتے ہیں۔
ECC 12:6 اُنہیں یاد رکھو، پیشتر اِس کہ چاندی کی ڈوری کاٹ دی جائے، یا سونے کی پیالی توڑ دی جائے؛ اَور گھڑا چشمہ پر پھوڑ دیا جائے، یا حوض کا چرخ ٹوٹ جائے۔
ECC 12:7 اَور خاک سے جا ملے جَیسے پہلے مِلی ہُوئی تھی، اَور رُوح خُدا کی طرف، جِس نے اُسے دیا تھا، لَوٹ جائے۔
ECC 12:8 باطِل ہے باطِل! واعظ کہتاہے، ”سَب کچھ باطِل ہے!“
ECC 12:9 واعظ نہ صِرف دانشمند آدمی بَلکہ وہ لوگوں کو تعلیم بھی دیتے تھے۔ اُنہُوں نے خُوب غوروخوض کیا اَور تحقیق کی اَور بہت سِی امثال کو نظم کیا۔
ECC 12:10 واعظ نے صحیح اَور دُرست باتوں کو مَعلُوم کرنے کے لیٔے بڑی جُستُجو کی اَورجو کچھ اُنہُوں نے لِکھا وہ راست اَور حق تھا۔
ECC 12:11 دانشمند کی باتیں آنکس کی مانند ہیں اَور اُن کی جمع کی ہُوئی کہاوتیں مضبُوط کھونٹیوں کی مانند ہیں جو ایک چرواہے کی طرف سے دی گئی ہُوں۔
ECC 12:12 اَے میرے بیٹے، اُن کے علاوہ اَور باتوں سے خبردار رہنا۔ بہت سِی کِتابیں تالیف کرنے کی اِنتہا نہیں اَور بہت پڑھنا جِسم کو تھکا دیتاہے۔
ECC 12:13 اَب سَب کچھ سُنا دیا گیا ہے؛ حاصل کلام یہ ہے کہ خُدا سے ڈرو اَور اُن کے حُکموں پر عَمل کرو، کیونکہ اِنسان کا فرضِ کُلّی یہی ہے۔
ECC 12:14 کیونکہ خُدا ہر ایک فعل کو، ہر ایک پوشیدہ بات سمیت، خواہ وہ اَچھّی ہو یا بُری، عدالت میں لائیں گے۔
SOL 1:1 شُلومونؔ کی غزل الغزلات۔
SOL 1:2 وہ مُجھے اَپنے مُنہ کے بوسوں سے چُومے کیونکہ تمہاری مَحَبّت مَے سے زِیادہ راحت بخش ہے۔
SOL 1:3 تمہارے عِطر کی خُوشبو لطیف ہے؛ تمہارا نام عِطرِ ریختہ کی مانند ہے۔ اِس لیٔے کوئی تعجُّب نہیں کہ نوجوان خواتین تُم پر فدا ہیں۔
SOL 1:4 مُجھے اَپنے ساتھ لے چلو۔ آؤ ہم کہیں دُور چلیں! کاش! بادشاہ مُجھے اَپنی خواب گاہ میں لے جائے۔ سہیلیاں ہم تُم میں شادمان اَور مسرُور ہوں گے؛ ہم مَے سے زِیادہ تمہاری مَحَبّت کی تعریف کریں گے۔ محبُوبہ تمہاری تعریف وہ بالکُل مُناسب ہی کرتی ہیں!
SOL 1:5 اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں، میں اگرچہ سیاہ فام ہُوں لیکن پھر بھی خُوبصورت ہُوں، قیدارؔ کے خیموں کی مانند سیاہ فام، اَور شُلومونؔ کے خیموں کے پردوں کی مانند خُوبصورت ہُوں۔
SOL 1:6 اِس لیٔے مُجھے گھُور کر مت دیکھو کیونکہ مَیں سیاہ فام ہُوں، کیونکہ مَیں دھوپ سے جھُلس گئی ہُوں۔ میرے سگے بھایٔی مُجھ سے ناراض تھے؛ اِس لیٔے اُنہُوں نے مُجھ سے تاکستانوں کی نگہبانی کروائی، لیکن مَیں نے اَپنے تاکستان کی نگہبانی کو نظرانداز کر دیا۔
SOL 1:7 اَے میرے محبُوب، مُجھے بتاؤ کہ تُم اَپنے گلّہ کہاں چراتے ہو، اَور دوپہر کو اَپنی بھیڑوں کو آرام کرنے کو کہاں بِٹھاتے ہو۔ میں ایک نقاب پوش عورت کی مانند تمہارے دوستوں کے بھیڑ بکریوں کے گلّوں کے پاس کیوں گھُومتی پھروں؟
SOL 1:8 اَے عورتوں میں حسین ترین، اگر تُم نہیں جانتی ہو، تو بھیڑوں کے نقش قدم پر چلی جاؤ اَور اَپنے بُزغالوں کو چرواہوں کے خیموں کے پاس چراؤ۔
SOL 1:9 اَے میری محبُوبہ، تُم میرے لیٔے اُس گھوڑی کی مانند ہو، جو فَرعوہؔ کے رتھ کے گھوڑوں سے بھی زِیادہ خُوبصورت ہے۔
SOL 1:10 تمہارے رُخسار بالیوں سے، اَور تمہاری گردن موتیوں کے ہار سے کتنی خُوبصورت لگتی ہیں۔
SOL 1:11 ہم تمہارے لیٔے سونے کا اَیسا ہار بنوائیں گے، جِس میں چاندی کے موتی لگے ہوں گے۔
SOL 1:12 جَب تک بادشاہ اَپنی کھانے کی میز پر تھے، میرے جٹاماسی کی مہک چاروں طرف اُڑتی رہی۔
SOL 1:13 میرا محبُوب میرے لیٔے مُر کی ڈبیا کی مانند ہے، جو رات بھر میری چھاتِیوں کے درمیان پڑی رہتی ہے۔
SOL 1:14 میرا محبُوب میرے لیٔے حِنا کے پھُولوں کا گلدستہ ہے جو عینؔ گیدیؔ کے تاکستانوں سے لایا گیا ہے۔
SOL 1:15 اَے میری محبُوبہ، تُم کتنی خُوبصورت ہو! تُم حقیقت میں کتنی حسین ہو! تمہاری آنکھیں کبُوتروں کی مانند خُوبصورت ہیں۔
SOL 1:16 اَے میرے محبُوب! تُم کتنے خُوبصورت ہو، دیکھو، تُم کس قدر دلکش ہو! اَور ہمارا بِستر کتنا عظیم شان والا ہے۔
SOL 1:17 ہمارے گھر کے شہتیر دیودار کے ہیں؛ اَور ہماری چھت کی کڑیاں صنوبر کی ہیں۔
SOL 2:1 میں شارونؔ کا گلاب، اَور وادیوں کی شُوشنؔ ہُوں۔
SOL 2:2 جَیسے کانٹے دار جھاڑیوں کے درمیان شُوشنؔ ہے، وَیسے ہی نوجوان خواتین کے درمیان میری محبُوبہ ہے۔
SOL 2:3 جَیسا جنگلی درختوں کے درمیان ایک سیب کا درخت، وَیسا ہی تمام نوجوانوں میں میرا محبُوب ہے۔ میں اُس کے سایہ میں بیٹھ کر لُطف اُٹھاتی ہُوں، اَور اُس کا پھل مُجھے کتنا میٹھا لگتا ہے۔
SOL 2:4 میرے محبُوب کو مُجھے ضیافت گاہ میں لے جانے دو، اَور اُس کا پرچم مُجھ پر مَحَبّت کا پرچم ہو۔
SOL 2:5 کشمش کی ٹکیوں سے مُجھے تروتازہ کرو، اَور سیبوں سے مُجھے تازہ دَم کرو، کیونکہ مَیں مَحَبّت میں پاگل ہُوں۔
SOL 2:6 اُس کا بایاں بازو میرے سَر کے نیچے ہے، اَور اَپنے داہنے بازو سے مُجھے گلے لگائے ہُوئے ہے۔
SOL 2:7 اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں، میں تُمہیں غزالوں اَور میدان کی ہِرنیوں کی قَسم دیتی ہُوں، جَب تک مَحَبّت صحیح وقت پر خُود نہ جاگے، تُم اُسے نہ جگاؤ گی۔
SOL 2:8 سُنو اَور دیکھو! میرا محبُوب! میرا محبُوب آ رہاہے، پہاڑوں کو پھاندتا ہُوا، اَور ٹیلوں پر چھلانگیں مارتا ہُوا، آ رہاہے۔
SOL 2:9 میرا محبُوب غزال یا جَوان ہِرن کی مانند ہے۔ دیکھو! وہ ہماری دیوار کے پیچھے کھڑا ہے، وہ کھڑکیوں سے جھانک رہاہے، اَور وہ جنگلہ میں سے تاک رہاہے۔
SOL 2:10 میرے محبُوب نے مُجھ سے باتیں کیں اَور کہا، ”اُٹھو، اَے میری محبُوبہ، اَے میری حسینہ، اَور میرے ساتھ چلی آؤ۔
SOL 2:11 کیونکہ دیکھو! موسمِ سرما گزر گیا ہے؛ اَور برسات کا موسم جا چُکاہے۔
SOL 2:12 زمین پر پھُولوں کی بہار ہے؛ اَور گانے کا موسم آ گیا ہے، اَور ہماری سرزمین میں قُمریوں کی آواز سُنایٔی دینے لگی ہے۔
SOL 2:13 اَنجیر کے درختوں میں پھل پکنے لگے ہیں؛ اَور انگور کی بیلیں اَپنی مہک پھیلا رہی ہیں۔ اِس لیٔے اُٹھو اَور چلی آؤ، میری محبُوبہ؛ اَے میری حسینہ، میرے ساتھ چلی آؤ۔“
SOL 2:14 اَے میری کبُوتری، تُم چٹّانوں کی دراڑوں میں چھُپی نہ رہو، اَور پہاڑی پتّھروں کی آڑ میں پوشیدہ نہ رہو بَلکہ مُجھے اَپنی صورت دِکھاؤ، اَور مُجھے اَپنی آواز سُننے دو؛ کیونکہ تمہاری آواز شیریں ہے، اَور تمہارا چہرہ حسین ہے۔
SOL 2:15 ہمارے لیٔے اُن لومڑیوں کو پکڑ لو، اَور اُن کے بچّوں کو بھی جو تاکستانوں کو برباد کردیتی ہیں، خاص کر ہمارے تاکستانوں کو جِن میں پھُول کھِل رہے ہیں۔
SOL 2:16 میرا محبُوب صرف میرا ہے اَور میں اُسی کی ہُوں؛ اُسی کی جو شُوشنؔ کے پھُولوں کے درمیان گلّہ چرا رہاہے۔
SOL 2:17 صُبح ہونے اَور ٹھنڈی ہَوا کے بہنے سے پہلے، یا رات کا اَندھیرا غائب ہونے پر، اَے میرے محبُوب، تُو بتیؔر کی پہاڑیوں یعنی میرے پاس سے غزال یا ایک جَوان ہِرن کی مانند بھاگ نہ جاؤ۔
SOL 3:1 مَیں نے پُوری رات اَپنے بِستر پر اُسے ڈھونڈا جِس سے میرا دِل مَحَبّت کرتا ہے؛ مَیں نے اَپنے محبُوب کو ڈھونڈا لیکن نہ پایا۔
SOL 3:2 اَب مَیں اُٹھ کر شہر میں جا کر اُسے ڈھونڈوں گی، شہر کی گلیوں اَور چَوک میں؛ میں اُسے ڈھونڈوں گی جِس سے میرا دِل مَحَبّت کرتا ہے۔ چنانچہ مَیں نے اُسے ڈھونڈا لیکن نہ پایا۔
SOL 3:3 شہر میں گشت لگانے والے پہرےداروں سے میری مُلاقات ہویٔی۔ ”مَیں نے پُوچھا کہ کیا آپ نے اُسے دیکھاہے، جِس سے میرا دِل مَحَبّت کرتا ہے؟“
SOL 3:4 ابھی میں پہرےداروں سے تھوڑی ہی دُور گئی تھی کہ، وہ جِس سے میرا دِل مَحَبّت کرتا ہے، مُجھے مِل گیا۔ مَیں نے اُسے پکڑ لیا اَور اَب اُسے جانے نہ دُوں گی جَب تک میں اُسے اَپنی ماں کے گھر میں نہ لے جاؤں، یعنی اَپنی والدہ کے آرامگاہ میں جِس نے مُجھے پیدا کیا تھا۔
SOL 3:5 اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں، میں تُمہیں غزالوں اَور میدان کی ہِرنیوں کی قَسم دیتی ہُوں، جَب تک مَحَبّت صحیح وقت پر خُود نہ جاگے، تُم اُسے نہ جگاؤ گی۔
SOL 3:6 یہ کون ہے جو بیابان سے دھوئیں کے سُتون کی مانند سوداگروں کے تمام عِطر، مُر اَور لوبان سے مُعطّر ہوکر چلا آ رہاہے؟
SOL 3:7 دیکھو! یہ شُلومونؔ کی پالکی ہے، جِس کی حِفاظت میں ساٹھ جنگجو مُحافظ ہیں، جو اِسرائیل کے جنگجوؤں میں سے چُنے ہویٔے ہیں،
SOL 3:8 سَب کے سَب تلواریں لیٔے ہُوئے، اَور جنگ میں ماہر ہیں، رات کے خطروں کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے، ہر ایک کی تلوار اُس کی ران پر لٹک رہی ہے۔
SOL 3:9 شُلومونؔ بادشاہ نے اَپنے لیٔے پالکی بنوائی ہے؛ اُنہُوں نے اُسے لبانونؔ کی لکڑی سے بنوایا ہے۔
SOL 3:10 اُس کے پایٔے چاندی سے، اَور پیندا سونے سے، اَور اُس کی نشست اَرغوانی رنگ کے کپڑوں سے، اَور اُس کے اَندر کا مرصّع فرش بڑی مَحَبّت سے بنایا گیا ہے۔ اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں،
SOL 3:11 باہر نکلو، اَور دیکھو، اَے صِیّونؔ کی بیٹیوں۔ دیکھو، بادشاہ شُلومونؔ کے سَر کا وہ تاج، جسے اُن کی ماں نے اُنہیں شادی کے دِن، اُن کے سَر پر رکھا تھا جِس دِن وہ نہایت ہی خُوش تھے۔
SOL 4:1 اَے میری محبُوبہ تُم کتنی خُوبصورت ہو! دیکھ، تُم کتنی حسین ہو! حجاب کے پیچھے تمہاری آنکھیں جُڑواں کبُوتر کی مانند ہیں۔ اَور تمہارے بال بکریوں کے گلّہ کی مانند ہیں جو گویا کوہِ گِلعادؔ سے نیچے اُتر رہی ہُوں۔
SOL 4:2 تمہارے دانت بھیڑوں کے ایک اَیسے گلّہ کی مانند ہیں، جِن کے بال ابھی ابھی کترے گیٔے ہُوں اَورجو غُسل کرکے آ رہی ہُوں۔ جِن میں سَب جُڑواں بچّے ہیں؛ اَور اُن میں کویٔی بھی اکیلا نہیں ہے۔
SOL 4:3 تمہارے ہونٹ سُرخ لال فیتے کی مانند ہیں؛ اَور تمہارا مُنہ دلکش ہے۔ حجاب کے نیچے تمہارے گالوں کی جھلک انار کے ٹُکڑوں کی مانند دِکھائی دیتی ہے۔
SOL 4:4 اَور تمہاری گردن داویؔد کے تعمیر کَردہ بُرج کی مانند سیدھی ہے، جسے تراش کر بنایا گیا ہے؛ جِس پر ہزار سپریں لٹکی ہُوئی ہیں، اَور وہ سَب جنگجوؤں کی سپریں ہیں۔
SOL 4:5 تمہاری دونوں چھاتِیاں، کسی غزال کے جُڑواں بچّوں کی مانند ہیں جو شُوشنؔ کے پھُولوں کے درمیان چرتے ہیں۔
SOL 4:6 جَب تک کہ صُبح نہ ہو جائے اَور اَندھیرا غائب نہ ہو جایٔے، میں مُر کے پہاڑ اَور لوبان کے پہاڑی پر چڑھوں گا۔
SOL 4:7 اَے میری محبُوبہ، تُم سَب سے حسین ہو؛ تُم میں کویٔی نُقص نہیں ہے۔
SOL 4:8 اَے میری دُلہن، لبانونؔ کی پہاڑی سے میرے ساتھ چلی آؤ؛ لبانونؔ سے میرے ساتھ چلی آؤ۔ ہم کوہِ امانہؔ کی چوٹی سے، کوہِ سنیرؔ اَور کوہِ حرمُونؔ کی چوٹیوں سے نیچے اُتریں، شیروں کی ماندوں اَور چیتوں کے پہاڑوں سے اُتریں۔
SOL 4:9 اَے میری بہن، اَے میری دُلہن، تُم نے میرا دِل چُرا لیا ہے؛ اَپنی ایک ہی نظر سے تُم نے میرا دِل چُرا لیا، اَپنے گلے کے ہار کے ایک ہی موتی سے، تُم نے میرا دِل چُرا لیا۔
SOL 4:10 اَے میری بہن، اَے میری دُلہن، تمہارا عشق کتنا پُرکیف ہے! تمہارا عشق مَے سے بھی زِیادہ لطیف ہے، اَور تمہارے عِطر کی مہک ہر طرح کے مَسالوں کی خُوشبو سے بہتر ہے!
SOL 4:11 اَے میری دُلہن، شہد کے چھتّہ کی مانند تمہارے لبوں سے شہد ٹپکتا ہے؛ دُودھ اَور شہد تمہاری زبان تلے رہتے ہیں، اَور تمہاری پوشاک کی خُوشبو لبانونؔ کی خُوشبو کی مانند ہے۔
SOL 4:12 اَے میری بہن، اَے میری دُلہن، تُم ایک مُقفّل باغیچہ ہو؛ تُم ایک محفوظ سوتا اَور ایک سَر بمُہر چشمہ ہو۔
SOL 4:13 تُم تو اناروں کے پَودے کا ایک باغیچہ ہو، جِس میں نفیس پھل، حِنا اَور جٹاماسی بھی ہیں،
SOL 4:14 جٹاماسی اَور زعفران، بید مُشک اَور دارچینی، اَور ہر قِسم کے لوبان کے درخت، مُر اَور عُود اَور اعلیٰ قِسم کے خُوشبودار مَسالے پھلتے ہیں۔
SOL 4:15 تُم باغوں کو سیراب کرنے والے چشمے، اَور بہتے کنویں کا جھرنا ہو، جو کوہِ لبانونؔ سے نیچے کی طرف بہہ رہی ہے۔
SOL 4:16 اَے بادِ شمال بیدار ہو، اَور اَے بادِ جُنوب! چلی آؤ۔ میرے باغ پر سے گزرو، تاکہ اِس کے مَسالوں کی خُوشبو چاروں طرف پھیل جائے۔ میرا محبُوب اَپنے باغ میں آئے اَور اُس کے لذیذ میوؤں کا ذائقہ لے۔
SOL 5:1 اَے میری بہن، اَے میری دُلہن، اَب مَیں اَپنے باغ میں داخل ہو گیا ہُوں؛ مَیں نے اَپنا مُر اَپنے بلسان سمیت جمع کر لیا ہے۔ مَیں نے اَپنا شہد سمیت چھتّہ بھی کھا لیا ہے؛ مَیں نے اَپنی مَے اَور اَپنا دُودھ پی لیا ہے۔ رفیق اَے دوستوں! کھاؤ اَور پیو؛ اَے عزیزوں! مَحَبّت کے نشے میں چور ہو جاؤ۔
SOL 5:2 میں سوئی ہویٔی تھی مگر میرا دِل جاگ رہاتھا۔ سُنو! میرا محبُوب کھٹکھٹا رہاہے: ”اَے میری بہن! اَے میری محبُوبہ! میرے لیٔے دروازہ کھولو، میری کبُوتری، میری کامل ساتھی۔ میرا سَر شبنم سے تر ہے، اَور میری زُلفیں رات کی شبنم سے بھیگی ہُوئی ہیں۔“
SOL 5:3 میں تو اَپنا لباس اُتار چُکی ہُوں، اَب مَیں کیسے اُسے دوبارہ پھر سے پہنوں؟ میں تو اَپنے پاؤں دھو چُکی ہُوں کیا میں اُنہیں پھر سے مَیلا کروں؟
SOL 5:4 میرے محبُوب نے دروازہ کے چھید میں سے قُفل کھولنے کے لیٔے اَپنا ہاتھ بڑھایا؛ تبھی میرا دِل اُس کے لیٔے بیتاب ہو گیا۔
SOL 5:5 میں اُٹھی کہ اَپنے محبُوب کے لیٔے دروازہ کھولوں، اَور میرے ہاتھوں سے مُر ٹپک رہاتھا، اَور میری اُنگلیوں سے ٹپکتا ہُوا قُفل کے دستوں پر جا گرا
SOL 5:6 مَیں نے اَپنے محبُوب کے لیٔے دروازہ کھولا، مگر میرا محبُوب وہاں سے جاچُکا تھا۔ اُس کے چلے جانے سے مُجھے سخت صدمہ ہُوا۔ مَیں نے اُسے تلاشا لیکن وہ نہ مِلا۔ مَیں نے اُسے پُکارا لیکن اُس نے جَواب نہ دیا۔
SOL 5:7 شہر میں گشت لگانے والے پہرےداروں سے میری مُلاقات ہویٔی۔ اُنہُوں نے مُجھے مارا اَور زخمی کر دیا؛ شہرپناہ کے اُن مُحافظوں نے میری چادر چھین لی۔
SOL 5:8 اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں، میں تُمہیں قَسم دیتی ہُوں کہ اگر میرا محبُوب تُمہیں مِل جائے، تو تُم اُسے کیا بتاؤگی؟ اُسے بتانا کہ میں اُس کے مَحَبّت میں پاگل ہو گئی ہُوں۔
SOL 5:9 اَے خواتین میں سَب سے حسین؟ ہمیں بتاؤ کہ تمہارے محبُوب میں اَیسی کیا خاصیت ہے جو دُوسروں میں نہیں ہے۔ تمہارا محبُوب اَوروں سے کس طرح سبقت رکھتا ہے کہ، تُم ہمیں اَیسی قَسم کھِلانا چاہتی ہے؟
SOL 5:10 میرا محبُوب سُرخ اَور صحت مند ہے، وہ تو دس ہزاروں میں بھی ممتاز ہے۔
SOL 5:11 اُس کا سَر خالص سونا ہے؛ اُس کے بال گھنگرالے اَور کوّے کی طرح کالے ہیں۔
SOL 5:12 اُس کی آنکھیں دریاؤں کے کنارے کے اُن کبُوتروں کی مانند چمکدار ہیں، جو دُودھ میں نہایٔے، اَور جواہرات کی مانند جڑے ہویٔے ہیں۔
SOL 5:13 اُس کے رُخسار بلسان کی کیاریاں ہیں جو نہایت ہی خُوشبودار ہیں۔ اُس کے ہونٹ شُوشنؔ کے پھُولوں کی مانند ہیں جِن سے مُر ٹپکتا ہے۔
SOL 5:14 اُس کے بازو سونے کی سلاخیں ہیں؛ جِن میں پکھراج جڑے ہیں۔ اُس کا پیٹ چمکتے ہُوئے ہاتھی دانت کی مانند ہے، جِن میں نیلم جڑے ہُوئے ہیں۔
SOL 5:15 اُس کی ٹانگیں سنگِ مرمر کے سُتون ہیں، جو خالص سونے کے پایوں پر قائِم ہیں۔ اُس کا چہرا کوہِ لبانونؔ کی مانند، اَور دیودار کی طرح بے نظیر ہے۔
SOL 5:16 اُس کی باتیں میٹھی ہیں؛ غرض وہ ہر لحاظ سے لطیف ہے۔ اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں، یہ ہے میرا محبُوب، میرا رفیق۔
SOL 6:1 اَے خواتین میں حسین ترین، تمہارا محبُوب کہاں چلا گیا ہے؟ بتاؤ تمہارے محبُوب کا رُخ کس طرف تھا، تاکہ ہم تمہارے ساتھ اُسے تلاشیں؟
SOL 6:2 میرا محبُوب اَپنے باغ میں گیا ہے۔ جہاں بلسان کی کیاریاں ہیں۔ تاکہ وہاں اَپنے ریوڑ کو چَرائے اَور شُوشنؔ کے پھُول جمع کرے۔
SOL 6:3 میں اَپنے محبُوب کی ہو چُکی ہُوں اَور وہ میرا؛ وُہی جو شُوشنؔ کے پھُولوں کے درمیان گلّہ چرا رہاہے۔
SOL 6:4 اَے میری محبُوبہ، تُم تِرضاؔہ شہر کی مانند خُوبصورت ہو، تُم یروشلیمؔ کی مانند دلکش ہو، تُم پرچم اُٹھائے ہویٔے فَوجی دستوں کی مانند رُعب دار ہو۔
SOL 6:5 اَپنی آنکھیں مُجھ سے ہٹا لو؛ کیونکہ وہ مُجھے اَپنے بس میں کر لیتی ہیں۔ تمہارے بال بکریوں کے گلّہ کی مانند ہیں، جو گویا کوہِ گِلعادؔ سے نیچے اُتر رہی ہُوں۔
SOL 6:6 تمہارے دانت بھیڑوں کے ایک اَیسے گلّہ کی مانند ہیں، جِن کے بال ابھی ابھی کترے گیٔے ہُوں جو غُسل کرکے آ رہی ہُوں۔ جِن میں سَب جُڑواں بچّے ہیں، اَور اُن میں کویٔی بھی اکیلا نہیں ہے۔
SOL 6:7 حجاب کے نیچے تمہارے گال گویا انار کے ٹُکڑوں کی مانند ہیں۔
SOL 6:8 گو بادشاہ کی ساٹھ ملِکائیں اَور اسّی داشتاؤں، اَور بے شُمار کنواریاں بھی ہُوں۔
SOL 6:9 مگر میری کبُوتری، میری کامل ساتھی، بے نظیر ہے، اَپنی ماں کی واحد بیٹی، اَور اَپنی والدہ کی لاڈلی ہے۔ خادِماؤں نے اُسے دیکھ کر مُبارک کہا؛ ملِکاؤں اَور داشتاؤں نے اُس کی تعریف کی۔
SOL 6:10 یہ کون ہے جِس کا ظہُور طُلوع صُبح کی مانند ہے، جو پُورے ماہتاب کی طرح حسین، آفتاب کی مانند درخشاں ہے، اَور علم بردار سِتاروں کی مانند رُعب دار ہے؟
SOL 6:11 میں اخروٹ کے باغ میں گیا تاکہ وادی میں تازہ نباتات پر نظر کروں، اَور دیکھوں کہ کیا تاکستان میں غُنچے اَور اناروں میں پھُول نکلے ہیں یا نہیں۔
SOL 6:12 مُجھے مَعلُوم ہی نہ چلا کہ کب، میرے دِل نے مُجھے میرے اُمرا کے شاہی رتھوں پر بِٹھا دیا۔
SOL 6:13 اَے شُولمِیتؔ، لَوٹ آؤ، لَوٹ آؤ؛ لَوٹ آؤ، لَوٹ آؤ، تاکہ ہم تُم پر نظر کر سکیں! محبُوب تُم شُولمِیتؔ کو کیوں دیکھنا چاہتی ہو کیا وہ محنایمؔ جَیسا دو لشکروں کا رقص ہے؟
SOL 7:1 اَے شہزادی! جُوتیوں میں تمہارے پاؤں کتنے خُوبصورت لگتے ہیں، تمہاری حسین رانوں کی گولایٔی کسی ماہر کاریگر کی زیورات کی مانند ہیں۔
SOL 7:2 تمہاری ناف اَیسا گول پیالہ ہے، جو مَسالے دار مَے سے خالی نہیں ہوتا۔ تمہاری کمر گندُم کا ایک انبار ہے، جِس کے اِردگرد شُوشنؔ کے پھُول ہیں۔
SOL 7:3 تمہاری دونوں چھاتِیاں، کسی غزال کے جُڑواں بچّوں کی مانند ہیں۔
SOL 7:4 تمہاری گردن ہاتھی دانت کے بُرج کی مانند ہے۔ تمہاری آنکھیں گویا حِشبونؔ شہر کے تالاب ہیں، جو بیت ربّیمؔ کے پھاٹک کے پاس ہے؛ تمہاری ناک لبانونؔ کے بُرج کی مانند ہے، جِس کا رُخ دَمشق شہر کی طرف ہے۔
SOL 7:5 تمہارا سَر کوہِ کرمِلؔ کی عظمت کی مانند ہے۔ تمہارے سَر کے لمبے بال شاہی دھاگوں میں بنی تصویر ہیں؛ بادشاہ تو تمہاری زُلفوں کی زنجیروں میں جکڑا رہتاہے۔
SOL 7:6 میری محبُوبہ، تُم کتنی حسین اَور پُر لُطف ہو، تُم کتنی خوشیوں سے لبریز ہو!
SOL 7:7 تمہاری قد وقامت کھجور کے درخت جَیسی، اَور تمہاری چھاتِیاں اُس کے گُچّھوں کی مانند ہیں۔
SOL 7:8 مَیں نے کہا، ”میں اُس کھجور کے درخت پر چڑھوں گا؛ اَور اُس کے گُچّھے پکڑ لُوں گا۔“ کاش تمہاری چھاتِیاں انگور کے گُچّھوں کی مانند ہوتییں، اَور تمہاری سانس کی مہک سیبوں کی مہک جَیسی ہوتی۔
SOL 7:9 تمہارا مُنہ بہترین مَے کی مانند ہے۔ محبُوبہ کاش وہ مَے سیدھے میرے محبُوب کے مُنہ میں پہُنچ کر، ہونٹوں اَور دانتوں کے اُوپر آہستہ آہستہ گزر جائے۔
SOL 7:10 میں اَپنے محبُوب کی ہی ہُوں، اَور وہ میرا مُشتاق ہے۔
SOL 7:11 اَے میرے محبُوب! آؤ کہ ہم شہر سے باہر نکل چلیں، اَور گاؤں میں رات گُزاریں۔
SOL 7:12 آؤ ہم پھر صُبح سویرے تاکستان میں چلیں؛ تاکہ دیکھیں کہ کیا تاکوں میں کونپلیں پھوٹ آئی ہیں یا نہیں، کیا اُن میں پھُول کھِل گیٔے ہیں یا نہیں۔ اَور انار کے پھُول کھِل چُکے ہیں یا نہیں۔ وہاں میں تُم پر اَپنی مَحَبّت کا اِظہار کروں گی۔
SOL 7:13 دُدائیم کی خُوشبو پھیل رہی ہے، اَور ہمارے دروازے پر ہر قِسم کے نئے اَور پُرانے میوے مَوجُود ہیں، یہ سبھی مَیں نے اَپنے محبُوب کے لیٔے محفوظ کر رکھے ہیں۔
SOL 8:1 اَے میرے محبُوب! کاش تُم میرے بھایٔی کی مانند ہوتے، جِس نے میری ماں کی چھاتِیوں سے دُودھ پیا ہوتا! تَب اگر باہر تُم سے مُلاقات ہوتی، تو میں تُمہیں خُوب چُومتی؛ اَور کویٔی مُجھے حقیر نہ جانتا۔
SOL 8:2 اَور تَب میں تُمہیں اَپنی ماں کے گھر لے آتی، وہ ماں جِس نے مُجھے تعلیم دی۔ اَور مَیں تُمہیں اَپنے اناروں کے رس سے بنی ہُوئی عُمدہ مَے پِلاتی۔
SOL 8:3 اُس کا بایاں بازو میرے سَر کے نیچے ہے، اَور اَپنے داہنے بازو سے مُجھے گلے لگائے ہُوئے ہے۔
SOL 8:4 اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں، میں تُمہیں قَسم دیتی ہُوں، جَب تک مَحَبّت صحیح وقت پر خُود نہ جاگے، تُم اُسے نہ جگاؤ گی۔
SOL 8:5 یہ کون ہے جو بیابان سے، اَپنے محبُوب کا سہارا لیٔے ہویٔے چلی آ رہی ہے؟ محبُوبہ سیب کے درخت تلے مَیں نے تُمہیں جگا دیا؛ وہاں جہاں تمہاری ماں حاملہ ہویٔی تھی، اَور جہاں اُس نے دردِزہ میں مُبتلا ہوکر تُمہیں پیدا کیا تھا۔
SOL 8:6 ذاتی مُہر کی مانند مُجھے اَپنے دِل پر، اَور انگُوٹھی کی مانند اَپنے اُنگلی میں پہن لو؛ کیونکہ مَحَبّت موت کی مانند طاقتور، اَور اُس کی غیرت قبر کی مانند بےرحم ہے۔ یہ بھڑکتی ہُوئی آگ کی مانند جلتی ہے، جو یَاہوِہ کے شُعلہ کی مانند ہے۔
SOL 8:7 سیلاب بھی مَحَبّت کی آگ کو بُجھا نہیں سکتے؛ بڑے دریا بھی اُسے بہا کر نہیں لے جا سکتے۔ خواہ کویٔی اَپنے گھر کی ساری دولت بھی، مَحَبّت کے بدلے دینا چاہے، تو بھی مَحَبّت اُسے حقیر ہی سمجھے گی۔
SOL 8:8 ہماری ایک چُھوٹی بہن ہے، ابھی اُس کی چھاتِیاں نہیں اُبھری ہیں۔ جِس روز اُس کی شادی کی بات چلے گی تو ہم اَپنی بہن کے لیٔے کیا کریں گے؟
SOL 8:9 اگر وہ ایک دیوار ہوتی، تو ہم اُسے چاندی کے بُرج سے سجاتے۔ اگر وہ ایک دروازہ ہوتی، تو ہم اُسے دیودار کے چوکھٹ سے محفوظ رکھتے۔
SOL 8:10 میں ایک دیوار ہُوں، اَور میری چھاتِیاں بُرجوں کی مانند ہیں۔ جَب میرا محبُوب مُجھے دیکھتا ہے تو مَیں اُس کی نظروں میں دلربا اَور تسلّی دینے والی ہُوں۔
SOL 8:11 بَعل ہامون میں شُلومونؔ کا ایک تاکستان تھا؛ اُس نے اَپنا تاکستان باغبانوں کو ٹھیکہ پر دے دیا۔ تاکہ ہر باغبان پھل کے بدلے ہزار ثاقل چاندی اَدا کرے۔
SOL 8:12 لیکن جو میرا تاکستان ہے؛ اُس پر میرا حق اَور جَوابدہی ہے؛ اَے شُلومونؔ! ایک ہزار ثاقل چاندی پر تمہارا حق ہے، اَور دو سَو ثاقل اُن کے لیٔے ہے جو اِس کے پھلوں کے نگہبان ہیں۔
SOL 8:13 اَے باغ میں رہنے والی، میرے ساتھی تمہاری آواز سُننے کی چاہت رکھتے ہیں، مُجھے بھی اَپنی آواز سُناؤ۔
SOL 8:14 اَے میرے محبُوب! دیر نہ کرو، اَور ایک غزال یا جَوان ہِرن کی مانند مَسالے کے پہاڑوں پر چلے آؤ۔
ISA 1:1 یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے بارے میں وہ رُویا جو یَشعیاہ بِن آموصؔ نے یہُوداہؔ کے بادشاہ عُزّیاہؔ، یُوتامؔ، آحازؔ اَور حِزقیاہؔ کے عہدِ حُکومت میں دیکھی۔
ISA 1:2 سُنو، اَے آسمانوں! اَور کان لگاؤ، اَے زمین! کیونکہ یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”مَیں نے بچّوں کو پالا پوسا اَور بڑا کیا، لیکن اُنہُوں نے میرے خِلاف بغاوت کی۔
ISA 1:3 بَیل تو اَپنے مالک کو پہچانتا ہے، اَور گدھا اَپنے آقا کی چرنی کو، لیکن بنی اِسرائیل مُجھے نہیں جانتے، میرے لوگ نہیں سمجھتے۔“
ISA 1:4 افسوس، اَے گُناہ آلُودہ قوم، اَور بدکرداری سے لدے ہُوئے لوگو، بدکاروں کی نَسل، اَور بدچلن بچّو! اِنہُوں نے یَاہوِہ کو ترک کر دیا؛ اَور اِسرائیل کے قُدُّوس کو حقارت سے ٹھکرا دیا اَور اُس سے مُنہ موڑ لیا۔
ISA 1:5 تُمہیں اَور کب تک سزا دی جائے؟ آخِر تُم کیوں سرکشی کئے جا رہے ہو؟ تمہارا پُورا سَر زخمی ہے، تمہارا سارا دِل مریض ہو چُکاہے۔
ISA 1:6 پاؤں کے تلوے سے سَر کی چوٹی تک تمہارا کویٔی حِصّہ بھی سالِم نہیں ہے صِرف زخم اَور چوٹیں اَور کُھلے ہُوئے گھاؤ ہیں، جنہیں نہ تو صَاف کیا گیا ہے اَور نہ اُن پر پٹّی باندھی گئی ہے نہ ہی اُن پر تیل لگایا گیا ہے۔
ISA 1:7 تمہارا مُلک ویران پڑا ہے، تمہارے شہر آگ سے جَل گئے؛ پردیسی تمہارے کھیتوں کی فصل کاٹ لیتے ہیں، تمہارے سامنے ہی، اَور وہ اَیسے اُجڑے پڑے ہیں جَیسے اجنبیوں کے ہاتھوں برباد ہو چُکے ہُوں۔
ISA 1:8 صِیّونؔ کی بیٹی تاکستان کی جھوپڑی کی طرح، کھیرے کے کھیت کے کسی چھپّر کی مانند، یا ایک محصوُر شہر کی طرح چھوڑ دی گئی ہے۔
ISA 1:9 اگرچہ قادرمُطلق یَاہوِہ ہمیں زندہ نہ رہنے دیتے، تَب تو ہم سدُومؔ کی مانند، اَور عمورہؔ کی مانند ہو جاتے۔
ISA 1:10 اَے سدُومؔ کے حُکمرانو، یَاہوِہ کا کلام سُنو؛ اَے عمورہؔ کے لوگو، ہمارے خُدا کی ہدایات پر کان لگاؤ۔
ISA 1:11 ”تمہاری کثیرُالتعداد قُربانیاں میرے کس کام کی ہیں؟“ یَاہوِہ فرماتے ہیں: مینڈھوں کی سوختنی نذروں سے، اَور فربہ جانوروں کی چربی سے میرا جی بھر چُکاہے؛ بَیلوں، برّوں اَور بکروں کا خُون میری خُوشی کا باعث نہیں۔
ISA 1:12 جَب تُم میرے سامنے آتے ہو، تو کس اِختیار سے، اَور میرے صحنوں کو پاؤں سے روندو؟
ISA 1:13 باطِل قُربانیاں لانے سے باز آؤ! تمہارے بخُور سے مُجھے سخت نفرت ہے۔ نئے چاند، سَبت اَور عید کے اِجتماع اَور تمہاری ناشائستہ محفلیں مَیں برداشت نہیں کر سَکتا۔
ISA 1:14 تمہارے نئے چاند کی عیدوں اَور مُقرّرہ عیدوں سے میری جان کو نفرت ہے۔ وہ میرے لیٔے ایک بوجھ بَن گئے ہیں؛ میں اُنہیں برداشت کرتے کرتے عاجز آ چُکا ہُوں۔
ISA 1:15 جَب تُم دعا میں اَپنے ہاتھ اُٹھاؤگے، تو میں تُم سے مُنہ پھیر لُوں گا؛ تُم چاہے کتنی دعائیں کرو، میں نہیں سُنوں گا۔ تمہارے ہاتھ خُون سے آلُودہ ہیں!
ISA 1:16 اَپنے آپ کو دھوکر پاک کر لو۔ اَپنے بُرے اعمال کو میری نگاہوں سے دُور لے جاؤ؛ بدفعلی سے باز آؤ۔
ISA 1:17 بھلائی کرنا سیکھو؛ اِنصاف طلب بنو، مظلوموں کی حوصلہ اَفزائی کرو۔ یتیموں کے حُقُوق کا تحفُّظ کرو؛ اَور بیواؤں کے حامی ہو۔
ISA 1:18 ”اَب آؤ ہم مِل کر مُعاملہ طے کرتے ہیں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”حالانکہ تمہارے گُناہ قِرمزی ہیں، وہ برف کی مانند سفید ہو جایٔیں گے؛ اَور گو وہ اَرغوانی ہیں، وہ اُون کی مانند اُجلے ہو جایٔیں گے۔
ISA 1:19 اگر تُم رضامند ہو اَور فرمانبردار بنو، تو تُم مُلک کی اَچھّی چیزیں کھاؤگے؛
ISA 1:20 لیکن اگر تُم نے اِنکار کیا اَور سرکشی کی، تو تُم تلوار کا لقمہ بَن جاؤگے۔“ کیونکہ یَاہوِہ نے اَپنے مُنہ سے یہ فرمایاہے۔
ISA 1:21 دیکھ ایک وفاشعار بستی کیسے فاحِشہ بَن گئی! کسی زمانہ میں وہ عدل سے معموُر تھی؛ اَور راستبازوں کا مَسکن لیکن اَب وہاں قاتل بستے ہیں!
ISA 1:22 تمہاری چاندی مَیلی ہو گئی ہے، اَور تمہاری پسندِیدہ انگوری شِیرہ میں پانی مِلا دیا گیا ہے۔
ISA 1:23 تمہارے حُکمران سرکش ہو گئے ہیں، اَور چوروں کے ساتھی بَن گیٔے ہیں؛ اُن سَب کو رشوت عزیز ہے اَور وہ تحفوں کے پیچھے دَوڑتے ہیں۔ وہ یتیموں کے حُقُوق کا تحفُّظ نہیں کرتے؛ اَور نہ بیواؤں کی فریاد اُن تک پہُنچتی ہے۔
ISA 1:24 اِس لیٔے خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ، اِسرائیل کے قادر یُوں فرماتے ہیں: ”آہ، مَیں اَپنے حریفوں پر قہر نازل کروں گا اَور اَپنے دُشمنوں سے اِنتقام لُوں گا۔
ISA 1:25 میں اَپنا ہاتھ تیرے خِلاف بڑھاؤں گا؛ اَور تیرا میل بالکُل صَاف کروں گا اَور تیری تمام گندگی دُور کر دوں گا۔
ISA 1:26 مَیں تیرے قائدین کو پرانے زمانے کی طرح بحال کروں گا، تیرے حُکمرانوں کو شروع کی طرح۔ اُس کے بعد تُم بُلائے جاؤگے راستبازی کا شہر، وفادار شہر کہلایٔیں گے۔“
ISA 1:27 صِیّونؔ اِنصاف کے ساتھ بحال کیا جائے گا، اَور اُس کے تائب باشِندے راستباز ٹھہریں گے۔
ISA 1:28 لیکن سرکش اَور گُنہگار دونوں ہلاک کئے جایٔیں گے، اَورجو یَاہوِہ کو ترک کر دیں گے وہ نِیست و نابود ہو جایٔیں گے۔
ISA 1:29 ”تُم اُن مُقدّس بلُوطوں کے باعث شرمندہ ہو جاؤگے جِن میں تُم نے تسکین پائی؛ اَور اُن گلستانوں کی وجہ سے جنہیں تُم نے پسند کیا ہے تمہارے مُنہ کالے ہوں گے۔
ISA 1:30 تُم اُس بلُوط کی مانند ہو جاؤگے جِس کے پتّے جھڑ رہے ہُوں، یا اُس باغ کی طرح جو بے آب ہو۔
ISA 1:31 پہلوان سَن بَن جائے گا اَور اُس کا کام ایک چنگاری بَن جائے گا۔ دونوں باہم جَل جائیں گے، اَور اُس آگ کو بُجھانے والا کویٔی نہ ہوگا۔“
ISA 2:1 یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے بارے میں یَشعیاہ بِن آموصؔ نے رُویا دیکھی:
ISA 2:2 آخِری دِنوں میں یُوں ہوگا کہ یَاہوِہ کے ہیکل کا پہاڑ قائِم کیا جائے گا اَورجو تمام پہاڑوں میں بُلند ہوگا؛ وہ اَور پہاڑوں سے اُونچا اُٹھایا جائے گا، اَور تمام قوموں کا اُس پر تانتا لگا ہوگا۔
ISA 2:3 بہت سِی قومیں آئیں گی اَور کہیں گی، ”آؤ یَاہوِہ کے گھر پر چڑھیں، اَور یعقوب کے خُدا کے گھر میں داخل ہُوں۔ وہ ہمیں اَپنے آئین سکھائیں گے، تاکہ ہم اُن کی راہوں پر چلیں۔“ کیونکہ شَریعت صِیّونؔ سے، اَور یَاہوِہ کا کلام یروشلیمؔ سے صادر ہوگا۔
ISA 2:4 وہ بہت سِی اُمّتوں کے درمیان عدالت کریں گے اَور دُور دُور کی زورآور قوموں کے جھگڑوں کو مٹائیں گے۔ وہ اَپنی تلواریں پیٹ کر پھالیں، اَور بھالوں کو ہنسوے بنائیں گے۔ ایک قوم دُوسری قوم پر تلوار نہ اُٹھائے گی، اَور نہ جنگ کرنے کی تربّیت دے گی۔
ISA 2:5 اَے یعقوب کے گھرانے آ، ہم یَاہوِہ کے نُور میں چلیں۔
ISA 2:6 آپ نے یَاہوِہ اَپنے لوگوں کو ترک کر دیا، یعنی یعقوب کے گھرانے کو۔ کیونکہ اُن میں اہلِ مشرق کی طرح اوہام پرستی بھری ہُوئی ہے؛ اَور وہ فلسطینیوں کی طرح شگون لیتے ہیں اَور غَیر قوموں کے ساتھ ہاتھ مِلاتے ہیں۔
ISA 2:7 اُن کا مُلک چاندی اَور سونے سے بھرا پڑا ہے؛ اَور اُن کے یہاں خزانوں کی کویٔی کمی نہیں ہے۔ اُن کے مُلک میں گھوڑے کثرت سے ہیں؛ اَور رتھوں کا کویٔی شُمار نہیں ہے۔
ISA 2:8 لیکن اُن کا مُلک بُتوں سے بھرا ہُواہے؛ وہ اَپنے ہی ہاتھوں سے بنائی ہُوئی چیزوں کے آگے جھُکتے ہیں، جنہیں اُن کی اَپنی اُنگلیوں نے بنایا۔
ISA 2:9 لہٰذا بشر ذلیل کیا جائے گا اَور نَوع اِنسان پست ہوگا اُنہیں ہرگز مُعاف نہ کرنا۔
ISA 2:10 چٹّانوں میں جاؤ، زمین میں چھُپ جاؤ یَاہوِہ کی خوفناک مَوجُودگی سے۔ اَور اُن کی عظمت کی شان سے!
ISA 2:11 مغروُر اِنسان کی نگاہیں نیچی کی جایٔیں گی اَور بنی آدمؔ کا تکبُّر خاک میں مِل جائے گا؛ اَور اُن کا دِن فقط یَاہوِہ ہی سرفراز ہوگا۔
ISA 2:12 قادرمُطلق یَاہوِہ کا ایک دِن ہے جَب تمام مغروُر اَور عالی مرتبہ لوگ، اَور ہر وہ جو سرفراز ہے سَب کے سَب پست کئے جایٔیں گے،
ISA 2:13 لبانونؔ کے تمام اُونچے اَور بُلند دیودار، اَور باشانؔ کے سَب بلُوط،
ISA 2:14 تمام بُلند پہاڑ اَور تمام اُونچی پہاڑیاں،
ISA 2:15 ہر اُونچا بُرج اَور ہر شہرپناہ،
ISA 2:16 ہر تجارتی ترشیشؔ کا جہاز اَور ہر شاندار جہاز اِن سبھی پر یَاہوِہ کا وہ دِن آئے گا
ISA 2:17 اِنسان کا تکبُّر خاک میں مِل جائے گا اَور لوگوں کا غُرور پست کیا جائے گا؛ اَور اُس دِن فقط یَاہوِہ ہی سرفراز ہوں گے۔
ISA 2:18 اَور بُت قطعاً فنا ہو جایٔیں گے۔
ISA 2:19 اَور جَب یَاہوِہ زمین کو جھنجھوڑنے کے لیٔے اُٹھ کھڑے ہوگا، تَب لوگ یَاہوِہ کے خوف سے اَور اُن کی عظمت کی شان سے چٹّانوں کی غاروں میں اَور زمین کے شگافوں میں پناہ لینے کے لیٔے جا چھپیں گے۔
ISA 2:20 اُس دِن لوگ چھچھوندروں اَور چمگادڑوں کی طرف پھینک دیں گے۔ اُن کے چاندی کے بُت اَور سونے کے بُت، جسے اُنہُوں نے عبادت کے لئے بنایا۔
ISA 2:21 تاکہ جَب یَاہوِہ زمین کو جھنجھوڑنے کے لیٔے اُٹھے، تو لوگ یَاہوِہ کے خوف سے اَور اُن کی عظمت کی شان سے، بھاگ کر پتّھروں کی دراڑوں میں اَور ڈھلوان چٹّانوں کے شگافوں میں جا چھپیں گے۔
ISA 2:22 اِنسان پر بھروسا کرنا چھوڑ دو، جِس کے نتھنوں میں محض دَم ہے۔ آخِر اُس کی قدر و قیمت ہی کیا ہے؟
ISA 3:1 اَب دیکھو خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ، یروشلیمؔ اَور یہُودیؔہ سے رسد اَور حمایت، جِن پر اُن کا تکیہ ہے، دونوں کو دُور کر دے گا، یعنی تمام اشیائے خُوردنی اَور پانی کی فراہمی۔
ISA 3:2 سُورما اَور جنگجو سپاہی، قاضی اَور نبی، ساحر اَور بُزرگ،
ISA 3:3 پچاس پچاس سپاہیوں کے سپہ سالار اَور عالی مرتبہ اِنسان، مُشیر، ماہر کاریگر اَور ہوشیار دلفریبی قِسم کے لوگوں پر۔
ISA 3:4 ”میں لڑکوں کو افسر مُقرّر کروں گا؛ محض بچّے اُن پر حُکومت کریں گے۔“
ISA 3:5 لوگ ایک دُوسرے پر ظُلم ڈھائیں گے ایک شخص دُوسرے پر، اَور ہمسایہ اَپنے ہمسایہ پر۔ جَوان بُزرگوں کے خِلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے، اَور عزّت شُرفا کے ساتھ بدسلُوکی کریں گے۔
ISA 3:6 اُس وقت کویٔی شخص اَپنے باپ کے گھر میں اَپنے بھائیوں میں سے کسی ایک کا دامن پکڑکر کہے گا، ”تیرے پاس چوغہ ہے، تُو ہی ہمارا رہنما بَن جا؛ اَور اِن کھنڈروں کے ڈھیر برباد شُدہ یروشلیمؔ کی دیکھ بھال کا ذمّہ اُٹھالے!“
ISA 3:7 لیکن اُس روز وہ چِلّا چِلّاکر کہے گا، ”میرے پاس کویٔی علاج نہیں ہے۔ میرے گھر میں نہ کھانا ہے نہ کپڑا؛ مُجھے لوگوں کا رہنما نہ بناؤ۔“
ISA 3:8 یروشلیمؔ ڈگمگا رہاہے، اَور یہُوداہؔ گِر رہاہے؛ اُن کا کلام اَور اُن کے کام یَاہوِہ کے خِلاف ہیں جو اُس کے جلال کے شایانِ شان نہیں ہیں۔
ISA 3:9 اُن کے چہرے اُن کے خِلاف گواہی دے رہے ہیں؛ وہ اَپنے گُناہوں کا اہلِ سدُومؔ کی مانند مظاہرہ کرتے ہیں؛ اُنہیں چھپاتے نہیں۔ اُن پر افسوس! وہ اَپنی مُصیبت کے خُود ہی ذمّہ دار ہیں۔
ISA 3:10 راستبازوں سے کہہ دو کہ اُن کا بھلا ہوگا، کیونکہ وہ اَپنے اعمال کا پھل کھایٔیں گے۔
ISA 3:11 بدکاروں پر افسوس ہے! اُن کی شامت آ گئی ہے! وہ اَپنے ہاتھوں کے کئے کی سزا پائیں گے۔
ISA 3:12 نوجوان میرے لوگوں پر ظُلم کرتے ہیں، اَور عورتیں اُن پر حُکمران ہیں۔ اَے میرے لوگو، تمہارے رہنما تُمہیں گُمراہ کرتے ہیں؛ وہ تُمہیں راہ سے بھٹکا رہے ہیں۔
ISA 3:13 یَاہوِہ عدالت میں جلوہ افروز ہے؛ وہ لوگوں کا اِنصاف کرنے کے لیٔے اُٹھ کھڑا ہُواہے۔
ISA 3:14 یَاہوِہ اَپنے لوگوں کے بُزرگوں اَور سربراہوں کی عدالت کریں گے: ”وہ تُم ہی ہو جنہوں نے میرے تاکستان کو برباد کر دیا؛ غریبوں کا لُوٹا ہُوا مال تمہارے ہی گھروں میں رکھا ہُواہے۔
ISA 3:15 خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں: میرے لوگوں کو ستانے اَور غریبوں کے سَر کُچلنے سے آخِر تمہارا مطلب کیا ہے؟“
ISA 3:16 یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”صِیّونؔ کی عورتیں مغروُر ہیں، جو گردن اکڑا کر چلتی ہیں، اَور اَپنی آنکھیں مٹکاتی ہیں، اَور وہ پائلوں کی جھنکار کے ساتھ، مٹک مٹک کر چلتی ہیں۔
ISA 3:17 اِس لیٔے یَاہوِہ صِیّونؔ کی عورتوں کے سَروں پر پھوڑے پیدا کریں گے؛ اَور اُنہیں گنجا کر دے گا۔“
ISA 3:18 اُس وقت خُداوؔند اُن کی چوڑیاں، سَر کے بند اَور گلے کی مالائیں۔
ISA 3:19 کان کی بالیاں اَور کنگن اَور نقاب،
ISA 3:20 سَر کے تاج اَور پازیب اَور کمر کے پٹکے، عِطردان اَور تعویذ،
ISA 3:21 انگُوٹھیاں اَور نتھ،
ISA 3:22 نفیس کُرتے، اوڑھنیاں اَور دوپٹّے، بٹوئے
ISA 3:23 اَور آئینہ، سُوتی کپڑے، دستاریں اَور اُوڑھنی، غرض کہ یَاہوِہ اُن کی آرائِش کی سبھی چیزیں چھین لے گا۔
ISA 3:24 اَور یُوں ہوگا کہ خُوشبو کے عوض بدبُو؛ کمربند کے عوض رسّی؛ گُندھے ہُوئے بالوں کے عوض گنجاپن؛ نفیس لباس کے عوض، ٹاٹ؛ اَور حُسن کے عوض داغ ہوں گے۔
ISA 3:25 تیرے بہادر مَرد تہِ تیغ ہوں گے، اَور تیرے جنگجو سپاہی جنگ میں قتل ہوں گے۔
ISA 3:26 صِیّونؔ کے پھاٹک نوحہ اَور ماتم کریں گے؛ اَور وہ بدحال ہوکر خاک پر بیٹھے گی۔
ISA 4:1 اُس وقت سات عورتیں ایک مَرد کو پکڑکر کہیں گی، ہم خُود، ”اَپنا ہی کھانا کھایٔیں گی اَور اَپنے ہی کپڑے پہنیں گی؛ تُم ہمیں صِرف اَپنے نام سے وابستہ رہنے دیں، تاکہ ہماری رُسوائی نہ ہونے پایٔے!“
ISA 4:2 اُس وقت یَاہوِہ کی شاخ نہایت خُوبصورت اَور پُرجلال ہوگی اَور زمین کا پھل اِسرائیل کے بچے ہُوئے لوگوں کے لیٔے نہایت لذیذ اَور شاندار ہوگا۔
ISA 4:3 وہ تمام لوگ جو صِیّونؔ میں چھُوٹ جایٔیں گے اَور یروشلیمؔ میں باقی رہیں گے مُقدّس کہلایٔیں گے۔ اَور وہ بھی جِن کا نام یروشلیمؔ میں زندہ بچے ہُوئے لوگوں کی فہرست میں ہوگا۔
ISA 4:4 یَاہوِہ اِنصاف کرنے والی اَور بھسم کرنے والی رُوح کے ذریعہ صِیّونؔ کی عورتوں کی گندگی دھو ڈالیں گے اَور یروشلیمؔ کے دامن کو خُون کے دھبّوں سے پاک کریں گے۔
ISA 4:5 تَب یَاہوِہ صِیّونؔ کے پُورے پہاڑ پر اَور اُن سَب پرجو وہاں جمع ہُوں دِن کے وقت دھوئیں کا بادل اَور رات کو آگ کا نہایت رَوشن شُعلہ نموُدار کریں گے جو سارے جلال پر گویا ایک سائبان ہوگا۔
ISA 4:6 اَور وہ دِن کی دھوپ سے بچنے کے لیٔے ایک خیمہ اَور چھاؤں اَور آندھی اَور مینہ سے بچنے کے لیٔے ایک آسرا اَور جائے پناہ ہوگا۔
ISA 5:1 میں اَپنے محبُوب کے لیٔے اُس کے تاکستان کا نغمہ گاؤں گی: میرے محبُوب کا تاکستان کا باغ تھا ایک زرخیز پہاڑی پر۔
ISA 5:2 اُس نے اُسے کھودا اَور اُس کے پتّھر الگ کئے اَور اُس میں بہترین انگوری بیلیں لگائیں۔ پہرا دینے کے لیٔے بُرج بنایا اَور انگور کا عرق نکالنے کے لیٔے کولہو بھی لگایا۔ پھر وہ انگور کی اَچھّی فصل کا منتظر رہا، لیکن اُس میں جنگلی انگور لگے۔
ISA 5:3 ”اَب اَے یروشلیمؔ کے باشِندو اَور یہُوداہؔ کے لوگو، میرے اَور میرے تاکستان کے بارے میں تُم ہی فیصلہ کرو۔
ISA 5:4 میرے تاکستان کے لیٔے اَور کیا کرنا باقی رہ گیا تھا جو مَیں نے اُس کے لیٔے نہیں کیا ہو؟ پھر کیا وجہ ہے کہ جَب مَیں نے اَچھّے انگور کی توقع رکھی تو اُس میں صِرف جنگلی انگور لگا؟
ISA 5:5 اَب مَیں تُمہیں بتاتا ہُوں کہ مَیں اَپنے تاکستان کے ساتھ کیا کرنے جا رہا ہُوں: مَیں اُس کی باڑ گرا دوں گا، اَور وہ تباہ ہو جائے گا؛ مَیں اُس کی دیوار ڈھا دوں گا، اَور اِسے روند دیا جائے گا۔
ISA 5:6 مَیں اُسے ویران کردوُں گا، پھر نہ تو وہ چھانٹا جائے گا، نہ ہی اُس میں کاشتکاری ہوگی، اَور اُس میں جھاڑیاں اَور اُونٹ کٹارے اُگیں گے۔ مَیں بادلوں کو حُکم دُوں گا کہ وہ اُس پر نہ برسیں۔“
ISA 5:7 قادرمُطلق یَاہوِہ کا تاکستان اِسرائیل کا گھرانہ ہیں اَور اہلِ یہُوداہؔ اُس کی خُوشنما بیلیں ہیں۔ اُس نے اِنصاف کی توقع رکھی لیکن خُونریزی دیکھی؛ راستبازی چاہی لیکن صِرف آہ و زاری سُنی۔
ISA 5:8 افسوس تُم پرجو گھر سے گھر جوڑتے ہو اَور کھیت سے کھیت مِلاتے ہو تاکہ جگہ تک باقی نہ بچے اَور تُم ہی مُلک میں اکیلے بسے رہو۔
ISA 5:9 قادرمُطلق یَاہوِہ نے میری سماعت میں اعلان کیا ہے: ”یقیناً بڑے بڑے گھر ویران ہوں گے، اَور عالیشان محل اُجڑ جایٔیں گے۔ مَیں نے آسمانی فَوجوں کے ربّ کو سُنا ہے
ISA 5:10 دس ایکڑ تاکستان سے صِرف ایک بَت مَے حاصل کی جا سکے گی، اَور ایک حُومر بیج صِرف ایک ایفہ اناج۔“
ISA 5:11 افسوس اُن پرجو صُبح جلد اُٹھتے ہیں تاکہ جامِ شراب کے مزے لیں، اَور رات کو دیر تک جاگتے ہیں یہاں تک کہ شراب کے نشہ میں چُور ہو جاتے ہیں۔
ISA 5:12 اُن کی محفلیں بربط اَور سِتار دف اَور بانسری اَور مَے سے آراستہ کی جاتی ہیں، لیکن اُنہیں یَاہوِہ کے کاموں کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا، نہ ہی اُنہیں اُس کے ہاتھوں کی کاریگری کی کویٔی قدر ہے۔
ISA 5:13 اِس لیٔے میرے لوگ نادانی کے باعث جَلاوطن ہوں گے؛ اُن کے اعلیٰ مرتبہ لوگ بھُوکوں مَریں گے اَور اُن کے عوام پیاس سے تڑپیں گے۔
ISA 5:14 چنانچہ پاتال کی بھُوک بڑھ گئی ہے اَور اُس نے اَپنا مُنہ خُوب کھول رکھا ہے؛ اَور اُن کے اُمرا و عوام اَور اُن کے تمام جھگڑے کرنے والوں اَور جَشن منانے والوں کے ساتھ اُتریں گے۔
ISA 5:15 لہٰذا اِنسان پست کیا جائے گا اَور نَوع اِنسان کی ذِلّت ہوگی، اَور مغروُر کی نگاہیں نیچی کی جایٔیں گی۔
ISA 5:16 لیکن قادرمُطلق یَاہوِہ اَپنے اِنصاف کی بنا پر سرفراز ہوگا، اَور خُدائے قُدُّوس اَپنے راستی کے کاموں سے اَپنا تقدُّس ظاہر کریں گے۔
ISA 5:17 تَب بھیڑیں وہاں اَیسی چرتی ہُوئی دِکھائی دیں گی گویا وہ اَپنی ہی چراگاہوں میں ہیں؛ اَور برّے دولتمندوں کے کھنڈروں میں اَپنا پیٹ بھریں گے۔
ISA 5:18 افسوس اُن پرجو گُناہ کو بطالت کی رسّیوں سے اَور بدکرداری کو گویا گاڑی کی رسّیوں سے کھینچ لاتے ہیں،
ISA 5:19 افسوس اُن پرجو کہتے ہیں، ”خُدا عجلت سے کام لے۔ اَور اَپنا کام جلدی سے کر ڈالے تاکہ ہم اُسے دیکھیں۔ اَور اِسرائیل کے قُدُّوس کا منصُوبہ عَمل میں آئے، اَور جلد آئے، تاکہ ہم اُسے جانیں۔“
ISA 5:20 افسوس اُن پرجو بدی کو نیکی اَور نیکی کو بدی کہتے ہیں، جو تاریکی کو نُور اَور نُور کو تاریکی قرار دیتے ہیں، اَور کڑوے کو میٹھا اَور میٹھے کو کڑوا جانتے ہیں۔
ISA 5:21 افسوس اُن پرجو خُود کو اَپنی نگاہوں میں دانشمند اَور ذہین سمجھتے ہیں۔
ISA 5:22 افسوس اُن پرجو مَے نوشی میں اُستاد اَور شراب میں آمیزش کرنے میں ماہر کہلاتےہیں،
ISA 5:23 جو رشوت لے کر مُجرم کو تو بَری کر دیتے ہیں، لیکن بے قُصُور کے ساتھ اِنصاف نہیں کرتے۔
ISA 5:24 پس جِس طرح آگ کی لَپٹیں بھُوسے کو کھا جاتی ہیں اَور سُوکھی گھاس شُعلوں میں جَل کر فنا ہو جاتی ہے، اُسی طرح اُن کی جڑیں بوسیدہ ہو جایٔیں گی اَور اُن کے پھُول گَرد کی مانند اُڑ جایٔیں گے؛ کیونکہ اُنہُوں نے قادرمُطلق یَاہوِہ کے آئین کو ردّ کر دیا اَور اِسرائیل کے قُدُّوس کے کلام کی تحقیر کی۔
ISA 5:25 اِس لیٔے یَاہوِہ کا قہر اُس کے لوگوں کے خِلاف بھڑک اُٹھا؛ اُنہُوں نے ہاتھ اُٹھاکر مَرا۔ پہاڑ لرزگئے، اَور لاشیں اَیسی پڑی ہیں جَیسے کوچوں میں کوڑا کرکٹ پڑا ہو۔ یہ سَب ہو جانے کے باوُجُود بھی اُن کا قہر نہیں ٹلا، اَور اُن کا ہاتھ ابھی تک بڑھا ہُواہے۔
ISA 5:26 وہ دُور کی قوموں کے لیٔے پرچم کھڑا کرتا ہے، اَور اُنہیں زمین کے کناروں سے سیٹی بجا کر بُلاتا ہے۔ اَور وہ فوراً تیز رفتار سے چلے آتے ہیں۔
ISA 5:27 اُن میں سے نہ کویٔی تھکتا ہے نہ ٹھوکر کھاتا ہے، نہ کویٔی اُونگھتا ہے نہ سوتا ہے؛ اُن کی کمر کا کویٔی بند بھی ڈھیلا نہیں ہو پاتا، نہ ہی کسی کی جُوتی کاتسمہ ٹوٹتا ہے۔
ISA 5:28 اُن کے تیر تیز ہیں، اَور اُن کی تمام کمانیں کشیدہ ہیں؛ اُن کے گھوڑوں کے کھُر چقماق کی طرح نظر آتے ہیں، اَور اُن کے رتھوں کے پہیّے گِردباد کی طرح۔
ISA 5:29 اُن کی گرج شیروں کے گرجنے کی طرح ہے، اَور وہ جَوان شیروں کی طرح دھاڑتے ہیں؛ وہ غرّاتے ہُوئے شِکار پر جھپٹتے ہیں اَور بے روک ٹوک اُسے لے جاتے ہیں اَور کویٔی اُسے نہیں بچاتا۔
ISA 5:30 اُس روز وہ اُس پر اَیسے غُرّائیں گے جَیسا کہ سمُندر شور مچاتا ہے، اَور اگر کویٔی اُس مُلک پر نظر ڈالے، تو وہ صِرف تاریکی اَور دُکھ تکلیف ہی دیکھ پایٔےگا؛ یہاں تک کہ بادل سُورج رَوشنی کو بھی تاریک کر دیں گے۔
ISA 6:1 جِس سال عُزّیاہؔ بادشاہ نے وفات پائی، مَیں نے خُداوؔند کو ایک بُلند و بالا تخت پر جلوہ افروز دیکھا اَور اُن کے قبا کے گھیر سے ہیکل معموُر ہو گئی۔
ISA 6:2 اُس سے ذرا اُونچائی پر سرافیم فرشتے تھے جِن کے چھ چھ پر تھے۔ دو پروں سے اُنہُوں نے اَپنے چہرے چھُپا رکھے تھے، دو سے اَپنے پاؤں اَور دو پروں کی مدد سے وہ اُڑتے تھے۔
ISA 6:3 اَور وہ ایک دُوسرے سے پُکار پُکار کر کہہ رہے تھے: ”قُدُّوس، قُدُّوس، قُدُّوس قادرمُطلق یَاہوِہ؛ ساری زمین اُس کے جلال سے معموُر ہے۔“
ISA 6:4 اُن کی آوازوں کے شور سے دروازوں کی چوکھٹیں اَور دہلیزیں ہل گئیں اَور ہیکل دھوئیں سے بھر گئی۔
ISA 6:5 ”میں چِلّا اُٹھا! مُجھ پر افسوس! میں تباہ ہو گیا! کیونکہ میرے ہونٹ ناپاک ہیں اَور مَیں ناپاک ہونٹوں والے لوگوں کے درمیان رہتا ہُوں اَور مَیں نے بادشاہ کو جو قادرمُطلق یَاہوِہ ہے اَپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔“
ISA 6:6 پھر اُن میں سے ایک سرافیم دست پناہ کی مدد سے مذبح پر سے ایک جلتا ہُوا اَنگارا اَپنے ہاتھ میں لیتے ہُوئے میری طرف اُڑ کر آیا۔
ISA 6:7 اُس نے اُس سے میرے مُنہ کو چھُوا اَور کہا، ”دیکھ، اِس نے تیرے لبوں کو چھُوا ہے؛ تیری بدکاری دُور ہُوئی اَور تیرے گُناہ کا کفّارہ ہو گیا۔“
ISA 6:8 تَب مَیں نے خُداوؔند کو یہ کہتے ہُوئے سُنا، ”مَیں کسے بھیجوں اَور ہماری طرف سے کون جائے گا؟“ تَب مَیں نے عرض کیا، ”مَیں حاضِر ہُوں، مُجھے بھیج دو!“
ISA 6:9 اُنہُوں نے فرمایا، ”جاؤ اَور اِس قوم سے کہو: ” ’تُم سُنتے تو رہوگے لیکن سمجھوگے نہیں؛ دیکھتے رہوگے لیکن کبھی پہچان نہ پاؤگے۔‘
ISA 6:10 اِس قوم کے دِل پر چربی چھاگئی ہے؛ اَور وہ اُونچا سُننے لگے ہیں اَور اُنہُوں نے اَپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اَیسا نہ ہو کہ اُن کی آنکھیں دیکھ لیں، اَور اُن کے کان سُن لیں، اَور اُن کے دِل سمجھ لیں، اَور وہ میری طرف پھریں اَور مَیں اُنہیں شفا بخشوں۔“
ISA 6:11 پھر مَیں نے پُوچھا، ”اَے یَاہوِہ کب تک؟“ اَور اُنہُوں نے جَواب دیا: ”جَب تک شہر ویران نہ ہوں اَور اُن میں کویٔی اِنسان بسنے والا نہ رہے، جَب تک گھر خالی نہ ہو جایٔیں اَور کھیت تباہ و برباد ہوکر نہ رہ جایٔیں،
ISA 6:12 جَب تک یَاہوِہ ہر شخص کو وہاں سے بہت دُور نہ کر دے اَور زمین پُوری طرح ویران نہ ہو جائے۔
ISA 6:13 چاہے مُلک میں ایک دہائی حِصّہ لوگ باقی بچیں، اُسے بھی ویران چھوڑ دیا جائے گا۔ لیکن جِس طرح بطم اَور بلُوط کے درخت کٹنے کے بعد صِرف اُن کا ٹھُنٹھ باقی رہ جاتا ہے، اُسی طرح اِسرائیل مُلک میں بچا ہُوا ٹھُنٹھ مُقدّس بیج کا کام دے گا۔“
ISA 7:1 جَب یُوتامؔ بِن عُزّیاہؔ کا بیٹا آحازؔ یہُودیؔہ کا بادشاہ تھا تَب ارام کے بادشاہ رِضینؔ اَور اِسرائیل کے بادشاہ پِقاحؔ بِن رملیاہؔ نے یروشلیمؔ پر چڑھائی کی لیکن وہ اُس پر غالب نہ آسکے۔
ISA 7:2 جَب داویؔد کے گھرانے کو یہ اِطّلاع مِلی، ”ارام اَور اِفرائیمؔ کے درمیان عہد ہو چُکاہے“؛ تو آحازؔ اَور اُس کے لوگوں کے دِل اَیسے دہل گیٔے جَیسے جنگل کے درخت آندھی سے تھرتھراتے ہیں۔
ISA 7:3 تَب یَاہوِہ نے یَشعیاہ سے کہا، ”تُو اَپنے بیٹے شِعار یَعشُوبؔ کے ساتھ جا اَور آحازؔ سے اُس جگہ مِل جہاں دھوبیوں کے میدان کو جانے والی راہ پر اُوپر کے چشمہ کی نہر ختم ہوتی ہے۔
ISA 7:4 اَور اُس سے کہہ: ’خبردار رہ، حوصلہ رکھ اَور ڈر مت۔ اُن دو جھُلستے ہُوئے لکڑی کے ٹُنڈوں، رِضینؔ اَور ارام کے اَور رملیاہؔ کے بیٹے کے قہر شدید سے تیرا دِل نہ گھبرائے۔
ISA 7:5 ارام، اِفرائیمؔ اَور رملیاہؔ کے بیٹے نے تیری تباہی کا منصُوبہ باندھا ہے اَور کہتے ہیں:
ISA 7:6 ”آؤ ہم یہُوداہؔ پر حملہ کریں اَور اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے آپَس میں بانٹ لیں اَور طابیل کے بیٹے کو اُس پر بادشاہ مُقرّر کریں۔“
ISA 7:7 لیکن یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’وہ اَپنے اِرادہ میں کامیاب نہ ہوں گے، اَور اَیسا ہرگز نہ ہوگا،
ISA 7:8 کیونکہ ارام کا سَر دَمشق ہے، اَور دَمشق کا سَر رِضینؔ ہے، پَینسٹھ سال کے اَندر اَندر اِفرائیمؔ بھی اَیسا تباہ ہوگا کہ بحیثیت اَپنا وُجُود کھو بیٹھے گا۔
ISA 7:9 اِفرائیمؔ کا سَر سامریہؔ ہے، اَور سامریہؔ کا سَر صرف رملیاہؔ کا بیٹا ہے۔ اگر تُم اَپنے ایمان میں ثابت قدم نہ رہے، تو یقیناً تُم بھی قائِم نہ رہوگے۔‘ “
ISA 7:10 یَاہوِہ نے پھر آحازؔ سے کہا:
ISA 7:11 ”یَاہوِہ اَپنے خُدا سے کویٔی نِشان طلب کر، چاہے وہ گہری گہرائی میں ہو یا بُلند ترین بُلندیوں میں۔“
ISA 7:12 لیکن آحازؔ نے کہا، ”میں نہیں مانگوں گا۔ میں یَاہوِہ کی آزمائش نہیں کروں گا۔“
ISA 7:13 تَب یَشعیاہ نے کہا، ”اَب سُنو، اَے داویؔد کے خاندان والو! کیا لوگوں کے صبر کو آزمانا ہی کافی نہیں ہے؟ کیا تُم میرے خُدا کے صبر کو بھی آزماؤگے؟
ISA 7:14 اِس لیٔے یَاہوِہ خُود ہی تُمہیں ایک نِشان دے گا: دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اَور اُس سے ایک بیٹا پیدا ہوگا اَور اُس کا نام عِمّانُوایلؔ رکھا جایٔےگا۔
ISA 7:15 اَور جَب تک وہ بدی سے اِنکار اَور نیکی کو تسلیم کرنا نہیں جانے گا وہ دہی اَور شہد کھاتا رہے گا۔
ISA 7:16 لیکن اِس سے قبل کہ یہ بچّہ بدی سے گُریز اَور نیکی کو تسلیم کرنا جانے اُن دو بادشاہوں کے مُلک ویران ہو جایٔیں گے جِن سے تُم خوفزدہ ہے۔
ISA 7:17 یَاہوِہ تُجھ پر، تیرے لوگوں پر اَور تیرے باپ کے گھرانے پر اَیسا وقت لایٔے گا جَیسا اِفرائیمؔ کے یہُودیؔہ سے الگ ہونے کے بعد اَب تک نہیں لایا۔ وہ شاہِ اشُور کو لے آئے گا۔“
ISA 7:18 اُس وقت یَاہوِہ سیٹی کی آواز سے مِصر کے نیل کے دُور دُور کے دریاؤں سے شہد کی مکھّیوں کو اَور اشُور کے مُلک سے زنبوروں کو بُلائیں گے۔
ISA 7:19 وہ سَب آکر ڈھلوان وادیوں، چٹّانوں کی دراڑوں، تمام کانٹے دار جھاڑیوں اَور پانی کے سبھی ذخیروں پر چھا جایٔیں گی۔
ISA 7:20 اُس وقت یَاہوِہ دریائے فراتؔ کے اُس پار سے یعنی اشُور کے بادشاہ سے کرایہ پر لیٔے ہُوئے اُسترے سے تمہارے سَر اَور پاؤں کے بال یہاں تک کہ تمہاری داڑھی بھی مونڈ ڈالیں گے۔
ISA 7:21 اُس وقت ایک آدمی صِرف ایک گائے کی بچھیا اَور دو بکریاں پالے گا۔
ISA 7:22 اَور چونکہ وہ کثرت سے دُودھ دیں گی اِس لیٔے وہ دہی کھائے گا اَور مُلک کے بچے ہُوئے تمام باشِندے دہی اَور شہد کھایٔیں گے۔
ISA 7:23 اُس وقت ہر اُس جگہ جہاں ہزار چاندی کے ثاقلوں کے ہزار انگوری بیلوں کی جگہ میں وہاں صِرف جھاڑیاں اَور اُونٹ کٹارے ہوں گے۔
ISA 7:24 شِکاری وہاں تیر اَور کمان لے کر جایٔیں گے کیونکہ تمام مُلک جھاڑیوں اَور اُونٹ کٹاروں سے بھرا ہوگا۔
ISA 7:25 اُن پہاڑیوں پر جہاں کسی زمانہ میں کُدال سے کھدائی کرکے کاشتکاری کی جاتی تھی، جھاڑیوں اَور اُونٹ کٹاروں کے خوف سے اَب تُو وہاں جانا بھی پسند نہ کریں گے۔ وہ اَیسی جگہیں بَن جایٔیں گی جہاں گائے بَیل کھُلے پھرتے ہیں اَور بھیڑیں دَوڑتی ہیں۔
ISA 8:1 یَاہوِہ نے مُجھ سے کہا، ”ایک بڑا طُومار لے اَور اُس پر کسی مَعمولی قلم سے لِکھ: مَہیر شالال حاش بزؔ۔“
ISA 8:2 اَور مَیں اورِیّاہؔ کاہِنؔ اَور یبرکیاہؔ کے بیٹے زکریاؔہ کو اَپنے مُعتبر گواہوں کے طور پر بُلاؤں گا۔
ISA 8:3 پھر مَیں نبیّہ کے پاس گیا اَور وہ حاملہ ہُوئی اَور اُن کے ہاں بیٹا پیدا ہُوا۔ اَور یَاہوِہ نے مُجھ سے کہا، ”اُس کا نام مَہیر شالال حاش بزؔ رکھ۔
ISA 8:4 اِس سے پہلے کہ یہ بچّہ اَبّا یا امّاں کہنا سیکھے اشُور کا بادشاہ، دَمشق کا خزانہ اَور سامریہؔ کا مالِ غنیمت اُٹھالے جائے گا۔“
ISA 8:5 یَاہوِہ نے پھر مُجھ سے کہا:
ISA 8:6 ”چونکہ اِن لوگوں نے شیلوہؔ کے چشمہ کے نرم رَو پانی کو ردّ کر دیا اَور رِضینؔ پر خُوش ہوتاہے۔ اَور رملیاہؔ کے بیٹے پر مائل ہو گئے،
ISA 8:7 اِس لیٔے خُداوؔند دریائے فراتؔ کے خوفناک سیلاب کو یعنی شاہِ اشُور کو اُس کی پُوری شان و شوکت کے ساتھ اُن کے خِلاف چڑھا لایٔے گا۔ جِس سے اُن کے سبھی نالوں میں طغیانی آ جائے گی اَور اُن کے کنارے لبریز ہو جایٔیں گے۔
ISA 8:8 وہ پانی کی طرح تمام بنی یہُوداہؔ میں پھیل جائے گا، یہاں تک کہ اُس کی گردن تک پہُنچ جائے گا۔ اَور اُس کے پھیلے ہُوئے پروں کے نیچے تیری زمین کی ساری وسعت چھُپ جائے گی۔ اَے عِمّانُوایلؔ!“
ISA 8:9 اَے قومو! جنگ کا نعرہ بُلند کرو اَور تُم ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاؤگے۔ اَے دُور دُور کے مُلکوں کے لوگو، سُنو، جنگ کے لیٔے تیّار ہو جاؤ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جایٔیں گے! جنگ کے لیٔے تیّار ہو جاؤ، تمہارے پُرزے پُرزے ہو جایٔیں گے۔
ISA 8:10 اَپنی حِکمت عملی تیّار کر لو لیکن وہ ناکام رہے گی؛ اَپنا منصُوبہ بنالو لیکن وہ قائِم نہ رہ سکےگا، کیونکہ خُدا ہمارے ساتھ ہے۔
ISA 8:11 یَاہوِہ کا ہاتھ مُجھ پر بھاری تھا تو اُس نے مُجھے تاکید کی اَور کہا کہ اُس قوم کی راہ پر ہرگز نہ چلنا۔
ISA 8:12 ”ہر اُس چیز کو جسے یہ لوگ سازش مانتے ہیں، تُم اُسے سازش نہ مانو؛ اَور جِس چیز سے وہ ڈرتے ہیں، تُم اُس سے نہ ڈرو۔ اَور نہ اُس سے خوفزدہ ہو۔
ISA 8:13 قادرمُطلق یَاہوِہ ہی وہ ہستی ہے جسے تُم مُقدّس جانو، وہ ہی ہے جِس سے تُم ڈرو، اَور صِرف اُسی کا خوف مانو،
ISA 8:14 اَور وہ ایک پاک مقام ہوگا؛ لیکن اِسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لیٔے وہ ٹھیس لگنے کا پتّھر اَور ٹھوکر کھانے کی چٹّان۔ اَور یروشلیمؔ والوں کے لیٔے جال اَور پھندا ہوگا۔
ISA 8:15 اُن میں سے اکثر ٹھوکر کھایٔیں گے؛ اَور گِر کر چکنا چُور ہو جایٔیں گے اَور پھندے میں پھنس کر پکڑے جایٔیں گے۔“
ISA 8:16 شہادت نامہ کو بند کر دو اَور میرے شاگردوں کے لیٔے ہدایات پر مُہر لگا دو۔
ISA 8:17 میں یَاہوِہ کا اِنتظار کروں گا، جو اَپنا چہرہ یعقوب کے گھرانے سے چُھپائے ہُوئے ہے۔ میں اُس پر توکّل کروں گا۔
ISA 8:18 میں یہاں ہُوں اَور اُن فرزندوں کے ساتھ ہُوں جنہیں یَاہوِہ نے مُجھے دیا ہے۔ ہم قادرمُطلق یَاہوِہ کی جانِب سے جو کوہِ صِیّونؔ پر رہتاہے، بنی اِسرائیل کے درمیان نِشانات اَور معجزے ہیں۔
ISA 8:19 جَب لوگ تُمہیں حاضراتیوں اَور اَرواح پرستوں سے رُجُوع کرنے کو کہتے ہیں جو محض پھُسپھُساتے اَور بُڑبُڑاتے ہیں، تو پھر کیا مُناسب نہیں کہ قوم خُود اَپنے ہی خُدا سے دریافت کر لے؟ زندوں کی خاطِر مُردوں سے مشورہ کرنے کی کیا ضروُرت ہے؟
ISA 8:20 شَریعت اَور شہادت پر نظر ڈالو۔ اگر وہ اِس کلام کے مُطابق بات نہ کریں تو اُن کے لیٔے صُبح کبھی طُلوع نہ ہوگی۔
ISA 8:21 وہ پریشان حال اَور بھُوکے مُلک میں بھٹکتے پھریں گے اَور جَب فاقہ کی نَوبَت آئے گی تو زندگی سے بیزار ہوکر اَور اُوپر نگاہ کرکے اَپنے بادشاہ اَور اَپنے خُدا کو کوسنے لگیں گے۔
ISA 8:22 پھر وہ زمین کی طرف نگاہ کریں گے اَور صِرف تنگ حالی، تاریکی اَور خوفناک اُداسی ہی دیکھ پائیں گے اَور وہ گہری تاریکی میں دھکیل دئیے جایٔیں گے۔
ISA 9:1 بہرحال جو پریشان حال تھے اُن کی پریشانی جاتی رہے گی۔ ماضی میں اُس نے زبُولُون اَور نفتالی کے زمینی علاقوں کو پست کیا لیکن مُستقبِل میں وہ غَیر قوموں کے صُوبہ گلِیل کو جہاں سے سمُندر کو شاہراہ نکلتی ہے اَور دریائے یردنؔ کے کناروں کے علاقوں کو سرفراز کریں گے۔
ISA 9:2 جو لوگ تاریکی میں چل رہے تھے اُنہُوں نے ایک بڑی رَوشنی دیکھی؛ اَورجو لوگ موت کی گہری تاریکی کے مُلک میں زندگی گزار رہے تھے اُن پر ایک نُور آ چمکا۔
ISA 9:3 آپ نے قوم کو بڑھایا اَور اُن کی خُوشی میں اِضافہ کر دیا؛ وہ تیرے سامنے خُوشی مناتے ہیں ٹھیک اُسی طرح جَیسے فصل کاٹتے وقت یا مالِ غنیمت تقسیم کرتے وقت لوگ خُوشی مناتے ہیں۔
ISA 9:4 آپ نے وہ جُوئے توڑ دئیے جو اُن کے اُوپر بوجھ بنے ہُوئے تھے، اَور وہ سلاخے بھی ہٹا دیں جو اُن کے کندھوں پر تھیں، اَور وہ عصا بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جِس سے اُن کے اُوپر ظُلم ڈھائے گیٔے، ٹھیک اُسی طرح جَیسے مِدیان کی شِکست کے دِنوں میں تُونے کیا تھا۔
ISA 9:5 ہر جنگجو سپاہی کا جُوتا جو لڑائی میں اِستعمال کیا گیا اَور ہر وہ لباس جو خُون آلُودہ ہے جَلایا جائے گا، اَور آگ کا ایندھن بَن جائے گا۔
ISA 9:6 کیونکہ ہمارے لیٔے ایک ولد پیدا ہُواہے، ہمیں ایک بیٹا بخشا گیا، اَور سلطنت اُس کے کندھوں پر ہوگی۔ اَور وہ عجِیب مُشیر، قادر خُدا، اَبدیّت کا باپ اَور سلامتی کا شہزادہ کہلائے گا۔
ISA 9:7 اُس کی سلطنت کے اِقبال اَور سلامتی کی اِنتہا نہ ہوگی۔ وہ داویؔد کے تخت اَور اُس کی مملکت پر اِس وقت سے لے کر اَبد تک حُکومت کریں گے۔ اَور اُسے عدل اَور راستی کے ساتھ قائِم کرکے برقرار رکھےگا۔ قادرمُطلق یَاہوِہ کی غیّوری اُسے اَنجام دے گی۔
ISA 9:8 یَاہوِہ نے یعقوب کے خِلاف پیغام بھیجا ہے؛ اَور وہ اِسرائیل پر نازل ہوگا۔
ISA 9:9 تمام لوگ اُسے جانیں گے یعنی بنی اِفرائیمؔ اَور اہلِ سامریہؔ جو بڑے تکبُّر اَور سخت دِلی سے کہتے ہیں۔
ISA 9:10 ”اینٹیں تو گِر گئی ہیں، لیکن ہم تراشے ہُوئے پتّھروں سے پھر سے عمارت بنائیں گے؛ اَنجیر کے درخت کاٹے گیٔے لیکن ہم اُن کی جگہ دیودار کے درخت لگائیں گے۔“
ISA 9:11 لیکن یَاہوِہ نے رِضینؔ کے مُخالفوں کو اُن کے خِلاف مُسلّح کیا ہے اَور اُن کے دُشمنوں کو اُن پر چڑھا لایا ہے۔
ISA 9:12 مشرق سے ارامیوں نے اَور مغرب سے فلسطینیوں نے آکر اِسرائیل کو اَپنا مُنہ پسار کر نگل لیا ہے۔ اِس کے باوُجُود بھی اُن کا قہر ٹل نہیں گیا، بَلکہ اُس کا ہاتھ اَب بھی اُٹھا ہُواہے۔
ISA 9:13 پھر بھی لوگ اَپنے مارنے والے کی طرف نہیں لَوٹے، نہ ہی وہ قادرمُطلق یَاہوِہ کے طالب ہُوئے۔
ISA 9:14 اِس لیٔے یَاہوِہ اِسرائیل کا سَر اَور دُم، اَور کھجور کی شاخ اَور سَرکنڈا، دونوں کو ایک ہی دِن میں کاٹ ڈالے گا؛
ISA 9:15 بُزرگ و مُعزّز ہستیاں سَر ہیں، اَور وہ نبی جو جھُوٹی تعلیم دیتے ہیں، دُم ہیں۔
ISA 9:16 اُن لوگوں کے رہنما اُنہیں گُمراہ کرتے ہیں، اَور جنہیں ہدایت کی گئی وہ بھٹک گیٔے۔
ISA 9:17 چنانچہ یَاہوِہ جَوانوں سے خُوش نہ ہوگا، نہ ہی یتیموں اَور بیواؤں پر رحم کریں گے، کیونکہ ہر کویٔی بے دین اَور بد کِردار ہے، اَور ہر مُنہ سے حماقت کی باتیں نکلتی ہیں۔ اِس کے باوُجُود بھی اُس کا قہر ٹل نہیں گیا، بَلکہ اُس کا ہاتھ اَب بھی اُٹھا ہُواہے۔
ISA 9:18 یقیناً شرارت آگ کی طرح جَلا دیتی ہے؛ اَور جھاڑیوں اَور اُونٹ کٹاروں کو بھسم کر ڈالتی ہے۔ وہ جنگل کی گنُجان جھاڑیوں میں آگ لگا دیتی ہے، اَور وہ دھوئیں کے بادل کی طرح اُوپر اُڑ جاتی ہیں۔
ISA 9:19 قادرمُطلق یَاہوِہ کے قہر سے مُلک جھُلس جائے گا اَور لوگ آگ کا ایندھن بَن جایٔیں گے؛ اَور کویٔی اَپنے بھایٔی تک کو نہیں بچائے گا۔
ISA 9:20 دایئں طرف سے وہ بے تحاشا کھایٔیں گے، پھر بھی بھُوکے رہیں گے؛ اَور بائیں طرف سے بھی کھایٔیں گے، لیکن اُن کی بھُوک نہ مٹےگی۔ ہر ایک اَپنے ہی بازو کا گوشت کھائے گا۔
ISA 9:21 منشّہ اِفرائیمؔ کو کھاتا ہے اَور اِفرائیمؔ منّسیؔ کو؛ اَور وہ دونوں مِل کر بنی یہُوداہؔ کے مُخالف ہوں گے۔ اِس کے باوُجُود بھی اُس کا قہر ٹلا نہیں، بَلکہ اُس کا ہاتھ اَب بھی اُٹھا ہُواہے۔
ISA 10:1 افسوس اُن پرجو غَیر مُنصِفانہ قوانین بناتے ہیں، اَور اُن پر بھی جو ظالمانہ اَحکام جاری کرتے ہیں،
ISA 10:2 تاکہ غریبوں کو اُن کے حُقُوق سے اَور میرے مظلوم خادِموں کو اِنصاف سے محروم رکھیں، بیواؤں کو اَپنے ظُلم کا شِکار بنائیں اَور یتیموں کو لُوٹیں۔
ISA 10:3 تُم حِساب کے دِن کیا کروگے، جَب دُور سے مُصیبت آ کھڑی ہوگی؟ تَب مدد کے لیٔے کس کے پاس بھاگ کر جاؤگے؟ اَور اَپنی شان و شوکت کہاں رکھ چھوڑو گے؟
ISA 10:4 قَیدیوں کے درمیان ذِلّت اُٹھانے اَور مقتولوں کے نیچے دبے پڑے رہنے کے سِوا کچھ اَور نہ کر سکوگے۔ اِس کے باوُجُود اُن کا قہر ٹل نہیں گیا، بَلکہ اُن کا ہاتھ اَب بھی اُوپر اُٹھا ہُواہے۔
ISA 10:5 ”اشُور پر افسوس جو میرے غضب کا عصا ہے، اَور جِس کے ہاتھ میں میرے قہر کی لاٹھی ہے!
ISA 10:6 میں اُسے ایک بے دین قوم کی طرف بھیج رہا ہُوں ایک اَیسی قوم کے خِلاف جِس پر میرا قہر ہے، تاکہ وہ اُنہیں لُوٹے اَور مالِ غنیمت حاصل کرے، اَور اُنہیں گلیوں میں کیچڑ کی طرح روندے۔
ISA 10:7 لیکن وہ یہ نہیں چاہتے، نہ ہی یہ اُن کی منشا ہے؛ اُن کا مقصد محض تباہ کرنا، اَور بہت سِی قوموں کو ختم کردینا ہے۔
ISA 10:8 وہ کہتاہے: ’کیا میرے سبھی سپہ سالار بادشاہ نہیں؟‘
ISA 10:9 ’کیا کلنوؔ کا اَنجام کرکمیشؔ کی طرح اَور حماتؔ کا حشر ارفادؔ کی مانند، اَور سامریہؔ کا حال دَمشق کی مانند نہیں ہُوا؟
ISA 10:10 جِس طرح میرے ہاتھ نے وہ بُت پرست سلطنتیں اَپنے قبضہ میں کر لیں، جِن کے بُت یروشلیمؔ اَور سامریہؔ کے بُتوں سے بھی بڑھ کر تھے
ISA 10:11 تو کیا میں یروشلیمؔ اَور اُس کے بُتوں کے ساتھ وَیسا ہی سلُوک نہ کروں جَیسا کہ سامریہؔ اَور اُس کے بُتوں کے ساتھ کیا تھا؟‘ “
ISA 10:12 جَب یَاہوِہ کوہِ صِیّونؔ اَور یروشلیمؔ میں اَپنا تمام کام کر چُکے گا، ”تَب وہ کہے گا کہ مَیں شاہِ اشُور کو اُس کے دِل کے گھمنڈ اَور اُس کے آنکھوں کے غُرور کی سزا دُوں گا۔
ISA 10:13 کیونکہ وہ کہتاہے: ” ’مَیں نے اَپنے بازو کی قُوّت اَور اَپنی حِکمت سے یہ کیا ہے کیونکہ مُجھ میں اُتنی سمجھ ہے۔ مَیں نے قوموں کی حُدوُد کو سَر کا دیا، اُن کے خزانے لُوٹ لیٔے؛ اَور زورآور بہادر کی طرح اُن کے بادشاہوں کو مطیع کر لیا۔
ISA 10:14 جِس طرح کویٔی اَپنے ہاتھ گھونسلے کی طرف بڑھاتاہے، اُسی طرح میرا ہاتھ قوموں کی دولت کی طرف بڑھا جِس طرح لوگ ترک کئے ہُوئے اَنڈوں کو بٹور لیتے ہیں، اُسی طرح مَیں نے تمام مُلکوں کو سمیٹ لیا؛ اَور کسی نے پر تک نہ ہلایا، اَور نہ چونچ کھول کر چہچہانے کی جُرأت کی۔‘ “
ISA 10:15 کیا کُلہاڑا اَپنے اِستعمال کرنے والے سے زِیادہ طاقتور ہونے کا دعویٰ کر سَکتا ہے یا آرہ کش کے خِلاف شیخی مار سَکتا ہے؟ یا عصا اَپنے اُٹھانے والے کو اُٹھا سَکتا ہے، یا لاٹھی اُسے گھُمائے گی جو لکڑی نہیں، آدمی ہے!
ISA 10:16 چنانچہ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ، اُس کے قوی ہیکل سپاہیوں پر اَیسی وَبا نازل کریں گے جو اُنہیں لاغر کر دے گی؛ اَور اُس کی شان و شوکت ایک بھڑکتے ہُوئے شُعلے کی مانند جَلا دی جائے گی۔
ISA 10:17 اِسرائیل کا نُور ہی آگ بَن جائے گا، اَور اُس کا قُدُّوس ایک شُعلہ؛ جو ایک ہی دِن میں اُس کے گھاس پھُوس کو جَلا کر بھسم کر دے گا۔
ISA 10:18 اَور جِس طرح ایک مریض ختم ہو جاتا ہے اُسی طرح یہ آگ اُس کے جنگلوں اَور زرخیز کھیتوں کی رونق کو بالکُل نِیست و نابود کر دے گی۔
ISA 10:19 اَور اُس کے جنگل میں اِتنے تھوڑے درخت باقی بچیں گے جنہیں ایک بچّہ بھی گِن کر لِکھ سکےگا۔
ISA 10:20 اُس وقت اِسرائیل کے باقی بچے لوگ، یعنی یعقوب کے گھرانے کے بچے ہُوئے لوگ، یَاہوِہ، اِسرائیل کے قُدُّوس پر سچّے دِل سے توکّل کریں گے اَور اُس پر جِس نے اُن کو مارا تھا پھر تکیہ نہ کریں گے۔
ISA 10:21 باقی بچے لوگ لَوٹیں گے یعنی یعقوب کے گھرانے کے بچے ہُوئے لوگ قادر خُدا کی طرف لَوٹیں گے۔
ISA 10:22 اَے اِسرائیل، اگرچہ تیرے لوگ سمُندر کی ریت کے ذرّوں کے برابر ہوگی، اُن میں سے صِرف ایک ہی باقی رہے گا۔ کیونکہ ایک زبردست بربادی، راستباز طور پر مُقرّر کی جا چُکی ہے۔
ISA 10:23 کیونکہ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ، مُقرّرہ بربادی تمام اِس زمین پر ظاہر کریں گے۔
ISA 10:24 چنانچہ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اَے میرے لوگو جو صِیّونؔ میں بستے ہو، اشُور سے نہ ڈرو، خواہ وہ تُمہیں ڈنڈے سے مارے اَور تمہارے خِلاف لٹھ اُٹھائے جَیسا کہ مِصریوں نے کیا تھا۔
ISA 10:25 تمہارے خِلاف میرا غُصّہ جلدی ہی ٹھنڈا ہو جائے گا اَور میرا غضب اُن کی بربادی کا باعث ہوگا۔“
ISA 10:26 قادرمُطلق یَاہوِہ اُسے کوڑے سے مارے گا، ٹھیک اُسی طرح جَیسے حوریبؔ کی چٹّان پر مِدیان کو مارا تھا؛ اَور وہ اَپنا عصا سمُندر پر بڑھائے گا، جَیسا کہ اُس نے مِصر میں کیا تھا۔
ISA 10:27 اُس دِن تیرے کندھوں پر سے اُس کا بوجھ اَور تیری گردن پر سے اُن کا جُوا اُٹھالیا جائے گا؛ اَور تیرے موٹاپے کے باعث جُوا توڑ دیا جائے گا۔
ISA 10:28 وہ عیّاتؔ میں داخل ہو رہاہے؛ اَور مِگرُونؔ سے ہوکر گزر رہاہے؛ اُس نے مِکماشؔ میں اَپنا اَسباب جمع کر رہاہے۔
ISA 10:29 وہ گھاٹی کو عبور کر رہے ہیں اَور کہتے ہیں، ”ہم گِبعہؔ میں رات کاٹیں گے۔“ رامہؔ ہِراساں ہے؛ اَور شاؤل کو گِبعؔ بھاگ نِکلا ہے۔
ISA 10:30 اَے گلّیمؔ کی بیٹی، چِلّا! اَے لیشاہ کی قوم سُنو! بے چارہ عناتوت!
ISA 10:31 مَدمینہؔ بھاگ نِکلا؛ اَور گیبیمؔ کے رہنے والے جا چھُپے۔
ISA 10:32 آج کے دِن وہ نوبؔ میں قِیام کریں گے؛ اَور صِیّونؔ کی بیٹی کے پہاڑ یعنی یروشلیمؔ کی پہاڑی کی طرف اَپنی مُٹّھی دِکھا کر دھمکائے گا۔
ISA 10:33 دیکھو خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ، اَپنی پُوری قُوّت سے ڈالیاں چھانٹ ڈالے گا، اُونچے اُونچے درخت کاٹ ڈالے جایٔیں گے، اَور بُلند پست کئے جایٔیں گے۔
ISA 10:34 وہ جنگل کی گنُجان جھاڑیاں کُلہاڑی سے کاٹ ڈالے گا؛ اَور لبانونؔ قادر خُدا کے سامنے سَر تسلیم خم کریں گے۔
ISA 11:1 یِشائی کے تنے میں سے ایک ٹہنی نکلے گی؛ اُس کی جڑوں سے ایک شاخ پھل لائے گی۔
ISA 11:2 یَاہوِہ کی رُوح اُس پر ٹھہرے گی۔ حِکمت اَور فہم کی رُوح، مصلحت اَور قُدرت کی رُوح، مَعرفت اَور یَاہوِہ کے خوف کی رُوح۔
ISA 11:3 اَور یَاہوِہ کے خوف میں اُس کی خُوشنودی ہوگی۔ وہ اَپنی آنکھوں کے دیکھنے کے مُطابق اِنصاف نہ کریں گے، اَور نہ اَپنے کانوں کے سُننے کے مُطابق فیصلہ کریں گے؛
ISA 11:4 بَلکہ وہ مسکینوں کا اِنصاف راستی سے کریں گے، اَور دُنیا کے غریبوں کا فیصلہ عدل سے کریں گے۔ وہ اَپنی زبان کے عصا سے زمین کو ماریں گے اَور اَپنے لبوں کے دَم سے بدکاروں کو ہلاک کریں گے۔
ISA 11:5 راستبازی اُس کا کمربند ہوگی اَور وفاداری اُس کی کمر کا پٹکا ہوگی۔
ISA 11:6 تَب بھیڑیا برّہ کے ساتھ رہے گا، اَور چیتا بکری کے ساتھ بیٹھے گا، بچھڑا، شیر اَور ایک سالہ بچھڑے اِکٹھّے رہیں گے؛ اَور ایک چھوٹا بچّہ اُن کا پیش رَو ہوگا۔
ISA 11:7 گائے اَور ریچھنی مِل کر چرےگی، اَور اُن کے بچّے اِکٹھّے بیٹھیں گے، اَور شیر بَیل کی طرح بھُوسا کھایا کرےگا۔
ISA 11:8 شیر خوار بچّہ ناگ کے بِل کے پاس کھیلے گا، اَور وہ لڑکا جِس کا دُودھ چھُڑایا گیا ہو افعی کے سوراخ میں ہاتھ ڈالے گا۔
ISA 11:9 وہ میرے مُقدّس پہاڑ پر کہیں بھی نہ تو کسی کو ضرر پہُنچائیں گے اَور نہ ہلاک کریں گے، کیونکہ زمین یَاہوِہ کے مَعرفت سے اَیسی معموُر ہوگی جَیسے سمُندر پانی سے بھرا ہے۔
ISA 11:10 اُس وقت یِشائی کی جڑ مُختلف لوگوں کے لیٔے ایک پرچم کی طرح ہوگی اَور غَیریہُودیوں کا مجمع اُس کے گِرد جمع ہوگا اَور اُس کی آرامگاہ پُرجلال ہوگی۔
ISA 11:11 اُس دِن، خُداوؔند زندہ باقی بچ جانے والوں کو واپس لانے کے لئے دُوسری مرتبہ اَپنا ہاتھ بڑھائے گا، جنہیں اُس نے اشُور، مِصر، فتروسؔ، کُوشؔ، عیلامؔ، شِنعاؔر، ہمات اَور سمُندری جزیروں سے لیا ہے۔ اُس وقت یَاہوِہ دُوسری مرتبہ اَپنا ہاتھ بڑھائے گا اَور اَپنی اُمّت میں سے بچے ہُوئے لوگوں کو اشُور، مِصر کے شمالی اَور جُنوبی علاقوں سے، کُوشؔ، عیلامؔ، بابیل، حماتؔ، اَور سمُندری جزیروں سے مول لائے گا۔
ISA 11:12 وہ مُختلف قوموں کے لیٔے پرچم بُلند کریں گے اَور اِسرائیل کے اُن لوگوں کو جمع کریں گے جو جَلاوطن کر دیئے گیٔے تھے؛ اَور یہُوداہؔ کے بکھرے ہُوئے لوگوں کو زمین کی چاروں طرف سے فراہم کریں گے۔
ISA 11:13 اِفرائیمؔ کا حَسد جاتا رہے گا، اَور بنی یہُوداہؔ کے دُشمنوں کا خاتِمہ ہو جائے گا؛ اَور بنی اِفرائیمؔ بنی یہُوداہؔ سے حَسد نہ رکھیں گے، نہ بنی یہُوداہؔ بنی اِفرائیمؔ سے کینہ رکھیں گے۔
ISA 11:14 اَور وہ مغرب کی جانِب فلسطینیوں کے نشیبی کے علاقوں پر جھپٹ پڑیں گے؛ اَور باہم مِل کر مشرق کے لوگوں کو لُوٹ لیں گے۔ وہ اِدُوم اَور مُوآب پر ہاتھ ڈالیں گے، اَور بنی عمُّون اُن کی اِطاعت کریں گے۔
ISA 11:15 یَاہوِہ بحرِ مِصر کی خلیج کو خشک کر دے گا؛ وہ بادِ سموم کے ساتھ دریائے فراتؔ پر اَپنا ہاتھ بڑھائے گا۔ وہ اُسے سات نالوں میں تبدیل کر دے گا تاکہ لوگ جُوتے پہنے ہُوئے اُسے عبور کر سکیں۔
ISA 11:16 اشُور میں اُس کے باقی بچے ہُوئے لوگوں کے لیٔے ایک اَیسی شاہراہ قائِم کی جائے گی، جَیسی کہ بنی اِسرائیل کے لیٔے مِصر سے نکلتے وقت کی گئی تھی۔
ISA 12:1 اُس دِن تُم کہو گے: ”یَاہوِہ مَیں آپ کی سِتائش کروں گا حالانکہ آپ مُجھ سے خفا تھا، لیکن آپ کا غُصّہ ٹل گیا ہے اَور آپ نے مُجھے تسلّی دی ہے۔
ISA 12:2 یقیناً خُدا میری نَجات ہے؛ میں اُن پر توکّل کروں گا اَور نہ ڈروں گا۔ یَاہوِہ، یَاہوِہ ہی میری قُوّت اَور میرا نغمہ ہے؛ وہ میری نَجات بنا ہے۔“
ISA 12:3 تُم خُوش ہوکر نَجات کے چشموں سے پانی بھروگے۔
ISA 12:4 اُس وقت تُم کہو گے: ”یَاہوِہ کا شُکر بجا لاؤ، اُسے اُس کے نام سے پُکارو؛ قوموں میں اُس کے کارناموں کا ذِکر کرو، اَور اُس کے نام کی بڑائی کا اعلان کرو۔
ISA 12:5 یَاہوِہ کی مدح سرائی کرو کیونکہ اُنہُوں نے جلالی کام کئے ہیں؛ یہ ساری دُنیا کو مَعلُوم ہو جائے۔
ISA 12:6 اَے صِیّونؔ کے لوگو، للکارو اَور خُوشی سے گاؤ، کیونکہ اِسرائیل کا قُدُّوس تمہارے درمیان عظیم ہے۔“
ISA 13:1 بابیل کے خِلاف نبُوّت جسے یَشعیاہ بِن آموصؔ نے رُویا میں پایا:
ISA 13:2 پہاڑ کی ننگی چوٹی پر پرچم لہراؤ، اُنہیں للکارو؛ اَور ہاتھ سے اِشارہ کرو کہ وہ اُمرا کے پھاٹکوں سے داخل ہُوں۔
ISA 13:3 مَیں نے اُن لوگوں کو حُکم دیا ہے جنہیں میں نے جنگ کے لیٔے تیّار کیا ہے؛ اَور اَپنے بہادروں کو بُلایا ہے جو میری فتحیابی پر للکارتے ہیں کہ وہ میرے قہر کو اَنجام دیں۔
ISA 13:4 سُنو، پہاڑوں پر شور و غُل ہو رہاہے، جَیسے کسی بڑے مجمع کا ہو! سُنو، مملکتوں میں ہنگامہ مچا ہُواہے، گویا مُختلف قوموں کا اِجتماع ہو! قادرمُطلق یَاہوِہ جنگ کے لیٔے لشکر جمع کر رہاہے۔
ISA 13:5 وہ دُور دراز کے مُلکوں سے آئے ہیں، آسمان کی اِنتہا سے۔ یَاہوِہ اَور اُس کے قہر کے ہتھیار۔ تاکہ سارا مُلک تباہ کیا جائے۔
ISA 13:6 واویلا کرو کیونکہ یَاہوِہ کا دِن قریب ہے؛ وہ قادرمُطلق کی طرف سے بڑی تباہی لے کر آئے گا۔
ISA 13:7 اُس کی وجہ سے تمام ہاتھ ڈھیلے پڑ جایٔیں گے، اَور ہر شخص کا دِل پگھل جائے گا۔
ISA 13:8 وہ دہشت زدہ ہوں گے، درد اَور سخت تکلیف اُنہیں جکڑ لے گی؛ اَور وہ زچّہ کی مانند درد سے تِلمِلا اُٹھیں گے۔ وہ پُر خوف نگاہوں سے ایک دُوسرے کا مُنہ تاکیں گے، اَور اُن کے چہرے مشتعل ہوں گے۔
ISA 13:9 دیکھو، یَاہوِہ کا دِن آ رہاہے اَور قہر شدید، غُصّہ سے بھرا ہُوا نہایت دہشت اَنگیز دِن۔ تاکہ مُلک کو ویران اَور اُس میں بسنے والے گُنہگاروں کو نِیست و نابود کر دے۔
ISA 13:10 آسمان کے سِتارے اَور کواکب بے نُور ہو جایٔیں گے۔ اُبھرتا ہُوا سُورج تاریک ہو جائے گا اَور چاند کی رَوشنی جاتی رہے گی۔
ISA 13:11 میں دُنیا کو اُس کی بُرائی کی، اَور بدکاروں کو اُن کے گُناہوں کی سزا دوں گا۔ میں مغروُروں کے گھمنڈ کو ختم کر دُوں گا اَور سنگدلوں کے غُرور کو پست کروں گا۔
ISA 13:12 میں اِنسان کو خالص سونے، بَلکہ اوفیرؔ کے سونے سے بھی مہنگا بنا دُوں گا۔
ISA 13:13 اِس لیٔے میں آسمانوں کو لرزاؤں گا؛ اَور زمین اَپنی جگہ سے ہل جائے گی یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کے قہر سے، اُس کے بھڑکتے ہُوئے غُصّہ کا دِن ہوگا۔
ISA 13:14 شِکاری کے ڈر سے بھاگنے والی ہِرنیوں، اَور بِن چرواہے کی بھیڑوں کی طرح، ہر ایک اَپنے اَپنے لوگوں کی طرف لَوٹے گا، اَور اَپنے اَپنے وطن کو بھاگ جائے گا۔
ISA 13:15 جو کویٔی پکڑا جائے گا اُسے آرپار چھیدا جائے گا؛ وہ جو گِرفتار ہوں گے تلوار کا لقمہ بنیں گے۔
ISA 13:16 اُن کے شیر خوار بچّے اُن کی آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جایٔیں گے؛ اَور اُن کے گھر لُوٹے جایٔیں گے اَور اُن کی بیویوں کی بےحُرمتی ہوگی۔
ISA 13:17 دیکھو، مَیں میدی یا مادیوں کو اُن کے خِلاف اُبھاروں گا، جو چاندی کی پروا نہیں کرتے نہ ہی سونے میں کویٔی دلچسپی رکھتے ہیں۔
ISA 13:18 اُن کی کمانوں سے جَوان زخمی ہوکر گریں گے؛ وہ نہ شیرخواروں پر ترس کھایٔیں گے اَور نہ ہی لڑکے، لڑکیوں پر رحم کی نظر کریں گے۔
ISA 13:19 چنانچہ خُدا بابیل کو جو تمام مملکتوں کی حشمت ہے، اَور جِس کی شان و شوکت پر کَسدیوں کو ناز ہے، سدُومؔ اَور عمورہؔ کی طرح تہہ و بالا کر دے گا۔
ISA 13:20 وہ پھر کبھی آباد نہ ہوگا اَور پُشت در پُشت اُس میں کویٔی نہ بسے گا؛ کویٔی عربی وہاں خیمہ زن نہ ہوگا، نہ کویٔی چرواہا اَپنے گلّوں کو وہاں آرام کرنے دے گا۔
ISA 13:21 لیکن بیابان کے جنگلی جانور وہاں لیٹیں گے، اَور گیدڑ اُن کے محلوں میں گھُس جایٔیں گے؛ اُلّو وہاں بسیرا کریں گے، اَور جنگلی بکریاں وہاں کُودتی پھاندتی رہیں گی۔
ISA 13:22 اُس کے قلعوں میں لکڑبگّھے، اَور اُس کے عالیشان محلوں میں گیدڑ شور مچائیں گے۔ اُس کا دِن قریب آ چُکا، اَور اُس کے دِنوں کو اَب طُول نہ دیا جائے گا۔
ISA 14:1 یَاہوِہ یعقوب پر مہربان ہوگا پھر ایک بار وہ بنی اِسرائیل کو چُن لے گا۔ اَور اُنہیں خُود اُن ہی کے مُلک میں آباد کریں گے۔ پردیسی اُن سے مِل جایٔیں گے اَور یعقوب کے گھرانے سے مُتّحد ہو جایٔیں گے۔
ISA 14:2 مُختلف قومیں اُنہیں اُن ہی کے مُلک میں پہُنچائیں گی۔ اَور بنی اِسرائیل یَاہوِہ کی سرزمین میں اُن قوموں کے مالک ہوں گے اَور قوموں کو اَپنے غُلام اَور لونڈیاں بنائیں گے۔ وہ اَپنے اسیر کرنے والوں کو اسیر کر لیں گے اَور اَپنے ظُلم ڈھانے والوں پر حُکمران ہوں گے۔
ISA 14:3 جِس روز یَاہوِہ تُجھے تکلیف، پریشانی اَور سخت غُلامی سے راحت دے گا،
ISA 14:4 اُس وقت تُو شاہِ بابیل سے طنزاً یہ ضرب المثل کہے گا: ظالِم کا اَنجام کیسا ہُوا! اُس کا قہر کیسے مٹا!
ISA 14:5 یَاہوِہ نے بدکار کا لٹھ، یعنی بےاِنصاف حاکموں کا عصا توڑ ڈالا،
ISA 14:6 جِس سے وہ لوگوں کو غُصّہ میں آکر لگاتار مارتے اَور پیٹتے رہتے تھے، اَور قوموں پر قہر سے حُکومت کرکے لگاتار اُن کے پیچھے پڑے رہتے تھے۔
ISA 14:7 تمام مُلکوں میں اَب آرام اَور سکون ہے؛ اَور لوگوں کے لبوں پر ترانے ہیں۔
ISA 14:8 یہاں تک کہ صنوبر کے درخت اَور لبانونؔ کے دیودار خُوش ہوکر تُجھ سے یہ کہتے ہیں: ”جَب سے تُو گرا دیا گیا ہے، کویٔی لکڑہارا ہمیں کاٹنے کے لیٔے نہیں آیا۔“
ISA 14:9 تیری آمد پر تیرا اِستِقبال کرنے کے لیٔے پاتال بیقرار ہے؛ وہ تیرے اِستِقبال کے لیٔے اُن سَب مُردوں کی رُوحوں کو جھنجھوڑ رہاہے۔ جو دُنیا میں رہنما تھے؛ اَور مُختلف قوموں کے سَب بادشاہوں کو اُن کے تخت شاہیوں پر سے اُٹھ کھڑا۔
ISA 14:10 وہ سَب اُٹھیں گے، اَور تُجھ سے کہیں گے، ”تُو بھی ہماری طرح کمزور ہو گیا؛ تُو ہماری طرح ہی بَن گیا۔“
ISA 14:11 تیری تمام شان و شوکت تیرے سازوں کی دھُن کے ساتھ قبر میں اُتاری گئی؛ اَب کیڑے تیرا بِستر اَور کینچوے تیری چادر ہیں۔
ISA 14:12 اَے صُبح کے سِتارے، فجر کے بیٹے، تُو کیسے آسمان سے گِر پڑا! تُو جو کسی زمانہ میں قوموں کو زیرِ کرتا تھا، خُود بھی زمین پر پٹکا گیا!
ISA 14:13 تُو اَپنے دِل میں کہتا تھا: ”میں آسمان پر چڑھ جاؤں گا؛ اَور اَپنا تخت خُدا کے سِتاروں سے بھی اُونچا کروں گا؛ میں جماعت کے پہاڑ پر تخت نشین ہُوں گا، کو ضِفونؔ کی اِنتہائی بُلندیوں پر
ISA 14:14 میں بادلوں کے سَروں سے بھی اُوپر چڑھ جاؤں گا؛ میں خُداتعالیٰ کی مانند بنُوں گا۔“
ISA 14:15 لیکن تُو قبر میں اُتارا گیا، بالکُل پاتال کی تہہ میں۔
ISA 14:16 جو تیری طرف ٹِکٹِکی لگا کر تُجھے دیکھتے ہیں، تیری قِسمت پر غور کرکے کہتے ہیں: ”کیا یہ وُہی اِنسان ہے جِس نے زمین کو لرزایا اَور مملکتوں کو ہلا دیا،
ISA 14:17 جِس نے جہاں کو صحرا بنا دیا، اَور اُس کے شہروں کو ڈھا دیا اَور اَپنے اسیروں کو اُن کے گھر لَوٹنے نہ دیا؟“
ISA 14:18 مُختلف قوموں کے تمام بادشاہ اَپنی اَپنی قبر میں نہایت شان سے سو رہے ہیں۔
ISA 14:19 لیکن تُو ایک سُوکھی ہُوئی شاخ کی طرح اَپنی قبر سے باہر پھینک دیا گیا، تُو مقتولوں کے نیچے دبا پڑا ہے، اَور اُن کے نیچے جنہیں تلوار سے چھیدا گیا اَورجو گڑھے کے پتّھروں تک نیچے گِرے ہیں، ایک لاش کی طرح جو پاؤں کے نیچے روندی گئی ہو،
ISA 14:20 تُو اُن کے ساتھ دفنایا نہ جائے گا، کیونکہ تُونے اَپنے مُلک کو تباہ کیا اَور اَپنی رعایا کو قتل کیا۔ بدکرداروں کی نَسل کا پھر کبھی ذِکر نہ ہوگا۔
ISA 14:21 اُس کے فرزندوں کے لیٔے اُن کے آباؤاَجداد کے گُناہوں کے باعث قتل کی جگہ تیّار کرو؛ تاکہ وہ پھر اُٹھ کر مُلک کے وارِث نہ بَن جایٔیں اَور رُوئے زمین پر اَپنے شہر نہ بسا لیں۔
ISA 14:22 ”مَیں اُن کے خِلاف سَر اُٹھاؤں گا،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”اَور مَیں بابیل کا نام و نِشان مٹا دوں گا، اُس کے بچے ہُوئے لوگ، اُن کی اَولاد اَور نَسل، سَب کو ختم کر دُوں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ISA 14:23 ”مَیں اُسے اُلّوؤں کا مَسکن، اَور اُس کی زمین کو دلدل بنا دُوں گا؛ اَور فنا کے جھاڑو سے اُسے صَاف کر ڈالُوں گا،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ISA 14:24 قادرمُطلق یَاہوِہ قَسم کھا کر فرماتے ہیں، ”یقیناً جَیسا مَیں نے سوچا ہے وَیسا ہی ہوگا، جَیسا مَیں نے قصد کیا ہے وَیسا ہی ہوکر رہے گا۔
ISA 14:25 میرے ہی مُلک میں اشُور کو کُچل دُوں گا؛ میرے ہی پہاڑوں پر اُسے پاؤں تلے روند ڈالوں گا۔ تَب اُس کا جُوا میرے لوگوں پر سے اُتارا جائے گا، اَور اُس کا بوجھ اُن کے کندھوں پر سے ہٹایا جائے گا۔“
ISA 14:26 یہ منصُوبہ تمام جہاں کے لیٔے بنایا گیا ہے؛ یہ وُہی ہاتھ ہے جو تمام قوموں پر بڑھایا گیا ہے۔
ISA 14:27 کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ نے یہ قصد کر لیا ہے، اُسے کون منسُوخ کر سَکتا ہے؟ اُن کا ہاتھ بڑھایا گیا ہے، اَب اُسے کون روک سَکتا ہے؟
ISA 14:28 جِس سال آحازؔ بادشاہ نے وفات پائی، اُسی سال یہ نبُوّتی پیغام آیا:
ISA 14:29 اَے تمام فلسطینیو، تُم اِس پر خُوش نہ ہو، کہ جِس لٹھ نے تُمہیں مارا ہے وہ ٹوٹ گیا ہے؛ اُس سانپ کی جڑ سے ایک افعی نکل آئے گا، اَور اُس کا پھل لپکنے والا اَور نہایت زہریلا اَژدہا ہوگا۔
ISA 14:30 مسکینوں کو پیٹ بھر کھانا ملے گا، اَور مُحتاج سکون سے سوئیں گے۔ لیکن مَیں تیری جڑ قحط سے تباہ کروں گا؛ وہ تیرے بچے ہُوئے لوگوں کو قتل کریں گے۔
ISA 14:31 اَے پھاٹک، تُو واویلا کر! اَے شہر، تُو چِلّا! اَے تمام فلسطینیوں، لرزاں ہو جاؤ! کیونکہ شمال کی طرف سے دھوئیں کا ایک بادل آ رہاہے، اَور اُس کے لشکر کی صفوں میں سے کویٔی بھی پیچھے نہ رہے گا۔
ISA 14:32 اُس مُلک کے سفیروں کو کیا جَواب دیا جائے؟ ”یَاہوِہ نے صِیّونؔ کو قائِم کیا ہے، اَور اُس میں اُس کے مُصیبت زدہ لوگ پناہ لیں گے۔“
ISA 15:1 مُوآب کے خِلاف نبُوّت: ایک ہی رات میں، مُوآب کا شہر عاؔر تباہ ہو گیا! ایک ہی رات میں، مُوآب کا شہر قیرؔ تباہ ہو گیا!
ISA 15:2 اہلِ دیبونؔ اُونچے مقاموں پر واقع عبادت گاہ میں، ماتم کرنے کے لیٔے گیٔے؛ نبوؔ اَور میدباؔ پر اہلِ مُوآب واویلا کرتے ہیں۔ ہر ایک کا سَر مُنڈا ہُواہے اَور ہر ایک کی داڑھی کاٹی گئی ہے۔
ISA 15:3 وہ سڑکوں پر ٹاٹ اوڑھے پھرتے ہیں؛ اَور چھتوں اَور چوراہوں پر نوحہ کرتے ہیں، اَور زار زار روتے ہُوئے سَجدہ کرتے ہیں۔
ISA 15:4 حِشبونؔ اَور الیعالہؔ رو رہے ہیں، اُن کی پُکار یاہضؔ تک سُنایٔی دیتی ہے۔ اِس لیٔے مُوآب کے مُسلّح سپاہی بھی زار زار رو رہے ہیں، اُن کے دِلوں کی دھڑکن بندہو رہی ہے۔
ISA 15:5 میرا دِل مُوآب کے لیٔے رو پڑا؛ اُس کے لوگ ضُعَرؔ، اَور عگلت شیلشیاہؔ تک فرار ہو گئے ہیں۔ وہ روتے ہُوئے، لُوحیتؔ کی راہ چڑھتے ہیں؛ اَور حُورونایمؔ کی راہ پر اَپنی تباہی پر آہ و نالہ کرتے ہیں۔
ISA 15:6 نِمریمؔ کی نہریں خشک ہو گئیں اَور گھاس مُرجھا گئی؛ روئیدگی غائب ہو گئی اَور ہریالی باقی نہ رہی۔
ISA 15:7 اِس لیٔے جو دولت اُنہُوں نے حاصل کی اَور جمع کر رکھی ہے اُسے وہ بید کے نالے کے پار لے جایٔیں گے۔
ISA 15:8 اُن کا شوروغل مُوآب کی سرحدوں تک گونجتا ہے؛ اَور اُن کی آہ و زاری عگلائمؔ تک، اَور اُن کی نوحہ خوانی بیرؔ ایلیمؔ تک پہُنچتی ہے۔
ISA 15:9 دیمونؔ کی ندیاں خُون سے بھری ہیں، لیکن مَیں دیمونؔ پر اَور زِیادہ مُصیبت لاؤں گا۔ مُوآب سے بھاگنے والوں پر اَورجو مُلک میں رہیں گے اُن پر شیر بھیجوں گا۔
ISA 16:1 سیلاؔ سے بیابان کے راستے صِیّونؔ کی بیٹی کے پہاڑ پر مُلک کے حاکم کے پاس خراج کے طور پر برّوں بھیجو۔
ISA 16:2 جِس طرح گھونسلے سے باہر گِرے ہُوئے پرندے پھڑپھڑاتے ہیں، اُسی طرح مُوآب کی عورتیں ارنُونؔ کے گھاٹوں پر ہیں۔
ISA 16:3 اہلِ مُوآب اِلتجا کرتے ہیں، ”ہمیں صلاح دو،“ فیصلہ کرو۔ ٹھیک دوپہر کو بھی اَپنا سایہ رات کی مانند کرو۔ بھاگنے والوں کو چھپالو، پناہ گزینوں کے ساتھ دھوکا نہ کرو۔
ISA 16:4 مُوآب کے جَلاوطنوں کو اَپنے پاس رہنے دو، ستمگر کے قہر سے اُن کو بچاؤ۔ ظالِم کا خاتِمہ ہوگا، اَور تباہی رُک جائے گی؛ اَور ستمگر مُلک سے غائب ہو جائے گا۔
ISA 16:5 تَب رحمت کے ساتھ ایک تخت قائِم کیا جائے گا؛ اَور داویؔد کے گھرانے سے ایک شخص۔ وہ جو عدالت میں اِنصاف کی تلاش کرتا ہے اَور راستبازی کی رفتار کو تیز کرتا ہے۔ راستی کے ساتھ اُس پر جلوہ افروز ہوگا۔
ISA 16:6 ہم مُوآب کے غُرور کے بارے میں سُن چُکے ہیں۔ اُس کی خُود پسندی، خُود بینی، تکبُّر اَور گستاخی کے بارے میں بھی۔ لیکن اُس کی شیخیاں ہیچ ہیں۔
ISA 16:7 چنانچہ اہلِ مُوآب واویلا کرتے ہیں، وہ سَب مِل کر مُوآب کے لیٔے واویلا کرتے ہیں۔ وہ قیرؔ حارسیتھؔ کے کشمش کی ٹکیا کے لیٔے۔ رنجیدہ ہوکر ماتم کریں گے۔
ISA 16:8 حِشبونؔ کے کھیت، اَور سِبماہؔ کی انگوری بیلیں مُرجھا گئیں۔ قوموں کے حُکمرانوں نے بہترین انگوری بیلوں کو پاؤں تلے روند ڈالا، جو کبھی یعزیرؔ تک جا پہُنچی تھیں اَور بیابان کی طرف پھیل گئی تھیں۔ اَور اُن کی شاخیں سمُندر تک پھیل چُکی تھیں۔
ISA 16:9 اِس لیٔے میں یعزیرؔ کی طرح سِبماہؔ کی انگوری بیلوں کے لیٔے آہ و زاری کرتا ہُوں۔ اَے حِشبونؔ اَور اَے الیعالہؔ مَیں تُجھے اَپنے آنسُوؤں سے سینچوں گا! تیرے تیّار پھل اَور فصلوں پر لگائے جانے والے خُوشی کے نعرے خاموش ہو گئے۔
ISA 16:10 میوے کے باغوں سے خُوشی اَور شادمانی چھین لی گئی؛ نہ تاکستان میں کویٔی گاتا یا للکارتا ہے؛ نہ ہی کویٔی حوضوں میں انگور پامال کرکے اُن کا رس نکالتا ہے، کیونکہ مَیں نے سَب شور و غُل بند کر دیا ہے۔
ISA 16:11 میرا دِل مُوآب کے لیٔے، اَور میرا ضمیر قیرؔ حارسیتھؔ کے لیٔے بربط کی طرح نوحہ کرتا ہے۔
ISA 16:12 جَب مُوآب اَپنے اُونچے مقام پر پہُنچ جاتا ہے، تو وہ اَپنے آپ کو محض تھکا لیتا ہے؛ جَب وہ اَپنے بُتکدے میں دعا کرنے جاتا ہے، تو اُسے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔
ISA 16:13 یہی وہ کلام ہے جو یَاہوِہ نے اِس سے پہلے مُوآب کے متعلّق کیا تھا۔
ISA 16:14 لیکن اَب یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”ٹھیکہ کے مزدُور کے حِساب کے مُطابق تین سال کے اَندر مُوآب کی شان و شوکت جاتی رہے گی اَور اُس کے تمام کثیر التعداد لوگ پست کر دئیے جایٔیں گے اَورجو باقی بچیں گے بہت ہی کم اَور نہایت کمزور ہوں گے۔“
ISA 17:1 دَمشق کے متعلّق نبُوّت: ”دیکھ، دَمشق اَب شہر نہ رہے گا بَلکہ کھنڈر کا ڈھیر بَن جائے گا۔
ISA 17:2 عروعؔر کے شہر ویران ہوں گے اَور وہ گلّوں کے بیٹھنے کی جگہ بنیں گے، جہاں اُنہیں کویٔی ڈرانے والا نہ ہوگا۔
ISA 17:3 اِفرائیمؔ کا ہر قلعہ غائب ہو جائے گا، اَور دَمشق کی سلطنت جاتی رہے گی؛ اَور ارام کے باقی بچے ہُوئے لوگ بھی بنی اِسرائیل کی شان و شوکت کی طرح غائب ہو جایٔیں گے،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ISA 17:4 ”اُس دِن یعقوب کی حشمت گھٹ جائے گی؛ اَور اُس کے بَدن کی چربی پگھل جائے گی۔
ISA 17:5 وہ اَیسا ہوگا گویا کویٔی دہقان کھڑی فصل کاٹ کر گیہُوں کی بالیں بازوؤں میں سمیٹ رہاہے جَیسے رفائیمؔ کی وادی میں کویٔی خُوشہ چینی کرتا ہو۔
ISA 17:6 پھر بھی کچھ خُوشہ باقی بچیں گے، ٹھیک اُس طرح جَیسے زَیتُون کے درخت کو ہلانے کے بعد بھی دو یا تین پھل چوٹی کی شاخوں پر، اَور چار یا پانچ پھلدار شاخوں پر بچ جاتے ہیں،“ یَاہوِہ اِسرائیل کا خُدا یُوں فرماتے ہیں۔
ISA 17:7 اُس دِن لوگ اَپنے خالق کی طرف نگاہ اُٹھائیں گے اَور اُن کی آنکھیں اِسرائیل کے قُدُّوس کو دیکھیں گی۔
ISA 17:8 وہ مذبحوں کی طرف نہ دیکھیں گے، جنہیں اُنہُوں نے اَپنے ہاتھوں سے بنایا، اَور نہ وہ اشیراہؔ کے سُتونوں کا اَور نہ عُود جَلانے کے مذبحوں کا لحاظ کریں گے جو اُن کے اَپنے ہاتھوں کی دستکاری ہیں۔
ISA 17:9 اُس دِن اُن کے محکم شہر جنہیں اُنہُوں نے بنی اِسرائیل کی وجہ سے خیرباد کہاتھا اَیسے ہوں گے گویا وہ صِرف جنگلی جھاڑیوں اَور گھاس کے اُگنے کے لیٔے ہی تھے۔ ہر طرف ویرانی ہوگی۔
ISA 17:10 تُونے اَپنے مُنجّی خُدا کو فراموش کیا؛ اَور اُس چٹّان کو یاد نہ رکھا جو تیرا قلعہ ہے۔ اِس لیٔے خواہ تُو اَچھّے سے اَچھّے پَودے اَور درآمد کی ہُوئی انگوری بیلیں لگائے،
ISA 17:11 خواہ وہ اُسی روز بڑھنے لگیں جِس روز تُونے اُنہیں لگایا، اَور اُسی صُبح اُن میں کلیاں نکل آئیں، لیکن بیماری اَور شدید درد کے دِن اُن کا پھل جاتا رہے گا۔
ISA 17:12 افسوس، بہت سِی قوموں کا ہنگامہ جِن کا شور سمُندر کے شور کی طرح ہے! افسوس، مُختلف لوگوں کا شور و غُل وہ بڑے بڑے دریاؤں کی مانند شور مچاتے ہیں!
ISA 17:13 حالانکہ لوگ سیلاب کے پانی کی طرح اُمنڈ آتے ہیں، لیکن جَب وہ ڈانٹتا ہے تو وہ اَیسے دُور بھاگ جاتے ہیں، جَیسے ٹیلوں پر کی بھُوسی ہَوا کے سامنے اُڑ جاتی ہے، اَور گھاس پھُوس جسے آندھی اُڑائے پھرتی ہے۔
ISA 17:14 شام کے وقت جو دہشت لاتے ہیں! وہ صُبح ہونے سے پہلے ختم ہو جاتے ہیں! یہ اُن لوگوں کا حِصّہ ہے جو ہمیں لُوٹتے ہیں، اَور اُن کا بَخرہ جو ہمیں تباہ کرتے ہیں۔
ISA 18:1 افسوس اُس ٹِڈّی کے پھڑپھڑانے والے پروں کی سرزمین پر جسے کُوشؔ کی ندیاں سیراب کرتی ہیں،
ISA 18:2 جو نرسل کی کشتی میں سمُندر کی راہ سفیر بھیجتی ہے۔ اَے تیزرَو سفیرو، اُس قوم کے پاس جاؤ جِس کے لوگ بُلند قامت اَور خُوبصورت ہیں اَور جِس کا خوف دُور دراز کے مُلکوں پر چھایا ہُواہے، یہ ایک عجِیب و غریب زبان بولنے والی جارحانہ قوم ہے، جِس کی سرزمین دریاؤں سے منقسم ہے۔
ISA 18:3 اَے دُنیا کے سَب لوگو، جو زمین پر بسے ہُوئے ہو، جَب پہاڑوں پر پرچم اُونچا کیا جائے گا، تو تُم اُسے دیکھ لوگے، اَور جَب نرسنگا پھُونکا جائے گا، تو تُم اُس کی آواز سنوگے۔
ISA 18:4 یَاہوِہ نے مُجھ سے یہ کہا: ”دھوپ کی شدید گرمی، اَور فصل کاٹنے کے موسم کی حرارت میں اوس کے بادل کی طرح، مَیں خاموش رہُوں گا اَور اَپنی قِیام گاہ سے اِطمینان سے دیکھتا رہُوں گا۔“
ISA 18:5 لیکن فصل سے پہلے جَب پھُولوں کی بہار ختم ہو اَور پھُولوں کی جگہ انگور پکنے لگیں، تَب وہ ٹہنیوں کو ہنسوے سے کاٹ ڈالے گا، اَور پھیلی ہُوئی شاخوں کو بھی چھانٹ کر لے جائے گا۔
ISA 18:6 وہ سَب پہاڑ کے شِکاری پرندوں اَور جنگلی جانوروں کے لیٔے چھوڑ دی جائے گی؛ شِکاری پرندے گرمی کے تمام موسم میں اَور جنگلی جانور جاڑے کے دِنوں میں اُن پر گزارا کریں گے۔
ISA 18:7 اُس وقت اُس قوم کی طرف سے جِس کے لوگ بُلند قامت اَور خُوبصورت ہیں، اَور جِس کا خوف دُور دراز کے مُلکوں پر چھایا ہُواہے، جو عجِیب و غریب زبان بولنے والی جارحانہ قوم ہے، جِس کی سرزمین دریاؤں سے منقسم ہے قادرمُطلق یَاہوِہ کے لیٔے عطیات پیش کئے جایٔیں گے۔ یہ عطیات قادرمُطلق یَاہوِہ کے نام کے مَسکن یعنی کوہِ صِیّونؔ پر پیش کئے جایٔیں گے۔
ISA 19:1 مِصر کے متعلّق نبُوّت: دیکھو، یَاہوِہ ایک تیزرَو بادل پر سوار ہوکر مِصر میں آ رہاہے۔ مِصر کے بُت اُن کے سامنے تھرتھراتے ہیں، اَور اہلِ مِصر کے دِل اَندر ہی اَندر پگھل جاتے ہیں۔
ISA 19:2 ”اَور مَیں مِصریوں کو ایک دُوسرے کے خِلاف اُبھاروں گا بھایٔی، بھایٔی سے، ہمسایہ، ہمسایہ سے، شہر، شہر سے، اَور صُوبہ، صُوبہ سے لڑے گا۔
ISA 19:3 اہلِ مِصر کے حوصلے پست ہو جایٔیں گے، اَور مَیں اُن کے منصُوبے خاک میں مِلا دوں گا؛ وہ بُتوں سے، مُردوں کی رُوحوں سے، اَور اَرواح پرستوں اَور اوجھاؤں سے مشورہ طلب کریں گے۔
ISA 19:4 میں مِصریوں کو ایک نہایت ہی ظالِم حاکم کے سُپرد کروں گا، اَور ایک غضبناک بادشاہ اُن پر حُکومت کرےگا،“ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
ISA 19:5 دریائے نیل کا پانی سُوکھ جائے گا، اَور اُس دریا کی شاہراہ خشک ہو جائے گی۔
ISA 19:6 نہروں میں سے بدبُو آنے لگے گی؛ مِصر کے تمام دریا سِمٹ کر سُوکھ جایٔیں گے۔ سَرکنڈے اَور گھاس سُوکھ جائیں گے،
ISA 19:7 اَور دریائے نیل کے کنارے اَور اُس کے دہانے کے پَودے بھی مُرجھا جایٔیں گے۔ دریائے نیل کے آس پاس بویا ہُوا ہر کھیت خشک ہو جائے گا۔ اَور فصل ہَوا میں اَیسی اُڑ جائے گی کہ کچھ بھی باقی نہ بچے گا۔
ISA 19:8 وہ تمام ماہی گیر جو دریائے نیل میں مچھلی کا شِکار کرتے ہیں، فریاد اَور آہ و زاری کریں گے؛ اَورجو پانی میں جال ڈالتے ہیں وہ بے قرار ہو جایٔیں گے۔
ISA 19:9 جو لوگ سَن کے ریشوں سے کپڑا بُننے کا کام کرتے ہیں وہ مایوس ہوں گے، اَور مہین کپڑے بُننے والوں کی اُمّید ٹوٹ جائے گی۔
ISA 19:10 تمام پارچہ ساز مایوس ہوں گے، اَور تمام اُجرت کمانے والے مزدُور دِل سے رنجیدہ خاطِر ہوں گے۔
ISA 19:11 ضعنؔ کے حُکمراں محض احمق ہیں؛ فَرعوہؔ کے دانشمند مُشیر غلط صلاح دیتے ہیں۔ تُم فَرعوہؔ سے کیسے کہہ سکتے ہو، ”کہ میں بھی دانشمندوں میں سے ایک، اَور قدیم بادشاہوں کی نَسل سے ہُوں؟“
ISA 19:12 تیرے دانشمند مُشیر اَب کہاں ہیں، اَے فَرعوہؔ! وہ تُجھے بتاتے کیوں نہیں کہ قادرمُطلق یَاہوِہ نے مِصر کے خِلاف کیا منصُوبہ بنایا ہے۔
ISA 19:13 ضعنؔ کے افسران احمق ہو گئے ہیں، اَور میمفِسؔ کے رہنما دھوکا کھاگئے ہیں؛ مِصر کی قوم نے اَپنے ہی لوگوں کو گُمراہ کیا۔
ISA 19:14 یَاہوِہ نے اُن میں بدحواسی کی رُوح ڈال دی، تاکہ مِصر جو بھی قدم اُٹھائے اُس میں وہ ڈگمگا جائے، جَیسے ایک متوالا قَے کے وقت ڈگمگاتا ہے۔
ISA 19:15 مِصر کچھ بھی نہیں کر سَکتا نہ سَر، نہ دُم؛ نہ کھجور کی شاخ، نہ سَرکنڈے کی مدد سے۔
ISA 19:16 اُس وقت اہلِ مِصر عورتوں کی مانند ہو جایٔیں گے۔ قادرمُطلق یَاہوِہ اَپنا ہاتھ اُن کے خِلاف بڑھائیں گے اَور وہ خوف سے کانپیں گے۔
ISA 19:17 تَب یہُودیؔہ کا مُلک اہلِ مِصر کے لیٔے اِس قدر دہشت ناک ثابت ہوگا کہ جو کویٔی اُس کا ذِکر سُنے گا وہ تھرتھرا اُٹھے گا۔ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کے اِس منصُوبہ کے باعث ہوگا جو اُس نے اُن کے خِلاف بنا رکھتا ہے۔
ISA 19:18 اُس وقت مِصر کے پانچ شہروں میں کنعانی زبان بولی جائے گی اَور وہاں کے لوگ قادرمُطلق یَاہوِہ کی پیروی کی قَسم کھائیں گے۔ اُن میں سے ایک شہر، شہر آفتاب کہلائے گا۔
ISA 19:19 اُس دِن مُلک مِصر کے وَسط میں یَاہوِہ کا ایک مذبح اَور اُن کی سرحد پر یَاہوِہ کا ایک یادگار سُتون ہوگا۔
ISA 19:20 اَور وہ مُلک مِصر میں قادرمُطلق یَاہوِہ کے لیٔے نِشان اَور گواہ ٹھہرے گا۔ جَب وہ ستمگروں کے مَظالم کی وجہ سے یَاہوِہ سے فریاد کریں گے تَب وہ اُن کے لیٔے ایک مُنجّی اَور حامی بھیجے گا اَور وہ اُن کو نَجات دے گا۔
ISA 19:21 اِس طرح یَاہوِہ اَپنے آپ کو اہلِ مِصر پر ظاہر کریں گے اَور اُس وقت وہ یَاہوِہ کو پہچانیں گے اَور ذبیحے اَور اناج کے عطیات پیش کرکے کر اُن کی عبادت کریں گے۔ اَور یَاہوِہ کے لیٔے مَنّتیں مانگیں گے اَور اُنہیں پُورا کریں گے۔
ISA 19:22 یَاہوِہ اہلِ مِصر پر وَبا نازل کریں گے اَور اُنہیں مارے گا اَور شفا بخشیں گے۔ وہ یَاہوِہ کی طرف لَوٹیں گے اَور وہ اُن کی دعا سُنے گا اَور اُنہیں شفا بخشےگا۔
ISA 19:23 اُس دِن مِصر سے اشُور تک ایک شاہراہ ہوگی۔ اشُوری مِصر جایٔیں گے اَور اہلِ مِصر اشُور کو۔ اہلِ مِصر اَور اشُوری مِل کر عبادت کریں گے۔
ISA 19:24 اُس وقت مِصر اَور اشُور کے ساتھ تیسرا مُلک اِسرائیل ہوگا جو زمین پر برکت کا باعث ٹھہرے گا۔
ISA 19:25 قادرمُطلق یَاہوِہ اُن کو یہ کہتے ہوئے برکت دے گا، ”مُبارک ہو مِصر جو میری اُمّت ہے، اشُور جو میرے ہاتھ کی صنعت ہے اَور اِسرائیل جو میری مِیراث ہے۔“
ISA 20:1 سال اشُور کے بادشاہ سرگونؔ کا بھیجا ہُوا سپہ سالار اَعظم اشدُودؔ آیا اَور اُس پر حملہ کرکے اُسے فتح کر لیا۔
ISA 20:2 اُس وقت یَاہوِہ نے یَشعیاہ بِن آموصؔ کی مَعرفت کلام کیا۔ اُنہُوں نے اُس سے کہا: ”اَپنے بَدن سے ٹاٹ کا لباس الگ کر دے اَور اَپنے پیروں سے جُوتے اُتار ڈال۔“ اَور اُس نے وَیسا ہی کیا اَور برہنہ اَور ننگے پاؤں پھرتا رہا۔
ISA 20:3 تَب یَاہوِہ نے کہا: ”جِس طرح میرا خادِم یَشعیاہ تین سال تک برہنہ اَور ننگے پاؤں پھرا تاکہ مِصر اَور کُوشؔ کے خِلاف ایک نِشان اَور علامت ہو،
ISA 20:4 اُسی طرح اشُور کا بادشاہ مِصری اسیروں اَور کُوشی جَلاوطنوں کو خواہ وہ جواں ہُوں یا ضعیف، برہنہ جِسم اَور ننگے پاؤں اَور بے پردہ کولہوں کے ساتھ لے جائے گا۔ اَور یہ اہلِ مِصر کے لیٔے رُسوائی کا باعث ہوگا۔
ISA 20:5 تَب وہ جو کُوشؔ پر اِعتماد رکھتے تھے اَور مِصر پر نازاں تھے خوفزدہ اَور پشیمان ہوں گے۔
ISA 20:6 اُس وقت اِس ساحِل پر بسنے والے لوگ کہیں گے، ’دیکھو، اُن لوگوں کا کیا حال ہُوا جِن پر ہم نے اِعتماد کیا اَور جِن کی طرف ہم شاہِ اشُور سے بچنے کے لیٔے مدد کی خاطِر بھاگے۔ تو پھر ہم کیسے بچیں گے؟‘ “
ISA 21:1 سمُندر کے کنارے والے صحرا کے متعلّق نبُوّت: جِس طرح جُنوبی علاقہ سے تیز آندھیاں آتی ہیں، اُسی طرح بیابان سے جو ایک دہشت کی سرزمین ہے، ایک حملہ آ وار آ رہاہے۔
ISA 21:2 مُجھے نہایت ہی ہیبت ناک رُویا دِکھائی گئی: غدّار دغا دیتاہے، اَور لُٹیرا لُوٹ لیتا ہے۔ اَے عیلامؔ، چڑھائی کر! اَے مِدائی، محاصرہ کر! اُس کی وجہ سے جو نوحہ ہُوا اُسے میں ختم کروں گا۔
ISA 21:3 یہی باعث ہے کہ میرا جِسم درد سے اینٹھ رہاہے، ایک زچّہ کی طرح شدید درد نے مُجھے جکڑ لیا ہے؛ جو کچھ میں سُن رہا ہُوں اُس سے میں ہِراساں ہُوں، اَورجو دیکھ رہا ہُوں اُس سے میں پریشان ہُوں۔
ISA 21:4 میرا دِل رُکا جاتا ہے، اَور خوف سے میں کانپنے لگتا ہُوں؛ جِس شفق شام کے لیٔے میں ترستا تھا وہ میرے لیٔے ہیبت بَن گئی۔
ISA 21:5 وہ دسترخوان بچھاتے ہیں، اَور غلیچے پھیلاتے ہیں، وہ کھاتے اَور پیتے ہیں! اَے افسر، اُٹھو، سِپر پر تیل مَلو!
ISA 21:6 یَاہوِہ مُجھ سے یہ کہتاہے: ”جاؤ، ایک پہرےدار کو مُقرّر کر تاکہ وہ جو کچھ دیکھے اُس کی اِطّلاع دے۔
ISA 21:7 جَب وہ رتھ دیکھے جِن میں دو دو گھوڑے جُتے ہُوں، اَور گدھوں اَور اُونٹوں پر سوار دیکھے، تو وہ نہایت چوکنّا ہو جائے، بےحد چوکنّا۔“
ISA 21:8 اَور پہرےدار شیر کی مانند چِلّا اُٹھا، ”میرے آقا، میں روز بروز پہرا کے بُرج پر کھڑا رہتا ہُوں؛ ہر رات میں اَپنی جگہ پر مَوجُود ہُوں۔
ISA 21:9 دیکھ، ایک آدمی رتھ میں آتا ہے جِس میں دو گھوڑے جُتے ہیں۔ اَور یہ خبر لاتا ہے: ’بابیل گِر پڑا، گِر پڑا! اُس کے معبُودوں کی سبھی مورتیاں چکنا چُور ہوکر زمین پر گری پڑی ہیں!‘ “
ISA 21:10 اَے میرے لوگو جو کھلیان میں پامال ہو چُکے ہو، قادرمُطلق یَاہوِہ اَور اِسرائیل کے خُدا سے مَیں نے جو کچھ سُنا، تُمہیں بتاتا ہُوں۔
ISA 21:11 دُومہؔ کے متعلّق نبُوّت: کسی نے مُجھے سِعِیؔر سے پُکارا، ”اَے پہرےدار، رات کی کیا خبر ہے؟ اَے پہرےدار، رات کی کیا خبر ہے؟“
ISA 21:12 پہرےدار جَواب دیتاہے، ”صُبح ہوتی ہے اَور رات بھی۔ اگر تُم پُوچھنا چاہتے ہو تو پُوچھو؛ اَور ایک بار پھر آنا۔“
ISA 21:13 عربؔ کے متعلّق نبُوّت: اَے دِدانیوں کے قافلو، جو عربؔ کے جنگلوں میں مُقیم ہو،
ISA 21:14 پیاسوں کے لیٔے پانی لاؤ؛ اَے تیماؔ کے رہنے والو، بھاگنے والوں کے لیٔے کھانا لاؤ۔
ISA 21:15 وہ تلوار سے، ننگی تلوار سے، اَور کھینچی ہُوئی کمان سے اَور جنگ کی شِدّت کے خوف سے بھاگے ہیں۔
ISA 21:16 یَاہوِہ نے مُجھ سے یہ کہا: ”مزدُوروں کے حِساب کے مُطابق ایک سال کے اَندر قیدارؔ کی تمام شان و شوکت ختم ہو جائے گی۔
ISA 21:17 قیدارؔ کے تیر اَندازوں اَور بہادروں میں سے صِرف چند لوگ ہی بچ پائیں گے۔“ یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا نے یہ فرمایاہے۔
ISA 22:1 رُویا کی وادی کے متعلّق نبُوّت: اَب تُمہیں کیا پریشانی ہے، جو تُم سَب کے سَب چھتوں پر چڑھ گیٔے،
ISA 22:2 اَے ہنگامہ سے بھرے ہُوئے شہر، اَور شور و غُل کا شہر! تمہارے مقتول تلوار سے قتل نہیں ہُوئے، نہ ہی وہ لڑائی میں مارے گیٔے۔
ISA 22:3 تیرے تمام سردار اِکٹھّے بھاگ گیٔے؛ اَور اُنہیں بغیر کمان اِستعمال کئے گِرفتار کیا گیا۔ جَب کہ دُشمن کافی دُور تھا، تُم سَب جو بھاگ نکلے تھے، پکڑے گیٔے اَور اِکٹھّے اسیر کئے گیٔے۔
ISA 22:4 اِس لیٔے مَیں نے کہا: ”مُجھ سے دُورہو جاؤ؛ مُجھے زار زار رونے دو۔ مُجھے میری قوم کی بربادی پر تسلّی نہ دو۔“
ISA 22:5 آج کا دِن رُویا کی وادی میں خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ کے لیٔے بےحد شور و غُل، پامالی اَور دہشت کا دِن ہے۔ یہ دیواروں کو گرانے کا اَور پہاڑوں کو پُکار سُنانے کا دِن ہے۔
ISA 22:6 عیلامؔ نے اَپنے رتھ سواروں اَور گھوڑوں کے ساتھ ترکش اُٹھایا؛ اَور قیرؔ نے سِپر کا غلاف اُتار دیا۔
ISA 22:7 تیری بہترین وادیاں اَب رتھوں سے بھری ہُوئی ہیں، اَور گُھڑسوار شہر کے پھاٹکوں پر صف آرا ہیں۔
ISA 22:8 خُداوؔند نے بنی یہُوداہؔ کے بچاؤ کے ذرائع ہٹا دئیے۔ اَور اَب تُم نے جنگل کے محل کی طرف اسلحہ کے لیٔے نگاہ اُٹھائی؛
ISA 22:9 تُم نے دیکھا کہ داویؔد کے شہر کے دفاع میں کیٔی رخنے تھے؛ تُم نے نیچے کے حوض میں پانی جمع کیا۔
ISA 22:10 تُم نے یروشلیمؔ کی عمارتوں کو گِنا اَور شہرپناہ کو مضبُوط کرنے کے لیٔے گھروں کو ڈھا دیا۔
ISA 22:11 تُم نے دو دیواروں کے درمیان میں ایک حوض بنایا تاکہ پُرانے حوض کا پانی اُس میں جمع کر سکو، لیکن تُم نے اُن کی طرف نگاہ نہ کی جنہوں نے اُسے بنایا، نہ اُس کا لحاظ کیا جنہوں نے کافی عرصہ پہلے اُن کا منصُوبہ بنایا۔
ISA 22:12 خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ نے اُس روز تُمہیں رونے اَور ماتم کرنے، اَپنے بال نوچنے اَور ٹاٹ پہننے کے لیٔے بُلایا۔
ISA 22:13 لیکن دیکھو، یہاں تو خُوشی اَور عیش و عشرت، جانوروں کو ذبح کرنا اَور بھیڑوں کو حلال کرنا، اَور گوشت خواری اَور مَے خواری ہی جاری ہے! ”آؤ، کھایٔیں اَور پیئیں،“ تُم کہتے ہو، ”کیونکہ کل تو ہمیں مَرنا ہی ہے!“
ISA 22:14 قادرمُطلق یَاہوِہ نے یہ میرے کان میں کہا: ”تمہارے مرنے کے دِن تک اِس گُناہ کا کفّارہ نہ ہو سکےگا۔“ خُداوؔند قادرمُطلق یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے۔
ISA 22:15 خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”جا، اَور شاہی محل کے دیوان شبناہؔ سے کہہ:
ISA 22:16 کہ تُم یہاں کیا کر رہاہے اَور تُجھے کس نے اِجازت دی اَپنے لیٔے یہاں قبر تراشے، بُلندی پر اَپنی قبر کھدوائے اَور چٹّان میں اَپنے لیٔے آرامگاہ بنوائے؟
ISA 22:17 ”خبردار، اَے مَرد قوی! یَاہوِہ تُجھ پر اَپنی گرفت مضبُوط کریں گے اَور تُجھے دُور پھینک دے گا۔
ISA 22:18 وہ تُجھے گھُما کر گیند کی طرح ایک وسیع مُلک میں دُور پھینک دے گا۔ اَور اَے اَپنے آقا کے گھر کو رُسوا کرنے والے! تُو وہاں مَر جائے گا اَور وہاں وہ عالیشان رتھ جِن تُم پر کو بہت فخر تھا۔ تیرے آقا کے گھر کی رُسوائی ہوگی۔
ISA 22:19 مَیں تُجھے تیرے منصب سے برطرف کر دُوں گا، اَور تُجھے تیرے مرتبہ سے ہٹا دیا جائے گا۔
ISA 22:20 ”اُس وقت مَیں اَپنے خادِم اِلیاقیؔم بَن خِلقیاہؔ کو بُلاؤں گا۔
ISA 22:21 میں اُسے تیری خلعت پہناؤں گا اَور تیرا کمربند اُس پر کسوں گا اَور تیرا اِختیار اُس کے سُپرد کروں گا۔ وہ اہلِ یروشلیمؔ اَور بنی یہُوداہؔ کا باپ ہوگا۔
ISA 22:22 مَیں داویؔد کے گھر کی کُنجی اُس کے کندھے پر رکھوں گا۔ جو کچھ وہ کھولے گا اُسے کویٔی بند نہیں کر سکےگا اَورجو کچھ وہ بند کرےگا کویٔی اَور اُسے کھول نہیں سکےگا۔
ISA 22:23 مَیں اُسے میخ کی طرح کسی مُعتبر مقام پر ٹھونک دُوں گا۔ وہ اَپنے باپ کے گھر کے لیٔے عزّت و اِحترام کا تخت ہوگا۔
ISA 22:24 اُس کے خاندان کی ساری جاہ و حشمت کو، اُس کی اَولاد اَور نَسل کو اَور اُس کے سَب چُھوٹے بڑے برتنوں اَور پیالوں سے لے کر مرتبانوں تک سَب کو اِسی سے منسوب کیا جائے گا۔
ISA 22:25 ”اُس وقت،“ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”وہ میخ جو مُعتبر مقام میں ٹھونکی گئی تھی، ڈھیلی پڑ جائے گی اَور کاٹ کر گرائی جائے گی اَور اُس پر لٹکا ہُوا سبھی بوجھ گِر جائے گا۔“ کیونکہ یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے۔
ISA 23:1 صُورؔ کے متعلّق نبُوّت: اَے ترشیشؔ کے جہازوں، ماتم کرو! کیونکہ صُورؔ تباہ ہو چُکاہے وہاں نہ کویٔی گھر بچا ہے نہ بندرگاہ۔ کِتّیمؔ کے مُلک سے اُنہیں یہ خبر پہُنچی ہے۔
ISA 23:2 اَے جزیرے کے لوگو اَور اَے صیدونؔ کے سوداگروں، جنہیں بحری سیّاحوں نے مالا مال کیا ہے، خاموش ہو جاؤ۔
ISA 23:3 سمُندر کی راہ سے آیا ہُوا شیحُورؔ کا اناج؛ اَور دریائے نیل کے علاقہ کی فصل، صُورؔ کی آمدنی تھی، اَور وہ مُختلف قوموں کی تِجارت گاہ بنا۔
ISA 23:4 اَے صیدونؔ شرمندہ ہو، اَور تُو بھی اَے سمُندر کے قلعہ، کیونکہ سمُندر نے کہا ہے: ”نہ مُجھے دردِزہ لگا اَور نہ ہی مَیں نے بچّے جنے؛ نہ مَیں نے بیٹے پالے، نہ ہی بیٹیوں کی پرورِش کی۔“
ISA 23:5 جَب اہلِ مِصر کو خبر پہُنچے گی، تو وہ صُورؔ کا حال سُن کر نہایت غمگین ہوں گے۔
ISA 23:6 اَے جزیرے کے لوگو، ماتم کرتے ہُوئے ترشیشؔ کی طرف چلے جاؤ۔
ISA 23:7 کیا یہی تمہارا عیش و عشرت کا شہر ہے، جو قدیم زمانہ سے بسا ہُواہے، جِس کے قدم اُسے دُور دراز کے مُلکوں میں بسنے کے لیٔے لے گیٔے؟
ISA 23:8 صُورؔ کے خِلاف یہ منصُوبہ کس نے باندھا، جِس نے کیٔی تاجپوشیاں کیں، جِس کے سوداگر اُمرا ہیں، اَور جِس کے تاجر سارے جہاں میں عزّت دار ہیں؟
ISA 23:9 قادرمُطلق یَاہوِہ نے یہ طے کیا، کہ تمام شان و شوکت کے غُرور کو نیچا دِکھائے اَور اُن سَب کو جو دُنیا میں مُعزّز ہیں، ذلیل کرے۔
ISA 23:10 اَے اہلِ ترشیشؔ، اَپنی سرزمین میں دریائے نیل کی طرح پھیل جاؤ، کیونکہ اَب تمہارے لیٔے کویٔی بندرگاہ باقی نہ رہی۔
ISA 23:11 یَاہوِہ نے سمُندر کے اُوپر اَپنا ہاتھ بڑھایا ہے اَور اُس کی مملکتوں کو لرزا دیا ہے۔ اُس نے کنعانؔ کے خِلاف حُکم جاری کیا ہے کہ اُس کے قلعے مِسمار کئے جایٔیں۔
ISA 23:12 اُس نے کہا: ”اَے صیدونؔ کی کنواری بیٹی، تُم لُٹ چُکی ہو، تُجھے اَب عیش و عشرت نصیب نہ ہوگا، ”اُٹھ اَور کِتّیمؔ میں چلی جا؛ لیکن وہاں بھی تُجھے آرام نہ ملے گا۔“
ISA 23:13 کَسدیوں کے مُلک کو دیکھو، اِس قوم کا اَب وُجُود ہی باقی نہ رہا! اشُوریوں نے اُسے جنگلی جانوروں کا ٹھکانہ بنا دیا؛ اُنہُوں نے اُس میں اَپنے محاصرہ کے بُرج کھڑے کر دئیے، اُن کے محل ڈھا دئیے اَور اُسے ویران کر دیا۔
ISA 23:14 اَے ترشیشؔ کے جہازوں، واویلا کرو؛ کیونکہ تمہارے قلعے تباہ کر دئیے گئے۔
ISA 23:15 اُس وقت صُورؔ ستّر بَرس تک، جو کہ کسی بادشاہ کی زندگی کا عرصہ ہوتاہے، فراموش کیا جائے گا۔ اُن ستّر بَرس کے اِختتام پر صُورؔ کے ساتھ وُہی ہوگا جَیسا کہ ایک فاحِشہ کے ساتھ ہُوا جِس کا ذِکر اِس نغمہ میں ہے:
ISA 23:16 ”اَے بھولی بسری فاحِشہ، بربط اُٹھا اَور شہر میں گھُوم پھر؛ بربط بجا اَور خُوب نغمہ سرائی کر، تاکہ تُجھے یاد کیا جائے۔“
ISA 23:17 ستّر بَرس کے بعد یَاہوِہ صُورؔ کی خبر لے گا۔ وہ فاحِشہ پھر سے اَپنا منافع بخش جِسم فروشی کرنے لَوٹ آئے گی اَور رُوئے زمین پر مَوجُود تمام مملکتوں کے ساتھ بدکاری کرےگی۔
ISA 23:18 لیکن اُس کا منافع اَور اُس کی کمائی یَاہوِہ کے لیٔے وقف کئے جایٔیں گے۔ لیکن یہ رقم نہ تو خزانہ میں داخل ہوگی، نہ ہی اِس کا ذخیرہ کیا جائے گا۔ اُس کا منافع اُن لوگوں کو جائے گا جو یَاہوِہ کے حُضُور کثرت سے رہتے ہیں تاکہ خُوراک اَور عُمدہ لباس پہنیں۔
ISA 24:1 دیکھو، یَاہوِہ زمین کو ویران کرکے تہہ و بالا کر دیں گے؛ وہ اُس کے باشِندوں کو تِتّر بِتّر کریں گے
ISA 24:2 سَب کا حال یکساں ہوگا کاہِنؔ کا حال قوم کے حال کی طرح، آقا کا نوکر کی طرح، مالکن کی خادِمہ کی طرح، بیچنے والے کا خریدار کی طرح، اُدھار لینے والے کا اُدھار دینے والے کی طرح، قرضدار کے لیٔے جَیسا کہ قرض دِہندہ کے لیٔے۔
ISA 24:3 زمین بالکُل خالی کی جائے گی اَور بشِدّت تباہ ہوگی کیونکہ یہ کلام یَاہوِہ کا ہے۔
ISA 24:4 زمین سُوکھ جاتی ہے اَور نباتات مُرجھا جاتی ہے، دُنیا بیتاب اَور پژمردہ ہو جاتی ہے، اَور زمین کے بُلند پایہ لوگ ناتواں ہو جاتے ہیں۔
ISA 24:5 زمین اَپنے باشِندوں کے باعث ناپاک ہو گئی؛ کیونکہ اُنہُوں نے آئین کو نہ مانا، اَور شہادتوں سے منحرف ہُوئے، اَور اَبدی عہد کو توڑ دیا ہے۔
ISA 24:6 اِس لیٔے زمین لعنتی ہوکر رہ گئی؛ اَور اُس کے باشِندے مُجرم قرار دیئے گیٔے۔ چنانچہ زمین کے باشِندے جَلائے گیٔے، اَور صِرف تھوڑے ہی لوگ باقی رہ گیٔے۔
ISA 24:7 نئی مہ خشک ہو جاتی ہے اَور انگور کی بیل مُرجھا جاتی ہے؛ اَور رنگ رلیاں منانے والے تمام لوگ کراہتے ہیں۔
ISA 24:8 دفوں کی خُوشیاں بندہو گئیں، رنگ رلیاں منانے والوں کا شور و غُل جاتا رہا۔ اَور سِتار کا مسرّت بخش نغمہ خاموش ہے۔
ISA 24:9 اَب وہ نغمہ کے ساتھ پھر مے نہیں پیئیں گے؛ پینے والوں کو مے کڑوی لگتی ہے۔
ISA 24:10 تباہ شُدہ شہر سُنسان پڑا ہے؛ ہر گھر کا دروازہ بند ہے۔
ISA 24:11 لوگ مہ کے لیٔے سڑکوں پر چِلّا رہے ہیں؛ ہر خُوشی غم میں بدل گئی ہے، زمین کی تمام خُوشیاں نابود ہو چُکی ہیں۔
ISA 24:12 شہر ویران ہو چُکاہے اَور اُس کا پھاٹک ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا ہے۔
ISA 24:13 اُسی طرح زمین پر اَور قوموں کے درمیان بھی اَیسا ہی ہوگا، جَیسے زَیتُون کے درخت کو پِیٹا جاتا ہے، یا جَب انگور کی کٹائی کے بعد اناج باقی رہ جاتے ہیں۔
ISA 24:14 وہ اَپنی آوازیں بُلند کرکے خُوشی کے نغمہ گاتے ہیں؛ مغرب کی جانِب سے وہ یَاہوِہ کی عظمت و جلال کے نعرے لگاتے ہیں۔
ISA 24:15 چنانچہ مشرق میں یَاہوِہ کی تمجید کرو؛ اَور سمُندر کے جزیروں میں یَاہوِہ، اِسرائیل کے خُدا کے نام کی تمجید کرو۔
ISA 24:16 زمین کی اِنتہا سے ہم یہ نغمہ سُنتے ہیں: ”صادق کے لیٔے جلال و عظمت۔“ لیکن مَیں نے کہا، ”ہائے میں برباد ہُوا، میں برباد ہُوا! مُجھ پر افسوس! دغابازوں نے دغا کی! ہاں، دغابازوں نے بڑی دغا کی!“
ISA 24:17 اَے اہلِ زمین، خوف اَور گڑھا اَور پھندا تمہارے منتظر ہیں۔
ISA 24:18 جو کویٔی خوفناک آواز سُن کر بھاگے گا وہ گڑھے میں گِرے گا؛ اَورجو کویٔی گڑھے میں سے نکل آیا وہ پھندے میں پھنسے گا۔ آسمان کے دریچے کھول دئیے گیٔے، اَور زمین کی بُنیادیں ہل رہی ہیں۔
ISA 24:19 زمین ریزہ ریزہ ہو گئی، زمین پھٹ گئی، اَور وہ شِدّت سے ہلایٔی گئی ہے۔
ISA 24:20 زمین متوالے کی مانند ڈگمگا رہی ہے، وہ یُوں سَرک رہی ہے جَیسے کویٔی جھونپڑی تیز ہَوا میں جھُول رہی ہو۔ اَپنی سرکشی کے گُناہ کا بوجھ اُس پر اِس قدر بھاری ہے کہ وہ گری جاتی ہے اَور پھر کبھی نہ اُٹھے گی۔
ISA 24:21 اُس وقت یُوں ہوگا کہ یَاہوِہ آسمانی فَوج کو آسمان پر اَور زمین کے بادشاہوں کو زمین پر سزا دے گا۔
ISA 24:22 وہ قَیدخانہ کی کوٹھری میں بند قَیدیوں کی مانند جمع کئے جایٔیں گے اَور قَیدخانہ میں ڈالے جایٔیں گے؛ اَور بہت دِنوں کے بعد اُن کو خبر لی جائے گی۔
ISA 24:23 چاند ناراض اَور سُورج شرمندہ ہوگا؛ کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ کوہِ صِیّونؔ پر اَور یروشلیمؔ میں اَپنے بُزرگ خادِموں کے رُوبرو بڑے جاہ و جلال کے ساتھ حُکومت کریں گے۔
ISA 25:1 اَے یَاہوِہ، آپ میرے خُدا ہیں؛ مَیں آپ کی تمجید کروں گا اَور آپ کے نام کی سِتائش کروں گا، کیونکہ آپ نے پُوری وفا شعاری سے اَیسے عجِیب و غریب کام کئے ہیں، جِن منصُوبوں کو آپ نے اِبتدا ہی سے کرنے کا اِرادہ کر لیا تھا۔
ISA 25:2 آپ نے شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا، اَور فصیلدار شہر کو کھنڈر کر ڈالا، اَور پردیسیوں کے مضبُوط قلعہ کو اَیسا ویران کر دیا کہ وہ پھر کبھی تعمیر نہ کیا جائے گا۔
ISA 25:3 اِس لیٔے طاقتور مُلکوں کے لوگ آپ کو جلال دیں گے؛ اَور نہایت سنگدل قوموں کے شہروں میں آپ کا خوف مانا جائے گا۔
ISA 25:4 کیونکہ آپ مسکین کے لیٔے قلعہ، اَور مُحتاج کے لیٔے پریشانی کے وقت جائے پناہ، اَور سیلاب میں محفوظ مقام اَور گرمی سے بچاؤ کے لیٔے سایہ دار جگہ۔ کیونکہ سنگدل کی سانس دیوار سے ٹکرانے والے طُوفان
ISA 25:5 اَور بیابان کی شدید تپش کی طرح ہوتی ہے۔ جِس طرح بادل کے سایہ سے گرمی جاتی رہتی ہے، اِسی طرح تُو پردیسیوں کا شور و غُل، اَور سنگدل لوگوں کا شادیانہ بجانا بند کرتا ہے۔
ISA 25:6 قادرمُطلق یَاہوِہ اِس پہاڑ پر سَب قوموں کے لیٔے اَیسی ضیافت تیّار کرےگا، جِس میں لذیذ کھانے اَور پرانی عُمدہ مَے پیش کی جائے گی جہاں نہایت مُرغّن اَور لذیذ اَشیا خُوردنی اَور بہترین مَے ہوگی۔
ISA 25:7 جو پردہ سَب قوموں پر پڑا ہُواہے اَورجو نقاب سَب قوموں کو چُھپائے ہُوئے ہے، اُسے وہ اُس پہاڑ پر سے ہٹا دے گا؛
ISA 25:8 اَور موت کو ہمیشہ کے لیٔے نابود کر دے گا۔ اَور یَاہوِہ قادر سَب کے چہروں پر سے آنسُو پونچھ ڈالے گا؛ اَور رُوئے زمین سے اَپنے لوگوں کی رُسوائی مٹا دے گا۔ کیونکہ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ISA 25:9 اُس وقت یہ کہا جائے گا: ”دیکھو ہمارا خُدا یہی ہے؛ ہم نے اُن پر بھروسا کیا تھا اَور اُنہُوں نے ہمیں نَجات بخشی۔ یہی وہ یَاہوِہ ہے جِس پر ہمارا اِعتقاد تھا؛ آؤ، خُوشیاں منائیں اَور اُس کی نَجات سے شادمان ہوں۔“
ISA 25:10 کیونکہ اِس پہاڑ پر یَاہوِہ کا ہاتھ ہمیشہ قائِم رہے گا؛ اَور مُوآب اُس کے پاؤں تلے اَیسا کُچلا جائے گا جَیسے بھُوسا کھاد میں کُچلا جاتا ہے۔
ISA 25:11 اَور وہ اُس میں اَپنے ہاتھ اِس طرح پھیلائیں گے، جَیسے کویٔی تیراک تیرنے کے لیٔے اَپنے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ لیکن وہ اُن کے غُرور کو اُن کے ہاتھوں کی چالاکی کے باوُجُود پست کر دے گا۔
ISA 25:12 وہ تیری اُونچی اَور مضبُوط فصیلوں کے بُرج توڑ کر اُنہیں نیچا کریں گے؛ اَور اُنہیں زمین پر گرا کر خاک میں مِلا دیں گے۔
ISA 26:1 اُس وقت یہُودیؔہ کے مُلک میں یہ نغمہ گایا جائے گا: ہمارا ایک محکم شہر ہے؛ خُدا نَجات کو اُس کی فصیلیں اَور بُرج بنا دیتاہے۔
ISA 26:2 پھاٹک کھول دو تاکہ راستباز قوم جو اَپنے ایمان پر قائِم ہے، وہ داخل ہو جائے۔
ISA 26:3 جِس دِل کا اِعتماد تُجھ پر ہے اُسے تُو ہر طرح محفوظ رکھےگا، کیونکہ اُن کا توکّل تُجھ پر ہے۔
ISA 26:4 یَاہوِہ پر ہمیشہ بھروسا رکھو، کیونکہ یَاہوِہ خُدا اَبدی چٹّان ہے۔
ISA 26:5 وہ اُونچے مقاموں پر رہنے والوں کو پست کر دیتاہے، اَور اُونچے شہر کو نیچے لے آتا ہے؛ وہ اُسے زمین کے برابر کرکے خاک میں مِلا دیتاہے۔
ISA 26:6 وہ پاؤں تلے روندا جاتا ہے مظلوموں کے پاؤں تلے، اَور مسکینوں کے قدموں کے نیچے۔
ISA 26:7 راستباز کی راہ ہموار ہے؛ آپ جو خُود حق ہیں، صادق کی راہ ہموار کرتا ہیں۔
ISA 26:8 ہاں اَے یَاہوِہ، آپ کی آئین کی راہ پر چلتے ہُوئے، ہم تیرے منتظر رہے ہیں؛ تیرے نام اَور تیری یاد کے لیٔے ہمارے دِلوں میں اشتیاق ہے۔
ISA 26:9 رات کے وقت میری جان تیرے لیٔے بیقرار ہو جاتی ہے؛ اَور صُبح کو میری رُوح تیری مُشتاق ہوتی ہے، کیونکہ جَب آپ کا اِنصاف دُنیا پر ظاہر ہوتاہے، تَب دُنیا کے باشِندے راستبازی سیکھتے ہیں۔
ISA 26:10 ہر چند بدکاروں پر فضل ہو، وہ راستبازی نہیں سیکھتے؛ راستی کے مُلک میں بھی وہ بُرائی کرتے رہتے ہیں اَور یَاہوِہ کی عظمت کا لحاظ نہیں کرتے۔
ISA 26:11 اَے یَاہوِہ، آپ کا ہاتھ بُلند ہے، پر وہ اُسے نہیں دیکھتے۔ اُنہیں تَوفیق دے تاکہ وہ اُس غیرت کو دیکھیں جو تُجھے اَپنے لوگوں کے لیٔے ہے اَور پشیمان ہُوں؛ اَور اَپنے دُشمنوں کو اُس آگ میں بھسم ہو جانے دے جو اُن کے لیٔے رکھی گئی ہے۔
ISA 26:12 اَے یَاہوِہ، آپ ہمارے لیٔے اَمن قائِم کریں؛ ہمارے سَب کام تُو ہی نے ہمارے لیٔے اَنجام دئیے ہیں۔
ISA 26:13 اَے یَاہوِہ، ہمارے خُدا، آپ کے سِوا دُوسرے حاکموں نے بھی ہم پر حُکومت کی ہے، لیکن ہم صِرف تیرے ہی نام کو عزّت دیتے ہیں۔
ISA 26:14 وہ مَر گیٔے اَور اَب زندہ باقی نہیں؛ مُردہ رُوحیں پھر زندہ نہ ہوں گی۔ آپ نے اُنہیں سزا دی اَور اُنہیں نابود کر دیا؛ یہاں تک کہ آپ نے اُن کی یاد تک مٹا دی۔
ISA 26:15 آپ نے قوم کو بڑھایا، اَے یَاہوِہ؛ آپ نے قوم کو بڑھایا۔ آپ نے اَپنی عظمت و جلال ظاہر کی؛ آپ نے مُلک کی تمام حُدوُد کو وسعت دی ہے۔
ISA 26:16 اَے یَاہوِہ، وہ مُصیبت میں آپ کا طالب ہُوئے؛ جَب آپ نے اُنہیں تادیب کی، وہ بمشکل دعا کر پایٔے۔
ISA 26:17 جِس طرح ایک حاملہ عورت زچگی کے وقت درد سے کراہتی جھٹپٹاتی اَور چِلّاتی ہے، ٹھیک اُسی طرح اَے یَاہوِہ، ہم آپ کی حُضُوری میں تھے۔
ISA 26:18 ہم حاملہ تھے اَور درد سے جھٹپٹا رہے تھے، لیکن ہم نے صِرف ہَوا کو پیدا کیا۔ ہم زمین پر نَجات نہ لا پایٔے؛ نہ ہی دُنیا کے لوگوں کو پیدا کر سکے۔
ISA 26:19 اَے یَاہوِہ، لیکن تیرے مُردے جئیں گے؛ اُن کی لاشیں اُٹھ کھڑی ہُوں گی۔ تُم جو خاک میں جا بسے ہو، جاگو اَور خُوشی کے نعرے لگاؤ۔ تیری اوس صُبح کی اوس کی مانند ہے؛ زمین اَپنے مُردوں کو پھر سے‏ پیدا کرےگی۔
ISA 26:20 اَے میرے لوگو، جاؤ، اَپنی خوابگاہوں میں داخل ہوکر اَپنے پیچھے دروازے بند کر لو؛ تھوڑی دیر کے لیٔے جَب تک کہ قہر ٹل نہ جائے اَپنے آپ کو چُھپائے رکھو۔
ISA 26:21 کیونکہ دیکھو، یَاہوِہ اَپنی قِیام گاہ سے باہر آ رہے ہے تاکہ دُنیا کے لوگوں کو اُن کے گُناہوں کی سزا دے۔ زمین اَپنے اُوپر بہایا ہُوا خُون ظاہر کر دے گی، اَور اَپنے مقتولوں کو اَور زِیادہ نہ چُھپائے گی۔
ISA 27:1 اُس دِن، یَاہوِہ اَپنی سخت، بڑی اَور مضبُوط تلوار سے، لِویاتان نام کے تیزرَو اَور خم دار سانپ کو سزا دے گا، ایک لِویاتان مُہیب سمُندری اَژدہا کو قتل کر دے گا۔
ISA 27:2 اُس دِن ”تُم ایک پھلدار تاکستان کا نغمہ گانا۔
ISA 27:3 میں، یَاہوِہ اُس کی حِفاظت کرتا ہُوں؛ اَور ہر دَم اُسے سینچتا ہُوں۔ میں دِن رات اُس کی نگہبانی کرتا ہُوں تاکہ کویٔی اُسے نُقصان نہ پہُنچائے۔
ISA 27:4 میں غضبناک نہیں ہُوں، ہاں اگر میری راہ میں صِرف جھاڑیاں اَور اُونٹ کٹارے میرے سامنے ہوتے تو میں اُن کے خِلاف جنگ کے لیٔے پیش قدمی کرتا؛ اَور اُن سَب کو سُپرد آتِش کر دیتا۔
ISA 27:5 لیکن اگر کویٔی میری پناہ میں آنا چاہے؛ اَور میرے ساتھ صُلح کرنا چاہے، تو ہاں، وہ میرے ساتھ صُلح کر لے۔“
ISA 27:6 آئندہ دِنوں میں یعقوب جڑ پکڑے گا، اِسرائیل پھُولے اَور پھلے گا اَور رُوئے زمین کو میووں سے بھر دے گا۔
ISA 27:7 کیا یَاہوِہ نے اُسے مارا جِس طرح اُس نے اُس کے مارنے والوں کو مارا تھا؟ کیا وہ قتل کیا گیا جِس طرح اُس کے قاتلوں کو قتل کیا گیا تھا؟
ISA 27:8 اُس کے لیٔے تیری سزا جنگ اَور جَلاوطنی تک ہی محدُود رہی اَور تُم نے اُسے اَپنی ہی زمین پر سے یُوں اُڑا دیا جَیسے مشرق کی طرف سے آنے والی سخت آندھی سَب کچھ اُڑا لے جاتی ہے۔
ISA 27:9 اِس لیٔے اُس سے یعقوب کی بدکاری کا کفّارہ ہوگا، اَور اُس کے گُناہ دُور ہونے کا کُل نتیجہ یہ ہوگا کہ جَب وہ مذبح کے تمام پتّھروں کو چُونا بنانے کے پتّھروں کی طرح ریزہ ریزہ کرےگا، اُس وقت اشیراہؔ کا کویٔی سُتون یا بخُور جَلانے کا کویٔی مذبح باقی نہ رہے گا۔
ISA 27:10 فصیلدار شہر ویران پڑا ہے، وہ گویا اُجڑی ہُوئی بستی یا بیابان کی طرح خالی ہو گیا ہے؛ وہاں بچھڑے چرتے ہیں، اَور وہ وہیں بیٹھتے ہیں؛ اَور اُس کی ڈالیوں کو ننگا کر دیتے ہیں۔
ISA 27:11 جَب اُس کی شاخیں سُوکھ جاتی ہیں تو اُنہیں توڑا جاتا ہے اَور عورتیں آکر اُس سے آگ جَلا دیتی ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ ناسمجھ ہیں؛ اِس لیٔے اُن کا بنانے والا اُن پر رحم نہیں کرتا۔ اَور اُن کا خالق اُن پر مہربان نہیں ہوتا۔
ISA 27:12 اُس وقت یَاہوِہ دریائے فراتؔ سے لے کر وادی مِصر کے نالے تک اُس کے درخت کو جھاڑے گا۔ اَور تُم اَے بنی اِسرائیل، ایک ایک کرکے اِکٹھّے کئے جاؤگے
ISA 27:13 اَور اُس دِن ایک بڑا نرسنگا پھُونکا جائے گا اَور وہ جو اشُور کے مُلک میں تباہ ہو رہے تھے اَور وہ جو مِصر میں جَلاوطن ہو چُکے تھے، واپس آکر یروشلیمؔ کے مُقدّس پہاڑ پر یَاہوِہ کی پرستش کریں گے۔
ISA 28:1 افسوس اُس تاج پر جِس پر اِفرائیمؔ کے متوالوں کو ناز ہے، افسوس اُس کے جلالی حُسن کے مُرجھائے ہُوئے پھُول پر، جو نہایت سرسبز و شاداب وادی کے سَر پر رکھا گیا ہے افسوس اُس شہر پر جِس پر مے کے متوالوں کو ناز ہے!
ISA 28:2 دیکھو، یَاہوِہ کے پاس ایک زبردست اَور زورآور شخص ہے۔ جو اولوں کے طُوفان اَور زبردست آندھی، موسلادھار مینہ اَور سیلاب برپا کرنے والی بارش کی مانند، اُسے زور سے زمین پر پٹک دے گا۔
ISA 28:3 اَور اِفرائیمؔ کے متوالوں کا غُرور کا تاج، پاؤں کے نیچے روندا جائے گا۔
ISA 28:4 اَور اُس کے جلالی حُسن کا مُرجھاتا ہُوا پھُول، جو نہایت سرسبز و شاداب وادی کے سَر پر رکھا ہُواہے، وہ اَپنے موسم سے پہلے ہی پکے ہُوئے اَنجیر کی مانند ہوگا جسے کویٔی دیکھتے ہی نوچ لے، اَور نگل جائے۔
ISA 28:5 اُس وقت قادرمُطلق یَاہوِہ خُود اَپنے لوگوں میں سے باقی بچے ہوؤں کے لیٔے، ایک جلالی تاج اَور خُوبصورت ہار ہوگا۔
ISA 28:6 عدالت کی کُرسی پر بیٹھنے والے کے لیٔے وہ اِنصاف کی رُوح ہوگا، اَور (شہر کے) پھاٹک سے حملہ پسپا کر دینے والوں کے لیٔے قُوّت کا سرچشمہ ہوگا۔
ISA 28:7 اَور یہ بھی مےخواری سے ڈگمگاتے اَور مَے سے لڑکھڑاتے ہیں: کاہِنؔ اَور نبی بھی نشہ میں چُور اَور مَے سے مخمور ہیں، وہ نشہ میں جھومتے ہیں، اَور رُویا دیکھتے وقت بھٹک جاتے ہیں اَور اِنصاف کرتے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں۔
ISA 28:8 تمام دسترخوان قَے سے بھرے ہُوئے ہیں کویٔی جگہ باقی نہیں جو گندگی سے خالی ہو۔
ISA 28:9 ”وہ کس کو سِکھانے کی کوشش کر رہاہے؟ اَور کسے اَپنا پیغام سمجھا رہاہے؟ کیا اُن بچّوں کو جِن کا دُودھ چھُڑایا گیا ہے یا جِن کو ابھی ابھی چھاتِیوں سے الگ کیا گیا ہے؟
ISA 28:10 کیونکہ یہاں تو: حُکم پر حُکم اَور حُکم پر حُکم، اَور قانُون پر قانُون اَور قانُون پر قانُون ہے؛ تھوڑا یہاں، تھوڑا وہاں۔“
ISA 28:11 تَب تو خُدا اُس اُمّت سے بیگانہ ہونٹوں سے اَور بیگانہ زبانوں میں باتیں کروں گا،
ISA 28:12 جِن سے اُس نے کہا، آرام کی جگہ یہی ہے، ”تھکے ہُوئے لوگوں کو آرام کرنے دو“؛ اَور ”یہی سستانے کی جگہ ہے“؛ لیکن پھر بھی اُمّت کے لوگ میری نہ سُنیں گے۔
ISA 28:13 پس یَاہوِہ کا کلام اُن کے لیٔے: حُکم پر حُکم، حُکم پر حُکم، اَور قانُون پر قانُون، قانُون پر قانُون؛ تھوڑا یہاں، تھوڑا وہاں ہوگا تاکہ وہ چلے جایٔیں، پیچھے گریں، زخمی ہُوں، پھندے میں پھنسیں اَور گِرفتار ہُوں۔
ISA 28:14 چنانچہ اَے ٹھٹّھا کرنے والو جو یروشلیمؔ کے لوگوں پر حُکمرانی کرتے ہو، یَاہوِہ کا کلام سُنو۔
ISA 28:15 تُم کہتے ہو، ”ہم نے موت سے عہد باندھا ہے، اَور پاتال سے عہد کر لیا ہے۔ اِس لیٔے جَب سزا کا زبردست سیلاب آئے گا، تو وہ ہم تک نہ پہُنچے گا، کیونکہ ہم نے جھُوٹ کو اَپنی جائے پناہ بنا لیا ہے اَور ہم دروغ گوئی کی آڑ میں جا چھُپے ہیں۔“
ISA 28:16 چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھو، مَیں صِیّونؔ میں ایک پتّھر رکھوں گا، ایک آزمودہ پتّھر، ایک محکم بُنیاد کے لیٔے کونے کے سِرے کا قیمتی پتّھر، جو کویٔی ایمان لایٔے گا وہ کبھی شرمندہ نہ ہوگا۔
ISA 28:17 مَیں اِنصاف کو پیمائشی جریب اَور راستی کو ساہول کی ڈوری بناؤں گا؛ اولے تمہاری جھُوٹ کی پناہ گاہ کو بہا لے جایٔیں گے، اَور تمہارے چھُپنے کی جگہ زیرِ اَب ہو جائے گی۔
ISA 28:18 جو عہد تُم نے موت سے باندھا تھا وہ منسُوخ کیا جائے گا؛ اَور تمہارا عہد جو پاتال سے تھا، قائِم نہ رہے گا۔ جَب سزا کا زبردست سیلاب آئے گا، تو تُم ٹِکے نہ رہ سکوگے۔
ISA 28:19 وہ جَب بھی آئے گا، تُمہیں بہا لے جائے گا؛ چاہے دِن ہو چاہے رات، وہ روز بروز آئے گا۔“ اُس کا مطلب سمجھوگے تو تُم پر خوف طاری ہو جائے گا
ISA 28:20 کیونکہ بِستر اِس قدر چھوٹاہے کہ اُس پر دراز ہونا مُشکل ہے، اَور لحاف اِس قدر چھوٹاہے کہ اُسے ٹھیک سے اوڑھ بھی نہیں سکتے۔
ISA 28:21 یَاہوِہ اُٹھ کھڑا ہوگا جَیسا وہ پراصیمؔ کے پہاڑ پر ہُوا تھا، اَور وہ غضبناک ہوگا جَیسا گِبعونؔ کی وادی میں ہُوا تھا تاکہ وہ اَپنا کام کرے جو نہایت حیرت اَنگیز کام ہے، اَور وہ انوکھا کام اَنجام دے جو بہت انوکھا ہے۔
ISA 28:22 اِس لیٔے اَب تُم ٹھٹّھا مت کرو، ورنہ تمہاری زنجیریں اَور کَس دی جایٔیں گی؛ کیونکہ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ نے مُجھ سے کہا ہے کہ تمام مُلک کی تباہی کا مصمّم اِرادہ کیا جا چُکاہے۔
ISA 28:23 کان لگا کر میری بات سُنو؛ دھیان دو اَور سُنو کہ میں کیا کہتا ہُوں۔
ISA 28:24 جَب کِسان بیج بونے کے لیٔے ہل چلاتاہے تو کیا وہ لگاتار ہل ہی چلاتا رہتاہے؟ کیا وہ سدا اَپنی زمین کو کھودتا اَور اُس کے ڈھیلے پھوڑتا رہتاہے؟
ISA 28:25 زمین کی سطح ہموار کر چُکنے کے بعد، کیا وہ اجوائن نہیں بوتا اَور زیرہ نہیں بکھیرتا؟ اَور گندُم کو اَپنی جگہ پر، اَور جَو کو اُس کے اَپنے مقام پر، اَور اُن کی جگہ باجرا کو نہیں بوتا؟
ISA 28:26 اُس کا خُدا اُسے ہدایت دیتاہے اَور اُسے صحیح طریقہ سِکھاتا ہے۔
ISA 28:27 اجوائن کو برف گاڑی سے نہیں باندھا گیا ہے، نہ ہی گاڑی کا پہیّا زیرہ کے اُوپر پھرایا جاتا ہے؛ بَلکہ اجوائن کو برف گاڑی سے، اَور زیرہ کو لاٹھی سے جھاڑا جاتا ہے۔
ISA 28:28 روٹی بنانے کے لیٔے اناج کو پیسنا لازمی ہے؛ لیکن کویٔی اُسے برف گاڑی سے ہمیشہ کوٹتا نہیں رہتا۔ حالانکہ وہ اَپنی گاہنے کی گاڑی کے پہیّے اُس پر چلاتاہے، لیکن اُس کے گھوڑے اناج پیستے نہیں۔
ISA 28:29 یہ سَب بھی اُس قادرمُطلق یَاہوِہ کی جانِب سے مُقرّر ہُواہے، جِن کا منصُوبہ شاندار ہے، اَورجو عظیم حِکمت کا مالک ہے۔
ISA 29:1 اَے اریئیلؔ، اَے اریئیلؔ، تُجھ پر افسوس، وہ شہر جہاں داویؔد سکونت پذیر تھا! سال پر سال چڑھائے جاؤ اَور تمہاری عیدوں کے دَور چلتے رہیں۔
ISA 29:2 پھر بھی میں اریئیلؔ کو محصوُر کروں گا؛ اَور وہ نوحہ اَور ماتم کرےگی، وہ اریئیلؔ میرے لیٔے مذبح کے آتِشدان کی مانند ہوگی۔
ISA 29:3 میں چاروں طرف تیرے خِلاف خیمہ زن ہُوں گا؛ مَیں تُجھے میناروں سے گھیر لاؤں گا اَور مورچہ بندی سے تیرا محاصرہ کروں گا۔
ISA 29:4 تُو پست کیا جائے گا اَور تُو زمین پر سے بولےگا؛ اَور خاک پر سے تُو مُنہ ہی مُنہ میں بُڑبُڑائے گا۔ اَور تیری بھُوت کی سِی آواز زمین کے اَندر سے آئے گی؛ اَور تُو خاک میں سے سرگوشی کرےگا۔
ISA 29:5 لیکن تیرے بے شُمار دُشمن مہین گَرد کی مانند ہو جایٔیں گے، اُن سنگدل لوگوں کا گِروہ اُڑتے ہُوئے بھُوسے کی مانند ہوگا۔ اَچانک، ایک لمحہ میں،
ISA 29:6 قادرمُطلق یَاہوِہ خُود گھن گرج اَور زلزلہ اَور بڑی آواز، اَور آندھی اَور طُوفان اَور آگ کے مہلک شُعلوں کے ساتھ آئے گا۔
ISA 29:7 تَب اُن تمام قوموں کے گِروہ جو اریئیلؔ سے لڑتے رہے اَور اُس پر اَور اُس کے قلعہ پر حملہ آور ہُوئے اَور اُس کا محاصرہ کرتے رہے، ایک خواب یا رات کی رُویا کی مانند ہو جایٔیں گے
ISA 29:8 گویا ایک بھُوکا آدمی خواب میں دیکھے کہ وہ کھا رہاہے، لیکن جَب جاگ اُٹھتا ہے تو اَپنا پیٹ خالی ہی پاتاہے؛ یا کویٔی پیاسا آدمی خواب میں دیکھے کہ وہ پی رہاہے، لیکن جاگ اُٹھنے پر اَپنے آپ کو پیاسا اَور ہِراساں پاتاہے۔ اَیسا ہی حال اُن تمام قوموں کے گِروہ کا ہوگا جو کوہِ صِیّونؔ سے جنگ کرتی ہیں۔
ISA 29:9 حواس باختہ ہو جاؤ اَور تعجُّب کرو، اَپنی آنکھیں بند کر لو اَور اَندھے ہو جاؤ؛ متوالے ہو جاؤ لیکن مَے سے نہیں، لڑکھڑاؤ لیکن شراب سے نہیں۔
ISA 29:10 یَاہوِہ نے تُم پر گہری نیند طاری کی ہے: اَور تمہاری آنکھوں یعنی نبیوں کو نابینا کر دیا ہے؛ اَور تمہارے سَروں یعنی رَوشن ضمیروں پر نقاب ڈالا ہے۔
ISA 29:11 تمہارے لیٔے یہ ساری رُویا محض ایک مُہر بند طُومار میں لکھے ہُوئے الفاظ ہیں۔ اَور اگر تُم یہ طُومار کسی اَیسے شخص کو دو جو پڑھا لِکھّا ہو اَور اُس سے کہو، ”اُسے پڑھ،“ تو وہ جَواب دے گا، ”میں نہیں پڑھ سَکتا کیونکہ یہ مُہر بند ہے۔“
ISA 29:12 یا اگر تُم یہ طُومار کسی جاہل کو دو اَور کہو، ”اِسے پڑھ،“ تو وہ جَواب دے گا، ”مَیں تو جاہل ہُوں۔“
ISA 29:13 اِس لیٔے یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”چونکہ یہ اُمّت زبان سے میری نزدیکی چاہتے ہیں اَور اَپنے ہونٹوں سے میری تعظیم کرتے ہیں، لیکن اُن کے دِل مُجھ سے دُور ہیں۔ اَور وہ میری عبادت آدمیوں کے بنائے ہُوئے اُصُولوں کے مُطابق کرتے ہیں۔
ISA 29:14 اِس لیٔے میں ایک بار پھر اِن لوگوں کے درمیان عجِیب و غریب کارنامے کرکے اُن کو حیرت میں مُبتلا کروں گا؛ تاکہ اُن عقلمندوں کی عقل کو باطِل ہو جائے، اَور اُن کے داناؤں کی دانائی جاتی رہے۔“
ISA 29:15 افسوس اُن پرجو اَپنے منصُوبے یَاہوِہ سے چھپانے کی حتّی الامکان کوشش کرتے ہیں، اَور اَپنا کام اَندھیرے میں کرتے ہیں اَور سوچتے ہیں کہ ”ہمیں کون دیکھتا ہے؟ کس کو خبر ہوگی؟“
ISA 29:16 تمہاری کیسی اُلٹی سمجھ ہے، کیا کُمہار مٹّی کے برابر گُنا جائے گا! کیا مصنوع اَپنے صانع سے کہے گا کہ میں تیری صنعت نہیں؟ کیا مخلُوق اَپنے خالق سے کہے گا، ”تُو کچھ نہیں جانتا؟“
ISA 29:17 کیا تھوڑا ہی عرصہ باقی نہیں کہ لبانونؔ زرخیز کھیت نہ بَن جائے اَور زرخیز کھیت جنگل میں تبدیل نہ ہو جائے؟
ISA 29:18 اُس وقت بہرے طُومار کے الفاظ سُن سکیں گے، اَور اَندھوں کی آنکھیں دھُند اَور تاریکی میں سے دیکھیں گی۔
ISA 29:19 ایک بار پھر حلیم لوگ یَاہوِہ میں شادمان ہوں گے؛ اَور مُحتاج اِسرائیل کے قُدُّوس میں مسرُور ہوں گے۔
ISA 29:20 کیونکہ سنگدل دفعتاً غائب ہو جایٔیں گے؛ اَور ٹھٹّھا باز باقی نہ رہیں گے، اَور وہ سَب جو بدی پرتُلے رہتے ہیں کاٹ ڈالے جایٔیں گے
ISA 29:21 جو آدمی کو اُس کے مُقدّمہ میں مُجرم ٹھہراتے ہیں، جو عدالت میں اَپنا دفاع کرنے والوں کے لیٔے پھندا لگاتے اَور جھُوٹی گواہی دے کر معصُوم کو اِنصاف سے محروم رکھتے ہیں، یہ سَب مِٹ جایٔیں گے۔
ISA 29:22 اِس لیٔے یَاہوِہ جِس نے اَبراہامؔ کو چھُڑایا، یعقوب کے خاندان کے حق میں یُوں فرماتے ہیں: ”یعقوب اَب شرمندہ نہ ہوگا؛ نہ ہی اُن کے چہروں کا رنگ زرد ہوگا۔
ISA 29:23 جَب وہ اَپنے درمیان اَپنی اَولاد دیکھیں گے، جو میرے ہاتھوں کا کام ہوگا، تَب وہ میرے نام کی تقدیس کریں گے؛ ہاں، وہ یعقوب کے قُدُّوس کی تقدیس کریں گے، اَور اِسرائیل کے خُدا سے ڈریں گے۔
ISA 29:24 اُس وقت جو گُمراہ ہیں وہ فہم حاصل کریں گے؛ اَورجو شکایت کرتے ہیں تعلیم پائیں گے۔“
ISA 30:1 یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اُن باغی بچّوں پر افسوس، جو اَیسے منصُوبے عَمل میں لاتے ہیں جو میری طرف سے نہیں ہیں، اَور عہدوپیمان کرتے ہیں جو میری رُوح کی ہدایت کے مُطابق نہیں، اَور اِس طرح گُناہ پر گُناہ کا انبار لگاتے ہیں۔
ISA 30:2 وہ مُجھ سے پُوچھے بنا مِصر کو جاتے ہیں؛ جو فَرعوہؔ کی پناہ میں مدد ڈھونڈتے ہیں، تاکہ مِصر کے سایہ میں اَمن سے رہیں۔
ISA 30:3 لیکن فَرعوہؔ کی حمایت تمہارے لیٔے شرم کا باعث ہوگی، اَور مِصر کے سایہ میں پناہ لینا تُمہیں رُسوا کرےگا۔
ISA 30:4 حالانکہ اُن کے افسران ضعنؔ میں ہیں اَور اُن کے سفیر حانیسؔ میں جا پہُنچے ہیں،
ISA 30:5 وہ سَب ایک اَیسی قوم کے باعث شرمندہ ہوں گے جِس سے اُنہیں کویٔی فائدہ نہ ہوگا، کیونکہ اُن سے نہ تو مدد ملے گی نہ کچھ حاصل ہوگا سِوائے خجالت اَور رُسوائی کے۔“
ISA 30:6 جُنوب کے جانوروں کے متعلّق نبُوّت: اَپنی دولت گدھوں کی پیٹھ پر، اَور اَپنے خزانے اُونٹوں کے کی اُونچی پیٹھ پر لاد کر، اُن کے سفیر دُکھ اَور مُصیبت کی سرزمین میں سے ہوکر، جہاں شیرببر اَور شیرنیاں، اَور جہاں افعی اَور اُڑنے والے زہریلے سانپ رہتے ہیں، اُن لوگوں کی طرف جا رہے ہیں جِن سے اُنہیں کویٔی فائدہ نہ ہوگا،
ISA 30:7 کیونکہ مِصر کی مدد بالکُل بیکار ہے اِسی لیٔے مَیں نے اُسے سُست بیٹھی رہنے والی راحبؔ کہا ہے۔
ISA 30:8 اَب جا اَور اُسے اُن کے لیٔے ایک تختی پر لِکھ دے، اَور کسی طُومار میں قلم بند کر دے، تاکہ آنے والے دِنوں میں وہ ہمیشہ تک گواہی کے طور پر قائِم رہے۔
ISA 30:9 کیونکہ یہ لوگ باغی ہیں اَور دھوکے باز فرزند ہیں، جو یَاہوِہ کی ہدایات کو سُننا نہیں چاہتے۔
ISA 30:10 وہ رَوشن ضمیروں سے کہتے ہیں کہ ”اَب اَور رُویا نہ دیکھو!“ اَور نبیوں سے کہتے ہیں، ”ہم پر اَب سچّی نبُوّتیں ظاہر نہ کرو! بَلکہ ہمیں مزیدار باتیں بتاؤ، اَور وہم والی نبُوّتیں کرو۔
ISA 30:11 یہ راہ چھوڑ دو، اِس راستہ سے ہٹ جاؤ، اَور اِسرائیل کے قُدُّوس کو ہمارے رُوبرو لانے سے باز آؤ۔“
ISA 30:12 اِس لیٔے اِسرائیل کے قُدُّوس یُوں فرماتے ہیں: ”چونکہ تُم نے اِس پیغام کو مُسترد کر دیا، اَور ظُلم پر اِعتماد رکھا اَور فریب کا سہارا لیا،
ISA 30:13 اِس لیٔے یہ گُناہ تمہارے لیٔے ایک اُونچی دیوار کی مانند ہوگا جو دراڑ کے باعث اُبھر آئی ہو، جو اَچانک پل بھر میں گِر جاتی ہے۔
ISA 30:14 وہ کُمہار کے مٹّی کے برتن کی طرح ٹوٹ کر اَیسی چکنا چُور ہو جائے گی کہ اُس کے ٹُکڑوں کا کویٔی حِصّہ بھی نہ مِل سکےگا جِس میں چولہے میں سے آگ لی جائے یا حوض میں سے پانی نکالا جائے۔“
ISA 30:15 کیونکہ یَاہوِہ قادر اِسرائیل کا قُدُّوس خُداوؔند یُوں فرماتے ہیں: ”تَوبہ کرنے اَور چَین سے رہنے میں تمہاری نَجات ہے، خاموشی اَور توکّل میں تمہاری قُوّت ہے، پر تُم نے یہ نہ چاہا۔
ISA 30:16 تُم نے کہا، نہیں، ’ہم تو گھوڑوں پر چڑھ کر بھاگیں گے،‘ اِس لیٔے تُم بھاگوگے! تُم نے کہا، ’ہم تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہوں گے،‘ اِس لیٔے تمہارا تعاقب کرنے والے اُس سے بھی تیز رفتار ہوں گے!
ISA 30:17 ایک ہی کی دھمکی سے ایک ہزار بھاگیں گے؛ اَور پانچ کی دھمکی سے تُم سَب اَیسے بھاگوگے، کہ پہاڑ کی چوٹی پر نصب کئے ہُوئے جھنڈوں کے سُتون، یا کسی پہاڑی پر لہراتے ہُوئے پرچم کی طرح، رہ جاؤگے۔“
ISA 30:18 پھر بھی یَاہوِہ تُم پر فضل کرنا چاہتاہے؛ اَور وہ تُم پر رحم کرنے کے لیٔے اُٹھا ہے کیونکہ یَاہوِہ عادل خُدا ہے۔ مُبارک ہیں وہ سَب جو اُن کا اِنتظار کرتے ہیں!
ISA 30:19 اَے صِیّونؔ کے لوگو، جو یروشلیمؔ میں رہتے ہو، تُم اَب اَور نہ روؤگے۔ جَب تُم اُن سے فریاد کروگے تو وہ بےحد مہربان ہوگا اَور جوں ہی وہ تمہاری فریاد سُنے گا، تُمہیں جَواب دے گا۔
ISA 30:20 اگرچہ یَاہوِہ تُمہیں مُصیبت کی روٹی اَور دُکھ کا پانی بھی دے تو بھی تمہارے مُعلّم اَب اَور چھُپے نہ رہیں گے۔ تُم اُنہیں اَپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے۔
ISA 30:21 تُم داہنی طرف مُڑو یا بائیں طرف، تمہارے کان پیچھے سے آتی ہُوئی اُس آواز کو سُنیں گے جو کہتی ہے، ”راہ یہی ہے؛ اِسی پر چلو۔“
ISA 30:22 تَب تُم اَپنے چاندی چڑھے ہُوئے بُتوں اَور سونا چڑھی ہُوئی مورتوں کو ناپاک کروگے۔ تُم اُنہیں حیض کے کپڑوں کی طرح پھینک دوگے اَور کہو گے: ”دُورہو جاؤ!“
ISA 30:23 تُم زمین میں جو بیج بوؤگے اُس کے لیٔے وہ بارش بھیجے گا اَور زمین سے عُمدہ اَور کثرت سے اناج اُگے گا۔ اُس وقت تمہارے مویشی وسیع چراگاہوں میں چریں گے
ISA 30:24 اَور بَیل اَور گدھے جو تمہارے کھیتوں میں کام آتے ہیں، سُوپ اَور چھاج سے پھٹکا ہُوا عُمدہ چارا کھایٔیں گے۔
ISA 30:25 اَور اُس بڑی خُونریزی کے دِن جَب بُرج گِر جایٔیں گے ہر اُونچے پہاڑ اَور بُلند ٹیلے پر پانی کی ندیاں جاری ہو جایٔیں گی۔
ISA 30:26 جِس وقت یَاہوِہ اَپنے لوگوں کے زخموں کو باندھے گا اَور اُن چوٹوں کو جو اُنہیں لگی تھیں اَچھّا کرےگا تَب چاند سُورج کی طرح چمکے گا اَور سُورج کی رَوشنی سات گُنا بڑھ جائے گی بَلکہ پُورے سات دِن کی رَوشنی کے برابر ہوگی۔
ISA 30:27 دیکھو، یَاہوِہ نام کے ساتھ دُور سے چلا آتا ہے، اُس کا غضب آگ کی طرح بھڑکا ہُواہے جِس کے ہمراہ گہرے دھوئیں کے بادل ہیں؛ اُس کے لب غضب آلُود ہیں، اَور اُس کی زبان بھسم کرے والی آگ کی مانند ہے۔
ISA 30:28 اُس کا دَم ایک تیز رفتار ندی کی مانند ہے جِس میں سیلاب آیا ہُوا ہو، جو گردن تک پہُنچ جائے۔ وہ تمام قوموں کو ہلاکت کی چھلنی سے پھٹکے گا، وہ مُختلف مُلکوں کے لوگوں کے جَبڑوں میں لگام ڈالتا ہے جو اُنہیں گُمراہ کرتی ہے۔
ISA 30:29 اَور تُم اُس رات کی طرح گاؤگے جَب کویٔی مُقدّس عید مناتے ہو؛ جِس طرح لوگ بانسریوں کی دھُن سے مست ہوکر یَاہوِہ کے پہاڑ یعنی اِسرائیل کی چٹّان پر جاتے ہیں، اُسی طرح تمہارے دِل بھی شادمان ہوں گے۔
ISA 30:30 یَاہوِہ اَپنی جلالی آواز لوگوں کو سُنائے گا اَور اَپنے قہر کی شِدّت اَور بھسم کرنے والی آگ کے شُعلوں موسلادھار بارش، زورآور آندھی اَور اولوں کے ساتھ اَپنے بازو کا نازل ہونا اُنہیں دِکھائے گا۔
ISA 30:31 یَاہوِہ کی آواز اشُور کو تباہ کر دے گی؛ وہ اُنہیں اَپنے لٹھ سے مارے گا۔
ISA 30:32 اَور جَیسے یَاہوِہ اَپنے ہاتھ کے ضرب سے اُن سے لڑیں گے اُن کے بازو کے سزا کے ڈنڈے کی ہر ضرب جو وہ اُن پر لگائیں گے دف اَور سِتار کی موسیقی کے ساتھ ہوگی۔
ISA 30:33 کافی عرصہ سے تُوفتؔ تیّار کیا گیا ہے؛ اُسے بادشاہ ہی کے لیٔے تیّار کیا گیا ہے۔ اُس کا آگ کا گڑھا کافی گہرا اَور چوڑا بنایا گیا ہے، جِس میں آگ اَور ایندھن بکثرت مَوجُود ہے؛ یَاہوِہ کی سانس، اُسے جلتے ہُوئے گندھک کے چشمے کی طرح سُلگائے گی۔
ISA 31:1 افسوس اُن پرجو مدد کے لیٔے مِصر جاتے ہیں، اَور گھوڑوں پر اِعتماد رکھتے ہیں، اَور اَپنے کثیرُالتعداد رتھوں پر اَور اَپنے سواروں کی بڑی طاقت پر بھروسا رکھتے ہیں، لیکن اِسرائیل کے قُدُّوس پر نگاہ نہیں کرتے، نہ یَاہوِہ سے مدد طلب کرتے ہیں۔
ISA 31:2 پر وہ بھی عقلمند ہے اَور آفت لا سَکتا ہے؛ وہ اَپنے الفاظ واپس نہیں لیتا وہ اُٹھ کر بدکاروں کے گھرانے پر اَور بدکرداروں کے حمایتیوں پر چڑھائی کرےگا۔
ISA 31:3 لیکن اہلِ مِصر تو اِنسان ہیں، خُدا نہیں؛ اَور اُن کے گھوڑے گوشت ہیں، رُوح نہیں۔ جَب یَاہوِہ اَپنا ہاتھ بڑھائیں گے، تو حمایتی ٹھوکر کھائے گا، اَور جِس کی حمایت کی گئی وہ گِر جائے گا؛ دونوں اِکٹھّے ہلاک ہوں گے۔
ISA 31:4 پھر یَاہوِہ نے مُجھ سے یُوں فرمایا: ”جِس طرح شیرببر ہاں جَوان شیرببر اَپنے شِکار پر غرّاتے ہے اَور حالانکہ بہت سے چرواہے اُس کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے اِکٹھّے کر لیٔے جایٔیں، تو بھی وہ اُن کی للکار سے نہ ڈرے گا نہ اُن کے شور و غُل سے پریشان ہوگا اِسی طرح قادرمُطلق یَاہوِہ کوہِ صِیّونؔ اَور اُس کی پہاڑیوں پر لڑنے کے لیٔے اُترے گا۔
ISA 31:5 منڈلاتے ہُوئے پرندوں کی طرح قادرمُطلق یَاہوِہ یروشلیمؔ کی حمایت کریں گے؛ وہ اُس کی حِفاظت کرکے اُسے چھُڑا لیں گے، وہ اُس کے ’اُوپر سے گزرتے ہُوئے‘ اُسے بچا لیں گے۔“
ISA 31:6 اَے بنی اِسرائیل تُم اُسی کی طرف لَوٹ آؤ جِس کے خِلاف تُم نے سخت بغاوت کی ہے۔
ISA 31:7 کیونکہ اُس دِن تُم میں سے ہر ایک اُن چاندی اَور سونے کے بُتوں کو ترک کر دے گا جنہیں تمہارے گُناہ آلُود ہاتھوں نے بنایا ہے۔
ISA 31:8 ”تَب اشُور اُس تلوار سے گِرے گا جو اِنسان کی نہیں ہے؛ وُہی تلوار جو فانی اِنسان کی نہیں ہے، اُنہیں ہلاک کر ڈالے گی۔ وہ تلوار کے سامنے سے بھاگ جایٔیں گے اَور اُن کے نوجوانوں سے زبردستی مشقّت کروائی جائے گی۔
ISA 31:9 اُن کا قلعہ دہشت کی وجہ سے گِر جائے گا؛ اَور اُن کے سپہ سالار لڑائی کا پرچم دیکھ کر کانپنے لگیں گے،“ یہ یَاہوِہ فرماتے ہیں، جِس کی آگ صِیّونؔ میں اَور بھٹّی یروشلیمؔ میں ہے۔
ISA 32:1 دیکھو، ایک بادشاہ راستبازی سے حُکومت کرےگا اَور حاکم اِنصاف سے حُکومت کریں گے۔
ISA 32:2 ہر ایک شخص آندھی سے بچنے کی جگہ کی مانند اَور طُوفان سے پناہ پانے کی جگہ، یا بیابان میں پانی کی دریاؤں کی طرح اَور شدید حرارت والے ریگستانی مُلک میں ایک بڑی چٹّان کے سایہ کی مانند ہوگا۔
ISA 32:3 تَب دیکھنے والوں کی آنکھیں بند نہ ہوں گی، اَور سُننے والوں کے کان خُوب سُنیں گے۔
ISA 32:4 جلد بازوں کے دِل سمجھ حاصل کریں گے، اَور لڑکھڑاتی زبان کی روانی اَور صَاف ہوگی۔
ISA 32:5 احمق پھر کبھی شریف نہ کہلائے گا نہ ہی بدمعاش کا اِحترام کیا جائے گا۔
ISA 32:6 کیونکہ احمق حماقت کی باتیں کرتا ہے، اُس کا دِل بدی کے منصُوبے باندھتا رہتاہے: وہ بے دینی کے کام کرتا ہے اَور یَاہوِہ کے خِلاف دروغ گوئی کرتا ہے؛ بھُوکے کو خالی پیٹ رکھتا ہے اَور پیاسے کو پانی نہیں پلاتا۔
ISA 32:7 بدمعاش کے ضوابط بُرے ہوتے ہیں، وہ بُرے منصُوبے باندھتا ہے تاکہ غریب کو جھُوٹی باتوں سے ہلاک کرے، جَب کہ اُس ضروُرت مند کی درخواست راستباز ہو۔
ISA 32:8 لیکن شریف آدمی نیک منصُوبے رکھتا ہے، اَور اَپنے نیک اعمال کی بنا پر قائِم رہتاہے۔
ISA 32:9 اَے عورتوں! تُم جو آسُودہ ہو، اُٹھو اَور میری سُنو؛ اَے بے فکر بیٹیوں، میری باتوں پر کان لگاؤ!
ISA 32:10 سال بھر سے کچھ ہی زِیادہ عرصہ میں تُم جو محفوظ محسُوس کرتی ہو، کانپ اُٹھو گی؛ کیونکہ نہ تو انگور کی فصل ہوگی، اَور نہ درختوں میں پھل لگیں گے۔
ISA 32:11 کانپو، اَے آسُودہ عورتوں؛ تھرتھراؤ، اَے بےپروا بیٹیوں! خود کو محفوظ محسُوس کرتی ہو اَپنے کپڑے اُتار دو اَور اَپنی کمر پر ٹاٹ باندھو۔
ISA 32:12 خُوشنما کھیتوں، اَور پھلدار انگور کی بَیلوں کے لیٔے، اَپنی چھاتِیاں پیٹو
ISA 32:13 اَور میرے لوگوں کی سرزمین کے لیٔے بھی، جِس میں کثرت سے کانٹے اَور جھاڑیاں اُگی ہُوئی ہیں ہاں تمام عشرت گھروں کے لیٔے اَور اُس پُر رونق شہر کے لیٔے ماتم کرو۔
ISA 32:14 محل چھوڑ دیا جائے گا، شور و غُل والا شہر خالی ہو جائے گا؛ پہاڑی کا قلعہ اَور پہرے کے بُرج ہمیشہ کے لیٔے ویران ہو جایٔیں گے، اَور گورخروں کی آرامگاہیں اَور گلّوں کی چراگاہیں وہ جایٔیں گے،
ISA 32:15 جَب تک عالمِ بالا سے ہم پر رُوح نازل نہ ہو، اَور بیابان زرخیز کھیت نہ بَن جائے، اَور زرخیز کھیت ایک جنگل کی طرح ہو جائے گا۔
ISA 32:16 اَور یَاہوِہ کا اِنصاف بیابان میں بسے گا، اَور راستی زرخیز کھیت میں رہا کرےگی۔
ISA 32:17 اَور راستبازی کا پھل اَمن ہوگا؛ اَور اُس کا اثر اَبدی سکون اَور اِطمینان ہوگا۔
ISA 32:18 میرے لوگ پُرامن رہائش گاہوں میں، محفوظ گھروں میں، میں رہیں گے۔ محفوظ اَور مُستحکم رہیں گے۔
ISA 32:19 حالانکہ اولے جنگل کو تباہ کر دیتے ہیں اَور شہر مُکمّل طور پر پست ہو جاتا ہے،
ISA 32:20 لیکن تُم کس قدر مُبارک ہو، جو ہر نہر کے آس پاس بیج بوتے ہو، اَپنے مویشی اَور گدھے کو آزادی سے چراتے ہو۔
ISA 33:1 اَے تباہ گِر، تُجھ پر افسوس، تُو جو تباہ نہیں کیا گیا! افسوس تُجھ پر اَے دغاباز، تُم جنہیں دھوکا نہیں دیا گیا! جَب تُم تباہ کرنا بند کر چُکے گا، تَب تُجھے تباہ کیا جائے گا؛ جَب تُم دغابازی کرنا بند کر چُکے گا، تَب تُجھ سے دغابازی کی جائے گی۔
ISA 33:2 اَے یَاہوِہ، ہم پر رحم کیجئے؛ ہم آپ کے لئے ترستے ہیں۔ ہر صُبح ہماری قُوّت بنئے، اَور مُصیبت کے وقت ہماری نَجات۔
ISA 33:3 آپ کی لشکر کے شور شرابے پر اُمّتںیں بھاگ جاتی ہیں۔ اَور آپ کے اُٹھتے ہی قومیں تِتّر بِتّر ہو جاتی ہیں۔
ISA 33:4 اَے قومو، تمہارا لُوٹ کا مال اُسی طرح بٹورا جائے گا جَیسے چُھوٹی ٹِڈّیاں جمع کرتی ہیں؛ ٹِڈّیوں کے جھُنڈ کی طرح لوگ اُس پر ٹوٹ پڑیں گے۔
ISA 33:5 یَاہوِہ سرفراز ہے کیونکہ وہ بُلندی پر رہتے ہیں؛ وہ صِیّونؔ کو عدل اَور راستی سے معموُر کرےگا۔
ISA 33:6 وہ تمہارے زمانہ کے لیٔے محکم بُنیاد ہوگا، نَجات، حِکمت اَور عِرفان کا بھرپُور ذخیرہ؛ اَور یَاہوِہ کا خوف اِس خزانہ کی کُنجی ہے۔
ISA 33:7 دیکھ، اُن کے سُورما باہر راستوں میں زور زور سے چِلّا رہے ہیں؛ سلامتی کے سفیر پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں۔
ISA 33:8 شاہراہیں سُونی پڑی ہیں، اَور شہری راستوں میں مُسافر بھی نہیں ہیں۔ عہد توڑ دیا گیا، اَور اُس کے گواہوں کو حقیر جانا گیا، کسی کا اِحترام نہیں کیا جاتا۔
ISA 33:9 زمین خشک ہوکر مُرجھائی جاتی ہے، لبانونؔ شرمندہ اَور کمہلا گیا ہے؛ شارونؔ عراباہؔ یعنی بیابان کی طرح ہے، اَور باشانؔ اَور کرمِلؔ کے پتّے جھڑ رہیں ہیں۔
ISA 33:10 یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اَب مَیں اُٹھوں گا۔ اَب مَیں سرفراز ہُوں گا؛ اَب مَیں سربُلند ہُوں گا۔
ISA 33:11 تُم میں سُوکھی گھاس کا حَمل ٹھہرے گا، اَور تُم بھُوسی کو پیدا کروگے؛ تمہارا دَم اَیسی آگ ہے جو تُمہیں بھسم کر دے گی۔
ISA 33:12 اُمّتیں چُونے کی مانند جَلائی جایٔیں گی؛ کٹی ہُوئی کانٹے دار جھاڑیوں کی طرح اُن میں آگ لگائی جائے گی۔“
ISA 33:13 اَے دُور دُور کے لوگو، سُنو کہ مَیں نے کیا کیا ہے؛ اَور تُم بھی جو نزدیک ہو، میری طاقت کا لوہا مانو!
ISA 33:14 صِیّونؔ میں رہنے والے گُنہگار خوفزدہ ہیں؛ اَور بےدینوں کو کپکپی نے آ پکڑا ہے: ”ہم میں سے کون اُس مہلک آگ میں رہ سَکتا ہے؟ ہم میں سے کون اُن اَبدی شُعلوں کے درمیان بس سَکتا ہے؟“
ISA 33:15 وہ جو راست رَو اَور راست گو ہے، جو جبراً حاصل کئے ہُوئے نفع کو ٹھکراتا ہے اَور اَپنے ہاتھوں کو رشوت سے دُور رکھتا ہے، جو قتل کی خبریں سُننے سے اَپنے کان بند کر لیتا ہے اَور اَپنی آنکھیں موند لیتا ہے تاکہ بُرائی نہ دیکھے
ISA 33:16 یہی وہ ہیں جو بُلندی پر سکونت پذیر ہوں گے، اَور پہاڑ کا قلعہ اُن کی پناہ گاہ ہوگا۔ اُن کو روٹی مُہیّا کی جائے گی، اَور اُنہیں پانی کی کمی نہ ہوگی۔
ISA 33:17 تیری آنکھیں بادشاہ کو اُس کے جمال میں دیکھیں گی اَور دُور تک پھیلے ہُوئے مُلک پر نظر ڈالیں گی۔
ISA 33:18 تُو اَپنے خیالات میں اُن خوفناک دِنوں کی یاد تازہ کرےگا: ”کہاں ہے وہ اعلیٰ افسر؟ کہاں ہے وہ جو محصُول وصول کرتا تھا؟ کہاں ہے وہ افسر جو بُرجوں کی حِفاظت کا ذمّہ دار تھا؟“
ISA 33:19 تُو اُن تُندخو لوگوں کو پھر کبھی نہ دیکھے گا، جِن کی بولی غَیر واضح، اَور جِن کی زبان بیگانہ اَور سمجھ سے باہر ہے۔
ISA 33:20 ہمارے عیدوں کے شہر صِیّونؔ پر نظر ڈال؛ تیری آنکھیں یروشلیمؔ کو دیکھیں گی، ایک پُرسکون مَسکن، ایک خیمہ جو کبھی نہ ہٹایا جائے گا؛ جِس کی میخیں کبھی بھی اُکھاڑی نہ جایٔیں گی، اُن پر کی داؤ کبھی جا سکتی جِس میں اُس کی کویٔی رسّی توڑی جائے گی۔
ISA 33:21 وہاں ہمارے یَاہوِہ ہم خُدائے قادر ہوگا۔ وہ وسیع دریاؤں اَور چشموں کے مقام کی مانند ہوگا۔ اُن پر وہاں کشتی نہیں جائے گی جِس میں پتوار لگتی ہیں۔ نہ ہی کویٔی شاندار جہاز اُن میں سے ہوکر جائے گا۔
ISA 33:22 کیونکہ یَاہوِہ ہمارے مُنصِف ہیں، یَاہوِہ ہمارے شَریعت دینے والے ہیں۔ یَاہوِہ ہمارے بادشاہ ہیں؛ وُہی ہمیں بچائیں گے۔
ISA 33:23 تیری رسّیاں ڈھیلی ہو گئیں؛ وہ مستُول کی گرفت مضبُوط نہ کر سکیں، اَور نہ بادبان کو پھیلا سکیں۔ تَب لُوٹ کا بہت سا سامان تقسیم کر دیا جائے گا یہاں تک کہ لنگڑے بھی مالِ غنیمت لے کر جایٔیں گے۔
ISA 33:24 صِیّونؔ میں رہنے والا کویٔی شخص یہ نہ کہے گا، ”میں بیمار ہُوں“؛ اَور وہاں کے باشِندوں کے گُناہ مُعاف کئے جایٔیں گے۔
ISA 34:1 اَے قومو، نزدیک آؤ اَور سُنو؛ اَے اُمّتو، دھیان سے سُنو! زمین اَور اُس کی معموُری، دُنیا اَورجو کچھ اُس میں ہے، سَب سُنیں!
ISA 34:2 یَاہوِہ سَب قوموں سے خفا ہے؛ اَور اُن کا قہر اُن کی تمام فَوجوں پر ہے۔ وہ اُنہیں مُکمّل طور پر تباہ کر دے گا، اَور اُنہیں ذبح ہونے کے لیٔے دے دے گا۔
ISA 34:3 اُن کے مقتول پھینک دئیے جایٔیں گے، اَور اُن کی لاشوں میں سے بدبُو اُٹھے گی؛ پہاڑ اُن کے خُون سے شرابور ہوں گے۔
ISA 34:4 آسمان کے سِتارے پگھل جایٔیں گے اَور آسمان طُومار کی طرح لپیٹا جائے گا؛ اَور تمام اجرامِ فلکی انگور کی بیل کے مُرجھائے ہُوئے پتّوں، اَور اَنجیر کے درخت کے سُوکھنے سڑے پھلوں کی طرح گِر جایٔیں گے۔
ISA 34:5 میری تلوار آسمانوں میں پی پی کر مست ہو چُکی ہے؛ دیکھو وہ اِدُوم پر، جِس قوم کو مَیں نے مُکمّل طور پر برباد کر دیا ہے، اُس کی عدالت کے لیٔے اُتر رہی ہے۔
ISA 34:6 یَاہوِہ کی تلوار خُون میں نہا چُکی ہے، اَور اُس پر چربی کی تہہ جم گئی ہے وہ برّوں اَور بکروں کے خُون سے، اَور مینڈھوں کے گُردوں کی چربی سے آلُودہ ہے۔ کیونکہ یَاہوِہ نے بُضراؔہ شہر میں ایک قُربانی اَور اِدُوم کے مُلک میں بڑی خُونریزی کی ہے۔
ISA 34:7 اَور جنگلی سانڈ اَور بچھڑے اَور بَیل، اُن کے ساتھ ذبح ہوں گے۔ اُن کا مُلک خُون میں لت پَت ہوگا، اَور اُس کی مٹّی چربی سے تر ہو جائے گی۔
ISA 34:8 کیونکہ یَاہوِہ کا اِنتقام لینے کا ایک دِن اَور بدلہ لینے کا ایک سال مُقرّر ہے جِس میں وہ صِیّونؔ کی عدالت کرےگا۔
ISA 34:9 اِدُوم کے چشمے رال میں، اَور اُس کی خاک جلتی ہُوئی گندھک میں بدل دی جائے گی۔ اَور اُس کا مُلک جلتی ہُوئی رال بَن جائے گا!
ISA 34:10 جو رات دِن کبھی نہ بُجھےگی؛ اَور اُس کا دُھواں ہمیشہ اُٹھتا رہے گا۔ وہ پُشت در پُشت ویران پڑا رہے گا؛ اَور کبھی بھی کویٔی شخص اُس میں سے ہوکر نہ گزرے گا۔
ISA 34:11 حواصل اَور خارپُشت اُس کے مالک ہوں گے؛ اَور بڑے اُلّو اَور کوّے اُس میں بسیں گے۔ خُدا اِدُوم پر پیمائشی جریب کی ڈوری پھیلے گا۔ افراتفری کی پیمائش کی ڈوری اَور ویرانی کی ساہول ڈالا جائے گا۔
ISA 34:12 وہاں اُس کے اشراف کے پاس حُکومت نام کی کویٔی چیز باقی نہ رہے گی، اُس کے تمام اُمرا غائب ہو جایٔیں گے۔ اُس کے اُمرا کے پاس بادشاہت کہلانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہوگا، اُس کے تمام شہزادے غائب ہو جائیں گے۔
ISA 34:13 اُس کے محلوں میں کانٹے، اَور اُس کے قلعہ میں خاردار جھاڑیاں کثرت سے پھیل جایٔیں گی۔ اَور وہ گیدڑوں کا اڈّا اَور اُلّوؤں کا مَسکن بَن جائے گا۔
ISA 34:14 بیابان کے جنگلی جانور لکڑبگّھوں سے ملیں گے، اَور جنگلی بکریاں ممیا کر ایک دُوسرے کو بُلائیں گی؛ رات میں گشت لگانے والے جانور بھی وہاں سُستائیں گے اَور اَپنے لیٔے آرام کی جگہ پائیں گے۔
ISA 34:15 وہاں اُلّو کی مادہ گھونسلہ بنائے گی اَور اَنڈے دے گی، بچّے نکالے گی اَور اَپنے چُوزوں کی اَپنے پروں کے سایہ میں حِفاظت کرےگی؛ وہاں باز بھی اَپنی اَپنی مادہ کے ساتھ جمع ہوں گے۔
ISA 34:16 یَاہوِہ کے طُومار میں ڈھونڈو اَور پڑھو: اِن میں سے ایک بھی کم نہ ہوگا، اَور نر اَور مادہ ایک ساتھ رہیں گے۔ کیونکہ اُس نے اَپنے مُنہ سے یہ حُکم دیا ہے، اَور اُس کی رُوح اُنہیں جمع کرےگی۔
ISA 34:17 وہ اُن کے لیٔے حِصّے مُقرّر کرتا ہے؛ اَور اُس کا ہاتھ اُنہیں ناپ ناپ کر اُن میں سے تقسیم کرتا ہے۔ وہ اَبد تک اُس کے مالک ہوں گے اَور پُشت در پُشت اُس میں بسے رہیں گے۔
ISA 35:1 بیابان اَور ویرانہ خُوش ہوں گے؛ صحرا بھی خُوش ہوگا اَور پھُولے گا۔
ISA 35:2 زعفران کی مانند کھِل اُٹھیں گے۔ وہ نہایت شادمان ہوگا اَور خُوشی سے چِلّا اُٹھے گا۔ لبانونؔ کی شوکت، اَور کرمِلؔ اَور شارونؔ کی زینت اُسے بخشی جائے گی؛ اَور وہ یَاہوِہ کا جلال اَور ہمارے خُدا کی حشمت دیکھیں گے۔
ISA 35:3 کمزور ہاتھوں کو تقویّت دو، ناتواں گھٹنوں کو مضبُوط کرو؛
ISA 35:4 خوفزدہ دِلوں سے کہہ دو، ”ہمّت سے کام لو، ڈرو نہیں تمہارا خُدا آئے گا، وہ بدلہ لینے کے لیٔے؛ جزا اَور سزا لے کر، تُمہیں نَجات دینے آئے گا۔“
ISA 35:5 تَب اَندھوں کی آنکھیں کھولی جایٔیں گی اَور بہروں کے کان کھولے جایٔیں گے۔
ISA 35:6 تَب لنگڑے ہِرن کی مانند چوکڑیاں بھریں گے، اَور گُونگے کی زبان خُوشی سے گائے گی۔ بیابان میں پانی کے چشمے پھوٹ نکلیں گے اَور صحرا میں ندیاں بہنے لگیں گی۔
ISA 35:7 جلتی ہُوئی ریت تالاب بَن جائے گی، اَور پیاسی زمین میں چشمے اُبل پڑیں گے۔ جِن ماندوں میں کبھی گیدڑ پڑے رہتے تھے، وہاں گھاس، سَرکنڈے اَور نرسل اُگیں گے۔
ISA 35:8 وہاں ایک شاہراہ ہوگی؛ جو مُقدّس راہ کہلائے گی۔ کویٔی ناپاک اُس سے گزر نہ پایٔےگا؛ وہ صِرف راست رَو لوگوں ہی کے لیٔے ہوگی۔ احمق لوگ بھی اُس سے گزر نہ پائیں گے۔
ISA 35:9 وہاں شیرببر نہ ہوگا، نہ کویٔی حَیوان اُس پر چڑھ پایٔےگا؛ نہ وہ وہاں پایٔے جایٔیں گے۔ لیکن صِرف نَجات یافتہ لوگ ہی وہاں سیر کریں گے،
ISA 35:10 اَور وہ جِن کا یَاہوِہ نے فدیہ دیا ہے لَوٹیں گے۔ اَور گاتے ہُوئے صِیّونؔ میں داخل ہوں گے؛ اَبدی خُوشی اُن کے سَر کا تاج ہوگی۔ وہ خُوشی اَور شادمانی پائیں گے، اَور غم و آہ کافُور ہو جایٔیں گے۔
ISA 36:1 حِزقیاہؔ بادشاہ کے دَورِ حُکومت کے چودھویں سال میں شاہِ اشُور صینخربؔ نے یہُودیؔہ کے تمام فصیلدار شہروں پر چڑھائی کرکے اُن پر قبضہ کر لیا۔
ISA 36:2 پھر شاہِ اشُور نے اَپنے فَوجی افسر کو ایک بڑی فَوج کے ساتھ لاکیشؔ سے یروشلیمؔ کو حِزقیاہؔ بادشاہ کے پاس بھیجا۔ جَب وہ فَوجی سپہ سالار اُوپر کے تالاب کی نالی پر دھوبیوں کے کھیت کو جانے والی راہ پر رُکا
ISA 36:3 تَب شاہی محل کے دیوان خِلقیاہؔ کے بیٹا اِلیاقیؔم، شبناہؔ جو مُنشی تھا اَور آسفؔ کا بیٹا یُوآخؔ جو محرِّر تھا اُس سے مِلنے کے لیٔے باہر آئے۔
ISA 36:4 فَوج کے سپہ سالار نے اُنہیں حُکم دیا، ”حِزقیاہؔ سے کہو: ” ’مُلکِ مُعظّم شاہِ اشُور یُوں فرماتے ہیں: تُم کس پر اِعتماد کئے بیٹھے ہو؟
ISA 36:5 تُم کہتے ہو کہ میرے پاس جنگ کی مصلحت بھی ہے اَور فَوجی قُوّت بھی ہے مگر یہ محض باتیں ہی ہیں۔ آخِر کس پر اِعتماد رکھ کر تُم نے مُجھ سے بغاوت کی ہے؟
ISA 36:6 سُنو، تُم اُس ٹوٹے ہُوئے سَرکنڈے کا عصا یعنی مِصر پر بھروسا کئے بیٹھو ہو۔ اگر کویٔی اُس پر ٹیک لگاتاہے تو وہ اُس کے ہاتھ میں چُبھ جاتا ہے اَور اُسے زخمی کر دیتاہے! شاہِ مِصر فَرعوہؔ اُن سَب کے لیٔے جو اُس پر بھروسا کرتے ہیں اَیسا ہی ثابت ہوتاہے۔
ISA 36:7 اَور اگر تُم مُجھ سے کہتے ہو، ”ہم تو یَاہوِہ اَپنے خُدا پر توکّل کرتے ہیں۔“ تو کیا یہ وُہی نہیں ہیں جِن کے اُونچے مقامات اَور مذبحوں کو حِزقیاہؔ نے نِیست و نابود کر دیا ہے اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کو حُکم دیا، ”تُم اِسی مذبح کے آگے سَجدہ کرنا“؟
ISA 36:8 ” ’اِس لئے اَب ذرا میرے آقا شاہِ اشُور کے ساتھ سَودا کر لو۔ مَیں تُمہیں دو ہزار گھوڑے دُوں گا بشرطیکہ تُم اَپنی طرف سے اُن کے لیٔے دو ہزار گُھڑسوار لا سکو!
ISA 36:9 پھر تُم اَپنی اِس چُھوٹی فَوج سے میرے آقا کے فَوج کے سَب سے کمزور دستے کے افسر کو للکارنے کی سوچ بھی کیسے سکتے ہو، جَب کہ تُم رتھوں اَور گُھڑسواروں کے لیٔے مِصر پر بھروسا کئے بیٹھے ہو؟
ISA 36:10 کیا میں یَاہوِہ کے فرمان کے بغیر ہی اِس مقام پر حملہ کرنے اِس مُلک کو تباہ کرنے کے لیٔے چڑھائی کی ہے؟ خُود یَاہوِہ نے مُجھ سے اِس مُلک پر حملہ کرنے اَور اِسے غارت کرنے کے لیٔے مُجھے حُکم دیا ہے۔‘ “
ISA 36:11 تَب اِلیاقیؔم، شبناہؔ اَور یُوآخؔ نے فَوجی سپہ سالار سے کہا، ”اَپنے خادِموں سے ارامی زبان میں بات کریں کیونکہ ہم ارامی سمجھتے ہیں۔ ہم سے عِبرانی میں باتیں نہ کریں جنہیں دیوار پر بیٹھے ہُوئے لوگ سُن سکیں۔“
ISA 36:12 لیکن فَوج کے سپہ سالار نے جَواب دیا، ”کیا میرے آقا نے یہ باتیں صرف تُم سے اَور تمہارے آقا سے کہنے کے لیٔے بھیجا ہے، کیا اِن فصیل پر بیٹھنے والوں کے پاس نہیں بھیجا جِن کی یہی سزا مُقرّر ہے کہ وہ تمہارے ساتھ خُود اَپنا فُضلہ کھائیں اَور اَپنا پیشاب پیئیں؟“
ISA 36:13 پھر فَوج کے سپہ سالار نے کھڑے ہوکر یہُودیؔہ کی عِبرانی زبان میں بُلند آواز سے کہا، ”مُلکِ مُعظّم شاہِ اشُور کا پیغام سُنو!
ISA 36:14 بادشاہ یہ فرماتے ہیں: حِزقیاہؔ کے فریب میں مت آؤ کیونکہ وہ تُمہیں بچا نہ سکےگا!
ISA 36:15 اَور حِزقیاہؔ تُمہیں یہ کہہ کر یَاہوِہ پر توکّل رکھنے کی ترغِیب دینے نہ پایٔے، ’یَاہوِہ ہمیں ضروُر چھُڑائیں گے اَور یہ شہر شاہِ اشُور کے قبضہ میں ہرگز نہ ہوگا۔‘
ISA 36:16 ”حِزقیاہؔ کی نہ سُنو کیونکہ شاہِ اشُور یُوں فرماتے ہیں: میرے ساتھ صُلح کرو اَور نکل کر میرے پاس آؤ۔ تَب تُم میں سے ہر ایک اَپنے ہی تاکستان اَور اَنجیر کے درخت کا پھل کھا پایٔےگا اَور اَپنے ہی حوض کا پانی پیا کرےگا۔
ISA 36:17 جَب تک میں آکر تُمہیں اَیسے مُلک میں نہ لے جاؤں جو تمہارے مُلک کی طرح اناج اَور نئی مَے کا مُلک اَور روٹی اَور تاکستانوں کا مُلک ہے۔
ISA 36:18 ”دیکھو! حِزقیاہؔ تُمہیں یہ کہہ کر بہکا نہ دے، ’یَاہوِہ ہمیں بچالے گا۔‘ کیا کسی قوم کے معبُود نے اَپنے مُلک کو شاہِ اشُور کے ہاتھ سے کبھی بچایا ہے؟
ISA 36:19 حماتؔ اَور ارفادؔ کے معبُود کہاں ہیں؟ سِفروائِمؔ کے معبُود کہاں ہیں؟ اَور کیا اُنہُوں نے سامریہؔ کو میرے ہاتھ سے بچا لیا؟
ISA 36:20 اُن قوموں کے تمام معبُودوں میں سے کون اَپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے بچانے کے قابل نِکلا؟ تو یَاہوِہ یروشلیمؔ کو میرے ہاتھوں سے کیسے بچا سکیں گے؟“
ISA 36:21 لیکن سَب لوگ خاموش رہے اَور جَواب میں کچھ نہ کہا کیونکہ حِزقیاہؔ بادشاہ نے اُنہیں حُکم دے رکھا تھا، ”اُنہیں جَواب نہ دینا۔“
ISA 36:22 تَب شاہی محل کے دیوان اِلیاقیؔم بِن خِلقیاہؔ اَور شبناہؔ راوی اَور محرِّر یُوآخؔ بِن آسفؔ نے اَپنے کپڑے چاک کئے ہُوئے حِزقیاہؔ کے پاس گیٔے اَورجو کچھ فَوج کے سپہ سالار نے کہاتھا اُسے بَیان کیا۔
ISA 37:1 اَب جَب حِزقیاہؔ بادشاہ نے سُنا تو اَپنے کپڑے پھاڑے اَور ٹاٹ پہن کر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں داخل ہُوا۔
ISA 37:2 اُس نے شاہی محل کے دیوان اِلیاقیؔم اَور شبناہؔ مُنشی اَور بڑے کاہِنوں کو ٹاٹ اوڑھ کر یَشعیاہ بِن آموصؔ نبی کے پاس بھیجا۔
ISA 37:3 اَور اُنہُوں نے جا کر یَشعیاہ نبی کو خبر دی، ”حِزقیاہؔ یُوں درخواست کرتے ہیں، آج کا دِن دُکھ، ملامت اَور رُسوائی کا دِن ہے کیونکہ دردِ حَمل کا وقت آ گیا ہے، لیکن ماؤں میں اُنہیں پیدا کرنے کی طاقت نہیں رہ گئی ہے۔
ISA 37:4 ممکن ہے فَوج کے سپہ سالار کی ساری باتیں یَاہوِہ آپ کے خُدا نے سُنی ہوں جسے اُس کے آقا شاہِ اشُور نے زندہ خُدا کی توہین کرنے کے لئے بھیجا تھا، اَور شاید یَاہوِہ آپ کے خُدا اُن باتوں کو سُن کر اُسے ملامت کریں۔ چنانچہ آپ مہربانی کرکے اُن زندہ بچے ہُوئے لوگوں کے واسطے دعا کرو۔“
ISA 37:5 جَب حِزقیاہؔ بادشاہ کے خادِم یَشعیاہ نبی کے پاس پہُنچے۔
ISA 37:6 تَب یَشعیاہ نے اُن سے فرمایا، ”اَپنے آقا سے کہنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ تُم اُن باتوں کو سُن کر خوفزدہ نہ ہو جو شاہِ اشُور کے آدمیوں نے میری توہین کی غرض سے کہی ہیں۔
ISA 37:7 سُنو، میں اُس میں ایک اَیسی رُوح ڈال دُوں گا کہ وہ ایک افواہ سُنتے ہی اَپنے مُلک کو لَوٹ جائے گا اَور مَیں اُسے اُس کے مُلک میں ہی تلوار سے قتل کروا دوں گا۔‘ “
ISA 37:8 جَب فَوجی سپہ سالار نے سُنا کہ شاہِ اشُور لاکیشؔ سے چلا گیا تو وہ لَوٹا اَور بادشاہ کو لِبناہؔ سے جنگ کرتے ہُوئے پایا۔
ISA 37:9 پھر صینخربؔ کو اِطّلاع مِلی کہ کُوشؔ کا بادشاہ تِرہاقہؔ اُس سے جنگ کرنے کو نکل چُکاہے۔ جَب اُس نے یہ سُنا تو حِزقیاہؔ کے پاس اَپنے قاصِدوں کو بھیجا اَور کہا:
ISA 37:10 ”شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ سے کہنا کہ جِس خُدا پر تُم توکّل کرتے ہو، وہ تُمہیں یہ کہہ کر فریب نہ دے، ’وہ یروشلیمؔ کو شاہِ اشُور کے قبضہ میں نہ جانے دے گا۔‘
ISA 37:11 یقیناً تُم نے سُن لیا ہے کہ شاہانِ اشُور نے تمام ممالک کو کیسے تباہ کیا ہے۔ اِس لئے کیا تُم محفوظ رہ سکوگے؟
ISA 37:12 گُوزانؔ، حارانؔ اَور رصفؔ میں رہنے والی جِن قوموں کو اَور تِلاسارؔ میں رہنے والے بنی عدنؔ کو میرے آباؤاَجداد نے ہلاک کیا۔ کیا اُن کے معبُودوں نے اُنہیں بچا سکے تھے؟
ISA 37:13 حماتؔ کا بادشاہ، ارفادؔ کا بادشاہ، لیئر کے بادشاہ کہاں ہیں، سِفروائِمؔ شہر کا بادشاہ اَور ہینعؔ اَور عِوّاہؔ کے بادشاہ کہاں گیٔے؟“
ISA 37:14 حِزقیاہؔ نے قاصِدوں سے خط لیا اَور اُسے پڑھا۔ پھر وہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں گیا اَور اُسے یَاہوِہ کے حُضُور پھیلا دیا۔
ISA 37:15 اَور حِزقیاہؔ نے یَاہوِہ سے یُوں دعا کی:
ISA 37:16 ”اَے قادرمُطلق یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا جو کروبیم کے درمیان تخت نشین ہیں، زمین کی تمام سلطنتوں کا اکیلے آپ ہی خُدا ہیں۔ آپ ہی آسمان اَور زمین کے خالق ہیں۔
ISA 37:17 اَے یَاہوِہ، اَپنے کان میری طرف لگا کر سُنیں، اَے یَاہوِہ، اَپنی آنکھیں کھولیں اَور دیکھیں، اَور زندہ خُدا کی توہین کرنے کے لیٔے جو پیغام صینخربؔ نے بھیجا ہے اُسے سُن لیں۔
ISA 37:18 ”اَے یَاہوِہ! یہ تو سچ ہے کہ اشُور کے بادشاہوں نے اِن تمام لوگوں کو اَور اُن کے مُلکوں کو تباہ کر دیا ہے۔
ISA 37:19 اُنہُوں نے اُن کے معبُودوں کو آگ میں جَلا کر نِیست و نابود کر دیا کیونکہ وہ خُدا نہ تھے بَلکہ محض لکڑی اَور پتّھر کے بُت تھے جنہیں اِنسانی ہاتھوں نے تراشا تھا۔
ISA 37:20 اَب اَے یَاہوِہ ہمارے خُدا! ہمیں اُس کے ہاتھ سے بچا لیجئے تاکہ رُوئے زمین کی سَب ممالک جان لیں کہ صِرف آپ ہی یَاہوِہ خُدا ہیں۔“
ISA 37:21 تَب یَشعیاہ بِن آموصؔ نے حِزقیاہؔ کے پاس یہ پیغام بھیجا: ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: چونکہ تُم نے شاہِ اشُور صینخربؔ کی بابت مجھ سے دعا کی،
ISA 37:22 اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُس کے حق میں یُوں فرمایا: ”اَے صِیّونؔ کی کنواری بیٹی تُجھے حقیر جان کر تیرا مذاق اُڑاتی ہے۔ یروشلیمؔ کی بیٹی، تیرے شِکست کھا کر فرار ہوتے پیٹھ دیکھ کر اَپنا سَر ہلاتی ہے۔
ISA 37:23 وہ کون ہے جِس کی تُونے توہین اَور تکفیر کی ہے؟ تُونے کس کے خِلاف اَپنی آواز بُلند کی اَور تکبُّر سے اَپنی آنکھیں اُوپر اُٹھائیں؟ اِسرائیل کے قُدُّوس کے خِلاف!
ISA 37:24 تُم نے اَپنے قاصِدوں کے ذریعہ یَاہوِہ کی بےحُرمتی کی ہے۔ تُم نے ڈینگ ماری، ’میں اَپنے کثیر رتھوں کے ساتھ پہاڑوں کی چوٹیوں پر، بَلکہ لبانونؔ کی آخِری سرحدوں تک چڑھ آیا ہُوں۔ مَیں نے سَب سے اُونچے دیودار کے درخت کاٹ ڈالے ہیں، اَور اُس کے عُمدہ صنوبر کو بھی۔ میں اُس کے نہایت ہی دُور دراز کے مقاموں میں داخل ہو چُکا ہُوں، ہاں اُس کے گھنے جنگلوں میں بھی۔
ISA 37:25 مَیں نے پردیسی مُلکوں میں کنوئیں کھودے ہیں اَور وہاں کا پانی پیا ہے۔ اَور اَپنے پاؤں کے تلووں سے مَیں نے مِصر کے تمام دریاؤں کو خشک کر ڈالا۔‘
ISA 37:26 ”کیا تُم نے نہیں سُنا؟ بہت پہلے سے مَیں نے یہ ٹھانا تھا۔ اَور میرا یہ منصُوبہ قدیم ایّام سے تھا؛ اَب مَیں نے اُسی کو پُورا کیا، جَب کہ تُم نے فصیلدار شہروں کو کھنڈر بنا کر رکھ دیا۔
ISA 37:27 اِسی وجہ سے اُن لوگوں کی طاقت چھین لی گئی، اَور وہ دہشت زدہ اَور شرمسار ہو گئے۔ وہ کھیتوں میں اُگے ہُوئے پَودوں کی مانند ہیں، بالکُل نازک ہرے پَودوں کی طرح، اَور چھتوں پر خُود اُگنے والی گھاس کی مانند ہیں، جو بڑھنے سے پہلے ہی مُرجھا جاتی ہے۔
ISA 37:28 ”لیکن مَیں تمہاری مجلس اَور آمدورفت کو جانتا ہُوں اَور میرے خِلاف تمہاری جھنجھلاہٹ کو بھی جانتا ہُوں۔
ISA 37:29 چونکہ تُم مُجھ پر طیش میں آتے ہو اَور اَور تمہارا تکبُّر میرے کانوں تک پہُنچ گیا ہے، اِس لیٔے مَیں اَپنی نکیل تمہاری ناک میں اَور اَپنی لگام تمہارے مُنہ میں ڈالوں گا، اَور جِس راستہ سے تُم آئے ہو مَیں تُمہیں اُسی راستہ سے واپس لَوٹا دوں گا۔
ISA 37:30 ”اَے حِزقیاہؔ تمہارے لیٔے یہ نِشان ہوگا: ”اِس سال تُم وُہی فصل کو کھاؤگے جو خُود بخُود اُگتی ہے، اَور دُوسرے سال جو اُن میں سے اُگے گی۔ لیکن تیسرے سال تُم بیج بوؤگے اَور فصل کاٹوگے، تاکستان لگاؤگے اَور اُن کا پھل کھاؤگے۔
ISA 37:31 ایک دفعہ پھر یہُوداہؔ کے گھرانے کے باقی بچے ہُوئے لوگ پھر سے گہری جڑ پکڑیں گے اَور درخت اُوپر تک پھُولے اَور پھلیں گے۔
ISA 37:32 کیونکہ یروشلیمؔ میں سے باقی بچے ہُوئے، اَور کوہِ صِیّونؔ سے فرار ہُوئے لوگ ہی نکلیں گے۔ قادرمُطلق یَاہوِہ کی غیّوری یہ کر دِکھائے گی۔
ISA 37:33 ”چنانچہ شاہِ اشُور کی بابت یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”وہ نہ تو اِس شہر میں داخل ہوگا اَور نہ ہی وہ یہاں کویٔی تیر چلانے پایٔےگا۔ وہ ڈھال لے کر اِس کے سامنے نہیں آئے گا اَور نہ ہی اِس کے خِلاف گھیرا باندھے کے لیٔے کوئی دمدمہ بنا سکےگا۔
ISA 37:34 جِس راستے سے وہ آیا ہے، اُسی راستے سے واپس چلا جائے گا؛ وہ اِس شہر میں ہرگز داخل نہ ہو پایٔےگا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ISA 37:35 ”کیونکہ مَیں اَپنے جلال کی خاطِر اَور اَپنے بندہ داویؔد کی خاطِر، اِس شہر کی حِفاظت کروں گا اَور اِسے بچاؤں گا!“
ISA 37:36 تَب یَاہوِہ کے ایک فرشتہ نے اشُوریوں کی لشکرگاہ میں داخل ہوکر ایک لاکھ پچاسی ہزار فَوجیوں کو مار ڈالا اَور اگلی صُبح کو جَب لوگ اُٹھے تو دیکھا کہ وہاں صِرف لاشیں پڑی ہُوئی ہیں۔
ISA 37:37 لہٰذا شاہِ اشُور صینخربؔ چھوڑکر اَپنے مُلک لَوٹ گیا اَور نینوہؔ شہر میں رہنے لگا۔
ISA 37:38 ایک دِن جَب وہ اَپنے معبُود نِسروکؔ کے مَندِر میں پرستش کر رہاتھا تو اُس کے بیٹے ادرمّلکؔ اَور شاریضرؔ نے اُسے تلوار سے قتل کرکے اراراطؔ کی سرزمین کو فرار ہو گیٔے اَور اُس کی جگہ پر اُس کا بیٹا اسرحدّونؔ بادشاہ بنا۔
ISA 38:1 اُن دِنوں حِزقیاہؔ بیمار ہو گیا یہاں تک کہ مرنے کی نَوبَت آ گئی۔ تَب یَشعیاہ بِن آموصؔ نبی اُن سے مُلاقات کرنے آئے اَور حِزقیاہؔ سے فرمایا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ تُم اَپنے گھرانے کو سیدھا کرو کیونکہ تُم مرنے والے ہو اَور اِس بیماری سے شفایاب ہونا ممکن نہیں ہے۔“
ISA 38:2 تَب یہ سُن کر حِزقیاہؔ نے اَپنا مُنہ دیوار کی طرف کرکے یَاہوِہ سے یہ دعا کی،
ISA 38:3 ”اَے یَاہوِہ یاد فرمائیں کہ مَیں آپ کے حُضُور مُکمّل جان نثاری اَور پُوری وفاداری سے چلتا رہا ہُوں اَور مَیں نے وُہی کیا ہے جو آپ کی نظروں میں دُرست ہے۔“ اَور تَب حِزقیاہؔ زار زار رونے لگا۔
ISA 38:4 تَب یَاہوِہ کا یہ کلام یَشعیاہ پر نازل ہُوا:
ISA 38:5 ”جا اَور حِزقیاہؔ سے کہہ، ’یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد داویؔد کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، مَیں نے تیری دعا سُنی اَور تیرے آنسُو دیکھے، مَیں تیری عمر پندرہ بَرس اَور بڑھا دُوں گا
ISA 38:6 اَور مَیں تُجھے اَور اِس شہر کو شاہِ اشُور کے ہاتھ سے بچاؤں گا اَور مَیں اِس شہر کی حمایت کروں گا۔
ISA 38:7 ” ’اَور یہ تیرے لیٔے یَاہوِہ کا نِشان ہے اَپنا وعدہ پُورا کرےگا۔
ISA 38:8 مَیں سُورج کے ڈھلے ہُوئے سایہ کو آحازؔ کی دھوپ گھڑی کے مُطابق دس درجہ پیچھے ہٹا لُوں گا۔‘ “ چنانچہ وہ سایہ جو ڈھل چُکاتھا، دس درجہ پیچھے لَوٹ گیا۔
ISA 38:9 یہُودیؔہ کے بادشاہ حِزقیاہؔ کی تحریر جو اُس کی بیماری اَور شفا یابی کے بعد لکھی گئی:
ISA 38:10 مَیں نے کہا: ”اَب جَب کہ میری زندگی شباب پر ہے کیا مُجھے موت کے پھاٹکوں میں سے گزرنا ہوگا اَور میری زندگی کے باقی سالوں کو لُوٹ لیا جائے گا؟“
ISA 38:11 مَیں نے کہا: ”مَیں یَاہوِہ کو پھر نہ دیکھ پاؤں گا، ہاں یَاہوِہ کو زندوں کی زمین پر نہ دیکھ پاؤں گا؛ نہ ہی نَوع اِنسان پر نگاہ کر سکوں گا، اَور نہ اُن لوگوں کے ساتھ رہ سکوں گا جو اَب اِس دُنیا میں بستے ہیں۔
ISA 38:12 میرا گھر چرواہے کے خیمہ کی طرح گرا دیا گیا اَور مُجھ سے لے لیا گیا۔ ایک جُلاہے کی طرح مَیں نے اَپنی زندگی کو لپیٹ لیا ہے، اَور اُس نے مُجھے کرگھے سے کاٹ کر الگ کر دیا ہے؛ دِن اَور رات تُو میرا خاتِمہ کرتا رہا۔
ISA 38:13 مَیں نے صُبح تک صبر سے کام لیا، لیکن شیرببر کی طرح اُس نے میری تمام ہڈّیاں توڑ ڈالیں؛ صُبح سے شام تک تُونے میرا خاتِمہ کر ڈالا۔
ISA 38:14 میں ابابیل اَور سارس کی طرح چیں چیں کرتا رہا، اَور غمزدہ کبُوتر کی مانند کراہتا رہا۔ میری آنکھیں اُوپر کی طرف دیکھتے دیکھتے تھک گئیں۔ میں ڈر گیا ہُوں، اَے خُداوؔند، میری مدد کے لئے آیئے۔“
ISA 38:15 لیکن مَیں کیا کہہ سَکتا ہُوں؟ اُسی نے مُجھ سے کہا اَور یہ کام اُسی کا ہے۔ اَپنی اِس تلخی جان کے باعث میں عمر بھر حلیمی سے چلتا رہُوں گا۔
ISA 38:16 اَے خُداوؔند، اِن ہی چیزوں سے اِنسان کی زندگی ہے؛ اَور میری رُوح بھی اِن ہی میں زندگی پاتی ہے۔ آپ نے مُجھے شفا بخشی اَور مُجھے جینے دیا۔
ISA 38:17 جو تکلیف مَیں نے برداشت کی یقیناً یہ میرے حق میں مفید ثابت ہُوئی۔ آپ نے اَپنی مَحَبّت میں مُجھے تباہی کے گڑھے سے بچا لیا؛ آپ نے میرے تمام گُناہ اَپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال دئیے۔
ISA 38:18 کیونکہ قبر تیری سِتائش نہیں کر سکتی، اَور موت تیری تعریف کے نغمہ نہیں گا سکتی؛ جو پاتال میں اُترگئے وہ تیری سچّائی کی اُمّید نہیں رکھ سکتے۔
ISA 38:19 زندہ، ہاں صِرف زندہ ہی تیری سِتائش کریں گے، جَیسا کہ میں آج کر رہا ہُوں؛ والدین اَپنے بچّوں سے تیری وفاداری کا ذِکر کرتے ہیں۔
ISA 38:20 یَاہوِہ مُجھے نَجات دے گا، اِس لیٔے ہم عمر بھر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں تار والے سازوں کے ساتھ نغمہ سرائی کریں گے۔
ISA 38:21 یَشعیاہ نے کہاتھا، ”اَنجیر کا لیپ بناؤ اَور اُسے پھوڑے پر لگاؤ تو وہ شفا پایٔےگا۔“
ISA 38:22 حِزقیاہؔ نے پُوچھا تھا، ”اِس کا نِشان کیا ہے کہ میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جا پاؤں گا؟“
ISA 39:1 اُس وقت شاہِ بابیل مرُودکؔ بلادانؔ بِن بلادانؔ نے حِزقیاہؔ کے پاس خُطوط اَور تحفے بھیجے کیونکہ اُس نے اُس کی بیماری اَور شفا یابی کا حال سُنا تھا۔
ISA 39:2 حِزقیاہؔ نے سفیروں کا اِستِقبال کیا اَورجو کچھ اُس کے گوداموں میں تھا یعنی چاندی، سونا، مَسالہ اَور نفیس عطر اَور اَپنا اسلحہ خانہ اَورجو کچھ اُس کے خزانوں میں مَوجُود تھا اُنہیں دِکھایا۔ اَور اُس کے محل میں یا اُس کی تمام مملکت میں کویٔی چیز اَیسی نہ تھی جو حِزقیاہؔ نے اُنہیں نہ دِکھائی ہو۔
ISA 39:3 تَب یَشعیاہ نبی نے حِزقیاہؔ بادشاہ کے پاس جا کر پُوچھا، ”اُن لوگوں نے کیا کہا اَور وہ کہاں سے آئےتھے؟“ حِزقیاہؔ نے جَواب دیا، ”وہ دُور کے مُلک، بابیل سے میرے پاس آئےتھے۔“
ISA 39:4 تَب نبی نے پُوچھا، ”اُنہُوں نے آپ کے محل میں کیا کیا دیکھا؟“ حِزقیاہؔ نے کہا، ”اُنہُوں نے وہ سَب کچھ دیکھا جو میرے محل میں ہے۔ میرے خزانوں میں اَیسی کویٔی شَے نہیں جو مَیں نے اُنہیں نہیں دِکھائی۔“
ISA 39:5 تَب یہ سُن کر یَشعیاہ نے حِزقیاہؔ سے فرمایا، ”قادرمُطلق یَاہوِہ کا کلام سُنو۔
ISA 39:6 یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ وہ دِن یقیناً آنے والے ہیں، جَب تمہارے محل کی ہر ایک چیز اَور سَب کچھ جو تمہارے آباؤاَجداد نے آج تک جمع کیا ہے، بابیل کو لے جایا جائے گا اَور یہاں کچھ بھی باقی نہ رہ جائے گا۔
ISA 39:7 اَور تمہارے بیٹوں میں سے بعض کو جو تمہارے اَپنے گوشت اَور خُون ہیں اُنہیں اسیری میں لے جایا جائے گا اَور اُنہیں شاہِ بابیل کے محل کے خواجہ سرا بنا دیا جائے گا۔“
ISA 39:8 حِزقیاہؔ نے یَشعیاہ کو جَواب دیا، ”یَاہوِہ کا کلام جو آپ نے سُنایا بھلا ہی ہے،“ کیونکہ اُس نے سوچا، ”جَب تک میں زندہ ہُوں تَب تک اَمن و سلامتی قائِم رہے گی۔“
ISA 40:1 تمہارا خُدا فرماتے ہیں، تسلّی دو، میرے لوگوں کو تسلّی دو۔
ISA 40:2 یروشلیمؔ کے ساتھ نرمی سے بات کرو، اَور اُس سے پُکار کر کہو کہ اُس کی مشقّت کی مُدّت ختم ہو چُکی ہے، اُس کے گُناہ کا کفّارہ اَدا کر دیا گیا ہے۔ اَور اُس نے یَاہوِہ کے ہاتھ سے اَپنے سَب گُناہوں کا دوچند بدلہ پا لیا۔
ISA 40:3 کویٔی پُکار رہاہے: ”بیابان میں یَاہوِہ کے لیٔے راہ تیّار کرو؛ صحرا میں ہمارے خُدا کے لیٔے شاہراہ ہموار کرو۔
ISA 40:4 ہر وادی کو اُونچا کیا جائے گا، ہر پہاڑ اَور ٹیلہ نیچا کر دیا جائے گا؛ ناہموار زمین ہموار کی جائے گی، اَور اُونچی نیچی جگہیں میدان بنا دی جایٔیں گی۔
ISA 40:5 اَور یَاہوِہ کا جلال آشکارا ہوگا، اَور تمام بنی نَوع اِنسان اُس کو ایک ساتھ دیکھیں گے۔ کیونکہ یَاہوِہ نے اَپنے مُنہ سے فرمایاہے۔“
ISA 40:6 ایک آواز آئی، ”مُنادی کرو۔“ اَور مَیں نے کہا: ”مَیں کیا مُنادی کروں؟“ ”ہر بشر گھاس کی مانِند ہیں، اَور اُن کی ساری وفا شعاری میدان کے پھُولوں کی مانِند ہے۔
ISA 40:7 گھاس سُوکھ جاتی ہے اَور پھُول مُرجھا جاتے ہیں، کیونکہ یَاہوِہ کی ہَوا اُن پر چلتی ہے۔ یقیناً لوگ گھاس ہیں۔
ISA 40:8 گھاس مُرجھا جاتی ہے اَور پھُول جھڑ جاتے ہیں، لیکن ہمارے خُدا کا کلام اَبد تک قائِم ہے۔“
ISA 40:9 اَے صِیّونؔ کو خُوشخبری سُنانے والے، اُونچے پہاڑ پر چڑھ جا۔ اَور اَے یروشلیمؔ کو بشارت دینے والے، پُکار کر اَپنی آواز بُلند کرو، آواز بُلند کرو، ڈر مت؛ یہُودیؔہ کے شہروں سے کہو، ”یہ رہا تمہارا خُدا!“
ISA 40:10 دیکھو، یَاہوِہ قادر بڑی قُدرت کے ساتھ آ رہاہے، وہ اَپنے بازو کے بَل سے حُکومت کرےگا۔ دیکھو، اُس کا صِلہ اُس کے ساتھ ہے، اَور وہ اَپنا اجر اَپنے ساتھ لا رہاہے۔
ISA 40:11 وہ چرواہے کی مانند اَپنے گلّہ کی نگہبانی کرتا ہے؛ وہ برّوں کو اَپنی باہوں میں سمیٹتا ہے اَور اُنہیں اَپنے سینے سے لگا لیتا ہے؛ اَور دُودھ پِلانے والیوں کو دھیرے دھیرے لے چلتا ہے۔
ISA 40:12 کس نے سمُندر کو چُلُّو سے ناپا ہے، اَور آسمان کی پیمائش بالشت سے کی ہے؟ کس نے زمین کی مٹّی کو پیمانہ میں بھرا، یا پہاڑوں کو پلڑوں میں اَور ٹیلوں کو ترازو میں تَولا؟
ISA 40:13 یَاہوِہ کے رُوح کو کس نے جانا یا اُس کا مُشیر بَن کر اُسے ہدایت دی؟
ISA 40:14 یَاہوِہ نے کس سے مشورہ کیا، اَور کس نے اُسے سیدھی راہ بتایٔی؟ وہ کون تھا جِس نے اُسے علم سِکھایا اَور فہم کی راہ بتائی؟
ISA 40:15 یقیناً قومیں ترازو کی ایک بُوند کی مانند ہیں؛ وہ پلڑوں پر کی مہین گَرد کی مانند سَمجھی جاتی ہیں؛ وہ جزیروں کو اَیسے تولتا ہے گویا وہ دُھول ہُوں۔
ISA 40:16 لبانونؔ کے تمام درخت مذبح کے ایندھن کے لیٔے کافی نہیں ہیں، نہ اُس کے جانور سوختنی نذروں کے لیٔے بس ہوں گے۔
ISA 40:17 تمام قومیں اُس کے سامنے ہیچ ہیں؛ وہ اُنہیں ناقص اَور ناچیز سے بھی کمتر قرار دیتاہے۔
ISA 40:18 پس تُم خُدا کو کس سے تشبیہ دوگے؟ اَور کون سِی چیز اُس سے مُشابہ ٹھہراؤگے؟
ISA 40:19 مُورت کو کاریگر ڈھالتا ہے، اَور سُنار اُس پر سونے کی تہہ جماتا ہے اَور اُس کے لیٔے چاندی کی زنجیروں بناتا ہے۔
ISA 40:20 کنگال اِنسان جو اَیسی نذر نہیں چڑھا سَکتا اَیسی لکڑی کو ترجیح دیتاہے جو نہ سڑے۔ وہ ایک ماہر کاریگر کی تلاش کرتا ہے جو اَیسی مُورت بنا سکے جو گرنے نہ پایٔے۔
ISA 40:21 کیا تُم نہیں جانتے؟ کیا تُم نے نہیں سُنا؟ کیا تُمہیں اِبتدا ہی سے یہ بات بتایٔی نہ گئی تھی؟ کیا تُم بِنائے عالَم سے نہیں سمجھے؟
ISA 40:22 وہ دُنیا کے مُحیط سے بھی اُوپر تخت نشین ہے، اَور اُس کے باشِندے ٹِڈّوں کی مانند ہیں۔ وہ آسمانوں کو شامیانہ کی مانند تانتا ہے، اَور اُنہیں خیمہ کی مانند پھیلاتا ہے تاکہ اُن میں سکونت کر سکیں۔
ISA 40:23 وہ شہزادوں کو ہیچ کر دیتاہے اَور اِس دُنیا کے حاکموں کو ناچیز بنا دیتاہے۔
ISA 40:24 جوں ہی وہ لگائے گیٔے، جوں ہی وہ بوئے گیٔے، اَور جوں ہی اُنہُوں نے زمین میں جڑ پکڑی، تو ہی وہ اُن پر پھُونک مارتا ہے اَور وہ مُرجھا جاتے ہیں، اَور آندھی اُنہیں بھُوسے کی مانند اُڑا لے جاتا ہے۔
ISA 40:25 ”تُم مُجھے کس سے تشبیہ دوگے؟ میں کس کے برابر سمجھا جاؤں گا؟“ یہ قُدُّوس فرماتے ہیں۔
ISA 40:26 اَپنی آنکھیں اُوپر اُٹھاکر آسمانوں کی طرف دیکھو: اِن سَب کا خالق کون ہے؟ وُہی جو اجرامِ فلکی شُمار کرکے نکالتا ہے، اَور اُن میں سے ہر ایک کو نام بنام بُلاتا ہے۔ اُس کی عظیم قُدرت اَور زبردست توانائی کی وجہ سے، اُن میں سے کویٔی بھی غائب نہیں رہتا۔
ISA 40:27 اَے یعقوب! تُو کیوں یُوں کہتاہے اَور اَے اِسرائیل، تُو کیوں شکایت کرتا ہے، ”کہ میری راہ یَاہوِہ سے پوشیدہ ہے؛ اَور میرا خُدا میرے اِنصاف کی کویٔی فکر نہیں کرتا“؟
ISA 40:28 کیا تُم نہیں جانتے؟ کیا تُم نے نہیں سُنا؟ کہ یَاہوِہ اَبدی خُدا ہے، تمام زمین کا خالق۔ وہ نہ تھکتا ہے نہ ماندہ ہوتاہے، اَور اُس کی حِکمت ادراک سے باہر ہے۔
ISA 40:29 وہ تھکے ہوؤں کو قُوّت بخشتا ہے اَور کمزوروں کی طاقت بڑھاتاہے۔
ISA 40:30 نوجوان بھی تھک جاتے ہیں اَور ماندہ ہو جاتے ہیں، اَور جَوان ٹھوکر کھا کر گِر پڑتے ہیں؛
ISA 40:31 لیکن جو یَاہوِہ سے اُمّید رکھتے ہیں وہ اَز سرِ نَو قُوّت پائیں گے۔ وہ عُقابوں کی مانند پروں پر اُڑیں گے؛ وہ دَوڑیں گے لیکن تھکنے نہ پائیں گے، چلیں گے اَور نقاہت محسُوس نہ کریں گے۔
ISA 41:1 ”اَے جزیروں، میرے حُضُور خاموش رہو! قوموں کو اَز سرِ نَو قُوّت حاصل کرنے دو! اُنہیں آگے آکر بولنے دو؛ آؤ ہم عدالت کی جگہ اِکٹھّے ہوکر ملیں۔
ISA 41:2 ”کس نے اُسے مشرق سے اُکسایا، جسے وہ راستی سے اَپنی خدمت میں بُلاتے ہیں؟ وہ قوموں کو اُس کے حوالہ کرتے ہیں اَور بادشاہوں کو اُن کے زیرِ فرمان کرتے ہیں۔ اَپنی تلوار سے وہ اُنہیں خاک کی طرح، اَور اَپنی کمان سے اُنہیں اُڑتے ہُوئے بھُوسے کی مانند کر دیتے ہیں۔
ISA 41:3 وہ اُن کا تعاقب کرتے ہیں، اَور اَیسی راہ سے جِس پر اُس نے پہلے قدم نہ رکھا تھا، بغیر زخموں سلامتی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
ISA 41:4 یہ کس نے کیا ہے اَور اُسے کس نے آگے بڑھایا ہے، شروع سے ہی نَسلوں کو آگے بڑھایا ہے؟ مَیں، اُن میں اوّل اَور آخِر، مَیں وُہی یَاہوِہ ہُوں۔“
ISA 41:5 جزیروں نے اُسے دیکھ لیا اَور وہ خوفزدہ ہیں؛ ساری زمین پر کپکپی طاری ہے۔ وہ بڑھ کر سامنے چلے آتے ہیں؛
ISA 41:6 وہ ایک دُوسرے کی مدد کرتے ہیں اَور ہر بھایٔی اَپنے بھایٔی سے کہتاہے، ”حوصلہ رکھ!“
ISA 41:7 دستکار سُنار کی ہمّت اَفزائی کرتا ہے، اَور وہ جو ہتھوڑے سے ہموار کرتا ہے دھات کے ڈھالنے والے کو یہ کہہ کر ہمّت دِلاتا ہے، ”بہت اَچھّا ہے۔“ پھر وہ میخیں ٹھونک کر بُت کو مضبُوط کر دیتاہے تاکہ وہ ڈگمگا کر گِرنے نہ پایٔے۔
ISA 41:8 ”پر تُم، اَے اِسرائیل، میرے خادِم، اَے یعقوب، جسے مَیں نے چُنا، میرے دوست اَبراہامؔ کی نَسل سے ہے،
ISA 41:9 مَیں نے تُجھے زمین کی اِنتہا سے طلب کیا، اَور اُس کے دُور دراز کے کونوں سے بُلایا۔ اَور کہا، ’تُو میرا خادِم ہے‘؛ مَیں نے تُجھے چُن لیا اَور مُسترد نہیں کیا۔
ISA 41:10 اِس لیٔے تُو ڈر مت، کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہُوں؛ ہِراساں مت ہو، کیونکہ مَیں تیرا خُدا ہُوں۔ مَیں تُجھے تقویّت دُوں گا اَور تیری مدد کروں گا؛ اَور اَپنی صداقت کے داہنے ہاتھ سے تُجھے سنبھالے رہُوں گا۔
ISA 41:11 ”وہ سَب جو تُجھ پر غضبناک ہیں یقیناً پشیمان اَور رُسوا ہوں گے؛ جو تیری مُخالفت کرتے ہیں ناچیز ہوں گے اَور مِٹ جایٔیں گے۔
ISA 41:12 حالانکہ تُو اَپنے دُشمنوں کو ڈھونڈے گا، تُو اُنہیں نہیں پایٔےگا۔ جو تُجھ سے جنگ کرتے ہیں وہ ناچیز ہوکر مِٹ جایٔیں گے۔
ISA 41:13 کیونکہ مَیں یَاہوِہ، تیرا خُدا ہُوں، جو تیرا داہنا ہاتھ تھامتا ہے اَور تُجھ سے کہتاہے، ڈر مت؛ مَیں تیری مدد کروں گا۔
ISA 41:14 اَے کیڑے یعقوب ڈر مت، اَور اَے چُھوٹی سِی جماعت اِسرائیل ڈر مت، کیونکہ مَیں خُود ہی تیری مدد کروں گا،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں تیرا نَجات دِہندہ جو اِسرائیل کا قُدُّوس ہے۔
ISA 41:15 دیکھ، مَیں تُجھے ایک نیا تیز اَور دندانہ دار گاہنے کا اوزار بناؤں گا۔ تُو پہاڑوں کو کُوٹ کر ریزہ ریزہ کرےگا، اَور پہاڑیوں کو بھُوسے کی مانند بنادے گا۔
ISA 41:16 تُو اُنہیں پھٹکے گا اَور ایک تُند ہَوا اُنہیں اُڑا لے جائے گی، اَور بگُولہ اُنہیں تِتّر بِتّر کر دے گا۔ لیکن تُو یَاہوِہ میں شادمان ہوگا اَور اِسرائیل کے قُدُّوس پر فخر کرےگا۔
ISA 41:17 ”مسکین اَور مُحتاج پانی کی کھوج میں ہیں، پر وہ ملتا نہیں؛ اُن کی زبانیں پیاس سے خشک ہو چُکی ہیں۔ لیکن مَیں یَاہوِہ اُن کی سُنوں گا؛ میں اِسرائیل کا خُدا اُنہیں ترک نہ کروں گا۔
ISA 41:18 میں بنجر ٹیلوں پر ندیاں بہاؤں گا، اَور وادیوں میں چشمے جاری کروں گا۔ میں صحرا کو پانی کے تالاب میں اَور خشک زمین کو چشموں میں بدل دُوں گا۔
ISA 41:19 میں بنجر زمین میں دیودار اَور کیکر اَور مہندی اَور زَیتُون کے درخت اُگاؤں گا۔ اَور صحرا میں چیڑ اَور سَرو اَور صنوبر اِکٹھّے لگاؤں گا،
ISA 41:20 تاکہ لوگ دیکھیں اَور جانیں، غور کریں اَور سمجھیں، کہ یہ یَاہوِہ کے ہاتھ کا کام ہے، اَور اِسرائیل کے قُدُّوس کا اِنتظام ہے۔
ISA 41:21 ”اَپنا مُقدّمہ پیش کرو،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”اَپنی دلیلیں واضح کرو۔“ یہ یعقوب کے بادشاہ کا فرمان ہے۔
ISA 41:22 ”اَپنے بُتوں کو لاؤ تاکہ وہ ہمیں بتائیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ ہمیں بتائیں کہ پہلی چیزیں کیا تھیں، تاکہ ہم اُن پر غور کریں اَور اُن کا اَنجام جانیں۔ یا آئندہ کو ہونے والی باتوں سے ہمیں آگاہ کرو،
ISA 41:23 ہمیں بتاؤ کہ آئندہ کیا ہوگا، تاکہ ہم جانیں کہ تُم معبُود ہو۔ چاہے بھلا یا بُرا، کچھ تو کرو تاکہ ہم سَب اُسے دیکھ کر ڈر جایٔیں۔
ISA 41:24 لیکن تُم تو خُود بھی نکمّے ہو اَور تمہارے کام بھی بالکُل فُضول ہیں؛ اَورجو تُمہیں پسند کرتا ہے وہ مکرُوہ ہے۔
ISA 41:25 ”مَیں نے شمال سے ایک کو اُکسایا ہے اَور وہ آ بھی پہُنچا۔ وہ آفتاب کے مطلع (مشرق) سے آیا ہے اَور میرا نام لیتا ہے۔ جِس طرح کُمہار گیلی مٹّی کو روندتا ہے، اُسی طرح وہ حُکمرانوں کو گارے کی مانند روندتا ہے۔
ISA 41:26 کس نے یہ بات پہلے سے بتا دی تھی تاکہ ہم جان لیں، کس نے پہلے سے یہ آشکار کر دیا تھا تاکہ ہم کہہ سکیں ’وہ سچ کہہ رہاتھا‘؟ لیکن کویٔی خبر دینے والا نہیں، کویٔی سُنانے والا نہیں، کویٔی نہیں تھا جو تمہاری باتیں سُنتا۔
ISA 41:27 میں ہی نے پہلے صِیّونؔ سے کہا: ’دیکھ، اُن باتوں کو ہوتا دیکھ!‘ مَیں نے یروشلیمؔ کو ایک مُبشَّر بخشا جو خُوشخبری دیں۔
ISA 41:28 لیکن مَیں نے دیکھا تو وہاں کسی کو نہ پایا۔ اُن کے معبُودوں میں مُشیر تو کویٔی بھی نہیں تھا، نہ ہی کویٔی ہے جو پُوچھنے پر جَواب دے سکے۔
ISA 41:29 دیکھ وہ سَب جھُوٹے ہیں! اُن کے کام ہیچ ہیں؛ اَور اُن کے ڈھالے ہُوئے بُت صرف ہَوا اَور الجھن ہیں۔
ISA 42:1 ”دیکھو میرا خادِم جسے میں سنبھالتا ہُوں، میرا برگُزیدہ، جِس سے میرا دِل خُوش ہے؛ مَیں اَپنی رُوح اُس پر ڈالُوں گا، اَور وہ تمام قوموں کی صداقت کے ساتھ اِنصاف کرےگا۔
ISA 42:2 وہ نہ چِلّایٔے گا نہ پُکارے گا، نہ بازاروں میں اَپنی آواز بُلند کرےگا۔
ISA 42:3 وہ کُچلے ہُوئے سَرکنڈے کو نہ توڑے گا، نہ ٹمٹماتے ہُوئے دئیے کو بُجھائے گا۔ وہ سچّائی سے عدالت کرےگا؛
ISA 42:4 نہ وہ پس و پیش کرےگا نہ ہمّت ہارے گا جَب تک کہ وہ زمین پر اِنصاف قائِم نہ کر لے۔ جزیروں کی اُمّید اُس کی تعلیمات شَریعت میں ہوگی۔“
ISA 42:5 یَاہوِہ خُدا یُوں فرماتے ہیں۔ جِس نے آسمان پیدا کیا، اَور اُنہیں تان دیا، جِس نے زمین کو اَورجو کچھ اُس میں سے نکلتا ہے اُسے پھیلایا، جو اُس کے باشِندوں کو سانس، اَور اُس پر چلنے والوں کو زندگی دیتاہے:
ISA 42:6 ”میں ہی، یَاہوِہ ہوں، جِس نے تُجھے راستی سے بُلایا ہے؛ مَیں تیرا ہاتھ تھام لُوں گا۔ مَیں تیری حِفاظت کروں گا اَور تُجھے لوگوں کے لیٔے عہد اَور غَیریہُودیوں کے لیٔے نُور ٹھہراؤں گا،
ISA 42:7 تاکہ تُو اَندھی آنکھیں کھولے، قَیدیوں کو قَیدخانہ کی کوٹھری سے آزاد کرے اَورجو اَندھیرے میں بیٹھے ہُوں اُنہیں تہہ خانہ سے نکالے۔
ISA 42:8 ”یَاہوِہ میں ہُوں؛ یہی میرا نام ہے! میں اَپنا جلال کسی اَور کو نہ دُوں گا نہ اَپنی حَمد کو بُتوں کے لیٔے روا رکھوں گا۔
ISA 42:9 دیکھو، پُرانی باتیں پُوری ہو چُکی ہیں، اَور اَب مَیں نئی باتیں بتاتا ہُوں؛ اِس سے قبل کہ وہ وقوع میں آئیں مَیں تُمہیں بتائے دیتا ہُوں۔“
ISA 42:10 اَے سمُندر پر سے گزرنے والو اَورجو کچھ اُس میں ہے، اَے جزیروں، اَور اُس میں بسنے والو سَب لوگو، یَاہوِہ کے لیٔے نیا نغمہ گاؤ، زمین کی اِنتہا سے اُس کی حَمد کرو۔
ISA 42:11 بیابان اَور اُس کی بستیاں اَپنی آواز بُلند کریں؛ قیدارؔ کے آباد گاؤں خُوش رہو۔ سیلاؔ کے رہنے والے خُوشی سے گائیں؛ وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں۔
ISA 42:12 وہ یَاہوِہ کا جلال ظاہر کریں اَور جزیروں میں اُس کی حَمد گائیں۔
ISA 42:13 یَاہوِہ ایک بہادر کی مانند نکل پڑیں گے اَور ایک جنگجو سپاہی کی طرح اَپنی غیرت دِکھائیں گے؛ ایک للکار کے ساتھ وہ جنگ کا نعرہ بُلند کریں گے اَور اَپنے دُشمنوں پر فتحیاب ہوں گے۔
ISA 42:14 مَیں کافی عرصہ سے چُپ رہا ہُوں، مَیں خاموش رہا اَور ضَبط سے کام لیتا رہا۔ لیکن اَب ایک زچّہ کی مانند، میں چِلّاؤں گا، ہانپُوں گا اَور نالہ کروں گا۔
ISA 42:15 میں پہاڑوں اَور ٹیلوں کو ویران کردوُں گا اَور اُن کی تمام ہریالی کو خشک کردوُں گا؛ میں دریاؤں کو جزیرے بنا دُوں گا اَور تالابوں کو خشک کر دُوں گا۔
ISA 42:16 میں اَندھوں کو اُن راہوں سے لے چلُوں گا جِن سے وہ آگاہ نہیں، اَور اَنجانے راستوں پر اُن کی رہنمائی کروں گا؛ میں اُن کے آگے تاریکی کو رَوشنی میں بدل دُوں گا اَور ناہموار جگہوں کو ہموار کر دُوں گا۔ یہ ہیں وہ کام جو میں کروں گا؛ میں اُنہیں ترک نہ کروں گا۔
ISA 42:17 لیکن جو مُورتوں پر توکّل رکھتے ہیں، اَور تراشے ہُوئے بُتوں سے کہتے ہیں کہ، تُم ہمارے معبُود ہو، اُنہیں نہایت شرمندہ کرکے پیچھے ہٹا دیا جائے گا۔
ISA 42:18 ”اَے بہرو سُنو؛ اَے اَندھو، آنکھیں کھولو اَور دیکھو!
ISA 42:19 میرے خادِم کے سِوا کون اَندھا ہے، اَور کون میرے پیغمبر کی طرح بہرہ ہے؟ میرے بندہ کی مانند کون نابینا ہے، یَاہوِہ کے خادِم کی مانند اَندھا کون ہے؟
ISA 42:20 تُم نے بہت سِی چیزیں دیکھیں، لیکن دھیان نہیں دیا؛ تمہارے کان تو کھُلے ہیں، پر تُم کچھ نہیں سُنتے۔“
ISA 42:21 یَاہوِہ کو پسند آیا کہ اَپنی راستی کی خاطِر وہ اَپنے آئین کو عظیم اَور جلالی بنائے۔
ISA 42:22 لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو تباہ ہُوئے اَور لُٹ گیٔے، یہ سَب کے سَب گڑھے میں ڈالے گیٔے یا قَیدخانوں میں بند کر دئیے گیٔے۔ وہ مالِ غنیمت بَن گیٔے ہیں، اَور اُنہیں چھُڑانے والا کویٔی نہیں؛ وہ لُوٹ کا مال بَن گیٔے ہیں، لیکن کویٔی یہ کہنے والا نہیں، ”کہ اُنہیں واپس کرو۔“
ISA 42:23 تُم میں سے کون اِس پر کان لگائے گا یا آنے والے دِنوں کے بارے میں خُوب توجّہ سے سُنے گا؟
ISA 42:24 کس نے یعقوب کو لُٹوایا، اَور اِسرائیل کو لُٹیروں کے حوالہ کیا؟ کیا وہ یَاہوِہ نہ تھے، جِس کے خِلاف ہم نے گُناہ کیا؟ کیونکہ اُنہُوں نے اُن کی راہوں پر چلنا نہ چاہا؛ اَور نہ وہ اُس کے آئین کے تابع ہُوئے۔
ISA 42:25 اِس لیٔے اُس نے اُن پر اَپنے قہر کی آگ نازل کی، اَور جنگ میں شِدّت پیدا کر دی۔ شُعلوں نے اُنہیں چاروں طرف سے گھیرلیا پھر بھی وہ سمجھ نہ پایٔے؛ وہ جلنے لگے لیکن پھر بھی اُن پر کویٔی اثر نہ ہُوا۔
ISA 43:1 لیکن اَب اَے یعقوب، اَور اَے اِسرائیل، جِس نے تُمہیں پیدا کیا تمہارا خالق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”خوف نہ کر کیونکہ مَیں نے تیرا فدیہ دیا ہے؛ اَور مَیں نے تُجھے تیرا نام لے کر بُلایا ہے؛ تُم میرا ہو۔
ISA 43:2 جَب تُم پانی میں سے ہوکر گزرے گا، تو مَیں تمہارے ساتھ ساتھ رہُوں گا؛ اَور جَب تُو دریاؤں کو پار کرےگا، وہ تُجھے بہا نہ لے جایٔیں گی۔ اَور جَب تُو آگ میں سے چلے گا، تَب تُجھے آنچ نہ لگے گی؛ اَور شُعلے تُجھے نہ جَلائیں گے۔
ISA 43:3 کیونکہ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں، اِسرائیل کا قُدُّوس، تمہارا مُنجّی؛ مَیں نے مِصر کو تمہارے فدیہ میں، اَور کُوشؔ اَور سیبا کو تمہارے بدلے میں دیا۔
ISA 43:4 چونکہ تُم میری نگاہ میں بیش قیمت اَور محترم ٹھہرے، اَور چونکہ مَیں نے تُجھ سے مَحَبّت رکھی، اِس لیٔے مَیں تمہارے بدلے میں دُوسرے آدمیوں کو، اَور تمہاری جان کے عوض میں مُختلف اُمّتوں کو دے دُوں گا۔
ISA 43:5 تُم خوف نہ کرو کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ ہُوں؛ میں تمہاری اَولاد کو مشرق سے لے آؤں گا اَور مغرب سے بھی تُجھے فراہم کروں گا۔
ISA 43:6 مَیں شمال کی طرف کہُوں گا، ’اُنہیں چھوڑ دو!‘ اَور جُنوب کی طرف، ’اُن کو نہ روکو۔‘ میرے بیٹوں کو دُور سے اَور میری بیٹیوں کو زمین کی اِنتہا سے لے آؤ۔
ISA 43:7 ہر ایک کو جو میرے نام سے پُکارا جاتا ہے، جسے مَیں نے اَپنے جلال کے لیٔے پیدا کیا، اَور جسے مَیں نے صورت دی اَور بنایا۔“
ISA 43:8 جو آنکھیں رکھتے ہُوئے بھی اَندھے ہیں، اَور کان رکھتے ہُوئے بھی بہرے ہیں، اُنہیں نکال لاؤ۔
ISA 43:9 تمام قومیں جمع ہو جایٔیں اَور سَب اُمّتیں جمع ہُوں۔ اُن میں سے کس نے یہ نبُوّت کی یا پچھلی باتیں ہمیں بتائیں؟ وہ اَپنی سچّائی کے ثبوت میں اَپنے گواہ لے آئیں، تاکہ اَور لوگ سُنیں اَور کہیں، ”ہاں یہ حق ہے۔“
ISA 43:10 یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”تُم میرے گواہ ہو، اَور میرا خادِم جسے مَیں نے اِس لیٔے چُناہے، کہ تُم جانو اَور مُجھ پر یقین کرو اَور سمجھو کہ میں وُہی ہُوں۔ مُجھ سے پہلے کویٔی خُدا نہ ہُوا، اَور نہ میرے بعد بھی کویٔی ہوگا۔
ISA 43:11 مَیں ہی یَاہوِہ ہُوں، اَور میرے سِوا کویٔی مُنجّی نہیں۔
ISA 43:12 مَیں نے ہی ظاہر کیا، نَجات بخشی اَور اعلان کیا۔ صِرف مَیں نے، نہ کہ تُم میں سے کسی غَیر معبُود نے۔ تُم میرے گواہ ہو،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”مَیں ہی خُدا ہُوں۔
ISA 43:13 ہاں، ہمیشہ سے مَیں ہی خُدا ہُوں۔ میرے ہاتھ سے کویٔی چھُڑانے والا نہیں۔ جَب مَیں کویٔی کام کرتا ہُوں تو اُسے کویٔی نہیں بدل سَکتا؟“
ISA 43:14 یَاہوِہ، تمہارا نَجات دِہندہ اَور اِسرائیل کا قُدُّوس یُوں فرماتے ہیں: ”تمہاری خاطِر میں بابیل سے مدد بھیجوں گا اَور وہاں کے تمام باشِندوں کو جنہیں اَپنے جہازوں پر ناز تھا، بھگوڑوں کی حالت میں لے آؤں گا۔
ISA 43:15 مَیں یَاہوِہ ہُوں، تمہارا قُدُّوس، اِسرائیل کا خالق اَور تمہارا بادشاہ۔“
ISA 43:16 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں۔ جِس نے زورآور سمُندر میں راہ تیّار کی، اَور سیلاب میں سے گُذرگاہ بنائی،
ISA 43:17 جو رتھوں اَور گھوڑوں کو، اَور لشکر اَور بہادروں کو باہم نکال لایٔے، اَور وہ وہیں ڈھیر ہو گئے اَور پھر کبھی نہیں اُٹھ پائیں گے، وہ ایک بتّی کی طرح پھُونک سے بُجھا دئیے گیٔے۔
ISA 43:18 ”پُرانی باتیں یاد نہ کرو؛ اَور ماضی پر غور نہ کرو۔
ISA 43:19 دیکھو، مَیں ایک نیا کام کر رہا ہُوں! وہ اَب ظہُور میں آنے کو ہے، کیا تُم اُسے جانوگے نہیں؟ میں بیابان میں ایک راہ نکال رہا ہُوں اَور بنجر زمین میں ندیاں جاری کر رہا ہُوں۔
ISA 43:20 جنگلی جانور، گیدڑ اَور اُلّو، میری تعظیم کرتے ہیں، کیونکہ مَیں بنجر میں پانی مُہیّا کرتا ہُوں اَور صحرا میں ندیاں جاری کرتا ہُوں، تاکہ میری اُمّت کے لیٔے، میری مُنتخب اُمّت کے لیٔے پینے کو پانی ہو،
ISA 43:21 اَور وہ اَیسی اُمّت جنہیں مَیں نے اَپنے لیٔے بنایا تاکہ میری حَمد کریں۔
ISA 43:22 ”تو بھی اَے یعقوب، تُم نے مُجھے نہ پُکارا، اَے اِسرائیل، تُم نے میرے لیٔے اَپنے آپ کو نہیں تھکایا۔ بَلکہ اَے اِسرائیل، تُم مُجھ سے عاجز آ گئے۔
ISA 43:23 تُم سوختنی نذروں کے لیٔے میرے حُضُور برّے نہ لائے، اَور نہ ہی ذبیحوں سے میری تعظیم کی۔ مَیں نے تُجھ پر نذر کی قُربانیاں گذراننے کا بار نہ ڈالا نہ ہی بخُور طلب کرکے تُجھے تکلیف دی۔
ISA 43:24 تُم نے میرے لیٔے کویٔی خُوشبودار مَسالہ نہیں خریدا، اَور نہ اَپنے ذبیحوں کی چربی مُجھ پر نذر کی۔ لیکن تُم نے اَپنے گُناہوں کا بار مُجھ پر لاد دیا ہے اَور اَپنی خطاؤں سے مُجھے تھکا دیا ہے۔
ISA 43:25 ”میں ہی وہ ہُوں جو خُود اَپنی خاطِر تمہاری خطاؤں کو مٹا دیتا ہُوں، اَور تمہارے گُناہوں کو پھر کبھی یاد نہیں کروں گا۔
ISA 43:26 مُجھے یاد دِلا، آؤ ہم آپَس میں بحث کریں؛ اَور تُم اَپنی بےگُناہی کے ثبوت پیش کرو۔
ISA 43:27 تمہارے بڑے باپ نے گُناہ کیا؛ تمہارے اَساتذہ نے میری خِلاف بغاوت کی۔
ISA 43:28 اِس لیٔے مَیں تمہاری ہیکل کے مُعزّز اُمرا کو ناپاک کروں گا، اَور یعقوب کو برباد اَور اِسرائیل کو ذلیل ہونے دُوں گا۔
ISA 44:1 ”لیکن اَب میرے خادِم یعقوب، اَور میرے برگُزیدہ اِسرائیل، سُن!
ISA 44:2 یَاہوِہ، تیرا خالق، جِس نے تُجھے رحم میں بنایا، اَورجو تیری مدد کرےگا، یُوں فرماتے ہیں: اَے میرے خادِم یعقوب، اَور میرے برگُزیدہ یسُورُونؔ، خوف نہ کر۔
ISA 44:3 کیونکہ مَیں پیاسی زمین پر پانی اُنڈیلوں گا، اَور خشک زمین پر ندیاں جاری کروں گا؛ میں اَپنی رُوح تیری نَسل پر، اَور اَپنی برکت تیری اَولاد پر نازل کروں گا۔
ISA 44:4 وہ چراگاہ میں گھاس کی مانند، اَور بہتی ہُوئی دریاؤں کے کنارے اُگے ہُوئے بید کی طرح تیزی سے بڑھیں گے۔
ISA 44:5 کویٔی کہے گا، ’میں یَاہوِہ کا ہُوں‘؛ کویٔی اَپنا نام یعقوب سے منسوب کرےگا؛ کویٔی اَور اَپنے ہاتھ پر لکھے گا، ’میں یَاہوِہ کا ہُوں،‘ اَور اَپنے آپ کو اِسرائیل سے مُلقّب کرےگا۔
ISA 44:6 ”یہ وُہی یَاہوِہ، اِسرائیل کے بادشاہ اَور نَجات دِہندہ، قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: میں ہی اوّل اَور مَیں ہی آخِر ہُوں؛ میرے سِوا کویٔی خُدا نہیں۔
ISA 44:7 میری طرح اَور کون ہے؟ اگر کویٔی ہو تو وہ اعلان کرے۔ اَور بتائے کہ جَب سے مَیں نے قدیم لوگوں کو قائِم کیا، تَب سے اَب تک کیا ہُوا اَور آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ ہاں وہ پیشن گوئی کرے کہ آئندہ کیا ہوگا۔
ISA 44:8 تُم نہ ڈرو اَور ہِراساں مت ہو۔ کیا مَیں نے قدیم ہی سے یہ سَب باتیں تُمہیں نہیں بتائیں اَور پیشن گوئی نہیں کی تھی؟ تُم میرے گواہ ہو، میرے سِوا کیا کویٔی اَور خُدا ہے؟ نہیں، کویٔی اَور چٹّان نہیں میں کسی اَور کو نہیں جانتا۔“
ISA 44:9 جو مورتیاں بناتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں ہیں، اَور جِن چیزوں کو وہ عزیز رکھتے ہیں وہ بیکار ہیں۔ جو اُن کے حق میں گواہی دیتے ہیں وہ اَندھے ہیں؛ وہ جاہل ہیں اَور بے شرم۔
ISA 44:10 کس نے خُدا کا بُت تراشا اَور مورتی ڈھالی جِس سے اُس کو ذرّے بھر فائدہ ہُوا ہو؟
ISA 44:11 وہ اَور اُس کے سَب ساتھی پشیمان ہوں گے؛ دستکار تو محض اِنسان ہیں۔ وہ سَب اِکٹھّے ہوکر کھڑے ہُوں؛ وہ خوفزدہ ہوں گے اَور پشیمان کئے جایٔیں گے۔
ISA 44:12 لوہار اوزار لیتا ہے اَور اَنگاروں میں گرم کرکے؛ وہ ہتھوڑوں سے بُت کو تشکیل دیتاہے، اَور اَپنے بازو کی قُوّت سے اُس کو گڑھتا ہے۔ وہ بھُوکا ہو جاتا ہے اَور اَپنی قُوّت کھو بیٹھتا ہے؛ وہ پانی نہیں پیتا اَور تھک جاتا ہے۔
ISA 44:13 بڑھئی سُوت سے ناپتا ہے اَور آلہ سے خاکہ کھینچتا ہے؛ اَور اُسے رندے سے صَاف کرتا ہے اَور پرکار سے اُس پر نقش بناتا ہے۔ وہ اُسے اِنسان کی شکل میں، اَور اُس کی تمام شان و شوکت میں اُسے شکل دیتاہے، تاکہ وہ بُتکدے میں رکھا جائے۔
ISA 44:14 اُس نے دیودار کو کاٹا، یا شاید سَرو یا بلُوط کو لیا۔ اُس نے اُسے جنگل کے درختوں میں بڑھنے دیا، یا صنوبر کا درخت لگایا اَور بارش نے اُسے سیِنچا اَور بڑھایا۔
ISA 44:15 تَب وہ آدمی کے لیٔے ایندھن کے کام آتا ہے؛ وہ اُس میں سے کچھ سُلگا کر تاپتا ہے، اَور آگ جَلا کر روٹی پکاتا ہے۔ لیکن وہ اُسی سے خُدا کی مُورت بھی بناتا ہے اَور اُس کی پرستش کرتا ہے؛ اَور بُت بنا کر اُس کے سامنے جھُکتا ہے۔
ISA 44:16 آدھی لکڑی تو وہ آگ میں جَلاتا ہے؛ جِس پر وہ اَپنا کھانا پکاتا ہے، اَور اَپنا گوشت بھُونتا ہے اَور سَیر ہوکر کھاتا ہے۔ پھر خُود کو تاپ کر کہتاہے، ”آہا! میں گرم ہو گیا، مَیں نے آگ دیکھی ہے۔“
ISA 44:17 پھر بچے ہُوئے حِصّہ سے وہ ایک بُت گڑھتا ہے جو اُس کا معبُود ہے؛ اَور اُس کے سامنے جھُک کر اُس کی پرستش کرتا ہے۔ اَور اُس سے اِلتجا کرکے کہتاہے، ”مُجھے بچا لیں کیونکہ آپ میرے خُدا ہیں!“
ISA 44:18 وہ کچھ نہیں جانتے، نہ کچھ سمجھ رکھتے ہیں؛ اُن کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے اِس لیٔے وہ دیکھ نہیں سکتے، اَور اُن کے دِل سخت ہیں، وہ سمجھ نہیں سکتے۔
ISA 44:19 کوئی سوچنے سے باز نہیں آتا کسی کو اِس قدر علم اَور فہم نہیں کہ کہہ سکے کہ ”اُس کا آدھا تو مَیں نے ایندھن کے طور پر اِستعمال کیا؛ مَیں نے اُس کے اَنگاروں پر روٹی بھی پکائی، اَور گوشت بھُون کر کھایا۔ پھر کیا میں اُس کے بچے ہُوئے حِصّہ سے ایک مکرُوہ چیز بناؤں؟ کیا میں لکڑی کے ٹکڑے کے سامنے جھُکوں؟“
ISA 44:20 وہ راکھ کھاتا ہے۔ اُس کا فریب خواہ دِل اُسے گُمراہ کر دیتاہے؛ وہ اَپنے کو بچا نہیں سَکتا، نہ یہ کہہ سَکتا ہے، ”کیا یہ جو میرے داہنے ہاتھ میں ہے، بطالت نہیں؟“
ISA 44:21 ”اَے یعقوب، اِن چیزوں کو یاد کر، کیونکہ اَے اِسرائیل تُو میرا خادِم ہے۔ مَیں نے تُجھے بنایا ہے، تُو میرا خادِم ہے؛ اَے اِسرائیل مَیں تُجھے نہ بھُولوں گا۔
ISA 44:22 مَیں نے تیری خطاؤں کو بادل کی مانند، اَور تیرے گُناہوں کو صُبح کے کُہرے کی طرح مٹا دیا ہے۔ میرے پاس لَوٹ آ، کیونکہ مَیں نے تیرا فدیہ اَدا کیا ہے۔“
ISA 44:23 اَے آسمانوں، خُوشی سے گاؤ کیونکہ یَاہوِہ نے یہ کیا ہے؛ اَور نیچے اَے زمین، زور سے للکار۔ اَے پہاڑو، اَے جنگلو اَور اُس کے سَب درختو، گا اُٹھو، کیونکہ یَاہوِہ نے یعقوب کا فدیہ دیا ہے، اَور اِسرائیل میں اَپنا جلال ظاہر کیا ہے۔
ISA 44:24 ”یَاہوِہ، تیرا فدیہ دینے والے، جنہوں نے تُجھے رحم میں بنایا، یُوں کہتے ہیں: ”مَیں یَاہوِہ ہُوں، جِس نے سَب چیزیں بنائیں، جِس نے اکیلے ہی آسمانوں کو تانا، اَور خُود ہی زمین کو پھیلایا،
ISA 44:25 جو جھوٹے نبیوں کی نِشانیوں کو باطِل کرتے ہے اَور غیب بینوں کو احمق بنا دیتے ہے، جو حِکمت والوں کے علم کو ردّ کر دیتے ہے اَور اُسے فُضول باتوں میں بدل دیتے ہیں،
ISA 44:26 جو اَپنے سفیروں کے کلام کو ثابت کرتے ہیں اَور اَپنے رسوُلوں کی مشورت کو پُورا کرتے ہے، ”جو یروشلیمؔ کے متعلّق کہتے ہیں، ’وہ آباد کیا جائے گا،‘ اَور یہُوداہؔ کے شہروں کے متعلّق، ’وہ تعمیر ہوں گے،‘ اَور اُن کے کھنڈروں کے متعلّق، ’مَیں اُنہیں بحال کروں گا،‘
ISA 44:27 جو سمُندر سے کہتاہے، ’سُوکھ جا، اَور مَیں تیرے ندی نالوں کو خشک کردوُں گا،‘
ISA 44:28 جو خورشؔ کے حق میں کہتاہے، ’وہ میرا چرواہا ہے اَور میری تمام مرضی پُوری کرےگا؛ اَور یروشلیمؔ کی بابت کہے گا، ”وہ پھر سے تعمیر کیا جائے،“ اَور ہیکل کے متعلّق، ”اُس کی بُنیاد رکھی جائے۔“ ‘ “
ISA 45:1 ”یَاہوِہ اَپنے ممسوح خورشؔ کے حق یُوں فرماتے ہیں مَیں نے اُس کے داہنے ہاتھ کو اِس لیٔے تھام لیا ہے کہ اُس کے سامنے قوموں کو پست کروں اَور بادشاہوں کا زرہ بکتر اُتار دُوں، اُس کے سامنے دروازے کھول دُوں تاکہ پھاٹک بند نہ کئے جایٔیں:
ISA 45:2 مَیں تیرے آگے آگے چلُوں گا اَور کوؤں کو ہموار کروں گا؛ میں کانسے کے دروازے توڑ ڈالوں گا اَور لوہے کی سلاخیں کاٹ دُوں گا۔
ISA 45:3 مَیں تُجھے اَندھیرے میں چُھپائے ہُوئے خزانے، اَور خُفیہ مقامات پر رکھی ہُوئی دولت دُوں گا، تاکہ تُو جانے کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں، اِسرائیل کا خُدا جو تُجھے نام لے کر بُلاتا ہے۔
ISA 45:4 مَیں نے اَپنے خادِم یعقوب، اَور اَپنے برگُزیدہ اِسرائیل کی خاطِر، تُجھے نام لے کر بُلایا ہے اَور تُجھے اعزازی لقب عطا کیا ہے، حالانکہ تُو مُجھے نہیں جانتا۔
ISA 45:5 میں ہی یَاہوِہ ہُوں، اَور دُوسرا کویٔی نہیں؛ میرے سِوا کویٔی خُدا نہیں۔ میں تیری کمر کسوں گا، حالانکہ تُو مُجھے نہیں جانتا،
ISA 45:6 تاکہ سُورج کے طُلوع ہونے سے اُس کے غروب ہونے کے مقام تک لوگ جان لیں کہ میرے سِوا کویٔی نہیں۔ میں ہی یَاہوِہ ہُوں اَور دُوسرا کویٔی نہیں ہے۔
ISA 45:7 میں ہی رَوشنی کا مُوجد اَور تاریکی کا خالق ہُوں، میں ہی خُوش اِقبالی کا بانی اَور بدنصیبی کا پیدا کرنے والا میں، یَاہوِہ ہی یہ سَب کچھ کرتا ہُوں۔
ISA 45:8 ”اَے آسمانوں، اُوپر سے ٹپکنے لگو؛ بادل راستبازی برسانے لگیں۔ زمین کھُل جائے، اَور نَجات پیدا کرے، اَور صداقت بھی اُس کے ساتھ اُگ آئے؛ مَیں یَاہوِہ نے اُسے پیدا کیا ہے۔
ISA 45:9 ”افسوس اُس پرجو اَپنے خالق سے جھگڑتا ہے، اَورجو زمین کے ٹھیکروں میں سے محض ایک ٹھیکرا ہے۔ کیا مٹّی کُمہار سے کہتی ہے، ’تُو کیا بنا رہاہے؟‘ کیا تیری دستکاری کہتی ہے، ’اُس کے ہاتھ نہیں ہیں؟‘
ISA 45:10 افسوس اُس پرجو اَپنے باپ سے کہے، ’تُونے کیا پیدا کیا؟‘ اَور اَپنی ماں سے کہے، ’تُونے کس چیز کو پیدا کیا؟‘
ISA 45:11 ”یَاہوِہ، اِسرائیل کا قُدُّوس اَور خالق یُوں فرماتے ہیں کیا تُم آنے والی چیزوں کے متعلّق مُجھ سے دریافت کروگے، کیا تُم میرے بچّوں کے متعلّق مُجھ سے سوال کروگے، یا میرے ہاتھوں کے کام کے متعلّق مُجھے حُکم دوگے؟
ISA 45:12 مَیں نے ہی زمین بنائی اَور اُس پر نَوع اِنسانی کو پیدا کیا۔ میرے اَپنے ہاتھوں نے افلاک کو تانا؛ اَور اجرامِ فلکی کو مرتّب کیا۔
ISA 45:13 مَیں اَپنی راستبازی میں خورشؔ کو برپا کروں گا: اَور اُس کی تمام راہیں سیدھی کروں گا۔ وہ میرا شہر پھر سے تعمیر کرےگا اَور میرے جَلاوطنوں کو آزاد کرےگا، لیکن کسی قیمت یا اِنعام کے عوض نہیں۔ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔“
ISA 45:14 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”مِصر کی پیداوار اَور کُوشؔ کی تجارتی اَشیا اَور شیبا کے بُلند قامت لوگ تیرے پاس آئیں گے اَور تیرے ہو جایٔیں گے؛ وہ تیرے پیچھے پیچھے چلیں گے، اَور زنجیروں میں جکڑے، رینگتے ہُوئے تیرے پاس آئیں گے۔ وہ تیرے سامنے جھُکیں گے اَور مِنّت کرکے کہیں گے: ’یقیناً خُدا تیرے ساتھ ہے اَور دُوسرا کویٔی نہیں؛ اُس کے سِوا اَور کویٔی خُدا نہیں۔‘ “
ISA 45:15 بے شک آپ وہ خُدا ہو جو اَپنے آپ کو چُھپا رہےہو اِسرائیل کے خُدا اَور مُنجّی۔
ISA 45:16 تمام بُت تراش پشیمان اَور رُسوا ہوں گے؛ وہ سَب کے سَب اِکٹھّے رُسوا ہوں گے۔
ISA 45:17 لیکن اِسرائیل کو یَاہوِہ اَبدی نَجات بخشیں گے تُم اَبد تک کبھی شرمندہ نہ ہوگے اَور نہ رُسوا کئے جاؤگے۔
ISA 45:18 کیونکہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں؛ جِس نے آسمان پیدا کئے، وُہی خُدا ہیں؛ جِس نے زمین کو بنایا، اُسی نے اُس کی بُنیاد ڈالی؛ اُس نے اُسے خالی پڑی رہنے کے لیٔے نہیں بَلکہ آباد ہونے کے لیٔے آراستہ کیا وہ یُوں فرماتے ہیں: ”مَیں یَاہوِہ ہُوں، میرے سِوا اَور کویٔی نہیں ہے۔
ISA 45:19 مَیں نے خلوت میں، کسی تاریک مقام سے کلام نہیں کیا؛ مَیں نے یعقوب کی نَسل کو یہ نہ کہا، ’تُم عبث میری تلاش کرو۔‘ میں یَاہوِہ سچ ہی کہتا ہُوں اَور راستی کی باتیں ہی بتاتے آیا ہُوں۔
ISA 45:20 ”اَے لوگو، تُم جو غَیر قوموں میں سے بچ نکلے ہو، جمع ہو جاؤ؛ اَور اِکٹھّے ہوکر چلے آؤ۔ وہ لوگ جاہل ہیں جو لکڑی کے بُت لیٔے پھرتے ہیں، اَور اَیسے معبُودوں سے استدعا کرتے ہیں جو بچا نہیں سکتے۔
ISA 45:21 آئندہ جو کچھ ہونے والا ہے اُسے بَیان کرو، وہ اگر چاہیں تو آپَس میں مشورت کریں۔ کس نے قدیم ہی سے یہ پیشن گوئی کی، قدیم ایّام میں ہی کس نے یہ ظاہر کیا؟ کیا وہ میں یَاہوِہ ہی نہ تھا؟ اَور میرے سِوا کویٔی اَور خُدا نہیں، صادق اَور مُنجّی خُدا ہیں؛ میرے سِوا کویٔی اَور نہیں ہے۔
ISA 45:22 ”اَے اِنتہائی زمین کے سَب رہنے والو، تُم میری طرف پھرو اَور نَجات پاؤ؛ کیونکہ مَیں خُدا ہُوں اَور دُوسرا کویٔی اَور نہیں ہے۔
ISA 45:23 مَیں نے اَپنی ذات کی قَسم کھائی ہے، میرے مُنہ سے کلام حق نِکلا ہے جو کبھی تبدیل نہ ہوگا: کہ ہر ایک گھٹنا میرے آگے جھُکے گا؛ اَور ہر ایک زبان میری ہی قَسم کھائے گی۔
ISA 45:24 وہ میرے حق میں کہیں گے ’صِرف یَاہوِہ ہی میں صداقت اَور قُوّت ہے۔‘ “ اَور وہ سَب جو اُس سے بیزار ہو گئے تھے پشیمان ہوکر اُس کے پاس آئیں گے۔
ISA 45:25 لیکن اِسرائیل کی ساری نَسل یَاہوِہ میں صادق ٹھہرے گی اَور اُن پر فخر کرےگی۔
ISA 46:1 بابیل کے معبُود بیلؔ اَور نبوؔ جُھک گئے؛ اُن کے بُت بوجھ اُٹھانے والے چَوپایوں پر لدے ہیں۔ جِن مورتیوں کو وہ لیٔے پھرتے تھے، اُن کے لئے بوجھ بَن گئی ہیں، تھکے ہوؤں کے لیٔے ایک بوجھ۔
ISA 46:2 اَور وہ سَب ایک ساتھ جھُکتے اَور سرنِگوں ہوتے ہیں؛ اَور اُس بوجھ کو بچا نہیں سکتے، اَور خُود ہی اسیری میں چلے جاتے ہیں۔
ISA 46:3 ”اَے یعقوب کے گھرانے، اَور اَے اِسرائیل کے گھر کے سبھی باقی بچے لوگو، جنہیں میں رحم میں پڑنے کی گھڑی سے سہارا دیتا رہا، اَور اُن کی پیدائش ہی سے گود میں اُٹھاتا رہا، میری سُنو!
ISA 46:4 تمہاری ضعیفی میں اَور تمہارے بال سفید ہونے تک مَیں ہی ہُوں جو تُمہیں سنبھالے رہُوں گا۔ مَیں نے ہی تُمہیں خلق کیا ہے اَور تُمہیں لیٔے پھرتا رہُوں گا؛ مَیں تُمہیں سنبھالوں گا اَور تُمہیں رِہائی دُوں گا۔
ISA 46:5 ”تُم مُجھے کس کے مُشابہ قرار دوگے اَور کس کے برابر ٹھہراؤگے؟ اَور مُجھے کس کی مانند کہو گے تاکہ ہمارا موازنہ ہو سکے؟
ISA 46:6 کچھ لوگ اَپنی تھیلیوں میں سے سونا نکالتے ہیں اَور ترازو میں چاندی تولتے ہیں؛ پھر سُنار کو اُجرت دے کر اُس سے ایک خُدا کا بُت بنواتے ہیں، اَور اُس کے سامنے جھُک کر اُس کی عبادت کرتے ہیں۔
ISA 46:7 وہ اُسے اَپنے کندھوں پر اُٹھاتے اَور لے جاتے ہیں؛ پھر اُسے لے جا کر اُس کی جگہ پر نصب کرتے ہیں اَور وہ وہاں کھڑا رہتاہے جہاں سے وہ ہل نہیں پاتا۔ اگر کویٔی اُسے پُکارے تو وہ جَواب نہیں دیتا؛ نہ ہی وہ اُسے اُس کی مُصیبتوں سے چھُڑا سَکتا ہے۔
ISA 46:8 ”اَے باغیو! اِس بات کو یاد رکھو، اِسے دماغ میں رکھّو اَور دِل میں اُتار لو۔
ISA 46:9 اِبتدائی زمانہ کی باتیں یاد کرو جو قدیم ہی سے ہیں؛ میں خُدا ہُوں اَور کویٔی دُوسرا نہیں؛ میں خُدا ہُوں اَور مُجھ سا کویٔی نہیں۔
ISA 46:10 میں اِبتدا ہی سے اَنجام کی خبر دیتا ہُوں، اَور قدیم وقتوں ہی سے وہ باتیں بتاتا آیا ہُوں جو اَب تک وقوع میں نہیں آئیں۔ اَور کہتا ہُوں، ’میرا مقصد قائِم رہے گا، اَور مَیں اَپنی ساری مرضی پُوری کروں گا۔‘
ISA 46:11 میں مشرق سے ایک شِکاری پرندہ کو بُلاتا ہُوں؛ یعنی دُور کے مُلک سے ایک شخص کو بُلاتا ہُوں جو میری مرضی پُوری کرے۔ جو مَیں نے کہا اُسے میں کرکے ہی رہُوں گا؛ اَورجو مقصد مَیں نے کیا ہے اُسے پُورا ہی کروں گا۔
ISA 46:12 اَے سخت دِلو، میری سُنو، جو تُم میری راستبازی سے بہت دُورہو۔
ISA 46:13 میں اَپنی راستبازی کو نزدیک لا رہا ہُوں، وہ بہت دُور نہیں ہے؛ اَور میری نَجات میں تاخیر نہ ہوگی۔ میں صِیّونؔ کو نَجات دوں گا، اَور اِسرائیل کو اَپنا جلال بخشوں گا۔
ISA 47:1 ”اَے بابیل کی کنواری بیٹی، نیچے اُتر آ اَور خاک پر بیٹھ؛ اَے کَسدیوں کی ملِکہ کا شہر، تُو بِنا تخت زمین پر بیٹھ۔ تُو پھر کبھی نازک اندام اَور نازنین نہ کہلائے گی۔
ISA 47:2 چکّی لے اَور آٹا پیس؛ اَپنا نقاب اُتار۔ اَپنا دامن سمیٹ لے اَور ٹانگیں برہنہ کرکے، دریاؤں میں سے گزر جا۔
ISA 47:3 تیرا بَدن بے پردہ کیا جائے گا اَور تیری حیا بے پردہ ہو جائے گی۔ میں اِنتقام لُوں گا؛ اَور کسی بشر سے رعایت نہ کروں گا۔“
ISA 47:4 ہمارا نَجات دِہندہ کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے جو اِسرائیل کا قُدُّوس ہے۔
ISA 47:5 ”اَے کَسدیوں کی ملِکہ شہر، چُپ چاپ بیٹھی رہ اَور تاریکی میں چلی جا؛ کیونکہ اَب تُم مملکتوں کی ملِکہ نہ کہلائے گی۔
ISA 47:6 میں اَپنے لوگوں سے خفا تھا اَور مَیں نے اَپنی مِیراث کو بےحُرمت کیا؛ اَور اُنہیں تیرے ہاتھ میں سونپ دیا، اَور تُونے اُن پر رحم نہ کیا۔ یہاں تک کہ بُوڑھوں پر بھی تُونے اَپنا بہت بھاری جُوا رکھا۔
ISA 47:7 تُونے کہا، ’میں اَبد تک ملِکہ بنی رہُوں گی!‘ لیکن تُونے اِن باتوں پر دھیان نہیں دیا اَور نہ یہ سوچا کہ اَنجام کیا ہوگا۔
ISA 47:8 ”اِس لیٔے سُن اَے عشرت میں غرق رہنے والی، تُو جو بے خوف ہوکر مطمئن بیٹھی ہے اَور اَپنے دِل میں کہتی ہے، ’مَیں ہُوں اَور میرے سِوا کویٔی نہیں۔ مَیں کبھی بِیوہ نہ ہوں گی نہ بے اَولاد رہُوں گی۔‘
ISA 47:9 ناگہاں یہ دونوں آفتیں ایک ہی دِن تُجھ پر آ پڑےگی: تُو اَپنے بچّے کھو دے گی اَور بِیوہ بھی بَن جائے گی۔ تیرے تمام جادُو اَور ٹونوں کے باوُجُود یہ آفتیں تُجھ پر پُوری طرح آ پڑیں گی۔
ISA 47:10 تُونے اَپنی شرارت پر بھروسا کیا اَور کہا، ’مُجھے کویٔی نہیں دیکھتا۔‘ تیری حِکمت اَور تیری دانش نے تُجھے بہکایا جَب تُونے اَپنے دِل میں کہا، ’میں ہی ہُوں اَور میرے سِوا اَور کویٔی نہیں۔‘
ISA 47:11 تُجھ پر آفت آئے گی، جِس کا منتر تُو نہیں جانتی۔ ایک بَلا تُجھ پر نازل ہوگی جِس سے تُو کسی کفّارے کو دے کر ٹال نہیں سکے گی؛ اَچانک ایک اَیسی تباہی تُجھ پر آئے گی جِس کا تُجھے علم بھی نہ ہوگا۔
ISA 47:12 ”تَب تُو اَپنے جادُو، ٹونے اَور بہت سے منتر جِن کی تُونے بچپن ہی سے مشق کر رکھی ہے، جاری رکھ، شاید تُو کامیاب ہو، یا شاید تُو رُعب جما سکے۔
ISA 47:13 جو بھی مشورت تُجھے مِلی اُس نے تو تُجھے تھکا دیا! تیرے نجومی اَور ستارہ شناس جو ماہ بہ ماہ پیشن گوئیاں کرتے ہیں، سامنے آئیں، اَور تُجھ پر آنے والی آفت سے تُجھے بچائیں۔
ISA 47:14 وہ بھُوسے کی مانند ہیں؛ آگ اُنہیں جَلا دے گی۔ وہ اَپنے آپ کو شُعلوں کی شِدّت سے بچا بھی نہ سکیں گے۔ یہ اَنگارے تاپنے کے لیٔے نہیں ہیں؛ نہ ہی اِس آگ کے پاس کویٔی بیٹھ سَکتا ہے۔
ISA 47:15 یہ سَب جِن کے لیٔے تُونے محنت کی اَور جِن کے ساتھ تُو بچپن سے کاروبار کرتی آئی ہے تیرے لیٔے بس اِتنا ہی کر سکتے ہیں اِن میں سے ہر ایک گُمراہ ہو گیا؛ اَور کویٔی بھی تُجھے بچا نہیں سَکتا۔
ISA 48:1 ”یہ بات سُنو اَے یعقوب کے گھرانے والو، تُم جو اِسرائیل کے نام سے پُکارے جاتے ہو اَور یہُوداہؔ کی نَسل سے ہو، اَورجو یَاہوِہ کے نام کی قَسم کھاتے ہو اَور اِسرائیل کے خُدا سے مُخاطِب ہوتے ہو لیکن سچّائی اَور راستبازی سے نہیں
ISA 48:2 تُم جو اَپنے آپ کو مُقدّس شہر کے باشِندے جتاتے ہو اَور اِسرائیل کے خُدا پر توکّل کرتے ہو جِن کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے:
ISA 48:3 عرصہ ہُوا مَیں نے قدیم سے ہونے والی باتوں کی خبر دی، میرے مُنہ سے اُن کا اعلان کیا اَور مَیں نے اُنہیں ظاہر کیا؛ پھر اَچانک اُنہیں عَمل میں لایا اَور وہ وقوع میں آئیں۔
ISA 48:4 کیونکہ مَیں جانتا تھا کہ تُم کس قدر ضِدّی ہو؛ تیری گردن کے پٹھّے لوہے کے تھے، اَور تیری پیشانی کانسے کی تھی۔
ISA 48:5 اِس لیٔے مَیں نے یہ باتیں تُجھے قدیم سے ہی بتا دیں؛ اِس سے پہلے کہ وہ واقع ہُوں، مَیں نے تُجھے بتا دیں۔ تاکہ تُو یہ نہ کہے کہ، ’یہ میرے بُتوں کا کام ہے؛ یا میری لکڑی کی گھڑی ہُوئی مُورت اَور دھات سے ڈھالی ہُوئی دیوی نے اِسے اَنجام دیا۔‘
ISA 48:6 تُونے یہ باتیں سُنی ہیں؛ اُن سَب پر نظر ڈال۔ کیا تُو اُن کو نہ مانے گا؟ ”اَب سے آگے مَیں تُجھے نئی چیزوں، اَور اَیسی پوشیدہ باتوں کے بارے میں بتاؤں گا جنہیں تُو نہیں جانتا تھا۔
ISA 48:7 وہ ابھی ابھی خلق کی گئی ہیں، قدیم سے نہیں ہیں؛ بَلکہ آج سے پہلے تُونے اُن کے بارے میں کچھ بھی نہ سُنا تھا۔ اِس لیٔے تُو یہ نہیں کہہ سَکتا کہ ’ہاں، میں اِن کے بارے میں جانتا تھا۔‘
ISA 48:8 تُونے اُنہیں نہ تو سُنا نہ سمجھا تھا؛ قدیم ہی سے تیرے کان کھُلے نہ تھے۔ مَیں بخُوبی جانتا تھا کہ تُو کس قدر بےوفا ہے؛ تُو پیدائش ہی سے باغی کہلایا۔
ISA 48:9 مَیں اَپنے نام کی خاطِر اَپنے غضب میں تاخیر کر رہا ہُوں؛ اَور اَپنے جلال کی خاطِر مَیں نے اُسے روک رکھتا ہے، تاکہ مَیں تُجھے پُوری طرح تباہ نہ کر ڈالوں۔
ISA 48:10 دیکھ، مَیں نے تُجھے صَاف تو کیا لیکن چاندی کی طرح نہیں؛ مَیں نے تُجھے دُکھ کی بھٹّی میں پرکھ لیا ہے۔
ISA 48:11 اَپنی خاطِر، ہاں میری اَپنی ہی خاطِر مَیں نے یہ کیا ہے۔ میں اَپنے نام کی تکفیر کیوں ہونے دُوں؟ میں اَپنا جلال کسی دُوسرے کو نہیں دوں گا۔
ISA 48:12 ”اَے یعقوب، اَے اِسرائیل، تُو جو میرا بُلایا ہُواہے، میری سُن: مَیں وُہی ہُوں؛ مَیں ہی اوّل اَور مَیں ہی آخِر ہُوں۔
ISA 48:13 میرے ہی ہاتھ نے زمین کی بُنیاد ڈالی، اَور میرے داہنے ہاتھ نے آسمانوں کو پھیلایا؛ جَب مَیں اُنہیں بُلاتا ہُوں، تَب وہ سَب ایک ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔
ISA 48:14 ”تُم سَب اِکٹھّے ہوکر سُنو: کِن معبُودوں نے اِن باتوں کی پیشن گوئی کی ہے؟ وہ جو یَاہوِہ کا پسندیدہ ہے بابیل کے خِلاف اُن کا مرضی پُوری کرےگا؛ اُن کا ہاتھ کَسدیوں کے خِلاف اُٹھے گا۔
ISA 48:15 مَیں نے، ہاں مَیں نے ہی کہا ہے؛ ہاں، مَیں نے اُسے بُلایا ہے۔ میں اُسے لے آؤں گا، اَور وہ اَپنے مقصد میں کامیاب ہوگا۔
ISA 48:16 ”میرے قریب آؤ اَور یہ بات سُنو: ”شروع ہی سے مَیں نے پوشیدگی میں کلام نہیں کیا؛ جَب یہ ہوتاہے، میں بھی وہاں ہوتا ہُوں۔“ اَور اَب یَاہوِہ قادر نے اَپنی رُوح کے ساتھ مُجھے بھیجا ہے۔
ISA 48:17 یَاہوِہ۔ تیرا نَجات دِہندہ، اِسرائیل کا قُدُّوس یُوں فرماتے ہیں: ”میں یَاہوِہ تیرا خُدا ہُوں، جو تُجھے اَیسی تعلیم دیتاہے جو تیرے حق میں مفید ہے، اَور جِس راہ پر تُجھے چلنا ہے اُس پر لے چلتا ہے۔
ISA 48:18 کاش کہ تُونے میرے اَحکام پر دھیان دیا ہوتا، تو تُجھے ندی کی مانند تسلّی ملتی، اَور تیری راستبازی سمُندر کی موجوں کی مانند ہوتی۔
ISA 48:19 تیری نَسل ریت کی مانند ہوتی، اَور تیری اَولاد اُس کے لاتعداد ذرّوں کی مانند ہوتی؛ اُس کا نام میرے حُضُور سے نہ ہی کاٹا اَور نہ مٹایا جائے گا۔“
ISA 48:20 بابیل کو خیرباد کہو، کَسدیوں کے درمیان سے بھاگ جاؤ! خُوشی سے للکار کر اِس کی خبر دو اَور اُس کا اعلان کرو۔ اِس کی خبر زمین کی اِنتہا تک پہُنچا دو؛ کہو، ”کہ یَاہوِہ نے اَپنے خادِم یعقوب کا فدیہ دیا ہے۔“
ISA 48:21 جَب وہ اُنہیں بیابان میں سے لے گیا تَب وہ پیاسے نہ ہُوئے۔ اُس نے اُن کے لیٔے چٹّان میں سے پانی نکالا؛ اُس نے چٹّان کو چیرا اَور پانی پھوٹ نِکلا۔
ISA 48:22 ”بدکاروں،“ کے لیٔے، ”کوئی سلامتی نہیں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ISA 49:1 اَے جزیروں، میری سُنو؛ اَے دُور دراز کی قومو، کان لگاؤ: میری پیدائش سے پہلے ہی یَاہوِہ نے مُجھے بُلایا؛ اَور بطن مادر ہی سے اُس نے میرے نام کا ذِکر کیا۔
ISA 49:2 اُس نے میرے مُنہ کو تیز تلوار کی مانند بنایا، اَور مُجھے اَپنے ہاتھ کے سایہ میں پناہ دی؛ اُس نے مُجھے چمکیلا تیر بنا کر اَپنے ترکش میں چُھپائے رکھا۔
ISA 49:3 اَور مُجھ سے کہا، ”اَے اِسرائیل، تُو میرا خادِم ہے، جِس سے میں اَپنا جلال ظاہر کروں گا۔“
ISA 49:4 تَب مَیں نے کہا: ”مَیں نے خوامخواہ زحمت اُٹھائی؛ اَور اَپنی قُوّت فُضول اَور بلاوجہ صِرف کی۔ تو بھی میرا حق یَاہوِہ کے ہاتھ میں ہے، اَور میرا اجر میرے خُدا کے پاس ہے۔“
ISA 49:5 اَور اَب یَاہوِہ فرماتے ہیں وہ یَاہوِہ، جنہوں نے مُجھے رحم میں بنایا تاکہ میں اُس کا خادِم بَن کر یعقوب کو اُن کے پاس واپس لاؤں، اَور اِسرائیل کو اُن کے پاس جمع کروں، کیونکہ مَیں یَاہوِہ کی نگاہ میں قابل اِحترام ہُوں اَور میرے خُدا میری قُوّت ہیں
ISA 49:6 وہ فرماتے ہیں: ”یہ تیرے لیٔے مَعمولی سِی بات ہے کہ تُو یعقوب کے قبیلوں کو بحال کرے اَور اِسرائیل کے بچے ہُوئے لوگوں کو واپس لانے کے لیٔے میرا خادِم بنے۔ مَیں تُجھے غَیریہُودیوں کے لیٔے نُور مُقرّر کروں گا، تاکہ تُو زمین کی اِنتہا تک میری نَجات کو پہُنچانے کا باعث بنے۔“
ISA 49:7 اِسرائیل کا نَجات دِہندہ اَور قُدُّوس یَاہوِہ اُس سے جو حقیر جانا گیا اَور جِس سے قوموں نے نفرت کی، اَورجو حُکمرانوں کا خادِم ہے، یُوں فرماتے ہیں: ”بادشاہ تُجھے دیکھیں گے اَور کھڑے ہو جایٔیں گے، اُمرا تُجھے دیکھیں گے اَور سرنِگوں ہو جایٔیں گے، یَاہوِہ کی خاطِر جو وفاشعار اَور اِسرائیل کا قُدُّوس ہے جِس نے تُجھے برگُزیدہ کیا ہے۔“
ISA 49:8 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”قبُولیّت کے وقت مَیں تیری سُنوں گا، اَور نَجات کے دِن تیری مدد کروں گا؛ مَیں تیری حِفاظت کروں گا اَور تُجھے لوگوں کے لیٔے ایک عہد ٹھہراؤں گا، تاکہ تُو مُلک کو بحال کر سکے اَور ویران مِیراث اُس کے وارثین کو لَوٹا دے تاکہ وہ اُسے پھر سے آباد کر سکیں۔
ISA 49:9 اَور اسیروں سے کہہ سکے، ’باہر نکل آؤ،‘ اَور اُن سے جو اَندھیرے میں پڑے ہُوئے ہیں، ’مُنوّر ہو جاؤ!‘ ”وہ راستوں کے کنارے پیٹ بھریں گے اَور ہر ویران ٹیلے پر چراگاہ پائیں گے۔
ISA 49:10 وہ نہ بھُوکے ہوں گے نہ پیاسے، نہ بیابان کی حرارت اَور نہ دھوپ اُن کو ضرر پہُنچا سکے گی۔ اَور جِس نے اُن پر مہربانی کی ہے وُہی اُن کا رہنما ہوگا اَور اُنہیں پانی کے چشموں کے پاس لے چلے گا۔
ISA 49:11 میں اَپنے تمام پہاڑوں کو راستوں میں تبدیل کروں گا اَور میری شاہراہیں اُونچی کی جایٔیں گی۔
ISA 49:12 دیکھ، وہ بہت دُور سے آئیں گے۔ کچھ شمال کی جانِب سے، کچھ مغرب کی طرف سے، اَور کچھ آسوانؔ یا سِنیمؔ کے علاقہ سے۔“
ISA 49:13 اَے آسمانوں، خُوشی سے للکارو؛ اَے زمین، شادمان ہو؛ اَے پہاڑو، نغمہ گانے لگو! کیونکہ یَاہوِہ نے اَپنے لوگوں کو تسلّی بخشی ہے اَور وہ اَپنے مُصیبت زدہ لوگوں پر رحم فرمایٔے گا۔
ISA 49:14 لیکن صِیّونؔ نے کہا: ”یَاہوِہ نے مُجھے ترک کر دیا ہے، یَاہوِہ نے مُجھے بھُلا دیا ہے۔“
ISA 49:15 ”کیا یہ ممکن ہے کہ کویٔی ماں اَپنے شیر خوار بچّے کو بھُول جائے اَور اَپنے جنے ہُوئے بچّے پر ترس نہ کھائے؟ خواہ وہ بھُول جائے، پر مَیں تُجھے نہ بھُولوں گا!
ISA 49:16 دیکھ، مَیں نے تیری صورت اَپنی ہتھیلیوں پر نقش کی ہُوئی ہے؛ تیری شہرپناہ ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتی ہے۔
ISA 49:17 تیرے فرزند جلدی جلدی لَوٹ رہے ہیں، اَور تُجھے اُجاڑنے والے تُجھ سے باہر نکل رہے ہیں۔
ISA 49:18 اَپنی آنکھیں اُٹھاکر چاروں طرف نظر کر؛ تیرے تمام بیٹے اِکٹھّے ہوکر تیرے پاس آ رہے ہیں۔“ مُجھے اَپنی حیات کی قَسم، یَاہوِہ فرماتے ہیں ”کہ تُو اُن سَب کو زیورات کی طرح پہن لے گی؛ اَور اُن سے دُلہن کی طرح آراستہ ہوگی۔
ISA 49:19 ”حالانکہ تُجھے تباہ کرکے ویران کیا گیا اَور تیرا مُلک بنجر بنایا گیا، لیکن اَب تیرے لوگ تُجھ میں سما نہ پائیں گے، اَور تُجھے تباہ کرنے والے دُورہو جایٔیں گے۔
ISA 49:20 پھر بھی تیرے ماتم کے دِنوں میں پیدا ہونے والے بچّے تیرے کان میں کہیں گے، ’یہ جگہ ہمارے لیٔے بہت تنگ ہے؛ ہمیں رہنے کے لیٔے اَور جگہ دے۔‘
ISA 49:21 پھر تُو اَپنے دِل میں کہےگی ’کون میرے لیٔے اُن کا باپ ہُوا؟ میں تو سوگ میں بیٹھی اَور بانجھ تھی؛ جَلاوطن کر دی گئی اَور ٹُھکرا دی گئی تھی۔ پھر اِنہیں کس نے پالا؟ میں اکیلی رہ گئی تھی، پھر یہ کہاں سے آ گئے؟‘ “
ISA 49:22 یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھو، مَیں ہاتھ اُٹھاکر غَیر قوموں کو اِشارہ کروں گا، اَور مُختلف مُلکوں کے لوگوں کے سامنے اَپنا پرچم کھڑا کروں گا؛ وہ تیرے بیٹوں کو اَپنی گود میں لے کر اَور تیری بیٹیوں کو اَپنے کندھوں پر بِٹھا کر لائیں گے۔
ISA 49:23 بادشاہ تیرے بچّوں کو پدرانہ شفقت سے پالیں گے، اَور اُن کی رانیاں دایہ گیری کریں گی۔ وہ تیرے سامنے مُنہ کے بَل زمین پر سَجدہ کریں گے؛ اَور تیرے پاؤں کی دُھول چاٹیں گے۔ تَب تُو جانے گی کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں؛ جو مُجھ سے اُمّید لگائے ہوں گے وہ مایوس نہ ہوں گے۔“
ISA 49:24 کیا جنگجو کے ہاتھ سے مالِ غنیمت چھینا جا سَکتا ہے، یا ظالِم کے ہاتھ سے اسیروں کو چھُڑایا جا سَکتا ہے؟
ISA 49:25 لیکن یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”ہاں، قَیدی زورآور سے چھُڑا لیٔے جایٔیں گے، اَور مالِ غنیمت ظالِم سے چھین لیا جائے گا؛ میں اُن لوگوں سے لڑوں گا جو تُجھ سے لڑتے ہیں، اَور تیرے بچّوں کو بچا لُوں گا۔
ISA 49:26 تُجھ پر ظُلم کرنے والوں کو میں خُود اُن کا اَپنا گوشت کھانے پر مجبُور کروں گا؛ اَور وہ اَپنا ہی خُون پی کر اَیسے متوالے ہوں گے جَیسے مَے خواری سے ہوتے ہیں۔ تَب تمام بنی نَوع اِنسان جان جایٔیں گے کہ میں یَاہوِہ، تمہارا مُنجّی، اَور یعقوب کا قادر خُدا میں ہی ہُوں جو تیرا فدیہ دینے والا۔“
ISA 50:1 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”وہ طلاق نامہ کہاں ہے جسے لِکھ کر مَیں نے تمہاری ماں کو چھوڑ دیا تھا؟ یا اَپنے قرض خواہوں میں سے کس کے ہاتھ مَیں نے تُمہیں بیچا تھا؟ تُم تو اَپنے ہی گُناہوں کے باعث بِک گیٔے؛ اَور تمہاری خطاؤں کی وجہ سے تمہاری ماں کو طلاق دی گئی تھی۔
ISA 50:2 کیا وجہ ہے کہ جَب مَیں آیا تَب کویٔی آدمی نہ تھا؟ اَور جَب مَیں نے پُکارا تَب کویٔی جَواب دینے والا نہ تھا؟ کیا میرا ہاتھ اِس قدر کوتاہ ہو گیا تھا کہ تمہارا فدیہ نہ دے سکے؟ یا مُجھ میں اُتنی طاقت نہ تھی کہ تُمہیں چھُڑا سَکتا؟ محض ایک دھمکی سے میں سمُندر کو سُکھا دیتا ہُوں، اَور دریاؤں کو صحرا میں بدل دیتا ہُوں؛ اُن کی مچھلیاں پانی کی عدم مَوجُودگی میں سڑ جاتی ہیں اَور پیاس سے مَر جاتی ہیں۔
ISA 50:3 میں آسمانوں کو تاریکی کا لباس پہناتا ہُوں اَور اُنہیں ٹاٹ اوڑھا دیتا ہُوں۔“
ISA 50:4 یَاہوِہ قادر نے مُجھے تربیّت یافتہ زبان بخشی ہے، تاکہ اُس کلام کو جانوں جو تھکے ماندوں کو سہارا دیتاہے۔ وہ مُجھے ہر صُبح جگاتا ہے، اَور میرا کان کھولتا ہے تاکہ میں ایک شاگرد کی طرح سُنوں۔
ISA 50:5 یَاہوِہ قادر نے میرے کان کھول دئیے ہیں، اَور مَیں سرکش نہ ہُوا؛ نہ پیچھے ہٹا۔
ISA 50:6 مَیں نے اَپنی پیٹھ مارنے والوں کے، اَور اَپنی داڑھی نوچنے والوں کے حوالہ کر دی؛ تضحیک اَور تھُوک سے بچنے کے لیٔے مَیں نے اَپنا مُنہ نہیں چھپایا۔
ISA 50:7 چونکہ یَاہوِہ قادر میرے مددگار ہیں، میں رُسوا نہ ہوں گا۔ اِسی لیٔے مَیں نے اَپنا چہرہ چقماق کی مانند کر لیا، اَور مُجھے یقین ہے کہ میں شرمندہ نہ ہوں گا۔
ISA 50:8 مُجھے بے قُصُور ٹھہرانے والے میرے قریب ہیں۔ پھر کون مُجھ پر اِلزام لگا سَکتا ہے؟ آؤ ہم آمنے سامنے کھڑے ہُوں! میرا مُدّعی کون ہے؟ وہ میرے مقابل ہو!
ISA 50:9 یَاہوِہ قادر میرے مددگار ہیں۔ کون ہے جو مُجھے مُجرم قرار دے گا؟ وہ سَب کپڑے کی طرح پُرانے ہو جایٔیں گے؛ کیڑے اُنہیں کھا جایٔیں گے۔
ISA 50:10 تُم میں کون یَاہوِہ کا خوف رکھتا ہے اَور اُن کے خادِم کی باتیں سُنتا ہے؟ جو تاریکی میں چلتا ہے، اَور رَوشنی سے محروم ہے، وہ یَاہوِہ کے نام پر توکّل کرے اَور اَپنے خُدا پر بھروسا رکھے۔
ISA 50:11 لیکن تُم سَب جو آگ سُلگاتے ہو اَور اَپنے لیٔے بڑی بڑی مشعلوں کا اہتمام کرتے ہو، جاؤ، اَپنی آگ کے شُعلوں اَور اُن مشعلوں کی بھڑکتی رَوشنی میں چلو جنہیں تُم نے سُلگا رکھتا ہے۔ تُم میرے ہاتھ سے یہی پاؤگے: تُم عذاب میں پڑے رہوگے۔
ISA 51:1 اَے لوگو، تُم جو راستبازی کے پیروی کرتے ہو اَور یَاہوِہ کے طالب ہو، میری سُنو: جِس چٹّان میں سے تُم کاٹے گیٔے اَور جِس کان میں سے تُم کھودے اَور تراشے گیٔے، اُس پر نظر کرو:
ISA 51:2 اَپنے باپ اَبراہامؔ پر، اَور سارہؔ پر جِس نے تُمہیں پیدا کیا، نظر کرو۔ جَب مَیں نے اُسے بُلایا وہ اکیلا تھا، اَور مَیں نے اُسے برکت دی اَور اُسے کثرت بخشی۔
ISA 51:3 یقیناً یَاہوِہ صِیّونؔ کو تسلّی دے گا اَور اُس کے تمام بنجر زمینوں پر نظرِ عنایت کرےگا؛ اَور اُس کے صحراؤں کو عدنؔ کی مانند اَور اُس کے بنجر علاقہ کو یَاہوِہ عدنؔ کی مانند کر دے گا۔ اُس میں خُوشی اَور خُرّمی، اَور شُکر گزاری اَور گانے کی آواز پائی جائے گی۔
ISA 51:4 اَے میرے لوگو، میری طرف متوجّہ ہو؛ اَے میری اُمّت، میری طرف کان لگا: ہدایات میری طرف سے دی جائے گی میرا عدل قوموں کے لیٔے نُور ٹھہرے گا۔
ISA 51:5 میری راستی تیزی سے قریب آ رہی ہے، اَور میری نَجات راہ میں ہے، میں اَپنے بازو (کی قُوّت) سے قوموں پر حُکمرانی کروں گا۔ جزیرے میری راہ دیکھیں گے اَور میرے بازو پر اُمّید لگائے بیٹھیں گے۔
ISA 51:6 اَپنی نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھاؤ، اَور نیچے زمین کو دیکھو؛ آسمان دھوئیں کی مانند غائب ہو جایٔیں گے، اَور زمین کپڑے کی طرح پُرانی ہو جائے گی اَور اُس کے باشِندے مکھّیوں کی طرح مَر جایٔیں گے۔ لیکن میری نَجات اَبد تک قائِم رہے گی، اَور میری راستی کبھی موقُوف نہ ہوگی۔
ISA 51:7 ”اَے لوگو! تُم جو صداقت سے آشنا ہو، جِن کے دِلوں میں میری ہدایت ہے، کان لگا کر میری سُنو: لوگوں کی ملامت سے مت ڈرو اَور اُن کی طَعنہ زنی سے خوفزدہ نہ ہو۔
ISA 51:8 کیونکہ اُنہیں کپڑے کی طرح گھُن لگ جائے گا؛ اَور کیڑا اُن کو اُون کی طرح چٹ کر جائے گا۔ لیکن میری راستبازی اَبد تک قائِم رہے گی، اَور میری نَجات پُشت در پُشت برقرار رہے گی۔“
ISA 51:9 جاگو، جاگو، اَے یَاہوِہ کے بازو، طاقت کے لباس کو پہن لو؛ گذشتہ ایّام کی طرح، اَور قدیم نَسلوں کی مانند، جاگ اُٹھ۔ کیا تُو وُہی نہیں جِس نے راحبؔ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے، جِس نے اَژدہا کو آرپار چھیدا؟
ISA 51:10 کیا تُو وُہی نہیں جِس نے سمُندر کو، یعنی گہراؤ کے پانی کو خشک کر دیا، جِس نے سمُندر کی تہہ میں راستہ بنا دیا؛ تاکہ جِن کا فدیہ دیا گیا وہ اُسے عبور کر سکیں؟
ISA 51:11 اَور وہ جِن کا یَاہوِہ نے فدیہ دیا ہے لَوٹیں گے۔ اَور گاتے ہُوئے صِیّونؔ میں داخل ہوں گے؛ اَبدی خُوشی اُن کے سَر کا تاج ہوگی۔ وہ خُوشی اَور شادمانی پائیں گے، اَور غم و آہ کافُور ہو جایٔیں گے۔
ISA 51:12 ”مَیں ہی، میں ہوں، تُمہیں تسلّی بخشتا ہُوں۔ تُم کون ہو جو فانی اِنسان سے اَور آدمؔ زاد جو محض گھاس ہیں، ڈرتے ہو،
ISA 51:13 تُم اَپنے یَاہوِہ اَور خالق کو بھُول جاتے ہو، جِس نے آسمان کو تانا اَور زمین کی بُنیاد ڈالی، اَور ظالِم کے غضب کی وجہ سے جو تباہی پر تُلا ہُواہے، تُجھے ہر روز اَور ہر گھڑی ڈر لگا رہتاہے؟ پر ظالِم کا غضب ہے کہاں؟
ISA 51:14 خوفزدہ قَیدی جلد ہی آزاد کئے جایٔیں گے؛ وہ قَیدخانہ کی کوٹھری میں نہ مَریں گے، اَور نہ اُنہیں روٹی کی کمی ہوگی۔
ISA 51:15 کیونکہ مَیں یَاہوِہ تیرا خُدا ہُوں، جو سمُندر کو حرکت دیتاہے تاکہ اُس کی موجیں اُچھلنے لگیں جِن کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے۔
ISA 51:16 مَیں نے اَپنا کلام تیرے مُنہ میں ڈال دیا ہے اَور تُجھے اَپنے ہاتھ کے سایہ میں چھُپا رکھتا ہے مَیں جو افلاک کو اُن کی جگہ پر قائِم کرتا ہُوں، جِس نے زمین کی بُنیاد ڈالی، اَورجو اہلِ صِیّونؔ سے کہتاہے، ’تُم میرے لوگ ہو۔‘ “
ISA 51:17 جاگو، جاگو! اُٹھ جاؤ، اَے یروشلیمؔ، تُو، جِس نے یَاہوِہ کے ہاتھ سے اُن کے غضب کا پیالہ پیا ہے، تُونے اُس جام کو تہہ تک خالی کر دیا جسے پی کر لوگ ڈگمگا جاتے ہیں۔
ISA 51:18 جتنے بیٹے اُس سے پیدا ہوئے اُن میں سے کویٔی نہ رہا جو اُس کا رہنما ہوتا؛ جتنے بچّے اُس نے پالے پوسے اُن میں سے کویٔی نہ رہا جو اُس کا ہاتھ پکڑتا۔
ISA 51:19 یہ دو دو مُصیبتیں تُجھ پر آ پڑیں کون تیرا غم خوار ہوگا؟ ویرانی اَور تباہی، قحط اَور تلوار کون تُجھے تسلّی دے؟
ISA 51:20 تیرے بیٹے غش کھا کر؛ ہر ایک کوچہ کے سِرے پر اَیسے پڑے ہُوئے ہیں، جَیسے ہِرن جال میں پھنسا ہو۔ وہ یَاہوِہ کے غضب اَور تیرے خُدا کی دھمکی سے بے خُود ہیں۔
ISA 51:21 اِس لیٔے اَے مُصیبت زدہ، تُو جو مخمور ہے لیکن مَے سے نہیں، یہ بات سُن۔
ISA 51:22 تیرا یَاہوِہ قادر، ہاں تیرا خُدا، جو اَپنے لوگوں کا دفاع کرتا ہے، یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھ، جِس پیالہ نے تُجھے ڈگمگا دیا اُسے مَیں نے تیرے ہاتھ سے لے لیا ہے؛ اِس پیالہ میں سے جو میرے قہر کا جام ہے، تُو پھر کبھی نہ پیئے گی۔
ISA 51:23 میں اِسے اُن کے ہاتھ میں دُوں گا جنہوں نے تُجھے سخت اَذیّت پہُنچائی، اَور تُجھ سے کہا، لیٹ جا تاکہ ہم تیرے اُوپر سے گزریں۔ اَور تُونے اَپنی پیٹھ کو زمین بنا دیا، گویا وہ سڑک ہو جِس پر سے لوگ گزرتے ہیں۔“
ISA 52:1 اَے صِیّونؔ، جاگو، جاگو، اَور طاقت کے لباس کو پہن لو۔ اَے مُقدّس شہر، یروشلیمؔ، اَپنا شان و شوکت کے لباس کو پہن لے۔ نامختون اَور ناپاک لوگ پھر کبھی تُجھ میں داخل نہ ہوں گے۔
ISA 52:2 اَے یروشلیمؔ اَپنے اُوپر سے گَرد جھاڑ دے؛ اُٹھ اَور تخت نشین ہو اَے صِیّونؔ کی اسیر بیٹی اَپنے گلے کے طوق کھول کر اَپنے آپ کو آزاد کر لے۔
ISA 52:3 کیونکہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”تُم مُفت بیچے گیٔے تھے، اَور بغیر زَر ہی رِہا کئے جاؤگے۔“
ISA 52:4 کیونکہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ”اِبتدا میں میرے لوگ مِصر میں رہنے گیٔے؛ کچھ دِن پہلے اشُوریوں نے اُن پر ظُلم ڈھائے۔
ISA 52:5 ”اَور اَب یہاں میرے پاس کیا ہے؟“ پس یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”کیونکہ میرے لوگ بلاوجہ لے جائے گیٔے، اَورجو اُن پر حُکومت کرتے ہیں وہ اُن کا مضحکہ اُڑاتے ہیں۔“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔ ”اَور دِن بھر میرے نام پر مُتواتر کُفر بکا جاتا ہے۔
ISA 52:6 اِس لیٔے میرے لوگ میرا نام جانیں گے؛ اِس لیٔے اُس دِن وہ جانیں گے کہ وہ میں ہی ہُوں جِس نے یہ پیشن گوئی کی تھی، ہاں وہ میں ہی ہُوں۔“
ISA 52:7 پہاڑوں پر اُن کے قدم کیسے خُوشنما ہیں جو خُوشخبری لاتے ہیں، اَور سلامتی کی مُنادی کرتے ہیں، اَور اَچھّی خبر لاتے ہیں، اَور نَجات کا اعلان کرتے ہیں، اَور صِیّونؔ سے کہتے ہیں، ”کہ تمہارا خُدا حُکمرانی کرتا ہے!“
ISA 52:8 سُن، تیرے پہرےدار اَپنی آواز بُلند کرتے ہیں؛ اَور اِکٹھّے خُوشی سے للکارتے ہیں۔ جَب یَاہوِہ صِیّونؔ واپس آئے گے، وہ اُسے اَپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔
ISA 52:9 اَے یروشلیمؔ کے ویرانو، سَب مِل کر خُوشی کے نغمہ گاؤ، کیونکہ یَاہوِہ نے اَپنے لوگوں کو تسلّی دی، اُنہُوں نے یروشلیمؔ کا فدیہ دیا۔
ISA 52:10 یَاہوِہ تمام قوموں کی آنکھوں کے سامنے اَپنا مُقدّس بازو برہنہ کرے گے، اَور زمین کی اِنتہا تک تمام لوگ ہمارے خُدا کی نَجات دیکھ لیں گے۔
ISA 52:11 یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے ظروف اُٹھانے والو، چلے جاؤ، چلے جاؤ، وہاں سے باہر نکل آؤ! جو چیز ناپاک ہے اُسے مت چھُوؤ! وہاں سے نکل آؤ اَور پاک ہو جاؤ۔
ISA 52:12 لیکن تُم جلدی سے نہ نکلوگے نہ تیزی سے بھاگوگے؛ کیونکہ یَاہوِہ تمہارے آگے آگے چلے گے، اَور اِسرائیل کا خُدا پیچھے سے تمہاری حِفاظت کرےگا۔
ISA 52:13 دیکھو، میرا خادِم حِکمت سے کام لے گا؛ وہ سرفراز ہوں گے، اُوپر اُٹھایا جائے گا اَور بڑا عروج پایٔےگا۔
ISA 52:14 جِس طرح بہت سے لوگ اُسے دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے کیونکہ اُس کی شکل و صورت بگڑ کر بالاتر ہو گئی اَور اُس کی شکل اِنسانی مُشابَہت سِی نہ رہ گئی تھی
ISA 52:15 اُسی طرح بہت سِی قومیں اُسے دیکھ کر تعجُّب کریں گی، اَور بادشاہ اُس کی وجہ سے اَپنا مُنہ بند کریں گے۔ کیونکہ وہ اَیسی بات دیکھیں گے جنہیں اُس کی خبر تک نہیں پہُنچی، اَور اَیسی خبر اُن کی سمجھ میں آئے گی جنہیں اُنہُوں نے ابھی سُنا تک نہیں۔
ISA 53:1 ہمارے پیغام پر کون ایمان لایا اَور یَاہوِہ کے ہاتھ کس پر ظاہر ہُوا
ISA 53:2 وہ اُس کے سامنے ایک نازک ٹہنی کی طرح، اَور اَیسی جڑ کی مانند تھا جو خشک زمین میں سے پھوٹ نکلی ہو۔ اُس میں نہ کویٔی حُسن تھا نہ جلال کہ ہم اُس پر نظر ڈالتے، نہ اُن کی شکل و صورت میں کویٔی اَیسی خُوبی تھی کہ ہم اُس کے مُشتاق ہوتے۔
ISA 53:3 لوگوں نے اُسے حقیر جانا اَور ردّ کر دیا، وہ ایک غمگین اِنسان تھا جو رنج سے آشنا تھا۔ اَور اُس شخص کی مانند تھا جسے دیکھ کر لوگ مُنہ موڑ لیتے ہیں وہ حقیر سمجھا گیا اَور ہم نے اُن کی کچھ قدر نہ جانی۔ بے شک اُس نے ہمارا درد اُٹھایا اَور ہماری تکلیف برداشت کی۔
ISA 53:4 یقیناً اُس نے ہمارے درد اَور بیماریاں برداشت کیں اَپنے اُوپر اُٹھالیا پھر بھی ہم نے اُسے خُدا کا مارا، کُوٹا اَور ستایا ہُوا سمجھا۔
ISA 53:5 لیکن وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کیا گیا، اَور ہماری بداعمالی کے باعث کُچلا گیا؛ جو سزا ہماری سلامتی کا باعث ہُوئی وہ اُن پرائی، اَور اُس کے کوڑے کھانے سے ہم شفایاب ہُوئے۔
ISA 53:6 ہم سَب بھیڑوں کی مانند بھٹک گیٔے، ہم میں سے ہر ایک نے اَپنی اَپنی راہ لی؛ اَور یَاہوِہ نے ہم سَب کی بدکاری اُس پر لاد دی۔
ISA 53:7 وہ ستایا گیا اَور زخمی ہُوا، پھر بھی اُس نے اَپنا مُنہ نہ کھولا؛ بھیڑ کی طرح ذبح کرنے کے لیٔے لے گیٔے، اَور جِس طرح برّہ اَپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زبان ہوتاہے، اُسی طرح اُنہُوں نے بھی اَپنا مُنہ نہیں کھولا۔
ISA 53:8 گِرفتار کرکے اَور مُجرم قرار دے کر وہ اُسے لے گیٔے۔ کون اُن کی نَسل کا حال بَیان کرےگا؟ کیونکہ وہ زندوں کی زمین پر سے کاٹ ڈالا گیا؛ اَور میرے لوگوں کے سرکشی کے سبب اُس پر مار پڑی۔
ISA 53:9 وہ بدکاروں کے درمیان دفنایا گیا، لیکن ایک اَیسی قبر میں رکھا گیا جو کسی دولتمند کے لیٔے بنائی گئی تھی، حالانکہ اُس نے کبھی ظُلم نہ کیا، نہ ہی اُن کے مُنہ سے کویٔی فریب کی بات نکلی۔
ISA 53:10 پھر بھی یہ یَاہوِہ کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے اَور غمگین کرے، اَور حالانکہ یَاہوِہ اُس کی جان کو خطا کی قُربانی قرار دیتے ہیں، تو بھی وہ اَپنی اَولاد دیکھ پایٔےگا اَور اُس کی عمر دراز ہوگی، اَور اُس کے ہاتھ کے وسیلہ سے یَاہوِہ کی مرضی پُوری ہوگی۔
ISA 53:11 اَپنی جان کا دُکھ اُٹھاکر، وہ زندگی کا نُور دیکھے گا اَور مطمئن ہوگا؛ اَپنے ہی عِرفان کے باعث میرا صادق خادِم بہُتوں کو راستباز ٹھہرائے گا، اَور وہ اُن کی بدکاریاں خُود اُٹھالے گا۔
ISA 53:12 اِس لیٔے میں اُسے عظیم لوگوں کے ساتھ حِصّہ دُوں گا، اَور وہ زور آوروں کے ساتھ لُوٹ کا مال بانٹ لے گا، کیونکہ اُس نے اَپنی جان موت کے لیٔے اُنڈیل دی، اَور وہ بدکاروں کے ساتھ شُمار کیا گیا۔ کیونکہ اُس نے بہُتوں کے گُناہ اُٹھا لیٔے، اَور بدکاروں کے لئے شفاعت کی۔
ISA 54:1 اَے بانجھ عورت، تُم جو بے اَولاد رہی، نغمہ گا؛ تُم کو جسے کبھی دردِزہ نہ ہُوا، نغمہ سرائی کر اَور خُوشی سے للکار، کیونکہ یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ چھوڑی ہُوئی عورت کی اَولاد شوہر والی کی اَولاد سے زِیادہ ہوگی۔
ISA 54:2 اَپنے خیمہ کے احاطہ کو بڑھا، اَور اُس کے پردے وسیع کر، دریغ نہ کر۔ اَپنی رسّیوں کی لمبائی بڑھا، اَور اَپنی میخیں مضبُوط کر۔
ISA 54:3 کیونکہ تُم داہنی اَور بائیں طرف پھیلے گی؛ اَور تیری نَسل قوموں کو ہٹا کر اُن کے ویران شہروں میں بسیں گی۔
ISA 54:4 خوف نہ کر کیونکہ تُم پھر پشیمان نہ ہوگی۔ رُسوائی کا خوف نہ کر کیونکہ تُم ذلیل نہ کی جائے گی۔ تُم اَپنا جَوانی کی شرم کو بھُول جائے گی اَور اَپنی بیوگی کی عاؔر کو پھر یاد نہ کرےگی۔
ISA 54:5 کیونکہ تمہارا خالق ہی تمہارا خَاوند ہے جِن کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے تمہارا نَجات دِہندہ اِسرائیل کا قُدُّوس ہے؛ جو سارے جہان کا خُدا کہلاتا ہے۔
ISA 54:6 کیونکہ تمہارا خُدا فرماتا ہے: یَاہوِہ تُمہیں اَیسے بُلائیں گے گویا تُم متروکہ بیوی اَور دِل آزردہ عورت تھی جِس کی شادی نوجوانی میں ہو گئی، لیکن اُسے فوراً ترک کر دیا گیا۔
ISA 54:7 کچھ دیر کے لیٔے مَیں نے تُجھے چھوڑ دیا تھا، لیکن اَپنی بے پناہ گہری شفقت کے باعث مَیں تُجھے واپس لاؤں گا۔
ISA 54:8 یَاہوِہ تمہارے نَجات دِہندہ فرماتے ہیں: سخت غُصّہ کی حالت میں مَیں نے پل بھرکے لیٔے تُجھ سے مُنہ چھُپا لیا تھا، پر اَب اَبدی شفقت سے مَیں تُجھ پر رحم کروں گا۔
ISA 54:9 یہ میرے لیٔے نوحؔا کے دِنوں کی طرح ہے، جَب مَیں نے قَسم کھائی تھی کہ زمین پر نوحؔا کا سا سیلاب پھر کبھی نہ آئے گا۔ پس اَب مَیں نے قَسم کھائی ہے کہ مَیں تُجھ پر خفا نہ ہوں گا، اَور نہ ہی تُجھے کبھی ڈانٹوں گا۔
ISA 54:10 یَاہوِہ جو تُجھ پر مہربان ہے، یُوں کہتاہے: خواہ پہاڑ ہلا دئیے جایٔیں اَور ٹیلے سَرکا دئیے جایٔیں، مگر میری لافانی مَحَبّت تُجھ پر سے کبھی نہ ہٹے گی اَور نہ ہی میرا عہدِ اَمن کبھی ٹلےگا۔
ISA 54:11 اَے مُصیبت زدہ شہر، جو طُوفان کا مارا ہُوا اَور تسلّی سے محروم ہے، مَیں تُجھے سنگِ فیروزہ سے تعمیر کروں گا، اَور تیری بُنیادیں نیلم سے ڈالوں گا۔
ISA 54:12 مَیں تیرے قلعہ کی فصیل لعلوں سے، اَور تیرے پھاٹک چمکدار جواہرات سے، اَور تیری تمام دیواریں بیش قیمت پتّھروں سے بناؤں گا۔
ISA 54:13 آپ کے تمام فرزند کو یَاہوِہ علم بخشیں گے، اَور آپ کے بچّوں کو کامل تسلّی مُیسّر ہوگی۔
ISA 54:14 تُو راستبازی سے پائدار ہو جائے گی: تُو ظُلم سے دُور رہے گی؛ تُجھے کسی بات کا خوف نہ ہوگا۔ دہشت دُور کر دی جائے گی؛ وہ تیرے نزدیک نہ آئے گی۔
ISA 54:15 اگر کویٔی تُجھ پر حملہ کرتا ہے تو وہ میری جانِب سے نہ ہوگا؛ اَورجو بھی تُجھ پر حملہ آور ہوگا وُہی تیرا مطیع ہو جائے گا۔
ISA 54:16 ”دیکھ، مَیں نے ہی لوہار کو پیدا کیا جو کوئلوں کو سُلگا کر شُعلے پیدا کرتا ہے اَور اَپنے کام کے لیٔے مُناسب ہتھیار تیّار کرتا ہے۔ اَور مَیں نے ہی تباہ گِر کو پیدا کیا تاکہ وہ تباہی مچائے؛
ISA 54:17 تیرے خِلاف بنایا گیا کویٔی بھی ہتھیار کامیاب نہ ہوگا، اَور تُو ہر اُس زبان کو جو تُجھے مُلزم قرار دے گی جھُوٹا ثابت کر دے گا۔ کہ یہ ہی ہے یَاہوِہ کے خادِموں کی مِیراث اَور یہ ہی ہے میری طرف سے اُن کی راستبازی،“ یَاہوِہ کا یہ ہی فرمان ہے۔
ISA 55:1 ”آؤ اَے سَب پیاسے لوگو، پانی کے پاس آؤ؛ اَور جِن کے پاس پیسے نہیں، وہ بھی آؤ، لو اَور کھاؤ! آؤ اَور بِنا نقدی اَور بنا قیمت مَے اَور دُودھ خریدو۔
ISA 55:2 جو روٹی نہیں تُم اُس چیز کے لیٔے پیسہ کیوں خرچ کرتے ہو، اَورجو شَے سیر نہیں کرتی اُس کے واسطے محنت کیوں کرتے ہو؟ سُنو، میری سُنو، اَورجو چیز اَچھّی ہے وُہی کھاؤ، اَور تمہاری جان لذیذ کھانوں کے مزے لے گی۔
ISA 55:3 کان لگاؤ اَور میرے پاس آؤ؛ میری سُنو تاکہ تُم زندہ رہے۔ میں تُم سے اَبدی عہد باندھوں گا، یعنی میری وفا اَور اَبدی رحمت جِن کا وعدہ مَیں نے داویؔد سے کیا تھا۔
ISA 55:4 دیکھو، مَیں نے اُسے قوموں کے لیٔے گواہ، اَور اُمّتوں کے لیٔے حاکم اَور رہنما مُقرّر کیا ہے۔
ISA 55:5 یقیناً تُو اَیسی قوموں کو بُلائے گا جنہیں تُو نہیں جانتا، اَورجو قومیں تُجھے نہیں جانتیں وہ تیرے پاس دَوڑی چلی آئیں گی۔ یہ یَاہوِہ تیرے خُدا، اَور اِسرائیل کے قُدُّوس کی وجہ سے ہوگا، جنہوں نے تُجھے جلال بخشا ہے۔“
ISA 55:6 جَب تک یَاہوِہ مِل سَکتا ہے اُس کے طالب ہو؛ اَور جَب تک وہ نزدیک ہے اُسے پُکارو۔
ISA 55:7 بدکار اَپنی راہ چھوڑ دے اَور بد کِردار اَپنے خیالات کو ترک کرے۔ وہ یَاہوِہ کی طرف پھرے اَور وہ اُس پر رحم کرےگا، اَور ہمارے خُدا کی طرف رُجُوع کرے کیونکہ وہ کثرت سے مُعاف کرےگا۔
ISA 55:8 یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ میرے خیالات تمہارے خیالات نہیں، اَور نہ تمہاری راہیں میری راہیں ہیں۔
ISA 55:9 ”جِس طرح آسمان زمین سے اُونچے ہیں، اُسی طرح میری راہیں تمہاری راہوں سے اَور میرے خیالات تمہارے خیالات سے بُلند تر ہیں۔
ISA 55:10 جِس طرح آسمان سے بارش ہوتی اَور برف گرتی ہے، اَور پھر واپس نہیں جاتی جَب تک کہ زمین کو شاداب کرکے اُس میں پھُول اَور پھل نہ اُگا دے، تاکہ بونے والے کو بیج اَور کھانے والے کو روٹی مُہیّا ہو،
ISA 55:11 اُسی طرح سے میرا کلام ہے جو میرے مُنہ سے نکلتا ہے: وہ میرے پاس بیکار واپس نہ آئے گا، بَلکہ میری مرضی پُوری کرےگا اَور اُس مقصد میں کامیاب ہوگا جِس کے لیٔے مَیں نے اُسے بھیجا تھا۔
ISA 55:12 کیونکہ تُم خُوشی سے نکلوگے اَور سلامتی کے ساتھ روانہ کئے جاؤگے؛ پہاڑ اَور ٹیلے تمہارے سامنے خُوشی کے نغمے گائیں گے، اَور میدان کے تمام درخت تالیاں بجائیں گے۔
ISA 55:13 جھاڑی کی جگہ صنوبر نکلے گا، اَور گھاس پھُوس کی بجائے مہندی کا درخت۔ یہ یَاہوِہ کے لیٔے نام ہوگا، اَور ایک اَبدی نِشان، جو کبھی نہ مٹے گا۔“
ISA 56:1 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اِنصاف کو قائِم رکھّو اَور وُہی کرو جو صحیح ہے، کیونکہ تیری نَجات قریب ہے اَور میری راستی جلد عیاں ہوگی۔
ISA 56:2 مُبارک ہے وہ شخص جو اِس پر عَمل کرتا ہے، اَور وہ آدمی جو اِس پر قائِم رہتاہے، جو سَبت کو ناپاک کئے بِنا اُسے مانتا ہے اَور اَپنا ہاتھ ہر قِسم کی بدی سے روکے رکھتا ہے۔“
ISA 56:3 کویٔی پردیسی جو یَاہوِہ سے مِل چُکاہے یہ نہ کہے، ”یَاہوِہ یقیناً مُجھے اَپنے لوگوں سے جُدا کر دیں گے۔“ اَور کوئی خواجہ سرا شکایت نہ کرے۔ ”کہ میں تو محض سُوکھا درخت ہُوں۔“
ISA 56:4 کیونکہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”وہ خواجہ سرا جو میری سَبت کو مانتے ہیں، اَور اُن کاموں کو اِختیار کرتے ہیں جو مُجھے پسند ہیں اَور میرے عہد پر قائِم رہتے ہیں
ISA 56:5 میں اُنہیں اَپنی ہیکل اَور اُس کی چار دیواری میں اَیسا نام اَور نِشان دُوں گا جو بیٹوں اَور بیٹیوں سے بھی بڑھ کر ہوگا؛ میں اُن کو ایک اَبدی نام دُوں گا جو کبھی مٹایا نہ جائے گا۔
ISA 56:6 اَور پردیسی لوگ جو اَپنے آپ کو یَاہوِہ سے وابستہ کرتے ہیں تاکہ اُن کی خدمت کریں، اَور اُن کے نام کو عزیز رکھیں اَور اُن کی عبادت کریں، وہ سَب جو سَبت کو مانتے ہیں اَور اُسے ناپاک نہیں کرتے اَور میرے عہد پر قائِم رہتے ہیں
ISA 56:7 اُن سَب کو میں اَپنے مُقدّس پہاڑ پر لاؤں گا اَور اُنہیں اَپنی دُعا کے گھر میں شادمان کروں گا۔ اُن کی سوختنی نذریں اَور ذبیحے میرے مذبح پر مقبُول ہوں گے؛ کیونکہ میرا گھر سَب قوموں کے لیٔے دعا کا گھر کہلائے گا۔“
ISA 56:8 یَاہوِہ قادر مختار جو اِسرائیل کے جَلاوطنوں کو جمع کرتا ہے، فرماتے ہیں: ”میں اَوروں کو بھی جمع کرکے اُن کے ساتھ مِلا دُوں گا جو پہلے ہی جمع کر دئیے گیٔے ہیں۔“
ISA 56:9 آؤ، اَے دشت کے سَب حَیوانو، آؤ اَور کھاؤ، اَے جنگل کے سَب درندو!
ISA 56:10 اِسرائیل کے پہرےدار اَندھے ہیں وہ سَب جاہل ہیں؛ وہ سَب گُونگے کُتّے ہیں، جو بھونک نہیں سکتے؛ وہ پڑے پڑے خواب دیکھتے رہتے ہیں، اَور اُنہیں نیند پسند ہے۔
ISA 56:11 وہ بھُوکے کُتّے ہیں؛ جو کبھی سیر نہیں ہوتے۔ وہ نادان چرواہے ہیں؛ وہ سَب اَپنی اَپنی راہ کو پھر گیٔے، اَور ہر ایک اَپنا ہی نفع ڈھونڈتا ہے۔
ISA 56:12 ہر ایک پُکارتا ہے: ”آؤ، میں مے لاتا ہُوں! ہم شراب پی کر مست ہو جایٔیں گے! اَور کل بھی آج ہی کی طرح ہوگا، بَلکہ اِس سے بھی بہت بہتر!“
ISA 57:1 صادق ہلاک ہوتے ہیں، اَور کویٔی اِس بات کو خاطِر میں نہیں لاتا؛ خُداپرست اُٹھا لیٔے جاتے ہیں، اَور کویٔی نہیں سمجھتا کہ راستباز اِس لیٔے اُٹھا لیٔے جاتے ہیں تاکہ وہ آفت سے بچ سکیں۔
ISA 57:2 راستی پر چلنے والے سلامتی میں داخل ہوتے ہیں؛ اَور موت کی حالت میں آرام پاتے ہیں۔
ISA 57:3 ”لیکن تُم اَے جادُوگرنی کے بیٹو، اَور زانی اَور فاحِشہ کی اَولاد اِدھر آؤ!
ISA 57:4 تُم کس کا مضحکہ اُڑاتے ہو؟ اَور کس پر مُنہ پھاڑتے اَور زبان درازی کرتے ہو؟ کیا تُم باغی نَسل اَور جھوٹوں کی اَولاد نہیں ہو؟
ISA 57:5 تُم جو بلُوط کے درختوں کے درمیان اَور ہر سایہ دار درخت کے نیچے شہوت میں غرق ہو جاتے ہو؛ وادیوں میں اَور چٹّانوں کے شگافوں کے درمیان اَپنے بچّوں کو ذبح کرتے ہو۔
ISA 57:6 وادی کے چِکنے پتّھر ہی تیرا بَخرہ ہیں؛ وُہی، ہاں وُہی تیرا حِصّہ ہیں۔ ہاں، اُن کے لیٔے تُم تپاون دیتے ہو اَور اناج کو بطور ہدیہ پیش کرتے ہو۔ کیا میں اِن باتوں سے خُوش ہوؤں؟
ISA 57:7 ایک اُونچے اَور بُلند پہاڑ پر تُونے اَپنا بِستر بچھایا ہے؛ وہیں تُو اَپنی قُربانیاں پیش کرنے کو چڑھ گئی۔
ISA 57:8 اَپنے دروازوں اَور چوکھٹوں کے پیچھے تُم نے معبُودوں کا نِشان بنایا۔ مُجھے بھُلا کر تُم نے اَپنا بِستر کھول دیا، تُم اُس پر چڑھی اَور اُسے خُوب کشادہ کیا؛ اَور جِن جِن کے بِستر تُجھے پسند آئے اَور تُم نے اُنہیں عُریاں دیکھا، اُن کے ساتھ تُم نے عہد کر لیا۔
ISA 57:9 تُم خُوب مُعطّر ہوکر زَیتُون کا تیل لے کر تُم مولکؔ یعنی بادشاہ کے پاس گئی۔ تُم نے اَپنے سفیر دُور دراز بھیج دئیے؛ یہاں تک کہ تُم خود موت کی سلطنت میں گزر گئی!
ISA 57:10 اَپنی اِن روِشوں کے باعث تُم تھک گئیں، پھر بھی یہ نہ کہا، ’یہ بے فائدہ ہے۔‘ تُجھے اَیسا لگا گویا تیری توانائی لَوٹ آئی، اِس لیٔے تُونے نقاہت محسُوس نہ کی۔
ISA 57:11 ”آخِر تُو کس سے اِس قدر خوفزدہ اَور سہمی ہُوئی ہے کہ تُونے مُجھ سے بےوفائی کی، اَور مُجھے یاد تک نہ کیا نہ ہی دِل میں اِن باتوں پر غور کیا؟ کیا یہ اِس لیٔے نہیں کہ میں بہت عرصہ سے خاموش رہا جو تُو میرا خوف نہیں رکھتی؟
ISA 57:12 مَیں تیری راستبازی کو اَور تیرے کاموں کو ظاہر کر دُوں گا، اَور اُن سے تُجھے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
ISA 57:13 جَب تُو مدد کے لیٔے چِلّایٔے، تَب تیرے جمع کئے ہُوئے بُت ہی تُجھے بچائیں! لیکن ہَوا اُن سَب کو اُڑا لے جائے گی، محض ایک سانس اُن کو اُڑا لے جائے گی۔ لیکن جو شخص مُجھ میں پناہ لیتا ہے وہ زمین کا مالک ہوگا اَور میرے مُقدّس پہاڑ کا بھی وارِث ہوگا۔“
ISA 57:14 اَور یہ کہا جائے گا: ”راستہ بناؤ، بناؤ، راہ تیّار کرو! میرے لوگوں کی راہ میں سے رُکاوٹیں دُور کرو۔“
ISA 57:15 کیونکہ جو اعلیٰ اَور بُزرگ اَور تا اَبد قائِم رہے گا اَور جِس کا نام قُدُّوس ہے یُوں فرماتے ہیں: ”میں بُلند اَور پاک مقام میں رہتا ہُوں، وُہی جو شکستہ دِل اَور فروتن ہے اُس کے ساتھ بھی ہُوں، تاکہ فروتن کی رُوح کو اَور شکستہ دِل کے دِل کو بحال کروں۔
ISA 57:16 اگر مَیں ہمیشہ اِلزام لگاتا رہتا، اَور سدا غُصّہ کئے جاتا، تو اِنسان کی رُوح میرے رُوبرو پست ہو جاتی اَور آدمی کا دَم جسے مَیں نے پیدا کیا ہے، نابود ہو جاتا۔
ISA 57:17 میں اُس کے لالچ کے گُناہ آلُودہ کے سبب سے خفا ہَوا تھا؛ مَیں نے اُسے سزا دی اَور غُصّہ میں اَپنا مُنہ چھُپا لیا، پھر بھی وہ اَپنی مَن مانی حرکتوں سے باز نہ آیا۔
ISA 57:18 میں اُس کی راہوں سے واقف ہُوں لیکن مَیں اُسے شفا بخشوں گا؛ میں اُس کی رہبری کروں گا اَور اِسرائیل کے غم خواروں کو دِلاسا دوں گا۔
ISA 57:19 اُن کے لبوں پر سِتائش کے نغمہ آ جایٔیں۔ کہ جو دُور ہیں اَورجو نزدیک ہیں، سَب کے لیٔے سلامتی ہی سلامتی ہے،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں ”اَور مَیں اُنہیں شفا بخشوں گا۔“
ISA 57:20 لیکن بدکار موجزن سمُندر کی طرح ہیں، جو کبھی ساکن نہیں رہ سَکتا، اَور جِس کی لہریں کیچڑ اَور مٹّی اُچھالتی ہیں۔
ISA 57:21 خُدا فرماتے ہیں، ”بدکاروں کے لیٔے سلامتی نہیں ہے۔“
ISA 58:1 ”زور سے چِلّا، بالکُل نہ جِھجک۔ نرسنگے کی مانند اَپنی آواز بُلند کر۔ میرے لوگوں پر اُن کی سرکشی اَور یعقوب کے گھرانے پر اُن کے گُناہ ظاہر کر دے۔
ISA 58:2 کیونکہ روز بروز وہ میرے طالب ہوتے ہیں؛ اَور میری راہیں جاننے کے اِس طرح مُشتاق نظر آتے ہیں، جَیسے کویٔی قوم راستی پر چلتی ہو اَور جِس نے اَپنے خُدا کے اَحکام کو فراموش نہیں کیا۔ وہ مُجھ سے مُنصِفانہ فیصلے طلب کرتے ہیں اَور خُدا کی نزدیکی کے مُشتاق نظر آتے ہیں
ISA 58:3 وہ کہتے ہیں، ’ہم نے روزے کس لیٔے رکھے، جَب کہ تُونے اُنہیں دیکھا تک نہیں؟ ہم فروتن ہُوئے، اَور تُونے دھیان نہیں دیا۔‘ ”پھر بھی اَپنے روزے کے دِن تُم اَپنی ہی مرضی پُوری کرتے ہو اَور اَپنے تمام کارندوں سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہو۔
ISA 58:4 تمہارا روزہ لڑنے جھگڑنے اَور ایک دُوسرے کو بُری طرح گھونسے مارنے پر ختم ہوتاہے۔ جَیسا روزہ تُم اَب رکھتے ہو اُس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ تمہاری فریاد عالمِ بالا پر سُنی جائیگی۔
ISA 58:5 کیا مَیں نے اَیسا روزہ پسند کیا ہے، کہ اِنسان محض روزہ کے دِن ہی نَفس کُشی کرے، سَرکنڈے کی طرح اَپنے سَر کو جُھکائے، اَور ٹاٹ اَور راکھ بچھا کر اُس پر بیٹھا رہے؟ کیا اِسی کو تُم روزہ اَور اَیسا دِن کہتے ہو، جو یَاہوِہ کو مقبُول ہو؟
ISA 58:6 ”روزہ جو میری پسند کا ہے، کیا وہ یہ نہیں: کہنا اِنصافی کی زنجیروں توڑی جایٔیں جُوئے کی رسّیاں کھول دی جایٔیں، مظلوموں کو آزاد کیا جائے اَور ہر جُوا توڑ دیا جائے؟
ISA 58:7 کیا وہ یہ نہیں کہ اَپنی روٹی میں بھُوکوں کو شریک کرے اَور مارے مارے پھرتے ہُوئے مسکینوں کو آسرا دے جَب کسی کو ننگا دیکھے تو اُسے کپڑے پہنائے، اَور اَپنے ہم جنس سے روپوشی نہ کرے۔
ISA 58:8 تَب تیری رَوشنی طُلوع صُبح کی طرح پھوٹ نکلے گی، اَور تُو جلد صحتیاب ہوگا؛ تَب تیری راستبازی تیرے آگے آگے چلے گی، اَور یَاہوِہ کا جلال پیچھے سے تیری حِفاظت کرےگا۔
ISA 58:9 تَب تُو پُکارے گا اَور یَاہوِہ تُجھے جَواب دیں گے؛ تُو دُہائی دے گا اَور وہ کہیں گے: مَیں حاضِر ہُوں۔ ”اگر تُو ظُلم ڈھانا اَور دُوسروں پر اُنگلی اُٹھانا چھوڑ دے، اَور بدگوئی سے باز آ جائے،
ISA 58:10 اگر تُو بھُوکے کی دِل کھول کر مدد کرے اَور مظلوم کی حاجتیں پُوری کرے، تو تیرا نُور تاریکی میں چمکے گا، اَور تیری رات، دوپہر کی مانند ہوگی۔
ISA 58:11 یَاہوِہ ہمیشہ تیری رہنمائی کریں گے؛ اَور خشک سالی میں تیری ضرورتیں پُوری کریں گے اَور تیری ہڈّیوں کو تقویّت دیں گے۔ تُو سیراب باغ کی مانند ہوگا، اَور ایک اَیسے چشمے کی مانند جِس کا پانی کبھی نہیں سُوکھتا۔
ISA 58:12 تیرے لوگ پُرانے کھنڈروں کو پھر سے تعمیر کریں گے اَور قدیم بُنیادوں کو پھر سے کھڑا کریں گے؛ اَور تُو شکستہ دیواروں کا مِعمار، اَور سڑکوں کو قِیام گاہوں کے ساتھ بحال کرنے والا کہلائے گا۔
ISA 58:13 ”اگر تُو سَبت کے روز اَپنے قدم روکے رکھے اَور میرے مُقدّس دِن میں اَپنی مرضی پُوری کرنے سے باز آئے، اگر تُو سَبت کو راحت اَور یَاہوِہ کا مُقدّس اَور قابل اِحترام دِن مانے، اگر تُو اُس کی تعظیم کی خاطِر اُس دِن کاروبار نہ کرے اَور اَپنی خُوشی پُوری کرنے اَور فُضول گُفتگو سے باز رہے،
ISA 58:14 تَب تُو یَاہوِہ میں مسرُور ہوگا، اَور مَیں تُجھے زمین کی بُلندیوں تک پہُنچا دوں گا اَور تیرے باپ یعقوب کی مِیراث میں سے تُجھے کھِلاؤں گا۔“ کیونکہ یَاہوِہ ہی کے مُنہ سے یہ اِرشاد ہُواہے۔
ISA 59:1 یقیناً یَاہوِہ کا ہاتھ اِس قدر چھوٹا نہیں کہ بچا نہ سکے، نہ ہی اُس کا کان اِس قدر بھاری ہے کہ سُن نہ سکے۔
ISA 59:2 لیکن تمہاری بدکاری نے تُمہیں اَپنے خُدا سے دُور کر دیا ہے؛ اَور تمہارے گُناہوں نے اُسے تُم سے اَیسا روپوش کیا، کہ وہ سُنتے نہیں۔
ISA 59:3 کیونکہ تمہارے ہاتھ خُون میں رنگے ہُوئے ہیں، اَور تمہاری اُنگلیاں بدی سے آلُودہ ہیں۔ تمہارے ہونٹ جھُوٹ بولتے ہیں، اَور تمہاری زبان شرارت کی باتیں کہتی ہے۔
ISA 59:4 کویٔی اِنصاف طلب نہیں کرتا؛ اَور کویٔی سچّائی سے اَپنا مُقدّمہ نہیں لڑتا۔ وہ بے معنی دلیلوں پر اِعتماد کرلیتے ہیں اَور جھُوٹ بولتے ہیں؛ اُن کا حَمل بدچلنی کا ہوتاہے جِس سے بدی جنم لیتی ہے۔
ISA 59:5 وہ افعی کے اَنڈے سیتے ہیں اَور مکڑی کا جالا بُنتے ہیں۔ جو کویٔی اُن کے اَنڈے کھائے گا، مَر جائے گا، اَور جَب کویٔی اَنڈا توڑا جاتا ہے تو اُس میں سے افعی نکل آتا ہے۔
ISA 59:6 اُن کے جالے سے کپڑا نہیں بنایا جا سَکتا؛ اَورجو کچھ وہ بناتے ہیں اُس سے وہ اَپنا بَدن ڈھانپ نہیں سکتے ہیں۔ اُن کے اعمال بُرے ہوتے ہیں، اَور وہ اَپنے ہاتھوں سے ظُلم ڈھاتے ہیں۔
ISA 59:7 اُن کے قدم بدی کی طرف دَوڑتے ہیں؛ اَور وہ بےگُناہ کا خُون بہانے میں بڑی عجلت سے کام لیتے ہیں۔ اُن کے خیالات بُرے ہوتے ہیں؛ اَور اُن کی راہیں تباہی اَور بربادی کی طرف لے جاتی ہیں۔
ISA 59:8 سلامتی کی راہ وہ جانتے ہی نہیں؛ نہ ہی اُن کے سامنے اِنصاف کے راستے ہیں اُنہُوں نے اَپنی راہیں ٹیڑھی کرلی ہیں؛ اِس لیٔے جو کویٔی اُن پر چلے گا وہ سلامتی کا مُنہ نہ دیکھ پایٔےگا۔
ISA 59:9 لہٰذا اِنصاف ہم سے بہت دُور ہے، اَور راستی ہمارے نزدیک نہیں پہُنچ سکتی۔ ہم نُور کی اُمّید کرتے ہیں لیکن سَب طرف اَندھیرا ہی اَندھیرا ہے؛ اَور اجالے کا اِنتظار کرتے کرتے گہری تاریکی میں چلتے رہتے ہیں۔
ISA 59:10 ہم اَندھوں کی طرح دیوار کو ٹٹولتے ہیں، اَور اِس طرح راستہ ڈھونڈتے ہیں جَیسے ہم آنکھوں سے محروم ہیں۔ ہم دوپہر کو یُوں ٹھوکر کھاتے ہیں جَیسے رات ہو گئی ہو؛ اَور طاقتوروں کے درمیان ہم مُردوں کی مانند ہیں۔
ISA 59:11 ہم سَب ریچھوں کی مانند غرّاتے ہیں؛ اَور کبُوتروں کی طرح ماتم کرتے ہیں۔ ہم اِنصاف ڈھونڈتے ہیں لیکن پاتے نہیں؛ اَور مخلصی کے منتظر ہیں پر وہ ہم سے بہت دُور ہے۔
ISA 59:12 کیونکہ ہماری خطائیں آپ کی نظر میں بہت ہیں، اَور ہمارے گُناہ ہمارے خِلاف گواہی دیتے ہیں۔ ہماری خطائیں ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں، اَور ہم اَپنی بدکاریوں کو تسلیم کرتے ہیں:
ISA 59:13 جَیسے یَاہوِہ کے خِلاف بغاوت اَور غدّاری، اَپنے خُدا سے برگشتگی، ظُلم اَور سرکشی کی باتیں، اَور دِل میں جھُوٹی باتیں گڑھنا اَور اُنہیں زبان پر لانا۔
ISA 59:14 اِس لیٔے اِنصاف کو دھکّا لگا، اَور راستی دُور جا کھڑی ہُوئی؛ سچّائی کو کوچوں میں ٹھوکریں کھانی پڑیں، اَور ایمانداری داخلہ نہیں پاتی۔
ISA 59:15 سچّائی کہیں گُم ہو گئی، اَورجو کویٔی بدی سے دُور بھاگتا ہے وُہی شِکار ہو جاتا ہے۔ یَاہوِہ نے یہ دیکھا تو اُس کی نظر میں بُرا لگا کہ اِنصاف جاتا رہا۔
ISA 59:16 اُس نے دیکھا کہ کویٔی آدمی نہیں، اَور اُس نے تعجُّب کیا کہ کویٔی شفاعت کرنے والا نہ تھا؛ لہٰذا اُس کے اَپنے ہی بازو نے اُس کے لیٔے نَجات کا اِنتظام کیا، اَور اُس کی اَپنی راستبازی نے اُسے سنبھالا۔
ISA 59:17 اُس نے راستبازی کا بکتر پہنا، اَور نَجات کا خُود اَپنے سَر پر رکھا؛ اُس نے اِنتقام کا لباس پہن لیا اَور غیرت کو جُبّہ کی طرح اوڑھ لیا۔
ISA 59:18 اُن کے اَپنے اعمال کے مُطابق، وہ اُنہیں اجر دے گا اُس کے دُشمن اُس کے غضب کا نِشانہ بنیں گے اَور اُس کے مُخالف اُس کے اِنتقام کا؛ وہ جزیروں کو اُن کا بدلہ دے گا۔
ISA 59:19 تَب مغرب کی طرف کے لوگ یَاہوِہ کے نام کا اَور مشرق کی طرف کے لوگ اُس کے جلال کا خوف مانیں گے۔ کیونکہ وہ ایک خوفناک سیلاب کی مانند آئے گا جو یَاہوِہ کے دَم سے رواں ہوگا۔
ISA 59:20 اَور صِیّونؔ میں یعقوب کے لوگوں کی خاطِر جو گُناہ سے تَوبہ کرتے ہیں، ایک نَجات دِہندہ آئے گا، یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
ISA 59:21 اَور یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک میرا تعلّق ہے اُن کے ساتھ میرا یہ عہد ہے۔ میری رُوح جو تُجھ پر ہے اَور میرا کلام جو مَیں نے تیرے مُنہ میں ڈالا ہے وہ آج سے لے کر اَبد تک نہ تیری نَسل کے مُنہ سے، نہ تیری نَسل کی نَسل کے مُنہ سے جُدا ہونے پایٔےگا۔
ISA 60:1 اُٹھ، مُنوّر ہو کیونکہ تیرا نُور آ گیا، اَور یَاہوِہ کا جلال تُجھ پر آشکار ہُوا۔
ISA 60:2 دیکھ، زمین پر تاریکی چھائی ہُوئی ہے اَور تیرگی اُمّتوں پر، لیکن یَاہوِہ تُجھ پر طُلوع ہو رہے ہیں اَور اُن کا جلال تُجھ پر ظاہر ہوتاہے۔
ISA 60:3 قومیں تیری رَوشنی کی طرف آئیں گی، اَور بادشاہ تیری صُبح کی تجلّی میں چلیں گے۔
ISA 60:4 نگاہیں اُٹھا اَور چاروں طرف نظر ڈال: تو تُو دیکھے گی کہ سَب لوگ جمع ہوکر تیرے پاس آ رہے ہیں؛ تیرے بیٹے بھی دُور سے آئیں گے، اَور وہ تیری بیٹیوں کو گود میں اُٹھائے ہُوئے ہوں گے۔
ISA 60:5 تَب تُو دیکھے گی اَور خُوشی سے چمک اُٹھے گی، اَور تیرا دِل خُوشی کے مارے دھڑکنے لگے گا اَور پھُولے نہیں سمائے گا؛ کیونکہ سمُندر کی تمام دولت اَور مُختلف قوموں کا مال و زَر، تیرے پاس لایا جائے گا۔
ISA 60:6 اُونٹوں کے جھُنڈ کے جھُنڈ، جِن میں مِدیان اَور عیفاہؔ کی سانڈنیاں بھی ہُوں گی، تیرے مُلک میں ہر طرف پھیل جایٔیں گے۔ اَور شیبا کے سارے لوگ، سونا اَور لوبان لے کر یَاہوِہ کی حَمد کرتے ہُوئے آئیں گے۔
ISA 60:7 قیدارؔ کے تمام ریوڑ تیرے پاس جمع کئے جایٔیں گے، اَور نبایوتؔ کے مینڈھے تیری خدمت میں لایٔے جایٔیں گے؛ اَور وہ میرے مذبح پر ذبیحہ کے طور پر مقبُول ہوں گے، اَور مَیں اَپنے عالیشان بیت المُقدّس کو آراستہ کروں گا۔
ISA 60:8 یہ کون ہیں جو بادلوں کی طرح اُڑتے ہُوئے چلے آ رہے ہیں، جَیسے کبُوتر اَپنی کابُک کی طرف؟
ISA 60:9 یقیناً جزیرے میری راہ دیکھیں گے؛ اَور ترشیشؔ کے بحری جہاز آگے آگے چل رہے ہیں، اَور تیرے بیٹوں کو اُن کی چاندی اَور سونے کے ساتھ، دُور سے لے آ رہے ہیں، تاکہ یَاہوِہ تیرے خُدا، اَور اِسرائیل کے قُدُّوس کا نام اُونچا ہو، کیونکہ اُس نے تُجھے شان و شوکت سے نوازا ہے۔
ISA 60:10 پردیسی تیری دیواریں پھر سے تعمیر کریں گے، اَور اُن کے بادشاہ تیری خدمت کریں گے۔ گو مَیں نے غُصّہ مَیں تُجھے مارا، لیکن اَپنی مہربانی سے تُجھ پر رحم کروں گا۔
ISA 60:11 تیرے پھاٹک ہمیشہ کھُلے رہیں گے، وہ کبھی بند نہ ہوں گے، خواہ دِن ہو یا رات، تاکہ لوگ مُختلف قوموں کی دولت۔ اَور اُن کے بادشاہوں کو فتح کے جلوس کی شکل میں تیرے پاس لائیں۔
ISA 60:12 جو قوم یا مملکت تیری خدمت گزاری نہ کرےگی وہ تباہ ہو جائے گی؛ وہ بالکُل برباد ہو جائے گی۔
ISA 60:13 لبانونؔ کا جلال، صنوبر، سَرو اَور دیودار کے ساتھ تیرے پاس آ جائے گا، تاکہ میرے پاک مَقدِس کو آراستہ کیا جائے؛ اَور مَیں اَپنے پاؤں کی چوکی کو رونق بخشوں گا۔
ISA 60:14 تُجھ پر ظُلم ڈھانے والے کے بیٹے سَر جُھکائے ہُوئے تیرے سامنے آئیں گے؛ اَور تیری تحقیر کرنے والے سبھی لوگ تیرے قدموں میں جھُکیں گے اَور تُجھے یَاہوِہ کا شہر، اَور اِسرائیل کے قُدُّوس کا صِیّونؔ کہہ کر پُکاریں گے۔
ISA 60:15 ”حالانکہ تُجھے ترک کیا گیا اَور تُجھ سے نفرت کی گئی، یہاں تک کہ کویٔی تُجھ میں سے ہوکر گزرتا بھی نہ تھا، اِس لیٔے مَیں تُجھے ہمیشہ کے لیٔے مایہ ناز اَور تمام نَسلوں کے لیٔے شادمانی کا باعث بنا دُوں گا۔
ISA 60:16 تُو قوموں کا دُودھ پیئے گی اَور شاہی چھاتِیاں چُوسے گی۔ تَب تُو جانے گی کہ میں یَاہوِہ تیرا مُنجّی، تیرا فدیہ دینے والا اَور یعقوب کا قادر خُدا ہُوں۔
ISA 60:17 مَیں تیرے لیٔے کانسے کی بجائے سونا، اَور لوہے کی بجائے چاندی لاؤں گا۔ مَیں تیرے لیٔے لکڑی کی بجائے کانسے، اَور پتّھروں کی بجائے لوہا لاؤں گا۔ اَور مَیں سلامتی کو تیرا گورنر اَور راستبازی کو تیرا حاکم بناؤں گا۔
ISA 60:18 تیرے مُلک میں پھر کبھی تشدّد کا ذِکر نہ ہوگا، نہ ہی تیری حُدوُد کے اَندر تباہی یا بربادی ہوگی، بَلکہ تُو اَپنی دیواروں کا نام نَجات اَور اَپنے پھاٹکوں کا نام حَمد رکھے گی۔
ISA 60:19 پھر دِن کو سُورج تیری رَوشنی نہ ہوگا، اَور نہ چاند کی چاندنی تُجھ پر چمکے گی، بَلکہ یَاہوِہ تیرا اَبدی نُور ہوگا، اَور تیرا خُدا تیرا جلال ہوگا۔
ISA 60:20 تیرا سُورج پھر کبھی نہ ڈھلے گا، نہ ہی تیرے چاند کو زوال آئے گا؛ یَاہوِہ تیرا اَبدی نُور ہوں گے، اَور تیرے غم کے دِن ختم ہو جایٔیں گے۔
ISA 60:21 پھر تیرے سَب لوگ راستباز ہوں گے اَور اَبد تک مُلک کے وارِث ہوں گے۔ وہ میری لگائی ہُوئی شاخ، اَور میرے ہاتھوں کا کام ہیں، تاکہ میرا جلال ظاہر ہو۔
ISA 60:22 تُم میں جو کمترین ہوگا ایک ہزار ہو جائے گا، اَور سَب سے حقیر ایک زبردست قوم بَن جائے گا۔ مَیں یَاہوِہ ہُوں؛ عَین وقت پر میں یہ سَب کچھ تیزی سے عَمل میں لاؤں گا۔“
ISA 61:1 خُود مُختار یَاہوِہ قادر کا رُوح مُجھ پر ہے، کیونکہ وہ مُجھے مَسح کیا ہے تاکہ میں حلیموں غریبوں کو خُوشخبری سُناؤں۔ وہ مُجھے بھیجا ہے تاکہ میں شکستہ دِلوں کو تسلّی دُوں، میں قَیدیوں کے لیٔے رِہائی اَور اسیروں کو تاریکی سے آزادی بخشوں،
ISA 61:2 اَور یَاہوِہ کے سالِ مقبُول کا اعلان اَور خُدا کے اِنتقام کے دِن کا اِشتہار دُوں، اَور تمام ماتم کرنے والوں کو دِلاسا دُوں۔
ISA 61:3 اَور صِیّونؔ کے غمگین لوگوں کے لیٔے اَیسا اہتمام کروں کہ اُنہیں راکھ کے بجائے اُن کو خُوبصورتی کا تاج عطا کرنا، ماتم کی بجائے خُوشی کا روغن، اَور اُداسی کی بجائے سِتائش کا خلعت بخشا جائے۔ وہ راستبازی کے بلُوط، اَور یَاہوِہ کے لگائے ہُوئے پَودے کہلایٔیں گے تاکہ اُن کا جلال ظاہر ہو۔
ISA 61:4 تَب وہ قدیم کھنڈروں کو پھر سے تعمیر کریں گے اَور بہت عرصہ سے ویران پڑے ہُوئے مقامات کو بحال کریں گے؛ اَور اُن اُجڑے ہُوئے شہروں کو جو پُشت در پُشت تباہ ہوتے آئےتھے۔ اَز سرِ نَو بسائیں گے۔
ISA 61:5 بیگانے تمہارے گلّوں کی نگہبانی کریں گے؛ اَور پردیسی تمہارے کھیتوں اَور تاکستانوں میں کام کریں گے۔
ISA 61:6 اَور تُم یَاہوِہ کے کاہِنؔ کہلاؤگے، اَور تُم ہمارے خُدا کی خدمت میں خدمت گزار کہلاؤگے۔ تُم مُختلف قوموں کی دولت کے مزے لوگے، اَور اُن کے مال و متاع پر فخر کروگے۔
ISA 61:7 میرے لوگ اَپنی خجالت کے عوض دُگنا مال پائیں گے اَور اَپنی رُسوائی کے بدلے تُم اَپنی مِیراث میں خُوش ہو جاؤگے۔ اَور اِس طرح اَپنی سرزمین میں دوگنی مِیراث پاؤگے، تُمہیں اَبدی خُوشی حاصل ہوگی۔
ISA 61:8 ”کیونکہ مَیں یَاہوِہ، اِنصاف کو عزیز رکھتا ہُوں؛ اَور غارت گری اَور بدی سے نفرت کرتا ہُوں۔ اِس لیٔے میں اُنہیں سچّائی کے ساتھ اجر دُوں گا اَور اُن کے ساتھ ایک اَبدی عہد باندھوں گا۔
ISA 61:9 اُن کی نَسل مُختلف قوموں اَور اُن کی اَولاد مُختلف لوگوں کے درمیان نامور ہوگی۔ جتنے لوگ بھی اُنہیں دیکھیں گے، اقرار کریں گے کہ یہ وُہی لوگ ہیں جنہیں یَاہوِہ نے برکت بخشی ہے۔“
ISA 61:10 میں یَاہوِہ میں نہایت شادمان ہوں؛ میری جان میرے خُدا میں مسرُور ہے۔ کیونکہ اُس نے مُجھے نَجات کا لباس پہنایا اَور راستبازی کی خلعت سے مُلبّس کیا، جَیسے دُلہا کاہِنؔ کی مانند اَپنے سَر کو سنوارتا ہے، اَور دُلہن گہنوں سے اَپنا سنگار کرتی ہے۔
ISA 61:11 جِس طرح زمین ٹہنی اُگاتی ہے اَور باغ بیج کو اُگاتا ہے، اُسی طرح یَاہوِہ قادر، تمام قوموں کے سامنے راستبازی اَور سِتائش کو پھُولنے پھلنے دے گا۔
ISA 62:1 صِیّونؔ کی خاطِر مَیں خاموش نہ رہُوں گا، یروشلیمؔ کی خاطِر میں چُپ نہ رہُوں گا، جَب تک کہ اُس کی صداقت طُلوع سحر کی طرح نہ چمک اُٹھے، اَور اُس کی نَجات رَوشن چراغ کی طرح جلوہ گِر نہ ہو۔
ISA 62:2 قوموں پر تیری صداقت ظاہر ہوگی، اَور تمام بادشاہ تیرا جلال دیکھیں گے؛ تُو نئے نام سے پُکاری جائے گی جو یَاہوِہ کے مُنہ سے نکلے گا۔
ISA 62:3 تُو یَاہوِہ کے ہاتھ میں جلالی تاج اَور اَپنے خُدا کے ہاتھ میں افسر شاہانہ ہوگی۔
ISA 62:4 پھر تُو متروکہ نہ کہلائے گی، اَور نہ تیری سرزمین کو ویرانہ کہا جائے گا۔ بَلکہ تُو حِپضیباہؔ اَور تیری زمین بِیولا کہلائے گی؛ کیونکہ یَاہوِہ تُجھ سے خُوش ہوگا، اَور تیری زمین کا بیاہ رچایا جائے گا۔
ISA 62:5 جِس طرح ایک جَوان مَرد ایک کنواری عورت سے بیاہ کرتا ہے، اُسی طرح مِعمار تُجھے بیاہ لیں گے؛ اَور جَیسا دُلہا اَپنی دُلہن میں خُوشی پاتاہے، اُسی طرح تیرا خُدا تُجھ میں مسرُور ہوگا۔
ISA 62:6 اَے یروشلیمؔ، مَیں نے تیری دیواروں پر نگہبان مُقرّر کئے ہیں؛ وہ دِن رات کبھی خاموش نہ ہوں گے۔ تُم جو یَاہوِہ کو پُکارتے رہتے ہو، خاموش نہ بیٹھو،
ISA 62:7 اَور جَب تک وہ یروشلیمؔ کو قائِم کرکے اُسے ساری دُنیا میں تعریف کے قابل نہ بنادے۔ تَب تک تُم بھی خُدا کو آرام نہ لینے دو۔
ISA 62:8 یَاہوِہ نے اَپنے داہنے ہاتھ اَور اَپنے قوی بازو کی قَسم کھائی ہے: ”مَیں پھر کبھی تیرے اناج کو تیرے دُشمنوں کی خُوراک نہ بننے دوں گا، نہ ہی پڑوسی تیری نئی مَے پینے پائیں گے جِس کے لیٔے تُم نے محنت اُٹھائی ہے؛
ISA 62:9 لیکن جو اناج جمع کریں گے وُہی اُسے کھایٔیں گے، اَور یَاہوِہ کی سِتائش کریں گے، اَورجو انگور جمع کریں گے وُہی اُس کا رس میرے پاک مَقدِس کے صحنوں میں پی پائیں گے۔“
ISA 62:10 گزر جاؤ، پھاٹکوں میں سے گزر جاؤ! لوگوں کے لیٔے راہ تیّار کرو۔ شاہراہ کو ہموار کر دو! پتّھروں کو ہٹا دو۔ اَور قوموں کے لیٔے پرچم اُونچا کرو۔
ISA 62:11 یَاہوِہ نے دُنیا کی اِنتہا تک یہ اعلان کر دیا ہے: ”صِیّونؔ کی بیٹی سے کہو، ’دیکھ تیرا مُنجّی آ رہاہے! دیکھ وہ تیرا اجر اَپنے ساتھ لا رہاہے، اَور تیرا مُعاوضہ بھی اُس کے ساتھ ہے۔‘ “
ISA 62:12 اُس کے لوگ مُقدّس اَور یَاہوِہ کے چھُڑائے ہُوئے لوگ کہلایٔیں گے؛ اَور تُو اَے یروشلیمؔ، خُدا کا مطلوبہ شہر کہلائے گا، جسے خُدا نے ترک نہیں کیا۔
ISA 63:1 یہ کون ہے جو اِدُوم اَور بُضراؔہ سے آ رہاہے، جِس نے قِرمزی چوغہ پہن رکھتا ہے؟ یہ کون ہے جِس کی پوشاک درخشاں ہے، اَور قُوّت و عظمت کے ساتھ بڑھتا چلا آ رہاہے؟ ”یہ میں ہی ہُوں، صادق القول، اَور نَجات دینے پر قادر ہُوں۔“
ISA 63:2 تیرا لباس انگوری حوض میں انگور کُچلنے والے کی مانند کیوں ہے؟
ISA 63:3 ”مَیں نے اکیلے ہی انگوری حوض میں انگور کُچلے ہیں؛ اَور قوموں کے لوگوں میں سے کسی نے میرا ساتھ نہ دیا۔ مَیں نے غُصّہ میں اُنہیں روند ڈالا اَور اَپنے غضب میں اُنہیں پیروں تلے کُچلا؛ اُن کے خُون کے چھینٹے میرے کپڑوں پر پڑے، اَور میرا سارا لباس آلُودہ ہو گیا۔
ISA 63:4 کیونکہ اِنتقام کا دِن میرے دِل میں تھا، اَور میرا سالِ رِہائی آ پہُنچا ہے۔
ISA 63:5 مَیں نے نگاہ کی لیکن وہاں کویٔی مددگار نہ تھا، مُجھے تعجُّب ہُوا کہ کویٔی سہارا دینے والا نہ تھا؛ اِس لیٔے میرے اَپنے بازو نے میرے لیٔے نَجات کا کام کیا، اَور میرے اَپنے غضب نے مُجھے سنبھالا۔
ISA 63:6 مَیں نے اَپنے قہر میں قوموں کو روندا؛ اَور اَپنے غضب میں اُنہیں مدہوش کر دیا اَور اُن کا خُون زمین پر بہا دیا۔“
ISA 63:7 میں یَاہوِہ کی شفقت کا ذِکر کروں گا، خصوصاً اُن کاموں کا جِن کی خاطِر اُس کی سِتائش کی جائے، اَور اُن تمام باتوں کے لیٔے جو یَاہوِہ نے ہمارے لیٔے کیں ہاں اُن تمام مہربانیوں کا جو اُس نے اَپنی خاص رحمت اَور فراواں شفقت سے اِسرائیل کے گھرانے پر ظاہر کیں۔
ISA 63:8 اُس نے فرمایا، ”یقیناً وہ میرے لوگ ہیں، اَیسے فرزند جو کبھی بےوفائی نہ کریں گے“؛ اَور اِس لیٔے وہ اُن کا مُنجّی بنا۔
ISA 63:9 اُن کی تمام مُصیبتوں میں بھی وہ اُن کے ساتھ رہا، اُس کے مُقرّب فرشتہ نے اُنہیں بچایا۔ اُس نے اَپنی مَحَبّت اَور رحمت کے باعث اُن کا فدیہ دیا؛ اُنہیں اُٹھایا اَور قدیم ایّام میں سدا اُنہیں لیٔے پھرا۔
ISA 63:10 پھر بھی اُنہُوں نے سرکشی کی اَور اُس قُدُّوس رُوح کو غمگین کیا۔ اِس لیٔے اُس نے اَپنا رُخ بدلا اَور اُن کا دُشمن ہو گیا اَور اُن سے لڑا۔
ISA 63:11 پھر اُس کے لوگوں نے پُرانے دِن یاد کئے، مَوشہ اَور اُس کے لوگوں کے دِن وہ کہاں ہے جو اُنہیں اَپنے گلّے کے چرواہے سمیت سمُندر میں سے نکال لایا؟ وہ کہاں ہے جِس نے اَپنا رُوح القُدس اُن کے درمیان ڈال دیا،
ISA 63:12 کس نے اَپنی قُدرت کے جلالی بازو کو مَوشہ کے داہنے ہاتھ کے ساتھ کر دیا، کس نے اُن کے سامنے پانی کے دو حِصّے کئے، اَور اَپنے لیٔے اَبدی نام حاصل کیا،
ISA 63:13 اُنہیں گہرے سمُندر میں سے کون لے گیا؟ جِس طرح گھوڑا کھُلے میدان میں چلتا ہے، اُسی طرح اُنہُوں نے ٹھوکر نہ دِکھائی؛
ISA 63:14 جِس طرح مویشی میدان میں اُتر آتے ہیں، اُسی طرح یَاہوِہ کی رُوح نے اُنہیں آرام پہُنچایا۔ اِس طرح تُونے اَپنے قوم کی رہنمائی کی تاکہ تُو اَپنے لیٔے جلالی نام پیدا کرے۔
ISA 63:15 آسمان پر سے نگاہ کریں اَور اَپنے بُلند اَور مُقدّس جلالی تخت پر سے نیچے دیکھیں۔ آپ کی غیرت اَور آپ کی قُدرت کہاں ہے؟ آپ کی شفقت اَور رحمت ہم سے روک لی گئی۔
ISA 63:16 لیکن آپ ہمارے باپ ہیں، حالانکہ اَبراہامؔ ہمیں نہیں جانتا اَور نہ اِسرائیل ہمیں پہچانتا ہے؛ تو بھی اَے یَاہوِہ، آپ ہمارے باپ ہیں، اَور ہمارا نَجات دِہندہ، اَزل سے آپ کا یہی نام ہے۔
ISA 63:17 اَے یَاہوِہ، آپ کیوں ہمیں اَپنی راہوں سے بھٹکا دیتے ہیں اَور ہمارے دِل سخت کر دیتے ہیں کہ ہم آپ کا اِحترام نہ کریں؟ اَپنے خادِموں اَور اُن قبیلوں کی خاطِر لَوٹ آئیں، جو آپ کی مِیراث ہیں۔
ISA 63:18 کچھ عرصہ تک تیرے لوگ آپ کے پاک مقام پر قابض رہے، لیکن اَب ہمارے دُشمنوں نے آپ کے مُقدّس کو پامال کر دیا ہے۔
ISA 63:19 ہم اُن کی مانند ہو گئے؛ جِن پر تُونے کبھی حُکومت نہیں کی، نہ وہ تیرے نام سے کہلاتےہیں۔
ISA 64:1 اَے کاش کہ آپ آسمانوں کو پھاڑ کر اُتر آئے، کہ آپ کے سامنے پہاڑ کانپ اُٹھیں!
ISA 64:2 جِس طرح آگ سُوکھی ٹہنیوں کو جَلا دیتی ہے اَور پانی میں اُبال لاتی ہے، اُسی طرح آپ نیچے آکر اَپنا نام اَپنے دُشمنوں میں مشہُور کر اَور آپ کی حُضُوری میں قوموں پر کپکپی طاری ہو جائے!
ISA 64:3 کیونکہ جَب آپ نے اَیسے مُہیب کام کئے جِن کی ہمیں توقع نہ تھی، تَب آپ نیچے اُتر آئے اَور پہاڑ تیرے سامنے تھرتھرا اُٹھے۔
ISA 64:4 قدیم زمانہ ہی سے نہ کسی نے سُنا، نہ کسی کان تک پہُنچا، اَور نہ کسی آنکھ نے آپ کے سِوا کسی اَور خُدا کو دیکھا، جو اَپنے اِنتظار کرنے والوں کی خاطِر کچھ کر دِکھائے۔
ISA 64:5 آپ اُن لوگوں کی مدد کے لیٔے آگے بڑھتے ہیں جو خُوشی سے نیکی کرتے ہیں، اَور آپ کے طور طریقوں کو یاد رکھتے ہیں۔ لیکن جَب ہم اُن کے خِلاف گُناہ کرتے چلے گیٔے، تَب آپ غضبناک ہو گئے۔ پھر ہم نَجات کیسے پائیں گے؟
ISA 64:6 ہم سَب اُس شخص کی مانند ہو گئے ہیں جو ناپاک ہے، اَور ہمارے سارے راستی کے کام گویا گندے چیتھڑوں کی طرح ہیں؛ ہم سَب پتّے کی طرح مُرجھا جاتے ہیں، اَور ہمارے گُناہ ہمیں ہَوا کی طرح اُڑا لے جاتے ہیں۔
ISA 64:7 کویٔی آپ کا نام لینے والا نہیں نہ کویٔی آپ سے وابستہ رہنے کی کوشش کرتا ہے؛ کیونکہ آپ نے ہم سے اَپنا چہرہ چھُپا لیا ہے اَور اَپنے گُناہوں کے باعث ہمیں پگھلا ڈالا۔ اَور ہمیں ہمارے گُناہوں کے حوالے کر دیا ہے۔
ISA 64:8 تو بھی اَے یَاہوِہ، آپ ہمارے باپ ہیں ہم مٹّی ہیں، آپ کُمہار؛ ہم سَب آپ کے ہاتھ کا کام ہیں۔
ISA 64:9 اَے یَاہوِہ، حَد سے زِیادہ غُصّہ نہ کر؛ اَور اَبد تک ہمارے گُناہوں کو یاد نہ رکھ۔ آہ، ہماری طرف نگاہ کیجئے، ہم مِنّت کرتے ہیں، کیونکہ ہم سَب آپ ہی لوگ ہیں۔
ISA 64:10 آپ کے مُقدّس شہر بنجر بَن گیٔے ہیں؛ یہاں تک کہ صِیّونؔ بھی بنجر پڑا ہے اَور یروشلیمؔ ویران ہے۔
ISA 64:11 ہماری مُقدّس اَور عالیشان بیت المُقدّس، جہاں ہمارے آباؤاَجداد تیری سِتائش کرتے تھے، آگ سے جَلا دی گئی، اَور وہ تمام چیزیں جو ہمیں عزیز تھیں برباد ہو گئی ہیں۔
ISA 64:12 اِس کے باوُجُود اَے یَاہوِہ، کیا آپ اَپنے آپ کو رو؟ کیا آپ خاموش رہوگے اَور ہمیں حَد سے زِیادہ سزا دوگے؟
ISA 65:1 جنہوں نے میرے بارے میں پُوچھا بھی نہیں، میں اُن پر ظاہر ہو گیا؛ اَور جنہوں نے مُجھے ڈھونڈا بھی نہیں، اُنہُوں نے مُجھے پا لیا۔ اَورجو قوم میرے نام سے نہیں کہلاتی تھی، اُس سے مَیں نے کہا: مَیں حاضِر ہُوں، مَیں حاضِر ہُوں۔
ISA 65:2 مَیں دِن بھر ایک ضِدّی قوم کے آگے ہاتھ بڑھائے رہا، جو اَپنے خیالات کی پیروی میں، نیک راہ پر نہیں چلتی
ISA 65:3 ایک اَیسی قوم جو میرے ہی سامنے باغوں میں قُربانیاں پیش کر اَور اینٹ کے مذبحوں پر لوبان جَلا کر مُجھے غُصّہ دِلاتی ہے۔
ISA 65:4 جِس کے لوگ قبروں کے درمیان بیٹھ کر رات کاٹتے ہیں؛ اَور سُؤر کا گوشت کھاتے ہیں، اَور ناپاک گوشت کا سالن اَپنے برتنوں میں رکھتے ہیں؛
ISA 65:5 اَور کہتے ہیں: دُورہو، میرے نزدیک نہ آ، کیونکہ مَیں تُجھ سے کہیں زِیادہ پاک ہُوں۔ اَیسے لوگ میرے نتھنوں میں دھوئیں کی مانند ہیں، اَور دِن بھر جلتی رہنے والی آگ کی طرح ہیں۔
ISA 65:6 ”دیکھو یہ بات میرے سامنے لکھی ہُوئی ہے: مَیں خاموش نہ رہُوں گا بَلکہ پُورا پُورا بدلہ دوں گا؛
ISA 65:7 میں تمہاری اَور تمہارے آباؤاَجداد کی بدکاری بدلہ، تمہاری ہی گود میں ڈالوں گا۔“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”چونکہ اُنہُوں نے گادی پہاڑوں پر سوختنی نذریں پیش کیں اَور ٹیلوں پر میری تکفیر کی، اِس لیٔے میں اُن کے پچھلے اعمال کا پُورا مُعاوضہ تول کر اُن کی گود میں ڈالوں گا۔“
ISA 65:8 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”جَب انگور کے گُچّھوں میں رس باقی رہتاہے لوگ کہتے ہیں، ’اُنہیں ضائع نہ کرو،‘ کیونکہ اُن میں اَب بھی برکت ہے، اِسی طرح سے میں اَپنے خادِموں سے پیش آؤں گا؛ مَیں اُن سَب کو تباہ نہیں کروں گا۔
ISA 65:9 مَیں یعقوب میں سے ایک نَسل، اَور یہُوداہؔ میں سے اَپنے کوہستان کے لیٔے وارِث برپا کروں گا؛ میرے برگُزیدہ لوگ اُس کے وارِث ہوں گے، اَور میرے خادِم وہاں سکونت کریں گے۔“
ISA 65:10 میرے طلب گار لوگوں کے لیٔے شارونؔ کا میدان گلّوں کی چراگاہ ہوگا، اَور وادیِ عکورؔ مویشیوں کی آرامگاہ بنے گی۔
ISA 65:11 ”لیکن تُم جو یَاہوِہ کو ترک کرتے ہو اَور میرے مُقدّس پہاڑ کو فراموش کرتے ہو، جو قِسمت کے معبُود کے لیٔے دسترخوان بچھاتے ہو اَور تقدیر کے معبُود کے لیٔے مِلی جُلی مَے کے جام بھرتے ہو،
ISA 65:12 مَیں تُمہیں تلوار کے حوالہ کروں گا، اَور تُم سَب ذبح ہونے کے لیٔے جھُک جاؤگے؛ کیونکہ مَیں نے تُمہیں پُکارا اَور تُم نے جَواب نہ دیا، مَیں نے کلام کیا اَور تُم نے نہ سُنا۔ تُم نے وُہی کیا جو میری نظر میں بُرا تھا اَور اَیسے کام پسند کئے جو مُجھے گوارا نہ تھے۔“
ISA 65:13 چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ”میرے خادِم کھایٔیں گے، لیکن تُم بھُوکے رہوگے؛ میرے خادِم پیئیں گے، لیکن تُم پیاسے رہوگے؛ میرے خادِم مسرُور ہوں گے، لیکن تُم شرمندہ ہوگے۔
ISA 65:14 میرے خادِم اَپنے دِل کی شادمانی سے گائیں گے، لیکن تُم دلگیری کے سبب سے نالاں ہوگے اَور رُوح شکستگی کا ماتم کروگے۔
ISA 65:15 تُم اَپنا نام میرے برگُزیدوں کی لعنت کے لیٔے چھوڑ جاؤگے، اَور یَاہوِہ قادر تُمہیں موت کے گھاٹ اُتار دے گا، لیکن اَپنے خادِموں کو ایک دُوسرے نام سے پُکارے گا۔
ISA 65:16 تَب مُلک میں جو کویٔی برکت چاہے گا وہ خُدائے برحق کے نام سے برکت چاہے گا؛ اَورجو کویٔی مُلک میں قَسم کھائے گا وہ خدائے برحق کے نام سے قَسم کھائے گا۔ کیونکہ پہلی مُصیبتیں بھُلا دی جایٔیں گی اَور وہ میری آنکھوں سے اوجھل ہو جایٔیں گی۔
ISA 65:17 ”دیکھو مَیں نئے آسمان اَور نئی زمین بناؤں گا، پہلی چیزوں کا ذِکر نہ کیا جائے گا، نہ ہی وہ خیال میں آئیں گی۔
ISA 65:18 اِس لیٔے جو کچھ میں بنانے کو ہُوں اُس کی وجہ سے سدا شادمانی کرو اَور خُوشی مناؤ، کیونکہ مَیں یروشلیمؔ کو راحت اَور اُس کے لوگوں کو شادمان بناؤں گا۔
ISA 65:19 میں یروشلیمؔ سے خُوش اَور اَپنے لوگوں سے مسرُور ہُوں گا؛ اَور اُس میں رونے اَور چِلّانے کی آواز پھر کبھی سُنایٔی نہ دے گی۔
ISA 65:20 ”وہاں پھر کبھی اَیسا بچّہ نہ ہوگا جو صِرف چند روز ہی زندہ رہے، اَور نہ کویٔی بُوڑھا جو اَپنی عمر پُوری نہ کرے؛ جو سَو سال کی عمر میں چل بسے وہ جَوان سمجھا جائے گا؛ اَورجو سَو سال کی عمر کو نہ پہُنچے وہ ملعُون سمجھا جائے گا۔
ISA 65:21 وہ مکانات تعمیر کرکے اُن میں رہیں گے؛ اَور تاکستان لگا کر اُن کا پھل کھایٔیں گے۔
ISA 65:22 اَیسا نہ ہوگا کہ وہ گھر بنائیں اَور دُوسرے اُن میں بسنے لگیں، وہ تاکستان لگائیں اَور دُوسرے پھل کھایٔیں۔ کیونکہ میرے لوگوں کے ایّام زندگی، درختوں کے ایّام کی مانند ہوں گے؛ اَور میرے برگُزیدہ لوگ اَپنے ہاتھوں کے کاموں سے مُدّتوں فائدہ اُٹھائیں گے۔
ISA 65:23 اُن کی محنت رائگاں نہ جائے گی نہ اُن کی اَولاد بدبختی کا شِکار ہونے کے لیٔے پیدا ہوگی؛ کیونکہ وہ اَپنی اَولاد سمیت، یَاہوِہ کی مُبارک قوم ٹھہریں گے۔
ISA 65:24 اِس سے پہلے کہ وہ پُکاریں میں جَواب دوں گا، اَور وہ ابھی بول ہی رہے ہوں گے کہ میں سُن لُوں گا۔
ISA 65:25 بھیڑیا اَور برّہ اِکٹھّے چریں گے، اَور شیر بَیل کی مانند بھُوسا کھائے گا، لیکن سانپ کی خُوراک خاک ہی ہوگی۔ وہ میرے مُقدّس پہاڑ پر کسی جگہ بھی نہ تو کسی کو ضرر پہُنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
ISA 66:1 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”آسمان میرا تخت ہے، اَور زمین میرے پاؤں کی چوکی۔ تُم میرے لیٔے جو گھر بناؤگے وہ کہاں ہے؟ میری آرامگاہ کہاں ہوگی؟
ISA 66:2 کیا یہ ساری چیزیں میری بنائی ہویٔی نہیں، اَور اِس طرح سے وہ وُجُود میں نہیں آئیں؟“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔ ”یہ وہ لوگ ہیں جِن کو میں مہربانی کی نگاہ سے دیکھتا ہوں: میں مسکین اَور شکستہ دِل کی قدر کرتا ہُوں، اَور اُس کی بھی جو میرا کلام سُن کر کانپ جاتا ہے۔
ISA 66:3 جو بَیل ذبح کرتا ہے وہ آدمی کو مار ڈالنے والے کی مانند ہے، اَورجو برّہ کو قُربان کرتا ہے، وہ گویا کُتّے کی گردن توڑتا ہے؛ اَورجو اناج کی نذر کی قُربانی کے طور پر پیش کرتا ہے وہ اُس شخص کی مانند ہے جو سُؤر کا لہُو گزرانتا ہے، اَورجو لوبان جَلاتا ہے، وہ بُت پرست کی مانند ہے۔ اُنہُوں نے اَپنی اَپنی راہیں اِختیار کرلی ہیں، اَور اُن کے دِل اُن کی اَپنی مکرُوہات سے خُوش ہوتے ہیں؛
ISA 66:4 اِس لیٔے مَیں بھی اُن کے لیٔے سخت علاج تجویز کروں گا اَور اُن پر اَیسی آفت لاؤں گا جِس سے وہ بےحد ڈرتے ہیں۔ کیونکہ جَب مَیں نے پُکارا تو کسی نے جَواب نہ دیا، جَب مَیں بولا تو کسی نے نہ سُنا۔ اُنہُوں نے میری نگاہ میں بدی کی اَور اَیسے کام مُنتخب کرے جو مُجھے گوارا نہ تھے۔“
ISA 66:5 یَاہوِہ کا کلام سُن کر تھرتھرانے والو، اُس کا کلام سُنو: ”تمہارے بھایٔی جو تُم سے بَیر رکھتے ہیں، اَور میرے نام کی وجہ سے تُمہیں الگ کر دیتے ہیں، یُوں کہتے ہیں: ’یَاہوِہ کو اَپنا جلال ظاہر کرنے دو، تاکہ ہم تمہاری خُوشی دیکھ پائیں!‘ لیکن وہ شرمندہ کئے جایٔیں گے۔
ISA 66:6 سُنو، شہر کی طرف سے شور و غُل سُنایٔی دے رہاہے، اَور ہیکل سے آواز آ رہی ہے! یہ یَاہوِہ کی آواز ہے جو اَپنے دُشمنوں کو بدلہ دیتاہے۔
ISA 66:7 ”زچگی کی اِبتدا سے قبل ہی، اُس نے بچّہ جانا؛ اِس سے پہلے کہ دردِزہ شروع ہو، اُن کے ہاں بیٹا پیدا ہُوا۔
ISA 66:8 کیا کسی نے اَیسی بات کبھی سُنی ہے؟ کیا کسی نے کبھی اَیسی چیزیں دیکھی ہیں؟ کیا کویٔی مُلک ایک ہی دِن میں پیدا ہو سَکتا ہے یا کویٔی قوم پل بھر میں وُجُود میں آسکتی ہے؟ لیکن جوں ہی صِیّونؔ کو دردِزہ شروع ہُوا اُس کی اَولاد پیدا ہو گئی۔
ISA 66:9 یَاہوِہ فرماتے ہیں: کیا میں وِلادت کی گھڑی لے آؤں اَور بچّے پیدا نہ ہونے دوں؟“ جَب زچگی کا وقت آ جائے ”تو کیا میں رحم بند کر دُوں گا؟“ تمہارے خُدا فرماتے ہیں۔
ISA 66:10 ”اَے یروشلیمؔ سے مَحَبّت رکھنے والو تُم سَب لوگ، اُس کے ساتھ خُوشی مناؤ اَور اُس کے لیٔے شادمان ہو؛ اُس کے لیٔے ماتم کرنے والو، اُس کے ساتھ بےحد خُوش ہو۔
ISA 66:11 اُس کی آسودگی بخش چھاتِیوں سے تُم دُودھ پیوگے اَور سیر ہوگے؛ اَور تُم خُوب دُودھ پیو اَور اُس کے اُن آسودگی بخش پستانوں سے سیر ہو جو سدا دُودھ سے بھرے رہتے ہیں۔“
ISA 66:12 کیونکہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”میں سلامتی کو ندی کی مانند، اَور مُختلف قوموں کی دولت کو سیلاب کی مانند اُس کی طرف رواں کروں گا؛ اَور تُم دُودھ پیوگے اَور گود میں اُٹھائے جاؤگے اَور پیار سے اُس کے گھٹنوں پر اُچھالے جاؤگے۔
ISA 66:13 جِس طرح مان اَپنے بچّہ کو تسلّی دیتی ہے، اُسی طرح مَیں تُمہیں تسلّی دوں گا؛ اَور تُم یروشلیمؔ میں تسلّی پاؤگے۔“
ISA 66:14 جَب تُم یہ دیکھوگے تو تمہارا دِل خُوش ہوگا اَور تمہاری ہڈّیاں گھاس کی طرح سرسبز ہوکر بڑھیں گی؛ اَور یَاہوِہ کا ہاتھ اُس کے خادِموں پر ظاہر ہوگا، لیکن اُس کا قہر اُس کے دُشمنوں پر بھڑکے گا۔
ISA 66:15 دیکھو، یَاہوِہ آگ کے ساتھ آ رہے ہیں، اَور اُن کے رتھ آندھی کی مانند ہیں؛ جِس سے وہ اَپنے قہر کو جوش کے ساتھ، اَور اَپنی تنبیہ کو آگ کے شُعلوں کے ساتھ ظاہر کرےگا۔
ISA 66:16 کیونکہ یَاہوِہ تمام لوگوں کا اِنصاف آگ سے اَور اَپنی تلوار سے کرےگا، اَور یَاہوِہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے بہت ہوں گے۔
ISA 66:17 ”جو لوگ اَپنے آپ کو اِس لیٔے پاک و صَاف کرتے ہیں کہ باغوں میں جایٔیں اَور اُن لوگوں کی پیروی کرتے ہیں جو سُؤروں اَور چُوہوں کا گوشت اَور مکرُوہات کھاتے ہیں اُن سَب کا خاتِمہ ایک ساتھ ہوگا۔“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
ISA 66:18 ”اَور مَیں اُن کے اعمال اَور خیالات کی وجہ سے جلد آنے کو ہُوں اَور آکر تمام قوموں اَور الگ الگ زبانیں بولنے والوں کو جمع کروں گا اَور وہ آئیں گے اَور میرا جلال دیکھیں گے۔
ISA 66:19 ”تَب میں اُن کے درمیان ایک نِشان نصب کروں گا اَور اُن کے بچے ہوؤں میں سے چند کو مُختلف قوموں کے پاس بھیجوں گا جنہوں نے نہ میری شہرت سُنی ہے نہ میرا جلال دیکھاہے یعنی ترشیشؔ اَور پُولؔ اَور لُودؔ کو (جو مشہُور تیر اَنداز ہیں) اَور تُوبل اَور یُونانؔ (یاوانؔ) اَور دُور کے جزیروں کے پاس بھی بھیج دوں گا۔ وہ مُختلف قوموں میں میرا جلال بَیان کریں گے۔
ISA 66:20 جِس طرح بنی اِسرائیل اَپنی اناج کی نذر کی قُربانی کے عطیات پاک برتنوں میں رکھ کر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لے آتے ہیں وَیسے ہی وہ تمہارے سَب بھائیوں کو تمام قوموں میں سے گھوڑوں، رتھوں، پالکیوں، خچّروں اَور اُونٹوں پر بِٹھا کر یروشلیمؔ میں میرے مُقدّس پہاڑ پر یَاہوِہ کے لیٔے ہدیہ کے طور پر لے آئیں گے۔
ISA 66:21 اَور مَیں اُن میں سے چند لوگوں کو کاہِنؔ اَور لیوی ہونے کے لیٔے بھی چُن لُوں گا۔ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
ISA 66:22 ”جِس طرح نئے آسمان اَور نئی زمین جنہیں میں بناؤں گا،“ میرے حَضُورؔ میں قائِم رہیں گے، یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”اُسی طرح تمہارا نام اَور تمہاری نَسل بھی باقی رہے گی۔
ISA 66:23 پھر اَیسا ہوگا کہ ایک نئے چاند سے دُوسرے نئے چاند کے دِن تک اَور ایک سَبت سے دُوسری سَبت تک تمام بنی نَوع اِنسان آکر میرے سامنے جھُکیں گے۔“ یہ یَاہوِہ کا کلام ہے۔
ISA 66:24 ”پھر وہ نکل کر اُن لوگوں کی لاشوں پر نظر ڈالیں گے جنہوں نے مُجھ سے بغاوت کی تھی۔ اُن کا کیڑا نہ مَرے گا، نہ اُن کی آگ بُجھےگی اَور وہ تمام بنی آدمؔ کے لیٔے نہایت نفرت اَنگیز ہوں گے۔“
JER 1:1 یرمیاہؔ بِن خِلقیاہؔ کا پیغام جو بِنیامین کے علاقہ کے عناتوت میں باشِندے کاہِنوں میں سے ایک تھا۔
JER 1:2 یَاہوِہ کا کلام اُس پر شاہِ یہُودیؔہ یُوشیاہؔ بِن امُونؔ کے دَورِ حُکومت کے تیرہویں سال میں نازل ہُوا،
JER 1:3 اَور وہ شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ بِن یُوشیاہؔ سے لے کر شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ بِن یُوشیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے گیارھویں سال کے پانچویں مہینے کے آخِر تک یعنی اہلِ یروشلیمؔ کے اسیری میں جانے تک نازل ہوتا رہا۔
JER 1:4 تَب یَاہوِہ کا یہ کلام مُجھ پر نازل ہُوا،
JER 1:5 ”اِس سے پیشتر کہ مَیں نے تُمہیں رحم میں خلق کیا، مَیں تُمہیں جانتا تھا، اَور اِس سے قبل کہ تُم پیدا ہو، مَیں نے تُمہیں مخصُوص کیا؛ اَور تُمہیں قوموں کے لیٔے نبی مُنتخب کیا۔“
JER 1:6 تَب یہ سُن کر مَیں نے فرمایا، ”افسوس، یَاہوِہ قادر، دیکھیں، مُجھے تو بولنا بھی نہیں آتا؛ کیونکہ مَیں تو محض ایک بچّہ ہُوں۔“
JER 1:7 لیکن یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”یہ نہ کہو، ’میں تو محض ایک بچّہ ہُوں۔‘ کیونکہ جِس کسی کے پاس مَیں تُمہیں بھیجوں گا وہاں تُمہیں جانا ہوگا اَورجو حُکم تُمہیں دُوں گا وہ تُمہیں بَیان کرنا ہوگا۔
JER 1:8 تُم اُن لوگوں سے خوف نہ کھاؤ کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ ہُوں اَور مَیں تُمہیں محفوظ رکھوں گا،“ یہ یَاہوِہ کا کلام ہے۔
JER 1:9 تَب یَاہوِہ نے اَپنا ہاتھ بڑھا کر میرا مُنہ چھُوا اَور مُجھ سے فرمایا، ”اَب مَیں نے اَپنا کلام تمہارے مُنہ میں ڈال دیا ہے۔
JER 1:10 دیکھ، آج کے دِن مَیں نے تُجھے قوموں اَور سلطنتوں پر مُقرّر کیا ہے تاکہ تُو اُنہیں جڑ سے اُکھاڑ دے یا ڈھا دے، تباہ کرے یا نِیست و نابود کرے تعمیر کرے یا نیا اُگائے۔“
JER 1:11 پھر یَاہوِہ کا یہ کلام مُجھ پر نازل ہُوا: ”اَے یرمیاہؔ، تُجھے کیا کھائی دے رہاہے؟“ مَیں نے جَواب دیا، ”مُجھے بادام کے درخت کی ایک شاخ دِکھائی دے رہی ہے۔“
JER 1:12 یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”تُونے بالکُل ٹھیک دیکھاہے، میں یہ دیکھنے کے لیٔے بیدار رہتا ہُوں کہ میرا کلام پُورا ہو۔“
JER 1:13 پھر ایک بار یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا: ”تُجھے کیا دِکھائی دے رہاہے؟“ مَیں نے جَواب دیا، ”مُجھے ایک اُبلتی ہُوئی دیگ نظر آ رہی ہے، جو شمالی جانِب سے ہماری طرف جُھکی ہُوئی ہے۔“
JER 1:14 یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”اِس مُلک کے تمام باشِندوں پر شمالی جانِب سے آفت نازل ہوگی۔
JER 1:15 کیونکہ دیکھ، میں شمالی سلطنتوں کے تمام لوگوں کو حُکم دے کر بُلا رہا ہُوں،“ یہ یَاہوِہ کا کلام ہے۔ ”اُن کے بادشاہ آکر یروشلیمؔ کے پھاٹکوں کے سامنے اَپنا اَپنا تخت قائِم کریں گے؛ اَور وہ شہر کے اِردگرد کی تمام فصیلوں اَور یہُودیؔہ کے تمام شہروں کے خِلاف حملہ کریں گے۔
JER 1:16 مُجھے ترک کرنے کی بدی کی بنا پر اَور غَیر معبُودوں کے سامنے بخُور جَلانے کی وجہ سے، اَور اَپنے ہاتھوں سے بنائی ہُوئی چیزوں کی عبادت کرنے کے سبب سے میں اَپنی قوم پر سزا کا حُکم نافذ کروں گا۔
JER 1:17 ”لہٰذا تُم اَپنی کمر کس لو، اَور اُٹھ کرجو حُکم مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں، وہ اُنہیں سُنا۔ تُو اُن سے گھبرا نہ جانا ورنہ مَیں تُجھے اُن کے سامنے ڈرا دُوں گا۔ اُن سے نہ گھبراؤ
JER 1:18 کیونکہ دیکھ، آج کے دِن مَیں نے تُجھے اِس تمام مُلک، یہُودیؔہ کے بادشاہوں اَور اُس کے سبھی حاکموں اَور کاہِنوں اَور تمام مُلک کے باشِندوں کے خِلاف ایک فصیلدار شہر، لوہے کا سُتون اَور کانسے کی دیوار بنا کر کھڑا کیا ہے۔
JER 1:19 وہ تُجھ سے لڑیں گے لیکن تُجھ پر غالب نہ آئیں گے کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہُوں اَور تُجھے بچاؤں گا۔“ یہ یَاہوِہ کا کلام ہے۔
JER 2:1 پھر یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
JER 2:2 ”جاؤ اَور یروشلیمؔ کے لوگوں کی سماعت میں مُنادی کرو: ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ” ’تمہاری جَوانی کی پُرجوش عقیدت، اَور دُلہن کے طور پر مُجھ سے تمہاری بے پناہ مَحَبّت مُجھے یاد ہے، کہ تُم کس قدر بیابان میں میرے پیچھے چلے، جہاں پُورا بنجر اَور ویرانہ تھا۔
JER 2:3 بنی اِسرائیل یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس، اَور اُس کی فصل کا پہلا پھل تھا؛ جنہوں نے اُسے نگلا وہ سَب مُجرم ٹھہرے، اَور تباہی اُن پر نازل ہو گئی،‘ “ یہی یَاہوِہ کا کلام ہے۔
JER 2:4 اَے بنی یعقوب، اَور بنی اِسرائیل کی برادری کے تمام لوگ، یَاہوِہ کا کلام سُنو۔
JER 2:5 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”تمہارے آباؤاَجداد نے مُجھ میں اَیسی کون سِی خامی پائی، کہ وہ مُجھ سے اِس قدر برگشتہ ہو گئے؟ اُنہُوں نے نکمّے بُتوں کی پیروی کی اَور خُود بھی نکمّے ہو گئے۔
JER 2:6 اُنہُوں نے یہ بھی نہ پُوچھا، ’وہ یَاہوِہ کہاں ہیں، جو ہمیں مِصر سے باہر نکال لائے جو ہمیں بیابان میں سے، جو ہمیں ریگستان اَور وادیوں میں سے، جو ہمیں خُشک اَور تاریکی کے مُلک میں سے، جہاں سے نہ کسی بشر کا گزر ہوتاہے اَور نہ وہاں کویٔی رہتاہے؟‘
JER 2:7 مَیں تُمہیں ایک زرخیز زمین میں لے آیا تاکہ تُم اُس کا پھل اَور عُمدہ پیداوار کھاؤ۔ لیکن تُم نے آکر میری زمین کو ناپاک کر دیا اَور میری مِیراث کو مکرُوہ بنا دیا۔
JER 2:8 کاہِنوں نے بھی دریافت نہیں کیا، ’یَاہوِہ کہاں ہیں؟‘ آئین کے نِگراں تو مُجھے نزدیکی سے نہیں جانتے تھے؛ رہنماؤں نے بھی مجھ سے بغاوت کی؛ اَور نبیوں نے بھی بَعل معبُود کے نام سے نبُوّت کی، اَور نکمّے بُتوں کی پیروی کی۔
JER 2:9 ”مَیں پھر سے تمہارے خِلاف اِلزامات لگاتا ہوں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”اَور مَیں تمہارے بیٹوں اَور پوتوں کے خِلاف اِلزامات لگاؤں گا۔
JER 2:10 سمُندر پار کر سائپرس یا کِتّیمؔ کے ساحِلوں تک جا کے دیکھو، مُلکِ قیدارؔ میں قاصِد بھیج کر دریافت کرو؛ کیا کبھی اِس طرح کی کویٔی بات پیش آئی ہے،
JER 2:11 کیا کسی قوم نے کبھی اَپنے معبُودوں کو بدلا ہے؟ (حالانکہ وہ بالکُل خُدا نہیں ہیں۔) لیکن میری قوم نے اَپنے جلالی خُدا کو محض نکمّے معبُودوں سے بدل دیا ہے۔
JER 2:12 اَے آسمانوں، اِس بات پر حیران ہو، اَور شدید خوف سے تھرتھراؤ اَور بالکُل چُپ ہو جاؤ،“ یَاہوِہ یہی فرماتے ہیں۔
JER 2:13 ”کیونکہ میری قوم سے دو گُناہ سرزد ہُوئے ہیں، اُنہُوں نے مُجھ، آبِ حیات کے چشمے کو ترک کر دیا ہے، اَور اَپنے لیٔے حوض کھود لیٔے ہیں اَیسی شکستہ حوض جِن میں پانی نہیں ٹھہر سَکتا۔
JER 2:14 کیا اِسرائیل محض غُلام ہے؟ کیا وہ گھر کا پیدائشی غُلام ہے، پھر وہ کیوں لُوٹا گیا؟
JER 2:15 شیرببر اُس پر غُرّائے؛ اُن کی دھاڑ کافی زبردست رہی ہے۔ اَور اُنہُوں نے اُس کے مُلک کو اُجاڑ دیا ہے؛ اَور اُن کے شہروں کو جَلا کر ویران کر دیا ہے۔
JER 2:16 بنی میمفِسؔ اَور بنی تحفنحِیسؔ نے بھی تیرا سَر مونڈ ڈالا۔
JER 2:17 کیا تُم نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کو ترک کرکے خود بخُود اِس مُصیبت کو مول نہیں لیا؟ جَب کہ وہ تُمہیں صحیح راہ پر لے چلے تھے؟
JER 2:18 لیکن اَب تُم دریائے نیل کا پانی پینے کو مِصر کیوں جاتے ہو؟ یا دریائے فراتؔ کا پانی پینے کو اشُور جانے سے تُمہیں کیا حاصل ہوگا؟
JER 2:19 تمہاری بدکاری ہی تُمہیں سزا دے گی؛ اَور مجھ سے برگشتگی ہی تمہاری تادیب کرےگی۔ تَب ذرا غور کرنا اَور احساس کرنا کہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کو ترک کرنا اَور میرا خوف نہ ماننا تمہارے حق میں کتنا بُرا اَور بےجا کام ہے،“ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ یہی فرماتے ہیں۔
JER 2:20 ”کیونکہ کیٔی مُدّتیں پیشتر مَیں نے تمہارا جُوا توڑ ڈالا تھا اَور تمہارے بندھن کھول دئیے؛ مگر تُم نے کہا، ’مَیں آپ کی خدمت نہ کروں گا!‘ دراصل ہر اُونچی پہاڑی پر اَور ہر سایہ دار درخت کے نیچے تُم نے فاحِشہ کی مانند جنسی بدفعلی کی۔
JER 2:21 پھر بھی مَیں نے تُمہیں ایک عُمدہ انگوری بیل، اَور بہترین قِسم کے بیج کی مانند اِنتخاب کرکے لگایا۔ پھر اَیسا کیا ہو گیا کہ تُم بے حقیقت ہو گئے اَور جنگلی بیل میں کیسے تبدیل ہو گئے؟
JER 2:22 اگرچہ ہر وقت تُم خُود کو صابُن سے دھوؤ اَور خُوب صابُن اِستعمال کرو تَو بھی تمہاری بدی کا داغ میرے حُضُور قائِم رہے گا،“ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں،
JER 2:23 ”تُم یہ دعویٰ کیسے کر سکتے ہو، ’مَیں ناپاک نہیں ہُوا ہُوں؛ اَور مَیں نے بَعل کی پیروی نہیں کی‘؟ ذرا وادی میں اَپنے چال چلن کو تو دیکھ؛ اَور غور کر کہ تُم نے کیا کیا ہے؟ تُم ایک تیزرَو اُونٹنی ہو جو اِدھر اُدھر دَوڑتی پھرتی ہے،
JER 2:24 ایک مادہ گورخر کی مانند جو بیابان کی عادی ہے، اَورجو شہوت کے جوش میں ہَوا کو سونگھتی ہے؛ مستی کی حالت میں اُسے کون قابُو کر سَکتا ہے؟ جتنے نر اُس کی تلاش میں ہوں گے، اُنہیں زحمت اُٹھانے کی ضروُرت نہیں؛ کیونکہ شہوت کے ایّام میں وہ اُسے پا ہی لیں گے۔
JER 2:25 تُم اَپنے پاؤں کو ننگے پن سے، اَور اَپنے حلق کو پیاس سے بچاؤ، لیکن تُم نے کہا، ’مجھ سے بات کرنا بے فائدہ ہے! کیونکہ مُجھے غَیر معبُودوں سے مَحَبّت ہو گئی ہے، اَور مَیں تو اُنہیں کی پیروی کرتا رہُوں گا۔‘
JER 2:26 ”جِس طرح چور پکڑے جانے پر رُسوا ہوتاہے، اُسی طرح بنی اِسرائیل کا گھرانا، اُن کے بادشاہ، اُن کے اعلیٰ افسران، اُن کے کاہِنؔ اَور اُن کے نبی، سَب کے سَب رُسوا ہوں گے۔
JER 2:27 وہ درخت کے بُت سے کہتے ہیں، ’آپ میرے باپ ہیں،‘ اَور پتّھر سے کہتے، ’تُم نے مُجھے پیدا کیا ہے۔‘ اُنہُوں نے اَپنی پیٹھ میری طرف پھیر دی ہے، لیکن اَپنے مُنہ نہیں؛ مگر اَپنے مُصیبت کی حالات میں وہ میری دہائی دیتے ہیں، ’اُٹھ کر ہمیں بچائیں!‘
JER 2:28 لیکن جِن معبُودوں کو تُم نے بنایا ہے؟ تُم اُنہیں کیوں نہیں پُکارتے؟ اگر وہ تُمہیں مُصیبت کے وقت بچا سکتے ہیں تو وہ تُمہیں کیوں نہیں بچاتے ہیں، کیونکہ اَے یہُودیؔہ، جتنے تمہارے شہر ہیں اُتنے ہی تمہارے معبُود بھی ہیں۔
JER 2:29 ”تُم مجھ سے حُجّت کیوں کرتے ہو؟ تُم سَب نے مُجھ سے بغاوت کی ہے،“ یہی یَاہوِہ کا کلام ہے۔
JER 2:30 ”مَیں نے خوامخواہ تمہاری نَسل کو تربّیت دی؛ کیونکہ اُنہُوں نے اُس سے سبق نہ سیکھا۔ پھاڑ کھانے والے شیرببر کی مانند تمہاری تلوار نے تمہارے نبیوں کو نگل لیا۔
JER 2:31 ”اَے اِس پُشت کے لوگوں، یَاہوِہ کے کلام پر غور کرو: ”کیا مَیں بنی اِسرائیل کے لیٔے بیابان یا گہری تاریکی کے مُلک کے مانند ہُوں؟ پھر میری قوم کیوں کہتی ہے، ’ہم اَپنے خُدا سے آزاد ہو گئے ہیں؛ اِس لئے اَب دوبارہ آپ کے پاس نہیں آئیں گے‘؟
JER 2:32 کیا کنواری اَپنے زیورات، اَور دُلہن اَپنی آرائِش بھُول سکتی ہے؟ پھر بھی میری قوم نے ایک عرصہ سے مُجھے بھُلا دیا ہے۔
JER 2:33 تُم مَحَبّت میں کس قدر اَپنی راہ آراستہ کرنے میں ماہر ہو، یہاں تک کہ بدترین عورتیں بھی تمہاری راہوں سے سبق سیکھتی ہیں۔
JER 2:34 تمہارے دامن پر تو بےگُناہ مسکینوں کے خُون کے نِشان پائے گئے ہیں، حالانکہ تُمہیں تو مَعلُوم ہی نہیں چلا کہ وہ تمہارے گھر میں نقب لگا کر کب گھُس گئے۔
JER 2:35 پھر بھی اِن سَب باتوں کے باوُجُود تُم دعویٰ کرتے ہو، ’مَیں نے گُناہ نہیں کیا؛ بے شک اُس کا غُصّہ مُجھ پر سے ہٹ چُکاہے۔‘ لیکن یہ جان لو کہ مَیں تمہارا اِنصاف کر رہا ہُوں، کیونکہ تُم نے دعویٰ کیا ہے، ’مَیں بےگُناہ ہُوں۔‘
JER 2:36 تُم اَپنی راہیں بدلنے کو، اِس قدر جدّوجہد کیوں کرتے ہو؟ مِصر بھی تُمہیں وَیسے ہی مایوس کرےگا جَیسے اشُور نے کیا تھا۔
JER 2:37 اِس جگہ سے بھی تُمہیں مایوس ہونا پڑےگا، اُس وقت تمہارے ہاتھ تمہارے سَر پر ہوں گے، کیونکہ جِن مُلکوں پر تُمہیں اِعتماد تھا، اُنہیں یَاہوِہ نے مُسترد کر دیا ہے؛ اَور وہ تمہاری مدد بالکُل نہیں کر پائیں گے۔
JER 3:1 ”اگر کویٔی اَپنی بیوی کو طلاق دے اَور وہ بیوی اُسے چھوڑکر کسی اَور سے شادی کرکے رہنے لگے، تو کیا وہ پہلا آدمی پھر سے اُس طلاق شُدہ کے پاس جائے گا؟ کیا وہ مُلک نہایت ناپاک نہ ہو جائے گا؟ لیکن تُو متعدّد عاشقوں کے ساتھ فاحِشہ کی مانند رہ چُکی ہے۔ کیا تُو اَب میرے پاس لَوٹ آئے گی؟“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 3:2 ”بنجر ٹیلوں کی طرف نگاہ اُٹھاکر دیکھ، کیا کویٔی اَیسی جگہ دِکھائی پڑتی ہے جہاں تیری عصمت دری نہ ہُوئی ہو؟ راہوں کے کنارے تُو عاشقوں کے اِنتظار میں اَیسی بیٹھی رہتی ہے، جَیسے کویٔی خانہ بدوش‏ بدو بیابان میں بیٹھتی تھی۔ تُونے اَپنی جِسم فروشی اَور بدکاری سے مُلک کو ناپاک کر دیا ہے۔
JER 3:3 اِس لیٔے برسات روک دی گئی ہے، اَور موسمِ بہار میں بارش نہیں برسی۔ پھر بھی تیرے چہرے سے فاحِشہ کی سِی بے حیائی نظر آتی ہے؛ اَور تو شرم سے شرمندہ ہونے سے اِنکار کرتی ہے۔
JER 3:4 کیا تُو اَب سے مُجھے پُکار کر نہ کہےگی، ’اَے میرے باپ، آپ میری جَوانی کے ہمدرد تھے؟
JER 3:5 کیا آپ مجھ سے ہمیشہ خفا رہیں گے؟ کیا آپ کا قہر ہمیشہ قائِم رہے گا؟‘ دیکھ، تو اِس طرح سے بولتی تو ہے، لیکن تُو جِتنی بدی کر سکتی ہے اُتنی کرتی رہتی ہے۔“
JER 3:6 یُوشیاہؔ بادشاہ کے دَورِ حُکومت میں یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”کیا تُونے دیکھا، نافرمان اِسرائیل نے کیا کیا ہے؟ وہ ہر اُونچے پہاڑ پر اَور ہر سایہ دار درخت کے نیچے گئی اَور وہاں زنا کیا۔
JER 3:7 مَیں نے سوچا، اِتنا سَب کرنے کے بعد وہ میرے پاس لَوٹ آئے گی لیکن وہ نہ آئی اَور اُس کی بےوفا بہن، یہُودیؔہ نے یہ حال دیکھا۔
JER 3:8 یہُودیؔہ نے دیکھا کہ مَیں نے نافرمان اِسرائیل کو زناکاری کے سبب سے طلاق نامہ دے کر روانہ کر دیا ہے؛ تَو بھی اُس کی بےوفا بہن یہُودیؔہ نہ ڈری، بَلکہ اُس نے بھی جا کر زناکاری کی۔
JER 3:9 کیونکہ اِسرائیل کی نظر میں یہ شرمناک بدکاری کوئی سنگین مسئلہ نہیں تھا، اِس لیٔے اُس نے پُورے مُلک کو ناپاک کر دیا اَور پتّھروں اَور درختوں کے ساتھ زنا کیا۔
JER 3:10 اِن تمام باتوں کے باوُجُود، اُس کی بےوفا بہن یہُودیؔہ اَپنے سچّے دِل سے میرے پاس واپس نہ آئی بَلکہ ریاکاری ہی کرتی رہی۔“ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں،
JER 3:11 یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”نافرمان اِسرائیل بےوفا یہُودیؔہ سے زِیادہ راستباز ہے۔
JER 3:12 جاؤ اَور شمال کی جانِب یہ پیغام سُناؤ: ” ’اَے نافرمان اِسرائیل، لَوٹ آ،‘ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے ’مَیں تُجھ سے اَب اَور ناراضگی سے پیش نہ آؤں گا، کیونکہ مَیں رحیم ہُوں،‘ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے ’مَیں ہمیشہ غُصّہ نہیں کرتا رہُوں گا۔
JER 3:13 صِرف اَپنے اُن گُناہوں کا اقرار کر: کہ تُونے اَپنے خُدا یَاہوِہ سے بغاوت کی ہے، اَور ہر سایہ دار درخت کے نیچے غَیر معبُودوں کو خُوش کرنے میں لگی رہی، اَور میری اِطاعت نہ کی،‘ “ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں۔
JER 3:14 ”اَے بےایمان قوم، لَوٹ آ،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”کیونکہ مَیں تیرا شوہر ہُوں۔ مَیں تُجھے ہر شہر میں سے ایک کو اَور ہر برادری میں سے دو دو کو اِنتخاب کر صِیّونؔ میں واپس لاؤں گا۔
JER 3:15 پھر مَیں تُجھے اَپنے مَن پسند چرواہے دُوں گا جو دانائی اَور عقلمندی سے تیری رہبری کریں گے۔
JER 3:16 اُن دِنوں میں جَب تُو مُلک میں تعداد میں کثرت سے بڑھےگا،“ تَب یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”لوگ پھر کبھی یہ نام، ’یَاہوِہ کے دَورِ حُکومت کا عہد کا صندُوق زبان پر نہ لائیں گے،‘ نہ اُس کا خیال اُن کے ذہن میں آئے گا؛ اَور نہ وہ اُسے یاد کریں گے، نہ ہی اُس کی جدائی محسُوس کی جائے گی اَور نہ کویٔی دُوسرا بنائیں گے۔
JER 3:17 اُس وقت یروشلیمؔ یَاہوِہ کا تخت کہلائے گا اَور تمام قومیں یروشلیمؔ میں جمع ہُوں گی اَور یَاہوِہ کے نام کی تمجید کریں گی۔ تَب وہ پھر اَپنے ناپاک دِلوں کی ضِد پر نہ چلیں گے۔
JER 3:18 اُن دِنوں میں بنی یہُوداہؔ، بنی اِسرائیل کے ساتھ ایک ہو جائے گا اَور وہ باہم مِل کر شمالی مُلک سے اُس مُلک میں آئیں گے جسے مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو مِیراث میں دیا تھا۔
JER 3:19 ”مَیں نے خیال کیا تھا، ” ’مَیں کیسے تُمہیں دِل و جان سے فرزندوں میں شُمار کروں، اَور تُمہیں اِس خُوشنما مُلک کو عطا کروں، جو سَب قوموں کے ممالک کی مِیراث ہے۔‘ مَیں نے سوچا کہ تُم مُجھے ’باپ‘ کہہ کر پُکارو گے، اَور پھر مُجھ سے برگشتہ نہ ہوگے۔
JER 3:20 لیکن جِس طرح ایک بیوی اَپنے خَاوند سے بےوفائی کرتی ہے، اُسی طرح اَے اِسرائیل تُم نے مُجھ سے بےوفائی کی ہے،“ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں،
JER 3:21 بنجر ٹیلوں پر سے اِسرائیل کے رونے اَور گڑگڑانے کی آواز آ رہی ہے، کیونکہ اُنہُوں نے اَپنی راہیں ٹیڑھی کرلی ہیں، اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کو ترک کر دیا ہے۔
JER 3:22 ”اَے بےوفا قوم، لَوٹ آ؛ مَیں تُمہیں برگشتگی سے شفا بخشوں گا۔“ ”دیکھئے، ہم آپ کے پاس آ رہے ہیں، کیونکہ آپ یَاہوِہ ہمارے خُدا ہیں۔
JER 3:23 یقیناً ٹیلوں اَور پہاڑوں پر ہمارا بُت پرستی کا مجمع لگانا محض دھوکا ہے؛ اِسرائیل کی نَجات، یقیناً یَاہوِہ ہمارے خُدا میں ہی ہے۔
JER 3:24 ہماری جَوانی سے ہی اِن شرمناک معبُودوں نے، ہمارے آباؤاَجداد کی محنت کے پھل کو، اُن کے گلّوں اَور ریوڑوں کو، اَور اُن کے بیٹے اَور بیٹیوں کو نگل لیا ہے۔
JER 3:25 آؤ ہم اَپنی شرم میں لیٹ جایٔیں، اَور ہماری رُسوائی ہمیں ڈھانپ لے۔ کیونکہ ہم اَور ہمارے آباؤاَجداد دونوں نے، اَپنی جَوانی کے ایّام سے آج تک، ہم نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُکم کو نہ مان کر گُناہ کیا ہے۔“
JER 4:1 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”اَے بنی اِسرائیل، اگر تُم لَوٹنا چاہتے ہو، تو میرے پاس واپس لَوٹ آؤ۔ اگر تُم اَپنے مکرُوہ بُتوں کو میری نظروں سے دُور کر دو اَور مزید گُمراہ نہ ہو،
JER 4:2 اَور اگر تُم سچّائی، راستی اَور صداقت سے ’زندہ یَاہوِہ کی قَسم کھاؤ،‘ تَب دُنیا کی تمام قومیں تمہارے باعث برکت پائیں گی، اَور یَاہوِہ پر فخر کریں گی۔“
JER 4:3 یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے لوگوں سے یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اَپنے بنجر زمین والے دِل پر ہل چلاؤ اَور کٹیلی جھاڑیوں میں عُمدہ بیج مت بوؤ۔
JER 4:4 اَے بنی یہُوداہؔ اَور یروشلیمؔ کے لوگوں، یَاہوِہ کے لیٔے اَپنا ختنہ کرو، ہاں اَپنے دِل کا ختنہ کرو، ورنہ تمہاری بداعمالی کے باعث، میرا قہر آگ کی مانند نازل ہوگا، اَور اَیسا بھڑکے گا کہ کویٔی اُسے بُجھا نہ سکےگا۔
JER 4:5 ”یہُودیؔہ میں مُنادی کرو اَور یروشلیمؔ میں یہ اعلان کرو، ’سارے مُلک میں نرسنگا پھُونکو،‘ بُلند آواز سے پُکارو، ’آؤ ہم جمع ہُوں! اَور مُستحکم شہروں میں پناہ لیں!‘
JER 4:6 صِیّونؔ کی طرف چلنے کے لیٔے عَلم اُٹھاؤ! بِنا تاخیر پناہ کے لیٔے بھاگ چلو! کیونکہ مَیں شمال کی جانِب سے ایک آفت، بَلکہ نہایت شدید تباہی لا رہا ہُوں۔“
JER 4:7 ایک شیرببر اَپنی ماند سے نکل پڑا ہے؛ اَور قوموں کو تباہ کرنے والا روانہ ہو چُکاہے۔ وہ اَپنی جگہ سے کُوچ کر چُکاہے تاکہ تمہارے مُلک کو اُجاڑ دے۔ تمہارے شہر ویران ہو جایٔیں گے اَور اُن میں کویٔی باشِندہ نہ ہوگا۔
JER 4:8 چنانچہ ٹاٹ پہن لو، اَور ماتم اَور ماتم کرو، کیونکہ یَاہوِہ کا قہر شدید ہم پر سے نہیں ٹلا ہے۔
JER 4:9 ”اُس دِن اَیسا ہوگا،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”بادشاہ اَور اعلیٰ افسران بے دِل ہو جائیں گے، کاہِنؔ حیرت زدہ، اَور نبی سراسیمہ ہوں گے۔“
JER 4:10 تَب مَیں نے کہا، ”افسوس، یَاہوِہ قادر، آپ نے تو یقیناً اِس قوم کو اَور یروشلیمؔ کو یہ کہہ کر دغا دی، ’تُم سلامت رہوگے،‘ جَب کہ تلوار ہماری گردن پر ہے۔“
JER 4:11 اُس وقت اِس قوم سے اَور یروشلیمؔ کے لوگوں سے یہ فرمایا جائے گا، ”بیابان کے بنجر ٹیلوں سے میری قوم کی جانِب جھُلسانے والی لُو چل رہی ہے جو اناج پھٹکنے اَور صَاف کرنے کے لیٔے نہیں ہے؛
JER 4:12 اِس سے بھی زِیادہ تُند ہَوا میرے حُکم سے چلے گی۔ اَب مَیں تمہارے خِلاف فیصلہ سُناتا ہُوں۔“
JER 4:13 دیکھو، وہ بادلوں کی طرح بڑھ رہاہے، اَور اُس کے رتھ گِردباد کی مانند آ رہے ہیں، اَور اُس کے گھوڑوں کی رفتار عُقابوں سے بھی زِیادہ ہے۔ ہم پر ہائے! ہم تباہ ہو گئے ہیں!
JER 4:14 اَے یروشلیمؔ، اَپنے دِل کی بدی کو دھو ڈال تاکہ تُم نَجات پاؤ۔ تُم کب تک اَپنے دِل میں بُرے خیالات کو جگہ دوگے؟
JER 4:15 دانؔ سے ایک صدا اعلان کرتی ہے، اِفرائیمؔ کی پہاڑیوں سے مُصیبت کی خبر آ رہی ہے۔
JER 4:16 ”مُختلف قوموں کو خبردار کر دو، اَور یروشلیمؔ کو بھی آگاہ کر دو، ’محاصرہ کرنے والا لشکر دُور دراز مُلک سے آ رہاہے، وہ یہُودیؔہ کے شہروں کے خِلاف للکار رہے ہیں۔
JER 4:17 وہ کھیت کے رکھوالوں کی مانند اُسے چاروں طرف سے گھیر رہے ہیں، کیونکہ اُس نے میرے خِلاف بغاوت کی ہے،‘ “ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں،
JER 4:18 ”تمہارے چال چلن اَور اعمال کی وجہ سے ہی یہ مُصیبت تُم پر آن پڑی ہے۔ یہی تمہاری سزا ہے، یہ کتنا تلخ ہے! اَور کس طرح دِل کو چھید ڈالتی ہے!“
JER 4:19 ہائے، ہائے، میرا دِل اَندر ہی اَندر تکلیف سے کراہتا ہے! میں درد میں تڑپ رہا ہُوں۔ ہائے، میرے دِل کی کُوفت! مَیں خاموش نہیں رہ سَکتا۔ کیونکہ مَیں نے نرسنگے کی آواز؛ اَور جنگ کی للکار سُنی ہے۔
JER 4:20 مُصیبت پر مُصیبت آ رہی ہے؛ تمام مُلک تباہ ہو چُکاہے۔ میرے خیمے پل بھر میں، اَور میری پناہ گاہ اَچانک تباہ کر دیئے گیٔے۔
JER 4:21 مَیں کب تک جنگ کا عَلم دیکھتا رہُوں اَور نرسنگے کی آواز سُنتا رہُوں؟
JER 4:22 ”کیونکہ میری قوم احمق ہیں؛ وہ مُجھے نزدیکی سے نہیں جانتے۔ وہ نادان بچّے ہیں؛ جِن میں کچھ بھی سمجھ نہیں۔ وہ بدی کرنے میں ماہر ہیں؛ لیکن نیکی کرنا نہیں جانتے۔“
JER 4:23 مَیں نے زمین پر نظر کی، وہ بے ڈول اَور سُنسان تھی؛ اَور افلاک پر نگاہ ڈالی اَور پایا، وہ بے نُور تھے۔
JER 4:24 مَیں نے پہاڑوں پر نظر کی، اَور دیکھا کہ وہ کانپ رہے تھے اَور سارے پہاڑ لرزہ رہے تھے۔
JER 4:25 مَیں نے غور فرمایا کہ وہاں کویٔی شخص مَوجُود نہیں تھا؛ اَور آسمان کے سَب پرندے اُڑ گئے تھے۔
JER 4:26 مَیں نے نظر اُٹھائی تو دیکھا کہ زرخیز زمین بیابان ہو چُکی تھی؛ اَور اِس مُلک کے سَب شہر یَاہوِہ اَور اُن کے قہر شدید کی وجہ سے تباہ ہو چُکے ہیں۔
JER 4:27 یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے: ”تمام مُلک تباہ ہو جائے گا، مگر میں اُسے مُکمّل طور پر برباد نہ کروں گا۔
JER 4:28 اِس لیٔے زمین ماتم کرےگی اَور اُوپر آسمان تاریک ہو جایٔیں گے، کیونکہ مَیں جو فرما چُکا ہُوں، اَب اُسے بدلوں گا نہیں، مَیں نے جو طے کر لیا ہے، اَب اُس سے پھروں گا نہیں۔“
JER 4:29 گُھڑسواروں اَور تیر اَندازوں کے شور سے ہر شہر کے لوگ بھاگ رہے ہیں۔ کچھ لوگ گھنے جنگلوں میں چھُپ جاتے ہیں؛ کچھ چٹّانوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ تمام شہر ویران ہو چُکے ہیں؛ اَور اُن میں کویٔی بھی باشِندہ نہیں۔
JER 4:30 اَے ویران ہُوئی بستی، تُو کیا کر رہی ہے؟ تُونے سُرخ لباس کیوں پہن رکھا ہے؟ اَور زرّیں زیوروں سے کیوں آراستہ ہُوئی ہے؟ تُم نے اَپنی آنکھوں میں سُرمہ کیوں لگا رکھا ہے؟ تُم خوامخواہ اَپنے آپ کو آراستہ کر رہی ہو۔ تمہارے عاشق اَب تُمہیں حقیر جانتے ہیں؛ وہ تو اَب تمہاری جان کے پیچھے پڑے ہیں۔
JER 4:31 مُجھے ایک پہلوٹھا بچّہ پیدا کرنے والی، زچّہ کے چِلّانے کی آواز سُنائی دے رہی ہے، یہ صِیّونؔ کی بیٹی کی چِلّاہٹ ہے، جو سانس لینے کو ہانپ رہی ہے وہ اَپنے ہاتھ پھیلا کر لوگوں سے کہہ رہی ہے، ”افسوس! میں بے ہوش ہو رہی ہوں میری جان قاتلوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔“
JER 5:1 ”یروشلیمؔ کی گلیوں میں اِدھر اُدھر گشت لگا کر، اَپنے چاروں طرف دیکھو اَور غور کرو، اُس کے چوراہوں میں تلاش کرو، اگر تُمہیں وہاں ایک بھی اَیسا شخص ملے جو ایمانداری سے پیش آتا ہو اَور سچّائی کا طالب ہو، تو میں اِس شہر کو مُعاف کر دُوں گا۔
JER 5:2 حالانکہ ’وہ زندہ یَاہوِہ کے نام کی قَسم کھاتے ہیں،‘ تَو بھی یقیناً وہ جھُوٹی قَسم ہی کھاتے ہیں۔“
JER 5:3 اَے یَاہوِہ، کیا آپ کی نظر سچّائی کی اُمّید نہیں رکھتی؟ آپ نے اُن کو سزا دی لیکن اُنہُوں ن کوئی درد محسُوس نہیں کیا؛ آپ نے اُن کو کُچلا لیکن وہ تربّیت پذیر نہ ہُوئے۔ اُنہُوں نے اَپنے چہرے پتّھر سے بھی زِیادہ سخت کر لیٔے اَور تَوبہ کرنے سے اِنکار کیا۔
JER 5:4 تَب مَیں نے سوچا، ”یقیناً یہ لوگ تو غریب ہیں؛ اَور احمق بھی ہیں، کیونکہ وہ یَاہوِہ کی راہ، اَور اَپنے خُدا کے تقاضوں سے واقف نہیں ہیں۔
JER 5:5 اِس لیٔے میں اُن کے رہبروں کے پاس جاؤں گا، اَور اُن سے کلام کروں گا؛ یقیناً وہ یَاہوِہ کی راہ جانتے ہیں، اَور اَپنے خُدا کے تقاضوں سے واقف ہیں۔“ لیکن اُنہُوں نے بھی مِل کر اَپنا جُوا توڑ دیا ہے اَور اَپنے بندھنوں کے ٹکڑے کر دئیے ہیں۔
JER 5:6 اِس لیٔے جنگل سے ایک شیرببر آکر اُن پر حملہ کرےگا، اَور بیابان کا ایک بھیڑیا اُن کو ہلاک کرےگا، اَور ایک چیتا اُن کے شہروں کے پاس گھات لگائے بیٹھے گا تاکہ اگر کویٔی شہر سے باہر نکلے تو اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے، کیونکہ اُن کی اُتنی بغاوت شِدّت اِختیار کر گئی اَور برگشتگی بہت زِیادہ ہو گئی۔
JER 5:7 ”میں تُمہیں کیوں مُعاف کروں؟ تمہارے فرزندوں نے مُجھے ترک کر دیا ہے اَور اَیسے معبُودوں کی قَسم کھائی جو خُدا نہیں ہیں۔ جَب مَیں نے اُن کی تمام ضروریات پُوری کیں، تَب بھی اُنہُوں نے زناکاری کی اَور قحبہ خانوں میں مجمع لگا دیا۔
JER 5:8 وہ کھا پی کر پلے ہُوئے بے لگام گھوڑوں کی مانند ہو گئے ہیں، اَور ہر ایک اَپنے ہمسایہ کی بیوی کو دیکھ کر ہنہناتا ہے۔
JER 5:9 کیا میں اَیسے کاموں کے لیٔے اُنہیں سزا نہ دُوں؟“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔ ”کیا میں اَیسی قوم سے اَپنا اِنتقام نہ لُوں؟
JER 5:10 ”اُن کے انگوری باغ میں داخل ہو جاؤ اَور اُنہیں اُجاڑ دو، لیکن اُنہیں مُکمّل طور پر تباہ نہ کرو۔ اُس کی شاخیں کاٹ ڈالو، کیونکہ یہ لوگ یَاہوِہ کے نہیں ہیں۔
JER 5:11 یَاہوِہ فرماتے ہیں، بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ نے مُجھ سے بڑی بےوفائی کی ہے۔“
JER 5:12 اُنہُوں نے یَاہوِہ کی بابت جھُوٹی افواہ پھیلائی ہیں؛ اَور کہا، ”وہ کچھ نہیں کریں گے! ہمیں کویٔی ضرر نہ پہُنچے گا؛ نہ ہمیں کبھی تلوار کا سامنا کرنا ہوگا نہ قحط کا۔
JER 5:13 اُن کے نبی محض ہَوا ہو جائیں گے، اَور اُن کے پاس یَاہوِہ کا کلام نہیں ہے؛ لہٰذا اُن کے ساتھ وُہی ہو جو وہ فرماتے ہیں۔“
JER 5:14 چنانچہ قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”چونکہ اِس قوم نے اَیسا کہا ہے، اِس لیٔے میں اَپنے کلام کو تیرے مُنہ میں آگ، اَور اِس قوم کو لکڑی بنا دُوں گا، اَور وہ آگ اُنہیں بھسم کر دے گی۔
JER 5:15 اَے بنی اِسرائیل دیکھ،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”مَیں تمہارے خِلاف دُور سے ایک اَیسی قوم چڑھا لاؤں گا، جو نہایت قدیم اَور طاقتور قوم ہے، وہ اَیسے لوگ ہیں جِن کی زبان تُم نہیں جانتے، نہ ہی اُن کی بات تُم سمجھ سکتے ہو۔
JER 5:16 اُن کے ترکش کھُلی قبر کی مانند ہیں؛ اَور وہ سَب نہایت طاقتور جنگجو ہیں۔
JER 5:17 وہ تمہاری فصل اَور تمہارا کھانا، تمہارے بیٹے اَور تمہاری بیٹیاں؛ تمہارے گلّے اَور تمہارے ریوڑ، تمہاری انگوری فصل اَور اَنجیر کے باغ بالکُل چٹ کر جایٔیں گے۔ جِن مُستحکم شہروں پر تُمہیں اِعتماد ہے اُنہیں وہ تلوار سے تباہ کر ڈالیں گے۔
JER 5:18 ”تَو بھی اُن دِنوں میں بھی،“ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”مَیں تُمہیں بالکُل فنا نہ کروں گا۔
JER 5:19 اَور جَب لوگ پُوچھیں، ’یَاہوِہ ہمارے خُدا نے ہمارے ساتھ یہ سَب کیوں کیا؟‘ تَب تُم اُنہیں بتانا، ’چونکہ ہم نے اَپنے خُدا کو ترک کر دیا تھا اَور اَپنے مُلک میں غَیر معبُودوں کی خدمت کی تھی؛ اِس لیٔے اَب ہم اِس مُلک میں جو ہمارا نہیں ہے، اَب ہمیں پردیسیوں کی خدمت پردیسی مُلک میں کرنی پڑےگی۔‘
JER 5:20 ”یعقوب کے گھرانے میں یہ اعلان کرو اَور یہُودیؔہ میں مُنادی کرو،
JER 5:21 اَے احمق اَور نادان لوگوں، تُم آنکھیں رکھتے ہُوئے بھی نہیں دیکھتے، اَور کان رکھتے ہُوئے بھی نہیں سُنتے،
JER 5:22 کیا تُمہیں میرا خوف نہیں؟“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”کیا تُمہیں میرے حُضُور تھرتھرانا نہیں چاہئے؟ مَیں نے ریت کو سمُندر کی حد مُقرّر کیا، اَور اُسے ایک اَبدی ساحِل بنایا تاکہ وہ اُسے پار نہ کر سکے۔ چاہے لہریں اُٹھیں تَو بھی وہ غالب نہیں آ سکتیں؛ چاہے شور مچائیں تَو بھی آگے نہیں بڑھ سکتیں۔
JER 5:23 لیکن اِس قوم کے دِل ضِدّی اَور باغی ہیں؛ اُنہُوں نے بغاوت کی اَور مُجھ سے دُورہو گئے۔
JER 5:24 وہ اَپنے دِل میں اِتنا بھی نہیں سوچتے کہ ’ہم اَپنے خُدا یَاہوِہ کا خوف مانیں کیونکہ، وہ خزاں اَور بہار کے موسم میں بارش اَپنے وقت پر برساتا ہے، اَور فصل کے مُقرّرہ ہفتوں کو ہمارے لئے مَوجُود کر رکھتا ہے۔‘
JER 5:25 تمہاری زیادتیوں نے ہی اِن خُوبصورت برکتوں سے تُمہیں بعض رکھا ہے؛ اَور تمہارے گُناہوں نے تُمہیں اِن نیکیوں سے محروم رکھا ہے۔
JER 5:26 ”کیونکہ میری قوم میں اَیسے بدکار اِنسان بھی پایٔے جاتے ہیں جو چھُپ کر تاک میں بیٹھے پرندوں کے شِکاری کی مانند ہیں، جو لوگوں کو پھنسانے کے لیٔے جال بچھاتے ہیں۔
JER 5:27 جَیسے پنجرہ پرندوں سے بھرا ہوتاہے، وَیسے ہی اُن کے گھر فریب سے بھرے ہیں؛ اَور اَب وہ مالدار اَور زورآور بَن گیٔے ہیں،
JER 5:28 اَور موٹے اَور چِکنے ہو گئے ہیں۔ اُن کے بُرے کاموں کی کویٔی حَد نہیں ہوتی؛ وہ راستی سے یتیموں کا اِنصاف نہیں کرتے، نہ ہی مسکینوں کے حُقُوق کا تحفُّظ کرتے ہیں۔
JER 5:29 کیا میں اَیسے لوگوں کو سزا نہ دُوں؟“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”کیا مَیں اَیسی قوم سے، اَپنا اِنتقام نہ لُوں؟
JER 5:30 ”مُلک میں ایک نہایت مُہیب اَور نفرت اَنگیز بات ہُوئی ہے؛
JER 5:31 نبی جھُوٹی نبُوّتیں کرتے ہیں، اَور کاہِنؔ اَپنے اِختیار کی مَن مانی کرتے ہیں، اَور میری قوم اَیسی باتوں کو پسند کرتی ہے۔ لیکن یہ سَب واقعہ ہونے پر آخِر میں تُم کیا کروگے؟
JER 6:1 ”اَے بنی بِنیامین، پناہ کے لیٔے بھاگ جاؤ! یروشلیمؔ سے بھاگ جاؤ! تقوعؔ شہر میں نرسنگا پھُونکو! اَور بیت ہکرمؔ میں خطرہ والے آتِشی دھوئیں کے عَلم بُلند کرو؛ کیونکہ شمالی جانِب سے آنے والی بڑی آفت، اَور شدید تباہی لیٔے آ رہی ہے۔
JER 6:2 میں صِیّونؔ کی نازک اَور نہایت حسین بیٹی کو تباہ کروں گا۔
JER 6:3 چرواہے اَپنے گلّوں کے ساتھ اُس پر چڑھ آئیں گے؛ اَور اُس کے اطراف اَپنے خیمے کھڑے کریں گے، اُن میں سے ہر ایک اَپنے اَپنے حِصّہ میں ریوڑوں کو چَرائے گا۔“
JER 6:4 ”اُس کے خِلاف جنگ کی تیّاری کرو! اُٹھو، ہم دوپہر کو حملہ کریں! لیکن افسوس ہم پر! دِن ڈھلتا جا رہاہے، اَور شام کے سائے لمبے ہوتے جا رہے ہیں۔
JER 6:5 لہٰذا اُٹھو، اَب ہم رات ہی کو حملہ کریں اَور اُس کے محلوں کو ڈھا دیں!“
JER 6:6 کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”درخت کاٹ ڈالو، اَور یروشلیمؔ کے اطراف محاصرہ کرنے والے دمدمہ باندھو۔ یہ شہر سزا کا مُستحق ہے؛ کیونکہ اِس میں ظُلم ہی ظُلم بھرا ہُواہے۔
JER 6:7 جِس طرح کنوئیں میں سے پانی نکلتا رہتاہے، اُسی طرح اِس شہر میں بدکاریاں جاری ہیں۔ تشدّد اَور تباہی کی صدائیں اُس میں گونجتی رہتی ہیں؛ مُجھے بیماری اَور زخم ہمیشہ دِکھائی دیتے رہتے ہیں۔
JER 6:8 اَے یروشلیمؔ، تربیّت پذیر ہو، ورنہ میں تُم سے مُنہ موڑ لُوں گا اَور تمہاری زمین کو ویران کر ڈالوں گا تاکہ وہاں پھر کویٔی آباد نہ ہو سکے۔“
JER 6:9 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”وہ بنی اِسرائیل کے باقی بچے لوگوں کو انگور کی طرح ڈھونڈ کر توڑ لیں گے؛ تُو انگور توڑنے والے کی مانند، پھر سے اَپنا ہاتھ شاخوں میں ڈال۔“
JER 6:10 میں کس سے کہُوں اَور کسے خبردار کروں؟ میری بات کون سُنے گا؟ اُن کے کان نامختون ہیں اِس لیٔے وہ سُن نہیں سکتے۔ یَاہوِہ کا کلام اُنہیں ناگوار گزرتا ہے؛ اُنہیں اِس میں کویٔی دلچسپی نہیں۔
JER 6:11 لیکن مَیں یَاہوِہ کے قہر سے لبریز ہُوں، اَور اِسے قابُو میں رکھنا میرے لئے اَب مُشکل ہو رہاہے۔ ”اَپنا یہ قہر گلیوں میں بچّوں پر اَور جَوانوں کی جماعت پر اُنڈیل دو؛ کیونکہ خَاوند اَپنے بیوی کے ساتھ، اَور ضعیف اَور عمر رسیدہ، بھی اُس قہر میں مبتلا ہوں گے۔
JER 6:12 اُن کے مکانات، اُن کے کھیت اَور اُن کی بیویاں دُوسروں کی ہو جائیں گی، کیونکہ مَیں اَپنا ہاتھ اِس مُلک کے باشِندوں کے خِلاف بڑھاؤں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 6:13 ”کیونکہ اُن میں چُھوٹوں سے لے کر بڑوں تک، سبھی اَپنے مفاد کے لالچی ہیں؛ اَور نبی سے لے کر کاہِنؔ تک، سبھی دغاباز ہیں۔
JER 6:14 وہ میری قوم کے زخموں پر اِس طرح پٹّی باندھتے ہیں گویا وہ مَعمولی زخم ہُوں۔ ’اَور سلامتی، سلامتی کہتے ہیں،‘ جَب کہ کچھ بھی سلامتی نہیں ہے۔
JER 6:15 کیا وہ اَپنے مکرُوہ اعمال کے باعث شرمندہ ہُوئے؟ نہیں، وہ بالکُل بے شرم ہیں، وہ شرمانا جانتے ہی نہیں۔ اِس لیٔے وہ گرنے والوں کے ساتھ گریں گے؛ اِس لئے جَب مَیں اُنہیں سزا دُوں گا، تَب وہ ٹھوکر کھا کر گریں گے،“ یَاہوِہ یہی فرماتے ہیں۔
JER 6:16 یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”چوراہوں پر کھڑے ہوکر دیکھو؛ اَور قدیم راہوں کی بابت دریافت کرو، پُوچھو کہ سَب سے بہترین راستہ کون سا ہے اَور اُسی راہ پر چلو، تَب تمہاری جان راحت پایٔے گی۔ لیکن تُم نے اعلان کیا، ’ہم اُس راہ پر نہ چلیں گے۔‘
JER 6:17 تَب مَیں نے تُم پر نگہبان مُقرّر کئے اَور فرمایا، ’نرسنگے کی آواز کو غور سے سُننا!‘ لیکن تُم نے ضِد کی، ’ہم نہیں سُنیں گے۔‘
JER 6:18 اِس لیٔے، اَے قوموں! سُنو؛ اَور اَے اہلِ جماعت، دیکھو، کہ اُن کا حَشر کیا ہوگا۔
JER 6:19 اَے زمین، سُن، مَیں اِس قوم پر اَیسی آفت لا رہا ہُوں، جو خُود اُن کے سازشوں کا پھل ہے، کیونکہ اُنہُوں نے میرے کلام پر غور نہ کیا اَور میرے آئین کو مُسترد کر دیا۔
JER 6:20 کیا فائدہ ہے اُس بخُور کا جو میرے لئے مُلکِ شیبا سے، اَور اُس خُوشبودار جڑی بُوٹیوں کی جو دُور دراز کے مُلکوں سے لائی جاتی ہیں؟ تمہاری سوختنی نذریں مُجھے پسند نہیں؛ اَور نہ ہی تمہارے ذبیحے سے مُجھے خُوشی۔“
JER 6:21 اِس لیٔے یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھو، مَیں اِس قوم کے آگے ٹھوکر کھِلانے والا پتّھر رکھوں گا۔ اَور باپ اَور بیٹے ہمسائے اَور دوست دونوں اُن سے ٹھوکر کھا کر ہلاک ہو جائیں گے۔“
JER 6:22 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھو، شمالی مُلک سے ایک لشکر آ رہاہے؛ زمین کے دُور دراز علاقے سے ایک زبردست قوم کو اِس مُلک کے خِلاف اُکسایا جا رہاہے۔
JER 6:23 وہ کمان اَور نیزے سے مُسلّح ہیں؛ وہ نہایت سنگدل اَور بےرحم ہیں۔ جَب وہ اَپنے گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں تَب سمُندر کی گرج کی مانند شور مچاتے ہیں۔ اَے صِیّونؔ کی بیٹی، وہ تُم پر حملہ کرنے کو گویا جنگ کے لیٔے آراستہ ہوکر آ رہے ہیں۔“
JER 6:24 ہم نے اِس کی خبر سُنی ہے، جِس سے ہمارے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ گیٔے ہیں۔ ہم گویا ایک زچّہ کی مانند سخت درد اَور مُصیبت میں مُبتلا ہیں،
JER 6:25 کھیتوں میں مت جاؤ نہ ہی راستوں پر چلو پھرو، کیونکہ دُشمن کے پاس تلوار ہے، اَور ہر طرف خوف چھایا ہُواہے۔
JER 6:26 اَے میری قوم، ٹاٹ پہنو، اَور راکھ میں لیٹ جاؤ؛ جَیسا اِکلوتے بیٹے پر ماتم کرتے ہو اُسی طرح دلخراش ماتم کرو، کیونکہ تباہی اَچانک ہم پر ٹوٹ پڑےگی۔
JER 6:27 ”مَیں نے تُمہیں اَپنی قوم کے درمیان دھاتوں کا پرکھنے والا مُقرّر کیا ہے، تاکہ تُم اُن کی روِشوں کو دیکھو اَور پرکھ سکو۔
JER 6:28 وہ سَب کے سَب نہایت باغی ہیں، جو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ وہ تانبے اَور لوہے کی مانند ہیں؛ اَور سَب کے سَب بدظن ہیں۔
JER 6:29 دھونکنیاں زور سے پھُونک مار رہی ہیں تاکہ آگ میں سیسہ پگھل کر صَاف ہو جائے، لیکن صفائی کا عَمل بے سُود ثابت ہُوا؛ کیونکہ بدکار لوگ خالص نہ ہو پایٔے۔
JER 6:30 وہ مَردُود مُسترد شُدہ چاندی کہلایٔیں گے، کیونکہ یَاہوِہ نے اُنہیں مُسترد کر دیا ہے۔“
JER 7:1 یہ وہ کلام ہے جو یَاہوِہ کی طرف سے یرمیاہؔ نبی پر نازل ہُوا:
JER 7:2 ”یَاہوِہ کے گھر کے پھاٹک پر کھڑے ہو جاؤ اَور وہاں اِس پیغام کی مُنادی کرو: ” ’اَے یہُودیؔہ کے سَب لوگوں، تُم جو یَاہوِہ کی عبادت کرنے کے لیٔے اِن پھاٹکوں سے داخل ہوتے ہو، یَاہوِہ کا کلام سُنو۔
JER 7:3 اَے قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، اَپنی روِشیں اَور اَپنے اعمال دُرست کر لو، تو مَیں تُمہیں اِس جگہ میں بُودوباش کرنے دوں گا۔
JER 7:4 تُم اِس بہکانے والی بات پر یقین مت کرو اَور نہ یہ دعویٰ کرو، ”یہ تو یَاہوِہ کا بیت المُقدّس ہے، یہ تو یَاہوِہ کا بیت المُقدّس ہے، یہ تو یَاہوِہ کا بیت المُقدّس ہے!“
JER 7:5 اگر تُم واقعی اَپنی روِشیں اَور اَپنے اعمال دُرست کر لو اَور ایک دُوسرے کے ساتھ اِنصاف سے پیش آؤ،
JER 7:6 اَور اگر تُم پردیسی، یتیم اَور بِیوہ پر ظُلم نہ کرو اَور اِس جگہ بےگُناہ کا خُون نہ بہاؤ اَور اگر تُم غَیر معبُودوں کی پیروی نہ کرو جِس سے تمہارا نُقصان ہو،
JER 7:7 تَب میں تُمہیں اِس جگہ اَور اِس مُلک میں جسے مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو بُودوباش کرنے کو اَبدیّت کے لیٔے دیا تھا۔
JER 7:8 لیکن دیکھو تُم جھُوٹی باتوں پر یقین کرتے ہو جِن سے کچھ فائدہ نہیں ہو سَکتا۔
JER 7:9 ” ’کیا تُم چوری، خُون، زنا کرکے اَور جھُوٹی قَسم کھا کر، معبُود بَعل کے لیٔے بخُور جَلا کر اَور اُن غَیر معبُودوں کی پیروی کرتے ہو جنہیں تُم نہیں جانتے تھے۔
JER 7:10 اَور پھر آکر اِس گھر میں جو میرے نام سے کہلاتا ہے، میرے حُضُور میں کھڑے ہوکر یہ کہو، ”اَب ہم محفوظ ہیں،“ کیا یہ سَب مکرُوہ کام کرنے کے لیٔے تُم محفوظ ہو؟
JER 7:11 کیا یہ گھر جو میرے نام سے کہلاتا ہے تمہاری نظر میں ڈاکوؤں کا اڈّا بَن گیا ہے؟ یَاہوِہ فرماتے ہیں، دیکھو، مَیں یہ سَب دیکھ رہا ہُوں!
JER 7:12 ” ’لیکن اَب شیلوہؔ میں اُس مقام پر چلے جاؤ جہاں مَیں نے سَب سے پہلے اَپنے نام کا گھر مُقرّر کیا تھا، تُم وہاں جا کر دیکھو کہ مَیں نے اَپنی قوم بنی اِسرائیل کی بدکاریوں کے سبب سے اُس جگہ کا کیا حال کر دیا ہے؟
JER 7:13 یَاہوِہ فرماتے ہیں، جَب تُم یہ سَب کام کر رہے تھے، تَب مَیں نے تُم سے بار بار کلام کیا لیکن تُم نے نہ سُنا، اَور مَیں تُمہیں پُکارتا رہا لیکن تُم نے مُجھے کوئی جَواب نہ دیا۔
JER 7:14 اِس لیٔے یہ گھر جو میرے نام سے کہلاتا ہے، بیت المُقدّس پر تمہارا یقین ہے اَور یہ جگہ جو مَیں نے تُمہیں اَور تمہارے آباؤاَجداد کو عطا کی تھی اِس حالت میں شیلوہؔ کی مانند کر دُوں گا،
JER 7:15 اَور جِس طرح مَیں نے تمہارے سَب بھائیوں کو یعنی بنی اِفرائیمؔ کو اَپنی حُضُوری سے دُور کر دیا ہے، وَیسے ہی تُم سَب کو بھی دُور کر دُوں گا۔‘
JER 7:16 ”لہٰذا تُم میری اِس قوم کے واسطے نہ تو دعا کرنا نہ کویٔی ہی مناجات پیش کرنا؛ اِن کے لئے مجھ سے کوئی فریاد مت کرنا کیونکہ مَیں تمہاری نہ سُنوں گا۔
JER 7:17 کیا تُم نہیں دیکھتے کہ وہ یہُودیؔہ کے شہروں میں اَور یروشلیمؔ کی گلیوں میں کیا کر رہے ہیں؟
JER 7:18 دیکھ بچّے تو لکڑی جمع کرتے ہیں، باپ آگ سُلگاتے ہیں اَور عورتیں آٹا گوندھتی ہیں کہ آسمان کی ملِکہ کے واسطے روٹی پکاتی ہیں، اَور غَیر معبُودوں کو تپاون دے کر میرے غُصّہ کو بھڑکاتے ہیں۔
JER 7:19 لیکن یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ کیا وہ مُجھ کو ہی غُصّہ دِلاتے ہیں؟ کیا وہ خُود اَپنا نُقصان نہیں کر رہے جِس سے اُن کی رُسوائی ہو؟
JER 7:20 ” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں، میرا غُصّہ اَور غضب اِس مقام پر، ہر اِنسان اَور حَیوان پر، درختوں اَور پَودوں پر اَور میدان کے فصلوں پر اُنڈیل دیا جائے گا جو جلتا ہی رہے گا اَور بُجھایا نہ جائے گا۔
JER 7:21 ” ’قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، اَپنے سوختنی نذریں کے ساتھ باقی کے اَپنے ذبیحوں کو بھی شامل کر لو اَور خُود ہی اُس گوشت کو کھاؤ!
JER 7:22 کیونکہ جَب مَیں تمہارے آباؤاَجداد کو مِصر سے باہر نکال لایا اَور اُن سے بات کی تو اُس وقت مَیں نے اُنہیں صِرف سوختنی نذروں اَور ذبیحوں کے متعلّق ہی اَحکام نہ دئیے تھے،
JER 7:23 بَلکہ مَیں نے اُنہیں یہ حُکم دیا تھا کہ میرا حُکم مانو اَور مَیں تمہارا خُدا ہُوں گا اَور تُم میری قوم ٹھہروگے۔ اَور جِس راہ پر چلنے کا حُکم دُوں، اُس راہ پر چلو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔
JER 7:24 پھر بھی اُنہُوں نے نہ تو میرے حُکموں پر عَمل کیا اَور نہ ہی اُن کی طرف غور کیا؛ بَلکہ اَپنی مصلحتوں اَور بُرے دِلوں کی ضِد پر چلے اَور آگے بڑھنے کی بجائے برگشتہ ہو گئے۔
JER 7:25 جِس وقت تمہارے آباؤاَجداد مِصر سے باہر نکلے، تَب سے آج تک ہمیشہ میں اَپنے سَب خادِموں یعنی نبیوں کو تمہارے پاس مسلسل بھیجتا رہا۔
JER 7:26 لیکن اُنہُوں نے میری نہ سُنی اَور نہ ہی میرے پیغام کی طرف غور کیا۔ بَلکہ وہ اَور بھی باغی ہو گئے اَور اَپنے آباؤاَجداد سے بھی زِیادہ بدکاریاں کرتے رہے۔‘
JER 7:27 ”جَب تُم اُنہیں یہ سَب بتاؤ گے تو وہ تمہاری بات نہ سُنیں گے اَور جَب تُم اُنہیں پُکارو گے تَب وہ جَواب نہ دیں گے۔
JER 7:28 اِس لیٔے اُن سے فرما، یہ وُہی قوم ہے جِس نے نہ تو یَاہوِہ اَپنے خُدا کا حُکم مانا، اَور نہ ہی اُن پر تربیّت کا کچھ اثر ہُوا۔ سچّائی نِیست و نابود ہو گئی ہے اَور اُن کے مُنہ سے غائب ہو گئی۔
JER 7:29 ” ’اَپنے بال کاٹ کر پھینک دے اَور بنجر ٹیلوں پر جا کر نوحہ کر کیونکہ یَاہوِہ نے اِس قوم کو جِن پر اُس کا قہر ہے، خارج اَور ترک کر دیا ہے۔
JER 7:30 ” ’یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ بنی یہُوداہؔ نے میری نگاہ میں بدکاریاں کی ہیں۔ اُنہُوں نے اَپنے مکرُوہ بُتوں کو اُس گھر میں جگہ دی ہے جو میرے نام سے کہلاتا ہے اَور اُسے ناپاک کر دیا۔
JER 7:31 اُنہُوں نے بِن ہِنَّومؔ کی وادی میں تُوفتؔ نام کے اُونچے مقامات تعمیر کئے تاکہ وہاں اَپنے بیٹوں اَور بیٹیوں کو آگ میں جَلا دیں۔ جِس کا نہ مَیں نے حُکم دیا نہ یہ بات کبھی میرے ذہن میں آئی۔
JER 7:32 اِس لیٔے خبردار رہ، یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ وہ دِن آ رہے ہیں جَب لوگ اِسے تُوفتؔ یا بِن ہِنَّومؔ کی وادی نہیں بَلکہ قتل عام کی وادی کہی جائے گی کیونکہ وہ اَپنے مُردے تُوفتؔ میں تَب تک دفن کریں گے جَب تک کہ وہاں اَور کوئی جگہ باقی نہ رہے۔
JER 7:33 تَب اِس قوم کی لاشیں آسمان کے پرندوں اَور زمین کے جنگلی جانوروں کی خُوراک ہُوں گی اَور اُنہیں ڈرا کر بھگانے والا کویٔی نہ ہوگا۔
JER 7:34 تَب میں یہُودیؔہ کے شہروں اَور یروشلیمؔ کے بازاروں میں شادیانے، ہر طرح کی خُوشی اَور دُلہا و دُلہن کی آوازیں بند کر دُوں گا کیونکہ مُلک ویران ہو جائے گا۔
JER 8:1 ” ’یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ اُس وقت یہُودیؔہ کے بادشاہوں، حاکموں، کاہِنوں اَور نبیوں اَور یروشلیمؔ کے لوگوں کی ہڈّیاں اُن کی قبروں سے نکالی جایٔیں گی۔
JER 8:2 اَور اُنہیں سُورج، چاند اَور دیگر اجرامِ فلکی کے سامنے پھیلا دیا جائے گا جِن سے وہ مَحَبّت رکھتے، جِن کی خدمت کرتے، جِن کی پیروی کرتے اَور جِن سے صلاح لیتے اَور جِن کی عبادت کرتے تھے۔ اِن ہڈّیوں کو نہ تو وہ جمع کریں گے اَور نہ ہی دفنائی جایٔیں گی بَلکہ وہ فُضلہ کی مانند زمین پر پڑی رہیں گی۔
JER 8:3 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، تَب اِس بد ذات قوم کے بچے ہُوئے لوگ اُن سَب مقاموں میں جِس میں سے مَیں نے اُنہیں جَلاوطن کر دیا ہے وہاں وہ زندگی سے زِیادہ موت کی آرزُو کریں گے۔‘
JER 8:4 ”اُن سے کہو، ’یَاہوِہ کا یہ فرمان ہے: ” ’کیا لوگ گِر کر پھر نہیں اُٹھتے؟ یا جَب کویٔی شخص راہ بھٹک جاتا ہے تو کیا وہ پھر صحیح راہ پر لَوٹ کر نہیں آتا؟
JER 8:5 پھر یہ لوگ کیوں برگشتہ ہو گئے؟ یروشلیمؔ ہمیشہ برگشتہ کیوں ہو جاتا ہے؟ وہ فریب سے لپٹے رہتے ہیں؛ اَور واپس آنے سے اِنکار کرتے ہیں۔
JER 8:6 مَیں نے نہایت غور سے سُنا ہے، لیکن اُن کی باتیں سچ نہیں ہیں۔ کویٔی اَپنی بدکاری سے یہ کہہ کر تَوبہ نہیں کرتا، وہ بحث کرتے ہیں، ”مَیں نے کیا کیا ہے؟“ جَیسے گھوڑا جنگ میں سرپٹ دَوڑتا ہے، وَیسے ہی اِن میں سے ہر ایک شخص اَپنی ہی روِش کے درپے ہوتاہے۔
JER 8:7 آسمان میں اُڑنے والا لق لق بھی اَپنے مُقرّرہ موسموں کو جانتا ہے، اَور فاختہ، ابابیل اَور سارس بھی اَپنے لَوٹ آنے کے وقت کے پابند ہوتے ہیں؛ لیکن میری قوم، یَاہوِہ کے تقاضوں کو نہیں جانتی۔
JER 8:8 ” ’تُم کیسے یہ دعویٰ کر سکتے ہو، ”ہم دانشمند ہیں، کیونکہ ہمارے پاس یَاہوِہ کے دئیے ہوئے کے آئین ہیں،“ جَب کہ حقیقت یہ ہے کہ کاتبوں کے باطِل قلم نے جھُوٹا بَیان لِکھ کر اُسے جھُوٹا بنا دیا ہے؟
JER 8:9 دانشمند کاتب شرمندہ کئے جایٔیں گے؛ وہ حیرت زدہ ہوں گے اَور پکڑے جایٔیں گے؛ غور کرو، اُنہُوں نے یَاہوِہ کے کلام کو ٹھکرا دیا ہے؟ اُن میں کیسی دانشمندی ہے؟
JER 8:10 اِس لیٔے مَیں اُن کی بیویاں غَیر مَردوں کو اَور اُن کے کھیت نئے مالکوں کو دے دُوں گا۔ کیونکہ وہ سَب چُھوٹے سے بڑے تک، سبھی اَپنے مفاد کے لالچی ہیں؛ اَور کیا نبی اَور کیا کاہِنؔ، سبھی دغاباز ہیں۔
JER 8:11 وہ میری قوم کے زخموں پر اِس طرح پٹّی باندھتے ہیں گویا وہ مَعمولی زخم ہُوں۔ ”اَور سلامتی، سلامتی کہتے ہیں،“ جَب کہ کچھ بھی سلامتی نہیں ہے۔
JER 8:12 کیا وہ اَپنے مکرُوہ اعمال کے باعث شرمندہ ہُوئے؟ نہیں، وہ بالکُل بے شرم ہیں؛ وہ شرمانا تک نہیں جانتے۔ اِس لیٔے وہ گرنے والوں کے ساتھ گریں گے؛ یَاہوِہ فرماتے ہیں، جَب اُنہیں سزا دی جائے گی تَب وہ پست ہو جایٔیں گے۔
JER 8:13 ” ’یَاہوِہ فرماتے ہیں، مَیں اُن کی فصل تباہ کر دُوں گا، انگور کی شاخوں پر انگور نہ ہوں گے۔ نہ درختوں پر اَنجیر ہوں گے، اَور اُن کے پتّے مُرجھا جایٔیں گے۔ جو کچھ مَیں نے اُنہیں دیا ہے وہ سَب اُن سے لے لیا جائے گا۔‘ “
JER 8:14 ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ آؤ جمع ہو جایٔیں! چلو مُستحکم شہروں کی طرف بھاگ چلیں اَور وہاں ہلاک ہُوں! کیونکہ یَاہوِہ ہمارے خُدا نے ہمیں ہلاکت کے لیٔے نامزد کیا ہے اَور ہمیں زہریلا پانی پینے کو دیا ہے، کیونکہ ہم نے اُن کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔
JER 8:15 ہم نے سلامتی کی اُمّید رکھی لیکن کوئی فائدہ نہ ہُوا، ہم شفا کے وقت کی اُمّید رکھتے تھے لیکن دہشت سے پالا پڑا۔
JER 8:16 دُشمن کے گھوڑوں کے خرّاٹوں کی آواز دانؔ سے سُنایٔی دے رہی ہے اَور اُن کے جنگی گھوڑوں کی ہنہناہٹ سے سارا مُلک تھرتھرا رہاہے۔ کیونکہ وہ ہماری زمین اَور اُس میں کی ہر شَے کو، اَور شہر کو اُس کے تمام باشِندوں کے ساتھ نگل جانے کو آ رہے ہیں۔
JER 8:17 ”دیکھو، مَیں تمہارے درمیان اَیسے زہریلے سانپ، اَور افعی بھیجوں گا، جِن پر کویٔی منتر کارگر نہیں ہوگا، اَور وہ تُمہیں ڈسیں گے،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 8:18 میرا غم لاعلاج ہے؛ میرا دِل اَندر ہی اَندر تڑپتا ہے۔
JER 8:19 میری قوم کی ماتم سُنیں جو دُور کے مُلک سے آ رہی ہے: ”کیا یَاہوِہ صِیّونؔ میں مَوجُود نہیں ہیں؟ کیا اُن کا بادشاہ اَب وہاں نہیں ہے؟“ ”اُنہُوں نے اَپنے تراشے ہُوئے بُتوں اَور غَیر معبُودوں سے میرے قہر کو کیوں بھڑکایا؟“
JER 8:20 ”فصل کاٹنے کا وقت گزر گیا، گرمی کا موسم ختم ہو گیا، پھر بھی ہماری نَجات نہ ہُوئی۔“
JER 8:21 اَپنی قوم کی پامالی کے باعث میں بھی پامال ہُوا؛ میں ماتم کر رہا ہُوں اَور دہشت نے مُجھے جکڑ لیا ہے۔
JER 8:22 کیا گِلعادؔ میں کسی قِسم کا مرہم نہیں ملتا؟ کیا وہاں کویٔی طبیب نہیں؟ پھر میری اُمّت کے زخم شفایاب کیوں نہیں ہوتے؟
JER 9:1 کاش کہ میرا سَر پانی کا چشمہ اَور میری آنکھیں اشکوں کا فوّارہ ہوتیں! تاکہ میں اَپنی اُمّت کے مقتولوں کے لیٔے شب و روز روتا رہتا۔
JER 9:2 کاش کہ بیابان میں میرے لیٔے کویٔی سرائے ہوتی، تاکہ میں اَپنی قوم کو چھوڑکر اُن سے دُور وہیں روانہ ہو جاتا؛ کیونکہ وہ سَب زناکار ہیں، اَور بےوفا لوگوں کی جماعت ہیں۔
JER 9:3 ”وہ اَپنی زبان کو کمان کی مانند جھُوٹ کے تیر چلانے کے لئے تیّار کرتے ہیں؛ اگر وہ مُلک میں فتح مند ہو گئے ہیں، تو سچّائی کی بِنا پر نہیں۔ وہ گُناہ پر گُناہ کئے جاتے ہیں؛ اَور وہ مُجھے جانتے ہی نہیں،“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 9:4 ”اِس لیٔے قادرمُطلق یُوں فرماتے ہیں۔ اَپنے دوستوں سے خبردار رہو؛ اَپنی برادری پر بھی اِعتماد نہ کرو۔ کیونکہ ہر بھایٔی دغاباز ہے، اَور ہر دوست غیبت کرنے والا ہے۔
JER 9:5 دوست، دوست کو فریب دیتاہے، اَور کویٔی سچ نہیں بولتا۔ اُنہُوں نے اَپنی زبانوں کو جھُوٹ بولنا سِکھایا ہے؛ وہ بدکاری میں جانفشانی کرے ہیں۔
JER 9:6 اَے یرمیاہؔ تیری قِیام گاہ فریب کے درمیان ہے؛ اَور اَپنے فریب ہی کی باعث، وہ مُجھے جاننے سے اِنکار کرتے ہیں۔“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 9:7 چنانچہ قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھ، میں اُن کو آگ میں تپا کر آزماؤں گا، کیونکہ میری قوم کے گُناہ کے باعث میں اُن سے اَور کیا کر سَکتا ہُوں؟
JER 9:8 اُن کی زبان ایک مہلک تیر ہے؛ جو دغا کی باتیں بولتی ہیں۔ اَپنے مُنہ سے تو ہر ایک اَپنے ہمسایہ سے نہایت ہی خُوش اَخلاقی سے پیش آتا ہے، لیکن باطِن میں اُس کی گھات میں لگا رہتاہے۔
JER 9:9 کیا مَیں اُنہیں اِن باتوں کے لیٔے سزا نہ دُوں؟“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”کیا مَیں اَیسی قوم سے اَپنا اِنتقام نہ لُوں؟“
JER 9:10 میں پہاڑوں کے لیٔے روؤں گا اَور ماتم کروں گا، اَور بیابان کی چراگاہوں کے لیٔے نوحہ کروں گا۔ وہ ویران ہو گئے ہیں اَور اَب کویٔی اُن میں سے ہوکر نہیں گزرتا، اَور اُن میں سے مویشیوں کی آواز تک نہیں آتی۔ ہَوا کے سَب پرندے تک بھاگ گیٔے اَور جانور بھی جا چُکے ہیں۔
JER 9:11 ”مَیں یروشلیمؔ کو کھنڈروں کا ڈھیر، اَور گیدڑوں کا بسیرا بنا دُوں گا؛ اَور مَیں یہُودیؔہ کے شہروں کو اُجاڑ دُوں گا تاکہ وہاں کویٔی بُودوباش کرنے نہ پایٔے۔“
JER 9:12 کون سا اِنسان اِس قدر دانشمند ہے جو یہ راز جان سکےگا؟ اَور کون ہے وہ جِس سے یَاہوِہ نے بَیان کیا ہے جو اُسے تفسیر سے بَیان کر سکے کہ یہ مُلک کیوں تباہ کیا گیا اَور صحرا کی مانند ویران ہُوا تاکہ کویٔی اُس میں سے سفر نہ کر سکے؟
JER 9:13 یَاہوِہ نے خُود ہی جَواب دیا، ”اَیسا اِس لئے ہُوا کیونکہ اُنہُوں نے میری آئین کو ٹھکرا دیا جسے مَیں نے اُن کے سامنے رکھا تھا۔ اُنہُوں نے نہ تو میرا حُکم مانا، اَور نہ ہی میری آئین پر عَمل کیا۔
JER 9:14 بَلکہ وہ اَپنے ضِدّی دِلوں پر اُڑے رہے اَور بَعل کے معبُودوں کی پیروی کرتے رہے جِن کی اُن کے آباؤاَجداد نے اُنہیں تعلیم دی تھی۔“
JER 9:15 اِس لیٔے قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھ! میں اِس قوم کو کڑوی غِذا کھانے اَور زہریلا پانی پینے پر مجبُور کروں گا۔
JER 9:16 میں اُنہیں اَیسی قوموں کے درمیان مُنتشر کروں گا جنہیں نہ تو وہ اَور نہ اُن کے آباؤاَجداد جانتے تھے۔ اَور مَیں اُن کا تعاقب تلوار لے کر اُس وقت تک کرتا رہُوں گا جَب تک اُن سَب کو ہلاک نہ کر دُوں۔“
JER 9:17 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اَب غور کرو، اَور ماتم کرنے والی عورتوں کو بُلاؤ؛ بَلکہ جو ماتم کرنے میں زِیادہ مہارت رکھتی ہُوں اُنہیں بُلاؤ؛
JER 9:18 وہ جلد آئیں، اَور ہمارے لیٔے نوحہ کریں یہاں تک کہ ہماری آنکھوں سے آنسُو بہنے لگیں۔ اَور ہماری پلکوں سے آنسُوؤں کے چشمہ جاری ہو جائیں۔
JER 9:19 صِیّونؔ سے ماتم کی آواز سُنایٔی دیتی ہے، ’ہم کیسے برباد ہُوئے! ہم سخت رُسوا ہُوئے! ہمیں اَپنا مُلک چھوڑنا پڑا کیونکہ ہمارے مکانات ڈھا دئیے گیٔے ہیں۔‘ “
JER 9:20 اَب، اَے عورتوں! یَاہوِہ کا کلام سُنو؛ اُن کے مُنہ کے کلام کی طرف کان لگاؤ۔ اَپنی بیٹیوں کو ماتم کرنا؛ اَور اَپنے پڑوسنوں کو نوحہ گری سِکھاؤ۔
JER 9:21 کیونکہ موت کھڑکیوں سے چڑھ کر ہمارے محلوں میں داخل ہو چُکی ہے؛ اُس نے سڑکوں میں بچّوں کو اَور چوراہوں پر نوجوانوں کو فنا کر دیا ہے۔
JER 9:22 اعلان کرو، ”یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے: ” ’اِنسانوں کی لاشیں کھُلے میدان میں گوبر کی مانند پڑی ہُوں گی، اَور کاٹنے والوں کے ہاتھ سے چُھوٹی ہوئی فصل کی مانند ہُوں گی جسے اُن کو جمع کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔‘ “
JER 9:23 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”نہ تو دانشمند اَپنی دانائی پر اَور نہ طاقتور اَپنی طاقت پر اَور نہ اَمیر اَپنی دولت پر فخر کرے،
JER 9:24 لیکن جو فخر کرتا ہے وہ اِس بات پر فخر کرے کہ وہ مُجھے نزدیکی سے جانتا اَور سمجھتا ہے، کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں جو زمین پر رحم، عدل اَور راستی کے کام کرتا ہُوں، کیونکہ اِن ہی باتوں سے میں خُوش ہوتا ہُوں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 9:25 ”اَیسے دِن آنے والے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب مَیں اُن سَب کو سزا دُوں گا جِن کا صِرف جِسمانی ختنہ ہُواہے۔
JER 9:26 جَیسے مِصر، یہُودیؔہ، اِدُوم، بنی عمُّون اَور مُوآب اَور وہ لوگ جو گال کے بال مُنڈواتے اَور بیابان میں رہتے ہیں، کیونکہ یہ سَب قومیں دراصل نامختون ہیں اَور بنی اِسرائیل کا سارا گھرانا بھی دِل کا نامختون ہے۔“
JER 10:1 اَے بنی اِسرائیل، جو کلام یَاہوِہ تُم سے کرتا ہے اُسے سُنو۔
JER 10:2 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”تُم غَیر قوموں کی روِشیں نہ سیکھو اَور آسمانی نِشانیوں سے ہِراساں نہ ہو، اگرچہ دیگر قومیں اُن سے ہِراساں ہوتی ہیں۔
JER 10:3 کیونکہ لوگوں میں فُضول رسم و رِواج پایٔے جاتے ہیں، بُت تو جنگل سے کاٹا گیا صرف ایک درخت ہی ہے، جسے بڑھئی نے اُسے چھینی سے تراشا ہے۔
JER 10:4 وہ اُسے چاندی اَور سونے سے آراستہ کرتے ہیں؛ پھر اُسے ہتھوڑے سے میخیں ٹھونک کر مضبُوط کرتے ہیں تاکہ وہ لڑکھڑانے نہ پایٔے۔
JER 10:5 وہ کھیرے کے کھیت میں پرندوں کو ڈرانے والے کھڑے اِنسانی پُتلے کی مانند ہیں، جو بول نہیں سکتے؛ اُنہیں اُٹھاکر لے جانا پڑتا ہے کیونکہ وہ چل نہیں سکتے۔ اُن سے مت ڈرو؛ کیونکہ وہ کویٔی ضرر نہیں پہُنچا سکتے، اَور نہ ہی کوئی فائدہ پہُنچا سکتے۔“
JER 10:6 اَے یَاہوِہ، آپ کی مانند کویٔی نہیں؛ آپ عظیم ہے، اَور آپ کا نام عظیم اَور قُوّت والا ہے۔
JER 10:7 اَے سَب قوموں کے بادشاہ، کون ہے جو آپ کی تعظیم نہیں کرےگا؟ یہ سارے لقب تو آپ ہی کے لئے ہیں۔ کیونکہ مُختلف قوموں کے تمام دانشمند لوگوں میں اَور دُنیا کی تمام مملکتوں میں، آپ کی مانند کویٔی نہیں،
JER 10:8 وہ سَب نادان اَور احمق ہیں؛ بُتوں سے اُنہیں نکمّی تعلیم ہی حاصل ہوگی۔
JER 10:9 ترشیشؔ سے چاندی کی چادر اَور اوفیرؔ سے سونا لایا جاتا ہے۔ جو کاریگر کی کاریگری اَور سُنار کی دستکاری ہے؛ اُنہیں نیلا اَور اَرغوانی لباس پہنایا جاتا ہے۔ اَور یہ سَب ماہر کاریگروں کی دستکاری ہے۔
JER 10:10 لیکن یَاہوِہ ہی سچّے خُدا ہیں؛ وہ زندہ خُدا اَور اَبدی بادشاہ ہیں۔ جَب وہ خفا ہوتے ہیں تو زمین تھرتھراتی ہے؛ اَور مُختلف قومیں اُن کے قہر کو برداشت نہیں کر سکتیں۔
JER 10:11 ”تُم اُن سے یُوں کہنا، ’یہ معبُود جنہوں نے نہ تو زمین اَور نہ آسمان کو بنایا ہے، یہ تو آسمان کے نیچے سے اَور زمین پر سے نِیست و نابود ہو جایٔیں گے۔‘ “
JER 10:12 لیکن یَاہوِہ خُدا نے اَپنی قُدرت سے زمین کو خلق کیا؛ اَور اَپنی حِکمت سے جہان کی بُنیاد ڈالی اَور اَپنی دانش سے آسمانوں کو تانا۔
JER 10:13 جَب وہ گرجتے ہیں تو آسمان پر پانی شور مچاتا ہے؛ وہ زمین کی اِنتہا سے بادل لاتے ہیں۔ وہ بارش کے ساتھ بجلی چمکاتے ہیں اَور اَپنے مخزنوں سے ہَوا چلاتے ہیں۔
JER 10:14 سَب اِنسان نادان اَور جاہل ہیں؛ ہر سُنار اَپنے ڈھالی ہُوئی بُتوں کے سبب رُسوا ہے۔ کیونکہ اُن کے ڈھالے ہُوئے بُت محض فریب ہیں؛ جِن میں دَم نہیں ہے۔
JER 10:15 وہ نکمّی اَور قابل تمسخر کا چیزیں ہیں؛ جَب اُن کی سزا کا وقت آئے گا، تو وہ نِیست و نابود ہو جائیں گی۔
JER 10:16 خُدا جو یعقوب کا حِصّہ ہے، وہ اُن بُتوں کی مانند نہیں، کیونکہ وہ تمام چیزوں کے خالق ہیں، یہاں تک کہ بنی اِسرائیل کے قبیلے بھی جو اُن کی خاص مِیراث ہے۔ جِن کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے۔
JER 10:17 اَے محاصرہ میں رہنے والی، مُلک چھوڑنے کے لیٔے اَپنی گٹھری اُٹھالے۔
JER 10:18 کیونکہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اِس وقت مَیں اِس مُلک کے باشِندوں کو، گویا فلاخن میں رکھ کر دُور پھینک دُوں گا؛ اَور مَیں اُن پر تباہی لاؤں گا، تاکہ وہ اَپنے جُرم کی سزا پائیں۔“
JER 10:19 یروشلیمؔ کے لوگ چِلّا اُٹھے، میرے زخم کے باعث مُجھ پر ہائے! کیونکہ میرا زخم لاعلاج ہے! پھر بھی مَیں نے خُود سے کہا، ”یہ تو میری بیماری ہے جسے مُجھے برداشت کرنا ہی ہوگا۔“
JER 10:20 میرا خیمہ تباہ کر دیا گیا؛ اَور اُس کی تمام رسّیاں توڑ دی گئیں۔ اَور میرے فرزند مُجھ سے دُورہو گیٔے، اَب وہ نہیں رہے؛ اَب کویٔی زندہ نہیں رہا جو میرا خیمہ نصب کرے، یا میرے لیٔے پناہ گاہ کھڑی کرے۔
JER 10:21 چرواہے نادان ہیں وہ یَاہوِہ سے رہنمائی نہیں مانگتے؛ اِس لیٔے وہ کامیاب نہیں ہوتے اَور اُن کی سَب بھیڑیں پراگندہ ہو گئیں۔
JER 10:22 سُن، شمالی مُلک سے ایک خبر، اَور ہنگامے کی آواز آ رہی ہے، جو یہُودیؔہ کے شہروں کو کھنڈر بنادے گا، اَور اُنہیں گیدڑوں کا مَسکن بنادے گا۔
JER 10:23 اَے یَاہوِہ، میں جان گیا ہُوں کہ اِنسان اَپنی زندگی کا مالک نہیں، اِنسان اَپنے آپ اَپنے قدموں کو مُقرّر نہیں کر سَکتا۔
JER 10:24 اَے یَاہوِہ، مُجھے تنبیہ کر، لیکن اَپنے قہر میں نہیں، بَلکہ صِرف مُناسب اقدامات میں، کہیں اَیسا نہ ہو کہ آپ مُجھے نِیست و نابود کر دیں۔
JER 10:25 اَپنا غضب اُن قوموں پر اُنڈیل دیں جو آپ کو نہیں مانتے، اَور اُن لوگوں پرجو آپ کا نام نہیں لیتے۔ کیونکہ اُنہُوں نے یعقوب کو نگل لیا ہے؛ اَور اُسے مُکمّل طور پر نگل لیا ہے، اَور اُس کے مَسکن کو اُجاڑ دیا ہے۔
JER 11:1 یہ وہ کلام ہے جو یَاہوِہ کی طرف سے یرمیاہؔ نبی پر نازل ہُوا:
JER 11:2 ”اِس عہدنامہ کی شرائط کو سُن اَور اُنہیں بنی یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں سے بَیان کرو۔
JER 11:3 اُن سے فرما: یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’ملعُون ہے وہ شخص جو اِس عہدنامہ کی شرائط کو نہیں مانتا۔
JER 11:4 جِن کا حُکم مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو اُس وقت دیا تھا، جَب مَیں نے اُنہیں لوہے کے تنور یعنی مِصر سے باہر یہ کہتے ہُوئے نکالا تھا،‘ میں نے کہا، ’میری فرمانبرداری کرو اَورجو اَحکام مَیں تُمہیں دیتا ہُوں اُن سَب پر عَمل کرو تاکہ تُم میری قوم ٹھہرو اَور مَیں تمہارا خُدا ہُوں گا۔
JER 11:5 تاکہ وہ قَسم پُوری کروں جو مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد سے کھائی تھی کہ اُنہیں وہ مُلک دُوں گا جِس میں دُودھ اَور شہد بہتا ہے،‘ اَور جِس کے آج تُم مالک ہو۔“ تَب یہ سُن کر مَیں نے جَواب دیا، ”اَے یَاہوِہ، آمین۔“
JER 11:6 پھر یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”یہُودیؔہ کے شہروں اَور یروشلیمؔ کی گلیوں میں اِس کلام کی مُنادی کرو، ’اِس عہدنامہ کی شرائط سُنو اَور اُن پر عَمل کرو۔
JER 11:7 جِس وقت مَیں تمہارے آباؤاَجداد کو مِصر سے باہر نکال لایا، تَب سے آج تک میں اُن کو بار بار یہ کہتے ہُوئے تاکید کرتا رہا، ”میری اِطاعت کرو۔“
JER 11:8 لیکن اُنہُوں نے نہ تو میرے حُکموں پر عَمل کیا اَور نہ ہی اُن پر غور کرنا مُناسب سمجھا؛ بَلکہ وہ اَپنے بُرے دِل کی ضِد پر اُڑے رہے اَور مَن مانی کی اِس لیٔے مَیں نے اِس عہدنامہ کی تمام لعنتیں اُن پر نازل کر دیں جِس پر عَمل کرنے کا مَیں نے اُنہیں حُکم دیا تھا لیکن اُنہُوں نے اُس پر عَمل نہیں کیا۔‘ “
JER 11:9 پھر یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”بنی یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں میں سازش پائی گئی ہے۔
JER 11:10 وہ اَپنے آباؤاَجداد کے گُناہوں کی طرف لَوٹ چُکے ہیں جنہوں نے میرے کلام کو ماننے سے اِنکار کیا تھا، اَور وہ غَیر معبُودوں کے پیروکار ہوکر اُن کی خدمت میں لگ گیٔے۔ بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ دونوں نے اُس عہد کو توڑ دیا جو مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد کے ساتھ باندھا تھا۔
JER 11:11 اِس لیٔے یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’مَیں اُن پر ایک اَیسی آفت لاؤں گا جِس سے وہ بچ نہ سکیں گے۔ اگرچہ وہ مُجھ سے فریاد کریں گے تَو بھی مَیں اُن کی نہ سُنوں گا۔
JER 11:12 تَب اُس وقت یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ شہر کے باشِندے جا کر اُن معبُودوں کے سامنے فریاد کریں گے جِن کے سامنے وہ بخُور جَلاتے ہیں۔ لیکن وہ اُن کی آفت کے دَوران اُن کی کویٔی مدد نہ کر پائیں گے۔
JER 11:13 اَے یہُوداہؔ، جتنے تمہارے شہر ہیں اُتنے تمہارے ہاں معبُود ہیں اَور جِتنی یروشلیمؔ کی گلیاں ہیں اُتنی ہی تمہارے ہاں اُس مکرُوہ معبُود بَعل کی قُربان گاہیں ہیں؛ جِن پر تُم بخُور جَلاتے ہو۔‘
JER 11:14 ”تُم اِس قوم کے لیٔے دعا مت کرو، اَور نہ ہی اِن کے حق میں کویٔی مِنّت یا شفاعت پیش کرو کیونکہ جَب یہ اَپنی مُصیبت میں مُجھ سے فریاد کریں گے، تَب میں اِن کی ہرگز نہ سُنوں گا۔
JER 11:15 ”میری محبُوبہ کا اَب میرے بیت المُقدّس میں کیا کام ہے؟ وہ تو بہُتوں کے ساتھ زنا کر چُکی؟ کیا پاک گوشت تمہاری سزا کو ٹال سکتا ہے؟ جَب تُم اَپنی بدی میں مصروف ہوتی ہو، تَب تُم خُوش ہوتی ہو۔“
JER 11:16 یَاہوِہ نے تو تُمہیں دلکش، خُوبصورت، اَور ہمیشہ ہرا بھرا، پھل والا زَیتُون کے درخت کا لقب تو دیا تھا، لیکن ایک زبردست طُوفانی گرجن کے ساتھ یَاہوِہ اُس میں آگ لگا دیں گے، اَور اُس کی شاخیں توڑ دی جایٔیں گی۔
JER 11:17 جِس قادرمُطلق یَاہوِہ نے تُمہیں روپا تھا اُسی نے تمہارے لیٔے تباہی کا حُکم جاری کیا ہے کیونکہ بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ نے بَعل کے سامنے بخُور جَلا کر گُناہ کیا اَور مُجھے غُصّہ دِلایا۔
JER 11:18 اِس کے علاوہ یَاہوِہ نے اُن کی سازش کو مُجھ پر ظاہر کیا اِس لیٔے میں جان گیا کیونکہ اُس وقت یَاہوِہ نے مُجھے دِکھا دیا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔
JER 11:19 کیونکہ مَیں اُس معصُوم برّے کی مانند تھا جسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں۔ مُجھے بالکُل احساس نہ تھا کہ اُنہُوں نے میرے خِلاف یہ کہتے ہُوئے منصُوبہ باندھا ہے، ”آؤ ہم درخت اَور اُس کے پھل کو تباہ کر دیں؛ آؤ ہم اُسے زندوں کی زمین میں سے کاٹ ڈالیں، تاکہ اُس کے نام کا ذِکر تک باقی نہ رہے۔“
JER 11:20 لیکن اَے قادرمُطلق یَاہوِہ، آپ جو صداقت سے اِنصاف کرتے ہیں اَور دِل اَور دماغ کو جانچتے ہیں، مُجھے دِکھائیں کہ آپ اُن سے کیسے اِنتقام لیتے ہیں، کیونکہ مَیں نے اَپنا مُعاملہ آپ کے سُپرد کیا ہے۔
JER 11:21 اِس لیٔے یَاہوِہ نے مجھ سے فرمایا کہ عناتوت کے اُن اَشخاص کی بابت جو تمہاری جان کے طلب گار ہیں اَور جنہوں نے تُمہیں دھمکی دی ہے، ”یَاہوِہ کے نام سے کوئی نبُوّت نہ کرو، ورنہ تُم ہمارے ہاتھوں قتل کئے جاؤگے،“
JER 11:22 اِس لیٔے قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھ مَیں اِنہیں سزا دینے والا ہُوں۔ اِن کے نوجوان تلوار سے مارے جایٔیں گے اَور اِن کے بیٹے اَور بیٹیاں قحط سے مَریں گے۔
JER 11:23 اِن میں سے کویٔی بھی باقی نہ بچے گا کیونکہ مَیں عناتوت کے لوگوں پر آفت بھیج رہا ہُوں یہ سال اُن کی سزا کا سال ہوگا۔“
JER 12:1 اَے یَاہوِہ، جَب بھی مَیں آپ کے حُضُور کویٔی مُقدّمہ لاتا ہُوں تو، ہمیشہ آپ کو صادق پاتا ہُوں۔ پھر بھی مَیں آپ کے اِنصاف کی بابت آپ سے بحث کرنا چاہتا ہُوں، بدکار اَپنی روِش میں کیوں ترقّی پاتاہے؟ اَور کیا وجہ ہے کہ تمام بےایمان لوگ عیش و آرام سے رہتے ہیں؟
JER 12:2 آپ نے اُنہیں لگایا اَور اُنہُوں نے جڑ پکڑی؛ وہ بڑھتے ہیں اَور پھل لاتے ہیں۔ آپ کا نام تو ہمیشہ اُن کے لبوں پر رہتاہے لیکن آپ اُن کے دِلوں سے کافی دُور ہیں۔
JER 12:3 لیکن اَے یَاہوِہ، آپ مُجھے نزدیکی سے جانتے ہیں؛ آپ مُجھے دیکھتے ہیں اَور اَپنی نِسبت میرے خیالات کو جانچتے ہیں۔ آپ اُنہیں ذبح ہونے والی بھیڑوں کی مانند کھینچ کر جُدا کر دیجئے، اَور ذبح کے دِن کے لیٔے اُنہیں مخصُوص کیجئے!
JER 12:4 آخِر کب تک زمین خشک پڑی رہے گی اَور کب تک کھیت کی گھاس سُوکھتی رہے گی؟ چونکہ اِس مُلک کے باشِندے بدکار ہیں، اِس لیٔے چرندے اَور پرندے غارت ہو گئے۔ کیونکہ اُن لوگوں نے کہا، ”وہ ہمارا اَنجام نہ دیکھیں گے۔“
JER 12:5 ”اگر تُم دَوڑنے والوں کے ساتھ دَوڑکر تھک گئے ہو تو، پھر تُم گھوڑوں سے کیسے بازی جیتو گے؟ اگر تُم ہموار سرزمین میں ٹھوکر کھا کر گِر جاتے ہو تو، یردنؔ کے گھنے جنگلوں میں کیسے سنبھلوگے؟
JER 12:6 کیونکہ تمہارے بھائیوں اَور تمہارے اَپنے خاندان کے لوگوں نے بھی، تمہارے ساتھ بےوفائی کی ہے؛ وہ تمہارے خِلاف سازش کرتے اَور چیخ چیخ کر شکایت کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ تُم سے میٹھی میٹھی باتیں بھی کریں، تو بھی اُن پر یقین نہ کرنا۔
JER 12:7 ”مَیں اَپنا گھر چھوڑ دُوں گا، اَور اَپنی مِیراث سے دست بردار ہو جاؤں گا؛ اَور مَیں اَپنی محبُوبہ کو اُس کے دُشمنوں کے حوالہ کر دُوں گا۔
JER 12:8 کیونکہ میری مِیراث میرے دیکھنے میں جنگلی شیرببر کی مانند ہو گئی ہے۔ جو مُجھ پر دھاڑتی ہے؛ اِس لیٔے مُجھے اُس سے نفرت ہو گئی ہے۔
JER 12:9 کیا چتکبرے شِکاری لکڑبگھے اَور دُوسرے شِکاری پرندے، یہ سَب مِل کر میری مُنتخب موروثی قوم کو نگل جانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں؟ جاؤ اَور تمام جنگلی درندوں کو جمع کرکے لے آؤ، تاکہ وہ میری قوم کا گوشت کھا جایٔیں۔
JER 12:10 کیٔی چرواہے نے میرے انگوری باغ کو تباہ کریں گے، اَور میرے کھیتوں کو پامال کریں گے؛ اَور میرے دِل پسند حِصّے کو اُجاڑ کر ویران زمین بنا دیں گے۔
JER 12:11 وہ میرے سامنے بنجر ہو جائے گا، اَور مَیں اُس کے ماتمی فریاد کو سُن رہا ہُوں؛ سارا مُلک اُجاڑ دیا گیا ہے، کیونکہ کسی کو بھی پروا نہیں ہے۔
JER 12:12 بیابان کے تمام بنجر ٹیلوں پر غارت گروں کا ہُجوم لگا ہُواہے، کیونکہ یَاہوِہ کی تلوار، مُلک کے ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک نگلتی جاتی ہے، اَور کویٔی بھی اِس سے سلامت نہیں بچے گا۔
JER 12:13 وہ گیہُوں بوئیں گے لیکن کانٹے بٹوریں گے؛ وہ مشقّت تو کریں گے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ لہٰذا یَاہوِہ کے قہر شدید کے سبب سے وہ شرمندگی کی فصل کاٹیں گے۔“
JER 12:14 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”مَیں اَپنے تمام بدکار ہمسایوں کو جنہوں نے میری قوم بنی اِسرائیل کو دی ہُوئی مِیراث کو چھین لیا ہے، میں اُن کے مُلک سے اُنہیں اُکھاڑ دُوں گا اَور بنی یہُوداہؔ کو بھی اُن کے درمیان سے نکال پھیکوں گا۔
JER 12:15 لیکن اُنہیں اُکھاڑنے کے بعد مَیں پھر اُن پر مہربان ہُوں گا اَور اُن میں سے ہر ایک کو اُس کی مِیراث اَور اُس کے اَپنے مُلک میں واپس لاؤں گا۔
JER 12:16 اَور اگر وہ میری قوم کے ضوابط ٹھیک سے سیکھ لیں اَور میرے نام کی یُوں قَسم کھایٔیں، ’یَاہوِہ کی جان کی قَسم،‘ جَیسا کہ اُنہُوں نے میری قوم کو بَعل کے نام کی قَسم کھانا سِکھایا تھا، تو وہ میری قوم میں قائِم کئے جایٔیں گے۔
JER 12:17 لیکن اگر کویٔی قوم نہ مانے تو میں اُسے بالکُل جڑ سے اُکھاڑ ڈالوں گا اَور تباہ کر دُوں گا،“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 13:1 یَاہوِہ نے مُجھ سے یُوں فرمایا: ”جاؤ اَور کپڑے کا ایک کتانی کمربند خرید لو اَور اُسے اَپنی کمر پر باندھ لو لیکن اُسے پانی میں مت بھگونا۔“
JER 13:2 چنانچہ مَیں نے یَاہوِہ کی ہدایت کے مُطابق ایک کمربند خرید لیا اَور اُسے اَپنی کمر پر باندھ لیا۔
JER 13:3 تَب دوبارہ یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
JER 13:4 ”جو کمربند تُم نے خریدا ہے اَور اَپنی کمر پر باندھ رکھا ہے اُسے لے کر دریائے فراتؔ کو جاؤ اَور وہاں اُسے چٹّانوں کی دراڑ میں چھُپا دینا۔“
JER 13:5 چنانچہ یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق مَیں نے جا کر اُسے دریائے فراتؔ میں چھُپا دیا۔
JER 13:6 اَور بہت دِنوں کے بعد یَاہوِہ نے مُجھ سے پھر فرمایا، ”اُٹھو، اَب دریائے فراتؔ کو چلے جاؤ اَور اُس کمربند کو جسے تُم نے میرے حُکم سے وہاں چھُپا رکھا ہے، نکال کر لے آؤ۔“
JER 13:7 چنانچہ میں دریائے فراتؔ کو روانہ ہُوا، اَور جِس جگہ اُس کمربند کو چھُپا رکھا تھا وہاں سے اُسے کھود نکالا۔ لیکن اَب وہ خَراب ہو چُکاتھا اَور کسی کام کا نہ رہاتھا۔
JER 13:8 پھر یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا،
JER 13:9 ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’اِسی طرح سے میں یہُودیؔہ کا غُرور اَور یروشلیمؔ کے بڑے تکبُّر کو تباہ کر دُوں گا۔
JER 13:10 یہ بدکار لوگ جو میرا کلام سُننے سے اِنکار کرتے ہیں اَورجو اَپنے ہی دِلوں کی ضِد پر چلتے ہیں اَور غَیر معبُودوں کی پیروی، اُن کی اِطاعت اَور عبادت کرتے ہیں، وہ ٹھیک اِسی کمربند کی مانند بالکُل ناکارہ ہو جایٔیں گے!
JER 13:11 کیونکہ جِس طرح کمربند اِنسان کی کمر سے لپیٹا رہتاہے اُسی طرح یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ مَیں نے بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ کے سارے گھرانے کو اَپنی کمر سے باندھ لیا تھا،‘ تاکہ ’وہ میری قوم، میرا جلال، فخر اَور میرے نام کے سِتائش کا باعث ٹھہریں۔ لیکن اُنہُوں نے نہ مانا۔‘
JER 13:12 ”اِس لئے اُن سے کلام کر، ’یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ہر ایک مَشکوں میں مَے بھری جائے۔‘ اَور اگر وہ تُم سے پوچھیں، ’کیا ہم نہیں جانتے کہ مَے کی مشک مَے ہی سے بھری جاتی ہے؟‘
JER 13:13 تَب اُن سے کہنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، دیکھو، مَیں اِس مُلک کے سبھی باشِندوں کو خاص کر داویؔد کے تخت پر بیٹھنے والے بادشاہ، کاہِنوں، نبیوں اَور یروشلیمؔ کے تمام باشِندے کو اَپنی قہر کی مَے سے مدمست کر دُوں گا۔
JER 13:14 تَب میں اُنہیں ایک دُوسرے سے ٹکرا دُوں گا خواہ وہ باپ اَور بیٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ یَاہوِہ فرماتے ہیں، میں اُن پر ہمدردی اَور شفقت نہیں دِکھاؤں گا اَور نہ رحم کرکے اُنہیں تباہ ہونے سے بچاؤں گا۔‘ “
JER 13:15 سُنو اَور غور کرو، مغروُر نہ بنو، کیونکہ یَاہوِہ نے فرمایاہے۔
JER 13:16 یَاہوِہ اَپنے خُدا کی تمجید کرو، اِس سے پہلے کہ وہ تاریکی لائیں، اَور تمہارے قدم تاریک پہاڑیوں پر ٹھوکر کھایٔیں۔ اَور جَب تُم رَوشنی کی اُمّید کرو، تو وہ اُسے موت کے گہرے سائے میں تبدیل کرکے اُسے سخت تاریکی بنا دیں۔
JER 13:17 لیکن اگر تُم نہ سُنو، تو تمہارے غُرور کے باعث میں خلوت میں روؤں گا؛ کیونکہ یَاہوِہ کے گلّے اسیری میں چلے جائیں گے، اِس لیٔے میری آنکھیں زار زار روئیں گی، اَور آنسُو بہائیں گی۔
JER 13:18 بادشاہ اَور اُس کی مادرِ ملِکہ سے فرما، ”اَپنے شاہی تختوں سے نیچے اُتر آؤ، کیونکہ تمہارے سَروں پر سے تمہارے جلالی تاج، گرا دئیے جایٔیں گے۔“
JER 13:19 نِیگیوؔ علاقے کے شہروں کا اَب محاصرہ کر لیا گیا ہے، اَور اُنہیں اَب کوئی تمہارے حوالے نہیں کر سَکتا۔ تمام بنی یہُوداہؔ جَلاوطن ہو گئے، وہ مُکمّل طور پر غُلام ہوکر اسیری میں چلےگئے۔
JER 13:20 اَپنی آنکھیں اُوپر اُٹھاکر، شمالی سمت سے آنے والوں کو دیکھو۔ وہ گلّے کہاں ہیں، جنہیں تمہارے سُپرد کیا گیا تھا، جِن بھیڑوں پر تُمہیں ناز تھا؟
JER 13:21 جَب یَاہوِہ تمہارے رفیقوں کو تمہارا حاکم مُقرّر کریں گے، جنہیں تُم نے اَپنا حمایتی بنا لیا تھا، کیا تُمہیں یہ سُن کر وَیسا درد نہیں ہوگا جَیسے ایک زچّہ کو دردِ حَمل کے دَوران ہوتاہے؟
JER 13:22 اَور اگر تُم اَپنے دِل میں خیال کرو، ”یہ واقعہ میرے ساتھ کیوں ہُوا؟“ یہ تمہارے گُناہوں کی کثرت کے باعث ہُوا کہ، تمہارا دامن چاک کر دیا گیا اَور تمہاری عصمت لَوٹ لی گئی۔
JER 13:23 کیا کویٔی کُوشی یا ایتھوپی یعنی حَبشی اَپنی جِلد اَور چیتا اَپنے بَدن کے دھبّوں کو بدل سَکتا ہے؟ اگر یہ ممکن ہے تو، تُم بھی جو بدی کے عادی ہو، نیکی کر سکتے ہو۔
JER 13:24 ”اِس لئے میں تُمہیں اَیسا بِکھیر دُوں گا، جَیسے ہَوا بھُوسے کو بیابان میں اُڑا دیتی ہے۔
JER 13:25 یہی تمہارا حِصّہ ہے، وہ حِصّہ جسے مَیں نے تمہارے لیٔے مخصُوص کر رکھا ہے،“ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”کیونکہ تُم نے مُجھے بھُلا دیا ہے، اَور جھوٹے معبُودوں پر یقین کیا۔
JER 13:26 اِس لیٔے میں بھی تمہارا دامن تمہارے مُنہ تک اُٹھا دُوں گا، تاکہ تمہاری شرم گاہ ظاہر ہو جائے۔
JER 13:27 تمہاری زناکاری اَور پُر شہوت ہنہناہٹ، اَور تمہاری بے حیا جِسم فروشی! اَور پہاڑوں پر اَور میدانوں میں تمہارے مکرُوہ کام مَیں دیکھ چُکا ہُوں۔ اَے یروشلیمؔ، تُجھ پر ہائے، تُو خُود کو کب تک ناپاک رکھے گی؟“
JER 14:1 خشک سالی کے بارے میں یَاہوِہ کا یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا،
JER 14:2 ”یہُودیؔہ ماتم کر رہاہے، اَور اُس کے شہری پھاٹکوں پر ماتمی حالت میں تھکے ماندے پڑے ہیں؛ وہ مُلک کے لیٔے ماتم کرتے ہیں، اَور یروشلیمؔ کا کراہنا آسمان کی بُلندیوں تک پہُنچ رہاہے۔
JER 14:3 اُمرا اَپنے خادِموں کو پانی کی تلاش کے لیٔے بھیجتے ہیں؛ وہ حوضوں تک جاتے ہیں لیکن وہاں پانی نہیں پاتے۔ اِس لئے خالی گھڑے لیٔے لَوٹ آتے ہیں؛ اَور شرمندہ اَور مایوس ہوکر اَپنے سَر ڈھانک لیتے ہیں۔
JER 14:4 چونکہ مُلک میں بارش نہیں ہوئی ہے، اِس لیٔے زمین میں شگاف پڑ گیٔے ہیں؛ اَور کِسان ہیبت زدہ ہیں اَور اَپنے سَر ڈھانکتے ہیں۔
JER 14:5 یہاں تک کہ ہِرنی اَپنے نَوزائیدہ بچّے کو پیدا ہوتے ہی اُسے کھیت میں چھوڑ دیتی ہے، کیونکہ میدان میں گھاس نہیں ہے۔
JER 14:6 جنگلی گورخر بھی بنجر ٹیلوں پر کھڑے ہوکر گیدڑوں کی مانند ہانپتے ہیں؛ گھاس نہ ہونے کی وجہ سے اُن کی نظر کمزور ہو گئی ہے۔“
JER 14:7 اگرچہ ہمارے گُناہ ہی ہمارے خِلاف گواہی دیتے ہیں، پھر بھی اَے یَاہوِہ، اَپنے نام کی خاطِر کچھ تو کیجئے؛ کیونکہ ہم بہت برگشتہ ہو گئے ہیں؛ اَور ہم نے آپ کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔
JER 14:8 اَے بنی اِسرائیل کی اُمّید، اَور مُصیبت کے وقت اَے مُنجّی! آپ مُلک میں ںپردیسی کی مانند کیوں ہیں، اَور اُس مُسافر کی مانند جو صِرف رات گُزارنے کو کہیں ڈیرا ڈالتا ہے؟
JER 14:9 آپ اُس حیرت زدہ اِنسان کی مانند کیوں ہو گئے، اَور اُس سُورما کی مانند جو رِہائی دِلانے میں ناکام ہو؟ اَے یَاہوِہ، آپ ہمارے درمیان ہیں، اَور ہم آپ کے نام سے جانے جاتے ہیں؛ اِس لیٔے ہمیں ترک نہ کریں!
JER 14:10 یَاہوِہ اِس قوم کے بارے میں یُوں فرماتے ہیں: ”وہ بھٹکنا زِیادہ پسند کرتے ہیں؛ اَور اَپنے قدم نہیں روکتے۔ اِس لیٔے یَاہوِہ اُنہیں قبُول نہیں کرتے؛ وہ اَب اُن کی بدکاری کو یاد کریں گے اَور اُنہیں اُن کے گُناہوں کی سزا دیں گے۔“
JER 14:11 تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”اِس قوم کی سلامتی کے لیٔے دعا نہ کر۔
JER 14:12 خواہ وہ روزہ رکھیں تَو بھی، مَیں اُن کی فریاد نہ سُنوں گا۔ اگرچہ وہ سوختنی نذریں اَور اناج کی نذریں پیش کریں تَو بھی، میں اُنہیں قبُول نہیں کروں گا۔ بَلکہ میں اُنہیں تلوار، قحط اَور وَبا سے نِیست و نابود کر دُوں گا۔“
JER 14:13 تَب مَیں نے کہا، ”افسوس! اَے یَاہوِہ قادر، نبی اِن سے کہتے ہیں، ’تُم نہ تو تلوار دیکھوگے اَور نہ ہی قحط۔ بَلکہ میں یَاہوِہ تُمہیں اِس مقام میں دائمی اَمن بخشوں گا۔‘ “
JER 14:14 تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”یہ نبی میرا نام لے کر باطِل نبُوّتیں کرتے ہیں، نہ تو مَیں نے اُنہیں بھیجا، اَور نہ ہی مَیں نے اُنہیں حُکم دیا اَور نہ ہی اُن سے کلام کیا۔ وہ تُم لوگوں سے جھُوٹی رُویا کا دعویٰ کرتے، اَپنے ہی دِل کی مکّاری سے نبُوّت کرتے، غیب دانی، بُت پرستی کی صورت میں تُم پر ظاہر کرتے ہیں۔
JER 14:15 اِس لیٔے جو نبی بغیر میرے بھیجے میرا نام لے کر نبُوّت کرتے ہیں، اِس مُلک میں نہ تو تلوار چلے گی اَور نہ قحط پڑےگا، اُن کی بابت یَاہوِہ فرماتے ہیں، وُہی نبی تلوار اَور قحط سے ہی ہلاک ہوں گے۔
JER 14:16 اَور جِن لوگوں کے درمیان وہ نبُوّت کرتے ہیں وہ لوگ تلوار اَور قحط سے فنا ہونے کی وجہ سے یروشلیمؔ کی گلیوں میں پھینک دئیے جایٔیں گے اَور اُنہیں یا اُن کی بیویوں، اُن کے بیٹوں اَور بیٹیوں کو دفن کرنے والا کویٔی نہ ہوگا اَور مَیں اُن پر وہ آفت نازل کروں گا جِس کے وہ مُستحق ہیں۔
JER 14:17 ”اُن سے یُوں فرما: ” ’میری آنکھیں شب و روز، اَور بلاناغہ آنسُو بہاتی رہیں؛ کیونکہ میری قوم کی کنواری بیٹی، گہری چوٹ اَور ضرب شدید سے شکستہ ہے، اُسے نہایت شدید صدمہ پہُنچا ہے۔
JER 14:18 اگر مَیں میدان میں جاؤں، تو وہاں تلوار سے قتل ہُوئے لوگ نظر آتے ہیں؛ اَور اگر شہر کے اَندر جاؤں، تو وہاں قحط زدہ لوگ نظر آتے ہیں۔ نبی اَور کاہِنؔ دونوں اَیسے مُلک میں چلے گیٔے ہیں جسے وہ نہیں جانتے۔‘ “
JER 14:19 اَے یَاہوِہ، کیا آپ نے یہُودیؔہ کو بالکُل ردّ کر دیا ہے؟ کیا آپ کو صِیّونؔ سے نفرت ہے؟ آپ نے ہمیں اَیسی اِیذا کیوں پہُنچائی تاکہ ہمیں شفا نصیب ہی نہ ہو سکے؟ ہم سلامتی کی اُمّید لگائے بیٹھے تھے لیکن کچھ فائدہ نہ ہُوا، شفا کی اُمّید رکھتے تھے مگر صِرف دہشت ہی نصیب ہُوئی۔
JER 14:20 اَے یَاہوِہ ہم اَپنی بدکاری اَور اَپنے آباؤاَجداد کی خطاؤں کا اقرار کرتے ہیں؛ ہم نے واقعی آپ کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔
JER 14:21 اَپنے نام کی خاطِر ہمیں ردّ نہ کریں؛ اَپنے جلالی تخت کی تحقیر نہ کریں۔ اُس عہد کو یاد کریں، جو آپ نے ہم سے باندھا تھا، اَور اُسے ردّ نہ کریں۔
JER 14:22 کیا مُختلف قوموں کے نکمّے معبُودوں میں کویٔی اَیسا ہے جو بارش کر سکے؟ یا افلاک خُود بخُود بارش کر سکتے ہیں؟ نہیں، اَے یَاہوِہ، ہمارے خُدا، بارش تو صِرف آپ ہی بھیجتے ہیں، اِس لیٔے ہماری اُمّید تو صِرف آپ سے وابستہ ہے، کیونکہ اِن ساری چیزوں کا خالق صِرف آپ ہی ہیں۔
JER 15:1 پھر یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا: ”اگر مَوشہ اَور شموایلؔ بھی میرے حُضُور کھڑے ہوتے تَو بھی میرا دِل اِن لوگوں کی طرف راغِب نہ ہوتا۔ اِنہیں میری حُضُوری سے نکال دو تاکہ وہ دُور چلے جائیں!
JER 15:2 اَور اگر وہ تُم سے دریافت کریں، ’ہم کدھر جایٔیں؟‘ تو اُن سے کہنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ” ’جو موت کے لیٔے مخصُوص کئے گیٔے ہیں، وہ موت کی طرف؛ اَورجو تلوار سے مرنے والے ہیں، وہ تلوار کی طرف؛ اَورجو فاقہ سے مرنے والے ہیں، وہ فاقہ سے مَریں گے؛ اَورجو اسیر ہونے والے ہیں، وہ اسیری میں چلے جایٔیں گے۔‘
JER 15:3 ”اَور مَیں چار قِسم کے غارت گروں کو اُن پر مُسلّط کروں گا۔“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”مار ڈالنے کے لیٔے تلوار، لاشیں گھسیٹنے کے لیٔے کُتّے اَور اُنہیں کھانے اَور تباہ کرنے کے لیٔے ہَوا کے پرندے اَور زمین کے جنگلی جانور۔
JER 15:4 اَور مَیں شاہِ یہُودیؔہ منشّہ بِن حِزقیاہؔ کے اُن کاموں کی وجہ سے جو اُس نے یروشلیمؔ میں کئے، اُن لوگوں کو دُنیا کی تمام مملکتوں کے لیٔے باعثِ حقارت بنا دُوں گا۔
JER 15:5 ”اَے یروشلیمؔ، تُم پر کون ترس کھائے گا؟ اَور کون تمہارے لیٔے ماتم کرےگا؟ اَور کون تمہاری خیروعافیت دریافت کرنے آئے گا؟
JER 15:6 تُم نے مُجھے ترک کیا ہے،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”تُم برگشتہ ہوتے ہی جاتے ہو، اِس لیٔے میں تُم پر ہاتھ بڑھا کر تُمہیں برباد کر دُوں گا؛ میں تو اَب رحم کرتے کرتے تنگ آ گیا ہُوں۔
JER 15:7 مَیں نے اُنہیں مُلک کے پھاٹکوں پر سُوپ سے پھٹکا ہے، میں اَپنی قوم پر تباہی لاؤں گا اَور اُنہیں بے اَولاد کر دُوں گا، کیونکہ وہ اَپنی بُری راہوں سے نہیں پھرے۔
JER 15:8 مَیں اُن کی بیواؤں کی تعداد سمُندر کی ریت سے بھی زِیادہ کر دُوں گا۔ میں دوپہر کے وقت اُن کے جَوانوں کی ماؤں کے خِلاف غارت گری لے آؤں گا؛ میں اُن پر اَچانک سخت اَذیّت، اَور خوف طاری کروں گا۔
JER 15:9 سات بچّوں کی ماں نڈھال ہوکر دَم توڑ دے گی۔ اُس کا سُورج دوپہر کو ہی غروب ہو گیا؛ اَور وہ نا اُمّید اَور ذلیل ہو گئی۔ اَور مَیں اُن کے بچے ہُوئے لوگوں کو اُن کے دُشمنوں کے سامنے تلوار سے قتل کروا دُوں گا،“ یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے۔
JER 15:10 اَے میری ماں، مُجھ پر لعنت ہے، جو تُم نے مُجھ جَیسے اِنسان کو پیدا کیا، جِس سے سارا مُلک لڑتا اَور جھگڑتا ہے! نہ تو مَیں نے کسی کو قرض دیا، اَور نہ کسی سے اُدھار لیا، پھر بھی ہر شخص مُجھ پر لعنت بھیجتا ہے۔
JER 15:11 یَاہوِہ نے جَواب دیا، یقیناً، میں تُمہیں کسی اَچھّے مقصد کے لیٔے آزاد کر دُوں گا؛ مُصیبت اَور تکلیف کے اوقات میں مَیں تمہارے دُشمنوں کو تُم سے اِلتجا کرنے پر مجبُور کروں گا۔
JER 15:12 کیا کوئی اِنسان شمالی سمت سے آنے والے، لوہے یا کانسے کو توڑ سَکتا ہے؟
JER 15:13 ”تمہارے تمام گُناہوں کے باعث جو تمام مُلک میں سرزد ہُوئے ہیں، مَیں تمہاری دولت اَور تمہارے خزانے مُفت لُٹوا دُوں گا۔
JER 15:14 میں تُمہیں تمہارے دُشمنوں کے ایک اَیسے مُلک میں، غُلام بنا کر لے جاؤں گا جسے تُم نہیں جانتے، کیونکہ میرے قہر کی آگ بھڑکے گی جو تمہارے خِلاف جلتی رہے گی۔“
JER 15:15 اَے یَاہوِہ، آپ تو جانتے ہیں کہ میرے ساتھ کیا ہو رہاہے؛ مُجھے یاد فرمائیں اَور میرا خیال کریں اَور میرے ستانے والوں سے میرا اِنتقام لیں۔ مُجھے وقت دیجئے، مُجھے جَوانی میں ہی مرنے نہ دیں، غور فرمائیں کہ مَیں نے آپ کی خاطِر کس قدر ملامت برداشت کی ہے۔
JER 15:16 جَب خُدا کا کلام نازل ہُوا تو مَیں نے اُسے کھا لیا؛ وہ میرے دِل کی خُوشی اَور میرے لیٔے راحت تھا، کیونکہ اَے قادرمُطلق یَاہوِہ خُدا، مَیں آپ کے نام سے جانا جاتا ہُوں۔
JER 15:17 مَیں نے رنگیلوں کی صحبت میں کبھی وقت ضائع نہیں کیا، اَور نہ ہی اُن کے ساتھ رنگ رلیاں منائیں؛ میں تنہا بیٹھا رہا کیونکہ آپ کا ہاتھ مُجھ پر تھا اَور آپ نے مُجھے اُن کے گُناہوں کے باعث غُصّہ سے بھر دیا تھا۔
JER 15:18 میرا درد کیوں ختم نہیں ہوتا اَور میرا زخم تکلیف دہ اَور لاعلاج کیوں ہے؟ کیا آپ میرے لیٔے ایک فریبی موسمی آبشار کی مانند ہیں، یا اُس چشمہ کی مانند ہیں جو گرمیوں میں سُوکھ جاتے ہیں۔
JER 15:19 اِس لیٔے یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اگر تُم تَوبہ کرو، تو میں تُمہیں بحال کروں گا، تاکہ تُم میری خدمت کر سکو؛ اگر تُم مَعقُول الفاظ بولو، نہ کہ نکمّے الفاظ، تو تُم میرے نُمائندہ ٹھہروگے۔ یہ لوگ تمہاری طرف پھریں، لیکن تُم اِن کی طرف ہرگز نہ پِھرنا۔
JER 15:20 میں تُمہیں اِس قوم کے لیٔے دیوار بنا دُوں گا، جو کانسے کی ایک مُستحکم دیوار ہوگی؛ وہ تمہارے خِلاف لڑیں گے لیکن تُم پر غالب نہ آئیں گے، کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ ہُوں تاکہ تمہاری حِفاظت کروں اَور تُمہیں بچاؤں۔“ یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے۔
JER 15:21 ”میں تُمہیں بدکاروں کے ہاتھوں سے بچاؤں گا، اَور ظالموں کے شکنجہ سے نَجات دِلاؤں گا۔“
JER 16:1 پھر یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا،
JER 16:2 ”تُم اِس مقام میں ہرگز شادی نہ کرنا، نہ تمہارے بیٹے اَور بیٹیاں ہُوں۔“
JER 16:3 اِس مُلک میں پیدا ہونے والے بیٹوں اَور بیٹیوں کی بابت جو اِس جگہ پیدا ہُوئے ہیں اَور اُن کے آباؤاَجداد کی بابت جنہوں نے اُنہیں پیدا کیا ہے، یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:
JER 16:4 ”وہ مہلک بیماریوں سے مَریں گے۔ اُن کے لیٔے نہ کویٔی ماتم کرےگا اَور نہ وہ دفنائے جایٔیں گے۔ بَلکہ اُن کی لاشیں گوبر کی مانند میدان میں پڑی رہیں گی۔ وہ تلوار اَور قحط سے ہلاک ہوں گے اَور اُن کی لاشیں ہَوا کے پرندوں اَور زمین کے جنگلی جانوروں کی خُوراک ہُوں گی۔“
JER 16:5 کیونکہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”تُم میّت کے گھر میں کھانے میں شرکت نہ کرنا۔ وہاں ماتم کرنے یا ہمدردی جتانے نہ جانا کیونکہ مَیں نے اَپنی رحمت، مَحَبّت اَور ہمدردی کو اِس قوم پر سے اُٹھالیا ہے،“ یہ یَاہوِہ کا کلام ہے۔
JER 16:6 ”اِس مُلک میں چُھوٹے اَور بڑے سَب مَریں گے۔ وہ نہ دفنائے جایٔیں گے، نہ اُن کے لیٔے ماتم کیا جائے گا اَور نہ کویٔی اُن کی خاطِر اَپنے جِسم کو زخمی کرےگا اَور نہ سَر مُنڈائے گا۔
JER 16:7 اَور نہ کویٔی شخص مُردوں کی خاطِر ماتم کرنے والوں کو تسلّی دینے کے لیٔے کھانا کھِلائے گا۔ اَور نہ کوئی والدین کی موت پر کسی کو تسلّی دینے کے لیٔے اُنہیں غم کم کرنے کے لیٔے مَے پلائے گا۔
JER 16:8 ”اَور تُم ضیافت والے گھر میں بھی داخل نہ ہونا، نہ وہاں بیٹھ کر کچھ کھانا یا پینا۔
JER 16:9 کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، دیکھ، میں اِس جگہ سے تمہاری آنکھوں کے سامنے اَور تمہارے ہی ایّام میں خُوشی اَور شادمانی کے نعروں اَور دُلہا دُلہن کی آواز موقُوف کراؤں گا۔
JER 16:10 ”اَور جَب تُم اِس قوم پر یہ سَب باتیں ظاہر کرو اَور وہ تُم سے پُوچھیں، ’یَاہوِہ نے ہمارے خِلاف اِس قدر بڑی آفت کا حُکم کیوں دیا؟ ہم نے کیا خطا کی ہے؟ ہم نے یَاہوِہ ہمارے خُدا کے خِلاف کون سا گُناہ کیا ہے؟‘
JER 16:11 تَب تُم اُن سے کہنا، ’اِس لیٔے کہ تمہارے آباؤاَجداد نے مُجھے ترک کر دیا،‘ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’اَور غَیر معبُودوں کی پیروی کرکے اُن کی اِطاعت و عبادت کی۔ اُنہُوں نے مُجھے ٹھکرا دیا اَور میرے آئین پر عَمل نہیں کیا۔
JER 16:12 لیکن تُم نے تو اَپنے آباؤاَجداد سے بھی بڑھ کر بدی کی۔ کیونکہ دیکھو، تُم میں سے ہر ایک میری اِطاعت کرنے کے بجائے اَپنے بُرے دِل کی ضِد پر چلتےہو۔
JER 16:13 اِس لیٔے میں تُمہیں اِس مُلک میں سے اُکھاڑ کر ایک اَیسے مُلک میں پھینک دُوں گا جسے نہ تُم نہ تمہارے آباؤاَجداد ہی جانتے تھے اَور وہاں تُم رات دِن غَیر معبُودوں کی پرستش کرتے رہوگے کیونکہ وہاں میں تُم پر اَپنی نظرِ عنایت نہ کروں گا۔‘
JER 16:14 ”اِس لئے دیکھو، وہ دِن آئیں گے،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب لوگ یہ نہ کہیں گے، ’زندہ یَاہوِہ کی قَسم جنہوں نے بنی اِسرائیل کو مِصر سے باہر نکال لائے تھے،‘
JER 16:15 بَلکہ وہ یہ کہیں گے، ’زندہ یَاہوِہ کی قَسم جنہوں نے بنی اِسرائیل کو شمالی مُلک سے اَور اُن تمام مملکت سے جہاں اُنہُوں نے اُنہیں جَلاوطن کیا تھا، واپس لے آئے۔‘ کیونکہ مَیں اُنہیں پھر اِس مُلک میں واپس لے آؤں گا جو مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد کو دیا تھا۔
JER 16:16 ”لیکن اَب مَیں بہت سے ماہی گیروں کو بُلواؤں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”اَور وہ اُنہیں پکڑیں گے۔ اِس کے بعد میں بہت سے شِکاریوں کو بُلواؤں گا اَور وہ اُن کو ہر پہاڑ، پہاڑی اَور چٹّانوں کی دراڑوں میں سے ڈھونڈ نکالیں گے۔
JER 16:17 میری آنکھیں اُن کی تمام روِشوں پر لگی ہُوئی ہیں۔ وہ مُجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں، نہ ہی اُن کا گُناہ میری آنکھوں سے چھُپا ہُواہے۔
JER 16:18 میں اُنہیں اُن کی بدکاری اَور اُن کے گُناہ کی دوگنی سزا دُوں گا کیونکہ اُنہُوں نے میرے مُلک کو اَپنی حقیر اَور بے جان شَبیہوں سے ناپاک کر دیا اَور میری مِیراث کو اَپنے مکرُوہ بُتوں سے بھر دیا۔“
JER 16:19 اَے یَاہوِہ، آپ میری قُوّت اَور میرا قلعہ ہیں، اَور مُصیبت میں میری پناہ گاہ، زمین کے اِنتہا سے مُختلف قومیں، آپ کے پاس آئیں گی اَور کہیں گی، ”حقیقت میں ہمارے آباؤاَجداد جھُوٹے، نکمّے، اَور نکمّے معبُودوں کی پیروی اَور پرستش کرتے تھے۔
JER 16:20 کیا اِنسان اَپنے معبُودوں کو خُود بنا سکتے ہیں؟ ہاں، لیکن وہ معبُود خُدا نہیں ہو سکتے ہیں!“
JER 16:21 اِس لیٔے میں اُنہیں سِکھاؤں گا۔ اَب کی بار میں اُنہیں اَپنی قُدرت اَور طاقت دِکھاؤں گا تَب وہ جانیں گے کہ میرا نام یَاہوِہ ہے۔
JER 17:1 ”یہُودیؔہ کا گُناہ لوہے کی قلم سے، اَور الماس کی چقماق سے، اُن کے دِلوں کی تختیوں پر، اَور اُن کے مذبحوں کے سینگوں پر نقش کیا گیا ہے۔
JER 17:2 وہ اَپنے مذبحوں اَور اشیراہؔ کے سُتونوں کی یاد ہرے درختوں کے نیچے، اَور اُونچی پہاڑیوں پر اِس قدر رکھتے ہیں، جَیسے وہ اَپنے فرزندوں کو یاد رکھتے ہیں۔
JER 17:3 اِس لئے اَے میرے مُقدّس پہاڑ تُو جو میدان میں ہے، تیری دولت اَور تمام خزانے، اَور تمہارے پرستش کے اُونچے مقامات بھی، جو اِس مُلک میں مَوجُود ہیں، تمہارے گُناہوں کے باعث لُوٹ جانے دُوں گا۔
JER 17:4 تمہارے اَپنے قُصُوروں کے سبب سے، تُم وہ مِیراث کھو بیٹھو گے جو مَیں نے تُمہیں دی تھی۔ اَور مَیں تُمہیں ایک اَیسے مُلک میں جسے تُم نہیں جانتے، تُمہیں تمہارے دُشمنوں کے ہاتھوں غُلام بناؤں گا۔ کیونکہ تُم نے میرے قہر کو بھڑکایا ہے، جِس کی آگ ہمیشہ جلتی رہے گی۔“
JER 17:5 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”ملعُون ہے وہ شخص جو اِنسان پر بھروسا رکھتا ہے، اَور اَپنی قُوّت کے لیٔے بشر پر تکیہ کرتا ہے اَور جِس کا دِل یَاہوِہ سے برگشتہ ہو جاتا ہے۔
JER 17:6 وہ اِنسان بنجر علاقہ کی جھاڑی کی مانند ہوگا؛ اَور وہ خُوشحالی کے آنے پر اُسے دیکھ نہ پایٔےگا۔ وہ بیابان کے خشک علاقوں میں، اَور غَیر آباد نمکینی زمین میں رہے گا۔
JER 17:7 ”لیکن مُبارک ہے وہ آدمی جو یَاہوِہ پر بھروسا کرتا ہے، اَور جِس کی اُمّید یَاہوِہ پر ہے۔
JER 17:8 وہ اُس درخت کی مانند ہوگا جو پانی کے پاس لگایا گیا ہو، جو اَپنی جڑیں دریا کے کنارے کنارے پھیلاتا ہے۔ اَور جَب گرمی آئے تو اُسے کویٔی خوف نہیں ہوتا؛ اَور اُس کے پتّے ہمیشہ ہرے رہتے ہیں۔ خشک سالی میں اُسے کچھ فکر نہیں ہوتی اَور وہ ہمیشہ پھل دیتا رہتاہے۔“
JER 17:9 دِل سَب چیزوں سے زِیادہ حیلہ باز اَور لاعلاج ہوتاہے، اُس کا راز کون جان سَکتا ہے؟
JER 17:10 ”میں یَاہوِہ، دِل کو جانچتا اَور دماغ کو آزماتا ہُوں، تاکہ ہر اِنسان کو اُس کی روِش کے مُوافق، اَور اُس کے کاموں کے پھل کے مُطابق اجر دُوں۔“
JER 17:11 ناجائز طریقوں سے دولت حاصل کرنے والا شخص اُس تیتر کی مانند ہے جو دُوسرے پرندے کے دیئے ہُوئے اَنڈوں کو سیتی ہے وہ اَپنی آدھی عمر میں ہی اَپنی دولت کو چھوڑ جاتا ہے، اَور آخِر کو وہ احمق ثابت ہوتاہے۔
JER 17:12 ہمارا پاک مَقدِس تو اَزل ہی سے، اُونچے مقام پر رکھے ہُوئے ایک جلالی تخت کی مانند ہے۔
JER 17:13 اَے یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کی اُمّید، آپ کو ترک کرنے والے سبھی لوگ شرمندہ ہوں گے؛ جو آپ سے مُنہ موڑ لیتے ہیں اُن کا نام عالمِ اَرواح میں جانے والوں میں شامل ہوگا۔ کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کو، جو آبِ حیات کا چشمہ ہیں، ترک کر دیا۔
JER 17:14 اَے یَاہوِہ، مُجھے شفا بخشیں تو میں شفا پاؤں گا؛ مُجھے بچائیں تو میں بچ جاؤں گا، کیونکہ مَیں آپ کی ہی تمجید کرتا ہُوں۔
JER 17:15 وہ مُجھ سے کہتے رہتے ہیں کہ، ”یَاہوِہ کا کلام کہاں ہے؟ اُسے تو اَب مُکمّل ہو جانا چاہئے!“
JER 17:16 مَیں نے تو آپ کا چرواہا بننے سے گُریز نہیں کیا؛ آپ جانتے ہیں کہ مَیں نے مایوسی کے دِن کی تمنّا نہیں کی۔ جو کچھ میرے لبوں سے نکلتا ہے، وہ آپ کے سامنے واضح ہے۔
JER 17:17 میرے لیٔے دہشت کا باعث نہ بنیں؛ مُصیبت کے دِن آپ ہی میری پناہ ہیں۔
JER 17:18 مُجھ پر سِتم ڈھانے والے شرمندہ ہُوں، لیکن مُجھے شرمندہ نہ ہونے دیں؛ وہ ہِراساں ہُوں، لیکن مُجھے ہِراساں نہ ہونے دیں۔ تباہی کا دِن اُن پر لائیں؛ اَور دوگنی تباہی سے اُنہیں برباد کر دیں۔
JER 17:19 یَاہوِہ نے مُجھ سے یہ فرمایا: ”جاؤ اَور اُس پھاٹک پر جِس سے عام لوگ اَور شاہِ یہُودیؔہ آتے جاتے ہیں، بَلکہ یروشلیمؔ کے سَب پھاٹکوں پر بھی کھڑے ہو۔
JER 17:20 اَور اُن سے کہہ کہ، ’اَے شاہِ یہُودیؔہ اَور اَے بنی یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے تمام باشِندوں جو اِن پھاٹکوں سے آتے جاتے ہو، یَاہوِہ کا کلام سُنو۔
JER 17:21 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، خیال رہے کہ تُم سَبت کے دِن نہ کویٔی بوجھ اُٹھاؤ اَور نہ اُسے یروشلیمؔ کے پھاٹکوں سے اَندر لاؤ۔
JER 17:22 اَپنے گھروں سے کویٔی بوجھ باہر نہ لاؤ، اَور نہ سَبت کے دِن کویٔی کام کرو بَلکہ سَبت کے دِن کو مُقدّس جانو جَیسا کہ مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو حُکم دیا تھا۔
JER 17:23 پھر بھی اُنہُوں نے نہ تو سُنا اَور نہ فرمانبردار ہُوئے؛ بَلکہ ضِدّی ہو گئے تاکہ نہ سُنیں اَور نہ تربّیت پائیں۔
JER 17:24 لیکن یَاہوِہ فرماتے ہیں، اگر تُم احتیاط برتو اَور میرا حُکم مانو اَور سَبت کے دِن اِس شہر کے پھاٹکوں سے کویٔی بوجھ نہ لاؤ اَور سَبت کے دِن کسی طرح کا کام کاج نہ کرکے اُس دِن کو مُقدّس مانو،
JER 17:25 تَب داویؔد کے تخت پر بیٹھنے والے بادشاہ، حاکموں کے ساتھ اُن پھاٹکوں سے داخل ہوں گے۔ وہ اَور اُن کے حاکم رتھوں اَور گھوڑوں پر سوار ہوکر آئیں گے اَور اُن کے ساتھ بنی یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے باشِندے بھی ہوں گے اَور یہ شہر ہمیشہ آباد رہے گا۔
JER 17:26 اَور لوگ سوختنی نذریں اَور ذبیحے، نذر کی قُربانیاں، بخُور اَور شُکر گزاری کے عطیات لے کر یہُودیؔہ کے شہروں اَور یروشلیمؔ کے گِردونواح کے دیہاتوں، بِنیامین کے علاقہ سے اَور مغربی پہاڑوں کے دامن سے، کوہستانی اَور نِیگیوؔ سے یَاہوِہ کے گھر میں آئیں گے۔
JER 17:27 لیکن اگر تُم نے میرا حُکم نہ مانا اَور سَبت کے دِن کو مُقدّس نہ جانا اَور اُس دِن یروشلیمؔ کے پھاٹکوں سے داخل ہوتے وقت کویٔی بوجھ اُٹھاکر لایٔے تو میں یروشلیمؔ کے پھاٹکوں میں اَیسی آگ لگا دُوں گا جو کبھی نہ بُجھےگی اَور وہ شہر کے تمام محلوں کو بھسم کر دے گی۔‘ “
JER 18:1 یہ وہ کلام ہے جو یَاہوِہ کی طرف سے یرمیاہؔ نبی پر نازل ہُوا:
JER 18:2 ”کُمہار کے گھر جاؤ، جہاں میں اَپنا پیغام تُمہیں دُوں گا۔“
JER 18:3 چنانچہ میں کُمہار کے گھر روانہ ہُوا اَور وہاں اُسے مَیں نے چاک پر کام کرتے پایا۔
JER 18:4 لیکن جو مٹّی کا برتن کُمہار بنا رہاتھا وہ اُس کے ہاتھوں میں بگڑ گیا؛ چنانچہ اُس نے اُس مٹّی سے اَپنی مرضی کے مُطابق دُوسرا برتن بنا لیا۔
JER 18:5 تَب یَاہوِہ کا یہ کلام مُجھ پر نازل ہُوا۔
JER 18:6 اَے بنی اِسرائیل کے گھرانے، یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”کیا میں بھی تمہارے ساتھ اِس کُمہار کی طرح سلُوک نہیں کر سَکتا؟“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”دیکھ، جِس طرح مٹّی کُمہار کے ہاتھ میں ہوتی ہے ٹھیک اُسی طرح اَے بنی اِسرائیل کے گھرانے تُم بھی میرے ہاتھ میں ہو۔
JER 18:7 اگر کسی وقت مَیں کسی قوم یا سلطنت کے حق میں اعلان کروں کہ اُسے اُکھاڑ پھیکوں گا یا اُجاڑ دُوں گا یا تباہ کر دُوں گا،
JER 18:8 تَب اگر اُس قوم کے لوگ جِن کے حق میں، مَیں نے یہ اعلان کیا ہو، اَپنی بدی سے تَوبہ کریں تو میں بھی اُس آفت کو جو مَیں نے اُن پر لانے کا اِرادہ کیا تھا بعض آؤں گا۔
JER 18:9 اَور پھر اگر مَیں کسی اَور وقت کسی قوم یا سلطنت کے حق میں یہ اعلان کروں کہ میں اُسے قائِم کروں گا اَور بناؤں گا؛
JER 18:10 تَب اگر وہ میری نگاہ میں بدی کریں اَور میرا حُکم نہ مانیں، تَب میں بھی اُس کی نیکی کی بابت کی گئی اَپنے وعدے پر پھر سے نظرِ ثانی کروں گا۔
JER 18:11 ”چنانچہ اَب تُم بنی یہُوداہؔ اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں سے کہہ، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، دیکھو، مَیں تمہارے لیٔے ایک آفت تیّار کر رہا ہُوں اَور تمہاری مُخالفت میں ایک منصُوبہ بنا رہا ہُوں۔ چنانچہ اَب تُم میں سے ہر ایک اَپنی بُری روِش سے باز آئے اَور اَپنی راہ اَور اَپنے اعمال کو دُرست کر لے۔‘
JER 18:12 لیکن وہ جَواب دیں گے، ’یہ تو فُضول ہے، کیونکہ ہم تو اَپنے اَپنے منصُوبوں پر چلتے رہیں گے۔ اَور ہم میں سے ہر ایک اَپنے بُرے دِل کی ضِد پر چلتا رہے گا۔‘ “
JER 18:13 چنانچہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دریافت کرو کہ مُختلف قوموں میں سے، کیا کسی نے کبھی اَیسی بات سُنی ہے؟ کنواری اِسرائیل نے نہایت ہی ہولناک کام کیا ہے۔
JER 18:14 کیا لبانونؔ کی برف جو چٹّان پر سے میدان میں بہتی ہے کبھی غائب ہو سکتی ہے؟ کیا اُس کے دُور دراز پہاڑی دریاؤں سے بہنے والا ٹھنڈا پانی، کبھی سُوکھ سکتا ہے؟
JER 18:15 لیکن میری قوم مُجھے بھُول گئی ہے؛ وہ نکمّے معبُودوں کے سامنے بخُور جَلاتے ہیں، جِن کی وجہ سے وہ اَپنی نہایت قدیم راہوں میں، ٹھوکر کھائی ہے۔ اَور شاہراہ چھوڑکر پگڈنڈیوں میں گُمراہ ہو گئے ہیں۔
JER 18:16 جِس کی وجہ سے اُن کا مُلک اَیسا اُجاڑ دیا گیا کہ، وہ ہمیشہ کے لیٔے لَعن طَعن کا نِشانہ بَن گیا؛ وہاں سے گزرنے والے سبھی لوگ دنگ رہ جایٔیں گے، اَور حیران ہوکر اَپنے سَر ہلائیں گے۔
JER 18:17 میں اُنہیں بادِ مشرق کی طرح، اُن کے دُشمنوں کے سامنے پراگندہ کر دُوں گا؛ اَور اُن کی مُصیبت کے دِن میں اُنہیں اَپنا چہرہ نہیں بَلکہ پیٹھ دِکھاؤں گا۔“
JER 18:18 اُنہُوں نے آپَس میں مشورہ کیا، ”آؤ، ہم یرمیاہؔ نبی کے خِلاف منصُوبے بنائیں کیونکہ جِس طرح کاہِنؔ سے شَریعت اَور حکیِم سے مشورت دُور نہ ہوگی اُسی طرح نبیوں سے خُدا کا کلام بھی بند نہیں ہوں گے۔ چنانچہ آؤ ہم اَپنی زبان سے اُس پر حملہ کریں اَور اُس کی کسی بھی بات پر غور نہ کریں۔“
JER 18:19 اَے یَاہوِہ، میری طرف غور فرمائیں؛ اَور میرے دُشمن جو مُجھ پر اِلزام لگاتے ہیں اُن کی باتیں سُنیں!
JER 18:20 کیا نیکی کا بدلہ بدی سے دیا جائے؟ تَو بھی اُنہُوں نے میرے لیٔے گڑھا کھودا ہے۔ یاد کیجئے کہ مَیں نے آپ کے حُضُور کھڑے ہوکر اُن کے حق میں شفاعت کی تاکہ آپ کا قہر اُن پر سے ٹل جائے۔
JER 18:21 لہٰذا اُن کے بچّوں کو قحط کے حوالہ کر دیں؛ اَور اُنہیں تلوار کی دھار کے سُپرد کر دیں۔ اُن کی بیویاں بے اَولاد اَور بِیوہ ہو جایٔیں؛ اَور اُن کے مَردوں کو مقتول ہو جانے دیں، اَور اُن کے جَوان جنگ میں تلوار سے قتل کئے جایٔیں۔
JER 18:22 جَب آپ حملہ آوروں کو اَچانک اُن کے خِلاف چڑھا لائیں، تَب اُن کے گھروں سے چِلّاہٹ سُنایٔی دے، کیونکہ اُنہُوں نے مُجھے پھنسانے کو گڑھا کھودا ہے، اَور میرے پاؤں کے لیٔے پھندے لگائے ہیں۔
JER 18:23 لیکن اَے یَاہوِہ، آپ اُن کی تمام سازشوں کو جانتے ہیں، جو اُنہُوں نے مُجھے قتل کرنے کے لیٔے کی ہیں۔ اِس لئے اُن کی بدکاری کو مُعاف نہ کرنا، نہ اُن کے گُناہ کو اَپنی نظروں سے مٹا۔ بَلکہ وہ آپ کے سامنے ہی پست ہو جائیں؛ اَور اَپنے قہر میں آکر اُن کے ساتھ اَیسا ہی سلُوک کریں۔
JER 19:1 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”جاؤ اَور کُمہار سے مٹّی کی صُراحی خرید لو۔ پھر لوگوں اَور کاہِنوں میں سے چند بُزرگوں کو اَپنے ساتھ لے کر،
JER 19:2 بِن ہِنَّومؔ کی وادی میں ٹھیکرے کے پھاٹک کے مدخل پر چلا جا، اَورجو باتیں میں تُمہیں بتاؤں اُن کا وہاں اعلان کرو،
JER 19:3 اَور فرمانا، ’اَے شاہانِ یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں، یَاہوِہ کا کلام سُنو۔ قادرمُطلق یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، دیکھو میں اِس مقام پر ایک اَیسی آفت نازل کرنے والا ہُوں، کہ جو کوئی اُس کی خبر سُنے اُس کے کان بھنّنا جائیں گے۔
JER 19:4 کیونکہ اُنہُوں نے مُجھے ترک کیا ہے اَور اُس مقام کو غَیر معبُودوں کا مَسکن بنا دیا ہے۔ اُنہُوں نے یہاں اَیسے معبُودوں کے سامنے بخُور جَلایا ہے، جنہیں نہ وہ نہ اُن کے آباؤاَجداد اَور نہ ہی شاہِ یہُودیؔہ کبھی جانتے تھے اَور اُنہُوں نے اُس جگہ کو بےگُناہوں کے خُون سے بھر دیا ہے۔
JER 19:5 اُنہُوں نے یہاں بَعل کے لیٔے اُونچے مقامات تعمیر کئے ہیں تاکہ اَپنے بیٹوں کو بَعل کی خاطِر سوختنی نذر کے طور پر پیش کریں، جِس کا نہ مَیں نے کبھی حُکم دیا، نہ ذِکر ہی کیا اَور نہ یہ بات کبھی میرے ذہن میں آئی تھی۔
JER 19:6 لہٰذا خبردار ہو جاؤ، یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ اَیسے دِن آ رہے ہیں جَب لوگ اِس جگہ کو تُوفتؔ یا بِن ہِنَّومؔ کی وادی کے بجائے مقتول کی وادی کے نام سے جانی جائے گی۔
JER 19:7 ” ’میں اِس جگہ میں یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے منصُوبوں پر پانی پھیر دُوں گا۔ اَور مَیں اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے سامنے اَیسے لوگوں کے ہاتھوں تلوار سے قتل کروا دُوں گا جو اُن کے جانی دُشمن ہیں۔ اَور مَیں اُن کی لاشیں آسمان کے پرندوں اَور زمین کے جنگلی جانوروں کو کھانے کو دُوں گا۔
JER 19:8 میں اِس شہر کو اَیسا تباہ کروں گا کہ وہ دہشت اَور طعن کا باعث بَن جائے گا۔ جو کویٔی اُس کے پاس سے گزرے گا وہ اُس کی بُری حالت دیکھ کر حیرت زدہ ہوگا اَور اِس کا مذاق اُڑائے گا۔
JER 19:9 میں اُنہیں اُن کے اَپنے ہی بیٹوں اَور بیٹیوں کا گوشت کھانے پر مجبُور کروں گا اَور وہ اَپنی جانی دُشمن دُشمنوں کے محاصرہ کی شِدّت سے تنگ آکر ایک دُوسرے کا گوشت کھایٔیں گے۔‘
JER 19:10 ”تَب تُم اُس صُراحی کو اُن لوگوں کے سامنے توڑ دینا جو تمہارے ساتھ جایٔیں گے،
JER 19:11 اَور اُن سے فرمانا، ’قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، جِس طرح سے کُمہار کی صُراحی توڑ دی گئی اَور اَب جوڑی نہیں جا سکتی اُسی طرح سے میں اِس قوم اَور اِس شہر کو فنا کر دُوں گا۔ وہ لاشوں کو تُوفتؔ کی وادی میں دفن کریں گے یہاں تک کہ دفن کرنے کی جگہ باقی نہ بچےگی۔
JER 19:12 یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ میں اِس جگہ اَور یہاں کے باشِندوں کے ساتھ اَیسا ہی سلُوک کروں گا۔ میں اِس شہر کو تُوفتؔ کی مانند کر دُوں گا۔
JER 19:13 یروشلیمؔ کے مکانات اَور یہُودیؔہ کے بادشاہوں کے محل، جِن کی چھتوں پر اجرامِ فلکی کے لیٔے بخُور جَلایا گیا اَور غَیر معبُودوں کے لیٔے تپاون دیا گیا، وہ سَب تُوفتؔ کی وادی کی مانند ناپاک ہو جایٔیں گے۔‘ “
JER 19:14 تَب یرمیاہؔ تُوفتؔ سے لَوٹا جہاں یَاہوِہ نے اُسے نبُوّت کرنے کے لیٔے بھیجا تھا، اَور خُدا کے بیت المُقدّس کے صحن میں آکر کھڑا ہُوا اَور سَب لوگوں سے مُخاطِب ہُوا،
JER 19:15 ”قادرمُطلق یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، ’دیکھو! میں اِس شہر پر اَور اِس کی سَب بستیوں پر وہ تمام آفتیں نازل کر رہا ہُوں جِن کے بھیجنے کا مَیں نے اعلان کیا تھا کیونکہ وہ اِس قدر ضِدّی ہو گئے ہیں کہ میرا کلام سُننا ہی نہیں چاہتے ہیں۔‘ “
JER 20:1 جَب کاہِنؔ پشحُور بِن اِمّیرؔ نے، جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں مختار اَعظم تھا، یرمیاہؔ کو اِن مُدّوں پر نبُوّت کرتے ہُوئے سُنا،
JER 20:2 تَب پشحُور نے یرمیاہؔ نبی کو پِٹوایا اَور اُسے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں بِنیامین کے بالائی پھاٹک کے پاس لکڑی میں جکڑ کر کال کوٹھری میں ڈلوا دیا۔
JER 20:3 دُوسرے دِن جَب پشحُور نے اُسے کال کوٹھری سے نکلوایا تَب یرمیاہؔ نے اُس سے فرمایا، ”یَاہوِہ نے تمہارا نام پشحُورؔ نہیں بَلکہ ماگور مِسّابِیب یعنی ہر طرف دہشت رکھا ہے۔
JER 20:4 کیونکہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’میں تُمہیں خُود تمہارے لیٔے اَور تمہارے سارے دوستوں کے لیٔے دہشت کا باعث ٹھہراؤں گا؛ تُم اَپنی آنکھوں سے اُنہیں اَپنے دُشمنوں کی تلوار سے قتل ہوتے ہُوئے دیکھوگے۔ اَور مَیں تمام یہُودیؔہ کے لوگوں کو شاہِ بابیل کے حوالہ کر دُوں گا جو اُنہیں بابیل لے جائے گا یا تلوار سے قتل کر دے گا۔
JER 20:5 میں اِس شہر کی تمام دولت، اِس کی ساری فصل اَور اِس کی تمام قیمتی اَشیا اَور شاہانِ یہُودیؔہ کے تمام خزانے اُن کے دُشمنوں کے حوالہ کر دُوں گا۔ وہ اُسے مالِ غنیمت کی طرح بابیل لے جایٔیں گے۔
JER 20:6 اَور اَے پشحُور، تُم اَور تمہارے گھرانے کے سبھی لوگ اسیر ہوکر بابیل کو جائیں گے اَور وہاں تُم اَور تمہارے تمام رفیق جِن کے لیٔے تُم نے باطِل نبُوّت کی ہے مَر جائیں گے اَور دفنائے جائیں گے۔‘ “
JER 20:7 اَے یَاہوِہ، آپ نے مُجھے ترغیب دی اَور مَیں فریب کا شِکار ہو گیا؛ آپ مُجھ سے زورآور تھے اِس لئے مُجھ پر غالب ہُوئے۔ میں دِن بھر ہنسی کا باعث بنتا ہُوں؛ اَور ہر کویٔی میرا مذاق اُڑاتا ہے۔
JER 20:8 جَب کبھی میں بولتا ہُوں، تو میں زور زور سے رونے لگتا ہُوں۔ مَیں نے غضب اَور تباہی کا اعلان کیا۔ کیونکہ یَاہوِہ کا کلام دِن بھر میری ملامت اَور ہنسی کا باعث ہوتاہے۔
JER 20:9 لیکن اگر مَیں کہُوں، ”میں یَاہوِہ کا ذِکر نہ کروں گا، نہ اُن کے نام سے پھر کبھی کلام کروں گا،“ تو آپ کا کلام میرے دِل میں آگ کی مانند دہکنے لگتا ہے، گویا میری ہڈّیوں میں جلتی ہوئی آگ ہو۔ جسے میں ضَبط کرتے کرتے تھک گیا؛ اَور اَب مُجھ سے رہا نہیں جاتا۔
JER 20:10 کیونکہ مَیں نے بہُتوں کی تہمت سُنی ہے، ”اَور چاروں طرف دہشت ہی دہشت ہے! اُس کی مذمّت کرو، آؤ، ہم اُس کی مذمّت کریں!“ میرے تمام دوست، میرے ٹھوکر کھانے کے منتظر ہیں اَور کہتے ہیں، ”شاید وہ فریب کھائے؛ تَب ہم اُس پر غالب آئیں گے اَور اُس سے اَپنا اِنتقام لیں گے۔“
JER 20:11 لیکن یَاہوِہ نہایت زبردست سُورما کی مانند میرے ساتھ ہیں؛ اِس لیٔے میرے ستانے والے ٹھوکر کھایٔیں گے اَور غالب نہ ہوں گے۔ وہ ناکام ہوں گے اَور بےحد رُسوا ہوں گے؛ اَور اُن کی بدنامی کبھی فراموش نہ ہوگی۔
JER 20:12 پس اَے قادرمُطلق یَاہوِہ، آپ جو صادقوں کو آزماتے ہیں، اَور دِل و دماغ کو ٹٹولتے ہیں، اُن سے اِنتقام لے کر مُجھے دِکھائیں، کیونکہ مَیں نے اَپنا مُقدّمہ آپ کے سُپرد کر دیا ہے۔
JER 20:13 یَاہوِہ کی مدح سرائی کرو! یَاہوِہ کی سِتائش کرو! کیونکہ اُنہُوں نے ضروُرت مند کی جان کو، بدکاروں کے ہاتھوں سے چھُڑایا ہے۔
JER 20:14 لعنت ہو اُس دِن پر جِس دِن میں پیدا ہُوا! وہ دِن ہرگز مُبارک نہ ہو جِس دِن میری ماں نے مُجھے پیدا کیا!
JER 20:15 لعنت ہو اُس شخص پر جِس نے میرے باپ کو یہ خبر دے کر مسرُور کیا کہ، ”تمہارے ہاں بیٹا پیدا ہُوا!“
JER 20:16 وہ آدمی اُن شہروں کی مانند ہو، جنہیں یَاہوِہ نے نہایت بے رحمی سے تباہ کر دیا۔ کاش کہ وہ صُبح کو ماتم کی آواز سُنے، اَور دوپہر کو جنگ کی للکار۔
JER 20:17 کیونکہ اُس نے مُجھے رِحم میں ہی فنا نہیں کیا، تاکہ میری ماں کا پیٹ ہی میری قبر ہوتی، اَور میری ماں ہمیشہ حاملہ ہی رہتی۔
JER 20:18 میں رِحم سے باہر ہی کیوں نِکلا، کہ رنج و غم دیکھوں اَور اَپنے دِن رُسوائی میں گزاروں؟
JER 21:1 یہ کلام یَاہوِہ کی جانِب سے یرمیاہؔ پر اُس وقت نازل ہُوا جَب شاہِ صِدقیاہؔ نے پشحُورؔ بِن ملکیاہؔ اَور کاہِنؔ صفنیاہؔ بِن معسیاہؔ کو اُس کے پاس بھیجا تھا۔ اُنہُوں نے درخواست کی،
JER 21:2 ”ہماری خاطِر یَاہوِہ سے دریافت کرو کیونکہ شاہِ بابیل، نبوکدنضرؔ ہم پر حملہ کر رہاہے۔ شاید یَاہوِہ قدیم وقتوں کی طرح ہماری خاطِر کویٔی اَیسا معجزہ کریں کہ نبوکدنضرؔ ہمارے پاس سے واپس جانے کو مجبُور ہو جائے۔“
JER 21:3 لیکن یرمیاہؔ نے جَواب دیا، ”تُم صِدقیاہؔ سے یُوں کہنا،
JER 21:4 ’یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: دیکھو، مَیں جنگ کے اُن ہتھیاروں کو جو تمہارے ہاتھ میں ہیں اَور جِن سے تُم شاہِ بابیل اَور اُن کَسدیوں پر حملہ کے لیٔے اِستعمال کرنے والے ہو، جو تمہاری فصیل کا محاصرہ باہر سے کئے ہُوئے ہیں، حقیقتاً میں تمہارے دُشمنوں کو تمہارے خِلاف اِس شہر کے مرکز میں جمع کروں گا۔
JER 21:5 میں خُود اَپنے، غضبناک اَور قہر شدید میں ہاتھ بڑھا کر اَپنے قوی بازو سے تمہارے خِلاف جنگ کروں گا۔
JER 21:6 اَور مَیں اِس شہر کے باشِندوں کو، خواہ وہ اِنسان ہُوں یا جنگلی جانور، مار ڈالوں گا اَور وہ نہایت ہولناک وَبا سے فنا ہو جایٔیں گے۔
JER 21:7 یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ اِس کے بعد، میں شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کو، اُس کے حاکموں اَور شہر کے باشِندوں کو جو وَبا، تلوار اَور قحط سے بچ جایٔیں گے اُنہیں شاہِ بابیل، نبوکدنضرؔ اَور اُن کے باقی جانی دُشمنوں کے حوالہ کر دُوں گا۔ وہ اُنہیں تلوار سے مار ڈالے گا؛ اَور نہ اُن پر رحم کھائے گا نہ مہربانی کرےگا، نہ اُن سے ہمدردی ہی جتائے گا۔‘
JER 21:8 ”تُم اِن لوگوں سے مزید یہ بھی کہنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، دیکھو، مَیں تمہارے سامنے راہِ زندگی اَور راہِ موت، دونوں رکھ رہا ہُوں۔
JER 21:9 جو کویٔی اِس شہر میں رہے گا وہ تلوار، قحط یا وَبا سے مَرے گا۔ لیکن جو کویٔی باہر جا کر اُن کَسدیوں کے سامنے خود کے سُپرد کر دے گا، جو تمہارا محاصرہ کئے ہُوئے ہیں؛ وہ زندہ رہے گا اَور اُس کی جان بچ جائے گی۔
JER 21:10 کیونکہ یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ مَیں نے اَپنا رُخ اِس شہر کی طرف نیکی کے لئے نہیں بَلکہ نُقصان پہُنچانے کے لئے کیا ہے۔ یہ شہر شاہِ بابیل کے حوالہ کیا جائے گا اَور وہ اُسے آگ سے تباہ کر دے گا۔‘
JER 21:11 ”اَور یہُودیؔہ کے شاہی خاندان سے کہہ، ’یَاہوِہ کا کلام سُنو؛
JER 21:12 اَے داویؔد کے گھرانے، یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ” ’تُم ہر صُبح اِنصاف کرو؛ اَور مظلوم کو ظالموں کے ہاتھوں سے رِہائی بخشو، ورنہ تمہاری بدی کی وجہ سے، میرے غضب کی آگ بھڑک اُٹھے گی، اَور اَیسی شُعلہ زن ہوگی کہ کویٔی اُسے بُجھا نہ سکےگا۔
JER 21:13 اَے یروشلیمؔ، تُم جو اِس وادی کے اُوپر ہموار چٹّان پر مَسکن گزیں ہو، یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، میں تمہارا مُخالف ہُوں، تُم کہتے ہو کہ، ”ہم پر کون حملہ کر سَکتا ہے؟ اَور ہماری پناہ گاہ میں کون داخل ہو سَکتا ہے؟“
JER 21:14 مَیں تمہارے اعمال کے مُطابق تُمہیں سزا دُوں گا، یَاہوِہ فرماتے ہیں۔ مَیں تمہارے جنگل میں آگ لگا دُوں گا، جو تمہارے اِردگرد کی ہر شَے کو بھسم کر ڈالے گی۔‘ “
JER 22:1 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”شاہِ یہُودیؔہ کے محل میں جاؤ اَور وہاں یہ پیغام سُناؤ:
JER 22:2 ’اَے داویؔد کے تخت پر تخت نشین شاہِ یہُودیؔہ، تُم جو اَپنے حاکموں اَور اَپنے لوگوں کے ساتھ اِن پھاٹکوں سے داخل ہوتے ہو، یَاہوِہ کا کلام سُنو،
JER 22:3 یَاہوِہ فرماتے ہیں، اِنصاف اَور راستبازی کے کام کرو۔ مظلوم کو ظالِم کے ہاتھ سے چھُڑاؤ، اَور پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کے ساتھ بدسلُوکی اَور ظُلم نہ کرو، اَور اِس جگہ بےگُناہ کا خُون نہ بہاؤ۔
JER 22:4 کیونکہ اگر تُم اِن اَحکام پر احتیاط سے عَمل کروگے تو داویؔد کے تخت پر تخت نشین بادشاہ، اَپنے حاکموں اَور لوگوں کے ساتھ، رتھوں اَور گھوڑوں پر سوار ہوکر اِس محل کے پھاٹکوں سے داخل ہوں گے۔
JER 22:5 لیکن اگر تُم اِن اَحکام کو نہ مانوگے تو یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ میری جان کی قَسم یہ محل ویران ہو جائے گا۔‘ “
JER 22:6 شاہِ یہُودیؔہ کے محل کے متعلّق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اگرچہ تُم میرے لیٔے گِلعادؔ، اَور لبانونؔ کی چوٹی کی مانند ہو، تَو بھی میں تُمہیں یقیناً ویران، اَور غَیر آباد شہروں کی مانند بنا دُوں گا۔
JER 22:7 میں غارت گروں کو تمہارے خِلاف بھیجوں گا، جو اَپنے اَپنے ہتھیار لے کر آئیں گے، اَور تمہارے نفیس دیوداروں کو کاٹ کر آگ میں جھونک دیں گے۔
JER 22:8 ”مُختلف قوموں کے لوگ اِس شہر کے پاس سے گزریں گے اَور ایک دُوسرے سے پُوچھیں گے، ’یَاہوِہ نے اِس عظیم شہر کا یہ حَشر کیوں کیا؟‘
JER 22:9 تَب لوگ جَواب دیں گے: ’کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کے عہد کو ترک کر دیا تھا اَور غَیر معبُودوں کی عبادت اَور پیروی کی تھی۔‘ “
JER 22:10 مرحُوم بادشاہ کے لیٔے مت روؤ، نہ اُن کی رحلت کا غم کرو؛ بَلکہ اُس زندہ بادشاہ کے لیٔے زار زار روؤ جو جَلاوطن ہو چُکے ہیں، کیونکہ وہ کبھی واپس نہ لَوٹیں گے، نہ اَپنا وطن پھر سے دیکھ پائیں گے۔
JER 22:11 شلُّومؔ بِن یُوشیاہؔ بِن کے متعلّق جو شاہِ یہُودیؔہ کی حیثیت سے اَپنے باپ کا جانشین ہُوا تھا اَور اِس جگہ سے چلا گیا، یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”وہ پھر کبھی لَوٹ کر نہ آئے گا۔
JER 22:12 بَلکہ وہیں پر وفات پائے گا جہاں اُسے اسیر کرکے لے جایا گیا ہے۔ وہ پھر کبھی اِس مُلک کو نہ دیکھ پایٔےگا۔“
JER 22:13 ”افسوس اُس پرجو اَپنا محل ناجائز طریقوں سے، اَور اَپنے بالاخانہ کو بےاِنصافی سے تعمیر کرتا ہے، جو اَپنے ہم وطنوں سے بِنا اُجرت کام کرواتا ہے، اَور اُنہیں مزدُوری نہیں دیتا۔
JER 22:14 وہ کہتاہے، ’میں اَپنے لیٔے ایک عالیشان محل تعمیر کراؤں گا، جِس میں نہایت وسیع اَور فراخ بالاخانے ہوں گے۔‘ چنانچہ وہ اُس میں بڑی بڑی کھڑکیاں، اَور اُن میں دیودار کی چوکھٹ بِٹھاتا ہے، اَور اُسے سُرخ رنگ سے آراستہ کرتا ہے۔
JER 22:15 ”کیا دیودار کا خُوبصورت محل ہونے سے، کوئی بادشاہ بَن جاتا ہے؟ کیا تمہارے باپ کے پاس بے شُمار کھانے پینے کی چیزیں نہیں تھیں؟ دیکھ تمہارا باپ راستباز اَور اِنصاف پسند تھا، اِس لیٔے خُدا نے اُسے برکت دی تھی۔
JER 22:16 تمہارا باپ مسکینوں اَور مُحتاجوں کے ساتھ اِنصاف سے پیش آتا تھا، اِس لیٔے اُس کا بھلا ہُوا۔ کیا میرا عِرفان رکھنے کا مطلب یہی نہیں ہے؟“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 22:17 ”لیکن تمہاری آنکھیں اَور دِل ناجائز منافع کی طرف، اَور بےگُناہوں کا خُون بہانے اَور ظُلم و سِتم ڈھانے میں لگے ہُوئے ہیں۔“
JER 22:18 چنانچہ یَاہوِہ شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ بِن یُوشیاہؔ کے متعلّق یُوں فرماتے ہیں: ”جَیسے لوگ یہ کہہ کر ماتم کرتے ہیں! ’ہائے میرے بھایٔی! ہائے میری بہن!‘ وَیسے وہ یہُویقیمؔ کے لئے نہ کریں گے، ’ہائے میرے آقا! ہائے تمہارا جلال! کہہ کر ماتم کریں گے!‘
JER 22:19 اُسے گدھے کی طرح دفن کیا جائے گا۔ اُسے گھسیٹ کر یروشلیمؔ کے پھاٹکوں کے باہر، پھینک دیا جائے گا۔“
JER 22:20 ”لبانونؔ میں جا کر ماتم کرو، باشانؔ میں بُلند آواز سے چِلّا، کوہِ عباریمؔ پر چڑھ کر ہائے، ہائے کر، کیونکہ تمہارے تمام رفیق قتل کئے جا چُکے ہیں۔
JER 22:21 جَب تُو خُود کو محفوظ سمجھتی تھی تَب مَیں نے تُجھے آگاہ کیا تھا، لیکن تُونے کہا، ’میں نہیں سُنوں گی!‘ تمہاری جَوانی سے ہی تمہارا یہی رویّہ رہا؛ تُم نے ہرگز میری بات نہ مانی۔
JER 22:22 تمہارے تمام چرواہوں کو ہَوا اُڑا لے جائے گی، اَور تمہارے سَب رفیق جَلاوطن ہوں گے۔ تَب تُم اَپنی ساری بدی کے لیٔے شرمسار اَور پشیمان ہوگی۔
JER 22:23 ’اَے لبانونؔ،‘ کی باشِندی، اَے دیودار میں فضل سے اَپنا آشیانہ بنانے والی، تُو کس قدر کراہیگی! جَب تُو زچّہ کی مانند سخت درد میں مُبتلا ہوگی!
JER 22:24 ”میری جان کی قَسم،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”اَے شاہِ یہُودیؔہ، یہُویاکینؔ یا کونیاہؔ بِن یہُویقیمؔ اگر تُم میرے داہنے ہاتھ کی اِختیار کی انگُوٹھی بھی ہوتا، تَو بھی میں تُمہیں اُتار کر پھینک دیتا۔
JER 22:25 میں تُمہیں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ اَور کَسدیوں کے حوالہ کروں گا جو تمہارے جانی دُشمن ہیں اَور جِن سے تُم ڈرتے بھی ہو۔
JER 22:26 میں تُمہیں اَور تمہاری ماں کو جِس نے تُمہیں پیدا کیا، اَیسے غَیر مُلک میں پھینک دُوں گا جہاں تُم میں سے کویٔی پیدا نہ ہُوا تھا اَور وہاں تُم دونوں وفات پاؤگے۔
JER 22:27 تُم اِس مُلک میں کبھی نہ آ پاؤگے جہاں لَوٹنے کی بے پناہ آرزُو رکھتے ہو۔“
JER 22:28 کیا یہ شخص یہُویاکینؔ یا کونیاہؔ حقیر اَور ٹوٹا ہُوا برتن ہے، کیا وہ ایک محض نکمّا برتن ہے؟ پھر وہ اَور اُس کے فرزند کیوں، ایک اَیسے مُلک میں پھینک دئیے جایٔیں گے، جِس سے وہ ناواقِف تھے؟
JER 22:29 اَے زمین، زمین، زمین! یَاہوِہ کا کلام سُن!
JER 22:30 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اِس شخص کو بے اَولاد درج کر، جو اَپنی زندگی میں کبھی اِقبالمندی کا مُنہ نہ دیکھے گا، کیونکہ اُس کی اَولاد میں سے کبھی کوئی اَیسا اِقبالمند نہ ہوگا، کہ وہ داویؔد کے تخت پر تخت نشین ہو، اَور یہُودیؔہ میں حُکومت کریں۔“
JER 23:1 یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اُن چرواہوں پر ہائے جو میری چراگاہوں کی بھیڑوں کو ہلاک اَور پراگندہ کر رہے ہیں!“
JER 23:2 اِس لیٔے اُن چرواہوں سے جو میری قوم کی نگہبانی کرتے ہیں یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ”چونکہ تُم نے میرے گلّہ کو پراگندہ کیا اَور اُنہیں ہانک کر نکال دیا اَور اُن کی دیکھ بھال نہ کی اِس لیٔے میں تُمہیں تمہارے بُرے اعمال کی سزا دُوں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 23:3 میں خُود اَپنے گلّے کے باقی بچے ہوؤں کو اُن تمام مُلکوں سے جہاں مَیں نے اُنہیں پراگندہ کر دیا تھا پھر جمع کروں گا اَور اُنہیں اُن کی چراگاہوں میں واپس لاؤں گا جہاں وہ پھلیں گے اَور تعداد میں بڑھیں گے۔
JER 23:4 یَاہوِہ فرماتے ہیں، مَیں اُن پر چرواہے مُقرّر کروں گا جو اُن کی نگہبانی کریں گے اَور وہ پھر نہ ڈریں گے نہ گھبرائیں گے نہ اُن میں سے کویٔی گُم ہوگا۔
JER 23:5 یَاہوِہ فرماتے ہیں، وہ دِن آ رہے ہیں، جَب مَیں داویؔد کے لیٔے ایک صادق شاخ پیدا کروں گا، وہ اَیسا بادشاہ ہوگا جو حِکمت سے حُکومت کرےگا اَور مُلک میں اِنصاف اَور راستی کا دَور ہوگا۔
JER 23:6 اُس کے ایّام میں بنی یہُوداہؔ نَجات پایٔےگا، اَور بنی اِسرائیل سکون سے سکونت کریں گے۔ اَور وہ اِس نام سے پُکارا جائے گا، یَاہوِہ ہمارے صادق مُنجّی۔
JER 23:7 ”چنانچہ وہ دِن آ رہے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب لوگ یہ نہ کہیں گے، ’زندہ یَاہوِہ کی قَسم جو بنی اِسرائیل کو مِصر سے باہر نکال لائے تھے،‘
JER 23:8 بَلکہ وہ یہ کہیں گے، ’زندہ یَاہوِہ کی قَسم جو بنی اِسرائیل کو شمالی مُلک اَور اُن تمام مُلکوں سے نکال لائے ہیں، جہاں اُنہُوں نے اُنہیں جَلاوطن کیا تھا۔‘ تَب وہ اَپنے مُلک میں بسیں گے۔“
JER 23:9 نبیوں کے متعلّق: میرا دِل اَندر ہی اَندر ٹوٹ گیا ہے؛ اَور میری سَب ہڈّیاں تھرتھراتی ہیں۔ یَاہوِہ اَور اُن کے مُقدّس کلام کی خاطِر، میں ایک شرابی کی مانند ہو گیا ہُوں، جو مَے سے مغلُوب ہو چُکاہے۔
JER 23:10 مُلک زناکاروں سے بھرا پڑا ہے؛ لعنت کے سبب سے یہ زمین خشک ہو گئی ہے اَور بیابان کی چراگاہیں بھی خشک ہو گئی ہیں۔ نبی بدی کی راہ پر چلتے ہیں اَور اَپنے اِختیارات کا ناجائز اِستعمال کرتے ہیں۔
JER 23:11 ”نبی اَور کاہِنؔ دونوں خُدا سے برگشتہ ہو گئے ہیں؛ یہاں تک کہ میں اَپنی بیت المُقدّس میں بھی اُن کی بدکاری دیکھتا ہُوں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 23:12 ”اِس لیٔے اُن کی راہ تاریکی اَور پھسلنے والی ہوگی؛ جِس میں وہ دھکیل کر گرا دئیے جایٔیں گے؛ کیونکہ مَیں اُن کے اُوپر آفتیں نازل کروں گا، جو اُن کی سزا کا سال ہوگا۔“ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 23:13 ”سامریہؔ کے نبیوں میں مَیں نے ایک مکرُوہ چیز دیکھی، وہ بَعل کے نام سے نبُوّت کرتے تھے اَور میری قوم بنی اِسرائیل کو گُمراہ کر دیتے تھے۔
JER 23:14 لیکن مَیں نے یروشلیمؔ کے نبیوں میں اَور بھی ہولناک بات دیکھی، وہ زناکار اَور جھُوٹے ہیں۔ وہ بدکاروں کی حوصلہ اَفزائی کرتے ہیں، تاکہ کویٔی بھی اَپنی بدی سے باز نہ آئے۔ وہ سَب میرے نزدیک سدُومؔ کی مانند ہیں؛ اَور یروشلیمؔ کے باشِندے عمورہؔ کی مانند ہیں۔“
JER 23:15 چنانچہ قادرمُطلق یَاہوِہ نبیوں کے متعلّق یُوں فرماتے ہیں: ”میں اُنہیں کڑوی غِذا کھانے پر اَور زہریلا پانی پینے پر مجبُور کروں گا، کیونکہ یروشلیمؔ کے نبیوں کی وجہ سے سارے مُلک میں بے دینی پھیلی ہے۔“
JER 23:16 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”نبی جو تمہارے درمیان نبُوّتیں کرتے ہیں اُن پر غور نہ کرو؛ وہ تُمہیں جھُوٹی اُمّیدیں دِلاتے ہیں۔ وہ رُویاؤں کا دعویٰ کرکے یَاہوِہ کے مُنہ سے نکلنے والے کلام کی نہیں بَلکہ اَپنے ہی دماغ کی خیالی باتوں کا بَیان کرتے ہیں۔
JER 23:17 وہ میری توہین کرنے والوں سے کہتے رہتے ہیں، ’یَاہوِہ فرماتے ہیں: تمہاری سلامتی ہوگی۔‘ اَورجو اَپنے دِلوں کی ضِد پر چلتے ہیں اُن سے کہتے ہیں تُمہیں کویٔی ضرر نہ پہُنچے گا۔
JER 23:18 اُن جھوٹے نبیوں میں سے کون یَاہوِہ کی مجلس میں کھڑا ہُواہے، کہ یَاہوِہ کا دیدار کرے اَور اُن کے کلام کو سُنے، کس پر فی الحقیقت یَاہوِہ کا کلام نازل ہُواہے؟
JER 23:19 دیکھ یَاہوِہ کے قہر کا گِردباد بھڑک اُٹھا ہے، اَور بگولے کی مانند بدکاروں کے سَروں پر ٹوٹ پڑےگا۔
JER 23:20 یَاہوِہ کا غضب تَب تک موقُوف نہ ہوگا جَب تک کہ وہ اَپنے دِل کے منصُوبے اَچھّی طرح پُوری نہ کر لیں۔ آنے والے دِنوں میں تُم اُسے بخُوبی سمجھ لوگے۔
JER 23:21 مَیں نے اِن نبیوں کو نہیں بھیجا، پھر بھی وہ اَپنا پیغام لے کر دَوڑتے پھرے؛ مَیں نے تو اُن سے کلام بھی نہیں کیا، پھر بھی وہ نبُوّت کرنے لگتے ہیں۔
JER 23:22 اگر یہ میری مجلس میں کھڑے رہتے، تو میرا کلام میری قوم کو سُنا پاتے اَور اُنہیں اُن کی بُری روِشوں اَور بداعمالی سے باز رکھتے۔
JER 23:23 ”کیا میں محض نزدیک ہی کا خُدا ہُوں،“ دُور کا خُدا نہیں ہُوں؟ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے،
JER 23:24 یَاہوِہ فرماتے ہیں، کیا کویٔی شخص اَیسی پوشیدہ جگہوں میں چھُپ سَکتا ہے کہ میں اُسے دیکھ نہ سکوں؟ یَاہوِہ فرماتے ہیں، کیا آسمان اَور زمین مُجھ سے معموُر نہیں ہیں؟
JER 23:25 مَیں نے اِن نبیوں کی باتیں سُنی ہیں جو میرے نام سے باطِل نبُوّت کرتے ہُوئے کہتے ہیں، مَیں نے خواب دیکھاہے، مَیں نے خواب دیکھاہے۔
JER 23:26 اُن جھُوٹے نبیوں کے دِل میں کب تک یہ بات رہے گی کہ وہ اَیسی نبُوّت کرتے رہیں جو محض اُن کے اَپنے دماغ کا فریب ہے؟
JER 23:27 جَیسے میری قوم کے آباؤاَجداد میرا نام لینا بھُول کر بَعل کی عبادت کرنے لگے تھے، وَیسے ہی اَب یہ جھوٹے نبی میری قوم کو اَپنے جھوٹے خواب ایک دُوسرے کو بتا کر میرا نام لینا بھُلانا چاہتے ہیں۔
JER 23:28 جِس نبی نے خواب دیکھے ہیں وہ اَپنے خواب کا بَیان کرتا رہے لیکن جِس کے پاس میرا کلام ہے وہ میرے کلام کو دیانتداری سے سُنائے کیونکہ یَاہوِہ فرماتے ہیں، بھُوسے کو گیہُوں سے کیا نِسبت؟
JER 23:29 ”کیا میرا کلام آگ کی مانند نہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اَور ایک ہتھوڑے کی مانند نہیں ہے جو چٹّان کو چکنا چُور کر دیتاہے؟
JER 23:30 ”اِس لیٔے،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”دیکھ، میں اُن نبیوں کے خِلاف ہُوں جو ایک دُوسرے سے میرا کلام چُراتے ہیں۔
JER 23:31 ہاں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”میں اُن نبیوں کے بھی خِلاف ہُوں، جو محض اَپنی زبان سے کچھ بولتے ہیں لیکن کہتے ہیں، ’یہی یَاہوِہ کا کلام ہے۔‘
JER 23:32 یقیناً میں اُن نبیوں کا بھی مُخالف ہُوں جو جھُوٹے خوابوں کو نبُوّت کہتے ہیں اَور بَیان کرتے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔ ”اَور وہ اَپنی جھُوٹی باتوں سے اَور بکواس سے میرے لوگوں کو گُمراہ کرتے ہیں؛ حالانکہ مَیں نے اُنہیں نہ تو بھیجا نہ اُن کو حُکم دیا؛ لہٰذا اِن لوگوں سے میری قوم کو ذرا بھی فائدہ نہیں ہوگا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 23:33 ”جَب یہ لوگ یا نبی یا کاہِنؔ تُم سے پوچھیں، یَاہوِہ کی طرف سے کون سا پیغام آیا ہے، ’تَب اُن سے کہنا، کیسا پیغام؟‘ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’میں تُمہیں ترک کر دُوں گا۔‘
JER 23:34 اگر کویٔی نبی یا کاہِنؔ یا کویٔی اَور یہ دعویٰ کرے، ’یہ یَاہوِہ کا پیغام ہے،‘ تو میں اُس شخص کو اَور اُس کے خاندان کو سزا دُوں گا۔
JER 23:35 تُم میں سے ہر کویٔی اَپنے دوست یا رشتہ دار سے یہ پُوچھتا رہتاہے، ’یَاہوِہ نے کیا جَواب دیا؟‘ یا ’یَاہوِہ نے کیا فرمایاہے؟‘
JER 23:36 لیکن تُم، یَاہوِہ کا یہ پیغام ہے، اَیسا ہرگز نہ کہنا کیونکہ ہر شخص کا اَپنا کلام خُود اُس کا پیغام بَن جاتا ہے اَور اِس طرح سے تُم زندہ قادرمُطلق یَاہوِہ، ہمارے خُدا کے کلام کو توڑ مروڑ ڈالتے ہو۔
JER 23:37 تُم نبی سے یہ پُوچھتے رہتے ہو، یَاہوِہ نے تُمہیں کیا جَواب دیا؟ یا یَاہوِہ نے کیا فرمایاہے؟
JER 23:38 حالانکہ تُم دعویٰ کرتے ہو، ’یہ یَاہوِہ کا پیغام ہے،‘ لیکن یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ تُم نے یہ فرمایا: ’یہ یَاہوِہ کا پیغام ہے،‘ جَب کہ مَیں نے تُمہیں منع کیا تھا کہ یُوں نہ کہو، ’یہ یَاہوِہ کا پیغام ہے۔‘
JER 23:39 اِس لیٔے یقیناً میں تُمہیں فراموش کر دُوں گا اَور تُمہیں اِس شہر کے ساتھ جو مَیں نے تُمہیں اَور تمہارے آباؤاَجداد کو دیا تھا، اَپنی نظر سے دُور کر دُوں گا۔
JER 23:40 میں تُمہیں اَیسی اَبدی ملامت اَور اَبدی پشیمانی کا نِشان بناؤں گا جو کبھی فراموش نہ ہوگی۔“
JER 24:1 جَب شاہِ بابیل، نبوکدنضرؔ شاہِ یہُودیؔہ یکونیاہؔ بِن یہُویقیمؔ کو یہُودیؔہ کے حاکموں، کاریگروں اَور فنکاروں کے ساتھ جَلاوطن کرکے یروشلیمؔ سے بابیل لے گیا تَب یَاہوِہ نے مُجھے اَنجیر سے بھری دو ٹوکریوں کو رُویا میں دِکھایاجو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے سامنے رکھی ہُوئی تھیں۔
JER 24:2 ایک ٹوکری میں نہایت عُمدہ اَور جلد پک جانے والے اَنجیر تھے اَور دُوسری میں خَراب اَنجیر تھے، اِس قدر خَراب تھے کہ کھانے کے لائق نہ تھے۔
JER 24:3 تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے پُوچھا، ”اَے یرمیاہؔ! تُجھے کیا دِکھائی دے رہاہے؟“ مَیں نے کہا، ”اَنجیر؛ جو اَچھّے ہیں وہ تو واقعی بڑے اَچھّے ہیں لیکن جو خَراب ہیں وہ اِس قدر خَراب ہیں کہ کھانے کے لائق نہیں ہیں۔“
JER 24:4 تَب یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا،
JER 24:5 ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’مَیں یہُودیؔہ کے اُن جَلاوطن لوگوں کو اُن اَچھّے اَنجیروں کی مانند سمجھتا ہُوں جنہیں مَیں نے یہاں سے کَسدیوں کے مُلک میں بھیج دیا ہے۔
JER 24:6 کیونکہ اُن پر میری نظرِ عنایت ہوگی اَور مَیں اُنہیں اِس مُلک میں دوبارہ واپس لاؤں گا۔ میں اُنہیں آباد کروں گا، برباد نہیں؛ اَور اُنہیں لگاؤں گا، اُکھاڑوں گا نہیں۔
JER 24:7 میں اُنہیں اَیسا دِل دُوں گا کہ وہ مُجھے نزدیکی سے جان سکیں کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔ وہ میری قوم ہوں گے اَور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا، کیونکہ وہ اَپنے پُورے دِل سے میری طرف رُجُوع کریں گے۔
JER 24:8 ” ’جِس طرح خَراب اَنجیر خَراب ہونے کے سبب سے کھائے نہیں جاتے ہیں،‘ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’اُسی طرح سے میں شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ، اُس کے حاکموں اَور یروشلیمؔ کے بچے ہُوئے لوگوں کو ترک کر دُوں گا چاہے وہ اِس مُلک میں رہتے ہُوں یا مِصر میں رہتے ہُوں۔
JER 24:9 میں اُنہیں دُنیا کی تمام مملکتوں میں مکرُوہ اَور ناگوار قرار دُوں گا اَور جہاں جہاں میں اُنہیں جَلاوطن کروں گا؛ وہاں وہ ملامت، ضرب المثل، مذاق اَور لعنت کا باعث ہوں گے۔
JER 24:10 اَور مَیں اُن کے خِلاف تلوار، قحط اَور وَبا بھیجوں گا تاکہ وہ اُس مُلک سے جو مَیں نے اُنہیں اَور اُن کے آباؤاَجداد کو دیا تھا نِیست و نابود ہو جایٔیں۔‘ “
JER 25:1 شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ بِن یُوشیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے چوتھے سال میں جو شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے حُکومت کا پہلا سال تھا، یہُودیؔہ کے تمام لوگوں کے متعلّق یَاہوِہ کا یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا۔
JER 25:2 جسے یرمیاہؔ نبی نے یہُودیؔہ کے تمام لوگوں اَور یروشلیمؔ کے سَب باشِندوں کو کہہ سُنایا،
JER 25:3 گذشتہ تئیس سال سے یعنی شاہِ یہُودیؔہ یُوشیاہؔ بِن امُونؔ کے دَورِ حُکومت کے تیرہویں سال سے آج تک یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہوتا رہاہے اَور مَیں بار بار اُسے تُمہیں سُناتا رہا لیکن تُم لوگوں نے اُسے سُن کر فراموش کر دیا۔
JER 25:4 اَور حالانکہ یَاہوِہ نے اَپنے تمام خادِموں یعنی نبیوں کو بار بار تمہارے پاس بھیجا لیکن تُم نے نہ تو اُنہیں سُنا اَور نہ ہی اُن کے کلام پر کان لگایا۔
JER 25:5 نبیوں نے تُمہیں آگاہ کیا تھا، ”اَب تُم میں سے ہر ایک اَپنی بُری روِشوں اَور اَپنے بُرے اعمال سے باز آئے تاکہ تُم اِس مُلک میں رہ سکو جو یَاہوِہ نے تُمہیں اَور تمہارے آباؤاَجداد کو ہمیشہ کے لیٔے دیا ہے۔
JER 25:6 غَیر معبُودوں کی پیروی کرکے اُن کی پرستش اَور عبادت نہ کرو اَور اَپنے ہاتھوں کی بنائی ہُوئی بُتوں سے میرے غضب کو مت بھڑکاؤ۔ تَب میں تُمہیں کویٔی نُقصان نہ پہُنچاؤں گا۔“
JER 25:7 ”لیکن تُم نے میری نہ سُنی،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”اَور تُم نے اَپنے ہاتھوں کی بنائی ہُوئی چیزوں سے مُجھے غضبناک کیا اَور خُود اَپنا نُقصان کیا۔“
JER 25:8 اِس لیٔے قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”چونکہ تُم نے میرے حُکموں پر عَمل نہیں کیا،
JER 25:9 اِس لیٔے میں شمال کے تمام لوگوں کو اَور اَپنے خادِم شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کو بُلاؤں گا،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اَور مَیں اُنہیں اِس مُلک پر اَور اِس کے تمام باشِندوں پر اَور اُس کے گِردونواح کی تمام قوموں کے خِلاف حملہ کرنے کو چڑھا لاؤں گا اَور مَیں اُنہیں بالکُل برباد کر دُوں گا تاکہ وہ دہشت اَور طعن اَور اَبدی تباہی اَور بربادی کی مثال بَن جایٔیں۔
JER 25:10 اَور اِس کے علاوہ میں اِن مُلکوں میں سے خُوشی اَور شادمانی کی آوازیں، دُلہا دُلہن کی صدائیں اَور چکّی کا شور اَور چراغ کی رَوشنی دُور کر دُوں گا۔
JER 25:11 یہ تمام مُلک غَیر آباد ویرانہ بَن جائے گا اَور یہ قومیں ستّر بَرس تک شاہِ بابیل کی خدمت گذار ہُوں گی۔
JER 25:12 ”لیکن ستّر بَرس پُورے ہونے پر میں شاہِ بابیل اَور اُس کی قوم اَور کَسدیوں کے مُلک کو اُن کی بدکاری کے باعث سزا دُوں گا۔“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اَور اُسے ہمیشہ کے لیٔے ویران کر دُوں گا۔
JER 25:13 اِس مُلک کے خِلاف مَیں نے جو کچھ فرمایاہے اَورجو کچھ اِس کِتاب میں درج کیا ہے اَورجو مُختلف قوموں کے خِلاف یرمیاہؔ نے بطور نبُوّت فرمایاہے سَب پُورا کیا جائے گا۔
JER 25:14 وہ خُود مُختلف قوموں اَور بڑے بڑے بادشاہوں کے غُلام بَن جایٔیں گے اَور مَیں اُن کے اعمال اَور اُن کے ہاتھوں کے کاموں کے مُطابق اُنہیں بدلہ دُوں گا۔“
JER 25:15 یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا نے مُجھ سے یُوں فرمایا: ”میرے ہاتھ سے اِس مَے کے پیالے کو لے لو جو میرے قہر کی مَے سے بھرا ہُواہے اَور اُسے اُن تمام قوموں کو پلا دو جِن کے پاس میں تُمہیں بھیجوں گا۔
JER 25:16 جَب وہ پی چُکیں گے تو اُس تلوار کے باعث جو میں اُن کے درمیان چلاؤں گا وہ لڑکھڑا جایٔیں گے اَور پاگل ہو جایٔیں گے۔“
JER 25:17 چنانچہ مَیں نے یَاہوِہ کے ہاتھ سے اُس پیالے کو لیا اَور اُن تمام قوموں کو پِلایا جِن کے پاس یَاہوِہ نے مُجھے بھیجا تھا:
JER 25:18 یعنی یروشلیمؔ، یہُودیؔہ کے شہروں، اُس کے بادشاہوں اَور حاکموں کو پِلایا تاکہ وہ برباد ہُوں اَور دہشت اَور طعن اَور لعنت کا باعث ٹھہریں جَیسا کہ آج بھی دیکھا جا سکتا ہے؛
JER 25:19 مِصر کے بادشاہ فَرعوہؔ، اُس کے حاکموں، اُس کے خادِم اَور اُس کے تمام لوگوں کو،
JER 25:20 اَور تمام غَیر مُلکی لوگ جو وہاں تھے؛ اَور عُوضؔ کی سرزمین کے تمام بادشاہوں؛ اَور فلسطینیوں کے تمام بادشاہوں کو یعنی اشقلونؔ، غزّہؔ، عقرونؔ اَور اشدُودؔ کے باقی بچے ہُوئے لوگوں کے بادشاہ؛
JER 25:21 بنی اِدُوم، بنی مُوآب اَور بنی عمُّون؛
JER 25:22 اَور صُورؔ اَور صیدونؔ کے تمام بادشاہوں کو، اَور سمُندر پار کے بحری ممالک کے بادشاہوں کو؛
JER 25:23 بنی دِدانؔ، تیمانیوں اَور بوزیوں اَور دُور دراز کے مُلکوں کے باشِندے۔
JER 25:24 عربؔ کے تمام بادشاہوں کو اَور اُن غَیر مُلکی لوگوں کے تمام بادشاہوں کو جو صحرا میں رہتے ہیں؛
JER 25:25 اَور زِمریؔ، عیلامؔ اَور مِدائی کے سَب بادشاہوں کو؛
JER 25:26 اَور شمال کے تمام بادشاہوں کو، جو دُور اَور نزدیک تھے، یکے بعد دیگرے رُوئے زمین کی تمام سلطنتوں کے سبھی بادشاہوں کو پِلایا، اَور اِن سَب کے بعد شیشاقؔ کا بادشاہ بھی اُسے پیئے گا۔
JER 25:27 ”پھر اُن سے کہنا کہ قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا فرماتے ہیں، ’پیو اَور متوالے ہو جاؤ اَور قَے کرو اَور گِر پڑو اَور پھر کبھی نہ اُٹھو، یہ اُس تلوار کی وجہ سے ہوگا جو مَیں تمہارے درمیان چلاؤں گا۔‘
JER 25:28 لیکن اگر وہ تمہارے ہاتھ سے پیالہ لے کر پینے سے اِنکار کریں تو اُن سے کہنا، ’قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، تُمہیں اُسے ضروُر پینا ہی ہوگا!
JER 25:29 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: دیکھو، مَیں اِس شہر پرجو میرے نام سے جانا جاتا ہے، آفت لانا شروع کر رہا ہُوں۔ تَب کیا تُم واقعی سزا سے بچ نکلوگے؟ تُم بے سزا نہ چھُوٹو گے کیونکہ مَیں دُنیا کے تمام لوگوں پر تلوار کو طلب کر رہا ہُوں۔‘
JER 25:30 ”اِس لئے تُمہیں اَب اُن سَب کے خِلاف یہ سَب باتیں نبُوّت کے ذریعہ اُن سے کہنی ہُوں گی: ” ’یَاہوِہ بُلندی پر سے گرجیں گے؛ اَور اَپنی مُقدّس قِیام گاہ سے للکاریں گے؛ اَور نہایت زور و شور سے اَپنی چراگاہ پر گرجیں گے۔ وہ انگور کُچلنے والوں کی طرح چِلّائیں گے، اَور دُنیا کے تمام باشِندوں کو للکاریں گے۔
JER 25:31 شور و غُل کی آواز زمین کی اِنتہا تک گونج اُٹھے گی، کیونکہ سَب قوموں سے یَاہوِہ کا مُقدّمہ ہے؛ وہ تمام بشر کو عدالت میں کھینچ لائیں گے، وہ سَب بدکاروں کو تلوار کے حوالہ کر دیں گے،‘ “ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 25:32 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھو، ایک قوم سے دُوسری قوم تک بَلا پھیل رہی ہے؛ اَور زمین کی اِنتہا سے ایک خوفناک آندھی اُٹھ رہی ہے۔“
JER 25:33 اُس وقت یَاہوِہ کے قتل کئے ہُوئے لوگوں کی لاشیں زمین کے ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک ہر جگہ پڑی ہُوں گی۔ اُن پر نہ تو کویٔی ماتم کرےگا، نہ وہ جمع کی جایٔیں گی اَور نہ دفنائی جایٔیں گی، بَلکہ گوبر کی طرح زمین پر پڑی رہیں گی۔
JER 25:34 اَے چرواہوں روؤ اَور ماتم کرو؛ اَے گلّہ کے سربراہوں، گَرد میں لیٹ جاؤ۔ کیونکہ تمہارے قتل کا وقت آ گیا ہے؛ تُم گروگے اَور مٹّی کے ایک نفیس برتن کی طرح چَکنا چُور ہو جاؤگے۔
JER 25:35 چرواہوں کو بھاگنے کی کویٔی راہ نہ ملے گی، اَور نہ گلّہ سرداروں کو بچ نکلنے کی۔
JER 25:36 چرواہوں کا نالہ، اَور گلّہ کے سرداروں کا نوحہ سُنو، کیونکہ یَاہوِہ اُن کی چراگاہ کے برباد کر رہے ہیں۔
JER 25:37 اَور یَاہوِہ کے قہر شدید کے باعث پُراَمن چراگاہیں تباہ ہو جایٔیں گی۔
JER 25:38 شیرببر کی مانند وہ اَپنی ماند سے نکلیں گے، ستمگر کی تلوار کی وجہ سے، اَور یَاہوِہ کے قہر شدید کی وجہ سے، اُن کا مُلک ویران ہو جائے گا۔
JER 26:1 شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ بِن یُوشیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے اِبتدائی دَور میں یَاہوِہ کا یہ کلام نازل ہُوا:
JER 26:2 ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: تُو یَاہوِہ کے گھر کے صحن میں کھڑا ہو اَور یہُودیؔہ کے شہروں کے تمام لوگوں سے جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں عبادت کے لیٔے آتے ہیں، وہ سَب باتیں بَیان کر جِس کا مَیں نے تُجھے حُکم دیا ہے؛ اُن میں سے ایک لفظ بھی کم نہ کرنا۔
JER 26:3 شاید وہ سُنیں اَور ہر ایک اَپنی بُری روِش سے بعض آئیں تاکہ میں بھی اُس عذاب کو جو اُن کی بداعمالی کے باعث سے اُن پر لانا چاہتا ہُوں لانے سے بعض آؤں۔
JER 26:4 اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، اگر تُم میری نہیں سنوگے اَور میری آئین پرجو مَیں نے تمہارے سامنے رکھی ہے عَمل نہ کروگے،
JER 26:5 اَور میرے خادِموں یعنی نبیوں کی باتوں پر کان نہ لگاؤگے، جنہیں میں بار بار تمہارے پاس بھیجتا رہا ہُوں جِن کی تُم نہیں سُنتے ہو،
JER 26:6 تو میں اِس گھر کی حالت شیلوہؔ کی مانند کر دُوں گا اَور اِس شہر کو دُنیا کی تمام قوموں میں لعنت کا باعث بنا دُوں گا۔‘ “
JER 26:7 یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں کاہِنوں، نبیوں اَور تمام لوگوں نے یرمیاہؔ کو یہ کلام بَیان کرتے ہُوئے سُنا۔
JER 26:8 لیکن جوں ہی یرمیاہؔ نے سَب لوگوں کو وہ تمام باتیں کہہ سُنائیں جِن کا حُکم یَاہوِہ نے دیا تھا، تَب کاہِنوں، نبیوں اَور سَب لوگوں نے یہ کہہ کر اُسے پکڑ لیا، ”یقیناً تُو قتل کے لائق ہے!
JER 26:9 تُونے کیوں یَاہوِہ کا نام لے کر اَیسی نبُوّت کی اَور کہا، یہ گھر شیلوہؔ کی مانند تباہ ہوگا اَور یہ شہر ویران اَور غَیر آباد ہو جائے گا؟“ اَور سَب لوگوں نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں یرمیاہؔ کو ہُجوم نے چاروں طرف سے گھیرلیا۔
JER 26:10 اَور جَب یہُودیؔہ کے حاکموں نے یہ باتیں سُنیں تو شاہی محل سے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو روانہ ہُوئے اَور یَاہوِہ کے گھر کے نئے پھاٹک کے مدخل پر اَپنی نشِستوں پر بیٹھے۔
JER 26:11 تَب کاہِنوں اَور نبیوں نے حاکموں اَور تمام لوگوں سے مُخاطِب ہوکر فرمایا، ”اِس شخص کو سزائے موت ملنی چاہیے کیونکہ اِس نے اِس شہر کے خِلاف نبُوّت کی ہے اَور تُم اُسے اَپنے کانوں سے سُن چُکے ہو!“
JER 26:12 تَب یرمیاہؔ نبی نے تمام اُمرا اَور سَب لوگوں سے مُخاطِب ہوکر جَواب دیا: ”خُود یَاہوِہ ہی نے مُجھے اِس گھر اَور اِس شہر کے خِلاف اُن تمام باتوں کی نبُوّت کرنے کو بھیجا ہے جسے تُم نے سُنا ہے۔
JER 26:13 چنانچہ اَب تُم اَپنی روِش اَور اَپنے اعمال کو دُرست کر لو اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کا حُکم مانو تاکہ یَاہوِہ نے اُس عذاب کو تُم سَب پر نازل کرنے کا اعلان کیا ہے اُس سے بعض آؤں۔
JER 26:14 اَور دیکھو میں تو تمہارے قابُو میں ہُوں؛ چنانچہ جو کچھ تمہاری نظر میں دُرست اَور راست ہو وُہی سلُوک میرے ساتھ کرو۔
JER 26:15 البتّہ یقین جانو کہ اگر تُم نے مُجھے قتل کیا تو تُم بےگُناہ کے خُون کا جُرم اَپنے اُوپر، اِس شہر پر اَور اِس کے باشِندے اَور سَب لوگوں پر لاؤگے کیونکہ بے شک یَاہوِہ ہی نے مُجھے یہ سَب باتیں تُمہیں سُنانے کے لیٔے تمہارے پاس بھیجا ہے۔“
JER 26:16 تَب حاکموں اَور سَب لوگوں نے کاہِنوں اَور نبیوں سے فرمایا، ”اِس شخص کو سزائے موت نہ دی جائے، کیونکہ اِس نے یَاہوِہ ہمارے خُدا کے نام سے حقیقت میں ہم سے کلام کیا ہے۔“
JER 26:17 تَب مُلک کے چند بُزرگوں نے آگے بڑھ کر تمام مجمع سے مُخاطِب ہوکر فرمایا،
JER 26:18 ”شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ کے دَورِ حُکومت موریشیت کے باشِندے میکاہؔ نے نبُوّت کی تھی۔“ اُس نے یہُودیؔہ کے تمام لوگوں سے فرمایا تھا، قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں: ” ’صِیّونؔ میں کھیت کی مانند ہل چلایا جائے گا، اَور یروشلیمؔ کھنڈر میں تبدیل ہو جائے گا، اَور بیت المُقدّس کی پہاڑی گھنی جھاڑیوں سے بھر جائے گی۔‘ “
JER 26:19 ”کیا شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ یا تمام یہُودیؔہ نے اُسے قتل کیا؟ کیا حِزقیاہؔ یَاہوِہ سے نہ ڈرا اَور اُس سے مِنّت نہ کی؟ اَور کیا یَاہوِہ نے رحم کرکے جِس عذاب کا اُن کے خِلاف اعلان کیا تھا اُسے ٹال نہ دیا؟ چنانچہ اِس شخص کو قتل کرکے ہم خُود پر ایک خطرناک عذاب لانے کو ہیں!“
JER 26:20 پھر اورِیّاہؔ بِن شمعیاہؔ جو قِریت یعریمؔ کے ایک اَور شخص نے یَاہوِہ کے نام سے نبُوّت کی تھی؛ اُس نے بھی اِس شہر اَور اِس مُلک کے خِلاف ٹھیک اَیسی ہی نبُوّت کی تھی جَیسی اَب یرمیاہؔ نے کی ہے۔
JER 26:21 جَب یہُویقیمؔ بادشاہ اَور اُس کے حاکموں اَور سرداروں نے اُس کا کلام سُنا، تَب بادشاہ نے اُسے قتل کرنا چاہا لیکن اورِیّاہؔ کو اُس کی خبر ہو گئی اَور وہ ڈر کے مارے مِصر کو بھاگ گیا۔
JER 26:22 لیکن یہُویقیمؔ بادشاہ نے الناتھانؔ بِن عکبورؔ کو چند اَور آدمیوں کے ساتھ مِصر روانہ کیا۔
JER 26:23 اَور وہ اورِیّاہؔ کو مِصر سے واپس لے آئے اَور اُسے یہُویقیمؔ بادشاہ کے حُضُور لے گیٔے اَور بادشاہ نے اُسے تلوار سے قتل کروا کر اُس کی لاش کو عوام کے قبرستان میں پھنکوا دیا۔
JER 26:24 لیکن، احیقامؔ بِن شافانؔ نے یرمیاہؔ کا ساتھ دیا جِس کی وجہ سے وہ قتل کئے جانے کے لیٔے عوام کے حوالہ نہ کیا گیا۔
JER 27:1 شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ بِن یُوشیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے آغاز میں یَاہوِہ کا یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا:
JER 27:2 یَاہوِہ نے مُجھ سے یُوں فرمایا: ”ایک جُوا بنا کر چمڑے کے پٹّوں سے باندھ کر اُسے اَپنی گردن پر رکھ۔
JER 27:3 تَب اِدُوم، مُوآب، عمُّون، صُورؔ اَور صیدونؔ کے بادشاہوں کو یروشلیمؔ میں شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کے پاس آئے ہُوئے اُن سفیروں کے ذریعہ یہ پیغام بھیج۔
JER 27:4 اَور اُنہیں اُن کے آقاؤں کے لیٔے یہ پیغام دے اَور کہہ، ’قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ”اَپنے آقاؤں سے یہ کہو:
JER 27:5 اَپنی بڑی قُدرت اَور پھیلے ہُوئے بازو سے مَیں نے زمین اَور اُس کے لوگوں اُس پر چلنے پھرنے والے جانوروں کو بنایا اَور اُسے اَپنی مرضی سے جِس کسی کو چاہتا ہُوں دے دیتا ہُوں۔
JER 27:6 اَب مَیں نے تمہارے تمام مُلک اَپنے خادِم شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے سُپرد کر دیا ہے؛ یہاں تک کہ جنگلی جانوروں کو بھی اُس کے تابع کر دیا ہے۔
JER 27:7 اَور سَب قومیں اُس کی اَور اُس کے بیٹے اَور اُس کے پوتے کی خدمت کریں گی، جَب تک کہ اُس کی مملکت کا وقت نہ آ جائے؛ بعد میں تمام قومیں اَور بڑے بڑے بادشاہ اُسے اَپنے تابع کرکے اُس سے بھی اَپنی خدمت کروائیں گے۔
JER 27:8 ” ’ ”لیکن یَاہوِہ فرماتے ہیں، اگر کویٔی قوم یا سلطنت، شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے تابع نہ ہوگی یا اَپنی گردن اُس کے جُوئے کے نیچے نہ جُھکائے، تو میں اُس قوم کو اُس وقت تک مُتواتر تلوار، قحط اَور وَبا سے سزا دیتا رہُوں گا جَب تک کہ میں اُسے اُس کے ہاتھ سے فنا نہ کر دُوں۔
JER 27:9 چنانچہ تُم اَپنے نبی، غیب بینوں، تعبیر خواب گو، حاضراتیوں یا اوجھاؤں کی باتوں میں نہ آؤ، جو تُم سے کہتے ہیں، ’تُم شاہِ بابیل کی خدمت گُزاری نہ کروگے۔‘
JER 27:10 کیونکہ وہ تُم سے جھُوٹی نبُوّتیں کرتے ہیں، تاکہ تُمہیں تمہارے مُلک سے دُور کر دیں اَور مَیں تُمہیں جَلاوطن کر دُوں اَور تُم نِیست و نابود ہو جاؤ۔
JER 27:11 لیکن اگر کویٔی قوم اَپنی گردن شاہِ بابیل کے جُوئے کے نیچے جُھکائے اَور اُس کی خدمت کرے تو مَیں اُس قوم کو اُسی کے مُلک میں رہنے دُوں گا اَور وہ اُس میں کاشتکاری کرےگی اَور اُس میں آباد رہے گی، یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔“ ‘ “
JER 27:12 یہی سَب باتیں مَیں نے شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ سے مُخاطِب ہوکر بَیان کیں۔ مَیں نے کہا، ”شاہِ بابیل کے جُوئے کے نیچے اَپنی گردن جُھکاؤ اَور اُس کی اَور اُس کے قوم کی خدمت کرو تو تُم زندہ رہوگے۔
JER 27:13 اِس کی کیا ضروُرت ہے کہ آپ اَور آپ کے لوگ تلوار، قحط اَور وَبا سے مارے جائیں جِس کا اعلان یَاہوِہ نے اُس قوم کے خِلاف کیا ہے جو شاہِ بابیل کی خدمت کرنا قبُول نہ کرےگی۔
JER 27:14 اِس لئے اُن جھوٹے نبیوں کی باتوں میں نہ آنا جو تُم سے کہتے ہیں، ’تُم شاہِ بابیل کی خدمت نہ کروگے،‘ کیونکہ یہ تُم سے باطِل نبُوّت کر رہے ہیں۔
JER 27:15 ’کیونکہ مَیں نے اُنہیں نہیں بھیجا،‘ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’لیکن وہ میرے نام سے باطِل نبُوّت کر رہے ہیں تاکہ میں تُمہیں جَلاوطن کر دُوں اَور تُم اُن جھوٹے نبیوں کے ساتھ نِیست و نابود ہو جاؤ۔‘ “
JER 27:16 تَب مَیں نے کاہِنوں اَور اُن سَب لوگوں سے مُخاطِب ہوکر فرمایا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: اِن نبیوں کی باتوں میں نہ آؤ جو کہتے ہیں، ’بہت جلد یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے ظروف بابیل سے یہاں واپس لایٔے جایٔیں گے۔‘ کیونکہ وہ تُم سے باطِل نبُوّت کر رہے ہیں۔
JER 27:17 اُن کی مت سُنو، شاہِ بابیل کی خدمت گُزاری کرو اَور زندہ رہو۔ بھلا یہ شہر کیوں ویران ہو؟
JER 27:18 اگر وہ نبی ہیں اَور یَاہوِہ کا کلام اُن کے پاس ہے تو وہ قادرمُطلق یَاہوِہ سے فریاد کریں کہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اَور شاہِ یہُودیؔہ کے محل میں اَور یروشلیمؔ میں باقی بچی ہُوئی اَشیا بابیل نہ جانے پائیں۔
JER 27:19 کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ اِن سُتونوں، بڑے حوض، کُرسیوں اَور دُوسرے ظروف کی بابت جو اِس شہر میں باقی ہیں، یُوں فرماتے ہیں،
JER 27:20 جنہیں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ اُس وقت اَپنے ساتھ نہ لے جا سَکا جَب وہ شاہِ یہُودیؔہ یکونیاہؔ بِن یہُویقیمؔ کو یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سَب اُمرا سمیت اسیر کرکے یروشلیمؔ سے بابیل کو لے گیا تھا،
JER 27:21 ہاں، قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا، اُن ظروف کی بابت جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اَور شاہِ یہُودیؔہ کے محل میں اَور یروشلیمؔ میں باقی بچے لوگ اَشیا کے متعلّق یُوں فرماتے ہیں،
JER 27:22 ’وہ بابیل میں لے جائی جایٔیں گی؛ اَور اُس دِن تک وہیں رہیں گی جَب تک کہ میں خُود اُن کی طرف غور نہ فرماؤں،‘ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’اُس وقت مَیں اُنہیں پھر واپس لاؤں گا اَور اِس مقام میں رکھ دُوں گا۔‘ “
JER 28:1 پھر اُسی سال شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے اِبتدائی چوتھے سال کے پانچویں مہینے میں حننیاہؔ بِن عزُّورؔ نبی نے جو گِبعونؔ کا باشِندہ تھا، جِس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں کاہِنوں اَور تمام لوگوں کے سامنے مُجھ سے مُخاطِب ہوکر فرمایا،
JER 28:2 ”قادرمُطلق بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’مَیں نے شاہِ بابیل کا جُوا توڑ ڈالا ہے۔
JER 28:3 اَور دو سال کے اَندر میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے وہ تمام ظروف جنہیں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ یہاں سے نکال کر بابیل لے گیا ہے اِس مقام میں واپس لاؤں گا۔
JER 28:4 میں شاہِ یہُودیؔہ یکونیاہؔ بِن یہُویقیمؔ کو اَور یہُودیؔہ کے دُوسرے تمام جَلاوطن لوگوں کو جو بابیل چلے گیٔے تھے،‘ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ’اِس جگہ واپس لاؤں گا کیونکہ مَیں شاہِ بابیل کا جُوا توڑ ڈالوں گا۔‘ “
JER 28:5 تَب یرمیاہؔ نبی نے کاہِنوں اَور سَب لوگوں کی مَوجُودگی میں جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں کھڑے تھے، حننیاہؔ نبی سے فرمایا،
JER 28:6 یرمیاہؔ نبی نے کہا، ”ہاں، آمین! یَاہوِہ اَیسا ہی کریں؛ کاش جو باتیں تُم نے نبُوّت کرکے کہی ہیں اُسے یَاہوِہ پُورا کریں کہ بیت المُقدّس کے ظروف اَور تمام جَلاوطن لوگ بابیل سے یہاں واپس آ جائیں۔
JER 28:7 تو بھی جو باتیں مَیں تمہارے اَور سَب لوگوں کے سامنے کہتا ہُوں اُنہیں سُن،
JER 28:8 اِبتدا ہی سے اُن نبیوں نے جو تُم سے اَور مُجھ سے پہلے گزر چُکے ہیں، اکثر مُلکوں اَور بڑی بڑی سلطنتوں کے خِلاف جنگ اَور بَلا اَور وَبا کی نبُوّت کی ہیں۔
JER 28:9 لیکن جو نبی سلامتی کی نبُوّت کرتا ہے اَور جَب اُس کی نبُوّتیں پُوری ہو جایٔیں تبھی مَعلُوم ہوگا کہ وہ حقیقت میں یَاہوِہ کا بھیجا ہُوا نبی ہے۔“
JER 28:10 تَب حننیاہؔ نبی نے یرمیاہؔ نبی کی گردن پر سے جُوا اُتارا اَور اُسے توڑ ڈالا۔
JER 28:11 اَور حننیاہؔ نے سَب لوگوں کے سامنے فرمایا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’اِسی طرح میں دو سال کے اَندر شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کا جُوا تمام قوموں کی گردن پر سے اُتار کر توڑ ڈالوں گا۔‘ “ تَب یرمیاہؔ نبی نے اَپنی راہ لی۔
JER 28:12 حننیاہؔ نبی کے یرمیاہؔ نبی کی گردن پر کا جُوا اُتار کر توڑنے کے کچھ ہی عرصہ کے بعد یَاہوِہ کا کلام یرمیاہؔ نبی پر نازل ہُوا،
JER 28:13 ”جاؤ اَور حننیاہؔ سے مُخاطِب ہو کہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’تُم نے لکڑی کا جُوا تو توڑ دیا ہے لیکن اَیسا کرکے تُم نے اُس کے بدلے لوہے کا جُوا بنا دیا ہے۔
JER 28:14 قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، میں اِن تمام قوموں کی گردن پر لوہے کا جُوا رکھوں گا تاکہ وہ شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کی خدمت کریں اَور وہ یقیناً اُس کی خدمت کریں گی۔ میں تو اُسے جنگلی جانوروں پر بھی اِختیار دے چُکا ہُوں۔‘ “
JER 28:15 تَب یرمیاہؔ نبی نے حننیاہؔ سے مُخاطِب ہوکر فرمایا، ”سُن اَے حننیاہؔ! یَاہوِہ نے تُمہیں نہیں بھیجا، تَو بھی تُم نے اِس قوم کو جھُوٹا اِعتماد کرنے پر اُکسایا۔
JER 28:16 اِس لیٔے یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’میں تُمہیں رُوئے زمین پر سے مٹا دُوں گا۔ تُو اِسی سال مَر جائے گا کیونکہ تُونے یَاہوِہ کے خِلاف فتنہ اَنگیز باتیں کہی ہیں۔‘ “
JER 28:17 چنانچہ اُسی سال کے ساتویں مہینے میں حننیاہؔ نبی مَر گیا۔
JER 29:1 یہ اُس خط کا مضمون ہے جسے یرمیاہؔ نبی نے اُن جَلاوطن لوگوں میں سے بچے ہُوئے اُن بُزرگوں، کاہِنوں، نبیوں اَور تمام لوگوں کو بھیجا تھا جنہیں نبوکدنضرؔ یروشلیمؔ سے جَلاوطن کرکے بابیل لے گیا تھا۔
JER 29:2 یہ خط شاہِ یکونیاہؔ اَور اُس کی مادرِ ملِکہ، شاہی درباری حاکموں، یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے اُمرا، کاریگروں اَور فنکاروں کے جَلاوطن ہوکر یروشلیمؔ سے چلے جانے کے بعد بھیجا گیا تھا۔
JER 29:3 یرمیاہؔ نبی نے یہ خط العاسہؔ بِن شافانؔ اَور گمریاہؔ بِن خِلقیاہؔ کے سُپرد کیا جنہیں شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ نے بابیل کے شاہ نبوکدنضرؔ کے پاس اِن لفظوں میں بھیجا تھا،
JER 29:4 قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا اُن تمام لوگوں سے جو یروشلیمؔ سے بابیل میں جَلاوطن ہیں، یُوں فرماتے ہیں،
JER 29:5 ”تُم مکانات تعمیر کرو اَور اُس میں بس جاؤ، باغ لگاؤ اَور اُن کی پیداوار کھاؤ۔
JER 29:6 شادی کرو تاکہ تمہارے یہاں بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہوں۔ اَپنے بیٹوں کے لیٔے بیویاں تلاش کرو اَور اَپنی بیٹیوں کی شادی کرو تاکہ اُن کے بھی بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہوں۔ وہاں تعداد میں کم نہیں بَلکہ اِضافہ کرتے جاؤ۔
JER 29:7 اَور اُس شہر کی اَمن اَور خُوشحالی چاہو جہاں مَیں نے تُمہیں جَلاوطن کیا ہے۔ اَور اُس کے لیٔے یَاہوِہ سے دعا کرو کیونکہ اگر وہاں خُوشحالی رہے گی تو تُم بھی خُوشحال رہوگے۔“
JER 29:8 ہاں، قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ”وہ نبی اَور غیب بین جو تمہارے درمیان ہیں تُمہیں گُمراہ نہ کریں۔ اَور اَپنے اُن خواب بینوں کی نہ سُنو، جنہیں وہ تمہارے ہی کہنے سے دیکھتے ہیں۔
JER 29:9 کیونکہ وہ میرے نام سے تمہارے درمیان باطِل نبُوّت کرتے ہیں۔ مَیں نے اُنہیں نہیں بھیجا ہے،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
JER 29:10 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”جَب بابیل میں ستّر بَرس گزر جائیں گے، تَب مَیں تمہاری خبر لُوں گا اَور تُمہیں اِس جگہ واپس لانے کا اَپنا پُرفضل وعدہ پُورا کروں گا۔
JER 29:11 کیونکہ مَیں تمہارے حق میں اَپنے مقصد کو جانتا ہُوں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”وہ تمہاری خُوشحالی کے ہیں، تمہارے نُقصان کے نہیں ہیں، میرے پاس تمہارے حق میں اُمّید اَور مُستقبِل دینے کے منصُوبے ہیں۔
JER 29:12 تَب تُم میرا نام لے کر مُجھے پُکارو گے اَور میرے پاس آکر مُجھ سے دعا کروگے اَور مَیں تمہاری سُنوں گا۔
JER 29:13 تُم مُجھے ڈھونڈوگے اَور پاؤگے بھی جَب تُم مُجھے اَپنے پُورے دِل سے ڈھونڈوگے۔
JER 29:14 مَیں تُمہیں مِل جاؤں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”اَور میں تُمہیں اسیری سے نکال کر واپس لے آؤں گا؛ اَور تُمہیں اُن تمام قوموں اَور جگہوں میں سے جہاں تُمہیں جَلاوطن کیا گیا تھا جمع کروں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”اَور اُس جگہ واپس لاؤں گا جہاں سے مَیں نے تُمہیں قَیدی بنا کر جَلاوطن کیا تھا۔“
JER 29:15 تُم کہتے ہو، ”یَاہوِہ نے ہمارے لیٔے بابیل میں نبی برپا کئے ہیں،“
JER 29:16 لیکن یَاہوِہ اُس بادشاہ کی بابت یُوں فرماتے ہیں، جو داویؔد کے تخت پر تخت نشین ہے اَور اُن سَب لوگوں کے متعلّق جو اِس شہر میں رہتے ہیں یعنی تمہارے ہم وطن بھائیوں کے بارے میں جو تمہارے ساتھ جَلاوطن نہ ہُوئے تھے،
JER 29:17 سُنو، قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”میں اُن کے خِلاف تلوار، قحط اَور وَبا بھیجوں گا اَور مَیں اُنہیں ردّی اَنجیروں کی مانند بنا دُوں گا جو اِتنے خَراب ہونے کی وجہ سے کھائے نہیں جا سکتے۔
JER 29:18 میں تلوار، قحط اَور وَبا سے اُن کا تعاقب کروں گا اَور دُنیا کی تمام سلطنتوں کے درمیان حقیر بنا دُوں گا تاکہ وہ اُن قوموں میں جہاں میں اُنہیں پراگندہ کروں گا؛ لعنت، نفرت اَور ملامت کا باعث ہوں گے۔
JER 29:19 کیونکہ اُنہُوں نے میرے اُس کلام پر غور نہیں کیا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”جو مَیں نے اَپنے خادِموں اَور نبیوں کے ذریعہ بار بار اُن تک پہُنچایا تھا، لیکن تُم جَلاوطنوں نے نہ سُنا۔“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 29:20 اِس لیٔے اَے تمام جَلاوطنوں، جنہیں مَیں نے یروشلیمؔ سے بابیل روانہ کیا ہے، تُم یَاہوِہ کا کلام سُنو۔
JER 29:21 قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا احابؔ بِن قولایاہؔ اَور صِدقیاہؔ بِن معسیاہؔ کے متعلّق جو میرا نام لے کر: تمہارے درمیان باطِل نبُوّت کرتے ہیں، یُوں فرماتے ہیں سُنو، ”میں اُنہیں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے حوالہ کر دُوں گا اَور وہ اُنہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے قتل کر دے گا۔
JER 29:22 اَور یہُودیؔہ کے تمام جَلاوطن لوگ جو بابیل میں رہتے ہیں، اُن کی وجہ سے لعنت کے طور پر یہ مثل فرمایا کریں گے: ’یَاہوِہ تمہارے ساتھ صِدقیاہؔ اَور احابؔ جَیسا سلُوک کرے جنہیں شاہِ بابیل نے آگ میں جَلا دیا تھا۔‘
JER 29:23 کیونکہ اُنہُوں نے بنی اِسرائیل میں نہایت شرمناک کام کئے، اُنہُوں نے اَپنے پڑوسیوں کی بیویوں کے ساتھ زنا کیا اَور میرا نام لے کر جھُوٹی باتیں کہیں جِن کی مَیں نے اُنہیں اِجازت نہ دی تھی۔ میں یہ جانتا ہُوں اَور اِس بات کا گواہ ہُوں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
JER 29:24 نحلامی شمعیاہؔ سے تُم یُوں کہنا،
JER 29:25 ”قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، اِس لئے کہ تُم نے اَپنے ہی نام سے یروشلیمؔ کے باشِندوں کے نام اَور صفنیاہؔ بِن معسیاہؔ کاہِنؔ اَور دُوسرے تمام کاہِنوں کو خُطوط بھیجے ہیں۔ جِن میں یہ لِکھا گیا تھا،
JER 29:26 ’یَاہوِہ نے تُمہیں یہویادعؔ کی جگہ کاہِنؔ مُقرّر کیا ہے تاکہ آپ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے ناظِم ہوں اَور ہر ایک اُس پاگل شخص کو جو نبُوّت کا دعویٰ کرتا ہے اُسے قَیدخانہ میں ڈال کر اُس کے پیروں میں بیڑیاں اُس کی گردن میں لوہے کی زنجیریں ڈالے۔
JER 29:27 پھر آپ نے عناتوت کے یرمیاہؔ کی تنبیہ کیوں نہ کی جو آپ کے درمیان نبُوّت کا دعویٰ کرتا ہے؟
JER 29:28 اُس نے ہمیں بابیل میں یہ پیغام بھیجا ہے کہ یہ عرصہ کافی لمبا ہوگا۔ چنانچہ مکانات تعمیر کرو اَور بس جاؤ؛ نباتات لگاؤ اَور اُن کی پیداوار کھاؤ۔‘ “
JER 29:29 صفنیاہؔ کاہِنؔ نے وہ خط یرمیاہؔ نبی کو پڑھ کر سُنایا۔
JER 29:30 تَب یَاہوِہ کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا:
JER 29:31 ”تمام جَلاوطن لوگوں کو یہ پیغام بھیج، ’نحلامی شمعیاہؔ کے متعلّق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، چونکہ شمعیاہؔ نے تُم سے نبُوّت کی حالانکہ مَیں نے اُسے نہیں بھیجا اَور اُس نے تُمہیں جھُوٹ پر یقین کرنے کو اُکسایا ہے،
JER 29:32 اِس لیٔے یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، میں یقیناً نحلامی شمعیاہؔ اَور اُس کی نَسل کو سزا دُوں گا۔ اِس قوم میں اُس کا کویٔی بشر نہ بچے گا نہ وہ اُن بھلے کاموں دیکھ پایٔےگا جو میں اَپنی قوم کے لیٔے کروں گا کیونکہ اُس نے میرے خِلاف بغاوت کا اعلان کیا ہے۔‘ “
JER 30:1 یہ وہ کلام ہے جو یَاہوِہ کی طرف سے یرمیاہؔ نبی پر نازل ہُوا:
JER 30:2 ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’جو کلام مَیں نے تُم سے کیا وہ سَب ایک کِتاب میں لِکھ لے۔
JER 30:3 کیونکہ وہ دِن آ رہے ہیں،‘ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’جَب مَیں اَپنی قوم بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ کو اسیری میں سے واپس لاؤں گا اَور یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ مَیں اُنہیں اُس مُلک میں آباد کروں گا،‘ جسے مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد کو دیا تھا۔“
JER 30:4 جو باتیں یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ کے متعلّق کہیں، وہ اِس طرح ہیں،
JER 30:5 ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ” ’بڑی خوفناک چیخیں سُنایٔی دے رہی ہیں، دہشت کی چیخیں، سلامتی کی نہیں۔
JER 30:6 دریافت کرو اَور دیکھو، کیا مَرد بچّے پیدا کر سکتا ہے؟ پھر کیا وجہ ہے جو میں ہر قوی مَرد کو زچّہ کی مانند اَپنے ہاتھ پیٹ پر رکھے ہُوئے پاتا ہُوں، اَور زچّہ کی مانند ہر چہرہ زرد ہو گیا ہے؟
JER 30:7 افسوس، وہ دِن کس قدر ہولناک ہوگا! اُس کی مثال ہی نہیں۔ وہ یعقوب کے لیٔے مُصیبت کا وقت ہوگا، لیکن وہ اُس سے رِہائی پایٔےگا۔
JER 30:8 ” ’اُس وقت،‘ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’مَیں اُس کا جُوا تمہاری گردن پر سے توڑ ڈالوں گا اَور تمہارے بندھن کھول دُوں گا؛ اَور پھر پردیسی تُمہیں اَپنا غُلام نہیں بنائیں گے۔
JER 30:9 بَلکہ وہ یَاہوِہ اَپنے خُدا اَور اَپنے بادشاہ داویؔد کی خدمت کریں گے، جسے میں اُن پر حُکومت کرنے کے لیٔے برپا کروں گا۔
JER 30:10 ” ’اِس لیٔے اَے میرے خادِم یعقوب، خوف نہ کر؛ اَے بنی اِسرائیل، گھبرا مت،‘ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ’یقیناً تُم چاہے کتنی بھی دُور کیوں نہ رہو، میں تُمہیں اَور تمہاری اَولاد کو جَلاوطنی کے مُلک سے رِہائی بخشوں گا۔ تَب یعقوب لَوٹ کر پھر چَین اَور آرام سے رہے گا، اَور کویٔی اُسے ڈرانے نہ پایٔےگا۔
JER 30:11 کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ ہُوں اَور تُمہیں بچاؤں گا،‘ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ’حالانکہ میں اُن قوموں کا مُکمّل طور پر خاتِمہ کر دُوں گا جِن میں تُمہیں پراگندہ کیا تھا، لیکن مَیں تُمہیں مُکمّل طور پر ختم نہ کروں گا۔ بَلکہ مُناسب تنبیہ کروں گا؛ میں تُمہیں ہرگز بے سزا نہ چھوڑوں گا۔‘
JER 30:12 ”کیونکہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ” ’تمہارا زخم لاعلاج ہے، اَور تمہاری چوٹ گہری اَور سخت دردناک ہیں۔
JER 30:13 تمہارا مُقدّمہ لڑنے والا کوئی نہیں، نہ کوئی تمہارے گھاؤ پر مرہم پٹّی باندھے، اَور نہ کوئی شفا بخش دَوا تُمہیں شفایاب کر سکتی ہے۔
JER 30:14 تمہارے تمام اِتّحادی رفیق تُمہیں بھُول گیٔے؛ اَب اُنہیں تمہاری پروا نہیں۔ حقیقت میں مَیں نے تُمہیں دُشمن کی مانند زخمی کیا اَور ایک ظالِم کی مانند سزا دی، کیونکہ تمہارا جُرم بڑا سنگین تھا اَور تمہارے گُناہ بے شُمار تھے۔
JER 30:15 تُم اَپنے زخموں کے لیٔے کیوں روتے ہو، کیونکہ تمہارا درد لاعلاج ہے؟ تمہارے سنگین جُرم اَور تمہارے گُناہوں کی کثرت کے باعث مَیں نے تمہارے ساتھ اَیسا سلُوک کیا۔
JER 30:16 ” ’لیکن جتنے تُمہیں نگل رہے ہیں وہ آپ ہی نگلے جایٔیں گے؛ اَور تمہارے سبھی دُشمن جَلاوطن ہوں گے۔ جو تُمہیں لُوٹتے ہیں وہ خُود لُوٹے جایٔیں گے؛ اَورجو تُمہیں غارت کرتے ہیں خُود غارت ہو جایٔیں گے۔
JER 30:17 لیکن مَیں تُمہیں شفا بخشوں گا، اَور تمہارے زخم بھر دُوں گا،‘ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’کیونکہ تُو اَے صِیّونؔ، ناکارہ کہلاتی ہے،‘ جِس کی کویٔی پرواہ نہیں کرتا۔
JER 30:18 ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ” ’دیکھو، مَیں یعقوب کی قِیام گاہوں کی اسیری کو بحال کروں گا، اَور اُس کے مَسکنوں پر میری رحمت ہوگی؛ اَور اُس کے کھنڈروں پر دوبارہ شہر کی تعمیر کی جائے گی، اَور محل اَپنے صحیح مقام پر آباد ہوگا۔
JER 30:19 تَب اُن میں سے شُکر گزاری کے نغمہ اَور خُوشی کی آواز سُنایٔی دیں گے، اَور مَیں اَپنے قوم کی تعداد کم نہیں، بَلکہ اُس میں اِضافہ کروں گا، اَور اُنہیں عزّت بخشوں گا، اَور وہ ذلیل نہ ہوں گے۔
JER 30:20 اُن کی اَولاد پہلے جَیسی ہوں گی، اَور اُن کی جماعت میرے حُضُور قائِم ہوگی؛ اَور جتنے اُن پر ظُلم کرتے ہیں، میں اُنہیں سزا دُوں گا۔
JER 30:21 اَور اُن کے اُمرا اُنہیں میں سے ایک ہوں گے؛ اَور اُن کے حاکم بھی اُن ہی میں سے اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ میں اُنہیں قربت بخشوں گا اَور وہ میرے نزدیک آئیں گے، اَیسا کون ہے جو خُود بخُود میرے نزدیک آنے کی جُرأت کرے؟‘ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہیں۔
JER 30:22 ’چنانچہ تُم میری قوم ہوگے، اَور مَیں تمہارا خُدا ہُوں گا۔‘ “
JER 30:23 دیکھو، یَاہوِہ کے قہر کا طُوفان بھڑک اُٹھے گا، جو نہایت تیز آندھی کی شکل میں بدکاروں کے سَروں پر ٹوٹ پڑےگا۔
JER 30:24 جَب تک یَاہوِہ اَپنے دِل کے منصُوبے کو پُورا نہ کر لیں، تَب تک یَاہوِہ کا قہر شدید نہ ٹلےگا۔ آنے والے دِنوں میں تُم اِسے سمجھوگے۔
JER 31:1 ”اُس وقت،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”میں بنی اِسرائیل کے تمام گھرانوں کا خُدا ہُوں گا اَور وہ میری قوم ہوں گے۔“
JER 31:2 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”جو لوگ تلوار کے وار سے بچ نکلیں گے اُن پر بیابان میں بھی فضل ہوگا؛ کیونکہ مَیں بنی اِسرائیل کو آرام دینے کے لیٔے آؤں گا۔“
JER 31:3 کچھ عرصہ پہلے یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل سے فرمایا تھا: ”مَیں نے تُم سے اَبدی مَحَبّت رکھی؛ اِس لئے مَیں نے تُم پر اَپنی شفقت بنائے رکھی۔
JER 31:4 اَے کنواری بنی اِسرائیل، میں تُمہیں دوبارہ تعمیر کروں گا، اَور تُو تعمیر کی جائے گی۔ تُو پھر اَپنی دف اُٹھاکر آراستہ ہوگی اَور خُوشی منانے والوں کے ساتھ رقص کرنے کو نکل پڑےگی۔
JER 31:5 تُو پھر سامریہؔ کی پہاڑیوں پر انگوری باغ لگائے گی؛ کِسان اُنہیں لگائیں گے اَور اُن کا پھل شوق سے کھایٔیں گے۔
JER 31:6 کیونکہ ایک دِن اَیسا بھی آئے گا جَب اِفرائیمؔ کی پہاڑیوں پر پہرےدار پُکاریں گے، ’آؤ، ہم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے پاس، صِیّونؔ کو چلیں۔‘ “
JER 31:7 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”یعقوب کے لیٔے خُوشی سے گاؤ؛ اَور قوموں کے سرتاج کے لیٔے للکارو؛ اُونچی آواز میں حَمد کرو اَور اعلان کرو، ’اَے یَاہوِہ اَپنی قوم کے باقی بچے ہُوئے لوگوں کا یعنی بنی اِسرائیل کو نَجات بخشیں۔‘
JER 31:8 دیکھو، مَیں اُنہیں شمالی مُلک سے واپس لے آؤں گا اَور زمین کی اِنتہا سے اُنہیں جمع کروں گا؛ اَور اُن میں اَندھے، لنگڑے، حاملہ اَور زچّہ کی درد میں مُبتلا عورتیں بھی شامل ہوں گی؛ ایک بڑا مجمع یہاں لَوٹ آئے گا۔
JER 31:9 وہ آنسُو بہاتے ہُوئے آئیں گے؛ جَب مَیں اُنہیں واپس لاؤں گا تو وہ دعا کرتے ہُوئے آئیں گے۔ میں اُنہیں پانی کے دریاؤں کے کنارے کنارے اَور ہموار راستہ سے لاؤں گا جہاں وہ ٹھوکر نہ کھایٔیں گے، کیونکہ مَیں بنی اِسرائیل کا باپ ہُوں، اَور اِفرائیمؔ میرا پہلوٹھا بیٹا ہے۔
JER 31:10 ”اَے مُختلف قوموں! یَاہوِہ کا کلام سُنو؛ اَور دُور کے جزیروں میں اُن کی مُنادی کرتے ہُوئے اعلان کرو، ’جنہوں نے بنی اِسرائیل کو پراگندہ کیا وُہی اُسے جمع بھی کریں گے اَور چرواہے کی مانند اَپنے گلّہ کی نگہبانی کریں گے۔‘
JER 31:11 کیونکہ یَاہوِہ یعقوب کا فدیہ اَدا کریں گے اَور اُنہیں اُن سے بھی زورآور لوگوں کے ہاتھوں سے رِہائی بخشیں گے۔
JER 31:12 وہ آکر صِیّونؔ کی پہاڑیوں پر خُوشی سے للکاریں گے؛ اَور یَاہوِہ کی نِعمتیں پا کر مسرُور ہوں گے۔ یعنی اناج، نئی مَے، تیل، اَور گائے بَیل اَور بھیڑ بکریوں کے بچّے۔ وہ ایک سیراب باغ کی مانند ہوں گے، اَور پھر کبھی غمزدہ نہ ہوں گے۔
JER 31:13 تَب جَوان خواتین رقص کریں گی اَور شادمان ہوں گی، اَور جَوان اَور ضعیف دونوں ایک ساتھ خُوشی منائیں گے۔ کیونکہ مَیں اُن کے ماتم کو خُوشی میں تبدیل کر دُوں گا؛ اَور اُنہیں غم کی بجائے سکون اَور شادمانی بخشوں گا۔
JER 31:14 میں کاہِنوں کی جان کو اِفراط سے مطمئن کروں گا، اَور میری قوم میری عُمدہ نِعمتوں سے سَیر ہوگی،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 31:15 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”رامہؔ شہر میں ایک آواز سُنایٔی دیتی ہے شدید رونے اَور ماتم کی، راخلؔ اَپنے بچّوں کے لیٔے رو رہی ہے اَور تسلّی قبُول نہیں کر رہی، کیونکہ وہ ہلاک ہو چُکے ہیں۔“
JER 31:16 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اَپنی رونے کی آواز کو روک اَور اَپنی آنکھوں کو آنسُو بہانے سے باز رکھ، کیونکہ تُو اَپنی محنت کا اجر پایٔے گی،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”وہ دُشمن کے مُلک سے واپس آئیں گے۔
JER 31:17 اِس لیٔے تمہارا مُستقبِل پُر اُمّید ہے،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔ ”تمہارے بچّے اَپنے ہی مُلک میں لَوٹ آئیں گے۔
JER 31:18 ”مَیں نے اِفرائیمؔ کو واقعی یُوں ماتم کرتے ہُوئے سُنا ہے، ’آپ نے مُجھے ایک اودھم مچانے والے بچھڑے کی مانند تنبیہ دی، اَور مَیں نے اِس سے سبق سیکھا ہے۔ مُجھے بحال کریں اَور مَیں لَوٹ آؤں گا، کیونکہ آپ یَاہوِہ میرے خُدا ہیں۔
JER 31:19 بھٹک جانے کے بعد، مَیں نے تَوبہ کی؛ اَور جَب مَیں سمجھ گیا، تو مَیں نے اَپنی چھاتی پیٹی۔ میں شرمندہ اَور پشیمان ہُوا کیونکہ مَیں نے اَپنی جَوانی کی ملامت اُٹھائی تھی۔‘
JER 31:20 کیا اِفرائیمؔ میرا پیارا بیٹا نہیں ہے؟ کیا وہ میرا پسندیدہ فرزند نہیں ہے؟ حالانکہ میں اکثر اُس کے خِلاف بولتا ہُوں، پھر بھی اُسے پُورے دِل سے یاد کرتا ہُوں۔ اِس لیٔے میرا دِل اُس کے لیٔے بیتاب رہتاہے؛ اِس لئے میرا دِل اُس کے لئے شفقت سے بھرا ہُواہے۔“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 31:21 ”راستہ پر آمدورفت کے سنگِ نِشان کھڑے کرو؛ اَور سمت بتانے والا سُتون نصب کر۔ جو راستہ تُمہیں اِختیار کرناہے، اُس شاہراہ کا جائزہ لو۔ اَے کنواری اِسرائیل، لَوٹ آ، اَپنے شہروں کو لَوٹ آ۔
JER 31:22 اَے بےوفا بیٹی اِسرائیل، تو کب تک بھٹکتی رہے گی؟ یَاہوِہ زمین پر نئی چیز پیدا کریں گے۔ یعنی سفر میں عورتیں تمام مَردوں کی حِفاظت کریں گی۔“
JER 31:23 قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ”جَب مَیں اُنہیں اسیری سے واپس لاؤں گا، تَب یہُوداہؔ اَور اُن کے شہروں کے باشِندوں کے لبوں پر پھر سے یہ برکت کے کلمے نکلیں گے: ’اَے صداقت کے مَسکن اَور اَے مُقدّس پہاڑ! یَاہوِہ تُمہیں برکت دیں۔‘
JER 31:24 یہُودیؔہ اَور اُس کے تمام شہروں کے باشِندے، کِسان اَور چرواہے بھی مع ریوڑوں کے ایک ساتھ جمع ہوکر بس جایٔیں گے۔
JER 31:25 کیونکہ مَیں تھکے ہوؤں کو تازگی بخشوں گا اَور بھُوک سے کمزوروں کو سیر کروں گا۔“
JER 31:26 تَب مَیں نے بیدار ہوکر آنکھیں کھولیں اَور مَیں نے چاروں طرف نگاہ کی۔ میری نیند مُجھے میٹھی لگی۔
JER 31:27 ”وہ دِن آ رہے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب مَیں مُلکِ اِسرائیل اَور مُلکِ یہُودیؔہ کے گھرانوں میں اِنسانوں اَور حَیوانوں دونوں کے بچّوں کو بہت بڑھاؤں گا۔
JER 31:28 جِس طرح میں اُن کو اُکھاڑنے، ڈھانے گرانے، تباہ کرنے اَور مُصیبت لانے کے لیٔے اُن کی گھات میں تھا، اُسی طرح سے اَب مَیں اُن کو اَپنی نِگرانی میں لگاؤں گا اَور بڑھاؤں گا،“ یَاہوِہ کا یہ فرمان ہے۔
JER 31:29 ”اُن دِنوں میں لوگ پھر یُوں نہ کہیں گے، ’آباؤاَجداد نے کچّے انگور کھائے، اَور اَولاد کے دانت کھٹّے ہو گئے۔‘
JER 31:30 بَلکہ ہر شخص اَپنے ہی گُناہ کے باعث مَرے گا؛ اَورجو کویٔی کچّے انگور کھائے گا اُسی کے دانت کھٹّے ہوں گے۔
JER 31:31 ”دیکھو! وہ دِن آ رہے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب مَیں بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ کے ساتھ ایک نیا عہد باندھوں گا۔
JER 31:32 جو اُس عہد کی مانند نہ ہوگا جو مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد کے ساتھ، اُس وقت باندھا تھا، جَب مَیں نے اُن کا ہاتھ پکڑکر، اُنہیں مِصر سے باہر نکالا تھا، کیونکہ اُنہُوں نے میرے اُس عہد کو توڑ ڈالا تھا، حالانکہ میں اُن کا شوہر تھا،“ یہی یَاہوِہ کا کلام ہے۔
JER 31:33 ”جو عہد مَیں بنی اِسرائیل کے ساتھ، اُن دِنوں کے بعد باندھوں گا وہ یہ ہے،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔ ”مَیں اَپنے آئین اُن کے ذہنوں پر نقش کر دُوں گا اَور اُن کے دِلوں میں ڈالُوں گا۔ مَیں اُن کا خُدا ہوں گا، اَور وہ میری اُمّت ہوں گے۔
JER 31:34 اَور ہر شخص اَپنے ہمسایہ کو یا اَپنے بھایٔی کو یہ تعلیم نہ دے گا، ’تُم یَاہوِہ کو پہچانو،‘ کیونکہ وہ سَب مُجھے نزدیکی سے جان لیں گے، چُھوٹے سے لے کر بڑے تک،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے ”اِس لیٔے کہ مَیں اُن کی بدکاریوں کو مُعاف کر دُوں گا، اَور اُن کے گُناہوں کو پھر کبھی یاد نہ کروں گا۔“
JER 31:35 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، جِس نے دِن میں رَوشنی دینے کے لیٔے سُورج کو مُقرّر کیا، اَور رات میں رَوشنی دینے کے لیٔے چاند اَور سِتاروں کو حُکم دیا، جو سمُندر کو موجزن کرتے ہیں تاکہ اُس کی لہریں شور مچائیں۔ جِن کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے:
JER 31:36 ”اگرچہ یہ قوانین میرے سامنے سے ٹل جائیں،“ وُہی یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”تبھی بنی اِسرائیل کی نَسل بھی موقُوف ہو جائے گی، اَور پھر کبھی بھی ایک قوم کی طرح وُجُود میں قائِم نہ رہ سکے گی۔“
JER 31:37 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اگر کوئی اُوپر آسمان کی پیمائش کر سکے، اَور نیچے زمین کی بُنیاد کا سُراغ لگا سکے تو میں بھی بنی اِسرائیل کو اُن کے اعمال کے باعث ردّ کر دُوں گا۔“ یہ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
JER 31:38 ”وہ دِن آ رہے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب یہ شہر حَنن ایل کے بُرج سے لے کر کونے کے پھاٹک تک میرے لیٔے پھر سے تعمیر کیا جائے گا۔
JER 31:39 پیمائشی جریب یعنی رسّی وہاں سے سیدھی کوہِ گاریبؔ پر سے ہوتی ہُوئی گوعاہؔ کی طرف مُڑ جائے گی۔
JER 31:40 اَور تمام وادی جہاں لاشیں اَور راکھ پھینکی جاتی ہے اَور قِدرُونؔ کی وادی تک سَب کھیت، اَور مشرق کی جانِب سے گھوڑے پھاٹک کے کونے تک یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس ہوں گے۔ اَور پھر کبھی یہ شہر اَبد تک نہ تو گرایا جائے گا اَور نہ تباہ کیا جائے گا۔“
JER 32:1 شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے دسویں بَرس جو نبوکدنضرؔ کے حُکومت کا اٹھّارہواں سال تھا، یَاہوِہ کا یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا
JER 32:2 اُس وقت شاہِ بابیل کی فَوج نے یروشلیمؔ کو گھیر رکھا تھا اَور یرمیاہؔ نبی یہُودیؔہ کے شاہی محل کے قَیدخانہ کے صحن میں بند تھا۔
JER 32:3 شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ نے اُسے وہاں یہ کہہ کر قَید کرکے رکھا تھا، ”تُم اِس طرح سے نبُوّت کیوں کرتے ہو؟ تُم کہتے ہو ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، مَیں یہ شہر شاہِ بابیل کے حوالہ کرنے کو ہُوں اَور وہ اُس پر قبضہ کر لے گا۔
JER 32:4 اَور شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کَسدیوں کے ہاتھوں سے بچ نہ سکےگا بَلکہ یقیناً شاہِ بابیل کے حوالہ کیا جائے گا اَور دونوں رُوبرو بات چیت کریں گے اَور ایک دُوسرے کو مُنہ در مُنہ اَپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔
JER 32:5 نبوکدنضرؔ صِدقیاہؔ کو بابیل لے جائے گا اَور جَب تک میں کویٔی حُکم نہ دُوں وہ وہیں رہے گا؛ یَاہوِہ فرماتے ہیں، اگر تُم کَسدیوں سے جنگ کروگے تو ہرگز کامیاب نہ ہوگے۔‘ “
JER 32:6 یرمیاہؔ نے فرمایا، ”یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا،
JER 32:7 تمہارے چچا شلُّومؔ کا بیٹا حَنامیلؔ تمہارے پاس آکر یہ کہے گا کہ میرا کھیت جو عناتوت میں ہے اَپنے لیٔے خرید لے کیونکہ قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے اُس پر تمہارا حق ہے اَور تمہارا فرض ہے کہ تُم اُسے خرید لو۔
JER 32:8 ”تَب جَیسا کہ یَاہوِہ نے فرمایا تھا میرا چچازاد بھایٔی حَنامیلؔ قَیدخانہ کے صحن میں میرے پاس آیا اَور کہا، ’میرا کھیت جو عناتوت میں بِنیامین کے علاقہ میں ہے خرید لے کیونکہ اُسے چھُڑا کر اُس کا مالک بننا تمہارا حق ہے اِس لیٔے اُسے اَپنے لیٔے خرید لے۔‘ ”تَب مَیں نے جان لیا کہ یہ یَاہوِہ کا کلام ہے۔
JER 32:9 اِس لیٔے مَیں نے اَپنے چچازاد بھایٔی حَنامیلؔ سے عناتوت کا کھیت خرید لیا اَور سترہ ثاقل چاندی تول کر اُسے دے دی۔
JER 32:10 مَیں نے دستاویز پر دستخط کرکے اُس پر مُہر لگا دی اَور گواہوں کے سامنے ترازو میں چاندی تول کر اُسے دے دی۔
JER 32:11 مَیں نے کھیت کی خرید کی دستاویز لے لی یعنی مُہر شُدہ دستاویز جِس میں شرائط و ضوابط درج تھیں اَور دُوسری جو بغیر مُہر کی تھی۔
JER 32:12 اَور مَیں نے یہ دستاویز اَپنے چچازاد بھایٔی حَنامیلؔ کے سامنے اَور اُن گواہوں کے سامنے جنہوں نے دستاویز پر دستخط کئے تھے اَور اُن تمام یہُودیوں کے رُوبرو جو پہرےدار کے صحن میں بیٹھے ہُوئے تھے محسیاہؔ کے پوتے باروکؔ بِن نیریاہؔ کے سُپرد کر دی۔
JER 32:13 ”اُن کے سامنے مَیں نے باروکؔ کو یہ ہدایات دیں،
JER 32:14 قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، دستاویزوں کی دونوں نقل لے لے، ایک مُہر شُدہ اَور دُوسری بغیر مُہر کے، اُنہیں مٹّی کے مرتبان میں رکھ دینا تاکہ وہ کافی عرصہ تک محفوظ رہیں۔
JER 32:15 کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا فرماتے ہیں، اِس مُلک میں مکانات، کھیتوں اَور انگوری باغوں کی پھر سے خریدوفروخت ہوگی۔
JER 32:16 ”خرید کی دستاویز باروکؔ بِن نیریاہؔ کو دینے کے بعد مَیں نے یَاہوِہ سے یہ دعا کی،
JER 32:17 ”آہ اَے یَاہوِہ قادر آپ نے اَپنی عظیم قُدرت اَور بڑھائے ہُوئے بازو سے آسمان اَور زمین کو خلق کیا۔ آپ کے لیٔے کویٔی کام ناممکن نہیں ہے۔
JER 32:18 آپ ہزاروں پر شفقت کرتے ہیں لیکن آباؤاَجداد کے گُناہوں کی سزا اُن کے بعد اُن کی اَولاد کے دامن میں ڈال دیتے ہیں۔ اَے عظیم اَور قادرمُطلق خُدا آپ کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے،
JER 32:19 آپ کے اِرادے اعلیٰ ہیں اَور آپ کے منصُوبے عظیمُ الشّان ہیں۔ آپ کی نگاہیں اِنسان کی تمام روِشوں پر لگی رہتی ہیں۔ آپ ہر ایک کو اُس کے اَخلاق اَور اُس کے اعمال کے مُطابق اجر دیتے ہیں۔
JER 32:20 آپ نے مِصر میں نِشانات اَور عجائبات دِکھائے جنہیں آپ نے بنی اِسرائیل اَور باقی نَوع بشر کے درمیان آج تک جاری رکھے ہُوئے ہیں اَور آپ نے اَپنے لیٔے اَیسا جلالی نام قائِم کیا ہے جو آج تک برقرار ہے۔
JER 32:21 آپ نے اَپنی قوم بنی اِسرائیل کو مِصر سے نِشانات اَور عجائب کارناموں سے، اَپنے قوی ہاتھ اَور بڑھائے ہُوئے بازو اَور بڑی ہیبت کے ساتھ باہر نکال لائے۔
JER 32:22 آپ نے اُنہیں یہ مُلک دیا، جسے دینے کی آپ نے اُن کے آباؤاَجداد سے قَسم کھائی تھی اَور جِس میں دُودھ اَور شہد کے دریا بہتے ہیں۔
JER 32:23 اُنہُوں نے آکر اِس مُلک کو اَپنے اِختیار میں کر لیا لیکن اُنہُوں نے آپ کے حُکم کو نہیں مانا، نہ آپ کے آئین پر عَمل کیا اَورجو کچھ کرنے کا حُکم آپ نے اُنہیں دیا تھا اُنہُوں نے اُس پر عَمل نہیں کیا۔ اِس لیٔے آپ نے اُن کے اُوپر یہ سَب مُصیبتیں نازل کیں۔
JER 32:24 ”اَب اِن دمدموں کو دیکھ وہ لوگ اِس شہر پر قبضہ کرنے کے لیٔے آ گیٔے ہیں۔ تلوار، قحط اَور وَبا کے باعث یہ شہر اُن کَسدیوں کے حوالہ کیا جائے گا جو اِس پر حملہ کر رہے ہیں جَیسا کہ آپ نے فرمایا تھا اَور اَب سَب پُورا ہُواہے، اَور آپ اِسے دیکھ بھی رہے ہیں۔
JER 32:25 اَور حالانکہ یہ شہر کَسدیوں کے حوالہ کر دیا جائے گا پھر بھی اَے یَاہوِہ قادر آپ مُجھ سے کہتے ہیں، ’چاندی کے عوض کھیت خرید لے اَور گواہوں کے سامنے سَودا کر۔‘ “
JER 32:26 تَب یَاہوِہ کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا:
JER 32:27 ”دیکھ، میں یَاہوِہ تمام نَوع اِنسان کا خُدا ہُوں۔ کیا میرے لیٔے کویٔی کام مُشکل ہے؟
JER 32:28 لہٰذا یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، میں یہ شہر کَسدیوں کے اَور شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے حوالہ کرنے کو ہُوں جو اِس پر قبضہ کر لے گا۔
JER 32:29 اَور جِن کَسدیوں نے اِس شہر پر حملہ کیا ہے وہ اَندر آکر اِس شہر میں آگ لگا دیں گے۔ وہ اِسے اُن گھروں کے ساتھ جَلا دیں گے جِن کی چھتوں پر لوگوں نے بَعل کے لیٔے بخُور جَلا کر اَور غَیر معبُودوں کو تپاون دے کر مُجھے غُصّہ دِلایا تھا۔
JER 32:30 ”کیونکہ بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ اَپنی جَوانی سے اَب تک صِرف وُہی کرتے آئے ہیں جو میری نظر میں بُرا ہے؛ دراصل بنی اِسرائیل نے اَپنے ہاتھوں سے تعمیر کی ہُوئی چیزوں سے مُجھے غضبناک کرنے کے علاوہ اَور کچھ نہیں کیا ہے۔ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 32:31 یہ شہر جَب سے آباد ہے تَب سے لے کر آج تک اِس نے میرے قہر اَور غضب کو اِس قدر بھڑکایا ہے کہ اَب اِسے میں اَپنی نظر کے سامنے سے دُور کر دُوں گا۔
JER 32:32 کیونکہ بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ نے اَپنے بادشاہ اَور حاکموں، کاہِنؔ اَور نبی، اہلِ یہُوداہؔ اَور یروشلیمؔ کے سبھی باشِندوں نے اَپنی تمام بدکاریوں سے مُجھے غضبناک کیا ہے۔
JER 32:33 اُنہُوں نے میری طرف سے مُنہ نہیں بَلکہ پیٹھ ہی پھیر دی ہے۔ حالانکہ مَیں نے بار بار اُنہیں تعلیم دی لیکن اُنہُوں نے نہ سُنا نہ تنبیہ کو مانا۔
JER 32:34 اُنہُوں نے اَپنے بے جان شَبیہوں کو اُس گھر میں رکھ کر اُسے ناپاک کر دیا جو میرے نام سے جانا جاتا ہے۔
JER 32:35 اُنہُوں نے بِن ہِنَّومؔ کی وادی میں بَعل کے لیٔے اُونچے مقامات تعمیر کئے تاکہ وہاں اَپنے بیٹوں اَور بیٹیوں کو مولکؔ کو نذر کریں۔ حالانکہ مَیں نے اُنہیں اَیسا حُکم نہیں دیا تھا، نہ ہی یہ خیال میرے ذہن میں آیاتھا کہ وہ اَیسا نفرت اَنگیز کام کریں تاکہ بنی یہُوداہؔ گُنہگار ٹھہریں۔
JER 32:36 ”تُم اُس شہر کے بارے میں کہتے ہو، ’تلوار، قحط اَور وَبا کے باعث اِسے شاہِ بابیل کے حوالہ کیا جائے گا‘؛ لیکن یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے:
JER 32:37 میں اُنہیں یقیناً اُن تمام مُلکوں میں سے جمع کروں گا جہاں مَیں نے اَپنے غیظ و غضب اَور قہر شدید کی وجہ سے اُنہیں جَلاوطن کیا تھا۔ میں اُنہیں اِس مُلک میں واپس لاکر اُنہیں سکون سے جینے دُوں گا۔
JER 32:38 وہ میری قوم ہوں گے اَور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا۔
JER 32:39 میں اُن کو یکدل اَور یک روِش بنا دُوں گا تاکہ وہ اَپنی اَور اَپنے بعد اَپنی اَولاد کی نیکی کے لیٔے ہمیشہ میرا خوف مانیں۔
JER 32:40 میں اُن سے اَبدی عہد باندھوں گا، میں ہمیشہ اُن کے ساتھ نیکی کرتا رہُوں گا اَور مَیں اُن کے دِلوں میں اَپنا خوف ڈالُوں گا تاکہ وہ کبھی مُجھ سے برگشتہ نہ ہوں۔
JER 32:41 اُن سے نیکی کرنے میں مُجھے مسرّت ہوگی اَور مَیں یقیناً دِل و جان سے اُنہیں اِس مُلک میں آباد کر دُوں گا۔
JER 32:42 ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، جِس طرح میں اُن لوگوں پر یہ عظیم آفت لایا ہُوں، اُسی طرح میں اُنہیں وہ تمام نِعمتیں بخشوں گا جِن کا مَیں نے اُن سے وعدہ کیا تھا۔
JER 32:43 اِس مُلک میں پھر ایک بار کھیت خریدے جایٔیں گے، جِس کے متعلّق تُم کہتے تھے، ’وہ ایک تباہ شُدہ اَور ویران مُلک ہے جہاں نہ اِنسان اَور نہ حَیوان پایٔے جاتے ہیں کیونکہ اُسے کَسدیوں کے حوالہ کیا گیا تھا۔‘
JER 32:44 یَاہوِہ فرماتے ہیں، چاندی کے عوض کھیت خریدے جایٔیں گے اَور بِنیامین اَور یروشلیمؔ کے علاقہ میں، یہُودیؔہ کے شہروں اَور پہاڑی علاقوں کے شہروں، مغربی پہاڑوں کے دامن اَور نِیگیوؔ میں دستاویز لِکھ کر اُنہیں گواہوں کے سامنے سَر بمُہر کیا جائے گا کیونکہ مَیں اُن کے لوگوں کو اسیری سے واپس لاؤں گا۔“
JER 33:1 ابھی یرمیاہؔ قَیدخانہ کے صحن میں بند ہی تھا کہ یَاہوِہ کا کلام دوبارہ اُس پر نازل ہُوا:
JER 33:2 ”یَاہوِہ، جنہوں نے زمین کو خلق کیا اَور جنہوں نے اُسے تشکیل اَور قائِم کیا ہے، جِس کا نام یَاہوِہ ہے، وہ یُوں فرماتے ہیں:
JER 33:3 ’مُجھ سے فریاد کر اَور مَیں تمہاری فریاد سُن کر تُمہیں عظیم، ناقابل فراموش باتیں بتاؤں گا جنہیں تُم نہیں جانتے۔‘
JER 33:4 کیونکہ یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے، تُم نے اِس شہر کے گھروں اَور یہُودیؔہ کے شاہی محلوں کو بھی توڑ دیا ہے تاکہ تُمہیں تمہارے دُشمن کَسدیوں کے دمدموں اَور تلوار کا مُقابلہ کرنے میں مدد مِل سکے
JER 33:5 لیکن مَیں کَسدیوں کو اَپنے قہر اَور غضب میں قتل کراؤں گا: ’اَور اُن لوگوں کی لاشوں سے اِس کھنڈر کی جگہ کو بھر دُوں گا؛ کیونکہ اُن کی تمام بدی کے باعث میں اِس شہر سے اَپنا مُنہ موڑ لُوں گا۔
JER 33:6 ” ’حقیقت میں، مَیں اِس شہر کا علاج کرکے اَپنی قوم کو شفا بخشوں گا؛ اَور اُنہیں کثرت سے اَمن و سلامتی بخشوں گا۔
JER 33:7 مَیں بنی یہُوداہؔ اَور بنی اِسرائیل کو اسیری سے واپس لاؤں گا اَور اُنہیں پہلے کی طرح آباد کروں گا۔
JER 33:8 میں اُنہیں اُن کی ساری بدکاری سے پاک کروں گا جو اُنہُوں نے میرے خِلاف کی ہیں اَور اُن کے تمام گُناہوں کو مُعاف کر دُوں گا جو اُنہُوں نے میرے خِلاف باغی ہوکر کئے ہیں۔
JER 33:9 تَب یہ شہر دُنیا کی اُن تمام قوموں کے سامنے خُوشی بخش نام اَور میری سِتائش و جلال کا باعث ہوگا؛ کیونکہ وہ اُن تمام نیکیوں کا بَیان سُنیں گی جو میں اُن کے ساتھ کرنے والا ہوں، وہ اُن تمام نیکیوں اَور سلامتی کا بَیان سُن کر ڈریں گے اَور کانپ اُٹھیں گے؛ وہ زمین کی اُن تمام قوموں کی نظر میں میرے واسطے شادمانی، سِتائش اَور جلال کا باعث ہوں گے۔‘
JER 33:10 ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’تُم اُس مقام کے متعلّق کہتے ہو، ”وہ ویران ہو چُکاہے جہاں نہ اِنسان ہے نہ حَیوان۔“ پھر بھی یہُودیؔہ کے شہروں اَور یروشلیمؔ کی گلیوں میں جو ویران ہو چُکے ہیں، جہاں نہ اِنسان ہیں نہ باشِندے، نہ حَیوان،
JER 33:11 اِن ہی شہروں میں ایک بار پھر خُوشی اَور شادمانی کے نعرے، دُلہا اَور دُلہن کی آوازیں گونجیں گی اَور اُن لوگوں کی صدائیں سُنایٔی دیں گی جو یہ کہتے ہوئے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں شُکر گزاری کے ہدیئے لے کر آئیں گے، ”قادرمُطلق یَاہوِہ کی شُکر گزاری کرو، کیونکہ یَاہوِہ بھلےہیں؛ اَور اُن کی شفقت اَبدی ہے۔“ مَیں اِس مُلک کی حالت پہلے کی طرح بحال کروں گا،‘ یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے۔
JER 33:12 ”قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’یہ جگہ جو اَیسی ویران ہے، جہاں نہ کویٔی اِنسان ہے نہ حَیوان اِسی جگہ پر اِس کے تمام شہروں میں پھر چرواہوں کو اَپنے گلّوں کو آرام کروانے کے لیٔے چراگاہیں ہوں گی۔
JER 33:13 پہاڑی علاقے کے شہروں، مغربی پہاڑوں کے دامن میں اَور نِیگیوؔ کے شہروں میں، بِنیامین کے علاقے میں، یروشلیمؔ کے اِردگرد کے دیہاتوں اَور یہُودیؔہ کے شہروں میں گلّے پھر سے گِن گِن کر چَرائے جایٔیں گے،‘ یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے۔
JER 33:14 ” ’وہ دِن آ رہے ہیں،‘ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’جَب مَیں وہ شفقت بھرا وعدہ پُورا کروں گا جو مَیں نے بنی اِسرائیل کے گھرانے اَور بنی یہُوداہؔ کے گھرانے سے کیا تھا۔
JER 33:15 ” ’اُن دِنوں اَور اُس وقت میں، مَیں داویؔد کی نَسل سے ایک صادق شاخ اُگاؤں گا؛ وہ مُلک میں اِنصاف اَور راستی سے پیش آئے گا۔
JER 33:16 اُن دِنوں میں یہُوداہؔ بچایا جائے گا اَور یروشلیمؔ بے خوف بسا رہے گا۔ اَور اُس کا نام، یَاہوِہ ہمارا صادق نَجات دِہندہ رکھا جائے گا۔‘
JER 33:17 کیونکہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’داویؔد کی نَسل میں بنی اِسرائیل کے گھرانے کے تخت پر بیٹھنے کے لیٔے کبھی آدمی کی کمی نہ ہوگی،
JER 33:18 اَور نہ لیوی کاہِنوں کے خاندان میں ہمیشہ میرے حُضُور میں کھڑے ہوکر سوختنی نذریں گذراننے، ہدیئے چڑھانے اَور قُربانیاں پیش کرنے والوں کی کمی ہوگی۔‘ “
JER 33:19 پھر یَاہوِہ کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا:
JER 33:20 ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’اگر تُم میرا وہ عہد جو مَیں نے دِن اَور رات سے باندھا ہے، توڑ سکو تاکہ دِن اَور رات اَپنے مُقرّرہ وقت پر نموُدار نہ ہوں۔
JER 33:21 تبھی جو عہد مَیں نے اَپنے خادِم داویؔد اَور لیویوں سے کیا ہے، جو کاہِنؔ کے طور پر میری خدمت کرتے ہیں، ٹوٹ سکتا ہے، اَور تَب داویؔد کی نَسل میں اُس کے تخت پر بیٹھنے کے لیٔے کویٔی نہ ہوگا۔
JER 33:22 مَیں اَپنے خادِم داویؔد کی نَسل کو اَور لیویوں کو جو میری خدمت کرتے ہیں، آسمان کے تاروں کی طرح بے شُمار اَور سمُندر کے کنارے کی بے حِساب ریت کی مانند کر دُوں گا۔‘ “
JER 33:23 یَاہوِہ کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا،
JER 33:24 ”کیا تُم نے غور نہیں کیا کہ یہ لوگ کیا کہتے ہیں، ’یَاہوِہ نے جِن دو گھرانوں کا اِنتخاب کیا تھا اُنہیں مُسترد کر دیا ہے‘؟ اِس لیٔے وہ میری قوم کو حقیر جانتے ہیں اَور اَب وہ اُنہیں قوم ہی نہیں مانتے۔
JER 33:25 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’اگر دِن اَور رات کے ساتھ میرا عہد نہ ہو، اَور مَیں نے آسمان اَور زمین کا نظام مُقرّر نہ کیا ہو،
JER 33:26 تو میں یعقوب اَور اَپنے خادِم داویؔد کی نَسلوں کو مُسترد کر دُوں گا اَور اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور داویؔد کی نَسل پر حُکومت کرنے کے لیٔے اُس کے بیٹوں میں سے کسی کو مُنتخب نہ کروں گا۔ بَلکہ میں اُنہیں اسیری سے واپس لاؤں گا اَور اُن پر رحم کروں گا۔‘ “
JER 34:1 جَب شاہِ بابیل، نبوکدنضرؔ اَور اُس کا تمام لشکر اَور تمام سلطنتیں اَور لوگ جو اُس کے ماتحت تھے یروشلیمؔ اَور اُس کے گِردونواح کے شہروں کے خِلاف جنگ کر رہے تھے، تَب یَاہوِہ کا یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا،
JER 34:2 ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کے پاس جاؤ اَور اُس سے کہو، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، میں یہ شہر شاہِ بابیل کے حوالہ کرنے کو ہُوں اَور وہ اُسے جَلا ڈالے گا۔
JER 34:3 اَور تُم اُس کی گرفت سے نہیں بچوگے بَلکہ یقیناً پکڑے جاؤگے اَور اُس کے حوالہ کئے جاؤگے۔ تُم اَپنی آنکھوں سے شاہِ بابیل کو دیکھوگے اَور وہ تُم سے رُوبرو بات کرےگا اَور تُم بابیل جاؤگے۔
JER 34:4 ” ’پھر بھی اَے شاہِ یہُودیؔہ، صِدقیاہؔ، یَاہوِہ کا وعدہ سُن۔ یَاہوِہ تمہارے متعلّق یُوں فرماتے ہیں، تُم تلوار سے قتل نہ کئے جاؤگے؛
JER 34:5 یَاہوِہ فرماتے ہیں، تُمہیں پُرسکون موت آئے گی۔ اَور جِس طرح لوگوں نے تمہارے آباؤاَجداد کے حق میں جو تُم سے پہلے شاہِ یہُودیؔہ ہو گزرے ہیں، اُن کے وفات پر اُن کے اِحترام میں خُوشبو جَلائی تھی اُسی طرح وہ تمہارے اِعزاز میں بھی خُوشبو جَلائیں گے اَور یہ کہتے ہُوئے نوحہ کریں گے، ”ہائے میرے آقا!“ مَیں نے خُود یہ وعدہ کیا ہے۔‘ “
JER 34:6 تَب یرمیاہؔ نبی نے یہ سَب باتیں شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ سے یروشلیمؔ میں کہیں۔
JER 34:7 جَب شاہِ بابیل کی فَوج یروشلیمؔ اَور یہُودیؔہ کے شہر لاکیشؔ اَور عزیقاہؔ سے جنگ کر رہی تھی جو اَب تک تسخیر نہ ہُوئے تھے کیونکہ یہُودیؔہ کے شہروں میں سے یہی مُستحکم شہر بچے ہُوئے تھے۔
JER 34:8 جَب صِدقیاہؔ بادشاہ نے یروشلیمؔ میں تمام لوگوں سے عہدوپیمان کیا کہ غُلاموں کو آزاد کیا جائے۔ تَب اُس عہد کے اعلان کے بعد یَاہوِہ کا یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا،
JER 34:9 ہر کویٔی اَپنے عِبرانی غُلام کو خواہ وہ مَرد ہو یا عورت آزاد کر دے اَور کویٔی بھی اَپنے یہُودی بھائیوں اَور بہنوں کو غُلامی میں نہ رکھے۔
JER 34:10 چنانچہ تمام حاکموں اَور لوگ جِن کے ساتھ یہ عہد کیا گیا تھا اَپنے اَپنے غُلام اَور لونڈیوں کو آزاد کرنے اَور اُنہیں اَور زِیادہ عرصہ تک غُلامی میں نہ رکھنے پر راضی ہو گئے۔
JER 34:11 لیکن بعد میں سبھی نے اَپنا اِرادہ بدل دیا اَور جِن غُلاموں اَور لونڈیوں کو اُنہُوں نے آزاد کیا تھا اُنہیں پھر سے واپس لاکر غُلام بنا لیا۔
JER 34:12 تَب یَاہوِہ کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا،
JER 34:13 ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: جِس وقت میں تمہارے آباؤاَجداد کو غُلامی کے مُلک یعنی مِصر سے باہر نکال لایاتھا، اُس وقت مَیں نے اُن سے یہ کہہ کر ایک عہد باندھا تھا،
JER 34:14 ہر ساتویں سال تُمہیں لازمی ہے کہ اَپنے عِبرانی بھایٔی بہن کو جِس نے اَپنے آپ کو تُمہیں بیچ دیا ہو آزاد کردینا۔ جَب وہ مسلسل چھ سال تک تمہاری خدمت کر چُکے تو اُسے لازمی طور پر آزاد کردینا۔ لیکن تمہارے آباؤاَجداد نے نہ تو میری سُنی اَور نہ میرے حُکموں کو مانا۔
JER 34:15 حال ہی میں تُم نے تَوبہ کی اَور وُہی کام کیا جو میری نگاہ میں صحیح ہے۔ تُم میں سے ہر ایک نے اَپنے ہم وطنوں کے لیٔے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اَور تُم نے میرے حُضُور میں اُس گھر میں جو میرا کہلاتا ہے عہد بھی باندھا تھا۔
JER 34:16 لیکن اَب تُم نے برگشتہ ہوکر میرے نام کی بےحُرمتی کی۔ اَور ہر ایک نے اَپنے اُن غُلاموں اَور لونڈیوں کو جنہیں تُم نے آزاد کر دیا تھا تاکہ وہ جہاں چاہیں وہاں چلے جایٔیں، لیکن تُم نے اُنہیں پھر سے اَپنا غُلام بننے پر مجبُور کیا ہے۔
JER 34:17 ”لہٰذا یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، تُم نے میرا حُکم نہ مانا؛ تُم نے اَپنے ہم وطنوں کے لیٔے آزادی کا اعلان نہیں کیا۔ اِس لیٔے یَاہوِہ فرماتے ہیں، سُنو، مَیں تمہاری آزادی کا اعلان کرتا ہُوں، مَیں تُمہیں تلوار، وَبا اَور قحط کے حوالے ہونے کی آزادی دے رہا ہوں۔ میں تُمہیں دُنیا کی تمام سلطنتوں کی نظر میں نفرت اَنگیز بنا دُوں گا۔
JER 34:18 اَور جِن لوگوں نے میرا عہد توڑا اَور اُس عہد کی شرائط کو پُورا نہ کیا جو اُنہُوں نے میرے سامنے باندھا تھا، اُن سے میں اُس بچھڑے کی مانند سلُوک کروں گا جسے اُنہُوں نے دو ٹکڑے کئے اَور پھر اُن ٹُکڑوں کے درمیان سے ہوکر گزرے۔
JER 34:19 یعنی یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے شاہی درباری حاکموں، خواجہ سراؤں، کاہِنوں اَور مُلک کے تمام لوگوں کو جو بچھڑے کے ٹُکڑوں کے درمیان سے ہوتے ہُوئے گُزرے تھے،
JER 34:20 مَیں اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے حوالہ کروں گا جو اُن کے جانی دُشمن ہیں۔ اُن کی لاشیں ہَوا کے پرندوں اَور زمین کے جنگلی جانوروں کی خُوراک ہُوں گی۔
JER 34:21 ”اَور مَیں شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کو اَور اُس کے حاکموں کو اُن کے مُخالفوں اَور جانی دُشمنوں اَور شاہِ بابیل کی فَوج کے حوالہ کروں گا جو تمہارے سامنے سے چلی گئی ہے۔
JER 34:22 یَاہوِہ فرماتے ہیں، میں حُکم جاری کروں گا، اَور مَیں پھر اُنہیں اِس شہر میں واپس لاؤں گا۔ وہ اِس سے لڑیں گے اَور اِسے فتح کرکے جَلا ڈالیں گے۔ اَور مَیں یہُودیؔہ کے شہروں کو اَیسا اُجاڑ دُوں گا کہ وہاں کویٔی بھی آباد نہ ہونے پایٔےگا۔“
JER 35:1 یَاہوِہ کا یہ کلام یرمیاہؔ پر شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ بِن یُوشیاہؔ کے دَورِ حُکومت میں نازل ہُوا:
JER 35:2 ”ریخابیوں کے گھرانے کے پاس جاؤ اَور اُنہیں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے بغل کے کمرے میں بُلاکر مَے پیش کرو۔“
JER 35:3 تَب مَیں نے یازنیاہؔ بِن یرمیاہؔ بِن حاباصِنیاہؔ اَور اُس کے بھائیوں اَور تمام بیٹوں کو، یعنی ریخابیوں کے تمام خاندان کو ساتھ لیا۔
JER 35:4 اَور اُنہیں یَاہوِہ کے گھر میں لاکر یگِدلیاہؔ کے بیٹے حنانؔ جو ایک مَرد خُدا تھا، اُس کے کمرے میں لے آیا۔ جو حاکم کے کمرہ کے نزدیک دربان معسیاہؔ بِن شلُّومؔ کے کمرے کے اُوپر تھی۔
JER 35:5 تَب مَیں نے مَے سے لبریز پیالے اَور چند جام ریخابیوں کے خاندان کے مَردوں کے سامنے رکھے اَور اُن سے فرمایا، ”مَے نوشی کریں۔“
JER 35:6 لیکن اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہم مَے نہیں پیتے کیونکہ ہمارے آباؤاَجداد یوُنادابؔ بِن ریخابؔ نے ہمیں حُکم دیا ہے: ’تُم اَور تمہاری اَولاد کبھی مَے نوشی نہ کرنا۔
JER 35:7 اَور تُم مکانات بھی تعمیر نہ کرنا، نہ بیج بونا اَور نہ انگوری باغ لگانا؛ یہ چیزیں کبھی تمہاری مِلکیّت نہ ہوں، بَلکہ تُم ہمیشہ خیموں میں رہنا۔ تَب اُس مُلک میں جہاں تُم خانہ بدوش ہو، لمبے عرصہ تک زندہ رہوگے۔‘
JER 35:8 اِس لئے ہم نے اَپنے آباؤاَجداد یوُنادابؔ بِن ریخابؔ کا ہر حُکم مانا۔ اَور اُن کے حُکم کے مُطابق نہ ہم نے، نہ ہماری بیویوں نے، نہ ہمارے بیٹوں اَور بیٹیوں نے کبھی مَے نوشی کی ہے۔
JER 35:9 یا رہنے کے لیٔے مکانات تعمیر کئے، نہ انگوری باغ یا کھیت یا بیج رکھتے ہیں۔
JER 35:10 ہم خیموں میں رہتے آئے ہیں اَور ہم نے اَپنے آباؤاَجداد یوُنادابؔ کے دیئے ہُوئے ہر حُکم پر پُوری طرح سے عَمل کیا ہے۔
JER 35:11 لیکن جَب شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے اِس مُلک پر حملہ کیا، تَب ہم نے فیصلہ کیا، ’آؤ ہم یروشلیمؔ چلیں تاکہ کَسدیوں اَور ارامیوں کی فَوج سے بچ سکیں۔‘ یُوں ہم یروشلیمؔ میں آکر رہنے لگے۔“
JER 35:12 تَب یَاہوِہ کا کلام یرمیاہؔ پر، نازل ہُوا:
JER 35:13 ”قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، جاؤ اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں سے یُوں کہو یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ’کیا تُم سبق نہ سیکھو گے اَور میرے کلام پر عَمل نہ کروگے؟‘ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 35:14 ’جو باتیں یوُنادابؔ بِن ریخابؔ نے اَپنے بیٹوں کو کہی کہ مَے نوشی مت کرنا، اَور وہ آج کے دِن تک مَے نہیں پیتے کیونکہ وہ اَپنے آباؤاَجداد کا حُکم مانتے ہیں۔ لیکن مَیں نے تُم سے بار بار کلام کیا لیکن تُم نے میری بات نہ مانی۔
JER 35:15 بار بار مَیں نے اَپنے تمام خادِموں یعنی نبی تمہارے پاس بھیجے، جنہوں نے پیغام دیا، ”تُم میں سے ہر ایک اَپنی بُری روِشوں سے باز آئے اَور اَپنی حرکتیں دُرست کر لے؛ اَور غَیر معبُودوں کی پیروی کرکے اُن کی عبادت نہ کرے، تَب تُم اِس مُلک میں آباد رہوگے، جو مَیں نے تُمہیں اَور تمہارے آباؤاَجداد کو دیا تھا۔“ لیکن تُم نے غور نہ کیا، اَور نہ میری بات سُنی۔
JER 35:16 دیکھو، یوُنادابؔ بِن ریخابؔ کی اَولاد نے تو اَپنے آباؤاَجداد کے دئیے ہُوئے حُکم پر عَمل کیا لیکن اِس قوم نے میرا حُکم نہیں مانا۔‘
JER 35:17 ”اِس لیٔے یَاہوِہ، قادرمُطلق، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ’دیکھو، مَیں بنی یہُوداہؔ اَور یروشلیمؔ کے ہر باشِندہ پر ہر وہ مُصیبت لاؤں گا جِس کا مَیں نے اُن کے خِلاف اعلان کیا تھا۔ مَیں نے اُن سے کلام کیا لیکن اُنہُوں نے نہیں سُنا؛ مَیں نے اُنہیں بُلایا لیکن اُنہُوں نے جَواب نہ دیا۔‘ “
JER 35:18 تَب یرمیاہؔ نے ریخابیوں کے خاندان سے فرمایا: ”قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، ’تُم نے اَپنے آباؤاَجداد یوُنادابؔ کا حُکم مانا اَور اُس کی تمام ہدایات پر عَمل کیا اَور اُس کے ہر حُکم کی پیروی کی۔‘
JER 35:19 اِس لیٔے قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، ’یوُنادابؔ بِن ریخابؔ کی نَسل میں میری خدمت کرنے کے لئے ہمیشہ کسی شخص کی کمی نہیں ہوگی۔‘ “
JER 36:1 شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ بِن یُوشیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے چوتھے سال میں یَاہوِہ کا یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا،
JER 36:2 ”جِس دِن سے مَیں نے تُم سے کلام کرنا شروع کیا تھا اُس کے پہلے دِن سے یعنی یُوشیاہؔ کے دَورِ حُکومت سے لے کر آج تک جو مَیں نے تُم سے بنی اِسرائیل، یہُودیؔہ اَور دُوسری تمام قوموں کے متعلّق جو کچھ فرمایاہے، اُسے ایک طُومار لے کر اُس میں وہ سَب کلام درج کر لو۔
JER 36:3 شاید شاہِ یہُودیؔہ کے لوگ جَب اُن تمام مُصیبتوں کا حال سُنیں، جنہیں میں اُن پر نازل کرنے کا اِرادہ رکھتا ہُوں، تو اُن میں سے ہر ایک اَپنی بُری روِش سے باز آئے؛ اَور مَیں اُن کی بدکاری اَور اُن کے گُناہ کو مُعاف کر دُوں گا۔“
JER 36:4 اِس لیٔے یرمیاہؔ نے باروکؔ بِن نیریاہؔ کو بُلایا اَور باروکؔ نے یَاہوِہ کا وہ سَب کلام جو اُس نے یرمیاہؔ سے کیا تھا یرمیاہؔ کی زبان سے سُن کر طُومار میں درج کر دیا۔
JER 36:5 تَب یرمیاہؔ نے باروکؔ سے فرمایا، ”میں تو مجبُور ہُوں۔ میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں نہیں جا سَکتا۔
JER 36:6 اِس لیٔے تُم روزہ کے دِن یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جاؤ اَور یَاہوِہ کا کلام جو تُم نے مُجھ سے سُن کر اِس طُومار میں لِکھ دیا ہے، اُسے طُومار میں سے لوگوں کو پڑھ کر سُنانا، اَور جتنے لوگ یہُودیؔہ کے تمام شہروں سے آئے ہوں گے، یہ کلام اُنہیں بھی پڑھ کر سُنانا۔
JER 36:7 شاید وہ اَپنی مناجات یَاہوِہ کے حُضُور میں پیش کریں اَور ہر کویٔی اَپنی بُری روِشوں سے باز آئے کیونکہ جِس قہر اَور غضب کا یَاہوِہ نے اُن لوگوں کے خِلاف اعلان کیا ہے وہ نہایت شدید ہے۔“
JER 36:8 باروکؔ بِن نیریاہؔ نے ٹھیک یرمیاہؔ نبی کی ہدایت کے مُطابق کیا اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں طُومار میں سے یَاہوِہ کا کلام پڑھ کر سُنایا۔
JER 36:9 شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ بِن یُوشیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے پانچویں سال کے نویں مہینے میں یروشلیمؔ کے سبھی باشِندوں نے اَور یہُودیؔہ کے شہروں سے آئے ہُوئے سبھی لوگوں نے یَاہوِہ کے حُضُور میں روزے رکھنے کا اعلان کیا۔
JER 36:10 تَب باروکؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں مُنشی گمریاہؔ بِن شافانؔ کے کمرہ میں، جو اُوپر والے صحن میں تھا، یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے نئے داخلہ پھاٹک کے مدخل میں کھڑے ہوکر وہاں مَوجُود ساری جماعت کو اُس طُومار میں سے یرمیاہؔ نبی کا کلام پڑھ کر سُنایا۔
JER 36:11 جَب شافانؔ کے پوتے اَور میکایاہؔ بِن گمریاہؔ نے اُس طُومار میں سے پڑھے ہُوئے یَاہوِہ کے تمام کلام کو سُنا،
JER 36:12 تو وہ اُتر کر نیچے شاہی محل میں مُنشی کے کمرہ میں گیا جہاں تمام حاکم بیٹھے ہُوئے تھے جِن میں اِلیشمعؔ مُنشی، دِلائیاہؔ بِن شمعیاہؔ، الناتھانؔ بِن عکبورؔ، گمریاہؔ بِن شافانؔ، صِدقیاہؔ بِن حننیاہؔ اَور دُوسرے حاکم بھی بیٹھے ہُوئے تھے۔
JER 36:13 جَب میکایاہؔ نے اُنہیں وہ سَب کلام سُنایا جسے باروکؔ نے طُومار میں سے لوگوں کو پڑھ کر سُنایا تھا۔
JER 36:14 تَب سَب حاکموں نے یہُودی بِن نتنیاہؔ بِن شلمیہؔ بِن کُوشیؔ تھا، اُسے باروکؔ کے پاس یہ کہہ کر بھیجا، ”وہ طُومار لے کر چلا آ جِس میں سے تُم نے لوگوں کو پڑھ کر سُنایا ہے۔“ تَب باروکؔ بِن نیریاہؔ وہ طُومار اَپنے ہاتھ میں لے کر اُن کے پاس آیا۔
JER 36:15 اُنہُوں نے اُس سے فرمایا، ”براہِ کرم بیٹھ جا اَور اُسے ہمیں پڑھ کر سُنا۔“ چنانچہ باروکؔ نے اُنہیں اُس طُومار میں سے پڑھ کر سُنایا۔
JER 36:16 جَب اُنہُوں نے یہ سَب کلام سُنا تو خوفزدہ ہوکر ایک دُوسرے کی طرف دیکھا اَور باروکؔ سے کہا، ”ہم یقیناً یہ سَب باتیں بادشاہ سے بَیان کریں گے۔“
JER 36:17 تَب اُنہُوں نے باروکؔ سے دریافت کیا، ”ہمیں بتاؤ کہ تُم نے یہ سَب باتیں کیسے تحریر کیں؟ کیا یرمیاہؔ نے خُود اُنہیں لِکھوایا تھا؟“
JER 36:18 باروکؔ نے جَواب دیا، ”جی ہاں، وہ یہ سَب باتیں مُجھے اَپنے مُنہ سے فرماتے گئے اَور مَیں نے سیاہی سے اُسے طُومار میں لِکھ دیا۔“
JER 36:19 تَب حاکموں نے باروکؔ سے کہا، ”تُم اَور یرمیاہؔ جا کر چھُپ جاؤ اَور کسی کو پتا نہ چلے کہ تُم کہاں ہو۔“
JER 36:20 اَور وہ اُس طُومار کو اِلیشمعؔ مُنشی کے کمرہ میں رکھ کر بادشاہ کے پاس صحن میں گیٔے اَور اُسے سَب باتیں بتائیں۔
JER 36:21 تَب بادشاہ نے یہُودی کو طُومار لانے کا حُکم دیا، اَور یہُودی نے اُسے اِلیشمعؔ مُنشی کے کمرہ میں سے لاکر اُسے بادشاہ کو اَور اُن تمام حاکموں کو جو اُس کے پاس کھڑے تھے پڑھ کر سُنایا۔
JER 36:22 وہ نواں مہینہ تھا اَور بادشاہ سردیوں کے خصوصی محل میں بیٹھا ہُوا تھا اَور اُس کے سامنے انگیٹھی جَل رہی تھی۔
JER 36:23 جَب یہُودی طُومار کے تین یا چار ورق پڑھ لیتا تَب بادشاہ اُنہیں محرِّر کے چاقُو سے کاٹ لیتا اَور انگیٹھی میں پھینک دیتا تھا۔ اِس طرح سے پُورا طُومار آگ میں جَلا دیا گیا۔
JER 36:24 بادشاہ اَور اُس کے تمام حاضرین نے جنہوں نے یہ کلام سُنا، نہ تو خوف کا اِظہار کیا اَور نہ اَپنے کپڑے چاک کئے۔
JER 36:25 حالانکہ الناتھانؔ، دِلائیاہؔ اَور گمریاہؔ بادشاہ سے اِلتجا کرتے رہے کہ وہ طُومار کو نہ جَلائے لیکن بادشاہ نے اُن کی ایک نہ سُنی۔
JER 36:26 بَلکہ بادشاہ نے شہزادہ یرحمئیلؔ کو سِرایاہؔ بِن عزری ایل اَور شلمیہؔ بِن عبدی ایل کو حُکم دیا کہ وہ محرِّر باروکؔ اَور یرمیاہؔ نبی کو گِرفتار کر لیں لیکن یَاہوِہ نے اُنہیں چھُپا دیا تھا۔
JER 36:27 جَب بادشاہ نے اُس طُومار کو جَلا دیا جِس میں باروکؔ نے یرمیاہؔ کے بَیان کئے ہُوئے الفاظ تحریر کئے تھے، تَب یَاہوِہ کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا:
JER 36:28 ”تُم ایک دُوسرا طُومار لے کر اُس میں وہ تمام الفاظ پھر سے تحریر کرجو پہلے طُومار میں درج تھے جسے شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ نے جَلا دیا تھا۔
JER 36:29 اَور شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ سے یہ بھی کہہ: ’یَاہوِہ فرماتے ہیں، تُم نے اُس طُومار کو یہ کہہ کر جَلا دیا تھا، ”تُم نے اُس میں یہ کیوں لِکھا کہ شاہِ بابیل یقیناً آئے گا اَور اِس مُلک کو تباہ کرےگا اَور اِس میں نہ اِنسان باقی چھوڑے گا اَور نہ حَیوان؟“
JER 36:30 اِس لیٔے یَاہوِہ شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ کے متعلّق یُوں فرماتے ہیں، اُس کی نَسل میں سے کویٔی بھی داویؔد کے تخت پر نہ بیٹھ پایٔےگا۔ اَور اُس کی لاش باہر اَیسی پھینک دی جائے گی، جو دِن کو گرمی میں اَور رات کو پالے میں پڑی رہے گی۔
JER 36:31 میں یہُویقیمؔ کو، اُس کی اَولاد کو اَور اُس کے خادِموں کو اُن کی بدکاری کی سزا دُوں گا؛ میں اُن پر اَور یروشلیمؔ اَور یہُودیؔہ کے باشِندوں پر ہر وہ آفت نازل کروں گا، جِس کا میں اُن کے خِلاف اعلان کر چُکا ہُوں کیونکہ اُنہُوں نے میری بات نہ مانی۔‘ “
JER 36:32 چنانچہ یرمیاہؔ نے دُوسرا طُومار لیا اَور اُسے محرِّر باروکؔ بِن نیریاہؔ کو دیا، جِس پر اُس نے یرمیاہؔ کے مُنہ سے سُن کر دوبارہ وہ سَب کلام تحریر کیا جو اُس پہلے طُومار میں درج تھا جسے شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ نے آگ میں جَلا دیا تھا، اِس کے علاوہ اِس نئی طُومار میں اِسی طرح کے باقی اَور کلام بھی اُس میں شامل کر دیئے گئے۔
JER 37:1 شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے صِدقیاہؔ بِن یُوشیاہؔ کو یہُودیؔہ کا بادشاہ مُقرّر کیا جو کونیاہؔ بِن یہُویقیمؔ کی جگہ بادشاہت کرنے لگا۔
JER 37:2 لیکن نہ تو اُس نے، نہ اُس کے خادِموں نے اَور نہ مُلک کے باشِندوں نے اُس کلام پر غور کیا جو یَاہوِہ نے یرمیاہؔ نبی کی مَعرفت نازل کیا تھا۔
JER 37:3 البتّہ صِدقیاہؔ بادشاہ نے یہُوکُولؔ بِن شلمیہؔ کو اَور صفنیاہؔ بِن معسیاہؔ کاہِنؔ کے ساتھ یرمیاہؔ نبی کے پاس یہ پیغام لے کر بھیجا: ”براہِ کرم یَاہوِہ ہمارے خُدا سے ہمارے حق میں دعا کریں۔“
JER 37:4 یرمیاہؔ کو لوگوں کے درمیان آنے اَور جانے کی اِجازت تھی کیونکہ وہ اَب تک قَیدخانہ میں نہ ڈالا گیا تھا۔
JER 37:5 فَرعوہؔ کا لشکر مِصر سے روانہ ہو چُکاتھا اَور جَب کَسدیوں کو جو یروشلیمؔ کا محاصرہ کئے ہُوئے تھے اُن کے متعلّق خبر مِلی تو وہ یروشلیمؔ سے واپس چلے گیٔے۔
JER 37:6 تَب یَاہوِہ کا کلام یرمیاہؔ نبی پر نازل ہُوا:
JER 37:7 ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: شاہِ یہُودیؔہ سے جِس نے تُمہیں مُجھ سے دریافت کرنے کے لیٔے بھیجا ہے یہ کہہ، ’فَرعوہؔ کا لشکر جو تمہاری اِمداد کے لیٔے چڑھ آیا ہے اَپنے مُلک مِصر کو واپس چلا جائے گا۔
JER 37:8 تَب کَسدی لَوٹ آئیں گے اَور اِس شہر پر حملہ کریں گے۔ وہ اِسے فتح کرکے آگ سے جَلا دیں گے۔‘
JER 37:9 ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: اَپنے آپ کو یہ کہہ کر دھوکا نہ دو، ’کَسدی بے شک ہمارے پاس سے چلے جائیں گے،‘ کیونکہ وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔
JER 37:10 اَور اگرچہ تُم نے کَسدیوں کا تمام لشکر کو جو تُم سے لڑ رہی ہے شِکست بھی دی ہوتی اَور اُن کے خیموں میں صِرف زخمی لوگ ہی بچے ہوتے، تَو بھی وہ سَب نکل آتے اَور اِس شہر کو جَلا ڈالتے۔“
JER 37:11 جَب فَرعوہؔ کے لشکر کی آمد سے کَسدیوں کا لشکر یروشلیمؔ سے ڈر کر ہٹ گیا۔
JER 37:12 تَب یرمیاہؔ یروشلیمؔ شہر سے نکل کر بِنیامین کے علاقہ کو روانہ ہُوا تاکہ وہاں کے لوگوں کے درمیان اَپنی جائداد کا حِصّہ لے۔
JER 37:13 لیکن جَب یرمیاہؔ نبی بِنیامین کے پھاٹک پر پہُنچا تو اُسے وہاں پہرےداروں کے سردار شلمیہؔ بِن یرِیاہؔ بِن حننیاہؔ نے یہ کہہ کر گِرفتار کر لیا، ”تُم فرار ہوکر کَسدیوں کے پاس جا رہے ہو۔“
JER 37:14 یرمیاہؔ نے اُسے جَواب دیا، ”یہ سچ نہیں ہے! میں فرار ہوکر کَسدیوں کے پاس نہیں جا رہا ہُوں۔“ لیکن یرِیاہؔ نے اُس کی بات پر یقین نہیں کیا بَلکہ اُسے گِرفتار کرکے حاکموں کے پاس لے آیا۔
JER 37:15 حاکم یرمیاہؔ پر غُصّہ ہُوئے اَور اُسے پِٹوا کر یُوناتانؔ مُنشی کے مکان میں قَید کروایا جسے اُنہُوں نے قَیدخانہ بنا دیا تھا۔
JER 37:16 یرمیاہؔ کو تہہ خانہ کے ایک محرابی چھت کے کمرے میں قَید کیا گیا تھا جہاں وہ بہت دِنوں تک رہا۔
JER 37:17 اُس کے بعد صِدقیاہؔ بادشاہ نے اُسے آزاد کیا اَور اُسے محل میں بُلاکر پوشیدگی میں دریافت کیا، ”کیا یَاہوِہ کی طرف سے کویٔی کلام نازل ہُواہے؟“ یرمیاہؔ نے فرمایا، ”ہاں، یہ کہ آپ شاہِ بابیل کے حوالہ کر دیئے جائیں گے۔“
JER 37:18 تَب یرمیاہؔ نے صِدقیاہؔ بادشاہ سے فرمایا، ”مَیں نے آپ کے یا آپ کے حاکموں کے یا اِس قوم کے خِلاف کون سا جُرم کیا ہے جو آپ نے مُجھے قَیدخانہ میں ڈال دیا؟
JER 37:19 اِس وقت آپ کے نبی کہاں ہیں، ’جنہوں نے آپ سے نبُوّت کی تھی کہ شاہِ بابیل آپ کے اُوپر یا اِس مُلک پر حملہ نہ کرےگا‘؟
JER 37:20 لیکن اَب اَے میرے آقا و بادشاہ، براہِ کرم میری بات پر غور کریں۔ مُجھے اَپنی اِلتجا آپ کے سامنے پیش کرنے دیں۔ مُجھے واپس یُوناتانؔ مُنشی کے گھر میں نہ بھیج ورنہ میں وہاں مَر جاؤں گا۔“
JER 37:21 تَب صِدقیاہؔ بادشاہ نے حُکم دیا کہ یرمیاہؔ کو پہرے والے قَیدخانہ کے صحن میں رکھا جائے اَور جَب تک شہر کی تمام روٹی ختم نہ ہو جائے اُسے روزانہ نانبائی کے محلّہ سے روٹی لاکر دی جائے۔ چنانچہ یرمیاہؔ پہرے کے قَیدخانہ کے صحن میں رہنے لگا۔
JER 38:1 پھر شفطیاہؔ بِن متّانؔ اَور گِدلیاہؔ بِن، پشحُورؔ اَور یُوکُلؔ یا یہُوکُولؔ بِن شلمیہؔ اَور پشحُورؔ بِن ملکیاہؔ نے وہ باتیں سُنیں جو یرمیاہؔ سَب لوگوں سے بَیان کر رہے تھے،
JER 38:2 ”یَاہوِہ فرماتے ہیں: ’جو کویٔی اِس شہر میں رہے گا وہ تلوار، قحط اَور وَبا سے مَرے گا لیکن جو کویٔی کَسدیوں کے پاس چلا جائے گا وہ زندہ رہے گا۔ اَپنی جان کی امان پایٔےگا اَور زندہ رہے گا۔‘
JER 38:3 اَور یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’یہ شہر یقیناً شاہِ بابیل کی فَوج کے حوالہ کیا جائے گا جو اُسے تسخیر کر لے گا۔‘ “
JER 38:4 تَب حاکموں نے بادشاہ سے فرمایا، ”اِس شخص کو سزائے موت ملنی چاہئے کیونکہ یہ جو کچھ اِس شہر میں بچے ہُوئے فَوجیوں سے اَور تمام لوگوں سے کہہ رہاہے، اُس سے اُن کے حوصلے پست ہو رہے ہیں۔ یہ شخص اِس قوم کی خیرسگالی نہیں چاہتا بَلکہ اُن کی تباہی کا خواہاں ہے۔“
JER 38:5 صِدقیاہؔ بادشاہ نے فرمایا، ”وہ تمہارے ہاتھ میں ہے تُم اُس کے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کرو، بادشاہ تُمہیں ہرگز نہ روکے گا۔“
JER 38:6 تَب اُنہُوں نے یرمیاہؔ کو لے کر بادشاہ کے شہزادہ ملکیاہؔ کے حوض میں ڈال دیا جو پہرے والے قَیدخانہ کے صحن میں تھا۔ اُنہُوں نے یرمیاہؔ کو رسّیوں کی مدد سے حوض میں اُتارا۔ اُس میں پانی نہ تھا، صِرف کیچڑ تھا اَور یرمیاہؔ اُس کیچڑ میں دھنس گیا۔
JER 38:7 لیکن کُوشی عبیدؔ ملِکؔ نے جو شاہی محل میں حاکم مُقرّر تھا اُسے مَعلُوم ہُوا کہ اُنہُوں نے یرمیاہؔ کو تاریک حوض میں ڈال دیا ہے۔ اُس وقت بادشاہ بِنیامین کے پھاٹک پر بیٹھا ہُوا تھا۔
JER 38:8 تَب عبیدؔ ملِکؔ نے شاہی محل سے باہر نکل کر بادشاہ کے پاس آکر اُس سے درخواست کی،
JER 38:9 ”اَے بادشاہ، میرے آقا، اِن لوگوں نے یرمیاہؔ نبی کے ساتھ جو حرکت کی ہے وہ نہایت بُری ہے۔ اُنہُوں نے اُسے حوض میں پھینک دیا ہے جہاں وہ بھُوک سے مَر جائے گا کیونکہ شہر میں اَب روٹی بھی نہیں بچی ہے۔“
JER 38:10 تَب بادشاہ نے کُوشی عبیدؔ ملِکؔ کو حُکم دیا، ”یہاں سے تیس آدمی اَپنے ساتھ لے اَور اِس سے پہلے کہ وہ مَر جائے یرمیاہؔ نبی کو حوض سے باہر نکال لے۔“
JER 38:11 اِس لیٔے عبیدؔ ملِکؔ اُن آدمیوں کو ساتھ لے کر شاہی محل میں خزانہ کے نیچے کے کمرے میں گیا۔ اَور اُس نے وہاں سے کچھ پُرانے چیتھڑے اَور خارج پُرانے کپڑے لے کر اُنہیں رسّیوں کی مدد سے حوض میں یرمیاہؔ کے پاس لٹکا دیا۔
JER 38:12 اَور کُوشی عبیدؔ ملِکؔ نے یرمیاہؔ سے کہا، ”اِن پُرانے چیتھڑے اَور خارج پُرانے کپڑوں کو اَپنی بغل میں رکھ تاکہ رسّی کے لیٔے گدّی کا کام کرے۔“ اَور یرمیاہؔ نے وَیسا ہی کیا۔
JER 38:13 اَور اُنہُوں نے اُسے رسّیوں سے کھینچا اَور حوض سے باہر نکالا؛ اَور یرمیاہؔ پہرے کے قَیدخانہ کے صحن میں رہنے لگا۔
JER 38:14 تَب صِدقیاہؔ بادشاہ نے یرمیاہؔ نبی کے پاس پیغام بھیجا اَور اُسے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے تیسرے مدخل پر اَپنے پاس بُلایا؛ بادشاہ نے یرمیاہؔ سے فرمایا، ”میں تُم سے کچھ پُوچھنا چاہتا ہُوں، مُجھ سے کچھ بھی پوشیدہ نہ رکھ۔“
JER 38:15 یرمیاہؔ نے صِدقیاہؔ بادشاہ سے کہا، ”اگر مَیں آپ کو جَواب دُوں تو کیا آپ مُجھے مار نہ ڈالیں گے؟ اَور اگر مَیں آپ کو کچھ صلاح بھی دُوں تو آپ میری بات نہ مانیں گے۔“
JER 38:16 لیکن صِدقیاہؔ بادشاہ نے تنہائی میں یرمیاہؔ سے یہ قَسم کھائی: ”زندہ یَاہوِہ کی قَسم جِس نے ہمیں جان بخشی ہے، نہ میں تُمہیں قتل کروں گا، نہ اُن لوگوں کے حوالہ کروں گا جو تمہارے جانی دُشمن ہیں۔“
JER 38:17 تَب یرمیاہؔ نے صِدقیاہؔ سے کہا، ”قادرمُطلق یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، ’اگر آپ شاہِ بابیل کے حاکموں کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں گے تو آپ کی جان بخشی جائے گی اَور یہ شہر جَلایا نہ جائے گا اَور آپ اَور آپ کا خاندان زندہ رہے گا۔
JER 38:18 لیکن اگر آپ شاہِ بابیل کے حاکموں کے آگے سرِ تسلیم خم نہ کریں گے تو آپ اَور یہ شہر کَسدیوں کے حوالہ کئے جائیں گے اَور وہ اُسے جَلا ڈالیں گے اَور آپ خُود اُن کے ہاتھوں سے بچ کر نکل نہ سکیں گے۔‘ “
JER 38:19 صِدقیاہؔ بادشاہ نے یرمیاہؔ سے فرمایا، ”میں اُن یہُودیوں سے ڈرتا ہُوں جو کَسدیوں سے جا ملے ہیں کیونکہ شاید کَسدی مُجھے اُن کے حوالہ کر دیں اَور وہ مُجھ سے بُرا سلُوک کریں۔“
JER 38:20 یرمیاہؔ نے فرمایا، وہ آپ کو اُن کے حوالہ نہ کریں گے۔ یَاہوِہ کے حُکم پر عَمل کیجئے اَورجو میں کہتا ہُوں وہ کیجئے۔ تَب آپ کا بھلا ہوگا اَور آپ کی جان بچ جائے گی۔
JER 38:21 لیکن اگر آپ نے اِطاعت قبُول کرنے سے اِنکار کیا، تو یَاہوِہ نے جو کلام مُجھ پر نازل کیا ہے وہ یہ ہے،
JER 38:22 شاہِ یہُودیؔہ کے محل میں بچی ہُوئی تمام عورتیں شاہِ بابیل کے حاکموں کے پاس پہُنچائی جایٔیں گی اَور وہ آپ سے کہیں گی: ” ’تمہارے قریبی دوستوں نے تُمہیں فریب دیا، اَور وہ تُم پر غالب آ گیٔے۔ اَور جَب تمہارے پاؤں دلدل میں دھنس گیٔے تھے؛ تَب تمہارے دوستوں نے تمہارا ساتھ چھوڑ دیا۔‘
JER 38:23 ”تمہاری تمام بیویاں اَور بچّے کَسدیوں کے پاس پہُنچائے جایٔیں گے۔ تُم خُود اُن کے ہاتھ سے بچ نہ سکوگے بَلکہ شاہِ بابیل تُمہیں گِرفتار کر لے گا اَور یہ شہر جَلا دیا جائے گا۔“
JER 38:24 تَب صِدقیاہؔ نے یرمیاہؔ سے فرمایا، ”یہ بات چیت کویٔی جاننے نہ پایٔے ورنہ تُم مارے جاؤگے۔
JER 38:25 اگر حاکم یہ سُن کر کہ مَیں نے تُم سے بات چیت کی تمہارے پاس آکر پوچھیں، ’ہمیں بتاؤ کہ تُم نے بادشاہ سے کیا فرمایا اَور بادشاہ نے تُم سے کیا فرمایا؛ ہم سے نہ چھُپا ورنہ ہم تُمہیں مار ڈالیں گے۔‘
JER 38:26 تَب اُن سے کہنا، ’مَیں بادشاہ سے اِلتجا کر رہاتھا کہ وہ مُجھے واپس یُوناتانؔ کے گھر مرنے کے لیٔے نہ بھیجے۔‘ “
JER 38:27 تَب تمام حاکم یرمیاہؔ کے پاس آئے اَور اُس سے دریافت بھی کیا لیکن یرمیاہؔ نے اُنہیں وُہی بتایا جِس کا بادشاہ نے اُسے حُکم دیا تھا۔ اِس لیٔے اُنہُوں نے مزید کچھ نہ فرمایا کیونکہ کسی نے بادشاہ کے ساتھ اُس کی بات چیت نہیں سُنی تھی۔
JER 38:28 اِس طرح یروشلیمؔ تسخیر ہونے تک یرمیاہؔ پہرا کے قَیدخانہ کے صحن میں رہا۔
JER 39:1 یروشلیمؔ اِس طرح سے تسخیر کر لیا گیا، شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے نویں سال کے دسویں مہینے میں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے اَپنے تمام لشکر کے ساتھ یروشلیمؔ پر حملہ کیا اَور اُس کا محاصرہ کیا۔
JER 39:2 اَور صِدقیاہؔ بادشاہ کے دَورِ حُکومت کے گیارھویں سال کے چوتھے مہینے کے نویں دِن، شہر کی فصیل توڑ دی گئی۔
JER 39:3 تَب شاہِ بابیل کے تمام حاکم اَندر داخل ہُوئے اَور درمیانی پھاٹک پر بیٹھ گیٔے یعنی شمگرؔ کا نیرگلؔ شاریضرؔ، اَور اعلیٰ افسر نبوؔ سارسیکم، جو افسران میں اعلیٰ تھا، جِن میں نیرگلؔ شاریضرؔ شاہِ بابیل کا مُشیر تھا۔
JER 39:4 جَب شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ اَور تمام فَوجیوں نے اُنہیں دیکھا تو وہ فرار ہو گیٔے اَور دو دیواروں کے درمیانی پھاٹک سے شاہی باغ کی راہ سے رات ہی رات شہر سے فرار ہوکر وادی عراباہؔ کی جانِب فرار ہُوئے۔
JER 39:5 لیکن کَسدی لشکر نے اُن کا تعاقب کیا اَور صِدقیاہؔ کو یریحوؔ کے میدان میں پکڑ لیا۔ اُنہُوں نے اُسے گِرفتار کر لیا اَور شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے پاس حماتؔ کے علاقہ میں رِبلہؔ لے گیٔے جہاں اُس نے اُس پر سزا کا حُکم صادر کیا۔
JER 39:6 تَب شاہِ بابیل نے صِدقیاہؔ کے بیٹوں کو اُسی کی آنکھوں کے سامنے رِبلہؔ میں قتل کیا اَور یہُودیؔہ کے تمام اُمرا کو بھی قتل کیا۔
JER 39:7 پھر اُس نے صِدقیاہؔ کی آنکھیں نکال لیں اَور اُسے کانسے کی زنجیروں میں جکڑ کر بابیل لے گیا۔
JER 39:8 کَسدیوں نے شاہی محل کو اَور لوگوں کے مکانات کو آگ لگا دی اَور یروشلیمؔ کی فصیلوں کو ڈھا دیا۔
JER 39:9 شاہی پہرےداروں کے سردار نبوزرادانؔ نے شہر میں بچے ہُوئے لوگوں کو اَورجو اُس سے جا ملے تھے اُنہیں اَور باقی کے لوگوں کو جَلاوطن کرکے بابیل لے گیا۔
JER 39:10 لیکن شاہی پہرےداروں کے سردار نبوزرادانؔ نے یہُودیؔہ کے مُلک میں چند غریب لوگوں کو جِن کے پاس کچھ بھی نہ تھا اُنہیں مُلک میں رہنے دیا اَور اُس نے اُنہیں انگوری باغ اَور کھیت سُپرد کئے۔
JER 39:11 اَب شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے شاہی پہرےداروں کے نبوزرادانؔ سردار کی مَعرفت یرمیاہؔ کے متعلّق یہ اَحکام جاری کئے،
JER 39:12 ”اُسے لے کر اُس کی دیکھ بھال کرنا۔ اُسے کسی قِسم کی اِیذا نہ پہچانا بَلکہ جَیسا وہ تُم سے کہے وَیسا ہی سلُوک اُس کے ساتھ کرنا۔“
JER 39:13 چنانچہ شاہی پہرےداروں کے سردار نبوزرادانؔ؛ ایک اعلیٰ افسر نبوشازبانؔ اَور شاہِ بابیل کا مُشیر نیرگلؔ شاریضرؔ اَور شاہِ بابیل کے دُوسرے تمام حاکموں نے
JER 39:14 لوگوں کو بھیج کر یرمیاہؔ کو پہرا کے قَیدخانہ کے صحن سے نکلوا لیا۔ اُنہُوں نے اُسے گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ بِن شافانؔ کے سُپرد کر دیا تاکہ وہ اُسے اَپنے گھر لے جائے۔ تَب وہ اَپنے ہی لوگوں کے ساتھ رہنے لگا۔
JER 39:15 جَب یرمیاہؔ پہرا کے قَیدخانہ کے صحن میں قَید تھا تَب یَاہوِہ کا کلام اُس پر نازل ہُوا،
JER 39:16 ”جاؤ اَور کُوشی عبیدؔ ملِکؔ سے کہو، ’قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، میں اِس شہر کے خِلاف کہی ہُوئی اَپنی باتیں پُوری کرنے کو ہُوں لیکن مُصیبت کے ذریعہ نہ کہ بہبودی کے ذریعہ۔ اُس وقت وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے پُوری ہُوں گی۔
JER 39:17 لیکن اُس دِن میں تُمہیں بچا لُوں گا۔ یہ یَاہوِہ نے فرمایاہے۔ تُم اُن لوگوں کے حوالہ نہ کئے جاؤگے جِن سے تُم ڈرتے ہو۔
JER 39:18 یَاہوِہ فرماتے ہیں، میں تُمہیں ضروُر بچاؤں گا۔ تُم تلوار سے مارے نہ جاؤگے بَلکہ تمہاری جان تمہارے لئے غنیمت ہوگی کیونکہ تمہارا توکّل مُجھ پر ہے یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔‘ “
JER 40:1 جَب شاہی پہرےداروں کے سردار نبوزرادانؔ نے یرمیاہؔ کو یروشلیمؔ اَور یہُودیؔہ کے تمام اسیروں کے درمیان زنجیروں سے جکڑا ہُوا دیکھا جنہیں جَلاوطن ہوکر یروشلیمؔ سے بابیل لے جایا جا رہاتھا، تَب اُس نے یرمیاہؔ کو رامہؔ میں آزاد کر دیا، تَب اُس وقت یَاہوِہ کا یہ کلام اُس پر نازل ہُوا۔
JER 40:2 جَب پہرےداروں کا سردار یرمیاہؔ سے مِلا تو اُس نے کہا، ”یَاہوِہ تمہارے خُدا نے یہ مُصیبت اِس جگہ پر مُقرّر کی تھی۔
JER 40:3 اِس لئے اَب یَاہوِہ نے اُسے نازل کیا ہے۔ اُنہُوں نے ٹھیک اَپنے قول کے مُطابق کیا۔ کیونکہ تُم لوگوں نے یَاہوِہ کے خِلاف گُناہ کیا اَور اُن کا حُکم نہ مانا۔
JER 40:4 لیکن آج مَیں تُمہیں اِن ہتھکڑیوں سے جو تمہارے ہاتھوں میں ہیں رِہائی دیتا ہُوں۔ اگر تُم چاہو تو میرے ساتھ بابیل چلو اَور مَیں تمہاری دیکھ بھال کروں گا۔ لیکن اگر تُم نہ جانا چاہو تو تمہاری مرضی۔ سارا مُلک تمہارے سامنے ہے۔ جہاں تمہاری مرضی چاہے وہاں تُم جا سکتے ہو۔“
JER 40:5 اِس سے قبل کہ یرمیاہؔ جانے کے لیٔے مُڑتا، نبوزرادانؔ نے کہا، ”گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ بِن شافانؔ کے پاس واپس چلے جاؤ جسے شاہِ بابیل نے یہُودیؔہ کے شہروں کے اُوپر حُکمران مُقرّر کیا ہے اَور لوگوں کے درمیان اُس کے پاس رہ یا پھر اَپنی مرضی سے کہیں اَور چلے جاؤ۔“ تَب سردار نے اُسے توشہ سفر اَور اِنعام دے کر روانہ کیا۔
JER 40:6 تَب یرمیاہؔ گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ کے پاس مِصفاہؔ کو چلا گیا اَور وہاں وہ اُس کے ساتھ اُن لوگوں کے درمیان رہنے لگا جو مُلک میں بچے رہ گیٔے تھے۔
JER 40:7 جَب تمام لشکر کے افسروں اَور اُن کے فَوجیوں نے جو اَب تک دیہاتوں میں تھے یہ سُنا کہ شاہِ بابیل نے گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ کو مُلک کا حاکم مُقرّر کیا ہے اَور مُلک کے غریب مَردوں، عورتوں اَور بچّوں کو، جنہیں جَلاوطن کرکے بابیل نہیں لے جایا گیا تھا اُسے سُپرد کر دیا ہے،
JER 40:8 تو اِشمعیل بِن نتنیاہؔ، قاریحؔ کے بیٹے یوحانانؔ اَور یُوناتانؔ، سِرایاہؔ بِن تنحُومیتؔ اَور عیفیؔ نطُوفاتی اَور یازنیاہؔ بِن معکاتی اَور اُن کے لوگ مِصفاہؔ میں گِدلیاہؔ سے مِلنے آئے۔
JER 40:9 گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ بِن شافانؔ نے اُنہیں اَور اُن کے فَوجیوں کو یقین دِلانے کے لیٔے قَسم کھائی۔ اُس نے کہا، ”کَسدیوں کی خدمت کرنے سے نہ ڈرو۔ اِسی مُلک میں سکونت کرو اَور شاہِ بابیل کی خدمت کرتے رہو، اِسی میں تمہاری خیریت ہے
JER 40:10 میں خُود مِصفاہؔ میں رہُوں گا تاکہ جو کَسدی ہمارے پاس آئیں گے اُن کے پاس تمہاری نُمائندگی کروں۔ لیکن تُم مَے، گرمی کے میوے اَور تیل حاصل کرکے اَپنے برتنوں میں رکھو اَور اُن شہروں میں بسو جنہیں تُم نے حاصل کیا ہے۔“
JER 40:11 جَب مُوآب، عمُّون، اِدُوم اَور دُوسرے تمام مُلکوں کے یہُودیوں نے سُنا کہ شاہِ بابیل نے باقی بچے لوگوں کو یہُودیؔہ میں رہنے دیا ہے اَور گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ بِن شافانؔ کو وہاں کا حاکم مُقرّر کیا ہے۔
JER 40:12 تو وہ سَب اُن تمام ممالک سے جہاں وہ پراگندہ ہو چُکے تھے لَوٹ کر یہُودیؔہ کے مُلک میں مِصفاہؔ میں آئے اَور گِدلیاہؔ سے ملے اَور کثرت سے مَے اَور موسمِ گرما کے میوے جمع کئے۔
JER 40:13 یوحانانؔ بِن قاریحؔ اَور تمام لشکر کے افسر جو اَب تک دیہاتوں میں تھے مِصفاہؔ میں گِدلیاہؔ کے پاس آئے،
JER 40:14 اَور اُس سے کہا، ”کیا آپ نہیں جانتے کہ بنی عمُّون کے بادشاہ بعلیسؔ نے اِشمعیل بِن نتنیاہؔ کو آپ کو جان سے مارنے کے لیٔے بھیجا ہے؟“ لیکن گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ نے اُن کا یقین نہ کیا۔
JER 40:15 تَب یوحانانؔ بِن قاریحؔ نے مِصفاہؔ میں گِدلیاہؔ سے تنہائی میں کہا، ”مُجھے اِجازت دیجئے کہ جا کر اِشمعیل بِن نتنیاہؔ کو قتل کر دُوں اَور کسی کو خبر بھی نہ ہوگی۔ وہ کیوں آپ کی جان لے اَور تمام یہُودیوں کو جو آپ کے اِردگرد جمع ہُوئے ہیں اُنہیں پراگندہ ہونے دیں اَور یہُودیؔہ کے باقی بچے لوگوں کو تباہ کرے؟“
JER 40:16 گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ نے یوحانانؔ بِن قاریحؔ سے کہا، ”تُم اَیسی کویٔی حرکت ہرگز نہ کرنا، کیونکہ تُم جو اِشمعیل کے بارے میں کہہ رہے ہو وہ سچ نہیں ہے۔“
JER 41:1 ساتویں مہینے میں یُوں ہُوا کہ اِشمعیل بِن نتنیاہؔ بِن اِلیشمعؔ جو شاہی نَسل سے تھا اَور بادشاہ کے سرداروں میں سے تھا، دس آدمیوں کے ساتھ مِصفاہؔ میں گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ کے پاس آیا؛ اَور جَب وہ ساتھ میں مِل کر وہاں کھانا کھا رہے تھے،
JER 41:2 تبھی اِشمعیل بِن نتنیاہؔ اَور وہ دس آدمی جو اُس کے ساتھ تھے اُٹھے اَور گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ بِن شافانؔ کو جسے شاہِ بابیل نے مُلک کا حاکم مُقرّر کیا تھا، تلوار سے حملہ کرکے اُسے قتل کر دیا۔
JER 41:3 اَور اِشمعیل نے گِدلیاہؔ کے ساتھ جتنے یہُودی مِصفاہؔ میں تھے اَورجو کَسدی فَوجی وہاں مَوجُود تھے اُن سَب کو قتل کر دیا۔
JER 41:4 گِدلیاہؔ کے مارے جانے کے دُوسرے دِن جَب کسی کو اِس حادثہ کا علم بھی نہ تھا،
JER 41:5 شِکیمؔ سے، شیلوہؔ سے اَور سامریہؔ سے اسّی آدمی داڑھی مُنڈائے کپڑے پھاڑے ہُوئے اَور اَپنے جِسم کو زخمی کئے اَور ہدیئے اَور بخُور ہاتھ میں لیٔے ہُوئے وہاں آئے تاکہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں نذر کریں۔
JER 41:6 اَور اِشمعیل بِن نتنیاہؔ مِصفاہؔ سے اُن کے اِستِقبال کو نِکلا اَور روتے ہُوئے چلا؛ اَور جَب وہ اُن سے مِلا تو اُن سے کہنے لگا، ”گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ کے پاس چلو۔“
JER 41:7 اَور پھر جَب وہ شہر کے وَسط میں پہُنچے، تَب اِشمعیل بِن نتنیاہؔ اَور اُس کے ساتھیوں نے اُنہیں قتل کرکے حوض میں پھینک دیا۔
JER 41:8 لیکن اُن میں سے دس آدمیوں نے اِشمعیل سے اِلتجا کی، ”ہمیں قتل نہ کر! کیونکہ ہم نے گیہُوں اَور جَو، تیل اَور شہد کے ذخیرہ کھیتوں میں چھُپا رکھّے ہیں۔“ لہٰذا اُس نے اُنہیں چھوڑ دیا اَور دُوسروں کے ساتھ قتل نہ کیا۔
JER 41:9 یہ وُہی حوض تھا جِس میں اِشمعیل بِن نتنیاہؔ نے اُن لوگوں کی لاشوں کو پھینک دیا تھا جنہیں اُس نے گِدلیاہؔ کے ساتھ قتل کیا تھا، جسے آساؔ بادشاہ نے شاہِ اِسرائیل بعشاؔ سے بچاؤ کرنے کی خاطِر تعمیر کروایا تھا۔ اِشمعیل بِن نتنیاہؔ نے اُسے مُردوں کی لاشوں سے بھر دیا تھا۔
JER 41:10 مِصفاہؔ میں جتنے لوگ باقی بچے تھے یعنی شاہزادیاں اَور وہ لوگ جنہیں شاہی پہرےداروں کے سردار نبوزرادانؔ نے گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ کے سُپرد کیا تھا اُن سَب کو اِشمعیل نے اسیر کر لیا۔ اِشمعیل بِن نتنیاہؔ اُنہیں اسیر کرکے عمُّونیوں کے پاس لے جانے کے لیٔے روانہ ہُوا۔
JER 41:11 لیکن جَب یوحانانؔ بِن قاریحؔ نے اَور لشکر کے سَب سرداروں نے جو اُس کے ساتھ تھے اِشمعیل بِن نتنیاہؔ کے کارناموں کو جو اُس نے کئے تھے سُنا،
JER 41:12 تو وہ اَپنے سبھی لوگوں کو ساتھ لے کر اِشمعیل بِن نتنیاہؔ سے لڑنے کو نکل پڑے اَور اُسے گِبعونؔ کے بڑے تالاب کے پاس پکڑ لیا۔
JER 41:13 وہ سَب لوگ جو اِشمعیل کے ساتھ تھے یوحانانؔ بِن قاریحؔ اَور فَوجی افسروں کو دیکھا تو وہ خُوش ہُوئے۔
JER 41:14 وہ تمام لوگ جنہیں اِشمعیل مِصفاہؔ سے پکڑکر لے گیا تھا واپس کر یوحانانؔ بِن قاریحؔ سے جا ملے۔
JER 41:15 لیکن اِشمعیل بِن نتنیاہؔ اَور اُس کے آٹھ ساتھی یوحانانؔ کے ہاتھ سے بچ نکلے اَور عمُّونیوں کے پاس بھاگ گیٔے۔
JER 41:16 تَب یوحانانؔ بِن قاریحؔ اَور وہ فَوجی افسر جو اُس کے ساتھ تھے، سَب اُن باقی بچے ہُوئے لوگوں کو چھُڑا کر واپس لایٔے جنہیں اِشمعیل بِن نتنیاہؔ، گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ کو قتل کرنے کے بعد مِصفاہؔ سے اسیر کرکے لے گیا تھا یعنی اُن فَوجی مَردوں، عورتوں، بچّے اَور شاہی درباری حاکموں کو جنہیں وہ گِبعونؔ سے واپس لایاتھا۔
JER 41:17 اَور وہ مِصر کی طرف جاتے ہُوئے بیت لحمؔ کے قریب گیروت کِمہامؔ میں رُک گئے،
JER 41:18 کیونکہ وہ کَسدیوں سے ڈرتے تھے؛ کیونکہ اِشمعیل بِن نتنیاہؔ نے گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ کو قتل کر دیا تھا جسے شاہِ بابیل نے مُلک پر حاکم مُقرّر کیا تھا۔
JER 42:1 تَب تمام فَوجی افسر اَور یوحانانؔ بِن قاریحؔ اَور عزریاہؔ بِن ہوشعیاہؔ اَور ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک سبھی لوگ
JER 42:2 یرمیاہؔ نبی کے پاس پہُنچے اَور اُن سے مِنّت کی، ”ہماری درخواست سُن اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا سے اُن تمام باقی بچے ہُوئے لوگوں کی خاطِر دعا کر کیونکہ جَیسا کہ آپ دیکھ رہے ہو، کسی زمانہ میں ہم بہت تھے لیکن اَب چند ہی باقی بچے ہیں۔
JER 42:3 دعا کرو تاکہ یَاہوِہ آپ کے خُدا ہمیں بتائیں کہ ہم کس راستے پر چلیں اَور کیا کریں۔“
JER 42:4 یرمیاہؔ نبی نے فرمایا، ”مَیں نے تمہاری سُنی ہے۔ میں یقیناً تمہارے کہنے کے مُطابق یَاہوِہ تمہارے خُدا سے دعا کروں گا اَورجو کچھ جَواب یَاہوِہ تمہارے لیٔے دیں گے وہ میں تُمہیں بتاؤں گا اَور تُم سے کچھ نہ چھُپاؤں گا۔“
JER 42:5 تَب اُنہُوں نے یرمیاہؔ سے درخواست کی، ”اگر ہم ہر بات پرجو یَاہوِہ تمہارے خُدا نے تمہاری مَعرفت بتایٔی ہے عَمل نہ کریں تو یَاہوِہ ہمارے خِلاف سچّا اَور وفادار گواہ ٹھہریں۔
JER 42:6 خواہ وہ ہمارے حق میں بھلا ہو یا بُرا ہم یَاہوِہ اَپنے خُدا کا حُکم مانیں گے جِس کے پاس ہم آپ کو بھیجتے ہیں تاکہ جَب ہم اَپنے خُدا یَاہوِہ کی فرمانبرداری کریں تو ہمارا بھلا ہو۔“
JER 42:7 دس دِن کے بعد یَاہوِہ کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا۔
JER 42:8 چنانچہ یرمیاہؔ نے یوحانانؔ بِن قاریحؔ کو، تمام فَوجی افسروں کو جو اُس کے ساتھ تھے اَور ادنیٰ سے اعلیٰ تک سبھی لوگوں کو اَپنے پاس بُلاکر،
JER 42:9 اُن سے فرمایا، ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیلؔ کے خُدا جِن کے پاس تُم نے مُجھے اَپنی درخواست کے ساتھ بھیجا تھا وہ یُوں فرماتے ہیں،
JER 42:10 اگر تُم اِس مُلک میں ٹھہرے رہوگے تو میں تُمہیں قائِم رکھوں گا، برباد نہیں کروں گا؛ میں تُمہیں لگاؤں گا، اُکھاڑوں گا نہیں۔ کیونکہ جو تباہی مَیں نے تُم پر آنے دی اُس سے مُجھے دُکھ ہُواہے۔
JER 42:11 شاہِ بابیل کا خوف نہ کرو جِس سے کہ اَب تُم ڈر رہے ہو۔ اُس سے نہ ڈرو۔ یَاہوِہ فرماتے ہیں؛ کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ ہُوں اَور تُمہیں بچاؤں گا اَور اُس کے ہاتھ سے تُمہیں چھُڑا لُوں گا۔
JER 42:12 میں تُم پر رحم کروں گا تاکہ وہ تُم پر رحم کرے اَور تُمہیں تمہارے مُلک میں بحال کرے۔
JER 42:13 ”لیکن اگر تُم کہو، ’ہم اِس مُلک میں نہ رہیں گے،‘ اَور اِس طرح سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کا حُکم نہ مانیں گے؛
JER 42:14 اَور اگر تُم کہو، ’نہیں، ہم مِصر میں جا کر بسیں گے جہاں ہم جنگ نہ دیکھنے پائیں گے، نہ نرسنگے کی آواز سُنیں یا روٹی کے بھُوکے ہوں گے،‘
JER 42:15 تو اَے بنی یہُوداہؔ کے باقی بچے ہُوئے لوگوں! یَاہوِہ کا کلام سُنو، قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ’اگر تُم واقعی مِصر میں جا کر آباد ہونے پر آمادہ ہو،
JER 42:16 تو یُوں ہوگا کہ جِس تلوار سے تُم ڈرتے ہو وہ مِصر میں وہاں تُم پر غالب آئے گی اَور وہ قحط جِس کا تُمہیں خوف ہے مِصر تک تمہارا تعاقب کرےگا اَور وہاں تُم مَر جاؤگے۔
JER 42:17 یقیناً وہ سَب لوگ جو مِصر میں جا کر بس جانا چاہتے ہیں تلوار، قحط اَور وَبا سے مَر جایٔیں گے اَور اُن میں سے ایک بھی اُس آفت سے بچ نہ سکےگا جو میں اُن پر لاؤں گا۔‘
JER 42:18 کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ’جِس طرح میرا غُصّہ اَور قہر اُن لوگوں پر اُنڈیلا گیا جو یروشلیمؔ میں رہتے تھے اُسی طرح سے جَب تُم مِصر جاؤگے تَب میرا قہر تُم لوگوں پر اُنڈیلا جائے گا۔ تُم لعنت و حیرت اَور ملامت اَور طَعنہ زنی کا باعث ہوگے اَور تُم پھر کبھی یہ جگہ دیکھ نہ پاؤگے۔‘
JER 42:19 ”اَے بنی یہُوداہؔ کے باقی بچے ہُوئے لوگوں، یَاہوِہ نے تُم سے فرمایاہے، ’مِصر میں نہ جاؤ۔‘ یقین جانو کہ میں آج تُم کو جتا رہا ہُوں۔
JER 42:20 جَب تُم نے مُجھے یَاہوِہ تمہارے خُدا کے پاس یہ کہہ کر بھیجا، ’یَاہوِہ ہمارے خُدا سے دعا کر اَور وہ جو کچھ کہے ہم سے کہہ تاکہ ہم اُس پر عَمل کریں تو تُم نے بڑی غلطی کی۔‘
JER 42:21 مَیں نے آج تُمہیں بتا دیا ہے لیکن اَب تک تُم نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کا حُکم نہیں مانا جو اُنہُوں نے میری مَعرفت تمہارے پاس بھیجا تھا۔
JER 42:22 پس اَب یقین جانو کہ تُم جہاں جا کر آباد ہونا چاہتے ہو وہاں تلوار، قحط اَور وَبا سے مروگے۔“
JER 43:1 جَب یرمیاہؔ اُن کے خُدا یَاہوِہ کی سَب باتیں لوگوں سے بَیان کر چُکا یعنی ہر وہ بات جسے بَیان کرنے کے لیٔے یَاہوِہ نے یرمیاہؔ کو اُن کے پاس بھیجا تھا۔
JER 43:2 تَب عزریاہؔ بِن ہوشعیاہؔ اَور یوحانانؔ بِن قاریحؔ اَور تمام مغروُر لوگوں نے یرمیاہؔ سے یُوں کہا، ”تُم جھُوٹ بولتے ہو، یَاہوِہ ہمارے خُدا نے تُمہیں یہ کہنے کو نہیں بھیجا، ’مِصر میں رہنے کے لیٔے مت جاؤ۔‘
JER 43:3 بَلکہ باروکؔ بِن نیریاہؔ تُمہیں ہمارے خِلاف اُکساتا ہے کہ تُم ہمارے مُخالف ہو جاؤ تاکہ ہمیں کَسدیوں کے حوالہ کیا جائے اَور وہ ہمیں قتل کریں اَور جَلاوطن کرکے بابیل کو لے جایٔیں۔“
JER 43:4 چنانچہ یوحانانؔ بِن قاریحؔ اَور تمام فَوجی افسروں اَور سَب لوگوں نے یَاہوِہ کا یہ حُکم نہ مانا کہ وہ مُلکِ یہُودیؔہ میں ہی رہیں۔
JER 43:5 بَلکہ یوحانانؔ بِن قاریحؔ اَور تمام فَوجی افسروں، بنی یہُوداہؔ کے باقی بچے ہُوئے اُن لوگوں کو بھی لے گیٔے جو تمام قوموں سے جہاں اُن کو پراگندہ کیا گیا تھا واپس لَوٹ کر یہُودیؔہ میں رہنے کے لیٔے آئےتھے۔
JER 43:6 وہ یرمیاہؔ نبی اَور باروکؔ بِن نیریاہؔ کو بھی اُن تمام مَردوں، عورتوں، بچّوں اَور شہزادیوں کے ساتھ لے گیٔے جنہیں شاہی پہرےداروں کے سردار نبوزرادانؔ نے گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ بِن شافانؔ کے پاس چھوڑا تھا۔
JER 43:7 چنانچہ وہ یَاہوِہ کے حُکم کے خِلاف مِصر میں داخل ہُوئے اَور تحفنحِیسؔ تک جا پہُنچے۔
JER 43:8 تَب تحفنحِیسؔ میں یَاہوِہ کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا،
JER 43:9 ”اَپنے ساتھ چند بڑے پتّھر لے اَور یہُودیوں کی آنکھوں کے سامنے اُنہیں اینٹ کے چبُوترے میں جو تحفنحِیسؔ میں فَرعوہؔ کے محل کے مدخل کے پاس ہے مٹّی میں دفنا دے۔
JER 43:10 تَب اُن لوگوں سے کہنا، ’قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، مَیں اَپنے خادِم شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کو بُلاؤں گا اَور مَیں اُس کا تخت اِن پتّھروں پر رکھوں گا جنہیں مَیں نے یہاں لگوایا ہے اَور وہ اَپنا شاہی قالین اُن کے اُوپر بچھائے گا۔
JER 43:11 اَور وہ آکر مِصر کو شِکست دے گا اَورجو مرنے والے ہیں اُنہیں موت کے اَورجو اسیر ہونے والے ہوں اُنہیں اسیری کے اَورجو تلوار کے لیٔے مخصُوص کئے گیٔے ہوں اُنہیں تلوار کے حوالہ کرےگا۔
JER 43:12 مَیں مِصر کے معبُودوں کے بُت خانوں میں آگ لگا دُوں گا، اَور وہ اُن کے بُت خانوں کو جَلائے گا اَور اُن کے معبُودوں کو اسیر کرےگا اَور جِس طرح چرواہا اَپنا لباس ایک ایک جُوؤں سے صَاف کرتا ہے، اُسی طرح وہ مِصر کو صَاف کرکے سلامت چلا جائے گا۔
JER 43:13 اَور وہ مِصر میں بیت شمسؔ کے آفتاب کے بُت خانے کے سُتونوں کو توڑ ڈالے گا اَور مِصر کے معبُودوں کے بُت خانوں کو جَلا ڈالے گا۔‘ “
JER 44:1 یہ کلام یرمیاہؔ پر اُن تمام یہُودیوں کے متعلّق جو جُنوبی مِصر کے مِگدُلؔ، تحفنحِیسؔ میمفِسؔ اَور شمالی فتروسیوں کے ساتھ مِصر کے علاقہ کے باشِندوں کی بابت نازل ہُوا:
JER 44:2 ”قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، جو بڑی آفت مَیں نے یروشلیمؔ اَور یہُودیؔہ کے تمام شہروں پر نازل کی وہ تُم دیکھ چُکے ہو۔ دیکھو، وہ آج بھی ویران اَور غَیر آباد پڑے ہُوئے ہیں۔
JER 44:3 اُس بدی کے باعث جو اُنہُوں نے مُجھے غضبناک کرنے کو کی تھی، اُنہُوں نے اَیسے غَیر معبُودوں کے واسطے بخُور جَلا کر اَور اُن کی عبادت کرکے میرا غُصّہ بھڑکایا، جنہیں نہ تو وہ، نہ تُم اَور نہ اُن کے آباؤاَجداد ہی جانتے تھے۔
JER 44:4 مَیں نے بار بار اَپنے خادِموں یعنی نبیوں کو بھیجا جو فرمایا کرتے تھے، ’اَیسا مکرُوہ کام نہ کرو جِن سے مُجھے سخت نفرت ہے!‘
JER 44:5 لیکن اُنہُوں نے نہ تو سُنا اَور نہ ہی غور کیا؛ وہ اَپنی بدی سے باز نہ آئے اَور غَیر معبُودوں کے سامنے بخُور جَلانا بند نہیں کیا۔
JER 44:6 اِس لیٔے میرا قہر و غضب نازل ہُوا، اَور وہ یہُودیؔہ کے شہروں اَور یروشلیمؔ کی گلیوں پر بھڑک اُٹھا اَور اُنہیں ویران کھنڈر بنا دیا جَیسا کہ وہ آج کے دِن تک ہیں۔
JER 44:7 ”چنانچہ قادرمُطلق بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، تُم اَپنے اُوپر اَیسی بھاری آفت کیوں لانے کو آمادہ ہو جِس سے یہُودیؔہ کے مَرد اَور عورتیں، بچّے اَور شیر خوار فنا ہو جائیں اَور تُم میں سے کویٔی باقی زندہ نہ رہے؟
JER 44:8 کیونکہ اِس مِصر میں جہاں کہ تُم آباد ہونے کے لیٔے آئے ہو، یہاں تُم اَپنے ہاتھوں سے بنائی ہُوئی اَشیا سے اَور غَیر معبُودوں کے آگے بخُور جَلا کے میرا غُصّہ کیوں بھڑکاتے ہو؟ کیا تُم اَپنے آپ کو ہلاک کرکے دُنیا کی تمام قوموں کے درمیان خُود کو لعنت اَور ملامت کا باعث بناؤگے۔
JER 44:9 کیا تُم اَپنے آباؤاَجداد اَور یہُودیؔہ کے بادشاہوں اَور اُن کی بیویوں کی اَور خُود اَپنی اَور اَپنی بیویوں کی وہ بدی بھُول گیٔے جو تُم نے مُلکِ یہُودیؔہ میں اَور یروشلیمؔ کی گلیوں میں کی تھی؟
JER 44:10 آج کے دِن تک نہ تو اُنہُوں نے تَوبہ کی اَور نہ ہی میرا خوف مانا، نہ ہی میری شَریعت اَور آئین پر عَمل کرتے ہیں جنہیں مَیں نے تمہارے اَور تمہارے آباؤاَجداد کے سامنے رکھا تھا۔
JER 44:11 ”چنانچہ قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، مَیں نے تُم پر آفت لانے کی ٹھان لی ہے اَور مَیں پُورے یہُودیؔہ کو ہلاک کر دُوں گا۔
JER 44:12 مَیں بنی یہُوداہؔ کے بچے ہُوئے لوگوں کو جو مِصر جا کر آباد ہونے کی ضِد کر رہے تھے، مٹا دُوں گا۔ وہ سَب مِصر میں مِٹ جایٔیں گے۔ وہ یا تو تلوار سے مارے جایٔیں گے یا قحط سے مَر جایٔیں گے۔ ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک سبھی تلوار یا قحط کا لقمہ ہوں گے اَور لعنت و حیرت اَور لعنت و ملامت کا باعث ہوں گے۔
JER 44:13 جِس طرح مَیں نے یروشلیمؔ کو تلوار، قحط اَور وَبا سے سزا دی تھی، ٹھیک اُسی طرح سے مَیں اُن یہُودیوں کو بھی سزا دُوں گا جو مِصر میں آباد ہونے کو جاتے ہیں۔
JER 44:14 تَب بنی یہُوداہؔ کے باقی بچے ہُوئے لوگوں میں سے جو مِصر میں آباد ہونے کو گیٔے تھے، اُن میں سے کوئی بھی نہ بچے گا اَور نہ باقی رہے گا کہ وہ مُلکِ یہُودیؔہ کی سرزمین میں واپس آئے، جہاں واپس آکر آباد ہونے کے وہ مُشتاق ہیں؛ صِرف چند پناہ گیروں کے علاوہ اُن میں سے کویٔی بھی واپس نہ آنے پایٔےگا۔“
JER 44:15 تَب وہ تمام مَرد جو جانتے تھے کہ اُن کی بیویوں نے غَیر معبُودوں کے لیٔے بخُور جَلائی ہے اَور جِتنی عورتیں ایک بڑی جماعت میں پاس کھڑی تھیں اَور اُن تمام لوگوں نے جو جُنوبی اَور شمالی فتروسیوں کے ساتھ مِصر میں رہتے تھے اُنہُوں نے یرمیاہؔ سے یُوں کہا،
JER 44:16 ”جو کلام آپ نے ہمیں یَاہوِہ کے نام سے سُنایا ہے اُسے ہم نہیں مانیں گے۔
JER 44:17 بَلکہ ہم نے اَپنے مُنہ سے جو بولا ہم وُہی کریں گے کہ ہم تو آسمان کی ملِکہ کے لیٔے بخُور جَلائیں گے اَور تپاون دیں گے؛ جِس طرح ہم، ہمارے آباؤاَجداد، ہمارے بادشاہ اَور ہمارے حاکم یہُودیؔہ کے شہروں اَور یروشلیمؔ کی گلیوں میں کرتے تھے؛ کیونکہ اُس وقت ہمارے پاس کثرت سے کھاتے پیتے اَور خُوشحال اَور مُصیبتوں سے محفوظ تھے۔
JER 44:18 لیکن جَب سے ہم نے آسمان کی ملِکہ کو بخُور جَلانا اَور تپاون دینا بند کر دیا ہے تَب سے ہم ہر چیز کے مُحتاج ہو گئے ہیں اَور تلوار اَور قحط سے مارے جا رہے ہیں۔“
JER 44:19 اُن کی عورتوں نے مزید کہا، ”جَب ہم آسمان کی ملِکہ کے لیٔے بخُور جَلائیں اَور تپاون تپائیں، تو کیا ہمارے خَاوند نہ جانتے تھے کہ ہم اُس کی عبادت کے واسطے اُس کی شکل کے کُلچے بنا رہے تھے اَور اُس پر تپاون تپا رہے تھے؟“
JER 44:20 تَب یرمیاہؔ نے اُن سَب مَردوں اَور عورتوں سے جنہوں نے اُسے جَواب دیا تھا اُن سے مُخاطِب ہوکر یُوں فرمایا،
JER 44:21 ”کیا وہ بخُور جو تُم نے، تمہارے آباؤاَجداد نے، تمہارے بادشاہوں اَور حاکموں نے یہُودیؔہ کے شہروں اَور یروشلیمؔ کی گلیوں میں جَلایا تھا وہ یَاہوِہ کو یاد نہیں؟ کیا وہ اُس کے ذہن میں نہیں ہے؟
JER 44:22 جَب تمہاری بداعمالیوں اَور مکرُوہ کاموں کی وجہ سے یَاہوِہ برداشت نہ کر سکے؛ اِس لئے تمہارا مُلک آج تک لعنتی ویران اَور غَیر آباد ہو گیا ہے۔
JER 44:23 چونکہ تُم نے بخُور جَلایا اَور یَاہوِہ کے خِلاف گُناہ کیا اَور اُن کا حُکم نہ مانا، نہ اُن کی شَریعت اَور اُن کے آئین اَور اُن کے معاہدوں پر عَمل کیا اِس لیٔے یہ مُصیبتیں تُم پر نازل ہُوئیں جَیسا کہ تُم آج دیکھ رہے ہو۔“
JER 44:24 تَب یرمیاہؔ نے اُن سَب لوگوں اَور عورتوں سے یُوں فرمایا، ”اَے بنی یہُوداہؔ کے لوگوں جو مِصر میں آباد ہو، یَاہوِہ کا کلام سُنو۔
JER 44:25 قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، تُم نے اَور تمہاری بیویوں نے اَپنے اعمال سے اَپنے اِرادے یہ کہہ کر ظاہر کر دئیے، ’ہم نے آسمان کی ملِکہ کے سامنے بخُور جَلانے اَور تپاون دینے کی جو مَنّت مانی ہے اُسے ضروُر پُورا کریں گے۔‘ ”پس ٹھیک ہے، بِلاجِھجک جاؤ اَور اَپنے وعدے پُورے کرو! اَپنی مَنّتیں مان کر اُنہیں پُورا کرو!
JER 44:26 لیکن اَے تمام بنی یہُوداہؔ، جو مِصر میں رہتے ہو، یَاہوِہ کا کلام سُنو: ’میں اَپنے بُزرگ نام کی قَسم‘ کھا کر کہتا ہُوں، یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ’بنی یہُوداہؔ کا کویٔی بھی شخص جو مِصر میں کہیں بھی رہتا ہو اَب پھر کبھی میرا نام لے کر یُوں نہ کہے گا، ”یَاہوِہ قادر زندہ یَاہوِہ کی قَسم۔“
JER 44:27 سُنو، اَب مَیں اُن کی نیکی کی نہیں بَلکہ نُقصان ہی کی فکر کروں گا؛ مِصر میں بنی یہُوداہؔ تلوار اَور قحط سے ہلاک ہو جایٔیں گے یہاں تک کہ سَب کے سَب نِیست و نابود ہو جایٔیں گے۔
JER 44:28 اَیسے بہت ہی کم لوگ ہوں گے جو تلوار سے بچ کر مِصر سے مُلکِ یہُوداہؔ کو لَوٹ آئیں، تَب بنی یہُوداہؔ کے تمام بچے ہُوئے لوگ جو مِصر میں آباد ہونے کے لیٔے آئےتھے جانیں گے کہ کس کا قول قائِم رہا، میرا یا اُن کا۔
JER 44:29 ” ’تمہارے لئے یہ نِشان ہوگا کہ مَیں تُمہیں اِسی جگہ پر سزا دُوں گا،‘ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’تاکہ تُم جان لو کہ تُمہیں نُقصان پہُنچانے کی میری باتیں یقیناً پُوری ہوں گی۔‘
JER 44:30 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’جِس طرح مَیں نے شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کو اُس کے جانی دُشمن شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے حوالہ کیا تھا، اُسی طرح مِصر شاہِ فَرعوہؔ حُفرعؔ کو اُس کے اُن دُشمنوں کے حوالہ کر رہا ہُوں جو اُس کے جانی دُشمن ہیں۔‘ “
JER 45:1 شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ بِن یُوشیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے چوتھے سال میں، جَب باروکؔ بِن نیریاہؔ، یرمیاہؔ کی زبان سے نِکلا ہُوا کلام طُومار میں لِکھ چُکا، تَب یرمیاہؔ نبی نے اُس سے کہا،
JER 45:2 ”اَے باروکؔ، یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا تمہارے واسطے یہ فرمان ہے:
JER 45:3 تُم نے کہاتھا، ’مُجھ پر ہائے! یَاہوِہ نے میرے دُکھ میں غم کا اِضافہ کر دیا ہے۔ میں کراہتے کراہتے تھک گیا اَور مُجھے کچھ بھی چَین نہیں ملتا۔‘
JER 45:4 لیکن یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایاہے کہ مَیں یہ پیغام تُمہیں دُوں، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: دیکھو مَیں نے جو سارا مُلک تعمیر کیا اِسے گرا دُوں گا، اَورجو کچھ لگایا ہے اُسے اُکھاڑ دُوں گا۔
JER 45:5 کیا تُم اَپنے لیٔے خاص مہربانی ڈھونڈ رہے ہو؟ اُنہیں مت ڈھونڈو کیونکہ مَیں تمام لوگوں پر بڑی آفت لاؤں گا۔ لیکن تُم جہاں کہیں جاؤگے، وہاں میں تُمہیں تمہاری جان بچا کر تُمہیں زندہ رکھوں گا، یَاہوِہ کا فرمان یہ ہے۔‘ “
JER 46:1 یَاہوِہ کا کلام جو یرمیاہؔ نبی پر مُختلف قوموں کے متعلّق نازل ہُوا،
JER 46:2 مِصر کے متعلّق، یہ پیغام شاہِ مِصر فَرعوہؔ نِکوہؔ کی فَوج کے متعلّق ہے جو دریائے فراتؔ کے کنارے پر کرکمیشؔ میں تھی جسے شاہِ بابیل، نبوکدنضرؔ نے یہُویقیمؔ بِن یُوشیاہؔ، شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ کے دَورِ حُکومت کے چوتھے سال میں شِکست دی تھی۔
JER 46:3 ”اَپنی چُھوٹی اَور بڑی دونوں سِپر تیّار کرو، اَور جنگ کے لیٔے روانہ ہو جاؤ!
JER 46:4 گھوڑوں کو آراستہ کرو، اَور اُن پر سوار ہوکر، خُود پہن لو، اَور اَپنی اَپنی جگہ پر کھڑے ہو جاؤ؛ اَپنے نیزوں کو پَینا کرو، اَپنا زرہ بکتر پہن لو!
JER 46:5 میں کیا دیکھ رہا ہُوں؟ وہ گھبرائے ہُوئے نظر آتے ہیں، اَور پیچھے ہٹ رہے ہیں، اُن کے جنگجو فَوجی ہار گیٔے ہیں۔ اَور بغیر پیچھے مُڑے تیزی سے فرار ہو رہے ہیں، ہر طرف خوف چھایا ہُواہے،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 46:6 نہ تو تیزی سے دَوڑنے والا بھاگنے پایٔےگا اَور نہ دِلیر بچ پائے گا۔ کیونکہ شمال میں دریائے فراتؔ کے کنارے وہ ٹھوکر کھا کر گِر جاتے ہیں۔
JER 46:7 ”یہ کون ہے جو دریائے نیل کی مانند اُمنڈتے ہُوئے دریاؤں کی طرح بڑھا چلا آ رہاہے؟
JER 46:8 مِصر دریائے نیل کی مانند، اَور اُمنڈتے ہُوئے دریاؤں کی مانند بڑھ رہاہے۔ وہ اعلان کر چُکاہے، ’میں اُوفن کر پُوری زمین پر چھا جاؤں گا؛ میں شہروں کو اَور اُن کے باشِندوں کو تباہ کر دُوں گا۔‘
JER 46:9 اَے گھوڑوں، تیز رفتار سے آگے بڑھو! اَے رتھ بانوں، تیزی سے ہانکو! اَے کُوشؔ اَور فُوطؔ کے سِپر برداروں، اَے لیدیا کے ماہر تیر اَندازوں، آگے بڑھو۔
JER 46:10 لیکن وہ دِن خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ کا یومِ اِنتقام ہے، یہ اُن کا اَپنے دُشمنوں سے اِنتقام لینے کا دِن ہے۔ تلوار سیر ہونے تک چلتی ہی رہے گی، اَور جَب تک اُن کی تلوار خُون پی کر اَپنی پیاس نہ بُجھا لے، وہ نہیں رُکے گی کیونکہ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ، شمالی سرزمین میں دریائے فراتؔ کے کنارے قُربانی گذرانیں گے۔
JER 46:11 ”اَے مِصر کی کنواری بیٹی، گِلعادؔ جا کر مرہم لے آ۔ لیکن تُم خوامخواہ مُختلف دوائیں اِستعمال کرتی ہو؛ کیونکہ تُم شفا نہیں پاؤ گی۔
JER 46:12 مُختلف قومیں تمہاری رُسوائی کا حال سُنیں گی؛ اَور زمین تمہارے رونے سے بھر جائے گی۔ ایک جنگجو فَوجی دُوسرے فَوجی سے ٹکرائیں گے؛ اَور دونوں باہم گِر جایٔیں گے۔“
JER 46:13 شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے مِصر آکر اُس پر حملہ کرنے کے متعلّق یہ پیغام یَاہوِہ نے یرمیاہؔ نبی پر نازل کیا،
JER 46:14 ”مِصر میں اِس کا اعلان کرو اَور مِگدُلؔ میں مُنادی کرو؛ میمفِسؔ اَور تحفنحِیسؔ میں بھی مُنادی کرو، ’اَپنی اَپنی جگہ پر کھڑے ہو جاؤ اَور تیّار ہو جاؤ، کیونکہ تلوار تمہاری چاروں طرف لوگوں کو کھائے جا رہی ہے۔‘
JER 46:15 تمہارے سُورما ہلاک کیوں ہو گئے؟ وہ کھڑے نہ رہ سکیں گے کیونکہ یَاہوِہ اُنہیں گرا دیں گے۔
JER 46:16 وہ بار بار ٹھوکر کھایٔیں گے؛ اَور ایک دُوسرے پر گریں گے۔ اَور کہیں گے، ’اُٹھو! ہم ستمگر کی تلوار سے دُور اَپنی قوم اَور اَپنے وطن کو واپس لَوٹ چلیں۔‘
JER 46:17 وہاں وہ پُکار کے کہیں گے، ’شاہِ مِصر فَرعوہؔ محض ایک بَھوکال ہے؛ اُس نے خُوبصورت موقع کو اَپنے ہاتھ سے نکل جانے دیا ہے۔‘
JER 46:18 ”وہ بادشاہ جِن کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے،“ وہ یُوں فرماتے ہیں، مُجھے اَپنی حیات کی قَسم، ”جِس طرح تبورؔ باقی پہاڑوں میں عظیم ہے، اَور کوہِ کرمِلؔ سمُندر سے اُونچا ہے اُسی طرح آنے والا بھی ہے۔
JER 46:19 اَے مِصر میں رہنے والوں، جَلاوطنی میں جانے کا سامان تیّار کر لو، کیونکہ میمفِسؔ شہر اُجاڑ دیا جائے گا، اَور وہ ویران اَور غَیر آباد ہو جائے گا۔
JER 46:20 ”مِصر نہایت خُوبصورت بچھیا ہے، لیکن شمال کی جانِب سے اُس کے خِلاف ایک بڑی مکھّی یعنی تباہی آ رہی ہے۔
JER 46:21 اُس کی صفوں میں جو کرائے کے فَوجی ہیں وہ فربہ بچھڑوں کی مانند ہیں۔ لیکن وہ بھی پلٹ کر ایک ساتھ بھاگ جایٔیں گے، وہ ٹِک نہ سکیں گے؛ کیونکہ اُن پر تباہی کا دِن، اَور سزا پانے کا وقت آ پہُنچا ہے۔
JER 46:22 جُوں ہی دُشمن فَوج آگے بڑھےگی، مِصر کے باشِندوں کی آوازیں بھاگتے ہُوئے سانپ کی پھُپھکار کی مانند سُنایٔی دے گی؛ کیونکہ وہ لشکر کے ساتھ حملہ کر رہے ہیں، اَور کُلہاڑے لے کر، لکڑہاروں کی مانند اُس پر چڑھ آئیں گے۔
JER 46:23 خواہ اُس کا جنگل کتنا ہی گھنا کیوں نہ ہو،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”وہ اُسے کاٹ ڈالیں گے، وہ تعداد میں ٹِڈّیوں سے بھی زِیادہ ہیں، بے شُمار ہونے کی وجہ سے اُن کا شُمار نہیں کیا جا سَکتا۔
JER 46:24 مِصر کی بیٹی بے عزّت ہوگی، اَور اُسے شمالی لوگوں کے حوالہ کیا جائے گا۔“
JER 46:25 قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ”مَیں امُونؔ کے معبُود تھیبیس کو، فَرعوہؔ کو اَور مِصر کو اُن کے معبُودوں اَور اُس کے بادشاہوں اَور فَرعوہؔ پر اُمّید رکھنے والوں کو سزا دینے کو ہُوں۔
JER 46:26 یَاہوِہ فرماتے ہیں، میں اُن کو شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ اَور اُس کے حاکموں کے حوالہ کروں گا، جو اُن کے جانی دُشمن ہیں۔ لیکن اِس کے بعد مِصر قدیم زمانوں کی مانند پھر آباد کیا جائے گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 46:27 ”اَے میرے خادِم یعقوب، خوف نہ کر؛ اَے بنی اِسرائیل، ہِراساں نہ ہو۔ کیونکہ مَیں تُمہیں دُور دراز مُلک سے، اَور تمہاری اَولاد کو جَلاوطنی مُلک سے یقیناً چھُڑا لاؤں گا۔ یعقوب پھر سے اَمن اَور بحِفاظت رہے گا، اَور پھر اُسے کویٔی ڈرا نہ پایٔےگا۔
JER 46:28 اَے میرے خادِم یعقوب، خوف نہ کر، کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ ہُوں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اگرچہ مَیں اُن تمام قوموں کو، جِن میں مَیں نے تُمہیں پراگندہ کیا تھا، بالکُل تباہ کر ڈالُوں گا۔ تَو بھی تُمہیں پُوری طرح تباہ نہ کروں گا۔ مَیں تمہاری تنبیہ کروں گا، مگر مُناسب طور پر؛ لیکن مَیں تُمہیں بے سزا ہرگز نہ چھوڑوں گا۔“
JER 47:1 فَرعوہؔ نے غزّہؔ پر حملہ کرنے سے قبل فلسطینیوں کے متعلّق یَاہوِہ کا یہ پیغام یرمیاہؔ نبی پر نازل ہُوا،
JER 47:2 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھو، شمال میں دریا کا پانی کیسا اُوپر اُٹھ رہاہے؛ جو ایک خوفناک سیلاب کی شکل اِختیار کرےگا۔ اَور مُلک اَور اُس میں کی ہر شَے، اَور شہر اَور اُن کے باشِندوں کو غرق کر دے گا۔ لوگ چِلّائیں گے، اَور مُلک کے ہر باشِندے ماتم کریں گے۔
JER 47:3 دُشمنوں کے سرپٹ دَوڑنے والے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سے، اَور اُن کے رتھوں کے شور سے اَور اُن کے پہیّوں کی گڑگڑاہٹ سُن کر۔ والدین کے ہاتھ اَور پیر اَیسے ڈھیلے پڑ جائیں گے کہ، وہ مُڑ کر اَپنے بچّوں کی مدد کرنے کو نہ پلٹیں گے؛
JER 47:4 کیونکہ تمام فلسطینیوں کی تباہی کا اَور صُورؔ اَور صیدونؔ کے اُن باقی بچے ہُوئے مددگاروں کو فنا کرنے کا دِن آ چُکاہے۔ کیونکہ خُود یَاہوِہ اُن فلسطینیوں کو، جو کفتُور کے جَزِیرہ پر کے بچے ہُوئے لوگوں کو تباہ کرنے پر آمادہ ہیں۔
JER 47:5 غزّہؔ کے لوگ ماتم کرنے کے لیٔے اَپنا سَر مُنڈوائیں گے؛ اَور اشقلونؔ اَپنی وادی کے بچے ہُوئے لوگوں کے ساتھ خاموش کر دیا جائے گا۔ اَے وادی کے باقی بچے ہُوئے لوگوں، تُم کب تک اَپنے جِسم کو زخمی کرتے رہوگے؟
JER 47:6 ” ’ہائے یَاہوِہ کی تلوار، تُو کب تک نہ ٹھہرے گی؟ تُو اَپنے مِیان میں داخل ہوکر؛ آرام کر اَور خاموش ہو۔‘
JER 47:7 لیکن تُو کیسے ٹھہر سکتی ہے؟ کیونکہ تُجھے یَاہوِہ نے حُکم دے کر، اشقلونؔ اَور اُس کے سمُندر کے ساحِلی علاقوں پر حملہ کرنے کو تعینات کیا ہے؟“
JER 48:1 مُوآب کے متعلّق: قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ”نبوؔ پر ہائے کیونکہ وہ تباہ ہو جائے گا۔ قِریتائم رُسوا ہوگا اَور لے لیا جائے گا؛ مِسگابؔ شرمندہ اَور پست ہوگا۔
JER 48:2 اَب مُوآب کی اَور تعریف نہ ہوگی؛ حِشبونؔ میں لوگ اُس کی تباہی کے منصُوبے بنائیں گے، ’آؤ اِس قوم کا خاتِمہ کر ڈالیں۔‘ تُو بھی مدمینؔ شہر کے باشِندے بالکُل چُپ کر دئیے جائیں گے؛ اَور تلوار تمہارا پیچھا کرےگی۔
JER 48:3 حُورونایمؔ سے چیخ و پُکار سُنایٔی دیتی ہے، وہ نہایت شدید تباہی اَور بربادی کی چیخیں ہیں۔
JER 48:4 مُوآب ہلاک ہو جائے گا؛ اَور اُس کے چُھوٹے بچّوں کے نوحوں کی چیخیں سُنائی دیں گی۔
JER 48:5 وہ لُوحیتؔ کی چڑھائی پر، زار زار روتے ہُوئے آگے بڑھیں گے؛ اَور نیچے کی طرف حُورونایمؔ کی ڈھال پر ہلاکت کا ماتم سُنائی دے گا۔
JER 48:6 اَپنی جان بچا کر بھاگو؛ اَور بیابان کی جھاڑی کی مانند بَن جاؤ۔
JER 48:7 چونکہ تُم اَپنے اعمال اَور اَپنی دولت پر توکّل رکھتے ہو، اِس لیٔے تُم بھی اسیر ہو جاؤگے۔ اَور کموشؔ معبُود بھی، اَپنے کاہِنوں اَور حاکموں کے ساتھ جَلاوطن ہوگا۔
JER 48:8 یَاہوِہ کے فرمان کے مُطابق، غارت گِر ہر شہر پر حملہ کرےگا، اَور ایک بھی شہر نہیں بچے گا۔ وادی تباہ ہو جائے گی اَور میدان برباد ہو جائے گا۔
JER 48:9 مُوآب کو پر لگا دو، کیونکہ وہ اُڑ کر دُور چلا جائے؛ اُس کے شہر ویران کر دیئے جایٔیں گے، اَور اُن میں کویٔی آباد نہ رہے گا۔
JER 48:10 ”لعنت ہر اُس شخص پرجو یَاہوِہ کا کام کرنے میں سُستی برتے! لعنت اُس پرجو اَپنی تلوار کو خُونریزی سے روکتا ہے!
JER 48:11 ”مُوآب اَپنی جَوانی ہی سے سکون سے رہاہے، گویا مَے اَپنی تلچھٹ پر ٹھہر گئی ہو، جو ایک برتن سے دُوسرے برتن میں نہ اُنڈیلی گئی ہو۔ اَورجو کبھی جَلاوطن نہیں ہُوا۔ اِس لیٔے اُس کا ذائقہ اُسی میں قائِم ہے، اَور اُس کی مہک نہیں بدلی۔
JER 48:12 اِس لئے وہ دِن آ رہے ہیں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”جَب مَیں اُن لوگوں کو بھیجوں گا جو صُراحیوں میں سے رس اُنڈیلتے ہیں، اَور وہ مُوآب کو پُورا اُنڈیل دیں گے؛ اَور اُس کی صُراحیاں خالی کرکے، اُسے چکنا چُور کر دیں گے۔
JER 48:13 اَور جِس طرح بنی اِسرائیل بیت ایل پر اِعتماد کرکے شرمندہ ہُوئے تھے، ٹھیک اُسی طرح مُوآب بھی کموشؔ سے شرمندہ ہوگا۔
JER 48:14 ”تُم کیسے کہہ سکتے ہو، ’ہم سُورما ہیں، جو میدانِ جنگ میں دِلیری دِکھانے ہیں‘؟
JER 48:15 مُوآب تباہ کیا جائے گا اَور اُس کے شہروں پر حملہ ہوگا؛ اَور اُس کے بہترین نوجوان قتل کے لیٔے جائے جائیں گے،“ یہ اُس بادشاہ کا فرمان ہے جِس کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے۔
JER 48:16 ”مُوآب پر آنے والی آفت نزدیک ہے؛ مُصیبت اُس پر جلد آئے گی۔
JER 48:17 تُم سَب لوگ جو اُس کے اِردگرد رہتے ہو، اَور اُس کی شہرت سے واقف ہو، اُس کے لیٔے ماتم کرو؛ کہو، ’یہ مضبُوط عصائے شاہی، اَور عصائے جلالی کیسے ٹوٹ گیا!‘
JER 48:18 ”اَے دیبونؔ کے باشِندوں، اَپنی شان و شوکت سے نیچے اُتر آؤ، اَور خشک زمین پر بیٹھ جاؤ؛ کیونکہ مُوآب کو تباہ کرنے والا تُم پر بھی حملہ کرےگا اَور تمہارے مُستحکم شہروں کو اُجاڑ دے گا۔
JER 48:19 اَے عروعؔر کے باشِندوں، راستہ میں کھڑے ہوکر دیکھو۔ فرار ہونے والے مَرد اَور بچ کر نکلنے والی عورتوں سے پُوچھو، ’کیا ماجرا ہے؟‘
JER 48:20 مُوآب رُسوا ہُوا کیونکہ وہ چکنا چُور ہو گیا ہے۔ زار زار روؤ اَور ماتم کرو! ارنُونؔ میں بھی مُنادی کرو کہ مُوآب نِیست و نابود ہو گیا۔
JER 48:21 سزا کا فیصلہ آ چُکاہے حولونؔ، یہصہؔ اَور مِفعتؔ،
JER 48:22 دیبونؔ، نبوؔ اَور بیت دِبلاتایمؔ،
JER 48:23 قِریتائم، بیت گمولؔ اَور بیت مِعُون،
JER 48:24 قِریوتؔ اَور بُضراؔہ۔ الغرض مُوآب کے میدانی علاقہ کے دُور اَور نزدیک کے تمام شہروں پر عذاب نازل ہُواہے
JER 48:25 یَاہوِہ کا فرمان ہے، مُوآب کا سینگ کاٹا جا چُکاہے؛ اَور اُس کا بازو توڑا گیا ہے،“
JER 48:26 اُسے مدہوش کر دو، کیونکہ اُس نے یَاہوِہ کے خِلاف سَر اُٹھایا ہے۔ اِس لئے مُوآب اَپنی قَے میں لَوٹے گا؛ اَور اُسے ہنسی میں اُڑایا جائے گا۔
JER 48:27 کیا بنی اِسرائیل کا تُم نے مذاق نہیں اُڑایا؟ کیا وہ چوروں میں سے تھا، کیونکہ جَب بھی تُم اُس کا ذِکر کرتے تھے تو حقارت سے اَپنا سَر ہلاتے تھے۔
JER 48:28 اَے مُوآب کے باشِندوں، اَپنے شہروں کو خیرباد کہو اَور چٹّانوں میں جا بسو۔ اَور کبُوتر کی مانند بنو، جو غار کے مُنہ پر اَپنا گھونسلہ بناتا ہے۔
JER 48:29 ”ہم نے مُوآب کے تکبُّر کے بارے میں سُنا ہے۔ اُس کا غُرور کتنا زِیادہ ہے، اُس کا گستاخانہ، فخر اَور خُود فریبی، اَور اُس کے دِل کی مغروُریت مشہُور ہے۔
JER 48:30 مَیں اُس کی گستاخی سے بھی واقف ہُوں جو فُضول ہے،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، اَور اُس کی شیخی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
JER 48:31 اِس لیٔے میں مُوآب کے لیٔے ماتم کرتا ہُوں، میں سارے مُوآب کے لیٔے زار زار روتا ہُوں، اَور قیرؔ حارسیتھؔ کے باشِندوں کے لیٔے ماتم کرتا ہُوں۔
JER 48:32 اَے سِبماہؔ کی انگور کی بیل، مَیں تمہارے لیٔے یعزیرؔ کی مانند روتا ہُوں۔ تمہاری شاخیں بحرمُردار تک پھیل گئی ہیں؛ وہ یعزیرؔ کے سمُندر تک پہُنچ گئی ہیں۔ غارت گر تمہارے پکے ہُوئے پھلوں اَور انگوروں پر ٹوٹ پڑا ہے۔
JER 48:33 مُوآب کے باغات اَور کھیتوں سے خُوشی اَور شادمانی غائب ہو چُکی ہے۔ حوض میں سے مَے کا بہاؤ بندہو گیا ہے؛ اَب کویٔی خُوشی سے للکارتے ہُوئے انگور نہیں روندتا۔ حالانکہ للکاریں سُنایٔی دیتی ہیں، لیکن وہ خُوشی کی نہیں ہیں۔
JER 48:34 ”حِشبونؔ کی چِلّاہٹ سُن کر لوگ الیعالہؔ اَور یاہضؔ تک، اَور ضُعَرؔ سے حُورونایمؔ اَور عگلت شیلشیاہؔ تک بھی، اُن کے روتے ہُوئے بھاگنے کی صدائیں سُنائی دے رہی ہیں کیونکہ نِمریمؔ کے چشمے تک خشک ہو گئے ہیں۔
JER 48:35 مُوآب میں جو لوگ اُونچے مقامات پر نذرانے پیش کرتے ہیں اَور اَپنے معبُودوں کے سامنے بخُور جَلاتے ہیں اُن کا مَیں خاتِمہ کر دُوں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 48:36 ”اِس لیٔے مُوآب کی خاطِر میرا دِل گویا بانسری کی مانند نوحہ کرتا ہے؛ وہ قیرؔ حارسیتھؔ کے لوگوں کے لیٔے شہنائی کی طرح ماتم کرتا ہے۔ کیونکہ اُن کا فراواں ذخیرہ تلف ہو گیا ہے۔
JER 48:37 ہر سَر مونڈا ہُواہے اَور ہر داڑھی کاٹ ڈالی گئی ہے؛ ہر ہاتھ زخمی ہے اَور ہر کمر پر ٹاٹ لپٹا ہُواہے۔
JER 48:38 مُوآب کے تمام گھروں کی چھتوں پر اَور اُس کے تمام چوراہوں پر ماتم کے سِوا کچھ نہیں ہے کیونکہ مَیں نے مُوآب کو ایک ناکارہ صُراحی کی مانند توڑ ڈالا ہے،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 48:39 ”وہ کس قدر خستہ حال ہے اَور ماتم کرتا ہے، مُوآب کیسے شرم سے اَپنی پیٹھ پھیر لیتا ہے، مُوآب اَپنے اِردگرد کے تمام لوگوں کے لیٔے، مذاق اَور خوف کا باعث بَن گیا ہے۔“
JER 48:40 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھ ایک عُقاب نیچے کی طرف جھپٹ رہاہے، اَور مُوآب کے اُوپر اَپنے پر پھیلا رہاہے۔“
JER 48:41 قِریوتؔ شہر تسخیر کئے جایٔیں گے اَور قلعوں پر دُشمن کا قابض ہو جائے گا۔ اُس دِن مُوآب کے جنگجو فَوجیوں کے دِل زچّہ عورت کے دِل کی مانند ہوں گے۔
JER 48:42 مُوآب اَیسا نِیست و نابود ہوگا گویا اَب وہ کوئی قوم ہی نہیں، کیونکہ اُس نے یَاہوِہ کے خِلاف سربُلند کیا۔
JER 48:43 اَے مُوآب کے لوگوں! خوف اَور گڑھا اَور پھندے تمہارے منتظر ہیں، یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 48:44 ”جو خوف سے بچ کر بھاگے گا، وہ گڑھے میں گِرے گا، اَورجو گڑھے میں سے نکل پایٔےگا وہ پھندے میں پھنس جائے گا؛ کیونکہ مَیں مُوآب پر سزائے بَرس لاؤں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 48:45 حِشبونؔ کے سایہ میں، پناہ گیر بے تاب کھڑے ہیں، کیونکہ حِشبونؔ میں سے آگ، اَور سیحونؔ کے درمیان سے ایک شُعلہ نِکلا ہے؛ جو مُوآبیوں کی پیشانیوں کو، اَور فسادیوں کی کھوپڑیوں کو جَلا ڈالے گا۔
JER 48:46 اَے مُوآب، تُم پر ہائے! کموشؔ کے لوگ نِیست و نابود ہو گئے؛ تمہارے فرزند جَلاوطن کر دئیے گیٔے اَور تمہاری بیٹیاں اسیری میں چلی گئیں۔
JER 48:47 ”باوُجُود اِس کے مَیں آنے والے دِنوں میں، مُوآب کو بحال کروں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ مُوآب کی سزا یہیں ختم ہوتی ہے۔
JER 49:1 بنی عمُّون کے متعلّق، یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”کیا بنی اِسرائیل کے بیٹے نہیں ہیں؟ کیا بنی اِسرائیل کا کویٔی وارِث نہیں ہے؟ پھر مولکؔ نے گادؔ پر کیوں قبضہ کر لیا؟ مولکؔ کے لوگ گادؔ کے شہروں میں کیوں رہتے ہیں؟
JER 49:2 لیکن وہ دِن آ رہے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب مَیں عمُّونیوں کے ربّہؔ شہر کے خِلاف، جنگ کی للکار سُناؤں گا؛ تَب وہ کھنڈروں کا ڈھیر بَن جائے گا اَور اُس کے گِردونواح کے دیہات میں آگ لگا دی جائے گی۔ یَاہوِہ فرماتے ہیں، تَب بنی اِسرائیل اُن لوگوں کو کھدیڑ دے گا،“ جنہوں نے اُسے کھدیڑ دیا تھا۔
JER 49:3 ”اَے حِشبونؔ ماتم کر کہ عَیؔ تباہ کر دیا گیا! اَے ربّہؔ کے باشِندوں، چِلّاؤ! ٹاٹ پہن کر ماتم کرو؛ دیواروں کے اَندر اِدھر اُدھر دَوڑو، کیونکہ مولکؔ اَپنے کاہِنوں اَور حاکموں کے ساتھ، جَلاوطن کیا جائے گا۔
JER 49:4 تُم اَپنی وادیوں پر، خصوصاً اَپنی پھلدار وادیوں پر، اِس قدر کیوں فخر کرتی ہو؟ اَے بےوفا عمُّون کی بیٹی، تُم اَپنی دولت پر توکّل کرتی اَور کہتی ہو، ’مُجھ پر کون حملہ کر سکےگا؟‘
JER 49:5 مَیں تمہارے چاروں طرف کے سَب باشِندوں کی طرف سے، تُم پر خوف طاری کروں گا،“ یہ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”تُم سَب ہانکے جاؤگے، اَور پناہ گیروں کو کویٔی جمع نہ کر پایٔےگا۔
JER 49:6 ”مگر، اُس کے بعد مَیں عمُّونیوں کو پھر سے بحال کر دُوں گا۔“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 49:7 اِدُوم کے متعلّق نبُوّت: قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”کیا تیمانؔ میں دانشمندی نہ رہی؟ کیا عالِموں کی مصلحت جاتی رہی؟ کیا اُن کی حِکمت نابود ہو گئی ہے؟
JER 49:8 اَے دِدانؔ کے باشِندوں، پلٹو اَور بھاگو اَور گہرے غاروں میں چھُپ جاؤ، کیونکہ جَب مَیں عیسَوؔ کو سزا دینے لگوں گا، تَب اُس پر بڑی آفت نازل کروں گا۔
JER 49:9 اگر انگور توڑنے والے تمہارے پاس آتے، تو کیا وہ کچھ انگور چھوڑ نہ جاتے؟ اگر رات کو چور آ جایٔیں، تو کیا وہ جِتنا چاہتے اُتنا مال لَوٹ کر نہ لے جائیں گے؟
JER 49:10 لیکن مَیں عیسَوؔ کو بالکُل ننگا کر دُوں گا؛ میں اُس کے چھُپنے کی جگہوں کو ظاہر کر دُوں گا، تاکہ وہ اَپنے آپ کو چھُپا نہ سکے۔ اُس کے مُسلّح فَوجی، رشتہ دار اَور ہمسائے نِیست و نابود ہو جایٔیں گے، تاکہ یہ کہنے کو کوئی زندہ نہ رہے گا،
JER 49:11 ’اَپنے یتیموں کو یہیں چھوڑ جاؤ؛ مَیں اُنہیں زندہ رکھّوں گا۔ تمہاری بیوائیں بھی مُجھ پر اِعتماد کر سکتی ہیں۔‘ “
JER 49:12 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھو، جو سزاوار نہ تھے کہ یہ پیالہ پیئیں لیکن اُنہیں پیالہ پینا پڑا، پھر کیا تُم بے سزا چھُوٹ جاؤگے؟ نہیں، تُم ہرگز بے عیب اَور بے سزا نہ چھوڑے جاؤگے بَلکہ تُمہیں وہ پیالہ ضروُر پینا ہوگا۔
JER 49:13 کیونکہ مَیں نے اَپنی ذات کی قَسم کھائی ہے،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”بُضراؔہ اَیسا تباہ ہو جائے گا کہ لوگ اُس پر حیرت، ملامت اَور لعنت کریں گے اَور اُس کے تمام شہر ہمیشہ کے لیٔے ویران ہو جایٔیں گے۔“
JER 49:14 مُجھے یَاہوِہ کی جانِب سے ایک پیغام مِلا ہے؛ مُختلف قوموں کے پاس یہ اعلان کرنے کو ایک قاصِد بھیجا گیا ہے کہ، ”اُس پر حملہ کرنے کے لیٔے جمع ہو جاؤ! جنگ کے لیٔے تیّار ہو جاؤ!“
JER 49:15 ”دیکھو، اَب مَیں نے تُمہیں مُختلف قوموں کے درمیان چھوٹا، اَور لوگوں میں ذلیل کر دیا ہے۔
JER 49:16 اَے چٹّانوں کی دراڑوں میں، اَور پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہنے والی، تمہاری ہیبت اَور تمہارے دِل کے غُرور نے، تُمہیں فریب دیا ہے۔ اگرچہ تُم عُقاب کی مانند بُلندی پر اَپنا گھونسلہ کیوں نہ بنالو، تو بھی مَیں تُمہیں وہاں سے بھی نیچے پٹک دُوں گا،“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 49:17 ”اِدُوم حیرت کا مقام بَن جائے گا؛ اَور اُس کے نزدیک سے گزرنے والے سَب لوگ حیران ہوں گے، اَور اُس کے تمام زخموں کے باعث، اُس کا مذاق اُڑائیں گے۔
JER 49:18 جِس طرح سدُومؔ اَور عمورہؔ، اَپنے ہمسائے شہروں کے ساتھ غارت کئے گیٔے،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”اُسی طرح مُلکِ اِدُوم میں کویٔی بشر نہ رہے گا، اَور نہ ہی لوگ وہاں بسیں گے۔
JER 49:19 ”دیکھو، وہ یردنؔ کے گھنے جنگلوں میں سے شیر کی مانند نکل کر سرسبز چراگاہوں پر حملہ کرےگا، اَور مَیں اِدُوم کو پل بھر میں اُس کے مُلک سے بے دخل کر دُوں گا، وہ کون برگُزیدہ شخص ہے جسے مَیں اِدُوم پر سردار مُقرّر کروں گا؟ کیونکہ مُجھ سا کون ہے اَور کون مُجھ پر مُقدّمہ چلا سَکتا ہے؟ اَور کون سا چرواہا میرے مقابل کھڑا ہو سَکتا ہے؟“
JER 49:20 چنانچہ سُنو کہ یَاہوِہ نے اِدُوم کے خِلاف کیا منصُوبہ بنایا ہے، اَور تیمانؔ کے باشِندوں کے خِلاف اُس کا اِرادہ کیا ہے؟ گلّے کے بچّے گھسیٹے جایٔیں گے؛ اَور وہ اُن کی چراگاہ کو خُود اُن کی اَپنی وجہ سے بالکُل تباہ کر دے گا۔
JER 49:21 اُن کے گرنے کی آواز سے زمین کانپ اُٹھے گی؛ اَور اُن کے چیخنے کی آواز بحرِقُلزمؔ تک گونجے گی۔
JER 49:22 دیکھو، وہ ایک عُقاب کی طرح پرواز کرےگا اَور نیچے تیزی سے جھپٹّا مارے گا، اَور اَپنے پر بُضراؔہ کے خِلاف پھیلائے گا۔ اُس دِن اِدُوم کے جنگجو فَوجیوں کے دِل، ایک زچّہ عورت کے دِل کی مانند ہوں گے۔
JER 49:23 دَمشق کے متعلّق: ”حماتؔ اَور ارفادؔ دہشت زدہ ہیں، کیونکہ اُنہُوں نے بُری خبر سُنی ہے۔ اُن کا دِل ٹوٹ گیا ہے، اَور وہ ایک بےچین سمُندر کی مانند پریشان ہیں۔
JER 49:24 دَمشق کمزور ہو گیا ہے، اَور بھاگنے کے لیٔے پلٹ گیا ہے اَور گھبراہٹ نے اُسے اَپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تکلیف اَور خوف نے اُسے پکڑ لیا ہے، گویا زچّہ کی مانند سخت درد۔
JER 49:25 وہ نامور شہر جِس سے مُجھے شادمانی ہوتی ہے، اُسے ترک کیوں کر دیا گیا؟
JER 49:26 یقیناً اُس کے جواں مَرد گلیوں میں گِر جایٔیں گے؛ اَور اُس کے تمام جنگجو فَوجی اُس دِن قتل کر دئیے جایٔیں گے،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 49:27 ”میں دَمشق کی دیواروں کو آگ لگا دُوں گا؛ جو بِن ہددؔ کے شاہی محلوں کو بھسم کر دے گی۔“
JER 49:28 قیدارؔ اَور حَصورؔ کی سلطنتوں کے متعلّق نبُوّت جِن پر شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے شِکست دی تھی: یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اُٹھو اَور قیدارؔ پر حملہ کرو اَور اہلِ مشرق کے لوگوں کو تباہ کر دو۔
JER 49:29 اُن کے خیمے اَور گلّے لُوٹ لیٔے جایٔیں گے؛ اُن کے پناہ گاہ اَور تمام گھر کے اَسباب، اَور اُونٹوں کو چھین لیا جائے گا۔ تَب وہ ایک دُوسرے سے چِلّا چِلّا‏‏‏‏کر کہیں گے، ’ہمارے چاروں طرف خوف ہی خوف ہے۔‘
JER 49:30 ”اَے حَصورؔ کے باشِندوں، جلدی سے بھاگ جاؤ اَور گہرے غاروں میں جا بسو،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”نبوکدنضرؔ، شاہِ بابیل نے تمہارے خِلاف منصُوبہ بنایا ہے؛ اُس نے تمہارے خِلاف مشورت کی ہے۔
JER 49:31 ”اُٹھو اَور اُس قوم پر حملہ کرو، جو بے خوف اَور مُکمّل طور پر بحِفاظت رہتے ہیں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”اِس قوم کے نہ تو پھاٹک ہیں اَور نہ فصیلیں؛ یہ لوگ خطرے سے بے خوف اَور بالکُل محفوظ رہتے ہیں۔
JER 49:32 اُن کے اُونٹ مالِ غنیمت ہوں گے، اَور اُن کے بے شُمار ریوڑ مالِ غنیمت ہوں گے۔ جو دُور دُور بسے ہُوئے ہیں اُنہیں مَیں ہَوا میں اُڑا کر پراگندہ کروں گا اَور چاروں طرف سے اُن پر آفت لاؤں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 49:33 ”حَصورؔ گیدڑوں کا مَسکن بَن جائے گا، جو ہمیشہ کا ویرانہ ہوگا۔ وہاں نہ کویٔی اِنسان رہے گا؛ اَور نہ کویٔی قوم سکونت کرےگی۔“
JER 49:34 شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے شروع میں عیلامؔ کے متعلّق یَاہوِہ کا یہ کلام یرمیاہؔ نبی پر نازل ہُوا:
JER 49:35 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھو، مَیں عیلامؔ کی کمان توڑ ڈالُوں گا، جِس پر اُس کی قُوّت کا دارومدار ہے۔
JER 49:36 مَیں عیلامؔ کے خِلاف آسمان کے چاروں سمت سے چاروں ہوایٔیں لے آؤں گا؛ اَور اُنہیں اُن چاروں ہواؤں کی سمت میں اِس قدر پراگندہ کروں گا کہ، اَیسی کویٔی قوم نہ ہوگی، جِس میں عیلامی لوگ جَلاوطن ہوکر نہ پہُنچیں گے۔
JER 49:37 مَیں عیلامؔ کو اُس کے جانی دُشمنوں، اَور مُخالفوں کے سامنے پراگندہ کر دُوں گا؛ مَیں اُن پر بُلا نازل کروں گا، اَور اَپنے قہر شدید میں عیلامؔ پر بڑی آفت نازل کروں گا،“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”مَیں اُن کا خاتِمہ ہونے تک تلوار سے اُن کا تعاقب کروں گا۔
JER 49:38 مَیں عیلامؔ میں اَپنا تخت قائِم کروں گا، اَور اُس کے بادشاہ اَور حاکموں کو ختم کر دُوں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 49:39 ”پھر بھی آخِری دِنوں میں، مَیں عیلامؔ کو جَلاوطنی سے واپس لاؤں گا،“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 50:1 بابیل اَور کَسدیوں کے مُلک کے متعلّق یَاہوِہ نے یرمیاہؔ نبی کی مَعرفت یہ کلام فرمایا،
JER 50:2 ”قوموں میں اعلان اَور مُنادی کرو، پرچم اُٹھاؤ اَور مُنادی کرو، کویٔی بات پوشیدہ نہ رکھو بَلکہ اعلان کرو، ’بابیل تسخیر کیا جائے گا؛ بیلؔ معبُود رُسوا ہوگا، اَور مرُودکؔ معبُود دہشت زدہ ہوگا۔ اُس کے تمام بُت شرمندہ ہوں گے، اَور اُس کے بُت دہشت زدہ کر دیئے جایٔیں گے۔‘
JER 50:3 شمال کی جانِب سے ایک قوم اُس پر حملہ کرےگی، اَور اُس کے مُلک کو اُجاڑ دے گی۔ اَور وہاں کویٔی باشِندہ نہ رہے گا؛ آدمی اَور جانور دونوں بھاگ جائیں گے۔
JER 50:4 ”اُن دِنوں میں اَور اُس وقت پر،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ ایک ساتھ جمع ہوکر اَور مِل کر، اَور روتے ہُوئے یَاہوِہ اَپنے خُدا کو ڈھونڈیں گے۔
JER 50:5 وہ صِیّونؔ کا راستہ دریافت کریں گے، اَور اَپنے رُخ صِیّونؔ کی طرف کریں گے۔ وہ آکر یَاہوِہ سے، اَبدی عہد باندھیں گے، جسے فراموش نہ کیا جائے گا۔
JER 50:6 ”میری قوم بھٹکی ہُوئی بھیڑوں کی مانند ہیں؛ اُن کے چرواہوں نے اُنہیں گُمراہ کر دیا تھا، اَور اُنہیں پہاڑوں پر مارے مارے پھرنے دیا۔ وہ پہاڑوں اَور ٹیلوں پر بھٹکتے پھرے اَور اَپنی آرامگاہ بھُول گئیں۔
JER 50:7 جو کویٔی اُنہیں پاتا تھا اُنہیں نگل جاتا تھا؛ اُن کے دُشمن کہتے تھے، ’اِس میں ہمارا کویٔی قُصُور نہیں ہے، کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کے خِلاف گُناہ کیا جو اُن کا حقیقی چراگاہ، اَور اُن کے آباؤاَجداد کی اُمّید تھا۔‘
JER 50:8 ”بابیل میں سے بھاگ جاؤ؛ اَور کَسدیوں کا مُلک چھوڑ دو، اَور اُن بکروں کی مانند بنو جو گلّہ کی رہنمائی کرتے ہیں۔
JER 50:9 کیونکہ مَیں شمال کی سرزمین سے مُختلف زبردست قوموں کا ایک گِروہ اُبھاروں گا۔ اَور اُسے بابیل کے خِلاف لے آؤں گا۔ وہ اُس کے مقابل صف آرا ہوں گے، اَور شمال کی جانِب سے اُس پر قبضہ کر لیں گے۔ اُن کے تیر تجربہ کار فَوجیوں کی مانند ہوں گے جو کبھی خالی ہاتھ نہیں لَوٹتے۔
JER 50:10 اِس طرح کَسدیوں کا مُلک لُوٹ لیا جائے گا؛ اَور اُسے لُوٹنے والے آسُودہ ہو جائیں گے۔“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے،
JER 50:11 ”اَے میری مِیراث کو لُوٹنے والوں، چونکہ تُم شادمان اَور خُوش ہو، اَور داونے والی بچھیا کی مانند کودتے پھاندتے، اَور ایک طاقتور گھوڑے کی مانند ہنہناتے ہو،
JER 50:12 اِس لیٔے تمہاری ماں بےحد شرمندہ ہوگی؛ اَور جِس نے تُمہیں پیدا کیا وہ رُسوا ہوگی۔ وہ تمام قوموں میں حقیر جانی جائے گی۔ وہ ایک بیابان، خشک زمین اَور صحرا بَن جائے گی۔
JER 50:13 یَاہوِہ کے قہر کے باعث وہ پھر آباد نہ ہوگی، بَلکہ بالکُل ویران ہو جائے گی۔ جو کویٔی بابیل کے پاس سے گزرے گا وہ اُس کے تمام زخموں دیکھ کر حیران ہوگا اَور اُس کا مذاق اُڑائے گا۔
JER 50:14 ”اَے سَب تیر اَندازوں! بابیل کے چاروں طرف صف آرائی کرو۔ اُس پر تیر برساؤ! کویٔی تیر باقی نہ رکھو، کیونکہ اُس نے یَاہوِہ کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔
JER 50:15 ہر طرف سے اُسے للکارو! اُس نے ہار مان لی، اُس کے بُرج گِر گیٔے، اَور اُس کی فصیلیں ڈھا دی گئیں۔ چونکہ یہ یَاہوِہ کا اِنتقام ہے، اِس لیٔے اُس سے اِنتقام لو؛ جِس طرح اُس نے دُوسروں کے ساتھ سلُوک کیا وَیسا ہی اُس کے ساتھ کرو۔
JER 50:16 بابیل میں سے ہر بونے والے کو، اَور درانتی سے فصل کاٹنے والے کو ختم کر ڈالو۔ اَور ستمگر کی تلوار کی وجہ سے سَب کو اَپنی اَپنی قوم میں جا مِلنے دو، اَور سَب کو اَپنے اَپنے مُلک کو بھاگ جانے دو۔
JER 50:17 ”بنی اِسرائیل پراگندہ بھیڑ ہے جسے شیروں نے رگیدا ہے۔ سَب سے پہلے شاہِ اشُور نے اُسے اَپنا نوالہ بنایا؛ اَور سَب سے آخِر میں اُس کی ہڈّیاں چبانے والا شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ تھا۔“
JER 50:18 چنانچہ قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ”جِس طرح مَیں نے شاہِ اشُور کو سزا دی اُسی طرح مَیں شاہِ بابیل اَور اُس کے مُلک کو سزا دُوں گا۔
JER 50:19 لیکن مَیں بنی اِسرائیل کو پھر سے اُس کی چراگاہ میں واپس لاؤں گا، اَور وہ کوہِ کرمِلؔ اَور باشانؔ میں چرا کرےگا؛ اِفرائیمؔ اَور گِلعادؔ کی پہاڑیوں پر اُس کی بھُوک مِٹ جائے گی۔
JER 50:20 اُن دِنوں میں اَور اُس وقت پر،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”بنی اِسرائیل کی بدکاری ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملے گی، اَور یہُوداہؔ کے گُناہ بھی ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملیں گے، کیونکہ جنہیں میں باقی بچاؤں گا اُن کے گُناہ بھی مُعاف کر دُوں گا۔
JER 50:21 ”مراتھائیم کے مُلک اَور پیقودؔ کے باشِندوں پر حملہ کرو۔ اُن کا تعاقب کرو، اُنہیں قتل کرو اَور بالکُل نِیست و نابود کر دو،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”جو کُچھ مَیں نے تُمہیں حُکم دیا ہے اُس پر عَمل کرو۔
JER 50:22 مُلک میں جنگ کا، اَور بڑی ہلاکت کا شور ہو رہاہے!
JER 50:23 جو ہتھوڑا تمام دُنیا کے لوگوں کو چکنا چُور کرتا تھا وہ اَب کیسے توڑ ڈالا گیا ہے! تمام قوموں کے درمیان اَب بابیل کیسا ویران پڑا ہے!
JER 50:24 اَے بابیل، مَیں نے تمہارے لیٔے ایک پھندا لگایا ہے، اَور خبر ہونے سے پہلے ہی، تُم پھنس چُکے تھے؛ اَور تُمہیں ڈھونڈ لیا گیا تھا۔ کیونکہ تُم نے یَاہوِہ سے مُخالفت کی تھی۔
JER 50:25 یَاہوِہ نے اَپنا اسلحہ خانہ کھول دیا ہے، اَور اَپنے قہر ڈھانے والا ہتھیار نکال لائے ہیں، کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ کو کَسدیوں کے مُلک میں کچھ کام کرناہے۔
JER 50:26 دُور دراز سے اُس کے خِلاف چلے آؤ۔ اَور اُس کے اناج کے گودام کھول دو؛ اناج کے ڈھیر کی مانند بابیل کو بالکُل نِیست و نابود کر دو اَور اُس کی کوئی بھی چیز باقی نہ چھوڑو۔
JER 50:27 اُس کے تمام جَوان بَیلوں کو ذبح کر ڈالو؛ اُنہیں ذبح ہونے کے لیٔے نیچے لے جاؤ! اُن پر ہائے کیونکہ اُن کے سزا کا دِن آ پہُنچا ہے، اُن کو سزا دینے کا وقت آ گیا ہے۔
JER 50:28 بابیل سے فرار ہونے والوں اَور پناہ گیروں کا شور سُنو جو صِیّونؔ میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ کس طرح یَاہوِہ ہمارے خُدا نے اَپنے بیت المُقدّس کا اِنتقام لے لیا ہے۔
JER 50:29 ”تیر اَندازوں کو بابیل کے خِلاف جمع کرو، اَور اُنہیں بھی جو کمان دار ہیں۔ اُس کے چاروں طرف خیمہ زن ہوں جاؤ؛ اَور کسی کو بچ کر نکلنے نہ دو۔ اُس کو اُس کے اعمال کی سزا دو؛ بابیل کے ساتھ وَیسا ہی کرو جَیسا اُس نے کیا تھا۔ کیونکہ اُس نے یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے قُدُّوس کو، بڑے تکبُّر سے للکارا ہے۔
JER 50:30 چنانچہ اُس کے جَوان مَرد گلیوں میں قتل ہوں گے؛ اَور اُس کے تمام جنگجو فَوجی اُس دِن خاموش کر دئیے جائیں گے،“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 50:31 ”اَے مغروُر، دیکھ مَیں تمہارا مُخالف ہُوں،“ یہ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”کیونکہ تمہارا دِن آ چُکاہے، وہ وقت، جَب مَیں تُمہیں سزا دُوں گا۔
JER 50:32 مغروُر ٹھوکر کھا کر گِرے گا اَور کویٔی اُسے اُٹھانے والا نہ ہوگا؛ مَیں اُس کے شہروں میں آگ لگا دُوں گا جو اُس کے گِردونواح میں سَب کچھ بھسم کر ڈالے گی۔“
JER 50:33 یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے: ”بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ پر، ظُلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ اُن کو اسیر کرنے والے اُنہیں قَید میں رکھے ہُوئے ہیں، اَور اُنہیں رہا کرنے سے اِنکار کرتے ہیں۔
JER 50:34 پھر بھی اُن کے نَجات دِہندہ زورآور ہیں؛ جِن کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے۔ وہ اُن کی پُوری حمایت کریں گے تاکہ اُن کے مُلک کو راحت بخشیں، لیکن بابیل کے باشِندوں میں بےچینی۔
JER 50:35 ”کَسدیوں، بابیل کے باشِندوں!“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اَور اُن کے حاکموں اَور دانِشوروں پر بھی تلوار چلے گی!
JER 50:36 اُس کے جھُوٹے نبیوں کے خِلاف تلوار چلے گی! جو احمق بَن جائیں گے۔ اُس کے سُورما فَوجیوں کے خِلاف تلوار چلے گی! جو خوفزدہ ہو جایٔیں گے۔
JER 50:37 اُس کے گھوڑوں اَور رتھوں کے خِلاف تلوار چلے گی اَور اُن پردیسیوں کے خِلاف بھی جو اُس کی فَوج میں ہیں! وہ سَب عورتوں کی مانند کمزور ہو جایٔیں گے۔ اُس کے خزانوں پر بھی تلوار چلے گی! اَور وہ لُوٹ لیٔے جایٔیں گے۔
JER 50:38 تلوار اُن کے دریاؤں پر خشک سالی لے آئے گی۔ کیونکہ یہ اُن تراشے ہُوئے بُتوں کا مُلک ہے، جہاں کے باشِندے اُن بُتوں پر دہشت سے پاگل ہُوئے جا رہے ہیں۔
JER 50:39 ”چنانچہ وہاں جنگلی جانور اَور لکڑبگّھے بسیں گے، اَور وہ اُلّوؤں کا مَسکن بَن جائے گا۔ وہ پھر کبھی آباد نہ ہوگا اَور پُشت در پُشت وہاں کویٔی سکونت نہ کرےگا۔
JER 50:40 جِس طرح مَیں نے سدُومؔ اَور عمورہؔ کو اُن کے آس پاس کے شہروں کے ساتھ نِیست و نابود کر دیا تھا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”ہُوبہو وَیسی ہی حالت بابیل کی ہوگی جہاں کویٔی بشر نہ رہے گا؛ نہ کویٔی آدمؔ زاد وہاں بسے گا۔
JER 50:41 ”دیکھو! شمال کی جانِب سے ایک لشکر آ رہاہے؛ اَور زمین کے کونے کونے سے ایک زبردست قوم اَور کیٔی بادشاہ برانگیختہ کئے جا رہے ہیں۔
JER 50:42 وہ کمانوں اَور نیزوں سے مُسلّح ہیں، جو نہایت سنگدل اَور بےرحم ہیں۔ جَب وہ اَپنے گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں تَب سمُندر کی گرج کی طرح للکارتے ہیں۔ اَے بابیل کی بیٹی، وہ جنگ کرنے کے لیٔے آراستہ ہوکر تُم پر حملہ کرنے کے لیٔے آ رہے ہیں۔
JER 50:43 اُن کی خبر سُنتے ہی شاہِ بابیل کے، ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ گیٔے ہیں۔ اَور وہ سخت تکلیف میں مُبتلا ہو گیا ہے، گویا وہ زچّہ کی مانند سخت درد میں۔
JER 50:44 دیکھو، وہ یردنؔ کے گھنے جنگلوں میں سے شیر کی مانند نکل کر سرسبز چراگاہوں پر حملہ کرےگا، اَور مَیں اِدُوم کو پل بھر میں اُس کے مُلک سے بے دخل کر دُوں گا۔ وہ کون برگُزیدہ شخص ہے جسے مَیں اِدُوم پر سردار مُقرّر کروں گا؟ کیونکہ مُجھ سا کون ہے اَور کون مُجھ پر مُقدّمہ چلا سَکتا ہے؟ اَور کون سا چرواہا میرے مقابل کھڑا ہو سَکتا ہے؟“
JER 50:45 چنانچہ سُنو کہ یَاہوِہ نے بابیل کے خِلاف کیا منصُوبہ بنایا ہے، اَور کَسدیوں کے مُلک کے خِلاف اُس کا کیا اِرادہ ہے، گلّے کے بچّے گھسیٹے جایٔیں گے؛ اَور وہ اُن کی چراگاہ کو خُود اُن کی اَپنی وجہ سے بالکُل تباہ کر دیں گے۔
JER 50:46 بابیل کی شِکست کے شور سے زمین کانپ اُٹھے گی، اَور اُن کی چیخیں قوموں میں سُنایٔی دیں گی۔
JER 51:1 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھو، مَیں بابیل اَور لیب کومائےؔ کے لوگوں کے خِلاف ایک غارت گر کی رُوح کو اُبھاروں گا۔
JER 51:2 مَیں بابیل میں پردیسی بھیجوں گا، تاکہ وہ اُسے پھٹکیں اَور اُس کی سرزمین کو ویران کر دیں؛ اَور اُس کی مُصیبت کے دِن اُس کے دُشمن بَن کر ہر طرف سے اُس کے مُخالف ہو جایٔیں گے۔
JER 51:3 تیر اَنداز کو اَپنی کمان کھینچنے سے روکو، نہ اُسے اَپنا بکتر پہن کر کھڑا ہونے دو۔ اُس کے جَوانوں پر رحم نہ کرو؛ اُس کے تمام لشکر کو تباہ کر دو۔
JER 51:4 وہ بابیل میں قتل ہوکر گِر جایٔیں گے، اَور شدید زخمی ہوکر اُس کی گلیوں میں پڑے ہوں گے۔
JER 51:5 حالانکہ اُن کا مُلک بنی اِسرائیل کے قُدُّوس کے سامنے بدی سے بھرا پڑا ہے، پھر بھی اُن کے خُدا، قادرمُطلق یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ کو ترک نہیں کیا۔
JER 51:6 ”بابیل سے بھاگ جاؤ! اَپنی جان بچا کر بھاگو! اُس کی بدکاری کے باعث تُم تباہ نہ ہو۔ یَاہوِہ کے اِنتقام کا وقت آ چُکاہے؛ وہ اُسے اَیسی سزا دیں گے جِس کا وہ مُستحق ہے۔
JER 51:7 بابیل، یَاہوِہ کے ہاتھ میں سونے کا پیالہ تھا؛ اُس نے تمام دُنیا کو متوالا بنا دیا۔ قوموں نے اُس کی مَے نوش کرلی؛ اِس لیٔے اَب اُن کے لوگ پاگل ہو گئے ہیں۔
JER 51:8 بابیل اَچانک گِر کر ٹوٹ جائے گا۔ اُس پر ماتم کرو! اُس کے درد کے لیٔے مرہم لاؤ؛ شاید وہ شفایاب ہو جائے۔
JER 51:9 ” ’ہم نے بابیل کو شفا بخش دی ہوتی، لیکن وہ تندرست نہیں ہونا چاہتا تھا؛ آؤ ہم اُسے چھوڑ دیں اَور اَپنے اَپنے مُلک کو لَوٹ جایٔیں، کیونکہ اُس کی سزا آسمان تک پہُنچ رہی ہے، وہ بادلوں کی اُونچائی تک بُلند ہو چُکی ہے۔‘
JER 51:10 ” ’یَاہوِہ نے ہماری صداقت آشکار کر دی ہے؛ آؤ ہم صِیّونؔ میں جا کر اِس کا بَیان کریں کہ یَاہوِہ ہمارے خُدا نے کیا کام کیا ہے۔‘
JER 51:11 ”تیروں کو تیز کر لو، اَور سِپر اُٹھالو! یَاہوِہ نے مادیؔ بادشاہوں کو اُبھارا ہے، کیونکہ اُن کا منصُوبہ بابیل کو تباہ کرناہے۔ یَاہوِہ اِنتقام لیں گے، یعنی اَپنے بیت المُقدّس کے لئے اِنتقام۔
JER 51:12 بابیل کی فصیلوں کے مقابل حملہ آور پرچم بُلند کرو! وہاں ایک مضبُوط پہرےدار مُقرّر کرو، پہرےداروں کی تعداد بڑھا دو، گھات لگا کر بیٹھو! یَاہوِہ بابیل کے لوگوں کے خِلاف، اَپنا حُکم اَور اِرادہ پُورا کریں گے۔
JER 51:13 اَے بہت سِی دریاؤں سے سیراب ہونے والی اَور جِس کے خزانے بھرے ہُوئے ہیں، تمہارا وقتِ نزع قریب ہے، اَور تمہارے فنا ہونے کا وقت آ پہُنچا ہے۔
JER 51:14 قادرمُطلق یَاہوِہ نے اَپنی ذات کی قَسم کھائی ہے کہ، یقیناً مَیں تُمہیں ٹِڈّیوں کے جھُنڈ کی مانند لوگوں سے بھر دُوں گا، اَور وہ تُم پر فاتحانہ نعرہ بُلند کریں گے۔
JER 51:15 ”یَاہوِہ خُدا نے اَپنی قُدرت سے زمین کو خلق کیا؛ اَور اَپنی حِکمت سے جہان کی بُنیاد ڈالی اَور اَپنی دانش سے آسمانوں کو تانا۔
JER 51:16 جَب وہ گرجتے ہیں تو آسمان پر پانی شور مچاتا ہے؛ وہ زمین کی اِنتہا سے بادل لاتے ہیں۔ وہ بارش کے ساتھ بجلی چمکاتے ہیں اَور اَپنے مخزنوں سے ہَوا چلاتے ہیں۔
JER 51:17 ”سَب اِنسان نادان اَور جاہل ہیں؛ ہر سُنار اَپنے ڈھالی ہُوئی بُتوں کے سبب رُسوا ہے۔ کیونکہ اُن کے ڈھالے ہُوئے بُت محض فریب ہیں؛ جِن میں دَم نہیں ہے۔
JER 51:18 وہ نکمّی اَور قابل تمسخر کا چیزیں ہیں؛ جَب اُن کی سزا کا وقت آئے گا، تو وہ نِیست و نابود ہو جائیں گی۔
JER 51:19 خُدا جو یعقوب کا حِصّہ ہے، وہ اُن بُتوں کی مانند نہیں، کیونکہ وہ تمام چیزوں کے خالق ہیں، یہاں تک کہ بنی اِسرائیل کے قبیلے بھی جو اُن کی قوم کی مِیراث ہے جِن کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے۔
JER 51:20 ”تُم میرے گُرز، اَور جنگی ہتھیار ہو تمہارے ذریعے سے مَیں قوموں کو چکنا چُور کرتا ہُوں، اَور تمہارے ذریعے سے مَیں سلطنتوں کو تباہ کرتا ہُوں،
JER 51:21 تُم ہی سے مَیں گھوڑے اَور سوار کو ریزہ ریزہ کرتا ہُوں، اَور تُم ہی سے مَیں رتھ اَور اُس کے سوار کو پاش پاش کرتا ہُوں،
JER 51:22 تُم ہی سے مَیں مَرد اَور عورت کو کُچلتا ہُوں، تُم ہی سے مَیں ضعیف اَور جَوان کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہُوں، تُم ہی سے مَیں نوجوان اَور دوشیزہ کو چُورچُور کرتا ہُوں،
JER 51:23 تُم ہی سے مَیں چرواہے اَور گلّہ کو پیس ڈالتا ہُوں، تُم ہی سے مَیں کِسان اَور بَیل کو توڑ ڈالتا ہُوں، تُم ہی سے مَیں سرداروں اَور حاکموں کو مٹا دیتا ہُوں۔
JER 51:24 ”مَیں تمہاری آنکھوں کے سامنے بابیل کو اَور تمام کَسدیوں کو اُن کی صِیّونؔ میں کی ہُوئی بُرائیوں کا بدلہ دُوں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 51:25 ”اَے تباہ کرنے والے پہاڑ، مَیں تمہارے خِلاف ہُوں، جو تمام دُنیا کو تباہ کرتا ہے،“ یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے، ”مَیں اَپنا ہاتھ تمہارے خِلاف بڑھاؤں گا، اَور تُمہیں چٹّانوں پر سے لُڑھکاؤں گا، اَور تُمہیں جَلا ہُوا پہاڑ بناؤں گا۔
JER 51:26 تُم سے کونے کے پتّھر کے لیٔے، نہ ہی بُنیاد ڈالنے کے لیٔے کویٔی پتّھر لیا جائے گا، تُم ہمیشہ ویران رہوگے،“ کیونکہ یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے۔
JER 51:27 ”مُلک میں پرچم کھڑا کرو! قوموں میں نرسنگا پھُونکو! قوموں کو اُس کے خِلاف جنگ کے لئے تیّار کرو؛ اراراطؔ، مِنّیؔ اَور اشکِنازؔ کی مملکتوں کو اُس کے خِلاف بُلاؤ۔ اُس کے خِلاف سپہ سالار مُقرّر کرو؛ اَور مہلک ٹِڈّیوں کے جھُنڈ کی طرح گُھڑسواروں کو بھیج دو۔
JER 51:28 قوموں کو اُس کے خِلاف لڑنے کے لیٔے تیّار کرو۔ یعنی مادیؔ بادشاہوں کو، اُن کے سرداروں اَور تمام حاکموں کو، اَور اُن تمام مُلکوں کو جِن پر اُن کا تسلُّط ہے۔
JER 51:29 بابیل کا مُلک ویران ہو تاکہ وہاں کویٔی بھی رہ نہ سکے۔ یَاہوِہ کا بابیل کے خِلاف یہ اِرادہ قائِم رہے گا، اِس لیٔے مُلک کانپ رہاہے اَور درد سے لرزتا ہے۔
JER 51:30 بابیل کے جنگجو فَوجیوں نے لڑنا ترک کر دیا ہے؛ اَور وہ اَپنے قلعوں میں جا بیٹھے ہیں۔ اُن کی قُوّت پست ہُوئی؛ اَور وہ عورتوں کی مانند پست ہو گئے۔ اُس کے مَسکن جَلائے گیٔے؛ اَور اُس کے پھاٹکوں کی سلاخیں توڑ دی گئیں۔
JER 51:31 ہرکارا ہرکارے سے اَور ایک قاصِد دُوسرے قاصِد سے مِلنے کو دَوڑ رہے ہیں تاکہ شاہِ بابیل کو اِطّلاع کریں کہ اُس کا تمام شہر تسخیر ہو چُکاہے۔
JER 51:32 دریاؤں کی گزرگاہوں پر دُشمن کا قبضہ ہو گیا ہے، اَور دُشمنوں نے دلدل کے نَیستان میں آگ لگا دی ہے، اَور فَوجی کافی گھبرائے ہُوئے ہیں۔“
JER 51:33 قادرمُطلق یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ”بابیل کی بیٹی روندنے کے وقت کے کھلیان کی مانند ہے جِس کی بہت جلد کٹائی کا وقت آ جائے گا۔“
JER 51:34 ”صِیّونؔ کے باشِندے کہیں گے، شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے ہمیں کھا لیا ہے، اُس نے ہمیں کُچل دیا ہے، اَور ہمیں خالی صُراحی کی مانند کر دیا۔ اَژدہا کی مانند اُس نے ہمیں نگل لیا ہماری لذیذ غِذا سے اَپنا پیٹ بھر لیا، اَور پھر ہمیں ہمارے مُلک سے بے دخل کر دیا۔
JER 51:35 صِیّونؔ کے باشِندے کہیں جو سِتم ہم پر اَور ہمارے بچّوں پر ہُوا وہ بابیل پر بھی ہو۔“ اَور یروشلیمؔ کہتاہے کہ ”ہمارا خُون اہلِ کَسدیوں پر ہو۔“
JER 51:36 چنانچہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھو، مَیں تمہارا بچاؤ کروں گا اَور تمہارا اِنتقام لُوں گا؛ مَیں اُس کے سمُندروں کو سُکھا دُوں گا اَور اُس کے چشموں کو خشک کر دُوں گا۔
JER 51:37 بابیل کھنڈروں کا انبار بَن جائے گا، اَور گیدڑوں کا مَسکن ہوگا، اَور لوگوں کے لیٔے دہشت اَور طعن کا باعث بَن جائے گا، اَور ایک اَیسا مقام ہوگا جہاں کویٔی نہیں رہتا۔
JER 51:38 اُس کے تمام لوگ جَوان شیروں کی طرح گرجتے ہیں، اَور شیر کے بچّوں کی طرح غرّاتے ہیں۔
JER 51:39 لیکن جَب وہ ہوش میں ہُوں، تَب مَیں اُن کے لیٔے ضیافت تیّار کروں گا اَور اُنہیں متوالا بنا دُوں گا۔ تاکہ وہ زور سے قہقہہ لگائیں۔ اَور پھر اَبدی نیند سو جایٔیں اَور کبھی نہ بیدار ہوں۔“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 51:40 ”مَیں اُنہیں اِس طرح نیچے لاؤں گا جِس طرح برّوں، مینڈھوں اَور بکروں کو ذبح کرنے کے لیٔے لاتے ہیں۔
JER 51:41 ”شیشاقؔ جو تمام روئے زمین کا مایہ ناز شہر ہے، وہ کیسے تسخیر ہوگا! بابیل تمام قوموں کے درمیان کیسا ویران ہو جائے گا!
JER 51:42 سمُندر بابیل پر چڑھ آئے گا؛ اَور اُس کی پُر شور لہریں اُس پر چھا جایٔیں گی۔
JER 51:43 اُس کے شہر ویران ہو جایٔیں گے، مُلک خشک اَور بیابان بَن جائے گا، وہ اَیسا مُلک ہوگا جِس میں کویٔی بھی نہ بستا ہو، نہ اُس میں سے کویٔی آدمؔ زاد گزرتا ہو۔
JER 51:44 مَیں بابیل میں بیلؔ کو سزا دُوں گا اَورجو کچھ اُس نے نگل لیا ہے اُسے اُس کے مُنہ سے اُگلواؤں گا۔ قومیں پھر اُس کی طرف روانہ نہیں ہُوں گی۔ اَور بابیل کی فصیل گِر جائے گی۔
JER 51:45 ”اَے میری اُمّت، اُس میں سے نکل آؤ! اَپنی جان بچا کر بھاگ جاؤ! یَاہوِہ کے قہر شدید سے بھاگ جاؤ۔
JER 51:46 جَب مُلک میں افواہیں سُنایٔی دیں، تو تمہارا دِل نہ گھبرائے، نہ ہی تُم ڈرو؛ اِس سال ایک افواہ آتی ہے تو اگلے سال دُوسری، مُلک میں تشدّد کی افواہیں اَور ایک حاکم کے دُوسرے کے خِلاف لڑنے کی افواہیں۔
JER 51:47 وہ وقت ضروُر آئے گا جَب مَیں بابیل کے بُتوں کو سزا دُوں گا؛ اُس کا تمام مُلک رُسوا ہوگا اَور اُس کے تمام مقتول اُسی کے اَندر پڑے ہُوئے ہوں گے۔
JER 51:48 تَب آسمان اَور زمین اَورجو کچھ اُن کے اَندر ہے بابیل پر شادیانے بجائیں گے، کیونکہ شمال کی طرف سے غارت گِر اُس پر حملہ کریں گے،“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 51:49 ”جِس طرح بابیل میں بنی اِسرائیل قتل ہُوئے ہیں، اُسی طرح بنی اِسرائیل کے مقتولوں کی وجہ سے بابیل میں تمام لوگ قتل ہوں گے۔
JER 51:50 تُم جو تلوار سے بچ گیٔے ہو، چلے جاؤ، دیر نہ کرو! دُور کے مُلک میں یَاہوِہ کو یاد کرو، اَور یروشلیمؔ کا خیال کرو۔“
JER 51:51 ”ہم رُسوا ہو گئے، کیونکہ ہماری توہین کی گئی اَور ہمارے چہروں پر شرمندگی چھائی ہُوئی ہے، کیونکہ یَاہوِہ کے گھر کے پاک مقاموں میں اجنبی لوگ گھُس آئے۔“
JER 51:52 ”لیکن وہ دِن آ رہے ہیں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ”جَب مَیں اُس کے بُتوں کو سزا دُوں گا، اَور اُس کے سارے مُلک میں زخمی لوگ کراہتے رہیں گے۔
JER 51:53 خواہ بابیل آسمان تک پہُنچ جائے اَور اَپنے اُونچے قلعوں کو مُستحکم کر لے، تو بھی مَیں اُس کے خِلاف غارت گِر بھیجوں گا،“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JER 51:54 ”بابیل سے رونے کی آواز آ رہی ہے، اَور کَسدیوں کے مُلک سے بڑی تباہی کا شور و غُل سُنایٔی دیتاہے۔
JER 51:55 یَاہوِہ بابیل کو تباہ کر دیں گے؛ وہ اُس کے شور و غُل کو خاموش کر دیں گے۔ دُشمن ٹھاٹھیں مارتے ہُوئے سمُندر کی طرح آگے بڑھےگا؛ اَور اُن کی صدائیں گونجیں گی۔
JER 51:56 بابیل کے خِلاف غارت گر آ جائے گا؛ اُس کے جنگجو فَوجی گِرفتار ہوں گے، اَور اُن کی کمانیں توڑ دی جایٔیں گی۔ کیونکہ یَاہوِہ اِنتقام لینے والے خُدا ہیں؛ وہ پُورا پُورا بدلہ لیں گے۔
JER 51:57 مَیں اُس کے حاکموں اَور دانِشوروں کو متوالا کر دُوں گا، اَور اُس کے سرداروں، افسروں اَور فَوجیوں کو بھی؛ وہ اَبدی نیند سوئیں گے اَور پھر کبھی بیدار نہ ہوں گے،“ یہ اُس بادشاہ کا فرمان ہے جِس کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے۔
JER 51:58 یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے: ”بابیل کی موٹی فصیل ڈھا دی جائے گی اَور اُس کے بُلند پھاٹکوں کو آگ لگا دی جائے گی؛ لوگوں کی محنت بے فائدہ ٹھہرے گی، اَور قوموں کی مشقّت آگ کے کام آئے گی۔“
JER 51:59 شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے چوتھے سال میں جَب محسیاہؔ کا پوتا اَور نیریاہؔ بِن سِرایاہؔ جو خواجہ سراؤں کا سردار تھا بادشاہ کے ساتھ بابیل گیا تَب یرمیاہؔ نبی نے خُداوؔند کا یہ کلام اُسے دیا،
JER 51:60 یرمیاہؔ نے ایک طُومار میں بابیل پر نازل ہونے والی سَب آفتیں لِکھ دی تھیں۔ وہ سَب باتیں جو بابیل کے متعلّق لکھی جا چُکی تھیں۔
JER 51:61 یرمیاہؔ نے سِرایاہؔ سے فرمایا، ”جَب تُم بابیل پہُنچو تو اِن سَب باتوں کو بُلند آواز سے پڑھنا۔
JER 51:62 پھر کہنا، ’اَے یَاہوِہ، آپ نے فرمایاہے کہ آپ اِس مقام کو تباہ کر دیں گے تاکہ یہاں کویٔی اِنسان یا حَیوان نہ رہے اَور وہ ہمیشہ کے لیٔے ویران ہو جائے گا۔‘
JER 51:63 جَب تُم یہ طُومار پڑھ چُکو تَب اُس میں ایک پتّھر باندھ دینا اَور اُسے دریائے فراتؔ میں پھینک دینا۔
JER 51:64 اَور کہنا، ’اِسی طرح سے بابیل ڈُوب جائے گا اَور پھر کبھی نہ اُبھرے گا کیونکہ یَاہوِہ اُس پر مُصیبت لائیں گے اَور اُس کے لوگ نِیست و نابود ہو جایٔیں گے۔‘ “ یرمیاہؔ نبی کا کلام یہیں پر ختم ہوتاہے۔
JER 52:1 جَب صِدقیاہؔ بادشاہ بنا، تَب وہ اکّیس سال کا تھا اَور اُس نے گیارہ سال تک یروشلیمؔ پر حُکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام حمُوطلؔ تھا جو لِبناہؔ شہر کے باشِندے یرمیاہؔ کی بیٹی تھی۔
JER 52:2 اُس نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی، اَور ہُوبہو یہُویقیمؔ کے نقش قدم پر چلا۔
JER 52:3 یَاہوِہ کے غضب کی بنا پر یروشلیمؔ اَور یہُودیؔہ کا یہ حال ہُوا اَور آخِرکار یَاہوِہ نے اُنہیں اَپنے سامنے سے دُور ہی کر دیا۔ اَور صِدقیاہؔ نے شاہِ بابیل کے خِلاف بغاوت کر دی تھی۔
JER 52:4 اِس لیٔے صِدقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے نویں سال کے دسویں مہینے کے دسویں دِن شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے اَپنے پُورے لشکر کے ساتھ یروشلیمؔ پر حملہ کر دیا۔ اَور شہر کے پاس خیمہ زن ہُوا اَور شہر کے اطراف کا محاصرہ کر لیا۔
JER 52:5 اَور صِدقیاہؔ بادشاہ کے دَورِ حُکومت کے گیارھویں سال تک شہر کا محاصرہ رہا۔
JER 52:6 اَور چوتھے مہینے کے نویں دِن سے شہر میں قحط کی شِدّت میں اِس قدر اِضافہ ہو گیا کہ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ رہا۔
JER 52:7 تَب یروشلیمؔ شہر کی فَوج نے شہرپناہ میں دراڑ کی اَور تمام فَوج فرار ہو گئی۔ حالانکہ کَسدی یعنی بابیل کی فَوج شہر کے گِردونواح کا محاصرہ کئے ہُوئے تھی تَب بھی وہ سَب شاہی باغ کے نزدیک دو دیواروں کے درمیان والے پھاٹک سے رات کے وقت فرار ہو گئے اَور عراباہؔ کی جانِب بھاگے۔
JER 52:8 لیکن کَسدیوں کی فَوج نے صِدقیاہؔ بادشاہ کا تعاقب کیا اَور اُسے یریحوؔ کے میدان میں دبوچ لیا۔ تَب اُس کے تمام فَوجی اُس سے جُدا ہوکر پراگندہ ہو گئے۔
JER 52:9 اَور صِدقیاہؔ بادشاہ کو گِرفتار کر لیا گیا۔ صِدقیاہؔ کو حماتؔ کے مُلک میں رِبلہؔ لے جایا گیا جہاں شاہِ بابیل مُقیم تھا، وہاں اُس نے اُسے سزا سُنایٔی۔
JER 52:10 شاہِ بابیل نے رِبلہؔ میں صِدقیاہؔ کے بیٹوں کو اُس کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا؛ اَور اُس نے یہُودیؔہ کے تمام اُمرا کو بھی قتل کر دیا۔
JER 52:11 پھر اُس نے شاہِ صِدقیاہؔ کی آنکھیں نکال لیں اَور اُسے کانسے کی بِیڑیوں میں جکڑ کر بابیل لے گیا جہاں اُسے مرنے تک قَیدخانہ میں ڈال دیا۔
JER 52:12 شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے دَورِ حُکومت کے اُنّیسویں سال کے پانچویں مہینے کے دسویں دِن شاہی پہرےداروں کا سردار نبوزرادانؔ جو شاہِ بابیل کا مُلازم تھا یروشلیمؔ میں آیا۔
JER 52:13 اُس نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس، شاہی محل اَور یروشلیمؔ کے تمام مکانات کو آگ لگوا کر جَلا دیا۔ اُس نے ہر اہم عمارت کو جَلا ڈالا۔
JER 52:14 شاہی پہرےداروں کے سردار کی زیرِ قیادت کَسدیوں کی تمام فَوج نے یروشلیمؔ کے چاروں طرف کی فصیلوں کو گرا دیا۔
JER 52:15 تَب شاہی پہرےداروں کا سردار، نبوزرادانؔ، نے قوم میں سے چند مُحتاجوں کو اَور شہر میں بچے ہُوئے لوگوں کو، دستکاروں اَور اُن لوگوں کو جنہوں نے خُود کو شاہِ بابیل کے تابع ہو گئے تھے، اُنہیں اَپنے ساتھ جَلاوطن کرکے لے گیا۔
JER 52:16 لیکن نبوزرادانؔ نے مُلک کے باقی غریبوں کو پیچھے چھوڑ دیا تاکہ وہ انگوری باغوں اَور کھیتوں میں باغبانی کریں اَور زمین جوتیں۔
JER 52:17 اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جو کانسے کے سُتون تھے اُنہیں اَور کُرسیوں اَور کانسے کے بڑے حوض کو کَسدیوں نے توڑ ڈالا اَور اُن کے سَب کانسے بابیل لے گئے۔
JER 52:18 اَور سَب ظروف، دیگیں اَور بیلچے، پیالے، گُلگیر، چمچے، لگن اَور بیت المُقدّس میں عبادت کے وقت اِستعمال میں ہونے والی کانسے کی چیزیں بھی ساتھ لے گیٔے۔
JER 52:19 چلمچی، بخُوردان، چھڑکنے والے پیالے گلدان، چراغدان، پیالے اَور پیالے بھی جو خالص سونے یا چاندی کے بنے ہُوئے تھے، اُنہیں شاہی پہرےداروں کا سردار اَپنے ساتھ لے گئے۔
JER 52:20 وہ دو سُتون، بڑا حوض اَور کانسے کے بَارہ بَیل جو کُرسیوں کے نیچے تھے، جنہیں شُلومونؔ بادشاہ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے لیٔے تعمیر کروایا تھا؛ اِن سَب کانسوں کا وزن اِس قدر زِیادہ تھا کہ تَولا نہ جا سَکتا تھا۔
JER 52:21 ہر سُتون کی پیمائش اُونچائی اٹھّارہ ہاتھ اَور اُس کا گھیرا بَارہ ہاتھ تھا اَور اُس کے پرت کی موٹائی چار اُنگل تھی اَور یہ سُتون کھوکھلے تھے۔
JER 52:22 ہر ایک سُتون کے بالائی حِصّہ پر ایک کانسے کا تاج تھا جِن کی پانچ ہاتھ اُونچائی تھا اَور اُسے ہر طرف سے کانسے کی جالی اَور انار کی کلیوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ اَور دُوسرے سُتون اَور اُس کے انار کی جالی بھی اُس کے مُشابہ تھے۔
JER 52:23 بازوؤں میں چھیانوے انار جڑے ہُوئے تھے اَور چاروں طرف کی جالی کے اُوپر کل سَو انار تھے۔
JER 52:24 اِس کے بعد پہرےداروں کے سردار نے اعلیٰ کاہِن سِرایاہؔ اَور کاہِنؔ ثانی صفنیاہؔ کو اَور بیت المُقدّس کے تینوں دربانوں کو گِرفتار کیا۔
JER 52:25 اَور اُس نے شہر میں سے ایک اعلیٰ افسر کو پکڑ لیا جو جنگی فَوجیوں کا نِگراں تھا اَورجو لوگ بادشاہ کے سامنے حاضِر رہتے تھے اُن میں سے سات شاہی مُشیروں کو؛ اَور فَوج کے سپہ سالار کے ایک مُنشی کو بھی گِرفتار کر لیا جو مُلک کے لوگوں کو فَوج میں شریک کرتا تھا، اَور مُلک کے باشِندوں میں سے ساٹھ مَردوں کو جو شہر میں مِلے اُنہیں گِرفتار کر لیا۔
JER 52:26 سردار نبوزرادانؔ نے اُن سَب کو لے کر رِبلہؔ میں شاہِ بابیل کے پاس پیش کر دیا۔
JER 52:27 تَب شاہِ بابیل نے مُلکِ حماتؔ میں رِبلہؔ کے علاقہ میں اُنہیں قتل کر دیا۔ اِس طرح سے بنی یہُوداہؔ اسیر ہوکر اَپنے مُلک سے بے دخل کر دیا گیا۔
JER 52:28 جِن لوگوں کو نبوکدنضرؔ اسیر کرکے لے گیا وہ شُمار میں یُوں ہیں، ساتویں بَرس میں، تین ہزار تئیس یہُودی؛
JER 52:29 نبوکدنضرؔ کے دَورِ حُکومت کے اٹھّارہویں بَرس میں، یروشلیمؔ کے باشِندوں میں سے آٹھ سَوبتّیس لوگ؛
JER 52:30 اَور نبوکدنضرؔ کے دَورِ حُکومت کے تئیسویں بَرس میں، شاہی پہرےداروں کے سردار نبوزرادانؔ نے سات سَو پینتالیس یہُودیوں کو جَلاوطن کر دیا۔
JER 52:31 شاہِ یہُودیؔہ یہُویاکینؔ کی جَلاوطنی کے سینتیسویں سال میں، اوِیل مرُودکؔ بابیل کا بادشاہ بنا، اُس نے اِسی سال کے بارہویں ماہ کے پچّیسویں دِن کو شاہِ یہُودیؔہ یہُویاکینؔ کو قَید سے آزاد کر دیا۔
JER 52:32 اَور اُس سے نہایت مہربانی سے پیش آیا اَور اُس وقت جتنے اَور بادشاہ بابیل میں اُس کے پاس تھے، اُن سَب سے بڑھ کر اُسے اعلیٰ نشست عطا کی۔
JER 52:33 چنانچہ یہُویاکینؔ نے اَپنے قَیدخانہ کے کپڑے اُتار دئیے اَور تاعمر باقاعدہ شاہی دسترخوان پر شاہِ بابیل کے ساتھ کھانا کھاتا رہا۔
JER 52:34 شاہِ بابیل روز بروز یہُویاکینؔ کو تاعمر تک یعنی اُس کے وفات تک حسبِ معمول وظیفہ دیتا رہا۔
LAM 1:1 وہ بستی کیسی ویران پڑی ہے جہاں کسی زمانہ میں لوگوں کی چہل پہل تھی اَب کیسی بِیوہ کی مانند ہو گئی ہے! جو کبھی قوموں میں ممتاز تھی، وہ جو صوبوں کی ملِکہ تھی اَب وہ غُلام بَن گئی ہے۔
LAM 1:2 وہ رات کو زار زار روتی ہے، اَور اُس کے رخساروں پر آنسُو ڈھلکتے ہیں۔ اُس کے تمام عاشقوں میں اَب کویٔی نہیں جو اُسے تسلّی دے۔ اُس کے سبھی دوستوں نے اُس سے بےوفائی کی؛ اَور وہ اُس کے دُشمن بَن گیٔے۔
LAM 1:3 ذِلّت اَور سخت مشقّت کے سبب سے، بنی یہُوداہؔ جَلاوطن ہُوا۔ وہ مُختلف قوموں کے درمیان سکونت پذیر ہے؛ لیکن اُسے کہیں راحت کی جگہ نہیں ملتی۔ جِتنوں نے اُس کا تعاقب کیا اُنہُوں نے اُسے اُس کی غمگینی کی حالت میں جا لیا۔
LAM 1:4 صِیّونؔ کی راہیں ماتم کرتی ہیں، کیونکہ اُس کی مُقرّرہ عیدوں کے لیٔے کویٔی نہیں آتا۔ اُس کے تمام پھاٹک ویران پڑے ہیں، اُس کے کاہِنؔ آہیں بھرتے ہیں، اُس کی دوشیزائیں مُصیبت زدہ ہیں، اَور وہ شدید تکلیف میں ہے۔
LAM 1:5 اُس کے حریف اُس کے آقا بَن گیٔے ہیں؛ اُس کے دُشمن آرام سے ہیں۔ اُس کے گُناہوں کی کثرت کے باعث یَاہوِہ نے اُسے دُکھ دیا ہے۔ دُشمنوں کے ہاتھوں گِرفتار ہوکر، اُس کے بچّے جَلاوطن ہو گئے۔
LAM 1:6 صِیّونؔ کی بیٹی کی تمام شان و شوکت جاتی رہی۔ اُس کے اُمرا اُن ہِرنوں کی مانند ہو گئے ہیں جنہیں چراگاہ نہیں ملتی؛ اَور وہ تعاقب کرنے والے کے سامنے سے کمزوری کی حالت میں بھاگ نکلے ہیں۔
LAM 1:7 اَپنے دُکھ اَور بدحواسی کے عالَم میں یروشلیمؔ کو اَپنے تمام خزانے یاد آتے ہیں جو قدیم زمانہ میں اُس کی مِلکیّت تھے۔ جَب اُس کے لوگ دُشمنوں کے ہاتھ پڑے، تَب کویٔی اُس کا مددگار نہ ہُوا۔ اُس کے دُشمنوں نے اُس کی طرف دیکھا اَور اُس کی تباہی کا مذاق اُڑایا۔
LAM 1:8 یروشلیمؔ نے سنگین گُناہ کیا اُس کی حالت ایک نجِس عورت کی طرح ہو گئی۔ جو اُس کا اِحترام کرتے تھے وہ اَب اُس کی تحقیر کرتے ہیں، کیونکہ اُنہُوں نے اُس کی برہنگی دیکھی ہے؛ جو خُود کراہتی ہے اَور مُنہ پھیر لیتی ہے۔
LAM 1:9 اُس کی نَجاست اُس کے دامن سے لگی ہویٔی ہے؛ اُس نے اَپنے اَنجام کا خیال نہیں کیا۔ اُس کا زوال حیران کُن تھا، اَور اُسے تسلّی دینے والا کویٔی نہ تھا۔ ”اَے یَاہوِہ! میری ذِلّت پر نظر کریں، کیونکہ میرا دُشمن مُجھ پر غالب آ چُکاہے۔“
LAM 1:10 دُشمن نے اُس کے سارے خزانوں پر ہاتھ ڈالا ہے؛ اُس نے غَیراِسرائیلی کو اَپنے پاک مَقدِس میں داخل ہوتے ہُوئے دیکھاہے۔ جنہیں آپ نے اَپنے مجمع میں داخل ہونے سے منع کیا تھا۔
LAM 1:11 اُس کے تمام باشِندے روٹی کی تلاش میں کراہتے ہیں؛ اَور اَپنی جان بچانے کے لیٔے اَپنی قیمتی چیزیں روٹی کے عوض دے ڈالتے ہیں۔ ”دیکھو اَے یَاہوِہ، مُجھ پر نظر کریں، کیونکہ مَیں ذِلّت کا شِکار ہُوں۔“
LAM 1:12 اَے تمام راہ گیرو، کیا تُمہیں اِس کا قطعی احساس نہیں؟ چاروں طرف نظر دَوڑاؤ اَور دیکھو۔ کیا مُجھ پر آئی ہُوئی تکلیف کی طرح کویٔی اَور تکلیف بھی ہے، جسے یَاہوِہ نے اَپنے قہر شدید کے دِن مُجھ پر نازل کیا؟
LAM 1:13 ”اُنہُوں نے عالمِ بالا سے میری ہڈّیوں کے لیٔے آگ بھیجی۔ اُنہُوں نے میرے قدموں کے لیٔے جال بچھایا اَور مُجھے واپس پھیر دیا۔ اُنہُوں نے مُجھے سارے دِن کے لیٔے بےبس، اَور نڈھال بنا دیا۔
LAM 1:14 ”میرے گُناہ جُوئے میں باندھے گیٔے؛ جسے اُنہُوں نے اَپنے ہاتھ سے کسا ہے۔ وہ میری گردن پر آ پڑے ہیں خُداوؔند نے مُجھے ناتواں کر دیا ہے۔ اُنہُوں نے مُجھے اَیسے لوگوں کے حوالہ کیا ہے جِن کا میں مُقابلہ نہیں کر سَکتا۔“
LAM 1:15 خُداوؔند نے میرے درمیان ہی میرے تمام سُورماؤں کو ناچیز ٹھہرایا؛ اَور میرے خِلاف ایک لشکر لا کھڑا کیا تاکہ میرے نوجوانوں کو کُچل ڈالیں۔ بنی یہُوداہؔ کی کنواری بیٹی کو اُنہُوں نے اَپنے کولہو میں کُچل ڈالا۔
LAM 1:16 ”اِسی لیٔے مَیں رو رہا ہُوں اَور میری آنکھیں آنسُو بہا رہی ہیں۔ کویٔی بھی میرے پاس نہیں جو مُجھے تسلّی دے، یا میری رُوح کو تازہ کر دے۔ میرے بچّے مُحتاج ہو گئے ہیں کیونکہ دُشمن غالب آ چُکاہے۔“
LAM 1:17 صِیّونؔ اَپنے ہاتھ پھیلائے ہُوئے ہے، لیکن اُسے تسلّی دینے والا کویٔی نہیں۔ یَاہوِہ نے یعقوب کے بارے میں حُکم دیا ہے کہ اُس کے ہمسائے اُس کے دُشمن بَن جایٔیں؛ یروشلیمؔ، اُن کے درمیان ناپاکی بَن گیا ہے۔
LAM 1:18 یَاہوِہ صادق ہیں، پھر بھی مَیں نے اُن کے حُکم سے سرکشی کی۔ اَے تمام لوگو، سُنو؛ اَور میری اَذیّت پر نظر کرو۔ میری کنواریاں اَور نوجوان جَلاوطن ہو چُکے ہیں۔
LAM 1:19 مَیں نے اَپنے رفیقوں کو پُکارا لیکن اُنہُوں نے مُجھے دھوکا دیا۔ میرے کاہِنؔ اَور میرے بُزرگ شہر ہی میں ہلاک ہو گئے جَب وہ اَپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لئے کھانے کی تلاش میں تھے۔
LAM 1:20 دیکھیں اَے یَاہوِہ کہ میں کس قدر پریشان ہُوں! مَیں اَندر ہی اَندر پیچ و تاب میں مُبتلا ہُوں، میرا دِل مُضطرب ہے، کیونکہ مَیں نے سخت بغاوت کی ہے۔ باہر تلوار بے اَولاد کرتی ہے؛ اَور گھر میں موت کے سِوا اَور کچھ نہیں۔
LAM 1:21 لوگوں نے میری آہیں سُنی ہیں، لیکن مُجھے تسلّی دینے والا کویٔی نہیں۔ میرے سَب دُشمنوں نے میری اَذیّت کا حال سُنا ہے؛ آپ نے جو کیا ہے اِس پر وہ خُوشی مناتے ہیں۔ کاش کہ آپ وہ دِن جِس کا آپ نے اعلان کیا ہے، لے آئیں تاکہ وہ میری طرح ہو جایٔیں۔
LAM 1:22 ”اُن کی تمام شرارت آپ کے سامنے آئے؛ میرے تمام گُناہوں کے باعث جَیسا سلُوک آپ نے مُجھ سے کیا ہے وَیسا ہی اُن کے ساتھ کریں۔ میری آہوں کا شُمار نہیں اَور میرا دِل نڈھال ہو چُکاہے۔“
LAM 2:1 خُداوؔند نے صِیّونؔ کی بیٹی کو اَپنے قہر کے بادل سے کس طرح چھُپا دیا ہے! اُنہُوں نے اِسرائیل کی شان و شوکت کو آسمان سے زمین پر پٹک دیا ہے؛ اَور اَپنے قہر کے دِن اَپنے پاؤں کی چوکی کو یاد نہ کیا۔
LAM 2:2 خُداوؔند نے یعقوب کی سَب سکونت گاہوں کو نہایت بے رحمی سے تباہ کر دیا ہے؛ اَور اَپنے غضب میں یہُوداہؔ کی بیٹی کے تمام قلعے ڈھا دئیے ہیں۔ اُنہُوں نے اُس کی بادشاہی اَور اُس کے اُمرا کو بے عزّتی سے خاک میں مِلا دیا۔
LAM 2:3 اُنہُوں نے شدید قہر میں اِسرائیل کا ہر سینگ کاٹ ڈالا ہے۔ اُنہُوں نے دُشمن کی آمد پر اَپنا داہنا ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ اُنہُوں نے یعقوب کے اَندر اَیسے شُعلوں والی آگ بھڑکا دی ہے جو اَپنی چاروں طرف کی ہر چیز کو بھسم کردیتی ہے۔
LAM 2:4 اُنہُوں نے دُشمن کی طرح کمان کھینچی ہے؛ اَور اُن کا داہنا ہاتھ تیّار ہے۔ اُنہُوں نے دُشمن کی طرح اُن سَب کو قتل کر دیا ہے جو آنکھوں کو مرغوب تھے؛ اُنہُوں نے صِیّونؔ کی بیٹی کے خیمہ پر آگ کی مانند اَپنا قہر اُنڈیل دیا ہے۔
LAM 2:5 خُداوؔند دُشمن کی مانند ہے؛ اُنہُوں نے اِسرائیل کو نگل لیا۔ اُنہُوں نے اُس کے تمام محل نگل لیٔے اَور اُس کے قلعے مِسمار کر دئیے۔ اُنہُوں نے یہُوداہؔ کی بیٹی کے لیٔے ماتم اَور نوحہ میں اِضافہ کر دیا۔
LAM 2:6 اُنہُوں نے اَپنے مَسکن کو گرا دیا گویا وہ باغ میں لگا ہُوا خیمہ تھا؛ اُنہُوں نے اَپنی جائے اِجتماع بھی برباد کر دی ہے۔ یَاہوِہ نے صِیّونؔ سے اُن کی مُقرّرہ عیدیں اَور سَبتیں فراموش کرا دیں۔ اَور اَپنے شدید قہر میں بادشاہ اَور کاہِنؔ کو ذلیل کر دیا۔
LAM 2:7 خُداوؔند نے اَپنے مذبح کو ردّ کیا اَور اُنہُوں نے اَپنے پاک مَقدِس کو ترک کر دیا۔ اَور اُس کے محلوں کی دیواریں دُشمن کے سُپرد کر دیں؛ اُنہُوں نے یَاہوِہ کے گھر میں اَیسا شور مچایاہے گویا کویٔی عید کا دِن ہو۔
LAM 2:8 یَاہوِہ نے دخترِ صِیّونؔ کی فصیل گرانے کا اِرادہ کیا ہے۔ اُنہُوں نے ماپنے والا فیتہ لے لیا ہے اَور اُسے برباد کرنے سے اَپنا ہاتھ نہیں روکا۔ اُنہُوں نے فصیل اَور دیوار کو منہدم کیا؛ وہ مِل کر ماتم کرتی ہیں۔
LAM 2:9 اُس کے پھاٹک زمین میں غرق ہو گئے؛ اَور اُنہُوں نے اُس کی سلاخوں کو توڑ کر برباد کر دیا۔ اُس کا بادشاہ اَور اُس کے اُمرا قوموں میں جَلاوطن کئے گیٔے، آئین موقُوف ہو گیا، اَور اُس کے نبی اَب یَاہوِہ کی طرف سے کویٔی رُویا نہیں پاتے۔
LAM 2:10 صِیّونؔ کی بیٹی کے بُزرگ زمین پر خاموش بیٹھے ہیں؛ اُنہُوں نے اَپنے سَروں پر خاک ڈالی ہُوئی ہے اَور ٹاٹ پہن لیا ہے۔ یروشلیمؔ کی کنواریوں نے اَپنے سَر زمین تک جھُکا رکھے ہیں۔
LAM 2:11 میری آنکھیں روتے روتے دھُندلا گئیں، میں اَندر ہی اَندر پیچ و تاب میں ہُوں، چونکہ میرے لوگ تباہ ہو گئے، اَور چُھوٹے اَور شیر خوار بچّے شہر کے کوچوں میں نڈھال پڑے ہیں اِس لیٔے میرا دِل پگھل کر اُنڈیلا جا رہاہے۔
LAM 2:12 جَب وہ شہر کے کوچوں میں پڑے ہُوئے زخمیوں کی طرح غش کھاتے ہیں، وہ اَپنی ماؤں کی گود میں دَم توڑنے لگتے ہیں، تَب وہ اُن سے پُوچھتے ہیں ”کہ روٹی اَور مَے کہاں ہے؟“
LAM 2:13 اَے یروشلیمؔ کی بیٹی، مَیں تُجھ سے کیا کہُوں؟ اَور تُجھے کس سے تشبیہ دُوں؟ اَے صِیّونؔ کی کنواری بیٹی مَیں تُجھے کس کی مانند جان کر تُجھے تسلّی دُوں؟ تیرا زخم سمُندر کی طرح گہرا ہے۔ تُجھے کون شفا دے سَکتا ہے؟
LAM 2:14 تیرے نبیوں کی ہر رُویا جھُوٹی اَور مہمل تھی؛ اُنہُوں نے تیرا گُناہ آشکار نہ کیا تاکہ تُجھے اسیری سے بچاتے۔ جو پیشن گوئیاں اُنہُوں نے تُجھ تک پہُنچائیں وہ جھُوٹے اَور گُمراہ کرنے والے تھے۔
LAM 2:15 جو لوگ تیری راہ سے گزرتے ہیں وہ تُجھ پر تالیاں بجاتے ہیں؛ وہ یروشلیمؔ کی بیٹی پر یہ کہہ کر آوازے کستے ہیں اَور اَپنے سَر ہلاتے ہیں: ”کیا یہ وُہی شہر ہے اَور سارے جہان کے لیٔے باعثِ مسرّت ہے؟“
LAM 2:16 تیرے سَب دُشمنوں نے تیرے خِلاف اَپنے مُنہ پسارے ہیں؛ وہ آوازے کستے اَور دانت پیستے ہیں اَور کہتے ہیں: ”ہم نے اُسے نگل لیا۔ اِسی دِن کا ہمیں اِنتظار تھا؛ اَور ہم اِسی دِن کو دیکھنے کے لیٔے زندہ تھے۔“
LAM 2:17 یَاہوِہ نے جو قصد کیا ہُوا تھا اُسے پُورا کر ڈالا؛ اُنہُوں نے اَپنا کلام پُورا کیا، جو اُنہُوں نے قدیم ایّام میں فرمایا تھا۔ اُنہُوں نے نہایت بے رحمی کے ساتھ اُسے گرا دیا، اَور دُشمن کو تُجھ پر شادمان کیا، اَور تیرے حریف کا سینگ بُلند کیا۔
LAM 2:18 لوگوں کے دِلوں نے خُداوؔند سے فریاد کی۔ اَے صِیّونؔ کی بیٹی کی فصیل، شب و روز تیرے آنسُو نہر کی طرح بہتے رہیں؛ تُو بالکُل آرام نہ کر، نہ تیری آنکھوں کو راحت ملے۔
LAM 2:19 اُٹھ اَور رات کے ہر پہر، فریاد کر؛ اَپنا دِل خُداوؔند کے حُضُور پانی کی طرح اُنڈیل دے۔ اَور اَپنے بچّوں کی زندگی کی خاطِر جو ہر کُوچے میں بھُوک سے نڈھال پڑے ہیں، اَپنے ہاتھ اُن کی طرف اُٹھاکر دعا کر۔
LAM 2:20 دیکھیں اَے یَاہوِہ اَور توجّہ فرمائیں: کہ آپ نے کس کے ساتھ یہ سلُوک کیا ہے؟ کیا عورتیں اَپنی اَولاد کو کھا جایٔیں، جِن کی اُنہُوں نے پرورش کی؟ کیا کاہِنؔ اَور نبی خُداوؔند کے پاک مَقدِس میں قتل کئے جایٔیں؟
LAM 2:21 ضعیف و جَوان اِکٹھّے کوچوں میں خاک میں پڑے ہیں؛ میری لڑکیاں اَور میرے لڑکے تلوار کا لقمہ بَن گیٔے۔ آپ نے اُنہیں اَپنے غضب کے دِن مار ڈالا؛ اَور اُنہیں نہایت بے رحمی سے قتل کیا۔
LAM 2:22 ”جِس طرح عید کے دِن لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے، اُسی طرح آپ نے میرے ہر طرف دہشت پھیلا دی۔ یَاہوِہ کے قہر کے دِن نہ کویٔی فرار ہو سَکا اَور نہ کویٔی باقی بچا؛ جِن کو مَیں نے پالا اَور پوسا، اُنہیں میرے دُشمنوں نے تباہ کر دیا۔“
LAM 3:1 مَیں ہی وہ شخص ہُوں جِس نے یَاہوِہ کے غضب کے عصا سے مُصیبت اُٹھائی۔
LAM 3:2 اُنہُوں نے مُجھے نکال باہر کیا اَور رَوشنی کی بجائے تاریکی میں چلایا؛
LAM 3:3 یقیناً اُن کا ہاتھ دِن بھر اَور بار بار میرے ہی خِلاف اٹھتا رہاہے۔
LAM 3:4 اُنہُوں نے میری جلد اَور میرے جِسم کو خشک کر دیا اَور میری ہڈّیاں توڑ ڈالیں۔
LAM 3:5 اُنہُوں نے میرا محاصرہ کرکے مُجھے تلخی اَور مشقّت سے گھیرلیا ہے۔
LAM 3:6 اُنہُوں نے مُجھے بڑی مُدّت سے مَرے ہُوئے لوگوں کی طرح تاریکی میں بسایا ہے۔
LAM 3:7 اُنہُوں نے میرے چاروں طرف فصیل کھڑی کر دی تاکہ میں بچ نہ نکلوں؛ اَور مُجھے بھاری زنجیروں میں جکڑ دیا۔
LAM 3:8 بَلکہ جَب مَیں پُکارتا اَور دہائی دیتا ہُوں، تو بھی وہ میری فریاد نہیں سُنتے۔
LAM 3:9 اُنہُوں نے تراشے ہُوئے پتّھروں سے میرا راستہ روک رکھا ہے؛ اَور میری راہیں ٹیڑھی کر دی ہیں۔
LAM 3:10 گھات میں بیٹھے ہُوئے ریچھ، اَور چھُپے ہُوئے شیر کی طرح،
LAM 3:11 اُنہُوں نے مُجھے راہ سے گھسیٹا اَور میری دھجّیاں اُڑا دیں اَور بے سہارا چھوڑ دیا۔
LAM 3:12 اُنہُوں نے اَپنی کمان کھینچ کر مُجھے اَپنے تیروں کا نِشانہ بنایا۔
LAM 3:13 اُنہُوں نے اَپنے ترکش کے تیروں سے میرے گُردے چھید ڈالے
LAM 3:14 مَیں اَپنے سَب لوگوں کے لیٔے مذاق بَن گیا ہُوں؛ اَور وہ مُجھے تنگ کرنے کے لیٔے دِن بھر گاتے ہیں۔
LAM 3:15 اُنہُوں نے مُجھے کڑوے ساگ پات سے بھر دیا اَور پِت سے مدہوش کر ڈالا۔
LAM 3:16 اُنہُوں نے کنکریوں سے میرے دانت توڑ ڈالے؛ اَور مُجھے خاک میں مِلا دیا۔
LAM 3:17 میرا سکون چھین لیا گیا؛ اَور مَیں بھُول گیا کہ خُوشحالی کیا ہوتی ہے۔
LAM 3:18 اِس لیٔے مَیں کہتا ہُوں، ”مَیں ناتواں ہو گیا اَورجو اُمّید مَیں نے یَاہوِہ سے کی تھی وہ ٹوٹ گئی۔“
LAM 3:19 مُجھے اَپنی اَذیّت اَور آوارگی، اَور تلخی اَور پِت یاد آتی ہے۔
LAM 3:20 مُجھے وہ اَچھّی طرح یاد ہیں، اِسی لیٔے میری جان اُداس رہتی ہے۔
LAM 3:21 پھر بھی مَیں یہ باتیں سوچتا ہُوں اَور اَپنی اُمّید کو زندہ رکھتا ہُوں۔
LAM 3:22 یَاہوِہ کی لافانی مَحَبّت کے باعث ہم فنا نہیں ہُوئے، کیونکہ اُس کی رحمت لازوال ہے۔
LAM 3:23 ہر صُبح وہ نئی ہوتی رہتی ہے؛ کیونکہ آپ کی وفاداری عظیم ہے۔
LAM 3:24 میری جان کہتی ہے، ”یَاہوِہ ہی میرا حِصّہ ہیں؛ اِس لیٔے میں اُن کا منتظر رہُوں گا۔“
LAM 3:25 جو یَاہوِہ پر اُمّید رکھتے ہیں اَور اُن کے طالب ہیں، اُن پر وہ مہربان ہیں۔
LAM 3:26 یہ بہتر ہے کہ یَاہوِہ کی نَجات کا خاموشی سے اِنتظار کیا جائے۔
LAM 3:27 اِنسان کے لیٔے یہ بہتر ہے کہ وہ جَوانی ہی میں مشقّت کا جُوا اُٹھانے لگے۔
LAM 3:28 وہ تنہا اَور خاموش بیٹھے کیونکہ یَاہوِہ نے ہی یہ جُوا اُس کے اُوپر رکھا ہے۔
LAM 3:29 وہ اَپنا مُنہ خاک کی طرف جُھکائے رکھے۔ شاید کچھ اُمّید باقی ہو۔
LAM 3:30 وہ اَپنا گال طمانچہ مارنے والے کی طرف پھیر دے، اَور ملامت برداشت کرے۔
LAM 3:31 کیونکہ خُداوؔند لوگوں کو ہمیشہ کے لیٔے ترک نہیں کرتے۔
LAM 3:32 حالانکہ وہ دُکھ دیتے ہیں، پھر بھی وہ رحم کریں گے، کیونکہ اُن کی شفقت عظیم ہے۔
LAM 3:33 اِس لیٔے وہ بنی آدمؔ پر دُکھ اَور تکلیف لانے سے خُوش نہیں ہوتے۔
LAM 3:34 دُنیا بھرکے قَیدیوں کو پامال کرنا،
LAM 3:35 خُداتعالیٰ کے کسی کی حق تلفی کرنا،
LAM 3:36 اَور کسی شخص کو اِنصاف سے محروم رکھنا۔ کیا خُداوؔند یہ سَب کچھ نہیں دیکھتے؟
LAM 3:37 کیا کسی کے کہنے کے مُطابق کچھ ہو سَکتا ہے جَب تک کہ خُداوؔند حُکم نہ دیں؟
LAM 3:38 کیا بُرائی اَور بھلائی دونوں خُداتعالیٰ کے حُکم کے مُطابق نہیں آتیں؟
LAM 3:39 جَب کویٔی اِنسان زندگی میں اَپنے ہی گُناہوں کی سزا پاتا ہو تو وہ شکایت کیوں کرے؟
LAM 3:40 آؤ ہم اَپنی روِشوں کو جانچیں، اُنہیں آزمائیں اَور یَاہوِہ کی طرف لَوٹیں۔
LAM 3:41 آؤ ہم اَپنے دِل اَور اَپنے ہاتھ خُدا کی طرف اُوپر اُٹھائیں جو آسمان پر ہے اَور کہیں:
LAM 3:42 ہم نے گُناہ کیا ہے اَور آپ کے خِلاف بغاوت کی ہے اَور آپ نے ہمیں مُعاف نہیں کیا۔
LAM 3:43 آپ نے قہر سے ہمیں ڈھانپا اَور رگیدا؛ اَور بے رحمی سے ہمیں قتل کیا۔
LAM 3:44 آپ بادل میں چھُپ گئے تاکہ ہماری دعا آپ تک نہ پہُنچ پایٔے۔
LAM 3:45 آپ نے ہمیں مُختلف قوموں کے درمیان نَجاست اَور کوڑا کرکٹ بنا دیا ہے۔
LAM 3:46 ”ہمارے سبھی دُشمنوں نے ہمارے خِلاف اَپنا مُنہ پسارا ہے۔
LAM 3:47 ہم نے خوف اَور دہشت، ویرانی اَور بربادی برداشت کی۔“
LAM 3:48 میرے لوگوں کی تباہی کے باعث میری آنکھوں سے آنسُوؤں کے چشمے جاری ہیں۔
LAM 3:49 میری آنکھوں سے لگاتار آنسُو بہتے رہیں گے، اُنہیں اُس وقت تک راحت نہ ہوگی،
LAM 3:50 جَب تک کہ یَاہوِہ آسمان سے نظر کرکے نیچے نہ دیکھیں۔
LAM 3:51 اَپنے شہر کی تمام عورتوں کا حال دیکھ کر میری جان ملُول ہوتی ہے۔
LAM 3:52 جو خوامخواہ میرے دُشمن بنے تھے اُنہُوں نے پرندہ کی طرح میرا پیچھا کیا۔
LAM 3:53 اُنہُوں نے گڑھے میں میری جان لینے کی کوشش کی اَور مُجھے سنگسار کیا۔
LAM 3:54 پانی میرے سَر سے گزر گیا، اَور مَیں نے سوچا کہ میں اَب مَرا۔
LAM 3:55 اَے یَاہوِہ، مَیں نے گڑھے کی گہرائی میں سے آپ کو پُکارا۔
LAM 3:56 آپ نے میری فریاد سُنی: میری راحت کی پُکار سے: ”اَپنے کان بند نہ کریں۔“
LAM 3:57 جَب مَیں نے آپ کو پُکارا، آپ قریب آئے، اَور آپ نے کہا، ”خوف نہ کر۔“
LAM 3:58 اَے خُداوؔند، آپ نے میرا مُقدّمہ اَپنے ہاتھ میں لیا، اَور میری جان بچائی۔
LAM 3:59 اَے یَاہوِہ، آپ نے وہ نااِنصافی دیکھی جو میرے ساتھ ہُوئی۔ میری حمایت کریں!
LAM 3:60 اُن کے اِنتقام کی سختی اَور اُن کے میرے خِلاف منصُوبے، آپ نے دیکھ لیٔے ہیں۔
LAM 3:61 اَے یَاہوِہ، آپ نے اُن کی طَعنہ زنی، اَور میرے خِلاف اُن کے تمام منصُوبے سُن لیٔے ہیں۔
LAM 3:62 اَورجو کچھ میرے دُشمن دِن بھر میری مُخالفت میں کہتے ہیں اَور کانا پھُوسی کرتے ہیں۔
LAM 3:63 اُن کی طرف دیکھیں! اُٹھتے اَور بیٹھتے ہُوئے، وہ گا گا کر میرا مضحکہ اُڑاتے ہیں۔
LAM 3:64 اَے یَاہوِہ، اُن کے ہاتھوں نے جو کچھ کیا، اُس کے مُطابق اُن کو بدلہ دیں۔
LAM 3:65 اُن کے دِل پر پردہ ڈال دیں، اَور آپ کی لعنت اُن پر ہو۔
LAM 3:66 اَے یَاہوِہ آسمان سے اَپنے قہر میں اُن کا تعاقب کرکے روئے زمین پر اُنہیں فنا کر دیں۔
LAM 4:1 سونے نے اَپنی آب و تاب کیسے کھودی ہے، اَور سونا کیسا پھیکا پڑ گیا ہے! مُقدّس موتی ہر گلی کوچہ میں بکھرے پڑے ہیں۔
LAM 4:2 صِیّونؔ کے عزیز بیٹے، جو وزن میں خالص سونے کی طرح تھے، کُمہار کے بنائے ہُوئے برتنوں کے برابر ہو گئے۔
LAM 4:3 گیدڑ بھی اَپنی چھاتیوں سے اَپنے بچّوں کو دُودھ پِلاتے ہیں، لیکن میری قوم کی بیٹی بیابان کے شتر مُرغ کی طرح بےرحم ہو گئی ہے۔
LAM 4:4 شیر خوار کی زبان پیاس کے مارے تالُو سے چپک کر رہ گئی ہے؛ بچّے روٹی مانگتے ہیں، لیکن اُنہیں کویٔی نہیں دیتا۔
LAM 4:5 جو لوگ کسی زمانہ میں لذیذ کھانے کھاتے تھے اَب گلیوں میں مُحتاج پڑے ہیں۔ جو اَرغوانی لباس میں بڑے ہُوئے اَب راکھ کے ڈھیر پر لیٹے ہیں۔
LAM 4:6 میرے لوگوں کی سزا سدُومؔ سے بھی سنگین ہے۔ جو پل بھر میں تباہ ہو گیا اَور کویٔی ہاتھ اُس کی مدد کے لیٔے نہ بڑھ پایا۔
LAM 4:7 اُس کے اُمرا برف سے زِیادہ شفّاف اَور دُودھ سے زِیادہ سفید تھے، اَور اُن کے جِسم لعل سے زِیادہ سُرخ اَور اُن کی جھلک نیلم کی سِی تھی۔
LAM 4:8 لیکن اَب اُن کے چہرے اِس قدر سیاہ ہو گئے ہیں؛ کہ وہ گلی کوچوں میں پہچانے بھی نہیں جاتے۔ اُن کی جلد ہڈّیوں سے چپک کر رہ گئی ہے؛ اَور وہ سُوکھ کر لکڑی کی طرح سخت ہو گئی ہے۔
LAM 4:9 تلوار سے قتل ہونے والوں کا حال بھُوکوں مرنے والوں سے بہتر ہے؛ کیونکہ کھیت سے اناج نہ مِلنے کی وجہ سے وہ کُڑھ کُڑھ کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔
LAM 4:10 رحم دِل عورتوں نے خُود اَپنے ہاتھوں سے اَپنے بچّوں کو پکایا، میرے لوگوں کی تباہی کے وقت وُہی اُن کی خُوراک بنے۔
LAM 4:11 یَاہوِہ نے اَپنا غضب پُورے جوش سے ظاہر کیا؛ اُنہُوں نے اَپنا شدید قہر نازل کیا۔ اُنہُوں نے صِیّونؔ میں اَیسی آگ لگائی جِس نے اُس کی بُنیادیں بھسم کر دیں۔
LAM 4:12 رُوئے زمین کے بادشاہ، اَور نہ ہی دُنیا کا کویٔی باشِندہ، یہ یقین کرتا تھا، کہ دُشمن اَور حریف یروشلیمؔ کے پھاٹکوں سے داخل ہو پائیں گے۔
LAM 4:13 لیکن یہ اُس کے نبیوں کے گُناہوں اَور اُس کے کاہِنوں کی بدکاری کے باعث ہُوا، جنہوں نے اُس میں سے صادقوں کا خُون بہایا۔
LAM 4:14 اَب وہ گلیوں میں اَندھوں کی طرح مارے مارے پھرتے ہیں۔ وہ خُون سے اِس قدر آلُودہ ہو چُکے ہیں کہ کویٔی اُن کا لباس بھی چھُو نہیں سَکتا۔
LAM 4:15 لوگ اُنہیں پُکار پُکار کر کہتے ہیں: ”دُورہو جاؤ!“ تُم ناپاک ہو، ”دُور رہو! دُور رہو! ہمیں مت چھُونا!“ جَب وہ بھاگ جاتے ہیں اَور آوارہ پھرنے لگتے ہیں، تو قوموں کے لوگ کہتے ہیں، ”اَب یہ یہاں نہیں رہ سکتے۔“
LAM 4:16 یَاہوِہ نے خُود اُنہیں تِتّر بِتّر کیا ہے؛ اَور وہ اَب اُن پر نظر نہیں کرتے۔ کاہِنوں کا کویٔی اِحترام نہیں کرتے، نہ بُزرگوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔
LAM 4:17 مزید یہ کہ خوامخواہ مدد کا اِنتظار کرتے کرتے، ہماری آنکھیں تھک گئی ہیں؛ ہم اَپنے بُرجوں پر سے ایک اَیسی قوم کو دیکھتے رہے جو ہمیں بچا نہ سکی۔
LAM 4:18 لوگ ہر قدم پر ہمارے پیچھے اَیسے پڑے، کہ ہم اَپنی گلیوں میں بھی نکل نہیں سکتے تھے۔ ہمارا اَنجام قریب تھا، ہمارے دِن ختم ہو گئے تھے، کیونکہ ہماری زندگی کا خاتمہ آ پہُنچا تھا۔
LAM 4:19 ہمارا تعاقب کرنے والے آسمان پر اُڑنے والے عُقابوں سے بھی زِیادہ تیزرَو تھے؛ اُنہُوں نے پہاڑوں پر ہمارا پیچھا کیا اَور بیابان میں ہمارے لیٔے گھات لگا کر بیٹھے رہے۔
LAM 4:20 یَاہوِہ کا ممسوح، جو ہماری زندگی کا دَم تھا، اُن کے پھندوں میں گِرفتار ہو گیا۔ ہمارا تو یہ خیال تھا کہ اُس کے سایہ میں ہم مُختلف قوموں کے درمیان زندہ رہیں گے۔
LAM 4:21 اَے اِدُوم کی بیٹی، جو عُوضؔ کی سرزمین میں بستی ہے، خُوش اَور شادمان ہو۔ لیکن یہ پیالہ تُجھ تک بھی پہُنچ جائے گا؛ اَور تُو مدہوش اَور برہنہ کی جائے گی۔
LAM 4:22 اَے صِیّونؔ کی بیٹی، تیری سزا ختم ہوگی؛ وہ تیری جَلاوطنی کو طُول نہ دیں گے۔ لیکن اَے اِدُوم کی بیٹی، وہ تیرے گُناہ کی سزا دیں گے اَور تیری بدکاری ظاہر کر دیں گے۔
LAM 5:1 اَے یَاہوِہ، جو کچھ ہم پر گزرا ہے اُسے یاد کیجئے؛ نظر کیجئے، اَور ہماری رُسوائی کو دیکھئے۔
LAM 5:2 ہماری مِیراث بیگانوں کے حوالہ کی گئی، اَور ہمارے گھر پردیسیوں کے ہو گئے۔
LAM 5:3 ہم یتیم ہو گئے اَور ہم پر والدوں کا سایہ نہ رہا، اَور ہماری مائیں بیواؤں کی مانند ہو گئیں۔
LAM 5:4 ہمیں پانی تک خرید کر پینا پڑتا ہے؛ اَور لکڑی بھی مول لینی پڑتی ہے۔
LAM 5:5 ہمارا تعاقب کرنے والے ہمارے بالکُل قریب پہُنچ چُکے ہیں؛ ہم تھک گیٔے ہیں اَور آرام نہیں لے پاتے۔
LAM 5:6 ہم نے مِصریوں اَور اشُوریوں کی اِطاعت قبُول کی تاکہ پیٹ بھر کر روٹی کھا سکیں۔
LAM 5:7 ہمارے آباؤاَجداد نے گُناہ کیا اَور چل بسے، اَور ہم اُن کے گُناہوں کی سزا پا رہے ہیں۔
LAM 5:8 غُلام ہم پر حُکومت کرتے ہیں، اَور ہمیں اُن کے ہاتھوں سے چھُڑانے والا کویٔی نہیں۔
LAM 5:9 اہلِ بیابان کی تلوار کے باعث ہم اَپنی جان پر کھیل کر روٹی حاصل کرتے ہیں۔
LAM 5:10 بھُوک کی وجہ سے تپ کر ہماری جلد تنور کی مانند جلنے لگی ہے۔
LAM 5:11 صِیّونؔ میں عورتوں کو، اَور بنی یہُوداہؔ کے شہروں میں کنواریوں کو بےحُرمت کیا گیا۔
LAM 5:12 شہزادے ہاتھوں کے بَل لٹکایٔے گیٔے؛ اَور بُزرگوں کا اِحترام نہ کیا گیا۔
LAM 5:13 نوجوان چکّی پیستے ہیں؛ اَور لڑکے لکڑی کا بوجھ ڈھوتے ہُوئے لڑکھڑاتے ہیں۔
LAM 5:14 بُزرگ شہر کے پھاٹک پر نظر نہیں آتے؛ اَور نوجوانوں نے گانا بجانا بند کر دیا۔
LAM 5:15 ہمارے دِلوں سے خُوشی جاتی رہی؛ اَور ہمارا رقص ماتم میں بدل گیا۔
LAM 5:16 ہمارے سَر سے تاج گِر گیا ہے۔ ہم پر افسوس کہ ہم نے گُناہ کیا!
LAM 5:17 اِس لیٔے ہمارے دِل بیہوش ہو گئے، اَور اِن ہی باتوں کی وجہ سے ہماری آنکھیں دھُندلا گئیں۔
LAM 5:18 کیونکہ صِیّونؔ کا پہاڑ ویران ہو گیا ہے، اَور وہاں گیدڑ گھُومتے پھرتے ہیں۔
LAM 5:19 پر اَے یَاہوِہ آپ، اَبد تک حُکومت کریں گے؛ اَور آپ کا تخت پُشت در پُشت قائِم رہے گا۔
LAM 5:20 آپ نے ہمیں ہمیشہ کے لیٔے کیوں فراموش کر دیا؟ آپ نے ہمیں اِتنے عرصہ تک کیوں بھُلائے رکھا؟
LAM 5:21 اَے یَاہوِہ، ہمیں اَپنی طرف پھیر لیں تاکہ ہم لَوٹ آئیں، ہمارے دِن عہدِ قدیم کی طرح پھر سے بدل دیں۔
LAM 5:22 آپ نے ہمیں بالکُل ردّ تو نہیں کر دیا؟ اَور آپ ہم سے حَد سے زِیادہ خفا تو نہیں؟
EZE 1:1 تیسویں بَرس کے چوتھے مہینے کے پانچویں دِن میں اسیروں کے درمیان کِبارؔ نہر کے کنارے پر تھا، کہ آسمان کھُل گیا اَور مَیں نے خُدا کی رُویتیں دیکھیں۔
EZE 1:2 اُس ماہ کے پانچویں دِن۔ جو یہُویاکینؔ بادشاہ کی جَلاوطنی کا پانچواں سال تھا۔
EZE 1:3 یَاہوِہ کا کلام بوزی کے بیٹے حزقی ایل کاہِنؔ پر کَسدیوں کے مُلک میں کِبارؔ نہر کے کنارے پر نازل ہُوا۔ وہاں یَاہوِہ کا ہاتھ اُس پر تھا۔
EZE 1:4 جَب مَیں نے نظر کی تو شمال کی طرف سے زبردست آندھی آتی ہُوئی دِکھائی دی۔ وہ ایک بہت بڑی گھٹا تھی جِس کے ساتھ بجلی چمک رہی تھی اَور اُس کے چاروں طرف تیز رَوشنی تھی۔ اُس آگ کا مرکز چمکتی ہُوئی دھات کا سا نظر آ رہاتھا،
EZE 1:5 اَور اُس آگ میں چار جاندار شکلیں نظر آ رہی تھیں جو اِنسان کی صورت سے مُشابہ تھیں،
EZE 1:6 لیکن اُن میں سے ہر ایک کے چار چار چہرے اَور چار چار پر تھے۔
EZE 1:7 اُن کی ٹانگیں سیدھی تھیں اَور پاؤں بچھڑے کے کھُروں کی مانند تھے جو منجھے ہُوئے کانسے کی مانند چمکتے تھے۔
EZE 1:8 اُن کے چاروں بازوؤں میں پروں کے نیچے اِنسان کی طرح ہاتھ تھے۔ اُن چاروں کے چہرے اَور پر تھے،
EZE 1:9 اَور اُن کے پر ایک دُوسرے کو چھُوتے تھے۔ ہر ایک سیدھا آگے بڑھتا تھا؛ کیونکہ جَب وہ حرکت کرتے تھے تو اِدھر اُدھر مُڑتے نہ تھے۔
EZE 1:10 اُن کے چہرے اُس طرح نظر آتے تھے: کہ چاروں کا ایک ایک چہرہ اِنسان کا، ایک ایک چہرہ شیرببر کا داہنی طرف اَور ایک ایک چہرہ سانڈ کا بائیں طرف اَور ایک ایک چہرہ عُقاب کا سا تھا۔
EZE 1:11 اُن کے چہرے تو اَیسے تھے لیکن اُن کے پر اُوپر کی طرف پھیلے ہُوئے تھے۔ ہر جاندار کے دو دو پر تھے جو اَپنے اَپنے بازو کے دُوسرے جاندار کے پروں کو چھُوتے تھے اَور دو دو پر ہر ایک کے جِسم کو ڈھانکے ہُوئے تھے۔
EZE 1:12 ہر جاندار سیدھا آگے بڑھتا تھا۔ جدھر اُن کی رُوح جانا چاہتی تھی اُدھر وہ جاتے تھے لیکن چلتے وقت کسی بھی طرف مُڑتے نہ تھے۔
EZE 1:13 اُن جانداروں کی صورت آگ کے جلتے ہُوئے اَنگاروں یا مشعلوں کی مانند تھی۔ اُن جانداروں کے درمیان آگ آگے اَور پیچھے چلتی پھرتی تھی جو نہایت رَوشن تھی اَور اُس میں سے بجلی نکلتی تھی۔
EZE 1:14 وہ جاندار اِس قدر تیزی سے آگے پیچھے دَوڑتے تھے جَیسے بجلی کوندتی ہو۔
EZE 1:15 جَیسے ہی مَیں نے اُن جانداروں پر نظر کی مَیں نے اُن چار چہروں والے ہر جاندار کے پاس زمین پر ایک پہیّا دیکھا۔
EZE 1:16 اُن پہیّوں کی شکل و صورت اَیسی تھی: وہ پکھراج کی طرح چمکدار تھے اَور چاروں پہیّے ایک ہی طرح کے تھے۔ ہر ایک پہیّا کی بناوٹ اَیسی لگتی تھی گویا ایک پہیّا دُوسرے کو کاٹتا ہو۔
EZE 1:17 جَب وہ حرکت کرتے تو اُن چاروں سمتوں میں سے جدھر اُن جانداروں کا رُخ ہوتا تھا کسی ایک جانِب چل پڑتے تھے۔ جَب وہ جاندار چل پڑتے تَب پہیّے مُڑتے نہ تھے۔
EZE 1:18 اُن کے حلقے بہت اُونچے اَور ہیبت ناک تھے اَور اُن چاروں حلقوں کے ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں لگی ہُوئی تھیں۔
EZE 1:19 جَب وہ جاندار چلتے تھے، تو اُن کے بازو کے پہیّے بھی اُن کے ساتھ حرکت کرتے تھے اَور جَب وہ جاندار زمین سے اُوپر اُٹھتے تھے تو اُن کے ساتھ پہیّے بھی اُٹھتے تھے۔
EZE 1:20 جہاں جہاں اُن کی رُوح جانا چاہتی تھی وہاں وہ جاتے تھے اَور پہیّے اُن کے ساتھ اُٹھتے تھے کیونکہ جانداروں کی رُوح پہیّوں میں تھی۔
EZE 1:21 جَب جاندار چلتے تھے، تَب پہیّے بھی چلتے تھے اَور جَب جاندار رُک جاتے تھے تَب پہیّے بھی رُک جاتے تھے۔ جَب جاندار زمین پر سے اُٹھتے تھے تَب پہیّے بھی اُٹھ جاتے تھے کیونکہ اُن کی رُوح پہیّوں میں تھی۔
EZE 1:22 جانداروں کے سَروں پر فضا برف کی مانند شفّاف تھی لیکن مُہیب نظر آتی تھی۔
EZE 1:23 اِس فضا کے نیچے اُن کے پر ایک دُوسرے کی طرف پھیلے ہُوئے تھے اَور ہر ایک کے دو پر اُن کے جِسم کو ڈھانکے ہُوئے تھے
EZE 1:24 جَب وہ جاندار چلنے لگے تو مَیں نے اُن کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سُنی جو زور سے بہتے ہُوئے پانی کے شور کی مانند قادرمُطلق کی آواز کی مانند یا کسی لشکر کی ہلچل کی مانند لگتی تھی۔ جَب وہ روکتے تھے تو اَپنے پر لٹکا لیتے تھے۔
EZE 1:25 جَب وہ پر لٹکایٔے ہُوئے روکتے تھے تَب اُن کے سَر کے اُوپر کی فضا میں سے صدا آ رہی تھی۔
EZE 1:26 اِس فضا کے اُوپر جو اُن کے سَروں کے اُوپر تھی نیلم کا بنا ہُوا تخت نظر آ رہاتھا جِس کے اُوپر اِنسان کی شکل کی کویٔی ہستی تھی۔
EZE 1:27 مَیں نے دیکھا کہ وہ اَپنی کمر سے اُوپر تک چمکدار دھات کا بنا ہُوا تھا جَیسے آگ کا شُعلہ ہو اَور اُس کی کمر کے نیچے تک وہ آگ کی مانند نظر آتا تھا۔ اَور ہر طرف تیز رَوشنی اُسے گھیرے ہُوئے تھی۔
EZE 1:28 اُن کے اطراف کی جگمگاہٹ بارش کے دِن میں بادل میں نظر آنے والے قوسِ قُزح کی مانند تھی۔ یہ منظر یَاہوِہ کے جلال کی مانند تھا، جَب مَیں نے اُسے دیکھا مُنہ کے بَل گِر پڑا اَور مَیں نے ایک آواز سُنی جَیسے کویٔی بول رہا ہو۔
EZE 2:1 اُنہُوں نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدمؔ زاد، اَپنے پاؤں پر کھڑا ہو جا تاکہ مَیں تُجھ سے بات کر سکوں۔“
EZE 2:2 جوں ہی اُنہُوں نے یہ کہا رُوح مُجھ میں سما گئی اَور مُجھے اَپنے پاؤں پر کھڑا کیا اَور مَیں نے اُسے مُجھ سے بولتے ہُوئے سُنا۔
EZE 2:3 اُنہُوں نے کہا: ”اَے آدَمزاد، مَیں تُجھے بنی اِسرائیل کے پاس بھیج رہا ہُوں جو اَیسی ضِدّی قوم ہے جِس نے مُجھ سے بغاوت کی ہے۔ وہ اَور اُن کے آباؤاَجداد آج کے دِن تک میری نافرمانی کرتے آئے ہیں۔
EZE 2:4 جِن کے پاس مَیں تُجھے بھیج رہا ہُوں وہ نہایت بے حیا اَور سنگدل لوگ ہیں۔ اُن سے کہنا ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں۔‘
EZE 2:5 ایک سرکش قوم ہونے کے باعث وہ سُنیں یا نہ سُنیں پھر بھی وہ جان لیں گے کہ اُن کے درمیان ایک نبی برپا ہُواہے۔
EZE 2:6 اَور تُم اَے آدَمزاد اُن کا یا اُن کی باتوں کا خوف نہ کرنا حالانکہ تُو جھاڑیوں اَور اُونٹ کٹاروں سے گھِرا ہُواہے اَور بِچھُّوؤں کے درمیان رہتاہے پھر بھی تُو نہ ڈرنا حالانکہ وہ ایک ضِدّی قوم ہیں تو بھی تُو اُن کی باتوں سے یا خُود اُن سے مت ڈرنا۔
EZE 2:7 تُو میرا کلام اُن کو سُنانا خواہ وہ سُنیں یا نہ سُنیں کیونکہ وہ سرکش ہو چُکے ہیں۔
EZE 2:8 لیکن تُو اَے آدَمزاد، جو کچھ میں کہتا ہُوں اُسے سُن اَور اُس سرکش خاندان کی طرح سرکشی نہ کر۔ اَپنا مُنہ کھول اَورجو کچھ مَیں تُجھے دے رہا ہُوں اُسے کھالے۔“
EZE 2:9 تَب مَیں نے دیکھا کہ ایک ہاتھ میری طرف بڑھا ہے جِس میں ایک طُومار تھا،
EZE 2:10 جسے اُس نے میرے سامنے پھیلا دیا۔ اُس کے دونوں طرف نوحہ، ماتم اَور افسوس ناک الفاظ مرقوم تھے۔
EZE 3:1 اَور اُنہُوں نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدَمزاد، تیرے سامنے جو کچھ ہے اُسے کھالے۔ اُس طُومار کو کھالے؛ تَب جا کر بنی اِسرائیل کو بتا۔“
EZE 3:2 چنانچہ مَیں نے اَپنا مُنہ کھولا اَور اُنہُوں نے مُجھے وہ طُومار کھانے کے لیٔے دیا۔
EZE 3:3 تَب اُنہُوں نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدَمزاد، یہ طُومار جو مَیں تُجھے دے رہا ہُوں اِسے کھالے اَور اُس سے اَپنا پیٹ بھر لے۔“ چنانچہ مَیں نے اُسے کھا لیا اَور وہ میرے مُنہ میں شہد کی مانند میٹھا لگا۔
EZE 3:4 پھر اُنہُوں نے مُجھ سے کہا: ”اَے آدمؔ زاد، اَب بنی اِسرائیل کے پاس جا اَور اُنہیں میرا کلام سُنا۔
EZE 3:5 کیونکہ تُو کسی انوکھی بولی یا مُشکل زبان بولنے والی قوم کی طرف نہیں بھیجا جا رہا بَلکہ بنی اِسرائیل ہی کی طرف بھیجا جا رہاہے
EZE 3:6 تُو مُختلف قوموں کی طرف نہیں بھیجا جا رہاہے جِن کی بولی انوکھی اَور زبان مُشکل ہے جسے تُو سمجھ نہیں سَکتا۔ اگر مَیں تُجھے اُن کے پاس بھیجتا تو یقیناً وہ تیری باتیں سُنتے۔
EZE 3:7 لیکن بنی اِسرائیل تیری نہ سُنیں گے کیونکہ وہ میری باتیں سُننا ہی نہیں چاہتے کیونکہ تمام بنی اِسرائیلی سخت دِل اَور ضِدّی ہو گئے ہیں۔
EZE 3:8 لیکن مَیں تُجھے اُن ہی کی طرح نہ جھُکنے والا اَور سخت مِزاج بنا دُوں گا۔
EZE 3:9 میں تیری پیشانی کو ہیرے سے بھی زِیادہ سخت کر دُوں گا جو چقماق سے بھی سخت تر ہوتاہے۔ لہٰذا تُو اُن سے ڈر مت اَور نہ گھبرا حالانکہ وہ ایک سرکش قوم ہے۔“
EZE 3:10 اَور اُنہُوں نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدَمزاد، غور سے سُن اَورجو کچھ مَیں تُجھ سے کہُوں اُسے دِل میں رکھ لے۔
EZE 3:11 اَب اَپنی قوم کے جَلاوطن لوگوں کے پاس جا اَور اُنہیں بتا۔ اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں،‘ خواہ وہ سُنیں یا نہ سُنیں۔“
EZE 3:12 تَب رُوح نے مُجھے اُٹھالیا اَور مَیں نے اَپنے پیچھے ایک نہایت گرج دار آواز سُنی کہ یَاہوِہ کے مَسکن میں اُن کے جلال کی تمجید ہو۔
EZE 3:13 یہ جانداروں کے پروں کے ایک دُوسرے سے ٹکرانے کی اَور اُن کے پاس کے پہیّوں کی آواز تھی جو نہایت زور کی گڑگڑاہٹ تھی۔
EZE 3:14 تَب رُوح مُجھے اُٹھاکر لے گئی اَور مَیں تلخ دِل اَور آگ بگُولہ ہوکر چلا گیا اَور یَاہوِہ کا مضبُوط ہاتھ مُجھ پر بھاری تھا۔
EZE 3:15 اَور مَیں اُن جَلاوطنوں کے پاس آیا جو کِبارؔ نہر کے کنارے تل ابیبؔ میں رہتے تھے اَور وہاں مَیں اُن کی رہائش گاہ میں سات دِن تک اُن کے درمیان پریشان بیٹھا رہا۔
EZE 3:16 سات دِن کے اِختتام پر یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 3:17 ”اَے آدمؔ زاد، مَیں نے تُجھے بنی اِسرائیل کا نگہبان مُقرّر کیا ہے اِس لیٔے میرا کلام سُن اَور میری جانِب سے اُنہیں آگاہ کر۔
EZE 3:18 جَب مَیں کسی بدکار شخص سے کہُوں، ’تُو یقیناً مَر جائے گا،‘ اَور تُو اُسے آگاہ نہ کرے یا اُسے اَپنی بُری روِش سے باز آنے کو نہ کہے تاکہ وہ اَپنی جان بچا سکے تَب وہ بدکار تو اَپنے گُناہ کے باعث مَر جائے گا اَور مَیں تُجھے اُس کے خُون کا ذمّہ دار ٹھہراؤں گا۔
EZE 3:19 لیکن اگر تُو اُس بدکار کو مُتنبّہ کرے اَور وہ اَپنی شرارت یا بدکاری سے باز نہ آئے تو وہ اَپنے گُناہ میں مَرے گا لیکن تُو اَپنی جان بچالے گا۔
EZE 3:20 ”اَور اگر ایک راستباز اِنسان اَپنی راستبازی چھوڑکر بدکاری پر اُتر آئے اَور مَیں اُس کے راستے میں اُس کی ٹھوکر کا پتّھر رکھ دُوں تو وہ گِر کے مَر جائے گا۔ چونکہ تُونے اُسے آگاہ نہ کیا اِس لیٔے وہ اَپنے گُناہ میں مَر جائے گا اَور اُس کی راستبازی حِساب میں نہ لائی جائے گی اَور مَیں تُجھے اُس کے خُون کا ذمّہ دار ٹھہراؤں گا۔
EZE 3:21 لیکن اگر تُو اُس راستباز شخص کو گُناہ کرنے سے منع کرے اَور وہ گُناہ نہ کرے تَب وہ یقیناً جئے گا کیونکہ اُس نے نصیحت کو مان لیا اَور تُونے اَپنی جان بچا لی۔“
EZE 3:22 یَاہوِہ کا ہاتھ وہاں مُجھ پر تھا اَور اُس نے مُجھ سے کہا، ”اُٹھ اَور میدان میں چلا جا جہاں مَیں تُجھ سے کلام کروں گا۔“
EZE 3:23 چنانچہ میں اُٹھا اَور میدان میں چلا گیا اَور وہاں مَیں نے یَاہوِہ کے جلال کا نظارہ کیا۔ ٹھیک اُسی طرح جَیسا مَیں نے کِبارؔ نہر کے کنارے دیکھا تھا اَور مَیں مُنہ کے بَل گِر پڑا۔
EZE 3:24 تَب رُوح مُجھ میں سما گئی اَور مُجھے پاؤں کے بَل کھڑا کرکے مُجھ سے ہم کلام ہُوئی اَور کہا: ”جا اَور اَپنے گھر کے اَندر دروازہ بند کرکے بیٹھا رہ۔
EZE 3:25 اَور اَے آدَمزاد، وہ لوگ تُجھے رسّیوں سے جکڑ کر باندھ دیں گے اَور تُو نکل کر اُن کے درمیان جانے نہ پایٔےگا۔
EZE 3:26 اَور مَیں تیری زبان کو تیرے تالُو سے چپکا دُوں گا تاکہ تُو خاموش رہے اَور اُنہیں ڈانٹنے نہ پایٔے، حالانکہ وہ سرکش خاندان ہے۔
EZE 3:27 لیکن جَب مَیں تُجھ سے بات کروں گا تَب میں تیرا مُنہ کھول دُوں گا اَور تُو اُن سے کہے گا، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں۔‘ جو سُنتا ہے وہ سُن لے اَورجو نہیں سُنتا وہ نہ سُنے، کیونکہ وہ سرکش قوم ہے۔
EZE 4:1 ”اَب، اَے آدَمزاد، مٹّی کی ایک تختی لے اَور اُسے اَپنے اَپنے سامنے رکھ کر اُس پر یروشلیمؔ شہر کا نقشہ بنا۔
EZE 4:2 پھر اُس کا محاصرہ کر یعنی اُس کے مقابل بُرج بنا، وہاں تک دمدمہ باندھ، اُس کے گِرد خیمے کھڑے کرو اَور اُس کی چاروں طرف جنگی آلات نصب کر دو۔
EZE 4:3 تَب ایک لوہے کا توا لے اَور اُسے اَپنے اَور شہر کے درمیان شہرپناہ کے طور پر نصب کر لے اَور اَپنا مُنہ اُس کی طرف کر۔ اَب گویا وہ شہر زیرِ محاصرہ ہوگا اَور تُو محاصرہ کرنے والا ٹھہرے گا۔ یہ بنی اِسرائیل کے لیٔے نِشان ٹھہرے گا۔
EZE 4:4 ”پھر تُو اَپنی بائیں کروٹ پر لیٹ جا اَور بنی اِسرائیل کا گُناہ اَپنے اُوپر رکھ لے اَور جتنے دِنوں تک تُو اَپنی کروٹ پر لیٹا رہے گا تَب تک تُو اُن کے گُناہوں کا بوجھ سہتا رہے گا۔
EZE 4:5 مَیں نے اُن کے گُناہوں کے سالوں کے مُطابق تیرے لیٔے دِن مُقرّر کئے ہیں اِس لیٔے تُو تین سَو نوّے دِنوں تک بنی اِسرائیل کے گُناہ کا بوجھ اُٹھائے گا۔
EZE 4:6 ”اَور جَب یہ دِن پُورے ہو جایٔیں تو دوبارہ لیٹ جا، لیکن اِس بار اَپنی داہنی کروٹ پر لیٹ اَور بنی یہُوداہؔ کے گُناہ کا بوجھ اُٹھا۔ مَیں نے ہر سال کے عوض ایک دِن کے حِساب سے چالیس دِن مُقرّر کئے ہیں۔
EZE 4:7 اَپنا مُنہ یروشلیمؔ کے محاصرہ کی طرف کر اَور اَپنا بازو کھول کر اُس کے خِلاف نبُوّت کر۔
EZE 4:8 مَیں تُجھے رسّیوں سے جکڑ دُوں گا تاکہ تُو محاصرہ کی مُدّت ختم ہونے تک کروٹ نہ بدل سکے۔
EZE 4:9 ”تُو گیہُوں اَور جَو، لوبیا اَور مسور، باجرہ اَور کٹھیا گیہُوں لے کر اُنہیں ایک بڑے مرتبان میں رکھ اَور اُن سے اَپنے لیٔے روٹیاں پکا اَور اُن تین سَو نوّے دِنوں تک جَب کہ تُو ایک کروٹ پر لیٹا رہے گا اُنہیں کھانا۔
EZE 4:10 تُو ہر روز کے لیٔے بیس ثاقل غِذا تول کر رکھ اَور اُسے مُقرّرہ اوقات پر کھانا۔
EZE 4:11 اَور ایک ہین کا چھٹا حِصّہ پانی بھی ناپ کر رکھنا جسے مُقرّرہ اوقات پر پینا۔
EZE 4:12 تُو اَپنی غِذا جَو کی روٹیوں کی مانند کھانا اَور اُسے لوگوں کی نگاہ کے سامنے اِنسان کے فُضلہ کی آگ پر پکانا۔“
EZE 4:13 یَاہوِہ نے فرمایا، ”اِسی طرح سے بنی اِسرائیل اِن قوموں کے درمیان جہاں میں اُنہیں ہانک دُوں گا، ناپاک غِذا کھایٔیں گے۔“
EZE 4:14 تَب مَیں نے کہا: ”اَے یَاہوِہ قادر، اِس طرح نہیں! مَیں نے کبھی اَپنے آپ کو ناپاک نہیں کیا۔ اَپنی جَوانی سے آج تک مَیں نے کبھی اَیسی چیز نہیں دِکھائی جو مَری ہُوئی پائی گئی ہو یا جسے جنگلی جانوروں نے چیرا پھاڑا ہو۔ نہ ہی کبھی کویٔی ناپاک گوشت میرے مُنہ میں گیا ہے۔“
EZE 4:15 تَب اُس نے فرمایا: ”بہت خُوب، مَیں تُجھے اِنسان کے فُضلہ کی بجائے، گائے کے گوبر پر اَپنی روٹی پکانے دُوں گا۔“
EZE 4:16 اُس نے پھر مُجھ سے کہا، ”آدمؔ زاد، میں یروشلیمؔ کو اشیائے خوردنی کی رسد بند کر دُوں گا۔ تَب لوگ پریشان ہوکر غِذا بھی ناپ تول کر کھایٔیں گے اَور مایوس ہوکر پانی بھی ناپ ناپ کر پیئیں گے۔
EZE 4:17 کیونکہ وہاں اناج اَور پانی کی قِلّت ہوگی اَور لوگ ایک دُوسرے کو دیکھ کر گھبرا جایٔیں گے اَور اُن کے گُناہ کے باعث اُن کے جِسموں کا گوشت سُوکھ جائے گا۔
EZE 5:1 ”اَب اَے آدمؔ زاد، ایک تیز تلوار لے اَور حجّام کے اُسترے کی طرح اُس سے اَپنا سَر اَور اَپنی داڑھی مُنڈا۔ پھر ایک ترازو لے کر بالوں کو تول اَور اُن کے حِصّے بنا۔
EZE 5:2 جَب تیرے محاصرہ کے دِن ختم ہُوں تو ایک تہائی حِصّہ بال شہر کے اَندر آگ میں جَلا دے اَور ایک تہائی حِصّہ شہر میں چاروں طرف تلوار سے بِکھیر دینا اَور ایک تہائی حِصّہ ہَوا میں اُڑا دینا اَور مَیں تلوار کھینچ کر اُن کا تعاقب کروں گا۔
EZE 5:3 لیکن تُو مُٹّھی بھر بال لے کر اُنہیں اَپنے گریبان میں چھُپا لینا۔
EZE 5:4 پھر اُن میں سے کچھ بال لے کر اُنہیں آگ میں جَلا دینا۔ وہاں سے آگ اِسرائیل کے تمام گھرانے میں پھیل جائے گی۔
EZE 5:5 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: یہی یروشلیمؔ ہے جسے مَیں نے مُختلف قوموں کے درمیان بسایا ہے جو چاروں طرف مُختلف مُلکوں سے گھِرا ہُواہے۔
EZE 5:6 پھر بھی اُس نے اَپنی شرارت سے میرے اَحکام اَور آئین کے خِلاف اَپنے اطراف کی قوموں اَور مُلکوں سے بھی زِیادہ سرکشی کی۔ اُس نے میرے اَحکام ترک کر دئیے اَور میرے آئین کی پیروی نہ کی۔
EZE 5:7 ”چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: تُو اَپنی چاروں طرف کی قوموں سے زِیادہ فتنہ اَنگیز بنا اَور تُونے میرے آئین کی پیروی نہ کی اَور نہ میرے اَحکام پر عَمل کیا۔ بَلکہ اَپنے اِردگرد کی قوموں کے اُصُولوں پر بھی عَمل نہ کیا۔
EZE 5:8 ”چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَے یروشلیمؔ، میں خُود تیرا مُخالف ہُوں اَور دُوسری قوموں کی نظروں کے سامنے تُجھے سزا دُوں گا۔
EZE 5:9 تیرے تمام مکرُوہ بُتوں کے باعث مَیں تیرے ساتھ اَیسا سلُوک کروں گا جَیسا نہ پہلے کبھی کیا ہے اَور نہ پھر کبھی کروں گا۔
EZE 5:10 اِس لیٔے تیرے درمیان والدین اَپنے بچّوں کو اَور بچّے اَپنے والدین کو کھا جایٔیں گے۔ مَیں تُجھے سزا دُوں گا اَور تیرے باقی بچے ہُوئے تمام لوگوں کو ہَوا میں تِتّر بِتّر کر دُوں گا۔
EZE 5:11 اِس لیٔے یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں کہ مُجھے اَپنی جان کی قَسم۔ تُونے اَپنی ساری بے جان شَبیہوں اَور اَپنے نفرت اَنگیز کاموں سے میرے پاک مَقدِس کو ناپاک کر دیا۔ اِس لیٔے میں خُود تُجھے ذلیل کروں گا۔ میں نہ تو تُجھ پر رحم کروں گا نہ تیرے ساتھ کسی قِسم کی رعایت برتوں گا۔
EZE 5:12 تیرے درمیان تیرے ایک تہائی لوگ وَبا سے مَر جایٔیں گے یا قحط سے ختم ہوں گے۔ ایک تہائی لوگ تیری دیواروں کے باہر تلوار سے مارے جایٔیں گے اَور ایک تہائی لوگوں کو میں ہَوا میں بِکھیر دُوں گا اَور تلوار کھینچ کر اُن کا تعاقب کروں گا۔
EZE 5:13 ”تَب میرا غُصّہ ٹھنڈا ہوگا اَور اُن کے خِلاف میرا قہر دھیما پڑےگا اَور اِس طرح میں اَپنا اِنتقام لے پاؤں گا۔ اَور جَب مَیں اَپنا قہر اُن پر بھڑکاؤں گا تَب وہ جان لیں گے کہ میں یَاہوِہ ہی نے اَپنی غیرت سے یہ فرمایاہے۔
EZE 5:14 ”اَور مَیں تُجھے تیرے اِردگرد کی قوموں کے درمیان اَور اِدھر سے گزرنے والے سَب لوگوں کی آنکھوں کے سامنے تباہ کر دُوں گا اَور باعثِ ملامت بنا دُوں گا۔
EZE 5:15 جَب مَیں تُجھے غیظ و غضب اَور سخت ملامت سے سزا دُوں گا تَب تُو اِردگرد کی قوموں کے لیٔے باعثِ ملامت و مضحکہ اَور مقامِ عِبرت و حیرت ہوگا کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہی نے یہ فرمایاہے۔
EZE 5:16 جَب مَیں تُمہیں قحط کے مہلک اَور تباہ کُن تیروں کا نِشانہ بناؤں گا تَب میں تُمہیں اُن تیروں سے ہلاک کر دُوں گا۔ میں تُم پر قحط کی شِدّت میں اِضافہ کروں گا اَور تمہاری خُوراک کی رسد کاٹ ڈالوں گا۔
EZE 5:17 میں قحط اَور جنگلی درندے تمہارے خِلاف بھیجوں گا جو تُمہیں بے اَولاد کر دیں گے۔ وَبا اَور خُونریزی تمہارے درمیان آئے گی اَور مَیں تُم پر تلوار چلاؤں گا۔ میں یَاہوِہ ہی نے یہ فرمایاہے۔“
EZE 6:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 6:2 ”اَے آدمؔ زاد، اِسرائیل کے پہاڑوں کی طرف مُنہ کرکے اُن کے خِلاف نبُوّت کر
EZE 6:3 اَور کہہ: ’اَے اِسرائیل کے پہاڑو، یَاہوِہ قادر کا کلام سُنو۔ یَاہوِہ قادر، پہاڑوں اَور پہاڑیوں سے اَور کھائیوں اَور وادیوں سے یُوں فرماتے ہیں کہ میں تُم پر تلوار چلاؤں گا اَور تمہارے اُونچے مقامات کو برباد کر دُوں گا۔
EZE 6:4 تمہارے مذبحے ڈھا دئیے جایٔیں گے اَور تمہاری لوبان جَلانے والی قُربان گاہیں مِسمار کر دی جایٔیں گی۔ اَور مَیں تمہارے لوگوں کو تمہارے بُتوں کے سامنے قتل کر دُوں گا۔
EZE 6:5 مَیں بنی اِسرائیل کی لاشیں اُن کے بُتوں کے سامنے ڈال دُوں گا اَور تمہاری ہڈّیوں کو تمہاری مذبحوں کے اِردگرد بِکھیر دُوں گا۔
EZE 6:6 تمہاری بُودوباش کے تمام شہر ویران ہو جایٔیں گے اَور اُونچے مقامات ڈھا دئیے جایٔیں گے تاکہ تمہاری قُربان گاہیں سُنسان اَور ویران ہُوں۔ تمہارے بُت توڑ دئیے جایٔیں گے اَور اُن کا نِشان بھی باقی نہ رہے گا۔ تمہاری لوبان جَلانے والی مذبح ہیں بھی توڑ دی جایٔیں گی اَورجو کچھ تُم نے بنایا ہے سَب نابود ہو جائے گا۔
EZE 6:7 تمہارے لوگ تمہارے درمیان مُردہ پڑے ہوں گے اَور تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 6:8 ” ’لیکن مَیں چند لوگوں کو بچائے رکھوں گا کیونکہ تُم میں سے کچھ لوگ جو مُختلف مُلکوں اَور قوموں میں تِتّر بِتّر ہو جاؤگے اَور تلوار کی دھار سے بچوگے۔
EZE 6:9 پھر جو مُختلف قوموں میں اسیر ہوکر چلے گیٔے ہوں گے اَور اِس طرح بچ نکلے ہوں گے وہ مُجھے یاد کریں گے۔ کہ کس طرح اُن کے زناکار دِلوں نے جو مُجھ سے پھر گیٔے ہیں اَور اُن کی آنکھوں نے جو بُتوں کے پیچھے لگی رہتی تھیں مُجھے رنجیدہ کیا۔ اَپنی بدکاری کے باعث اَور اَپنی مکرُوہ حرکتوں کی وجہ سے اُن کا ضمیر اُن پر ملامت کرےگا۔
EZE 6:10 اَور وہ جان لیں گے کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں کیونکہ مَیں نے یُوں ہی دھمکی نہ دی تھی کہ مَیں اُن پر یہ آفت نازل کروں گا۔
EZE 6:11 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَپنے ہاتھ پر ہاتھ مار کر اَور اَپنے پاؤں پٹک کر کہہ، بنی اِسرائیل کی تمام شرارت اَنگیز اَور قابل نفرت رواجوں پر ”افسوس!“ کیونکہ وہ تلوار، قحط اَور وَبا کا شِکار ہوں گے۔
EZE 6:12 جو بہت دُور ہے وہ وَبا سے مَرے گا اَورجو نزدیک ہے وہ تلوار کا لقمہ بنے گا۔ اَورجو جیتا رہے گا اَور بچ جائے گا وہ قحط سے مَر جائے گا۔ اِس طرح سے میں اَپنا قہر اُن پر نازل کروں گا۔
EZE 6:13 اَور جَب اُن کے لوگ قتل ہوکر اُن کے بُتوں کے درمیان، اُن کی قُربان گاہوں کے اطراف، ہر اُونچی پہاڑی پر اَور تمام پہاڑوں کی چوٹیوں پر، ہر سایہ دار درخت اَور ہر سرسبز بلُوط کے نیچے، الغرض ہر اُس جگہ پر جہاں وہ اَپنے بُتوں کے لیٔے خُوشبودار لوبان جَلاتے ہیں، بکھرے پڑے ملیں گے۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 6:14 اَور مَیں اَپنا ہاتھ اُن کے خِلاف بڑھاؤں گا اَور مُلک کو بیابان سے لے کر دِبلہ تک، جہاں جہاں وہ بستے ہیں، ویران اَور سُنسان کر دُوں گا۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EZE 7:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 7:2 ”اَے آدمؔ زاد، یَاہوِہ قادر مُلک اِسرائیل سے یُوں فرماتے ہیں: ” ’ختم ہُوا! مُلک کے چاروں کونوں پر آخِری وقت آ چُکاہے!
EZE 7:3 اَب تیرا آخِری وقت آ چُکاہے اَور مَیں اَپنا قہر تُجھ پر برساؤں گا۔ مَیں تیرے چال چلن کے مُطابق تیرا اِنصاف کروں گا اَور تُجھے تیرے تمام مکرُوہ کاموں کی سزا دُوں گا۔
EZE 7:4 مَیں تُجھ پر رحم ہی کروں گا؛ نہ میری آنکھ تُجھ سے رعایت ہی کرےگی۔ مَیں تُمہیں تمہارے چال چلن کا اَور اُن مکرُوہ روِشوں کا جو تُم میں رائج ہیں بدلہ دُوں گا۔ تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘
EZE 7:5 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’آفت! ایک نئی آفت آ رہی ہے۔
EZE 7:6 آخِری وقت آ پہُنچا ہے! آخِری وقت آ پہُنچا ہے! وہ تُجھ پر آ گیا ہے۔ وہ آ چُکاہے!
EZE 7:7 اَے مُلک میں بسنے والے۔ تیری شامت آ گئی۔ وقت آ چُکاہے۔ وہ دِن قریب ہے، پہاڑو سے آواز آ رہی ہے، وہ خُوشی کی نہیں بَلکہ دہشت کی ہیں۔
EZE 7:8 اَب مَیں اَپنا قہر تُجھ پر اُنڈیلنے کو ہُوں اَور اَپنا غُصّہ تُجھ پر اُتاروں گا۔ مَیں تیرے چال چلن کے مُطابق تیرا اِنصاف کروں گا اَور تیری تمام مکرُوہ روِشوں کی سزا دُوں گا۔
EZE 7:9 مَیں تُجھ پر رحم ہی کروں گا؛ نہ میری آنکھ تُجھ سے رعایت کرےگی۔ مَیں تُمہیں تمہارے چال چلن کا اَور اُن مکرُوہ روِشوں کا جو تُم مَیں رائج ہیں بدلہ دُوں گا۔ ” ’تُم جان لوگے کہ سزا دینے والا جو ہے وہ مَیں یَاہوِہ ہی ہُوں۔
EZE 7:10 ” ’دیکھو، وہ دِن یہی ہے! دیکھو، وہ آن پہُنچا! شامت آ گئی۔ عصا مَیں کلیاں نکل آئیں۔ غُرور میں غُنچے کھِل گیٔے!
EZE 7:11 تشدّد نے بڑھ کر شرارت کے لیٔے ڈنڈے کا رُوپ لے لیا؛ لوگوں میں سے کویٔی نہ بچے گا، نہ اِس ہُجوم میں سے کویٔی بچے گا۔ نہ دولت اَور نہ ہی کویٔی اَور قیمتی شَے۔
EZE 7:12 وقت آ پہُنچا ہے۔ وہ دِن قریب ہے۔ نہ تو خریدار خُوش ہو نہ بیچنے والا رنجیدہ ہو کیونکہ قہر تمام ہُجوم پر بَرس پڑا ہے۔
EZE 7:13 جَب تک دونوں زندہ ہیں، بیچنے والا اَپنی زمین واپس نہیں پا سَکتا کیونکہ تمام ہُجوم سے متعلّق رُویا پلٹائی نہیں جائے گی۔ اَپنے گُناہوں کی وجہ سے، اُن میں سے کوئی بھی اَپنی زندگی کو بچا نہ سکےگا۔
EZE 7:14 ” ’حالانکہ اُنہُوں نے نرسنگا پھُونکا اَور ہر چیز تیّار کرلی تَب بھی جنگ کے لیٔے کویٔی نہیں جائے گا کیونکہ میرا قہر تمام ہُجوم پر ہے۔
EZE 7:15 باہر تلوار ہے اَور اَندر وَبا اَور قحط؛ جو دیہات میں ہوں گے وہ تلوار سے مَریں گے اَورجو شہر میں ہوں گے اُنہیں قحط اَور وَبا نگل لیں گے۔
EZE 7:16 جو بچ کر بھاگ جایٔیں گے وہ اَپنے اَپنے گُناہوں کے باعث وادیوں کے کبُوتروں کی مانند جو پہاڑوں پر ہوں نالہ کریں گے۔
EZE 7:17 ہر ہاتھ ڈھیلا پڑ جائے گا اَور ہر گھُٹنا پانی کی مانند کمزور ہو جائے گا۔
EZE 7:18 وہ ٹاٹ پہن لیں گے اَور اُن پر خوف کا لباس پہنایا جائے گا۔ اُن کے چہرے شرمسار ہوں گے اَور اُن کے سَر منڈوایاجائے گا۔
EZE 7:19 ” ’وہ اَپنی چاندی سڑکوں پر پھینک دیں گے اَور اُن کا سونا ناپاک چیز ہوگا۔ یَاہوِہ کے غضب کے دِن اُن کی چاندی اَور سونا اُنہیں بچا نہ سکیں گے۔ نہ وہ اُن کی بھُوک مٹا سکیں گے اَور نہ اُن کا پیٹ بھر سکیں گے کیونکہ اِسی سے ٹھوکر کھا کر اُنہُوں نے گُناہ کیا۔
EZE 7:20 اُنہیں اَپنے خُوبصورت زیورات پر فخر تھا اَور اُنہیں وہ اَپنے مکرُوہ بُتوں اَور بے جان شَبیہ بنانے میں اِستعمال کرتے تھے۔ اِس لیٔے میں اُنہیں اُن کے لیٔے ایک ناپاک چیز بنا دُوں گا۔
EZE 7:21 میں وہ سَب مالِ غنیمت کے طور پر پردیسیوں کے اَور لُوٹ کے مال کے طور پر دُنیا کے بدکاروں کے حوالہ کر دُوں گا اَور وہ اُسے ناپاک کر دیں گے۔
EZE 7:22 مَیں اُن سے اَپنا مُنہ پھیر لُوں گا اَور وہ میرے متبرّک مقام کو ناپاک کر دیں گے، اُس میں ڈاکُو گھُس آئیں گے اَور اُسے ناپاک کر دیں گے۔
EZE 7:23 ” ’زنجیروں بنا کیونکہ مُلک میں خُونریزی مچی ہُوئی ہے اَور شہر تشدّد سے پُر ہے۔
EZE 7:24 میں نہایت بدترین قوموں کو لے آؤں گا جو اُن کے مکانات کے مالک بَن جایٔیں گے۔ میں طاقتوروں کا گھمنڈ ختم کر دُوں گا اَور اُن کے مُقدّس مقامات ناپاک کر دئیے جایٔیں گے۔
EZE 7:25 جَب دہشت آئے گی تَب وہ اَمن ڈھونڈیں گے لیکن نہ پائیں گے۔
EZE 7:26 آفت پر آفت آئے گی اَور افواہ پر افواہ سُنایٔی دے گی۔ وہ نبی سے رُویا طلب کرنے کی کوشش کریں گے، کاہِنؔ سے شَریعت کی تعلیم اَور بُزرگوں سے مشورت جاتی رہے گی۔
EZE 7:27 بادشاہ ماتم کرےگا، حُکمراں پر مایوسی چھا جائے گی اَور مُلک کے باشِندوں کے ہاتھ کانپنے لگیں گے۔ مَیں اُن کے چال چلن کے مُطابق اُن سے سلُوک کروں گا اَور اُن کے اَپنے مِعیار کے مُطابق اُن کا اِنصاف کروں گا۔ ” ’تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EZE 8:1 چھٹے سال کے چھٹے مہینے کے پانچویں دِن جَب مَیں اَپنے گھر میں بیٹھا تھا اَور یہُوداہؔ کے بُزرگ میرے سامنے بیٹھے تھے، تَب وہاں یَاہوِہ قادر کا ہاتھ مُجھ پر آ ٹھہرا۔
EZE 8:2 مَیں نے دیکھا تو مُجھے ایک اِنسانی شکل نظر آئی۔ اُس کی کمر کا نیچے کا حِصّہ آگ کی مانند تھا اَور اُس کے اُوپر کا حِصّہ چمکتی ہُوئی دھات کی مانند رَوشن تھا۔
EZE 8:3 اُس نے ہاتھ کی شکل کی کویٔی شَے آگے بڑھا کر میرے سَر کے بالوں سے مُجھے پکڑ لیا۔ تَب رُوح نے مُجھے زمین اَور آسمان کے درمیان اُٹھالیا اَور خُدا کی دِکھائی ہُوئی رُویا میں یروشلیمؔ میں بیت المُقدّس کے اَندرونی صحن کے شمالی پھاٹک کے دروازے تک لے گئی جہاں غیرت بھڑکانے والا بُت کھڑا تھا۔
EZE 8:4 وہاں میرے سامنے اِسرائیل کے خُدا کا جلال وَیسا ہی مَوجُود تھا جَیسا مَیں نے رُویا میں میدان میں دیکھا تھا۔
EZE 8:5 تَب اُس نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدمؔ زاد، شمال کی طرف دیکھ۔“ چنانچہ مَیں نے دیکھا کہ مذبح کے پھاٹک کے شمال میں دروازہ سے داخل ہونے کی راہ پر ہی یہ غیرت کا بُت کھڑا تھا۔
EZE 8:6 اَور اُس نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدمؔ زاد، کیا تُم نے دیکھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ بنی اِسرائیل یہاں اَیسی مکرُوہ کام کر رہے ہیں تاکہ میں اَپنے پاک مُقدّس سے دُور چلا جاؤں۔ لیکن تُم اَیسی حرکتیں دیکھوگے جو اِن سے بھی زِیادہ قابل نفرت ہُوں گی۔“
EZE 8:7 تَب وہ مُجھے صحن کے دروازے پر لے آیا۔ مَیں نے نظر کی تو دیوار میں ایک چھید نظر آیا۔
EZE 8:8 اُس نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدمؔ زاد، اَب دیوار کو کھود۔“ چنانچہ جَب مَیں نے دیوار کو کھودا تو وہاں ایک دروازہ دیکھا۔
EZE 8:9 اَور اُس نے مُجھ سے کہا، ”اَندر جا اَور دیکھ کہ وہ یہاں کیسی شرارت آمیز اَور قابل نفرت حرکتیں کر رہے ہیں۔“
EZE 8:10 چنانچہ میں اَندر گیا اَور دیکھا کہ دیواروں پر ہر طرف ہر قِسم کے رینگنے والے جانوروں اَور ناپاک حَیوانوں اَور اِسرائیل کے تمام بُتوں کی تصویریں نقش کی ہُوئی ہیں۔
EZE 8:11 اُن کے سامنے بنی اِسرائیل کے ستّر بُزرگ کھڑے ہیں جِن میں شافانؔ کا بیٹا یازنیاہؔ بھی ہے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں ایک بخُوردان ہے اَور وہاں بخُور کا خُوشبودار بادل اُٹھ رہاہے۔
EZE 8:12 اُس نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدمؔ زاد، کیا تُم نے دیکھا کہ بنی اِسرائیل کے بُزرگ اَپنے اَپنے بُتکدے میں تاریکی میں کیا کر رہے ہیں؟ وہ کہتے ہیں، ’یَاہوِہ ہمیں نہیں دیکھتے۔ اُنہُوں نے مُلک کو ترک کر دیا ہے۔‘ “
EZE 8:13 تَب اُس نے پھر کہا، ”تُو اُنہیں اَیسی حرکتیں کرتے ہُوئے دیکھے گا اَورجو اِن سے بھی زِیادہ قابل نفرت ہُوں گی۔“
EZE 8:14 پھر وہ مُجھے یَاہوِہ کے گھر کے شمالی پھاٹک کے دروازہ پر لے گیا اَور مَیں نے وہاں عورتوں کو دیکھا جو بیٹھی ہُوئی تمّوزؔ کے لیٔے نوحہ کر رہی تھیں۔
EZE 8:15 اُس نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدمؔ زاد، کیا تُونے یہ دیکھا؟ تُو اُنہیں اَیسی حرکتیں کرتے ہُوئے دیکھے گا جو اَور بھی زِیادہ قابل نفرت ہیں۔“
EZE 8:16 پھر وہ مُجھے یَاہوِہ کے گھر کے اَندرونی صحن میں لایا اَور وہاں بیت المُقدّس کے دروازہ پر برامدے اَور مذبح کے درمیان تقریباً پچّیس اَشخاص تھے جِن کی پیٹھ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی طرف تھی اَور اُن کے مُنہ مشرق کی جانِب تھے اَور وہ مشرق کی طرف رُخ کرکے سُورج کو سَجدہ کر رہے تھے۔
EZE 8:17 اُس نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدمؔ زاد، کیا تُونے دیکھ لیا ہے؟ کیا یہ بنی یہُوداہؔ کے نزدیک مَعمولی سِی بات ہے کہ وہ اَیسی قابل نفرت حرکتیں کریں جو وہ یہاں کر رہے ہیں؟ کیا لازِم ہے کہ وہ مُلک کو تشدّد سے بھرتے رہیں اَور میرے غُصّہ کو لگاتار بھڑکاتے رہیں؟ دیکھ، اَب تو اُنہُوں نے شاخ کو نتھنوں میں گھُسا لیا ہے!
EZE 8:18 اِس لیٔے میں بھی اُن سے غُصّہ سے پیش آؤں گا۔ نہ مَیں اُن پر رحم کروں گا اَور نہ ہی رعایت سے کام لُوں گا۔ خواہ وہ میرے کانوں میں زور زور سے چِلّائیں، مَیں اُن کی نہ سُنوں گا۔“
EZE 9:1 پھر مَیں نے اُسے بُلند آواز میں پُکارتے ہُوئے سُنا، ”شہر کے نگہبانوں کو اَپنے اَپنے ہتھیار ہاتھ میں لیٔے ہُوئے یہاں لے آؤ۔“
EZE 9:2 اَور مَیں نے چھ مَردوں کو اَپنے اَپنے ہاتھ میں مہلک ہتھیار لیٔے ہُوئے اُوپر کے پھاٹک سے آتے ہُوئے دیکھا، جِس کا رُخ شمال کی جانِب ہے۔ اُن کے ساتھ ایک شخص کتان کا لباس پہنے اَور کاتب کا بستہ لیٔے ہُوئے تھا۔ وہ اَندر آکر کانسے کے مذبح کے پاس کھڑے ہو گئے۔
EZE 9:3 اَور اِسرائیل کے خُدا کا جلال کروبیوں پر سے جہاں وہ تھا اُٹھ کر بیت المُقدّس کی دہلیز پر آ گیا۔ تَب یَاہوِہ نے اُس شخص کو بُلایا جو کتان کا لباس پہنے ہُوئے تھا اَور جِس کے پاس کاتب کا بستہ تھا۔
EZE 9:4 اَور یَاہوِہ نے اُس سے کہا، ”یروشلیمؔ کے تمام شہر میں گشت لگا اَور اُن سَب لوگوں کی پیشانی پر نِشان لگا جو شہر میں کئے جانے والے مکرُوہ کاموں کے باعث رنجیدہ ہیں اَور ماتم کرتے ہیں۔“
EZE 9:5 اُس نے میرے سُنتے ہُوئے دُوسروں سے کہا، ”شہر میں اُس کے پیچھے پیچھے چل کر کسی کے ساتھ رحم یا ہمدردی نہ جتاتے ہُوئے قتل کئے جاؤ۔
EZE 9:6 ضعیفوں، نوجوانوں، دوشیزاؤں، ماؤں اَور بچّوں کو قتل کرو لیکن جِس کے نِشان ہو اُسے نہ چھُوؤ۔ میرے پاک مُقدّس کے پاس سے شروع کرو۔“ چنانچہ اُنہُوں نے اُن ضعیفوں سے اِبتدا کی جو بیت المُقدّس کے سامنے تھے۔
EZE 9:7 پھر اُس نے اُن سے کہا، ”بیت المُقدّس کو ناپاک کرو اَور صحنوں کو مقتولوں سے بھر دو۔ جاؤ!“ چنانچہ وہ باہر نکلے اَور سارے شہر میں قتل کرتے پھرے۔
EZE 9:8 جَب وہ قتل کر رہے تھے اَور مَیں اکیلا بچ گیا تھا تَب میں مُنہ کے بَل گرا اَور چِلّاکر کہا، ”آہ، اَے یَاہوِہ قادر! کیا تُو اَپنا قہر یروشلیمؔ پر نازل کرکے اِسرائیل کے باقی بچے لوگوں کو بھی تباہ کر دے گا؟“
EZE 9:9 اُس نے جَواب دیا، ”بنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ کی بدکاری نہایت سنگین ہے۔ مُلک میں خُونریزی برپا ہے اَور شہر نااِنصافی سے بھرا ہُواہے۔ وہ کہتے ہیں، ’یَاہوِہ نے مُلک کو ترک کر دیا ہے اَور وہ کچھ نہیں دیکھتا۔‘
EZE 9:10 اِس لیٔے مَیں اُن پر رحم نہ کروں گا نہ ہی رعایت برتوں گا بَلکہ جو اُنہُوں نے کیا ہے اُن کے سَر پر لے آؤں گا۔“
EZE 9:11 تَب اُس شخص نے جو کتان کا لباس پہنے ہُوئے تھا اَور جِس کے پاس کاتب کا بستہ تھا، آکر یہ خبر دی، ”مَیں نے تیرے حُکم کی تعمیل کر دی ہے۔“
EZE 10:1 مَیں نے نگاہ کی اَور دیکھا کہ کروبیوں کے سَروں کے اُوپر جو فِضا تھی اُس کے اُوپر نیلم کے تخت کی مانند کویٔی شَے نظر آ رہی ہے۔
EZE 10:2 یَاہوِہ نے کتان کے کپڑے پہنے ہُوئے شخص سے کہا، ”کروبیوں کے نیچے والے پہیّوں میں چلا جا اَور اَپنی دونوں مُٹھّیوں کو کروبیوں کے درمیان سے جلتے ہُوئے اَنگارے اُٹھاکر بھر لے اَور اُنہیں شہر کے اُوپر بِکھیر دے۔“ میرے دیکھتے دیکھتے وہ اُن کے درمیان چلا گیا۔
EZE 10:3 جَب وہ شخص اَندر گیا تَب کروبی بیت المُقدّس کی جُنوب کی طرف کھڑے تھے اَور اَندرونی صحن پر بادل چھایا ہُوا تھا۔
EZE 10:4 تَب یَاہوِہ کا جلال کروبیوں کے اُوپر سے اُٹھ کر بیت المُقدّس کی دہلیز کی طرف بڑھا۔ بیت المُقدّس بادل سے بھر گئی اَور صحن یَاہوِہ کے جلال کے نُور سے معموُر ہو گیا۔
EZE 10:5 کروبیوں کے پروں کی آواز بیرونی صحن تک سُنایٔی دیتی تھی جو قادرمُطلق خُدا کے کلام کی آواز کی مانند تھی۔
EZE 10:6 جَب یَاہوِہ نے کتان کا لباس پہنے ہُوئے شخص کو حُکم دیا، ”وہ پہیّوں کے اَندر سے کروبیوں کے درمیان سے آگ لے،“ تَب وہ شخص اَندر گیا اَور ایک پہیّا کے پاس جا کھڑا ہُوا۔
EZE 10:7 تَب اُن کروبیوں میں سے ایک نے اَپنا ہاتھ آگ کی طرف بڑھایا جو اُن کے درمیان تھی۔ اُس نے اُس میں سے کچھ آگ لے کر کتان کا لباس پہنے ہُوئے شخص کے ہاتھوں پر رکھ دی اَور وہ اُسے لے کر باہر چلا گیا۔
EZE 10:8 (کروبیوں کے پروں کے نیچے کویٔی اَیسی چیز دیکھی جا سکتی تھی جو اِنسان کے ہاتھ کی مانند تھی۔)
EZE 10:9 مَیں نے نگاہ کی اَور کروبیوں کے پاس چار پہیّے دیکھے۔ ہر کروبی کے پاس ایک پہیّا تھا اَور وہ پہیّے پکھراج کے مانند چمکتے تھے۔
EZE 10:10 شکل و صورت سے وہ چاروں ایک ہی طرح کے تھے۔ ہر ایک پہیّا یُوں نظر آتا تھا گویا ایک پہیّا دُوسرے کے اَندر ہے۔
EZE 10:11 جَب وہ حرکت کرتے تو اُن چاروں سمتوں میں سے جدھر کروبیوں کا رُخ ہوتا تھا کسی ایک جانِب چل پڑتے۔ جَب کروبی چلنے لگتے تھے تو پہیّے مُڑتے نہ تھے۔ کروبی اُسی سمت چل پڑتے تھے جِس طرف اُن کے سَروں کا رُخ ہوتا تھا اَور وہ چلتے وقت مُڑتے نہ تھے۔
EZE 10:12 اُن کی پیٹھ، اُن کے ہاتھوں اَور اُن کے پروں اَور اُن کے چار پہیّوں سمیت اُن کے تمام بَدن پر آنکھیں ہی آنکھیں تھیں۔
EZE 10:13 مَیں نے اُن، ”پہیّوں کو چرخ کہلاتے ہُوئے سُنا۔“
EZE 10:14 ہر کروبی کے چار چہرے تھے۔ ایک چہرہ تو کروبی کا تھا، دُوسرا اِنسان کا، تیسرا شیرببر کا اَور چوتھا عُقاب کا تھا۔
EZE 10:15 پھر کروبی اُوپر کو اُٹھے۔ یہ وُہی جاندار تھے جنہیں مَیں نے نہر کِبارؔ کے کنارے دیکھا تھا۔
EZE 10:16 جَب کروبی حرکت کرتے تو اُن کے پاس کے پہیّے بھی حرکت کرتے اَور جَب کروبی زمین سے اُٹھنے کے لیٔے اَپنے پر پھیلاتے تَب بھی پہیّے اُن سے جُدا نہ ہوتے تھے۔
EZE 10:17 جَب کروبی رُک جاتے تو وہ بھی رُک جاتے اَور جَب کروبی اُٹھتے تُو یہ بھی اُن کے ساتھ اُٹھ جاتے کیونکہ جاندار کی رُوح اُن میں تھی۔
EZE 10:18 تَب یَاہوِہ کا جلال بیت المُقدّس کی دہلیز سے ہٹ کر کروبیوں کے اُوپر آکر ٹھہرگیا۔
EZE 10:19 میں دیکھ ہی رہاتھا کہ کروبیوں نے اَپنے پر پھیلائے اَور زمین پر سے اُٹھ گیٔے اَور جوں ہی وہ چلے گیٔے پہیّے بھی اُن کے ساتھ چلے گیٔے۔ وہ یَاہوِہ کے گھر کے مشرقی پھاٹک کے دروازے پر رُکے اَور اِسرائیل کے خُدا کا جلال اُن کے اُوپر جلوہ گِر تھا۔
EZE 10:20 یہ وُہی جاندار ہیں جنہیں مَیں نے اِسرائیل کے خُدا کے نیچے نہر کِبارؔ کے کنارے دیکھا تھا اَور مَیں نے جان لیا کہ وہ کروبی تھے۔
EZE 10:21 ہر ایک کے چار چہرے اَور چار پر تھے اَور اُن کے پروں کے نیچے اِنسان کے سے ہاتھ تھے۔
EZE 10:22 اُن کے چہروں کی شکل و صورت وَیسی ہی تھی جَیسی مَیں نے نہر کِبارؔ کے کنارے دیکھی تھی۔ ہر ایک سیدھا آگے ہی کو چلتا تھا۔
EZE 11:1 تَب رُوح مُجھے اُٹھاکر یَاہوِہ کے گھر کے اُس پھاٹک پر لے آئی جِس کا رُخ مشرق کی طرف ہے۔ وہاں پھاٹک کے دروازہ پر پچّیس مَرد تھے جِن میں مَیں نے یازنیاہؔ بِن عزُّورؔ اَور بِنایاہؔ کے بیٹے پیلاطیاہؔ کو دیکھا جو قوم کے اُمرا میں سے تھے۔
EZE 11:2 یَاہوِہ نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدمؔ زاد، یہ وہ لوگ ہیں جو اِس شہر میں بُرائی کے منصُوبے بناتے ہیں اَور بدکرداری کی صلاح دیتے ہیں۔
EZE 11:3 وہ کہتے ہیں، ’کیا حال ہی میں ہمارے گھر تعمیر نہیں کیٔے گئے ہیں؟ یہ شہر دیگ ہے اَور ہم گوشت ہیں۔‘
EZE 11:4 اِس لیٔے اُن کے خِلاف نبُوّت کر، اَے آدمؔ زاد، نبُوّت کر۔“
EZE 11:5 تَب یَاہوِہ کی رُوح مُجھ پر نازل ہُوئی اَور اُس نے مُجھے یہ کہنے کا حُکم دیا: ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: اِسرائیل میں آپ رہنما، تُم یہ کہہ رہے ہو لیکن مَیں جانتا ہُوں کہ تمہارے دِل میں کیا ہے؟
EZE 11:6 تُم نے اِس شہر میں بہُتوں کو قتل کیا اَور اُس کی سڑکوں کو لاشوں سے بھر دیا۔
EZE 11:7 ”چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: جو لاشیں تُم نے وہاں پھینکی ہیں وہ گوشت ہیں اَور یہ شہر دیگ ہے۔ لیکن مَیں تُم کو وہاں سے باہر نکال دُوں گا۔
EZE 11:8 تُم تلوار سے ڈرتے ہو لیکن مَیں تمہارے خِلاف تلوار ہی لاؤں گا۔ یہ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔
EZE 11:9 میں تُمہیں شہر سے باہر نکال دُوں گا اَور پردیسیوں کے حوالہ کر دُوں گا اَور تُمہیں سزا دُوں گا۔
EZE 11:10 میں تُمہیں اِسرائیل کی سرحدوں پر سزا کا حُکم سُناؤں گا اَور تُم تلوار سے مارے جاؤگے۔ تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 11:11 یہ شہر تمہارے لیٔے دیگ نہ ہوگا، نہ تُم اُس کے اَندر کا گوشت ہوگے۔ میں تُمہیں اِسرائیل کی سرحدوں پر سزا کا حُکم سُناؤں گا۔
EZE 11:12 اَور تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں کیونکہ تُم نے میرے آئین کی پیروی نہ کی، نہ میری شَریعت پر عَمل کیا بَلکہ تُم اُن قوموں کے اَحکام پر چلے جو تمہارے اِردگرد ہیں۔“
EZE 11:13 اَب جَب کہ میں نبُوّت کر رہاتھا تو بِنایاہؔ کا بیٹا پیلاطیاہؔ مَر گیا۔ تَب میں مُنہ کے بَل گرا اَور بُلند آواز سے چِلّایا، ”اَے یَاہوِہ قادر! کیا آپ اِسرائیل کے باقی بچے لوگوں کو بالکُل مٹا دیں گے؟“
EZE 11:14 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 11:15 ”اَے آدمؔ زاد، اہلِ یروشلیمؔ نے تیرے بھائیوں یعنی تیرے قریبی رشتہ داروں اَور تمام بنی اِسرائیل کے متعلّق کہا ہے، ’وہ یَاہوِہ سے کافی دُور ہیں اَور یہ مُلک ہمیں مِیراث میں دے دیا گیا ہے۔‘
EZE 11:16 ”اِس لیٔے تُو کہہ: ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: حالانکہ مَیں نے اُنہیں بہت دُور مُختلف قوموں کے درمیان بھیجا اَور الگ الگ مُلکوں میں بِکھیر دیا، پھر بھی کچھ عرصہ کے لیٔے مَیں اُن مُلکوں میں جہاں وہ گیٔے اُن کا پاک مُقدّس بنا رہا ہُوں۔‘
EZE 11:17 ”اِس لیٔے تُو کہہ: ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں تُمہیں مُختلف قوموں میں سے جمع کروں گا اَور اُن مُلکوں میں سے واپس لاؤں گا جہاں تُم پراگندہ کئے گیٔے ہو۔ اَور مَیں تُمہیں اِسرائیل کا مُلک واپس دُوں گا۔‘
EZE 11:18 ”وہ وہاں واپس لَوٹ کر اُس میں کی بے جان شَبیہوں اَور مکرُوہ بُتوں کو دُور کر دیں گے۔
EZE 11:19 میں اُنہیں ایک غَیر منقسم دِل دُوں گا اَور اُن میں نئی رُوح ڈالوں گا۔ مَیں اُن میں سے اُن کا پتّھر کا سا سخت دِل نکال دُوں گا اَور اُنہیں گوشت کا سا نرم دِل دُوں گا۔
EZE 11:20 تَب وہ میرے آئین کی پیروی کریں گے اَور میری شَریعت پر عَمل پیرا ہوں گے۔ وہ میرے لوگ ہوں گے اَور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا۔
EZE 11:21 لیکن جِن کے دِل اَپنی بے جان شَبیہوں اَور مکرُوہ بُتوں کے پرستار ہیں، اُن کی روِش مَیں اُن ہی کے سَر پر لے آؤں گا۔ یہ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔“
EZE 11:22 تَب کروبیوں نے جِن کے پاس پہیّے تھے اَپنے پر پھیلائے اَور اِسرائیل کے خُدا کا جلال اُن کے اُوپر تھا۔
EZE 11:23 یَاہوِہ کا جلال شہر کے اَندر سے اُوپر اُٹھا اَور اُس پہاڑ پر جا ٹھہرا جو شہر کے مشرق میں ہے۔
EZE 11:24 تَب رُوح نے مُجھے اُٹھالیا اَور خُدا کی رُوح کی قُدرت سے مَیں نے رُویا میں دیکھا کہ میں کَسدیوں کے مُلک میں جَلاوطنوں کے پاس پہُنچ گیا ہُوں۔ تَب وہ رُویا جو مَیں نے دیکھی تھی میرے پاس سے غائب ہو گئی
EZE 11:25 اَور مَیں نے جَلاوطنوں کو وہ سَب باتیں بتا دیں جو یَاہوِہ نے مُجھ پر ظاہر کی تھیں۔
EZE 12:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 12:2 ”اَے آدَمزاد، تُو ایک سرکش قوم کے درمیان رہتاہے جِن کے پاس دیکھنے کے لیٔے آنکھیں تو ہیں لیکن وہ نہیں دیکھتے اَور سُننے کے لیٔے کان ہیں لیکن وہ نہیں سُنتے کیونکہ وہ ایک سرکش قوم ہیں۔
EZE 12:3 ”اِس لیٔے اَے آدمؔ زاد، جَلاوطنی کے لیٔے اَپنا اَسباب باندھ لے اَور دِن کے وقت اُن کے دیکھتے دیکھتے اَپنا مقام چھوڑکر دُوسرے مقام کو چلا جاتا کہ شاید وہ سمجھ جایٔیں، حالانکہ وہ ایک سرکش خاندان ہیں۔
EZE 12:4 دِن کے وقت جَب کہ وہ دیکھ رہے ہوں گے جَلاوطنی کے لیٔے تیّار کیا ہُوا اَپنا سامان باہر لانا اَور شام کو جَب کہ وہ دیکھ رہے ہوں گے جَلاوطنوں کی طرح باہر نکل جانا۔
EZE 12:5 اُن کے دیکھتے ہُوئے دیوار میں چھید کرکے اَپنا اَسباب اُس میں سے باہر نکال لینا
EZE 12:6 اَور اُن کے سامنے اُسے اَپنے کندھے پر رکھ کر اَندھیرے میں روانہ ہو جانا۔ اَپنا چہرہ چھُپا لینا تاکہ تُو زمین کو نہ دیکھ پایٔے کیونکہ مَیں نے تُجھے بنی اِسرائیل کے لیٔے ایک نِشان ٹھہرایا ہے۔“
EZE 12:7 چنانچہ مَیں نے وَیسا ہی کیا جَیسا مُجھے حُکم ہُوا تھا۔ دِن کے وقت مَیں نے اَپنا سامان باہر نکالا جسے مَیں نے جَلاوطنی کے لیٔے تیّار کیا تھا۔ پھر شام کو اَپنے ہاتھوں سے دیوار میں چھید کیا اَور تاریکی میں اَپنی ساری چیزیں باہر نکال لیں اَور اُن کے دیکھتے ہُوئے اُنہیں اَپنے کندھے پر اُٹھائے ہُوئے چل دیا۔
EZE 12:8 صُبح کو یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 12:9 ”اَے آدمؔ زاد، کیا اِس سرکش بنی اِسرائیل نے تُجھ سے نہیں پُوچھا، ’تُو کیا کر رہاہے؟‘
EZE 12:10 ”اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: یہ نبُوّت یروشلیمؔ کے حاکم اَور تمام بنی اِسرائیل کے لیٔے ہے جو وہاں رہتے ہیں۔‘
EZE 12:11 اُن سے کہہ، ’مَیں تمہارے لیٔے ایک نِشان ہُوں۔‘ ”جَیسا مَیں نے کیا ہے وَیسا ہی اُن کے ساتھ ہوگا۔ وہ اسیر ہوکر جَلاوطن کئے جایٔیں گے۔
EZE 12:12 ”اُن میں جو حاکم ہے وہ اَندھیرے میں اَپنا اَسباب کندھے پر لیٔے ہُوئے نکلے گا اَور دیوار میں سوراخ کیا جائے گا تاکہ وہ اُس میں سے نکل سکے۔ وہ اَپنا چہرہ ڈھانپ لے گا تاکہ زمین کو نہ دیکھ سکے۔
EZE 12:13 میں اُس کے لیٔے اَپنا جال بچھاؤں گا اَور وہ میرے پھندے میں پھنس جائے گا۔ میں اُسے کَسدیوں کے مُلک بابیل میں لاؤں گا لیکن وہ اُسے دیکھ نہ پایٔےگا حالانکہ وہاں ہی وفات پایٔےگا۔
EZE 12:14 میں اُس کے اِردگرد کے سَب لوگوں یعنی اُس کے مُلازمین اَور فَوجیوں کو ہر طرف بِکھیر دُوں گا اَور مَیں تلوار کھینچ کر اُن کا تعاقب کروں گا۔
EZE 12:15 ”جَب مَیں اُنہیں مُختلف قوموں میں پھیلا دُوں گا اَور مُختلف مُلکوں میں بِکھیر دُوں گا تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 12:16 لیکن اُن میں سے چند لوگوں کو میں تلوار، قحط اَور وَبا سے بچائے رکھوں گا تاکہ جِن قوموں میں وہ جایٔیں وہاں وہ اَپنی مکرُوہ حرکتوں کا اعتراف کریں۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔“
EZE 12:17 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 12:18 ”اَے آدمؔ زاد، جَب تُو کھانا کھائے تو کانپنے لگنا اَور پانی پیتے وقت خوف سے تھرتھرانا۔
EZE 12:19 مُلک کے لوگوں سے کہہ: ’یروشلیمؔ اَور اِسرائیل کے مُلک میں رہنے والوں کے متعلّق یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: وہ پریشانی اَور مایوسی کی حالت میں اَپنا کھانا کھایٔیں گے اَور پانی پیئیں گے کیونکہ اُن کے مُلک میں بسنے والے لوگوں کے تشدّد کے باعث اُن کے مُلک کی ہر چیز چھین لی جائے گی۔
EZE 12:20 آباد شہر اُجاڑ دئیے جایٔیں گے اَور مُلک ویران ہو جائے گا۔ تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EZE 12:21 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 12:22 ”اَے آدمؔ زاد، یہ کیسی ضرب المثل ہے جو اِسرائیل کے مُلک میں رائج ہے: ’دِن گزرتے جاتے ہیں اَور کویٔی رُویا پُوری نہیں ہوتی‘؟
EZE 12:23 اُن سے کہہ دے، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مَیں اُس ضرب المثل کو ختم کر دُوں گا اَور پھر یہ اِسرائیل کے بارے میں اِستعمال نہ کی جائے گی۔‘ اُن سے کہہ دے، ’وہ دِن قریب ہیں جَب ہر رُویا پُوری ہوگی۔
EZE 12:24 کیونکہ بنی اِسرائیل کے درمیان آئندہ باطِل رُویتیں یا خُوشامدی پیشن گوئیاں نہ ہوں گی۔
EZE 12:25 لیکن مَیں یَاہوِہ اَپنی مرضی سے کلام کروں گا اَور وہ بِلا تاخیر پُورا ہوگا۔ کیونکہ اَے سرکش خاندان، مَیں تمہارے ایّام میں جو کچھ کہُوں گا اُسے پُورا کروں گا۔ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔‘ “
EZE 12:26 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 12:27 ”اَے آدمؔ زاد، بنی اِسرائیل کہہ رہے ہیں، ’جو رُویا یہ دیکھتا ہے وہ آج سے کیٔی سال بعد پُوری ہوگی اَور اُس کی نبُوّت بھی بہت دُور کے زمانہ سے تعلّق رکھتی ہے۔‘
EZE 12:28 ”اِس لیٔے اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ اَب میرے کسی کلام کی تکمیل میں تاخیر نہ ہوگی بَلکہ جو کچھ مَیں کہُوں گا وہ ہوکر رہے گا۔ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔‘ “
EZE 13:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 13:2 ”اَے آدمؔ زاد، اِسرائیل کے اُن نبیوں کے خِلاف نبُوّت کرجو اِس وقت نبُوّت کر رہے ہیں، جو محض آپ نے دِل سے نبُوّت کرتے ہیں۔ اُن سے کہو: ’یَاہوِہ کا کلام سُنو!
EZE 13:3 یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ اُن احمق نبیوں پر افسوس جنہوں نے کچھ نہیں دیکھا اَور محض اَپنی ہی رُوح کے پیچھے بھٹک جاتے ہیں!
EZE 13:4 اَے اِسرائیل، تیرے نبیوں اُن گیدڑوں کی مانند ہیں جو کھنڈروں میں پائی جاتی ہیں۔
EZE 13:5 تُم دیوار کی مرمّت کرتے ہُوئے شگافوں تک نہیں پہُنچے تاکہ وہ بنی اِسرائیل کی خاطِر یَاہوِہ کے دِن جنگ میں قائِم رہے۔
EZE 13:6 اُن کی رُویتیں باطِل ہیں اَور اُن کی پیشن گوئی جھُوٹی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”یَاہوِہ فرماتے ہیں،“ جَب کہ یَاہوِہ نے اُنہیں نہیں بھیجا۔ پھر بھی وہ توقع رکھتے ہیں کہ اُن کے الفاظ صحیح ثابت ہوں گے۔
EZE 13:7 جَب تُم نے یہ کہا، ”یَاہوِہ فرماتے ہیں،“ تَب تُم نے باطِل رُویتیں نہیں دیکھی اَور جھُوٹی پیشن گوئی نہیں کی؟ حالانکہ مَیں نے کلام نہیں کیا۔
EZE 13:8 ” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: تمہاری دروغ گوئی اَور باطِل رُویتوں کے باعث میں تمہارا مُخالف ہُوں۔ یہ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔
EZE 13:9 میرا ہاتھ اُن نبیوں کے خِلاف ہوگا جو باطِل رُویتیں دیکھتے ہیں اَور جھُوٹی پیشن گوئی کرتے ہیں۔ وہ میری اُمّت کی مجلس میں نہ ہوں گے، نہ بنی اِسرائیل کے دفتر میں درج ہوں گے اَور نہ ہی وہ اِسرائیل کے مُلک میں داخل ہوں گے۔ تَب تُم جان لوگے کہ میں یَاہوِہ قادر ہُوں۔
EZE 13:10 ” ’چونکہ اُنہُوں نے میرے لوگوں کو سلامتی نہ ہوتے ہُوئے بھی یُوں کہہ کر بہکایا، ”سلامتی“ ہے اَور جَب کویٔی دیوار کمزور بنائی جاتی ہے تو اُس پر سفیدی پوت دیتے ہیں،
EZE 13:11 اِس لیٔے اُن سفیدی پوتنے والوں سے کہہ کہ وہ دیوار گِر جائے گی، موسلادھار بارش ہوگی اَور مَیں اولے برساؤں گا اَور زور کی آندھی چلے گی۔
EZE 13:12 جَب دیوار گِر جائے گی تَب لوگ تُم سے یہ نہ پُوچھیں گے، ”وہ سفیدی کہاں ہے جِس سے تُم نے اُسے پوتا تھا؟“
EZE 13:13 ” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں اَپنے غضب میں زور کی ہَوا چلاؤں گا اَور اَپنے قہر میں اولے اَور موسلادھار اَور شدید و تباہ کُن مینہ برساؤں گا۔
EZE 13:14 جِس دیوار پر تُم نے سفیدی پوت دی ہے میں اُسے توڑ ڈالوں گا اَور گرا دُوں گا جِس سے اُس کی بُنیاد نموُدار ہو جائے گی۔ جَب وہ گِرے گی تَب تُم اُس میں فنا ہو جاؤگے اَور تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 13:15 اِس طرح میں اَپنا غضب دیوار پر اَور اُن لوگوں پر نازل کروں گا، جنہوں نے اُسے سفیدی سے پوت دیا تھا۔ تَب میں تُم سے کہُوں گا، ”نہ دیوار رہی اَور نہ وہ رہے جنہوں نے اُس پر پوتا پھیرا تھا،
EZE 13:16 یعنی اِسرائیل کے وہ نبیوں جنہوں نے یروشلیمؔ کے بارے میں نبُوّت کی اَورجو سلامتی کے نہ ہوتے ہُوئے بھی اُس کے لیٔے سلامتی کی رُویا دیکھتے رہے۔ یہ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔“ ‘
EZE 13:17 ”اَور اَے آدمؔ زاد، تُو اَپنی قوم کی بیٹیوں کی طرف متوجّہ ہو جو اَپنی ہی طرف سے نبُوّت کرتی ہیں۔ تُو اُن کے خِلاف نبُوّت کر
EZE 13:18 اَور کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اُن عورتوں پر افسوس جو اَپنی تمام کہنیوں پر جادُو کے تعویذ سِی لیتی ہیں اَور اَپنے سَروں کے لیٔے مُختلف لمبائیوں کے بُرقعے بناتی ہیں تاکہ لوگوں کو جال میں پھنسائیں۔ کیا تُم میرے لوگوں کی جانوں کا شِکار کروگی اَور اَپنی جانیں بچائے رکھّوگی؟
EZE 13:19 تُم نے مُٹّھی بھر جَو اَور روٹی کے ٹُکڑوں کی خاطِر مُجھے میرے اَپنے لوگوں میں ناپاک ٹھہرایا۔ میرے لوگوں سے جھُوٹ بول کرجو جھُوٹ سُنتے ہیں، تُم نے اُن لوگوں کو مار ڈالا جنہیں مَرنا نہ تھا اَور اُنہیں بچایا جنہیں جینا نہ تھا۔
EZE 13:20 ” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مَیں تمہارے تعویذوں کے خِلاف ہُوں جِن سے لوگوں کو تُم پرندوں کی طرح پھنساتی ہو اَور مَیں اُنہیں تمہاری باہوں پر سے نوچ کر دُور کر دُوں گا اَور مَیں اُن لوگوں کو آزاد کر دُوں گا جنہیں تُم پرندوں کی طرح پھنساتی ہو۔
EZE 13:21 مَیں تمہارے بُرقعے چاک کر دُوں گا اَور اَپنے لوگوں کو تمہارے ہاتھوں سے بچا لُوں گا اَور وہ پھر کبھی تمہاری طاقت کا شِکار نہ ہوں گے۔ تَب تُم جان لوگی کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 13:22 چونکہ تُم نے اَپنی دروغ گوئی سے راستبازوں کا دِل توڑ دیا جَب کہ مَیں نے اُنہیں کویٔی غم نہ دیا اَور تُم نے بدکاروں کی ہمّت اَفزائی کی تاکہ وہ اَپنی بدی سے باز نہ آئیں اَور اِس طرح اَپنی جانیں بچا لیں۔
EZE 13:23 اِس لیٔے اَب تُم نہ تو باطِل رُویتیں دیکھوگی اَور نہ غیب گوئی ہی کر سکوگی۔ مَیں اَپنے لوگوں کو تمہارے ہاتھوں سے بچا لُوں گا اَور تَب تُم جان لوگی کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EZE 14:1 اِسرائیل کے چند بُزرگ میرے پاس آئے اَور میرے سامنے بیٹھ گیٔے۔
EZE 14:2 تَب یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 14:3 ”اَے آدمؔ زاد، اِن لوگوں نے اَپنے دِلوں میں بُت نصب کر لیٔے ہیں اَور ٹھوکر کھِلانے والی بدکاری کو اَپنے سامنے رکھتا ہے۔ کیا میں اَیسے لوگوں کو اِجازت دُوں کہ وہ مُجھ سے سوال کریں؟
EZE 14:4 اِس لیٔے اُن سے بات کر اَور اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ جَب کویٔی اِسرائیلی بُتوں کو اَپنے دِل میں جگہ دیتاہے اَور ٹھوکر کھِلانے والی بدکاری کو اَپنے سامنے رکھتا ہے اَور پھر نبی کے پاس جاتا ہے تَب میں یَاہوِہ خُود اُس کی بُت پرستی کے مُطابق اُسے جَواب دُوں گا۔
EZE 14:5 یہ مَیں تمام بنی اِسرائیل کا دِل جیتنے کے لیٔے کروں گا جنہوں نے اَپنے بُتوں کی خاطِر مُجھے ترک کیا ہے۔‘
EZE 14:6 ”اِس لیٔے بنی اِسرائیل سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: تَوبہ کرو! اَپنے بُتوں سے مُنہ موڑ لو اَور اَپنی تمام مکرُوہ حرکتوں سے باز آؤ!
EZE 14:7 ” ’جَب کویٔی اِسرائیلی یا کویٔی پردیسی جو اِسرائیل میں رہتا ہو مُجھ سے جُدا ہو جائے اَور بُتوں کو اَپنے دِل میں جگہ دے اَور ٹھوکر کھِلانے والی بدی کو اَپنے سامنے رکھے اَور تَب مُجھ سے کویٔی بات پُوچھنے کے لیٔے نبی کے پاس جائے اُسے میں یَاہوِہ خود ہی جَواب دُوں گا۔
EZE 14:8 میں اُس شخص کی مُخالفت کروں گا اَور اُسے ایک ضرب المثل اَور نِشان عِبرت بنا دُوں گا اَور اُسے اَپنے لوگوں میں سے ختم کر دُوں گا۔ تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 14:9 ” ’اگر کسی نبی نے دھوکا کھا کر نبُوّت کی ہو تُو یہ جانو کہ میں یَاہوِہ نے اُس نبی کو دھوکا کھانے دیا ہے اَور مَیں اَپنا ہاتھ اُس کے خِلاف بڑھا کر اُسے اَپنے اِسرائیلی لوگوں میں سے نابود کروں گا۔
EZE 14:10 وہ اَپنے گُناہ کا بوجھ اُٹھائیں گے۔ نبی بھی اِسی قدر گُنہگار ٹھہرے گا جِس قدر کہ اُس سے سوال کرنے والا گُنہگار ہوگا۔
EZE 14:11 تَب بنی اِسرائیل پھر مُجھ سے نہیں بھٹکیں گے۔ نہ وہ اَپنے آپ کو اَپنے تمام گُناہوں سے ناپاک ہی کریں گے۔ وہ میرے لوگ ہوں گے اَور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا۔ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔‘ “
EZE 14:12 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 14:13 ”اَے آدمؔ زاد، اگر کویٔی مُلک بےوفائی کرکے میرے خِلاف گُناہ کرے اَور مَیں اَپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھا کر اُس کی اشیائے خوردنی کی رسد کاٹ دُوں اَور اُس پر قحط نازل کروں اَور اُس کے لوگوں کو اَور اُن کے جانوروں کو ہلاک کر دُوں
EZE 14:14 اَور اگر اُن میں نُوح، دانی ایل اَور ایُّوب، یہ تینوں اَشخاص بھی مَوجُود ہوں تو وہ اَپنی راستبازی کے باعث صِرف اَپنی ہی جان بچا سکیں گے۔ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔
EZE 14:15 ”یا اگر مَیں اُس مُلک میں جنگلی درندے بھیج دُوں جو اُسے غَیر آباد کر دیں اَور وہ ویران ہو جائے، یہاں تک کہ اُن درندوں کے سبب سے کویٔی اُس میں سے گزر نہ پایٔے۔
EZE 14:16 اَور اگر یہ تین شخص اُس میں ہوتے تو بھی یَاہوِہ قادر نے یہ فرمایاہے کہ مُجھے اَپنی حیات کی قَسم، وہ اَپنے بیٹوں یا بیٹیوں کو بچا نہ سکتے تھے۔ صِرف اَپنے آپ کو بچا پاتے لیکن مُلک ویران ہو جاتا۔
EZE 14:17 ”اَور اگر مَیں اُس مُلک پر تلوار اُٹھا لُوں اَور کہُوں، ’سارے مُلک پر وہ تلوار چلائی جائے،‘ اَور اگر مَیں اُس کے لوگوں کو اَور اُن کے جانوروں کو ہلاک ہو جانے دُوں
EZE 14:18 اَور اگر یہ تین شخص اُس میں ہوتے تو بھی یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں کہ مُجھے اَپنی حیات کی قَسم وہ اَپنے بیٹوں یا بیٹیوں کو بچا نہ سکتے تھے۔ صِرف وہ خُود کو بچائے رکھتے!
EZE 14:19 ”اَور اگر مَیں اُس مُلک میں وَبا نازل کرتا اَور خُونریزی کے ذریعہ اَپنا قہر اُس پر نازل کرتا تاکہ اُس کے لوگ اَور اُن کے جانور مارے جاتے،
EZE 14:20 اَور اگر نُوح، دانی ایل اَور ایُّوب اُس میں ہوتے تو بھی یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں کہ مُجھے اَپنی حیات کی قَسم کہ وہ بیٹے کو اَور نہ ہی بیٹی کو بچا پاتے۔ وہ اَپنی راستبازی کے سبب باعث صِرف اَپنی جان بچا پاتے۔
EZE 14:21 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: وہ کس قدر خوفناک حادثہ ہوگا جَب مَیں یروشلیمؔ پر اَپنی چار خوفناک سزائیں نازل کروں گا یعنی تلوار اَور قحط اَور جنگلی درندے اَور وَبا۔ تاکہ اُس کے لوگ اَور اُن کے جانور مارے جایٔیں!
EZE 14:22 لیکن کچھ لوگ بچ جایٔیں گے۔ اُن بیٹوں اَور بیٹیوں کو وہاں سے نکال لیا جائے گا اَور وہ تیرے پاس آئیں گے۔ اَور جَب تُو اُن کے چال چلن اَور اُن کے کاموں کو دیکھ لے گا تَب تُجھے یروشلیمؔ پر لائی ہُوئی آفت کے متعلّق تسلّی ہوگی۔ ہاں ہر اُس آفت کے متعلّق جو مَیں نے اُس پر آنے دی۔
EZE 14:23 جَب تُو اُن کے اَخلاق اَور اُن کے اعمال دیکھ لے گا تَب تُجھے تسلّی ہوگی کیونکہ تُو جان لے گا کہ مَیں نے اُس میں کویٔی کام بلاوجہ نہیں کیا، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔“
EZE 15:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 15:2 ”اَے آدمؔ زاد، انگور کی بیل کی لکڑی جنگل کے کسی اَور درخت کی شاخ کی لکڑی سے کس طرح بہتر ہے؟
EZE 15:3 کیا اُس کی لکڑی کسی کار آمد شَے کے بنانے میں اِستعمال کی جاتی ہے؟ کیا لوگ اُس کی میخیں بناتے ہیں تاکہ اُن پر کویٔی چیز ٹانگیں؟
EZE 15:4 اَور جَب اُسے ایندھن کے طور پر آگ میں جھونک دیا جاتا ہے اَور آگ اُس کے دونوں سِرے جَلا ڈالتی ہے اَور درمیانی حِصّہ کو جھُلسا دیتی ہے تَب کیا وہ کسی کام کی رہتی ہے؟
EZE 15:5 جَب وہ سالِم تھی تَب کسی کام کی نہ تھی اَور اَب جَب کہ آگ نے اُسے جَلا دیا اَور وہ جَل کر کوئلہ ہو گئی تَب تو کیا وہ کسی بھی کام کی رہی؟
EZE 15:6 ”چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں، جِس طرح مَیں نے جنگل کے درختوں کے ساتھ انگور کے بیل کی لکڑی کو آگ کا ایندھن بنا دیا ہے وَیسا ہی سلُوک میں یروشلیمؔ میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ کروں گا۔
EZE 15:7 مَیں اُن کا مُخالف ہُوں گا۔ حالانکہ وہ آگ میں سے نکل آئے ہیں تَب بھی آگ اُنہیں بھسم کر دے گی اَور جَب مَیں اُن کی مُخالفت کروں گا تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 15:8 میں مُلک کو ویران کر دُوں گا کیونکہ اُنہُوں نے مُجھ سے بےوفائی کی۔ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔“
EZE 16:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 16:2 ”اَے آدمؔ زاد، یروشلیمؔ کو اُس کی قابل نفرت حرکتوں سے آگاہ کر دے
EZE 16:3 اَور کہہ، ’یَاہوِہ قادر یروشلیمؔ سے یُوں فرماتے ہیں: تیری وِلادت اَور تیری پیدائش کنعانؔ کی سرزمین میں ہُوئی۔ تیرا باپ امُوری تھا اَور تیری ماں حِتّی تھی۔
EZE 16:4 جِس دِن تُو پیدا ہُوئی تیری ناف نہیں کاٹی گئی، نہ تُجھے پانی سے دھوکر صَاف کیا گیا، نہ ہی تُجھ پر نمک مِلا گیا یا تُجھے کپڑوں میں لپیٹا گیا۔
EZE 16:5 کسی نے تُجھ پر نظرِکرم نہ کی، نہ اِس قدر رحم ہی کیا کہ تیری خاطِر اِن میں سے کچھ کرتا بَلکہ تُجھے کھُلے میدان میں پھینکا گیا کیونکہ جِس دِن تُو پیدا ہُوئی اِسی روز تُو حقیر ٹھہری۔
EZE 16:6 ” ’پھر مَیں اُدھر سے گزرا اَور تُجھے اَپنے خُون میں لوٹتے ہُوئے دیکھا اَور جَیسے تُو اَپنے خُون میں لَوٹ رہی تھی مَیں نے تُجھ سے کہا، ”جیتی رہ!“
EZE 16:7 مَیں نے تُجھے کھیت کے پَودے کی مانند بڑھایا؛ تُو بڑھی اَور بالغ ہو گئی اَور نہایت خُوبصورت ہیرا بَن گئی۔ تُو جو عُریاں اَور بے نقاب تھی تیری چھاتِیاں اُبھر آئیں اَور تیرے بال بڑھ گیٔے۔
EZE 16:8 ” ’پھر مَیں اُس طرف سے گزرا اَور جَب تیری طرف نظر کی اَور دیکھا کہ تُو جَوان ہو چُکی ہے تَب مَیں نے اَپنا دامن تُجھ پر پھیلا کر تیرا تن ڈھانپ دیا اَور قَسم کھا کر تُجھ سے عہد باندھا، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں، اَور تُو میری ہو گئی۔
EZE 16:9 ” ’مَیں نے تُجھے پانی سے غُسل دیا اَور تیرا خُون دھو ڈالا اَور تُجھ پر عطر مِلا۔
EZE 16:10 مَیں نے تُجھے سُنہری بیل بُوٹوں والے لباس سے مُلبّس کیا اَور چمڑے کی جُوتیاں پہنائیں۔ مَیں نے تُجھے نفیس کتان پہنایا اَور قیمتی کپڑوں سے ڈھانکا۔
EZE 16:11 پھر تُجھے زیورات سے آراستہ کیا، تیرے ہاتھوں میں کنگن پہنائے اَور تیرے گلے میں طوق ڈالا۔
EZE 16:12 تیری ناک میں نتھ اَور تیرے کانوں میں بالیاں پہنائیں اَور ایک خُوبصورت تاج تیرے سَر پر رکھّا۔
EZE 16:13 اِس طرح تُو سونے اَور چاندی سے آراستہ کی گئی۔ تیرا لباس نفیس کتان اَور بُنے ہُوئے قیمتی اَور سُنہری بیل بُوٹوں والے کپڑوں کا تھا۔ تیری غِذا مَیدہ، شہد اَور زَیتُون کے تیل پر مُشتمل تھی۔ تُو نہایت ہی حسین تھی اَور ملِکہ کے درجہ تک جا پہُنچی۔
EZE 16:14 اَور تیرے حُسن کی بدولت تیری شہرت مُختلف قوموں میں پھیل گئی کیونکہ میرے بخشے ہُوئے جلال کے باعث تیرا حُسن کامل ہو گیا، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔
EZE 16:15 ” ’لیکن تُونے اَپنے حُسن پر اِعتماد کیا اَور فاحِشہ بننے کے لیٔے اَپنی شہرت کا اِستعمال کیا۔ تُو ہر راہ گیر پرجو اُدھر سے گزرا نہایت مہربان ہُوئی اَور اُس پر اَپنا حُسن لُٹا دیا۔
EZE 16:16 تُونے اَپنے چند لباس لے کر اُن سے زرق برق اُونچے مقامات آراستہ کئے اَور وہاں جِسم فروشی کی۔ تُم اُس کے پاس گئے اَور وہ تمہاری خُوبصورتی کا مالک تھا۔
EZE 16:17 تُونے میرے دئیے ہُوئے نفیس زیورات سے، جو میرے سونے اَور چاندی سے بنے تھے، اَپنے لیٔے مردانہ بُت بنائے اَور اُن کے ساتھ بدفعلی کی
EZE 16:18 اَور تُونے اَپنے سُنہری بیل بُوٹوں والے کپڑے لے کر اُن پر چڑھا دئیے اَور میرا عطر اَور بخُور اُنہیں پیش کیا۔
EZE 16:19 اِسی طرح جو کھانا مَیں نے تیرے لیٔے مہیا کیا تھا، یعنی مَیدہ، زَیتُون کا تیل اَور شہد جو تُجھے کھانے کے لیٔے دیا تھا۔ وہ تُونے اُنہیں خُوشبودار بخُور کے طور پر پیش کیا۔ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں کہ یہ ہی تو ہُوا۔
EZE 16:20 ” ’اَور تُونے اَپنے بیٹوں اَور بیٹیوں کو جنہیں تُونے میرے لیٔے پیدا کیا تھا اُن بُتوں کے کھانے کے لیٔے قُربان کیا۔ کیا تیری زناکاری ہی کافی نہ تھی؟
EZE 16:21 تُونے میرے بچّوں کو قتل کیا اَور بُتوں پر قُربان کیا۔
EZE 16:22 تُونے اَپنی قابل نفرت حرکتوں میں اَور اَپنی زناکاری میں اَپنے بچپن کے دِنوں کو یاد نہ کیا جَب تُو عُریاں اَور بے نقاب پڑی ہُوئی تھی اَور اَپنے خُون میں لَوٹ رہی تھی۔
EZE 16:23 ” ’افسوس، تُجھ پر افسوس، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔ اَپنی اَور تمام بدکاریوں کے علاوہ
EZE 16:24 تُونے اَپنے لیٔے ایک گُنبَد بنایا اَور ہر چوراہے پر ایک اُونچا مقام تعمیر کیا۔
EZE 16:25 ہر کُوچے کے سِرے پر تُونے اَپنے اُونچے مقام بُتکدے تعمیر کئے اَور ہر رہ گزر کو بے باک ہوکر اَپنا جِسم پیش کرکے تُونے زناکاری سے اَپنے حُسن کی توہین کی۔
EZE 16:26 تُونے مِصریوں کے ساتھ، جو تیرے شہوت پرست ہمسائے ہیں زناکاری کی اَور اَپنی بڑھتی ہُوئی شہوت پرستی سے میرے غضب کو بھڑکایا۔
EZE 16:27 اِس لیٔے مَیں نے اَپنا ہاتھ تیرے خِلاف بڑھایا اَور تیرا علاقہ گھٹا دیا اَور تُجھے تیرے دُشمنوں یعنی فلسطینیوں کی بیٹیوں کی حِرص کے سُپرد کر دیا جو تیری بدکاری دیکھ کر دہل گئی تھیں۔
EZE 16:28 تُونے اشُوریوں کے ساتھ بھی زناکاری کی کیونکہ تُو سیر نہ ہُوئی تھی اَور اُس کے بعد تُو اَب بھی مطمئن نہیں ہُوئی۔
EZE 16:29 پھر تُونے اَپنی زناکاری کَسدیوں کے مُلک تک بڑھائی جو تاجروں کا مُلک ہے لیکن اُس سے بھی تُو مطمئن نہ ہُوئی۔
EZE 16:30 ” ’مَیں تمہارے خِلاف غُصّے سے بھرا ہُوا ہوں، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں کہ تُو کس قدر ہوش پرست ہے جو ایک بے حیا فاحِشہ کی طرح اَیسی حرکتیں کرتی ہے۔
EZE 16:31 جَب تُونے ہر راستہ کے سِرے پر اَپنا اُونچا گُنبَد بنایا اَور ہر چوراہے پر اَپنے اُونچے مقامات بنائے تَب تیرا رویّہ فاحِشہ کی طرح نہ تھا کیونکہ تُو اُجرت لینے سے نفرت کرتی ہے۔
EZE 16:32 ” ’اَے زانیہ بیوی! تُو بیگانے مَردوں کو اَپنے خَاوند پر ترجیح دیتی ہے!
EZE 16:33 ہر فاحِشہ اُجرت پاتی ہے لیکن تُو اَپنے تمام عاشقوں کو تحفے پیش کرتی ہے تاکہ وہ للچا کر ہر طرف سے تیرے پاس آئیں اَور تُجھ سے ناجائز تعلّقات رکھیں۔
EZE 16:34 چنانچہ تُو اَپنی زناکاری میں اَوروں سے مُختلف ہے۔ کویٔی تیرے پیچھے زناکاری کے لیٔے نہیں لپکتا، تُو بالکُل مُختلف ہے کیونکہ تُو اُجرت دیتی ہے، اُجرت لیتی نہیں۔
EZE 16:35 ” ’اِس لیٔے اَے فاحِشہ، یَاہوِہ کا کلام سُن!
EZE 16:36 یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: چونکہ تُونے اَپنے خزانہ کا مُنہ کھول دیا اَور اَپنے عاشقوں کے سامنے بے باک ہوکر اَپنی عُریانی ظاہر کرکے زناکاری کی اَور تیرے تمام مکرُوہ بُتوں کی وجہ سے اُن کے سامنے تُونے اَپنے بچّوں کا خُون گذرا۔
EZE 16:37 مَیں تیرے اُن سبھی یاروں کو جمع کروں گا جِن سے تُونے لُطف اُٹھایا، وہ جِن سے تُونے مَحَبّت کی اَور جِن سے عداوت رکھی۔ میں اُنہیں ہر طرف سے تیرے خِلاف جمع کروں گا اَور تُجھے اُن کے سامنے بے نقاب کروں گا اَور وہ تُجھے بالکُل عُریاں دیکھ لیں گے۔
EZE 16:38 ہمیں تُمہیں اُن عورتوں کی سزا دوں گا جو کرتی ہیں اَور خُون بہاتی ہیں۔ میں تُم پر اَپنے غیرت کا قہر کا بدلہ لے آؤں گا۔
EZE 16:39 پھر مَیں تُجھے تیرے عاشقوں کے حوالہ کروں گا اَور وہ تیرے گُنبَدوں کو ڈھا دیں گے اَور تیرے اُونچے مقامات کو مِسمار کر دیں گے اَور تیرے کپڑے اُتار دیں گے اَور تیرے خُوبصورت گہنے چھین لیں گے اَور تُجھے عُریاں اَور بے نقاب کر دیں گے۔
EZE 16:40 اَور وہ تیرے خِلاف ایک ہُجوم لے آئیں گے، تُجھے سنگسار کریں گے اَور اَپنی تلواروں سے تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں گے۔
EZE 16:41 وہ تیرے مکان جَلا دیں گے اَور بہت سِی عورتوں کے سامنے تُجھے سزا دیں گے۔ میں تیری زناکاری روک دُوں گا اَور پھر تُو اَپنے عاشقوں کو اُجرت نہ دے گی۔
EZE 16:42 تَب تیرے خِلاف میرا غضب دھیما ہو جائے گا اَور میری غیرت کا قہر تُجھ سے ہٹ جائے گا۔ تَب میں سکون پاؤں گا اَور پھر غضبناک نہ ہوں گا۔
EZE 16:43 ” ’چونکہ تُونے اَپنی نوجوانی کے دِن یاد نہ کئے بَلکہ اُن تمام حرکتوں سے مُجھے غُصّہ دِلایا اِس لیٔے وہ سَب کچھ جو تُونے کیا ہے یقیناً مَیں تیرے سَر پر لاؤں گا، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔ کیا تُونے اَپنی دُوسری تمام مکرُوہ حرکتوں میں شہوت پرستی کا اِضافہ نہیں کیا؟
EZE 16:44 ” ’مثل پیش کرنے والا ہر شخص تیرے متعلّق یہ مثل پیش کرےگا: ”جَیسی ماں وَیسی بیٹی۔“
EZE 16:45 تُو اَپنی ماں کی حقیقی بیٹی ہے جو اَپنے خَاوند اَور اَپنے بچّوں سے نفرت کرتی تھی اَور تُو اَپنی اُن بہنوں کی حقیقی بہن ہے جو اَپنے خاوندوں اَور اَپنے بچّوں سے نفرت کرتی تھیں۔ تیری ماں حِتّی اَور تیرا باپ امُوری تھا۔
EZE 16:46 تیری بڑی بہن سامریہؔ تھی جو اَپنی بیٹیوں کے ساتھ تیرے شمال میں رہتی تھی اَور تیری چُھوٹی بہن جو اَپنی بیٹیوں کے ساتھ جُنوب میں رہتی تھی، سدُومؔ تھی۔
EZE 16:47 تُو نہ صِرف اُن کے نقش قدم پر چلی اَور تُونے نہ فقط اُن کے سے مکرُوہ کام کئے بَلکہ تُو اَپنی تمام روِشوں میں اُن سے بھی بدتر ہو گئی۔
EZE 16:48 یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں کہ مُجھے اَپنی حیات کی قَسم، تیری بہن سدُومؔ اَور اُس کی بیٹیوں نے کبھی اَیسے کام نہیں کئے جو تُونے اَور تیری بیٹیوں نے کئے۔
EZE 16:49 ” ’اَب تیری بہن سدُومؔ کا گُناہ یہ تھا: وہ اَور اُس کی بیٹیاں مغروُر، مست اَور بے فکر تھیں، اُنہُوں نے غریبوں اَور مُحتاجوں کی دستگیری نہ کی۔
EZE 16:50 وہ مغروُر تھیں اَور اُنہُوں نے میرے سامنے قابل نفرت کام کئے اِس لیٔے مَیں نے اُنہیں دُور کر دیا، جَیسا کہ تُونے دیکھاہے۔
EZE 16:51 جتنے گُناہ تُونے کئے اُس کے آدھے گُناہ بھی سامریہؔ نے نہ کئے۔ تُونے اُن سے بھی زِیادہ قابل نفرت کام کئے۔ تُونے اَپنی اُن تمام حرکتوں سے اَپنی بہنوں کو راستباز ٹھہرایا ہے۔
EZE 16:52 پس اَب اَپنی رُسوائی برداشت کر کیونکہ تُونے اَپنی بہنوں کو حق بجانب ٹھہرایا۔ چونکہ تیرے گُناہ اُن سے زِیادہ مکرُوہ ہیں اِس لیٔے وہ تُجھ سے زِیادہ راستباز نظر آتی ہیں۔ لہٰذا پس تُم شرمندہ ہو جاؤ اَور اَپنی ذِلّت برداشت کرو کیونکہ تو نے اَپنی بہنوں کو راستباز ظاہر کیا ہے۔
EZE 16:53 ” ’بہرحال، میں سدُومؔ اَور اُس کی بیٹیوں اَور سامریہؔ اَور اُس کی بیٹیوں اَور اُن کے ساتھ تیرے اسیروں اَور دولت کو واپس لاؤں گا۔
EZE 16:54 تاکہ تُو اَپنی رُسوائی اُٹھائے اَور اُنہیں تسلّی دینے کے لیٔے تُونے جو کچھ کیا اُس پر پشیمان ہو۔
EZE 16:55 اَور تیری بہنیں سدُومؔ اَپنی بیٹیوں سمیت اَور سامریہؔ اَپنی بیٹیوں سمیت اَپنی پہلی حالت پر لَوٹ آئیں گی اَور تُو اَور تیری بیٹیاں اَپنی پہلی حالت پر واپس آ جاؤگی۔
EZE 16:56 تُو اَپنے فخر کے دِنوں میں اَپنی بہن سدُومؔ کا نام تک زبان پر نہ لاتی تھی۔
EZE 16:57 اِس سے پہلے کہ تیری شرارت ظاہر ہُوئی اَور اِسی طرح اَب اِدُوم یا ارام کی بیٹیاں اَور آس پاس والیاں اَور فلسطینیوں کی بیٹیاں۔ وہ سَب جو تیرے اِردگرد ہیں تُجھے ملامت کرتی ہیں اَور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔
EZE 16:58 تُجھے اَپنی شہوت پرستی اَور قابل نفرت حرکتوں کا نتیجہ خُود بھگتنا ہوگا۔ یہ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
EZE 16:59 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مَیں تیرے ساتھ وَیسا ہی سلُوک کروں گا جِس کی تُو مُستحق ہے کیونکہ تُونے عہد شکنی کرکے میری قَسم کی توہین کی
EZE 16:60 پھر بھی میں وہ عہد یاد کروں گا جو مَیں نے تیری نوجوانی کے دِنوں میں تُجھ سے باندھا تھا اَور مَیں تیرے ساتھ اَبدی عہد باندھوں گا۔
EZE 16:61 جَب تُو اَپنی بہنوں کو جو تُجھ سے بڑی اَور تُجھ سے چُھوٹی ہیں، قبُول کرےگی تَب تُو اَپنی روِشیں یاد کرکے پشیمان ہوگی۔ میں اُنہیں تُجھ کو بیٹیوں کے طور پر عنایت کروں گا لیکن اُس عہد کے مُطابق نہیں جو مَیں نے تُجھ سے باندھا ہے۔
EZE 16:62 اِس طرح میں اَپنا عہد تُجھ سے باندھ لُوں گا اَور تُو جان لے گی کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 16:63 جَب مَیں تیری تمام بُرائیوں کا کفّارہ دُوں گا تَب تُو یاد کرےگی اَور پشیمان ہوگی اَور شرم کے مارے پھر کبھی اَپنا مُنہ نہ کھولے گی۔ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔‘ “
EZE 17:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 17:2 ”اَے آدمؔ زاد، ایک پہیلی بَیان کر اَور بنی اِسرائیل کو یہ تمثیل سُنا۔
EZE 17:3 اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: طاقتور بازو اَور لمبے پروں والا ایک بڑا عُقاب جِس کے رنگ برنگے پر تھے، لبانونؔ میں آیا اَور ایک دیودار کے درخت کی چوٹی پر جا بیٹھا۔
EZE 17:4 اُس نے اُس کی سَب سے اُونچی ٹہنی توڑی اَور اُسے سوداگروں کے مُلک میں لے گیا اَور وہاں اُسے تاجروں کے شہر میں لگا دیا۔
EZE 17:5 ” ’اُس نے تمہارے مُلک کا کچھ بیج لے جا کر اُسے زرخیز زمین میں بویا۔ اُس نے اُسے پانی سے سیراب زمین میں بید کی مانند لگا دیا۔
EZE 17:6 اَور وہ اُگ کر ایک پست قد، پھیلنے والی انگور کی بیل بَن گیا۔ اُس کی شاخیں اُس کی طرف جُھکی ہُوئی تھیں لیکن اُس کی جڑیں اُسی کے نیچے رہیں۔ اِس طرح وہ درخت انگور کی بیل بَن گیا اَور اُس میں شاخیں پیدا ہُوئیں اَور ٹہنیاں پھوٹ نکلیں۔
EZE 17:7 ” ’لیکن وہاں ایک اَور بڑا عُقاب تھا جِس کے بازو بہت مضبُوط تھے اَور وہ پروں اَور بالوں سے بھرا ہُوا تھا۔ اَب اُس انگور کی بیل نے جِس کیاری میں وہ لگائی گئی تھی وہاں سے اَپنی جڑیں اُس (دُوسرے) عُقاب کی طرف بڑھائیں اَور اَپنی شاخیں اُس کی طرف پھیلائیں تاکہ وہ اُسے سینچے۔
EZE 17:8 اُسے اَچھّی اَور کافی پانی سے سیراب زمین میں لگایا گیا تھا تاکہ اُس کی شاخیں نکلیں اَور اُس میں پھل لگیں اَور وہ نہایت شاندار انگور کی بیل بنے۔‘
EZE 17:9 ”اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے: کیا وہ پھُولے پھلے گی؟ کیا اُسے اُکھاڑا نہ جائے گا اَور اُس کا پھل توڑا نہ جائے گا تاکہ وہ سُوکھ جائے؟ اُس کے سَب تازہ پتّے مُرجھا جایٔیں گے، اُسے جڑ سے اُکھاڑنے کے لیٔے زِیادہ طاقت یا بہت سے لوگوں کی ضروُرت نہ ہوگی۔
EZE 17:10 اگر اُسے دوبارہ لگایا بھی جائے تو کیا وہ بڑھ سکے گی؟ جَب بادِ مشرق اُس سے ٹکرائے گی تو کیا وہ بالکُل سُوکھ نہ جائے گی اَور اُسی کیاری میں پژمردہ نہ ہو جائے گی جِس میں وہ بڑھی تھی؟‘ “
EZE 17:11 تَب یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 17:12 ”اُس سرکش خاندان سے کہہ، ’کیا تُم اِن باتوں کا مطلب نہیں جانتے؟‘ اُن سے کہہ: ’شاہِ بابیل، یروشلیمؔ گیا، اَور اُس کے بادشاہ اَور اُمرا کو اَپنے ہمراہ بابیل واپس لے گیا۔
EZE 17:13 پھر اُس نے شاہی خاندان میں سے ایک نامور شخص کو لے کر اُس کے ساتھ عہد باندھا اَور اُس سے قَسم لی۔ وہ مُلک کی نامور لوگوں کو بھی اَپنے ساتھ لے گیا
EZE 17:14 تاکہ وہ مملکت پست ہو جائے اَور پھر سے سَر نہ اُٹھائے بَلکہ اُس کے عہد کو یاد رکھے اَور قائِم رہے۔
EZE 17:15 لیکن بادشاہ نے اُس کے خِلاف بغاوت کی اَور گھوڑے اَور ایک بڑا لشکر حاصل کرنے کے لیٔے مِصر میں سفیر بھیجے۔ کیا وہ کامیاب ہوگا؟ کیا اَیسے کام کرنے والا شخص بچ سَکتا ہے؟ کیا وہ عہد شکنی کرکے بھی بچ جائے گا؟
EZE 17:16 ” ’میری حیات کی قَسم، یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے، وہ بابیل میں یعنی اُسی بادشاہ کے مُلک میں مَر جائے گا، جِس نے اُسے تخت نشین کیا، جِس کی قِسم کو اُس نے حقیر جانا اَور جِس کے عہد کو اُس نے توڑا۔
EZE 17:17 جَب بہت سے لوگوں کو قتل کرنے کے لیٔے دمدمے باندھے جایٔیں گے اَور بُرج بنائے جایٔیں گے تَب فَرعوہؔ اَپنی زبردست فَوج اَور عظیم لشکر کے ہوتے ہُوئے بھی لڑائی میں اُس کی مدد نہ کر سکےگا۔
EZE 17:18 اُس نے عہد شکنی کرکے قَسم کی تحقیر کی۔ اُس نے وعدہ کرکے بھی اَیسے کام کئے اِس لیٔے وہ بچ نہ پایٔےگا۔
EZE 17:19 ” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مُجھے اَپنی حیات کی قَسم کی اُس نے تحقیر کی اَور میرے جِس عہد کو اُس نے توڑا اُسے میں اُسی کے سَر پر لاؤں گا۔
EZE 17:20 میں اُس کے لیٔے اَپنا جال بچھاؤں گا اَور وہ میرے پھندے میں پھنس جائے گا۔ میں اُسے بابیل لاکر وہاں اُس کا فیصلہ کروں گا کیونکہ اُس نے میرے ساتھ بےوفائی کی۔
EZE 17:21 اُس کے تمام بہترین سپاہی تلوار سے مارے جایٔیں گے اَور بچے ہُوئے لوگ ہَوا میں بِکھیر دئیے جایٔیں گے۔ تَب تُم جان لوگے کہ یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے۔
EZE 17:22 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں خُود بھی دیودار کی چوٹی پر سے ایک ٹہنی لے کر لگاؤں گا۔ میں اُس کی سَب سے اُونچی شاخ میں سے ایک نہایت نازک ٹہنی لے کر اُسے ایک اُونچے اَور بُلند پہاڑ پر لگاؤں گا۔
EZE 17:23 میں اُسے اِسرائیل کے اُونچے پہاڑ پر لگاؤں گا۔ اُس میں شاخیں پھوٹیں گی اَور پھل لگیں گے اَور وہ نہایت شاندار دیودار بَن جائے گا۔ ہر قِسم کے پرندے اُس میں گھونسلہ بنائیں گے اَور اُس کی شاخوں کی چھاؤں میں بسیرا کریں گے۔
EZE 17:24 تَب میدان کے تمام درخت جان لیں گے کہ میں یَاہوِہ اُونچے درخت کو گرا دیتا ہُوں اَور پست درخت کو اُونچا کرتا ہُوں۔ میں ہرے درخت کو سُکھا دیتا ہُوں اَور سُوکھنے درخت کو سرسبز کر دیتا ہُوں۔ ” ’میں یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے اَور مَیں اُسے کروں گا۔‘ “
EZE 18:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 18:2 ”تُم لوگ جو اِسرائیل کے مُلک کے حق میں یہ ضرب المثل بَیان کرتے ہو اُس کا مطلب کیا ہے: ” ’کھٹّے انگور تو آباؤاَجداد نے کھائے، اَور دانت اَولاد کے کھٹّے ہُوئے‘؟
EZE 18:3 ”یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں کہ میری حیات کی قَسم کہ تُم پھر اِسرائیل میں یہ ضرب المثل نہ کہو گے۔
EZE 18:4 ہر زندہ جان میری ہے۔ باپ بھی اَور بیٹا بھی۔ میرے لیٔے دونوں یکساں ہیں۔ جو جان گُناہ کرےگی وُہی مَرے گی۔
EZE 18:5 ”فرض کرو کہ ایک راستباز شخص ہے جو اِنصاف اَور راستی سے کام کرتا ہے۔
EZE 18:6 وہ پہاڑ پر کے بُتکدوں میں قُربانی کا گوشت نہیں کھاتا نہ بنی اِسرائیل کے بُتوں کی طرف نگاہ اُٹھاتا ہے۔ وہ اَپنے ہمسایہ کی بیوی کی بےحُرمتی نہیں کرتا نہ حیض کی حالت میں بیوی کے پاس جاتا ہے۔
EZE 18:7 وہ کسی پر ظُلم نہیں کرتا، بَلکہ قرض کے بدلے رہن رکھی ہُوئی چیز لَوٹا دیتاہے۔ وہ ڈاکا نہیں ڈالتا۔ بَلکہ اَپنی روٹی بھُوکے کو دے دیتاہے۔ اَور ننگے کو کپڑا پہناتاہے۔
EZE 18:8 وہ رہن رکھ کر لین دین نہیں کرتا، نہ زِیادہ سُود وصول کرتا ہے۔ وہ بدکاری سے دُور رہتاہے۔ اَور لوگوں کے درمیان سچّائی کے ساتھ اِنصاف کرتا ہے۔
EZE 18:9 وہ میرے آئین پر چلتا ہے، اَور ایمانداری سے میری شَریعت پر عَمل کرتا ہے۔ وہ شخص راستباز ہے؛ اَور وہ یقیناً جئے گا، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔
EZE 18:10 ”فرض کرو کہ اُن کے ہاں ایک تُند و تیز بیٹا ہے جو خُون بہاتا ہے اَور اِن بُرائیوں میں سے کچھ کرتا ہے،
EZE 18:11 (حالانکہ باپ نے اِن میں سے ایک بھی نہ کی): ”وہ پہاڑ پر کے بُتکدوں میں قُربانی کا گوشت کھاتا ہے۔ اَپنے ہمسایہ کی بیوی کی بےحُرمتی کرتا ہے۔
EZE 18:12 وہ غریب اَور مُحتاج پر ظُلم ڈھاتا ہے، وہ ڈاکا ڈالتا ہے۔ اَور رہن رکھی ہُوئی چیز نہیں لَوٹاتا۔ وہ بُتوں کی طرف نظر اُٹھاتا ہے۔ اَور قابل نفرت کام کرتا ہے۔
EZE 18:13 وہ سُود پر لین دین کرتا ہے اَور زِیادہ سُود وصول کرتا ہے۔ کیا اَیسا شخص زندہ رہے گا؟ وہ ہرگز زندہ نہ رہے گا کیونکہ اُس نے یہ سَب قابل نفرت کام کئے ہیں اِس لیٔے وہ یقیناً ماراجائے گا اَور اُس کا خُون خُود اُس کے سَر پر ہوگا۔
EZE 18:14 ”لیکن فرض کرو کہ اُس کا بیٹا ہے جو اَپنے باپ کو یہ سَب گُناہ کرتے ہُوئے دیکھتا ہے اَور گو وہ اُنہیں دیکھتا ہے پھر بھی آپ اَیسی حرکتیں نہیں کرتا:
EZE 18:15 ”وہ پہاڑ پر کے بُتکدوں میں قُربانی کا گوشت نہیں کھاتا، یا بنی اِسرائیل کے بُتوں کی طرف نگاہ نہیں کرتا۔ وہ اَپنے ہمسایہ کی بیوی کی بےحُرمتی نہیں کرتا۔
EZE 18:16 وہ کسی پر ظُلم نہیں کرتا، نہ قرض دینے کے لیٔے کسی شَے کے گروی رکھنے پر بضِد رہتاہے۔ وہ ڈاکا نہیں ڈالتا، بَلکہ اَپنی روٹی بھُوکے کو دے دیتاہے اَور ننگے کو کپڑے پہناتاہے۔
EZE 18:17 وہ غریبوں پر ظُلم کرنے سے اَپنے ہاتھ روکتا ہے، اَور ناحق نفع اَور زِیادہ سُود نہیں لیتا۔ وہ میری شَریعت پر عَمل کرتا ہے اَور میرے آئین پر چلتا ہے۔ وہ اَپنے باپ کے گُناہ کے باعث نہیں مَرے گا، وہ یقیناً زندہ رہے گا۔
EZE 18:18 لیکن اُس کا باپ اَپنے گُناہ کے باعث مَر جائے گا کیونکہ اُس نے زبردستی مال حاصل کیا، اَپنے بھایٔی کو لُوٹا اَور اَپنے لوگوں میں غلط کام کئے۔
EZE 18:19 ”پھر بھی تُم پُوچھتے ہو، ’بیٹا باپ کے گُناہ کا بوجھ کیوں نہیں اُٹھاتا؟‘ کیونکہ بیٹے نے وُہی کیا جو جائز اَور روا تھا اَور میرے آئین پر عَمل پیرا رہا، اِس لیٔے وہ ضروُر زندہ رہے گا۔
EZE 18:20 جو جان گُناہ کرتی ہے وُہی مرتی ہے۔ بیٹا باپ کے گُناہ کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا نہ باپ بیٹے کے گُناہ کا بوجھ اُٹھائے گا۔ راستباز کی راستبازی اُس کے حق میں محسوب ہوگی اَور بدکار کی شرارت اُس کے خِلاف محسوب ہوگی۔
EZE 18:21 ”لیکن اگر بدکار شخص اَپنے کئے ہُوئے تمام گُناہوں سے باز آئیں اَور میرے تمام آئین پر چلیں اَور اَیسے کام کرے جو جائز اَور روا ہیں، تو وہ ضروُر جئیں گے وہ نہ مَریں گے۔
EZE 18:22 اُن کے کئے ہُوئے گُناہوں میں سے ایک بھی اُس کے خِلاف یاد نہ کیا جائے گا۔ اَپنے کئے ہُوئے راستبازی کے کاموں کے باعث وہ زندہ رہیں گے۔
EZE 18:23 کیا بدکار کی موت سے مُجھے خُوشی ہوتی ہے؟ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔ بَلکہ کیا مُجھے اُس سے خُوشی نہیں ہوتی کہ وہ اَپنی روِش سے باز آئے اَور زندہ رہے۔
EZE 18:24 ”لیکن اگر ایک راستباز شخص اَپنی راستبازی ترک کر دے اَور گُناہ کرے اَور وُہی قابل نفرت حرکتیں کرے جو ایک بدکار کرتا ہے تو کیا وہ زندہ رہیں گے؟ اُن کے کئے ہُوئے راستبازی کے کاموں میں سے کویٔی بھی کام یاد نہ کیا جائیں گے۔ اَپنی بےوفائی کے جُرم میں اَور اَپنے کئے ہُوئے گُناہوں کے باعث وہ مَر جائیں گے۔
EZE 18:25 ”پھر بھی تُم کہتے ہو، ’خُداوؔند کی روِش منصفانہ نہیں ہے۔‘ اَے بنی اِسرائیل سُنو کیا میری روِش راست نہیں؟ یا تمہاری روِشیں ناراست نہیں؟
EZE 18:26 اگر کویٔی راستباز شخص اَپنی راستبازی ترک کر دے اَور گُناہ کرے تو وہ اُس سبب سے مَر جائیں گے۔ جو گُناہ اُنہُوں نے کیا ہے اُس کی وجہ سے وہ مَر جائیں گے۔
EZE 18:27 لیکن اگر کویٔی بدکار شخص اَپنی کی ہُوئی بدی سے باز آئے اَور اَیسے کام کرے جو جائز اَور روا ہیں، تو وہ اَپنی جان بچائیں گے۔
EZE 18:28 چونکہ وہ اَپنے تمام گُناہوں پر غور کرکے اُن سے باز آتا ہے اِس لیٔے وہ یقیناً زندہ رہے گا۔ وہ مَرے گا نہیں۔
EZE 18:29 پھر بھی بنی اِسرائیل کہتے ہیں، ’خُداوؔند کی روِش راست نہیں ہے۔‘ اَے بنی اِسرائیل، کیا میری روِشیں ناراست ہیں اَور کیا تمہاری روِشیں ناراست نہیں؟
EZE 18:30 ”اِس لیٔے اَے بنی اِسرائیل، میں تُم میں سے ہر ایک کا اَپنی اَپنی روِش کے مُطابق اِنصاف کروں گا، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔ تَوبہ کرو اَور اَپنے تمام بُرے کاموں سے باز آؤ تَب گُناہ تمہارے زوال کا باعث نہ ہوگا۔
EZE 18:31 اَپنے تمام گُناہوں سے بَری ہو جاؤ اَور اَپنے لیٔے اَور ایک نیا دِل اَور ایک نئی رُوح نیا جذبہ حاصل کرو۔ اَے بنی اِسرائیل، تُم کیوں مروگے؟
EZE 18:32 کیونکہ مُجھے کسی کی موت سے خُوشی نہیں ہوتی، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔ اِس لیٔے تَوبہ کرو اَور زندہ رہو!
EZE 19:1 ”اِسرائیل کے اُمرا پر نوحہ کر
EZE 19:2 اَور کہہ: ” ’تیری ماں شیروں میں کیا ہی شیرنی تھی! وہ جَوان شیروں کے درمیان لیٹتی تھی اَور اَپنے بچّوں کو پالتی تھی۔
EZE 19:3 اُس نے اَپنے بچّوں میں سے ایک کو پالا، اَور وہ طاقتور شیر بَن گیا۔ اُس نے شِکار کو پھاڑنا سیکھا وہ آدمیوں کو نگلنے لگا۔
EZE 19:4 مُختلف قوموں نے اُس کے بارے میں سُنا، اَور وہ اُن کے گڑھے میں گرا اَور پکڑا گیا۔ اُنہُوں نے اُسے ہُکوں کے ساتھ مِصر کی سرزمین پر لے گئے۔
EZE 19:5 ” ’جَب اُس نے دیکھا کہ اُس کی اُمّید بر نہ آئی، اَور اُس کی توقع مِٹ گئی، تَب اُس نے اَپنا ایک اَور بچّہ لیا اَور اُسے طاقتور شیر بنا دیا۔
EZE 19:6 وہ شیروں کے درمیان گھُومنے پھرنے لگا، کیونکہ اَب وہ طاقتور شیر بَن چُکاتھا۔ اُس نے شِکار کو پھاڑنا سیکھا اَور آدمیوں کو نگلنے لگا۔
EZE 19:7 اُس نے اُن کے قصر ڈھا دئیے اَور اُن کے شہر ویران کر دئیے۔ اُس کے گرجنے سے مُلک اَور اُس کے باشِندے خوفزدہ ہو گئے۔
EZE 19:8 تَب اُس کے اِردگرد کے علاقوں سے، مُختلف قومیں اُس کے خِلاف نکل آئیں۔ اُنہُوں نے اُس کے لیٔے اَپنے جال پھیلایا، اَور وہ اُن کے گڑھے میں پھنس گیا۔
EZE 19:9 اُنہُوں نے اُسے ہُکوں کے ساتھ کھینچ کر ایک پنجرے میں ڈال دیا اَور اُسے شاہِ بابیل کے پاس لے آئے۔ وہاں اُسے قَیدخانہ میں ڈال دیا گیا، تاکہ اُس کی گرج اِسرائیل کے پہاڑوں پر پھر کبھی سُنایٔی نہ دے!
EZE 19:10 ” ’تیری ماں تیرے تاکستان کی بیل کی طرح تھی جو پانی کے کنارے لگائی گئی تھی؛ پانی کی کثرت کے باعث اُس میں پھل لگا اَور شاخیں نکلیں۔
EZE 19:11 اُس کی شاخیں اِس قدر مضبُوط ہو گئیں، کہ اُن سے حاکم کا عصائے شاہی بنایا جا سَکتا تھا۔ وہ گھنے پتّوں میں سے کافی اُونچائی تک بڑھی، اَور اَپنی اُونچائی اَور شاخوں کی کثرت کی وجہ سے نُمایاں نظر آنے لگی۔
EZE 19:12 لیکن اُسے غضب میں اُکھاڑا گیا اَور وہ زمین پر پھینکی گئی۔ بادِ مشرق نے اُسے سُکھا دیا، اَور اُس کے پھل توڑے گیٔے؛ اُس کی مضبُوط شاخیں مُرجھا گئیں اَور اُنہیں آگ نے بھسم کر دیا۔
EZE 19:13 اَب اُسے بیابان میں، ایک سُوکھنے اَور پیاسے مُلک میں لگایا گیا ہے۔
EZE 19:14 اُس کی خاص شاخوں میں سے ایک شاخ سے آگ نکلی اَور اُس کے پھلوں کو جَلا دیا۔ اَب اُس میں ایک بھی مضبُوط شاخ باقی نہ رہی جِس سے حاکم کا عصا بنایا جا سکے۔‘ یہ نوحہ ہے اَور اِسے نوحہ کے طور پر اِستعمال کیا جائے۔“
EZE 20:1 ساتویں سال کے پانچویں مہینے کے دسویں دِن، اِسرائیل کے چند بُزرگ یَاہوِہ سے کچھ دریافت کرنے کے لیٔے آئے اَور وہ میرے سامنے بیٹھ گیٔے۔
EZE 20:2 تَب یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 20:3 ”اَے آدمؔ زاد، اِسرائیل کے بُزرگوں سے بات کر اَور اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: کیا تُم مُجھ سے کچھ دریافت کرنے آئے ہو؟ مُجھے اَپنی حیات کی قَسم، تُم مُجھ سے کچھ دریافت نہ کر پاؤگے۔ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔‘
EZE 20:4 ”اَے آدمؔ زاد، کیا تُو اِن کا اِنصاف کرےگا؟ کیا تُو اِن کا اِنصاف کرےگا؟ اُن کو اُن کے آباؤاَجداد کی مکرُوہ حرکتوں سے آگاہ کر۔
EZE 20:5 اَور اُن سے کہہ: ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ جِس دِن مَیں نے اِسرائیل کو چُنا مَیں نے ہاتھ اُٹھاکر بنی یعقوب سے قَسم کھائی اَور مِصر میں اَپنے آپ کو اُن پر ظاہر کیا۔ اَپنا ہاتھ اُٹھاکر مَیں نے اُن سے کہا، ”مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔“
EZE 20:6 اُس روز مَیں نے اُن سے قَسم کھائی کہ میں اُنہیں مِصر سے نکال کر اُس مُلک میں لاؤں گا جو مَیں نے اُن کے لیٔے ڈھونڈ نکالا ہے۔ جِس میں دُودھ اَور شہد کی نہریں بہتی ہیں اَورجو تمام مُلکوں میں نہایت خُوبصورت ہے۔
EZE 20:7 اَور مَیں نے اُن سے کہا، ”تُم میں سے ہر ایک بے جان شَبیہوں کو جِن پر اُس کی نظر جمی ہُوئی ہے چھوڑ دے اَور اَپنے آپ کو مِصر کے بُتوں سے ناپاک نہ کرے، مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔“
EZE 20:8 ” ’لیکن اُنہُوں نے میرے خِلاف سرکشی کی اَور میری نہ سُنی۔ اُنہُوں نے اُن بے جان شَبیہوں کو جِن پر اُنہُوں نے نظر جمائی تھی، نہیں چھوڑا، نہ ہی اُنہُوں نے مِصر کے بُتوں کو ترک کیا۔ اِس لیٔے مَیں نے کہا کہ میں مِصر میں اَپنا غضب اُن پر اُنڈیل دُوں گا اَور اَپنا غُصّہ اُن پر اُتاروں گا۔
EZE 20:9 لیکن مَیں نے اَپنے نام کی خاطِر اَیسا کیا تاکہ میرا نام اُن قوموں کے درمیان جِن میں وہ رہتے تھے اَور جِن کے دیکھتے ہُوئے مَیں نے اُن کو مِصر سے نکلنے کے لیٔے اَپنے آپ کو اُن پر ظاہر کیا تھا ناپاک نہ ہو۔
EZE 20:10 اِس لیٔے مَیں نے اُن کو مِصر سے نکال لیا اَور بیابان میں لے آیا۔
EZE 20:11 مَیں نے اُنہیں اَپنے آئین سِکھائے اَور اَپنی شَریعت اُن پر ظاہر کی تاکہ جو شخص اُن پر عَمل کرے وہ اُن کی بدولت زندہ رہے۔
EZE 20:12 اَور مَیں نے اُن کو باہمی نِشان کے طور پر اَپنی سَبت بھی دی تاکہ وہ جان لیں کہ مُجھ یَاہوِہ نے اُنہیں پاک کیا ہے۔
EZE 20:13 ” ’پھر بھی بنی اِسرائیل نے بیابان میں میرے خِلاف سرکشی کی۔ اُنہُوں نے میرے آئین پر عَمل نہ کیا بَلکہ میری شَریعت کو مُسترد کیا۔ حالانکہ جو شخص اُن کو مانتا ہے وہ اُن کے سبب سے زندہ رہتاہے۔ اَور اُنہُوں نے میری سَبتوں کی بہت بےحُرمتی کی اِس لیٔے مَیں نے کہا کہ میں اَپنا غضب اُن پر اُنڈیل دُوں گا، اُنہیں بیابان میں تباہ کر دُوں گا۔
EZE 20:14 لیکن مَیں نے جو کچھ کیا اَپنے نام کی خاطِر کیا تاکہ وہ اُن قوموں کی نگاہ میں جِن کی آنکھوں کے سامنے میں اُنہیں نکال لایا، ناپاک نہ ہو۔
EZE 20:15 اَور پھر مَیں نے ہاتھ اُٹھاکر بیابان میں اُن سے قَسم کھائی کہ میں اُنہیں اُس مُلک میں نہ لاؤں گا جو مَیں نے اُنہیں دیا تھا۔ جِس میں دُودھ اَور شہد کی نہریں بہتی ہیں اَورجو تمام مُلکوں میں نہایت خُوبصورت ہے۔
EZE 20:16 کیونکہ اُنہُوں نے میری شَریعت کو مُسترد کر دیا اَور میرے آئین پر عَمل نہ کیا اَور میری سَبتوں کی بےحُرمتی کی کیونکہ اُن کے دِل اُن کے بُتوں کے مُشتاق تھے۔
EZE 20:17 پھر بھی مَیں نے اُن پر نظرِ عنایت کی اَور اُنہیں تباہ نہ کیا، نہ ہی بیابان میں اُنہیں نِیست و نابود کیا۔
EZE 20:18 مَیں نے اُن کی اَولاد سے بیابان میں کہا، ”تُم اَپنے آباؤاَجداد کے آئین پر نہ چلو، نہ اُن کی شَریعت پر عَمل کرو اَور نہ ہی اُن کے بُتوں سے اَپنے آپ کو ناپاک کرو۔
EZE 20:19 مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں، میرے آئین پر چلو اَور میرے اَحکام کی پیروی کرو۔
EZE 20:20 میری سَبتوں کو مُقدّس رکھو تاکہ وہ ہمارے درمیان نِشان ہو۔ تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔“
EZE 20:21 ” ’لیکن اُن کی اَولاد نے میرے خِلاف سرکشی کی: اُنہُوں نے میرے آئین کی پیروی نہ کی اَور میری شَریعت ماننے کی کوشش نہ کی، ”حالانکہ جو شخص اُنہیں مانتا ہے وہ اُن کی وجہ سے زندہ رہے گا،“ اَور اُنہُوں نے میری سَبتوں کی بےحُرمتی کی اِس لیٔے مَیں نے کہا کہ میں اَپنا غضب اُن پر اُنڈیل دُوں گا اَور بیابان میں اَپنا قہر اُن پر نازل کروں گا۔
EZE 20:22 لیکن مَیں نے اَپنا ہاتھ روکا اَور اَپنے نام کی خاطِر اَیسا کیا تاکہ وہ اُن قوموں کی نگاہ میں جِن کی آنکھوں کے سامنے میں اُنہیں نکال لایا ناپاک نہ ہو۔
EZE 20:23 اَور مَیں نے ہاتھ اُٹھاکر بیابان میں اُن سے قَسم کھائی کہ میں اُنہیں مُختلف قوموں میں تِتّر بِتّر کروں گا اَور مُختلف مُلکوں میں بِکھیر دُوں گا
EZE 20:24 کیونکہ اُنہُوں نے میری شَریعت کو نہیں مانا اَور میرے آئین کو مُسترد کر دیا اَور میری سَبتوں کی بےحُرمتی کی اَور اُن کی آنکھیں اُن کے آباؤاَجداد کے بُتوں کے لیٔے ترستی تھیں۔
EZE 20:25 پھر مَیں نے اُنہیں اَیسے آئین اپنانے دئیے جو نامعقول تھے اَور اَیسے قوانین ماننے دئیے جِن سے وہ زندہ نہ رہ سکیں۔
EZE 20:26 اَور مَیں نے اُنہیں اُن کے اَپنے ہدیوں سے ناپاک ہونے دیا۔ یعنی اَپنے پہلوٹھے کی آتِشی قُربانی سے۔ تاکہ میں اُنہیں خوفزدہ کر دُوں جِس سے وہ جان لیں کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘
EZE 20:27 ”اِس لیٔے اَے آدمؔ زاد، بنی اِسرائیل سے بات کر اَور اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ اُس میں بھی تمہارے آباؤاَجداد نے میرے ساتھ دغا کرکے میری تکفیر کی:
EZE 20:28 جَب مَیں اُنہیں اِس مُلک میں لایا جِس کے دینے کی مَیں نے قَسم کھائی تھی اَور جہاں اُنہُوں نے کویٔی اُونچی پہاڑی یا گھنا درخت دیکھا وہیں اُنہُوں نے اَپنی قُربانیاں پیش کیں اَور نذریں چڑھائی تاکہ میرا غضب بھڑک اُٹھے۔ اَور اَپنا خُوشبودار بخُور جَلایا اَور اَپنے تپاون پیش کئے۔
EZE 20:29 تَب مَیں نے اُن سے کہا: یہ کیسا اُونچا مقام ہے جہاں تُم جاتے ہو؟‘ “ (وہ آج کے دِن تک باماہؔ کہلاتا ہے۔)
EZE 20:30 ”اِس لیٔے بنی اِسرائیل سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: کیا تُم بھی اَپنے آباؤاَجداد کی مانند اَپنے آپ کو ناپاک کر لوگے اَور اُن کی بے جان شَبیہوں کو پُوجنے لگوگے؟
EZE 20:31 جَب تُم اَپنے نذرانے پیش کرتے ہو۔ یعنی اَپنے اَپنے بیٹوں کو آگ میں قُربان کرتے ہو۔ تُم اَپنے آپ کو اَپنے بُتوں سے آج کے دِن تک ناپاک کئے جا رہے ہو۔ اَے بنی اِسرائیل کیا میں تُمہیں اِجازت دُوں کہ مُجھ سے دریافت کرو؟ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں مُجھے اَپنی حیات کی قَسم تُم مُجھ سے کچھ بھی دریافت نہ کر سکوگے۔
EZE 20:32 ” ’تُم کہتے ہو، ”ہم اُن قوموں اَور دُنیا کے اَور لوگوں کی مانند ہونا چاہتے ہیں جو لکڑی اَور پتّھر کی پرستش کرتے ہیں۔“ لیکن جو تمہارے دِل میں ہے وہ ہرگز نہ ہوگا۔
EZE 20:33 یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں: مُجھے اَپنی حیات کی قَسم، میں تُم پر ایک قوی ہاتھ، بڑھائے ہویٔے بازو اَور بھڑکائے ہُوئے غضب کے ساتھ حُکومت کروں گا۔
EZE 20:34 میں تُمہیں قوی ہاتھ، بڑھائے ہُوئے بازو اَور بھڑکائے ہُوئے غضب سے مُختلف قوموں میں سے لے آؤں گا اَور مُختلف مُلکوں میں سے جہاں تُم پراگندہ ہو گیٔے ہو جمع کروں گا۔
EZE 20:35 میں تُمہیں مُختلف قوموں کے بیابان میں لے آؤں گا اَور وہاں، رُوبرو، میں تمہارا فیصلہ کروں گا۔
EZE 20:36 جِس طرح مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کا مِصر کے بیابان میں اِنصاف کیا تھا، اُسی طرح میں تمہارا اِنصاف کروں گا۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔
EZE 20:37 جوں ہی تُم میری لاٹھی کے نیچے سے گزروگے میں تمہارا شُمار کروں گا اَور تُمہیں عہد کے بند میں باندھ لُوں گا۔
EZE 20:38 جو میرے خِلاف بغاوت اَور سرکشی کرتے ہیں اُنہیں، مَیں تمہارے درمیان سے الگ کروں گا، حالانکہ میں اُنہیں اُن مُلکوں میں سے لے آؤں گا جہاں وہ رہتے ہیں۔ پھر بھی وہ اِسرائیل کے مُلک میں داخل نہ ہوں گے۔ تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 20:39 ” ’اَور اَے بنی اِسرائیل تُم سے یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: تُم میں سے ہر ایک جا کر اَپنے اَپنے بُتوں کی پرستش کرے! لیکن بعد میں تُم یقیناً میری سنوگے اَور پھر کبھی اَپنے نذرانوں اَور بُتوں سے میرے پاک نام کی بےحُرمتی نہ کروگے۔
EZE 20:40 کیونکہ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں کہ تمام بنی اِسرائیل اَپنے مُلک میں میرے مُقدّس پہاڑ پر یعنی بنی اِسرائیل کے اُونچے پہاڑ پر میری عبادت کریں گے اَور وہاں میں اُنہیں قبُول کروں گا اَور وہیں، مَیں تمہارے نذرانے اَور تمہارے پہلے پھل کے ہدیئے، تمہاری تمام مُقدّس قُربانیوں کی ضروُرت ہوگی۔
EZE 20:41 جَب مَیں تُمہیں مُختلف قوموں میں سے لے آؤں گا اَور اُن مُلکوں میں سے جمع کروں گا جہاں تُم بِکھیر دئیے گیٔے تھے تَب میں تُمہیں خُوشبودار بخُور کی مانند قبُول کروں گا اَور مُختلف قوموں کے سامنے تُم میری تقدیس کروگے۔
EZE 20:42 جَب مَیں تُمہیں اِسرائیل کے مُلک میں لاؤں گا جسے مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو دینے کی ہاتھ اُٹھاکر قَسم کھائی تھی، تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 20:43 وہاں تُم اَپنے اَخلاق اَور اعمال کو یاد کروگے جِن سے تُم نے اَپنے آپ کو ناپاک کیا ہے اَور تُم اَپنی تمام بدکاری کے باعث اَپنے آپ کو گھِناؤنے قرار دوگے۔
EZE 20:44 اَے بنی اِسرائیل! جَب مَیں اَپنے نام کی خاطِر تُم سے سلُوک کروں گا، نہ کہ تمہاری بُری روِشوں اَور تمہاری بداعمالی کے مُطابق، تَب تُم جان لوگے کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔‘ “
EZE 20:45 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 20:46 ”اَے آدمؔ زاد، اَپنا رُخ جُنوب کی طرف کر، جُنوب کے خِلاف کلام سُنا اَور جُنوبی مُلک کے جنگلوں کے خِلاف نبُوّت کر۔
EZE 20:47 جُنوب کے جنگلوں سے کہہ: ’یَاہوِہ کا کلام سُنو۔ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مَیں تُم میں آگ لگانے کو ہُوں اَور وہ تمہارے تمام درختوں کو خواہ وہ ہرے ہُوں یا سُوکھنے، بھسم کر دے گی۔ وہ بھڑکتا ہُوا شُعلہ بُجھایا نہ جائے گا اَور اُس سے جُنوب سے شمال تک ہر چہرہ جھُلس جائے گا۔
EZE 20:48 ہر فرد یہ دیکھ لے گا کہ مَیں یَاہوِہ نے اُسے سُلگایا ہے اَور وہ بُجھائی نہ جائے گی۔‘ “
EZE 20:49 تَب مَیں نے کہا، ”آہ، اَے یَاہوِہ قادر! لوگ میرے متعلّق کہہ رہے ہیں، ’کیا وہ محض تمثیلیں ہی نہیں کہتاہے؟‘ “
EZE 21:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 21:2 ”اَے آدمؔ زاد، اَپنا رُخ یروشلیمؔ کی طرف کر اَور پاک مَقدِس کے خِلاف کلام سُنا۔ اِسرائیل کے مُلک کے خِلاف نبُوّت کر
EZE 21:3 اَور اُس سے کہہ، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: اَے اِسرائیل دیکھ مَیں تیرے خِلاف ہُوں۔ میں اَپنی تلوار مِیان میں سے نکالُوں گا اَور تُجھ میں سے راستبازوں اَور بدکاروں دونوں کو ختم کر دُوں گا۔
EZE 21:4 چونکہ میں راستبازوں اَور بدکاروں کو ختم کرنے والا ہُوں اِس لیٔے میری تلوار جُنوب سے لے کر شمال تک ہر شخص کے خِلاف مِیان سے نکلی جائے گی۔
EZE 21:5 تَب تمام لوگ جان لیں گے کہ میں یَاہوِہ نے مِیان میں سے اَپنی تلوار کھینچی ہے اَور وہ اُس میں واپس نہ رکھی جائے گی۔‘
EZE 21:6 ”اِس لیٔے اَے آدمؔ زاد، تُو آہیں بھر! اُن کے سامنے شکستہ دِل اَور شدید غم سے آہیں بھر
EZE 21:7 اَور جَب وہ تُجھ سے پوچھیں: ’تُو کیوں آہیں بھرتاہے؟‘ تو کہنا، ’آنے والی خبر کے سبب سے ہر دِل پگھل جائے گا اَور ہر ہاتھ ڈھیلا پڑ جائے گا۔ ہر رُوح ناتواں ہو جائے گی اَور ہر گھٹنا پانی کی مانند کمزور ہو جائے گا۔‘ وہ آ رہی ہے! وہ یقیناً وقوع میں آئے گی۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔“
EZE 21:8 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 21:9 ”اَے آدمؔ زاد، نبُوّت کر اَور کہہ، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ” ’ایک تلوار، ایک تلوار، جو تیز کی گئی اَور چمکائی گئی ہے۔
EZE 21:10 جو قتل کرنے کے لیٔے تیز کی گئی ہے، اَور بجلی کی طرح چمکنے کے لیٔے چمکائی کی گئی ہے! ” ’کیا ہم اَپنے بیٹے یہُوداہؔ کے قبیلہ سے عصائے شاہی کے لیٔے شادمان ہوں جَب کہ تلوار ہر اَیسی چھڑی کی تحقیر کرتی ہے؟
EZE 21:11 ” ’تلوار جھلکانے کے لیٔے دی گئی ہے، تاکہ ہاتھ میں پکڑی جائے؛ وہ تیز کی گئی اَور چمکائی گئی، اَور قاتل کے ہاتھ میں دینے کے لیٔے تیّار کی گئی۔
EZE 21:12 اَے آدمؔ زاد، چِلّا اَور ماتم کر، کیونکہ وہ میرے لوگوں پر چلے گی؛ وہ اِسرائیل کے تمام اُمرا پر اُٹھے گی۔ وہ میرے لوگوں سمیت تلوار کے حوالہ کئے جایٔیں گے۔ اِس لیٔے تُو اَپنی چھاتی پیٹ۔
EZE 21:13 ” ’جانچ یقیناً ہوگی اَور اگر یہُوداہؔ کا عصا جِس کی تلوار تحقیر کرتی ہے نہ رہا تو کیا؟ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔‘
EZE 21:14 ”چنانچہ آدمؔ زاد، نبُوّت کر، اَور تالی بجا۔ تلوار کو دو بار چلنے دے، بَلکہ تین بار۔ وہ تلوار تو خُونریزی کے لیٔے ہے۔ بہت ہی بڑی خُونریزی کے لیٔے وہ تلوار ہے، جو ہر طرف سے اُن پر آ پڑےگی۔
EZE 21:15 مَیں نے اُس تلوار کی نوک کو خُونریزی کے لیٔے اُن کے تمام پھاٹکوں کی طرف کر دیا ہے۔ تاکہ اُن کے دِل پگھل جایٔیں، اَور زِیادہ لاشیں گریں۔ وہ بجلی کی طرح چمکنے کے لیٔے بنائی گئی ہے، اَور قتل کرنے کے لیٔے گرفت میں لی گئی ہے۔
EZE 21:16 اَے تلوار، داہنی طرف چل، پھر بائیں طرف، یعنی جِس طرف بھی تُجھے گھُمایا جائے۔
EZE 21:17 میں بھی تالی بجاؤں گا، اَور میرا قہر ٹھنڈا ہو جائے گا۔ مَیں یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے۔“
EZE 21:18 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 21:19 ”اَے آدمؔ زاد، شاہِ بابیل کی تلوار کے لیٔے دو راستوں پر نِشان لگاؤ۔ دونوں ایک ہی مُلک سے نکلتے ہُوں۔ جہاں سے راستہ شہر کی طرف نکلتا ہے وہاں نِشان کھڑا کر۔
EZE 21:20 ایک راستہ اَیسا مُنتخب کر کہ تلوار عمُّونیوں کے ربّہؔ شہر پر آئے اَور دُوسرا اَیسا کہ تلوار یہُودیؔہ اَور قلعہ بند کے یروشلیمؔ کے شہر پر آئے۔
EZE 21:21 شاہِ بابیل راستہ کے اُس مقام پر رُکے گا جہاں سے یہ دو راہیں نکلتی ہُوں، یعنی دونوں راہوں کے اتصال پر تاکہ شگون نکالے۔ وہ تیروں سے قُرعہ ڈال کر اَپنے بُتوں سے مشورہ کرےگا اَور جگر کا مُعائنہ کرےگا۔
EZE 21:22 اُس کے داہنے ہاتھ میں یروشلیمؔ کا قُرعہ نکلے گا جہاں وہ سنگ باری کا سازوسامان نصب کرےگا تاکہ خُونریزی کا حُکم دیا جائے، لڑائی کی للکار بُلند ہو، پھاٹکوں کے مقابل سنگ باری کا سازوسامان نصب کرے، دمدمہ باندھے اَور محاصرہ کے لیٔے ضروُری اقدام کرے۔
EZE 21:23 جنہوں نے اُس کی اِطاعت کا حلف اُٹھایا اُن کی نظر میں تُو یہ جھُوٹا شگون ہے لیکن وہ اُنہیں اُن کا گُناہ جتا کر اسیر کر لے گا۔
EZE 21:24 ”اِس لیٔے یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ’چونکہ تُم نے اَپنی سرکشی سے جو صَاف عیاں ہے اَپنا گُناہ یاد کیا اَور اَپنے ہر فعل سے اَپنے گُناہوں کا اِظہار کیا اِس لیٔے یہ سَب کرنے کے سبب سے تُم قَیدی بنا لیٔے جاؤگے۔
EZE 21:25 ” ’اَے اِسرائیل کے ذلیل اَور بدکار شہزادے، جِس کا دِن آ چُکاہے، جِس کی سزا کا وقت اِس کی اِنتہا کو پہُنچ چُکاہے۔
EZE 21:26 یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے عمامہ اُتار اَور تاج بھی الگ کر دے۔ وہ جَیسا پہلے تھا وَیسا نہ رہے گا۔ جو پست ہے اُسے بُلند کیا جائے گا اَورجو بُلند ہے اُسے پست کیا جائے گا۔
EZE 21:27 تباہی! تباہی! میں اُسے تباہ کر دُوں گا! وہ اُس وقت تک بحال نہ کیا جائے گا جَب تک کہ اُس کا حقیقی مالک نہ آ جائے۔ میں اِسے اُسی کو دے دُوں گا۔‘
EZE 21:28 ”اَور تُو اَے آدمؔ زاد، نبُوّت کر اَور کہہ، ’یَاہوِہ قادر، عمُّونیوں اَور اُن کی طَعنہ زنی کے متعلّق یُوں فرماتے ہیں: ” ’ایک تلوار، ایک تلوار، جو خُونریزی کے لیٔے کھینچی گئی ہے، اَور قتل کرنے کے لیٔے، اَور بجلی کی طرح چمکنے کے لیٔے صَاف کی گئی ہے!
EZE 21:29 تیرے خِلاف باطِل رُویتیں پانے، اَور تیرے حق میں جھُوٹی پیشن گوئیاں کرنے کے باوُجُود، وہ اُن بدکاروں کی گردنوں پر پڑےگی، جنہیں قتل کیا جاناہے، اُن کے قتل کا دِن آ گیا ہے، اَور اُن کی سزا کا وقت اَپنی اِنتہا کو پہُنچ چُکاہے۔
EZE 21:30 ” ’تلوار کو مِیان میں ڈال دو۔ جِس جگہ تُو تخلیق ہُوئی، اَورجو تیرے آباؤاَجداد کا مُلک ہے، وہاں میں تیرا اِنصاف کروں گا۔
EZE 21:31 مَیں اَپنا غضب تُجھ پر اُنڈیل دُوں گا، اَور اَپنے قہر کی آگ سے تُجھے پھُونک ڈالوں گا۔ مَیں تُجھے وحشی لوگوں کے حوالہ کروں گا، جو تباہ کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔
EZE 21:32 تُو آگ کے لیٔے ایندھن بنے گی، تیرا خُون تیرے مُلک میں بہایا جائے گا، اَور تُو پھر کبھی یاد نہ کی جائے گی؛ کیونکہ مَیں نے یعنی یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے۔‘ “
EZE 22:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 22:2 ”اَے آدمؔ زاد، کیا تُو اُس کا اِنصاف کرےگا؟ کیا تُو اُس خُونریز شہر کا اِنصاف کرےگا؟ تَب اُسے اُس کی قابل نفرت حرکتیں جتا دے
EZE 22:3 اَور کہہ، یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ’اَے شہر، جو اَپنے اَندر خُون بہا کر اَپنے سَر پر آفت لاتا ہے اَور بُت بنا کر اَپنے آپ کو ناپاک کرتا ہے،
EZE 22:4 جو خُون تُونے بہایا اُس کی وجہ سے تُو گُنہگار ٹھہرا اَورجو بُت تُونے بنائے اُس کی وجہ سے تُو ناپاک ہو گیا۔ تُونے اَپنے ایّام کو اَنجام تک پہُنچا دیا اَور تیری عمر کے آخِری سال آ پہُنچے۔ اِس لیٔے مَیں تُجھے قوموں کے درمیان ملامت اَور تمام مُلکوں کے لیٔے مضحکہ بنا دُوں گا۔
EZE 22:5 اَے بدنام اَور پُر ہنگامہ شہر، نزدیک اَور دُور کے سبھی لوگ تیری ہنسی اُڑائیں گے۔
EZE 22:6 ” ’دیکھ کہ اِسرائیل کے اُمرا میں سے جو تُجھ میں ہیں، ہر ایک خُون بہانے کے لیٔے اَپنے اقتدار کا کیسے اِستعمال کرتا ہے؟
EZE 22:7 تُجھ میں اُنہُوں نے ماں باپ کو حقیر جانا، تُجھ میں اُنہُوں نے پردیسیوں پر ظُلم کیا اَور یتیموں اَور بیواؤں کے ساتھ بُرا سلُوک کیا۔
EZE 22:8 تُونے میری مُقدّس چیزوں کو حقیر جانا اَور میری سَبتوں کی بےحُرمتی کی۔
EZE 22:9 تُجھ میں اَیسے افترا پرداز لوگ ہیں جو خُون بہانے پر آمادہ ہیں۔ تُجھ میں وہ لوگ ہیں جو پہاڑ پر کے بُتکدوں میں کھانا کھاتے ہیں اَور نہایت ہی ذلیل حرکتیں کرتے ہیں۔
EZE 22:10 تُجھ میں وہ ہیں جو اَپنے باپ کے بِستر کی بےحُرمتی کرتے ہیں۔ تُجھ میں وہ بھی ہیں جو ایّام حیض میں عورتوں سے مباشرت کرتے ہیں، جَب کہ اُس حالت میں وہ ناپاک ہوتی ہیں۔
EZE 22:11 تُجھ میں کسی نے اَپنے ہمسایہ کی بیوی کے ساتھ بےحُرمتی کی تو کسی نے اَپنی بہُو کے ساتھ بدفعلی کی تو کویٔی اَور اَپنی بہن کی عصمت لُوٹتا ہے جو خُود اُس کے اَپنے باپ کی بیٹی ہے۔
EZE 22:12 تُجھ میں لوگ خُون بہانے کے لیٔے رشوت لیتے ہیں۔ تُو سُود لیتا ہے اَور حَد سے زِیادہ سُود وصول کرتا ہے اَور اَپنے پڑوسیوں سے زیادتی کرکے ناجائز منافع کماتا ہے اَور تُونے مُجھے بھلا دیا ہے۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔
EZE 22:13 ” ’تُونے جو ناجائز منافع کمایا اَور اَپنے اَندر خُون بہایا اُس کے لیٔے میں قہر میں یقیناً تالی بجاؤں گا۔
EZE 22:14 جِس دِن مَیں تیرا فیصلہ کروں گا اُس وقت کیا تُجھ میں برداشت کرنے کی ہمّت اَور کیا تیرے ہاتھوں میں قُوّت ہوگی؟ مَیں یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے اَور مَیں اُسے کرکے رہُوں گا۔
EZE 22:15 مَیں تُجھے مُختلف قوموں میں پراگندہ کروں گا اَور مُلکوں میں بِکھیر دُوں گا اَور تیری ناپاکی کا خاتِمہ کر دُوں گا۔
EZE 22:16 جَب تُو مُختلف قوموں کی نگاہوں میں ناپاک ٹھہرے گا تَب تُو جان لے گا کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EZE 22:17 تَب یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 22:18 ”اَے آدَمزاد، بنی اِسرائیل میرے لیٔے دھات کا مَیل ہو گئے ہیں۔ میرے لیٔے وہ سَب تانبا، رانگا اَور لوہا اَور سیسہ کی مانند ہیں جو بھٹّی میں چھوڑ دئیے جاتے ہیں۔ وہ محض چاندی کا میل ہیں۔
EZE 22:19 چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ’چونکہ تُم سَب دھات کا میل بَن گیٔے ہو میں تُمہیں یروشلیمؔ میں جمع کروں گا۔
EZE 22:20 جِس طرح لوگ چاندی، تانبا، لوہا، سیسہ اَور رانگا کو بھٹّی میں جمع کرتے ہیں تاکہ اُنہیں تیز آنچ میں پگھلائیں، اِسی طرح میں تُمہیں اَپنے قہر اَور اَپنے غضب میں جمع کروں گا اَور تُمہیں شہر کے اَندر ڈال کر پگھلاؤں گا۔
EZE 22:21 میں تُمہیں جمع کروں گا اَور تُمہیں اَپنے غضب کی آگ سے اَیسا پھُونکوں گا کہ تُم اُس کے اَندر پگھل کر رہ جاؤگے۔
EZE 22:22 جِس طرح چاندی بھٹّی میں پگھلائی جاتی ہے اِسی طرح تُم اُس کے اَندر پگھلائے جاؤگے اَور تُم جان لوگے کہ میں یَاہوِہ نے اَپنا قہر تُم پر اُنڈیلا ہے۔‘ “
EZE 22:23 پھر یَاہوِہ کا یہ کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 22:24 ”اَے آدمؔ زاد، مُلک سے کہہ، ’تُو وہ سرزمین ہے جِس پر غضب کے دِن پاک نہ ہوئی مینہ برسا نہ برسات ہُوئی۔‘
EZE 22:25 اُس کے نبیوں نے اُس کے اَندر سازش کی اَور جِس طرح ایک گرجنے والا شیر اَپنے شِکار کو چیرپھاڑ ڈالتا ہے؛ اِسی طرح وہ لوگوں کو نگل لیتے ہیں، وہ خزانوں اَور بیش قیمت اَشیا کو چھین لیتے ہیں اَور اُس شہر میں بہت سِی عورتوں کو بِیوہ بنا دیتے ہیں۔
EZE 22:26 اُس کے کاہِنوں نے میری آئین کو توڑا اَور میری مُقدّس چیزوں کو ناپاک کر دیا۔ وہ مُقدّس اَور عام چیزوں میں فرق نہیں برتتے؛ اَور وہ یہ سِکھاتے ہیں کہ ناپاک اَور پاک اَشیا میں کویٔی فرق نہیں ہے اَور اُنہُوں نے میری سَبتوں کو ماننے سے چشم پوشی کی تاکہ مَیں اُن کے درمیان ناپاک ٹھہروں۔
EZE 22:27 اُس کے اُمرا اُن بھیڑیوں کی مانند ہیں جو اَپنے شِکار کو پھاڑتے ہیں۔ اَور خُون بہاتے ہیں اَور لوگوں کی جان لیتے ہیں تاکہ ناجائز منافع کمائیں۔
EZE 22:28 اُس کے نبیوں اَپنی باطِل رُویتیں اَور باطِل نبُوّت کے ذریعہ اُن کے اعمال پر سفیدی پھیر دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں۔‘ جَب کہ یَاہوِہ نے کچھ نہیں فرمایا۔
EZE 22:29 مُلک کے لوگ ستمگری سے کام لیتے ہیں، لَوٹ مار کرتے ہیں، غریب اَور مُحتاج پر ظُلم ڈھاتے ہیں اَور پردیسیوں کے ساتھ بُرا سلُوک اَور نااِنصافی کرتے ہیں۔
EZE 22:30 ”مَیں اُن میں ایک اَیسے شخص کی کھوج میں تھا جو دیوار کھڑی کرتا اَور مُلک کی خاطِر درار پر میرے آپ میں کھڑا رہتا تاکہ مُجھے اُسے تباہ نہ کرنا پڑے۔ لیکن مُجھے اَیسا کویٔی نہ مِلا۔
EZE 22:31 اِس لیٔے مَیں اَپنا قہر اُن پر نازل کروں گا اَور اَپنے غضب کی آگ میں اُن کو بھسم کر دُوں گا اَور اُن کے تمام اعمال خُود اُن ہی کے سَروں پر لے آؤں گا۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔“
EZE 23:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 23:2 ”اَے آدمؔ زاد، دو عورتیں تھیں جو ایک ہی ماں کی بیٹیاں تھیں۔
EZE 23:3 وہ مِصر میں فاحِشہ بنیں اَور اَپنی جَوانی ہی سے جِسم فروشی کرنے لگیں۔ اُس مُلک میں اُن کی چھاتِیاں مسلی گئیں اَور اُن کے سینے سہلائے گیٔے۔
EZE 23:4 بڑی کا نام اوہولہؔ تھا اَور اُس کی بہن اُوہولِبہؔ تھی۔ وہ دونوں میری ہو گئیں اَور اُن سے بیٹے اَور بیٹیاں پیدا ہویٔیں۔ اوہولہؔ سامریہؔ ہے اَور اُوہولِبہؔ یروشلیمؔ ہے۔
EZE 23:5 ”اوہولہؔ بھی میری ہی تھی کہ جِسم فروشی کرنے لگی اَور وہ اَپنے عاشقوں یعنی اشُوریوں پر فریفتہ ہو گئی۔
EZE 23:6 جو اَرغوانی لباس میں مُلبّس نہایت حسین خُوبصورت نوجوان سپاہی، حاکم اَور سپہ سالار تھے اَور گھوڑوں پر سواری کرتے تھے۔
EZE 23:7 اُس نے اشُور کے سبھی چیدہ مَردوں کے ساتھ زناکاری کی اَور جِس کسی پر وہ فریفتہ ہُوئی اُس کے بُتوں سے اَپنے آپ کو ناپاک کر لیا۔
EZE 23:8 اُس نے مِصر میں شروع کی ہُوئی زناکاری ترک نہ کی جَب جَوانی میں مَردوں نے اُس کے ساتھ مباشرت کی تھی، اُس کے دوشیزگی کے پستانوں کو مسلا تھا اَور اَپنی شہوت اُس پر اُنڈیل دی تھی۔
EZE 23:9 ”اِس لیٔے مَیں نے اُسے اُس کے اشُوری عاشقوں کے حوالہ کر دیا جِن پر وہ فریفتہ تھی۔
EZE 23:10 اُنہُوں نے اُسے برہنہ کیا، اُس کے بیٹوں اَور بیٹیوں کو چھین لیا اَور اُسے تلوار سے قتل کر دیا۔ وہ عورتوں میں ایک ضرب المثل بَن گئی اَور اُسے سزا دی گئی۔
EZE 23:11 ”اُس کی بہن اُوہولِبہؔ نے یہ سَب کچھ دیکھا لیکن وہ اَپنی شہوت پرستی اَور زناکاری میں اَپنی بہن سے بھی بدتر نکلی
EZE 23:12 وہ بھی اشُوری حاکموں، سپہ سالاروں، مُسلّح سپاہیوں اَور گُھڑسواروں پر فریفتہ تھی جو سَب کے سَب خُوب رو نوجوان تھے۔
EZE 23:13 اَور مَیں نے دیکھا کہ وہ بھی ناپاک ہو گئی اَور دونوں ایک ہی روِش پر چلیں۔
EZE 23:14 ”لیکن وہ اَور زِیادہ زناکاری کرتی گئی۔ اُس نے دیوار پر تصویریں دیکھیں جو لال رنگ میں رنگی ہُوئی کَسدیوں کی تصویریں تھیں،
EZE 23:15 جِن کی کمر میں کمربند اَور سَر پر لہراتی ہُوئی پگڑیاں تھیں۔ اَور وہ سَب کی سَب کَسدیوں کے مُلک کے باشِندوں کی طرح اَور بابیل کے رتھ کے حاکموں کی مانند نظر آتی تھیں۔
EZE 23:16 جوں ہی اُس نے اُنہیں دیکھا وہ اُن پر فریفتہ ہو گئی اَور اُس نے اُن کے پیچھے کَسدیوں کے مُلک میں قاصِد بھیجے۔
EZE 23:17 تَب اہلِ بابیل اُس کے پاس آئے اَور جذبۂ مَحَبّت میں اُس کے بِستر پر چڑھے اَور اَپنی ہَوس میں اُس کی بےحُرمتی کی اُس کی۔ لیکن جَب وہ اُن سے بےحُرمت ہو چُکی تَب وہ نفرت میں اُن سے الگ ہو گئی۔
EZE 23:18 جَب اُس نے اعلانیہ زناکاری کی اَور اَپنی عُریانی ظاہر کی تو میری جان اُس سے اُس طرح بیزار ہو گئی جَیسی اُس کی بہن سے ہُوئی تھی۔
EZE 23:19 پھر بھی اُس نے اَپنی جَوانی کے دِن یاد کئے، جَب وہ مِصر میں فاحِشہ تھی اَور پھر وہ اَور بھی زِیادہ بےباکی کے ساتھ زناکاری کرنے لگی۔
EZE 23:20 وہاں وہ اَیسے عاشقوں پر فریفتہ ہو گئی جِن کے اعضائے تناسل گدھوں کے سے تھے اَور جِن کا اِنزال گھوڑوں کا سا تھا۔
EZE 23:21 چنانچہ تُو اَپنی جَوانی کی عیّاشی کے لیٔے بیتاب ہو رہی تھی، جَب مِصر میں تیرا سینہ گلے سے لگایا گیا اَور تیری دوشیزہ چھاتِیاں سہلائی گئیں۔
EZE 23:22 ”اِس لیٔے اَے اُوہولِبہؔ، یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مَیں تیرے اُن عاشقوں کو جِن سے تیری جان بیزار ہو چُکی ہے تیرے خِلاف اُبھاروں گا اَور اُنہیں ہر طرف سے تیرے خِلاف لے آؤں گا۔
EZE 23:23 یعنی اہلِ بابیل، تمام کَسدی لوگ اَور پیقودؔ، شُوعؔ اَور کوعَؔ کے لوگ اَور اُن کے ساتھ تمام اشُوری جو سَب کے سَب حاکم، سپہ سالار، رتھ کے افسر اَور اعلیٰ عہدیدار ہیں اَور وہ سَب کے سَب گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں۔
EZE 23:24 وہ اسلحہ جنگ، رتھوں اَور گاڑیوں اَور لوگوں کا ہُجوم لے کر تُجھ پر حملہ کریں گے اَور بڑی اَور چُھوٹی سِپر لے کر اَور خُود پہن کر ہر طرف سے تیرے مقابل صف آرا ہوں گے۔ مَیں تُجھے سزا کے لیٔے اُن کے حوالہ کروں گا اَور وہ تُجھے اَپنے آئین کے مُطابق سزا دیں گے۔
EZE 23:25 میں اَپنی غیرت کا قہر تُجھ پر اُتاروں گا اَور وہ غضبناک ہوکر تُجھ سے پیش آئیں گے۔ وہ تیری ناک اَور کان کاٹ ڈالیں گے اَور باقی بچے ہُوئے لوگ تلوار سے مارے جایٔیں گے۔ وہ اُن کے بیٹوں اَور بیٹیوں کو لے جایٔیں گے اَور اُن میں سے جو بچ جایٔیں گے اُنہیں آگ بھسم کر دے گی۔
EZE 23:26 وہ تیرے کپڑے اُتار لیں گے اَور تیرے نفیس زیورات لُوٹ لیں گے۔
EZE 23:27 اُس طرح سے مَیں تیری شہوت پرستی اَور جِسم فروشی جِس کا تُونے مِصر میں آغاز کیا خاتِمہ کر دُوں گا۔ تُو اُن کی طرف بیتاب ہوکر نگاہ نہ اُٹھائے گی اَور نہ ہی مِصر کو پھر کبھی یاد کرےگی۔
EZE 23:28 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مَیں تُجھے اُن لوگوں کے حوالہ کرنے کو ہُوں جِن سے تُو نفرت کرتی ہے اَور جِن سے تیری جان بیزار ہو چُکی ہے۔
EZE 23:29 وہ تُجھ سے نفرت کے ساتھ پیش آئیں گے اَور تیری محنت سے کمائی ہُوئی ہر چیز لے لیں گے۔ وہ تُجھے عُریاں اَور بے نقاب کر دیں گے اَور تیری جِسم فروشی کی بے حیائی اَور زناکاری ظاہر ہو جائے گی۔
EZE 23:30 تیری شہوت پرستی کے باعث یہ آفت تُجھ پر آئی کیونکہ تُو مُختلف قوموں پر فریفتہ ہویٔی اَور اَپنی ہَوس کے لئے اُن کے بُتوں سے تُونے اَپنے آپ کو ناپاک کر لیا۔
EZE 23:31 تُو اَپنی بہن کے نقش قدم پر چلی اِس لیٔے میں اُس کا پیالہ تیرے ہاتھ میں تھما دُوں گا۔
EZE 23:32 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ”تُو اَپنی بہن کا پیالہ پیئے گی، جو کہ کافی بڑا اَور گہرا ہے؛ اَور وہ تضحیک اَور تحقیر لایٔے گا، کیونکہ اُس میں کافی گنجائش ہے۔
EZE 23:33 اَپنی بہن سامریہؔ کے پیالہ میں سے پی کر، جو ویرانی اَور تباہی کا پیالہ ہے، تُو متوالے پن اَور غم سے بھر جائے گی۔
EZE 23:34 تُو اُس میں سے پیئے گی اَور اُسے نچُوڑ کر خشک کر دے گی؛ پھر اُسے پٹک کر چُورچُور کر دے گی اَور اَپنی چھاتِیاں نوچ لے گی۔ یہ مَیں نے فرمایاہے اَیسا یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔
EZE 23:35 ”چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: چونکہ تُونے مُجھے فراموش کر دیا ہے اَور اَپنی پیٹھ کے پیچھے دھکیل دیا ہے اِس لیٔے تُجھے اَپنی شہوت پرستی اَور زناکاری کا نتیجہ بھگتنا پڑےگا۔“
EZE 23:36 یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا: ”اَے آدمؔ زاد، کیا تُو اوہولہؔ اَور اُوہولِبہؔ کا اِنصاف کرےگا؟ تو پھر اُنہیں اُن کی قابل نفرت حرکتیں جتا۔
EZE 23:37 کیونکہ اُنہُوں نے زناکاری کی ہے اَور اُن کے ہاتھ خُون آلُودہ ہیں۔ اُنہُوں نے اَپنے بُتوں کے ساتھ زنا کیا۔ اُنہُوں نے اَپنی اَولاد کو بھی جنہیں اُنہُوں نے میرے لیٔے جانا بُتوں کی نذر کیا تاکہ وہ اُن کے لیٔے غِذا بَن جایٔیں۔
EZE 23:38 اُنہُوں نے میرے ساتھ یہ بھی کیا: اِسی وقت اُنہُوں نے میرے پاک مَقدِس کو ناپاک کیا اَور میری سَبتوں کی بےحُرمتی کی۔
EZE 23:39 اِسی دِن اُنہُوں نے اَپنے بچّوں کو اَپنے بُتوں پر قُربان کیا اَور میرے پاک مَقدِس میں داخل ہوکر اُسے ناپاک کیا۔ اُنہُوں نے اَیسے کام میرے گھر کے اَندر کئے۔
EZE 23:40 ”اُنہُوں نے آدمیوں کے پاس قاصِد بھیجے اَور وہ دُور سے چلے آئے اَور جَب وہ پہُنچے تَب تُونے اُن کے لیٔے غُسل کیا، اَپنی آنکھوں میں کاجل لگایا اَور اَپنے گہنے پہن لیٔے۔
EZE 23:41 تُو ایک شاندار پلنگ پر بیٹھی جِس کے سامنے ایک چوکی تھی، جِس پر تُونے میرا بخُور اَور زَیتُون رکھا تھا۔
EZE 23:42 ”اُس کے اِردگرد ایک بے فکر ہُجوم کا شوروغل سُنایٔی دیتا تھا۔ اُس ہُجوم کے لوگوں کے علاوہ بیابان سے نشہ بازوں کو بھی لایا گیا جنہوں نے اُس عورت اَور اُس کی بہن کے ہاتھوں میں کنگن پہنائے اَور اُن کے سَروں پر خُوبصورت تاج رکھے۔
EZE 23:43 تَب میں اُس کے بارے میں جو زناکاری کرتے کرتے تھک چُکی تھی بول اُٹھا، ’اَب وہ اُسے فاحِشہ کے طور پر اِستعمال کریں کیونکہ وہ فاحِشہ ہی تو ہے۔‘
EZE 23:44 اَور وہ اُس کے پاس گیٔے جِس طرح مَرد فاحِشہ کے پاس جاتے ہیں اِسی طرح وہ اُن دو زناکار عورتوں، اوہولہؔ اَور اُوہولِبہؔ کے پاس گیٔے۔
EZE 23:45 لیکن راستباز لوگ اُنہیں وُہی سزا دیں گے جو اُن عورتوں کو دی جاتی ہے جو زناکاری کرتی ہیں اَور خُون بہاتی ہیں کیونکہ وہ زناکار ہیں اَور اُن کے ہاتھ خُون میں آلُودہ ہیں۔
EZE 23:46 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کچھ مجمع کو جمع کرکے اُن پر چڑھا لاؤ اَور اُنہیں اُن کے حوالہ کر دو تاکہ وہ خوفزدہ ہُوں اَور غارت ہو جایٔیں۔
EZE 23:47 وہ لوگ اُنہیں سنگسار کریں گے اَور اَپنی تلواروں سے اُنہیں کاٹ ڈالیں گے۔ وہ اُن کے بیٹوں اَور بیٹیوں کو قتل کر دیں گے اَور اُن کے مکانات جَلا ڈالیں گے۔
EZE 23:48 ”اِس طرح سے میں زناکاری کو مُلک سے مٹا دُوں گا تاکہ تمام عورتیں عِبرت حاصل کریں اَور تیری تقلید نہ کریں۔
EZE 23:49 تُو اَپنی زناکاری کی سزا بھگتے گی اَور اَپنے بُت پرستی کے گُناہوں کا بوجھ اُٹھائے گی۔ تَب تُو جان لے گی کہ یَاہوِہ قادر میں ہی ہُوں۔“
EZE 24:1 نویں سال کے دسویں مہینے کے دسویں دِن یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 24:2 ”اَے آدمؔ زاد، اِس تاریخ کو لِکھ لے۔ ہاں یہی تاریخ کیونکہ آج ہی کے دِن شاہِ بابیل نے یروشلیمؔ کا محاصرہ کر لیا ہے۔
EZE 24:3 اُس سرکش گھرانے کو یہ تمثیل بتا اَور اُن سے کہہ: ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’ایک پکانے کی دیگ چڑھا؛ اُسے چڑھا، اَور اُس میں پانی ڈال دے۔
EZE 24:4 اُس میں گوشت کے ٹکڑے ڈال دے، جو نہایت اَچھّے ٹکڑے ہُوں۔ جَیسے ران اَور شانہ۔ اَور اُسے اُن بہترین ہڈّیوں سے بھر دے؛
EZE 24:5 جنہیں گلّہ میں سے چُن چُن کر لینا۔ دیگ کے نیچے ہڈّیوں کے لیٔے لکڑیاں جما دے؛ اَور اُسے اُبلنے دے، اَور اُس میں ہڈّیاں پکا۔
EZE 24:6 ” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’اُس خُونی شہر پر افسوس، اَور اُس دیگ پر بھی جِس پر اَب تہہ جمی ہے، جو اَب نہیں جانے کی! ایک ایک ٹکڑا نکالتے ہوئے اُسے خالی کر لیں، لیکن وہ جِس کِسی ترتیب میں آئے۔
EZE 24:7 ” ’کیونکہ جو خُون اُس نے بہایا وہ اُس کے درمیان ہے: اُس نے اُسے ننگی چٹّان پر ڈالا؛ لیکن اُسے زمین پر نہیں ڈالا، تاکہ مٹّی اُسے ڈھانک لیتی۔
EZE 24:8 اِس لیٔے مَیں نے بھی غضب بھڑکانے اَور اِنتقام لینے کے لیٔے، اُس کا خُون ننگی چٹّان پر رکھا، تاکہ وہ ڈھانکا نہ جائے۔
EZE 24:9 ” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’افسوس اُس خُونی شہر پر! میں بھی لکڑی کا بڑا انبار لگاؤں گا۔
EZE 24:10 چنانچہ لکڑیوں کا ڈھیر جما، اَور آگ سُلگا دے۔ مَسالے مِلا کر، گوشت کو اَچھّی طرح سے پکا؛ اَور ہڈّیوں کو جَل جانے دے۔
EZE 24:11 پھر خالی دیگ کو اَنگاروں پر رکھ دے، یہاں تک کہ وہ گرم ہو جائے اَور اُس کا تانبا چمکنے لگے، تاکہ اُس کی نَجاست پگھل جائے، اَورجو کچھ اُس کی تہہ میں جما ہُواہے جَل جائے۔
EZE 24:12 تمام کوششیں رائیگاں گئیں؛ کیونکہ میل کی بھاری تہہ کو جَلایا نہ جا سَکا، یہاں تک کہ آگ سے بھی نہیں۔
EZE 24:13 ” ’اَب تیری ناپاکی تیری خباثت ہے۔ چونکہ مَیں نے تُجھے پاک کرنا چاہا لیکن تُو اَپنی خباثت سے پاک نہ ہویٔی۔ اِس لیٔے جَب تک میرا قہر تُجھ پر ٹھنڈا نہیں ہوتا اُس وقت تک تُو پاک نہ ہو سکے گی۔
EZE 24:14 ” ’مَیں نے یعنی یَاہوِہ نے یہ کہا ہے: اَب وقت آ چُکاہے کہ میں کچھ کروں۔ اَب مَیں نہ رکوں گا؛ نہ ہی رحم کروں گا۔ نہ پس و پیش کروں گا۔ تیرے اَخلاق اَور تیرے اعمال کے مُطابق تیرا اِنصاف کیا جائے گا۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔‘ “
EZE 24:15 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 24:16 ”اَے آدمؔ زاد، میں تیری راحتِ چشم کو ایک ہی ضرب میں تُجھ سے جُدا کرنے کو ہُوں لیکن تُو نہ تو ماتم کرنا، نہ رونا اَور نہ آنسُو بہانا۔
EZE 24:17 خاموش آہیں بھرنا۔ میّت پر ماتم نہ کرنا۔ اَپنی پگڑی باندھے رہنا اَور اَپنی جُوتی اَپنے پاؤں میں پہنے رہنا۔ اَپنی مونچھوں اَور داڑھی کو نہ ڈھانکنا اَور نہ رِواج کے مُطابق ماتم کرنے والوں کا کھانا ہی کھانا۔“
EZE 24:18 چنانچہ صُبح کو مَیں نے لوگوں سے یہ ذِکر کیا اَور شام کو میری بیوی مَر گئی۔ دُوسرے دِن صُبح مَیں نے وُہی کیا جَیسا مُجھے حُکم دیا گیا تھا۔
EZE 24:19 تَب لوگوں نے مُجھ سے پُوچھا، ”کیا تُم ہمیں نہ بتائے گا کہ اُن چیزوں سے ہمارا کیا واسطہ ہے؟ تُم اَیسا کیوں برتاؤ کر رہے ہو؟“
EZE 24:20 اِس لیٔے مَیں نے اُن سے کہا، ”یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 24:21 بنی اِسرائیل سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں اَپنے پاک مَقدِس کو یعنی اُس قلعہ کو جِس پر تُمہیں ناز ہے اَورجو تمہاری آنکھوں کی راحت اَور تمہارا محبُوب ہے ناپاک کرنے کو ہُوں۔ جِن بیٹوں اَور بیٹیوں کو تُم پیچھے چھوڑ گیٔے وہ تلوار سے مارے جایٔیں گے۔
EZE 24:22 اَور تُم وَیسا ہی کروگے جَیسا مَیں نے کیا ہے۔ اَپنی مونچھوں اَور داڑھی کو نہ ڈھانکنا اَور نہ رِواج کے مُطابق ماتم کرنے والوں کا کھانا ہی کھانا۔
EZE 24:23 تُم اَپنی پگڑیاں اَپنے سَروں پر رکھے رہوگے اَور اَپنی جُوتیاں اَپنے پاؤں میں پہنے رہوگے۔ تُم نہ تو ماتم کروگے نہ روؤگے بَلکہ اَپنے گُناہوں کے باعث گھُٹتے رہوگے اَور ایک دُوسرے کو دیکھ کر آہیں بھروگے۔
EZE 24:24 حزقی ایل تمہارے لیٔے نِشان ٹھہرے گا؛ تُم بھی وَیسا ہی کروگے جَیسا اُس نے کیا اَور جَب یہ ہوگا تَب تُم جان لوگے کہ میں ہی یَاہوِہ قادر ہُوں۔‘
EZE 24:25 ”اَور جِس دِن مَیں اُن کا قلعہ، اُن کی خُوشی اَور جلال، اُن کی آنکھوں کی راحت، اُن کے دِلوں کی تمنّا اَور اُن کے بیٹوں اَور بیٹیوں کو بھی لے لُوں گا، تَب تُو اَے آدمؔ زاد دیکھنا
EZE 24:26 کہ اُس دِن ایک مفرور شخص آکر تُجھے خبر دے گا۔
EZE 24:27 اُس وقت تیرا مُنہ کھُل جائے گا اَور تُو اُس سے بات کرےگا اَور پھر خاموش نہ رہے گا۔ پس تُم اُن کے لئے نِشانی ہوگے اَور وہ جان لیں گے کہ میں ہی یَاہوِہ ہوں۔“
EZE 25:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہَوا:
EZE 25:2 ”اَے آدمؔ زاد، عمُّونیوں کی طرف رُخ کرکے اُن کے خِلاف نبُوّت کر۔
EZE 25:3 اُن عمُّونیوں سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر کا کلام سُنو: یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ تُم نے میرے پاک مَقدِس کے لیٔے جَب وہ ناپاک کیا گیا اَور اِسرائیل کے مُلک کے لیٔے جَب وہ ویران ہَوا اَور یہُودیؔہ کے لوگوں کے لیٔے جَب وہ جَلاوطن کئے گیٔے، تو اُنہُوں نے شاباش کہا۔
EZE 25:4 اِس لیٔے میں تُمہیں اہلِ مشرق کے سُپرد کرتا ہُوں تاکہ تُم اُس کی مِلکیّت بنو اَور وہ تمہارے درمیان اَپنے ڈیرے ڈالیں گے اَور خیمے کھڑے کریں گے۔ وہ تمہارا پھل کھایٔیں گے اَور تمہارا دُودھ پیئیں گے۔
EZE 25:5 میں ربّہؔ کو اُونٹوں کے لیٔے چراگاہ اَور عمُّون کو بھیڑوں کی آرامگاہ بنا دُوں گا۔ تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 25:6 کیونکہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں، چونکہ تُم نے تالیاں بجائیں اَور اَپنے پیر پٹکے اَور اِسرائیل کے مُلک کے خِلاف اَپنے دِل کے کینہ کی بدولت خُوشی منائی،
EZE 25:7 اِس لیٔے مَیں تمہارے خِلاف اَپنا ہاتھ بڑھا کر تُمہیں مالِ غنیمت کے طور پر مُختلف قوموں کو دے دُوں گا۔ میں تُمہیں مُختلف قوموں میں سے مٹا دُوں گا اَور مُلکوں میں سے بھی تُمہیں نِیست و نابود کر دُوں گا۔ میں تُمہیں تباہ کر دُوں گا اَور تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EZE 25:8 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ’چونکہ مُوآب اَور سِعِیؔر نے کہا، ”دیکھو بنی یہُوداہؔ بھی دُوسری تمام قوموں کی طرح ہو گئے ہیں،“
EZE 25:9 اِس لیٔے میں مُوآب کی راہوں کو، اُس کی سرحد کے شہروں بیت یسیموتؔ، بَعل مِعُون اَور قِریتائم سے شروع کرتے ہُوئے جو اُس مُلک کی شان ہیں کھول دُوں گا۔
EZE 25:10 اَور مَیں مُوآب کو بنی عمُّون سمیت اہلِ مشرق کو بطور مملکت دے دُوں گا تاکہ قوموں کے درمیان بنی عمُّون کا ذِکر تک باقی نہ رہے۔
EZE 25:11 اَور مَیں مُوآب کو سزا دُوں گا۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EZE 25:12 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ’چونکہ اِدُوم نے بنی یہُوداہؔ سے اِنتقام لیا اَور اُس وجہ سے نہایت گُنہگار ٹھہرا
EZE 25:13 چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں اِدُوم کے خِلاف اَپنا ہاتھ بڑھاؤں گا اَور اُس کے لوگوں اَور اُن کے حَیوانوں کو مار ڈالوں گا۔ میں اُسے ویران کر دُوں گا اَور تیمانؔ سے لے کر دِدانؔ تک وہ تلوار سے مارے جایٔیں گے۔
EZE 25:14 اَور مَیں اَپنی قوم اِسرائیل کے ہاتھوں اِدُوم کا اِنتقام لُوں گا اَور وہ اِدُوم کے ساتھ میرے قہر و غضب کے مُطابق پیش آئیں گے۔ اِس طرح وہ جان لیں گے کہ یہ میرا اِنتقام ہے۔ یَاہوِہ قادر نے یہ فرماتے ہیں۔‘ “
EZE 25:15 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ’چونکہ فلسطینیوں نے اِنتقام کے جذبہ میں اَپنے دِل میں کینہ رکھ کر بدلہ لیا اَور قدیم عداوت کی بنا پر یہُوداہؔ کو تباہ کرنا چاہا
EZE 25:16 چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مَیں فلسطینیوں کے خِلاف اَپنا ہاتھ بڑھانے کو ہُوں اَور مَیں کریتیوں کو مٹا دُوں گا اَور سمُندر کے ساحِل پر بچے ہُوئے لوگوں کو تباہ کر دُوں گا۔
EZE 25:17 مَیں اُن سے کڑا اِنتقام لُوں گا اَور اَپنے عتاب میں اُنہیں سزا دُوں گا۔ اَور جَب مَیں اُن سے اِنتقام لُوں گا تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EZE 26:1 بارہویں سال کے گیارھویں مہینے کے پہلے دِن یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 26:2 ”اَے آدمؔ زاد، چونکہ صُورؔ نے یروشلیمؔ کے متعلّق قہقہہ لگا کر کہا، ’آہا! قوموں کا پھاٹک توڑ دیا گیا اَور اُس کے دروازے میرے لیٔے کھول دیئے گیٔے۔ اَب وہ ویران ہے اِس لیٔے میں برومند ہُوں گا،‘
EZE 26:3 چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَے صُورؔ، مَیں تیرا مُخالف ہُوں اَور مَیں بہت سِی قوموں کو تیرے خِلاف اُس طرح چڑھا لاؤں گا جِس طرح سمُندر اَپنی لہریں اُچھالتا ہے۔
EZE 26:4 وہ صُورؔ کی شہرپناہ کو توڑ ڈالیں گے اَور اُس کے بُرجوں کو ڈھا دیں گے اَور مَیں اُس کی مٹّی کھرچ کر اُسے ننگی چٹّان بنا دُوں گا۔
EZE 26:5 وہ سمُندر کے درمیان جال ڈالنے کا مقام بَن جائے گی کیونکہ یہ مَیں نے فرمایاہے۔ یُوں یَاہوِہ قادر نے فرماتے ہیں۔ وہ قوموں کے لیٔے مالِ غنیمت بَن جائے گی
EZE 26:6 اَور اُس کی بستیاں جو سطح زمین پر ہیں تلوار سے غارت کر دی جایٔیں گی۔ تَب وہ جان لیں گے کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 26:7 ”کیونکہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: دیکھ میں شمال سے صُورؔ کے خِلاف بادشاہوں کے بادشاہ، شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کو گھوڑوں، رتھوں، گُھڑسواروں اَور ایک ایک بڑی فَوج کے ساتھ آ رہا ہُوں۔
EZE 26:8 وہ تیری سرزمین کی بستیاں تلوار سے مٹا دے گا۔ وہ تیرے مقابل مورچہ بندی کرےگا اَور تیری دیوار تک دمدمہ باندھے گا اَور تیرے خِلاف اَپنی ڈھالیں کھڑی کرےگا۔
EZE 26:9 اَور وہ تیری شہرپناہ کو اَپنی قلعہ شکن سنگ باری کا نِشانہ بنائے گا اَور اَپنے اسلحہ سے تیرے بُرجوں کو ڈھا دے گا۔
EZE 26:10 اُس کے گھوڑے اِس قدر کثیر التعداد ہوں گے کہ اُن کی اُڑائی ہویٔی گَرد سے تُو ڈھک جائے گی۔ جَب وہ تیرے پھاٹکوں میں سے اُس طرح داخل ہوگا جَیسے لوگ ٹوٹی ہویٔی دیواروں میں سے شہر میں گھُس آتے ہیں۔ تَب جنگی گھوڑوں، گاڑیوں اَور رتھوں کے شور سے تیری شہرپناہ لرز جائے گی۔
EZE 26:11 اُس کے گھوڑوں کے کُھر تیری تمام سڑکوں کو روند ڈالیں گے؛ وہ تیرے لوگوں کو تلوار سے قتل کر دے گا اَور تیرے مضبُوط چوکھٹ زمین پر گِر جایٔیں گے۔
EZE 26:12 وہ تیری دولت اَور تیرا تجارتی اَسباب لُوٹ لیں گے اَور تیری شہرپناہ توڑ ڈالیں گے اَور تیرے خُوبصورت مکانات ڈھا دیں گے اَور تیرے پتّھر، لکڑی اَور مٹّی کو سمُندر میں پھینک دیں گے۔
EZE 26:13 مَیں تیرے بُلند آہنگ نغموں کو بند کر دُوں گا اَور تیرے بربط کی موسیقی پھر کبھی سُنایٔی نہ دے گی۔
EZE 26:14 مَیں تُجھے ایک ننگی چٹّان بنا دُوں گا اَور تُو مچھلی کے جال ڈالنے کا مقام بَن جائے گا۔ تُو دوبارہ تعمیر نہ کیا جائے گا کیوں کہ میں یعنی یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرماتے ہیں۔
EZE 26:15 ”یَاہوِہ قادر صُورؔ سے یُوں فرماتے ہیں: جَب تُجھ میں قتلِ عام ہوگا اَور زخمی لوگ کراہتے ہوں گے تَب کیا تیرے گرنے کے شور سے بحری ممالک نہ تھرتھرائیں گے؟
EZE 26:16 تَب ساحِل کے سبھی اُمرا اَپنے تخت شاہیوں پر سے اُتر آئیں گے اَور اَپنی خِلعتیں اَور اَپنے کشیدہ کاری لباس کپڑے اُتار دیں گے اَور تُجھے دیکھ کر حیرت زدہ ہوں گے اَور خوف سے مُلبّس ہوکر اَور ہرپل کانپتے ہُوئے زمین پر بیٹھیں گے۔
EZE 26:17 پھر وہ تیرے حق میں نوحہ کریں گے اَور تُجھ سے کہیں گے: ” ’اَے نامور شہر جو بحری قوموں سے آباد تھا، تُو کیسے برباد ہُوا! تُو اَور تیرے شہری، سمُندروں میں زورآور مانے جاتے تھے؛ اَور وہاں کے باشِندوں پر، اَپنا خوف جمائے ہویٔے تھے۔
EZE 26:18 اَب ساحِلی ممالک، تیرے زوال کے دِن تھرتھرا رہے ہیں؛ اَور سمُندری جزیرے، تیری شِکست سے گھبرا گیٔے ہیں۔‘
EZE 26:19 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: جَب مَیں تُجھے اُن شہروں کی طرح ویران کر دُوں گا جو کبھی آباد نہ تھے اَور جَب مَیں تُجھ پر سمُندر چڑھا لاؤں گا اَور اِس کا لااِنتہا پانی تُجھے غرق کر دے گا،
EZE 26:20 تَب مَیں تُجھے اُن لوگوں کے ساتھ جو گڑھے میں اُتر جاتے ہیں عہدِ عتیق کے لوگوں کے پاس نیچے اُتاروں گا۔ مَیں تُجھے اُن لوگوں کے ساتھ جو گڑھے میں چلے جاتے ہیں زمین کے نیچے اَیسا بساؤں گا جَیسے کویٔی قدیم کھنڈروں میں رہتا ہو۔ اَور وہاں سے تُو لَوٹ نہ پایٔےگا، نہ زندوں کے مُلک میں اَپنی جگہ لے پایٔےگا۔
EZE 26:21 مَیں تیرا اَنجام نہایت ہی خوفناک کر دُوں گا اَور تُو باقی نہ رہے گا۔ تُجھے ڈھونڈا جائے گا لیکن تُو پھر کبھی نہ پایا جائے گا۔ یہ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔“
EZE 27:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 27:2 ”اَے آدَمزاد، صُورؔ کے متعلّق نوحہ تیّار کر۔
EZE 27:3 صُورؔ سے کہہ، جو سمُندر کے پھاٹک پر مُقیم ہے اَور بیشتر ساحِلی لوگوں کے لیٔے تِجارت کا مقام ہے، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’اَے صُورؔ، تُو کہتاہے، ”کہ میرا حُسن کامل ہے۔“
EZE 27:4 تیرا علاقہ سمُندر کے درمیان تھا؛ اَور تیرے مِعماروں نے تیرے حُسن کو کمال تک پہُنچا دیا۔
EZE 27:5 اُنہُوں نے تیرے تمام تختے سنیرؔ کے صنوبر کی لکڑی سے بنائے؛ اَور لبانونؔ سے دیودار لے کر تیرے لیٔے مستُول بنایا۔
EZE 27:6 اَور باشانؔ کے بلُوط سے اُنہُوں نے تیرے چپّو بنائے؛ اَور کِتّیمؔ کے ساحِلوں سے لکڑی حاصل کرکے اُس میں ہاتھی دانت جڑ کر اُنہُوں نے تیرے لیٔے چھتری بنائی۔
EZE 27:7 مِصر کے مہین اَور نفیس کتان سے کشیدہ تیرا بادبان بنا جِس نے تیرے لیٔے پرچم کا کام دیا؛ تیرا نیلا اَور اَرغوانی شامیانہ اِلیشہؔ کے ساحِلوں سے لایٔے ہُوئے کپڑے کا بنا۔
EZE 27:8 صیدونؔ اَور اَرودؔ کے باشِندے تیرے ملّاح تھے؛ اَے صُورؔ، تیرے ہی اَپنے ماہر فنکار تیرے جہاز ران تھے۔
EZE 27:9 گیبلؔ کے تجربہ کار فنکار جو تُجھ پر سوار تھے تیرے جہاز ساز تھے جو رخنہ بندی میں ماہر تھے۔ سمُندر کے تمام جہاز اَور اُن کے ملّاح تیرے پاس آ گئے تاکہ تیری اَشیا کی تِجارت کریں۔
EZE 27:10 ” ’فارسؔ، لُودؔ اَور فُوطؔ کے مَرد تیری فَوج میں سپاہی تھے۔ اُنہُوں نے تیری دیواروں پر اَپنی ڈھالیں اَور خُود ٹانگے، اَور تیری شان میں اِضافہ کیا۔
EZE 27:11 اَرودؔ اَور حِلقؔ کے لوگوں نے ہر طرف سے تیری شہرپناہ کی حِفاظت کی؛ اَور گمّادؔ کے لوگ تیرے بُرجوں میں مَوجُود تھے۔ اُنہُوں نے اَپنی ڈھالیں تیری دیواروں پر ٹانگیں؛ اَور تیرے حُسن کو کمال تک پہُنچایا۔
EZE 27:12 ” ’تیرے مال کی بہتات کے باعث ترشیشؔ نے تیرے ساتھ تِجارت کی اَور اُنہُوں نے چاندی، لوہا، رانگا اَور سیسہ تیرے تجارتی اَسباب کے مُعاوضہ میں دیا۔
EZE 27:13 ” ’یاوانؔ، تُوبل اَور میشکؔ نے تیرے ساتھ تِجارت کی؛ اُنہُوں نے تیرے تجارتی لوگ اَسباب کے عوض غُلام اَور کانسے کی چیزیں دیں۔
EZE 27:14 ” ’بیت توغرمہؔ کے لوگوں نے گھوڑوں، جنگی گھوڑوں اَور خچّروں کے عوض تیری تجارتی اَشیا خریدیں۔
EZE 27:15 ” ’دِدانؔ نے تیرے ساتھ تِجارت کی اَور بہت سے ساحِلی مُلک تیرے گاہک تھے۔ وہ ہاتھی دانت اَور آبنوس کے بدلے تُجھ سے اَشیا خریدتے تھے۔
EZE 27:16 ” ’تیری متعدّد مصنوعات کے باعث ارامی بھی تُجھ سے تِجارت کرتے تھے اَور نیلا فیروزہ، اَرغوانی پارچہ، کشیدہ کاری، نفیس کتان، مونگا اَور لعل مُعاوضہ میں دیتے تھے۔
EZE 27:17 ” ’یہُوداہؔ اَور اِسرائیل بھی تیرے ساتھ تِجارت کرتے تھے اَور وہ مِنّیتؔ کا گیہُوں، مٹھائیاں، شہد، زَیتُون کا تیل اَور روغن بلسان دے کر تُجھ سے اَشیا خریدتے تھے۔
EZE 27:18 ” ’دَمشق بھی تیری مُختلف مصنوعات اَور کثرت اَسباب کے باعث تُجھ سے حلبونؔ کی مَے اَور زہر سفید اُون کی تِجارت کرتا تھا۔
EZE 27:19 دِدانؔ کے لوگ اَور اُوزالؔ کے یُونانی بھی تُجھ سے مال خریدتے تھے۔ وہ تیری اَشیا کے مُعاوضہ میں کُوٹا ہُوا لوہا، تج اَور اگر دیتے تھے۔
EZE 27:20 ” ’دِدانؔ شہر تیرے ساتھ گھوڑوں کی کاٹھی کے کمبل کی تِجارت کرتے تھے۔
EZE 27:21 ” ’عربستان اَور قیدارؔ کے تمام شہزادے تیرے گاہک تھے۔ وہ تیرے ساتھ برّوں، مینڈھوں اَور بکروں کی تِجارت کرتے تھے۔
EZE 27:22 ” ’شیبا اَور رعماہؔ کے سوداگر بھی تیرے ساتھ تِجارت کرتے تھے اَور تیرے سامان کے عوض ہر قِسم کے نفیس مَسالے، قیمتی پتّھر اَور سونا دیتے تھے۔
EZE 27:23 ” ’حارانؔ، کنّہؔ اَور عدنؔ اَور شیبا، اشُور اَور کِلمدؔ کے سوداگر تیرے ساتھ تِجارت کرتے تھے۔
EZE 27:24 وہ تیرے بازاروں میں تِجارت کے لیٔے خُوبصورت کپڑوں، نیلے رنگ کی نفیس پوشاکوں، کشیدہ کاری اَور نفیس بٹی ہوئی ڈوریوں کے ساتھ رنگین غالیچوں سے بھرے ہُوئے صندُوق لے کر آتے تھے جنہیں مضبُوط رسّیوں سے کس کر باندھا جاتا تھا۔
EZE 27:25 ” ’ترشیشؔ کے جہاز تیرے لیٔے مال برداری کرتے تھے۔ جَب آپ سمُندری سفر پر جاتے ہیں تو جہاز بھاری سامان جہاز میں بھرجاتا ہے۔
EZE 27:26 تیرے ملّاح تُجھے گہرے سمُندر میں لے جاتے ہیں۔ لیکن بادِ مشرق سمُندر کے درمیان تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی۔
EZE 27:27 جِس دِن تُو تباہ ہوگی، اُس دِن تیری دولت، تیرا تجارتی اَسباب اَور مصنوعات، تیرے ملّاح، جہاز ران اَور جہاز ساز، تیرے سوداگر اَور تیرے تمام جنگی سپاہی، اَور اُن کے علاوہ ہر شخص جو جہاز پر سوار ہوگا سَب سمُندر کے درمیان غرق ہوں گے۔
EZE 27:28 جَب تیرے ملّاح چِلّائیں گے تَب اُن کے شور سے تیرے گِردونواح کے ساحِل لرز جایٔیں گے۔
EZE 27:29 تمام چپّو چلانے والے ملّاح اَپنے اَپنے جہازوں کو خیرباد کہیں گے؛ ملّاح اَور تمام جہاز ران ساحِلوں پر کھڑے ہوں گے۔
EZE 27:30 اَور وہ اَپنی آواز بُلند کریں گے اَور تیری خاطِر زار زار روئیں گے؛ وہ اَپنے سَروں پر خاک ڈالیں گے اَور راکھ میں لوٹیں گے۔
EZE 27:31 وہ تیری خاطِر اَپنے سَر مُنڈائیں گے اَور ٹاٹ پہن لیں گے۔ اَور وہ تیرے لیٔے شدید جِسمانی کوفت اَور شِدّت غم سے روئیں گے۔
EZE 27:32 جَیسے جَیسے وہ تیرے لیٔے واویلا اَور ماتم کریں گے، وَیسے ہی مرثیہ خوانی کرتے ہُوئے کہیں گے: ”سمُندر سے گھرے ہُوئے صُورؔ کی مانند، کب کسی کا مُنہ بند کیا گیا؟“
EZE 27:33 جَب تیرا تجارتی اَسباب سمُندر کی راہ جاتا تھا، تَب تُونے کیٔی قوموں کی حاجتیں رفع کیں؛ تُونے اَپنی دولت اَور اَپنی مصنوعات سے دُنیا کے بادشاہوں کو مالا مال کر دیا۔
EZE 27:34 اَب تُجھے سمُندر نے توڑ پھوڑ کے اَپنی گہرائی میں غرق کر دیا ہے؛ اَور تیرا تجارتی مال اَور تیرے تمام ساتھی تیرے ساتھ غرق ہو گئے۔
EZE 27:35 ساحِلی مُلکوں میں رہنے والے تمام لوگ تیری وجہ سے حیرت زدہ ہو گئے؛ اُن کے بادشاہوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اَور خوف سے اُن کے چہروں کا رنگ پیلا پڑ گیا۔
EZE 27:36 مُختلف قوموں کے سوداگر تُجھ پر اِظہار نفرت کرتے ہیں؛ تیرا اَنجام نہایت ہولناک ہُوا اَور تُو اَب باقی نہ رہے گا۔‘ “
EZE 28:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 28:2 ”اَے آدمؔ زاد، صُورؔ کے حُکمران سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’اَپنے دِل کے غُرور میں تُو کہتاہے، ”میں خُدا ہُوں؛ اَور سمُندر کے درمیان میں خُدا کے تخت پر بیٹھا ہُوں۔“ حالانکہ تُو سوچتا ہے کہ تُو خُدا کی طرح عقلمند ہے، پھر بھی تُو اِنسان ہی ہے، خُدا نہیں۔
EZE 28:3 کیا تُو دانی ایل سے بھی زِیادہ عقلمند ہے؟ کیا تُجھ سے کویٔی بھید چھُپا نہیں ہے؟
EZE 28:4 اَپنی حِکمت اَور فراست سے تُونے اَپنے لیٔے دولت حاصل کی اَور اَپنے خزانے سونے اَور چاندی سے بھر لیٔے۔
EZE 28:5 تِجارت میں بڑا ہُنرمند ہوکر تُونے اَپنی دولت بڑھالی، اَور اَپنی دولت کی بدولت تیرا دِل مغروُر ہو چُکاہے۔
EZE 28:6 ” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’چونکہ تُو سوچتا ہے کہ تُو عقلمند ہے، گویا بالکُل خُدا کی مانند عقلمند،
EZE 28:7 میں پردیسیوں کو تیرے خِلاف چڑھا لا رہا ہُوں، جو نہایت ہی سنگدل قومیں ہیں؛ جو تیرے حُسن اَور تیری حِکمت کے خِلاف اَپنی تلواریں کھیچیں گے اَور تیرے چمکتے ہُوئے جمال کو چھید ڈالیں گے۔
EZE 28:8 وہ تُجھے گڑھے میں اُتاریں گے، اَور تُو سمُندر کے درمیان مقتولوں کی سِی موت مَرے گا۔
EZE 28:9 تَب کیا تُو اَپنے قاتلوں کے رُوبرو، یہ کہے گا، ”میں خُدا ہُوں؟“ تُو اَپنے قاتلوں کے ہاتھوں میں محض اِنسان ہی رہے گا، خُدا نہیں۔
EZE 28:10 تُو پردیسیوں کے ہاتھوں میں نامختون کی سِی موت مَرے گا۔ یہ مَیں نے کہا ہے، یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔‘ “
EZE 28:11 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 28:12 ”اَے آدمؔ زاد، صُورؔ کے بادشاہ کے متعلّق نوحہ تیّار کر اَور اُس سے کہہ: ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’تُو اِنتہائی کمال کا نمونہ تھا، جو پُر اَز حِکمت سے مُکمّل اَور حُسن میں کامل تھا۔
EZE 28:13 تُو عدنؔ میں تھا، جو خُدا کا باغ تھا؛ ہر قیمتی پتّھر تُمہیں سجاتا تھا یاقُوتِ سُرخ، ہیرا اَور سبز زُمُرّد، پکھراج اَور سنگِ سُلیمانی اَور سنگِ یَشب نیلم، نیلا فیروزہ اَور فیروزہ، الغرض ہر قِسم کے قیمتی پتّھر سے تُو آراستہ تھا؛ جنہیں سونے کی تختیوں میں جڑ دیا گیا تھا، جو تیری پیدائش کے دِن ہی تیّار کی گئی تھیں۔
EZE 28:14 مَیں نے تُجھے ایک سرپرست کروبی کی مانند مَسح کیا، اَور تُجھے خُدا کے پہاڑ پر مُقرّر کیا؛ جہاں تُو بیش قیمتی آتِشی پتّھروں کے درمیان چلتا پھرتا تھا۔
EZE 28:15 تیری پیدائش کے دِن سے لے کر تُجھ میں ناراستی سمانے تک تیری روِشیں بےگُناہ تھیں۔
EZE 28:16 تیری تِجارت کی بہتات کے باعث تُجھ میں تشدّد بھر گیا، اَور تُونے گُناہ کیا۔ اِس لیٔے اَے سرپرست کروبی، مَیں نے تُجھے بےحُرمتی سمجھ کر خُدا کے پہاڑ پر سے ہٹا دیا، اَور تُجھے اُن آتِشی پتّھروں کے درمیان سے خارج کر دیا۔
EZE 28:17 اَپنے حُسن کے باعث تیرا دِل مغروُر ہُوا، اَور اَپنے جمال کے سبب سے تُونے اَپنی حِکمت کو بِگاڑ لیا۔ اِس لیٔے مَیں نے تُجھے زمین پر پٹک دیا؛ اَور بادشاہوں کے سامنے تماشا بنا دیا۔
EZE 28:18 تُونے اَپنی گُناہوں کی کثرت اَور ناجائز تِجارت سے اَپنے پاک مَقدِسوں کو ناپاک کر دیا۔ اِس لیٔے مَیں نے تُجھ میں سے آگ نموُدار کی، جِس نے تُجھے بھسم کر دیا، اَور مَیں نے تیرے تمام تماشائیوں کے سامنے تُجھے زمین پر راکھ بنا دیا۔
EZE 28:19 تیری تمام شناسا قومیں تُجھے دیکھ کر حیران ہیں؛ تُو نہایت خوفناک اَنجام کو پہُنچا اَور اَب باقی نہ رہے گا۔‘ “
EZE 28:20 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 28:21 ”اَے آدمؔ زاد، اَپنا رُخ صیدونؔ کی طرف کر اَور اُس کے خِلاف نبُوّت کر
EZE 28:22 اَور کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’اَے صیدونؔ، مَیں تیرے خِلاف ہُوں، اَور مَیں تمہارے درمیان اَپنی عظمت ظاہر کروں گا۔ اَور جَب مَیں اُسے سزا دُوں گا اَور اُس میں اُس کو مُقدّس ٹھہراؤں گا، تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 28:23 میں اُس پر وَبا نازل کروں گا اَور اُس کی گلیوں میں خُون بہاؤں گا اُس پر ہر طرف سے تلوار چلے گی اَور اُس کے مقتول اُس کے اَندر گریں گے۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 28:24 ” ’اَور بنی اِسرائیل کا اَیسا کویٔی کُنبہ و ہمسایہ نہ ہوگا جو تکلیف دہ جھاڑیاں یا چبھنے والے کانٹے ثابت ہُوں۔ تَب وہ جان لیں گے کہ میں یَاہوِہ قادر ہُوں۔
EZE 28:25 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: جَب مَیں بنی اِسرائیل کو اُن قوموں میں سے جمع کروں گا جہاں وہ پراگندہ ہو چُکے ہیں تَب میں مُختلف قوموں کی آنکھوں کے سامنے اُن میں مُقدّس ٹھہروں گا۔ تَب وہ خُود اَپنے مُلک میں رہیں گے جسے مَیں نے اَپنے خادِم یعقوب کو دیا تھا۔
EZE 28:26 وہ وہاں بحِفاظت رہیں گے اَور وہاں مکانات تعمیر کریں گے اَور تاکستان لگائیں گے اَور جَب مَیں اُن کے اُن تمام ہمسایوں کو جنہوں نے اُنہیں حقیر جانا سزا دُوں گا تَب وہ سلامتی سے رہیں گے۔ اَور تَب وہ جان لیں گے کہ میں ہی یَاہوِہ اُن کا خُدا ہُوں۔‘ “
EZE 29:1 دسویں سال کے دسویں مہینے کے بارہویں دِن، یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 29:2 ”اَے آدمؔ زاد، شاہِ مِصر فَرعوہؔ کی طرف اَپنا رُخ کر اَور اُس کے تمام مِصر کے خِلاف نبُوّت کر۔
EZE 29:3 اُس سے بات کر، ’اَور کہہ کہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’اَے شاہِ مِصر فَرعوہؔ، میں تیرا مُخالف ہُوں، اَے بھاری اَور موٹے گھڑیال جو اَپنی دریاؤں کے درمیان پڑا رہتاہے۔ تُو کہتاہے، ”دریائے نیل میرا ہے؛ اَور مَیں نے اُسے اَپنے لیٔے بنایا ہے۔“
EZE 29:4 لیکن مَیں تیرے جَبڑوں میں کانٹے پھنساؤں گا اَور تیری دریاؤں کی مچھلیوں کو تیری جِلد سے چپکاؤں گا۔ اَور تیری کھال میں چُپکی ہُوئی تمام مچھلیوں سمیت، مَیں تُجھے تیری دریاؤں میں سے باہر کھینچ لُوں گا۔
EZE 29:5 مَیں تُجھے اَور تیری دریاؤں میں کی تمام مچھلیوں کو، بیابان میں چھوڑ دُوں گا۔ تُو کھُلے میدان میں پڑا رہے گا جہاں سے نہ تو بٹورا جائے گا، نہ اُٹھایا جائے گا۔ اَور مَیں تُجھے زمین کے درندوں اَور آسمان کے پرندوں کی خُوراک بنا دُوں گا۔
EZE 29:6 تَب مِصر کے تمام باشِندے جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔ ” ’تُو بنی اِسرائیل کے لیٔے سَرکنڈے کا عصا بَن گیا ہے۔
EZE 29:7 جَب اُنہُوں نے تُجھے اَپنی گرفت میں لیا تَب تُو ٹوٹ گیا اَور اُن کے کندھوں کو زخمی کر دیا۔ اَور جَب اُنہُوں نے تیرا سہارا لیا تَب تُو ٹوٹ گیا اَور اُن کی پیٹھ میں موچ آ گئی۔
EZE 29:8 ” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مَیں تُجھ پر تلوار چلوا کر تیرے لوگوں اَور اُن کے حَیوانوں کو قتل کرا دُوں گا۔
EZE 29:9 مِصر ایک ویران مُلک بَن جائے گا۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔ ” ’چونکہ تُونے کہا، ”دریائے نیل میرا ہے اَور مَیں نے ہی اُسے بنایا ہے۔“
EZE 29:10 اِس لیٔے میں تیرا اَور تیرے دریاؤں کا مُخالف ہُوں اَور مَیں مِصر کے مُلک کو مِگدُلؔ سے لے کر آسوانؔ تک یہاں تک کہ کُوشؔ کی سرحد تک بالکُل اُجاڑ کر رکھ دُوں گا۔
EZE 29:11 کسی اِنسان یا حَیوان کا قدم تک اِدھر نہ پڑےگا اَور چالیس بَرس تک اُس میں کویٔی نہ بسے گا۔
EZE 29:12 میں مُلک مِصر کو اُجڑے ہُوئے مُلکوں کے درمیان اُجاڑ کر رکھ دُوں گا اَور اُس کے شہر کو مُختلف قوموں میں پراگندہ اَور مُختلف ممالک میں تِتّر بِتّر کر دُوں گا۔
EZE 29:13 ” ’پھر بھی یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: چالیس بَرس گزر جانے کے بعد میں مِصریوں کو اُن قوموں میں سے جمع کروں گا جِن کے درمیان اُنہیں تِتّر بِتّر کیا گیا تھا۔
EZE 29:14 میں اُنہیں اسیری سے چھُڑا کر واپس لاؤں گا اَور اُن کے آبائی وطن مِصر یعنی فتروسؔ میں لَوٹاؤں گا جہاں وہ ایک مَعمولی مملکت بَن جایٔیں گے۔
EZE 29:15 وہ تمام مملکتوں میں نہایت مَعمولی مملکت ہوگی اَور پھر کبھی اَپنا سَر اَور قوموں سے اُونچا نہ اُٹھا پایٔے گی۔ میں اُسے اِس قدر کمزور کر دُوں گا کہ وہ پھر کبھی اَور قوموں پر حُکومت نہ کر پایٔے گی۔
EZE 29:16 مِصر پھر کبھی بنی اِسرائیل کے لیٔے قابلِ اِعتماد نہ رہے گا بَلکہ اُنہُوں نے مِصریوں سے اِمداد طلب کرکے جو گُناہ کیا تھا اُس کی یادداشت بَن جائے گا۔ تَب وہ جان لیں گے کہ میں یَاہوِہ قادر ہُوں۔‘ “
EZE 29:17 ستّائیسویں سال کے پہلے ماہ کے پہلے دِن یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 29:18 ”اَے آدمؔ زاد، شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے صُورؔ کے خِلاف فَوج کشی کرکے اَپنے لوگوں کے لیٔے بڑی مُشکل پیدا کر دی؛ یہاں تک کہ ہر سَر گنجا ہُوا اَور ہر کندھا چھِل گیا۔ پھر بھی صُورؔ کے خِلاف اُس مُہم سے نہ اُسے نہ اُس کی فَوج کو کویٔی صِلہ مِلا۔
EZE 29:19 چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں مِصر کو شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے سُپرد کروں گا اَور وہ اُس کی دولت لے جائے گا۔ وہ مُلک کو لُوٹ لے گا تاکہ اَپنی فَوج کی تنخواہ اَدا کر سکے۔
EZE 29:20 مَیں نے اُسے اُس کی کوششوں کے عوض مِصر اِنعام میں دیا ہے کیونکہ اُس نے اَور اُس کی فَوج نے یہ سَب کام میرے لیٔے کیا۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔
EZE 29:21 ”اُس وقت مَیں اِسرائیل کے خاندان سے ایک سینگ اُگاؤں گا اَور اُن کے درمیان تیرا مُنہ کھولوں گا۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔“
EZE 30:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 30:2 ”اَے آدمؔ زاد، نبُوّت کر اَور کہہ: ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’ماتم کرو اَور کہو، ”اُس دِن پر افسوس!“
EZE 30:3 کیونکہ وہ دِن نزدیک ہے، یَاہوِہ کا دِن قریب ہے۔ یعنی بادلوں کا دِن، اَور قوموں کی سزا کا وقت۔
EZE 30:4 مِصر کے خِلاف تلوار اُٹھے گی، اَور مِصر میں قتلِ عام ہوگا۔ اَور کُوشؔ پر مصائب کا وقت آئے گا۔ اُس کی دولت لُوٹ لی جائے گی، اَور اُس کی بُنیادیں ڈھا دی جایٔیں گی، تَب اہلِ کُوشؔ سخت تکلیف میں ہوں گے۔
EZE 30:5 کُوشؔ۔ فُوطؔ، لُودؔ، تمام عربستانؔ، لیبیا اَور اُس مُلک کے لوگ جنہوں نے عہد کیا ہے سَب مِصریوں کے ساتھ تلوار سے مارے جایٔیں گے۔
EZE 30:6 ” ’یَاہوِہ قادر نے یُوں فرمایاہے: ” ’مِصر کے اِتّحادی تباہ ہو جائیں گے۔ اَور جِس قُوّت پر اُسے غُرور ہے وہ ٹوٹ جائے گی۔ مِگدُلؔ سے لے کر آسوانؔ تک اُس کے باشِندے تلوار سے مارے جایٔیں گے، یہ یَاہوِہ خُدا نے فرمایاہے۔
EZE 30:7 وہ ویران مُلکوں کے درمیان ویران ہوں گے، اَور اُن کے شہر اُجڑے ہُوئے شہروں کے ساتھ کھنڈر بَن جایٔیں گے۔
EZE 30:8 جَب مَیں مِصر میں آگ لگا دُوں گا اَور اُس کے سَب مددگار ہلاک کئے جایٔیں گے، تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 30:9 ” ’اُس روز میری طرف سے کیٔی قاصِد جہازوں پر سوار ہوکر روانہ ہوں گے تاکہ وہ غافل کُوشیوں کو خوفزدہ کر سکیں کیونکہ مِصر کی سزا کے دِن وہ سخت تکلیف میں ہوں گے اَور وہ دِن یقیناً آئے گا۔
EZE 30:10 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’مَیں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے ہاتھوں مِصر کے گِروہ کا خاتِمہ کر دُوں گا۔
EZE 30:11 اُسے اَور اُس کی فَوج کو جو نہایت ہی سنگدل قوم ہے۔ مُلک کو تباہ کرنے کے لیٔے مدعو کیا جائے گا۔ وہ مِصر پر تلوار چلائیں گے اَور مُلک کو مقتولوں سے بھر دیں گے۔
EZE 30:12 میں دریائے نیل کے چشموں کو خشک کر دُوں گا اَور مُلک کو بدکاروں کے ہاتھ فروخت کر دُوں گا؛ یُوں مُلک اَور اُس کے اَندر کی ہر شَے کو پردیسیوں کے ہاتھ تباہ کر دُوں گا۔ میں یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے۔
EZE 30:13 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’میں میمفِسؔ نُوفؔ کے بُتوں کو برباد کر دُوں گا اَور اُس کی مورتیوں کو تباہ کر دُوں گا۔ اَب مِصر میں کبھی کویٔی شہزادہ برپا نہ ہوگا، اَور مَیں تمام مُلک میں خوف کا ماحول پیدا کروں گا۔
EZE 30:14 میں فتروس کو اُجاڑ دُوں گا؛ ضعنؔ کو آگ لگا دُوں گا اَور تھیبیس کو سزا دُوں گا۔
EZE 30:15 مَیں مِصر کے مضبُوط قلعہ پلوسیئم پر اَپنا قہر نازل کروں گا، اَور تھیبیس کے گِروہ کا خاتِمہ کر دُوں گا۔
EZE 30:16 مَیں مِصر کو آگ لگا دُوں گا؛ اَور پلوسیئم درد میں تڑپے گا۔ اَور تھیبیس دَم بھر میں تسخیر کر لیا جائے گا؛ اَور میمفِسؔ مُستقِل بےچینی میں ہوگا۔
EZE 30:17 اَونؔ اَور فی بِستؔ کے نوجوان مَرد تلوار سے مارے جایٔیں گے۔ اَور خُود شہر (کے لوگ) اسیری میں چلے جایٔیں گے۔
EZE 30:18 جَب مَیں مِصر کا جُوا توڑوں گا تَب وہ تحفنحِیسؔ کے لیٔے نہایت تاریک دِن ہوگا؛ اَور وہاں اُس کی قُوّت جِس پر اُسے فخر ہے ختم ہو جائے گی۔ اُس پر گھٹا چھا جائے گی، اَور اُس کے دیہات اسیر ہو جایٔیں گے۔
EZE 30:19 اِس طرح میں مِصریوں کو سزا دُوں گا، اَور وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EZE 30:20 گیارھویں سال کے پہلے مہینے کے ساتویں دِن یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 30:21 ”اَے آدمؔ زاد، مَیں نے شاہِ مِصر فَرعوہؔ کا بازو توڑ دیا ہے۔ اُسے نہ تو باندھا گیا تاکہ تندرست ہو جائے، نہ ہی لکڑی کی پٹّی کا سہارا دے کر لپیٹا گیا تاکہ اُس میں اِس قدر مضبُوطی آ جائے کہ تلوار پکڑ سکے۔
EZE 30:22 چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں شاہِ مِصر فَرعوہؔ کے خِلاف ہُوں اَور مَیں اُس کے دونوں بازو توڑ دُوں گا، جو تندرست ہے اُسے بھی اَورجو ٹوٹ چُکاہے اُسے بھی۔ اَور تلوار اُس کے ہاتھ سے گرا دوں گا۔
EZE 30:23 میں مِصریوں کو مُختلف قوموں میں مُنتشر کر دُوں گا اَور اُنہیں مُختلف ممالک میں بِکھیر دُوں گا۔
EZE 30:24 میں شاہِ بابیل کے بازوؤں کو تقویّت بخشوں گا اَور اَپنی تلوار اُس کے ہاتھ میں تھما دُوں گا لیکن مَیں فَرعوہؔ کے بازوؤں کو توڑ دُوں گا اَور وہ اُس کے سامنے ایک سخت زخمی شخص جَیسے موت کے لئے کراہاتا ہے۔
EZE 30:25 میں شاہِ بابیل کے بازوؤں کو مضبُوط کروں گا لیکن فَرعوہؔ کے بازو ڈھیلے پڑ جایٔیں گے۔ جَب مَیں اَپنی تلوار شاہِ بابیل کے ہاتھ میں دُوں گا اَور وہ اُسے مِصریوں کے خِلاف اُٹھائے گا تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 30:26 میں مِصریوں کو مُختلف قوموں میں مُنتشر کر دُوں گا اَور اُنہیں مُختلف ممالک میں بِکھیر دُوں گا۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔“
EZE 31:1 گیارھویں سال کے تیسرے مہینے کے پہلے دِن یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 31:2 ”اَے آدمؔ زاد، شاہِ مِصر فَرعوہؔ سے اَور اُس کے گِروہ سے کہہ: ” ’تمہاری شان و شوکت کا کس سے موازنہ کیا جائے؟
EZE 31:3 اشُور پر غور کرجو کسی زمانہ میں لبانونؔ کا دیودار تھا، جِس کی خُوبصورت شاخیں جنگل میں گھنا سایہ کئے ہُوئے تھیں؛ وہ نہایت اُونچا درخت تھا، اَور اُس کی چوٹی گھنی اَور ہری بھری شاخوں سے اُوپر نکلی ہُوئی تھی۔
EZE 31:4 پانی سے اُس کی نشو نُما ہُوئی، اَور گہرے چشموں نے اُسے بُلند قامت بنا دیا؛ اَور اُس کی ندیاں اُس کے دامن کے اِردگرد بہتی تھیں اُس نے اَپنی نہریں جنگل کے تمام درختوں تک پہُنچا دیں۔
EZE 31:5 اِس لیٔے اُس کا قد جنگل کے تمام درختوں سے اُونچا ہو گیا؛ اُس کی ٹہنیاں بڑھتی گئیں اَور کثرتِ آب سے اُس کی شاخیں لمبی ہوکر پھیلتی گئیں۔
EZE 31:6 ہَوا کے پرندوں نے اُس کی ٹہنیوں پر گھونسلے بنائے تھے، اَور جنگل کے درندے اُس کی شاخوں کے نیچے بچّے جنتے تھے؛ اَور بڑی بڑی قومیں اُس کے سایہ میں بستی تھیں۔
EZE 31:7 وہ اَپنی پھیلی ہُوئی ٹہنیوں کے باعث، خُوبصُورتی میں دلکش تھا، کیونکہ اُس کی جڑیں گہرائی میں کافی پانی تک جا پہُنچی تھیں۔
EZE 31:8 خُدا کے باغ کے دیودار بھی اُس کا مُقابلہ نہ کر سکے، نہ ہی صنوبر کے درخت اُس کی ٹہنیوں کی برابری کر سکے، نہ چُنار کے درخت اُس کی شاخوں کا مُقابلہ کر سکے۔ الغرض خُدا کے باغ کا کویٔی درخت خُوبصُورتی میں اُس کا ثانی نہ تھا۔
EZE 31:9 مَیں نے اُسے شاخوں کی کثرت سے خُوبصورت بنا دیا، یہاں تک کہ عدنؔ کے تمام درخت جو خُدا کے باغ میں تھے اُس پر رشک کرتے تھے۔
EZE 31:10 ” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: چونکہ عظیم دیودار اِس قدر بُلند قامت بنا اَور اُس نے اَپنا سَر گھنے پتّوں میں سے اُونچا اُٹھایا اَور اَپنی بُلندی پر فخر کرنے لگا،
EZE 31:11 اِس لیٔے مَیں نے اُسے قوموں کے حُکمران کے حوالہ کیا تاکہ وہ اُسے اَپنی شرارت کا مُناسب صِلہ دے اَور مَیں نے اُسے الگ کر دیا۔
EZE 31:12 اَور نہایت سنگدل پردیسی قوموں نے اُسے کاٹ کر رکھ دیا۔ اُس کی ٹہنیاں پہاڑوں پر اَور تمام کھائیوں میں گرگئیں۔ اَور اُس کی شاخیں ٹوٹ کر مُلک کے تمام نالوں میں بِکھر گئیں۔ اَور رُوئے زمین کی تمام قومیں اُس کے سایہ سے نکل کر اُسے چھوڑکر چلی گئیں۔
EZE 31:13 ہَوا کے تمام پرندوں نے اُس کے ٹُوٹے ہُوئے تنے پر بسیرا کیا اَور کھیت کے جنگلی جانوروں نے اُس کی شاخوں میں قِیام کیا۔
EZE 31:14 اِس لیٔے پانی کے کنارے کے درختوں میں سے کویٔی درخت کبھی بھی اَپنا سَر گھنی ٹہنیوں سے اُوپر اُٹھاکر اَپنی بُلندی پر فخر نہ کرے۔ اَور درخت جو اِس قدر سیراب ہُوں، کبھی اِتنے بُلند نہ ہوں کیونکہ وہ سَب موت کے لئے مُقرّر کئےگئے تاکہ وہ گڑھے میں جانے والے لوگوں کے ساتھ زمین کے نیچے جا ملیں۔
EZE 31:15 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: جِس دِن اُسے مرنے والوں کے دائرے میں اُتارا گیا، مَیں نے اُس کی خاطِر گہرے چشموں کو تُم سے ڈھانک دیا، اُس کی دریاؤں کو روکے رکھا اَور اُن کے سیلاب کو تھام لیا۔ اِس وجہ سے مَیں نے لبانونؔ پر اُداسی طاری کی اَور کھیتوں کے تمام درخت مُرجھا گیٔے۔
EZE 31:16 جَب مَیں نے اُسے گڑھے میں جانے والوں کے ساتھ قبر میں ڈالا تو اُس کے گرنے کے شور سے مَیں نے قوموں کو لرزا دیا۔ تَب عدنؔ کے تمام درختوں نے یعنی لبانونؔ کے چیدہ اَور بہترین درختوں نے جو پانی کی فراوانی کے علاقوں میں تھے، زمین کے نیچے تسلّی پائی۔
EZE 31:17 وہ بھی، اُس عظیم دیودار کے مانند، جو سایہ میں بستے تھے اَورجو مُختلف قوموں میں اُس کے رفیق تھے وہ بھی اُس کے ساتھ قبر میں چلے گیٔے اَور اُن سے مِل گیٔے جو تلوار سے مارے گیٔے تھے۔
EZE 31:18 ” ’شان و شوکت اَور عظمت و جلال میں عدنؔ کے کِن درختوں کا تیرے ساتھ موازنہ کیا جا سَکتا ہے؟ لیکن تُو بھی عدنؔ کے اَور درختوں کے ساتھ زمین میں اُتارا جائے گا اَور وہاں تُو تلوار سے مارے ہُوئے نامختونوں کے ساتھ پڑا رہے گا۔ ” ’یہی فَرعوہؔ اَور اُس کے تمام گِروہ کا اَنجام ہے۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔‘ “
EZE 32:1 بارہویں سال کے، بارہویں مہینے کے پہلے دِن، یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 32:2 ”اَے آدمؔ زاد، شاہِ مِصر فَرعوہؔ کا نوحہ تیّار کر اَور اُس سے کہہ: ” ’تُو مُختلف قوموں کے درمیان شیرببر کی مانند گردانا جاتا ہے، لیکن تُو محض سمُندر میں کے گھڑیال کی مانند ہے، جو اَپنی دریاؤں میں غوطے مارتا ہے اَور اُن کے پانی کو پاؤں سے متحّرک کرکے اُن میں جھاگ پیدا کرتا ہے اَور اُن کی دریاؤں کو گدلا کر دیتاہے۔
EZE 32:3 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’مَیں لوگوں کی ایک بڑے مجمع کے ساتھ تُجھ پر اَپنا جال پھیلاؤں گا اَور وہ تُجھے میرے ہی جال میں کھینچ لیں گے۔
EZE 32:4 مَیں تُجھے زمین پر پھینک دُوں گا اَور تُجھے کھُلے میدان میں پٹک دُوں گا۔ اَور ہَوا کے تمام پرندوں کو تُجھ پر بسیرا کرنے دُوں گا اَور زمین کے تمام درندے سیر ہونے تک تُجھے نگلتے رہیں گے۔
EZE 32:5 مَیں تیرا گوشت پہاڑوں پر پھیلا دُوں گا اَور تیرے باقی اَعضا سے وادیوں کو بھر دُوں گا۔
EZE 32:6 مَیں زمین کو پہاڑوں تک تیرے بہتے ہُوئے خُون سے سینچوں گا اَور کھائیوں تیرے خُون آلُودہ گوشت سے بھر دئیے جایٔیں گے۔
EZE 32:7 جَب مَیں تُجھے مٹاؤں گا اُس وقت مَیں آسمان پر پردہ ڈال دُوں گا اَور اُس کے سِتاروں کو بے نُور کر دُوں گا؛ میں آفتاب کو بادلوں سے چھُپا لُوں گا، اَور چاند اَپنی رَوشنی نہ دے گا۔
EZE 32:8 اَور مَیں تمام نُورانی اجرامِ فلکی کو تُجھ پر تاریک کر دُوں گا؛ اَور تیرے مُلک کو تاریکی سے ڈھانپ دُوں گا، یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 32:9 جَب مَیں مُختلف قوموں کے درمیان اَور اُن مُلکوں میں جو تیرے لیٔے اجنبی ہیں تُجھے تباہ کر ڈالُوں گا، تَب میں کیٔی قوموں کے دِلوں کو مُضطرب کر دُوں گا۔
EZE 32:10 میں کیٔی قوموں کو تیری وجہ سے حیرت زدہ کر دُوں گا، اَور جَب مَیں اَپنی تلوار اُن کے سامنے گھُماؤں گا تَب اُن کے بادشاہ تیرے باعث خوف سے کانپ اُٹھیں گے۔ تیرے زوال کے دِن اُن میں سے ہر ایک اَپنی اَپنی جان بچانے کے لیٔے ہرپل کانپتا رہے گا۔
EZE 32:11 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’شاہِ بابیل کی تلوار تُجھ پر چلے گے۔
EZE 32:12 مَیں تیرے گِروہ کو اَیسے سنگدل لوگوں کی تلواروں سے گراؤں گا۔ جو تمام قوموں میں نہایت ہیبت ناک ہیں۔ وہ مِصر کے گھمنڈ کو چُورچُور کر دیں گے، اَور اُس کے تمام گِروہوں کو تباہ کر دیں گے۔
EZE 32:13 میں اُس کے تمام مویشیوں کو پانی کے ذخیروں کے پاس سے نابود کر دُوں گا تاکہ اِنسان کے قدم پھر کبھی اُن کے پانی کو متحّرک نہ کریں نہ مویشیوں کے کھُر اُسے گدلا کریں۔
EZE 32:14 تَب مَیں اُن کا پانی نتھرنے دُوں گا اَور اُس کی دریاؤں کو روغن کی مانند بہنے دُوں گا، یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 32:15 جَب مَیں مِصر کو ویران کر دُوں گا اَور مُلک کو ہر شَے سے خالی کر دُوں گا، اَور جَب مَیں اُس میں بسنے والوں کو ختم کر دُوں گا، تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘
EZE 32:16 ”اَور وہ اُس پر یہ نوحہ گائیں گے۔ مُختلف قوموں کی بیٹیاں بھی یہ نوحہ گائیں گی اَور مِصر اَور اُس کے گِروہ کا ماتم کریں گی۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔“
EZE 32:17 بارہویں سال کے مہینے کے پندرھویں دِن یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 32:18 ”اَے آدمؔ زاد، مِصر کے گِروہ کے لیٔے ماتم کر اَور اُسے اَور زورآور قوموں کی بیٹیوں کو گڑھے میں اُتر جانے والوں کے ساتھ زمین میں دفن کر دے۔
EZE 32:19 اُن سے کہہ، ’کیا تُم اَوروں سے زِیادہ مراعات یافتہ ہو؟ نیچے اُتر جاؤ اَور نامختونوں کے ساتھ پڑے رہو۔‘
EZE 32:20 وہ تلوار سے مارے ہوؤں کے درمیان گریں گے۔ تلوار کھینچی گئی ہے۔ اُسے اَپنی تمام گِروہ کے ساتھ گھسیٹ لیا جانے دو۔
EZE 32:21 طاقتور سربراہ قبر میں سے مِصر اَور اُس کے مددگاروں کے متعلّق کہیں گے: ’وہ پاتال میں اُترگئے اَور نامختونوں کے ساتھ پڑے ہُوئے ہیں جو تلوار سے مارے گیٔے ہیں۔‘
EZE 32:22 ”اشُور اَپنے تمام لشکر کے ساتھ وہاں ہے وہ اَپنے تمام مقتولوں کی قبروں سے گھِرا ہُواہے جو تلوار سے مارے گیٔے۔
EZE 32:23 اُن کی قبریں گہرے گڑھوں میں ہیں اَور اُس کی فَوج اُس کی قبر کے اِردگرد ہے۔ جِن لوگوں نے زندوں کے مُلک میں دہشت مچا رکھی تھی وہ اَب مَرے پڑے ہیں اَور سَب کے سَب تلوار کے شِکار ہُوئے ہیں۔
EZE 32:24 ”عیلامؔ وہاں ہے اَور اُس کی قبر کے اِردگرد اُس کا سارا گِروہ ہے۔ وہ سَب کے سَب تلوار سے مار گرائے گیٔے ہیں۔ جِن لوگوں نے زندوں کی سرزمین میں دہشت مچا رکھی تھی وہ سَب نامختون زمین کے نیچے چلے گیٔے۔ وہ گڑھے میں اُتر جانے والوں کے ساتھ رُسوا ہو گئے۔
EZE 32:25 اُس کے لیٔے مقتولوں کے درمیان بِستر لگایا گیا اَور اُس کے تمام لوگوں کا آخِری ٹھکانہ اُس کی قبر کے اِردگرد ہے۔ وہ سَب کے سَب نامختون ہیں جو تلوار سے مارے گیٔے۔ چونکہ اُن کی دہشت زندوں کی سرزمین میں پھیلی تھی اِس لیٔے وہ گڑھے میں اُترنے والوں کے ساتھ رُسوا ہو گئے اَور وہ مقتولوں کے درمیان رکھے گیٔے ہیں۔
EZE 32:26 ”میشکؔ اَور تُوبل وہاں ہیں اَور اُن کا سارا گِروہ اُن کی قبروں کے اِردگرد ہے۔ وہ سَب کے سَب نامختون ہیں جو تلوار سے مارے گیٔے ہیں کیونکہ اُنہُوں نے زندوں کی سرزمین میں دہشت مچائی ہُوئی تھی۔
EZE 32:27 کیا وہ دُوسرے نامختون سپاہیوں کے ساتھ نہیں پڑے ہُوئے ہیں جو مارے گیٔے اَور اَپنے اسلحہ جنگ کے ساتھ قبر میں چلے گیٔے اَور جِن کی تلواریں اُن کے سَروں کے نیچے رکھی گئی تھیں اَور اُن کے ڈھالیں اُن کی ہڈّیوں پر پڑی ہیں حالانکہ اُن سپاہیوں کی دہشت زندوں کی سرزمین میں پھیلی ہُوئی تھی۔
EZE 32:28 ”تُو بھی اَے فَرعوہؔ، توڑا جائے گا اَور اُن نامختونوں کے درمیان پڑا رہے گا جو تلوار سے مارے گیٔے ہیں۔
EZE 32:29 ”اِدُوم اَپنے بادشاہوں اَور اُمرا کے ساتھ وہاں ہے اَور اَپنی قُوّت کے باوُجُود اُن لوگوں کے بیچ رکھے گیٔے جو تلوار سے قتل ہُوئے۔ وہ اُن نامختونوں کے ساتھ پڑے ہُوئے ہیں جو گڑھے میں جاتے ہیں۔
EZE 32:30 ”شمال کے تمام اُمرا اَور تمام صیدونی وہاں ہیں۔ وہ اَپنی قُوّت سے دہشت پیدا کرنے کے باوُجُود رُسوا ہوکر اُن کے ساتھ گڑھے میں چلے گیٔے۔ وہ نامختونی کی حالت میں تلوار کے شِکار ہونے والوں کے ساتھ پڑے ہیں اَور گڑھے میں اُترنے والوں کے ساتھ رُسوا ہُوئے۔
EZE 32:31 ”فَرعوہؔ اَور اُس کا تمام لشکر اَپنے تمام گِروہ کو جو تلوار سے قتل ہُوئے دیکھ کر تسلّی پایٔےگا۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 32:32 حالانکہ مَیں نے اُسے زندوں کی سرزمین میں دہشت پھیلانے دی، پھر بھی فَرعوہؔ اَپنے تمام گِروہ کے ساتھ اُن نامختونوں کے درمیان پڑا رہے گا جو تلوار سے مارے گیٔے۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔“
EZE 33:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 33:2 ”اَے آدمؔ زاد، اَپنے ہم وطن لوگوں سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے کہہ: ’جَب مَیں کسی مُلک پر تلوار چلاؤں اَور اُس مُلک کے لوگ اَپنے کسی شخص کو چُن کر اُسے اَپنا نگہبان مُقرّر کریں،
EZE 33:3 اَور وہ مُلک کی طرف بڑھتی ہُوئی تلوار کو دیکھ کر لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیٔے نرسنگا پھُونکے،
EZE 33:4 تَب اگر کویٔی نرسنگے کی آواز سُن کر مُتنبّہ نہ ہو اَور تلوار آکر اُس کی جان لے لے، تو اُس کا خُون خُود اُس کے سَر پر ہوگا۔
EZE 33:5 چونکہ اُس نے نرسنگے کی آواز سُنی تھی لیکن احتیاط نہ برتی اِس لیٔے اُس کا خُون اُسی کے سَر پر ہوگا۔ اگر وہ احتیاط برتتا تو اَپنی جان بچا لیتا۔
EZE 33:6 لیکن اگر نگہبان تلوار کو آتے دیکھے اَور لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیٔے نرسنگا نہ پھُونکے اَور تلوار آکر اُن میں سے کسی کی جان لے لے تو وہ شخص اَپنے گُناہ کے باعث اَپنی جان کھو بیٹھے گا لیکن مَیں نگہبان کو اُس کے خُون کا ذمّہ دار ٹھہراؤں گا۔‘
EZE 33:7 ”اَے آدمؔ زاد، مَیں نے تُجھے بنی اِسرائیل کا نگہبان مُقرّر کیا ہے اِس لیٔے میرا کلام سُن اَور میری جانِب سے اُنہیں آگاہ کر۔
EZE 33:8 جَب مَیں کسی بدکار سے کہتا ہُوں، ’اَے بدکار اِنسان، تُو یقیناً مَر جائے گا،‘ اَور اگر تُو اُسے یہ نہ جتائے تاکہ وہ اَپنی روِش سے باز آئے، تو وہ بدکار اِنسان اَپنے گُناہ کے باعث مَر جائے گا اَور مَیں تُجھے اُس کے خُون کا ذمّہ دار ٹھہراؤں گا۔
EZE 33:9 لیکن اگر تُو اُس بدکار کو مُتنبّہ کرے کہ وہ اَپنی روِش سے باز آئے اَور وہ اَیسا نہ کرے تو وہ اَپنے گُناہ کے باعث مَر جائے گا لیکن تُو اَپنی جان بچالے گا۔
EZE 33:10 ”اَے آدمؔ زاد، ’بنی اِسرائیل سے کہہ کہ تُم یہ کہہ رہے ہو: ”ہماری خطاؤں اَور گُناہ کا بوجھ ہم پر لدا ہُواہے اَور ہم اُن کی وجہ سے گھُلتے جا رہے ہیں، پس ہم کیسے جئیں؟“ ‘
EZE 33:11 اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں: مُجھے اَپنی حیات کی قَسم، بدکار کی موت سے مُجھے بالکُل خُوشی نہیں ہوتی بَلکہ اُس سے کہ وہ اَپنی روِشوں سے باز آئیں اَور جئیں۔ باز آؤ! اَپنی بُری روِشوں سے باز آؤ! اَے بنی اِسرائیل، تُم کیوں مروگے؟‘
EZE 33:12 ”اِس لیٔے اَے آدمؔ زاد، اَپنے ہم وطن لوگوں سے کہہ: ’اگر صادق خطاکاری کرے تو اُس کی راستبازی اُسے نہ بچائے گی اَور اگر بدکار اَپنی شرارت سے باز آ جائے تو اُس کی شرارت اُس کے گرنے کا سبب نہ بنے گی۔ راستباز اِنسان اگر گُناہ کرے تو اُسے اَپنی پہلی راستبازی کی بنا پر جینے نہ دیا جائے گا۔‘
EZE 33:13 اگر مَیں کسی راستباز اِنسان سے کہہ دُوں کہ وہ یقیناً جئے گا لیکن جَب وہ اَپنی راستبازی پر اِعتماد رکھ کے بُرائی کر بیٹھے تو اُس کی راستبازی کا ہر کام فراموش کر دیا جائے گا اَور وہ اَپنی بدی کے باعث مَر جائے گا۔
EZE 33:14 اَور اگر مَیں کسی بدکار اِنسان سے کہُوں، ’تُو یقیناً مَر جائے گا،‘ لیکن بعد میں وہ اَپنے گُناہ سے باز آکر اَیسے کام کرے جو جائز اَور روا ہیں۔
EZE 33:15 یعنی اگر وہ قرض کے عوض رہن رکھی ہُوئی شَے لَوٹا دیتاہے، چُرائی ہُوئی چیز واپس کر دیتاہے اَور اُن آئین پر عَمل کرتا ہے جو زندگی بخشتے ہیں اَور کویٔی بدی نہیں کرتا تو وہ یقیناً جئے گا۔ وہ نہیں مَرے گا۔
EZE 33:16 جو گُناہ اُس سے سرزد ہُوئے ہیں وہ اُس کے خِلاف محسوب نہ ہوں گے۔ چونکہ اُس نے جائز اَور روا کام کئے اِس لیٔے وہ یقیناً جئے گا۔
EZE 33:17 ”پھر بھی تیرے ہم وطن کہتے ہیں: ’یَاہوِہ کا رویّہ راست نہیں ہے۔‘ حالانکہ خُود اُن کی روِش غلط ہے۔
EZE 33:18 اگر ایک راستباز شخص اَپنی راستبازی ترک کرکے بدی پر اُتر آئے تو وہ اُس کے سبب سے مَر جائے گا۔
EZE 33:19 اَور اگر ایک بدکار اِنسان اَپنی بدی سے باز آکر اَور اَیسے کام کرے جو جائز اَور روا ہیں تو وہ اَیسا کرنے کی وجہ سے جئے گا۔
EZE 33:20 پھر بھی اَے بنی اِسرائیل، ’تُم کہتے ہو کہ خُداوؔند کا رویّہ راست نہیں ہے۔‘ لیکن مَیں تُم میں سے ہر ایک کا اُس کی اَپنی روِش کے مُطابق اِنصاف کروں گا۔“
EZE 33:21 ہماری جَلاوطنی کے بارہویں سال کے دسویں مہینے کے پانچویں دِن ایک شخص جو یروشلیمؔ سے بھاگ کر بچ نِکلا تھا میرے پاس آیا، ”اَور کہنے لگا شہر پر قبضہ ہو گیا!“
EZE 33:22 اُس شخص کی آمد سے ایک شام قبل یَاہوِہ کا ہاتھ مُجھ پر تھا اَور صُبح کو اُس شخص کے میرے پاس آنے سے قبل یَاہوِہ نے میرا مُنہ کھول دیا تھا۔ اُس طرح میری زبان کھُل گئی اَور مَیں گُونگا نہ رہا۔
EZE 33:23 پھر یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 33:24 ”اَے آدمؔ زاد، اِسرائیل کے مُلک کے اُن کھنڈروں میں بسنے والے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اَبراہامؔ اکیلا تھا، پھر بھی وہ مُلک کا وارِث ہُوا اَور ہم لاتعداد ہیں اِس لیٔے یقیناً مُلک ہمیں مِیراث میں دیا گیا ہے۔
EZE 33:25 اِس لیٔے اُن سے کہہ، یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: چونکہ تُم لہُو سمیت گوشت کھاتے ہو اَور بُتوں کی طرف نگاہ اُٹھاتے ہو اَور خُون بہاتے ہو، پھر کیا تُم اُس مُلک کے وارِث ہوگے؟
EZE 33:26 تُم اَپنی اَپنی تلوار پر بھروسا کرتے ہو اَور قابل نفرت کام کرتے ہو اَور تُم میں سے ہر ایک اَپنے ہمسایہ کی بیوی کی بےحُرمتی کرتا ہے، پھر کیا تُم اُس مُلک کے وارِث ہوگے؟
EZE 33:27 ”اُن سے کہہ کہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ’مُجھے اَپنی حیات کی قَسم، جو اُن کھنڈروں میں رہتے ہیں وہ تلوار سے مارے جایٔیں گے اَورجو کھُلے میدان میں رہتے ہیں اُنہیں میں جنگلی جانوروں کی خُوراک بنا دُوں گا اَورجو قلعوں اَور غاروں میں ہیں وہ وَبا سے مَر جایٔیں گے۔
EZE 33:28 میں مُلک کو اُجاڑ دُوں گا اَور اُس کی قُوّت کا غُرور جاتا رہے گا اَور اِسرائیل کے پہاڑ اَیسے ویران ہو جایٔیں گے کہ اُن پر سے ہوکر کویٔی نہ گزرے گا۔
EZE 33:29 اُن کی تمام قابل نفرت حرکتوں کے باعث جَب مَیں مُلک کو اُجاڑ دُوں گا تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘
EZE 33:30 ”اَے آدمؔ زاد، جہاں تک تیرا تعلّق ہے، تیرے ہم وطن لوگ دیواروں کے پاس اَور مکانوں کے دروازوں میں تیرے متعلّق باتیں کرتے ہیں اَور ایک دُوسرے سے کہتے ہیں، ’آؤ اَور یَاہوِہ کی طرف سے نازل شُدہ پیغام کو سُنو۔‘
EZE 33:31 میری قوم کے لوگ ہمیشہ کی طرح تیرے پاس آتے ہیں اَور تیرے سامنے تیری باتیں سُننے کے لیٔے بیٹھتے ہیں لیکن وہ اُن پر عَمل نہیں کرتے۔ اَپنے مُنہ سے تو وہ بہت اِحترام جتاتے ہیں لیکن اُن کے دِل ناجائز منافع کے لالچی ہیں۔
EZE 33:32 تُو اُن کے لیٔے اُس شخص سے بڑھ کر نہیں جو نہایت سریلی آواز میں غزلیں گاتا ہو اَور ساز بجانے میں مہارت رکھتا ہو کیونکہ وہ تیرے الفاظ سُنتے تو ہیں لیکن اُن پر عَمل نہیں کرتے۔
EZE 33:33 ”جَب یہ سَب وقوع میں آئے گا اَور یقیناً یُوں ہی ہوگا تَب وہ جان لیں گے کہ اُن کے درمیان ایک نبی برپا ہُوا تھا۔“
EZE 34:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 34:2 ”اَے آدمؔ زاد، اِسرائیل کے چرواہوں کے خِلاف نبُوّت کر، نبُوّت کر اَور اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: افسوس اِسرائیل کے اُن چرواہوں پرجو صِرف اَپنی فکر کرتے ہیں! کیا یہ مُناسب ہے کہ چرواہے گلّہ کی فکر نہ کریں؟
EZE 34:3 تُم مکھّن کھاتے ہو، اُونی لباس پہنتے ہو اَور فربہ بھیڑوں کو ذبح کرتے ہو لیکن تُم گلّہ کی پروا نہیں کرتے۔
EZE 34:4 تُم نے کمزوروں کو توانا نہیں کیا، نہ بیماریوں کو شفا بخشی، نہ ہی گھایلوں کے گھاؤ باندھے، نہ بھٹک جانے والوں کو واپس لایٔے، اَور نہ تُم نے گُم شُدہ کی جُستُجو کی۔ تُم نے اُن سے نہایت سختی اَور بے رحمی کا سلُوک کیا۔
EZE 34:5 اِس لیٔے وہ چرواہے کی عدم مَوجُودگی میں تِتّر بِتّر ہو گئیں اَور جَب وہ پراگندہ ہو گئیں تو وہ تمام جنگلی جانوروں کی خُوراک بَن گئیں۔
EZE 34:6 میری بھیڑیں تمام پہاڑوں پر اَور ہر اُونچے ٹیلے پر بھٹکتی پھریں۔ وہ تمام رُوئے زمین پر تِتّر بِتّر ہو گئیں اَور کسی نے اُنہیں نہ ڈھونڈا اَور نہ تلاش کیا۔
EZE 34:7 ” ’اِس لیٔے اَے چرواہو! یَاہوِہ کا کلام سُنو یَاہوِہ خُدا فرماتے ہیں:
EZE 34:8 یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں مُجھے اَپنی حیات کی قَسم، چونکہ میرے گلّہ کا کویٔی چرواہا نہیں اِس لیٔے وہ لُوٹا گیا اَور تمام جنگلی جانوروں کی خُوراک بَن گیا اَور چونکہ میرے چرواہوں نے میرے گلّہ کو نہیں ڈھونڈا اَور میرے گلّہ کی فکر کرنے کی بجائے صِرف اَپنی فکر کی۔
EZE 34:9 اِس لیٔے اَے چرواہو، یَاہوِہ کا کلام سُنو:
EZE 34:10 یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں چرواہوں کے خِلاف ہُوں اَور اُنہیں اَپنے گلّہ کی تباہی کا ذمّہ دار ٹھہراؤں گا۔ میں اُنہیں گلّہ بانی سے معزول کر دُوں گا تاکہ چرواہے آئندہ اَپنا ہی پیٹ نہ بھریں۔ میں اَپنے گلّہ کو اُن کے مُنہ سے چھُڑا لُوں گا تاکہ آئندہ وہ اُن کے لیٔے خُوراک نہ بنے۔
EZE 34:11 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ میں خُود اَپنی بھیڑوں کی تلاش کروں گا اَور اُن کی گلّہ بانی کروں گا۔
EZE 34:12 جِس طرح ایک چرواہا جَب وہ اَپنے گلّہ کے ساتھ ہوتاہے اَپنی پراگندہ بھیڑوں کی پاسبانی کرتا ہے اِسی طرح میں اَپنی بھیڑوں کی پاسبانی کروں گا۔ میں اُنہیں اُن تمام جگہوں سے چھُڑا لاؤں گا جہاں وہ ابر اَور تاریکی کے دِن تِتّر بِتّر ہو گئی تھیں۔
EZE 34:13 میں اُنہیں مُختلف قوموں میں سے لے آؤں گا اَور مُختلف مُلکوں میں سے جمع کروں گا اَور مَیں اُنہیں اُن کے اَپنے مُلک میں واپس لاؤں گا۔ میں اُنہیں اِسرائیل کے پہاڑوں پر اَور کھائیوں کے کنارے اَور مُلک کی تمام بستیوں میں چراؤں گا۔
EZE 34:14 میں اُنہیں اَچھّی چراگاہ میں چراؤں گا اَور اِسرائیل کی پہاڑیوں کو اُن کی آرامگاہ بنا دُوں گا۔ وہاں وہ بہترین چراگاہوں میں بیٹھا کریں گی اَور چارہ وغیرہ کھایا کریں گی۔
EZE 34:15 میں خُود اَپنی بھیڑوں کو چراؤں گا اَور اُنہیں بِٹھاؤں گا۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 34:16 میں کھویٔے ہوؤں کو تلاش کروں گا اَور بھٹکے ہوؤں کو واپس لاؤں گا۔ میں زخمیوں کی مرہم پٹّی کروں گا اَور کمزوروں کو تقویّت بخشوں گا لیکن موٹوں اَور طاقتوروں کو ختم کر دُوں گا۔ میں اِنصاف کے ساتھ گلّہ کی پاسبانی کروں گا،
EZE 34:17 ” ’اَے میرے گلّہ کی بھیڑو! جہاں تک تمہارا تعلّق ہے یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مَیں بھیڑ اَور بھیڑ کے درمیان اَور مینڈھوں اَور بکروں کے درمیان اِنصاف کروں گا۔
EZE 34:18 کیا تمہارے لیٔے اِتنا کافی نہیں کہ اَچھّی چراگاہ میں چَر لو؟ کیا یہ ضروُری ہے کہ تُم اَپنی باقی چراگاہوں کو اَپنے پاؤں سے روندو؟ کیا تمہارے لیٔے یہ کافی نہیں کہ صَاف پانی پی لو۔ کیا یہ ضروُری ہے کہ تُم باقی بچے پانی کو اَپنے پاؤں سے گدلا کر دو؟
EZE 34:19 کیا میرا گلّہ وُہی کھائے جسے تُم نے روندا اَور وُہی پیئے جسے تُم نے اَپنے پاؤں سے گدلا کیا؟
EZE 34:20 ” ’اِس لیٔے یَاہوِہ قادر اُن سے یہ فرماتے ہیں کہ دیکھو، مَیں خُود فربہ اَور دبلی بھیڑ کے درمیان فیصلہ کروں گا۔
EZE 34:21 چونکہ تُم پہلو اَور کندھے سے دھکیلتے ہو اَور تمام کمزور بھیڑوں کو اَپنے سینگوں سے مارتے ہو یہاں تک کہ تُم اُنہیں تِتّر بِتّر کر دیتے ہو،
EZE 34:22 مَیں اَپنے گلّہ کو بچا لُوں گا اَور اَب وہ پھر کبھی لُوٹے نہ جایٔیں گے۔ مَیں بھیڑ اَور بھیڑ کے بیچ اِنصاف کروں گا۔
EZE 34:23 مَیں اَپنے خادِم داویؔد کو اُن کے اُوپر چرواہا مُقرّر کروں گا جو اُن کی پاسبانی کرےگا۔ وہ اُن کی پاسبانی کرتے ہُوئے اَور اُن کا چرواہا ہوگا۔
EZE 34:24 میں یَاہوِہ اُن کا خُدا ہُوں گا اَور میرا خادِم داویؔد اُن کے درمیان حُکمران ہوگا۔ میں یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے۔
EZE 34:25 ” ’مَیں اُن کے ساتھ عہدِ اَمن باندھوں گا اَور مُلک کو جنگلی جانوروں سے خالی کر دُوں گا تاکہ وہ بیابان میں رہ سکیں اَور جنگلوں میں سلامتی سے سو سکیں۔
EZE 34:26 میں اُنہیں اَور اَپنی پہاڑی کے آس پاس کے علاقہ کو برکت دُوں گا۔ میں عَین موسم میں مینہ برساؤں گا اَور برکت کی بارش ہوگی۔
EZE 34:27 کھیتوں کے درختوں میں پھل لگیں گے اَور زمین اَپنی فصلیں اُگائے گی اَور لوگ اَپنے مُلک میں محفوظ رہیں گے۔ جَب مَیں اُن کے جُوئے کے بندھن توڑ دُوں گا اَور اُنہیں اُن لوگوں کے ہاتھوں سے چھُڑا لُوں گا جنہوں نے اُنہیں غُلام بنا لیا تھا، تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 34:28 وہ پھر کبھی قوموں کے ہاتھوں نہ لُوٹے جایٔیں گے، نہ ہی جنگلی جانور اُنہیں کھانے پائیں گے۔ وہ سلامتی سے رہیں گے اَور کویٔی اُنہیں نہیں ڈرائے گا۔
EZE 34:29 میں اُنہیں اَیسی زمین بخشوں گا جو اَپنی فصل کے لیٔے مشہُور ہے اَور وہ پھر کبھی اَپنے مُلک میں قحط کا شِکار نہ ہوں گے اَور نہ قوموں کی طَعنہ زنی کا نِشانہ بنیں گے۔
EZE 34:30 تَب وہ جان لیں گے کہ میں، یَاہوِہ اُن کا خُدا، اُن کے ساتھ ہُوں اَور وہ، بنی اِسرائیل، میرے لوگ ہیں۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 34:31 اَور تُم، اَے میری بھیڑو، میری چراگاہ کی بھیڑو، میرے لوگ ہو اَور مَیں تمہارا خُدا ہُوں۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔‘ “
EZE 35:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 35:2 ”اَے آدمؔ زاد، اَپنا رُخ سِعِیؔر پہاڑ کی طرف کرکے اُس کے خِلاف نبُوّت کر:
EZE 35:3 اَور کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَے کوہِ سِعِیؔر، مَیں تیرا مُخالف ہُوں۔ مَیں اَپنا ہاتھ تیرے خِلاف بڑھا کر تُجھے اُجاڑ کر رکھ دُوں گا۔
EZE 35:4 مَیں تیرے شہروں کو کھنڈر بنا دُوں گا اَور تُو ویران ہو جائے گا۔ تَب تُو جان لے گا کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 35:5 ” ’کیونکہ تُجھے بنی اِسرائیل سے قدیم عداوت تھی اَور تُونے اُن کے مُصیبت کے ایّام میں جَب کہ اُن کی سزا اِنتہا کو پہُنچ چُکی تھی، اُنہیں تلوار کے حوالہ کیا۔
EZE 35:6 اِس لیٔے یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں، مُجھے میری حیات کی قَسم، مَیں تُجھے خُونریزی کے حوالہ کر دُوں گا اَور وہ تیرا تعاقب کرےگی۔ چونکہ تُونے خُونریزی سے نفرت نہیں کی اِس لیٔے وہ تیرا تعاقب کرتی رہے گی۔
EZE 35:7 میں کوہِ سِعِیؔر کو اُجاڑ کر رکھ دُوں گا اَور وہاں آنے اَور جانے والوں کا سلسلہ ختم کر دُوں گا۔
EZE 35:8 مَیں تیرے پہاڑوں کو مقتولوں سے بھر دُوں گا اَور تلوار سے قتل کئے ہُوئے تیرے ٹیلوں، وادیوں اَور تمام دریاؤں میں گریں گے۔
EZE 35:9 مَیں تُجھے ہمیشہ کے لیٔے ویران کر دُوں گا اَور تیرے شہر پھر کبھی آباد نہ ہونے پائیں گے۔ تَب تُو جان لے گا کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 35:10 ” ’کیونکہ مَیں یَاہوِہ کے وہاں مَوجُود ہونے کے باوُجُود بھی تُونے کہا ہے، ”یہ دو قومیں اَور مُلک ہمارے ہو جایٔیں گے،“ اَور ہم اُن پر قبضہ کر لیں گے۔
EZE 35:11 اِس لیٔے یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں، مُجھے اَپنی حیات کی قَسم کہ جو قہر اَور حَسد تُونے اَپنی نفرت میں اُن کے خِلاف جتایا اِسی کے مُطابق مَیں تُجھ سے سلُوک کروں گا۔ اَور جَب مَیں تیرا اِنصاف کروں گا تَب میں اَپنے آپ کو اُن کے درمیان ظاہر کروں گا۔
EZE 35:12 تَب تُو جان لے گا کہ مَیں یَاہوِہ نے اُن تمام حقارت آمیز باتوں کو سُن لیا ہے جو تُونے اِسرائیل کے پہاڑوں کے خِلاف کہی ہیں۔ تُونے کہا، ”وہ برباد کر دیا گیا اَور اُنہیں کھانے کے لیے ہمارے حوالے کر دیا گیا ہے۔“
EZE 35:13 تُونے میرے خِلاف شیخی ماری اَور زبان درازی کی اَور مَیں نے اُسے سُن لیا ہے۔
EZE 35:14 چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ جَب ساری دُنیا خُوشیاں مناتی ہوگی تَب مَیں تُجھے اُجاڑ دُوں گا۔
EZE 35:15 چنانچہ جِس طرح بنی اِسرائیل کی مِیراث کی ویرانی پر تُونے خُوشی منائی اِسی طرح اَب مَیں تیرے ساتھ کروں گا۔ اَے کوہِ سِعِیؔر، اَب تُو ویران ہو جائے گا تُو اَور تمام اِدُوم بھی۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EZE 36:1 ”اَے آدمؔ زاد، اِسرائیل کے پہاڑوں سے نبُوّت کر اَور کہہ، ’اَے اِسرائیل کے پہاڑو! یَاہوِہ کا کلام سُنو۔
EZE 36:2 یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ دُشمن نے تمہارے متعلّق کہا، ”آہا! قدیم اُونچے مقامات اَب ہماری مِلکیّت بَن گیٔے۔“ ‘
EZE 36:3 اِس لیٔے نبُوّت کر اَور کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ چونکہ اُنہُوں نے تُمہیں اُجاڑ دیا اَور ہر طرف سے اَیسا دبوچا کہ تُم باقی بچی قوموں کی مِلکیّت اَور لوگوں کے لیٔے بکواس اَور افترا پردازی کا باعث بَن گیٔے۔
EZE 36:4 اِس لیٔے اَے اِسرائیل کے پہاڑو، یَاہوِہ قادر کا کلام سُنو: یَاہوِہ قادر سَب سے یُوں فرماتے ہیں، پہاڑوں اَور ٹیلوں، دریاؤں اَور کھائیوں، اُجڑے ہُوئے کھنڈروں اَور ویران شہروں سے جو تمہارے اِردگرد کی باقی بچی قوموں کے ذریعہ لُوٹ لیٔے گیٔے اَور تمسّخر کا نِشانہ بنے، یُوں فرماتے ہیں۔
EZE 36:5 یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مَیں نے اَپنی غیرت کے جوش میں بقیّہ قوموں اَور تمام اِدُوم کے خِلاف کہا ہے کیونکہ اُنہُوں نے اَپنے دِل کی پُوری شادمانی اَور قلبی عداوت سے میرے مُلک کو اَپنی مِلکیّت بنا لیا تاکہ وہ اُس کی چراگاہ کو لُوٹ لیں۔‘
EZE 36:6 چنانچہ اِسرائیل کی سرزمین کے متعلّق نبُوّت کر اَور پہاڑوں اَور ٹیلوں، کھائیوں اَور وادیوں سے کہہ: ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں اَپنے جوش اَور غیرت کا اِظہار کر رہا ہُوں کیونکہ تُم قوموں کی ملامت کا نِشانہ بنے ہو۔
EZE 36:7 چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں ہاتھ اُٹھاکر قَسم کھاتا ہُوں کہ تیرے اِردگرد کی قومیں بھی ملامت کا شِکار ہُوں گی۔
EZE 36:8 ” ’لیکن اَے اِسرائیل کے پہاڑو؛ تُم میری قوم اِسرائیل کے لیٔے شاخیں اَور پھل پیدا کروگے کیونکہ اُن کے واپس لَوٹنے کا وقت قریب آ گیا ہے۔
EZE 36:9 مُجھے تمہاری فکر ہے اَور میری نظرِکرم تُم پر رہے گی۔ تُمہیں جوتا اَور بویا جائے گا۔
EZE 36:10 اَور مَیں تُم پر بسنے والے لوگوں کی تعداد بڑھاؤں گا، یہاں تک کہ بنی اِسرائیل کے بھی شہر آباد کئے جایٔیں گے اَور کھنڈر دوبارہ تعمیر ہوں گے۔
EZE 36:11 میں تُم پر اِنسانوں اَور حَیوانوں کی تعداد بڑھاؤں گا اَور وہ پھلیں گے اَور اُن کی تعداد میں اِضافہ ہوگا۔ میں پہلے کی طرح تُم پر لوگوں کو بساؤں گا اَور تُمہیں پہلے سے زِیادہ خُوشحال کروں گا۔ تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 36:12 مَیں لوگوں کو بَلکہ خُود اَپنی اُمّت اِسرائیل کے لوگوں کو تُم پر چلنے پھرنے دُوں گا۔ وہ تمہارے مالک بَن جایٔیں گے اَور تُم اُن کی مِیراث ہوگے؛ اَور تُم پھر کبھی اُنہیں اَولاد سے محروم نہ کروگے۔
EZE 36:13 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ چونکہ لوگ تُجھ سے کہتے ہیں، ”تُو لوگوں کو کھا جاتی ہے اَور اَپنی قوم کو اَولاد سے محروم رکھتی ہے،“
EZE 36:14 اِس لیٔے تُو پھر کبھی لوگوں کو نہ کھائے گی یا اَپنی قوم کو بے اَولاد نہ کرےگی۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔
EZE 36:15 اَب مَیں تُجھ کو قوموں کے اَور طعنے سُننے کا موقع نہ دُوں گا اَور نہ لوگوں کی طرف سے تیری تحقیر ہی ہوگی اَور نہ تُو اَپنی قوم کی ٹھوکر کا باعث ہوگی۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔‘ “
EZE 36:16 پھر یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 36:17 ”اَے آدمؔ زاد، جَب بنی اِسرائیل خُود اَپنے مُلک میں بستے تھے تَب اُنہُوں نے اَپنے چال چلن اَور اُن کے کاموں سے اُسے ناپاک کر دیا تھا۔ اُن کی روِش میری نگاہ میں عورت کی ماہواری ناپاکی کی مانند تھی۔
EZE 36:18 اِس لیٔے مَیں نے اَپنا قہر اُن پر اُنڈیل دیا کیونکہ اُنہُوں نے مُلک میں خُون بہایا تھا اَور اُسے اَپنے بُتوں سے ناپاک کر دیا تھا۔
EZE 36:19 مَیں نے اُنہیں مُختلف قوموں میں مُنتشر کر دیا اَور وہ مُختلف ممالک میں پراگندہ ہو گئے۔ مَیں نے اُن کے چال چلن اَور اُن کے کاموں کے مُطابق اُن کا اِنصاف کیا۔
EZE 36:20 اَور وہ مُختلف قوموں میں جہاں کہیں گیٔے وہاں اُنہُوں نے میرے پاک نام کی بےحُرمتی کی، ’کیونکہ اُن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ یَاہوِہ کے لوگ ہیں۔ پھر بھی اُنہیں اُن کا مُلک چھوڑ دینا پڑا۔‘
EZE 36:21 لیکن مُجھے اَپنے پاک نام کے بارے میں افسوس ہُوا جسے بنی اِسرائیل نے جِس جِس قوم میں وہ گیٔے وہاں بےحُرمت کیا۔
EZE 36:22 ”اِس لیٔے بنی اِسرائیل سے کہہ کہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ’اَے بنی اِسرائیل، میں یہ سَب تمہاری خاطِر نہیں بَلکہ اَپنے پاک نام کی خاطِر کر رہا ہُوں جسے تُم نے اُن قوموں میں بےحُرمت کیا جہاں جہاں تُم گیٔے۔
EZE 36:23 میں اَپنے عظیم نام کی تقدیس کروں گا جسے قوموں کے درمیان ناپاک کیا گیا اَور جسے تُم نے اُن کے درمیان بےحُرمت کیا۔ جَب مَیں اُن کی نظروں میں تمہارے درمیان مُقدّس ٹھہروں گا تَب سَب قومیں جان لیں گی کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 36:24 ” ’میں تُمہیں مُختلف قوموں میں سے نکال لاؤں گا اَور تُمہیں مُختلف ممالک میں سے جمع کروں گا اَور تُمہیں تمہارے اَپنے مُلک میں واپس لاؤں گا۔
EZE 36:25 میں تُم پر پاک پانی چھڑکوں گا اَور تُم صَاف ہو جاؤگے۔ میں تُمہیں تمہاری تمام ناپاکی سے اَور تمہارے تمام بُتوں سے پاک کر دُوں گا۔
EZE 36:26 میں تُمہیں نیا دِل بخشوں گا اَور تمہارے اَندر نئی رُوح ڈال دُوں گا۔ میں تمہارا سنگین دِل نکال کر تُمہیں گوشینؔ دِل عطا کروں گا۔
EZE 36:27 اَور مَیں اَپنی رُوح تمہارے باطِن میں ڈال دُوں گا اَور تُمہیں اَپنے آئین پر عَمل کرنے کی تلقین کروں گا اَور اَپنی شَریعت پر پابند رہنے کے لیٔے آمادہ کروں گا۔
EZE 36:28 تُم اُس مُلک میں بسوگے جو مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو عطا کیا تھا؛ تُم میرے لوگ ہوگے اَور مَیں تمہارا خُدا ہُوں گا۔
EZE 36:29 مَیں تُمہیں تمہاری ساری ناپاکی سے رِہائی بخشوں گا۔ میں اناج اُگاؤں گا اَور اُسے اِفراط بخشوں گا اَور تُم پر قحط نازل نہ ہونے دُوں گا۔
EZE 36:30 میں درختوں کے پھل اَور زمین کی پیداوار بڑھاؤں گا تاکہ قحط کی وجہ سے قوموں کے درمیان پھر کبھی تمہاری رُسوائی نہ ہو۔
EZE 36:31 تَب تُم اَپنی بُری روِشوں اَور بداعمالیوں کو یاد کروگے اَور اَپنے گُناہوں اَور مکرُوہ حرکتوں کے باعث اَپنے آپ کو حقیر سمجھنے لگوگے۔
EZE 36:32 میں تُمہیں یہ جتانا چاہتا ہُوں کہ میں یہ سَب تمہاری خاطِر نہیں کر رہا۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔ اَے بنی اِسرائیل، اَپنے چال چلن کے باعث شرمندہ ہو اَور خجالت اُٹھاؤ۔
EZE 36:33 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: جِس دِن میں تُمہیں تمہاری سَب گُناہوں سے پاک کروں گا اِسی دِن تمہارے شہر بساؤں گا اَور کھنڈر دوبارہ تعمیر کئے جایٔیں گے۔
EZE 36:34 یہ غَیر آباد زمین جو راہ گزروں کی نظر میں ویران پڑی ہے، پھر سے زیرِ کاشت لائی جائے گی۔
EZE 36:35 وہ کہیں گے، ”یہ زمین جو اُجاڑ دی گئی تھی، اَب باغِ عدنؔ کی مانند ہو گئی ہے اَورجو شہر کھنڈر بَن گے تھے، ویران ہو چُکے تھے اَور تباہ کر دئیے گیٔے تھے، وہ اَب مُستحکم اَور آباد ہو چُکے ہیں۔“
EZE 36:36 تَب وہ قومیں جو تمہارے اطراف بچی ہیں، جان لیں گی کہ مَیں یَاہوِہ نے جو کچھ ڈھا دیا گیا تھا اِسے اَز سرِ نَو تعمیر کیا اَورجو ویران پڑا تھا اُس میں کاشت شروع کر دی۔ مَیں یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے اَور مَیں یہ کرکے دِکھاؤں گا۔‘
EZE 36:37 ”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: پھر ایک بار مَیں بنی اِسرائیل کی درخواست مان لُوں گا اَور اُن کے لیٔے یہ کر دُوں گا: مَیں اُن لوگوں کی تعداد بھیڑوں کی طرح بڑھاؤں گا۔
EZE 36:38 مَیں اُن کو مُقرّرہ عیدوں کے موقعوں پر یروشلیمؔ میں ذبح کئے جانے والے اَن گِنت گلّوں کی مانند بڑھاؤں گا۔ اِس طرح سے کھنڈر بنے ہُوئے شہر لوگوں کے غولوں سے بھر دئیے جایٔیں گے۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔“
EZE 37:1 یَاہوِہ کا ہاتھ مُجھ پر تھا اَور وہ مُجھے یَاہوِہ کے رُوح کے ذریعہ سے اُٹھاکر باہر لایا اَور نیچے ایک وادی میں کھڑا کر دیا جو ہڈّیوں سے بھری ہُوئی تھی۔
EZE 37:2 اُس نے مُجھے اُن کے درمیان آگے پیچھے گھُمایا اَور مَیں نے اُس وادی کے فرش پر بہت ساری ہڈّیاں دیکھیں جو بالکُل سُوکھی ہُوئی تھیں۔
EZE 37:3 اُنہُوں نے مُجھ سے پُوچھا ”اَے آدمؔ زاد، کیا یہ ہڈّیاں زندہ ہو سکتی ہیں؟“ مَیں نے کہا: ”اَے یَاہوِہ قادر یہ تو آپ ہی جانتے ہیں۔“
EZE 37:4 تَب اُس نے مُجھ سے فرمایا، ”اُن ہڈّیوں پر نبُوّت کر اَور اُن سے کہہ، ’اَے سُوکھی ہڈّیوں، یَاہوِہ کا کلام سُنو!
EZE 37:5 یَاہوِہ قادر اُن ہڈّیوں سے یُوں فرماتے ہیں: مَیں تمہارے اَندر رُوح ڈالوں گا اَور تُم زندہ ہو جاؤگی۔
EZE 37:6 مَیں تمہاری نسیں جوڑ دُوں گا اَور تُم پر گوشت چڑھاؤں گا اَور تُمہیں چمڑے سے ڈھانک دُوں گا؛ اَور تُم میں رُوح پھُونکوں گا اَور تُم زندہ ہو جاؤگی۔ تَب تُم جان لوگی کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
EZE 37:7 چنانچہ مَیں نے حُکم کے مُطابق نبُوّت کی اَور مَیں نبُوّت کر ہی رہاتھا کہ ایک آواز سُنایٔی دی۔ وہ ایک کھڑکھڑاہٹ سِی تھی اَور اَچانک ہڈّیاں جمع ہوکر ایک دُوسری سے جڑ گئیں۔
EZE 37:8 اَور مَیں نے دیکھا کہ اُن پر نسیں اَور گوشت نموُدار ہُوا اَور چمڑی نے اُنہیں ڈھانک لیا۔ لیکن اُن میں جان نہیں آئی تھی۔
EZE 37:9 تَب اُنہُوں نے مُجھ سے فرمایا، ”رُوح سے نبُوّت کر۔ اَے آدمؔ زاد، نبُوّت کر اَور اُس سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَے رُوح، تُو چاروں سمتوں سے آ جا اَور اُن مقتولوں پر پھُونک تاکہ وہ زندہ ہو جائیں۔‘ “
EZE 37:10 چنانچہ مَیں نے اُن کے حُکم کے مُطابق نبُوّت کی اَور رُوح اُن میں داخل ہو گئی؛ اَور وہ زندہ ہو گئے اَور اَپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے۔ یہ ایک لشکرِ جبّار تھا۔
EZE 37:11 تَب اُنہُوں نے مُجھ سے فرمایا: ”اَے آدمؔ زاد، یہ ہڈّیاں تمام بنی اِسرائیل ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’ہماری ہڈّیاں سُوکھ گئی ہیں اَور ہماری اُمّید جاتی رہی ہے اَور ہم الگ ہُوئے ہیں۔‘
EZE 37:12 اِس لیٔے تُو نبُوّت کر اَور اُن سے کہہ: ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَے میرے لوگو، مَیں تمہاری قبریں کھول کر تُمہیں اُن سے باہر نکال رہا ہُوں۔ میں تُمہیں اِسرائیل کے مُلک میں واپس لاؤں گا۔
EZE 37:13 جَب مَیں تمہاری قبریں کھول کر تُمہیں اُن میں سے باہر نکال لاؤں گا تَب تُم اَے میرے لوگو، جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 37:14 میں اَپنی رُوح تُم میں ڈال دُوں گا اَور تُم جیوگے اَور مَیں تُمہیں تمہارے اَپنے مُلک میں بساؤں گا۔ تَب تُم جان لوگے کہ مُجھ یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے اَور مَیں اُسے عَمل میں بھی لایا ہُوں۔ یہ یَاہوِہ نے فرمایاہے۔‘ “
EZE 37:15 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 37:16 ”اَے آدمؔ زاد، لکڑی کی ایک چھڑی لے اَور اُس پر لِکھ، یہُوداہؔ اَور اُس کے رفیق بنی اِسرائیل کے لیٔے؛ پھر ایک اَور لکڑی کی چھڑی لے اَور اُس پر لِکھ، جو یُوسیفؔ (یعنی اِفرائیمؔ کے) اَور اُس کے رفیق تمام بنی اِسرائیل کی ہے۔
EZE 37:17 اُنہیں باہم جوڑ دے تاکہ وہ تیرے ہاتھ میں ایک ہی چھڑی بَن جایٔیں۔
EZE 37:18 ”جَب تمہارے لوگ تُجھ سے پوچھیں: ’کیا تُو ہمیں نہ بتائے گا کہ اُن سے تیرا کیا مطلب ہے؟‘
EZE 37:19 تَب اُن سے کہہ، یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں یُوسیفؔ کی چھڑی کو جو اِفرائیمؔ کے ہاتھ میں ہے اَور اِسرائیل کے قبیلہ کی چھڑی کو جو اُس کے رفیق ہیں، لے کر یہُوداہؔ کی چھڑی سے جوڑ دُوں گا اَور اُنہیں لکڑی کی ایک ہی چھڑی بنا دُوں گا اَور وہ میرے ہاتھ میں ایک ہو جایٔیں گی۔
EZE 37:20 جِن چھڑیوں پر تُونے لِکھّا ہے اُنہیں اُن کی آنکھوں کے سامنے اَپنے ہاتھ میں لے
EZE 37:21 اَور اُن سے کہہ، یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں اِسرائیلیوں کو اُن قوموں میں سے نکال لُوں گا جہاں وہ گیٔے ہیں۔ میں اُنہیں ہر طرف سے جمع کرکے اُن کو اَپنے مُلک میں واپس لاؤں گا۔
EZE 37:22 میں اُنہیں اُس مُلک میں اِسرائیل کے پہاڑوں پر ایک قوم بناؤں گا اَور اُن سَب پر ایک ہی بادشاہ حُکمران ہوگا اَور وہ آئندہ کبھی دو قومیں نہ ہوں گے اَور نہ دو مملکتوں میں تقسیم ہوں گے۔
EZE 37:23 اَور وہ پھر اَپنے آپ کو بُتوں اَور بے جان شَبیہوں یا اَپنی کسی خطا سے ناپاک نہ کریں گے کیونکہ مَیں اُنہیں اُن کی تمام گُناہ آلُودہ برگشتگی سے بچا لُوں گا اَور مَیں اُنہیں پاک کروں گا۔ وہ میرے لوگ ہوں گے اَور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا۔
EZE 37:24 ” ’میرا خادِم داویؔد اُن پر بادشاہ ہوگا اَور اُن سَب کا ایک ہی چرواہا ہوگا۔ وہ میرے اَحکام پر چلیں گے اَور میرے آئین کو مان کر اُن پر عَمل کریں گے۔
EZE 37:25 وہ اُس مُلک میں بسیں گے جسے مَیں نے اَپنے خادِم یعقوب کو دیا تھا اَور جِس میں تمہارے آباؤاَجداد رہتے تھے۔ اُس میں وہ اَور اُن کی اَولاد اَور اُن کی اَولاد کی اَولاد ہمیشہ سکونت کریں گے اَور میرا خادِم داویؔد ہمیشہ کے لیٔے اُن کا حاکم رہے گا۔
EZE 37:26 مَیں اُن کے ساتھ عہدِ اَمن باندھوں گا جو ایک اَبدی عہد ہوگا۔ میں اُنہیں قائِم کروں گا اَور اُن کی تعداد بڑھاؤں گا اَور اَپنا پاک مَقدِس ہمیشہ کے لیٔے اُن کے درمیان قائِم کروں گا۔
EZE 37:27 میر مَسکن اُن کے ساتھ ہوگا۔ مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا اَور وہ میرے لوگ ہوں گے۔
EZE 37:28 جَب میرا مُقدّس ہمیشہ کے لیٔے اُن کے درمیان رہے گا تَب سَب قومیں جان لیں گی کہ میں یَاہوِہ ہی اِسرائیل کو مُقدّس کرتا ہُوں۔‘ “
EZE 38:1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
EZE 38:2 ”اَے آدمؔ زاد، اَپنا رُخ ماگوگؔ کی سرزمین کے گوگ کی طرف کرجو میشکؔ اَور تُوبل کا شہزادہ ہے؛ اَور اُس کے خِلاف نبُوّت کر۔
EZE 38:3 اَور کہہ: ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَے گوگ، میشکؔ اَور تُوبل کے شہزادہ، میں تیرا مُخالف ہُوں۔
EZE 38:4 میں تیرا رُخ بدل دُوں گا اَور تیرے جَبڑوں میں کانٹے ڈال کر تُجھے تیرے سارے عظیم لشکر کے ساتھ یعنی تیرے گھوڑوں، مُسلّح گُھڑسواروں اَور اُس بڑے گِروہ کو جو سَب کے سَب بڑی اَور چُھوٹی سپریں لیٔے اَور اَپنی تلواریں گھُماتے ہُوئے تیرے ساتھ ہیں، نکال لاؤں گا۔
EZE 38:5 فارسؔ، کُوشؔ اَور فُوطؔ بھی اُن کے ساتھ ہوں گے جو سَب کے سَب سِپر بردار اَور خُود پوش ہوں گے۔
EZE 38:6 اَور گومرؔ اَپنے سارے لشکر کے ساتھ اَور شمال کے دُور دراز علاقہ سے بیت توغرمہؔ اَپنے تمام لشکر کے ساتھ۔ الغرض بہت سِی قومیں جو تیرے ساتھ ہُوں گی اُن سَب کو نکال لُوں گا۔
EZE 38:7 ” ’تُو تیّار ہو جا، تُو اَور جِتنی گِروہ تیرے گَرد جمع ہُوئی ہے تیّار رہنا اَور تُو اُن کو اَپنی اِختیار میں لے لو۔
EZE 38:8 بہت دِنوں کے بعد تُجھے مُسلّح ہونے کو کہا جائے گا۔ آئندہ سالوں میں تُو اُس مُلک پر حملہ آور ہوگا جہاں جنگ بندہو چُکی ہے اَور جِس کے باشِندوں کو مُختلف قوموں میں سے نکال کر اِسرائیل کے اُن پہاڑوں پر جمع کیا گیا ہے جو عرصہ دراز سے ویران پڑے تھے۔ اُن کو مُختلف قوموں میں سے لایا گیا تھا اَور اَب وہ سَب اَمن و سلامتی سے سکونت کرتے ہیں۔
EZE 38:9 تُو اَور تیرا سارا لشکر اَور تیرے ساتھ کیٔی قومیں آندھی کی طرح بڑھتے ہُوئے چلے جاؤگے اَور بادل کی مانند مُلک پر چھا جاؤگے۔
EZE 38:10 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اُس دِن تیرے دِل میں کیٔی خیالات آئیں گے اَور تُو ایک بُرا منصُوبہ تیّار کرےگا۔
EZE 38:11 تُو کہے گا، ”مَیں بغیر فصیل والے دیہاتوں کے مُلک پر دھاوا بولُوں گا اَور اُن ناگہاں لوگوں پر حملہ کروں گا جو اَمن پسند ہیں، بِلا خوف زندگی گزارتے ہیں اَورجو سَب کے سَب ناگہاں شہرپناہ، بنا پھاٹکوں کے اَور بنا اڑبنگوں کے رہتے ہیں۔
EZE 38:12 مَیں اُن کا مال چھین لُوں اَور اُنہیں خُوب لُوٹوں اَور اَپنا ہاتھ اُن کھنڈروں پر بڑھاؤں جو دوبارہ بسائے گیٔے ہیں اَور اُن لوگوں پر جنہیں مُختلف قوموں میں سے جمع کیا گیا ہے اَورجو مالدار ہیں اَور مویشی پالتے ہیں اَور مُلک کے عَین درمیان میں بستے ہیں۔“
EZE 38:13 شیبا اَور دِدانؔ اَور ترشیشؔ کے سوداگر اَور اُس کے تمام دیہات (شیرببر) تُجھ سے پوچھیں گے، ”کیا تُو لُوٹنے کے لیٔے آیا ہے؟ کیا تُونے اَپنے گِروہ کو اِس لیٔے جمع کیا ہے کہ وہ لُوٹ مار کریں، چاندی اَور سونا چھین لیں، مویشی اَور مال و اَسباب لے جایٔیں اَور مالِ غنیمت حاصل کریں؟“ ‘
EZE 38:14 ”اِس لیٔے اَے آدمؔ زاد، نبُوّت کر اَور گوگ سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اُس وقت جَب میری اُمّت اِسرائیل سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہُوئی ہوگی تو کیا تُجھے اُس کا علم نہ ہوگا؟
EZE 38:15 اَور تُو شمال کے اَپنے دُور کے علاقوں سے آئے گا، تُو اَور تیرے ساتھ اَور بہت سِی قوموں کے لوگ بھی ہوں گے جو سَب کے سَب گھوڑوں پر سوار ہوں گے۔ وہ ایک عظیم لشکر اَور زبردست فَوج ہوگی۔
EZE 38:16 تُو میری قوم اِسرائیل پر اُس طرح چڑھ آئے گا جِس طرح ایک بادل مُلک پر چھا جاتا ہے۔ اَے گوگ، مَیں آئندہ دِنوں میں تُجھے اَپنے مُلک پر چڑھا لاؤں گا تاکہ جَب مَیں قوموں کی نگاہوں کے سامنے تُجھ سے اَپنی تقدیس کراؤں تو وہ مُجھے جان لیں گے۔
EZE 38:17 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: کیا تُو وُہی نہیں ہے جِس کا ذِکر مَیں نے پچھلے دِنوں میں اَپنے خادِموں یعنی اِسرائیل کے نبیوں سے کیا تھا؟ اُن دِنوں اُنہُوں نے سالہا سال تک یہ نبُوّت کی کہ مَیں تُجھے اُن کے خِلاف چڑھا لاؤں گا۔
EZE 38:18 اَور اُن دِنوں میں یُوں ہوگا کہ جَب گوگ، مُلک اِسرائیل پر حملہ کرےگا تَب میرا غُصّہ آپے سے باہر ہو جائے گا۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 38:19 میں اَپنی غیرت اَور شدید غضب میں اعلان کرتا ہُوں کہ اُس وقت اِسرائیل کے مُلک میں بہت بڑا زلزلہ آئے گا۔
EZE 38:20 سمُندر کی مچھلیاں، ہَوا کے پرندے، جنگلوں کے درندے اَور زمین پر رینگنے والے سَب جاندار اَور رُوئے زمین پر کے تمام لوگ میرے وُجُود سے تھرتھرا اُٹھیں گے۔ پہاڑ اُلٹ دئیے جایٔیں گے، چٹّانیں ریزہ ریزہ ہو جایٔیں گی اَور ہر دیوار زمین پر گِر پڑےگی۔
EZE 38:21 اَور مَیں گوگ کے خِلاف اَپنے تمام پہاڑوں پر تلوار طلب کروں گا۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔ ہر شخص کی تلوار اُس کے بھایٔی کے خِلاف اُٹھے گی۔
EZE 38:22 میں وَبا اَور خُونریزی کے ذریعہ اُسے سزا دُوں گا۔ میں اُس پر، اُن کی فَوج پر اَور اُس کے ساتھ جِتنی قومیں ہیں اُن پر موسلادھار بارش، اولے اَور جلتی ہُوئی گندھک برساؤں گا۔
EZE 38:23 اُس طرح سے میں اَپنی عظمت اَور تقدُّس کا اِظہار کروں گا اَور بہت سِی قوموں کے سامنے اَپنے آپ کو ظاہر کروں گا۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘
EZE 39:1 ”اَے آدمؔ زاد، گوگ کے خِلاف نبُوّت کر اَور کہہ، یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ’اَے گوگ میشکؔ اَور تُوبل کے شہزادوں میں تیرا مُخالف ہُوں۔
EZE 39:2 مَیں تُجھے گھُما کر گھسیٹ لُوں گا۔ مَیں تُجھے شمال کے دُور دراز علاقہ سے لے آؤں گا اَور اِسرائیل کے پہاڑوں پر پہُنچا دُوں گا۔
EZE 39:3 پھر مَیں تیری کمان تیرے بائیں ہاتھ سے چھُڑا لُوں گا اَور تیرے تیروں کو تیرے داہنے ہاتھ سے گرا دوں گا۔
EZE 39:4 تُو، تیری تمام فَوج اَورجو قومیں تیرے ساتھ ہیں، تُم سَب کے سَب اِسرائیل کے پہاڑوں پر گِر جاؤگے اَور مَیں تُمہیں ہر قِسم کے مُردار خور پرندوں اَور جنگلی جانوروں کی خُوراک بنا دُوں گا۔
EZE 39:5 تُم کھُلے میدان میں گِر جاؤگے کیونکہ یہ مَیں نے کہا ہے۔ یُوں یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔
EZE 39:6 مَیں ماگوگؔ پر اَور ساحِلی ممالک میں سلامتی سے رہنے والے لوگوں پر آگ نازل کروں گا اَور وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
EZE 39:7 ” ’میں اَپنا پاک نام اَپنی قوم اِسرائیل میں ظاہر کروں گا اَور پھر اَپنے پاک نام کی بےحُرمتی نہ ہونے دُوں گا۔ اَور تَب سَب قومیں جان لیں گی کہ میں یَاہوِہ اِسرائیل کا قُدُّوس ہُوں۔
EZE 39:8 یہ آ رہاہے! اَور یہ یقیناً ہوکر رہے گا۔ یہ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔ یہ وُہی دِن ہے جِس کے متعلّق مَیں نے فرمایا تھا۔
EZE 39:9 ” ’تَب اِسرائیل کے شہروں میں بسنے والے باہر نکل آئیں گے اَور اسلحہ کو ایندھن کے طور پر اِستعمال کریں گے اَور اُنہیں جَلا دیں گے۔ یعنی چُھوٹی اَور بڑی سپریں، کمان اَور تیر، لڑائی کے لٹھ اَور نیزے وغیرہ۔ سات سال تک وہ اُنہیں ایندھن کے طور پر اِستعمال کرتے رہیں گے۔
EZE 39:10 اُنہیں کھیتوں سے لکڑی جمع نہ کرنی پڑےگی، نہ جنگلوں سے اُسے کاٹنا ہوگا کیونکہ وہ اسلحہ کو ہی ایندھن کے کام میں لائیں گے اَور وہ اَپنے چھیننے والوں سے چھینیں گے اَور اَپنے لُوٹنے والوں کو لُوٹیں گے۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 39:11 ” ’اُس دِن میں گوگ کو اِسرائیل میں ایک قبرستان دُوں گا جو اُن لوگوں کی وادی میں ہوگا جو مشرق کی جانِب سمُندر کی طرف سفر کرتے ہیں۔ یُوں مُسافروں کی راہ بندہو جائے گی کیونکہ گوگ اَور اُس کی تمام گِروہ کو وہاں دفن کیا جائے گا۔ اِس لیٔے وہ حامون گوگ کی وادی کہلائے گی۔
EZE 39:12 ” ’سات ماہ تک بنی اِسرائیل اُنہیں دفن کرتے رہیں گے تاکہ مُلک پاک صَاف ہو سکے۔
EZE 39:13 مُلک کے تمام لوگ اُنہیں دفن کریں گے اَور جِس دِن میری تمجید ہوگی وہ دِن اُن کے لیٔے شہرت کا باعث ہوگا۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 39:14 مُلک کو پاک صَاف کرنے کے لیٔے لوگوں کو باقاعدہ مُقرّر کیا جائے گا۔ بعض لوگوں کا کام یہ ہوگا کہ وہ تمام مُلک میں گھُومتے رہیں گے۔ اُن کے علاوہ بعض لوگ اُن لاشوں کو جو زمین پر پڑی ہُوں گی، دفن کریں گے۔ ” ’سات ماہ گزرنے کے بعد وہ اَپنی تلاش کا کام شروع کر دیں گے۔
EZE 39:15 مُلک میں سے گزرتے وقت اگر اُن میں سے کسی شخص کو اِنسان کی ہڈّی نظر آئی تو وہ شخص اُس وقت تک وہاں نِشان کھڑا کرےگا جَب تک کہ گورکن اُسے حامون گوگ کی وادی میں دفن نہ کر دیں
EZE 39:16 وہاں حاموناؔ نام کا شہر بھی ہوگا اَور یُوں وہ مُلک کو پاک صَاف کریں گے۔‘
EZE 39:17 ”اَے آدمؔ زاد، یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ہر قِسم کے پرندے اَور تمام جنگلی جانوروں کو آواز دے‏: ’جمع ہو جاؤ اَور ہر طرف سے اِکٹھّے ہوکر اُس بڑے ذبیحہ میں شریک ہو جاؤ، جو مَیں تمہارے لیٔے اِسرائیل کے پہاڑوں پر تیّار کر رہا ہُوں۔ وہاں تُم گوشت کھاؤگے اَور خُون پیوگے۔
EZE 39:18 تُم طاقتور مَردوں کا گوشت کھاؤگے اَور زمین کے اُمرا کا خُون پیوگے گویا وہ سَب کے سَب باشانؔ کے فربہ جانور یعنی مینڈھے، برّے، بکرے اَور بَیل ہیں۔
EZE 39:19 جو ذبیحہ مَیں تمہارے لیٔے تیّار کر رہا ہُوں، تُم اُس کی اِس قدر چربی کھاؤگے کہ سیر ہو جاؤگے اَور اِتنا خُون پیوگے کہ مست ہو جاؤگے۔
EZE 39:20 تُم میرے دسترخوان پر گھوڑوں، سواروں، بہادروں اَور ہر قِسم کے جنگی سپاہیوں سے سَیر ہوگے،‘ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 39:21 ”مَیں قوموں کے درمیان اَپنا جلال ظاہر کروں گا اَور تمام قومیں میری اُنہیں دی ہُوئی سزا کو اَور میرے اُن پر رکھے ہُوئے ہاتھ کو دیکھیں گی۔
EZE 39:22 اُس دِن کے بعد سے بنی اِسرائیل جان لیں گے کہ میں یَاہوِہ اُن کا خُدا ہُوں۔
EZE 39:23 اَور قومیں جان لیں گی کہ بنی اِسرائیل اَپنے گُناہوں کی وجہ سے جَلاوطن ہوئے تھے کیونکہ اُنہُوں نے مجھ سے بےوفائی کی تھی۔ اِس لیٔے مَیں نے اُن سے اَپنا مُنہ چھُپا لیا اَور اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے حوالہ کر دیا اَور وہ سَب تلوار سے مارے گیٔے۔
EZE 39:24 مَیں نے اُن کی ناپاکی اَور اُن کی خطاؤں کے مُطابق اُن کے ساتھ سلُوک کیا اَور اَپنا مُنہ اُن سے چھُپا لیا۔
EZE 39:25 ”چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَب مَیں یعقوب کو اسیری سے واپس لاؤں گا اَور تمام اِسرائیلیوں پر رحم کروں گا اَور اَپنے پاک نام کے لیٔے غیّور ہُوں گا۔
EZE 39:26 جَب وہ اَپنے مُلک میں اَمن سے رہنے لگیں گے اَور اُنہیں ڈرانے والا کویٔی نہ ہوگا تَب وہ اَپنی رُسوائی اَور میرے ساتھ کی ہُوئی بےوفائی کو بھُول جائیں گے۔
EZE 39:27 جَب مَیں اُنہیں قوموں میں سے واپس لاؤں گا اَور اُن کے دُشمنوں کے ممالک سے جمع کروں گا تَب بہت سِی قوموں کی نگاہ میں اُن کے ذریعہ میری تقدیس ہوگی۔
EZE 39:28 تَب وہ جان لیں گے کہ میں یَاہوِہ اُن کا خُدا ہُوں۔ حالانکہ مَیں نے اُنہیں مُختلف قوموں میں جَلاوطن کیا تو بھی میں اُنہیں پھر اُن کے اَپنے مُلک میں جمع کروں گا اَور کسی کو پیچھے نہ چھوڑوں گا۔
EZE 39:29 اَور مَیں پھر کبھی اُن سے اَپنا مُنہ نہ چھُپاؤں گا کیونکہ مَیں بنی اِسرائیل پر اَپنی رُوح اُنڈیل دُوں گا۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔“
EZE 40:1 ہماری جَلاوطنی کے پچّیسویں سال کے شروع میں یعنی یروشلیمؔ شہر کی تسخیر کے چودھویں سال کے پہلے ماہ کے دسویں دِن یَاہوِہ کا ہاتھ مُجھ پر تھا اَور وہ مُجھے وہاں لے گیٔے۔
EZE 40:2 خُدا کی رُویتوں میں وہ مُجھے اِسرائیل کے مُلک میں لے گیا اَور ایک بہت اُونچے پہاڑ پر کھڑا کر دیا جِس کے جُنوب کی جانِب چند عمارتیں تھیں جو شہر کی مانند نظر آتی تھیں۔
EZE 40:3 وہ مُجھے وہاں لے گیا اَور مَیں نے ایک آدمی کو دیکھا جِس کی صورت کانسے کی بنی ہُوئی صورت کی مانند تھی۔ وہ اَپنے ہاتھ میں کتانی ڈوری اَور پیمائش کا سَرکنڈا لیٔے پھاٹک پر کھڑا تھا۔
EZE 40:4 اُس آدمی نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدمؔ زاد، اَپنی آنکھوں سے دیکھ اَور اَپنے کانوں سے سُن اَور ہر اُس چیز پر دھیان دے جو مَیں تُجھے بتانے جا رہا ہُوں کیونکہ اِسی لیٔے تُجھے یہاں لایا گیا ہے۔ جو کچھ تُو دیکھتا ہے اُسے بنی اِسرائیل سے بَیان کر۔“
EZE 40:5 مَیں نے ایک دیوار دیکھی جو بیت المُقدّس کے علاقہ کو مُکمّل طور پر گھیرے ہُوئی تھی۔ اُس آدمی کے ہاتھ میں جو پیمائش کا سَرکنڈا تھا اُس کی لمبائی اَیسے چھ ہاتھ کے برابر تھی جو ایک ہاتھ اَور چار اُنگل کے برابر ہوتاہے۔ اُس نے دیوار ناپی۔ وہ ایک سَرکنڈے کے برابر موٹی تھی اَور اُتنی ہی اُونچی تھی۔
EZE 40:6 تَب وہ اُس پھاٹک کی طرف گیا جِس کا رُخ مشرق کی طرف تھا۔ اُس نے اُس کی سِیڑھیوں پر چڑھ کر اُس کے آستانہ کو ناپا۔ وہ ایک سَرکنڈا کے برابر چوڑا تھا۔
EZE 40:7 اَور پہرےداروں کے کمرے ایک سَرکنڈا لمبے اَور ایک سَرکنڈا چوڑے تھے۔ اَور اُن کمروں کے درمیان اُبھری ہُوئی دیواریں پانچ ہاتھ موٹی تھیں اَور بیت المُقدّس کی جانِب کی دہلیز کے نزدیک کے پھاٹک کا آستانہ بھی ایک سَرکنڈا چوڑا تھا۔
EZE 40:8 پھر اُس نے پھاٹک کے برامدے کو ناپا۔
EZE 40:9 وہ آٹھ ہاتھ چوڑی تھی اَور اُس کے سُتون دو دو ہاتھ موٹے تھے۔ پھاٹک کے برامدے کا رُخ بیت المُقدّس کی جانِب تھا۔
EZE 40:10 مشرقی پھاٹک کے اَندر دونوں طرف تین تین کمرے تھے اَور اُن تینوں کی پیمائش یکساں تھی۔ اَور دونوں طرف کی اُبھری ہُوئی دیواروں کی سطح کی پیمائش بھی یکساں تھی۔
EZE 40:11 پھر اُس نے پھاٹک کے دروازہ کی چوڑائی ناپی جو دس ہاتھ تھی اَور اُس کی لمبائی تیرہ ہاتھ تھی۔
EZE 40:12 ہر کمرہ کے سامنے ایک دیوار تھی جو ایک ہاتھ اُونچی تھی اَور کمروں کا رقبہ چھ ضرب چھ ہاتھ تھا۔
EZE 40:13 پھر اُس نے ایک کمرہ کی پچھلی دیوار کی چھت سے مقابل کے کمرہ کی دیوار کی چھت تک پھاٹک کو ناپا اَور وہ فاصلہ ایک منڈیر سے مقابل کی منڈیر تک پچّیس ہاتھ تھا۔
EZE 40:14 اُس نے پھاٹک کے اَندر چاروں طرف سے اُبھری ہُوئی دیواروں کی سطح کی پیمائش کی جو ساٹھ ہاتھ کے برابر تھی۔ یہ پیمائش صحن کی طرف رُخ کی ہُوئی دہلیز تک تھی۔
EZE 40:15 پھاٹک کے داخلہ سے اُس کی دہلیز کے آخِری سِرے تک کا فاصلہ پچاس ہاتھ تھا۔
EZE 40:16 کمروں اَور پھاٹک کے دروازہ کے اَندر کی اُبھری ہُوئی دیواروں کے اُوپر ہر طرف تنگ جھروکے تھے جِن کے دریچوں کا رُخ اَندر کی طرف تھا۔ اُبھری ہُوئی دیواروں کو کھجور کے درختوں کے نقوش سے آراستہ کیا گیا تھا۔
EZE 40:17 پھر وہ مُجھے بیرونی صحن میں لے گیا۔ وہاں مَیں نے کچھ کمرے اَور صحن کے چاروں طرف فرش بنا ہُوا دیکھا۔ اُس فرش پر تیس کمرے تھے۔
EZE 40:18 یہ فرش پھاٹکوں سے لگا ہُوا تھا اَور وہ اُن کی لمبائی کے برابر ہی چوڑا تھا۔ یہ نیچے کا فرش تھا۔
EZE 40:19 پھر اُس نے نیچے کے پھاٹک کے اَندر سے اَندرونی صحن کے باہر تک کا فاصلہ ناپا اَور وہ مشرق اَور شمال دونوں جانِب سے سَو ہاتھ تھا۔
EZE 40:20 پھر اُس نے اُس پھاٹک کی لمبائی اَور چوڑائی ناپی جِس کا رُخ شمال کی جانِب تھا اَورجو بیرونی صحن میں کھُلتا تھا۔
EZE 40:21 اُس کی دونوں طرف کے تین تین کمروں، اُس کی اُبھری ہُوئی دیواروں اَور اُس کی دہلیز کا ناپ پہلے پھاٹک کے مُطابق ہی تھا۔ وہ پچاس ہاتھ لمبا اَور پچّیس ہاتھ چوڑا تھا۔
EZE 40:22 اُس کے دریچے، اُس کی دہلیز اَور اُس کے کھجور کے درختوں کی سجاوٹ کا ناپ مشرقی پھاٹک کے مُطابق تھا۔ اُس تک چڑھنے کے لیٔے سات سیڑھیاں تھیں اَور اُن کے مقابل اُس کی دہلیز تھی۔
EZE 40:23 اَندرونی صحن میں داخل ہونے کے لیٔے ایک پھاٹک تھا جِس کا رُخ شمالی پھاٹک کی طرف تھا، ٹھیک اِسی طرح جِس طرح مشرق میں تھا۔ اُس نے ایک پھاٹک سے مقابل کے پھاٹک تک کا فاصلہ ناپا جو سَو ہاتھ تھا۔
EZE 40:24 پھر وہ مُجھے جُنوب کی جانِب لے گیا اَور مَیں نے ایک پھاٹک دیکھا جِس کا رُخ جُنوب کی طرف تھا۔ اُس نے اُس کے سُتونوں اَور دہلیز کو ناپا جو دُوسروں کے مُطابق تھے۔
EZE 40:25 پھاٹک اَور اُس کے برامدے میں اِردگرد وَیسے ہی تنگ دریچے تھے جَیسے اَوروں میں تھے۔ وہ پچاس ہاتھ لمبا اَور پچّیس ہاتھ چوڑا تھا۔
EZE 40:26 اُس تک چڑھنے کے لیٔے سات سیڑھیاں تھیں اَور اُس کی دہلیز اُن کے مقابل تھی۔ اُس کے دونوں طرف کی اُبھری ہُوئی دیواروں پر کھجور کے درخت نقش کئے گیٔے تھے۔
EZE 40:27 اَندرونی صحن میں ایک اَور پھاٹک تھا جِس کا رُخ جُنوب کی طرف تھا اَور اُس نے اُس پھاٹک سے جُنوب کی جانِب کے بیرونی پھاٹک تک کا فاصلہ ناپا۔ وہ سَو ہاتھ تھا۔
EZE 40:28 پھر وہ مُجھے جُنوبی پھاٹک کی راہ سے اَندرونی صحن میں لایا اَور اُس نے جُنوبی پھاٹک کو ناپا۔ اُس کا ناپ دُوسرے پھاٹکوں کے مُطابق ہی تھا۔
EZE 40:29 اُس کے کمرے، اُس کی اُبھری ہُوئی دیواریں اَور اُس کی دہلیز کا ناپ بھی اَوروں جَیسا ہی تھا۔ پھاٹک کے دروازہ میں اَور اُس کی دہلیز کے ہر طرف دریچے تھے۔ وہ پچاس ہاتھ لمبا اَور پچّیس ہاتھ چوڑا تھا۔
EZE 40:30 (اَندرونی صحن کے اطراف کی دہلیزیں پچّیس ہاتھ لمبی اَور پھاٹک کے دروازے پانچ ہاتھ چوڑے تھے۔)
EZE 40:31 اُس کی دہلیز کا رُخ بیرونی صحن کی طرف تھا اَور اُس کے سُتونوں پر کھجور کے درخت نقش کئے گیٔے تھے اَور اُس تک چڑھنے کے لیٔے آٹھ سیڑھیاں تھیں۔
EZE 40:32 پھر وہ مُجھے مشرق کی جانِب اَندرونی صحن میں لے آیا اَور اُس نے دروازہ ناپا؛ اُس کا ناپ وَیسا ہی تھا جَیسا دُوسرے دروازوں کا تھا۔
EZE 40:33 اُس کے کمرے، اُس کی اُبھری ہُوئی دیواریں اَور اُس کی دہلیز کا ناپ بھی اَوروں جَیسا ہی تھا۔ پھاٹک کے دروازہ میں اَور اُس کی دہلیز کے ہر طرف دریچے تھے۔ وہ پچاس ہاتھ لمبا اَور پچّیس ہاتھ چوڑا تھا۔
EZE 40:34 اُس کا برامدے کا رُخ بیرونی صحن کی طرف تھا اَور اُس کے دونوں طرف کے سُتونوں پر کھجور کے درخت نقش کئے گیٔے تھے اَور اُس تک چڑھنے کے لیٔے آٹھ سیڑھیاں تھیں۔
EZE 40:35 پھر وہ مُجھے شمالی پھاٹک کے پاس لایا اَور اُسے ناپا۔ اُس کا ناپ دُوسرے پھاٹکوں کے مُطابق ہی تھا۔
EZE 40:36 وَیسا ہی ناپ اُس کے کمروں، اُبھری ہُوئی دیواروں اَور اُس کی دہلیزوں کا تھا۔ اَور اُس کے چاروں طرف دریچے تھے۔ وہ پچاس ہاتھ لمبا اَور پچّیس ہاتھ چوڑا تھا۔
EZE 40:37 اُس کا برامدے کا رُخ بیرونی صحن کی طرف تھا اَور اُس کے دونوں طرف کے سُتونوں پر کھجور کے درخت نقش کئے گیٔے تھے اَور اُس تک چڑھنے کے لیٔے آٹھ سیڑھیاں تھیں۔
EZE 40:38 ہر اَندرونی پھاٹک کی دہلیز کے پاس ایک کمرہ تھا جِس میں دروازہ بھی تھا، جہاں سوختنی نذریں دھوئی جاتی تھیں۔
EZE 40:39 پھاٹک کی کے برامدے میں دونوں طرف دو دو میزیں تھیں جِن پر سوختنی نذریں، گُناہ کی قُربانیاں اَور خطا کی قُربانیاں ذبح کی جاتی تھیں۔
EZE 40:40 پھاٹک کے برامدے کی بیرونی دیوار کے پاس یعنی شمالی پھاٹک کے دروازہ کی سِیڑھیوں کے پاس دو میزیں تھیں اَور سِیڑھیوں کی دُوسری طرف بھی دو میزیں تھیں۔
EZE 40:41 اُس طرح پھاٹک کے ایک طرف چار میزیں تھیں اَور دُوسری طرف بھی چار میزیں تھیں۔ کل آٹھ میزیں تھیں۔ جِن پر ذبیحے ذبح کئے جاتے تھے۔
EZE 40:42 وہاں سوختنی نذروں کے لیٔے تراشے ہُوئے پتّھروں کی چار میزیں تھیں جِن میں سے ہر ایک ڈیڑھ ہاتھ لمبی، ڈیڑھ ہاتھ چوڑی اَور ایک ہاتھ اُونچی تھی۔ اُن پر سوختنی نذریں اَور دُوسری قُربانیاں ذبح کرنے کے لیٔے ظروف رکھے جاتے تھے۔
EZE 40:43 اَور دیوار پر چاروں طرف چار اُنگل لمبے دو طرفہ کانٹے لگے ہُوئے تھے۔ یہ میزیں قُربانی کا گوشت رکھنے کے لیٔے تھیں۔
EZE 40:44 اَندرونی پھاٹک کے باہر لیکن اَندرونی صحن کے اَندر دو کمرے تھے۔ ایک شمالی پھاٹک کے بازو میں تھا جِس کا رُخ جُنوب کی طرف تھا اَور دُوسرا جُنوبی پھاٹک کے بازو میں تھا جِس کا رُخ شمال کی جانِب تھا۔
EZE 40:45 اُس نے مُجھے بتایا کہ، ”جِس کمرہ کا رُخ جُنوب کی جانِب ہے وہ اُن کاہِنوں کے لیٔے ہے جو بیت المُقدّس کے نگہبان ہیں،
EZE 40:46 اَور جِس کمرہ کا رُخ شمال کی جانِب ہے وہ اُن کاہِنوں کے لیٔے ہے جو مذبح کے نگہبان ہیں۔ یہ صدُوقؔ کی اَولاد ہیں۔ لیویوں میں سے صِرف یہی کاہِنؔ یَاہوِہ کے حُضُور میں آسکتے ہیں اَور اُن کی خدمت کر سکتے ہیں۔“
EZE 40:47 پھر اُس نے صحن کو ناپا جو مُربّع نُما تھا۔ سَو ہاتھ لمبا اَور سَو ہاتھ چوڑا۔ اَور مذبح بیت المُقدّس کے سامنے تھا۔
EZE 40:48 پھر وہ مُجھے بیت المُقدّس کی دہلیز میں لایا اَور اُس نے سُتونوں کی دہلیز کو ناپا جو دونوں طرف پانچ پانچ ہاتھ چوڑے تھے۔ دروازہ کی چوڑائی چودہ ہاتھ تھی اَور اُس کی دونوں طرف کی اُبھری ہُوئی دیواریں تین تین ہاتھ چوڑی تھیں۔
EZE 40:49 دہلیز بیس ہاتھ چوڑی ہاتھ اَور آگے سے پیچھے تک بَارہ ہاتھ کے برابر تھی۔ اُس پر چڑھنے کے لیٔے (دس) سیڑھیاں تھیں اَور دونوں طرف کے دہلیز کے بازو میں سُتون تھے۔
EZE 41:1 پھر وہ آدمی مُجھے بیت المُقدّس کے بیرونی پاک مُقدّس میں لایا اَور اُس نے دہلیزوں کو ناپا۔ اُن دونوں طرف کے سُتونوں کی چوڑائی چھ چھ ہاتھ تھی۔
EZE 41:2 دروازہ دس ہاتھ چوڑا تھا اَور اُس کے دونوں طرف کی اُبھری ہُوئی دیواریں پانچ پانچ ہاتھ چوڑی تھیں۔ اُس نے بیرونی پاک مُقدّس کی پیمائش بھی کی۔ وہ چالیس ہاتھ لمبا اَور بیس ہاتھ چوڑا تھا۔
EZE 41:3 تَب وہ اَندرونی پاک مَقدِس میں گیا اَور دروازہ کے سُتونوں کو ناپا۔ اُن میں سے ہر ایک دو ہاتھ چوڑا تھا۔ دروازہ چھ ہاتھ چوڑا تھا اَور اُس کے دونوں طرف کی اُبھری ہُوئی دیواریں سات سات ہاتھ چوڑی تھیں۔
EZE 41:4 اَور اُس نے اَندرونی مَقدِس کی لمبائی ناپی جو بیس ہاتھ تھی۔ اَور اُس کی چوڑائی بیرونی مُقدّس کے سِرے تک بیس ہاتھ تھی۔ اُس نے مُجھ سے کہا، ”یہ نہایت ہی پاک ترین مقام ہے۔“
EZE 41:5 پھر اُس نے بیت المُقدّس کی دیوار ناپی۔ وہ چھ ہاتھ موٹی تھی اَور بیت المُقدّس کے اطراف کے پہلو کا ہر کمرہ چار ہاتھ چوڑا تھا۔
EZE 41:6 پہلو کے کمرے ایک کے اُوپر ایک، تین منزلہ تھے اَور ہر مَنزل میں تیس کمرے تھے۔ بیت المُقدّس کی دیوار کے چاروں طرف پہلو کے کمروں کو سہارا دینے کے لیٔے چھجّے بنے ہُوئے تھے۔ تاکہ یہ سہارا دینے والے حِصّے بیت المُقدّس کی دیوار میں بنائے جایٔیں۔
EZE 41:7 بیت المُقدّس کے چاروں طرف پہلو کے کمرے ہر مَنزل پر وسیع تر ہوتے جاتے تھے کیونکہ بیت المُقدّس کی چاروں طرف جو کچھ تعمیر کیا گیا تھا، جَیسے جَیسے اُس کی اُونچائی بڑھی وہ چوڑا ہوتا گیا۔ اِس لیٔے اُوپر کی مَنزل کے کمرے نِچلی مَنزل کی بہ نِسبت زِیادہ وسیع ہوتے گیٔے۔ نِچلی مَنزل سے ایک زینہ درمیانی مَنزل سے ہوتا ہُوا اُوپر کی مَنزل کو جاتا تھا۔
EZE 41:8 مَیں نے بیت المُقدّس کی چاروں طرف ایک اُونچا چبوترہ دیکھا جِس پر پہلو کے کمروں کی بُنیاد رکھی گئی تھی۔ یہ پیمائش کے سَرکنڈے کی لمبائی کا یعنی چھ بڑے ہاتھوں کے برابر تھا۔
EZE 41:9 پہلو کے کمروں کی بیرونی دیوار کی موٹائی پانچ ہاتھ تھی۔ بیت المُقدّس کے پہلو کے کمروں
EZE 41:10 اَور کاہِنوں کے کمروں کے درمیان کی کھُلی جگہ جو بیت المُقدّس کے چاروں طرف پھیلی ہُوئی تھی بیس ہاتھ چوڑی تھی۔
EZE 41:11 پہلو کے کمروں کے دروازے اُس کھُلی جگہ کی طرف سے تھے؛ ایک دروازہ شمال کی جانِب اَور دُوسرا جُنوب کی جانِب تھا۔ اُس کھُلی جگہ سے ملحقہ خالی جگہ چاروں طرف سے پانچ ہاتھ چوڑی تھی۔
EZE 41:12 جِس عمارت کا رُخ بیت المُقدّس کے صحن کے مغرب کی جانِب تھا وہ ستّر ہاتھ چوڑی تھی۔ اُس عمارت کی دیوار چاروں طرف سے پانچ ہاتھ موٹی تھی اَور اُس کی لمبائی نوّے ہاتھ تھی۔
EZE 41:13 پھر اُس نے بیت المُقدّس کی پیمائش کی۔ وہ سَو ہاتھ لمبی تھی۔ اَور بیت المُقدّس کے صحن اَور دیواروں سمیت وہ عمارت بھی سَو ہاتھ لمبی تھی۔
EZE 41:14 بیت المُقدّس کے مشرقی صحن کی چوڑائی اُس کے سامنے کے حِصّے کے ساتھ سَو ہاتھ تھی۔
EZE 41:15 پھر اُس نے اُس عمارت کی لمبائی مع اُس کے دونوں طرف کے برامدوں کے ناپی جِس کا رُخ صحن کی طرف ہے اَورجو بیت المُقدّس کے پیچھے ہے۔ یہ سَو ہاتھ نکلی۔ بیرونی پاک مَقدِس، اَندرونی پاک مَقدِس اَور صحن کی طرف رُخ کی ہویٔی دہلیز؛
EZE 41:16 ساتھ ہی ساتھ، آستانے، جھروکے اَور اُن تینوں کے اطراف کے برامدے۔ الغرض ہر شَے جو آستانے سے پرے تھی خُود آستانے کے ساتھ لکڑی سے ڈھانکی گئی تھی۔ فرش، کھڑکیوں تک کی دیوار اَور کھڑکیاں بھی ڈھکی ہُوئی تھیں۔
EZE 41:17 اَندرونی پاک مَقدِس داخلی دروازہ کے باہر کے حِصّہ میں اُوپر کی جانِب جہاں خالی جگہ تھی اَور اَندرونی اَور بیرونی پاک مَقدِس کی چاروں طرف کی تمام دیواروں پر برابر برابر فاصلہ پر
EZE 41:18 کروبی اَور کھجور کے درخت اَیسے نقش کئے گیٔے تھے کہ دو کھجور کے درختوں کے درمیان ایک کروبی تھا۔ ہر کروبی کے دو چہرے تھے:
EZE 41:19 اِنسان کا چہرہ ایک طرف کے کھجور کے درخت کی جانِب اَور شیرببر کا چہرہ دُوسری طرف کے کھجور کے درخت کی جانِب تھا۔ ساری بیت المُقدّس کی چاروں طرف یہ نقش کاری کی گئی تھی۔
EZE 41:20 بیرونی مُقدّس کی دیوار پر بھی فرش سے لے کر دروازہ کی اُوپر کی جگہ تک کروبی اَور کھجور کے درخت نقش کئے گیٔے تھے۔
EZE 41:21 بیرونی مُقدّس کے دروازہ کی چوکھٹ مستطیل تھی اَور پاک ترین مقام کے سامنے بھی اَیسی ہی چوکھٹ تھی۔
EZE 41:22 وہاں لکڑی کا مذبح تھا جِس کی اُونچائی تین ہاتھ اَور لمبائی اَور چوڑائی دو دو ہاتھ تھی۔ اُس کے کونے، اُس کا پیندا اَور اُس کے بازو لکڑی کے تھے۔ اُس آدمی نے مُجھ سے کہا، ”یہ وہ میز ہے جو یَاہوِہ کے سامنے رہتی ہے۔“
EZE 41:23 بیت المُقدّس کے بیرونی حِصّہ اَور پاک ترین مقام دونوں کے دو دو دروازے تھے۔
EZE 41:24 اَور ہر دروازے کے دو دو پَلّے تھے یعنی ہر دروازہ کے لیٔے دو دو کواڑوں والے پَلّے تھے۔
EZE 41:25 بیت المُقدّس کے بیرونی حِصّہ کے دروازہ پر دیواروں کی طرح ہی کروبی اَور کھجور کے درخت نقش کئے گیٔے تھے اَور دہلیز کے سامنے کی طرف لکڑی کا چھجّہ تھا۔
EZE 41:26 دہلیز کی اطراف کی دیواروں میں جھروکے تھے جِن کے دونوں طرف کھجور کے درخت نقش کئے گیٔے تھے۔ بیت المُقدّس کے پہلو کے کمروں کے لیٔے بھی لکڑی کے چھجّے تھے۔
EZE 42:1 پھر وہ مُجھے شمال کی جانِب سے بیرونی صحن میں لے آیا اَور اُن کمروں کے پاس لایا جو بیت المُقدّس کے صحن کے مقابل یعنی شمال کی جانِب بیرونی دیوار کے مقابل تھے۔
EZE 42:2 وہ عمارت جِس کے دروازہ کا رُخ شمال کی جانِب تھا، سَو ہاتھ لمبی اَور پچاس ہاتھ چوڑی تھی۔
EZE 42:3 اَندرونی صحن سے بیس ہاتھ کی دُوری پر کے حِصّہ میں اَور بیرونی صحن کے فرش کے مقابل تینوں منزلوں پر ایک دُوسرے کے مقابل برامدے تھے۔
EZE 42:4 کمروں کے سامنے دس ہاتھ چوڑا اَور سَو ہاتھ لمبا اَندرونی راستہ تھا۔ اُن کے دروازے شمال کی جانِب تھے۔
EZE 42:5 اُوپر کی مَنزل کے کمرے چُھوٹے تھے کیونکہ عمارت کی اُس مَنزل پر برامدوں نے درمیانی اَور نِچلی مَنزل سے زِیادہ جگہ لے رکھی تھی۔
EZE 42:6 تیسری مَنزل کے کمروں کے سُتون نہ تھے، جَیسا کہ صحن کے تھے، اِس لیٔے اُن کے فرش کا رقبہ نِچلی مَنزل اَور درمیانی مَنزل کے کمروں سے کم تھا۔
EZE 42:7 کمروں کے اَور بیرونی صحن کے مدّمقابل پچاس ہاتھ لمبی ایک بیرونی دیوار تھی جو کمروں کے سامنے سے ہوکر گزرتی تھی۔
EZE 42:8 حالانکہ بیرونی کمروں سے لگ کر بنے ہُوئے کمروں کی قطار پچاس ہاتھ لمبی تھی لیکن پاک مُقدّس کے نزدیک بنے ہُوئے کمروں کی قطار سَو ہاتھ لمبی تھی۔
EZE 42:9 نِچلے کمروں میں بیرونی صحن سے داخل ہونے کے لیٔے مشرق کی جانِب سے دروازہ تھا۔
EZE 42:10 جُنوب میں بیرونی صحن کی دیوار سے لگ کر بیت المُقدّس کے صحن سے لگ کر اَور بیرونی دیوار کے مقابل کمرے تھے
EZE 42:11 جِن کے سامنے گزرگاہ بنی ہُوئی تھی۔ یہ کمرے شمال کی جانِب بنے ہُوئے کمروں کی مانند تھے۔ اُن کی لمبائی اَور چوڑائی اُن ہی کے برابر تھی اَور اُن کی گزرگاہ، مخارج یکساں اَور ہو بہُو شمال کی جانِب بنے ہُوئے دروازوں کے مُطابق تھے۔
EZE 42:12 جُنوب میں بنے ہُوئے کمروں کے دروازے تھے۔ مشرق کی جانِب بڑھتی ہُوئی دیوار کے سامنے کی راہ کے سِرے پر ایک دروازہ تھا جہاں سے لوگ کمروں میں داخل ہوتے تھے۔ جُنوب کی طرف کے کمروں کے دروازے تھے۔ کمروں میں داخل ہونے کے لئے راستے کے شروع میں ایک دروازہ تھا۔ یہ راستہ مشرق کی طرف پھیلی ہوئی مساوی دیوار کے مدّمقابل تھا۔
EZE 42:13 پھر اُس نے مُجھ سے کہا، ”شمالی اَور جُنوبی کمرے جِن کا رُخ بیت المُقدّس کے صحن کی طرف ہے کاہِنوں کے کمرے ہیں جہاں یَاہوِہ کے حُضُور میں جانے والے کاہِنؔ نہایت مُقدّس قُربانیاں کھایٔیں گے۔ وہاں وہ نہایت مُقدّس قُربانیاں رکھیں گے جَیسے نذر کی قُربانیاں، گُناہ کی قُربانیاں اَور خطا کی قُربانیاں وغیرہ کیونکہ وہ مقام مُقدّس ہے۔
EZE 42:14 ایک بار کاہِنؔ مُقدّس علاقہ میں داخل ہو جایٔیں تو وہ اُس وقت تک بیرونی صحن میں نہیں جا سکتے جَب تک کہ وہ اَپنے کپڑے نہ اُتاریں جنہیں پہن کر وہ خدمت کرتے ہیں کیونکہ وہ مُقدّس ہوتے ہیں۔ جَب وہ اُن جگہوں میں جاتے ہیں جو عوام کے لیٔے ہوتی ہیں تَب دُوسرے کپڑے پہن کر جایٔیں۔“
EZE 42:15 جَب اُس نے بیت المُقدّس کے اَندر کی چیزیں ناپ لیں تَب اُس نے مُجھے مشرقی پھاٹک کی راہ سے باہر نکالا اَور چاروں طرف کے علاقہ کی پیمائش کرلی۔
EZE 42:16 اُس نے پیمائش کے سَرکنڈے سے مشرق کی طرف کا حِصّہ ناپا جو پانچ سَو ہاتھ تھا۔
EZE 42:17 اُس نے شمال کی طرف کا حِصّہ ناپا؛ وہ بھی پیمائش کے سَرکنڈے کے مُطابق پانچ سَو ہاتھ تھا۔
EZE 42:18 اُس نے جُنوب کی طرف کا حِصّہ ناپا۔ وہ بھی پیمائش کے سَرکنڈے کے مُطابق پانچ سَو ہاتھ نِکلا۔
EZE 42:19 پھر وہ مغرب کی جانِب مُڑا اَور وہ حِصّہ ناپا۔ وہ بھی پیمائش کے سَرکنڈے کے مُطابق پانچ سَو ہاتھ تھا۔
EZE 42:20 اِس طرح اُس نے چاروں سمت کی جگہیں ناپیں۔ اُس کے چاروں طرف دیوار تھی جو پانچ سَو ہاتھ لمبی اَور پانچ سَو ہاتھ چوڑی تھی تاکہ مُقدّس علاقہ کو عام علاقہ سے جُدا کرے۔
EZE 43:1 پھر وہ آدمی مُجھے اُس پھاٹک کے پاس لے آیا جِس کا رُخ مشرق کی جانِب ہے
EZE 43:2 اَور مَیں نے اِسرائیل کے خُدا کا جلال مشرق سے نموُدار ہوتے ہُوئے دیکھا۔ اُس کی آواز سیلاب کے شور کی مانند تھی اَور زمین اُس کے جلال سے مُنوّر ہو گئی۔
EZE 43:3 میری دیکھی ہُوئی یہ رُویا اُس رُویا کی مانند تھی جو مَیں نے اُس وقت دیکھی جَب وہ شہر کو تباہ کرنے کے لیٔے آئےتھے اَور اُن رُویتوں کے مُطابق بھی تھی جو مَیں نے نہر کِبارؔ کے کنارے پر دیکھی تھیں اَور مَیں مُنہ کے بَل گِر پڑا۔
EZE 43:4 یَاہوِہ کا جلال بیت المُقدّس میں اُس پھاٹک سے داخل ہُوا جِس کا رُخ مشرق کی جانِب ہے۔
EZE 43:5 پھر رُوح نے مُجھے اُٹھالیا اَور اَندرونی صحن میں لے آیا اَور بیت المُقدّس یَاہوِہ کے جلال سے معموُر ہو گئی۔
EZE 43:6 جَب وہ آدمی میرے پاس کھڑا تھا تَب مَیں نے کسی کو بیت المُقدّس کے اَندر سے بات کرتے ہُوئے سُنا۔ وہ مُجھ سے مُخاطِب تھا۔
EZE 43:7 اُنہُوں نے کہا: ”اَے آدمؔ زاد، یہ میرے تخت کی جگہ اَور میرے پاؤں رکھنے کی چوکی ہے۔ یہ وُہی جگہ ہے جہاں میں اَبد تک اِسرائیلیوں کے ساتھ رہُوں گا۔ بنی اِسرائیل اَور اُن کے بادشاہ پھر کبھی اَپنی جِسم فروشی اَور اَپنے بادشاہوں کے اُن بے جان بُتوں سے جو اُن کے اُونچے مقامات پر ہیں میرے پاک نام کی بےحُرمتی نہ کریں گے۔
EZE 43:8 جَب اُنہُوں نے اَپنا آستانہ میرے آستانہ کے پاس اَور اَپنے دروازوں کے چوکھٹ میرے دروازوں کے سُتونوں کے پاس رکھے اَور میرے اَور اُن کے درمیان صِرف ایک دیوار حائل تھی تَب اُنہُوں نے اَپنی نفرت اَنگیز حرکتوں سے میرے پاک نام کی بےحُرمتی کی۔ اِس لیٔے مَیں نے اُنہیں اَپنے قہر میں تباہ کر دیا۔
EZE 43:9 اَب وہ اَپنی جِسم فروشی اَور اَپنے بادشاہوں کے بے جان بُت مُجھ سے دُور کر دیں تو میں اَبد تک اُن کے درمیان رہُوں گا۔
EZE 43:10 ”اَے آدمؔ زاد، بیت المُقدّس کا نقشہ بنی اِسرائیل سے بَیان کر تاکہ وہ اَپنے گُناہوں سے شرمندہ ہُوں۔ اُنہیں اُس نقشہ پر غور کرنے دے۔ اُنہیں اُس کے ماخذ کے بارے میں سوچنے دیں،
EZE 43:11 اگر وہ اَپنے کئے پر پشیمان ہُوں تو اُنہیں بیت المُقدّس کا نقشہ، اُس کی ترتیب، اُس کے باہر اَور اَندر آنے جانے کے راستے۔ اُس کا مُکمّل خاکہ اَور اُس کے تمام اَحکام اَور قوانین بتا۔ اُنہیں اُن کے سامنے لِکھ دینا تاکہ وہ اُس نقشہ کو تسلیم کریں اَور اُس کے تمام طور طریقوں پر عَمل کریں۔
EZE 43:12 ”بیت المُقدّس کا آئین یہ ہے کہ پہاڑ کی چوٹی کے اِردگرد کا تمام علاقہ نہایت مُقدّس ہوگا۔ بیت المُقدّس کا قانُون اَیسا ہی ہے۔
EZE 43:13 ”بڑے ہاتھ کے مُطابق جو ایک ہاتھ اَور چار اُنگل کے برابر ہے مذبح کے ناپ یہ ہیں: اُس کا پایہ ایک ہاتھ گہرا اَور ایک ہاتھ چوڑا ہے جِس کا حلقہ کنارے سے ایک بالشت کا ہوگا۔ اَور مذبح کا پایہ یہی ہے۔
EZE 43:14 زمین پر کے اُس پایہ سے نیچے کی کُرسی تک وہ دو ہاتھ اُونچا اَور ایک ہاتھ چوڑا اَور چُھوٹی کُرسی سے بڑی کُرسی تک چار ہاتھ اُونچا اَور ایک ہاتھ چوڑا ہوگا۔
EZE 43:15 مذبح کا آتِشدان چار ہاتھ اُونچا ہے اَور اُس کے چار سینگ اُوپر کو نکلے ہُوئے ہوں گے۔
EZE 43:16 مذبح کا آتِشدان مُربّع نُما ہے جو بَارہ ہاتھ لمبا اَور بَارہ ہاتھ چوڑا ہے۔
EZE 43:17 اُوپر کی کُرسی بھی مُربّع نُما ہے جو چودہ ہاتھ لمبی اَور چودہ ہاتھ چوڑی ہے۔ جِس کا چاروں طرف کا حاشیہ آدھے ہاتھ کا اَور پیندا ایک ہاتھ کا ہے۔ اُس کی سِیڑھیوں کا رُخ مشرق کی جانِب ہے۔“
EZE 43:18 پھر اُس نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدمؔ زاد، یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: جَب مذبح تیّار ہو جائے تَب اُس پر سوختنی نذریں گذراننے اَور لہُو چھڑکنے کے یہ اَحکام ہوں گے:
EZE 43:19 تُمہیں ایک بچھڑا گُناہ کی قُربانی کے طور پر کاہِنوں کو دینا ہوگا جو صدُوقؔ کی نَسل کے لیوی ہیں اَور خدمت کے لیٔے میرے حُضُور میں آتے ہیں۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 43:20 تُم اُس کا تھوڑا لہُو لے کر مذبح کے چاروں سینگوں پر اَور اُوپر کی کُرسی کے چاروں کونوں پر اَور چاروں طرف کے حاشیہ پر ڈالنا۔ اُس طرح تُم مذبح کو پاک کرنا اَور اُس کے لیٔے کفّارہ دینا۔
EZE 43:21 تَب تُم گُناہ کی قُربانی کے بچھڑے کو لے کر پاک مَقدِس کے باہر بیت المُقدّس کی مُقرّرہ جگہ میں جَلانا۔
EZE 43:22 ”دُوسرے دِن تُم ایک بے عیب بکرا گُناہ کی قُربانی کے طور پر چڑھانا اَور مذبح کو اِسی طرح پاک کیا جائے جَیسے بچھڑے سے کیا گیا تھا۔
EZE 43:23 جَب تُم اُسے پاک کر چُکو تو ایک بچھڑا اَور گلّہ میں سے ایک مینڈھا بھی چڑھانا جو دونوں بے عیب ہُوں۔
EZE 43:24 تُم اُنہیں یَاہوِہ کے حُضُور میں پیش کرنا اَور کاہِنؔ اُن پر نمک چھڑکیں اَور اُنہیں سوختنی نذر کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور میں چڑھائیں۔
EZE 43:25 ”سات دِن تک تُم گُناہ کی قُربانی کے لیٔے روزانہ ایک بکرا مُہیّا کرنا۔ اَور تُم ایک بچھڑا اَور گلّہ میں سے ایک مینڈھا بھی مُہیّا کرنا جو دونوں بے عیب ہُوں۔
EZE 43:26 سات دِن تک وہ مذبح کے لیٔے کفّارہ دے کر اُسے پاک کریں۔ اُس طرح وہ اُسے مخصُوص کریں گے۔
EZE 43:27 جَب یہ دِن پُورے ہُوں تَب آٹھویں دِن سے کاہِنؔ تمہاری سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذریں مذبح پر گذرانیں۔ تَب میں تُمہیں قبُول کروں گا۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔“
EZE 44:1 پھر وہ شخص مُجھے واپس مُقدّس کے بیرونی دروازے پر لے آیا، جِس کا مُنہ مشرق کی طرف تھا، اَور وہ بند تھا۔ لایا جِس کا رُخ مشرق کی جانِب ہے اَور وہ بند تھا۔
EZE 44:2 تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے کہا: ”یہ پھاٹک بند رہے گا۔ اُسے کبھی نہ کھولا جائے اَور کویٔی شخص اُس میں سے ہوکر داخل نہ ہو۔ چونکہ یَاہوِہ اِسرائیل کا خُدا اِس میں سے ہوکر داخل ہُواہے اِس لیٔے یہ بند رہے گا۔
EZE 44:3 صِرف وہ ہی اَیسا شہزادہ ہوگا جو اُس دروازہ میں بیٹھ کر یَاہوِہ کے حُضُور روٹی کھا سَکتا ہے۔ وہ پھاٹک کے برامدے کی راہ سے اَندر آئے اَور اِسی راہ سے باہر جائے۔“
EZE 44:4 پھر وہ آدمی مُجھے شمالی پھاٹک کی راہ سے بیت المُقدّس کے سامنے لایا۔ مَیں نے دیکھا کہ یَاہوِہ کا بیت المُقدّس یَاہوِہ کے جلال سے معموُر ہو رہاہے اَور مَیں مُنہ کے بَل گرا۔
EZE 44:5 یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”اَے آدمؔ زاد، غور سے دیکھ اَور کان لگا کر سُن اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس سے متعلّق تمام طور طریقوں اَور ہدایات کے بارے میں مَیں جو کچھ تُجھ سے کہُوں اُس پر دھیان دے اَور بیت المُقدّس کے مدخل اَور مُقدّس کے تمام مخارج کو خیال میں رکھ۔
EZE 44:6 اَور سرکش بنی اِسرائیل سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَے بنی اِسرائیل، تمہاری نفرت اَنگیز حرکتوں کی حَد ہو چُکی ہے!
EZE 44:7 اَپنی دُوسری تمام نفرت اَنگیز حرکتوں کے علاوہ تُم پردیسیوں کو جو دِل اَور جِسم کے نامختون تھے میرے مُقدّس میں لایٔے اَور جَب تُم نے مُجھ پر روٹی، چربی اَور لہُو چڑھایا تَب میری بیت المُقدّس کو ناپاک کیا اَور تُم نے میرا عہد توڑا۔
EZE 44:8 میری مُقدّس چیزوں کے متعلّق اَپنی ذمّہ داری بجا لانے کی بجائے تُم نے دُوسروں کو میرے مُقدّس کا نگہبان مُقرّر کیا۔
EZE 44:9 یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: کویٔی پردیسی جو دِل اَور جِسم کا نامختون ہو میرے مُقدّس میں داخل نہ ہو۔ وہ پردیسی بھی نہیں جو اِسرائیل کے درمیان رہتے ہیں۔
EZE 44:10 ” ’وہ لیوی اَپنے گُناہ کی سزا پائیں گے جو اُس وقت مُجھ سے دُورہو گیٔے جَب اِسرائیل گُمراہ ہُوا اَور لوگ اَپنے بُتوں کے پیچھے لگ کر مُجھ سے بھٹک گیٔے۔
EZE 44:11 پھر بھی وہ میرے مُقدّس میں بیت المُقدّس کے دربان ہوکر اُس میں خدمت کر سکتے ہیں۔ وہ لوگوں کے لیٔے سوختنی نذریں اَور ذبیحے ذبح کر سکتے ہیں اَور اُن کے سامنے کھڑے ہوکر اُن کی خدمت کر سکتے ہیں۔
EZE 44:12 لیکن چونکہ اُنہُوں نے اُن کے بُتوں کی مَوجُودگی میں اُن کی خدمت کی اَور بنی اِسرائیل کو گُناہ کرنے پر آمادہ کیا اِس لیٔے مَیں نے ہاتھ اُٹھاکر قَسم کھائی ہے کہ اُنہیں اَپنے گُناہ کا بار اُٹھانا ہوگا۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 44:13 وہ کہانت کی خدمت اَنجام دینے کے لیٔے میرے آپ میں نہ آئیں، نہ میری کسی مُقدّس شَے بَلکہ نہایت ہی مُقدّس اَشیا کے قریب آئیں۔ وہ اَپنی نفرت اَنگیز حرکتوں کے باعث رُسوا ہوں گے اَور سزا پائیں گے۔
EZE 44:14 پھر مَیں اُنہیں بیت المُقدّس سارا کام جو اُس میں کیا جاتا ہیں اُس کی نگہبانی پر مُقرّر کر دُوں گا۔
EZE 44:15 ” ’لیکن لیوی کاہِنؔ جو صدُوقؔ کی نَسل سے ہیں اَور جنہوں نے میرے مُقدّس کی اُس وقت خدمت کی جَب بنی اِسرائیل مُجھ سے گُمراہ ہو گئے تھے، وہ میری خدمت کے لیٔے میرے سامنے آیا کریں۔ وہ میرے سامنے کھڑے ہوکر چربی اَور لہُو گذرانیں۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 44:16 صِرف وُہی میرے مُقدّس میں داخل ہُوں اَور میری میز کے نزدیک آئیں اَور میرے آپ میں خدمت اَنجام دینے کی ذمّہ داری قبُول کریں۔ اَور مُحافظوں کے طور پر میری خدمت کریں گے۔
EZE 44:17 ” ’جَب وہ اَندرونی صحن کے پھاٹکوں میں سے داخل ہُوں تو کتانی کپڑوں سے مُلبّس ہُوں۔ وہ اَندرونی صحن کے پھاٹکوں میں یا بیت المُقدّس میں خدمت کرتے وقت کویٔی اُونی پوشاک نہ پہنیں۔
EZE 44:18 وہ اَپنے سَروں پر کتانی عمامے پہنیں اَور اُن کے پاجامے بھی کتانی ہُوں۔ وہ کویٔی اَیسی چیز نہ پہنیں جِس سے اُنہیں پسینہ آنے لگے۔
EZE 44:19 جَب وہ بیرونی صحن میں جایٔیں جہاں عوام ہوتے ہیں تَب وہ اَپنا وہ لباس اُتار دیں جسے پہن کر وہ خدمت کرتے ہیں اَور اُسے مُقدّس کمروں میں رکھ کر دُوسرا لباس پہنیں تاکہ اُن کا لباس عوام کی تقدیس کا باعث نہ ہو۔
EZE 44:20 ” ’وہ سَر نہ منڈائیں، نہ ہی اَپنے بال لمبے ہونے دیں بَلکہ حجامت بنوائیں۔
EZE 44:21 اَندرونی صحن میں داخل ہوتے وقت کویٔی کاہِنؔ مَے نہ پیئے۔
EZE 44:22 وہ بیواؤں اَور مُطلّقہ عورتوں سے بیاہ نہ کریں۔ البتّہ وہ صِرف اُن کنواریوں سے بیاہ کریں جو اِسرائیلیوں کی نَسل سے ہُوں یا کسی اَیسی عورت سے جو کاہِنؔ کی بِیوہ ہو۔
EZE 44:23 وہ میرے لوگوں کو خاص و عام میں فرق سکھائیں اَور اُنہیں بتائیں کہ ناپاک اَور پاک میں تمیز کیسے کی جائے۔
EZE 44:24 ” ’اگر کویٔی جھگڑا پیش آئے تو کاہِنؔ مُنصِف کی خدمات اَنجام دیں اَور میرے آئین کے مُطابق فیصلہ کریں۔ وہ میری تمام مُقرّرہ عیدوں کے لیٔے میری شَریعت اَور میرے آئین پر عَمل کریں اَور میری سَبتوں کو مُقدّس جانیں۔
EZE 44:25 ” ’کویٔی کاہِنؔ کسی میّت کے نزدیک جا کر اَپنے آپ کو نجِس نہ کرے لیکن اگر مَرا ہُوا شخص اُس کا باپ یا ماں، بیٹا یا بیٹی، بھایٔی یا کنواری بہن ہو تو وہ اَپنے آپ کو ناپاک کر سَکتا ہے۔
EZE 44:26 اَور جَب وہ پاک ہو جائے تو سات دِن تک اِنتظار کرے۔
EZE 44:27 جِس دِن وہ مُقدّس میں خدمت کرنے کی خاطِر اُس کے اَندرونی صحن میں داخل ہو تو وہ اَپنی خاطِر گُناہ کی قُربانی پیش کریں۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 44:28 ” ’کاہِنوں کے لیٔے صِرف میں ہی مِیراث ٹھہروں گا۔ تُم اُنہیں اِسرائیل میں کویٔی مِلکیّت نہ دینا؛ میں ہی اُن کی مِلکیّت ہُوں گا۔
EZE 44:29 وہ نذر کی قُربانی، گُناہ کی قُربانی اَور خطا کی قُربانی کھایٔیں گے اَور اِسرائیل میں جو کچھ یَاہوِہ کی نذر کیا جائے وہ اُن کا ہوگا۔
EZE 44:30 اَور تمام پہلے پھلوں میں سے بہترین پھل اَور تمہارے تمام خصوصی ہدیئے کاہِنوں کے ہوں گے۔ تُم اَپنے گُندھے ہُوئے آٹے کا پہلا حِصّہ اُن کو پیش کرو تاکہ تمہارے خاندان پر برکت ہو۔
EZE 44:31 کاہِنؔ کویٔی اَیسا پرندہ یا جانور نہ کھایٔیں جو مَرا ہُوا پایا جائے یا جنگلی جانوروں کا پھاڑا ہُوا ہو۔
EZE 45:1 ” ’جَب تُم مُلک کو مِیراث کے طور پر تقسیم کرو تَب تُم زمین کا ایک حِصّہ مُقدّس علاقہ کے طور پر یَاہوِہ کی نذر کرو جو پچّیس ہزار ہاتھ لمبا اَور بیس ہزار ہاتھ چوڑا ہو اَور وہ تمام علاقہ مُقدّس ہوگا۔
EZE 45:2 اُس میں سے پانچ سَو مُربّع ہاتھ حِصّہ مُقدّس کے لیٔے ہوگا اَور اِس کے اطراف پچاس ہاتھ کا کھُلا احاطہ ہوگا۔
EZE 45:3 اُس مُقدّس علاقہ میں سے پچّیس ہزار ہاتھ لمبا اَور دس ہزار ہاتھ چوڑا حِصّہ ناپ لینا۔ اُس میں پاک مَقدِس ہوگا جو نہایت ہی پاک ترین مقام ہے۔
EZE 45:4 زمین کا یہ مُقدّس حِصّہ اُن کاہِنوں کے لیٔے ہوگا جو پاک مَقدِس میں خدمت کرتے ہیں اَور یَاہوِہ کے حُضُور میں خدمت کرنے کو آتے ہیں اَور یہ جگہ اُن کے مکانوں کے لیٔے ہوگی اَور پاک مُقدّس کے لیٔے مُقدّس مقام بھی ہوگی۔
EZE 45:5 پچّیس ہزار ہاتھ لمبی اَور دس ہزار ہاتھ چوڑی جگہ بیت مُقدّس کی خدمت کرنے والے لیویوں کی مِلکیّت ہوگی تاکہ وہ اُس میں رہنے کے لیٔے شہر بسائیں۔
EZE 45:6 ” ’مُقدّس علاقہ سے لگ کر پانچ ہزار ہاتھ چوڑی اَور پچّیس ہزار ہاتھ لمبی زمین کا مُقدّس حِصّہ تُم شہر کے لیٔے دے دینا جو تمام بنی اِسرائیل کی ہوگی۔
EZE 45:7 ” ’اَور شہزادے کے مُقدّس علاقہ اَور شہر کی زمین سے بنے ہُوئے علاقہ کے دونوں طرف کی زمین شہزادے کی ہوگی جو مغربی بازو سے مغرب کی طرف اَور مشرقی بازو سے مشرق کی طرف، مغربی سرحد سے مشرقی سرحد تک کسی ایک قبائلی حِصّہ کی لمبائی کے متوازی پھیلی ہوگی۔
EZE 45:8 یہ زمین اِسرائیل میں اُس کی مِلکیّت ہوگی اَور میرے حُکمراں میرے لوگوں پر پھر کبھی سِتم نہ کریں گے بَلکہ بنی اِسرائیل کو اُن کے قبائل کے مُطابق زمین تقسیم کریں گے۔
EZE 45:9 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَے اِسرائیل کے اُمرا! تُم حَد سے بڑھ گیٔے ہو۔ تُم تشدّد اَور سِتم چھوڑ دو اَور وُہی کرو جو جائز اَور روا ہے۔ میرے لوگوں سے اُن کی جائداد نہ چھینو۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 45:10 تُم صحیح ترازو، صحیح ایفہ اَور صحیح بَت اِستعمال کرو۔
EZE 45:11 ایفہ اَور بَت دونوں ایک سے ناپ ہُوں۔ بَت میں حُومر کا دسواں حِصّہ سمائے اَور ایفہ میں بھی حُومر کا دسواں حِصّہ ہو۔ حُومر ہی دونوں کے لیٔے معیاری پیمانہ ہو۔
EZE 45:12 ایک ثاقل بیس گِیرہ کا ہو اَور ساٹھ ثاقل (بیس ثاقل جمع پچّیس ثاقل جمع پندرہ ثاقل) کے برابر ایک مِنہ ہو۔
EZE 45:13 ” ’اَور تُم یہ خصوصی ہدیہ نذر کرو: گیہُوں کے ہر حُومر سے ایفہ کا چھٹا حِصّہ؛ فی حُومر جَو سے ایفہ کا چھٹا حِصّہ۔
EZE 45:14 تیل کا مُقرّرہ حِصّہ، بَت کے ناپ سے، ہر کور میں بَت کا دسواں حِصّہ ہو (ایک کور دس بَت یا ایک حُومر کے برابر ہوتاہے کیونکہ دس بَت ایک حُومر کے برابر ہوتے ہیں)۔
EZE 45:15 اَور اِسرائیل کی سیراب چراگاہوں میں سے ہر دو سَو کے گلّہ میں سے ایک برّہ لیا جائے۔ اُنہیں لوگوں کا کفّارہ دینے کے لیٔے نذر کی قُربانی، سوختنی نذر اَور سلامتی کی نذر کی قُربانی کے طور پر اِستعمال کیا جائے گا۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 45:16 مُلک کے تمام لوگ اِسرائیل کے شہزادوں کے اِستعمال کے لیٔے اُس خصوصی ہدیہ میں شریک ہُوں۔
EZE 45:17 اِسرائیل کے شہزادے کی یہ ذمّہ داری ہوگی کہ وہ مُختلف عیدوں، نئے چاند کے دِنوں اَور سَبت کے دِنوں جَیسی بنی اِسرائیل کی تمام مُقرّرہ عیدوں کے موقعوں پر سوختنی نذریں، نذر کی قُربانیاں اَور تپاون مُہیّا کرے۔ وہ بنی اِسرائیل کے کفّارہ کے لیٔے گُناہ کی نذر، اناج کی نذریں، سوختنی نذریں اَور سلامتی کی نذروں کی قُربانیاں مُہیّا کرےگا۔
EZE 45:18 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: پہلے مہینے کے پہلے دِن تُو ایک بے عیب بچھڑا لے کر پاک مَقدِس کو پاک کرنا۔
EZE 45:19 کاہِنؔ گُناہ کی قُربانی کا کچھ لہُو لے کر بیت المُقدّس کے دروازوں کی چوکھٹوں پر اَور مذبح کے اُوپر کی کُرسی کے چاروں کونوں پر اَور اَندرونی صحن کے پھاٹک کے کھمبوں پر لگائے۔
EZE 45:20 اَور اگر کویٔی شخص نادانستہ طور پر یا بھُول سے گُناہ کر بیٹھے تو مہینے کے ساتویں دِن بھی تُم اُس کے لیٔے اَیسا ہی کرنا۔ اِس طرح تُم بیت المُقدّس کا کفّارہ دیتے رہنا۔
EZE 45:21 ” ’پہلے مہینے کے چودھویں دِن تُم عیدِفسح منانا۔ یہ عید ساتویں دِن تک رہے گی اَور اُس عرصہ میں تُم بے خمیری روٹی کھاؤگے۔
EZE 45:22 اُس دِن اُمرا اَپنے لیٔے اَور مُلک کے تمام لوگوں کی خاطِر ایک بچھڑا گُناہ کی قُربانی کے لیٔے مُہیّا کرےگا۔
EZE 45:23 عید کے اُن سات دِنوں میں یَاہوِہ کے لیٔے سوختنی نذر گذراننے کے لیٔے وہ ہر روز سات بچھڑے اَور سات مینڈھے مُہیّا کرے جو بے عیب ہُوں اَور ایک بکرا گُناہ کی قُربانی کے لیٔے مُہیّا کرے۔
EZE 45:24 اَور وہ نذر کی قُربانی کے طور پر ہر بچھڑے کے لیٔے ایک ایفہ اَور ہر مینڈھے کے لیٔے ایک ایفہ مُہیّا کرے اَور اُس کے ساتھ فی ایفہ ایک ہِین روغن بھی مُہیّا کرے۔
EZE 45:25 ” ’عید کے سات دِنوں میں جو ساتویں مہینے کے پندرھویں دِن شروع ہوتی ہے، وہ اِسی طرح گُناہ کی قُربانیاں، سوختنی نذریں اَور نذر کی قُربانیاں اَور روغن مُہیّا کرےگا۔ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَندرونی صحن کا پھاٹک۔
EZE 46:1 ” ’یَاہوِہ قادر کا یہ فرمان ہے: جِس کا رُخ مشرق کی جانِب ہے کام کاج کے چھ دِن بند رکھا جائے لیکن سَبت کے دِن اَور نئے چاند کے دِن اُسے کھولا جائے۔
EZE 46:2 فرمانروا شہزادہ باہر سے پھاٹک کے برامدے کی راہ سے ہوتا ہُوا اَندر داخل ہو اَور پھاٹک کے چوکھٹ کے پاس کھڑا ہو جائے۔ کاہِنؔ اُس کی سوختنی نذر اَور اُس کی سلامتی کی نذریں گذرانیں۔ وہ دروازہ کے آستانہ پر عبادت کرے اَور تَب باہر چلا جائے۔ لیکن پھاٹک شام تک بند نہ کیا جائے گا۔
EZE 46:3 سَبت اَور نئے چاند کے دِنوں میں مُلک کے لوگ اُس پھاٹک کے مدخل پر یَاہوِہ کی حُضُوری میں عبادت کیا کریں۔
EZE 46:4 سَبت کے دِن شہزادہ یَاہوِہ کے لیٔے جو سوختنی نذر لایٔے وہ چھ نر برّے اَور ایک مینڈھا ہُوں جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں۔
EZE 46:5 مینڈھے کے ساتھ ایک ایفہ نذر کی قُربانی ہو اَور برّوں کے ساتھ وہ اَپنی مرضی کے مُطابق جِتنا چاہے فی ایفہ ایک ہِین روغن سمیت دے۔
EZE 46:6 نئے چاند کے دِن وہ ایک بچھڑا، چھ برّے اَور ایک مینڈھا گذرانے گا جو سَب کے سَب بے عیب ہُوں۔
EZE 46:7 اَور نذر کی قُربانی کے طور پر وہ بچھڑے کے ساتھ ایک ایفہ، مینڈھے کے ساتھ ایک ایفہ اَور برّوں کے ساتھ جِتنا وہ دینا چاہے ہر ایفہ کے ساتھ ایک ہِین روغن سمیت مُہیّا کرے۔
EZE 46:8 جَب شہزادہ اَندر آئے تو وہ پھاٹک کے برامدے کی راہ داخل ہو اَور اُسی راہ سے باہر چلا جائے۔
EZE 46:9 ” ’جَب مُلک کے لوگ مُقرّرہ عیدوں کے موقعوں پر یَاہوِہ کے حُضُور میں آئیں تَب جو شمالی پھاٹک سے ہوکر عبادت کے لیٔے داخل ہو وہ جُنوبی پھاٹک کی راہ سے باہر نکل جائے اَورجو جُنوبی پھاٹک سے ہوکر داخل ہو وہ شمالی پھاٹک کی راہ سے باہر چلا جائے۔ کویٔی شخص اِسی پھاٹک کی راہ سے نہ لَوٹے جِس پھاٹک کی راہ سے ہوکر وہ اَندر آیاتھا بَلکہ ہر شخص اَپنے سامنے کے پھاٹک سے ہوکر باہر نکلے۔
EZE 46:10 شہزادہ بھی اُن کے ساتھ ہو جو اُن ہی کے ساتھ اَندر داخل ہو اَور جَب وہ باہر نکلیں تو اُن کے ساتھ باہر جائے۔
EZE 46:11 تہواروں اَور مُقرّرہ عیدوں کے موقعوں پر بچھڑے کے ساتھ ایک ایفہ، مینڈھے کے ساتھ ایک ایفہ اَور برّوں کے ساتھ اَپنی مرضی کے مُطابق نذر کی قُربانی ہوگی جو ہر ایفہ کے ساتھ ایک ہِین روغن سمیت ہو۔
EZE 46:12 ” ’جَب شہزادہ یَاہوِہ کے حُضُور رضا کی قُربانی مُہیّا کرے، خواہ وہ سوختنی نذر ہو یا سلامتی کی نذریں ہُوں، تَب اُس کے لیٔے وہ پھاٹک کھولا جائے جِس کا رُخ مشرق کی جانِب ہے۔ وہ اَپنی سوختنی نذر یا سلامتی کی نذریں اِسی طرح پیش کرے جَیسے وہ سَبت کے دِن کرتا ہے۔ تَب وہ باہر نکل جائے گا اَور اُس کے جانے کے بعد پھاٹک بند کر دیا جائے گا۔
EZE 46:13 ” ’اَور ہر روز تُو ایک بے عیب یک سالہ برّہ یَاہوِہ کے لیٔے سوختنی نذر کی خاطِر مُہیّا کرےگا جسے تُو ہر صُبح مُہیّا کرنا۔
EZE 46:14 تُو اُس کے ساتھ ہر صُبح نذر کی قُربانی کے طور پر ایفہ کا چھٹا حِصّہ بھی مُہیّا کرنا جو آٹے کو نم کرنے کے لیٔے ہِین کے تیسرے حِصّہ کے برابر روغن سمیت ہو۔ یَاہوِہ کے لیٔے یہ نذر کی قُربانی پیش کرنا دائمی حُکم ہے۔
EZE 46:15 لہٰذا سوختنی نذر کے لیٔے برّہ، نذر کی قُربانی اَور روغن ہر صُبح باقاعدہ مُہیّا کیا جائے۔
EZE 46:16 ” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اگر اُمرا اَپنی مِیراث میں سے اَپنے کسی ایک بیٹے کو کویٔی ہدیہ دے تو وہ مِیراث اُس کی اَولاد کی بھی ہوگی۔ وہ اُن کی موروثی مِلکیّت ہوگی۔
EZE 46:17 البتّہ اگر وہ اَپنی مِیراث میں سے اَپنے کسی خادِم کو ہدیہ دے تو وہ خادِم اُسے آزادی کے سال تک رکھے۔ اُس کے بعد وہ اُمرا کو لَوٹا دیا جائے گا۔ اُس کی مِیراث صِرف اُس کے بیٹوں کی ہے۔ وہ اُن کی مِیراث ہے۔
EZE 46:18 اَور اُمرا لوگوں سے اُن کی جائداد چھین کر اُسے اَپنی مِیراث نہ بنا لے۔ وہ اَپنے بیٹوں کو اُن کی مِیراث خُود اَپنی جائداد میں سے دے تاکہ میرے لوگوں میں کویٔی شخص بھی اَپنی جائداد سے محروم نہ کیا جائے۔‘ “
EZE 46:19 تَب وہ آدمی مُجھے پھاٹک کے بازو کے دروازہ سے اُن مُقدّس کمروں کے پاس لایا جِن کا رُخ شمال کی جانِب تھا اَورجو کاہِنوں کے تھے اَور مُجھے مغربی سِرے پر ایک جگہ دِکھائی۔
EZE 46:20 اُس نے مُجھ سے کہا، ”یہ وہ جگہ ہے جہاں کاہِنؔ خطا کی قُربانی اَور گُناہ کی قُربانی کو پکایئں گے اَور نذر کی قُربانی پکائیں گے تاکہ اُنہیں بیرونی صحن میں لوگوں کی تقدیس کے لیٔے لانے کی نَوبَت نہ آئے۔“
EZE 46:21 پھر وہ مُجھے بیرونی صحن میں لے آیا اَور اُس کے چاروں کونوں میں گھُمایا اَور مَیں نے ہر کونے میں ایک ایک صحن دیکھا۔
EZE 46:22 بیرونی صحن کے چاروں کونوں میں چالیس ہاتھ لمبا اَور تیس ہاتھ چوڑا ایک ایک گھِرا ہُوا صحن تھا۔ چاروں کونوں کے ہر صحن کا ناپ یکساں تھا۔
EZE 46:23 چاروں صحنوں میں سے ہر ایک کے اَندر کے حِصّہ میں اِردگرد پتّھر کی دیوار تھی جِس کے نیچے چولہے بنے ہُوئے تھے۔
EZE 46:24 اُس نے مُجھ سے کہا، ”یہ باورچی خانے ہیں جہاں بیت المُقدّس کے خادِم لوگوں کے ذبیحے پکائیں گے۔“
EZE 47:1 مَیں نے بیت المُقدّس کی دہلیز کے نیچے سے پانی نکلتے ہُوئے دیکھا جو مشرق کی جانِب بہہ رہاتھا (کیونکہ بیت المُقدّس کا رُخ مشرق کی طرف تھا)۔ پانی بیت المُقدّس کے جُنوبی حِصّہ کے نیچے سے یعنی مذبح کے جُنوب سے بہہ رہاتھا۔
EZE 47:2 پھر وہ مُجھے شمالی پھاٹک سے باہر لے آیا اَور مُجھے بیرونی پھاٹک کے باہر لے گیا جِس کا رُخ مشرق کی طرف ہے اَور اُس کے اِردگرد گھُمایا اَور وہاں پانی جُنوب کی طرف سے پانی ٹپک رہاتھا۔
EZE 47:3 جوں ہی وہ آدمی اَپنے ہاتھ میں جریب کی ڈوری لے کر مشرق کی جانِب گیا اُسے ایک ہزار ہاتھ ناپا اَور مُجھے پانی میں سے لے چلا جو ٹخنوں تک گہرا تھا۔
EZE 47:4 اُس نے اَور ایک ہزار ہاتھ ناپا اَور مُجھے پانی میں سے لے چلا جو گھٹنوں تک گہرا تھا۔ اُس نے اَور ایک ہزار ہاتھ ناپا اَور مُجھے پانی میں سے لے چلا جو کمر تک گہرا تھا۔
EZE 47:5 اُس نے اَور ایک ہزار ہاتھ ناپا لیکن اَب وہ ندی بَن چُکاتھا جسے میں عبور نہ کر سَکتا تھا کیونکہ پانی چڑھ چُکاتھا اَور وہ اِس قدر گہرا تھا کہ اُس میں تیرا جا سَکتا تھا۔ ایک اَیسی ندی جسے کویٔی عبور نہ کر سَکتا تھا۔
EZE 47:6 اُس نے مُجھ سے پُوچھا، ”اَے آدمؔ زاد، کیا تُم یہ دیکھتے ہو؟“ تَب وہ مُجھے ندی کے کنارے پر واپس لایا۔
EZE 47:7 جَب مَیں وہاں پہُنچا تو مَیں نے ندی کے دونوں کناروں پر لاتعداد درخت دیکھے۔
EZE 47:8 اُس نے مُجھ سے کہا: ”یہ پانی مشرقی علاقہ کی طرف بہتا ہے اَور عراباہؔ میں جا گرتا ہے جہاں وہ بحرمُردار میں مِل جاتا ہے۔ جَب وہ سمُندر میں داخل ہوتاہے تو وہاں کا کھارا پانی میٹھا ہو جاتا ہے۔
EZE 47:9 جہاں جہاں سے یہ پانی بہے گا وہاں جانداروں کے جھُنڈ بسیں گے۔ وہاں لاتعداد مچھلیاں ہُوں گی کیونکہ یہ پانی وہاں تک بہتا ہے اَور نمکین پانی کو شیریں بنا دیتاہے۔ اِس لیٔے جہاں کہیں سے یہ ندی بہے گی وہاں ہر جاندار زندہ رہے گا۔
EZE 47:10 مچھیرے کناروں پر کھڑے ہوں گے اَور عینؔ گیدیؔ سے عینؔ عگلائمؔ تک جال بچھانے کو جگہیں ہُوں گی۔ اَور بحرِ رُوم کی مچھلیوں کی مانند وہاں طرح طرح کی مچھلیاں ہُوں گی۔
EZE 47:11 لیکن دلدل اَور کیچڑ کی جگہیں شیریں نہ ہوں گی۔ وہ نمکین ہی رہیں گی۔
EZE 47:12 ندی کے دونوں کناروں پر ہر قِسم کے پھلوں کے درخت اُگیں گے۔ اُن کے پتّے کبھی نہ مُرجھائیں گے اَور اُن کا پھلنا کبھی موقُوف نہ ہوگا۔ اُن میں ہر ماہ پھل لگے گا کیونکہ پاک مَقدِس سے نِکلا ہُوا پانی اُن کو سیراب کرتا ہے۔ اُن کا پھل کھانے کے کام آئے گا اَور اُن کے پتّے شفا بخشیں گے۔“
EZE 47:13 یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ”جِن سرحدوں کے مُطابق تُم مُلک کو اِسرائیل کے بَارہ قبائل میں مِیراث کے طور پر تقسیم کروگے وہ یہ ہیں: یُوسیفؔ کو دو حِصّے ملیں۔
EZE 47:14 تُم اُسے اُن کے درمیان یکساں تقسیم کرنا کیونکہ مَیں نے ہاتھ اُٹھاکر قَسم کھائی تھی کہ اُسے تمہارے آباؤاَجداد کو دُوں گا اَور یہ زمین تمہاری مِیراث ہوگی۔
EZE 47:15 ”مُلک کی سرحد یہ ہو: ”شمال کی جانِب بحرِ رُوم سے لے کر حتلونؔ کی راہ سے لیبو حماتؔ سے ہوتی ہُوئی ضِدادؔ تک۔
EZE 47:16 بیروتھاؔ اَور سِبرایمؔ (جو دَمشق اَور لیبو حماتؔ کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے) سے حضار ہتیکونؔ تک جو حورانؔ کی سرحد پر ہے۔
EZE 47:17 یہ سرحد سمُندر سے لے کر دَمشق کی شمالی سرحد سے ہوتی ہُوئی حضار عینانؔ تک پہُنچے اَور حماتؔ کی سرحد اُس کے شمال میں ہو۔ یہ شمالی سرحد ہوگی۔
EZE 47:18 مشرق کی جانِب کی سرحد حورانؔ اَور دَمشق کے درمیان سے ہوتی ہُوئی اَور یردنؔ سے لگ کر گِلعادؔ اَور اِسرائیل کے مُلک کے درمیان سے ہوتی ہُوئی مشرقی سمُندر تک اَور اُس سے پرے تامارؔ تک پہُنچے گی۔ یہ مشرقی سرحد ہوگی۔
EZE 47:19 جُنوب کی جانِب تامارؔ سے لے کر مریبہؔ قادِسؔ کے چشمے تک وادی مِصر سے ہوتی ہُوئی بحرِ رُوم تک پہُنچے۔ یہ جُنوبی سرحد ہوگی۔
EZE 47:20 مغرب کی جانِب لیبو حماتؔ کے مقابل بحرِ رُوم ہی سرحد ہوگا۔ یہ مغربی سرحد ہوگی۔
EZE 47:21 ”تُم اُس مُلک کو اِسرائیل کے قبائل کے مُطابق آپَس میں تقسیم کر لو۔
EZE 47:22 تُم اُسے آپَس میں اَور اُن پردیسیوں کے ساتھ بطور مِیراث تقسیم کر لو جو تمہارے ساتھ بستے ہیں اَور جِن کی اَولاد تمہارے درمیان پیدا ہُوئی۔ تُم اُنہیں اَپنے ہی مُلک میں پیدا ہونے والے اِسرائیلی سمجھو۔ تمہارے ساتھ وہ بھی اِسرائیل کے قبائل کے درمیان مِیراث پائیں۔
EZE 47:23 کویٔی پردیسی جِس قبیلہ میں بستا ہوگا، اِسی میں تُم اُسے مِیراث دو۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 48:1 ”یہ قبیلے ہیں، جِن کے نام درج ہیں: ”شمالی سرحد سے لگا ہُوا دانؔ کا حِصّہ ہوگا جو حتلونؔ کے راستہ کے پاس سے لیبو حماتؔ تک اَور حضار عینانؔ اَور دَمشق کی شمالی سرحد کے پاس سے ہوتا ہُوا حماتؔ تک مشرق سے مغرب تک پھیلا ہوگا۔
EZE 48:2 آشیر کا ایک حِصّہ ہوگا جو دانؔ کی سرحد سے مُتّصل مشرق سے مغرب تک ہوگا۔
EZE 48:3 نفتالی کا ایک حِصّہ ہوگا جو آشیر کی سرحد سے مُتّصل مشرق سے مغرب تک ہوگا۔
EZE 48:4 منشّہ کا ایک حِصّہ ہوگا جو نفتالی کی سرحد سے مُتّصل مشرق سے مغرب تک ہوگا۔
EZE 48:5 اِفرائیمؔ کا ایک حِصّہ ہوگا جو منشّہ کی سرحد سے مُتّصل مشرق سے مغرب تک ہوگا۔
EZE 48:6 رُوبِنؔ کا ایک حِصّہ ہوگا جو اِفرائیمؔ کی سرحد سے مُتّصل مشرق سے مغرب تک ہوگا۔
EZE 48:7 یہُوداہؔ کا ایک حِصّہ ہوگا جو رُوبِنؔ کی سرحد سے مُتّصل مشرق سے مغرب تک ہوگا۔
EZE 48:8 ”یہُوداہؔ کی سرحد سے مُتّصل مشرق سے مغرب تک وہ حِصّہ ہوگا جسے تُمہیں خصوصی ہدیہ کے طور پر وقف کرنا ہوگا۔ وہ پچّیس ہزار ہاتھ چوڑا ہوگا اَور اُس کی مشرق سے مغرب تک کی لمبائی کسی ایک قبیلہ کے حِصّہ کے برابر ہوگی؛ اَور اُس کے وَسط میں پاک مَقدِس ہوگا۔
EZE 48:9 ”یہ خصوصی حِصّہ جو تُم یَاہوِہ کے لیٔے وقف کروگے پچّیس ہزار ہاتھ لمبا اَور دس ہزار ہاتھ چوڑا ہوگا۔
EZE 48:10 یہ کاہِنوں کے لیٔے مُقدّس حِصّہ ہوگا۔ وہ شمالی جانِب سے پچّیس ہزار ہاتھ لمبا ہوگا اَور دس ہزار ہاتھ چوڑا مغرب کی جانِب ہوگا۔ دس ہزار ہاتھ چوڑا مشرق کی جانِب اَور پچّیس ہزار ہاتھ لمبا جُنوب کی جانِب ہوگا اَور اُس کے وَسط میں یَاہوِہ کا پاک مَقدِس ہوگا۔
EZE 48:11 یہ صدُوقؔ کی نَسل میں سے مُقدّس کئے گیٔے اُن کاہِنوں کے لیٔے ہوگا جنہوں نے ایمانداری سے میری خدمت کی اَور بنی اِسرائیل کے گُمراہ ہونے کے وقت لیویوں کی طرح گُمراہ نہ ہُوئے۔
EZE 48:12 یہ مُلک کے مُقدّس حِصّہ میں سے اُن کے لیٔے خصوصی ہدیہ ہوگا جو لیویوں کی سرحد سے مُتّصل کا نہایت مُقدّس حِصّہ ہوگا۔
EZE 48:13 ”کاہِنوں کی سرحد سے ملحق لیویوں کا حِصّہ ہوگا جو پچّیس ہزار ہاتھ لمبا اَور دس ہزار ہاتھ چوڑا ہوگا۔ اُس کی کل لمبائی پچّیس ہزار ہاتھ اَور اُس کی چوڑائی دس ہزار ہاتھ ہوگی۔
EZE 48:14 وہ اُس کا کویٔی حِصّہ نہ بیچیں نہ بدلیں۔ یہ زمین کا بہترین حِصّہ ہے جو کسی اَور کے ہاتھوں میں نہ پڑے کیونکہ یہ یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس ہے۔
EZE 48:15 ”پانچ ہزار ہاتھ چوڑا اَور پچّیس ہزار ہاتھ لمبا باقی کا حِصّہ شہر اَور مکانات اَور چراگاہ کے عام اِستعمال کے لیٔے ہوگا۔ شہر اُس کے وَسط میں ہوگا۔
EZE 48:16 اَور اُس کی پیمائش یُوں ہوگی: شمالی بازو چار ہزار پانچ سَو ہاتھ، جُنوبی بازو چار ہزار پانچ سَو ہاتھ، مشرقی بازو چار ہزار پانچ سَو ہاتھ اَور مغربی بازو چار ہزار پانچ سَو ہاتھ۔
EZE 48:17 شہر کے لیٔے چراگاہ شمال کی جانِب دو سَو پچاس ہاتھ، جُنوب کی جانِب دو سَو پچاس ہاتھ، مشرق کی جانِب دو سَو پچاس ہاتھ اَور مغرب کی جانِب دو سَو پچاس ہاتھ ہوگی۔
EZE 48:18 اُس حِصّہ میں سے بچا ہُوا علاقہ جو مُقدّس حِصّہ کی سرحد ‏سے‏ ‏‏ مُتّصل اَور اُس کی لمبائی سے ملحق ہوگا وہ دس ہزار ہاتھ مشرق کے بازو کو اَور دس ہزار ہاتھ مغرب کے بازو کا ہوگا۔ اُس کی پیداوار شہر کے مزدُوروں کے لیٔے خُوراک بہم پہُنچائے گی۔
EZE 48:19 شہر کے مزدُور جو اُس میں کاشت کریں گے اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے ہوں گے۔
EZE 48:20 یہ سارا حِصّہ مُربّع نُما ہوگا جو ہر طرف سے پچّیس ہزار ہاتھ کا ہوگا۔ تُم اُس مُقدّس حِصّہ کو شہر کی جائداد کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی ہدیہ کے طور پر وقف کر دوگے۔
EZE 48:21 ”مُقدّس حِصّہ اَور شہر کی جائداد کے مُشتَرکہ علاقہ کے دونوں طرف کا بچا ہُوا علاقہ شہزادے کا ہوگا۔ وہ مُقدّس حِصّہ کے پچّیس ہزار ہاتھ سے مشرق کی طرف مشرقی سرحد تک اَور مغرب کی طرف پچّیس ہزار ہاتھ سے مغربی سرحد تک پھیلا ہوگا۔ یہ دونوں علاقے جو قبائلی علاقوں کی لمبائی سے لگ کر ہیں، شہزادے کے ہوں گے۔ اَور مُقدّس حِصّہ بیت المُقدّس کے پاک مَقدِس کے ساتھ اُن کے وَسط میں ہوگا۔
EZE 48:22 چنانچہ لیویوں کی جائداد اَور شہر کی جائداد اُس علاقہ کے وَسط میں ہوگی جو شہزادے کا ہے۔ شہزادے کا علاقہ یہُوداہؔ اَور بِنیامین کی سرحدوں کے درمیان ہوگا۔
EZE 48:23 ”جہاں تک بقیّہ قبیلوں کا تعلّق ہے: ”بِنیامین کا ایک حِصّہ ہوگا جو مشرق سے مغرب تک پھیلا ہوگا۔
EZE 48:24 بِنیامین کے حِصّہ کی سرحد سے لگ کر شمعُونؔ کا ایک حِصّہ ہوگا جو مشرق سے مغرب تک کا ہوگا۔
EZE 48:25 یِسَّکاؔر کا ایک حِصّہ ہوگا جو مشرق سے مغرب تک شمعُونؔ کے حِصّہ کی سرحد سے لگ کر ہوگا۔
EZE 48:26 زبُولُون کا ایک حِصّہ ہوگا جو مشرق سے مغرب تک یِسَّکاؔر کے حِصّہ کی سرحد سے ملحق ہوگا۔
EZE 48:27 گادؔ کا ایک حِصّہ ہوگا جو مشرق سے مغرب تک زبُولُون کے حِصّہ کی سرحد سے ملحق ہوگا۔
EZE 48:28 گادؔ کی جُنوبی سرحد تامارؔ سے جُنوب کی طرف مریبہؔ قادِسؔ کے چشمے تک جاتی ہُوئی وادی مِصر سے لگ کر بحرِ رُوم تک پہُنچے گی۔
EZE 48:29 ”یہ وہ مُلک ہے جو تُم اِسرائیل کے قبائل میں مِیراث کے طور پر تقسیم کروگے اَور یہ اُن کے حِصّے ہوں گے۔“ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
EZE 48:30 ”شہر کے مخارج یہ ہوں گے: ”شمال کی طرف سے شروع کرتے ہُوئے جِس کی لمبائی چار ہزار پانچ سَو ہاتھ ہوگی۔
EZE 48:31 شہر کے پھاٹک قبائل اِسرائیل سے نامزد ہوں گے۔ شمال کی بازو کے تین پھاٹک، رُوبِنؔ کا پھاٹک، یہُوداہؔ کا پھاٹک اَور لیوی کا پھاٹک کہلایٔیں گے۔
EZE 48:32 مشرق کی طرف جِس کی لمبائی چار ہزار پانچ سَو ہاتھ ہے، تین پھاٹک ہوں گے جو یُوسیفؔ کا پھاٹک، بِنیامین کا پھاٹک اَور دانؔ کا پھاٹک کہلایٔیں گے۔
EZE 48:33 جُنوب کی طرف جو لمبائی میں چار ہزار پانچ سَو ہاتھ ہے، تین پھاٹک ہوں گے جو شمعُونؔ کا پھاٹک، یِسَّکاؔر کا پھاٹک اَور زبُولُون کا پھاٹک کہلایٔیں گے۔
EZE 48:34 مشرق کی طرف جِس کی لمبائی چار ہزار پانچ سَو ہاتھ ہے، تین پھاٹک ہوں گے جو گادؔ کا پھاٹک، آشیر کا پھاٹک اَور نفتالی کا پھاٹک کہلایٔیں گے۔
EZE 48:35 ”چاروں طرف کا گھیرا اٹھّارہ ہزار ہاتھ ہوگا۔ ”اَور اُس دِن سے شہر کا نام یہ ہوگا، ’یَاہوِہ شمّہ۔‘ “
DAN 1:1 شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ کے حُکومت کے تیسرے سال میں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے یروشلیمؔ آکر اُس کا محاصرہ کیا۔
DAN 1:2 اَور خُداوؔند نے شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ کو خُدا کی بیت المُقدّس میں سے چند ظروف سمیت اُس کے حوالہ کر دیا۔ اِنہیں وہ کَسدیوں کے مُلک میں اَپنے مُلک شِنعاؔر کے بُت خانہ میں لے گیا اَور وہاں اُنہیں اَپنے معبُود کے خزانہ میں رکھ دیا۔
DAN 1:3 تَب بادشاہ نے اَپنے درباری اہلکاروں کے اعلیٰ افسر اشفِنازؔ کو حُکم دیا کہ وہ چند اِسرائیلیوں کو لے آئے جو شاہی نَسل کے اَور اعلیٰ درباریوں میں سے ہوں۔
DAN 1:4 اَور وہ بے عیب، جَوان، خُوبصورت، ہر قِسم کا علم حاصل کرنے کا اُنس رکھنے والے، باخبر، ذی فہم اَور شاہی محل میں مُلازمت کرنے کے قابل ہوں اَور وہ اُنہیں کَسدیوں کی زبان اَور اَدب سکھائیں۔
DAN 1:5 بادشاہ نے شاہی دسترخوان پر سے اُن کے لیٔے روزانہ دئیے جانے والے طعام اَور مَے کی مقدار مُقرّر کر دی۔ اُنہیں تین سال تک تعلیم و تربّیت دی جانی تھی جِس کے بعد اُنہیں شاہی مُلازمت اِختیار کرنی تھی۔
DAN 1:6 اِن میں سے چند بنی یہُوداہؔ میں سے تھے جَیسے دانی ایل، حننیاہؔ، میشاایلؔ اَور عزریاہؔ۔
DAN 1:7 اعلیٰ اہلکار نے اُن کے نئے نام رکھے؛ دانی ایل کا نام بیلطشضرؔ؛ حننیاہؔ کا شدرکؔ؛ میشاایلؔ کا میشکؔ اَور عزریاہؔ کا عبدنگوؔ رکھا۔
DAN 1:8 لیکن دانی ایل نے یہ طے کر لیا کہ وہ اَپنے آپ کو شاہی طعام اَور مَے سے ناپاک نہ کرےگا۔ اِس لیٔے اُس نے اعلیٰ اہلکار سے درخواست کی کہ اُسے اُس طرح سے ناپاک ہونے سے معذور رکھا جائے۔
DAN 1:9 اَب خُدا نے اعلیٰ افسر کے دِل میں دانی ایل کے لیٔے رعایت اَور ہمدردی ڈال دی۔
DAN 1:10 لیکن اعلیٰ افسر نے دانی ایل سے کہا، ”مُجھے اَپنے آقا شَہنشاہ کا خوف ہے جِس نے تمہارے کھانے پینے کی اَشیا مُقرّر کی ہے۔ وہ تُمہیں تمہارے ہم عمر دُوسرے نوجوانوں سے اَبتر حالت میں کیوں دیکھے؟ اُس صورت میں بادشاہ تمہاری وجہ سے میرا سَر اُڑا دے گا۔“
DAN 1:11 تَب دانی ایل نے اُس پہرےدار سے عرض کی جسے اعلیٰ اہلکار نے دانی ایل، حننیاہؔ، میشاایلؔ اَور عزریاہؔ پر مُقرّر کیا تھا،
DAN 1:12 ”براہِ کرم اَپنے خادِموں کو دس دِنوں تک آزما کر دیکھئے: ہمیں کھانے کو سبزیاں اَور پینے کو پانی کے علاوہ کچھ بھی نہ دیجئے۔
DAN 1:13 پھر ہماری شکل اُن نوجوانوں سے مِلائیں جو شاہی طعام نوش کریں گے اَور تَب آپ اَپنے مشاہدہ کے مُطابق اَپنے خادِموں کے ساتھ سلُوک کیجئے۔“
DAN 1:14 چنانچہ وہ اُس صلاح کو مان گیا اَور اُنہیں دس دِنوں تک آزماتا رہا۔
DAN 1:15 دس دِنوں کے بعد یہ لوگ اُن نوجوانوں میں سے ہر ایک کی بہ نِسبت جنہوں نے شاہی طعام نوش کیا تھا، زِیادہ تندرست اَور قوی نظر آئے۔
DAN 1:16 تَب پہرےدار نے اُن کا وہ لذیذ طعام اَور مَے الگ کر دی جو اُنہیں دی جاتی تھی اَور اُس کے بدلے اُنہیں سبزیاں دیں۔
DAN 1:17 خُدا نے اُن چار نوجوانوں کو ہر قِسم کی تعلیم و اَدب اَور فہم بخشا اَور دانی ایل ہر قِسم کی رُویا اَور خواب میں صاحبِ علم تھا۔
DAN 1:18 اَور جَب وہ دِن گزر گئے جِن کے بعد بادشاہ کے فرمان کے مُطابق اُن کو حاضِر ہونا تھا چناچہ طے کی ہُوئی مُدّت ختم ہوتے ہی اعلیٰ اہلکار نے اُنہیں نبوکدنضرؔ کے رُوبرو پیش کیا۔
DAN 1:19 بادشاہ نے اُن سے گُفتگو کی اَور اُسے دانی ایل، حننیاہؔ، میشاایلؔ اَور عزریاہؔ کی برابری کا کویٔی نہ مِلا۔ چنانچہ وہ شاہی مُلازمت میں داخل ہو گئے۔
DAN 1:20 حِکمت اَور فراست کے جِس مسئلہ پر بھی بادشاہ نے اُن سے سوالات کئے، اُس نے اُنہیں اَپنے سارے مُلک کے تمام جادُوگروں اَور دلفریبیوں سے دس گُنا بہتر پایا۔
DAN 1:21 اَور دانی ایل شاہِ خورشؔ کے دَورِ حُکومت کے پہلے سال تک وہاں خدمت کرتا رہا۔
DAN 2:1 اَپنے دَورِ حُکومت کے دُوسرے سال میں نبوکدنضرؔ نے اَیسے خواب دیکھے جِس سے اُس کا دِل بےچین ہو گیا اَور وہ سو نہ سَکا۔
DAN 2:2 چنانچہ بادشاہ نے جادُوگروں، دلفریبیوں، اوجھاؤں اَور نجومیوں کو بُلایا تاکہ وہ اُسے اُس کے خواب بتائیں۔ جَب وہ آکر بادشاہ کے رُوبرو کھڑے ہو گئے
DAN 2:3 تَب بادشاہ نے اُن سے کہا، ”مَیں نے ایک خواب دیکھاہے جو مُجھے پریشان کر رہاہے اَور مَیں اُس کی تعبیر جاننا چاہتا ہُوں۔“
DAN 2:4 تَب نجومیوں نے بادشاہ سے ارامی زبان میں عرض کیا، اَے بادشاہ، آپ اَبد تک سلامت رہیں، اَپنے خادِموں سے خواب بَیان کریں تو ہم اُس کی تعبیر بتائیں گے۔
DAN 2:5 بادشاہ نے نجومیوں کو جَواب دیا، ”مَیں نے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ: اگر تُم میرا خواب اَور اُس کی تعبیر نہ بتاؤ تو مَیں تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کرا دُوں گا اَور تمہارے مکانات ملبے کا ڈھیر بَن جایٔیں گے۔
DAN 2:6 لیکن اگر تُم مُجھے خواب بتاؤ گے اَور اُس کی تعبیر پیش کروگے تو میری طرف سے انعامات، صِلہ اَور بہت عزّت پاؤگے۔“ لہٰذا مُجھے خواب اَور اُس کی تعبیر دونوں بتاؤ۔
DAN 2:7 اُنہُوں نے پھر ایک بار عرض کی، ”بادشاہ اَپنے خادِموں سے خواب بَیان کریں تو ہم اُس کی تعبیر بتا دیں گے۔“
DAN 2:8 تَب بادشاہ نے جَواب دیا، ”مُجھے یقین ہے کہ تُم زِیادہ مہلت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہو کیونکہ تُم جانتے ہو کہ مَیں نے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ:
DAN 2:9 اگرچہ تُم مُجھے خواب نہ بتاؤ گے تو تمہارے لیٔے صِرف ایک ہی سزا ہے۔ تُم نے اُس اُمّید پر کہ حالات بدل جایٔیں گے، مُجھے گُمراہ کُن اَور شرارت آمیز باتیں بتانے کی سازش کی ہے۔ لہٰذا مُجھے خواب بتا دو تاکہ میں جانوں کہ تُم میری خاطِر اُس کی تعبیر بتا سکوگے۔“
DAN 2:10 نجومیوں نے بادشاہ کو جَواب دیا، ”رُوئے زمین پر اَیسا کویٔی شخص نہیں ہے جو بادشاہ کے اِس حُکم کی تعمیل کر سَکتا ہے، اَب تک کسی بادشاہ نے، خواہ وہ کتنا ہی عظیم اَور طاقتور کیوں نہ ہُوا ہو، کسی جادُوگر، ساحر یا نجومی سے اَیسا سوال نہیں پُوچھا۔
DAN 2:11 بادشاہ جو کچھ پُوچھ رہے ہیں وہ نہایت ہی مُشکل ہے۔ معبُودوں کے سِوا کویٔی اَور بادشاہ کو یہ راز اُسے نہیں بتا سَکتا اَور معبُود اِنسانوں کے درمیان نہیں رہتے۔“
DAN 2:12 اِس بات پر بادشاہ اِس قدر خفا اَور غضبناک ہُوا کہ اُس نے بابیل کے تمام دانِشوروں کو قتل کرنے کا فرمان جاری کر دیا۔
DAN 2:13 چنانچہ یہ فرمان جاری گیا کہ دانِشوروں کو قتل کیا جائے اَور دانی ایل اَور اُس کے رفیقوں کو ڈھونڈنے کے لیٔے آدمی بھیجے گیٔے تاکہ اُنہیں بھی قتل کیا جائے۔
DAN 2:14 جَب بادشاہ کے مُحافظ کا سردار اریُوخ، بابیل کے دانِشوروں کو قتل کرنے کے لیٔے نِکلا تَب دانی ایل نے اُس سے نہایت حِکمت عملی سے اَور موقع شناسی سے بات کی۔
DAN 2:15 اُس نے بادشاہ کے افسر سے پُوچھا، ”بادشاہ نے اِس قدر سخت حُکم کیوں جاری کیا؟“ تَب اریُوخ نے دانی ایل کو سارا ماجرا سمجھایا۔
DAN 2:16 اِس پر دانی ایل بادشاہ کے پاس گیا اَور مہلت طلب کی تاکہ وہ اُسے خواب کی تعبیر بتا سکے۔
DAN 2:17 تَب دانی ایل گھر لَوٹا اَور اَپنے رفیق حننیاہؔ، میشاایلؔ اَور عزریاہؔ کو یہ ماجرا سُنایا۔
DAN 2:18 اَور دانی ایل سے درخواست کی کہ وہ آسمانی خُدا سے اُس راز کے متعلّق رحمت طلب کریں تاکہ وہ اَور اُس کے رفیق بابیل کے دُوسرے دانِشوروں کے ساتھ قتل نہ کئے جایٔیں۔
DAN 2:19 پھر اُس رات کو دانی ایل پر رُویا میں یہ راز ظاہر کیا گیا۔ تَب دانی ایل نے آسمانی خُدا کی تمجید کی
DAN 2:20 اَور دانی ایل نے کہا: ”خُدا کے نام کی اَبد تک تمجید ہو؛ کیونکہ حِکمت اَور قُدرت اُسی کی ہے۔
DAN 2:21 وقتوں اَور موسموں کو وُہی بدلتا ہے؛ وُہی بادشاہوں کو قائِم کرتا ہے اَور اُنہیں معزول بھی کرتا ہے۔ وہ حکیموں کو حِکمت اَور صاحبِ بصیرت کو عِرفان بخشتا ہے۔
DAN 2:22 وہ گہری اَور خُفیہ چیزوں کو آشکارا کرتا ہے؛ وُہی جانتا ہے کہ تاریکی میں کیا ہے، اَور نُور اُس کے ساتھ ہمیشہ قائِم رہتاہے۔
DAN 2:23 اَے میرے آباؤاَجداد کے خُدا، میں تمہارا شُکر اَور تیری تمجید کرتا ہُوں؛ آپ نے مُجھے حِکمت اَور قُدرت بخشی، اَور ہم نے آپ سے جو طلب کیا اُسے آپ نے مُجھ پر ظاہر کیا، آپ نے ہم پر بادشاہ کا خواب ظاہر کیا۔“
DAN 2:24 تَب دانی ایل اریُوخ کے پاس گیا جسے بادشاہ نے بابیل کے دانِشوروں کو قتل کرنے کے لیٔے مُقرّر کیا تھا اَور اُس نے اریُوخ سے کہا، ”بابیل کے دانِشوروں کو قتل نہ کر۔ مُجھے بادشاہ کے پاس لے چل اَور مَیں اُسے اُس کے خواب کی تعبیر بتاؤں گا۔“
DAN 2:25 اریُوخ فوراً دانی ایل کو بادشاہ کے پاس لے گیا اَور عرض کی، ”مَیں نے یہُوداہؔ کے جَلاوطن لوگوں میں سے ایک اَیسا شخص پایا ہے جو بادشاہ کو اُس کے خواب کی تعبیر بتا سَکتا ہے۔“
DAN 2:26 بادشاہ نے دانی ایل سے جِس کا نام بیلطشضرؔ بھی تھا پُوچھا، ”کیا آپ مُجھے بتا سَکتا ہے کہ مَیں نے خواب میں کیا دیکھا اَور اُس کی تعبیر کیا ہے؟“
DAN 2:27 دانی ایل نے جَواب دیا، ”کویٔی حکیِم، دلفریبی، جادُوگر یا فالگیر بادشاہ کو وہ راز نہیں بتا سَکتا جو اُس نے پُوچھا ہے۔
DAN 2:28 لیکن آسمان پر ایک خُدا ہے جو راز ظاہر کرتا ہے اُس نے نبوکدنضرؔ بادشاہ کو آنے والے دِنوں میں ہونے والی باتیں بتایٔی ہیں۔ آپ کا خواب اَورجو خیالات آپ کو پلنگ پر لیٹے ہُوئے آپ کے دماغ میں سے گزرے وہ یہ ہیں،
DAN 2:29 ”اَے بادشاہ، جَب آپ وہاں لیٹے تھے تَب آپ کا دماغ آنے والی چیزوں کی طرف مبذول ہُوا اَور رازوں کو آشکارا کرنے والے نے آپ کو بتایا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔
DAN 2:30 جہاں تک میرا تعلّق ہے، یہ راز مُجھ پر اِس لیٔے فاش نہیں کیا گیا کہ میں دُوسرے ذی حیات لوگوں سے زِیادہ حِکمت کا مالک ہُوں بَلکہ اِس لیٔے کہ آپ، اَے بادشاہ اُس کی تعبیر جانیں اَورجو کچھ آپ کے دماغ میں سے گزرا اُسے سمجھ سکیں۔
DAN 2:31 ”اَے بادشاہ آپ نے دیکھا کہ آپ کے سامنے ایک بہت بڑی مُورت کھڑی ہو گئی جو نہایت عظیم اَور چمکدار مُورت تھی اَور اُس کی صورت دیکھنے میں بےحد خوفناک تھی۔
DAN 2:32 اُس مُورت کا سَر خالص سونے کا بنا ہُوا تھا، اُس کا سینہ اَور بازو چاندی کے تھے، اُس کا پیٹ اَور رانیں کانسے کی تھیں۔
DAN 2:33 اُس کی ٹانگیں لوہے کی تھیں اَور اُس کے پاؤں کچھ لوہے کے اَور کچھ آگ میں پکی ہُوئی مٹّی کے تھے۔
DAN 2:34 ابھی آپ دیکھ ہی رہے تھے کہ ایک پتّھر بِنا کسی اِنسانی ہاتھ کی مدد کے خُود بہ خُود کٹ کر آئی اَور اُس مُورت کے پاؤں پر گرا جو لوہے اَور مٹّی کے تھے اَور اُنہیں چکنا چُور کر ڈالا۔
DAN 2:35 تَب لوہا، مٹّی، کانسا، چاندی اَور سونا بھی ریزہ ریزہ ہو گئے اَور موسمِ گرما میں کھلیان پر پڑے ہُوئے بھُوسے کی مانند ہو گئے اَور ہَوا اُنہیں اَیسے اُڑا کر لے گئی کہ اُن کا نِشان تک باقی نہ رہا۔ لیکن جو پتّھر مُورت پر گرا وہ ایک پہاڑ بَن گیا اَور ساری روئے زمین میں پھیل گیا۔
DAN 2:36 ”یہی تھا آپ کا خواب اَور اَب ہم اُس کی تعبیر بادشاہ کو بتا دیتے ہیں۔
DAN 2:37 آپ اَے بادشاہ، آپ شَہنشاہوں کا شَہنشاہ ہیں۔ آسمانی خُدا نے آپ کو بادشاہت اَور قُدرت اَور طاقت اَور جلال بخشا ہے۔
DAN 2:38 اُس نے بنی آدمؔ اَور میدان کے درندے اَور ہَوا کے پرندے آپ کے ہاتھ میں کر دئیے ہیں۔ وہ جہاں کہیں بستے ہیں، آپ کو اُس نے اُن کا حُکمران بنا دیا ہے۔ اُس مُورت کی سُنہری سَر آپ ہی ہیں۔
DAN 2:39 ”آپ کے بعد ایک نئی بادشاہت کھڑی ہوگی جو آپ کی بادشاہت سے کمتر ہوگی۔ پھر کانسے کی ایک تیسری بادشاہت ساری دُنیا پر حُکومت کرےگی۔
DAN 2:40 آخِر میں ایک چوتھی بادشاہت آئے گی جو لوہے کے مانند مضبُوط ہوگی کیونکہ لوہا ہر چیز کو توڑ ڈالتا ہے اَور سَب چیزوں پر غالب آتا ہے۔ اَور جِس طرح لوہا ہر چیز کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتاہے اُسی طرح وہ دُوسری تمام سلطنتوں کو کُچل کر پیس دے گی۔
DAN 2:41 جَیسا کہ آپ نے دیکھا کہ پاؤں اَور اُنگلیاں کچھ آگ میں پکی ہوئی مٹّی اَور کچھ لوہے کی تھیں، اِسی طرح یہ بادشاہت بٹی ہُوئی ہوگی۔ پھر بھی اُس میں لوہے کی کچھ قُوّت ہوگی کیونکہ
DAN 2:42 جِس طرح اُنگلیاں کچھ لوہے کی اَور کچھ مٹّی کی تھیں اِس لیٔے یہ بادشاہت کچھ قوی اَور کچھ ناتواں ہوگی۔
DAN 2:43 اَور جِس طرح آپ نے لوہا، آگ میں پکی ہوئی مٹّی میں مِلا ہُوا دیکھا اُسی طرح رعایا بھی مِلی جُلی ہوگی لیکن وہ مُتّحد نہ رہیں گے، ٹھیک اُسی طرح جَیسے لوہا مٹّی سے میل نہیں کھاتا۔
DAN 2:44 ”اِن بادشاہوں کے دَورِ حُکومت میں آسمانی خُدا ایک اَیسی بادشاہت قائِم کرےگا جو کبھی تباہ نہ ہوگی، نہ وہ دُوسرے لوگوں کے حوالہ کی جائے گی۔ وہ اُن تمام سلطنتوں کو کُچل کر ختم کر دے گی لیکن وہ اَبد تک قائِم رہے گی۔
DAN 2:45 یہ اُس پتّھر کی رُویا کی تعبیر ہے جو بِنا اِنسانی ہاتھ کی مدد کے پہاڑ میں سے کاٹا گیا تھا۔ وہ پتّھر جِس نے لوہے، کانسے، مٹّی، چاندی اَور سونے کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ ”خُدائے عظیم نے بادشاہ کو بتا دیا ہے کہ مُستقبِل میں کیا ہوگا۔ خواب سچّا ہے اَور اُس کی تعبیر قابل یقین ہے۔“
DAN 2:46 تَب شاہِ نبوکدنضرؔ دانی ایل کے سامنے سَجدہ میں گِر پڑا اَور اُس کا اِحترام کیا اَور حُکم دیا کہ اُسے ہدیہ اَور بخُور پیش کیا جائے۔
DAN 2:47 بادشاہ نے دانی ایل سے کہا، ”یقیناً تمہارا خُدا تمام معبُودوں کا معبُود اَور بادشاہوں کا مالک ہے اَور راز کا آشکارا کرنے والا ہے اِس لئے تُم یہ راز کھول سکے۔“
DAN 2:48 تَب بادشاہ نے دانی ایل کو اعلیٰ عہدہ پر سرفراز کیا اَور اُسے بہت سے تحفے عنایت کئے۔ اُس نے اُسے بابیل کے سارے صُوبہ کا حُکمران مُقرّر کیا اَور اُسے اُس کے تمام دانِشوروں کی ذمّہ داری عنایت کی۔
DAN 2:49 تَب دانی ایل کی سِفارش پر بادشاہ نے شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ کو صُوبہ بابیل پر منتظم مُقرّر کیا جَب کہ دانی ایل خُود شاہی دربار میں رہا۔
DAN 3:1 نبوکدنضرؔ بادشاہ نے سونے کی ایک مُورت بنوائی جِس کی اُونچائی تقریباً ساٹھ ہاتھ اَور چوڑائی چھ ہاتھ تھی اَور اُسے صُوبہ بابیل کے دُورا کے میدان میں نصب کیا۔
DAN 3:2 تَب شاہِ نبوکدنضرؔ نے ناظِموں، حاکموں، سرداروں، مُشیروں، خزانچیوں، قاضیوں، مُفتیوں اَور صُوبہ کے دُوسرے تمام افسروں کو اُس مُورت کی تقدیس کے لیٔے بُلایا جسے اُس نے نصب کیا تھا۔
DAN 3:3 چنانچہ ناظِم، حاکم، سردار، مُشیر، خزانچی، قاضی، مُفتی اَور صُوبہ کے دُوسرے تمام افسر اُس مُورت کی تقدیس کے لیٔے جمع ہُوئے جسے نبوکدنضرؔ بادشاہ نے نصب کیا تھا اَور یہ سَب اِس کے سامنے کھڑے ہو گئے۔
DAN 3:4 تَب ایک نقیبِ شاہی نے بُلند آواز سے پُکار کر کہا، ”اَے لوگوں، قوموں، اَور الگ الگ زبانیں بولنے والوں، تُمہیں یہ حُکم دیا جاتا ہے کہ
DAN 3:5 جَیسے ہی تُم قَرنا، بانسری، سِتار، رباب، بربط، شہنائی اَور ہر قِسم کے سازوں کی موسیقی سُنو، تُم اُسی وقت گِر کر اُس سونے کی مُورت کو سَجدہ کرو جسے نبوکدنضرؔ بادشاہ نے نصب کیا ہے۔
DAN 3:6 جو کویٔی نیچے گِر کر سَجدہ نہ کرے اُسے اُسی وقت دہکتی ہُوئی بھٹّی میں پھینکا جائے گا۔“
DAN 3:7 چنانچہ جوں ہی اُنہُوں نے قَرنا، بانسری، سِتار، رباب، بربط اَور ہر قِسم کے سازوں کی موسیقی سُنی تو تمام لوگوں، قوموں اَور مُختلف زبانیں بولنے والے لوگوں نے گِر کر اُس سونے کی مُورت کو سَجدہ کیا جسے نبوکدنضرؔ بادشاہ نے نصب کیا تھا۔
DAN 3:8 اُس وقت چند نجومیوں نے آگے بڑھ کر یہُودیوں کی شکایت کی۔
DAN 3:9 اُنہُوں نے نبوکدنضرؔ بادشاہ سے کہا، ”اَے بادشاہ، آپ اَبد تک سلامت رہیں!
DAN 3:10 اَے بادشاہ، آپ نے یہ حُکم جاری کیا ہے کہ جو کویٔی قَرنا، بانسری، سِتار، رباب، بربط، شہنائی اَور ہر قِسم کے سازوں کی موسیقی سُنے وہ نیچے گِر کر سونے کی مُورت کو سَجدہ کرے۔
DAN 3:11 اَورجو کویٔی گِر کر سَجدہ نہ کرےگا وہ دہکتی ہُوئی بھٹّی میں پھینکا جائے گا
DAN 3:12 لیکن یہاں چند اَیسے یہُودی ہیں جنہیں آپ نے صُوبہ بابیل کی سرپرستی عطا کی ہے۔ مثلاً شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ۔ جنہوں نے اَے بادشاہ، آپ کی تعظیم نہیں کی۔ وہ نہ آپ کے معبُودوں کی عبادت کرتے ہیں اَور نہ ہی اُس سونے کی مُورت کو سَجدہ کرتے ہیں جسے آپ نے نصب کیا ہے۔“
DAN 3:13 غُصّہ سے آگ بگُولہ ہوکر نبوکدنضرؔ نے شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ کو حاضِر کئے جانے کا حُکم دیا۔ چنانچہ یہ لوگ بادشاہ کے سامنے پیش کئے گیٔے۔
DAN 3:14 اَور نبوکدنضرؔ نے اُن سے کہا، ”اَے شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ، کیا یہ سچ ہے کہ تُم میرے معبُودوں کی عبادت نہیں کرتے، نہ اُس سونے کی مُورت کو سَجدہ کرتے ہو جسے مَیں نے نصب کیا ہے؟
DAN 3:15 اگر اَب تُم تیّار ہو کہ جَب قَرنا، بانسری، رباب، بربط، شہنائی اَور ہر قِسم کے سازوں کی موسیقی سُنو تو گِر کر میری بنوائی ہُوئی مُورت کو سَجدہ کرو تو بہتر ہے۔ اگر تُم اُسے سَجدہ نہ کرو تو تُمہیں اُسی وقت دہکتی ہُوئی بھٹّی میں پھینک دیا جائے گا۔ تَب کون سا معبُود تُمہیں میرے ہاتھ سے چھُڑا سکےگا؟“
DAN 3:16 شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ نے بادشاہ سے عرض کی، ”اَے نبوکدنضرؔ، اِس مُعاملہ میں ہم آپ کو کویٔی جَواب دینا ضروُری نہیں سمجھتے۔
DAN 3:17 دیکھ ہمارا خُدا جِس کی ہم عبادت کرتے ہیں، ہم کو آگ کی جلتی بھٹّی سے چھُڑانے کی قُدرت رکھتے ہیں، اَور اَے بادشاہ وُہی ہمیں آپ کے ہاتھ سے چھُڑائیں گے۔
DAN 3:18 اَور اگر وہ نہ بھی بچائے تو بھی اَے بادشاہ ہم آپ کو بتا دیتے ہیں کہ ہم آپ کے معبُودوں کی عبادت نہیں کریں گے، نہ اُس مُورت کو سَجدہ کریں گے جسے آپ نے نصب کیا ہے۔“
DAN 3:19 تَب نبوکدنضرؔ، شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ پر جھنجھلا اُٹھا اَور اُن کی طرف اُس کا رویّہ بدل گیا۔ اُس نے حُکم دیا کہ بھٹّی کی آنچ کو معمول سے سات گُنا زِیادہ گرم کیا جائے،
DAN 3:20 اَور اَپنی فَوج کے چند نہایت ہی طاقتور فَوجیوں کو حُکم دیا کہ وہ شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ کو باندھ کر آگ کی دہکتی ہُوئی بھٹّی میں پھینک دیں۔
DAN 3:21 چنانچہ اِن تینوں کو اُن کے جُبّے، پتلون، عمامے اَور دُوسرے کپڑوں کے ساتھ، باندھے گیٔے اَور دہکتی ہُوئی بھٹّی میں پھینک دئیے گیٔے۔
DAN 3:22 بادشاہ کا حُکم اِس قدر فَوری تعمیل طلب تھا اَور بھٹّی اِس قدر گرم تھی کہ آگ کے شُعلوں نے اُن فَوجیوں کو مار ڈالا جو شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ کو وہاں تک اُٹھاکر لے گیٔے تھے۔
DAN 3:23 اَور یہ تین شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ مَرد مضبُوطی سے بندھے ہُوئے بھٹّی میں جا گِرے۔
DAN 3:24 تَب نبوکدنضرؔ نے متعجّب ہوکر پُوچھا اَور اَپنے مُشیروں سے دریافت کیا، کیا وہ تین شخص نہ تھے جنہیں ہم نے باندھ کر آگ میں پھینک دیا تھا؟ اُنہُوں نے جَواب دیا، یقیناً، ”اَے بادشاہ، آپ نے سچ فرمایاہے۔“
DAN 3:25 اُس نے کہا، ”دیکھو، مَیں یہ دیکھ رہا ہُوں کہ چار اَشخاص آگ کے درمیان صحیح و سالِم ٹہل رہے ہیں اَور اُنہیں کچھ بھی ضرر نہیں پہُنچا۔ اَور چوتھے کی صورت معبُودوں کے بیٹے کی مانند نظر آ رہاہے۔“
DAN 3:26 تَب نبوکدنضرؔ دہکتی ہُوئی آگ کی بھٹّی کے دروازے کے پاس پہُنچا اَور چِلّایا، ”اَے شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ، خُداتعالیٰ کے بندو، باہر نکلو اَور یہاں آ جاؤ!“ چنانچہ شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ آگ سے نکل کر باہر آ گئے۔
DAN 3:27 اَور صُوبہ داروں، ناظِموں، حاکموں اَور شاہی مُشیروں نے اُنہیں گھیرلیا۔ اَور اُنہُوں نے اُن پر نظر کی اَور دیکھا کہ آگ نے اُن کے جِسموں کو قطعی ضرر نہ پہُنچایا تھا، اَور نہ ہی اُن کے سَروں کا کویٔی بال جھُلسا تھا۔ نہ اُن کی پوشاک جلی اَور نہ اُن میں سے آگ سے جلنے کی بو آتی تھی۔
DAN 3:28 تَب نبوکدنضرؔ نے بُلند آواز میں کہا، ”شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ کے خُدا کی تمجید ہو جِس نے اَپنے فرشتہ کو بھیج کر اَپنے بندوں کو چھُڑا لیا، اُنہُوں نے اُن پر اِعتقاد کیا اَور بادشاہ کے حُکم کو نہ مانا اَور اَپنی جان تک نثار کرنے کو تیّار ہُوئے تاکہ صِرف اَپنے خُدا کے علاوہ کسی اَور معبُود کی عبادت یا بندگی نہ کریں۔
DAN 3:29 اِس لیٔے میں یہ حُکم نافذ کرتا ہُوں کہ اگر کسی بھی قوم یا زبان کا کویٔی شخص شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ کے خُدا کے خِلاف کچھ کہے تو اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جایٔیں گے اَور اُن کے مکانات ملبے کا ڈھیر کر دیئے جایٔیں گے کیونکہ اَیسا کویٔی بھی اَور معبُود نہیں ہے جو اِس طرح سے بچا سکے۔“
DAN 3:30 تَب بادشاہ نے شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ کو صُوبہ بابیل میں اعلیٰ درجہ پر سرفراز کیا۔
DAN 4:1 نبوکدنضرؔ بادشاہ کی طرف سے، تمام لوگوں، قوموں اَور اہلِ لُغت کے نام جو تمام رُوئے زمین پر سکونت کرتے ہیں، تمہارا اِقبال بُلند ہو۔
DAN 4:2 خُداتعالیٰ نے میری خاطِر جو نِشانات اَور عجائب کر دِکھائے اُنہیں تُمہیں بتانے میں مُجھے بےحد خُوشی ہوتی ہے۔
DAN 4:3 اُن کی نِشانیاں کس قدر عظیم ہیں،
DAN 4:4 میں، نبوکدنضرؔ اَپنے قصر میں مطمئن اَور اَپنے محل میں کامیاب تھا۔
DAN 4:5 لیکن مَیں نے ایک خواب دیکھا جِس نے مُجھے ڈرا دیا۔ پلنگ پر پڑے پڑے میرے دماغ میں جو تصوّرات اَور خیالات آئے اُن سے میں نہایت خوفزدہ ہُوا۔
DAN 4:6 اِس لیٔے مَیں نے حُکم دیا کہ بابیل کے تمام دانِشوروں میرے حُضُوری میں پیش کئے جایٔیں تاکہ وہ میرے خواب کی تعبیر بتائیں۔
DAN 4:7 جَب جادُوگر، دلفریبی، نجومی اَور غیب بین آ گیٔے تَب مَیں نے اُنہیں خواب بتایا لیکن وہ مُجھے اُس کی تعبیر نہ بتا سکے۔
DAN 4:8 آخِرکار دانی ایل میرے سامنے آیا جِس کا نام بیلطشضرؔ ہے جو میرے معبُود کا بھی نام ہے، اَور اُس میں مُقدّس معبُودوں کی رُوح ہے؛ اِس لئے مَیں نے اُس کے سامنے اَپنے خواب بَیان کیا۔
DAN 4:9 اَور فرمایا، ”اَے بیلطشضرؔ، جادُوگروں کے سردار میں جانتا ہُوں کہ مُقدّس معبُودوں کی رُوح تُم میں ہے اَور کویٔی راز کی بات آپ کے لیٔے مُشکل نہیں۔ اِس لئے جو خواب مَیں نے دیکھاہے اُس کی کیفیّت اَور تعبیر بَیان کر۔
DAN 4:10 پلنگ پر پڑے پڑے مَیں نے یہ رُویتیں دیکھیں، مَیں نے دیکھا کہ مُلک کے درمیان میرے سامنے ایک درخت کھڑا ہے جو نہایت ہی اُونچا ہے۔
DAN 4:11 وہ درخت بڑا ہوکر مضبُوط ہو گیا اَور اُس کی چوٹی نے آسمان کو چھُو لیا اَور وہ زمین کے اِنتہا تک دِکھائی دینے لگا۔
DAN 4:12 اُس کے پتّے خُوشنما تھے اَور اُس میں کثرت سے پھل لگے تھے اَور اُس پر سَب کے لیٔے خُوراک تھی۔ میدان کے جنگلی جانور اُس کے سایہ میں؛ اَور ہَوا کے پرندے اُس کی شاخوں پر بسیرا کرتے تھے، اَور ہر جاندار اُس سے اَپنا پیٹ بھرتا تھا۔
DAN 4:13 ”جو رُویتیں مَیں نے اَپنے پلنگ پر پڑے پڑے دیکھیں، اُس میں مَیں نے ایک مُقدّس فرشتہ کو آسمان سے اُترتے ہُوئے دیکھا۔
DAN 4:14 اُس نے بُلند آواز سے پُکارتے ہُوئے کہا، درخت کو کاٹ ڈالو اَور اُس کی شاخوں کو چھانٹ ڈالو۔ اُس کے پتّوں کو جھاڑ دو اَور اُس کے پھلوں کو بِکھیر دو؛ جانوروں کو اُس کے نیچے سے بھگا دو اَور پرندوں کو اُس کی شاخوں پر سے اُڑ جانے دو۔
DAN 4:15 لیکن اُس کے ٹھُنٹھ اَور جڑوں کو لوہے اَور کانسے سے باندھ کر زمین کے اَندر میدان کی ہری گھاس میں رہنے دو۔ ” ’اَور وہ آسمان کی شبنم سے بھیگا کرے اَور اُسے حَیوانوں کی صحبت میں زمین کے گھاس کے درمیان رہنے دو۔
DAN 4:16 اُس کا دِل اِنسان کا دِل نہ رہے بَلکہ اُس کو حَیوان کا دِل دیا جائے۔ اَور اُس پر سات سال گذر جائیں۔
DAN 4:17 ” ’اِس فیصلہ کا اعلان فرشتوں نے کیا اَور قُدُّوس نے فیصلہ سُنایا تاکہ زندہ لوگ جان لیں کہ حق تعالیٰ آدمیوں کی بادشاہت پر حُکمرانی کرتا ہے اَور اُنہیں جسے چاہتاہے اُسے اَپنی مرضی سے دے دیتاہے اَور ایک ادنیٰ اِنسان کو اُن کے اُوپر مُقرّر کر دیتاہے۔‘
DAN 4:18 ”یہی وہ خواب ہے جسے مجھ نبوکدنضرؔ نے دیکھا تھا۔ اَب اَے بیلطشضرؔ مُجھے اِس کا مطلب سمجھا کیونکہ میری بادشاہت کا کویٔی دانِشور مُجھے اِس کی تعبیر نہیں بتا سَکتا۔ لیکن آپ کے لیٔے یہ ممکن ہے کیونکہ مُقدّس معبُودوں کی رُوح تُم میں ہے۔“
DAN 4:19 تَب دانی ایل جِس کا نام بیلطشضرؔ بھی ہے، کچھ وقتوں کے لیٔے بےحد پریشان ہُوا اَور اَپنے خیالات سے گھبرا گیا۔ اِس لیٔے بادشاہ نے کہا، ”اَے بیلطشضرؔ، یہ خواب اَور اُس کی تعبیر سے تُم پریشان نہ ہو۔“ بیلطشضرؔ نے جَواب دیا، ”میرے آقا، کاش کہ یہ خواب آپ کے رقیبوں پر اَور اُس کی تعبیر آپ کے حریفوں پر صادر آتی،
DAN 4:20 وہ درخت جو آپ نے دیکھا کہ بڑھا اَور مضبُوط ہُوا اَور اُس کی چوٹی آسمان کو چھُو رہی تھی اَورجو ساری دُنیا میں دِکھائی دے رہاتھا،
DAN 4:21 جِس کے پتّے خُوشنما تھے اَور اُس میں کثرت سے پھل لگے تھے جو سَب کو خُوراک مُہیّا کرتا تھا اَور جِس کے سایہ میں میدان کے جنگلی جانور بستے تھے اَور جِس کی شاخوں پر ہَوا کے پرندوں کے گھونسلوں کے لیٔے جگہ تھی،
DAN 4:22 وہ درخت، اَے بادشاہ، آپ ہی ہیں، آپ عظیم اَور طاقتور بنے اَور آپ کی عظمت اِس قدر بڑھ گئی کہ آسمان تک پہُنچ گئی اَور آپ کی سلطنت زمین کے دُور دراز علاقوں تک پھیل چُکی ہے۔
DAN 4:23 ”اَے بادشاہ، آپ نے مُقدّس فرشتہ کو آسمان سے اُترتے اَور یہ کہتے ہُوئے سُنا، ’درخت کو کاٹ ڈالو اَور اُسے تباہ کر دو، لیکن اُس کے ٹھُنٹھ کو لوہے اَور کانسے سے باندھ کر میدان کی ہری گھاس کے درمیان رہنے دو جَب تک کہ اُس کی جڑیں زمین میں بنی رہیں۔ وہ آسمان کی شبنم سے بھیگا کرے اَور اُس کے سات سال گذر جانے تک وہ جنگلی جانوروں کی مانند بسر کرے۔‘
DAN 4:24 ”اَے بادشاہ، اِس کی تعبیر اَور حق تعالیٰ کا وہ فرمان جو میرے آقا، بادشاہ کے خِلاف جاری کیا ہے وہ یہی ہے کہ،
DAN 4:25 آپ کو لوگوں کے درمیان سے نکال دیا جائے گا اَور آپ جنگلی جانوروں کی صحبت میں رہیں گے، اَور ایک بَیل کی مانند گھاس کھائے گا اَور آسمان کی شبنم میں بھیگے گا۔ تُم پر سات سال گزر جایٔیں گے جَب تَب آپ یہ جان نہ لیں کہ حق تعالیٰ ہی اِنسانی سلطنتوں میں حُکمرانی کرتا ہے اَور اُنہیں جسے چاہتاہے اُسے دے دیتاہے۔
DAN 4:26 اَور درخت کے ٹھُنٹھ کو جڑوں کے ساتھ رہنے دینے کا جو حُکم ہُواہے اُس کا مطلب یہ ہے کہ جَب آپ جان لیں گے کہ حُکمرانی کا اِختیار آسمان پر سے ہی ہوتاہے۔ تَب تیری بادشاہت پھر سے آپ کو بحال کر دی جائے گی۔
DAN 4:27 اِس لیٔے اَے بادشاہ، میری مشورت کو بخُوشی تسلیم کر۔ صداقت کے کام کرکے اَپنے گُناہوں کو ترک کر دے اَور مظلوموں پر رحم کرکے اَپنی بدکاری چھوڑ دے۔ ممکن ہے کہ اِس سے آپ کی اِقبالمندی قائِم رہے۔“
DAN 4:28 یہ سَب کچھ نبوکدنضرؔ بادشاہ پر ہُوبہو گذرا۔
DAN 4:29 بَارہ ماہ بعد جَب بادشاہ بابیل کے شاہی محل کی چھت پر ٹہل رہاتھا،
DAN 4:30 تَب اُس نے کہا، ”کیا یہ وہ عظیم بابیل نہیں جسے مَیں نے اَپنی جلیلُ القدر قُدرت کے بَل پر شاہی محل کے طور پر تعمیر کیا تاکہ یہ میرے جاہ و جلال کی عظمت ہو؟“
DAN 4:31 یہ الفاظ ابھی اُس کے لبوں پر ہی تھے کہ آسمان سے ایک آواز سُنایٔی دی، ”اَے نبوکدنضرؔ بادشاہ، آپ کے لیٔے یہ فرمان جاری ہو چُکاہے۔ تمہارا شاہی اِختیار تُم سے چھین لیا گیا ہے۔
DAN 4:32 تُمہیں اِنسانوں کے درمیان سے نکال دیا جائے گا اَور تُم جنگلی جانوروں کی صحبت میں رہوگے۔ تُم بَیل کی مانند گھاس کھاؤگے۔ تُم پر سات سال گزریں گے جَب تک کہ تُم جان نہ لو کہ حق تعالیٰ اِنسانوں کی بادشاہت پر حُکمران ہے اَور وہ اُنہیں جسے چاہے دے دیتاہے۔“
DAN 4:33 نبوکدنضرؔ کے متعلّق جو بات کہی گئ تھی وہ اُسی وقت پُوری ہُوئی۔ اُسے لوگوں کے درمیان سے نکالا گیا اَور اُس نے بَیل کی مانند گھاس کھاتا رہا۔ اَور اُس کا جِسم آسمان کی شبنم سے گیلا ہُوا یہاں تک کہ اُس کے بال عُقاب کے پروں کی مانند اَور اُس کے ناخن پرندوں کے پنجوں کے مانند بڑھ گیٔے۔
DAN 4:34 اُن دِنوں کے گزر جانے کے بعد مُجھ نبوکدنضرؔ نے اَپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھائیں اَور میرے ہوش و حواس بحال ہو گئے۔ تَب مَیں نے حق تعالیٰ کی تمجید کی۔ مَیں نے اُس کی حَمد و ثنا کی جو اَبد تک زندہ ہے۔
DAN 4:35 زمین کے تمام باشِندے
DAN 4:36 اُسی وقت میری عقل مُجھ میں بحال کر دی گئی، اَور میری بادشاہت کے جاہ و جلال کے لیٔے میری عزّت اَور شان و شوکت بھی بحال کی گئی۔ اَور میرے مُشیروں اَور میرے اُمرا نے مُجھے پھر سے ڈھونڈ نکالا اَور مُجھے دوبارہ تخت نشین کیا اَور میری عظمت پہلے سے زِیادہ ہو گئی۔
DAN 4:37 اَب مَیں، نبوکدنضرؔ، آسمان کے بادشاہ کی سِتائش، تعظیم و تکریم کرتا ہُوں کیونکہ وہ اَپنے سَب کاموں میں راست اَور اَپنی سَب راہوں میں مُنصِفانہ ہے؛ اَورجو لوگ مغروُری سے چلتے ہیں اُنہیں وہ جلیل کر سَکتا ہے۔
DAN 5:1 بیلشضرؔ بادشاہ نے اَپنے ایک ہزار اُمرا کی بڑی دھوم دھام سے ضیافت کی اَور اُن کے ساتھ مَے نوشی کی۔
DAN 5:2 جَب بیلشضرؔ مَے نوشی کر رہاتھا تَب اُس نے حُکم دیا کہ سونے اَور چاندی کے وہ برتن لایٔے جایٔیں جنہیں اُس کا باپ نبوکدنضرؔ، یروشلیمؔ کی بیت المُقدّس میں سے نکال لایاتھا تاکہ بادشاہ اَور اُس کے اُمرا اَور اُس کی بیویاں اَور داشتائیں اُن میں شراب پیئیں۔
DAN 5:3 چنانچہ وہ سونے کے برتن لایٔے گیٔے جنہیں یروشلیمؔ کی خُدا کی بیت المُقدّس میں سے نکالا گیا تھا اَور بادشاہ اَور اُس کے اُمرا، اُس کی بیویوں اَور داشتاؤں نے اُن میں مَے پی۔
DAN 5:4 وہ مَے نوشی کرکے، سونے اَور چاندی اَور کانسے، لوہے، لکڑی اَور پتّھر کے معبُودوں کی حَمد و سِتائش کرتے رہے۔
DAN 5:5 تبھی اُسی وقت اَچانک ایک اِنسانی ہاتھ کی اُنگلیاں نظر آئیں جنہوں نے چراغدان کے نزدیک شاہی محل کی دیوار کے گچ پر کچھ لِکھا۔ اَور بادشاہ نے اُس ہاتھ کو لِکھتے ہُوئے دیکھا۔
DAN 5:6 بادشاہ کے چہرہ کا رنگ اُڑ گیا اَور وہ اِس قدر خوفزدہ ہُوا کہ اُس کے گھُٹنے آپَس میں ٹکرانے لگے اَور اُس کی ٹانگیں ڈھیلی پڑ گئیں۔
DAN 5:7 بادشاہ نے چِلّاکر کہا کہ دلفریبیوں، نجومیوں اَور غیب بینوں کو بُلایا جائے اَور اُس نے بابیل کے اُن دانِشوروں سے کہا، ”جو کویٔی اُس نوشتہ کو پڑھ کر اُس کا مطلب مُجھے بتائے گا اُسے اَرغوانی لباس سے نوازا جائے گا اَور اُس کے گلے میں سونے کی مالا پہنائی جائے گی اَور وہ میری مملکت میں تیسرا اعلیٰ حاکم ہوگا۔“
DAN 5:8 تَب بادشاہ کے تمام دانِشور اَندر آئے لیکن وہ نہ اُس نوشتہ کو پڑھ پایٔے نہ اُس کا مطلب بادشاہ کو بتا سکے۔
DAN 5:9 چنانچہ بیلشضرؔ بادشاہ اَور بھی زِیادہ خوفزدہ ہُوا اَور اُس کا چہرہ اَور بھی زِیادہ پھیکا پڑ گیا اَور اُس کے اُمرا پریشان ہو گئے۔
DAN 5:10 بادشاہ اَور اُس کے اُمرا کی باتیں سُن کر بادشاہ کی والدہ جَشن کے کمرہ میں آئی اَور کہنے لگی، ”اَے بادشاہ، اَبد تک زندہ رہ، پریشان نہ ہو اَور اِس قدر خوفزدہ بھی نہ ہو!
DAN 5:11 آپ کی مملکت میں ایک شخص ہے جِس میں قُدُّوس معبُودوں کی رُوح ہے۔ آپ کے باپ کی سلطنت میں اُس میں معبُودوں کی مانند بصیرت، دانش اَور حِکمت پائی جاتی تھی۔ آپ کے باپ نبوکدنضرؔ بادشاہ نے، ہاں میں کہتی ہُوں کہ آپ کے باپ نے جو بادشاہ تھا۔ اُسے جادُوگروں، دلفریبیوں، اوجھاؤں اَور غیب بینوں کا سردار مُقرّر کیا تھا۔
DAN 5:12 یہ شخص دانی ایل جِس کا نام بادشاہ نے بیلطشضرؔ رکھا تھا، اُس میں ایک فاضل رُوح، علم اَور دانش کا مالک تھا اَور اُس میں خوابوں کی تعبیر بتانے، پہیلیاں کی وضاحت کرنے اَور مُشکل مُعاملے سلجھانے کی صلاحیّت تھی۔ اِس لئے دانی ایل کو بُلا اَور وہ تُمہیں اِس تحریر کا مطلب بتائے گا۔“
DAN 5:13 چنانچہ دانی ایل کو بادشاہ کے رُوبرو پیش کیا گیا اَور بادشاہ نے پُوچھا، ”کیا تُم وُہی دانی ایل ہو، جو اُن اسیروں میں سے ہے جنہیں میرا باپ یہُوداہؔ سے جَلاوطن کرکے لایاتھا؟
DAN 5:14 مَیں نے سُنا ہے کہ معبُودوں کی رُوح تُم میں ہے اَور تُم بصیرت، دانش اَور کمال حِکمت کے مالک ہو۔
DAN 5:15 دانِشور اَور دلفریبیوں کو میرے سامنے پیش کئے گیٔے تاکہ یہ تحریر پڑھیں اَور مُجھے اُس کا مطلب بتائیں لیکن وہ اُسے واضح نہ کر سکے۔
DAN 5:16 اَب مَیں نے سُنا ہے کہ تُم تعبیریں بتاتے ہو اَور مُشکل مُعاملے سلجھاتے ہو۔ اگر تُم اِس تحریر کو پڑھ سکتے ہو اَور اُس کا مطلب مُجھے بتا دو، تو تُمہیں اَرغوانی لباس سے مُلبّس کیا جائے گا اَور سونے کی مالا تمہارے گلے میں پہنائی جائے گی اَور تُمہیں میری مملکت میں تیسرا اعلیٰ حاکم بنا دیا جائے گا۔“
DAN 5:17 تَب دانی ایل نے بادشاہ کو جَواب دیا، ”آپ اَپنے تحفے اَپنے ہی پاس رکھیں اَور اَپنے اِنعام کسی دُوسرے شخص کو دے دیں۔ تَو بھی میں یہ تحریر بادشاہ کی خاطِر پڑھوں گا اَور جَناب کو اِس کا مطلب بھی بتاؤں گا۔
DAN 5:18 ”اَے بادشاہ، خُداتعالیٰ نے آپ کے باپ نبوکدنضرؔ کو سلطنت، عظمت، جلال اَور شان بخشی تھی۔
DAN 5:19 چونکہ خُداتعالیٰ نے اُنہیں اِس قدر عالی مرتبہ بخشا تھا اِس لیٔے تمام لوگ اَور قومیں اَور مُختلف زبانیں بولنے والے لوگ اُن سے ڈرتے اَور خوف کھاتے تھے۔ بادشاہ نے جنہیں چاہا، اُنہیں قتل کروا دیا، جنہیں وہ بچانا چاہا، اُنہیں بچا لیا۔ جنہیں سرفراز کرنا چاہا، اُنہیں سرفراز کیا اَور جنہیں ذلیل کرنا چاہا، اُنہیں ذلیل کیا۔
DAN 5:20 لیکن جَب اُس کے دِل میں غُرور آیا اَور اُس کا دِل غُرور سے سخت ہو گیا، تَب اُسے تختِ شاہی سے معزول کر دیا گیا اَور اُس کی جاہ و حشمت چھین لی گئی۔
DAN 5:21 اَور اُسے لوگوں کے درمیان سے نکال دیا گیا اَور اُسے حَیوان کا دِل دیا گیا۔ وہ گورخروں کی صحبت میں رہا اَور بَیلوں کی مانند گھاس کھاتا رہا اَور اُس کا جِسم آسمان کی شبنم سے بھیگتا رہا جَب تک کہ اُس نے اقرار کر لیا کہ خُداتعالیٰ اِنسان کی مملکتوں پر حُکمرانی کرتا ہے اَور وہ جسے چاہتاہے اُسے اُس پر قائِم کرتا ہے۔
DAN 5:22 ”لیکن اَے بیلشضرؔ آپ جو نبوکدنضرؔ کے بیٹے ہیں، یہ سَب جانتے ہُوئے بھی خُود کو حلیم نہیں کیا۔
DAN 5:23 بَلکہ آپ نے آسمان کے خُداوؔند کے خِلاف اَپنا سربُلند کیا۔ آپ نے اُس کی بیت المُقدّس کے برتن منگوائے اَور اُن میں آپ نے اَپنے اُمرا، اَپنی بیویوں اَور داشتاؤں کے ساتھ مَے نوشی کی۔ آپ نے چاندی اَور سونے، کانسے، لوہے، لکڑی اَور پتّھر کے معبُودوں کی تمجید کی جو نہ دیکھتے، نہ سُنتے اَور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن آپ نے اُس خُدا کی تمجید نہ کی جِس کے ہاتھوں میں آپ کی زندگی اَور آپ کی تمام راہیں ہیں۔
DAN 5:24 اِس لیٔے خُداتعالیٰ نے وہ ہاتھ بھیجا جِس نے وہ تحریر لکھی۔
DAN 5:25 ”اَور وہ نوشتہ یہ ہے، منے، منے، تقیل و فرسین،
DAN 5:26 ”اِن الفاظ کا معنی یہ ہے: ”منے‏: خُدا نے آپ کے حُکومت کے دِن گِن کر اُن کا خاتِمہ کر دیا۔
DAN 5:27 ”تقیل‏یعنی آپ ترازو میں تَولے گئے اَور وزن میں کم نکلے۔
DAN 5:28 ”فرسین‏ یعنی آپ کی بادشاہت منقسم ہُوئی اَور مادیوںؔ اَور فارسیوں کو دے دی گئی۔“
DAN 5:29 تَب بیلشضرؔ کے حُکم کے مُطابق دانی ایل کو اَرغوانی لباس سے مُلبّس کیا گیا، اُس کے گلے میں سونے کی مالا پہنائی گئی اَور اُس کے بادشاہت میں تیسرے اعلیٰ حاکم ہونے کا اعلان کیا گیا۔
DAN 5:30 ٹھیک اُسی رات کَسدیوں کا بادشاہ بیلشضرؔ قتل کیا گیا۔
DAN 5:31 اَور مادی داریاویشؔ نے باسٹھ سال کی عمر میں حُکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔
DAN 6:1 بادشاہ داریاویشؔ نے اَپنی خُوشی سے ایک سَو بیس ناظِم مُقرّر کئے جو اُس کی ساری مملکت میں حُکومت کرتے تھے۔
DAN 6:2 اَور اُن کے اُوپر تین وزیر بھی مُقرّر کئے جِن میں سے ایک دانی ایل تھا۔ اَور ناظِموں کو تینوں وزیر کے ماتحت کر دیا گیا تاکہ بادشاہ کو کوئی نُقصان نہ اُٹھانا پڑے۔
DAN 6:3 چونکہ دانی ایل میں ایک فاضل رُوح تھی اِس لئے وہ اُن وزیروں اَور ناظِموں پر اِس قدر سبقت لے گیا کہ بادشاہ نے اُسے ساری مملکت پر مُختار ٹھہرانے کا اِرادہ کیا۔
DAN 6:4 اِس پر وُزراء اَور ناظِم، دانی ایل کے خِلاف حُکومت کی کارکردگی میں خامیاں ڈھونڈنے لگے لیکن وہ اُس میں کامیاب نہ ہُوئے۔ اُنہُوں نے اُس میں کویٔی بُرائی نہ پائی کیونکہ وہ دیانتدار تھا، اَپنے چال چلن میں لاپروا نہ تھا۔
DAN 6:5 بلآخر اُن لوگوں نے کہا، ”ہم اِس شخص دانی ایل کے خِلاف کبھی کویٔی قُصُور نہ پا سکیں گے جَب تک کہ اُس کا تعلّق اُس کے خُدا کی شَریعت سے نہ ہو۔“
DAN 6:6 چنانچہ وزیر اَور ناظِم مِل کر بادشاہ کے پاس گیٔے اَور کہنے لگے: ”اَے بادشاہ داریاویشؔ، آپ اَبد تک زندہ رہیں،
DAN 6:7 شاہی وُزراء، حاکم، ناظِم، مُشیر اَور سردار سَب اِس بات پر مُتّفِق رائے رکھتے ہیں کہ بادشاہ ایک فرمان جاری کرے اَور یہ حُکم دے کہ اگلے تیس دِنوں میں جو کویٔی اَے بادشاہ، آپ کے سِوا کسی اَور معبُود یا اِنسان سے کویٔی درخواست کرے، اُسے شیروں کی ماند میں پھینک دیا جائے۔
DAN 6:8 اَب اَے بادشاہ یہ حُکم جاری کریں اَور اُس نوشتہ پر دستخط کریں تاکہ مادیوں اَور فارسیوں کے آئین کے مُطابق جو لاتبدیل ہوتے ہیں، اُسے بھی بدلا نہ جائے۔“
DAN 6:9 چنانچہ داریاویشؔ بادشاہ نے یہ حُکم تحریر کروایا۔
DAN 6:10 جَب دانی ایل کو پتہ لگاکہ حُکم جاری ہو چُکاہے تو وہ اَپنے گھر گیا اَور اُوپر کے کمرہ میں چلا گیا جِس کی کھڑکیاں یروشلیمؔ کی جانِب کھُلتی تھیں۔ وہ دِن میں تین مرتبہ حسبِ معمول اَپنے گھُٹنے ٹیک کر دعا کرتا اَور اَپنے خُدا کی شُکر گزاری کرتا تھا۔
DAN 6:11 تَب یہ لوگ جمع ہوکر گیٔے اَور دانی ایل کو دعا کرتے اَور اَپنے خُدا سے مدد طلب کرتے ہُوئے پایا۔
DAN 6:12 تَب وہ بادشاہ کے پاس گیٔے اَور اُس سے اُس کے شاہی حُکم کے متعلّق یُوں ذِکر کیا: ”اَے بادشاہ کیا آپ نے یہ حُکم جاری نہیں کیا کہ اگلے تیس دِنوں میں اگر کویٔی شخص آپ کے سِوا کسی اَور معبُود یا اِنسان سے دعا مانگے تو اُسے شیروں کی ماند میں پھینکا جائے؟“ بادشاہ نے جَواب دیا، ”مادیؔ اَور فارسی قوانین کے ماتحت جو لاتبدیل ہیں یہ حُکم جاری کیا گیا ہے۔“
DAN 6:13 تَب اُنہُوں نے بادشاہ سے کہا، ”اَے بادشاہ، یہ دانی ایل جو یہُوداہؔ سے جَلاوطن ہوکر آئے ہُوئے لوگوں میں سے ہے وہ آپ کی اَور آپ کے اُس تحریری حُکم کے متعلّق پروا نہیں کرتا۔ وہ اَب تک دِن میں تین بار دعا کرتا ہے۔“
DAN 6:14 بادشاہ نے جَب یہ سُنا تو وہ بےحد رنجیدہ ہُوا؛ اَور دانی ایل کو بچانا چاہتا تھا اَور دِن ڈھلنے تک اُسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا۔
DAN 6:15 تَب وہ لوگ جمع ہوکر داریاویشؔ بادشاہ کے پاس گیٔے اَور اُس سے کہنے لگے، ”اَے بادشاہ، آپ کو یاد ہوگا کہ، مادیؔ اَور فارسی قانُون کے مُطابق بادشاہ کا جاری کیا ہُوا حُکم یا فرمان بدلا نہیں جا سَکتا۔“
DAN 6:16 چنانچہ بادشاہ نے حُکم دیا اَور وہ دانی ایل کو لے آئے اَور اُسے شیروں کی ماند میں پھینک دیا۔ بادشاہ نے دانی ایل سے کہا، ”تمہارا خُدا جِس کی تُم ہمیشہ عبادت کرتے ہو، وُہی تُمہیں بچائے!“
DAN 6:17 اَور ایک پتّھر لاکر ماند کے مُنہ پر رکھ دیا گیا اَور بادشاہ نے اَپنی اَور اَپنے اُمرا کی انگُوٹھیوں سے اُس پر مُہر لگا دی تاکہ وہ بات جو دانی ایل کے حق میں ٹھہرائی گئی تھی اُسے کویٔی تبدیلی نہ کرے۔
DAN 6:18 تَب بادشاہ اَپنے محل میں لَوٹ آیا اَور اُس نے بغیر کچھ کھائے اَور بنا کسی موسیقی ساز کے رات گزاری لیکن اُسے ساری رات نیند نہیں آئی۔
DAN 6:19 پَو پھٹتے ہی صُبح بادشاہ اُٹھ گیا اَور جلدی سے شیروں کی ماند کی طرف گیا۔
DAN 6:20 جَب بادشاہ ماند کے نزدیک پہُنچا تو اُس نے نہایت درد بھری آواز میں دانی ایل کو پُکارا، ”اَے دانی ایل، زندہ خُدا کے بندے، کیا تمہارا خُدا جِس کی تُم ہمیشہ عبادت کرتے ہو وہ تُمہیں شیروں سے بچا سَکا؟“
DAN 6:21 دانی ایل نے جَواب دیا، ”اَے بادشاہ، آپ اَبد تک زندہ رہیں،
DAN 6:22 میرے خُدا نے اَپنے فرشتہ کو بھیجا جِس نے شیروں کے مُنہ بند کر دئیے۔ اَور اُنہُوں نے مُجھے کویٔی ضرر نہیں پہُنچایا کیونکہ مَیں اُس کی نگاہ میں بے قُصُور ٹھہرا تھا۔ اَور اَے بادشاہ نہ مَیں نے آپ کے حُضُور میں کبھی کویٔی خطا کی۔“
DAN 6:23 چنانچہ بادشاہ بےحد مسرُور ہُوا اَور حُکم دیا کہ دانی ایل کو ماند سے نکالا جائے۔ اَور جَب دانی ایل ماند سے نکالا گیا تَب اُس کے جِسم پر کویٔی زخم نہ پایا گیا کیونکہ اُس نے خُدا پر توکّل کیا تھا۔
DAN 6:24 تَب بادشاہ کے حُکم کے مُطابق جِن لوگوں نے دانی ایل کی چُغلی کی تھی اُنہیں لایا گیا اَور اُنہیں اُن کی بیویوں اَور بچّوں سمیت شیروں کی ماند میں پھینک دیا گیا اَور اِس سے قبل کہ وہ ماند کی تہہ کے فرش تک پہُنچتے شیروں نے اُن پر جھپٹّا مارا اَور اُن کی ہڈّیوں تک کو چبا ڈالا۔
DAN 6:25 تَب داریاویشؔ بادشاہ نے مُلک بھر میں تمام لوگوں، قوموں اَور مُختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کو خط لِکھّا: ”تمہارا اِقبال بُلند ہو!
DAN 6:26 ”میں یہ حُکم دیتا ہُوں کہ میری مملکت کے ہر حِصّہ میں، لوگ دانی ایل کے خُدا کا خوف مانیں اَور اُس کا اِحترام کریں۔
DAN 6:27 وُہی چُھڑاتا اَور بچاتا ہے؛
DAN 6:28 اِس طرح داریاویشؔ مادیؔ اَور خورشؔ فارسی دونوں کے دَورِ حُکومت میں دانی ایل کامیابی پاتا گیا۔
DAN 7:1 شاہِ بابیل، بیلشضرؔ کے پہلے سال میں دانی ایل نے پلنگ پر لیٹے ہُوئے ایک خواب دیکھا اَور کیٔی رُویتیں اُس کے دماغ میں آئیں۔ اَور اُس نے اَپنے خواب کا خُلاصہ مُکمّل طور پر بَیان کیا ہے۔
DAN 7:2 دانی ایل نے بَیان کیا: ”مَیں نے رات کو رُویا دیکھی کہ میری آنکھوں کے سامنے آسمان کی چار ہَوایٔیں زور سے چلیں جِس سے بڑے سمُندر میں طُوفان اُٹھا۔
DAN 7:3 اَور سمُندر میں سے چار بڑے حَیوان نکلے جو ایک دُوسرے سے مُختلف تھے۔
DAN 7:4 ”پہلا حَیوان شیرببر کی مانند تھا اَور اُس کو عُقاب کے مانند پَر تھے۔ میں دیکھتا رہا یہاں تک کہ اُس کے پَر نوچ ڈالے گیٔے اَور اُسے زمین پر سے اُٹھایا گیا تاکہ وہ اِنسان کی طرح دو پاؤں پر کھڑا ہو جائے اَور اُسے اِنسان کا دِل دیا گیا۔
DAN 7:5 ”اَور میرے سامنے دُوسرا حَیوان تھا جو ریچھ کی مانند نظر آتا تھا۔ اَور ایک بازو کے بَل اُٹھا ہُوا تھا، اَور اُس کے مُنہ میں اُس کے دانتوں کے درمیان تین پسلیاں تھیں۔ اُس سے کہا گیا، ’اُٹھ اَور سیر ہوکر بہت سے لوگوں کا گوشت کھالے!‘
DAN 7:6 ”اُس کے بعد مَیں نے دیکھا کہ میرے سامنے ایک تیسرا حَیوان ہے جو تیندوے کی مانند نظر آتا ہے۔ اُس کی پیٹھ پر پرندہ کی مانند چار پر ہیں؛ اَور اِس حَیوان کے چار سَر ہیں اَور اُسے حُکومت کا اِختیار دیا گیا۔
DAN 7:7 ”اُس کے بعد مَیں نے اَپنی رات کی رُویا میں دیکھا کہ میرے سامنے ایک چوتھا حَیوان ہے جو نہایت ہیبت ناک اَور خوفناک اَور بہت ہی زورآور ہے۔ اُس کے بڑے بڑے لوہے کے دانت تھے۔ وہ اَپنے شِکار کو چباتا اَور نگل جاتا تھا اَورجو کچھ بچ جاتا تھا اُسے پاؤں تلے روند ڈالتا تھا۔ وہ پہلے تمام حَیوانوں سے مُختلف تھا اَور اِس کے دس سینگ تھے۔
DAN 7:8 ”میں ابھی اُن سینگوں کے متعلّق سوچ ہی رہاتھا تبھی مَیں نے دیکھا کہ اُن سینگوں کے درمیان ایک اَور چھوٹا سینگ تھا اَور اِس سینگ کے نکلنے سے اَور اُس کے بَل سے وہاں پہلے کے تین سینگ اَپنے جڑ سے اُکھاڑ دئیے گیٔے۔ پھر مَیں نے دیکھا کہ اِس سینگ میں اِنسانوں کی مانند آنکھیں تھیں اَور ایک مُنہ بھی تھا جو تکبُّر کی باتیں کر رہاتھا۔
DAN 7:9 ”میرے دیکھتے دیکھتے، ”تخت لگائے گیٔے، اَور قدیمُ الایّام تخت نشین ہُوا۔ اُس کا لباس برف کی مانند سفید تھا؛ اَور اُس کے سَر کے بال اُون کی مانند سفید تھے۔ اُس کے تخت آگے کے شُعلے کی مانند تھے، اَور تخت کے پہیّے آگ سے دہک رہے تھے۔
DAN 7:10 اَور اُس کے سامنے سے، ایک آگ کا دریا نکل کر بہہ رہاتھا۔ ہزاروں فرشتہ اُس کی خدمت میں مصروف تھے؛ اَور لاکھوں فرشتہ اُس کی خدمت میں رُوبرو کھڑے تھے۔ اَور عدالت شروع ہو گئی تھی؛ اَور کِتابیں کھُلی ہوئی تھیں۔
DAN 7:11 ”وہ سینگ تکبُّر سے بھری باتیں کر رہاتھا اِس لئے میں عدالت کی طرف لگاتار دیکھ رہاتھا۔ میں تَب تک دیکھتا رہا جَب تک کہ اُس حَیوان کا قتل کرکے اُس کے بَدن کو ہلاک کرکے شُعلہ زن آگ میں پھینک نہ دیا گیا۔
DAN 7:12 (دُوسرے حَیوانوں کے اِختیارات چھین لیٔے گیٔے لیکن اُنہیں کچھ عرصہ کے لیٔے زندہ رہنے دیا گیا۔)
DAN 7:13 ”رات کو مَیں نے اَپنی رُویا میں دیکھا کہ ایک شخص اِبن آدمؔ کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آ رہاتھا۔ وہ قدیمُ الایّام کے پاس آیا اَور وہ اُسے قدیمُ الایّام کے نزدیک لائے۔
DAN 7:14 اِبن آدمؔ کو اِختیار، جلال اَور اعلیٰ اقتدار بخشا گیا تاکہ سَب لوگ، سَب اُمّتیں اَور ہر زبان بولنے والے اُس کے تابع ہوکر اُس کی عبادت کریں؛ اُس کی سلطنت اَبدی ہے جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ اَور اُس کی بادشاہی لازوال ہوگی۔
DAN 7:15 ”میں دانی ایل اَپنے رُوح میں ملُول ہُوا اَور اُن رُویتوں نے میرے دماغ میں کھلبلی مچا دی۔
DAN 7:16 تَب جو لوگ خُدا کی حُضُوری میں وہاں کھڑے تھے، میں، اُن میں سے ایک کے پاس جا کر اُن باتوں کی حقیقت دریافت کی۔ ”چنانچہ اُس نے مُجھ سے بات کی اَور اُن تمام باتوں کی تعبیر سمجھائی:
DAN 7:17 ’یہ چار بڑے حَیوان چار بادشاہوں کی سلطنت ہیں جو زمین پر برپا ہوں گے۔
DAN 7:18 لیکن خُداتعالیٰ کے مُقدّس لوگ بادشاہی پائیں گے جو اَبد تک اُس کے مالک ہوں گے۔ ہاں، ابدُالآباد تک۔‘
DAN 7:19 ”تَب میں اُس چوتھے حَیوان کا صحیح مطلب بھی جاننا چاہتا تھا جو دُوسرے تمام حَیوانوں سے مُختلف اَور نہایت ہیبت ناک تھا، جِس کے دانت لوہے کے اَور ناخن کانسے کے تھے۔ وہ حَیوان جو اَپنے شِکار کو چبا کر نگل جاتا تھا اَورجو کچھ بچ جاتا تھا اُسے پاؤں سے روند ڈالتا تھا۔
DAN 7:20 میں اُس کے سَر پر کے دس سینگوں کے متعلّق بھی جاننا چاہتا تھا اَور اُس دُوسرے سینگ کے متعلّق جِس کے سامنے پہلے تین سینگ گِر گیٔے تھے۔ اُس سینگ کے متعلّق جو دُوسرے سینگوں سے زِیادہ رُعب دار تھا اَور جِس کی آنکھیں تھیں اَور مُنہ بھی جو شیخی باز تھا۔
DAN 7:21 میرے دیکھتے دیکھتے یہ سینگ مُقدّسوں سے جنگ کر رہاتھا اَور اُنہیں تَب تک شِکست دیتا رہا۔
DAN 7:22 جَب تک کہ اُس قدیمُ الایّام نے آکر خُداتعالیٰ کے مُقدّسوں کے حق میں فیصلہ نہ کیا اَور وہ وقت آ گیا جَب مُقدّس لوگ آسمانی بادشاہی کے مالک بَن گیٔے۔
DAN 7:23 ”اُس نے مُجھے یُوں سمجھایا: ’وہ چوتھا حَیوان چوتھی سلطنت ہے جو زمین پر برپا ہوگی۔ وہ دُوسری تمام سلطنتوں سے مُختلف ہوگی اَور ساری زمین کو کھا جائے گی اَور اُسے روند کر چور چور کر دے گی۔
DAN 7:24 وہ دس سینگ دس بادشاہ ہیں جو اُس سلطنت میں سے برپا ہوں گے۔ اُن کے بعد ایک اَور بادشاہ برپا ہوگا جو پہلے بادشاہوں سے مُختلف ہوگا جو تین بادشاہوں کو زیرِ کرےگا۔
DAN 7:25 وہ خُداتعالیٰ کے خِلاف باتیں کرےگا اَور اُس کے مُقدّسوں پر ظُلم ڈھائے گا اَور مُقرّرہ اوقات اَور شَریعت کو بدلنے کی کوشش کرےگا۔ مُقدّسین ساڑھے تین سال تک یعنی ایک سال، دو سال اَور چھ ماہ کے لئے اُس کے حوالہ کر دیئے جایٔیں گے۔
DAN 7:26 ” ’لیکن تَب عدالت قائِم ہوگی اَور اُس بادشاہ کی ساری قُوّت چھین لی جائے گی اَور اُسے ہمیشہ کے لیٔے نِیست و نابود کر دیا جائے گا۔
DAN 7:27 تَب سارے آسمان کے نیچے تمام مُلکوں کی سلطنت، قُدرت اَور عظمت اُن مُقدّسوں کے حوالہ کی جائے گی جو خُداتعالیٰ کے لوگ ہیں۔ اُس کی بادشاہی اَبدی بادشاہی ہوگی اَور تمام حُکمران اُن کی عبادت اَور اِطاعت کریں گے۔‘
DAN 7:28 ”یہاں پر یہ اَمر ختم ہُوا۔ میں دانی ایل، اَپنے خیالات سے بےحد پریشان ہُوا اَور میرا چہرہ پھیکا پڑ گیا لیکن مَیں نے یہ بات دِل ہی میں رکھی۔“
DAN 8:1 بیلطشضرؔ بادشاہ کی سلطنت کے تیسرے سال میں، مُجھ دانی ایل کو ایک رُویا نظر آیا یعنی میرے پہلے رُویا دیکھنے کے بعد ایک اَور رُویا دیکھی۔
DAN 8:2 مَیں نے اَپنی رُویا میں اَپنے آپ کو صُوبہ عیلامؔ کے شُوشنؔ کے قلعہ میں دیکھا اَور رُویا میں، مَیں اُولاؔئی نہر کے پاس تھا۔
DAN 8:3 مَیں نے آنکھ اُٹھاکر نظر کی اَور اَپنے سامنے دو سینگ والا ایک مینڈھا دیکھا جو نہر کے کنارے کھڑا تھا اَور اُس کے سینگ لمبے تھے۔ اُن میں سے ایک سینگ دُوسرے سے لمبا تھا لیکن وہ بعد میں نِکلا تھا۔
DAN 8:4 مَیں نے دیکھا کہ وہ مینڈھا مغرب، شمال اَور جُنوب کی طرف سینگ مار رہاتھا اَور کویٔی جانور اُس کے سامنے کھڑا نہ رہ سَکتا تھا اَور نہ کویٔی اُس کی طاقت سے کسی کو بچا سَکتا تھا۔ وہ جیسا چاہتا تھا، کرتا تھا یہاں تک کہ وہ بہت بڑا ہو گیا۔
DAN 8:5 جَب مَیں اُس پر غور کر ہی رہاتھا کہ ایک بکرا جِس کی آنکھوں کے درمیان ایک نُمایاں سینگ تھا، مغرب کی جانِب سے نکل کر بغیر زمین کو چھُوئے تمام رُوئے زمین کو عبور کرتے ہُوئے آیا۔
DAN 8:6 وہ دو سینگوں والے مینڈھے کی طرف آیا جسے مَیں نے نہر کے کنارے کھڑا دیکھا تھا اَور شدید غُصّہ میں اُس پر لپکا۔
DAN 8:7 مَیں نے اُسے مینڈھے پر نہایت غُصّہ میں حملہ کرتے ہُوئے دیکھا اُس نے اُسے مارا اَور اُس کے دونوں سینگ توڑ ڈالے۔ مینڈھے میں اِتنی طاقت ہی نہیں تھی کہ وہ اُس بکرے سے مُقابلہ کرے۔ بکرے نے اُسے زمین پر پٹک دیا اَور اُسے روند ڈالا اَور کویٔی اُس مینڈھے کو اُس کی گرفت سے چھُڑا نہ سَکا۔
DAN 8:8 بکرا بہت طاقتور ہو گیا لیکن جَب اُس کی عظمت اِنتہا کو پہُنچی تو اُس کا بڑا سینگ توڑ دیا گیا اَور اُس کی جگہ چار نُمایاں سینگ نکل آئے جو آسمان کی چاروں سمتوں کی جانِب بڑھنے لگے۔
DAN 8:9 پھر اُن میں سے ایک سینگ اَور نکل آیا جو شروع میں تو چھوٹا تھا لیکن جُنوب کی جانِب اَور مشرق کی جانِب اَور ایک خُوبصورت مُلک کی طرف پُوری طاقت سے بڑھتا گیا۔
DAN 8:10 وہ اِس قدر بڑھا کہ اجرامِ فلکی تک پہُنچ گیا اَور اُس نے اُن میں سے چند سِتاروں کو زمین پر پھینک دیا اَور اُنہیں روند ڈالا۔
DAN 8:11 اُس نے اَپنے آپ کو عظمت میں یَاہوِہ کے آسمانی فَوج کے سپہ سالار کی مانند بُلند کیا؛ اَور اُس نے یَاہوِہ کو نذر کی جانے والی روزانہ کی قُربانی کو بند کر دیا اَور اُس کے پاک مَقدِس کو گرا دیا۔
DAN 8:12 اَور لوگوں کی خطاکاری کی باعث یَاہوِہ کے لوگ اَور دائمی قُربانی سمیت اُس کے حوالہ کر دیئے گیٔے۔ وہ ہر قدم پر کامیاب ہوتا گیا اَور صداقت کو مٹّی میں مِلا دیا گیا۔
DAN 8:13 تَب مَیں نے ایک قُدُّوس فرشتہ کو کچھ کلام کرتے ہُوئے سُنا، ”پھر دُوسرے فرشتہ نے اُس سے پُوچھا جو کلام کر رہاتھا، رُویا میں بَیان کئےگئے روزانہ کی قُربانی، خطاکاری کی باعث ہونے والی تباہی اَور پاک مَقدِس اَور یَاہوِہ کے لوگوں کی پامالی کے پُورا ہونے میں اَور کتنا وقت لگے گا؟“
DAN 8:14 اُس نے مُجھ سے کہا، اِسے پُورا ہونے میں دو ہزار تین سَو صُبح اَور شام لگیں گے، ”اِس کے بعد ہی پاک مَقدِس کی دوبارہ تقدیس ہوگی۔“
DAN 8:15 جَب مَیں، دانی ایل، یہ رُویا دیکھ رہاتھا اَور اُسے سمجھنے کی کوشش کر رہاتھا، تبھی میرے سامنے ایک اِنسان کی شکل نموُدار ہُوئی۔
DAN 8:16 اَور مَیں نے اُولاؔئی نہر میں سے آتی ہُوئی ایک آدمی کی بُلند آواز سُنی، ”اَے گیبریلؔ، اُس شخص کو اُس رُویا کا مطلب سمجھا۔“
DAN 8:17 جَیسے ہی وہ اُس جگہ کے نزدیک آیا جہاں میں کھڑا تھا میں ڈر گیا اَور مُنہ کے بَل گِر پڑا۔ اُس نے مُجھ سے کہا، اَے آدمؔ زاد، ”یہ سمجھ لے کہ یہ رُویا آخِری دِنوں کے متعلّق ہے۔“
DAN 8:18 جَب وہ مُجھ سے بات کر رہاتھا تَب میں گہری نیند میں تھا اَور میرا چہرہ زمین پر تھا۔ تَب اُس نے مُجھے اُٹھایا اَور مُجھے اَپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔
DAN 8:19 اُس نے کہا: ”قہر بھڑکنے کے آخِری دِنوں میں جو کچھ ہوگا وہ میں تُمہیں بتاتا ہُوں کیونکہ یہ رُویا آخِری زمانہ کے مُقرّرہ وقت کے متعلّق ہے۔
DAN 8:20 دو سینگ والا مینڈھا جو آپ نے دیکھا وہ مِدائی اَور فارسؔ کے بادشاہوں کی نُمائندگی کرتا ہے۔
DAN 8:21 اَور وہ جھبرا بکرا یُونانؔ کا بادشاہ ہے اَور اُس کی آنکھوں کے درمیان کا بڑا سینگ پہلا بادشاہ ہے۔
DAN 8:22 وہ چار سینگ جو ٹوٹے ہُوئے سینگ کی جگہ نکل آئے اُن چار سلطنتوں کی نُمائندگی کرتے ہیں جو اُس کی قوموں میں سے برپا ہوں گی لیکن اُن کی اقتداری قُوّت اُس پہلے کی سِی نہ ہوگی۔
DAN 8:23 ”اَور اُن کی سلطنت کے آخِری دِنوں میں جَب خطاکار لوگ اِنتہائی بدکاری پر اُتر آئیں گے تَب ایک سخت اَور بےرحم بادشاہ برپا ہوگا۔
DAN 8:24 وہ نہایت ہی زورآور ہوگا لیکن اَپنی قُوّت سے نہیں۔ وہ حیرت اَنگیز تباہی مچائے گا اَور وہ ہر کام میں کامیاب ہوگا اَور وہ زور آوروں اَور مُقدّس لوگوں کو ہلاک کر دے گا۔
DAN 8:25 وہ فریب کا سبب بنے گا، کامیاب ہونے کے لئے مکّاری کا اِستعمال کرےگا اَور خُوب کامیاب بھی ہوگا اَور اَپنے آپ کو افضل سمجھے گا۔ جَب لوگ اَپنے آپ کو محفوظ محسُوس کرتے ہوں گے تَب وہ بہُتوں کو مار ڈالے گا اَور شہزادوں کے شہزادے کے خِلاف کھڑا ہوگا۔ تو بھی وہ ہلاک ہو جائے گا لیکن کسی اِنسانی قُوّت سے نہیں۔
DAN 8:26 ”صُبح اَور شام کے متعلّق جو رُویا تُمہیں دِکھائی گئی وہ سچ ہے لیکن اُس رُویا کو تُم مُہر لگا کر پوشیدہ رکھو کیونکہ یہ مُستقبِل بعید سے تعلّق رکھتی ہے۔“
DAN 8:27 میں دانی ایل تھک گیا اَور کیٔی دِنوں تک عَلیل پڑا رہا۔ پھر مَیں اُٹھا اَور بادشاہ کے کاروبار میں مصروف ہُوا۔ لیکن مَیں اُس رُویا سے بہت سہم گیا تھا کیونکہ وہ سمجھ سے بالاتر تھی۔
DAN 9:1 داریاویشؔ بِن احسویروسؔ جو مادیوںؔ کی نَسل سے تھا اَور کَسدیوں کے مُلک پر بادشاہ مُقرّر ہُوا تھا، اُس کی سلطنت کے پہلے سال میں،
DAN 9:2 داریاویشؔ کی سلطنت کے پہلے سال میں، مُجھ دانی ایل نے نوشتوں سے یہ جان لیا تھا کہ یَاہوِہ نے یرمیاہؔ نبی پر نازل کئے ہُوئے کلام کے مُطابق یروشلیمؔ کی ویرانی ستّر سال تک قائِم رہے گی۔
DAN 9:3 چنانچہ میں خُداوؔند خُدا کی طرف رُجُوع ہُوا اَور مَیں نے دعا اَور مناجات سے روزہ رکھ کر ٹاٹ اوڑھ کر اَور راکھ پر بیٹھ کر اُس سے استدعا کی۔
DAN 9:4 مَیں نے یَاہوِہ اَپنے خُدا سے دعا کی اَور اقرار کیا: ”اَے خُداوؔند، عظیم و مُہیب خُدا، جو لوگ آپ سے مَحَبّت رکھتے اَور آپ کے فرمانبردار بندے ہیں، آپ اُن کے ساتھ اَپنا مَحَبّت کا عہد قائِم رکھتے ہیں۔
DAN 9:5 ہم نے گُناہ کیا اَور غلط کام کئے۔ ہم نے بدکاری اَور بغاوت کی ہے۔ ہم نے آپ کے آئین اَور اَحکام سے مُنہ موڑ لیا ہے۔
DAN 9:6 ہم نے آپ کے خادِموں نبیوں کی بات نہ سُنی جنہوں نے آپ کے نام سے ہمارے بادشاہوں، ہمارے شہزادے، ہمارے آباؤاَجداد اَور مُلک کے تمام لوگوں سے کلام کیا تھا۔
DAN 9:7 ”اَے خُداوؔند آپ صادق ہے لیکن آج کے دِن ہم پشیمان ہیں۔ یعنی بنی یہُوداہؔ، یروشلیمؔ کے باشِندے اَور سبھی اِسرائیلی جو نزدیک ہیں اَور دُور ہیں، ہماری بےوفائی کے باعث آپ نے ہمیں اُن تمام ممالک میں مُنتشر کر دیا ہے۔
DAN 9:8 اَے یَاہوِہ، ہم اَور ہمارے بادشاہ، ہمارے شہزادے اَور ہمارے آباؤاَجداد کافی شرمسار ہیں کیونکہ ہم نے آپ کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔
DAN 9:9 خُداوؔند، ہمارا خُدا رحیم و غفور ہے حالانکہ ہم نے اُن کے خِلاف بغاوت کی ہے۔
DAN 9:10 ہم نے یَاہوِہ ہمارے خُدا کے اَحکام کو نہ مانا، اَور نہ ہی اُن قوانین پر عَمل کیا جنہیں اُس نے ہمیں اَپنے خادِم نبیوں کی مَعرفت عطا فرمائی تھی۔
DAN 9:11 سارے بنی اِسرائیل آپ کی شَریعت سے منحرف ہو گئے اَور آپ کی اِطاعت سے مُنہ موڑ لیا۔ ”چنانچہ لعنتیں اَور خُداوؔند کے خادِم مَوشہ کے آئین میں قَسم کھا کے درج کی ہُوئی آفتیں ہم پر نازل کر دی گئیں کیونکہ ہم نے آپ کے خِلاف گُناہ کیا۔
DAN 9:12 چنانچہ جو کچھ ہمارے خِلاف اَور ہمارے حاکموں کے خِلاف کہا گیا تھا اُسے آپ نے ہم پر بڑی آفت بھیج کر پُورا کر دیا کیونکہ جَیسا یروشلیمؔ کے ساتھ کیا گیا وَیسا اَب تک سارے آسمان کے نیچے کہیں بھی نہیں کیا گیا ہے۔
DAN 9:13 جَیسا کہ مَوشہ کی آئین میں مرقوم ہے، یہ ساری آفت ہم پر آ پڑی۔ پھر بھی ہم نے نہ تو یَاہوِہ ہمارے خُدا کا فضل حاصل کرنے کی کوشش کی اَور نہ ہی اَپنے گُناہوں کو ترک کرکے آپ کی سچّائی پر غور کیا۔
DAN 9:14 یَاہوِہ نے ہم پر یہ آفت نازل کرنے میں پس و پیش نہ کی کیونکہ یَاہوِہ ہمارا خُدا جو کچھ کرتا ہے وہ راستبازی سے ہی کرتا ہے۔ پھر بھی ہم نے اُس کی اِطاعت نہ کی۔
DAN 9:15 ”اَب اَے خُداوؔند ہمارے خُدا جِس نے اَپنے لوگوں کو اَپنے قوی ہاتھ کی قُوّت سے مِصر سے باہر نکال لایا اَور اَپنا اَیسا بڑا نام کمایا جو آج تک مشہُور ہے۔ لیکن ہم نے گُناہ کیا اَور ہم خطاکار ہیں۔
DAN 9:16 اَے خُداوؔند اَپنے راستبازی کے تمام کاموں کے مُطابق، اَپنے شہر اَور اَپنے مُقدّس پہاڑ یروشلیمؔ پر سے اَپنا غُصّہ اَور اَپنا قہر ہٹا لے۔ ہمارے گُناہ اَور ہمارے آباؤاَجداد کی بداعمالیوں کے باعث یروشلیمؔ اَور آپ کے لوگوں کی ہمارے اِردگرد کے لوگوں سے تحقیر ہو رہی ہے۔
DAN 9:17 ”اَب اَے خُدا اَپنے خادِم کی دعائیں اَور اِلتجا قبُول فرما۔ اَے خُداوؔند اَپنی ہی خاطِر اَپنے ویران پاک مَقدِس پر نظرِ عنایت فرما۔
DAN 9:18 اَے ہمارے خُدا کان لگا کر سُنیں، اَور اَپنی آنکھیں کھول کر اُس شہر کی ویرانی کو دیکھیں جو آپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہم آپ سے اِس لیٔے اِلتجا نہیں کر رہے ہیں کہ ہم راستباز ہیں بَلکہ اِس لیٔے کہ آپ نہایت رحیم ہیں۔
DAN 9:19 اَے خُداوؔند سُنیں، اَے خُداوؔند مُعاف کر دیں، اَے خُداوؔند غور سے سُنیں اَور کچھ کریں؛ اَے میرے خُدا، اَپنی خاطِر اَب اَور تاخیر نہ کریں، کیونکہ آپ کا شہر اَور آپ کے لوگ آپ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔“
DAN 9:20 جَب مَیں اِس قدر فریاد کر رہاتھا اَور اَپنے اَور اَپنی قوم اِسرائیل کے گُناہوں کا اقرار کر رہاتھا اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا سے اُس کے مُقدّس پہاڑ کی خاطِر استدعا کر رہاتھا۔
DAN 9:21 اَور ابھی میں دعا کر ہی رہاتھا کہ وہ شخص گیبریلؔ جسے میں اُس سے پہلے کی رُویا میں دیکھ چُکاتھا تیز پرواز کرکے شام کی قُربانی کے وقت میرے پاس آیا۔
DAN 9:22 اُس نے مُجھے ہدایات دیں اَور کہا، ”اَے دانی ایل میں اَب اِس لیٔے آیا ہُوں کہ تُمہیں بصیرت اَور دانش بخشوں:
DAN 9:23 جوں ہی تُم نے دعا کرنا شروع کیا تھا تبھی آسمانی حُکم جاری کیا گیا جو میں تُمہیں بتانے آیا ہُوں کیونکہ تُو خُدا کی نظر میں مُعزّز ہے۔ چنانچہ اُس پیغام پر غور کر اَور رُویا کو سمجھ لے۔
DAN 9:24 ”تمہارے لوگوں اَور مُقدّس شہر کے لیٔے ستّر سات مُقرّر کئے گیٔے ہیں کہ اُن کی سرکشی کا خاتِمہ ہو جائے اَور اُن کے گُناہوں کا اِختتام ہو جائے اَور اُن کے خطاؤں کا کفّارہ دیا جائے، اَور اَبدی راستبازی قائِم ہو، رُویا اَور نبیوں کی نبُوّت کی باتوں پر مُہر ہو اَور پاک ترین مقام کا پھر سے مَسح کیا جائے۔
DAN 9:25 ”پس تُم جان لو اَور سمجھ لو کہ یروشلیمؔ کی بحالی اَور دوبارہ تعمیر کئے جانے کا حُکم صادر ہونے سے لے کر ممسوح بادشاہ کی آمد تک، ’سات‘ ہفتے اَور باسٹھ ہفتے گزر جایٔیں گے۔ اُسے اُس کے بازاروں اَور فصیل اَور خندق سمیت تعمیر کیا جائے گا۔ لیکن یہ مُصیبت کے ایّام میں ہوگا۔
DAN 9:26 ’سات‘ ہفتے اَور باسٹھ ہفتوں کے بعد ممسوح کو قتل کر دیا جائے گا اَور اُس وقت شہر اُس کے ہاتھ میں نہیں آئے گا اَور آنے والے حُکمران کے لوگ شہر اَور پاک مَقدِس کو تباہ کر دیں گے۔ لیکن اُس ممسوح حُکمران کا اِختتام سیلاب کی مانند جلد ہو جائے گا، جنگ آخِر تک جاری رہے گی اَور تباہیوں کا فرمان جاری کیا جا چُکاہے۔
DAN 9:27 اَور وہ حُکمران ایک ہفتہ یعنی سات سال کے لیٔے بہُتوں سے عہد باندھے گا اَور اُس ہفتہ کے درمیان وہ قُربانی اَور نذر موقُوف کر دے گا اَور وہ بیت المُقدّس میں ایک تباہ کرنے والی مکرُوہ شَے کو قائِم کرےگا جو تباہی کا باعث ہوگا۔ یہ تَب تک ہوتا رہے گا جَب تک کہ مُقرّر وقت کے آخِر میں اُس حُکمران پر یہ تباہی نازل نہ کر دی جائے۔“
DAN 10:1 شاہِ فارسؔ خورشؔ کی سلطنت کے تیسرے سال میں دانی ایل پر جسے بیلطشضرؔ بھی پُکارا جاتا تھا ایک بات ظاہر کی گئی اَور وہ بات سچ اَور بڑی جنگ سے متعلّق تھی۔ اُس پیغام کا مطلب اِس رُویا میں سمجھایا گیا ہے۔
DAN 10:2 اُن دِنوں میں، میں دانی ایل تین ہفتوں تک ماتم کرتا رہا۔
DAN 10:3 اُن تین ہفتوں کے پُورے ہونے تک، نہ مَیں نے کویٔی مرغوب غِذا کھائی نہ گوشت نہ مَے اَپنے مُنہ میں رکھا اَور نہ اَپنے جِسم پر خُوشبو والا تیل تک مَلا۔
DAN 10:4 پہلے مہینے کے چوبیسویں دِن جَب مَیں بڑے دریا حِدیکیل کے کنارے پر کھڑا تھا،
DAN 10:5 جَب مَیں نے اُوپر نگاہ کی تو اَپنے سامنے ایک شخص کو دیکھا جو کتانی لباس پہنے ہُوئے تھا اَور اُس کی کمر پر اوفیرؔ کا خالص سونے کا کمربند بندھا ہُوا تھا۔
DAN 10:6 اُس کا جِسم فیروزہ کی مانند، اُس کا چہرہ بجلی کا سا تھا، اُس کی آنکھیں جلتے ہُوئے چراغوں کی مانند، اُس کے بازو اَور ٹانگیں چمکتے ہُوئے کانسے کی مانند اَور اُس کی آواز ایک مجمع کی آواز کی مانند تھی۔
DAN 10:7 صِرف مُجھ، دانی ایل کو ہی یہ رُویا دِکھائی دے رہاتھا؛ میرے ساتھیوں نے اُسے نہ دیکھا لیکن وہ اِس قدر خوفزدہ ہو گئے کہ بھاگ کر چھُپ گیٔے۔
DAN 10:8 چنانچہ میں اکیلا رہ گیا اَور اُس عظیم رُویا کو ٹِکٹِکی باندھ کر دیکھتا رہا۔ اَور مُجھ میں کچھ طاقت نہ رہی کیونکہ میرا چہرہ مُردہ کی مانند پیلا پڑ گیا اَور مَیں لاچار ہو گیا۔
DAN 10:9 پھر مَیں نے اُسے باتیں کرتے ہُوئے سُنا اَور جَیسے ہی مَیں نے اُس کی باتوں پر غور کیا، مُجھ پر گہری نیند طاری ہو گئی اَور مَیں زمین پر اوندھے مُنہ پڑا رہا۔
DAN 10:10 تَب کسی ہاتھ نے مُجھے چھُوا اَور میرے کانپتے ہُوئے بَدن کو میرے ہاتھوں اَور گھٹنوں کے بَل کھڑا کر دیا۔
DAN 10:11 اُس نے کہا، ”اَے مُعزّز مَرد، دانی ایل، مَیں جو باتیں تُمہیں بتانے جا رہا ہُوں، اُنہیں نہایت غور سے سُن اَور اَب سیدھے کھڑے ہو جاؤ کیونکہ مُجھے اَب تمہارے پاس بھیجا گیا ہے۔“ اَور جَب اُس نے مُجھ سے یہ کہا، میں کانپتے ہُوئے کھڑا ہو گیا۔
DAN 10:12 تَب اُس نے اَپنا بَیان جاری رکھا، ”اَے دانی ایل، ڈر مت کیونکہ پہلے ہی دِن سے جَب کہ تُم نے سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیٔے دِل لگایا اَور اَپنے خُدا کے سامنے اَپنے آپ کو خاکسار بنایا، اُسی دِن تیری باتیں سُن لی گئیں اَور مَیں اُس کے جَواب میں یہاں آیا ہُوں۔
DAN 10:13 لیکن فارسؔ کی مملکت کے حُکمران نے اکّیس دِن تک مُجھے روکے رکھا۔ تَب مِیکاایلؔ جو سردار فرشتوں میں سے ایک ہے، میری مدد کو آیا کیونکہ مُجھے وہاں شاہِ فارسؔ کے پاس روک دیا گیا تھا۔
DAN 10:14 اَب مَیں تُمہیں یہ سمجھانے آیا ہُوں کہ مُستقبِل میں تمہارے لوگوں کا کیا حَشر ہوگا کیونکہ یہ رُویا آنے والے زمانہ سے تعلّق رکھتی ہے۔“
DAN 10:15 جَب وہ مُجھ سے یہ کہہ رہاتھا، میں اَپنا سرزمین کی طرف جھُکا کر خاموش کھڑا رہا۔
DAN 10:16 تَب کسی نے جو اِنسان کی مانند نظر آ رہاتھا، میرے لبوں کو چھُوا اَور مَیں مُنہ کھول کر بولنے لگا۔ جو شخص میرے سامنے کھڑا تھا اُس سے مَیں نے کہا، ”اَے آقا، اُس رُویا کی وجہ سے میں سخت تکلیف میں مُبتلا ہُوں اَور مَیں بہت کمزور ہو گیا ہُوں۔
DAN 10:17 مَیں آپ کا خادِم اَپنے آقا سے کیسے ہم کلام ہو سَکتا ہے؟ میری قُوّت چلی گئی ہے اَور مَیں بمشکل سانس لے پا رہا ہُوں۔“
DAN 10:18 ایک بار پھر اُس شخص نے جو اِنسان کی مانند نظر آتا تھا، مُجھے چھُوا اَور مُجھے تقویّت بخشی۔
DAN 10:19 اُس نے کہا، ”اَے مُعزّز مَرد، ڈر مت، تیری سلامتی ہو، اَب مضبُوط ہو اَور توانا ہو۔“ جَب اُس نے مُجھ سے بات کی تَب مَیں نے توانائی پائی اَور کہا، ”اَے آقا، اَب فرمائیں کیونکہ آپ نے مُجھے توانائی بخشی ہے۔“
DAN 10:20 تَب اُس نے کہا، ”کیا تُم جانتے ہو کہ مَیں تمہارے پاس کس لیٔے آیا ہُوں؟ بہت جلد میں لَوٹ کر شہزادے فارسؔ سے جنگ کرنے والا ہُوں، اَور جَب مَیں چلا جاؤں گا، تو شہزادے یُونانؔ آئے گا؛
DAN 10:21 لیکن پہلے میں تُمہیں بتاؤں گا کہ کِتابِ حق میں کیا لِکھّا ہے۔ (اَور تمہارے شہزادے مِیکاایلؔ کے سِوا اُن کے خِلاف جنگ میں میرا کویٔی مددگار نہیں ہے۔
DAN 11:1 اَور بادشاہ داریاویشؔ مادیؔ کی سلطنت کے پہلے سال میں، مَیں ہی اُس کو قائِم کرنے اَور مُحافظت دینے کو کھڑا ہُوا۔
DAN 11:2 ”تو اَب مَیں تُمہیں حقیقت بتاتا ہُوں۔ فارسؔ میں ابھی تین اَور بادشاہ برپا ہوں گے اَور اُس کے بعد پھر چوتھا بادشاہ ہوگا جو دُوسرے تمام بادشاہوں سے زِیادہ دولتمند ہوگا۔ جَب وہ اَپنی دولت کی بدولت طاقتور بَن جائے گا تو وہ ہر کسی کو یُونانؔ کی سلطنت کے خِلاف بھڑکائے گا۔
DAN 11:3 تَب ایک زبردست بادشاہ برپا ہوگا جو اَپنا تسلُّط جمائے گا اَور جیسا چاہے وہ گا کرےگا۔
DAN 11:4 اَور اُس کے مُسلّط ہونے کے بعد اُس کی حُکومت ٹوٹ جائے گی اَور چاروں سمتوں میں بٹ کر الگ الگ ہو جائے گی۔ نہ وہ اُس کی نَسل کو ملے گی نہ اُس کا سا اقتدار باقی رہے گا کیونکہ اُس کی بادشاہی جڑ سے اُکھاڑ دی جائے گی اَور دُوسروں کو دی جائے گی۔
DAN 11:5 ”جُنوب کا بادشاہ زور پکڑے گا لیکن اُس کا ایک حاکم اُس سے بھی زِیادہ طاقتور ہوگا اَور وہ اَپنی سلطنت پر بڑے اِختیار سے قابض رہے گا۔
DAN 11:6 چند سالوں کے بعد وہ دونوں آپَس میں مِل جایٔیں گے۔ جُنوب کے بادشاہ کی بیٹی شمال کے بادشاہ کے پاس جائے گی تاکہ رشتہ میں بندھ جائے اَور اِتّحاد قائِم ہو۔ لیکن وہ اَپنا اقتداری قُوّت قائِم نہ رکھ سکے گی اَور نہ شمال کا بادشاہ قائِم رہے گا اَور نہ ہی اُس کا اقتدار۔ اُن دِنوں میں جُنوب کے بادشاہ کی بیٹی اَپنے شاہی ہم رکاب دستہ، اَپنے باپ اَور اَپنے مددگاروں سمیت ترک کر دی جائے گی۔
DAN 11:7 ”لیکن اُس کے نَسب سے ایک شخص برپا ہوگا جو اُس کی جگہ لے گا۔ وہ شمال کے بادشاہ کی فَوجوں پر حملہ کرےگا اَور اُس کے قلعہ میں داخل ہوگا۔ وہ اُن کے خِلاف لڑے گا اَور فتحیاب ہوگا۔
DAN 11:8 وہ اُن کے معبُود کے بُتوں، اُن کی ڈھالی ہُوئی مورتوں اَور اُن کی چاندی اَور سونے کی قیمتی اَشیا بھی چھین کر مِصر لے جائے گا۔ چند سال تک وہ شمال کے بادشاہ سے دست بردار رہے گا۔
DAN 11:9 تَب شمال کا بادشاہ، جُنوب کے بادشاہ کی مملکت پر حملہ کرےگا لیکن اَپنے مُلک کو واپس لَوٹے گا۔
DAN 11:10 اُس کے بیٹے جنگ کی تیّاری کریں گے اَور ایک بڑی فَوج جمع کریں گے جو ایک ناقابلِ مزاحمت سیلاب کی مانند پھیل جائے گا اَور لڑتے ہُوئے اُس کے قلعہ تک پہُنچ جائے گا۔
DAN 11:11 ”تَب جُنوب کا بادشاہ غُصّہ میں نکل پڑےگا اَور شمال کے بادشاہ سے لڑے گا جو بڑا لشکر جمع کرےگا لیکن اُس کی شِکست ہوگی۔
DAN 11:12 جَب دُشمن کی بڑی لشکر کو شِکست دی جائے گی، تَب جُنوب کے بادشاہ کے دِل میں غُرور سما جائے گا اَور وہ لاکھوں لوگوں کو قتل کرےگا۔ پھر بھی وہ لمبے عرصہ تک فتحیاب نہ رہے گا۔
DAN 11:13 کیونکہ شمال کا بادشاہ ایک دُوسرا لشکر جمع کرےگا جو پہلے سے زِیادہ زورآور ہوگی اَور کیٔی سال بعد ایک بھاری اَور مُسلّح لشکر لے کر پُوری تیّاری سے چڑھ آئے گا۔
DAN 11:14 ”اُن دِنوں میں بہت سے لوگ جُنوب کے بادشاہ کے خِلاف اُٹھیں گے۔ تمہاری اَپنی قوم میں سے بعض تُند خُو لوگ بھی بغاوت پر اُتر آئیں گے جِس سے یہ رُویا پُوری ہوگی لیکن وہ کامیاب نہ ہوں گے۔
DAN 11:15 تَب شمال کا بادشاہ آکر دمدمہ باندھے گا اَور مُستحکم شہر پر قبضہ کر لے گا۔ اَور جُنوب کے لشکر میں مُقابلہ کی طاقت نہ رہے گی یہاں تک کہ اُن کے سَب سے بہادر سُورماؤں کا دستہ بھی مُقابلہ کرنے کی طاقت نہ بچےگی۔
DAN 11:16 تَب حملہ آور لشکر جیسا چاہے کرےگا۔ کویٔی اُس کے خِلاف کھڑا نہ رہ سکےگا اَور وہ اُس خُوبصورت مُلک میں آکر قابض ہو جائیں گے اَور اُس مُلک کو تباہ کرنے کی قُوّت اُن کے پاس ہوگی۔
DAN 11:17 تَب وہ یہ اِرادہ کرےگا کہ اَپنی مملکت کی تمام شان و شوکت کے ساتھ اُس میں داخل ہوگا اَور وہ جُنوب کے بادشاہ کے ساتھ عہد کرےگا اَور وہ اَپنی لڑکی کی شادی اُس سے کرےگا تاکہ اُس کی بادشاہی کا تختہ پلٹ سکے لیکن اُس کے منصُوبے کامیاب نہ ہوں گے اَور نہ ہی اُس سے اُسے کویٔی بھلا ہوگا۔
DAN 11:18 تَب وہ جزیروں کی طرف رُخ کرےگا اَور اُن میں سے بہُتوں پر قبضہ کر لے گا۔ لیکن ایک سپہ سالار اُس کی گستاخیوں کا خاتِمہ کر دے گا اَور اُس کی گستاخی کے مُطابق اُسے بدلہ دے گا۔
DAN 11:19 اُس کے بعد وہ خُود اَپنے مُلک کے قلعوں کی طرف مُڑے گا لیکن ٹھوکر کھا کر گِر پڑےگا اَور وہ معدوم ہو جائے گا۔
DAN 11:20 ”تَب اُس کا جانشین اَپنی شان و شوکت برقرار رکھنے کے لیٔے ایک خراج وصول کرنے والے کو بھیجے گا لیکن وہ تھوڑے عرصہ کے بعد بنا قہر یا جنگ کے ہی ہلاک ہوگا۔
DAN 11:21 ”پھر ایک ذلیل اِنسان اُس کی جگہ لے گا جو کسی شاہی اِعزاز کے لائق نہ ہوگا۔ جب اُس کے لوگ محفوظ محسُوس کریں گے، تب وہ اَچانک مُلک پر حملہ کرےگا اَور سازش کے ذریعہ مُلک پر قابض ہوگا۔
DAN 11:22 تَب اُس کے سامنے بڑی سے بڑی زبردست فَوج بھی رگیدی جائے گی اَور وہ فَوج اَور اَمیر عہد دونوں کو شِکست دے گا۔
DAN 11:23 کیونکہ وہ اُس کے ساتھ عہد کرکے بھی دغابازی کرےگا اَور محض ایک قلیل جماعت کی مدد سے برسرِاقتدار آئے گا۔
DAN 11:24 جَب مُلک کے مالدار صوبے اَمن سے ہوں گے تَب وہ اُن پر حملہ کرےگا اَور اَیسے کام کرکے دِکھائے گا جو نہ اُس کے باپ دادوں نے کیا تھا اَور نہ اُن کے آباؤاَجداد نے کئے تھے۔ اَور وہ مالِ غنیمت، لُوٹ اَور دولت اَپنے پیروکاروں میں تقسیم کرےگا۔ وہ کچھ عرصہ تک قلعوں کی تسخیر کے منصُوبے بناتا رہے گا۔
DAN 11:25 ”تَب وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ جُنوب کے بادشاہ کے خِلاف اَپنی قُوّت اَور حوصلے بُلند کرےگا، اَور جُنوب کا بادشاہ ایک بڑا اَور زبردست لشکر لے کر لڑائی پر اُتر آئے گا لیکن وہ اَپنے خِلاف ہُوئی سازشوں کی وجہ سے مُقابلہ نہ کر پایٔےگا۔
DAN 11:26 جو بادشاہ کا دیا ہُوا کھاتے ہیں وُہی اُسے تباہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اُس کے لشکر کا تعاقب کیا جائے گا اَور بہت سارے فَوجی میدانِ جنگ میں مارے جایٔیں گے۔
DAN 11:27 تَب دونوں بادشاہوں کے دِل بدی کی طرف مائل ہوں گے اَور وہ ایک ہی میز پر بیٹھ کر ایک دُوسرے سے جھُوٹ بولیں گے، جِس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ مُقرّرہ وقت پر اِختتام آ جائے گا۔
DAN 11:28 شمال کا بادشاہ بہت سِی دولت لے کر اَپنے مُلک کو لَوٹے گا لیکن اُس کا دِل پاک عہد کے خِلاف ہوگا۔ وہ اُس کے خِلاف قدم اُٹھائے گا اَور تَب اَپنے مُلک کو واپس لَوٹے گا۔
DAN 11:29 ”وہ مُقرّرہ وقت پر پھر ایک بار جُنوب پر حملہ کرےگا لیکن اِس بار اَنجام پہلی بار سے الگ ہوگا۔
DAN 11:30 کِتّیمؔ کے جہاز اُس کا مُقابلہ کریں گے اَور اُس کا دِل ٹوٹ جائے گا۔ تَب وہ لَوٹ کر پاک عہد پر اَپنا غُصّہ اُتارے گا۔ وہ لَوٹ کر اُن لوگوں پر عنایت کرےگا جو پاک عہد کو ترک کریں گے۔
DAN 11:31 ”اُس کی مُسلّح فَوجیں اُٹھ کھڑی ہوں گی اَور بیت المُقدّس کے قلعہ کو ناپاک کریں گی اَور روزانہ نذر کی جانے والی قُربانی کو بند کر دیں گی اَور وہاں اَیسی تباہ کرنے والی مکرُوہ شَے نصب کریں گی جو تباہی کی باعث ہوگی۔
DAN 11:32 وہ عہد کو توڑنے والے فسادیوں کی خُوشامد کرکے اُنہیں برگشتہ کر دیں گے۔ لیکن جو لوگ اَپنے خُدا کو نزدیکی سے جانتے ہیں وہ ثابت قدم رہ کر اُس کا مُقابلہ کریں گے۔
DAN 11:33 ”اہلِ دانش بہُتوں کو ہدایات دیں گے لیکن کچھ عرصہ کے لیٔے وہ تلوار سے مارے جایٔیں گے یا جَلائے جایٔیں گے یا گِرفتار ہوں گے یا لُوٹے جایٔیں گے۔
DAN 11:34 جَب وہ شِکست کھایٔیں گے تو بمشکل کچھ مدد پائیں گے اَور بہت سے غَیر مخلص لوگ اُن سے مِل جایٔیں گے۔
DAN 11:35 بعض اہلِ دانش بھی ٹھوکر کھایٔیں گے تاکہ آخِری وقت کے آنے تک وہ پاک و صَاف اَور بُراق ہو جایٔیں کیونکہ خاتِمہ مُقرّر وقت پر ہی ہوگا۔
DAN 11:36 ”تَب وہ بادشاہ اَپنی مرضی کے مُطابق کچھ بھی کرےگا۔ وہ اَپنے آپ کو ہر معبُود سے بُلند و بالا بنائے گا اَور معبُودوں کے خُدا کے خِلاف حیرت اَنگیز باتیں کہے گا۔ قہر کا وقت مُکمّل ہونے تک وہ کامیاب ہوگا کیونکہ جو طے شُدہ ہے وہ واقع ہوگا۔
DAN 11:37 وہ اَپنے آباؤاَجداد کے معبُودوں کا لحاظ نہ کرےگا نہ اُس کا جسے عورتیں چاہتی ہیں۔ نہ کسی اَور معبُود کی پروا کرےگا بَلکہ اَپنے آپ کو اُن سَب پر افضل قرار دے گا۔
DAN 11:38 اُن کے بدلہ وہ قلعہ کے معبُود کی تعظیم کرےگا اَور ایک اَیسے معبُود کی جِس سے اُس کے آباؤاَجداد بھی نا آشنا تھے۔ وہ اُس معبُود کا اِحترام سونے، چاندی اَور قیمتی ہیروں اَور بیش قیمت ہدیوں سے کرےگا۔
DAN 11:39 وہ ایک پردیسی معبُود کی مدد سے محکم قلعوں پر حملہ کرےگا اَورجو اُسے بادشاہ کرکے مان لیں گے اُن کا وہ بڑی عزّت کرےگا۔ وہ اُنہیں بہت سے لوگوں پر حُکمران مُقرّر کرےگا اَور اُنہیں زمین کو قیمت پر تقسیم کریں گا۔
DAN 11:40 ”آخِری وقت میں جُنوب کا بادشاہ اُسے جنگ میں مشغُول کرےگا اَور شمال کا بادشاہ بھی رتھوں، گُھڑسواروں اَور بڑے جنگی بحری بیڑے سمیت اُس پر ٹوٹ پڑےگا۔ وہ بہت سے ممالک پر حملہ آور ہوگا اَور سیلاب کی مانند اُس کی سرزمین میں سے گزرے گا۔
DAN 11:41 وہ خُوبصورت مُلک پر بھی حملہ کرےگا۔ بہت سے ممالک مغلُوب ہو جایٔیں گے لیکن اِدُوم، مُوآب اَور بنی عمُّون کے سربراہ اُس کے ہاتھ سے بچائے جایٔیں گے۔
DAN 11:42 وہ کیٔی مُلکوں پر اَپنا تسلُّط جمائے گا۔ یہاں تک کہ مِصر بھی نہ بچے گا۔
DAN 11:43 وہ سونے اَور چاندی کے خزانوں اَور مِصر کی تمام دولت پر قابض ہوگا اَور لیبیا اَور کُوشی بھی اُس کے ہم رکاب ہوں گے۔
DAN 11:44 لیکن مشرق اَور شمال کی جانِب سے آئی ہُوئی افواہیں سُن کر وہ بے چَین ہو جائے گا اَور نہایت غُصّہ میں وہ بہُتوں کو تباہ کرنے اَور اُنہیں نِیست و نابود کرنے کو نکل پڑےگا۔
DAN 11:45 وہ اَپنے شاہی خیمے سمُندروں اَور خُوبصورت مُقدّس پہاڑ کے درمیان کھڑے کرےگا۔ لیکن اُس کا خاتِمہ ہو جائے گا اَور کویٔی اُس کا مددگار نہ ہوگا۔“
DAN 12:1 ”اُس وقت مِیکاایلؔ مُقرّب فرشتہ جو تمہاری قوم کا مُحافظ ہے اُٹھ کھڑا ہوگا۔ وہ اَیسی مُصیبت کا وقت ہوگا کہ قوموں کی اِبتدائی زمانہ سے لے کر اُس وقت تک کبھی نہ ہُوا ہوگا۔ لیکن اُس وقت تمہارے لوگوں میں سے ہر ایک، جِس کا نام کِتاب میں درج ہوگا، بچاپا جایٔےگا۔
DAN 12:2 اَورجو خاک میں سو رہے ہیں، اُن میں سے بہت سے لوگ جاگ اُٹھیں گے، بعض اَبدی حیات کے لیٔے اَور بعض رُسوائی اَور ہمیشہ کی ذِلّت کے لیٔے۔
DAN 12:3 اہلِ دانش نُورِ فلک کی مانند مُنوّر ہوں گے اَور وہ جو لوگوں کو راستبازی کی راہ پر لاتے ہیں سِتاروں کی مانند ابدُالآباد چمکتے رہیں گے۔
DAN 12:4 لیکن اَے دانی ایل، تُم اِس طُومار پر مُہر کرکے اِس کے الفاظ کو آخِری زمانہ تک کے لئے بند رکھ۔ بہت سے لوگ اَپنی حِکمت میں اِضافہ کرنے کے لیٔے اِدھر اُدھر تفتیش و تحقیق کرتے پھریں گے۔“
DAN 12:5 تَب میں دانی ایل نے دیکھا کہ میرے سامنے دو اَور شخص کھڑے تھے ایک دریا کے اِس کنارے پر اَور دُوسرا دریا کے اُس کنارے پر۔
DAN 12:6 اُن میں سے ایک شخص نے کتانی لباس پہنے ہُوئے شخص سے جو دریا کے پانی کی سطح کے اُوپر کھڑا تھا پُوچھا، ”یہ حیرت اَنگیز کرنے والی باتوں کو وقوع میں آنے تک اَور کتنا عرصہ لگے گا؟“
DAN 12:7 کتانی لباس پہنے ہُوئے شخص نے جو دریا کے پانی کی سطح کے اُوپر کھڑا تھا اَپنا داہنا اَور بایاں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھایا اَور مَیں نے اُسے حیُّ القیُّوم کی قَسم کھا کر یہ کہتے ہُوئے سُنا، ”یہ حال ساڑھے تین سال تک رہے گا۔ آخِرکار جَب مُقدّس لوگوں کا اقتدار ختم ہو جائے گا تَب یہ سَب کچھ پُورا ہوگا۔“
DAN 12:8 مَیں نے یہ سُنا لیکن سمجھ نہ پایا۔ اِس لیٔے مَیں نے پُوچھا، ”میرے آقا، اِن سَب باتوں کا اَنجام کیا ہوگا؟“
DAN 12:9 اُس نے جَواب دیا، ”اَے دانی ایل، تُم جاؤ کیونکہ یہ باتیں آخِری زمانہ آنے تک کے لیٔے مُہر بند کر دی گئی ہیں۔
DAN 12:10 بہت سے لوگ پاک کئے جائیں گے اَور صَاف و شفّاف کئے جایٔیں گے، لیکن بدکار، بدکاری میں مصروف رہیں گے، اَور بدکاروں میں سے کویٔی بھی یہ باتیں سمجھ نہ پایٔےگا لیکن جو دانِشور ہیں وہ سمجھ جایٔیں گے۔
DAN 12:11 ”جِس وقت سے دائمی قُربانی موقُوف کی جائے گی اَور تباہ کرنے والی مکرُوہ شَے نصب کی جائے گی، تَب سے ایک ہزار دو سَو نوّے دِن گذر چُکے ہوں گے۔
DAN 12:12 مُبارک ہیں وہ جو اِنتظار کرکے ایک ہزار تین سَو پینتیس دِن کے پُورے ہونے تک پہُنچیں گے۔
DAN 12:13 ”لیکن اَے دانی ایل، جہاں تک تمہارا سوال ہے، تُم آخِرت کے آنے تک جاؤ۔ اَور تُم آرام کرو اَور تَب دُنیا کے اِختتام پر تُم اَپنی مخصُوص مِیراث پانے کے لیٔے زندہ ہوگے۔“
HOS 1:1 شاہانِ یہُوداہؔ عُزّیاہؔ، یُوتامؔ، آحازؔ اَور حِزقیاہؔ اَور شاہ اِسرائیل یرُبعامؔ بِن یہُوآشؔ کے عہد میں یَاہوِہ کا یہ کلام بیؔری کے بیٹے ہوشِیعؔ پر نازل ہُوا۔
HOS 1:2 جَب یَاہوِہ نے ہوشِیعؔ کی مَعرفت بات کرنا شروع کیا تَب یَاہوِہ نے اُس سے فرمایا، ”جا اَور ایک فاحِشہ کو اَپنی بیوی بنا لے اَور بدکاری کی اَولاد کو اَپنا لے کیونکہ مُلک نے یَاہوِہ کو چھوڑکر نہایت شرمناک بےوفائی کا مُجرم ہے۔“
HOS 1:3 چنانچہ اُس نے دِبلائمؔ کی بیٹی گومرؔ سے شادی کرلی اَور وہ حاملہ ہُوئی اَور اُن کے ہاں بیٹا پیدا ہُوا۔
HOS 1:4 تَب یَاہوِہ نے ہوشِیعؔ سے فرمایا، ”اُس کا نام یزرعیلؔ رکھ کیونکہ مَیں بہت جلد یِہُو کے خاندان سے یزرعیلؔ کے خُون کا بدلہ لُوں گا اَور مَیں اِسرائیل کی بادشاہی کا خاتِمہ کر دُوں گا۔“
HOS 1:5 اُس دِن مَیں یزرعیلؔ کی وادی میں اِسرائیل کی کمان توڑ دُوں گا۔
HOS 1:6 گومرؔ پھر سے حاملہ ہویٔی اَور اُن کے ہاں بیٹی پیدا ہُوئی۔ تَب یَاہوِہ نے ہوشِیعؔ سے فرمایاہے، ”اُس کا نام لورُحامہؔ رکھ کیونکہ مَیں اِسرائیل کے گھرانے پر پھر کبھی رحم نہ کروں گا تاکہ کسی طرح اُن کے گُناہ مُعاف کروں۔
HOS 1:7 لیکن مَیں یہُوداہؔ کے گھرانے پر رحم کروں گا اَور اُنہیں بچاؤں گا۔ لیکن کمان، تلوار یا جنگ یا گھوڑوں اَور سواروں سے نہیں بَلکہ یَاہوِہ اُن کے خُدا کے ذریعہ۔“
HOS 1:8 لورُحامہؔ کا دُودھ چھُڑانے کے بعد گومرؔ کے ہاں دُوسرا بیٹا پیدا ہُوا۔
HOS 1:9 تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”اُس کا نام لُو عمّی رکھنا کیونکہ تُم میری اُمّت نہیں ہو، نہ میں تمہارا خُدا ہُوں۔
HOS 1:10 ”پھر بنی اِسرائیل سمُندر کے کنارے کی ریت کی مانند ہوں گے جسے ناپا یا گِنا نہیں جا سَکتا اَور جہاں اُن سے یہ کہا گیا تھا، ’تُم میری اُمّت نہیں ہو،‘ وہاں، اُنہیں زندہ خُدا کے فرزند کہا جائے گا۔
HOS 1:11 بنی یہُوداہؔ اَور بنی اِسرائیل پھر سے مُتّحد ہوکر اَپنے لیٔے ایک رہنما مُقرّر کر لیں گے اَور اُس مُلک سے نکل آئیں گے کیونکہ یزرعیلؔ کا دِن عظیم ہوگا۔
HOS 2:1 ”اَپنے بھائیوں کے لیٔے، ’میرے لوگو اَور اَپنی بہنوں کے لیٔے میری پیاریو کہا کرو۔‘
HOS 2:2 ”اَپنی ماں کی تادیب کرو، اُس کو تنبیہ دو، کیونکہ وہ میری بیوی نہیں ہے، اَور نہ مَیں اُس کا خَاوند ہُوں۔ وہ اَپنے چہرہ پر سے بدکاری کا عکس اَور اَپنی چھاتِیوں کے بیچ سے بےوفائی دُور کرے۔
HOS 2:3 ورنہ میں اُسے بے پردہ کر دُوں گا اَور اُسے اَیسی برہنہ کر دُوں گا جَیسی وہ اَپنی پیدائش کے دِن تھی؛ مَیں اُسے بیابان کے مانند کر دُوں گا، اَور اُسے خشک زمین بنا کر، پیاس سے مار ڈالُوں گا۔
HOS 2:4 مَیں اُس کے بچّوں سے مَحَبّت نہ رکھوں گا، کیونکہ وہ زنا کی اَولاد ہیں۔
HOS 2:5 اُن کی ماں نے بےوفائی کی اَور ذِلّت کے ساتھ حاملہ ہُوئی۔ اُس نے کہا، ’مَیں اَپنے عاشقوں کے پیچھے چلی جاؤں گی، جو مُجھے اَپنی روٹی اَور اَپنا پانی، اَور اَپنے اُونی اَور کتانی کپڑے اَور اَپنا روغن اَور اَپنی مَے دیتے ہیں۔
HOS 2:6 اِس لیٔے میں کانٹے دار جھاڑیوں سے اُس کی راہ روک دُوں گا؛ اَور اَیسی دیوار کھڑی کروں گا کہ وہ اَپنی راہ نہ پا سکے۔‘
HOS 2:7 اَور اَپنے عاشقوں کا تعاقب کرےگی لیکن اُن سے جا نہ ملے گی؛ وہ اُنہیں ڈھونڈے گی لیکن نہ پایٔے گی۔ تَب وہ کہےگی، مَیں اَپنے خَاوند کے پاس واپس چلی جاؤں گی جَیسے پہلے اُس کے پاس تھی، کیونکہ تَب مَیں آج سے بہتر حالت میں تھی۔
HOS 2:8 وہ نہیں جانتی کہ مَیں نے ہی اُس کے لیٔے اناج، نئی مَے اَور روغن مہیا کیا، اَور اُس پر چاندی اَور سونا نذر کیا، جسے اُنہُوں نے بَعل کے لیٔے اِستعمال کیا۔
HOS 2:9 ”اِس لیٔے مَیں اَپنا اناج فصل کے وقت، اَور اَپنی نئی مَے جَب وہ تیّار ہو، اُس سے چھین لُوں گا۔ مَیں اَپنا اُون اَور کتان بھی واپس لُوں گا، جو اُس کی برہنگی پر پردہ ڈالنے کے لیٔے تھے۔
HOS 2:10 چنانچہ اَب مَیں اُس کی برہنگی اُس کے عاشقوں کے سامنے بے پردہ کر دُوں گا؛ اَور کویٔی اُسے میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔
HOS 2:11 مَیں اُس کے تمام جَشن؛ اُس کی سالانہ عیدیں، اُس کے نئے چاند، اُس کی سَبتیں، الغرض اُس کی تمام مُقرّرہ عیدوں کو موقُوف کر دُوں گا۔
HOS 2:12 مَیں اُس کے انگور اَور اَنجیر کے درختوں کو تباہ کر دُوں گا، جسے وہ اَپنے عاشقوں کی طرف سے مِلی ہُوئی اُجرت بتاتی ہے؛ مَیں اُنہیں جنگل بنا دُوں گا، اَور جنگلی جانور اُنہیں کھا جایٔیں گے۔
HOS 2:13 جتنے دِنوں تک اُس نے بَعل معبُودوں کے لیٔے بخُور جَلایا؛ اِتنے دِنوں کے لیٔے مَیں اُسے سزا دُوں گا؛ وہ انگُوٹھیوں اَور زیوروں سے آراستہ ہوکر، اَپنے عاشقوں کے پیچھے گئی، لیکن مُجھے بھُول گئی،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
HOS 2:14 اِس لیٔے اَب مَیں اُسے پھُسلا کر؛ بیابان میں لے جاؤں گا اَور اُس سے نرم دِلی سے باتیں کروں گا۔
HOS 2:15 وہاں مَیں اُسے اُس کے تاکستان لَوٹا دُوں گا، اَور وادیِ عکورؔ کو درِ اُمّید بنا دُوں گا۔ وہاں وہ اَپنے ایّام جَوانی کی مانند نغمہ سِرا ہوگی، اُس دِن کی طرح جَب وہ مِصر سے نکل آئی تھی۔
HOS 2:16 ”اُس دِن،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”تُو مُجھے اَپنا خَاوند کہہ کر پُکارے گی؛ اَور پھر کبھی مُجھے اَپنا آقا نہ کہےگی۔
HOS 2:17 مَیں اُس کے لبوں پر سے بَعل معبُودوں کے نام ہٹا دُوں گا؛ اَور پھر کبھی اُن کے نام نہ لیٔے جایٔیں گے۔
HOS 2:18 اُس وقت مَیں اُن کے لیٔے زمین کے جانوروں اَور ہَوا کے پرندوں اَور زمین پر رینگنے والے جانداروں کے ساتھ عہد باندھوں گا۔ مَیں مُلک میں سے کمان، تلوار اَور جنگ کو الگ کر دُوں گا، تاکہ سَب لوگ سکون اَور اِطمینان سے آرام کر سکیں۔
HOS 2:19 اَور مَیں ہمیشہ کے لیٔے تُجھے اَپنا بنا لُوں گا؛ اَور تُجھ سے راستبازی اَور اِنصاف اَور مَحَبّت اَور شفقت کے ساتھ رشتہ جوڑوں گا۔
HOS 2:20 مَیں تُجھے وفاداری سے اَپنے ساتھ نامزد کروں گا، اَور تُو یَاہوِہ کو قبُول کر لے گی۔
HOS 2:21 ”اَور اُس دِن مَیں سُنوں گا،“ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، مَیں آسمانوں کی سُن کر اُسے جَواب دوں گا، اَور وہ زمین کو جَواب دیں گے؛
HOS 2:22 اَور زمین اناج نئی مَے اَور روغن کی سُنے گی، اَور وہ یزرعیلؔ کو جَواب دیں گے۔
HOS 2:23 مَیں خُود اُسے اَپنے لیٔے مُلک میں لگاؤں گا؛ جسے مَیں نے لورُحامہؔ (جو رحم سے نامحروم رہی) اُس پر رحم کروں گا۔ اَور جنہیں لُو عمّی (میری اُمّت نہیں) کہا گیا اُنہیں تُم میرے اُمّت ہو کہُوں گا؛ اَور وہ کہیں گے، آپ میرے خُدا ہیں۔
HOS 3:1 یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”جا اَور اَپنی بیوی سے پھر مَحَبّت جتا حالانکہ وہ کسی اَور کی محبُوبہ ہے اَور زانیہ ہے۔ اُس سے مَحَبّت کر جِس طرح یَاہوِہ اِسرائیلیوں سے مَحَبّت کرتے ہیں حالانکہ وہ دُوسرے معبُودوں کی طرف مُڑتے ہیں اَور مُقدّس کشمش کی ٹکیوں کو پسند کرتے ہیں۔“
HOS 3:2 چنانچہ اُسے مَیں چاندی کے پندرہ ثاقل اَور ایک حُومر اَور ایک لیتھیک جَو کے عِوض خرید لایا۔
HOS 3:3 پھر مَیں نے اُس سے کہا، ”تُجھے میرے ساتھ بہت دِنوں تک رہنا ہے بدکاری نہ کر، نہ کسی غَیر مَرد سے ناجائز تعلّقات رکھ اَور مَیں تمہارے ساتھ وَیسا ہی سلُوک کروں گا۔“
HOS 3:4 کیونکہ بنی اِسرائیل بہت دِنوں تک بغیر بادشاہ یا حاکم، بغیر قُربانی یا مُقدّس پتّھروں اَور افُود یا خانگی معبُودوں کے بغیر رہیں گے۔
HOS 3:5 اُس کے بعد بنی اِسرائیل لَوٹ آئیں گے اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا اَور اَپنے بادشاہ داویؔد کو تلاش کریں گے اَور آخِری دِنوں میں وہ کانپتے ہُوئے یَاہوِہ کے پاس آئیں گے اَور اُن کی رحمت کے طالب ہوں گے۔
HOS 4:1 اَے بنی اِسرائیل، یَاہوِہ کا کلام سُنو، کیونکہ یَاہوِہ کو تمہارے خِلاف جو اِس مُلک میں رہتے ہو اِلزام لگانا ہے: ”اِس مُلک میں نہ تو وفاداری ہے نہ مَحَبّت، اَور نہ ہی خُدا شناسی ہے۔
HOS 4:2 یہاں صِرف لعنت، دروغ گوئی اَور گوشت و خُون، اَور چوری اَور زناکاری ہے؛ وہ تمام حُدوُد توڑتے ہیں، اَور خُون پر خُون ہوتاہے۔
HOS 4:3 اِس لیٔے مُلک کی زمین سُوکھ جاتی ہے، اَور اُس کے باشِندے ناتواں ہو رہے ہیں؛ اَور زمین کے جانور اَور ہَوا کے پرندے اَور سمُندر کی مچھلیاں مَر رہی ہیں۔
HOS 4:4 ”لیکن کویٔی شخص اِلزام نہ لگائے، نہ کویٔی شخص دُوسرے پر تہمت لگائے، کیونکہ تمہارے لوگ اُن کی مانند ہیں جو کاہِنؔ کے خِلاف اِلزام لگاتے ہیں۔
HOS 4:5 تُم دِن اَور رات کو ٹھوکر کھاتے ہو، اَور تمہارے ساتھ نبی بھی ٹھوکر کھاتے ہیں اِس لیٔے میں تیری ماں کو تباہ کروں گا۔
HOS 4:6 میرے لوگ علمی مَعرفت کے نہ ہونے سے تباہ ہو گئے۔ ”چونکہ تُم نے علمی مَعرفت کو ٹھکرایا، اِس لیٔے مَیں بھی تُمہیں اَپنی کہانت سے ٹھکراتا ہُوں؛ چونکہ تُم نے اَپنے خُدا کے آئین کو بھلا دیا ہے، اِس لیٔے مَیں بھی تمہاری اَولاد کو بھُول جاؤں گا۔
HOS 4:7 جوں جوں کاہِنوں کی تعداد بڑھتی گئی، وہ میرے خِلاف اَور بھی گُناہ کرتے گیٔے؛ اُنہُوں نے اَپنے جلالی خُدا کو محض رُسوا شَے کے مُعاوضہ میں بدل دیا۔
HOS 4:8 وہ میرے لوگوں کے گُناہوں پر پلتے ہیں اَور اُن کی شرارت سے لُطف اَندوز ہوتے ہیں۔
HOS 4:9 پس جَیسا لوگوں کا حال وَیسا ہی کاہِنوں کا حال ہوگا، مَیں اُن دونوں کو اُن کی روِشوں کی سزا دُوں گا اَور اُنہیں اُن کے اعمال کا بدلہ دُوں گا۔
HOS 4:10 ”وہ کھا تو لیں گے لیکن آسُودہ نہ ہوں گے؛ وہ جِسم فروشی میں لگے رہیں گے لیکن بڑھیں گے نہیں، کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کو ترک کر دیا
HOS 4:11 تاکہ اَپنے آپ کو جِسم فروشی، اَور پرانی اَور نئی مَے کے حوالہ کر سکیں، جِس سے میرے لوگوں کی دانش جاتی رہے۔
HOS 4:12 وہ لکڑی کے بُت سے مشورہ لیتے ہیں اَور عصائے الٰہی سے جَواب پاتے ہیں۔ جِسم فروشی کی رُوح اُنہیں گُمراہ کرتی ہے؛ اَور وہ اَپنے خُدا بےوفائی کرتے ہیں۔
HOS 4:13 وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر قُربانیاں گزرانتے ہیں اَور ٹیلوں پر اَور بلُوط، بید اَور بطم کے در درختوں کے خُوشگوار سائے میں بخُور جَلاتے ہیں۔ اِس لیٔے تمہاری بیٹیاں جِسم فروشی پر اَور تمہاری بہوئیں زنا پر اُتر آتی ہیں۔
HOS 4:14 ”جَب تمہاری بیٹیاں فحاشی پر اُتر آتی ہیں تَب مَیں اُنہیں سزا نہ دُوں گا، نہ تمہاری بہوؤں کو جَب وہ زنا کر بیٹھتی ہیں، کیونکہ مَرد خُود کسبیوں کے ہمنوا ہوتے ہیں اَور دیوداسیوں کے ساتھ قُربانیاں گزرانتے ہیں۔ ناسمجھ لوگ تباہ ہو جایٔیں گے۔
HOS 4:15 ”اَے بنی اِسرائیل، خواہ تُم زناکاری کرو، لیکن بنی یہُوداہؔ کو گُنہگار نہ ہونے دو۔ ”تُم گِلگالؔ کو نہ جاؤ؛ نہ ہی بیت آوِنؔ تک جاؤ۔ اَور نہ یَاہوِہ کی، ’حیات کی قَسم کھاؤ!‘
HOS 4:16 بنی اِسرائیل ایک ضِدّی بچھیا کی مانند، ضِدّی ہیں۔ پھر یَاہوِہ اُنہیں برّوں کی مانند چراگاہ میں کیوں کر چَرائے؟
HOS 4:17 اِفرائیمؔ بُتوں سے مِل گیا؛ اُسے اکیلا چھوڑ دو!
HOS 4:18 حالانکہ اُن کے جام صبوحی ہٹائے گیٔے، حالانکہ وہ مےخواری سے آسُودہ ہو چُکے ہیں۔ پھر بھی وہ اَپنی جِسم فروشی جاری رکھتے ہیں؛ اُن کے حُکمرانوں کو شرمناک روِشیں زِیادہ عزیز ہیں۔
HOS 4:19 گِردباد اُنہیں تیزی سے اُڑا لے جائے گا اَور اُن کی قُربانیاں اُنہیں رُسوا کریں گی۔
HOS 5:1 ”اَے کاہِنوں یہ سُنو! اَے بنی اِسرائیل دھیان دو! اَے شاہی خاندان! سُنو، تمہارے خِلاف یُوں فیصلہ کیا گیا ہے: تُم مِصفاہؔ میں پھندا، اَور تبورؔ پر پھیلا ہُوا جال بَن گیٔے ہو۔
HOS 5:2 باغی خُونریزی میں غرق ہو گئے۔ لیکن مَیں اُن سَب کی تادیب کروں گا۔
HOS 5:3 مَیں اِفرائیمؔ کے تمام بھید جانتا ہُوں؛ اَور اِسرائیل بھی مُجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اَے اِفرائیمؔ، تُو اَب جِسم فروشی کی طرف مائل ہو گیا؛ اَور اِسرائیل بھی بگڑ چُکاہے۔
HOS 5:4 ”اُن کے اعمال اُنہیں اَپنے خُدا کی طرف رُجُوع ہونے کی اِجازت نہیں دیتے۔ اُن کے دِل میں جِسم فروشی کی رُوح سمائی ہُوئی ہے؛ وہ یَاہوِہ کو نہیں جانتے۔
HOS 5:5 اِسرائیل کی ضِد اُن کے خِلاف گواہی دیتی ہے؛ اَور بنی اِسرائیل، یہاں تک کہ اِفرائیمؔ بھی، اَپنے گُناہوں میں ٹھوکر کھائیں گے؛ اَور اُن کے ساتھ یہُوداہؔ بھی ٹھوکر کھائے گا۔
HOS 5:6 جَب وہ اَپنے گلّوں اَور ریوڑوں کے ساتھ یَاہوِہ کی تلاش میں نکلتے ہیں، تو وہ اُنہیں نہیں پائیں گے؛ کیونکہ وہ اُن سے دُورہو چُکے ہیں۔
HOS 5:7 اُنہُوں نے یَاہوِہ سے بےوفائی کی ہے؛ کیونکہ وہ ناجائز اَولاد پیدا کرتے ہیں۔ اَب اُن کے نئے چاند کے تہوار اُنہیں اَور اُن کے کھیتوں کو کھا جایٔیں گے۔
HOS 5:8 ”گِبعہؔ میں نرسنگا، اَور رامہؔ میں قَرنا پھُونکو۔ بیت آوِنؔ میں جنگ کی للکار دو؛ اَے بِنیامین، آگے بڑھ۔
HOS 5:9 حِساب کے دِن اِفرائیمؔ ویران ہو جائے گا۔ جو یقیناً ہونے والا ہے اُسے مَیں نے اِسرائیل کے قبائل کو جتا دیا ہے۔
HOS 5:10 بنی یہُوداہؔ کے اُمرا اُن لوگوں کی مانند ہیں جو سرحدوں کے نِشان ہٹاتے ہیں۔ مَیں پانی کے سیلاب کی طرح اَپنا قہر اُن پر اُنڈیل دُوں گا۔
HOS 5:11 اِفرائیمؔ مظلوم ہُوا، اَور سزا سے روندا گیا، کیونکہ وہ بُتوں کی تقلید پر قانع ہے۔
HOS 5:12 مَیں اِفرائیمؔ کے لیٔے کیڑے کے مانند، اَور بنی یہُوداہؔ کے لیٔے گھن کی مانند ہُوں۔
HOS 5:13 ”جَب اِفرائیمؔ نے اَپنی بیماری، اَور بنی یہُوداہؔ نے اَپنے زخم دیکھے، تَب اِفرائیمؔ نے اشُور کا رُخ کیا، اَور عظیم بادشاہ سے مدد کی درخواست کی۔ لیکن وہ تُجھے شفا نہیں دے سَکتا، نہ تیرے زخم ٹھیک کر سَکتا ہے۔
HOS 5:14 مَیں اِفرائیمؔ کے لیٔے شیرببر کی مانند اَور بنی یہُوداہؔ کے لیٔے بڑے شیر کی مانند ہُوں گا۔ مَیں اُنہیں پھاڑ کر اُن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دُوں گا اَور چلا جاؤں گا؛ مَیں اُنہیں لے جاؤں گا اَور کویٔی اُنہیں چھُڑانے والا نہ ہوگا۔
HOS 5:15 پھر جَب تک وہ اَپنے گُناہوں کا اقرار نہیں کرتے مَیں اَپنے غار کو واپس چلا جاؤں گا۔ وہ میرا چہرہ ڈھونڈیں گے؛ اَور اَپنی مُصیبت میں بڑی سرگرمی سے مُجھے ڈھونڈیں گے۔“
HOS 6:1 چلو، ہم یَاہوِہ کی طرف لَوٹ چلیں۔ اُنہُوں نے ہمیں پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا لیکن وہ ہمیں شفا بخشیں گے؛ اُنہُوں نے ہمیں زخمی کیا ہے لیکن وُہی ہماری چوٹیوں پر پٹّی باندھیں گے۔
HOS 6:2 دو دِنوں کے بعد وہ ہمیں جَلائیں گے؛ اَور تیسرے دِن وہ ہمیں بحال کریں گے، تاکہ ہم اُن کی حُضُوری میں جئیں۔
HOS 6:3 آؤ ہم یَاہوِہ کو قبُول کریں؛ آؤ ہم اُنہیں قبُول کرنے کی کوشش کریں۔ جِس طرح آفتاب کا طُلوع ہونا یقینی اَمر ہے، اِسی طرح وہ ظاہر ہوں گے؛ وہ موسمِ سرما کے مینہ کی مانند ہمارے پاس آئیں گے، گویا موسمِ بہار کی برسات کی مانند جو زمین کو سیراب کرتی ہے۔
HOS 6:4 اَے اِفرائیمؔ، مَیں تیرے ساتھ کیا کروں؟ اَے بنی یہُوداہؔ، مَیں تیرے ساتھ کیا کروں؟ کیونکہ تمہاری مَحَبّت صُبح کے کُہر، اَور علی الصبح کی اوس کی مانند ہے جو غائب ہو جاتی ہے۔
HOS 6:5 اِس لیٔے مَیں نے تُمہیں اَپنے نبیوں کے ذریعہ کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اَور اَپنے مُنہ کے کلام سے مار ڈالا؛ میرے فیصلے بجلی کی مانند تُم پر چمکے۔
HOS 6:6 کیونکہ مَیں قُربانی سے زِیادہ رحم دِلی کو پسند کرتا ہُوں، اَور سوختنی نذروں سے بڑھ کر خُدا شناسی چاہتا ہُوں۔
HOS 6:7 اُنہُوں نے آدمؔ کی مانند عہد توڑ دیا۔ اُنہُوں نے وہاں مُجھ سے بےوفائی کی۔
HOS 6:8 گِلعادؔ بدکاروں کی بستی ہے، جہاں کے نقش قدم خُون آلُودہ ہیں۔
HOS 6:9 جِس طرح رَہزنوں کے غول کسی شخص کے گھات میں بیٹھے رہتے ہیں، اُسی طرح کاہِنوں کے گِروہ بھی کرتے ہیں؛ وہ شِکیمؔ کی راہ میں قتل کرتے ہیں اَور بدکاری کے جرائم کرتے ہیں۔
HOS 6:10 مَیں نے اِسرائیل کے گھرانے میں ایک ہولناک شَے دیکھی ہے۔ وہاں اِفرائیمؔ جِسم فروشی کرتا ہے اَور اِسرائیل ناپاک ہوتاہے۔
HOS 6:11 تیرے لیٔے بھی اَے بنی یہُوداہؔ، فصل کا وقت مُقرّر کیا جا چُکاہے۔ جَب بھی مَیں اَپنے لوگوں کے قدیم ایّام کو بحال کروں گا،
HOS 7:1 اَور جَب کبھی مَیں اِسرائیل کو شفا بخشوں گا، تَب اِفرائیمؔ کے گُناہ ظاہر ہو جایٔیں گے اَور سامریہؔ کے جرائم آشکارا ہوں گے۔ وہ دغاباز ہیں، چور گھر میں گھُس آتے ہیں، اَور ڈاکُو سڑکوں پر لُوٹ لیتے ہیں۔
HOS 7:2 لیکن اُنہیں احساس نہیں ہوتا کہ مُجھے اُن کے تمام بُرے اعمال یاد ہیں۔ اُن کے گُناہوں نے اُنہیں گھیرلیا ہے؛ وہ ہمیشہ میرے سامنے رہتے ہیں۔
HOS 7:3 وہ اَپنی شرارت سے بادشاہ کا دِل بہلاتے ہیں؛ اَور اَپنی دروغ گوئی سے اُمرا کو خُوش رکھتے ہیں۔
HOS 7:4 وہ سَب زناکار ہیں، جو تنور کی مانند جلتے رہتے ہیں جِس کی آگ پکانے والے کو آٹا گُوندھنے سے لے کر اُس کے اُبھر آنے تک تیز کرنے کی ضروُرت نہیں ہوتی۔
HOS 7:5 ہمارے بادشاہ کے جَشن کے دِن اُمرا مَے سے مخمور ہو گئے، اَور اُس نے مسخروں سے ہاتھ مِلائے۔
HOS 7:6 اُن کے دِل تنور کی مانند ہیں؛ اَور وہ سازش کے ساتھ اُن سے ملتے ہیں۔ اُن کا جذبہ تمام رات اَندر ہی اَندر دہکتا رہتاہے؛ اَور صُبح کو آگ کے شُعلوں کی مانند بھڑک اُٹھتا ہے۔
HOS 7:7 وہ سَب کے سَب تنور کی مانند گرم رہتے ہیں؛ اَور اَپنے حُکمرانوں کو کھا جاتے ہیں۔ اُن کے تمام بادشاہ مارے جاتے ہیں، لیکن اُن میں سے کویٔی مُجھے نہیں پُکارتا۔
HOS 7:8 اِفرائیمؔ مُختلف قوموں سے مِل جُل گیا ہے؛ اِفرائیمؔ ایک چپاتی ہے جو پلٹی نہ گئی ہو۔
HOS 7:9 پردیسیوں نے اُس کی قُوّت کو توڑ ڈالا، لیکن اُسے اُس کا احساس نہیں ہے۔ اُس کے بال سفید ہو گئے ہیں، لیکن اُس کا بھی اُسے علم نہیں ہے۔
HOS 7:10 اِسرائیل کی ضِد اُس کے خِلاف گواہی دے رہی ہے، لیکن اُن سَب کے باوُجُود بھی وہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کی طرف نہیں لَوٹتا اَور نہ ہی اُن کا طالب ہوتاہے۔
HOS 7:11 اِفرائیمؔ ایک فاختہ کی مانند ہے، جو نادان ہے اَور جسے بآسانی بہکایا جا سَکتا ہے۔ کبھی تو وہ مِصر کو پُکارتے ہیں، اَور کبھی اشُور کی جانِب رُخ کرتے ہیں۔
HOS 7:12 جَب وہ جایٔیں گے تَب مَیں اَپنا جال اُن پر پھیلاؤں گا؛ اَور اُنہیں ہَوا کے پرندوں کی طرح نیچے کھینچ لاؤں گا۔ اَور جَب مَیں اُنہیں یکجا ہوتے سُنوں گا، تَب مَیں اُنہیں پکڑوں گا۔
HOS 7:13 اُن پر افسوس، کیونکہ وہ مُجھ سے بھٹک گیٔے ہیں! وہ برباد ہو جایٔیں، کیونکہ اُنہُوں نے میرے خِلاف بغاوت کی ہے! مَیں اُن کا فدیہ دینا چاہتا ہُوں لیکن وہ میرے خِلاف دروغ گوئی کرتے ہیں۔
HOS 7:14 وہ اَپنے دِل سے مُجھ سے فریاد نہیں کرتے لیکن اَپنے بِستروں پر پڑے ہُوئے آہ و زاری کرتے ہیں۔ وہ اناج اَور نئی مَے کی خاطِر اِکٹھّے ہو جاتے ہیں لیکن مُجھ سے مُنہ موڑ لیتے ہیں۔
HOS 7:15 مَیں نے اُنہیں تربّیت دی اَور تقویّت بخشی، لیکن وہ میرے خِلاف بُرے منصُوبے باندھتے ہیں۔
HOS 7:16 وہ خُداتعالیٰ کی طرف نہیں لَوٹتے؛ وہ ناقص کمان کی مانند ہیں۔ اُن کے اُمرا اَپنے گُستاخ کلام کے سبب سے تلوار سے مارے جایٔیں گے۔ اِسی لیٔے مُلک مِصر میں اُن کا مذاق اُڑایا جائے گا۔
HOS 8:1 نرسنگا اَپنے ہونٹوں سے لگا لو! چونکہ لوگوں نے میرا عہد توڑا اَور میری آئین کے خِلاف بغاوت کی اِس لیٔے ایک عُقاب یَاہوِہ کے گھر کے اُوپر ٹوٹ پڑا ہے۔
HOS 8:2 اِسرائیل مُجھے پُکار کر کہتاہے، اَے ہمارے خُدا، ہم آپ کو قبُول کرتے ہیں!
HOS 8:3 لیکن اِسرائیل نے بھلائی کو ٹھکرا دیا؛ اِس لیٔے ایک دُشمن اُس کا تعاقب کرےگا۔
HOS 8:4 وہ میری رضامندی کے بغیر بادشاہوں کو مُقرّر کرتے ہیں؛ اَور میری تصدیق کے بغیر اُمرا کا انِتخاب کرتے ہیں۔ اَپنی چاندی اَور سونے سے خُود اَپنی تباہی کے لیٔے وہ اَپنے لیٔے بُت بناتے ہیں۔
HOS 8:5 اَے سامریہؔ! اَپنے بچھڑے نُما بُت کو پھینک دے، میرا قہر اُن کے خِلاف بھڑک اُٹھتا ہے۔ وہ کب تک پاکیزگی سے عاجز رہیں گے؟
HOS 8:6 وہ اِسرائیل میں بنائے گیٔے ہیں! یہ بچھڑا جسے ایک کاریگر نے بنایا؛ خُدا نہیں ہے۔ سامریہؔ کے اُس بچھڑے کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جایٔیں گے۔
HOS 8:7 وہ ہَوا بوتے ہیں اَور گِردباد کی فصل کاٹتے ہیں۔ نہ ڈنٹھل میں بالیں لگتی ہیں؛ نہ اُس میں سے اناج پیدا ہوگا۔ اَور اگر اُس میں سے اناج پیدا بھی ہو جائے، تو پردیسی اُسے چٹ کر جایٔیں گے۔
HOS 8:8 اِسرائیل نگلا جا چُکاہے؛ اَب وہ قوموں کے درمیان ایک ناکارہ شَے کی مانند ہے۔
HOS 8:9 ایک گورخر کی مانند اکیلے بھٹکتے ہُوئے وہ اشُور کو چلے گیٔے۔ اِفرائیمؔ اَپنے یاروں کے ہاتھ بِک چُکاہے۔
HOS 8:10 خواہ اُنہُوں نے اَپنے آپ کو مُختلف قوموں کے درمیان بیچ دیا، لیکن مَیں اَب اُنہیں جمع کروں گا۔ وہ ایک زبردست بادشاہ کے ظُلم کا شِکار ہوکر ناتواں ہوتے جایٔیں گے۔
HOS 8:11 حالانکہ اِفرائیمؔ نے گُناہ کی قُربانیوں کے لیٔے قُربان گاہیں تعمیر کیں، لیکن یہ اَب گُنہگاری کی قُربان گاہیں بَن گئی ہیں۔
HOS 8:12 حالانکہ مَیں نے اُن کے لیٔے اَپنی آئین کی کیٔی چیزیں لِکھ دیں، لیکن اُنہُوں نے اُنہیں پرایا سمجھا۔
HOS 8:13 وہ میرے حق میں قُربانیاں گزرانتے ہیں اَور وہ اُن کا گوشت کھاتے ہیں، لیکن یَاہوِہ اُن سے خُوش نہیں ہوتے۔ اَب وہ اُن کی شرارت یاد کریں گے اَور اُن کے گُناہوں کی سزا دیں گے: اَور وہ مِصر لَوٹ جایٔیں گے۔
HOS 8:14 اِسرائیل اَپنے خالق کو فراموش کر چُکاہے اَور اُس نے محل تعمیر کئے؛ بنی یہُوداہؔ نے کیٔی شہروں کو مُستحکم کر لیا۔ لیکن مَیں اُن کے شہروں پر آگ نازل کروں گا جو اُن کے قلعوں کو بھسم کر دے گی۔
HOS 9:1 اَے اِسرائیل مسرُور نہ ہو؛ دُوسری قوموں کی طرح شادمان نہ ہو۔ کیونکہ تُونے اَپنے خُدا سے بےوفائی کی ہے؛ تُو ہر کھلیان پر فاحِشہ کی اُجرت کو پسند کرتا ہے۔
HOS 9:2 کھلیان اَور مَے نچُوڑنے کے انگوری حوض لوگوں کا پیٹ نہیں بھریں گے؛ اَور نئی مَے اُنہیں دھوکا دے گی۔
HOS 9:3 وہ یَاہوِہ کے مُلک میں نہ رہیں گے؛ اِفرائیمؔ مِصر کو لَوٹے گا اَور اشُور میں ناپاک غِذا کھائے گا۔
HOS 9:4 وہ یَاہوِہ کے لیٔے مَے کا تپاون نہ دیں گے، نہ ہی اُن کی قُربانیاں اُن کو مقبُول ہُوں گی۔ اَیسی قُربانیاں اُن کے لیٔے ماتم کرنے والوں کی روٹی کی مانند ہُوں گی؛ جتنے لوگ اُسے کھایٔیں گے وہ سَب ناپاک ہوں گے۔ یہ غِذا صِرف اُن ہی کے لیٔے ہوگی؛ یہ یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں نہ آئے گی۔
HOS 9:5 اَپنی مُقرّرہ عیدوں کے موقعوں پر، اَور یَاہوِہ کے تہوار کے دِنوں میں تُم کیا کروگے؟
HOS 9:6 خواہ وہ تباہی سے بچ بھی جایٔیں، تو بھی مِصر اُنہیں جمع کرےگا، اَور میمفِسؔ اُنہیں دفن کرےگا۔ اُن کی چاندی کے خزانے جھاڑیاں چھین لیں گی، اَور کانٹے اُن کے خیموں پر پھیل جایٔیں گے۔
HOS 9:7 سزا کے دِن آ رہے ہیں، اَور حِساب کے دِن نزدیک ہیں۔ اِسرائیل اُسے جان لے۔ تیرے گُناہوں کی کثرت اَور تیری عداوت کی شِدّت کے باعث، نبی احمق سمجھا جاتا ہے، اَور اِلہام یافتہ اِنسان مجنوں قرار دیا جاتا ہے۔
HOS 9:8 نبی میرے خُدا سمیت، اِفرائیمؔ کا نگہبان ہے، پھر بھی اَپنی تمام راہوں میں صیّادی پھندے، اَور خُدا کے گھر میں عداوت اُس کے منتظر ہوتے ہیں۔
HOS 9:9 گِبعہؔ کے دِنوں کی طرح، وہ بداخلاقی میں غرق ہو چُکے ہیں۔ خُدا اُن کی شرارت کو یاد کرےگا اَور اُنہیں اُن کے گُناہوں کی سزا دے گا۔
HOS 9:10 جَب مَیں نے اِسرائیل کو پایا، تو وہ گویا بیابان کے انگوروں کی مانند تھے؛ اَور جَب مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو دیکھا، تو یُوں لگاکہ مَیں اَنجیر کے درخت پر پہلا پھل دیکھ رہا ہُوں۔ لیکن جَب وہ بَعل پعورؔ کے پاس آئے، تَب اَپنے آپ کو اُس شرمناک بُت کے لیٔے مخصُوص کیا اَور جِس چیز کو عزیز رکھتے تھے اُسی کی مانند حقیر بَن گیٔے۔
HOS 9:11 اِفرائیمؔ کی شان و شوکت پرندہ کی مانند اُڑ جائے گی۔ اُن میں نہ پیدائش ہوگی، نہ حاملہ کا وُجُود ہوگا، بَلکہ قرارِ حَمل بھی موقُوف ہو جائے گا۔
HOS 9:12 اگر وہ بچّوں کی پرورش کر بڑا بھی کر لیں، تو بھی مَیں ہر ایک بشر کو چھین لُوں گا۔ جَب مَیں اُن سے دُورہو جاؤں گا تَب اُن کی حالت اَور افسوس ناک ہوگی!
HOS 9:13 مَیں نے اِفرائیمؔ کو صُورؔ کی طرح، خُوشنما جگہ میں لگا ہُوا دیکھا۔ لیکن اِفرائیمؔ اَپنے بچّوں کو قاتل کے سامنے لے آئے گا۔
HOS 9:14 اَے یَاہوِہ اُنہیں دیجئے۔ لیکن آپ اُنہیں کیا دیں گے؟ آپ اُنہیں اَیسے رحم دیں جِن میں حَمل ساقط ہو جاتے ہُوں اَور اَیسی چھاتِیاں جو خشک ہُوں۔
HOS 9:15 گِلگالؔ میں اُن کی تمام شرارت کی وجہ سے، مَیں نے اُن سے وہاں نفرت کی۔ اُن کے گُناہ آلُودہ اعمال کی وجہ سے، مَیں اُنہیں اَپنے گھر سے نکال دُوں گا۔ مَیں اَب اَور اُن سے مَحَبّت نہ رکھوں گا؛ اُن کے تمام اُمرا باغی ہیں۔
HOS 9:16 اِفرائیمؔ مُرجھاگیا ہے، اُن کی جڑ سُوکھ گئی ہے، اَور اُن پر پھل نہیں آتا۔ اگر وہ بچّے جنیں بھی، تو مَیں اُن کے دُلاروں کو قتل کر دُوں گا۔
HOS 9:17 میرے خُدا اُنہیں ردّ کر دیں گے کیونکہ اُنہُوں نے اُن کا حُکم نہ مانا؛ وہ مُختلف قوموں کے درمیان بھٹکتے پھریں گے۔
HOS 10:1 اِسرائیل ایک لہلہاتی ہُوئی انگور کی بیل تھا؛ جِس میں کثرت سے پھل لگے جوں جوں اُس کا پھل بڑھتا گیا، اُس نے زِیادہ مذبحے تعمیر کئے؛ جوں جوں اُس کی زمین سدھرتی گئی، اُسی قدر وہ مُقدّس سُتون آراستہ کرتا گیا۔
HOS 10:2 اُن کا دِل دغاباز ہے، اَور اَب وہ اَپنے گُناہ کا بار اُٹھائیں۔ یَاہوِہ اُن کے مذبحوں کو تباہ کر دیں گے اَور اُن کے مُقدّس سُتون بھی گرا دیں گے۔
HOS 10:3 تَب وہ کہیں، ”گے ہمارا کویٔی بادشاہ نہیں کیونکہ ہم نے یَاہوِہ کی تعظیم نہ کی۔ لیکن ہمارا کویٔی بادشاہ ہوتا بھی، تو وہ ہمارے لیٔے کیا کرتا؟“
HOS 10:4 وہ باتیں بہت بناتے ہیں، جھُوٹی قَسمیں کھا کھا کر عہدوپیمان کرتے ہیں؛ اِس لیٔے اُن کے جُتے ہُوئے کھیت میں اُگی ہُوئی زہریلی بُوٹیوں کی مانند اُن میں مُقدّمے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
HOS 10:5 سامریہؔ کے باشِندے۔ بیت آوِنؔ کے بچھڑے کے بُت کے لیٔے خوفزدہ ہوں گے۔ اُن کے لوگ اُن کے لیٔے ماتم کریں گے، اَور اُن کے بُت پرست کاہِنؔ بھی، جو اُن کی شان و شوکت سے شادمان تھے، کیونکہ اَب وہ اُن کے درمیان سے ہٹا کر جَلاوطن کیا گیا۔
HOS 10:6 اُسے اشُور لے جایا جائے گا اَور عظیم بادشاہ کی نذر کیا جائے گا۔ اِفرائیمؔ ندامت اُٹھائے گا؛ اَور اِسرائیل اَپنے غَیر قوموں کی مشورت سے شرمندہ ہوگا۔
HOS 10:7 سامریہؔ اَور اُس کا بادشاہ پانی کی سطح پر بہنے والی ٹہنی کی مانند بہہ جایٔیں گے۔
HOS 10:8 اَور شرارت سے پُر اُونچے مقامات جو اِسرائیل کے گُناہ ہیں تباہ کئے جایٔیں گے۔ اُن کے مذبحوں پر کانٹے اَور خاردار جھاڑیاں چھا جایٔیں گی۔ تَب وہ پہاڑوں سے کہیں گے، ”ہمیں چھُپا لو!“ اَور ٹیلوں سے کہیں گے، کہ ہم پر گِر پڑو!
HOS 10:9 اَے اِسرائیل تُو گِبعہؔ کے ایّام سے گُناہ کرتا آیا ہے، اَور تُو ابھی تک وہیں ہے۔ کیا گِبعہؔ میں جنگ بدکاروں تک نہیں جا پہُنچی؟
HOS 10:10 جَب مَیں چاہُوں اُنہیں سزا دُوں گا؛ مُختلف قوموں کو اُن کے خِلاف جمع کیا جائے گا تاکہ اُن کے دوہرے گُناہ کے سبب سے اُنہیں جکڑ لیں۔
HOS 10:11 اِفرائیمؔ تربّیت یافتہ بچھیا ہے جو اناج گاہنا پسند کرتی ہے؛ چنانچہ مَیں اُس کی خُوبصورت گردن پر جُوا رکھ دُوں گا۔ اَور اِفرائیمؔ کو ہانکوں گا، یہُوداہؔ کو ہل چلانا ہوگا، اَور یعقوب ڈھیلے توڑے گا۔
HOS 10:12 اَپنے لیٔے راستبازی بوؤ، اَور شفقت کے پھل حاصل کرو، اَپنی اُفتادہ زمین جو تو؛ کیونکہ اَب یَاہوِہ کے طالب ہونے کا موقع ہے، تاکہ وہ آئیں اَور تُم پر راستی برسائیں۔
HOS 10:13 لیکن تُم نے شرارت بوئی، اَور بدی کی فصل کاٹی، تُم نے فریب کا پھل کھایا ہے۔ چونکہ تُم نے خُود اَپنی قُوّت پر اَور اَپنے لاتعداد سپاہیوں پر اِعتماد کیا۔
HOS 10:14 اِس لیٔے تیرے لوگوں کے خِلاف لڑائی کی للکار اُٹھے گی، تاکہ تیرے سَب قلعے اَیسے مِسمار کئے جایٔیں گے۔ جَیسے شلمنؔ نے لڑائی کے وقت بیت اربیلؔ کو مِسمار کیا تھا، اَور ماؤں کو اُن کے بچّوں سمیت زمین پر پٹکا گیا تھا۔
HOS 10:15 چونکہ تیری خباثت اِس قدر زِیادہ ہے، اِس لیٔے اَے بیت ایل تیرے ساتھ بھی اَیسا ہی سلُوک کیا جائے گا۔ جَب وہ دِن آئے گا، تَب اِسرائیل کا بادشاہ فنا ہو جائے گا۔
HOS 11:1 جَب اِسرائیل بچّہ ہی تھا کہ مَیں نے اُس سے مَحَبّت کی، اَور اَپنے بیٹے کو مِصر سے بُلایا۔
HOS 11:2 لیکن جِتنا زِیادہ میں اِسرائیل کو بُلاتا گیا، وہ مُجھ سے اَور دُور جاتے رہے۔ اُنہُوں نے بَعل معبُودوں کے لیٔے قُربانیاں پیش کیں اَور بُتوں کے سامنے بخُور جَلایا۔
HOS 11:3 مَیں نے اِفرائیمؔ کو چلنا سِکھایا، اَور اُنہیں گود میں اُٹھایا؛ لیکن اُنہُوں نے یہ نہ جانا کہ مَیں نے ہی اُنہیں شفا بخشی۔
HOS 11:4 مَیں اُنہیں اِنسانی شفقت کی رسّیوں، اَور مَحَبّت کے رشتہ میں جکڑ کر لے گیا؛ مَیں نے اُن کی گردن پر سے جُوا ہٹایا اَور جھُک کر اُنہیں کھانا کھِلایا۔
HOS 11:5 اَب جَب کہ وہ تَوبہ کرنے سے اِنکار کرتے ہیں تو کیا وہ مِصر نہ لَوٹیں گے اَور کیا شاہِ اشُور اُن پر حُکومت نہ کرےگا؟
HOS 11:6 اُن کے شہروں میں تلواریں چلیں گی، اُن کے پھاٹکوں کے اڑبنگوں کو تباہ کر دیا جائے گا اَور اُن کے منصُوبوں کو خاک میں مِلا دیا جائے گا۔
HOS 11:7 میرے لوگ مُجھ سے برگشتہ ہونے پر آمادہ ہیں۔ خواہ وہ خُداتعالیٰ کو پُکاریں، تو بھی وہ اُن کو ہرگز اِعزاز نہ بخشیں گے۔
HOS 11:8 اَے اِفرائیمؔ! مَیں تُجھ سے کیسے دست بردار ہو جاؤں؟ اَور اَے اِسرائیل مَیں تُجھے کیسے ترک کروں؟ مَیں تیرے ساتھ اَدمہؔ کی مانند کیسے سلُوک کروں؟ اَور تُجھے ضبوئیمؔ کی مانند کیسے بناؤں؟ میرے دِل میں تغیُّر آ چُکاہے؛ اَور میری تمام شفقت اُمنڈ آئی ہے۔
HOS 11:9 مَیں اَپنے قہر شدید کو بھڑکنے نہ دُوں گا، نہ مَیں پلٹ کر اِفرائیمؔ کو تباہ کروں گا۔ کیونکہ مَیں خُدا ہُوں، اِنسان نہیں۔ تمہارے درمیان سکونت کرنے والا قُدُّوس ہُوں۔ مَیں قہر لے کر نہ آؤں گا۔
HOS 11:10 وہ یَاہوِہ کی پیروی کریں گے؛ وہ شیرببر کی طرح گرجیں گے۔ اَور جَب وہ گرجیں گے، تَب اُن کے بچّے تھرتھراتے ہُوئے مغرب سے آئیں گے۔
HOS 11:11 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں۔ وہ مِصر کے پرندوں اَور اشُور کے کبُوتروں کی مانند، کانپتے ہُوئے آئیں گے۔ اَور مَیں اُنہیں اُن کے گھروں میں بساؤں گا،
HOS 11:12 اِفرائیمؔ نے دغا سے، اَور اِسرائیل کے گھرانے نے مکّاری سے مُجھے گھیر رکھا ہے۔ اَور یہُوداہؔ خُدا کے خِلاف بے قابو ہے، یہاں تک کہ وفادار قُدُّوس کے خِلاف بے قابُو بنا رہتاہے۔
HOS 12:1 اِفرائیمؔ ہَوا کھا کر پیٹ بھرتاہے؛ وہ دِن بھر بادِ مشرق کا پیچھا کرتا رہتاہے اَور لگاتار دروغ گوئی اَور تشدّد کو فروغ دیتاہے۔ وہ اشُور کے ساتھ عہد کرتا ہے اَور مِصر کو زَیتُون کا تیل بھیجتا ہے۔
HOS 12:2 یَاہوِہ کو یہُودیؔہ کے خِلاف بھی شکایت ہے؛ وہ یعقوب کو اُس کی روِشوں کے مُطابق سزا دیں گے اَور اُن کے اعمال کے مُطابق صِلہ دیں گے۔
HOS 12:3 اُس نے رحم میں اَپنے بھایٔی کی اِیڑی پکڑی؛ اَور بڑا ہوکر خُدا کے ساتھ کُشتی لڑی۔
HOS 12:4 وہ فرشتہ سے بھی لڑا اَور اُس پر غالب آیا؛ وہ رُویا اَور اُن سے مِنّت کی۔ اُس نے خُدا کو بیت ایل میں پایا اَور وہاں اُن سے بات چیت کی۔
HOS 12:5 یعنی قادرمُطلق یَاہوِہ خُدا سے، جِن کا ممتاز نام یَاہوِہ ہے!
HOS 12:6 لیکن تُو اَپنے خُدا کی طرف لَوٹ جا؛ مَحَبّت اَور اِنصاف کو قائِم رکھ، اَور ہمیشہ اَپنے خُدا کا منتظر رہ۔
HOS 12:7 سوداگر جھُوٹا ترازو اِستعمال کرتا ہے؛ وہ دھوکا دہی سے مَحَبّت کرتا ہے۔
HOS 12:8 اِفرائیمؔ شیخی مارتا ہے کہ، مَیں بہت بڑا رئیس ہُوں مَیں دولتمند بَن گیا ہُوں۔ میری اِس قدر دولت کے باعث وہ مُجھ میں کویٔی بُرائی یا گُناہ نہ پائیں گے۔
HOS 12:9 مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں، جو تُمہیں مِصر میں سے نکال لایا؛ مَیں تُمہیں پھر خیموں میں اَیسا بساؤں گا، جَیسے تمہاری مُقرّرہ عیدوں کے ایّام میں ہُوا کرتا تھا۔
HOS 12:10 مَیں نے نبیوں سے کلام کیا، اُنہیں بہت سِی رُویتیں دِکھائیں اَور اُن کی مَعرفت تمثیلیں بتائیں۔
HOS 12:11 کیا گِلعادؔ بدکار ہے؟ اُس کے لوگ ناکارہ ہیں! کیا گِلگالؔ میں بَیل ذبح کئے جاتے ہیں؟ اُن کے مذبحے جُتے ہُوئے کھیت میں پڑے ہُوئے پتّھروں کے ڈھیر کی مانند ہوں گے۔
HOS 12:12 یعقوب ارام کے مُلک کو فرار ہو گیا؛ اَور اِسرائیل نے بیوی کی خاطِر خدمت کی، اَور اُس کی قیمت چُکانے کے لیٔے گلّہ بانی کی۔
HOS 12:13 یَاہوِہ ایک نبی کے ذریعہ اِسرائیل کو مِصر سے نکال لائے، ایک نبی ہی کے ذریعہ اُنہُوں نے اُن کی خبرگیری کی۔
HOS 12:14 لیکن اِفرائیمؔ نے یَاہوِہ کو شدید غُصّہ دِلایا؛ اِس لیٔے اُس کا خُداوؔند اُس کی خُونریزی کا گُناہ اِسی کی گردن پر رکھیں گے اَور اُسے اَپنی توہین کا صِلہ دیں گے۔
HOS 13:1 جَب اِفرائیمؔ بولتا تھا تو لوگ کانپ اُٹھتے تھے؛ اُسے اِسرائیل میں اِعزاز بخشا گیا۔ لیکن وہ بَعل کی عبادت کرنے سے گُنہگار ٹھہرا اَور مَر گیا۔
HOS 13:2 اَب وہ اَور بھی گُناہ کرتے ہیں؛ اَور اَپنی چاندی سے اَپنے لیٔے بُت بناتے ہیں، جو نہایت ماہر بُت تراش کی تراشی ہُوئی مورتیں ہیں، اَور سَب کی سَب دستکاروں کی دستکاری ہیں۔ اُن لوگوں کے متعلّق کہا جاتا ہے کہ، وہ اِنسان کی قُربانی گزرانتے ہیں! اَور بچھڑوں کے بُتوں کو چُومتے ہیں۔
HOS 13:3 لہٰذا وہ صُبح کے کُہر، اَور علی الصبح کی غائب ہونے والی اوس، اَور کھلیان سے اُڑنے والی بھُوسی، یا کھڑکی میں سے نکلتے ہُوئے دھوئیں کی مانند ہوں گے۔
HOS 13:4 لیکن مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں، جو تُمہیں مُلکِ مِصر سے نکال لایا۔ تُم میرے سِوا کسی کو اَور خُدا کرکے نہ ماننا، اَور میرے سِوا کویٔی اَور مُنجّی نہیں۔
HOS 13:5 مَیں نے بیابان میں، یعنی چلچلاتی ہُوئی دھوپ کے مُلک میں تمہاری خبرگیری کی۔
HOS 13:6 جَب مَیں اُنہیں کھانا کھِلاتا تو وہ سیر ہو جاتے؛ اَور جَب وہ سیر ہو گئے تو مغروُر ہو گئے؛ تَب وہ مُجھے فراموش کر بیٹھے۔
HOS 13:7 اِس لیٔے مَیں اُن پر شیرببر کی طرح جھپٹ پڑوں گا، اَور چیتے کی مانند راہ میں گھات لگائے بیٹھا رہُوں گا۔
HOS 13:8 میں اُس ریچھنی کی مانند جِس کے بچّے چھین لیٔے گیٔے ہُوں، اُن پر حملہ کروں گا اَور اُنہیں پھاڑ کر رکھ دُوں گا۔ ایک شیرببر کی مانند میں اُنہیں نگل جاؤں گا، ایک جنگلی جانور اُنہیں پھاڑ ڈالے گا۔
HOS 13:9 اَے اِسرائیل تُو تباہ ہو چُکاہے، کیونکہ تُو میرا یعنی اَپنے مددگار کا مُخالف ہے۔
HOS 13:10 تیرا وہ بادشاہ کہاں ہے جو تُجھے بچائے؟ تیرے تمام شہروں کے وہ اُمرا کہاں ہیں، جِن کے متعلّق تُونے کہاتھا، مُجھے بادشاہ اَور اُمرا عنایت کر؟
HOS 13:11 اِس لیٔے اَپنے قہر میں مَیں نے تُجھے بادشاہ دیا، اَور اَپنے غضب میں اُسے مٹا دیا۔
HOS 13:12 اِفرائیمؔ کی خطا جمع کی گئی، اَور اُس کے گُناہ درج کئے گیٔے۔
HOS 13:13 وہ دردِزہ کی مانند تکلیف میں مُبتلا ہے، لیکن وہ ایک بے عقل بچّہ ہے؛ کیونکہ جَب وقت قریب آتا ہے، تَب وہ رحم کے مُنہ تک نہیں آتا۔
HOS 13:14 ”مَیں اُنہیں قبر کے قابُو سے چھُڑا دُوں گا؛ اَور اُنہیں موت سے رِہائی بخشوں گا۔ اَے موت تیری وَبا کہاں ہے؟ اَے قبر تیری ہلاکت کہاں ہے؟ ”مَیں ہرگز رحم نہ کروں گا،
HOS 13:15 چاہے وہ اَپنے بھائیوں کے درمیان بڑھتا رہے۔ یَاہوِہ کی طرف سے بادِ مشرق آئے گی، جو بیابان کی جانِب سے چلے گی؛ اُس کا سوتا سُوکھ جائے گا اَور اُس کا چشمہ خشک ہو جائے گا۔ اُس کے گودام میں سے تمام خزانے لُوٹ لیٔے جایٔیں گے۔
HOS 13:16 سامریہؔ کے باشِندے اَپنی خطاؤں کا بوجھ اُٹھائیں گے، کیونکہ اُنہُوں نے اَپنے خُدا کے خِلاف بغاوت کی ہے۔ وہ تلوار سے مارے جایٔیں گے؛ اَور اُن کے چُھوٹے بچّے زمین پر پٹکے جایٔیں گے، اَور اُن کی حاملہ عورتیں چیر ڈالی جایٔیں گی۔“
HOS 14:1 اَے اِسرائیل، یَاہوِہ اَپنے خُدا کی طرف لَوٹ آ۔ تیرے گُناہ تیرے زوال کا باعث بَن چُکے ہیں!
HOS 14:2 کلام اَپنے ساتھ لے کر یَاہوِہ کی طرف لَوٹ آ۔ اُن سے کہہ: ”ہمارے تمام گُناہ بخش دیں اَور فضل سے ہمیں قبُول فرمائیں، تاکہ ہم اَپنے لبوں سے شُکر گزاری کی قُربانی اَدا کریں۔
HOS 14:3 اشُور ہمیں بچا نہیں سَکتا؛ نہ ہم جنگی گھوڑوں پر سوار ہوں گے۔ ہم پھر کبھی اَپنے ہاتھوں سے تراشی ہُوئی چیزوں کو ’ہمارے معبُود‘ نہ کہیں گے، کیونکہ یتیموں کو آپ ہی میں شفقت ملتی ہے۔“
HOS 14:4 ”مَیں اُن کی برگشتگی کو ٹھیک کر دُوں گا اَور اُن سے بےحد مَحَبّت رکھوں گا، کیونکہ میرا قہر اُن پر سے ٹل گیا ہے۔
HOS 14:5 مَیں اِسرائیل کے لیٔے اوس کی مانند ہُوں گا؛ اَور وہ شُوشنؔ کی مانند پھُولے گا۔ اَور لبانونؔ کے دیودار کی مانند اَپنی جڑیں پھیلائے گا؛
HOS 14:6 اُس کی ملائم کونپلیں بڑھیں گی۔ اُس کی شوکت زَیتُون کے درخت کی مانند ہوگی، اَور اُس کی خُوشبو لبانونؔ کے دیودار کے مانند ہوگی۔
HOS 14:7 لوگ پھر سے اُس کے سایہ میں بسیں گے۔ اَور وہ اناج کی مانند بڑھےگا۔ وہ انگور کی بیل کی مانند شگفتہ ہوگا، اَور اُس کی شہرت لبانونؔ کی مَے کی مانند ہوگی۔
HOS 14:8 اَے اِفرائیمؔ مُجھے بُتوں سے اَور کیا سروکار ہے؟ مَیں اُسے جَواب دُوں گا اَور اُس کی خبرگیری کروں گا۔ مَیں صنوبر کے سرسبز درخت کی مانند ہُوں؛ تُو مُجھ ہی سے برومند ہُوا۔“
HOS 14:9 دانشمند کون ہے؟ وُہی اُن چیزوں کو سمجھ پایٔےگا۔ دُور اَندیش کون ہے؟ وُہی اُنہیں جان لے گا۔ کیونکہ یَاہوِہ کی راہیں راست ہیں؛ اَور راستباز اُن پر چلتے ہیں، لیکن باغی اُن میں ٹھوکر کھاتے ہیں۔
JOE 1:1 یَاہوِہ کا کلام جو پتھوایلؔ کے بیٹے یُوایلؔ پر نازل ہُوا۔
JOE 1:2 اَے رہنماؤں سُنو؛ اَے مُلک کے تمام باشِندو کان لگا کر میری بات سُنو۔ کیا تمہارے یا، آپ کے آباؤاَجداد کے زمانے میں؟ تمہارے آباؤاَجداد کے ایّام میں کبھی اَیسا ہُوا؟
JOE 1:3 اَپنی اَولاد سے اُس کا تذکرہ کرو، اَور تمہاری اَولاد اَپنی اَولاد کو، اَور اُن کی اَولاد آنے والی نَسل کو بتائیں۔
JOE 1:4 جو کچھ ٹِڈّیوں کے غول سے بچا اُسے بڑی ٹِڈّیوں نے کھا لیا؛ اَورجو بڑی ٹِڈّیوں نے چھوڑ دیا اُسے جَوان ٹِڈّیوں نے کھا لیا؛ اَورجو جَوان ٹِڈّیوں نے چھوڑ دیا اُسے دُوسری ٹِڈّیوں نے کھا لیا۔
JOE 1:5 اَے متوالوں، جاگو اَور رو! اَے مَے نوشی کرنے والوں، ماتم کرو؛ نئی مَے کی خاطِر ماتم کرو، کیونکہ وہ تمہارے لبوں سے چھین لی گئی ہے۔
JOE 1:6 ایک قوم نے میرے مُلک پر حملہ کر دیا ہے؛ اُن کی زبردست فَوج اَور تعداد میں بے شُمار ہے؛ اُن کے دانت شیرببر کے دانتوں کی مانند ہیں، اَور اُن کی داڑھیں شیرنی کی داڑھوں کے مانند ہیں۔
JOE 1:7 اُس قوم نے میری انگور کی بَیلوں کو اُجاڑ ڈالا اَور میرے اَنجیر کے درختوں کو تباہ کر دیا ہے۔ اُنہُوں نے اُن کی چھال چھیل ڈالی اَور اُنہیں پھینک دیا ہے، جِس سے اُن کی شاخیں سفید ہو گئیں ہیں۔
JOE 1:8 جِس طرح دُلہن اَپنے جَوان خَاوند کے لئے ٹاٹ پہن کر ماتم کرتی ہے ٹھیک اُسی طرح تُم بھی ماتم کرو۔
JOE 1:9 اناج کی نذریں اَور تپاون نذریں، یَاہوِہ کے گھر سے موقُوف ہو چُکے ہیں۔ یَاہوِہ کی حُضُوری میں خدمت گذار کاہِنؔ ماتم کر رہے ہیں۔
JOE 1:10 کھیت تباہ ہو گئے، اَور زمین خشک ہو گئی؛ اناج برباد ہو گیا، اَور نئی مَے سُوکھ گئی، اَور زَیتُون کا تیل ختم ہو گیا۔
JOE 1:11 اَے کِسانوں، مایوس ہو جاؤ، اَے تاکستان کے باغبانوں، نوحہ کرو؛ گیہُوں اَور جَو کے لیٔے ماتم کرو، کیونکہ کھیتوں کی فصل برباد ہو چُکی ہیں۔
JOE 1:12 انگور کی بیل سُوکھ گئی اَور اَنجیر کا درخت مُرجھاگیا؛ انار، کھجور اَور سیب کے درخت الغرض کھیت کے تمام درخت سُوکھ گیٔے ہیں۔ یقیناً بنی آدمؔ کی خُوشی بھی مُرجھا گئی ہے۔
JOE 1:13 اَے کاہِنوں، ٹاٹ پہن لو اَور ماتم کرو؛ اَے مذبح کے خدمت گزارو، ماتم کرو۔ اَے میرے خُدا کے خدمت گزارو، آؤ اَور ٹاٹ اوڑھے ہُوئے رات گُزارو؛ کیونکہ اناج کی نذر اَور تپاون کی نذر کی قُربانیاں تمہارے خُدا کے گھر سے موقُوف ہو چُکے ہیں۔
JOE 1:14 مُقدّس روزہ کا اعلان کرو؛ اَور مُقدّس اِجتماع طلب کرو۔ رہنماؤں کو اَور مُلک کے تمام باشِندوں کو یَاہوِہ اَپنے خُدا کے گھر میں آنے کا فرمان سُناؤ، اَور یَاہوِہ سے فریاد کرو۔
JOE 1:15 اُس دِن پر افسوس! کیونکہ یَاہوِہ کا دِن نزدیک ہے، اَور وہ قادرمُطلق کی طرف سے تباہی کی مانند آئے گا۔
JOE 1:16 کیا ہماری اَپنی آنکھوں کے سامنے رسد موقُوف نہیں ہُوئی۔ اَور ہمارے خُدا کے گھر سے خُوشی اَور شادمانی جاتی نہ رہی؟
JOE 1:17 مٹّی کے ڈھیلوں کے نیچے بیج جھُلس گیٔے۔ گودام خستہ حال ہیں، اَور کھتّے توڑ دئیے گیٔے ہیں، کیونکہ کھیتی سُوکھ گی ہے۔
JOE 1:18 مویشی کیسے کراہ رہے ہیں! ریوڑ چکّر کاٹ رہے ہیں کیونکہ اُن کے لیٔے چراگاہ نہیں ہے؛ یہاں تک کہ بھیڑوں کے گلّے بھی بدحال ہیں۔
JOE 1:19 اَے یَاہوِہ، مَیں آپ کے حُضُور میں فریاد کرتا ہُوں، کیونکہ آگ نے بیابان کی چراگاہوں کو بھسم کر ڈالا ہے اَور شُعلوں نے جنگل کے تمام درختوں کو جَلا ڈالا ہے۔
JOE 1:20 یہاں تک کی جنگلی جانور بھی آپ کے لیٔے ہانپتے ہیں؛ پانی کے چشمے سُوکھ چُکے ہیں اَور آگ نے بیابان کی چراگاہوں کو بھسم کر ڈالا ہے۔
JOE 2:1 صِیّونؔ میں نرسنگا پھُونکو؛ میرے کوہِ مُقدّس پر خطرہ کی خبر سُناؤ۔ مُلک کے تمام باشِندے تھرتھرائیں، کیونکہ یَاہوِہ کا دِن آ رہاہے۔ وہ بالکُل قریب آ گیا ہے۔
JOE 2:2 وہ تاریکی اَور اُداسی کا، اَور کالے بادل اَور ظلمت کا دِن ہے۔ جَیسے پہاڑوں پر صُبح کی رَوشنی پھیلتی ہے وَیسے ہی ایک بڑی اَور زبردست فَوج آ رہی ہے، اَیسا جو قدیم زمانہ میں کبھی نہیں ہُوا تھا اَور نہ ہی مُستقبِل میں کبھی اَیسا ہوگا۔
JOE 2:3 اُن کے آگے آگے آگ بھسم کرتی جاتی ہے، اَور اُن کے پیچھے شُعلے کی لپٹیں ہیں۔ اُن کے سامنے کی زمین باغِ عدنؔ کی مانند ہے، اَور اُن کے پیچھے ایک ویران بیابان ہے۔ کویٔی چیز اُن سے نہیں بچ پاتی۔
JOE 2:4 اُن کی شکل گھوڑوں کی مانند ہے؛ اَور وہ فَوجی گُھڑسوار کی سرپٹ دَوڑتے ہیں۔
JOE 2:5 اُن کے آگے بڑھنے کی آواز گویا پہاڑوں کی چوٹیوں پر دَوڑنے والے رتھوں کی مانند ہے، وہ شُعلہ زن کی مانند بھُوسے کو بھسم کردیتی ہے، اَور وہ میدانِ جنگ کے لئے تیّار ایک زبردست فَوج کی مانند ہیں۔
JOE 2:6 اُن کے سامنے قومیں خوفزدہ ہو جاتی ہیں؛ اَور ہر ایک چہرہ خوف سے پیلا پڑ جاتا ہے۔
JOE 2:7 وہ جنگی سُورماؤں کی طرح چلتے ہیں؛ اَور جنگی سپاہیوں کی طرح دیواروں پر چڑھ جاتے ہیں۔ وہ سَب ایک ہی صف ہیں چلتے ہیں، اَور اَپنی صف نہیں توڑتے۔
JOE 2:8 وہ ایک دُوسرے کو دھکّا نہیں دیتے؛ ہر ایک سیدھا آگے کو کُوچ کرتا ہے۔ وہ جنگی مورچوں کو بغیر اَپنی صف کو توڑے آگے بڑھتے ہیں۔
JOE 2:9 وہ شہر پر ٹوٹ پڑتے ہیں؛ اَور دیوار پر دَوڑتے ہیں۔ وہ گھروں پر چڑھ جاتے ہیں؛ اَور چوروں کی مانند کھڑکیوں سے گھُس جاتے ہیں۔
JOE 2:10 اُن کے سامنے زمین کانپتی ہے، اَور آسمان لرزتا ہے، آفتاب اَور مَہتاب تاریک ہو جاتے ہیں، اَور سِتارے چمکنا چھوڑ دیتے ہیں۔
JOE 2:11 یَاہوِہ اَپنی فَوج کے آگے ہوکر بُلند آواز سے گرجتا ہے؛ کیونکہ اُن کی فَوج لاتعداد ہے، اَور اُن کے حُکم بردار زبردست ہیں۔ یَاہوِہ کا دِن عظیم ہے؛ وہ نہایت خوفناک ہے۔ کون اُسے برداشت کر سکےگا؟
JOE 2:12 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، اَب بھی، اَپنے پُورے دِل سے، روزہ رکھ کر روتے اَور ماتم کرتے ہُوئے میری طرف لَوٹ آؤ۔
JOE 2:13 اَپنے کپڑوں کو نہیں بَلکہ اَپنے دِل کو چاک کرو۔ یَاہوِہ اَپنے خُدا کی طرف لَوٹو، کیونکہ وہ نہایت کریم اَور رحیم ہے، قہر کرنے میں دھیما اَور شفقت میں غنی ہے، اَور وہ عذاب نازل کرنے سے باز رہتاہے۔
JOE 2:14 کون جانتا ہے؟ شاید وہ پلٹ کر رحم کھائے اَور اَیسی برکت دے جائے۔ جو یَاہوِہ تمہارے خُدا کے لیٔے اناج کی نذر اَور تپاون کی نذر کی قُربانی ہو۔
JOE 2:15 صِیّونؔ میں نرسنگا پھُونکو، مُقدّس روزہ کا اعلان کرو، اَور مُقدّس اِجتماع طلب کرو۔
JOE 2:16 لوگوں کو جمع کرو، اِجتماع کو مُقدّس کرو؛ رہنماؤں کو جمع کرو، بچّوں اَور شیرخواروں کو بھی جمع کرو۔ دُلہا اَپنے کوہبر اَور دُلہن اَپنی خلوت گاہ سے نکل آئے۔
JOE 2:17 یَاہوِہ کے خدمت گزار کاہِنؔ، بیت المُقدّس کی دیوڑھی اَور قُربان گاہ کے درمیان رو رو کر کہیں۔ اَے یَاہوِہ، ”اَپنے لوگوں پر رحم کیجئے۔ اَپنی مِیراث کی توہین نہ ہونے دیں، اَور نہ ہی اُنہیں غَیر قوموں میں ضرب المثل بننے دیں۔ وہ لوگوں کے درمیان یہ کیوں کہیں کہ اُن کا خُدا کہاں ہے؟“
JOE 2:18 تَب یَاہوِہ کو اَپنے مُلک کے لیٔے غیرت آئی اَور وہ اَپنے لوگوں پر رحم کیا۔
JOE 2:19 تَب یَاہوِہ نے اَپنی قوم سے مُخاطِب ہُوا: ”مَیں تمہارے لیٔے اناج، نئی مَے اَور زَیتُون کے تیل بھیج رہا ہُوں، جِن سے تُم سیر ہوگے؛ اَور مَیں پھر کبھی قوموں کے درمیان تمہاری رُسوائی نہ ہونے دُوں گا۔
JOE 2:20 ”مَیں شمالی فَوج کو تُم سے بہت دُور کر دُوں گا، اَور اُسے خشک اَور بنجر مُلک میں دھکیل دُوں گا، اُس کی صفیں مشرقی بحرمُردار میں اَور صفیں مغربی بحرِ رُوم میں ڈُوب جایٔیں گی۔ اَور اُس سے بدبُو اُٹھے گی؛ جِس سے بُو پھیلے گی۔“ یقیناً اُنہُوں نے نہایت بُرے کام کئے ہیں۔
JOE 2:21 اَے مُلکِ یہُوداہؔ، تُو مت ڈر؛ شادمان ہو اَور خُوشی منا۔ یقیناً یَاہوِہ نے بڑے بڑے کام کئے ہیں۔
JOE 2:22 اَے جنگلی جانوروں، تُم مت ڈرو، کیونکہ بیابان کی چراگاہیں ہری بھری ہو رہی ہیں۔ درختوں پر پھل لگ رہے ہیں؛ اَنجیر کے درخت اَور انگور کی بیلیں اَپنی پیداوار دے رہے ہیں۔
JOE 2:23 اَے صِیّونؔ کے لوگوں، خُوش ہو جاؤ، یَاہوِہ اَپنے خُدا میں شادمان ہو، کیونکہ اُس نے اَپنی صداقت سے تُمہیں خزاں کے موسم کی بارش بخشی۔ یعنی خزاں اَور بہار دونوں موسموں میں، پہلے کی طرح ہی مینہ برسائے گا۔
JOE 2:24 کھلیان اناج سے بھر جایٔیں گے؛ اَور حوض نئی مے اَور زَیتُون کے تیل سے لبریز ہوں گے۔
JOE 2:25 اَور جِن سالوں کی پیداوار ٹِڈّیوں نے کھا لی ہیں، یعنی اُن بڑی اَور چُھوٹی ٹِڈّیوں نے میں اُس نُقصان کی بھرپائی کر دُوں گا۔ جسے ٹِڈّیوں کی فَوج نے کھا لیا یعنی اُس زبردست فَوج نے جنہیں مَیں نے تمہارے درمیان بھیجا تھا۔
JOE 2:26 تُم پیٹ بھرکے کھاؤگے اَور سیر ہوگے، اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کے نام کی تمجید کروگے، جنہوں نے تمہارے لیٔے عجِیب و غریب کام کئے ہیں؛ میرے لوگ پھر کبھی شرمندہ نہ ہوں گے۔
JOE 2:27 تَب تُم جان لوگے کہ میں اِسرائیل میں سکونت پذیر ہُوں، اَور یہ بھی کہ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں، اَور کویٔی دُوسرا نہیں ہے؛ میرے لوگ پھر کبھی شرمندہ نہ ہوں گے۔
JOE 2:28 اَور اِس کے بعد، مَیں تمام لوگوں پر اَپنا رُوح نازل کروں گا۔ تمہارے بیٹے اَور بیٹیاں نبُوّت کریں گی، تمہارے بُزرگ خواب دیکھیں گے، اَور تمہارے نوجوان رُویا دیکھیں گے۔
JOE 2:29 اُن دِنوں میں، میں اَپنے خادِم اَور خادِموں پر بھی، اَپنا رُوح نازل کروں گا۔
JOE 2:30 میں اُوپر آسمان میں اَور نیچے زمین پر معجزے دِکھاؤں گا، یعنی خُون، اَور آگ اَور گاڑھا دُھواں۔
JOE 2:31 اِس سے پہلے کہ یَاہوِہ کا خوفناک روزِ عظیم آئے، آفتاب تاریک ہو اَور ماہتاب خُون کی طرح سُرخ ہو جائے گا۔
JOE 2:32 اَورجو کویٔی یَاہوِہ کا نام لے کر پُکارے گا نَجات پایٔےگا؛ کیونکہ یَاہوِہ کے قول کے مُطابق کوہِ صِیّونؔ پر اَور یروشلیمؔ میں جِن باقی بچے لوگوں کو یَاہوِہ بُلائیں گے وہ نَجات پائیں گے۔
JOE 3:1 اُن ایّام میں اَور اُس وقت، جَب مَیں یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے لوگوں کو اسیری سے چھُڑا لاؤں گا،
JOE 3:2 تَب میں سَب قوموں کو جمع کرکے اُنہیں یہوشافاطؔ کی وادی میں لے آؤں گا۔ وہاں میں اَپنی مِیراث یعنی اَپنی قوم اِسرائیل کے متعلّق اُن کے خِلاف فیصلہ کروں گا، کیونکہ اُنہُوں نے میرے لوگوں کو مُختلف قوموں میں بِکھیر دیا تھا اَور میرے مُلک کو تقسیم کر دیا۔
JOE 3:3 اُنہُوں نے میرے لوگوں کے لیٔے قُرعہ ڈالا اَور کسبیوں کے بدلے میں لڑکوں کا سَودا کیا؛ اَور لڑکیوں کو فروخت کیا، تاکہ وہ مَے نوشی کریں۔
JOE 3:4 ”اَب اَے صُورؔ اَور صیدونؔ اَور فلسطین کے تمام علاقہ، تُمہیں میرے خِلاف کیا شکایت ہے؟ کیا تُم مُجھے میرے کسی کام کا صِلہ دے رہے ہو؟ اگر تُم مُجھے لَوٹا بھی رہے ہو تو میں فوراً نہایت عجلت سے جو کچھ تُم نے کیا ہُواہے، تمہارے ہی سَروں پر ڈال دُوں گا۔
JOE 3:5 کیونکہ تُم نے میری چاندی اَور میرا سونا لے لیا اَور میرے نفیس خزانے اَپنے مَندِروں میں رکھ لیا ہے۔
JOE 3:6 تُم نے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے لوگوں کو یُونانیوں کے ہاتھ فروخت کیا تاکہ تُم اُنہیں اُن کے مادرِ وطن سے دُور کر دو۔
JOE 3:7 ”دیکھو، میں اُنہیں اُن مقامات سے جہاں تُم نے اُنہیں بیچا ہے اُبھاروں گا اَور تُم نے جو کچھ کیا اُسے تمہارے سَر پر لَوٹاؤں گا۔
JOE 3:8 مَیں تمہارے بیٹوں اَور بیٹیوں کو اہلِ یہُوداہؔ کے ہاتھ بیچوں گا اَور وہ اُنہیں شبائیوں کے ہاتھ فروخت کریں گے جو بہت دُور رہنے والی قوم ہے۔“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
JOE 3:9 مُختلف قوموں میں اعلان کرو، جنگ کی تیّاری کرو! سپاہیوں کو جگاؤ! تمام جنگجو مَرد قریب آکر حملہ کریں۔
JOE 3:10 اَپنے اَپنے ہلوں کے پھالوں کو پیٹ کر تلواریں اَور اَپنے اَپنے درانتیوں کو پیٹ کر نیزے بنالو۔ جو کمزور ہو وہ بھی کہے کہ ”میں زورآور ہُوں!“
JOE 3:11 اَے اِردگرد کی تمام قوموں جلدی آ جاؤ، اَور وہاں جمع ہو جاؤ۔ اَے یَاہوِہ اَپنے جنگجو سپاہیوں کو لے آ!
JOE 3:12 ”قومیں جاگ اُٹھیں؛ اَور وہ یہوشافاطؔ کی وادی کی طرف کوچ کریں، کیونکہ مَیں وہاں تخت نشین ہوکر چاروں طرف کی سَب قوموں کا اِنصاف کروں گا۔
JOE 3:13 درانتی لگاؤ، کیونکہ فصل پک گئی ہے۔ آؤ اَور انگوروں کو روندو، کیونکہ کی انگوری حوض لبالب بھرا ہے اَور حوض لبریز ہے۔ کیونکہ اُن کی بدکاری بہت بڑی ہے!“
JOE 3:14 فیصلہ کی وادی میں ہُجوم ہی ہُجوم ہے! کیونکہ فیصلہ کی وادی میں یَاہوِہ کا دِن نزدیک ہے۔
JOE 3:15 آفتاب اَور مَہتاب تاریک ہو جایٔیں گے، اَور سِتارے بے نُور ہو جایٔیں گے۔
JOE 3:16 یَاہوِہ صِیّونؔ سے دہاڑے گا اَور یروشلیمؔ سے گرجے گا؛ جِس سے آسمان اَور زمین کانپ اُٹھیں گے۔ لیکن یَاہوِہ اَپنے لوگوں کے لیٔے پناہ گاہ، اَور بنی اِسرائیل کے لیٔے قلعہ ہوگا۔
JOE 3:17 ”تَب تُم جان لوگے کہ میں یَاہوِہ تمہارا خُدا، اَپنے مُقدّس پہاڑ صِیّونؔ میں سکونت کرتا ہُوں۔ یروشلیمؔ مُقدّس مقام ہوگا؛ اَور پردیسی پھر کبھی اُس پر حملہ نہیں کریں گے۔
JOE 3:18 ”اُس وقت پہاڑوں پر سے نئی مَے ٹپکے گی، اَور ٹیلوں پر سے دُودھ بہے گا؛ اَور یہُوداہؔ کے تمام نالوں میں پانی بہنا جاری رہے گا۔ اَور یَاہوِہ کے گھر میں سے ایک چشمہ پھوٹ نکلے گا جو شِطِّیمؔ کی وادی کو سیراب کرےگا۔
JOE 3:19 چونکہ اُنہُوں نے یہُوداہؔ پر ظُلم ڈھائے، اَور اُن کے مُلک میں بےگُناہوں کا خُون بہایا، اِس لیٔے مِصر ویران ہو جائے گا، اَور اِدُوم ریگستان بَن جائے گا۔
JOE 3:20 لیکن یہُودیؔہ اَب سے اَبد تک آباد رہے گا اَور یروشلیمؔ پُشت در پُشت قائِم رہے گے۔
JOE 3:21 کیا مَیں اُن بےگُناہوں کے قتل کا اِنتقام لئے بغیر جانے دُوں، نہیں، بالکُل نہیں۔“
AMO 1:1 عامُوسؔ نبی کا کلام جو تقوعؔ کے ایک چرواہے تھے۔ اُنہُوں نے زلزلہ سے دو سال پہلے بنی اِسرائیل کی بابت رُویا دیکھی، جَب شاہِ یہُودیؔہ عُزّیاہؔ اَور یرُبعامؔ بِن یہُوآشؔ مُلکِ اِسرائیل کا بادشاہ تھا۔
AMO 1:2 عامُوسؔ نبی نے فرمایا، یَاہوِہ صِیّونؔ سے دہاڑتے ہیں اَور یروشلیمؔ سے گرجتے ہیں، چرواہوں کی چراگاہیں سُوکھ رہی ہیں، اَور کرمِلؔ کی چوٹی مُرجھا رہی ہے۔
AMO 1:3 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، دَمشق شہر کے تین نہیں بَلکہ چار گُناہوں کے باعث، مَیں اُسے بے سزا نہیں چھوڑوں گا۔ کیونکہ اُس نے گِلعادؔ کو لوہے کے دھاردار آہنی اوزار سے روند ڈالا۔
AMO 1:4 میں حزائیلؔ کے گھرانے پر آگ نازل کروں گا جو بِن ہددؔ کے شاہی محلوں کو جَلا کر راکھ کر دے گی۔
AMO 1:5 میں دَمشق کے پھاٹکوں کو توڑ دُوں گا؛ اَور آوِنؔ کی وادی کے بادشاہ کو اَور اُس کو جو بیت عدنؔ پر حُکمرانی کرتا ہے ہلاک کر دُوں گا اَور ارامی لوگ جَلاوطن ہوکر قیرؔ کو جایٔیں گے۔ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
AMO 1:6 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، غزّہؔ کے تین بَلکہ چار گُناہوں کے باعث، مَیں اُسے سزا دینے سے باز نہیں آؤں گا۔ کیونکہ اُس نے پُوری قوم کو اسیر کر لیا اَور اُنہیں اِدُوم کے ہاتھ بیچ دیا۔
AMO 1:7 اِس لئے مَیں غزّہؔ کے شہرپناہ پر آگ بھیجوں گا جو اُس کے شاہی محلوں کو جَلا کر راکھ کر دے گی۔
AMO 1:8 مَیں شاہِ اشدُودؔ کو اَور شاہِ اشقلونؔ کو ہلاک کر دُوں گا۔ مَیں عقرونؔ کے خِلاف اَپنا ہاتھ بڑھاؤں گا، جَب تک کہ آخِری فلسطینی ہلاک نہ ہو جائے، یہی یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔
AMO 1:9 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، مَیں صُورؔ کے تین بَلکہ اُس کے چار گُناہوں کے باعث، مَیں اُسے بے سزا نہ چھوڑوں گا۔ کیونکہ اُس نے سَب کو اسیر کرکے اُنہیں اِدُوم کو بیچ دیا، اَور برادرانہ عہد کا لحاظ نہ کیا،
AMO 1:10 اِس لیٔے مَیں صُورؔ کی شہرپناہ پر آگ نازل کروں گا جو اُس کے شاہی محلوں کو جَلا کر راکھ کر دے گی۔
AMO 1:11 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، اِدُوم کے تین بَلکہ چار گُناہوں کے باعث، مَیں اُسے بے سزا نہ چھوڑوں گا۔ کیونکہ اُس نے بےرحم ہوکر، اَپنے بھائیوں کو تلوار لے کر رگیدا، اَور مُلک کی عورتوں کا قتل عام کیا اَور اُس کا قہر ہمیشہ بھڑکتا رہا، اَور اُس کا غضب کبھی ختم نہ ہُوا۔
AMO 1:12 مَیں تیمانؔ پر آگ نازل کروں گا، جو بُضراؔہ کے شاہی محلوں کو جَلا کر راکھ کر دے گی۔
AMO 1:13 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، عمُّون کے تین بَلکہ چار گُناہوں کے باعث مَیں اُسے بے سزا نہ چھوڑوں گا۔ کیونکہ اُس نے اَپنی سرحدوں کو بڑھانے کے لیٔے گِلعادؔ کی حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کئے،
AMO 1:14 جَب جنگ کے وقت شوروغل ہو رہے ہوں گے، جَب زبردست طُوفان اَور قتل عام ہو رہے ہوں گے اُس وقت، مَیں ربّہؔ کی شہرپناہ پر آگ نازل کروں گا جو اُس کے شاہی محلوں کو جَلا کر راکھ کر دے گی۔
AMO 1:15 یَاہوِہ فرماتے ہیں، عمُّون کا بادشاہ اَپنے حاکموں کے ساتھ، اسیری میں جائے گا۔
AMO 2:1 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، مُوآب کے تین بَلکہ چار گُناہوں کے باعث مَیں اُسے بے سزا نہیں چھوڑوں گا۔ کیونکہ اُس نے اِدُوم کے بادشاہ کی ہڈّیوں کو جَلا کر راکھ کر دیا تھا۔
AMO 2:2 اِس لئے مَیں مُوآب پر بڑی آگ نازل کروں گا جو قِریوتؔ کے شاہی محلوں کو جَلا کر راکھ کر دے گی۔ مُوآب جنگ کی للکار اَور نرسنگوں کی آواز کے شور و غُل کے درمیان مَرے گا۔
AMO 2:3 یَاہوِہ فرماتے ہیں، مَیں اُس کے حُکمران کو اُس کے حاکموں کے ساتھ غارت کروں گا۔
AMO 2:4 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، مَیں بنی یہُوداہؔ کے تین بَلکہ چار گُناہوں کے باعث مَیں اُسے بے سزا نہ چھوڑوں گا۔ کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کے آئین کو ترک کر دیا اَور اُن کے قوانین پر عَمل نہیں کیا، اُن کے جھُوٹے معبُودوں نے ہی اُنہیں جِن کی اُن کے آباؤاَجداد پیروی کرتے تھے گُمراہ کیا۔
AMO 2:5 مَیں یہُوداہؔ پر آگ نازل کروں گا جو یروشلیمؔ کے شاہی محلوں کو جَلا کر راکھ کر دے گی۔
AMO 2:6 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، بنی اِسرائیل کے تین بَلکہ چار گُناہوں کی باعث مَیں اُسے بے سزا نہ چھوڑوں گا۔ وہ چاندی کے لیٔے راستباز کو، اَور ایک جوڑی جُوتی کی خاطِر حاجت مند کو بیچ دیتے ہیں۔
AMO 2:7 وہ کنگال کے سَر کو اَیسا کُچلتے ہیں جَیسے زمین پر دُھول کو روندا جاتا ہے وہ مظلوموں کو اِنصاف نہیں دیتے۔ باپ اَور بیٹا دونوں ایک ہی لڑکی سے ہم بِستر ہوتے ہیں، اَور اَیسا کرکے وہ میرے پاک نام کو ناپاک کرتے ہیں۔
AMO 2:8 وہ ہر مذبح کے بازو میں گروی رکھے ہُوئے کپڑوں پر لیٹتے ہیں۔ اَور اَپنے معبُودوں کے گھر میں جرمانے کی رقم سے مَے نوشی کرتے ہیں۔
AMO 2:9 مَیں نے ہی اُن کے سامنے امُوریوں کو نِیست و نابود کیا، حالانکہ امُوری دیودار کی طرح اُونچے اَور بلُوط کے درخت کی مانند مضبُوط تھے۔ ہاں مَیں نے ہی اُوپر سے اُن کا پھل اَور نیچے سے اُن کی جڑیں کاٹ دی۔
AMO 2:10 اَور مَیں ہی تُمہیں مِصر سے باہر نکال کر لایا، اَور چالیس بَرس تک بیابان میں تمہاری رہبری کرتا رہا، تاکہ تُم امُوریوں کے مُلک پر قابض ہو جاؤ۔
AMO 2:11 یَاہوِہ فرماتے ہیں، مَیں نے ہی تمہارے بیٹوں میں سے نبی اَور تمہارے جَوانوں میں سے نذیر برپا کئے۔ اَے بنی اِسرائیل، کیا یہ سچ نہیں ہے؟
AMO 2:12 لیکن تُم نے نذیروں کو مَے پلائی اَور نبیوں کو حُکم دیا کہ نبُوّت نہ کریں۔
AMO 2:13 اِس لئے اَب مَیں تُم کو اَیسا کُچل دُوں گا جَیسے گلّے سے بھری ہُوئی گاڑی کُچلتی ہے۔
AMO 2:14 تیز رفتار سے دَوڑنے والا بھی نہ بچنے پایٔےگا، اَور زورآور کی طاقت جاتی رہے گی، اَور سُورما بھی اَپنی جان بچا نہ سکےگا۔
AMO 2:15 تیر اَنداز کھڑا نہ رہ سکےگا، اَور تیز دَوڑنے والا فَوجی بھی بھاگ نہ پائے گا، اَور گُھڑسوار بھی اَپنی جان نہ بچا سکےگا۔
AMO 2:16 اُس دِن بڑے بڑے سُورما بھی اَپنے کپڑے چھوڑکر بھاگ جائیں گے۔ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
AMO 3:1 اَے بنی اِسرائیل، یَاہوِہ کا یہ کلام سُنو اِس پُورے خاندان کے خِلاف جسے مَیں مِصر سے باہر نکال کر لایا:
AMO 3:2 ”دُنیا کے سَب گھرانوں میں سے مَیں نے صِرف تُمہیں مُنتخب کیا ہے؛ اِس لیٔے مَیں تُمہیں تمہارے سارے گُناہوں کی سزا دُوں گا۔“
AMO 3:3 کیا یہ ممکن ہے کہ بغیر آپسی رضامندی کے دو شخص ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟
AMO 3:4 کیا شیر بغیر شِکار پائے جنگل میں گرجتا ہے؟ اگر شیر نے کچھ شِکار نہ کیا ہو تو کیا وہ اَپنی ماند میں غُرّا سَکتا ہے؟
AMO 3:5 اگر جال نہ لگایا گیا ہو تو کیا پرندہ اُس میں پھنس سکتا ہے؟ کیا پھندا جَب تک کہ اُس میں کچھ پھنسا نہ ہو زمین پر سے اُچھل سَکتا ہے؟
AMO 3:6 جَب شہر میں نرسنگے کی آواز بُلند ہوتی ہے، تو کیا لوگ کانپ نہیں جاتے؟ کیا یَاہوِہ کے بھیجے بغیر ہی کسی شہر پر آفت آتی ہے۔
AMO 3:7 یقیناً، یَاہوِہ قادر اَپنے خادِم نبیوں پر اَپنا منصُوبہ ظاہر کئے بغیر کچھ بھی نہیں کرتے۔
AMO 3:8 جَب شیر گرجتا ہے۔ تو کون ہے جو خوف نہ کھائے گا؟ یَاہوِہ قادر نے کلام کیا ہے۔ تُو کون ہے جو نبُوّت نہ کرےگا؟
AMO 3:9 اشدُودؔ کے شاہی محلوں اَور مِصر کے شاہی محلوں میں مُنادی کرو سَب کوہِ سامریہؔ پر جمع ہو جاؤ؛ اَور دیکھو اُس میں کیسا ہنگامہ اَور اُس کے لوگوں کے درمیان کیسا ظُلم ہے۔
AMO 3:10 یَاہوِہ فرماتے ہیں: جو لوگ اَپنے شاہی محلوں میں لُوٹ مار کرتے ہیں اَور مالِ غنیمت جمع کرتے ہیں، وہ نیکی کرنا جانتے ہی نہیں۔
AMO 3:11 چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں، ایک دُشمن تمہارے مُلک کا محاصرہ کرےگا؛ وہ تمہارے شاہی قلعوں کو ڈھا دے گا، اَور تمہارے شاہی محلوں کو لُوٹ لے گا۔
AMO 3:12 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، جِس طرح سے چرواہا ٹانگوں کی دو ہڈّی یا کان کا ایک ٹکڑا ہی، شیر کے مُنہ سے چُھڑا پاتاہے، اُسی طرح بنی اِسرائیل بھی جو سامریہؔ میں سکونت کرتے ہیں، اَیسے بچائے جائیں گے جَیسے پلنگ کا گوشہ اَور پلنگ سے کپڑے کا ایک ٹکڑا۔
AMO 3:13 یَاہوِہ قادرمُطلق خُدا فرماتے ہیں، سُنو اَور یعقوب کے گھرانے کے خِلاف گواہی دو۔
AMO 3:14 جِس دِن مَیں بنی اِسرائیل کو اُس کے گُناہوں کی سزا دُوں گا، تو مَیں بیت ایل کے مذبحوں کو نِیست و نابود کر دُوں گا؛ اَور مذبح کے سینگ کاٹ کر زمین پر گرا دئیے جایٔیں گے۔
AMO 3:15 یَاہوِہ اعلان فرماتے ہیں، مَیں سردیوں اَور گرمیوں کے رِہائشی گھروں کو نِیست و نابود کر دُوں گا؛ اَور ہاتھی دانت سے سجائے ہُوئے گھر ویران کر دئیے جایٔیں گے، اَور محلوں کو گرا دیا جائے گا۔
AMO 4:1 اَے باشانؔ کی گایوں، ”تُم یہ کلام سُنو! تُم جو کوہِ سامریہؔ پر رہتی ہو، اَے عورتوں تُم جو غریبوں کو ستاتی ہو اَور ضروُرت مندوں کو کُچلتی ہو اَور اَپنے شوہروں سے کہتی ہو کہ ہماری مَے نوشی کے لیٔے کچھ لاؤ!“
AMO 4:2 یَاہوِہ قادر اَپنی پاکیزگی کی قَسم کھا کر فرماتے ہیں دیکھو، مُستقبِل میں تُم پر اَیسے دِن ضروُر آنے والے ہیں، جَب تمہاری ناک میں کانٹا پھنسا کر لے جایا جائے گا، اَور تمہاری اَولادوں کو مچھلی پکڑنے والے کانٹے میں پھنسا کر لے جایا جائے گا۔
AMO 4:3 یَاہوِہ فرماتے ہیں، تُم مَیں سے ہر ایک دیوار کی دراڑوں سے ہوکر سیدھے باہر فرار ہو جاؤگے اَور تُمہیں حرمُونؔ کی طرف پھینک دیا جائے گا۔
AMO 4:4 بیت ایل میں جاؤ اَور گُناہ کرو؛ گِلگالؔ میں جا کر اَور زِیادہ گُناہ کرو۔ ہر صُبح کو اَپنی قُربانیاں، اَور ہر تیسرے روز اَپنی دہ یکی لاؤ۔
AMO 4:5 یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں، خمیری روٹی کے شُکر گُزاری کی نذر آگ میں گذرانو اَور اَپنی رضا کی قُربانیاں پر فخر کرو، اَور اَے بنی اِسرائیل اُن قُربانیوں پر فخر کرو، کیونکہ تُم کو اَیسا کرنا پسند ہے۔
AMO 4:6 یَاہوِہ فرماتے ہیں، مَیں نے تُمہیں ہر شہر میں خالی پیٹ رکھا اَور ہر شہر میں روٹی کی کمی دی، پھر بھی تُم میری طرف رُجُوع نہ لائے۔
AMO 4:7 اگرچہ مَیں نے بارش کو اُس وقت تک روک دیا جَب فصل پکنے میں تین مہینے باقی تھے۔ تَب مَیں نے بارش روکے رکھی، مَیں نے ایک شہر پر بارش کی اَور دُوسرے سے روک رکھی۔ ایک کھیت پر بارش ہوئی؛ اَور دُوسرا کھیت بارش نہ ہونے کے باعث سُوکھ گیا۔
AMO 4:8 لوگ پانی کی تلاش میں ایک بستی سے دُوسری بستی میں مارے مارے پھرتے رہے، لیکن اُنہیں پینے کا پانی نہیں مِلا، یَاہوِہ فرماتے ہیں، پھر بھی تُم میری طرف رُجُوع نہ ہُوئے۔
AMO 4:9 کیٔی مرتبہ مَیں نے تمہارے باغوں اَور تاکستانوں پر، بادِ سموم اَور پھپھُوندی سے مارا۔ ٹِڈّیوں نے تمہارے اَنجیر اَور زَیتُون کے درختوں کو چٹ کر لیا، یَاہوِہ کا فرمان ہے، تو بھی تُم میری طرف رُجُوع نہ ہُوئے،
AMO 4:10 مَیں نے تمہارے اُوپر وَبا بھیجی جَیسی کہ مِصر میں بھیجی تھی۔ مَیں نے تمہارے جَوانوں کو تلوار سے قتل کیا اَور تمہارے گھوڑے چھین لئے۔ مَیں نے تمہارے نتھنوں کو لشکرگاہ کی بدبُو سے بھر دیا، یَاہوِہ کا فرمان ہے، تو بھی تُم میری طرف رُجُوع نہ ہُوئے۔
AMO 4:11 مَیں نے تُم میں سے بعض کو سدُومؔ اَور عمورہؔ کی طرح نِیست و نابود کر دیا۔ تُم اُس جلتی ہُوئی لکڑی کی مانند تھے جو گویا آگ میں سے نکالی گئی ہو، تو بھی تُم میری طرف رُجُوع نہ ہُوئے، یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
AMO 4:12 اِس لیٔے، اَے بنی اِسرائیل مَیں تمہارے ساتھ یہ کروں گا، اَور چونکہ مَیں تمہارے ساتھ یہ کروں گا، اِس لیٔے، اَے بنی اِسرائیل تُو اَپنے خُدا سے مِلنے کی تیّاری کر۔
AMO 4:13 جِس نے پہاڑوں کو، اَور ہَوا کو خلق کیا، اَورجو اَپنے خیالات اِنسانوں پر ظاہر کرتے ہیں، جو صُبح کو تاریکی میں تبدیل کرتے ہیں، اَور زمین کے اُونچے مقامات پر چلتے ہیں، اُن کا نام یَاہوِہ قادرمُطلق خُدا ہے۔
AMO 5:1 اَے بنی اِسرائیل یہ کلام سُنو۔ مَیں یہ نوحہ تمہاری بابت کر رہا ہُوں،
AMO 5:2 کنواری اِسرائیل گِر گئی اَور پھر کبھی نہیں اُٹھے گی، وہ اَپنے ہی مُلک میں تنہا چھوڑ دی گئی اَور کویٔی اُس کو اُٹھانے والا نہیں۔
AMO 5:3 یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں، تمہارا شہر اِسرائیل جو ایک ہزار سُورماؤں کو لے کر آگے کوچ کرتا تھا اُس میں سے صِرف سَو باقی رہ جایٔیں گے؛ اَور تمہارے قصبے جِس میں سے سَو نکلتے تھے اُس میں دس ہی باقی رہ جایٔیں گے۔
AMO 5:4 یَاہوِہ بنی اِسرائیل سے یُوں فرماتے ہیں، تُم میری تلاش کرو اَور زندہ رہو؛
AMO 5:5 بیت ایل کے طالب نہ بنو، گِلگالؔ میں داخل مت ہو، بیرشبعؔ کو نہ جاؤ، کیونکہ گِلگالؔ ضروُر اسیری میں جائے گا، اَور بیت ایل کا نام و نِشان مِٹ جائے گا۔
AMO 5:6 یَاہوِہ کی تلاش کرو اَور زندہ رہو، اَیسا نہ ہو کہ وہ آگ کی مانند بنی یُوسیفؔ پر بھڑکے؛ اَور اُسے نگل جائے، اَور بیت ایل میں اُسے بُجھانے والا کوئی نہ ہو۔
AMO 5:7 اَیسے لوگ ہیں جو اِنصاف کو تلخی میں بدل دیتے ہیں، اَور راستبازی کو خاک میں مِلانے والوں،
AMO 5:8 جِس نے ثریّا اَور جبّار بنایا ہے، جو اَندھیرے کو صُبح کی رَوشنی میں، اَور دِن کو رات کے اَندھیرے میں تبدیل کرتے ہیں، جو سمُندر کے پانی کو بُلاتے ہیں اَور روئے زمین پر اُنڈیل دیتے ہیں۔ اُن کا نام یَاہوِہ ہے۔
AMO 5:9 وہ پَلک جھپکتے ہی قلعہ کو نِیست و نابود کر دیتے ہیں، اَور فصیلدار شہر کو تباہ کر دیتے ہیں۔
AMO 5:10 اَیسے لوگ ہیں جو عدالت میں اِنصاف کو قائِم کرنے والوں سے عداوت رکھتے ہیں، اَورجو سچ کہتاہے اُسے حقیر سمجھتے ہیں۔
AMO 5:11 تُم غریبوں کے بھُوسے پر بھی محصُول لیتے ہو، اَور اُن کے اناج پر بھی زبردستی محصُول لگاتے ہو۔ اِس لئے اگر تُم نے اَپنے لئے پتّھروں کے محلوں کو بھی تعمیر کیا ہو تو بھی، تُم اُس میں رہنے نہ پاؤگے؛ اگرچہ تُم نے نفیس تاکستان بھی لگائے ہوں تو بھی تُم اُن کی مَے نہ پی سکوگے۔
AMO 5:12 کیونکہ مَیں تمہاری بے شُمار خطاؤں اَور گُناہِ عظیم سے واقف ہُوں۔ تُم نیکوکار کو ستاتے ہو اَور رشوت لیتے ہو اَور اَپنی عدالت میں غریبوں کو اِنصاف سے محروم رکھتے ہو۔
AMO 5:13 اِس لیٔے اَیسے وقت میں دانا چُپ رہتاہے کیونکہ وقت بُرا ہے۔
AMO 5:14 بدی کے نہیں بَلکہ نیکی کے طالب ہو تاکہ تُم زندہ رہو۔ تَب یَاہوِہ قادرمُطلق خُدا تمہارے ساتھ رہیں گے، جَیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں۔
AMO 5:15 بدی سے نفرت رکھو اَور نیکی سے مَحَبّت؛ عدالت میں اِنصاف قائِم کرو۔ شاید یَاہوِہ قادرمُطلق خُدا بنی یُوسیفؔ کے بقیّہ پر رحم کرے۔
AMO 5:16 اِس لیٔے خُداوؔند یَاہوِہ قادرمُطلق خُدا فرماتے ہیں: سَب گلیوں میں نوحہ ہوگا اَور ہر چوراہے پر آہ و ماتم ہوگا۔ کِسانوں کو ماتم کرنے کے لیٔے اَور نوحہ گِر، نوحہ کرنے کے لیٔے بُلائے جایٔیں گے۔
AMO 5:17 سَب تاکستانوں میں ماتم ہوگا، کیونکہ مَیں تمہارے درمیان ہوکر گزروں گا، یَاہوِہ کا یہ فرمان ہے،
AMO 5:18 تُم پر ہائے، جو یَاہوِہ کے دِن کی آرزُو کرتے ہو، تُم یَاہوِہ کے دِن کی آرزُو کیوں کرتے ہو؟ وہ تو تاریکی کا دِن ہوگا، رَوشنی کا نہیں۔
AMO 5:19 وہ دِن اَیسا ہوگا گویا کویٔی آدمی شیرببر سے اَپنی جان بچا کے بھاگے اَور راستہ میں اُسے ریچھ مِل جائے، یا اَپنے گھر میں داخل ہو جائے اَور آرام فرمانے کو اَپنا ہاتھ دیوار پر ٹیکے اَور سانپ اُسے کاٹ لے۔
AMO 5:20 کیا یَاہوِہ کا دِن سخت تاریکی کا نہ ہوگا، رَوشنی کا نہیں۔ گہری تاریکی جِس میں رَوشنی کی ایک کِرن بھی نہ ہوگی؟
AMO 5:21 مَیں تمہاری عیدوں کو مکرُوہ سمجھتا ہُوں، مُجھے اُن سے نفرت ہے؛ اَور تمہارا اِجتماعات میرے لیے بدبودار ہیں۔
AMO 5:22 اگرچہ تُم میرے لیٔے سوختنی نذریں اَور اناج کی نذریں گزرانتے ہو، لیکن مَیں اُنہیں قبُول نہیں کروں گا۔ اگر تُم بہترین سلامتی کی نذر کی قُربانیاں گزرانو، تو بھی مَیں اُن کا کویٔی لحاظ نہ کروں گا۔
AMO 5:23 اَپنے نغموں کی آواز مُجھ سے دُور کرو! مَیں تمہاری بربط کی آواز نہ سُنوں گا۔
AMO 5:24 بَلکہ اِنصاف کو دریا کی مانند، اَور صداقت کو کبھی نہ سوکھنے والے چشمے کی مانند جاری رکھو!
AMO 5:25 ”اَے بنی اِسرائیل کیا تُم چالیس بَرس تک بیابان میں میرے لیٔے قُربانیاں کرتے اَور نذریں لاتے رہے؟
AMO 5:26 تُم تو اَپنے بادشاہ کا مزار، اَور اَپنے بُتوں کا سُتون اَور اَپنے معبُودوں کے سِتارے کو لیٔے پھرتے تھے، جنہیں تُم نے اَپنے لیٔے بنایا تھا۔
AMO 5:27 لہٰذا مَیں تُمہیں دَمشق سے بھی آگے جَلاوطن کرکے بھیجوں گا،“ یَاہوِہ کا یہ فرمان ہے، جِن کا نام قادرمُطلق خُدا ہے۔
AMO 6:1 افسوس تُم پر، جو صِیّونؔ میں عیش و آرام سے زندگی بسر کرتے ہو، اَور ہائے تُم پرجو کوہِ سامریہؔ پر محفوظ محسُوس کرتے ہو، اَور تُم سوچتے ہو کہ تُم اعلیٰ قوم کے مشہُور لوگ ہو، جِن کے پاس بنی اِسرائیل آتے ہیں!
AMO 6:2 تُم کَلنہؔ کو جاؤ اَور اُس پر نظر کرو؛ پھر وہاں سے بڑے حماتؔ شہر کو جاؤ، اَور پھر نیچے فلسطینیوں کے گاتؔھ کو جاؤ۔ کیا وہ تمہاری دو مملکتوں سے بہتر ہیں؟ کیا اُن کا مُلک تمہارے مُلک سے بڑا ہے؟
AMO 6:3 تُم میرے قہر کے دِن کو مُلتوی کرتے ہو اَور دہشت کی سلطنت کو نزدیک لے آتے ہو۔
AMO 6:4 تُم ہاتھی دانت سے مُزیّن پلنگ پر لیٹتے ہو اَور اَپنے بِستر پر آرام طلبی سے پاؤں پھیلاتے ہو۔ اَور اَپنے پسندیدہ برّے اَور فربہ بچھڑے کھاتے ہو۔
AMO 6:5 تُم داویؔد کی مانند اَپنے بربط پر گاتے ہو اَور موسیقی کے ساز ایجاد کرتے ہو۔
AMO 6:6 تُم لبریز پیالوں سے مَے نوشی کرتے ہو اَور بہترین عطر اِستعمال کرتے ہو، لیکن تُم بنی یُوسیفؔ کی تباہی پر غم نہیں کرتے۔
AMO 6:7 اِس لیٔے تُم لوگ سَب سے پہلے اسیری میں جاؤگے؛ تمہاری دعوت و عشرت کا خاتِمہ ہو جائے گا۔
AMO 6:8 یَاہوِہ قادر نے اَپنی ہی ذات کی قَسم کھائی ہے، اَور یَاہوِہ قادرمُطلق خُدا یہ اعلان کرتے ہیں، مَیں یعقوب کے غُرور سے عداوت رکھتا ہُوں اُس کے شاہی محلوں سے مُجھے نفرت ہے؛ مَیں اِس شہر اَور اِس کے باشِندوں کو اَور اِس کی سبھی چیزوں کو اُس کے دُشمنوں کے حوالہ کر دُوں گا۔
AMO 6:9 اگر کسی گھر میں دس آدمی بھی باقی ہوں گے تو بھی وہ مَر جایٔیں گے۔
AMO 6:10 اَور جَب کوئی رشتہ دار اُن کی لاشوں کو جَلانے کے لیٔے گھر سے باہر لے جانے کو آئے اَور وہاں چھُپے ہُوئے کسی آدمی سے پُوچھے، ”کیا تمہارے ساتھ کویٔی اَور ہے؟“ اَور وہ جَواب دے، نہیں، تَب وہ کہے، ”چُپ رہ۔ ہمیں یَاہوِہ کا نام نہیں لیناہے۔“
AMO 6:11 کیونکہ یَاہوِہ نے حُکم دیا ہے، اَور وہ بڑے گھر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اَور چُھوٹے گھر کو چکنا چُور کر دے گا۔
AMO 6:12 کیا چٹّانوں پر گھوڑے دَوڑتے ہیں؟ کیا وہاں بَیلوں سے ہل چلایا جاتا ہے؟ لیکن تُم نے اِنصاف کو زہر میں اَور صداقت کو تلخی میں بدل دیا ہے۔
AMO 6:13 تُم جو لُو دِبارؔ کی فتح پر خُوش ہو۔ اَور کہتے ہو کیا، ”ہم نے اَپنی طاقت سے قرنَیمؔ نہیں لیا؟“
AMO 6:14 کیونکہ یَاہوِہ قادرمُطلق خُدا اعلان کرتے ہیں، اَے بنی اِسرائیل، مَیں تمہارے خِلاف ایک قوم کو بھڑکاؤں گا، جو تُمہیں لیبو حماتؔ سے لے کر عراباہؔ کی وادی تک ستائے گی۔
AMO 7:1 یَاہوِہ قادر نے مُجھے یہ دِکھایا: شاہی حِصّے کی فصل کٹنے کے بعد، جَب دُوسری فصل آنے والی تھی، تَب یَاہوِہ ٹِڈّیوں کا ایک غول تیّار کر رہے تھے۔
AMO 7:2 جَب ٹِڈّیاں زمین کی سَب گھاس کو بالکُل چٹ کر گئیں، تَب مَیں نے زور سے چِلّاکر فریاد کی، ”اَے یَاہوِہ قادر، مُعاف کریں، یعقوب کیسے زندہ رہ سَکتا ہے؟ وہ تو بہت ہی چھوٹاہے!“
AMO 7:3 پس یَاہوِہ نے رحم کیا اَور اَپنے کام کو روک دیا۔ اَور فرمایا، ”اَب اَیسا نہیں ہوگا۔“
AMO 7:4 یَاہوِہ قادر نے مُجھے یہ دِکھایا: یَاہوِہ قادر نے اِنصاف کرنے کے لیٔے آگ کو بُلایا۔ اَور اُس آگ نے گہرے سمُندر کو سُکھا دیا اَور زمین کو نگل گئی۔
AMO 7:5 تَب مَیں چِلّایا، ”اَے یَاہوِہ قادر، مَیں آپ سے مِنّت کرتا ہُوں، اِسے روک دیجئے! یعقوب کیسے زندہ رہ سَکتا ہے؟ وہ تو بہت ہی چھوٹاہے۔“
AMO 7:6 تَب یَاہوِہ نے اُس آفت کو ٹال دیا، اَور پھر یَاہوِہ قادر نے فرمایا، ”اَب اَیسا نہیں ہوگا۔“
AMO 7:7 پھر خُداوؔند نے مُجھے یہ دِکھایا: خُداوؔند اَپنے ایک ہاتھ میں ایک ساہول لئے ہُوئے ساہول کی ایک دیوار پر کھڑے ہیں۔
AMO 7:8 اَور یَاہوِہ نے مُجھ سے پُوچھا، ”اَے عامُوسؔ، تُمہیں کیا دِکھائی دے رہاہے؟“ مَیں نے جَواب دیا، ”ایک ساہول،“ تَب خُداوؔند نے مُجھ سے فرمایا، ”دیکھو، مَیں اَپنی قوم بنی اِسرائیل میں ساہول لگاؤں گا اَور اَب مَیں اُن کو سزا دئیے بغیر نہ چھوڑوں گا۔
AMO 7:9 ”اِصحاقؔ کے اُونچے مقامات تباہ کئے جایٔیں گے اَور بنی اِسرائیل کے مُقدّس مقام ویران ہو جایٔیں گے؛ اَور مَیں تلوار لے کر بنی یرُبعامؔ پر حملہ کروں گا۔“
AMO 7:10 تَب بیت ایل کے کاہِنؔ اماضیاہؔ نے شاہِ اِسرائیل یرُبعامؔ کو خبر بھیجی: ”عامُوسؔ نبی بنی اِسرائیل کے دِل میں آپ کے خِلاف فتنہ کھڑا کر رہاہے۔ مُلک اُس کی سَب باتوں کو برداشت نہیں کر سَکتا۔
AMO 7:11 کیونکہ عامُوسؔ یُوں کہہ رہاہے، ” ’یرُبعامؔ تلوار سے ماراجائے گا، اَور بنی اِسرائیل یقیناً! اَپنے وطن سے دُور ہوکر اسیری میں چلا جائے گا۔‘ “
AMO 7:12 تَب اماضیاہؔ نے عامُوسؔ سے کہا، ”اَے نبی یعنی غیب کی باتیں کہنے والے، یہاں سے دفع ہو جا، اَور مُلکِ یہُودیؔہ کو بھاگ جا، وہیں اَپنی روٹی کما اَور وہیں اَپنی نبُوّت کر۔
AMO 7:13 اَب بیت ایل میں اَور نبُوّت نہ کرنا کیونکہ یہ بادشاہ کا پاک مَقدِس اَور سلطنت کی عبادت گاہ ہے۔“
AMO 7:14 عامُوسؔ نبی نے اماضیاہؔ کو جَواب دیا، ”مَیں نہ نبی تھا اَور نہ نبی کا بیٹا ہُوں، مَیں تو ایک چرواہا اَور گُولر کے درختوں کی دیکھ بھال کرنے والا تھا۔
AMO 7:15 لیکن یَاہوِہ نے مُجھے ریوڑ کی دیکھ بھال کرنے کے کام سے بُلاکر مُجھ سے فرمایا، ’جاؤ، میری قوم بنی اِسرائیل سے نبُوّت کرو۔‘
AMO 7:16 اِس لئے اَب تُم یَاہوِہ کا کلام سُن، تُم کہتے ہو، ” ’بنی اِسرائیل کے خِلاف نبُوّت نہ کر، اَور بنی اِصحاقؔ کے خِلاف کلام کرنا بند کر۔‘
AMO 7:17 ”اِس لیٔے یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ” ’تمہاری بیوی شہر میں فاحِشہ بَن جائے گی، اَور تمہارے بیٹے اَور بیٹیاں تلوار سے قتل کئے جایٔیں گے۔ تمہاری زمین ناپ کر تقسیم کی جائے گی، اَور تُم خُود ایک بُت پرست مُلک میں مروگے۔ اَور یقیناً بنی اِسرائیل اَپنے وطن سے دُور، جَلاوطنی میں چلا جائے گا۔‘ “
AMO 8:1 یَاہوِہ قادر نے مُجھے پکے ہُوئے پھلوں کی ایک ٹوکری دِکھائی۔
AMO 8:2 اُنہُوں نے مُجھ سے پُوچھا، ”اَے عامُوسؔ، تُو کیا دیکھتا ہے؟“ مَیں نے جَواب دیا، ”پکے ہُوئے پھلوں کی ایک ٹوکری۔“ تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”میری قوم بنی اِسرائیل کا وقت پُورا ہو گیا ہے؛ اَب مَیں اُنہیں نہیں چھوڑوں گا۔“
AMO 8:3 یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں، ”اُس دِن، بیت المُقدّس کے نغمے ماتم میں تبدیل ہو جایٔیں گے۔ ہر طرف بہت سِی لاشیں پڑی ہوں گی اَور خاموشی چھائی ہوگی!“
AMO 8:4 تُم جو ضروُرت مندوں کو کُچلتے رہتے ہو اَور مُلک کے مسکینوں کو مٹاتے رہتے ہو، یہ کلام سُنو۔
AMO 8:5 تُم کہتے ہو، ”نئے چاند کی عید کب گزرے گی تاکہ ہم اَپنا اناج فروخت کریں، سَبت کا دِن کب ختم ہوگا تاکہ ہم گیہُوں کے فروخت کے واسطے اَپنے کھتّے کھولیں؟“ تُم ایفہ کو چھوٹا اَور ثاقل کو ناپ میں بڑا کرتے ہو، اَور دغابازی کے ترازو سے ٹھگتے ہو،
AMO 8:6 تُم مسکینوں کو رُوپیہ سے اَور حاجت مند کو ایک جوڑی جُوتے سے خریدتے ہو، اَور گیہُوں کے ساتھ پھٹکن بھی بیچتے ہو۔
AMO 8:7 یَاہوِہ یعقوب کی حشمت کی قَسم کھا کر فرماتے ہیں، ”جو کچھ اُنہُوں نے کیا ہے، مَیں اُن میں سے ایک کو بھی نہ بھُولوں گا۔
AMO 8:8 ”کیا اِس سبب سے زمین نہ تھرتھرائے گی، اَور اُن کے ہر باشِندے ماتم نہ کریں گے؟ سارا مُلک دریائے نیل کی مانند ہوگا جو اُفنے گی، پھر اُس میں لہریں اُٹھے گا، اَور پھر وہ مُلک مِصر کے دریائے کی مانند بالکُل پُرسکون ہو جایٔےگا۔“
AMO 8:9 یَاہوِہ قادر اعلان کرتے ہیں، ”اُس دِن، مَیں آفتاب کو دوپہر کے وقت غروب کروں گا اَور زمین پر دِن میں ہی تاریکی کر دُوں گا۔
AMO 8:10 مَیں تمہاری عیدوں کو ماتم میں اَور تمہارے نغموں کو نوحے میں تبدیل کر دُوں گا۔ اَور تُم سَب کو ٹاٹ پہناؤں گا اَور تُم سَب کے سَر کو گنجا کر دُوں گا۔ اَور اَیسا ماتم برپا کروں گا جَیسے اِکلوتے بیٹے کی خاطِر ہوتاہے اَور اُس کا اَنجام روزِ تلخ جَیسا ہوگا۔“
AMO 8:11 یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں، ”وہ دِن آ رہے ہیں، جَب مَیں اُس مُلک میں قحط نازل کروں گا، جو نہ روٹی کا نہ پانی کا، بَلکہ خُدا کے کلام کا قحط ہوگا۔
AMO 8:12 لوگ یَاہوِہ کے کلام کی تلاش میں، سمُندر سے سمُندر تک اَور شمال سے مشرق تک بھٹکتے پھریں گے؛ لیکن کہیں نہ پائیں گے۔
AMO 8:13 ”اُس دِن ”حسین عورتیں اَور جَوان مَرد پیاس سے بے ہوش ہو جایٔیں گے۔
AMO 8:14 جو لوگ سامریہؔ کے خطا کی قَسم کھا کر کہتے ہیں، ’دانؔ کے معبُود کے حیات کی قَسم،‘ یا ’بیرشبعؔ کے معبُود کے حیات کی قَسم،‘ وہ اَیسے گریں گے گویا پھر کبھی نہ اُٹھیں گے۔“
AMO 9:1 مَیں نے خُداوؔند کو مذبح کے پاس کھڑے دیکھا، اَور اُنہُوں نے فرمایا، سُتونوں کے سَر پر اَیسا مارو کہ دہلیز ہِل جایٔیں۔ اَور اُن کو سَب لوگوں کے سَروں پر گرا دو؛ اَورجو باقی بچیں گے، اُنہیں مَیں تلوار سے قتل کروں گا۔ اُن میں سے ایک بھی بھاگ نہ سکےگا اَورجو بچنے کی کوشش کرےگا وہ بھی بچ نہ پایٔےگا۔
AMO 9:2 اگر وہ (پاتال) کی گہرائی میں بھی چلے جایٔیں، تو میرا ہاتھ اُنہیں وہاں سے کھینچ نکالے گا۔ اگر وہ آسمان پر چڑھ جایٔیں، تو مَیں وہاں سے بھی اُن کو اُتار لاؤں گا اَور پکڑ لُوں گا۔
AMO 9:3 اگر وہ کوہِ کرمِلؔ کی چوٹی پر جا چھپیں، تو بھی مَیں اُن کو وہاں سے ڈھونڈ کر پکڑ لُوں گا۔ اگرچہ وہ سمُندر کی تہہ میں چھُپ جائیں، تو وہاں مَیں سانپ کو اُنہیں ڈسنے کا حُکم دُوں گا۔
AMO 9:4 اگر اُن کے دُشمن اُن کو اسیر کرکے لے جایٔیں، تو مَیں وہاں تلوار کو حُکم دُوں گا کہ اُنہیں قتل کرے۔ مَیں اُن کی بھلائی کے لیٔے نہیں بَلکہ اُن کی بُرائی کے لیٔے اُن پر نگاہ رکھوں گا۔
AMO 9:5 خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ، جو زمین کو چھُوتے ہیں تو وہ پگھل جاتی ہے، اَور اُن کے سَب باشِندے ماتم کرتے ہیں؛ سارا مُلک دریائے نیل کی مانند اُفان مارتا ہے، اَور پھر دریائے مِصر کی مانند پُرسکون ہو جاتا ہے۔
AMO 9:6 خُدا آسمان پر اَپنے بالاخانے تعمیر کرتے ہیں، اَور اُنہُوں نے زمین پر اَپنے گُنبَد کی بُنیاد رکھی ہے، جو سمُندر کے پانی کو بُلاتے ہیں اَور رُوئے زمین پر بارش کرتے ہیں۔ اُن کا نام یَاہوِہ ہے۔
AMO 9:7 اَے بنی اِسرائیل، کیا تُم میرے لیٔے اہلِ کُوشؔ کی مانند نہیں ہو؟ یَاہوِہ اعلان کرتے ہیں، کیا مَیں بنی اِسرائیل کو مُلک مِصر سے، فلسطینیوں کو مُلک کفتُور سے، اَور ارامیوں کو مُلک قیرؔ سے باہر نہیں نکال لایا ہُوں؟
AMO 9:8 یقیناً یَاہوِہ قادر کی آنکھیں اُن گُنہگار مُلکوں پر لگی ہُوئیں ہیں۔ یَاہوِہ فرماتے ہیں، مَیں اُنہیں رُوئے زمین سے نِیست و نابود کر دُوں گا۔ مگر بنی یعقوب کو پُوری طرح نِیست و نابود نہیں کروں گا۔
AMO 9:9 کیونکہ مَیں حُکم دُوں گا، اَور مَیں سَب قوموں کے درمیان بنی اِسرائیل کو اَیسا جھاڑوں گا گویا کسی چھلنی میں اناج کو چھانا جاتا ہے، اَور ایک دانہ بھی زمین پر نہیں گرتا ہے۔
AMO 9:10 میرے لوگوں کے درمیان سے تمام گُنہگار جو یہ کہتے ہیں، نہ تو ہمارے اُوپر کوئی آفت آئے گی اَور نہ ہی آفت سے ہمارا سامنا ہوگا، وہ سَب کے سَب تلوار سے ہلاک کئے جایٔیں گے۔
AMO 9:11 اُس دِن مَیں داویؔد کے گِرے ہُوئے خیمہ کو کھڑا کروں گا۔ اَور اُس کی تمام ٹُوٹی دیواروں کی مرمّت کروں گا، اَور اُس کے کھنڈروں کو پھر سے پہلے جَیسا تعمیر کروں گا۔
AMO 9:12 تاکہ وہ اِدُوم کے بچے ہُوئے لوگوں کو، اَور اُن سَب غَیریہُودی قوموں کو اَپنے قبضے میں کر لے جو میری ہیں، یہ اُن ہی یَاہوِہ کا اعلان ہے جو یہ سَب کام کرنے والے ہیں۔
AMO 9:13 یَاہوِہ فرماتے ہیں، اَیسے دِن آ رہے ہیں، جَب ہل جوتنے والا فصل کاٹنے والے سے اَور انگور روندنے والا، پَودا لگانے والے سے آگے نکل جائے گا۔ اَور پہاڑوں سے نئی مَے ٹپکے گی اَور ساری پہاڑیوں سے بہہ جائے گا۔
AMO 9:14 اَور مَیں اَپنی قوم بنی اِسرائیل کو اسیری سے واپس لَوٹا لاؤں گا۔ وہ اُجڑے شہروں کو تعمیر کرکے اُن میں سکونت کریں گے۔ وہ تاکستان لگائیں گے اَور اُن کی مَے پیئیں گے؛ وہ باغ لگائیں گے اَور اُن کے پھل کھایٔیں گے۔
AMO 9:15 مَیں بنی اِسرائیل کو اُنہیں کے مُلک میں قائِم کروں گا، اَور وہ پھر کبھی اَپنے وطن سے جو مَیں نے اُنہیں بخشا ہے نکالے نہ جایٔیں گے، یہی یَاہوِہ تمہارے خُدا کا فرمان ہے۔
OBA 1:1 عبدیاہؔ نبی کی رُویا۔ یَاہوِہ قادر اِدُوم کی بابت یُوں فرماتے ہیں، ہم نے یَاہوِہ کی جانِب سے ایک پیغام سُنا ہے، اَور اُن قوموں کے درمیان پیغام سُنانے کو ایک قاصِد روانہ کیا گیا ہے، اُٹھو، آؤ ہم اِدُوم کے خِلاف جنگ کرنے کو چلیں۔
OBA 1:2 دیکھو، اَب مَیں تُمہیں مُختلف قوموں کے درمیان چھوٹا بناؤں گا؛ تُم پُوری طرح سے ذلیل ہوگے۔
OBA 1:3 تمہارے تکبُّر دِل نے تُمہیں فریب دیا ہے، اَے چٹّانوں کے شگاف میں رہنے والے، اَور بُلندیوں پر اَپنا مکان تعمیر کرنے والے، تُم جو اَپنے دِل میں کہتے ہو، کس میں اِتنی قُوّت ہے جو مُجھے نیچے زمین پر لا سکے؟
OBA 1:4 یَاہوِہ فرماتے ہیں، اگرچہ تُم عُقاب کی مانند بُلندی پر پرواز کرو اَور سِتاروں پر اَپنا گھونسلہ تعمیر کرو، تو بھی مَیں تُمہیں وہاں سے بھی نیچے اُتاروں گا۔
OBA 1:5 اگر تمہارے گھر میں چور آ جایٔیں، یا رات کو ڈاکُو آ جایٔیں، تو کیا وہ جِتنا چاہتے، اُتنا مال لُوٹ کر نہ لے جائیں گے؟ اگر انگور توڑنے والے تمہارے پاس آتے، تو کیا وہ کچھ انگور چھوڑ نہ جاتے؟
OBA 1:6 لیکن عیسَوؔ کو اِس قدر لُوٹا جائے گا، کہ لوگ اُس کے پوشیدہ خزانے ڈھونڈ لیں گے۔
OBA 1:7 اَور تمہارے سارے حمایتی تُمہیں سرحد تک کھدیڑ دیں گے؛ تمہارے دوست تُم سے دغا کریں گے اَور تُمہیں اَپنے قبضے میں کر لیں گے؛ جو تمہاری روٹی کھاتے ہیں وُہی تمہارے لئے جال بچھائیں گے، لیکن تُمہیں اِس کا پتہ بھی نہ چلے گا۔
OBA 1:8 یَاہوِہ اعلان کرتے ہیں، اُس دِن، کیا مَیں اِدُوم کے عقلمندوں اَور عیسَوؔ کے پہاڑی صاحبِ فہم باشِندوں کو تباہ نہ کروں گا؟
OBA 1:9 اَے تیمانؔ، تمہارے بہادر خوفزدہ ہوں گے، اَور عیسَوؔ کا ہر پہاڑی باشِندہ ہلاک کر دیا جائے گا۔
OBA 1:10 اَے عیسَوؔ، اُس ظُلم کے سبب سے جو تُونے اَپنے بھایٔی یعقوب پر کیا تھا، تُو بہت شرمندہ ہوگا؛ اَور ہمیشہ کے لیٔے تباہ ہو جائے گا۔
OBA 1:11 جِس دِن پردیسی لوگ اُن کے شہروں میں داخل ہُوئے، اُس دِن تُم دُور کھڑے ہُوئے سَب دیکھ رہے تھے، وہ اُس کی دولت لُوٹ کر لے گیٔے، اَور یروشلیمؔ کو ہڑپنے کے لیٔے قُرعے ڈالے، تو اُس وقت تُم بھی اُس کے دُشمنوں کی مانند سلُوک کر رہے تھے۔
OBA 1:12 تمہارے لئے یہ مُناسب نہیں تھا کہ تُم اَپنے بھائیوں کے مُصیبت کے دِنوں میں خاموشی سے کھڑے ہوکر دیکھتے رہتے، اَور بنی یہُوداہؔ کی ہلاکت کے دِن شادمان ہوتا، اَور اُن کی مُصیبت کے دِنوں میں شیخی مارتا۔
OBA 1:13 تُمہیں مُناسب نہ تھا کہ تُم میرے لوگوں کی مُصیبت کے دِنوں میں، اُن کے پھاٹکوں میں گھُستے، اَور اُن کی تباہی کے دِن خاموش رہ کر دُور کھڑا ہوکر تماشا دیکھتے رہتے، اَور اُن کی تباہی کے دِن اُن کا مال لُوٹتے۔
OBA 1:14 تمہارے لئے یہ مُناسب نہ تھا کہ اَپنی جان بچا کر فرار ہونے والوں کا سَر قلم کرنے کو چوراہوں پر کھڑے ہوتے، اَور اُن کی مُصیبت کے دِنوں میں زندہ بچے ہوؤں کو اُن کے دُشمنوں کے حوالہ کرتے۔
OBA 1:15 کیونکہ سَب قوموں کے واسطے، یَاہوِہ کا مُقرّر دِن نزدیک ہے، جَیسا تُم نے کیا ہے وَیسا ہی تمہارے ساتھ بھی کیا جائے گا؛ تمہارا کیا ہُوا تمہارے ہی سَر پر آئے گا۔
OBA 1:16 جِس طرح تُم نے میرے مُقدّس پہاڑ پر وہ پیالہ پیا، اُسی طرح سَب قومیں مُتواتر پیئیں گی؛ وہ پیتی رہیں گی اَور اَیسی ہو جائیں گی گویا کبھی وُجُود میں ہی نہیں تھیں۔
OBA 1:17 لیکن رِہائی کوہِ صِیّونؔ پر مَوجُود ہوگی؛ اَور وہ مُقدّس مقام ہوگا، اَور بنی یعقوب اَپنی مِیراث پر قابض ہوں گے۔
OBA 1:18 بنی یعقوب آگ کی مانند اَور بنی یُوسیفؔ شُعلہ کی مانند ہوں گے؛ اَور بنی عیسَوؔ بچے ہُوئے بھُوسے کی مانند ہوں گے، جنہیں وہ آگ میں جَلا کر ہلاک کر دیں گے۔ اَور بنی عیسَوؔ کے نَسل میں سے کویٔی بھی باقی نہ بچے گا۔ کیونکہ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
OBA 1:19 اَور نِیگیوؔ کے باشِندوں کا عیسَوؔ کے پہاڑ پر کا اِختیار ہو جائے گا، اَور میدان کے باشِندے فلسطین مُلک کے مالک ہوں گے۔ وہ اِفرائیمؔ اَور سامریہؔ کے کھیتوں پر قابض ہوں جائیں گے، اَور بِنیامین گِلعادؔ پر قابض ہو جائے گا۔
OBA 1:20 اَور بنی اِسرائیل کے سَب جَلاوطن لوگ جو کنعانؔ میں صارفت تک ہیں اَور یروشلیمؔ کے وہ جَلاوطن جو سفارادؔ میں ہیں وہ نِیگیوؔ کے شہروں پر قابض ہو جائیں گے۔
OBA 1:21 اَور رِہائی دینے والے کوہِ صِیّونؔ پر چڑھیں گے تاکہ عیسَوؔ کے پہاڑ پر حُکمرانی کریں۔ اَور سلطنت یَاہوِہ کی ہو جائے گی۔
JON 1:1 یَاہوِہ کا کلام یُوناہؔ بِن امِتّائی پر نازل ہُوا:
JON 1:2 ”اُٹھ کر اُس بڑے شہر نینوہؔ کو جا اَور اُس کے خِلاف مُنادی کر کیونکہ اُن کی بدی میرے سامنے تک آ پہُنچی ہے۔“
JON 1:3 لیکن یُوناہؔ یَاہوِہ کے حُضُور سے ترشیشؔ کی طرف جانے کو بھاگے اَور یافؔا جا پہُنچے۔ وہاں اُنہیں ترشیشؔ کو جانے والا ایک پانی کا جہاز مِلا۔ اَور وہ کرایہ دے کر اُس میں سوار ہُوئے تاکہ اُن کے ساتھ یَاہوِہ کی حُضُوری سے ترشیشؔ کو چلے جائیں۔
JON 1:4 تَب یَاہوِہ نے سمُندر پر ایک اَیسی آندھی بھیجی کہ جہاز کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
JON 1:5 سارے ملّاح خوفزدہ ہو گئے اَور ہر ایک اَپنے اَپنے معبُود کو پُکارنے لگے اَور جہاز کو ہلکا کرنے کی غرض سے اَپنا مال و اَسباب سمُندر میں پھینک دیا۔ لیکن یُوناہؔ نبی جہاز کے اَندر پڑے سو رہے تھے۔
JON 1:6 جہاز کے کپتان نے اُن کے پاس جا کر کہا، ”آپ کیسے سو سکتے ہیں؟ اُٹھو اَور اَپنے خُدا کو پُکارو۔ شاید وہ ہماری سُنے اَور ہم ہلاک نہ ہوں۔“
JON 1:7 تَب ملّاحوں نے آپَس میں کہا، ”آؤ ہم قُرعہ ڈالیں اَور مَعلُوم کریں کہ اِس آفت کے لیٔے کون ذمّہ دار ہے۔“ اُنہُوں نے قُرعہ ڈالا اَور قُرعہ یُوناہؔ کے نام پر نِکلا۔
JON 1:8 اُنہُوں نے اُس سے کہا کہ ہمیں بتا، ”یہ آفت ہم پر کس کی وجہ سے آئی ہے؟ تمہارا پیسہ کیا ہے؟ اَور آپ کہاں سے آئے ہیں؟ آپ کا وطن کہاں ہے اَور آپ کس قوم سے تعلّق رکھتے ہیں؟“
JON 1:9 یُوناہؔ نے جَواب دیا، ”میں ایک عِبرانی ہُوں اَور آسمان کے خُدا یَاہوِہ کی عبادت کرتا ہُوں جِس نے زمین اَور سمُندر تخلیق کی ہے۔“
JON 1:10 اِس بات کو سُن کر وہ خوفزدہ گیٔے اَور اُن سے پُوچھا، ”آپ نے کیا کیا ہے؟“ (کیونکہ یُوناہؔ نے اُنہیں یہ بتا دیا تھا کہ، وہ یَاہوِہ کے حُضُور سے بھاگ رہے تھے۔)
JON 1:11 سمُندر میں طُوفان بڑھتا جا رہاتھا اِس لیٔے اُنہُوں نے یُوناہؔ سے پُوچھا، ”ہم آپ کے ساتھ کیا کریں تاکہ سمُندر ہمارے لیٔے ساکن ہو جائے؟“
JON 1:12 ”مُجھ کو اُٹھاکر سمُندر میں پھینک دو،“ یُوناہؔ نے جَواب دیا، ”تو سمُندر ساکن ہو جائے گا۔ کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ یہ بڑا طُوفان میری غلطی کے باعث تمہارے اُوپر آیا ہے۔“
JON 1:13 پھر بھی ملّاح نے جہاز کو ساحِل تک لے جانے کی اَپنی پُوری کوشش کی مگر وہ ساحِل تک لے جانے میں کامیاب نہیں ہُوئے کیونکہ سمُندر پہلے سے بھی زِیادہ موجزن ہوتا جا رہاتھا۔
JON 1:14 تَب وہ یَاہوِہ کے حُضُور میں فریاد کئے، ”اَے یَاہوِہ، اِس شخص کی جان لینے کے لیٔے ہم لوگوں کو ہلاک نہ کر۔ ایک معصُوم کی موت کی ذمّہ داری ہمارے گردن پر نہ ڈال کیونکہ اَے یَاہوِہ، آپ نے جو چاہا اُسے کیا۔“
JON 1:15 تَب اُنہُوں نے یُوناہؔ کو اُٹھاکر سمُندر میں پھینک دیا اَور سمُندر کی لہریں تھم گئیں۔
JON 1:16 اِس بات سے وہ لوگ بہت خوفزدہ ہو گیٔے اَور اُنہُوں نے یَاہوِہ کے حُضُور میں قُربانی گذرانی اَور مَنّتیں مانیں۔
JON 1:17 لیکن یَاہوِہ نے یُوناہؔ کو نگل جانے کے لیٔے ایک بڑی مچھلی تیّار کر رکھی تھی اَور یُوناہؔ تین دِن اَور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔
JON 2:1 تَب یُوناہؔ نبی نے مچھلی کے پیٹ کے اَندر سے یَاہوِہ اَپنے خُدا سے فریاد کی۔
JON 2:2 اُس نے کہا: ”اَپنی مُصیبت کے دَوران مَیں نے یَاہوِہ سے دعا کی، اَور اُس نے میری سُن لی۔ مَیں نے پاتال کی گہرائی سے مدد کے لیٔے پُکارا، اَور خُدا نے میری فریاد سُنی۔
JON 2:3 خُدا نے مُجھے سمُندر کی گہرائی میں پھینک دیا تھا اَور لہروں نے مُجھے گھیرلیا تھا؛ تیری تمام موجیں اَور لہریں میرے اُوپر سے گزر گئیں۔
JON 2:4 مَیں نے کہا، ’مَیں آپ کی نظروں سے دُور کر دیا گیا ہُوں؛ لیکن مَیں پھر سے آپ کے بیت المُقدّس کو دیکھوں گا۔‘
JON 2:5 ہیبت ناک پانی نے مُجھے خوفزدہ کر دیا، گہرائی میرے چاروں طرف تھی؛ سمُندری نباتات میرے سَر کے چاروں طرف لپٹ گئی تھی۔
JON 2:6 میں پہاڑوں کی گہرائی تک ڈُوب گیا تھا؛ زمین کے راستے ہمیشہ کے لئے مجھ پر بندہو گئے تھے۔ لیکن آپ نے اَے یَاہوِہ، میرے خُدا، میری جان کو پاتال سے باہر نکالا۔“
JON 2:7 جَب میری زندگی ختم ہو رہی تھی، تَب اَے یَاہوِہ، مَیں نے آپ کو یاد کیا، اَور میری دعا آپ کے بیت المُقدّس میں آپ کے حُضُور میں پہُنچی۔
JON 2:8 جو لوگ جھُوٹے معبُودوں سے لپٹے رہتے ہیں وہ خُود کو خُدا کی شفقت سے محروم رکھتے ہیں۔
JON 2:9 لیکن مَیں تیری شُکر گزاری کا نغمہ گاتے ہُوئے، آپ کے لئے قُربانی گذرانوں گا۔ مَیں نے جو مَنّت مانگی ہے اُسے پُورا کروں گا۔ میں گواہی دیتا ہُوں، نَجات یَاہوِہ کی طرف سے آتی ہے۔
JON 2:10 اَور یَاہوِہ نے اُس بڑی مچھلی کو حُکم دیا اَور اُس نے یُوناہؔ کو خشک زمین پر اُگل دیا۔
JON 3:1 تَب یَاہوِہ کا کلام دُوسری بار یُوناہؔ پر نازل ہُوا:
JON 3:2 ”اُٹھ، اُس بڑے شہر نینوہؔ کو جا اَورجو پیغام میں تُمہیں وہاں دینے والا ہُوں اُس کی مُنادی کر۔“
JON 3:3 تَب یُوناہؔ یَاہوِہ کے کلام کے مُطابق نینوہؔ کو گیا۔ نینوہؔ بہت بڑا شہر تھا۔ وہاں پہُنچنے کے لیٔے تین دِن لگتے تھے۔
JON 3:4 یُوناہؔ نینوہؔ شہر میں داخل ہُوا اَور ایک دِن کا سفر طے کرتے ہُوئے اُس نے اعلان کیا، ”اَب سے چالیس دِن کے بعد نینوہؔ تباہ کر دیا جائے گا۔
JON 3:5 تَب نینوہؔ کے باشِندے خُدا پر ایمان لائے اَور روزہ کا اعلان کیا اَور بڑے سے چُھوٹے تک سَب نے ٹاٹ اوڑھا۔“
JON 3:6 جَب نینوہؔ کے بادشاہ کو یہ خبر پہُنچی تو وہ اَپنے تخت سے اُٹھا اَور اَپنا شاہی لباس اُتار کر ٹاٹ اوڑھ کر خاک پر بیٹھ گیا۔
JON 3:7 اَور نینوہؔ میں یُوں اعلان کروایا، بادشاہ اَور اُس کے سرداروں کی طرف سے فرمان جاری ہے کہ، کویٔی اِنسان یا حَیوان، گلّہ اَور مویشی نہ کچھ کھائیں اَور نہ پیئیں۔
JON 3:8 بَلکہ ہر اِنسان اَور حَیوان ٹاٹ اوڑھے اَور فوراً خُدا سے فریاد کرے۔ اَور ہر شخص اَپنی بُری روِش اَور ظُلم سے باز آئے۔
JON 3:9 کون جانتا ہے؟ شاید خُدا ہم پر رحم کرے اَور اَپنا اِرادہ بدلے اَور وہ اَپنا قہر شدید نازل کرنے سے باز آئے اَور ہم ہلاک نہ ہوں۔
JON 3:10 جَب خُدا نے اُن کا یہ عَمل دیکھا کہ وہ اَپنی بُری روِش سے پھر گیٔے تو اُس نے اَپنا اِرادہ بدل دیا اَور اُس عذاب کو جو وہ اُن پر نازل کرنے والا تھا اُسے روک دیا اَور اُسے نازل نہ کیا۔
JON 4:1 لیکن یُوناہؔ کو خُدا کا یہ فیصلہ بہت بُرا لگا اَور وہ سخت ناراض ہُوا۔
JON 4:2 اُس نے یَاہوِہ سے دعا مانگی، ”اَے یَاہوِہ، جَب مَیں اَپنے گھر میں تھا، تو کیا مَیں نے یہی بات نہیں کہی تھی کہ آپ اُنہیں مُعاف کر دیں گے؟ اِس لیٔے مَیں نے ترشیشؔ کو بھاگنے میں جلدی کی تھی۔ کیونکہ مَیں جانتا تھا کہ آپ رحیم و کریم خُدا ہیں۔ جو قہر کرنے میں دھیما اَور شفقت میں غنی ہیں۔ آپ اَیسے خُدا ہیں جو عذاب نازل کرنے سے باز رہتاہے۔
JON 4:3 اَب، اَے یَاہوِہ آپ میری جان لے لیں کیونکہ میرے اِس جینے سے مَرجانا بہتر ہے۔“
JON 4:4 تَب یَاہوِہ نے جَواب دیا، کیا، ”تمہارا غُصّہ کرنا جائز ہے؟“
JON 4:5 تَب یُوناہؔ شہر سے باہر جا کر مشرق کی طرف ایک جگہ جا بیٹھا۔ وہاں اُس نے اَپنے لیٔے ایک چھپّر بنا کر اُس کے سایہ میں بیٹھ گیا اَور اِنتظار کرنے لگاکہ شہر کا کیا حال ہوتاہے۔
JON 4:6 تَب یَاہوِہ خُدا نے ایک پتّوں والی بیل اُگائی اَور اُسے یُوناہؔ کے اُوپر پھیلایا تاکہ اُس کے سَر پر سایہ ہو اَور وہ تیز دھوپ سے بچے اَور آرام پایٔے۔ یُوناہؔ اُس سائے دار درخت سے بہت خُوش ہُوا۔
JON 4:7 لیکن دُوسرے دِن صُبح سویرے خُدا نے ایک کیڑا بھیجا جِس نے پتّوں والی بیل کی جڑ کو کاٹ ڈالا اَور وہ سُوکھ گیا۔
JON 4:8 جَب آفتاب نِکلا تو خُدا نے مشرق سے ایک جھُلسانے والی لُو چلائی اَور آفتاب کی تپش نے یُوناہؔ کے سَر میں اسر کیا جِس سے وہ بے ہوش ہو گیا اَور مرنے کی آرزُومند ہوکر کہنے لگا، ”میرے اِس جینے سے مَرجانا بہتر ہے۔“
JON 4:9 تَب خُدا نے یُوناہؔ سے پُوچھا، ”کیا اِس پتّوں والی بیل کی بابت تمہارا غُصّہ جائز ہے؟“ یُوناہؔ نے کہا، ”ہاں، میں اِتنا ناراض ہُوں کہ مَرنا چاہتا ہُوں۔“
JON 4:10 تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”تُمہیں اِس پتّوں والی بیل کااِتنا خیال ہے، جسے نہ تُم نے لگایا نہ اُس کی دیکھ بھال کی اَور نہ ہی تُم نے اُسے بڑھایا۔ جو ایک ہی رات میں اُگا اَور دُوسری رات میں سُوکھ گیا۔
JON 4:11 تو پھر کیا میں اِس بڑے شہر نینوہؔ کا فکر نہ کروں؟ جِس میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زِیادہ لوگ رہتے ہیں، جو اَپنے داہنے اَور بائیں ہاتھ میں فرق نہیں کر سکتے، اَور اِسی طرح بے شُمار مویشی بھی رہتے ہیں۔“
MIC 1:1 سامریہؔ اَور یروشلیمؔ کی بابت یَاہوِہ کا کلام جو شاہانِ یہُوداہؔ یُوتامؔ و آحازؔ اَور حِزقیاہؔ کے ایّام میں موریشیت کے میکاہؔ پر رُویا میں نازل ہُوا۔
MIC 1:2 اَے سَب لوگو، سُنو، اَے زمین اَور اُس کی معموُری، کان لگاؤ، تاکہ یَاہوِہ قادر، ہاں یَاہوِہ اَپنے مُقدّس مَسکن سے تمہارے خِلاف گواہی دے۔
MIC 1:3 دیکھو! یَاہوِہ اَپنی قِیام گاہ سے باہر نکل رہے ہیں؛ وہ نیچے اُترا ہے تاکہ زمین کے اُونچے مقاموں کو پامال کرے۔
MIC 1:4 پہاڑ اُس کے نیچے پگھل جاتے ہیں اَور وادیاں پھٹ جاتی ہیں، جِس طرح موم آگ سے پگھل جاتا ہے، اَور پانی ڈھلوان سے نیچے آتا ہے۔
MIC 1:5 یہ سَب یعقوب کی سرکشی اَور اِسرائیل کے گھرانے کے گُناہ کے باعث ہے۔ یعقوب کی سرکشی کیا ہے؟ کیا سامریہؔ نہیں؟ یہُوداہؔ کا اُونچا مقام کیا ہے؟ کیا یروشلیمؔ نہیں؟
MIC 1:6 اِس لیٔے میں سامریہؔ کو کوڑے کرکٹ کا ڈھیر بنا دُوں گا، اَور تاکستان لگانے کی جگہ کی مانند بناؤں گا۔ میں اُس کے پتّھروں کو وادی میں لُڑھکا دُوں گا اَور اُس کی بُنیاد اُکھاڑ دُوں گا۔
MIC 1:7 اُس کے سارے بُت چکنا چُور کر دئیے جایٔیں گے؛ اُس کے بُت خانوں کے تمام عطیات آگ میں جَلا دئیے جایٔیں گے؛ میں اُس کی مورتیاں تباہ کر دُوں گا۔ کیونکہ اُس نے اُنہیں طوائفوں کی کمائی سے جمع کیا تھا، اَور وہ پھر طوائف بازی کی کمائی کی طرح اِستعمال کئے جایٔیں گے۔
MIC 1:8 اِس لیٔے مَیں نوحہ اَور ماتم کروں گا؛ مَیں ننگے پاؤں اَور ننگے بَدن پھروں گا۔ میں گیدڑ کی طرح چِلّاؤں گا اَور اُلّو کی مانند غم کروں گا۔
MIC 1:9 کیونکہ اسیری کا زخم لاعلاج ہے؛ وہ یہُوداہؔ تک آیا۔ وہ میرے لوگوں کے پھاٹک، بَلکہ یروشلیمؔ تک آ پہُنچا۔
MIC 1:10 گاتؔھ میں اُس کی خبر نہ دینا؛ ہرگز ماتم نہ کرو۔ بیت عُفرہؔ میں خاک پر لوٹو۔
MIC 1:11 اَے شفیرؔ میں رہنے والی، تُو برہنہ ہوکر بے شرمی سے چلی جا۔ صانانؔ میں رہنے والے باہر نہیں آئیں گے۔ بیت ایضلؔ ماتم میں ہے؛ اُس کی پناہ گاہ تُم سے لے لی گئی۔
MIC 1:12 مروتؔ کے رہنے والے تڑپتے ہیں، وہ درد سے چھُٹکارا پانے کے اِنتظار میں ہیں، کیونکہ یَاہوِہ کی طرف سے بربادی آ گئی ہے، بَلکہ یروشلیمؔ کے پھاٹک تک آ پہُنچی ہے۔
MIC 1:13 لاکیشؔ میں رہنے والی، رتھ میں گھوڑے جوت۔ صِیّونؔ کی بیٹی کے گُناہ کا آغاز تُجھ سے ہی ہُوا، کیونکہ اِسرائیل کے گُناہ، تُجھ میں پایٔے گیٔے۔
MIC 1:14 اِس لیٔے تُو مورشیت گاتؔ کو جدائی کے تحفے دے۔ اَکزِیبؔ کے شہر اِسرائیل کے بادشاہوں کے لیٔے دغاباز ثابت ہوں گے۔
MIC 1:15 اَے مریشہؔ کی رہنے والی میں ایک فاتح کو تیرے خِلاف اُٹھاؤں گا۔ وہ جو اِسرائیل کی شوکت ہے عدُلّامؔ میں آئے گی۔
MIC 1:16 اَپنے خُوشی بخشنے والے بچّوں کے ماتم میں سَر مُنڈوا؛ گِدھ کی طرح پرنُچے ہو جا، کیونکہ وہ تیرے پاس سے جَلاوطنی میں چلے جایٔیں گے۔
MIC 2:1 اُن پر افسوس جو بدی کا منصُوبہ باندھتے ہیں، اَور بِستر پر پڑے ہُوئے شرارت کا منصُوبہ بناتے ہیں! اَور صُبح ہوتے ہی اُس پر عَمل کرتے ہیں کیونکہ وہ عَمل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
MIC 2:2 وہ لالچ سے کھیتوں کو ضَبط کرلیتے ہیں، اَور گھروں کو چھین لیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو اُن کے گھروں سے، اَور اَپنے ہم جنسوں کو اُن کی مِیراث سے محروم کر دیتے ہیں۔
MIC 2:3 اِس لیٔے یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”مَیں اُس قوم پر بربادی لانے کا اِرادہ کر رہا ہُوں، جِس سے تُم خُود کو بچا نہ سکوگے۔ اَور اَب غُرور سے چل نہ سکوگے، کیونکہ یہ مُصیبت کا وقت ہوگا۔
MIC 2:4 اُس دِن لوگ تمہارا مذاق اُڑائیں گے؛ وہ اِس ماتم کے نغمہ سے تُم پر لَعن طَعن کریں گے: ’ہم بالکُل غارت ہو گئے؛ میرے لوگوں کی مِیراث تقسیم ہو گئی۔ اُس نے اُسے ہم سے جُدا کر دیا! وہ ہمارے کھیت باغیوں کو دیتاہے۔‘ “
MIC 2:5 اِس لیٔے یَاہوِہ کی جماعت میں کویٔی باقی نہ رہے گا جو زمین کو قُرعہ ڈال کر بانٹے۔
MIC 2:6 ”نبُوّت نہ کرو،“ اُن کے نبی کہتے ہیں۔ ”اُن باتوں کے لیٔے نبُوّت نہ کرو؛ رُسوائی ہم پر نہیں آئے گی۔“
MIC 2:7 کیا یہ کہا جائے کہ یعقوب کے گھرانے: ”کیا یَاہوِہ کی رُوح ناراض ہو گئی ہے؟ کیا وہ اَیسے ہی کام کرتے ہیں؟“ ”کیا میری باتیں راست رَو کے لیٔے مفید نہیں؟
MIC 2:8 تھوڑی دیر پہلے میرے لوگ دُشمن کی طرح اُٹھے ہیں۔ تُم جنگ سے لَوٹنے والے بےپروا راہ گیروں کے نفیس لباس اُتار لیتے ہو،
MIC 2:9 تُم میرے لوگوں کی عورتوں کو اُن کے خُوشنما گھروں میں سے نکال دیتے ہو۔ تُم اُن کے بچّوں سے ہمیشہ کے لیٔے میری برکتیں چھین لیتے ہو۔
MIC 2:10 اُٹھو، چل دو! کیونکہ یہ تمہاری آرامگاہ نہیں ہے، یہ ناپاک ہو چُکی ہے، اُس کی بربادی کا کویٔی علاج نہیں۔
MIC 2:11 اگر کویٔی جھُوٹا یا دغاباز آکر کہے، ’میں تمہارے لیٔے کثرت سے شراب اَور مَے کی پیشن گوئی کروں گا،‘ تو وہ ہی اُن لوگوں کا نبی ہوگا۔
MIC 2:12 ”اَے یعقوب، میں تُم سَب کو جمع کروں گا؛ میں اِسرائیل کے بقیّہ کو یقیناً جمع کروں گا۔ میں اُنہیں بھیڑ خانہ کی بھیڑوں کی طرح جمع کروں گا، چراگاہ کے گلّے کی مانند جمع کروں گا؛ جگہ لوگوں سے بھر جائے گی۔
MIC 2:13 کویٔی راستہ کھولنے والا اُن کے آگے آگے جائے گا؛ وہ پھاٹک توڑ کر باہر نکل جایٔیں گے۔ اُن کا بادشاہ یعنی یَاہوِہ، اُن کے آگے آگے جائے گا۔“
MIC 3:1 تَب مَیں نے کہا، یعقوب کے سردارو، سُنو، اِسرائیل کے گھرانے کے حاکمو، سُنو! کیا تُمہیں عدالت سے واقف نہیں ہونا چاہئے؟
MIC 3:2 تُم جو نیکی سے نفرت کرتے ہو اَور بدی سے مَحَبّت رکھتے ہو؛ اَور لوگوں کی کھال اُتار لیتے ہو اَور اُن کی ہڈّیوں سے گوشت نوچتے ہو۔
MIC 3:3 اَور میرے لوگوں کا گوشت کھاتے ہو، اُن کی کھال اُتارتے ہو اُن کی ہڈّیوں کو توڑتے ہو؛ اَور اُنہیں ہانڈی اَور دیگ کے گوشت کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہو۔
MIC 3:4 تَب وہ یَاہوِہ کو پُکاریں گے، لیکن وہ نہ سُنے گا۔ اُن کے بُرے اعمال کے سبب سے وہ اُن سے اَپنا مُنہ پھیر لے گا۔
MIC 3:5 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”اُن نبیوں کے لیٔے جو میرے لوگوں کو گُمراہ کرتے ہیں، اگر کویٔی اُنہیں کھانے کو دیتاہے، تو وہ سلامتی ’سلامتی‘ پُکارتے ہیں؛ لیکن اگر کویٔی اُنہیں کھانے کو نہ دے، تو وہ اُس سے لڑنے کو تیّار ہو جاتے ہیں۔
MIC 3:6 اِس لیٔے اَب تمہارے اُوپر رات ہو جائے گی جِس میں رُویا نہ دیکھوگے، تاریکی چھا جائے گی اَور تُم غیب بینی نہ کروگے۔ نبیوں کے اُوپر سُورج غروب ہو جائے گا، اَور دِن اَندھیرا ہو جائے گا۔
MIC 3:7 رَوشن ضمیر شرمندہ ہوں گے اَور غیب بین بے عزّت ہوں گے۔ وہ اَپنا مُنہ چھُپا لیں گے کیونکہ خُدا کی طرف سے کویٔی جَواب نہ ہوگا۔“
MIC 3:8 لیکن مَیں یَاہوِہ کی رُوح کی قُوّت سے بھر گیا ہُوں، اَور اِنصاف اَور طاقت سے معموُر ہُوں، تاکہ یعقوب کو اُس کی سرکشی، اَور اِسرائیل کو اُس کے گُناہ بتاؤں۔
MIC 3:9 اَے یعقوب کے گھرانے کے سردارو، سُنو، اَور اِسرائیل کے گھرانے، تُم جو اِنصاف کے خِلاف کرتے ہو اَور راستی کو مروڑتے ہو، سُنو؛
MIC 3:10 تُم جو صِیّونؔ کو خُونریزی سے، اَور یروشلیمؔ کو شرارت سے تعمیر کرتے ہو۔
MIC 3:11 اُس کے سردار رشوت لے کر اِنصاف کرتے ہیں، اُس کے کاہِنؔ قیمت لے کر تعلیم دیتے ہیں، اَور اُس کے نبی رُوپیہ لے کر قِسمت بتاتے ہیں۔ پھر بھی وہ یَاہوِہ کی طرف متوجّہ ہوتے ہیں، ”اَور کہتے ہیں، کیا یَاہوِہ ہمارے درمیان نہیں ہے؟ ہمارے اُوپر کویٔی بُلا نہیں آئے گی۔“
MIC 3:12 اِس لیٔے صِیّونؔ تمہاری وجہ سے کھیت کی طرح ہل سے جوتا جائے گا، یروشلیمؔ کھنڈر ہو جائے گا، ہیکل کا پہاڑ جھاڑیوں سے ڈھکا ہُوا ٹیلہ بَن جائے گا۔
MIC 4:1 آخِری دِنوں میں یَاہوِہ کے ہیکل کا پہاڑ قائِم کیا جائے گا اَورجو تمام پہاڑوں میں بُلند ہوگا؛ وہ اَور پہاڑوں سے اُونچا اُٹھایا جائے گا، اَور تمام قوموں کا اُس پر تانتا لگا ہوگا۔
MIC 4:2 بہت سِی قومیں آئیں گی اَور کہیں گی، ”آؤ یَاہوِہ کے گھر پر چڑھیں، اَور یعقوب کے خُدا کے گھر میں داخل ہُوں۔ وہ ہمیں اَپنے آئین سکھائیں گے، تاکہ ہم اُن کی راہوں پر چلیں۔“ کیونکہ شَریعت صِیّونؔ سے، اَور یَاہوِہ کا کلام یروشلیمؔ سے صادر ہوگا۔
MIC 4:3 وہ بہت سِی اُمّتوں کے درمیان عدالت کریں گے اَور دُور دُور کی زورآور قوموں کے جھگڑوں کو مٹائیں گے۔ وہ اَپنی تلواریں پیٹ کر پھالیں، اَور بھالوں کو ہنسوے بنائیں گے۔ ایک قوم دُوسری قوم پر تلوار نہ اُٹھائے گی، اَور نہ جنگ کرنے کی تربّیت دے گی۔
MIC 4:4 ہر آدمی اَپنی انگوری بیل، اَور اَنجیر کے درخت کے نیچے بیٹھے گا، اَور کویٔی اُنہیں نہ ڈرائے گا، کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ نے فرمایاہے۔
MIC 4:5 سَب قومیں، اَپنے معبُودوں کے نام سے چلیں گی؛ پر ہم لوگ اَبد تک، یَاہوِہ اَپنے خُدا کے نام سے چلیں گے۔
MIC 4:6 ”اُس روز،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”میں لنگڑوں کو جمع کروں گا، جَلاوطنوں کو، اَور اُنہیں جنہیں مَیں نے دُکھ دیا ہے، جمع کروں گا۔
MIC 4:7 لنگڑوں کو بقیّہ، اَور جَلاوطنوں کو زورآور قوم بناؤں گا۔ اُس دِن سے یَاہوِہ کوہِ صِیّونؔ میں، ہمیشہ تک اُن پر سلطنت کرےگا۔
MIC 4:8 اَور اَے گلّے کے رَوشنی کے مینار، اَے صِیّونؔ کی بیٹی کے قلعے، تیری بابت یہ ہے کہ تیری پہلی سلطنت تُجھے ملے گی؛ یروشلیمؔ کی بیٹی کو بادشاہی ملے گی۔“
MIC 4:9 اَب تُو کیوں چِلّاتی ہے۔ کیا تیرا کویٔی بادشاہ نہیں ہے؟ کیا تُجھے صلاح دینے والا مِٹ گیا، کہ تُو دردِزہ کی سِی تکلیف میں مبتلا ہے؟
MIC 4:10 اَے صِیّونؔ کی بیٹی، تو زچّہ کی مانند درد سے تکلیف اُٹھا رہی ہے، اَب تُجھے کھُلے میدان میں جا کر رہنے کے لیٔے، شہر کو چھوڑ دینا چاہئے۔ تُو بابیل کو جائے گی؛ وہاں تُو رِہائی پایٔے گی۔ وہیں یَاہوِہ تُجھے، تیرے دُشمنوں کے ہاتھ سے چھُڑائیں گے۔
MIC 4:11 لیکن اَب بہت سِی قومیں، تیرے خِلاف جمع ہو گئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ”صِیّونؔ کو ناپاک ہونے دو، اَور ہماری آنکھیں اُس کی رُسوائی دیکھیں!“
MIC 4:12 لیکن وہ یَاہوِہ کے خیالات سے، واقف نہیں؛ وہ اُس کے منصُوبہ کو نہیں سمجھتے، جو اُن کو کھلیان کے پُولوں کی طرح جمع کرتے ہیں۔
MIC 4:13 اَے صِیّونؔ کی بیٹی، اُٹھ اَور کُچل، کیونکہ مَیں تُجھے لوہے کے سینگ، اَور کانسے کے کھُر دُوں گا، اَور تُو بہت سِی قوموں کے ٹکڑے کر ڈالے گی۔ اَور اُن کے ناجائز آمدنی کے ذخیروں کو خُدا کی نذر کرےگی، اَور اُن کے مال کو زمین کے مالک، یَاہوِہ خُدا کے حُضُور میں لایٔے گی۔
MIC 5:1 اَے لشکروں کے شہر، لشکروں کو جمع کرو، کیونکہ ہمارے خِلاف ایک محاصرہ ہونے والا ہے۔ وہ اِسرائیل کے حاکم کے گال پر، سلاخ سے ماریں گے۔
MIC 5:2 لیکن اَے بیت لحمؔ اِفراتہؔ، تُو جو یہُوداہؔ کی برادری میں سَب سے چھوٹاہے، تو بھی تُجھ میں سے میرے لیٔے ایک حاکم برپا ہوگا جو سارے اِسرائیل پر حُکومت کرےگا، وہ ایّام اَزل سے ہے، اُس کا ظہُور قدیم زمانے سے ہے۔
MIC 5:3 اِس لیٔے اِسرائیل کو اُس وقت تک چھوڑ دیا جائے گا، جَب تک کہ زچّہ کے یہاں وِلادت نہ ہو جائے، اَور اُس کے باقی بھایٔی واپس آکر، اِسرائیل سے مِل نہ جایٔیں۔
MIC 5:4 وہ کھڑا ہوگا، اَور یَاہوِہ کی قُدرت، اَور یَاہوِہ کے نام کی عظمت سے، اُس کے گلّے کی گلّہ بانی کرےگا۔ وہ محفوظ رہیں گے، تَب وہ زمین کی اِنتہا تک بُزرگ ہوگا۔
MIC 5:5 اَور وہ ہماری سلامتی ہوگا۔ جَب اشُور ہمارے مُلک پر حملہ کرےگا، اَور ہمارے محلوں میں قدم رکھےگا، تو ہم اُس کے خِلاف سات چرواہے، بَلکہ آٹھ آدمیوں کے سردار بھی کھڑے کریں گے۔
MIC 5:6 وہ اشُور کی سرزمین پر تلوار سے، اَور نِمرودؔ کے مُلک پر ننگی تلوار سے حُکمرانی کریں گے۔ جَب اشُور ہمارے مُلک پر حملہ کرےگا، اَور ہماری سرحدوں میں داخل ہوگا، تو وہ ہمیں اشُور سے رِہائی بخشےگا۔
MIC 5:7 یعقوب کا بقیّہ، بہت سِی قوموں کے لیٔے اَیسا ہوگا، جَیسے یَاہوِہ کی طرف سے اوس، اَور گھاس کے اُوپر بارش، جو نہ آدمی کا اِنتظار کرتی ہے، اَور نہ کسی اِنسان کے لیٔے ٹھہرتی ہے۔
MIC 5:8 یعقوب کا بقیّہ قوموں میں، اَور بہت سِی اُمّتوں کے درمیان، اَیسا ہوگا جَیسے شیرببر جنگلی جانوروں میں، یا جَوان شیر بھیڑوں کے گلّے میں، جَب وہ اُن کے درمیان سے نکلتا ہے تو اُنہیں روندتا اَور پھاڑتا ہے، اَور کویٔی اُنہیں بچا نہیں سَکتا۔
MIC 5:9 تیرا ہاتھ فتح مندی کے ساتھ تیرے دُشمن پر اُٹھے گا، اَور تیرے سَب دُشمن برباد ہو جایٔیں گے۔
MIC 5:10 ”اُس روز،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”مَیں تیرے گھوڑوں کو جو تیرے درمیان ہیں، کاٹ ڈالوں گا، اَور تیرے رتھوں کو برباد کر دُوں گا۔
MIC 5:11 مَیں تیرے مُلک کے شہروں کو برباد کر دُوں گا، اَور تیرے سَب قلعوں کو ڈھا دُونگا۔
MIC 5:12 مَیں تیری جادُوگری ختم کر دُوں گا، اَور تیرے فالگیر پھر کبھی فال نہ نکالیں گے۔
MIC 5:13 مَیں تیری کھودی ہُوئی مورتوں نِیست کر دُوں گا، اَور تیرے درمیان سے تیرے مُقدّس پتّھروں کو برباد کر دُوں گا؛ تُو پھر کبھی اَپنے ہاتھوں کی کاریگری کو، سَجدہ نہ کرےگا۔
MIC 5:14 مَیں تیرے اشیراہؔ کے سُتونوں کو تیرے درمیان سے اُکھاڑ دُوں گا، اَور تیرے شہروں کو غارت کر دُوں گا۔
MIC 5:15 میں اُن قوموں پر جنہوں نے میری فرمانبرداری نہیں کی، اَپنا قہر نازل کرکے اِنتقام لُوں گا۔“
MIC 6:1 یَاہوِہ کا فرمان سُن: ”اُٹھ، پہاڑوں کے سامنے اَپنا مُعاملہ پیش کر؛ اَور ٹیلے تیرے بَیان کو سُنیں۔
MIC 6:2 ”اَے پہاڑو اَور اَے زمین کی غَیر فانی بُنیادو، یَاہوِہ کا اِلزام سُنو۔ کیونکہ اَپنے لوگوں کے خِلاف یَاہوِہ کا ایک مُقدّمہ ہے؛ وہ اِسرائیل پر فردِ جُرم لگاتاہے۔
MIC 6:3 ”اَے میرے لوگو، مَیں نے تُم سے کیا کیا؟ اَور تمہارے اُوپر کیسے بوجھ لادا؟ جَواب دو۔
MIC 6:4 میں تُمہیں مُلک مِصر سے نکال کر باہر لایا، اَور فدیہ دے کر غُلامی کے مُلک سے چھُڑایا۔ مَیں نے مَوشہ، اَہرونؔ اَور مِریمؔ کو، تمہاری رہنمائی کے لیٔے بھیجا۔
MIC 6:5 میرے لوگو، یاد کرو، کہ شاہِ مُوآب بلقؔ نے تُمہیں کیا مشورہ دیا، اَور بِلعاؔم بِن بعورؔ کے بیٹے بِلعاؔم نے اُسے کیا جَواب دیا۔ شِطِّیمؔ سے گِلگالؔ تک کے اَپنے سفر کو یاد کرو، تاکہ یَاہوِہ کے راستبازی کے کاموں کو جان لو۔“
MIC 6:6 میں کیا لے کر یَاہوِہ کے حُضُور میں آؤں، اَور خدائے تعالیٰ کو کیسے سَجدہ کروں؟ کیا سوختنی نذروں، اَور ایک سالہ بچھڑوں کے ساتھ اُس کے حُضُور میں آؤں؟
MIC 6:7 کیا یَاہوِہ ہزار مینڈھوں، اَور تیل کی دس ہزار نہروں سے خُوش ہونگے؟ کیا میں اَپنی سرکشی کے عوض اَپنے پہلوٹھے کو دُوں، اَپنی جَوانی کے پھل کو اَپنی جان کے گُناہوں کے بدلے میں دے دُوں؟
MIC 6:8 اَے اِنسان، اُنہُوں نے تُجھے دِکھا دیا کہ نیکی کیا چیز ہے، اَور یَاہوِہ تُجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ یہ کہ تُو اِنصاف اَور رحمدلی کو عزیز رکھے، اَور اَپنے خُدا کے سامنے فروتنی سے چلے۔
MIC 6:9 سُنو، یَاہوِہ شہر کو پُکارتے ہیں۔ آپ کے نام سے ڈرنا حِکمت ہے۔ ”عصا اَور اُس کے مُقرّر کرنے والے کی سُنو۔
MIC 6:10 اَے بدکار گھرانے، کیا میں اَب بھی تیرا ناجائز منافع، اَور کم پیمانے کو جو نفرت کا باعث ہیں، بھُول جاؤں؟
MIC 6:11 کیا میں اَیسے آدمی کو چھوڑ دُوں جو دغا کے ترازو رکھتا ہے، اَور غلط باٹوں کا تھیلہ رکھتا ہے؟
MIC 6:12 تمہارے دولتمند ظالِم ہیں؛ تمہارے باشِندے جھُوٹ بولتے ہیں۔ اُن کی زبانیں دغابازی کی باتیں کرتی ہیں۔
MIC 6:13 اِس لیٔے مَیں نے تُجھے غارت کرنا، اَور تیرے گُناہوں کے سبب سے تُجھے برباد کرنا شروع کر دیا ہے۔
MIC 6:14 تُو کھائے گا پر آسُودہ نہ ہوگا؛ تیرا پیٹ نہ بھرے گا۔ جمع کرےگا لیکن بچا نہ پایٔےگا، کیونکہ جو کچھ تُو بچائے گا میں اُسے تلوار کے حوالہ کر دُوں گا۔
MIC 6:15 تُو بوئے گا پر فصل نہ پایٔےگا؛ زَیتُون کا تیل نکالے گا لیکن اِستعمال نہ کرےگا، انگور روندےگا پر مَے نہ پیئے گا۔
MIC 6:16 تُو عُمریؔ کے قوانین، اَور احابؔ کے خاندان کے اعمال کی پیروی کرتا ہے، اَور اُن کے رِواج مانتا ہے۔ اِس لیٔے مَیں تُجھے ویران کروں گا، اَور تیرے لوگوں کو مذاق کا باعث بناؤں گا؛ وہ ساری قوموں میں تمسخر کا باعث بنیں گے۔“
MIC 7:1 دُوسری مُصیبت کتنی بڑی ہے! مَیں اُس آدمی کی مانند ہُوں جو انگور توڑنے کے وقت گرمیوں کا پھل جمع کرتا ہے؛ لیکن اُسے کھانے کے لیٔے انگور کا ایک گُچّھا بھی نہیں، اَور نہ میرا مَن چاہا اَنجیر کا پہلا پھل ہے۔
MIC 7:2 نیک آدمی زمین پر سے مٹا دئیے گیٔے؛ ایک راستباز بھی باقی نہیں۔ سَب لوگ خُون کی گھات میں لگے ہُوئے ہیں؛ ہر آدمی جال بچھا کر اَپنے بھایٔی کا شِکار کرتا ہے۔
MIC 7:3 اُن کے دونوں ہاتھ بدی کرنے میں ماہر ہیں؛ حاکم تحفے طلب کرتے ہیں، مُنصِف رشوت لیتا ہے، زبردست جو چاہتے ہیں، اُن سے کرواتے ہیں۔ وہ سَب مِل کر سازش کرتے ہیں۔
MIC 7:4 اُن میں کا سَب سے اَچھّا اُونٹ کٹارے کی مانند ہے، اَور سَب سے راستباز خاردار جھاڑی سے بدتر ہے۔ وہ دِن آ گیا ہے جَب خُدا تمہارے درمیان آئیں گے۔ وہ دِن جَب پہرےدار خطرے کی گھنٹی بجایئں گے۔ اَب تمہاری پریشانی کا دِن ہے۔
MIC 7:5 پڑوسی پر بھروسا مت کر، دوست پر اِعتماد نہ کر۔ اَپنی پیاری بیوی پر اِعتبار نہ کر، اَپنی بات میں خبردار رہ۔
MIC 7:6 کیونکہ بیٹا اَپنے باپ سے حقارت کرتا ہے، بیٹی اَپنی ماں کی، اَور بہُو اَپنی ساس کے خِلاف میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ آدمی کے دُشمن اُس کے گھر ہی کے لوگ ہوتے ہیں۔
MIC 7:7 لیکن مَیں پُر اُمّید ہوکر یَاہوِہ کی راہ دیکھوں گا، مَیں اَپنے مُنجّی خُدا کا اِنتظار کروں گا؛ میرے خُدا میری سُنیں گے۔
MIC 7:8 اَے میرے دُشمن مُجھ پر خُوش نہ ہو! اگرچہ مَیں گِر پڑا ہُوں لیکن اُٹھ کھڑا ہُوں گا۔ چاہے مَیں اَندھیرے میں ہُوں، پھر بھی یَاہوِہ میری رَوشنی ہوں گے۔
MIC 7:9 کیونکہ مَیں نے اُن کے خِلاف گُناہ کیا ہے، جَب تک وہ میرا مُقدّمہ نہ لڑے، اَور میرا حق ثابت نہ کرے۔ جب تک وہ مُجھے رَوشنی میں نہیں لایٔے گا؛ تب تک مَیں اُن کی راستبازی نہ دیکھوں گا۔ اَور مَیں یَاہوِہ کے قہر کو برداشت کروں گا،
MIC 7:10 تَب میرا دُشمن اُس کو دیکھے گا، اَور شرمندہ ہوگا، وہ جِس نے مُجھ سے کہاتھا، کہ یَاہوِہ تیرا خُدا کہاں ہے؟ میری آنکھیں اُس کا زوال دیکھیں گی؛ اَب بھی وہ پیروں کے نیچے کُچلی جائے گی، جِس طرح گلیوں میں کیچڑ روندی جاتی ہے۔
MIC 7:11 تمہاری فصیلیں تعمیر کرنے، اَور تمہاری حُدوُدیں بڑھانے کا وقت آئے گا۔
MIC 7:12 اُس دِن لوگ تیرے پاس آئیں گے، اشُور اَور مِصر کے شہروں سے تیرے پاس آئیں گے، بَلکہ مِصر سے دریائے فراتؔ، اَور سمُندر اَور پہاڑ سے پہاڑ تک، قومیں تیرے پاس آئیں گی۔
MIC 7:13 زمین اَپنے باشِندوں کے کاموں کے سبب سے، ویران ہو جائے گی۔
MIC 7:14 اَپنے لوگوں، یعنی اَپنی مِیراث کے گلّوں کی گلّہ بانی عصا سے کر، جو جنگل میں زرخیز چراگاہوں میں، تنہا رہتے ہیں۔ اُنہیں باشانؔ اَور گِلعادؔ میں، قدیم زمانہ کی طرح چرنے دے۔
MIC 7:15 جَیسے مَیں نے تُجھے مِصر سے نکلنے کے دِنوں میں دِکھائے تھے، مَیں اُن کو اَپنے عجائب دِکھاؤں گا۔
MIC 7:16 قومیں دیکھیں گی اَور شرمندہ ہُوں گی، اُن سے اُن کی تمام قُوّت چھین لی جائے گی۔ وہ اَپنے مُنہ پر اَپنا ہاتھ رکھیں گے، اَور اُن کے کان بہرے ہو جایٔیں گے۔
MIC 7:17 وہ سانپ کی طرح خاک چاٹیں گے، اَور زمین پر رینگنے والے کیڑوں کی طرح، کانپتے ہُوئے اَپنی ماندوں سے باہر آئیں گے؛ ڈرتے ڈرتے ہمارے یَاہوِہ خُدا کی طرف آئیں گے، اَور آپ سے نہ ڈریں گے۔
MIC 7:18 آپ جَیسا خُدا کون ہے، جو گُناہ مُعاف کرتا ہے، اَور اَپنی مِیراث کے بقیّہ کی خطاؤں کو بخشتا ہے؟ وہ اَپنا قہر ہمیشہ کے لیٔے نہیں رکھ چھوڑتا، بَلکہ رحم کرنے سے خُوش ہوتاہے۔
MIC 7:19 آپ پھر ہم پر رحم فرمایٔے گا؛ آپ ہمارے گُناہوں کو پیروں تلے کُچلے گا، اَور ہماری سَب بدکاریوں کو سمُندر کی تہہ میں ڈال دے گا۔
MIC 7:20 آپ یعقوب کے گھرانے سے وفا شعاری کرےگا، اَور اَبراہامؔ کو شفقت دِکھائے گا، جِس کی بابت آپ نے قدیم زمانوں میں، ہمارے باپ دادوں سے قَسم کھائی تھی۔
NAH 1:1 نینوہؔ کی بابت نبُوّت۔ ناحُومؔ القوشی کی رُویا کی کِتاب۔
NAH 1:2 یَاہوِہ غیّور ہیں اَور اِنتقام لینے والے خُدا ہیں؛ یَاہوِہ اِنتقام لیتے ہیں اَور غضب سے معموُر ہیں۔ یَاہوِہ اَپنے مُخالفوں سے اِنتقام لیتے ہیں اَور اَپنے دُشمنوں کے خِلاف اَپنے قہر کو نازل کرتے ہیں۔
NAH 1:3 یَاہوِہ قہر کرنے میں دھیمے اَور قُوّت میں غنی ہیں؛ یَاہوِہ مُجرم کو بے سزا نہ چھوڑیں گے۔ اُن کی راہ بگُولہ اَور گِردباد میں سے ہوکر گُزرتی ہے اَور بادل اُن کے پاؤں کی گَرد ہیں۔
NAH 1:4 وہ سمُندر کو ڈانٹتے ہیں اَور اُسے سُکھا دیتے ہیں؛ وہ سَب دریاؤں کو سُکھا دیتے ہیں۔ باشانؔ اَور کرمِلؔ سُوکھ جاتے ہیں اَور لبانونؔ کی کونپلیں مُرجھا جاتی ہیں۔
NAH 1:5 اُن کے سامنے پہاڑ کانپتے ہیں اَور ٹیلے پگھل جاتے ہیں۔ اُن کے سامنے تمام دُنیا اَور اُن میں رہنے والے تھرتھراتے ہیں۔
NAH 1:6 اُن کے قہر کا سامنا کون کر سکتا ہے؟ اَور کون اُن کے ہیبت ناک غضب کو برداشت کر سَکتا ہے؟ اُن کا غُصّہ آگ کی طرح نازل ہوتاہے؛ اُن کے سامنے چٹّانیں لرز جاتی ہیں۔
NAH 1:7 یَاہوِہ بھلےہیں اَور، مُصیبت میں پناہ گاہ ہیں۔ جو اُن پر توکّل رکھتے ہیں، وہ اُن کی فکر کرتے ہیں،
NAH 1:8 لیکن وہ ایک بڑے سیلاب سے نینوہؔ کو تباہ کر دیں گے؛ وہ اَپنے دُشمنوں کو تاریکی میں کھدیڑ دیں گے۔
NAH 1:9 یَاہوِہ کے خِلاف جو بھی منصُوبہ باندھیں گے وہ اُسے مٹا دیں گے؛ مُصیبت دوبارہ نہ آئے گی۔
NAH 1:10 کیونکہ چاہے اُن کے دُشمن اُلجھے ہُوئے کانٹوں کی مانند پیچیدہ اَور اَپنی مَے سے متوالے ہوں؛ تَو بھی وہ سُوکھنے کھونٹوں کی طرح جَل کر بھسم ہو جایٔیں گے۔
NAH 1:11 اَے نینوہؔ، تُجھ میں سے ایک شخص نِکلا ہے، جو یَاہوِہ کے خِلاف بُرے منصُوبہ باندھتا ہے اَور بُرائی کی سازش کرتا ہے۔
NAH 1:12 یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: اگرچہ اُن کے مددگار بے شُمار ہیں، تو بھی وہ نِیست و نابود کر دئیے جایٔیں گے اَور وہ مِٹ جایٔیں گے۔ اَے یہُوداہؔ، اگرچہ مَیں نے تُجھے بہت ستایا ہے، تو بھی پھر کبھی مَیں تُجھے اَور دُکھ نہ دُوں گا۔
NAH 1:13 اَب مَیں تمہاری گردن پر رکھے اُن کا جُوا توڑ ڈالُوں گا اَور تمہاری بِیڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دُوں گا۔
NAH 1:14 اَے نینوہؔ، تمہاری بابت یَاہوِہ نے ایک حُکم دیا ہے، تمہاری نَسل باقی نہ رہے گی، میں تمہاری کھودی ہُوئی مورتوں اَور ڈھالے ہُوئے بُتوں کو جو تمہارے معبُودوں کے بُت خانوں میں رکھی ہیں، تباہ کر دُوں گا۔ چونکہ تُو نکمّا ہے، اِس لئے میں تمہاری قبر کھودوں گا۔
NAH 1:15 اُن پہاڑوں کی طرف نظر اُٹھاکر، اُس کے پاؤں کو دیکھ جو خُوشخبری لاتا، اَور سلامتی کا اعلان کرتا ہے! اَے یہُوداہؔ، اَپنی عیدیں منا، اَور اَپنی مَنّتیں پُوری کر۔ کیونکہ پھر بدکار تُجھ پر حملہ نہ کریں گے؛ کیونکہ وہ مُکمّل طور سے فنا کر دئیے جایٔیں گے۔
NAH 2:1 اَے نینوہؔ، ایک حملہ آور تُجھ پر چڑھ آیا ہے، اَپنے قلعہ کو محفوظ رکھ، راہ کی نگہبانی کر، کمر کس لے، اَور اَپنی ساری طاقت کو جمع کر۔
NAH 2:2 یَاہوِہ یعقوب کی ساری شان و شوکت کو، اِسرائیل کی شان کی مانند بحال کرےگا، اگرچہ غارت کرنے والوں نے اُنہیں غارت کر دیا ہے اَور اُن کے تاک کی شاخوں کو اُجاڑ دیا ہے۔
NAH 2:3 تیّاری کے دِن اُس کے جنگی بہادروں کی ڈھالیں سُرخ ہیں؛ جنگی مَرد قِرمزی لباس پہنے ہیں۔ تیّاری کے دِن اُن کے رتھوں کی فولاد چمچماتی ہے؛ صنوبر کے نیزے لہرا رہے ہیں۔
NAH 2:4 راستوں پر رتھ تیزی سے دَوڑ رہے ہیں، وہ چَوک کے میدان میں اِدھر سے اُدھر دَوڑ رہے ہیں۔ وہ مشعلوں کی مانند دِکھائی دیتے ہیں؛ وہ بجلی کی مانند کوند رہے ہیں۔
NAH 2:5 وہ اَپنے مُنتخب فَوجیوں کو بُلاتا ہے، پر وہ اَپنے راستوں پر ٹھوکر کھاتے ہیں۔ اَور شہرپناہ سے ٹکراتے ہیں؛ حِفاظت کرنے والی آڑ اَپنی جگہ پر رکھ دی گئی ہے۔
NAH 2:6 دریاؤں کے پھاٹک کھُل جاتے ہیں، اَور محل ڈھیر ہوکر رہ جاتے ہیں۔
NAH 2:7 یہ طے ہو چُکاہے کہ شہر والے، جَلاوطنی میں لے جائے جایٔیں۔ اُن کی لونڈیاں قُمریوں کی طرح ماتم کریں، اَور چھاتِیاں پیٹیں۔
NAH 2:8 نینوہؔ ایک حوض کی مانند ہے، اُس کا پانی نکالا جا رہاہے۔ لوگ چِلاّتے ہیں، ”ٹھہرو، ٹھہرو،“ پر کویٔی مُڑ کر نہیں دیکھتا۔
NAH 2:9 چاندی لُوٹو! سونا لُوٹو! مال کی کویٔی اِنتہا نہیں، خزانوں میں دولت کثرت سے ہے!
NAH 2:10 وہ خالی ہے، لُوٹ لیا گیا ہے، ویران ہے! دِل پگھل جاتے ہیں، گھُٹنے لڑکھڑاتے ہیں، جِسم کانپتے ہیں، ہر چہرہ زرد ہو جاتا ہے۔
NAH 2:11 اَب شیر کی ماند کہاں ہے، وہ جگہ جہاں وہ اَپنے بچّوں کو خُوراک کھِلاتے تھے، شیر، شیرنی اَور اُن کے بچّے کہاں گیٔے، جہاں وہ بے خوف پھرا کرتے تھے؟
NAH 2:12 شیرببر اَپنے بچّوں کے لیٔے بہت شِکار مارتا تھا، اَور اَپنی شیرنی کے لیٔے شِکار کا گلا گھونٹتا تھا، اَور اَپنی ماندوں کو شِکار سے، اَور غاروں کو پھاڑے ہوئے جانوروں سے بھر دیتا تھا۔
NAH 2:13 قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”مَیں تیرا مُخالف ہُوں، مَیں تمہارے رتھوں کو دُھواں بنا دُوں گا، اَور تلوار تمہارے جَوان شیروں کو نگل جائے گی۔ میں زمین پر تمہارے لیٔے کویٔی شِکار نہیں چھوڑوں گا۔ تمہارے قاصِدوں کی آوازیں، پھر کبھی سُنایٔی نہ دیں گی۔“
NAH 3:1 خُونی شہر پر افسوس، وہ جھُوٹ اَور غارت گری سے بھرا ہُواہے وہ کبھی جُرم سے باز نہیں رہتا!
NAH 3:2 چابک کے چٹخنے کی آواز، پہیّوں کی کھڑکھڑاہٹ، گھوڑوں کی ٹاپ، اَور رتھوں کے ہچکولوں کی آواز!
NAH 3:3 حملہ آور لشکر، تلواروں کی چمک، اَور بھالوں کی جھلک! مقتولوں کے ڈھیر، لاشوں کے انبار، بے شُمار لاشیں، جِن سے لوگ ٹھوکریں کھاتے ہیں۔
NAH 3:4 یہ سَب اُس کسبی اَور فاحِشہ کی بدکاری کے سبب سے ہے، جِس نے فاحِشہ پن سے قوموں کو، اَور جادُو سے لوگوں کو غُلام بنا لیا ہے۔
NAH 3:5 قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ مَیں تیرا مُخالف ہُوں۔ مَیں تُجھے تمہارے مُنہ تک ننگا کروں گا۔ اَور قوموں کو تیرا ننگا پن دِکھاؤں گا، اَور مملکتوں کو تمہاری برہنگی دِکھاؤں گا۔
NAH 3:6 مَیں تمہارے اُوپر گندگی ڈالُوں گا، میں نفرت کا سلُوک کروں گا تُجھے رُسوا کروں گا۔
NAH 3:7 جو کویٔی تُجھ پر نظر کرےگا بھاگ جائے گا، اَور کہے گا نینوہؔ برباد ہو رہاہے، کون اُس کے لیٔے ماتم کرےگا؟ مَیں تمہارے لیٔے تسلّی دینے والا کہاں سے لاؤں؟
NAH 3:8 کیا تُو تھیبیس سے بڑھ کر ہے، جو دریائے نیل پر بسا ہُواہے، اَور اُس کے چاروں طرف پانی ہے؟ ندی اُس کی مُحافظ تھی، اَور پانی اُس کی دیوار تھا۔
NAH 3:9 کُوشؔ اَور مِصر اُس کی بے اِنتہا طاقت تھے؛ فُوطؔ اَور لیبیا اُس کے حمایتی تھے۔
NAH 3:10 تو بھی وہ اسیر ہُوا اَور جَلاوطنی میں گیا۔ ہر گلی کے نکّڑ پر اُس کے دُودھ پیتے بچّے پٹک کر ٹکڑے کر دئیے گیٔے۔ اُس کے مُعزّز لوگوں پر قُرعہ ڈالے گیٔے، اَور اُس کے سارے بُزرگ زنجیروں میں جکڑ دئیے گیٔے۔
NAH 3:11 تُو بھی متوالا ہو جائے گا؛ تُو دُشمن سے بچنے کے لیٔے پناہ مانگے گا اَور خُود کو چُھپائے گا۔
NAH 3:12 تمہارے سارے قلعے اَنجیر کے درختوں کی مانند ہوں گے جِن پر پہلی فصل کے پکے پھل لگے ہُوں؛ جَب اُن کو ہلایا جاتا ہے، تو کھانے والے کے مُنہ میں پھل گرتا ہے۔
NAH 3:13 اَپنے جنگی بہادروں کو دیکھ۔ تمہارے مَرد عورتیں بَن گیٔے ہیں! تمہارے مُلک کے پھاٹک تمہارے دُشمنوں کے لیٔے کھُل گیٔے ہیں؛ آگ اڑبنگوں کو کھا گئی۔
NAH 3:14 محاصرے کے لیٔے پانی بھر لے، اَپنے قلعوں کو مضبُوط کر! مٹّی تیّار کر، روند کر مَسالہ بنا، اینٹ کے سانچے کی مرمّت کر!
NAH 3:15 وہاں آگ تُجھے کھا جائے گی؛ تلوار تُجھے کاٹ ڈالے گی اَور ٹِڈّی کی طرح تُجھے کھا جائے گی۔ ٹِڈّیوں کی طرح اَپنا شُمار بڑھا!
NAH 3:16 تُم نے اَپنے سوداگروں کو آسمان کے سِتاروں سے زِیادہ بڑھا لیا ہے، لیکن وہ ٹِڈّیوں کی طرح چٹ کرکے اُڑ جاتے ہیں۔
NAH 3:17 تمہارے مُحافظ ٹِڈّیوں کے غول کی مانند ہیں، تمہارے سردار ٹِڈّیوں کے غول کی طرح ہیں جِس کی ٹِڈّیاں سردی کے دِن دیوار کے شگافوں میں پناہ لیتی ہیں۔ لیکن سُورج نکلتے ہی اُڑ جاتی ہیں، کویٔی نہیں جانتا کہاں۔
NAH 3:18 اَے اشُور کے بادشاہ، تمہارے چرواہے اُونگھتے ہیں؛ تمہارے سردار آرام سے سَو رہے ہیں۔ تمہاری رعایا پہاڑوں پر مُنتشر ہو گئی اُنہیں جمع کرنے والا کویٔی نہیں۔
NAH 3:19 کویٔی چیز تمہارے زخموں کو شفا نہیں دے سکتی؛ تیرا زخم لاعلاج ہے۔ جو کویٔی تمہارے بارے میں سُنتا ہے وہ تمہاری بربادی پر خُوش ہوکر تالی بجاتا ہے، کیونکہ کون ہے جِس نے تیرا ظُلم نہیں سہا؟
HAB 1:1 بارِ نبُوّت جو حبقُّوقؔ نبی کو مِلا۔
HAB 1:2 اَے یَاہوِہ، میں کب تک مدد کے لیٔے پُکاروں گا، پر آپ سُنتے ہی نہیں؟ یا مَیں آپ کے حُضُور، ”ظُلم ظُلم چِلّاؤں!“ پھر بھی آپ نہیں بچاتے؟
HAB 1:3 آپ کیا مُجھے نااِنصافی دِکھانے ہیں؟ آپ بدکاری کو کیوں برداشت کرلیتے ہیں؟ بربادی اَور ظُلم میرے سامنے آ گئے ہیں؛ فتنہ اَور فساد بہت بڑھ گئے ہیں۔
HAB 1:4 اِس لیٔے آئین بےبس ہو گیا، اِنصاف بالکُل قائِم نہیں رہا۔ بدکار راستبازوں کو گھیر لیتے ہیں، اِس لیٔے اِنصاف باقی نہیں رہا۔
HAB 1:5 قوموں کو دیکھو اَور غور کرو۔ اَور تعجُّب کرو۔ کیونکہ مَیں تمہارے دِنوں میں ایک اَیسا کام کرنے پر ہُوں کہ اگر کویٔی اُس کا ذِکر تُم سے کرے بھی تُو تُم ہرگز یقین نہ کروگے۔
HAB 1:6 میں کَسدیوں کو چڑھا لاؤں گا، وہ ظالِم اَور تُند رَو قوم ہیں، وہ اُن بستیوں پرجو اُن کی نہیں ہیں قبضہ کرلینے کے لیٔے تمام زمین سے ہوکر گزرتے ہیں۔
HAB 1:7 وہ خوفناک اَور دہشت ناک لوگ ہیں؛ وہ اَپنے لیٔے خُود ہی اَپنا قانُون ہیں وہ خُود اَپنی عزّت کو بڑھاتے ہیں۔
HAB 1:8 اُن کے گھوڑے چیتوں سے زِیادہ تیز رفتار، اَور شام کو نکلنے والے بھیڑیوں سے زِیادہ خُونخوار ہیں۔ اُن کے گُھڑسوار کودتے پھاندتے آگے کو بڑھتے چلے جاتے ہیں؛ اُن کے گُھڑسوار دُور سے آئے ہیں۔ وہ اُڑتے ہُوئے گِدھ کی مانند ہیں جو شِکار کو نگلنے کے لیٔے جھپٹتا ہے۔
HAB 1:9 وہ سَب غارت گری کے اِرادے سے آئے ہیں۔ اُن کے چھتّے ریگستانی آندھی کی طرح آگے بڑھتے ہیں اَور اسیروں کو ریت کے ذرّوں کی مانند جمع کرتے ہیں۔
HAB 1:10 وہ بادشاہوں کو ٹھٹھّوں میں اُڑاتے ہیں اَور حُکمرانوں کا تمسخر کرتے ہیں۔ وہ فصیلدار شہروں کی ہنسی اُڑاتے ہیں؛ اَور مٹّی کے دمدمے باندھ کر اُنہیں فتح کرلیتے ہیں۔
HAB 1:11 تَب وہ تیز ہَوا کی طرح تیزی سے گزر اَور آگے نکل جاتے ہیں، اَور وہ مُجرم لوگ ہیں، اُن کا زور ہی اُن کا خُدا ہے۔
HAB 1:12 اَے میرے یَاہوِہ، میرے خُدا میرے قُدُّوس کیا آپ اَبد سے نہیں ہے؟ آپ مَریں گے تو نہیں؟ اَے خُدا، تُونے اُنہیں اِنصاف کرنے کے لیٔے مُقرّر کیا ہے؛ اَے چٹّان تُونے اُنہیں سزا دینے کے لیٔے مخصُوص کیا ہے۔
HAB 1:13 تیری آنکھیں اَیسی پاک ہیں کہ بدی کو نہیں دیکھ سکتیں؛ تُو بدی کو سَہہ نہیں سَکتا۔ تو پھر تُو دغابازوں کو کیوں برداشت کرتا ہے؟ جَب بدکار اَپنے سے زِیادہ راستبازوں کو نگل جاتے ہیں تو تُو کیوں خاموش رہتاہے؟
HAB 1:14 تُونے اِنسان کو سمُندر کی مچھلی، اَور سمُندری مخلُوقات کی مانند بنایا ہے جِن کا کویٔی حُکمران نہیں۔
HAB 1:15 بدکار دُشمن اُن کو کانٹے سے کھینچ لیتا ہے، اَور اُن کو اَپنے جال سے پکڑ لیتا ہے، اَور بڑے جال میں جمع کر لیتا ہے؛ اِس لیٔے وہ شادمان اَور خُوش ہوتاہے۔
HAB 1:16 اِس لیٔے وہ اَپنے جال کے لیٔے قُربانیاں چڑھاتا ہے اَور اَپنے جال کے لیٔے خُوشبوئیں جَلاتا ہے، کیونکہ اَپنے جال کے وسیلے سے وہ عیش کرتا ہے اَور لذیذ غِذا کھاتا ہے۔
HAB 1:17 کیا وہ اَپنا جال خالی کرتا رہے گا، اَور قوموں پر رحم نہ کرکے اُنہیں برباد کرتا رہے گا؟
HAB 2:1 میں اَپنی پہرےداری پر کھڑا رہُوں گا اَور فصیل پر مضبُوطی سے ٹھہرا رہُوں گا؛ اَور اِنتظار کروں گا کہ وہ مُجھ سے کیا کہتاہے، اَور مَیں اُس کی شکایت کا کیا جَواب دُوں۔
HAB 2:2 تَب یَاہوِہ نے جَواب دیا کہ: جو کچھ میں ظاہر کروں اُسے تختیوں پر اَیسا صَاف لِکھ کہ وہ آسانی سے پڑھا جا سکے۔ تاکہ اعلان کرنے والا اُسے پڑھ سکے اَور دَوڑتے ہوئے بھی اعلان کر سکے۔
HAB 2:3 کیونکہ یہ رُویا ایک مُقرّرہ وقت کے لیٔے رُکی ہُوئی ہے؛ یہ اَنجام کے بارے میں بتاتی ہے اَور غلط ثابت نہ ہوگی۔ اگر اُس کو دیر بھی ہو تو بھی اُس کا اِنتظار کر؛ کیونکہ یہ ضروُر واقع ہوگی اَور دیری نہیں ہوگی۔
HAB 2:4 دیکھ وہ دشمن مغروُر ہیں؛ اُس کی خواہشات دُرست نہیں ہیں؛ لیکن راستباز ایمان سے زندہ رہے گا،
HAB 2:5 بے شک شراب دھوکا دیتی ہے؛ وہ ضِدّی ہے اَور کبھی سکون نہیں پاتا۔ کیونکہ وہ قبر کی طرح لالچی ہے اَور موت کی طرح کبھی آسُودہ نہیں ہوتا، وہ سَب قوموں کو اَپنے پاس جمع کر لیتا ہے اَور سَب لوگوں کو جمع کر لیتا ہے۔
HAB 2:6 کیا یہ سَب ٹھٹّھا کرکے اُس پر طنز نہ کریں گے اَور یہ یہ ضرب المثل کہتے ہُوئے اُسے حقیر نہ جانیں گے کہ اُس پر افسوس جو چوری کے مال کا انبار لگاتاہے اَور جبراً سے مال حاصل کرکے خُود کو مالدار بناتا ہے! مگر اَیسا کب تک ہوگا؟
HAB 2:7 کیا تیرے قرض خواہ یَکایک نہ اُٹھ کھڑے ہوں گے؟ کیا وہ بیدار نہ ہوں گے اَور تیرے کپکپانے کا باعث نہ بَن جایٔیں گے؟ تَب تُو اُن کا شِکار ہو جائے گا۔
HAB 2:8 چونکہ تُونے بہت سِی قوموں کو لُوٹا ہے، اَور بہت سے اِنسانوں کا خُون بہایا ہے، تُونے زمین کو اَور مُلکوں کو اُن کے باشِندوں کے ساتھ برباد کیا ہے، اِس لیٔے بچے ہُوئے لوگ تُجھے غارت کریں گے۔
HAB 2:9 اُس پر افسوس جو ناجائز نفع اُٹھاکر اَپنا گھر بناتا ہے اَور اَپنا آشیانہ بُلندی پر بناتا ہے، تاکہ بربادی سے محفوظ رہے!
HAB 2:10 تُونے بہت قوموں کی بربادی کا منصُوبہ بنایا، اَور اَپنے گھر کو رُسوا کیا اَور اَپنی جان کو گنوایا۔
HAB 2:11 دیوار کے پتّھر چِلّائیں گے، اَور لکڑی کے شہتیر جَواب دیں گے۔
HAB 2:12 اُس پر افسوس جو خُون بہا کر شہر بناتا ہے اَور بدکرداری سے شہر بساتا ہے!
HAB 2:13 کیا قادرمُطلق یَاہوِہ کا منصُوبہ یہ نہیں کہ اِنسان کی محنت آگ کا ایندھن بنے، اَور قوموں کا اَپنے آپ کو تھکانا عبث ٹھہرے؟
HAB 2:14 جِس طرح سمُندر پانی سے بھرا ہُواہے اِسی طرح زمین یَاہوِہ کے جلال کے عِرفان سے معموُر ہوگی۔
HAB 2:15 اُس پر افسوس جو اَپنے ہمسایوں کو اُس وقت تک شراب اُنڈیل کر پلاتا ہے جَب تک کہ وہ متوالے نہ ہو جایٔیں، اَور اُن کی برہنگی ظاہر نہ ہو جائے۔
HAB 2:16 تُو عزّت کے عوض شرمندگی سے بھر جائے گا۔ اَب تیری باری ہے، تُو بھی پی اَور متوالا ہوکر برہنگی کو دیکھا! یَاہوِہ کے داہنے ہاتھ کا پیالہ تیرے پاس آ رہاہے، اَور رُسوائی تیری شوکت کو ڈھانپ لے گی۔
HAB 2:17 تُونے لبانونؔ کے اُوپر جو ظُلم کیا ہے وہ تُجھے گھیر لے گا، تُونے جانوروں کی جو ہلاکت کی ہے وہ تُجھے خوفزدہ کرےگی۔ کیونکہ تُونے اِنسان کا لہُو بہایا ہے؛ تُونے مُلک، شہر اَور اُن کے باشِندوں کو غارت کیا ہے۔
HAB 2:18 تراشی ہُوئی مُورت کی کیا وقعت کیونکہ اِنسان نے اُسے تراش کر بنایا ہے؟ اَور بُت کی جو جھُوٹ سِکھاتا ہے؟ کیونکہ جو کویٔی اُسے بنائے گا وہ اَپنی ہی کاریگری پر بھروسا رکھتا ہے؛ وہ اَیسے بُت بناتا ہے جو بول نہیں سکتے۔
HAB 2:19 اُس پر افسوس جو لکڑی سے کہتاہے کہ زندہ ہو جا! اَور بے جان پتّھر سے کہ اُٹھ! کیا وہ رہنمائی کر سَکتا ہے؟ وہ تو سونے چاندی سے کڑھا ہُواہے؛ اُس میں کویٔی جان نہیں۔
HAB 2:20 مگر یَاہوِہ اَپنی مُقدّس میں ہے؛ تمام زمین اُس کے سامنے خاموش رہے۔
HAB 3:1 شگیَونوتؔ‏ باجے پر حبقُّوقؔ نبی کی دعا۔
HAB 3:2 اَے یَاہوِہ، مَیں نے شہرت سُن لی ہے؛ اَور اَے یَاہوِہ مَیں آپ کے کاموں سے خوفزدہ ہوں۔ ہمارے دِنوں میں اُنہیں بحال کریں، ہمارے زمانوں میں اُن کی شہرت بنائے رکھیں؛ قہر میں رحم کو یاد فرمائیں۔
HAB 3:3 خُدا تیمانؔ سے آیا، قُدُّوس پارانؔ پہاڑ سے۔ اُن کے جلال نے آسمان کو ڈھانپ لیا اَور زمین اُن کی تعریف سے معموُر ہو گئی۔
HAB 3:4 اُن کا جلوہ طُلوع ہوتے ہُوئے سُورج کی مانند تھا؛ اُن کے ہاتھ سے کرنیں پھوٹتی تھیں، جِن میں اُن کی قُدرت چھپی ہُوئی تھی۔
HAB 3:5 وَبا اُن کے آگے چلتی تھی؛ مَری اُن کے قدموں کے پیچھے تھی۔
HAB 3:6 وہ کھڑا ہُوئے اَور زمین تھرتھرا گئی، اُنہُوں نے نگاہ کی اَور قومیں کانپ گئیں۔ قدیم پہاڑ چُورچُور ہو گئے اَور قدیم ٹیلے گِر گیٔے۔ لیکن وہ ہمیشہ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
HAB 3:7 مَیں نے کوشن کے خیموں کو مُصیبت میں دیکھا، اَور مُلک مِدیان کے رِہائشی قِیام گاہیں غم میں ہیں۔
HAB 3:8 اَے یَاہوِہ کیا تُو دریاؤں سے ناراض تھا؟ کیا تیرا قہر چشموں پر تھا؟ کیا تیرا غضب سمُندر پر تھا جَب تُو گھوڑوں اَور اَپنے فتح مند رتھوں پر سوار ہُوا؟
HAB 3:9 آپ نے اَپنی کمان کو غلاف سے نکالا، آپ نے بہت سے تیر لانے کو کہا۔ آپ نے زمین کو دریاؤں سے چیر ڈالا؛
HAB 3:10 پہاڑوں نے تُجھے دیکھا اَور جھٹپٹا اُٹھے۔ سیلاب گزر گئے، سمُندر چیخے اَور موجیں بُلند ہُوئیں۔
HAB 3:11 آپ کی اُڑنے والے تیروں کی رَوشنی اَور نیزے کی چمک سے سُورج اَور چاند آسمان میں ٹھہر گیٔے۔
HAB 3:12 آپ اَپنے غضب میں زمین پر سے گزرے اَور اَپنے قہر میں تُونے قوموں کو کُچل دیا۔
HAB 3:13 آپ اَپنے لوگوں کو مخلصی دینے نکلے تھے، اَپنے ممسوح کو بچانے کے لیٔے۔ آپ نے ظالِم مُلکوں کے رہنما کو کُچل دیا، آپ نے اُسے سَر سے پاؤں تک ننگا کر دیا۔ سلاہ
HAB 3:14 جَب اُس کے بہادر ہمیں مُنتشر کرنے کے لیٔے گھر آئے، وہ اُن بُرے لوگوں کو گھُور رہے تھے جو چھپے ہوئے تھے۔ اُنہیں نگل والے ہوں۔ تو تُونے اُس کے نیزے سے اُس کا سَر پھوڑ دیا۔ بدبخت جو چھپے ہوئے تھے۔
HAB 3:15 تُونے سیلاب کو مسلتے ہُوئے اَپنے گھوڑوں سے سمُندر کو روند ڈالا۔
HAB 3:16 مَیں نے سُنا اَور میرا دِل دہل گیا، اُس آواز سے میرے ہونٹ تھرتھرانے لگے؛ میری ہڈّیاں گلنے لگیں، اَور میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ پھر بھی میں صبر سے مُصیبت کے دِن کا اِنتظار کروں گا جو ہمارے اُوپر حملہ کرنے والی قوم پر آنے کو ہے۔
HAB 3:17 اگرچہ اَنجیر کا درخت نہ پھُولے اَور تاک میں انگور نہ لگیں، زَیتُون پھل نہ دے اَور کھیتوں میں پیداوار نہ ہو، اَور بھیڑ خانوں میں بھیڑیں نہ ہوں اَور مویشی خانے میں مویشی نہ ہوں۔
HAB 3:18 پھر بھی مَیں یَاہوِہ میں مسرُور رہُوں گا، میں اَپنے مُنجّی خُدا سے خُوش ہوں گا۔
HAB 3:19 یَاہوِہ قادر میری قُوّت ہے؛ وہ میرے پاؤں کو ہِرنی کے پاؤں جَیسے بناتا ہے، وہ مُجھے اُونچی بُلندیوں پر چڑھنے کے قابل بناتا ہے۔ موسیقی ہدایت کار کے لیٔے، تاردار سازوں پر۔
ZEP 1:1 یَاہوِہ کا کلام جو امُونؔ کے بیٹے یُوشیاہؔ، شاہِ یہُودیؔہ کے دِنوں میں حِزقیاہؔ کے بیٹے امریاہؔ کے بیٹے گِدلیاہؔ کے بیٹے کُوشی کے بیٹے صفنیاہؔ پر نازل ہُوا۔
ZEP 1:2 میں زمین کے اُوپر سے سَب کچھ مٹا دُوں گا، یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
ZEP 1:3 مَیں اِنسان اَور حَیوان دونوں کو مٹا دُوں گا؛ اَور آسمان کے پرندوں اَور سمُندر کی مچھلیوں کو مٹا دُوں گا۔ یَاہوِہ اعلان کرتے ہیں، اَور مَیں اُن بُتوں کو تباہ کر دوں گا جو بدکار کو گرانے کا سبب بنتے ہیں۔ اَور اِنسان کو زمین پر سے مٹا ڈالُوں گا،
ZEP 1:4 مَیں یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سَب باشِندوں کے خِلاف اَپنے ہاتھ بڑھاؤں گا۔ میں اُس جگہ سے بَعل کے بقیّہ کو کاٹ ڈالُوں گا، بُت پرستوں اَور اُن کے پجاریوں کا نام مٹا دُوں گا۔
ZEP 1:5 جو لوگ کوٹھوں پر چڑھ کر اجرامِ فلکی کی پرستش کرتے ہیں، اَور اُن کے سامنے سَجدہ کرتے ہیں، جو لوگ یَاہوِہ کو سَجدہ کرتے ہیں اَور یَاہوِہ کے نام کی قَسم کھاتے ہیں اَور مولکؔ کی قَسم بھی کھاتے ہیں،
ZEP 1:6 جو یَاہوِہ کی فرمانبرداری سے مُنہ پھیرتے ہیں نہ یَاہوِہ کے طالب ہیں، نہ اُن سے مشورت کرتے ہیں۔
ZEP 1:7 یَاہوِہ قادر کے سامنے خاموش رہو، کیونکہ یَاہوِہ کا دِن نزدیک ہے۔ یَاہوِہ نے ایک قُربانی تیّار کی ہے اَور جِن کو اُس نے مدعو کیا ہے اُنہیں مخصُوص کیا ہے۔
ZEP 1:8 یَاہوِہ کی قُربانی کے دِن میں شہزادوں اَور بادشاہ زادوں اَور اُن سَب کو جو غَیر مُلکی پوشاک پہنے ہُوئے ہیں، سزا دُوں گا۔
ZEP 1:9 اَورجو اُس دِن میں اُن سَب کو جو دہلیز پر قدم نہیں رکھتے، سزا دُوں گا، اَورجو اَپنے معبُودوں کے معبد ظُلم اَور فریب سے بھرتے ہیں، سزا دُوں گا۔
ZEP 1:10 یَاہوِہ فرماتے ہیں، اُس دِن مچھلی پھاٹک سے ایک آواز بُلند ہوگی، نئی بستی سے ماتم کی آواز اُٹھے گی، اَور پہاڑیوں سے بڑے شوروغل کی آواز آئے گی۔
ZEP 1:11 اَے سوداگری کے شہر مکتیسؔ کے رہنے والو؛ تمہارے سارے سوداگر غارت ہوں گے، جو چاندی کی تِجارت کرتے ہیں، برباد ہو جایٔیں گے۔
ZEP 1:12 اُس وقت مَیں چراغ لے کر یروشلیمؔ میں ڈھونڈوں گا اَورجو آسُودہ ہیں اَور پیالی میں بچی ہُوئی تلچھٹ کی طرح ہیں، جو سوچتے ہیں کہ یَاہوِہ کویٔی سزا یا جزا نہیں دیں گے، میں اُن کو سزا دُوں گا۔
ZEP 1:13 اُن کی دولت لُٹ جائے گی، اُن کے مکان گرا دئیے جایٔیں گے۔ وہ گھر تو بنائیں گے پر اُن میں رہنے نہ پائیں گے؛ وہ تاکستان لگائیں گے پر اُن کی مَے نہ پیئیں گے۔
ZEP 1:14 یَاہوِہ کا عظیم دِن قریب ہے۔ اَور وہ جلد آ رہاہے۔ سُنو! یَاہوِہ کے دِن کا شور بہت زِیادہ ہوگا، اَور جنگجو بھی پھوٹ پھوٹ کر رُوئے گا۔
ZEP 1:15 وہ دِن قہر کا دِن ہوگا، رنج و مُصیبت کا دِن ہوگا، تباہی، بربادی کا دِن، ظلمت اَور تیرگی کا دِن، گھٹاؤں اَور تاریکی کا دِن،
ZEP 1:16 تُرہی کی آواز اَور جنگی نعروں کا دِن قلعہ بند شہروں کے خِلاف اَور کونے والے بُلند بُرجوں کے خِلاف۔
ZEP 1:17 ”مَیں لوگوں پر مُصیبت لاؤں گا اَور وہ اَندھوں کی طرح چلیں گے، کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔ اُن کا خُون خاک کی طرح اَور اُن کا گوشت نَجاست کی طرح گرایا جائے گا۔
ZEP 1:18 یَاہوِہ کے قہر کے دِن اُنہیں اُن کی چاندی اَور سونا بچا نہ سکےگا، تمام دُنیا اُن کی غیرت کی آگ میں جَل کر ساری زمین خاک ہو جائے گی۔“ کیونکہ وہ سَب کا جو زمین پر رہتے ہوں گے اَچانک خاتِمہ کر دیں گے۔
ZEP 2:1 اَے بے شرم قوم کے لوگو، ایک جگہ جمع ہو جاؤ، ایک جگہ!
ZEP 2:2 قوانین کے نافذالعمل ہونے سے پہلے اَور وہ دِن تُمہیں بھُوسے کی مانند اُڑا لے جائے، اُس سے پہلے کہ یَاہوِہ کا قہر شدید تُم پر نازل ہو، اَور یَاہوِہ کے غضب کا دِن تُم پر آ پہُنچے۔
ZEP 2:3 اَے زمین کے حلیموں، یَاہوِہ کی تلاش کرو، تُم جو کہ اُن کے اَحکام پر عَمل کرتے ہو۔ اُن کی راستبازی کی کھوج کرو اَور اُن کی فروتنی کو ڈھونڈو، شاید تُم یَاہوِہ کے قہر کے دِن پناہ پا سکو۔
ZEP 2:4 غزّہؔ کو ترک کر دیا جائے گا اَور اشقلونؔ ویران کیا جائے گا۔ اَور اشدُودؔ دوپہر ہی کو نکال دیا جائے گا اَور عقرونؔ کو جڑ سے اُکھاڑ دیا جائے گا۔
ZEP 2:5 تُم جو ساحِل پر رہتے ہو تُم پر افسوس، یعنی کریتیوں کی قوم پر افسوس؛ یَاہوِہ کا کلام تمہارے خِلاف ہے، اَے کنعانؔ، فلسطینیوں کی سرزمین، وہ کہتے ہیں، ”مَیں تُمہیں تباہ کر دُوں گا، اَور کویٔی باقی نہ چھوڑا جائے گا۔“
ZEP 2:6 سمُندر کے کنارے والی زمین جہاں کریتی رہتے ہیں، اُن کی زمین گلّہ بانوں کی ہو جائے گی جہاں وہ اَپنے بھیڑوں کے باڑے بنا لیں گے۔
ZEP 2:7 وہ یہُوداہؔ کے گھرانے کے باقی بچے ہُوئے لوگوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی؛ جہاں اُنہیں چراگاہیں ملیں گی۔ شام کو وہ وہاں اشقلونؔ کے گھروں میں لیٹا کریں گے۔ یَاہوِہ اُن کا خُدا اُن کی حِفاظت کریں گے؛ اَور اُن کی دولت کو بحال کریں گے۔
ZEP 2:8 مَیں نے مُوآب کی ملامت اَور بنی عمُّون کی طَعنہ زنی سُنی ہے، جنہوں نے میرے لوگوں کو بے عزّت کیا اَور اُن کی زمین کو لے لینے کی دھمکیاں دیں۔
ZEP 2:9 اِس لیٔے میری حیات کی قَسم، قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کا خُدا فرماتے ہیں۔ مُوآب ضروُر سدُومؔ کی مانند ہو جائے گا اَور بنی عمُّون عمورہؔ کی مانند۔ وہ کانٹوں کی زمین اَور نمک کی کان، اَور ہمیشہ کے لیٔے ویران ہو جایٔیں گے۔ میرے لوگوں میں سے باقی بچے ہُوئے لوگ اُنہیں غارت کر دیں گے؛ اَور میری قوم کے باقی لوگ اُن کی زمین وارِث ہوں گے۔
ZEP 2:10 اَپنے تکبُّر کی وجہ سے اُنہیں یہ سَب کچھ دیکھنا پڑےگا، کیونکہ اُنہُوں نے قادرمُطلق یَاہوِہ کے لوگوں کی ملامت کی اَور اُن سے تکبُّر سے پیش آئے۔
ZEP 2:11 یَاہوِہ اُن کے لیٔے ہیبت ناک ہونگے اَور وہ زمین کے تمام معبُودوں کو لاغر کر دیں گے۔ اَور بحری ممالک کے تمام باشِندے اَپنی اَپنی جگہ میں، اُن کی عبادت کریں گے۔
ZEP 2:12 اَے کُوشؔ والو، تُم بھی میری تلوار کا لقمہ بنوگے۔
ZEP 2:13 وہ اَپنا ہاتھ شمال کی طرف دراز کرےگا اَور اشُور کو تباہ کر دے گا۔ اَور نینوہؔ کو ویران اَور بیابان کی مانند خشک کر دے گا۔
ZEP 2:14 اُس میں جنگلی جانور کے ریوڑ، اَور ہر قِسم کے حَیوان لیٹیں گے۔ چیخنے والا اُلّو حواصل اَور خارپُشت اُس کے سُتونوں کے سِروں پر گھونسلے بنائیں گے۔ اَور اُن کے بولنے کی آواز کھڑکیوں میں سے سُنایٔی دے گی، اُس کی دہلیزوں میں ویرانی ہوگی، کیونکہ دیودار کا کام کھُلا چھوڑا جایٔےگا۔
ZEP 2:15 یہ شادمانی کا شہر تھا جو اَمن کا تھا۔ اَور اَپنے دِل میں یہ کہا کرتا تھا، کہ بس مَیں ہی مَیں ہُوں، میرے سِوا کویٔی نہیں۔ وہ کیسا ویران ہو گیا ہے، جہاں اَب درندوں کا اڈّا ہیں! اَورجو اُس کے پاس سے گُزرتے ہیں وہ مُکّے ہلاتے ہیں اَور ہنسی اُڑاتے ہیں۔
ZEP 3:1 افسوس اُس سرکش، ظالِم اَور ناپاک شہر پر،
ZEP 3:2 وہ کسی کی نہیں سُنتا، نہ کسی کی تربّیت کو قبُول کرتا ہے۔ وہ یَاہوِہ پر توکّل نہیں کرتا وہ اَپنے خُدا کے قریب آنا نہیں چاہتا کہ اُن کی عبادت کرے۔
ZEP 3:3 اُس کے اَندر اُس کے سردار گرجنے والے شیر ہیں، اَور اُس کے حُکمران شام کو نکلنے والے بھیڑئے ہیں، جو صُبح کے لیٔے کچھ نہیں چھوڑتے۔
ZEP 3:4 اُس کے نبی مغروُر ہیں؛ وہ دغاباز ہیں۔ اُس کے کاہِنؔ مَقدِس کو ناپاک کرتے ہیں اَور آئین کو مروڑتے ہیں۔
ZEP 3:5 یَاہوِہ جو اُس شہر کے اَندر ہے، بڑا صادق ہے؛ وہ بےاِنصافی نہیں کرتا۔ وہ ہر صُبح بلاناغہ اَپنی عدالت کا کام اَنجام دیتاہے، پھر بھی بدکار لوگ اَپنے کئے پر شرمندہ نہیں ہوتے۔
ZEP 3:6 مَیں نے قوموں کو کاٹ ڈالا ہے؛ اُن کے بُرج توڑ دئیے گیٔے ہیں۔ مَیں نے اُن کے کوچوں کو ویران کر دیا ہے، وہاں سے کویٔی نہیں گُزرتا۔ اُن کے شہر اُجاڑ دئیے گیٔے ہیں؛ کویٔی باقی نہیں چھوڑا جائے گا۔ ایک بھی نہیں۔
ZEP 3:7 یروشلیمؔ کے بارے میں مَیں نے سوچا، تُو میرا خوف ضروُر مانے گا اَور تربّیت کو قبُول کرےگا! تَب اُس کی بستی کاٹی نہ جائے گی، اَور نہ ہی اُسے کسی سزا کا شِکار ہونا پڑےگا۔ لیکن پھر بھی وہ اَپنی تمام بدظنی میں لگے رہنے پر بضِد رہے۔
ZEP 3:8 یَاہوِہ فرماتے ہیں ذرا اِنتظار کرو، اُس دِن کا جَب مَیں تمہارے خِلاف شہادت دُوں گا۔ مَیں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں قوموں مملکتوں اَور بادشاہوں کو جمع کروں گا میں اُن پر اَپنا غیرت کا قہر نازل کروں گا۔ شدید قہر۔ میرا قہر آگ کی طرح ہوگا جو ساری دُنیا کو جَلا کر رکھ دے گا۔
ZEP 3:9 تَب مَیں لوگوں کے ہونٹ پاک صَاف کروں گا، تاکہ وہ سَب کے سَب یَاہوِہ کا نام لیں اَور مِل جُل کر اُن کی عبادت کریں۔
ZEP 3:10 کُوشؔ (جہاں سے دریائے نیل نکلتا ہے) کی دریاؤں سے میرے بکھرے ہُوئے لوگ، میرے لیٔے تحفے لے کر آئیں گے۔
ZEP 3:11 تَب یروشلیمؔ شہر اُن بدیوں پرجو میرے خِلاف کی گئیں شرمندہ نہ ہوگا، کیونکہ مَیں اُس شہر سے متکبّر لوگوں کو نکال دُوں گا۔ پھر مغروُر لوگ میرے پاک پہاڑ پر یروشلیمؔ میں باقی نہ رہیں گے۔
ZEP 3:12 لیکن مَیں شہر میں حلیموں کو اَور اُنہیں جو غُرور نہیں کرتے، چھوڑ دُوں گا، اَور وہ یَاہوِہ پر توکّل رکھیں گے۔
ZEP 3:13 جو لوگ اِسرائیل میں باقی رہ جایٔیں گے وہ غلط نہ کریں گے؛ وہ جھُوٹ نہ بولیں گے، وہ اَپنی فریبی باتوں سے لوگوں کو دھوکا نہیں دیں گے؛ وہ کھایٔیں گے اَور اِستراحت فرمائیں گے اَور اُنہیں ڈرانے والا کویٔی نہ ہوگا۔
ZEP 3:14 اَے صِیّونؔ کی بیٹی نغمہ سرائی کر؛ یروشلیمؔ، نغمہ سرائی کر؛ اِسرائیل خُوشی سے للکار! یروشلیمؔ شادمان ہو، اَور پُورے دِل سے خُوشی منا۔
ZEP 3:15 یَاہوِہ نے تُجھے سزا دینے سے اَپنا ہاتھ روک لیا ہے، اُنہُوں نے تیرے دُشمنوں کو دُور بھیج دیا ہے۔ اِسرائیل کا بادشاہ، یَاہوِہ تیرے ساتھ ہے؛ تُو تکلیف پانے سے پھر کبھی نہ ڈرے گا۔
ZEP 3:16 اُس دِن یروشلیمؔ کو بتایا جائے گا، اَے شہر صِیّونؔ، مت ڈر اَپنے ہاتھوں کو لنگڑانے نہ دیں۔
ZEP 3:17 یَاہوِہ تیرا خُدا تیرے ساتھ ہے، وہ عظیم قوی یَاہوِہ تُجھے بچائیں گے۔ وہ تیرے سبب سے خُوشی منائیں گے، اَپنی مَحَبّت میں وہ تُمہیں پھر کبھی نہیں جھڑکیں گے، وہ گائیں گے اَور آپ کے لیٔے خُوشی منائیں گے۔
ZEP 3:18 مَیں تُجھ سے اُن تمام لوگوں کو نکال دوں گا جو تیری مُقرّرہ عیدوں میں شامل ہونے پر ماتم کرتے ہیں جو تمہارے لئے ایک بوجھ اَور ملامت ہے۔
ZEP 3:19 اُس وقت میں اُن سَب کو جنہوں نے تُمہیں تکلیف پہُنچائی ہے، سزا دُوں گا؛ میرے اَپنے بندوں کو جو چل نہیں سکتے، بچا لُوں گا اَور اُنہیں اَپنے پاس جمع کروں گا جنہیں دُور پھینک دیا گیا ہے، مَیں اُن کی تعریف کروں گا اَور اُنہیں عزّت دُوں گا جہاں اُنہیں شرمندہ ہونا پڑا تھا۔
ZEP 3:20 اُس وقت میں تُمہیں جمع کروں گا؛ اَور تُمہیں گھر واپس لے آؤں گا۔ اَور مَیں تُمہیں عزّت اَور تمجید عطا کروں گا ہر جگہ کے لوگوں کی طرف سے مَیں تمہارے لیٔے سارے کام اَچھّے ہونے دُوں گا جب مَیں تمہارے دولت کو بحال کروں گا تب میں تمہاری ساری قوموں جَیسا کہ تُم اَپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے، یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
HAG 1:1 داریاویشؔ بادشاہ کی حُکومت کے دُوسرے سال کے چھٹے مہینے کی پہلی تاریخ کو شیالتی ایل کے بیٹے زرُبّابِیل کو جو یہُوداہؔ کا حاکم تھا اَور یہُوصدقؔ کے بیٹے اعلیٰ کاہِن یہوشُعؔ کو حگّیؔ نبی کی مَعرفت یَاہوِہ کا کلام پہُنچا۔
HAG 1:2 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”یہ لوگ کہتے، ’ابھی یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو تعمیر کرنے کا وقت نہیں آیا ہے۔‘ “
HAG 1:3 تَب یَاہوِہ کا کلام حگّیؔ نبی کی مَعرفت پہُنچا:
HAG 1:4 ”کیا تمہارے لیٔے خُود پکّی چھت گھروں میں رہنے کا یہ وقت ہے، جَب کہ بیت المُقدّس ویران پڑا ہے؟“
HAG 1:5 اَب قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”تُم اَپنی روِش پر غور کرو۔
HAG 1:6 تُم نے بہت سا بویا پر تھوڑا کاٹا۔ تُم کھاتے ہو پر آسُودہ نہیں ہوتے۔ تُم پیتے ہو پر پیاس نہیں بُجھتی۔ تُم کپڑے پہنتے ہو پر گرم نہیں ہوتے۔ تُم اَپنی کمائی ہُوئی مزدُوری سوراخ دار تھیلی میں رکھتے ہو۔“
HAG 1:7 قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”اَپنی روِش پر غور کرو۔
HAG 1:8 پہاڑوں پر جاؤ اَور لکڑی لاکر میرا بیت المُقدّس تعمیر کرو تاکہ اُسے دیکھ کر مُجھے خُوشی مِلے اَور میری تمجید ہو۔“ یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے۔
HAG 1:9 تُم نے بہت فصل پانے کی اُمّید رکھی لیکن تھوڑا ہی مِلا اَور جَب تُم اُسے لے کر اَپنے گھر لایٔے تو مَیں نے اُسے اُڑا دیا۔ کیوں؟ کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، کیونکہ میرا بیت المُقدّس ویران ہے اَور تُم میں سے ہر ایک اَپنے اَپنے گھر میں مصروف ہے۔
HAG 1:10 اِس لیٔے تمہاری وجہ سے آسمان سے شبنم نہیں گرتی اَور زمین اَپنی پُوری فصل نہیں دیتی۔
HAG 1:11 اِس لئے مَیں نے حُکم دیا ہے کہ کھیتوں اَور پہاڑوں پر، اناج، نئی انگور کی مَے، زَیتُون تیل اَور زمین کی ساری پیداوار پر اَور اِنسانوں اَور حَیوانوں پر اَور تمہارے ہاتھ کی تمام محنت پر خشک سالی کو طلب کیا۔
HAG 1:12 تَب شیالتی ایل کے بیٹے زرُبّابِیل اَور یہُوصدقؔ کے بیٹے یہوشُعؔ اعلیٰ کاہِن اَور تمام باقی لوگوں نے اَپنے یَاہوِہ کے کلام کی فرمانبرداری کی اَور حگّیؔ نبی کے پیغام کو سُنا کیونکہ یَاہوِہ اُن کے خُدا نے اُسے بھیجا تھا۔ اَور لوگ یَاہوِہ سے خوفزدہ ہُوئے۔
HAG 1:13 تَب یَاہوِہ کے پیغمبر حگّیؔ نے یَاہوِہ کا پیغام اُن لوگوں کو سُنایا: یَاہوِہ اعلان کرتے ہیں کہ، ”مَیں تمہارے ساتھ ہُوں۔“
HAG 1:14 تَب یَاہوِہ نے شیالتی ایل کے بیٹے زرُبّابِیل یہُوداہؔ کے حاکم اَور یہُوصدقؔ کے بیٹے یہوشُعؔ اعلیٰ کاہِن اَور باقی لوگوں کی رُوح کو اُبھارا اَور اُنہُوں نے آکر اَپنے قادرمُطلق یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں کام کرنا شروع کر دیا۔
HAG 1:15 یہ کام داریاویشؔ بادشاہ کی سلطنت کے دُوسرے سال کے چھٹے مہینے کی چوبیس تاریخ کو ہُوا۔ بادشاہ داریاویشؔ کے دُوسرے سال میں،
HAG 2:1 ساتویں مہینے کی اِکیّسویں تاریخ کو یَاہوِہ کا کلام حگّیؔ نبی کی مَعرفت پہُنچا:
HAG 2:2 ”شیالتی ایل کے بیٹے زرُبّابِیل یہُوداہؔ کے حاکم اَور یہُوصدقؔ کے بیٹے، اعلیٰ کاہِن یہوشُعؔ اَور باقی لوگوں سے بات کرو اَور اُن سے پُوچھو،
HAG 2:3 ’تُم میں سے اَب کون بچا ہے جِس نے اِس بیت المُقدّس کی پہلی شان و شوکت دیکھی تھی؟ اَور اَب یہ تُمہیں کیسی دِکھائی دیتی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اَب یہ تمہاری نظر میں اُس پہلے بیت المُقدّس کی موازنہ میں کچھ بھی نہیں ہے؟
HAG 2:4 لیکن اَے زرُبّابِیل اَب مضبُوط ہو جا،‘ یَاہوِہ اعلان کرتے ہیں، ’اَور اَے یہُوصدقؔ کے بیٹے، اعلیٰ کاہِن یہوشُعؔ ہمّت رکھ۔ اَے مُلک کے سَب لوگوں یَاہوِہ اعلان کرتے ہیں کام شروع کرو اَور ہمّت رکھو کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ ہُوں،‘ قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں۔
HAG 2:5 ’جَب مُلک مِصر سے تُم باہر نکلے تھے تَب اُس وقت مَیں نے تُم سے یہ عہد کیا تھا اَور اُس کے مُطابق میری رُوح تمہارے درمیان مَوجُود ہے، اِس لئے خوف نہ کرو۔‘
HAG 2:6 ”کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’میں تھوڑی ہی دیر میں پھر ایک بار آسمانوں، زمین، سمُندر اَور خُشکی کو ہلاؤں گا۔
HAG 2:7 میں سَب قوموں کو ہلا دُوں گا اَور سَب قوموں کی مرغوب اَشیا آئیں گی اَور مَیں اِس بیت المُقدّس کو اَپنی جلال سے بھر دُوں گا۔‘ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
HAG 2:8 قادرمُطلق یَاہوِہ اعلان کرتے ہیں، چاندی میری ہے اَور سونا بھی میرا ہے۔
HAG 2:9 اِس پچھلے بیت المُقدّس کی شان و شوکت پہلے والے بیت المُقدّس سے زِیادہ ہوگی۔ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں۔ اَور مَیں اِس مقام میں سلامتی بخشوں گا۔ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔“
HAG 2:10 داریاویشؔ بادشاہ کی حُکومت کے دُوسرے سال کے نویں مہینے کی چوبیسویں تاریخ کو یَاہوِہ کا یہ کلام حگّیؔ نبی کے پاس آیا:
HAG 2:11 ”قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، کاہِنوں سے دریافت کرو کہ آئین کیا کہتی ہے،
HAG 2:12 اگر کویٔی شخص پاک گوشت کو اَپنے لباس کے دامن میں لے جا رہا ہو اَور اُس کا دامن روٹی، دال یا مَے یا تیل یا کسی طرح کی کھانے کی چیز سے چھُو جائے، تو کیا وہ پاک ہو جائے گا؟“ کاہِنوں نے جَواب دیا، ”نہیں۔“
HAG 2:13 تَب حگّیؔ نے پُوچھا، ”اگر کویٔی مُردہ کو چھُونے سے ناپاک ہو گیا ہو اَور اُن چیزوں میں سے کسی کو چھُوئے تو کیا وہ چیز ناپاک ہو جائے گی؟“ کاہِنوں نے جَواب میں کہا، ”ضروُر ناپاک ہو جائے گی۔“
HAG 2:14 پھر حگّیؔ نے کہا، یَاہوِہ فرماتے ہیں، میری نظر میں اِن لوگوں اَور اِس قوم کا یہی حال ہے۔ اِن کے ہر کام کا جو وہ کرتے ہیں یہی حال ہے اَورجو کچھ اِس جگہ نذر کرتے ہیں، وہ ناپاک ہے۔
HAG 2:15 پس اَب آج سے آئندہ کو اِس کا خیال رکھو کہ پہلے یہ چیزیں کیسی تھیں، جَب یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں ایک پتّھر پر دُوسرا پتّھر نہیں رکھا گیا تھا۔
HAG 2:16 اُس وقت جَب کویٔی بیس پیمانوں کی اُمّید رکھتا تھا تو اُسے صرف دس ہی ملتے تھے اَور جَب کویٔی انگوری حوض سے پچاس پیمانے مَے نکالنے جاتا تھا تو اُسے بیس ہی ملتے تھے۔
HAG 2:17 مَیں نے تمہارے کھیتی کے سَب کاموں میں اَمراض، پھپھُوندی، اولے سے مارا پھر بھی تُم میری طرف رُجُوع نہ ہُوئے۔ یَاہوِہ کا یہی اعلان ہے۔
HAG 2:18 اَب ذرا غور کرو کہ آج سے پہلے یعنی جِس دِن یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی بُنیاد ڈالی گئی تھی، اُس دِن سے لے کر نویں مہینے کی اِسی چوبیسویں تاریخ تک کیا حالت تھی اِس پر ذرا خاص خیال کرنا۔
HAG 2:19 کیا ابھی تک کوئی بیج کھتّے میں بچا ہے؟ ابھی تک انگور، اَنجیر، انار اَور زَیتُون کے درختوں میں کوئی پھل نہیں لگا ہے۔ لیکن آج ہی کے دِن سے میں تُمہیں برکت دیتا رہُوں گا۔
HAG 2:20 پھر اِسی مہینے کی چوبیس تاریخ کو یَاہوِہ کا کلام حگّیؔ نبی پر نازل ہُوا،
HAG 2:21 ”یہُودیؔہ کے حاکم زرُبّابِیل سے فرما، میں آسمانوں اَور زمین کو ہلاؤں گا۔
HAG 2:22 میں سلطنتوں کے تخت اُلٹ دُوں گا اَور غَیر قوموں کی طاقت کو برباد کر دُوں گا۔ میں رتھوں کو اُن کے سواروں سمیت اُلٹ دُوں گا؛ اَور اُن کے گھوڑے اَور سوار اَپنے ہی بھایٔی کی تلوار سے قتل ہوں گے۔
HAG 2:23 ”قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’اَے میرے خادِم شیالتی ایل کے بیٹے زرُبّابِیل، اُس دِن، مَیں تُجھے لُوں گا،‘ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، ’اَور اَپنی انگُشتری کا نگینہ بناؤں گا کیونکہ مَیں نے تُمہیں مُنتخب کیا ہے،‘ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔“
ZEC 1:1 داریاویشؔ کے دُوسرے بَرس کے آٹھویں مہینے میں یَاہوِہ کا کلام نبی زکریاؔہ بِن بیرکیاہ بِن عِدّوؔ پر نازل ہُوا۔
ZEC 1:2 ”یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد سے سخت ناراض تھے۔
ZEC 1:3 اِس لیٔے اِن لوگوں کو بتاؤ، قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، تُم میری طرف رُجُوع لاؤ، قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں تو مَیں بھی تمہاری طرف رُجُوع ہُوں گا۔ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ZEC 1:4 تُم اَپنے آباؤاَجداد کی مانند نہ بنو جِن سے اگلے نبیوں نے بہ آواز بُلند فرمایا تھا: قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’تُم اَپنی بُری روِش اَور بُرے اعمال سے باز آؤ،‘ لیکن اُنہُوں نے نہیں سُنا اَور میری طرف مُتوجّہ نہیں ہُوئے، یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے
ZEC 1:5 اَب تمہارے آباؤاَجداد اَور نبی کہاں ہیں؟ کیا وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں؟
ZEC 1:6 لیکن کیا میرا کلام اَور میرے قوانین جو مَیں نے اَپنے خدمت گذار نبیوں کو دیئے تھے، کیا وہ تمہارے آباؤاَجداد کی وفات کے بعد بھی قائِم نہیں ہیں؟ ”تَب اُنہُوں نے تَوبہ کی اَور کہا، یَاہوِہ قادرمُطلق نے اَپنے اِرادے کے مُطابق ہماری روِش اَور ہمارے اعمال کے مُوافق ہم سے صحیح سلُوک کیا۔“
ZEC 1:7 داریاویشؔ بادشاہ کے دُوسرے بَرس کے گیارھویں مہینے یعنی ماہِ شباطؔ کی چوبیسویں تاریخ کو یَاہوِہ کا یہ کلام نبی زکریاؔہ بِن بیرکیاہ بِن عِدّوؔ پر نازل ہُوا۔
ZEC 1:8 مَیں نے رات کو رُویا میں دیکھا کہ ایک شخص لال گھوڑے پر سوار وادی میں مہندی کے درختوں کے درمیان کھڑا تھا اَور اُس کے پیچھے لال، بھورے اَور سفید رنگ کے گھوڑے تھے۔
ZEC 1:9 تَب مَیں نے پُوچھا، ”اَے میرے آقا یہ کیا ہیں؟“ اُس فرشتے نے جو مُجھ سے گُفتگو کر رہاتھا، جَواب دیا، مَیں تُمہیں دِکھاؤں گا کہ یہ کیا ہیں۔
ZEC 1:10 تَب اُس شخص نے جو مہندی کے درختوں کے درمیان کھڑا تھا، اُس نے فرمایا، ”یہ وہ ہیں جنہیں یَاہوِہ نے ساری دُنیا میں سَیر کرنے کو بھیجا ہے۔“
ZEC 1:11 اَور وہ یَاہوِہ کے اُس فرشتے سے مُخاطِب ہُوئے جو مہندی کے درختوں کے درمیان کھڑا تھا، اَور کہا، ”ہم نے تمام دُنیا کی سیر کی اَور دیکھا کہ ساری زمین میں اَمن و سلامتی ہے۔“
ZEC 1:12 پھر یَاہوِہ کے فرشتے نے کہا، ”اَے قادرمُطلق یَاہوِہ آپ جو یروشلیمؔ اَور یہُودیؔہ کے شہروں پر پچھلے ستّر سالوں سے ناراض ہیں، کب تک آپ اِن پر رحم نہ کریں گے؟“
ZEC 1:13 تَب یَاہوِہ نے اُس فرشتے سے جو مُجھ سے گُفتگو کر رہاتھا، نرم اَور تسلّی بخش جَواب دیئے۔
ZEC 1:14 تب اُس فرشتے نے جو مُجھ سے گُفتگو کر رہاتھا فرمایا، ”بُلند آواز سے یہ اعلان کرو، قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’مُجھے یروشلیمؔ اَور صِیّونؔ کے لئے بڑی غیرت ہے،
ZEC 1:15 لیکن مَیں اُن قوموں سے بےحد ناراض ہُوں جو اِس وقت اَمن و سلامتی محسُوس کر رہے ہیں۔ مَیں تو تھوڑا ناراض تھا لیکن اُنہُوں نے اُس آفت کو بہت زِیادہ بڑھا دیا تھا۔‘
ZEC 1:16 ”اِس لیٔے یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’مَیں رحمت کی بارش کرنے کو یروشلیمؔ واپس آیا ہُوں، اَور یہاں میرے گھر کو پھر سے تعمیر کیا جائے گا۔ اَور یروشلیمؔ کے اُوپر ناپنے کا جریب پھر سے کھینچا جائے گا۔‘ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ZEC 1:17 ”پھر بُلند آواز سے اعلان کرو، قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’میرے شہر دوبارہ خُوشحالی سے معموُر ہوں گے اَور یَاہوِہ پھر صِیّونؔ کو تسلّی بخشیں گے اَور یروشلیمؔ کو قبُول فرمائیں گے۔‘ “
ZEC 1:18 تَب مَیں نے اُوپر نگاہیں اُٹھاکر دیکھا کہ چار سینگ ہیں۔
ZEC 1:19 تَب مَیں نے اُس فرشتے سے جو مُجھ سے گُفتگو کر رہاتھا، پُوچھا، ”یہ کیا ہیں؟“ اُس نے مُجھے جَواب دیا، ”یہ وہ سینگ ہیں جنہوں نے یہُودیؔہ، بنی اِسرائیل اَور یروشلیمؔ کو مُنتشر کر دیا تھا۔“
ZEC 1:20 پھر یَاہوِہ نے مُجھے چار کاریگر دِکھائے۔
ZEC 1:21 مَیں نے دریافت کیا، ”یہ کیا کرنے کے لئے آ رہے ہیں؟“ یَاہوِہ نے جَواب دیا، ”یہ وہ سینگ ہیں جنہوں نے یہُودیؔہ کو اَیسا مُنتشر کر دیا تھا تاکہ کویٔی اَپنا سَر نہ اُٹھا سکے، لیکن یہ کاریگر اُنہیں ڈرانے اَور اُن قوموں کے سینگوں کو تباہ کرنے آئے ہیں جنہوں نے مُلک یہُودیؔہ کو مُنتشر کرنے کے لیٔے اُن کے خِلاف اَپنے سینگ اُٹھائے تھے۔“
ZEC 2:1 تَب مَیں نے نگاہیں اُٹھاکر دیکھا کہ ایک شخص ہاتھ میں پیمائشی جریب لیٔے کھڑا ہے۔
ZEC 2:2 مَیں نے اُس سے پُوچھا، ”تُم کہاں جا رہے ہو؟“ اُس نے مُجھے جَواب دیا، ”مَیں یروشلیمؔ کی پیمائش کرنے جا رہا ہُوں تاکہ مَعلُوم ہو کہ اُس کی چوڑائی اَور لمبائی کتنی ہے۔“
ZEC 2:3 تَب وہ فرشتہ جو میرے ساتھ گُفتگو کر رہاتھا، اُس دُوسرے فرشتہ سے ملنے کو آگے بڑھا جو اُس کی طرف آ رہاتھا۔
ZEC 2:4 اَور دُوسرے فرشتہ نے پہلے فرشتے سے کہا، ”فوراً اِس جَوان سے کہہ، ’یروشلیمؔ اِنسان اَور حَیوان کی کثرت کے باعث بے فصیل شہروں کی مانند ہوگا۔
ZEC 2:5 مَیں خُود اُس کے چاروں طرف آگ کی دیوار بَن جاؤں گا‘ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے، اَور ’اُس کے اَندر اُس کا جلال بنُوں گا۔‘
ZEC 2:6 ”آؤ! آؤ! سُنو، شمالی سرزمین سے نکل بھاگو،“ یَاہوِہ اعلان کرتے ہیں، ”کیونکہ جہاں تُم آسمان کی چاروں ہواؤں کی مانند مُنتشر کئےگئے تھے،“ یَاہوِہ کا یہ فرمان ہے۔
ZEC 2:7 ”اَے صِیّونؔ، آؤ! تُمہیں جو بابیل کی بیٹی کے ساتھ رہتی ہے، نکل بھاگ!“
ZEC 2:8 کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جِس نے مُجھے اَپنے جلال کی خاطِر اُن قوموں کے خِلاف بھیجا ہے جنہوں نے تُمہیں لُوٹ لیا ہے، کیونکہ جو کویٔی تُمہیں چھُوتا ہے، وہ میری آنکھوں کی پُتلی کو چھُوتا ہے۔
ZEC 2:9 یقیناً مَیں اُن کے خِلاف اَپنا ہاتھ اُٹھاؤں گا تاکہ اُن کے غُلام اُنہیں لُوٹ لیں۔ تَب تُم جانوگے کہ یَاہوِہ قادرمُطلق نے مُجھے بھیجا ہے۔
ZEC 2:10 ”یَاہوِہ کا فرمان ہے، اَے میری بیٹی صِیّونؔ، بُلند آواز میں گاؤ اَور شادمان ہو، کیونکہ مَیں آکر تمہارے درمیان سکونت کروں گا۔“
ZEC 2:11 ”اُس دِن بہت سِی قومیں یَاہوِہ کے ساتھ مِل جایٔیں گی اَور وہ میری اُمّت بَن جایٔیں گی۔ اَور مَیں تمہارے درمیان سکونت کروں گا، اُس دِن تُم جان لوگے کہ قادرمُطلق یَاہوِہ نے مُجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔
ZEC 2:12 اَور یَاہوِہ مُقدّس مُلک میں یہُودیؔہ کو اَپنی مِیراث کا حِصّہ ٹھہرائیں گے اَور یروشلیمؔ کو پھر سے مُنتخب کریں گے۔
ZEC 2:13 اَے بنی آدمؔ یَاہوِہ کے حُضُور خاموش رہو کیونکہ وہ اَپنے مُقدّس قِیام سے کچھ خاص کام کرنے کو فوراً اُٹھے ہیں۔“
ZEC 3:1 اُس نے مُجھے دِکھایا کہ اعلیٰ کاہِن یہوشُعؔ یَاہوِہ کے فرشتے کے سامنے کھڑا ہے اَور فرشتے کے داہنی طرف شیطان یہوشُعؔ کو مُجرم ٹھہرانے کے لیٔے کھڑا ہے۔
ZEC 3:2 یَاہوِہ نے شیطان سے کہا، ”اَے شیطان، مَیں یَاہوِہ تُمہیں ملامت کرتا ہوں، یَاہوِہ جِس نے یروشلیمؔ کا انِتخاب کیا ہے، تُمہیں ملامت کرتا ہے۔ کیا یہ شخص آگ سے نکالی ہوئی جلتی ہُوئی لاٹھی کی مانند نہیں ہے؟“
ZEC 3:3 اِس وقت یہوشُعؔ مَیلے کپڑے پہنے ہُوئے فرشتے کے سامنے کھڑا تھا۔
ZEC 3:4 تَب یَاہوِہ کے فرشتے نے اُن فرشتوں سے جو اُن کے سامنے کھڑے تھے فرمایا، ”یہوشُعؔ کے مَیلے کپڑے اُتار دو۔“ تَب اُس نے یہوشُعؔ سے کہا، دیکھو، مَیں نے تمہارے گُناہوں کو دُور کر دیا ہے اَور اَب مَیں تُمہیں نفیس پوشاک پہناؤں گا۔
ZEC 3:5 تَب مَیں نے کہا، ”اُس کے سَر پر صَاف عمامہ رکھو،“ اَور اُنہُوں نے اُس کے سَر پر صَاف عمامہ رکھا اَور پوشاک پہنائی اَور یَاہوِہ کا فرشتہ اُس کے پاس کھڑا رہا۔
ZEC 3:6 اُس کے بعد یَاہوِہ کے فرشتے نے یہوشُعؔ کو یہ تاکید کی،
ZEC 3:7 ”قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، اگر تُم میری راہوں پر چلوگے اَور میرے تقاضوں پر عَمل کروگے، تو میرے بیت المُقدّس پر حُکومت کروگے اَور میری عدالت کے نگہبان ہوگے اَور مَیں تُمہیں اُن کے درمیان جو یہاں پر کھڑے ہیں، آنے جانے کی اِجازت دُوں گا۔
ZEC 3:8 ” ’اَے اعلیٰ کاہِن، یہوشُعؔ، تُم اَور تمہارے ساتھی جو تمہارے سامنے بیٹھے ہیں، وہ آنے والی باتوں کے بطور نِشان ہیں، مَیں اَپنے خادِم یعنی شاخ کو لانے والا ہُوں۔
ZEC 3:9 اُس پتّھر کو دیکھو، جسے مَیں نے یہوشُعؔ کے سامنے رکھا ہے، اُس پتّھر میں سات آنکھیں ہیں، اَور مَیں اُس پر ایک کندہ کاری کروں گا، قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، اَور مَیں ایک ہی دِن میں اِس مُلک کے گُناہوں کو دُور کر دُوں گا۔
ZEC 3:10 ” ’اُس دِن تُم میں سے ہر ایک اَپنے ہمسایہ کو انگور اَور اَنجیر کے درخت کے نیچے رِفاقت کرنے کے لئے دعوت دے گا،‘ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔“
ZEC 4:1 پھر اُس فرشتہ نے جو مُجھ سے باتیں کر رہاتھا واپس آکر مُجھے اَیسا جگایا گویا کوئی نیند سے جگایا جاتا ہو۔
ZEC 4:2 اُس نے مُجھ سے پُوچھا، ”تُمہیں کیا دِکھائی دے رہاہے؟“ مَیں نے جَواب دیا، ”مُجھے ایک خالص سونے کا چراغدان دِکھائی دے رہاہے جِس کے اُوپر ایک پیالہ ہے، جِس میں سات چراغ ہیں اَور اُن ساتوں چراغوں پر سات نالیاں ہیں۔
ZEC 4:3 چراغدان کے پاس زَیتُون کے دو درخت بھی ہیں۔ ایک تو پیالے کے دایئں طرف اَور دُوسرا بائیں طرف۔“
ZEC 4:4 مَیں نے اُس فرشتے سے جو مُجھ سے گُفتگو کر رہاتھا پُوچھا، ”اَے میرے آقا، یہ سَب کیا ہیں؟“
ZEC 4:5 فرشتے نے جَواب دیا، ”کیا تُم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہیں؟“ مَیں نے جَواب دیا، ”نہیں، میرے آقا۔“
ZEC 4:6 تَب فرشتے نے مُجھ سے کہا، ”زرُبّابِیل کے لیٔے یہ یَاہوِہ کا کلام ہے: ’نہ طاقت سے اَور نہ تو قُوّت سے بَلکہ میری رُوح سے ہوگا۔‘ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ZEC 4:7 ”اَے بڑے پہاڑ تُو کیا ہے؟ زرُبّابِیل کے سامنے تُو ہموار میدان ہو جائے گا اَور تَب وہ چوٹی کا پتّھر یہ پُکارتے ہُوئے آئے گا، ’اُس پر خُدا کی رحمت ہو، اُس پر خُدا کی رحمت ہو!‘ “
ZEC 4:8 پھر یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا،
ZEC 4:9 ”زرُبّابِیل کے ہاتھوں نے اِس بیت المُقدّس کی بُنیاد ڈالی ہے اَور اُسی کے ہاتھ سے یہ کام پُورا ہوگا۔ تَب تُم جانوگے کہ قادرمُطلق یَاہوِہ نے مُجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔
ZEC 4:10 ”اِن دِنوں میں ہونے والے چُھوٹے شروعاتی کام کو حقیر مت جانو؟ کیونکہ یَاہوِہ کی وہ سات آنکھیں جو ساری زمین کی سَیر کرتی ہیں، خُوشی سے اِس کام کی شروعات ہوتے ہُوئے اَور اُس ساہول کو جو زرُبّابِیل کے ہاتھ میں ہے دیکھ کر شادمان ہوتی ہے؟“
ZEC 4:11 پھر مَیں نے فرشتہ سے پُوچھا، ”یہ دونوں زَیتُون کے درخت جو چراغدان کے داہنے بائیں ہیں، کیا ہیں؟“
ZEC 4:12 مَیں نے دوبارہ اُس سے پُوچھا، ”زَیتُون کی یہ دو شاخیں کیا ہیں جو سونے کی دو نلیوں کے مُتّصل ہیں اَور جِن میں سے سُنہرا تیل نکل رہاہے؟“
ZEC 4:13 فرشتہ نے جَواب دیا، ”کیا تُمہیں نہیں مَعلُوم کہ یہ کیا ہیں؟“ مَیں نے کہا، ”نہیں، میرے آقا۔“
ZEC 4:14 فرشتہ نے جَواب دیا، ”یہ وہ دو آسمانی مخلُوق ہیں جو تمام زمین کے مالک کی خدمت کے لیٔے مَسح کئے گیٔے ہیں۔“
ZEC 5:1 مَیں نے پھر دیکھا کہ میرے سامنے ایک اُڑتا ہُوا طُومار ہے۔
ZEC 5:2 فرشتہ نے مُجھ سے پُوچھا، ”تُمہیں کیا دکھائی دے رہاہے؟“ مَیں نے جَواب دیا، ”مُجھے ایک اُڑتا ہُوا طُومار دکھائی دے رہاہے، جِس کی لمبائی بیس ہاتھ اَور چوڑائی دس ہاتھ ہے۔“
ZEC 5:3 تَب فرشتہ نے مُجھ سے کہا، ”یہ وہ لعنت ہے جو تمام دُنیا پر نازل ہونے کو ہے؛ اُس کی ایک طرف کی تحریر کے مُطابق ہر ایک چور جَلاوطن کیا جائے گا اَور اُس کی دُوسری طرف کی تحریر کے مُطابق جو کویٔی جھُوٹی قَسم کھاتا ہے وہ سزا کے طور پر جَلاوطن ہوگا۔
ZEC 5:4 قادرمُطلق یَاہوِہ یہ اعلان کرتے ہیں، ’ہیں اِس لعنت کو ہر ایک چور کے گھر میں اَور ہر ایک اُس شخص کے گھر میں بھیج رہا ہُوں جو میرے نام کی جھُوٹی قَسم کھاتا ہے۔ اَور میری یہ لعنت اُس گھر میں قائِم رہے گی اَور اُس گھر کو اُس کی لکڑی اَور پتّھر سمیت برباد کر دے گی۔‘ “
ZEC 5:5 تَب وہ فرشتہ جو مُجھ سے گُفتگو کر رہاتھا، سامنے آکر مُجھ سے کہا، نگاہیں اُٹھاکر، ”دیکھو کہ کیا ظاہر ہو رہاہے۔“
ZEC 5:6 مَیں نے پُوچھا، ”یہ کیا ہے؟“ اُس نے جَواب دیا، ”یہ اناج ناپنے کی ایک ٹوکری ہے۔“ اُس نے پھر کہا، ”اِس ٹوکری میں مُلک کے سَب لوگوں کے گُناہ بھرے ہیں۔“
ZEC 5:7 تَب سیسے کا سرپوش اُٹھایا گیا اَور ایک عورت ٹوکری میں بیٹھی ہُوئی تھی۔
ZEC 5:8 چنانچہ اُس فرشتہ نے کہا، ”یہ بدکاری کی شَبیہ ہے اَور اُس نے اُس عورت کو پھر ٹوکری میں دبا دیا،“ اَور سیسے کے سرپوش سے ڈھک دیا۔
ZEC 5:9 تَب مَیں نے نگاہیں اُٹھاکر دیکھا کہ میرے سامنے دو عورتیں تھیں، جو اَپنے پروں سے ہَوا میں اُڑ رہی تھیں، اُن کے پر سارس کے پروں کی مانند لمبے تھے اَور وہ اُس ٹوکری کو آسمان اَور زمین کے درمیان اُٹھاکر اُڑ گئیں۔
ZEC 5:10 مَیں نے اُس فرشتے سے پُوچھا، یہ ٹوکری کو کہاں لے جا رہی ہیں؟
ZEC 5:11 اُس نے جَواب دیا، ”مُلک بابیل کو جہاں وہ اِس کے لئے ایک گھر تعمیر کرےگا اَور جَب وہ تیّار ہو جائے تو اُس میں یہ ٹوکری رکھی جائے گی۔“
ZEC 6:1 مَیں نے پھر نگاہیں اُٹھاکر دیکھا کہ میرے سامنے دو پہاڑوں کے درمیان سے چار رتھ نکل کر آ رہے تھے۔ اَور یہ پہاڑ کانسے کے تھے۔
ZEC 6:2 پہلے رتھ کے گھوڑے لال، دُوسرے کے سیاہ،
ZEC 6:3 تیسرے کے سفید اَور چوتھے رتھ کے گھوڑے چتکبرے تھے جو سَب کے سَب بڑے طاقتور تھے۔
ZEC 6:4 مَیں نے اُس فرشتے سے جو مُجھ سے کلام کر رہاتھا پُوچھا، ”اَے میرے آقا، یہ کیا ہیں؟“
ZEC 6:5 فرشتہ نے جَواب دیا، ”یہ آسمان کی چار رُوحیں ہیں جو ساری دُنیا کے مالک کی حُضُوری میں کھڑی رہتی ہیں لیکن اِس وقت وہ اَپنے مالک کی مرضی پُوری کرنے باہر جا رہی ہیں۔
ZEC 6:6 سیاہ گھوڑوں والا رتھ شمالی مُلک کی طرف اَور سفید گھوڑوں والا مغربی مُلک کی طرف، چتکبرے گھوڑوں والا جُنوبی مُلک کی طرف جا رہے ہیں۔“
ZEC 6:7 یہ طاقتور گھوڑے باہر نکل کر ساری دُنیا میں سَیر کرنے کے لیٔے جوش میں تھے! اِس لئے یَاہوِہ نے فرمایا، ”جاؤ، اَور ساری دُنیا کی سَیر کرو!“ چنانچہ وہ دُنیا کی سَیر کرنے نکل پڑے۔
ZEC 6:8 تَب یَاہوِہ نے بہ آواز بُلند مُجھے پُکار کر فرمایا، ”دیکھو، جو شمالی مُلک کی طرف گیٔے ہیں، اُنہُوں نے شمالی مُلک میں میری رُوح کو سکون دیا ہے۔“
ZEC 6:9 پھر یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
ZEC 6:10 ”تُم آج ہی حلدائی، طُوبیاہؔ اَور یدعیاہؔ کے پاس جاؤ، جو بابیل کی جَلاوطنی سے یُوشیاہؔ بِن صفنیاہؔ کے گھر میں آئے ہیں۔
ZEC 6:11 اُن کے ہاتھ سے سونا چاندی لے کر ایک تاج بناؤ اَور اُس تاج کو یہوشُعؔ بِن یہُوصدقؔ اعلیٰ کاہِن کو پہناؤ۔
ZEC 6:12 اَور اُس سے کہو، قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’دیکھو، وہ شخص جِس کا نام شاخ ہے وہ اَپنی ہی جگہ سے ایک شاخ کی مانند نکل کر یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو تعمیر کرےگا۔
ZEC 6:13 یہ وُہی ہے جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی تعمیر کرےگا اَور وہ شاہی پوشاک پہنے گا اَور تخت نشین ہوکر حُکومت کرےگا اَور وہ ایک کاہِنؔ کے طور پر بھی خدمت کرےگا اَور اُس کے دونوں کِردار میں مُوافقت ہوگی۔‘
ZEC 6:14 اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اِس تاج کو بطور یادگار حلدائی طُوبیاہؔ یدعیاہؔ اَور حینؔ بِن صفنیاہؔ کو دیا جائے گا۔
ZEC 6:15 تَب لوگ دُور دراز سے آئیں گے اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو تعمیر کرنے میں مدد کریں گے، تَب تُم جانوگے کہ قادرمُطلق یَاہوِہ نے مُجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ اَور اگر تُم اَپنے پُورے دِل سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی فرمانبرداری کروگے، تو یہ باتیں پُوری ہُوں گی۔“
ZEC 7:1 داریاویشؔ بادشاہ کی حُکومت کے چوتھے سال کے نویں مہینے، یعنی کہ کِسلیو مہینے کی چوتھی تاریخ کو یَاہوِہ کا یہ کلام زکریاؔہ پر نازل ہُوا۔
ZEC 7:2 بیت ایل کے باشِندوں نے شاریضرؔ اَور رِگیمؔ ملِکؔ اَور اُن کے ساتھیوں کو یَاہوِہ سے درخواست کریں۔
ZEC 7:3 اَور قادرمُطلق یَاہوِہ کے گھر کے کاہِنوں اَور نبیوں سے پُوچھیں، ”کیا ہم پانچویں مہینے میں ماتم کریں اَور روزہ رکھیں کہ نہیں، جَیسا کہ ہم کیٔی سالوں سے کرتے آ رہے ہیں؟“
ZEC 7:4 تَب قادرمُطلق یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
ZEC 7:5 ”مُلک کے سَب لوگوں اَور کاہِنوں سے پُوچھو، ’جَب تُم نے پانچویں اَور ساتویں مہینے میں گُزرے ستّر برسوں تک روزہ رکھا اَور ماتم کیا تو کیا حقیقت میں تُم نے میرے ہی لیٔے روزہ رکھا تھا؟
ZEC 7:6 اَور جَب تُم کھاتے اَور پیتے تھے تو کیا تُم یہ سَب اَپنے ہی لئے نہیں کرتے تھے؟
ZEC 7:7 کیا یہ وُہی کلام نہیں جو یَاہوِہ نے گذشتہ نبیوں کی مَعرفت فرمایا تھا جَب یروشلیمؔ اَور گِردونواح کے شہر پُراَمن اَور خُوشحال تھے اَور جُنوب کی سرزمین اَور نِیگیوؔ کی پہاڑیاں آباد تھیں؟‘ “
ZEC 7:8 تَب یَاہوِہ کا کلام پھر زکریاؔہ پر نازل ہُوا:
ZEC 7:9 ”قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’راستی سے عدالت کرو اَور ہر شخص دُوسرے شخص پر رحم و کرم کیا کرے۔
ZEC 7:10 بیواؤں اَور یتیموں، پردیسوں اَور مسکینوں پر ظُلم نہ کرو۔ ایک دُوسرے کے خِلاف اَپنے دِل میں بُرا منصُوبہ نہ باندھو۔‘
ZEC 7:11 ”لیکن اُنہُوں نے اِن باتوں پر کچھ غور نہیں کیا بَلکہ گردن کشی کرکے اَپنے کانوں کو بند کر لیا۔
ZEC 7:12 اُنہُوں نے اَپنے دِلوں کو سنگِ ہیرا کی مانند سخت کر لیا تاکہ شَریعت کی باتیں یا کلام کو نہ سُنیں جسے یَاہوِہ نے گذشتہ نبیوں پر اَپنی رُوح کی مَعرفت نازل کیا تھا۔ اِس لیٔے قادرمُطلق یَاہوِہ سخت ناراض ہُوئے۔
ZEC 7:13 ” ’جَب مَیں نے پُکارا تو اُنہُوں نے نہیں سُنا، اِس لیٔے جَب وہ پُکاریں گے تو مَیں بھی نہیں سُنوں گا،‘ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں۔
ZEC 7:14 ’مَیں نے اُنہیں ہَوا کے بگولوں کے ساتھ ساری قوموں میں جِن کے درمیان وہ پردیسی تھے اُنہیں پراگندہ کر دیا۔ اُن کے بعد مُلک اَیسا ویران ہُوا کہ کسی نے وہاں آمدورفت نہ کی۔ کیونکہ اُنہُوں نے دلکش مُلک کو ویران کر دیا۔‘ “
ZEC 8:1 قادرمُطلق یَاہوِہ کا کلام پھر مُجھ پر نازل ہُوا،
ZEC 8:2 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”مُجھے صِیّونؔ کے لیٔے بڑی غیرت ہے۔ مَیں اُس کے لئے غیرت سے جَل رہا ہُوں۔“
ZEC 8:3 یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”مَیں صِیّونؔ کو واپس آؤں گا اَور یروشلیمؔ میں سکونت کروں گا۔ تَب یروشلیمؔ وفا کا شہر کہلائے گا اَور قادرمُطلق یَاہوِہ کا پہاڑ مُقدّس پہاڑ کہلائے گا۔“
ZEC 8:4 قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”ایک بار پھر یروشلیمؔ کی گلیوں میں عمر رسیدہ مَرد اَور عورتیں اَپنے ہاتھوں میں بُڑھاپے کے باعث لاٹھی لیٔے ہُوئے پھر بیٹھیں گے۔
ZEC 8:5 اَور شہر کی گلیاں وہاں کھیلتے ہُوئے لڑکے اَور لڑکیوں سے گلزار ہُوں گی۔“
ZEC 8:6 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”اُس وقت اِن لوگوں کے باقی بچے ہوؤں کی نظر میں یہ حیرت اَنگیز مَعلُوم ہوگا لیکن کیا یہ کام میرے لئے حیرت اَنگیز لگے گا؟“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ZEC 8:7 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”مَیں اَپنے لوگوں کو مشرق اَور مغرب کے لوگوں سے بچاؤں گا۔
ZEC 8:8 مَیں اُنہیں یروشلیمؔ میں سکونت کرنے کے لیٔے واپس لاؤں گا۔ وہ میرے لوگ ہوں گے اَور مَیں وفا اَور راستی سے اُن کا خُدا ہُوں گا۔“
ZEC 8:9 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”اَے لوگوں اَب تُم اِس کلام کو سُنو، تُم اَپنے ہاتھوں کو مضبُوط کرو تاکہ بیت المُقدّس کی تعمیر ہو سکے۔ یہی کلام اُن نبیوں کی مَعرفت بھی فرمایا گیا تھا جو اُس وقت قادرمُطلق یَاہوِہ کے گھر کی بُنیاد ڈالتے وقت وہاں مَوجُود تھے۔
ZEC 8:10 اُن دِنوں سے پہلے نہ اِنسان کے لیٔے مزدُوری تھی نہ جانوروں کے لیٔے کرایہ تھا اَور نہ دُشمنوں کے سبب سے کویٔی سلامتی کے ساتھ اَپنے کام کاج پر جا سَکتا تھا، کیونکہ اُن کے چاروں طرف دُشمن مَوجُود تھے۔
ZEC 8:11 لیکن اَب مَیں اِن لوگوں کے باقی بچے ہوؤں کے ساتھ پہلے کی طرح پیش نہ آؤں گا۔ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ZEC 8:12 ”بیج کثرت کے ساتھ اُگے گا۔ انگور کے باغ میں خُوب پھل لگے گا، زمین فصل دے گی اَور آسمان سے شبنم گِرے گی۔ مَیں اِن لوگوں کے باقی بچے ہوؤں کو اِن سَب برکتوں کا وارِث بناؤں گا۔
ZEC 8:13 اَے بنی یہُوداہؔ اَور اَے بنی اِسرائیل، جِس طرح کہ تُم دُوسری قوموں کے درمیان لعنت کا باعث بَن گئے ہو، اِسی طرح مَیں تُم کو بچاؤں گا اَور تُم برکت کا باعث بنوگے۔ خوف نہ کرو بَلکہ تمہارے ہاتھ مضبُوط ہوں۔“
ZEC 8:14 قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جِس طرح جَب تمہارے آباؤاَجداد نے مُجھے غضبناک کیا تھا، تو مَیں نے تُم پر رحم نہ کرنے اَور بربادی کا قصد کیا تھا،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
ZEC 8:15 پس اَب مَیں نے یروشلیمؔ اَور یہُوداہؔ کے ساتھ بھلائی کرنے کا اِرادہ کیا ہے۔ اِس لئے ڈرو مت۔
ZEC 8:16 پھر لازِم ہے کہ تُم اِن باتوں پر عَمل کرو۔ تُم میں سے ہر ایک اَپنے ہمسائے سے سچ بولو، اَور اَپنی عدالتوں میں سچّے اَور منصفانہ فیصلے کیا کرو تاکہ سلامتی ہو۔
ZEC 8:17 یَاہوِہ فرماتے ہیں، تُم میں سے کوئی اَپنے پڑوسی کے خِلاف بُرا منصُوبہ نہ باندھو، اَور جھُوٹی قَسم کو عزیز نہ رکھو۔ مَیں اِن سَب باتوں سے نفرت رکھتا ہُوں۔
ZEC 8:18 قادرمُطلق یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر پھر نازل ہُوا۔
ZEC 8:19 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”چوتھے، پانچویں، ساتویں اَور دسویں مہینے کا روزہ بنی یہُوداہؔ کے لیٔے خُوشی اَور مسرّت کی عیدیں ہوں گی۔ اِس لیٔے تُم سچّائی اَور سلامتی کو عزیز رکھو۔“
ZEC 8:20 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”بہت سِی قومیں اَور بڑے بڑے شہروں کے باشِندے آئیں گے۔
ZEC 8:21 اَور ایک شہر کے باشِندے دُوسرے شہر میں جا کر کہیں گے، ’چلو فوراً جا کر یَاہوِہ سے درخواست کریں اَور قادرمُطلق یَاہوِہ کی تلاش میں رہو، کیونکہ مَیں وہاں خُود بھی جا رہا ہُوں۔‘
ZEC 8:22 اَور بہت سِی اُمّتیں اَور زبردست قومیں یروشلیمؔ میں آئیں گی اَور قادرمُطلق یَاہوِہ کی طالب ہوں گی اَور اُن سے فریاد کریں گی۔“
ZEC 8:23 قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ”اُن دِنوں میں سَب زبانوں اَور قوموں میں کے دس آدمی مضبُوطی کے ساتھ ایک یہُودی کا دامن پکڑیں گے اَور کہیں گے، ’ہم تمہارے ساتھ چلیں گے کیونکہ ہم نے سُنا ہے کہ خُدا تمہارے ساتھ ہے۔‘ “
ZEC 9:1 ایک نبُوّت، حدراکؔھ مُلک کے خِلاف یَاہوِہ کا کلام۔ جو دَمشق پر بھی سچ ثابت ہوگا، کیونکہ سَب لوگوں اَور بنی اِسرائیل کے سَب قبیلوں کی آنکھیں یَاہوِہ پر لگی ہُوئی ہیں۔
ZEC 9:2 اَور حماتؔ کی تباہی پکّی ہے جو دَمشق کی سرحد پر ہے، اَور صُورؔ اَور صیدونؔ کی تباہی بھی جو بہت عقلمند ہیں۔
ZEC 9:3 صُورؔ نے اَپنے لیٔے ایک مضبُوط قلعہ بنایا ہے؛ اُس نے چاندی کو مٹّی کی مانند، اَور سونے کو گلیوں کی کیچڑ کی مانند انبار لگا رکھا ہے۔
ZEC 9:4 لیکن خُداوؔند اُس کی تمام دولت چھین لیں گے اَور اُن کے قلعوں کو تباہ کرکے سمُندر میں ڈال دیں گے، اَور وہ شہر آگ میں جَل کر خاک ہو جائے گا۔
ZEC 9:5 اشقلونؔ اُسے دیکھ کر ڈر جائے گا، غزّہؔ سخت درد میں مُبتلا ہوگا، اَور عقرونؔ کی بھی یہی حالت ہوگی، کیونکہ اُس کی اُمّید ٹُوٹ جائے گی۔ غزّہؔ کی بادشاہت ختم ہو جائے گی اَور اشقلونؔ ویران ہو جائے گا۔
ZEC 9:6 اجنبی لوگ اشدُودؔ پر قابض ہوں گے، اَور مَیں فلسطینیوں کا غُرور مٹا دُوں گا۔
ZEC 9:7 مَیں اُن کے مُنہ سے خُون کو، اَور اُن کے دانتوں کے درمیان سے مکرُوہ غِذا کو نکال ڈالوں گا۔ تَب اُن میں سے بچے ہُوئے فلسطینی ہمارے خُدا کے لوگ ہوں گے اَور وہ یہُودیؔہ میں رہنما ہوں گے، اَور بنی عقرونؔ یبُوسیوں کی مانند ہوں گے۔
ZEC 9:8 لیکن مَیں اَپنے بیت المُقدّس کو غارت گِر فَوجوں سے بچانے کو خیمہ زن ہوں گا۔ پھر کویٔی ظالِم ہرگز میرے لوگوں کو نِیست و نابود نہیں کر سکےگا، کیونکہ اَب میری نگاہ میری اُمّت پر ہے۔
ZEC 9:9 اَے صِیّونؔ کی بیٹی، نہایت خُوش ہو! اَے یروشلیمؔ کی بیٹی، فتح کا نعرہ لگاؤ! دیکھو، تمہارا بادشاہ تمہارے پاس آ رہاہے، وہ صادق اَور فتح مند ہے، وہ حلیم ہے اَور گدھے پر، بَلکہ گدھی کے بچّے پر سوار ہے۔
ZEC 9:10 مَیں اِفرائیمؔ سے رتھوں کو اَور یروشلیمؔ سے جنگی گھوڑوں کو فنا کر دُوں گا، جنگی کمان توڑ ڈالی جائے گی۔ اَور وہ قوموں کو صُلح کی خُوشخبری دے گا۔ اَور اُس کی سلطنت سمُندر سے سمُندر تک اَور دریائے فراتؔ سے لے کر زمین کی اِنتہا تک ہوگی۔
ZEC 9:11 اَور جہاں تک تمہاری بات ہے، تمہارے ساتھ میرے عہد کے خُون کے سبب سے، مَیں تمہارے اسیروں کو موت کے اَندھے کنویں سے نکال لاؤں گا۔
ZEC 9:12 اَے اُمّیدوار غُلاموں، اَپنے محفوظ قلعہ میں واپس لَوٹ آؤ؛ مَیں آج یہ اعلان کرتا ہُوں کہ مَیں تُمہیں اِس کے بدلے دُگنی برکت دُوں گا۔
ZEC 9:13 کیونکہ مَیں یہُودیؔہ کو اَپنی کمان کی مانند، اَور اِفرائیمؔ کو اُس پر تیر کی مانند لگا کر اِستعمال کروں گا۔ اَے صِیّونؔ، مَیں تمہارے فرزندوں کو یُونانؔ کے فرزندوں کے خِلاف، اَور تُمہیں سُورما کے تلوار کی مانند بناؤں گا۔
ZEC 9:14 تَب یَاہوِہ اُن پر ظاہر ہوں گے؛ اَور یَاہوِہ کے تیر بجلی کی مانند نکلیں گے۔ یَاہوِہ قادر یَاہوِہ نرسنگا پھُوکیں گے؛ وہ جُنوبی طُوفان کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
ZEC 9:15 اَور قادرمُطلق یَاہوِہ اُن کی حِفاظت کریں گے۔ اَور وہ اَپنے دُشمنوں کو تباہ کر دیں گے اَور اُن کے فلاخن کے پتّھروں کو پامال کریں گے۔ وہ پیئیں گے اَور اَیسا شور مچائیں گے جَیسے لوگ مَے نوشی کرکے شور مچاتے ہیں؛ وہ اُس پیالے کی مانند لبریز ہوں گے جو مذبح کے کونوں پر چھڑکنے کے لیٔے اِستعمال ہوتاہے۔
ZEC 9:16 جَیسے ایک چرواہا اَپنے ریوڑ کے جھُنڈ کی حِفاظت کرتا ہے وَیسے ہی یَاہوِہ اُن کے خُدا اُس دِن اَپنی اُمّت کی حِفاظت کریں گے۔ وہ اُن کے مُلک میں اَیسے چمکیں گے جَیسے تاج میں جڑے ہُوئے جواہرات چمکتے ہیں۔
ZEC 9:17 وہ کس قدر پُر کشش اَور حسین ہوں گے! کہ نوجوان اناج کھا کر، اَور لڑکیاں نئی مَے پی کر صحت مند ہو جائیں گے۔
ZEC 10:1 یَاہوِہ سے دعا کرو کہ وہ موسمِ بہار کی بارش بھیجیں؛ یَاہوِہ ہی بادلوں کو گرجاتے اَور طُوفان لاتے ہیں۔ وہ سَب اِنسانوں کو بارش مُہیّا کرتے اَور سَب کے کھیت میں فصل اُگاتے ہیں۔
ZEC 10:2 کیونکہ خانگی معبُود فریبی مشورہ دیتے ہیں، اَور غیب بین جھُوٹی رُویا دیکھتے ہیں؛ وہ اَیسے خواب بَیان کرتے ہیں جو جھُوٹے ہیں، اَور اُن کی تسلّی بے حقیقت ہے۔ اِس لیٔے لوگ بھیڑوں کی مانند بھٹک جاتے ہیں اَور اُن کا کویٔی چرواہا نہ ہونے کی وجہ سے دُکھ پاتے ہیں۔
ZEC 10:3 میرا غضب چرواہوں پر بھڑک رہاہے، اَور مَیں رہنماؤں کو سزا دُوں گا؛ کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ اَپنی ریوڑ یعنی بنی یہُوداہؔ کا خیال کریں گے۔ اَور اُنہیں جنگ میں قابل فخر جنگی گھوڑے کی مانند بنائیں گے۔
ZEC 10:4 بنی یہُوداہؔ میں سے کونےکا پتّھر، خیمے کی میخ، جنگی کمان، اَور سارے حاکم نکلیں گے۔
ZEC 10:5 وہ ایک ساتھ جنگ میں اُن سُورماؤں کی مانند ہوں گے جو جنگ میں اَپنے دُشمنوں کو گلیوں کی کیچڑ کی مانند روندیں گے۔ کیونکہ یَاہوِہ اُن کے ساتھ ہیں، اِس لئے وہ بہادری سے جنگ لڑیں گے اَور دُشمنوں کے گُھڑسواروں کو سراسیمہ کر دیں گے۔
ZEC 10:6 مَیں بنی یہُوداہؔ کو مضبُوط کروں گا اَور یُوسیفؔ کے قبیلوں کو رِہائی بخشوں گا۔ مَیں اُن کو واپس لاؤں گا کیونکہ مَیں اُن پر رحم کرتا ہُوں۔ وہ اَیسے ہو جائیں گے گویا مَیں نے اُن کو کبھی ترک ہی نہیں کیا تھا، کیونکہ مَیں یَاہوِہ اُن کا خُدا ہُوں اَور مَیں اُن کی دُعا کو سُنوں گا۔
ZEC 10:7 بنی اِفرائیمؔ زبردست سُورما کی مانند ہوں گے، اَور اُن کا دِل اَیسے شادمان ہوگا جَیسے مَے نوشی کرنے سے ہوتاہے۔ اُن کی اَولاد اِسے دیکھے گی اَور شادمان ہوگی اَور اُن کے دِل یَاہوِہ میں خُوش ہوں گے۔
ZEC 10:8 مَیں اُنہیں اِشارہ کرکے جمع کروں گا۔ اَور یقیناً اُن کا فدیہ دے کر اُنہیں چُھڑاؤں گا؛ وہ پہلے کی طرح بے شُمار ہو جایٔیں گے۔
ZEC 10:9 اگرچہ مَیں نے اُنہیں قوموں میں مُنتشر کیا تھا، تو بھی وہ دُور کے مُلکوں میں مُجھے یاد کریں گے۔ وہاں وہ اَور اُن کی اَولاد زندہ بچے رہیں گے، اَور وہ واپس آئیں گے۔
ZEC 10:10 مَیں اُنہیں مُلک مِصر سے واپس لاؤں گا، اَور اُنہیں مُلک اشُور سے جمع کروں گا۔ مَیں اُنہیں گِلعادؔ اَور لبانونؔ کی سرزمین میں پھر بساؤں گا، اَور اُنہیں اِتنا بڑھاؤں گا کہ اُن کے لیٔے جگہ کی گنجائش نہ رہے گی۔
ZEC 10:11 وہ مُصیبت کے سمُندر سے گزر جائیں گے، اَور اُن کی خاطِر سمُندر کی لہریں تھم جایٔیں گی، اَور دریائے نیل تہہ تک سُوکھ جائے گی۔ اَور مُلکِ اشُور کا غُرور توڑ دیا جائے گا اَور مُلکِ مِصر کا شاہی عصا کا خاتِمہ ہو جائے گا۔
ZEC 10:12 یَاہوِہ کا فرمان ہے، مَیں اُنہیں خُود کو مضبُوط کروں گا، اَور وہ یَاہوِہ کے نام میں بحِفاظت سکونت کریں گے۔
ZEC 11:1 اَے لبانونؔ، اَپنے دروازوں کو کھولو تاکہ آگ تمہارے دیوداروں کو بھسم کرے!
ZEC 11:2 اَے صنوبر کے درخت ماتم کرو کیونکہ دیودار تباہ ہو گئے؛ اَور شاندار درخت غارت ہو گئے ہیں! اَے باشانؔ کے بلُوطوں، نوحہ کرو؛ کیونکہ گھنے جنگل کاٹ ڈالے گیٔے ہیں!
ZEC 11:3 چرواہوں کے نوحے کی آواز سُنو؛ اُن کی شاندار چراگاہیں برباد ہو گئیں! شیروں کی گرج سُنو؛ یردنؔ کا جنگل برباد ہو گیا۔
ZEC 11:4 یَاہوِہ میرے خُدا یُوں فرماتے ہیں، ”جِن بھیڑوں کو قتل کرنے کے لئے نِشان دہی کی گئی ہے اُن کی چرواہی کر۔
ZEC 11:5 اُن کے خریدار اُنہیں ذبح کرتے ہیں اَور سزا نہیں پاتے، اَور اُن کے بیچنے والے کہتے ہیں، ’یَاہوِہ کی تمجید ہو کہ ہم مالدار ہو گئے!‘ اُن کے اَپنے چرواہے اُن پر رحم نہیں کرتے۔
ZEC 11:6 مَیں اَب اِس مُلک کے باشِندوں پر اَور رحم نہیں کروں گا،“ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”مَیں ہر شخص کو اُن کے ہمسایہ اَور اُن کے بادشاہ کے حوالہ کر دُوں گا اَور وہ اُس مُلک کو تباہ کر دیں گے اَور مَیں اُنہیں اُن کے ہاتھ سے نہیں چُھڑاؤں گا۔“
ZEC 11:7 پس مَیں اُن نِشان دہی ریوڑوں کو جو قتل ہونے کو تھیں، خاص کر ریوڑ کے اُن جانوروں کی جِن کے اُوپر ظُلم ہو رہاتھا ریوڑ کو چُرایا کرتا تھا۔ تَب مَیں نے دو لاٹھیاں لیں، اَور اُن میں سے ایک کا نام فضل اَور دُوسری کا اِتّحاد رکھا اَور مَیں خُود ریوڑ کی نگہبانی کرنے لگا۔
ZEC 11:8 اُس کے بعد ایک ماہ کے اَندر ہی مَیں نے تین چرواہوں کو کام سے ہٹا دیا۔ لیکن میری جان اُن سے بیزار تھی اَور ریوڑ کے جھُنڈ مُجھ سے بےحد نفرت کرنے لگے۔
ZEC 11:9 تَب مَیں نے اُن سے کہا، ”اَب مَیں تمہارا چرواہا نہیں رہُوں گا۔ مرنے والا مَر جائے اَور ہلاک ہونے والا ہلاک ہو اَورجو بچے ہُوئے ہیں وہ ایک دُوسرے کا گوشت کھایٔیں۔“
ZEC 11:10 تَب مَیں نے فضل نامی لاٹھی کو لیا اَور اُسے توڑ ڈالا تاکہ مَیں اَپنے اُس عہد کو جو سَب قوموں سے کیا تھا منسُوخ کر دُوں۔
ZEC 11:11 وہ عہد اُسی دِن منسُوخ ہو گیا اَور ریوڑ کے مظلوموں نے جو مُجھے دیکھ رہے تھے، سمجھ گئے کہ یہ یَاہوِہ کا کلام ہے۔
ZEC 11:12 تَب مَیں نے اُن سے کہا، ”اگر تُم ٹھیک سمجھتے ہو تو تُم میری مزدُوری مُجھے دے دو؛ مگر نہیں دینا چاہتے ہو تو مت دو۔“ تَب اُنہُوں نے میری مزدُوری کے چاندی کے تیس سِکّے مُجھے دئیے۔
ZEC 11:13 تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”اِس رقم کو کُمہار کے سامنے پھینک دو،“ یعنی اُس بڑی قیمت کو جو اُنہُوں نے میرے لیٔے ٹھہرائی تھی۔ اِس لئے مَیں نے اُن چاندی کے تیس سِکّوں کو لے کر یَاہوِہ کے گھر کے صحن میں کُمہار کے سامنے پھینک دیا۔
ZEC 11:14 تَب مَیں نے یہُودیؔہ اَور بنی اِسرائیل کے اُس برادرانہ رشتے کو ختم کرتے ہُوئے دُوسری لاٹھی کو جو اِتّحاد کہلاتی تھی، توڑ دیا۔
ZEC 11:15 تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”ایک بےوقُوف چرواہے کا سامان پھر سے لے لو۔
ZEC 11:16 کیونکہ مَیں اِس مُلک میں ایک اَیسا چرواہا برپا کروں گا، جو بھٹکے ہُوئے کا خیال نہیں کرےگا، نہ جَوانوں کی تلاش کرےگا نہ زخمی کا علاج کرےگا، اَور نہ تندرستوں کو چَرائے گا بَلکہ اَپنی مَن پسند موٹی تازی بھیڑوں کا گوشت کھائے گا اَور اُن کے کھُروں کو چیر ڈالے گا۔
ZEC 11:17 ”اُس نکمّے چرواہے پر ہائے، جو ریوڑ کو چھوڑکر بھاگ جاتا ہے! کاش تلوار اُس کے بازو اَور داہنی آنکھ پر چلے! اُس کا بازو بالکُل سُوکھ جائے! اَور وہ اَپنی داہنی آنکھ سے بالکُل نابینا ہو جائے!“
ZEC 12:1 بنی اِسرائیل کی بابت یَاہوِہ کی نبُوّت۔ یَاہوِہ جو آسمان کو پھیلانے والے اَور زمین کی بُنیاد ڈالنے والے اَورجو اِنسان کے اَندر اُس کی رُوح پیدا کرتے ہیں، وہ یُوں فرماتے ہیں،
ZEC 12:2 ”مَیں یروشلیمؔ کو اُس کے اِردگرد کے سَب لوگوں کے لیٔے ایک لڑکھڑا دینے والا پیالہ بناؤں گا۔ یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کا محاصرہ کیا جائے گا۔
ZEC 12:3 اُس روز جَب دُنیا کی ساری قومیں یروشلیمؔ کے مقابل جمع ہوں گی، تو مَیں یروشلیمؔ کو ساری قوموں کے لیٔے جنبش نہ کھانے والی چٹّان بنا دُوں گا۔ وہ سَب جو اُس کو ہٹانے کی کوشش کریں گے، خُود زخمی ہو جایٔیں گے۔
ZEC 12:4 یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ اُس روز مَیں ہر گھوڑے کو خوفزدہ اَور اُس کے سوار کو پاگل کر دُوں گا۔“ لیکن بنی یہُوداہؔ کے گھرانے پر مہربانی کروں گا اَور غَیر قوموں کے سَب گھوڑوں کو اَندھا کر دُوں گا۔
ZEC 12:5 تَب بنی یہُوداہؔ کے سردار اَپنے دِل میں کہیں گے، یروشلیمؔ کے لوگ قُوّت والے ہیں کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ اُن کے خُدا ہیں۔
ZEC 12:6 اُس دِن مَیں بنی یہُوداہؔ کے سرداروں کو لکڑی کے ڈھیر میں آگ کے برتن کی مانند بنا دُوں گا جو لکڑیوں کے گٹھّے کو جَلا کر راکھ کردیتی ہے یا اُس مشعل کی مانند بنا دُوں گا جو اناج کے پُولوں کے درمیان جلتی رہتی ہے۔ یعنی وہ اَپنی داہنے اَور بائیں طرف اَور اُن کے گِردونواح کے سَب لوگوں کو جَلا کر راکھ کر دیں گے۔ لیکن یروشلیمؔ کے باشِندے اَپنی جگہ محفوظ رہیں گے۔
ZEC 12:7 یَاہوِہ پہلے بنی یہُوداہؔ کی قِیام گاہوں کو بچائیں گے تاکہ داویؔد کے گھرانے کی شوکت اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں کی شان یہُودیؔہ کے باشِندوں سے بڑھ کر نہ ہو۔
ZEC 12:8 اُس دِن یَاہوِہ خُود یروشلیمؔ کے باشِندوں کی حِفاظت کریں گے تاکہ اُن میں سَب سے کمزور بھی داویؔد کی مانند طاقتور ہوگا اَور داویؔد کا گھرانا خُدا کے مانند اَور یَاہوِہ کے اُس فرشتہ کی مانند ہوں گے جو اُن کے آگے آگے چلتا ہو۔
ZEC 12:9 اَور اُس دِن مَیں اُن سَب مُخالف قوموں کو ہلاک کرنے کی قصد سے نکلوں گا جو یروشلیمؔ پر حملہ کریں گی۔
ZEC 12:10 اَور مَیں داویؔد کے گھرانے اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں پر فضل اَور مناجات کی رُوح نازل کروں گا، وہ اُس پر جسے اُنہُوں نے چھید ڈالا نظر کریں گے اَور اُس کے لئے اَیسا ماتم کریں گے جَیسے کویٔی اَپنے اِکلوتے بیٹے کے لیٔے کرتا ہے۔ اَور اِس کے لیے اِس طرح غمگین ہوں گے جَیسے کوئی اَپنے پہلوٹھے کے لیے غمگین ہوتاہے۔
ZEC 12:11 اَور اُس دِن یروشلیمؔ میں بڑا ماتم ہوگا جَیسا مگِدّوؔ کی وادی میں ہددؔ رِمّونؔ نے کیا تھا۔
ZEC 12:12 اَور سارا مُلک ماتم کرےگا۔ یعنی ہر ایک گھرانا اَور اُن کی بیویوں کے ساتھ الگ الگ، داویؔد کا گھرانا اَور اُن کی بیویاں الگ، ناتنؔ کا گھرانا اَور اُن کی بیویاں الگ،
ZEC 12:13 لیوی کا گھرانا اَور اُن کی بیویاں الگ، شِمعیؔ کا گھرانا اَور اُن کی بیویاں الگ
ZEC 12:14 اَور باقی بچے ہُوئے سَب گھرانے کے لوگ اَور اُن کی بیویاں الگ الگ ماتم کریں گی۔
ZEC 13:1 اُس دِن داویؔد کے گھرانے اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں کے گُناہ اَور ناپاکی صَاف کرنے کے لیٔے ایک چشمہ پھوٹ نکلے گا۔
ZEC 13:2 قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، اُس روز مَیں مُلک سے سارے بُتوں کا نام مٹا دُوں گا اَور کویٔی پھر اُن کو یاد نہ رکھےگا، مَیں جھُوٹے نبیوں اَور ناپاک رُوح دونوں کو مُلک سے خارج کر دُوں گا۔
ZEC 13:3 پھر بھی اگر کویٔی نبُوّت کرےگا تو اُس کے والدین جِن سے وہ پیدا ہُواہے اُس سے کہیں گے، تُو زندہ نہ رہے گا کیونکہ تُو یَاہوِہ کا نام لے کر جھُوٹ بولتا ہے۔ اَور جَب وہ نبُوّت کرےگا تو اُس کے اَپنے والدین اُسے تلوار سے چھید ڈالیں گے۔
ZEC 13:4 اُس دِن ہر ایک جھُوٹا نبی نبُوّت کرتے وقت اَپنی اَپنی رُویا سے شرمندہ ہوں گے۔ اَور وہ عوام کو فریب دینے کی غرض سے کمبل والے کپڑے نہ پہنیں گا۔
ZEC 13:5 بَلکہ ہر ایک شخص کہے گا، مَیں نبی نہیں، کِسان ہُوں؛ اَور لڑکپن ہی سے کاشتکاری میرا خاندانی پیشہ رہاہے۔
ZEC 13:6 اَور اگر کویٔی اُس سے پُوچھے، تمہارے جِسم پر یہ زخم کیسے ہیں؟ تو وہ جَواب دے گا، یہ زخم مُجھے میرے دوستوں کے گھر میں لگے ہیں۔
ZEC 13:7 اَے تلوار میرے چرواہے کے خِلاف بیدار ہو! یعنی اُس شخص کے خِلاف جو میرا قریبی رفیق ہے! یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے، چرواہے کو قتل کرو، تاکہ بھیڑیں مُنتشر ہو جایٔیں، اَور مَیں چُھوٹے بچّوں پر اَپنا ہاتھ اُٹھاؤں گا۔
ZEC 13:8 یَاہوِہ کا فرمان ہے، سارے مُلک میں، دو تہائی لوگ قتل کئے جایٔیں گے اَور ہلاک ہوں گے؛ پھر بھی ایک تہائی لوگ مُلک میں بچے رہیں گے۔
ZEC 13:9 اُس ایک تہائی لوگوں کو میں آگ میں ڈال کر چاندی کی طرح صَاف کروں گا اَور اُنہیں اَیسے جانچوں گا جَیسے سونے کو جانچا جاتا ہے۔ وہ میرے نام سے دعا کریں گے اَور مَیں اُنہیں جَواب دُوں گا۔ مَیں کہُوں گا، یہ میری اُمّت ہیں، اَور وہ کہیں گے، یَاہوِہ ہی ہمارے خُدا ہیں۔
ZEC 14:1 اَے یروشلیمؔ دیکھو، یَاہوِہ کا وہ دِن آنے والا ہے، جَب تمہاری دولت لُوٹ لی جائے گی اَور اُسے تمہاری دیواروں کے اَندر ہی تقسیم کر دیا جائے گا۔
ZEC 14:2 مَیں سَب قوموں کو یروشلیمؔ کے خِلاف جنگ کرنے کے لیٔے جمع کروں گا۔ یروشلیمؔ کے شہر پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ گھر لُوٹے جایٔیں گے اَور عورتیں بےحُرمت کی جایٔیں گی۔ شہر کی آدھی آبادی اسیری میں چلی جائے گی۔ لیکن باقی بچے لوگ شہر ہی میں رہیں گے۔
ZEC 14:3 تَب یَاہوِہ باہر جا کر اُن قوموں سے اِس قدر جنگ کریں گے جَیسا کہ وہ جنگ کے دِن زمانے میں جنگ کئے تھے۔
ZEC 14:4 اُس دِن یَاہوِہ کوہِ زَیتُون پرجو یروشلیمؔ کے مشرق میں ہے؛ کھڑے ہوں گے اَور کوہِ زَیتُون درمیانی دو حِصّوں میں پھٹ جائے گا اَور مشرق سے مغرب تک ایک بڑی وادی ہو جائے گی جِس سے آدھا پہاڑ شمال کی طرف اَور آدھا جُنوب کی طرف سَرک جائے گا۔
ZEC 14:5 تَب تُم میرے اِس پہاڑ کی وادی سے ہوکر بھاگوگے کیونکہ یہ وادی آضیلؔ تک بڑھ جائے گی۔ تُم اَیسے بھاگوگے جَیسے تُم شاہِ یہُودیؔہ عُزّیاہؔ کے دِنوں میں زلزلے کی وجہ سے بھاگے تھے۔ تَب یَاہوِہ میرا خُدا اَپنے سَب مُقدّسین کے ساتھ تشریف لائیں گے۔
ZEC 14:6 اُس دِن نہ تو آفتاب کی رَوشنی ہوگی، نہ سردی اَور نہ کُہرے سے بھری تاریکی ہوگی۔
ZEC 14:7 یہ ایک منفرد دِن ہوگا، ایک اَیسا دِن جِس کی بابت صِرف یَاہوِہ ہی کو مَعلُوم ہے۔ دِن اَور رات کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوگا۔ کیونکہ شام کے وقت بھی رَوشنی مَوجُود رہے گی۔
ZEC 14:8 اُس روز یروشلیمؔ سے آبِ حیات جاری ہوگا۔ جِس کا آدھا پانی مشرقی سمُندر یعنی بحرمُردار کی طرف اَور آدھا پانی بحرِ رُوم یعنی مغربی سمُندر کی طرف بہے گا؛ جو سردیوں اَور گرمیوں میں جاری رہے گا۔
ZEC 14:9 اَور یَاہوِہ ہی ساری دُنیا کے بادشاہ ہوں گے۔ اُس روز ایک ہی یَاہوِہ ہوں گے اَور صِرف اُنہیں کے نام کی عبادت ہوگی۔
ZEC 14:10 اَور تمام مُلک گِبعؔ سے لے کر یروشلیمؔ کے جُنوب میں رِمّونؔ تک عراباہؔ کے میدان کی طرح ہو جائے گی۔ لیکن بِنیامین کے پھاٹک سے لے کر پہلے پھاٹک کے مقام تک یعنی کونے کے پھاٹک تک اَور حَنن ایل کے بُرج سے لے کر بادشاہ کے انگوری حوضوں تک یروشلیمؔ بُلند کیا جائے گا اَور یہ اَپنے مقام پر قائِم رہے گا۔
ZEC 14:11 لوگ آکر اِس میں سکونت کریں گے اَور یہ پھر کبھی برباد نہیں کیا جائے گا، بَلکہ یروشلیمؔ اَمن و سلامتی سے آباد رہے گا۔
ZEC 14:12 یَاہوِہ یروشلیمؔ سے جنگ کرنے والی اُن سَب قوموں پر اَیسا عذاب نازل کریں گے کہ کھڑے کھڑے اُن کا گوشت سڑ جائے گا، اَور اُن کی آنکھیں چشم خانوں میں گل جایٔیں گی اَور اُن کی زبان اُن کے مُنہ میں سڑ جائے گی۔
ZEC 14:13 اَور اُس روز یَاہوِہ کی طرف سے اُن کے درمیان ایک بڑی دہشت ہوگی۔ وہ ایک دُوسرے کا ہاتھ پکڑیں گے اَور ایک دُوسرے پر حملہ کریں گے۔
ZEC 14:14 یہُوداہؔ بھی یروشلیمؔ میں لڑے گا۔ اِس کے گِردونواح کی سَب قوموں کی دولت جمع کی جائے گی۔ جِس میں کثرت سے سونا، چاندی اَور لباس جمع ہوگا۔
ZEC 14:15 گھوڑوں، خچّروں، اُونٹوں، گدھوں اَور سَب حَیوانوں پرجو اِن لشکرگاہوں میں ہوں گے، اُن پر بھی وُہی عذاب نازل ہوگا۔
ZEC 14:16 تَب یروشلیمؔ پر حملہ کرنے والی سَب قوموں میں سے بچے ہُوئے لوگ سال بسال بادشاہ قادرمُطلق یَاہوِہ کو سَجدہ کرنے اَور خیموں کی عید منانے کو آئیں گے۔
ZEC 14:17 اَور دُنیا کے اُن تمام قبائل پرجو بادشاہ قادرمُطلق یَاہوِہ کو سَجدہ کرنے یروشلیمؔ میں نہ آئیں گے تو اُن پر مینہ نہ برسے گا۔
ZEC 14:18 اگر مِصر کے لوگ آکر اُس عبادت اَور عید میں شریک نہیں ہوں گے تو اُن کی سَر زمین پر بھی مینہ نہیں برسے گا۔ یَاہوِہ اُن کے اُوپر وُہی وَبا نازل کریں گے جو اُنہُوں نے اُن قوموں پر نازل کی تھی جو خیموں کی عید منانے کو نہیں آئےتھے۔
ZEC 14:19 اہلِ مِصر اَور اُن تمام قوموں کی جو خیموں کی عید منانے نہیں جایٔیں گے، اُن کی یہی سزا ہوگی۔
ZEC 14:20 اُس روز گھوڑوں کی گردن میں لٹکی گھنٹیوں ںپر یہ الفاظ لکھے ہوں گے، ”یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس،“ اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی دیگیں مذبح کے سامنے رکھے مُقدّس پیالوں کی مانند ہوں گی۔
ZEC 14:21 یروشلیمؔ اَور یہُودیؔہ کا ہر ایک برتن قادرمُطلق یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس ہوگا اَور وہ سَب جو قُربانی کرنے آئیں گے وہ اُن برتنوں میں سے کچھ کو لیں گے اَور اُن میں قُربانی کا گوشت پکائیں گے۔ اَور اُس دِن کویٔی تاجر قادرمُطلق یَاہوِہ کے گھر میں داخل نہ ہوگا۔
MAL 1:1 یَاہوِہ کی طرف سے ملاکیؔ کی مَعرفت سے، بنی اِسرائیل کے لیٔے ایک نبُوّت۔
MAL 1:2 یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”مَیں نے تُم سے مَحَبّت کی ہے۔“ ”لیکن تُم پُوچھتے ہو، ’آپ نے کس‎طرح ہم سے مَحَبّت ظاہر کی ہے؟‘ ”کیا عیسَوؔ یعقوب کا بھایٔی نہیں تھا؟“ یَاہوِہ جَواب دیتے ہیں۔ ”پھر بھی مَیں نے یعقوب سے مَحَبّت رکھی،
MAL 1:3 مگر عیسَوؔ سے عداوت کرتا ہوں۔ مَیں نے اُس کے پہاڑوں کو ویران کر دیا اَور اُس کی مِیراث بیابان کے گیدڑوں کو دے دی۔“
MAL 1:4 اِدُوم کہہ سَکتا ہے، ”حالانکہ ہم برباد تو ہو گئے ہیں لیکن اَپنی ویران جگہوں کو پھر سے تعمیر کریں گے۔“ لیکن قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”وہ تعمیر تو کر سکتے ہیں لیکن مَیں پھر ڈھا دُوں گا۔ اَور اُن کا مُلک بدکاری کی سرزمین کہلائے گا۔ اَور وہ اَیسے لوگ ہوں گے جِن پر یَاہوِہ کا قہر ہمیشہ قائِم رہے گا۔
MAL 1:5 تُم خُود اِسے اَپنی آنکھوں سے دیکھوگے اَور تُم کہو گے، ’حقیقتاً یَاہوِہ کی عظمت بنی اِسرائیل کی سرحدوں کے باہر بھی اعلیٰ مرتبہ والی ہے!‘
MAL 1:6 ”ایک بیٹا اَپنے باپ کی عزّت کرتا ہے اَور غُلام اَپنے آقا کا اِحترام کرتا ہے۔ اگر مَیں باپ ہُوں تو میری عزّت کہاں ہے؟ اگر مَیں آقا ہُوں تو میرا خوف کہاں ہے؟“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”اَے کاہِنوں تُم ہی ہو، جو میرے نام کی تحقیر کرتے ہو۔ ”پھر بھی تُم کہتے ہو، ’ہم نے کس بات میں تمہارے نام کی تحقیر کی؟‘
MAL 1:7 ”تُم میرے مذبح پر ناپاک غِذا نذر کرنے کی وجہ سے۔ ”اَور کہتے ہو کہ ہم نے کس بات میں آپ کی توہین کی ہے۔ یہ کہہ کر کہ یَاہوِہ کی میز حقیر ہے تُم مُجھے ناپاک ٹھہراتے ہو۔
MAL 1:8 جَب تُم قُربانی کے لیٔے اَندھے جانور لاتے ہو تو کیا یہ بُرائی نہیں ہے؟ جَب تُم عیب دار اَور بیمار جانور قُربانی کرتے ہو تو کیا یہ بُرائی نہیں؟“ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، اُن جانوروں کو اَپنے حاکم کے لیٔے نذر کرو! کیا وہ تمہاری اِس بات سے خُوش ہونگے؟ کیا وہ اُسے قبُول کریں گے؟
MAL 1:9 ”اَب ذرا خُدا سے مِنّت کرو کہ وہ ہم پر رحم کریں، کیونکہ تمہارے ہی ہاتھوں نے اِن قُربانیوں کو نذر کیا ہے۔ کیا وہ تُمہیں قبُول کریں گے؟“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
MAL 1:10 ”کاش کتنا اَچھّا ہوتا کہ تُم میں سے کویٔی بیت المُقدّس کے دروازے کو بند کر دیتا تاکہ تُم میرے مذبح پر عبث آگ نہ جَلاتے! میں تُم سے خُوش نہیں ہُوں۔“ کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اِس لئے مَیں تمہارے ہاتھ سے کویٔی ہدیہ ہرگز قبُول نہیں کروں گا۔
MAL 1:11 کیونکہ آفتاب کے طُلوع سے غروب تک قوموں میں میرے نام کی تمجید ہوگی۔ اَور میرے نام کی خاطِر ہر جگہ بخُور جَلایا جائے گا اَور پاک عطیات لایٔے جایٔیں گے کیونکہ قوموں میں میرے نام کی تمجید ہوگی،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
MAL 1:12 ”لیکن تُم یہ کہہ کر اُس کی توہین کرتے ہو،“ یَاہوِہ کی میز ناپاک ہے اَور اُس پر کا رکھا ہُوا عطیات حقیر ہیں۔
MAL 1:13 اَور تُم یہ بھی کہتے ہو کہ، یہ کیسی زحمت ہے، اَور اُس پر حقارت سے ناک سکوڑتے ہو۔ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”جَب تُم زخمی یا عیب دار یا بیمار جانور قُربانی کرنے لاتے ہو تو کیا میں اَیسی قُربانی تمہارے ہاتھ سے قبُول کروں؟“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
MAL 1:14 ”لعنت ہے اُس دغاباز پر جِس کے ریوڑ میں قابل قبُول نر جانور مَوجُود ہے اَور وہ اُسے دینے کے لیٔے قَسم کھاتا ہے مگر خُداوؔند کو عیب دار جانور نذر کرتا ہے۔ کیونکہ مَیں شاہِ عظیم ہُوں،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے، اِس لئے تمام قوموں میں لوگوں کے درمیان میرے نام کا خوف مانا جانا چاہئے۔
MAL 2:1 ”اَور اَب اَے کاہِنوں، تمہارے لیٔے یہ اِنتباہ ہے۔
MAL 2:2 اگر تُم نہیں سنوگے، اَور میرے نام کی تعظیم کے لیٔے اَپنے دِلوں کو آمادہ نہیں کروگے،“ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”مَیں تمہارے اُوپر ایک لعنت بھیجوں گا اَور تمہاری برکتوں کو ملعُون کر دُوں گا؛ بَلکہ میں پہلے ہی اُنہیں ملعُون کر چُکا ہُوں کیونکہ تُم نے میری تعظیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
MAL 2:3 ”تمہارے باعث مَیں تمہاری اَولاد کو ڈانٹوں گا اَور تمہارے مُنہ پر تمہاری عیدوں کی قُربانی کی غِلاظت پھیکوں گا اَور تُم بھی اُن کے ساتھ اُٹھاکر پھینک دئیے جاؤگے۔
MAL 2:4 تَب تُم جان لوگے کہ مَیں نے تُمہیں یہ اِنتباہ دی ہے تاکہ میرا عہد لیوی کے ساتھ قائِم رہے،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے،
MAL 2:5 اُن کے ساتھ میرا عہد زندگی اَور سلامتی کا عہد تھا اَور مَیں نے یہ عہد اَپنی تعظیم کے لیٔے دیا تھا۔ اَور بنی لیوی نے میری تعظیم بھی کی اَور میرے نام سے ڈرتا رہا۔
MAL 2:6 اَور بنی لیوی کے مُنہ میں سچّائی کی تعلیم تھی اَور اُس کے لبوں پر کویٔی ناراستی نہ پائی گئی۔ وہ میرے حُضُور سلامتی اَور راستی سے چلتا رہا اَور بہُتوں کو بدی کی راہ سے واپس لایاتھا۔
MAL 2:7 کیونکہ لازِم ہے کہ کاہِنؔ کے لب تعلیم کو محفوظ رکھیں اَور اُس کے مُنہ سے لوگ ہدایت حاصل کریں، کیونکہ وہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا پیغمبر ہے۔
MAL 2:8 لیکن قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، تُم صحیح راہ سے گُمراہ ہو گیٔے اَور تمہاری تعلیم بہت لوگوں کے لیٔے ٹھوکر کا باعث بنی۔ تُم نے لیوی کے ساتھ باندھے ہُوئے عہد کو نظرانداز کر دیا ہے۔
MAL 2:9 اِس لیٔے مَیں نے تُمہیں سَب لوگوں کی نظر میں ذلیل اَور حقیر کیا، کیونکہ تُم میری راہوں پر قائِم نہیں رہے بَلکہ آئین کے مُعاملات میں تُم نے طرفداری سے کام لیا۔
MAL 2:10 کیا ہم سَب کا ایک ہی باپ نہیں؟ کیا ایک ہی خُدا نے ہم سَب کو پیدا نہیں کیا؟ تو پھر کیوں ہم ایک دُوسرے کے ساتھ بےوفائی کرکے اَپنے آباؤاَجداد کے عہد کو توڑ رہے ہیں؟
MAL 2:11 یہُوداہؔ نے بےوفائی کی، بنی اِسرائیل اَور یروشلیمؔ میں نفرت اَنگیز کام ہُواہے، یہُوداہؔ نے غَیر معبُودوں کی پرستش کرنے والی عورتوں سے شادی کی ہے اَور اَیسا کرکے اُس نے یَاہوِہ کے اُس مُقدّس مقام کو ناپاک کیا ہے جِس سے یَاہوِہ مَحَبّت رکھتے ہیں۔
MAL 2:12 یَاہوِہ اَیسا کرنے والے شخص کو خواہ وہ کویٔی کیوں نہ ہو، یعقوب کے خیموں سے خارج کر دیں۔ چاہے وہ شخص قادرمُطلق یَاہوِہ کے حُضُور قُربانی کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔
MAL 2:13 پھر دُوسرا کام جو تُم کرتے ہو وہ یہ ہے کہ تُم یَاہوِہ کے مذبح کو آنسُوؤں سے تر کر دیتے ہو۔ تُم اِس لیٔے روتے اَور ماتم کرتے ہو کیونکہ اَب یَاہوِہ تمہارے نذرانوں کی طرف مُتوجّہ نہیں ہوتے اَور نہ تمہارے ہاتھوں کے نذرانوں کو خُوشی کے ساتھ قبُول کرتا ہے۔
MAL 2:14 تو بھی، تُم پُوچھتے ہو، ”اَیسا کیوں ہے؟“ اَیسا اِس لیٔے ہے کہ کیونکہ یَاہوِہ تمہارے اَور تمہاری جَوانی کی بیوی کے درمیان گواہ ہے۔ تُم نے اُس کے ساتھ بےوفائی کی ہے حالانکہ وہ تمہاری شریکِ حیات ہے اَور تمہاری عہد کی بیوی ہے۔
MAL 2:15 کیا خُدا نے تُمہیں تمہاری بیوی کے ساتھ ایک ہی جِسم نہیں کیا تھا؟ جِسم اَور رُوح میں تُم اُس کے ہو۔ اَور خُدا کیا چاہتاہے؟ یَاہوِہ تُم دونوں کے مِلنے سے ایک خُدا ترس نَسل چاہتاہے۔ پس تُم اَپنے دِل کی رکھوالی کرو اَور اَپنی جَوانی کی بیوی کے ساتھ بےوفائی نہ کرو۔
MAL 2:16 کیونکہ بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”مُجھے طلاق سے سخت نفرت ہے، جو شخص اَپنی بیوی کو طلاق دیتاہے وہ اَپنی شادی کی توہین کرتا ہے۔“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ پس خبردار رہو اَور اَپنی بیوی سے بےوفائی نہ کرو۔
MAL 2:17 تُم نے اَپنی باتوں سے یَاہوِہ کو بیزار کر دیا ہے۔ تو بھی تُم پُوچھتے ہو کہ ہم نے اُنہیں کیسے بیزار کیا ہے؟ یہ کہہ کر کہ، ”وہ سَب جو بدی کرتے ہیں یَاہوِہ کی نظر میں نیک ہیں اَور وہ اُن سے خُوش ہے اَور یا یہ کہہ کر کہ اِنصاف کا خُدا کہاں ہے؟“
MAL 3:1 دیکھو مَیں اَپنا پیغمبر اَپنے آگے بھیج رہا ہُوں۔ جو میرے آنے سے پہلے میری راہ تیّار کرےگا۔ تَب خُداوؔند جِس کے تُم طالب ہو وہ اَچانک اَپنی بیت المُقدّس میں تشریف لے آئیں گے۔ ہاں عہد کا پیغمبر جِس کے تُم آرزُومند ہو، آ جائے گا۔ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
MAL 3:2 لیکن اُس کے آنے کے دِن کو کون برداشت کر سکتا ہے اَور جَب وہ ظاہر ہوگا تو کون کھڑا رہ سکےگا کیونکہ وہ سُنار کی جلتی ہوئی بھٹّی کی طرح یا دھوبی کے صابُن کی مانند ہے۔
MAL 3:3 وہ چاندی کو صَاف کرنے اَور اُس کی گندگی دُور کرنے والے سُنار کی مانند بیٹھے گا؛ اَور جَیسے سونے اَور چاندی کو صَاف کیا جاتا ہے وَیسے ہی وہ بنی لیوی کو صَاف کرےگا۔ تَب وہ یَاہوِہ کے اَیسے لوگ ہوں گے جو راستبازی سے نذرانہ لائیں گے۔
MAL 3:4 تَب مُلک یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں کا نذرانہ یَاہوِہ کو اَیسا منظُور ہوگا جَیسا قدیم زمانوں اَور گُزرے دِنوں میں ہُوا کرتا تھا۔
MAL 3:5 تَب مَیں تمہاری عدالت کے لیٔے تمہارے نزدیک آؤں گا اَور اوجھاؤں، بدکاروں اَور جھُوٹی قَسم کھانے والوں کے خِلاف اَور اُن کے خِلاف بھی جو مزدُوروں کو اُن کی مزدُوری نہیں دیتے اَور بیواؤں اَور یتیموں پر ظُلم کرتے ہیں اَور پردیسیوں کو اِنصاف سے محروم رکھتے ہیں اَور مُجھ سے نہیں ڈرتے ہیں، مَیں اُن سَب کے خِلاف فوراً گواہی دُوں گا، یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
MAL 3:6 ”کیونکہ مَیں یَاہوِہ لاتبدیل ہُوں۔ اِس لیٔے اَے بنی یعقوب، تُم نِیست و نابُود نہیں ہُوئے۔
MAL 3:7 تُم اَپنے آباؤاَجداد کے ایّام سے ہمیشہ میرے قوانین سے مُنہ پھراتے رہے ہو اَور اُن پر عَمل نہیں کیا۔ تُم میری طرف رُجُوع لاؤ،“ تو مَیں بھی تمہاری طرف رُجُوع ہُوں گا۔ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”لیکن تُم پُوچھتے ہو، ’ہم کس بات میں رُجُوع لائیں؟‘
MAL 3:8 ”کیا کویٔی فانی شخص یَاہوِہ کو لُوٹ سکتا ہے؟ پھر بھی تُم مُجھے لُٹتے ہو۔ ”لیکن تُم پُوچھتے ہو، ’ہم کس بات میں آپ کو لُوٹتے ہیں؟‘ ”تُم دہ یکیوں اَور نذرانہ کے مُعاملے میں لُٹتے ہو۔
MAL 3:9 پس تُم ملعُون ہو، تمہاری ساری قوم ملعُون ہے۔ کیونکہ تُم مُجھے لُوٹ رہے ہو۔
MAL 3:10 سارا دہ یکی ذخیرہ خانے میں لاؤ تاکہ میرے بیت المُقدّس میں خُوراک مَوجُود رہے۔ اِس بات میں مُجھے آزما کر دیکھو،“ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”دیکھو میں آسمان کے دریچوں کو کھول کر اِس قدر برکتوں کی بارش کروں گا کی نہیں کہ تمہارے پاس رکھنے کو جگہ نہ رہے گی۔
MAL 3:11 مَیں کیڑوں کو تمہاری فصل چٹ کر جانے سے روکوں گا اَور تمہارے تاکستان میں انگور کے پھل پکنے سے پہلے کچّے نہیں گریں گے،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
MAL 3:12 تَب سَب قومیں تُمہیں مُبارک کہیں گی کیونکہ تمہاری زمین خُوشحال ہوگی، یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
MAL 3:13 یَاہوِہ فرماتے ہیں، تُم نے میرے خِلاف متکبّرانہ باتیں کہی ہیں، تو بھی تُم پُوچھتے ہو، ہم نے آپ کے خِلاف کیا کہا ہے؟
MAL 3:14 تُم نے کہا ہے، یَاہوِہ کی عبادت کرنا بیکار ہے۔ قادرمُطلق یَاہوِہ کے تقاضوں پر عَمل کرنے اَور اُن کے حُضُور میں ماتم کرنے والوں کی طرح جانے سے کیا حاصل ہُوا؟
MAL 3:15 لیکن اَب ہم مغروُروں کو برکت والے کہتے ہیں۔ بے شک بدکار خُوشحال ہوتے ہیں اَور یَاہوِہ کی مُخالفت کرنے والے رِہائی پاتے ہیں۔
MAL 3:16 تَب یَاہوِہ کا خوف ماننے والوں نے آپَس میں گُفتگو کی اَور یَاہوِہ نے مُتوجّہ ہوکر اُن کی سُنی اَور اُن کے لئے جو یَاہوِہ سے ڈرتے اَور اُس کے نام کی تعظیم کرتے تھے، یَاہوِہ کے حُضُور میں ایک یادگاری کی کِتاب لکھی جا رہی تھی۔
MAL 3:17 قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اُس روز جَب مَیں عَمل کروں گا،“ تَب وہ میری خاص مِلکیّت ہوں گے؛ اَور مَیں اُن پر اَیسی شفقت کروں گا جَیسے ایک باپ اَپنے خدمت گزار بیٹے پر شفیق ہوتاہے۔
MAL 3:18 تَب تُم راستبازوں اَور بدکاروں کے درمیان اَور یَاہوِہ کی عبادت کرنے اَور نہ کرنے والوں میں صَاف صَاف اِمتیاز دیکھوگے۔
MAL 4:1 قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، یقیناً وہ دِن جلتی ہوئی آگ کی بھٹّی کی مانند آ رہاہے۔ تَب اُس دِن سَب مغروُر اَور بدکار بھُوسے کی مانند اَیسے جَلا دیئے جائیں گے کہ اُن کی جڑ یا شاخ کچھ باقی نہ بچےگی۔
MAL 4:2 لیکن تُم جو میرے نام کی تعظیم کرتے ہو، تمہارے لیٔے آفتابِ صداقت اِس قدر طُلوع ہوگا کہ اُس کی کرنوں میں شفا ہوگی اَور تُم خُوشی سے گائے کے فربہ بچھڑوں کی مانند کُودو اَور پھاندو گے۔
MAL 4:3 تَب اُس دِن تُم بدکاروں کو اِس قدر کُچل دوگے؛ گویا وہ تمہارے پاؤں کے تلووں کی راکھ ہوں۔ جِس دِن میں عَمل کروں گا، یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
MAL 4:4 میرے بندے مَوشہ کی شَریعت، قوانین اَور طور طریقوں پر عَمل کرو جو مَیں نے اُسے کوہِ حورِبؔ پر تمام بنی اِسرائیل کے لیٔے دیا تھا۔
MAL 4:5 دیکھو، یَاہوِہ کا خوفناک روزِ عظیم آنے سے پہلے مَیں ایلیّاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔
MAL 4:6 اَور وہ والدین کے دِل کو اُن کی اَولاد کی طرف اَور اَولادوں کے دِل کو اُن کے والدین کی طرف مائل کرےگا؛ ورنہ مَیں آؤں گا اَور تمام مُلک پر تباہی نازل کر دُوں گا۔
MAT 1:1 حُضُور یِسوعؔ المسیح اِبن داویؔد اَور اِبن اَبراہامؔ کا نَسب نامہ یہ ہے:
MAT 1:2 حضرت اَبراہامؔ سے حضرت اِصحاقؔ پیدا ہویٔے، اَور حضرت اِصحاقؔ سے حضرت یعقوب، حضرت یعقوب سے حضرت یہُوداہؔ اَور اُن کے بھایٔی پیدا ہُوئے،
MAT 1:3 حضرت یہُوداہؔ سے فارصؔ اَور زیراحؔ پیدا ہُوئے، اُن کی ماں کا نام تامارؔ تھا، اَور فارصؔ سے حصرونؔ، حصرونؔ سے ارام پیدا ہویٔے،
MAT 1:4 ارام سے عَمّیندابؔ، اَور عَمّیندابؔ سے نحسُونؔ، اَور نحسُونؔ سے سَلمونؔ پیدا ہویٔے،
MAT 1:5 اَور سَلمونؔ سے بُوعزؔ پیدا ہویٔے، اُن کی ماں کا نام راحبؔ تھا، حضرت بُوعزؔ سے عوبیدؔ پیدا ہویٔے اُن کی ماں کا نام رُوتؔ تھا، حضرت عوبیدؔ سے یِشائی پیدا ہویٔے،
MAT 1:6 اَور حضرت یِشائی سے حضرت داویؔد بادشاہ پیدا ہویٔے۔ حضرت داویؔد سے حضرت شُلومونؔ پیدا ہویٔے، جو آپ کی ماں پہلے اورِیّاہؔ کی بیوی تھی،
MAT 1:7 حضرت شُلومونؔ سے رحُبعامؔ، رحُبعامؔ سے ابیّاہؔ، ابیّاہؔ سے آساؔ پیدا ہویٔے،
MAT 1:8 آساؔ سے یہوشافاطؔ، یہوشافاطؔ سے یُورامؔ، یُورامؔ سے عُزّیاہؔ پیدا ہویٔے،
MAT 1:9 اَور عُزّیاہؔ سے یُوتامؔ، یُوتامؔ سے آخزؔ، آخزؔ سے حِزقیاہؔ پیدا ہویٔے،
MAT 1:10 اَور حِزقیاہؔ سے منشّہ، منشّہ سے امُونؔ، امُونؔ سے یُوشیاہؔ پیدا ہویٔے،
MAT 1:11 یہُودیوں کے جَلاوطن ہوکر بابیل جاتے وقت یُوشیاہؔ سے یخونیاؔہ اَور اُس کے بھایٔی پیدا ہُوئے۔
MAT 1:12 بابیل میں جَلاوطنی کے بعد: یخونیاؔہ سے شیالتی ایل، اَور شیالتی ایل سے زرُبّابِیل پیدا ہویٔے،
MAT 1:13 اَور حضرت زرُبّابِیل سے اَبِیہُودؔ، اَور اَبِیہُودؔ سے اِلیاقیؔم اَور اِلیاقیؔم سے عازُورؔ پیدا ہویٔے،
MAT 1:14 اَور حضرت عازُورؔ سے صدُوقؔ، اَور صدُوقؔ سے اَخِیمؔ، اَور اَخِیمؔ سے اِلیہُودؔ پیدا ہویٔے،
MAT 1:15 اَور اِلیہُودؔ سے الیعزرؔ، اَور الیعزرؔ سے متّانؔ، اَور متّانؔ سے یعقوب پیدا ہویٔے،
MAT 1:16 اَور حضرت یعقوب سے یُوسیفؔ پیدا ہویٔے جو حضرت مریمؔ کے شوہر تھے اَور حضرت مریمؔ سے یِسوعؔ پیدا ہویٔے جو المسیح کَہلاتے ہیں۔
MAT 1:17 چنانچہ حضرت اَبراہامؔ سے حضرت داویؔد تک چودہ پُشتیں، حضرت داویؔد سے یہُودیوں کے جَلاوطن ہوکر بابیل جانے تک چودہ پُشتیں اَور بابیل میں جَلاوطنی کے ایّام سے المسیح تک چودہ پُشتیں ہُوئیں۔
MAT 1:18 یِسوعؔ المسیح کی پیدائش اِس طرح ہُوئی کہ جَب آپ کی ماں حضرت مریمؔ کی منگنی حضرت یُوسیفؔ کے ساتھ ہویٔی تو وہ شادی سے پہلے ہی پاک رُوح کی قُدرت سے حاملہ پائی گئیں۔
MAT 1:19 اُن کے شوہر حضرت یُوسیفؔ ایک راستباز آدمی تھے، اِس لیٔے اُنہُوں نے چُپکے سے طلاق دینے کا اِرادہ کر لیا تاکہ حضرت مریمؔ کی بدنامی نہ ہو۔
MAT 1:20 ابھی وہ یہ باتیں سوچ ہی رہے تھے کہ خُداوؔند کے ایک فرشتہ نے خواب میں ظاہر ہوکر اُن سے فرمایا، ”اَے یُوسیفؔ، اِبن داویؔد! اَپنی بیوی مریمؔ کو اَپنے گھر لے آنے سے مت ڈر کیونکہ جو اُن کے پیٹ میں ہے وہ پاک رُوح کی قُدرت سے ہے۔
MAT 1:21 مریمؔ کو ایک بیٹا ہوگا اَور تُم اُس کا نام یِسوعؔ رکھنا کیونکہ وُہی اَپنے لوگوں کو اُن کے گُناہوں سے نَجات دیں گے۔“
MAT 1:22 یہ سَب کُچھ اِس لیٔے ہُوا تاکہ خُداوؔند نے جو کلام نبی کی مَعرفت فرمایا تھا، وہ پُورا ہو:
MAT 1:23 ”ایک کنواری حاملہ ہوگی اَور اُس سے ایک بیٹا پیدا ہوگا اَور اُس کا نام عِمّانُوایلؔ رکھا جایٔےگا،“ جِس کا ترجُمہ ہے ”خُدا ہمارے ساتھ۔“
MAT 1:24 حضرت یُوسیفؔ نے نیند سے جاگ کر جَیسا خُداوؔند کے فرشتہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا وَیسا ہی کیا اَور اَپنی بیوی، حضرت مریمؔ کو گھر لے آئے۔
MAT 1:25 لیکن یِسوعؔ کی پیدائش ہونے تک وہ اُن سے دُور رہے، اَور حضرت یُوسیفؔ نے بچّے کا نام یِسوعؔ رکھا۔
MAT 2:1 یِسوعؔ ہیرودیسؔ بادشاہ کے زمانہ میں یہُودیؔہ کے شہر بیت لحمؔ میں پیدا ہویٔے، تو مشرق سے کیٔی مجُوسِی یروشلیمؔ پہُنچ کر
MAT 2:2 پُوچھنے لگے، ”یہُودیوں کا بادشاہ جو پیدا ہُواہے، وہ کہاں ہے؟ کیونکہ مشرق میں ہم نے حُضُور کی آمد کا ستارہ دیکھ کر اُنہیں سَجدہ کرنے کے واسطے آئے ہیں۔“
MAT 2:3 جَب ہیرودیسؔ بادشاہ نے یہ بات سُنی تو وہ اَور اُس کے ساتھ سَب یروشلیمؔ کے لوگ گھبرا گیٔے۔
MAT 2:4 اَور ہیرودیسؔ نے قوم کے سَب اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں، کو جمع کرکے اُن سے پُوچھا کہ حضرت المسیح کی پیدائش کہاں ہونی چاہئے۔
MAT 2:5 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”یہُودیؔہ کے بیت لحمؔ میں، کیونکہ نبی کی مَعرفت یُوں لِکھّا گیا ہے:
MAT 2:6 ” ’لیکن اَے بیت لحمؔ، تُو جو یہُوداہؔ کے علاقہ میں ہے، تُو یہُوداہؔ کے حاکموں میں ہرگز کمترین نہیں؛ کیونکہ تُجھ میں سے ایک اَیسا حاکم برپا ہوگا جو میری اُمّت اِسرائیلؔ کی گلّہ بانی کرےگا۔‘“
MAT 2:7 تَب ہیرودیسؔ نے مجُوسیوں کو چُپکے سے بُلاکر اُن سے سِتارے کے نموُدار ہونے کا ٹھیک وقت دریافت کیا۔
MAT 2:8 اَور اُنہیں یہ کہہ کر بیت لحمؔ بھیجا، ”جاؤ اُس بچّے کا ٹھیک ٹھیک پتہ کرو اَور جَب وہ تُمہیں مِل جائے تو مُجھے بھی خبر دو تاکہ میں بھی جا کر اُسے سَجدہ کروں۔“
MAT 2:9 وہ بادشاہ کی بات سُن کر روانہ ہُوئے اَور وہ ستارہ جو اُنہیں مشرق میں دِکھائی دیا تھا، اُن کے آگے آگے چلنے لگا یہاں تک کہ اُس جگہ کے اُوپر جا ٹھہرا جہاں وہ بچّہ مَوجُود تھا۔
MAT 2:10 سِتارے، کو دیکھ کر اُنہیں بڑی خُوشی ہُوئی۔
MAT 2:11 تَب وہ اُس گھر میں داخل ہُوئے اَور بچّے کو اُس کی ماں حضرت مریمؔ کے پاس جا کر اُن کے آگے جھک کر سَجدہ کیا اَور اَپنے ڈِبّے کھول کر سونا، لوبان اَور مُر اُس کو نذر کیا۔
MAT 2:12 اَور خواب میں ہیرودیسؔ کے پاس پھر نہ جانے کی ہدایت پا کر وہ کسی دُوسرے راستے سے اَپنے مُلک واپس چلے گیٔے۔
MAT 2:13 اُن کے چلے جانے کے بعد، خُداوؔند کے ایک فرشتہ نے حضرت یُوسیفؔ کو خواب میں دِکھائی دے کر حُکم دیا، ”اُٹھو، بچّے اَور اُس کی ماں کو ساتھ لے کر مِصر بھاگ جاؤ اَور میرے کہنے تک وہیں رہنا، کیونکہ ہیرودیسؔ اِس بچّے کو ڈھونڈ کر ہلاک کرنا چاہتاہے۔“
MAT 2:14 چنانچہ وہ اُٹھے اَور بچّے اَور اُس کی ماں کو ساتھ لے کر راتوں رات مِصر کو روانہ ہو گیٔے،
MAT 2:15 اَور ہیرودیسؔ کی وفات تک وہیں رہے تاکہ جو بات خُداوؔند نے نبی کی مَعرفت کہی تھی وہ پُوری ہو جائے: ”میں اَپنے بیٹے کو مِصر سے بُلایا۔“
MAT 2:16 جَب ہیرودیسؔ کو مَعلُوم ہُوا کہ مجُوسیوں نے اُس کے ساتھ دغابازی کی ہے، تو اُسے بہت غُصّہ آیا، اَور مجُوسیوں سے مِلی اِطّلاع کے مُطابق اُس نے بیت لحمؔ اَور اُس کی سَب سرحدوں کے اَندر سپاہی بھیج کر تمام لڑکوں کو جو دو سال یا اُس سے کم عمر کے تھے، قتل کروا دیا۔
MAT 2:17 اِس طرح یرمیاہؔ نبی کی پیشن گوئی پُوری ہُوئی:
MAT 2:18 ”رامہؔ شہر میں ایک آواز سُنایٔی دی، رونے، چِلّانے اَور شدید ماتم کی آوازیں، راخلؔ اَپنے بچّوں کے لیٔے رو رہی ہے اَور تسلّی قبُول نہیں کر رہی، کیونکہ وہ ہلاک ہو چُکے ہیں۔“
MAT 2:19 ہیرودیسؔ کی موت کے بعد خُداوؔند کے ایک فرشتہ نے مِصر میں حضرت یُوسیفؔ کو خواب میں دِکھائی دے کر فرمایا،
MAT 2:20 ”اُٹھو، بچّے اَور اُس کی ماں کو ساتھ لے کر اِسرائیلؔ کے مُلک میں چلے جاؤ کیونکہ جو لوگ بچّے کو جان سے مار ڈالنا چاہتے تھے اَب وہ مَر چُکے ہیں۔“
MAT 2:21 لہٰذا حضرت یُوسیفؔ اُٹھے اَور بچّے اَور اُس کی ماں کو لے کر اِسرائیلؔ کے مُلک میں لَوٹ آئے۔
MAT 2:22 مگر یہ سُن کر کہ اَرخِلاؤسؔ اَپنے باپ ہیرودیسؔ کی جگہ پر یہُودیؔہ میں بادشاہی کر رہاہے، تو یُوسیفؔ وہاں جانے سے ڈرے اَور خواب میں ہدایت پا کر صُوبہ گلِیل کے علاقہ کو روانہ ہویٔے۔
MAT 2:23 وہاں پہُنچ کر ناصرتؔ نام ایک شہر میں رہنے لگے تاکہ جو بات نبیوں کی مَعرفت کہی گئی تھی وہ پُوری ہو: وہ ناصری کہلائے گا۔
MAT 3:1 اُن دِنوں میں پاک غُسل دینے والے یُوحنّا کی آمد ہُوئی اَور یہُودیؔہ کے بیابان میں جا کر یہ مُنادی کرنے لگے،
MAT 3:2 ”تَوبہ کرو، کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔“
MAT 3:3 یُوحنّا وُہی شخص ہیں جِن کے بارے میں یَشعیاہ نبی کی مَعرفت یُوں بَیان کیا گیا تھا: ”بیابان میں کویٔی پُکار رہاہے، ’خُداوؔند کے لیٔے راہ تیّار کرو، اُس کے لیٔے راہیں سیدھی بناؤ۔‘ “
MAT 3:4 حضرت یُوحنّا اُونٹ کے بالوں سے بُنا لباس پہنتے تھے اَور اُن کا کمربند چمڑے کا تھا۔ اَور اُن کی خُوراک ٹِڈّیاں اَور جنگلی شہد تھی۔
MAT 3:5 یروشلیمؔ، یہُودیؔہ اَور یردنؔ کے سارے علاقوں سے سَب لوگ نکل کر یُوحنّا کے پاس گیٔے۔
MAT 3:6 اَور اَپنے گُناہوں کا اقرار کیا اَور اُنہُوں نے یُوحنّا سے دریائے یردنؔ میں پاک غُسل لیا۔
MAT 3:7 لیکن جَب یُوحنّا نے دیکھا کہ بہت سے فرِیسی اَور صدُوقی پاک غُسل لینے کے لیٔے اُن کے پاس آ رہے ہیں تو اُن سے کہا: ”اَے زہریلے سانپ کے بچّو! تُمہیں کس نے آگاہ کر دیا کہ آنے والے غضب سے بچ کر بھاگ نکلو؟
MAT 3:8 اَپنی تَوبہ کے لائق پھل بھی لاؤ۔
MAT 3:9 اَور خُود سے اِس گُمان میں نہ رہنا کہ تُم کہہ سکتے ہو، ’ہم تو حضرت اَبراہامؔ کی اَولاد ہیں۔‘ کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا اِن پتھّروں سے بھی حضرت اَبراہامؔ کے لیٔے اَولاد پیدا کر سَکتا ہے۔
MAT 3:10 اَب درختوں کی جڑ پر کُلہاڑا رکھ دیا گیا ہے، لہٰذا جو درخت اَچھّا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اَور آگ میں جھونکا جاتا ہے۔
MAT 3:11 ”میں تو تُمہیں تَوبہ کے لیٔے صِرف پانی سے پاک غُسل دیتا ہُوں لیکن جو میرے بعد آنے والا ہے، وہ مُجھ سے بھی زِیادہ زورآور ہے۔ میں تو اُن کے جُوتوں کو بھی اُٹھانے کے لائق نہیں ہُوں۔ وہ تُمہیں پاک رُوح اَور آگ سے پاک غُسل دیں گے۔
MAT 3:12 اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے، اَور وہ اَپنی کھلیان کو خُوب پھٹکے گا، گیہُوں کو تو اَپنے کھتّے میں جمع کرےگا لیکن بھُوسے کو اُس جہنّم کی آگ میں جھونک دے گا جو کبھی نہ بُجھےگی۔“
MAT 3:13 اُس وقت یِسوعؔ صُوبہ گلِیل سے دریائے یردنؔ کے کنارے یُوحنّا سے پاک غُسل لینے آئے۔
MAT 3:14 لیکن یُوحنّا نے اُنہیں منع کرتے ہُوئے کہا، ”مُجھے تو آپ سے پاک غُسل لینے کی ضروُرت ہے اَور آپ میرے پاس آئے ہیں؟“
MAT 3:15 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”ابھی تو اَیسا ہی ہونے دو؛ کیونکہ ہمارے لیٔے تو یہی مُناسب ہے کہ ہم ساری راستبازی کو اِسی طرح پُورا کریں۔“ تَب یُوحنّا راضی ہو گیٔے۔
MAT 3:16 جَیسے ہی یِسوعؔ پاک غُسل لینے کے بعد پانی سے باہر آئے تو آسمان کھُل گیا اَور خُدا کی رُوح کو کبُوتر کی شکل میں اَپنے اُوپر نازل ہوتے دیکھا۔
MAT 3:17 اَور آسمان سے ایک آواز آئی، ”یہ میرا پیارا بیٹا ہے، جِس سے میں مَحَبّت کرتا ہُوں؛ جِس سے میں بہت خُوش ہُوں۔“
MAT 4:1 پھر یِسوعؔ پاک رُوح کی ہدایت سے بیابان میں گیٔے تاکہ اِبلیس اُنہیں آزمائے۔
MAT 4:2 چالیس دِن اَور چالیس رات روزے رکھنے کے بعد یِسوعؔ کو بھُوک لگی۔
MAT 4:3 تَب آزمائش کرنے والے نے آپ کے پاس آکر کہا، ”اگر آپ خُدا کے بیٹے ہیں تو اِس پتھّروں سے کہیں کہ روٹیاں بَن جایٔیں۔“
MAT 4:4 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”لِکھّا ہے: ’اِنسان صِرف روٹی ہی سے زندہ نہیں رہتا لیکن خُدا کے مُنہ سے نکلنے والے ہر کلام سے زندہ رہتاہے۔‘“
MAT 4:5 پھر اِبلیس اُنہیں مُقدّس شہر میں لے گیا اَور بیت المُقدّس کے سَب سے اُونچے مقام پر کھڑا کرکے آپ سے کہا۔
MAT 4:6 ”اگر آپ خُدا کے بیٹے ہیں تو یہاں سے، اَپنے آپ کو نیچے گرا دیں۔ کیونکہ لِکھّا ہے: ” ’وہ تمہارے متعلّق اَپنے فرشتوں کو حُکم دے گا، اَور وہ آپ کو اَپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے، تاکہ آپ کے پاؤں کو کسی پتّھر سے ٹھیس نہ لگنے پایٔے۔‘“
MAT 4:7 لیکن یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”یہ بھی تو لِکھّا ہے: ’تُم خُداوؔند اَپنے خُدا کی آزمائش نہ کرو۔‘“
MAT 4:8 پھر، اِبلیس اُنہیں ایک بہت اُونچے پہاڑ پر لے گیا اَور دُنیا کی تمام سلطنتیں اَور اُن کی شان و شوکت حُضُور کو دِکھائی اَور کہا،
MAT 4:9 ”اگر تُم مُجھے جُھک کر سَجدہ کرو تو میں یہ سَب کُچھ تُمہیں دے دُوں گا۔“
MAT 4:10 یِسوعؔ نے جَواب میں اُس سے کہا، ”اَے شیطان! مُجھ سے دُورہو جا، کیونکہ لِکھّا ہے: ’تُو اَپنے خُداوؔند خُدا ہی کو سَجدہ کر اَور صِرف اُسی کی خدمت کر۔‘“
MAT 4:11 پھر اِبلیس اُنہیں چھوڑکر چلا گیا اَور فرشتے آکر یِسوعؔ کی خدمت کرنے لگے۔
MAT 4:12 جَب یِسوعؔ نے سُنا کہ یُوحنّا کو قَید کر لیا گیا ہے تو وہ صُوبہ گلِیل کو روانہ ہُوئے۔
MAT 4:13 اَور ناصرتؔ کو چھوڑکر، کَفرنحُومؔ میں جا کر رہنے لگے جو جھیل کے کنارے زبُولُون اَور نفتالی کے علاقہ میں ہے۔
MAT 4:14 تاکہ جو بات حضرت یَشعیاہ نبی کی مَعرفت سے کہی گئی تھی، وہ پُوری ہو جائے۔
MAT 4:15 ”زبُولُون اَور نفتالی کے زمینی علاقہ، سمُندری شاہراہ، یردنؔ کے اُس پار، اَور غَیریہُودیوں کی صُوبہ گلِیل۔
MAT 4:16 جو لوگ تاریکی میں زندگی گزار رہے تھے اُنہُوں نے ایک بڑی رَوشنی دیکھی؛ اَورجو لوگ موت کے سایہ کے مُلک میں زندگی گزار رہے تھے اُن پر ایک نُور آ چمکا۔“
MAT 4:17 اُس وقت سے یِسوعؔ نے یہ مُنادی شروع کر دی، ”تَوبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔“
MAT 4:18 ایک دِن صُوبہ گلِیل کی جھیل کے کنارے چلتے ہُوئے یِسوعؔ نے دو بھائیوں کو، یعنی شمعُونؔ کو جو پطرس کہلاتےہیں اَور اُن کے بھایٔی اَندریاسؔ کو دیکھا۔ یہ دونوں اُس وقت جھیل میں جال ڈال رہے تھے کیونکہ اُن کا پیشہ ہی مچھلی پکڑناتھا۔
MAT 4:19 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میرے، پیچھے چلے آؤ، تو میں تُمہیں آدمؔ گیر بناؤں گا۔“
MAT 4:20 وہ اُسی وقت اَپنے جال چھوڑکر آپ کے ہمنوا ہوکر پیچھے ہو لیٔے۔
MAT 4:21 جَب حُضُور تھوڑا اَور آگے بڑھے تو آپ نے دو اَور بھائیوں، زبدیؔ کے بیٹے یعقوب اَور اُن کے بھایٔی یُوحنّا کو دیکھا، دونوں اَپنے باپ زبدیؔ کے ساتھ کشتی میں جالوں کی مرمّت کر رہے تھے۔ یِسوعؔ نے اُنہیں بُلایا،
MAT 4:22 اَور وہ بھی ایک دَم کشتی اَور اَپنے باپ کو چھوڑکر حُضُور کے پیچھے چل دئیے۔
MAT 4:23 یِسوعؔ سارے صُوبہ گلِیل میں جا کر اُن کے یہُودی عبادت گاہوں میں تعلیم دیتے اَور آسمانی بادشاہی کی خُوشخبری کی مُنادی کرتے رہے اَور لوگوں کے درمیان ہر قِسم کی بیماری اَور کمزوریوں کو شفا بخشتے رہے۔
MAT 4:24 اَور حُضُور کی شہرت تمام سِیریؔا میں پھیل گئی اَور لوگ سَب مَریضوں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اَور تکلیفوں میں مُبتلا تھے، جِن میں بدرُوحیں تھیں اَور مِرگی کے مَریضوں کو اَور مفلُوجوں کو یِسوعؔ کے پاس لاتے تھے، اَور حُضُور سَب کو شفا بخشتے تھے۔
MAT 4:25 اَور صُوبہ گلِیل، دِکَپُلِسؔ، یروشلیمؔ، یہُودیؔہ اَور دریائے یردنؔ پار کے علاقوں سے لوگوں کا ایک بڑا ہُجوم یِسوعؔ کے پیچھے چلا جا رہاتھا۔
MAT 5:1 یِسوعؔ اُس بڑے ہُجوم کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیٔے اَور جَب بیٹھ گیٔے تو آپ کے شاگرد آپ کے پاس آئے
MAT 5:2 تَب یِسوعؔ اُنہیں تعلیم دینے لگے۔ یِسوعؔ نے فرمایا:
MAT 5:3 ”مُبارک ہیں وہ جو دِل کے حلیم ہیں، کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے،
MAT 5:4 مُبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں، کیونکہ وہ تسلّی پائیں گے۔
MAT 5:5 مُبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں، کیونکہ وہ زمین کے وارِث ہوں گے۔
MAT 5:6 مُبارک ہیں وہ جنہیں راستبازی کی بھُوک اَور پیاس ہے، کیونکہ وہ آسُودہ ہوں گے۔
MAT 5:7 مُبارک ہیں وہ جو رحم دِل ہیں، کیونکہ اُن پر رحم کیا جائے گا۔
MAT 5:8 مُبارک ہیں وہ جو پاک دِل ہیں، کیونکہ وہ خُدا کو دیکھیں گے۔
MAT 5:9 مُبارک ہیں وہ جو صُلح کراتے ہیں، کیونکہ وہ خُدا کے بیٹے کہلایٔیں گے۔
MAT 5:10 مُبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب ستائے جاتے ہیں، کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے۔
MAT 5:11 ”مُبارک ہو تُم جَب لوگ تُمہیں میرے سبب سے لَعن طَعن کریں اَور ستائیں اَور طرح طرح کی بُری باتیں تمہارے بارے میں ناحق کہیں۔
MAT 5:12 تو تُم خُوش ہونا اَور جَشن منانا کیونکہ تُمہیں آسمان پر بڑا اجر حاصل ہوگا۔ اِس لیٔے کہ اُنہُوں نے اُن نبیوں کو بھی جو تُم سے پہلے تھے اِسی طرح ستایا تھا۔
MAT 5:13 ”تُم زمین کے نمک ہو لیکن اگر نمک کی نمکینی جاتی رہے تو اُسے دوبارہ کیسے نمکین کیا جائے گا؟ تَب تو وہ کسی کام کا نہیں رہتا سِوائے اِس کہ اُسے باہر پھینک دیا جائے اَور لوگوں کے پاؤں سے روندا جائے۔
MAT 5:14 ”تُم دُنیا کے نُور ہو۔ پہاڑی پر بسا ہُوا شہر چھُپ نہیں سَکتا۔
MAT 5:15 اَور لوگ چراغ جَلا کر پیمانے کے نیچے نہیں لیکن چراغدان پر رکھتے ہیں تاکہ وہ گھر کے سارے لوگوں کو رَوشنی دے۔
MAT 5:16 اِسی طرح تمہاری رَوشنی لوگوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمہارے آسمانی باپ کی تمجید کریں۔
MAT 5:17 ”یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کِتابوں کو منسُوخ کرنے آیا ہُوں؛ میں اُنہیں منسُوخ کرنے نہیں لیکن پُورا کرنے آیا ہُوں۔
MAT 5:18 کیونکہ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جَب تک آسمان اَور زمین نابُود نہیں ہو جاتے، شَریعت سے ایک نُکتہ یا ایک شوشہ تک جَب تک سَب کُچھ پُورا نہ ہو جائے ہرگز مٹنے نہ پایٔےگا۔
MAT 5:19 اِس لیٔے جو کویٔی اِن چُھوٹے سے چُھوٹے حُکموں میں سے کسی بھی حُکم کو توڑتا ہے اَور دُوسروں کو بھی یہی کرنا سِکھاتا ہے تو وہ آسمان کی بادشاہی میں سَب سے چھوٹا کہلائے گا؛ لیکن جو اِن پر عَمل کرتا اَور تعلیم دیتاہے؛ وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔
MAT 5:20 کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جَب تک تمہاری راستبازی شَریعت کے عالِموں اَور فریسیوں سے بہتر نہ ہوگی، تو تُم آسمان کی بادشاہی میں ہرگز داخل نہ ہوگے۔
MAT 5:21 ”تُم سُن چُکے ہو کہ پُرانے زمانہ کے لوگوں سے کہا گیا تھا کہ ’تُم خُون نہ کرنا اَورجو خُون کرےگا وہ عدالت کی طرف سے سزا پایٔےگا۔‘
MAT 5:22 لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جو کویٔی اَپنے بھایٔی یا بہن یا دوست پر ناحق غُصّہ کرتا ہے تو وہ بھی عدالت کی طرف سے سزا پایٔےگا۔ اَورجو کویٔی اَپنے بھایٔی یا بہن کو ’راکا،‘ کہے گا وہ عدالتِ عالیہ میں جَوابدہ ہوگا اَورجو اُنہیں ’بےوقُوف اِنسان!‘ کہے گا وہ جہنّم کی آگ کا سزاوار ہوگا۔
MAT 5:23 ”چنانچہ، اگر قُربان گاہ پر نذر چڑھاتے وقت تُمہیں یاد آئے کہ تمہارے بھایٔی یا بہن کو تُم سے کویٔی شکایت ہے،
MAT 5:24 تو اَپنی نذر وہیں قُربان گاہ کے سامنے چھوڑ دے اَور جا کر پہلے اَپنے بھایٔی یا بہن سے صُلح کر لے، پھر آکر اَپنی نذر چڑھا۔
MAT 5:25 ”اگر تمہارا دُشمن تُمہیں عدالت میں لے جا رہا ہو تو راستے ہی میں جلدی سے اُس سے صُلح کر لو ورنہ وہ تُمہیں مُنصِف کے حوالے کر دے گا اَور مُنصِف تُمہیں سپاہی کے حوالہ کر دے گا اَور سپاہی تُمہیں لے جا کر قَیدخانہ میں ڈال دیں گے۔
MAT 5:26 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جَب تک تُم ایک ایک پیسہ اَدا نہ کر دوگے، وہاں سے ہرگز نکل نہ پاؤگے۔
MAT 5:27 ”تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا، ’تُم زنا نہ کرنا۔‘
MAT 5:28 لیکن مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو کویٔی کسی خاتُون پر بُری نظر ڈالتا ہے وہ اَپنے دِل میں پہلے ہی اُس کے ساتھ زنا کر چُکا۔
MAT 5:29 اِس لیٔے اگر تمہاری داہنی آنکھ تمہارے لیٔے ٹھوکر کا باعث بنتی ہے تو اُسے نکال کر پھینک دو۔ کیونکہ تمہارے لیٔے یہی بہتر ہے کہ تمہارے اَعضا میں سے ایک عُضو جاتا رہے اَور تمہارا سارا بَدن جہنّم کی آگ میں نہ ڈالا جائے۔
MAT 5:30 اَور اگر تمہارا داہنا ہاتھ تمہارے لیٔے ٹھوکر کا باعث ہو تو، اُسے کاٹ کر پھینک دو۔ تمہارے لیٔے یہی بہتر ہے کہ تمہارے اَعضا میں سے ایک عُضو جاتا رہے اَور تمہارا سارا بَدن جہنّم میں نہ ڈالا جائے۔
MAT 5:31 ”یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’جو کویٔی اَپنی بیوی کو چھوڑ دے اُسے لازِم ہے کہ ایک طلاق نامہ لِکھ کر اُسے دے۔‘
MAT 5:32 لیکن مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو کویٔی اَپنی بیوی کو جنسی بدفعلی کے باعث نہیں لیکن کسی اَور وجہ سے طلاق دیتاہے، تو وہ اُسے زناکار بنانے کا سبب بنتا ہے، اَورجو کویٔی اُس طلاق شُدہ خاتُون سے شادی کرتا ہے، تو وہ بھی زنا کرتا ہے۔
MAT 5:33 ”اَور تُم یہ بھی سُن چُکے ہو کہ پُرانے زمانہ کے لوگوں سے کہا گیا تھا، ’جھُوٹی قَسم نہ کھانا، لیکن اگر خُداوؔند کی قَسمیں کھاؤ تو اُنہیں پُورا کرنا۔‘
MAT 5:34 لیکن مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ قَسم ہرگز نہ کھانا: نہ تو آسمان کی، کیونکہ وہ خُدا کا تخت ہے؛
MAT 5:35 اَور نہ زمین کی، کیونکہ وہ اُس کے پاؤں کی چوکی ہے؛ نہ یروشلیمؔ کی، کیونکہ وہ عظیم بادشاہ کا شہر ہے۔
MAT 5:36 اَور نہ اَپنے سَر کی قَسم کھانا کیونکہ تُم اَپنے ایک بال کو بھی سفید یا سیاہ نہیں کر سکتے۔
MAT 5:37 چنانچہ تمہارا کلام ’ہاں‘ کی جگہ ہاں اَور ’نہیں‘ کی جگہ نہیں ہو؛ کیونکہ جو کُچھ اِس کے علاوہ ہے وہ اُس شیطان سے ہے۔
MAT 5:38 ”تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا، ’آنکھ کے بدلے آنکھ اَور دانت کے بدلے دانت۔‘
MAT 5:39 لیکن مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ بُرے اِنسان کا مُقابلہ ہی مت کرنا۔ اگر کویٔی تمہارے داہنے گال پر تھپّڑ مارے تو دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے۔
MAT 5:40 اَور اگر کویٔی تُم پر مُقدّمہ کرکے تمہارا چوغہ لینا چاہتاہے تو اُسے کُرتا بھی دے دو۔
MAT 5:41 اگر کویٔی تُمہیں ایک کِلومیٹر چلنے کے لیٔے مجبُور کرتا ہے تو اُس کے ساتھ دو کِلومیٹر چلے جاؤ۔
MAT 5:42 جو تُم سے کُچھ مانگے اُسے ضروُر دو، اَورجو تُم سے قرض لینا چاہتاہے اُس سے مُنہ نہ موڑو۔
MAT 5:43 ”تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا، ’اَپنے پڑوسی سے مَحَبّت رکھو اَور اَپنے دُشمن سے عداوت۔‘
MAT 5:44 لیکن مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اَپنے دُشمنوں سے مَحَبّت رکھو اَورجو تُمہیں ستاتے ہیں اُن کے لیٔے دعا کرو،
MAT 5:45 تاکہ تُم اَپنے آسمانی باپ کے بیٹے بَن سکو۔ کیونکہ وہ اَپنا سُورج بدکار اَور نیکوکار دونوں پرروشن کرتا ہے، اَور راستباز اَور بےدینوں دونوں پر مینہ برساتا ہے۔
MAT 5:46 اگر تُم صِرف اُن ہی سے مَحَبّت رکھتے ہو جو تُم سے مَحَبّت رکھتے ہیں، تو تُم کیا اجر پاؤگے؟ کیا محصُول لینے والے بھی اَیسا نہیں کرتے؟
MAT 5:47 اَور اگر تُم صِرف اَپنے ہی بھائیوں کو سلام کرتے ہو تو تُم دُوسروں سے کیا زِیادہ بہتر کرتے ہو؟ کیا غَیریہُودی بھی اَیسا نہیں کرتے؟
MAT 5:48 پس تُم کامِل بنو جَیسا کہ تمہارا آسمانی باپ کامِل ہے۔
MAT 6:1 ”خبردار! اَپنے راستبازی کے کام لوگوں کو دِکھانے کے لیٔے نہ کرو ورنہ تُمہیں اَپنے آسمانی باپ سے کویٔی اجر حاصل نہ ہوگا۔
MAT 6:2 ”لہٰذا جَب تُم مسکینوں کو دیتے ہو تو نرسنگا نہ بجاؤ، جَیسا کہ ریاکار یہُودی عبادت گاہوں اَور سڑکوں پر کرتے ہیں، تاکہ لوگ اُن کی تعریف کریں۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اَپنا پُورا اجر پا چُکے ہیں۔
MAT 6:3 لیکن جَب تُم ضروُرت مندوں کو خیرات کرو، تو جو کُچھ تُم اَپنے داہنے ہاتھ سے کرتے ہو اُسے تمہارا بایاں ہاتھ نہ جاننے پایٔے،
MAT 6:4 تاکہ تمہاری خیرات پوشیدہ رہے۔ تَب تمہارا آسمانی باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے اَور سَب کُچھ جاننے والا ہے، تُمہیں اجر دے گا۔
MAT 6:5 ”جَب تُم دعا کرو تو ریاکاروں کی مانِند مت بنو، جو یہُودی عبادت گاہوں اَور بازاروں کے موڑوں پر کھڑے ہوکر دعا کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ لوگ اُنہیں دیکھیں۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو اجر اُنہیں مِلنا چاہئے تھا، مِل چُکا۔
MAT 6:6 لیکن جَب تُم دعا کرو، تو اَپنی کوٹھری میں جاؤ اَور دروازہ بند کرکے اَپنے آسمانی باپ سے، جو پوشیدگی میں ہے، دعا کرو، تَب تمہارا آسمانی باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے، تُمہیں اجر دے گا۔
MAT 6:7 اَور جَب تُم دعا کرو، تو غَیریہُودیوں کی طرح بےمطلب لگاتار مت بُڑبُڑاؤ۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے بہت بولنے کی وجہ سے اُن کی سُنی جائے گی۔
MAT 6:8 پس اُن کی مانِند نہ بنو کیونکہ تمہارا آسمانی باپ تمہارے مانگنے سے پہلے ہی تمہاری ضرورتوں کو جانتا ہے۔
MAT 6:9 ”چنانچہ، تُم اِس طرح سے دعا کیا کرو: ” ’اَے ہمارے باپ! آپ جو آسمان میں ہیں، آپ کا نام پاک مانا جائے،
MAT 6:10 آپ کی بادشاہی آئے، جَیسے آپ کی مرضی آسمان پر پُوری ہوتی ہے، وَیسے ہی زمین پر بھی ہو۔
MAT 6:11 روز کی روٹی ہماری آج ہم کو دیجئے۔
MAT 6:12 اَور جِس طرح ہم نے اَپنے قُصُورواروں کو مُعاف کیا ہے، وَیسے ہی آپ بھی ہمارے قُصُوروں کو مُعاف کیجئے۔
MAT 6:13 اَور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دیں، بَلکہ اُس شریر سے بچائیں۔‘ کیونکہ بادشاہی، قُدرت اَور جلال، ہمیشہ آپ ہی کی ہیں۔ آمین۔
MAT 6:14 اگر تُم دُوسروں کے قُصُور مُعاف کروگے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تُمہیں مُعاف کرےگا
MAT 6:15 اَور اگر تُم دُوسروں کے قُصُور مُعاف نہ کروگے تو تمہارا باپ بھی تمہارے گُناہ مُعاف نہ کرےگا۔
MAT 6:16 ”جَب تُم روزہ رکھو، تو ریاکاروں کی طرح اَپنا چہرہ اُداس نہ بناؤ، کیونکہ وہ اَپنا مُنہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو مَعلُوم ہو کہ وہ روزہ دار ہیں۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو اجر اُنہیں مِلنا چاہئے تھا وہ اُنہیں مِل چُکا۔
MAT 6:17 لیکن جَب تُم روزہ رکھو، تو اَپنا مُنہ دھو اَور سَر پر تیل ڈالو،
MAT 6:18 تاکہ اِنسان نہیں لیکن تمہارا آسمانی باپ جو پوشیدگی میں ہے، اَور پوشیدگی میں ہونے والے سَب کاموں کو جانتا ہے، تُمہیں روزہ دار جانے، اَور تُمہیں اجر دے۔
MAT 6:19 ”اَپنے لیٔے زمین پر مال و زَر جمع نہ کرو جہاں کیڑا اَور زنگ لگ جاتا ہے اَور جہاں چور نقب لگا کر چُرا لیتے ہیں۔
MAT 6:20 لیکن اَپنے لیٔے آسمان میں خزانہ جمع کرو جہاں کیڑا اَور زنگ نہیں لگتے اَور نہ چور نقب لگا کر چُراتے ہیں۔
MAT 6:21 کیونکہ جہاں تمہارا خزانہ ہے وہیں تمہارا دِل بھی لگا رہے گا۔
MAT 6:22 ”آنکھ بَدن کا چراغ ہے۔ اگر تمہاری آنکھیں تندرست ہیں، تو تمہارا سارا بَدن بھی رَوشن ہوگا۔
MAT 6:23 لیکن اگر تمہاری آنکھیں صحت بخش نہیں ہیں تو تمہارا سارا جِسم بھی تاریک ہوگا۔ پس اگر وہ رَوشنی جو تُم میں ہے تاریکی بَن جائے، تو وہ تاریکی کیسی بڑی ہوگی!
MAT 6:24 ”کویٔی خادِم دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سَکتا، یا تو وہ ایک سے نفرت کرےگا اَور دُوسرے سے مَحَبّت یا ایک سے وفا کرےگا اَور دُوسرے کو حقارت کی نظر سے دیکھے گا۔ تُم خُدا اَور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔
MAT 6:25 ”اِس لیٔے میں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہ تو اَپنی جان کی فکر کرو، تُم کیا کھاؤگے یا کیا پیوگے؛ اَور نہ اَپنے بَدن کی کہ کیا پہنوگے؟ کیا جان خُوراک سے اَور بَدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟
MAT 6:26 ہَوا کے پرندوں کو دیکھو، جو نہ تو بوتے ہیں اَور نہ ہی فصل کو کاٹ کر کھتّوں میں جمع کرتے ہیں، پھر بھی تمہارا آسمانی باپ اُنہیں کھِلاتاہے۔ کیا تمہاری قدر و قیمت پرندوں سے بھی زِیادہ نہیں ہے؟
MAT 6:27 کیا تُم میں کویٔی اَیسا ہے جو فکر کرکے اَپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟
MAT 6:28 ”پوشاک کے لیٔے کیوں فکر کرتے ہو؟ جنگلی سوسن کے پھُولوں کو دیکھو وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں۔
MAT 6:29 تو بھی میں تُم سے کہتا ہُوں کہ بادشاہ شُلومونؔ بھی اَپنی ساری شان و شوکت کے باوُجُود اُن میں سے کسی کی طرح مُلبّس نہ تھے۔
MAT 6:30 پس جَب خُدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اَور کل تنور میں جھونکی جاتی ہے، اَیسی پوشاک پہناتاہے، تو اَے کم ایمان والو! کیا وہ تُمہیں بہتر پوشاک نہ پہنائے گا؟
MAT 6:31 لہٰذا فِکرمند ہوکر یہ نہ کہنا، ’ہم کیا کھایٔیں گے؟‘ یا ’کیا پیئیں گے؟‘ یا ’یہ کہ ہم کیا پہنیں گے؟‘
MAT 6:32 کیونکہ اِن چیزوں کی تلاش میں تو غَیریہُودی رہتے ہیں؛ اَور تمہارا آسمانی باپ تو جانتا ہی ہے کہ تُمہیں اِن سَب چیزوں کی ضروُرت ہے۔
MAT 6:33 لیکن پہلے تُم خُدا کی بادشاہی اَور راستبازی کی تلاش کرو تو یہ ساری چیزیں بھی تُمہیں مِل جایٔیں گی۔
MAT 6:34 پس کل کی فکر نہ کرو، کیونکہ کل کا دِن اَپنی فکر خُود ہی کر لے گا۔ آج کے لیٔے آج ہی کا دُکھ کافی ہے۔
MAT 7:1 ”عیب جوئی نہ کرو، تاکہ تمہاری بھی عیب جوئی نہ ہو۔
MAT 7:2 کیونکہ جِس طرح تُم عیب جوئی کروگے اُسی طرح تمہاری بھی عیب جوئی کی جائے گی اَور جِس پیمانہ سے تُم ناپتے ہو اُسی سے تمہارے لیٔے بھی ناپا جائے گا۔
MAT 7:3 ”تُم اَپنے بھایٔی کی آنکھ کا تِنکا کیوں دیکھتے ہو جَب کہ تمہاری اَپنی آنکھ میں شہتیر ہے جِس کا تُم خیال تک نہیں کرتے؟
MAT 7:4 اَور جَب تمہاری اَپنی ہی آنکھ میں ہر وقت شہتیر پڑا ہُواہے تو کِس مُنہ سے اَپنے بھایٔی یا بہن سے کہہ سکتے ہو، ’لاؤ، میں تمہاری آنکھ میں سے تِنکا نکال دُوں؟‘
MAT 7:5 اَے ریاکار! پہلے اَپنی آنکھ میں سے تو شہتیر نکال، پھر اَپنے بھایٔی یا بہن کی آنکھ میں سے تنکے کو اَچھّی طرح دیکھ کر نکال سکےگا۔
MAT 7:6 ”پاک چیز کُتّوں کو نہ دو، اَور اَپنے موتی سُؤروں کے آگے نہ ڈالو، کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ اُنہیں پاؤں سے روند کر پلٹیں اَور تُمہیں پھاڑ ڈالیں۔
MAT 7:7 ”پس میں تُم سے کہتا ہُوں، مانگو تو تُمہیں دیا جائے گا، ڈھونڈوگے تو پاؤگے، دروازہ کھٹکھٹاؤگے تو تمہارے لیٔے کھولا جائے گا۔
MAT 7:8 کیونکہ جو مانگتاہے اُسے ملتا ہے، جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتاہے اَورجو کھٹکھٹاتاہے اُس کے لیٔے دروازہ کھولا جائے گا۔
MAT 7:9 ”تُم میں اَیسا کون سا آدمی ہے کہ اگر اُس کا بیٹا اُس سے روٹی مانگے تو وہ اُسے پتّھر دے؟
MAT 7:10 یا اگر مچھلی مانگے تو اُسے سانپ دے؟
MAT 7:11 پس جَب تُم بُرے ہونے کے باوُجُود بھی، اَپنے بچّوں کو اَچھّی چیزیں دینا جانتے ہو، تو کیا تمہارا آسمانی باپ اُنہیں جو اُس سے مانگتے ہیں، اَچھّی چیزیں اِفراط سے عطا نہ فرمایٔے گا۔
MAT 7:12 پس جَیسا تُم چاہتے ہو کہ دُوسرے لوگ تمہارے ساتھ کریں، تُم بھی اُن کے ساتھ وَیسا ہی کرو؛ کیونکہ توریت اَور نبیوں کی تعلیمات یہی ہے۔
MAT 7:13 ”تنگ دروازے سے داخل ہو، کیونکہ وہ دروازہ چوڑا ہے اَور وہ راستہ کشادہ ہے جو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے اَور اُس سے داخل ہونے والے بہت ہیں۔
MAT 7:14 کیونکہ وہ دروازہ تنگ اَور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اَور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں۔
MAT 7:15 ”جھُوٹے نبیوں سے خبردار رہو، وہ تمہارے پاس بھیڑوں کے لباس میں آتے ہیں لیکن باطِن میں پھاڑنے والے بھیڑئے ہیں۔
MAT 7:16 تُم اُن کے پھلوں سے اُنہیں پہچان لوگے۔ کیا لوگ جھاڑیوں سے انگور یا کانٹوں والے درختوں سے اَنجیر توڑتے ہیں؟
MAT 7:17 لہٰذا، ہر اَچھّا درخت اَچھّا پھل لیکن ہر بُرا درخت بُرا پھل دیتاہے۔
MAT 7:18 یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک اَچھّا درخت بُرا پھل لایٔے اَور بُرا درخت اَچھّا پھل لایٔے۔
MAT 7:19 ہر ایک درخت جو اَچھّا پھل نہیں لاتا ہے، اُسے کاٹ کر آگ میں ڈالا جاتا ہے۔
MAT 7:20 پس تُم جھُوٹے نبیوں کو اُن کے پھلوں سے پہچان لوگے۔
MAT 7:21 ”جو مُجھ سے، ’اَے خُداوؔند، اَے خُداوؔند،‘ کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک شخص آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہوگا، مگر وُہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے۔
MAT 7:22 اُس دِن بہت سے لوگ مُجھ سے کہیں گے، ’اَے خُداوؔند! اَے خُداوؔند! کیا ہم نے آپ کے نام سے نبُوّت نہیں کی؟ اَور آپ کے نام سے بدرُوحوں کو نہیں نکالا اَور آپ کے نام سے بہت سے معجزے نہیں دِکھائے؟‘
MAT 7:23 اُس وقت میں اُن سے صَاف صَاف کہہ دُوں گا، ’میں تُم سے کبھی واقف نہ تھا۔ اَے بدکاروں! میرے سامنے سے دُورہو جاؤ۔‘
MAT 7:24 ”چنانچہ جو کویٔی میری یہ باتیں سُنتا اَور اُن پر عَمل کرتا ہے وہ اُس عقلمند آدمی کی مانِند ٹھہرے گا جِس نے اَپنا گھر چٹّان پر تعمیر کیا ہو۔
MAT 7:25 اَور زور کی بارش آئی اَور سیلاب آیا اَور آندھیاں چلیں اُٹھا اَور اُس گھر سے ٹکرائیں مگر وہ نہ گرا کیونکہ اُس کی بُنیاد چٹّان پر ڈالی گئی تھی۔
MAT 7:26 لیکن جو میری یہ باتیں سُنتا ہے مگر اُن پر عَمل نہیں کرتا ہے، وہ اُس بےوقُوف اِنسان کی مانِند ہے جِس نے اَپنا گھر ریت پر بنایا۔
MAT 7:27 اَور زور کی بارش آئی اَور سیلاب آیا اَور آندھیاں چلیں اَور اُس گھر سے ٹکرائیں، اَور وہ گِر پڑا اَور بالکُل برباد ہو گیا۔“
MAT 7:28 جَب یِسوعؔ نے یہ علم کی باتیں ختم کیں تو ہُجوم اُن کی تعلیم سے دنگ رہ گیا،
MAT 7:29 کیونکہ حُضُور اُنہیں اُن کے شَریعت کے عالِموں کی طرح نہیں لیکن ایک صاحبِ اِختیار کی طرح تعلیم دے رہے تھے۔
MAT 8:1 یِسوعؔ جَب اُس پہاڑ سے نیچے آئے تو بہت بڑا ہُجوم اُن کے پیچھے ہو لیا۔
MAT 8:2 اِس دَوران ایک کوڑھی نے یِسوعؔ کے پاس آکر اُنہیں سَجدہ کیا اَور کہا، ”اَے خُداوؔند! اگر آپ چاہیں تو مُجھے کوڑھ سے پاک کر سکتے ہیں۔“
MAT 8:3 اَور یِسوعؔ نے ہاتھ بڑھا کر اُسے چھُوا اَور فرمایا، ”میں چاہتا ہُوں کہ تُو پاک صَاف ہو جا!“ اَور فوراً وہ کوڑھ سے پاک صَاف ہو گیا۔
MAT 8:4 تَب یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”خبردار کسی سے نہ کہنا۔ لیکن جا کر اَپنے آپ کو کاہِنؔ کو دِکھا اَورجو نذر حضرت مَوشہ نے مُقرّر کی ہے اُسے اَدا کر تاکہ سَب لوگوں کے لیٔے گواہی ہو۔“
MAT 8:5 جَب یِسوعؔ کَفرنحُومؔ میں داخل ہویٔے تو رُومی فَوج کا ایک افسر حُضُور کے پاس آیا اَور مِنّت کرنے لگا۔
MAT 8:6 ”اَے خُداوؔند، میرا خادِم فالج کا مارا گھر میں بیمار پڑا ہے اَور بڑی تکلیف میں ہے۔“
MAT 8:7 یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”میں آکر اُسے شفا دُوں گا۔“
MAT 8:8 لیکن رُومی افسر نے کہا، ”اَے خُداوؔند، میں اِس لائق نہیں ہُوں کہ آپ میری چھت کے نیچے آئیں۔ لیکن اگر آپ صِرف زبان سے کہہ دیں تو میرا خادِم شفا پا جائے گا۔
MAT 8:9 کیونکہ مَیں خُود بھی کسی کے اِختیار میں ہُوں، اَور سپاہی میرے اِختیار میں ہیں۔ جَب مَیں ایک سے کہتا ہُوں ’جا،‘ تو وہ چلا جاتا ہے؛ اَور دُوسرے سے ’آ،‘ تو وہ آ جاتا ہے اَور کسی خادِم سے کُچھ کرنے کو کہُوں تو وہ کرتا ہے۔“
MAT 8:10 یِسوعؔ نے یہ سُن کر اُس ہُجوم پر تعجُّب کیا اَور اَپنے پیچھے آنے والے لوگوں سے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، مَیں نے اِسرائیلؔ میں بھی اِتنا بڑا ایمان نہیں پایا۔
MAT 8:11 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ بہت سے لوگ مشرق اَور مغرب سے آکر حضرت اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کے ساتھ آسمان کی بادشاہی کی ضیافت میں شریک ہوں گے۔
MAT 8:12 مگر بادشاہی کے اصل وارثین کو باہر اَندھیرے میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ روتے اَور دانت پیستے رہیں گے۔“
MAT 8:13 یِسوعؔ نے اُس افسر سے فرمایا، ”جا جَیسا تیرا ایمان ہے، تیرے لیٔے وَیسا ہی ہوگا۔“ اَور اُسی گھڑی اُس کے خادِم نے شفا پائی۔
MAT 8:14 جَب یِسوعؔ پطرس کے گھر میں داخل ہویٔے تو اُنہُوں نے پطرس کی ساس کو تیز بُخار میں بِستر پر پڑے دیکھا۔
MAT 8:15 حُضُور نے اُس کا ہاتھ چھُوا اَور اُس کا بُخار اُتر گیا، اَور وہ اُٹھ کر اُن سَب کی خدمت میں لگ گئی۔
MAT 8:16 جَب شام ہُوئی تو لوگ کیٔی مَریضوں کو جِن میں بدرُوحیں تھیں، حُضُور کے پاس لانے لگے، اَور یِسوعؔ نے صِرف حُکم دے کر بدرُوحوں کو نکال دیا اَور سَب مَریضوں کو شفا بخشی۔
MAT 8:17 تاکہ یَشعیاہ نبی کی مَعرفت کہی گئی یہ بات پُوری ہو جائے: ”اُنہُوں نے خُود ہماری کمزوریوں کو اَپنے اُوپر لے لیا اَور ہماری بیماریاں برداشت کیں اَور اَپنے اُوپر اُٹھالیا۔“
MAT 8:18 جَب یِسوعؔ نے اَپنے چاروں طرف لوگوں کا بڑا ہُجوم دیکھا تو اَپنے شاگردوں کو جھیل کے اُس پار جانے کا حُکم دیا۔
MAT 8:19 اُسی وقت ایک شَریعت کا عالِم حُضُور کے پاس آکر عرض کرنے لگا، ”اَے اُستاد محترم، آپ جہاں بھی جایٔیں گے مَیں آپ کی پیروی کروں گا۔“
MAT 8:20 یِسوعؔ نے سے جَواب دیا، ”لومڑیوں کے بھی بھٹ اَور ہَوا کے پرندوں کے گھونسلے ہوتے ہیں، لیکن اِبن آدمؔ کے لیٔے کویٔی جگہ نہیں جہاں وہ اَپنا سَر بھی رکھ سکے۔“
MAT 8:21 ایک اَور شاگرد نے حُضُور سے کہا، ”اَے خُداوؔند، پہلے مُجھے اِجازت دیں کہ میں جا کر اَپنے باپ کو دفن کرلُوں۔“
MAT 8:22 لیکن یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”تُو میرے پیچھے چل، اَور مُردوں کو اَپنے مُردے دفن کرنے دے۔“
MAT 8:23 یِسوعؔ جَب کشتی پر سوار ہویٔے تو اُن کے شاگرد بھی اُن کے ساتھ ہو لیٔے۔
MAT 8:24 اَور جھیل میں اَچانک اَیسا زبردست طُوفان اُٹھا کہ لہریں کشتی کے اُوپر سے گزرنے لگیں، لیکن یِسوعؔ اُس وقت سو رہے تھے۔
MAT 8:25 تَب شاگردوں نے یِسوعؔ کے پاس آکر اُنہیں جگا کر کہا، ”اَے خُداوؔند، ہمیں بچائیں! ہم تو ہلاک ہویٔے جا رہے ہیں!“
MAT 8:26 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے کم ایمان والو! تُم خوفزدہ کیوں ہو؟“ تَب حُضُور نے اُٹھ کر طُوفان اَور لہروں کو ڈانٹا اَور بڑا اَمن ہو گیا۔
MAT 8:27 اَور لوگ تعجُّب کرکے کہنے لگے، ”یہ کِس طرح کا آدمی ہے کہ طُوفان اَور لہریں بھی اِن کا حُکم مانتی ہیں!“
MAT 8:28 جَب یِسوعؔ جھیل کے اُس پار گدرینیوں کے علاقہ میں پہُنچے تو وہاں دو آدمی جِن میں بدرُوحیں تھیں، قبروں سے نکل کر اُنہیں ملے۔ وہ اِتنے ظالِم تھے کہ کویٔی اُس راستے سے گزر نہیں سَکتا تھا۔
MAT 8:29 وہ چِلّا چِلّاکر کہنے لگے، ”اَے خُدا کے بیٹے، آپ کا ہم سے کیا لینا دینا ہے؟ کیا آپ مُقرّر وقت سے پہلے ہی ہمیں عذاب میں ڈالنے آ گئے ہیں؟“
MAT 8:30 اُن سے کُچھ دُور بہت سے سُؤروں کا ایک بڑا غول چَر رہاتھا۔
MAT 8:31 پس بدرُوحوں نے حُضُور سے مِنّت کرکے کہا، ”اگر آپ ہمیں نکالتے ہیں تو ہمیں سُؤروں کے غول میں بھیج دیجئے۔“
MAT 8:32 لہٰذا یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”جاؤ!“ اَور وہ نکل کر سُؤروں میں داخل ہو گئیں اَور سُؤروں کا سارا غول اُونچی ڈھلان سے لپکا اَور جھیل میں جا گرا اَور ڈُوب مَرا۔
MAT 8:33 سُؤر چَرانے والے بھاگ کھڑے ہویٔے اَور شہر میں جا کر لوگوں سے سارا ماجرا اَور بدرُوحوں سے پریشان آدمیوں کا حال بَیان کیا۔
MAT 8:34 تَب شہر کے سَب لوگ یِسوعؔ سے مِلنے کو نکلے اَور حُضُور کو دیکھتے ہی مِنّت کرنے لگے کہ آپ ہماری سرحد سے باہر چلے جایٔیں۔
MAT 9:1 یِسوعؔ کشتی میں سوار ہوکر جھیل پار کرکے اَپنے شہر میں تشریف لایٔے۔
MAT 9:2 اَور کُچھ لوگ ایک مفلُوج کو جو بچھونے پر پڑا ہُوا تھا حُضُور کے پاس لایٔے۔ جَب یِسوعؔ نے اُن کا ایمان دیکھا تو اُس مفلُوج سے فرمایا، ”بیٹا، اِطمینان رکھ؛ تیرے گُناہ مُعاف ہویٔے۔“
MAT 9:3 اِس پر بعض عُلمائے شَریعت اَپنے دِل میں کہنے لگے، ”یہ تو کُفر بَکتا ہے۔“
MAT 9:4 یِسوعؔ نے اُن کے خیالات جانتے ہُوئے فرمایا، ”تُم اَپنے دِلوں میں بُری باتیں کیوں سوچتے ہو؟
MAT 9:5 یہ کہنا زِیادہ آسان ہے: ’تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے،‘ یا ’یہ کہنا کہ اُٹھ اَور چل پھر‘؟
MAT 9:6 لیکن مَیں چاہتا ہُوں کہ تُمہیں مَعلُوم ہو کہ اِبن آدمؔ کو زمین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے۔“ حُضُور نے مفلُوج سے کہا، ”مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں، اُٹھ اَور اَپنا بچھونا اُٹھاکر اَپنے گھر چلا جا۔“
MAT 9:7 تَب وہ اُٹھا اَور اَپنے گھر چلا گیا۔
MAT 9:8 جَب لوگوں نے یہ ہُجوم دیکھا، تو خوفزدہ ہو گئے؛ اَور خُدا کی تمجید کرنے لگے، جِس نے اِنسان کو اَیسا اِختیار بخشا ہے۔
MAT 9:9 وہاں سے آگے بڑھنے پر یِسوعؔ نے متّیؔ نام کے ایک شخص کو محصُول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا اَور حُضُور نے اُس سے فرمایا، ”میرے پیروکار ہو جاؤ،“ اَور حضرت متّی اُٹھے اَور آپ کے پیچھے چل دئیے۔
MAT 9:10 جَب یِسوعؔ حضرت متّی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھے تو کیٔی محصُول لینے والے اَور گُنہگار آکر یِسوعؔ اَور اُن کے شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے۔
MAT 9:11 جَب فریسیوں نے یہ دیکھا تو یِسوعؔ کے شاگردوں سے پُوچھا، ”تمہارا اُستاد محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے؟“
MAT 9:12 یِسوعؔ نے یہ سُن کر جَواب دیا، ”بیماریوں کو طبیب کی ضروُرت ہوتی ہے، صحت مندوں کو نہیں۔
MAT 9:13 مگر تُم جا کر اِس بات کا مطلب دریافت کرو: ’میں قُربانی سے زِیادہ رحم دِلی کو پسند کرتا ہُوں۔‘ کیونکہ مَیں راستبازوں کو نہیں، لیکن گُنہگاروں کو اَپنا پیروکار ہونے کے واسطے بُلانے آیا ہُوں۔“
MAT 9:14 اُس وقت یُوحنّا کے شاگردوں نے حُضُور کے پاس آکر پُوچھا، ”کیا وجہ ہے کہ ہم اَور فرِیسی تو اکثر روزہ رکھتے ہیں لیکن آپ کے شاگرد روزہ نہیں رکھتے؟“
MAT 9:15 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا براتی دُلہا کی مَوجُودگی میں ماتم کر سکتے ہیں؟ لیکن وہ وقت بھی آئے گا جَب دُلہا اُن سے جُدا کیا جائے گا؛ تَب وہ روزہ رکھیں گے۔
MAT 9:16 ”پُرانی پوشاک پر نئے کپڑے کا پیوند کویٔی نہیں لگاتا کیونکہ نیا کپڑا اُس پُرانی پوشاک میں سے کُچھ کھینچ لیتا ہے اَور پوشاک زِیادہ پھٹ جاتی ہے۔
MAT 9:17 اِسی طرح نئے انگوری شِیرے کو بھی پُرانی مَشکوں میں نہیں بھرتا ورنہ مَشکیں پھٹ جایٔیں گی اَور انگوری شِیرے کے ساتھ مَشکیں بھی برباد ہو جایٔیں گی۔ لہٰذا نئے انگوری شِیرے کو نئی مَشکوں ہی میں بھرنا چاہئے تاکہ دونوں سلامت رہیں۔“
MAT 9:18 یِسوعؔ جَب یہ باتیں کہہ ہی رہے تھے، تبھی یہُودی عبادت گاہ کا ایک رہنما آیا اَور حُضُور کو سَجدہ کرکے مِنّت کرنے لگا، ”میری بیٹی ابھی ابھی مَری ہے لیکن حُضُور آپ چل کر اَپنا ہاتھ اُس پر رکھ دیں، تو وہ زندہ ہو جائے گی۔“
MAT 9:19 یِسوعؔ اُٹھے اَور فوراً اَپنے شاگردوں کے ساتھ اُس شخص کے ساتھ چل دئیے۔
MAT 9:20 اَور اَیسا ہُوا کہ ایک خاتُون نے جسے بَارہ بَرس سے خُون بہنے کی اَندرونی بیماری تھی، اُس نے یِسوعؔ کے پیچھے سے آکر یِسوعؔ کی پوشاک کا کنارہ چھُوا۔
MAT 9:21 کیونکہ وہ اَپنے دِل میں یہ کہتی تھی، ”اگر مَیں صِرف یِسوعؔ کی پوشاک کا کنارہ ہی چھُو لُوں گی تو شفا پا جاؤں گی۔“
MAT 9:22 یِسوعؔ نے مُڑ کر اُسے دیکھا اَور فرمایا، ”بیٹی! اِطمینان رکھ، تمہارے ایمان نے تُمہیں شفا بخشی۔“ اَور وہ خاتُون اُسی گھڑی اَچھّی ہو گئی۔
MAT 9:23 اَور جَب یِسوعؔ عبادت گاہ کے رہنما کے گھر پہُنچے تو لوگوں کے ہُجوم کو بانسری بجاتے اَور ماتم کرتے دیکھا۔
MAT 9:24 یِسوعؔ نے فرمایا، ”ہٹ جاؤ! لڑکی مَری نہیں لیکن سو رہی ہے۔“ لیکن وہ حُضُور پر ہنسنے لگے۔
MAT 9:25 مگر جَب ہُجوم کو وہاں سے نکال دیا گیا تو یِسوعؔ نے اَندر جا کر لڑکی کا ہاتھ پکڑکر جگایا اَور وہ اُٹھ بیٹھی۔
MAT 9:26 اَور اِس بات کی خبر اُس تمام علاقہ میں پھیل گئی۔
MAT 9:27 یِسوعؔ جَب وہاں سے آگے روانہ ہویٔے تو دو اَندھے آپ کے پیچھے یہ چِلاّتے ہویٔے آ رہے تھے، ”اَے اِبن داویؔد! ہم پر رحم فرمائیے۔“
MAT 9:28 اَور جَب یِسوعؔ گھر میں داخل ہویٔے تو وہ اَندھے بھی اُن کے پاس آئے اَور یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”کیا تُمہیں یقین ہے کہ میں تُمہیں شفا دے سَکتا ہُوں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہاں خُداوؔند۔“
MAT 9:29 تَب یِسوعؔ نے اُن کی آنکھوں کو چھُوا اَور فرمایا، ”تمہارے ایمان کے مُطابق تُمہیں شفا ملے۔“
MAT 9:30 اَور اُن کی آنکھوں میں رَوشنی آ گئی۔ یِسوعؔ نے اُنہیں تاکیداً خبردار کرتے ہویٔے فرمایا، ”دیکھو یہ بات کسی کو مَعلُوم نہ ہونے پایٔے۔“
MAT 9:31 لیکن اُنہُوں نے باہر نکل کر اُس تمام علاقہ میں حُضُور کی شہرت پھیلا دی۔
MAT 9:32 جَب وہ باہر جا رہے تھے تو لوگ ایک گُونگے کو جِس میں بدرُوح کا سایہ تھا، یِسوعؔ کے پاس لایٔے۔
MAT 9:33 جَب بدرُوح اُس میں سے نکال دی گئی تو گُونگا بولنے لگا۔ یہ دیکھ کر ہُجوم کو بڑا تعجُّب ہُوا اَور وہ کہنے لگے، ”اَیسا واقعہ تو اِسرائیلؔ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔“
MAT 9:34 لیکن فریسیوں نے کہا، ”یہ تو بدرُوحوں کے رہنما کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتا ہے۔“
MAT 9:35 یِسوعؔ سَب شہروں اَور گاؤں میں جا کر اُن کے یہُودی عبادت گاہوں میں تعلیم دیتے، اَور آسمانی بادشاہی کی خُوشخبری کی مُنادی کرتے رہے، اَور لوگوں کی ہر قِسم کی بیماری اَور کمزوریوں کو شفا بخشتے رہے۔
MAT 9:36 اَور جَب آپ نے ہُجوم کو دیکھا، تو آپ کو اُن پر بڑا ترس آیا، کیونکہ وہ لوگ اُن بھیڑوں کی مانِند بےبس اَور خستہ حال تھے جِن کا کویٔی گلّہ بان نہ ہو۔
MAT 9:37 تَب حُضُور نے اَپنے شاگردوں سے فرمایا، ”فصل تو بہت ہے، لیکن مزدُور کم ہیں۔
MAT 9:38 اِس لیٔے فصل کے خُداوؔند سے اِلتجا کرو کہ، وہ اَپنی فصل کاٹنے کے لیٔے مزدُور بھیج دے۔“
MAT 10:1 پھر یِسوعؔ نے اَپنے بَارہ شاگردوں کو پاس بُلایا اَور اُنہیں بدرُوحوں کو نکالنے اَور ہر طرح کی بیماری اَور تکلیف کو دُور کرنے کا اِختیار عطا فرمایا۔
MAT 10:2 اَور بَارہ رسولوں کے نام یہ ہیں: پہلا شمعُونؔ جو پطرس کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں اَور پھر اُن کا بھایٔی اَندریاسؔ؛ زبدیؔ کا بیٹا یعقوب اَور اُن کا بھایٔی یُوحنّا؛
MAT 10:3 فِلِپُّسؔ اَور برتلماؔئی، توماؔ اَور متّیؔ محصُول لینے والا؛ حلفئؔی کا بیٹا یعقوب اَور تدّیؔ؛
MAT 10:4 شمعُونؔ قنانی اَور یہُوداہؔ اِسکریوتی، جِس نے حُضُور سے دغابازی بھی کی تھی۔
MAT 10:5 یِسوعؔ نے بَارہ کو اِن ہدایات کے ساتھ روانہ کیا: ”غَیریہُودیوں کے درمیان مت جانا اَور نہ سامریوں کے کسی شہر میں داخل ہونا۔
MAT 10:6 لیکن اِسرائیلؔ کے گھرانے کی کھوئی ہُوئی بھیڑوں کے پاس جانا
MAT 10:7 اَور چلتے چلتے، اِس پیغام کی مُنادی کرنا: ’آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔‘
MAT 10:8 بیماریوں کو شفا دینا، مُردوں کو زندہ کرنا، اَور کوڑھیوں کو پاک صَاف کرنا، بدرُوحوں کو نکالنا۔ تُم نے مُفت میں پایا ہے؛ مُفت ہی دینا۔
MAT 10:9 ”اَپنے کمربند میں نہ سونا نہ چاندی نہ ہی پیسے رکھنا،
MAT 10:10 نہ راستے کے لیٔے تھیلا لینا نہ دو دو کُرتے، نہ جُوتے اَور نہ لاٹھی کیونکہ مزدُور اَپنی مزدُوری کا حقدار ہے۔
MAT 10:11 جَب تُم کسی شہر یا گاؤں میں داخل ہو تو، کسی اَیسے شخص کا پتہ کرو جو اِعتبار کے لائق ہو اَور جَب تک تمہارے رخصت ہونے کا وقت نہ آ جائے، اُسی گھر میں ٹھہرے رہو۔
MAT 10:12 کسی گھر میں داخل ہوتے وقت، سلام کرو۔
MAT 10:13 اگر وہ گھر تمہاری سلامتی کے لائق ہوگا تو تمہاری سلامتی کی برکت اُس تک پہُنچے گی، اگر لائق نہ ہوگا تو تمہاری سلامتی کی برکت تمہارے پاس واپس آ جائے گی۔
MAT 10:14 اگر کویٔی تُمہیں قبُول نہ کرے اَور تمہاری بات سُننا نہ چاہیں تو اُس گھر یا شہر کو چھوڑتے وقت اَپنے پاؤں کی گَرد بھی وہاں جھاڑ دینا۔
MAT 10:15 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ عدالت کے دِن اُس شہر کی نِسبت سدُومؔ اَور عمورہؔ کے علاقہ کا حال زِیادہ برداشت کے لائق ہوگا۔
MAT 10:16 ”دیکھو، مَیں تُمہیں گویا بھیڑوں کو بھیڑیوں کے درمیان بھیج رہا ہُوں۔ لہٰذا تُم سانپوں کی طرح ہوشیار اَور کبُوتروں کی مانِند معصُوم بنو۔
MAT 10:17 مگر خبردار رہنا؛ کیونکہ وہ تُمہیں پکڑکر عدالتوں کے حوالہ کریں گے اَور تُم یہُودی عبادت گاہوں میں کوڑوں سے پیٹے جاؤگے۔
MAT 10:18 اَور تُم میری وجہ سے حاکموں اَور بادشاہوں کے سامنے حاضِر کیٔے جاؤگے تاکہ اُن کے اَور غَیریہُودیوں کے درمیان میری گواہی دے سکو۔
MAT 10:19 لیکن جَب وہ تُمہیں گرفتار کریں تو فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کہیں گے اَور کیسے کہیں گے کیونکہ جو کُچھ کہنا ہوگا اُسی گھڑی تُمہیں بتا دیا جائے گا۔
MAT 10:20 اِس لیٔے کہ بولنے والے تُم نہیں بَلکہ تمہارے آسمانی باپ کا رُوح ہوگا جو تمہارے ذریعہ کلام کرےگا۔
MAT 10:21 ”بھایٔی اَپنے بھایٔی کو اَور باپ اَپنے بیٹے کو قتل کے لیٔے حوالہ کرےگا، اَور بچّے اَپنے والدین کے خِلاف کھڑے ہوکر اُنہیں قتل کروا ڈالیں گے۔
MAT 10:22 اَور میرے نام کے سبب سے لوگ تُم سے دُشمنی رکھیں گے، لیکن جو آخِر تک برداشت کرےگا وہ نَجات پایٔےگا۔
MAT 10:23 جَب لوگ تُمہیں ایک شہر میں ستائیں تو دُوسرے شہر کو بھاگ جانا۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ تمہارے اِسرائیلؔ کے سَب شہروں میں سفر ختم کرنے سے پہلے ہی اِبن آدمؔ دوبارہ آ جائے گا۔
MAT 10:24 ”شاگرد اَپنے اُستاد سے بڑا نہیں ہوتا اَور نہ ہی خادِم اَپنے آقا سے۔
MAT 10:25 شاگرد کے لیٔے یہی کافی ہے کہ وہ اَپنے اُستاد کی مانِند ہو جائے؛ اَور خادِم اَپنے آقا کی مانِند ہو جائے۔ اگر اُنہُوں نے گھر کے مالک کو بَعل زبُول کہا ہے تو اُس کے گھرانے کے لوگوں کو اَور کیا کُچھ بُرا بھلا کیوں نہ کہیں گے!
MAT 10:26 ”پس تُم اُن سے مت ڈرو، کیونکہ اَیسی کویٔی چیز ڈھکی ہُوئی نہیں ہے جو کھولی نہ جائے گی یا کویٔی اَیسا راز ہے اُس کا پردہ فاش نہ کیا جائے گا۔
MAT 10:27 جو کُچھ میں تُم سے اَندھیرے میں کہتا ہُوں، تُم اُسے دِن کی رَوشنی میں کہو؛ اَورجو کُچھ تمہارے کانوں میں چُپکے سے کہا جاتا ہے تُم اُس کا اعلان چھتوں سے کرو۔
MAT 10:28 اُن سے مت ڈرو جو بَدن کو تو ہلاک کر سکتے ہیں لیکن رُوح کو نہیں، مگر اُس سے ڈرو جو بَدن اَور رُوح دونوں کو جہنّم میں ہلاک کر سَکتا ہے۔
MAT 10:29 کیا ایک سِکّے میں دو گوریّاں نہیں بکتیں؟ لیکن اُن میں سے ایک بھی تمہارے آسمانی باپ کی مرضی کے بغیر زمین پر نہیں گِر سکتی۔
MAT 10:30 اَور یہاں تک کہ تمہارے سَر کے سبھی بال بھی گنے ہُوئے ہیں۔
MAT 10:31 لہٰذا ڈرو مت؛ تمہاری قیمت تو بہت سِی گوریّوں سے بھی زِیادہ ہے۔
MAT 10:32 ”پس جو کویٔی لوگوں کے سامنے میرا اقرار کرتا ہے، تو میں بھی اَپنے آسمانی باپ کے سامنے اُس کا اقرار کروں گا۔
MAT 10:33 لیکن جو کویٔی آدمیوں کے سامنے میرا اِنکار کرتا ہے، تو میں بھی اَپنے آسمانی باپ کے سامنے اُس کا اِنکار کروں گا۔
MAT 10:34 ”یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صُلح کرانے آیا ہُوں، صُلح کرانے نہیں لیکن تلوار چلوانے آیا ہُوں۔
MAT 10:35 کیونکہ مَیں اِس لیٔے آیا ہُوں کہ ” ’بیٹے کو اُس کے باپ کے خِلاف، اَور بیٹی کو اُس کی ماں کے خِلاف، اَور بہُو کو اُس کی ساس کے خِلاف کر دُوں۔
MAT 10:36 آدمی کے دُشمن اُس کے اَپنے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔‘
MAT 10:37 ”جو کویٔی اَپنے باپ یا اَپنی ماں کو مُجھ سے زِیادہ پیار کرتا ہے وہ میرے لائق نہیں؛ اَورجو کویٔی اَپنے بیٹے یا بیٹی کو مُجھ سے زِیادہ پیار کرتا ہے وہ میرے لائق نہیں۔
MAT 10:38 جو کویٔی اَپنی صلیب اُٹھاکر میرے پیچھے نہیں چلتا، وہ میرے لائق نہیں۔
MAT 10:39 جو کویٔی اَپنی جان کو عزیز رکھتا ہے، وہ اُسے کھویٔے گا، اَورجو کویٔی میری خاطِر اَپنی جان کھو دیتاہے، وہ اُسے محفوظ رکھےگا۔
MAT 10:40 ”جو تُمہیں قبُول کرتا ہے وہ مُجھے قبُول کرتا ہے، اَورجو مُجھے قبُول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبُول کرتا ہے۔
MAT 10:41 جو نبی کو نبی سمجھ کر قبُول کرتا ہے وہ نبی کا اجر پایٔےگا اَورجو کسی راستباز کو راستباز سمجھ کر قبُول کرتا ہے وہ راستباز کا اجر پایٔےگا۔
MAT 10:42 اَورجو اِن مَعمولی بندوں میں سے کسی ایک کو میرا شاگرد جان کر، ایک پیالہ ٹھنڈا پانی ہی پلاتا ہے تو میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اَپنا اجر ہرگز نہ کھویٔے گا۔“
MAT 11:1 جَب یِسوعؔ اَپنے بَارہ شاگردوں کو ہدایت دے چُکے تو وہاں سے گلِیل کے اُن شہروں کو روانہ ہویٔے تاکہ اُن میں بھی تعلیم دیں اَور مُنادی کریں۔
MAT 11:2 یُوحنّا نے، قَیدخانہ میں، المسیح کے کاموں کے بارے میں سُنا تو، اُنہُوں نے اَپنے شاگردوں کو تحقیقات کرنے بھیجا،
MAT 11:3 ”کیا آنے والے المسیح آپ ہی ہیں، یا ہم کسی اَور کی راہ دیکھیں؟“
MAT 11:4 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”جو کُچھ تُم دیکھتے اَور سُنتے ہو، جا کر یُوحنّا سے بَیان کر دو:
MAT 11:5 کہ اَندھے دیکھتے ہیں، لنگڑے چلتے ہیں، اَور کوڑھی پاک صَاف کیٔے جاتے ہیں، بہرے سُنتے ہیں، مُردے زندہ کیٔے جاتے ہیں اَور غریبوں کو خُوشخبری سُنایٔی جاتی ہے۔
MAT 11:6 مُبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔“
MAT 11:7 جَب یُوحنّا کے شاگرد وہاں سے جا ہی رہے تھے، یِسوعؔ یُوحنّا کے بارے میں ہُجوم سے کہنے لگے: ”تُم بیابان میں کیا دیکھنے گیٔے تھے؟ کیا ہَوا سے ہلتے ہویٔے سَرکنڈے کو؟
MAT 11:8 اگر نہیں، تو پھر کیا دیکھنے گیٔے تھے؟ نفیس کپڑے پہنے ہُوئے کسی شخص کو؟ اُنہیں، جو نفیس کپڑے پہنتے ہیں وہ شاہی محلوں میں رہتے ہیں۔
MAT 11:9 آخِر تُم کیا دیکھنے گیٔے تھے؟ کیا کسی نبی کو؟ ہاں، میں تُمہیں بتاتا ہُوں کہ نبی سے بھی بڑے کو۔
MAT 11:10 یہ وُہی ہے جِس کی بابت صحیفہ میں لِکھّا ہے: ” ’دیکھ! میں اَپنا پیغمبر تیرے آگے بھیج رہا ہُوں، جو تیرے آگے تیری راہ تیّار کرےگا۔‘
MAT 11:11 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّا پاک غُسل دینے والے سے بڑا کویٔی نہیں ہُوا، لیکن جو آسمان کی بادشاہی میں سَب سے چھوٹاہے وہ یُوحنّا سے بھی بڑا ہے۔
MAT 11:12 یُوحنّا پاک غُسل دینے والے کے دِنوں سے اَب تک، خُدا کی بادشاہی قُوّت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اَور زورآور شخص اُس پر حملہ کر رہے ہیں۔
MAT 11:13 کیونکہ سارے نبیوں اَور توریت نے یُوحنّا تک پیشن گوئی کی۔
MAT 11:14 اگر تُم چاہو تو مانو؛ حضرت ایلیّاہ جو آنے والے تھے وہ یُوحنّا ہی ہیں۔
MAT 11:15 جِس کے پاس سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے۔
MAT 11:16 ”میں اِس زمانہ کے لوگوں کی کس سے تشبیہ دُوں؟ وہ اُن لڑکوں کی مانِند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہُوئے اَپنے ہمجولیوں کو پُکار کر کہتے ہیں:
MAT 11:17 ” ’ہم نے تمہارے لیٔے بانسری بجائی، اَور تُم نہ ناچے؛ ہم نے مرثیہ پڑھا، تَب بھی تُم نہ رُوئے۔‘
MAT 11:18 کیونکہ یُوحنّا نہ کھاتے تھے اَور نہ پیتے تھے، اَور لوگ کہتے ہیں، ’اُس میں بدرُوح ہے۔‘
MAT 11:19 اِبن آدمؔ کھاتے پیتے آیا، اَور وہ کہتے ہیں دیکھو، ’یہ کھاؤ اَور شرابی آدمی، محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کا یار۔‘ مگر حِکمت اَپنے کاموں سے راست ٹھہرتی ہے۔“
MAT 11:20 تَب یِسوعؔ اُن شہروں کو ملامت کرنے لگے جِن میں حُضُور نے اَپنے سَب سے زِیادہ معجزے دِکھائے تھے لیکن اُنہُوں نے تَوبہ نہ کی تھی۔
MAT 11:21 ”اَے خُرازِینؔ! تُجھ پر افسوس، اَے بیت صیؔدا! تُجھ پر افسوس، کیونکہ جو معجزے تمہارے درمیان دِکھائے گیٔے اگر صُورؔ اَور صیؔدا میں دِکھائے جاتے، تو وہ ٹاٹ اوڑھ کر اَور سَر پر راکھ ڈال کر کب کے تَوبہ کر چُکے ہوتے۔
MAT 11:22 لیکن مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ عدالت کے دِن صُورؔ اَور صیؔدا کا حال تمہارے حال سے زِیادہ قابل برداشت ہوگا۔
MAT 11:23 اَور تُو اَے کَفرنحُومؔ، کیا تو آسمان تک بُلند کیا جائے گا؟ ہرگز نہیں، بَلکہ تُو عالمِ اَرواح میں اُتار دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ معجزے جو تُجھ میں دِکھائے گیٔے اگر سدُومؔ میں دِکھائے جاتے تو وہ آج کے دِن تک قائِم رہتا۔
MAT 11:24 لیکن مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ عدالت کے دِن سدُومؔ کا حال تمہارے حال سے زِیادہ قابل برداشت ہوگا۔“
MAT 11:25 اُسی گھڑی یِسوعؔ نے فرمایا، ”اَے باپ! آسمان اَور زمین کے خُداوؔند! مَیں آپ کی حَمد کرتا ہُوں کہ آپ نے یہ باتیں عالِموں اَور دانِشوروں سے پوشیدہ رکھیں، اَور بچّوں پر ظاہر کیں۔
MAT 11:26 ہاں، اَے باپ! کیونکہ آپ کی خُوشی اِسی میں تھی۔
MAT 11:27 ”ساری چیزیں میرے باپ کی طرف سے میرے سُپرد کر دی گئی ہیں۔ اَور سِوا باپ کے بیٹے کو کویٔی نہیں جانتا ہے، اَور سِوا بیٹے کے کویٔی نہیں جانتا کہ باپ کون ہے اَور سِوائے اُس شخص کے جِس پر بیٹا باپ کو ظاہر کرنے کا اِرادہ کرے۔
MAT 11:28 ”اَے محنت کشو اَور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگوں، میرے پاس آؤ اَور مَیں تُمہیں آرام بخشوں گا۔
MAT 11:29 میرا جُوا اَپنے اُوپر اُٹھالو اَور مُجھ سے سیکھو، کیونکہ مَیں حلیم ہُوں اَور دِل کا فروتن اَور تمہاری رُوحوں کو آرام ملے گا۔
MAT 11:30 کیونکہ میرا جُوا آسان اَور میرا بوجھ ہلکا ہے۔“
MAT 12:1 اُس وقت سَبت کے دِن یِسوعؔ کھیتوں میں سے ہوکر جا رہے تھے۔ آپ کے شاگرد بھُوکے تھے اَور وہ بالیں توڑ توڑ کر کھانے لگے۔
MAT 12:2 جَب فریسیوں نے یہ دیکھا تو حُضُور سے کہنے لگے، ”دیکھ! تیرے شاگرد وہ کام کر رہے ہیں جو سَبت کے دِن کرنا جائز نہیں۔“
MAT 12:3 حُضُور نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا تُم نے کبھی نہیں پڑھا کہ جَب حضرت داویؔد اَور اُن کے ساتھی بھُوکے تھے تو اُنہُوں نے کیا کیا؟
MAT 12:4 حضرت داویؔد خُدا کے گھر میں داخل ہویٔے اَور نذر کی روٹیاں لے کر خُود بھی کھایٔیں اَور اَپنے ساتھیوں کو بھی یہ روٹیاں کھانے کو دیں، جسے کاہِنوں کے سِوائے کسی اَور کو کھانا شَریعت کے مُطابق روا نہیں تھا۔
MAT 12:5 یا کیا تُم نے توریت میں یہ نہیں پڑھا کہ کاہِنؔ سَبت کے دِن بیت المُقدّس میں سَبت کی بےحُرمتی کرنے کے باوُجُود بے قُصُور رہتے ہیں؟
MAT 12:6 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ یہاں وہ حاضِر ہے جو بیت المُقدّس سے بھی بڑا ہے۔
MAT 12:7 اگر تُم اِن آیات کا معنی جانتے، ’میں قُربانی سے زِیادہ رحم دِلی کو پسند کرتا ہُوں،‘ تو تُم بے قُصُوروں کو قُصُوروار نہ ٹھہراتے۔
MAT 12:8 کیونکہ اِبن آدمؔ سَبت کا بھی مالک ہے۔“
MAT 12:9 وہاں سے روانہ ہوکر حُضُور اُن کی یہُودی عبادت گاہ میں داخل ہُوئے۔
MAT 12:10 وہاں ایک آدمی تھا جِس کا ایک ہاتھ سُوکھا ہُوا تھا۔ اُنہُوں نے یِسوعؔ پر اِلزام لگانے کے اِرادے سے یہ پُوچھا، ”کیا سَبت کے دِن شفا دینا جائز ہے؟“
MAT 12:11 حُضُور نے اُن سے فرمایا، ”اگر تُم میں سے کسی کے پاس ایک بھیڑ ہو اَور سَبت کے دِن وہ گڑھے میں گِر جائے تو کیا تُم اُسے پکڑکر باہر نہ نکالوگے؟
MAT 12:12 پس اِنسان کی قدر تو بھیڑ سے کہیں زِیادہ ہے! اِس لیٔے سَبت کے دِن نیکی کرنا روا ہے۔“
MAT 12:13 تَب حُضُور نے اُس آدمی سے فرمایا، ”اَپنا ہاتھ بڑھا۔“ اُس نے بڑھایا اَور وہ اُس کے دُوسرے ہاتھ کی طرح بالکُل ٹھیک ہو گیا۔
MAT 12:14 مگر فرِیسی باہر جا کر یِسوعؔ کو ہلاک کرنے کی سازش کرنے لگے۔
MAT 12:15 جَب یِسوعؔ کو یہ مَعلُوم ہُوا تو وہ اُس جگہ سے روانہ ہویٔے۔ اَور ایک بہت بڑا ہُجوم آپ کے پیچھے چل رہاتھا اَور حُضُور نے اُن میں سے سبھی بیماریوں کو شفا بخشی۔
MAT 12:16 اَور حُضُور نے اُنہیں تاکید کی کہ اِس کے بارے میں دُوسروں سے بَیان نہ کرنا۔
MAT 12:17 تاکہ یَشعیاہ نبی کی مَعرفت کہی گئی یہ بات پُوری ہو جائے:
MAT 12:18 ”یہ میرا خادِم ہے جسے مَیں نے چُناہے، میرا محبُوب ہے جِس سے میرا دِل خُوش ہے؛ مَیں اَپنی رُوح اُس پر نازل کروں گا، اَور وہ غَیریہُودیوں میں اِنصاف کا اعلان کرےگا۔
MAT 12:19 وہ نہ تو جھگڑا کرےگا نہ شور مچایٔےگا؛ اَور راہوں میں کویٔی بھی اُس کی آواز نہ سُنے گا۔
MAT 12:20 وہ کُچلے ہُوئے سَرکنڈے کو نہ توڑے گا، نہ ٹمٹماتے ہُوئے دئیے کو بُجھائے گا، جَب تک کہ اِنصاف کو فتح تک نہ پہُنچا دے۔
MAT 12:21 اَور غَیریہُودیوں کی اُمّید اُس کے نام میں ہوگی۔“
MAT 12:22 تَب لوگ ایک اَندھے اَور گُونگے آدمی کو جِس میں بدرُوح تھی، یِسوعؔ کے پاس لایٔے اَور حُضُور نے اُسے اَچھّا کر دیا۔ چنانچہ وہ دیکھنے اَور بولنے لگا۔
MAT 12:23 اَور سَب لوگ حیران ہوکر کہنے لگے، ”کہیں یہ اِبن داویؔد تو نہیں ہیں؟“
MAT 12:24 لیکن جَب فریسیوں نے یہ بات سُنی تو کہا، ”یہ بدرُوحوں کے رہنما بَعل زبُول کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتا ہے۔“
MAT 12:25 یِسوعؔ نے اُن کے خیالات جان کر اُن سے فرمایا، ”اگر کسی سلطنت میں پھوٹ پڑ جائے تو وہ مِٹ جاتی ہے، اَور جِس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑ جائے تو وہ بھی قائِم نہیں رہے گا۔
MAT 12:26 اگر شیطان ہی شیطان کو باہر نکالنے لگے تو وہ آپ ہی اَپنا مُخالف ہو جائے گا، پھر اُس کی سلطنت کیسے قائِم رہ سکتی ہے؟
MAT 12:27 اگر مَیں بَعل زبُول کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتا ہُوں تو تمہارے شاگرد اُنہیں کِس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ پس وُہی تمہارے مُنصِف ہوں گے۔
MAT 12:28 لیکن اگر مَیں خُدا کے رُوح کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتا ہُوں تو خُدا کی بادشاہی تمہارے درمیان آ پہُنچی۔
MAT 12:29 ”یا کیسے، یہ ممکن ہو سَکتا ہے کہ کویٔی کسی زورآور شخص کے گھر میں گھُس کر اُس کا مال و اَسباب لُوٹ لے؟ جَب تک کہ پہلے اُس زورآور شخص کو باندھ نہ لے؟ تبھی وہ اُس کا گھر لُوٹ سَکتا ہے۔
MAT 12:30 ”جو میرے ساتھ نہیں وہ میرا مُخالف ہے اَورجو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا، وہ بکھیرتا ہے۔
MAT 12:31 اِس لیٔے میں تُم سے کہتا ہُوں کہ آدمیوں کا ہر گُناہ اَور کُفر تو مُعاف کیا جائے گا لیکن جو پاک رُوح کے خِلاف کُفر بکے گا وہ ہرگز نہ بخشا جائے گا۔
MAT 12:32 جو کویٔی اِبن آدمؔ کے خِلاف کُچھ کہے گا تو اُسے مُعاف کر دیا جائے گا لیکن جو پاک رُوح کے خِلاف کُفر بکے گا تو اُسے نہ تو اِس دُنیا میں اَور نہ آنے والی دُنیا میں بخشا جائے گا۔
MAT 12:33 ”اگر درخت اَچھّا ہے تو اُس کا پھل بھی اَچھّا ہی ہوگا اَور اگر درخت اَچھّا نہیں ہوگا تو اُس کا پھل بھی اَچھّا نہیں ہوگا، کیونکہ درخت اَپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔
MAT 12:34 اَے زہریلے سانپ کے بچّو! تُم بُرے ہوکر کویٔی اَچھّی بات کیسے کہہ سکتے ہو؟ کیونکہ جو دِل میں بھرا ہوتاہے وُہی زبان پر آتا ہے۔
MAT 12:35 اَچھّا آدمی اَپنے اَندر کے اَچھّے خزانہ سے اَچھّی چیزیں باہر نکالتا ہے اَور بُرا آدمی اَپنے اَندر کے بُرے خزانہ سے بُری چیزیں باہر لاتا ہے۔
MAT 12:36 لہٰذا میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِنصاف کے دِن لوگوں کو اَپنی کہی ہویٔی ہر بے فُضول باتوں کا حِساب دینا ہوگا۔
MAT 12:37 کیونکہ تُم اَپنی باتوں کے باعث راستباز یا قُصُوروار ٹھہرائے جاؤگے۔“
MAT 12:38 تَب بعض فرِیسی اَور شَریعت کے عُلما نے کہا، ”اَے اُستاد محترم! ہم آپ سے کویٔی الٰہی نِشان دیکھنا چاہتے ہیں۔“
MAT 12:39 لیکن حُضُور نے جَواب دیا، ”اِس زمانہ کے بدکار اَور زناکار لوگ نِشان دیکھنا چاہتے ہیں! مگر اُنہیں حضرت يونسؔ نبی کے نِشان کے سِوا کویٔی اَور الٰہی نِشان نہ دیا جائے گا۔
MAT 12:40 کیونکہ جِس طرح حضرت يونسؔ تین دِن اَور تین رات بھاری بھر کم مچھلی کے پیٹ میں رہے، اُسی طرح اِبن آدمؔ بھی تین دِن اَور تین رات زمین کے اَندر رہے گا۔
MAT 12:41 نینوہؔ کے لوگ عدالت کے دِن اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوکر اُنہیں مُجرم ٹھہرائیں گے، اِس لیٔے کہ اُنہُوں نے حضرت يونسؔ کی مُنادی کی وجہ سے تَوبہ کرلی تھی اَور دیکھو! یہاں وہ مَوجُود ہے جو يونسؔ سے بھی بڑا ہے۔
MAT 12:42 جُنوب کی ملِکہ عدالت کے دِن اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوکر اُنہیں مُجرم ٹھہرائے گی کیونکہ وہ بڑی دُور سے حضرت شُلومونؔ کی حِکمت سُننے کے لیٔے آئی تھی اَور دیکھو یہاں حضرت شُلومونؔ سے بھی بڑا مَوجُود ہے۔
MAT 12:43 ”جَب کسی آدمی میں سے بدرُوح نکل جاتی ہے تو وہ سُوکھنے مقاموں میں جا کر آرام ڈھونڈتی ہے اَور جَب نہیں پاتی۔
MAT 12:44 تو کہتی ہے، ’میں اَپنے اُسی گھر میں پھر واپس چلی جاؤں گی جہاں سے میں نکلی تھی۔‘ اَور واپس آکر اُسے صَاف سُتھرا اَور آراستہ پاتی ہے۔
MAT 12:45 تَب وہ جا کر اَپنے سے بھی بدتر اَپنے ساتھ سات اَور بدرُوحوں کو ساتھ لے آتی ہے اَور وہ اَندر جا کر اُس میں رہنے لگتی ہیں۔ اَور اُس آدمی کی آخِری حالت پہلے سے بھی زِیادہ بُری ہو جاتی ہے۔ اِس زمانے کے بُرے لوگوں کا حال بھی اَیسا ہی ہوگا۔“
MAT 12:46 یِسوعؔ ہُجوم سے ابھی بات کر ہی رہے تھے کہ حُضُور کی ماں اَور اُن کے بھایٔی اُن سے مُلاقات کرنے کے لیٔے وہاں پہُنچے اَور باہر کھڑے ہُوئے تھے۔
MAT 12:47 کسی نے حُضُور کو خبر دی کہ دیکھئے، ”آپ کی ماں اَور آپ کے بھایٔی باہر کھڑے ہیں اَور آپ سے مُلاقات کرنا چاہتے ہیں۔“
MAT 12:48 حُضُور نے خبر لانے والے سے فرمایا، ”کون ہے میری ماں اَور کون ہیں میرا بھایٔی؟“
MAT 12:49 تَب حُضُور نے اَپنے شاگردوں کی طرف اِشارہ کرکے فرمایا، ”دیکھو! یہ میری ماں اَور میرے بھایٔی ہیں۔
MAT 12:50 کیونکہ جو کویٔی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وُہی میرا بھایٔی، میری بہن اَور میری ماں ہے۔“
MAT 13:1 اُسی دِن یِسوعؔ گھر سے باہر نکل کر جھیل کے کنارے جا بیٹھے۔
MAT 13:2 حُضُور کے چاروں طرف لوگوں کااِتنا ہُجوم جمع ہو گیا کہ یِسوعؔ ایک کشتی میں جا بیٹھے اَور سارا ہُجوم کنارے پر ہی کھڑا رہا۔
MAT 13:3 تَب حُضُور اُن سے تمثیلوں میں بہت سِی باتیں یُوں کہنے لگے: ”ایک بیج بونے والا بیج بونے نِکلا۔
MAT 13:4 بوتے وقت کُچھ بیج، راہ کے کنارے، گِرے اَور پرندوں نے آکر اُنہیں چُگ لیا۔
MAT 13:5 کُچھ پتھریلی زمین پر گِرے جہاں مٹّی کم تھی۔ چونکہ مٹّی گہری نہ تھی، وہ جلد ہی اُگ آئے۔
MAT 13:6 لیکن جَب سُورج نِکلا، تو جَل گیٔے اَور جڑ نہ پکڑنے کے باعث سُوکھ گیٔے۔
MAT 13:7 کچھ بیج جھاڑیوں میں گِرے، اَور جھاڑیوں نے پھیل کر اُنہیں دبا لیا۔
MAT 13:8 لیکن کُچھ اَچھّی زمین پر گِرے اَور پھل لایٔے، کُچھ سَو گُنا، کُچھ ساٹھ گُنا، کُچھ تیس گُنا۔
MAT 13:9 جِس کے پاس سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے۔“
MAT 13:10 تَب شاگردوں نے یِسوعؔ کے پاس آکر پُوچھا، ”آپ لوگوں سے تمثیلوں میں باتیں کیوں کرتے ہیں؟“
MAT 13:11 حُضُور نے جَواب دیا، ”تُمہیں تو آسمان کی بادشاہی کے رازوں کو سمجھنے کی قابلیّت دی گئی ہے، لیکن اُنہیں نہیں دی گئی ہے۔“
MAT 13:12 کیونکہ جِس کے پاس ہے اُسے اَور بھی دیا جائے گا اَور اُس کے پاس اِفراط سے ہوگا لیکن جِس کے پاس نہیں ہے، اُس سے وہ بھی جو اُس کے پاس ہے، لے لیا جائے گا۔
MAT 13:13 میں اُن سے تمثیلوں میں اِس لیٔے بات کرتا ہُوں: ”کیونکہ وہ دیکھتے ہویٔے بھی، کُچھ نہیں دیکھتے؛ اَور سُنتے ہویٔے بھی، کُچھ نہیں سمجھتے۔“
MAT 13:14 یَشعیاہ نبی کی یہ پیشن گوئی اُن کے حق میں پُوری ہوتی ہے: ” ’تُم سُنتے تو رہوگے لیکن سمجھوگے نہیں؛ دیکھتے تو رہوگے لیکن پہچان نہ پاؤگے۔
MAT 13:15 کیونکہ اِس قوم کے دِل شکستہ ہو گئے ہیں؛ وہ اُونچا سُننے لگے ہیں، اَور اُنہُوں نے اَپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ اُن کی آنکھیں دیکھ لیں، اَور اُن کے کان سُن لیں، اَور اُن کے دِل سمجھ لیں، اَور وہ میری طرف پھریں، اَور مَیں اُنہیں شفا بخشوں۔‘
MAT 13:16 لیکن تمہاری آنکھیں مُبارک ہیں کیونکہ وہ دیکھتی ہیں اَور تمہارے کان مُبارک ہیں کیونکہ وہ سُنتے ہیں۔
MAT 13:17 کیونکہ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ بہت سے نبیوں اَور راستبازوں کی یہ آرزُو تھی کہ جو تُم دیکھتے ہو وہ بھی دیکھیں مگر نہ دیکھ سکے اَورجو تُم سُنتے ہو سُنیں، مگر نہ سُن سکے۔
MAT 13:18 ”اَب بیج بونے والے کی تمثیل کے معنی سُنو:
MAT 13:19 جَب کویٔی آسمانی بادشاہی کا پیغام سُنتا ہے لیکن سمجھتا نہیں تو جو بیج اُس کے دِل میں بویا گیا تھا، شیطان آتا ہے اَور اُسے چھین لے جاتا ہے۔ یہ وُہی بیج ہے جو راہ کے کنارے بویا گیا تھا۔
MAT 13:20 اَورجو بیج پتھریلی زمین پر گرا، یہ اُس شخص کی مانِند ہے جو کلام کو سُنتے ہی اُسے خُوشی سے قبُول کر لیتا ہے۔
MAT 13:21 لیکن وہ اُس کے اَندر جڑ نہیں پکڑ پاتا اَور تھوڑے دِنوں تک ہی قائِم رہ پاتاہے۔ کیونکہ جَب کلام کے سبب سے ظُلم یا مُصیبت آتی ہے تو وہ فوراً گِر پڑتا ہے۔
MAT 13:22 اَور جھاڑیوں میں گِرنے والے بیج سے مُراد وہ ہیں جو کلام کو سُنتے تو ہیں لیکن دُنیا کی فکر اَور دولت کا فریب اُسے دبا دیتے ہیں اَور وہ پھل نہیں لا پاتاہے۔
MAT 13:23 لیکن اَچھّی زمین میں بوئے گیٔے بیج، وہ لوگ ہیں جو کلام کو سُنتے اَور سمجھتے ہیں اَور پھل لاتے ہیں، کویٔی سَو گُنا، کویٔی ساٹھ گُنا اَور کویٔی تیس گُنا۔“
MAT 13:24 یِسوعؔ نے اُنہیں ایک اَور تمثیل سُنایٔی: ”آسمان کی بادشاہی اُس شخص کی مانِند ہے جِس نے اَپنے کھیت میں اَچھّا بیج بویا۔
MAT 13:25 لیکن جَب لوگ سو رہے تھے تو اُس کا دُشمن آیا اَور گیہُوں میں زہریلی بُوٹیوں کا بیج بو گیا۔
MAT 13:26 پس جَب پتّیاں نکلیں اَور بالیں آئیں تو وہ زہریلی بُوٹیاں بھی نموُدار ہو گئیں۔
MAT 13:27 ”مالک کے خادِموں نے آکر اُس سے کہا، ’حُضُور، کیا آپ نے اَپنے کھیت میں اَچھّا بیج نہیں بویا تھا؟ پھر یہ زہریلی بُوٹیاں کہاں سے آ گئیں؟‘
MAT 13:28 ”مالک نے جَواب دیا، ’یہ کسی دُشمن کا کام ہے۔‘ ”تَب خادِموں نے مالک سے پُوچھا، ’کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم جا کر اُنہیں اُکھاڑ پھینکیں؟‘
MAT 13:29 ”لیکن آپ نے فرمایا نہیں، ’کہیں اَیسا نہ ہو کہ زہریلی بُوٹیاں اُکھاڑتے وقت تُم گیہُوں کو بھی نُقصان پہُنچا بیٹھو۔
MAT 13:30 کٹائی تک دونوں کو اِکٹھّا بڑھنے دو اَور کٹائی کے وقت مَیں کٹائی کرنے والوں سے کہہ دُوں گا کہ پہلے زہریلی بُوٹیوں کو جمع کرو اَور جَلانے کے لیٔے اُن کے گٹھّے باندھ لو؛ اَور گیہُوں کو میرے کھتّے میں جمع کر دو۔‘ “
MAT 13:31 حُضُور نے اُنہیں ایک اَور تمثیل سُنایٔی: ”آسمان کی بادشاہی رائی کے دانے کی مانِند ہے، جسے ایک آدمی نے لیا اَور اَپنے کھیت میں بو دیا۔
MAT 13:32 حالانکہ یہ سَب بیجوں میں سَب سے چھوٹا ہوتاہے مگر جَب بڑھتا ہے تو، باغیچہ کے پَودوں میں سَب سے بڑا ہو جاتا ہے اَور گویا اَیسا درخت بَن جاتا ہے کہ ہَوا کے پرندے آکر اُس کی ڈالیوں پر بسیرا کرنے لگتے ہیں۔“
MAT 13:33 حُضُور نے اُنہیں ایک اَور تمثیل سُنایٔی: ”آسمان کی بادشاہی خمیر کی مانِند ہے جسے ایک خاتُون نے لے کر 27 کِلو آٹے میں مِلا دیا اَور یہاں تک کہ سارا آٹا خمیر ہو گیا۔“
MAT 13:34 یہ ساری باتیں یِسوعؔ نے ہُجوم سے تمثیلوں میں کہیں؛ اَور بغیر تمثیل کے وہ اُن سے کُچھ نہ کہتے تھے۔
MAT 13:35 تاکہ جو بات نبی کی مَعرفت کہی گئی تھی وہ پُوری ہو جائے: ”میں تمثیلوں کے لیٔے اَپنا مُنہ کھولوں گا، اَور وہ باتیں بتاؤں گا جو بِنائے عالَم کے وقت سے پوشیدہ رہی ہیں۔“
MAT 13:36 تَب یِسوعؔ ہُجوم سے جُدا ہوکر گھر کے اَندر چلے گیٔے اَور حُضُور کے شاگرد اُن کے پاس آکر کہنے لگے، ”ہمیں زہریلی بُوٹیوں کی تمثیل کا معنی سمجھا دیجئے۔“
MAT 13:37 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جو اَچھّا بیج بوتا ہے وہ اِبن آدمؔ ہے۔
MAT 13:38 کھیت یہ دُنیا ہے اَور اَچھّے بیج سے مُراد ہے آسمانی بادشاہی کے فرزند، زہریلی بُوٹیاں شیطان کے فرزند ہیں۔
MAT 13:39 اَور دُشمن جِس نے اُنہیں بویا، وہ شیطان ہے۔ کٹائی کے معنی ہے دُنیا کا آخِر اَور کٹائی کرنے والے فرشتے ہیں۔
MAT 13:40 ”جِس طرح زہریلی بُوٹیاں جمع کی جاتی ہیں اَور آگ میں جَلایٔے جاتی ہیں، اُسی طرح دُنیا کے آخِر میں ہوگا۔
MAT 13:41 اِبن آدمؔ اَپنے فرشتوں کو بھیجے گا اَور وہ اُس کی بادشاہی میں سے سبھی ٹھوکر کھِلانے والی چیزوں اَور بدکاروں کو جمع کر لیں گے۔
MAT 13:42 اَور اُنہیں آگ کی بھٹّی میں پھینک دیں گے، جہاں رونا اَور دانت پیسنا جاری رہے گا۔
MAT 13:43 اُس وقت راستباز اَپنے باپ کی بادشاہی میں سُورج کی مانِند چمکیں گے۔ جِس کے سُننے کے کان ہُوں وہ سُن لے۔
MAT 13:44 ”آسمان کی بادشاہی کسی کھیت میں چھپے ہویٔے اُس خزانہ کی مانِند ہے جسے کسی شخص نے پا کر پھر سے کھیت میں چھُپا دیا پھر خُوشی کے مارے جا کر اَپنا سَب کُچھ بیچ کر اُس کھیت کو خرید لیا۔
MAT 13:45 ”پھر آسمان کی بادشاہی اُس سوداگر کی مانِند ہے جو عُمدہ موتیوں کی تلاش میں تھا۔
MAT 13:46 جَب اُسے ایک بیش قیمتی موتی مِلا تو اُس نے جا کر اَپنا سَب کُچھ بیچ دیا اَور اُسے خرید لیا۔
MAT 13:47 ”پھر آسمان کی بادشاہی اُس بڑے جال کی مانِند ہے جو جھیل میں ڈالا گیا اَور ہر قِسم کی مچھلیاں سمیٹ لایا۔
MAT 13:48 اَور جَب بھر گیا تو ماہی گیر اُسے کنارے پر کھینچ لایٔے؛ اَور بیٹھ کر اَچھّی اَچھّی مچھلیوں کو ٹوکروں میں جمع کر لیا اَورجو خَراب تھیں اُنہیں پھینک دیا۔
MAT 13:49 دُنیا کے آخِر میں بھی اَیسا ہی ہوگا۔ فرشتے آئیں گے اَور بدکاروں کو راستبازوں سے جُدا کریں گے۔
MAT 13:50 اَور اُنہیں آگ کی بھٹّی میں پھینک دیں گے، جہاں رونا اَور دانت پیسنا جاری رہے گا۔
MAT 13:51 ”یِسوعؔ نے پُوچھا، کیا تُم یہ سَب باتیں سمجھ گیٔے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”جی ہاں۔“
MAT 13:52 تَب حُضُور نے اُن سے فرمایا، ”شَریعت کا ہر عالِم جو آسمانی بادشاہی کا شاگرد بنا ہے، وہ اُس گھر کے مالک کی مانِند ہے جو اَپنے ذخیرہ سے نئی اَور پُرانی، دونوں چیزیں نکالتا ہے۔“
MAT 13:53 جَب یِسوعؔ یہ تمثیلیں سُنا چُکے تو وہاں سے روانہ ہویٔے۔
MAT 13:54 اَور اَپنے شہر میں واپس آکر وہاں کے یہُودی عبادت گاہ میں تعلیم دینے لگے، اَور لوگ حُضُور کی تعلیم سُن کر حیران ہُوئے۔ ”اَور کہنے لگے یہ حِکمت اَور معجزے اِس شخص کو کہاں سے حاصل ہویٔے؟
MAT 13:55 کیا یہ بڑھئی کا بیٹا نہیں؟ اُنہُوں نے سوال کیا، کیا اِس کی ماں کا نام مریمؔ نہیں اَور کیا یعقوب، یُوسیفؔ، شمعُونؔ اَور یہُوداہؔ اِس کے بھایٔی نہیں؟
MAT 13:56 اَور کیا اِس کی سَب بہنیں ہمارے درمیان نہیں رہتیں؟ پھر اِسے یہ سَب کیسے حاصل ہو گیا؟“
MAT 13:57 پھر اُنہُوں نے اُن باتوں کے سبب سے ٹھوکر کھائی۔ لیکن یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”نبی کی بےقدری اُس کے اَپنے شہر اَور گھر کے سِوا اَور کہیں نہیں ہوتی ہے۔“
MAT 13:58 چنانچہ حُضُور نے اُن کی بےاِعتقادی کے سبب سے وہاں زِیادہ معجزے نہیں دِکھائے۔
MAT 14:1 اُس وقت ہیرودیسؔ نے جو مُلک کے چوتھے حِصّہ پر حُکومت کرتا تھا یِسوعؔ کی شہرت سُنی،
MAT 14:2 اَور اَپنے خادِموں سے فرمایا، ”یہ یُوحنّا پاک غُسل دینے والے؛ جو مُردوں میں سے جی اُٹھے ہیں! اَور اِسی لیٔے تو اُن میں معجزے دِکھانے کی قُدرت ہے۔“
MAT 14:3 اصل میں ہیرودیسؔ نے یُوحنّا کو اَپنے بھایٔی فِلِپُّسؔ کی بیوی، ہیرودِیاسؔ کی وجہ سے پکڑواکر بندھوایا اَور قَیدخانہ میں ڈال دیا تھا۔
MAT 14:4 کیونکہ یُوحنّا ہیرودیسؔ سے بار بار کہہ رہے تھے کہ: ”تُمہیں ہیرودِیاسؔ کو اَپنی بیوی بنا کر رکھنا جائز نہیں۔“
MAT 14:5 اَور ہیرودیسؔ، یُوحنّا کو قتل کرنا چاہتا تھا لیکن عوام سے ڈرتا تھا کیونکہ وہ یُوحنّا کو نبی مانتے تھے۔
MAT 14:6 ہیرودیسؔ کی وِلادت ہیرودیسؔ کی سال گِرہ کے جَشن میں ہیرودِیاسؔ کی بیٹی نے مہمانوں کے سامنے ناچ کر ہیرودیسؔ کو بہت خُوش کیا
MAT 14:7 اَور ہیرودیسؔ نے قَسم کھا کر اُس سے وعدہ کیا کہ تُو جو چاہے مانگ لے، مَیں تُجھے دُوں گا۔
MAT 14:8 لڑکی نے اَپنی ماں کے سِکھانے پر کہا، ”مُجھے یُوحنّا پاک غُسل دینے والے کا سَر تھال میں یہاں چاہئے۔“
MAT 14:9 یہ سُن کر بادشاہ کو افسوس ہُوا، لیکن وہ مہمانوں کے سامنے قَسم دے چُکاتھا، اُس نے حُکم دیا کہ لڑکی کو یُوحنّا کا سَر دے دیا جائے۔
MAT 14:10 چنانچہ اُس نے کسی کو قَیدخانہ میں بھیج کر یُوحنّا کا سَر قلم کروا دیا
MAT 14:11 اَور یُوحنّا کا سَر تھال میں رکھ کر لایا گیا اَور لڑکی کو دے دیا۔ اَور وہ اُسے اَپنی ماں کے پاس لے گئی۔
MAT 14:12 تَب یُوحنّا کے شاگرد آئے اَور اُن کی لاش اُٹھاکر لے گیٔے اَور اُنہیں دفن کر دیا اَور جا کر یِسوعؔ کو خبر دی۔
MAT 14:13 جَب یِسوعؔ نے یہ خبر سُنی تو وہ کشتی کے ذریعہ ایک ویران جگہ کی طرف روانہ ہویٔے۔ اَور ہُجوم کو پتہ چلا تو لوگ شہروں سے اِکٹھّے ہوکر پیدل ہی آپ کے پیچھے چل دئیے۔
MAT 14:14 جَب یِسوعؔ کشتی سے کنارے پر اُترے تو آپ نے ایک بڑے ہُجوم کو دیکھا، اَور آپ کو اُن پر بڑا ترس آیا اَور آپ نے اُن بیماریوں کو شفا بخشی۔
MAT 14:15 جَب شام ہُوئی تو آپ کے شاگرد آپ کے پاس آکر کہنے لگے، ”یہ ایک ویران جگہ ہے اَور کافی دیر بھی ہو چُکی ہے، اِس لیٔے ہُجوم کو رخصت کر دیجئے تاکہ وہ گاؤں میں جا کر اَپنے لیٔے کھانا خرید سکیں۔“
MAT 14:16 یِسوعؔ نے فرمایا، ”اُنہیں جانے کی ضروُرت نہیں، تُم ہی اُنہیں کُچھ کھانے کو دو۔“
MAT 14:17 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”یہاں ہمارے پاس صِرف پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں ہیں۔“
MAT 14:18 حُضُور نے فرمایا، ”اُنہیں یہاں میرے پاس لے آؤ۔“
MAT 14:19 تَب حُضُور نے لوگوں کو گھاس پر بیٹھ جانے کا حُکم دیا اَور پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں لے کر آسمان کی طرف نظر اُٹھاکر، اُن پر برکت مانگی پھر آپ نے روٹیوں کے ٹکڑے توڑ کر شاگردوں کو دئیے، اَور شاگردوں نے اُنہیں لوگوں کو دیا۔
MAT 14:20 سَب لوگ کھا کر سیر ہو گئے اَور بچے ہویٔے ٹُکڑوں کی بَارہ ٹوکریاں بھر کر اُٹھائی گئیں۔
MAT 14:21 کھانے والوں کی تعداد عورتوں اَور بچّوں کے علاوہ تقریباً پانچ ہزار مَردوں کی تھی۔
MAT 14:22 اِس کے فوراً بعد یِسوعؔ نے شاگردوں کو حُکم دیا کہ تُم کشتی میں بیٹھ کر مُجھ سے پہلے جھیل کے پار چلے جاؤ اَور جَب تک میں ہُجوم کو رخصت کرکے آتا ہُوں۔
MAT 14:23 اُنہیں رخصت کرنے کے بعد وہ تنہائی میں دعا کرنے کے لیٔے ایک پہاڑی پر چلےگئے۔ اَور رات ہو چُکی تھی اَور وہ وہاں تنہا تھے۔
MAT 14:24 اَور اُس وقت کشتی کنارے سے کافی دُور پہُنچ چُکی تھی اَور مُخالف ہَوا کے باعث لہروں سے ڈگمگا رہی تھی۔
MAT 14:25 رات کے چوتھے پہر کے قریب یِسوعؔ جھیل پر چلتے ہویٔے اُن کے پاس پہُنچے۔
MAT 14:26 جَب شاگردوں نے حُضُور کو جھیل پر چلتے دیکھا تو گھبرا گیٔے اَور کہنے لگے، ”یہ تو کویٔی بھُوت ہے“ اَور ڈر کے مارے چِلّانے لگے۔
MAT 14:27 لیکن یِسوعؔ نے اُن سے فوراً کلام کیا، ”حوصلہ رکھو! میں ہُوں۔ ڈرو مت۔“
MAT 14:28 پطرس نے جَواب دیا، ”اَے خُداوؔند، اگر آپ ہی ہیں تو مُجھے حُکم دیں کہ میں بھی پانی پر چل کر آپ کے پاس آؤں۔“
MAT 14:29 یِسوعؔ نے فرمایا، ”آ۔“ چنانچہ پطرس کشتی سے اُتر کر یِسوعؔ کے پاس پانی پر چل کر جانے لگا۔
MAT 14:30 مگر جَب اُس نے ہَوا کا زور دیکھا تو ڈر گیا اَور ڈُوبنے لگا، تَب اُس نے چِلّاکر کہا، ”اَے خُداوؔند، مُجھے بچائیے۔“
MAT 14:31 یِسوعؔ نے فوراً اَپنا ہاتھ بڑھایا اَور پطرس کو پکڑ لیا اَور فرمایا، ”اَے کم اِعتقاد، تُونے شک کیوں کیا؟“
MAT 14:32 اَور جَب وہ دونوں کشتی میں چڑھ گیٔے اَور ہَوا تھم گئی۔
MAT 14:33 تَب جو کشتی میں تھے اُنہُوں نے حُضُور کو یہ کہتے ہویٔے سَجدہ کیا، ”آپ یقیناً خُدا کے بیٹے ہیں۔“
MAT 14:34 جھیل کو پار کرنے کے بعد، وہ گنیسرتؔ کے علاقہ میں پہُنچے۔
MAT 14:35 اَور جَب وہاں کے لوگوں نے یِسوعؔ کو پہچان لیا اَور آس پاس کے سارے علاقہ میں خبر کر دی۔ اَور لوگ سَب بیماریوں کو حُضُور کے پاس لے آئے
MAT 14:36 اَور وہ مِنّت کرنے لگے کہ اُنہیں اَپنی پوشاک کا کنارہ ہی چھُو لینے دیں اَور جِتنوں نے چھُوا، وہ بالکُل اَچھّے ہو گئے۔
MAT 15:1 تَب بعض فرِیسی اَور شَریعت کے عالِم یروشلیمؔ سے یِسوعؔ کے پاس آئے اَور کہنے لگے،
MAT 15:2 ”آپ کے شاگرد بُزرگوں کی روایت کے خِلاف کیوں چلتے ہیں؟ اَور کھانے سے پہلے اَپنے ہاتھ نہیں دھوتے؟“
MAT 15:3 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تُم اَپنی روایت سے خُدا کے حُکم کی خِلاف ورزی کیوں کرتے ہو؟
MAT 15:4 کیونکہ خُدا نے فرمایاہے، ’تُم اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا‘ اَور ’جو کویٔی باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضروُر مار ڈالا جائے۔‘
MAT 15:5 مگر تُم کہتے ہو کہ اگر کویٔی اَپنے باپ یا ماں سے کہے کہ جو کُچھ آپ کو مُجھ سے مدد کے لیٔے اِستعمال ہونا تھا وہ خُدا کو نذر ہو چُکی ہے،
MAT 15:6 تو اُس پر اَپنے ’باپ یا ماں کی عزّت کرنا‘ فرض نہیں ہے۔ یُوں تُم نے اَپنی روایت سے خُدا کا کلام ردّ کر دیا ہے۔
MAT 15:7 اَے ریاکاروں! حضرت یَشعیاہ نبی نے تمہارے بارے میں کیا خُوب نبُوّت کی ہے:
MAT 15:8 ” ’یہ اُمّت زبان سے تو میری تعظیم کرتی ہے، مگر اِن کا دِل مُجھ سے دُور ہے۔
MAT 15:9 یہ لوگ بے فائدہ میری پرستش کرتے ہیں؛ کیونکہ آدمیوں کے حُکموں کی تعلیم دیتے ہیں۔‘“
MAT 15:10 یِسوعؔ نے ہُجوم کو اَپنے پاس بُلاکر فرمایا، ”میری بات سُنو اَور سمجھنے کی کوشش کرو۔
MAT 15:11 جو چیز اِنسان کے مُنہ میں جاتی ہے وہ اُسے ناپاک نہیں کرتی، لیکن جو اُس کے مُنہ سے نکلتی ہے، وُہی اُسے ناپاک کرتی ہے۔“
MAT 15:12 تَب شاگردوں نے حُضُور کے پاس آکر کہا، ”کیا آپ جانتے ہیں کہ فریسیوں نے یہ بات سُن کر ٹھوکر کھائی ہے؟“
MAT 15:13 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جو پَودا میرے آسمانی باپ نے نہیں لگایا، اُسے جڑ سے اُکھاڑ دیا جائے گا۔
MAT 15:14 اُن کی پروا نہ کرو؛ وہ اَندھے رہنما ہیں۔ اَور اگر ایک اَندھا دُوسرے اَندھے کی رہنمائی کرنے لگے تو وہ دونوں گڑھے میں جا گِریں گے۔“
MAT 15:15 پطرس نے گزارش کی، ”یہ تمثیل ہمیں سمجھا دیجئے۔“
MAT 15:16 ”کیا تُم ابھی تک ناسمجھ ہو؟“ یِسوعؔ نے پُوچھا۔
MAT 15:17 ”کیا تُم نہیں جانتے کہ جو کُچھ مُنہ میں جاتا ہے وہ پیٹ میں پڑتا ہے اَور پھر بَدن سے خارج ہوکر باہر نکل جاتا ہے؟
MAT 15:18 مگر جو باتیں مُنہ سے نکلتی ہیں، وہ دِل سے نکلتی ہیں اَور وُہی آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔
MAT 15:19 کیونکہ بُرے خیال، قتل، زنا، جنسی بدفعلی، چوری، کُفر، جھُوٹی گواہی، دِل ہی سے نکلتی ہیں۔
MAT 15:20 یہ اَیسی باتیں ہیں جو اِنسان کو ناپاک کرتی ہیں؛ لیکن بغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھا لینا اِنسان کو ناپاک نہیں کرتا۔“
MAT 15:21 پھر یِسوعؔ وہاں سے نکل کر صُورؔ اَور صیؔدا کے علاقہ کو روانہ ہویٔے۔
MAT 15:22 اَور اُس علاقہ کی ایک کنعانی خاتُون حُضُور کے پاس آئی اَور پُکار کر کہنے لگی، ”اَے خُداوؔند، اِبن داویؔد، مُجھ پر رحم کر۔ میری بیٹی میں بدرُوح ہے جو اُسے بہت ستاتی ہے۔“
MAT 15:23 مگر حُضُور نے اُسے کویٔی جَواب نہ دیا۔ لہٰذا حُضُور کے شاگرد پاس آکر آپ سے مِنّت کرنے لگے، ”اُسے رخصت کر دیجئے کیونکہ وہ ہمارے پیچھے چِلاّتے ہویٔے آ رہی ہے۔“
MAT 15:24 حُضُور نے جَواب دیا، ”میں اِسرائیلؔ کے گھرانے کی کھوئی ہُوئی بھیڑوں کے سِوا کسی اَور کے پاس نہیں بھیجا گیا ہُوں۔“
MAT 15:25 مگر اُس نے آکر حُضُور کو سَجدہ کرکے کہنے لگی، ”اَے خُداوؔند، میری مدد کر!“
MAT 15:26 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”بچّوں کی روٹی لے کر کُتّوں کو ڈال دینا مُناسب نہیں ہے۔“
MAT 15:27 ”ہاں خُداوؔند، کیونکہ کُتّے بھی اُن ٹُکڑوں میں سے کھاتے ہیں جو اُن کے مالکوں کی میز سے نیچے گِرتے ہیں۔“
MAT 15:28 اِس پر یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے خاتُون، تیرا ایمان بہت بڑا ہے! تیری اِلتجا قبُول ہُوئی۔“ اَور اُس کی بیٹی نے اُسی وقت شفا پائی۔
MAT 15:29 یِسوعؔ وہاں سے نکل کر صُوبہ گلِیل کی جھیل سے ہوتے ہویٔے پہاڑ پر چڑھ کر وہیں بیٹھ گیٔے۔
MAT 15:30 اَور ایک بڑا ہُجوم، اَندھوں، لنگڑوں، لُولوں، گُونگوں اَور کیٔی دُوسرے بیماریوں کو ساتھ لے کر آیا اَور اُنہیں حُضُور کے قدموں میں رکھ دیا اَور حُضُور نے اُنہیں شفا بخشی۔
MAT 15:31 چنانچہ جَب لوگوں نے دیکھا کہ گُونگے بولتے ہیں، لُولے تندرست ہوتے ہیں، لنگڑے چلتے ہیں اَور اَندھے دیکھتے ہیں تو بڑے حیران ہُوئے اَور اِسرائیلؔ کے خُدا کی تمجید کی۔
MAT 15:32 اَور یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں کو اَپنے پاس بُلایا اَور اُن سے فرمایا، ”مُجھے اِن لوگوں پر ترس آتا ہے؛ کیونکہ یہ تین دِن سے برابر میرے ساتھ ہیں اَور اِن کے پاس کھانے کو کُچھ نہیں رہا۔ میں اِنہیں بھُوکا ہی رخصت کرنا نہیں چاہتا، کہیں اَیسا نہ ہو کہ یہ راستے میں ہی بے ہوش ہو جایٔیں۔“
MAT 15:33 آپ کے شاگردوں نے جَواب دیا، ”اِس بیابان میں اِتنی روٹیاں کہاں سے لائیں کہ اِتنے بڑے ہُجوم کو کھِلا کر سیر کریں؟“
MAT 15:34 یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”سات، اَور تھوڑی سِی چُھوٹی مچھلیاں ہیں۔“
MAT 15:35 یِسوعؔ نے ہُجوم سے فرمایا کہ سَب زمین پر بیٹھ جایٔیں۔
MAT 15:36 اَور حُضُور نے وہ سات روٹیاں اَور مچھلیاں لے کر خُدا کا شُکر اَدا کیا، اَور اُن کے ٹکڑے کیٔے اَور اُنہیں شاگردوں کو دیتے گیٔے اَور شاگردوں نے اُنہیں لوگوں کو دیا۔
MAT 15:37 سَب نے پیٹ بھر کر کھایا۔ اَور جَب بچے ہویٔے ٹکڑے جمع کیٔے گیٔے تو سات ٹوکریاں بھر گئیں۔
MAT 15:38 اَور کھانے والوں کی تعداد عورتوں اَور بچّوں کے علاوہ چار ہزار مَردوں کی تھی۔
MAT 15:39 پھر ہُجوم کو رخصت کرنے کے بعد یِسوعؔ کشتی میں سوار ہویٔے اَور مگدنؔ کی سرحدوں کے لیٔے روانہ ہو گئے۔
MAT 16:1 بعض فرِیسی اَور صدُوقی، یِسوعؔ کے پاس آئے اَور حُضُور کو آزمانے کی غرض سے کویٔی آسمانی نِشان دِکھانے کی درخواست کی۔
MAT 16:2 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جَب شام ہوتی ہے، تو تُم کہتے ہو کہ موسم اَچھّا رہے گا، کیونکہ آسمان سُرخ ہے،
MAT 16:3 اَور صُبح کے وقت کہتے ہو کہ، ’آج آندھی آئے گی کیونکہ آسمان سُرخ ہے اَور دھُندلا ہے۔‘ تُم آسمان کی صورت دیکھ کر موسم کا اَندازہ لگانا تو جانتے ہو، لیکن زمانوں کی علامات کو نہیں پہچان سکتے۔
MAT 16:4 اِس زمانہ کے بدکار اَور زناکار لوگ نِشان طلب کرتے ہیں، لیکن اُنہیں حضرت يونسؔ کے نِشان کے سِوا کویٔی اَور نِشان نہ دیا جائے گا۔“ اَور تَب یِسوعؔ اُنہیں چھوڑکر چلے گیٔے۔
MAT 16:5 شاگرد جھیل کے پار جاتے وقت روٹی ساتھ لینا بھُول گیٔے تھے۔
MAT 16:6 یِسوعؔ نے اُن سے تاکیداً فرمایا، ”خبردار، دیکھو فریسیوں اَور صدُوقیوں کے خمیر سے ہوشیار رہنا۔“
MAT 16:7 اَور وہ آپَس میں بحث کرنے لگے کہ دیکھا حُضُور اِس لیٔے فرما رہے ہیں کیونکہ، ”ہم روٹی نہیں لایٔے۔“
MAT 16:8 یِسوعؔ کو یہ بات مَعلُوم تھی، لہٰذا آپ نے فرمایا، ”اَے کم اِعتقادو، تُم آپَس میں کیوں بحث کرتے ہو کہ ہمارے پاس روٹی نہیں ہے؟
MAT 16:9 کیا تُم اَب تک نہیں سمجھ پایٔے؟ اَور تُمہیں پانچ ہزار آدمیوں کے لیٔے وہ پانچ روٹیاں یاد نہیں، اَور یہ بھی کہ تُم نے کتنی ٹوکریاں بھر کر اُٹھائی تھیں؟
MAT 16:10 اَور نہ اُن چار ہزار کے لیٔے وہ سات روٹیاں اَور نہ یہ کہ تُم نے کتنی ٹوکریاں اُٹھائی تھیں؟
MAT 16:11 تُم کیوں نہیں سمجھتے کہ جَب مَیں نے فریسیوں اَور صدُوقیوں کے خمیر سے خبردار رہنے کو کہاتھا تو روٹی کی بات نہیں کی تھی؟“
MAT 16:12 تَب اُن کی سمجھ میں آیا کہ حُضُور نے روٹی کے خمیر سے نہیں، لیکن فریسیوں اَور صدُوقیوں کی تعلیم سے خبردار رہنے کو کہاتھا۔
MAT 16:13 جَب یِسوعؔ قَیصؔریہ فِلپّی کے علاقہ میں آئے تو آپ نے اَپنے شاگردوں سے پُوچھا، ”لوگ اِبن آدمؔ کو کیا کہتے ہیں؟“
MAT 16:14 اُنہُوں نے کہا، ”بعض یُوحنّا پاک غُسل دینے والا کہتے ہیں؛ بعض ایلیّاہ، اَور بعض یرمیاہؔ یا نبیوں میں سے کویٔی ایک۔“
MAT 16:15 حُضُور نے اُن سے پُوچھا، ”مگر تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟“
MAT 16:16 شمعُونؔ پطرس نے جَواب دیا، ”آپ زندہ خُدا کے بیٹے المسیح ہیں۔“
MAT 16:17 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے یُوناہؔ کے بیٹے شمعُونؔ! تُو مُبارک ہے کیونکہ یہ بات گوشت اَور خُون نے نہیں لیکن میرے آسمانی باپ نے تُجھ پر ظاہر کی ہے۔
MAT 16:18 اَور مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ تُو پطرس ہے اَور مَیں اِس چٹّان پر اَپنی عبادت گاہ قائِم کروں گا اَور عالمِ اَرواح کے دروازے اُس پر غالب نہ آئیں گے۔
MAT 16:19 میں آسمانی بادشاہی کی کُنجِیاں تُجھے دُوں گا؛ اَورجو کُچھ تُم زمین پر باندھو گے وہ آسمان پر باندھا جائے گا اَورجو کُچھ تُم زمین پر کھولو گے وہ آسمان پر بھی کھولا جائے گا۔“
MAT 16:20 تَب یِسوعؔ نے شاگردوں کو حُکم دیا کہ کسی کو مت بتانا کہ میں ہی المسیح ہُوں۔
MAT 16:21 اُس کے بعد یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں پر ظاہر کرنا شروع کر دیا کہ اُنہیں یروشلیمؔ جانا لازمی ہے تاکہ وہ بُزرگوں، اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں کے ہاتھوں بہت دُکھ اُٹھائے، قتل کیاجایٔے اَور تیسرے دِن پھر سے جی اُٹھے۔
MAT 16:22 تَب پطرس حُضُور کو الگ لے جا کر ملامت کرنے لگے، ”اَے خُداوؔند، خُدا نہ کرے کہ آپ کے ساتھ اَیسا کبھی ہو۔“
MAT 16:23 یِسوعؔ نے مُڑ کر پطرس سے فرمایا، ”اَے شیطان! میرے سامنے سے دُورہو جا! تُو میرے لیٔے ٹھوکر کا باعث ہے؛ کیونکہ تیرا دِل خُدا کی باتوں میں نہیں، لیکن آدمیوں کی باتوں میں لگا ہے۔“
MAT 16:24 تَب یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے فرمایا، ”اگر کویٔی میری پیروی کرنا چاہتاہے تو اِس کے لیٔے ضروُری ہے کہ وہ اَپنی خُودی کا اِنکار کرے اَور اَپنی صلیب اُٹھائے اَور میرے پیچھے ہولے۔
MAT 16:25 کیونکہ جو کویٔی اَپنی جان کو باقی رکھنا چاہتاہے وہ اُسے کھویٔے گا لیکن جو کویٔی میری خاطِر اَپنی جان کھویٔے گا وہ اُسے محفوظ رکھےگا۔
MAT 16:26 آدمی اگر ساری دُنیا حاصل کر لے، مگر اَپنی جان کا نُقصان اُٹھائے اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اَپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا؟
MAT 16:27 کیونکہ جَب اِبن آدمؔ اَپنے باپ کے جلال میں اَپنے فرشتوں کے ساتھ آئے گا تَب وہ ہر ایک کو اُس کے کاموں کے مُطابق اجر دے گا۔
MAT 16:28 ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ بعض لوگ جو یہاں کھڑے ہیں، جَب تک اِبن آدمؔ کو اَپنی بادشاہی میں آتے ہُوئے نہ دیکھ لیں گے، ہرگز نہ مَریں گے۔“
MAT 17:1 چھ دِن کے بعد یِسوعؔ نے پطرس، یعقوب اَور اُس کے بھایٔی یُوحنّا کو اَپنے ساتھ لیا اَور اُنہیں ایک اُونچے پہاڑ پر الگ لے گیٔے۔
MAT 17:2 وہاں اُن کے سامنے حُضُور کی صورت بدل گئی۔ اَور حُضُور کا چہرہ سُورج کی مانِند چمکنے لگا اَور حُضُور کے کپڑے نُور کی مانِند سفید ہو گئے۔
MAT 17:3 اُسی وقت حضرت مَوشہ اَور ایلیّاہ یِسوعؔ سے باتیں کرتے ہُوئے نظر آئے۔
MAT 17:4 پھر پطرس نے یِسوعؔ سے کہا، ”اَے خُداوؔند، ہمارا یہاں رہنا اَچھّا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں تین ڈیرے کھڑے کروں، ایک آپ کے لیٔے، ایک حضرت مَوشہ اَور ایک ایلیّاہ کے لیٔے۔“
MAT 17:5 وہ یہ کہہ ہی رہے تھے کہ ایک نُورانی بادل نے اُن پر سایہ کر لیا اَور اُس بادل میں سے آواز آئی، ”یہ میرا پیارا بیٹا ہے جِس سے میں مَحَبّت رکھتا ہُوں؛ اَور جِس سے میں بہت خُوش ہُوں، اِس کی بات غور سے سُنو!“
MAT 17:6 جَب شاگردوں نے یہ سُنا تو ڈر کے مارے مُنہ کے بَل زمین پر گِر گیٔے۔
MAT 17:7 لیکن یِسوعؔ نے پاس آکر اُنہیں چھُوا اَور فرمایا، ”اُٹھو، ڈرو مت۔“
MAT 17:8 جَب اُنہُوں نے نظریں اُٹھائیں تو یِسوعؔ کے سِوا اَور کسی کو نہ دیکھا۔
MAT 17:9 جَب وہ پہاڑ سے نیچے اُتر رہے تھے تو یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کی، ”جَب تک اِبن آدمؔ مُردوں میں سے جی نہ اُٹھے، جو کُچھ تُم نے دیکھاہے اِس واقعہ کا ذِکر کسی سے نہ کرنا۔“
MAT 17:10 شاگردوں نے حُضُور سے پُوچھا، ”پھر شَریعت کے عالِم یہ کیوں کہتے ہیں کہ حضرت ایلیّاہ کا پہلے آنا ضروُری ہے؟“
MAT 17:11 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”ایلیّاہ ضروُر آئے گا اَور سَب کُچھ بحال کرےگا۔
MAT 17:12 لیکن مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ ایلیّاہ تو پہلے ہی آ چُکاہے، اَور اُنہُوں نے اُسے نہیں پہچانا لیکن جَیسا چاہا وَیسا اُس کے ساتھ کیا۔ اِسی طرح اِبن آدمؔ بھی اُن کے ہاتھوں دُکھ اُٹھائے گا۔“
MAT 17:13 تَب شاگرد سمجھ گیٔے کہ وہ اُن سے یُوحنّا پاک غُسل دینے والے کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔
MAT 17:14 اَور جَب وہ ہُجوم کے پاس آئے تو ایک آدمی یِسوعؔ کے پاس آیا اَور آپ کے سامنے گھُٹنے ٹیک کر کہنے لگا۔
MAT 17:15 ”اَے خُداوؔند، میرے بیٹے پر رحم کر، کیونکہ اُسے مِرگی کی وجہ سے اَیسے سخت دَورے پڑتے ہیں کہ وہ اکثر آگ یا پانی میں گِر پڑتا ہے۔
MAT 17:16 اَور مَیں اُسے آپ کے شاگردوں کے پاس لایاتھا لیکن وہ اُسے شفا نہ دے سکے۔“
MAT 17:17 یِسوعؔ نے فرمایا، ”اَے بےاِعتقاد اَور ٹیڑھی پُشت، میں کب تک تمہارے ساتھ تمہاری برداشت کرتا رہُوں گا؟ لڑکے کو یہاں میرے پاس لاؤ۔“
MAT 17:18 یِسوعؔ نے بدرُوح کو ڈانٹا اَور وہ لڑکے میں سے نکل گئی اَور وہ اُسی وقت اَچھّا ہو گیا۔
MAT 17:19 تَب شاگردوں نے تنہائی میں یِسوعؔ کے پاس آکر پُوچھا، ”ہم اِس بدرُوح کو کیوں نہیں نکال سکے؟“
MAT 17:20 حُضُور نے جَواب دیا، ”اِس لیٔے کہ تمہارا ایمان کم ہے۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اگر تمہارا ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی ہوتا، تو، ’تُم اِس پہاڑ سے کہہ سکوگے کہ یہاں سے وہاں سَرک جا،‘ تو وہ سَرک جائے گا۔ اَور تمہارے لیٔے کویٔی کام بھی ناممکن نہ ہوگا۔
MAT 17:21 لیکن اِس قِسم کی بدرُوح دعا اَور روزہ کے بغیر نہیں نکلتی۔“
MAT 17:22 جَب وہ صُوبہ گلِیل میں ایک ساتھ جمع ہُوئے تو یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”اِبن آدمؔ آدمیوں کے حوالہ کیا جائے گا۔
MAT 17:23 وہ اُسے قتل کر ڈالیں گے اَور وہ تیسرے دِن پھر سے جی اُٹھے گا۔“ شاگرد یہ سُن کر نہایت ہی غمگین ہُوئے۔
MAT 17:24 اَور جَب وہ کَفرنحُومؔ میں پہُنچے تَب، دو دِرہم بیت المُقدّس کا محصُول لینے والے پطرس کے پاس آکر پُوچھنے لگے کہ، ”کیا تمہارا اُستاد بیت المُقدّس کا مُقرّرہ محصُول اَدا نہیں کرتا؟“
MAT 17:25 پطرس نے جَواب دیا، ”ہاں، اَدا کرتا ہے۔“ جَب پطرس گھر میں داخل ہُوئے تو یِسوعؔ نے پہلے یہی فرمایا، ”اَے شمعُونؔ! تمہارا کیا خیال ہے؟ دُنیا کے بادشاہ کِن لوگوں سے محصُول یا جزیہ لیتے ہیں؟ اَپنے بیٹوں سے یا غَیروں سے؟“
MAT 17:26 جَب پطرس نے کہا، ”غَیروں سے۔“ تَب یِسوعؔ نے فرمایا، ”پھر تو بیٹے بَری ہُوئے۔
MAT 17:27 لیکن ہم اُن کے لیٔے ٹھوکر کا باعث نہ ہوں، اِس لیٔے تُم جھیل پر جا کر بَنسی ڈالو اَورجو مچھلی پہلے ہاتھ آئے، اُس کا مُنہ کھولنا تو تُمہیں چار دِرہم کا سِکّہ ملے گا۔ اُسے لے جانا اَور ہم دونوں کے لیٔے محصُول اَدا کردینا۔“
MAT 18:1 اُس وقت شاگرد یِسوعؔ کے پاس آئے اَور پُوچھنے لگے کہ، ”آسمان کی بادشاہی میں سَب سے بڑا کون ہے؟“
MAT 18:2 حُضُور نے ایک بچّے کو اَپنے پاس بُلایا اَور اُسے اُن کے درمیان میں کھڑا کر دیا۔
MAT 18:3 اَور فرمایا: ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اگر تُم تبدیل ہوکر چُھوٹے بچّوں کی مانِند نہ بنو، تو تُم آسمانی بادشاہی میں ہرگز داخل نہ ہوگے۔
MAT 18:4 لہٰذا جو کویٔی اَپنے آپ کو اِس بچّے کی مانِند چھوٹا بنائے گا وُہی آسمانی بادشاہی میں سَب سے بڑا ہوگا۔
MAT 18:5 اَورجو کویٔی اَیسے بچّے کو میرے نام پر قبُول کرتا ہے وہ مُجھے قبُول کرتا ہے۔
MAT 18:6 ”لیکن جو کویٔی اِن چُھوٹوں میں سے جو مُجھ پر ایمان لایٔے ہیں، کسی کو ٹھوکر کھِلاتاہے تو اُس کے لیٔے یہی بہتر ہے کہ بڑی چکّی کا بھاری پتّھر اُس کے گلے میں لٹکایا جائے، اَور اُسے گہرے سمُندر میں ڈُبو دیا جائے۔
MAT 18:7 ٹھوکروں کی وجہ سے دُنیا پر افسوس ہے کیونکہ ٹھوکریں تو ضروُر لگیں گی! لیکن اُس پر افسوس ہے جِس کی وجہ سے ٹھوکر لگے!
MAT 18:8 پس اگر تمہارا ہاتھ یا تمہارا پاؤں تمہارے لیٔے ٹھوکر کا باعث ہو تو، اُسے کاٹ کر پھینک دو۔ کیونکہ تمہارا ٹُنڈا یا لنگڑا ہوکر زندگی میں داخل ہونا دونوں ہاتھوں یا دونوں پاؤں کے ساتھ اَبدی آگ میں ڈالے جانے سے بہتر ہے۔
MAT 18:9 اَور اگر تمہاری آنکھ تمہارے لیٔے ٹھوکر کا باعث بنتی ہے، تو اُسے نکال کر پھینک دو۔ کیونکہ کانا ہوکر زندگی میں داخل ہونا دو آنکھیں کے ہوتے جہنّم کی آگ میں ڈالے جانے سے بہتر ہے۔
MAT 18:10 ”خبردار! اِن چُھوٹوں میں سے کسی کو ناچیز نہ سمجھنا کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ آسمان پر اِن کے فرشتے ہر وقت میرے آسمانی باپ کا مُنہ دیکھتے رہتے ہیں۔
MAT 18:11 کیونکہ اِبن آدمؔ کھویٔے ہُوئے لوگوں کو ڈھونڈنے اَور نَجات دینے آیا ہے۔
MAT 18:12 ”تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر کسی کے پاس سَو بھیڑیں ہوں، اَور اُن میں سے ایک بھٹک جائے تو کیا وہ نِنانوے کو چھوڑکر اَور پہاڑوں پر جا کر اُس کھوئی ہُوئی بھیڑ کو ڈھونڈنے نہ نکلے گا؟
MAT 18:13 اَور اگر وہ اُسے ڈھونڈ لے گا تو میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اُن نِنانوے کی نِسبت جو بھٹکی نہیں ہیں، اِس ایک کے دوبارہ مِل جانے پر زِیادہ خُوشی محسُوس کرےگا۔
MAT 18:14 اِسی طرح تمہارا آسمانی باپ یہ نہیں چاہتا کہ اِن چُھوٹوں میں سے ایک بھی ہلاک ہو۔
MAT 18:15 ”اگر تمہارا بھایٔی یا بہن گُناہ کرے تو جاؤ اَور تنہائی میں اُسے سمجھاؤ۔ اگر وہ تمہاری سُنے تو سمجھ لو کہ تُم نے اَپنے بھایٔی کو پا لیا۔
MAT 18:16 اَور اگر وہ نہ سُنے تو اَپنے ساتھ ایک یا دو آدمی اَور لے جاؤ، تاکہ ’ہر بات دو یا تین گواہوں کی زبان سے ثابت ہو جائے۔‘
MAT 18:17 اَور اگر وہ اُن کی بھی نہ سُنے تو، مسیحی جماعت کو خبر کرو؛ اَور اگر وہ مسیحی جماعت کی بھی نہ سُنے تو اُسے محصُول لینے والے اَور غَیریہُودی کے برابر جانو۔
MAT 18:18 ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، اَورجو کُچھ تُم زمین پر باندھو گے وہ آسمان پر باندھا جائے گا اَورجو کُچھ تُم زمین پر کھولو گے وہ آسمان پر بھی کھولا جائے گا۔
MAT 18:19 ”پھر، میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اگر تُم میں سے دو شخص زمین پر کسی بات کے لیٔے جسے وہ چاہیں اَور راضی ہوں تو وہ میرے آسمانی باپ کے طرف سے اُن کے لیٔے ہو جائے گا۔
MAT 18:20 کیونکہ جہاں دو یا تین میرے نام پر اِکھٹّے ہوتے ہیں وہاں میں اُن کے درمیان مَوجُود ہوتا ہُوں۔“
MAT 18:21 تَب پطرس نے یِسوعؔ کے پاس آکر پُوچھا، ”اَے خُداوؔند، اگر میرا بھایٔی یا بہن میرے خِلاف گُناہ کرتا رہے تو میں اُسے کتنی دفعہ مُعاف کروں؟ کیا سات بار تک؟“
MAT 18:22 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”مَیں تُجھ سے سات دفعہ نہیں، لیکن ستّر کے سات گُنا تک مُعاف کرنے کے لیٔے کہتا ہُوں۔
MAT 18:23 ”پس آسمانی بادشاہی اُس بادشاہ کی مانِند ہے جِس نے اَپنے خادِموں سے حِساب لینا چاہا۔
MAT 18:24 اَور جَب وہ حِساب لینے لگا تو، ایک قرضدار اُس کے سامنے حاضِر کیا گیا جو بادشاہ سے لاکھوں رُوپے قرض لے چُکاتھا۔
MAT 18:25 مگر اُس کے پاس قرض چُکانے کے لیٔے کُچھ نہ تھا، اِس لیٔے اُس کے مالک نے حُکم دیا کہ اُسے، اُس کی بیوی کو اَور بال بچّوں کو اَورجو کُچھ اُس کا ہے سَب کُچھ بیچ دیا جائے اَور قرض وصول کر لیا جائے۔
MAT 18:26 ”پس اُس خادِم نے مالک کے سامنے گِر کر اُسے سَجدہ کیا اَور کہا، ’اَے مالک مُجھے کُچھ مہلت دے اَور مَیں تیرا سارا قرض چُکا دُوں گا۔‘
MAT 18:27 مالک نے خادِم پر رحم کھا کر اُسے چھوڑ دیا اَور اُس کا قرض بھی مُعاف کر دیا۔
MAT 18:28 ”لیکن جَب وہ خادِم وہاں سے باہر نِکلا تو اُسے ایک اَیسا خادِم مِلا جو اُس کا ہم خدمت تھا اَور جسے اُس نے سَو دینار قرض کے طور پر دے رکھا تھا۔ اُس نے اُسے پکڑکر اُس کا گلا دبایا اَور کہا، ’لا، میری رقم واپس کر!‘
MAT 18:29 ”پس اُس کے ہم خدمت نے اُس کے سامنے گِر کر اُس کی مِنّت کی اَور کہا، ’مُجھے مہلت دے، میں سَب اَدا کر دُوں گا۔‘
MAT 18:30 ”لیکن اُس نے ایک نہ سُنی اَور اُس کو قَیدخانہ میں ڈال دیا تاکہ قرض اَدا کرنے تک وہیں رہے۔
MAT 18:31 پس جَب اُس کے دُوسرے خادِموں نے یہ حال دیکھا تو وہ بہت غمگین ہُوئے اَور مالک کے پاس جا کر اُسے سارا واقعہ کہہ سُنایا۔
MAT 18:32 ”تَب مالک نے اُس خادِم کو بُلوا کر فرمایا، ’اَے شریر خادِم! مَیں نے تیرا سارا قرض اِس واسطے مُعاف کر دیا تھا کہ تُونے میری مِنّت کی تھی۔
MAT 18:33 کیا تُجھے لازِم نہ تھا کہ جَیسے مَیں نے تُجھ پر رحم کیا، تو تُو بھی اَپنے ہم خدمت پر وَیسے ہی رحم کرتا؟‘
MAT 18:34 اَور مالک نے غُصّہ میں آکر اُس خادِم کو سپاہیوں کے حوالہ کر دیا تاکہ قرض اَدا کرنے تک اُن کی قَید میں رہے۔
MAT 18:35 ”اگر تُم میں سے ہر ایک اَپنے بھایٔی یا بہن کو دِل سے مُعاف نہ کرے تو میرا آسمانی باپ بھی تمہارے ساتھ اِسی طرح پیش آئے گا۔“
MAT 19:1 اَپنی یہ باتیں ختم کر چُکنے کے بعد یِسوعؔ صُوبہ گلِیل سے روانہ ہوکر دریائے یردنؔ کے پار یہُودیؔہ کے علاقہ میں گیٔے
MAT 19:2 اَور بڑا ہُجوم آپ کے پیچھے ہو لیا اَور آپ نے اُنہیں شفا بخشی۔
MAT 19:3 بعض فرِیسی یِسوعؔ کو آزمانے کے لیٔے اُن کے پاس آئے اَور کہنے لگے، ”کیا ہر ایک سبب سے اَپنی بیوی کو طلاق دینا جائز ہے؟“
MAT 19:4 حُضُور نے جَواب دیا، ”کیا تُم نے نہیں پڑھا کہ جِس نے اُنہیں بنایا، تخلیق کی شروعات ہی سے اُنہیں ’مَرد اَور عورت بنا کر فرمایا،‘
MAT 19:5 اِس سبب سے ’مَرد اَپنے باپ اَور ماں سے جُدا ہوکر اَپنی بیوی کے ساتھ مِلا رہے گا، اَور وہ دونوں ایک جِسم ہوں گے؟‘
MAT 19:6 چنانچہ وہ اَب دو نہیں، بَلکہ ایک جِسم ہیں۔ پس جنہیں خُدا نے جوڑا ہے، اُنہیں کویٔی اِنسان جُدا نہ کرے۔“
MAT 19:7 فریسیوں نے حُضُور سے پُوچھا، ”پھر حضرت مَوشہ نے اَپنی شَریعت میں یہ حُکم کیوں دیا کہ طلاق نامہ لِکھ کر اُسے چھوڑ دیا جائے؟“
MAT 19:8 یِسوعؔ نے اُن کو جَواب دیا، ”حضرت مَوشہ نے تمہاری سخت دِلی کی وجہ سے اَپنی بیویوں کو چھوڑدینے کی اِجازت دی تھی لیکن اِبتدا سے اَیسا نہ تھا۔
MAT 19:9 لیکن مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو کویٔی اَپنی بیوی کو اُس کی جنسی بدفعلی کے سِوا کسی اَور سبب سے چھوڑ دیتاہے، اَور کسی دُوسری عورت سے شادی کر لیتا ہے تو زنا کرتا ہے۔“
MAT 19:10 شاگردوں نے حُضُور سے کہا، ”اگر شوہر اَور بیوی کے رشتہ کا یہ حال ہے تو بہتر ہے کہ شادی کی ہی نہ جائے۔“
MAT 19:11 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”سَب اِس بات کو قبُول نہیں کر سکتے ہیں۔ اَیسا وُہی کر سکتے ہیں جنہیں یہ قُدرت مِلی ہو۔
MAT 19:12 کیونکہ بعض خوجہ تو پیدائشی ہیں، لیکن بعض خوجے اَیسے ہیں جنہیں اِنسانوں نے بنایا ہے اَور بعض اَیسے بھی ہیں جو آسمان کی بادشاہی کی خاطِر خُود کو خوجوں کی مانِند بنا دیا ہے۔ جو کویٔی اِسے قبُول کر سَکتا ہے، تو قبُول کرے۔“
MAT 19:13 اُس کے بعد لوگ بچّوں کو یِسوعؔ کے پاس لایٔے تاکہ حُضُور اُن پر ہاتھ رکھیں اَور اُنہیں دعا دیں۔ لیکن شاگردوں نے اُنہیں جِھڑک دیا۔
MAT 19:14 لیکن یِسوعؔ نے فرمایا، ”بچّوں کو میرے پاس آنے سے مت روکو کیونکہ آسمان کی بادشاہی اَیسوں ہی کی ہے۔“
MAT 19:15 تَب حُضُور نے اُن پر اَپنا ہاتھ رکھا اَور پھر وہاں سے چلے گیٔے۔
MAT 19:16 اَور ایک آدمی یِسوعؔ کے پاس آیا اَور پُوچھنے لگا، ”اَے اُستاد محترم! میں کون سِی نیکی کروں کہ اَبدی کی زندگی حاصل کرلُوں؟“
MAT 19:17 یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”تُم مُجھ سے نیکی کے بارے میں کیوں پُوچھتے ہو؟ نیک تو صِرف ایک ہی ہے۔ لیکن اگر تُو زندگی میں داخل ہونا چاہتاہے تو حُکموں پر عَمل کر۔“
MAT 19:18 اُس نے پُوچھا، ”کون سے حُکموں پر؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ” ’یہ کہ خُون نہ کرنا، زنا نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھُوٹی گواہی نہ دینا،
MAT 19:19 اَپنے باپ یا ماں کی عزّت کرنا،‘ اَور ’اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا۔‘“
MAT 19:20 اُس نوجوان نے آپ کو جَواب دیا، ”اِن سَب حُکموں پر تو میں عَمل کرتا آیا ہُوں، اَب مُجھ میں کِس چیز کی کمی ہے؟“
MAT 19:21 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر تُو کامل ہونا چاہتاہے تو جا، اَپنا سَب کُچھ بیچ کر غریبوں کی مدد کر تو تُجھے آسمان میں خزانہ ملے گا اَور آکر میرے پیچھے ہولے۔“
MAT 19:22 مگر جَب اُس نوجوان نے یہ بات سُنی، تو وہ غمگین ہوکر چلا گیا کیونکہ وہ بہت دولتمند تھا۔
MAT 19:23 تَب یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ دولتمند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مُشکل ہے۔
MAT 19:24 مَیں پھر کہتا ہُوں کہ اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزر جانا کسی دولتمند کے خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے سے زِیادہ آسان ہے۔“
MAT 19:25 جَب شاگردوں نے یہ بات سُنی تو نہایت حیران ہُوئے اَور یِسوعؔ سے پُوچھا، ”پھر کون نَجات پا سَکتا ہے؟“
MAT 19:26 یِسوعؔ نے اُن کی طرف دیکھ کر فرمایا، ”یہ اِنسانوں کے لیٔے تو ناممکن ہے، لیکن خُدا کے لیٔے سَب کُچھ ممکن ہے۔“
MAT 19:27 تَب پطرس نے حُضُور سے کہا، ”دیکھئے ہم تو سَب کُچھ چھوڑکر آپ کے پیچھے چلے آئے ہیں! تو ہمیں کیا ملے گا؟“
MAT 19:28 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ نئی تخلیق میں جَب اِبن آدمؔ اَپنے جلالی تخت پر بیٹھے گا تو تُم بھی جو میرے پیچھے چلے آئے ہو بَارہ تختوں پر بیٹھ کر، اِسرائیلؔ کے بَارہ قبیلوں کا اِنصاف کروگے۔
MAT 19:29 اَور جِس کسی نے میری خاطِر گھروں یا بھائیوں یا بہنوں یا ماں یا باپ یا بیوی یا بچّوں یا کھیتوں کو چھوڑ دیا ہے وہ اِن سے سَو گُنا پایٔےگا اَور اَبدی زندگی کا وارِث ہوگا۔
MAT 19:30 لیکن بہت سے جو اوّل ہیں آخِر ہو جایٔیں گے اَورجو آخِر ہیں، وہ اوّل۔“
MAT 20:1 ”کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُس زمین دار کی مانِند ہے جو صُبح سویرے باہر نِکلا تاکہ اَپنے انگوری باغ میں مزدُوروں کو کام پر لگائے۔“
MAT 20:2 اُس نے ایک دینار روزانہ کی مزدُوری طے کرکے اُنہیں اَپنے انگوری باغ میں بھیج دیا۔
MAT 20:3 ”پھر تقریباً تین گھنٹے بعد باہر نکل کر اُس نے اَوروں کو بازار میں بیکار کھڑے دیکھا۔
MAT 20:4 اَور اُس نے اُن سے فرمایا، ’تُم بھی میرے انگوری باغ میں چلے جاؤ اَورجو مُناسب اُجرت ہے، میں تُمہیں دُوں گا۔‘ “
MAT 20:5 پس وہ چلے گیٔے۔ ”پھر اُس نے دوپہر اَور تیسرے پہر کے قریب باہر نکل کر اَیسا ہی کیا۔
MAT 20:6 دِن ڈھلنے سے ایک گھنٹہ پہلے وہ پھر باہر نِکلا اَور چند اَور کو کھڑے پایا۔ اُس نے اُن سے پُوچھا، ’تُم کیوں صُبح سے اَب تک بیکار کھڑے ہو؟‘
MAT 20:7 ” ’ہمیں کسی نے کام پر نہیں لگایا،‘ اُنہُوں نے جَواب دیا۔ ”اُس نے اُن سے فرمایا، ’تُم بھی میرے انگوری باغ میں چلے جاؤ اَور کام کرو۔‘
MAT 20:8 ”جَب شام ہُوئی تو انگوری باغ کے مالک نے اَپنے مُنیم سے کہا، ’مزدُوروں کو بُلاؤ اَور پچھلوں سے لے کر پہلوں تک کی اُن کی مزدُوری دے دو۔‘
MAT 20:9 ”جو ایک گھنٹہ دِن ڈھلنے سے پہلے لگائے گیٔے تھے وہ آئے اَور اُنہیں ایک ایک دینار مِلا۔
MAT 20:10 جَب شروع کے مزدُوروں کی باری آئی تو اُنہُوں نے سوچا کہ ہمیں زِیادہ مزدُوری ملے گی۔ لیکن اُنہیں بھی ایک ایک دینار ہی مِلا۔
MAT 20:11 جسے لے کر وہ زمین دار پر بُڑبُڑانے لگے کہ
MAT 20:12 ’اِن پچھلوں نے صِرف ایک گھنٹہ کام کیا ہے، اَور ہم نے دھوپ میں دِن بھر محنت کی ہے لیکن آپ نے اُنہیں ہمارے برابر کر دیا۔‘
MAT 20:13 ”لیکن مالک نے اُن میں سے ایک سے کہا، ’دوست! مَیں نے تیرے ساتھ کویٔی نااِنصافی نہیں کی ہے۔ کیا تیرے ساتھ مزدُوری کا ایک دینار طے نہیں ہُوا تھا؟
MAT 20:14 لہٰذا جو تیرا ہے لے اَور چلتا بَن! یہ میری مرضی ہے کہ جِتنا تُجھے دے رہا ہُوں اُتنا ہی اِن پچھلوں کو بھی دُوں۔
MAT 20:15 کیا مُجھے یہ حق نہیں کہ اَپنے مال سے جو چاہُوں سو کروں؟ یا کیا تُمہیں میری سخاوت تمہاری نظروں میں بُری لگ رہی ہے؟‘
MAT 20:16 ”پَس بہت سے جو آخِر ہیں وہ اوّل ہو جایٔیں گے اَورجو اوّل ہیں وہ آخِر۔“
MAT 20:17 اَور یروشلیمؔ جاتے وقت یِسوعؔ نے بَارہ شاگردوں کو الگ لے جا کر راستہ میں اُن سے کہا،
MAT 20:18 ”دیکھو! ہم یروشلیمؔ شہر جا رہے ہیں، جہاں اِبن آدمؔ اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں کے حوالہ کیا جائے گا۔ اَور وہ اُس کے قتل کا حُکم صادر کرکے
MAT 20:19 اَور اُسے غَیریہُودیوں کے حوالہ کر دیں گے اَور وہ لوگ اُس کی ہنسی اُڑائیں گے، اُسے کوڑے ماریں گے اَور مصلُوب کر دیں گے لیکن وہ تیسرے دِن پھر سے زندہ کیا جائے گا۔“
MAT 20:20 اُس وقت زبدیؔ کے بیٹوں کی ماں اَپنے بیٹوں کے ساتھ یِسوعؔ کے پاس آئی اَور آپ کو سَجدہ کرکے آپ سے عرض کرنے لگی۔
MAT 20:21 یِسوعؔ نے اُس سے پُوچھا، ”تُم کیا چاہتی ہو؟“ اُس نے جَواب دیا، ”حُکم دیجئے کہ آپ کی بادشاہی میں میرے بیٹوں میں سے ایک آپ کی داہنی طرف اَور دُوسرا بائیں طرف بیٹھے۔“
MAT 20:22 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”تُم نہیں جانتے کہ کیا مانگ رہے ہو؟ کیا تُم وہ پیالہ پی سکتے ہو جو میں پینے پر ہُوں۔“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہاں، ہم پی سکتے ہیں۔“
MAT 20:23 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”تُم میرا پیالہ تو ضروُر پیوگے، لیکن یہ میرا کام نہیں کہ کسی کو اَپنی داہنے یا بائیں طرف بِٹھاؤں۔ مگر جِن کے لیٔے میرے باپ کی جانِب سے مُقرّر کیا جا چُکاہے، اُن ہی کے لیٔے ہے۔“
MAT 20:24 جَب باقی دس شاگردوں نے یہ سُنا تو وہ اُن دونوں بھائیوں پر خفا ہونے لگے۔
MAT 20:25 مگر یِسوعؔ نے اُنہیں پاس بُلایا اَور اُن سے فرمایا، ”تُمہیں مَعلُوم ہے کہ اِس جہاں کے غَیریہُودیوں کے حُکمراں اُن پر حُکمرانی کرتے ہیں اَور اُن کے اُمرا اُن پر اِختیار جتاتے ہیں۔
MAT 20:26 مگر تُم میں اَیسا نہیں ہونا چاہیے۔ بَلکہ، تُم میں کوئی بڑا بننا چاہتاہے وہ تمہارا خادِم بنے،
MAT 20:27 اَور اگر تُم میں کویٔی سَب سے اُونچا درجہ حاصل کرنا چاہے وہ تمہارا غُلام بنے۔
MAT 20:28 چنانچہ اِبن آدمؔ اِس لیٔے نہیں آیا کہ خدمت لے بَلکہ، اِس لیٔے کہ خدمت کرے، اَور اَپنی جان دے کر بہتیروں کو رِہائی بخشے۔“
MAT 20:29 جَب یِسوعؔ اَور اُن کے شاگرد یریحوؔ سے نکل رہے تھے تو ایک بڑا ہُجوم حُضُور کے پیچھے ہو لیا۔
MAT 20:30 دو اَندھے راہ کے کنارے بیٹھے ہُوئے تھے۔ جَب اُنہُوں نے سُنا کہ یِسوعؔ وہاں سے گزر رہے ہیں تو وہ چِلّانے لگے، ”اَے خُداوؔند، اِبن داویؔد! ہم پر رحم کیجئے!“
MAT 20:31 ہُجوم نے اُسے ڈانٹا کہ خاموش ہو جاؤ، مگر وہ اَور بھی چِلّانے لگے، ”اَے خُداوؔند، اَے اِبن داویؔد! ہم پر رحم کیجئے!“
MAT 20:32 یِسوعؔ رُک گیٔے اَور اُنہیں بُلاکر پُوچھا، ”بتاؤ! مَیں تمہارے لیٔے کیا کروں؟“
MAT 20:33 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”خُداوؔند! ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنکھیں کھُل جایٔیں۔“
MAT 20:34 یِسوعؔ نے رحم کھا کر اُن کی آنکھوں کو چھُوا اَور وہ فوراً دیکھنے لگے اَور یِسوعؔ کے کا پیروکار بن گئے۔
MAT 21:1 جَب وہ یروشلیمؔ کے نزدیک پہُنچے اَور کوہِ زَیتُون پر بیت فگے کے پاس آئے، تو یِسوعؔ نے اَپنے دو شاگردوں کو یہ حُکم دے کر آگے بھیجا،
MAT 21:2 ”اَپنے سامنے والے گاؤں میں جاؤ، وہاں داخل ہوتے ہی تُمہیں ایک گدھی بندھی ہُوئی، اَور اُس کے ساتھ اُس کا بچّہ بھی ہوگا۔ اُنہیں کھول کر میرے پاس لے آنا۔
MAT 21:3 اَور اگر کویٔی تُم سے کُچھ کہے تو اُس سے کہنا کہ خُداوؔند کو اِن کی ضروُرت ہے، وہ فوراً ہی اُنہیں بھیج دے گا۔“
MAT 21:4 یہ اِس لیٔے ہُوا کہ جو کُچھ نبی کی مَعرفت فرمایا گیا تھا، وہ پُورا ہو جائے:
MAT 21:5 ”صِیّونؔ کی بیٹی سے کہو کہ ’تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے، وہ حلیم ہے اَور گدھے پر سوار ہے، ہاں گدھی کے بچّے پر، بوجھ ڈھونے والے کے بچّے پر۔‘ “
MAT 21:6 چنانچہ شاگرد روانہ ہُوئے اَور جَیسا یِسوعؔ نے اُنہیں حُکم دیا تھا وَیسا ہی کیا۔
MAT 21:7 وہ گدھے اَور اُس کے بچّے کو لے آئے اَور اَپنے کپڑے اُن پر ڈال دئیے اَور حُضُور اُس پر سوار ہو گیٔے۔
MAT 21:8 اَور ہُجوم میں سے بہت سے لوگوں نے اَپنے کپڑے راستے میں بچھا دئیے اَور بعض نے درختوں کی ڈالیاں کاٹ کاٹ کر راستہ میں پھیلا دیں۔
MAT 21:9 اَور وہ ہُجوم جو یِسوعؔ کے آگے آگے اَور پیچھے پیچھے چل رہاتھا، نعرے لگانے لگا، ”اِبن داویؔد کی ہوشعنا!“ ”مُبارک ہے وہ جو خُداوؔند کے نام سے آتا ہے!“ ”عالمِ بالا پر ہوشعنا!“
MAT 21:10 اَور جَب یِسوعؔ یروشلیمؔ شہر میں داخل ہویٔے تو سارے شہر میں ہلچل مچ گئی اَور لوگ پُوچھنے لگے کہ، ”یہ کون ہے؟“
MAT 21:11 ہُجوم نے کہا، ”یہ صُوبہ گلِیل کے شہر ناصرتؔ کے نبی یِسوعؔ ہیں۔“
MAT 21:12 اَور یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور آپ وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔ آپ نے پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کے تختے اَور کبُوتر فروشوں کی چوکیاں اُلٹ دیں۔
MAT 21:13 اَور یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”لِکھّا ہے، ’میرا گھر دعا کا گھر کہلائے گا،‘ مگر تُم نے اُسے ’ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘“
MAT 21:14 تَب کیٔی اَندھے اَور لنگڑے بیت المُقدّس میں حُضُور کے پاس آئے اَور آپ نے اُنہیں شفا بخشی۔
MAT 21:15 لیکن جَب اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں نے آپ کے معجزے دیکھے اَور لڑکوں کو بیت المُقدّس میں، ”اِبن داویؔد کی ہوشعنا،“ پُکارتے دیکھا تو خفا ہو گیٔے۔
MAT 21:16 اَور اُنہُوں نے یِسوعؔ سے پُوچھا، ”کیا آپ سُن رہے ہیں کہ یہ بچّے کیا نعرے لگا رہے ہیں؟“ یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”ہاں، میں سُن رہا ہُوں، کیا تُم نے یہ کبھی نہیں پڑھا، ” ’بچّوں اَور شیرخواروں کے لبوں سے بھی اَے خُداوؔند، آپ نے، اَپنی حَمد کروائی‘؟“
MAT 21:17 اَور تَب حُضُور اُنہیں چھوڑکر شہر سے باہر اَور بیت عنیّاہ گاؤں میں گیٔے اَور رات کو وہیں رہے۔
MAT 21:18 اَور جَب صُبح کو پھر یِسوعؔ شہر کی طرف جا رہے تھے تو آپ کو بھُوک لگی۔
MAT 21:19 حُضُور نے راہ کے کنارے اَنجیر کا درخت دیکھا اَور وہ نزدیک پہُنچا تو سِوائے پتّوں کے اُس میں اَور کُچھ نہ پایا۔ لہٰذا آپ نے درخت سے فرمایا، ”آئندہ تُجھ میں کبھی پھل نہ لگے۔“ اَور اُسی وقت اَنجیر کا درخت سُوکھ گیا۔
MAT 21:20 شاگردوں نے یہ دیکھا تو حیران ہوکر پُوچھنے لگے کہ، ”یہ اَنجیر کا درخت ایک دَم کیسے سُوکھ گیا؟“
MAT 21:21 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اگر تُم ایمان رکھو اَور شک نہ کرو تو، تُم نہ صِرف وُہی کروگے جو اَنجیر کے درخت کے ساتھ ہُوا، لیکن اگر اِس پہاڑ سے بھی کہو گے، ’اَپنی جگہ سے اُکھڑ جا اَور سمُندر میں جا گِر،‘ تو یہ بھی ہو جائے گا۔
MAT 21:22 اَورجو کُچھ دعا میں ایمان کے ساتھ مانگوگے وہ سَب تُمہیں مِل جائے گا۔“
MAT 21:23 جَب یِسوعؔ بیت المُقدّس میں آکر تعلیم دے رہے تھے تو اہم کاہِنوں اَور یہُودی بُزرگوں نے آپ کے پاس آکر پُوچھا، ”آپ یہ کام کِس اِختیار سے کرتے ہیں؟ اَور یہ اِختیار آپ کو کِس نے دیا؟“
MAT 21:24 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”میں بھی تُم سے ایک بات پُوچھتا ہُوں۔ اگر تُم اُس کا جَواب دوگے، تو میں بھی بتاؤں گا کہ میں یہ کام کِس اِختیار سے کرتا ہُوں۔
MAT 21:25 جو پاک غُسل یُوحنّا دیتے تھے وہ کہاں سے تھا؟ آسمان کی طرف سے یا اِنسان کی طرف سے؟“ وہ آپَس میں بحث کرنے لگے، ”اگر ہم کہیں، ’وہ آسمان کی طرف سے تھا،‘ تو وہ کہیں گے، ’پھر تُم نے اُس کا یقین کیوں نہ کیا؟‘
MAT 21:26 لیکن اگر ہم کہیں، ’اِنسان کی طرف سے تھا‘ تو ہمیں عوام کا ڈر ہے کیونکہ وہ یُوحنّا کو واقعی نبی مانتے ہیں۔“
MAT 21:27 لہٰذا اُنہُوں نے یِسوعؔ کو جَواب دیا، ”ہم نہیں جانتے ہیں۔“ تَب یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میں بھی تُمہیں نہیں بتاتا کہ اِن کاموں کو کِس اِختیار سے کرتا ہُوں۔
MAT 21:28 ”اَب تمہاری رائے کیا ہے؟ کسی آدمی کے دو بیٹے تھے۔ اُس نے بڑے کے پاس جا کر کہا، ’بیٹا، آج انگوری باغ میں جا اَور وہاں کام کر۔‘
MAT 21:29 ”اُس نے جَواب دیا، ’میں نہیں جاؤں گا،‘ لیکن بعد میں اُس نے اَپنا خیال بدل دیا اَور انگوری باغ میں چلا گیا۔
MAT 21:30 ”پھر باپ نے دُوسرے بیٹے کے پاس جا کر بھی یہی بات کہی۔ اُس نے جَواب دیا، ’اَچھّا جَناب، میں جاتا ہُوں لیکن گیا نہیں۔‘
MAT 21:31 ”اِن دونوں میں سے کِس نے اَپنے باپ کا حُکم مانا؟“ ”اُنہُوں نے جَواب دیا، بڑے بیٹے نے۔“ یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ محصُول لینے والے اَور فاحِشہ عورتیں تُم سے پہلے خُدا کی بادشاہی میں داخل ہوتی ہیں۔
MAT 21:32 کیونکہ یُوحنّا تُمہیں راستبازی کا راستہ دِکھانے آیا اَور تُم نے اُس کا یقین نہ کیا لیکن محصُول لینے والوں اَور فاحِشہ عورتوں نے کیا، یہ دیکھ کر بھی تُم نے نہ تو تَوبہ کی اَور نہ اُس پر ایمان لایٔے۔
MAT 21:33 ”ایک اَور تمثیل سُنو! ایک زمین دار نے انگوری باغ لگایا اَور اُس کے چاروں طرف احاطہ کھڑا کیا، اُس میں انگوروں کے رس کا ایک حوض کھودا اَور نگہبانی کے لیٔے ایک بُرج بھی بنایا۔ اَور تَب اُس نے انگوری باغ کاشت کاروں کو ٹھیکہ پردے دیا اَور خُود پردیس چلا گیا۔
MAT 21:34 جَب انگور توڑنے کا موسم آیا تو اُس نے اَپنے خادِموں کو ٹھیکیداروں کے پاس اَپنے پھلوں کا حِصّہ لینے بھیجا۔
MAT 21:35 ”ٹھیکیداروں نے اُس کے خادِموں کو پکڑکر کسی کو پِیٹا، کسی کو قتل کیا اَور کسی پر پتّھر برسائے۔
MAT 21:36 تَب اُس نے کُچھ اَور خادِموں کو بھیجا جِن کی تعداد پہلے خادِموں سے زِیادہ تھی لیکن ٹھیکیداروں نے اُن کے ساتھ بھی وُہی سلُوک کیا۔
MAT 21:37 آخِرکار اُس نے اَپنے بیٹے کو اُن کے پاس بھیجا۔ اَور سوچا، ’وہ میرے بیٹے کا تو ضروُر اِحترام کریں گے۔‘
MAT 21:38 ”مگر جَب ٹھیکیداروں نے اُس کے بیٹے کو دیکھا تو آپَس میں کہنے لگے، ’یہی وارِث ہے، آؤ اِسے قتل کر دیں اَور اُس کی مِیراث پر قبضہ کر لیں۔‘
MAT 21:39 لہٰذا اُنہُوں نے اُسے پکڑکر انگوری باغ کے باہر نکالا اَور قتل کر ڈالا۔
MAT 21:40 ”پس جَب انگوری باغ کا مالک خُود آئے گا، تو وہ اُن ٹھیکیداروں کے ساتھ کیا کرےگا؟“
MAT 21:41 ”اُنہُوں نے جَواب دیا کہ وہ اُن بدکاروں کو بُری طرح ہلاک کرکے انگوری باغ کا ٹھیکہ دُوسرے ٹھیکیداروں کو دے گا، جو موسم پر اُسے پھل کا حِصّہ اَدا کریں۔“
MAT 21:42 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”کیا تُم نے کِتاب مُقدّس میں کبھی نہیں پڑھا: ” ’جِس پتّھر کو مِعماروں نے ردّ کر دیا وُہی کونے کے سِرے کا پتّھر ہو گئے؛ یہ کام خُداوؔند نے کیا ہے، اَور ہماری نظر میں یہ تعجُّب اَنگیز ہے؟‘
MAT 21:43 ”اِس لیٔے میں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا کی بادشاہی تُم سے لے لی جائے گی اَور اُس قوم کو جو پھل لایٔے، اُسے دے دی جائے گی۔
MAT 21:44 اَورجو کویٔی اِس پتّھر پر گِرے گا، ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا لیکن جِس پر یہ گِرے گا اُسے پیس ڈالے گا۔“
MAT 21:45 جَب اہم کاہِنوں اَور فریسیوں نے یِسوعؔ کی تمثیلیں سُنیں تو، سمجھ گیٔے کہ وہ یہ باتیں ہمارے حق میں کہتاہے۔
MAT 21:46 اَور اُنہُوں نے حُضُور کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن ہُجوم سے ڈرتے تھے کیونکہ لوگ آپ کو نبی مانتے تھے۔
MAT 22:1 اَور یِسوعؔ پھر اُن سے تمثیلوں میں کہنے لگے:
MAT 22:2 ”آسمان کی بادشاہی ایک بادشاہ کی مانِند ہے جِس نے اَپنے بیٹے کی شادی کی دعوت دی۔
MAT 22:3 اَپنے غُلاموں کو بھیجا کہ وہ اُن لوگوں کو جنہیں شادی کی دعوت دی گئی تھی، بُلا لائیں، لیکن اُنہُوں نے آنے سے منع کر دیا۔
MAT 22:4 ”پھر اُس نے اَور غُلاموں کو یہ کہہ کر روانہ کیا، ’جنہیں مَیں نے دعوت دی ہے اُنہیں کہو کہ کھانا تیّار ہو چُکاہے: میرے بَیل اَور موٹے موٹے جانور ذبح کئے جا چُکے ہیں اَور سَب کُچھ تیّار ہے۔ شادی کی دعوت میں شریک ہونے کے لیٔے آ جاؤ۔‘
MAT 22:5 ”لیکن اُنہُوں نے کویٔی پروا نہ کی اَور چل دئیے۔ کویٔی اَپنے کھیت میں چلا گیا، کویٔی اَپنے کاروبار میں لگ گیا،
MAT 22:6 باقیوں نے اُس کے غُلاموں کو پکڑکر اُن کی بے عزّتی کی اَور جان سے مار بھی ڈالا۔
MAT 22:7 بادشاہ بہت غضبناک ہُوا۔ اُس نے اَپنے سپاہی بھیج کر اُن خُونیوں کو ہلاک کروا دیا اَور اُن کے شہر کو جَلا دیا۔
MAT 22:8 ”تَب اُس نے اَپنے غُلاموں سے کہا، ’شادی کی ضیافت تیّار ہے، لیکن جو بُلائے گیٔے تھے وہ اِس کے لائق نہ تھے۔
MAT 22:9 اِس لیٔے چوراہوں پر جاؤ اَور جتنے تُمہیں ملیں اُن سَب کو ضیافت میں بُلا لاؤ۔‘
MAT 22:10 لہٰذا وہ غُلام گیٔے اَور جتنے بُرے بھلے اُنہیں ملے، سَب کو جمع کرکے لے آئے اَور شادی خانہ مہمانوں سے بھر گیا۔
MAT 22:11 ”اَور جَب بادشاہ مہمانوں کو دیکھنے اَندر آیا تو اُس کی نظر ایک آدمی پر پڑی جو شادی کے لباس میں نہ تھا۔
MAT 22:12 بادشاہ نے اُس سے پُوچھا، ’دوست، تُم شادی کا لباس پہنے بغیر یہاں کیسے چلے آئے؟‘ لیکن اُس کے پاس اِس کا کویٔی جَواب نہ تھا۔
MAT 22:13 ”اِس پر بادشاہ نے اَپنے خادِموں سے فرمایا، ’اِس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اِسے باہر اَندھیرے میں ڈال دو، جہاں وہ روتا اَور دانت پیستا رہے گا۔‘
MAT 22:14 ”کیونکہ بُلائے ہُوئے تو بہت ہیں، مگر چُنے ہُوئے کم ہیں۔“
MAT 22:15 تَب فرِیسی وہاں سے چلے گیٔے اَور آپَس میں مشورہ کیا کہ حُضُور کو کیسے باتوں میں پھنسائیں۔
MAT 22:16 لہٰذا اُنہُوں نے اَپنے بعض شاگرد اَور ہیرودیوں کے سیاسی گِروہ کے ساتھ کُچھ آدمی یِسوعؔ کے پاس بھیجے۔ اُنہُوں نے کہا، ”اَے اُستاد محترم، ہم جانتے ہیں کہ آپ سچ بولتے ہیں اَور یہ خیال کیٔے بغیر کہ کون کیا ہے، راستی سے خُدا کی راہ پر چلنے کی تعلیم دیتے ہیں۔
MAT 22:17 اِس لیٔے ہمیں بتائیں کہ آپ کی رائے میں قَیصؔر کو محصُول اَدا کرنا روا ہے یا نہیں؟“
MAT 22:18 یِسوعؔ اُن کی منافقت کو سمجھ گیٔے اَور فرمایا، ”اَے ریاکاروں! مُجھے کیوں آزماتے ہو؟
MAT 22:19 جو سِکّہ محصُول کے طور پر دیتے ہو اُسے مُجھے دِکھاؤ۔“ وہ ایک دینار لے آئے۔
MAT 22:20 حُضُور نے اُن سے پُوچھا، ”اِس دینار پر کِس کی صورت اَور کِس کا نام لِکھّا ہُواہے؟“
MAT 22:21 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”قَیصؔر کا۔“ تَب حُضُور نے اُن سے فرمایا، ”جو قَیصؔر کا ہے وہ قَیصؔر کو اَورجو خُدا کا ہے، وہ خُدا کو اَدا کرو۔“
MAT 22:22 اَور وہ یہ جَواب سُن کر، حیران رہ گیٔے اَور حُضُور کو چھوڑکر چلے گیٔے۔
MAT 22:23 اُسی دِن صدُوقی جو قیامت کے مُنکر ہیں، یِسوعؔ کے پاس آئے۔
MAT 22:24 اَور آپ سے یہ سوال کیا، ”اَے اُستاد محترم، حضرت مَوشہ نے فرمایاہے کہ اگر کویٔی آدمی بے اَولاد مَر جائے تو اُس کا بھایٔی اُس کی بِیوہ سے شادی کر لے تاکہ اَپنے بھایٔی کے لیٔے نَسل پیدا کر سکے۔
MAT 22:25 ہمارے یہاں سات بھایٔی تھے۔ پہلے نے شادی کی اَور بے اَولاد مَر گیا، وہ اَپنی بیوی اَپنے بھایٔی کے لیٔے چھوڑ گیا تاکہ وہ اُس کی بیوی بَن جائے۔
MAT 22:26 یہی واقعہ اُس کے دُوسرے اَور تیسرے اَور ساتویں بھایٔی تک ہوتا رہا۔
MAT 22:27 اَور آخِرکار، وہ عورت بھی مَر گئی۔
MAT 22:28 اَب یہ بتائیں کہ قیامت کے دِن وہ اُن ساتوں میں سے کِس کی بیوی ہوگی کیونکہ اُن سَب نے اُس سے شادی کی تھی؟“
MAT 22:29 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تُم گُمراہ ہو گئے ہو کہ تُم نہ تو کِتاب مُقدّس کو ہی جانتے ہو اَور نہ ہی خُدا کی قُدرت کو۔
MAT 22:30 کیونکہ جَب قیامت ہوگی تو لوگ شادی نہیں کریں گے اَور نہ ہی نکاح میں دئیے جایٔیں گے؛ لیکن آسمان پر فرشتوں کی مانِند ہوں گے۔
MAT 22:31 اَور جہاں تک قیامت یعنی مُردوں کے جی اُٹھنے کا سوال ہے، تو کیا تُم نے وہ جو خُدا نے تُم سے فرمایاہے نہیں پڑھا کہ
MAT 22:32 ’میں اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کا خُدا ہُوں؟‘ یعنی وہ مُردوں کا نہیں لیکن زندوں کا خُدا ہے۔“
MAT 22:33 ہُجوم حُضُور کی یہ تعلیم سُن کر حیران رہ گیٔے۔
MAT 22:34 جَب فریسیوں نے سُنا کہ یِسوعؔ نے صدُوقیوں کا مُنہ بند کر دیا تو وہ جمع ہُوئے۔
MAT 22:35 اَور اُن میں سے ایک جو شَریعت کا عالِم تھا، یِسوعؔ کو آزمانے کی غرض سے پُوچھا:
MAT 22:36 ”اَے اُستاد محترم، توریت میں سَب سے بڑا حُکم کون سا ہے؟“
MAT 22:37 یِسوعؔ نے جَواب دیا: ” ’تُم خُداوؔند اَپنے خُدا سے اَپنے سارے دِل، اَپنی ساری جان اَور اَپنی ساری عقل سے مَحَبّت رکھو۔‘
MAT 22:38 سَب سے بڑا اَور پہلا حُکم یہی ہے۔
MAT 22:39 اَور دُوسرا جو اِس کی مانِند ہے: ’تُم اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا۔‘
MAT 22:40 ساری شَریعت اَور نبیوں کے صحائف اِن ہی دو حُکموں پر زور دیتے ہیں۔“
MAT 22:41 جَب فرِیسی وہاں جمع تھے تو یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا،
MAT 22:42 ”المسیح کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ وہ کِس کا بیٹا ہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”داویؔد کا بیٹا ہے۔“
MAT 22:43 حُضُور نے اُن سے پُوچھا، ”پھر داویؔد پاک رُوح کی ہدایت سے، اُسے ’خُداوؔند‘ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ داویؔد فرماتے ہیں،
MAT 22:44 ” ’خُداتعالیٰ نے میرے خُداوؔند سے کہا: ”میری داہنی طرف بیٹھو جَب تک کہ مَیں تمہارے دُشمنوں کو تمہارے پاؤں کے نیچے نہ کر دُوں۔“ ‘
MAT 22:45 پس اگر داویؔد المسیح کو ‏‏’خُداوؔند،‘ کہتے ہیں تو وہ کِس طرح داویؔد کا بیٹاہو سکتے ہیں؟“
MAT 22:46 اُن میں سے کویٔی ایک لفظ بھی جَواب میں نہ کہہ سَکا، اَور اُس دِن کے بعد پھر کسی نے بھی حُضُور سے اَور کویٔی سوال کرنے کی جُرأت نہ کی۔
MAT 23:1 اُس وقت یِسوعؔ نے ہُجوم سے اَور اَپنے شاگردوں سے یہ فرمایا:
MAT 23:2 شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی حضرت مَوشہ کی گدّی پر بیٹھے ہیں۔
MAT 23:3 لہٰذا جو کُچھ یہ تُمہیں سکھائیں اُسے مانو اَور اُس پر عَمل کرو لیکن اُن کے نمونہ پر مت چلو کیونکہ وہ کہتے تو ہیں مگر کرتے نہیں۔
MAT 23:4 وہ اَیسے بھاری بوجھ لادتے جِن کو اُٹھانا مُشکل ہے، باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں لیکن خُود اُسے ہٹانے کے لیٔے اَپنی اُنگلی تک نہیں لگاتے۔
MAT 23:5 وہ اَپنے سَب کاموں کو دِکھانے کو کرتے ہیں: کیونکہ وہ بڑے بڑے تعویذ پہنتے ہیں اَور اَپنی پوشاک کے کنارے چوڑے رکھتے ہیں۔
MAT 23:6 وہ ضیافتوں میں صدر نشینی اَور یہُودی عبادت گاہوں میں اعلیٰ درجہ کی کُرسیاں چاہتے ہیں۔
MAT 23:7 اَور بازاروں میں اِحتراماً مُبارکبادی سلام اَور لوگوں سے ربّی کہلانا پسند کرتے ہیں۔
MAT 23:8 لیکن تُم ربّی، نہ کہلاؤ کیونکہ تمہارا اُستاد ایک ہی ہے اَور تُم سَب بھایٔی ہو۔
MAT 23:9 اَور زمین پر کسی کو اَپنا باپ، مت کہو کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہے جو آسمان میں ہے۔
MAT 23:10 اَور نہ ہی ہادی کہلاؤ کیونکہ تمہارا ایک ہی ہادی ہے یعنی المسیح۔
MAT 23:11 لیکن جو تُم میں بڑا بننا چاہتاہے وہ تمہارا خادِم بنے۔
MAT 23:12 اَورجو کویٔی اَپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اَورجو اَپنے آپ کو حلیم بنائے گا وہ بڑا کیا جائے گا۔
MAT 23:13 اَے شَریعت کے عالِموں اَور فریسیوں! اَے ریاکاروں! تُم پر افسوس، کیونکہ تُم نے آسمان کی بادشاہی کو لوگوں کے داخلہ کے لیٔے بند کر دیتے ہو، کیونکہ نہ تو خُود داخل ہوتے ہو اَور نہ تو داخل ہونے والے کو داخل ہونے دیتے ہو۔
MAT 23:14 ”اَے شَریعت کے عالِموں اَور فریسیوں! اَے ریاکاروں! تُم پر افسوس، کیونکہ تُم بیواؤں کے بیواؤں کے گھروں کو ہڑپ کرلیتے ہو اَور دِکھاوے کے طور پر لمبی لمبی دعائیں کرتے ہو۔ تُمہیں زِیادہ سزا ملے گی۔
MAT 23:15 ”اَے شَریعت کے عالِموں اَور فریسیوں! اَے ریاکاروں! تُم پر افسوس، کیونکہ تُم کسی کو اَپنا مُرید بنانے کے لیٔے سمُندر اَور خُشکی کا سفر کرتے ہو، اَور جَب اَپنا بنا لیتے ہو تو اُسے اَپنے سے دُگنا جہنّمی بنا دیتے ہو۔
MAT 23:16 ”اَے اَندھے رہنماؤ! تُم پر افسوس! تُم کہتے ہو، ’اگر کویٔی بیت المُقدّس کی قَسم کھائے تو کویٔی حرج نہیں لیکن اگر بیت المُقدّس کے سونے کی قَسم کھائے تو قَسم کا پابند ہوگا۔‘
MAT 23:17 اَے اَندھوں اَور احمقوں! بڑا کیا ہے: سونا یا بیت المُقدّس جِس کی وجہ سے سونا پاک سمجھا جاتا ہے؟
MAT 23:18 تُم کہتے ہو کہ، ’اگر کویٔی قُربان گاہ کی قَسم کھائے تو کویٔی حرج نہیں لیکن اگر نذر کی جو اُس پر چڑھائی جاتی ہے، قَسم کھائے تو قَسم کا پابند ہوگا۔‘
MAT 23:19 اَے اَندھوں! بڑی چیز کون سِی ہے، نذر یا قُربان گاہ جِس کی وجہ سے نذر کو مُقدّس سمجھا جاتا ہے؟
MAT 23:20 چنانچہ جو کویٔی قُربان گاہ کی قَسم کھاتا ہے وہ قُربان گاہ کی اَور اُس پر چڑھائی جانے والی سَب چیزوں کی قَسم کھاتا ہے۔
MAT 23:21 اَورجو کویٔی بیت المُقدّس کی قَسم کھاتا ہے وہ بیت المُقدّس کی اَور اُس میں رہنے والے کی قَسم کھاتا ہے۔
MAT 23:22 اَورجو کویٔی آسمان کی قَسم کھاتا ہے وہ خُدا کے تخت اَور اُس پر بیٹھنے والے کی قَسم کھاتا ہے۔
MAT 23:23 ”اَے شَریعت کے عالِموں اَور فریسیوں! اَے ریاکاروں! تُم پر افسوس، کیونکہ تُم پودینہ، سونف اَور زیرہ کا دسواں حِصّہ تو خُدا کے نام پر دیتے ہو لیکن شَریعت کی زِیادہ وزنی باتوں یعنی اِنصاف، اَور رحمدلی اَور ایمان کو فراموش کر بیٹھے ہو۔ تُمہیں لازِم تھا کہ یہ بھی کرتے اَور وہ بھی نہ چھوڑتے۔
MAT 23:24 اَے اَندھے رہنماؤ! تُم مچھّر کو چھانتے ہو مگر اُونٹ کو نگل لیتے ہو۔
MAT 23:25 ”اَے شَریعت کے عالِموں اَور فریسیوں! اَے ریاکاروں! تُم پر افسوس، کیونکہ تُم پیالے اَور رکابی کو باہر سے تو صَاف کرتے ہو مگر اَندر سے وہ لُوٹ اَور ناراستی سے بھری پڑی ہے۔
MAT 23:26 اَے اَندھے فرِیسی! پہلے پیالے اَور رکابی کو اَندر سے صَاف کر تاکہ وہ باہر سے بھی صَاف ہو جایٔیں۔
MAT 23:27 ”اَے شَریعت کے عالِموں اَور فریسیوں! اَے ریاکاروں! تُم پر افسوس، کیونکہ تُم اُن قبروں کی طرح ہو جِن پر سفیدی پھری ہُوئی ہے۔ وہ باہر سے تو خُوبصورت دِکھائی دیتی ہیں لیکن اَندر مُردوں کی ہڈّیوں اَور ہر طرح کی نَجاست سے بھری ہوتی ہیں۔
MAT 23:28 اِسی طرح تُم بھی باہر سے تو لوگوں کو راستباز نظر آتے ہو لیکن اَندر ریاکاری اَور بے دینی سے بھرے ہُوئے ہو۔
MAT 23:29 ”اَے شَریعت کے عالِموں اَور فریسیوں! اَے ریاکاروں! تُم پر افسوس، کیونکہ تُم نبیوں کے لیٔے مقبرے بناتے ہو، اَور راستبازوں کی قبریں آراستہ کرتے ہو،
MAT 23:30 اَور تُم کہتے ہو، ’اگر ہم اَپنے باپ دادا کے زمانہ میں ہوتے تو نبیوں کو قتل کرنے میں اُن کا ساتھ نہ دیتے۔‘
MAT 23:31 یُوں تُم خُود ہی گواہی دیتے ہو کہ تُم نبیوں کو قتل کرنے والوں کی اَولاد ہو۔
MAT 23:32 غرض تُم اَپنے باپ دادا کی رہی سہی کسر پُوری کر دو۔
MAT 23:33 ”اَے سانپوں! اَے زہریلے سانپ کے بچّو! تُم جہنّم کی سزا سے کیسے بچوگے؟
MAT 23:34 اِس لیٔے میں نبیوں، داناؤں اَور شَریعت کے عالِموں کو تمہارے پاس بھیج رہا ہُوں۔ تُم اُن میں سے بعض کو قتل کر ڈالوگے، بعض کو صلیب پر لٹکا دوگے اَور بعض کو اَپنے یہُودی عبادت گاہوں میں کوڑوں سے ماروگے اَور شہر بہ شہر اُن کو ستاتے پھروگے۔
MAT 23:35 تاکہ تمام راستبازوں کا خُون جو زمین پر بہایا گیا ہے، اُس کا عذاب تُم پر آئے۔ یعنی راستباز ہابلؔ کے خُون سے لے کر بیرکیاہ کے بیٹے زکریاؔہ کے خُون تک کا، جسے تُم نے بیت المُقدّس اَور قُربان گاہ کے درمیان قتل کیا تھا۔
MAT 23:36 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ یہ سَب کُچھ اِسی زمانہ کے لوگوں پر آئے گا۔
MAT 23:37 ”اَے یروشلیمؔ! اَے یروشلیمؔ! تُو جو نبیوں کو قتل کرتی ہے اَورجو تیرے پاس بھیجے گیٔے اُنہیں سنگسار کر ڈالتی ہے، مَیں نے کیٔی دفعہ چاہا کہ تیرے بچّوں کو ایک ساتھ جمع کرلُوں، جِس طرح مُرغی اَپنے چُوزوں کو اَپنے پروں کے نیچے جمع کر لیتی ہے، لیکن تُم نے نہ چاہا۔
MAT 23:38 دیکھو! تمہارا گھر تمہارے ہی لیٔے ویران چھوڑا جا رہاہے۔
MAT 23:39 اَور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ تُم مُجھے اُس وقت تک ہرگز نہ دیکھوگے جَب تک یہ نہ کہو گے، ’مُبارک ہے وہ جو خُداوؔند کے نام سے آتا ہے۔‘ “
MAT 24:1 اَور یِسوعؔ بیت المُقدّس سے نکل کر باہر جا رہے تھے تبھی آپ کے شاگرد آپ کے پاس آئے تاکہ حُضُور کو بیت المُقدّس کی مُختلف عمارتیں دِکھائیں۔
MAT 24:2 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”کیا تُم یہ سَب کُچھ دیکھ رہے ہو؟ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ یہاں کویٔی ایک بھی پتّھر دُوسرے کے اُوپر باقی نہ رہے گا جو گرایا نہ جائے گا۔“
MAT 24:3 جَب حُضُور کوہِ زَیتُون پر بیٹھے تھے تو آپ کے شاگرد تنہائی میں آپ کے پاس آئے اَور پُوچھنے لگے، ”ہمیں بتائیں کہ یہ باتیں کب ہُوں گی اَور آپ کی آمد اَور دُنیا کے ختم ہونے کا نِشان کیا ہے؟“
MAT 24:4 یِسوعؔ نے جَواب میں اُن سے فرمایا: ”خبردار! کویٔی تُمہیں گُمراہ نہ کر دے۔
MAT 24:5 کیونکہ بہت سے میرے نام سے آئیں گے اَور دعویٰ کریں گے، ’میں ہی المسیح ہُوں،‘ اَور یہ کہہ کر بہت سے لوگوں کو گُمراہ کر دیں گے۔
MAT 24:6 اَور تُم لڑائیوں کی خبریں اَور افواہیں سنوگے۔ خبردار! گھبرانا مت، کیونکہ اِن باتوں کا ہونا ضروُری ہے۔ لیکن ابھی خاتِمہ نہ ہوگا۔
MAT 24:7 کیونکہ قوم پر قوم اَور سلطنت پر سلطنت حملہ کرےگی۔ اَور جگہ جگہ قحط پڑیں گے اَور زلزلے آئیں گے۔
MAT 24:8 یہ سَب آگے آنے والی مُصیبتوں کا یہ صِرف آغاز ہی ہوگا۔
MAT 24:9 ”اُس وقت لوگ تُمہیں پکڑ پکڑکر سخت اِیذا دیں گے اَور تُمہیں قتل کریں گے، اَور ساری قومیں میرے نام کی وجہ سے تُم سے دُشمنی رکھیں گی۔
MAT 24:10 اُس وقت بہت سے لوگ ایمان سے برگشتہ ہوکر ایک دُوسرے کو پکڑوائیں گے اَور آپَس میں عداوت رکھیں گے۔
MAT 24:11 اَور بہت سے جھُوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اَور بہت سے لوگوں کو گُمراہ کر دیں گے۔
MAT 24:12 اَور بے دینی کے بڑھ جانے کے سبب سے کیٔی لوگوں کی مَحَبّت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔
MAT 24:13 لیکن جو آخِر تک برداشت کرےگا وہ نَجات پایٔےگا۔
MAT 24:14 اَور اِس آسمانی بادشاہی کی خُوشخبری ساری دُنیا میں سُنایٔی جائے گی تاکہ سَب قوموں پر اِس کی گواہی ہو اَور تَب دُنیا کا خاتِمہ ہوگا۔
MAT 24:15 ”پس جَب تُم اُس ’اُجاڑ دینے والی مکرُوہ چیز کو،‘ جِس کا ذِکر دانی ایل نبی نے کیا ہے، مُقدّس مقام میں کھڑا دیکھو (پڑھنے والا سمجھ لے)
MAT 24:16 تَب اُس وقت جو یہُودیؔہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر چلے جایٔیں۔
MAT 24:17 جو کویٔی جو چھت پر ہو وہ نیچے نہ اُترے اَور نہ ہی گھر کے اَندر جا کر کُچھ باہر نکالنے کی کوشش کرے۔
MAT 24:18 جو شخص کھیت میں ہو، اَپنا کپڑا لینے کے لیٔے واپس نہ جائے۔
MAT 24:19 مگر حاملہ خواتین اَور اُن ماؤں کا جو اُن دِنوں میں دُودھ پِلاتی ہوں گی، وہ دِن کتنے خوفناک ہوں گے!
MAT 24:20 پس دعا کرو کہ تُمہیں سردیوں میں یا سَبت کے دِن بھاگنا نہ پڑے۔
MAT 24:21 کیونکہ اُس وقت کی مُصیبت اَیسی بڑی ہوگی کہ دُنیا کے شروع سے نہ تو اَب تک آئی ہے اَور نہ پھر کبھی آئے گی۔
MAT 24:22 ”اگر اُن دِنوں کی تعداد کم نہ کرتا تو، کویٔی جاندار زندہ نہ بچایا جاتا، لیکن چُنے ہُوئے لوگوں کی خاطِر اُن دِنوں کی تعداد کم کر دی جائے گی۔
MAT 24:23 اُس وقت اگر کویٔی تُم سے کہے کہ ’دیکھو،‘ المسیح ’یہاں ہے!‘ یا، ’وہ وہاں ہے!‘ تو یقین نہ کرنا۔
MAT 24:24 کیونکہ جھُوٹے المسیح اَور جھُوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اَور بڑے نِشانات اَور عجائبات کر دِکھائیں گے، تاکہ اگر ممکن ہو تو خُدا کے برگُزیدہ لوگوں کو بھی گُمراہ کر دیں۔
MAT 24:25 دیکھو، مَیں نے پہلے ہی تُمہیں بتا دیا ہے۔
MAT 24:26 ”پس اگر کویٔی تُم سے کہے، ’دیکھو وہ بیابان میں ہے، تو باہر نہ جانا؛ یا یہ کہ وہ اَندرونی کمروں میں ہے، تو یقین نہ کرنا۔‘ “
MAT 24:27 کیونکہ جَیسے بجلی مشرق سے چمک کر مغرب تک دِکھائی دیتی ہے وَیسے ہی اِبن آدمؔ کا آنا ہوگا۔
MAT 24:28 جہاں مَرا ہُوا جانور ہوتاہے وہاں گِدھ بھی جمع ہو جاتے ہیں۔
MAT 24:29 اُن دِنوں کی مُصیبت کے بعد فوراً ” ’سُورج تاریک ہو جائے گا، اَور چاند کی رَوشنی جاتی رہے گی؛ آسمان سے سِتارے گِریں گے، اَور آسمان کی قُوّتیں ہلایٔی جایٔیں گی۔‘
MAT 24:30 ”اَور اُس وقت اِبن آدمؔ کا نِشان آسمان پر دِکھائی دے گا اَور تَب زمین کی سَب قومیں چھاتی پیٹیں گی اَور اِبن آدمؔ کو آسمان کے بادلوں پر عظیم قُدرت اَور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گی۔
MAT 24:31 اَور حُضُور اَپنے فرشتوں کو نرسنگے کی تیز آواز کے ساتھ بھیجیں گے اَور وہ اَپنے برگُزیدہ لوگوں کو چاروں طرف سے یعنی آسمان کے ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک جمع کریں گے۔
MAT 24:32 ”اَنجیر کے درخت سے یہ سبق سیکھو: جُوں ہی اُس کی ڈالی نرم ہوتی ہے اَور پتّے نکلتے ہیں تو تُمہیں مَعلُوم ہو جاتا ہے، کہ گرمی نزدیک ہے۔
MAT 24:33 اِسی طرح، جَب تُم یہ سَب باتیں ہوتے دیکھو، تو جان لو کہ وہ نزدیک ہے، بَلکہ دروازے ہی پر ہے۔
MAT 24:34 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اِس نَسل کے ختم ہونے سے پہلے ہی یہ سَب کُچھ پُورا ہوگا۔
MAT 24:35 آسمان اَور زمین ٹل جایٔیں گی لیکن میری باتیں کبھی نہیں ٹلیں گی۔
MAT 24:36 ”مگر وہ دِن اَور وقت کب آئے گا کویٔی نہیں جانتا، نہ تو آسمان کے فرشتے جانتے ہیں، اَور نہ بیٹا، صِرف آسمانی باپ جانتے ہیں۔
MAT 24:37 جَیسا حضرت نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا وَیسا ہی اِبن آدمؔ کی آمد کے وقت ہوگا۔
MAT 24:38 کیونکہ جِس طرح سیلاب سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اَور شادی کرتے کراتے رہے، جَب تک حضرت نُوح اُس لکڑی کے جہاز میں داخل نہ ہو گیٔے۔
MAT 24:39 اَور جَب تک کہ سیلاب آکر اُنہیں بہانہ لے گیا اُن سَب کو خبر تک نہ ہویٔی۔ اُسی طرح اِبن آدمؔ کی آمد بھی ہوگی۔
MAT 24:40 اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہوں گے؛ ایک لے لیا جائے گا اَور دُوسرا چھوڑ دیا جائے گا۔
MAT 24:41 دو عورتیں چکّی پیستی ہوں گی؛ ایک لے لی جائے گی اَور دُوسری چھوڑ دی جائے گی۔
MAT 24:42 ”پس جاگتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ تمہارا خُداوؔند کِس دِن آئے گا۔
MAT 24:43 لیکن یہ جان لو کہ اگر گھر کے مالک کو مَعلُوم ہو تاکہ چور رات کو کِس وقت آئے گا تو وہ جاگتا رہتا اَور اَپنے گھر میں نقب نہ لگنے دیتا۔
MAT 24:44 پس تُم بھی تیّار رہو کیونکہ جِس گھڑی تُمہیں اُمّید تک نہ ہوگی اِبن آدمؔ اُسی وقت آ جائے گا۔
MAT 24:45 ”پھر وہ وفادار اَور ہوشیار خادِم کون سا ہے، جسے اُس کے مالک نے اَپنے گھر کے خادِموں پر مُقرّر کیا تاکہ اُنہیں وقت پر کھانا دیا کرے؟
MAT 24:46 وہ خادِم مُبارک ہے جِس کا مالک آئے تو اُسے اَیسا ہی کرتے پایٔے۔
MAT 24:47 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اَپنی ساری مِلکیّت کی دیکھ بھال کا اِختیار اُس کے حوالے کر دے گا۔
MAT 24:48 لیکن اگر وہ خادِم بُرا نکلے اَور اَپنے دِل میں کہنے لگے، میرے مالک کے آنے میں ابھی دیر ہے،
MAT 24:49 اَور اَپنے ساتھیوں کو مارنے پیٹنے لگے اَور شرابیوں کے ساتھ کھانا پینا شروع کر دے۔
MAT 24:50 تو اُس خادِم کا مالک کسی اَیسے دِن واپس آ جائے گا، جِس کی اُسے اُمّید نہ ہوگی، اَور جِس گھڑی کی اُسے خبر نہ ہوگی۔
MAT 24:51 تو وہ اُسے غضبناک سزا دے گا اُس کا اَنجام ریاکاروں کے جَیسا ہوگا جہاں وہ روتا اَور دانت پیستا رہے گا۔
MAT 25:1 ”اُس وقت آسمان کی بادشاہی اُن دس کنواریوں کی مانِند ہوگی جو اَپنے مشعلیں لے کر دُلہا سے مُلاقات کرنے نکلیں۔
MAT 25:2 اُن میں سے پانچ بےوقُوف اَور پانچ عقلمند تھیں۔
MAT 25:3 جو بےوقُوف تھیں اُنہُوں نے مشعلیں تو لے لیں لیکن اَپنے ساتھ تیل نہ لیا۔
MAT 25:4 مگر جو عقلمند تھیں اُنہُوں نے اَپنے مشعلوں کے علاوہ کُپّیوں میں تیل بھی اَپنے ساتھ لے لیا۔
MAT 25:5 اَور جَب دُلہا کے آنے میں دیر ہو گئی تو وہ سَب کی سَب اُونگھتے اُونگھتے سو گئیں۔
MAT 25:6 ”آدھی رات ہُوئی تو دھوم مچ گئی: ’دُلہا آ گیا ہے! اُس سے مِلنے کے لیٔے آ جاؤ۔‘
MAT 25:7 ”اِس پر سَب کنواریاں جاگ اُٹھیں اَور اَپنی اَپنی مشعلیں دُرست کرنے لگیں۔
MAT 25:8 اَور بےوقُوف کنواریوں نے عقلمند کنواریوں سے کہا، ’اَپنے تیل میں سے کُچھ ہمیں بھی دے دو کیونکہ ہماری مشعلیں بُجھی جا رہی ہیں۔‘ “
MAT 25:9 عقلمند کنواریوں نے جَواب دیا، ” ’نہیں، شاید یہ تیل ہمارے اَور تمہارے دونوں کے لیٔے کافی نہ ہو، بہتر ہے کہ تُم دُکان پر جا کر اَپنے لیٔے تیل خرید لو۔‘
MAT 25:10 ”جَب وہ تیل خریدنے جا رہی تھیں تو دُلہا آ پہُنچا۔ جو کنواریاں تیّار تھیں، دُلہا کے ساتھ شادی کی ضیافت میں اَندر چلی گئیں اَور دروازہ بند کر دیا گیا۔
MAT 25:11 ”پھر بعد میں باقی کنواریاں بھی آ گئیں اَور کہنے لگیں، ’اَے مالک، اَے مالک، ہمارے لیٔے دروازہ کھول دیجئے۔‘
MAT 25:12 ”لیکن مالک نے جَواب دیا، ’سچ تُو یہ ہے کہ میں تُمہیں نہیں جانتا۔‘
MAT 25:13 ”لہٰذا جاگتے رہو، کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ وہ دِن کو نہ اُس گھڑی کو۔
MAT 25:14 ”آسمان کی بادشاہی اُس آدمی کی طرح بھی ہے، جو سفر پر روانہ ہونے کو تھا، اَور جاتے وقت اَپنے خادِموں کو بُلاکر اَپنا مال اُن کے حوالے کر دیا۔“
MAT 25:15 اُس نے ہر ایک کو اُس کی قابلیّت کے مُطابق دیا، ایک کو پانچ توڑے دئیے، دُوسرے کو دو اَور تیسرے کو ایک توڑا اَور پھر وہ سفر پر روانہ ہو گیا۔
MAT 25:16 جِس خادِم کو پانچ توڑے ملے تھے اُس نے فوراً جا کر کاروبار کیا اَور پانچ توڑے اَور کمائے۔
MAT 25:17 اِسی طرح جِس کو دو توڑے ملے تھے اُس نے بھی دو اَور کما لیٔے۔
MAT 25:18 لیکن جِس آدمی کو ایک توڑا مِلا تھا اُس نے جا کر زمین کھودی اَور اَپنے مالک کی رقم چھپادی۔
MAT 25:19 ”کافی عرصہ کے بعد اُن کا مالک واپس آیا اَور خادِموں سے حِساب لینے لگا۔
MAT 25:20 جسے پانچ توڑے ملے تھے وہ پانچ توڑے اَور لے کر حاضِر ہُوا۔ ’اَے مالک،‘ اُس نے کہا، ’تُونے مُجھے پانچ توڑے دئیے تھے۔ دیکھئے! مَیں نے پانچ اَور کما لیٔے۔‘
MAT 25:21 ”اُس کے مالک نے اُس سے کہا، ’اَے اَچھّے اَور وفادار خادِم، شاباش! تُونے تھوڑی سِی رقم کو وفاداری سے اِستعمال کیا ہے؛ مَیں تُجھے بہت سِی چیزوں کا مُختار بناؤں گا۔ آؤ اَور اَپنے مالک کی خُوشی میں شامل ہو!‘
MAT 25:22 ”اَور جسے دو توڑے ملے تھے وہ بھی حاضِر ہُوا اَور کہنے لگا، ’اَے مالک! آپ نے مُجھے دو توڑے دئیے تھے؛ دیکھئے! مَیں نے دو اَور کما لیٔے۔‘
MAT 25:23 ”اُس کے مالک نے اُس سے کہا، ’اَے اَچھّے اَور وفادار خادِم، شاباش! تُونے تھوڑی سِی رقم کو وفاداری سے اِستعمال کیا ہے؛ مَیں تُجھے بہت سِی چیزوں کا مُختار بناؤں گا۔ آؤ اَور اَپنے مالک کی خُوشی میں شامل ہو!‘
MAT 25:24 ”تَب جسے ایک توڑا مِلا تھا وہ بھی حاضِر ہُوا اَور کہنے لگا، ’اَے مالک! میں جانتا تھا کہ تُو سخت آدمی ہے، جہاں بویا نہیں وہاں سے بھی کاٹتا ہے اَور جہاں بِکھیرا نہیں وہاں سے جمع کرتا ہے۔
MAT 25:25 اِس لیٔے مَیں نے ڈر کے مارے آپ کے توڑے کو زمین میں گاڑ دیا تھا۔ دیکھئے، جو آپ کا تھا وہ مَیں آپ کو لَوٹا رہا ہوں۔‘
MAT 25:26 ”اُس کے مالک نے جَواب دیا، ’اَے شریر اَور سُست خادِم! اگر تُجھے مَعلُوم تھا کہ جہاں بویا نہیں، میں وہاں سے کاٹتا ہُوں اَور جہاں بِکھیرا نہیں وہاں سے جمع کرتا ہُوں؟
MAT 25:27 تو تُجھے چاہئے تھا کہ میری رقم ساہوکاروں کے حوالہ کرتا تاکہ میں واپس آکر اَپنی رقم سُود سمیت لے لیتا۔
MAT 25:28 ” ’اَب اَیسا کرو کہ اِس سے وہ توڑا لے لو اَور اُسے دے دو جِس کے پاس دس توڑے ہیں۔
MAT 25:29 کیونکہ جِس کے پاس ہے اُسے اَور بھی دیا جائے گا اَور اُس کے پاس اِفراط سے ہوگا لیکن جِس کے پاس نہیں ہے، اُس سے وہ بھی جو اُس کے پاس ہے، لے لیا جائے گا۔
MAT 25:30 اَور اِس نکمّے خادِم کو باہر اَندھیرے میں ڈال دو جہاں وہ روتا اَور دانت پیستا رہے گا۔‘
MAT 25:31 ”جَب اِبن آدمؔ اَپنے جلال میں آئے گا اَور اُس کے ساتھ سبھی فرشتے آئیں گے، تَب وہ اَپنے جلالی تخت پر بیٹھے گا۔
MAT 25:32 اَور سَب قومیں اُس کے حُضُور میں جمع کی جایٔیں گی اَور وہ لوگوں کو ایک دُوسرے سے اِس طرح جُدا کرےگا جِس طرح گلّہ بان بھیڑوں کو بکریوں سے جُدا کرتا ہے۔
MAT 25:33 وہ بھیڑوں کو اَپنی داہنی طرف اَور بکریوں کو بائیں طرف کھڑا کرےگا۔
MAT 25:34 ”تَب بادشاہ اَپنی داہنی طرف کے لوگوں سے کہے گا، ’آؤ، اَے میرے باپ کے مُبارک لوگوں! اِس بادشاہی میں جو بِنائے عالَم سے تمہارے لیٔے تیّار کی گئی ہے، اِس مِیراث میں شریک ہو جاؤ۔
MAT 25:35 کیونکہ مَیں بھُوکا تھا اَور تُم نے مُجھے کھانا کھِلایا، پیاساتھا اَور تُم نے مُجھے پانی پِلایا، پردیسی تھا اَور تُم نے گھر میں جگہ دی،
MAT 25:36 ننگا تھا تو تُم نے مُجھے کپڑے پہنائے، بیمار تھا تو تُم نے میری دیکھ بھال کی، قَید میں تھا تو تُم مُجھ سے مِلنے آئے۔‘
MAT 25:37 ”تَب راستباز جَواب میں کہیں گے، ’اَے خُداوؔند! ہم نے کب تُم کو بھُوکا دیکھ کر کھانا کھِلایا، یا پیاسا دیکھ کر پانی پِلایا؟
MAT 25:38 ہم نے کب تُم کو پردیسی دیکھ کر گھر میں جگہ دی یا ننگا دیکھ کر تُم کو کپڑے پہنائے؟
MAT 25:39 اَور ہم کب تُم کو بیمار یا قَید میں دیکھ کر تُم سے مِلنے آئے؟‘
MAT 25:40 ”اِس پر بادشاہ جَواب دے گا، ’میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جَب تُم نے میرے اِن سَب سے چُھوٹے بھائیو اَور بہنوں میں سے کسی ایک کے ساتھ یہ سلُوک کیا تو گویا میرے ہی ساتھ کیا۔‘
MAT 25:41 ”تَب وہ اَپنی بائیں طرف والوں سے کہے گا، ’اَے لعنتی لوگوں! میرے سامنے سے دُورہو جاؤ اَور اُس اَبدی آگ میں چلے جاؤ جو اِبلیس اَور اُس کے فرشتوں کے لیٔے تیّار کی گئی ہے۔
MAT 25:42 کیونکہ مَیں جَب بھُوکا تھا تو تُم نے مُجھے کھانا نہ کھِلایا، پیاساتھا تو تُم نے مُجھے پانی نہ پِلایا۔
MAT 25:43 پردیسی تھا تو تُم نے مُجھے اَپنے گھر میں جگہ نہ دی۔ ننگا تھا تو مُجھے کپڑے نہ پہنائے، بیمار اَور قَید میں تھا تو تُم مُجھ سے مِلنے نہ آئے۔‘
MAT 25:44 ”اِس پر وہ لوگ بھی کہیں گے، ’اَے خُداوؔند، ہم نے کب آپ کو بھُوکا یا پیاسا، پردیسی یا ننگا، بیمار یا قَید میں دیکھا اَور آپ کی خدمت نہ کی؟‘
MAT 25:45 ”تَب بادشاہ اُنہیں جَواب دے گا، ’میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جَب تُم نے میرے اِن سَب سے چُھوٹے لوگوں میں سے کسی ایک کے ساتھ یہ سلُوک نہ کیا تو گویا میرے ساتھ بھی نہیں کیا۔‘
MAT 25:46 ”چنانچہ یہ لوگ اَبدی سزا پائیں گے، مگر راستباز اَبدی زندگی میں داخل ہوں گے۔“
MAT 26:1 جَب یِسوعؔ یہ سَب باتیں ختم کر چُکے تو حُضُور نے اَپنے شاگردوں سے فرمایا،
MAT 26:2 ”تُمہیں پتہ ہے کہ دو دِن کے بعد عیدِفسح ہے اَور اِبن آدمؔ کو پکڑوا دیا جائے گا تاکہ وہ مصلُوب کیا جائے۔“
MAT 26:3 تَب اہم کاہِنوں اَور قوم کے بُزرگوں نے اعلیٰ کاہِن کائِفؔا کی حویلی میں جمع ہوکر،
MAT 26:4 مشورہ کیا کہ یِسوعؔ کو فریب سے پکڑ لیں اَور قتل کر دیں۔
MAT 26:5 اُنہُوں نے کہا، ”مگر عید کے دَوران نہیں، کہیں اَیسا نہ ہو کہ لوگوں میں ہنگامہ برپا ہو جائے۔“
MAT 26:6 جِس وقت یِسوعؔ بیت عنیّاہ میں شمعُونؔ کوڑھی کے گھر میں تھے،
MAT 26:7 تو ایک خاتُون سنگِ مرمر کے عِطردان میں قیمتی عِطر لے کر اُن کے پاس پہُنچی اَور جَب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو اُن کے سَر پر عِطر اُنڈیل دیا۔
MAT 26:8 شاگرد یہ دیکھ کر بہت خفا ہُوئے اَور کہنے لگے، ”عِطر کو ضائع کرنے کی کیا ضروُرت تھی؟
MAT 26:9 اگر اِسے بیچا جاتا تو بڑی قیمت ہاتھ آتی جسے غریبوں میں تقسیم کیا جا سَکتا تھا۔“
MAT 26:10 یِسوعؔ نے یہ جان کر اُن سے فرمایا، ”تُم اِس خاتُون کو کیوں پریشان کر رہے ہو؟ اِس نے تو میرے ساتھ بھلائی کی ہے۔
MAT 26:11 کیونکہ غریب غُربا تو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گے، لیکن مَیں یہاں ہمیشہ تمہارے پاس نہ رہُوں گا۔
MAT 26:12 اَور اِس نے تو پہلے ہی سے میری تدفین کی تیّاری کے لیٔے میرے جِسم کو عِطر سے مَسح کر دیا ہے۔
MAT 26:13 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ ساری دُنیا میں جہاں کہیں انجیل کی مُنادی کی جائے گی وہاں اِس خاتُون کی یادگاری میں اِس کے اِس کام کا ذِکر بھی کیا جائے گا۔“
MAT 26:14 پھر بَارہ شاگردوں میں سے ایک جِس کا نام یہُوداہؔ اِسکریوتی تھا، اہم کاہِنوں کے پاس گیا
MAT 26:15 اَور اُن سے پُوچھا، ”اگر مَیں یِسوعؔ کو تمہارے حوالہ کر دُوں تو تُم مُجھے کیا دوگے؟“ اُنہُوں نے چاندی کے تیس سِکّے گِن کر اُسے دے دئیے۔
MAT 26:16 اَور وہ اُس وقت سے یِسوعؔ کو پکڑوانے کا مُناسب موقع ڈھونڈنے لگا۔
MAT 26:17 عیدِ فطیر کے پہلے دِن شاگردوں نے یِسوعؔ کے پاس آکر پُوچھا، ”آپ عیدِفسح کا کھانا کہاں کھانا چاہتے ہے تاکہ ہم جا کر تیّاری کریں۔“
MAT 26:18 حُضُور نے جَواب دیا، ”شہر میں فُلاں شخص کے پاس جاؤ اَور کہو، ’اُستاد فرماتے ہیں کہ میرا وقت نزدیک ہے۔ میں اَپنے شاگردوں کے ساتھ تمہارے گھر میں عیدِفسح مناؤں گا۔‘ “
MAT 26:19 پس جَیسا یِسوعؔ نے شاگردوں کو حُکم دیا تھا، اُنہُوں نے وَیسا ہی کیا اَور عیدِفسح کا کھانا تیّار کیا۔
MAT 26:20 جَب شام ہُوئی تو یِسوعؔ اَپنے بَارہ شاگردوں کے ساتھ دسترخوان پر کھانا کھانے بیٹھے۔
MAT 26:21 اَور کھاتے وقت حُضُور نے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ تُم میں سے ایک مُجھے پکڑوائے گا۔“
MAT 26:22 شاگردوں کو بڑا رنج پہُنچا اَور وہ باری باری آپ سے پُوچھنے لگے، ”خُداوؔند! کیا وہ میں تو نہیں ہُوں؟“
MAT 26:23 حُضُور نے جَواب دیا، ”جو شخص میرے ساتھ تھالی میں کھا رہاہے وُہی مُجھے پکڑوائے گا۔
MAT 26:24 اِبن آدمؔ تو جَیسا اُس کے حق میں لِکھّا ہُواہے۔ لیکن اُس شخص پر افسوس جو اِبن آدمؔ کو پکڑواتا ہے! اُس کے لیٔے بہتر تھا کہ وہ پیدا ہی نہ ہوتا۔“
MAT 26:25 تَب یہُوداہؔ جو اُسے پکڑوانے کو تھا، بول اُٹھا، ”ربّی! کیا وہ میں تو نہیں؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تُونے خُود ہی کہہ دیا ہے۔“
MAT 26:26 جَب وہ کھا ہی رہے تھے، یِسوعؔ نے روٹی لی، اَور خُدا کا شُکر کرکے، اُس کے ٹکڑے کیٔے اَور شاگردوں کو یہ کہہ کر دیا، ”اِسے لو اَور کھاؤ؛ یہ میرا بَدن ہے۔“
MAT 26:27 پھر آپ نے پیالہ لیا، اَور خُدا کا شُکر کرکے، شاگردوں کو دیا اَور کہا، ”تُم سَب اِس میں سے پیو۔
MAT 26:28 یہ میرا عہد کا وہ خُون ہے جو بہتیروں کے گُناہوں کی مُعافی کے لیٔے بہایا جاتا ہے۔
MAT 26:29 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ میں یہ انگور کا شِیرہ پھر کبھی نہ پیوں گا جَب تک کہ میں اَپنے آسمانی باپ کی بادشاہی میں تمہارے ساتھ نیا نہ پیوں۔“
MAT 26:30 تَب اُنہُوں نے ایک نغمہ گایا، اَور وہاں سے کوہِ زَیتُون پر چلے گیٔے۔
MAT 26:31 اُس وقت یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”تُم سَب اِسی رات میری وجہ سے ڈگمگا جاؤگے کیونکہ لِکھّا ہے: ” ’میں چرواہے کو ماروں گا، اَور گلّے کی بھیڑیں مُنتشر ہو جایٔیں گی۔‘
MAT 26:32 مگر میں اَپنے جی اُٹھنے کے بعد، تُم سے پہلے صُوبہ گلِیل پہُنچ جاؤں گا۔“
MAT 26:33 پطرس نے جَواب دیا، ”خواہ آپ کی وجہ سے سَب لڑکھڑا جایٔیں، لیکن مَیں کبھی ٹھوکر نہیں کھاؤں گا۔“
MAT 26:34 یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ آج اِسی رات، اِس سے پہلے کہ مُرغ بانگ دے تُم تین دفعہ میرا اِنکار کروگے۔“
MAT 26:35 لیکن پطرس نے کہا، ”اگر آپ کے ساتھ مُجھے مَرنا بھی پڑے، تَب بھی آپ کا اِنکار نہ کروں گا۔“ اَور باقی شاگردوں نے بھی یہی دہرایا۔
MAT 26:36 تَب یِسوعؔ اَپنے شاگردوں کے ساتھ گتسمنؔی نامی ایک جگہ پہُنچے، اَور آپ نے اُن سے فرمایا، ”جَب تک میں دعا کرتا ہُوں تُم یہیں بیٹھے رہنا۔“
MAT 26:37 وہ پطرس اَور زبدیؔ کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے گیٔے اَور سخت غمگین پریشانی کے عالَم میں تھے۔
MAT 26:38 اَور اُن سے فرمایا، ”غم کی شِدّت سے میری جان نکلی جا رہی ہے۔ تُم یہاں ٹھہرو اَور میرے ساتھ جاگتے رہو۔“
MAT 26:39 پھر ذرا آگے جا کر اَور مُنہ کے بَل زمین پر گِر کر حُضُور یُوں دعا کرنے لگے، ”اَے میرے باپ! اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مُجھ سے ٹل جائے، پھر بھی جو میں چاہتا ہُوں وہ نہیں لیکن جو آپ چاہتے ہیں وَیسا ہی ہو۔“
MAT 26:40 جَب وہ شاگردوں کے پاس واپس آئے تو اُنہیں سوتے پایا۔ اَور پطرس سے کہا، ”کیا تُم ایک گھنٹہ بھی میرے ساتھ جاگ نہ سکے؟
MAT 26:41 جاگتے اَور دعا کرتے رہو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو۔ رُوح تو آمادہ ہے، مگر جِسم کمزور ہے۔“
MAT 26:42 پھر یِسوعؔ نے دوبارہ جا کر یُوں دعا کی، ”اَے میرے باپ! اگر یہ پیالہ میرے پیئے بغیر نہیں ٹل سَکتا تو آپ کی مرضی پُوری ہو۔“
MAT 26:43 اَور جَب آپ واپس آئے تو شاگردوں کو پھر سے سوتے پایا کیونکہ اُن کی آنکھیں نیند سے بھری تھیں۔
MAT 26:44 لہٰذا یِسوعؔ اُنہیں چھوڑکر چلے گیٔے اَور تیسری دفعہ وُہی دعا کی جو پہلے کی تھی۔
MAT 26:45 اِس کے بعد شاگردوں کے پاس واپس آکر اُن سے کہنے لگے، ”کیا تُم ابھی تک راحت کی نیند سو رہے ہو؟ بس کرو، دیکھو! وہ وقت آ پہُنچا ہے کہ اِبن آدمؔ گُنہگاروں کے حوالہ کیا جائے۔
MAT 26:46 اُٹھو! آؤ چلیں! دیکھو میرا پکڑوانے والا نزدیک آ پہُنچا ہے!“
MAT 26:47 یِسوعؔ یہ باتیں کہہ ہی رہے تھے کہ یہُوداہؔ جو بَارہ شاگردوں میں سے ایک تھا، وہاں آ پہُنچا۔ اُس کے ہمراہ ایک بڑا ہُجوم جو تلواریں اَور لاٹھیاں لیٔے ہُوئے تھا، اَور جنہیں اہم کاہِنوں اَور قوم کے بُزرگوں نے بھیجا تھا۔
MAT 26:48 یہُوداہؔ یعنی پکڑوانے والے نے اُنہیں یہ نِشان دیا تھا: ”جِس کا میں بوسہ لُوں وُہی یِسوعؔ ہیں؛ تُم اُنہیں پکڑ لینا۔“
MAT 26:49 وہاں آتے ہی وہ یِسوعؔ کے نزدیک گیا اَور کہا، ”سلام، اَے ربّی!“ اَور اُن کے بوسے لینے لگا۔
MAT 26:50 یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”دوست! جِس کام کے لیٔے تُم آئے ہو، اُسے پُورا کر لو۔“ چنانچہ لوگوں نے آگے بڑھ کر یِسوعؔ کو پکڑا اَور قبضہ میں لے لیا۔
MAT 26:51 یِسوعؔ کے ساتھیوں میں سے ایک نے اَپنی تلوار کھینچی اَور اعلیٰ کاہِن کے خادِم پر چلائی اَور اُس کا کان اُڑا دیا۔
MAT 26:52 یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”اَپنی تلوار کو مِیان میں رکھ لے کیونکہ جو تلوار چلاتے ہیں، وہ تلوار ہی سے ہلاک ہوں گے۔
MAT 26:53 کیا تُجھے پتہ نہیں کہ میں اَپنے باپ سے مِنّت کر سَکتا ہُوں اَور وہ اِسی وقت فرشتوں کے بَارہ لشکر سے بھی زِیادہ میرے پاس بھیج دے گا؟
MAT 26:54 لیکن پھر کِتاب مُقدّس کی وہ باتیں کیسے پُوری ہوں گی جِن میں لِکھّا ہے کہ یہ سَب اِسی طرح پُورا ہونا ضروُری ہے؟“
MAT 26:55 پھر یِسوعؔ نے ہُجوم سے فرمایا، ”کیا میں کویٔی ڈاکُو ہُوں کہ تُم تلواریں اَور لاٹھیاں لے کر مُجھے پکڑنے آئے ہو؟ میں ہر روز بیت المُقدّس میں بیٹھ کر تعلیم دیا کرتا تھا، تَب تو تُم نے مُجھے گِرفتار نہیں کیا۔
MAT 26:56 لیکن یہ سَب کُچھ اِس لیٔے ہُوا کہ کِتاب مُقدّس میں نبیوں کی لکھی ہُوئی باتیں پُوری ہو جایٔیں۔“ تَب سارے شاگرد حُضُور کو چھوڑکر چلے گیٔے۔
MAT 26:57 جِن لوگوں نے یِسوعؔ کو گِرفتار کیا تھا وہ آپ کو اعلیٰ کاہِن کائِفؔا کے پاس لے گیٔے جہاں شَریعت کے عالِم اَور بُزرگ لوگ جمع تھے۔
MAT 26:58 اَور پطرس بھی دُور سے یِسوعؔ کا پیچھا کرتے ہویٔے اعلیٰ کاہِن کی حویلی کے اَندر دیوان خانہ تک جاپہنچے۔ وہ وہاں پہرےداروں کے ساتھ بیٹھ کر نتیجہ کا اِنتظار کرنے لگے۔
MAT 26:59 اہم کاہِن اَور عدالتِ عالیہ کے سَب اَرکان اَیسی جھُوٹی گواہی کی تلاش میں تھے جِس کی بِنا پر اہم کاہِن یِسوعؔ کو قتل کروا سکیں۔
MAT 26:60 مگر کُچھ نہ پا سکے، حالانکہ کیٔی جھُوٹے گواہ پیش بھی ہُوئے۔ آخِر میں دو گواہ سامنے آئے
MAT 26:61 اَور گواہی دی، ”اِس شخص نے کہاتھا کہ، ’میں خُدا کے بیت المُقدّس کو ڈھا کر تین دِن میں پھر سے کھڑا کر سَکتا ہُوں۔‘ “
MAT 26:62 تَب اعلیٰ کاہِن اُن کے بیچ میں کھڑے ہوکر یِسوعؔ سے پُوچھنے لگا، ”کیا تیرے پاس کویٔی جَواب نہیں؟ یہ تیرے خِلاف کیا گواہی دے رہے ہیں؟“
MAT 26:63 مگر یِسوعؔ خاموش رہے۔ اعلیٰ کاہِن نے پھر پُوچھا، ”مَیں تُجھے زندہ خُدا کی قَسم دیتا ہُوں: بتائیں کہ کیا آپ خُدا کے بیٹے المسیح ہیں؟“
MAT 26:64 یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”تُم نے خُود ہی کہہ دیا ہے، پھر بھی میں تُم سَب کو بتاتا ہُوں کہ آئندہ تُم اِبن آدمؔ کو قادرمُطلق کی داہنی طرف بیٹھا اَور آسمان کے بادلوں پر آتا دیکھوگے۔“
MAT 26:65 تَب اعلیٰ کاہِن نے اَپنے کپڑے پھاڑ کر کہا، ”اِس نے کُفر بکا ہے! اَب ہمیں گواہوں کی کیا ضروُرت ہے؟ تُم نے ابھی ابھی اِس کا کُفر سُنا ہے۔
MAT 26:66 تمہاری کیا رائے ہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”وہ قتل کے لائق ہے۔“
MAT 26:67 اِس پر آپ کے مُنہ پر تھُوکا، آپ کے مُکّے مارے اَور بعض نے طمانچے مار کر کہا،
MAT 26:68 ”اَے المسیح، اگر تو نبی ہے تو نبُوّت کر، تُجھے کِس نے مارا؟“
MAT 26:69 پطرس باہر دیوان خانہ میں بیٹھے ہُوئے تھے اَور ایک لونڈی وہاں آئی۔ اَور کہنے لگی، ”تُو بھی تو اُس گلِیلی یِسوعؔ کے ساتھ تھا۔“
MAT 26:70 لیکن پطرس نے سَب کے سامنے اِنکار کیا اَور کہا، ”پتا نہیں تُو کیا کہہ رہی ہے؟“
MAT 26:71 تَب وہ باہر پھاٹک کی طرف گیٔے جہاں ایک اَور لونڈی نے پطرس کو دیکھ کر اُن لوگوں سے جو وہاں تھے کہا، ”یہ آدمی بھی یِسوعؔ ناصری کے ساتھ تھا۔“
MAT 26:72 پطرس نے قَسم کھا کر پھر اِنکار کرتے ہویٔے کہا: ”میں تو اِس آدمی کو جانتا تک نہیں!“
MAT 26:73 کُچھ دیر بعد وہ لوگ جو وہاں کھڑے تھے پطرس کے پاس آئے اَور کہنے لگے، ”یقیناً تُو بھی اُن ہی میں سے ایک ہے کیونکہ تیری بولی سے بھی یہی ظاہر ہوتاہے۔“
MAT 26:74 تَب پطرس خُود پر لعنت بھیجنے لگا اَور قَسمیں کھا کر کہنے لگا، ”میں اِس آدمی سے واقف نہیں ہُوں۔“ اُسی وقت مُرغ نے بانگ دی۔
MAT 26:75 تَب پطرس کو یِسوعؔ کی کہی ہویٔی وہ بات یاد آئی: ”مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تین بار میرا اِنکار کرےگا۔“ اَور پطرس باہر جا کر زار زار خُوب روئے۔
MAT 27:1 صُبح ہوتے ہی سارے اہم کاہِنوں اَور قوم کے بُزرگوں نے آپَس میں یِسوعؔ کو قتل کرنے کا منصُوبہ بنایا کہ اُنہیں کِس طرح مار ڈالیں۔
MAT 27:2 چنانچہ وہ یِسوعؔ کو باندھ کر لے گیٔے اَور رُومی حاکم پِیلاطُسؔ کے حوالہ کر دیا۔
MAT 27:3 جَب یِسوعؔ کو پکڑوانے والے یہُوداہؔ نے یہ دیکھا کہ یِسوعؔ کو مُجرم ٹھہرایا گیا ہے، تو وہ بہت پشیمان ہُوا اَور اہم کاہِنوں اَور بُزرگوں کے پاس جا کر چاندی کے اُنتیس سِکّوں کو یہ کہتے ہویٔے واپس کر دیا۔
MAT 27:4 ”مَیں نے گُناہ کیا کہ ایک بے قُصُور کو قتل کے لیٔے پکڑوا دیا۔“ وہ کہنے لگے، ”ہمیں اِس سے کیا لینا دینا؟ تُو ہی جان یہ تمہاری پریشانی ہے۔“
MAT 27:5 اِس پر یہُوداہؔ اُنتیس کّوں کو بیت المُقدّس میں پھینک کرچلاگیا اَور خُود کو پھانسی لگا لی۔
MAT 27:6 اہم کاہِنوں نے اُن سِکّوں کو اُٹھالیا اَور کہا، ”یہ رقم تو خُون کی قیمت ہے، شَریعت کے مُطابق اِسے بیت المُقدّس کے خزانہ میں ڈالنا جائز نہیں۔“
MAT 27:7 چنانچہ اُنہُوں نے فیصلہ کرکے اُس رقم سے کُمہار کا کھیت پردیسیوں کو دفن کرنے کے لیٔے خرید لیا۔
MAT 27:8 یہی وجہ ہے کہ وہ کھیت آج تک خُون کا کھیت کہلاتا ہے۔
MAT 27:9 تَب وہ بات پُوری ہو گئی جو یرمیاہؔ نبی کی مَعرفت کہی گئی تھی: ”اُنہُوں نے اُس کی مُقرّرہ قیمت کے طور پر چاندی کے تیس سِکّے لے لیٔے۔ یہ قیمت بنی اِسرائیلؔ کے بعض لوگوں نے اُس کے لیٔے ٹھہرائی تھی،
MAT 27:10 اَور اُنہُوں نے اُس رقم کا اِستعمال کُمہار کے کھیت خریدنے کے لیٔے کیا، جَیسا خُداوؔند نے مُجھے حُکم دیا تھا۔“
MAT 27:11 یِسوعؔ حاکم کے سامنے لایٔے گیٔے اَور حاکم نے آپ سے پُوچھا، ”کیا آپ یہُودیوں کے بادشاہ ہیں؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”یہ تو آپ خُود ہی کہہ رہے ہیں۔“
MAT 27:12 اَور جَب اہم کاہِن اَور بُزرگ یِسوعؔ پر اِلزام لگائے جا رہے تھے تو آپ نے کویٔی جَواب نہ دیا۔
MAT 27:13 اِس پر پِیلاطُسؔ نے آپ سے پُوچھا، ”کیا تُم یہ نہیں سُن رہے ہو کہ یہ لوگ تمہارے خِلاف کتنے اِلزام لگا رہے ہیں؟“
MAT 27:14 لیکن یِسوعؔ نے پِیلاطُسؔ کو کسی بھی اِلزام کا کویٔی جَواب نہ دیا، اِس پر حاکم کو بڑا تعجُّب ہُوا۔
MAT 27:15 اَور یہ حاکم کا دستور تھا کہ وہ عید کے موقع پر ایک قَیدی کو جسے ہُجوم چاہتا تھا چھوڑ دیا کرتا تھا۔
MAT 27:16 اُس وقت اُن کا یِسوعؔ بَراَبّؔا نامی ایک مشہُور قَیدی تھا۔
MAT 27:17 چنانچہ جَب وہ لوگ پِیلاطُسؔ کی حُضُوری میں جمع ہُوئے تو پِیلاطُسؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تُم کسے چاہتے ہو کہ میں تمہاری خاطِر رِہا کروں؟ بَراَبّؔا کو یا یِسوعؔ کو جو المسیح کہلاتا ہے؟“
MAT 27:18 کیونکہ پِیلاطُسؔ کو بخُوبی علم تھا کہ اہم کاہِنوں نے محض حَسد کی وجہ سے اُسے پکڑوایا ہے۔
MAT 27:19 اَور جَب پِیلاطُسؔ تختِ عدالت پر بیٹھا تھا تو اُس کی بیوی نے اُسے یہ پیغام بھیجا: ”اِس راستباز آدمی کے خِلاف کُچھ مت کرنا کیونکہ مَیں نے آج خواب میں اِس کے سبب سے بہت دُکھ اُٹھایا ہے۔“
MAT 27:20 لیکن اہم کاہِنوں اَور بُزرگوں نے لوگوں کو اُکسایا کہ وہ پِیلاطُسؔ سے بَراَبّؔا کی رِہائی کا مطالبہ کریں اَور یِسوعؔ کو مروا ڈالیں۔
MAT 27:21 جَب حاکم نے اُن سے پُوچھا، ”تُم اِن دونوں میں سے کسے چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لیٔے چھوڑ دُوں؟“ تو اُنہُوں نے کہا، ”بَراَبّؔا کو۔“
MAT 27:22 پِیلاطُسؔ نے اُن سے کہا، ”پھر میں یِسوعؔ کے ساتھ کیا کروں جسے المسیح کہتے ہیں؟“ سَب ایک ساتھ بول اُٹھے، ”اِسے مصلُوب کرو!“
MAT 27:23 ”آخِر کیوں؟ یِسوعؔ نے کون سا جُرم کیا ہے؟“ پِیلاطُسؔ نے اُن سے پُوچھا۔ لیکن سَب لوگ مزید طیش میں چِلّاکر بولے، ”اِسے مصلُوب کرو!“
MAT 27:24 جَب پِیلاطُسؔ نے دیکھا کہ کُچھ بَن نہیں پڑ رہا، لیکن اُلٹا بَلوا شروع ہونے کو ہے تو اُس نے پانی لے کر لوگوں کے سامنے اَپنے ہاتھ دھوئے اَور کہا۔ ”میں اِس بے قُصُور کے خُون سے بَری ہوتا ہُوں، اَب تُم ہی اِس کے لیٔے جَوابدہ ہو۔“
MAT 27:25 اَور سَب لوگوں نے جَواب دیا، ”اِس کا خُون ہم پر اَور ہماری اَولاد کی گردن پر ہو!“
MAT 27:26 اِس پر پِیلاطُسؔ نے اُن کی خاطِر بَراَبّؔا کو رِہا کر دیا اَور یِسوعؔ کو کوڑے لگوا کر اُن کے حوالہ کر دیا تاکہ حُضُور کو مصلُوب کیا جائے۔
MAT 27:27 تَب پِیلاطُسؔ کے فَوجیوں نے یِسوعؔ کو پرائیتوریم یعنی شاہی قلعہ کے اَندرونی صحن میں لے گیٔے اَور ساری پلٹن کو وہاں جمع کر لیا۔
MAT 27:28 اُنہُوں نے آپ کے کپڑے اُتار ڈالے اَور ایک قِرمزی چوغہ پہنا دیا۔
MAT 27:29 پھر کانٹوں کا ایک تاج بنا کر حُضُور کے سَر پر رکھا اَور آپ کے داہنے ہاتھ میں ایک چھڑی کو تھما دیا اَور حُضُور کے سامنے گھُٹنے ٹیک کر آپ کی ہنسی اُڑانے لگے، ”اَے یہُودیوں کے بادشاہ، آداب!“
MAT 27:30 اَور حُضُور پر تھُوکا اَور چھڑی لے کر آپ کے سَر پر مارنے لگے۔
MAT 27:31 جَب سپاہی حُضُور کی ہنسی اُڑا چُکے، تو اُنہُوں نے وہ قِرمزی چوغہ اُتار کر آپ کو اُن کے کپڑے پہنا دئیے اَور صلیب دینے کے واسطے وہاں سے لے جانے لگے۔
MAT 27:32 جَب وہ وہاں سے باہر نکل رہے تھے تو اُنہیں ایک کُرینی آدمی مِلا، جِس کا نام شمعُونؔ تھا اَور اُنہُوں نے اُسے پکڑا اَور مجبُور کیا کہ یِسوعؔ کی صلیب اُٹھاکر لے چلے۔
MAT 27:33 اَور جَب وہ سَب گُلگُتا نامی جگہ پر پہُنچے (جِس کے معنی ”کھوپڑی کی جگہ ہے“)۔
MAT 27:34 اَور وہاں اُنہُوں نے یِسوعؔ کو مُرمِلا ہُوا انگوری شِیرہ پینے کے لیٔے دیا؛ لیکن آپ نے چکھ کر اُسے پینے سے اِنکار کر دیا۔
MAT 27:35 جَب اُنہُوں نے یِسوعؔ کو مصلُوب کر دیا تو اُنہُوں نے آپ کے کپڑوں پر قُرعہ ڈال کر آپَس میں تقسیم کر لیا۔
MAT 27:36 اَور وہیں بیٹھ کر آپ کی نگہبانی کرنے لگے۔
MAT 27:37 اَور اُنہُوں نے ایک تختی پر حُضُور کی سزا کا فرمان لِکھ کر آپ کے سَر کے اُوپر صلیب پر لگا دیا: یہ یہُودیوں کا بادشاہ یِسوعؔ ہے۔
MAT 27:38 تَب اُنہُوں نے دو ڈاکوؤں کو یِسوعؔ کے ساتھ، ایک کو آپ کے داہنی طرف اَور دُوسرے کو بائیں طرف مصلُوب کیا۔
MAT 27:39 وہاں سے گزرنے والے سَب لوگ سَر ہلا ہلا کر حُضُور کو لَعن طَعن کرتے
MAT 27:40 اَور کہتے تھے، ”ارے بیت المُقدّس کو ڈھا کر تین دِن میں اِسے پھر سے بنانے والے، اَپنے آپ کو بچا اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو صلیب سے نیچے اُتر آ!“
MAT 27:41 اِسی طرح اہم کاہِن، شَریعت کے عالِم اَور بُزرگ بھی حُضُور کی ہنسی اُڑاتے ہویٔے کہتے تھے،
MAT 27:42 ”اِس نے اَوروں کو بچایا، لیکن اَپنے آپ کو نہیں بچا سَکتا! یہ تو اِسرائیلؔ کا بادشاہ ہے! اگر اَب بھی صلیب پر سے نیچے اُتر آئے تو ہم اِس پر ایمان لے آئیں گے۔“
MAT 27:43 اِس کا توکّل خُدا پر ہے۔ اگر خُدا اِسے چاہتاہے تو ابھی اِسے بچالے، کیونکہ اِس نے دعویٰ کیا تھا، ” ’میں خُدا کا بیٹا ہُوں۔‘ “
MAT 27:44 اِسی طرح وہ ڈاکُو بھی جو یِسوعؔ کے ساتھ مصلُوب ہُوئے تھے، حُضُور کو لَعن طَعن کر رہے تھے۔
MAT 27:45 بَارہ بجے سے لے کر تین بجے تک سارے علاقہ میں اَندھیرا چھایا رہا۔
MAT 27:46 اَور تین بجے کے قریب یِسوعؔ بڑی اُونچی آواز سے چِلّائے، ”ایلی، ایلی، لما شبقتنی؟“ (جِس کا ترجُمہ یہ ہے، ”اَے میرے خُدا، اَے میرے خُدا، آپ نے مُجھے کیوں چھوڑ دیا؟“)
MAT 27:47 جو لوگ وہاں کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے یہ سُنا تو کہنے لگے، ”یہ تو ایلیّاہ کو پُکارتا ہے۔“
MAT 27:48 تَب اُن میں سے ایک آدمی فوراً دَوڑکر گیا اَور اِسفَنج کو سِرکے میں ڈُبو کر لایا اَور اُسے ایک سَرکنڈے پر رکھ کر یِسوعؔ کو چُسایا۔
MAT 27:49 مگر دُوسروں نے کہا، ”اَب اِسے تنہا چھوڑ دو، دیکھیں کہ ایلیّاہ صلیب سے نیچے اُتارنے اَور بچانے آتے ہیں یا نہیں؟“
MAT 27:50 اَور یِسوعؔ نے پھر زور سے چِلّاکر اَپنی جان دے دی۔
MAT 27:51 اَور بیت المُقدّس کا پردہ اُوپر سے نیچے تک پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ زمین لرز اُٹھی اَور چٹّانیں تڑک گئیں،
MAT 27:52 اَور قبریں کھُل گئیں اَور خُدا کے بہت سے مُقدّس لوگوں کے جِسم جو موت کی نیند سو چُکے تھے، زندہ ہو گئے۔
MAT 27:53 اَور یِسوعؔ کے جی اُٹھنے کے بعد، وہ قبروں سے نکل کر مُقدّس شہر میں داخل ہُوئے اَور بہت سے لوگوں کو دِکھائی دئیے۔
MAT 27:54 تَب اُس فَوجی افسر نے اَور اُس کے ساتھیوں نے جو یِسوعؔ کی نگہبانی کر رہے تھے زلزلہ اَور سارا واقعہ دیکھا تو، خوفزدہ ہو گئے اَور کہنے لگے، ”یہ شخص یقیناً خُدا کا بیٹا تھا!“
MAT 27:55 وہاں بہت سِی عورتیں بھی تھیں جو صُوبہ گلِیل سے یِسوعؔ کی خدمت کرتی ہُوئی آپ کے پیچھے پیچھے چلی آئی تھیں، اَور دُور سے دیکھ رہی تھیں۔
MAT 27:56 اُن میں مریمؔ مَگدلِینیؔ، یعقوب اَور یُوسیفؔ کی ماں مریمؔ اَور زبدیؔ کے بیٹوں کی ماں شامل تھیں۔
MAT 27:57 جَب شام ہُوئی تو ارِمَتِیاؔہ کا ایک یُوسیفؔ نام کا دولتمند آدمی آیا، جو خُود بھی یِسوعؔ کا شاگرد تھا۔
MAT 27:58 اُس نے پِیلاطُسؔ کے پاس جا کر یِسوعؔ کی لاش مانگی، اِس پر پِیلاطُسؔ نے حُکم دیا کہ لاش اُس کے حوالہ کر دی جائے۔
MAT 27:59 یُوسیفؔ نے لاش کو لے کر ایک صَاف مہین سُوتی چادر میں کفنایا،
MAT 27:60 اَور اُسے اَپنی نئی قبر میں رکھ دیا؛ جو اُس نے چٹّان میں کھُدوائی تھی۔ پھر وہ ایک بڑا سا پتّھر اُس قبر کے دروازہ پر لُڑھکا کرچلاگیا۔
MAT 27:61 اَور مریمؔ مَگدلِینیؔ اَور دُوسری مریمؔ وہاں قبر کے سامنے بیٹھی ہُوئی تھیں۔
MAT 27:62 دُوسرے دِن یعنی تیّاری کے دِن کے بعد اہم کاہِن اَور فرِیسی مِل کر پِیلاطُسؔ کے پاس پہُنچے۔
MAT 27:63 ”میرے آقا،“ اُنہُوں نے کہا، ”ہمیں یاد ہے کہ اِس دھوکے باز نے اَپنے جیتے جی کہاتھا، ’میں تین دِن کے بعد زندہ ہو جاؤں گا۔‘
MAT 27:64 لہٰذا حُکم دیں کہ تیسرے دِن تک قبر کی نِگرانی کی جائے۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ اُس کے شاگرد آکر اُس کی لاش کو چُرا نہ لے جایٔیں اَور لوگوں سے کہہ دیں کہ وہ مُردوں میں سے زندہ ہو گیا ہے۔ اَور یہ بعد کا فریب پہلے والے فریب سے بھی زِیادہ بدتر ہوگا۔“
MAT 27:65 ”تمہارے پاس پہرےدار مَوجُود ہیں،“ پِیلاطُسؔ نے جَواب دیا۔ ”اُنہیں لے جاؤ، اَور جہاں تک ہو سکے قبر کی نگہبانی کرو۔“
MAT 27:66 چنانچہ اُنہُوں نے جا کر پتّھر پر مُہر لگا دی اَور قبر کی نِگرانی کے لیٔے پہرےداروں کو بیٹھا دیا۔
MAT 28:1 سَبت کے بعد، ہفتہ کے پہلے دِن، جَب صُبح ہو ہی رہی تھی کہ مریمؔ مَگدلِینیؔ اَور دُوسری مریمؔ قبر کو دیکھنے آئیں۔
MAT 28:2 اَور اُسی وقت اَچانک ایک بڑا زلزلہ آیا کیونکہ خُداوؔند کا فرشتہ آسمان سے اُترا تھا اَور قبر کے پاس جا کر پتّھر کو لُڑھکا دیا اَور اُس پر بیٹھ گیا۔
MAT 28:3 اُس کی صورت بجلی کی مانِند تھی اَور اُس کی پوشاک برف کی طرح سفید تھی۔
MAT 28:4 اَور پہرےدار اُس کے ڈر کے مارے کانپ اُٹھے اَور مُردہ سے ہو گئے۔
MAT 28:5 فرشتہ نے عورتوں سے فرمایا، ”ڈرو مت، کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ تُم یِسوعؔ کو ڈھونڈ رہی ہو، جو مصلُوب ہویٔے تھے۔
MAT 28:6 حُضُور یہاں نہیں ہیں؛ کیونکہ وہ اَپنے کہنے کے مُطابق جی اُٹھے ہیں۔ آؤ، اَور وہ جگہ دیکھو جہاں یِسوعؔ کو رکھا کیا تھا۔
MAT 28:7 اَور جلدی جا کر حُضُور کے شاگردوں کو خبر دو: ’حُضُور مُردوں میں سے جی اُٹھے ہیں اَور تُم سے پہلے صُوبہ گلِیل کو پہُنچ رہے ہیں۔ تُم اُنہیں وہیں دیکھوگے۔‘ دیکھو مَیں نے تُمہیں بتا دیا ہے۔“
MAT 28:8 اِس لیٔے وہ عورتیں خوف اَور بڑی خُوشی کے ساتھ قبر سے فوراً باہر آئیں اَور دَوڑتے ہویٔے گئیں تاکہ شاگردوں کو خبر دے سکیں۔
MAT 28:9 اَچانک یِسوعؔ اُن سے ملے اَور اُنہیں ”سلام،“ کہا۔ اُنہُوں نے پاس آکر حُضُور کے پاؤں پکڑ لیٔے اَور اُنہیں سَجدہ کیا۔
MAT 28:10 تَب یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”ڈرو مت۔ جاؤ اَور میرے بھائیوں سے کہو کہ صُوبہ گلِیل کے لیٔے روانہ ہو جایٔیں؛ وہ مُجھے وہیں دیکھیں گے۔“
MAT 28:11 ابھی وہ عورتیں راستے ہی میں تھیں کہ پہرےداروں میں سے بعض شہر گیٔے اَور اہم کاہِنوں سے سارا ماجرا کہہ سُنایا۔
MAT 28:12 اِس پر اہم کاہِنوں نے بُزرگوں سے مِل کر مشورہ کیا اَور سپاہیوں کو منصُوبہ کے تحت، ایک بڑی رقم اَدا کی،
MAT 28:13 اَور کہا، ”تُم یہ کہنا، ’رات کے وقت جَب ہم سو رہے تھے تو اُس کے شاگرد آئے اَور یِسوعؔ کی لاش کو چُرا لے گیٔے۔‘
MAT 28:14 اَور اگر یہ خبر حاکم کے کان تک پہُنچی تو ہم اُسے مطمئن کر دیں گے اَور تُمہیں خطرہ سے بچا لیں گے۔“
MAT 28:15 چنانچہ سپاہیوں نے رقم لے کر جَیسا اُنہیں سِکھایا گیا تھا وَیسا ہی کیا اَور یہ بات آج تک یہُودیوں میں مشہُور ہے۔
MAT 28:16 تَب گیارہ شاگرد صُوبہ گلِیل پہاڑ پر گیٔے جہاں یِسوعؔ نے اُنہیں جانے کی ہدایت دی تھی۔
MAT 28:17 جَب اُنہُوں نے یِسوعؔ کو دیکھو تو آپ کو سَجدہ کیا؛ لیکن بعض کو ابھی تک شک تھا۔
MAT 28:18 چنانچہ یِسوعؔ نے اُن کے پاس آکر اُن سے فرمایا، ”آسمان اَور زمین کا پُورا اِختیار مُجھے دیا گیا ہے۔
MAT 28:19 اِس لیٔے تُم جاؤ اَور تمام قوموں کو شاگرد بناؤ اَور اُنہیں باپ، بیٹے اَور پاک رُوح کے نام سے پاک غُسل دو،
MAT 28:20 اَور اُنہیں اُن سبھی باتوں پر عَمل کرنے کی تعلیم دو جِن کا مَیں نے تُمہیں حُکم دیا ہے۔ اَور دیکھو! بے شک میں دُنیا کے آخِر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہُوں۔“
MAR 1:1 یِسوعؔ المسیح، خُدا کے بیٹے، کی خُوشخبری اِس طرح شروع ہوتی ہے،
MAR 1:2 جَیسا کہ حضرت یَشعیاہ نبی کے صحیفہ میں لِکھّا ہُواہے: ”میں اَپنا پیغمبر تیرے آگے بھیج رہا ہُوں، جو تیرے آگے تیری راہ تیّار کرےگا؛“
MAR 1:3 ”بیابان میں کویٔی پُکار رہاہے، ’خُداوؔند کے لیٔے راہ تیّار کرو، اُس کے لیٔے راہیں سیدھی بناؤ۔‘ “
MAR 1:4 لہٰذا پاک غُسل دینے والے حضرت یُوحنّا کی آمد ہُوئی اَور وہ بیابان میں، گُناہوں کی مُعافی کے واسطے تَوبہ کرنے اَور پاک غُسل لینے کی مُنادی کرنے لگے۔
MAR 1:5 تَب یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سارے علاقوں سے سَب لوگ نکل کر حضرت یُوحنّا کے پاس گیٔے اَور اَپنے گُناہوں کا اقرار کیا، اَور اُنہُوں نے حضرت یُوحنّا سے دریائے یردنؔ میں پاک غُسل لیا۔
MAR 1:6 حضرت یُوحنّا اُونٹ کے بالوں سے بُنا لباس پہنتے تھے اَور اُن کا کمربند چمڑے کا تھا۔ اَور اُن کی خُوراک ٹِڈّیاں اَور جنگلی شہد تھی۔
MAR 1:7 اَور یہ اُن کا پیغام تھا: ”جو میرے بعد آنے والا ہے وہ مُجھ سے بھی زِیادہ زورآور شخص ہے، میں اِس لائق بھی نہیں کہ جُھک کر اُن کے جُوتوں کے تسمے کھول سکوں۔
MAR 1:8 میں تو تُمہیں صِرف پانی سے پاک غُسل دیتا ہُوں، لیکن وہ تُمہیں پاک رُوح سے پاک غُسل دیں گے۔“
MAR 1:9 اُسی وقت یِسوعؔ، صُوبہ گلِیل کے شہر ناصرتؔ سے آئے اَور حضرت یُوحنّا نے اُنہیں دریائے یردنؔ میں پاک غُسل دیا۔
MAR 1:10 جَب یِسوعؔ پانی سے باہر آ رہے تھے، تو اُنہُوں نے دیکھا کہ آسمان کھُل گیا ہے اَور خُدا کی رُوح کبُوتر کی شکل میں اُن پر نازل ہو رہاہے۔
MAR 1:11 اَور آسمان سے ایک آواز آئی: ”تُو میرا پیارا بیٹا ہے، جِس سے میں مَحَبّت کرتا ہُوں؛ تُم سے میں بہت خُوش ہُوں۔“
MAR 1:12 فیِ الفور پاک رُوح یِسوعؔ کو بیابان میں لے گیا،
MAR 1:13 اَور وہ چالیس دِن، تک وہاں رہے، اَور اِبلیس کے ذریعہ آزمائے جاتے رہے۔ وہ جنگلی جانوروں کے درمیان رہے، اَور فرشتے یِسوعؔ کی خدمت کرتے رہے۔
MAR 1:14 حضرت یُوحنّا کو قَید کیٔے جانے کے بعد، یِسوعؔ صُوبہ گلِیل میں آئے، اَور خُدا کی خُوشخبری سُنانے لگے۔
MAR 1:15 اَور آپ نے فرمایا، وقت آ پہُنچا ہے، اَور ”خُدا کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔ تَوبہ کرو اَور خُوشخبری پر ایمان لاؤ۔“
MAR 1:16 صُوبہ گلِیل کی جھیل کے کنارے جاتے ہویٔے، یِسوعؔ نے شمعُونؔ اَور اُن کے بھایٔی اَندریاسؔ کو دیکھا یہ دونوں اُس وقت جھیل میں جال ڈال رہے تھے، کیونکہ اُن کا پیشہ ہی مچھلی پکڑناتھا۔
MAR 1:17 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میرے، پیچھے چلے آؤ، تو میں تُمہیں آدمؔ گیر بناؤں گا۔“
MAR 1:18 وہ اُسی وقت اَپنے جال چھوڑکر آپ کے ہمنوا ہوکر پیچھے ہو لیٔے۔
MAR 1:19 تھوڑا آگے جا کر، آپ نے زبدیؔ کے بیٹے یعقوب اَور اُن کے بھایٔی یُوحنّا کو دیکھا دونوں کشتی میں جالوں کی مرمّت کر رہے تھے۔
MAR 1:20 آپ نے اُنہیں دیکھتے ہی بُلایا وہ اَپنے باپ، زبدیؔ کو کشتی میں مزدُوروں کے ساتھ چھوڑکر حُضُور کے پیچھے چل دئیے۔
MAR 1:21 وہ سَب کَفرنحُومؔ، میں داخل ہویٔے، اَور سَبت کے دِن یِسوعؔ یہُودی عبادت گاہ میں گیٔے اَور تعلیم دینی شروع کی۔
MAR 1:22 یِسوعؔ کی تعلیم سُن کر لوگ دنگ رہ گیٔے، کیونکہ حُضُور اُنہیں شَریعت کے عالِموں کی طرح نہیں، لیکن ایک صاحبِ اِختیار کی طرح تعلیم دے رہے تھے۔
MAR 1:23 اُس وقت یہُودی عبادت گاہ میں ایک شخص تھا، جِس میں بدرُوح تھی، وہ چِلّانے لگا،
MAR 1:24 ”اَے یِسوعؔ ناصری، آپ کو ہم سے کیا کام؟ کیا آپ ہمیں ہلاک کرنے آئے ہیں؟ میں جانتا ہُوں کہ آپ کون ہیں؟ آپ ہی خُدا کے قُدُّوس ہیں!“
MAR 1:25 یِسوعؔ نے بدرُوح کو جِھڑکا اَور کہا، ”خاموش ہو جا!“ اَور اِس آدمی میں سے، ”نکل جا!“
MAR 1:26 تَب ہی اِن بدرُوح نے اُس آدمی کو خُوب مروڑا اَور بڑے زور سے چیخ مار کر اُس میں سے نکل گئی۔
MAR 1:27 سَب لوگ اِتنے حیران ہوکر ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”یہ کیا ہو رہاہے؟ یہ تو نئی تعلیم ہے! یہ تو بدرُوحوں کو بھی اِختیار کے ساتھ حُکم دیتے ہیں اَور بدرُوحیں بھی یِسوعؔ کا حُکم مانتی ہیں۔“
MAR 1:28 یِسوعؔ کی شہرت بڑی تیزی سے صُوبہ گلِیل کے اطراف میں پھیل گئی۔
MAR 1:29 یہُودی عبادت گاہ سے باہر نکلتے ہی وہ یعقوب اَور یُوحنّا کے ساتھ سیدھے شمعُونؔ اَور اَندریاسؔ کے گھر گیٔے۔
MAR 1:30 اُس وقت شمعُونؔ کی ساس تیز بُخار میں مُبتلا تھیں، دیر کیٔے بغیر آپ کو اُس کے بارے میں بتایا۔
MAR 1:31 یِسوعؔ نے پاس جا کر شمعُونؔ کی ساس کا ہاتھ پکڑا اَور اُنہیں اُٹھایا، اُن کا بُخار اُسی دَم اُتر گیا اَور وہ اُن کی خدمت میں لگ گئیں۔
MAR 1:32 شام کے وقت سُورج ڈُوبتے ہی لوگ وہاں کے سَب مَریضوں کو اَور اُنہیں جِن میں بدرُوحیں تھیں، یِسوعؔ کے پاس لانے لگے۔
MAR 1:33 یہاں تک کہ سارا شہر دروازہ کے پاس جمع ہو گیا،
MAR 1:34 یِسوعؔ نے بہت سے لوگوں کو اُن کی مُختلف بیماریوں سے شفا بخشی۔ اَور بہت سِی بدرُوحوں کو نکالا، مگر آپ بدرُوحوں کو بولنے نہ دیتے تھے کیونکہ بدرُوحیں اُن کو پہچانتی تھیں۔
MAR 1:35 اگلے دِن صُبح سویرے جَب کہ اَندھیرا ہی تھا، یِسوعؔ اُٹھے، اَور گھر سے باہر ایک ویران جگہ میں جا کر، دعا کرنے لگے۔
MAR 1:36 شمعُونؔ اَور اُن کے دُوسرے ساتھی اُن کی تلاش میں نکلے،
MAR 1:37 جَب آپ اُنہیں مِل گئے، تو وہ سَب کہنے لگے، ”سبھی آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں!“
MAR 1:38 یِسوعؔ نے کہا، ”آؤ! ہم کہیں اَور آس پاس کے قصبوں میں چلیں تاکہ میں وہاں بھی مُنادی کروں کیونکہ مَیں اِسی مقصد کے لیٔے نِکلا ہُوں۔“
MAR 1:39 چنانچہ وہ سارے صُوبہ گلِیل، میں، گھُوم پھر کر اُن کے یہُودی عبادت گاہوں میں مُنادی کرتے رہے اَور بدرُوحوں کو نکالتے رہے۔
MAR 1:40 ایک کوڑھی یِسوعؔ کے پاس آیا اَور گھُٹنے ٹیک کر آپ سے مِنّت کرنے لگا، ”اگر آپ چاہیں تو مُجھے کوڑھ سے پاک کر سکتے ہیں۔“
MAR 1:41 یِسوعؔ نے اُس کوڑھی پر ترس کھا کر اَپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے چھُوا اَور فرمایا، ”میں چاہتا ہُوں، تُم پاک صَاف ہو جاؤ!“
MAR 1:42 اُسی دَم اُس کا کوڑھ جاتا رہا اَور وہ پاک ہو گیا۔
MAR 1:43 یِسوعؔ نے اُسے فوراً وہاں سے سخت تنبیہ کرتے ہویٔے رخصت کیا،
MAR 1:44 ”خبردار اِس کا ذِکر، کسی سے نہ کرنا۔ بَلکہ سیدھے کاہِنؔ کے پاس جا کر، اَپنے آپ کو دِکھاؤ اَور اَپنے ساتھ وہ نذریں بھی لے جانا جو حضرت مَوشہ نے مُقرّر کی ہیں تاکہ سَب پر گواہی ہو، جائے کہ تُم پاک ہو گئے ہو۔“
MAR 1:45 لیکن وہ وہاں سے نکل کر ہر کسی سے اِس بات کااِتنا، چَرچا کرنے لگا۔ آئندہ، یِسوعؔ کسی شہر میں ظاہری طور پر داخل نہ ہو سکے بَلکہ شہر سے باہر ویران جگہوں میں رہنے لگے۔ اَور پھر بھی لوگ ہر جگہ سے آپ کے پاس آتے رہتے تھے۔
MAR 2:1 کُچھ دِنوں کے بعد یِسوعؔ پھر سے کَفرنحُومؔ، میں آئے، تو خبر پھیل گئی کہ وہ گھر واپس آ گئے ہیں۔
MAR 2:2 چنانچہ اِتنے لوگ جمع ہو گئے یہاں تک کہ دروازے کے آس پاس، بھی جگہ نہ رہی، یِسوعؔ اُنہیں کلام کی تبلیغ کر رہے تھے۔
MAR 2:3 کُچھ لوگ، ایک مفلُوج کو حُضُور کے پاس لایٔے، جسے چار آدمی اُٹھائے ہویٔے تھے۔
MAR 2:4 جَب وہ اُس بیمار کو ہُجوم کے باعث یِسوعؔ کے پاس نہ لا سکے، تو چھت پر چڑھ گیٔے اَور اُنہُوں نے چھت کا وہ حِصّہ اُدھیڑ ڈالا جِس کے نیچے یِسوعؔ بیٹھے ہویٔے تھے اَور مفلُوج کو بچھونا سمیت جِس پر وہ لیٹا تھا شگاف میں سے نیچے اُتار دیا۔
MAR 2:5 اُن لوگوں کے ایمان کو دیکھ کر، یِسوعؔ نے مفلُوج سے کہا، ”بیٹے، تمہارے گُناہ مُعاف ہویٔے۔“
MAR 2:6 شَریعت کے بعض عالِم وہاں بیٹھے تھے، وہ دِل میں یہ سوچنے لگے،
MAR 2:7 ”یہ شخص اَیسا کیوں کہتاہے؟ یہ تو کُفر ہے! خُدا کے سِوا کون گُناہ مُعاف کر سَکتا ہے؟“
MAR 2:8 یِسوعؔ نے فوراً ہی اَپنی رُوح سے اُسی وقت مَعلُوم کرکے کہ وہ اَپنے دِلوں میں کیا کُچھ سوچ رہے ہیں، اَور یِسوعؔ نے اُن لوگوں سے کہا، ”تُم اَپنے دِلوں میں اَیسی باتیں کیوں سوچتے ہو؟
MAR 2:9 کیا مفلُوج سے یہ کہنا آسان ہے، ’تمہارے گُناہ مُعاف ہویٔے‘ یا یہ کہنا، ’اُٹھو! اَپنے بچھونے کو اُٹھاکر چلے جاؤ‘؟
MAR 2:10 لیکن مَیں چاہتا ہُوں کہ تُمہیں مَعلُوم ہو کہ اِبن آدمؔ کو زمین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے۔“ یِسوعؔ نے مفلُوج سے کہا،
MAR 2:11 ”مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں، اُٹھ اَور اَپنا بچھونا اُٹھاکر اَپنے گھر چلا جا۔“
MAR 2:12 وہ آدمی اُٹھا، اَور اُسی گھڑی اَپنے بچھونے کو اُٹھاکر سَب کے سامنے وہاں سے چلا گیا۔ چنانچہ وہ سَب حیران رہ گیٔے اَور خُدا کی تعریف کرتے ہویٔے، کہنے لگے، ”ہم نے اَیسا کبھی نہیں دیکھا!“
MAR 2:13 یِسوعؔ پھر سے جھیل کے کنارے گیٔے۔ اَور بڑا ہُجوم آپ کے گِرد جمع ہو گیا، اَور وہ اُنہیں تعلیم دینے لگے۔
MAR 2:14 چلتے چلتے یِسوعؔ نے، حلفئؔی کے بیٹے لیوی کو محصُول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا اَور لیوی سے کہا، ”میرے پیروکار ہو جاؤ،“ اَور وہ اُٹھ کر یِسوعؔ کے پیچھے ہو لیٔے۔
MAR 2:15 یِسوعؔ لیوی کے گھر، میں کھانا کھانے بیٹھے، تو کیٔی محصُول لینے والے اَور گُنہگار لوگ یِسوعؔ اَور اُن کے شاگردوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہو گئے، اَیسے بہت سے لوگ یِسوعؔ کے پیچھے ہو لیٔے تھے۔
MAR 2:16 شَریعت کے عالِم جو فرِیسی فرقہ سے تعلّق رکھتے تھے یِسوعؔ کو گُنہگاروں اَور محصُول لینے والوں کے ساتھ کھاتے دیکھا، تو فریسیوں نے شاگردوں سے پُوچھا: ”یہ محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے؟“
MAR 2:17 یِسوعؔ نے یہ سُن کر اُن کو جَواب دیا، ”بیماریوں کو طبیب کی ضروُرت ہوتی ہے، صحت مندوں کو نہیں۔ میں راستبازوں کو نہیں، بَلکہ گُنہگاروں کو بُلانے آیا ہُوں۔“
MAR 2:18 ایک دفعہ حضرت یُوحنّا، کے شاگرد اَور فرِیسی روزہ سے تھے۔ کُچھ لوگوں نے آکر یِسوعؔ سے پُوچھا، ”کیا وجہ ہے کہ حضرت یُوحنّا کے شاگرد اَور فریسیوں کے شاگرد تو روزہ رکھتے ہیں، مگر آپ کے شاگرد نہیں رکھتے؟“
MAR 2:19 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا براتی دُلہا کی مَوجُودگی میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، کیونکہ جَب تک دُلہا اُن کے ساتھ ہے وہ روزے نہیں رکھ سکتے۔
MAR 2:20 لیکن وہ دِن آئے گا کہ دُلہا اُن سے جُدا کیا جائے گا، تَب وہ روزہ رکھیں گے۔
MAR 2:21 ”پُرانی پوشاک پر نئے کپڑے کا پیوند کویٔی نہیں لگاتا اَور اگر اَیسا کرتا ہے، تو نیا کپڑا اُس پُرانی پوشاک میں سے کُچھ کھینچ لے گا، اَور پوشاک زِیادہ پھٹ جائے گی۔
MAR 2:22 نئے انگوری شِیرے کو بھی پُرانی مَشکوں میں کویٔی نہیں بھرتا ورنہ، مَشکیں اُس انگوری شِیرے سے پھٹ جایٔیں گی اَور انگوری شِیرے کے ساتھ مَشکیں بھی برباد ہو جایٔیں گی۔ لہٰذا نئے انگوری شِیرے کو، نئی مَشکوں ہی میں بھرنا چاہئے۔“
MAR 2:23 ایک دفعہ وہ سَبت کے دِن اناج کے کھیتوں، میں سے ہوکر گزر رہے تھے، اَور یِسوعؔ کے شاگرد راستے میں چلتے چلتے، بالیں توڑنے لگے۔
MAR 2:24 اِس پر فریسیوں نے یِسوعؔ سے کہا، ”دیکھو، یہ لوگ اَیسا کام کیوں کر رہے ہیں جو سَبت کے دِن جائز نہیں ہے؟“
MAR 2:25 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا تُم نے کبھی نہیں پڑھا کہ جَب حضرت داویؔد اَور اُن کے ساتھیوں کو بھُوک کے باعث کھانے کی ضروُرت تھی تو اُنہُوں نے کیا کیا؟
MAR 2:26 اعلیٰ کاہِن ابیاترؔ کے زمانہ میں، حضرت داویؔد خُدا کے گھر میں داخل ہویٔے اَور نذر کی ہویٔی روٹیاں کھایٔیں اَیسی روٹیوں کا کھانا کاہِنوں کے سِوائے کسی اَور کے لیٔے روا نہیں تھا۔ اَور اُنہُوں نے خُود بھی کھایٔیں اَور اَپنے ساتھیوں کو بھی یہ روٹیاں کھانے کو دیں۔“
MAR 2:27 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”سَبت اِنسان کے لیٔے بنایا گیا تھا، نہ کہ اِنسان سَبت کے لیٔے۔
MAR 2:28 پس اِبن آدمؔ سَبت کا بھی مالک ہے۔“
MAR 3:1 پھر سے یِسوعؔ یہُودی عبادت گاہ میں داخل ہُوئے اَور وہاں، ایک آدمی تھا جِس کا ایک ہاتھ سُوکھا ہُوا تھا۔
MAR 3:2 اَور فرِیسی یِسوعؔ کی تاک میں تھے اِس لیٔے حُضُور کو قریب سے دیکھنے لگے کہ اگر حُضُور سَبت کے دِن اُس آدمی کو شفا بخشیں تو وہ حُضُور پر اِلزام لگاسکیں۔
MAR 3:3 یِسوعؔ نے اُس سُوکھے ہاتھ والے آدمی سے کہا، ”اُٹھو اَور آکر سَب کے بیچ میں کھڑے ہو جاؤ۔“
MAR 3:4 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”سَبت کے دِن کیا کرنا روا ہے: نیکی کرنا یا بدی کرنا، جان بچانا یا ہلاک کرنا؟“ لیکن وہ خاموش رہے۔
MAR 3:5 وہ اُن کی سخت دِلی پر نہایت ہی غمگین ہُوئے اَور اُن پر غُصّہ سے نظر کرکے، یِسوعؔ نے اُس آدمی سے کہا، ”اَپنا ہاتھ بڑھا۔“ اُس نے جَیسے ہی ہاتھ آگے بڑھایا اُس کا ہاتھ بالکُل ٹھیک ہو گیا تھا۔
MAR 3:6 یہ دیکھ کر فرِیسی فوراً باہر چلے گیٔے اَور ہیرودیوں کے ساتھ یِسوعؔ کو ہلاک کرنے کی سازش کرنے لگے۔
MAR 3:7 یِسوعؔ اَپنے شاگردوں کے ساتھ جھیل کی طرف تشریف لے گیٔے، اَور صُوبہ گلِیل اَور یہُودیؔہ سے لوگوں کا ایک بڑا ہُجوم بھی آپ کے پیچھے چل رہاتھا۔
MAR 3:8 اَور یہُودیؔہ، یروشلیمؔ، اِدوُمیہؔ، دریائے یردنؔ کے پار اَور صُورؔ اَور صیؔدا کے علاقوں کے لوگ بھی آ پہُنچے، کیونکہ اُنہیں پتہ چلاتھا کہ یِسوعؔ بہت بڑے بڑے کام کرتے ہیں۔
MAR 3:9 ہُجوم کو دیکھ کر یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے کہا، میرے لیٔے ایک چُھوٹی کشتی تیّار رکھو لوگ بہت ہی زِیادہ ہیں، کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ مُجھے دبا دیں۔
MAR 3:10 یِسوعؔ نے بہت سے لوگوں کو شفا بخشی تھی، لہٰذا جتنے لوگ بیمار تھے آپ کو چھُونے کی کوشش میں اُن پر گِرے پڑتے تھے۔
MAR 3:11 بدرُوحیں بھی یِسوعؔ کو دیکھتی تھیں، اُن کے سامنے گِر کر چِلّانے لگتی تھیں، ”آپ خُدا کے بیٹے ہیں۔“
MAR 3:12 یِسوعؔ نے اُنہیں سخت تاکید کی کہ وہ دُوسروں کو اُن کے بارے میں نہ بتائیں۔
MAR 3:13 پھر یِسوعؔ ایک پہاڑی پر چڑھ گیٔے اَور وہ جنہیں چاہتے تھے، اُنہیں اَپنے پاس بُلایا اَور وہ حُضُور کے پاس چلے آئے۔
MAR 3:14 یِسوعؔ نے بَارہ کو بطور رسول مُقرّر کیا تاکہ وہ اُن کے ساتھ رہیں اَور وہ اُنہیں مُنادی کرنے کے لیٔے بھیجیں
MAR 3:15 اَور بدرُوحوں کو نکالنے کا اِختیار حاصل ہو۔
MAR 3:16 چنانچہ یِسوعؔ نے اِن بَارہ کو مُقرّر کیا: شمعُونؔ (جسے یِسوعؔ نے پطرس کا نام دیا)،
MAR 3:17 یعقوب اُس کا بھایٔی یُوحنّا جو زبدیؔ کا بیٹے تھے (یِسوعؔ نے اُن کا تخّلص بُوانِرگِسؔ یعنی ”رَعد کا بیٹا رکھا“)،
MAR 3:18 اَندریاسؔ، فِلِپُّسؔ اَور برتلماؔئی، متّیؔ، اَور توماؔ، حلفئؔی کا بیٹا یعقوب اَور تدّیؔ، اَور شمعُونؔ قنانی
MAR 3:19 اَور یہُوداہؔ اِسکریوتی جِس نے یِسوعؔ سے دغابازی بھی کی تھی۔
MAR 3:20 یِسوعؔ ایک گھر میں داخل ہویٔے، اَور وہاں اِس قدر بھیڑ لگ گئی کہ وہ، اَور اُن کے شاگرد کھانا بھی نہ کھا سکے۔
MAR 3:21 جَب اُن کے اہلِ خانہ کو خبر ہویٔی تو وہ یِسوعؔ کو اَپنے ساتھ لے جانے کے لیٔے آئے کیونکہ اُن کا کہنا تھا، ”حُضُور المسیح اَپنا ذہنی تَوازن کھو بیٹھے ہیں۔“
MAR 3:22 شَریعت کے عالِم جو یروشلیمؔ سے آئےتھے اُن کا کہنا تھا، ”یِسوعؔ میں بَعل زبُول ہے! اَور یہ بھی کہ وہ بدرُوحوں کے رہنما کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتے ہیں۔“
MAR 3:23 یِسوعؔ اُنہیں اَپنے پاس بُلاکر اُن سے تمثیلوں میں کہنے لگے: ”شیطان کو خُود شیطان ہی نکالے یہ کیسے ہو سَکتا ہے؟
MAR 3:24 اگر کسی سلطنت میں پھوٹ پڑ جائے، تو اُس کا وُجُود قائِم نہیں رہ سَکتا۔
MAR 3:25 اگر کسی گھر میں پھوٹ پڑ جائے، تو وہ قائِم نہیں رہ سَکتا۔
MAR 3:26 اگر شیطان اَپنے ہی خِلاف لڑنے لگے اَور اُس کے اَپنے اَندر پھوٹ پڑ جائے، تو وہ بھی قائِم نہیں رہ سَکتا؛ بَلکہ اُس کا خاتِمہ ہو جائے گا۔
MAR 3:27 درحقیقت، کویٔی شخص کسی زورآور کے گھر میں گھُس کر اُس کا سامان نہیں لُوٹ سَکتا جَب تک کہ وہ پہلے اُس زورآور کو باندھ نہ لے۔ تَب ہی وہ اُس گھر کو لُوٹ سکےگا۔
MAR 3:28 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، اِنسانوں کے سارے گُناہ اَور جِتنا کُفر وہ بکتے ہیں مُعاف کیٔے جایٔیں گے،
MAR 3:29 لیکن پاک رُوح کے خِلاف کُفر بکنے والا ایک اَبدی گُناہ کا مُرتکب ہوتاہے؛ اِس لیٔے وہ ہرگز نہ بخشا جائے گا۔“
MAR 3:30 یِسوعؔ کا اِشارہ اُن ہی کی طرف تھا کیونکہ وہ کہتے تھے، ”یِسوعؔ میں ایک بدرُوح ہے۔“
MAR 3:31 پھر یِسوعؔ کی ماں اَور اُن کے بھایٔی آ گئے اَور اُنہُوں نے یِسوعؔ کو باہر بُلوا بھیجا۔
MAR 3:32 حُضُور کے آس پاس ایک ہُجوم بیٹھا تھا، لوگوں نے حُضُور کو خبر دی، ”وہ دیکھئے! آپ کی ماں اَور آپ کے بھایٔی اَور بہن باہر کھڑے ہیں اَور آپ سے مُلاقات کرنا چاہتے ہیں۔“
MAR 3:33 ”میری ماں اَور میرے بھایٔی کون ہیں؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا۔
MAR 3:34 یِسوعؔ نے اَپنے اِردگرد بیٹھے ہویٔے لوگوں پر نظر ڈالی اَور فرمایا، ”یہ ہیں میری ماں اَور میرے بھایٔی اَور بہن!
MAR 3:35 کیونکہ جو کویٔی خُدا کی مرضی پر چلتا ہے وُہی میرا بھایٔی، میری بہن اَور میری ماں ہے۔“
MAR 4:1 یِسوعؔ پھر جھیل کے کنارے تعلیم دینے لگے اَور لوگوں کا اَیسا ہُجوم جمع ہو گیا۔ یِسوعؔ جھیل کے کنارے کشتی میں جا بیٹھے، اَور سارا ہُجوم خُشکی پر جھیل کے کنارے پر ہی کھڑا رہا۔
MAR 4:2 تَب وہ اُنہیں تمثیلوں کے ذریعہ بہت سِی باتیں سِکھانے لگے، اَور اَپنی تعلیم دیتے ہویٔے آپ نے فرمایا:
MAR 4:3 ”سُنو! ایک بیج بونے والا بیج بونے نِکلا۔
MAR 4:4 بوتے وقت کُچھ بیج، راہ کے کنارے، گِرے اَور پرندوں نے آکر اُنہیں چُگ لیا۔
MAR 4:5 کُچھ پتھریلی زمین پر گِرے جہاں مٹّی کم تھی۔ چونکہ مٹّی گہری نہ تھی، وہ جلد ہی اُگ آئے۔
MAR 4:6 لیکن جَب سُورج نِکلا، تو جَل گیٔے اَور جڑ نہ پکڑنے کے باعث سُوکھ گیٔے۔
MAR 4:7 کُچھ بیج کانٹے دار جھاڑیوں میں گِرے، اَور جھاڑیوں نے اُنہیں دبا لیا۔
MAR 4:8 مگر کُچھ بیج اَچھّی زمین پر گِرے۔ اَور اُگ کر بڑھے اَور بڑھ کر پھل لایٔے، کویٔی تیس گُنا، کویٔی ساٹھ گُنا، اَور کویٔی سَو گُنا۔“
MAR 4:9 یِسوعؔ نے کہا، ”جِس کے پاس سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے۔“
MAR 4:10 جَب وہ تنہائی میں تھے، یِسوعؔ کے بَارہ شاگردوں اَور دُوسرے ساتھیوں نے آپ سے اِن تمثیلوں کے بارے میں پُوچھا۔
MAR 4:11 آپ نے اُن سے فرمایا، ”تُمہیں تو خُدا کی بادشاہی کے رازوں کو سمجھنے کی قابلیّت دی گئی ہے۔ لیکن باہر والوں کے لیٔے ساری باتیں تمثیلوں میں بَیان کی جاتی ہیں،
MAR 4:12 لہٰذا، ” ’وہ دیکھتے ہویٔے بھی، کُچھ نہیں دیکھتے؛ اَور سُنتے ہُوئے بھی کبھی کُچھ نہیں سمجھتے؛ اَیسا نہ ہو کہ وہ تَوبہ کریں اَور گُناہوں کی مُعافی حاصل کر لیں!‘“
MAR 4:13 پھر یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”اگر تُم یہ تمثیل نہیں سمجھے تو باقی سَب تمثیلیں؟ کیسے سمجھوگے؟
MAR 4:14 بونے والا خُدا کے کلام کا بیج بوتا ہے۔
MAR 4:15 کُچھ لوگ جنہیں کلام سُنایا جاتا ہے راہ کے کنارے والے ہیں۔ جُوں ہی کلام کا بیج بویا جاتا ہے، شیطان آتا ہے اَور اُن کے دِلوں سے وہ کلام نکال لے جاتا ہے۔
MAR 4:16 اِسی طرح، وہ لوگ پتھریلی جگہوں پر بوئے ہویٔے بیجوں کی طرح ہیں، وہ خُدا کے کلام کو سُنتے ہی خُوشی کے ساتھ سے قبُول کرلیتے ہیں۔
MAR 4:17 مگر وہ کلام اُن میں جڑ نہیں پکڑ پاتا، چنانچہ وہ کُچھ دِنوں تک ہی قائِم رہتے ہیں۔ اَور جَب اُن پر اِس کلام کی وجہ سے مُصیبت یااِیذا برپا ہوتی ہے تو وہ فوراً گِر جاتے ہیں۔
MAR 4:18 اَور دیگر، جھاڑیوں میں گِرنے والے بیج سے مُراد وہ لوگ ہیں، جو کلام کو سُنتے تو ہیں؛
MAR 4:19 لیکن اِس دُنیا کی فکریں، دولت کا فریب اَور دُوسری چیزوں کا لالچ آڑے آکر اِس کلام کو دبا دیتاہے، اَور وہ بے نتیجہ ہو جاتا ہے۔
MAR 4:20 جو لوگ، اُس اَچھّی زمین کی طرح ہیں جہاں بیج بویا جاتا ہے، وہ کلام کو سُنتے ہیں، قبُول کرتے ہیں، اَور پھل لاتے ہیں، بعض تیس گُنا، بعض ساٹھ گُنا، اَور بعض سَو گُنا۔“
MAR 4:21 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”کیا تُم چراغ کو اِس لیٔے جَلاتے ہو کہ اُسے ٹوکرے یا چارپائی کے نیچے رکھا جائے؟ کیا اِس لیٔے نہیں جَلاتے کہ اُسے چراغدان پر رکھا جائے؟
MAR 4:22 کیونکہ اگر کویٔی چیز چھپی ہویٔی ہے، تو اِس لیٔے کہ ظاہر کی جائے اَورجو کچھ ڈھکا ہُواہے تو اِس لیٔے کہ اُس کا پردہ فاش کیا جائے گا۔
MAR 4:23 جِس کے پاس سُننے کے کان ہوں، وہ سُن لے۔“
MAR 4:24 پھر آپ نے اُن سے فرمایا، ”تُم کیا سُنتے ہو اُس کے بارے میں غور کرو، جِس پیمانہ سے تُم ناپتے ہو، تُمہیں بھی اُسی ناپ سے ناپا جائے گا بَلکہ کُچھ زِیادہ ہی۔
MAR 4:25 کیونکہ جِس کے پاس ہے اُسے اَور بھی دیا جائے گا اَور اُس کے پاس اِفراط سے ہوگا لیکن جِس کے پاس نہیں ہے، اُس سے وہ بھی جو اُس کے پاس ہے، لے لیا جائے گا۔“
MAR 4:26 آپ نے یہ بھی فرمایا، ”خُدا کی بادشاہی اُس آدمی کی مانِند ہے جو زمین میں بیج ڈالتا ہے۔
MAR 4:27 رات اَور دِن چاہے، وہ سوئے یا جاگتا رہے، بیج اُگ کر آہستہ آہستہ بڑھتے رہتے ہیں اَور سے مَعلُوم بھی نہیں پڑتا، وہ کیسے اُگتے اَور بڑھتے ہیں۔
MAR 4:28 زمین خُود بخُود پھل لاتی ہے پہلے پتّی نکلتی ہے، پھر بالیں پیدا ہوتی ہیں اَور پھر اُن میں دانے بھر جاتے ہیں۔
MAR 4:29 جِس وقت اناج پک چُکا ہوتاہے، تو وہ فوراً درانتی لے آتا ہے کیونکہ فصل کاٹنے کا وقت آ پہُنچا۔“
MAR 4:30 پھر آپ نے فرمایا، ”ہم خُدا کی بادشاہی کو کِس چیز کی مانِند کہیں، یا کِس تمثیل کے ذریعہ سے بَیان کریں؟
MAR 4:31 وہ رائی کے دانے کی طرح ہے، جو زمین میں بوئے جانے والے بیجوں میں سَب سے چھوٹا ہوتاہے۔
MAR 4:32 مگر بوئے جانے کے بعد اُگتا ہے، تو پَودوں میں سَب سے بڑا ہو جاتا ہے، اَور اُس کی شاخیں، اِس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ ہَوا کے پرندے اُس کے سایہ میں بسیرا کر سکتے ہیں۔“
MAR 4:33 اِسی قِسم کی کیٔی تمثیلوں، کے ذریعہ آپ لوگوں سے اُن کی سمجھ کے مُطابق کلام کیا کرتے تھے۔
MAR 4:34 اَور بغیر تمثیل کے آپ اُنہیں کُچھ نہ کہتے تھے، لیکن جَب یِسوعؔ کے شاگرد تنہا ہوتے، تو وہ اُنہیں تمثیلوں کے معنی سمجھا دیا کرتے تھے۔
MAR 4:35 اُسی دِن جَب شام ہویٔی، آپ نے اَپنے شاگردوں سے فرمایا، ”جھیل کے اُس پار چلیں۔“
MAR 4:36 چنانچہ وہ ہُجوم کو رخصت کرکے، اَور آپ کو جِس حال میں وہ تھے، کشتی میں اَپنے ساتھ لے کر، روانہ ہویٔے۔ کُچھ اَور کشتیاں بھی اُن کے ساتھ تھیں۔
MAR 4:37 اَچانک آندھی آئی، اَور پانی کی لہریں کشتی سے بُری طرح ٹکرانے لگیں، اَور اُس میں پانی بھرنے لگا۔
MAR 4:38 یِسوعؔ کشتی کے پچھلے حِصّہ میں ایک تکیہ لگا کر آرام فرما رہے تھے۔ شاگردوں نے آپ کو جگایا اَور کہا، ”اُستاد محترم، ہم تو ڈُوبے جا رہے ہیں۔ آپ کو ہماری کویٔی پروا نہیں ہے؟“
MAR 4:39 وہ جاگ اُٹھے، یِسوعؔ نے ہَوا کو حُکم دیا اَور لہروں کو ڈانٹا، ”خاموش رہ! تھم جا!“ ہَوا تھم گئی اَور بڑا اَمن ہو گیا۔
MAR 4:40 یِسوعؔ نے شاگردوں سے کہا، ”تُم اِس قدر خوفزدہ کیوں رہتے ہو؟ ایمان کیوں نہیں رکھتے؟“
MAR 4:41 مگر وہ حَد سے زِیادہ ڈر گیٔے اَور ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”یہ کون ہے کہ ہَوا اَور لہریں بھی اِن کا حُکم مانتے ہیں!“
MAR 5:1 یِسوعؔ جھیل کے پار گِراسینیوں کے علاقہ میں پہُنچے۔
MAR 5:2 جَب وہ کشتی سے اُترے، ایک آدمی جِس میں بدرُوح تھی قبر سے نکل کر آپ کے پاس آیا۔
MAR 5:3 یہ آدمی قبروں میں رہتا تھا، اَور اَب اُسے زنجیروں میں باندھنا بھی ناممکن ہو گیا تھا۔
MAR 5:4 کیونکہ پہلے کیٔی بار وہ بِیڑیوں اَور زنجیروں سے جکڑا گیا تھا، لیکن وہ زنجیروں کو توڑ ڈالتا اَور بِیڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا تھا۔ اَور کویٔی اُسے قابُو میں نہ لا سَکتا تھا۔
MAR 5:5 وہ دِن رات قبروں اَور پہاڑوں میں برابر چیختا چِلّاتا رہتا تھا اَور اَپنے آپ کو پتھّروں سے زخمی کر لیتا تھا۔
MAR 5:6 جَب بدرُوح نے دُور سے یِسوعؔ کو دیکھا، تو دَوڑکر آپ کے پاس پہُنچی اَور آپ کے سامنے سَجدہ میں گِر کر
MAR 5:7 چِلّا چِلّاکر کہا، ”اَے یِسوعؔ خُداتعالیٰ کے بیٹے، آپ کو مُجھ سے کیا کام، آپ کو خُدا کی قَسم؟ مُجھے عذاب میں نہ ڈالیں!“
MAR 5:8 بات دراصل یہ تھی کہ آپ نے اُس سے کہاتھا، ”اَے بدرُوح، اِس آدمی میں سے باہر نکل آ!“
MAR 5:9 آپ نے بدرُوح سے پُوچھا، ”تیرا نام کیا ہے؟“ اُس نے جَواب دیا، ”میرا نام لشکر ہے، کیونکہ ہماری تعداد بہت زِیادہ ہے۔“
MAR 5:10 بدرُوح نے آپ کی مِنّت کی کہ ہمیں اِس علاقہ سے باہر نہ بھیج۔
MAR 5:11 وہیں پہاڑی کے پاس سُؤروں کا ایک بڑا غول چَر رہاتھا۔
MAR 5:12 بدرُوحیں آپ سے مِنّت کرنے لگیں، ”ہمیں اُن سُؤروں، میں بھیج دیجئے؛ تاکہ ہم اُن میں داخل ہو جایٔیں۔“
MAR 5:13 چنانچہ آپ کی اِجازت سے، بدرُوحیں اُس آدمی میں سے نکل کر سُؤروں میں داخل ہو گئیں۔ اَور اُس غول، کے سارے سُؤر جِن کی تعداد تقریباً دو ہزار تھی، ڈھلان سے جھیل کی طرف لپکے اَور پانی میں گِر کر ڈُوب مَرے۔
MAR 5:14 سُؤر چَرانے والے وہاں سے بھاگ کھڑے ہویٔے اَور اُنہُوں نے شہر اَور دیہات میں، اِس بات کی خبر پہُنچائی لوگ یہ ماجرا دیکھنے کے لیٔے دَوڑے چلے آئے۔
MAR 5:15 جَب لوگ یِسوعؔ کے پاس پہُنچے اَور اُس آدمی کو جِس میں بدرُوحوں کا لشکر تھا، اُسے کپڑے پہنے ہویٔے، ہوش کی حالت میں؛ بیٹھے دیکھا تو بہت خوفزدہ ہویٔے۔
MAR 5:16 جنہوں نے یہ واقعہ دیکھا تھا اُنہُوں نے بدرُوحوں والے آدمی کا حال اَور سُؤروں کا تمام ماجرا اُن سے بَیان کیا۔
MAR 5:17 لوگ یِسوعؔ کی مِنّت کرنے لگے کہ آپ ہمارے علاقہ سے باہر چلے جایٔیں۔
MAR 5:18 آپ کشتی میں، سوار ہونے لگے تو وہ آدمی جو پہلے بدرُوحوں کے قبضہ میں تھا، یِسوعؔ سے مِنّت کی کہ مُجھے بھی اَپنے ساتھ لے چلئے۔
MAR 5:19 آپ نے اُسے اِجازت نہ دی، بَلکہ اُس سے کہا، ”گھرجاکر اَپنے لوگوں کو بتاؤ کہ خُداوؔند نے تمہارے لیٔے اِتنے بڑے کام کیٔے، اَور تُم پر رحم کیا ہے۔“
MAR 5:20 پس وہ آدمی گیا اَور دِکَپُلِسؔ میں اِس بات کا چَرچا کرنے لگا یِسوعؔ نے اُس کے لیٔے کیسے بڑے کام کیٔے اَور سَب لوگ تعجُّب کرتے تھے۔
MAR 5:21 پھر یِسوعؔ کشتی کے ذریعہ واپس ہُوئے اَور جھیل کے دُوسری پار پہُنچتے ہی ایک بڑی بھیڑ آپ کے پاس جمع ہو گئی، جَب کہ آپ جھیل کے کنارے پر ہی رہے۔
MAR 5:22 تَب مقامی یہُودی عبادت گاہ کے رہنماؤں، میں سے ایک جِس کا نام یائیرؔ تھا، وہاں پہُنچا، آپ کو دیکھ کر، آپ کے قدموں پر گِر پڑا
MAR 5:23 اَور مِنّت کرکے کہنے لگا، ”میری چُھوٹی بیٹی مَرنے پر ہے۔ مہربانی سے چلئے اَور اُس پر اَپنے ہاتھ رکھ دیجئے تاکہ وہ شفایاب ہو جائے اَور زندہ رہے۔“
MAR 5:24 پس آپ اُس کے ساتھ چلے گیٔے۔ اَور اِتنی بڑی بھیڑ آپ کے پیچھے ہو گئی لوگ آپ پر گِرے پڑتے تھے۔
MAR 5:25 ایک خاتُون تھی جِس کے بَارہ بَرس سے خُون جاری تھا۔
MAR 5:26 وہ کیٔی طبیبوں سے علاج کراتے کراتے پریشان ہو گئی تھی اَور اَپنی ساری پُونجی لُٹا چُکی تھی، لیکن تندرست ہونے کی بجائے پہلے سے بھی زِیادہ بیمار ہو گئی تھی۔
MAR 5:27 اُس خاتُون نے یِسوعؔ کے بارے میں بہت کُچھ سُن رکھا تھا، چنانچہ اُس نے ہُجوم میں گھُس کر پیچھے سے یِسوعؔ کی پوشاک کو چھُو لیا،
MAR 5:28 کیونکہ وہ کہتی تھی، ”اگر مَیں یِسوعؔ کی پوشاک ہی کو چھُو لُوں گی، تو میں شفا پا جاؤں گی۔“
MAR 5:29 اُسی دَم اُس کا خُون بہنا بندہو گیا اَور اُسے اَپنے بَدن میں محسُوس ہُوا کہ اُس کی ساری تکلیف جاتی رہی ہے۔
MAR 5:30 یِسوعؔ نے فوراً جان لیا کہ اُن میں سے قُوّت نکلی ہے۔ لہٰذا آپ ہُجوم کی طرف مُڑے اَور پُوچھنے لگے، ”کِس نے میری پوشاک کو چھُوا ہے؟“
MAR 5:31 شاگردوں نے یِسوعؔ سے کہا، ”آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہُجوم کِس طرح آپ پر گرا پڑ رہاہے، اَور پھر بھی آپ پُوچھتے ہیں، ’کِس نے مُجھے چھُوا ہے؟‘ “
MAR 5:32 لیکن آپ نے چاروں طرف نظر دَوڑائی تاکہ دیکھیں کہ کِس نے اَیسا کیا ہے۔
MAR 5:33 لیکن وہ خاتُون، یہ جانتے ہویٔے اُس پر کیا اثر ہُواہے، خوفزدہ سِی اَور کانپتی ہویٔی آئی اَور آپ کے قدموں میں گِر کر، آپ کو ساری حقیقت بَیان کی۔
MAR 5:34 آپ نے اُس سے کہا، ”بیٹی، تمہارے ایمان نے تُمہیں شفا بخشی۔ سلامتی کے ساتھ رخصت ہو اَور اَپنی پریشانیوں سے نَجات پاؤ۔“
MAR 5:35 آپ ابھی وعظ دے ہی رہے تھے، یہُودی عبادت گاہ کے رہنما یائیرؔ کے گھر سے کُچھ لوگ آ پہُنچے، رہنما نے خبر دی۔ ”آپ کی بیٹی مَر چُکی ہے، اَب اُستاد کو مزید تکلیف نہ دیجئے؟“
MAR 5:36 یِسوعؔ نے یہ سُن کر، یہُودی عبادت گاہ کے رہنما سے کہا، ”خوف نہ کرو؛ صِرف ایمان رکھو۔“
MAR 5:37 آپ نے پطرس، یعقوب اَور یعقوب کے بھایٔی یُوحنّا کے علاوہ کسی اَور کو اَپنے ساتھ نہ آنے دیا۔
MAR 5:38 جِس وقت وہ یہُودی عبادت گاہ کے رہنما کے گھر پہُنچے، تو آپ نے دیکھا، وہاں بڑا کہرام مچا ہُواہے اَور لوگ بہت رو پیٹ رہے ہیں۔
MAR 5:39 جَب وہ اَندر پہُنچے تو اُن سے کہا، ”تُم لوگوں نے کیوں اِس قدر رونا پیٹنا مچا رکھا ہے؟ بچّی مَری نہیں بَلکہ سو رہی ہے۔“
MAR 5:40 اِس پر وہ آپ کی ہنسی اُڑانے لگے۔ لیکن آپ نے اُن سَب کو وہاں سے باہر نکلوادِیا، اَور بچّی کے ماں باپ اَور اَپنے شاگردوں کو لے کر بچّی کے پاس گیٔے۔
MAR 5:41 وہاں بچّی کا ہاتھ پکڑکر آپ نے اُس سے کہا، ”تلِیتا قَومی!“ (جِس کے معنی ہیں ”اَے بچّی، میں تُم سے کہتا ہُوں، اُٹھو!“)
MAR 5:42 بچّی ایک دَم اُٹھی اَور چلنے پھرنے لگی (یہ لڑکی بَارہ بَرس کی تھی)۔ یہ دیکھ کر لوگ حیرت زدہ رہ گیٔے۔
MAR 5:43 یِسوعؔ نے اُنہیں سخت تاکید کی کہ اِس کی خبر کسی کو نہ ہونے پایٔے، اَور فرمایا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دیا جائے۔
MAR 6:1 پھر یِسوعؔ وہاں سے اَپنے شہر کو روانہ ہُوئے، اَور اُن کے شاگرد بھی اُن کے ساتھ گیٔے۔
MAR 6:2 جَب سَبت کا دِن آیا، آپ مقامی یہُودی عبادت گاہ میں تعلیم دینے لگے، بہت سے لوگ یِسوعؔ کی تعلیم سُن کر حیران ہُوئے اَور کہنے لگے۔ ”اِس نے یہ ساری باتیں کہاں سے سیکھی ہیں؟ یہ کیسی حِکمت ہے جو اِنہیں عطا کی گئی ہے؟ اَور اُن کے ہاتھوں کیسے کیسے معجزے ہوتے ہیں؟
MAR 6:3 کیا یہ بڑھئی نہیں؟ جو مریمؔ کا بیٹا اَور یعقوب، یُوسیسؔ، یہُوداہؔ، اَور شمعُونؔ کے بھایٔی نہیں؟ کیا اِن کی بہنیں ہمارے یہاں نہیں رہتیں؟“ اَور اُنہُوں نے اُن کے سبب سے ٹھوکر کھائی۔
MAR 6:4 چنانچہ یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”نبی کی بےقدری اُس کے اَپنے شہر، رشتہ داروں اَور گھر والوں میں ہی ہوتی ہے اَور کہیں نہیں۔“
MAR 6:5 اَور آپ چند بیماریوں پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں شفا دینے، کے سِوا کویٔی بڑا معجزہ وہاں نہ دِکھا سکے۔
MAR 6:6 یِسوعؔ نے وہاں کے لوگوں کی بےاِعتقادی پر تعجُّب کیا۔ اَور وہ وہاں سے نکل کر اِردگرد کے گاؤں اَور قصبوں میں تعلیم دینے لگے۔
MAR 6:7 یِسوعؔ نے اَپنے، بَارہ شاگردوں کو بُلایا اَور اُنہیں دو دو کرکے روانہ کیا اَور اُنہیں بدرُوحوں کو نکالنے کا اِختیار بخشا۔
MAR 6:8 اُنہیں یہ بھی ہدایت دی، ”اَپنے سفر کے لیٔے سِوائے لاٹھی کے اَور کُچھ نہ لینا، نہ روٹی نہ تھیلا، نہ کمربند میں پیسے۔
MAR 6:9 جُوتے تو پہننا مگر دو دو کُرتے نہیں۔
MAR 6:10 یِسوعؔ نے اُن سے کہا کہ جہاں بھی تُم کسی گھر میں داخل ہو، تو اُس شہر سے رخصت ہونے تک اُسی گھر میں ٹھہرے رہنا۔
MAR 6:11 اگر کسی جگہ لوگ تُمہیں قبُول نہ کریں اَور کلام سُننا نہ چاہیں تو وہاں سے رخصت ہوتے وقت اَپنے پاؤں کی گرد بھی وہاں سے جھاڑ دینا تاکہ وہ اُن کے خِلاف گواہی دے۔“
MAR 6:12 چنانچہ وہ روانہ ہویٔے اَور مُنادی کرنے لگے کہ تَوبہ کرو۔
MAR 6:13 اُنہُوں نے بہت سِی بدرُوحوں کو نکالا اَور بہت سے بیماریوں کو تیل مَل کر شفا بخشی۔
MAR 6:14 ہیرودیسؔ بادشاہ نے یِسوعؔ کا ذِکر سُنا، کیونکہ اُن کا نام کافی مشہُور ہو چُکاتھا۔ بعض لوگ کہتے تھے، ”حضرت یُوحنّا پاک غُسل دینے والے مُردوں میں سے جی اُٹھے ہیں، اَور اِسی لیٔے تو اُن میں معجزے دِکھانے کی قُدرت ہے۔“
MAR 6:15 مگر بعض کہتے تھے، ”وہ ایلیّاہ ہیں۔“ اَور بعض لوگوں کا کہنا تھا، ”وہ پُرانے نبیوں جَیسے ایک نبی ہیں۔“
MAR 6:16 جَب ہیرودیسؔ نے یہ سُنا، تو اُس نے کہا، ”یُوحنّا پاک غُسل دینے والا جِس کا مَیں نے سَر قلم کروا دیا تھا، پھر سے جی اُٹھا ہے!“
MAR 6:17 اصل میں ہیرودیسؔ نے حضرت یُوحنّا کو پکڑواکر قَیدخانہ میں ڈال دیا تھا، وجہ یہ تھی کہ ہیرودیسؔ، نے اَپنے بھایٔی فِلِپُّسؔ کی بیوی، ہیرودِیاسؔ سے بیاہ کر لیا تھا۔
MAR 6:18 اَور حضرت یُوحنّا ہیرودیسؔ سے کہہ رہے تھے، ”تُجھے اَپنے بھایٔی کی بیوی اَپنے پاس رکھنا جائز نہیں ہے۔“
MAR 6:19 ہیرودِیاسؔ بھی حضرت یُوحنّا سے دُشمنی رکھتی تھی اَور اُنہیں قتل کروانا چاہتی تھی۔ لیکن موقع نہیں ملتا تھا،
MAR 6:20 اِس لیٔے کہ حضرت یُوحنّا، ہیرودیسؔ بادشاہ کی نظر میں ایک راستباز اَور مُقدّس آدمی تھے۔ وہ اُن کا بڑا اِحترام کیا کرتا تھا اَور اُن کی حِفاظت کرنا اَپنا فرض سمجھتا تھا، وہ حضرت یُوحنّا کی باتیں سُن کر پریشان تو ضروُر ہوتا تھا؛ لیکن سُنتا شوق سے تھا۔
MAR 6:21 لیکن ہیرودِیاسؔ کو ایک دِن موقع مِل ہی گیا۔ جَب ہیرودیسؔ نے اَپنی سال گِرہ کی خُوشی میں اَپنے اُمرائے دربار اَور فَوجی افسران اَور صُوبہ گلِیل کے رئیسوں کی دعوت کی۔
MAR 6:22 اِس موقع پر ہیرودِیاسؔ کی بیٹی نے محفل میں آکر رقص کیا، اَور ہیرودیسؔ بادشاہ اَور اُس کے مہمانوں کو اِس قدر خُوش کر دیا کہ بادشاہ اُس سے مُخاطِب ہوکر کہنے لگا۔ تو جو چاہے مُجھ سے مانگ لے، ”مَیں تُجھے دُوں گا۔“
MAR 6:23 بَلکہ اُس نے قَسم کھا کر کہا، ”جو کُچھ تو مُجھ سے مانگے گی، مَیں تُجھے دُوں گا چاہے وہ میری آدھی سلطنت ہی کیوں نہ ہو۔“
MAR 6:24 لڑکی نے باہر جا کر اَپنی ماں، سے پُوچھا، ”میں کیا مانگوں؟“ تَب اُس کی ماں نے جَواب دیا، ”یُوحنّا پاک غُسل دینے والے کا سَر۔“
MAR 6:25 لڑکی فوراً بادشاہ کے پاس واپس آئی اَور عرض کرنے لگی: ”مُجھے ابھی ایک تھال میں یُوحنّا پاک غُسل دینے والے کا سَر چاہیے۔“
MAR 6:26 بادشاہ کو بےحد افسوس ہُوا، لیکن وہ مہمانوں کے سامنے قَسم دے چُکاتھا، اِس لیٔے بادشاہ لڑکی سے اِنکار نہ کر سَکا۔
MAR 6:27 چنانچہ بادشاہ نے اُسی وقت حِفاظتی دستے کے ایک سپاہی کو حُکم دیا کہ وہ جائے، اَور یُوحنّا کا سَر لے آئے۔ سپاہی نے قَیدخانہ میں جا کر، حضرت یُوحنّا کا سَر تن سے جُدا کیا،
MAR 6:28 اَور اُسے ایک تھال میں رکھ کر لایا اَور لڑکی کے حوالہ کر دیا، اَور لڑکی نے اُسے لے جا کر اَپنی ماں کُودے دیا۔
MAR 6:29 جَب حضرت یُوحنّا کے شاگردوں نے یہ خبر سنی تو وہ آئے اَور اُن کی لاش اُٹھاکر لے گیٔے اَور اُنہیں ایک قبر میں دفن کر دیا۔
MAR 6:30 یِسوعؔ کے پاس رسول واپس آئے اَورجو کُچھ اُنہُوں نے کام کیٔے اَور تعلیم سِکھائی تھی اُن سَب کو آپ سے بَیان کیا۔
MAR 6:31 آپ نے اُن سے کہا، ”ہم کسی ویران اَور الگ جگہ پر چلیں اَور تھوڑی دیر آرام کریں، کیونکہ اُن کے پاس بہت سے لوگوں کی آمدورفت لگی رہتی تھی اَور اُنہیں کھانے تک کی فُرصت نہ ملتی تھی۔“
MAR 6:32 تَب یِسوعؔ کشتی میں بیٹھ کر دُور ایک ویران جگہ کی طرف روانہ ہویٔے۔
MAR 6:33 لوگوں نے اُنہیں جاتے دیکھ لیا اَور پہچان لیا۔ اَور تمام شہروں کے لوگ اِکٹھّے ہوکر پیدل ہی دَوڑے اَور آپ سے پہلے وہاں پہُنچ گیٔے۔
MAR 6:34 جَب یِسوعؔ کشتی سے کنارے پر اُترے تو آپ نے ایک بڑے ہُجوم کو دیکھا، اَور آپ کو اُن پر بڑا ترس آیا، کیونکہ وہ لوگ اُن بھیڑوں کی مانِند تھے جِن کا کویٔی گلّہ بان نہ ہو۔ لہٰذا وہ اُنہیں بہت سِی باتیں سِکھانے لگے۔
MAR 6:35 اِسی دَوران شام ہو گئی، اَور شاگردوں نے اُن کے پاس آکر کہا، ”یہ جگہ ویران ہے اَور دِن ڈھل چُکاہے۔
MAR 6:36 اِن لوگوں کو رخصت کر دیجئے تاکہ وہ آس پاس کی بستیوں اَور گاؤں میں چلے جایٔیں اَور خرید کر کُچھ کھا پی لیں۔“
MAR 6:37 لیکن یِسوعؔ نے جَواب میں کہا، ”تُم ہی اِنہیں کھانے کو دو۔“ شاگردوں نے کہا، ”کیا ہم جایٔیں اَور اُن کے کھانے کے لیٔے دو سَو دینار! کی روٹیاں خرید کر لائیں؟“
MAR 6:38 اُنہُوں نے پُوچھا، ”تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟ جاؤ اَور دیکھو۔“ اُنہُوں نے دریافت کرکے، بتایا، ”پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں ہیں۔“
MAR 6:39 تَب یِسوعؔ نے لوگوں کو چُھوٹی چُھوٹی قطاریں بنا کر سبز گھاس پر بیٹھ جانے کا حُکم دیا۔
MAR 6:40 اَور وہ سَو سَو اَور پچاس پچاس کی قطاریں بنا کر بیٹھ گیٔے۔
MAR 6:41 یِسوعؔ نے وہ پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں لیں اَور آسمان، کی طرف نظر اُٹھاکر اُن پر برکت مانگی۔ پھر آپ نے اُن روٹیوں کے ٹکڑے توڑ کر شاگردوں کو دئیے اَور کہا کہ اِنہیں لوگوں کے سامنے رکھتے جایٔیں۔ اِسی طرح خُداوؔند نے دو مچھلیاں بھی اُن سَب لوگوں میں تقسیم کر دیں۔
MAR 6:42 سَب لوگ کھا کر سیر ہو گئے،
MAR 6:43 روٹیوں اَور مچھلیوں کے ٹُکڑوں کی بَارہ ٹوکریاں بھر کر اُٹھائی گئیں۔
MAR 6:44 جِن لوگوں نے وہ روٹیاں کھائی تھیں اُن میں مَرد ہی پانچ ہزار تھے۔
MAR 6:45 لوگوں کو رخصت کرنے سے پہلے اُنہُوں نے شاگردوں پر زور دیا، تُم فوراً کشتی پر سوار ہوکر جھیل کے پار بیت صیؔدا چلے جاؤ، تاکہ میں یہاں لوگوں کو رخصت کر سکوں۔
MAR 6:46 اُنہیں رخصت کرنے کے بعد وہ دعا کرنے کے لیٔے ایک پہاڑی پر چلےگئے۔
MAR 6:47 رات کے آخِر میں، کشتی جھیل کے درمیانی حِصّہ میں پہُنچ چُکی تھی، اَور وہ کنارے پر تنہا تھے۔
MAR 6:48 یِسوعؔ نے جَب دیکھا کہ ہَوا مُخالف ہونے کی وجہ سے شاگردوں کو کشتی کو کھینے میں بڑی مُشکل پیش آ رہی ہے۔ لہٰذا وہ رات کے چوتھے پہر کے قریب جھیل پر چلتے ہویٔے اُن کے پاس پہُنچے، اَور چاہتے تھے کہ اُن سے آگے نکل جایٔیں،
MAR 6:49 لیکن شاگردوں نے اُنہیں پانی پر چلتے، دیکھا تو آپ کو بھُوت سمجھ کر۔ شاگرد خُوب چِلّانے لگے،
MAR 6:50 کیونکہ سَب اُنہیں دیکھ کر بہت ہی زِیادہ خوفزدہ ہو گئے تھے۔ مگر آپ نے فوراً اُن سے بات کی اَور کہا، ”ہِمّت رکھو! میں ہُوں۔ ڈرو مت۔“
MAR 6:51 تَب وہ اُن کے ساتھ کشتی میں چڑھ گیٔے اَور ہَوا تھم گئی۔ شاگرد اَپنے دِلوں میں نہایت ہی حیران ہویٔے،
MAR 6:52 کیونکہ وہ روٹیوں کے معجزہ سے بھی کویٔی سبق نہ سیکھ پایٔے تھے؛ اَور اُن کے دِل سخت کے سخت ہی رہے۔
MAR 6:53 وہ جھیل کو پار کرنے کے بعد، وہ گنیسرتؔ کے علاقہ میں پہُنچے اَور کشتی کو کنارے سے لگا دیا۔
MAR 6:54 جَب وہ کشتی سے اُترے تو لوگوں نے یِسوعؔ کو ایک دَم پہچان لیا۔
MAR 6:55 پس لوگ اُن کی مَوجُودگی کی خبر سُن کر ہر طرف سے دَوڑ پڑے اَور بیماریوں کو بچھونوں پر ڈال کر اُن کے پاس لانے لگے۔
MAR 6:56 اَور یِسوعؔ گاؤں یا شہروں یا بستیوں میں جہاں کہیں جاتے تھے لوگ بیماریوں کو بازاروں میں راستوں پر رکھ دیتے تھے۔ اَور اُن کی مِنّت کرتے تھے کہ اُنہیں صِرف اَپنی پوشاک، کا کنارہ چھُو لینے دیں اَور جتنے یِسوعؔ کو چھُو لیتے تھے۔ شفا پاجاتے تھے۔
MAR 7:1 ایک دفعہ یروشلیمؔ کے بعض فرِیسی اَور شَریعت کے کُچھ عالِم یِسوعؔ کے پاس جمع ہویٔے۔
MAR 7:2 اُنہُوں نے دیکھا کہ اُن کے بعض شاگرد ناپاک ہاتھوں سے یعنی، ہاتھ دھوئے بغیر کھانا کھاتے ہیں۔
MAR 7:3 (اصل میں فرِیسی بَلکہ سَب یہُودی اَپنے بُزرگوں کی روایتوں کے اِس قدر پابند ہوتے ہیں جَب تک اَپنے ہاتھوں کو رسمی دھلائی تک دھو نہ لیں کھانا نہیں کھاتے۔
MAR 7:4 اَور جَب بھی بازار سے آتے ہیں تو بغیر ہاتھ دھوئے کھانا نہیں کھاتے۔ اِسی طرح اَور بھی بہت سِی روایتیں ہیں۔ جو بُزرگوں سے پہُنچی ہیں، جِن کی وہ پابندی کرتے ہیں مثلاً پیالے، گھڑوں اَور تانبے کے برتنوں، کو خاص طریقہ سے دھونا۔)
MAR 7:5 لہٰذا فریسیوں اَور شَریعت کے عالِموں نے یِسوعؔ سے پُوچھا، ”کیا وجہ ہے آپ کے شاگرد بُزرگوں کی روایت پر عَمل نہیں کرتے اَور ناپاک ہاتھوں سے کھانا کھاتے ہیں؟“
MAR 7:6 آپ نے اُنہیں جَواب دیا، ”حضرت یَشعیاہ نبی نے تُم ریاکاروں کے بارے میں کیا خُوب نبُوّت کی ہے؛ جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ” ’یہ اُمّت زبان سے تو میری تعظیم کرتی ہے، مگر اِن کا دِل مُجھ سے دُور ہے۔
MAR 7:7 یہ لوگ بے فائدہ میری پرستش کرتے ہیں؛ کیونکہ آدمیوں کے حُکموں کی تعلیم دیتے ہیں۔‘
MAR 7:8 تُم خُدا کے اَحکام کو چھوڑکر اِنسانی روایت کو قائِم رکھتے ہو۔“
MAR 7:9 پھر یہ کہا، ”تُم اَپنی روایت کو قائِم رکھنے کے لیٔے خُدا کے حُکم کو کیسی خُوبی کے ساتھ باطِل کر دیتے ہو!
MAR 7:10 مثلاً حضرت مَوشہ نے فرمایاہے، ’تُم اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا،‘ اَور ’جو کویٔی باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضروُر مار ڈالا جائے۔‘
MAR 7:11 مگر تُم یہ کہتے ہو کہ جو چاہے اَپنے ضروُرت مند باپ یا ماں سے کہہ سَکتا ہے کہ میری جِس چیز سے تُجھے فائدہ پہُنچ سَکتا تھا وہ تو قُربان (یعنی، خُدا کی نذر) ہو چُکی
MAR 7:12 تُم اُسے اَپنے ماں باپ کی کُچھ بھی مدد نہیں کرنے دیتے۔
MAR 7:13 یُوں تُم اَپنی روایت سے جو تُم نے جاری کی ہے کہ خُدا کے کلام کو باطِل کر دیتے ہو۔ تُم اِس قَسم کے اَور بھی کیٔی کام کرتے ہو۔“
MAR 7:14 پھر یِسوعؔ نے ہُجوم کو اَپنے پاس بُلاکر فرمایا، ”تُم سَب، میری بات سُنو، اَور اِسے سمجھنے کی کوشش کرو۔
MAR 7:15 جو چیز باہر سے اِنسان کے اَندر جاتی ہے۔ وہ اُسے ناپاک نہیں کر سکتی۔ بَلکہ، جو چیز اُس کے اَندر سے باہر نکلتی ہے وُہی اُسے ناپاک کرتی ہے۔
MAR 7:16 جِس کے پاس سُننے والے کان ہیں وہ سُن لے۔“
MAR 7:17 جَب وہ ہُجوم کے پاس سے گھر میں داخل ہُوئے، تو اُن کے شاگردوں نے اِس تمثیل کا مطلب پُوچھا۔
MAR 7:18 اُنہُوں نے اُن سے کہا؟ ”کیا تُم بھی اَیسے ناسمجھ ہو؟ اِتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جو چیز باہر سے اِنسان کے اَندر جاتی ہے وہ اُسے ناپاک نہیں کر سکتی؟
MAR 7:19 اِس لیٔے کہ وہ اُس کے دِل میں نہیں بَلکہ پیٹ میں، جاتی ہے اَور آخِرکار بَدن سے خارج ہوکر باہر نکل جاتی ہے۔“ (یہ کہہ کر، حُضُور نے تمام کھانے کی چیزوں کو پاک ٹھہرایا۔)
MAR 7:20 پھر اُنہُوں نے کہا: ”اصل میں جو کُچھ اِنسان کے دِل سے باہر نکلتا ہے وُہی اُسے ناپاک کرتا ہے۔
MAR 7:21 کیونکہ اَندر سے یعنی اُس کے دِل سے، بُرے خیال باہر آتے ہیں جَیسے، جنسی بدفعلی، چوری، خُونریزی
MAR 7:22 زنا، لالچ، بدکاری، مَکر و فریب، شہوت پرستی، بدنظری، کُفر، تکبُّر اَور حماقت۔
MAR 7:23 یہ سَب بُرائیاں اِنسان کے اَندر سے نکلتی ہیں اَور اُسے ناپاک کردیتی ہیں۔“
MAR 7:24 یِسوعؔ وہاں سے اُٹھ کر صُورؔ کے علاقہ میں گیٔے۔ جہاں آپ ایک گھر میں داخل ہُوئے اَور آپ نہیں چاہتے تھے کہ کسی کو پتہ چلے؛ لیکن وہ پوشیدہ نہ رہ سکے۔
MAR 7:25 کیونکہ، ایک خاتُون جِس کی چُھوٹی بیٹی میں بدرُوح تھی، یہ سُنتے ہی یِسوعؔ وہاں ہیں، اُن کے پاس آئی اَور اُن کے قدموں پر گِر گئی۔
MAR 7:26 یہ یُونانی، خاتُون سُوؔر فینیکی قوم کی تھی۔ وہ یِسوعؔ کی مِنّت کرنے لگی کہ میری لڑکی میں سے بدرُوح کو نکال دیجئے۔
MAR 7:27 یِسوعؔ نے اُس خاتُون سے کہا، ”پہلے بچّوں کو پیٹ بھر کھالینے دے، کیونکہ بچّوں کی روٹی لے کر کُتّوں کو ڈال دینا مُناسب نہیں ہے۔“
MAR 7:28 لیکن خاتُون نے اُنہیں جَواب دیا، ”جی ہاں آقا، مگر کُتّے بھی بچّوں کی میز سے نیچے گرائے ہویٔے ٹُکڑوں میں سے کھاتے ہیں۔“
MAR 7:29 اِس پر یِسوعؔ نے خاتُون سے کہا، ”اگر یہ بات ہے، تو گھر جاؤ؛ بدرُوح تیری بیٹی میں سے نکل گئی ہے۔“
MAR 7:30 جَب وہ گھر پہُنچی تو دیکھا کہ لڑکی چارپائی پر لیٹی ہویٔی ہے، اَور بدرُوح اُس میں سے نکل چُکی ہے۔
MAR 7:31 پھر وہ صُورؔ کے علاقہ سے نکلے اَور صیؔدا، کی راہ سے دِکَپُلِسؔ یعنی دس شہر کے علاقے سے ہوتے ہُوئے صُوبہ گلِیل کی جھیل پر پہُنچے۔
MAR 7:32 کُچھ لوگ ایک بہرے آدمی کو جو ہکلاتا بھی تھا، یِسوعؔ کے پاس لایٔے اَور مِنّت کرنے لگے کہ اُن پر اَپنا ہاتھ رکھ دیجئے۔
MAR 7:33 یِسوعؔ اُس آدمی کو بھیڑ سے، الگ لے گیٔے، اَور اَپنی اُنگلیاں اُس کے کانوں میں ڈالیں۔ اَور تھُوک سے اُس کی زبان چھُوئی۔
MAR 7:34 اَور آسمان کی طرف نظر اُٹھاکر آہ بھری اَور فرمایا، ”اِفّاتَح!“ (یعنی ”کھُل جاؤ!“)۔
MAR 7:35 اُسی وقت، اُس آدمی کے کان کُھل گیٔے، اَور زبان ٹھیک ہو گئی اَور وہ صَاف طور سے بولنے لگا۔
MAR 7:36 یِسوعؔ نے لوگوں سے کہا کہ یہ بات کسی کو نہ بتانا۔ لیکن وہ جِتنا منع کرتا تھے، لوگ اُتنا ہی زِیادہ چَرچا کرتے تھے۔
MAR 7:37 لوگ سُن کر حیران ہوتے تھے اَور کہتے تھے۔ ”وہ جو بھی کرتے ہیں اَچھّا کرتے ہیں، بہروں کو سُننے اَور گُونگوں کو بولنے کی طاقت بخشتے ہیں۔“
MAR 8:1 اُن ہی دِنوں ایک بار پھر بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ اَور اُن کے پاس کھانے کو کُچھ نہ تھا، اِس لیٔے یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں کو اَپنے پاس بُلایا اَور فرمایا،
MAR 8:2 ”مُجھے اِن لوگوں پر ترس آتا ہے؛ کیونکہ یہ تین دِن سے برابر میرے ساتھ ہیں اَور اِن کے پاس کھانے کو کُچھ نہیں رہا۔
MAR 8:3 اگر مَیں اِنہیں بھُوکا ہی گھر بھیج دُوں، تُو یہ راستے میں ہی بے ہوش جایٔیں گے، کیونکہ اِن میں سے بعض کافی دُور کے ہیں۔“
MAR 8:4 اُن کے شاگردوں نے اُنہیں جَواب دیا، ”یہاں اِس بیابان میں اِتنی روٹیاں اِتنے لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیٔے کویٔی کہاں سے لایٔے گا؟“
MAR 8:5 یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”سات۔“
MAR 8:6 یِسوعؔ نے ہُجوم سے فرمایا کہ سَب زمین پر بیٹھ جایٔیں۔ اَور حُضُور نے وہ سات روٹیاں لے کر خُدا کا شُکر اَدا کیا، اَور اُن کے ٹکڑے کیٔے اَور اُنہیں لوگوں کے درمیان تقسیم کے لیٔے اَپنے شاگردوں کو دینے لگے۔
MAR 8:7 اُن کے پاس کُچھ چُھوٹی چُھوٹی مچھلیاں بھی تھیں؛ یِسوعؔ نے اُن پر بھی برکت دی اَور شاگردوں سے فرمایا کہ اِنہیں بھی لوگوں کے درمیان تقسیم کر دو۔
MAR 8:8 لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا۔ اَور جَب بچے ہویٔے ٹکڑے جمع کیٔے گیٔے تو سات ٹوکریاں بھر گئیں۔
MAR 8:9 حالانکہ کھانے والے لوگوں کی تعداد چار ہزار کے قریب تھی۔ اِس کے بعد یِسوعؔ نے اُنہیں رخصت کر دیا،
MAR 8:10 اَور خُود اَپنے شاگردوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوکر فوراً دَلمَنُوتؔھا کے علاقہ کے لیٔے روانہ ہو گئے۔
MAR 8:11 بعض فرِیسی یِسوعؔ کے پاس آکر بحث کرنے لگے۔ اَور اُنہیں آزمانے کی غرض سے اُن سے کویٔی آسمانی نِشان دِکھانے کا مطالبہ کیا۔
MAR 8:12 یِسوعؔ نے اَپنی رُوح میں بڑی گہری آہ بھری اَور فرمایا، ”اِس زمانہ کے لوگ نِشان کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟ میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، اِس زمانہ کے لوگوں کو کویٔی نِشان نہیں دِکھایا جائے گا۔“
MAR 8:13 تَب وہ اُنہیں چھوڑکر پھر سے کشتی میں جا بیٹھے اَور جھیل کے پار چلےگئے۔
MAR 8:14 اَیسا ہُوا کہ شاگرد روٹی لانا بھُول گیٔے، اَور اُن کے پاس کشتی میں ایک روٹی سے زِیادہ اَور کُچھ نہ تھا۔
MAR 8:15 یِسوعؔ نے اُنہیں تاکیداً فرمایا، ”خبردار، دیکھو فریسیوں اَور ہیرودیسؔ کے خمیر سے بچے رہنا۔“
MAR 8:16 اُنہُوں نے ایک دُوسرے سے اِس پر تبادلہ خیال کیا اَور وہ کہنے لگے، ”دیکھا ہم اَپنے ساتھ روٹیاں لانا بھُول گیٔے۔“
MAR 8:17 یِسوعؔ کو مَعلُوم ہُوا، تو اُنہُوں نے اُن سے پُوچھا: ”تُم کیوں تکرار کرتے ہو کہ ہمارے پاس روٹیاں نہیں ہیں؟ کیا تُم ابھی تک نہیں جانتے اَور سمجھتے ہو؟ کیا تمہارے دِل سخت ہو چُکے ہیں؟
MAR 8:18 تمہاری آنکھیں ہونے پر بھی دیکھ نہیں پا رہے ہو، اَور کان ہونے پر بھی کچھ نہیں سُنتے ہو؟ کیا تُمہیں کچھ یاد نہیں رہا؟
MAR 8:19 جِس وقت مَیں نے پانچ ہزار آدمیوں کے لیٔے، پانچ روٹیوں کے ٹکڑے کیٔے تھے تو تُم نے بچے ہویٔے ٹُکڑوں کی کتنی ٹوکریاں اُٹھائی تھیں؟“ ”بَارہ،“ اُنہُوں نے جَواب دیا۔
MAR 8:20 ”اَور جَب مَیں نے چار ہزار آدمیوں کے لیٔے، اُن سات روٹیوں کو دیا تو تُم نے باقی بچے ٹُکڑوں سے کتنی ٹوکریاں بھری تھیں؟“ اُنہُوں نے کہا، ”سات۔“
MAR 8:21 تَب یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”کیا تمہاری سمجھ میں ابھی بھی کُچھ نہیں آیا؟“
MAR 8:22 یِسوعؔ بیت صیؔدا پہُنچے، جہاں کُچھ لوگ ایک نابینا کو آپ کے پاس لایٔے اَور مِنّت کرنے لگے کہ وہ اُسے چھُوئیں۔
MAR 8:23 وہ اُس نابینا کا ہاتھ پکڑکر اُسے گاؤں سے باہر لے گیٔے۔ اَور اُس کی آنکھوں پر تھُوک کر اَپنے ہاتھ اُس پر رکھے، اَور آپ نے پُوچھا، ”تُمہیں کُچھ نظر آ رہاہے؟“
MAR 8:24 اُس آدمی نے نگاہ اُوپر اُٹھاکر کہا، ”میں لوگوں کو دیکھتا ہُوں؛ لیکن وہ چلتے درختوں کی طرح دکھتے ہیں۔“
MAR 8:25 یِسوعؔ نے پھر اَپنے ہاتھ اُس آدمی کی آنکھوں پر رکھے۔ اَور جَب اُس نے نظر اُٹھائی، آنکھیں کھُل گئیں، اَور اُسے ہر چیز صَاف دِکھائی دینے لگی۔
MAR 8:26 یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”اِس گاؤں میں کسی کو یہ بات بتائے بغیر سیدھے اَپنے گھر چلے جاؤ۔“
MAR 8:27 یِسوعؔ اَور اُن کے شاگرد قَیصؔریہ فِلپّی کے دیہات کی طرف بڑھے۔ راستے میں اُنہُوں نے اَپنے شاگردوں سے پُوچھا، ”لوگ مُجھے کیا کہتے ہیں؟“
MAR 8:28 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”بعض آپ کو حضرت یُوحنّا پاک غُسل دینے والا کہتے ہیں؛ بعض ایلیّاہ؛ اَور بعض کہتے ہیں، نبیوں میں سے کویٔی نبی ہیں۔“
MAR 8:29 تَب آپ نے اُن سے پُوچھا، ”تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ مَیں کون ہُوں؟“ پطرس نے جَواب دیا، ”آپ خُدا کے المسیح ہیں۔“
MAR 8:30 یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کی کہ میرے بارے میں کسی سے یہ نہ کہنا۔
MAR 8:31 پھر وہ اَپنے شاگردوں کو تعلیم دینے لگے اِبن آدمؔ کا دُکھ اُٹھانا بہت ضروُری ہے اَور یہ بھی وہ بُزرگوں، اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں کی طرف سے ردّ کیا جائے، اَور وہ قتل کیا جائے اَور تیسرے دِن پھر زندہ ہو جائے۔
MAR 8:32 یِسوعؔ نے یہ بات صَاف صَاف بَیان کی، اَور پطرس حُضُور کو الگ لے جا کر ملامت کرنے لگے۔
MAR 8:33 مگر آپ نے مُڑ کر اَپنے دُوسرے شاگردوں کو دیکھا، اَور پطرس کو ملامت کرتے ہویٔے کہا، ”اَے شیطان! میرے سامنے سے دُورہو جا! کیونکہ تیرا دِل خُدا کی باتوں میں نہیں، لیکن آدمیوں کی باتوں میں لگا ہے۔“
MAR 8:34 تَب اُنہُوں نے مجمع کے ساتھ اَپنے شاگردوں کو بھی اَپنے پاس بُلایا اَور اُن سے مُخاطِب ہویٔے: ”جو کویٔی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خُودی کا اِنکار کرے، اَپنی صلیب اُٹھائے اَور میرے پیچھے ہولے۔
MAR 8:35 کیونکہ جو کویٔی اَپنی جان کو باقی رکھنا چاہتاہے وہ اُسے کھویٔے گا، لیکن جو کویٔی میری اَور انجیل کی خاطِر اَپنی جان کھو دیتاہے وہ اُسے محفوظ رکھےگا۔
MAR 8:36 آدمی اگر ساری دُنیا حاصل کر لے، مگر اَپنی جان کا نُقصان اُٹھائے اُسے کیا فائدہ ہوگا؟
MAR 8:37 یا آدمی اَپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا؟
MAR 8:38 جو کویٔی اِس زناکار اَور گُناہ آلُود پُشت میں مُجھ سے اَور میرے کلام سے شرمائے گا تو اِبن آدمؔ بھی جَب وہ اَپنے باپ کے جلال میں مُقدّس فرشتوں کے ساتھ آئے گا، اُس سے شرمائے گا۔“
MAR 9:1 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، بعض لوگ جو یہاں ہیں وہ جَب تک کہ خُدا کی بادشاہی کی قُدرت کو قائِم ہوتا ہُوا نہ دیکھ لیں وہ موت کو ہرگز نہیں دیکھیں گے۔“
MAR 9:2 چھ دِن بعد یِسوعؔ نے پطرس، یعقوب اَور یُوحنّا کو ہمراہ لیا اَور اُنہیں الگ ایک اُونچے پہاڑ پر لے گیٔے، جہاں کویٔی نہ تھا۔ وہاں شاگردوں کے سامنے اُن کی صورت بدل گئی۔
MAR 9:3 اُن کی پوشاک چمکنے لگی، اَور اِس قدر سفید ہو گئی کہ اِس سرزمین کا کویٔی دھوبی بھی اِس قدر سفید نہیں کر سَکتا۔
MAR 9:4 تَب ایلیّاہ اَور حضرت مَوشہ، یِسوعؔ کے ساتھ اُن کو دِکھائی دئیے اَور وہ یِسوعؔ کے ساتھ گُفتگو کرتے نظر آئے۔
MAR 9:5 پطرس نے یِسوعؔ سے کہا، ”ربّی، ہمارا یہاں رہنا اَچھّا ہے۔ کیوں نہ ہم تین خیمے لگائیں ایک آپ کے لیٔے، اَور ایک مَوشہ اَور ایلیّاہ کے لیٔے۔“
MAR 9:6 (دراصل پطرس کو نہیں مَعلُوم تھا کہ اَور کیا کہے، کیونکہ وہ بہت خوفزدہ ہو گئے تھے۔)
MAR 9:7 تَب ایک بادل نے اُن پر سایہ کر لیا، اَور اُس بادل میں سے آواز آئی: ”یہ میرا پیارا بیٹا ہے۔ اِس کی بات غور سے سُنو!“
MAR 9:8 اَچانک، جَب اُنہُوں نے آس پاس نظر کی، تو اُنہُوں نے یِسوعؔ کے سِوا اَپنے ساتھ کسی اَور کو نہ پایا۔
MAR 9:9 جِس وقت وہ پہاڑ سے نیچے اُتر رہے تھے، تو یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کی کہ جَب تک اِبن آدمؔ مُردوں میں سے جی نہ اُٹھے، جو کُچھ تُم نے دیکھاہے اُس کا ذِکر کسی سے نہ کرنا۔
MAR 9:10 شاگردوں نے یہ بات اَپنے دِل میں رکھی، لیکن وہ آپَس میں بحث کر رہے تھے ”مُردوں میں سے جی اُٹھنے“ کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔
MAR 9:11 لہٰذا اُنہُوں نے، یِسوعؔ سے پُوچھا، ”شَریعت کے عالِم کیوں کہتے ہیں کہ ایلیّاہ کا پہلے آنا ضروُری ہے؟“
MAR 9:12 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”یہ ضروُری ہے کہ پہلے ایلیّاہ آئے، اَور سَب کُچھ بحال کر دے۔ مگر کِتاب مُقدّس میں اِبن آدمؔ کے بارے میں یہ کیوں لِکھّا ہے کہ وہ بہت دُکھ اُٹھائے گا اَور ذلیل کیا جائے گا؟
MAR 9:13 لیکن مَیں تُم سے کہتا ہُوں، ایلیّاہ تو آ چُکا، اَور جَیسا کہ اُس کے متعلّق لِکھّا ہُواہے، اُنہُوں نے اَپنی مرضی کے مُطابق اُس کے ساتھ جَیسا چاہا وَیسا کیا۔“
MAR 9:14 جَب وہ شاگردوں کے پاس آئے، اُنہُوں نے دیکھا کہ اُن کے اِردگرد ایک بڑا ہُجوم جمع ہے اَور شَریعت کے عالِم اُن سے بحث کر رہے ہیں۔
MAR 9:15 جُوں ہی لوگوں کی نظر آپ پر پڑی، وہ حیران ہوکر اُن کی طرف سلام کرنے دَوڑے۔
MAR 9:16 یِسوعؔ نے شاگردوں سے پُوچھا؟ ”تُم اِن کے ساتھ کِس بات پر بحث کر رہے تھے۔“
MAR 9:17 ہُجوم میں سے ایک نے جَواب دیا، ”اَے اُستاد محترم، میں اَپنے بیٹے کو آپ کے پاس لایاتھا، کیونکہ اُس میں بدرُوح ہے جِس نے اُسے گُونگا بنا دیا ہے۔
MAR 9:18 جَب بھی بدرُوح اُسے پکڑتی ہے، زمین پر پٹک دیتی ہے۔ لڑکے کے مُنہ سے جھاگ نکلنے لگتا ہے، وہ دانت پیستا ہے۔ اَور اُس کا جِسم اکڑ جاتا ہے۔ مَیں نے آپ کے شاگردوں سے کہاتھا کہ وہ بدرُوح کو نکال دیں، لیکن وہ نکال نہ سکے۔“
MAR 9:19 یِسوعؔ نے فرمایا، ”اَے بےاِعتقاد پُشت، میں کب تک تمہارے ساتھ تمہاری برداشت کرتا رہُوں گا؟ مَیں تمہارے ساتھ کب تک چلُوں گا؟ لڑکے کو میرے پاس لاؤ۔“
MAR 9:20 چنانچہ وہ اُسے یِسوعؔ کے پاس لایٔے۔ جُوں ہی بدرُوح نے یِسوعؔ کو دیکھا، اُس نے لڑکے کو مروڑا۔ اَور وہ زمین پر گِر پڑا اَور لَوٹنے لگا، اَور اُس کے مُنہ سے جھاگ نکلنے لگے۔
MAR 9:21 یِسوعؔ نے لڑکے باپ سے پُوچھا، ”یہ تکلیف اِسے کب سے ہے؟“ اُس نے جَواب دیا، ”بچپن سے ہے۔“
MAR 9:22 ”بدرُوح کیٔی دفعہ اِسے آگ اَور پانی میں گرا کر مار ڈالنے کی کوشش کر چُکی ہے۔ اگر آپ سے کُچھ ہو سکے، ہم پر ترس کھائیے اَور ہماری مدد کیجئے۔“
MAR 9:23 ” ’اگر ہو سکے تو‘؟“ یِسوعؔ نے کہا۔ ”جو شخص ایمان رکھتا ہے اُس کے لیٔے سَب کُچھ ممکن ہو سَکتا ہے۔“
MAR 9:24 فوراً ہی لڑکے کے باپ نے چیخ کر کہا، ”میں ایمان لاتا ہُوں؛ آپ میری بےاِعتقادی پر قابُو پانے میں میری مدد کیجئے!“
MAR 9:25 جَب یِسوعؔ نے دیکھا کہ لوگ دَوڑے چلے آ رہے ہیں اَور بھیڑ بڑھتی جاتی ہے، آپ نے بدرُوح کو جِھڑکا۔ اَور ڈانٹ کر کہا، ”اَے گُونگی اَور بہری رُوح،“ مَیں تُجھے حُکم دیتا ہُوں، ”اِس لڑکے میں سے نکل جا اَور اِس میں پھر کبھی داخل نہ ہونا۔“
MAR 9:26 بدرُوح نے چیخ ماری، اَور لڑکے کو بُری طرح مروڑ کر اُس میں سے باہر نکل گئی۔ لڑکا مُردہ سا ہوکر زمین پر گِر پڑا یہاں تک کہ لوگ کہنے لگے، ”وہ مَر چُکاہے۔“
MAR 9:27 لیکن یِسوعؔ نے لڑکے کا ہاتھ پکڑکر اُسے اُٹھایا، اَور وہ اُٹھ کھڑا ہُوا۔
MAR 9:28 یِسوعؔ جَب گھر کے اَندر داخل ہُوئے، تو تنہائی میں اُن کے شاگردوں نے اُن سے پُوچھا، ”ہم اِس بدرُوح کو کیوں نہیں نکال سکے؟“
MAR 9:29 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”اِس قِسم کی بدرُوح دعا کے سِوا کسی اَور طریقہ سے نہیں نکل سکتی۔“
MAR 9:30 پھر وہ وہاں سے روانہ ہوکر صُوبہ گلِیل کے علاقے سے گزرے۔ یِسوعؔ نہیں چاہتے تھے کہ کسی کو اُن کی آمد کی خبر ہو،
MAR 9:31 پس آپ نے اَپنے شاگردوں کو تعلیم دیتے ہویٔے یہ فرمایا، ”اِبن آدمؔ آدمیوں کے حوالہ کیا جائے گا۔ اَور وہ اُس کا قتل کریں گے، لیکن تین دِن کے بعد وہ مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔“
MAR 9:32 لیکن وہ شاگرد حُضُور کی اِس بات کا مطلب نہ سمجھ سکے اَور اُن سے پُوچھنے سے بھی ڈرتے تھے۔
MAR 9:33 وہ کَفرنحُومؔ میں آئے۔ جَب گھر میں داخل ہویٔے، یِسوعؔ نے شاگردوں سے پُوچھا، ”تُم راستے میں کیا بحث کر رہے تھے؟“
MAR 9:34 وہ خاموش رہے کیونکہ راستے میں وہ آپَس میں یہ بحث کر رہے تھے کہ اُن میں بڑا کون ہے۔
MAR 9:35 جَب آپ بیٹھ گیٔے، تو حُضُور نے بَارہ شاگردوں کو بُلایا اَور فرمایا، ”اگر تُم میں کویٔی بڑا بننا چاہتاہے تو وہ چھوٹا بنے، اَور سَب کا خادِم بنے۔“
MAR 9:36 تَب اُنہُوں نے ایک بچّے کو لیا اَور بچّے کو اُن کے درمیان میں کھڑا کر دیا۔ اَور پھر سے گود میں لے کر، اُن سے مُخاطِب ہویٔے،
MAR 9:37 ”جو کویٔی میرے نام سے اَیسے بچّے کو قبُول کرتا ہے تو وہ مُجھے قبُول کرتا ہے؛ اَورجو کویٔی مُجھے قبُول کرتا ہے تو وہ مُجھے نہیں بَلکہ میرے بھیجنے والے کو قبُول کرتا ہے۔“
MAR 9:38 یُوحنّا نے اُن سے کہا، ”اُستاد محترم، ہم نے ایک شخص کو آپ کے نام سے بدرُوحیں نکالتے دیکھا تھا اَور ہم نے اُسے منع کیا، کیونکہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
MAR 9:39 یِسوعؔ نے کہا، ”آئندہ اُسے منع نہ کرنا، اَیسا کویٔی بھی نہیں جو میرے نام سے معجزے کرتا ہو فوراً مُجھے بُرا بھلا کہنے لگے،
MAR 9:40 کیونکہ جو ہمارے خِلاف نہیں وہ ہمارے ساتھ ہے۔
MAR 9:41 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، جو کویٔی بھی تُمہیں میرے نام پر ایک پیالہ پانی پِلاتا ہے کیونکہ تُم المسیح کے ہو وہ یقیناً اَپنا اجر نہیں کھویٔے گا۔
MAR 9:42 ”جو شخص مُجھ پر ایمان لانے والے اِن چُھوٹے بچّوں میں سے کسی کے ٹھوکر کھانے کا باعث بنتا ہے تو اَیسے شخص کے لیٔے، یہی بہتر ہے کہ چکّی کا بھاری پتّھر اُس کی گردن سے لٹکا کر اُسے سمُندر میں پھینک دیا جائے۔
MAR 9:43 چنانچہ اگر تمہارا ہاتھ تمہارے لیٔے ٹھوکر کا باعث ہو تو، اُسے کاٹ ڈالو۔ کیونکہ تمہارا ٹُنڈا ہوکر زندگی میں داخل ہونا دونوں ہاتھوں کے ساتھ جہنّم کی آگ میں ڈالے جانے سے بہتر ہے، جو آگ کبھی نہیں بُجھتی۔
MAR 9:44 جہاں، ’اُن کا کیڑا کبھی نہیں مرتا، اَور آگ کبھی نہیں بُجھتی۔‘
MAR 9:45 اِسی طرح اگر تمہارا پاؤں تمہارے لیٔے ٹھوکر کا باعث ہو تو، اُسے کاٹ ڈالو۔ کیونکہ تمہارا لنگڑا ہوکر زندگی میں داخل ہونا دونوں پاؤں کے ساتھ جہنّم کی آگ میں جانے سے بہتر ہے۔
MAR 9:46 جہاں، ” ’اُن کا کیڑا کبھی نہیں مرتا، اَور آگ کبھی نہیں بُجھتی۔‘
MAR 9:47 اَور اگر تمہاری آنکھ تمہارے لیٔے ٹھوکر کا باعث بنتی ہے تو، اُسے نکال دو۔ کیونکہ کانا ہوکر خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونا دو آنکھیں کے ہوتے جہنّم کی آگ میں ڈالے جانے سے بہتر ہے،
MAR 9:48 جہاں، ” ’اُن کا کیڑا کبھی نہیں مرتا، اَور آگ کبھی نہیں بُجھتی۔‘
MAR 9:49 ہر شخص آگ سے نمکین کیا جائے گا۔
MAR 9:50 ”نمک اَچھّی چیز ہے، لیکن اگر نمک کی نمکینی جاتی رہے، تو اُسے کس چیز سے نمکین کیا جائے گا؟ اَپنے میں نمک رکھو، اَور آپَس میں صُلح سے رہو۔“
MAR 10:1 یِسوعؔ وہاں سے روانہ ہوکر دریائے یردنؔ کے پار یہُودیؔہ کے علاقہ میں گیٔے۔ وہاں بھی بے شُمار لوگ اُن کے پاس جمع ہو گئے، اَور آپ اَپنے دستور کے مُطابق، اُنہیں تعلیم دینے لگے۔
MAR 10:2 فرِیسی فرقہ کے بعض لوگ اُن کے پاس آئے اَور اُنہیں آزمائے کی غرض سے پُوچھنے لگے، ”کیا آدمی کا اَپنی بیوی کو چھوڑ دینا جائز ہے؟“
MAR 10:3 حُضُور نے جَواب میں فرمایا، ”اِس بابت حضرت مَوشہ نے تُمہیں کیا حُکم دیا ہے؟“
MAR 10:4 فریسیوں نے جَواب دیا، ”حضرت مَوشہ نے تُو یہ اِجازت دی ہے کہ آدمی طلاق نامہ لِکھ کر اُسے چھوڑ سَکتا ہے۔“
MAR 10:5 یِسوعؔ نے اُن کو جَواب دیا، ”حضرت مَوشہ نے تمہاری سخت دِلی کی وجہ سے یہ حُکم دیا تھا۔
MAR 10:6 لیکن تخلیق کی شروعات ہی سے خُدا نے اُنہیں ’مَرد اَور عورت بنایا ہے۔‘
MAR 10:7 ’یہی وجہ ہے کہ مَرد اَپنے باپ اَور ماں سے جُدا ہوکر اَپنی بیوی کے ساتھ مِلا رہے گا،
MAR 10:8 اَور وہ دونوں ایک جِسم ہوں گے۔‘ چنانچہ وہ اَب دو نہیں، بَلکہ ایک جِسم ہیں۔
MAR 10:9 پس جنہیں خُدا نے جوڑا ہے، اُنہیں کویٔی اِنسان جُدا نہ کرے۔“
MAR 10:10 جَب وہ دوبارہ گھر پر آئے، شاگردوں نے اِس بات کے بارے میں آپ سے مزید جاننا چاہا۔
MAR 10:11 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”اگر کویٔی آدمی اَپنی بیوی کو چھوڑ دے اَور دُوسری عورت کر لے تو وہ اَپنی پہلی بیوی کے خِلاف زنا کرتا ہے۔
MAR 10:12 اَور اِسی طرح اگر کویٔی عورت اَپنے شوہر کو چھوڑکر، کسی دُوسرے آدمی سے شادی کر لے تو وہ بھی زنا کرتی ہے۔“
MAR 10:13 پھر بعض لوگ بچّوں کو حُضُور کے پاس لانے لگے تاکہ وہ اُن پر ہاتھ رکھیں، لیکن شاگردوں نے اُنہیں جِھڑک دیا۔
MAR 10:14 جَب یِسوعؔ نے یہ دیکھا تو خفا ہوتے ہویٔے اُن سے فرمایا، ”بچّوں کو میرے پاس آنے دو، اُنہیں منع نہ کرو، کیونکہ خُدا کی بادشاہی اَیسوں ہی کی ہے۔
MAR 10:15 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو کویٔی خُدا کی بادشاہی کو بچّے کی طرح قبُول نہ کرے تو وہ اُس میں ہرگز داخل نہ ہوگا۔“
MAR 10:16 پھر اُنہُوں نے بچّوں کو گود میں لیا، اَور اُن پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں برکت دی۔
MAR 10:17 یِسوعؔ گھر سے نکل کر باہر جا رہے تھے، راستہ میں ایک آدمی دَوڑتا ہُوا آیا اَور اُن کے سامنے گھُٹنے ٹیک کر پُوچھنے لگا، ”اَے نیک اُستاد، اَبدی زندگی کا وارِث بننے کے لیٔے میں کیا کروں؟“
MAR 10:18 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تو مُجھے نیک کیوں کہتاہے؟ نیک صِرف ایک ہی ہے یعنی خُدا۔
MAR 10:19 تُم حُکموں کو تو جانتے ہو: ’تُم زنا نہ کرنا، خُون نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھُوٹی گواہی نہ دینا، اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا۔‘“
MAR 10:20 اُس نے صفائی پیش کی، ”اُستاد محترم، اِن سَب اَحکام پر میں بچپن ہی سے عَمل کرتا آ رہا ہُوں۔“
MAR 10:21 یِسوعؔ نے اُسے بغور دیکھا اَور اُس پر ترس آیا اَور فرمایا۔ ”تمہارا ایک بات پر عَمل کرنا ابھی باقی ہے، جاؤ، اَپنا سَب کُچھ فروخت کرکے اَور وہ رقم غریبوں میں تقسیم کر دو، تو تُمہیں آسمان پر خزانہ ملے گا۔ پھر آکر، میرے پیچھے ہو لینا۔“
MAR 10:22 یہ بات سُن کر اُس آدمی کے چہرہ پر اُداسی چھاگئی۔ اَور وہ غمگین ہوکر چلا گیا، کیونکہ وہ بہت دولتمند تھا۔
MAR 10:23 تَب یِسوعؔ نے لوگوں پر نظر کی اَور اَپنے شاگردوں سے یُوں مُخاطِب ہویٔے، ”دولتمند کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کتنا مُشکل ہے!“
MAR 10:24 یہ سُن کر شاگرد حیران رہ گیٔے۔ لہٰذا یِسوعؔ نے پھر فرمایا، ”بچّوں، جو دولت پر توکّل کرتے ہیں اُن کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کِتنا مُشکل ہے!
MAR 10:25 اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا زِیادہ آسان ہے بہ نِسبت ایک دولتمند آدمی کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہو جانا۔“
MAR 10:26 شاگرد نہایت ہی حیران ہویٔے، اَور ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”پھر کون نَجات پا سَکتا ہے؟“
MAR 10:27 یِسوعؔ نے اُن کی طرف دیکھ کر فرمایا، ”یہ اِنسانوں کے لیٔے تو ناممکن ہے، لیکن خُدا کے لیٔے نہیں؛ کیونکہ خُدا کے لیٔے سَب کُچھ ممکن ہے۔“
MAR 10:28 پطرس اُن سے کہنے لگے، ”دیکھئے ہم تو سَب کُچھ چھوڑکر آپ کے پیچھے ہو لیٔے ہیں!“
MAR 10:29 یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، اَیسا کویٔی نہیں جِس نے میری اَور انجیل کی خاطِر اَپنے گھر یا بھائیوں یا بہنوں یا ماں یا باپ یا بچّوں یا کھیتوں کو چھوڑ دیا ہے۔
MAR 10:30 وہ اِس دُنیا میں رنج اَور مُصیبت کے باوُجُود گھر، بھایٔی، بہنیں، مائیں، بچّے اَور کھیت سَو گُنا زِیادہ پائیں گے اَور آنے والی دُنیا میں اَبدی زندگی۔
MAR 10:31 لیکن بہت سے جو اوّل ہیں آخِر ہو جایٔیں گے اَورجو آخِر ہیں، وہ اوّل۔“
MAR 10:32 یروشلیمؔ جاتے وقت راہ میں، یِسوعؔ اُن کے آگے آگے چل رہے تھے، شاگرد حیران و پریشان تھے۔ اَورجو لوگ پیچھے آ رہے تھے وہ بھی خوفزدہ تھے چنانچہ وہ بَارہ شاگردوں کو ساتھ لے کر اُنہیں بتانے لگے کہ اُن کے ساتھ کیا کُچھ پیش آنے والا ہے۔
MAR 10:33 اُنہُوں نے کہا، ”ہم یروشلیمؔ شہر جا رہے ہیں، اَور اِبن آدمؔ اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں کے حوالہ کیا جائے گا۔ وہ اُس کے قتل کا حُکم صادر کرکے اُسے غَیریہُودیوں کے حوالہ کر دیں گے،
MAR 10:34 وہ لوگ اُس کی ہنسی اُڑائیں گے اُس پر تُھوکیں گے، اُسے کوڑے ماریں گے اَور قتل کر ڈالیں گے لیکن وہ تیسرے دِن پھر سے زندہ ہو جائے گا۔“
MAR 10:35 تَب زبدیؔ کے بیٹے، یعقوب اَور یُوحنّا یِسوعؔ، کے پاس آئے اَور مِنّت کرکے کہنے لگے، ”اُستاد محترم، ہم آپ سے جو بھی مِنّت کریں، وہ آپ ہمارے لیٔے کر دیجئے۔“
MAR 10:36 یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تُم کیا چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لیٔے کروں؟“
MAR 10:37 اُنہُوں نے کہا، ”ہم پر یہ مہربانی کیجئے کہ آپ کے جلال میں ہم میں سے ایک آپ کے داہنی طرف اَور دُوسرا آپ کے بائیں طرف بیٹھے۔“
MAR 10:38 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”تُم نہیں جانتے کہ کیا مانگ رہے ہو۔ کیا تُم وہ پیالہ پی سکتے ہو جو میں پینے پر ہُوں اَور وہ پاک غُسل لنیے جا رہا ہُوں تُم لے سکتے ہو؟“
MAR 10:39 اُنہُوں نے کہا، ”ہم اُس کے لیٔے بھی تیّار ہیں۔“ یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”اِس میں تو کویٔی شک نہیں کہ جو پیالہ میں پینے والا ہُوں تُم بھی پیوگے اَورجو پاک غُسل میں لینے والا ہُوں تُم بھی لوگے،
MAR 10:40 لیکن یہ میرا کام نہیں کہ کسی کو اَپنی داہنی یا بائیں طرف بِٹھاؤں۔ یہ مقام جِن کے لیٔے مُقرّر کیا جا چُکاہے اُن ہی کے لیٔے ہے۔“
MAR 10:41 جَب باقی دس شاگردوں نے یہ سُنا، وہ یعقوب اَور یُوحنّا پر خفا ہونے لگے۔
MAR 10:42 لیکن یِسوعؔ نے اُنہیں پاس بُلایا اَور اُن سے فرمایا، ”تُمہیں مَعلُوم ہے کہ اِس جہاں کے غَیریہُودیوں کے حاکم اُن پر حُکمرانی کرتے ہیں، اَور اُن کے اُمرا اُن پر اِختیار جتاتے ہیں۔
MAR 10:43 مگر تُم میں اَیسا نہیں ہونا چاہیے۔ بَلکہ، تُم میں کوئی بڑا بننا چاہتاہے وہ تمہارا خادِم بنے،
MAR 10:44 اَور اگر تُم میں کویٔی سَب سے اُونچا درجہ حاصل کرنا چاہے تو وہ سَب کا غُلام بنے۔
MAR 10:45 کیونکہ اِبن آدمؔ اِس لیٔے نہیں آیا کہ خدمت لے بَلکہ، اِس لیٔے کہ خدمت کرے، اَور اَپنی جان دے کر بہتیروں کو رِہائی بخشے۔“
MAR 10:46 پھر وہ یریحوؔ شہر میں آئے۔ اَور جَب وہ اَور اُن کے شاگرد بڑے ہُجوم کے ہمراہ، یریحوؔ شہر سے باہر نکل رہے تھے، تو ایک اَندھا بھکاری، برتماؔئی (”یعنی تِمائی کا بیٹا“)، راہ کے کنارے بیٹھا ہُوا بھیک مانگ رہاتھا۔
MAR 10:47 جُوں ہی اُسے پتہ چلا کہ یِسوعؔ ناصری وہاں ہیں، وہ زور سے چِلّانے لگا، ”اَے اِبن داویؔد، یِسوعؔ، مُجھ پر رحم کیجئے!“
MAR 10:48 لوگ اُسے ڈانٹنے لگے کہ خاموش ہو جاؤ، مگر وہ اَور بھی زِیادہ چِلّانے لگا، ”اَے اِبن داویؔد، مُجھ پر رحم کیجئے!“
MAR 10:49 یِسوعؔ رُکے اَور حُکم دیا، ”اُسے بُلاؤ۔“ چنانچہ اُنہُوں نے اَندھے کو آواز دی اَور کہا، ”خُوشی مناؤ! اُٹھو! حُضُور تُمہیں بُلا رہے ہیں۔“
MAR 10:50 اُس نے اَپنی چادر اُتار پھینکی، اَور اُچھل کر کھڑا ہو گیا اَور یِسوعؔ کے پاس آ گیا۔
MAR 10:51 یِسوعؔ نے اُس سے پُوچھا بتاؤ، ”تُم کیا چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لیٔے کروں؟“ اَندھے نے جَواب دیا، ”اَے ربّی، میں چاہتا ہُوں کہ میں دیکھنے لگوں۔“
MAR 10:52 یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”جاؤ، تمہارے ایمان نے تُمہیں شفا بخشی۔“ اُسی دَم اُس اَندھے کی آنکھوں میں رَوشنی واپس آ گئی اَور وہ یِسوعؔ کا پیروکار بن گیا۔
MAR 11:1 جَب وہ بیت فگے اَور بیت عنیّاہ کے پاس پہُنچے جو یروشلیمؔ کے باہر کوہِ زَیتُون پر واقع ہے، یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں میں سے دو کو آگے بھیجا،
MAR 11:2 اَور فرمایا، ”سامنے والے گاؤں میں جاؤ، وہاں داخل ہوتے ہی تُم ایک گدھی کا جَوان بچّہ بندھا ہُوا پاؤگے، جِس پر اَب تک کسی نے سواری نہیں کی ہے۔ اُسے کھول کر یہاں لے آؤ۔
MAR 11:3 اَور اگر کویٔی تُم سے پُوچھے، ’تُم یہ کیا کر رہے ہو؟‘ تو کہنا، ’خُداوؔند کو اِس کی ضروُرت ہے اَور وہ اُسے فوراً ہی یہاں بھیج دے گا۔‘ “
MAR 11:4 چنانچہ وہ گیٔے اَور اُنہُوں نے گدھی کے بچّے کو سامنے گلی میں، ایک دروازہ کے پاس بندھا ہُوا پایا۔ جَب وہ گدھی کے بچّے کو کھول رہے تھے،
MAR 11:5 تو کُچھ لوگ جو وہاں کھڑے تھے شاگردوں سے پُوچھنے لگے، ”اِس گدھے کو کیوں کھول رہے ہو؟“
MAR 11:6 شاگردوں نے وُہی کہا جو یِسوعؔ نے اُنہیں کہاتھا، لہٰذا اُنہُوں نے شاگردوں کو جانے دیا۔
MAR 11:7 تَب وہ گدھے کے بچّے کو یِسوعؔ کے پاس لایٔے اَور اَپنے کپڑے اُس پر ڈال دئیے، اَور وہ اُس پر سوارہوگئے۔
MAR 11:8 کیٔی لوگوں نے راستے میں، اَپنے کپڑے بچھا دئیے اَور بعض نے درختوں سے ہری ڈالیاں کاٹ کر پھیلا دیں۔
MAR 11:9 لوگ جو یِسوعؔ کے آگے آگے اَور پیچھے پیچھے چل رہے تھے، نعرے لگانے لگے، ”ہوشعنا!“ ”مُبارک ہے وہ جو خُداوؔند کے نام سے آتا ہے!“
MAR 11:10 ”مُبارک ہے ہمارے باپ داویؔد کی بادشاہی جو قائِم ہونے والی ہے!“ ”عالمِ بالا پر ہوشعنا!“
MAR 11:11 یروشلیمؔ شہر میں داخل ہوتے ہی یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں تشریف لے گیٔے۔ اَور وہاں کی ہر چیز کو غور سے دیکھا، چونکہ شام ہو چُکی تھی، اِس لیٔے وہ بَارہ شاگردوں کے ساتھ واپس بیت عنیّاہ چلےگئے۔
MAR 11:12 اگلے دِن جَب وہ بیت عنیّاہ سے نکل رہے تھے، تو یِسوعؔ کو بھُوک لگی۔
MAR 11:13 دُور سے اَنجیر کا ایک سرسبز درخت دیکھ کر، وہ اُس کے پاس گیٔے تاکہ دیکھیں کہ اُس میں پھل لگے ہیں یا نہیں۔ درخت کے نزدیک جا کر، اُنہیں صِرف پتّے ہی پتّے نظر آئے، کیونکہ اَنجیر کے پھل کا موسم ابھی شروع نہیں ہُوا تھا۔
MAR 11:14 تَب اُنہُوں نے درخت سے کہا، ”آئندہ تُجھ سے کویٔی شخص کبھی پھل نہ کھائے۔“ اُن کی یہ بات شاگردوں نے بھی سُنی۔
MAR 11:15 جَب وہ یروشلیمؔ پہُنچے تو، یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور آپ وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔ آپ نے پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کے تختے اَور کبُوتر فروشوں کی چوکیاں اُلٹ دیں،
MAR 11:16 اَور کسی کو کویٔی سامان لے کر بیت المُقدّس کے احاطہ میں سے گزرنے نہ دیا۔
MAR 11:17 پھر یِسوعؔ نے تعلیم دیتے ہویٔے، فرمایا، ”کیا کِتاب مُقدّس میں یہ نہیں لِکھّا: ’میرا گھر سَب قوموں کے لیٔے دعا کا گھر کہلائے گا‘؟ مگر تُم نے اُسے ’ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘“
MAR 11:18 جَب اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں نے یہ باتیں سُنیں تو وہ آپ کو ہلاک کرنے کا موقع ڈھونڈنے لگے، لیکن وہ یِسوعؔ کے خِلاف اَیسا قدم اُٹھانے سے ڈرتے بھی تھے، کیونکہ سارا ہُجوم اُن کی تعلیم سے نہایت حیران تھے۔
MAR 11:19 جَب شام ہویٔی، حُضُور اَپنے شاگردوں کے ساتھ شہر سے باہر چلےگئے۔
MAR 11:20 اگلی صُبح جَب، وہ اُدھر سے گزرے، اُنہُوں نے دیکھا کہ اَنجیر کا درخت جڑ تک سُوکھا ہُواہے۔
MAR 11:21 پطرس کو یِسوعؔ کی بات یاد آئی اَور وہ کہنے لگے، ”ربّی، دیکھئے! اَنجیر کا وہ درخت جِس پر آپ نے لعنت بھیجی تھی، سُوکھ گیا ہے!“
MAR 11:22 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”خُدا پر ایمان رکھو،
MAR 11:23 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، اگر کویٔی اِس پہاڑ سے کہے، ’اَپنی جگہ سے اُکھڑ جا اَور سمُندر میں جا گِر،‘ اَور اَپنے دِل میں شک نہ کرے بَلکہ یقین رکھے کہ جو کچھ وہ کہتاہے وہ ہو جائے گا، تو اُس کے لیٔے وَہی ہو جائے گا۔
MAR 11:24 لہٰذا میں تُم سے کہتا ہُوں، تُم دعا میں جو کُچھ مانگتے ہو، یقین رکھو کہ تُم نے پا لیا، تو تُمہیں وہ مِل جائے گا۔
MAR 11:25 جَب تُم دعا کے لیٔے کھڑے ہوتے ہو، اَور تُمہیں کسی سے کُچھ شکایت ہو تو، اُسے مُعاف کر دو، تاکہ تمہارا آسمانی باپ بھی تمہارے گُناہ مُعاف کر دے۔
MAR 11:26 اگر تُم مُعاف نہ کروگے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تمہارے گُناہ مُعاف نہ کرےگا۔“
MAR 11:27 وہ پھر یروشلیمؔ میں آئے، اَور جَب یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحن میں سے گزر رہے تھے، اہم کاہِن، شَریعت کے عالِم اَور بُزرگ لوگ حُضُور کے پاس پہُنچے۔
MAR 11:28 اَور اُن سے پُوچھنے لگے، ”آپ کِس کے اِختیار سے یہ کام کرتے ہیں؟ اَور اَیسے کام کرنے کا اِختیار کِس نے آپ کو دیا ہے؟“
MAR 11:29 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”میں بھی تُم سے ایک بات پُوچھتا ہُوں۔ اگر تُم اُس کا جَواب دوگے، تو میں بھی بتاؤں گا کہ میں یہ کام کِس کے اِختیار سے کرتا ہُوں۔
MAR 11:30 مُجھے یہ بتاؤ! یُوحنّا کا پاک غُسل خُدا کی طرف سے تھا یا اِنسان کی طرف سے؟“
MAR 11:31 وہ آپَس میں بحث کرنے لگے، ”اگر ہم کہیں، ’وہ آسمان کی طرف سے تھا،‘ تو وہ کہیں گے، ’پھر تُم نے اُس کا یقین کیوں نہ کیا؟‘
MAR 11:32 اَور اگر کہیں، ’اِنسان کی طرف سے‘ “ (تو عوام کا خوف تھا، کیونکہ وہ حضرت یُوحنّا کو واقعی نبی مانتے تھے۔)
MAR 11:33 لہٰذا اُنہُوں نے آپ کو جَواب دیا، ”ہم نہیں جانتے۔“ یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”میں بھی تُمہیں نہیں بتاتا کہ میں یہ کام کِس کے اِختیار سے کرتا ہُوں۔“
MAR 12:1 یِسوعؔ اُنہیں تمثیلوں کے ذریعہ تعلیم دینے لگے: ”ایک شخص نے انگوری باغ لگایا۔ اَور اُس کے چاروں طرف احاطہ کھڑا کیا، اُس میں انگوروں کا رس نکالنے کے لیٔے ایک حوض کھودا اَور نگہبانی کے لیٔے ایک بُرج بھی بنایا۔ اَور تَب اُس نے انگوری باغ کاشت کاروں کو ٹھیکہ پردے دیا اَور خُود پردیس چلا گیا۔“
MAR 12:2 جَب انگور توڑنے کا موسم آیا تو اُس نے ایک خادِم کو ٹھیکیداروں کے پاس انگوری باغ کے پھلوں سے اَپنا حِصّہ لینے بھیجا۔
MAR 12:3 لیکن اُنہُوں نے اُسے پکڑکر، اُس کو خُوب پِیٹا اَور خالی ہاتھ لَوٹا دیا۔
MAR 12:4 تَب اُس نے ایک اَور خادِم کو بھیجا؛ لیکن اُنہُوں نے اُس کی خُوب بے عزّتی کی یہاں تک کہ اُس کا سَر بھی پھوڑ ڈالا۔
MAR 12:5 اُنہُوں نے ایک اَور خادِم کو بھیجا، جسے اُنہُوں نے قتل کر ڈالا۔ بعد میں اُس نے کیٔی اَور خادِموں کو بھیجا؛ جنہیں یا تو پِیٹا گیا، یا قتل کر دیا گیا۔
MAR 12:6 ”لیکن ابھی ایک باقی تھا، یعنی اُس کا اَپنا بیٹا، جسے وہ بہت ہی پیار کرتا تھا۔ اُس نے سَب سے آخِر میں، اُسے یہ کہتے ہویٔے بھیجا، ’وہ میرے بیٹے کا تو ضروُر اِحترام کریں گے۔‘
MAR 12:7 ”مگر ٹھیکیداروں نے اُسے دیکھا تو ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ’یہی وارِث ہے۔ آؤ، ہم اِسے قتل کر دیں، تاکہ مِیراث ہماری ہو جائے۔‘ “
MAR 12:8 پس اُنہُوں نے اُسے انگوری باغ سے باہر نکال کر قتل کر ڈالا۔
MAR 12:9 ”اَب انگوری باغ کا مالک اُن کے ساتھ کس طرح پیش آئے گا؟ وہ آکر اُن ٹھیکیداروں کو ہلاک کرےگا اَور انگوری باغ اَوروں کے سُپرد کر دے گا۔
MAR 12:10 کیا تُم نے کِتاب مُقدّس میں نہیں پڑھا: ” ’جِس پتّھر کو مِعماروں نے ردّ کر دیا وُہی کونے کے سِرے کا پتّھر ہو گئے؛
MAR 12:11 یہ کام خُداوؔند نے کیا ہے، اَور ہماری نظر میں یہ تعجُّب اَنگیز ہے‘؟“
MAR 12:12 تب اہم کاہِنوں، شَریعت کے عالِموں اَور بُزرگوں نے اُنہیں گِرفتار کرنے کا راستہ تلاش کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حُضُور نے اُن ہی کے لیٔے یہ مثال کہی ہے۔ لیکن وہ ہُجوم سے خوفزدہ تھے؛ تَب وہ آپ کو چھوڑکر چلے گیٔے۔
MAR 12:13 پھر اُنہُوں نے بعض فرِیسی اَور ہیرودیسؔ کی جماعت کے کُچھ آدمی اُن کے پاس بھیجے تاکہ اُن کی کویٔی بات پکڑ سکیں۔
MAR 12:14 چنانچہ وہ آئے اَور یِسوعؔ سے کہنے لگے، ”اُستاد محترم، ہم جانتے ہیں کہ آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ اَور کسی کی پروا نہیں کرتے کہ وہ کون ہیں؛ آپ کسی کے طرف دار نہیں بَلکہ راستی سے راہِ خُدا کی تعلیم دیتے ہیں۔ ہمیں یہ بتائیے کہ کیا قَیصؔر کو محصُول اَدا کرنا روا ہے یا نہیں؟
MAR 12:15 کیا ہم قَیصؔر کو محصُول اَدا کریں یا نہیں؟“ حُضُور اُن کی منافقت کو سمجھ گیٔے اَور فرمایا۔ ”مُجھے کیوں آزماتے ہو؟ مُجھے ایک دینار لاکر دِکھاؤ۔“
MAR 12:16 وہ ایک دینار لے آئے، تَب حُضُور نے پُوچھا، ”اِس دینار پر کِس کی صورت اَور کِس کا نام لِکھّا ہُواہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”قَیصؔر کا۔“
MAR 12:17 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”جو قَیصؔر کا ہے وہ قَیصؔر کو اَورجو خُدا کا ہے وہ خُدا کو اَدا کرو۔“ اَور وہ یہ جَواب سُن کر حیران رہ گیٔے۔
MAR 12:18 پھر صدُوقی جو قیامت کے مُنکر ہیں، اُن کے پاس آئے، اَور پُوچھنے لگے۔
MAR 12:19 ”اُستاد محترم، ہمارے لیٔے حضرت مَوشہ کا حُکم ہے کہ اگر کسی آدمی کا بھایٔی اَپنی بیوی کی زندگی میں بے اَولاد مَر جائے، تو وہ اَپنے بھایٔی کی بِیوہ سے شادی کر لے تاکہ اَپنے بھایٔی کے لیٔے نَسل پیدا کر سکے۔
MAR 12:20 چنانچہ سات بھایٔی تھے۔ پہلے نے شادی کی اَور بے اَولاد مَرجاتا ہے۔
MAR 12:21 تَب دُوسرا بھایٔی اُس بِیوہ سے شادی کر لیتا ہے، لیکن وہ بھی، بے اَولاد مَرجاتا ہے۔ تیسرا بھی یہی کرتا ہے اَور مَرجاتا ہے۔
MAR 12:22 درحقیقت وہ ساتوں بے اَولاد مَر جاتے ہیں۔ اَور آخِرکار، وہ خاتُون بھی مَر جاتی ہے۔
MAR 12:23 اَب بتائیں کہ قیامت کے دِن وہ کِس کی بیوی ہوگی کیونکہ وہ اُن ساتوں کی بیوی رہ چُکی تھی؟“
MAR 12:24 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”کیا تُم گُمراہ ہو گئے ہو کہ تُم نہ تو کِتاب مُقدّس کو ہی جانتے ہو اَور نہ ہی خُدا کی قُدرت کو؟
MAR 12:25 کیونکہ جَب قیامت میں مُردے زندہ ہوں گے، تو وہ شادی بیاہ نہیں کریں گے؛ بَلکہ آسمان پر فرشتوں کی مانِند ہوں گے۔
MAR 12:26 اَور جہاں تک قیامت یعنی مُردوں کے جی اُٹھنے کا سوال ہے کیا تُم نے حضرت مَوشہ کی کِتاب میں، جلتی ہویٔی جھاڑی کے بَیان میں یہ نہیں پڑھا، خُدا نے حضرت مَوشہ سے فرمایا، ’میں حضرت اَبراہامؔ کا، اِصحاقؔ، کا اَور یعقوب کا خُدا ہُوں‘؟
MAR 12:27 وہ مُردوں کا خُدا نہیں، بَلکہ زندوں کا خُدا ہے۔ دیکھا تُم کِس قدر گمراہی میں پڑے ہو!“
MAR 12:28 شَریعت کے عُلما میں سے ایک عالِم وہاں مَوجُود تھا اُس نے اُن کی بحث سُنی تھی۔ اَور اُنہیں یِسوعؔ کا جَواب بہت پسند آیاتھا، چنانچہ وہ آپ کے پاس آکر اُن سے پُوچھنے لگا، ”سَب سے بڑا حُکم کون سا ہے؟“
MAR 12:29 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”پہلا یہ ہے: ’سُن، اَے اِسرائیلؔ: خُداوؔند ہمارا خُدا ہی واحد خُداوؔند ہے۔
MAR 12:30 اَپنے خُداوؔند خُدا سے اَپنے سارے دِل اَپنی ساری جان ساری عقل اَور ساری طاقت سے مَحَبّت رکھو۔‘
MAR 12:31 اَور دُوسرا یہ ہے: ’تُم اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھو۔‘ اِن سے بڑا اَور کویٔی حُکم نہیں۔“
MAR 12:32 شَریعت کے عالِم نے اُن سے کہا، ”اُستاد محترم، بہت خُوب آپ سچ کہتے ہیں کہ خُدا ایک ہے اَور اُن کے سِوا اَور کویٔی نہیں۔
MAR 12:33 اَور اُن سے اَپنے سارے دِل، اَپنی ساری عقل اَور اَپنی ساری طاقت، سے مَحَبّت رکھو اَور اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا ساری سوختنی نذروں اَور ذبیحوں کی قُربانیوں سے بڑھ کر ہے۔“
MAR 12:34 آپ نے دیکھا کہ اُنہُوں نے بڑی عقلمندی سے جَواب دیا، اَور یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”تُم سے خُدا کی بادشاہی دُور نہیں ہو۔“ اَور اِس کے بعد کسی نے بھی حُضُور سے اَور کویٔی سوال کرنے کی جُرأت نہ کی۔
MAR 12:35 جِس وقت یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں تعلیم دے رہے تھے، اُنہُوں نے پُوچھا، ”شَریعت کے عُلما کِس طرح کہتے ہیں کہ المسیح داویؔد کا بیٹا ہے؟
MAR 12:36 داویؔد نے تو خُود، پاک رُوح کی ہدایت سے، بَیان کیا ہے: ” ’خُداتعالیٰ نے میرے خُداوؔند سے کہا: ”میری داہنی طرف بیٹھو جَب تک کہ مَیں تمہارے دُشمنوں کو تمہارے پاؤں کے نیچے نہ کر دُوں۔“ ‘
MAR 12:37 جَب داویؔد ہی خُود اُنہیں ’خُداوؔند‘ کہتے ہیں۔ تو وہ کِس طرح داویؔد کا بیٹاہو سکتے ہیں؟“ تمام حاضرین کو اُن کی باتیں سُن کر بڑی خُوشی ہویٔی۔
MAR 12:38 اُنہُوں نے تعلیم دیتے، وقت یہ بھی فرمایا، ”شَریعت کے عالِموں سے خبردار رہنا۔ جو لمبے لمبے چوغے پہن کر اِدھر اُدھر چلنا پسند کرتے ہیں اَور چاہتے ہیں کہ لوگ بازاروں میں، اُنہیں اِحتراماً سلام کریں۔
MAR 12:39 وہ یہُودی عبادت گاہوں میں اعلیٰ درجہ کی کُرسیاں اَور ضیافتوں میں صدر نشینی چاہتے ہیں۔
MAR 12:40 وہ بیواؤں کے گھروں کو ہڑپ کرلیتے ہیں اَور دِکھاوے کے طور پر لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔ اِن لوگوں کو سَب سے زِیادہ سزا ملے گی۔“
MAR 12:41 پھر وہ بیت المُقدّس کے خزانہ کے سامنے بیٹھے تھے۔ آپ دیکھ رہے تھے لوگ خزانہ میں کِس طرح نذرانہ ڈالتے ہیں۔ کیٔی دولتمند لوگ اُس میں بڑی بڑی رقمیں ڈال رہے تھے۔
MAR 12:42 اِتنے میں ایک غریب بِیوہ وہاں آئی اَور اُنہُوں نے صِرف دو بہت چُھوٹے تانبے کے سِکّے ڈالے جِن کی قیمت صِرف ایک سینٹ تھی یعنی دو پیسے۔
MAR 12:43 یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں کو پاس بُلاکر اُن سے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، بیت المُقدّس کے خزانہ میں نذرانہ ڈالنے والے لوگوں میں، اِس غریب بِیوہ نے سَب سے زِیادہ ڈالا ہے۔
MAR 12:44 کیونکہ اُنہُوں نے تو اَپنی زیادتی میں سے کچھ رقم کو ڈالا؛ مگر اِس نے، غریبی کے باوُجُود، سَب کُچھ جو اِس کے پاس تھا دے دیا یعنی کہ اَپنی ساری پُونجی ڈال دی۔“
MAR 13:1 جَب وہ بیت المُقدّس سے باہر آئے، تو اُن کے شاگردوں میں سے ایک نے اُن سے کہا، ”دیکھئے، اُستاد محترم! یہ کیسے کیسے وزنی پتّھر! اَور کیسی بُلند عمارتیں ہیں!“
MAR 13:2 یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”تُم اِن عالیشان عمارتوں کو دیکھتے ہو؟ اِن کا کویٔی بھی پتّھر پر پتّھر باقی نہ رہے گا؛ جو نیچے نہ گرا دیا جائے گا۔“
MAR 13:3 جَب حُضُور بیت المُقدّس کے سامنے کوہِ زَیتُون پر بیٹھے تھے، تو پطرس، یعقوب، یُوحنّا اَور اَندریاسؔ نے تنہائی میں اُن سے پُوچھا،
MAR 13:4 ”ہمیں بتائیے، یہ باتیں کب واقع ہُوں گی؟ اَور اِن باتوں کی پُورا ہونے کی کیا علامت ہوگی کہ ہر ایک بات سچ ثابت ہو؟“
MAR 13:5 یِسوعؔ اُن سے فرمانے لگے: ”خبردار رہنا کویٔی تُمہیں گُمراہ نہ کر دے۔
MAR 13:6 کیونکہ بہت سے لوگ میرے نام سے آئیں گے، اَور یہ دعویٰ کریں گے، ’مَیں ہی المسیح ہُوں،‘ اَور یہ کہہ کر بہت سے لوگوں کو گُمراہ کر دیں گے۔
MAR 13:7 اَور جَب تُم جنگیں اَور جنگوں کی افواہیں، سُنو تو گھبرا نہ جانا۔ اِن کا واقع ہونا ضروُری ہے، مگر ابھی آخِر نہ ہوگا۔
MAR 13:8 کیونکہ قوم پر قوم، اَور سلطنت پر سلطنت حملہ کرےگی۔ اَور جگہ جگہ زلزلے آئیں گے، اَور قحط پڑیں گے۔ آگے آنے والی مُصیبتوں کا یہ صِرف آغاز ہی ہوگا۔
MAR 13:9 ”چنانچہ تُم خبردار رہو۔ کیونکہ لوگ تُمہیں عدالتوں کے حوالہ کریں گے تُم یہُودی عبادت گاہوں میں کوڑوں سے پیٹے جاؤگے اَور میری وجہ سے حاکموں اَور بادشاہوں کے سامنے حاضِر کیٔے جاؤگے تاکہ اُنہیں میری گواہی دے سکو۔
MAR 13:10 لیکن اِس سے پہلے ضروُری ہے کہ ساری دُنیا کی تمام قوموں میں انجیل کی مُنادی کی جائے۔
MAR 13:11 جَب لوگ تُمہیں پکڑکر عدالت کے حوالہ کریں، تو پہلے سے فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کہیں گے بَلکہ جو کُچھ تُمہیں اُس وقت بتایا جائے وُہی کہنا، کیونکہ کہنے والے تُم نہیں، بَلکہ پاک رُوح ہے۔
MAR 13:12 ”بھایٔی اَپنے بھایٔی کو اَور باپ اَپنے بیٹے کو قتل کے لیٔے حوالہ کرےگا، اَور بچّے اَپنے والدین کے خِلاف کھڑے ہوکر اُنہیں قتل کروا ڈالیں گے۔
MAR 13:13 اَور میرے نام کے سبب سے لوگ تُم سے دُشمنی رکھیں گے، لیکن جو آخِر تک برداشت کرےگا وہ نَجات پایٔےگا۔
MAR 13:14 ”جَب آپ دیکھتے ہیں ’مکرُوہ اُجاڑ اَور ناگوار چیزوں کو‘ وہاں کھڑا دیکھو جہاں اُس کا مَوجُود ہونا جائز نہیں پڑھنے والا سمجھ لے اُس وقت جو یہُودیؔہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر چلے جایٔیں۔
MAR 13:15 جو کویٔی چھت پر ہو وہ نیچے نہ اُترے اَور نہ ہی گھر کے اَندر جا کر کُچھ باہر نکالنے کی کوشش کرے۔
MAR 13:16 جو شخص کھیت میں ہو، اَپنا کپڑا لینے کے لیٔے واپس نہ جائے۔
MAR 13:17 مگر حاملہ خواتین اَور اُن ماؤں کا جو اُن دِنوں میں دُودھ پِلاتی ہوں گی، وہ دِن کتنے خوفناک ہوں گے!
MAR 13:18 دعا کرو کہ یہ مُصیبت سردیوں میں برپا نہ ہو،
MAR 13:19 کیونکہ یہ اَیسی بڑی مُصیبت کے دِن ہوں گے، نہ تو تخلیق کے شروع سے جَب خُدا نے دُنیا کو بنایا، اَب تک نہ تو اَیسی مُصیبت آئی ہے نہ پھر کبھی آئے گی۔
MAR 13:20 ”اگر خُداوؔند اُن دِنوں کی تعداد کم نہ کرتا تو، کویٔی جاندار زندہ نہ بچایا جاتا۔ مگر اُنہُوں نے اَپنے برگُزیدہ لوگوں کی خاطِر اُن دِنوں کو گھٹا دیا ہے۔
MAR 13:21 اُس وقت اگر کویٔی تُم سے کہے کہ ’دیکھو،‘ المسیح ’یہاں ہے!‘ یا، ’دیکھو،‘ وہ وہاں ہے! تو یقین نہ کرنا۔
MAR 13:22 کیونکہ جھُوٹے المسیح اَور جھُوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اَور نِشانات اَور عجائبات کر دِکھائیں گے، تاکہ اگر ممکن ہو تو خُدا کے برگُزیدہ لوگوں کو بھی گُمراہ کر دیں۔
MAR 13:23 لہٰذا خبردار رہو؛ مَیں نے پہلے ہی تُمہیں سَب کُچھ بتا دیا ہے۔
MAR 13:24 ”لیکن اُن دِنوں، کی مُصیبت کے بعد، ” ’سُورج تاریک ہو جائے گا، اَور چاند کی رَوشنی جاتی رہے گی؛
MAR 13:25 آسمان سے سِتارے گِریں گے، اَور آسمان کی قُوّتیں ہلایٔی جایٔیں گی۔‘
MAR 13:26 ”اُس وقت لوگ اِبن آدمؔ کو بادلوں میں عظیم قُدرت اَور جلال کے ساتھ آتا دیکھیں گے۔
MAR 13:27 اَور تَب حُضُور اَپنے فرشتوں کو بھیج کر آسمان کی اِنتہا سے زمین کی اِنتہا تک چاروں طرف سے، اَپنے برگُزیدہ لوگوں کو جمع کریں گے۔
MAR 13:28 ”اَنجیر کے درخت سے یہ سبق سیکھو: جُوں ہی اُس کی ڈالی نرم ہوتی ہے اَور پتّے نکلتے ہیں تو تُمہیں مَعلُوم ہو جاتا ہے، کہ گرمی نزدیک ہے۔
MAR 13:29 اِسی طرح، جَب تُم یہ باتیں ہوتے دیکھو، تو جان لو کہ وہ نزدیک ہے، بَلکہ دروازے ہی پر ہے۔
MAR 13:30 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اِس نَسل کے ختم ہونے سے پہلے ہی یہ سَب کُچھ پُورا ہوگا۔
MAR 13:31 آسمان اَور زمین ٹل جایٔیں گی لیکن میری باتیں کبھی نہیں ٹلیں گی۔
MAR 13:32 ”مگر وہ دِن اَور وقت کب آئے گا کویٔی نہیں جانتا، نہ تو آسمان کے فرشتے جانتے ہیں، اَور نہ بیٹا، صِرف آسمانی باپ جانتے ہیں۔
MAR 13:33 پس تُم بیدار! خبردار رہو! کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ وہ وقت کب آئے گا۔
MAR 13:34 یہ اُس آدمی کی طرح ہے جو پردیس جاتا ہے: اَور چلتے وقت اَپنا گھر اَپنے خادِموں کے اِختیار میں دے کر، ہر ایک کو اُس کی ذمّہ داری سُپرد کرکے، وہ اَپنے چوکیدار کو حُکم دیتاہے کہ وہ خُوب چَوکَس رہے۔
MAR 13:35 ”پس جاگتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ گھر کا مالک کب آئے گا شام کو، یا آدھی رات کو، یا جَب مُرغ بانگ دیتاہے، یا صُبح کو۔
MAR 13:36 کہیں اَیسا نہ ہو، کہ وہ اَچانک آ جائے اَور تُمہیں سوتا پایٔے۔
MAR 13:37 میں جو کُچھ تُم سے کہتا ہُوں، وُہی سَب سے کہتا ہُوں: ’جاگتے رہو!‘ “
MAR 14:1 دو دِن کے بعد عیدِفسح اَور عیدِ فطیر ہونے والی تھی، اَور اہم کاہِن اَور شَریعت کے عالِم موقع ڈھونڈ رہے تھے کہ حُضُور کو کِس طرح فریب سے پکڑ لیں اَور قتل کر دیں۔
MAR 14:2 اُن کا کہنا تھا، ”مگر عید کے دَوران نہیں، کہیں اَیسا نہ ہو کہ لوگوں میں ہنگامہ برپا ہو جائے۔“
MAR 14:3 جَب وہ بیت عنیّاہ میں، شمعُونؔ کوڑھی کے گھر میں بیٹھے ہویٔے کھانا کھا رہے تھے تو ایک خاتُون سنگِ مرمر کے عِطردان میں، جٹاماسی کا خالص، اَور قیمتی عِطر لے کر آئی اَور عِطردان کو توڑ کر سارا عِطر یِسوعؔ کے سَر پر اُنڈیل دیا۔
MAR 14:4 مگر بعض میں سے کچھ لوگ ایک دُوسرے سے برہم ہوکر دِل ہی دِل میں کہنے لگے، ”عِطر کو اِس طرح ضائع کرنے کی کیا ضروُرت تھی؟
MAR 14:5 یہ عِطر تین سَو دینار سے زِیادہ کی قیمت میں فروخت کیا جا سَکتا تھا اَور رقم غریبوں میں تقسیم کی جا سکتی تھی۔“ پس وہ اُس خاتُون کو بہت بُرا بھلا کہنے لگے۔
MAR 14:6 مگر یِسوعؔ نے کہا، ”اِسے چھوڑ دو، اِسے کیوں پریشان کر رہے ہو؟ اُنہُوں نے میرے ساتھ بھلائی کی ہے۔“
MAR 14:7 غریب غُربا تو ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں، تُم جَب چاہو اُن کے ساتھ نیکی کر سکتے ہو۔ لیکن مَیں یہاں ہمیشہ تمہارے پاس نہ رہُوں گا۔
MAR 14:8 اِس سے جو کُچھ ہو سَکتا تھا اِس نے کیا۔ اِس نے پہلے ہی سے میری تدفین کے لیٔے میرے جِسم پر خُوشبو ڈالی اَور عِطر سے مَسح کر دیا ہے۔
MAR 14:9 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، ”ساری دُنیا میں جہاں کہیں انجیل کی مُنادی کی جائے گی، وہاں اِس کی یادگاری میں اُس کے اِس کام کا ذِکر بھی، کیا جائے گا۔“
MAR 14:10 پھر یہُوداہؔ اِسکریوتی نے، جو بَارہ شاگردوں میں سے ایک تھا، اہم کاہِنوں کے پاس جا کر بتایا کہ وہ یِسوعؔ کو اُن کے حوالہ کر دے گا۔
MAR 14:11 وہ یہ بات سُن کر بہت خُوش ہویٔے اَور اُسے کُچھ رقم دینے کا وعدہ کیا۔ اِس کے بعد وہ حُضُور کو پکڑوانے کا مُناسب موقع ڈھونڈنے لگا۔
MAR 14:12 عیدِ فطیر کے پہلے دِن جَب عیدِفسح کے موقع پر بھیڑ کی قُربانی کی جاتی تھی، یِسوعؔ کے شاگردوں نے اُن سے پُوچھا، ”ہمیں بتائیے آپ عیدِفسح کا کھانا کہاں کھانا چاہتے ہیں تاکہ ہم جا کر تیّاری کریں؟“
MAR 14:13 حُضُور نے شاگردوں میں سے دو کو بھیجا اَور اُن سے کہا، ”شہر میں جاؤ، وہاں تُمہیں ایک آدمی ملے گا جو پانی کا گھڑا لے جا رہا ہوگا۔ اُس کے پیچھے جانا۔
MAR 14:14 اَور جِس گھر میں وہ داخل ہو، اُس کے مالک سے کہنا، ’اُستاد نے پُوچھا ہے: میرے لیٔے مہمان خانہ کہاں ہے، جہاں میں اَپنے شاگردوں کے ساتھ عیدِفسح کا کھانا کھا سکوں؟‘
MAR 14:15 وہ خُود تُمہیں ایک بڑا سا کمرہ اُوپر لے جا کر دِکھائے گا، جو ہر طرح سے آراستہ اَور تیّار ہوگا۔ وہیں ہمارے لیٔے تیّاری کرنا۔“
MAR 14:16 پس شاگرد روانہ ہو گئے، اَور شہر میں آکر سَب کُچھ وَیسا ہی پایا جَیسا اُنہُوں نے اُنہیں بتایا تھا۔ اَور اُنہُوں نے عیدِفسح کا کھانا تیّار کیا۔
MAR 14:17 جَب شام ہویٔی، تو یِسوعؔ اَپنے بَارہ شاگردوں کے ساتھ وہاں پہُنچ گیٔے۔
MAR 14:18 کھانا کھاتے وقت یِسوعؔ نے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ تُم میں سے، ایک جو میرے ساتھ کھانا کھا رہاہے مُجھے پکڑوائے گا۔“
MAR 14:19 شاگردوں کو بڑا رنج پہُنچا، اَور وہ باری باری اُن سے پُوچھنے لگے، ”کیا وہ میں تو نہیں ہُوں؟“
MAR 14:20 آپ نے اُنہیں جَواب دیا، ”وہ بَارہ میں سے ایک ہے، اَور میرے ساتھ پیالہ میں روٹی ڈبوتا ہے۔
MAR 14:21 اِبن آدمؔ تو جَیسا اُس کے حق میں لِکھّا ہُواہے۔ لیکن اُس شخص پر افسوس جو اِبن آدمؔ کو پکڑواتا ہے! اُس کے لیٔے بہتر تھا کہ وہ پیدا ہی نہ ہوتا۔“
MAR 14:22 جَب وہ کھا ہی رہے تھے، یِسوعؔ نے روٹی لی، اَور خُدا کا شُکر کرکے، اُس کے ٹکڑے کیٔے اَور شاگردوں کو یہ کہہ کر دیا، ”اِسے لو؛ یہ میرا بَدن ہے۔“
MAR 14:23 پھر آپ نے پیالہ لیا، اَور خُدا کا شُکر کرکے، شاگردوں کو دیا، اَور اُن سَب نے اُس میں سے پیا۔
MAR 14:24 حُضُور نے اُن سے کہا، ”یہ میرا عہد کا وہ خُون ہے، جو بہتیروں کے لیٔے بہایا جاتا ہے۔“
MAR 14:25 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، ”میں انگور کا شِیرہ تَب تک نہیں پیوں گا جَب تک کہ خُدا کی بادشاہی میں نیا نہ پیوں۔“
MAR 14:26 تَب اُنہُوں نے ایک نغمہ گایا، اَور وہاں سے کوہِ زَیتُون پر چلے گیٔے۔
MAR 14:27 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”تُم سَب ٹھوکر کھاؤگے، کیونکہ یُوں لِکھّا ہے: ” ’میں چرواہے کو ماروں گا، اَور بھیڑیں مُنتشر ہو جایٔیں گی۔‘
MAR 14:28 مگر میں اَپنے جی اُٹھنے کے بعد، تُم سے پہلے صُوبہ گلِیل پہُنچ جاؤں گا۔“
MAR 14:29 پطرس نے اُن سے کہا، ”خواہ سَب ٹھوکر کھایٔیں، میں نہیں کھاؤں گا۔“
MAR 14:30 یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، آج اِسی، رات اِس سے پہلے کہ مُرغ دو دفعہ بانگ دے تُم تین دفعہ میرا اِنکار کروگے۔“
MAR 14:31 لیکن پطرس نے بڑے جوش میں آکر کہا، ”اگر آپ کے ساتھ مُجھے مَرنا بھی پڑے، تَب بھی آپ کا اِنکار نہ کروں گا۔“ اَور دیگر نے بھی یہی دہرایا۔
MAR 14:32 پھر آپ گتسمنؔی نامی ایک جگہ پہُنچے، اَور یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے فرمایا، ”جَب تک میں دعا کرتا ہُوں تُم یہیں بیٹھے رہنا۔“
MAR 14:33 اَور خُود پطرس، یعقوب اَور یُوحنّا کو ساتھ لے گیٔے، اَور وہ شدید غم اَور پریشانی کے عالَم میں تھے۔
MAR 14:34 اَور اُن سے فرمایا، ”غم کی شِدّت سے میری جان نکلی جا رہی ہے، تُم یہاں ٹھہرو اَور جاگتے رہو۔“
MAR 14:35 پھر ذرا آگے جا کر، وہ زمین پر سَجدہ میں گِر کر دعا کرنے لگے کہ اگر ممکن ہو تُو یہ وقت مُجھ پر سے ٹل جائے۔
MAR 14:36 دعا میں آپ نے کہا، ”اَے اَبّا، اَے باپ، آپ کے لیٔے سَب کُچھ ممکن ہے۔ ہو سکے تو اِس پیالہ کو میرے سامنے سے ہٹا لیں، تو بھی میری مرضی نہیں بَلکہ آپ کی مرضی پُوری ہو۔“
MAR 14:37 پھر وہ شاگردوں کے پاس تشریف لایٔے اَور اُنہیں سوتے پایا۔ آپ نے پطرس سے کہا، ”شمعُونؔ، تُم سو رہے ہو؟ کیا تمہارے لیٔے ایک گھنٹہ بھی جاگے رہنا ممکن نہ تھا؟
MAR 14:38 جاگتے اَور دعا کرتے رہو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو۔ رُوح تو آمادہ ہے، مگر جِسم کمزور ہے۔“
MAR 14:39 وہ پھر باغ کے اَندر چلےگئے اَور اُنہُوں نے وُہی دعا کی جو پہلے کی تھی۔
MAR 14:40 اَور جَب آپ واپس آئے تو شاگردوں کو پھر سے سوتے پایا کیونکہ اُن کی آنکھیں نیند سے بھری تھیں۔ اَور وہ جانتے نہ تھے کہ اُنہیں کیا جَواب دُوں۔
MAR 14:41 جَب وہ تیسری دفعہ اُن کے پاس واپس آئے، تو اُن سے کہنے لگے، ”تُم ابھی تک راحت کی نیند سو رہے ہو؟ بس کرو! وقت آ پہُنچا ہے۔ دیکھو، اِبن آدمؔ گُنہگاروں کے حوالہ کیا جائے۔
MAR 14:42 اُٹھو! آؤ چلیں! دیکھو میرا پکڑوانے والا نزدیک آ پہُنچا ہے!“
MAR 14:43 وہ ابھی یہ کہہ ہی رہے تھے، یہُوداہؔ، جو بَارہ شاگردوں میں سے تھا، وہاں آ پہُنچا اُس کے ہمراہ ایک بڑا ہُجوم جو تلواریں اَور لاٹھیاں لیٔے ہُوئے تھا، اَور جنہیں اہم کاہِنوں، شَریعت کے عالِموں اَور بُزرگوں نے بھیجا تھا۔
MAR 14:44 یہُوداہؔ یعنی پکڑوانے والے نے اُنہیں یہ نِشان دیا تھا: ”جِس کا میں بوسہ لُوں وُہی یِسوعؔ ہیں؛ تُم اُنہیں پکڑ لینا اَور حِفاظت سے اُنہیں سپاہیوں کی نِگرانی میں لے جانا۔“
MAR 14:45 وہاں آتے ہی وہ یِسوعؔ کے نزدیک گیا اَور کہا، ”اَے ربّی!“ اَور اُن کے بوسے لینے لگا۔
MAR 14:46 اُنہُوں نے یِسوعؔ کو پکڑکر اَپنے قبضہ میں لے لیا۔
MAR 14:47 جو لوگ پاس کھڑے تھے اُن میں سے ایک نے اَپنی تلوار کھینچی اَور اعلیٰ کاہِن کے خادِم پر چلائی، اَور اُس کا کان اُڑا دیا۔
MAR 14:48 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”کیا میں بغاوت کرنے والا رہنما ہُوں، تُم مُجھے تلواریں اَور لاٹھیاں لے کر پکڑنے آئے ہو؟
MAR 14:49 مَیں تو ہر روز بیت المُقدّس میں تمہارے پاس ہی، تعلیم دیا کرتا تھا، اَور تُم نے مُجھے نہیں پکڑا۔ لیکن یہ اِس لیٔے ہُوا کہ کِتاب مُقدّس کی باتیں پُوری ہو جایٔیں۔“
MAR 14:50 اِس دَوران سارے شاگرد اُنہیں چھوڑکر بھاگ گیٔے۔
MAR 14:51 لیکن ایک یِسوعؔ کا پیروکار نوجوان، جو صِرف سُوتی چادر اوڑھے ہُوئے تھا، آپ کے پیچھے آ رہاتھا۔ جَب لوگوں نے اِسے پکڑا
MAR 14:52 تو وہ اَپنی چادر چھوڑکر ننگا، ہی بھاگ نِکلا۔
MAR 14:53 تَب وہ یِسوعؔ کو اعلیٰ کاہِن کے پاس لے گیٔے، وہاں سَب اہم کاہِنؔ، یہُودی بُزرگ اَور شَریعت کے عالِم جمع تھے۔
MAR 14:54 اَور پطرس بھی دُور سے، یِسوعؔ کا پیچھا کرتے ہویٔے اعلیٰ کاہِن کی حویلی کے اَندر صحن تک جاپہنچے۔ وہاں وہ پہرےداروں کے ساتھ بیٹھ کر آگ تاپنے لگے۔
MAR 14:55 اہم کاہِن اَور عدالتِ عالیہ کے سَب اَرکان کسی اَیسی گواہی کی تلاش میں تھے جِس کی بِنا پر اہم کاہِن یِسوعؔ کو قتل کروا سکیں، مگر کُچھ نہ پا سکے۔
MAR 14:56 اَور جنہوں نے جھُوٹی گواہیوں کی تصدیق کی، اُن کے بَیان بھی یکساں نہ نکلے۔
MAR 14:57 بعض آدمیوں نے کھڑے ہوکر اُن کے خِلاف یہ جھُوٹی گواہی دی:
MAR 14:58 ”ہم نے اِنہیں یہ کہتے سُنا ہے، ’میں اِس بیت المُقدّس کو جو ہاتھ کا بنا ہُواہے، تباہ کر دُوں گا اَور تین دِن میں دُوسرا کھڑا کر دُوں گا جو ہاتھ کا بنا ہُوا نہیں ہے۔‘ “
MAR 14:59 مگر اِس دفعہ بھی اُن کی گواہی یکساں نہ تھی۔
MAR 14:60 تَب اعلیٰ کاہِن نے اُن کے سامنے کھڑے ہوکر یِسوعؔ سے پُوچھنے لگا، ”کیا تیرے پاس کویٔی جَواب نہیں؟ یہ تیرے خِلاف کیا گواہی دے رہے ہیں؟“
MAR 14:61 لیکن وہ خاموش رہے اَور کویٔی جَواب نہ دیا۔ اعلیٰ کاہِن نے ایک بار پھر پُوچھا، ”کیا آپ ہی المسیح ہو، عالی قدر کے بیٹا؟“
MAR 14:62 یِسوعؔ نے جَواب دیا ہاں، ”میں ہُوں، اَور تُم اِبن آدمؔ کو قادرمُطلق کی داہنی طرف بیٹھا اَور آسمان کے بادلوں پر آتا دیکھوگے۔“
MAR 14:63 تَب اعلیٰ کاہِن نے اَپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اَور بولا، ”اَب ہمیں گواہوں کی کیا ضروُرت ہے؟
MAR 14:64 تُم نے یہ کُفر سُنا۔ تمہاری کیا رائے ہے؟“ اُن سَب کا فیصلہ یہ تھا کہ اِنہیں سزائے موت دی جائے۔
MAR 14:65 اُن میں سے بعض حُضُور پر تھُوکنے لگے؛ اَور آپ کی آنکھوں پر پٹّی باندھ کر، آپ کو مُکّے مار کر پُوچھنے لگے، اگر تُو نبی ہے تو، ”نبُوّت کر!“ کِس نے تُجھے مارا اَور سپاہیوں نے آپ کو طمانچے مار کر اَپنے قبضہ میں لے لیا۔
MAR 14:66 ابھی پطرس نیچے صحن ہی میں تھے، اعلیٰ کاہِن کی ایک خادِمہ وہاں قریب آ گئی۔
MAR 14:67 اُس نے پطرس کو آگ تاپتے دیکھ کر اُن پر نظر ڈالی، اَور کہنے لگی۔ ”تُم بھی یِسوعؔ ناصری، کے ساتھ تھے۔“
MAR 14:68 مگر پطرس نے اِنکار کیا۔ ”میں کُچھ نہیں جانتا اَور سمجھتا آپ کیا کہہ رہی ہو،“ اَور وہ، باہر دیوڑھی میں چلا گیا اَور مُرغ نے بانگ دی۔
MAR 14:69 جَب اُس خادِمہ نے پطرس کو وہاں دیکھا، تو اُن سے جو پاس کھڑے تھے ایک بار پھر کہا، ”یہ آدمی اُن ہی میں سے ایک ہے۔“
MAR 14:70 پطرس نے پھر اِنکار کیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوگ جو پاس کھڑے تھے پطرس سے پھر کہنے لگے، ”یقیناً تُو اُن ہی میں سے ایک ہے، کیونکہ تُو بھی تو گلِیلی ہے۔“
MAR 14:71 تَب پطرس بولے میں قَسم کھا کر کہتا ہُوں، جِس شخص کی تُم بات کر رہے ہو، ”میں اُسے بالکُل نہیں جانتا اَور اگر مَیں جھُوٹا ہُوں تُو مُجھ پر لعنت ہو۔“
MAR 14:72 عَین اُسی وقت مُرغ نے دُوسری دفعہ بانگ دی۔ تَب پطرس کو یِسوعؔ کی وہ بات یاد آئی؛ یِسوعؔ نے اُس سے کہاتھا: ”مُرغ کے دو بار بانگ دینے سے پہلے تُو تین بار میرا اِنکار کرےگا۔“ اَور اِس بات پر غور کرکے پطرس رو پڑے۔
MAR 15:1 صُبح ہوتے ہی، اہم کاہِنوں نے یہُودی بُزرگوں، شَریعت کے عالِموں اَور عدالتِ عالیہ کے باقی اراکین سے مِل کر مشورہ کیا، اَور فیصلہ کرکے یِسوعؔ، کو بندھوایا اَور لے جا کر پِیلاطُسؔ کے حوالہ کر دیا۔
MAR 15:2 پِیلاطُسؔ نے آپ سے پُوچھا، ”کیا آپ یہُودیوں کے بادشاہ ہیں؟“ آپ نے جَواب دیا، ”تُم خُود ہی کہہ رہے ہو۔“
MAR 15:3 اہم کاہِن آپ پر طرح طرح کے اِلزام لگانے لگے۔
MAR 15:4 لہٰذا پِیلاطُسؔ نے آپ سے دوبارہ پُوچھا، ”آپ نے کویٔی جَواب نہیں دیا؟ دیکھئے یہ لوگ آپ پر کتنے اِلزام پر اِلزام لگا رہے ہیں۔“
MAR 15:5 پھر بھی یِسوعؔ نے کویٔی جَواب نہیں دیا، اَور اِس پر پِیلاطُسؔ کو بڑا تعجُّب ہُوا۔
MAR 15:6 اَور یہ دستور تھا کہ وہ عید کے موقع پر ایک اَیسے قَیدی کو رہا کر دیتا تھا جِس کی رِہائی کی لوگ مِنّت کرتے تھے۔
MAR 15:7 بَراَبّؔا نامی ایک آدمی اُن باغیوں کے ساتھ قَید میں تھا جنہیں خُون کے اِلزام میں قَید کیا گیا تھا۔
MAR 15:8 عوام ایک ہُجوم کی شکل میں پِیلاطُسؔ کے سامنے جمع ہو گئے اَور مِنّت کی کہ وہ اَپنے دستور کے مُطابق عَمل کرے۔
MAR 15:9 پِیلاطُسؔ نے اُن سے پُوچھا، ”کیا تُم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیٔے یہُودیوں کے بادشاہ کو چھوڑ دُوں؟“
MAR 15:10 کیونکہ پِیلاطُسؔ کو بخُوبی علم تھا کہ اہم کاہِنوں نے محض حَسد کی بنا پر یِسوعؔ کو اُس کے حوالہ کیا ہے۔
MAR 15:11 تاہم اہم کاہِنوں نے ہُجوم کو اُکسایا کہ وہ پِیلاطُسؔ سے مِنّت کریں کہ یِسوعؔ کی جگہ بَراَبّؔا کو رہا کر دیا جائے۔
MAR 15:12 پِیلاطُسؔ نے لوگوں سے دُوسری مرتبہ پُوچھا، ”پھر میں یِسوعؔ کے ساتھ کیا کروں جسے تُم یہُودیوں کا بادشاہ کہتے ہو۔“
MAR 15:13 وہ چیخے، ”اِسے مصلُوب کرو۔“
MAR 15:14 آخِر کیوں؟ پِیلاطُسؔ نے اُن سے پُوچھا، ”یِسوعؔ نے کون سا جُرم کیا ہے؟“ لیکن سَب لوگ مزید طیش میں چِلّاکر بولے، ”اِسے مصلُوب کرو!“
MAR 15:15 پِیلاطُسؔ نے ہُجوم کو خُوش کرنے کی غرض سے اُن کی خاطِر بَراَبّؔا کو رِہا کر دیا۔ اَور یِسوعؔ کو کوڑے لگوا کر، اُن کے حوالہ کر دیا تاکہ حُضُور کو مصلُوب کیا جائے۔
MAR 15:16 تَب سپاہی یِسوعؔ کو پرائیتوریم یعنی شاہی قلعہ کے اَندرونی صحن میں لے گیٔے اَور ساری پلٹن کو وہاں جمع کر لیا۔
MAR 15:17 تَب اُنہُوں نے یِسوعؔ کو ایک اَرغوانی چوغہ پہنایا، اَور کانٹوں کا تاج بنا کر اُن کے سَر پر رکھ دیا۔
MAR 15:18 آپ کو سلام کرکے کہنے لگے، ”اَے یہُودیوں کے بادشاہ آداب!“
MAR 15:19 وہ بار بار حُضُور کے سَر پر سَرکنڈا مارتے اَور آپ پر تھُوکتے تھے۔ اِس کے ساتھ ہی گھُٹنے ٹیک ٹیک کر آپ کو سَجدہ کرتے تھے۔
MAR 15:20 جَب سپاہی حُضُور کی ہنسی اُڑا چُکے، تو اُنہُوں نے وہ اَرغوانی چوغہ اُتار کر آپ کو اُن کے کپڑے پہنا دئیے اَور صلیب دینے کے واسطے باہر لے جانے لگے۔
MAR 15:21 راستے میں اُنہیں شمعُونؔ، کُرینی نامی آدمی مِلا جو سِکندؔر اَور رُوفُسؔ کا باپ تھا اَور گاؤں سے یروشلیمؔ کی طرف آ رہاتھا، اُنہُوں نے زبردستی پکڑ لیا تاکہ وہ یِسوعؔ کی صلیب اُٹھائے۔
MAR 15:22 وہ سَب یِسوعؔ کو گُلگُتا نامی جگہ پر لے کر آئے (جِس کے معنی ”کھوپڑی کی جگہ ہے“)۔
MAR 15:23 وہاں اُنہُوں نے حُضُور کو اَیسا مُرمِلا انگوری شِیرہ پِلانے کی کوشش کی لیکن آپ نے اُسے پینے سے اِنکار کر دیا۔
MAR 15:24 اَور جَب اُنہُوں نے یِسوعؔ کو مصلُوب کر دیا۔ تو اُنہُوں نے آپ کے کپڑوں کو تقسیم کرنے کے لیٔے قُرعہ ڈالا کہ آپ کے کپڑے کس کو ملیں۔
MAR 15:25 جَب اُنہُوں نے حُضُور کو صلیب پر چڑھایاتھا تو صُبح کے نَو بج رہے تھے۔
MAR 15:26 اَور اُنہُوں نے آپ کے سَر کے اُوپر اِلزام کی ایک تختی لگا دی جِس پر لِکھّا تھا: یہُودیوں کا بادشاہ۔
MAR 15:27 اُنہُوں نے دو ڈاکوؤں کو بھی یِسوعؔ کے ساتھ مصلُوب کیا، ایک کو آپ کے داہنی طرف اَور دُوسرے کو بائیں طرف۔
MAR 15:28 اِس طرح کِتاب مُقدّس کا یہ نوشتہ پُورا ہُوا کہ وہ بدکاروں کے ساتھ شُمار کیا گیا۔
MAR 15:29 وہاں سے گزرنے والے سَب لوگ سَر ہلا ہلا کر حُضُور کو لَعن طَعن کرتے اَور کہتے تھے، ”ارے بیت المُقدّس کو ڈھا کر تین دِن میں اِسے پھر سے بنانے والے،
MAR 15:30 اَب صلیب سے نیچے اُتر آ اَور اَپنے آپ کو بچا!“
MAR 15:31 اِسی طرح اہم کاہِن اَور شَریعت کے عالِم مِل کر آپَس میں یِسوعؔ کی ہنسی اُڑاتے ہویٔے کہتے تھے، ”اِس نے اَوروں کو بچایا، لیکن اَپنے آپ کو نہیں بچا سَکتا!
MAR 15:32 یہ المسیح، اِسرائیلؔ کا بادشاہ، اَب بھی صلیب پر سے نیچے اُتر آئے، تاکہ یہ دیکھ کر ہم ایمان لا سکیں۔“ دو ڈاکُو بھی جو یِسوعؔ کے ساتھ مصلُوب ہُوئے تھے، وہ بھی حُضُور کو لَعن طَعن کر رہے تھے۔
MAR 15:33 بَارہ بجے، سے لے کر تین بجے تک اُس سارے علاقہ میں اَندھیرا چھایا رہاتھا۔
MAR 15:34 تین بجے یِسوعؔ بڑی اُونچی آواز سے چِلّائے، ”ایلوئی، ایلوئی، لما شبقتنی؟“‏ (جِس کا ترجُمہ یہ ہے، ”اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! آپ نے مُجھے کیوں چھوڑ دیا؟“)
MAR 15:35 جو لوگ پاس کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے یہ سُنا تو کہنے لگے، ”یہ تو ایلیّاہ کو پُکارتا ہے۔“
MAR 15:36 یہ سُن کر ایک شخص دَوڑا اَور اُس نے اِسفَنج کو سِرکہ میں ڈُبویا اَور اُسے سَرکنڈے پر رکھ کر یِسوعؔ کو چُسایا۔ اَور کہا، ”اَب اِسے تنہا چھوڑ دو۔ آؤ دیکھیں کہ ایلیّاہ اِسے صلیب سے نیچے اُتارنے آتے ہیں یا نہیں؟“
MAR 15:37 لیکن یِسوعؔ نے بڑے زور سے چِلّاکر اَپنی جان دے دی۔
MAR 15:38 اَور بیت المُقدّس کا پردہ اُوپر سے نیچے تک پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔
MAR 15:39 ایک فَوجی افسر، جو یِسوعؔ کے سامنے کھڑا تھا، یہ دیکھ کر کہ آپ نے کِس طرح جان دی ہے، وہ پُکار اُٹھا، ”یقیناً یہ شخص خُدا کا بیٹا تھا!“
MAR 15:40 کیٔی عورتیں دُور سے یہ سَب کُچھ دیکھ رہی تھیں۔ اُن میں مریمؔ مَگدلِینیؔ، چُھوٹے یعقوب اَور یُوسیفؔ کی ماں، مریمؔ اَور سلومؔی تھیں۔
MAR 15:41 جَب حُضُور صُوبہ گلِیل میں تھے تُو یہ عورتیں آپ کی پیروکار تھیں اَور اُن کی خدمت کیا کرتی تھیں اَور اِس کے علاوہ کیٔی خواتین آپ کے ساتھ یروشلیمؔ سے آئی تھیں۔
MAR 15:42 چونکہ شام ہو گئی تھی (اَور وہ سَبت سے پہلا یعنی تیّاری کا دِن تھا)۔
MAR 15:43 ارِمَتِیاؔہ کا شَہری یُوسیفؔ نامی ایک شخص آیا جو عدالتِ عالیہ کا ایک مُعزّز رُکن تھا اَور خُود بھی خُدا کی بادشاہی کا مُنتظر تھا۔ وہ بڑی دِلیری سے پِیلاطُسؔ کے پاس گیا اَور یِسوعؔ کی لاش مانگنے لگا۔
MAR 15:44 جَب پِیلاطُسؔ کو مَعلُوم ہُوا کہ حُضُور مَر چُکے ہیں تو اُسے تعجُّب ہُوا۔ اَور اُس نے اَپنے فَوجی کپتان کو بُلاکر، پُوچھا کہ یِسوعؔ کو مَرے ہویٔے کتنی دیر ہو چُکی ہے۔
MAR 15:45 جَب پِیلاطُسؔ کو اَپنے فَوجی کپتان سے حقیقت کا پتا چلا تو اُس نے حُکم دیا کہ حُضُور کی لاش یُوسیفؔ کو دے دی جائے۔
MAR 15:46 یُوسیفؔ نے ایک مہین سُوتی چادر خریدی، اَور یِسوعؔ کی لاش کو اُتار کر اُس چادر میں کفنایا، اَور لے جا کر ایک قبر میں رکھ دیا جو چٹّان میں، کھودی گئی تھی اَور اُس قبر کے دروازہ پر ایک بڑا سا پتّھر لُڑھکا دیا۔
MAR 15:47 مریمؔ مَگدلِینیؔ اَور یُوسیسؔ کی ماں، مریمؔ دونوں دیکھ رہی تھیں کہ یِسوعؔ کی لاش کو کہاں رکھا گیا ہے۔
MAR 16:1 جَب سَبت کا دِن گزر گیا، تو مریمؔ مَگدلِینیؔ، یعقوب کی ماں مریمؔ اَور سلومؔی خُوشبودار چیزیں خرید کر لائیں تاکہ اُنہیں یِسوعؔ کی لاش پر مَلیں۔
MAR 16:2 اَور ہفتہ کے پہلے دِن، صُبح سویرے سُورج کے نکلتے ہی، وہ قبر پر آئیں۔
MAR 16:3 وہ آپَس میں کہہ رہی تھیں: ”قبر کے دروازہ پر سے ہمارے لیٔے پتّھر کون ہٹائے گا؟“
MAR 16:4 لیکن جَب اُنہُوں نے اُوپر نگاہ کی، تو دیکھا کہ وہ بھاری پتّھر، پہلے ہی سے لُڑھکا ہُوا تھا۔
MAR 16:5 جَب وہ غارنُما قبر کے اَندر گئیں تو، اُنہُوں نے ایک جَوان آدمی کو سفید چوغہ پہنے داہنی طرف بیٹھے دیکھا، اَور وہ گھبرا گئیں۔
MAR 16:6 لیکن اُس آدمی نے اُن سے کہا، ”تعجُّب نہ کرو، تُم یِسوعؔ ناصری، کو جو مصلُوب ہُوئے تھے ڈھونڈتی ہو۔ وہ جی اُٹھے ہیں! وہ یہاں نہیں ہیں۔ دیکھو یہ وہ جگہ ہے جہاں اُنہُوں نے یِسوعؔ کو رکھا تھا۔
MAR 16:7 پس تُم جاؤ، اَور اُن کے شاگردوں اَور پطرس کو خبر کر دو، ’وہ اَور تُم سے پہلے صُوبہ گلِیل کو پہُنچ رہے ہیں۔ تُم اُنہیں وہیں دیکھوگے، جَیسا کہ اُنہُوں نے تُم سے کہاتھا۔‘ “
MAR 16:8 وہ عورتیں حیرت زدہ اَور کانپتی ہویٔی ‏یِسوعؔ کی قبر سے نکل کر بھاگیں اَور اِس قدر خوفزدہ تھیں کہ پطرس اَور کسی سے کُچھ بھی کہنے کی ہِمّت نہ کر سکیں۔
MAR 16:9 ہفتہ کے پہلے دِن صُبح کے وقت، یِسوعؔ اَپنے جی اُٹھنے کے بعد سَب سے پہلے مریمؔ مَگدلِینیؔ پر، ظاہر ہویٔے، جِس میں سے آپ نے سات بدرُوحیں نکالی تھیں۔
MAR 16:10 اُس نے جا کر حُضُور کے ساتھیوں کو جو غم کے باعث ملُول تھے اَور رو رہے تھے، اُن کو خبر دی۔
MAR 16:11 لیکن اُنہُوں نے یہ سُن کر کہ آپ جی اُٹھے ہیں اَور مریمؔ نے آپ کو دیکھاہے یقین نہ کیا۔
MAR 16:12 اِس کے بعد یِسوعؔ ایک دُوسری صورت میں اُن میں سے دو آدمیوں پر اُس وقت ظاہر ہُوئے جَب وہ اَپنے گاؤں کی طرف چلے جا رہے تھے۔
MAR 16:13 اُنہُوں نے واپس جا کر باقی لوگوں کو خبر دی؛ لیکن اُنہُوں نے اُن کا بھی یقین نہ کیا۔
MAR 16:14 آخِر میں وہ گیارہ شاگردوں پر جَب وہ دسترخوان پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے؛ اُن پر ظاہر ہُوئے اَور آپ نے اُن کی بےاِعتقادی اَور سخت دِلی پر ملامت کی کیونکہ اُنہُوں نے اُن کا بھی یقین نہیں کیا تھا جنہوں نے آپ کے جی اُٹھنے کے بعد آپ کو دیکھا۔
MAR 16:15 پھر اُنہُوں نے اُن سے کہا، ”تمام دُنیا میں جا کر تمام مخلُوق کو انجیل کی مُنادی کرو۔
MAR 16:16 جو بھی ایمان لایٔے اَور پاک غُسل لے وہ نَجات پایٔےگا، لیکن جو ایمان نہ لایٔے وہ مُجرم قرار دیا جائے گا۔
MAR 16:17 اَور ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے کہ وہ میرے نام سے بدرُوحوں کو نکالیں گے؛ نئی نئی زبانیں بولیں گے؛
MAR 16:18 وہ سانپوں کو اُٹھا لیں گے؛ اگر کویٔی مہلک چیز پی لیں گے، تو اُنہیں کُچھ نُقصان نہ پہُنچے گا؛ وہ بیماریوں پر ہاتھ رکھیں گے، اَور بیمار شفا پائیں گے۔“
MAR 16:19 جَب خُداوؔند یِسوعؔ اُن سے کلام کر چُکے، آپ آسمان میں اُوپر اُٹھا لیٔے گیٔے۔ اَور آپ خُدا کے داہنی طرف جا بیٹھے۔
MAR 16:20 تَب شاگرد باہر نکلے اَور ہر جگہ انجیل کی مُنادی کی، اَور خُداوؔند اُن کے ساتھ مِل کر کام کرتے رہے اَور کلام کو اُن معجزوں کے ذریعہ جو ساتھ ساتھ ہوتے تھے تصدیق کرتے رہے۔
LUK 1:1 چونکہ بہت سے لوگوں نے اُن باتوں کو جو ہمارے درمیان واقع ہویٔی ہیں اُنہیں سلسلہ وار بَیان کرنے کی کوشش کی ہے،
LUK 1:2 خصوصاً اُن باتوں کو ہم تک اُن لوگوں نے پہُنچایا جو شروع سے ہی اُن کے چشم دید گواہ اَور کلام کے خادِم تھے۔
LUK 1:3 اِس لیٔے اَے محترم تھِیفلُسؔ، مَیں نے خُود شروع سے ہر بات کی خُوب تحقیق کی، اَور مُناسب سمجھا کہ سَب باتوں کو ترتیب وار تحریر کرکے آپ کی خدمت میں پیش کروں،
LUK 1:4 تاکہ آپ کو مَعلُوم ہو جائے کہ جِن باتوں کی آپ نے تعلیم پائی ہے وہ کس قدر پُختہ ہیں۔
LUK 1:5 یہُودیؔہ صُوبہ کے بادشاہ ہیرودیسؔ کے زمانہ میں ایک کاہِنؔ تھا جِس کا نام زکریاؔہ تھا۔ وہ ابیّاہؔ کے فرقہ کہانت سے تعلّق رکھتا تھا؛ اُس کی بیوی، اِلیشاَبیتؔ بھی حضرت ہارونؔ کے خاندان سے تھی۔
LUK 1:6 وہ دونوں خُدا کی نظر میں راستباز تھے اَور خُداوؔند کے سَب اَحکام اَور قوانین پر پُوری طرح بے عیب عَمل کرتے تھے۔
LUK 1:7 لیکن اُن کے اَولاد نہ تھی کیونکہ اِلیشاَبیتؔ بانجھ تھیں اَور دونوں عمر رسیدہ تھے۔
LUK 1:8 ایک بار زکریاؔہ کے فرقہ کی باری پر جَب وہ خُدا کے حُضُور کہانت کے فرائض اَنجام دے رہے تھے۔
LUK 1:9 تو کہانت کے دستور کے مُطابق زکریاؔہ کے نام کا قُرعہ نِکلا کہ وہ خُداوؔند کے بیت المُقدّس میں جا کر لوبان جَلائیں۔
LUK 1:10 جَب لوبان جَلانے کا وقت آیا اَور عبادت کرنے والے باہر جمع ہوکر دعا کر رہے تھے۔
LUK 1:11 تو خُداوؔند کا ایک فرشتہ زکریاؔہ کو لوبان کے مذبح کی داہنی طرف کھڑا ہُوا دِکھائی دیا۔
LUK 1:12 زکریاؔہ اُسے دیکھ کر، گھبرا گیٔے اَور اُن پر دہشت طاری ہو گئی۔
LUK 1:13 لیکن فرشتہ نے اُن سے کہا: ”ڈرو مت، زکریاؔہ؛ تمہاری دعا سُن لی گئی ہے۔ تمہاری بیوی اِلیشاَبیتؔ سے تمہارے لیٔے ایک بیٹا پیدا ہوگا اَور تُم اُس کا نام یُوحنّا رکھنا۔
LUK 1:14 وہ تمہارے لیٔے خُوشی اَور شادمانی کا باعث ہوگا اَور بہت سے لوگ اُس کی وِلادت سے خُوش ہوں گے
LUK 1:15 کیونکہ وہ خُداوؔند کی نظر میں عظیم ٹھہرے گا۔ وہ انگوری شِیرے اَور شراب سے ہمیشہ دُور رہے گا اَور اَپنی ماں کے رحم ہی سے پاک رُوح سے معموُر ہوگا۔
LUK 1:16 وہ بنی اِسرائیلؔ میں سے بہت سے افراد کو خُداوؔند کی طرف جو اُن کا خُدا ہے واپس لے آئے گا۔
LUK 1:17 اَور وہ ایلیّاہ کی رُوح اَور قُوّت میں خُداوؔند کے آگے آگے چلے گا تاکہ والدین کے دِل اُن کی اَولاد کی طرف اَور نافرمانوں کو راستبازوں کی دانائی کی طرف پھیر دے اَور خُداوؔند کے لیٔے ایک مُستعد قوم تیّار کر دے۔“
LUK 1:18 زکریاؔہ نے فرشتہ سے پُوچھا، ”میں یہ کیسے یقین کروں؟ میں تو بُوڑھا ہُوں اَور میری بیوی بھی عمر رسیدہ ہے۔“
LUK 1:19 فرشتہ نے جَواب دیا، ”میں گیبریلؔ ہُوں۔ میں خُدا کے حُضُور کھڑا رہتا ہُوں، اَور مُجھے اِس لیٔے بھیجا گیا ہے کہ مَیں تُجھ سے کلام کروں اَور تُجھے یہ خُوشخبری سُناؤں۔
LUK 1:20 اَور سُنو! جَب تک یہ باتیں پُوری نہیں ہو جاتیں تمہاری زبان بند رہے گی اَور تُم بول نہ سکوگے، کیونکہ تُم نے میری اِن باتوں کا، یقین نہ کیا جو اَپنے وقت پر پُوری ہُوں گی۔“
LUK 1:21 اُس دَوران، لوگ زکریاؔہ کا اِنتظار کر رہے تھے اَور حیران تھے کہ اُنہیں بیت المُقدّس میں اِتنی دیر کیوں ہو رہی ہے۔
LUK 1:22 جَب وہ باہر آئے، تو اُن سے بول نہ سکے۔ وہ سمجھ گیٔے کہ زکریاؔہ نے بیت المُقدّس میں کویٔی رُویا دیکھی ہے، کیونکہ وہ اُن سے اِشاروں میں باتیں کرتے تھے لیکن بول نہیں سکتے تھے۔
LUK 1:23 جَب زکریاؔہ کی خدمت کے دِن پُورے ہو گئے، تو وہ گھر چلے گیٔے۔
LUK 1:24 اِس کے بعد زکریاؔہ کی بیوی اِلیشاَبیتؔ حاملہ ہو گئیں اَور اُنہُوں نے خُود کو پانچ مہینوں تک چُھپائے رکھا۔
LUK 1:25 اِلیشاَبیتؔ نے کہا، ”خُداوؔند نے میرے لیٔے یہ کام کیا ہے، خُداوؔند نے اِن دِنوں میں مُجھ پر نظریں کرم کی اَور مُجھے لوگوں میں رُسوا ہونے سے بچا لیا۔“
LUK 1:26 اِلیشاَبیتؔ کے حَمل کے چھٹے مہینے میں، خُدا نے گیبریلؔ فرشتہ کو گلِیل صُوبہ کے ایک شہر ناصرتؔ میں،
LUK 1:27 ایک کنواری کے پاس بھیجا جِن کی منگنی حضرت یُوسیفؔ نام کے ایک مَرد سے ہو چُکی تھی، جو حضرت داویؔد کی نَسل سے تھے۔ اُس کنواری کا نام حضرت مریمؔ تھا۔
LUK 1:28 فرشتہ نے اُن کے پاس آکر کہا، ”سلام، آپ پر بڑا فضل ہُواہے! خُداوؔند آپ کے ساتھ ہے۔“
LUK 1:29 حضرت مریمؔ، فرشتہ کا کلام سُن کر بہت گھبرا گئیں اَور سوچنے لگیں کہ یہ کیسا سلام ہے۔
LUK 1:30 لیکن فرشتہ نے اُن سے کہا، ”اَے مریمؔ! خوف نہ کر؛ آپ پر خُدا کا فضل ہُواہے۔
LUK 1:31 آپ حاملہ ہوں گی اَور آپ کو ایک بیٹا پیدا ہوگا۔ آپ اُن کا نام یِسوعؔ رکھنا۔
LUK 1:32 وہ عظیم ہوں گے اَور خُداتعالیٰ کا بیٹا کہلایٔیں گے۔ خُداوؔند خُدا اُن کے باپ حضرت داویؔد کا تخت اُنہیں دے گا،
LUK 1:33 اَور وہ حضرت یعقوب کے گھرانے پر ہمیشہ تک بادشاہی کریں گے؛ اُن کی بادشاہی کبھی ختم نہ ہوگی۔“
LUK 1:34 حضرت مریمؔ نے فرشتہ سے پُوچھا، ”یہ کس طرح ہوگا، میں تو ابھی کنواری ہی ہُوں؟“
LUK 1:35 فرشتہ نے جَواب دیا، ”پاک رُوح آپ پر نازل ہوگا، اَور خُداتعالیٰ کی قُدرت آپ پر سایہ ڈالے گی۔ اِس لیٔے وہ قُدُّوس جو پیدا ہونے والے ہیں، خُدا کا بیٹا کہلایٔیں گے۔
LUK 1:36 اَور دیکھو، آپ کی رشتہ دار، اِلیشاَبیتؔ کے بُڑھاپے میں بھی بیٹا ہونے والا ہے، جنہیں لوگ بانجھ کہتے تھے وہ چھ ماہ سے حاملہ ہیں۔
LUK 1:37 کیونکہ خُدا کا کویٔی بھی کلام کبھی ناکام نہیں ہوتا۔“
LUK 1:38 حضرت مریمؔ نے جَواب دیا، ”میں تو خُداوؔند کی بندی ہُوں، جَیسا آپ نے مُجھ سے کہا ہے وَیسا ہی ہو۔“ تَب فرشتہ اُن کے پاس سے چلا گیا۔
LUK 1:39 اُن ہی دِنوں میں حضرت مریمؔ تیّار ہوکر فوراً یہُودیؔہ کے پہاڑی علاقہ کے ایک شہر کو گئیں،
LUK 1:40 اَور حضرت زکریاؔہ کے گھر میں داخل ہوکر اِلیشاَبیتؔ کو سلام کیا۔
LUK 1:41 جَب اِلیشاَبیتؔ نے حضرت مریمؔ کا سلام سُنا تو، بچّہ اُن کے رحم میں اُچھل پڑا اَور اِلیشاَبیتؔ پاک رُوح سے بھر گئیں۔
LUK 1:42 اَور بُلند آواز سے پُکار کر کہنے لگیں: ”آپ عورتوں میں مُبارک ہیں، اَور مُبارک ہے آپ کا پیدا ہونے والا بچّہ!
LUK 1:43 لیکن مُجھ پر یہ فضل کِس لیٔے ہُوا، کہ میرے خُداوؔند کی ماں میرے پاس آئی؟
LUK 1:44 کیونکہ جُوں ہی آپ کے سلام کی آواز میرے کانوں میں پہُنچی، بچّہ خُوشی کے مارے میرے پیٹ میں اُچھل پڑا۔
LUK 1:45 مُبارک ہو تُم جو ایمان لائیں کہ خُداوؔند نے جو کُچھ آپ سے کہا وہ پُورا ہوکر رہے گا!“
LUK 1:46 اَور مریمؔ نے کہا: ”میری جان خُداوؔند کی تعظیم کرتی ہے۔
LUK 1:47 اَور میری رُوح میرے مُنجّی خُدا سے نہایت خُوش ہے،
LUK 1:48 کیونکہ خُدا نے اَپنی خادِمہ کی پست حالی پر نظر کی ہے۔ اَب سے لے کر ہر زمانہ کے لوگ مُجھے مُبارک کہیں گے،
LUK 1:49 کیونکہ خُدائے قادر نے میرے لیٔے بڑے بڑے کام کیٔے ہیں۔ اَور اُن کا نام قُدُّوس ہے۔
LUK 1:50 خُدا کی رحمت اُس سے ڈرنے والوں پر، نَسل بہ نَسل جاری رہتی ہے۔
LUK 1:51 خُدا نے اَپنے بازو سے عظیم کام کیٔے ہیں؛ جو اَپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے، اُس نے اُنہیں پراگندہ کر دیا۔
LUK 1:52 خُدا نے حُکمرانوں کو اُن کے تخت سے اُتار دیا لیکن حلیموں کو سرفراز کر دیا۔
LUK 1:53 خُدا نے بھُوکوں کو اَچھّی چیزوں سے سیر کر دیا لیکن دولتمندوں کو خالی ہاتھ لَوٹا دیا۔
LUK 1:54 خُدا نے اَپنے خادِم اِسرائیلؔ کی مدد کی ہے، خُدا نے اَپنے رحم دِل ہونے کے وعدہ کو یاد رکھا ہے
LUK 1:55 جو خُدا نے اَبدی وعدہ حضرت اَبراہامؔ اَور اُن کی نَسل سے، اَور ہمارے باپ دادا، سے کیا تھا۔“
LUK 1:56 اَور حضرت مریمؔ تقریباً تین ماہ تک اِلیشاَبیتؔ کے ساتھ رہیں۔ پھر اَپنے گھر لَوٹ گئیں۔
LUK 1:57 اَب اِلیشاَبیتؔ کے وضعِ حَمل کا وقت آ پہُنچا، تو اُن کے ایک بیٹا پیدا ہُوا۔
LUK 1:58 اُن کے پڑوسیوں اَور رشتہ داروں نے یہ سُن کر کہ خُداوؔند نے اِلیشاَبیتؔ پر بڑی رحمت کی ہے، اُن کے ساتھ مِل کر خُوشی منائی۔
LUK 1:59 آٹھویں دِن وہ بچّے کا ختنہ کرنے کے لیٔے آئے اَور بچّہ کا نام اُس کے باپ کے نام پر زکریاؔہ رکھنے لگے۔
LUK 1:60 لیکن اُن کی ماں بول اُٹھیں اَور کہنے لگیں، ”نہیں! بچّہ کا نام یُوحنّا ہوگا۔“
LUK 1:61 اُنہُوں نے اِلیشاَبیتؔ سے کہا، ”تمہارے خاندان میں کویٔی بھی اِس نام کا نہیں ہے۔“
LUK 1:62 تَب اُنہُوں نے بچّے کے باپ سے اِشاروں میں پُوچھا، کہ تُم بچّے کا نام کیا رکھنا چاہتے ہو۔
LUK 1:63 حضرت زکریاؔہ نے تختی منگوائی، اَور اُس پر یہ لِکھ کر سَب کو حیرت میں ڈال دیا کہ، ”بچّہ کا نام یُوحنّا ہے۔“
LUK 1:64 اُسی وقت حضرت زکریاؔہ کا مُنہ کھُل گیا اَور اُن کی زبان کام کرنے لگی، اَور وہ بولنے لگے، اَور خُدا کی تعریف کرنے لگے۔
LUK 1:65 اِس واقعہ سے پڑوس کے تمام لوگوں پر دہشت چھاگئی، اَور یہُودیؔہ کے تمام پہاڑی علاقوں میں اِن سَب باتوں کا تذکرہ ہونے لگا۔
LUK 1:66 اَور سَب سُننے والے حیران ہوکر سوچتے تھے کہ، ”یہ بچّہ بڑا ہوکر کیا بنے گا؟“ کیونکہ خُداوؔند کا ہاتھ اُن کے ساتھ تھا۔
LUK 1:67 تَب اُن کے باپ زکریاؔہ پاک رُوح سے معموُر ہوکر نبُوّت کرنے لگے:
LUK 1:68 ”اِسرائیلؔ کے خُداوؔند، خُدا کی حَمد ہو، کیونکہ خُدا نے آکر اَپنے لوگوں کو مخلصی بخشی۔
LUK 1:69 اُس نے اَپنے خادِم حضرت داویؔد کے گھرانے میں ہمارے لیٔے ایک طاقتور سینگ نَجات دِہندہ کو بھیجا
LUK 1:70 (جَیسا اُس نے زمانہ قدیم میں اَپنے مُقدّس نبیوں کے مَعرفت فرمایا تھا)،
LUK 1:71 تاکہ ہم اَپنے سبھی دُشمنوں سے اَور نفرت رکھنے والوں سے نَجات پائیں
LUK 1:72 کہ وہ ہمارے باپ دادا پر رحم کرے اَور اَپنے پاک عہد کو یاد فرمایٔے،
LUK 1:73 یعنی اُس قَسم کو جو اُس نے ہمارے باپ حضرت اَبراہامؔ سے کھائی تھی:
LUK 1:74 کہ وہ ہمیں ہمارے دُشمنوں سے چُھڑائے گا، اَور ہمیں بے خوف اَپنی خدمت کرنے کے لائق بنائے گا،
LUK 1:75 تاکہ اُس کی حُضُوری میں پاکیزگی اَور راستبازی سے زندگی بھر رہ سکیں۔
LUK 1:76 ”اَور اَے میرے بچّے، تُو خُداتعالیٰ کا نبی کہلائے گا؛ کیونکہ تُم خُداوؔند کے آگے آگے چل کر اُن کی راہ تیّار کروگے،
LUK 1:77 تاکہ خُداوؔند کے لوگوں کو نَجات کا علم بخشو، جو گُناہوں کی مُعافی سے حاصل ہوتی ہے،
LUK 1:78 ہمارے خُدا کی اُس بڑی رحمت کی وجہ سے، ہم پر عالمِ بالا کا آفتاب طُلوع ہوگا
LUK 1:79 تاکہ اُن کو رَوشنی بخشے جو تاریکی اَور موت کے سایہ میں بیٹھے ہیں، اَور ہمارے قدموں کو سلامتی کی راہ پر لے چلے۔“
LUK 1:80 اَور وہ بچّہ بڑھتا گیا اَور رُوحانی طور پر قُوّت پاتا گیا؛ اَور اِسرائیلؔ پر عام طور پر ظاہر ہونے سے پہلے بیابان میں رہا۔
LUK 2:1 اُن دِنوں میں قَیصؔر اَوگُستُسؔ کی طرف سے فرمان جاری ہُوا کہ رُومی حُکومت کی ساری دُنیا کے لوگوں کی اِسم نویسی کی جایٔیں۔
LUK 2:2 (یہ پہلی اِسم نویسی تھی جو سِیریؔا کے حاکم کورِنِیُسؔ کے عہد میں ہویٔی۔)
LUK 2:3 اَور سَب لوگ نام لکھوانے کے لیٔے اَپنے اَپنے شہر کو گیٔے۔
LUK 2:4 یُوسیفؔ بھی گلِیل کے شہر ناصرتؔ سے یہُودیؔہ میں حضرت داویؔد کے شہر بیت لحمؔ کو روانہ ہُوا کیونکہ وہ داویؔد کے گھرانے اَور اَولاد سے تھا۔
LUK 2:5 تاکہ وہاں اَپنی ہونے والی بیوی مریمؔ کے ساتھ جو حاملہ تھی، نام لکھوائے۔
LUK 2:6 جَب وہ وہاں تھے تو اُن کے وضعِ حَمل کا وقت آ پہُنچا۔
LUK 2:7 اَور اُن کا پہلوٹھا بیٹا پیدا ہُوا۔ اَور اُنہُوں نے اُسے کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھا کیونکہ اُن کے لیٔے سرائے میں کویٔی جگہ نہ تھی۔
LUK 2:8 اُسی علاقہ میں کُچھ چرواہے تھے جو رات کے وقت میدان میں اَپنے ریوڑ کی نگہبانی کر رہے تھے۔
LUK 2:9 اَور خُداوؔند کا فرشتہ اُن پر ظاہر ہُوا اَور خُداوؔند کا جلال اُن کے چاروں طرف چمکا، اَور وہ بُری طرح ڈر گیٔے۔
LUK 2:10 لیکن فرشتہ نے اُن سے کہا، ”ڈرو مت کیونکہ مَیں تُمہیں بڑی خُوشخبری کی بشارت دیتا ہُوں جو ساری اُمّت کے واسطے ہوگی۔
LUK 2:11 کہ آج داویؔد کے شہر میں تمہارے لیٔے ایک مُنجّی پیدا ہُواہے؛ یہی المسیح اَور خُداوؔند ہے۔
LUK 2:12 اَور اُس کا تمہارے لیٔے یہ نِشان ہوگا کہ تُم ایک بچّے کو کپڑے میں لپٹا اَور چرنی میں پڑا ہُوا پاؤگے۔“
LUK 2:13 یَکایک آسمان سے فرشتوں کا ایک لشکر اُس فرشتہ کے ساتھ خُدا کی تمجید کرتے اَور یہ کہتے ہویٔے ظاہر ہُوا،
LUK 2:14 ”عالمِ بالا پر خُدا کی تمجید ہو، اَور زمین پر اُن آدمیوں پر خُدا کی سلامتی جِن پر وہ مہربان ہے۔“
LUK 2:15 جَب فرشتے اُن کے پاس سے آسمان پر چلے گیٔے تو چرواہوں نے آپَس میں کہا، ”آؤ ہم بیت لحمؔ چلیں اَور جِس واقعہ کی خبر خُداوؔند نے ہمیں دی ہے اُسے دیکھیں۔“
LUK 2:16 لہٰذا وہ جلدی سے روانہ ہُوئے اَور مریمؔ، یُوسیفؔ اَور بچّے سے ملے جو چرنی میں پڑا تھا۔
LUK 2:17 اَور بچّے کو دیکھ کر وہ باتیں جو اُنہیں اُس کے بارے میں بتایٔی گئی تھیں، اُنہیں مشہُور کر دیا۔
LUK 2:18 اَور چرواہوں کی باتیں سُن کر سارے لوگ تعجُّب کرنے لگے۔
LUK 2:19 لیکن مریمؔ ساری باتوں کو دِل میں رکھ کر اُن پر غور کرتی رہیں۔
LUK 2:20 اَور چرواہے جَیسا اُنہیں بتایا گیا تھا وَیسا ہی سَب کُچھ دیکھ کر اَور سُن کر خُدا کی تمجید اَور تعریف کرتے ہُوئے واپس چلے گیٔے۔
LUK 2:21 آٹھویں دِن جَب اُس کے ختنہ کا وقت آیا تو اُس کا نام یِسوعؔ رکھا گیا۔ یہ وُہی نام ہے جو فرشتہ نے اُسے مریمؔ کے حاملہ ہونے سے پہلے دیا تھا۔
LUK 2:22 جَب حضرت مَوشہ کی شَریعت کے مُطابق اُن کے پاک ہونے کے دِن پُورے ہو گئے تو یُوسیفؔ اَور مریمؔ اُسے یروشلیمؔ لے گیٔے تاکہ اُسے خُداوؔند کو پیش کریں
LUK 2:23 (جَیسا کہ خُداوؔند کی شَریعت میں لِکھّا ہُواہے، ”ہر پہلوٹھا خُداوؔند کے لیٔے مُقدّس ٹھہرے گا“)،
LUK 2:24 اَور خُداوؔند کی شَریعت کے مُطابق، ”قُمرِیوں کا ایک جوڑا یا کبُوتر کے دو بچّے قُربانی کے لیٔے لائیں۔“
LUK 2:25 اُس وقت یروشلیمؔ میں ایک آدمی تھا جِس کا نام شمعُونؔ تھا۔ وہ راستباز اَور خُداپرست تھا۔ وہ اِسرائیلؔ کے تسلّی پانے کی راہ دیکھ رہاتھا اَور پاک رُوح اُس پر تھا۔
LUK 2:26 پاک رُوح نے اُس پر نازل کر دیا تھا کہ جَب تک وہ خُداوؔند کے المسیح کو دیکھ نہ لے گا، مَرے گا نہیں۔
LUK 2:27 وہ رُوح کی ہدایت سے بیت المُقدّس میں آیا اَور جَب یِسوعؔ کے والدین اُسے اَندر لایٔے تاکہ شَریعت کے فرائض اَنجام دیں
LUK 2:28 تو شمعُونؔ نے اُسے گود میں لے لیا اَور خُدا کی حَمد کرکے کہنے لگا:
LUK 2:29 ”اَے خُداوؔند! تُو اَپنے وعدہ کے مُطابق، اَب اَپنے خادِم کو سلامتی سے رخصت کر۔
LUK 2:30 کیونکہ میری آنکھوں نے تیری نَجات کو دیکھ لیا ہے،
LUK 2:31 جسے آپ نے ساری اُمّتوں کے سامنے تیّار کیا ہے:
LUK 2:32 وہ غَیریہُودیوں کے لیٔے مُکاشفہ کا نُور اَور تمہاری اُمّت اِسرائیلؔ کا جلال ہے۔“
LUK 2:33 اَور بچّے کے ماں باپ اِن باتوں کو جو اُس کے بارے میں کہی جا رہی تھیں، تعجُّب سے سُن رہے تھے۔
LUK 2:34 تَب شمعُونؔ نے اُنہیں برکت دی اَور اُس کی ماں مریمؔ سے کہا: ”دیکھ! یہ طے ہو چُکاہے کہ یہ بچّہ اِسرائیلؔ میں بہت سے لوگوں کے زوال اَور عروج کا باعث ہوگا اَور اَیسا نِشان بنے گا جِس کی مُخالفت کی جائے گی۔
LUK 2:35 تاکہ بہت سے دِلوں کے اَندیشے ظاہر ہو جایٔیں اَور غم کی تلوار تیری جان کو بھی چھید ڈالے گی۔“
LUK 2:36 وہاں ایک عورت بھی تھی جو نبیّہ تھی۔ اُس کا نام حنّاؔ تھا۔ وہ آشؔر کے قبیلہ کے ایک شخص فنوایلؔ کی بیٹی تھی۔ وہ بڑی عمر رسیدہ تھی اَور اَپنی شادی کے بعد سات سال تک اَپنے شوہر کے ساتھ رہی تھی۔
LUK 2:37 اَب وہ بِیوہ تھی اَور چَوراسی بَرس کی ہو چُکی تھی۔ وہ بیت المُقدّس سے جُدا نہ ہوتی تھی بَلکہ رات دِن روزوں اَور دعاؤں کے ساتھ عبادت میں لگی رہتی تھی۔
LUK 2:38 اُس وقت وہ بھی وہاں آکر خُدا کا شُکر اَدا کرنے لگی اَور اُن سَب سے جو یروشلیمؔ کی مخلصی کے مُنتظر تھے، اُس بچّے کے بارے میں گُفتگو کرنے لگی۔
LUK 2:39 جَب یُوسیفؔ اَور مریمؔ خُداوؔند کی شَریعت کے مُطابق سارے کام اَنجام دے چُکے تو گلِیل میں اَپنے شہر ناصرتؔ کو لَوٹ گیٔے۔
LUK 2:40 اَور وہ بچّہ بڑھتا اَور قُوّت پاتا گیا اَور حِکمت سے معموُر؛ ہوتا گیا اَور خُدا کا فضل اُس پر تھا۔
LUK 2:41 اُس کے والدین ہر سال عیدِفسح کے لیٔے یروشلیمؔ جایا کرتے تھے۔
LUK 2:42 جَب وہ بَارہ بَرس کا ہو گیا تو وہ عید کے دستور کے مُطابق یروشلیمؔ گیٔے۔
LUK 2:43 جَب عید کے دِن گزر گئے تو اُس کے والدین واپس آئے لیکن لڑکا یِسوعؔ یروشلیمؔ میں ہی ٹھہرگیا لیکن اُس کے والدین کو اِس بات کی خبر نہ تھی۔
LUK 2:44 اُن کا خیال تھا کہ وہ قافلہ کے ساتھ ہے۔ لہٰذا وہ ایک مَنزل آگے نکل گیٔے اَور اُسے اَپنے رشتہ داروں اَور دوستوں میں ڈھونڈنے لگے۔
LUK 2:45 جَب وہ اُنہیں نہیں مِلا تو اُس کی جُستُجو میں یروشلیمؔ واپس آئے۔
LUK 2:46 تین دِن کے بعد اُنہُوں نے اُسے بیت المُقدّس کے اَندر اُستادوں کے درمیان بیٹھے ہُوئے اُن کی سُنتے اَور اُن سے سوال کرتے پایا۔
LUK 2:47 اَورجو لوگ اُن کی باتیں سُن رہے تھے وہ اُن کی ذہانت اَور اُس کے جَوابوں پر حیرت زدہ تھے۔
LUK 2:48 جَب اُن کے والدین نے اُنہیں دیکھا تو اُنہیں حیرت ہویٔی۔ اُن کی ماں نے اُن سے پُوچھا، ”بیٹا، تُونے ہم سے اَیسا سلُوک کیوں کیا؟ تیرے اَبّا اَور مَیں تُجھے ڈھونڈتے ہویٔے پریشان ہو گئے تھے۔“
LUK 2:49 یِسوعؔ نے پُوچھا، ”آپ لوگ مُجھے کیوں ڈھونڈتے پھرتے تھے؟ کیا آپ لوگوں کو مَعلُوم نہ تھا کہ مُجھے اَپنے باپ کے گھر میں ہونا ضروُری ہے؟“
LUK 2:50 لیکن وہ سمجھ نہ پایٔے کہ وہ اُن سے کیا کہہ رہاہے۔
LUK 2:51 تَب وہ اُن کے ساتھ روانہ ہوکر ناصرتؔ میں آیا اَور اُن کے تابع رہا اَور اُس کی ماں نے یہ ساری باتیں اَپنے دِل میں رکھیں۔
LUK 2:52 اَور یِسوعؔ حِکمت اَور قد وقامت میں بڑھتے اَور خُدا اَور اِنسان کی نظر میں مقبُول ہوتے چلے گیٔے۔
LUK 3:1 قَیصؔر تِبریُس کی حُکومت کے پندرھویں بَرس جَب پُنطِیُس پِیلاطُسؔ یہُودیؔہ کا حاکم تھا اَور ہیرودیسؔ گلِیل کے چوتھائی حِصّہ پر اَور اُس کا بھایٔی فِلِپُّسؔ، اِتُوریہ اَور تَرخونؔی تِس چوتھائی حِصّہ اَور لِسانیاسؔ، اَبلینےؔ کے چوتھائی حِصّہ پر حُکمراں تھا
LUK 3:2 اَور حنّاؔ اَور کائِفؔا اعلیٰ کاہِن تھے۔ اُس وقت خُدا کا کلام بیابان میں زکریاؔہ کے بیٹے حضرت یُوحنّا پر نازل ہُوا۔
LUK 3:3 اَور وہ یردنؔ کے اِردگرد کے علاقوں میں جا کر گُناہوں کی مُعافی کے واسطے تَوبہ کرنے اَور پاک غُسل لینے کی مُنادی کرنے لگے۔
LUK 3:4 جَیسا کہ حضرت یَشعیاہ نبی نے اَپنے صحیفہ میں لِکھّا ہے: ”بیابان میں کویٔی پُکار رہاہے، ’خُداوؔند کے لیٔے راہ تیّار کرو، اُس کے لیٔے راہیں سیدھی بناؤ۔
LUK 3:5 ہر وادی بھر دی جائے گی، اَور ہر پہاڑ اَور ٹیلا نیچا کر دیا جائے گا۔ ٹیڑھے راستے سیدھے کر دئیے جایٔیں گے، اَور ناہموار راہیں ہموار بنا دی جایٔیں گی۔
LUK 3:6 اَور تمام بنی نَوع اِنسان خُدا کی نَجات دیکھیں گے۔‘ “
LUK 3:7 حضرت یُوحنّا اُس ہُجوم سے جو گِروہ در گِروہ اُن کے پاس پاک غُسل لینے کے لیٔے آ رہاتھا اُن سے کہا، ”اَے زہریلے سانپ کے بچّو! تُمہیں کس نے آگاہ کر دیا کہ آنے والے غضب سے بچ کر بھاگ نکلو؟
LUK 3:8 اَپنی تَوبہ کے لائق پھل بھی لاؤ۔ اَور خُود سے اِس گُمان میں نہ رہنا کہ تُم کہنے لگو، ’ہم تو حضرت اَبراہامؔ کی اَولاد ہیں۔‘ کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا اِن پتھّروں سے بھی حضرت اَبراہامؔ کے لیٔے اَولاد پیدا کر سَکتا ہے۔
LUK 3:9 اَب درختوں کی جڑ پر کُلہاڑا رکھ دیا گیا ہے لہٰذا جو درخت اَچھّا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اَور آگ میں جھونکا جاتا ہے۔“
LUK 3:10 ”لوگوں نے اُس سے پُوچھا کہ آخِر ہم کیا کریں؟“
LUK 3:11 حضرت یُوحنّا نے جَواب دیا، جِس کے پاس دو کُرتے ہوں، ”اُس کے ساتھ جِس کے پاس ایک بھی نہ ہوں بانٹ لے اَور جِس کے پاس کھانا ہو وہ بھی اَیسا ہی کرے۔“
LUK 3:12 اَور محصُول لینے والے بھی پاک غُسل لینے آئے اَور پُوچھنے لگے، ”اَے اُستاد محترم،“ ہم کیا کریں؟
LUK 3:13 اَور آپ نے اُن سے کہا، ”جِتنا لینے کا تُمہیں اِختیار دیا گیا ہے اُس سے زِیادہ نہ لو۔“
LUK 3:14 تَب بعض سپاہیوں نے بھی پُوچھا، ”ہم کیا کریں؟“ اَور حضرت یُوحنّا نے اُن سے کہا، ”کسی پر جھُوٹا اِلزام مت لگاؤ اَور نہ ڈرا دھمکا کر کسی سے کُچھ لو۔ اَپنی تنخواہ سے مطمئن رہو۔“
LUK 3:15 جَب لوگ بڑے شوق سے مُنتظر تھے اَور دِل ہی دِل میں سوچ رہے تھے کہ شاید حضرت یُوحنّا ہی المسیح ہیں۔
LUK 3:16 تو حضرت یُوحنّا نے جَواب دیتے ہُوئے کہا، ”میں تو تُمہیں صِرف پانی سے پاک غُسل دیتا ہُوں۔ لیکن جو آنے والا ہے وہ مُجھ سے بھی زِیادہ زورآور ہے، میں تو اِس لائق بھی نہیں کہ اُن کی جُوتوں کے تسمے کھول سکوں۔ وہ تُمہیں پاک رُوح اَور آگ سے پاک غُسل دیں گے۔
LUK 3:17 اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے اَور وہ اَپنے کھلیان کو خُوب صَاف کرےگا اَور گیہُوں کو اَپنے کھتّے میں جمع کرےگا اَور بھُوسے کو اُس آگ میں جَلائے گا جو بُجھتی ہی نہیں۔“
LUK 3:18 اَور وہ اُنہیں نصیحت کے طور پر بہت سِی باتیں بتاتے اَور خُوشخبری سُناتے رہے۔
LUK 3:19 ہیرودیسؔ چوتھائی علاقہ پر حُکمراں تھا جَب حضرت یُوحنّا نے اُسے ملامت کی تھی کیونکہ اُس نے اَپنے بھایٔی فِلِپُّسؔ کی بیوی ہیرودِیاسؔ سے شادی کرلی تھی اَور دُوسری بہت سِی بدکاریاں بھی کی تھیں۔
LUK 3:20 اُس نے سَب سے بُری حرکت یہ کی تھی کہ حضرت یُوحنّا کو قَید میں ڈلوادِیا۔
LUK 3:21 جَب سَب لوگ پاک غُسل لے رہے تھے تو یِسوعؔ نے بھی پاک غُسل لیا۔ اَور جَب وہ دعا کر رہے تھے، تو آسمان کھُل گیا
LUK 3:22 اَور پاک رُوح جِسمانی صورت میں کبُوتر کی شکل میں حُضُور پر نازل ہُوا اَور آسمان سے ایک آواز آئی: ”تُو میرا پیارا بیٹا ہے، جِس سے میں مَحَبّت کرتا ہُوں؛ تُم سے میں بہت خُوش ہُوں۔“
LUK 3:23 جَب یِسوعؔ نے اَپنا کام شروع کیا تو وہ تقریباً تیس بَرس کے تھے۔ اُنہیں یُوسیفؔ کا بیٹا سمجھا جاتا تھا، جو عیلیؔ کا بیٹا تھا،
LUK 3:24 عیلیؔ متّاتؔ کا، متّاتؔ لیوی کا، لیوی ملکیؔ کا، ملکیؔ ینّایٔی کا اَور ینّایٔی یُوسیفؔ کا بیٹا تھا،
LUK 3:25 یُوسیفؔ مَتِّتیاہؔ کا، مَتِّتیاہؔ عامُوسؔ کا، عامُوسؔ ناحُومؔ کا، ناحُومؔ اِیسلیؔ کا، اِیسلیؔ نُوگہَؔ کا بیٹا تھا،
LUK 3:26 اَور نُوگہَؔ ماعتؔ کا، ماعتؔ مَتِّتیاہؔ کا، مَتِّتیاہؔ شِمعیؔ کا، شِمعیؔ یوسیخؔ کا، یوسیخؔ یوداہؔ کا بیٹا تھا،
LUK 3:27 یوداہؔ یُونانؔ کا، یُونانؔ ریساؔ کا، ریساؔ زرُبّابِیل کا، زرُبّابِیل شیالتی ایل کا، اَور شیالتی ایل نیریؔ کا،
LUK 3:28 نیریؔ ملکیؔ کا، ملکیؔ ادّیؔ کا، ادّیؔ قوسامؔ کا، قوسامؔ اِلمودامؔ کا، اِلمودامؔ عیرؔ کا بیٹا تھا،
LUK 3:29 عیرؔ یہوشُعؔ کا، یہوشُعؔ الیعزرؔ کا، الیعزرؔ یوریمؔ کا، یوریمؔ متّاتؔ کا، اَور متّاتؔ لیوی کا بیٹا تھا،
LUK 3:30 لیوی شمعُونؔ کا، شمعُونؔ یہُوداہؔ کا، یہُوداہؔ یُوسیفؔ کا، یُوسیفؔ یُونامؔ کا، اَور یُونامؔ اِلیاقیؔم کا بیٹا تھا،
LUK 3:31 اِلیاقیؔم میلیؔا کا، میلیؔا منّاہؔ کا، منّاہؔ متتّاہؔ کا، متتّاہؔ ناتنؔ کا، ناتنؔ داویؔد کا بیٹا تھا،
LUK 3:32 داویؔد یِشائی کا، یِشائی عوبیدؔ کا، عوبیدؔ بُوعزؔ کا، بُوعزؔ سَلمونؔ کا، سَلمونؔ نحسُونؔ کا بیٹا تھا،
LUK 3:33 اَور نحسُونؔ عَمّیندابؔ کا، عَمّیندابؔ آرام کا، آرام اَرنی کا، اَرنی حصرونؔ کا، حصرونؔ فارصؔ کا، فارصؔ یہُوداہؔ کا بیٹا تھا،
LUK 3:34 اَور یہُوداہؔ یعقوب کا، یعقوب اِصحاقؔ کا، اِصحاقؔ اَبراہامؔ کا، اَبراہامؔ تیراحؔ کا، اَور تیراحؔ نحُوؔر کا بیٹا تھا،
LUK 3:35 نحُوؔر سِروگ کا، سِروگ رِعوؔ کا، رِعوؔ فَلج کا، فَلج عِبرؔ کا عِبرؔ شِلحؔ کا بیٹا تھا،
LUK 3:36 اَور شِلحؔ قینانؔ کا، قینانؔ اَرفکسَدؔ کا، اَرفکسَدؔ سِمؔ کا، سِمؔ نُوح کا، نُوح لمکؔ کا بیٹا تھا۔
LUK 3:37 اَور لمکؔ متُوسِلحؔ کا، متُوسِلحؔ حنوخؔ کا، حنوکؔ یاردؔ کا، یاردؔ مہلل ایل کا، مہلل ایل قینانؔ کا بیٹا تھا،
LUK 3:38 اَور قینانؔ انُوشؔ کا، انُوشؔ شیتؔ کا، شیتؔ آدمؔ کا، اَور آدمؔ خُدا کا بیٹا تھا۔
LUK 4:1 یِسوعؔ پاک رُوح سے بھرے ہویٔے یردنؔ سے لَوٹے اَور پاک رُوح کی ہدایت سے بیابان میں گیٔے۔
LUK 4:2 اَور چالیس دِن تک اِبلیس کے ذریعہ آزمائے جاتے رہے۔ اُن دِنوں میں آپ نے کُچھ نہ کھایا اَور جَب وہ دِن پُورے ہویٔے تو حُضُور کو بھُوک لگی۔
LUK 4:3 تَب اِبلیس نے اُن سے کہا، ”اگر آپ خُدا کے بیٹے ہیں تو اِس پتّھر سے کہیں کہ روٹی بَن جائے۔“
LUK 4:4 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”لِکھّا ہے: ’اِنسان صِرف روٹی ہی سے زندہ نہیں رہتا۔‘ “
LUK 4:5 اَور اِبلیس نے اُنہیں ایک اُونچے مقام پر لے جا کر پل بھر میں دُنیا کی تمام سلطنتیں دِکھا دیں۔
LUK 4:6 اَور اِبلیس نے حُضُور سے کہا، ”میں یہ سارا اِختیار اَور شان و شوکت تُجھے عطا کر دُوں گا کیونکہ یہ میرے سُپرد کیٔے گیٔے ہیں اَور مَیں جسے چاہُوں دے سَکتا ہُوں۔
LUK 4:7 لہٰذا اگر آپ میرے آگے سَجدہ کریں گے تو یہ سَب کُچھ آپ کا ہو جائے گا۔“
LUK 4:8 یِسوعؔ نے جَواب میں اُس سے کہا، ”لِکھّا ہے: ’تُو اَپنے خُداوؔند خُدا ہی کو سَجدہ کر اَور صِرف اُسی کی خدمت کر۔‘ “
LUK 4:9 اَور پھر اِبلیس یِسوعؔ کو یروشلیمؔ میں لے گیا اَور بیت المُقدّس کے سَب سے اُونچے مقام پر کھڑا کرکے کہنے لگاکہ، ”اگر آپ خُدا کے بیٹے ہیں تو یہاں سے اَپنے آپ کو نیچے گرا دیں۔
LUK 4:10 کیونکہ لِکھّا ہے: ” ’وہ اَپنے فرشتوں کو تمہارے متعلّق حُکم دے گا کہ وہ آپ کی خُوب حِفاظت کریں؛
LUK 4:11 اَور وہ آپ کو اَپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے، تاکہ آپ کے پاؤں کو کسی پتّھر سے ٹھیس نہ لگنے پایٔے۔‘“
LUK 4:12 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”فرمایا گیا ہے: ’تُم خُداوؔند اَپنے خُدا کی آزمائش نہ کرو۔‘“
LUK 4:13 جَب اِبلیس اَپنی ہر آزمائش ختم کر چُکا تو کُچھ مُناسب عرصہ تک کے لیٔے یِسوعؔ کو چھوڑکر چلا گیا۔
LUK 4:14 پھر یِسوعؔ رُوح کی قُوّت سے معموُر، ہوکر صُوبہ گلِیل واپس ہویٔے اَور چاروں طرف کے سارے علاقہ میں آپ کی شہرت پھیل گئی۔
LUK 4:15 وہ اُن کے یہُودی عبادت گاہوں میں تعلیم دیتے اَور سَب لوگ حُضُور کی تعریف کرتے تھے۔
LUK 4:16 پھر حُضُور ناصرتؔ میں آئے جہاں آپ نے پرورِش پائی تھی اَور اَپنے دستور کے مُطابق سَبت کے دِن یہُودی عبادت گاہ میں گیٔے۔ وہ پڑھنے کے لیٔے کھڑے ہویٔے
LUK 4:17 تو آپ کو یَشعیاہ نبی کا صحیفہ دیا گیا۔ حُضُور نے اُسے کھولا اَور وہ مقام نکالا جہاں یہ لِکھّا تھا:
LUK 4:18 ”خُداوؔند کا رُوح مُجھ پر ہے، اُس نے مُجھے مَسح کیا ہے تاکہ میں غریبوں کو خُوشخبری سُناؤں۔ اُس نے مُجھے بھیجا ہے تاکہ میں قَیدیوں کے لیٔے رِہائی اَور اَندھوں کو بینائی کی خبر دُوں، کُچلے ہوؤں کو آزادی بخشوں۔
LUK 4:19 اَور خُداوؔند کے سالِ مقبُول کا اعلان کروں۔“
LUK 4:20 پھر یِسوعؔ نے صحیفہ بند کرکے خادِم کے حوالہ کر دیا اَور بیٹھ گیٔے۔ اَورجو لوگ یہُودی عبادت گاہ میں مَوجُود تھے، اُن سَب کی آنکھیں حُضُور پر لگی تھیں۔
LUK 4:21 اَور حُضُور اُن سے کہنے لگے، ”یہ نوشتہ جو تُمہیں سُنایا گیا، آج پُورا ہو گیا۔“
LUK 4:22 اَور سَب نے آپ کی تعریف کی اَور اُن پُرفضل باتوں پرجو حُضُور کے مُنہ سے نکلتی تھیں تعجُّب کرکے کہتے تھے، ”کیا یہ یُوسیفؔ کا بیٹا نہیں؟“
LUK 4:23 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”تُم ضروُر یہ مثال مُجھ پر کہو گے: کہ اَے حکیِم، ’اَپنا تو علاج کر! جو باتیں ہم نے کَفرنحُومؔ میں ہوتے سُنی ہیں اُنہیں یہاں اَپنے آبائی شہر میں بھی کر۔‘ “
LUK 4:24 اَور یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ کویٔی نبی اَپنے آبائی شہر میں مقبُول نہیں ہوتا۔
LUK 4:25 یہ حقیقت ہے کہ ایلیّاہ کے زمانہ میں بہت سِی بیوائیں اِسرائیلؔ میں تھیں، جَب ساڑھے تین بَرس تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے تمام مُلک میں سخت قحط پڑا تھا۔
LUK 4:26 تو بھی ایلیّاہ اُن میں سے کسی کے پاس نہیں بَلکہ صیؔدا کے ایک شہر صارفت کی ایک بِیوہ کے پاس بھیجا گیا تھا۔
LUK 4:27 اَور الِیشعؔ نبی کے زمانہ میں اِسرائیلؔ میں بہت سے کوڑھی تھے لیکن سِوائے نَعمانؔ کے جو سِیریؔا کا باشِندہ تھا اُن میں سے کویٔی پاک صَاف نہ کیا گیا۔“
LUK 4:28 جو لوگ یہُودی عبادت گاہ میں مَوجُود تھے، اِن باتوں کو سُنتے ہی غُصّہ سے بھر گیٔے۔
LUK 4:29 وہ اُٹھے اَور اُنہُوں نے یِسوعؔ کو شہر سے باہر نکال دیا اَور پھر آپ کو اُس پہاڑی کی چوٹی پر لے گیٔے جِس پر اُن کا شہر آباد تھا تاکہ یِسوعؔ کو وہاں سے نیچے گرا دیں۔
LUK 4:30 لیکن یِسوعؔ اُن کے درمیان سے نکل کر چلے گیٔے۔
LUK 4:31 پھر یِسوعؔ گلِیل کے ایک شہر کَفرنحُومؔ کو چلے گیٔے جہاں وہ سَبت کے دِن تعلیم دیتے تھے۔
LUK 4:32 اَور لوگ یِسوعؔ کی تعلیم سُن کر دنگ رہ گیٔے کیونکہ حُضُور صاحبِ اِختیار کی طرح تعلیم دے رہے تھے۔
LUK 4:33 یہُودی عبادت گاہ میں ایک شخص تھا جِس میں بدرُوح تھی۔ وہ بڑی اُونچی آواز سے چِلّانے لگا،
LUK 4:34 ”اَے یِسوعؔ ناصری، یہاں سے چلے جایٔیں! آپ کو ہم سے کیا کام؟ کیا آپ ہمیں ہلاک کرنے آئے ہیں؟ میں جانتا ہُوں کہ آپ کون ہیں؟ آپ ہی خُدا کے قُدُّوس ہیں!“
LUK 4:35 ”خاموش ہو جا!“ یِسوعؔ نے بدرُوح کو جِھڑکا اَور کہا، اَور اِس آدمی میں سے ”نکل جا!“ اِس پر بدرُوح نے اُس آدمی کو اُن کے درمیان زمین پر پٹکا اَور اُسے ضرر پہُنچائے بغیر اُس میں سے نکل گئی۔
LUK 4:36 سَب لوگ حیرت زدہ ہوکر ایک دُوسرے سے کہنے لگے کہ، ”یہ کیسا کلام ہے؟ وہ اِختیار اَور قُدرت کے ساتھ بدرُوحوں کو حُکم دیتاہے اَور وہ نکل جاتی ہیں!“
LUK 4:37 اَور آس پاس کے ہر علاقہ میں حُضُور کی شہرت بڑی تیزی پھیل گئی۔
LUK 4:38 یہُودی عبادت گاہ سے نکل کر یِسوعؔ شمعُونؔ کے گھر پہُنچے۔ شمعُونؔ کی ساس تیز بُخار میں مُبتلا تھی۔ شاگردوں نے یِسوعؔ سے اُسے ٹھیک کرنے کی درخواست کی۔
LUK 4:39 اَور یِسوعؔ نے اُس کی طرف جُھک کر بُخار کو جِھڑکا اَور وہ اُتر گیا۔ وہ فوراً اُٹھی اَور اُن کی خدمت میں لگ گئی۔
LUK 4:40 سُورج ڈُوبتے ہی لوگ گھروں سے مُختلف بیماریوں والے مَریضوں کو یِسوعؔ کے پاس لائے اَور آپ نے ایک ایک پر ہاتھ رکھے اَور اُنہیں شفا بخشی۔
LUK 4:41 اَور بدرُوحیں بھی چِلّاتی ہُوئی، اَور یہ کہتی ہُوئی کہ، ”تُو خُدا کا بیٹا ہے!“ کیٔی لوگوں میں سے نکل جاتی تھیں چونکہ اُنہیں مَعلُوم تھا کہ، وہ المسیح ہیں۔ یِسوعؔ اُنہیں جھڑکتے تھے اَور بولنے نہ دیتے تھے۔
LUK 4:42 صُبح ہوتے ہی یِسوعؔ نکل کر کسی ویران جگہ چلے جاتے تھے۔ لوگ ہُجوم در ہُجوم آپ کو ڈھونڈتے ہُوئے آپ کے پاس آ جاتے تھے اَور آپ کو روکنے کی کوشش کرتے تھے کہ ہمارے پاس سے نہ جایٔیں۔
LUK 4:43 لیکن یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”مُجھے دُوسرے شہروں میں بھی خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری سُنانا ضروُری ہے کیونکہ مَیں اِسی مقصد سے بھیجا گیا ہُوں۔“
LUK 4:44 اَور یِسوعؔ یہُودیؔہ صُوبہ کے یہُودی عبادت گاہوں میں مُنادی کرتے رہے۔
LUK 5:1 ایک دِن یِسوعؔ گنیسرتؔ کی جھیل کے کنارے کھڑے تھے اَور لوگوں کا ایک ہُجوم خُدا کا کلام سُننے کی غرض سے آپ پر گرا پڑتا تھا۔
LUK 5:2 یِسوعؔ نے دو کشتیاں کنارے لگی ہویٔی دیکھیں۔ مچھلی پکڑنے والے اُنہیں وہاں چھوڑکر اَپنے جال دھونے میں لگے ہُوئے تھے۔
LUK 5:3 یِسوعؔ اُن میں سے ایک پر چڑھ گیٔے اَور اُس کے مالک شمعُونؔ سے درخواست کہ کشتی کو کنارے سے ہٹا کر ذرا دُور لے چل۔ پھر آپ کشتی میں بیٹھ گیٔے اَور لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔
LUK 5:4 جَب یِسوعؔ اُن سے کلام کر چُکے تو آپ نے شمعُونؔ سے کہا، ”کشتی کو گہرے پانی میں لے چل اَور تُم مچھلیاں پکڑنے کے لیٔے اَپنے جال ڈالو۔“
LUK 5:5 شمعُونؔ نے جَواب دیا، ”اَے مالک، ہم نے ساری رات محنت کی لیکن کُچھ ہاتھ نہ آیا، لیکن آپ کے کہنے پر، جال ڈالتا ہُوں۔“
LUK 5:6 چنانچہ اُنہُوں نے جال ڈالے اَور مچھلیوں کااِتنا بڑا غول گھیرلیا کہ اُن کے جال پھٹنے لگے۔
LUK 5:7 تَب اُنہُوں نے دُوسری کشتی والے ساتھیوں کو اِشارہ کیا کہ آؤ اَور ہماری مدد کرو۔ پس وہ آئے اَور دونوں کشتیوں کو مچھلیوں سے اِس قدر بھر دیا کہ وہ ڈُوبنے لگیں۔
LUK 5:8 شمعُونؔ پطرس نے یہ دیکھا تو، وہ یِسوعؔ کے پاؤں پر گِر کر کہنے لگے، ”اَے خُداوؔند؛ میں گُنہگار آدمی ہُوں۔ آپ میرے پاس سے چلے جائیے!“
LUK 5:9 وجہ یہ تھی کہ وہ اَور اُن کے ساتھی مچھلیوں کے اِتنے بڑے شِکار کے سبب حیرت زدہ تھے۔
LUK 5:10 یہی حال زبدیؔ کے بیٹوں، یعقوب اَور یُوحنّا کا بھی تھا جو شمعُونؔ کے ساتھی تھے۔ یِسوعؔ نے شمعُونؔ سے کہا، ”خوف نہ کر، اَب سے تُو اِنسانوں کو پکڑا کرےگا۔“
LUK 5:11 وہ کشتیوں کو کنارے لے آئے اَور سَب کُچھ چھوڑکر آپ کے پیچھے ہو لیٔے۔
LUK 5:12 ایک دفعہ یِسوعؔ اُس علاقہ کے ایک شہر میں تھے تو اَیسا ہُوا کہ ایک آدمی جِس کے سارے جِسم پر کوڑھ پھیلا تھا۔ یِسوعؔ کو دیکھ کر مُنہ کے بَل زمین پر گِر کر حُضُور سے یُوں اِلتجا کرنے لگاکہ، ”اَے خُداوؔند، اگر آپ چاہیں تو مُجھے کوڑھ سے پاک کر سکتے ہیں۔“
LUK 5:13 اَور یِسوعؔ نے ہاتھ بڑھا کر اُسے چھُوا اَور کہا، ”میں چاہتا ہُوں، تُو پاک صَاف ہو جا!“ اَور اُسی وقت اُس نے کوڑھ سے شفا پائی۔
LUK 5:14 تَب یِسوعؔ نے اُسے تاکید کی، ”کسی سے کُچھ نہ کہنا، بَلکہ سیدھا کاہِنؔ کے پاس جا کر، اَپنے آپ کو دِکھا اَور اَپنے ساتھ وہ نذریں بھی لے جا جو حضرت مَوشہ نے تمہارے پاک صَاف ہونے کے لیٔے مُقرّر کی ہیں، تاکہ لوگوں کے سامنے گواہی ہو۔“
LUK 5:15 لیکن یِسوعؔ کے بارے میں سَب کو خبر ہو گئی اَور لوگ کثرت سے جمع ہونے لگے تاکہ حُضُور کی تعلیم سُنیں اَور اَپنی بیماریوں سے شفا پائیں۔
LUK 5:16 لیکن آپ اکثر غَیر آباد مقاموں میں چلے جاتے اَور دعا کیا کرتے تھے۔
LUK 5:17 ایک دِن اَیسا ہُوا کہ یِسوعؔ تعلیم دے رہے تھے اَور کُچھ فرِیسی اَور شَریعت کے عالِم جو گلِیل اَور یہُودیؔہ کے ہر قصبہ اَور یروشلیمؔ سے آکر وہاں بیٹھے ہُوئے تھے۔ اَور خُداوؔند کی قُدرت یِسوعؔ کے ساتھ تھی کہ وہ بیماریوں کو شفا دیں۔
LUK 5:18 کُچھ لوگ ایک مفلُوج کو بچھونے پر ڈال کر لایٔے اَور کوشش کرنے لگے کہ اُسے اَندر لے جا کر یِسوعؔ کے سامنے رکھ دیں۔
LUK 5:19 لیکن ہُجوم اِس قدر تھا کہ وہ اُسے اَندر نہ لے جا سکے۔ تَب وہ چھت پر چڑھ گیٔے اَور کھپریل ہٹا کر مفلُوج کو چارپائی سمیت لوگوں کے بیچ میں یِسوعؔ کے سامنے اُتار دیا۔
LUK 5:20 آپ نے اُن کا ایمان دیکھ کر کہا، ”دوست! تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔“
LUK 5:21 شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی سوچنے لگے، ”یہ آدمی کون ہے جو کُفر بَکتا ہے۔ خُدا کے سِوا کون گُناہ مُعاف کر سَکتا ہے؟“
LUK 5:22 یِسوعؔ کو اُن کے خیالات مَعلُوم ہو گئے کی ”وہ اَپنے دِلوں میں کیا سوچ رہے ہیں؟ تَب آپ نے جَواب میں اُن سے پُوچھا، تُم اَپنے دِلوں میں اَیسی باتیں کیوں سوچتے ہو؟
LUK 5:23 یہ کہنا زِیادہ آسان ہے: ’تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے،‘ یا ’یہ کہنا کہ اُٹھ اَور چل پھر‘؟
LUK 5:24 لیکن مَیں چاہتا ہُوں کہ تُمہیں مَعلُوم ہو کہ اِبن آدمؔ کو زمین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے۔“ حُضُور نے مفلُوج سے کہا، ”مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں، اُٹھ اَور اَپنا بچھونا اُٹھاکر اَپنے گھر چلا جا۔“
LUK 5:25 وہ اُن کے سامنے اُسی وقت اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اَور جِس بچھونے پر وہ پڑا تھا اُسے اُٹھاکر خُدا کی تمجید کرتا ہُوا اَپنے گھر چلا گیا۔
LUK 5:26 وہ سَب حیران رہ گیٔے اَور خُدا کی تمجید کرنے لگے۔ اَور سَب پر خوف طاری ہو گیا اَور وہ کہنے لگے، ”کہ آج ہم نے عجِیب باتیں دیکھی ہیں۔“
LUK 5:27 اِن واقعات کے بعد یِسوعؔ وہاں سے نکلے اَور ایک محصُول لینے والے کو جِس کا نام لیوی تھا، محصُول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا۔ یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”میرے پیروکار ہو جاؤ۔“
LUK 5:28 وہ اُٹھا اَور سَب کُچھ چھوڑکر، حُضُور کے پیچھے چل دیا۔
LUK 5:29 پھر لیوی نے اَپنے گھر میں یِسوعؔ کے لیٔے ایک بڑی ضیافت ترتیب دی اَور وہاں محصُول لینے والوں اَور دُوسرے لوگوں کا جو ضیافت میں شریک تھے بڑا مجمع تھا۔
LUK 5:30 لیکن فرِیسی اَور شَریعت کے عالِم جو فرِیسی فرقہ سے تعلّق رکھتے تھے یِسوعؔ کے شاگردوں سے شکایت کرکے کہنے لگے، ”تُم محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتے پیتے ہو؟“
LUK 5:31 یِسوعؔ نے جَواب میں اُن سے کہا، ”بیماریوں کو طبیب کی ضروُرت ہوتی ہے، صحت مندوں کو نہیں۔
LUK 5:32 میں راستبازوں کو نہیں بَلکہ گُنہگاروں کو تَوبہ کرنے کے لیٔے بُلانے آیا ہُوں۔“
LUK 5:33 فرِیسی اَور شَریعت کے عالِموں نے یِسوعؔ سے کہا، ”حضرت یُوحنّا کے شاگرد تو اکثر روزہ رکھتے اَور دعائیں کرتے ہیں اَور اِسی طرح فریسیوں کے بھی لیکن آپ کے شاگرد تو کھاتے پیتے رہتے ہیں؟“
LUK 5:34 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”کیا تُم دُلہا کی مَوجُودگی میں؛ براتیِوں سے روزہ رکھوا سکتے ہو ہرگز نہیں۔
LUK 5:35 لیکن وہ دِن آئیں گے جَب دُلہا اُن سے جُدا کیا جائے گا؛ تَب اُن دِنوں میں وہ روزہ رکھیں گے۔“
LUK 5:36 اَور یِسوعؔ نے اُن سے یہ تمثیل بھی کہی: ”نئی پوشاک کو پھاڑ کر اُس کا پیوند پُرانی پوشاک پر کویٔی نہیں لگاتا ورنہ، نئی بھی پھٹے گی اَور اُس کا پیوند پُرانی پوشاک سے میل بھی نہ کھائے گا۔
LUK 5:37 تازہ انگوری شِیرے کو بھی پُرانی مَشکوں میں کویٔی نہیں بھرتا ورنہ، مَشکیں اُس نئے انگوری شِیرے سے پھٹ جایٔیں گی، شِیرہ بھی بہہ جائے گا اَور مَشکیں بھی برباد ہو جایٔیں گی۔
LUK 5:38 بَلکہ، نئے انگوری شِیرے کو نئی مَشکوں میں بھرنا چاہئے۔
LUK 5:39 پُرانا شِیرہ پی کر نئے کی خواہش کویٔی نہیں کرتا، کیونکہ وہ کہتاہے کہ ’پُرانی ہی خُوب ہے۔‘ “
LUK 6:1 ایک بار یِسوعؔ سَبت کے دِن کھیتوں میں سے ہوکر گزر رہے تھے، اَور اُن کے شاگرد بالیں توڑ کر، ہاتھوں سے مَل مَل کر کھاتے جاتے تھے۔
LUK 6:2 اِس پر بعض فریسیوں نے سوال کیا، ”تُم اَیسا کام کیوں کرتے ہو جو سَبت کے دِن کرنا جائز نہیں؟“
LUK 6:3 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا تُم نے کبھی نہیں پڑھا کہ جَب حضرت داویؔد اَور اُن کے ساتھی بھُوکے تھے تو اُنہُوں نے کیا کیا؟
LUK 6:4 حضرت داویؔد کیسے خُدا کے گھر میں داخل ہویٔے اَور نذر کی ہویٔی روٹیاں لے کر، خُود بھی کھایٔیں اَور اَپنے ساتھیوں کو بھی یہ روٹیاں کھانے کو دیں جسے کاہِنوں کے سِوائے کسی اَور کے لیٔے روا نہیں تھا۔“
LUK 6:5 پھر یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”اِبن آدمؔ سَبت کا بھی خُداوؔند ہے۔“
LUK 6:6 کسی اَور سَبت کے دِن حُضُور یہُودی عبادت گاہ میں جا کر تعلیم دے رہے تھے، وہاں ایک آدمی تھا جِس کا داہنا ہاتھ سُوکھا ہُوا تھا۔
LUK 6:7 شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی یِسوعؔ کی تاک میں تھے اِس لیٔے حُضُور کو قریب سے دیکھنے لگے کہ اگر حُضُور سَبت کے دِن اُس آدمی کو شفا بخشیں تو فرِیسی حُضُور پر اِلزام لگاسکیں۔
LUK 6:8 لیکن یِسوعؔ کو اُن کے خیالات مَعلُوم ہو گئے اَور اُس سُوکھے ہاتھ والے آدمی سے کہا، ”اُٹھو اَور سَب کے بیچ میں کھڑے ہو جاؤ۔“ وہ اُٹھا اَور کھڑا ہو گیا۔
LUK 6:9 تَب یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”میں تُم سے یہ پُوچھتا ہُوں: سَبت کے دِن نیکی کرنا روا ہے یا بدی کرنا، جان بچانا یا ہلاک کرنا؟“
LUK 6:10 اَور حُضُور نے اُن سَب پر نظر کرکے، اُس آدمی سے کہا، ”اَپنا ہاتھ بڑھا۔“ اُس نے بڑھایا اَور اُس کا ہاتھ بالکُل ٹھیک ہو گیا۔
LUK 6:11 لیکن شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی غُصّہ کے مارے پاگل ہو گئے اَور آپَس میں کہنے لگے کہ ہم یِسوعؔ کے ساتھ کیا کریں۔
LUK 6:12 اُن دِنوں میں اَیسا ہُوا کہ یِسوعؔ دعا کرنے کے لیٔے ایک پہاڑ پر چلے گیٔے اَور خُدا سے دعا کرنے میں ساری رات گُزاری۔
LUK 6:13 جَب دِن نِکلا تو، حُضُور نے اَپنے شاگردوں کو پاس بُلایا اَور اُن میں سے بَارہ کو چُن کر، اُنہیں رسولوں کا لقب دیا:
LUK 6:14 شمعُونؔ جِس کا نام اُنہُوں نے پطرس بھی رکھا اَور اُن کا بھایٔی اَندریاسؔ، اَور یعقوب، اَور یُوحنّا، اَور فِلِپُّسؔ، اَور برتلماؔئی،
LUK 6:15 اَور متّیؔ، اَور توماؔ، اَور حلفئؔی کے بیٹے یعقوب، اَور شمعُونؔ جو زیلوتیسؔ کہلاتا تھا،
LUK 6:16 اَور یعقوب کا بیٹا یہُوداہؔ، اَور یہُوداہؔ اِسکریوتی، جِس نے یِسوعؔ سے دغابازی بھی کی تھی۔
LUK 6:17 تَب یِسوعؔ اَپنے شاگردوں کے ساتھ نیچے اُتر کر میدان میں کھڑے ہویٔے۔ اَور وہاں اُن کے بہت سے شاگرد جمع تھے اَور سارے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ اَور صُورؔ اَور صیؔدا کے ساحِل کے علاقہ سے آنے والوں کا ایک بڑا ہُجوم بھی وہاں مَوجُود تھا،
LUK 6:18 یہ لوگ یِسوعؔ کی تعلیم سُننے اَور اَپنی بیماریوں سے شفا پانے کے لیٔے آئےتھے۔ اَورجو لوگ بدرُوحوں کی وجہ سے دُکھ اَور تکلیف میں مُبتلا تھے وہ بھی اَچھّے کر دئیے گیٔے،
LUK 6:19 اَور سَب آپ کو چھُونے کی کوشش کرتے تھے، کیونکہ آپ میں سے قُوّت نکلتی تھی اَور سَب کو شفا عنایت کرتی تھی۔
LUK 6:20 یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں پر نظر ڈالی، اَور فرمایا: ”مُبارک ہیں وہ جو دِل کے حلیم ہیں، کیونکہ خُدا کی بادشاہی تمہاری ہے۔
LUK 6:21 مُبارک ہو تُم جو ابھی خُدا کے لیٔے بھُوکے ہو، کیونکہ تُم آسُودہ ہوگے۔ مُبارک ہو تُم جو ابھی روتے ہو، کیونکہ تُم ہنسوگے۔
LUK 6:22 مُبارک ہو تُم جَب لوگ تُم سے نفرت رکھیں، جَب تُمہیں الگ کر دیں، اَور تمہاری بے عزّتی کریں، اَور تمہارے نام کو بُرا جان کر، اِبن آدمؔ کے سبب سے اِنکار کر دیں۔
LUK 6:23 ”اُس دِن تُم خُوش ہونا اَور جَشن منانا، کیونکہ تُمہیں آسمان پر بڑا اجر حاصل ہوگا۔ اِس لیٔے کہ اُن کے باپ دادا نے اُن نبیوں کو بھی اِسی طرح ستایا تھا۔
LUK 6:24 ”مگر افسوس تُم پرجو دولتمند ہو، کیونکہ تُم اَپنی تسلّی پا چُکے ہو۔
LUK 6:25 افسوس تُم پرجو اَب سیر ہو، کیونکہ تُم بھُوک کے شِکار ہوگے۔ افسوس تُم پرجو اَب ہنستے ہو، کیونکہ تُم ماتم کروگے اَور روؤگے۔
LUK 6:26 افسوس تُم پر جَب سَب لوگ تُمہیں بھلا کہیں، کیونکہ اُن کے باپ دادا بھی جھُوٹے نبیوں کے ساتھ اَیسا ہی سلُوک کیا کرتے تھے۔
LUK 6:27 ”لیکن مَیں تُم سُننے والوں سے کہتا ہُوں: اَپنے دُشمنوں سے مَحَبّت رکھو، اَورجو تُم سے نفرت رکھتے ہیں اُن کا بھلا کرو،
LUK 6:28 جو تُم پر لعنت کریں اُن کے لیٔے برکت چاہو، جو تمہارے ساتھ بُرا سلُوک کرتے ہیں اُن کے لیٔے دعا کرو۔
LUK 6:29 اگر کویٔی تیرے ایک گال پر تھپّڑ مارے، تو دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے۔ اگر کویٔی تیرا چوغہ لے لیتا ہے تو، اُسے کُرتا لینے سے بھی مت روکو۔
LUK 6:30 جو تُم سے کُچھ مانگے اُسے ضروُر دو، اَور اگر کویٔی تیرا مال لے لیتا ہے تو اُس سے واپس مت مانگ۔
LUK 6:31 جَیسا تُم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں تُم بھی اُن کے ساتھ وَیسا ہی کرو۔
LUK 6:32 ”اگر تُم صِرف اُن ہی سے مَحَبّت رکھتے ہو جو تُم سے مَحَبّت رکھتے ہیں تو، تمہارا کیا اِحسَان ہے؟ کیونکہ گُنہگار بھی اَپنے مَحَبّت کرنے والوں سے مَحَبّت کرتے ہیں۔
LUK 6:33 اَور اگر تُم اُن ہی کا بھلا کرتے ہو جو تمہارا بھلا کرتے ہیں، تو تمہارا کیا اِحسَان ہے؟ کیونکہ گُنہگار بھی اَیسا ہی کرتے ہیں۔
LUK 6:34 اَور اگر تُم اُسی کو قرض دیتے جِس سے وصول کرلینے کی اُمّید ہے، تو تمہارا کیا اِحسَان ہے؟ کیونکہ گُنہگار بھی گُنہگاروں کو قرض دیتے ہیں تاکہ اُن سے پُورا وصول کر لیں۔
LUK 6:35 مگر تُم اَپنے دُشمنوں سے مَحَبّت رکھو، اُن کا بھلا کرو، قرض دو اَور اُس کے وصول پانے کی اُمّید نہ رکھو، تو تمہارا اجر بڑا ہوگا اَور تُم خُداتعالیٰ کے بیٹے ٹھہروگے کیونکہ وہ ناشُکروں اَور بدکاروں پر بھی مہربان ہے۔
LUK 6:36 جَیسا رحم دِل تمہارا باپ ہے، تُم بھی وَیسا ہی رحم دِل بنو۔
LUK 6:37 ”عیب جوئی نہ کرو، تو تمہاری بھی عیب جوئی نہ ہوگی۔ مُجرم نہ ٹھہراؤ تو تُم بھی مُجرم نہ ٹھہرائے جاؤگے۔ مُعاف کروگے، تو تُم بھی مُعافی پاؤگے۔
LUK 6:38 دوگے، تو تُمہیں بھی دیا جائے گا۔ اَچھّا پیمانہ، دبا دبا کر، ہِلا ہِلا کر اَور لبریز کرکے تمہارے پَلّے میں ڈالا جائے گا کیونکہ جِس پیمانہ سے تُم ناپتے ہو، اُسی سے تمہارے لیٔے بھی ناپا جائے گا۔“
LUK 6:39 اُس نے اُن سے یہ تمثیل بھی کہی: ”کیا ایک اَندھا دُوسرے اَندھے کو راستہ دِکھا سَکتا ہے؟ کیا وہ دونوں گڑھے میں نہیں گِریں گے؟
LUK 6:40 کویٔی شاگرد اَپنے اُستاد سے بڑا نہیں ہوتا، لیکن جَب پُوری طرح تربّیت پایٔےگا تو اَپنے اُستاد کی مانِند ہو جائے گا۔
LUK 6:41 ”تُم اَپنے بھایٔی کی آنکھ کا تِنکا کیوں دیکھتے ہو جَب کہ تمہاری اَپنی آنکھ میں شہتیر ہے جِس کا تُم خیال تک نہیں کرتے؟
LUK 6:42 اَور جَب تیری اَپنی ہی آنکھ میں شہتیر ہے جسے تُو خُود نہیں دیکھ سَکتا تو کِس مُنہ سے اَپنے بھایٔی یا بہن سے کہہ سَکتا ہے لا، ’میں تیری آنکھ میں سے تِنکا نکال دُوں،‘ اَے ریاکار! پہلے اَپنی آنکھ میں سے تو شہتیر نکال، پھر اَپنے بھایٔی یا بہن کی آنکھ میں سے تنکے کو اَچھّی طرح دیکھ کر نکال سکےگا۔
LUK 6:43 ”کیونکہ جو درخت اَچھّا ہوتاہے وہ بُرا پھل نہیں لاتا اَور نہ ہی بُرا درخت اَچھّا پھل لاتا ہے۔
LUK 6:44 ہر درخت اَپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے کیونکہ کانٹوں والی جھاڑیوں سے نہ تو لوگ اَنجیر توڑتے ہیں نہ جھڑبیری سے انگور۔
LUK 6:45 اَچھّا آدمی اَپنے دِل کے اَچھّے خزانہ سے اَچھّی چیزیں نکالتا ہے اَور بُرا آدمی بُرے خزانہ سے بُری چیزیں باہر لاتا ہے کیونکہ جو دِل میں بھرا ہوتاہے وُہی اُس کے مُنہ پر آتا ہے۔
LUK 6:46 ”تُم مُجھے ’اَے خُداوؔند، اَے خُداوؔند،‘ کیوں کہتے ہو، جَب میرے کہنے پر عَمل ہی نہیں کرتے؟
LUK 6:47 میں تُمہیں بتاتا ہُوں کہ میرے پاس آنے والا اَور میری باتیں سُن کر اُن پر عَمل کرنے والا کِس کی مانِند ہے۔
LUK 6:48 وہ اُس آدمی کی مانِند ہے جِس نے گھر بناتے وقت، زمین کو کافی گہرائی تک کھودا اَور گھر کی بُنیاد چٹّان پر رکھی۔ جَب سیلاب آیا، اَور پانی کی لہریں اُس کے گھر سے ٹکرائیں تو اُسے ہِلا نہ سکیں، کیونکہ وہ مضبُوط بنا تھا۔
LUK 6:49 لیکن جو میری باتیں سُن کر اُن پر عَمل نہیں کرتا وہ اُس آدمی کی مانِند ہے جِس نے زمین پر گھر کو بغیر بُنیاد کے بنایا۔ اَور جَب پانی کی لہریں اُس سے ٹکرائیں، تو وہ گِر پڑا اَور بالکُل تباہ ہو گیا۔“
LUK 7:1 جَب یِسوعؔ لوگوں کو اَپنی ساری باتیں سُنا چُکے، تو کَفرنحُومؔ میں آئے۔
LUK 7:2 وہاں ایک رُومی افسر کا خادِم بیمار تھا، وہ اُسے بہت عزیز تھا، اَور وہ مَرنے کے قریب تھا۔
LUK 7:3 اُس نے یِسوعؔ کے بارے میں سُنا تو کیٔی یہُودی بُزرگوں کو اُن کے پاس بھیجا تاکہ وہ یِسوعؔ سے درخواست کریں کہ وہ آکر اُس کے خادِم کو شفا بخشیں۔
LUK 7:4 وہ یِسوعؔ کے پاس آئے، اَور اُن کی مِنّت کرکے کہنے لگے، ”وہ شخص اِس لائق ہے کہ آپ اُس کی مدد کریں،
LUK 7:5 کیونکہ وہ ہماری قوم سے مَحَبّت رکھتا ہے اَور ہماری یہُودی عبادت گاہ بھی اُسی نے بنوائی ہے۔“
LUK 7:6 یِسوعؔ اُن کے ساتھ چل دئیے۔ ابھی وہ اُس گھر سے زِیادہ دُور نہ تھے کہ اُس افسر نے اَپنے بعض دوستوں کے ذریعہ یِسوعؔ کو کَہلوا بھیجا: ”اَے خُداوؔند، تکلیف نہ کیجئے، میں اِس لائق نہیں کہ آپ میری چھت کے نیچے آئیں۔
LUK 7:7 اِسی لیٔے مَیں نے خُود کو بھی اِس لائق نہیں سمجھا کہ آپ کے پاس آؤں۔ آپ صِرف زبان سے کہہ دیں تو میرا خادِم شفا پا جائے گا۔
LUK 7:8 کیونکہ مَیں خُود بھی کسی کے اِختیار میں ہُوں، اَور سپاہی میرے اِختیار میں ہیں۔ جَب مَیں ایک سے کہتا ہُوں، ’جا،‘ تو وہ چلا جاتا ہے؛ اَور دُوسرے سے ’آ،‘ تو وہ آ جاتا ہے اَور کسی خادِم سے کُچھ کرنے کو کہُوں تو وہ کرتا ہے۔“
LUK 7:9 یِسوعؔ نے یہ سُن کر اُس ہُجوم پر تعجُّب کیا، اَور مُڑ کر پیچھے آنے والے لوگوں سے کہا، میں تُم سے کہتا ہُوں، ”مَیں نے اِسرائیلؔ میں بھی اِتنا بڑا ایمان نہیں پایا۔“
LUK 7:10 جَب وہ لوگ جو یِسوعؔ کے پاس بھیجے گیٔے تھے گھر واپس آئے تو اُنہُوں نے اُس خادِم کو تندرست پایا۔
LUK 7:11 اگلے دِن اَیسا ہُوا کہ، وہ نائِینؔ نام کے، ایک شہر کو گیٔے۔ اُن کے شاگرد اَور بہت سے لوگ بھی اُن کے ساتھ تھے
LUK 7:12 جَب وہ اُس شہر کے پھاٹک کے نزدیک پہُنچے تو ایک جنازہ باہر نکل رہاتھا جو ایک بِیوہ کے اِکلوتے بیٹے کا تھا اَور شہر کے بہت سے لوگ بھی اُس بِیوہ کے ہمراہ تھے۔
LUK 7:13 جَب خُداوؔند نے اُس بِیوہ کو دیکھا تو اُنہیں اُس پر ترس آیا۔ حُضُور نے اُس سے کہا، ”مت رو۔“
LUK 7:14 حُضُور نے پاس آکر جنازہ کو چھُوا اَور کندھا دینے والے ٹھہر گیٔے۔ تَب آپ نے کہا، ”اَے جَوان مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں، اُٹھ!“
LUK 7:15 وہ مُردہ اُٹھ بیٹھا اَور بولنے لگا۔ اَور یِسوعؔ نے اُسے اُس کی ماں کو سونپ دیا۔
LUK 7:16 تَب سَب لوگوں پر خوف چھا گیا اَور وہ خُدا کی تمجید کرکے کہنے لگے۔ ”ہمارے درمیان ایک بڑا نبی برپا ہُواہے، اَور خُدا اَپنے لوگوں کی مدد کرنے آیا ہے۔“
LUK 7:17 اَور اِس واقعہ کی خبر سارے یہُودیؔہ اَور آس پاس کے تمام علاقہ میں پھیل گئی۔
LUK 7:18 حضرت یُوحنّا کے شاگردوں نے اِن سَب باتوں کی خبر اُنہیں دی تو، ”اُنہُوں نے اَپنے شاگردوں میں سے دو کو بُلایا؟“
LUK 7:19 اَور اُنہیں خُداوؔند یِسوعؔ کے پاس یہ مَعلُوم کرنے کے لیٔے بھیجا، ”وہ جو آنے والا ہے آپ ہی ہیں، یا ہم کسی اَور کی راہ دیکھیں؟“
LUK 7:20 جَب دونوں آدمیوں نے یِسوعؔ کے پاس پہُنچ کر کہا، ”پاک غُسل دینے والے حضرت یُوحنّا نے ہمیں یہ دریافت کرنے بھیجا ہے، ’کیا جو آنے والے ہیں، آپ ہی ہیں یا ہم کسی اَور کی راہ دیکھیں؟‘ “
LUK 7:21 اُس وقت یِسوعؔ نے کیٔی لوگوں کو بیماریوں، آفتوں اَور بدرُوحوں سے خلاصی بخشی اَور بہت سے اَندھوں کو بینائی عطا کی۔
LUK 7:22 اَور تَب حضرت یُوحنّا کے شاگردوں سے کہا: ”جو کُچھ تُم نے دیکھا اَور سُنا ہے جا کر حضرت یُوحنّا کو بتاؤ: اَندھے پھر سے دیکھنے لگتے ہیں، لنگڑے چلنے لگتے ہیں، کوڑھی پاک صَاف کیٔے جاتے ہیں، بہرے سُننے لگتے ہیں، مُردے زندہ کیٔے جاتے ہیں اَور غریبوں کو خُوشخبری سُنایٔی جاتی ہے۔
LUK 7:23 مُبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔“
LUK 7:24 وہاں سے حضرت یُوحنّا کے قاصِدوں کے چلے جانے کے بعد، یِسوعؔ یُوحنّا کے بارے میں ہُجوم سے کہنے لگے: ”تُم بیابان میں کیا دیکھنے گیٔے تھے؟ کیا ہَوا سے ہلتے ہویٔے سَرکنڈے کو؟
LUK 7:25 اگر نہیں، تو اَور کیا دیکھنے گیٔے تھے؟ نفیس کپڑے پہنے ہُوئے کسی شخص کو؟ جو نفیس کپڑے پہنتے ہیں اَور عیش کرتے ہیں، شاہی محلوں میں رہتے ہیں۔
LUK 7:26 آخِر تُم کیا دیکھنے گیٔے تھے؟ کیا کسی نبی کو؟ ہاں، میں تُمہیں بتاتا ہُوں کہ نبی سے بھی بڑے کو۔
LUK 7:27 یہ وُہی ہے جِس کی بابت صحیفہ میں لِکھّا ہے: ” ’دیکھ، میں اَپنا پیغمبر تیرے آگے بھیج رہا ہُوں، جو تیرے آگے تیری راہ تیّار کرےگا۔‘
LUK 7:28 میں تُمہیں بتاتا ہُوں، جو عورتوں سے پیدا ہویٔے ہیں اُن میں حضرت یُوحنّا سے بڑا کویٔی نہیں؛ لیکن جو خُدا کی بادشاہی میں سَب سے چھوٹاہے وہ حضرت یُوحنّا سے بھی بڑا ہے۔“
LUK 7:29 (جَب لوگوں نے اَور محصُول لینے والوں نے یہ باتیں سُنیں تو اُنہُوں نے حضرت یُوحنّا کا پاک غُسل لے کر خُدا کو برحق مان لیا۔
LUK 7:30 مگر فریسیوں اَور شَریعت کے عالِموں نے حضرت یُوحنّا سے پاک غُسل نہ لے کر اَپنے نِسبت خُدا کے نیک اِرادہ کو ٹُھکرا دیا۔)
LUK 7:31 یِسوعؔ نے خِطاب جاری رکھتے ہُوئے فرمایا، ”میں اِس زمانہ کے لوگوں کی کس سے تشبیہ دُوں اَور اُنہیں کس کی مانِند کہُوں؟
LUK 7:32 وہ اُن لڑکوں کی مانِند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہُوئے اَپنے ہمجولیوں کو پُکار کر کہتے ہیں: ” ’ہم نے تمہارے لیٔے بانسری بجائی، اَور تُم نہ ناچے؛ ہم نے مرثیہ پڑھا، اَور تَب بھی تُم نہ رُوئے۔‘
LUK 7:33 حضرت یُوحنّا پاک غُسل دینے والا نہ تو روٹی کھاتا نہ انگوری شِیرہ پیتا آیا، اَور تُم کہتے ہو، ’اُس میں بدرُوح ہے۔‘
LUK 7:34 اِبن آدمؔ کھاتے پیتے آیا، اَور تُم کہتے ہو کہ دیکھو، ’یہ کھاؤ اَور شرابی آدمی، محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کا یار ہے۔‘
LUK 7:35 مگر حِکمت کو برحق ثابت اُس پر عَمل کرنے والے ہی کرتے ہیں۔“
LUK 7:36 کسی فرِیسی نے یِسوعؔ سے مِنّت کی کہ میرے یہاں کھانا کھایٔیں اَور وہ اُس فرِیسی کے گھرجاکر دسترخوان پر بیٹھ گیٔے۔
LUK 7:37 ایک بدچلن عورت جو اُسی شہر کی تھی، یہ سُن کر کہ یِسوعؔ اُس فرِیسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھے ہیں، سنگِ مرمر کے عِطردان میں عِطر لائی۔
LUK 7:38 اُس نے یِسوعؔ کے پاؤں کے پاس پیچھے کھڑی ہوکر رونا شروع کر دیا۔ اَور وہ اَپنے آنسُوؤں سے اُن کے پاؤں بھگونے لگی۔ اَور اَپنے سَر کے بالوں سے اُنہیں پونچھ کر، بار بار اُنہیں چُومنے لگی اَور عِطر سے اُن کا مَسح کرنے لگی۔
LUK 7:39 جِس فرِیسی نے اُنہیں دعوت دی تھی اُس نے یہ دیکھا، تو دِل ہی دِل میں کہنے لگا، ”اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جان لیتا کہ جو اُسے چھُو رہی ہے وہ کون ہے اَور کیسی عورت ہے یعنی یہ کہ وہ بدچلن ہے۔“
LUK 7:40 یِسوعؔ نے شمعُونؔ سے کہا، ”شمعُونؔ، مُجھے تُجھ سے کُچھ کہنا ہے۔“ اُس نے کہا، ”اَے اُستاد محترم کہئیے۔“
LUK 7:41 ”کسی ساہوکار کے دو قرضدار تھے۔ ایک نے پانچ سَو دینار، اَور دُوسرے نے پچاس دینار لیٔے تھے۔
LUK 7:42 اُن کے پاس قرض اَدا کرنے کو کُچھ بھی نہ تھا، لہٰذا اُس نے دونوں کو اُن کا قرض مُعاف کر دیا۔ اُن میں سے کون اُسے زِیادہ مَحَبّت کرےگا؟“
LUK 7:43 شمعُونؔ نے جَواب دیا، ”میرے خیال میں وہ جسے اُس نے زِیادہ مُعاف کیا۔“ یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”تیرا فیصلہ صحیح ہے۔“
LUK 7:44 تَب حُضُور نے عورت کی طرف مُڑ کر شمعُونؔ سے کہا، ”تو اِس خاتُون کو دیکھتا ہے؟ مَیں تیرے گھر میں داخل ہُوا تو، تُونے میرے پاؤں دھونے کے لیٔے پانی نہ دیا لیکن اِس خاتُون نے اَپنے آنسُوؤں سے میرے پاؤں بھگو دیئے اَور اَپنے بالوں سے اُنہیں پونچھا۔
LUK 7:45 تُونے مُجھے بوسہ نہ دیا لیکن جَب سے میں اَندر آیا ہُوں یہ خاتُون میرے پاؤں چُومنے سے باز نہیں آ رہی ہے۔
LUK 7:46 تُونے میرے سَر پر تیل نہ ڈالا لیکن اِس خاتُون نے میرے پاؤں پر عِطر اُنڈیلا ہے۔
LUK 7:47 اِس لیٔے، میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِس کے گُناہ جو بہت تھے بخش دئیے گیٔے ہیں چونکہ اِس نے بہت مَحَبّت ظاہر کی لیکن جِس کو تھوڑا مُعاف کیا گیا ہے وہ تھوڑی مَحَبّت دِکھاتا ہے۔“
LUK 7:48 تَب یِسوعؔ نے اُس خاتُون سے کہا، ”تیرے گُناہ مُعاف ہویٔے۔“
LUK 7:49 جو لوگ آپ کے ساتھ دسترخوان پر تھے یہ سُن کر دِل ہی دِل میں کہنے لگے، ”یہ کون ہے جو گُناہ بھی مُعاف کرتا ہے؟“
LUK 7:50 لیکن یِسوعؔ نے خاتُون سے کہا، ”تیرے ایمان نے تُجھے بچا لیا ہے، سلامتی کے ساتھ رخصت ہو۔“
LUK 8:1 اِس کے بعد، یُوں ہُوا کہ یِسوعؔ شہر بہ شہر اَور گاؤں بہ گاؤں پھر کر، خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری سُناتے اَور مُنادی کرتے رہے۔ یِسوعؔ بَارہ رسولوں کے ساتھ تھے،
LUK 8:2 بعض عورتیں بھی ساتھ تھیں جنہوں نے بدرُوحوں اَور بیماریوں سے شفا پائی تھی: مثلاً مریمؔ (مَگدلِینیؔ) جِس میں سے سات بدرُوحیں نکالی گئی تھیں؛
LUK 8:3 اَور یوأنّہؔ ہیرودیسؔ کے دیوان؛ خُوزہؔ کی بیوی تھی، اَور سوسنّؔاہ اَور کیٔی دُوسری خواتین جو اَپنے مال و اَسباب سے اُن کی خدمت کرتی تھیں۔
LUK 8:4 جَب اِتنا بڑا ہُجوم جمع ہو گیا اَور ہر شہر سے لوگ یِسوعؔ کے پاس چلے آتے تھے تو آپ نے یہ تمثیل سُنایٔی:
LUK 8:5 ”ایک بیج بونے والا بیج بونے نِکلا۔ بوتے وقت کُچھ بیج، راہ کے کنارے، گِرے اَور اُسے روندا گیا اَور چڑیوں نے آکر اُنہیں چُگ لیا۔
LUK 8:6 کُچھ چٹّان پر گِرے اَور اُگتے ہی سُوکھ گیٔے کیونکہ اُنہیں نَمی نہ مِلی۔
LUK 8:7 کُچھ جھاڑیوں میں گِرے اَور جھاڑیوں کے ساتھ بڑھے لیکن جھاڑیوں نے پھیل کر اُنہیں بڑھنے سے روک دیا۔
LUK 8:8 اَور کُچھ اَچھّی زمین پر گِرے اَور اُگ گیٔے، اَور بڑھ کر سَو گُنا پھل لایٔے۔“ یہ باتیں کہہ کر آپ نے پُکارا، ”جِس کے پاس سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے۔“
LUK 8:9 یِسوعؔ کے شاگردوں نے آپ سے پُوچھا کہ اِس تمثیل کا مطلب کیا ہے؟
LUK 8:10 آپ نے فرمایا، ”تُمہیں تو خُدا کی بادشاہی کے رازوں کو سمجھنے کی قابلیّت دی گئی ہے، لیکن دُوسروں کو یہ باتیں تمثیلوں میں بَیان کی جاتی ہیں، کیونکہ، ” ’وہ دیکھتے ہُوئے بھی کُچھ نہیں دیکھتے؛ اَور سُنتے ہُوئے بھی کُچھ نہیں سمجھتے۔‘
LUK 8:11 ”اِس تمثیل کا مطلب یہ ہے: بیج خُدا کا کلام ہے۔
LUK 8:12 راہ کے کنارے والے وہ ہیں جو سُنتے تو ہیں لیکن شیطان آتا ہے اَور اُن کے دِلوں سے کلام کو نکال لے جاتا ہے، اَیسا نہ ہو کہ وہ ایمان لائیں اَور نَجات پائیں۔
LUK 8:13 چٹّان پر کے وہ ہیں جو کلام کو سُن کر اُسے خُوشی سے قبُول کرتے ہیں لیکن کلام اُن میں جڑ نہیں پکڑتا۔ وہ کُچھ عرصہ تک تو اَپنے ایمان پر قائِم رہتے ہیں لیکن آزمائش کے وقت پَسپا ہو جاتے ہیں۔
LUK 8:14 اَور جھاڑیوں میں گِرنے والے بیج سے مُراد وہ لوگ ہیں جو کلام کو سُنتے تو ہیں لیکن رفتہ رفتہ زندگی کی فِکروں، دولت اَور عیش و عشرت میں پھنس جاتے ہیں اَور اُن کا پھل پک نہیں پاتا۔
LUK 8:15 اَچھّی زمین والے بیج سے مُراد وہ لوگ ہیں جو کلام کو سُن کر اُسے اَپنے عُمدہ اَور نیک دِل میں، مضبُوطی سے سنبھالے رہتے ہیں، اَور صبر سے پھل لاتے ہیں۔
LUK 8:16 ”کویٔی شخص چراغ جَلا کر اُسے برتن سے نہیں چھُپاتا اَور نہ ہی چارپائی کے نیچے رکھتا ہے لیکن چراغدان پر رکھتا ہے تاکہ اَندر آنے والوں کو اُس کی رَوشنی دِکھائی دے۔
LUK 8:17 کیونکہ کویٔی چیز چھپی ہویٔی نہیں جو ظاہر نہ کی جائے گی اَور نہ ہی کویٔی اَیسا راز ہے اُس کا پردہ فاش نہ کیا جائے گا۔
LUK 8:18 لہٰذا خبردار رہو کہ تُم کس طرح سُنتے۔ کیونکہ جِس کے پاس ہے اُسے اَور دیا جائے گا؛ جِس کے پاس نہیں ہے، لیکن وہ سمجھتا ہے کہ ہے اُس سے وہ بھی لے لیا جائے گا۔“
LUK 8:19 پھر اَیسا ہُوا کہ یِسوعؔ کی ماں اَور اُن کے بھایٔی اُن کے پاس آئے لیکن لوگوں کا اِس قدر ہُجوم جمع تھا کہ وہ اُن تک پہُنچ نہ سکے۔
LUK 8:20 چنانچہ اُنہیں خبر دی گئی کہ، ”آپ کی ماں اَور آپ کے بھایٔی باہر کھڑے ہیں اَور حُضُور سے مِلنا چاہتے ہیں۔“
LUK 8:21 لیکن حُضُور نے جَواب میں کہا، ”میری ماں اَور میرے بھایٔی تو وہ ہیں جو خُدا کا کلام سُنتے ہیں اَور اُس پر عَمل کرتے ہیں۔“
LUK 8:22 ایک دِن یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے کہا، ”آؤ ہم جھیل کے اُس پار چلیں۔“ چنانچہ وہ بڑی کشتی میں سوار ہویٔے اَور روانہ ہو گئے۔
LUK 8:23 کشتی چلی جا رہی تھی کہ یِسوعؔ کو نیند آ گئی۔ اَچانک جھیل پر طُوفانی ہَوا چلنے لگی اَور اُن کی کشتی میں پانی بھرنے لگا اَور وہ بڑے خطرے میں پڑ گیٔے۔
LUK 8:24 شاگردوں نے یِسوعؔ کے پاس آکر اُنہیں جگایا اَور کہا، ”آقا، آقا! ہم تو ڈُوبے جا رہے ہیں!“ وہ اُٹھے اَور آپ نے ہَوا اَور پانی کے زور و شور کو ڈانٹا؛ دونوں تھم گیٔے اَور بڑا اَمن ہو گیا۔
LUK 8:25 تَب یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تمہارا ایمان کہاں چلا گیا تھا؟“ وہ ڈر گیٔے اَور حیرت زدہ ہوکر ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”آخِر یہ آدمی ہے کون؟ جو ہَوا اَور پانی کو بھی حُکم دیتاہے اَور وہ اُس کا حُکم مانتے ہیں۔“
LUK 8:26 وہ بڑی کشتی کے ذریعہ گِراسینیوں، کے علاقہ میں پہُنچے جو جھیل کے اُس پار گلِیل کے سامنے ہے۔
LUK 8:27 جَب یِسوعؔ نے کنارے پر قدم رکھا تو اُنہیں شہر کا ایک آدمی مِلا جِس میں بدرُوحیں تھیں۔ اُس نے مُدّت سے کپڑے پہننے چھوڑ دئیے تھے اَور وہ کسی گھر میں نہیں، بَلکہ قبروں میں رہتا تھا۔
LUK 8:28 جَب اُس نے یِسوعؔ کو دیکھا تو زور سے چیخ ماری اَور اُن کے سامنے گرا، اَور چِلّا چِلّاکر کہنے لگا، ”اَے یِسوعؔ، خُداتعالیٰ کے بیٹے، آپ کو مُجھ سے کیا کام؟ مَیں آپ کی مِنّت کرتا ہُوں کہ مُجھے عذاب میں نہ ڈالیں۔“
LUK 8:29 بات یہ تھی کہ یِسوعؔ نے بدرُوح کو اُس آدمی میں سے نکل جانے کا حُکم دیا تھا۔ اکثر بدرُوح اُس آدمی کو بڑی شِدّت سے پکڑ لیتی تھی، اَور لوگ اُسے قابُو میں رکھنے کے لیٔے زنجیروں اَور بِیڑیوں سے جکڑ دیتے تھے، لیکن وہ زنجیروں کو توڑ ڈالتا تھا اَور وہ بدرُوح اُسے بیابانوں میں بھگائے پِھرتی تھی۔
LUK 8:30 یِسوعؔ نے اُس سے پُوچھا، ”تیرا نام کیا ہے؟“ اُس نے کہا، ”میرا نام لشکر،“ کیونکہ اُس میں بہت سِی بدرُوحیں گھُسی ہویٔی تھیں۔
LUK 8:31 بدرُوحیں اُس کی مِنّت کرنے لگیں کہ ہمیں بڑے اتھاہ گڑھے میں جانے کا حُکم نہ دے۔
LUK 8:32 وہاں پہاڑ پر سُؤروں کا ایک بڑا غول چَر رہاتھا۔ اُن بدرُوحوں نے یِسوعؔ سے اِلتجا کرکے کہا کہ ہمیں اُن میں داخل ہو جانے دیں، اَور حُضُور نے اُنہیں جانے دیا۔
LUK 8:33 چنانچہ بدرُوحیں اُس آدمی میں سے نکل کر سُؤروں میں داخل ہو گئیں اَور اُس غول کے سارے سُؤر ڈھلان سے جھیل کی طرف لپکے اَور ڈُوب مَرے۔
LUK 8:34 یہ ماجرا دیکھ کر سُؤر چَرانے والے بھاگ کھڑے ہویٔے اَور اُنہُوں نے شہر اَور دیہات میں اِس بات کی خبر پہُنچائی۔
LUK 8:35 لوگ اِس ماجرے کو دیکھنے نکلے اَور یِسوعؔ کے پاس آئے۔ جَب اُنہُوں نے اُس آدمی کو جِس میں سے بدرُوحیں نکلی تھیں، کپڑے پہنے اَور ہوش میں یِسوعؔ کے پاؤں کے پاس بیٹھے دیکھا تو خوفزدہ رہ گیٔے۔
LUK 8:36 اِس واقعہ کے دیکھنے والوں نے اُنہیں بتایا کہ وہ آدمی جِس میں بدرُوحیں تھیں کس طرح اَچھّا ہُوا۔
LUK 8:37 چونکہ گِراسینیوں کے آس پاس کے علاقہ کے سارے باشِندے دہشت زدہ ہو گئے تھے اِس لیٔے یِسوعؔ سے مِنّت کی کہ آپ ہمارے پاس سے چلے جایٔیں۔ لہٰذا وہ کشتی میں سوار ہوکر واپس جانے لگے۔
LUK 8:38 اَور اُس آدمی نے جِس میں سے بدرُوحیں نکلی تھیں یِسوعؔ کی مِنّت کی کہ مُجھے اَپنے ہی ساتھ رہنے دیں۔ لیکن یِسوعؔ نے اُسے رخصت کرکے کہا،
LUK 8:39 ”اَپنے گھر لَوٹ جا اَور لوگوں کو بتا کہ خُدا نے تیرے لیٔے کیا کُچھ کیا ہے۔“ چنانچہ وہ وہاں سے چلا گیا اَور سارے شہر میں اُن مہربانیوں کا جو یِسوعؔ نے اُس پر کی تھیں، چَرچا کرنے لگا۔
LUK 8:40 جَب یِسوعؔ واپس آئے تو ایک بڑا ہُجوم آپ کے اِستِقبال کو مَوجُود تھا کیونکہ سَب لوگ اُن کے مُنتظر تھے۔
LUK 8:41 مقامی یہُودی عبادت گاہ کا ایک رہنما جِس کا نام یائیرؔ تھا، آیا اَور یِسوعؔ کے قدموں پر گِر کر اُن کی مِنّت کرنے لگاکہ وہ اُس کے گھر چلیں
LUK 8:42 کیونکہ اُس کی بَارہ بَرس کی اِکلوتی بیٹی موت کے بِستر پر پڑی تھی۔ جَب وہ جا رہاتھا تو لوگ اُس پر گِرے پڑتے تھے۔
LUK 8:43 ایک خاتُون تھی جِس کے بَارہ بَرس سے خُون جاری تھا، وہ کیٔی طبیبوں سے علاج کراتے کراتے اَپنی ساری پُونجی لُٹا چُکی تھی لیکن کسی کے ہاتھ سے شفا نہ پا سکی تھی۔
LUK 8:44 اُس نے پیچھے سے یِسوعؔ کے پاس آکر یِسوعؔ کی پوشاک کا کنارہ چھُوا اَور اُسی وقت اُس کا خُون بہنا بندہو گیا۔
LUK 8:45 اِس پر یِسوعؔ نے کہا، ”مُجھے کس نے چھُوا ہے؟“ جَب سَب اِنکار کرنے لگے تو پطرس نے کہا، ”اَے آقا! لوگ ایک دُوسرے کو دھکیل دھکیل کر تُجھ پر گِرے پڑتے ہیں۔“
LUK 8:46 لیکن یِسوعؔ نے کہا، ”کسی نے مُجھے ضروُر چھُوا ہے؛ کیونکہ مُجھے پتہ ہے کہ مُجھ میں سے قُوّت نکلی ہے۔“
LUK 8:47 وہ عورت یہ دیکھ کر کہ وہ یِسوعؔ سے چھِپ نہیں سکتی، کانپتی ہویٔی سامنے آئی اَور اُن کے قدموں میں گِر پڑی۔ لوگوں کے سامنے بتانے لگی کہ اُس نے کس غرض سے یِسوعؔ کو چھُوا تھا اَور وہ کس طرح چھُوتے ہی شفایاب ہو گئی تھی۔
LUK 8:48 یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”بیٹی! تمہارے ایمان نے تُمہیں شفا بخشی۔ سلامتی کے ساتھ رخصت ہو!“
LUK 8:49 وہ یہ کہنے بھی نہ پایٔے تھے کہ یہُودی عبادت گاہ کے رہنما یائیرؔ کے گھر سے کسی نے آکر کہا، ”تیری بیٹی مَر چُکی ہے، اَب اُستاد کو مزید تکلیف نہ دیں۔“
LUK 8:50 لیکن یہ سُن کر یِسوعؔ نے یائیرؔ سے کہا، ”ڈر مت؛ صِرف ایمان رکھ، وہ بچ جائے گی۔“
LUK 8:51 جَب وہ یائیرؔ کے گھر میں داخل ہویٔے تو یِسوعؔ نے پطرس، یُوحنّا اَور یعقوب اَور لڑکی کے والدین کے سِوا کسی اَور کو اَندر نہ جانے دیا۔
LUK 8:52 سَب لوگ لڑکی کے لیٔے رو پیٹ رہے تھے۔ لیکن یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”رونا پیٹنا بند کرو، لڑکی مَری نہیں بَلکہ سَو رہی ہے۔“
LUK 8:53 اِس پر وہ یِسوعؔ کی ہنسی اُڑانے لگے کیونکہ اُنہیں مَعلُوم تھا کہ لڑکی مَر چُکی ہے۔
LUK 8:54 لیکن حُضُور نے لڑکی کا ہاتھ پکڑکر کہا، ”میری بیٹی اُٹھ!“
LUK 8:55 اُس کی رُوح لَوٹ آئی اَور وہ فوراً اُٹھ بیٹھی اَور اُنہُوں نے حُکم دیا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دیا جائے۔
LUK 8:56 اُس لڑکی کے والدین حیران رہ گیٔے۔ یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کی کہ جو کُچھ ہُواہے اُس کا ذِکر کسی سے نہ کرنا۔
LUK 9:1 یِسوعؔ نے اَپنے بَارہ رسولوں کو بُلایا اَور اُنہیں قُدرت اَور اِختیار بخشا کہ ساری بدرُوحوں کو نکالیں اَور بیماریوں کو دُور کریں۔
LUK 9:2 اَور اُنہیں روانہ کیا تاکہ وہ خُدا کی بادشاہی کی مُنادی کریں اَور بیماریوں کو اَچھّا کریں
LUK 9:3 اَور اُن سے کہا: ”راستے کے لیٔے کُچھ نہ لینا، نہ لاٹھی، نہ تھیلا، نہ روٹی، نہ نقدی، نہ دو دو کُرتے۔
LUK 9:4 تُم جِس گھر میں داخل ہو، اُس شہر سے رخصت ہونے تک اُسی گھر میں ٹھہرے رہنا۔
LUK 9:5 اَور جِس شہر میں لوگ تُمہیں قبُول نہ کریں تو اُس شہر سے نکلتے وقت اَپنے پاؤں کی گرد بھی جھاڑ دینا تاکہ وہ اُن کے خِلاف گواہی دے۔“
LUK 9:6 پس وہ روانہ ہویٔے اَور گاؤں گاؤں جا کر ہر جگہ خُوشخبری سُناتے اَور مَریضوں کو شفا دیتے پھرے۔
LUK 9:7 ہیرودیسؔ جو مُلک کے چوتھائی حِصّہ پر حُکومت کرتا تھا یہ باتیں سُن کر گھبرا گیا۔ کیونکہ بعض کا کہنا تھا کہ حضرت یُوحنّا مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے،
LUK 9:8 اَور بعض کہتے تھے کہ ایلیّاہ ظاہر ہُواہے، اَور بعض کہتے تھے کہ پُرانے نبیوں میں سے کویٔی نبی زندہ ہو گیا ہے۔
LUK 9:9 مگر ہیرودیسؔ نے کہا کہ، ”حضرت یُوحنّا کا تو مَیں نے سَر قلم کروا دیا تھا۔ اَب یہ کون ہے جِس کے بارے میں اَیسی باتیں سُننے میں آ رہی ہیں؟“ اَور وہ یِسوعؔ کو دیکھنے کی کوشش میں لگ گیا۔
LUK 9:10 رسول واپس آئے اَورجو کُچھ اُنہُوں نے کام کئے آکر یِسوعؔ سے بَیان کیا اَور آپ اُنہیں ساتھ لے کر الگ بیت صیؔدا نام ایک شہر کی طرف روانہ ہویٔے۔
LUK 9:11 لیکن لوگوں کو مَعلُوم ہو گیا اَور وہ آپ کا پیچھا کرنے لگے۔ یِسوعؔ نے خُوشی سے اُن سے مُلاقات کی اَور اُنہیں خُدا کی بادشاہی کی باتیں سُنانے لگے اَور جِن کو شفا کی ضروُرت تھی اُنہیں شفا بخشی۔
LUK 9:12 جَب دِن ڈھلنے لگا تو اُن بَارہ رسولوں نے پاس آکر آپ سے کہا، ”اِن لوگوں کو رخصت کر دے تاکہ وہ آس پاس کے گاؤں اَور بستیوں میں جا سکیں اَور اَپنے کھانے پینے کا اِنتظام کریں، کیونکہ ہم تو ایک ویران جگہ میں ہیں۔“
LUK 9:13 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”تُم ہی اِنہیں کُچھ کھانے کو دو۔“ اُنہُوں نے کہا، ”ہمارے پاس پانچ روٹیوں اَور دو مچھلیوں سے زِیادہ کُچھ نہیں، جَب تک کہ ہم جا کر اِن سَب کے لیٔے کھانا خرید نہ لائیں۔“
LUK 9:14 کیونکہ پانچ ہزار کے قریب مَرد وہاں مَوجُود تھے۔ لیکن اُس نے اَپنے شاگردوں سے کہا، ”اِن لوگوں کو پچاس پچاس کی قطاروں میں بِٹھا دو۔“
LUK 9:15 چنانچہ اُنہُوں نے اَیسا ہی کیا، اَور سَب کو بِٹھا دیا۔
LUK 9:16 یِسوعؔ نے وہ پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں لیں اَور آسمان کی طرف نظر اُٹھاکر، اُن پر برکت مانگی پھر آپ نے اُن روٹیوں کے ٹکڑے توڑ کر شاگردوں کو دئیے تاکہ وہ اُنہیں لوگوں میں تقسیم کر دیں۔
LUK 9:17 سَب لوگ کھا کر سیر ہو گئے اَور بچے ہویٔے ٹُکڑوں کی بَارہ ٹوکریاں بھر کر اُٹھائی گئیں۔
LUK 9:18 ایک دفعہ یِسوعؔ تنہائی میں دعا کر رہے تھے اَور اُن کے شاگرد اُن کے پاس تھے، آپ نے اُن سے پُوچھا، ”لوگ میرے بارے میں، کیا کہتے ہیں کہ مَیں کون ہُوں؟“
LUK 9:19 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”کُچھ حضرت یُوحنّا پاک غُسل دینے والا؛ لیکن بعض ایلیّاہ اَور بعض کا خیال ہے کہ پُرانے نبیوں میں سے کویٔی نبی جی اُٹھا ہے۔“
LUK 9:20 تَب آپ نے اُن سے پُوچھا، ”تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ مَیں کون ہُوں؟“ پطرس نے جَواب دیا، ”آپ خُدا کے المسیح ہیں۔“
LUK 9:21 اِس پر یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کرکے حُکم دیا کہ یہ بات کسی سے نہ کہنا۔
LUK 9:22 اَور یہ بھی کہا، ”اِبن آدمؔ کو کیٔی تکالیف کا سامنا کرنا پڑےگا۔ وہ بُزرگوں، اہم کاہِنوں اَور فقِیہوں کی طرف سے ردّ کر دیا جائے گا، وہ اُسے قتل کر ڈالیں گے لیکن وہ تیسرے دِن زندہ ہو جائے گا۔“
LUK 9:23 پھر یِسوعؔ نے اُن سَب سے کہا: ”اگر کویٔی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ اَپنی خُودی کا اِنکار کرے اَور روزانہ اَپنی صلیب اُٹھائے اَور میرے پیچھے ہولے۔
LUK 9:24 کیونکہ جو کویٔی اَپنی جان کو باقی رکھنا چاہتاہے وہ اُسے کھویٔے گا لیکن جو کویٔی میری خاطِر اَپنی جان کھویٔے گا وہ اُسے محفوظ رکھےگا۔
LUK 9:25 آدمی اگر ساری دُنیا حاصل کر لے مگر اَپنا نُقصان کر لے یا خُود کو کھو بیٹھے تو کیا فائدہ؟
LUK 9:26 کیونکہ جو کویٔی مُجھ سے اَور میرے کلام سے شرمائے گا تو اِبن آدمؔ بھی جَب وہ اَپنے، اَور باپ کے جلال میں مُقدّس فرشتوں کے ساتھ آئے گا تو اُس سے شرمائے گا۔
LUK 9:27 ”لیکن مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ بعض لوگ جو یہاں کھڑے ہیں، جَب تک وہ خُدا کی بادشاہی کو دیکھ نہ لیں گے، موت کا مزہ نہ چَکھنے پائیں گے۔“
LUK 9:28 اِن باتوں کے تقریباً آٹھ دِن بعد اَیسا ہُوا کہ یِسوعؔ، پطرس، یُوحنّا اَور یعقوب کو ساتھ لے کر ایک پہاڑ پر دعا کرنے کی غرض سے گیٔے۔
LUK 9:29 اَور جَب وہ دعا کر رہے تھے تو اُن کی صورت بدل گئی اَور اُن کی پوشاک سفید ہوکر بجلی کی مانِند چمکنے لگی۔
LUK 9:30 اَور دیکھو دو آدمی یِسوعؔ سے باتیں کر رہے تھے۔ یہ حضرت مَوشہ اَور حضرت ایلیّاہ تھے۔
LUK 9:31 جو جلال میں ظاہر ہوکر یِسوعؔ کے آسمان پر اُٹھائے جانے کا ذِکر کر رہے تھے جو یروشلیمؔ میں واقع ہونے والا تھا۔
LUK 9:32 لیکن پطرس اَور اُن کے ساتھیوں کی آنکھیں نیند سے بھاری ہو رہی تھیں۔ جَب وہ جاگے تو اُنہُوں نے یِسوعؔ کا جلال دیکھا اَور اُن دو آدمیوں پر بھی اُن کی نظر پڑی جو اُن کے ساتھ کھڑے تھے۔
LUK 9:33 جَب وہ یِسوعؔ کے پاس سے جانے لگے تو پطرس نے یِسوعؔ سے کہا، ”آقا! ہمارا یہاں رہنا اَچھّا ہے۔ کیوں نہ ہم یہاں تین ڈیرے کھڑے کریں، ایک آپ کے لیٔے، ایک حضرت مَوشہ اَور ایک حضرت ایلیّاہ کے لیٔے۔“ (اُسے پتہ نہ تھا کہ وہ کیا کہہ رہاہے۔)
LUK 9:34 وہ یہ کہہ ہی رہاتھا کہ، ایک بدلی اُن پر چھاگئی، اَور وہ اُس میں گھِر گیٔے اَور خوفزدہ ہو گئے۔
LUK 9:35 تَب اُس بدلی میں سے آواز آئی کہ، ”یہ میرا پیارا بیٹا ہے، جسے مَیں نے چُن لیا ہے؛ تُم اُس کی سُنو۔“
LUK 9:36 اَور آواز آنے کے بعد، یِسوعؔ تنہا دِکھائی دئیے۔ شاگردوں نے یہ بات اَپنے تک ہی رکھی اَور اُن دِنوں جو کُچھ دیکھا تھا اُس کا ذِکر کسی سے نہ کیا۔
LUK 9:37 اگلے دِن اَیسا ہُوا کہ جَب وہ پہاڑ سے نیچے آئے تو لوگوں کا ایک بڑا ہُجوم اُن سے مِلا۔
LUK 9:38 ایک آدمی نے اُس ہُجوم میں سے چِلّاکر کہا، ”اَے اُستاد، مَیں آپ کی مِنّت کرتا ہُوں کہ میرے بیٹے پر نظر کر، وہ میرا اِکلوتا بیٹا ہے۔
LUK 9:39 ایک بدرُوح اُسے قبضہ میں لے لیتی ہے اَور وہ یَکایک چِلّانے لگتا ہے؛ اَور اُس کو اَیسا مروڑتی ہے کہ اُس کے مُنہ سے جھاگ نکلنے لگتا ہے۔ بدرُوح اُسے زخمی کرکے مُشکل سے چھوڑتی ہے۔
LUK 9:40 مَیں نے آپ کے شاگردوں سے اِلتجا کی تھی کہ وہ بدرُوح کو نکال دیں، لیکن وہ نہیں نکال سکے۔“
LUK 9:41 یِسوعؔ نے جَواب میں کہا، ”اَے بےاِعتقاد اَور گُمراہ لوگو، میں کب تک تمہارے ساتھ رہُوں گا اَور تمہاری برداشت کرتا رہُوں گا؟ اَپنے بیٹے کو یہاں لے آؤ۔“
LUK 9:42 ابھی وہ لڑکا آ ہی رہاتھا، بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پردے پٹکا۔ لیکن یِسوعؔ نے بدرُوح کو جِھڑکا اَور لڑکے کو شفا بخشی اَور اُسے اُس کے باپ کے حوالے کر دیا۔
LUK 9:43 اَور سَب لوگ خُدا کی قُدرت دیکھ کر حیران رہ گیٔے۔ جَب سَب لوگ اُن کاموں پرجو یِسوعؔ کرتے تھے تعجُّب کا اِظہار کر رہے تھے تو حُضُور نے اَپنے شاگردوں سے کہا،
LUK 9:44 ”میری اِن باتوں کو کانوں میں ڈال لو کیونکہ: اِبن آدمؔ آدمیوں کے حوالے کیٔے جانے کو ہے۔“
LUK 9:45 لیکن وہ اِس بات کا مطلب نہ سمجھ سکے۔ کیونکہ وہ اُن سے پوشیدہ رکھی گئی تھی تاکہ وہ اُسے سمجھ نہ سکیں؛ اَور وہ اِس کے بارے میں اُن سے پُوچھنے سے بھی ڈرتے تھے۔
LUK 9:46 پھر شاگردوں میں یہ بحث چھِڑ گئی کہ ہم میں سَب سے بڑا کون ہے؟
LUK 9:47 یِسوعؔ نے اُن کے دِل کی بات مَعلُوم کرکے، ایک بچّے کو لیا اَور اُسے اَپنے پاس کھڑا کیا۔
LUK 9:48 اَور اَپنے شاگردوں سے کہا، ”جو کویٔی اِس بچّے کو میرے نام پر قبُول کرتا ہے وہ مُجھے قبُول کرتا ہے؛ اَورجو مُجھے قبُول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبُول کرتا ہے۔ کیونکہ جو تُم میں سَب سے چھوٹاہے وُہی سَب سے بڑا ہے۔“
LUK 9:49 تَب یُوحنّا نے یِسوعؔ سے کہا، ”اَے آقا! ہم نے ایک شخص کو آپ کے نام سے بدرُوحیں نکالتے دیکھا تو اُسے منع کیا کیونکہ وہ ہم میں سے ایک نہیں ہے۔“
LUK 9:50 لیکن یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”اُسے منع نہ کرنا کیونکہ جو تمہارے خِلاف نہیں وہ تمہاری طرف ہے۔“
LUK 9:51 جَب یِسوعؔ کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے دِن نزدیک آ گئے تو، آپ نے پُختہ اِرادہ کے ساتھ یروشلیمؔ کا رُخ کیا۔
LUK 9:52 اَور اَپنے آگے قاصِد روانہ کر دئیے، یہ قاصِد گیٔے اَور سامریوں کے ایک گاؤں میں داخل ہویٔے تاکہ یِسوعؔ کے آنے کی تیّاری کریں؛
LUK 9:53 لیکن وہاں کے لوگوں نے اُن کا اِستِقبال نہ کیا، کیونکہ یِسوعؔ یروشلیمؔ جا رہے تھے۔
LUK 9:54 یہ دیکھ کر آپ کے شاگرد یعقوب اَور یُوحنّا کہنے لگے، ”اَے خُداوؔند، آپ حُکم دیں تو ہم آسمان سے آگ نازل کروا کر اِن لوگوں کو بھسم کر دیں؟“
LUK 9:55 لیکن یِسوعؔ نے مُڑ کر دیکھا اَور اُنہیں جِھڑکا۔
LUK 9:56 تَب وہ کسی دُوسرے گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔
LUK 9:57 جَب وہ راستے میں چلے جا رہے تھے تو، کسی نے یِسوعؔ سے کہا، ”آپ جہاں بھی جایٔیں گے مَیں آپ کی پیروی کروں گا۔“
LUK 9:58 یِسوعؔ نے سے جَواب دیا، ”لومڑیوں کے بھی بھٹ اَور ہَوا کے پرندوں کے گھونسلے ہوتے ہیں، لیکن اِبن آدمؔ کے لیٔے کویٔی جگہ نہیں جہاں وہ اَپنا سَر بھی رکھ سکے۔“
LUK 9:59 پھر حُضُور نے ایک اَور شخص سے کہا، ”ہو میرے پیچھے ہولے۔“ لیکن اُس نے کہا، ”اَے خُداوؔند، پہلے مُجھے اِجازت دیں کہ میں جا کر اَپنے باپ کو دفن کرلُوں۔“
LUK 9:60 یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”مُردوں کو اَپنے مُردے دفن کرنے دیں، لیکن آپ جایٔیں اَور خُدا کی بادشاہی کی مُنادی کریں۔“
LUK 9:61 ایک اَور شخص نے کہا، ”خُداوؔند، مَیں آپ کے پیچھے چلُوں گا؛ لیکن پہلے مُجھے اِجازت دیں کہ میں اَپنے گھر والوں سے رخصت ہو آؤں۔“
LUK 9:62 یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”جو کویٔی ہل پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کی طرف دیکھتا ہے وہ خُدا کی بادشاہی میں خدمت کے لائق نہیں۔“
LUK 10:1 اِس کے بعد خُداوؔند نے بہتّر شاگرد اَور مُقرّر کیٔے اَور اُنہیں دو دو کرکے اَپنے سے پہلے اُن شہروں اَور قصبوں میں روانہ کیا جہاں وہ خُود جانے والے تھے۔
LUK 10:2 اَور آپ نے اُن سے کہا، ”فصل تو بہت ہے، لیکن مزدُور کم ہیں۔ اِس لیٔے فصل کے خُداوؔند سے اِلتجا کرو کہ، وہ اَپنی فصل کاٹنے کے لیٔے مزدُور بھیج دے۔
LUK 10:3 جاؤ! دیکھو میں تُمہیں گویا برّوں کو بھیڑیوں کے درمیان بھیج رہا ہُوں۔
LUK 10:4 اَپنے ساتھ بٹوا نہ لے جانا نہ تھیلی نہ جُوتے؛ اَور نہ کسی کو راہ میں سلام کرنا۔
LUK 10:5 ”جَب کسی گھر میں داخل ہو تو، پہلے کہو کہ، ’اِس گھر کی سلامتی ہو۔‘
LUK 10:6 اگر وہاں کویٔی سلامتی کا فرزند ہوگا تو، تمہارا سلام اُس پر ٹھہرے گا؛ ورنہ، تمہارے پاس لَوٹ آئے گا۔
LUK 10:7 اُسی گھر میں ٹھہرے رہو، اَورجو کُچھ اُن سے ملے گھر والوں کے ساتھ کھاؤ اَور پیو، کیونکہ مزدُور اَپنی مزدُوری کا حقدار ہے۔ گھر بدلتے نہ رہنا۔
LUK 10:8 ”جِس شہر میں تُم داخل ہو اَور اُس شہر والے تُمہیں قبُول کریں، تو جو کُچھ تمہارے سامنے رکھا جائے اُسے کھاؤ۔
LUK 10:9 وہاں کے بیماریوں کو شفا دو اَور بتاؤ کہ، ’خُدا کی بادشاہی تمہارے نزدیک آ گئی ہے۔‘
LUK 10:10 اَور اگر تُم کسی اَیسے شہر میں قدم رکھتے جہاں کے لوگ تُمہیں قبُول نہیں کرتے تو، اُس شہر کی گلیوں میں جا کر کہو کہ،
LUK 10:11 ’ہم تمہارے شہر کی گرد کو بھی جو ہمارے پاؤں میں لگی ہویٔی ہے اِسے ایک اِنتباہ کے طور پر تمہارے سامنے جھاڑ دیتے ہیں۔ مگر یہ یاد رکھو: خُدا کی بادشاہی تمہارے نزدیک آ گئی ہے۔‘
LUK 10:12 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ، عدالت کے دِن سدُومؔ کا حال اُس شہر کے حال سے زِیادہ قابل برداشت ہوگا۔
LUK 10:13 ”اَے خُرازِینؔ! تُجھ پر افسوس، اَے بیت صیؔدا! تُجھ پر افسوس، کیونکہ جو معجزے تمہارے درمیان دِکھائے گیٔے اگر صُورؔ اَور صیؔدا میں دِکھائے جاتے، تو وہ ٹاٹ اوڑھ کر اَور سَر پر راکھ ڈال کر کب کے تَوبہ کر چُکے ہوتے۔
LUK 10:14 لیکن عدالت کے دِن صُورؔ اَور صیؔدا کا حال تمہارے حال سے زِیادہ قابل برداشت ہوگا۔
LUK 10:15 اَور تو اَے کَفرنحُومؔ، کیا تو آسمان تک بُلند کیا جائے گا؟ ہرگز نہیں، بَلکہ تو عالمِ اَرواح میں اُتار دیا جائے گا۔
LUK 10:16 ”جو تمہاری سُنتا ہے وہ میری سُنتا ہے؛ جو تمہاری بےحُرمتی کرتا ہے وہ میری بےحُرمتی کرتا ہے؛ لیکن جو میری بےحُرمتی کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کی بےحُرمتی کرتا ہے۔“
LUK 10:17 اَور وہ بہتّر شاگرد خُوشی کے ساتھ واپس آئے اَور کہنے لگے، ”اَے خُداوؔند! آپ کے نام سے تو بدرُوحیں بھی ہمارا حُکم مانتی ہیں۔“
LUK 10:18 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”مَیں نے شیطان کو بجلی کی طرح آسمان سے گِرتے ہویٔے دیکھ رہاتھا۔
LUK 10:19 دیکھو، مَیں نے تُمہیں سانپوں اَور بِچھُّوؤں کو کُچلنے کا اِختیار دیا ہے اَور دُشمن کی ساری قُوّت پر غلبہ عطا کیا ہے؛ اَور تُمہیں کسی سے بھی نُقصان نہ پہُنچے گا۔
LUK 10:20 تو بھی، اِس بات سے خُوش نہ ہو کہ رُوحیں تمہارا حُکم مانتی ہیں، بَلکہ اِس بات سے خُوش ہو کہ تمہارے نام آسمان پر لکھے ہویٔے ہیں۔“
LUK 10:21 اُسی گھڑی یِسوعؔ نے، پاک رُوح کی خُوشی سے معموُر ہوکر فرمایا، ”اَے باپ! آسمان اَور زمین کے خُداوؔند! مَیں آپ کی حَمد کرتا ہُوں کہ آپ نے یہ باتیں عالِموں اَور دانِشوروں سے پوشیدہ رکھیں، اَور بچّوں پر ظاہر کیں۔ ہاں، اَے باپ! کیونکہ آپ کی خُوشی اِسی میں تھی۔
LUK 10:22 ”ساری چیزیں میرے باپ کی طرف سے میرے سُپرد کر دی گئی ہیں۔ اَور سِوا باپ کے کویٔی نہیں جانتا کہ بیٹا کون ہے، اَور سِوا بیٹے کے کویٔی نہیں جانتا کہ باپ کون ہے اَور سِوائے اُس شخص کے جِس پر بیٹا باپ کو ظاہر کرنے کا اِرادہ کرے۔“
LUK 10:23 تَب وہ اَپنے شاگردوں کی طرف مُخاطِب ہُوئے اَور صِرف اُن ہی سے کہنے لگے، ”مُبارک ہیں وہ آنکھیں جو یہ باتیں دیکھتی ہیں جنہیں تُم دیکھتے ہو۔
LUK 10:24 کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ بہت سے نبیوں اَور بادشاہوں کی خواہش تھی کہ یہ باتیں دیکھیں جو تُم دیکھتے ہو، مگر نہ دیکھ پایٔے، اَور یہ باتیں سُنیں جو تُم سُنتے ہو مگر نہ سُن پایٔے۔“
LUK 10:25 تَب ایک شَریعت کا عالِم اُٹھا اَور یِسوعؔ کو آزمانے کی غرض سے کہنے لگا۔ اَے اُستاد، ”مُجھے اَبدی زندگی کا وارِث بننے کے لیٔے کیا کرنا ہوگا؟“
LUK 10:26 یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”شَریعت میں کیا لِکھّا ہے؟ تُم اُسے کس طرح پڑھتے ہو؟“
LUK 10:27 اُس نے جَواب دیا، ” ’خُداوؔند اَپنے خُدا سے اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان اَور اَپنی ساری طاقت اَور اَپنی ساری عقل سے مَحَبّت رکھو‘ اَور ’اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا۔‘“
LUK 10:28 یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”تُونے ٹھیک جَواب دیا ہے۔ یہی کر تو تُو زندہ رہے گا۔“
LUK 10:29 مگر اُس نے اَپنی راستبازی جتانے کی غرض سے، یِسوعؔ سے پُوچھا، ”میرا پڑوسی کون ہے؟“
LUK 10:30 یِسوعؔ نے جَواب میں کہا: ”ایک آدمی یروشلیمؔ سے یریحوؔ جا رہاتھا کہ ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں جا پڑا۔ اُنہُوں نے اُس کے کپڑے اُتار لیٔے، اُسے مارا پِیٹا اَور زخمی کر دیا اَور ادھ مُوأ چھوڑکر چلے گیٔے۔
LUK 10:31 اِتّفاقاً ایک کاہِنؔ اُس راہ سے جا رہاتھا، اُس نے زخمی کو دیکھا، مگر کَترا کرچلاگیا۔
LUK 10:32 اِسی طرح، ایک لیوی، بھی اِدھر آ نِکلا اَور اُسے دیکھ کر، کَترا کرچلاگیا۔
LUK 10:33 پھر ایک سامری، جو سفر کر رہاتھا، وہاں نِکلا؛ زخمی کو دیکھ کر اُسے بڑا ترس آیا۔
LUK 10:34 وہ اُس کے پاس گیا اَور اُس کے زخموں پر تیل اَور انگوری شِیرہ لگا کر اُنہیں باندھا اَور زخمی کو اَپنے گدھا پر بِٹھا کر سرائے میں لے گیا اَور اُس کی تیمار داری کی۔
LUK 10:35 اگلے دِن اُس نے دو دینار نکال کر سرائے کے رکھوالے کو دئیے اَور کہا، ’اِس کی دیکھ بھال کرنا، اَور اگر خرچہ زِیادہ ہُوا تو، میں واپسی پر اَدا کر دُوں گا۔‘
LUK 10:36 ”تمہاری نظر میں اِن تینوں میں سے کون اُس شخص کا جو ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں جا پڑا تھا، پڑوسی ثابت ہُوا؟“
LUK 10:37 شَریعت کے عالِم نے جَواب دیا، ”وہ جِس نے اُس کے ساتھ ہمدردی کی۔“ یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”جا تُو بھی اَیسا ہی کر۔“
LUK 10:38 یِسوعؔ اَور اُن کے شاگرد چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہُنچے، وہاں مرتھاؔ نام کی ایک عورت نے آپ کے لیٔے اَپنے گھر کو کھولا۔
LUK 10:39 اُس کی ایک بہن بھی تھی جِس کا نام مریمؔ تھا، وہ خُداوؔند کے قدموں کے پاس بیٹھ کر اُن کی باتیں سُن رہی تھی۔
LUK 10:40 لیکن مرتھاؔ کام کی زیادتی کی وجہ سے گھبرا گئی اَور یِسوعؔ کے پاس آکر کہنے لگی، ”خُداوؔند! کیا یہ سہی ہے کہ میری بہن خدمت کرنے میں ہاتھ بٹانے کے بجائے یہاں پر بیٹھی ہے اَور مُجھے اکیلا چھوڑ دیا ہے؟ اُس سے کہئے کہ میری مدد کرے!“
LUK 10:41 خُداوؔند نے جَواب میں اُس سے کہا، ”مرتھاؔ! مرتھاؔ! تُو بہت سِی چیزوں کے بارے میں فِکرمند اَور پریشان ہو رہی ہے۔
LUK 10:42 حالانکہ صِرف ایک ہی چیز ہے جِس کے بارے میں فکر کرنے کی ضروُرت ہے۔ اَور مریمؔ نے وہ عُمدہ حِصّہ چُن لیا ہے جو اُس سے کبھی چھینا نہ جائے گا۔“
LUK 11:1 ایک دِن یِسوعؔ کسی جگہ دعا کر رہے تھے۔ جَب وہ دعا کر چُکے تو اُن کے شاگردوں میں سے ایک نے کہا، ”خُداوؔند، جَیسے حضرت یُوحنّا نے اَپنے شاگردوں کو دعا کرنا سِکھایا، آپ ہمیں بھی سِکھایٔیں۔“
LUK 11:2 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”جَب تُم دعا کرو، تو کہو: ” ’اَے ہمارے آسمانی باپ، آپ کا نام پاک مانا جائے، آپ کی بادشاہی آئے۔
LUK 11:3 ہماری روز کی روٹی ہر دِن ہمیں عطا فرما۔
LUK 11:4 اَور ہمارے گُناہوں کو مُعاف کر، کیونکہ ہم بھی اَپنے ہر قُصُوروار کو مُعاف کرتے ہیں۔ اَور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دیں۔‘ “
LUK 11:5 پھر یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”فرض کرو کہ تُم میں سے کسی کا ایک دوست ہے، وہ آدھی رات کو اُس کے پاس جا کر کہتاہے کہ، ’اَے دوست، مہربانی کرکے مُجھے تین روٹیاں دے؛
LUK 11:6 کیونکہ میرا ایک دوست سفر کرکے میرے پاس آیا ہے، اَور میرے پاس کُچھ بھی نہیں کہ اُس کی خاطِر تواضع کر سکوں۔‘
LUK 11:7 اَور فرض کرو کہ وہ اَندر سے جَواب میں کہتاہے، ’مُجھے تکلیف نہ دے، دروازہ بندہو چُکاہے اَور مَیں اَور میرے بال بچّے بِستر میں ہیں، میں اُٹھ کر تُجھے دے نہیں سَکتا۔‘
LUK 11:8 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگرچہ وہ اُس کا دوست ہونے کے باوُجُود بھی اُٹھ کر روٹی نہ بھی دے گا تو بھی اُس کے بار بار اِصرار کرنے کے باعث ضروُر اُٹھے گا اَور جِتنی روٹیوں کی اُسے ضروُرت ہے، دے گا۔
LUK 11:9 ”پس میں تُم سے کہتا ہُوں: مانگو تو تُمہیں دیا جائے گا؛ ڈھونڈوگے تو پاؤگے؛ دروازہ کھٹکھٹاؤگے، تو تمہارے لیٔے کھولا جائے گا۔
LUK 11:10 کیونکہ جو مانگتاہے اُسے ملتا ہے، جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتاہے اَورجو کھٹکھٹاتاہے اُس کے لیٔے دروازہ کھولا جائے گا۔
LUK 11:11 ”تُم میں سے اَیسا کون سا باپ ہے کہ جَب اُس کا بیٹا مچھلی مانگے تو اُسے مچھلی نہیں، بَلکہ سانپ دے؟
LUK 11:12 یا اَنڈا مانگے تو اُسے بِچھُّو تھما دے۔
LUK 11:13 پس جَب تُم بُرے ہونے کے باوُجُود بھی اَپنے بچّوں کو اَچھّی چیزیں دینا جانتے ہو، تو کیا تمہارا آسمانی باپ اُنہیں جو اُس سے مانگتے ہیں، پاک رُوح اِفراط سے عطا نہ فرمایٔے گا!“
LUK 11:14 ایک دفعہ یِسوعؔ ایک گُونگے شخص میں سے بدرُوح کو نکال رہے تھے اَور جَب بدرُوح نکل گئی تو گُونگا بولنے لگا اَور لوگ تعجُّب کرنے لگے۔
LUK 11:15 لیکن اُن میں سے بعض نے کہا، ”وہ بدرُوحوں کے رہنما بَعل زبُول، کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتا ہے۔“
LUK 11:16 بعض اُنہیں آزمانے کی غرض سے اُن سے کویٔی آسمانی نِشان طلب کرنے لگے۔
LUK 11:17 لیکن یِسوعؔ نے اُن کے خیالات جان کر اُن سے کہا: ”جِس حُکومت میں پھوٹ پڑ جاتی ہے وہ ویران ہو جاتی ہے اَور جِس گھر میں پھوٹ پڑ جاتی ہے وہ قائِم نہیں رہ سَکتا۔
LUK 11:18 اَور اگر شیطان اَپنی ہی مُخالفت کرنے لگے تو اُس کی حُکومت کیسے قائِم رہ سکتی ہے؟ پھر بھی تُم کہتے ہو کہ میں بَعل زبُول، کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتا ہُوں۔
LUK 11:19 اگر مَیں بَعل زبُول کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتا ہُوں تو تمہارے شاگرد اُنہیں کِس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ پس وُہی تمہارے مُنصِف ہوں گے۔
LUK 11:20 لیکن اگر مَیں خُدا کی قُدرت سے بدرُوحوں کو نکالتا ہُوں تو خُدا کی بادشاہی تمہارے درمیان آ پہُنچی۔
LUK 11:21 ”جَب تک کویٔی زورآور آدمی ہتھیاروں سے لیس ہوکر اَپنے گھر کی حِفاظت کرتا ہے تو اُس کا مال و اَسباب محفوظ رہتاہے۔
LUK 11:22 لیکن جَب اُس سے بھی زِیادہ زورآور آدمی اُس پر حملہ کرکے اُسے مغلُوب کر لیتا ہے تو اُس کے سارے ہتھیار جِن پر اُس کا بھروسا تھا چھین لیتا ہے اَور اُس کا سارا مال و اَسباب لُوٹ کر بانٹ دیتاہے۔
LUK 11:23 ”جو میرے ساتھ نہیں وہ میرا مُخالف ہے اَورجو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا، وہ بکھیرتا ہے۔
LUK 11:24 ”جَب کسی آدمی میں سے بدرُوح نکل جاتی ہے تو وہ سُوکھنے مقاموں میں جا کر آرام ڈھونڈتی ہے اَور جَب نہیں پاتی تو کہتی ہے، ’میں اَپنے اُسی گھر میں پھر واپس چلی جاؤں گی جہاں سے میں نکلی تھی۔‘
LUK 11:25 اَور واپس آکر اُسے صَاف سُتھرا اَور آراستہ پاتی ہے۔
LUK 11:26 تَب وہ جا کر اَپنے سے بھی بدتر سات اَور بدرُوحوں کو ساتھ لے آتی ہے اَور وہ اَندر جا کر اُس میں رہنے لگتی ہیں اَور اُس آدمی کی آخِری حالت پہلے سے بھی زِیادہ بُری ہو جاتی ہے۔“
LUK 11:27 یِسوعؔ جَب یہ باتیں کہہ رہے تھے تبھی ہُجوم میں سے ایک عورت نے اُونچی آواز میں آپ سے کہا، ”مُبارک ہے وہ پیٹ جِس سے آپ پیدا ہویٔے اَور مُبارک ہیں وہ چھاتِیاں جنہوں نے آپ کو دُودھ پِلایا۔“
LUK 11:28 لیکن یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جو لوگ خُدا کا کلام سُنتے اَور اُس پر عَمل کرتے ہیں وہ زِیادہ مُبارک ہیں۔“
LUK 11:29 جَب ہُجوم زِیادہ بڑھنے لگا تو یِسوعؔ نے کہا، ”اِس زمانہ کے لوگ بُرے ہیں جو مُجھ سے نِشان طلب کرتے ہیں مگر حضرت يونسؔ کے نِشان کے سِوا کویٔی اَور نِشان نہیں دیا جائے گا۔
LUK 11:30 کیونکہ جِس طرح يونسؔ نینوہؔ کے باشِندوں کے لیٔے نِشان ٹھہرے اُسی طرح اِبن آدمؔ بھی اِس زمانہ کے لوگوں کے لیٔے نِشان ٹھہرے گا۔
LUK 11:31 جُنوب کی ملِکہ عدالت کے دِن اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوکر اُنہیں مُجرم ٹھہرائے گی کیونکہ وہ بڑی دُور سے حضرت شُلومونؔ کی حِکمت سُننے کے لیٔے آئی تھی اَور دیکھو یہاں حضرت شُلومونؔ سے بھی بڑا مَوجُود ہے۔
LUK 11:32 نینوہؔ کے لوگ عدالت کے دِن اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوکر اُنہیں مُجرم ٹھہرائیں گے، اِس لیٔے کہ اُنہُوں نے حضرت يونسؔ کی مُنادی کی وجہ سے تَوبہ کرلی تھی اَور دیکھو! یہاں وہ مَوجُود ہے جو يونسؔ سے بھی بڑا ہے۔
LUK 11:33 ”کویٔی شخص چراغ جَلا کر تہہ خانہ یا پیمانہ کے نیچے نہیں لیکن چراغدان پر رکھتا ہے تاکہ اَندر آنے والوں کو رَوشنی دِکھائی دے۔
LUK 11:34 تیرے بَدن کا چراغ تیری آنکھ ہے۔ جَب تیری آنکھ سالِم ہے تو تیرا پُورا بَدن بھی رَوشن ہے؛ اگر خَراب ہے تو تیرا بَدن بھی تاریک ہے۔
LUK 11:35 خبردار، کہیں اَیسا نہ ہو کہ جو رَوشنی تُجھ میں ہے وہ تاریکی بَن جائے۔
LUK 11:36 پس اگر تیرا سارا بَدن رَوشن اَور کویٔی حِصّہ تاریک نہ رہے تو وہ سارے کا سارا اَیسا رَوشن ہوگا جَیسے کسی چراغ نے اَپنی چمک سے تُجھے رَوشن کر دیا ہے۔“
LUK 11:37 یِسوعؔ جَب اَپنی بات پُوری کر چُکے تو کسی فرِیسی نے یِسوعؔ کو اَپنے ساتھ کھانے کی مِنّت کی۔ یِسوعؔ اُس کے گھر میں داخل ہویٔے اَور دسترخوان پر بیٹھ گیٔے۔
LUK 11:38 فرِیسی نے یہ دیکھ کر تعجُّب کیا کہ وہ بغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھانے بیٹھ گیٔے۔
LUK 11:39 اِس پر خُداوؔند نے اُس سے کہا، ”اَے فریسیوں! تُم پیالے اَور رکابی کو باہر سے تو صَاف کرتے ہو، مگر تمہارے اَندر لُوٹ اَور بدی بھری پڑی ہے۔
LUK 11:40 اَے نادانو! کیا جِس نے باہر والے حِصّے کو بنایا اُس نے اَندر والے حِصّے کو نہیں بنایا؟
LUK 11:41 چنانچہ جو کُچھ تمہارے اَندر ہے اُسے غریبوں کو دے دو، تو سَب کُچھ تمہارے لیٔے پاک صَاف ہو جائے گا۔
LUK 11:42 ”مگر اَے فریسیوں، تُم پر افسوس، تُم پودینہ، سَداب اَور سبزی ترکاری کا دسواں حِصّہ تو خُدا کو دیتے ہو لیکن دُوسری طرف اِنصاف کرنے سے اَور خُدا کی مَحَبّت سے غافل رہتے ہو۔ لازِم تُو یہ تھا کہ تُم پہلے والے کو بغیر چھوڑے پُورا کرتے اَور بعد والے کو بھی عَمل میں لاتے۔
LUK 11:43 ”اَے فریسیوں، تُم پر افسوس، کیونکہ تُم یہُودی عبادت گاہوں میں اعلیٰ درجہ کی کُرسیاں اَور بازاروں میں لوگوں سے اِحتراماً سلام پانا پسند کرتے ہو۔
LUK 11:44 ”تُم پر افسوس، تُم اُن پوشیدہ قبروں کی طرح ہو جِن پر سے لوگ اَنجانے میں پاؤں رکھتے ہویٔے گزر جاتے ہیں۔“
LUK 11:45 تَب شَریعت کے عالِموں میں سے ایک نے اُنہیں جَواب میں کہا، ”اَے اُستاد، یہ باتیں کہہ کر، آپ ہماری توہین کرتے ہیں۔“
LUK 11:46 یِسوعؔ نے فرمایا، ”اَے شَریعت کے عالِموں، تُم پر بھی افسوس کیونکہ تُم آدمیوں پر اَیسے بوجھ لادتے ہو جنہیں اُٹھانا بےحد مُشکل ہوتاہے اَور تُم خُود اَپنی ایک اُنگلی بھی اُن کی مدد کے واسطے نہیں اُٹھاتے۔
LUK 11:47 ”تُم پر افسوس، تُم تو نبیوں کی مزار تعمیر کرتے جنہیں تمہارے باپ دادا نے ہلاک کیا تھا۔
LUK 11:48 پس تُم گواہ ہو کہ تُم اَپنے باپ دادا کے کاموں کی پُوری تائید کرتے کیونکہ اُنہُوں نے تو نبیوں کو قتل کیا اَور تُم اُن نبیوں کی مزار تعمیر کرتے۔
LUK 11:49 اِس لیٔے خُدا کی حِکمت نے فرمایا، ’میں نبیوں اَور رسولوں کو اُن کے پاس بھیجوں گی۔ وہ اُن میں سے بعض کو قتل کر ڈالیں گے اَور بعض کو ستائیں گے۔‘
LUK 11:50 پس یہ مَوجُودہ نَسل سارے نبیوں کے اُس خُون کی جو دُنیا کے شروع سے بہایا گیا ہے، ذمّہ دار ٹھہرائی جائے گی۔
LUK 11:51 ہابلؔ کے خُون سے لے کر زکریاؔہ کے خُون تک جسے قُربان گاہ اَور پاک مَقدِس کے درمیان قتل کیا گیا تھا۔ ہاں! میں کہتا ہُوں کہ یہ نَسل ہی اُن کے خُون کی ذمّہ دار ٹھہرائی جائے گی۔
LUK 11:52 ”اَے شَریعت کے عالِموں تُم پر افسوس، تُم نے علم کی کُنجی چھین لی، تُم خُود بھی داخل نہ ہویٔے اَورجو داخل ہو رہے تھے اُنہیں بھی روک دیا۔“
LUK 11:53 جَب وہ وہاں سے باہر نِکلا تو شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی سخت مُخالف ہو گئے اَور نہایت غُصّہ میں چاروں طرف سے مُختلف سوالات کرنے لگے،
LUK 11:54 تاکہ اُنہیں اُن کے مُنہ سے نکلی ہویٔی کسی بات میں پکڑ لیں۔
LUK 12:1 اِسی دَوران ہزاروں آدمیوں کا مجمع لگ گیا، اَور جَب وہ ایک دُوسرے پر گِرے پڑ رہے تھے، تو یِسوعؔ نے سَب سے پہلے اَپنے شاگردوں، سے مُخاطِب ہوکر فرمایا: ”فریسیوں کے خمیر یعنی اُن کی ریاکاری سے خبردار رہنا۔
LUK 12:2 کویٔی چیز ڈھکی ہویٔی نہیں جو ظاہر نہ کی جائے گی اَور نہ ہی کویٔی چیز چھپی ہویٔی ہے جو ظاہر نہ کی جائے۔
LUK 12:3 اِس لیٔے جو باتیں تُم نے اَندھیرے میں کہی ہیں وہ رَوشنی میں سُنی جایٔیں گی اَورجو کُچھ تُم نے کوٹھریوں میں کسی کے کان میں کہا ہے، اُس کا اعلان چھتوں پر سے کیا جائے گا۔
LUK 12:4 ”دوستوں، میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُن سے مت ڈرو جو بَدن کو تو ہلاک کر سکتے ہیں اَور اُس کے بعد اَور کُچھ نہیں کر سکتے۔
LUK 12:5 لیکن مَیں تُمہیں جتائے دیتا ہُوں کہ کس سے ڈرنا چاہئے: اُس سے، جسے بَدن کو ہلاک کرنے، کے بعد اُسے جہنّم میں ڈال دینے کا اِختیار ہے۔ ہاں، میں تُم سے کہتا ہُوں، اُسی سے ڈرو۔
LUK 12:6 اگرچہ دو سِکّوں میں پانچ گوریّاں نہیں بکتیں لیکن خُدا اُن میں سے کسی کو بھی فراموش نہیں کرتا۔
LUK 12:7 یقیناً، تمہارے سَر کے سبھی بال بھی گنے ہُوئے ہیں۔ لہٰذا ڈرو مت؛ تمہاری قیمت تو بہت سِی گوریّوں سے بھی زِیادہ ہے۔
LUK 12:8 ”میں تُمہیں بتاتا ہُوں کہ جو کویٔی لوگوں کے سامنے میرا اقرار کرتا ہے، اِبن آدمؔ بھی خُدا کے فرشتوں کے رُوبرو اُس کا اقرار کرےگا۔
LUK 12:9 لیکن جو کویٔی آدمیوں کے سامنے میرا اِنکار کرتا ہے، اُس کا اِنکار خُدا کے فرشتوں کے سامنے کیا جائے گا۔
LUK 12:10 اگر کویٔی اِبن آدمؔ کے خِلاف کُچھ کہے گا تو، اُسے مُعاف کر دیا جائے گا لیکن جو پاک رُوح کے خِلاف کُفر بکے گا وہ ہرگز نہ بخشا جائے گا۔
LUK 12:11 ”جَب وہ تُمہیں یہُودی عبادت گاہوں میں حاکموں اَور صاحبِ اِختیاروں کے حُضُور میں لے جایٔیں تو فکر مت کرنا کہ ہم کیا کہیں اَور کیوں اَور کیسے جَواب دیں۔
LUK 12:12 کیونکہ پاک رُوح عَین وقت پر تُمہیں سِکھا دے گا کہ تُمہیں کیا کہنا ہے۔“
LUK 12:13 ہُجوم میں سے کسی نے اُن سے کہا، ”اَے اُستاد، میرے بھایٔی کو حُکم دے کہ وہ مِیراث میں سے میرا حِصّہ میرے حوالے کر دے۔“
LUK 12:14 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے اِنسان، کس نے مُجھے تمہارا مُنصِف یا ثالِثی مُقرّر کیا ہے؟“
LUK 12:15 اَور حُضُور نے اُن سے کہا، ”خبردار! ہر طرح کے لالچ سے دُور رہو؛ کسی کی زندگی کا اِنحصار اُس کے مال و دولت کی کثرت پر نہیں ہے۔“
LUK 12:16 تَب آپ نے اُنہیں یہ تمثیل سُنایٔی: ”کسی دولتمند کی زمین میں بڑی فصل ہویٔی۔
LUK 12:17 اَور وہ دِل ہی دِل میں سوچ کر کہنے لگا، ’میں کیا کروں؟ میرے پاس جگہ نہیں ہے جہاں میں اَپنی پیداوار جمع کر سکوں۔‘
LUK 12:18 ”پھر اُس نے کہا، ’میں ایک کام کروں گا کہ اَپنے کھتّے ڈھا کر نئے اَور بڑے کھتّے بناؤں گا اَور اُس میں اَپنا تمام اناج اَور مال و اَسباب بھر دُوں گا۔
LUK 12:19 پھر اَپنی جان سے کہُوں گا، ”اَے جان تیرے پاس کیٔی برسوں کے لیٔے مال جمع ہے۔ آرام سے رہ، کھا پی اَور عیش کر۔“ ‘
LUK 12:20 ”مگر خُدا نے اُس سے کہا، ’اَے نادان! اِسی رات تیری جان تُجھ سے طلب کرلی جائے گی۔ پس جو کُچھ تُونے جمع کیا ہے وہ کس کے کام آئے گا؟‘
LUK 12:21 ”چنانچہ جو اَپنے لیٔے تو خزانہ جمع کرتا ہے لیکن خُدا کی نظر میں دولتمند نہیں بنتا اُس کا بھی یہی حال ہوگا۔“
LUK 12:22 تَب یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے کہا: ”یہی وجہ ہے کہ میں تُم سے کہتا ہُوں، نہ تو اَپنی جان کی فکر کرو، کہ تُم کیا کھاؤگے؛ نہ اَپنے بَدن کی، کہ تُم کیا پہنوگے۔
LUK 12:23 کیونکہ جان خُوراک سے اَور بَدن پوشاک سے بڑھ کر ہے۔
LUK 12:24 کوّوں پر غور کرو جو نہ تو بوتے ہیں اَور نہ ہی فصل کو کاٹ کر کھتّوں میں جمع کرتے ہیں، نہ اُن کے پاس گودام ہوتاہے نہ کھتّا، تو بھی خُدا اُنہیں کھِلاتاہے۔ تُم تو پرندوں سے بھی زِیادہ قدر و قیمت والے ہو۔
LUK 12:25 تُم میں اَیسا کون ہے جو فکر کرکے اَپنی عمر میں گھڑی بھر کا بھی اِضافہ کر سکے؟
LUK 12:26 پس جَب تُم یہ چُھوٹی سِی بات بھی نہیں کر سکتے تو باقی چیزوں کی فکر کس لیٔے کرتے ہو۔
LUK 12:27 ”سوسن کے پھُولوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں؟ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں تو بھی میں تُم سے کہتا ہُوں کہ بادشاہ شُلومونؔ بھی اَپنی ساری شان و شوکت کے باوُجُود اُن میں سے کسی کی طرح مُلبّس نہ تھے۔
LUK 12:28 پس جَب خُدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اَور کل تنور میں جھونکی جاتی ہے، اَیسی پوشاک پہناتاہے، تو اَے کم ایمان والو! کیا وہ تُمہیں بہتر پوشاک نہ پہنائے گا؟
LUK 12:29 اَور اِس فکر میں مُبتلا مت رہو کہ تُم کیا کھاؤگے اَور کیا پیوگے۔ اِن چیزوں کے بارے میں فکر مت کرو۔
LUK 12:30 کیونکہ دُنیا کی ساری غَیرقومیں اِن چیزوں کی جُستُجو میں لگی رہتی ہیں لیکن تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تُمہیں اِن چیزوں کی ضروُرت ہے۔
LUK 12:31 بَلکہ پہلے خُدا کی بادشاہی کی تلاش کرو تو یہ چیزیں بھی تُمہیں دے دی جایٔیں گی۔
LUK 12:32 ”اَے چُھوٹے گلّے! ڈر مت! کیونکہ تمہارے آسمانی باپ کی خُوشی اِسی میں ہے کہ وہ تُمہیں بادشاہی عطا فرمائے۔
LUK 12:33 اَپنا مال و اَسباب بیچ کر خیرات کر دو اَور اَپنے لیٔے اَیسے بٹوے بناؤ جو پُرانے نہیں ہوتے اَور نہ پھٹتے ہیں یعنی آسمان پر خزانہ جمع کرو جو ختم نہیں ہوتا، جہاں چور نہیں پہُنچ سَکتا اَور جِس میں کیڑا نہیں لگتا۔
LUK 12:34 کیونکہ جہاں تمہارا خزانہ ہے وہیں تمہارا دِل بھی لگا رہے گا۔
LUK 12:35 ”خدمت کے لیٔے کمربستہ رہو اَور اَپنا چراغ جَلائے رکھو۔
LUK 12:36 اَور اُن خادِموں کی طرح بنو، جو اَپنے مالک کی شادی کی ضیافت سے لَوٹنے کا اِنتظار کر رہے ہوں تاکہ جَب وہ آئے اَور دروازہ کھٹکھٹائے تو فوراً اُس کے لیٔے دروازہ کھول دیں۔
LUK 12:37 وہ سبھی خادِم مُبارک ہیں جنہیں اُن کا مالک اَپنی واپسی پر جاگتا ہُوا چَوکَس پایٔے۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ مالک خُود کمربستہ ہوکر اُنہیں دسترخوان پر بِٹھاتے گا اَور پاس آکر اُن کی خدمت کرےگا۔
LUK 12:38 مُبارک ہیں وہ خادِم، جنہیں اُن کا مالک رات کے دُوسرے یا تیسرے پہر میں بھی آکر اُن کو خُوب چَوکَس پایٔے۔
LUK 12:39 لیکن یہ جان لو کہ اگر گھر کے مالک کو مَعلُوم ہو تاکہ چور کِس گھڑی آئے گا تو وہ اَپنے گھر میں نقب نہ لگنے دیتا۔
LUK 12:40 پس تُم بھی تیّار رہو کیونکہ جِس گھڑی تُمہیں اُمّید تک نہ ہوگی اِبن آدمؔ اُسی وقت آ جائے گا۔“
LUK 12:41 پطرس نے کہا، ”اَے خُداوؔند، یہ تمثیل جو تُونے کہی، صِرف ہمارے لیٔے ہے یا سَب کے لیٔے ہے؟“
LUK 12:42 خُداوؔند نے جَواب دیا، ”کون ہے وہ وفادار اَور عقلمند مُنتظِم، جِس کا مالک اُسے اَپنے گھر کے خادِم چاکروں پر مُقرّر کرے تاکہ وہ اُنہیں اُن کی خُوراک مُناسب وقت پر بانٹتا رہے؟
LUK 12:43 وہ خادِم مُبارک ہے جِس کا مالک آئے تو اُسے اَیسا ہی کرتے پایٔے۔
LUK 12:44 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اَپنی ساری مِلکیّت کی دیکھ بھال کا اِختیار اُس کے حوالے کر دے گا۔
LUK 12:45 لیکن اگر وہ خادِم اَپنے دِل میں یہ کہنے لگے، ’میرے مالک کے آنے میں ابھی دیر ہے‘ اَور دُوسرے خادِموں اَور خادِماؤں کو مارنا پیٹنا شروع کر دے اَور خُود کھا پی کرنشے میں متوالا رہنے لگے؟
LUK 12:46 تو اُس خادِم کا مالک کسی اَیسے دِن واپس آ جائے گا، جِس کی اُسے اُمّید نہ ہوگی، اَور جِس گھڑی کی اُسے خبر نہ ہوگی۔ تو وہ اُسے غضبناک سزا دے گا اَور اُس کا اَنجام بےاِعتقادوں جَیسا ہوگا۔
LUK 12:47 ”اگر وہ خادِم جو اَپنے مالک کی مرضی جان لینے کے باوُجُود بھی تیّار نہیں رہتا اَور نہ ہی اَپنے مالک کی مرضی کے مُطابق عَمل کرتا ہے تو وہ خادِم بہت مار کھائے گا۔
LUK 12:48 مگر جِس نے اَپنے مالک کی مرضی کو جانے بغیر مار کھانے کے کام کیٔے وہ کم مار کھائے گا۔ پس جسے زِیادہ دیا گیا ہے اُس سے اُمّید بھی زِیادہ کی جائے گی اَور جِس کے پاس زِیادہ سونپا گیا ہے اُس سے طلب بھی زِیادہ ہی کیا جائے گا۔
LUK 12:49 ”میں زمین پر آگ برسانے آیا ہُوں۔ کاش یہ پہلے سے ہی بھڑک رہی ہوتی تو کِتنا اَچھّا ہوتا!
LUK 12:50 لیکن مُجھے ایک پاک غُسل لیناہے اَور جَب تک لے نہیں لیتا، میں بہت درد میں رہُوں گا!
LUK 12:51 کیا تُم سوچتے ہو کہ میں زمین پر صُلح قائِم کرانے آیا ہُوں؟ نہیں، میں تو لوگوں کو ایک دُوسرے سے جُدا کرانے آیا ہُوں۔
LUK 12:52 کیونکہ اَب سے ایک گھر کے ہی پانچ آدمیوں میں مُخالفت پیدا ہو جائے گی۔ تین، دو کے اَور دو، تین کے مُخالف ہو جایٔیں گے۔
LUK 12:53 باپ بیٹے کے خِلاف ہوگا اَور بیٹا باپ کے؛ اَور ماں بیٹی کے، اَور بیٹی ماں کے؛ ساس بہُو کے اَور بہُو ساس کے خِلاف ہوگی۔“
LUK 12:54 پھر یِسوعؔ نے ہُجوم سے کہا: ”جَب تُم بادل کو مغرب سے اُٹھتے دیکھتے تو ایک دَم کہنے لگتے ہو ’بارش آئے گی،‘ اَور اَیسا ہی ہوتاہے۔
LUK 12:55 اَور جَب جُنوبی ہَوا چلنے لگتی ہے، تو تُم کہتے ہو، ’گرمی ہوگی،‘ اَور اَیسا ہی ہوتاہے۔
LUK 12:56 اَے ریاکاروں! تُم زمین اَور آسمان کی صورت دیکھ کر موسم کا اَندازہ لگانا تو جانتے ہو لیکن مَوجُودہ زمانہ کی علامات کے بارے میں کیوں غور نہیں کرتے؟
LUK 12:57 ”تُم خُود ہی اَپنے لیٔے فیصلہ کیوں نہیں کرلیتے کہ ٹھیک کیا ہے؟
LUK 12:58 جَب تو اَپنے دُشمن کے ساتھ مُنصِف کے پاس راستہ میں جا رہاہے تو راستہ ہی میں اُس سے چھُٹکارا حاصل کر لے، کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ تُجھے مُنصِف کے حوالے کر دے اَور مُنصِف تُجھے سپاہی کے سُپرد کر دے اَور سپاہی تُجھے قَیدخانہ میں ڈال دے۔
LUK 12:59 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ جَب تک تُم ایک ایک پیسہ اَدا نہ کر دوگے، وہاں سے ہرگز نکل نہ پاؤگے۔“
LUK 13:1 اُس وقت بعض لوگ وہاں شریک تھے جو یِسوعؔ کو اُن گلِیلیوں کے بارے میں بتانے لگے جِن کے خُون کو پِیلاطُسؔ نے اُن کی قُربانی کے ساتھ میں مِلایا تھا۔
LUK 13:2 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا تُم یہ سمجھتے ہو کہ اِن گلِیلیوں کا اَیسا بُرا اَنجام اِس لیٔے ہُوا کہ وہ باقی سارے گلِیلیوں سے زِیادہ گُنہگار تھے؟ اِس لیٔے اُن کے ساتھ اَیسا ہُوا
LUK 13:3 میں تُم سے کہتا ہُوں، کہ نہیں! بَلکہ اگر تُم بھی تَوبہ نہ کروگے تو سَب کے سَب اِسی طرح ہلاک جاؤگے۔
LUK 13:4 یا کیا وہ اٹھّارہ جِن پر سِلومؔ کا بُرج گرا اَور وہ دَب کر مَر گیٔے یروشلیمؔ کے باقی باشِندوں سے زِیادہ قُصُوروار تھے؟
LUK 13:5 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہیں! بَلکہ اگر تُم تَوبہ نہ کروگے تو تُم سَب بھی اِسی طرح ہلاک ہوگے۔“
LUK 13:6 اِس کے بعد یِسوعؔ نے اُنہیں یہ تمثیل سُنایٔی: ”کسی آدمی نے اَپنے انگوری باغ میں اَنجیر کا درخت لگا رکھا تھا، وہ اُس میں پھل ڈھونڈنے آیا مگر ایک بھی پھل نہ پایا۔
LUK 13:7 تَب اُس نے باغبان سے کہا، دیکھ، ’میں پچھلے تین بَرس سے اِس اَنجیر کے درخت میں پھل ڈھونڈنے آتا رہا ہُوں اَور کُچھ نہیں پاتا ہُوں۔ اِسے کاٹ ڈال! یہ کیوں جگہ گھیرے ہُوئے ہے؟‘
LUK 13:8 ”لیکن باغبان نے جَواب میں اُس سے کہا، ’مالک،‘ اِسے اِس سال اَور باقی رہنے دے، ’میں اِس کے اِردگرد کھُدائی کرکے کھاد ڈالُوں گا۔
LUK 13:9 اگر یہ اگلے سال پھل لایا تو خیر ہے ورنہ اِسے کٹوا ڈالنا۔‘ “
LUK 13:10 ایک سَبت کے دِن یِسوعؔ کسی یہُودی عبادت گاہ میں تعلیم دے رہے تھے۔
LUK 13:11 وہاں ایک عورت تھی جسے اٹھّارہ بَرس سے ایک بدرُوح نے اِس قدر مفلُوج کر دیا تھا کہ وہ کُبڑی ہو گئی تھی اَور کسی طرح سیدھی نہ ہو سکتی تھی۔
LUK 13:12 جَب یِسوعؔ نے اُسے دیکھا تو اُسے سامنے بُلایا اَور کہا، ”اَے خاتُون، تُو اَپنی کمزوری سے آزاد ہو گئی۔“
LUK 13:13 تَب یِسوعؔ نے اُس پر اَپنا ہاتھ رکھا اَور وہ فوراً سیدھی ہو گئی اَور خُدا کی تمجید کرنے لگی۔
LUK 13:14 لیکن یہُودی عبادت گاہ کا رہنما خفا ہو گیا کیونکہ، یِسوعؔ نے سَبت کے دِن اُسے شفا دی تھی، اَور لوگوں سے کہنے لگاکہ، ”کام کرنے کے لیٔے چھ دِن ہیں اِس لیٔے اُن ہی دِنوں میں شفا پانے کے لیٔے آیا کرو نہ کہ سَبت کے دِن۔“
LUK 13:15 خُداوؔند نے اُسے جَواب دیا، ”اَے ریاکاروں! کیا تُم میں سے ہر ایک سَبت کے دِن اَپنے بَیل یا گدھے کو تھان سے کھول کر پانی پِلانے کے لیٔے نہیں لے جاتا؟
LUK 13:16 تو کیا یہ مُناسب نہ تھا کہ یہ عورت جو اَبراہامؔ کی بیٹی ہے جسے شیطان نے اٹھّارہ بَرس سے باندھ کر رکھا ہے، سَبت کے دِن اِس قَید سے چھُڑائی جاتی؟“
LUK 13:17 جَب یِسوعؔ نے یہ باتیں کہیں تو اُن کے سَب مُخالف شرمندہ ہو گئے لیکن سَب لوگ یِسوعؔ کے ہاتھوں سے ہونے والے حیرت اَنگیز کاموں کو دیکھ کر خُوش تھے۔
LUK 13:18 تَب یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”خُدا کی بادشاہی کس چیز کے مانِند ہے اَور مَیں اِسے کس چیز سے تشبیہ دُوں؟
LUK 13:19 وہ رائی کے دانے کی مانِند ہے جسے ایک شخص نے لے کر اَپنے باغ میں بو دیا۔ وہ اُگ کر اِتنا بڑا پَودا ہو گیا، کہ ہَوا کے پرندے اُس کی ڈالیوں پر بسیرا کرنے لگے۔“
LUK 13:20 یِسوعؔ نے پھر سے پُوچھا، ”میں خُدا کی بادشاہی کو کس سے تشبیہ دُوں؟
LUK 13:21 وہ خمیر کی مانِند ہے جسے ایک خاتُون نے لے کر 27 کِلو آٹے میں مِلا دیا اَور یہاں تک کہ سارا آٹا خمیر ہو گیا۔“
LUK 13:22 تَب یِسوعؔ یروشلیمؔ کے سفر پر نکلے اَور راستے میں آنے والے گاؤں اَور شہروں میں تعلیم دیتے چلے۔
LUK 13:23 کسی شخص نے آپ سے پُوچھا، ”اَے خُداوؔند، کیا تھوڑے سے لوگ ہی نَجات پا سکیں گے؟“ آپ نے اُسے جَواب دیا،
LUK 13:24 ”تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پُوری کوشش کرو کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ بہت سے لوگ اَندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن جانا ممکن نہ ہوگا۔
LUK 13:25 جَب گھر کا مالک ایک دفعہ اُٹھ کر دروازہ بند کر دیتاہے اَور تُم باہر کھڑے ہوکر کھٹکھٹاتے اَور درخواست کرتے رہوگے کہ، ’مالک، مہربانی کرکے ہمارے لیٔے دروازہ کھول دیجئے۔‘ ”لیکن وہ جَواب دے گا، ’میں تُمہیں نہیں جانتا کہ تُم کون ہو اَور کہاں سے آئے ہو؟‘
LUK 13:26 ”تَب تُم کہنے لگوگے، ’ہم نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا اَور پیا اَور آپ ہمارے گلی کُوچوں میں تعلیم دیتے تھے۔‘
LUK 13:27 ”لیکن وہ تُم سے کہے گا، ’میں تُمہیں نہیں جانتا کہ تُم کون اَور کہاں سے آئے ہو۔ اَے بدکاروں، تُم سَب مُجھ سے دُورہو جاؤ!‘
LUK 13:28 ”جَب تُم اَبراہامؔ، اِصحاقؔ، یعقوب اَور سَب نبیوں کو خُدا کی بادشاہی میں شریک دیکھوگے اَور خُود کو باہر نکالے ہویٔے پاؤگے تو روتے اَور دانت پیستے رہ جاؤگے۔
LUK 13:29 لوگ مشرق اَور مغرب، شمال اَور جُنوب سے آکر خُدا کی بادشاہی کی ضیافت میں اَپنی اَپنی جگہ لے کر شرکت کریں گے۔
LUK 13:30 بے شک، بعض آخِر اَیسے ہیں جو اوّل ہوں گے اَور بعض اوّل اَیسے ہیں جو آخِر ہو جایٔیں گے۔“
LUK 13:31 اُسی وقت بعض فرِیسی یِسوعؔ کے پاس آئے اَور کہنے لگے، ”یہاں سے نکل کر کہیں اَور چلے جائیے کیونکہ ہیرودیسؔ آپ کو قتل کروانا چاہتاہے۔“
LUK 13:32 لیکن آپ نے اُن سے کہا، ”اُس لومڑی سے جا کر یہ کہہ دو، ’میں آج اَور کل بدرُوحوں کو نکالنے اَور مَریضوں کو شفا دینے کا کام کرتا رہُوں گا اَور تیسرے دِن اَپنی مَنزل پر پہُنچ جاؤں گا۔‘
LUK 13:33 پس مُجھے آج، کل اَور پرسوں اَپنا سفر جاری رکھناہے۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ کویٔی نبی یروشلیمؔ سے باہر ہلاک ہو!
LUK 13:34 ”اَے یروشلیمؔ! اَے یروشلیمؔ! تُو جو نبیوں کو قتل کرتی ہے اَورجو تیرے پاس بھیجے گیٔے اُنہیں سنگسار کر ڈالتی ہے۔ مَیں نے کیٔی دفعہ چاہا کہ تیرے بچّوں کو ایک ساتھ جمع کرلُوں، جِس طرح مُرغی اَپنے چُوزوں کو اَپنے پروں کے نیچے جمع کر لیتی ہے، لیکن تُم نے نہ چاہا۔
LUK 13:35 دیکھو، تمہارا گھر تمہارے ہی لیٔے اُجاڑ چھوڑا جا رہاہے اَور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ تُم مُجھے اُس وقت تک ہرگز نہ دیکھوگے جَب تک یہ نہ کہو گے، ’مُبارک ہے وہ جو خُداوؔند کے نام سے آتا ہے۔‘“
LUK 14:1 ایک دفعہ سَبت کے دِن، یِسوعؔ کسی فرِیسی رہنما کے گھر کھانا کھانے گیٔے تو کیٔی فریسیوں کی نظر اُن پر تھی۔
LUK 14:2 وہاں ایک جلندری سُوجن کی بیماری کا مریض بھی آپ کے سامنے بیٹھا تھا۔
LUK 14:3 یِسوعؔ نے فریسیوں اَور شَریعت کے عالِموں سے پُوچھا، ”سَبت کے دِن شفا دینا جائز ہے یا نہیں؟“
LUK 14:4 لیکن سَب خاموش رہے، تَب یِسوعؔ نے اُس شخص کو چھُو کر شفا بخشی اَور رخصت کر دیا۔
LUK 14:5 اَور تَب اُن سے پُوچھا، ”اگر تُم میں سے کسی کا گدھا یا بَیل کنویں میں گِر پڑے اَور تو کیا وہ سَبت کے دِن اُسے فوراً باہر نہ نکالے گا؟“
LUK 14:6 اَور وہ اُن باتوں کا جَواب نہ دے سکے۔
LUK 14:7 جَب یِسوعؔ نے دیکھا کہ جو لوگ کھانے پر بُلائے گیٔے تھے کس طرح مخصُوص نشِستوں کی تلاش میں ہیں تو آپ نے اُن سے ایک تمثیل کہی:
LUK 14:8 ”جَب کویٔی تُجھے شادی کی ضیافت پر بُلائے تو مہمان خصوصی کی جگہ پر نہ بیٹھ، ہو سَکتا ہے کہ کویٔی تُجھ سے بھی زِیادہ مُعزّز شخص بُلایا گیا ہو۔
LUK 14:9 اَور تُم دونوں کو بُلانے والا وہاں آکر تُجھ سے کہے کہ یہ جگہ اُس کے لیٔے ہے، ’تو تُجھے شرمندہ ہوکر اُٹھنا پڑےگا‘ اَور سَب سے، پیچھے بیٹھنا پڑےگا۔
LUK 14:10 بَلکہ جَب بھی تُو کسی دعوت پر بُلایا جائے تو سَب سے پچھلی جگہ بیٹھ جاتا کہ جَب تیرا میزبان وہاں آئے تو تُجھ سے کہے، ’دوست، سامنے جا کر بیٹھ۔‘ تَب سارے مہمانوں کے سامنے تیری کتنی عزّت ہوگی۔
LUK 14:11 کیونکہ جو کویٔی اَپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اَورجو اَپنے آپ کو حلیم بنائے گا وہ بڑا کیا جائے گا۔“
LUK 14:12 پھر یِسوعؔ نے اَپنے میزبان سے کہا، ”جَب تو دوپہر کا یا رات کا کھانا پکوائے، تُو اَپنے دوستوں، بھائیوں یا بہنوں، رشتہ داروں یا اَمیر پڑوسیوں کو نہ بُلا؛ کیونکہ وہ بھی تُجھے بُلاکر، تیرا اِحسَان چُکا سکتے ہیں۔
LUK 14:13 بَلکہ جَب تُو ضیافت کرے تو غریبوں، ٹُنڈوں، لنگڑوں، اَور اَندھوں کو بُلا،
LUK 14:14 اَور تُو برکت پایٔےگا۔ کیونکہ اُن کے پاس کُچھ نہیں جِس سے وہ تیرا اِحسَان چُکا سکیں، لیکن تُجھے اِس اِحسَان کا بدلہ راستبازوں کی قیامت کے دِن ملے گا۔“
LUK 14:15 مہمانوں میں سے ایک نے یہ باتیں سُن کر یِسوعؔ سے کہا، ”خُدا کی بادشاہی میں کھانا کھانے والا بڑا مُبارک ہوگا۔“
LUK 14:16 یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا: ”کسی شخص نے ایک بڑی ضیافت کی اَور بہت سے لوگوں کو بُلایا۔
LUK 14:17 جَب کھانے کا وقت ہو گیا تو اُس نے اَپنے خادِم کو بھیجا کہ مہمانوں سے کہے، ’آؤ اَب، سَب کُچھ تیّار ہے۔‘
LUK 14:18 ”لیکن سَب نے مِل کر بہانا بنانا شروع کر دیا۔ پہلے نے اُس سے کہا، ’مَیں نے حال ہی میں کھیت مول لیا ہے، اَور میرا اُسے دیکھنے جانا ضروُری ہے۔ میں معذرت چاہتا ہُوں۔‘
LUK 14:19 ”دُوسرے نے کہا، ’مَیں نے ابھی پانچ جوڑی بَیل خریدے ہیں، اَور مَیں اُنہیں آزمانے جا رہا ہُوں۔ میں معذرت چاہتا ہُوں۔‘
LUK 14:20 ”ایک اَور نے کہا، ’مَیں نے ابھی بیاہ کیا ہے اِس لیٔے میرا آنا ممکن نہیں۔‘
LUK 14:21 ”تَب خادِم نے واپس آکر یہ ساری باتیں اَپنے مالک کو بتائیں۔ گھر کے مالک کو بڑا غُصّہ آیا، اُس نے اَپنے خادِم کو حُکم دیا، ’جلدی کر اَور شہر کے گلی کُوچوں میں جا کر غریبوں، ٹُنڈوں، اَندھوں اَور لنگڑوں کو یہاں لے۔‘
LUK 14:22 ”خادِم نے کہا، ’اَے مالک، آپ کے کہنے کے مُطابق عَمل کیا گیا لیکن ابھی بھی جگہ خالی ہے۔‘
LUK 14:23 ”مالک نے خادِم سے کہا، ’راستوں اَور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اَور لوگوں کو مجبُور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے۔
LUK 14:24 کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو پہلے بُلائے گیٔے تھے، اُن میں سے ایک بھی میری ضیافت کا کھانا چَکھنے نہ پایٔےگا۔‘ “
LUK 14:25 لوگوں کا ایک بڑا ہُجوم یِسوعؔ کے ساتھ چل رہاتھا اَور آپ نے مُڑ کر اُن سے کہا،
LUK 14:26 ”اگر کویٔی میرے پاس آتا ہے لیکن اُس مَحَبّت کو جو وہ اَپنے والدین، بیوی بچّوں اَور بھایٔی بہنوں اَور اَپنی جان سے عزیز رکھتا ہے، اَور اُسے قُربان نہیں کر سَکتا تو وہ میرا شاگرد نہیں ہو سَکتا۔
LUK 14:27 اَورجو شخص اَپنی صلیب اُٹھاکر میرے پیچھے نہیں آتا وہ میرا شاگرد نہیں ہو سَکتا۔
LUK 14:28 ”مان لو کہ تُم میں سے کویٔی بُرج بنانا چاہتاہے۔ اَور پہلے بیٹھ کر کیا وہ یہ نہیں سوچےگا کہ اُس کی تعمیر پر کِتنا خرچ آئے گا اَور کیا اُس کے پاس اُتنی رقم ہے کہ بُرج مُکمّل ہو جائے؟
LUK 14:29 کہیں اگر تُم بُنیاد ڈال دو اَور اُسے مُکمّل نہ کر سکو تو سبھی دیکھنے والے تمہاری ہنسی اُڑائیں گے،
LUK 14:30 اَور کہیں گے، ’اِس آدمی نے عمارت شروع تو کی لیکن اُسے مُکمّل نہ کر سَکا۔‘
LUK 14:31 ”یا فرض کرو کہ ایک بادشاہ کسی دُوسرے بادشاہ سے جنگ کرنے جا رہاہے تو کیا وہ پہلے بیٹھ کر مشورہ نہ کرےگا کہ کیا میں دس ہزار فَوجیوں سے اُس کا مُقابلہ کر سکوں گا جو بیس ہزار فَوجیوں کے ساتھ حملہ کرنے آ رہاہے؟
LUK 14:32 اگر وہ اِس قابل نہیں تو وہ اُس بادشاہ کے پاس جو ابھی دُور ہے، ایلچی بھیج کر صُلح کی درخواست کرےگا۔
LUK 14:33 اِسی طرح اگر تُم میں سے کویٔی اَپنا سَب کُچھ چھوڑ نہ دے، میرا شاگرد نہیں ہو سَکتا۔
LUK 14:34 ”نمک اَچھّی چیز ہے، لیکن اگر نمک کی نمکینی جاتی رہے، تو اُسے کس چیز سے نمکین کیا جائے گا؟
LUK 14:35 نہ تو وہ زمین کے کسی کام کا رہا نہ کھاد کے؛ لوگ اُسے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ ”جِس کے پاس سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے۔“
LUK 15:1 بہت سے محصُول لینے والے اَور گُنہگار لوگ یِسوعؔ کے پاس اُن کا کلام سُننے جمع ہو رہے تھے۔
LUK 15:2 لیکن فرِیسی اَور شَریعت کے عالِم بتانے لگے، ”یہ آدمی گُنہگاروں سے میل جول رکھتا ہے اَور اُن کے ساتھ کھاتا پیتا بھی ہے۔“
LUK 15:3 تَب یِسوعؔ نے اُنہیں یہ تمثیل سُنایٔی:
LUK 15:4 ”فرض کرو کہ تُم میں سے کسی کے پاس سَو بھیڑیں ہوں اَور اُن میں سے ایک کھو جائے۔ تو وہ کیا باقی نِنانوے بھیڑوں کو بیابان میں چھوڑکر اُس کھوئی ہُوئی بھیڑ کو جَب تک مِل نہ جائے تلاش نہ کرتا رہے گا؟
LUK 15:5 اَور جَب وہ مِل جاتی ہے تو خُوشی سے اَپنے کندھوں پر اُٹھا لیتا ہے
LUK 15:6 اَور گھرجاکر۔ اَپنے دوستوں اَور پڑوسیوں کو جمع کرتا ہے اَور کہتاہے، ’میرے ساتھ مِل کر خُوشی مناؤ کیونکہ میری کھوئی ہویٔی بھیڑ مِل گئی ہے۔‘
LUK 15:7 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِسی طرح سے ایک تَوبہ کرنے والے گُنہگار کے باعث آسمان پر زِیادہ خُوشی منائی جائے گی لیکن نِنانوے اَیسے راستبازوں کی نِسبت خُوشی نہیں منائی جائے گی جو سوچتے ہَیں کہ اُنہیں تَوبہ کرنے کی ضروُرت نہیں ہے۔
LUK 15:8 ”یا فرض کرو کہ کسی عورت کے پاس چاندی کے دس سِکّے ہوں اَور ایک کھو جائے تو کیا وہ چراغ جَلا کر، گھر میں جھاڑو نہ لگاتی رہے گی اَور جَب تک مِل نہ جائے اُسے ڈھونڈتی نہ رہے گی؟
LUK 15:9 اَور ڈھونڈ لینے کے بعد وہ اَپنی سہیلیوں اَور پڑوسیوں کو ساتھ بُلاکر یہ نہ کہےگی، ’میرے ساتھ مِل کر خُوشی مناؤ کیونکہ مَیں نے اَپنا کھویا ہُوا چاندی کا سِکّہ پالیاہے۔‘
LUK 15:10 پس میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِسی طرح ایک گُنہگار کے تَوبہ کرنے پر بھی خُدا کے فرشتوں کے درمیان خُوشی منائی جاتی ہے۔“
LUK 15:11 پھر یِسوعؔ نے کہا: ”کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔
LUK 15:12 اُن میں سے چُھوٹے نے اَپنے باپ سے کہا، ’اَے باپ، جائداد میں جو حِصّہ میرا ہے مُجھے دے دو۔‘ اِس لیٔے باپ نے اَپنی جائداد اُن میں بانٹ دی۔
LUK 15:13 ”تھوڑے دِنوں بعد، چُھوٹے بیٹے نے اَپنا سارا مال و متاع جمع کیا، اَور دُور کسی دُوسرے مُلک کو روانہ ہو گیا اَور وہاں اَپنی ساری دولت عیش و عشرت میں اُڑا دی۔“
LUK 15:14 جَب سَب کُچھ خرچ ہو گیا تو اُس مُلک میں ہر طرف سخت قحط پڑا اَور وہ مُحتاج ہو گیا۔
LUK 15:15 تَب وہ اُس مُلک کے ایک باشِندے کے پاس کام ڈھونڈنے پہُنچا۔ اُس نے اُسے اَپنے کھیتوں میں سُؤر چَرانے کے کام پر لگا دیا۔
LUK 15:16 وہاں وہ اُن پھلیوں سے جنہیں سُؤر کھاتے تھے، اَپنا پیٹ بھرنا چاہتا تھا لیکن کویٔی اُسے پھلیاں بھی کھانے کو نہیں دیتا تھا۔
LUK 15:17 ”تَب وہ ہوش میں آیا، اَور کہنے لگا، ’میرے باپ کے مزدُوروں کو ضروُرت سے بھی زِیادہ کھانا ملتا ہے لیکن مَیں یہاں بھُوک کی وجہ سے مَر رہا ہُوں!
LUK 15:18 میں اُٹھ کر اَپنے باپ کے پاس جاؤں گا اَور اُس سے کہُوں گا: اَے باپ! میں آسمانی خُدا کی نظر میں اَور تیری نظر میں گُنہگار ہُوں۔
LUK 15:19 اَب تو میں اِس لائق بھی نہیں رہا کہ تیرا بیٹا کہلا سکوں؛ مُجھے بھی اَپنے مزدُوروں میں شامل کر لے۔‘
LUK 15:20 پس وہ اُٹھا اَور اَپنے باپ کے پاس چل دیا۔ ”لیکن ابھی وہ کافی دُور ہی تھا، کہ اُس کے باپ نے اُسے دیکھ لیا اَور اُس کے باپ کو اُس پر بڑا ترس آیا؛ اَور اَپنے بیٹے کی طرف دَوڑکر، اُسے گلے لگا لیا اَور خُوب چُوما۔
LUK 15:21 ”بیٹے نے اَپنے باپ سے کہا، ’اَے باپ! میں آسمانی خُدا کی نظر میں اَور آپ کی نظر میں گُنہگار ہُوں، اَب تو میں اِس لائق بھی نہیں رہا کہ آپ کا بیٹا کہلا سکوں۔‘
LUK 15:22 ”مگر باپ نے اَپنے خادِموں سے کہا، ’جلدی کرو! اَور سَب سے پہلے ایک بہترین چوغہ لاکر اِسے پہناؤ۔ اَور اِس کے ہاتھ میں انگُوٹھی اَور پاؤں میں جُوتی پہناؤ۔
LUK 15:23 ایک موٹا تازہ بچھڑا لاکر ذبح کرو تاکہ ہم کھایٔیں اَور جَشن منائیں۔
LUK 15:24 کیونکہ میرا بیٹا جو مَر چُکاتھا، اَب وہ زندہ ہو گیا ہے، کھو گیا تھا، اَب مِلا ہے۔‘ پس سبھی خُوشی منانے لگے۔
LUK 15:25 ”اِس دَوران، بڑا بیٹا جو کھیت میں تھا، جَب وہ گھر کے نزدیک پہُنچا تو اُس نے گانے بجانے اَور ناچنے کی آواز سُنی۔
LUK 15:26 اِس لیٔے اُس نے ایک خادِم کو بُلایا اَور پُوچھا کہ یہ کیا ہو رہاہے؟
LUK 15:27 تیرا بھایٔی لَوٹ آیا ہے، اُس نے اُس سے کہا، ’اَور تیرے باپ نے ایک موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرایا ہے کیونکہ اُس نے اُسے صحیح سلامت واپس پالیاہے۔‘
LUK 15:28 ”لیکن بڑا بھایٔی خفا ہو گیا اَور اَندر نہیں جانا چاہتا تھا مگر اُس کا باپ باہر آکر اُسے منانے لگا۔
LUK 15:29 اُس نے باپ کو جَواب میں کہا، ’دیکھ! میں اِتنے برسوں سے تیری خدمت کر رہا ہُوں اَور کبھی تیری حُکم عُدولی نہیں کی مگر تُونے تو کبھی ایک بکری کا جَوان بچّہ بھی مُجھے نہیں دیا کہ اَپنے دوستوں کے ساتھ خُوشی مناتا۔
LUK 15:30 لیکن جَب تیرا یہ بیٹا تیرا سارا پُونجی طوائفوں پر لُٹا کر واپس آیا تو، تُونے اِس کے لیٔے ایک موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرایا ہے!‘
LUK 15:31 ” ’میرے بیٹے،‘ باپ نے اُس سے کہا، ’تو ہمیشہ میرے پاس ہے اَور میرا جو کُچھ بھی ہے سَب تیرا ہی ہے۔
LUK 15:32 لیکن ہمیں خُوشی منانا اَور شادمان ہونا مُناسب تھا کیونکہ تیرا یہ بھایٔی جو مَر چُکاتھا اَور اَب زندہ ہو گیا ہے؛ اَور کھو گیا تھا اَور اَب مِل گیا ہے۔‘ “
LUK 16:1 پھر یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے کہا: ”کسی اَمیر آدمی کا ایک مُنشی تھا۔ اُس کے لوگوں نے اُس کے مالک سے شکایت کی، کہ وہ تیرا مال غبن کر رہاہے۔
LUK 16:2 اِس لیٔے مالک نے اُسے اَندر بُلایا اَور کہا، ’یہ کیا بات ہے جو مَیں تمہارے بارے میں سُن رہا ہُوں؟ سارا حِساب کِتاب مُجھے دے، کیونکہ اَب سے تو میرا مُنشی نہیں رہے گا۔‘
LUK 16:3 ”مُنشی نے دِل میں سوچا، ’اَب مَیں کیا کروں؟ میرا مالک مُجھے کام سے نکال رہاہے۔ مُجھ میں مٹّی کھودنے کی طاقت تو نہیں ہے، اَور شرم کے مارے بھیک بھی نہیں مانگ سَکتا۔
LUK 16:4 میں جانتا ہُوں کہ مُجھے کیا کرنا ہوگا، کہ برطرف کیٔے جانے کے بعد بھی لوگ مُجھے اَپنے گھروں میں خُوشی سے قبُول کریں۔‘
LUK 16:5 ”پس اُس نے اَپنے مالک کے ایک ایک قرضدار کو طلب کیا، پہلے سے پُوچھا، ’تُجھ پر میرے مالک کی کتنی رقم باقی ہے؟‘
LUK 16:6 ” ’تین ہزار لیٹر زَیتُون کے تیل کی قیمت،‘ اُس نے جَواب دیا۔ ”مُنشی نے اُس سے کہا، ’یہ رہے تیرے کاغذات، بیٹھ کر جلدی سے، پندرہ سَو لیٹر بنادے۔‘
LUK 16:7 ”پھر دُوسرے سے پُوچھا، ’تُجھ پر کِتنا باقی ہے؟‘ ” ’تیس ٹن گیہُوں کے دام،‘ اُس نے جَواب دیا۔ ”اُس نے کہا، ’یہ رہے تیرے کاغذات، اَور اِسے چوبیس ٹن لِکھ دے۔‘
LUK 16:8 ”مالک نے اُس چالاک مُنشی کی تعریف کی، اِس لیٔے کہ اُس نے بڑی عیّاری سے کام لیا تھا کیونکہ اِس دُنیا کے فرزند دُنیا والوں کے ساتھ سودے بازی میں نُور کے فرزندوں سے زِیادہ عیّار ہیں۔
LUK 16:9 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ دُنیوی کمائی سے بھی اَپنے لیٔے دوست بنالو تاکہ جَب وہ جاتی رہے تو تمہارے دوست تُمہیں دائمی قِیام گاہوں میں جگہ فراہم کریں۔
LUK 16:10 ”جو بہت تھوڑے میں وفاداری کا مظاہرہ کرتا ہے وہ بہت زِیادہ میں بھی وفادار رہتاہے۔ اَورجو تھوڑے میں بےایمان ہے وہ زِیادہ میں بھی بےایمان ہے۔
LUK 16:11 پس اگر تُم دُنیا کی دُنیوی دولت کے مُعاملہ میں وفادار نہ ثابت ہُوئے تو حقیقی دولت کون تمہارے سُپرد کرےگا؟
LUK 16:12 اَور اگر تُم کسی دُوسرے کے مال میں وفادار نہ ٹھہرے تو جو تمہارا اَپنا ہے اُسے کون تُمہیں دے گا؟
LUK 16:13 ”کویٔی خادِم دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سَکتا، یا تو وہ ایک سے نفرت کرےگا اَور دُوسرے سے مَحَبّت یا ایک سے وفا کرےگا اَور دُوسرے کو حقارت کی نظر سے دیکھے گا۔ تُم خُدا اَور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔“
LUK 16:14 تَب زَر دوست فرِیسی یہ باتیں سُن کر یِسوعؔ کی ہنسی اُڑانے لگے۔
LUK 16:15 اُس نے اُن سے کہا، ”تُم وہ جو لوگوں کے سامنے اَپنے آپ کو بڑے راستباز ٹھہراتے لیکن خُدا تمہارے دِلوں کو جانتا ہے کیونکہ جو چیز آدمیوں کی نظر میں اعلیٰ ہے وہ خُدا کی نظر میں مکرُوہ ہے۔
LUK 16:16 ”توریت اَور نبیوں کی باتیں حضرت یُوحنّا تک قائِم رہیں اَور پھر اُس وقت سے خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری سُنایٔی جانے لگی اَور ہر کویٔی اُس میں داخل ہونے کی زبردست کوشش کر رہاہے۔
LUK 16:17 آسمان اَور زمین کا غائب ہو جانا آسان ہے لیکن توریت کا ایک شوشہ تک بھی مٹنا ممکن نہیں ہے۔
LUK 16:18 ”جو کویٔی اَپنی بیوی کو چھوڑکر کسی دُوسری سے شادی کرتا ہے، وہ زنا کرتا ہے اَورجو آدمی چھوڑی ہویٔی عورت سے شادی کرتا ہے وہ بھی زنا کا مُرتکب ہوتاہے۔
LUK 16:19 ”ایک بڑا اَمیر آدمی تھا جو اَرغوانی اَور نفیس قِسم کے سُوتی کپڑے اِستعمال کرتا تھا اَور ہر روز عیش و عشرت میں مگن رہتا تھا۔
LUK 16:20 ایک بھکاری آدمی جِس کا نام لعزؔر تھا، اُس کے پھاٹک پر پڑا رہتا تھا۔ اُس کا تمام جِسم پھوڑوں سے بھرا تھا۔
LUK 16:21 وہ چاہت رکھتا تھا کہ اَمیر آدمی کی میز سے گِرے ہویٔے ٹُکڑوں سے ہی اَپنا پیٹ بھر لے۔ اُس کی اَیسی حالت تھی کہ کُتّے بھی آکر اُس کے پھوڑے کو چاٹتے تھے۔
LUK 16:22 ”پھر اَیسا ہُوا کہ وقت کے مُطابق بھکاری آدمی مَر گیا اَور فرشتے اُسے اُٹھاکر حضرت اَبراہامؔ کے پاس میں پہُنچا دئیے وہ اَمیر آدمی بھی مَرا اَور دفنایا گیا۔
LUK 16:23 جَب، اُس نے عالمِ اَرواح میں عذاب میں مُبتلا ہوکر، اَپنی آنکھیں اُوپر اُٹھائیں تو دُور سے حضرت اَبراہامؔ کو دیکھا اَور یہ بھی کہ لعزؔر، اَبراہامؔ کے پاس میں ہے۔
LUK 16:24 اُس نے چِلّاکر کہا، ’اَے باپ اَبراہامؔ، مُجھ پر رحم کر اَور لعزؔر کو بھیج تاکہ وہ اَپنی اُنگلی کا سِرا پانی سے تر کرکے میری زبان کو ٹھنڈک پہُنچائے کیونکہ مَیں اِس آگ میں تڑپ رہا ہُوں۔‘
LUK 16:25 ”لیکن اَبراہامؔ نے کہا، ’بیٹا، یاد کر کہ تو اَپنی زندگی میں اَچھّی چیزیں حاصل کر چُکاہے اَور اِسی طرح لعزؔر بُری چیزیں، لیکن اَب وہ یہاں آرام سے ہے اَور تُم تڑپ رہے ہو۔
LUK 16:26 اَور اِن باتوں کے علاوہ، ہمارے اَور تمہارے درمیان ایک بڑا گڑھا واقع ہے تاکہ جو اُس پار تمہاری طرف جانا چاہیں، نہ جا سکیں اَورجو اِس پار ہماری طرف آنا چاہیں، نہ آ سکیں۔‘
LUK 16:27 ”اُس اَمیر آدمی نے کہا، ’اِس لیٔے اَے باپ، میں مِنّت کرتا ہُوں کہ آپ اُسے دُنیا میں میرے باپ کے گھر بھیج دیں،
LUK 16:28 جہاں میرے پانچ بھایٔی ہیں تاکہ وہ اُنہیں آگاہ کرے، کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ بھی اِس عذاب والی جگہ جایٔیں۔‘
LUK 16:29 ”لیکن حضرت اَبراہامؔ نے جَواب دیا، ’اُن کے پاس حضرت مَوشہ کی توریت اَور نبیوں کی کِتابیں تو ہیں، وہ اُن پر عَمل کریں۔‘
LUK 16:30 ” ’نہیں، اَے باپ اَبراہامؔ،‘ اُس نے کہا، ’اگر کویٔی مُردوں میں سے زندہ ہوکر اُن کے پاس جائے تو وہ تَوبہ کریں گے۔‘
LUK 16:31 ”لیکن حضرت اَبراہامؔ نے اُس سے کہا، ’جَب وہ حضرت مَوشہ اَور نبیوں کی نہیں سُنتے، تو اگر کویٔی مُردوں میں سے زندہ ہو جائے تَب بھی وہ قائل نہ ہوں گے۔‘ “
LUK 17:1 تَب یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے کہا: ”یہ ناممکن ہے کہ لوگوں کو ٹھوکریں نہ لگیں لیکن افسوس ہے اُس شخص پرجو اِن ٹھوکروں کا باعث بنا۔
LUK 17:2 اُس کے لیٔے یہی بہتر تھا کہ چکّی کا بھاری سا بھاری پتّھر اُس کی گردن سے لٹکا کر اُسے سمُندر میں پھینک دیا جاتا تاکہ وہ اِن چُھوٹوں میں سے کسی کے ٹھوکر کھانے کا باعث نہ بنتا۔
LUK 17:3 پس خبردار رہو۔ ”اگر تیرا بھایٔی یا بہن گُناہ کرتا ہے تو اُسے ملامت کر اَور اگر وہ تَوبہ کرے تو اُسے مُعاف کر دے۔
LUK 17:4 اگر وہ ایک دِن میں سات دفعہ بھی تیرے خِلاف گُناہ کرے اَور ساتوں دفعہ تیرے پاس آکر کہے کہ ’میں تَوبہ کرتا ہُوں،‘ تو تُو اُسے مُعاف کردینا۔“
LUK 17:5 رسولوں نے خُداوؔند سے کہا، ”ہمارے ایمان کو بڑھا۔“
LUK 17:6 خُداوؔند نے کہا، ”اگر تمہارا ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی ہوتا، تو تُم اِس شہتوت کے درخت سے کہہ سکتے تھے، ’یہاں سے اُکھڑ جا اَور سمُندر میں جا لگ،‘ تو وہ تمہارا حُکم مان لیتا۔
LUK 17:7 ”فرض کرو کہ تُم میں سے کسی ایک کے پاس خادِم ہے جو زمین جوتتا یا بھیڑ چَراتا اَور جَب وہ کھیت سے آئے تو اُس سے کہے کہ، ’جلدی سے میرے پاس آ جا اَور دسترخوان پر کھانے بیٹھ جا‘؟
LUK 17:8 کیا وہ یہ نہ کہے گا، ’میرا کھانا تیّار کر، اَور جَب تک میں کھا پی نہ لُوں؛ کمربستہ ہوکر میری خدمت میں لگا رہ۔ اِس کے بعد تو بھی کھا پی لینا‘؟
LUK 17:9 کیا وہ اِس لیٔے خادِم کا شُکر اَدا کرےگا کہ اُس نے وُہی کیا جو اُسے کرنے کو کہا گیا تھا؟
LUK 17:10 اِسی طرح، جَب تُم بھی اِن باتوں کی تعمیل کر چُکو جِن کے کرنے کا تُمہیں حُکم دیا گیا تھا تو کہو، ’ہم نکمّے خادِم ہیں؛ جو کام ہمیں دیا گیا تھا ہم نے وُہی کیا۔‘ “
LUK 17:11 یِسوعؔ یروشلیمؔ کی طرف سفر کرتے ہویٔے سامریہؔ اَور گلِیل کی سرحد سے ہوکر گزر رہے تھے۔
LUK 17:12 جَب وہ ایک گاؤں میں داخل ہویٔے تو اُنہیں دس کوڑھی ملے جو دُور کھڑے ہویٔے تھے۔
LUK 17:13 اُنہُوں نے بُلند آواز سے کہا، ”اَے یِسوعؔ، اَے آقا، ہم پر رحم کیجئے!“
LUK 17:14 یِسوعؔ نے اُنہیں دیکھ کر کہا، ”جاؤ، اَپنے آپ کو کاہِنوں کو دِکھاؤ اَور اَیسا ہُوا کہ وہ جاتے جاتے کوڑھ سے پاک صَاف ہو گئے۔“
LUK 17:15 لیکن اُن میں سے ایک یہ دیکھ کر کہ وہ شفا پاگیا، بُلند آواز سے خُدا کی تمجید کرتا ہُوا واپس آیا
LUK 17:16 اَور یِسوعؔ کے قدموں میں مُنہ کے بَل گِر کر اُن کا شُکر اَدا کرنے لگا۔ یہ آدمی سامری تھا۔
LUK 17:17 یِسوعؔ نے اُس سے پُوچھا، ”کیا دسوں کوڑھ سے پاک صَاف نہیں ہویٔے؟ پھر وہ نَو کہاں ہیں؟
LUK 17:18 کیا اِس پردیسی کے سِوا دُوسروں کو اِتنی تَوفیق بھی نہ مِلی کہ لَوٹ کر خُدا کی تمجید کرتے؟“
LUK 17:19 تَب یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”اُٹھ اَور رخصت ہو، تیرے ایمان نے تُجھے شفا دی ہے۔“
LUK 17:20 ایک بار فریسیوں نے یِسوعؔ سے پُوچھا کہ خُدا کی بادشاہی کب آئے گی؟ یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”خُدا کی بادشاہی اَیسی نہیں کہ لوگ اُسے آتا دیکھ سکیں،
LUK 17:21 اَور کہہ سکیں کہ دیکھو وہ یہاں ہے، یا وہاں ہے، لیکن خُدا کی بادشاہی تمہارے درمیان میں ہے۔“
LUK 17:22 تَب آپ نے اَپنے شاگردوں سے کہا، ”وہ دِن بھی آنے والے ہیں جَب تُم اِبن آدمؔ کے دِنوں میں سے ایک دِن کو دیکھنے کی آرزُو کروگے مگر نہ دیکھ پاؤگے۔
LUK 17:23 لوگ تُم سے کہیں گے، ’دیکھو وہ وہاں ہے!‘ یا ’دیکھو وہ یہاں ہے!‘ مگر تُم اِدھر بھاگتے ہویٔے اُن کے پیچھے مت جانا۔
LUK 17:24 کیونکہ جَیسے بجلی آسمان میں کوند کر ایک طرف سے دُوسری طرف چمکتی چلی جاتی ہے وَیسے ہی اِبن آدمؔ اَپنے مُقرّرہ دِن ظاہر ہوگا۔
LUK 17:25 لیکن لازِم ہے کہ پہلے وہ بہت دُکھ اُٹھائے اَور اِس زمانہ کے لوگوں کی طرف سے ردّ کیا جائے۔
LUK 17:26 ”اَور جَیسا حضرت نُوح کے دِنوں میں تھا، وَیسا ہی اِبن آدمؔ کے دِنوں میں ہوگا۔
LUK 17:27 کہ لوگ کھاتے پیتے تھے اَور شادی بیاہ نُوح کے لکڑی والے پانی کے جہاز میں داخل ہونے کے دِن تک کرتے کراتے تھے۔ پھر سیلاب آیا اَور اُس نے سَب کو ہلاک کر دیا۔
LUK 17:28 ”اَور اَیسا ہی حضرت لُوطؔ کے دِنوں میں تھا کہ لوگ کھانے پینے، خریدوفروخت کرنے، درخت لگانے اَور مکان تعمیر کرنے میں مشغُول تھے۔
LUK 17:29 لیکن جِس دِن حضرت لُوطؔ، سدُومؔ سے باہر نکلے، آگ اَور گندھک نے آسمان سے بَرس کر سَب کو ہلاک کر ڈالا۔
LUK 17:30 ”اُسی طرح اِبن آدمؔ کے ظاہر ہونے کے دِن بھی اَیسا ہی ہوگا۔
LUK 17:31 اُس دِن جو چھت پر اَور اُس کا مال و اَسباب گھر کے اَندر میں، وہ اُسے لینے کے لیٔے نیچے نہ اُترے۔ جو کھیت میں ہو وہ بھی کسی چیز کے لیٔے واپس نہ جائے۔
LUK 17:32 حضرت لُوطؔ کی بیوی کو یاد رکھو۔
LUK 17:33 جو کویٔی اَپنی جان کو باقی رکھنے کی کوشش کرےگا وہ اُسے کھویٔے گا اَورجو کویٔی میری خاطِر اُسے کھویٔے گا، اُسے بچائے گا۔
LUK 17:34 میں کہتا ہُوں کہ اُس رات دو لوگ چارپائی پر ہوں گے، ایک لے لیا جائے گا اَور دُوسرا وہیں چھوڑ دیا جائے گا۔
LUK 17:35 دو عورتیں مِل کر چکّی پیستی ہوں گی، ایک لے لی جائے گی اَور دُوسری وہیں چھوڑ دی جائے گی۔
LUK 17:36 دو آدمی کھیت میں ہوں گے۔ ایک لے لیا جائے گا اَور دُوسرا چھوڑ دیا جائے گا۔“
LUK 17:37 اُنہُوں نے آپ سے پُوچھا، ”اَے خُداوؔند، یہ کہاں ہوگا؟“ یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”جہاں لاشیں ہوں گی، وہاں گِدھ بھی جمع ہو جایٔیں گے۔“
LUK 18:1 یِسوعؔ چاہتے تھے کہ شاگردوں کو مَعلُوم ہو کہ ہِمّت ہارے بغیر دعا میں لگے رہنا چاہئے۔ اِس لیٔے آپ نے اُنہیں یہ تمثیل سُنایٔی:
LUK 18:2 ”کسی شہر میں ایک قاضی تھا۔ وہ نہ تو خُدا سے ڈرتا تھا، نہ اِنسان کی پروا کرتا تھا۔
LUK 18:3 اَور اُسی شہر میں ایک بِیوہ بھی تھی جو اُس قاضی کے پاس لگاتار فریاد لے کر آتی رہتی تھی کہ، ’میرا اِنصاف کر اَور مُجھے میرے رقیب سے بچا۔‘
LUK 18:4 ”پہلے تو وہ کُچھ عرصہ تک تو منع کرتا رہا۔ لیکن آخِر میں اُس نے اَپنے جی میں کہا، ’سچ ہے کہ میں خُدا سے نہیں ڈرتا اَور نہ اِنسان کی پروا کرتا ہُوں،
LUK 18:5 لیکن یہ بِیوہ مُجھے پریشان کرتی رہتی ہے، اِس لیٔے میں اُس کا اِنصاف کروں گا، ورنہ یہ تو بار بار آکر میرے ناک میں دَم کر دے گی!‘ “
LUK 18:6 اَور خُداوؔند نے کہا، ”سُنو، یہ بےاِنصاف قاضی کیا کہتاہے۔
LUK 18:7 پس کیا خُدا اَپنے چُنے ہویٔے لوگوں کا اِنصاف کرنے میں دیر کرےگا، جو دِن رات اُس سے فریاد کرتے رہتے ہیں؟ کیا وہ اُنہیں ٹالتا رہے گا؟
LUK 18:8 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا اُن کا اِنصاف کرےگا اَور جلد کرےگا۔ پھر بھی جَب اِبن آدمؔ آئے گا تو کیا وہ زمین پر ایمان پایٔےگا؟“
LUK 18:9 یِسوعؔ نے بعض اَیسے لوگوں کو جو اَپنے آپ کو تو راستباز سمجھتے تھے لیکن دُوسروں کو ناچیز جانتے تھے، یہ تمثیل سُنایٔی:
LUK 18:10 ”دو آدمی دعا کرنے کے لیٔے بیت المُقدّس میں گیٔے، ایک فرِیسی تھا اَور دُوسرا محصُول لینے والا۔
LUK 18:11 فرِیسی نے کھڑے ہوکر یہ دعا کی: ’اَے خُدا! میں تیرا شُکر کرتا ہُوں کہ میں دُوسرے آدمیوں کی طرح نہیں ہُوں جو لُٹیرے، ظالِم اَور زناکار ہیں اَور نہ ہی اِس محصُول لینے والے کی مانِند ہُوں۔
LUK 18:12 میں ہفتہ میں دو بار روزہ رکھتا ہُوں اَور اَپنی ساری آمدنی کا دسواں حِصّہ نذر کر دیتا ہُوں۔‘
LUK 18:13 ”لیکن اُس محصُول لینے والے نے جو دُور کھڑا ہُوا تھا۔ اَور اُس نے آسمان کی طرف نظر بھی اُٹھانا نہ چاہا، بَلکہ چھاتی پیٹ پیٹ کر کہا، ’خُدا، مُجھ گُنہگار پر رحم کر۔‘
LUK 18:14 ”میں تُم سے کہتا ہُوں کہ یہ آدمی، اُس دُوسرے سے، خُدا کی نظر میں زِیادہ راستباز ٹھہر کر اَپنے گھر گیا۔ کیونکہ جو کویٔی اَپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اَورجو اَپنے آپ کو حلیم بنائے گا، وہ بڑا کیا جائے گا۔“
LUK 18:15 پھر بعض لوگ چُھوٹے بچّوں کو یِسوعؔ کے پاس لانے لگے تاکہ وہ اُن پر ہاتھ رکھیں۔ شاگردوں نے جَب یہ دیکھا تو اُنہیں جِھڑک دیا۔
LUK 18:16 لیکن یِسوعؔ نے بچّوں کو اَپنے پاس بُلایا اَور شاگردوں سے کہا، ”چُھوٹے بچّوں کو میرے پاس آنے دو، اُنہیں منع مت کرو کیونکہ خُدا کی بادشاہی اَیسوں ہی کی ہے۔
LUK 18:17 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو کویٔی خُدا کی بادشاہی کو بچّے کی طرح قبُول نہ کرے تو وہ اُس میں ہرگز داخل نہ ہوگا۔“
LUK 18:18 کسی یہُودی حاکم نے یِسوعؔ سے پُوچھا، ”اَے نیک اُستاد! اَبدی زندگی کا وارِث بننے کے لیٔے میں کیا کروں؟“
LUK 18:19 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تو مُجھے نیک کیوں کہتاہے؟ نیک صِرف ایک ہی ہے یعنی خُدا۔
LUK 18:20 تُم حُکموں کو تو جانتے ہو: ’تُم زنا نہ کرنا، خُون نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھُوٹی گواہی نہ دینا، اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا۔‘“
LUK 18:21 اُس نے کہا، ”اِن سَب پر تو میں لڑکپن سے، عَمل کرتا آ رہا ہُوں۔“
LUK 18:22 جَب یِسوعؔ نے یہ سُنا تو اُس سے کہا، ”ابھی تک تُجھ میں ایک بات کی کمی ہے۔ اَپنا سَب کُچھ بیچ دے اَور رقم غریبوں میں بانٹ دے، تو تُجھے آسمان پر خزانہ ملے گا۔ پھر آکر میرے پیچھے ہو لینا۔“
LUK 18:23 یہ بات سُن کر اُس پر بہت اُداسی چھاگئی، کیونکہ وہ کافی دولتمند تھا۔
LUK 18:24 یِسوعؔ نے اُسے دیکھ کر کہا، ”دولتمندوں کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کِتنا مُشکل ہے!
LUK 18:25 بے شک، اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزر جانا کسی دولتمند کے خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے سے زِیادہ آسان ہے۔“
LUK 18:26 جنہوں نے یہ بات سُنی وہ پُوچھنے لگے، ”پھر کون نَجات پا سَکتا ہے؟“
LUK 18:27 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جو بات آدمیوں کے لیٔے ناممکن ہے وہ خُدا کے لیٔے ممکن ہے۔“
LUK 18:28 پطرس نے یِسوعؔ سے کہا، ”آپ کی پیروی کرنے کے لیٔے ہم تو اَپنا سَب کُچھ چھوڑکر چلے آئے ہیں!“
LUK 18:29 حُضُور نے اُن سے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، اَیسا کویٔی نہیں جِس نے خُدا کی بادشاہی کی خاطِر اَپنے گھر یا بیوی یا بھائیوں یا بہنوں یا والدین یا بچّوں کو چھوڑ دیا ہے
LUK 18:30 اَور وہ اِس دُنیا میں کیٔی گُنا زِیادہ نہ پایٔے اَور آنے والی دُنیا میں اَبدی زندگی۔“
LUK 18:31 یِسوعؔ نے بَارہ شاگردوں کو ایک طرف کیا اَور اُن سے کہا، ”دیکھو ہم یروشلیمؔ جا رہے ہیں اَور نبیوں نے جو کُچھ اِبن آدمؔ کے بارے میں لِکھّا ہے وہ سَب پُورا ہوگا۔
LUK 18:32 اُسے غَیریہُودیوں کے حوالہ کیا جائے گا۔ وہ اُس کی ہنسی اُڑائیں گے، بے عزّت کریں گے اَور اُس پر تُھوکیں گے۔
LUK 18:33 اُسے کوڑے ماریں گے اَور قتل کر ڈالیں گے۔ لیکن وہ تیسرے دِن پھر سے زندہ ہو جائے گا۔“
LUK 18:34 لیکن یہ باتیں شاگردوں کی سمجھ میں بالکُل نہ آئیں اَور اِن باتوں کا مطلب اُن سے پوشیدہ رہا اَور اُن کی سمجھ میں نہ آیا کہ یِسوعؔ کِس کے بارے میں اُن سے بات کر رہے تھے۔
LUK 18:35 اَور اَیسا ہُوا کہ جَب یِسوعؔ یریحوؔ کے نزدیک پہُنچے، تو ایک اَندھا راہ کے کنارے بیٹھا بھیک مانگ رہاتھا۔
LUK 18:36 جَب اُس نے ہُجوم کے گزرنے کی آواز سُنی تو وہ پُوچھنے لگاکہ یہ کیا ہو رہاہے؟
LUK 18:37 لوگوں نے اُسے بتایا، ”یِسوعؔ ناصری جا رہے ہیں۔“
LUK 18:38 اُس نے چِلّاکر کہا، ”اَے اِبن داویؔد یِسوعؔ! مُجھ پر رحم فرمائیے!“
LUK 18:39 جو لوگ ہُجوم کی رہنمائی کر رہے تھے اُسے ڈانٹنے لگے کہ خاموش ہو جاؤ، مگر وہ اَور بھی زِیادہ چِلّانے لگا، ”اَے اِبن داویؔد، مُجھ پر رحم کیجئے!“
LUK 18:40 یِسوعؔ نے رُک کر حُکم دیا کہ اُس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ جَب وہ پاس آیا تو یِسوعؔ نے اُس سے پُوچھا،
LUK 18:41 ”تُو کیا چاہتاہے کہ مَیں تیرے لیٔے کروں؟“ اُس نے کہا، ”اَے خُداوؔند! میں اَپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہُوں؟“
LUK 18:42 یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”تمہاری آنکھوں میں رَوشنی آ جائے، تمہارے ایمان نے تُمہیں اَچھّا کر دیا ہے۔“
LUK 18:43 وہ اُسی دَم دیکھنے لگا اَور خُدا کی تمجید کرتا ہُوا یِسوعؔ کا پیروکار بن گیا۔ یہ دیکھ کر سارے لوگ خُدا کی حَمد کرنے لگے۔
LUK 19:1 یِسوعؔ یریحوؔ میں داخل ہوکر جا رہے تھے۔
LUK 19:2 وہاں ایک آدمی تھا جِس کا نام زکّائیؔ تھا۔ وہ محصُول لینے والوں کا افسر تھا اَور کافی دولتمند تھا۔
LUK 19:3 وہ یِسوعؔ کو دیکھنے کا خواہشمند تھا، لیکن اُس کا قد چھوٹا تھا اِس لیٔے وہ ہُجوم میں یِسوعؔ کو دیکھ نہ سَکتا تھا۔
LUK 19:4 لہٰذا وہ دَوڑکر آگے چلا گیا اَور ایک گُولر کے درخت پر چڑھ گیا تاکہ جَب یِسوعؔ اُس جگہ سے گزریں تو وہ آپ کو اُوپر سے دیکھ سکے۔
LUK 19:5 جَب یِسوعؔ اُس جگہ پہُنچے تو آپ نے اُوپر دیکھ کر اُس سے کہا، ”اَے زکّائیؔ جلدی سے نیچے اُتر آ کیونکہ آج مُجھے تیرے گھر میں رہنا لازمی ہے۔“
LUK 19:6 پس وہ فوراً نیچے اُتر آیا اَور یِسوعؔ کا اِستِقبال کرتے ہویٔے خُوشی سے اَپنے گھر لے گیا۔
LUK 19:7 یہ دیکھ کر سارے لوگ بُڑبُڑانے لگے، ”کہ وہ ایک گُنہگار کے یہاں مہمانی کرنے گیا ہے۔“
LUK 19:8 لیکن زکّائیؔ نے کھڑے ہوکر خُداوؔند سے کہا، ”دیکھئے، خُداوؔند! میں اَپنا آدھا مال غریبوں کو ابھی دیتا ہُوں اَور اگر مَیں نے دھوکے سے کسی کا کُچھ لیا ہے تو اُس کا چَو گُنا واپس کرتا ہُوں۔“
LUK 19:9 یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”آج اِس گھر میں نَجات آئی ہے کیونکہ یہ آدمی بھی اَبراہامؔ کی اَولاد ہے۔
LUK 19:10 کیونکہ اِبن آدمؔ کھویٔے ہوؤں کو ڈھونڈنے اَور ہلاک ہونے والوں کو نَجات دینے آیا ہے۔“
LUK 19:11 جَب لوگ یِسوعؔ کی یہ باتیں سُن رہے تھے تو آپ نے اُن سے ایک تمثیل کہی، کیونکہ آپ یروشلیمؔ کے نزدیک پہُنچ چُکے تھے اَور لوگوں کا خیال تھا کہ خُدا کی بادشاہی جلد آنے والی ہے۔
LUK 19:12 یِسوعؔ نے فرمایا: ”ایک خاندانی اُمرا دُور کسی دُوسرے مُلک کو روانہ ہُوا تاکہ اُسے بادشاہ مُقرّر کیاجایٔے اَور پھر واپس آئے۔
LUK 19:13 اِس لیٔے اُس نے اَپنے خادِموں میں سے دس کو بُلایا اَور دسوں کو سونے کا ایک ایک سِکّہ دے کر کہا۔ ’میرے واپس آنے تک اِس رقم سے کاروبار کرنا۔‘
LUK 19:14 ”لیکن اُس کی رعِیّت اُس سے نفرت کرتی تھی لہٰذا اُنہُوں نے اُس کے پیچھے ایک وفد اِس پیغام کے ساتھ روانہ کیا، ’ہم نہیں چاہتے کہ یہ آدمی ہم پر حُکومت کرے۔‘
LUK 19:15 ”بادشاہ بننے کے بعد، جَب، وہ واپس آیا۔ تو اُس نے اَپنے خادِموں کو بُلایا جنہیں اُس نے کاروبار کے لیٔے رقم دی تھی تاکہ مَعلُوم کرے کہ ہر ایک نے کِتنا کِتنا کمایاہے۔
LUK 19:16 ”پہلا خادِم آیا تو اُس نے کہا، ’اَے مالک، مَیں نے ایک سِکّے سے دس سِکّے کمائے۔‘
LUK 19:17 ” ’شاباش، اَے نیک خادِم!‘ اُس نے جَواب دیا، ’کیونکہ تُونے تھوڑی سِی رقم کو بھی وفاداری سے اِستعمال کیا اِس لیٔے تُجھے، دس شہروں پر اِختیار عطا کیا جاتا ہے۔‘
LUK 19:18 ”دُوسرے خادِم نے آکر کہا، ’اَے مالک، مَیں نے تیرے سِکّہ سے پانچ اَور سِکّے کمائے۔‘
LUK 19:19 ”بادشاہ نے اُس سے بھی کہا، ’تُجھے بھی پانچ شہروں پر اِختیار عطا کیا جاتا ہے۔‘
LUK 19:20 ”تَب تیسرے خادِم نے آکر کہا، ’اَے مالک، یہ رہا تیرا سِکّہ؛ مَیں نے اِسے رُومال میں باندھ کر رکھ دیا تھا۔
LUK 19:21 کیونکہ تو سخت آدمی ہے اِس لیٔے مُجھے تیرا خوف تھا، تو جہاں پر رُوپیہ نہیں لگایا ہوتاہے وہاں سے بھی اُٹھا لیتا ہے اَور جہاں بویا نہیں وہاں سے بھی کاٹتا ہے۔‘
LUK 19:22 ”مالک نے اُس سے کہا، ’اَے شریر خادِم! میں تیری ہی باتوں سے تُجھے مُلزم ٹھہراتا ہُوں، جَب تو جانتا تھا، کہ میں سخت آدمی ہُوں، اَور جہاں پر رُوپیہ نہیں لگایا ہوتاہے وہاں سے بھی اُٹھا لیتا ہُوں، اَور جسے بویا نہیں ہوتا اُسے بھی کاٹ لیتا ہُوں؟
LUK 19:23 تو پھر تُونے میرا سِکّہ کسی ساہوکار کے پاس جمع کیوں نہیں کرایا، تاکہ میں واپس آکر اُس سے سُود سمیت وصول کر لیتا؟‘
LUK 19:24 ”تَب اُس نے اُن سے جو پاس کھڑے تھے کہا، ’اُس سے یہ سِکّہ لے لو اَور اُسے دے دو جِس کے پاس دس سِکّے ہیں۔‘
LUK 19:25 ” ’اَے مالک،‘ اُنہُوں نے کہا، ’اُس کے پاس تو پہلے ہی سے دس سِکّے مَوجُود ہَیں!‘
LUK 19:26 ”یِسوعؔ نے جَواب میں کہا، ’میں تُم سے کہتا ہُوں کہ جِس کے پاس ہوگا، اُسے اَور بھی دیا جائے گا، اَور جِس کے پاس نہیں ہوگا، اُس سے وہ بھی جو اُس کے پاس ہے، لے لیا جائے گا۔
LUK 19:27 لیکن میرے اُن دُشمنوں کو جو نہیں چاہتے تھے کہ میں اُن کا بادشاہ بنُوں، یہاں لے آؤ اَور میرے سامنے قتل کر دو۔‘ “
LUK 19:28 یہ باتیں کہہ کر یِسوعؔ یروشلیمؔ پہُنچنے کے لیٔے آگے بڑھنے لگے۔
LUK 19:29 جَب وہ بیت فگے اَور بیت عنیّاہ کے پاس پہُنچے جو کوہِ زَیتُون پر آباد ہَیں، تو یِسوعؔ نے اَپنے دو شاگردوں کو یہ کہہ کر آگے بھیجا،
LUK 19:30 ”سامنے والے گاؤں میں جاؤ، وہاں داخل ہوتے ہی تُم ایک گدھی کا جَوان بچّہ بندھا ہُوا پاؤگے، جِس پر اَب تک کسی نے سواری نہیں کی ہے۔ اُسے کھول کر یہاں لے آؤ۔
LUK 19:31 اَور اگر کویٔی تُم سے پُوچھے، ’اِسے کیوں کھول رہے ہو تو کہنا کہ خُداوؔند کو اِس کی ضروُرت ہے۔‘ “
LUK 19:32 آگے بھیجے جانے والوں نے جا کر جَیسا یِسوعؔ نے اُن سے کہاتھا وَیسا ہی پایا۔
LUK 19:33 جَب وہ گدھی کے بچّے کو کھول رہے تھے، تو اُس کے مالکوں نے اُن سے پُوچھا، ”اِس بچّے کو کیوں کھول رہے ہو؟“
LUK 19:34 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”خُداوؔند کو اِس کی ضروُرت ہے۔“
LUK 19:35 پس وہ اُسے یِسوعؔ کے پاس لایٔے اَور اُس گدھے کے بچّے پر اَپنے کپڑے ڈال کر یِسوعؔ کو اُس پر سوار کر دیا۔
LUK 19:36 جَب یِسوعؔ جا رہے تھے تو لوگوں نے راستے میں اَپنے کپڑے بچھا دئیے۔
LUK 19:37 جَب وہ اُس مقام کے نزدیک پہُنچے جہاں سڑک کوہِ زَیتُون سے نیچے کی طرف جاتی ہے، تو شاگردوں کی ساری جماعت اُن سارے معجزوں کی وجہ سے جو اُنہُوں نے دیکھے تھے، خُوش ہوکر اُونچی آواز سے خُدا کی تمجید یہ کہکر کرنے لگی:
LUK 19:38 ”مُبارک ہے وہ بادشاہ جو خُداوؔند کے نام سے آتا ہے!“ ”آسمان پر صُلح اَور عالمِ بالا پر جلال!“
LUK 19:39 ہُجوم میں بعض فرِیسی بھی تھے، وہ یِسوعؔ سے کہنے لگے، ”اَے اُستاد، اَپنے شاگردوں کو ڈانٹئے کہ وہ چُپ رہیں!“
LUK 19:40 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر یہ خاموش ہو جایٔیں گے تو پتّھر چِلّانے لگیں گے۔“
LUK 19:41 جَب یِسوعؔ یروشلیمؔ کے نزدیک پہُنچے اَور شہر کو دیکھا تو رو پڑے۔
LUK 19:42 وہ کہنے لگے، ”کاش کہ تُو، اِسی دِن اَپنی سلامتی سے تعلّق رکھنے والی باتوں کو جان لیتی! لیکن اَب یہ بات تیری آنکھوں سے اوجھل ہو گئی ہے۔
LUK 19:43 تُجھے وہ دِن دیکھنے پڑیں گے جَب تیرے دُشمن تیرے خِلاف مورچہ باندھ کر تُجھے چاروں طرف سے گھیر لیں گے اَور تُجھ پر چڑھ آئیں گے۔
LUK 19:44 اَور تُجھے اَور تیرے بچّوں کو تیری پناہ میں ہیں زمین پر پٹک دیں گے اَور کسی پتّھر پر پتّھر باقی نہ رہنے دیں گے، اِس لیٔے کہ تُونے اُس وقت کو نہ پہچانا جَب تُجھ پر خُدا کی نظر پڑی تھی۔“
LUK 19:45 تَب یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔
LUK 19:46 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”لِکھّا ہے، ’میرا گھر دعا کا گھر‘ کہلائے گا؛ مگر تُم نے ’اُسے ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘“
LUK 19:47 یِسوعؔ ہر روز بیت المُقدّس میں تعلیم دیتے تھے مگر اہم کاہِنوں، شَریعت کے عالِموں اَور یہُودی بُزرگ آپ کو قتل کرنے کی کوشش میں لگے ہویٔے تھے۔
LUK 19:48 لیکن اُنہیں اَیسا کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا کیونکہ سارے لوگ یِسوعؔ کی باتیں سُننے کے لیٔے اُنہیں گھیرے رہتے تھے۔
LUK 20:1 ایک دِن جَب یِسوعؔ بیت المُقدّس میں لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے اَور اُنہیں انجیل سُنا رہے تھے تو اہم کاہِن اَور شَریعت کے عالِم، یہُودی بُزرگوں کے ساتھ آپ کے پاس پہُنچے۔
LUK 20:2 اَور کہنے لگے، ”آپ یہ ساری باتیں کس اِختیار سے کرتے ہیں یا آپ کو یہ اِختیار کِس نے دیا ہے؟“
LUK 20:3 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”میں بھی تُم سے ایک سوال پُوچھتا ہُوں، مُجھے بتاؤ:
LUK 20:4 حضرت یُوحنّا کا پاک غُسل خُدا کی طرف سے تھا یا اِنسان کی طرف سے؟“
LUK 20:5 وہ آپَس میں بحث کرنے لگے، ”اگر ہم کہیں، ’وہ آسمان کی طرف سے تھا،‘ تو وہ کہیں گے، ’پھر تُم نے اُس کا یقین کیوں نہ کیا؟‘
LUK 20:6 لیکن اگر کہیں، ’اِنسان کی طرف سے تھا،‘ تو لوگ ہمیں سنگسار کر ڈالیں گے، کیونکہ وہ یُوحنّا کو نبی مانتے ہیں۔“
LUK 20:7 لہٰذا اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہم نہیں جانتے کہ کس کی طرف سے تھا۔“
LUK 20:8 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”تَب تو میں بھی تُمہیں نہیں بتاؤں گا کہ اِن کاموں کو کِس اِختیار سے کرتا ہُوں۔“
LUK 20:9 پھر یِسوعؔ نے لوگوں کو یہ تمثیل سُنایٔی: ”ایک شخص نے انگوری باغ لگایا اَور اُسے کُچھ کاشت کاروں کو ٹھیکے پردے کر خُود ایک لمبے عرصہ کے لیٔے پردیس چلا گیا۔
LUK 20:10 جَب انگور توڑنے کا موسم آیا تو اُس نے ایک خادِم کو ٹھیکیداروں کے پاس انگوری باغ کے پھلوں سے اَپنا کچھ حِصّہ لینے بھیجا۔ لیکن ٹھیکیداروں نے اُس کو خُوب پِیٹا اَور خالی ہاتھ لَوٹا دیا۔
LUK 20:11 تَب اُس نے ایک اَور خادِم کو بھیجا لیکن اُنہُوں نے اُس کی بھی بے عزّتی کی اَور مارپیٹ کرکے اُسے خالی ہاتھ لَوٹا دیا۔
LUK 20:12 پھر اُس نے تیسرے خادِم کو بھیجا۔ اُنہُوں نے اُسے بھی زخمی کرکے بھگا دیا۔
LUK 20:13 ”تَب انگوری باغ کے مالک نے کہا، ’میں کیا کروں؟ میں اَپنے بیٹے کو بھیجوں گا، جِس سے میں مَحَبّت کرتا ہُوں؛ شاید وہ اُس کا ضروُر اِحترام کریں گے۔‘
LUK 20:14 ”مگر جَب ٹھیکیداروں نے اُسے دیکھا تو، آپَس میں مشورہ کرکے، کہنے لگے، یہی وارِث ہے، آؤ ’ہم اِسے قتل کر دیں، تاکہ مِیراث ہماری ہو جائے۔‘
LUK 20:15 پس اُنہُوں نے اُسے انگوری باغ سے باہر نکال کر قتل کر ڈالا۔ ”اَب انگوری باغ کا مالک اُن کے ساتھ کس طرح پیش آئے گا؟
LUK 20:16 وہ آکر اُن ٹھیکیداروں کو ہلاک کرےگا اَور انگوری باغ اَوروں کے سُپرد کر دے گا۔“ یہ سُن کر لوگوں نے کہا، ”کہ کاش اَیسا کبھی نہ ہوتا!“
LUK 20:17 یِسوعؔ نے اُن کی طرف نظر کرکے پُوچھا، ”تو پھر کِتاب مُقدّس کے اِس حوالہ کا کیا مطلب ہے: ” ’جِس پتّھر کو مِعماروں نے ردّ کر دیا وُہی کونے کے سِرے کا پتّھر ہو گئے‘؟
LUK 20:18 جو کویٔی اِس پتّھر پر گِرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا؛ لیکن جِس پر یہ گِرے گا اُسے پیس ڈالے گا۔“
LUK 20:19 شَریعت کے عُلما اَور اہم کاہِنوں نے اُسی وقت یِسوعؔ کو پکڑنے کی کوشش کی، کیونکہ وہ جان گیٔے تھے کہ آپ نے وہ تمثیل اُن ہی کے بارے میں کہی ہے لیکن وہ لوگوں سے ڈرتے تھے۔
LUK 20:20 چنانچہ وہ یِسوعؔ کو پکڑنے کی تاک میں لگے رہے اَور اُنہُوں نے دیانت داروں کی شکل میں جاسُوسوں کو آپ کے پاس بھیجا تاکہ آپ کی کویٔی بات پکڑ سکیں اَور آپ کو حاکم کے قبضہ اِختیار میں دے دیں۔
LUK 20:21 جاسُوسوں نے یِسوعؔ سے پُوچھا: ”اَے اُستاد، ہم جانتے ہیں کہ آپ سچ بولتے ہیں اَور سچّائی کی تعلیم دیتے ہیں، اَور کسی کی طرفداری نہیں کرتے بَلکہ سچّائی سے خُدا کی راہ کی تعلیم دیتے ہیں۔
LUK 20:22 کیا ہمارے لیٔے قَیصؔر کو محصُول اَدا کرنا روا ہے یا نہیں؟“
LUK 20:23 یِسوعؔ نے اُن کی منافقت کو جانتے ہویٔے اُن سے کہا،
LUK 20:24 ”مُجھے ایک دینار لاکر دِکھاؤ، اِس پر کس کی صورت اَور کس کا نام لِکھّا ہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”قَیصؔر کا۔“
LUK 20:25 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”جو قَیصؔر کا ہے قَیصؔر کو اَورجو خُدا کا ہے خُدا کو اَدا کرو۔“
LUK 20:26 اَور وہ لوگوں کے سامنے یِسوعؔ کی کہی ہویٔی کویٔی بات نہ پکڑ سکے بَلکہ آپ کے جَواب سے دنگ ہوکر خاموش ہو گئے۔
LUK 20:27 کُچھ صدُوقی جو کہتے ہیں کہ روزِ قیامت ہے ہی نہیں، وہ یِسوعؔ کے پاس آئے اَور پُوچھنے لگے۔
LUK 20:28 ”اَے اُستاد،“ ہمارے لیٔے حضرت مَوشہ کا حُکم ہے، ”اگر کسی آدمی کا شادی شُدہ بھایٔی بے اَولاد مَر جائے تو وہ اَپنے بھایٔی کی بِیوہ سے شادی کر لے تاکہ اَپنے بھایٔی کے لیٔے نَسل پیدا کر سکے۔
LUK 20:29 چنانچہ سات بھایٔی تھے۔ پہلے نے شادی کی اَور بے اَولاد مَر گیا۔
LUK 20:30 پھر دُوسرے اَور
LUK 20:31 تیسرے بھایٔی نے اُس سے شادی کی، اَور بے اَولاد مَر گیا یہی سلسلہ ساتویں بھایٔی تک بے اَولاد مَرنے کا جاری رہا۔
LUK 20:32 آخِر میں وہ عورت بھی مَر گئی۔
LUK 20:33 اَب بتائیں کہ قیامت کے دِن وہ کِس کی بیوی ہوگی، کیونکہ وہ اُن ساتوں کی بیوی رہ چُکی تھی؟“
LUK 20:34 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”اِس دُنیا کے لوگوں میں تو شادی بیاہ کرنے کا دستور ہے،
LUK 20:35 لیکن جو لوگ آنے والی دُنیا کے لائق ٹھہریں گے اَور مُردوں میں سے جی اُٹھیں گے وہ شادی بیاہ نہیں کریں گے۔
LUK 20:36 وہ مَریں گے بھی نہیں؛ کیونکہ وہ فرشتوں کی مانِند ہوں گے۔ اَور قیامت کے فرزند نے کے باعث خُدا کے فرزند ہوں گے۔
LUK 20:37 اَور جلتی ہویٔی جھاڑی کے بَیان میں، حضرت مَوشہ نے بھی اُس طرف اِشارہ کیا کہ مُردے جی اُٹھیں گے، کیونکہ حضرت مَوشہ خُداوؔند کو‏ ’اَبراہامؔ کا خُدا، اِصحاقؔ کا خُدا اَور یعقوب کا خُدا کہہ کر پُکارتے ہیں۔‘
LUK 20:38 خُدا مُردوں کا نہیں، بَلکہ زندوں کا خُدا ہے کیونکہ اُس کے نزیک سَب زندہ ہیں۔“
LUK 20:39 شَریعت کے عُلما میں سے بعض نے جَواب دیا، ”اَے اُستاد، آپ نے خُوب فرمایاہے!“
LUK 20:40 اَور اُن میں سے پھر کسی نے بھی حُضُور سے اَور کویٔی سوال کرنے کی جُرأت نہ کی۔
LUK 20:41 پھر یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”المسیح کو داویؔد کا بیٹا کس طرح کہا جاتا ہے؟
LUK 20:42 کیونکہ داویؔد تو خُود زبُور شریف میں فرماتے ہیں: ” ’خُداتعالیٰ نے میرے خُداوؔند سے کہا: ”میری داہنی طرف بیٹھو
LUK 20:43 جَب تک کہ مَیں تمہارے دُشمنوں کو تمہارے پاؤں کے نیچے نہ کر دُوں۔“ ‘
LUK 20:44 جَب داویؔد ہی خُود اُنہیں ’خُداوؔند‘ کہتے ہیں۔ تو وہ کِس طرح داویؔد کا بیٹاہو سکتے ہیں؟“
LUK 20:45 جَب سَب لوگ سُن رہے تھے تو یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے کہا،
LUK 20:46 ”شَریعت کے عالِموں سے خبردار رہنا۔ جو لمبے لمبے چوغے پہن کر اِدھر اُدھر چلنا پسند کرتے ہیں اَور چاہتے ہیں کہ لوگ بازاروں میں اُنہیں اِحتراماً مُبارکبادی سلام کریں وہ یہُودی عبادت گاہوں میں اعلیٰ درجہ کی کُرسیاں اَور ضیافتوں میں صدر نشینی چاہتے ہیں۔
LUK 20:47 وہ بیواؤں کے گھروں کو ہڑپ کرلیتے ہیں اَور دِکھاوے کے طور پر لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔ اِن لوگوں کو سَب سے زِیادہ سزا ملے گی۔“
LUK 21:1 یِسوعؔ نے نظر اُٹھاکر دیکھا کہ دولتمند لوگ بیت المُقدّس کے خزانہ میں اَپنے نذرانے ڈال رہے تھے۔
LUK 21:2 آپ نے ایک غریب بِیوہ کو بھی دیکھا جِس نے صِرف دو بہت چُھوٹے تانبے کے سِکّے ڈالے۔
LUK 21:3 اِس پر یِسوعؔ نے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، کہ اِس بِیوہ نے سَب لوگوں سے زِیادہ نذرانہ ڈالا ہے۔
LUK 21:4 کیونکہ باقی سَب لوگوں نے تو اَپنی ساری پُونجی میں سے کُچھ بطور نذر ڈالا لیکن اِس عورت نے اَپنی ناداری کی حالت میں بھی جو کُچھ اُس کے پاس تھا سَب ڈال دیا۔“
LUK 21:5 یِسوعؔ کے بعض شاگرد بیت المُقدّس کی تعریف کر رہے تھے کہ وہ نفیس پتھّروں اَور نذر کیٔے گیٔے تحفوں سے آراستہ ہے۔ تو یہ سُن کر یِسوعؔ نے کہا،
LUK 21:6 ”وہ دِن آئیں گے کہ یہ چیزیں جو تُم یہاں دیکھ رہے ہو، اِن کا کویٔی بھی پتّھر اَپنی جگہ باقی نہ رہے گا بَلکہ گرا دیا جائے گا۔“
LUK 21:7 شاگردوں نے آپ سے پُوچھا، ”اَے اُستاد، ہمیں بتائیے، یہ باتیں کب واقع ہوں گی؟ اَور اِن باتوں کی پُورا ہونے کی کیا علامت ہوگی اَور اُن کے ظاہر میں آنے کے وقت کا نِشان کیا کیا ہوگا؟“
LUK 21:8 یِسوعؔ نے کہا: ”خبردار گُمراہ نہ ہو جانا کیونکہ کیٔی لوگ میرے نام سے آئیں گے، اَور کہیں گے، ’میں ہی المسیح ہُوں،‘ اَور ’یہ بھی کہ وقت نزدیک آ پہُنچا ہے۔‘ تُم اُن کے پیچھے مت چلے جانا۔
LUK 21:9 اَور جَب لڑائیوں اَور بغاوتوں کی افواہیں سُنو، تو خوفزدہ مت ہونا۔ کیونکہ پہلے اُن کا واقع ہونا ضروُری ہے، لیکن ابھی آخِرت نہ ہوگی۔“
LUK 21:10 تَب آپ نے اُن سے فرمایا، ”قوم پر قوم اَور سلطنت پر سلطنت حملہ کرےگی۔
LUK 21:11 جگہ جگہ بڑے بڑے زلزلے آئیں گے، قحط پڑیں گے اَور وبَائیں کیٔی جگہ پر پھیلیں گی، دہشت ناک واقعات اَور آسمان پر عظیم نِشانات ظاہر ہوں گے۔
LUK 21:12 ”لیکن اِن سَب باتوں کے ہونے سے پہلے، لوگ تُمہیں گِرفتار کریں گے اَور ستائیں گے۔ وہ تُمہیں یہُودی عبادت گاہوں کی عدالتوں مَیں حاضِر کریں گے اَور قَیدخانوں میں ڈلوائیں گے اَور بادشاہوں اَور حاکموں کے حُضُور میں پیش کریں گے اَور یہ اِس لیٔے ہوگا کہ تُم میرے پیروکار ہو۔
LUK 21:13 تَب تُمہیں میری گواہی دینے کا اَچھّا موقع ملے گا۔
LUK 21:14 لیکن تُمہیں کویٔی ضروُرت نہیں کہ تُم پہلے ہی سے فکر کرنے لگو کہ ہم کیا کہیں گے۔
LUK 21:15 کیونکہ مَیں تُمہیں اَیسے الفاظ اَور حِکمت عطا کروں گا کہ تمہارا کویٔی بھی مُخالف نہ تو تمہارا سامنا کر سکےگا نہ تمہارے خِلاف کُچھ کہہ سکےگا۔
LUK 21:16 اَور تمہارے والدین، بھایٔی اَور بہنیں، رشتہ دار اَور دوست تُم سے بےوفائی کریں گے اَور تُم میں سے بعض کو قتل بھی کریں گے۔
LUK 21:17 اَور میرے نام کی وجہ سے سارے لوگ تُم سے نفرت کرنے لگیں گے
LUK 21:18 لیکن تمہارے سَر کا ایک بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔
LUK 21:19 سَب کُچھ برداشت کرکے ہی تُم اَپنی جانوں کو محفوظ رکھ سکوگے۔
LUK 21:20 ”اَور جَب یروشلیمؔ کو فَوجوں کے محاصرہ میں دیکھو تو جان لینا کہ اُس کی تباہی کے دِن نزدیک آ گئے ہیں۔
LUK 21:21 تَب اُس وقت جو یہُودیؔہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر بھاگ جایٔیں اَورجو یروشلیمؔ کے اَندرہوں باہر نکل جایٔیں اَورجو دیہات میں ہوں وہ شہر میں داخل نہ ہوں۔
LUK 21:22 کیونکہ یہ غضبِ الٰہی کے دِن ہوں گے جِن میں وہ سَب کُچھ جو پہلے سے کِتاب مُقدّس میں لِکھّا جا چُکاہے پُورا ہوگا۔
LUK 21:23 مگر حاملہ خواتین اَور اُن ماؤں کا جو اُن دِنوں میں دُودھ پِلاتی ہوں گی، وہ دِن کتنے خوفناک ہوں گے! کیونکہ اِس مُلک میں بہت بڑی مُصیبت برپا ہوگی اَور اِس قوم پر خُدا کا بڑا غضب نازل ہوگا۔
LUK 21:24 وہ تلوار کا لُقمہ بَن جایٔیں گے اَور اسیر کر سَب مُلکوں میں پہُنچائے جایٔیں گے اَور غَیریہُودی لوگ یروشلیمؔ کو پاؤں تلے کُچل ڈالیں گے یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جَب تک اُن کی میِعاد پُوری نہ ہو جائے۔
LUK 21:25 ”سُورج، چاند اَور سِتاروں میں نِشان ظاہر ہوں گے اَور زمین پر مُلکوں کو اَذیّت پہُنچے گی کیونکہ سمُندر اَور اُس کی لہروں کا زور و شور اُنہیں خوفزدہ کر دے گا۔
LUK 21:26 لوگ اِس اَندیشے سے کہ دُنیا پر کیا کیا مُصیبتوں آنے والی ہیں اِس قدر خوف کھایٔیں گے کہ اُن کے ہوش و حواس باقی نہ رہیں گے، کیوں کہ آسمان کی قُوّتیں ہِلا دی جایٔیں گی۔
LUK 21:27 تَب لوگ اِبن آدمؔ کو عظیم قُدرت اَور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتا دیکھیں گے۔
LUK 21:28 جَب یہ باتیں ہونا شروع جایٔیں تو سیدھے کھڑے ہوکر اَپنا سَر اُوپر اُٹھانا کیونکہ تمہاری مخلصی نزدیک ہوگی۔“
LUK 21:29 تَب یِسوعؔ نے اُنہیں یہ تمثیل سُنایٔی: ”تُم اَنجیر کے درخت اَور سارے درختوں پر غور کرو۔
LUK 21:30 جُوں ہی اُن میں کونپلیں پھُوٹنے لگتی ہیں، تُم دیکھ کر جان لیتے ہو کہ اَب گرمی نزدیک ہے۔
LUK 21:31 اِسی طرح، جَب تُم یہ باتیں ہوتے دیکھو، تو جان لو کہ خُدا کی بادشاہی نزدیک ہے۔
LUK 21:32 ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، کہ اِس نَسل کے ختم ہونے سے پہلے ہی یہ سَب کُچھ پُورا ہوگا۔
LUK 21:33 آسمان اَور زمین ٹل جایٔیں گی لیکن میری باتیں کبھی نہیں ٹلیں گی۔
LUK 21:34 ”پس تُم خبردار رہو۔ کہیں اَیسا نہ کہ تمہارے دِل عیّاشی، نشہ بازی اَور اِس زندگی کی فِکروں سے سُست پڑ جایٔیں اَور وہ دِن تُم پر پھندے کی طرح اَچانک آ پڑے۔
LUK 21:35 کیونکہ وہ رُوئے زمین پر مَوجُود تمام لوگوں پر پھندے کی طرح آ پڑےگا۔
LUK 21:36 پس ہر وقت چَوکَس رہو اَور دعا میں لگے رہو تاکہ تُم اِن سَب باتوں سے جو ہونے والی ہیں، بچ کر اِبن آدمؔ کے حُضُور میں کھڑے ہونے کے لائق ٹھہرو۔“
LUK 21:37 یِسوعؔ ہر روز بیت المُقدّس میں تعلیم دیتے تھے، اَور ہر رات کو باہر جا کر اُس پہاڑ پر رات گزارتے تھے جِس کا نام کوہِ زَیتُون تھا،
LUK 21:38 اَور صُبح ہوتے ہی سَب لوگ آپ کی باتیں سُننے بیت المُقدّس میں آ جاتے تھے۔
LUK 22:1 عیدِ فطیر جسے عیدِفسح بھی کہتے ہیں نزدیک آ گئی تھی۔
LUK 22:2 اہم کاہِن اَور شَریعت کے عالِم یِسوعؔ کو قتل کرنے کا سہی موقع ڈھونڈ رہے تھے کیونکہ وہ عوام سے ڈرتے تھے۔
LUK 22:3 تبھی شیطان یہُوداہؔ میں سما گیا، جسے اِسکریوتی بھی کہتے تھے، جو بَارہ شاگردوں میں سے ایک تھا۔
LUK 22:4 وہ اہم کاہِنوں اَور بیت المُقدّس کے پہرےداروں کے افسران اَور رہنماؤں کے پاس گیا اَور اُن سے مشورہ کرنے لگاکہ وہ کس طرح یِسوعؔ کو اُن کے ہاتھوں میں پکڑوا دے۔
LUK 22:5 وہ بڑے خُوش ہویٔے اَور اُسے رُوپیہ دینے پر راضی ہو گیٔے۔
LUK 22:6 یہُوداہؔ نے اُن کی بات مان لی اَور موقع ڈھونڈنے لگاکہ جِس وقت آس پاس کویٔی ہُجوم نہ ہو یِسوعؔ کو کس طرح اُن کے حوالے کر دے۔
LUK 22:7 تَب عیدِ فطیر کا دِن آیا، اُس دِن عیدِفسح کے برّہ کی قُربانی کرنا فرض تھا۔
LUK 22:8 یِسوعؔ نے پطرس اَور یُوحنّا کو یہ کہہ کر روانہ کیا، ”کہ جاؤ اَور ہمارے لیٔے عیدِفسح کے کھانے کی تیّاری کرو۔“
LUK 22:9 اُنہُوں نے پُوچھا، ”آپ کہاں چاہتے ہَیں کہ ہم فسح کا کھانا تیّار کریں؟“
LUK 22:10 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”شہر میں داخل ہوتے ہی تُمہیں ایک آدمی ملے گا جو پانی کا گھڑا لے جا رہا ہوگا۔ اُس کے پیچھے جانا اَور جِس گھر میں وہ داخل ہو
LUK 22:11 اُس گھر کے مالک سے کہنا، ’اُستاد نے پُوچھا ہے: وہ مہمان خانہ کہاں ہے، جہاں میں اَپنے شاگردوں کے ساتھ عیدِفسح کا کھانا کھا سکوں؟‘
LUK 22:12 وہ تُمہیں ایک بڑا سا کمرہ اُوپر لے جا کر دِکھائے گا جو ہر طرح سے آراستہ ہوگا۔ وہیں ہمارے لیٔے تیّاری کرنا۔“
LUK 22:13 اُنہُوں نے جا کر سَب کُچھ وَیسا ہی پایا جَیسا یِسوعؔ نے اُنہیں بتایا تھا پھر عیدِفسح کا کھانا تیّار کیا۔
LUK 22:14 جَب کھانے کا وقت آیا تو یِسوعؔ اَور اُن کے رسول دسترخوان کے اِردگرد کھانا کھانے بیٹھ گیٔے۔
LUK 22:15 اَور آپ نے اُن سے کہا، ”میری بڑی آرزُو تھی کہ اَپنے دُکھ اُٹھانے سے پہلے عیدِفسح کا یہ کھانا تمہارے ساتھ کھاؤں۔
LUK 22:16 کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ آئندہ میں اِسے اُس وقت تک نہ کھاؤں گا جَب تک کہ خُدا کی بادشاہی میں اِس کا مقصد پُورا نہ ہو جائے۔“
LUK 22:17 پھر یِسوعؔ نے پیالہ لیا، اَور خُدا کا شُکر اَدا کرکے کہا، ”اِسے لو اَور آپَس میں بانٹ لو۔
LUK 22:18 کیونکہ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ میں انگور کا شِیرہ تَب تک نہیں پیوں گا جَب تک کہ خُدا کی بادشاہی آ نہ جائے۔“
LUK 22:19 پھر آپ نے روٹی لی اَور خُدا کا شُکر کرکے اُس کے ٹکڑے کیٔے، اَور شاگردوں کو یہ کہہ کر دیا، ”یہ میرا بَدن ہے جو تمہارے لیٔے دیا جاتا ہے، میری یادگاری کے لیٔے یہی کیا کرو۔“
LUK 22:20 اِسی طرح کھانے کے بعد یِسوعؔ نے پیالہ لیا، اَور یہ کہہ کر دیا، ”یہ پیالہ میرے خُون میں نیا عہد ہے جو تمہارے لیٔے بہایا جاتا ہے۔
LUK 22:21 مگر مُجھے گِرفتار کرانے والے کا ہاتھ میرے ساتھ دسترخوان پر ہے۔
LUK 22:22 اِبن آدمؔ تو جا ہی رہاہے جَیسا کہ اُس کے لیٔے پہلے سے مُقرّر ہو چُکاہے لیکن اُس آدمی پر افسوس جو مُجھے دھوکا دیتاہے!“
LUK 22:23 یہ سُن کر وہ آپَس میں پُوچھنے لگے کہ ہم میں اَیسا کون ہے جو یہ کام کرےگا؟
LUK 22:24 شاگردوں میں اِس بات پر آپَس میں بحث ہونے لگی کہ اُن میں کون سَب سے بڑا سمجھا جاتا ہے۔
LUK 22:25 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”غَیریہُودیوں پر اُن کے حُکمراں حُکمرانی کرتے ہیں اَورجو اِختیار والے ہیں وہ مُحسِن کَہلاتے ہیں۔
LUK 22:26 لیکن تُمہیں اُن کے جَیسا نہیں ہوناہے، اِس کے بجائے، تُم میں جو سَب سے بڑا ہے وہ سَب سے چُھوٹے کی مانِند اَورجو حاکم ہے وہ خادِم کی مانِند ہو۔
LUK 22:27 کیونکہ بڑا کون ہے؟ وہ جو دسترخوان پر بیٹھا ہے یا وہ ہے جو خدمت کرتا ہے؟ کیا وہ بڑا نہیں ہے جو دسترخوان پر بیٹھا ہے؟ لیکن مَیں تو تمہارے بیچ میں ایک خادِم کی مانِند ہُوں۔
LUK 22:28 مگر تُم وہ جو میری آزمائشوں میں برابر میرے ساتھ کھڑے رہے ہو۔
LUK 22:29 جَیسے میرے باپ نے مُجھے ایک سلطنت عطا کی ہے، وَیسے ہی میں بھی تُمہیں ایک سلطنت عطا کرتا ہُوں۔
LUK 22:30 تاکہ تُم میری سلطنت میں میرے دسترخوان سے کھاؤ اَور پیو اَور تُم شاہی تختوں پر بیٹھ کر اِسرائیلؔ کے بَارہ قبیلوں کا اِنصاف کروگے۔
LUK 22:31 ”شمعُونؔ! شمعُونؔ! شیطان نے تُم سبھی کو گندُم کی طرح پھٹکنے کی اِجازت مانگی ہے۔
LUK 22:32 لیکن شمعُونؔ، کہ مَیں نے تمہارے لیٔے شِدّت سے دعا کی ہے کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے اَور جَب تو تَوبہ کر چُکے تو اَپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبُوط کرنا۔“
LUK 22:33 پطرس نے آپ سے کہا، ”اَے خُداوؔند، آپ کے ساتھ تو میں قَید ہونے اَور مَرنے کو بھی تیّار ہُوں۔“
LUK 22:34 لیکن یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے پطرس! میں تُم سے کہتا ہُوں، آج اِس سے پہلے کہ مُرغ بانگ دے تُم تین دفعہ میرا اِنکار کروگے کہ تُم مُجھے جانتے تک نہیں۔“
LUK 22:35 اُس کے بعد یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”جَب مَیں نے تُمہیں بٹوے، تھیلی اَور جُوتوں کے بغیر بھیجا تھا تو کیا تُم کسی چیز کے مُحتاج ہویٔے تھے؟“ اُنہُوں نے کہا، ”کسی چیز کے نہیں۔“
LUK 22:36 آپ نے اُن سے فرمایا، ”مگر اَب جِس کے پاس بٹوا ہو وہ اُسے ساتھ رکھ لے اَور اِسی طرح تھیلی بھی اَور جِس کے پاس تلوار نہ ہو وہ اَپنے کپڑے بیچ کر تلوار خرید لے۔
LUK 22:37 کیونکہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ’اُسے بدکاروں کے ساتھ شُمار کیا گیا‘ اَور مَیں تُم کو بتاتا ہُوں کہ یہ بات میرے حق میں پُورا ہونا لازمی ہے۔ ہاں، جو کُچھ میرے بارے میں لِکھّا ہُواہے وہ پُورا ہونا ہی ہے۔“
LUK 22:38 شاگردوں نے کہا، ”اَے خُداوؔند، دیکھئے، یہاں دو تلواریں ہیں۔“ آپ نے اُن سے فرمایا، ”بہت ہیں۔“
LUK 22:39 پھر یِسوعؔ باہر نکلے اَور جَیسا آپ کا دستور تھا کوہِ زَیتُون پر گیٔے، اَور آپ کے شاگرد بھی پیچھے ہو لیٔے۔
LUK 22:40 اُس جگہ پہُنچ کر آپ نے اُن سے فرمایا، ”دعا کرو تاکہ تُم آزمائش میں نہ پڑو۔“
LUK 22:41 پھر یِسوعؔ اُنہیں چھوڑکر کُچھ آگے چلےگئے، تقریباً اِتنے فاصلہ پر جِتنی دُوری تک پتّھر پھینکا جا سَکتا ہے۔ وہاں وہ جُھک کر یُوں دعا کرنے لگے،
LUK 22:42 ”اَے باپ، اگر آپ کی مرضی ہو؛ تو اِس پیالہ کو میرے سامنے سے ہٹا لیں لیکن پھر بھی میری مرضی نہیں بَلکہ آپ کی مرضی پُوری ہو۔“
LUK 22:43 اَور آسمان سے ایک فرشتہ اُن پر ظاہر ہُوا جو اُنہیں تقویّت دیتا تھا۔
LUK 22:44 پھر وہ سخت درد و کرب میں مُبتلا ہوکر اَور بھی دِل سوزی سے دعا کرنے لگے اَور اُن کا پسیِنہ خُون کی بُوندوں کی مانِند زمین پر ٹپکنے لگا۔
LUK 22:45 جَب وہ دعا سے فارغ ہوکر کھڑے ہویٔے، اَور شاگردوں کے پاس واپس آئے، تو اُنہیں اُداسی کے سبب، سوتے پایا۔
LUK 22:46 اَور اُن سے پُوچھا، ”تُم کیوں سو رہے؟ اُٹھ کر دعا کرو تاکہ تُم آزمائش میں نہ پڑو۔“
LUK 22:47 ابھی یِسوعؔ یہ بات کہہ ہی رہے تھے کہ ایک ہُجوم پہُنچا، اَور اُن بَارہ میں سے ایک، جِس کا نام یہُوداہؔ تھا، اُن کے آگے آگے چلا آ رہاتھا۔ وہ یِسوعؔ کو بوسہ سے سلام کرنے کے لیٔے آگے آیا۔
LUK 22:48 لیکن یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”یہُوداہؔ، کیا تو ایک بوسہ سے اِبن آدمؔ کو پکڑواتا ہے؟“
LUK 22:49 جَب یِسوعؔ کے ساتھیوں نے یہ ماجرا دیکھا تو کہا، ”اَے خُداوؔند، کیا ہم تلوار چلائیں؟“
LUK 22:50 اَور اُن میں سے ایک نے اعلیٰ کاہِن کے خادِم پر تلوار چلا کر، اُس کا داہنا کان اُڑا دیا۔
LUK 22:51 ”بس کرو! بہت ہو چُکا!“ اِس پر یِسوعؔ نے کہا، اَور آپ نے اُس کے کان کو چھُو کر اَچھّا کر دیا۔
LUK 22:52 تَب یِسوعؔ نے اہم کاہِنوں، بیت المُقدّس کے سپاہیوں، اَور بُزرگوں سے جو آپ کو گِرفتار کرنے آئےتھے، سے کہا، ”کیا تُم تلواریں اَور لاٹھیاں لے کر کسی بغاوت کرنے والے کو پکڑنے نکلے ہو؟
LUK 22:53 جَب مَیں ہر روز بیت المُقدّس کے صحنوں میں تمہارے ساتھ ہوتا تھا، تو تُم نے مُجھ پر ہاتھ نہ ڈالا لیکن یہ تمہارے اَور تاریکی کے اِختیار کا وقت ہے۔“
LUK 22:54 تَب اُنہُوں نے یِسوعؔ کو گِرفتار کر لیا اَور اُنہیں وہاں سے اعلیٰ کاہِن کے گھر میں لے گیٔے۔ پطرس بھی کُچھ فاصلہ پر رہ کر اُن کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔
LUK 22:55 اَور جَب کُچھ لوگ صحن کے بیچ میں آگ جَلا کر ایک ساتھ بیٹھے ہویٔے تھے تو پطرس بھی اُن کے ساتھ بیٹھ گیا۔
LUK 22:56 اَور ایک لونڈی نے اُسے آگ کے پاس بیٹھا دیکھ کر پطرس کو پہچانتے ہویٔے کہا، ”کہ یہ آدمی بھی یِسوعؔ کے ساتھ تھا۔“
LUK 22:57 مگر پطرس نے اِنکار کرکے کہا، ”اَے عورت میں اُسے نہیں جانتا۔“
LUK 22:58 تھوڑی دیر بعد کسی اَور نے اُسے دیکھ کر کہا، ”تُو بھی اُن ہی میں سے ایک ہے۔“ پطرس نے کہا، ”نہیں بھایٔی، میں نہیں ہُوں!“
LUK 22:59 تقریباً ایک گھنٹہ بعد کسی اَور نے بڑے یقین سے کہا، ”یہ آدمی بِلا شک اُن کے ساتھ تھا، کیونکہ یہ بھی تو گلِیلی ہے۔“
LUK 22:60 لیکن پطرس نے کہا، ”جَناب، میں نہیں جانتا کہ تُم کیا بول رہے ہو!“ وہ ابھی کہہ ہی رہاتھا کہ مُرغ نے بانگ دے دی۔
LUK 22:61 اَور خُداوؔند نے مُڑ کر پطرس کو سیدھے دیکھا اَور پطرس کو خُداوؔند کی وہ بات یاد آئی جو آپ نے پطرس سے کہی تھی: ”آج مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے، تُو تین بار میرا اِنکار کرےگا۔“
LUK 22:62 اَور وہ باہر جا کر زار زار رُویا۔
LUK 22:63 جو آدمی یِسوعؔ کو اَپنے قبضہ میں لیٔے ہُوئے تھے، آپ کی ہنسی اُڑانے اَور پیٹنے لگے۔
LUK 22:64 اُنہُوں نے آپ کی آنکھوں پر پٹّی باندھ کر پُوچھا، ”نبُوّت کر! کہ تُجھے کِس نے مارا؟“
LUK 22:65 اَور اُنہُوں نے آپ کو بہت سِی گالِیاں بھی دیں۔
LUK 22:66 صُبح ہوتے ہی قوم کے بُزرگوں، اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں نے جمع ہوکر یِسوعؔ کو اَپنی عدالتِ عالیہ میں پیش کیا اَور
LUK 22:67 کہنے لگے، ”اگر آپ المسیح ہیں تو ہم سے کہہ دیں۔“ آپ نے اُن سے کہا، ”اگر مَیں تُم سے کہہ بھی دُوں تَب بھی تُم ایمان نہ لاؤگے۔
LUK 22:68 اَور اگر تُم سے پُوچھوں، تو تُم جَواب نہیں دوگے۔
LUK 22:69 لیکن اَب سے اِبن آدمؔ قادرمُطلق خُدا کی داہنی طرف بیٹھا رہے گا۔“
LUK 22:70 اِس پر وہ سَب بول اُٹھے، ”کہ کیا آپ ہی خُدا کے بیٹے ہیں؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا کہ تُم خُود کہتے ہو کہ میں ہُوں۔
LUK 22:71 اُنہُوں نے کہا، ”اَب ہمیں اَور گواہی کی کیا ضروُرت ہے؟ کیونکہ ہم نے اُسی کے مُنہ سے اِس بات کو سُن لیا ہے۔“
LUK 23:1 تَب پُوری مَجلِس اُٹھی اَور یِسوعؔ کو پِیلاطُسؔ کے پاس لے گئی۔
LUK 23:2 اَور آپ پر یہ کہہ کر اِلزام لگانے لگے، ”کہ ہم نے اِسے ہماری قوم کو بہکاتے پایا ہے وہ قَیصؔر کو محصُول اَدا کرنے سے منع کرتا ہے اَور دعویٰ کرتا ہے کہ میں المسیح، اَور ایک بادشاہ ہُوں۔“
LUK 23:3 تَب پِیلاطُسؔ نے یِسوعؔ سے پُوچھا، ”کیا آپ یہُودیوں کے بادشاہ ہیں؟“ یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”تُم نے خُود ہی کہہ دیا۔“
LUK 23:4 پِیلاطُسؔ نے اہم کاہِنوں اَور عوام سے کہا، ”میں اِس شخص میں کویٔی قُصُور نہیں پاتا۔“
LUK 23:5 لیکن وہ اِصرار کرکے کہنے لگے، ”وہ پُورے یہُودیؔہ میں گلِیل سے لے کر یہاں تک لوگوں کو اَپنی تعلیم سے اُکساتا ہے۔“
LUK 23:6 جَب پِیلاطُسؔ نے یہ سُنا تو اُس نے پُوچھا، کیا یہ آدمی گلِیلی ہے؟
LUK 23:7 اَور جُوں ہی اُسے مَعلُوم ہُوا کہ وہ ہیرودیسؔ کی عملداری کا ہے، اُسے ہیرودیسؔ کے پاس بھیج دیا جو اُن دِنوں خُود بھی یروشلیمؔ میں تھا۔
LUK 23:8 جَب ہیرودیسؔ نے یِسوعؔ کو دیکھا، تو نہایت خُوش ہُوا، اِس لیٔے کہ اُسے ایک عرصے سے یِسوعؔ کو دیکھنے کی خواہش تھی۔ اَور اُس نے آپ کے بارے میں بہت سِی باتیں سُن رکھی تھیں، اَور اُسے اُمّید تھی کہ وہ یِسوعؔ کا کویٔی معجزہ بھی دیکھ سکےگا۔
LUK 23:9 اُس نے یِسوعؔ سے بہت کُچھ پُوچھا، لیکن یِسوعؔ نے اُسے کویٔی جَواب نہ دیا۔
LUK 23:10 اَور اہم کاہِن اَور شَریعت کے عالِم وہاں کھڑے ہوکر، بڑی سختی سے آپ پر اِلزام لگا رہے تھے۔
LUK 23:11 تَب ہیرودیسؔ اَور اُس کے سپاہیوں نے ساتھ مِل کر یِسوعؔ کی بے عزّتی کی اَور ہنسی اُڑائی۔ پھر ایک چمکدار لباس پہناکر آپ کو پِیلاطُسؔ کے پاس واپس بھیج دیا۔
LUK 23:12 اُسی دِن پِیلاطُسؔ اَور ہیرودیسؔ ایک دُوسرے کے دوست بَن گیٔے حالانکہ اِس سے پہلے اُن میں دُشمنی تھی۔
LUK 23:13 تَب پِیلاطُسؔ نے اہم کاہِنوں، حاکموں اَور عوام کو جمع کیا
LUK 23:14 اَور اُن سے کہا، ”تُم اِس شخص کو میرے پاس یہ کہتے ہویٔے لایٔے کہ یہ لوگوں کو بغاوت کرنے کے لیٔے بہکاتا ہے۔ مَیں نے خُود بھی تمہارے سامنے اُس سے بازپُرس کی مگر جِس جُرم کا اِلزام تُم اُس پر لگاتے ہو، مَیں نے اُسے قُصُوروار نہیں پایا ہے۔
LUK 23:15 اَور نہ ہی ہیرودیسؔ نے، کیوں کہ اُس نے اُسے ہمارے پاس واپس بھیج دیا۔ دیکھو، اِس نے کویٔی اَیسا کام نہیں کیا ہے جو اِسے قتل کے لائق ٹھہرائے۔
LUK 23:16 لہٰذا، میں اِسے پِٹوا کر چھوڑ دُوں گا۔“
LUK 23:17 اُسے لازِم تھا کہ عید کے موقع پر مُجرموں میں سے کسی ایک کو اُن کی خاطِر رِہا کر دے۔
LUK 23:18 لیکن پُوری عوام ایک آواز میں چِلّانے لگی، ”کہ اِس آدمی کو مار ڈالو! ہماری خاطِر بَراَبّؔا کو رِہا کر دے!“
LUK 23:19 (بَراَبّؔا شہر میں بغاوت، اَور خُون کے اِلزام میں قَید کیا گیا تھا۔)
LUK 23:20 پِیلاطُسؔ نے یِسوعؔ کو رِہا کرنے کے اِرادہ سے، اُن سے دوبارہ پُوچھا۔
LUK 23:21 لیکن وہ چِلّانے لگے، ”کہ اِسے مصلُوب کرو! اِسے مصلُوب کرو!“
LUK 23:22 تَب اُس نے اُن سے تیسری بار پُوچھا: ”کیوں؟ آخِر اِس نے کون سا جُرم کیا ہے؟ مَیں نے اِس میں اَیسا کویٔی قُصُور نہیں پایا کہ وہ سزائے موت کا مُستحق ہو۔ اِس لیٔے میں اِسے پِٹوا کر چھوڑ دیتا ہُوں۔“
LUK 23:23 لیکن وہ چِلّا چِلّاکر مطالبہ کرنے لگے کہ وہ مصلُوب کیا جائے اَور اُن کا چِلّانا کارگر ثابت ہُوا۔
LUK 23:24 پس پِیلاطُسؔ نے اُن کی درخواست کے مُطابق موت کا حُکم صادر کر دیا۔
LUK 23:25 اَورجو آدمی بغاوت اَور خُون کے جُرم میں قَید میں تھا جِس کی رِہائی اُنہُوں نے ماںگی تھی، اُسے چھوڑ دیا گیا، اَور یِسوعؔ کو اُن کی مرضی کے مُوافق اُن کے حوالے کر دیا۔
LUK 23:26 جَب فَوجی یِسوعؔ کو لیٔے جا رہے تھے، تو اُنہُوں نے شمعُونؔ کُرینی کو جو اَپنے گاؤں سے آ رہاتھا پکڑ لیا، اَور صلیب اُس پر رکھ دی تاکہ وہ اُسے اُٹھاکر یِسوعؔ کے پیچھے پیچھے لے چلے۔
LUK 23:27 لوگوں کا ایک بڑا ہُجوم آپ کے پیچھے ہو لیا، اَور ہُجوم میں کیٔی عورتیں بھی تھیں جو آپ کے لیٔے نوحہ اَور ماتم کر رہی تھیں۔
LUK 23:28 یِسوعؔ نے مُڑ کر اُن سے کہا، ”اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں! میرے لیٔے مت روؤ؛ بَلکہ اَپنے لیٔے اَور اَپنے بچّوں کے لیٔے روؤ۔
LUK 23:29 کیونکہ وہ دِن آنے والے ہیں جَب تُم یہ کہوگی، ’وہ بانجھ عورتیں مُبارک ہیں جِن کے رحم بچّوں سے خالی رہے، اَور جِن کی چھاتِیوں نے دُودھ نہیں پِلایا!‘
LUK 23:30 تَب ” ’وہ پہاڑوں سے کہیں گے، ”ہم پر گِر پڑو!“ اَور ٹیلوں سے، ”کہ ہمیں چھُپا لو!“ ‘
LUK 23:31 کیونکہ، جَب لوگ ہرے درخت کے ساتھ اَیسا سلُوک کرتے ہیں، تو پھر سُوکھنے درخت کے ساتھ کیا کریں گے؟“
LUK 23:32 دو اَور مُجرم آدمی بھی تھے جنہیں یِسوعؔ کے ساتھ لے جایا جا رہاتھا، تاکہ اُنہیں بھی قتل کیا جائے۔
LUK 23:33 جَب وہ سَب کھوپڑی نامی جگہ پر پہُنچے، تو وہاں اُنہُوں نے یِسوعؔ کو دو مُجرموں کے درمیان ایک کو آپ کے داہنی طرف، اَور دُوسرے کو بائیں طرف مصلُوب کیا۔
LUK 23:34 یِسوعؔ نے دعا کی، ”اَے باپ، اِنہیں مُعاف کر، کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کر رہے ہیں۔“ اَور اُنہُوں نے آپ کے کپڑوں پر قُرعہ ڈال کر آپَس میں تقسیم کر لیا۔
LUK 23:35 لوگ کھڑے کھڑے یہ سَب کُچھ دیکھ رہے تھے اَور رہنما لوگ بھی حُضُور پر طَعنہ کستے تھے اَور کہتے تھے، ”اِس نے اَوروں کو بچایا؛ اگر یہ خُدا کا المسیح، جو برگُزیدہ ہے تو اَپنے آپ کو بچالے۔“
LUK 23:36 سپاہیوں نے بھی آکر آپ کی ہنسی اُڑائی اَور پینے کے لیٔے آپ کو سِرکہ دیا۔
LUK 23:37 اَور کہا، ”اگر تو یہُودیوں کا بادشاہ ہے، تو اَپنے آپ کو بچالے۔“
LUK 23:38 حُضُور کے سَر کے اُوپر ایک نوشتہ بھی لگایا گیا تھا کہ یہ: یہُودیوں کا بادشاہ ہے۔
LUK 23:39 دو مُجرم جو مصلُوب کیٔے گیٔے تھے، اُن میں سے ایک نے یِسوعؔ کو لَعن طَعن کرتے ہویٔے کہا: ”اگر تو المسیح ہے؟ تُو اَپنے آپ کو اَور ہمیں بچا!“
LUK 23:40 لیکن دُوسرے نے اُسے ڈانٹا اَور کہا، ”کیا تُجھے خُدا کا خوف نہیں حالانکہ تو خُود بھی وُہی سزا پا رہاہے!
LUK 23:41 ہم تو اَپنے جرائم کی وجہ سے سزا پا رہے ہیں، اَور ہمارا قتل کیاجانا واجِب ہے لیکن اِس اِنسان نے کویٔی غلط کام نہیں کیا ہے۔“
LUK 23:42 تَب اُس نے کہا، ”اَے یِسوعؔ! جَب آپ اَپنی بادشاہی میں آئیں تو مُجھے یاد کرنا۔“
LUK 23:43 یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”مَیں تُجھے یقین دِلاتا ہُوں کہ تو آج ہی میرے ساتھ فِردَوس میں ہوگا۔“
LUK 23:44 تقریباً دوپہر کا وقت تھا، کہ چاروں طرف اَندھیرا چھا گیا اَور تین بجے تک پُورے مُلک کی یہی حالت رہی۔
LUK 23:45 سُورج تاریک ہو گیا اَور بیت المُقدّس کا پردہ پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا
LUK 23:46 اَور یِسوعؔ نے زور سے چِلّاکر کہا، ”اَے باپ! میں اَپنی جان آپ کے ہاتھوں میں سونپتا ہُوں“ اَور یہ کہہ کر دَم توڑ دیا۔
LUK 23:47 جَب فَوجی افسر نے یہ ماجرا دیکھا، تو خُدا کی تمجید کرتے ہویٔے کہا، ”یہ شخص واقعی راستباز تھا۔“
LUK 23:48 اَور سارے لوگ جو وہاں جمع تھے یہ منظر دیکھ کر، سینہ کُوبی کرتے ہُوئے لَوٹ گیٔے۔
LUK 23:49 لیکن یِسوعؔ کے سارے جان پہچان والے اَور وہ عورتیں جو گلِیل سے آپ کے پیچھے پیچھے آئی تھیں، کُچھ فاصلہ پر کھڑی یہ سَب دیکھ رہی تھیں۔
LUK 23:50 یُوسیفؔ نام کا ایک آدمی تھا، وہ یہُودیوں کی عدالتِ عالیہ کا ایک رُکن تھا اَور بڑا نیک اَور راستباز تھا،
LUK 23:51 وہ عدالتِ عالیہ کے اراکین کے فیصلہ اَور عَمل کے حق میں نہ تھا۔ وہ یہُودیوں کے شہر ارِمَتِیاؔہ کا باشِندہ تھا، اَور خُدا کی بادشاہی کا مُنتظر تھا۔
LUK 23:52 اُس نے پِیلاطُسؔ کے پاس جا کر یِسوعؔ کی لاش مانگی۔
LUK 23:53 اَور لاش کو صلیب پر سے اُتار کر مہین سُوتی چادر میں کفنایا، اَور اُسے ایک قبر میں رکھ دیا، جو چٹّان میں کھودی گئی تھی، جِس میں کبھی کسی کو دفنایا نہیں گیا تھا۔
LUK 23:54 وہ تیّاری کا دِن تھا، اَور سَبت کا دِن شروع ہونے ہی والا تھا۔
LUK 23:55 وہ عورتیں جو گلِیل سے یِسوعؔ کے ساتھ آئی تھیں، یُوسیفؔ کے پیچھے پیچھے گئیں اَور اُنہُوں نے اُس قبر کو اَور یِسوعؔ کی لاش کو دیکھا کہ کس طرح اُس میں رکھا گیا ہے۔
LUK 23:56 تَب وہ گھر لَوٹ گئیں اَور اُنہُوں نے خُوشبودار مَسالے اَور عِطر تیّار کیا اَور شَریعت کے حُکم کے مُطابق سَبت کے دِن آرام کیا۔
LUK 24:1 ہفتہ کے پہلے دِن یعنی اتوار، کے صُبح سویرے، بعض عورتیں خُوشبودار مَسالے جو اُنہُوں نے تیّار کیٔے تھے، اَپنے ساتھ لے کر قبر پر آئیں۔
LUK 24:2 لیکن اُنہُوں نے پتّھر کو قبر کے مُنہ سے لُڑھکا ہُوا پایا،
LUK 24:3 لیکن جَب وہ اَندر گئیں تو اُنہیں خُداوؔند یِسوعؔ کی لاش نہ مِلی۔
LUK 24:4 جَب وہ اِس بارے میں حیرت میں مُبتلا تھیں تو اَچانک دو شخص بجلی کی طرح چمکدار لباس میں اُن کے پاس آ کھڑے ہُوئے۔
LUK 24:5 وہ خوفزدہ ہو گئیں اَور اَپنے سَر زمین کی طرف جھُکا دئیے، لیکن اُنہُوں نے اُن سے کہا، ”تُم زندہ کو مُردوں میں کیوں ڈھونڈتی ہو؟
LUK 24:6 یِسوعؔ یہاں نہیں ہیں؛ بَلکہ وہ جی اُٹھے ہیں! تُمہیں یاد نہیں، کہ جَب وہ گلِیل میں تمہارے ساتھ تھے تو اُنہُوں نے تُم سے کہاتھا:
LUK 24:7 ’اِبن آدمؔ کو گُنہگاروں کے حوالہ کیاجانا، صلیب پر مصلُوب ہونا اَور تیسرے دِن پھر سے جی اُٹھنا ضروُری ہے۔‘ “
LUK 24:8 تَب اُنہیں یِسوعؔ کی باتیں یاد آئیں۔
LUK 24:9 جَب وہ خواتین قبر سے واپس آئیں، تو گیارہ رسولوں اَور باقی سَب شاگردوں کو ساری باتیں بَیان کر دیں۔
LUK 24:10 مریمؔ مَگدلِینیؔ، یوأنّہؔ، اَور یعقوب کی ماں مریمؔ، اَور اُن کے ساتھ کیٔی دُوسری عورتیں تھیں، جنہوں نے رسولوں کو اِن باتوں کی خبر دی تھی۔
LUK 24:11 لیکن اُنہُوں نے عورتوں کا یقین نہ کیا، کیونکہ اُن کی باتیں اُنہیں فُضول سِی لگیں۔
LUK 24:12 مگر پطرس اُٹھے، اَور قبر کی طرف دَوڑے۔ وہاں پطرس نے جُھک کر اَندر دیکھا، تو اُنہیں صِرف خالی کفن کے کپڑے پڑے ہُوئے نظر آئے، اَور وہ تعجُّب کرتے ہُوئے کہ کیا ہو گیا ہے، وہاں سے چلےگئے۔
LUK 24:13 پھر اَیسا ہُوا کہ اُن میں سے دو شاگرد اُسی دِن اِماؤسؔ نام کے ایک گاؤں کی طرف جا رہے تھے جو یروشلیمؔ سے گیارہ کِلو مِیٹر کی دُوری پر تھا
LUK 24:14 وہ آپَس میں اُن واقعات کے بارے میں باتیں کرتے جا رہے تھے جو ہویٔیں تھیں۔
LUK 24:15 جَب وہ باتوں میں مشغُول تھے اَور آپَس میں بحث کر رہے تھے، تو یِسوعؔ خُود ہی نزدیک آکر اُن کے ساتھ ساتھ چلنے لگے؛
LUK 24:16 لیکن وہ حُضُور کو پہچان نہ پایٔے کیونکہ اُن کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہُوا تھا۔
LUK 24:17 یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تُم لوگ آپَس میں کیا بحث کرتے ہویٔے جا رہے ہو؟“ وہ یہ سُن کر خاموش مایوس سا چہرا لٹکایٔے کھڑے ہو گیٔے۔
LUK 24:18 تَب اُن میں سے ایک جِس کا نام کِلیُپاسؔ تھا، آپ سے پُوچھا، ”کیا یروشلیمؔ میں اکیلا تُو ہی اجنبی ہے جو یہ بھی نہیں جانتا کہ اِن دِنوں شہر میں کیا کیا ہُواہے؟“
LUK 24:19 آپ نے اُن سے پُوچھا، ”کیا ہُواہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”یِسوعؔ ناصری کا واقعہ، وہ ایک نبی تھے۔ جنہیں کام اَور کلام کے باعث خُدا کی نظر میں اَور سارے لوگوں کے نزدیک بڑی قُدرت حاصل تھی۔
LUK 24:20 اَور ہمارے اہم کاہِنوں اَور حاکموں نے حُضُور کو قتل کرنے کا فرمان جاری کرایا، اَور حُضُور کو صلیب پر مصلُوب کر دیا؛
LUK 24:21 لیکن ہمیں تُو یہ اُمّید تھی کہ یہی وہ شخص ہے جو اِسرائیلؔ کو مخلصی عطا کرنے والا ہے اَور اِس کے علاوہ اِن واقعات کو ہُوئے آج تیسرا دِن ہے۔
LUK 24:22 اِس کے علاوہ، ہمارے گِروہ کی چند عورتوں نے ہمیں حیرت میں ڈال دیا ہے جو آج صُبح سویرے اُن کی قبر پر گئی تھیں،
LUK 24:23 لیکن اُنہیں یِسوعؔ کی لاش نہ مِلی۔ اُنہُوں نے لَوٹ کر ہمیں بتایا کہ اُنہُوں نے فرشتوں کو دیکھا اَور فرشتوں نے اُنہیں بتایا کہ یِسوعؔ زندہ ہو گئے ہیں۔
LUK 24:24 تَب ہمارے بعض ساتھی بھی قبر پر گیٔے اَور جَیسا عورتوں نے کہاتھا اُسے وَیسا ہی پایا۔ لیکن اُنہُوں نے بھی یِسوعؔ کو نہیں دیکھا۔“
LUK 24:25 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”تُم کتنے نادان، اَور نبیوں کی بتایٔی ہویٔی باتوں کو یقین کرنے میں کتنے سُست ہو!
LUK 24:26 کیا المسیح کے لیٔے ضروُری نہ تھا کہ وہ اَذیتّوں کو برداشت کرتا اَور پھر اَپنے جلال میں داخل ہوتا؟“
LUK 24:27 اَور آپ نے حضرت مَوشہ سے لے کر سارے نبیوں کی باتیں جو آپ کے بارے میں کِتاب مُقدّس میں درج تھیں، اُنہیں سمجھا دیں۔
LUK 24:28 اِتنے میں وہ اُس گاؤں کے نزدیک پہُنچے جہاں اُنہیں جانا تھا، لیکن یِسوعؔ کے چلنے کے ڈھنگ سے اَیسا مَعلُوم ہُوا گویا وہ اَور آگے جانا چاہتے ہیں۔
LUK 24:29 لیکن اُنہُوں نے حُضُور کو یہ کہہ کر مجبُور کیا، ”کہ ہمارے پاس رُک جایٔیں، کیونکہ دِن تقریباً ڈھل چُکاہے؛ اَور شام ہونے والی ہے؛ پس وہ اُن کے ساتھ ٹھہرنے کے لیٔے اَندر چلے گیٔے۔“
LUK 24:30 جَب وہ اُن کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے، تو آپ نے روٹی لی، اَور شُکر کرکے توڑا، اَور اُنہیں دینے لگے۔
LUK 24:31 تَب اُن کی آنکھیں کھُل گئیں اَور اُنہُوں نے حُضُور کو پہچان لیا، اَور یِسوعؔ اُن کی نظروں سے غائب ہو گیٔے۔
LUK 24:32 اُنہُوں نے آپَس میں کہا، ”کیا ہمارے دِل جوش سے نہیں بھر گیٔے تھے جَب وہ راستے میں ہم سے باتیں کر رہے تھے اَور ہمیں کِتاب مُقدّس سے باتیں سمجھا رہے تھے۔“
LUK 24:33 تَب وہ اُسی گھڑی اُٹھے اَور یروشلیمؔ واپس آئے۔ جہاں اُنہُوں نے گیارہ رسولوں اَور اُن کے ساتھیوں کو ایک جگہ اِکٹھّے پایا،
LUK 24:34 وہ کہہ رہے تھے، ”خُداوؔند سچ مُچ مُردوں میں سے جی اُٹھے ہیں! اَور شمعُونؔ کو دِکھائی دئیے ہیں۔“
LUK 24:35 تَب اُن دونوں نے راستے کی ساری باتیں بَیان کیں، اَور یہ بھی کہ اُنہُوں نے کس طرح یِسوعؔ کو روٹی توڑتے وقت پہچانا تھا۔
LUK 24:36 ابھی وہ یہ باتیں کہہ ہی رہے تھے، کہ یِسوعؔ خُود ہی اُن کے درمیان آ کھڑے ہویٔے اَور اُن سے فرمایا، ”تمہاری سلامتی ہو۔“
LUK 24:37 لیکن وہ اِس قدر ہِراساں اَور خوفزدہ ہو گئے، کہ سمجھنے لگے کہ کسی رُوح کو دیکھ رہے ہیں۔
LUK 24:38 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”تُم کیوں گھبرائے ہویٔے ہو اَور تمہارے دِلوں میں شک کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟
LUK 24:39 میرے ہاتھ اَور پاؤں دیکھو، مَیں ہی ہُوں! مُجھے چھُو کر دیکھو؛ کیونکہ رُوح کی ہڈّیاں اَور گوشت نہیں ہوتی ہیں، جَیسا تُم مُجھ میں دیکھ رہے ہو۔“
LUK 24:40 یہ کہنے کے بعد، آپ نے اُنہیں اَپنے ہاتھ اَور پاؤں دِکھائے۔
LUK 24:41 لیکن خُوشی اَور حیرت کے مارے جَب اُنہیں یقین نہیں آ رہاتھا، لہٰذا یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”کیا یہاں تمہارے پاس کُچھ کھانے کو ہے؟“
LUK 24:42 اُنہُوں نے حُضُور کو بھُنی ہویٔی مچھلی کا قتلہ پیش کیا،
LUK 24:43 اَور آپ نے اُسے لیا اَور اُن کے سامنے کھایا۔
LUK 24:44 پھر آپ نے اُن سے کہا، ”جَب مَیں تمہارے ساتھ تھا تو مَیں نے تُمہیں یہ باتیں بتایٔی تھیں: کہ حضرت مَوشہ کی توریت، نبیوں کی کِتابوں اَور زبُور میں میرے بارے میں جو کُچھ لِکھّا ہے وہ سَب ضروُر پُورا ہوگا۔“
LUK 24:45 تَب آپ نے اُن کا ذہن کھولا تاکہ وہ کِتاب مُقدّس کو سمجھ سکیں۔
LUK 24:46 اَور اُن سے کہا، ”یُوں لِکھّا ہے: کہ المسیح دُکھ اُٹھائے گا اَور تیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا،
LUK 24:47 اَور میرے نام سے یروشلیمؔ سے شروع کرکے تمام قوموں میں، گُناہوں کی مُعافی کے لیٔے تَوبہ کرنے کی مُنادی کی جائے گی۔
LUK 24:48 تُم اِن باتوں کے گواہ ہو۔
LUK 24:49 میرے باپ نے جِس کا وعدہ کیا ہے میں اُسے تُم پر نازل کروں گا؛ لیکن جَب تک تُمہیں آسمان سے قُوّت کا لباس عطا نہ ہو اِسی شہر میں ٹھہرے رہنا۔“
LUK 24:50 پھر یِسوعؔ اُنہیں بیت عنیّاہ تک باہر لے گیٔے، اَور اَپنے ہاتھ اُٹھاکر اُنہیں برکت بخشی۔
LUK 24:51 جَب وہ اُنہیں برکت دے رہے تھے، تو اُن سے جُدا ہو گیٔے اَور آسمان میں اُوپر اُٹھا لیٔے گیٔے۔
LUK 24:52 شاگردوں نے حُضُور کو سَجدہ کیا اَور پھر بڑی خُوشی کے ساتھ یروشلیمؔ لَوٹ گیٔے۔
LUK 24:53 اَور وہ بیت المُقدّس میں لگاتار حاضِر ہوکر، خُدا کی حَمد کیا کرتے تھے۔
JOH 1:1 اِبتدا میں کلام تھا اَور کلام خُدا کے ساتھ تھا اَور کلام خُدا ہی تھا۔
JOH 1:2 کلام اِبتدا سے ہی خُدا کے ساتھ تھا۔
JOH 1:3 سَب چیزیں کلام کے وسیلہ سے ہی پیدا کی گئیں؛ اَور کویٔی بھی چیز اَیسی نہیں جو کلام کے بغیر وُجُود میں آئی ہو۔
JOH 1:4 کلام میں زندگی تھی اَور وہ زندگی سَب آدمیوں کا نُور تھی۔
JOH 1:5 نُور تاریکی میں چمکتا ہے، اَور تاریکی اُسے کبھی مغلُوب نہیں کر سکتی۔
JOH 1:6 خُدا نے ایک شخص کو بھیجا جِن کا نام حضرت یُوحنّا تھا۔
JOH 1:7 وہ اِس لیٔے آئے کہ اُس نُور کی گواہی دیں، تاکہ سَب لوگ حضرت یُوحنّا کے ذریعہ سے ایمان لائیں۔
JOH 1:8 وہ خُود تو نُورنہ تھے؛ مگر نُور کی گواہی دینے کے لیٔے آئےتھے۔
JOH 1:9 حقیقی نُور جو ہر اِنسان کو رَوشن کرتا ہے، دُنیا میں آنے والا تھا۔
JOH 1:10 وہ دُنیا میں تھے اَور حالانکہ دُنیا اُنہیں کے وسیلہ سے پیدا ہویٔی پھر بھی دُنیا والوں نے اُنہیں نہ پہچانا۔
JOH 1:11 وہ اَپنے لوگوں میں آئے، لیکن اُن کے اَپنوں ہی نے اُنہیں قبُول نہیں کیا۔
JOH 1:12 لیکن جِتنوں نے اُنہیں قبُول کیا، اُنہُوں نے اُنہیں خُدا کے فرزند ہونے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُن کے نام پر ایمان لایٔے۔
JOH 1:13 وہ نہ تو خُون سے، نہ جِسمانی خواہش سے اَور نہ اِنسان کے اَپنے اِرادہ سے اَور نہ ہی شوہر کی مرضی سے بَلکہ خُدا سے پیدا ہویٔے ہیں۔
JOH 1:14 اَور کلام مُجسّم ہُوا اَور ہمارے درمیان فضل اَور سچّائی سے معموُر ہوکر خیمہ زن ہُوا، اَور ہم نے اُن کا اَیسا جلال دیکھا، جو صِرف آسمانی باپ کے اِکلوتے بیٹے کا ہوتاہے۔
JOH 1:15 (اُن کے بارے میں حضرت یُوحنّا نے گواہی دی۔ یُوحنّا نے پُکار کر، کہا، ”یہ وُہی ہیں جِس کے حق میں مَیں نے فرمایا تھا، ’وہ جو میرے بعد آنے والے ہیں، مُجھ سے کہیں مُقدّم ہیں کیونکہ وہ مُجھ سے پہلے ہی مَوجُود تھے۔‘ “)
JOH 1:16 وہ فضل سے معموُر ہیں اَور ہم سَب نے اُن کی معموُری میں سے فضل پر فضل حاصل کیا ہے۔
JOH 1:17 کیونکہ شَریعت تو حضرت مَوشہ کی مَعرفت دی گئی؛ مگر فضل اَور سچّائی کی بخشش یِسوعؔ المسیح کی مَعرفت مِلی۔
JOH 1:18 خُدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا، لیکن اِس واحد خُدا نے جو باپ کے سَب سے نزدیک ہے، اُنہُوں نے ہی باپ کو ظاہر کیا۔
JOH 1:19 اَور حضرت یُوحنّا کی گواہی یہ ہے کہ جَب یروشلیمؔ شہر کے یہُودی رہنماؤں نے بعض کاہِنوں اَور لیویوں کو حضرت یُوحنّا کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُن سے پُوچھیں کہ وہ کون ہیں۔
JOH 1:20 حضرت یُوحنّا نے کھُل کر اقرار کیا، ”میں تو المسیح نہیں ہُوں۔“
JOH 1:21 اُنہُوں نے اُن سے پُوچھا، ”پھر آپ کون ہیں؟ کیا آپ حضرت ایلیّاہ ہیں؟“ حضرت یُوحنّا نے جَواب دیا، ”میں نہیں۔“ ”کیا آپ وہ نبی ہیں؟“ حضرت یُوحنّا نے جَواب دیا، ”نہیں۔“
JOH 1:22 اُنہُوں نے آخِری مرتبہ پُوچھا، ”پھر آپ کون ہیں؟ ہمیں جَواب دیجئے تاکہ ہم اَپنے بھیجنے والوں کو بتا سکیں۔ آخِر آپ اَپنے بارے میں کیا کہتے ہیں؟“
JOH 1:23 حضرت یُوحنّا نے یَشعیاہ نبی کے الفاظ میں جَواب دیا، ”میں بیابان میں پُکارنے والے کی آواز ہُوں، ’خُداوؔند کے لیٔے راہ تیّار کرو۔‘ “
JOH 1:24 تَب وہ فرِیسی جو حضرت یُوحنّا کے پاس بھیجے گیٔے تھے
JOH 1:25 اُن سے پُوچھنے لگے، ”اگر آپ المسیح نہیں ہیں، نہ حضرت ایلیّاہ ہیں، اَور نہ ہی وہ نبی ہیں تو پھر پاک غُسل کیوں دیتے ہیں؟“
JOH 1:26 حضرت یُوحنّا نے اُنہیں جَواب دیا، ”میں تو صِرف پانی سے پاک غُسل دیتا ہُوں، لیکن تمہارے درمیان وہ شخص مَوجُود ہے جسے تُم نہیں جانتے۔
JOH 1:27 وہ میرے بعد آنے والا ہے، اَور مَیں اِس لائق بھی نہیں کہ اُن کے جُوتوں کے تسمے بھی کھول سکوں۔“
JOH 1:28 یہ واقعات دریائے یردنؔ کے پار بیت عنیّاہ میں ہُوا جہاں حضرت یُوحنّا پاک غُسل دیا کرتے تھے۔
JOH 1:29 اگلے دِن حضرت یُوحنّا نے حُضُور یِسوعؔ کو اَپنی طرف آتے دیکھ کر کہا، ”دیکھو، یہ خُدا کا برّہ ہے، جو دُنیا کا گُناہ اُٹھالے جاتا ہے!
JOH 1:30 یہ وُہی ہیں جِن کی بابت مَیں نے کہاتھا، ’میرے بعد ایک شخص آنے والا ہے جو مُجھ سے کہیں مُقدّم ہیں کیونکہ وہ مُجھ سے پہلے ہی مَوجُود تھے۔‘
JOH 1:31 میں خُود بھی اُنہیں نہیں جانتا تھا، مگر میں اِس لیٔے پانی سے پاک غُسل دیتا ہُوا آیاتھا تاکہ وہ بنی اِسرائیلؔ پر ظاہر ہو جایٔیں۔“
JOH 1:32 پھر حضرت یُوحنّا نے یہ گواہی دی: ”مَیں نے رُوح کو آسمان سے کبُوتر کی شکل میں نازل ہوتے دیکھا اَور وہ یِسوعؔ پر ٹھہرگیا۔
JOH 1:33 میں اُنہیں نہ پہچانتا تھا، مگر خُدا جنہوں نے مُجھے پانی سے پاک غُسل دینے کے لیٔے بھیجا تھا اُسی نے مُجھے بتایا، ’جِس اِنسان پر تو پاک رُوح کو اُترتے اَور ٹھہرتے دیکھے وُہی وہ شخص ہے جو پاک رُوح سے پاک غُسل دے گا۔‘
JOH 1:34 اَب مَیں نے دیکھ لیا ہے اَور گواہی دیتا ہُوں کہ یہ خُدا کا مخصُوص کیا ہُوا بیٹا ہے۔“
JOH 1:35 اُس کے اگلے دِن حضرت یُوحنّا پھر اَپنے دو شاگردوں کے ساتھ کھڑے تھے۔
JOH 1:36 حضرت یُوحنّا نے یِسوعؔ کو وہاں سے گزرتے دیکھ کر کہا، ”دیکھو، یہ خُدا کا برّہ ہے!“
JOH 1:37 جَب اُن دو شاگردوں نے حضرت یُوحنّا کو یہ کہتے سُنا تو، وہ یِسوعؔ کے پیچھے ہو لیٔے۔
JOH 1:38 یِسوعؔ نے مُڑ کر اُنہیں پیچھے آتے دیکھا تو اُن سے پُوچھا، ”تُم کیا چاہتے ہو؟“ اُنہُوں نے کہا، ”ربّی“ (یعنی ”اُستاد“)، ”آپ کہاں رہتے ہو؟“
JOH 1:39 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”چلو، تو دیکھ لوگے۔“ چنانچہ اُنہُوں نے آپ کے ساتھ جا کر وہ جگہ دیکھی جہاں آپ ٹھہرے ہویٔے تھے، اَور اُس وقت شام کے چار بج چُکے تھے اِس لیٔے وہ اُس دِن حُضُور کے ساتھ رہے۔
JOH 1:40 اُن دو شاگردوں میں ایک اَندریاسؔ تھا، جو شمعُونؔ پطرس کا بھایٔی تھا، جو حضرت یُوحنّا کی بات سُن کر یِسوعؔ کے پیچھے ہو لیا تھا۔
JOH 1:41 اَندریاسؔ نے سَب سے پہلا کام یہ کیا کہ اَپنے بھایٔی شمعُونؔ کو ڈھونڈا اَور بتایا کہ، ”ہمیں خرِستُسؔ“ یعنی (خُدا کے، المسیح) مِل گیٔے ہیں۔
JOH 1:42 تَب اَندریاسؔ اُسے ساتھ لے کر یِسوعؔ کے پاس آیا۔ یِسوعؔ نے اُس پر نگاہ ڈالی اَور فرمایا، ”تُم یُوحنّا کے بیٹے شمعُونؔ ہو، اَب سے تمہارا نام کیفؔا یعنی پطرس ہوگا۔“
JOH 1:43 اگلے دِن یِسوعؔ نے گلِیل کے علاقہ میں جانے کا اِرادہ کیا۔ اَور فِلِپُّسؔ سے مِل کر یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”تُو میرے پیچھے ہولے۔“
JOH 1:44 فِلِپُّسؔ، اَندریاسؔ اَور پطرس کی طرح بیت صیؔدا شہر کا باشِندہ تھا۔
JOH 1:45 فِلِپُّسؔ، نتن ایل سے مِلا اَور اُسے بتایا کہ، ”جِس شخص کا ذِکر حضرت مَوشہ نے توریت شریف میں اَور نبیوں نے اَپنی صحیفوں میں کیا ہے، وہ ہمیں مِل گیا ہے۔ وہ یُوسیفؔ کا بیٹا یِسوعؔ ناصری ہیں۔“
JOH 1:46 نتن ایل نے پُوچھا، ”کیا ناصرتؔ سے بھی کویٔی اَچھّی چیز نکل سکتی ہے؟“ فِلِپُّسؔ نے کہا، ”چل کر خُود ہی دیکھ لو۔“
JOH 1:47 جَب یِسوعؔ نے نتن ایل کو پاس آتے دیکھا تو اُس کے بارے میں فرمایا، ”یہ ہے حقیقی اِسرائیلی، جِس کے دِل میں کھوٹ نہیں۔“
JOH 1:48 نتن ایل نے یِسوعؔ سے پُوچھا، ”آپ مُجھے کیسے جانتے ہیں؟“ یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”فِلِپُّسؔ کے بُلانے سے پہلے مَیں نے تُجھے دیکھ لیا تھا جَب تو اَنجیر کے درخت کے نیچے تھا۔“
JOH 1:49 نتن ایل نے کہا، ”ربّی، آپ خُدا کے بیٹے ہیں؛ آپ اِسرائیلؔ کے بادشاہ ہیں۔“
JOH 1:50 یِسوعؔ نے فرمایا، ”کیا تُم یہ سُن کر ایمان لایٔے ہو کہ مَیں نے تُم سے یہ کہا کہ مَیں نے تُمہیں اَنجیر کے درخت کے نیچے دیکھا تھا۔ تُم اِس سے بھی بڑی بڑی باتیں دیکھوگے۔“
JOH 1:51 یِسوعؔ نے یہ بھی فرمایا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں تُم ’آسمان کو کھُلا ہُوا، اَور خُدا کے فرشتوں کو اِبن آدمؔ کے لیٔے اُوپر چڑھتے اَور نیچے اُترتے‘ دیکھوگے۔“
JOH 2:1 تیسرے دِن کانا گلِیل میں ایک شادی تھی۔ یِسوعؔ کی ماں بھی وہاں مَوجُود تھیں۔
JOH 2:2 یِسوعؔ اَور اُن کے شاگرد بھی شادی میں بُلائے گیٔے تھے۔
JOH 2:3 جَب انگوری شِیرہ ختم ہو گیا، تو یِسوعؔ کی ماں نے اُن سے کہا، ”اِن لوگوں کے پاس اَب اَور انگوری شِیرہ نہیں رہا۔“
JOH 2:4 یِسوعؔ نے اَپنی ماں سے فرمایا، ”اَے خاتُون، اِس سے آپ کا اَور میرا کیا واسطہ ہے؟ ابھی میرا وقت نہیں آیا ہے۔“
JOH 2:5 یِسوعؔ کی ماں نے خادِموں سے فرمایا، ”جو کُچھ یِسوعؔ تُم سے فرمائیں وُہی کرنا۔“
JOH 2:6 نزدیک ہی چھ پتّھر کے مٹکے رکھے ہویٔے تھے، جو یہُودیوں کی رسمِ طہارت کے لیٔے اِستعمال میں آتے تھے، اُن مٹکوں میں 75 سے 115 لیٹر پانی کی گنجائش تھی۔
JOH 2:7 یِسوعؔ نے خادِموں سے فرمایا، ”مٹکوں میں پانی بھر دو“؛ اِس لیٔے اُنہُوں نے مٹکوں کو لبالب بھر دیا۔
JOH 2:8 اُس کے بعد یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”اَب کُچھ نکال کر اَمیر مَجلِس کے پاس لے جاؤ۔“ اُنہُوں نے اَیسا ہی کیا۔
JOH 2:9 جَب اَمیر مَجلِس نے وہ پانی چکھا جو انگوری شِیرے میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اُسے پتا نہ تھا کہ وہ انگوری شِیرہ کہاں سے آیا ہے، لیکن اُن خادِموں کو مَعلُوم تھا جو اُسے نکال کر لایٔے تھے۔ چنانچہ اَمیر مَجلِس نے دُلہا کو بُلایا
JOH 2:10 اَور اُس سے کہا، ”ہر شخص شروع میں اَچھّا انگوری شِیرہ پیش کرتا ہے اَور بعد میں جَب مہمان سیر ہو جاتے ہیں تو گھٹیا قِسم کا انگوری شِیرہ پیش کرتا ہے مگر تُونے اَچھّا انگوری شِیرہ اَب تک رکھ چھوڑا ہے۔“
JOH 2:11 یہ یِسوعؔ کا پہلا معجزہ تھا جو آپ نے کانا گلِیل میں دِکھایا اَور اَپنا جلال ظاہر کیا؛ اَور آپ کے شاگرد آپ پر ایمان لایٔے۔
JOH 2:12 اُس کے بعد یِسوعؔ، اَپنی ماں، بھائیوں اَور شاگردوں کے ساتھ کَفرنحُومؔ کو چلے گیٔے اَور وہاں کُچھ دِن تک قِیام کیا۔
JOH 2:13 جَب یہُودیوں کی عیدِفسح نزدیک آئی تو یِسوعؔ یروشلیمؔ روانہ ہویٔے۔
JOH 2:14 آپ نے وہاں بیت المُقدّس کے صحنوں میں لوگوں کو بَیل، بھیڑ اَور کبُوتر فروشوں کو اَور پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کو بھی تختوں پر بیٹھے ہویٔے پایا۔
JOH 2:15 اِس لیٔے یِسوعؔ نے رسّیوں کا کوڑا بنا کر اُن سَب کو بھیڑوں اَور بَیلوں سمیت، پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کے سِکّے بِکھیر دیئے اَور اُن کے تختے اُلٹ کر اُنہیں بیت المُقدّس سے باہر نکال دیا۔
JOH 2:16 اَور کبُوتر فروشوں سے فرمایا، ”اِنہیں یہاں سے لے جاؤ، میرے باپ کے گھر کو تِجارت کا گھر مت بناؤ۔“
JOH 2:17 حُضُور کے شاگردوں کو یاد آیا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”تیرے گھر کی غیرت مُجھے کھائے جاتی ہے۔“
JOH 2:18 تَب یہُودی رہنماؤں نے آپ سے کہا، ”کیا تُم کویٔی معجزہ دِکھا کر ثابت کر سکتے ہو کہ تُمہیں یہ سَب کرنے کا حق ہے؟“
JOH 2:19 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”اِس بیت المُقدّس کو گرا دو، تو میں اِسے تین دِن میں پھر کھڑا کر دُوں گا۔“
JOH 2:20 یہُودیوں نے جَواب دیا، ”اِس بیت المُقدّس کی تعمیر میں چھیالیس سال لگے ہیں، اَور کیا تُم تین دِن میں اِسے دوبارہ بنا دوگے؟“
JOH 2:21 لیکن یِسوعؔ نے جِس بیت المُقدّس کی بات کی تھی وہ اُن کا اَپنا جِسم تھا۔
JOH 2:22 چنانچہ جَب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھے تَب آپ کے شاگردوں کو یاد آیا کہ حُضُور نے یہ بات کہی تھی۔ تَب اُنہُوں نے کِتاب مُقدّس پر اَور یِسوعؔ کے کہے ہویٔے الفاظ پر یقین کیا۔
JOH 2:23 جَب یِسوعؔ عیدِفسح پر یروشلیمؔ میں تھے تو بہت سے لوگ آپ کے معجزے دیکھ کر آپ کے نام پر ایمان لے آئے۔
JOH 2:24 مگر یِسوعؔ کو اُن پر اِعتبار نہ تھا، اِس لیٔے کہ آپ سَب اِنسانوں کا حال جانتے تھے۔
JOH 2:25 حُضُور کو یہ ضروُرت نہ تھی کہ کویٔی آدمی آپ کو کسی دُوسرے آدمی کے بارے میں گواہی دے کیونکہ یِسوعؔ ہر ایک اِنسان کے دِل کا حال جانتے تھے۔
JOH 3:1 فریسیوں میں ایک آدمی تھا جِس کا نام نِیکُودِیمُسؔ تھا جو یہُودیوں کی عدالتِ عالیہ کا رُکن تھا۔
JOH 3:2 ایک رات وہ یِسوعؔ کے پاس آکر کہنے لگا، ”اَے ربّی، ہم جانتے ہیں کہ خُدا نے آپ کو اُستاد بنا کر بھیجا ہے کیونکہ جو معجزے آپ دِکھانے ہیں، کویٔی نہیں دِکھا سَکتا جَب تک کہ خُدا اُس کے ساتھ نہ ہو۔“
JOH 3:3 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”مَیں تُجھ سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جَب تک کویٔی نئے سِرے سے پیدا نہ ہو، وہ خُدا کی بادشاہی کو نہیں دیکھ سَکتا۔“
JOH 3:4 نِیکُودِیمُسؔ نے پُوچھا، ”اگر کویٔی آدمی بُوڑھا ہو تو وہ کِس طرح دوبارہ پیدا ہو سَکتا ہے؟ یہ ممکن نہیں کہ وہ پھر سے اَپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہوکر پیدا ہو۔“
JOH 3:5 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”مَیں تُجھ سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جَب تک کویٔی شخص پانی اَور رُوح سے پیدا نہ ہو، وہ خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سَکتا۔
JOH 3:6 بشر سے تو بشر ہی پیدا ہوتاہے مگر جو رُوح سے پیدا ہوتاہے وہ رُوح ہے۔
JOH 3:7 تعجُّب نہ کر مَیں نے تُجھ سے فرمایا، ’تُم سَب کو نئے سِرے سے پیدا ہونا لازمی ہے۔‘
JOH 3:8 ہَواجِدھر چلنا چاہتی ہے چلتی ہے۔ تُم اُس کی آواز تو سُنتے ہو، مگر یہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں سے آتی ہے اَور کہاں جاتی ہے۔ پس رُوح سے پیدا ہونے والے ہر آدمی کا حال بھی اَیسا ہی ہے۔“
JOH 3:9 نِیکُودِیمُسؔ نے پُوچھا، ”یہ کیسے ممکن ہو سَکتا ہے؟“
JOH 3:10 یِسوعؔ نے فرمایا، ”تُم تو بنی اِسرائیلؔ میں اُستاد کا درجہ رکھتے ہو، پھر بھی یہ باتیں نہیں سمجھتے؟
JOH 3:11 مَیں تُجھ سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ ہم جو جانتے ہیں وُہی کہتے ہیں اَور جسے دیکھ چُکے ہیں اُسی کی گواہی دیتے ہیں۔ پھر بھی تُم لوگ ہماری گواہی کو نہیں مانتے۔
JOH 3:12 مَیں نے تُم سے زمین کی باتیں کہیں اَور تُم نے یقین نہ کیا تو اگر مَیں تُم سے آسمان کی باتیں کہُوں تو تُم کیسے یقین کروگے؟
JOH 3:13 کویٔی اِنسان آسمان پر نہیں گیا سِوائے اُس کے جو آسمان سے آیا یعنی اِبن آدمؔ۔
JOH 3:14 جِس طرح حضرت مَوشہ نے بیابان میں پیتل کے سانپ کو لکڑی پر لٹکا کر اُونچا اُٹھایا اُسی طرح ضروُری ہے کہ اِبن آدمؔ بھی بُلند کیا جائے۔
JOH 3:15 تاکہ جو کویٔی اُن پر ایمان لایٔے اَبدی زندگی پایٔے۔“
JOH 3:16 کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اِس قدر مَحَبّت کی کہ اَپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کویٔی بیٹے پر ایمان لایٔے ہلاک نہ ہو بَلکہ اَبدی زندگی پایٔے۔
JOH 3:17 کیونکہ خُدا نے بیٹے کو دُنیا میں اِس لیٔے نہیں بھیجا کہ دُنیا کو سزا کا حُکم سُنائے بَلکہ اِس لیٔے کہ دُنیا کو بیٹے کے وسیلہ سے نَجات بخشے۔
JOH 3:18 جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا لیکن جو بیٹے پر ایمان نہیں لاتا اُس پر پہلے ہی سزا کا حُکم ہو چُکاہے کیونکہ وہ خُدا کے اِکلوتے بیٹے کے نام پر ایمان نہیں لایا۔
JOH 3:19 اَور سزا کے حُکم کا سبب یہ ہے کہ نُور دُنیا میں آیا ہے مگر لوگوں نے نُور کی بجائے تاریکی کو پسند کیا کیونکہ اُن کے کام بُرے تھے۔
JOH 3:20 جو کویٔی بُرے کام کرتا ہے وہ نُور سے نفرت کرتا ہے اَور نُور کے پاس نہیں آتا۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ اُس کے بُرے کام ظاہر ہو جایٔیں۔
JOH 3:21 لیکن جِس کی زندگی سچّائی کے لیٔے وقف ہے وہ نُور کے پاس آتا ہے تاکہ ظاہر ہو کہ اُس کا ہر کام خُدا کی مرضی کے مُطابق اَنجام پایا ہُواہے۔
JOH 3:22 اِن باتوں کے بعد یِسوعؔ اَور اُن کے شاگرد یہُودیؔہ کے علاقہ میں گیٔے، اَور وہاں رہ کر لوگوں کو پاک غُسل دینے لگے۔
JOH 3:23 حضرت یُوحنّا بھی عینونؔ میں پاک غُسل دیتے تھے جو شالیِؔم کے نزدیک تھا۔ وجہ یہ تھی کہ وہاں پانی بہت تھا، اَور لوگ پاک غُسل لینے کے لیٔے آتے رہتے تھے۔
JOH 3:24 (یہ حضرت یُوحنّا کے قَیدخانہ میں ڈالے جانے کے پہلے کی بات ہے۔)
JOH 3:25 حضرت یُوحنّا کے شاگردوں کی ایک یہُودی سے اُس رسمِ طہارت کے بارے میں جو پانی سے اَنجام دی جاتی تھی، بحث شروع ہویٔی۔
JOH 3:26 اِس لیٔے وہ حضرت یُوحنّا کے پاس آکر کہنے لگے، ”اَے ربّی وہ شخص جو دریائے یردنؔ کے اُس پار آپ کے ساتھ تھا اَور جِن کے بارے میں آپ نے گواہی دی تھی، وہ بھی پاک غُسل دیتے ہیں اَور سَب لوگ اُن ہی کے پاس جاتے ہیں۔“
JOH 3:27 حضرت یُوحنّا نے جَواب دیا، ”اِنسان کُچھ نہیں حاصل کر سَکتا جَب تک کہ اُسے آسمانی خُدا کی طرف سے نہ دیا جائے۔
JOH 3:28 تُم خُود گواہ ہو کہ مَیں نے کہاتھا کہ، ’میں المسیح نہیں بَلکہ اُن سے پہلے بھیجا گیا ہُوں۔‘
JOH 3:29 دُلہن تو دُلہا کی ہوتی ہی ہے مگر دُلہے کا دوست جو دُلہا کی خدمت میں ہوتاہے، دُلہا کی ہر بات پر کان لگائے رکھتا ہے اَور اُس کی آواز سُن کر خُوش ہوتاہے۔ پس اَب میری یہ خُوشی پُوری ہو گئی۔
JOH 3:30 لازِم ہے کہ وہ بڑھے اَور مَیں گھٹتا رہُوں۔“
JOH 3:31 جو اُوپر سے آتا ہے وہ سَب سے اُونچا ہوتاہے؛ جو شخص زمین سے ہے زمینی ہے، اَور زمین کی باتیں کرتا ہے۔ مگر جو آسمان سے آتا ہے وہ سَب سے اُونچا ہوتاہے۔
JOH 3:32 اُنہُوں نے جو کُچھ خُود دیکھا اَور سُنا ہے اُسی کی گواہی دیتے ہیں۔ لیکن اُن کی گواہی کویٔی بھی نہیں قبُول کرتا۔
JOH 3:33 لیکن جِس نے اُن کی گواہی کو قبُول کیا ہے وہ تصدیق کرتا ہے کہ خُدا سچّا ہے۔
JOH 3:34 کیونکہ جسے خُدا نے بھیجا ہے وہ خُدا کی باتیں کہتاہے، اِس لیٔے کہ خُدا بغیر حِساب کے پاک رُوح دیتاہے۔
JOH 3:35 باپ بیٹے سے مَحَبّت رکھتا ہے اَور باپ نے سَب کُچھ بیٹے کے حوالہ کر دیا ہے۔
JOH 3:36 جو کویٔی بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ اَبدی زندگی پاتاہے، لیکن جو کویٔی بیٹے کو ردّ کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہوکر، خُدا کے غضب میں مُبتلا رہتاہے۔
JOH 4:1 فریسیوں کے کانوں تک یہ بات پہُنچی کہ بہت سے لوگ یِسوعؔ کے شاگرد بَن رہے ہیں اَور اُن کی تعداد حضرت یُوحنّا سے پاک غُسل پانے والوں سے بھی زِیادہ ہے۔
JOH 4:2 حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یِسوعؔ خُود نہیں بَلکہ اُن کے شاگرد پاک غُسل دیتے تھے۔
JOH 4:3 جَب خُداوؔند کو یہ بات مَعلُوم ہویٔی تو وہ یہُودیؔہ کو چھوڑکر واپس گلِیل کو چلےگئے۔
JOH 4:4 چونکہ خُداوؔند کو سامریہؔ سے ہوکر گزرنا تھا
JOH 4:5 اِس لیٔے وہ سامریہؔ کے ایک سُوخاؔر نامی شہر میں آئے جو اُس آراضی کے نزدیک واقع ہے جو حضرت یعقوب نے اَپنے بیٹے یُوسیفؔ کو دیا تھا۔
JOH 4:6 حضرت یعقوب کا کُنواں وہیں تھا اَور یِسوعؔ سفر کی تھکان کی وجہ سے اُس کنویں کے نزدیک بیٹھ گیٔے۔ یہ دوپہر کا درمیانی وقت تھا۔
JOH 4:7 ایک سامری عورت وہاں پانی بھرنے آئی۔ یِسوعؔ نے عورت سے کہا، ”مُجھے پانی پِلا؟“
JOH 4:8 (کیونکہ یِسوعؔ کے شاگرد کھانا مول لینے شہر گیٔے ہویٔے تھے۔)
JOH 4:9 اُس سامری عورت نے یِسوعؔ سے کہا، ”آپ تو یہُودی ہیں اَور مَیں ایک سامری عورت ہُوں، آپ تو مُجھ سے پانی پِلانے کو کہتے ہیں؟“ (کیونکہ یہُودی سامریوں سے کویٔی میل جول پسند نہیں کرتے تھے)۔
JOH 4:10 یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”اگر تُو خُدا کی بخشش کو جانتی اَور یہ بھی جانتی کہ کون تُجھ سے پانی مانگ رہاہے تو تُو اُس سے مانگتی اَور وہ تُجھے زندگی کا پانی دیتا۔“
JOH 4:11 عورت نے کہا، ”جَناب، آپ کے پاس پانی بھرنے کے لیٔے کُچھ بھی نہیں اَور کنواں بہت گہرا ہے، آپ کو زندگی کا پانی کہاں سے ملے گا؟
JOH 4:12 کیا آپ ہمارے باپ یعقوب سے بھی بڑے ہو جنہوں نے یہ کنواں ہمیں دیا اَور خُود اُنہُوں نے اَور اُن کی اَولاد نے اَور اُن کے مویشیوں نے اِسی کنویں کا پانی پیا؟“
JOH 4:13 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جو کویٔی یہ پانی پیتا ہے وہ پھر پیاسا ہوگا،
JOH 4:14 لیکن جو کویٔی وہ پانی پیتا ہے جو میں دیتا ہُوں، وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو پانی میں دُوں گا وہ اُس میں زندگی کا چشمہ بَن جائے گا اَور ہمیشہ جاری رہے گا۔“
JOH 4:15 عورت نے یِسوعؔ سے کہا، ”جَناب! مُجھے بھی یہ پانی دے دیجئے تاکہ میں پیاسی نہ رہُوں اَور نہ ہی مُجھے بھرنے کے لیٔے یہاں آنا پڑے۔“
JOH 4:16 یِسوعؔ نے عورت سے فرمایا، ”جا، اَور اَپنے شوہر کو بُلا لا۔“
JOH 4:17 عورت نے جَواب دیا، ”میرا کویٔی شوہر نہیں ہے۔“ یِسوعؔ نے عورت سے فرمایا، ”تُو سچ کہتی ہے کہ تیرا کویٔی شوہر نہیں ہے۔
JOH 4:18 تُو پانچ شوہر کر چُکی ہے اَور جِس کے پاس تُو اَب رہتی ہے وہ آدمی بھی تیرا شوہر نہیں ہے۔ آپ نے جو کُچھ عرض کیا بالکُل سچ ہے۔“
JOH 4:19 عورت نے کہا، ”جَناب، مُجھے لگتا ہے کہ آپ کویٔی نبی ہیں۔
JOH 4:20 ہمارے آباؤاَجداد نے اِس پہاڑ پر پرستش کی لیکن تُم یہُودی دعویٰ کرتے ہو کہ وہ جگہ جہاں پرستش کرنا چاہئے یروشلیمؔ میں ہے۔“
JOH 4:21 یِسوعؔ نے فرمایا، ”اَے عورت میرا یقین کر۔ وہ وقت آ رہاہے جَب تُم لوگ باپ کی پرستش نہ تو اِس پہاڑ پر کروگے نہ یروشلیمؔ میں۔
JOH 4:22 تُم سامری لوگ جِس کی پرستش کرتے ہو اُسے جانتے تک نہیں۔ ہم جِس کی پرستش کرتے ہیں اُسے جانتے ہیں کیونکہ نَجات یہُودیوں میں سے ہے۔
JOH 4:23 لیکن وہ وقت آ رہاہے بَلکہ آ چُکاہے جَب سچّے پرستار باپ کی رُوح اَور سچّائی سے پرستش کریں گے کیونکہ باپ کو اَیسے ہی پرستاروں کی جُستُجو ہے
JOH 4:24 خُدا رُوح ہے اَور خُدا کے پرستاروں کو لازِم ہے کہ وہ رُوح اَور سچّائی سے خُدا کی پرستش کریں۔“
JOH 4:25 عورت نے کہا، ”میں جانتی ہُوں کہ المسیح“ جسے (خرِستُسؔ کہتے ہیں) ”آنے والے ہیں۔ جَب وہ آئیں گے، تو ہمیں سَب کُچھ سمجھا دیں گے۔“
JOH 4:26 اِس پر یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں جو تُجھ سے باتیں کر رہا ہُوں، وُہی تو میں ہُوں۔“
JOH 4:27 اِتنے میں یِسوعؔ کے شاگرد لَوٹ آئے اَور یِسوعؔ کو ایک عورت سے باتیں کرتا دیکھ کر حیران ہویٔے۔ لیکن کسی نے نہ پُوچھا، ”آپ کیا چاہتے ہیں؟“ یا اِس عورت سے کِس لیٔے باتیں کر رہے ہیں؟
JOH 4:28 وہ عورت پانی کا گھڑا وہیں چھوڑکر واپس شہر چلی گئی اَور لوگوں سے کہنے لگی،
JOH 4:29 ”آؤ ایک آدمی سے مِلو جِس نے مُجھے سَب کُچھ بتا دیا، جو مَیں نے کیا تھا۔ کیا یہی المسیح تو نہیں؟“
JOH 4:30 شَہری لوگ باہر نکلے اَور یِسوعؔ کی طرف روانہ ہو گئے۔
JOH 4:31 اِس دَوران یِسوعؔ کے شاگرد اُن سے درخواست کرنے لگے، ”ربّی، کُچھ کھالیجئے۔“
JOH 4:32 لیکن یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”مُجھے ایک کھانا لازمی طور پر کھانا ہے لیکن تُمہیں اُس کے بارے میں کُچھ بھی خبر نہیں۔“
JOH 4:33 تَب شاگرد آپَس میں کہنے لگے، ”کیا کویٔی پہلے ہی سے اُن کے لیٔے کھانا لے آیا ہے؟“
JOH 4:34 یِسوعؔ نے فرمایا، ”میرا کھانا، یہ ہے کہ جنہوں نے مُجھے بھیجا ہے، میں اُن ہی کی مرضی پُوری کروں اَور اُن کا کام اَنجام دُوں۔
JOH 4:35 یہ مت کہو کہ کیا فصل پکنے میں، ’ابھی چار ماہ باقی ہیں‘؟ میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اَپنی آنکھیں کھولو اَور کھیتوں پر نظر ڈالو۔ اُن کی فصل پک کر تیّار ہے۔
JOH 4:36 بَلکہ اَب فصل کاٹنے والا اَپنی مزدُوری پاتاہے اَور اَبدی زندگی کی فصل کاٹتا ہے تاکہ بونے والا اَور کاٹنے والا دونوں مِل کر خُوشی منائیں۔
JOH 4:37 چنانچہ یہ مثال برحق ہے ’بوتا کویٔی اَور ہے اَور کاٹتا کویٔی اَور۔‘
JOH 4:38 مَیں نے تُمہیں بھیجا تاکہ اُس فصل کو جو تُم نے نہیں بوئی، کاٹ لو۔ دُوسروں نے محنت سے کام کیا اَور تُم اُن کی محنت کے پھل میں شامل ہویٔے۔“
JOH 4:39 شہر کے بہت سے سامری اُس عورت کی گواہی سُن کر یِسوعؔ پر ایمان لایٔے، ”اُنہُوں نے مُجھے سَب کُچھ بتا دیا جو مَیں نے کیا تھا۔“
JOH 4:40 پس جَب شہر کے سامری اُن کے پاس آئے تو یِسوعؔ سے درخواست کرنے لگے کہ ہمارے پاس ٹھہر جایٔیں، لہٰذا وہ دو دِن تک اُن کے ساتھ رہے
JOH 4:41 اَور بھی بہت سے لوگ تھے جو المسیح کی تعلیم سُن کر آپ پر ایمان لایٔے۔
JOH 4:42 اُنہُوں نے اُس عورت سے کہا، ”ہم تیری باتیں سُن کر ہی ایمان نہیں لایٔے؛ بَلکہ اَب ہم نے اَپنے کانوں سے سُن لیا ہے اَور ہم جان گیٔے ہیں کہ یہ آدمی حقیقت میں دُنیا کا مُنجّی ہے۔“
JOH 4:43 دو دِن بعد یِسوعؔ پھر گلِیل کی سمت چل دئیے۔
JOH 4:44 یِسوعؔ نے خُود ہی بتا دیا تھا کہ کویٔی نبی اَپنے وطن میں عزّت نہیں پاتا۔
JOH 4:45 جَب وہ گلِیل میں آئے تو اہلِ گلِیل نے یِسوعؔ کو قبُول کیا اِس لیٔے کہ اُنہُوں نے وہ سَب کُچھ جو آپ نے عیدِفسح کے موقع پر یروشلیمؔ میں کیا تھا اَپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کیونکہ وہ خُود بھی وہاں مَوجُود تھے۔
JOH 4:46 یہ دُوسرا موقع تھا جَب وہ کانا گلِیل میں آئےتھے جہاں آپ نے پانی کو انگوری شِیرے میں تبدیل کیا تھا۔ ایک شاہی حاکم تھا جِس کا بیٹا کَفرنحُومؔ میں بیمار پڑا تھا۔
JOH 4:47 جَب حاکم نے سُنا کہ یِسوعؔ یہُودیؔہ سے گلِیل میں آئے ہویٔے ہیں تو وہ یِسوعؔ کے پاس پہُنچا اَور درخواست کرنے لگاکہ میرا بیٹا مَرنے کے قریب ہے۔ آپ چل کر اُسے شفا دے دیجئے۔
JOH 4:48 یِسوعؔ نے شاہی حاکم سے فرمایا، ”جَب تک تُم لوگ نِشانات اَور عجائبات نہ دیکھ لو، ہرگز ایمان نہ لاؤگے۔“
JOH 4:49 اُس شاہی حاکم نے کہا، ”اَے آقا! جلدی کییجئے، کہیں اَیسا نہ ہو کہ میرا بیٹا مَر جائے۔“
JOH 4:50 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”رخصت ہو، تیرا بیٹا سلامت رہے گا۔“ اُس نے یِسوعؔ کی بات کا یقین کیا اَور وہاں سے چلا گیا۔
JOH 4:51 ابھی وہ راستہ ہی میں تھا کہ اُس کے خادِم اُسے ملے اَور کہنے لگے کہ آپ کا بیٹا سلامت ہے۔
JOH 4:52 جَب شاہی حاکم نے پُوچھا کہ میرا بیٹا کِس وقت سے اَچھّا ہونے لگا تھا تو خادِموں نے بتایا، ”کل دوپہر تقریباً ایک بجے کے قریب بیٹے کا بُخار اُتر گیا تھا۔“
JOH 4:53 تَب باپ کو احساس ہُوا کہ عَین وُہی وقت تھا جَب یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا تھا، ”تیرا بیٹا سلامت رہے گا۔“ چنانچہ وہ خُود اَور اُس کا سارا خاندان یِسوعؔ پر ایمان لایا۔
JOH 4:54 یہ دُوسرا معجزہ تھا جو یِسوعؔ نے یہُودیؔہ سے آنے کے بعد گلِیل میں کیا تھا۔
JOH 5:1 اِس کے بعد یِسوعؔ یہُودیوں کی ایک عید کے لیٔے یروشلیمؔ تشریف لے گیٔے۔
JOH 5:2 یروشلیمؔ میں بھیڑ دروازہ کے پاس ایک حوض ہے جو عِبرانی زبان میں بیت حَسدؔا کہلاتا ہے اَورجو پانچ برامدوں سے گھِرا ہُواہے۔
JOH 5:3 اِن برامدوں میں بہت سے اَندھے، لنگڑے اَور مفلُوج پڑے رہتے تھے، پڑے پڑے پانی کے ہلنے کا اِنتظار کرتے تھے۔
JOH 5:4 کہا جاتا تھا کہ خُداوؔند کا فرشتہ کسی وقت نیچے اُتر کر پانی ہلاتا اَور پانی کے ہلتے ہی جو کویٔی پہلے حوض میں اُتر جاتا تھا وہ تندرست ہو جاتا تھا خواہ وہ کسی بھی مرض کا شِکار ہو۔
JOH 5:5 وہاں ایک اَیسا آدمی بھی پڑا ہُوا تھا جو اڑتیس بَرس سے مفلُوج تھا۔
JOH 5:6 جَب یِسوعؔ نے اُسے وہاں پڑا دیکھا اَور جان لیا کہ وہ ایک مُدّت سے اُسی حالت میں ہے تو یِسوعؔ نے اُس مفلُوج سے پُوچھا، ”کیا تو تندرست ہونا چاہتاہے؟“
JOH 5:7 اُس مفلُوج نے جَواب دیا، ”آقا، جَب پانی ہلایا جاتا ہے تو میرا کویٔی نہیں ہے جو حوض میں اُترنے کے لیٔے میری مدد کر سکے بَلکہ میرے حوض تک پہُنچتے پہُنچتے کویٔی اَور اُس میں اُتر جاتا ہے۔“
JOH 5:8 یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”اُٹھ اَور اَپنا بچھونا اُٹھا اَور چل، پھر۔“
JOH 5:9 وہ آدمی اُسی وقت تندرست ہو گیا اَور اَپنا بچھونا اُٹھاکر چلنے پھرنے لگا۔ یہ واقعہ سَبت کے دِن ہُوا تھا۔
JOH 5:10 یہُودی رہنما اُس آدمی سے جو تندرست ہو گیا تھا کہنے لگے، ”آج سَبت کا دِن ہے؛ اَور شَریعت کے مُطابق تیرا بچھونا اُٹھاکر چلنا روا نہیں۔“
JOH 5:11 اُس نے جَواب دیا، ”جِس آدمی نے مُجھے شفا بخشی اُن ہی نے مُجھے حُکم دیا تھا کہ ’اَپنا بچھونا اُٹھاکر چل پھر۔‘ “
JOH 5:12 اُنہُوں نے اُس مفلُوج سے پُوچھا، ”کون ہے وہ جِس نے تُجھے بچھونا اُٹھاکر چلنے پھرنے کا حُکم دیا ہے؟“
JOH 5:13 شفا پانے والے آدمی کو کچھ نہیں مَعلُوم تھا کہ اُسے حُکم دینے والا کون ہے کیونکہ یِسوعؔ لوگوں کے ہُجوم میں کہیں آگے نکل گیٔے تھے۔
JOH 5:14 بعد میں یِسوعؔ نے اُس آدمی کو بیت المُقدّس میں دیکھ کر اُس سے فرمایا، دیکھ، ”اَب تو تندرست ہو گیا ہے، گُناہ سے دُور رہنا ورنہ تُجھ پر اِس سے بھی بڑی آفت نہ آ جائے۔“
JOH 5:15 اُس نے جا کر یہُودی رہنماؤں کو بتایا کہ جِس نے مُجھے تندرست کیا وہ یِسوعؔ ہیں۔
JOH 5:16 یِسوعؔ اَیسے معجزے سَبت کے دِن بھی کرتے تھے اِس لیٔے یہُودی رہنما آپ کو ستانے لگے۔
JOH 5:17 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میرا باپ اَب تک اَپنا کام کر رہاہے اَور مَیں بھی کر رہا ہُوں۔“
JOH 5:18 اِس وجہ سے یہُودی رہنما یِسوعؔ کو قتل کرنے کی کوشش میں پہلے سے بھی زِیادہ سرگرم ہو گئے کیونکہ اُن کے نزدیک یِسوعؔ نہ صِرف سَبت کے حُکم کی خِلاف ورزی کرتے تھے بَلکہ خُدا کو اَپنا باپ کہہ کر پُکارتے تھے گویا وہ خُدا کے برابر تھے۔
JOH 5:19 یِسوعؔ نے اُنہیں یہ جَواب دیا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ بیٹا اَپنے آپ کُچھ نہیں کر سَکتا۔ وہ وُہی کرتا ہے جو وہ اَپنے باپ کو کرتے دیکھتا ہے
JOH 5:20 کیونکہ باپ بیٹے سے پیار کرتا ہے اَور اَپنے سارے کام اُسے دِکھاتا ہے۔ تُمہیں حیرت ہوگی کہ وہ اِن سے بھی بڑے بڑے کام اُسے دِکھائے گا۔
JOH 5:21 کیونکہ جِس طرح باپ مُردوں کو زندہ کرتا ہے اَور زندگی بخشتا ہے اُسی طرح بیٹا بھی جسے چاہتاہے اُسے زندگی بخشتا ہے۔
JOH 5:22 باپ کسی کی عدالت نہیں کرتا بَلکہ اُس نے عدالت کا سارا اِختیار بیٹے کو سونپ دیا ہے،
JOH 5:23 تاکہ سَب لوگ بیٹے کو بھی وُہی عزّت دیں جو وہ باپ کو دیتے ہیں۔ جو بیٹے کی عزّت نہیں کرتا وہ باپ کی بھی جِس نے بیٹے کو بھیجا ہے، عزّت نہیں کرتا۔
JOH 5:24 ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جو کویٔی میرا کلام سُن کر میرے بھیجنے والے پر ایمان لاتا ہے، اَبدی زندگی اُسی کی ہے اَور اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا بَلکہ وہ موت سے بچ کر زندگی میں داخل ہو گیا۔“
JOH 5:25 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ وقت آ رہاہے بَلکہ آ چُکاہے جَب مُردے خُدا کے بیٹے کی آواز سُنیں گے اَور اُسے سُن کر زندگی حاصل کریں گے۔
JOH 5:26 کیونکہ جَیسے باپ اَپنے آپ میں زندگی رکھتا ہے وَیسے ہی باپ نے بیٹے کو بھی اَپنے میں زندگی رکھنے کا شرف بخشا ہے۔
JOH 5:27 بَلکہ باپ نے عدالت کرنے کا اِختیار بیٹے کو بخش دیا ہے کیونکہ وہ اِبن آدمؔ ہیں۔
JOH 5:28 ”اِن باتوں پر تعجُّب نہ کرو، کیونکہ وہ وقت آ رہاہے جَب سارے مُردے اُس کی آواز سُنیں گے اَور قبروں سے باہر نکل آئیں گے
JOH 5:29 جنہوں نے نیکی کی ہے وہ زندگی کی قیامت کے لیٔے جایٔیں گے اَور جنہوں نے بدی کی ہے وہ قیامت کی سزا پائیں گے۔
JOH 5:30 میں اَپنے آپ کُچھ نہیں کر سَکتا۔ جَیسا سُنتا ہُوں فیصلہ دیتا ہُوں اَور میرا فیصلہ برحق ہوتاہے کیونکہ مَیں اَپنی مرضی کا نہیں بَلکہ اَپنے بھیجنے والے کی مرضی کا طالب ہُوں۔
JOH 5:31 ”اگر مَیں اَپنی گواہی خُود ہی دُوں تو میری گواہی برحق نہیں۔
JOH 5:32 لیکن ایک اَور ہے جو میرے حق میں گواہی دیتاہے اَور مَیں جانتا ہُوں کہ میرے بارے میں اُس کی گواہی برحق ہے۔
JOH 5:33 ”تُم نے حضرت یُوحنّا کے پاس پیغام بھیجا اَور اُنہُوں نے سچّائی کی گواہی دی۔
JOH 5:34 میں اَپنے بارے میں اِنسان کی گواہی منظُور نہیں کرتا لیکن اِن باتوں کا ذِکر اِس لیٔے کرتا ہُوں کہ تُم نَجات پاؤ۔
JOH 5:35 یُوحنّا ایک چراغ تھے جو جَلے اَور رَوشنی دینے لگے اَور تُم نے کُچھ عرصہ کے لیٔے اُن ہی کی رَوشنی سے فیض پانا بہتر سمجھا۔
JOH 5:36 ”میرے پاس حضرت یُوحنّا کی گواہی سے بڑی گواہی مَوجُود ہے کیونکہ جو کام خُدا نے مُجھے اَنجام دینے کے لیٔے سونپے ہیں اَور جنہیں میں اَنجام دے رہا ہُوں وہ میرے گواہ ہیں کہ مُجھے باپ نے بھیجا ہے۔
JOH 5:37 اَور باپ جنہوں نے مُجھے بھیجا ہے، خُود اُن ہی نے میرے حق میں گواہی دی ہے۔ تُم نے نہ تو کبھی اُن کی آواز سُنی ہے نہ ہی اُن کی صورت دیکھی ہے۔
JOH 5:38 نہ ہی اُن کا کلام تمہارے دِلوں میں قائِم رہتاہے۔ کیونکہ جسے باپ نے بھیجا ہے تُم اُن کا یقین نہیں کرتے۔
JOH 5:39 تُم کِتاب مُقدّس کا بڑا گہرا مطالعہ کرتے ہو کیونکہ تُم سمجھتے ہو کہ اُس میں تُمہیں اَبدی زندگی ملے گی۔ یہی کِتاب مُقدّس میرے حق میں گواہی دیتی ہے۔
JOH 5:40 پھر بھی تُم زندگی پانے کے لیٔے میرے پاس آنے سے اِنکار کرتے ہو۔
JOH 5:41 ”میں آدمیوں کی تعریف کا مُحتاج نہیں،
JOH 5:42 کیونکہ مُجھے مَعلُوم ہے کہ تمہارے دِلوں میں خُدا کے لیٔے کویٔی مَحَبّت نہیں۔
JOH 5:43 میں اَپنے باپ کے نام سے آیا ہُوں اَور تُم مُجھے قبُول نہیں کرتے لیکن اگر کویٔی اَپنے ہی نام سے آئے تو تُم اُسے قبُول کر لوگے۔
JOH 5:44 تُم ایک دُوسرے سے عزّت پانا چاہتے ہو اَورجو عزّت واحد خُدا کی طرف سے ملتی ہے اُسے حاصل کرنا نہیں چاہتے، تُم کیسے ایمان لا سکتے ہو؟
JOH 5:45 ”یہ مت سمجھو کہ میں باپ کے سامنے تُمہیں مُجرم ٹھہراؤں گا۔ تُمہیں مُجرم ٹھہرانے والا تو حضرت مَوشہ ہیں جِس سے تمہاری اُمّیدیں وابستہ ہیں۔
JOH 5:46 اگر تُم حضرت مَوشہ کا یقین کرتے ہو تو میرا بھی کرتے، اِس لیٔے کہ حضرت مَوشہ نے میرے بارے میں لِکھّا ہے
JOH 5:47 لیکن جَب تُم حضرت مَوشہ کی لکھی ہویٔی باتوں کا یقین نہیں کرتے تو میرے مُنہ سے نکلی ہویٔی باتوں کا کیسے یقین کروگے؟“
JOH 6:1 کُچھ دیر بعد یِسوعؔ کشتی کے ذریعہ گلِیل کی جھیل یعنی تبریاسؔ کی جھیل کے اُس پار چلے گیٔے۔
JOH 6:2 لوگوں کا ایک بڑا ہُجوم اُن کے پیچھے چل رہاتھا کیونکہ وہ لوگ بیماریوں کو شفا دینے کے لیٔے معجزے جو یِسوعؔ نے کیٔے تھے، دیکھ چُکے تھے۔
JOH 6:3 یِسوعؔ اَپنے شاگردوں کے ساتھ ایک پہاڑی پر جا بیٹھے۔
JOH 6:4 یہُودیوں کی عیدِفسح نزدیک تھی۔
JOH 6:5 جَب یِسوعؔ نے نظر اُٹھائی تو ایک بڑے ہُجوم کو اَپنی طرف آتے دیکھا۔ یِسوعؔ نے فِلِپُّسؔ سے فرمایا، ”ہم اِن لوگوں کے کھانے کے لیٔے روٹیاں کہاں سے مول لائیں؟“
JOH 6:6 یِسوعؔ نے محض آزمانے کے لیٔے اُنہیں یہ فرمایا تھا کیونکہ خُداوؔند نے پہلے ہی سے سوچ رکھا تھا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔
JOH 6:7 فِلِپُّسؔ نے خُداوؔند کو جَواب دیا، ”اِن لوگوں کے کھانے کے لیٔے روٹیاں مول لینے کے لیٔے دو سَو دینار بھی ہُوں تو کافی نہ ہوں گے کہ ہر ایک کو تھوڑی مقدار میں مِل جائے۔“
JOH 6:8 یِسوعؔ کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد، اَندریاسؔ جو شمعُونؔ پطرس کا بھایٔی تھا، بول اُٹھے،
JOH 6:9 ”یہاں ایک لڑکا ہے جِس کے پاس جَو کی پانچ چُھوٹی روٹیاں اَور دو چُھوٹی مچھلیاں ہیں، لیکن اِن سے اِتنے لوگوں کا کیا ہوگا؟“
JOH 6:10 یِسوعؔ نے فرمایا، ”لوگوں کو بِٹھا دو۔“ وہاں کافی گھاس تھی چنانچہ وہ لوگ (جو پانچ ہزار کے قریب تھے نیچے بیٹھ گیٔے۔)
JOH 6:11 یِسوعؔ نے وہ روٹیاں ہاتھ میں لے کر، خُدا کا شُکر اَدا کیا اَور بیٹھے ہویٔے لوگوں میں اُن کی ضروُرت کے مُطابق تقسیم کیا۔ اِسی طرح خُداوؔند نے مچھلیاں بھی تقسیم کر دیں۔
JOH 6:12 جَب لوگ پیٹ بھرکرکھا چُکے تو یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے فرمایا، ”بچے ہویٔے ٹُکڑوں کو جمع کر لو۔ کُچھ بھی ضائع نہ ہونے پایٔے۔“
JOH 6:13 پس اُنہُوں نے جَو کی روٹیوں کے بچے ہویٔے ٹُکڑوں کو جمع کیا اَور اُن سے بَارہ ٹوکریاں بھر لیں۔
JOH 6:14 جَب لوگوں نے یِسوعؔ کا معجزہ دیکھا تو کہنے لگے، ”یقیناً یہی وہ نبی ہیں جو دُنیا میں آنے والے تھے۔“
JOH 6:15 یِسوعؔ کو مَعلُوم ہو گیا تھا کہ وہ اُنہیں بادشاہ بننے پر مجبُور کریں گے اِس لیٔے وہ تنہا ایک پہاڑ کی طرف روانہ ہو گئے۔
JOH 6:16 جَب شام ہویٔی تو آپ کے شاگرد جھیل پر پہُنچے
JOH 6:17 اَور کشتی میں بیٹھ کر جھیل کے پار کَفرنحُومؔ کے لیٔے روانہ ہو گئے۔ اَندھیرا ہو چُکاتھا اَور یِسوعؔ اُن کے درمیان میں نہ تھے۔
JOH 6:18 ہَوا مُخالف ہونے کی وجہ سے اَچانک آندھی چلی اَور جھیل میں مَوجیں اُٹھنے لگیں۔
JOH 6:19 پس جَب وہ کشتی کو کھیتے کھیتے قریب پانچ یا چھ کِلو مِیٹر آگے نکل گیٔے، تَب اُنہُوں نے یِسوعؔ کو پانی پر چلتے ہویٔے اَور کشتی کی طرف آتے دیکھا اَور وہ نہایت ہی خوفزدہ ہو گئے۔
JOH 6:20 لیکن یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”خوف نہ کرو، میں ہُوں۔“
JOH 6:21 شاگردوں نے یِسوعؔ کو کشتی میں سوار کر لیا اَور اُن کی کشتی اُسی وقت دُوسرے کنارے جا پہُنچی جہاں شاگرد جانا چاہتے تھا۔
JOH 6:22 اگلے دِن اُس ہُجوم نے جو جھیل کے پار کھڑا تھا دیکھا کہ وہاں صِرف ایک ہی کشتی ہے، وہ سمجھ گیٔے کہ یِسوعؔ اَپنے شاگردوں کے ساتھ کشتی پر سوار نہیں ہویٔے تھے اَور آپ کے شاگرد آپ کے بغیر ہی چلے گیٔے تھے۔
JOH 6:23 تَب تبریاسؔ کی طرف سے کُچھ کشتیاں وہاں کنارے آلگیں۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں خُداوؔند نے شُکر اَدا کرکے لوگوں کو روٹی کھِلائی تھی۔
JOH 6:24 جَب لوگوں نے دیکھا کہ نہ تو یِسوعؔ ہی وہاں ہیں نہ اُن کے شاگرد تو وہ خُود اُن کشتیوں میں بیٹھ کر یِسوعؔ کی جُستُجو میں کَفرنحُومؔ کی طرف روانہ ہو گئے۔
JOH 6:25 تَب وہ یِسوعؔ کو جھیل کے پار دیکھ کر پُوچھنے لگے، ”ربّی، آپ یہاں کب پہُنچے؟“
JOH 6:26 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، تُم مُجھے اِس لیٔے نہیں ڈھونڈتے ہو، میرے معجزے دیکھو بَلکہ اِس لیٔے کہ تُمہیں پیٹ بھر کھانے کو روٹیاں مِلی تھیں۔
JOH 6:27 اِس خُوراک کے لیٔے جو خَراب ہو جاتی ہے دَوڑ دھوپ نہ کرو، بَلکہ اُس کے لیٔے جو اَبدی زندگی تک باقی رہتی ہے، جو اِبن آدمؔ تُمہیں عطا کرےگا کیونکہ خُدا باپ نے اُن پر مُہر کی ہے۔“
JOH 6:28 تَب اُنہُوں نے یِسوعؔ سے پُوچھا، ”خُدا کے کام اَنجام دینے کے لیٔے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟“
JOH 6:29 یِسوعؔ نے جَواب میں فرمایا، ”خُدا کا کام یہ ہے کہ جسے اُس نے بھیجا ہے اُس پر ایمان لاؤ۔“
JOH 6:30 تَب وہ خُداوؔند سے پُوچھنے لگے، ”آپ اَور کون سا معجزہ دِکھائیں گے جسے دیکھ کر ہم آپ پر ایمان لائیں؟
JOH 6:31 ہمارے آباؤاَجداد نے بیابان میں مَنّ کھایا؛ جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ’خُدا نے اُنہیں کھانے کے لیٔے آسمان سے روٹی بھیجی۔‘ “
JOH 6:32 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، وہ روٹی تُمہیں آسمان سے حضرت مَوشہ نے تو نہیں دی، بَلکہ میرے باپ نے تُمہیں آسمان سے حقیقی روٹی دی ہے۔
JOH 6:33 کیونکہ خُدا کی روٹی وہ ہے جو آسمان سے اُترتی ہے اَور دُنیا کو زندگی عطا کرتی ہے۔“
JOH 6:34 اُنہُوں نے کہا، ”جَناب یہ روٹی ہمیں ہمیشہ عطا ہوتی رہے۔“
JOH 6:35 یِسوعؔ نے فرمایا، ”زندگی کی روٹی میں ہی ہُوں، جو میرے پاس آئے گا کبھی بھُوکا نہ رہے گا اَورجو مُجھ پر ایمان لایٔے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا۔
JOH 6:36 لیکن مَیں تُم سے کہہ چُکا ہُوں کہ تُم نے مُجھے دیکھ لیا ہے پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔
JOH 6:37 وہ سَب جو باپ مُجھے دیتاہے وہ مُجھ تک پہُنچ جائے گا اَورجو کویٔی میرے پاس آئے گا، میں اُسے اَپنے سے جُدا نہ ہونے دُوں گا۔
JOH 6:38 کیونکہ مَیں آسمان سے اِس لیٔے نہیں اُترا کہ اَپنی مرضی پُوری کروں بَلکہ اِس لیٔے کہ اَپنے بھیجنے والے کی مرضی پر عَمل کروں۔
JOH 6:39 اَور جِس نے مُجھے بھیجا ہے اُس کی مرضی یہ ہے کہ میں اُن میں سے کسی کو ہاتھ سے نہ جانے دُوں جنہیں اُس نے مُجھے دیا ہے بَلکہ سَب کو آخِری دِن پھر اُسے زندہ کر دُوں۔
JOH 6:40 کیونکہ میرے باپ کی مرضی یہ ہے کہ جو کویٔی بیٹے کو دیکھے اَور اُس پر ایمان لایٔے وہ اَبدی زندگی پایٔے، اَور مَیں اُسے آخِری دِن پھر سے زندہ کروں۔“
JOH 6:41 یِسوعؔ نے فرمایا تھا، ”جو روٹی آسمان سے اُتری، میں ہی ہُوں۔“ یہ سُن کر یہُودی رہنماؤں نے اُن پر بُڑبُڑانا شروع کر دیا۔
JOH 6:42 وہ کہنے لگے، ”کیا یہ یُوسیفؔ کا بیٹا یِسوعؔ نہیں، جِس کے باپ اَور ماں کو ہم جانتے ہیں؟ اَب وہ یہ کیسے کہتاہے، ’میں آسمان سے اُترا ہُوں‘؟“
JOH 6:43 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”آپَس میں بُڑبُڑانا بند کرو،
JOH 6:44 میرے پاس کویٔی نہیں آسکتا جَب تک کہ باپ جِس نے مُجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لایٔے، اَور مَیں اُسے آخِری دِن پھر اُسے زندہ کر دُوں گا۔
JOH 6:45 نبیوں کے صحیفوں میں لِکھّا ہے: ’خُدا اُن سَب کو علم بخشےگا۔‘ جو کویٔی باپ کی سُنتا ہے اَور باپ سے سیکھتا ہے وہ میرے پاس آتا ہے۔
JOH 6:46 باپ کو کسی نے نہیں دیکھا سِوائے اُس کے جو خُدا کی طرف سے ہے؛ صِرف اُسی نے باپ کو دیکھاہے۔
JOH 6:47 میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جو کویٔی ایمان لاتا ہے، اَبدی زندگی اُس کی ہے۔
JOH 6:48 زندگی کی روٹی میں ہی ہُوں۔
JOH 6:49 تمہارے باپ دادا نے بیابان میں مَنّ کھایا پھر بھی وہ مَر گیٔے۔
JOH 6:50 لیکن جو روٹی آسمان سے اُتری ہے یہاں مَوجُود ہے تاکہ آدمی اُس روٹی میں سے کھائے اَور نہ مَرے۔
JOH 6:51 میں ہی وہ زندگی کی روٹی ہُوں جو آسمان سے اُتری ہے۔ اگر کویٔی اِس روٹی میں سے کھائے گا تو وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یہ روٹی میرا گوشت ہے جو میں ساری دُنیا کی زندگی کے لیٔے دُوں گا۔“
JOH 6:52 یہُودی رہنماؤں میں جھگڑا شروع ہو گیا اَور وہ کہنے لگے، ”یہ آدمی ہمیں کیسے اَپنا گوشت کھانے کے لیٔے دے سَکتا ہے؟“
JOH 6:53 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جَب تک تُم اِبن آدمؔ کا گوشت نہ کھاؤ اَور اُس کا خُون نہ پیو، تُم میں زندگی نہیں۔
JOH 6:54 جو کویٔی میرا گوشت کھاتا اَور میرا خُون پیتا ہے اُس میں اَبدی زندگی ہے اَور مَیں اُسے آخِری دِن پھر سے زندہ کروں گا۔
JOH 6:55 اِس لیٔے کہ میرا گوشت واقعی کھانے کی چیز ہے اَور میرا خُون واقعی پینے کی چیز ہے۔
JOH 6:56 جو کویٔی میرا گوشت کھاتا اَور میرا خُون پیتا ہے، مُجھ میں قائِم رہتاہے اَور مَیں اُس میں۔
JOH 6:57 میرا باپ جِس نے مُجھے بھیجا ہے زندہ ہے اَور مَیں بھی باپ کی وجہ سے زندہ ہُوں۔ اِسی طرح جو مُجھے کھائے گا وہ میری وجہ سے زندہ رہے گا۔
JOH 6:58 یہی وہ روٹی ہے جو آسمان سے اُتری۔ تمہارے آباؤاَجداد نے مَنّ کھایا پھر بھی مَر گیٔے لیکن جو اِس روٹی کو کھاتا ہے، ہمیشہ تک زندہ رہے گا۔“
JOH 6:59 یِسوعؔ نے یہ باتیں اُس وقت کہیں جَب وہ کَفرنحُومؔ شہر کے یہُودی عبادت گاہ میں تعلیم دے رہے تھے۔
JOH 6:60 یہ باتیں سُن کر یِسوعؔ کے بہت سے شاگرد کہنے لگے، ”یہ تعلیم بڑی سخت ہے۔ اِسے کون قبُول کر سَکتا ہے؟“
JOH 6:61 یِسوعؔ نے جان لیا کہ اُن کے شاگرد اِس بات پر آپَس میں بُڑبُڑا رہے ہیں لہٰذا خُداوؔند نے اُن سے کہا، ”کیا تُمہیں میری باتوں سے ٹھیس پہُنچی ہے؟
JOH 6:62 اگر تُم اِبن آدمؔ کو اُوپر جاتے دیکھوگے جہاں وہ پہلے تھا! تو کیا ہوگا؟
JOH 6:63 رُوح زندگی بخشتی ہے؛ جِسم سے کویٔی فائدہ نہیں جو باتیں مَیں نے تُم سے کہی ہیں وہ رُوح اَور زندگی دونوں سے پُر ہیں۔
JOH 6:64 پھر بھی تُم میں بعض اَیسے ہیں جو ایمان نہیں لایٔے۔“ یِسوعؔ کو شروع سے علم تھا کہ اُن میں کون ایمان نہیں لایٔے گا اَور کون اُنہیں پکڑوائے گا۔
JOH 6:65 پھر یِسوعؔ نے فرمایا، ”اِسی لیٔے مَیں نے تُم سے کہاتھا کہ میرے پاس کویٔی نہیں آتا جَب تک کہ باپ اُسے کھینچ نہ لایٔے۔“
JOH 6:66 اِس پر اُن کے کیٔی شاگرد یِسوعؔ کو چھوڑکر چلے گیٔے اَور پھر اُن کے ساتھ نہ رہے۔
JOH 6:67 ”تَب یِسوعؔ نے اُن بَارہ شاگردوں سے پُوچھا، کیا تُم بھی مُجھے چھوڑ جانا چاہتے ہو؟“
JOH 6:68 شمعُونؔ پطرس نے آپ کو جَواب دیا، ”اَے خُداوؔند، ہم کِس کے پاس جایٔیں؟ اَبدی زندگی کی باتیں تو آپ ہی کے پاس ہیں۔
JOH 6:69 ہم ایمان لایٔے اَور جانتے ہیں کہ آپ ہی خُدا کے قُدُّوس ہیں۔“
JOH 6:70 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”مَیں نے تُم بَارہ کو چُن تو لیا ہے لیکن تُم میں سے ایک شخص شیطان ہے!“
JOH 6:71 (اُس کا مطلب شمعُونؔ اِسکریوتی کے بیٹے یہُوداہؔ سے تھا، جو، اگرچہ اُن بَارہ شاگردوں میں سے ایک، بعد میں یِسوعؔ کو پکڑوانے کو تھا۔)
JOH 7:1 اُس کے بعد، یِسوعؔ گلِیل میں اِدھر اُدھر مُسافرت کرتے رہے۔ وہ صُوبہ یہُودیؔہ سے دُور ہی رہنا چاہتے تھے کیونکہ وہاں یہُودی رہنما یِسوعؔ کے قتل کے فِراق میں تھے۔
JOH 7:2 اَور یہُودیوں کی خیموں کی عید نزدیک تھی۔
JOH 7:3 خُداوؔند کے بھائیوں نے آپ سے کہا، ”یہاں سے نکل کر یہُودیؔہ چلے جایٔیں، تاکہ آپ کے شاگرد یہ معجزے جو آپ نے کیٔے ہیں دیکھ سکیں۔
JOH 7:4 جو کویٔی اَپنی شہرت چاہتاہے وہ چھُپ کر کام نہیں کرتا۔ آپ جو یہ معجزے کرتے ہیں تو خُود کو دُنیا پر ظاہر کر دیجئے۔“
JOH 7:5 بات یہ تھی کہ خُداوؔند کے بھایٔی بھی آپ پر ایمان نہ لایٔے تھے۔
JOH 7:6 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”یہ وقت میرے لیٔے مُناسب نہیں ہے، تمہارے لیٔے تو ہر وقت مُناسب ہے۔
JOH 7:7 دُنیا تُم سے عداوت نہیں رکھ سکتی، لیکن مُجھ سے رکھتی ہے کیونکہ مَیں اُس کے بُرے کاموں کی وجہ سے اُس کے خِلاف گواہی دیتا ہُوں۔
JOH 7:8 تُم لوگ عید کے جَشن میں چلے جاؤ۔ میں ابھی نہیں جاؤں گا کیونکہ میرے جانے کا ابھی وقت پُورا نہیں ہُواہے۔“
JOH 7:9 یہ کہہ کر وہ گلِیل ہی میں ٹھہرے رہے۔
JOH 7:10 تاہم، آپ کے بھایٔی عید پر چلے گیٔے بَلکہ یِسوعؔ بھی عوامی طور پر نہیں بَلکہ خُفیہ طور پر گیٔے۔
JOH 7:11 وہاں عید میں یہُودی رہنما یِسوعؔ کو ڈھونڈتے اَور پُوچھتے پھرتے تھے، ”وہ کہاں ہیں؟“
JOH 7:12 لوگوں میں آپ کے بارے میں بڑی سرگوشیاں ہو رہی تھیں۔ بعض کہتے تھے، ”وہ ایک نیک آدمی ہے۔“ بعض کا کہنا تھا، ”نہیں، وہ لوگوں کو گُمراہ کر رہاہے۔“
JOH 7:13 لیکن یہُودیوں کے خوف کی وجہ سے کویٔی یِسوعؔ کے بارے میں کھُل کر بات نہیں کرتا تھا۔
JOH 7:14 جَب عید کے آدھے دِن گزر گئے تو یِسوعؔ بیت المُقدّس میں گیٔے اَور وہیں تعلیم دینے لگے۔
JOH 7:15 یہُودی رہنما متعجّب ہوکرکے کہنے لگے، ”اِس آدمی نے بغیر سیکھے اِتنا علم کہاں سے حاصل کر لیا؟“
JOH 7:16 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”یہ تعلیم میری اَپنی نہیں ہے بَلکہ یہ مُجھے میرے بھیجنے والے کی طرف سے حاصل ہویٔی ہے۔
JOH 7:17 اگر کویٔی خُدا کی مرضی پر چلنا چاہے تو اُسے مَعلُوم ہو جائے گا کہ یہ تعلیم خُدا کی طرف سے ہے یا میری اَپنی طرف سے۔
JOH 7:18 جو کویٔی اَپنی طرف سے کُچھ کہتاہے وہ اَپنی عزّت کا بھُوکا ہوتاہے لیکن جو اَپنے بھیجنے والے کی عزّت چاہتاہے وہ سچّا ہے اَور اُس میں ناراستی نہیں پائی جاتی۔ تُم کیوں مُجھے ہلاک کرنے پرتُلے ہویٔے ہو؟
JOH 7:19 کیا حضرت مَوشہ نے تُمہیں شَریعت نہیں دی؟ لیکن تُم میں سے کویٔی اُس پر عَمل نہیں کرتا۔ آخِر تُم مُجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہو؟“
JOH 7:20 لوگوں نے کہا، ”آپ میں ضروُر کویٔی بدرُوح ہے، کون آپ کو قتل کرنا چاہتاہے؟“
JOH 7:21 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”مَیں نے ایک معجزہ کیا اَور تُم تعجُّب کرنے لگے۔
JOH 7:22 لیکن پھر بھی، حضرت مَوشہ نے تُمہیں ختنہ کرنے کا حُکم دیا ہے (حالانکہ تمہارے آباؤاَجداد نے حضرت مَوشہ سے کہیں پہلے یہ رسم شروع کر دی تھی)، تُم سَبت کے دِن لڑکے کا ختنہ کرتے ہو۔
JOH 7:23 اگر لڑکے کا ختنہ سَبت کے دِن کیا جا سَکتا ہے تاکہ حضرت مَوشہ کی شَریعت قائِم رہے تو اگر مَیں نے ایک آدمی کو سَبت کے دِن بالکُل تندرست کر دیا تو تُم مُجھ سے کِس لیٔے خفا ہو گئے؟
JOH 7:24 آپ کا اِنصاف ظاہری نہیں، بَلکہ سچّائی کی بُنیاد پر مَبنی ہو۔“
JOH 7:25 تَب یروشلیمؔ کے بعض لوگ پُوچھنے لگے، ”کیا یہ وُہی آدمی تو نہیں جِس کے قتل کی کوشش ہو رہی ہے؟
JOH 7:26 دیکھو وہ، اعلانیہ تعلیم دیتے ہیں، اَور اُنہیں کویٔی کُچھ نہیں کہتا۔ کیا ہمارے حاکموں نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ یہی المسیح ہیں؟
JOH 7:27 ہم جانتے ہیں کہ یہ آدمی کہاں کا ہے؛ لیکن جَب المسیح کا ظہُور ہوگا، تو کسی کو اِس کا علم تک نہ ہوگا کہ وہ کہاں کے ہیں۔“
JOH 7:28 پھر، یِسوعؔ نے بیت المُقدّس میں تعلیم دیتے وقت، پُکار کر فرمایا، ”ہاں، تُم مُجھے جانتے ہو، اَور یہ بھی جانتے ہو کہ میں کہاں سے ہُوں۔ میں اَپنی مرضی سے نہیں آیا، لیکن جِس نے مُجھے بھیجا ہے وہ سچّا ہے۔ تُم اُنہیں نہیں جانتے ہو،
JOH 7:29 لیکن مَیں اُنہیں جانتا ہُوں کیونکہ مَیں اُن کی طرف سے ہُوں اَور اُن ہی نے مُجھے بھیجا ہے۔“
JOH 7:30 اِس پر اُنہُوں نے حُضُور المسیح کو پکڑنے کی کوشش کی، لیکن کویٔی اُن پر ہاتھ نہ ڈال سَکا، کیونکہ ابھی حُضُور المسیح کا وقت نہیں آیاتھا۔
JOH 7:31 مگر، ہُجوم میں سے کیٔی لوگ حُضُور المسیح پر ایمان لایٔے۔ لوگ کہنے لگے، ”جَب المسیح آئیں گے، تو کیا وہ اِس آدمی سے زِیادہ معجزے دِکھائیں گے؟“
JOH 7:32 جَب فریسیوں نے لوگوں کو یِسوعؔ کے بارے میں سرگوشیاں کرتے دیکھا تو اُنہُوں نے اَور اہم کاہِنوں نے بیت المُقدّس کے سپاہیوں کو بھیجا کہ یِسوعؔ کو گِرفتار کر لیں۔
JOH 7:33 یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں کُچھ عرصہ تک تمہارے پاس ہُوں۔ پھر میں اَپنے بھیجنے والے کے پاس چلا جاؤں گا۔
JOH 7:34 تُم مُجھے تلاش کروگے لیکن پا نہ سکوگے اَور جہاں میں ہُوں تُم وہاں نہیں آسکتے۔“
JOH 7:35 یہُودی رہنما آپَس میں کہنے لگے، ”یہ آدمی کہاں چلا جائے گا کہ ہم اُسے تلاش نہ کر پائیں گے؟ کیا یہ شخص ہمارے لوگوں کے پاس جو یُونانیوں کے درمیان مُنتشر ہوکر رہتے ہیں، اُن یُونانیوں کو بھی تعلیم دے گا؟
JOH 7:36 جَب یِسوعؔ نے کہاتھا، ’تُم مُجھے تلاش کروگے لیکن پا نہ سکوگے اَور جہاں میں ہُوں تُم وہاں نہیں آسکتے؟‘ “
JOH 7:37 عید کے آخِری اَور خاص دِن یِسوعؔ کھڑے ہویٔے اَور بہ آواز بُلند فرمایا، ”اگر کویٔی پیاسا ہے تو میرے پاس آئے اَور پیئے۔
JOH 7:38 جو کویٔی مُجھ پر ایمان لاتا ہے، جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: اُس کے اَندر سے آبِ حیات کے دریا جاری ہو جایٔیں گے۔“
JOH 7:39 اِس سے اُن کا مطلب تھا پاک رُوح جو یِسوعؔ پر ایمان لانے والوں پر نازل ہونے والا تھا۔ وہ پاک رُوح ابھی تک نازل نہ ہُوا تھا کیونکہ یِسوعؔ ابھی اَپنے آسمانی جلال کو نہ پہُنچے تھے۔
JOH 7:40 یہ باتیں سُن کر، بعض لوگ کہنے لگے، ”یہ آدمی واقعی نبی ہے۔“
JOH 7:41 بعض نے کہا، ”یہ المسیح ہیں۔“ بعض نے یہ بھی کہا، ”المسیح گلِیل سے کیسے آسکتے ہیں؟
JOH 7:42 کیا کِتاب مُقدّس میں نہیں لِکھّا کہ المسیح داویؔد کی نَسل سے ہوں گے اَور بیت لحمؔ میں پیدا ہوں گے، جِس شہر کے داویؔد تھے؟“
JOH 7:43 پس لوگوں میں یِسوعؔ کے بارے میں اِختلاف پیدا ہو گیا۔
JOH 7:44 اُن میں سے بعض حُضُور المسیح کو پکڑنا چاہتے تھے، لیکن کسی نے اُن پر ہاتھ نہ ڈالا۔
JOH 7:45 چنانچہ بیت المُقدّس کے سپاہی، فریسیوں اَور اہم کاہِنوں کے پاس لَوٹے، تو اُنہُوں نے سپاہیوں سے پُوچھا، ”تُم حُضُور المسیح کو گِرفتار کرکے کیوں نہیں لایٔے؟“
JOH 7:46 سپاہیوں نے کہا، ”جَیسا کلام حُضُور المسیح کے مُنہ سے نکلتا ہے وَیسا کسی بشر کے مُنہ سے کبھی نہیں سُنا۔“
JOH 7:47 فریسیوں نے کہا، ”کیا تُم بھی اُس کے فریب میں آ گئے؟
JOH 7:48 کیا کسی حاکم یا کاہِنوں اَور فریسیوں میں سے بھی کویٔی حُضُور المسیح پر ایمان لایا ہے؟
JOH 7:49 کویٔی نہیں! لیکن عام لوگ شَریعت سے قطعاً واقف نہیں، اُن پر لعنت ہو۔“
JOH 7:50 نِیکُودِیمُسؔ جو یِسوعؔ سے پہلے مِل چُکاتھا اَورجو اُن ہی میں سے تھا، پُوچھنے لگا،
JOH 7:51 ”کیا ہماری شَریعت کسی شخص کو مُجرم ٹھہراتی ہے جَب تک کہ اُس کی بات نہ سُنی جائے اَور یہ نہ مَعلُوم کر لیا جائے کہ اُس نے کیاکِیا ہے؟“
JOH 7:52 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”کیا تُم بھی گلِیل کے ہو؟ تحقیق کرو اَور دیکھو کہ گلِیل میں سے کویٔی نبی برپا نہیں ہونے کا۔“
JOH 7:53 تَب وہ اُٹھے اَور اَپنے اَپنے گھر چلے گیٔے۔
JOH 8:1 اِس کے بعد یِسوعؔ کوہِ زَیتُون پر چلے گیٔے۔
JOH 8:2 صُبح ہوتے ہی وہ بیت المُقدّس میں پھر واپس ہویٔے اَور سَب لوگ یِسوعؔ کے پاس جمع ہو گئے۔ تَب آپ بیٹھ گیٔے اَور اُنہیں تعلیم دینے لگے۔
JOH 8:3 اِتنے میں شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی ایک عورت کو لایٔے جو زنا کرتی ہویٔی پکڑی گئی تھی۔ اُنہُوں نے اُسے درمیان میں کھڑا کر دیا
JOH 8:4 اَور یِسوعؔ سے فرمایا، ”اَے اُستاد، یہ عورت زنا کرتی ہویٔی پکڑی گئی ہے۔
JOH 8:5 حضرت مَوشہ نے توریت میں ہمیں حُکم دیا ہے کہ اَیسی عورتوں کو سنگسار کریں، اَب آپ کیا فرماتے ہیں؟“
JOH 8:6 وہ یہ سوال محض یِسوعؔ کو آزمانے کے لیٔے پُوچھ رہے تھے تاکہ کسی سبب سے یِسوعؔ پر اِلزام لگاسکیں۔ لیکن یِسوعؔ جُھک کر اَپنی اُنگلی سے زمین پر کُچھ لکھنے لگے۔
JOH 8:7 جَب وہ سوال کرنے سے باز نہ آئے تو یِسوعؔ نے سَر اُٹھاکر اُن سے فرمایا، ”تُم میں جو بےگُناہ ہو وُہی اِس عورت پر سَب سے پہلے پتّھر پھینکے۔“
JOH 8:8 وہ پھر جُھک کر زمین پر کُچھ لکھنے لگے۔
JOH 8:9 یہ سُن کر، سَب چُھوٹے بڑے ایک ایک کر، چلے گیٔے، یہاں تک کہ یِسوعؔ وہاں تنہا رہ گیٔے۔
JOH 8:10 تَب یِسوعؔ نے سیدھے ہوکر عورت سے پُوچھا، ”اَے عورت، یہ لوگ کہاں چلے گیٔے؟ کیا کسی نے تُجھے مُجرم نہیں ٹھہرایا؟“
JOH 8:11 اُس عورت نے کہا، ”اَے آقا، کسی نے نہیں۔“ یِسوعؔ نے اعلانیہ فرمایا، ”تَب میں بھی تُجھے مُجرم نہیں ٹھہراتا، اَب جاؤ اَور آئندہ گُناہ نہ کرنا۔“
JOH 8:12 جَب یِسوعؔ نے لوگوں سے پھر خِطاب کیا، ”میں دُنیا کا نُور ہُوں، جو کویٔی میری پیروی کرتا ہے وہ کبھی تاریکی میں نہ چلے گا بَلکہ زندگی کا نُور پایٔےگا۔“
JOH 8:13 فریسیوں نے حُضُور المسیح سے سخت لہجے میں کہا، ”آپ اَپنے ہی حق میں اَپنی گواہی دیتے ہیں، آپ کی گواہی قابل قبُول نہیں ہے۔“
JOH 8:14 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر مَیں اَپنے ہی حق میں گواہی دیتا ہُوں، تو بھی میری گواہی قابل قبُول نہیں ہے، کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ کہاں سے آیا ہُوں اَور کہاں جاتا ہُوں۔ لیکن تُمہیں کیا مَعلُوم کہ میں کہاں سے آیا ہُوں اَور کہاں جاتا ہُوں۔
JOH 8:15 تُم صورت دیکھ کر فیصلہ کرتے ہو، میں کسی کے بارے میں فیصلہ نہیں کرتا۔
JOH 8:16 لیکن اگر مَیں فیصلہ کروں بھی، تو میرا فیصلہ، صحیح ہوگا، کیونکہ مَیں تنہا نہیں۔ بَلکہ باپ جِس نے مُجھے بھیجا ہے، میرے ساتھ ہیں۔
JOH 8:17 تمہاری توریت میں بھی لِکھّا ہے کہ دو آدمیوں کی گواہی سچّی ہوتی ہے۔
JOH 8:18 میں ہی اَپنی گواہی نہیں دیتا؛ بَلکہ میرا دُوسرا گواہ آسمانی باپ ہے جنہوں نے مُجھے بھیجا ہے۔“
JOH 8:19 تَب اُنہُوں نے حُضُور المسیح سے پُوچھا، ”آپ کا باپ کہاں ہے؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تُم مُجھے نہیں جانتے ہو نہ ہی میرے باپ کو، اگر تُم نے مُجھے جانا ہوتا تو میرے باپ کو بھی جانتے۔“
JOH 8:20 حُضُور المسیح نے یہ باتیں بیت المُقدّس میں تعلیم دیتے وقت اُس جگہ کہیں جہاں نذرانے جمع کیٔے جاتے تھے۔ لیکن کسی نے آپ کو نہ پکڑا کیونکہ ابھی حُضُور المسیح کا وقت نہ آیاتھا۔
JOH 8:21 یِسوعؔ نے پھر فرمایا، ”میں جا رہا ہُوں اَور تُم مُجھے ڈھونڈوگے، اَور اَپنے گُناہ میں مرجاؤگے۔ جہاں میں جا رہا ہُوں تُم وہاں نہیں آسکتے۔“
JOH 8:22 اِس پر یہُودی رہنما کہنے لگے، ”کیا وہ خُود کو مار ڈالے گا؟ کیا وہ اِسی لیٔے یہ کہتاہے، ’جہاں میں جاتا ہُوں، تُم نہیں آسکتے‘؟“
JOH 8:23 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”تُم نیچے کے یعنی زمین کے ہو؛ میں اُوپر کا ہُوں۔ تُم اِس دُنیا کے ہو، میں اِس دُنیا کا نہیں ہوں۔
JOH 8:24 مَیں نے تُمہیں بتا دیا کہ تُم اَپنے گُناہ میں مرجاؤگے؛ اگر تُمہیں یقین نہیں آتا کہ وُہی تو میں ہُوں تو تُم واقعی اَپنے گُناہوں میں مرجاؤگے۔“
JOH 8:25 اُنہُوں نے پُوچھا، ”آپ کون ہیں؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”میں وُہی ہُوں جو شروع سے تُمہیں کہتا آ رہا ہُوں،
JOH 8:26 مُجھے تمہارے بارے میں بہت کُچھ کہنا اَور فیصلہ کرناہے۔ لیکن میرا بھیجنے والا سچّا ہے اَورجو کُچھ مَیں نے اُن سے سُنا ہے وُہی دُنیا کو بتاتا ہُوں۔“
JOH 8:27 وہ نہ سمجھے کہ وہ اُنہیں اَپنے آسمانی باپ کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
JOH 8:28 لہٰذا یِسوعؔ نے فرمایا، ”جَب تُم اِبن آدمؔ کو اُوپر اُٹھاؤگے یعنی صلیب پر چڑھاؤگے تَب تُمہیں مَعلُوم ہوگا کہ وُہی تو میں ہُوں۔ میں اَپنی طرف سے کُچھ نہیں کرتا بَلکہ وُہی کہتا ہُوں جو باپ نے مُجھے سِکھایا ہے۔
JOH 8:29 اَور جنہوں نے مُجھے بھیجا ہے وہ میرے ساتھ ہیں؛ اُنہُوں نے مُجھے اکیلا نہیں چھوڑا، کیونکہ مَیں ہمیشہ وُہی کرتا ہُوں جو باپ کو پسند آتا ہے۔“
JOH 8:30 یِسوعؔ یہ باتیں کہہ ہی رہے تھے کہ بہت سے لوگ اُن پر ایمان لے آئے۔
JOH 8:31 یِسوعؔ نے اُن یہُودیوں سے جو آپ پر ایمان لایٔے تھے کہا، ”اگر تُم میری تعلیم پر قائِم رہوگے، تو حقیقت میں میرے شاگرد ہوگے۔
JOH 8:32 تَب تُم سچّائی کو جان جاؤگے، اَور سچّائی تُمہیں آزاد کرےگی۔“
JOH 8:33 اُنہُوں نے اُن کو جَواب دیا، ”ہم اَبراہامؔ کی اَولاد ہیں اَور کبھی کسی کی غُلامی میں نہیں رہے۔ آپ کیسے کہتے ہیں کہ ہم آزاد کر دئیے جایٔیں گے؟“
JOH 8:34 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جو کویٔی گُناہ کرتا ہے وہ گُناہ کا غُلام ہے
JOH 8:35 غُلام مالک کے گھر میں ہمیشہ نہیں رہتا لیکن بیٹا ہمیشہ رہتاہے۔
JOH 8:36 اِس لیٔے اگر بیٹا تُمہیں آزاد کرےگا، تو تُم حقیقت میں آزاد ہو جاؤگے۔
JOH 8:37 میں جانتا ہُوں کہ تُم اَبراہامؔ کی اَولاد ہو، پھر بھی تُم مُجھے مار ڈالنا چاہتے ہو کیونکہ تمہارے دِلوں میں میرے کلام کے لیٔے کویٔی جگہ نہیں ہے۔
JOH 8:38 مَیں نے جو کُچھ باپ کے یہاں دیکھاہے، تُمہیں بتا رہا ہُوں، اَور تُم بھی وُہی کرتے ہو جو تُم نے اَپنے باپ سے سُنا ہے۔“
JOH 8:39 اُنہُوں نے کہا، ”ہمارا باپ تو اَبراہامؔ ہے۔“ یِسوعؔ نے فرمایا، ”اگر تُم اَبراہامؔ کی اَولاد ہوتے، تو تُم اَبراہامؔ کے سے کام بھی کرتے۔
JOH 8:40 لیکن اَب تو تُم مُجھ جَیسے آدمی کو ہلاک کر دینے کا اِرادہ کر چُکے ہو جِس نے تُمہیں وہ حق باتیں بَیان کیں جو مَیں نے خُدا سے سُنی۔ اَبراہامؔ نے اَیسی باتیں نہیں کیں۔
JOH 8:41 تُم وُہی کُچھ کرتے ہو جو تمہارا باپ کرتا ہے۔“ اُنہُوں نے کہا، ”ہم ناجائز اَولاد نہیں، ہمارا باپ ایک ہی ہے یعنی وہ خُود خُدا ہے۔“
JOH 8:42 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”اگر خُدا تمہارا باپ ہوتا تو تُم مُجھ سے مَحَبّت کرتے، اِس لیٔے کہ میرا ظہُور خُدا میں سے ہُواہے اَور اَب مَیں یہاں مَوجُود ہُوں۔ میں اَپنے آپ نہیں آیا؛ بَلکہ باپ نے مُجھے بھیجا ہے۔
JOH 8:43 تُم میری باتیں کیوں نہیں سمجھتے؟ اِس لیٔے کہ میرے کلام کو سُنتے نہیں۔
JOH 8:44 تُم اَپنے باپ یعنی اِبلیس کے ہو، اَور اَپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خُون کرتا آیا ہے، اَور کبھی سچّائی پر قائِم نہیں رہا کیونکہ اُس میں نام کو بھی سچّائی نہیں۔ جَب وہ جھُوٹ بولتا ہے تو، اَپنی ہی سِی کہتاہے، کیونکہ وہ جھُوٹا ہے اَور جھُوٹ کا باپ ہے۔
JOH 8:45 چونکہ میں سچ بولتا ہُوں، اِس لیٔے تُم میرا یقین نہیں کرتے!
JOH 8:46 تُم میں کویٔی ہے جو مُجھ میں گُناہ ثابت کر سکے؟ اگر مَیں سچ بولتا ہُوں تو تُم میرا یقین کیوں نہیں کرتے؟
JOH 8:47 جو خُدا کا ہوتاہے وہ خُدا کی باتیں سُنتا ہے۔ چونکہ تُم خُدا کے نہیں ہو اِس لیٔے خُدا کی نہیں سُنتے۔“
JOH 8:48 یہُودی رہنماؤں نے یِسوعؔ کو جَواب دیا، ”اگر ہم کہتے ہیں کہ آپ سامری ہیں اَور آپ میں بدرُوح ہے تو کیا یہ ٹھیک نہیں؟“
JOH 8:49 یِسوعؔ نے فرمایا، ”مُجھ میں بدرُوح نہیں، مگر میں اَپنے باپ کی عزّت کرتا ہُوں اَور تُم میری بے عزّتی کرتے ہو۔
JOH 8:50 لیکن مَیں اَپنا جلال نہیں چاہتا؛ ہاں ایک ہے جو چاہتاہے، اَور وُہی فیصلہ کرتا ہے۔
JOH 8:51 میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جو کویٔی میرے کلام پر عَمل کرتا ہے وہ موت کا مُنہ تک کبھی نہ دیکھے گا۔“
JOH 8:52 یہ سُن کر یہُودی چہک کر کہنے لگے، ”اَب ہمیں مَعلُوم ہو گیا کہ آپ میں بدرُوح ہے۔ حضرت اَبراہامؔ مَر گیٔے اَور دُوسرے نبی بھی۔ مگر آپ کہتے ہو کہ جو کویٔی میرے کلام پر عَمل کرےگا وہ موت کا مُنہ کبھی نہ دیکھے گا۔
JOH 8:53 کیا آپ ہمارے باپ حضرت اَبراہامؔ سے بھی بڑے ہیں۔ وہ مرگئے اَور نبی بھی مَر گیٔے۔ آپ اَپنے کو کیا سمجھتے ہیں؟“
JOH 8:54 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر مَیں اَپنا جلال آپ ظاہر کروں تو وہ جلال کِس کام کا؟ میرا باپ جسے تُم اَپنا خُدا کہتے ہو، وُہی میرا جلال ظاہر کرتا ہے۔
JOH 8:55 تُم اُنہیں جانتے مگر میں جانتا ہُوں، اگر کہُوں کہ نہیں جانتا تو تمہاری طرح جھُوٹا ٹھہروں گا، لیکن مَیں اُنہیں جانتا ہُوں اَور اُن کے کلام پر عَمل کرتا ہُوں۔
JOH 8:56 تمہارے باپ اَبراہامؔ کو بڑی خُوشی سے میرے اِس دِن کے دیکھنے کی تمنّا تھی؛ اَبراہامؔ نے وہ دِن دیکھ لیا اَور خُوش ہو گئے۔“
JOH 8:57 یہُودی رہنما نے یِسوعؔ پر طنز کیا، ”آپ کی عمر تو ابھی پچاس سال کی بھی نہیں ہویٔی، اَور آپ نے اَبراہامؔ کو دیکھاہے!“
JOH 8:58 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، اَبراہامؔ کے پیدا ہونے سے پہلے میں ہُوں۔“
JOH 8:59 اِس پر اُنہُوں نے پتّھر اُٹھائے کہ آپ کو سنگسار کریں، لیکن یِسوعؔ خُود، اُن کی نظروں سے بچ کر بیت المُقدّس سے نکل گیٔے۔
JOH 9:1 جَب یِسوعؔ جا رہے تھے تو آپ نے ایک آدمی کو دیکھا جو پیدائشی اَندھا تھا۔
JOH 9:2 آپ کے شاگردوں نے یِسوعؔ سے پُوچھا، ”ربّی، کِس نے گُناہ کیا تھا، اِس نے یا اِس کے والدین نے جو یہ اَندھا پیدا ہُوا؟“
JOH 9:3 یِسوعؔ نے فرمایا، ”نہ تو اِس آدمی نے گُناہ کیا تھا نہ اِس کے والدین نے، لیکن یہ اِس لیٔے اَندھا پیدا ہُوا کہ خُدا کا کام اِس میں ظاہر ہو۔
JOH 9:4 جِس نے مُجھے بھیجا ہے اُس کا کام ہمیں دِن ہی دِن میں کرنا لازِم ہے۔ وہ رات آ رہی ہے جِس میں کویٔی شخص کام نہ کر سکےگا۔
JOH 9:5 جَب تک میں دُنیا میں ہُوں، دُنیا کا نُور ہُوں۔“
JOH 9:6 یہ کہہ کر یِسوعؔ نے زمین پر تھُوک کرمٹّی سانی اَور اُس آدمی کی آنکھوں پر لگا دی
JOH 9:7 اَور اُنہُوں نے اَندھے سے فرمایا، ”جا، سِلومؔ کے حوض میں دھولے“ (سِلومؔ کا مطلب ہے ”بھیجا ہُوا“)۔ لہٰذا وہ آدمی چلا گیا۔ اُس نے اَپنی آنکھیں دھوئیں اَور بینا ہوکر واپس آیا۔
JOH 9:8 اُس کے پڑوسی اَور دُوسرے لوگ جنہوں نے پہلے اُسے بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تھا، کہنے لگے، ”کیا یہ وُہی آدمی نہیں جو بیٹھا ہُوا بھیک مانگا کرتا تھا؟“
JOH 9:9 بعض نے کہا کہ ہاں وُہی ہے۔ بعض نے کہا، نہیں، ”مگر اُس کا ہم شکل ضروُر ہے۔“ لیکن اُس آدمی نے کہا، ”میں وُہی اَندھا ہُوں۔“
JOH 9:10 اُنہُوں نے اُس سے پُوچھا، ”پھر تیری آنکھیں کیسے کھُل گئیں؟“
JOH 9:11 اُس نے جَواب دیا، ”لوگ جسے یِسوعؔ کہتے ہیں، اُنہُوں نے مٹّی سانی اَور میری آنکھوں پر لگائی اَور کہا کہ جا اَور سِلومؔ کے حوض میں آنکھیں دھولے۔ لہٰذا میں گیا اَور آنکھیں دھوکر بینا ہو گیا۔“
JOH 9:12 اُنہُوں نے اُس سے پُوچھا، ”وہ آدمی کہاں ہے؟“ اُس نے کہا، ”میں نہیں جانتا۔“
JOH 9:13 لوگ اُس آدمی کو جو پہلے اَندھا تھا فریسیوں کے پاس لایٔے۔
JOH 9:14 جِس دِن یِسوعؔ نے مٹّی سان کر اَندھے کی آنکھیں کھولی تھیں وہ سَبت کا دِن تھا۔
JOH 9:15 اِس لیٔے فریسیوں نے بھی اُس سے پُوچھا کہ تُجھے بینائی کیسے مِلی؟ اُس نے جَواب دیا، ”یِسوعؔ نے مٹّی سان کر میری آنکھوں پر لگائی، اَور مَیں نے اُنہیں دھویا، اَور اَب مَیں ںبینا ہو گیا ہُوں۔“
JOH 9:16 فریسیوں میں سے بعض کہنے لگے، ”یہ آدمی خُدا کی طرف سے نہیں کیونکہ وہ سَبت کے دِن کا اِحترام نہیں کرتا۔“ بعض کہنے لگے، ”کویٔی گُنہگار آدمی اَیسے معجزے کس طرح دِکھا سَکتا ہے؟“ پس اُن میں اِختلاف پیدا ہو گیا۔
JOH 9:17 آخِرکار وہ اَندھے آدمی کی طرف مُتوجّہ ہُوئے اَور پُوچھنے لگے کہ جِس آدمی نے تیری آنکھیں کھولی ہیں اُس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟ اُس نے جَواب دیا، ”وہ ضروُر کویٔی نبی ہے۔“
JOH 9:18 یہُودیوں کو ابھی بھی یقین نہ آیا کہ وہ پہلے اَندھا تھا اَور بینا ہو گیا ہے۔ پس اُنہُوں نے اُس کے والدین کو بُلا بھیجا۔
JOH 9:19 تَب اُنہُوں نے اُن سے پُوچھا، ”کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ جِس کے بارے میں تُم کہتے ہو کہ وہ اَندھا پیدا ہُوا تھا؟ اَب وہ کیسے بینا ہو گیا؟“
JOH 9:20 والدین نے جَواب دیا، ”ہم جانتے ہیں کہ وہ ہمارا ہی بیٹا ہے اَور یہ بھی کہ وہ اَندھا ہی پیدا ہُوا تھا۔
JOH 9:21 لیکن اَب وہ کیسے بینا ہو گیا اَور کِس نے اُس کی آنکھیں کھولیں یہ ہم نہیں جانتے۔ تُم اُسی سے پُوچھ لو، وہ تو بالغ ہے۔“
JOH 9:22 اُس کے والدین نے یہ اِس لیٔے کہاتھا کہ یہُودی رہنما سے ڈرتے تھے کیونکہ یہُودیوں نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ جو کویٔی یِسوعؔ کو المسیح کی حیثیت سے قبُول کرےگا، اُسے یہُودی عبادت گاہ سے خارج کر دیا جائے گا۔
JOH 9:23 اِسی لیٔے اُس کے والدین نے کہا، ”وہ بالغ ہے، اُسی سے پُوچھ لو۔“
JOH 9:24 اُنہُوں نے اُس آدمی کو جو پہلے اَندھا تھا پھر سے بُلایا اَور کہا، ”سچ بول کر خُدا کو جلال دے، ہم جانتے ہیں کہ وہ آدمی گُنہگار ہے۔“
JOH 9:25 اُس نے جَواب دیا، ”وہ گُنہگار ہے یا نہیں، میں نہیں جانتا۔ ایک بات ضروُر جانتا ہُوں کہ میں پہلے اَندھا تھا لیکن اَب دیکھتا ہُوں!“
JOH 9:26 اُنہُوں نے اُس سے پُوچھا، ”اُس نے تیرے ساتھ کیا کیا؟ تیری آنکھیں کیسے کھولیں؟“
JOH 9:27 اُس نے جَواب دیا، ”میں تُمہیں پہلے ہی بتا چُکا ہُوں لیکن تُم نے سُنا نہیں۔ اَب وُہی بات پھر سے سُننا چاہتے ہو؟ کیا تُمہیں بھی اُس کے شاگرد بننے کا شوق چرّایا ہے؟“
JOH 9:28 تَب وہ اُسے بُرا بھلا کہنے لگے، ”تو اُس کا شاگرد ہوگا۔ ہم تو حضرت مَوشہ کے شاگرد ہیں!
JOH 9:29 ہم جانتے ہیں کہ خُدا نے حضرت مَوشہ سے کلام کیا لیکن جہاں تک اِس آدمی کا تعلّق ہے، ہم تُو یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ کہاں کا ہے۔“
JOH 9:30 اُس آدمی نے جَواب دیا، ”یہ بڑی عجِیب بات ہے! تُم نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا ہے حالانکہ اُس نے میری آنکھیں ٹھیک کر دی ہیں۔
JOH 9:31 سَب جانتے ہیں کہ خُدا گُنہگاروں کی نہیں سُنتا لیکن اگر کویٔی خُداپرست ہو اَور اُس کی مرضی پر چلے تو اُس کی ضروُر سُنتا ہے۔
JOH 9:32 زمانہ قدیم سے اَیسا کبھی سُننے میں نہیں آیا کہ کسی نے ایک پیدائشی اَندھے کو بینائی دی ہو۔
JOH 9:33 اگر یہ آدمی خُدا کی طرف سے نہ ہوتا تو کُچھ بھی نہیں کر سَکتا تھا۔“
JOH 9:34 یہ سُن کر اُنہُوں نے جَواب دیا، ”تُو جو سراسر گُناہ میں پیدا ہُوا؛ ہمیں کیا سِکھاتا ہے!“ یہ کہہ کر اُنہُوں نے اَندھے کو باہر نکال دیا۔
JOH 9:35 یِسوعؔ نے یہ سُنا کہ فریسیوں نے اُسے عبادت گاہ سے نکال دیا ہے۔ چنانچہ اُسے تلاش کرکے اُس سے پُوچھا، ”کیا تُو اِبن آدمؔ پر ایمان رکھتا ہے؟“
JOH 9:36 اُس نے پُوچھا، ”اَے آقا! وہ کون ہے؟ مُجھے بتائیے تاکہ میں اُس پر ایمان لاؤں۔“
JOH 9:37 یِسوعؔ نے فرمایا، ”تُونے اُنہیں دیکھاہے اَور حقیقت تو یہ ہے کہ جو اِس وقت تُجھ سے بات کر رہاہے، وُہی ہے۔“
JOH 9:38 تَب اُس آدمی نے کہا، ”اَے خُداوؔند، میں ایمان لاتا ہُوں،“ اَور اُس نے یِسوعؔ کو سَجدہ کیا۔
JOH 9:39 یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں دُنیا کی عدالت کرنے آیا ہُوں تاکہ جو اَندھے ہیں دیکھنے لگیں اَورجو آنکھوں والے ہیں، اَندھے ہو جایٔیں۔“
JOH 9:40 بعض فرِیسی جو اُس کے ساتھ تھے یہ سُن کر پُوچھنے لگے، ”کیا کہا؟ کیا ہم بھی اَندھے ہیں؟“
JOH 9:41 یِسوعؔ نے فرمایا، ”اگر تُم اَندھے ہوتے تو اِتنے گُنہگار نہ سمجھے جاتے؛ لیکن اَب جَب کہ تُم کہتے ہو کہ ہماری آنکھیں ہیں، تو تمہارا گُناہ قائِم رہتاہے۔
JOH 10:1 ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جو آدمی بھیڑ خانہ میں دروازے سے نہیں بَلکہ کسی اَور طریقہ سے اَندر داخل ہو جاتا ہے وہ چور اَور ڈاکُو ہے۔
JOH 10:2 لیکن جو دروازہ سے داخل ہوتاہے وہ بھیڑوں کا گلّہ بان ہے۔
JOH 10:3 دربان اُس کے لیٔے دروازہ کھول دیتاہے اَور بھیڑیں اُس کی آواز سُنتی ہیں۔ وہ اَپنی بھیڑوں کو نام بنام پُکارتا ہے اَور اُنہیں باہر لے جاتا ہے۔
JOH 10:4 جَب وہ اَپنی ساری بھیڑوں کو باہر نکال چُکتا ہے تو اُن کے آگے آگے چلتا ہے اَور اُس کی بھیڑیں اُس کے پیچھے پیچھے چلنے لگتی ہیں، اِس لیٔے کہ وہ اُس کی آواز پہچانتی ہیں۔
JOH 10:5 وہ کسی اجنبی کے پیچھے کبھی نہ جایٔیں گی؛ بَلکہ، سچ تُو یہ ہے کہ اُس سے دُور بھاگیں گی کیونکہ وہ کسی غَیر کی آواز کو نہیں پہچانتیں۔“
JOH 10:6 یِسوعؔ نے اُنہیں یہ تمثیل سُنایٔی لیکن فرِیسی نہ سمجھے کہ اِس کا مطلب کیا ہے۔
JOH 10:7 چنانچہ یِسوعؔ نے اُن سے پھر فرمایا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، بھیڑوں کا دروازہ میں ہُوں۔
JOH 10:8 وہ سَب جو مُجھ سے پہلے آئے چور اَور ڈاکُو تھے اِس لیٔے بھیڑوں نے اُن کی نہ سُنی۔
JOH 10:9 دروازہ میں ہُوں؛ اگر کویٔی میرے ذریعہ داخل ہو تو نَجات پایٔےگا۔ وہ اَندر باہر آتا جاتا رہے گا اَور چراگاہ پایٔےگا۔
JOH 10:10 چور صِرف چُرانے، ہلاک کرنے اَور برباد کرنے آتا ہے؛ میں آیا ہُوں کہ لوگ زندگی پائیں اَور کثرت سے پائیں۔
JOH 10:11 ”اَچھّا گلّہ بان میں ہُوں۔ اَچھّا گلّہ بان اَپنی بھیڑوں کے لیٔے جان دیتاہے۔
JOH 10:12 کویٔی مزدُور نہ تو بھیڑوں کو اَپنا سمجھتا ہے نہ اُن کا گلّہ بان ہوتاہے۔ اِس لیٔے جَب وہ بھیڑئے کو آتا دیکھتا ہے تو بھیڑوں کو چھوڑکر بھاگ جاتا ہے۔ تَب بھیڑیا گلّہ پر حملہ کرکے اُسے مُنتشر کر دیتاہے۔
JOH 10:13 چونکہ وہ مزدُور ہوتاہے اِس لیٔے بھاگ جاتا ہے اَور بھیڑوں کی پرواہ نہیں کرتا۔
JOH 10:14 ”اَچھّا گلّہ بان میں ہُوں؛ میری بھیڑیں مُجھے جانتی ہیں اَور مَیں بھیڑوں کے لیٔے اَپنی جان دیتا ہُوں۔
JOH 10:15 جَیسے باپ مُجھے جانتا ہے، وَیسے ہی میں باپ کو جانتا ہُوں۔ میں اَپنی بھیڑوں کے لیٔے اَپنی جان نثار کر دیتا ہُوں۔
JOH 10:16 میری اَور بھیڑیں بھی ہیں جو اِس گلّہ میں شامل نہیں۔ مُجھے لازِم ہے کہ میں اُنہیں بھی لے آؤں۔ وہ میری آواز سُنیں گی اَور پھر ایک ہی گلّہ اَور ایک ہی گلّہ بان ہوگا۔
JOH 10:17 میرا باپ مُجھے اِس لیٔے پیار کرتا ہے کہ میں اَپنی جان قُربان کرتا ہُوں تاکہ اُسے پھر واپس لے لُوں۔
JOH 10:18 اُسے کویٔی مُجھ سے چھینتا نہیں بَلکہ میں اَپنی مرضی سے اُسے قُربان کرتا ہُوں۔ مُجھے اُسے قُربان کرنے کا اِختیار ہے اَور پھر واپس لے لینے کا حق بھی ہے۔ یہ حُکم مُجھے میرے باپ کی طرف سے مِلا ہے۔“
JOH 10:19 یہ باتیں سُن کر یہُودیوں میں پھر اِختلاف پیدا ہُوا۔
JOH 10:20 اُن میں سے کیٔی ایک نے کہا، ”اِس میں بدرُوح ہے اَور وہ پاگل ہو گیا ہے۔ اِس کی کیوں سُنیں؟“
JOH 10:21 لیکن اَوروں نے کہا، ”یہ باتیں بدرُوح کے مُنہ سے نہیں نکل سکتیں۔ کیا کویٔی بدرُوح اَندھوں کی آنکھیں کھول سکتی ہے؟“
JOH 10:22 یروشلیمؔ میں بیت المُقدّس کے مخصُوص کیٔے جانے کی عید آئی۔ سردی کا موسم تھا
JOH 10:23 اَور یِسوعؔ بیت المُقدّس میں سُلیمانی برامدہ میں ٹہل رہے تھے۔
JOH 10:24 یہُودی اُن کے اِردگرد جمع ہو گئے اَور کہنے لگے، ”تُو کب تک ہمیں شک میں مُبتلا رکھےگا؟ اگر آپ المسیح ہیں تو ہمیں صَاف صَاف بتا دے۔“
JOH 10:25 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”میں تُمہیں بتا چُکا ہُوں لیکن تُم تو میرا یقین ہی نہیں کرتے۔ جو معجزے میں اَپنے باپ کے نام سے کرتا ہُوں وُہی میرے گواہ ہیں۔
JOH 10:26 لیکن تُم یقین نہیں کرتے کیونکہ تُم میری بھیڑیں نہیں ہو۔
JOH 10:27 میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں۔ میں اُنہیں جانتا ہُوں اَور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔
JOH 10:28 میں اُنہیں اَبدی زندگی دیتا ہُوں۔ وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گی اَور کویٔی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سَکتا۔
JOH 10:29 میرا باپ، جِس نے اُنہیں میرے سُپرد کیا ہے سَب سے بڑا ہے؛ کویٔی اُنہیں میرے باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سَکتا۔
JOH 10:30 میں اَور باپ ایک ہیں۔“
JOH 10:31 یہُودیوں نے پھر آپ کو سنگسار کرنے کے لیٔے پتّھر اُٹھائے۔
JOH 10:32 لیکن یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”مَیں نے تُمہیں اَپنے باپ کی طرف سے بڑے بڑے معجزے دِکھائے ہیں۔ اُن میں سے کِس معجزہ کی وجہ سے مُجھے سنگسار کرنا چاہتے ہو؟“
JOH 10:33 یہُودیوں نے جَواب دیا، ”ہم آپ کو کسی نیک کام کے لیٔے نہیں، بَلکہ اِس کُفر کے لیٔے سنگسار کرنا چاہتے ہیں کہ آپ محض ایک اِنسان ہوتے ہویٔے بھی خُدا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔“
JOH 10:34 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”کیا تمہاری شَریعت میں یہ نہیں لِکھّا ہے، ’مَیں نے کہا، تُم ”معبُود“ ہو؟‘
JOH 10:35 اگر شَریعت اُنہیں ’معبُود،‘ کہتی ہے جنہیں خُدا کا کلام دیا گیا اَور کِتاب مُقدّس جُھٹلایا نہیں جا سَکتا۔
JOH 10:36 تو تُم اُس کے بارے میں کیا کہتے ہو جسے باپ نے مخصُوص کرکے دُنیا میں بھیجا ہے؟ چنانچہ تُم مُجھ پر کُفر کا اِلزام کیوں لگاتے ہو؟ کیا اِس لیٔے کہ مَیں نے فرمایا، ’میں خُدا کا بیٹا ہُوں‘؟
JOH 10:37 اگر مَیں باپ کے کہنے کے مُطابق کام نہ کروں تو میرا یقین نہ کرو۔
JOH 10:38 لیکن اگر کرتا ہُوں تو چاہے میرا یقین نہ کرو لیکن اِن معجزوں کا تو یقین کرو تاکہ جان لو اَور سمجھ جاؤ کہ باپ مُجھ میں ہے اَور مَیں باپ میں ہُوں۔“
JOH 10:39 اُنہُوں نے پھر یِسوعؔ کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اُن کے ہاتھ سے بچ کر نکل گیٔے۔
JOH 10:40 اِس کے بعد یِسوعؔ یردنؔ پار اُس جگہ تشریف لے گیٔے جہاں حضرت یُوحنّا شروع میں پاک غُسل دیا کرتے تھے۔ آپ وہاں ٹھہر گیٔے۔
JOH 10:41 اَور بہت سے لوگ اُن کے پاس آئے اَور ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”حضرت یُوحنّا نے خُود تو کویٔی معجزہ نہیں دِکھایا لیکن جو کُچھ حضرت یُوحنّا نے اِن کے بارے میں فرمایا وہ سَب سچ ثابت ہُوا۔“
JOH 10:42 اَور اُس جگہ بہت سے لوگ یِسوعؔ پر ایمان لایٔے۔
JOH 11:1 ایک آدمی جِس کا نام لعزؔر تھا، وہ بیمار تھا۔ وہ بیت عنیّاہ میں رہتا تھا جو مریمؔ اَور اُس کی بہن مرتھاؔ کا گاؤں تھا۔
JOH 11:2 (یہ مریمؔ جِس کا بھایٔی لعزؔر بیمار پڑا تھا وُہی عورت تھی جِس نے خُداوؔند کے سَر پر عِطر ڈالا تھا اَور اَپنے بالوں سے خُداوؔند کے پاؤں پونچھے تھے۔)
JOH 11:3 اُن دونوں بہنوں نے یِسوعؔ کے پاس پیغام بھیجا، ”اَے خُداوؔند جسے آپ پیار کرتے ہیں، وہ بیمار پڑا ہُواہے۔“
JOH 11:4 جَب یِسوعؔ نے یہ سُنا تو فرمایا، ”یہ بیماری موت کے لیٔے نہیں بَلکہ خُدا کا جلال ظاہر کرنے کے لیٔے ہے تاکہ اِس کے ذریعہ خُدا کے بیٹے کا جلال بھی ظاہر ہو جائے۔“
JOH 11:5 یِسوعؔ مرتھاؔ، اُس کی بہن مریمؔ اَور لعزؔر سے مَحَبّت رکھتے تھے۔
JOH 11:6 پھر بھی جَب آپ نے سُنا کہ لعزؔر بیمار ہے تو وہ اُسی جگہ جہاں پر وہ تھے دو دِن اَور ٹھہرے رہے۔
JOH 11:7 پھر یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے فرمایا، ”آؤ ہم واپس یہُودیؔہ چلیں۔“
JOH 11:8 شاگردوں نے کہا، لیکن، ”اَے ربّی، ابھی تھوڑی دیر پہلے یہُودی رہنما آپ کو سنگسار کرنا چاہتے تھے اَور پھر بھی آپ وہاں جانا چاہتے ہیں؟“
JOH 11:9 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”کیا دِن میں بَارہ گھنٹے نہیں ہوتے؟ جو آدمی دِن میں چلتا ہے، ٹھوکر نہیں کھاتا، اِس لیٔے کہ وہ دُنیا کی رَوشنی دیکھ سَکتا ہے۔
JOH 11:10 لیکن اگر وہ رات کے وقت چلتا ہے تو اَندھیرے کے باعث ٹھوکر کھاتا ہے۔“
JOH 11:11 جَب وہ یہ باتیں کہہ چُکے تو شاگردوں سے کہنے لگے، ”ہمارا دوست لعزؔر سو گیا ہے لیکن مَیں اُسے جگانے جا رہا ہُوں۔“
JOH 11:12 شاگردوں نے یِسوعؔ سے کہا، ”اَے خُداوؔند، اگر اُسے نیند آ گئی ہے تو اُس کی حالت بہتر ہو جائے گی۔“
JOH 11:13 یِسوعؔ نے لعزؔر کی موت کے بارے میں فرمایا تھا، لیکن آپ کے شاگردوں نے سمجھا کہ اُس کا مطلب آرام کی نیند سے ہے۔
JOH 11:14 لہٰذا یِسوعؔ نے اُنہیں صَاف لفظوں میں بتایا، ”لعزؔر مَر چُکاہے، اَور
JOH 11:15 میں تمہاری خاطِر خُوش ہُوں کہ وہاں مَوجُود نہ تھا۔ اَب تُم مُجھ پر ایمان لاؤگے۔ لیکن آؤ اُس کے پاس چلیں۔“
JOH 11:16 تَب توماؔ (جسے دِیدِیمُس بھی کہتے تھے) باقی شاگردوں سے کہنے لگا، ”آؤ ہم لوگ بھی چلیں تاکہ اِن کے ساتھ مَر سکیں۔“
JOH 11:17 وہاں پہُنچنے پر یِسوعؔ کو مَعلُوم ہُوا کہ لعزؔر کو قبر میں رکھے چار دِن ہو گئے ہیں۔
JOH 11:18 بیت عنیّاہ، یروشلیمؔ سے تقریباً تین کِلومیٹر کے فاصلہ پر تھا
JOH 11:19 اَور بہت سے یہُودی مرتھاؔ اَور مریمؔ کو اُن کے بھایٔی کی وفات پر تسلّی دینے کے لیٔے آئے ہویٔے تھے۔
JOH 11:20 جَب مرتھاؔ نے سُنا کہ یِسوعؔ آ رہے ہیں تو وہ آپ سے مِلنے کے لیٔے باہر چلی گئی لیکن مریمؔ گھر میں ہی رہی۔
JOH 11:21 مرتھاؔ نے یِسوعؔ سے کہا، ”اَے خُداوؔند! اگر آپ یہاں ہوتے تو میرا بھایٔی نہ مرتا۔
JOH 11:22 لیکن مَیں جانتی ہُوں کہ ابھی آپ جو کُچھ خُدا سے مانگوگے وہ آپ کو دے گا۔“
JOH 11:23 یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”تیرا بھایٔی پھر سے جی اُٹھے گا۔“
JOH 11:24 مرتھاؔ نے جَواب دیا، ”میں جانتی ہُوں کہ وہ آخِری دِن قیامت کے وقت جی اُٹھے گا۔“
JOH 11:25 یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”قیامت اَور زندگی میں ہی ہُوں۔ جو کویٔی مُجھ پر ایمان رکھتا ہے وہ مَرنے کے بعد بھی زندہ رہے گا
JOH 11:26 اَورجو کویٔی زندہ ہے اَور مُجھ پر ایمان لاتا ہے کبھی نہ مَرے گا۔ کیا تُو اِس پر ایمان رکھتی ہے؟“
JOH 11:27 مرتھاؔ نے جَواب دیا، ”ہاں، خُداوؔند،“ میرا ایمان ہے، آپ تو خُدا کے بیٹے المسیح ہیں جو دُنیا میں آنے والے تھے۔
JOH 11:28 جَب وہ یہ بات کہہ چُکی تو واپس گئی، اَور اَپنی بہن مریمؔ کو الگ بُلاکر کہنے لگی، ”اُستاد آ چُکے ہیں اَور تُجھے بُلا رہے ہیں۔“
JOH 11:29 جَب مریمؔ نے یہ سُنا تو وہ جلدی سے اُٹھی اَور یِسوعؔ سے مِلنے چل دی۔
JOH 11:30 یِسوعؔ ابھی گاؤں میں داخل نہ ہُوئے تھے بَلکہ ابھی اُسی جگہ تھے جہاں مرتھاؔ اُن سے مِلی تھی۔
JOH 11:31 جَب اُن یہُودیوں نے جو گھر میں مریمؔ کے ساتھ تھے اَور اُسے تسلّی دے رہے تھے دیکھا مریمؔ جلدی سے اُٹھ کر باہر چلی گئی ہے تو وہ بھی اُس کے پیچھے گیٔے کہ شاید وہ ماتم کرنے کے لیٔے قبر پر جا رہی ہے۔
JOH 11:32 جَب مریمؔ اُس جگہ پہُنچی جہاں یِسوعؔ تھے تو آپ کو دیکھ کر یِسوعؔ کے پاؤں پر گِر پڑی اَور کہنے لگی، ”خُداوؔند، اگر آپ یہاں ہوتے، تو میرا بھایٔی نہ مرتا۔“
JOH 11:33 جَب یِسوعؔ نے اُسے اَور اُس کے ساتھ آنے والے یہُودیوں کو روتے ہویٔے دیکھا، تو یِسوعؔ دِل میں نہایت ہی رنجیدہ ہویٔے۔
JOH 11:34 اَور پُوچھا، تُم نے لعزؔر کو کہاں رکھا ہے؟ اُنہُوں نے کہا، ”آئیے خُداوؔند، اَور خُود ہی دیکھ لیجئیے۔“
JOH 11:35 یِسوعؔ کی آنکھوں میں آنسُو بھر آئے۔
JOH 11:36 یہ دیکھ کر یہُودی کہنے لگے، ”دیکھو لعزؔر اِن کا کِس قدر عزیز تھا!“
JOH 11:37 لیکن اُن میں سے بعض نے کہا، ”کیا یہ جِس نے اَندھے کی آنکھیں کھولیں، اِتنا بھی نہ کر سَکا کہ لعزؔر کو موت سے بچا لیتا؟“
JOH 11:38 یِسوعؔ غمگین دِل کے ساتھ قبر پر آئے۔ یہ ایک غار تھا جِس کے مُنہ پر ایک پتّھر رکھا ہُوا تھا۔
JOH 11:39 یِسوعؔ نے فرمایا، ”پتّھر کو ہٹا دو۔“ مرحُوم کی بہن مرتھاؔ، اِعتراض کرتے ہویٔے بولی، ”لیکن، خُداوؔند، اُس میں سے تو بدبُو آنے لگی ہوگی کیونکہ لعزؔر کو قبر میں چار دِن ہو گئے ہیں۔“
JOH 11:40 اِس پر یِسوعؔ نے فرمایا، ”کیا مَیں نے نہیں کہاتھا کہ اگر تیرا ایمان ہوگا تو تُو خُدا کا جلال دیکھے گی؟“
JOH 11:41 پس اُنہُوں نے پتّھر کو دُور ہٹا دیا۔ تَب یِسوعؔ نے آنکھیں اُوپر اُٹھاکر فرمایا، ”اَے باپ، مَیں آپ کا شُکرگزار ہُوں کہ آپ نے میری سُن لی ہے۔
JOH 11:42 میں جانتا ہُوں کہ آپ ہمیشہ میری سُنتے ہیں لیکن مَیں نے اِن لوگوں کی خاطِر جو چاروں طرف کھڑے ہویٔے ہیں یہ کہاتھا تاکہ یہ بھی ایمان لائیں۔“
JOH 11:43 یہ کہنے کے بعد یِسوعؔ نے بُلند آواز سے پُکارا، ”لعزؔر باہر نکل آ!“
JOH 11:44 اَور وہ مُردہ لعزؔر نکل آیا، اُس کے ہاتھ اَور پاؤں کفن سے بندھے ہویٔے تھے اَور چہرہ پر ایک رُومال لپٹا ہُوا تھا۔ یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”اِس کے کفن کو کھول دو اَور لعزؔر کو جانے دو۔“
JOH 11:45 بہت سے یہُودی جو مریمؔ سے مِلنے آئےتھے، یِسوعؔ کا معجزہ دیکھ کر اُن پر ایمان لایٔے۔
JOH 11:46 لیکن اُن میں سے بعض نے فریسیوں کے پاس جا کرجو کُچھ یِسوعؔ نے کیا تھا، اُنہیں کہہ سُنایا۔
JOH 11:47 تَب اہم کاہِنوں اَور فریسیوں نے عدالتِ عالیہ کا اِجلاس طلب کیا اَور کہنے لگے، ”ہم کیا کر رہے ہیں؟ یہ آدمی تو یہاں معجزوں پر معجزے کیٔے جا رہاہے۔
JOH 11:48 اگر ہم اِسے یُوں ہی چھوڑ دیں گے تو سَب لوگ اِس پر ایمان لے آئیں گے اَور رُومی یہاں آکر ہمارے بیت المُقدّس اَور ہمارے مُلک دونوں پر قبضہ جما لیں گے۔“
JOH 11:49 تَب اُن میں سے ایک جِس کا نام کائِفؔا تھا، اَورجو اُس سال اعلیٰ کاہِن تھا، کہنے لگا، ”تُم لوگ کُچھ نہیں جانتے!
JOH 11:50 تُمہیں مَعلُوم ہونا چاہئے کہ بہتر یہ ہے کہ لوگوں کی خاطِر ایک شخص ماراجائے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو۔“
JOH 11:51 یہ بات اُس نے اَپنی طرف سے نہیں کہی تھی بَلکہ اُس سال کے اعلیٰ کاہِن کی حیثیت سے اُس نے پیشن گوئی کی تھی کہ یِسوعؔ ساری یہُودی قوم کے لیٔے اَپنی جان دیں گے۔
JOH 11:52 اَور صِرف یہُودی قوم کے لیٔے ہی نہیں بَلکہ اِس لیٔے بھی کہ خُدا کے سارے فرزندوں کو جو جابجا بکھرے ہویٔے ہیں جمع کرکے واحد قوم بنادے۔
JOH 11:53 پس اُنہُوں نے اُس دِن سے یِسوعؔ کے قتل کا منصُوبہ بنانا شروع کر دیا۔
JOH 11:54 اِس کے نتیجہ میں یِسوعؔ نے یہُودیؔہ میں سرِ عام گھُومنا پِھرنا چھوڑ دیا اَور بیابان کے نزدیک کے علاقہ میں اِفرائیمؔ نام گاؤں کو چلےگئے اَور وہاں اَپنے شاگردوں کے ساتھ رہنے لگے۔
JOH 11:55 جَب یہُودیوں کی عیدِفسح نزدیک آئی تو بہت سے لوگ اِردگرد کے علاقوں سے یروشلیمؔ آنے لگے تاکہ عیدِفسح سے پہلے طہارت کی ساری رسمیں پُوری کر سکیں۔
JOH 11:56 وہ یِسوعؔ کو ڈھونڈتے پھرتے تھے، اَور جَب بیت المُقدّس کے صحنوں میں جمع ہویٔے تو ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”کیا خیال ہے، کیا وہ عید میں آئے گایا نہیں؟“
JOH 11:57 کیونکہ اہم کاہِنوں اَور فریسیوں نے حُکم دے رکھا تھا کہ اگر کسی کو مَعلُوم ہو جائے کہ یِسوعؔ کہاں ہیں تو وہ فوراً اِطّلاع دے تاکہ وہ یِسوعؔ کو گِرفتار کر سکیں۔
JOH 12:1 عیدِفسح سے چھ دِن پہلے، یِسوعؔ بیت عنیّاہ میں تشریف لایٔے جہاں لعزؔر رہتا تھا، جسے یِسوعؔ نے مُردوں میں سے زندہ کیا تھا۔
JOH 12:2 یہاں یِسوعؔ کے لیٔے ایک ضیافت ترتیب دی گئی۔ مرتھاؔ خدمت کر رہی تھی، جَب کہ لعزؔر اُن مہمانوں میں شامل تھا جو یِسوعؔ کے ساتھ دسترخوان پر کھانا کھانے بیٹھے تھے۔
JOH 12:3 اُس وقت مریمؔ نے تقریباً نِصف لیٹر خالص اَور بڑا قیمتی عِطر یِسوعؔ کے پاؤں پر ڈال کر، اَپنے بالوں سے آپ کے پاؤں کو پونچھنا شروع کر دیا۔ اَور سارا گھر عِطر کی خُوشبو سے مہک اُٹھا۔
JOH 12:4 یِسوعؔ کے شاگردوں میں سے ایک، یہُوداہؔ اِسکریوتی، جِس نے آپ کو بعد میں پکڑوایاتھا، شکایت کرنے لگا،
JOH 12:5 ”یہ عِطر اگر فروخت کیا جاتا تو تین سَو دینار وصول ہوتے جو غریبوں میں تقسیم کیٔے جا سکتے تھے۔“
JOH 12:6 اُس نے یہ اِس لیٔے نہیں کہاتھا کہ اُسے غریبوں کا خیال تھا بَلکہ اِس لیٔے کہ وہ چور تھا؛ اَور چونکہ اُس کے پاس پیسوں کی تھیلی رہتی تھی، جِس میں لوگ رقم ڈالتے تھے۔ وہ اُس میں سے اَپنے اِستعمال کے لیٔے کُچھ نہ کُچھ نکال لیا کرتا تھا۔
JOH 12:7 یِسوعؔ نے فرمایا، ”اُسے پریشان نہ کرو اُسے اَیسا کرنے دو، اُس نے یہ عِطر میری تدفین کے لیٔے سنبھال کر رکھا ہُواہے۔
JOH 12:8 غریب غُربا تو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گے، لیکن مَیں یہاں ہمیشہ تمہارے پاس نہ رہُوں گا۔“
JOH 12:9 اِس دَوران یہُودی عوام کو مَعلُوم ہُوا کہ یِسوعؔ بیت عنیّاہ میں ہیں، لہٰذا وہ بھی وہاں آ گئے۔ وہ صِرف یِسوعؔ کو ہی نہیں بَلکہ لعزؔر کو بھی دیکھنا چاہتے تھے جسے آپ نے مُردوں میں سے زندہ کیا تھا۔
JOH 12:10 تَب اہم کاہِنوں نے لعزؔر کو بھی قتل کرنے کا منصُوبہ بنایا،
JOH 12:11 کیونکہ اُس وقت بہت سے یہُودی یِسوعؔ کی طرف مائل ہوکر آپ پر ایمان لے آئےتھے۔
JOH 12:12 اگلے دِن عوام جو عید کے لیٔے آئے ہویٔے تھے، یہ سُن کر کہ یِسوعؔ بھی یروشلیمؔ آ رہے ہیں،
JOH 12:13 کھجوُر کی ڈالیاں لے کر آپ کے اِستِقبال کو نکلے اَور نعرے لگانے لگے، ”ہوشعنا!“ ”مُبارک ہیں وہ جو خُداوؔند کے نام سے آتے ہیں!“ ”اِسرائیلؔ کا بادشاہ مُبارک ہے!“
JOH 12:14 یِسوعؔ ایک کمسِن گدھے کو لے کر اُس پر سوارہوگئے، جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے:
JOH 12:15 ”اَے صِیّونؔ کی بیٹی، تُو مت ڈر؛ دیکھ، تیرا بادشاہ آ رہاہے، وہ گدھے کے بچّے پر بیٹھا ہُواہے۔“
JOH 12:16 شروع میں تو یِسوعؔ کے شاگرد کُچھ نہ سمجھے کہ یہ کیا ہو رہاہے۔ لیکن بعد میں جَب یِسوعؔ اَپنے جلال کو پہُنچے تو اُنہیں یاد آیا کہ یہ سَب باتیں آپ کے بارے میں لکھی ہویٔی تھیں اَور یہ کہ لوگوں کا یہ سلُوک بھی اُن ہی باتوں کے مُطابق تھا۔
JOH 12:17 جَب یِسوعؔ نے آواز دے کر لعزؔر کو قبر سے باہر بُلایا اَور اُسے مُردوں میں سے زندہ کیا تو یہ لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے اَور اُنہُوں نے یہ خبر ہر طرف پھیلا دی تھی۔
JOH 12:18 بہت سے اَور لوگ، بھی یہ سُن کر کہ یِسوعؔ نے ایک بہت بڑا معجزہ دِکھایا ہے، آپ کے اِستِقبال کو نکلے۔
JOH 12:19 فرِیسی یہ دیکھ کر ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”ذرا سوچو تو آخِر ہمیں کیا حاصل ہُوا۔ دیکھو ساری دُنیا اُس کے پیچھے کیسے چل رہی ہے!“
JOH 12:20 جو لوگ عید کے موقع پر عبادت کرنے کے لیٔے آئےتھے اُن میں بعض یُونانی بھی تھے۔
JOH 12:21 وہ فِلِپُّسؔ کے پاس آئے، جو گلِیل کے شہر بیت صیؔدا کا باشِندہ تھا، اَور اُس سے درخواست کرنے لگے۔ جَناب، ”ہم یِسوعؔ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔“
JOH 12:22 فِلِپُّسؔ نے اَندریاسؔ کو بتایا؛ اَور پھر دونوں نے آکر یِسوعؔ کو خبر دی۔
JOH 12:23 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”اِبن آدمؔ کے جلال پانے کا وقت آ پہُنچا ہے۔
JOH 12:24 میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جَب تک گیہُوں کا دانہ خاک میں مِل کر فنا نہیں ہو جاتا، وہ ایک ہی دانہ رہتاہے۔ لیکن اگر وہ فنا ہو جاتا ہے، تو بہت سے دانے پیدا کرتا ہے۔
JOH 12:25 جو آدمی اَپنی جان کو عزیز رکھتا ہے، اُسے کھویٔے گا لیکن جو دُنیا میں اَپنی جان سے عداوت رکھتا ہے وہ اُسے اَبدی زندگی کے لیٔے محفوظ رکھےگا۔
JOH 12:26 جو کویٔی میری خدمت کرنا چاہتاہے اُسے لازِم ہے کہ میری پیروی کرے؛ تاکہ جہاں میں ہُوں، وہاں میرا خادِم بھی ہو۔ جو میری خدمت کرتا ہے میرا آسمانی باپ اُسے عزّت بخشیں گے۔
JOH 12:27 ”اَب میرا دِل گھبراتا ہے، تو کیا میں یہ کہُوں؟ ’اَے باپ، مُجھے اِس گھڑی سے بچائے رکھ‘؟ ہرگز نہیں، کیونکہ اِسی لیٔے تو میں آیا ہُوں کہ اِس گھڑی تک پہُنچو۔
JOH 12:28 اَے باپ، اَپنے نام کو جلال بخش!“ تَب آسمان سے ایک آواز سُنایٔی دی، ”مَیں نے جلال بخشا ہے اَور پھر بخشوں گا۔“
JOH 12:29 جَب لوگوں کا ہُجوم جو وہاں جمع تھا یہ سُنا تو کہا کہ بادل گرجا ہے؛ دُوسروں نے کہا کہ کسی فرشتہ نے یِسوعؔ سے کلام کیا ہے۔
JOH 12:30 یِسوعؔ نے فرمایا، ”یہ آواز تمہارے لیٔے آئی ہے نہ کہ میرے لیٔے۔
JOH 12:31 اَب وہ وقت آ گیا ہے کہ دُنیا کی عدالت کی جائے۔ اَب اِس دُنیا کا حُکمراں باہر نکالا جائے گا۔
JOH 12:32 لیکن جِس وقت مَیں، زمین پر، اُونچا اُٹھایا جاؤں گا تو سَب لوگوں کو اَپنے پاس کھینچ لُوں گا۔“
JOH 12:33 یِسوعؔ نے یہ کہہ کر ظاہر کر دیا کہ وہ کِس قِسم کی موت سے مَرنے والے ہیں۔
JOH 12:34 لوگوں نے آپ سے کہا، ”ہم نے شَریعت میں سُنا ہے کہ المسیح ہمیشہ زندہ رہیں گے، پھر آپ کیسے کہتے ہیں، ’اِبن آدمؔ کا صلیب پر چڑھایا جانا ضروُری ہے‘؟ یہ ’اِبن آدمؔ کون ہے‘؟“
JOH 12:35 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”نُور تمہارے درمیان تھوڑی دیر اَور مَوجُود رہے گا۔ نُور جَب تک تمہارے درمیان ہے نُور میں چلے چلو، اِس سے پہلے کہ تاریکی تُمہیں آ لے۔ جو کویٔی تاریکی میں چلتا ہے، نہیں جانتا کہ وہ کدھر جا رہاہے۔
JOH 12:36 جَب تک نُور تمہارے درمیان ہے تُم نُور پر ایمان لاؤ، تاکہ تُم نُور کے فرزند بَن سکو۔“ جَب یِسوعؔ یہ باتیں کہہ چُکے، تو وہاں سے چلےگئے اَور اُن کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
JOH 12:37 اگرچہ یِسوعؔ نے اُن کے درمیان اِتنے معجزے دِکھائے تھے پھر بھی وہ اُن پر ایمان نہ لایٔے
JOH 12:38 تاکہ یَشعیاہ نبی کا قول پُورا ہو: ”اَے خُداوؔند، ہمارے پیغام پر کون ایمان لایا اَور خُداوؔند کے بازو کی قُوّت کِس پر ظاہر ہویٔی؟“
JOH 12:39 یہی وجہ تھی کہ وہ ایمان نہ لا سکے۔ یَشعیاہ ایک اَور جگہ کہتے ہیں:
JOH 12:40 ”خُدا نے اُن کی آنکھوں کو اَندھا اَور دِلوں کو سخت کر دیا ہے، تاکہ اَیسا نہ ہو کہ اَپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں، اَور اَپنے دِلوں سے سمجھ سکیں، اَور تَوبہ کریں کہ میں اُنہیں شفا بخشوں۔“
JOH 12:41 یَشعیاہ نے یہ اِس لیٔے کہا کیونکہ یَشعیاہ نے خُداوؔند کا جلال دیکھا تھا اَور اُن کے بارے میں کلام بھی کیا۔
JOH 12:42 اِس کے باوُجُود بھی یہُودیوں کے کیٔی رہنما اُن پر ایمان تو لے آئے۔ لیکن وہ فریسیوں کی وجہ سے اَپنے ایمان کا اقرار نہ کرتے تھے کیونکہ اُنہیں خوف تھا کہ وہ یہُودی عبادت گاہ سے خارج کر دیئے جایٔیں گے؛
JOH 12:43 دراصل وہ خُدا کی طرف سے عزّت پانے کی بجائے اِنسانوں کی طرف سے عزّت پانے کے زِیادہ مُتلاشی تھے۔
JOH 12:44 تَب یِسوعؔ نے پُکار کر کہا، ”جو کویٔی مُجھ پر ایمان لاتا ہے، وہ نہ صِرف مُجھ پر بَلکہ میرے بھیجنے والے پر بھی ایمان لاتا ہے۔
JOH 12:45 اَور جَب وہ مُجھ پر نظر ڈالتا ہے تو میرے بھیجنے والے کو دیکھتا ہے۔
JOH 12:46 میں دُنیا میں نُور بَن کر آیا ہُوں تاکہ جو مُجھ پر ایمان لایٔے وہ تاریکی میں نہ رہے۔
JOH 12:47 ”اگر کویٔی میری باتیں سُنتا ہے اَور اُن پر عَمل نہیں کرتا تو میں اُسے مُجرم نہیں ٹھہراتا کیونکہ مَیں دُنیا کو مُجرم ٹھہرانے نہیں آیا بَلکہ نَجات دینے آیا ہُوں۔
JOH 12:48 جو مُجھے ردّ کرتا ہے اَور میری باتیں قبُول نہیں کرتا اُس کا اِنصاف کرنے والا ایک ہے یعنی میرا کلام جو آخِری دِن اُسے مُجرم ٹھہرائے گا۔
JOH 12:49 کیونکہ مَیں نے اَپنی طرف سے کُچھ نہیں کہا بَلکہ آسمانی باپ جِس نے مُجھے بھیجا ہے اُن ہی نے مُجھے سَب کچھ کہنے کا حُکم دیا ہے۔
JOH 12:50 میں جانتا ہُوں کہ اُن کا حُکم بجا لانا اَبدی زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ لہٰذا میں وُہی کہتا ہُوں جِس کے کہنے کا حُکم مُجھے باپ نے دیا ہے۔“
JOH 13:1 عیدِفسح کے آغاز سے پہلے یِسوعؔ نے جان لیا کہ اُن کے دُنیا سے رخصت ہوکر باپ کے پاس جانے کا وقت آ گیا ہے۔ وہ اَپنے لوگوں سے مَحَبّت کرتے تھے جو دُنیا میں تھے، اَور اُن کی مَحَبّت اُن سے آخِری وقت تک قائِم رہی۔
JOH 13:2 وہ لوگ شام کا کھانا کھا رہے تھے، اَور شیطان نے پہلے ہی شمعُونؔ کے بیٹے یہُوداہؔ اِسکریوتی کے دِل میں، یِسوعؔ کے پکڑوا دینے کا خیال، ڈال دیا تھا۔
JOH 13:3 آپ کو مَعلُوم تھا کہ باپ نے ساری چیزیں اُن کے ہاتھ میں کر دی ہیں، اَور یہ بھی کہ وہ خُدا کی طرف سے آئے ہیں اَور خُدا کی طرف واپس جا رہے ہیں؛
JOH 13:4 پس وہ دسترخوان سے اُٹھے، اَور اَپنا چوغہ اُتار ڈالا اَور ایک تولیہ لے کر اَپنی کمر کے گِرد لپیٹ لیا۔
JOH 13:5 اِس کے بعد، یِسوعؔ نے ایک برتن میں پانی ڈالا اَور اَپنے شاگردوں کے پاؤں دھوکر، اُنہیں اَپنی کمر میں بندھے ہویٔے تولیہ سے پونچھنے لگے۔
JOH 13:6 جَب وہ شمعُونؔ پطرس تک پہُنچے تو پطرس کہنے لگے، ”اَے خُداوؔند، کیا آپ میرے پاؤں دھونا چاہتے ہیں؟“
JOH 13:7 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جو میں کر رہا ہُوں تُم اُسے ابھی تو نہیں جانتے، لیکن بعد میں سمجھ جاؤگے۔“
JOH 13:8 پطرس نے جَواب دیا، ”نہیں، مَیں آپ کو اَپنے پاؤں ہرگز نہیں دھونے دُوں گا۔“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر مَیں تُمہیں نہ دھوؤں، تو تمہاری میرے ساتھ کویٔی شراکت نہیں رہ سکتی۔“
JOH 13:9 اِس پر، شمعُونؔ پطرس نے یِسوعؔ سے کہا، ”اَے خُداوؔند، اگر یہ بات ہے تو صِرف میرے پاؤں ہی نہیں بَلکہ ہاتھ اَور سَر بھی دھو دیجئے!“
JOH 13:10 یِسوعؔ نے پطرس سے فرمایا، ”جو شخص غُسل کر چُکاہے اُسے صِرف پاؤں دھونے کی ضروُرت ہوتی ہے؛ اُس کا سارا جِسم تو پاک ہوتاہے۔ تُم لوگ پاک ہو لیکن سَب کے سَب نہیں۔“
JOH 13:11 یِسوعؔ کو مَعلُوم تھا کہ کون اُنہیں پکڑوائے گا۔ اِسی لیٔے آپ نے فرمایا، تُم سَب کے سَب پاک نہیں ہو۔
JOH 13:12 جَب وہ اُن کے پاؤں دھو چُکے، تو اَپنا چوغہ پہن کر اَپنی جگہ آبیٹھے۔ تَب آپ نے اُن سے پُوچھا، ”مَیں نے تمہارے ساتھ جو کُچھ کیا، کیا تُم اِس کا مطلب سمجھتے ہو؟
JOH 13:13 تُم مُجھے ’اُستاد‘ اَور ’خُداوؔند،‘ کہتے ہو، اَور تمہارا کہنا بجا ہے، کیونکہ مَیں واقعی تمہارا اُستاد اَور خُداوؔند ہُوں۔
JOH 13:14 جَب مَیں نے، یعنی تمہارے اُستاد اَور خُداوؔند، نے تمہارے پاؤں دھوئے، تو تمہارا بھی فرض ہے کہ ایک دُوسرے کے پاؤں دھویا کرو۔
JOH 13:15 مَیں نے تُمہیں ایک نمونہ دیا ہے کہ جَیسا مَیں نے کیا تُم بھی کیا کرو۔
JOH 13:16 میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، کویٔی خادِم اَپنے آقا سے بڑا نہیں ہوتا، نہ ہی کویٔی قاصِد اَپنے پیغام بھیجنے والے سے بڑا ہوتاہے۔
JOH 13:17 تُم اِن باتوں کو جان گیٔے ہو، اِن باتوں پر عَمل بھی کروگے تو تُم مُبارک ہوگے۔
JOH 13:18 ”میرا اِشارہ تُم سَب کی طرف نہیں ہے؛ جنہیں مَیں نے چُناہے اُنہیں میں جانتا ہُوں۔ لیکن کِتاب مُقدّس کی اِس بات کا پُورا ہونا ضروُری ہے: ’جو میری روٹی کھاتا ہے وُہی مُجھ پر لات اُٹھاتا ہے۔‘
JOH 13:19 ”اِس سے پہلے کہ اَیسا ہو، میں تُمہیں بتا رہا ہُوں، تاکہ جَب اَیسا ہو جائے تو تُم ایمان رکھو کہ وہ میں ہی ہُوں۔
JOH 13:20 میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، جو میرے بھیجے ہویٔے کو قبُول کرتا ہے وہ مُجھے قبُول کرتا ہے؛ اَورجو مُجھے قبُول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبُول کرتا ہے۔“
JOH 13:21 اُن باتوں کے بعد، یِسوعؔ اَپنے دِل میں نہایت ہی رنجیدہ ہُوئے اَور یہ گواہی دی، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ تُم میں سے، ایک مُجھے پکڑوائے گا۔“
JOH 13:22 اُن کے شاگرد ایک دُوسرے کو شُبہ کی نظر سے دیکھنے لگے، کیونکہ اُنہیں مَعلُوم نہ تھا کہ اُن کا اِشارہ کِس کی طرف ہے۔
JOH 13:23 اُن میں سے ایک، شاگرد جِس سے یِسوعؔ مَحَبّت رکھتے تھے، دسترخوان پر اُن کے نزدیک ہی جھُکا بیٹھا تھا۔
JOH 13:24 شمعُونؔ پطرس نے اُس شاگرد سے اِشاروں میں پُوچھا، ”یِسوعؔ کِس کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔“
JOH 13:25 اُن شاگرد نے یِسوعؔ کی طرف جُھک کر، آپ سے پُوچھا، ”اَے خُداوؔند، وہ کون ہے؟“
JOH 13:26 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جسے میں نوالہ ڈُبو کر دُوں گا وُہی ہے۔“ تَب، آپ نے نوالہ ڈُبو کر، شمعُونؔ اِسکریوتی کے بیٹے یہُوداہؔ، کو دیا۔
JOH 13:27 اَور اُس نوالہ کے بعد، شیطان یہُوداہؔ اِسکریوتی میں سما گیا۔ تَب یِسوعؔ نے یہُوداہؔ اِسکریوتی سے فرمایا، ”جو کُچھ تُجھے کرناہے، جلدی کر لے۔“
JOH 13:28 لیکن دسترخوان پر کسی کو مَعلُوم نہ ہُوا کہ آپ نے اُسے اَیسا کیوں کہا۔
JOH 13:29 یہُوداہؔ کے پاس پیسوں کی تھیلی رہتی تھی، اِس لیٔے بعض نے سوچا کہ یِسوعؔ اُسے عید کے لیٔے ضروُری سامان خریدنے کے لیٔے کہہ رہے ہیں، یا یہ کہ غریبوں کو کُچھ دے دینا۔
JOH 13:30 جُوں ہی یہُوداہؔ نے روٹی کا نوالہ لیا، فوراً باہر چلا گیا۔ اَور رات ہو چُکی تھی۔
JOH 13:31 جَب یہُوداہؔ چلا گیا، تو یِسوعؔ نے فرمایا، ”اَب جَب کہ اِبن آدمؔ نے جلال پایا ہے تو گویا خُدا نے اُس میں جلال پایا ہے۔
JOH 13:32 چونکہ خُدا نے حُضُور المسیح میں جلال پایا ہے، تو خُدا بھی اَپنے بیٹے کو اَپنا جلال دے گا اَور فَوری طور پر دے گا۔
JOH 13:33 ”میرے بچّو، میں کُچھ دیر اَور تمہارے ساتھ ہُوں۔ تُم مُجھے ڈھونڈوگے اَور جَیسا مَیں نے یہُودی رہنماؤں سے فرمایا، تُم سے بھی کہتا ہُوں: جہاں میں جا رہا ہُوں، تُم وہاں نہیں آسکتے۔
JOH 13:34 ”میں تُمہیں ایک نیا حُکم دیتا ہُوں: ایک دُوسرے سے مَحَبّت رکھو۔ جِس طرح مَیں نے تُم سے مَحَبّت رکھی، تُم بھی ایک دُوسرے سے مَحَبّت رکھو۔
JOH 13:35 اگر تُم ایک دُوسرے سے مَحَبّت رکھوگے، تو اِس سے سَب لوگ جان لیں گے کہ تُم میرے شاگرد ہو۔“
JOH 13:36 شمعُونؔ پطرس نے اُن سے کہا، اَے خُداوؔند! آپ کہاں جا رہے ہیں؟ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جہاں میں جا رہا ہُوں تُم ابھی تو میرے ساتھ نہیں آسکتے لیکن بعد میں آ جاؤگے۔“
JOH 13:37 پطرس نے پُوچھا، اَے خُداوؔند، ”مَیں آپ کے ساتھ ابھی کیوں نہیں آسکتا؟ میں تو اَپنی جان تک آپ پر نثار کر دُوں گا۔“
JOH 13:38 یہ سُن کر یِسوعؔ نے فرمایا، ”کیا تُم واقعی میرے لیٔے اَپنی جان دوگے؟ میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ اِس سے پہلے کہ مُرغ بانگ دے تُم تین دفعہ میرا اِنکار کروگے!
JOH 14:1 ”تمہارا دِل پریشان نہ ہو۔ تُم خُدا پر ایمان رکھتے ہو؛ تو مُجھ پر بھی ایمان رکھو۔
JOH 14:2 میرے باپ کے یہاں بہت سے رِہائشی مقام ہیں؛ اگر نہ ہوتے، تو مَیں تُمہیں بتا دیتا مَیں تمہارے لیٔے جگہ تیّار کرنے وہاں جا رہا ہُوں۔
JOH 14:3 اَور اگر مَیں جا کر تمہارے لیٔے جگہ تیّار کروں، تو واپس آکر تُمہیں اَپنے ساتھ لے جاؤں گا تاکہ جہاں میں ہُوں وہاں تُم بھی ہو۔
JOH 14:4 جہاں میں جا رہا ہُوں، تُم وہاں کی راہ جانتے ہو۔“
JOH 14:5 توماؔ نے یِسوعؔ سے کہا، ”اَے خُداوؔند، ہم یہ نہیں جانتے کہ آپ کہاں جا رہے ہیں، تو ہم راستہ کیسے جان سکتے ہیں؟“
JOH 14:6 یِسوعؔ نے جَواب میں فرمایا، ”راہ اَور حق اَور زندگی میں ہی ہُوں۔ میرے وسیلہ کے بغیر کویٔی باپ کے پاس نہیں آتا۔
JOH 14:7 اگر تُم نے واقعی مُجھے جانا ہوتا، تو میرے باپ کو بھی جانتے۔ اَب تُم اُنہیں جان گیٔے ہو بَلکہ اُنہیں دیکھ بھی چُکے ہو۔“
JOH 14:8 فِلِپُّسؔ نے کہا، ”اَے خُداوؔند، ہمیں باپ کا دیدار کرا دیجئے، بس یہی ہمارے لیٔے کافی ہے۔“
JOH 14:9 یِسوعؔ نے جَواب دیا: ”فِلِپُّسؔ میں اِتنے عرصہ سے تُم لوگوں کے ساتھ ہُوں، کیا تُم مُجھے نہیں جانتے؟ جِس نے مُجھے دیکھاہے اُس نے باپ کو دیکھاہے۔ تُم کیسے کہتے ہو؟ ’ہمیں باپ کا دیدار کرا دیجئے‘؟
JOH 14:10 کیا تُمہیں یقین نہیں کہ میں باپ میں ہُوں، اَور باپ مُجھ میں ہیں؟ میں جو باتیں تُم سے کہتا ہُوں وہ میری طرف سے نہیں بَلکہ، میرا باپ، مُجھ میں رہ کر، اَپنا کام کرتے ہیں۔
JOH 14:11 جَب مَیں کہتا ہُوں کہ میں باپ میں ہُوں اَور باپ مُجھ میں ہیں تو یقین کرو یا کم اَز کم میرے کاموں کا تو یقین کرو جو میرے گواہ ہیں۔
JOH 14:12 میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، جو مُجھ پر ایمان رکھتا ہے وہ بھی وُہی کرےگا جو میں کرتا ہُوں، بَلکہ وہ اِن سے بھی بڑے بڑے کام کرےگا، کیونکہ مَیں باپ کے پاس جا رہا ہُوں۔
JOH 14:13 جو کُچھ تُم میرا نام لے کر مانگوگے، میں تُمہیں دُوں گا تاکہ باپ کا جلال بیٹے کے ذریعہ ظاہر ہو۔
JOH 14:14 تُم میرے نام سے کُچھ بھی فریاد کروگے، تو میں اُسے ضروُر پُورا کروں گا۔
JOH 14:15 ”اگر تُم مُجھ سے مَحَبّت کرتے ہو تو میرے اَحکام بجا لاؤگے۔
JOH 14:16 اَور مَیں باپ سے درخواست کروں گا، اَور وہ تُمہیں ایک اَور مددگار بخشےگا تاکہ وہ ہمیشہ تک تمہارے ساتھ رہے۔
JOH 14:17 یعنی رُوحِ حق۔ جسے یہ دُنیا حاصل نہیں کر سکتی، کیونکہ نہ تو اُسے دیکھتی ہے نہ جانتی ہے۔ لیکن تُم اُسے جانتے ہو، کیونکہ اُس کی سکونت تمہارے ساتھ ہے اَور اُس کا قِیام تمہارے دِلوں میں ہوگا۔
JOH 14:18 میں تُمہیں یتیم نہ چھوڑوں گا۔ مَیں تمہارے پاس آؤں گا۔
JOH 14:19 یہ دُنیا کُچھ دیر بعد، مُجھے نہ دیکھ پایٔے گی، لیکن تُم مُجھے دیکھتے رہوگے۔ چونکہ میں زندہ رہُوں گا، تُم بھی زندہ رہوگے۔
JOH 14:20 اُس دِن تُم جان لوگے کہ میں اَپنے باپ میں ہُوں، اَور تُم مُجھ میں ہو، اَور مَیں تُم میں۔
JOH 14:21 جِس کے پاس میرے اَحکام ہیں اَور وہ اُنہیں مانتا ہے وُہی مُجھ سے مَحَبّت کرتا ہے، اَور وہ میرے باپ کا پیارا ہوگا اَور مَیں بھی اُس سے مَحَبّت رکھوں گا اَور اَپنے آپ کو اُس پر ظاہر کروں گا۔“
JOH 14:22 تَب یہُوداہؔ (یہُوداہؔ اِسکریوتی نہیں) نے کہا، ”لیکن، اَے خُداوؔند، کیا وجہ ہے کہ حُضُور آپ خُود کو ہم پر ظاہر کریں گے لیکن دُنیا پر نہیں؟“
JOH 14:23 یِسوعؔ نے جَواب میں فرمایا، ”اگر کویٔی مُجھ سے مَحَبّت رکھتا ہے تو وہ میرے کلام پر عَمل کرےگا۔ میرے باپ اُس سے مَحَبّت رکھیں گے اَور ہم اُن کے پاس آکر اَور اُن کے ساتھ رہیں گے۔
JOH 14:24 جو مُجھ سے مَحَبّت نہیں رکھتا وہ میرے کلام پر عَمل نہیں کرتا۔ یہ کلام جو تُم سُن رہے ہو؛ میرا اَپنا نہیں بَلکہ میرے باپ کا ہے جِس نے مُجھے بھیجا ہے۔
JOH 14:25 ”یہ ساری باتیں مَیں نے تمہارے ساتھ رہتے ہویٔے کہیں۔
JOH 14:26 لیکن وہ مددگار، یعنی پاک رُوح، جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا، تُمہیں ساری باتیں سِکھائے گا اَور ہر بات جو مَیں نے تُم سے کہی ہے، یاد دِلائے گا۔
JOH 14:27 مَیں تمہارے ساتھ اَپنی سلامتی چھوڑے جاتا ہُوں۔ میں اَپنی سلامتی تُمہیں دیتا ہُوں۔ جِس طرح دُنیا دیتی ہے اُس طرح نہیں۔ چنانچہ دِلوں کو پریشان نہ ہونے دو اَور خوفزدہ نہ ہو۔
JOH 14:28 ”تُم نے مُجھے یہ کہتے سُنا، ’میں جا رہا ہُوں اَور تمہارے پاس پھر آؤں گا۔‘ اگر تُم مُجھ سے مَحَبّت کرتے تو خُوش ہوتے کہ میں باپ کے پاس جا رہا ہُوں، کیونکہ باپ مُجھ سے بڑا ہے۔
JOH 14:29 مَیں نے ساری باتیں پہلے ہی تُمہیں بتا دی ہیں تاکہ جَب وہ پُوری ہو جایٔیں تو تُم مُجھ پر ایمان لاؤ۔
JOH 14:30 اَب مَیں تُم سے اَور زِیادہ باتیں نہیں کروں گا، کیونکہ اِس دُنیا کا حُکمراں آ رہاہے۔ اُس کا مُجھ پر کویٔی اِختیار نہیں،
JOH 14:31 لیکن دُنیا کو مَعلُوم ہونا چاہئے کہ میں باپ سے مَحَبّت کرتا ہُوں اَور اُس کے ہر حُکم کی پیروی کرتا ہُوں جِس کا باپ مُجھے حُکم دیتاہے۔ ”اَب آؤ؛ یہاں سے چلیں۔
JOH 15:1 ”میں انگور کی حقیقی بیل ہُوں، اَور میرا باپ باغبان ہے۔
JOH 15:2 میری جو شاخ پھل نہیں لاتی وہ اُسے کاٹ ڈالتا ہے، اَورجو پھل لاتی ہے اُسے تراشتا ہے تاکہ وہ زِیادہ پھل لایٔے۔
JOH 15:3 تُم اُس کلام کے باعث جو مَیں نے تُم سے کیا ہے پہلے ہی پاک صَاف ہو چُکے ہو۔
JOH 15:4 تُم مُجھ میں قائِم رہو تو میں بھی تُم میں قائِم رہُوں گا۔ کویٔی شاخ اَپنے آپ پھل نہیں لاتی؛ اُس شاخ کا انگور کی بیل سے پیوستہ رہنا لازِم ہے۔ تُم بھی مُجھ میں قائِم رہے بغیر پھل نہیں لا سکتے۔
JOH 15:5 ”انگور کی بیل میں ہُوں اَور تُم میری شاخیں ہو۔ جو مُجھ میں قائِم رہتاہے اَور مَیں اُس میں وہ خُوب پھل لاتا ہے؛ مُجھ سے جُدا ہوکر تُم کُچھ نہیں کر سکتے۔
JOH 15:6 اگر تُم مُجھ میں قائِم نہیں رہتے ہو، تو اُس شاخ کی طرح ہو جو دُور پھینک دی جاتی اَور سُوکھ جاتی ہے؛ اَیسی شاخیں جمع کرکے، آگ میں جھونکی اَور جَلا دی جاتی ہیں۔
JOH 15:7 اگر تُم مُجھ میں قائِم رہوگے اَور میرا کلام تمہارے دِل میں قائِم رہے گا، تو جو چاہو مانگو، وہ تُمہیں دیا جائے گا۔
JOH 15:8 میرے باپ کا جلال اِس میں ہے، کہ جِس طرح تُم بہت سا پھل لاتے ہو، اَور اَیسا کرنا تمہارے شاگرد ہونے کی دلیل ہے۔
JOH 15:9 ”جَیسے باپ نے مُجھ سے مَحَبّت کی ہے وَیسے ہی مَیں نے تُم سے مَحَبّت کی ہے۔ اَب میری مَحَبّت میں قائِم رہو۔
JOH 15:10 جِس طرح مَیں نے اَپنے باپ کے اَحکام پر عَمل کیا ہے، اَور اُن کی مَحَبّت میں قائِم ہُوں، اُسی طرح اگر تُم بھی میرے اَحکام بجا لاؤگے تو میری مَحَبّت میں قائِم رہوگے۔
JOH 15:11 مَیں نے یہ باتیں تُمہیں اِس لیٔے بتایٔی ہیں کہ میری خُوشی تُم میں ہو اَور تمہاری خُوشی پُوری ہو جائے۔
JOH 15:12 میرا حُکم یہ ہے کہ جَیسے مَیں نے تُم سے مَحَبّت رکھی تُم بھی ایک دُوسرے سے مَحَبّت رکھو۔
JOH 15:13 اِس سے زِیادہ مَحَبّت کویٔی نہیں کرتا: اَپنی جان اَپنے دوستوں کے لیٔے قُربان کر دے۔
JOH 15:14 تُم میرے دوست ہو بشرطیکہ میرے حُکم پر عَمل کرتے رہو۔
JOH 15:15 اَب سے میں تُمہیں خادِم نہیں کہُوں گا، کیونکہ خادِم نہیں جانتا کہ اُس کا مالک کیا کرتا ہے۔ بَلکہ، مَیں نے تُمہیں دوست ماناہے کیونکہ سَب کُچھ جو مَیں نے باپ سے سُنا ہے تُمہیں بَیان کر دیا ہے۔
JOH 15:16 تُم نے مُجھے نہیں چُنا، بَلکہ مَیں نے تُمہیں چُنا اَور مُقرّر کیا ہے تاکہ تُم جا کر پھل لاؤ اَیسا پھل جو قائِم رہے تاکہ جو کُچھ تُم میرا نام لے کر باپ سے مانگوگے وہ تُمہیں عطا کرےگا۔
JOH 15:17 میں تُمہیں حُکم دیتا ہُوں: آپَس میں مَحَبّت رکھو۔
JOH 15:18 ”اگر دُنیا تُم سے دُشمنی رکھتی ہے تو یاد رکھو کہ اُس نے پہلے مُجھ سے بھی دُشمنی رکھی ہے۔
JOH 15:19 اگر تُم دُنیا کے ہوتے، تُو یہ دُنیا تُمہیں اَپنوں کی طرح عزیز رکھتی۔ لیکن اَب تُم، دُنیا کے نہیں ہو کیونکہ مَیں نے تُمہیں چُن کر دُنیا سے علیحدہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا تُم سے دُشمنی رکھتی ہے۔
JOH 15:20 میری یہ بات یاد رکھو: ’کویٔی خادِم اَپنے آقا سے بڑا نہیں ہوتا۔‘ اگر دُنیا والوں نے مُجھے ستایا ہے، تو وہ تُمہیں بھی ستائیں گے۔ اگر اُنہُوں نے میری بات پر عَمل کیا، تو تمہاری بات پر بھی عَمل کریں گے۔
JOH 15:21 وہ میرے نام کی وجہ سے تُم سے اِس طرح کا سلُوک کریں گے، کیونکہ وہ میرے بھیجنے والے کو نہیں جانتے۔
JOH 15:22 اگر مَیں نے آکر اُن سے کلام نہ کیا ہوتا، تو وہ گُنہگار نہ ٹھہرائے جاتے لیکن اَب اُن کے گُناہ کا اُن کے پاس کویٔی عُذر باقی نہیں رہا۔
JOH 15:23 جو مُجھ سے دُشمنی رکھتا ہے، میرے باپ سے بھی دُشمنی رکھتا ہے
JOH 15:24 اگر مَیں اُن کے درمیان وہ کام نہ کرتا جو کسی دُوسرے نے نہیں کیٔے، تو وہ گُنہگار نہیں ٹھہرتے۔ لیکن اَب، اُنہُوں نے میرے کاموں کو دیکھ لیا ہے، اَور اُنہُوں نے مُجھ سے اَور میرے باپ دونوں سے دُشمنی رکھی ہے۔
JOH 15:25 لیکن یہ اِس لیٔے ہُوا کہ اُن کی شَریعت میں لِکھّا ہُوا قول پُورا ہو جائے: ’اُنہُوں نے مُجھ سے بِلا وجہ دُشمنی رکھی۔‘
JOH 15:26 ”جَب وہ مددگار یعنی رُوحِ حق آئے گا جسے میں باپ کی طرف سے بھیجوں گا تو وہ میرے بارے میں گواہی دے گا۔
JOH 15:27 اَور تُم بھی میری بابت گواہی دوگے کیونکہ تُم شروع ہی سے میرے ساتھ رہے ہو۔
JOH 16:1 ”مَیں نے تُمہیں یہ ساری باتیں اِس لیٔے بتایٔی ہیں کہ تُم گُمراہ نہ ہو جاؤ۔
JOH 16:2 وہ تُمہیں یہُودی عبادت گاہوں سے خارج کر دیں گے؛ درحقیقت، اَیسا وقت آ رہاہے کہ اگر کویٔی تُمہیں قتل کر ڈالے گا تُو یہ سمجھے گا کہ وہ خُدا کی خدمت کر رہاہے۔
JOH 16:3 وہ یہ سَب اِس لیٔے کریں گے کہ نہ تو اُنہُوں نے کبھی باپ کو جانا اَور نہ مُجھے۔
JOH 16:4 مَیں نے یہ باتیں تُمہیں اِس لیٔے بتایٔی ہیں کہ جَب وہ پُوری ہونے لگیں تو تُمہیں یاد آ جائے کہ مَیں نے تُمہیں پہلے ہی سے آگاہ کر دیا تھا۔ شروع میں اِس لیٔے نہیں بتائیں کہ میں خُود تمہارے ساتھ تھا،
JOH 16:5 لیکن اَب مَیں اَپنے بھیجنے والے کے پاس واپس جا رہا ہُوں اَور تُم میں سے کویٔی بھی یہ نہیں پُوچھتا، ’آپ کہاں جا رہے ہیں؟‘
JOH 16:6 چونکہ، مَیں نے تُمہیں بتا دیا ہے اِس لیٔے تُم بڑے غمگین ہو گئے ہو۔
JOH 16:7 مگر میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، میرا یہاں سے رخصت ہو جانا تمہارے حق میں بہتر ثابت ہوگا۔ کیونکہ اگر مَیں نہ جاؤں گا، تو وہ مددگار تمہارے پاس نہیں آئے گا؛ لیکن اگر مَیں چلا جاؤں گا، تو اُسے تمہارے پاس بھیج دُوں گا۔
JOH 16:8 جَب وہ مددگار آئے گا، تو وہ دُنیا کو گُناہ اَور راستبازی، اَور اِنصاف کی بابت دُنیا کو مُجرم ٹھہرائے گا:
JOH 16:9 گُناہ کے بارے میں، اِس لیٔے کہ لوگ مُجھ پر ایمان نہیں لاتے؛
JOH 16:10 راستبازی کی بابت، یہ کہ میں واپس باپ کے پاس جا رہا ہُوں، اَور تُم مُجھے پھر نہ دیکھوگے؛
JOH 16:11 اَور اِنصاف کی بابت یہ کہ دُنیا کا حاکم مُجرم ٹھہرایا جا چُکاہے۔
JOH 16:12 ”مُجھے تُم سے اَور بھی بہت کُچھ کہنا ہے مگر ابھی تُم اُسے برداشت نہ کر پاؤگے۔
JOH 16:13 لیکن جَب وہ، رُوح حق، آئے گا، تو وہ ساری سچّائی کی طرف تمہاری رہنمائی کرےگا۔ وہ اَپنی طرف سے کُچھ نہ کہے گا؛ بَلکہ تُمہیں صِرف وُہی بتائے گا جو وہ سُنے گا، اَور مُستقبِل میں پیش آنے والی باتوں کی خبر دے گا۔
JOH 16:14 وہ میرا جلال ظاہر کرےگا کیونکہ وہ میری باتیں میری زبانی سُن کر تُم تک پہُنچائے گا۔
JOH 16:15 سَب کُچھ جو بھی باپ کا ہے وہ میرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مَیں نے کہا کہ پاک رُوح میری باتیں میری زبانی سُن کر تُم تک پہُنچائے گا۔“
JOH 16:16 یِسوعؔ نے فرمایا، ”تھوڑی دیر بعد تُم مُجھے دیکھ نہ پاؤگے، اَور اُس کے تھوڑی دیر بعد پھر مُجھے دیکھ لوگے۔“
JOH 16:17 اِس پر بعض شاگرد آپَس میں کہنے لگے، ”اِس جملے کے کہنے کا کیا مطلب ہے، ’تھوڑی دیر کے بعد تُم مُجھے نہ دیکھ پاؤگے، اَور اُس کے تھوڑی دیر بعد پھر مُجھے دیکھ لوگے،‘ اَور یہ بھی کہ ’میں باپ کے پاس جا رہا ہُوں‘؟“
JOH 16:18 چنانچہ وہ ایک دُوسرے سے پُوچھتے رہے، ”اِس جملے کا کیا مطلب ہے ’تھوڑی دیر بعد؟‘ ہماری سمجھ میں تو کُچھ نہیں آتا کہ وہ کیا فرما رہے ہیں۔“
JOH 16:19 یِسوعؔ نے دیکھا کہ وہ اُن سے اِس بارے میں، پُوچھنا چاہتے ہیں، لہٰذا آپ نے اُن سے فرمایا، ”کیا تُم آپَس میں یہ پُوچھ رہے ہو، میری اِس بات کا کیا مطلب ہے ’تھوڑی دیر کے بعد تُم مُجھے نہ دیکھ پاؤگے، اَور اُس کے تھوڑی دیر بعد پھر مُجھے دیکھ لوگے؟‘
JOH 16:20 میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، تُم روؤگے اَور ماتم کروگے لیکن دُنیا کے لوگ خُوشی منائیں گے۔ تُم غمگین تو ہوگے، لیکن تمہارا غم خُوشی میں بدل جائے گا۔
JOH 16:21 جَب کسی عورت کے درد زہ ہونے لگتا ہے تو وہ غمگین ہو جاتی ہے اِس لیٔے کہ اُس کے دُکھ کی گھڑی آ پہُنچی؛ لیکن جُوں ہی بچّہ پیدا ہو جاتا ہے تو اِس خُوشی کے باعث کہ دُنیا میں ایک بچّہ پیدا ہُواہے وہ اَپنا درد بھُول جاتی ہے۔
JOH 16:22 یہی حال تمہارا ہے: اَب تُم غمگین ہو، مگر میں تُم سے پھر ملوں گا اَور تَب تُم خُوشی مناؤگے، اَور تُم سے تمہاری خُوشی کویٔی بھی چھین نہ سکےگا۔
JOH 16:23 اُس دِن تُمہیں مُجھ سے کویٔی بھی سوال کرنے کی ضروُرت نہ ہوگی۔ میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ اگر تُم میرا نام لے کر باپ سے کُچھ مانگوگے، تو باپ تُمہیں عطا کرےگا۔
JOH 16:24 تُم نے میرا نام لے کر اَب تک کُچھ نہیں مانگا۔ مانگو تو پاؤگے، اَور تمہاری خُوشی پُوری ہو جائے گی۔
JOH 16:25 ”اگرچہ میں یہ باتیں تُمہیں تمثیلوں کے ذریعہ بَیان کرتا ہُوں، مگر وقت آ رہاہے کہ میں تمثیلوں سے بات نہیں کروں گا بَلکہ میں اَپنے باپ کے بارے میں تُم سے واضح طور پر باتیں کروں گا۔
JOH 16:26 اُس دِن تُم میرا نام لے کر مانگوگے۔ میں ہی تمہاری خاطِر باپ سے مِنّت کروں گا۔
JOH 16:27 کیونکہ، باپ تو خُود تُم سے مَحَبّت رکھتا ہے اِس لیٔے کہ تُم نے مُجھ سے مَحَبّت رکھی ہے اَور تُم ایمان لایٔے ہو کہ میں خُدا کی طرف سے آیا ہُوں۔
JOH 16:28 میں باپ میں سے نکل کر دُنیا میں آیا ہُوں؛ اَب دُنیا سے رخصت ہوکر باپ کے پاس واپس جا رہا ہُوں۔“
JOH 16:29 اِس پر شاگردوں نے آپ سے کہا، ”اَب تو آپ تمثیلوں میں نہیں بَلکہ واضح طور باتیں بَیان کر رہے ہیں۔
JOH 16:30 اَب ہم نے جان لیا کہ آپ کو سَب کُچھ مَعلُوم ہے اَور آپ اِس کے مُحتاج نہیں کہ کویٔی آپ سے پُوچھے۔ ہم ایمان لاتے ہیں کہ آپ خُدا کی طرف سے آئے ہیں۔“
JOH 16:31 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا اَب تُم مُجھ پر ایمان رکھتے ہو؟
JOH 16:32 لیکن وہ وقت آ رہاہے بَلکہ آ پہُنچا ہے کہ تُم سَب مُنتشر ہوکر، اَپنے اَپنے گھر کی راہ لوگے۔ مُجھے تنہا چھوڑ دوگے، پھر بھی میں تنہا نہیں، کیونکہ میرا باپ میرے ساتھ ہے۔
JOH 16:33 ”مَیں نے تُم سے یہ باتیں اِس لیٔے بتائیں کہ تُم مُجھ میں اِطمینان پاؤ۔ تُم دُنیا میں مُصیبت اُٹھاتے ہو۔ مگر ہِمّت سے کام لو! میں دُنیا پر غالب آیا ہُوں۔“
JOH 17:1 جَب یِسوعؔ یہ سَب کہہ چُکے، تو آپ نے آسمان کی طرف آنکھیں اُٹھاکر یہ دعا کی: ”اَے باپ، اَب وقت آ گیا ہے۔ اَپنے بیٹے کو جلال بخشئے، تاکہ بیٹا آپ کا جلال ظاہر کرے۔
JOH 17:2 کیونکہ آپ نے اُسے تمام اِنسانوں پر اِختیار بخشا ہے تاکہ وہ اُن سَب کو اَبدی زندگی عطا کرے جو آپ نے اُس کے سُپرد کی ہے۔
JOH 17:3 اَبدی زندگی یہ ہے کہ وہ آپ کو حقیقی سچّا خُدا جانیں، اَور یِسوعؔ المسیح کو بھی جانیں جسے آپ نے بھیجا ہے۔
JOH 17:4 مَیں نے اِس کام کو جو آپ نے میرے سُپرد کیا تھا اُس کام کو اَنجام دے کر مَیں نے زمین پر آپ کا جلال ظاہر کیا۔
JOH 17:5 اَور اَب، اَے باپ، آپ مُجھے اَپنی حُضُوری میں اُسی جلال سے جلالی بنا دیں جو جلال میرا آپ کے ساتھ میں دُنیا کی تخلیق ہونے سے پہلے تھا۔
JOH 17:6 ”مَیں نے آپ کو اُن لوگوں پر ظاہر کیا جنہیں آپ نے دُنیا میں سے چُن کر میری سپردگی میں دیا تھا۔ وہ آپ کے لوگ تھے؛ آپ نے اُنہیں میرے سُپرد کیا تھا اَور اُنہُوں نے آپ کے کلام پر عَمل کیا ہے۔
JOH 17:7 اَب وہ جانتے ہیں کہ جو کُچھ آپ نے مُجھے دیا ہے وہ سَب آپ ہی کی طرف سے ہے۔
JOH 17:8 اِس لیٔے جو پیغام آپ نے مُجھے دیا، مَیں نے اُن تک پہُنچا دیا اَور اُنہُوں نے اُسے قبُول کیا اَور وہ اِس حقیقت سے واقف ہو گئے کہ مَیں آپ کی طرف سے آیا ہُوں اَور اُن کا ایمان ہے کہ مُجھے آپ ہی نے بھیجا ہے۔
JOH 17:9 میں اُن کے لیٔے دعا کرتا ہُوں۔ میں دُنیا کے لیٔے دعا نہیں کرتا بَلکہ اُن کے لیٔے جنہیں آپ نے مُجھے دیا ہے، کیونکہ وہ آپ کے ہیں۔
JOH 17:10 میرا سَب کُچھ آپ کا ہے اَورجو آپ کا ہے، وہ سَب میرا ہے۔ اَور اُن کے وسیلے سے مُجھے جلال مِلا۔
JOH 17:11 میں اَب اَور دُنیا میں نہیں رہُوں گا، لیکن وہ تمام ابھی دُنیا میں ہیں اَور مَیں آپ کے پاس آ رہا ہُوں۔ اَے قُدُّوس باپ، اَپنے اُس نام کی قُدرت سے جو آپ نے مُجھے دیا ہے اِنہیں محفوظ رکھئے تاکہ وہ ایک ہُوں جَیسے ہم ایک ہیں۔
JOH 17:12 جَب مَیں اُن کے ساتھ تھا، مَیں نے اُن کو محفوظ رکھا اَور اُنہیں آپ کے دئیے ہویٔے نام کے ذریعہ بچائے رکھا۔ اُن میں سے کویٔی ہلاک نہیں ہُوا سِوائے اُس کے جو ہلاکت کے لیٔے ہی پیدا ہُوا تھا تاکہ کِتاب مُقدّس کا لِکھّا پُورا ہو۔
JOH 17:13 ”اَب مَیں آپ کے پاس آ رہا ہُوں لیکن جَب تک میں دُنیا میں ہُوں یہ باتیں کہہ رہا ہُوں، تاکہ میری ساری خُوشی اُنہیں حاصل ہو جائے۔
JOH 17:14 مَیں نے اُنہیں آپ کا کلام پہُنچا دیا ہے اَور دُنیا نے اُن سے دُشمنی رکھی، کیونکہ جِس طرح میں دُنیا کا نہیں وہ بھی دُنیا کے نہیں۔
JOH 17:15 میری مِنّت یہ نہیں کہ باپ اُنہیں دُنیا سے اُٹھالے بَلکہ یہ ہے کہ اُنہیں شیطان سے محفوظ رکھے۔
JOH 17:16 جِس طرح میں دُنیا کا نہیں، وہ بھی دُنیا کے نہیں۔
JOH 17:17 حق کے ذریعہ اُنہیں مخصُوص کر دیجئے؛ آپ کا کلام ہی حق ہے۔
JOH 17:18 جِس طرح باپ نے مُجھے دُنیا میں بھیجا، اُسی طرح مَیں نے بھی اُنہیں دُنیا میں بھیجا ہے۔
JOH 17:19 میں اَپنے آپ کو اُن کے لیٔے مخصُوص کرتا ہُوں، تاکہ وہ بھی حق کے ذریعہ مخصُوص کیٔے جایٔیں۔
JOH 17:20 ”میری مِنّت صِرف اِن کے لیٔے ہی نہیں بَلکہ اُن کے لیٔے بھی ہے جو اِن کے پیغام کے ذریعہ مُجھ پر ایمان لائیں گے،
JOH 17:21 تاکہ وہ سَب ایک، ہو جایٔیں جَیسے اَے باپ، آپ مُجھ میں ہیں اَور مَیں آپ میں۔ کاش وہ بھی ہم میں ہوں تاکہ ساری دُنیا ایمان لایٔے کہ آپ ہی نے مُجھے بھیجا ہے۔
JOH 17:22 مَیں نے اُنہیں وہ جلال بخشا ہے جو باپ نے مُجھے عطا کیا تھا تاکہ وہ بھی ایک ہوں جِس طرح ہم ایک ہیں،
JOH 17:23 میں اُن میں اَور آپ مُجھ میں، تاکہ وہ کامِل طور پر ایک ہو جایٔیں۔ اَور تَب دُنیا جان لے گی کہ آپ ہی نے مُجھے بھیجا اَور اُن سے بھی اِسی طرح مَحَبّت کی ہے جِس طرح آپ نے مُجھ سے مَحَبّت رکھی۔
JOH 17:24 ”اَے باپ، آپ نے جنہیں مُجھے دیا ہے میں چاہتا ہُوں کہ جہاں میں ہُوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں، اَور اُس جلال کو دیکھ سکیں جو آپ نے مُجھے عطا کیا، کیونکہ آپ نے دُنیا کی تخلیق سے پیشتر ہی مُجھ سے مَحَبّت رکھی۔
JOH 17:25 ”اَے راستباز باپ، اگرچہ دُنیا نے آپ کو نہیں جانا، مگر مَیں آپ کو جانتا ہُوں، اَور اِنہُوں نے بھی جان لیا ہے کہ آپ نے مُجھے بھیجا ہے۔
JOH 17:26 مَیں نے اِنہیں آپ کے نام سے واقف کرا دیا ہے اَور آئندہ بھی کراتا رہُوں گا تاکہ آپ کی وہ مَحَبّت جو آپ نے مُجھ سے کی وہ اُن میں ہو اَور مَیں بھی اِن میں ہُوں۔“
JOH 18:1 جَب یِسوعؔ دعا کرکے فارغ ہویٔے، تو وہ اَپنے شاگردوں کے ساتھ باہر آئے اَور وہ سَب قِدرُونؔ کی وادی کو پار کرکے ایک باغ میں چلے گیٔے۔
JOH 18:2 حُضُور کا پکڑوانے والا یہُوداہؔ، اُس جگہ سے واقف تھا کیونکہ یِسوعؔ کیٔی بار اَپنے شاگردوں کے ساتھ وہاں جا چُکے تھے۔
JOH 18:3 پس یہُوداہؔ باغ میں داخل ہُوا، اَور یہُوداہؔ کے ساتھ چند رُومی فَوجی دستہ اَور اہم کاہِنوں اَور فریسیوں کے کچھ عہدیدار بھیجے گیٔے تھے۔ وہ اَپنے ہاتھوں میں مشعلیں، لالٹینیں اَور اسلحہ لیٔے ہویٔے تھے۔
JOH 18:4 یِسوعؔ، خُوب جانتے تھے کہ اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، لہٰذا وہ باہر آکر اُن سے پُوچھنے لگے، ”تُم کسے ڈھونڈتے ہو؟“
JOH 18:5 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”یِسوعؔ ناصری کو۔“ یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں وُہی ہُوں،“ (اَور اُن کا پکڑوانے والا یہُوداہؔ بھی اُن کے ساتھ کھڑا تھا۔)
JOH 18:6 جَب یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں وُہی ہُوں،“ تو سَب گھبرا کر پیچھے ہٹے اَور زمین پر گِر پڑے۔
JOH 18:7 چنانچہ حُضُور نے دُوسری مرتبہ پُوچھا، ”تُم کسے ڈھونڈتے ہو؟“ اُنہُوں نے کہا، ”یِسوعؔ ناصری کو۔“
JOH 18:8 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”مَیں نے کہہ تو دیا کہ میں وُہی ہُوں۔ اگر تُم مُجھے ڈھونڈتے ہو، تو میرے شاگردوں کو جانے دو۔“
JOH 18:9 اِس سے حُضُور کی غرض یہ تھی کہ وہ قول پُورا ہو جائے: ”جنہیں آپ نے مُجھے دیا تھا مَیں نے اُن میں سے کسی ایک کو بھی نہیں کھویا۔“
JOH 18:10 شمعُونؔ پطرس کے پاس ایک تلوار تھی، پطرس نے وہ تلوار کھینچی اَور اعلیٰ کاہِن کے خادِم پر چلا کر، اُس کا داہنا کان اُڑا دیا۔ (اُس خادِم کا نام مَلخُس تھا۔)
JOH 18:11 یِسوعؔ نے پطرس کو حُکم دیا، ”اَپنی تلوار مِیان میں رکھو! کیا میں وہ پیالہ نہ پیوں جو میرے باپ نے مُجھے دیا ہے؟“
JOH 18:12 تَب رُومی سپاہیوں، اُن کے سپہ سالار اَور یہُودی حُکاّم نے یِسوعؔ کو گِرفتار کر لیا اَور اُن کے ہاتھ باندھ کر
JOH 18:13 اُنہیں پہلے حنّاؔ کے پاس لے گیٔے جو کائِفؔا کا سسُر تھا۔ کائِفؔا اُس سال اعلیٰ کاہِن تھا۔
JOH 18:14 اَور کائِفؔا نے یہُودی رہنماؤں کو صلاح دی تھی کہ ساری قوم کی ہلاکت سے یہ بہتر ہے کہ ایک شخص ماراجائے۔
JOH 18:15 شمعُونؔ پطرس اَور ایک اَور شاگرد یِسوعؔ کے پیچھے پیچھے گیٔے۔ یہ شاگرد اعلیٰ کاہِن سے واقف تھا، اِس لیٔے وہ آپ کے ساتھ اعلیٰ کاہِن کی حویلی میں داخل ہو گیا،
JOH 18:16 لیکن پطرس کو باہر پھاٹک پر ہی رُک جانا پڑا۔ یہ شاگرد جو اعلیٰ کاہِن کا واقف کار تھا، واپس آیا، اَور اُس خادِمہ سے جو پھاٹک پر نِگرانی کرتی تھی، بات کرکے پطرس کو اَندر لے گیا۔
JOH 18:17 خادِمہ نے پھاٹک پر پطرس سے پُوچھا، ”کیا تُو اُن کے شاگردوں میں سے ایک نہیں ہے؟“ پطرس نے کہا، ”نہیں، میں نہیں ہُوں۔“
JOH 18:18 سردی کی وجہ سے، خادِموں اَور سپاہیوں نے آگ جَلا رکھی تھی اَور وہ چاروں طرف کھڑے ہوکر آگ تاپ رہے تھے۔ پطرس بھی اُن کے ساتھ کھڑے ہوکر آگ تاپنے لگے۔
JOH 18:19 اِس دَوران، اعلیٰ کاہِن یِسوعؔ سے اُن کے شاگردوں اَور اُن کی تعلیم کے بارے میں پُوچھنے لگا۔
JOH 18:20 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”مَیں نے دُنیا سے کھُلے عام باتیں کی ہیں، میں ہمیشہ یہُودی عبادت گاہوں اَور بیت المُقدّس میں تعلیم دیتا رہا ہُوں، جہاں تمام یہُودی جمع ہوتے ہیں۔ مَیں نے پوشیدہ کبھی بھی کُچھ نہیں کہا۔
JOH 18:21 آپ مُجھ سے کیوں سوال پُوچھتے ہیں؟ جنہوں نے میری باتیں سُنی ہیں اُن سے پُوچھیئے۔ وہ خُوب جانتے ہیں کہ مَیں نے کیا کُچھ کہا ہے۔“
JOH 18:22 حُضُور کے اَیسا کہنے پر سپاہیوں میں سے ایک نے جو پاس ہی کھڑا تھا، یِسوعؔ کو تھپّڑ مارا اَور کہا، ”کیا اعلیٰ کاہِن کو جَواب دینے کا یہی طریقہ ہے؟“
JOH 18:23 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر مَیں نے کُچھ بُرا کہا تو، اُسے بُرا ثابت کیجئے۔ لیکن اگر اَچھّا کہا ہے، تو تھپّڑ کیوں مارتے ہو؟“
JOH 18:24 اِس پر حنّاؔ نے یِسوعؔ کے ہاتھ بندھوا کر آپ کو اعلیٰ کاہِن کائِفؔا کے پاس بھیج دیا۔
JOH 18:25 جَب، شمعُونؔ پطرس کھڑے ہویٔے آگ تاپ رہے تھے تو کسی نے اُن سے پُوچھا، ”کیا تُو بھی اُن کے شاگردوں میں سے ایک نہیں ہے؟“ پطرس نے اِنکار کرتے ہویٔے کہا، نہیں، ”میں نہیں ہُوں۔“
JOH 18:26 اعلیٰ کاہِن کے سپاہیوں میں سے ایک جو اُس خادِم کا رشتہ دار تھا جِس کا کان پطرس نے تلوار سے اُڑا دیا تھا، پطرس سے پُوچھنے لگا، ”کیا مَیں نے تُمہیں اُن کے ساتھ باغ میں نہیں دیکھا؟“
JOH 18:27 پطرس نے پھر اِنکار کیا، اَور اُسی وقت مُرغ نے بانگ دی۔
JOH 18:28 وہ صُبح سویرے ہی یِسوعؔ کو کائِفؔا کے پاس سے رُومی گورنر کے محل میں لے گیٔے۔ یہُودی رہنما محل کے اَندر نہیں گیٔے۔ اُنہیں خوف تھا کہ وہ ناپاک ہو جایٔیں گے اَور عیدِفسح کا کھانا نہ کھا سکیں گے۔
JOH 18:29 لہٰذا پِیلاطُسؔ اُن کے پاس باہر آیا اَور کہنے لگا، ”تُم اِس شخص پر کیا اِلزام لگاتے ہو؟“
JOH 18:30 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”اگر وہ مُجرم نہ ہوتا تو ہم اِسے یہاں لاکر آپ کے سامنے کیوں پیش کرتے۔“
JOH 18:31 پِیلاطُسؔ نے کہا، ”تُم اِسے لے جاؤ اَور اَپنی شَریعت کے مُطابق خُود ہی اِس کا فیصلہ کرو۔“ یہُودیوں نے کہا، ”لیکن ہمیں تو کسی کو بھی قتل کرنے کا اِختیار نہیں ہے۔“
JOH 18:32 یہ اِس لیٔے ہُوا کہ وہ کلام پُورا ہو جو یِسوعؔ نے فرمایا تھا کہ آپ کی موت کِس طرح کی ہوگی۔
JOH 18:33 تَب پِیلاطُسؔ محل کے اَندر چلا گیا، اَور اُس نے یِسوعؔ کو وہاں طلب کرکے آپ سے پُوچھا، ”کیا آپ یہُودیوں کے بادشاہ ہیں؟“
JOH 18:34 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تُم یہ بات اَپنی طرف سے کہتے ہو، یا اَوروں نے میرے بارے میں تُمہیں یہ خبر دی ہے؟“
JOH 18:35 پِیلاطُسؔ نے جَواب دیا، ”کیا میں کویٔی یہُودی ہُوں؟ تمہاری قوم نے اَور اہم کاہِنوں نے آپ کو میرے حوالہ کیا ہے۔ بتائیے آخِر آپ نے کیا کیا ہے؟“
JOH 18:36 یِسوعؔ نے فرمایا، ”میری بادشاہی اِس دُنیا کی نہیں۔ اگر دُنیا کی ہوتی، تو میرے خادِم جنگ کرتے اَور مُجھے یہُودی رہنماؤں کے ہاتھوں گِرفتار نہ ہونے دیتے۔ لیکن ابھی میری بادشاہی یہاں کی نہیں ہے۔“
JOH 18:37 پَس پِیلاطُسؔ نے کہا، ”تو کیا آپ ایک بادشاہ ہیں۔“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”یہ تو آپ کا کہنا ہے کہ میں ایک بادشاہ ہُوں۔ دراصل، میں اِس لیٔے پیدا ہُوا اَور اِس مقصد سے دُنیا میں آیا کہ حق کی گواہی دُوں۔ ہر کویٔی جو حق کی طرف ہے میری بات سُنتا ہے۔“
JOH 18:38 پِیلاطُسؔ نے پُوچھا، ”حق کیا ہے؟“ یہ کہتے ہی وہ پھر یہُودیوں کے پاس گیا اَور کہنے لگا، ”میں تو اِس شخص کو مُجرم نہیں سمجھتا۔
JOH 18:39 لیکن تمہارے دستور کے مُطابق میں عیدِفسح کے موقع پر تمہارے لیٔے ایک قَیدی کو رِہا کر دیتا ہُوں۔ کیا تُم چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لیٔے ’یہُودیوں کے بادشاہ‘ کو چھوڑ دُوں؟“
JOH 18:40 وہ پھر چِلّانے لگے، ”نہیں، اِسے نہیں، ہمارے لیٔے بَراَبّؔا کو رِہا کر دیجئے!“ جَب کہ بَراَبّؔا ایک باغی تھا۔
JOH 19:1 تَب پِیلاطُسؔ نے یِسوعؔ کو لے جا کر کوڑے لگوائے
JOH 19:2 اَور فَوج کے سپاہیوں نے کانٹوں کا تاج بنایا اَور آپ کے سَر پر رکھا اَور آپ کو سُرخ رنگ کا چوغہ پہنا دیا۔
JOH 19:3 وہ بار بار حُضُور کے سامنے جاتے اَور کہتے تھے، ”اَے یہُودیوں کے بادشاہ، آداب!“ اَور آپ کے مُنہ پر تھپّڑ مارتے تھے۔
JOH 19:4 پِیلاطُسؔ ایک بار پھر باہر آیا اَور یہُودیوں سے کہنے لگا، ”دیکھو، مَیں اِنہیں تمہارے پاس باہر لا رہا ہُوں۔ تُمہیں مَعلُوم ہو کہ میں تو اِس شخص کو مُجرم نہیں سمجھتا۔“
JOH 19:5 جَب یِسوعؔ کانٹوں کا تاج سَر پر رکھے اَور سُرخ چوغہ پہنے ہویٔے باہر آئے، تو پِیلاطُسؔ نے یہُودیوں سے کہا، ”یہ رہا وہ آدمی!“
JOH 19:6 اہم کاہِن اَور اُن کے سپاہی آپ کو دیکھتے ہی، چِلّانے لگے، ”اِسے مصلُوب کرو! اِسے مصلُوب کرو!“ لیکن پِیلاطُسؔ نے جَواب دیا، ”تُم ہی اِسے لے جاؤ اَور صلیب دو۔ جہاں تک میرا تعلّق ہے، میں اِس میں مُجرم ٹھہرانے کا کویٔی قُصُور نہیں پاتا۔“
JOH 19:7 یہُودی رہنما اِصرار کرنے لگے، ”ہم اہلِ شَریعت ہیں، اَور ہماری شَریعت کے مُطابق وہ واجِبُ القتل ہے، کیونکہ اِس نے کہا ہے کہ وہ خُدا کا بیٹا ہے۔“
JOH 19:8 جَب پِیلاطُسؔ نے یہ سُنا، تو وہ اَور بھی خوفزدہ ہو گیا،
JOH 19:9 اَور پِیلاطُسؔ نے دوبارہ محل میں جا کر پُوچھا، ”آپ کہاں کے ہو؟“ لیکن یِسوعؔ نے پِیلاطُسؔ کو کُچھ جَواب نہیں دیا۔
JOH 19:10 پِیلاطُسؔ نے یِسوعؔ سے کہا، ”کیا آپ کو پتا نہیں کہ مُجھے اِختیار ہے کہ آپ کو چھوڑ دُوں یا مصلُوب کر دُوں؟“
JOH 19:11 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر یہ اِختیار آپ کو اُوپر سے نہ مِلا ہوتا تو آپ کا مُجھ پر کویٔی اِختیار نہ ہوتا۔ مگر جِس شخص نے مُجھے آپ کے حوالہ کیا ہے وہ اَور بھی بڑے گُناہ کا مُرتکب ہُواہے۔“
JOH 19:12 اِس کے بعد پِیلاطُسؔ نے یِسوعؔ کو چھوڑدینے کی کوشش کی، لیکن یہُودی رہنما چِلّا چِلّاکر کہنے لگے، ”اگر آپ نے اِس شخص کو رہا کر دیا تو آپ شَہنشاہ قَیصؔر کے خیرخواہ نہیں۔ اگر کویٔی بھی اَپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کرتا ہے تو وہ شَہنشاہ قَیصؔر کا مُخالف سمجھا جاتا ہے۔“
JOH 19:13 جَب پِیلاطُسؔ نے یہ سُنا تو اُس نے یِسوعؔ کو باہر بُلایا اَور اَپنے تختِ عدالت پر بیٹھ گیا جو ایک سنگی چبُوترے پر قائِم تھا جسے عِبرانی زبان میں گَبّتھا کہتے ہیں۔
JOH 19:14 یہ عیدِفسح کی تیّاری کا دِن تھا؛ اَور تقریباً دوپہر کا وقت تھی۔ پِیلاطُسؔ نے یہُودیوں سے کہا، ”یہ رہا تمہارا بادشاہ۔“
JOH 19:15 لیکن وہ چِلّائے، ”اِسے یہاں سے لے جاؤ! لے جاؤ! اَور اِسے مصلُوب کرو!“ پِیلاطُسؔ نے کہا، ”کیا میں اِسے جو تمہارا بادشاہ ہے مصلُوب کر دُوں؟“ اہم کاہِنوں نے کہا، ”قَیصؔر کے سِوا ہمارا کویٔی بادشاہ نہیں۔“
JOH 19:16 اِس پر پِیلاطُسؔ نے یِسوعؔ کو اُن کے حوالہ کر دیا تاکہ حُضُور کو مصلُوب کیا جائے۔ چنانچہ سپاہی اُنہیں اَپنے قبضہ میں لے کر وہاں سے چلے گیٔے۔
JOH 19:17 یِسوعؔ اَپنی صلیب اُٹھاکر، کھوپڑی نامی جگہ کی طرف روانہ ہُوئے (جسے عِبرانی زبان میں گُلگُتا کہتے ہیں)۔
JOH 19:18 وہاں اُنہُوں نے داہنی اَور بائیں طرف دو ڈاکوؤں کو اَور درمیان میں یِسوعؔ کو صلیب پر مصلُوب کر دیا۔
JOH 19:19 پِیلاطُسؔ نے ایک کتبہ تیّار کروا کر صلیب پر لگا دیا۔ اُس پر یہ تحریر تھا: یِسوعؔ ناصری، یہُودیوں کا بادشاہ
JOH 19:20 کیٔی یہُودیوں نے یہ کتبہ پڑھا، کیونکہ جِس جگہ یِسوعؔ کو صلیب پر لٹکایا گیا تھا وہ شہر کے نزدیک ہی تھی، اَور کتبہ کی عبارت عِبرانی، لاطینی اَور یُونانی تینوں زبانوں میں لکھی گئی تھی۔
JOH 19:21 یہُودیوں کے اہم کاہِنوں نے پِیلاطُسؔ سے درخواست کی، ”یہُودیوں کا بادشاہ نہ لِکھ بَلکہ یہ اُس کا دعویٰ تھا، ’میں یہُودیوں کا بادشاہ،‘ ہُوں۔“
JOH 19:22 پِیلاطُسؔ نے جَواب دیا، ”مَیں نے جو کُچھ لِکھ دیا، وہ لِکھ دیا۔“
JOH 19:23 جَب سپاہی حُضُور کو مصلُوب کر چُکے، تو اُنہُوں نے یِسوعؔ کے کپڑے لیٔے، اَور اُن کے چار حِصّے کیٔے تاکہ ہر ایک کو، ایک ایک حِصّہ مِل جائے، صِرف اُن کا کُرتہ، باقی رہ گیا جو بغیر کسی جوڑ کے اُوپر سے نیچے تک بُنا ہُوا تھا۔
JOH 19:24 اُنہُوں نے آپَس میں طے کیا۔ ”اِس کو پھاڑنے کے بجائے، اُس پر قُرعہ ڈال کر دیکھیں کہ یہ کِس کے حِصّہ میں آتا ہے۔“ یہ اِس لیٔے ہُوا کہ کِتاب مُقدّس کا لِکھّا ہُوا قول پُورا ہو جائے، ”اُنہُوں نے میرے کپڑے آپَس میں تقسیم کر لیٔے اَور میری پوشاک پر قُرعہ ڈالا۔“ چنانچہ سپاہیوں نے یہی کیا۔
JOH 19:25 یِسوعؔ کی صلیب کے پاس اُن کی ماں، ماں کی بہن، مریمؔ جو کلوپاسؔ کی بیوی تھی، اَور مریمؔ مَگدلِینیؔ کھڑی تھیں۔
JOH 19:26 جَب یِسوعؔ نے اَپنی ماں کو، اَور اَپنے ایک عزیز شاگرد کو نزدیک ہی کھڑے دیکھا، تو ماں سے کہا، اَے خاتُون، اَب سے آپ کا بیٹا یہ ہے،
JOH 19:27 اَور شاگرد سے فرمایا، ”اَب سے تمہاری ماں یہ ہیں۔“ وہ شاگرد تَب سے، اُنہیں اَپنے گھر لے گیا۔
JOH 19:28 جَب، یِسوعؔ نے جان لیا کہ اَب سَب باتیں تمام ہویٔیں، تو اِس لیٔے کہ کِتاب مُقدّس کا لِکھّا پُورا ہو، آپ نے کہا، ”میں پیاسا ہُوں۔“
JOH 19:29 نزدیک ہی ایک مرتبان سِرکے سے بھرا رکھا تھا، اُنہُوں نے اِسفَنج کو سِرکے میں ڈُبو کر زُوفے کی ڈالی پر رکھ کر، یِسوعؔ کے ہونٹوں سے لگایا۔
JOH 19:30 یِسوعؔ نے اُسے پیتے ہی، فرمایا، ”پُورا ہُوا“ اَور سَر جھُکا کر جان دے دی۔
JOH 19:31 یہ فسح کی تیّاری کا دِن تھا، اَور اگلے دِن خصوصی سَبت تھا۔ یہُودی رہنما نہیں چاہتے تھے کہ سَبت کے دِن لاشیں صلیبوں پر ٹنگی رہیں، لہٰذا اُنہُوں نے پِیلاطُسؔ کے پاس جا کر درخواست کی کہ مُجرموں کی ٹانگیں توڑ کر اُن کی لاشوں کو نیچے اُتار لیا جائے۔
JOH 19:32 چنانچہ سپاہی آئے اَور اُنہُوں نے پہلے اُن دو آدمیوں کی ٹانگیں توڑیں جنہیں حُضُور کے ساتھ مصلُوب کیا گیا تھا۔
JOH 19:33 لیکن جَب یِسوعؔ کی باری آئی تو اُنہُوں نے دیکھا کہ وہ تو پہلے ہی مَر چُکے ہیں لہٰذا اُنہُوں نے آپ کی ٹانگیں نہ توڑیں۔
JOH 19:34 مگر، سپاہیوں میں سے ایک نے اَپنا نیزہ لے کر یِسوعؔ کے پہلو میں مارا، اَور آپ کی پسلی چھید ڈالی جِس سے فوراً خُون اَور پانی بہنے لگا۔
JOH 19:35 جو شخص اِس واقعہ کا چشم دید گواہ ہے وہ گواہی دیتاہے، اَور اُس کی گواہی سچّی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ سچ کہہ رہاہے، تاکہ تُم بھی ایمان لاؤ۔
JOH 19:36 یہ ساری باتیں اِس لیٔے ہویٔیں کہ کِتاب مُقدّس کا لِکھّا قول پُورا ہو جائے: ”اُس کی کوئی بھی ہڈّی نہ توڑی جائے گی،“
JOH 19:37 اَور کِتاب مُقدّس ایک اَور جگہ بَیان کرتی ہے، ”وہ یِسوعؔ پر جسے اُنہُوں نے چھید ڈالا نظر کریں گے۔“
JOH 19:38 اِن باتوں کے بعد، ایک شخص یُوسیفؔ جو ارِمَتِیاؔہ کا باشِندہ تھا، پِیلاطُسؔ کے پاس گیا اَور اُن سے یِسوعؔ کی لاش کو لے جانے کی اِجازت مانگی۔ یہ شخص یہُودی رہنماؤں کے ڈر کی وجہ سے خُفیہ طور پر حُضُور کا شاگرد تھا، وہ پِیلاطُسؔ سے مِنّت کرکے، حُضُور کی لاش کو لے گیا۔
JOH 19:39 نِیکُودِیمُسؔ بھی آیا، جِس نے کُچھ عرصہ پہلے یِسوعؔ سے رات میں مُلاقات کی تھی۔ نِیکُودِیمُسؔ اَپنے ساتھ مُر اَور عُود اَیسی چیزوں سے بنا ہُوا خُوشبودار مَسالہ لایاتھا جو وزن میں تقریباً چونتیس کِلو کے برابر تھا۔
JOH 19:40 اُن دونوں نے یِسوعؔ کی لاش کو لے کر، اُنہیں اِن خُوشبودار مَسالے، سمیت ایک سُوتی چادر میں کفنایا، جِس طرح یہُودیوں میں دفن کرنے کا دستور تھا۔
JOH 19:41 جِس مقام پر یِسوعؔ کو مصلُوب کیا گیا تھا، وہاں ایک باغ تھا، اَور اُس باغ میں ایک نئی قبر تھی، جِس میں کبھی کسی کو دفنایا نہیں گیا تھا۔
JOH 19:42 چونکہ یہ یہُودیوں کی تیّاری کا دِن تھا اَور قبر نزدیک تھی، اُنہُوں نے یِسوعؔ کو وہاں رکھ دیا۔
JOH 20:1 ہفتہ کے پہلے دِن صُبح سویرے، جَب کہ اَندھیرا ہی تھا، مریمؔ مَگدلِینیؔ قبر پر آئیں۔ اُنہُوں نے یہ دیکھا کہ قبر کے مُنہ سے پتّھر ہٹا ہُواہے۔
JOH 20:2 وہ دَوڑتی ہویٔی شمعُونؔ پطرس اَور اُن دُوسرے شاگرد کے پاس پہُنچیں، جو یِسوعؔ کا چہیتا تھا، اَور کہنے لگیں، ”وہ خُداوؔند کو قبر سے نکال کر لے گیٔے ہیں، اَور پتا نہیں کہاں رکھ دیا ہے!“
JOH 20:3 یہ سُنتے ہی پطرس اَور وہ دُوسرا شاگرد قبر کی طرف چل دئیے۔
JOH 20:4 دونوں دَوڑے جا رہے تھے لیکن وہ دُوسرا شاگرد، پطرس سے آگے نکل گیا اَور قبر پر اُس سے پہلے جا پہُنچا۔
JOH 20:5 اُس نے جُھک کر اَندر جھانکا اَور سُوتی کپڑے پڑے دیکھے لیکن اَندر نہیں گیا۔
JOH 20:6 اِس دَوران شمعُونؔ پطرس بھی پیچھے پیچھے وہاں پہُنچ گیٔے اَور سیدھے قبر میں داخل ہو گئے۔ اُنہُوں نے دیکھا کہ وہاں سُوتی کپڑے پڑے ہویٔے ہیں،
JOH 20:7 اَور کفن کا وہ رُومال بھی جو یِسوعؔ کے سَر پر لپیٹا گیا تھا۔ سُوتی کپڑوں سے الگ ایک جگہ تہہ کیا ہُوا، پڑا تھا۔
JOH 20:8 تَب وہ دُوسرا شاگرد بھی، جو قبر پر پہلے پہُنچا تھا، اَندر داخل ہُوا۔ اُس نے بھی دیکھ کر یقین کیا۔
JOH 20:9 کیونکہ وہ ابھی تک کِتاب مُقدّس کی اِس بات کو سمجھ نہ پایٔے تھے جِس کے مُطابق یِسوعؔ کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا لازمی تھا۔
JOH 20:10 تَب یہ شاگرد واپس گھر چلے گیٔے۔
JOH 20:11 لیکن مریمؔ قبر کے باہر کھڑی ہویٔی رو رہی تھیں۔ روتے روتے، مریمؔ نے جُھک کر قبر کے اَندر نظر کی
JOH 20:12 تو وہاں مریمؔ کو دو فرشتے دِکھائی دیئے جو سفید لباس میں تھے، اَور جہاں یِسوعؔ کی لاش رکھی گئی تھی، وہاں ایک کو سرہانے اَور دُوسرے کو پینتانے بیٹھے دیکھا۔
JOH 20:13 اُنہُوں نے مریمؔ سے پُوچھا، ”اَے عورت، تُم کیوں رو رہی ہو؟“ مریمؔ نے کہا، ”میرے خُداوؔند کو اُٹھاکر لے گیٔے ہیں اَور پتا نہیں اُنہیں کہاں رکھ دیا ہے۔“
JOH 20:14 یہ کہتے ہی، وہ پیچھے مُڑیں اَور وہاں یِسوعؔ کو کھڑا دیکھا، لیکن پہچان نہ سکیں کہ وہ یِسوعؔ ہیں۔
JOH 20:15 یِسوعؔ نے فرمایا، ”اَے خاتُون، تُم کیوں رو رہی ہو؟ تُم کسے ڈھونڈتی ہے؟“ مریمؔ نے سمجھا شاید وہ باغبان ہے، اِس لیٔے کہا، ”جَناب، اگر آپ نے اِنہیں یہاں سے اُٹھایا ہے، تو مُجھے بتائیں کہ اُنہیں کہاں رکھا ہے، تاکہ میں اُنہیں لے جاؤں۔“
JOH 20:16 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”مریمؔ۔“ وہ اُن کی طرف مُڑیں اَور عِبرانی زبان میں بولیں، ”ربُّونی!“‏ (جِس کا مطلب میرے ”اُستاد“)۔
JOH 20:17 یِسوعؔ نے فرمایا، ”مُجھے تھامے مت رہو، کیونکہ مَیں ابھی باپ کے پاس اُوپر نہیں گیا ہُوں۔ بَلکہ جاؤ اَور میرے بھائیوں کو خبر کر دو، ’میں اَپنے باپ اَور تمہارے باپ، اَپنے خُدا اَور تمہارے خُدا کے پاس اُوپر جا رہا ہُوں۔‘ “
JOH 20:18 مریمؔ مَگدلِینیؔ نے شاگردوں کے پاس آکر اُنہیں خبر دی: ”مَیں نے خُداوؔند کو دیکھاہے!“ اَور اُنہُوں نے مُجھ سے یہ باتیں کیں۔
JOH 20:19 ہفتہ کے پہلے دِن شام کے وقت، جَب شاگرد ایک جگہ جمع تھے، اَور یہُودی رہنماؤں کے خوف سے دروازے بند کیٔے بیٹھے تھے، یِسوعؔ اَچانک اُن کے درمیان آ کھڑے ہویٔے اَور فرمایا، ”تُم پر سلامتی ہو!“
JOH 20:20 یہ کہہ کر آپ نے اَپنے ہاتھ اَور اَپنی پسلی اُنہیں دِکھائی۔ شاگرد خُداوؔند کو دیکھ کر خُوشی سے بھر گیٔے۔
JOH 20:21 یِسوعؔ نے پھر سے فرمایا، ”تُم پر سلامتی ہو! جَیسے باپ نے مُجھے بھیجا ہے وَیسے ہی، میں تُمہیں بھیج رہا ہُوں۔“
JOH 20:22 یہ کہہ کر آپ نے اُن پر پھُونکا اَور فرمایا، ”پاک رُوح پاؤ۔
JOH 20:23 اگر تُم کسی کے گُناہ مُعاف کرتے ہو، تو اُس کے گُناہ مُعاف کیٔے جاتے ہیں؛ اگر مُعاف نہیں کرتے، تو مُعاف نہیں کیٔے جاتے۔“
JOH 20:24 جَب یِسوعؔ اَپنے شاگردوں پر ظاہر ہُوئے، تو توماؔ (جسے دِیدِیمُس بھی کہتے ہیں) اَورجو اُن بَارہ میں سے ایک تھا، وہاں مَوجُود نہ تھا۔
JOH 20:25 چنانچہ باقی شاگردوں نے توماؔ کو بتایا، ”ہم نے خُداوؔند کو دیکھاہے!“ مگر توماؔ نے اُن سے کہا، ”جَب تک میں کیلوں کے سوراخ کے نِشان اُن کے ہاتھوں میں دیکھ کر اَپنی اُنگلی اُن میں نہ ڈال لُوں، اَور اَپنے ہاتھ سے اُن کی پسلی نہ چھولوں، تَب تک یقین نہ کروں گا۔“
JOH 20:26 ایک ہفتہ بعد یِسوعؔ کے شاگرد ایک بار پھر اُسی جگہ مَوجُود تھے، اَور توماؔ بھی اُن کے ساتھ تھا۔ اگرچہ دروازے بند تھے، یِسوعؔ آکر اُن کے درمیان آ کھڑے ہویٔے، اَور اُن سے فرمایا، ”تُم پر سلامتی ہو!“
JOH 20:27 پھر آپ نے توماؔ سے فرمایا، ”اَپنی اُنگلی لا؛ اَور میرے ہاتھوں کو دیکھ اَور اَپنا ہاتھ بڑھا اَور میری پسلی کو چھُو، شک مت کر بَلکہ ایمان رکھ۔“
JOH 20:28 توماؔ نے آپ سے کہا، ”اَے میرے خُداوؔند اَور اَے میرے خُدا!“
JOH 20:29 یِسوعؔ نے توماؔ سے فرمایا، ”تُم مُجھے دیکھ کر مُجھ پر ایمان لایٔے، مُبارک وہ ہیں جنہوں نے مُجھے دیکھا بھی نہیں پھر بھی ایمان لایٔے۔“
JOH 20:30 یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں کی مَوجُودگی میں بہت سے معجزے کیٔے، جو اِس کِتاب میں نہیں لکھے گیٔے۔
JOH 20:31 لیکن جو لکھے گیٔے ہیں اُن سے غرض یہ ہے کہ تُم ایمان لاؤ کہ یِسوعؔ ہی المسیح ہیں، یعنی خُدا کا بیٹا ہیں، اَور اُن پر ایمان لاکر اُن کے نام سے زندگی پاؤ۔
JOH 21:1 بعد میں یِسوعؔ نے خُود کو ایک بار پھر اَپنے شاگردوں پر، تبریاسؔ کی جھیل یعنی گلِیل کی جھیل کے کنارے۔ اِس طرح ظاہر کیا:
JOH 21:2 جَب شمعُونؔ پطرس، دِیدِیمُس (یعنی توماؔ)، نتن ایل جو کانا گلِیل کا تھا، زبدیؔ کے بیٹے، اَور دُوسرے دو شاگرد وہاں جمع تھے
JOH 21:3 تو شمعُونؔ پطرس اُن سے کہنے لگے، ”میں تو مچھلی پکڑنے جاتا ہُوں۔“ اُنہُوں نے کہا، ”ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔“ لہٰذا وہ نکلے اَور جا کر کشتی میں سوارہوگئے، مگر اُس رات اُن کے ہاتھ کُچھ بھی نہ آیا۔
JOH 21:4 صُبح سویرے ہی، یِسوعؔ کنارے پر آ کھڑے ہُوئے، لیکن شاگردوں نے اُنہیں نہیں پہچانا کہ وہ یِسوعؔ ہیں۔
JOH 21:5 یِسوعؔ نے اُنہیں آواز دے کر کہا، ”دوستوں، کیا کُچھ مچھلیاں ہاتھ آئیں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”نہیں۔“
JOH 21:6 یِسوعؔ نے فرمایا، ”جال کو کشتی کی داہنی طرف ڈالئے تو ضروُر پکڑ سکوگے۔“ چنانچہ اُنہُوں نے اَیسا ہی کیا اَور مچھلیوں کی کثرت کی وجہ سے جال اِس قدر بھاری ہو گیا کہ وہ اُسے کھینچ نہ سکے۔
JOH 21:7 تَب یِسوعؔ کے عزیز شاگرد نے پطرس سے کہا، ”یہ تو خُداوؔند ہیں!“ جَیسے ہی شمعُونؔ پطرس نے یہ سُنا، ”یہ تو خُداوؔند ہیں،“ پطرس نے اَپنا کُرتا پہنا (جسے پطرس نے اُتار رکھا تھا) اَور پانی میں کود پڑے۔
JOH 21:8 دُوسرے شاگرد جو کشتی میں تھے، جال کو جو مچھلیوں سے بھرا ہُوا تھا کھینچتے ہویٔے لایٔے، کیونکہ وہ کنارے سے، تقریباً سَو مِیٹر سے زِیادہ دُور نہ تھے۔
JOH 21:9 جَب وہ کنارے پر اُترے تو دیکھا کہ کوئلوں کی آگ پر مچھلی رکھی ہے، اَور پاس ہی روٹی بھی ہے۔
JOH 21:10 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”جو مچھلیاں تُم نے ابھی پکڑی ہیں اُن میں سے کُچھ یہاں لے آؤ۔“
JOH 21:11 شمعُونؔ پطرس کشتی پر چڑھ گیٔے اَور جال کو کنارے پر کھینچ لایٔے جو ایک سَو ترپن، بڑی بڑی مچھلیوں سے بھرا ہُوا تھا، پھر بھی وہ پھٹا نہیں۔
JOH 21:12 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”آؤ اَور کُچھ کھالو۔“ شاگردوں میں سے کسی کو بھی جُرأت نہ ہویٔی کہ پُوچھے، ”آپ کون ہیں؟“ وہ جانتے تھے کہ آپ خُداوؔند ہی ہیں۔
JOH 21:13 یِسوعؔ نے آکر روٹی لی، اَور اُنہیں دی اَور مچھلی بھی دی۔
JOH 21:14 یِسوعؔ مُردوں میں سے زندہ ہو جانے کے بعد تیسری مرتبہ اَپنے شاگردوں پر ظاہر ہویٔے۔
JOH 21:15 جَب وہ کھانا کھا چُکے، تو آپ نے شمعُونؔ پطرس سے فرمایا، ”یُوحنّا کے بیٹے شمعُونؔ، کیا تُم مُجھ سے اِن سَب سے زِیادہ مَحَبّت رکھتے ہو؟“ شمعُونؔ پطرس نے کہا، ”ہاں، خُداوؔند، آپ تو جانتے ہی ہیں کہ مَیں آپ سے مَحَبّت رکھتا ہُوں۔“ یِسوعؔ نے پطرس سے فرمایا، ”میرے برّوں کو چرا۔“
JOH 21:16 یِسوعؔ نے پھر فرمایا، ”یُوحنّا کے بیٹے شمعُونؔ، کیا تُم واقعی مُجھ سے مَحَبّت رکھتے ہو؟“ پطرس نے جَواب دیا، ”ہاں، خُداوؔند، آپ تو جانتے ہی ہیں کہ مَیں آپ سے مَحَبّت رکھتا ہُوں۔“ یِسوعؔ نے فرمایا، ”تو پھر میری بھیڑوں کی گلّہ بانی کرو۔“
JOH 21:17 حُضُور نے تیسری مرتبہ پھر پُوچھا، ”یُوحنّا کے بیٹے شمعُونؔ کیا تُم مُجھ سے مَحَبّت رکھتے ہو؟“ پطرس کو رنج پہُنچا کیونکہ یِسوعؔ نے پطرس سے تین دفعہ پُوچھا تھا، ”کیا تُم مُجھ سے مَحَبّت رکھتے ہو؟“ پطرس نے کہا، ”خُداوؔند، آپ تو سَب کُچھ جانتے ہیں؛ حُضُور آپ کو خُوب مَعلُوم ہے کہ میں حُضُور سے مَحَبّت رکھتا ہُوں۔“ یِسوعؔ نے فرمایا، ”تُم میری بھیڑیں چراؤ۔
JOH 21:18 میں تُم سے سچّی حقیقت بَیان کرتا ہُوں کہ جَب تُم جَوان تھے اَور جہاں تمہاری مرضی ہوتی تھی، اَپنی کمر باندھ کر چل دیا کرتے تھے؛ لیکن جَب تُم بُوڑھے ہوگے تو اَپنے ہاتھ بڑھاؤگے، اَور کویٔی دُوسرا تمہاری کمر باندھ کر جہاں تُم جانا بھی نہ چاہو گے، وہاں اُٹھالے جایٔیں گے۔“
JOH 21:19 یِسوعؔ نے یہ بات کہہ کر اِشارہ کر دیا کہ پطرس کِس قِسم کی موت مَر کے خُدا کا جلال ظاہر کریں گے۔ تَب یِسوعؔ نے پطرس سے فرمایا، ”میرے پیچھے ہولے!“
JOH 21:20 پطرس نے مُڑ کر دیکھا کہ یِسوعؔ کا عزیز شاگرد اُن کے پیچھے پیچھے چلا آ رہاہے۔ (یہی وہ شاگرد تھا جِس نے شام کے کھانے کے وقت یِسوعؔ کی طرف جُھک کر پُوچھا تھا، ”اَے خُداوؔند، وہ کون ہے جو آپ کو پکڑوائے گا؟“)
JOH 21:21 پطرس نے اُسے دیکھ کر، یِسوعؔ سے پُوچھا، ”اَے خُداوؔند، اِس شاگرد کا کیا ہوگا؟“
JOH 21:22 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر مَیں چاہُوں کہ یہ میری واپسی تک زندہ رہے، تو اِس سے تُمہیں کیا؟ تُم میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔“
JOH 21:23 یُوں، بھائیوں میں یہ بات پھیل گئی کہ یہ شاگرد نہیں مَرے گا۔ لیکن یِسوعؔ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ نہ مَرے گا؛ بَلکہ یہ فرمایا تھا، ”اگر مَیں چاہُوں کہ وہ میرے واپس آنے تک زندہ رہے، تو اِس سے تُمہیں کیا؟“
JOH 21:24 یہی وہ شاگرد ہے جو اِن باتوں کی گواہی دیتاہے اَور جِس نے اُنہیں تحریر کیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اُس کی گواہی سچّی ہے۔
JOH 21:25 یِسوعؔ نے اَور بھی بہت سے کام کیٔے۔ اگر ہر ایک کے بارے میں تحریر کیا جاتا تو میں سمجھتا ہُوں کہ جو کِتابیں وُجُود میں آتیں اُن کے لیٔے دُنیا میں گنجائش نہ ہوتی۔
ACT 1:1 مَیں نے اَپنی پہلی کِتاب میں، محترم تھِیفلُسؔ، اُن تمام تعلیمی باتوں کو تحریر کر دیا ہے جو حُضُور یِسوعؔ کے ذریعہ عَمل میں آئیں
ACT 1:2 اُس دِن تک جِس میں حُضُور یِسوعؔ نے اَپنے مُنتخب رسولوں کو پاک رُوح کے وسیلہ سے کچھ ہدایات بھی عطا کرنے کے بعد اُوپر آسمان پر اُٹھائے گئے۔
ACT 1:3 دُکھ سہنے کے بعد، یِسوعؔ نے اَپنے زندہ ہو جانے کے کیٔی قوی ثبُوتوں سے اَپنے آپ کو اُن پر ظاہر بھی کیا اَور آپ چالیس دِن تک اُنہیں نظر آتے رہے اَور خُدا کی بادشاہی کی باتیں سُناتے رہے۔
ACT 1:4 ایک مرتبہ، جَب آپ اُن کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، تو یِسوعؔ نے اُنہیں یہ حُکم دیا: ”یروشلیمؔ سے باہر نہ جانا، اَور میرے باپ کے اُس وعدہ کے پُورا ہونے کا اِنتظار کرنا، جِس کا ذِکر تُم مُجھ سے سُن چُکے ہو۔
ACT 1:5 کیونکہ حضرت یُوحنّا تو پانی سے پاک ‏غُسل دیتے تھے، لیکن تُم تھوڑے دِنوں کے بعد پاک رُوح سے پاک غُسل پاؤگے۔“
ACT 1:6 پس جَب وہ سَب ایک جگہ جمع تھے تو اُنہُوں نے یِسوعؔ المسیح سے پُوچھا، ”خُداوؔند! کیا آپ اِسی وقت اِسرائیلؔ کو پھر سے اُس کی بادشاہی عطا کرنے والے ہیں؟“
ACT 1:7 یِسوعؔ المسیح نے اُن سے فرمایا، ”جِن وقتوں یا میِعادوں کو مُقرّر کرنے کا اِختیار صِرف آسمانی باپ کو ہے اُنہیں جاننا تمہارا کام نہیں۔
ACT 1:8 لیکن جَب پاک رُوح تُم پر نازل ہوگا تو تُم قُوّت پاؤگے؛ اَور تُم یروشلیمؔ، اَور تمام یہُودیؔہ اَور سامریہؔ میں بَلکہ زمین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہوگے۔“
ACT 1:9 اِن باتوں کے بعد وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے آسمان میں اُوپر اُٹھا لیٔے گیٔے۔ اَور بدلی نے یِسوعؔ المسیح کو اُن کی نظروں سے چھُپا لیا۔
ACT 1:10 جَب وہ ٹِکٹِکی باندھے یِسوعؔ المسیح کو آسمان کی طرف جاتے ہویٔے دیکھ رہے تھے، تو دیکھو دو مَرد سفید لباس میں اُن کے پاس آ کھڑے ہویٔے۔
ACT 1:11 اَور کہنے لگے، ”اَے گلِیلی مَردو، تُم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ یہی یِسوعؔ جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھائے گیٔے ہیں، اِسی طرح پھر آئیں گے جِس طرح تُم لوگوں نے یِسوعؔ کو آسمان پر جاتے دیکھاہے۔“
ACT 1:12 تَب رسول کوہِ زَیتُون، سے جو یروشلیمؔ کے نزدیک سَبت کے دِن کی مَنزل پر ہے واپس یروشلیمؔ شہر لَوٹے۔ یہ پہاڑ یروشلیمؔ سے تقریباً ایک کِلو مِیٹر کے فاصلے پر ہے۔
ACT 1:13 جَب وہ شہر میں داخل ہوکر، اُس بالاخانہ میں تشریف لے گیٔے جہاں وہ ٹھہرے ہویٔے تھے۔ جِس میں: پطرس، یُوحنّا، یعقوب، اَور اَندریاسؔ؛ فِلِپُّسؔ اَور توماؔ؛ برتلماؔئی اَور متّیؔ؛ حلفئؔی کا بیٹا یعقوب، شمعُونؔ جو زیلوتیسؔ بھی ہیں اَور یعقوب کا بیٹا یہُوداہؔ رہتے تھے۔
ACT 1:14 یہ سَب چند خواتین اَور خُداوؔند یِسوعؔ کی ماں، مریمؔ اَور اُن کے بھائیوں کے ساتھ ایک دِل ہوکر دعا میں مشغُول رہتے تھے۔
ACT 1:15 اُن ہی دِنوں میں پطرس اُن بھائیوں اَور بہنوں کی جماعت میں جِن کی تعداد (ایک سَو بیس کے قریب تھی)
ACT 1:16 پطرس نے کھڑے ہوکر فرمایا، ”اَے بھائیو اَور بہنوں، کِتاب مُقدّس کی اُس بات کا جو پاک رُوح نے حضرت داویؔد کی زبان سے پہلے ہی کَہلوا دی تھی پُورا ہونا ضروُری تھا۔ وہ بات یہُوداہؔ کے بارے میں تھی، جِس نے خُداوؔند یِسوعؔ کے پکڑوانے والوں کی رہنمائی کی تھی۔
ACT 1:17 یہُوداہؔ ہمارا ہم خدمت تھا اَور ہم لوگوں میں گِنا جاتا تھا۔“
ACT 1:18 اُس نے (اَپنی بدکاری سے کمائی، ہویٔی رقم سے ایک کھیت خریدا؛ جہاں وہ سَر کے بَل گرا اَور اُس کا پیٹ پھٹ گیا اَور ساری انتڑیاں باہر نکل پڑیں۔
ACT 1:19 یروشلیمؔ کے تمام باشِندوں کو یہ بات مَعلُوم ہو گئی، یہاں تک کہ اُنہُوں نے اَپنی زبان میں اُس کھیت کا نام ہی ہقؔل دماؔ، رکھ دیا جِس کا مطلب ہے، خُون کا کھیت۔)
ACT 1:20 ”کیونکہ،“ پطرس نے فرمایا، ”زبُور شریف میں یہ لِکھّا ہے: ” ’اُن کا مقام ویران ہو جائے؛ اَور اُن کے خیموں میں بسنے والا کویٔی نہ ہو،‘ اَور ” ’اُس کا عہدہ کویٔی اَور سنبھال لے۔‘
ACT 1:21 لہٰذا یہ ضروُری ہے کہ خُداوؔند یِسوعؔ کے ہمارے ساتھ آنے جانے کے وقت تک،
ACT 1:22 یعنی حضرت یُوحنّا کے پاک ‏غُسل سے لے کر یِسوعؔ کے ہمارے پاس سے اُوپر اُٹھائے جانے تک جو لوگ برابر ہمارے ساتھ رہے۔ اُن میں سے ایک شخص چُن لیا جائے جو ہمارے ساتھ خُداوؔند یِسوعؔ کے جی اُٹھنے کا گواہ بنے۔“
ACT 1:23 لہٰذا اُنہُوں نے دو کو نامزد کیا: ایک حضرت یُوسیفؔ کو جو برسبّاسؔ کَہلاتے ہیں اَور (جِن کا لقب یُوستُسؔ بھی ہے) اَور دُوسرا متیّاہؔ کو۔
ACT 1:24 اُنہُوں نے یہ کہہ کر دعا کی، ”اَے خُداوؔند، آپ سَب کے دِلوں کو جانتے ہیں۔ ہم پر ظاہر کر کہ اِن دونوں میں سے آپ نے کِس کو چُناہے
ACT 1:25 کہ وہ اُس خدمت اَور رِسالت پر مامُور ہو، جسے یہُوداہؔ چھوڑکر اُس اَنجام تک پہُنچا جِس کا وہ مُستحق تھا۔“
ACT 1:26 اَور اُنہُوں نے اُن کے بارے میں قُرعہ ڈالا، اَورجو متیّاہؔ کے نام کا نِکلا؛ لہٰذا وہ گیارہ رسولوں کے ساتھ شُمار کیٔے گیٔے۔
ACT 2:1 جَب عیدِ پِنتکُست کا دِن آیا، تو وہ سَب ایک جگہ جمع تھے۔
ACT 2:2 اَچانک آسمان سے آواز آئی جَیسے بڑی تیز آندھی چلنے لگی ہو اَور اُس سے وہ سارا گھر گوُنجنے لگا جہاں وہ بیٹھے ہویٔے تھے
ACT 2:3 اَور اُنہیں آگ کے شُعلوں کی سِی زبانیں دِکھائی دیں جو جُدا جُدا ہوکر اُن میں سے ہر ایک پر ٹھہریں۔
ACT 2:4 اَور وہ سَب پاک رُوح سے معموُر ہو گئے اَور غَیر زبانیں بولنے لگے جِس طرح پاک رُوح نے اُنہیں قُوّت بخشی۔
ACT 2:5 اُس وقت بہت سے خُدا ترس یہُودی جو آسمان کے نیچے دُنیا کے ہر مُلک سے، یروشلیمؔ میں مَوجُود تھے۔
ACT 2:6 جَب اُنہُوں نے یہ آواز سُنی تو ہُجوم جمع ہو گیا اَور سَب کے سَب دنگ رہ گیٔے، کیونکہ ہر ایک نے اُنہیں اَپنی ہی بولی بولتے سُنا۔
ACT 2:7 اَور سَب اِنتہائی حیرت زدہ ہوکر پُوچھنے لگے: ”یہ بولنے والے کیا سَب کے سَب گلِیلی نہیں؟
ACT 2:8 پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اُن کے مُنہ سے اَپنے اَپنے وطن کی بولی سُن رہاہے۔
ACT 2:9 ہم تو پارتھیا، مادِیا، عیلامی؛ اَور مسوپتامیہؔ کے رِہائشی علاقے یہُودیؔہ، کپُدکیہؔ، پُنطُسؔ آسیہؔ،
ACT 2:10 فرُوگِیہؔ اَور پَمفِیلہ کے رہنے والے ہیں، اَور ہم مِصر اَور لِبیؔا کے علاقہ سے ہیں جو کُرینؔے کے نزدیک ہے؛ ہم میں سے بعض صِرف رُومی مُسافر ہیں۔
ACT 2:11 خواہ یہُودی خواہ اُن کے مُرید کریتی اَور عربؔی بھی ہیں مگر اَپنی اَپنی مادری زبان میں اُن سے خُدا کے عجِیب کاموں کا بَیان سُن رہے ہیں!“
ACT 2:12 وہ سَب بڑے حیران ہویٔے اَور گھبرا کر ایک دُوسرے سے پُوچھنے لگے، ”یہ جو بول رہے ہیں اِس کا کیا مطلب ہے؟“
ACT 2:13 لیکن، بعض نے، اُن کی ہنسی اُڑا کر کہا، ”اُنہُوں نے انگور کا شِیرہ کچھ زِیادہ پی لیا ہے۔“
ACT 2:14 اِس پر پطرس باقی گیارہ رسولوں کے ساتھ، کھڑے ہو گئے اَور اُونچی آواز میں لوگوں سے یُوں خِطاب کیا: ”اَے یہُودیوں اَور یروشلیمؔ کے تمام باشِندو، میری بات توجّہ سے سُنو؛ میں بتاتا ہُوں کہ یہاں کیا ہو رہاہے۔
ACT 2:15 جَیسا تُم سمجھ رہے ہو، یہ آدمی نشہ میں نہیں ہیں کیونکہ ابھی تو صُبح کے نَو ہی بجے ہیں۔
ACT 2:16 بَلکہ، یہ وہ بات ہے جو یوُایلؔ نبی کی مَعرفت کہی گئی تھی:
ACT 2:17 ” ’آخِری دِنوں میں، خُدا کا فرمان ہے، مَیں تمام لوگوں پر اَپنا رُوح نازل کروں گا۔ اَور تمہارے بیٹے اَور تمہاری بیٹیاں نبُوّت کریں گی، تمہارے نوجوان رُویا، اَور تمہارے بُزرگ خواب دیکھیں گے۔
ACT 2:18 بَلکہ میں اُن دِنوں میں اَپنے بندوں اَور بندیوں پر بھی، اَپنا رُوح نازل کروں گا، اَور وہ نبُوّت کریں گے۔
ACT 2:19 میں اُوپر آسمان پر معجزے اَور نیچے زمین پر کرشمے دِکھاؤں گا، یعنی خُون اَور آگ اَور گاڑھا دُھواں۔
ACT 2:20 سُورج تاریک ہو جائے گا اَور چاند خُون کی طرح سُرخ اِس سے قبل کہ خُداوؔند کا عظیم و جلیل دِن آ پہُنچے۔
ACT 2:21 اَورجو کویٔی خُداوؔند کا نام لے گا نَجات پایٔےگا۔‘
ACT 2:22 ”اَے اِسرائیلیوں، یہ باتیں سُنو: یِسوعؔ ناصری ایک شخص تھے جنہیں خُدا نے تمہارے لیٔے بھیجا تھا اَور اِس بات کی تصدیق اُن عظیم معجزوں، کارناموں اَور نِشانوں سے ہوتی ہے، جسے خُدا نے یِسوعؔ کی مَعرفت تمہارے درمیان دِکھائے، جَیسا کہ تُم خُود بھی جانتے ہو۔
ACT 2:23 یہ شخص یِسوعؔ خُدا کے مُقرّرہ اِنتظام اَور علم سابق کے مُطابق پکڑوائے گیٔے؛ تو تُم نے، یِسوعؔ کو بےشَرع کے ہاتھوں، صلیب پر ٹنگوا کر مار ڈالا۔
ACT 2:24 لیکن خُدا نے یِسوعؔ کو موت کے، شِکنجہ سے چھُڑا کر زندہ کر دیا، کیونکہ یہ ناممکن تھا کہ وہ موت کے قبضہ میں رہتے۔“
ACT 2:25 کیونکہ حضرت داویؔد یِسوعؔ کے بارے میں فرماتے ہیں: ” ’مَیں خُداوؔند کو ہمیشہ اَپنے سامنے دیکھتا رہا۔ کیونکہ وہ میری داہنی طرف ہے، اِس لیٔے مُجھے جُنبش نہ ہوگی۔
ACT 2:26 چنانچہ میرا دِل خُوش ہے اَور میری زبان شادمان؛ بَلکہ میرا جِسم بھی اُمّید میں قائِم رہے گا،
ACT 2:27 کیونکہ تُو مُجھے قبر میں چھوڑ نہیں دے گا، اَور نہ ہی اَپنے مُقدّس فرزند کے جِسم کے سَڑنے کی نَوبَت ہی نہ آنے دیں گے۔
ACT 2:28 تُونے مُجھے زندگی کی راہیں دِکھائیں؛ تُو اَپنے دیدار کی خُوشی سے مُجھے بھر دے گا۔‘
ACT 2:29 ”اَے بنی اِسرائیلؔ، میں قوم کے بُزرگ داویؔد کے بارے میں تُم سے دِلیری کے ساتھ کہہ سَکتا ہُوں کہ وہ فوت ہویٔے دفن بھی ہویٔے، اَور اُن کی قبر آج بھی ہمارے درمیان مَوجُود ہے۔
ACT 2:30 لیکن وہ نبی تھے اَور جانتے تھے کہ خُدا نے اُن سے قَسم کھا کر وعدہ کیا ہے کہ اُن کی نَسل میں سے ایک شخص اُن کے تخت پر بیٹھے گا۔
ACT 2:31 آپ نے بطور پیشین گوئی، حُضُور المسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کا ذِکر کیا، نہ تُو وہ اَپنے فرزند کو قبر میں چھوڑے گا اَور اُن کے جِسم کے سَڑنے کی نَوبَت ہی نہ آنے دیں گے۔
ACT 2:32 یِسوعؔ کو خُدا نے زندہ کیا اِس کے ہم سَب گواہ ہیں۔
ACT 2:33 یِسوعؔ خُدا کی داہنی طرف سربُلند ہویٔے، اَور باپ سے پاک رُوح حاصل کیا جِس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ اُسی رُوح کا نُزُول ہے جسے تُم دیکھتے اَور سُنتے ہو۔
ACT 2:34 کیونکہ داویؔد تو آسمان پر نہیں چڑھے پھر بھی وہ خُود فرماتے ہیں، ” ’خُداتعالیٰ نے میرے خُداوؔند سے فرمایا: ”میری داہنی طرف بیٹھو
ACT 2:35 جَب تک کہ مَیں تمہارے دُشمنوں کو تمہارے پاؤں کے نیچے نہ کر دُوں۔“ ‘
ACT 2:36 ”اِس لیٔے اِسرائیلؔ کا سارا گھرانہ یقین جان لے کہ خُدا نے اُسی یِسوعؔ کو جسے تُم نے صلیب پر مصلُوب کیا، خُداوؔند بھی ٹھہرایا اَور المسیح بھی۔“
ACT 2:37 یہ باتیں سُن کر اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی، تَب اُنہُوں نے پطرس اَور دُوسرے رسولوں سے کہا، ”اَے بھائیو، ہم کیا کریں؟“
ACT 2:38 پطرس نے اُن سے جَواب دیا، ”تَوبہ کرو اَور تُم میں سے ہر ایک، اَپنے گُناہوں کی مُعافی کے لیٔے یِسوعؔ المسیح کے نام پر پاک ‏غُسل لو۔ تو تُم پاک رُوح اِنعام میں پاؤگے۔
ACT 2:39 اِس لیٔے یہ وعدہ تُم سے اَور تمہاری اَولاد سے ہے اَور اُن سَب سے بھی ہے جو اُس سے دُور ہیں جنہیں خُداوؔند ہمارا خُدا اَپنے پاس بُلائے گا۔“
ACT 2:40 پطرس نے اَور بہت سِی باتوں سے خبردار کیا اَور اُنہیں نصیحت فرمائی، ”اَپنے آپ کو اِس گُمراہ قوم سے بچائے رکھو۔“
ACT 2:41 جنہوں نے پطرس کا پیغام قبُول کیا اُنہیں پاک ‏غُسل دیا گیا، اَور اُس دِن تقریباً تین ہزار آدمیوں کے قریب اُن میں شامل ہو گئے۔
ACT 2:42 اُنہُوں نے خُود کو رسولوں سے، تعلیم پانے رِفاقت رکھنے، روٹی توڑنے اَور دعا کرنے کے لیٔے وقف کر دیا۔
ACT 2:43 رسولوں کے ذریعہ بہت سے معجزے اَور نِشان دِکھائے گیٔے اَور ہر شخص پر خوف طاری ہو گیا۔
ACT 2:44 حُضُور المسیح پر ایمان لانے والے تمام افراد اِکٹھّے رہتے تھے اَور تمام چیزوں میں ایک دُوسرے کو شریک سمجھتے تھے۔
ACT 2:45 وہ اَپنی جائداد اَور مال و اَسباب بیچ بیچ کر ہر ایک کو اُس کی ضروُرت کے مُطابق وہ رقم تقسیم کر دیا کرتے تھے۔
ACT 2:46 وہ ہر روز ایک دِل ہوکر بیت المُقدّس کے صحن میں جمع ہوتے تھے۔ اَپنے گھروں میں روٹی توڑتے تھے اَور اِکٹھّے ہوکر خُوشی اَور صَاف دِلی سے کھانا کھاتے تھے۔
ACT 2:47 وہ خُدا کی تمجید کرتے تھے اَور سَب لوگوں کی نظر میں مقبُول تھے۔ اَور خُداوؔند نَجات پانے والوں کی تعداد میں روز بروز اِضافہ کرتے رہتے تھے۔
ACT 3:1 ایک دِن پطرس اَور یُوحنّا دعا کے وقت جَب کہ تین بج چُکے تھے، بیت المُقدّس کو جا رہے تھے۔
ACT 3:2 اَور لوگ ایک آدمی کو جو پیدائشی لنگڑا تھا بیت المُقدّس کے ایک خُوبصورت نامی دروازے پر چھوڑ جاتے تھے، جہاں وہ بیت المُقدّس کے صحنوں میں ہر روز اَندر جانے والوں سے بھیک مانگا کرتا تھا۔
ACT 3:3 جَب اُس نے پطرس اَور یُوحنّا کو بیت المُقدّس میں داخل ہوتے دیکھا، تو اُن بڑی حسرت سے بھیک مانگنے لگا۔
ACT 3:4 پطرس اَور یُوحنّا نے اُس کی طرف مُتوجّہ ہوکر اُس سے فرمایا، ”ہماری طرف دیکھ!“
ACT 3:5 وہ اِس اُمّید پر کہ اُسے اُن سے کچھ ملے گا، اُن کی طرف مُتوجّہ ہُوا۔
ACT 3:6 تَب پطرس نے فرمایا، ”چاندی سونا تو میرے پاس ہے نہیں، لیکن جو میرے پاس ہے مَیں تُجھے دئیے دیتا ہُوں۔ تو یِسوعؔ المسیح ناصری کے نام سے اُٹھ اَور چل پھر۔“
ACT 3:7 پطرس نے جَیسے ہی اُس کا داہنا ہاتھ پکڑکر، اُسے اُٹھایا، اُس کے پاؤں اَور ٹخنوں میں قُوّت آ گئی
ACT 3:8 وہ اُچھل کر کھڑا ہو گیا اَور چلنے پھرنے لگا۔ پھر وہ کُودتا پھاندتا، اَور خُدا کی تعریف کرتا ہُوا، اُن کے ساتھ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہو گیا۔
ACT 3:9 اَور سَب لوگوں نے جو وہاں مَوجُود تھے اُسے چلتے پھرتے اَور خُدا کی حَمد کرتے دیکھ کر،
ACT 3:10 اُنہُوں نے اُسے پہچان لیا کہ یہ تو وُہی ہے جو بیت المُقدّس کے خُوبصورت نامی دروازے پر بیٹھا بھیک مانگا کرتا تھا، اُس کے ساتھ پیش آئے اِس واقعہ کو دیکھ کر بڑی ہی حیرت میں پڑ گیٔے۔
ACT 3:11 ابھی وہ آدمی پطرس اَور یُوحنّا کو پکڑے کھڑا تھا، تو سَب لوگ جو وہاں کھڑے تھے نہایت ہی حیران ہوکر اُن کے پاس سُلیمانی برامدے میں دَوڑے چلے آئے۔
ACT 3:12 پطرس نے یہ دیکھا تو وہ لوگوں سے یُوں مُخاطِب ہویٔے: ”اَے اِسرائیلیوں، تُم اِس بات پر حیران کیوں ہو؟ اَور ہمیں اَیسے کیوں دیکھ رہے ہو گویا ہم نے اَپنی قُدرت اَور پارسائی سے اِس لنگڑے کو چلنے پھرنے کے قابل بنا دیا ہے؟
ACT 3:13 میں حضرت اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کا، خُدا ہُوں یعنی ہمارے آباؤاَجداد کے، خُدا نے اَپنے خادِم یِسوعؔ کو جلال بخشا۔ لیکن تُم نے اُنہیں پکڑوا دیا اَور پِیلاطُسؔ کی حُضُوری میں مَردُود ٹھہرایا، حالانکہ پِیلاطُسؔ اُنہیں چھوڑدینے کا اِرادہ کر چُکاتھا۔
ACT 3:14 تُم نے یِسوعؔ قُدُّوس اَور راستباز کو ردّ کرکے پِیلاطُسؔ سے درخواست کی کہ وہ ایک قاتل کو تمہاری خاطِر رہا کر دے۔
ACT 3:15 تُم نے تو زندگی کے دینے والے کو قتل کر ڈالا، لیکن ہم گواہ ہیں کہ خُدا نے یِسوعؔ المسیح کو مُردوں میں سے زندہ کر دیا۔
ACT 3:16 یِسوعؔ کے نام کی قُدرت نے، اِس شخص کو مضبُوط کیا۔ جسے تُم دیکھتے اَور جانتے ہو، یِسوعؔ کے نام نے اُس ایمان کے وسیلہ اِس کو کامِل شفا بخشی، جسے تُم سَب دیکھتے ہو۔
ACT 3:17 ”اَب، اَے بھائیو، میں جانتا ہُوں کہ تُم نے یہ کام نادانی کی وجہ سے کیا تھا، جَیسا تمہارے رہنماؤں نے بھی۔
ACT 3:18 مگر خُدا نے اُن ساری باتوں کو جو اُس نے اَپنے نبیوں کی زبانی، کہی تھیں کہ خُدا کا المسیح دُکھ اُٹھائے گا کو پُورا کر دِکھایا۔
ACT 3:19 پس تَوبہ کرو، اَور خُدا کی طرف رُجُوع کرو، تاکہ وہ تمہارے گُناہوں کو مٹا دے، اَور خُدا کی طرف سے تمہارے لیٔے رُوحانی تازگی کے دِن آئیں۔
ACT 3:20 اَور وہ خُداوؔند المسیح یعنی یِسوعؔ کو جسے خُداوؔند نے مُقرّر کیا ہے، تمہارے لیٔے بھیجے،
ACT 3:21 لیکن جَب تک وہ ساری چیزیں جِن کا ذِکر خُدا نے قدیم زمانوں میں اَپنے پاک نبیوں کی زبانی کیا ہے، بحال نہ کر دی جایٔیں، یِسوعؔ کا آسمان پر رہنا لازِم ہے۔
ACT 3:22 حضرت مَوشہ نے بھی اِسی سلسلہ میں فرمایا، ’خُداوؔند تمہارا خُدا تمہارے اَپنے بھائیوں میں سے تمہارے لیٔے میری مانِند ایک نبی پیدا کرےگا؛ اَور تُم اُس کی ہر بات پر کان لگانا۔
ACT 3:23 جو کویٔی اُس کی بات نہ سُنے گا وہ خُدا کے لوگوں میں سے نکال کر ہلاک کر دیا جائے گا۔‘
ACT 3:24 ”بَلکہ، حضرت سمُوئیل سے لے کر، پچھلے تمام نبیوں نے، اِن باتوں کے بارے میں خبر دی ہے۔
ACT 3:25 تُم نبیوں کی اَولاد ہو اَورجو عہد خُدا نے ہمارے آباؤاَجداد سے باندھا تھا اُس میں تُم سَب شریک ہو۔ خُدا نے حضرت اَبراہامؔ سے فرمایا، ’میں تیری اَولاد کے ذریعہ زمین کی تمام غَیریہُودیوں کو برکت دُوں گا۔‘
ACT 3:26 خُدا نے اَپنے خادِم کو، چُن کر پہلے تمہارے پاس بھیجا تاکہ تُمہیں یہ برکت حاصل ہو کہ تُم میں سے ہر ایک اَپنی بدکاریوں سے باز آئے۔“
ACT 4:1 ابھی پطرس اَور یُوحنّا لوگوں سے کلام ہی کر رہے تھے کہ کچھ کاہِنؔ بیت المُقدّس کے رہنما اَور بعض صدُوقی وہاں پہُنچے۔
ACT 4:2 وہ سخت رنجیدہ تھے کیوں کہ رسول لوگوں کو یہ تعلیم دیتے تھے، جِس طرح یِسوعؔ مُردوں میں سے زندہ ہو‏‏گیٔے ہیں اُسی طرح سَب لوگ موت کے بعد زندہ ہو جایٔیں گے۔
ACT 4:3 اُنہُوں نے پطرس اَور یُوحنّا کو گِرفتار کر لیا اَور چونکہ شام کا وقت تھا، اُنہیں اگلے دِن تک کے لیٔے قَیدخانہ میں ڈال دیا۔
ACT 4:4 پھر بھی کیٔی لوگ اُن کا پیغام سُن کر ایمان لایٔے؛ اَور اُن کی تعداد بڑھتے بڑھتے پانچ ہزار کے قریب جا پہُنچی۔
ACT 4:5 اگلے دِن یہُودیوں کے رہنما، بُزرگ اَور شَریعت کے عالِم یروشلیمؔ میں جمع ہُوئے۔
ACT 4:6 اعلیٰ کاہِن حنّاؔ وہاں مَوجُود تھا، اَور کائِفؔا، یُوحنّا، اِسکندر اَور اعلیٰ کاہِن کے خاندان کے دُوسرے لوگ بھی مَوجُود تھے۔
ACT 4:7 اُنہُوں نے پطرس اَور یُوحنّا کو اَپنے سامنے بُلوایا اَور اُن سے پُوچھا: ”تُم نے کِس قُدرت یا کِس کے نام سے یہ کام کیا ہے؟“
ACT 4:8 تَب پطرس، پاک رُوح سے معموُر ہوکر اُن سے یُوں گویا ہویٔے: ”قوم کے رہنما اَور بُزرگو!
ACT 4:9 اگر آج ہم سے اِس اِحسَان کی بابت بازپُرس کی جاتی ہے جو ایک ناتواں پر ہُوا جو ہم نے ایک مفلُوج کے لیٔے کیا اَور اُسے شفا دی،
ACT 4:10 پھر اَب یہ، تُمہیں اَور ساری اِسرائیلی قوم کو مَعلُوم ہو: یہ شخص یِسوعؔ المسیح ناصری، جسے تُم نے مصلُوب کیا، لیکن جسے خُدا نے اُنہیں مُردوں میں سے زندہ کر دیا، کے نام کی قُدرت سے شفایاب ہوکر تمہارے سامنے مَوجُود ہے،
ACT 4:11 یِسوعؔ ہی ” ’وُہی پتّھر ہیں جسے تُم مِعماروں نے ردّ کر دیا، لیکن وُہی کونے کے سِرے کا پتّھر ہو گئے۔‘
ACT 4:12 نَجات کسی اَور کے وسیلہ سے نہیں ہے، کیونکہ آسمان کے نیچے لوگوں کو کویٔی دُوسرا نام نہیں دیا گیا ہے جِس کے وسیلہ سے ہم نَجات پا سکیں۔“
ACT 4:13 جَب اُنہُوں نے پطرس اَور یُوحنّا کی دِلیری دیکھی اَور اُنہیں مَعلُوم ہُوا کہ وہ اَن پڑھ، مَعمولی آدمی ہیں، تو بہت حیران ہویٔے اَور تَب اُنہُوں نے جان لیا کہ یہ آدمی یِسوعؔ کے ساتھ رہ چُکے ہیں۔
ACT 4:14 لیکن وہ اُن کے خِلاف کچھ نہ کہہ سکے اِس لیٔے کہ جِس شخص نے شفا پائی تھی وہ اُن کے ساتھ کھڑا ہُوا تھا۔
ACT 4:15 چنانچہ اُنہُوں نے پطرس اَور یُوحنّا کومَجلِس عامہ سے باہر جانے کو کہا اَور آپَس میں مشورہ کرکے کہنے لگے،
ACT 4:16 ”ہم اِن آدمیوں کے ساتھ کیا کریں؟ یروشلیمؔ کے سَب لوگ جانتے ہیں کہ اُنہُوں نے ایک بڑا معجزہ کر دِکھایا ہے، اَور جِس کا ہم بھی اِنکار نہیں کر سکتے۔
ACT 4:17 لیکن ہم نہیں چاہتے کہ یہ بات لوگوں میں زِیادہ مشہُور ہو، بہتر یہی ہے کہ ہم اُنہیں تنبیہ کر دیں کہ وہ آئندہ یِسوعؔ کا نام لے کر کسی سے بات نہ کریں۔“
ACT 4:18 لہٰذا اُنہُوں نے اُنہیں اَندر بُلاکر حُکم دیا کہ یِسوعؔ کا نام لے کر ہرگز بات نہ کریں اَور نہ تعلیم دیں۔
ACT 4:19 لیکن پطرس اَور یُوحنّا نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا خُدا کی نظر میں یہ بھلا ہے: ہم تمہاری بات مانیں، نہ کہ خُدا کی؟ تُم خُود ہی فیصلہ کرو!
ACT 4:20 ہمارے لیٔے ممکن نہیں کہ ہم نے جو کچھ دیکھا اَور سُنا ہے اُس کا بَیان نہ کریں۔“
ACT 4:21 تَب اُنہُوں نے اُن کو ڈرا دھمکا کر چھوڑ دیا۔ دراصل وہ فیصلہ نہ کر سکے کہ اُنہیں سزا دیں تو کیسے دیں، کیونکہ تمام لوگ اِس ماجرے کے سبب سے خُدا کی تمجید کر رہے تھے۔
ACT 4:22 اَورجو آدمی معجزانہ طور پر شفایاب ہُوا تھا، چالیس بَرس سے اُوپر کا تھا۔
ACT 4:23 اَپنی رِہائی کے بعد، پطرس اَور یُوحنّا اَپنے لوگوں کے پاس چلے گیٔے اَورجو کچھ اہم کاہِنوں اَور بُزرگوں نے اُن سے کہاتھا، اُن کا بَیان کیا۔
ACT 4:24 جَب اُنہُوں نے یہ باتیں سُنیں، تو بُلند آواز سے خُدا سے دعا کرنے لگے۔ اُنہُوں نے فرمایا، ”اَے قادرمُطلق خُداوؔند،“ تُونے آسمانوں اَور زمین اَور سمُندر کو اَورجو کچھ اُن میں مَوجُود ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔
ACT 4:25 تُونے پاک رُوح کے وسیلہ سے اَپنے خادِم، اَور ہمارے باپ داویؔد کی زبانی فرمایا: ” ’قومیں طیش میں کیوں ہیں اَور اُمّتوں نے فُضول منصُوبے باندھے؟
ACT 4:26 زمین کے بادشاہ اُٹھ کھڑے ہویٔے اَور حُکمراں جمع ہو گئے خُداوؔند کے خِلاف اَور اُن کے ممسوح کی مُخالفت کی۔‘
ACT 4:27 یہ حقیقت ہے کہ ہیرودیسؔ اَور پُنطِیُس پِیلاطُسؔ نے اُس شہر میں غَیریہُودی اَور اِسرائیلی لوگ یہ سَب مِل کر تیرے مُقدّس خادِم یِسوعؔ کے خِلاف ہو گئے جسے تُونے المسیح مُقرّر کیا۔
ACT 4:28 وہ اِس لیٔے جمع ہویٔے کہ جو کچھ تُو اَپنی قُدرت اَور اِرادہ کے مُطابق پہلے ہی سے ٹھہرا چُکاتھا اُسے عَمل میں لائیں۔
ACT 4:29 اَب، اَے خُداوؔند، اُن کی دھمکیوں کو دیکھ اَور اَپنے بندوں کو تَوفیق بخش کہ وہ تیرا کلام بڑی دِلیری کے ساتھ لوگوں کو سُنائیں۔
ACT 4:30 خُدا اَپنا ہاتھ بڑھا اَور اَپنے مُقدّس خادِم یِسوعؔ کے نام سے شفا بخش، نِشانات اَور عجائبات ظاہر کر۔“
ACT 4:31 جَب وہ دعا کر چُکے تو وہ جگہ جہاں وہ جمع تھے لرز اُٹھی اَور وہ سَب پاک رُوح سے معموُر ہو گئے اَور خُدا کا کلام دِلیری سے سُنانے لگے۔
ACT 4:32 مُومِنین کی جماعت ایک دِل اَور ایک جان تھی۔ کویٔی بھی اَیسا نہ تھا جو اَپنے مال کو صِرف اَپنا سمجھتا ہو بَلکہ دُوسروں کو بھی ساری چیزوں میں شریک سمجھتا تھا۔
ACT 4:33 اَور رسول بڑی قُدرت کے ساتھ خُداوؔند یِسوعؔ کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی گواہی دیتے تھے۔ اَور اُن سَب پر خُدا کا بڑا فضل تھا
ACT 4:34 اُن میں کویٔی بھی مُحتاج نہ تھا۔ وقتاً فوقتاً جو لوگ زمین یا مکان کے مالک تھے وہ اُنہیں بیچ بیچ کر، اُن کی قیمت لاتے تھے۔
ACT 4:35 اَور اُسے رسولوں کے قدموں میں رکھ دیتے تھے، اَور ہر ایک کو اُس کی ضروُرت کے مُطابق وہ رقم تقسیم کر دیا کرتے تھے۔
ACT 4:36 یُوسیفؔ، ایک لیوی جو سائپرسؔ کا باشِندہ تھا، اُس کو رسولوں نے بَرنباسؔ کا نام دیا جِس کا مطلب ہے ”نصیحت کا بیٹا“)،
ACT 4:37 اُس نے اَپنا کھیت بیچا اَور قیمت لاکر رسولوں کے قدموں میں رکھ دی۔
ACT 5:1 حننیاہؔ نامی ایک آدمی اَور اُس کی بیوی سفِیرؔہ نے اَپنی جائداد کا کچھ حِصّہ فروخت کیا۔
ACT 5:2 اُس نے قیمت میں سے کچھ اَپنے پاس رکھ لیا، جِس کا اُس کی بیوی کو علم تھا اَور باقی کے حِصّہ کی رقم لاکر رسولوں کے قدموں میں رکھ دی۔
ACT 5:3 تَب پطرس نے اُس سے کہا، ”اَے حننیاہؔ، شیطان نے تیرے دِل میں یہ بات کیسے ڈال دی کہ تُو پاک رُوح سے جھُوٹ بولے اَور زمین کی قیمت میں سے کچھ رکھ لے؟
ACT 5:4 کیا فروخت کیٔے جانے سے قبل زمین تیری نہ تھی؟ لیکن بِک جانے کے بعد تیرے اِختیار میں نہ رہی؟ تُجھے دِل میں اَیسا سوچنے پر کِس نے مجبُور کر دیا؟ تُونے اِنسان سے نہیں بَلکہ خُدا سے جھُوٹ بولا ہے۔“
ACT 5:5 حننیاہؔ یہ باتیں سُنتے ہی، گِر پڑا اَور اُس کا دَم نکل گیا۔ اَور جِن لوگوں نے یہ سُنا اُن پر بڑا خوف طاری ہو گیا۔
ACT 5:6 تَب کچھ جَوان مَرد آئے اَور اُنہُوں نے اُس کی لاش کو کفن میں لپیٹا اَور باہر لے جا کر اُس کو دفن کر دیا۔
ACT 5:7 تقریباً تین گھنٹے بعد اُس کی بیوی وہاں آئی۔ وہ اِس ماجرے سے بے خبر تھی۔
ACT 5:8 پطرس نے اُس سے پُوچھا، ”مُجھے بتا، کیا زمین کی اِتنی ہی قیمت مِلی تھی؟“ اُس نے کہا، ”ہاں، کُل قیمت اِتنی ہی تھی۔“
ACT 5:9 پطرس نے اُس سے فرمایا، ”خُداوؔند کی پاک رُوح کو آزمانے کے لیٔے تُم کِس طرح راضی ہو گئے؟ سُنو! جِن لوگوں نے تیرے خَاوند کو دفن کیا اُن کے قدم دروازے تک پہُنچ چُکے ہیں، اَور وہ تُجھے بھی باہر لے جایٔیں گے۔“
ACT 5:10 وہ اُسی وقت پطرس کے قدموں میں گِر پڑی اَور اُس کا دَم نکل گیا۔ جَب جَوان مَرد اَندر آئے تو اُسے مُردہ پا کر باہر اُٹھالے گیٔے اَور اُسے اُس کے شوہر کے پہلوُ میں دفن کر دیا۔
ACT 5:11 ساری جماعت، بَلکہ اِس حادثہ کے تمام سُننے والوں پر بڑا خوف طاری ہو گیا۔
ACT 5:12 رسولوں نے لوگوں میں کیٔی نِشانات اَور عجائبات کیٔے اَور تمام مُومِنین ایک دِل ہوکر سُلیمانی برامدے میں جمع ہُوا کرتے تھے۔
ACT 5:13 حالانکہ لوگ اُن کی بہت زِیادہ عزّت کرتے تھے، لیکن کسی کو یہ جُرأت نہ ہوتی تھی کہ اُن میں شامل ہو جائے۔
ACT 5:14 اِس کے باوُجُود، کیٔی مَرد اَور کیٔی عورتیں خُداوؔند پر ایمان لائیں اَور مُومِنین کی تعداد میں اِضافہ ہوتا چلا گیا۔
ACT 5:15 یہاں تک کہ لوگ بیماریوں کو چارپائیوں اَور چٹائیوں پر رکھ کر گلیوں میں لے آتے تھے تاکہ جَب پطرس وہاں سے گُزریں تو کم اَز کم اِتنا تو ہو کہ اُن کا سایہ ہی اُن میں سے کسی پر پڑ جائے۔
ACT 5:16 یروشلیمؔ کے چاروں طرف کے قصبوں سے بے شُمار لوگ بیماریوں اَور بدرُوحوں کی تکلیف میں مُبتلا لوگوں کو لاتے تھے، اَور وہ سَب کے سَب شفا پاتے تھے۔
ACT 5:17 اِس پر اعلیٰ کاہِن اَور اُس کے سارے ساتھی جو صدُوقیوں کے فرقہ کے تھے حَسد سے بھر گیٔے اَور رسولوں کی مُخالفت کرنے پر اُتر آئے
ACT 5:18 اَور اُنہُوں نے رسولوں کو گِرفتار کروا کر قَیدخانہ میں ڈال دیا۔
ACT 5:19 لیکن رات کو خُداوؔند کا فرشتہ قَیدخانہ کے دروازے کھول کر رسولوں کو باہر نکال لایا۔
ACT 5:20 فرشتہ نے اُن سے کہا، ”جاؤ، بیت المُقدّس کے صحن میں کھڑے ہو جاؤ، اَور اِس نئی زندگی کی ساری باتیں لوگوں کو سُناؤ۔“
ACT 5:21 چنانچہ صُبح ہوتے ہی وہ بیت المُقدّس کے صحن میں جا پہُنچے، اَور جَیسا حُکم مِلا تھا، لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔ جَب اعلیٰ کاہِن اَور اُس کے ساتھی وہاں آئے تو اُنہُوں نے مَجلِس عامہ کا اِجلاس طلب کیا جِس میں اِسرائیلؔ کے سارے بُزرگ جمع تھے اَور اُنہُوں نے قَیدخانہ سے رسولوں کو بُلا بھیجا کہ اُنہیں لائیں۔
ACT 5:22 جَب سپاہی قَیدخانہ میں پہُنچے، تو اُنہُوں نے رسولوں کو وہاں نہ پایا۔ پھر اُنہُوں نے واپس آکر خبر دی،
ACT 5:23 ”ہم نے تو قَیدخانہ کو بڑی حِفاظت سے بند کیا تھا، پہرےداروں کو دروازوں پر کھڑے پایا؛ لیکن جَب ہم نے دروازہ کھولا، تو ہمیں اَندر کویٔی نہیں مِلا۔“
ACT 5:24 اِس خبر کو سُن کر، بیت المُقدّس کے رہنما اَور اہم کاہِن سَب کے سَب حیران رہ گیٔے، کہ اَب اُن کا کیا اَنجام ہوگا۔
ACT 5:25 اُسی وقت کسی نے آکر خبر دی، ”دیکھو! وہ آدمی جنہیں تُم نے قَیدخانہ میں ڈالا تھا بیت المُقدّس کے صحنوں میں کھڑے ہوکر لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔“
ACT 5:26 اِس پر، کپتان اَپنے سربراہوں کے ساتھ گیا اَور رسولوں کو پکڑ لایا۔ اُنہُوں نے طاقت کا اِستعمال اِس لیٔے نہیں کیا کہ اُنہیں خدشہ تھا کہ لوگ اُنہیں سنگسار نہ کر دیں۔
ACT 5:27 اُنہُوں نے رسولوں کو لاکر مَجلِس عامہ میں پیش کیا اَور اعلیٰ کاہِن نے اُن سے کہا،
ACT 5:28 ”ہم نے تُمہیں سخت تاکید کی تھی کہ یِسوعؔ کا نام لے کر تعلیم نہ دینا،“ اُنہُوں نے کہا۔ ”تُم نے سارے یروشلیمؔ میں اَپنی تعلیم پھیلا دی ہے اَور ہمیں اِس شخص کے خُون کا ذمّہ دار ٹھہرانے پرتُلے ہو۔“
ACT 5:29 پطرس اَور دُوسرے رسولوں نے جَواب دیا: ”ہم پر اِنسان کے حُکم کے بجائے خُدا کا حُکم ماَننا زِیادہ فرض ہے!
ACT 5:30 ہمارے باپ دادا کے خُدا نے اُس یِسوعؔ کو مُردوں میں سے زندہ کر دیا جسے تُم نے صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا تھا۔
ACT 5:31 خُدا نے اُسی کو خُداوؔند اَور مُنجّی ٹھہرا کر اَپنے داہنے ہاتھ کی طرف سربُلندی بخشی تاکہ وہ اِسرائیلؔ کو تَوبہ کی تَوفیق اَور گُناہوں کی مُعافی عطا فرمائے۔
ACT 5:32 ہم اِن باتوں کے گواہ ہیں، اَور پاک رُوح بھی شاہِد ہے، جسے خُدا نے اَپنے فرمانبرداروں کو عطا کی ہے جو اُس کا حُکم مانتے ہیں۔“
ACT 5:33 جَب اُنہُوں نے یہ سُنا تو جَل بُھن گیٔے اَور چاہا کہ اُنہیں ٹھکانے لگا دیں۔
ACT 5:34 لیکن ایک فرِیسی نے جِس کا نام گَملی ایل تھا، جو شَریعت کا مُعلّم تھا، جو سَب لوگوں میں مُعزّز سمجھا جاتا تھا، مَجلِس عامہ میں کھڑے ہوکر حُکم دیا کہ اِن آدمیوں کو تھوڑی دیر کے لیٔے باہر بھیج دو۔
ACT 5:35 پھر وہ مَجلِس سے یُوں مُخاطِب ہویٔے: ”اَے اِسرائیلؔ کے مَردو، جو کچھ تُم اِن آدمیوں کے ساتھ کرنا چاہتے ہو اُسے ہوشیاری سے کرنا۔
ACT 5:36 کیونکہ کچھ عرصہ پہلے تِھیُوداسؔ اُٹھا، اَور اُس نے یہ دعویٰ کیا تھا، کہ میں بھی کچھ ہُوں اَور تقریباً چار سَو آدمی اُس سے مِل گیٔے تھے۔ مگر وہ مارا گیا، اُس کے تمام پیروکار مُنتشر ہوکر ختم ہو گئے۔
ACT 5:37 اُس کے بعد، یہُوداہؔ گلِیلی اِسم نویسی کے ایّام میں نموُدار ہُوا اَور اُس نے کیٔی لوگوں کو اَپنا ہمنوا بنا لیا۔ وہ بھی مارا گیا، اَور اُس کے جتنے بھی پیروکار تھے سَب کے سَب مُنتشر ہو گئے۔
ACT 5:38 لہٰذا، میں تو تُم سے یہی کہُوں گا: کہ اِن آدمیوں سے دُور ہی رہو! اُن سے کویٔی کام نہ رکھو! اَور اِنہیں جانے دو کیونکہ اگر یہ تدبیر یا یہ کام اِنسانوں کی طرف سے ہے، تو خُود بخُود برباد ہو جائے گا۔
ACT 5:39 لیکن اگر یہ خُدا کی طرف سے ہے، تو تُم اِن آدمیوں کا کُچھ بھی نہ بِگاڑ سکوگے؛ بَلکہ خُدا کے خِلاف لڑنے والے ٹھہروگے۔“
ACT 5:40 اُنہُوں نے اُس کی صلاح مان لی۔ اَور رسولوں کو اَندر بُلاکر اُنہیں کوڑے لگوائے۔ اُن کو تاکید کی کہ آئندہ یِسوعؔ کا نام لے کر کویٔی بات نہ کرنا اَور اُنہیں جانے دیا۔
ACT 5:41 رسول مَجلِس عامہ سے چلے گیٔے، وہ اِس بات پر خُوش تھے کہ خُداوؔند کے نام کی خاطِر بے عزّت ہونے کے لائق تو سمجھے گیٔے۔
ACT 5:42 روز بروز وہ تعلیم دینے سے باز نہ آئے بَلکہ ہر روز بیت المُقدّس کے صحنوں میں اَور گھروں میں، خُوشخبری سُناتے رہے کہ یِسوعؔ ہی المسیح ہیں یہ کہنے سے باز نہ آئے۔
ACT 6:1 اُن دِنوں جَب شاگردوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی تو یُونانی یہُودی مقامی یہُودیوں کی شکایت کرکے کہنے لگے کیونکہ روزمرّہ کے کھانے کی تقسیم کے وقت ہماری بیواؤں کو نظر اَنداز کیا جاتا ہے۔
ACT 6:2 یہ سُن کر بَارہ رسولوں نے سارے شاگردوں کو جمع کیا اَور کہا، ”ہمارے لیٔے مُناسب نہیں کہ ہم خُدا کے کلام کی مُنادی کو چھوڑکر اَور کھانے پینے کا اِنتظام کرنے لگیں۔
ACT 6:3 اِس لیٔے اَے بھائیو اَور بہنوں، اَپنے میں سے سات نیک نام اَشخاص کو چُن لو جو پاک رُوح اَور دانائی سے معموُر ہوں تاکہ ہم اُنہیں اِس کام کی ذمّہ داری سونپ دیں
ACT 6:4 اَور ہم تو دعا کرنے اَور کلام سُنانے کی خدمت میں مشغُول رہیں گے۔“
ACT 6:5 یہ تجویز ساری جماعت کو پسند آئی۔ اُنہُوں نے ایک تو اِستِفنُسؔ کو، جو ایمان اَور پاک رُوح سے بھرے ہویٔے تھے؛ اِس کے علاوہ فِلِپُّسؔ، پُرخُرسؔ، نِیکانورؔ، تِیمونؔ، پَرمِناسؔ اَور نیکلاؤسؔ، جو انطاکِیہؔ کے، ایک نَو مُرید یہُودی تھے کو، مُنتخب کیا۔
ACT 6:6 اَور اُنہیں رسولوں کے حُضُور میں پیش کیا، جنہوں نے اُن کے لیٔے دعا کی اَور اُن پر ہاتھ رکھے۔
ACT 6:7 اِس طرح خُدا کا کلام تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔ یروشلیمؔ میں شاگردوں کی تعداد بہت ہی بڑھ گئی، اَور بہت سے کاہِنؔ بھی ایمان لایٔے اَور مسیحی ہو گئے۔
ACT 6:8 اَب اِستِفنُسؔ، خُدا کے فضل اَور اُس کی قُوّت سے بھرے ہویٔے، اَور لوگوں میں حیرت اَنگیز کام اَور بڑے معجزے دِکھانے تھے۔
ACT 6:9 یہ کُرینیوں، الیکزینڈریا، کِلکِیؔہ اَور آسیہؔ کے کچھ باشِندے جو لِبرتینی عبادت گاہ سے یعنی آزاد کئے ہوئے یہُودی عبادت گاہ کے رُکن میں سے مُخالف اُٹھ کھڑے ہویٔے اَور کچھ یہُودی مِل کر اِستِفنُسؔ سے بحث کرنے لگے۔
ACT 6:10 لیکن اِستِفنُسؔ جِس حِکمت اَور رُوح سے کلام کرتے تھے وہ اُن کا مُقابلہ نہ کر سکے۔
ACT 6:11 تَب اُنہُوں نے چُپکے۔ چُپکے کچھ لوگوں کو اُکساتے ہویٔے کہا، ”وہ یہ کہیں کہ ہم نے اِستِفنُسؔ کو حضرت مَوشہ اَور خُدا کے خِلاف کُفر بکتے سُنا ہے۔“
ACT 6:12 اِس طرح اُنہُوں نے عوام کو یہُودی بُزرگوں اَور شَریعت کے عالِموں کو اِستِفنُسؔ کے خِلاف اُبھارا۔ اُنہُوں نے اِستِفنُسؔ کو پکڑا اَور اُنہیں مَجلِس عامہ میں پیش کر دیا۔
ACT 6:13 اُنہُوں نے بہت سے جھُوٹے گواہ بھی پیش کیٔے، جنہوں نے یہ شہادت دی، ”یہ شخص اِس مُقدّس مقام اَور شَریعت کے خِلاف زبان چلانے سے باز نہیں آتا۔
ACT 6:14 اَور ہم نے اُسے یہ بھی کہتے سُنا ہے کہ یِسوعؔ ناصری اِس مقام کو تباہ کر دیں گے اَور اُن رسموں کو بھی بدل ڈالیں گے جو ہمیں حضرت مَوشہ نے عطا کی ہیں۔“
ACT 6:15 مَجلِس عامہ کے اراکین اِستِفنُسؔ کو گھُور، گھُور کر دیکھنے لگے لیکن اِستِفنُسؔ کا چہرہ فرشتہ کی مانِند دِکھائی دے رہاتھا۔
ACT 7:1 تَب اعلیٰ کاہِن نے اِستِفنُسؔ سے پُوچھا، ”کیا یہ اِلزامات دُرست ہیں؟“
ACT 7:2 اِستِفنُسؔ نے جَواب دیا: ”میرے بھائیو اَور بُزرگو، میری سُنو! خُدا کا جلال ہمارے بُزرگ حضرت اَبراہامؔ پر اُس وقت ظاہر ہُوا جَب وہ حارانؔ میں مُقیم ہونے سے پہلے مسوپتامیہؔ، میں رہتے تھے۔
ACT 7:3 خُدا نے اُن سے فرمایا، ’اَپنے وطن اَور اَپنے لوگوں کو چھوڑکر، اَور اُس مُلک میں جا بس، جو مَیں تُجھے دِکھاؤں گا۔‘
ACT 7:4 ”چنانچہ آپ نے کَسدیوں کی سرزمین کو چھوڑ دیا اَور حارانؔ میں جا بسے۔ اُن کے والد کی وفات کے بعد، خُدا نے اُنہیں اِس مُلک میں لا بسایا جہاں اَب تُم بسے ہویٔے ہو۔
ACT 7:5 خُدا نے اُنہیں یہاں کچھ بھی مِیراث میں نہیں دیا، ایک گز زمین بھی نہیں۔ لیکن وعدہ ضروُر کیا کہ میں یہ زمین تُجھے اَور تیرے بعد تیری نَسل کے قبضہ میں دے دُوں گا حالانکہ اُس وقت حضرت اَبراہامؔ کے کویٔی اَولاد نہ تھی۔
ACT 7:6 خُدا نے حضرت اَبراہامؔ سے فرمایا: ’چار سَو بَرس تک تیری نَسل ایک دُوسرے مُلک میں پردیسیوں کی طرح رہے گی، اَور وہاں کے لوگ اُسے غُلامی میں رکھیں گے اَور اُس سے بدسلُوکی سے پیش آتے رہیں گے۔
ACT 7:7 خُدا نے فرمایا، لیکن مَیں اُس قوم کو جو اُسے غُلام بنائے گی سزا دُوں گا، اَور اُس کے بعد تمہاری نَسل کے لوگ وہاں سے باہر نکل کر اِس جگہ میری عبادت کریں گے۔‘
ACT 7:8 اَور خُدا نے حضرت اَبراہامؔ سے ایک عہد باندھا جِس کا نِشان ختنہ تھا۔ چنانچہ جَب حضرت اَبراہامؔ اِصحاقؔ کے باپ بنے اَور اِصحاقؔ آٹھ دِن کے ہو گئے تو حضرت اَبراہامؔ نے حضرت اِصحاقؔ کا ختنہ کیا۔ پھر حضرت اِصحاقؔ یعقوب کے باپ بنے، اَور حضرت یعقوب ہماری قوم کے بَارہ قبیلوں کے باپ بنے۔
ACT 7:9 ”پس حضرت یعقوب کے بیٹوں نے حَسد میں آکر اَپنے بھایٔی یُوسیفؔ کو، چند مِصریوں کے ہاتھ بیچ ڈالا اَور وہ آپ کو غُلام بنا کر مِصر لے گیٔے۔ مگر خُدا آپ کے ساتھ تھا
ACT 7:10 اَور خُدا نے اُنہیں ساری مُصیبتوں سے بچائے رکھا۔ اُنہیں حِکمت عطا کی اَور مِصر کے بادشاہ فَرعوہؔ کی نظر میں اَیسی مقبُولیّت بخشی۔ چنانچہ فَرعوہؔ نے حضرت یُوسیفؔ کو مِصر کا حاکم مُقرّر کر دیا اَور اَپنے محل کا مُختار بنا دیا۔
ACT 7:11 ”ایک مرتبہ سارے مِصر اَور کنعانؔ میں قحط پڑ گیا، بڑی مُصیبت آئی، اَور ہمارے آباؤاَجداد کو بھی غلّہ کی قِلّت محسُوس ہونے لگی۔
ACT 7:12 جَب حضرت یعقوب نے سُنا کہ مِصر میں غلّہ مِل سَکتا ہے، آپ نے ہمارے بُزرگوں کو مِصر روانہ کیا جہاں وہ پہلی مرتبہ گیٔے تھے۔
ACT 7:13 جَب وہ دُوسری مرتبہ مِصر گیٔے، تو حضرت یُوسیفؔ نے اَپنی پہچان اَپنے بھائیوں پر ظاہر کر دی، اَور فَرعوہؔ کو بھی حضرت یُوسیفؔ کے خاندان کے بارے میں مَعلُوم ہو گیا۔
ACT 7:14 اِس واقعہ کے بعد حضرت یُوسیفؔ نے اَپنے باپ حضرت یعقوب کو اَور اُن کے سارے خاندان کو جو پچھتّر افراد پر مُشتمل تھا، کو بُلا بھیجا۔
ACT 7:15 چنانچہ حضرت یعقوب مِصر کو تشریف لے گیٔے، وہاں وہ اَور ہمارے آباؤاَجداد وہیں اِنتقال کر گیٔے۔
ACT 7:16 اُن کی لاشوں کو وہاں سے شِکیمؔ مُنتقل کیا گیا اَور اُنہیں اُس مقبرہ میں دفن کیا گیا جسے حضرت اَبراہامؔ نے رقم دے کر شِکیمؔ میں بنی حمورؔ سے خریدا تھا۔
ACT 7:17 ”جَب اُس وعدہ کے پُورے ہونے کا وقت آیا جو خُدا نے حضرت اَبراہامؔ سے کیا تھا تو مِصر میں ہمارے لوگوں کی تعداد کافی بڑھ چُکی تھی۔
ACT 7:18 اُس وقت ’ایک نیا بادشاہ، جو حضرت یُوسیفؔ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا مِصر پر حُکمراں ہو چُکاتھا۔‘
ACT 7:19 اُس نے ہماری قوم کے ساتھ دھوکا بازی کی اَور ہمارے آباؤاَجداد پر بڑے ظُلم ڈھائے اَور اُنہیں مجبُور کر دیا کہ وہ اَپنے ننّھے بچّوں کو باہر پھینک آئیں تاکہ وہ مَر جایٔیں۔
ACT 7:20 ”اُن ہی دِنوں حضرت مَوشہ پیدا ہویٔے۔ وہ خُدا کی نہایت ‏‏مَعمولی بچّہ نہ ‎‎تھے۔ وہ تین ماہ تک اَپنے باپ کے گھر میں پرورِش پاتے رہے۔
ACT 7:21 بعد کو جَب اُنہیں باہر پھینکا گیا، تو فَرعوہؔ کی بیٹی اُنہیں اُٹھا لائی اَور اَپنے بیٹے کی طرح اُن کی پرورِش کی۔
ACT 7:22 حضرت مَوشہ نے مِصریوں کی ساری تعلیم و تربّیت حاصل کی اَور وہ کلام اَور عَمل دونوں میں قُوّت والے تھے۔
ACT 7:23 ”جَب حضرت مَوشہ چالیس بَرس کے ہویٔے، تو اُن کے دِل میں آیا کہ وہ اَپنے بھائیوں یعنی بنی اِسرائیلؔ کا حال مَعلُوم کریں۔
ACT 7:24 اُنہُوں نے اُن میں سے ایک کو ظُلم سہتے ہویٔے دیکھا تو اُس کی مدد کو پہُنچے اَور اُس ظالِم مِصری کو قتل کرکے اُس کے ظُلم کا بدلہ لے لیا۔
ACT 7:25 حضرت مَوشہ کا خیال تھا کہ میرے بھائیو کو اِس بات کا احساس ہو جائے گا کہ خُدا اُن کے ذریعہ اِسرائیلیوں کو غُلامی سے نَجات بخشےگا، لیکن اُن کو اِس کا احساس تک نہ ہُوا۔
ACT 7:26 اگلے دِن حضرت مَوشہ نے دو اِسرائیلیوں کو آپَس میں لڑتے دیکھا۔ آپ نے اُن میں صُلح کرانے کی کوشش کرتے ہویٔے اُن سے یہ فرمایا، ’اَے آدمیو، تُم تو آپَس میں بھایٔی بھایٔی ہو؛ کیوں ایک دُوسرے پر ظُلم کر رہے ہو؟‘
ACT 7:27 ”لیکن جو آدمی اَپنے پڑوسی پر ظُلم کر رہاتھا اِس نے حضرت مَوشہ کو دھُتکار دیا اَور کہا، ’آپ کو کِس نے ہم پر حاکم اَور قاضی مُقرّر کیا ہے؟
ACT 7:28 جِس طرح آپ نے کل اُس مِصری کو قتل کر ڈالا تھا کیا مُجھے بھی اُسی طرح مار ڈالنا چاہتے ہیں؟‘
ACT 7:29 یہ بات سُنتے ہی، حضرت مَوشہ وہاں سے مُلک مِدیان میں تشریف لے گیٔے، جہاں وہ ایک پردیسی کی طرح رہنے لگے اَور وہاں اُن کے دو بیٹے پیدا ہویٔے۔
ACT 7:30 ”چالیس بَرس بعد، کوہِ سِینؔائی کے بیابان میں اُنہیں ایک جلتی ہویٔی جھاڑی کے بیچ آگ کے شُعلوں میں فرشتہ دِکھائی دیا۔
ACT 7:31 جَیسے ہی حضرت مَوشہ نے یہ منظر دیکھا تو حیران رہ گیٔے اَور جَب اُسے غور سے دیکھنے کے لیٔے نزدیک بڑھے، تو اُنہیں خُداوؔند کی آواز سُنایٔی دی:
ACT 7:32 ’مَیں تمہارے آباؤاَجداد کا یعنی حضرت اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کا، خُدا ہُوں۔‘ حضرت مَوشہ اُس منظر کی تاب نہ لا سکے اَور ڈر کے مارے کانپنے لگے۔
ACT 7:33 ”تَب خُداوؔند نے اُن سے فرمایا، ’اَپنے جُوتے اُتارو، کیونکہ جِس جگہ تُم کھڑے ہو وہ پاک سرزمین ہے۔
ACT 7:34 مَیں نے مِصر میں اَپنے لوگوں کی مُصیبت دیکھ لی ہے۔ مَیں نے اُن کی آہ و زاری بھی سُنی ہے اَور اِس لیٔے میں اُنہیں چھُڑانے کے لیٔے نیچے اُترا ہُوں۔ اَب، مَیں تُجھے مِصر میں واپس بھیجوں گا۔‘
ACT 7:35 ”یہی ہیں وہ حضرت مَوشہ جِن کا اُنہُوں نے اِنکار کیا تھا، ’آپ کو کِس نے ہم پر حاکم اَور قاضی مُقرّر کیا ہے؟‘ اِن ہی حضرت مَوشہ کو خُدا نے، اُس فرشتہ کی مَعرفت جو اُنہیں جھاڑی میں نظر آیاتھا حاکم اَور چُھڑانے والا بنا کر بھیج دیا۔
ACT 7:36 حضرت مَوشہ لوگوں کو مِصر سے نکال لایٔے اَور مُلک مِصر میں، بحرِقُلزمؔ پر اَور بیابان میں چالیس بَرس تک حیرت اَنگیز معجزے اَور نِشان دِکھانے رہے۔
ACT 7:37 ”اِنہیں حضرت مَوشہ نے بنی اِسرائیلؔ سے فرمایا تھا، ’خُدا تمہارے اَپنے بھائیوں میں سے تمہارے لیٔے میری مانِند ایک نبی پیدا کرےگا۔‘
ACT 7:38 یہی بیابان میں اِسرائیلی جماعت میں فرشتہ کے ساتھ تھا جو کوہِ سِینؔائی پر حضرت مَوشہ سے ہم کلام ہُوا، اَور ہمارے آباؤاَجداد کے ساتھ؛ اَور اِن ہی کو زندہ کلام عطا کیا گیا تاکہ وہ ہم تک پہُنچا دیں۔
ACT 7:39 ”لیکن ہمارے آباؤاَجداد نے اُن کی فرمانبرداری نہ کی۔ بَلکہ، اُنہیں ردّ کر دیا اَور اُن کے دِل مِصر کی طرف راغِب ہونے لگے۔
ACT 7:40 اُنہُوں نے حضرت ہارونؔ سے کہا، ’ہمارے لیٔے اَیسے معبُود بنادے جو ہمارے آگے آگے چلیں۔ کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ حضرت مَوشہ جو ہمیں مُلک مِصر سے نکال کر لایٔے ہیں، اُن کے ساتھ کیا ہُوا!‘
ACT 7:41 تَب اُنہُوں نے بچھڑا نُما بُت بنایا۔ اُس کے آگے قُربانیاں چڑھائیں اَور اَپنے ہاتھوں کی کاریگری پر جَشن منایا۔
ACT 7:42 لیکن خُدا نے اُن سے مُنہ موڑ لیا اَور اُنہیں آسمان سُورج، چاند، اَور سیّاروں کی پرستش کرنے کے لیٔے چھوڑ دیا۔ جَیسا کہ نبیوں کی کِتاب میں لِکھّا ہے: ” ’اَے بنی اِسرائیل کیا تُم چالیس بَرس تک بیابان میں، میرے لیٔے قُربانیاں کرتے اَور نذریں لاتے رہے؟
ACT 7:43 بَلکہ تُم اَپنے ساتھ مولکؔ کے خیمہ اَور اَپنے معبُود رِفانؔ، کے سِتارے کو لیٔے پھرتے تھے، یعنی وہ بُت جنہیں تُم نے پرستش کے لیٔے بنایا تھا۔ لہٰذا میں تُمہیں بابیل سے بھی پرے جَلاوطن کرکے بھیج دُوں گا۔‘
ACT 7:44 ”بیابان میں ہمارے آباؤاَجداد کے پاس شہادت کا خیمہ تھا۔ جِس کا نمونہ حضرت مَوشہ نے دیکھا تھا اَور خُدا نے اُنہیں ہدایت کی تھی کہ ایک خیمہ اُسی کے مُوافق بنانا، چنانچہ اُسی نمونہ کے مُطابق بنایا گیا جو آپ نے دیکھا تھا۔
ACT 7:45 جَب یہ خیمہ ہمارے آباؤاَجداد کو مِلا، تو وہ اُسے لے کر حضرت یہوشُعؔ کے ساتھ اُس سرزمین پر پہُنچے جو اُنہُوں نے اُن غَیریہُودی سے چھینی تھی جنہیں خُدا نے اُن کے سامنے وہاں سے نکال دیا تھا۔ وہ خیمہ داویؔد کے زمانہ تک وہیں رہا،
ACT 7:46 داویؔد خُدا کے مقبُول نظر ہویٔے اَور اُنہُوں نے خُدا سے درخواست کی کہ مُجھے حضرت یعقوب کے خُدا کے واسطے ایک قِیام گاہ بنانے کی اِجازت دی جائے۔
ACT 7:47 مگر وہ حضرت شُلومونؔ تھے جنہیں خُدا کے لیٔے مَسکن کے تعمیر کرنے کی تَوفیق مِلی۔
ACT 7:48 ”لیکن، خُداتعالیٰ اِنسانی ہاتھوں کے بنائے ہویٔے اُونچے گھروں میں نہیں رہتا جَیسا کہ نبی نے فرمایاہے:
ACT 7:49 ” ’آسمان میرا تخت ہے، اَور زمین میرے پاؤں کی چوکی۔ تُم میرے لیٔے کِس قِسم کا گھر تعمیر کروگے؟ خُداوؔند فرماتے ہیں۔ یا میری آرامگاہ کہاں ہوگی؟
ACT 7:50 کیا یہ ساری چیزیں میری بنائی ہویٔی نہیں؟‘
ACT 7:51 ”اَے گردن کشو! تمہارے دِل اَور کان دونوں نامختون ہیں۔ جَیسے تمہارے آباؤاَجداد کرتے آئے ہیں: وَیسے ہی تُم بھی پاک رُوح کی ہمیشہ مُخالفت کرتے رہتے ہو!
ACT 7:52 کیا کویٔی نبی اَیسا بھی گُزرا ہے جسے تمہارے باپ دادا نے نہیں ستایا؟ اُنہُوں نے تو اُن نبیوں کو بھی قتل کر دیا جنہوں نے اُس راستباز کے آنے کی پیشین گوئی کی تھی۔ اَور اَب تُم نے اُنہیں پکڑواکر قتل کروا دیا۔
ACT 7:53 تُم نے وہ شَریعت پائی جو فرشتوں کی مَعرفت عطا کی گئی لیکن اُس پر عَمل نہ کیا۔“
ACT 7:54 جَب اُنہُوں نے یہ باتیں سُنیں تو جُل بُھن کر رہ گیٔے اَور اِستِفنُسؔ پر دانت پیسنے لگے۔
ACT 7:55 لیکن اِستِفنُسؔ نے، پاک رُوح سے معموُر ہوکر، آسمان کی طرف غور سے نگاہ کی تو اُنہیں خُدا کا جلال دِکھائی دیا، اَور یِسوعؔ المسیح کو خُدا کے داہنے ہاتھ کھڑے ہویٔے دیکھا۔
ACT 7:56 ”دیکھو،“ اِستِفنُسؔ نے فرمایا، ”میں آسمان کو کھُلا ہُوا اَور اِبن آدمؔ کو خُدا کے داہنے ہاتھ کھڑے ہویٔے دیکھتا ہُوں۔“
ACT 7:57 یہ سُنتے ہی لوگ زور سے چِلّائے اَور اَپنے کانوں میں اُنگلیاں دے لیں، اَور ایک ساتھ اِستِفنُسؔ پر جھپٹ پڑے۔
ACT 7:58 اَور اِستِفنُسؔ کو گھسیٹ کر شہر سے باہر لے گیٔے اَور آپ پر پتّھر برسانے لگے۔ اِس دَوران، گواہوں نے اَپنے چوغے کو اُتار کر ساؤلؔ نامی ایک جَوان آدمی کے پاس رکھ دئیے۔
ACT 7:59 جَب وہ اِستِفنُسؔ پر پتّھر برسا رہے تھے تو آپ یہ دعا کر رہے تھے، ”اَے خُداوؔند یِسوعؔ، میری رُوح کو قبُول فرما۔“
ACT 7:60 پھر اُنہُوں نے گھُٹنے ٹیک کر زور سے پُکارا، ”اَے خُداوؔند، یہ گُناہ اِن کے ذمّہ نہ لگانا۔“ یہ کہنے کے بعد، وہ موت کی نیند سَو گیٔے۔
ACT 8:1 اَور ساؤلؔ اِستِفنُسؔ کے قتل میں شامل تھا۔ اُسی دِن یروشلیمؔ میں جماعت پر مَظالم کا سلسلہ شروع ہو گیا، اَور رسولوں کے سِوا سارے مسیحی یہُودیؔہ اَور سامریہؔ کی اطراف میں بِکھر گیٔے۔
ACT 8:2 بعض دیندار آدمیوں نے اِستِفنُسؔ کو لے جا کر دفنایا اَور اُن پر بڑا ماتم کیا۔
ACT 8:3 اِدھر ساؤلؔ نے جماعت کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ گھر گھر جاتا تھا، مَردوں اَور عورتوں دونوں کو باہر گھسیٹ کر قَید کراتا تھا۔
ACT 8:4 جماعت کے لوگ بِکھر جانے کے بعد جہاں جہاں گیٔے، کلام کی خُوشخبری سُناتے پھرے۔
ACT 8:5 چنانچہ فِلِپُّسؔ سامریہؔ کے ایک شہر میں گیٔے اَور وہاں المسیح کی مُنادی کرنے لگے۔
ACT 8:6 جَب لوگوں نے فِلِپُّسؔ کی باتیں سُنیں اَور اُن کے معجزے دیکھے تو وہ سَب کے سَب بڑے شوق سے اُن کی طرف مُتوجّہ ہونے لگے۔
ACT 8:7 کیٔی لوگوں میں سے بدرُوحیں چِلّاتی ہویٔی نکلیں اَور بہت سے مفلُوج اَور لنگڑے شفایاب ہویٔے
ACT 8:8 جِس سے شہر والوں کو بڑی خُوشی ہویٔی۔
ACT 8:9 کچھ عرصہ سے شمعُونؔ نام ایک آدمی نے سامریہؔ شہر میں اَپنی جادُوگری سے سارے سامریہؔ کے لوگوں کو حیرت میں ڈال رکھا تھا اَور کہتا تھا کہ وہ ایک بڑا آدمی ہے۔
ACT 8:10 اَور چُھوٹے بڑے، سَب اُس کی طرف مُتوجّہ ہوکر کہنے لگے۔ ”اِس آدمی کو ہی خُدا کی عظیم طاقت کہا جاتا ہے۔“
ACT 8:11 چونکہ اُس نے اَپنے جادُو سے اُنہیں حیران کر رکھا تھا اِس لیٔے لوگ اُسے توجّہ کے قابل سمجھنے لگے۔
ACT 8:12 لیکن جَب فِلِپُّسؔ نے خُدا کی بادشاہی اَور یِسوعؔ المسیح کے نام کی خُوشخبری سُنایٔی شروع کی تو سارے مَردو زن ایمان لے آئے اَور پاک ‏غُسل لینے لگے۔
ACT 8:13 شمعُونؔ خُود بھی ایمان لایا اَور پاک ‏غُسل لیا۔ اَور وہ فِلِپُّسؔ کے ساتھ ہو لیا، اَور وہ بڑے بڑے نِشان اَور معجزے دیکھ کر دنگ رہ گیا۔
ACT 8:14 جَب یروشلیمؔ میں رسولوں نے سُنا کہ سامریہؔ کے لوگوں نے خُدا کا کلام قبُول کر لیا، تو اُنہُوں نے پطرس اَور یُوحنّا کو سامریہؔ بھیجا۔
ACT 8:15 جَب وہ وہاں پہُنچے تو اُنہُوں نے اُن لوگوں کے لیٔے دعا کی کہ وہ پاک رُوح پائیں،
ACT 8:16 اِس لیٔے کہ ابھی پاک رُوح اُن میں سے کسی پر نازل نہ ہُوا تھا؛ اُنہُوں نے صِرف خُداوؔند یِسوعؔ کے نام پر پاک ‏غُسل لیا تھا۔
ACT 8:17 تَب پطرس اَور یُوحنّا نے اُن پر ہاتھ رکھے اَور اُنہُوں نے بھی پاک رُوح پایا۔
ACT 8:18 جَب شمعُونؔ نے دیکھا کہ رسولوں کے ہاتھ رکھنے سے پاک رُوح ملتا ہے، تو اُس نے رُوپے لاکر رسولوں کو پیش کیٔے
ACT 8:19 اَور کہا، ”مُجھے بھی اِختیار دو کہ میں جِس کسی پر ہاتھ رکھوں وہ پاک رُوح پایٔے۔“
ACT 8:20 پطرس نے جَواب میں فرمایا: ”تیرے رُوپے تیرے ساتھ غارت ہوں، کیونکہ تُونے رُوپیَوں سے خُدا کی اِس نِعمت کو خریدنا چاہا!
ACT 8:21 اِس مُعاملہ میں تیرا کویٔی بھی حِصّہ یا بَخرہ نہیں، کیونکہ خُدا کے نزدیک تیرا دِل صَاف نہیں ہے۔
ACT 8:22 اَپنی اِس بدنیّتی سے تَوبہ کر اَور خُداوؔند سے دعا کر کہ شاید وہ اِس دِل کی بُری نیّت کے لیٔے تُجھے مُعاف کر دے۔
ACT 8:23 کیونکہ مَیں دیکھتا ہُوں کہ تُو شدید تلخی اَور ناراستی کے بند میں گِرفتار ہے۔“
ACT 8:24 تَب شمعُونؔ نے جَواب دیا، ”میرے لیٔے خُداوؔند سے دعا کرو کہ جو کچھ تُم نے کہا ہے وہ مُجھے پیش نہ آئے۔“
ACT 8:25 تَب رسول خُداوؔند کا کلام سُنانے اَور یِسوعؔ کی گواہی دینے کے بعد یروشلیمؔ لَوٹ گیٔے، اَور راستے میں سامریوں کے کیٔی قصبوں میں بھی خُوشخبری سُناتے گیٔے۔
ACT 8:26 پھر خُداوؔند کے فرشتہ نے فِلِپُّسؔ سے کہا، ”اُٹھو اَور جُنوب کی طرف اُس راہ پر جاؤ جو یروشلیمؔ سے بیابان میں ہوتی ہویٔی غزّہؔ کو جاتی ہے۔“
ACT 8:27 چنانچہ فِلِپُّسؔ اُٹھے اَور روانہ ہویٔے، راستے میں اُن کی مُلاقات ایک خوجہ سے ہویٔی جو ایتھوپیا کی ملِکہ کنداکؔے کا ایک وزیر تھا اَور اُس کے سارے خزانہ کی دیکھ بھال اُس کے ذمّہ تھی۔ یہ شخص یروشلیمؔ میں عبادت کی غرض سے آیاتھا،
ACT 8:28 اَور اَب وہاں سے لَوٹ کر اَپنے وطن جا رہاتھا۔ وہ اَپنے رتھ پر سوار تھا اَور یَشعیاہ نبی کا صحیفہ پڑھ رہاتھا۔
ACT 8:29 پاک رُوح نے فِلِپُّسؔ کو حُکم دیا، ”نزدیک جاؤ اَور رتھ کے ہمراہ ہو لو۔“
ACT 8:30 فِلِپُّسؔ دَوڑکر رتھ کے نزدیک پہُنچے اَور رتھ سوار کو یَشعیاہ نبی کا صحیفہ پڑھتے ہویٔے سُنا۔ فِلِپُّسؔ نے اُس سے پُوچھا، ”کیا جو کچھ تو پڑھ رہاہے اُسے سمجھتا بھی ہے؟“
ACT 8:31 اُس نے مِنّت کرکے کہا، ”میں کیسے سمجھ سَکتا ہوں، جَب تک کہ کویٔی مُجھ سے اِس کی وضاحت نہ کرے؟“ تَب اُس نے فِلِپُّسؔ کو مدعو کیا کہ اُس کے ساتھ رتھ میں آبیٹھیں۔
ACT 8:32 کِتاب مُقدّس میں سے جو خوجہ پڑھ رہاتھا یہ تھا: ”لوگ اُنہیں بھیڑ کی طرح ذبح کرنے کے لیٔے لے گیٔے، اَور جِس طرح برّہ اَپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زبان ہوتاہے، اُسی طرح اُنہُوں نے بھی اَپنا مُنہ نہیں کھولا۔
ACT 8:33 اَپنی پست حالی میں وہ اِنصاف سے محروم کر دئیے گیٔے۔ کون اُن کی نَسل کا حال بَیان کرےگا؟ کیونکہ زمین پر سے اُن کی زندگی مِٹائی جاتی ہے۔“
ACT 8:34 خوجہ نے فِلِپُّسؔ سے کہا، ”مہربانی سے مُجھے بتائیے، نبی یہ باتیں کِس کے بارے میں کہتاہے۔ خُود یا کسی اَور کے بارے میں؟“
ACT 8:35 فِلِپُّسؔ نے کِتاب مُقدّس کے اُسی حِصّہ سے شروع کرکے اُسے یِسوعؔ کے بارے میں خُوشخبری سُنایٔی۔
ACT 8:36 سفر کرتے کرتے وہ راستے میں ایک اَیسی جگہ پہُنچے جہاں پانی تھا۔ خوجہ نے کہا، ”دیکھئے، یہاں پانی ہے۔ اَب مُجھے پاک ‏غُسل لینے سے کون سِی چیز روک سکتی ہے؟“
ACT 8:37 فِلِپُّسؔ نے کہا، ”اگر تُو دِل و جان سے ایمان لایٔے، تو پاک ‏غُسل لے سَکتا ہے۔“ اُس نے جَواب دیا، ”میں ایمان لاتا ہُوں کہ یِسوعؔ خُدا کے بیٹے ہیں۔“
ACT 8:38 پھر آپ نے رتھ کے ٹھہرانے کا حُکم دیا۔ پس دونوں فِلِپُّسؔ اَور خوجہ پانی میں اُترے اَور فِلِپُّسؔ نے اُسے پاک ‏غُسل دیا۔
ACT 8:39 جَب وہ پانی میں سے باہر نکلے تو خُداوؔند کا رُوح فِلِپُّسؔ کو وہاں سے اُٹھالے گیا اَور خوجہ نے اُنہیں پھر نہ دیکھا لیکن وہ خُوشی، خُوشی اَپنی جگہ پر روانہ ہو لیا۔
ACT 8:40 تاہم، فِلِپُّسؔ، اشدُودؔ میں نظر آئے اَور وہاں سفر کرتے اَور سارے قصبوں میں خُوشخبری سُناتے ہویٔے قَیصؔریہ میں پہُنچ گیٔے۔
ACT 9:1 اِس دَوران، ساؤلؔ جو خُداوؔند کے شاگردوں کو مار ڈالنے کی دھمکیاں دیا کرتا تھا۔ اعلیٰ کاہِن کے پاس گیا
ACT 9:2 اَور اُس سے دَمشق شہر کے یہُودی عبادت گاہوں کے لیٔے اَیسے خُطوط مانگے، جو اُنہیں اِختیار دیں کہ اگر وہاں وہ کسی کو اِس راہ پر چلتا پایٔے، خواہ وہ مَرد ہو یا عورت، تو اُنہیں گِرفتار کرکے بطور قَیدی یروشلیمؔ لے آئے۔
ACT 9:3 جَب وہ سفر کرتے کرتے دَمشق شہر کے نزدیک پہُنچے، تو اَچانک ایک نُور آسمان سے آیا اَور اُن کے اِردگرد چمکنے لگا۔
ACT 9:4 وہ زمین پر گِر پڑا اَور اُس نے ایک آواز سُنی، ”اَے ساؤلؔ، اَے ساؤلؔ، تُو مُجھے کیوں ستاتا ہے؟“
ACT 9:5 ساؤلؔ نے پُوچھا، ”اَے آقا، آپ کون ہیں؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”میں یِسوعؔ ہُوں جسے تُو ستاتا ہے،
ACT 9:6 اَب اُٹھ اَور شہر کو جا، اَور تُجھے بتا دیا جائے گا کہ تُجھے کیا کرناہے۔“
ACT 9:7 جو لوگ ساؤلؔ کے ہم سفر تھے خاموش کھڑے رہ گیٔے؛ اُنہیں آواز تو سُنایٔی دے رہی تھی لیکن نظر کوئی نہیں آ رہاتھا۔
ACT 9:8 ساؤلؔ زمین پر سے اُٹھا اَور جَب اُس نے اَپنی آنکھیں کھولیں تو وہ کچھ بھی نہیں دیکھ سَکا اَور اُس کے ساتھی اُس کا ہاتھ پکڑکر اُسے دَمشق شہر لے گیٔے۔
ACT 9:9 وہ تین دِن تک نہیں دیکھ سَکا، اَور اُس نے نہ کچھ کھایا اَور نہ کچھ پیا۔
ACT 9:10 دَمشق شہر میں یِسوعؔ المسیح کے ایک شاگرد رہتا تھا جِس کا نام حننیاہؔ تھا۔ خُداوؔند نے حننیاہؔ کو رُویا میں فرمایا، ”اَے حننیاہؔ!“ ”ہاں، خُداوؔند،“ اُس نے جَواب دیا۔
ACT 9:11 خُداوؔند نے اُس سے فرمایا، ”اُس کوچہ میں جو سیدھا کہلاتا ہے، یہُوداہؔ کے گھر جانا وہاں ساؤلؔ ترسُسؔ نامی ایک آدمی ہے تو اُس کے بارے میں پُوچھنا کیونکہ دیکھ وہ دعا کرنے میں مشغُول ہے۔
ACT 9:12 ساؤلؔ نے رُویا میں ایک حننیاہؔ نامی آدمی کو آتے اَور اَپنے اُوپر اُس کے ہاتھ رکھتے ہویٔے دیکھا تاکہ وہ پھر سے بینا ہو جائے۔“
ACT 9:13 حننیاہؔ نے کہا، ”اَے خُداوؔند مَیں نے اِس شخص کے بارے میں کیٔی لوگوں سے بہت سِی باتیں سُنی ہیں اَور یہ بھی کہ اِس نے تیرے مُقدّسین کے ساتھ یروشلیمؔ میں کیسی کیسی بُرائیاں کی ہیں۔
ACT 9:14 اَور اُن اہم کاہِنوں کی طرف سے اِختیار مِلا ہے کہ یہاں بھی اُن سَب کو جو آپ کا نام لیتے ہیں گِرفتار کر لے۔“
ACT 9:15 لیکن خُداوؔند نے حننیاہؔ سے فرمایا، ”جاؤ! کیونکہ مَیں نے اُس آدمی کو ایک ہتھیار کی مانِند چُن لیا ہے تاکہ اِس کے وسیلہ سے غَیریہُودی، بادشاہوں اَور بنی اِسرائیلؔ میں میرے نام کا اِظہار ہو۔
ACT 9:16 میں اُسے جتا دُوں گا کہ میرے نام کی خاطِر اُسے کِس قدر دُکھ اُٹھانا پڑےگا۔“
ACT 9:17 تَب حننیاہؔ گیا اَور اُس گھر میں داخل ہُوا۔ اُس نے مُجھ پر اَپنے ہاتھ رکھے اَور کہا، ”بھایٔی ساؤلؔ، اُس خُداوؔند یِسوعؔ نے جو تُجھ پر وہاں راستے میں ظاہر ہویٔے تھے۔ اُن ہی نے مُجھے یہاں بھیجا ہے تاکہ تُو پھر سے دیکھنے لگے اَور پاک رُوح سے معموُر ہو جائے۔“
ACT 9:18 اُسی وقت ساؤلؔ کی آنکھوں سے چھِلکے سے گِرے، اَور وہ بینا ہو گیا۔ تَب ساؤلؔ نے اُٹھ کر پاک ‏غُسل لیا۔
ACT 9:19 اَور کچھ کھا کر، نئے سِرے سے قُوّت پائی۔ اَور پھر کچھ دِنوں تک شاگردوں کے ساتھ دَمشق شہر میں رہے۔
ACT 9:20 اُس کے فوراً بعد ساؤلؔ نے یہُودی عبادت گاہوں میں مُنادی شروع کر دی کہ یِسوعؔ ہی خُدا کا بیٹا ہیں۔
ACT 9:21 جِتنوں نے ساؤلؔ کی باتیں سُنیں وہ سَب حیران ہوکر پُوچھنے لگے، ”کیا یہ وُہی شخص نہیں جِس نے یروشلیمؔ میں خُداوؔند یِسوعؔ کے نام لیوا کو تباہ کر ڈالا تھا؟ کیا یہ یہاں بھی اِس لیٔے نہیں آیا کہ اَیسے لوگوں کو گِرفتار کرکے اہم کاہِنوں کے پاس لے جائے؟“
ACT 9:22 اِس کے باوُجُود ساؤلؔ قُوّت پاتا گیا اَور اِس بات کو ثابت کرکے کہ یِسوعؔ ہی المسیح ہیں دَمشق شہر کے باشِندوں اَور یہُودیوں کو حیرت میں ڈال دیا۔
ACT 9:23 جَب کافی دِن گزر گئے تو یہُودیوں نے مِل کر ساؤلؔ کو قتل کر ڈالنے کا مشورہ کیا۔
ACT 9:24 وہ دِن رات شہر کے دروازوں پر لگے رہتے تھے تاکہ ساؤلؔ کو مار ڈالیں لیکن ساؤلؔ کو اُن کی سازش کا علم ہو گیا۔
ACT 9:25 چنانچہ ساؤلؔ کے شاگردوں نے رات کو اُنہیں ایک بڑے ٹوکرے میں بِٹھایا اَور شہر کی دیوار کے شگاف میں سے لٹکا کر باہر اُتار دیا۔
ACT 9:26 جَب ساؤلؔ یروشلیمؔ پہُنچا اَور اُس نے شاگردوں میں شامل ہونے کی کوشش کی، لیکن سَب ساؤلؔ سے ڈرتے تھے کیونکہ اُنہیں یقین نہیں آتا تھا کہ وہ واقعی یِسوعؔ کا پیروکار ہو گیا ہے۔
ACT 9:27 مگر بَرنباسؔ ساؤلؔ کو اَپنے ساتھ رسولوں کے پاس لایٔے۔ اُنہیں بتایا کہ کِس طرح ساؤلؔ نے سفر کرتے وقت خُداوؔند کو دیکھا اَور خُدا نے اُس سے باتیں کیں، اَور ساؤلؔ نے کیسی دِلیری کے ساتھ دَمشق شہر میں یِسوعؔ کے نام سے مُنادی کی۔
ACT 9:28 تَب ساؤلؔ یروشلیمؔ میں اُن سے ملتا جُلتا رہا اَور بڑی دِلیری سے خُداوؔند کی مُنادی کرتا رہا۔
ACT 9:29 آپ یُونانی بولنے والے یہُودیوں کے ساتھ بھی گُفتگو اَور بحث کیا کرتے تھے، لیکن وہ آپ کو مار ڈالنے پرتُلے ہویٔے تھے۔
ACT 9:30 جَب مسیحی بھائیوں کو اِس کا علم ہُوا، تو وہ آپ کو قَیصؔریہ لے گیٔے اَور وہاں سے ساؤلؔ کو ترسُسؔ روانہ کر دیا۔
ACT 9:31 تَب تمام یہُودیؔہ، گلِیل اَور سامریہؔ میں جماعت کو اَمن نصیب ہُوا، وہ مضبُوط ہوتی گئی خُداوؔند کے خوف و عقیدت میں زندگی گُزارنے اَور پاک رُوح کی حوصلہ اَفزائی سے جماعت کی تعداد میں اِضافہ ہوتا چلا گیا۔
ACT 9:32 جَب پطرس مُختلف قصبوں اَور دیہاتوں سے ہوتے ہویٔے لُدّہؔ میں رہنے والے مُقدّسین کے پاس پہُنچے
ACT 9:33 تو آپ کو وہاں اَینیاسؔ نامی کا ایک شخص مِلا جو مفلُوج تھا اَور آٹھ بَرس سے بِستر پر پڑتھا۔
ACT 9:34 پطرس نے اُس سے کہا، ”اَے اَینیاسؔ، یِسوعؔ المسیح تُجھے شفا بخشتے ہیں۔ اُٹھ اَور اَپنا بِستر سمیٹ۔“ وہ اُسی دَم اُٹھ کھڑا ہُوا۔
ACT 9:35 تَب لُدّہؔ اَور شارونؔ کے سارے باشِندے اَینیاسؔ کو دیکھ کر خُداوؔند پر ایمان لایٔے۔
ACT 9:36 یافؔا میں ایک مسیحی خاتُون شاگرد تھی جِس کا نام تبِیتؔا (یُونانی میں ڈورکاسؔ یعنی ہِرنی) تھا جو ہمیشہ نیکی کرنے اَور غریبوں کی مدد کرنے میں لگی رہتی تھی۔
ACT 9:37 اُن ہی دِنوں میں وہ بیمار ہویٔی اَور مَر گئی، اُس کی لاش کو غُسل دے کر اُوپر کے کمرہ میں رکھ دیا۔
ACT 9:38 لُدّہؔ یافؔا کے نزدیک ہی تھا؛ لہٰذا جَب شاگردوں نے سُنا کہ پطرس لُدّہؔ میں ہے، تو دو آدمی بھیج کر آپ سے درخواست کی، ”مہربانی سے فوراً چلئے!“
ACT 9:39 پطرس اُن کے ساتھ روانہ ہویٔے اَور جَب وہاں پہُنچے تو وہ آپ کو اُوپر والے کمرے میں لے گیٔے۔ ساری بِیوہ عورتیں روتی ہویٔی آپ کے اِردگرد کھڑی ہویٔیں اَور پطرس کو وہ کُرتے اَور دُوسرے کپڑے جو ڈورکاسؔ نے اُن کے درمیان رہ کر سِئیے تھے، دِکھانے لگیں۔
ACT 9:40 پطرس نے اُن سَب کو کمرہ سے باہر بھیج دیا اَور خودگھٹنوں کے بَل ہوکر دعا کرنے لگے۔ پھر آپ نے لاش کی طرف مُنہ کرکے، پطرس نے فرمایا، ”اَے تبِیتؔا، اُٹھ۔“ اُس نے اَپنی آنکھیں کھول دیں، اَور پطرس کو دیکھ کر وہ اُٹھ بیٹھی۔
ACT 9:41 پطرس نے اَپنے ہاتھ سے پکڑکر اُسے اُٹھایا اَور پیروں پر کھڑے ہونے میں اُس کی مدد کی۔ تَب آپ نے مُومِنین، خصوصاً بیواؤں کو بُلایا اَور تبِیتؔا کو زندہ اُن کے سُپرد کر دیا۔
ACT 9:42 اِس واقعہ کی خبر سارے یافؔا میں پھیل گئی اَور بہت سے لوگ خُداوؔند پر ایمان لایٔے۔
ACT 9:43 پطرس نے کچھ عرصہ تک یافؔا میں شمعُونؔ نام چمڑا رنگنے والے کے یہاں قِیام کیا۔
ACT 10:1 قَیصؔریہ میں ایک آدمی تھا جِس کا نام کُرنِیلِیُسؔ تھا، وہ ایک اِطالوی فَوجی دستے کا کپتان تھا۔
ACT 10:2 وہ اَور اُس کے گھر کے سَب لوگ بڑے دیندار اَور خُدا سے خوف کھاتے تھے؛ وہ ضروُرت مند لوگوں کو بہت خیرات دیتا تھا اَور خُدا سے برابر دعا کیا کرتا تھا۔
ACT 10:3 ایک دِن سہ پہر تین بجے کے قریب کُرنِیلِیُسؔ نے رُویا دیکھی۔ اُس نے اُس میں صَاف صَاف خُدا کے ایک فرشتہ کو دیکھا، جو کُرنِیلِیُسؔ کے پاس آیا اَور کہا، ”اَے کُرنِیلِیُسؔ!“
ACT 10:4 کُرنِیلِیُسؔ نے خوفزدہ ہوکر اُس کی طرف غور سے دیکھا۔ ”آقا، کیا بات ہے؟“ اُس نے پُوچھا۔ فرشتہ نے جَواب دیا، ”تیری خیرات کے نذرانے اَور دعائیں یادگاری کے طور پر خُدا کے حُضُور میں پہُنچ چُکے ہیں۔
ACT 10:5 اَب کچھ آدمیوں کو یافؔا بھیج کر شمعُونؔ کو جسے پطرس بھی کہتے ہیں، کو اَپنے یہاں بُلوالے۔
ACT 10:6 وہ شمعُونؔ جو چمڑا رنگنے کا کام کرتا ہے کے پاس ٹھہرے ہُوئے ہیں، جِس کا گھر ساحِل سمُندر پر واقع ہے۔“
ACT 10:7 جَب فرشتہ کُرنِیلِیُسؔ سے یہ باتیں کہہ کرچلاگیا، تو اُس نے اَپنے دو خادِموں اَور اَپنے خاص سپاہیوں میں سے ایک خُداپرست سپاہی کو بُلایا۔
ACT 10:8 اَور اُنہیں سارا واقعہ جو پیش آیاتھا، بَیان کیا اَور یافؔا کی طرف روانہ کر دیا۔
ACT 10:9 اگلے دِن جَب وہ سفر کرتے کرتے شہر کے نزدیک پہُنچے تو دوپہر کے قریب پطرس اُوپر چھت پر گیٔے تاکہ دعا کریں۔
ACT 10:10 آپ کو بھُوک لگی اَور پطرس کچھ کھانا چاہتے تھے، لیکن جَب لوگ کھانا تیّار کر ہی رہے تھے، تو پطرس پر بے خُودی سِی طاری ہو گئی۔
ACT 10:11 آپ نے دیکھا کہ آسمان کھُل گیا ہے اَور کویٔی شَے ایک بڑی سِی چادر کی مانِند چاروں کونوں سے لٹکتی ہویٔی زمین کی طرف اُتر رہی ہے۔
ACT 10:12 اُس میں ہر قِسم کے زمین پر پایٔے جانے والے چار پاؤں والے جاندار، رینگنے والے جانور اَور ہَوا کے پرندے تھے۔
ACT 10:13 تَب ایک آواز نے آپ سے کہا، ”اَے پطرس۔ اُٹھ، ذبح کر اَور کھا۔“
ACT 10:14 ”ہرگز نہیں، اَے خُداوؔند!“ پطرس نے جَواب دیا۔ ”مَیں نے کبھی کویٔی ناپاک اَور حرام شَے نہیں کھائی۔“
ACT 10:15 وہ آواز دُوسری مرتبہ پھر آپ کو سُنایٔی دی جو کہہ رہی تھی، ”تو کسی بھی چیز کو جسے خُدا نے پاک ٹھہرایا ہے، اُنہیں حرام نہ کہہ۔“
ACT 10:16 یہ واقعہ تین مرتبہ پیش آیا، اَور پھر وہ چادر فوراً واپس آسمان کی طرف اُٹھا لی گئی۔
ACT 10:17 پطرس دِل میں سوچ ہی رہے تھے کہ یہ کیسی رُویا ہے جو مَیں نے دیکھی ہے، اِتنے میں کُرنِیلِیُسؔ کے بھیجے ہویٔے آدمی شمعُونؔ کا مکان پُوچھ کر دروازے پر آ کھڑے ہُوئے۔
ACT 10:18 اُنہُوں نے آواز دے کر پُوچھا: کیا شمعُونؔ جو پطرس کَہلاتے ہیں یہاں ٹھہرے ہویٔے ہیں۔
ACT 10:19 ابھی پطرس اَپنی رُویا کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے، پاک رُوح نے آپ سے کہا، ”شمعُونؔ، تین آدمی تُجھے تلاش کر رہے ہیں۔
ACT 10:20 اِس لیٔے اُٹھ اَور نیچے جا۔ اُن کے ساتھ بِلاجِھجک چلے جانا چونکہ مَیں نے ہی اُنہیں بھیجا ہے۔“
ACT 10:21 پطرس نیچے اُترے اَور اُن آدمیوں سے فرمایا، ”جسے تُم دیکھ رہے ہو وہ میں ہی ہُوں۔ تُم کِس لیٔے آئے ہو؟“
ACT 10:22 آدمیوں نے جَواب دیا، ”ہم کپتان کُرنِیلِیُسؔ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ ایک راستباز اَور خُدا سے ڈرنے والا آدمی ہے، جِس کی تعریف تمام یہُودی قوم کرتی ہے۔ ایک مُقدّس فرشتہ نے اُنہیں ہدایت کی ہے کہ آپ کو اَپنے گھر بُلاکر آپ سے کلام کی باتیں سُنے۔“
ACT 10:23 تَب پطرس نے اُنہیں اَندر بُلا لیا اَور اُن کی مہمان نوازی کی۔ اگلے دِن پطرس اُن لوگوں کے ساتھ روانہ ہویٔے اَور یافؔا سے کچھ اَور مسیحی بھایٔی بھی آپ کے ساتھ ہو لیٔے۔
ACT 10:24 دُوسرے دِن وہ قَیصؔریہ پہُنچ گیٔے۔ کُرنِیلِیُسؔ اُن کے اِنتظار میں تھا اَور اُس نے اَپنے رشتہ داروں اَور قریبی دوستوں کو بھی بُلا رکھا تھا۔
ACT 10:25 پطرس کے گھر میں داخل ہوتے ہی کُرنِیلِیُسؔ نے آپ کا اِستِقبال کیا اَور آپ کے قدموں میں گِر کر آپ کو سَجدہ کرنے لگا۔
ACT 10:26 لیکن پطرس نے کُرنِیلِیُسؔ کو اُٹھایا اَور فرمایا، ”کھڑے ہو جاؤ، میں بھی تو ایک صِرف اِنسان ہُوں۔“
ACT 10:27 پھر کُرنِیلِیُسؔ سے باتیں کرتے ہویٔے، پطرس اَندر داخل ہویٔے اَور وہاں لوگوں کا بڑا مجمع پایا۔
ACT 10:28 آپ نے اُن سے کہا، ”تُم خُوب جانتے ہو کہ کسی یہُودی کا غَیریہُودی سے میل جول رکھنا ناجائز ہے۔ لیکن خُدا نے مُجھ پر ظاہر کر دیا کہ مُجھے کسی بھی اِنسان کو نجِس یا ناپاک کہنے کا کویٔی اِختیار نہیں۔
ACT 10:29 لہٰذا جَب مُجھے بُلایا گیا، تو میں بِلا حُجّت چلا آیا۔ کیا میں پُوچھ سَکتا ہُوں کہ مُجھے یہاں کیوں بُلایا گیا ہے؟“
ACT 10:30 کُرنِیلِیُسؔ نے جَواب دیا: ”تین دِن پہلے میں اَپنے گھر میں سہ پہر اِسی وقت، یعنی تین بجے کے قریب دعا کر رہاتھا۔ اَچانک ایک شخص چمکدار پوشاک میں میرے سامنے آ کھڑا ہُوا
ACT 10:31 اَور کہنے لگا، ’اَے کُرنِیلِیُسؔ، خُدا نے تیری دعا سُن لی ہے اَور تیری خیرات کو بھی قبُولیّت بخشی ہے۔
ACT 10:32 کسی کو یافؔا بھیج کر شمعُونؔ کو جسے پطرس بھی کہتے ہیں کو بُلوالے۔ وہ شمعُونؔ چمڑا رنگنے کا کام کرتا ہے، کے گھر میں مہمان ہے جو ساحِل سمُندر پر رہتاہے۔‘
ACT 10:33 یہ سُنتے ہی مَیں نے آپ کو بُلا بھیجا، اَور بڑا اَچھّا ہُوا کہ آپ تشریف لایٔے۔ اَب ہم سَب خُداوؔند کی حُضُوری میں ہیں اَور چاہتے ہیں کہ جو کچھ خُدا نے آپ سے فرمایاہے اُسے سُنے۔“
ACT 10:34 تَب پطرس نے بولنا شروع کیا: ”مُجھے اَب اِس سچّائی کا احساس ہو گیا کہ خُدا کسی کا طرف دار نہیں
ACT 10:35 لیکن ہر قوم میں جو کویٔی خُداوؔند سے ڈرتا اَورجو راست ہے وُہی کرتا ہے جو خُداوؔند کی نظروں میں صحیح ہے۔
ACT 10:36 تُم جانتے ہو کہ خُداوؔند نے بنی اِسرائیلؔ کے پاس اَپنا سلامتی کا کلام بھیجا، جِس نے یِسوعؔ المسیح کی مَعرفت صُلح کی خُوشخبری سُنایٔی، جو سَب کا خُداوؔند ہے۔
ACT 10:37 اِس بات کو تُم جانتے ہو کہ جو حضرت یُوحنّا کے پاک ‏غُسل کی مُنادی کے بعد گلِیل سے شروع ہوکر تمام یہُودیؔہ صُوبہ، میں کی گئی۔
ACT 10:38 کہ خُدا نے یِسوعؔ ناصری کو پاک رُوح سے معموُر کرکے کِس طرح مَسح کیا، اَور یِسوعؔ جگہ بہ جگہ لوگوں کے واسطے نیک کام کیا کرتے اَور اُن سَب کو شفا بخشتے تھے جو اِبلیس کے ظُلم کا شِکار تھے، کیونکہ خُدا آپ کے ساتھ تھا۔
ACT 10:39 ”ہم اُن سَب کاموں کے گواہ ہیں جو آپ نے یہُودیوں کے مُلک اَور یروشلیمؔ میں کیٔے۔ اُنہُوں نے یِسوعؔ کو صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا۔
ACT 10:40 لیکن خُدا نے اُن ہی یِسوعؔ کو تیسرے دِن مُردوں میں سے زندہ کرکے ظاہر کیا۔
ACT 10:41 وہ ساری اُمّت پر نہیں بَلکہ اُن گواہوں پر ظاہر ہویٔے جنہیں خُدا نے پہلے سے چُن رکھا تھا یعنی ہم پر جنہوں نے یِسوعؔ کے مُردوں میں سے زندہ ہو جانے کے بعد آپ کے ساتھ کھایا پیا بھی۔
ACT 10:42 اَور آپ نے حُکم دیا کہ ہم لوگوں میں مُنادی کریں اَور گواہی دیں کہ یِسوعؔ ہی وُہی ہیں جسے خُدا نے زندوں اَور مُردوں کا مُنصِف مُقرّر کیا ہے۔
ACT 10:43 تمام نبی یِسوعؔ کے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ جو کویٔی آپ پر ایمان لاتا ہے وہ یِسوعؔ کے نام سے گُناہوں کی مُعافی پاتاہے۔“
ACT 10:44 پطرس یہ باتیں بیاں ہی کر رہے تھے، کہ پاک رُوح اُن سَب پر نازل ہُوا جو یہ کلام سُن رہے تھے۔
ACT 10:45 پطرس کے ساتھ آنے والے مختون جو مسیحی مُومِنین ہو چُکے تھے تعجُّب کرنے لگے کہ غَیریہُودیوں کو بھی پاک رُوح کی نِعمت بخشی گئی ہے۔
ACT 10:46 کیونکہ اُنہُوں نے غَیریہُودیوں کو طرح طرح کی زبانیں بولتے اَور خُدا کی تمجید کرتے سُنا۔ تَب پطرس نے فرمایا،
ACT 10:47 ”یقیناً کیا کویٔی اِن لوگوں کو پانی کا پاک ‏غُسل لینے سے روک سَکتا ہے۔ کیونکہ جِس طرح ہم نے پاک رُوح پایا ہے، اُنہُوں نے بھی پایا ہے۔“
ACT 10:48 لہٰذا آپ نے حُکم دیا کہ اُنہیں یِسوعؔ المسیح کے نام پر پاک ‏غُسل دیا جائے۔ تَب اُنہُوں نے پطرس سے درخواست کی کہ ہمارے پاس کچھ روز اَور قِیام کریں۔
ACT 11:1 یہُودیؔہ میں رہنے والے رسولوں اَور مُومِنین نے یہ خبر سُنی کہ غَیریہُودی نے بھی خُدا کا کلام قبُول کیا ہے۔
ACT 11:2 چنانچہ جَب پطرس واپس یروشلیمؔ آئے، تو مختون یہُودی جو مُومِن ہو گئے تھے پطرس سے تنقید کرنے لگے
ACT 11:3 اَور اُنہُوں نے کہا، ”آپ نامختون لوگوں کے پاس گیٔے اَور اُن کے ساتھ کھانا کھایا۔“
ACT 11:4 پطرس نے اُن سے سارا واقعہ شروع سے آخِر تک ترتیب وار یُوں بَیان کیا،
ACT 11:5 ”میں یافؔا شہر میں دعا میں مشغُول تھا، اَور مُجھ پر بے خُودی طاری ہو گئی اَور مُجھے ایک رُویا دِکھائی دی۔ مَیں نے دیکھا کہ کویٔی شَے ایک بڑی سِی چادر کی مانِند چاروں کونوں سے لٹکتی ہویٔی آسمان سے نیچے اُتری اَور مُجھ تک پہُنچی۔
ACT 11:6 مَیں نے اُس پر نظر ڈالی اَور اُس میں زمین کے چار پاؤں والے جانور، جنگلی جانور، رینگنے والے جانور اَور ہَوا کے پرندے تھے۔
ACT 11:7 تَب مُجھے ایک آواز سُنایٔی دی، ’اُٹھ، اَے پطرس۔ ذبح کر اَور کھا۔‘
ACT 11:8 ”مَیں نے جَواب دیا، ’ہرگز نہیں، اَے خُداوؔند! کویٔی ناپاک اَور حرام شَے میرے مُنہ میں کبھی نہیں گئی۔‘
ACT 11:9 ”اُس آواز نے آسمان سے دُوسری مرتبہ کہا، ’تو کسی بھی چیز کو جسے خُدا نے پاک ٹھہرایا ہے اُنہیں حرام نہ کہہ۔‘
ACT 11:10 یہ واقعہ تین مرتبہ پیش آیا اَور وہ چیزیں پھر سے آسمان کی طرف اُٹھا لی گئیں۔
ACT 11:11 ”عَین اُسی وقت تین آدمی جو قَیصؔریہ سے میرے پاس بھیجے گیٔے تھے اُس گھر کے سامنے آ کھڑے ہویٔے جہاں میں ٹھہرا ہُوا تھا۔
ACT 11:12 پاک رُوح نے مُجھے ہدایت کی کہ میں بِلاجِھجک اُن کے ہمراہ ہو لُوں۔ یہ چھ بھایٔی بھی میرے ساتھ گیٔے، اَور ہم اُس شخص کے گھر میں داخل ہویٔے۔
ACT 11:13 اُس نے ہمیں بتایا کہ ایک فرشتہ اُس کے گھر میں ظاہر ہُوا اَور کہنے لگا، ’یافؔا میں کسی آدمی کو بھیج کر شمعُونؔ کو جسے پطرس بھی کہتے ہیں کو بُلوالے۔
ACT 11:14 وہ آکر تُجھے ایک اَیسا پیغام دیں گے جِس کے ذریعہ تو اَور تیرے خاندان کے سارے افراد نَجات پائیں گے۔‘
ACT 11:15 ”جَب مَیں نے وہاں جا کر پیغام سُنانا شروع کیا، تو پاک رُوح اُن پر اُسی طرح نازل ہُوا جَیسے شروع میں ہم پر نازل ہُوا تھا۔
ACT 11:16 تَب مُجھے یاد آیا کہ خُداوؔند نے فرمایا تھا: ’حضرت یُوحنّا نے تو پانی سے پاک ‏غُسل دیا لیکن تُم پاک رُوح سے پاک ‏غُسل پاؤگے۔‘
ACT 11:17 پس اگر خُدا نے اُنہیں وُہی نِعمت عطا کی جو ہمیں خُداوؔند یِسوعؔ المسیح پر ایمان لانے کے باعث دی گئی تھی تو میں کون تھا کہ خُداوؔند کے راستہ میں رُکاوٹ بنتا؟“
ACT 11:18 جَب اُنہُوں نے یہ سُنا، تو خاموش ہو گئے اَور خُدا کی تمجید کرکے کہنے لگے، ”تَب تو، صَاف ظاہر ہے کہ خُداوؔند نے غَیریہُودی کو بھی تَوبہ کرکے زندگی پانے کی تَوفیق عطا فرمائی ہے۔“
ACT 11:19 اَب وہ سَب جو اُس اِیذا رسانی کے باعث جِس کا آغاز اِستِفنُسؔ سے ہُوا تھا، اِدھر اُدھر مُنتشر ہو گئے اَور پھرتے پھراتے فینیکےؔ، جَزِیرہ سائپرسؔ اَور انطاکِیہؔ تک جا پہُنچے، لیکن اُنہُوں نے کلام کی مُنادی کو صِرف یہُودیوں تک ہی محدُود رکھا۔
ACT 11:20 پس، اُن میں سے بعض، جو جَزِیرہ سائپرسؔ اَور کُرینی کے تھے، انطاکِیہؔ میں جا کر یُونانیوں کو بھی، خُداوؔند یِسوعؔ کی خُوشخبری سُنانے لگے۔
ACT 11:21 خُداوؔند کا ہاتھ اُن پر تھا، اَور لوگ بڑی تعداد میں ایمان لایٔے اَور خُداوؔند کی طرف رُجُوع کیا۔
ACT 11:22 اِس کی خبر یروشلیمؔ کی جماعت کے تک پہُنچی اَور اُنہُوں نے بَرنباسؔ کو انطاکِیہؔ روانہ کر دیا۔
ACT 11:23 جَب وہ وہاں پہُنچے تو دیکھا کہ خُدا کے فضل نے کیا کیا ہے اَور اُن کی حوصلہ اَفزائی کرکے اُنہیں نصیحت دی کہ پُورے دِل سے خُداوؔند کے وفادار رہیں۔
ACT 11:24 بَرنباسؔ نیک اِنسان تھے اَور پاک رُوح اَور ایمان سے معموُر تھے، اَور لوگوں کی بڑی تعداد خُداوؔند کی جماعت میں شامل ہو گئی۔
ACT 11:25 اُس کے بعد بَرنباسؔ، ساؤلؔ کی جُستُجو میں ترسُسؔ روانہ ہو گئے۔
ACT 11:26 آپ ساؤلؔ کو ڈھونڈ کر انطاکِیہؔ لایٔے جہاں وہ دونوں سال بھر تک جماعت سے ملے اَور بہت سے لوگوں کو تعلیم دیتے رہے۔ المسیح کے شاگردوں کو پہلی بار انطاکِیہؔ میں ہی مسیحی کہہ کر پُکارا گیا۔
ACT 11:27 اُن ہی دِنوں میں کچھ نبی یروشلیمؔ سے انطاکِیہؔ پہُنچے۔
ACT 11:28 اَور اُن میں سے ایک نے جِن کا نام اَگَبُسؔ تھا، کھڑے ہوکر پاک رُوح کی ہدایت کے مُطابق یہ پیشین گوئی کی کہ ساری رُومی دُنیا میں ایک سخت قحط پڑےگا (قحط کا یہ واقعہ قَیصؔر کلودِیُسؔ کے عہد میں پیش آیاتھا)۔
ACT 11:29 لہٰذا شاگردوں، نے فیصلہ کیا کہ ہم میں سے ہر ایک اَپنی اَپنی مالی حیثیت کے مُطابق کچھ دے تاکہ یہُودیؔہ میں رہنے والے مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کی مدد کی جائے۔
ACT 11:30 پس اُنہُوں نے، کچھ عَطیّہ کی رقم جمع کی اَور بَرنباسؔ اَور ساؤلؔ کے ہاتھ یروشلیمؔ میں بُزرگوں کے پاس بھجوادی۔
ACT 12:1 اُن ہی دِنوں ہیرودیسؔ بادشاہ نے جماعت کے، کچھ افراد کو گِرفتار کر لیا تاکہ اُنہیں اَذیّت پہُنچائے۔
ACT 12:2 اَور یُوحنّا کے بھایٔی، یعقوب، کو تلوار سے قتل کروا دیا۔
ACT 12:3 جَب اُس نے دیکھا کہ یہُودیوں نے اِس بات کو پسند کیا، تو اُس نے عیدِ فطیر کے دِنوں میں پطرس کو بھی گِرفتار کر لیا۔
ACT 12:4 پطرس کو گِرفتار کرنے کے بعد، ہیرودیسؔ نے اُنہیں قَیدخانہ میں ڈلوادِیا، اَور نگہبانی کے لیٔے پہرےداروں کے چار دستے مُقرّر کر دئیے۔ ہر دستہ چار چار سپاہیوں پر مُشتمل تھا۔ ہیرودیسؔ کا اِرادہ تھا کہ عیدِفسح کے بعد وہ آپ کو عوام کے سامنے حاضِر کرےگا۔
ACT 12:5 پطرس تو سخت قَید میں تھے مگر ساری جماعت آپ کے لیٔے خُدا سے دِل و جان سے دعا میں مشغُول تھی۔
ACT 12:6 ہیرودیسؔ کے آپ کو لوگوں کے سامنے لانے سے ایک رات پہلے، جَب پطرس دو پہرےداروں کے درمیان زنجیروں سے جکڑے ہویٔے پڑے سو رہے تھے، اَور سپاہی قَیدخانہ کے دروازہ پر پہرا دے رہے تھے۔
ACT 12:7 تو اَچانک خُداوؔند کا ایک فرشتہ ظاہر ہُوا اَور ساری کوٹھری مُنوّر ہو گئی۔ فرشتہ نے پطرس کے ایک طرف مارا آپ کو جگایا۔ اَور کہا، ”اُٹھ، جلدی کر!“ اَور زنجیریں پطرس کی کلائیوں میں سے کھُل کر گرگئیں۔
ACT 12:8 فرشتہ نے پطرس سے کہا، ”اَپنی کمر باندھ اَور جُوتی پہن لے۔“ پطرس نے اَیسا ہی کیا۔ پھر کہا، اَپنی چوغہ پہن لے اَور میرے پیچھے پیچھے چلا آ۔
ACT 12:9 پطرس اُس کے پیچھے پیچھے قَیدخانہ سے باہر نکل آئے، لیکن آپ کو مَعلُوم نہ تھا کہ فرشتہ جو کچھ کر رہاہے وہ حقیقت ہے یا وہ کویٔی رُویا دیکھ رہے ہیں۔
ACT 12:10 وہ پہرا کے پہلے اَور پھر دُوسرے حلقہ میں سے نکل کر باہر آئے اَور لوہے کے پھاٹک کے پاس پہُنچے جو شہر کی طرف کھُلتا تھا۔ وہ پھاٹک اُن کے لیٔے اَپنے آپ ہی کھُل گیا، اَور وہ اُس میں سے گزرے۔ باہر نکل کر کوچہ کے آخِر تک پہُنچے اَچانک فرشتہ پطرس کو چھوڑکر چلا گیا۔
ACT 12:11 پطرس کے حواس دُرست ہویٔے تو وہ کہنے لگے، ”اَب مُجھے پُورا یقین ہو گیا کہ خُداوؔند نے اَپنے فرشتہ کو بھیج کر مُجھے ہیرودیسؔ کے پنجہ سے چھُڑا لیا اَور یُوں یہُودیوں کے اِرادہ کو ناکام کر دیا۔“
ACT 12:12 جَب وہ اِس واقعہ پر غور کر چُکے تو مریمؔ کے گھر آئے جو اُن یُوحنّا کی ماں تھیں جو مرقُسؔ کہلاتےتھے، جہاں بہت سے لوگ جمع ہوکر دعا کر رہے تھے۔
ACT 12:13 پطرس نے باہر کا دروازہ کھٹکھٹایا، تو ایک کنیز جِس کا نام رُدیؔ تھا دروازہ کھولنے آئی۔
ACT 12:14 جَب اُس نے پطرس کی آواز پہچان لی تو اِس قدر خُوش ہویٔی کہ دروازہ کھولے بغیر ہی واپس دَوڑی آئی اَور کہنے لگی، ”پطرس باہر دروازہ پر ہیں!“
ACT 12:15 اُنہُوں نے کہا، کیا تو پاگل ہو گئی ہے، لیکن جَب اُس نے اِصرار کیا کہ وہ پطرس ہی ہیں تو وہ کہنے لگے، ”پطرس کا فرشتہ ہوگا۔“
ACT 12:16 لیکن پطرس باہر دروازہ کھٹکھٹاتےرہے۔ جَب اُنہُوں نے آکر دروازہ کھولا، تو پطرس کو دیکھ کر حیران رہ گیٔے۔
ACT 12:17 پطرس نے اُنہیں ہاتھ سے اِشارہ کیا کہ خاموش رہیں اَور پھر اَندر آکر سارا واقعہ کہہ سُنایا کہ کِس طرح خُداوؔند نے اُنہیں قَیدخانہ سے باہر نکالا۔ آپ نے فرمایا، ”یعقوب اَور دُوسرے مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کو بھی اِس کی خبر کردینا“ اَور خُود کسی دُوسری جگہ کے لیٔے روانہ ہو گئے۔
ACT 12:18 صُبح ہوتے ہی، سپاہیوں میں ہنگامہ برپا ہُوا کہ پطرس کے ساتھ کیا ہُواہے۔
ACT 12:19 جَب ہیرودیسؔ نے آپ کی مُکمّل تلاش کی لیکن نہ پایا تو اُس نے پہرےداروں کا مُعائنہ کیا اَور حُکم دیا کہ اُن کو سزائے موت دی جائے۔ تَب ہیرودیسؔ یہُودیؔہ سے قَیصؔریہ گیا اَور وہیں مُقیم رہا۔
ACT 12:20 ہیرودیسؔ، صُورؔ اَور صیؔدا کے لوگوں سے بڑا ناراض تھا، اِس لیٔے صیؔدا کے لوگ مِل کر اُس کے پاس آئے اَور بادشاہ کے ایک قابلِ اِعتماد ذاتی خادِم بَلستُسؔ کو اَپنا حامی بنا کر بادشاہ سے صُلح کی درخواست کی کیونکہ اُنہیں بادشاہ کے مُلک سے رسد پہُنچتی تھی۔
ACT 12:21 لہٰذا ہیرودیسؔ نے ایک دِن مُقرّر کیا، اَور اَپنا شاہی لباس پہنا اَور تختِ عدالت پر بیٹھ کر لوگوں کو ایک عوامی خِطاب کیا۔
ACT 12:22 لوگوں نے سُنا تو پُکارنے لگے، ”یہ اِنسان کی نہیں بَلکہ کویٔی ایک معبُود کی آواز ہے۔“
ACT 12:23 چونکہ، ہیرودیسؔ نے خُدا کی تمجید نہ کی اِس لیٔے اُس پر اُسی دَم خُداوؔند کے فرشتہ کی اَیسی مار پڑی کہ اُس کے جِسم کو کیڑے کھاگئے اَور وہ مَر گیا۔
ACT 12:24 لیکن خُدا کا کلام ترقّی کرتا اَور پھیلتا چلا گیا۔
ACT 12:25 جَب بَرنباسؔ اَور ساؤلؔ اَپنی خدمت کو جو اُن کے سُپرد کی گئی تھی پُورا کر چُکے، تو یروشلیمؔ سے واپس ہویٔے، اَور اُن کے ساتھ یُوحنّا کو جو مرقُسؔ کَہلاتے ہیں، اَپنے ساتھ لیتے آئے۔
ACT 13:1 انطاکِیہؔ کی جماعت میں کیٔی نبی اَور اُستاد تھے: مثلاً بَرنباسؔ، شمعُونؔ کالا، لُوکِیُسؔ کُرینی، مناہیمؔ (جِس نے چوتھائی مُلک کے حاکم ہیرودیسؔ کے ساتھ پرورِش پائی تھی) اَور ساؤلؔ۔
ACT 13:2 جَب کہ وہ روزے رکھ کر، خُداوؔند کی عبادت کر رہے تھے تو پاک رُوح نے کہا، ”بَرنباسؔ اَور ساؤلؔ کو اُس خدمت کے لئے الگ کر دو جِس کے لیٔے مَیں نے اُنہیں بُلایا ہے۔“
ACT 13:3 چنانچہ اُنہُوں نے روزہ رکھا دعا کی، اَور اُن پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں روانہ کر دیا۔
ACT 13:4 وہ دونوں، جو پاک رُوح کی طرف سے بھیجے گیٔے تھے سلُوکیؔہ پہُنچے اَور وہاں سے جہاز پر جَزِیرہ سائپرسؔ چلے گیٔے۔
ACT 13:5 جَب وہ سَلَمِیسؔ پہُنچے، تو وہاں یہُودی عبادت گاہوں میں خُدا کا کلام سُنانے لگے۔ یُوحنّا اُن کے ساتھ خادِم کے طور پر مَوجُود تھے۔
ACT 13:6 جَب وہ سارے جزیرے میں گھُوم پھر چُکے تو پافُسؔ پہُنچے۔ وہاں اُن کی مُلاقات ایک یہُودی جادُوگر اَور جھُوٹے نبی سے ہویٔی جِس کا نام برعیسیٰ تھا۔
ACT 13:7 جو ایک حاکم، سِرگیُسؔ پَولُسؔ کا مُلازم تھا۔ یہ حاکم ایک دانشمند شخص تھا، اُس نے بَرنباسؔ اَور ساؤلؔ کو بُلا بھیجا کیونکہ وہ خُدا کا کلام سُننا چاہتا تھا۔
ACT 13:8 لیکن الیِماسؔ جادُوگر نے (اُس کے نام کا مطلب ہی یہی ہے) اُن کی مُخالفت کی اَور حاکم کو ایمان لانے سے روکنا چاہا۔
ACT 13:9 تَب ساؤلؔ نے جِن کا نام پَولُسؔ بھی ہے پاک رُوح سے معموُر ہوکر اُس پر گہری نظر ڈالی اَور فرمایا،
ACT 13:10 ”اَے اِبلیس کے فرزند اَور تو ہر اُس چیز کا دُشمن ہے جو صحیح ہے! تو تمام طرح کی عیّاری اَور مکّاری سے بھرا ہُواہے۔ کیا تو خُداوؔند کی سیدھی راہوں کو بگاڑنے سے کبھی نہیں باز آئے گا؟
ACT 13:11 اَب خُداوؔند کا ہاتھ تیرے خِلاف اُٹھا ہے۔ تُو اَندھا ہو جائے گا اَور کچھ عرصہ تک سُورج کو نہیں دیکھ سکےگا۔“ اُسی وقت کُہر اَور تاریکی نے اُس پر غلبہ پا لیا اَور وہ اِدھر اُدھر ٹٹولنے لگاتاکہ کویٔی اُس کا ہاتھ پکڑکر اُسے لے چلے۔
ACT 13:12 وہ حاکم یہ ماجرا دیکھ کر اَور شاگردوں سے خُداوؔند کی تعلیم سُن کر دنگ رہ گیا اَور خُدا پر ایمان لے آیا۔
ACT 13:13 پافُسؔ سے پَولُسؔ اَور اُن کے ساتھی جہاز کے ذریعہ پَمفِیلہ کے علاقہ پِرگہؔ، میں پہُنچے جہاں یُوحنّا نے اُنہیں خیرباد کہا اَور یروشلیمؔ کو واپس تشریف لے گیٔے۔
ACT 13:14 اَور وہ پِرگہؔ سے روانہ ہوکر پِسدِیہؔ کے شہر انطاکِیہؔ میں آئے۔ سَبت کے دِن وہ یہُودی عبادت گاہ میں داخل ہویٔے اَور جا بیٹھے۔
ACT 13:15 جَب توریت اَور نبیوں کے صحیفوں میں سے تِلاوت ہو چُکی تو یہُودی عبادت گاہ کے قائدین نے اُن کو یہ پیغام بھیجا، ”بھائیو، اگر لوگوں کی حوصلہ اَفزائی کے لیٔے آپ کچھ کہنا چاہتے ہو تو براہِ کرم بَیان کیجئے۔“
ACT 13:16 اِس پر پَولُسؔ نے کھڑے ہوکر ہاتھ سے اِشارہ کرتے ہویٔے فرمایا: ”اَے بنی اِسرائیلؔ اَور اَے خُدا سے ڈرنے والے غَیر اِسرائیلیوں میری سُنو!
ACT 13:17 اُمّت اِسرائیلؔ کے خُدا نے ہمارے آباؤاَجداد کو چُنا اَور جَب وہ مُلک مِصر میں پردیسیوں کی طرح رہتے تھے، اُنہیں طاقت بخشی وہ اَپنی طاقت کے ساتھ اُن کو اُس مُلک سے باہر لے گیا۔
ACT 13:18 پھر قریب چالیس بَرس تک اُس نے بیابان میں اُن کے طرزِ عَمل کو برداشت کیا؛
ACT 13:19 اَور خُدا نے کنعانؔ میں سات غَیریہُودی قوموں کو غارت کرکے اُن کی سرزمین اَپنے لوگوں کو بطور مِیراث عطا فرمائی۔
ACT 13:20 اِن واقعات کو پیش آنے میں تقریباً چار سَو پچاس بَرس لگ گیٔے۔ ”اِس کے بعد، خُدا نے اُن کے لیٔے سمُوئیل نبی کے زمانہ تک قاضی مُقرّر کیٔے۔
ACT 13:21 پھر لوگوں نے بادشاہ مُقرّر کرنے کی درخواست کی اَور خُدا نے قیشؔ کے بیٹے ساؤلؔ کو بادشاہ مُقرّر کیا، جو بِنیامین کے قبیلہ سے تھا، آپ نے چالیس بَرس تک حُکومت کی۔
ACT 13:22 پھر ساؤلؔ کو معزول کرنے کے بعد خُدا نے داویؔد کو اُن کا بادشاہ مُقرّر کیا۔ خُدا نے داویؔد کے بارے میں گواہی دی: ’مُجھے یِشائی کا بیٹا داویؔد مِل گیا ہے، جو میرا ایک دِل پسند آدمی ہے؛ وُہی میری تمام خواہشات کو پُوری کرےگا۔‘
ACT 13:23 ”خُدا نے اَپنے وعدہ کے مُطابق، داویؔد کی نَسل سے ایک مُنجّی یعنی یِسوعؔ کو اِسرائیلؔ کے پاس بھیجا۔
ACT 13:24 یِسوعؔ کی آمد سے قبل، یُوحنّا نے اِسرائیلؔ کی ساری اُمّت کو تبلیغ کی کہ تَوبہ کرو اَور پاک ‏غُسل لو۔
ACT 13:25 جَب یُوحنّا کی خدمت کی مُدّت پُوری ہونے کو تھی، تو آپ نے فرمایا: ’تُم مُجھے کیا سمجھتے ہو؟ میں وہ نہیں ہُوں جو تُم دیکھتے ہو۔ لیکن ایک شخص ہے جو میرے بعد آنے والا ہے اَور مَیں اِس لائق بھی نہیں کہ اُن کے جُوتوں کے تسمے بھی کھول سکوں۔‘
ACT 13:26 ”اَے ساتھیو، فرزندانِ اَبراہامؔ اَور خُدا سے ڈرنے والے غَیر اِسرائیلیوں، اِس نَجات کے کلام کو ہمارے پاس بھیجا گیا ہے۔
ACT 13:27 اہلِ یروشلیمؔ نے اَور اُس کے حاکموں نے یِسوعؔ کو نہیں پہچانا، پھر بھی سزائے موت کا فتویٰ دے کر اُنہُوں نے نبیوں کی اُن باتوں کو پُورا کر دیا جو ہر سَبت کو پڑھ کر سُنایٔی جاتی ہیں۔
ACT 13:28 اگرچہ وہ اُنہیں موت کی سزا کے لائق ثابت نہ کر سکے، پھر بھی اُنہُوں نے پِیلاطُسؔ سے درخواست کی کہ اُنہیں قتل کیا جائے۔
ACT 13:29 اَور جَب اُنہُوں نے سَب کچھ جو یِسوعؔ کے بارے میں لِکھّا ہُوا تھا، پُورا کر دیا تو اُنہیں صلیب پر سے اُتار کر ایک قبر میں رکھ دیا۔
ACT 13:30 لیکن خُدا نے اُنہیں مُردوں میں سے زندہ کر دیا،
ACT 13:31 اَورجو لوگ گلِیل سے آپ کے ساتھ یروشلیمؔ آئےتھے، وہ اُنہیں کیٔی دِنوں تک نظر آتے رہے۔ اَب وُہی اُمّت کے لیٔے حُضُور اَقدس یِسوعؔ کے گواہ ہیں۔
ACT 13:32 ”ہم تُمہیں وہ خُوشخبری سُناتے ہیں: جِس کا وعدہ خُدا نے ہمارے آباؤاَجداد کے ساتھ کیا تھا
ACT 13:33 خُدا نے اَپنی اَولاد، یعنی ہمارے لیٔے یِسوعؔ کو پھر سے زندہ کرکے اَپنے وعدہ کو پُورا کر دیا۔ چنانچہ زبُور پاک کے دُوسرے باب میں لِکھّا ہے: ” ’تُو میرا بیٹا ہے؛ آج سے میں تیرا باپ بَن گیا ہُوں۔‘ “
ACT 13:34 یہ حقیقت کہ خُدا نے آپ کو مُردوں میں سے جِلا دیا تاکہ وہ پھر کبھی نہ مَریں۔ خُدا کے کلام میں یُوں بَیان کیا گیا ہے، ” ’میں تُمہیں پاک اَور سچّی نِعمتیں بخشوں گا جِن کا وعدہ مَیں نے داویؔد سے کیا تھا۔‘ “
ACT 13:35 ایک اَور زبُور میں حضرت داویؔد فرماتے ہیں: ” ’خُدا اَپنے مُقدّس کے جِسم کے سَڑنے کی نَوبَت ہی نہ آنے دیں گے۔‘
ACT 13:36 ”جَب کہ داویؔد اَپنی پُشت میں خُدا کا مقصد پُورا کرنے کے بعد، موت کی نیند سَو گیٔے؛ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ دفن ہویٔے اَور آپ کا جِسم سڑ گیا۔
ACT 13:37 لیکن جسے خُدا نے مُردوں میں سے جی اُٹھایا اُن کے سَڑنے کی نَوبَت تک نہ آئی۔
ACT 13:38‏ ”پس اَے عزیزو، جان لو کہ یِسوعؔ کے وسیلہ سے ہی تُمہیں گُناہوں کی مُعافی کی مُنادی کی جاتی ہے۔ حضرت مَوشہ کی شَریعت کے باعث جِن باتوں سے تُم بَری نہیں ہو سکتے تھے، اُن سَب سے ہر ایک ایمان لانے والا اُس کے وسیلہ سے بَری ہوتاہے۔
ACT 13:40 باخبر رہو، اَیسا نہ ہو کہ نبیوں کی یہ بات تُم پر صادق آئے:
ACT 13:41 ” ’دیکھو، تُم جو دُوسروں کی تحقِیر کرتے ہو، تعجُّب کرو اَور نِیست ہو جاؤ، کیونکہ مَیں تمہارے دِنوں میں ایک اَیسا کام کرنے پر ہُوں کہ اگر کویٔی اُس کا ذِکر تُم سے کرے بھی، تُو تُم ہرگز یقین نہ کروگے۔‘“
ACT 13:42 جَب پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ یہُودی عبادت گاہ سے نکل کر جانے لگے، تو لوگ اُن سے درخواست کرنے لگے کہ اگلے سَبت کو بھی اِن ہی باتوں کا ذِکر کیا جائے۔
ACT 13:43 جَب مَجلِس بَرخواست ہویٔی، تو بہت سے یہُودی اَور کیٔی نَو مُرید پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ کے پیچھے ہو لیٔے، رسولوں نے اُن سے مزید گُفتگو کی اَور اُنہیں خُدا کے فضل میں بڑھتے چلے جانے کی ترغِیب دی۔
ACT 13:44 اگلے سَبت کو تقریباً سارا شہر خُداوؔند کا کلام سُننے کے لیٔے جمع ہو گیا۔
ACT 13:45 جَب یہُودیوں نے اِتنے بڑے ہُجوم کو دیکھا، تو بُغض سے بھر گیٔے۔ یہُودی پَولُسؔ کی باتوں کی مُخالفت کرنے اَور آپ سے بدسلُوکی کرنے لگے۔
ACT 13:46 لہٰذا پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ نے دِلیری سے اُنہیں جَواب میں فرمایا: ”لازِم تھا کہ ہم پہلے تُمہیں خُدا کا کلام سُناتے۔ جَب کہ تُم اُسے مُسترد کر رہے ہو اَور اَپنے آپ کو اَبدی زندگی کے لائق نہیں سمجھتے ہو، تو دیکھو ہم غَیریہُودیوں کی طرف رُجُوع کرتے ہیں۔
ACT 13:47 کیونکہ خُداوؔند نے ہمیں یہ حُکم دیا ہے: ” ’مَیں نے تُجھے غَیریہُودیوں کے لیٔے نُور مُقرّر کیا ہے، تاکہ تُو زمین کی اِنتہا تک نَجات کو پہُنچانے کا باعث بنے۔‘ “
ACT 13:48 جَب غَیریہُودیوں نے یہ سُنا تو بہت خُوش ہویٔے اَور خُداوؔند کے کلام کی تمجید کرنے لگے؛ اَور جنہیں خُدا نے اَبدی زندگی کے لیٔے چُن رکھا تھا، وہ ایمان لے لایٔے۔
ACT 13:49 اَور خُداوؔند کا کلام اُس سارے علاقہ میں پھیل گیا۔
ACT 13:50 لیکن یہُودی رہنماؤں نے بعض خُدا کی عقیدت مند عورتوں اَور شہر کے دبدبے والے مَردوں کو اُکسایا اَور اُنہُوں پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ کے خِلاف ظُلم و سِتم برپا کیا، اَور اُنہیں اَپنی ریاست سے بے دخل کر دیا۔
ACT 13:51 پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ نے اِحتِجاج کے طور پر اَپنے پاؤں کی گَرد بھی جھاڑ دی اَور وہاں سے اِکُنِیُم کو چلے گیٔے۔
ACT 13:52 مگر شاگرد بڑی خُوشی اَور پاک رُوح سے بھرے ہویٔے تھے۔
ACT 14:1 اِکُنِیُم میں بھی پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ ایک ساتھ یہُودی عبادت گاہ میں گیٔے اَور اَیسی تقریر کی کہ یہُودی اَور یُونانی کی بڑی تعداد ایمان لے آئی۔
ACT 14:2 لیکن جو یہُودی کلام کے مُخالف تھے اُنہُوں نے غَیریہُودیوں کو بھڑکایا اَور اُنہیں بھائیوں کی طرف سے بدگُمان کر دیا۔
ACT 14:3 تو بھی پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ نے وہاں کافی وقت گزارا اَور دِلیری کے ساتھ خُداوؔند کے بارے میں تعلیم دی اَور خُدا اُن عظیم نِشانات اَور عجائبات کے ذریعہ جو اُن کے ہاتھوں اَنجام پاتے تھے، اَپنے فضل کے کلام کو برحق ثابت کرتا رہا۔
ACT 14:4 شہر کے لوگوں میں تِفرقہ پڑ گیا۔ بعض یہُودیوں کے ساتھ اَور بعض رسولوں کے ساتھ کھڑے تھے۔
ACT 14:5 یہُودی اَور غَیریہُودی اَپنے رہنماؤں کے ساتھ مِل کر رسولوں کو ستانے اَور اُنہیں سنگسار کرنے کی مُہم شروع کرنے والے تھے۔
ACT 14:6 کہ اُنہیں اِس بات کا پتہ چل گیا اَور وہ وہاں سے بھاگ کر لُکانیہؔ کے شہر لُسترہؔ اَور دربؔے اَور آس پاس کے قصبوں میں چلے گیٔے،
ACT 14:7 اَور وہاں خُوشخبری سُنانے میں لگ گیٔے۔
ACT 14:8 لُسترہؔ میں ایک لولا آدمی بیٹھا ہُوا تھا۔ وہ پیدائش سے ہی لولا تھا اَور کبھی نہیں چلاتھا
ACT 14:9 وہ پَولُسؔ کی باتوں کو غور سے سُن رہاتھا۔ پَولُسؔ نے مُتوجّہ ہوکر اُسے دیکھا تو جان لیا کہ اُس میں اِتنا ایمان ہے کہ وہ شفا پا سکے۔
ACT 14:10 آپ نے زور سے چِلّاکر حُکم دیا، ”اَپنے پاؤں پر سیدھا کھڑے ہو جا!“ وہ فوراً، اُچھل کر کھڑا ہُوا اَور چلنے پھرنے لگا۔
ACT 14:11 جَب لوگوں نے پَولُسؔ کا یہ کام دیکھا تو وہ لُکانیہؔ کی زبان میں چِلّانے لگے، ”معبُود اِنسانی شکل میں ہمارے پاس اُتر آئے ہیں!“
ACT 14:12 اُنہُوں نے بَرنباسؔ کو زِیُوسؔ کا، اَور پَولُسؔ کو ہرمیسؔ کا نام دیا کیونکہ آپ تقریر کرنے میں زِیادہ ماہر تھے۔
ACT 14:13 زِیُوسؔ کا مُجاوِر جِس کا بُت خانہ شہر کے بالکُل سامنے تھا، اُس کا مُجاوِر بَیل اَور پھُولوں کے ہار لے کر شہر کے دروازوں پر پہُنچا کیونکہ وہ اَور شہر کے لوگ چاہتے تھے کہ رسولوں کے لیٔے قُربانیاں چڑھائیں۔
ACT 14:14 جَب رسولوں یعنی پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ نے یہ سُنا تو وہ اَپنے کپڑے پھاڑ کر ہُجوم میں جا گھُسے اَور چیخ چیخ کر کہنے لگے:
ACT 14:15 ”عزیزو، تُم یہ کیا کر رہے ہو؟ ہم بھی تمہاری ہی طرح، فقط اِنسان ہی ہیں۔ ہم تمہارے واسطے خُوشخبری لایٔے ہیں، تاکہ تُم اِن فُضول چیزوں کو چھوڑکر زندہ خُدا کی طرف رُجُوع کرو جِس نے آسمانوں اَور زمین اَور سمُندر کو اَورجو کچھ اُن میں مَوجُود ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔
ACT 14:16 اُس نے پچھلے زمانہ میں، ساری قوموں کو، اَپنی اَپنی راہ پر چلنے دیا۔
ACT 14:17 تو بھی اُس نے اَپنے آپ کو بے گواہ نہیں چھوڑا: اُس نے اَپنی شفقت کو ظاہر کرنے کے لیٔے آسمان سے بارش برسائی اَور فصلوں کے لیٔے موسم عطا کیٔے؛ تُمہیں کثرت سے خُوراک بخشی اَور تمہارے دِلوں کو خُوشی سے بھر دیا۔“
ACT 14:18 اِتنا کہنے کے باوُجُود بھی اُنہیں ہُجوم کو قُربانی کرنے سے روکنے میں دُشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
ACT 14:19 جَب کچھ یہُودی انطاکِیہؔ سے اِکُنِیُم میں آئے اُنہُوں نے ہُجوم کو اَپنی طرف کر لیا۔ وہ پَولُسؔ پر پتھراؤ کرنے لگے اَور آپ کو شہر کے باہر گھسیٹ لے گیٔے، اُن کا خیال تھا کہ آپ فوت ہو گئے۔
ACT 14:20 جَب شاگرد وہاں پہُنچے اَور آپ کو گھیرے میں لے لیا تو پَولُسؔ اُٹھے اَور واپس شہر میں آئے اَور اگلے دِن بَرنباسؔ کے ساتھ دربؔے تشریف لے گیٔے۔
ACT 14:21 اُنہُوں نے شہر میں خُوشخبری سُنایٔی اَور کثرت سے شاگرد بنائے۔ اِس کے بعد وہ لُسترہؔ، اِکُنِیُم اَور انطاکِیہؔ لَوٹ گیٔے۔
ACT 14:22 وہ شاگردوں کی حوصلہ اَفزائی کرتے اَور اُنہیں نصیحت دیتے تھے کہ اَپنے ایمان پر مضبُوطی سے قائِم رہو اَور فرماتے تھے، ”ہمیں خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیٔے بہت سِی مُصیبتوں کا سامنا کرنا لازِم ہے۔“
ACT 14:23 پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ نے ہر جماعت میں اُن کے لیٔے بُزرگ مُقرّر کیٔے اَور روزہ رکھ کر دعائیں کیں، اَور اُنہیں خُداوؔند کے سُپرد کیا، جِس پر وہ ایمان لایٔے تھے۔
ACT 14:24 پھر وہ پِسدِیہؔ سے ہوتے ہویٔے پَمفِیلہ کے علاقہ میں آئے
ACT 14:25 اَور جَب پِرگہؔ میں خُوشخبری سُنا چُکے تو اتّلیہؔ کی طرف چلے گیٔے۔
ACT 14:26 وہاں سے جہاز پر سوار ہوکر واپس انطاکِیہؔ گیٔے جہاں اُنہیں اُس خدمت کے لیٔے جو اُنہُوں نے اَب پُوری کرلی تھی خُدا کے فضل کے سُپرد کیا گیا تھا۔
ACT 14:27 انطاکِیہؔ پہُنچ کر اُنہُوں نے جماعت کو جمع کیا اَورجو کچھ خُدا نے اُن کے ذریعہ کیا تھا اُسے اُن کے سامنے بَیان کیا اَور یہاں تک کہ خُدا نے کِس طرح غَیریہُودیوں کے لیٔے بھی ایمان کا دروازہ کھول دیا۔
ACT 14:28 اَور وہ وہاں شاگردوں کے پاس کافی عرصہ تک مُقیم رہے۔
ACT 15:1 بعض لوگ یہُودیؔہ سے انطاکِیہؔ پہُنچے اَور بھائیوں کو یہ تعلیم دینے لگے: ”اگر حضرت مَوشہ کی رائج کی ہویٔی رسم کے مُطابق تمہارا ختنہ نہیں ہُوا، تو تُم نَجات نہیں پا سکتے۔“
ACT 15:2 اِس پر پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ کی اُن لوگوں سے سخت بحث و تکرار ہویٔی۔ چنانچہ جماعت نے پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ، اَور بعض دیگر اَشخاص کو اِس غرض سے مُقرّر کیا کہ وہ یروشلیمؔ جایٔیں اَور وہاں اِس مسئلہ پر رسولوں اَور بُزرگوں سے بات کریں۔
ACT 15:3 تَب جماعت نے اُنہیں روانہ کیا، اَور جَب وہ فینیکےؔ اَور سامریہؔ کے علاقوں سے گزر رہے تھے، تو اُنہُوں نے وہاں کے مسیحی بھائیوں کو بتایا کہ کِس طرح غَیریہُودی بھی المسیح پر ایمان لایٔے اَور جماعت میں شامل ہو گئے۔ یہ خبر سُن کر سارے بھایٔی نہایت خُوش ہُوئے۔
ACT 15:4 جَب وہ یروشلیمؔ آئے تو جماعت، رسولوں اَور بُزرگوں نے اُن کا خیرمقدم کیا، تَب اُنہُوں نے سَب کچھ بَیان کیا کہ خُدا نے اُن کے ذریعہ کیا کیا کام اَنجام دئیے۔
ACT 15:5 فریسیوں کے فرقہ کے بعض لوگ جو ایمان لا چُکے تھے کھڑے ہوکر کہنے لگے، ”غَیریہُودی میں سے ایمان لانے والوں کا ختنہ کیا جائے اَور اُنہیں حضرت مَوشہ کی شَریعت پر عَمل کرنے کا حُکم دیا جائے۔“
ACT 15:6 لہٰذا رسول اَور بُزرگ اِس بات پر غور کرنے کے لیٔے جمع ہویٔے۔
ACT 15:7 کافی بحث و تکرار کے بعد، پطرس نے کھڑے ہوکر اُنہیں یُوں مُخاطِب کیا: ”اَے بھائیو، تُم جانتے ہو کہ بہت عرصہ پہلے خُدا نے تُم لوگوں میں سے مُجھے چُنا تاکہ غَیریہُودی بھی میری زبان سے خُوشخبری کا کلام سُنیں اَور ایمان لائیں۔
ACT 15:8 خُدا، جو دِل کا حال جانتا ہے، اُس نے ہماری طرح اُنہیں بھی پاک رُوح دیا اَور گواہی دے کر ظاہر کر دیا، کہ وہ بھی اُس کی نظر میں مقبُول ٹھہرے ہیں۔
ACT 15:9 خُدا نے ہم میں اَور اُن میں کویٔی اِمتیاز نہیں کیا کیونکہ اُن کے ایمان لانے کے باعث اُس نے اُن کے دِل بھی پاک کیٔے۔
ACT 15:10 تو اَب تُم خُدا کو آزمائے کے لیٔے مسیحی شاگردوں کی گردن پر اَیسا جُوا کیوں رکھتے ہو جسے ہم ہی اُٹھا سکے اَور نہ ہمارے آباؤاَجداد برداشت کر سکے؟
ACT 15:11 حالانکہ! ہمارا ایمان تُو یہ ہے کہ خُداوؔند یِسوعؔ کے فضل کی بدولت جِس طرح وہ نَجات پائیں گے، اُسی طرح ہم بھی پائیں گے۔“
ACT 15:12 ساری جماعت پر خاموشی چھاگئی اَور لوگ بَرنباسؔ اَور پَولُسؔ کا بَیان سُننے لگے کہ خُدا نے اُن کے ذریعہ غَیریہُودی میں کیسے کیسے نِشانات اَور عجائبات دِکھائے۔
ACT 15:13 جَب اُن کی باتیں ختم ہویٔیں، تو یعقوب نے بَیان کیا۔ ”اَے بھائیو،“ آپ نے مزید فرمایا، ”میری بات سُنو۔“
ACT 15:14 شمعُونؔ تُمہیں بَیان کر چُکاہے کہ پہلے کِس طرح خُدا غَیریہُودیوں پر ظاہر ہُوا تاکہ اُن میں سے لوگوں کو چُن کر اَپنے نام کی ایک اُمّت بنا لے۔
ACT 15:15 نبیوں کا کلام بھی اِس کے مُطابق ہے، جَیسا کہ لِکھّا ہے:
ACT 15:16 ” ’اِس کے بعد مَیں پھر آؤں گا اَور داویؔد کے گِرے ہُوئے خیمہ کو کھڑا کروں گا۔ اُس کے پھٹے ٹُوٹے کی مرمّت کرکے، اُسے پھر سے تعمیر کروں گا،
ACT 15:17 تاکہ باقی اِنسان خُداوؔند کی تلاش کریں، تاکہ باقی لوگ یعنی سَب غَیریہُودی جو خُداوؔند کے نام کے کَہلاتے ہیں، وُہی خُداوؔند جو یہ کام کرےگا یہ اُسی خُدا کا قول ہے‘
ACT 15:18 جسے اَزل سے ہی اَپنی کاریگری کا علم ہے۔
ACT 15:19 ”اِس لیٔے میری رائے یہ ہے کہ ہم اُن غَیریہُودیوں کو تکلیف میں نہ ڈالیں جو خُدا کی طرف رُجُوع ہو رہے ہیں۔
ACT 15:20 بَلکہ اُنہیں خط لِکھ کر یہ بتائیں کہ وہ بُتوں کو نذر چڑھائی ہویٔی چیزوں اَور جنسی بدفعلی سے بچیں اَور گلا گُھونٹے ہویٔے جانوروں کے گوشت سے اَور اُن کے خُون سے پرہیز کریں۔
ACT 15:21 اِس لیٔے کہ ہر شہر میں قدیم زمانہ سے حضرت مَوشہ کے حُکموں کی مُنادی کی گئی ہے اَور وہ یہُودی عبادت گاہوں میں ہر سَبت کو پڑھ کر سُنائے بھی جاتے ہیں۔“
ACT 15:22 تَب رسولوں اَور بُزرگوں اَور ساری جماعت نے مِل کر مُناسب سمجھا کہ اَپنے میں سے چند آدمیوں کو چُن کر اُنہیں پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ کے ساتھ انطاکِیہؔ روانہ کیا جائے یعنی یہُوداہؔ کو جو برسبّاؔ کہلاتا ہے، اَور سِیلاسؔ کو جو بھائیوں میں مُقدّم تھے۔
ACT 15:23 اُن کے ہاتھ یہ خط روانہ کیا جو یہ ہے: رسولوں اَور بُزرگ بھائیوں کی طرف سے، انطاکِیہؔ، سِیریؔا اَور کِلکِیؔہ کے غَیریہُودی مسیحی بھائیوں کو سلام پہُنچے۔
ACT 15:24 ہم نے سُنا ہے کہ بعض لوگ ہم سے اِختیار لیٔے بغیر تمہارے یہاں گیٔے اَور اُنہُوں نے اَپنی باتوں سے تمہارے دِلوں کو پریشانی میں مُبتلا کر دیا۔
ACT 15:25 اِس لیٔے ہم نے مِل کر مُناسب جانا کہ یہاں سے دو آدمیوں کو چُن کر اَپنے عزیزوں پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ کے ہمراہ تمہارے پاس بھیجا جائے۔
ACT 15:26 یہ اَیسے آدمی ہیں کہ جنہیں ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے نام کی خاطِر اَپنی جانوں تک کی پرواہ نہیں۔
ACT 15:27 لہٰذا ہم نے یہُوداہؔ اَور سِیلاسؔ کو بھیجا ہے اَور وہ یہ باتیں زبانی طور پر بھی بَیان کریں گے۔
ACT 15:28 پاک رُوح نے اَور ہم نے مُناسب سمجھا کہ اِن ضروُری باتوں کے علاوہ تُم پر کویٔی اَور بوجھ نہ لادیں۔
ACT 15:29 پس تُم بُتوں کو نذر چڑھائی ہویٔی چیزوں سے، خُون سے، گلا گُھونٹے ہویٔے جانوروں کے گوشت سے پرہیز کرو اَور جنسی بدفعلی سے اَپنے آپ کو بچائے رکھو۔ اِن چیزوں سے دُور رہنا تمہارے لیٔے بہتر ہوگا۔ والسّلام۔
ACT 15:30 پس وہ آدمی رخصت ہوکر انطاکِیہؔ پہُنچے جہاں اُنہُوں نے جماعت کو جمع کرکے یہ خط اُن کے حوالہ کر دیا۔
ACT 15:31 وہ خط میں لکھی ہویٔی نصیحتوں کو پڑھ کر خُوش ہویٔے۔
ACT 15:32 یہُوداہؔ اَور سِیلاسؔ خُود بھی نبی تھے۔ اُنہُوں نے وہاں کے ایمان والوں کو نصیحتیں کیں اَور اُن کے ایمان کو مضبُوط کیا۔
ACT 15:33 کچھ دِنوں بعد بھائیوں نے اُنہیں سلامتی کی دعا کے ساتھ رخصت کیا تاکہ وہ اَپنے بھیجنے والوں کے پاس لَوٹ جایٔیں۔
ACT 15:34 مگر سِیلاسؔ کو وہیں ٹھہرے رہنا اَچھّا لگا۔
ACT 15:35 مگر پَولُسؔ اَور بَرنباسؔ انطاکِیہؔ ہی میں رُک گیٔے جہاں وہ اَور کیٔی دُوسرے لوگ مِل جُل کر تعلیم دیتے اَور خُداوؔند کے کلام کی تبلیغ کرتے رہے۔
ACT 15:36 کچھ عرصہ بعد پَولُسؔ نے بَرنباسؔ سے فرمایا، ”آؤ ہم اُن سارے شہروں میں واپس جایٔیں جہاں ہم نے خُداوؔند کے کلام کی مُنادی کی تھی اَور بھائیوں سے مُلاقات کریں اَور دیکھیں کہ اُن کا کیا حال ہے۔“
ACT 15:37 بَرنباسؔ کی مرضی تھی کہ یُوحنّا، کو جو مرقُسؔ کَہلاتے ہیں، ساتھ لے جانا چاہتے تھے،
ACT 15:38 لیکن پَولُسؔ نے مُناسب نہ سمجھا کہ یُوحنّا اُن کے ساتھ جائے کیونکہ وہ پَمفِیلہ میں کام چھوڑکر اُن سے الگ ہو گیا تھا۔
ACT 15:39 اِس پر اُن دونوں میں اِس قدر سخت اَن بَن ہویٔی کہ وہ ایک دُوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔ بَرنباسؔ تو مرقُسؔ کو لے کر جہاز سے جَزِیرہ سائپرسؔ چلا گیا
ACT 15:40 اَور پَولُسؔ نے سِیلاسؔ کو ساتھ لے لیا اَور بھائیوں نے اُنہیں دعاؤں کے ساتھ خُداوؔند کے فضل کے سُپرد کیا اَور وہ وہاں سے چل دئیے۔
ACT 15:41 پَولُسؔ، سِیریؔا اَور کِلکِیؔہ سے ہوتے ہُوئے جماعتوں کو مضبُوط کرتے گیٔے۔
ACT 16:1 وہ دربؔے اَور پھر لُسترہؔ پہُنچے جہاں ایک تِیمُتھِیُس نامی شاگرد رہتا تھا جِس کی ماں یہُودی مسیحی مُومِنہ تھی لیکن باپ یُونانی تھا۔
ACT 16:2 تِیمُتھِیُس، لُسترہؔ اَور اِکُنِیُم کے مسیحی بھائیوں میں نیک نام تھا۔
ACT 16:3 پَولُسؔ اُسے سفر پر اَپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے اِس لیٔے اُنہُوں نے تِیمُتھِیُس کا ختنہ کیا کیونکہ اُس علاقہ کے سارے یہُودی جانتے تھے کہ اُس کا باپ یُونانی ہے۔
ACT 16:4 وہ جِن شہروں سے گزرے وہاں کے لوگوں کو اُن اَحکام کے بارے میں بتاتے گیٔے جو یروشلیمؔ میں رسولوں نے اَور بُزرگوں نے مِل کر جاری کیٔے تھے تاکہ لوگ اُن پر عَمل کریں۔
ACT 16:5 پس جماعتیں ایمان میں مضبُوط ہوتی گئیں اَور روز بروز اُن کا شُمار بڑھتا چلا گیا۔
ACT 16:6 پَولُسؔ اَور اُن کے ساتھی فرُوگِیہؔ اَور گلِتیؔہ کے علاقہ میں سے ہوکر گزرے کیونکہ پاک رُوح نے اُنہیں آسیہؔ میں کلام سُنانے سے روک دیا تھا۔
ACT 16:7 جَب وہ مَوسیہؔ کی سرحد پر پہُنچے تو اُنہُوں نے بِتُھونیہؔ میں داخل ہونا چاہا لیکن یِسوعؔ المسیح کی رُوح نے اُنہیں جانے نہ دیا۔
ACT 16:8 لہٰذا وہ مَوسیہؔ کے پاس سے گزرے اَور تروآسؔ کے قصبہ میں چلے گیٔے۔
ACT 16:9 رات کو پَولُسؔ نے ایک آدمی کو رُویا میں دیکھا۔ وہ مَکِدُنیہؔ کا تھا اَور کھڑا ہُوا پَولُسؔ سے اِلتجا کر رہاتھا، ”اُس پار مَکِدُنیہؔ میں آ اَور ہماری مدد کر۔“
ACT 16:10 پَولُسؔ کی اُس رُویا کے بعد ہم لوگ فوراً مَکِدُنیہؔ جانے کے لیٔے تیّار ہو گیٔے کیونکہ ہم نے یہ نتیجہ نکالا کہ خُدا نے ہمیں وہاں کے لوگوں میں تبلیغ کرنے کے لیٔے بُلایا ہے۔
ACT 16:11 تروآسؔ سے ہم جہاز پر روانہ ہویٔے اَور سمُتراکے جَزِیرہ میں آئے اَور وہاں سے اگلے دِن نیاپُلِسؔ شہر پہُنچ گیٔے۔
ACT 16:12 وہاں سے ہم فِلپّی شہر روانہ ہویٔے جو رُومیوں کی بستی اَور صُوبہ مَکِدُنیہؔ کے علاقہ کا پہلا صدر مقام ہے۔ وہاں ہم کچھ دِنوں تک رہے۔
ACT 16:13 سَبت کے دِن ہم شہر کے پھاٹک سے نکل کر دریا پر پہُنچے کیونکہ ہمیں اُمّید تھی کہ وہاں پر ضروُر کویٔی دعا کرنے کی جگہ ہوگی۔ ہم وہاں جا کر بیٹھ گیٔے اَور کچھ عورتیں جو وہاں جمع ہو گئی تھیں، اُن سے کلام کرنے لگے۔
ACT 16:14 ہماری باتیں سُننے والی عورتوں میں لُدیہؔ نام کی ایک عورت تھی۔ وہ تھُواتِیؔرہ شہر کی تھی اَور قِرمزی رنگ والے کپڑے کا کاروبار کرتی تھی اَور بڑی خُداپرست تھی۔ خُداوؔند نے اُس کا کشادہ دِل کیا کہ پَولُسؔ کا پیغام سُنے اَور اُسے قبُول کرے۔
ACT 16:15 چنانچہ جَب وہ اَور اُس کے خاندان کے لوگ پاک ‏غُسل لے چُکے تو اُس نے ہم سے کہا، ”اگر تُم لوگ مُجھے خُداوؔند کی مُومِنہ بندی سمجھتے ہو، تو چلو اَور میرے گھر میں قِیام کرو۔“ اُس کی اِلتجا سُن کر ہم راضی ہو گئے۔
ACT 16:16 ایک مرتبہ جَب ہم دعا کے مقام کی طرف جا رہے تھے تو ہمیں ایک کنیز مِلی جِس میں ایک غیب دانؔ رُوح تھی۔ وہ آئندہ کا حال بتا کر اَپنے آقاؤں کے لیٔے بہت کچھ کماتی تھی۔
ACT 16:17 اُس لڑکی نے پَولُسؔ کا اَور ہمارا پیچھا کرنا شروع کر دیا اَور چِلّا چِلّاکر کہنے لگی، ”یہ لوگ خُداتعالیٰ کے خادِم ہیں جو تُمہیں نَجات کا راستہ بتاتے ہیں۔“
ACT 16:18 وہ کیٔی دِنوں تک اَیسا ہی کرتی رہی۔ بلآخر پَولُسؔ اِس قدر تنگ آ گئے کہ اُنہُوں نے مُڑ کر اُس رُوح سے کہا، ”مَیں تُجھے یِسوعؔ المسیح کے نام سے حُکم دیتا ہُوں کہ اِس میں سے نکل جا!“ اَور اُسی گھڑی وہ رُوح اُس لڑکی میں سے نکل گئی۔
ACT 16:19 جَب اُس کے آقاؤں نے دیکھا کہ اُن کی کمائی کی اُمّید جاتی رہی تو وہ پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کو پکڑکر شہر کے چَوک میں حاکموں کے پاس لے گیٔے۔
ACT 16:20 اُنہُوں نے پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کو کَچہری میں پیش کیا اَور کہا، ”یہ لوگ یہُودی ہیں اَور ہمارے شہر میں بڑی کھلبلی مچا رہے ہیں
ACT 16:21 اَور اَیسی رسموں کی تعلیم دیتے ہیں جِن کا ماَننا یا اُن پر عَمل کرنا ہم رُومیوں کو ہرگز جائز نہیں۔“
ACT 16:22 یہ سُن کر عوام بھی اُن کے ساتھ مِل گیٔے اَور پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کی مُخالفت پر اُتر آئے، اِس پر عدالت کے حاکموں نے اُن کی پوشاک پھاڑ کر اُنہیں ننگا کروا کر پِٹوانے کا حُکم دیا۔
ACT 16:23 چنانچہ سپاہیوں نے اُنہیں خُوب بیت لگائے اَور قَیدخانہ میں ڈال دیا۔ قَیدخانہ کے داروغہ کو حُکم دیا گیا کہ اُن کی پُوری نگہبانی کرے۔
ACT 16:24 یہ حُکم پا کر داروغہ نے اُنہیں ایک کال کوٹھری میں بند کر دیا اَور اُن کے پیروں کو لکڑی میں ٹھونک دیا۔
ACT 16:25 آدھی رات کے قریب جَب پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ دعا میں مشغُول تھے اَور خُدا کی حَمد و ثنا کر رہے تھے اَور دُوسرے قَیدی سُن رہے تھے۔
ACT 16:26 کہ اَچانک ایک بڑا بھُونچال آیا جِس سے قَیدخانہ کی بُنیاد ہل گئی۔ اَور فوراً دروازے کھُل گیٔے اَور سَب قَیدیوں کی زنجیروں بھی کھُل گئیں۔
ACT 16:27 داروغہ جاگ اُٹھا اَور جَب اُس نے قَیدخانہ کے دروازے کھُلے دیکھے تو خیال کیا کہ سارے قَیدی قَیدخانہ سے نکل بھاگے ہیں۔ اُس نے اَپنی تلوار کھینچی اَور چاہتا تھا کہ اَپنے آپ کو مار ڈالے
ACT 16:28 لیکن پَولُسؔ نے چِلّاکر کہا، ”اَپنے آپ کو نُقصان نہ پہُنچا! کیونکہ ہم سَب یہاں مَوجُود ہیں!“
ACT 16:29 داروغہ نے چراغ منگوایا اَور اَندر دَوڑکر گیا اَور کانپتا ہُوا پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کے سامنے سَجدہ میں گِر پڑا۔
ACT 16:30 پھر اُنہیں باہر لایا اَور کہنے لگا: ”صاحِبو! میں کیا کروں کہ نَجات پا سکوں؟“
ACT 16:31 اُنہُوں نے جَواب دیا: ”خُداوؔند یِسوعؔ المسیح پر ایمان لائیں تو آپ اَور آپ کا سارا خاندان نَجات پایٔےگا۔“
ACT 16:32 تَب اُنہُوں نے داروغہ اَور اُن کے گھر والوں کو خُداوؔند کا کلام سُنایا۔
ACT 16:33 اُسی وقت رات کو داروغہ اُنہیں لے گیا، اُن کے زخم دھوئے اَور فوراً اُنہُوں نے اَور اُن کے سارے گھر والوں نے پاک ‏غُسل لیا۔
ACT 16:34 پھر داروغہ اُنہیں اُوپر گھر میں لے گیا اَور اُن کے کھانے کے لیٔے دسترخوان بچھایا؛ اَور اَپنے سارے گھر والوں سمیت خُدا پر ایمان لاکر بڑے خُوش ہویٔے۔
ACT 16:35 جَب صُبح ہویٔی تو رُومی عدالت کے حاکموں نے اَپنے سپاہیوں کو قَیدخانہ کے داروغہ کے پاس یہ حُکم دے کر بھیجا: ”اُن آدمیوں کو رہا کر دے۔“
ACT 16:36 چنانچہ داروغہ نے پَولُسؔ سے کہا، ”عدالت کے حاکموں نے حُکم بھیجا ہے کہ تُجھے اَور سِیلاسؔ کو رہا کیا جائے۔ لہٰذا اَب تُم نکل کر۔ سلامت چلے جاؤ۔“
ACT 16:37 لیکن پَولُسؔ نے سپاہیوں سے کہا: ”اُنہُوں نے ہمارا قُصُور ثابت کیٔے بغیر ہمیں سَب کے سامنے مارا پِیٹا اَور قَیدخانہ میں ڈال دیا حالانکہ ہم رُومی شَہری ہیں، کیا اَب وہ ہمیں چُپکے سے چھوڑ دینا چاہتے ہیں؟ نہیں! اَیسا نہیں ہو سَکتا۔ بَلکہ وہ خُود یہاں آئیں اَور ہمیں قَیدخانہ سے باہر لے آئیں۔“
ACT 16:38 سپاہیوں نے جا کر عدالت کے حاکموں کو اِن باتوں کی خبر دی اَور جَب اُنہُوں نے سُنا کہ پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ رُومی شَہری ہیں، تو بہت گھبرائے۔
ACT 16:39 اَور وہاں آکر اُنہیں منانے لگے اَور پھر اُنہیں قَیدخانہ سے باہر لایٔے اَور درخواست کی کہ شہر سے چلے جایٔیں۔
ACT 16:40 پس پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ قَیدخانہ سے باہر نکلے، اَور لُدیہؔ کے یہاں گیٔے، جہاں وہ فِلپّی کے مسیحی بھائیوں سے ملے اَور اُنہیں تسلّی دے کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔
ACT 17:1 اِس کے بعد پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ، اَمفِپُلِس اَور اَپُلّونیہؔ کے شہروں سے ہوتے ہویٔے، تھِسلُنِیکے شہر میں آئے، جہاں کی ایک یہُودی عبادت گاہ تھی۔
ACT 17:2 پَولُسؔ اَپنے دستور کے مُطابق، یہُودی عبادت گاہ میں گیٔے، اَور تین سَبت تک کِتاب مُقدّس سے اُن کے ساتھ بحث کی۔
ACT 17:3 وہ اُس کا مطلب واضح کرتے اَور دلیلوں سے ثابت کرتے تھے کہ المسیح کا دُکھ اُٹھانا اَور مُردوں میں سے جی اُٹھنا لازمی تھا اَور ”یہ کہ جِس یِسوعؔ کی مُنادی وہ کرتے ہیں وُہی المسیح ہیں۔“
ACT 17:4 بعض یہُودی اِس تعلیم سے مُتاثّر ہوکر پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ سے آ ملے اَور اِسی طرح بہت سِی خُداپرست یُونانی اَور کیٔی شریف عورتیں بھی اُن کے شریک ہو گئیں۔
ACT 17:5 لیکن دیگر یہُودیوں نے جلن کی وجہ سے؛ بعض بدمعاشوں کو بازاری لوگوں میں سے چُن کر ہُجوم جمع کر لیا، اَور شہر میں بَلوا شروع کر دیا۔ اُنہُوں نے یاسونؔ کے گھر پر ہلّہ بول دیا تاکہ پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کو ڈھونڈ کر ہُجوم کے سامنے لے آئیں۔
ACT 17:6 لیکن جَب وہ اُنہیں نہ پا سکے تو یاسونؔ اَور کیٔی دُوسرے مسیحی بھائیوں کو گھسیٹ کر شہر کے حاکم کے پاس لے گیٔے، اَور چِلّانے لگے: ”یہ آدمی جنہوں نے ساری دُنیا کو اُلٹ پلٹ کر دیا ہے اَب یہاں بھی آ پہُنچے ہیں،
ACT 17:7 اَور یاسونؔ نے اُنہیں اَپنے گھر میں ٹھہرایا ہے۔ یہ لوگ قَیصؔر کے اَحکام کی خِلاف ورزی کرتے ہیں اَور کہتے ہیں کہ بادشاہ تو کویٔی اَور ہی ہے، یعنی یِسوعؔ۔“
ACT 17:8 یہ بات سُن کر عوام اَور شہر کے حاکم تِلمِلا گیٔے
ACT 17:9 اَور اُنہُوں نے یاسونؔ اَور باقی مسیحی لوگوں کو ضمانت پر چھوڑ دیا۔
ACT 17:10 رات ہوتے ہی، مسیحی مُومِنین نے پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کو وہاں سے فوراً بیریّؔہ روانہ کر دیا۔ جَب وہ وہاں پہُنچے، تو یہُودی عبادت گاہ میں گیٔے۔
ACT 17:11 بیریّؔہ کے یہُودی لوگ تھِسلُنِیکے کے لوگوں سے زِیادہ شریف ثابت ہویٔے، اِس لیٔے کہ اُنہُوں نے کِتاب مُقدّس کو بڑے شوق سے قبُول کیا۔ وہ ہر رات پاک نوشتوں کی تحقیق کرتے تھے تاکہ دیکھیں کہ پَولُسؔ کی باتیں برحق ہیں یا نہیں۔
ACT 17:12 آخِرکار کیٔی یہُودی اَور ساتھ ہی، بہت سے مُعزّز یُونانی مَرد اَور عورتیں بھی ایمان لایٔے۔
ACT 17:13 جَب تھِسلُنِیکے کے یہُودیوں کو مَعلُوم ہُوا کہ پَولُسؔ بیریّؔہ میں خُدا کے کلام کی مُنادی کر رہے ہیں، تو وہ وہاں بھی آ پہُنچے اَور لوگوں کو ہنگامہ برپا کرنے پر اُکسانے لگے۔
ACT 17:14 اِس پر بھائیوں نے فوراً پَولُسؔ کو ساحِل سمُندر کی طرف روانہ کر دیا، لیکن سِیلاسؔ اَور تِیمُتھِیُس بیریّؔہ ہی میں ٹھہرے رہے۔
ACT 17:15 جو لوگ پَولُسؔ کی رہبری کر رہے تھے وہ اُنہیں اتھینؔے میں چھوڑکر اِس حُکم کے ساتھ واپس ہویٔے کہ سِیلاسؔ اَور تِیمُتھِیُس جلد سے جلد پَولُسؔ کے پاس پہُنچ جایٔیں۔
ACT 17:16 جَب پَولُسؔ اتھینؔے میں اُن کا اِنتظار کر رہے تھے تُو یہ دیکھ کر کہ سارا شہر بُتوں سے بھرا پڑا ہے، اُن کا دِل بڑا رنجیدہ ہُوا۔
ACT 17:17 چنانچہ وہ یہُودی عبادت گاہ میں یہُودیوں اَور خُداپرست یُونانیوں سے بحث کیا کرتے تھے اَور اُن سے بھی جو پَولُسؔ کو ہر روز چَوک میں ملتے تھے۔
ACT 17:18 بعض اِپِکُورؔی اَور سِتُوئیکی فلسفی اُن سے بحث میں اُلجھ گیٔے۔ اُن میں سے بعض نے کہا، ”یہ بکواسی کیا کہنا چاہتاہے؟“ چونکہ پَولُسؔ، یِسوعؔ المسیح اَور قیامت کی بشارت دیتے تھے اِس لیٔے بعض یہ کہنے لگے، ”یہ تو اجنبی معبُودوں کی تبلیغ کرنے والا مَعلُوم ہوتاہے۔“
ACT 17:19 تَب وہ پَولُسؔ کو اَپنے ساتھ اَرِیُوپَگُسؔ پر لے گیٔے، اَور وہاں اُن سے کہنے لگے، ”کیا ہم جان سکتے ہیں کہ یہ نئی تعلیم جو تُو دیتا پھرتاہے، کیا ہے؟
ACT 17:20 ہم تیرے مُنہ سے بڑی عجِیب و غریب نظریات سُن رہے ہیں۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اِن کا کیا مطلب ہے؟“
ACT 17:21 (اصل میں اتھینؔے والے کیا دیسی کیا پردیسی، اَپنی فُرصت کا سارا وقت کسی اَور کام کی بجائے صِرف نئی نئی باتیں سُننے یا سُنانے میں گزارا کرتے تھے۔)
ACT 17:22 لہٰذا پَولُسؔ اَرِیُوپَگُسؔ کے بیچ میں کھڑے ہو گئے اَور فرمایا: ”اَے اتھینؔے والو! میں دیکھتا ہُوں کہ تُم ہر بات میں بڑی مَذہَبِیّت دِکھانے ہو۔
ACT 17:23 کیونکہ جَب مَیں تمہارے شہر میں گھُوم پھر رہاتھا تو میری نظر تمہاری عبادت کی چیزوں پر پڑی، اَور میری نظر قُربان گاہ پر بھی پڑی۔ جِس پر یہ لِکھّا ہُواہے: ایک نامعلوم خُدا کے لیٔے۔ پس تُم جسے بغیر جانتے پُوجتے ہو، میں تُمہیں اُسی کی خبر دیتا ہُوں۔
ACT 17:24 ”جِس خُدا نے دُنیا اَور اُس کی ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے وہ آسمان اَور زمین کا مالک ہے۔ وہ ہاتھ کی بنائی ہویٔی یہُودی عبادت گاہوں میں نہیں رہتا۔
ACT 17:25 وہ اِنسان کے ہاتھوں سے خدمت نہیں لیتا کیونکہ وہ کسی چیز کا مُحتاج نہیں۔ وہ تو سارے اِنسانوں کو زندگی، سانس اَور سَب کچھ دیتاہے۔
ACT 17:26 خُدا نے آدمؔ کو بنایا اَور اُس ایک سے لوگوں کی ہر قوم کو پیدا کیا تاکہ تمام روئے زمین آباد ہو؛ خُدا نے اُن کی زندگی کے ایّام مُقرّر کیٔے اَور سکونت کے لیٔے حدّوں کو تعیُّن کیا۔
ACT 17:27 تاکہ وہ خُدا کو ڈھونڈیں اَور شاید تلاش کرتے کرتے اُسے پالیں، حالانکہ وہ ہم میں سے کسی سے بھی دُور نہیں۔
ACT 17:28 ’کیونکہ ہم خُدا میں زندہ رہتے اَور حرکت کرتے اَور ہمارا وُجُود بھی اُسی میں قائِم ہے۔‘ جَیسا کہ تمہارے بعض شاعِروں نے بھی کہا ہے، ’ہم تو اُن کی نَسل بھی ہیں۔‘
ACT 17:29 ”اگر ہم ہیں تو ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ نَسل الٰہی سونے، چاندی یا پتّھر کی مُورت ہے جو کسی اِنسان کی ماہرانہ کاریگری کا نمونہ ہو۔
ACT 17:30 خُدا نے ماضی کی اَیسی جہالت کو نظر اَنداز کر دیا، اَور اَب وہ سارے اِنسانوں کو ہر جگہ حُکم دیتاہے کہ تَوبہ کریں۔
ACT 17:31 کیونکہ اُس نے ایک دِن مُقرّر کر دیا ہے جَب وہ راستبازی کے ساتھ ساری دُنیا کا اِنصاف ایک اَیسے آدمی کے ذریعہ کرےگا جسے اُس نے مامُور کیا ہے اَور اُسے مُردوں میں سے زندہ کرکے یہ بات سارے اِنسانوں پر ثابت کر دی ہے۔“
ACT 17:32 جَب اُنہُوں نے مُردوں کی قیامت کے بارے میں سُنا، تو اُن میں سے بعض نے اِس بات کو ہنسی میں اُڑا دیا، اَور بعض نے کہا کہ، ”ہم اِس مضمون پر تُجھ سے پھر کبھی سُنیں گے۔“
ACT 17:33 یہ حال دیکھ کر پَولُسؔ اُن کی مَجلِس سے نکل کر چلےگئے۔
ACT 17:34 مگر کچھ لوگ پَولُسؔ سے ہمنوا ہو گئے اَور ایمان لایٔے۔ اُن میں ایک دِیونُسیُّسؔ، اَرِیُوپَگُسؔ کی مَجلِس کا رُکن تھا، ایک عورت بھی تھی جِس کا نام دمرِسؔ تھا اَور اُن کے علاوہ اَور بھی تھے۔
ACT 18:1 اِس کے بعد پَولُسؔ، اتھینؔے سے کُرِنتھُسؔ شہر چلےگئے۔
ACT 18:2 وہاں پَولُسؔ کو ایک یہُودی مِلا جِس کا نام اَکوِلہؔ تھا۔ وہ پُنطُسؔ کا رہنے والا تھا۔ اَور اَپنی پرسکِلّہؔ کے ساتھ حال ہی میں اِطالیہؔ سے آیاتھا کیونکہ قَیصؔر کلودِیُسؔ نے حُکم دیا تھا کہ تمام یہُودی رُوم شہر سے نکل جایٔیں۔ پَولُسؔ اُن کے پاس گیٔے۔
ACT 18:3 اَکوِلہؔ اَور پرسکِلّہؔ کا پیشہ خیمہ دوزی تھا اَور یہی پیشہ پَولُسؔ کا بھی تھا۔ لہٰذا وہ اُن کے ساتھ رہ کر کام کرنے لگے۔
ACT 18:4 لیکن ہر سَبت کو وہ یہُودی عبادت گاہ جاتے اَور یہُودیوں اَور یُونانیوں کے ساتھ بحث کرکے اُنہیں قائل کرتے تھے۔
ACT 18:5 جَب سِیلاسؔ اَور تِیمُتھِیُس دونوں مَکِدُنیہؔ سے آئے تو پَولُسؔ بڑے جوش کے ساتھ اَپنا سارا وقت کلام کی مُنادی کرنے میں گُزارنے لگے۔ وہ یہُودیوں کے سامنے گواہی دیتے تھے کہ یِسوعؔ ہی المسیح ہیں۔
ACT 18:6 لیکن جَب یہُودی پَولُسؔ کے برخلاف ہوکر گالیِوں پر اُتر آئے تو پَولُسؔ نے اِحتِجاج کے طور پر کپڑے جھاڑے اَور اُن سے کہا، ”تمہارا خُون تمہاری ہی گردن پر ہو! میں اِس سے پاک ہُوں۔ اَب سے میں غَیریہُودی کے پاس جاؤں گا۔“
ACT 18:7 تَب پَولُسؔ یہُودی عبادت گاہ سے نکل گیٔے اَور ایک خُداپرست شخص طِطُسؔ یُوستُسؔ کے گھر جا ٹھہرے جو یہُودی عبادت گاہ سے مِلا ہُوا تھا۔
ACT 18:8 اُس یہُودی عبادت گاہ کا رہنما کرِسپُسؔ تھا جو اَپنے سارے گھرانے سمیت خُداوؔند پر ایمان لایا اَور کُرِنتھُسؔ کے کیٔی اَور لوگ بھی کلام سُن کر ایمان لایٔے اَور اُنہُوں نے پاک ‏غُسل لیا۔
ACT 18:9 ایک رات خُداوؔند نے پَولُسؔ سے رُویا میں کلام کیا: ”خوف نہ کر؛ بَلکہ کہتا چلا جا، اَور خاموش نہ رہ۔
ACT 18:10 کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہُوں اَور کویٔی تُجھ پر حملہ کرکے تُجھے نُقصان نہ پہُنچا سکےگا، اِس لیٔے کہ اِس شہر میں میرے کیٔی لوگ مَوجُود ہیں۔“
ACT 18:11 پس پَولُسؔ وہاں ڈیڑھ بَرس تک رہے اَور اُنہیں خُدا کا کلام سِکھاتے رہے۔
ACT 18:12 جَب گلیّؔو صُوبہ اَخیہؔ کا حاکم تھا، تو یہُودیوں نے مِل کر پَولُسؔ پر ہلّہ بول دیا اَور اُنہیں پکڑکر عدالت میں لے۔ گیٔے
ACT 18:13 اَور کہنے لگے، ”یہ آدمی لوگوں کو اَیسے طریقہ سے خُدا کی عبادت کرنے کی ترغِیب دیتاہے جو ہماری شَریعت کے برخلاف ہے۔“
ACT 18:14 پَولُسؔ کچھ کہنے ہی والے تھے کہ گلیّؔو نے یہُودیوں سے کہا، ”اَے یہُودیوں! اگر یہ کسی جُرم کی یا کسی بڑی شرارت کی بات ہوتی تو میں ضروُر تمہاری سُنتا۔
ACT 18:15 لیکن تمہارا اِلزام تو بعض لفظوں، ناموں اَور تمہاری اَپنی شَریعت کے مسئلوں سے تعلّق رکھتا ہے۔ اِس سے تُم خُود ہی نِپٹو۔ میں اَیسی باتوں کا مُنصِف نہیں بنُوں گا۔“
ACT 18:16 اَور گلیّؔو نے پَولُسؔ کو عدالت سے نکلوادِیا۔
ACT 18:17 تَب سَب یہُودیوں کا ہُجوم سوتھِنیسؔ پر ٹوٹ پڑے جو یہُودی عبادت گاہ کا رہنما تھا اَور سے پکڑکر عدالت کے سامنے ہی مارنے پیٹنے لگے۔ لیکن گلیّؔو نے کچھ پروا نہ کی۔
ACT 18:18 پَولُسؔ کافی دِنوں تک کُرِنتھُسؔ میں رہے۔ پھر وہ بھائیو اَور بہنوں سے رخصت ہوکر جہاز پر سِیریؔا کی طرف چلےگئے۔ پرسکِلّہؔ اَور اَکوِلہؔ بھی اُن کے ساتھ تھے۔ روانگی سے پہلے پَولُسؔ نے اَپنی مِنّت پُوری کرنے کے لیٔے کِنخِریہؔ میں اَپنا سَر مُنڈوایا۔
ACT 18:19 جَب وہ اِفِسُسؔ پہُنچے تو پَولُسؔ نے اَکوِلہؔ اَور پرسکِلّہؔ کو اَلوِداع کہا اَور خُود ایک یہُودی عبادت گاہ میں جا کر یہُودیوں سے بحث کرنے لگے۔
ACT 18:20 جَب اُنہُوں نے پَولُسؔ سے درخواست کی کہ ہمارے پاس کچھ دیر اَور رہیں تو پَولُسؔ نے منظُور نہ کیا۔
ACT 18:21 لیکن جَب پَولُسؔ وہاں سے روانہ ہونے لگے، تو وعدہ کیا، ”اگر خُدا کی مرضی ہویٔی تو مَیں تمہارے پاس پھر آؤں گا۔“ پھر وہ جہاز پر سوار ہوکر اِفِسُسؔ سے روانہ ہو گئے۔
ACT 18:22 جَب وہ قَیصؔریہ میں جہاز سے اُترے تو یروشلیمؔ جا کر پَولُسؔ نے جماعت کو سلام عرض کیا اَور پھر انطاکِیہؔ کی طرف روانہ ہُوئے۔
ACT 18:23 انطاکِیہؔ میں کچھ عرصہ گُزارنے کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہُوئے اَور گلِتیؔہ اَور فرُوگِیہؔ کے سارے علاقوں سے گُزرتے ہُوئے تمام شاگردوں کے ایمان کو مضبُوط کرتے گیٔے۔
ACT 18:24 اِس دَوران ایک یہُودی جِس کا نام اپُلّوسؔ تھا اَورجو الیکزینڈریا کا باشِندہ تھا، اِفِسُسؔ میں وارِد ہُوا۔ وہ بڑا شیریں بَیان تھا اَور کِتاب مُقدّس کا گہرا علم رکھتا تھا۔
ACT 18:25 اپُلّوسؔ نے خُداوؔند کی راہ کی تعلیم پائی تھی اَور وہ بڑے جوش و خروش سے کلام کرتے تھے اَور یِسوعؔ کے بارے میں صحیح تعلیم دیتے تھے لیکن وہ صِرف حضرت یُوحنّا ہی کے پاک ‏غُسل سے واقف تھے۔
ACT 18:26 اپُلّوسؔ یہُودی عبادت گاہ میں دِلیری کے ساتھ کلام کرنے لگے اَور جَب پرسکِلّہؔ اَور اَکوِلہؔ نے اُنہیں سُنا تو اپُلّوسؔ اَپنے گھر لے گیٔے اَور اُنہیں خُدا کی راہ کی تعلیم اَور بہتر طور پر دی۔
ACT 18:27 جَب اپُلّوسؔ نے سمُندر پار صُوبہ اَخیہؔ جانے کا اِرادہ کیا تو بھائیو اَور بہنوں نے اُن کی ہِمّت اَفزائی کی اَور وہاں شاگردوں کو لِکھّا کہ اُن سے خُلوص سے ملیں۔ وہاں پہُنچ کر اپُلّوسؔ نے اُن لوگوں کی بڑی مدد کی جو خُدا کے فضل کی بدولت ایمان لایٔے تھے۔
ACT 18:28 کیونکہ وہ بحث و مُباحثہ میں بڑے زور شور سے یہُودیوں کو کھُلے عام غلط ثابت کرتے تھے اَور کِتاب مُقدّس سے قائل کر دیتے کہ یِسوعؔ ہی المسیح ہیں۔
ACT 19:1 جَب اپُلّوسؔ کُرِنتھُسؔ میں تھے تو پَولُسؔ علاقہ کی اَندرونی شاہراہ سے گُزرتے ہُوئے اِفِسُسؔ پہُنچے۔ وہاں سے کیٔی شاگرد ملے۔
ACT 19:2 پَولُسؔ نے اُن سے پُوچھا، ”کیا تُم نے ایمان لاتے وقت پاک رُوح پایاتھا؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”نہیں، ہم نے تو سُنا بھی نہیں کہ پاک رُوح کیا چیز ہے۔“
ACT 19:3 اِس پر پَولُسؔ نے کہا، ”پھر تُم نے کِس کا پاک ‏غُسل لیا؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”حضرت یُوحنّا کا۔“
ACT 19:4 پَولُسؔ نے کہا، ”حضرت یُوحنّا نے تو تَوبہ کا پاک ‏غُسل دیا اَور کہا کہ وہ جو میرے بعد آنے والا ہے، تُم اُس پر ایمان لاؤ یعنی یِسوعؔ المسیح پر۔“
ACT 19:5 یہ سُن کر اُنہُوں نے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے نام پر پاک ‏غُسل لیا۔
ACT 19:6 جَب پَولُسؔ نے اُن کے اُوپر ہاتھ رکھے تو پاک رُوح اُن پر نازل ہُوا اَور وہ طرح طرح کی زبانیں بولنے اَور نبُوّت کرنے لگے۔
ACT 19:7 وہ سَب کویٔی بَارہ آدمی تھے۔
ACT 19:8 پھر پَولُسؔ نے یہُودی عبادت گاہ میں جانا شروع کیا اَور تقریباً تین ماہ تک دِلیری کے ساتھ خُدا کی بادشاہی کے بارے میں دلائل دے، دے کر لوگوں کو قائل کرتے رہے۔
ACT 19:9 لیکن اُن میں سے بعض سخت دِل ہو گئے اَور اُنہُوں نے ایمان لانے سے اِنکار کر دیا اَور مسیحی عقیدہ کو سرِ عام بُرا بھلا کہنے لگے۔ لہٰذا پَولُسؔ نے اُن سے کنارہ کرکے مسیحی شاگردوں کو الگ کر لیا اَور تِرنُّسؔ کے مدرسہ میں جانا شروع کر دیا جہاں وہ ہر روز بحث مُباحثہ کیا کرتے تھے۔
ACT 19:10 یہ سلسلہ دو بَرس تک چلتا رہا، یہاں تک کہ آسیہؔ کے صُوبہ میں رہنے والے تمام یہُودیوں اَور غَیریہُودیوں کو خُداوؔند کا کلام سُننے کا موقع مِلا۔
ACT 19:11 اَور خُدا پَولُسؔ کے ذریعہ بڑے بڑے معجزے دِکھانے تھے۔
ACT 19:12 یہاں تک کہ جَب اَیسے رُومال اَور پٹکے بھی جنہیں پَولُسؔ ہاتھ لگاتے تھے، بیماریوں پر ڈالے جاتے تھے تو وہ اَپنی بیماریوں سے شفا پاتے تھے اَور اگر اُن میں بدرُوحیں ہوتی تھیں تو وہ بھی نکل جاتی تھیں۔
ACT 19:13 بعض یہُودی عامِل بھی اِدھر اُدھر جا کر خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے نام سے جھاڑ پھُونک کرنے لگے۔ وہ بدرُوحوں کو نکالنے کے لیٔے یہ کہتے تھے، ”جِس یِسوعؔ المسیح کی پَولُسؔ مُنادی کرتا ہے، میں اُسی کے نام کی قَسم دے کر تُجھے نکل جانے کا حُکم دیتا ہُوں۔“
ACT 19:14 یہُودی اہم کاہِنوں سِکِوؔا کے سات بیٹے بھی یہی کام کرتے تھے۔
ACT 19:15 لیکن ایک دِن بدرُوح نے اُن سے کہا، ”میں یِسوعؔ المسیح کو تو جانتی ہُوں اَور پَولُسؔ سے بھی واقف ہُوں لیکن تُم کون ہو؟“
ACT 19:16 تَب جِس آدمی میں بدرُوح تھی، وہ اُن پر چھلانگ لگا کر اُن سَب پر غالب آ گیا۔ اُس نے اُنہیں اِس قدر پِیٹا کہ وہ لہُولُہان ہو گئے اَور وہاں سے ننگے ہی بھاگ نکلے۔
ACT 19:17 جَب اِفِسُسؔ کے یہُودیوں اَور یُونانیوں کو اِس بات کا علم ہُوا تو اُن پر خوف چھا گیا اَور خُداوؔند یِسوعؔ کا نام سربُلند ہُوا۔
ACT 19:18 کیٔی لوگوں نے جو ایمان لایٔے تھے، آکر اَپنے بُرے کاموں کا برملا اِظہار اَور اقرار کیا۔
ACT 19:19 کیٔی جو جادُوگری کرتے تھے، اَپنے طُوماروں کو جمع کرکے لایٔے اَور اُنہیں سرِ عام جَلا دیا۔ جَب اُن طُوماروں کی جلدوں کی قیمت کا اَندازہ لگایا گیا تو وہ پچاس ہزار دِرہم کی نکلیں۔
ACT 19:20 اِس طرح خُداوؔند کا کلام بڑی مضبُوطی کے ساتھ جڑ پکڑتا اَور پھیلتاگیا۔
ACT 19:21 اِن باتوں کے بعد پَولُسؔ نے پکّا اِرادہ کر لیا، میں مَکِدُنیہؔ اَور صُوبہ اَخیہؔ کے علاقہ سے ہوتا ہُوا یروشلیمؔ چلا جاؤں گا۔ اَور پھر وہاں سے، ”میں رُوم شہر کو بھی دیکھ لُوں گا۔“
ACT 19:22 پَولُسؔ نے اَپنے ساتھیوں میں سے تِیمُتھِیُس اَور اِراستُسؔ دو آدمیوں کو صُوبہ مَکِدُنیہؔ روانہ کیا اَور خُود بھی کچھ دیر آسیہؔ کے صُوبہ میں ٹھہرے رہے۔
ACT 19:23 اِسی دَوران مسیحی عقیدہ کے بارے میں بڑا ہنگامہ اُٹھ کھڑا ہُوا۔
ACT 19:24 ایک چاندی کاریگر جِس کا نام دیمیترِیُسؔ تھا، اَرتمِسؔ دیوی کے بُت خانہ کے نمونہ پر چاندی کے چُھوٹے چُھوٹے بُت خانہ بنواتا تھا اَور اَپنے ہم پیشہ کاریگروں کو بہت کام دِلواتا تھا۔
ACT 19:25 اُس نے اَپنے ہم پیشہ سارے کاریگروں کو جمع کیا اَور کہا، ”بھائیو! تُم جانتے ہو کہ ہم یہ کام کرکے کافی رقم کما لیتے ہیں۔
ACT 19:26 لیکن جَیسا کہ تُم دیکھتے اَور سُنتے ہو یہ آدمی پَولُسؔ کِس طرح اِفِسُسؔ اَور تقریباً سارے صُوبہ آسیہؔ میں ہمیں بہت سے لوگوں کو قائل کرکے گُمراہ کر رہاہے اَور کہتاہے کہ ہاتھوں کے بنائے ہویٔے بُت ہرگز معبُود نہیں ہو سکتے۔
ACT 19:27 خوف اِس بات کا ہے کہ نہ صِرف ہمارے پیشہ کی بدنامی ہوگی بَلکہ عظیم دیوی اَرتمِسؔ کے بُت خانہ کی قدر بھی جاتی رہے گی۔ اَور جَیسے تمام آسیہؔ اَور ساری دُنیا بھر میں اِس دیوی کی پرستش ہوتی ہے۔ اَب اُس کے نام کی عظمت بھی باقی نہ رہے گی۔“
ACT 19:28 جَب اُنہُوں نے یہ سُنا تو غُصّہ سے آگ بگُولہ ہو گئے اَور زور زور سے نعرے لگانے لگے، ”اِفِسیوں کی دیوی اَرتمِسؔ عظیم ہے!“
ACT 19:29 دیکھتے دیکھتے سارے شہر میں افراتفری پھیل گئی۔ لوگوں نے گیُسؔ اَور ارِسترخُسؔ کو جو صُوبہ مَکِدُنیہؔ سے پَولُسؔ کے ساتھ آئےتھے پکڑ لیا اَور اُنہیں گھسیٹتے ہویٔے تماشاگاہ کی طرف دَوڑ پڑے۔
ACT 19:30 پَولُسؔ نے بھی مجمع میں جانا چاہا لیکن شاگردوں نے پَولُسؔ کو روک دیا۔
ACT 19:31 اَور صُوبہ آسیہؔ کے بعض حُکاّم نے جو پَولُسؔ کے دوست تھے، پَولُسؔ کو پیغام بھیج کر مِنّت کی کہ تماشاگاہ میں جانے سے باز رہے۔
ACT 19:32 اِدھر اِجتماع میں کھلبلی مچی ہویٔی تھی کیونکہ بعض لوگ ایک نعرہ لگاتے تھے اَور بعض کویٔی اَور بہت سے لوگوں کو تُو یہ بھی مَعلُوم نہ تھا کہ وہ وہاں کِس لیٔے جمع ہویٔے ہیں۔
ACT 19:33 یہ دیکھ کر یہُودیوں نے اِسکندر کو آگے کر دیا اَور مجمع کے کیٔی لوگ سے گھیر کر کچھ کچھ کہنے لگے۔ اِسکندر نے لوگوں کو خاموش ہو جانے کا اِشارہ کیا تاکہ وہ اُنہیں اَپنی صفائی پیش کر سکے۔
ACT 19:34 لیکن جُوں ہی لوگوں کو مَعلُوم ہُوا کہ وہ یہُودی ہے تو سَب ہم آواز ہوکر دو گھنٹے تک چِلّائے: ”اِفِسیوں کی دیوی اَرتمِسؔ عظیم ہے!“ اَور یہ سلسلہ تقریباً دو گھَنٹوں تک جاری رہا۔
ACT 19:35 تَب ناظِم شہر نے لوگوں کے غُصّہ کو ٹھنڈا کرکے کہا: ”اِفِسُسؔ کے رہنے والو! کون نہیں جانتا کہ اِفِسیوں کا شہر عظیم دیوی اَرتمِسؔ کے بُت خانہ اَور اُس کے بُت کا مُحافظ ہے، جو آسمان سے گرا تھا۔
ACT 19:36 جَب، اِن باتوں کے خِلاف کویٔی کچھ نہیں کہہ سَکتا، تو واجِب ہے کہ تُم خاموش رہو اَور جلدبازی سے کام نہ لو۔
ACT 19:37 تُم جِن آدمیوں کو یہاں لایٔے ہو، اُنہُوں نے مَندِروں ہی کو لُوٹا ہے نہ ہی ہماری دیوی کے خِلاف کُفر بکا ہے۔
ACT 19:38 اِس لیٔے، اگر، دیمیترِیُسؔ اَور اُس کے ہم پیشہ کاریگروں کو کسی پر دعویٰ ہی کرناہے، تو عدالت کے دروازے کھُلے ہیں اَور صُوبہ کے حُکاّم مَوجُود ہیں جہاں وہ اَپنی نالِش پیش کر سکتے ہیں۔
ACT 19:39 اَور اگر کویٔی دُوسرا مسئلہ بھی درپیش ہے تو اُس کا فیصلہ بھی باضابطہ مَجلِس میں ہو سَکتا ہے۔
ACT 19:40 ہمیں تو اَندیشہ ہے کہ اگر کویٔی ہم ہی پرنالِش کر دے کہ آج کے ہنگامہ کے ذمّہ دار ہم خُود ہیں تو ہم کیا جَواب دیں گے، کیونکہ یہ ہنگامہ بِلا وجہ ہُواہے۔“
ACT 19:41 اِتنا کہنے کے بعد ناظِم شہر نے اِجتماع کو بَرخواست کر دیا۔
ACT 20:1 جَب شور و غُل موقُوف ہو گیا تو پَولُسؔ نے شاگردوں کو بُلایا، اُنہیں نصیحت کی اَور اُن سے رخصت ہوکر صُوبہ مَکِدُنیہؔ کے لیٔے روانہ ہو گئے
ACT 20:2 وہ جہاں جہاں سے گُزرے، لوگوں کو نصیحت کرتے گیٔے اَور آخِرکار یُونانؔ جا پہُنچے۔
ACT 20:3 جہاں وہ تین ماہ تک رہے۔ جَب وہ جہاز سے سِیریؔا جانے والے تھے تو کچھ یہُودیوں نے اُنہیں مار ڈالنے کی سازش کی۔ اِس لیٔے پَولُسؔ نے بہتر سمجھا کہ صُوبہ مَکِدُنیہؔ واپس چلا جائے۔
ACT 20:4 پُرُسؔ کا بیٹا سوپَتُرسؔ جو بیریّؔہ کا رہنے والا تھا، اَور تھِسلُنِیکے شہر کے ارِسترخُسؔ اَور سِکُندُسؔ اَور دربؔے کا، گیُسؔ اَور تِیمُتھِیُس اَور آسیہؔ کے تُخِکسؔ اَور تُرِفمُسؔ، آسیہؔ تک پَولُسؔ کے ہم سفر رہے۔
ACT 20:5 یہ لوگ پَولُسؔ سے پہلے روانہ ہویٔے اَور تروآسؔ میں ہمارا اِنتظار کرنے لگے۔
ACT 20:6 لیکن ہم عید فطیر کے بعد فِلپّی سے جہاز میں روانہ ہویٔے اَور پانچ دِن بعد تروآسؔ میں اُن سے جا ملے اَور سات دِن تک وہاں رہے۔
ACT 20:7 ہفتہ کے پہلے دِن ہم روٹی توڑنے کے لیٔے جمع ہویٔے۔ پَولُسؔ نے لوگوں سے خِطاب کیا۔ پَولُسؔ کو اگلے دِن وہاں سے روانہ ہونا تھا، اِس لیٔے وہ رات دیر گیٔے تک کلام کرتے رہے۔
ACT 20:8 اُوپر کی مَنزل پر جہاں ہم جمع تھے، کیٔی چراغ جَل رہے تھے۔
ACT 20:9 اَور ایک نوجوان کھڑکی میں بیٹھا ہُوا تھا جِس کا نام یُوتخُسؔ تھا۔ وہ پَولُسؔ کی لمبی تقریر سُنتے سُنتے سو گیا اَور گہری نیند کی حالت میں تیسری مَنزل سے نیچے جا گرا۔ جَب یُوتخُسؔ کو اُٹھایا گیا تو وہ مَر چُکاتھا۔
ACT 20:10 پَولُسؔ نیچے اُترے اَور اُس نوجوان کو اَپنی باہوں میں لے کر اُس سے لِپٹ گیٔے اَور فرمایا، ”گھبراؤ مت، اِس میں جان باقی ہے!“
ACT 20:11 پھر آپ نے اُوپر جا کر روٹی توڑی اَور سَب کے ساتھ مِل کر کھائی اَور پھر کلام کرنے لگے یہاں تک کہ پَو پھٹ گئی۔ تَب وہ وہاں سے رخصت ہو گئے۔
ACT 20:12 لوگ اُس نوجوان کو زندہ گھر لے گیٔے اَور اُنہیں بڑی تسلّی ہویٔی۔
ACT 20:13 ہم آگے جا کر سمُندری جہاز پر سوار ہویٔے اَور اَسّسُ کے لیٔے روانہ ہویٔے تاکہ وہاں پَولُسؔ کو بھی جہاز پر سوار کر لیں کیونکہ پَولُسؔ نے پہلے ہی سے وہاں پیدل پہُنچ جانے کا اِرادہ کر لیا تھا۔
ACT 20:14 جَب وہ ہمیں اَسّسُ میں ملے تو ہم نے اُنہیں جہاز پر چڑھا لیا اَور مِتُلینےؔ پہُنچ گیٔے۔
ACT 20:15 وہاں سے ہم جہاز پر روانہ ہویٔے اَور اگلے دِن خِیُسؔ کے سامنے پہُنچے۔ تیسرے دِن ہم سامُسؔ آئے اَور اگلے دِن میلِیتُسؔ پہُنچ گیٔے۔
ACT 20:16 پَولُسؔ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اِفِسُسؔ کے پاس سے گزر جایٔیں تاکہ آسیہؔ میں مزید رُکے بغیر وہ جلدی سے یروشلیمؔ پہُنچ جایٔیں اگر ممکن ہو تو پِنتکُست کا دِن وہاں گزار سکیں۔
ACT 20:17 میلِیتُسؔ پہُنچ کر پَولُسؔ نے اِفِسُسؔ سے جماعت کے بُزرگوں کو بُلا بھیجا۔
ACT 20:18 جَب وہ آئے تو پَولُسؔ نے اُن سے فرمایا: ”تُم جانتے ہو کہ جِس دِن سے مَیں نے آسیہؔ میں قدم رکھا ہے، میری زندگی تمہارے درمیان کیسی رہی ہے۔
ACT 20:19 میں بڑی فروتنی کے ساتھ آنسُو بہا بہا کر خُداوؔند کی خدمت کرتا رہا جَب کہ مُجھے یہُودیوں کی بڑی بڑی سازشوں کا سامنا کرنا پڑ رہاتھا۔
ACT 20:20 اَورجو باتیں تمہارے لیٔے فائدہ مند تھیں اُنہیں مَیں نے بغیر کسی جِھجَک کے بَیان کیا بَلکہ جو کچھ بھی سِکھایا سرعام اَور گھر گھرجاکر سِکھایا۔
ACT 20:21 میں یہُودیوں اَور یُونانیوں دونوں کے سامنے گواہی دیتا رہا کہ وہ خُدا کے حُضُور میں تَوبہ کریں اَور ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ پر ایمان لائیں۔
ACT 20:22 ”دیکھو! میں، رُوح کا اسیر ہوکر یروشلیمؔ جا رہا ہُوں اَور مُجھے مَعلُوم نہیں وہاں مُجھ پر کیا گزرے گی۔
ACT 20:23 صِرف اِتنا جانتا ہُوں کہ پاک رُوح کی طرف سے مُجھے ہر شہر میں یہ آگاہی ملتی رہی کہ قَید اَور مُصیبتوں کی زنجیریں میری مُنتظر ہیں۔
ACT 20:24 لیکن، میری جان میرے لیٔے کویٔی قدر و قیمت نہیں رکھتی؛ میں تو بس یہ چاہتا ہُوں کہ میری دَوڑ پُوری ہو جائے اَور مَیں خُدا کے فضل کی خُوشخبری سُنانے کا کام جو خُداوؔند یِسوعؔ نے مُجھے دیا ہے کو پُوری صداقت سے کرلُوں۔
ACT 20:25 ”اَب مَیں جانتا ہُوں کہ تُم سبھی جِن کے درمیان میں بادشاہی کی تبلیغ کرتا رہا ہُوں تُم سَب مُجھے پھر نہ دیکھ پاؤگے۔
ACT 20:26 لہٰذا، آج مَیں تُمہیں قطعی طور پر کہے دیتا ہُوں کہ جو لوگ ہلاک کیٔے جایٔیں گے، میں اُن کے خُون سے بَری ہُوا۔
ACT 20:27 کیونکہ مَیں تُمہیں بغیر کسی جِھجَک کے سِکھاتا رہا ہُوں کہ خُدا کا مقصد تمہارے لیٔے کیا ہے۔
ACT 20:28 پس اَپنا اَور سارے گلّے کا خیال رکھو جِس کے تُم پاک رُوح کی طرف سے نگہباں مُقرّر کیٔے گیٔے ہو تاکہ خُدا کی جماعت کی نگہبانی کرو جسے خُدا نے خاص اَپنے ہی خُون سے خریدا ہے۔
ACT 20:29 میں جانتا ہُوں کہ میرے چلے جانے کے بعد پھاڑ ڈالنے والے بھیڑئے تمہارے درمیان آ گھُسیں گے اَور گلّے کو نہیں چھوڑیں گے۔
ACT 20:30 بَلکہ تُم ہی میں سے اَیسے لوگ اُٹھ کھڑے ہوں گے جو سچّائی کو توڑ مروڑ کر پیش کریں گے تاکہ شاگردوں کو اَپنی طرف کر لیں۔
ACT 20:31 لہٰذا خبردار رہو! یاد رکھو کہ میں تین بَرس تک رات دِن آنسُو بہا بہا کر ہر ایک کو اِن خطروں سے آگاہ کرتا رہا ہُوں۔
ACT 20:32 ”اَب مَیں تُمہیں خُدا کے اُس فضل کے کلام کے سُپرد کرتا ہُوں، جو تمہاری ترقّی کا باعث ہو سَکتا ہے اَور تُمہیں اُس مِیراث کا حقدار بنا سَکتا ہے جو تُم برگُزیدہ لوگوں کے لیٔے ہے۔
ACT 20:33 مَیں نے کسی کے سونے، چاندی یا کپڑے کا لالچ نہیں کیا۔
ACT 20:34 تُم خُود جانتے ہو کہ میرے اَپنے ہاتھوں نے میری اَپنی اَور میرے ساتھیوں کی ضروُرتیں پُوری کی ہیں۔
ACT 20:35 ہم کِس طرح محنت کرکے کمزوروں کو سنبھال سکتے ہیں؟ یہ مَیں نے تُمہیں کرکے دِکھایا۔ ہم خُداوؔند یِسوعؔ کے الفاظ یاد رکھیں: ’دینا لینے سے زِیادہ مُبارک ہے۔‘ “
ACT 20:36 اِن باتوں کے بعد، پَولُسؔ نے اُن سَب کے ساتھ گھُٹنے ٹیک کر دعا کی۔
ACT 20:37 وہ سَب بہت روئے اَور گلے مِل کر پَولُسؔ کے بوسے لیٔے۔
ACT 20:38 اَور پَولُسؔ کے جِن الفاظ نے خاص طور پر اُنہیں غمگین کیا یہ تھے کہ تُم مُجھے پھر نہ دیکھ پاؤگے۔ تَب وہ پَولُسؔ کو سمُندری جہاز تک چھوڑنے گیٔے۔
ACT 21:1 جَب ہم اُن سے جُدا ہوکر جہاز سے روانہ ہویٔے تو سیدھے کُوسؔ میں آئے۔ اگلے دِن ہم رُدُسؔ پہُنچے۔ پھر وہاں سے پترہؔ چل دئیے۔
ACT 21:2 وہاں ہم نے دیکھا کہ ایک سمُندری جہاز فینیکےؔ، جا رہاہے۔ ہم اُس پر سوار ہوکر روانہ ہو گئے۔
ACT 21:3 جَب ہماری نظر جَزِیرہ سائپرسؔ پر پڑی، تو ہم سے بائیں ہاتھ چھوڑکر مُلکِ سِیریؔا کے لیٔے روانہ ہویٔے۔ ہم صُورؔ میں اُتر پڑے کیونکہ وہاں ہمارے سمُندری جہاز سے مال اُتارنا تھا۔
ACT 21:4 وہاں شاگردوں کی تلاش کرکے ہم اُن کے ساتھ سات دِن تک رہے۔ اُنہُوں نے رُوح کی ہدایت سے پَولُسؔ کو یروشلیمؔ جانے سے منع کیا۔
ACT 21:5 جَب سات دِن گزر گئے، تو ہم وہاں سے آگے جانے کے لیٔے نکلے۔ سارے شاگرد بیوی بچّوں سمیت شہر کے باہر تک ہمارے ساتھ ہو لیٔے، اَور سمُندر کے کنارے پہُنچ کر ہم نے گھُٹنے ٹیک کر دعا کی۔
ACT 21:6 پھر ہم اُن سے جُدا ہویٔے، اَور سمُندری جہاز پر سوارہوگئے، اَور وہ اَپنے اَپنے گھر لَوٹ گیٔے۔
ACT 21:7 ہم صُورؔ سے آگے چلے اَور پتَلُمِیسؔ جہاز سے اُترگئے، وہاں ہم نے بھائیوں کو سلام کیا اَور اُن کے ساتھ ایک دِن تک رہے۔
ACT 21:8 اگلے دِن ہم روانہ ہویٔے، اَور قَیصؔریہ شہر میں آئے اَور فِلِپُّسؔ نامی ایک مُبشَّر کے گھر میں رہے، جو یروشلیمؔ میں چُنے جانے والے سات خادِموں میں سے ایک تھے۔
ACT 21:9 اُن کی چار بیٹیاں تھیں جو ابھی کنواری تھیں اَور نبُوّت کیا کرتی تھیں۔
ACT 21:10 جَب ہمیں وہاں رہتے کیٔی دِن گزر گئے، تو ایک نبی جِن کا نام اَگَبُسؔ تھا، یہُودیؔہ سے آئے۔
ACT 21:11 اَگَبُسؔ نے ہمارے پاس آکر پَولُسؔ کے کمربند سے اَپنے ہاتھ اَور پاؤں باندھ لیٔے اَور کہنے لگے، ”پاک رُوح فرماتا ہے، ’یروشلیمؔ کے یہُودی رہنما اِس کمربند کے مالک کو اِسی طرح باندھ کر غَیریہُودیوں کے حوالہ کر دیں گے۔‘ “
ACT 21:12 یہ سُن کر ہم نے، اَور وہاں کے لوگوں نے پَولُسؔ کی مِنّت کی کہ وہ یروشلیمؔ جانے سے باز رہیں۔
ACT 21:13 لیکن پَولُسؔ نے جَواب دیا، ”تُم یہ کیا کر رہے ہو؟ کیوں رو رو کر میرا دِل توڑتے ہو؟ میں یروشلیمؔ میں خُداوؔند یِسوعؔ کے نام کی خاطِر صِرف باندھے جانے کے لیٔے ہی نہیں بَلکہ مَرنے کو بھی تیّار ہُوں۔“
ACT 21:14 جَب وہ کسی طرح راضی نہ ہُوئے تو ہم یہ کہہ کر خاموش ہو گئے، ”خُداوؔند کی مرضی پُوری ہو۔“
ACT 21:15 اُس کے بعد، ہم سفر کی تیّاری میں لگ گیٔے اَور پھر یروشلیمؔ کے لیٔے روانہ ہُوئے۔
ACT 21:16 قَیصؔریہ کے کچھ شاگرد بھی ہمارے ساتھ ہو لیٔے اَور ہمیں مَناَسونؔ کے گھر لایٔے، جہاں ہمیں قِیام کرنا تھا۔ مَناَسونؔ، جَزِیرہ سائپرسؔ کا رہنے والا تھا اَور قدیم شاگردوں میں سے ایک تھا۔
ACT 21:17 جَب ہم یروشلیمؔ پہُنچے، تو بھایٔی اَور بہن ہم سے گرم جوشی کے ساتھ ملے۔
ACT 21:18 اگلے دِن ہم پَولُسؔ کو لے کر یعقوب سے مِلنے گیٔے، اَور وہاں سَب بُزرگ پہلے ہی سے جمع تھے۔
ACT 21:19 پَولُسؔ نے اُنہیں سلام کہا اَور تفصیل سے بتایا کہ خُدا نے پَولُسؔ کی خدمت کے ذریعہ سے غَیریہُودی میں کیا کچھ کیا۔
ACT 21:20 جَب اُنہُوں نے یہ سُنا، اُنہُوں نے خُدا کی تمجید کی۔ اَور پھر پَولُسؔ سے کہنے لگے: ”اَے بھایٔی دیکھو، کتنے ہزاروں یہُودی ایمان لے آئے ہیں، اَور وہ سَب شَریعت پر عَمل کرنے میں بڑے سرگرم ہیں۔
ACT 21:21 اُنہیں تُو یہ بتایا گیا ہے کہ آپ سارے یہُودیوں کو جو غَیریہُودیوں کے درمیان رہتے ہیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ مَوشہ کو چھوڑ دو، اَپنے بچّوں کا ختنہ نہ کراؤ اَور یہُودیوں کی رسموں کو تسلیم نہ کرو۔
ACT 21:22 اَب آپ یہاں آئے ہیں اَور یہ بات لوگوں کے کانوں تک ضروُر پہُنچ جائے گی، لہٰذا اَب کیا کیا جائے؟
ACT 21:23 ہمارا مشورہ تُو یہ ہے کہ ہمارے پاس چار آدمی ہیں جنہوں نے قَسم کھائی ہے
ACT 21:24 آپ اُنہیں اَپنے ساتھ لے جایٔیں اَور اُن کے ساتھ مِل کر طہارت کی ساری رسمیں پُوری کریں اَور اُن کا خرچ بھی اُٹھائیں تاکہ وہ اَپنے سَر مُنڈوا سکیں۔ تَب ہر کسی کو مَعلُوم ہو جائے گا کہ جو باتیں آپ کے خِلاف پھیلائی گئی ہیں وہ غلط ہیں بَلکہ آپ خُود بھی تابِعداری سے شَریعت پر عَمل کرتے ہو۔
ACT 21:25 اَور جہاں تک اُن غَیریہُودی قوموں کا سوال ہے جو ایمان لے آئی ہیں، اُن کے بارے میں ہم فیصلہ کرکے پہلے ہی خط لِکھ چُکے ہیں کہ وہ بُتوں کو نذر چڑھائی ہویٔی چیزوں سے، خُون سے، گلا گُھونٹے ہویٔے جانوروں کے گوشت سے پرہیز کریں اَور جنسی بدفعلی سے بچیں۔“
ACT 21:26 اگلے دِن پَولُسؔ اُن آدمیوں کو لے گیٔے اَور اُن کے ساتھ خُود بھی طہارت کی رسمیں اَدا کرکے بیت المُقدّس میں داخل ہویٔے اَور خبر دی کہ طہارت کے دِنوں کے پُورا ہو جانے پر وہ سَب اَپنی اَپنی نذریں چڑھائیں گے۔
ACT 21:27 جَب طہارت کے سات دِن پُورے ہونے کو تھے، تو آسیہؔ کے چند یہُودیوں نے پَولُسؔ کو بیت المُقدّس میں دیکھ کر لوگوں میں ہلچل مچا دی اَور پَولُسؔ کو پکڑکر،
ACT 21:28 چِلّانے لگے، ”اَے اِسرائیلیوں، ہماری مدد کرو! یہی وہ آدمی ہے جو ہر جگہ لوگوں کو ہمارے خِلاف ہماری شَریعت کے برخلاف اَور بیت المُقدّس کے خِلاف تعلیم دیتا پھرتاہے۔ اَور اِس کے علاوہ، اِس نے یُونانیوں کو ہمارے بیت المُقدّس میں لاکر اِس پاک مقام کو ناپاک کر ڈالا ہے۔“
ACT 21:29 (وہ پہلے ہی تُرِفمُسؔ اِفِسی کو شہر میں پَولُسؔ کے ساتھ دیکھ چُکے تھے اَور سوچ رہے تھے کہ پَولُسؔ سے ضروُر بیت المُقدّس میں لے گیا ہوگا۔)
ACT 21:30 سارے شہر میں ہلچل مچ گئی، اَور لوگ دَوڑ دَوڑکر جمع ہونے لگے۔ تَب اُنہُوں نے پَولُسؔ کو پکڑ لیا، یہُودی عبادت گاہ سے گھسیٹ کر باہر نکال لایٔے اَور دروازے بند کر دئیے۔
ACT 21:31 جَب وہ پَولُسؔ کو مار ڈالنے کی کوشش میں تھے، تو رُومی پلٹن کے سالار کو خبر پہُنچی کہ سارے یروشلیمؔ میں کھلبلی پڑ گئی ہے۔
ACT 21:32 وہ فوراً پلٹن کے افسران اَور سپاہیوں کو لے کر ہُجوم کے پاس نیچے دَوڑا آیا۔ جَب لوگوں نے پلٹن کے سالار اَور سپاہیوں کو دیکھا، تو پَولُسؔ کی مارپیٹ سے باز آئے۔
ACT 21:33 پلٹن کے سالار نے نزدیک آکر پَولُسؔ کو اَپنے قبضہ میں لے لیا اَور آپ کو دو زنجیروں سے باندھنے کا حُکم دیا۔ پھر اُس نے پُوچھا کہ یہ آدمی کون ہے اَور اِس نے کیا کیا ہے؟
ACT 21:34 ہُجوم میں سے کچھ ایک چیخ، چیخ کر کہتے تھے اَور بعض کچھ اَور بات، شور و غُل اِس قدر زِیادہ تھا کہ سالار کو حقیقت مَعلُوم نہ ہو سکی، لہٰذا اُس نے حُکم دیا کہ پَولُسؔ کو فَوجیوں کے خیمے میں پہُنچا دیا جائے۔
ACT 21:35 جَب سپاہی پَولُسؔ کو سِیڑھیوں سے اُوپر لے جا رہے تھے، تو ہُجوم کی زبردستی کی وجہ سے اُنہُوں نے پَولُسؔ کو اُوپر اُٹھالیا۔
ACT 21:36 سَب لوگ جو پَولُسؔ کے پیچھے پڑے ہویٔے تھے چِلاّتے جا رہے تھے، ”اِسے ختم کر دو!“
ACT 21:37 سپاہی پَولُسؔ کو فَوجیوں کے خیمے کے اَندر لے جانے ہی والے تھے، پَولُسؔ نے پلٹن کے سالار سے کہا، ”کیا میں مُمکنہ طور پر تُجھ سے کچھ عرض کر سَکتا ہُوں؟“ سالار نے پُوچھا، ”کیا تُو یُونانی جانتا ہے؟
ACT 21:38 کیا تُو وہ مِصری تو نہیں جِس نے کچھ عرصہ پہلے بغاوت کی تھی اَور چار ہزار باغیوں کے ساتھ جنگل میں پناہ لی تھی؟“
ACT 21:39 پَولُسؔ نے جَواب دیا، ”میں تو یہُودی ہُوں، اَور ترسُسؔ کا باشِندہ ہُوں جو کِلکِیؔہ کا مشہُور شہر ہے۔ براہِ کرم مُجھے لوگوں سے خِطاب کرنے کی اِجازت دی جائے۔“
ACT 21:40 سالار سے اِجازت پا کر، پَولُسؔ نے سِیڑھیوں پر کھڑے ہوکر ہُجوم لوگوں کو ہاتھ سے اِشارہ کیا۔ جَب وہ لوگ خاموش ہو گئے، تو پَولُسؔ نے اُن سے ارامی زبان میں یُوں کہنا شروع کیا:
ACT 22:1 ”بھائیو اَور پدران، اَب میرا بَیان سُنو جو میں اَپنی صفائی میں پیش کرتا ہُوں۔“
ACT 22:2 جَب لوگوں نے پَولُسؔ کو ارامی بولتے سُنا، تو سَب کے سَب نے خاموشی اِختیار کرلی۔ تَب پَولُسؔ نے کہا:
ACT 22:3 ”میں ایک یہُودی ہُوں، کِلکِیؔہ کے شہر ترسُسؔ میں پیدا ہُوا، لیکن میری تربّیت اِسی شہر میں ہویٔی۔ مَیں نے گَملی ایل کے قدموں میں اَپنے آباؤاَجداد کی شَریعت پر عَمل کرنے کی تعلیم پائی۔ میں بھی خُدا کے لیٔے اَیسا ہی سرگرم تھا جَیسے آج تُم ہو۔
ACT 22:4 مَیں نے مسیحی عقیدہ پر چلنے والوں کو ستایا یہاں تک کہ قتل بھی کیا، میں مَردوں اَور عورتوں دونوں کو باندھ باندھ کر قَیدخانہ میں ڈلواتا رہا،
ACT 22:5 اعلیٰ کاہِن اَور سَب بُزرگوں کی عدالتِ عالیہ اِس بات کے گواہ ہیں۔ مَیں نے اُن سے دَمشق شہر میں رہنے والے یہُودی بھائیوں کے لیٔے خُطوط حاصل کیٔے، اَور وہاں اِس غرض سے گیا کہ جتنے وہاں ہوں اُن لوگوں کو بھی گِرفتار کرکے بطور قَیدی یروشلیمؔ میں لاؤں اَور سزا دِلاؤں۔
ACT 22:6 ”میں جَب سفر کرتے کرتے دَمشق شہر کے نزدیک پہُنچا، تو دوپہر کے وقت آسمان سے ایک تیز رَوشنی آئی اَور میرے چاروں طرف چمکنے لگی۔
ACT 22:7 میں زمین پر گِر پڑا اَور مَیں نے ایک آواز سُنی جو مُجھ سے کہہ رہی تھی، ’اَے ساؤلؔ! اَے ساؤلؔ! تُو مُجھے کیوں ستاتا ہے؟‘
ACT 22:8 ” ’مَیں نے پُوچھا، اَے آقا، آپ کون ہیں؟‘ ” ’میں یِسوعؔ ناصری ہُوں جسے تُو ستاتا ہے،‘ یِسوعؔ نے جَواب دیا۔
ACT 22:9 میرے ساتھیوں نے رَوشنی تو دیکھی، آواز تو سُنایٔی دے رہی تھی لیکن مُجھ سے کیا کہہ رہی سمجھ کچھ نہیں آ رہاتھا۔
ACT 22:10 ” ’مَیں نے پُوچھا، میں کیا کروں، اَے خُداوؔند؟‘ خُداوؔند نے جَواب دیا۔ ” ’اُٹھ، اَور دَمشق شہر کو جا۔ وہاں تُجھے وہ سَب کچھ جو تیرے کرنے کے لیٔے مُقرّر ہُواہے تُجھے بتا دیا جائے گا۔‘
ACT 22:11 میرے ساتھی میرا ہاتھ پکڑکر مُجھے دَمشق شہر میں لے گیٔے، کیونکہ اُس تیز رَوشنی نے مُجھے اَندھا کر دیا تھا۔
ACT 22:12 ”وہاں ایک آدمی جِس کا نام حننیاہؔ تھا مُجھے دیکھنے آیا۔ وہ دیندار اَور شَریعت کا سخت پابند تھا اَور وہاں کے یہُودیوں میں بڑی عزّت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
ACT 22:13 وہ میرے پاس آکر کہنے لگا، ’بھایٔی ساؤلؔ، اَپنی بینائی حاصل کر!‘ میں اُسی گھڑی بینا ہو گیا اَور حننیاہؔ کو دیکھنے لگا۔
ACT 22:14 ”تَب حننیاہؔ نے کہا: ’تیرے آباؤاَجداد کے خُدا نے تُجھے چُن لیا ہے تاکہ تُو خُدا کی مرضی کو جانے اَور المسیح راستباز کو دیکھے اَور اُن کے مُنہ کی باتیں سُنے۔
ACT 22:15 کیونکہ تُو سارے لوگوں میں المسیح کا گواہ ہوگا اَور اُنہیں بتائے گا کہ تُونے کیا کچھ دیکھا اَور سُنا ہے۔
ACT 22:16 اَور اَب دیر کیسی؟ اُٹھ، خُداوؔند المسیح کے نام سے، پاک ‏غُسل لے اَور اَپنے گُناہ دھو ڈال۔‘
ACT 22:17 ”جَب مَیں یروشلیمؔ لَوٹا اَور بیت المُقدّس میں جا کر دعا کر ہی رہاتھا، مُجھ پر بے خُودی طاری ہو گئی۔
ACT 22:18 اَور مَیں نے خُداوؔند کو دیکھا اَور یہ کہتے سُنا کہ ’جلدی کر!‘ اَور ’یروشلیمؔ سے فوراً نکل جا کیونکہ وہ میرے بارے میں تیری گواہی قبُول نہ کریں گے۔‘
ACT 22:19 ” ’خُداوؔند،‘ مَیں نے جَواب دیا، ’یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں جابجا ہر ایک یہُودی عبادت گاہ میں جاتا تھا اَور کِس طرح آپ پر ایمان لانے والوں کو قَید کراتا اَور پِٹواتاتھا۔
ACT 22:20 اَور جَب تمہارے شَہید اِستِفنُسؔ کا خُون بہایا جا رہاتھا تو میں بھی وہیں مَوجُود تھا اَور اِستِفنُسؔ کے قتل پر راضی تھا اَور اُن قاتلوں کے کپڑوں کی حِفاظت کر رہاتھا جو اُن کو قتل کر رہے تھے۔‘
ACT 22:21 ”تَب خُداوؔند نے مُجھ سے کہا، ’جاؤ؛ میں تُمہیں غَیریہُودیوں کے پاس دُور سے دُور جگہوں میں بھیجوں گا۔‘ “
ACT 22:22 سارا مجمع یہاں تک تو پَولُسؔ کی باتیں سُنتا رہا لیکن اَب سارے لوگ بُلند آواز سے چِلّانے لگے، ”اِس شخص کے وُجُود سے زمین کو پاک کر دو! یہ زندہ رہنے کے لائق نہیں ہے!“
ACT 22:23 جَب لوگوں کا چیخنا اَور چِلّانا جاری رہا اَور وہ کپڑے پھینک پھینک کر دُھول اُڑانے لگے،
ACT 22:24 تو پلٹن کے سالار نے پَولُسؔ کو فَوجیوں کے خیمے کے اَندر لے جانے کا حُکم دیا۔ اَور کہا کہ اِسے کوڑوں سے ماراجائے اَور اُس کا بَیان لیا جائے تاکہ مَعلُوم ہو کہ یہ لوگ اُس پر اِس طرح کیوں چِلّا رہے ہیں؟
ACT 22:25 جَب وہ کوڑے لگانے کے لیٔے پَولُسؔ کو باندھنے لگے تو آپ نے ایک کپتان سے جو پاس ہی کھڑا تھا کہا، ”کیا ایک رُومی شَہری کو اُس کا قُصُور ثابت کیٔے بغیر کوڑوں سے مارنا جائز ہے؟“
ACT 22:26 جَب اُس کپتان نے یہ سُنا، تو وہ پلٹن کے سالار کے پاس گیا اَور اُسے خبر دی اَور اُس نے کہا، ”آپ کیا کرنے جا رہے ہیں؟ یہ آدمی تو رُومی شَہری ہے۔“
ACT 22:27 پلٹن کے سالار نے پَولُسؔ کے پاس آکر پُوچھا، ”مُجھے بتا، کیا تو رُومی شَہری ہے؟“ ”ہاں، میں ہُوں،“ پَولُسؔ نے جَواب دیا۔
ACT 22:28 سالار نے کہا، ”مَیں نے تو ایک کثیر رقم اَدا کرکے رُومی شہریت حاصل کی تھی۔“ ”لیکن مَیں تو پیدائشی رُومی ہُوں،“ پَولُسؔ نے جَواب دیا۔
ACT 22:29 جو لوگ پَولُسؔ کا بَیان لینے کو تھے، اُسی وقت وہاں سے ہٹ گیٔے، اَور پلٹن کا سالار بھی یہ مَعلُوم کرکے بڑا گھبرایا کہ جِس آدمی کو اُس نے زنجیروں سے باندھا ہے وہ رُومی شَہری ہے۔
ACT 22:30 سپہ سالار یہ جاننا چاہتا تھا کہ یہُودیوں کے ذریعہ پَولُسؔ پر اِلزام کیوں عائد کیا جا رہاہے۔ چنانچہ اگلے دِن پلٹن کے سالار نے پَولُسؔ کو رِہا کر دیا اَور یہ حقیقت جاننے کے لیٔے کہ یہُودی اُن پر کیا اِلزام لگاتے ہیں۔ سپہ سالار نے یہُودیوں کی مَجلِس عامہ کے اراکین کو جمع کیا اَور اہم کاہِنوں کو بھی بُلا لیا۔ تَب سپہ سالار نے پَولُسؔ کو لاکر اُن کے سامنے کھڑا کر دیا۔
ACT 23:1 پَولُسؔ نے مَجلِس عامہ کے اراکین پر گہری نظر ڈال کر کہا، ”میرے بھائیو، میں آج تک بڑی نیک نیّتی سے خُدا کے حُکموں کے مُطابق زندگی گزارتا آیا ہُوں۔“
ACT 23:2 اعلیٰ کاہِن، حننیاہؔ نے پَولُسؔ کے پاس کھڑے ہویٔے لوگوں کو حُکم دیا کہ پَولُسؔ کے مُنہ پر تھپّڑ مارو۔
ACT 23:3 پَولُسؔ نے اعلیٰ کاہِن سے کہا، ”اَے سفیدی پھری ہویٔی دیوار! تُم پر خُدا کی مار، حننیاہؔ یہاں بیٹھے ہو کہ شَریعت کے مُطابق میرا اِنصاف کرو، پھر بھی تُم خُود شَریعت کے خِلاف مُجھے مارنے کا حُکم دیتے ہو!“
ACT 23:4 جو پاس کھڑے تھے کہنے لگے، ”تُجھے خُدا کے اعلیٰ کاہِن کو بُرا کہنے کی جُرأت کیسے ہویٔی!“
ACT 23:5 پَولُسؔ نے جَواب دیا، ”بھائیو، مُجھے مَعلُوم نہ تھا کہ یہ اعلیٰ کاہِن ہیں؛ شَریعت میں لِکھّا ہے: ’تو اَپنی قوم کے رہنماؤں پر لعنت مت بھیجنا۔‘“
ACT 23:6 پَولُسؔ کو مَعلُوم تھا کہ اُن میں بعض صدُوقی ہیں اَور بعض فرِیسی، وہ مَجلِس عامہ میں پُکار کر کہنے لگے، ”میرے بھائیو، میں فرِیسی ہُوں، فریسیوں سے آیا ہُوں۔ مُجھ پر اِس لیٔے مُقدّمہ چلایا جا رہاہے کہ میں اُمّید رکھتا ہُوں کہ مُردوں کی قیامت یعنی مُردے پھر سے جی اُٹھیں گے۔“
ACT 23:7 اُن کے یہ کہتے ہی فریسیوں اَور صدُوقیِوں میں تکرار شروع ہو گئی، اَور حاضرین میں تفرِیق پڑ گئی۔
ACT 23:8 (صدُوقی کہتے ہیں کہ قیامت نہیں ہوگی، اَور نہ تو فرشتہ کویٔی چیز ہے نہ ہی رُوحیں، لیکن فرِیسی اِن سَب چیزوں کے قائل ہیں۔)
ACT 23:9 فوراً بڑا ہنگامہ برپا ہو گیا، اَور شَریعت کے عالِموں میں سے بعض جو فرِیسی تھے کھڑے ہوکر بحث کرنے لگے۔ ”ہم اِس آدمی میں کویٔی قُصُور نہیں پاتے،“ اُنہُوں نے کہا۔ ”اگر کسی فرشتہ یا رُوح نے اِس سے بات کی ہے تو کیا ہُوا؟“
ACT 23:10 بات اِتنی بڑھی کہ پلٹن کے سالار کو خوف محسُوس ہونے لگاکہ کہیں پَولُسؔ کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دئیے جایٔیں۔ اُس نے سپاہیوں کو حُکم دیا کہ نیچے جایٔیں اَور پَولُسؔ کو وہاں سے زبردستی نکال کر فَوجیوں کے خیمے میں لے جایٔیں۔
ACT 23:11 اُسی رات خُداوؔند نے پَولُسؔ کے پاس آکر فرمایا، ”حوصلہ رکھ! جَیسے تُونے یروشلیمؔ میں میری گواہی دی ہے، وَیسے ہی تُجھے رُوم شہر میں بھی گواہی دینا ہوگی۔“
ACT 23:12 اگلے دِن صُبح بعض یہُودیوں نے مِل کر فیصلہ کیا اَور قَسم کھائی کہ جَب تک ہم پَولُسؔ کو ہلاک نہیں کر دیتے نہ کچھ کھایٔیں گے نہ پیئیں گے۔
ACT 23:13 اِس سازش میں چالیس سے زِیادہ آدمی شریک تھے۔
ACT 23:14 وہ اہم کاہِنوں اَور بُزرگوں کے پاس گیٔے اَور کہنے لگے، ”ہم پر لعنت اگر ہم پَولُسؔ کو ہلاک کیٔے بغیر کچھ کھایٔیں یا پیئیں۔ ہم نے تو اُسے ختم کر دینے کی قَسم کھا رکھی ہے۔
ACT 23:15 لہٰذا اَب تُم اَور عدالت والے مِل کر پلٹن کے سالار سے درخواست کرو کہ وہ پَولُسؔ کو تُم لوگوں کے سامنے لایٔے تاکہ اِس مُقدّمہ کی ساری تفتیش پھر سے کی جائے اَور اِس سے پہلے کہ پَولُسؔ یہاں پیش کیا جائے ہم تیّار ہیں کہ اُسے راہ میں ہی ٹھکانے لگا دیں۔“
ACT 23:16 لیکن جَب پَولُسؔ کے بھانجے کو اِس سازش کا علم ہُوا، اَور اُس نے فَوجیوں کے خیمے میں جا کر پَولُسؔ کو خبر کر دی۔
ACT 23:17 تَب پَولُسؔ نے ایک کپتان کو بُلایا اَور کہا، ”اِس جَوان کو پلٹن کے سالار کے پاس لے جا؛ کیونکہ یہ کچھ بتانے کے لیٔے آیا ہے۔“
ACT 23:18 پس وہ اُسے پلٹن کے سالار کے پاس لے گیا۔ کپتان کہنے لگا، ”قَیدی پَولُسؔ، نے مُجھے بُلایا اَور مُجھ سے درخواست کی کہ اِس جَوان کو تیرے پاس لاؤں کیونکہ یہ تُجھے کچھ بتانا چاہتاہے۔“
ACT 23:19 پلٹن کا سالار اُس جَوان کا ہاتھ پکڑکر اُسے الگ لے گیا اَور پُوچھنے لگا، ”تُم مُجھے کیا بتانا چاہتے ہو؟“
ACT 23:20 اُس نے کہا: ”بعض یہُودیوں نے ایکا کرکے آپ سے درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ تُم پَولُسؔ کو مزید تحقیقات کے بہانہ سے مَجلِس عامہ کے سامنے لایئں۔
ACT 23:21 اُن کی بات مت ماَننا کیونکہ چالیس سے زِیادہ یہُودی پَولُسؔ پر حملہ کرنے کی تاک میں ہیں۔ اُنہُوں نے قَسم کھائی ہے کہ اگر ہم پَولُسؔ کو مارے بغیر کچھ بھی کھایٔیں یا پیئیں تو ہم پر لعنت ہو۔ اَب وہ تیّار ہیں، صِرف تمہاری درخواست کے اِنتظار میں ہیں۔“
ACT 23:22 سالار نے اُس جَوان کو بھیج دیا اَور تاکید کی: ”اِن باتوں کا جو تُونے مُجھے بتایٔی ہیں، کسی اَور کو پتا نہ چلے۔“
ACT 23:23 تَب کپتان نے اَپنے دو افسران کو بُلایا اَور کہا، ”پلٹن کے دو سپاہی، ستّر گھوڑا سوار اَور دو سَو نیزہ بردار تیّار رکھو۔ اُنہیں رات کے نَو بجے قَیصؔریہ جانا ہوگا۔
ACT 23:24 پھر حُکم دیا کہ پَولُسؔ کی سواری کے لیٔے گھوڑے کا اِنتظام کیا جائے تاکہ وہ صُوبہ کے حاکم فیلِکسؔ کے پاس حِفاظت سے پہُنچ جائے۔“
ACT 23:25 اَور اُس نے ایک خط اِس مضمون کا لِکھّا،
ACT 23:26 کلودِیُسؔ لُوسیاسؔ، کی طرف سے مُعزّز صُوبہ کے حاکم فیلِکسؔ کو، سلام پہُنچے!
ACT 23:27 یہ وہ آدمی ہے جسے یہُودیوں نے پکڑا تھا اَور وہ اِسے ہلاک کرنے ہی والے تھے کہ میں سپاہیوں کو لے کر گیا اَور اِسے چھُڑا لایا، کیونکہ مُجھے مَعلُوم ہُوا تھا کہ وہ ایک رُومی شَہری ہے۔
ACT 23:28 لہٰذا یہ دریافت کرنے کے لیٔے کہ وہ پَولُسؔ پر کیا اِلزام لگاتے ہیں، مَیں نے اِسے اُن کی مَجلِس عامہ میں پیش کیا۔
ACT 23:29 مَعلُوم ہُوا کہ اُن کا اِلزام اُن کی شَریعت کے مسئلوں سے تعلّق رکھتا ہے لیکن پَولُسؔ کے برخلاف اَیسا کویٔی اِلزام نہیں ہے جِس کی بنا پر اِسے سزا موت یا قَید کی سزا دی جائے۔
ACT 23:30 جَب مُجھے خبر مِلی کہ اُس آدمی کے خِلاف کویٔی سازش ہو رہی ہے تو مَیں نے فوراً اُسے تمہارے پاس بھیج دیا۔ مَیں نے اُس پر دعویٰ کرنے والوں سے بھی کہا ہے کہ وہ تمہارے حُضُور میں آکر اَپنا مُقدّمہ پیش کریں۔
ACT 23:31 پس سپاہی اُس کے حُکم کے مُطابق پَولُسؔ کو اَپنے ہمراہ لے گیٔے اَور راتوں رات پَولُسؔ کو اَنتِپَترِسؔ میں پہُنچا دیا۔
ACT 23:32 اگلے دِن اُن گُھڑسواروں کو اُن کے ساتھ آگے جانے کا حُکم دے کر خُود فَوجیوں کے خیمے کو لَوٹ گیٔے۔
ACT 23:33 جَب گُھڑسوار قَیصؔریہ پہُنچے، تو اُنہُوں نے صُوبہ کے حاکم کو خط دے کر پَولُسؔ کو اُس کے حُضُور میں پیش کر دیا۔
ACT 23:34 صُوبہ کے حاکم نے خط پڑھ کر پُوچھا، یہ کون سے صُوبہ کا ہے؟ جَب سے مَعلُوم ہُوا کہ وہ کِلکِیؔہ کا ہے
ACT 23:35 تو اُس نے کہا، ”میں تمہارا مُقدّمہ اُس وقت سُنوں گا جَب تمہارے مُدّعی بھی یہاں حاضِر ہوں گے۔“ تَب اُس نے حُکم دیا کہ پَولُسؔ کو ہیرودیسؔ کے محل میں نِگرانی میں رکھا جائے۔
ACT 24:1 پانچویں دِن کے بعد اعلیٰ کاہِن حننیاہؔ بعض بُزرگوں اَور تِرطُلُسؔ، نامی وکیل کے ہمراہ قَیصؔریہ پہُنچا اَور صُوبہ کے حاکم کے حُضُور میں جا کر پَولُسؔ کے خِلاف اَپنے اِلزامات پیش کیٔے۔
ACT 24:2 جَب پَولُسؔ کو حاضِر کیا گیا تو تِرطُلُسؔ نے اُس پر اِلزام لگاتے ہویٔے کہا، ”ہم آپ کے باعث بڑے اَمن سے زندگی گزار رہے ہیں اَور آپ نے اَپنی دُور اَندیشی سے بہت سِی اِصلاحات کی ہیں جِن سے اِس مُلک کو فائدہ پہُنچا ہے۔
ACT 24:3 فضیلت مآب فیلِکسؔ، ہم ہر جگہ اَور ہر وقت، آپ کی مہربانیوں کی وجہ سے آپ کے شُکرگزار ہیں۔
ACT 24:4 لیکن آپ کا زِیادہ وقت لیٔے بغیر عرض کرتا ہُوں کہ مہربانی سے ہماری مُختصر سِی درخواست سُن لیں۔
ACT 24:5 ”ہم نے اِس شخص کو فساد برپا کرنے والا پایا ہے، یہ دُنیا کے سارے یہُودیوں میں فتنہ اَنگیزی کرتا پھرتاہے اَور ناصریوں کے بدنام فرقہ کا سرغنہ بنا ہُواہے۔
ACT 24:6 اِس نے تو بیت المُقدّس کو بھی ناپاک کرنے کی کوشش کی؛ لہٰذا ہم نے اِسے پکڑ لیا۔
ACT 24:7 لیکن پلٹن کا سالار لیِسِیاسؔ اُسے ہمارے ہاتھوں سے زبردستی چھین کر لے گیا
ACT 24:8 آپ اُن کی تحقیقات کریں گے تو آپ کو اِن اِلزامات کی حقیقت مَعلُوم ہو جائے گی جو ہم نے پَولُسؔ پر لگائے ہیں۔ اَور حُکم دیا کہ پَولُسؔ کے مُدّعی یہاں آکر اُن پر مُقدّمہ دائر کریں۔“
ACT 24:9 دُوسرے یہُودی بھی اُن سے مُتّفِق ہوکر کہنے لگے، یہ باتیں بالکُل صحیح ہیں۔
ACT 24:10 جَب صُوبہ کے حاکم نے پَولُسؔ کو بولنے کا اِشارہ کیا، تو پَولُسؔ نے جَواب دیا: ”مُجھے مَعلُوم ہے کہ آپ کیٔی سالوں سے اِس مُلک کا مُنصِف رہے ہو؛ اِس لیٔے میں خُوشی سے اَپنی صفائی پیش کرتا ہُوں۔
ACT 24:11 آپ خُود پتا لگا سکتے ہو کہ بَارہ دِن پہلے میں یروشلیمؔ میں عبادت کرنے گیا تھا۔
ACT 24:12 میرے مُدّعیوں نے مُجھے بیت المُقدّس میں کسی کے ساتھ بھی بحث کرتے یا یہُودی عبادت گاہوں میں یا اِدھر اُدھر شہر میں فساد برپا کرتے نہیں دیکھا۔
ACT 24:13 اَب وہ اِن اِلزامات کو جو وہ مُجھ پر لگا رہے ہیں، آپ کے سامنے ثابت نہیں کر سکتے۔
ACT 24:14 ہاں میں یہ اقرار ضروُر کرتا ہُوں کہ جِس مسیحی عقیدہ کو وہ بِدعت قرار دیتے ہیں اُس کے مُطابق میں اَپنے آباؤاَجداد کے خُدا کی عبادت کرتا ہُوں اَورجو کچھ توریت اَور نبیوں کے صحائف میں لِکھّا ہے اُن سَب پر میرا ایمان ہے۔
ACT 24:15 میں بھی خُدا سے وُہی اُمّید رکھتا ہُوں جو یہ رکھتے ہیں کہ راستبازوں اَور بدکاروں دونوں کی قیامت ہوگی۔
ACT 24:16 لہٰذا میری تو یہی کوشش رہتی ہے کہ خُدا اَور اِنسان دونوں کے سامنے میری نیک نیّتی بنی رہے۔
ACT 24:17 ”کیٔی برسوں کی غَیر حاضری کے بعد میں اَپنی قوم کے لیٔے عَطیّہ کی رقم اَور نذرانے لے کر یروشلیمؔ آیاتھا۔
ACT 24:18 جَب اُنہُوں نے مُجھے بیت المُقدّس میں پایا تو میں طہارت کی رسم اَدا کر رہاتھا۔ میرے ساتھ نہ تو کویٔی مجمع تھا اَور نہ ہی میں کویٔی فساد برپا کر رہاتھا۔
ACT 24:19 ہاں، آسیہؔ کے چند یہُودی ضروُر وہاں مَوجُود تھے۔ اگر اُنہیں مُجھ سے کویٔی شکایت تھی تو واجِب تھا کہ وہ یہاں حاضِر ہوکر مُجھ پر دعویٰ کرتے۔
ACT 24:20 یہ لوگ جو یہاں مَوجُود ہیں بتائیں کہ جَب مَیں مَجلِس عامہ میں پیش ہُوا تھا تو اُنہُوں نے مُجھ میں کیا جُرم پایاتھا؟
ACT 24:21 سِوائے اِس ایک بات کے جو مَیں نے کھڑے ہوکر بُلند آواز سے کہی تھی: ’یہ آج تمہارے سامنے مُجھ پر مُردوں کی قیامت یعنی مُردے پھر سے جی اُٹھیں گے کے بارے میں مُقدّمہ چلایا جا رہاہے۔‘ “
ACT 24:22 تَب فیلِکسؔ نے جو مسیحی عقیدہ کے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا، یہ کہہ کر مُقدّمہ مُلتوی کر دیا۔ ”جَب پلٹن کا سالار لُوسیاسؔ یہاں آئے گا مَیں تمہارے مُقدّمہ کا فیصلہ کروں گا۔“
ACT 24:23 اُس نے فَوجی کپتان سے کہا کہ پَولُسؔ کو پہرا میں آرام سے رکھا جائے اَور اُس کے دوستوں میں سے کسی کو بھی اُس کی خدمت کرنے سے منع نہ کیا جائے۔
ACT 24:24 کچھ دِنوں کے بعد فیلِکسؔ اَپنی بیوی درُوسِلّہؔ کے ساتھ آیا، جو یہُودی تھی۔ اُس نے پَولُسؔ کو بُلا بھیجا اَور خُداوؔند المسیح یِسوعؔ پر ایمان کی بابت اُس کی باتیں سُنیں۔
ACT 24:25 جَب پَولُسؔ نے راستبازی، پرہیزگاری اَور آنے والی عدالت کے بارے میں بَیان کیا تو فیلِکسؔ ڈر گیا اَور کہنے لگا، ”ابھی اِتنا ہی کافی ہے! تو جا سَکتا ہے۔ مُجھے فُرصت ملے گی تو مَیں تُجھے پھر بُلواؤں گا۔“
ACT 24:26 ساتھ ہی فیلِکسؔ کو یہ بھی اُمّید تھی کہ اُسے پَولُسؔ کی طرف سے رشوت ملے گی، لہٰذا وہ پَولُسؔ کو بار بار بُلاتا اَور اُس کے ساتھ گُفتگو کرتا تھا۔
ACT 24:27 پُورے دو بَرس بعد، فیلِکسؔ کی جگہ پُرکِیُسؔ فِیستُسؔ صُوبہ کا حاکم مُقرّر ہُوا، لیکن فیلِکسؔ خُود کو یہُودیوں کا مُحسِن ثابت کرنے کے لیٔے، وہ پَولُسؔ کو قَید ہی میں چھوڑ گیا۔
ACT 25:1 صُوبہ کا حاکم فِیستُسؔ وارِد ہونے کے تین دِن بعد، قَیصؔریہ سے یروشلیمؔ گیا
ACT 25:2 جہاں اہم کاہِن اَور یہُودی رہنما اُس کے حُضُور میں آکر پَولُسؔ کے خِلاف پَیروی کرنے لگے۔
ACT 25:3 اُنہُوں نے فِیستُسؔ سے مِنّت کی، وہ فوراً پَولُسؔ کے یروشلیمؔ میں مُنتقل کرنے کا حُکم دے، دراصل اُنہُوں نے پَولُسؔ کو راہ ہی میں مار ڈالنے کی سازش کی ہویٔی تھی۔
ACT 25:4 مگر فِیستُسؔ نے جَواب دیا، ”پَولُسؔ تو قَیصؔریہ میں قَید ہیں اَور مَیں خُود بھی جلد ہی وہاں پہُنچنے والا ہُوں۔
ACT 25:5 کیوں نہ تُم میں سے چند اِختیار والے لوگ میرے ساتھ چلیں، اَور اگر اُنہُوں نے واقعی کویٔی غلط کام کیا ہے تو وہاں اُن پر مُقدّمہ دائر کریں۔“
ACT 25:6 اُن کے ساتھ آٹھ یا دس دِن گُزارنے کے بعد، فِیستُسؔ قَیصؔریہ گیا۔ اگلے دِن اُس نے عدالت طلب کی اَور حُکم دیا کہ پَولُسؔ کو اُس کے سامنے لایا جائے۔
ACT 25:7 جَب پَولُسؔ حاضِر ہویٔے تو یروشلیمؔ سے آنے والے یہُودیوں نے پَولُسؔ کو گھیر کر اُن پر چاروں طرف سے سنگین اِلزامات کی بھرمار شروع کر دی لیکن کویٔی ثبوت پیش نہ کر سکے۔
ACT 25:8 پَولُسؔ نے اَپنی صفائی پیش کرتے ہویٔے کہا: ”مَیں نے نہ تو یہُودیوں کی شَریعت کے برخلاف کویٔی قُصُور کیا ہے نہ بیت المُقدّس کا اَور نہ قَیصؔر کے خِلاف۔“
ACT 25:9 مگر فِیستُسؔ خُود کو یہُودیوں کا مُحسِن ثابت کرنا چاہتا تھا، اِس لیٔے اُس نے پَولُسؔ سے کہا، ”کیا تُجھے یروشلیمؔ جانا منظُور ہے تاکہ میں اِس مُقدّمہ کا فیصلہ وہاں کروں؟“
ACT 25:10 پَولُسؔ نے جَواب دیا: ”میں یہاں قَیصؔر کی عدالت میں کھڑا ہُوں، میرے مُقدّمہ کا فیصلہ اِسی جگہ ہونا چاہئے۔ آپ خُود بھی اَچھّی طرح جانتے ہیں کہ مَیں نے یہُودیوں کے خِلاف کویٔی جُرم نہیں کیا۔
ACT 25:11 تاہم، اگر، میں قُصُوروار ہُوں، اَور موت کی سزا کے لائق ہُوں تو مُجھے مَرنے سے اِنکار نہیں۔ لیکن جو اِلزامات یہُودی مُجھ پر لگا رہے ہیں، اگر وہ سچ نہیں ہیں تو پھر کسی کو حق نہیں کہ مُجھے اُن کے حوالہ کرے۔ میں قَیصؔر کے ہاں اپیل کرتا ہُوں!“
ACT 25:12 فِیستُسؔ نے اَپنے صلاح کاروں سے مشورہ کرکے، اُس نے اعلان کیا: ”تُونے قَیصؔر کے ہاں اپیل کی ہے۔ قَیصؔر کے پاس ہی جائے گا!“
ACT 25:13 کچھ دِنوں بعد اگرِپّاَ بادشاہ اَور بِرنِیکےؔ، قَیصؔریہ آئے تاکہ فِیستُسؔ سے مُلاقات کر سکیں۔
ACT 25:14 چونکہ وہ کافی دِنوں تک وہیں رہے اِس لیٔے فِیستُسؔ نے پَولُسؔ کے مُقدّمہ کا حال بادشاہ سے بَیان کیا: ”یہاں ایک آدمی ہے جسے فیلِکسؔ قَید میں چھوڑ گیا ہے۔
ACT 25:15 جَب مَیں یروشلیمؔ میں تھا تو اہم کاہِنوں اَور یہُودیوں کے بُزرگ میرے پاس یہ فریاد لے کر آئے کہ اُس کے خِلاف سزا کا حُکم صادر کیا جائے۔
ACT 25:16 ”مَیں نے اُنہیں بتایا کہ رُومی دستور کے مُطابق کویٔی شخص سزا پانے کے لیٔے حوالہ نہیں کیا جا سَکتا جَب تک کہ اُسے اَپنے مُدّعیوں کے رُوبرو اُن کے اِلزام کے بارے میں اَپنی صفائی پیش کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔
ACT 25:17 چنانچہ جَب وہ لوگ یہاں آئے تو مَیں نے فوراً اگلے ہی دِن اُسے اَپنی عدالت مَیں حاضِر ہونے کا حُکم دیا۔
ACT 25:18 جَب اُس کے مُدّعی اَپنا دعویٰ پیش کرنے کے لیٔے اُٹھے تو اُنہُوں نے اُس پر کسی اَیسے جُرم کا اِلزام نہ لگایا جِس کا مُجھے گُمان تھا۔
ACT 25:19 بَلکہ اُن کا جھگڑا اُن کے اَپنے مَذہب اَور کسی آدمی یِسوعؔ المسیح کے بارے میں تھا جو مَر چُکاہے مگر پَولُسؔ اُسے زندہ بتاتا ہے۔
ACT 25:20 میں بڑی اُلجھن میں ہُوں کہ اَیسی باتوں کی تحقیقات کیسے کروں؛ اِس لیٔے مَیں نے پَولُسؔ سے پُوچھا کہ کیا اُسے یروشلیمؔ جانا منظُور ہے تاکہ اِن باتوں کا فیصلہ وہاں ہو؟
ACT 25:21 لیکن پَولُسؔ نے اپیل کر دی کہ اُن کے مُقدّمہ کا فیصلہ قَیصؔر کی عدالت میں ہو، لہٰذا مَیں نے حُکم دیا کہ وہ قَیصؔر کے پاس بھیجے جانے تک حوالات میں رہے۔“
ACT 25:22 تَب اگرِپّاَنے فِیستُسؔ سے کہا، ”میں بھی اُس شخص کی باتیں اُس کی زبانی سُننا چاہتا ہُوں۔“ فِیستُسؔ نے جَواب دیا، ”آپ اُسے کل سُن سکیں گے۔“
ACT 25:23 اگلے دِن اگرِپّاَ اَور بِرنِیکےؔ بڑی شان و شوکت کے ساتھ آئے اَور پلٹن کے اعلیٰ افسران اَور شہر کے مُعزّز لوگوں کے ساتھ دیوان خانہ میں داخل ہویٔے۔ فِیستُسؔ نے حُکم دیا، پَولُسؔ کو وہاں حاضِر کیا جائے۔
ACT 25:24 پھر فِیستُسؔ نے کہا: ”اگرِپّاَ بادشاہ، اَور جمع حاضرین، تُم اِس شخص کو دیکھتے ہو! جِس کے برخلاف ساری یہُودی قوم نے مُجھ سے یروشلیمؔ میں اَور یہاں قَیصؔریہ میں، چِلّا چِلّاکر درخواست کی ہے کہ اِسے زندہ نہ چھوڑا جائے۔
ACT 25:25 لیکن مُجھے مَعلُوم ہُواہے کہ پَولُسؔ نے اَیسی کویٔی خطا نہیں کی کہ اُسے سزائے موت دی جائے، چونکہ اَب اِس نے قَیصؔر کے ہاں اپیل کی ہے تو مَیں نے مُناسب سمجھا کہ اِسے رُوم بھیج دُوں۔
ACT 25:26 لیکن آقائے اعلیٰ قَیصؔر کو لکھنے کے لیٔے میرے پاس کویٔی خاص بات نہیں ہے۔ لہٰذا مَیں نے اِسے یہاں تمہارے، اَور خاص طور پر اگرِپّاَ بادشاہ کے سامنے حاضِر کیا ہے، تاکہ تحقیقات کے بعد کویٔی اَیسی بات مَعلُوم ہو جسے میں قَیصؔر کو لِکھ کر بھیج سکوں۔
ACT 25:27 کیونکہ کسی قَیدی کو بھیجتے وقت اُس پر لگائے گیٔے اِلزامات کو ظاہر نہ کرنا میرے نزدیک دانشمندی نہیں ہے۔“
ACT 26:1 اِس پر اگرِپّاَنے پَولُسؔ سے کہا، ”تُجھے اَپنے بارے میں بولنے کی اِجازت ہے۔“ لہٰذا پَولُسؔ ہاتھ سے اِشارہ کرتے ہویٔے اَپنی صفائی پیش کرنے لگے:
ACT 26:2 ”اَے بادشاہ اگرِپّاَ، میں اَپنے آپ کو خُوش قِسمت سمجھتا ہُوں کہ آپ کے سامنے کھڑے ہوکر یہُودیوں کے اِلزامات کے خِلاف اَپنی صفائی پیش کر سَکتا ہُوں،
ACT 26:3 اَور خصوصاً اِس لیٔے کہ آپ سارے یہُودی رسم و رِواج اَور مسئلوں سے بخُوبی واقف ہیں، لہٰذا میں اِلتجا کرتا ہُوں کہ آپ حلیمی سے میری سُن لیجئے۔
ACT 26:4 ”یہُودی اَچھّی طرح جانتے ہیں کہ پہلے میرے اَپنے وطن میں اَور بعد میں یروشلیمؔ میں ایّام جَوانی سے میرا چال چلن کیسا رہاہے۔
ACT 26:5 وہ مُدّت سے مُجھے جانتے ہیں اَور اگر چاہیں تو میرے حق میں گواہی دے سکتے ہیں کہ میں اَپنے کٹّر مَذہَبی فرقہ کے مُطابق ایک فرِیسی کی حیثیت سے کِس طرح زندگی گزارتا آیا ہُوں۔
ACT 26:6 خُدا نے ہمارے آباؤاَجداد سے ایک وعدہ کیا تھا۔ مُجھے اُمّید ہے کہ وہ پُورا ہوگا۔ اُسی اُمّید کی وجہ سے مُجھ پر یہ مُقدّمہ چلایا جا رہاہے۔
ACT 26:7 اُسی وعدہ کے پُورا ہونے کی اُمّید ہمارے بَارہ کے بَارہ قبیلوں کو ہے۔ اِس لیٔے وہ دِن رات دِل و جان سے خُدا کی عبادت کیا کرتے ہیں۔ اَے بادشاہ! میری اِسی اُمّید کے باعث یہُودی مُجھ پر مُقدّمہ دائر کر رہے ہیں۔
ACT 26:8 کیا تُم اِس بات کو کہ خُدا مُردوں کی قیامت یعنی مُردوں کو پھر سے زندہ کر دے گا، غَیر مُعتبر سمجھتے ہو؟
ACT 26:9 ”کبھی میں بھی سمجھتا تھا کہ یِسوعؔ المسیح ناصری کے نام کی ہر طور سے مُخالفت کرنا مُجھ پر فرض ہے۔
ACT 26:10 چنانچہ مَیں نے یروشلیمؔ میں اَیسا ہی کیا۔ مَیں نے اہم کاہِنوں سے اِختیار پا کر بہت سے مُقدّسین کو قَید میں ڈالا اَور جَب اُنہیں سزائے موت سُنایٔی جاتی تھی تو میں بھی یہی رائے دیتا تھا۔
ACT 26:11 میں ہر ایک یہُودی عبادت گاہ میں جاتا اَور اُنہیں سزا دِلواتا تھا اَور یِسوعؔ المسیح کے خِلاف کُفر بکنے پر مجبُور کرتا تھا۔ اُن کی مُخالفت نے مُجھے اِتنا دیوانہ بنا دیا تھا کہ میں دُور دراز کے بیرونی شہروں میں بھی جا جا کر اُنہیں ستاتا تھا۔
ACT 26:12 ”ایک بار اہم کاہِنوں کے حُکم اَور اُن کے اِختیار سے اِسی کام کے لیٔے دَمشق شہر کا سفر کر رہاتھا
ACT 26:13 اَور اَے بادشاہ! جَب مَیں راہ میں تھا تو دوپہر کے وقت مَیں نے آسمان سے رَوشنی آتی دیکھی جو سُورج کی رَوشنی سے بھی تیز تر تھی اَور وہ آکر ہمارے گِرد چمکنے لگی۔
ACT 26:14 ہم سَب زمین پر گِر پڑے، اَور مَیں نے ایک آواز سُنی جو مُجھ سے ارامی زبان میں یہ کہہ رہی تھی، ’اَے ساؤلؔ، اَے ساؤلؔ، تُو مُجھے کیوں ستاتا ہے؟ بیل ہانکنے کی چھڑی پر لات مارنا تیرے لیٔے مُشکل ہے۔‘
ACT 26:15 ”تَب مَیں نے کہا، ’اَے آقا، آپ کون ہیں؟‘ ”میں یِسوعؔ ہُوں، جسے تُو ستاتا ہے، خُداوؔند نے اُسے جَواب دیا۔
ACT 26:16 ’اَب اُٹھ اَور اَپنے پاؤں پر کھڑا ہو جا۔ مَیں تُجھ پر اِس لیٔے ظاہر ہُوا ہُوں کہ تُجھے اَپنا خادِم مُقرّر کروں اَورجو کچھ تُونے مُجھ سے دیکھاہے اَور دیکھے گا اُس کا تُجھے گواہ بناؤں۔
ACT 26:17 مَیں تُجھے تیرے لوگوں سے اَور غَیریہُودیوں سے بچاتا رہُوں گا۔ مَیں تُجھے اُن میں بھیج رہا ہُوں
ACT 26:18 تاکہ تو اُن کی آنکھیں کھولے اَور اُنہیں تاریکی سے رَوشنی میں لے آئے، اَور شیطان کے اِختیار سے نکال کر خُدا کی طرف پھیر دے، تاکہ وہ مُجھ پر ایمان لائیں اَور گُناہوں کی مُعافی پائیں اَور خُدا کے برگُزیدہ لوگوں میں شریک ہوکر مِیراث حاصل کریں۔‘
ACT 26:19 ”اِس لیٔے اَے اگرِپّاَ بادشاہ، میں اُس آسمانی رُویا کا نافرمان نہیں ہُوا۔
ACT 26:20 بَلکہ پہلے مَیں نے دَمشق شہر کے لوگوں میں، پھر یروشلیمؔ اَور سارے یہُودیؔہ کے رہنے والوں اَور غَیریہُودیوں میں بھی مُنادی کی، مَیں نے تبلیغ کی کہ وہ تَوبہ کریں اَور خُدا کی طرف رُجُوع ہُوں اَور اَپنے نیک عَمل سے اَپنی تَوبہ کا ثبوت دیں۔
ACT 26:21 اِن ہی باتوں کے سبب سے یہُودیوں نے مُجھے بیت المُقدّس میں پکڑ لیا اَور پھر مار ڈالنے کی کوشش کی۔
ACT 26:22 لیکن مَیں خُدا کی مدد سے آج تک زندہ ہُوں؛ اِس لیٔے میں ہر چُھوٹے بڑے کے سامنے گواہی دیتا ہُوں۔ میں جو باتیں کہتا ہُوں وُہی ہیں جِن کی پیشین گوئی نبیوں نے اَور حضرت مَوشہ نے کی ہے۔
ACT 26:23 یعنی یہ کہ المسیح ضروُر دُکھ اُٹھائیں گے اَور سَب سے پہلے وُہی مُردوں میں سے زندہ ہوکر یہُودی قوم کو اَور غَیریہُودیوں کو نُور کا پیغام دیں گے۔“
ACT 26:24 جَب وہ اَپنی صفائی میں یہ بَیان کر ہی رہے تھے تو فِیستُسؔ نے اُنہیں اِشارے سے روک کر بُلند آواز سے کہا، ”پَولُسؔ! تو پاگل ہو گیا ہے، علم کی زیادتی نے تُجھے پاگل کر دیا ہے۔“
ACT 26:25 ”مُعظّم فِیستُسؔ،“ میں پاگل نہیں ہُوں، پَولُسؔ نے جَواب دیا۔ ”میں جو کچھ کہہ رہا ہُوں سچ اَور مَعقُول ہے۔
ACT 26:26 بادشاہ اِن باتوں سے واقف ہے، اَور مَیں اُس سے کھُل کر بات کر سَکتا ہُوں۔ مُجھے یقین ہے کہ اِن باتوں میں سے کویٔی بھی اُن سے چھِپی نہیں ہے کیونکہ یہ ماجرا کسی گوشہ میں نہیں ہُوا۔
ACT 26:27 اگرِپّاَ بادشاہ، کیا آپ نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں؟ میں جانتا ہُوں کہ آپ ایمان رکھتے ہیں۔“
ACT 26:28 اگرِپّاَنے پَولُسؔ سے کہا، ”کیا تو مُجھے ذرا سِی ترغِیب سے مسیحی بنا لینا چاہتاہے؟“
ACT 26:29 پَولُسؔ نے جَواب دیا، ”خواہ ذرا سِی خواہ زِیادہ، میں تو خُدا سے دعا کرتا ہُوں کہ نہ صِرف آپ بَلکہ جتنے بھی آج میری بات سُن رہے ہیں میری مانِند ہو جایٔیں، سِوائے اِن زنجیروں کے۔“
ACT 26:30 تَب بادشاہ اُٹھ کھڑا ہُوا اَور اُس کے ساتھ صُوبہ کے حاکم اَور بِرنِیکےؔ اَور اُن کے ہم نشین بھی اُٹھ کھڑے ہویٔے۔
ACT 26:31 کمرے سے نکلنے کے بعد، وہ ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”یہ آدمی کویٔی اَیسا کام تو نہیں کر رہاہے کہ اِسے سزائے موت دی جائے یا قَید میں رکھا جائے۔“
ACT 26:32 اگرِپّاَنے فِیستُسؔ سے کہا، ”اگر یہ آدمی قَیصؔر کے ہاں اپیل نہ کرتا تو رِہائی پا سَکتا تھا۔“
ACT 27:1 جَب یہ طے پایا کہ ہم لوگ جہاز سے اِطالیہؔ جایٔیں گے، تو پَولُسؔ اَور بعض دُوسرے قَیدی شاہی پلٹن کے ایک کپتان کے سُپرد کر دئیے گیٔے، جِس کا نام یُولِیُسؔ تھا۔
ACT 27:2 ہم اَدرامُتیمؔ سے ایک سمُندری جہاز پر سوار ہوکر روانہ ہویٔے جو آسیہؔ کی ساحِلی بندرگاہوں سے ہوتا ہُوا آگے جانے والا تھا، ہمارے ساتھ، تھِسلُنِیکے سے تعلّق رکھنے والا، ایک مَکِدُنی ارِسترخُسؔ بھی تھا۔
ACT 27:3 اگلے دِن جَب جہاز صیؔدا میں رُکا تو یُولِیُسؔ نے پَولُسؔ پر مہربانی کرکے اُنہیں اَپنے دوستوں سے مُلاقات کرنے کی اِجازت دے دی تاکہ اُن کی خاطِر تواضع ہو سکے۔
ACT 27:4 وہاں سے ہم پھر جہاز پر روانہ ہویٔے اَور جَزِیرہ سائپرسؔ کی آڑ میں ہوکر گزرے کیونکہ ہَوا ہمارے مُخالف تھی۔
ACT 27:5 پھر ہم کِلکِیؔہ اَور پَمفِیلہ کے سمُندری ساحِل سے گزر کر آگے بڑھے تو لوکیہؔ کے شہر مُورہؔ میں جا اُترے۔
ACT 27:6 فَوجی کپتان کو وہاں الیکزینڈریا کا ایک سمُندری جہاز مِل گیا جو اِطالیہؔ جا رہاتھا۔ اُس نے ہمیں اُس پر سوار کرا دیا۔
ACT 27:7 ہم بہت دِنوں تک آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہے اَور کِندُسؔ کے سامنے جا پہُنچے لیکن تیز ہَوا کی وجہ سے ہمیں آگے جانے میں دُشواری محسُوس ہویٔی لہٰذا ہم سلمونؔے کے سامنے سے ہوکر کریتےؔ کی آڑ میں ہو لیٔے۔
ACT 27:8 اَور بڑی مُشکل سے ساحِل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہویٔے حسیِنؔ بندرگاہ میں پہُنچے جہاں سے لَسیؔہ شہر نزدیک تھا۔
ACT 27:9 وقت بہت ضائع ہو چُکاتھا، وہاں ہمیں کیٔی دِنوں تک رُکنا پڑا کیونکہ روزہ کا دِن گزر چُکاتھا اَور اُس موسم میں سمُندری سفر اَور بھی پُرخطر ہو جاتا ہے۔ اِس لیٔے پَولُسؔ نے اُنہیں نصیحت کے طور پر کہا،
ACT 27:10 ”اَے بھائیو، مُجھے لگتا ہے کہ ہمارا سفر پُرخطر ثابت ہوگا اَور نہ صِرف مال و اَسباب اَور سمُندری جہاز کا بَلکہ ہماری جانوں کا بھی خطرہ ہے۔“
ACT 27:11 لیکن فَوج کے کپتان نے پَولُسؔ کی بات سُننے کی بجائے جہاز کے کپتان اَور مالک کی باتوں کو زِیادہ اہمیّت دی۔
ACT 27:12 چونکہ وہ بندرگاہ سردی کا موسم گُزارنے کے لیٔے موزوں نہ تھی، اِس لیٔے اکثریت کا فیصلہ یہ تھا کہ ہم آگے بڑھیں اَور اُمّید رکھیں کہ فِینِکسؔ میں پہُنچ کر سردی کا موسم وہاں گزار سکیں گے۔ یہ کریتےؔ کی ایک بندرگاہ تھی جِس کا رُخ شمال مشرق اَور جُنوب مشرق کی جانِب تھا۔
ACT 27:13 جَب جُنوب کی طرف سے ہلکی ہلکی ہَوا چلنا شروع ہو گئی، تو وہ سمجھے کہ اَب ہماری مُشکل جاتی رہی؛ لہٰذا اُنہُوں نے لنگر اُٹھایا اَور کریتےؔ کے ساحِل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھے۔
ACT 27:14 لیکن جلد ہی بڑی طُوفانی ہَوا جسے یُورکُلونؔ کہتے ہیں شمال مشرق کی جانِب سے آئی جَزِیرہ کے نیچے بہہ گئی۔
ACT 27:15 سمُندری جہاز طُوفان کی گرفت میں آ گیا اَور جہاز ہچکولے کھانے لگا؛ لہٰذا ہم نے لاچار ہوکر جہاز ہَوا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
ACT 27:16 جَب ہم بہتے بہتے ایک چُھوٹے جَزِیرہ کودہؔ تک پہُنچے، ہم ڈونگی کو بڑی مُشکل سے قابُو میں لا سکے،
ACT 27:17 اِس لیٔے ہمارے آدمیوں نے سے اُوپر چڑھا لیا۔ پس سمُندری جہاز کو ٹُوٹنے سے بچانے کے لیٔے سے اُوپر سے نیچے تک رسّوں سے باندھ دیا۔ کیونکہ اُنہیں خوف تھا کہ کہیں اَیسا نہ ہو کہ جہاز سورتِسؔ کی کھاڑی کی ریت میں دھنس کر رہ جائے، لہٰذا اُنہُوں نے سمُندری لنگر کو نیچے کر دیا اَور جہاز کو اُسی طرح بہنے دیا۔
ACT 27:18 جَب جہاز طُوفانی ہَوا میں بہت ہی ہچکولے کھانے لگا تو اگلے دِن اُنہُوں نے جہاز کا مال سمُندر میں پھینکنا شروع کر دیا۔
ACT 27:19 تیسرے دِن اُنہُوں نے اَپنے ہاتھوں سے سمُندری جہاز کے آلات وغیرہ بھی نیچے پھینک دئیے۔
ACT 27:20 جَب کیٔی دِنوں تک سُورج نظر آیا نہ تارے اَور طُوفان کا زور بھی بڑھنے لگا تو بچنے کی آخِری اُمّید بھی جاتی رہی۔
ACT 27:21 لوگوں کو کھانا پینا چھوڑے ہویٔے کیٔی دِن ہو گئے تھے اِس لیٔے پَولُسؔ نے اُن کے بیچ میں کھڑے ہوکر کہا: ”اَے بھائیو، اگر تُم میری نصیحت قبُول کرلیتے اَور کریتےؔ سے آگے روانہ ہی نہ ہوتے تو تُمہیں اِس نُقصان اَور تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
ACT 27:22 لیکن اَب مَیں تمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ حوصلہ نہ ہارو۔ تُم میں سے کسی کا بھی جانی نُقصان نہ ہوگا؛ صِرف سمُندری جہاز تباہ ہو جائے گا۔
ACT 27:23 کیونکہ میرے خُدا جِس کی میں عبادت کرتا ہُوں اُس کا فرشتہ کل رات میرے پاس آ کھڑا ہُوا
ACT 27:24 اَور کہنے لگا، ’پَولُسؔ، خوفزدہ مت ہو۔ تیرا قَیصؔر کے حُضُور میں پیش ہونا لازِم ہے؛ اَور تیری خاطِر خُدا اَپنے فضل سے اِن سَب کی جان سلامت رکھےگا جو جہاز پر تیرے ہم سفر ہیں۔‘
ACT 27:25 اِس لیٔے صاحِبو، تُم اَپنا حوصلہ بُلند رکھو، میرا ایمان ہے کہ میرے خُدا نے جو کچھ مُجھ سے فرمایاہے وُہی ہوگا۔
ACT 27:26 تاہم، ہمیں ضروُر کسی جزیرے پر ٹھہرنا ہوگا۔“
ACT 27:27 چودھویں رات کو جَب ہم بحرِ اَدریہ میں اِدھر اُدھر ٹکراتے پھرتے تھے تو آدھی رات کے وقت ملّاحوں نے محسُوس کیا کہ وہ کنارے کے نزدیک پہُنچ رہے ہیں۔
ACT 27:28 اُنہُوں نے پانی کی گہرائی ناپی تو وہ ایک سَو بیس فِٹ گہری نکلی۔ پھر تھوڑا آگے جا کر ناپا تو پایا یہ نوّے فِٹ گہری ہے۔
ACT 27:29 اِس خوف سے کہ کہیں چٹّانوں سے نہ ٹکرا جائیں اُنہُوں نے جہاز کے پچھلے حِصّہ سے چار لنگر سمُندر میں ڈال دئیے اَور صُبح کی رَوشنی کی تمنّا میں دعا کرنے لگے۔
ACT 27:30 ملّاحوں نے سمُندری جہاز سے بچ نکلنے کے لیٔے ڈونگی نیچے اُتاری لیکن ظاہر یہ کیا کہ وہ جہاز کے اگلے حِصّہ سے پانی میں لنگر ڈالنا چاہتے ہیں۔
ACT 27:31 تَب پَولُسؔ نے فَوجی کپتان اَور سپاہیوں سے کہا، ”اگر یہ لوگ سمُندری جہاز پر نہ رہیں گے، تو تُم لوگوں کا بچنا مُشکل ہے۔“
ACT 27:32 لہٰذا سپاہیوں نے ڈونگی کی رسّیاں کاٹ دیں اَور جہاز سمُندر میں چھوڑ دیا۔
ACT 27:33 صُبح ہونے سے ذرا پہلے پَولُسؔ نے سَب کی مِنّت کی کہ کچھ کھا لیں۔ آپ نے کہا، ”پچھلے چودہ دِن سے، تُم لوگ شک و شُبہ میں پڑے ہویٔے ہو اَور تُم نے کھانے کو چھُوا تک نہیں۔
ACT 27:34 اَب مَیں تمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ کچھ کھالو کیونکہ تمہاری سلامتی اِسی پر موقُوف ہے اَور یقین رکھو کہ تُم میں سے کسی کے سَرکا ایک بال بھی بیکا نہ ہوگا۔“
ACT 27:35 جَب وہ یہ کہہ چُکے تو اُنہُوں نے کچھ روٹی لی اَور سَب کے سامنے خُدا کا شُکرادا کیا اَور روٹی توڑ کر کھانے لگے۔
ACT 27:36 اِس سے سَب کی ہِمّت بندھی اَور وہ بھی کھانے لگے۔
ACT 27:37 ہم سَب مِل کر دو سَو چھہتّر آدمی تھے جو اُس سمُندری جہاز پر سوار تھے۔
ACT 27:38 جَب وہ پیٹ بھرکرکھا چُکے تو اُنہُوں نے سارا گیہُوں سمُندر میں پھینکنا شروع کر دیا تاکہ سمُندری جہاز ہلکا ہو جائے۔
ACT 27:39 جَب دِن نِکلا تو اُنہُوں نے خُشکی کو نہ پہچانا لیکن ایک کھاڑی دیکھی جِس کا کنارہ نظر آیا۔ اُنہُوں نے صلاح کی کہ اگر ممکن ہو تو سمُندری جہاز کو اُسی پر چڑھا لیں۔
ACT 27:40 پس لنگر کھول کر سمُندر میں چھوڑ دئیے اَور پتواروں کی رسّیاں بھی کھول دیں۔ سامنے کا بادبان کھول کر اُوپر چڑھا دیا اَور کنارے کی طرف بڑھے۔
ACT 27:41 لیکن سمُندری جہاز خُشکی پر پہُنچ کر ریت پر جا ٹِکا۔ اُس کے سامنے والا اگلا حِصّہ تو کنارے پر ریت میں دھنس گیا لیکن پچھلا حِصّہ لہروں کے زور سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔
ACT 27:42 سپاہیوں کی صلاح تھی کہ قَیدیوں کو مار ڈالیں تاکہ اُن میں سے کویٔی تَیر کر بھاگ نہ جائے۔
ACT 27:43 لیکن فَوجی کپتان نے پَولُسؔ کی زندگی محفوظ رکھنے کے لیٔے اُنہیں اَیسا کرنے سے روک دیا اَور حُکم دیا کہ جو تَیر سکتے ہیں وہ پہلے کُود جایٔیں اَور خُشک زمین پر پہُنچ کر جان بچا لیں۔
ACT 27:44 باقی مُسافروں نے لکڑی کے تختوں اَور سمُندری جہاز کی دُوسری چیزوں کی مدد سے کسی نہ کسی طرح اَپنی جان بچائی۔ پس اِس طرح سَب کے سَب خُشک زمین پر بحِفاظت پہُنچ گیٔے۔
ACT 28:1 جَب ہم سلامتی سے ساحِل پر پہُنچ گیٔے، تو ہمیں مَعلُوم ہُوا کہ جَزِیرہ کا نام مالٹاؔ ہے۔
ACT 28:2 وہاں کے جَزِیرہ کے باشِندوں نے ہمارے ساتھ بڑی مہربانی کا سلُوک کیا۔ تیز بارش ہو رہی تھی اَور سردی بھی زوروں پر تھی اِس لیٔے اُنہُوں نے آگ جَلائی اَور ہماری خاطِر تواضع کی۔
ACT 28:3 پَولُسؔ نے سُوکھی لکڑیاں جمع کرکے گٹھّا بنایا اَور جَب وہ اُسے آگ میں ڈالنے لگے، تو آگ کی گرمی کی وجہ سے، ایک زہریلا سانپ، لکڑیوں میں سے نکل کر پَولُسؔ کے ہاتھ پر لِپٹ گیا۔
ACT 28:4 جَب جَزِیرہ کے باشِندوں نے سانپ کو اُن کے ہاتھ سے لٹکتے ہویٔے دیکھا تو آپَس میں کہنے لگے، ”یہ آدمی ضروُر کویٔی خُونی ہے؛ یہ سمُندر میں غرق ہونے سے زندہ بچ گیا، لیکن اِنصاف کی دیوی اِنہیں زندہ نہیں چھوڑے گی۔“
ACT 28:5 مگر پَولُسؔ نے سانپ کو آگ میں جھٹک دیا اَور اُنہیں کویٔی نُقصان نہ ہُوا۔
ACT 28:6 وہ لوگ اِنتظار میں تھے کہ اُس کا بَدن سُوج جائے گا اَور وہ مَر کے ڈھیر ہو جائے گا۔ لیکن کافی اِنتظار کے بعد جَب پَولُسؔ کو کویٔی ضرر نہ پہُنچا تو اُنہُوں نے اَپنا خیال بدل دیا اَور کہنے لگے کہ یہ تو کویٔی معبُود ہے۔
ACT 28:7 وہ علاقہ اُس جَزِیرہ کے حاکم پُبلِیُسؔ، کی مِلکیّت میں تھا۔ اُس نے ہمیں اَپنے گھر پر مدعو کیا اَور تین دِن تک ہماری خُوب خاطِر تواضع کی۔
ACT 28:8 پُبلِیُسؔ کا باپ بُخار اَور پیچش کے باعث بیمار پڑتھا۔ پَولُسؔ اُس کی عیادت کرنے گیٔے اَور دعا کے بعد اَپنے ہاتھ اُس پر رکھے اَور اُسے شفا بخشی۔
ACT 28:9 جَب اَیسا ہُوا، تو اُس جَزِیرہ کے باقی مریض بھی آکر شفا پانے لگے۔ جزیرے میں باقی بیمار آئے اَور صحتیاب ہو گئے۔
ACT 28:10 اُنہُوں نے ہماری بڑی عزّت کی اَور جَب ہم آگے جانے کے لیٔے تیّار ہویٔے تو سفر کے لیٔے ہماری ضروُرت کی ساری چیزیں جہاز پر رکھوا دیں۔
ACT 28:11 ہمارے سمُندری جہاز کی تباہی کے تین ماہ بعد ہم الیکزینڈریا کے ایک جہاز سے روانہ ہویٔے جو سردِیاں گُزارنے کے لیٔے اُس جَزِیرہ میں رُکا ہُوا تھا۔ اُس پر یُونانیوں کے جُڑواں معبُودوں کی صورت بنی ہویٔی تھی۔
ACT 28:12 پہلے ہم سرَکُوسؔہ پہُنچے اَور تین دِن وہاں رہے
ACT 28:13 وہاں سے ہم چکّر کاٹتے ہویٔے ریگِیُمؔ میں گیٔے۔ اگلے دِن جُنوبی ہَوا چلنے لگی اَور ہم ایک دِن بعد پُتِیُلیِؔ جا پہُنچے۔
ACT 28:14 وہاں ہمیں کچھ بھایٔی اَور بہن ملے اُنہُوں نے ہمیں اَپنے یہاں ٹھہرنے کی دعوت دی ہم سات دِن اُن کے پاس رہے۔ اَور اِس طرح ہم رُوم آئے۔
ACT 28:15 وہاں کے بھائیو اَور بہنوں کو خبر پہُنچ چُکی تھی کہ ہم آ رہے ہیں۔ وہ ہمارے اِستِقبال کے لیٔے اَپّیُسؔ کے چَوک اَور تین سرائے تک آئے۔ پَولُسؔ نے اُنہیں دیکھ کر خُدا کا شُکرادا کیا اَور بڑی تسلّی پائی۔
ACT 28:16 جَب ہم رُوم شہر پہُنچے، تو پَولُسؔ کو تنہا رہنے کی اِجازت مِل گئی کہ وہ ایک پہرےدار کی نِگرانی میں جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں۔
ACT 28:17 جَب تین دِن گزر گئے تو پَولُسؔ نے یہُودی رہنماؤں کے کو بُلوایا۔ جَب وہ جمع ہویٔے، تو پَولُسؔ نے اُن سے کہا: ”میرے بھائیو، مَیں نے اَپنی اُمّت کے اَور باپ دادا کی رسموں کے خِلاف کویٔی کام نہیں کیا تو بھی، مُجھے یروشلیمؔ میں گِرفتار کرکے رُومیوں کے حوالہ کر دیا گیا۔
ACT 28:18 اُنہُوں نے تحقیقات کے بعد مُجھے چھوڑ دینا چاہا، کیونکہ مَیں نے کویٔی اَیسا کام نہیں کیا تھا کہ مُجھے سزائے موت دی جاتی۔
ACT 28:19 مگر جَب یہُودیوں نے مُخالفت کی تو مَیں نے قَیصؔر کے ہاں اپیل کر دی۔ میں یقینی طور پر اَپنے ہی لوگوں کے خِلاف کویٔی اِلزام عائد کرنے کا اِرادہ نہیں رکھتا تھا۔
ACT 28:20 چنانچہ مَیں نے تُمہیں اِس لیٔے بُلایا ہے کہ تُم سے ملوں اَور بات کروں۔ کیونکہ مَیں اِسرائیلؔ کی اُمّید کے سبب سے زنجیر سے جکڑا ہُوا ہُوں۔“
ACT 28:21 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہمیں یہُودیؔہ سے آپ کے بارے میں نہ تو خُطوط ملے نہ وہاں سے آنے والے بھائیوں نے ہمیں آپ کی کویٔی خبر دی نہ آپ کے خِلاف کچھ کہا۔
ACT 28:22 لیکن ہم آپ کے خیالات جاننا چاہتے ہیں۔ یہ تو ہمیں مَعلُوم ہے کہ لوگ ہر جگہ اِس فرقہ کے خِلاف باتیں کرتے ہیں۔“
ACT 28:23 تَب اُنہُوں نے پَولُسؔ کی باتیں سُننے کے لیٔے ایک دِن مُقرّر کیا۔ جَب وہ دِن آیا تو وہ پہلے سے بھی زِیادہ تعداد میں اُن کی رہائش پر حاضِر ہویٔے۔ پَولُسؔ نے اُنہیں خُدا کی بادشاہی کے بارے میں سمجھایا اَور ساتھ ہی یِسوعؔ المسیح کے بارے میں حضرت مَوشہ کی شَریعت اَور نبیوں کی کِتابوں سے اُنہیں قائل کرنے کی کوشش کی۔ گُفتگو کا یہ سلسلہ صُبح سے شام تک جاری رہا۔
ACT 28:24 بعض پَولُسؔ کی باتیں سُن کر قائل ہو گئے لیکن بعض یقین نہ لایٔے۔
ACT 28:25 جَب وہ آپَس میں مُتّفِق نہ ہویٔے تو پَولُسؔ نے اُن کے رخصت ہونے سے پہلے یہ بَیان دیا: ”پاک رُوح نے یَشعیاہ نبی کی مَعرفت تمہارے بارے میں ٹھیک ہی کہاتھا:
ACT 28:26 ” ’اِس قوم کے پاس جاؤ اَور کہو، ”تُم سُنتے تو رہوگے لیکن سمجھوگے نہیں؛ دیکھتے رہوگے لیکن کبھی پہچان نہ پاؤگے۔“
ACT 28:27 کیونکہ اِس قوم کے دِل شکستہ ہو گئے ہیں؛ وہ اُونچا سُننے لگے ہیں، اَور اُنہُوں نے اَپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ اُن کی آنکھیں دیکھ لیں۔ اُن کے کان سُن لیں، اُن کے دِل سمجھ لیں۔ اَور وہ میری طرف پھریں اَور مَیں اُنہیں شفا بخشوں۔‘
ACT 28:28 ”اِس لیٔے میں چاہتا ہُوں کہ تُم جان لو کہ خُدا کی نَجات کا پیغام غَیریہُودیوں کے پاس بھی بھیجا گیا ہے اَور وہ اُسے سُنیں گے!“
ACT 28:29 جَب پَولُسؔ نے یہ کہا تو یہُودی آپَس میں کافی بحث کرتے ہویٔے وہاں سے چلے گیٔے۔
ACT 28:30 پَولُسؔ پُورے دو بَرس تک اَپنے کرایہ کے مکان میں رہے اَورجو اُن سے مُلاقات کرنے آتے تھے اُن سَب سے مِلا کرتے تھے۔
ACT 28:31 وہ بڑی دِلیری سے خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری تبلیغ اَور یِسوعؔ المسیح کے بارے میں تعلیم دیتے رہے اَور کسی نے پَولُسؔ کو روکنے کی کوشش نہیں کی!
ROM 1:1 پَولُسؔ کی طرف سے لِکھّا ہُوا خط، جو خُداوؔند المسیح یِسوعؔ کے خادِم، اَور رسول ہونے کے لیٔے بُلائے گیٔے اَور خُدا کی خُوشخبری سُنانے کے لیٔے مخصُوص کیٔے گیٔے،
ROM 1:2 جِس کا وعدہ خُدا نے بہت پہلے سے اَپنے نبیوں کی مَعرفت کِتاب مُقدّس میں کیا تھا
ROM 1:3 جو اَپنے بیٹے المسیح کی نِسبت سے تھا، جو جِسمانی اِعتبار سے تو داویؔد کی نَسل سے تھے،
ROM 1:4 لیکن پاکیزگی کی رُوح کے اِعتبار سے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث بڑی قُدرت کے ساتھ خُدا کا بیٹا ٹھہرے: یعنی ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح۔
ROM 1:5 آپ کی مَعرفت ہمیں فضل اَور رِسالت مِلی تاکہ ہم سَب غَیریہُودیوں کو آپ کے نام کی خاطِر ایمان سے آنے والی اِطاعت کے طابع ہوں۔
ROM 1:6 اَور تُم بھی اُن غَیریہُودیوں میں شامل ہو اَور خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے ہونے کے لیٔے بُلائے گیٔے ہو۔
ROM 1:7 اُن سَب خُدا کے پیاروں کے نام جو رُوم شہر میں ہیں اَور مُقدّس لوگ ہونے کے لیٔے بُلائے گیٔے ہیں:
ROM 1:8 پہلے، تو میں تُم سَب کے لیٔے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے اَپنے خُدا کا شُکر اَدا کرتا ہُوں کہ تمہارے ایمان کا چَرچا ساری دُنیا میں ہو رہاہے۔
ROM 1:9 خُدا، جِس کے بیٹے کی خُوشخبری کی تبلیغ کی خدمت میں دِل و جان سے اَنجام دے رہا ہُوں، میری یہ گواہی ہے کہ آپ کو ہر وقت اَپنی دعاؤں میں کتنی کثرت سے یاد کرتا ہُوں
ROM 1:10 اَور یہی دعا کرتا ہُوں؛ خُدا کی مرضی سے تمہارے پاس آنے کا میرے لیٔے راستہ کھُل جائے۔
ROM 1:11 کیونکہ مَیں تُم سے مِلنے کا مُشتاق ہُوں تاکہ تُمہیں کویٔی اَیسی رُوحانی نِعمت دے سکوں جو تمہارے ایمان کی مضبُوطی کا باعث ہو۔
ROM 1:12 میرا مطلب یہ ہے کہ میرے ایمان سے تمہاری اَور تمہارے ایمان سے میری حوصلہ اَفزائی ہو۔
ROM 1:13 اَے بھائیو اَور بہنوں! میں نہیں چاہتا کہ تُم اِس بات سے ناواقِف رہو کہ مَیں نے بارہا تمہارے پاس آنے کا اِرادہ کیا تاکہ جَیسے غَیریہُودیوں میں میری خدمت پھل لائی، تُم میں بھی لایٔے۔ مگر کویٔی نہ کویٔی رُکاوٹ پیدا ہوتی رہی۔
ROM 1:14 میں یُونانیوں اَور غَیر یُونانیوں اَور دانشمندوں اَور نادانوں دونوں ہی کا قرضدار ہُوں۔
ROM 1:15 اِس لیٔے مَیں تمہارے درمیان بھی جو رُوم میں ہو خُوشخبری سُنانے کا بےحد مُشتاق ہُوں۔
ROM 1:16 میں انجیل سے نہیں شرماتا کیونکہ وہ ہر ایمان لانے والے کی نَجات کے لیٔے خُدا کی قُدرت ہے۔ پہلے یہُودی کے لیٔے، پھر غَیریہُودی کے لیٔے۔
ROM 1:17 کیونکہ انجیل میں خُدا کی طرف سے اُس راستبازی کو ظاہر کیا گیا ہے جو شروع سے آخِر تک ایمان ہی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”راستباز ایمان سے زندہ رہے گا۔“
ROM 1:18 آسمان سے اُن لوگوں کی ساری بے دینی اَور ناراستی پر خُدا کا غضب نازل ہوتاہے جو سچّائی کو اَپنی ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں۔
ROM 1:19 چونکہ خُدا کے متعلّق جو کچھ بھی مَعلُوم ہو سَکتا ہے وہ اُن پر ظاہر ہے۔ اِس لیٔے کہ خُدا نے خُود اُسے اُن پر ظاہر کر دیا ہے۔
ROM 1:20 کیونکہ خُدا کی اَزلی قُدرت اَور اُلُوہیّت جو اُس کی اَندیکھی صِفات ہیں دُنیا کی پیدائش کے وقت سے اُس کی بنائی ہویٔی چیزوں سے اَچھّی طرح ظاہر ہیں۔ لہٰذا اِنسان کے پاس کویٔی عُذر نہیں۔
ROM 1:21 اگرچہ اُنہُوں نے خُدا کے بارے میں جان لیا تھا لیکن اُنہُوں نے اُس کی تمجید اَور شُکر گُزاری نہ کی جِس کے وہ لائق تھا۔ بَلکہ اُن کے خیالات فُضول ثابت ہویٔے اَور اُن کے ناسمجھ دِلوں پر اَندھیرا چھا گیا۔
ROM 1:22 وہ عقلمند ہونے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن احمق نکلے۔
ROM 1:23 اَور غَیر فانی خُدا کے جلال کو فانی اِنسان اَور پرندوں، چَوپایوں اَور رینگنے والے جانور کی صورت میں بدل ڈالا۔
ROM 1:24 اِسی لیٔے خُدا نے بھی اُنہیں اُن کے دِلوں کی گُناہ آلُودہ خواہشوں کے مُطابق شہوت پرستی کے حوالہ کر دیا تاکہ وہ اَپنے بَدنوں سے ایک دُوسرے کے ساتھ گندے اَور ناپاک کام کریں۔
ROM 1:25 اُنہُوں نے خُدا کی سچّائی کو جھُوٹ سے بدل ڈالا، اَور خالق کی بہ نِسبت مخلُوقات کی پرستش میں زِیادہ مشغُول ہو گئے حالانکہ خالق ہی اَبد تک حَمد و سِتائش کے لائق ہے۔ آمین۔
ROM 1:26 اِسی سبب سے خُدا نے اُنہیں اُن کے دِلوں کی شرمناک خواہشات میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ اُن کی عورتوں نے اَپنے طبعی جنسی فعل کو غَیر طبعی فعل سے بدل ڈالا۔
ROM 1:27 اِسی طرح مَردوں نے بھی عورتوں کے ساتھ اَپنے طبعی جنسی فعل کو چھوڑ دیا اَور آپَس کی شہوت کے غُلام ہوکر ایک دُوسرے سے جنسی تعلّقات پیدا کرلئے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ اُنہُوں نے اَپنی گمراہی کی مُناسب سزا پائی۔
ROM 1:28 چونکہ اُنہُوں نے خُدا کی پہچان پر قائِم رہنا مُناسب نہ سمجھا اِس لیٔے اُس نے اُنہیں ناپسندیدہ خَیالوں اَور نامُناسب حرکات کا شِکار ہونے دیا۔
ROM 1:29 وہ ہر طرح کی بدکاری، بُرائی، حِرص اَور بدچلنی سے بھر گیٔے۔ اَور حَسد، خُونریزی، جھگڑے، عیّاری اَور بُغض سے معموُر ہو گئے،
ROM 1:30 بدگو، خُدا سے نفرت کرنے والے، گُستاخ، مغروُر اَور شیخی باز، بدی کے بانی اَور اَپنے والدین کے نافرمان،
ROM 1:31 بے قُوف، بےوفا، سنگدل اَور بےرحم ہو گئے۔
ROM 1:32 حالانکہ اُنہیں مَعلُوم ہے کہ اَیسے کام کرنے والے خُدا کے قوانین کے مُطابق موت کی سزا کے مُستحق ہیں پھر بھی نہ صِرف وہ خُود یہی کام کرتے ہیں بَلکہ اَیسا کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔
ROM 2:1 چنانچہ، اَے اِلزام لگانے والو، تمہارے پاس کویٔی عُذر نہیں، کیونکہ تُم جِس بات کا اِلزام دُوسرے پر لگاتے ہو، اَور خُود پر سزا کا حُکم نافز کر رہو ہے، تُم اَپنے آپ کو مُجرم ٹھہراتے ہو۔
ROM 2:2 ہم جانتے ہیں کہ خُدا اَیسے کام کرنے والوں کی سچّائی سے عدالت کرتا ہے۔
ROM 2:3 لہٰذا تُم، جو محض اِنسان، ہوتے ہویٔے اَیسے کام کرنے والوں پر اِلزام لگاتے ہو اَور خُود وُہی کام کرتے ہو، کیا تُم سمجھتے ہو کہ تُم خُدا کی عدالت سے بچ جاؤگے؟
ROM 2:4 کیا تُم خُدا کی مہربانی، تحمُّل اَور صبر کی دولت کی توہین کرتے ہو، یہ نہیں جانتے کہ خُدا کی مہربانی تُمہیں تَوبہ کی طرف مائل کرتی ہے؟
ROM 2:5 لیکن تمہارا دِل اِتنا سخت ہو گیا کہ تُم تَوبہ نہیں کرتے، لہٰذا تُم اَپنے حق میں اُس روز قہر کے لیٔے غضب کما رہے ہو، جَب خُدا کا سچّا اِنصاف ظاہر ہوگا۔
ROM 2:6 خُدا ”ہر شخص کو اُس کے اعمال کے مُطابق بدلہ دے گا۔“
ROM 2:7 جو نیک کاموں کی تلاش میں ہیں جلال، عزّت اَور بَقا چاہتے ہیں، اُنہیں وہ اَبدی زندگی عطا فرمائے گا۔
ROM 2:8 لیکن جو خُود غرض ہیں اَور سچّائی کو ترک کرکے بدی کی پیروی کرتے ہیں، اُن پر خُدا کا قہر اَور غضب نازل ہوگا۔
ROM 2:9 ہر اِنسان پرجو بدی کرتا ہے مُصیبت اَور تنگی آئے گی: پہلے یہُودی پر، پھر غَیریہُودی پر۔
ROM 2:10 لیکن ہر اُس شخص کو جو نیکی کرتا ہے اُن سَب کے لیٔے جلال، عزّت اَور اِطمینان ملے گا۔ پہلے یہُودی کو، پھر غَیریہُودی کو۔
ROM 2:11 کیونکہ خُدا کسی کی طرفداری نہیں کرتا۔
ROM 2:12 جو لوگ شَریعت پایٔے بغیر گُناہ کرتے ہیں وہ سَب شَریعت کے بغیر ہلاک بھی ہوں گے اَورجو شَریعت کے ماتحت رہ کر گُناہ کرتے ہیں اُن کی عدالت شَریعت کے مُطابق ہوگی۔
ROM 2:13 کیونکہ شَریعت کے محض سُننے والے خُدا کی نظر میں راستباز نہیں ہوتے بَلکہ شَریعت پر عَمل کرنے والے ہی راستباز قرار دئیے جایٔیں گے۔
ROM 2:14 البتّہ جَب وہ غَیریہُودی جو شَریعت نہیں رکھتے اَور طبعی طور پر شَریعت کے مُطابق کام کرتے ہیں تو شَریعت نہ رکھتے ہویٔے بھی وہ خُود اَپنے لیٔے ایک شَریعت ہیں۔
ROM 2:15 اِس طرح وہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ آئین کے تقاضے اُن کے دِلوں پر نقش ہیں اَور اُن کا ضمیر بھی اِس بات کی گواہی دیتاہے اَور اُن کے خیالات بھی کبھی اُن پر اِلزام لگاتے ہیں، کبھی اُنہیں بَری ٹھہراتے ہیں۔
ROM 2:16 جَیسا کہ اُس خُوشخبری کے مُطابق جِس کا میں اعلان کرتا ہُوں۔ یہ اُس روز ہوگا جَب خُدا یِسوعؔ المسیح، کی مَعرفت آدمیوں کی پوشیدہ باتوں کی عدالت کرےگا۔
ROM 2:17 اگر تُم یہُودی کَہلاتے ہو؛ اَور شَریعت پر ایمان اَور خُدا کے ساتھ اَپنے رشتہ پر فخر کرتے ہو؛
ROM 2:18 اگر تُم اُس کی مرضی جانتے ہو اَور شَریعت کی تعلیم پا کر عُمدہ باتیں پسند کرتے ہو؛
ROM 2:19 اگر تُمہیں اِس بات پر بھی یقین ہے کہ تُم اَندھوں کے رہنما اَور تاریکی میں پڑے ہویٔے لوگوں کے لیٔے رَوشنی ہو،
ROM 2:20 نادانوں کی تربّیت کرنے والے اَور بچّوں کے اُستاد ہو اَور علم اَور حق کا اَنجام شَریعت میں ہے اَور وہ تمہارے پاس ہے
ROM 2:21 تُم جَب اَوروں کو سِکھاتے ہو تُم اَپنے آپ کو کیوں نہیں سِکھاتے؟ تُم جو تبلیغ کرتے ہو کہ چوری نہ کرنا، تُم خُود کیوں چوری کرتے ہو؟
ROM 2:22 تُم جو کہتے ہو کہ زنا مت کرنا، خُود کیوں زنا کرتے ہو؟ تُم جو بُتوں سے نفرت رکھتے ہو، خُود کیوں بُت خانوں کو لُوٹتے ہو؟
ROM 2:23 تُم جو شَریعت پر فخر کرتے ہو، خُود کیوں شَریعت کی نافرمانی کرکے خُدا کی بے عزّتی کرتے ہو؟
ROM 2:24 جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”تمہارے سبب غَیریہُودیوں میں خُدا کے نام پر کُفر بکا جاتا ہے۔“
ROM 2:25 ختنہ سے فائدہ ہے بشرطیکہ تُم شَریعت پر عَمل کرو۔ لیکن اگر تُم نے شَریعت کی نافرمانی کی تو تمہارا ختنہ نامختونی کے برابر ٹھہرا۔
ROM 2:26 اگر نامختون لوگ آئین کے تقاضوں پر عَمل کریں تو کیا اُن کی نامختونی ختنہ کے برابر نہ گنی جائے گی؟
ROM 2:27 وہ شخص جو نامختون ہے مگر شَریعت پر عَمل کرتا ہے تو وہ تُمہیں شَریعت کی نافرمانی کرنے کے لیٔے قُصُوروار نہ ٹھہرائے گا، جَب کہ تمہارے پاس جو شَریعت مَوجُود ہے، اَور تمہارا ختنہ بھی ہو چُکاہے۔
ROM 2:28 جو محض ظاہری ہو وہ یہُودی نہیں ہوتا اَور نہ ہی وہ ختنہ ہوتاہے جو محض ظاہری اَور جِسمانی ہے۔
ROM 2:29 بَلکہ یہُودی وُہی ہے جو باطِن میں یہُودی ہے اَور ختنہ وُہی ہے جو دِل کا اَور رُوحانی ہے نہ کہ شَریعت کے وسیلہ سے کیا جاتا ہے۔ اَیسے اِنسان کی تعریف آدمیوں کی طرف سے نہیں بَلکہ خُدا کی طرف سے ہوتی ہے۔
ROM 3:1 کیا یہُودی کا درجہ اُونچا ہے اَور ختنہ کا کویٔی فائدہ ہے؟
ROM 3:2 بہت ہے اَور ہر لِحاظ سے ہے۔ خصوصاً یہ کہ خُدا کا کلام اُن کے سُپرد کیا گیا۔
ROM 3:3 بعض بےوفا نکلے تو کیا ہُوا؟ کیا اُن کی بےوفائی خُدا کی وفاداری کو باطِل کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں،
ROM 3:4 خواہ ہر آدمی جھُوٹا نکلے، خُدا سچّا ہی ٹھہرے گا جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”تُم اَپنی باتوں میں راستباز ٹھہرو اَور اَپنے اِنصاف میں حق بجانب ثابت ہو۔“
ROM 3:5 میں بطور اِنسان یہ بات کہتا ہُوں کہ اگر ہماری ناراستی خُدا کی راستبازی کی صِفت کو زِیادہ صفائی سے ظاہر کرتی ہے تو کیا ہم یہ کہیں کہ خُدا بےاِنصاف ہے جو ہم پر غضب نازل کرتا ہے؟ میں اِنسانی دلیل اِستعمال کر رہا ہُوں۔
ROM 3:6 ہرگز نہیں۔ اِس صورت میں خُدا دُنیا کا اِنصاف کیسے کرےگا؟
ROM 3:7 شاید کویٔی یہ کہے، ”اگر میرے جھُوٹ کے سبب سے خُدا کی سچّائی زِیادہ صفائی سے نظر آتی ہے اَور خُدا کا جلال ظاہر ہوتاہے تو پھر میں کیوں گُنہگار شُمار کیا جاتا ہُوں؟“
ROM 3:8 کیوں نہ یہ کہیں۔ ”آؤ ہم بدی کریں تاکہ بھلائی پیدا ہو؟“ اِنصاف کا تَقاضا تُو یہ ہے!
ROM 3:9 پھر نتیجہ کیا نِکلا؟ کیا ہم یہُودی دُوسروں سے بہتر ہیں؟ ہرگز نہیں! ہم تو پہلے ہی ثابت کر چُکے ہیں کہ یہُودی اَور غَیر یُونانی سَب کے سَب گُناہ کے قبضہ میں ہیں۔
ROM 3:10 جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”کویٔی بھی اِنسان راستباز نہیں، ایک بھی نہیں؛
ROM 3:11 کویٔی بھی سمجھدار نہیں، کویٔی بھی خُدا کا مِتلاشی نہیں۔
ROM 3:12 سَب کے سَب خُدا سے گُمراہ ہو گئے، وہ کسی کام کے نہیں رہے؛ اُن میں کویٔی بھی اِنسان نہیں جو نیکی کرتا ہو، ایک بھی نہیں۔“
ROM 3:13 ”اُن کے حلق کھُلی ہویٔی قبروں کی مانِند ہیں؛ اُن کی زبانوں سے دغابازی کی باتیں نکلتی ہیں۔“ ”اُن کے لبوں پر افعی کا زہر ہوتاہے۔“
ROM 3:14 ”اُن کے مُنہ لعنت اَور کڑواہٹ سے بھرے ہویٔے ہیں۔“
ROM 3:15 ”اُن کے قدم خُون بہانے کے لیٔے تیز رفتار ہو جاتے ہیں؛
ROM 3:16 اُن کی راہوں میں تباہی اَور بدحالی ہے،
ROM 3:17 اَور وہ سلامتی کی راہ سے وہ سدا سے ہی اَنجان ہیں۔“
ROM 3:18 ”نہ ہی اُن کی آنکھوں میں خُدا کا خوف ہے۔“
ROM 3:19 اَب ہم جانتے ہیں کہ شَریعت جو کچھ کہتی ہے اُن سے کہتی ہے جو شَریعت کے ماتحت ہیں تاکہ ہر مُنہ بندہو جائے اَور ساری دُنیا خُدا کے سامنے سزا کی مُستحق ٹھہرے۔
ROM 3:20 کیونکہ شَریعت کے اعمال سے کویٔی شخص خُدا کی حُضُوری میں راستباز نہیں ٹھہرے گا؛ اِس لیٔے کہ شَریعت کے ذریعہ سے ہی آدمی گُناہ کو پہچانتا ہے۔
ROM 3:21 مگر اَب خُدا نے ایک اَیسی راستبازی ظاہر کی ہے جِس کا تعلّق شَریعت سے نہیں ہے حالانکہ شَریعت اَور نبیوں کی کِتابیں اِس کی گواہی ضروُر دیتی ہیں۔
ROM 3:22 یہ خُدا کی وہ راستبازی ہے جو صِرف یِسوعؔ المسیح پر ایمان لانے سے اُن تمام اِنسانوں کو حاصل ہوتی ہے۔ المسیح پر ایمان لانے سے یہُودی اَور غَیریہُودی کے مابین کویٔی تفرِیق نہیں،
ROM 3:23 کیونکہ سَب نے گُناہ کیا ہے اَور خُدا کے جلال سے محروم ہیں،
ROM 3:24 مگر اُن کے فضل کے سبب اُس مخلصی کے وسیلہ سے جو حُضُور المسیح یِسوعؔ میں ہے، مُفت راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں۔
ROM 3:25 خُدا نے یِسوعؔ کو مُقرّر کیا کہ وہ اَپنا خُون بہائیں اَور اِنسان کے گُناہ کا کفّارہ بَن جایٔیں اَور اُن پر ایمان لانے والے فائدہ اُٹھائیں۔ یہ کفّارہ خُدا کی راستبازی کو ظاہر کرتا ہے اِس لیٔے کہ خُدا نے بڑے صبر اَور تحمُّل کے ساتھ اُن گُناہوں کو جو پیشتر ہو چُکے تھے، دَر گزر کیا۔
ROM 3:26 خُدا اِس زمانہ میں بھی اَپنی راستبازی ظاہر کرتا ہے کیونکہ وہ عادل بھی ہے اَور ہر شخص کو جو یِسوعؔ پر ایمان لاتا ہے راستباز ٹھہراتا ہے۔
ROM 3:27 پس فخر کہاں رہا؟ اِس کی گنجائش ہی نہ رہی۔ کِس کے وسیلہ سے؟ کیا شَریعت پر عَمل کرنے کے وسیلہ سے؟ نہیں، بَلکہ ایمان کے وسیلہ سے۔
ROM 3:28 چنانچہ ہم اِس نتیجہ پر پہُنچتے ہیں کہ اِنسان شَریعت پر عَمل کرنے سے نہیں بَلکہ ایمان لانے کے باعث خُدا کے حُضُور میں راستباز ٹھہرتا ہے۔
ROM 3:29 کیا خُدا صِرف یہُودیوں کا ہے؟ کیا وہ غَیریہُودیوں کا خُدا نہیں؟ بے شک، وہ غَیریہُودیوں کا بھی ہے۔
ROM 3:30 سچ تُو یہ ہے کہ خُدا ہی وہ واحد خُدا ہے جو مختونوں کو اُن کے ایمان لانے کی بِنا پر اَور نامختونوں کو بھی اُن کے ایمان ہی کے وسیلہ سے راستباز ٹھہرائے گا۔
ROM 3:31 کیا ہم اِس ایمان کے ذریعہ سے شَریعت کو منسُوخ کر دیتے ہیں؟ ہرگز نہیں! بَلکہ، اِس سے شَریعت کو قائِم رکھتے ہیں۔
ROM 4:1 ہم حضرت اَبراہامؔ کے بارے میں جو ہمارے جِسمانی باپ ہیں کیا کہیں؟ آخِر حضرت اَبراہامؔ کو کیا حاصل ہُوا؟
ROM 4:2 اگر حضرت اَبراہامؔ اَپنے اعمال کی بِنا پر راستباز ٹھہرائے جاتے تو اُنہیں فخر کرنے کا حق ہوتا لیکن خُدا کے حُضُور میں نہیں۔
ROM 4:3 کیونکہ کِتاب مُقدّس کیا کہتی ہے؟ ”حضرت اَبراہامؔ خُدا پر ایمان لایٔے اَور یہ اُن کے واسطے راستبازی شُمار کیا گیا۔“
ROM 4:4 جَب کویٔی شخص کام کرکے اَپنی اُجرت حاصل کرتا ہے تو اُس کی اُجرت بخشش نہیں بَلکہ اُس کا حق سَمجھی جاتی ہے۔
ROM 4:5 مگر جو شخص اَپنے کام پر نہیں بَلکہ بےدینوں کو راستباز ٹھہرانے والے خُدا پر ایمان رکھتا ہے، اُس کا ایمان اُس کے لیٔے راستبازی شُمار کیا جاتا ہے۔
ROM 4:6 پس جِس شخص کو خُدا اُس کے کاموں کا لِحاظ کیٔے بغیر راستباز ٹھہراتا ہے، داویؔد بھی اُس کی مُبارک حالی کا ذِکر اِس طرح کرتے ہیں،
ROM 4:7 ”مُبارک ہیں وہ لوگ جِن کی خطائیں بخشی گئیں، اَور جِن کے گُناہوں کو ڈھانکا گیا۔
ROM 4:8 مُبارک ہے وہ آدمی جِن کے گُناہ خُداوؔند کبھی حِساب میں نہیں لائے گا۔“
ROM 4:9 کیا یہ مُبارکبادی صِرف اُن کے لیٔے ہے جِن کا ختنہ ہو چُکاہے یا اُن کے لیٔے بھی ہے جِن کا ختنہ نہیں ہُوا؟ کیونکہ ہم کہتے آئے ہیں کہ حضرت اَبراہامؔ کا ایمان اُن کے واسطے راستبازی شُمار کیا گیا۔
ROM 4:10 سوال یہ ہے کہ وہ کِس حالت میں راستباز گِنا گیا۔ ختنہ کرانے سے پہلے یا ختنہ کرانے کے بعد؟ یہ اُس کے ختنہ کرانے سے پہلے کی بات تھی نہ کہ بعد کی۔
ROM 4:11 جَب حضرت اَبراہامؔ کا ختنہ نہیں ہُوا تھا، خُدا نے اُس کے ایمان کے سبب سے اُسے راستباز ٹھہرایا تھا۔ بعد میں اُس نے ختنہ کا نِشان پایا جو اُس کی راستبازی پر گویا خُدا کی مُہر تھی۔ یُوں حضرت اَبراہامؔ سَب کا باپ ٹھہرے جِن کا ختنہ تو نہیں ہُوا مگر وہ ایمان لانے کے باعث راستباز گنے جاتے ہیں۔
ROM 4:12 اَور وہ اُن کا بھی باپ ٹھہرتا ہے جِن کا ختنہ ہو چُکاہے اَور یہی نہیں بَلکہ وہ ہمارے باپ حضرت اَبراہامؔ کے اُس ایمان کی پیروی کرتے ہیں جو اُسے اُس کے ختنہ سے پہلے ہی حاصل تھا۔
ROM 4:13 یہ وعدہ جو حضرت اَبراہامؔ اَور اُن کی نَسل سے کیا گیا تھا کہ وہ دُنیا کے وارِث ہوں گے، شَریعت پر عَمل کرنے کی بِنا پر نہیں بَلکہ اُن کے ایمان کی راستبازی کے وسیلے سے کیا گیا تھا۔
ROM 4:14 کیونکہ اگر اہلِ شَریعت ہی دُنیا کے وارِث ٹھہرائے جاتے تو ایمان کا کویٔی مطلب ہی نہ ہوتا اَور خُدا کا وعدہ بھی فُضول ٹھہرتا۔
ROM 4:15 بات یہ ہے کہ جہاں شَریعت ہے وہاں غضب بھی ہے اَور جہاں شَریعت نہیں وہاں شَریعت کا عُدول بھی نہیں۔
ROM 4:16 چنانچہ یہ وعدہ ایمان کی بِنا پر دیا جاتا ہے تاکہ بطور فضل سمجھا جائے اَور حضرت اَبراہامؔ کی کل نَسل کے لیٔے ہو، صِرف اُن ہی کے لیٔے نہیں جو اہلِ شَریعت ہیں بَلکہ اُن کے لیٔے بھی جو ایمان لانے کے لِحاظ سے اُس کی نَسل ہیں کیونکہ حضرت اَبراہامؔ ہم سَب کے باپ ہیں۔
ROM 4:17 جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”مَیں نے تُمہیں بہت سِی قوموں کا باپ مُقرّر کیا ہے۔“ وہ اُس خُدا کی نگاہ میں ہمارا باپ ہے جِس پر وہ ایمان لایا۔ وہ خُدا جو مُردوں کو زندہ کرتا ہے اَور غَیر مَوجُود اَشیا کو یُوں بُلا لیتا ہے گویا وہ مَوجُود ہیں۔
ROM 4:18 حضرت اَبراہامؔ نااُمّیدی کی حالت میں بھی اُمّید کے ساتھ ایمان لایٔے اَور بہت سِی قوموں کا باپ مُقرّر کیٔے گیٔے جَیسا کہ اُن سے کہا گیا تھا، ”تمہاری نَسل اَیسی ہی ہوگی۔“
ROM 4:19 وہ تقریباً سَو بَرس کے تھے اَور اَپنے بَدن کے مُردہ ہو جانے کے باوُجُود اَور یہ جانتے ہویٔے بھی کہ سارہؔ کا رحم بھی مُردہ ہو چُکاہے، حضرت اَبراہامؔ کا ایمان کمزور نہ ہُوا۔
ROM 4:20 نہ ہی بےاِعتقاد ہوکر حضرت اَبراہامؔ نے خُدا کے وعدہ پر شک کیا بَلکہ ایمان میں مضبُوط ہوکر خُدا کی تمجید کی۔
ROM 4:21 حضرت اَبراہامؔ کامِل یقین تھا کہ جِس خُدا نے وعدہ کیا ہے وہ اُسے پُورا کرنے کی بھی قُدرت رکھتا ہے۔
ROM 4:22 ”اِسی واسطے حضرت اَبراہامؔ کا ایمان اُن کے واسطے راستبازی شُمار کیا گیا۔“
ROM 4:23 اَور یہ الفاظ ”اُن کے واسطے راستبازی شُمار کیٔے گیٔے“ یہ صِرف حضرت اَبراہامؔ کے لیٔے نہیں لکھے گیٔے،
ROM 4:24 بَلکہ ہمارے لیٔے بھی جِن کے لیٔے ایمان راستبازی گِنا جائے گا۔ اِس لیٔے کہ ہم بھی خُدا پر ایمان لایٔے ہیں جِس نے ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ کو مُردوں میں سے زندہ کیا۔
ROM 4:25 یِسوعؔ ہمارے گُناہوں کے لیٔے موت کے حوالہ کیٔے گیٔے اَور پھر زندہ کیٔے گیٔے تاکہ ہم راستباز ٹھہرائے جایٔیں۔
ROM 5:1 چونکہ، ہم ایمان کی بِنا پر راستباز ٹھہرائے گیٔے ہیں، اِس لیٔے ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے ہماری خُدا کے ساتھ صُلح ہو چُکی ہے۔
ROM 5:2 ایمان لانے سے ہم نے المسیح کے وسیلہ سے اُس فضل کو پالیاہے اَور اُس پر قائِم بھی ہیں اَور اِس اُمّید پر ناز کرتے ہیں کہ ہم بھی خُدا کے جلال میں شریک ہوں گے۔
ROM 5:3 اَور صِرف یہی نہیں بَلکہ ہم اَپنی مُصیبتوں میں بھی خُوش ہوتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مُصیبت سے ثابت قدمی پیدا ہوتی ہے۔
ROM 5:4 اَور ثابت قدمی سے مُستقِل مِزاجی اَور مُستقِل مِزاجی سے اُمّید پیدا ہوتی ہے۔
ROM 5:5 اَیسی اُمّید ہمیں مایوس نہیں کرتی کیونکہ جو پاک رُوح ہمیں بخشی گئی ہے اُس کے وسیلہ سے خُدا کی مَحَبّت ہمارے دِلوں میں ڈالی گئی ہے۔
ROM 5:6 کیونکہ جَب ہم نا طاقتی سے بےبس ہی تھے تو المسیح نے عَین وقت پر بےدینوں کے لیٔے اَپنی جان دی۔
ROM 5:7 کسی راستباز کی خاطِر بھی مُشکل سے کویٔی اَپنی جان دے گا مگر شاید کسی میں جُرأت ہو کہ وہ کسی نیک شخص کے لیٔے اَپنی جان قُربان کر دے۔
ROM 5:8 لیکن خُدا ہمارے لیٔے اَپنی مَحَبّت یُوں ظاہر کرتا ہے کہ جَب ہم گُنہگار ہی تھے تو المسیح نے ہماری خاطِر اَپنی جان قُربان کر دی۔
ROM 5:9 پس جَب ہم المسیح خُون بہائے جانے کے باعث راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں تو ہم اُن ہی کے وسیلہ سے غضب الٰہی سے بھی ضروُر بچیں گے۔
ROM 5:10 کیونکہ جَب خُدا کے دُشمن ہونے کے باوُجُود اُس کے بیٹے یِسوعؔ کی موت کے وسیلہ سے ہماری اُس خُدا سے صُلح ہو گئی تو صُلح ہونے کے بعد تو ہم اُس المسیح کی زندگی کے سبب سے ضروُر ہی بچیں گے۔
ROM 5:11 اَور نہ صِرف یہ بَلکہ ہم اَپنے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے ذریعہ خُدا کی رِفاقت پر فخر کرتے ہیں کیونکہ المسیح کے باعث خُدا کے ساتھ ہمارا صُلح ہو گیا ہے۔
ROM 5:12 پس جَیسے ایک آدمی کے ذریعہ گُناہ دُنیا میں داخل ہُوا اَور گُناہ کے سبب سے موت آئی وَیسے ہی موت سَب اِنسانوں میں پھیل گئی کیونکہ سَب نے گُناہ کیا۔
ROM 5:13 شَریعت کے دئیے جانے سے پہلے دُنیا میں گُناہ تو تھا لیکن جہاں شَریعت نہیں ہوتی وہاں گُناہ کا حِساب بھی نہیں ہوتا۔
ROM 5:14 پھر بھی آدمؔ سے مَوشہ تک موت نے اُنہیں بھی اَپنے قبضہ میں رکھا جنہوں نے آدمؔ کی سِی نافرمانی والا گُناہ نہیں کیا تھا۔ یہ آدمؔ ایک آنے والے کی شَبیہ رکھتے تھے۔
ROM 5:15 مگر اَیسی بات نہیں کہ جِتنا جُرم ہے اِتنی ہی فضل کی نِعمت ہے۔ کیونکہ جَب ایک آدمی کے جُرم کے سبب سے بہت سے اِنسان مَر گیٔے تو ایک آدمی یعنی یِسوعؔ المسیح کے فضل کے سبب بہت سے اِنسانوں کو خُدا کے فضل کی نِعمت بڑی اِفراط سے عطا ہویٔی۔
ROM 5:16 اِس کے علاوہ خُدا کے فضل کی بخشش اَور اُس ایک آدمی کے گُناہ کے نتائج ایک سے نہیں۔ کیونکہ ایک جُرم کا نتیجہ سزا کے حُکم کی صورت میں نِکلا لیکن گُناہوں کی کثرت اَیسے فضل کا باعث ہویٔی جِس کے سبب سے اِنسان راستباز ٹھہرایا گیا۔
ROM 5:17 جَب ایک آدمی کے جُرم کے سبب سے موت نے اُسی ایک کے وسیلہ سے سَب پر حُکومت کی تو جو لوگ فضل اَور راستبازی کی نِعمت اِفراط سے پاتے ہیں وہ بھی ایک آدمی یعنی یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے اَبدی زندگی میں ضروُر ہی بادشاہی کریں گے۔
ROM 5:18 چنانچہ جِس طرح ایک آدمی کے جُرم کے سبب سے سَب آدمیوں کے لیٔے موت کی سزا کا حُکم ہُوا اُسی طرح ایک ہی کی راستبازی کے کام کے وسیلہ سے سَب آدمیوں کو وہ نِعمت مِلی جِس سے وہ راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں تاکہ زندگی پائیں۔
ROM 5:19 اَور جَیسے ایک آدمی کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گُنہگار ٹھہرے وَیسے ہی ایک آدمی کی فرمانبرداری سے بہت سے لوگ راستباز ٹھہرائے جایٔیں گے۔
ROM 5:20 بعد میں شَریعت مَوجُود ہویٔی تاکہ جُرم زِیادہ ہو۔ لیکن جہاں گُناہ زِیادہ ہُوا وہاں فضل اُس سے بھی کہیں زِیادہ ہُوا۔
ROM 5:21 تاکہ جِس طرح گُناہ نے موت کے سبب سے بادشاہی کی اُسی طرح فضل بھی راستبازی کے ذریعہ اَیسی بادشاہی کرے جو ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے اَبدی زندگی تک قائِم رہے۔
ROM 6:1 لہٰذا ہم کیا کہیں؟ کیا گُناہ کرتے چلے جایٔیں تاکہ ہم پر فضل زِیادہ ہو؟
ROM 6:2 ہرگز نہیں! ہم جو گُناہ کے اِعتبار سے مَر چُکے ہیں تو پھر کیوں کر گُناہ آلُودہ زندگی گزارتے ہیں؟
ROM 6:3 کیا تُم نہیں جانتے کہ ہم میں سے جِن لوگوں نے المسیح یِسوعؔ کی زندگی میں شامل ہونے کا پاک غُسل لیا تو اُن کی موت میں شامل ہونے کا پاک غُسل بھی لیا۔
ROM 6:4 چنانچہ موت میں شامل ہونے کا پاک غُسل لے کر ہم اُن کے ساتھ دفن بھی ہویٔے تاکہ جِس طرح المسیح اَپنے آسمانی باپ کی جلالی قُوّت کے وسیلہ سے مُردوں میں سے زندہ کیٔے گیٔے اُسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں قدم بڑھائیں۔
ROM 6:5 کیونکہ جَب ہم المسیح کی طرح مَر کے اُن کے ساتھ پیوست ہو گئے تو بے شک اُن کی طرح مُردوں میں سے زندہ ہوکر بھی اُن کے ساتھ پیوست ہوں گے۔
ROM 6:6 چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پُرانی اِنسانیّت المسیح کے ساتھ مصلُوب ہویٔی کہ گُناہ کا بَدن نِیست ہو جائے تاکہ ہم آئندہ گُناہ کی غُلامی میں نہ رہیں۔
ROM 6:7 کیونکہ جو مَر گیا وہ گُناہ سے بھی بَری ہو گیا۔
ROM 6:8 پس جَب ہم المسیح کے ساتھ مَر گیٔے تو ہمیں یقین ہے کہ اُن کے ساتھ زندہ بھی ہو جایٔیں گے۔
ROM 6:9 کیونکہ ہمیں مَعلُوم ہے کہ جَب المسیح مُردوں میں سے زندہ کیا گیا تو پھر کبھی نہیں مَرے گا۔ موت کا اُس پر پھر کبھی اِختیار نہ ہوگا۔
ROM 6:10 کیونکہ گُناہ کے اِعتبار سے تو المسیح ایک ہی بار مَرا لیکن خُدا کے اِعتبار سے وہ ہمیشہ زندہ ہے۔
ROM 6:11 اِسی طرح تُم بھی اَپنے آپ کو گُناہ کے اِعتبار سے تو مُردہ مگر خُدا کے اِعتبار سے المسیح یِسوعؔ میں زندہ سمجھو۔
ROM 6:12 چنانچہ گُناہ کو اَپنے فانی بَدن پر حُکومت مت کرنے دو تاکہ وہ تُمہیں اَپنی خواہشات کے تابع نہ رکھ سکے۔
ROM 6:13 اَور نہ ہی اَپنے جِسم کے اَعضا کو گُناہ کے حوالہ کرو تاکہ وہ ناراستی کے وسائل نہ بننے پائیں بَلکہ اَپنے آپ کو مُردوں میں سے زندہ ہو جانے والوں کی طرح خُدا کے حوالہ کرو اَور ساتھ ہی اَپنے جِسم کے اَعضا کو بھی خُدا کے حوالہ کرو تاکہ وہ راستبازی کے وسائل بَن سکیں۔
ROM 6:14 کیونکہ تُم شَریعت کے ماتحت نہیں بَلکہ فضل کے ماتحت ہو اِس لیٔے گُناہ کا تُم پر اِختیار نہ ہوگا۔
ROM 6:15 پھر کیا کریں؟ کیا ہم گُناہ کرتے رہیں اِس لیٔے کہ ہم شَریعت کے ماتحت نہیں بَلکہ خُداوؔند کے فضل کے ماتحت ہیں؟ ہرگز نہیں!
ROM 6:16 کیا تُم نہیں جانتے کہ جَب تُم کسی کی خدمت کرنے کے لیٔے خُود کو اُس کا غُلام بَن جانے دیتے ہو تو وہ تمہارا مالک بَن جاتا ہے اَور تُم اُس کی فرمانبرداری کرنے لگتے ہو۔ اِس لیٔے اگر گُناہ کی غُلامی میں رہوگے تو اِس کا اَنجام موت ہے۔ اگر خُدا کے فرمانبردار بَن جاؤگے تو اُس کا اَنجام راستبازی ہے۔
ROM 6:17 لیکن خُدا کا شُکر ہے کہ اگرچہ پہلے تُم گُناہ کے غُلام تھے لیکن اَب دِل سے اُس تعلیم کے تابع ہو گئے ہو جو تمہارے سُپرد کی گئی۔
ROM 6:18 تُم گُناہ کی غُلامی سے آزادی پا کر راستبازی کی غُلامی میں آ گئے۔
ROM 6:19 میں تمہاری اِنسانی کمزوری کے سبب سے بطور اِنسان یہ کہتا ہُوں۔ جِس طرح تُم نے اَپنے اَعضا کو ناپاکی اَور نافرمانی کی غُلامی میں دے دیا تھا اَور وہ نافرمانی بڑھتی جاتی تھی، اَب اَپنے اَعضا کو پاکیزگی کے لیٔے راستبازی کی غُلامی میں دے دو۔
ROM 6:20 جَب تُم گُناہ کے غُلام تھے تو راستبازی کے اِعتبار سے آزاد تھے۔
ROM 6:21 لہٰذا جِن باتوں سے تُم اَب شرمندہ ہو، اُن سے تُمہیں کیا حاصل ہُوا؟ کیونکہ اُن کا اَنجام تو موت ہے۔
ROM 6:22 لیکن اَب تُم گُناہ کی غُلامی سے آزاد ہوکر خُدا کی غُلامی میں آ چُکے ہو اَور تُم اَپنی زندگی میں پاکیزگی کا پھل لاتے ہو جِس کا اَنجام اَبدی زندگی ہے۔
ROM 6:23 کیونکہ گُناہ کی مزدُوری موت ہے لیکن خُدا کی بخشش ہمارے خُداوؔند المسیح یِسوعؔ میں اَبدی زندگی ہے۔
ROM 7:1 اَے بھائیو اَور بہنوں! تُم جو شَریعت سے واقف ہو، کیا اِس بات کو نہیں جانتے کہ اِنسان صِرف اُس وقت تک شَریعت کے ماتحت ہے جَب تک کہ وہ زندہ ہے؟
ROM 7:2 مثلاً شادی شُدہ عورت، شَریعت کے مُطابق خَاوند کے زندہ رہنے تک اُس کی پابند ہوتی ہے لیکن اگر اُس کا خَاوند مَر جائے تو وہ اُس کی پابندی سے آزاد ہو جاتی ہے۔
ROM 7:3 لہٰذا اگر وہ اَپنے خَاوند کے جیتے جی کسی دُوسرے آدمی کی ہو جائے تو زانیہ کہلائے گی۔ لیکن اگر اُس کا خَاوند مَر جائے تو وہ اِس شَریعت سے آزاد ہو جاتی ہے۔ اُس صورت میں وہ کسی دُوسرے آدمی کی ہو جائے تو زانیہ نہیں کہلائے گی۔
ROM 7:4 پس، اَے بھائیو اَور بہنوں! تُم بھی المسیح کے جِسم کے ساتھ مَر کے شَریعت کے اِعتبار سے مَر گیٔے ہو تاکہ کسی دُوسرے کے ہو جاؤ یعنی اُس کے جو مُردوں میں سے زندہ کیا گیا تاکہ ہم خُدا کے لیٔے پھل لائیں۔
ROM 7:5 جَب ہم اَپنی اِنسانی فِطرت کے مُطابق زندگی گزارتے تھے، تو شَریعت ہم میں گُناہ کی رغبت پیدا کرتی تھی جِس سے ہمارے اَعضا متأثر ہوکر موت کا پھل پیدا کرتے تھے۔
ROM 7:6 لیکن ہم جِس چیز کے قَیدی تھے اُس کے اِعتبار سے مَر گیٔے تو شَریعت کی قَید سے اَیسے چھُوٹ گیٔے کہ اُس کے لفظوں کے پُرانے طریقہ کے مُطابق نہیں بَلکہ خُدا کی رُوح کے نئے طریقہ کے مُطابق خدمت کرتے ہیں۔
ROM 7:7 پس ہم کیا کہیں؟ کیا شَریعت گُناہ ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ اگر شَریعت نہ ہوتی تو میں گُناہ کو نہ پہچانتا مثلاً اگر شَریعت یہ حُکم نہ دیتی، ”تُم لالچ نہ کرنا، تو میں لالچ کو نہ جانتا۔“
ROM 7:8 مگر گُناہ نے اِس حُکم سے فائدہ اُٹھایا اَور مُجھ میں ہر طرح کا لالچ پیدا کر دیا کیونکہ شَریعت کے بغیر گُناہ مُردہ ہے۔
ROM 7:9 ایک وقت تھا کہ میں شَریعت کے بغیر زندہ تھا مگر جَب حُکم آیا تو گُناہ زندہ ہو گیا اَور مَیں مَر گیا۔
ROM 7:10 تَب مُجھے مَعلُوم ہُوا کہ جِس حُکم کا منشا زندگی دینا تھا وُہی موت کا باعث بَن گیا۔
ROM 7:11 کیونکہ گُناہ نے اِس حُکم سے فائدہ اُٹھاکر مُجھے بہکایا اَور اِس کے ذریعہ مُجھے مار ڈالا۔
ROM 7:12 پس شَریعت پاک ہے اَور حُکم بھی پاک، راست اَور اَچھّا ہے۔
ROM 7:13 تو کیا وُہی چیز جو اَچھّی ہے میرے لیٔے موت بَن گئی؟ ہرگز نہیں! بَلکہ گُناہ نے ایک اَچھّی چیز سے فائدہ اُٹھاکر میری موت کا سامان پیدا کر دیا تاکہ گُناہ کی اصلیّت پہچانی جائے اَور حُکم کے ذریعہ گُناہ حَد سے زِیادہ مکرُوہ مَعلُوم ہو۔
ROM 7:14 ہم جانتے ہیں کہ شَریعت ایک رُوحانی چیز ہے لیکن مَیں جِسمانی ہُوں اَور گویا گُناہ کی غُلامی میں بِکا ہُوا ہُوں۔
ROM 7:15 مَیں جو کچھ کرتا ہُوں اُس کا مُجھے صحیح احساس ہی نہیں ہوتا کیونکہ جو کرنا چاہتا ہُوں اُسے تو نہیں کرتا لیکن جِس کام سے نفرت ہے وُہی کر لیتا ہُوں۔
ROM 7:16 پس جَب وہ کرتا ہُوں جسے میں کرنا ہی نہیں چاہتا تو میں مانتا ہُوں کہ شَریعت اَچھّی ہے۔
ROM 7:17 چنانچہ اِس صورت میں جو کچھ میں کرتا ہُوں وہ میں نہیں بَلکہ مُجھ میں بسا ہُوا گُناہ کرتا ہے۔
ROM 7:18 میں جانتا ہُوں کہ مُجھ میں یعنی میرے جِسم میں کویٔی نیکی بَسی ہویٔی نہیں۔ البتّہ نیکی کرنے کا اِرادہ تو مُجھ میں مَوجُود ہے۔
ROM 7:19 چنانچہ جو نیکی کرنا چاہتا ہُوں اُسے تو کرتا نہیں لیکن وہ بدی جسے کرنا نہیں چاہتا اُسے کرتا چلا جاتا ہُوں۔
ROM 7:20 پس جَب کہ میں وہ کرتا ہُوں جسے کرنا نہیں چاہتا تو کرنے والا میں نہ رہا بَلکہ گُناہ ہے جو میرے اَندر بسا ہُواہے۔
ROM 7:21 جو شَریعت میرے سامنے ہے اُس کے مُطابق جَب بھی میں نیکی کرنے کا اِرادہ کرتا ہُوں تو بدی میرے پاس آ مَوجُود ہوتی ہے۔
ROM 7:22 کیونکہ باطِن میں تو میں خُدا کی شَریعت سے بہت خُوش ہُوں۔
ROM 7:23 لیکن مُجھے اَپنے جِسم کے اَعضا میں ایک اَور ہی شَریعت کام کرتی دِکھائی دیتی ہے جو میری عقل کی شَریعت سے لڑ کر مُجھے گُناہ کی شَریعت کا قَیدی بنا دیتی ہے جو میرے اَعضا میں مَوجُود ہے۔
ROM 7:24 ہائے! میں کیسا بدبخت آدمی ہُوں! اِس موت کے بَدن سے مُجھے کون چُھڑائے گا؟
ROM 7:25 خُدا کا شُکر ہو کہ اُس نے ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے اِسے ممکن بنا دیا ہے۔ غرض میرا حال یہ ہے کہ میں اَپنی عقل سے خُدا کی شَریعت کا اَور جِسم میں گُناہ کی شَریعت کا محکُوم ہُوں۔
ROM 8:1 چنانچہ، جو المسیح یِسوعؔ میں ہیں اَب اُن پر سزا کا حُکم نہیں
ROM 8:2 کیونکہ المسیح یِسوعؔ کے وسیلے سے پاک رُوح کی زندگی بخشنے والی شَریعت نے، مُجھے گُناہ اَور موت کی شَریعت سے آزاد کر دیا۔
ROM 8:3 اِس لیٔے جو کام گُناہ آلُودہ جِسم کے سبب سے شَریعت کمزور ہوکرجو کام شَریعت نہ کر سکی، وہ خُدا نے اَپنے ہی بیٹے کو گُناہ کی قُربانی کے طور پر گُناہ آلُودہ جِسم کی صورت میں بھیج کر جِسم میں گُناہ کی سزا کا حُکم دیا۔
ROM 8:4 تاکہ ہم میں جو جِسم کے مُطابق نہیں بَلکہ پاک رُوح کے مُطابق زندگی گزارتے ہیں شَریعت کے نیک تقاضے پُورے ہُوں۔
ROM 8:5 جو لوگ جِسم کے مُطابق زندگی گزارتے ہیں اُن کے خیالات نَفسانی خواہشات کی طرف لگے رہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ پاک رُوح کے مُطابق زندگی گزارتے ہیں اُن کے خیالات رُوحانی خواہشوں کی طرف لگے رہتے ہیں۔
ROM 8:6 جِسمانی غرض موت ہے لیکن رُوحانی غرض زندگی اَور اِطمینان ہے۔
ROM 8:7 اِس لیٔے کہ جِسمانی غرض خُدا کی عداوت کرتی ہے؛ وہ نہ تو خُدا کی شَریعت کے تابع ہے نہ ہو سکتی ہے۔
ROM 8:8 جو لوگ جِسم کے غُلام ہیں، خُدا کو خُوش نہیں کر سکتے۔
ROM 8:9 لیکن تُم اَپنے جِسم کے نہیں بَلکہ رُوح کے تابع ہو بشرطیکہ خُدا کا رُوح تُم میں بسا ہُوا ہو۔ اَور جِس میں المسیح کا رُوح نہیں وہ المسیح کا نہیں۔
ROM 8:10 لیکن اگر المسیح تُم میں ہے تو تمہارا بَدن تو گُناہ کے سبب سے مُردہ ہے لیکن تمہاری رُوح راستبازی کے سبب سے زندہ ہے۔
ROM 8:11 اَور اگر اُس کا رُوح تُم میں بسا ہُواہے جِس نے یِسوعؔ کو مُردوں میں سے زندہ کیا تو المسیح کو مُردوں میں سے زندہ کرنے والا تمہارے فانی بَدنوں کو بھی اَپنے اُس رُوح کے وسیلہ سے زندہ کرےگا جو تُم میں بسا ہُواہے۔
ROM 8:12 چنانچہ اَے بھائیو اَور بہنوں! ہم گُناہ آلُودہ فِطرت کے قرضدار نہیں کہ اُس فِطرت کے مُطابق زندگی گُزاریں۔
ROM 8:13 کیونکہ اگر تُم گُناہ آلُودہ فِطرت کے مُطابق زندگی گُزاروگے تو ضروُر مروگے لیکن اگر پاک رُوح کے ذریعہ بَدن کے بُرے کاموں کو نابُود کروگے تو زندہ رہوگے۔
ROM 8:14 اِس لیٔے کہ جو خُدا کے رُوح کی ہدایت پر چلتے ہیں وُہی خُدا کے بیٹے ہیں۔
ROM 8:15 کیونکہ تُمہیں وہ رُوح نہیں مِلی جو تُمہیں پھر سے خوف کا غُلام بنادے بَلکہ لے پالک فرزندیت کی رُوح مِلی ہے جِس کے وسیلہ سے ہم ”اَبّا،‏ اَے باپ کہہ کر پُکارتے ہیں۔“
ROM 8:16 پاک رُوح خُود ہماری رُوح کے ساتھ مِل کر گواہی دیتاہے کہ ہم خُدا کے فرزند ہیں۔
ROM 8:17 اَور اگر فرزند ہیں تو وارِث بھی ہیں یعنی خُدا کے وارِث اَور المسیح کے ہم مِیراث، بشرطیکہ ہم اُن کے ساتھ دُکھ اُٹھائیں تاکہ اُن کے جلال میں بھی شریک ہُوں۔
ROM 8:18 میں جانتا ہُوں کہ یہ دُکھ درد جو ہم اَب سَہہ رہے ہیں اُس جلال کے مُقابلہ میں کچھ بھی نہیں جو ہم پر ظاہر ہونے کو ہے۔
ROM 8:19 چنانچہ ساری خِلقتؔ بڑی آرزُو کے ساتھ اِس اِنتظار میں ہے کہ خُدا اَپنے فرزندوں کو ظاہر کرے۔
ROM 8:20 اِس لیٔے کہ خِلقتؔ اَپنی خُوشی سے نہیں بَلکہ خالق کی مرضی سے بطالت کے اِختیار میں کر دی گئی تھی، اِس اُمّید کے ساتھ
ROM 8:21 کہ وہ بھی آخِرکار فنا کی غُلامی سے چھُڑائی جائے گی اَور خُدا کے فرزندوں کی جلالی آزادی میں شریک ہوگی۔
ROM 8:22 ہم جانتے ہیں کہ ساری خِلقتؔ آج تک کراہتی ہے گویا کہ وہ دردِزہ میں مُبتلا ہے۔
ROM 8:23 اَور صِرف وُہی نہیں بَلکہ ہم بھی جنہیں پاک رُوح کے پہلے پھل حاصل ہویٔے ہیں اَپنے باطِن میں کراہتے ہیں یعنی اُس وقت کا اِنتظار کر رہے ہیں جَب خُدا ہمیں اَپنے فرزند بنا کر ہمارے بَدن کو مخلصی بخشےگا۔
ROM 8:24 چنانچہ اِسی اُمّید کے وسیلہ سے ہمیں نَجات مِلی۔ مگر جَب اُمّید کی ہوئی چیز نظر آ جائے تو اُمّید کا کویٔی مطلب نہیں۔ کیونکہ پہلے سے مَوجُود کسی چیز کی کویٔی اُمّید کیوں کرےگا؟
ROM 8:25 لیکن اگر ہم اُس چیز کی اُمّید کرتے ہیں جو ابھی ہمارے پاس مَوجُود نہیں تو صبر سے اُس کی راہ دیکھتے ہیں۔
ROM 8:26 اِسی طرح رُوح ہماری کمزوری میں ہماری مدد کرتا ہے۔ ہم تُو یہ بھی نہیں جانتے کہ کِس چیز کے لیٔے دعا کریں لیکن پاک رُوح خُود اَیسی آہیں بھر بھر کر ہماری شفاعت کرتا ہے کہ لفظوں میں اُن کا بَیان نہیں ہو سَکتا۔
ROM 8:27 اَور وہ جو ہمارے دِلوں کو پرکھتا ہے پاک رُوح کی غرض کو جانتا ہے کیونکہ پاک رُوح خُدا کی مرضی کے مُطابق مُقدّسین کی شفاعت کرتا ہے۔
ROM 8:28 اَور ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ خُدا سے مَحَبّت رکھتے ہیں اَور اُس کے اِرادے کے مُطابق بُلائے گیٔے ہیں، خُدا ہر حالت میں اُن کی بھلائی چاہتاہے۔
ROM 8:29 کیونکہ جنہیں خُدا پہلے سے جانتا تھا اُنہیں اُس نے پہلے سے مُقرّر بھی کیا کہ وہ اُس کے بیٹے کی مانِند بنیں تاکہ اُس کا بیٹا بہت سارے میرے بھائیوں اَور بہنوں میں پہلوٹھا شُمار کیا جائے۔
ROM 8:30 اَور جنہیں اُس نے پہلے سے مُقرّر کیا، اُنہیں بُلایا بھی؛ اَور جنہیں بُلایا، اُنہیں راستباز بھی ٹھہرایا؛ اَور جنہیں راستباز ٹھہرایا، اُنہیں اَپنے جلال میں شریک بھی کیا۔
ROM 8:31 پس ہم اِن باتوں کے بارے میں اَور کیا کہیں؟ اگر خُدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مُخالف ہو سَکتا ہے؟
ROM 8:32 جِس نے اَپنے بیٹے کو بچائے رکھنے کی بجائے اُسے ہم سَب کے لیٔے قُربان کر دیا تو کیا وہ اُس کے ساتھ ہمیں اَور سَب چیزیں بھی فضل سے عطا نہ کرےگا؟
ROM 8:33 کون خُدا کے چُنے ہویٔے لوگوں پر اِلزام لگا سَکتا ہے؟ کویٔی نہیں۔ اِس لیٔے کہ خُدا خُود اُنہیں راستباز ٹھہراتا ہے۔
ROM 8:34 کون اُنہیں مُجرم قرار دے سَکتا ہے؟ کویٔی نہیں۔ اِس لیٔے کہ المسیح یِسوعؔ ہی وہ ہیں جو مَر گیٔے اَور مُردوں میں سے جی اُٹھے اَورجو خُدا کی داہنی طرف مَوجُود ہیں۔ وُہی ہماری شفاعت بھی کرتے ہیں۔
ROM 8:35 کون ہمیں المسیح کی مَحَبّت سے جُدا کرےگا؟ کیا مُصیبت یاتنگی؟ ظُلم یا قحط، عُریانی یا خطرہ یا تلوار؟
ROM 8:36 چنانچہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”ہم تو تیری خاطِر سارا دِن موت کا سامنا کرتے رہتے ہیں؛ ہم تو ذبح ہونے والی بھیڑوں کی مانند سمجھے جاتے ہیں۔“
ROM 8:37 پھر بھی اِن سَب حالتوں میں ہمیں اَپنے مَحَبّت کرنے والے کے وسیلہ سے بڑی شاندار فتح حاصل ہوتی ہے۔
ROM 8:38 کیونکہ مُجھے یقین ہے کہ نہ موت نہ زندگی، نہ فرِشتے نہ شیطان کے لشکر، نہ حال کی چیزیں نہ مُستقبِل کی اَور نہ کویٔی قُدرتیں،
ROM 8:39 نہ بُلندی نہ پستی نہ کویٔی اَور کائِنات کی چیزیں ہمیں خُدا کی اُس مَحَبّت سے جُدا نہ کر سکے گی جو ہمارے المسیح یِسوعؔ میں ہے۔
ROM 9:1 میں المسیح میں سچ کہتا ہُوں، جھُوٹ نہیں بولتا بَلکہ میرا ضمیر بھی پاک رُوح کے تابع ہوکر گواہی دیتاہے
ROM 9:2 کہ مُجھے بڑا غم ہے اَور میرا دِل ہر وقت دُکھتا رہتاہے۔
ROM 9:3 کاش اَیسا ہو سَکتا کہ اَپنے یہُودی بھائیوں کی خاطِر جو جِسم کے لِحاظ سے میری قوم کے لوگ ہیں، میں خُود ملعُون ہوکر المسیح سے محروم ہو جاتا!
ROM 9:4 یعنی بنی اِسرائیلؔ، خُدا کے مُتَنَبّیٰ ہونے کا حق کے سبب جلال، عہد، شَریعت اَور خدمت، بیت المُقدّس میں عبادت کا شرف اَور خُدا کے وعدے بھی اُن ہی کے لیٔے ہیں۔
ROM 9:5 قوم کے بُزرگ اُن ہی کے ہیں اَور المسیح بھی جِسمانی طور پر اُن ہی کی نَسل سے تھے جو سَب سے اعلیٰ ہیں اَور اَبد تک خُدائے مُبارک ہیں۔ آمین۔
ROM 9:6 اِس کا یہ مطلب نہیں کہ خُدا کا وعدہ باطِل ہو گیا کیونکہ جتنے اِسرائیلؔ کی نَسل سے ہیں وہ سَب کے سَب اِسرائیلی نہیں۔
ROM 9:7 اَور نہ ہی صِرف اُن کی نَسل ہونے کے باعث وہ حضرت اَبراہامؔ کے فرزند ٹھہرے بَلکہ خُدا کا وعدہ یہ تھا، ”تمہاری نَسل کا نام اِصحاقؔ ہی سے آگے بڑھےگا۔“
ROM 9:8 اِس سے مُراد یہ ہے: جِسمانی طور پر پیدا ہونے والے فرزند خُدا کے فرزند نہیں بَن سکتے بَلکہ صِرف وہ جو خُدا کے وعدہ کے مُطابق پیدا ہویٔے ہیں، حضرت اَبراہامؔ کی نَسل شُمار کیٔے جاتے ہیں۔
ROM 9:9 کیونکہ وعدہ کا قول یُوں ہے: ”مَیں مُقرّرہ وقت پر پھر واپس آؤں گا، اَور سارہؔ کے ہاں بیٹا ہوگا۔“
ROM 9:10 صِرف یہی نہیں بَلکہ رِبقہؔ کے بچّے بھی ہمارے آباؤاَجداد اِصحاقؔ ہی کے تُخم سے تھے۔
ROM 9:11 اَور ابھی نہ تو اُن کے جُڑواں لڑکے پیدا ہویٔے تھے اَور نہ ہی اُنہُوں نے کچھ نیکی یا بدی کی تھی کہ خُدا نے اَپنے مقصد کو پُورا کرنے کے لیٔے اُن میں سے ایک کو چُن لیا۔
ROM 9:12 خُدا کا یہ فیصلہ اُن کے اعمال کی بِنا پر نہ تھا بَلکہ بُلانے والے کی اَپنی مرضی پر تھا۔ اِسی لئے رِبقہؔ سے کہا گیا، ”بڑا چُھوٹے کی خدمت کرےگا۔“
ROM 9:13 جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”مَیں نے یعقوب سے مَحَبّت رکھی مگر عیسَوؔ سے عداوت۔“
ROM 9:14 تو پھر ہم کیا کہیں؟ کیا یہ کہ خُدا کے ہاں نااِنصافی ہے؟ ہرگز نہیں!
ROM 9:15 کیونکہ خُدا حضرت مَوشہ سے فرماتے ہیں، ”جِس پر مُجھے رحم کرنا منظُور ہوگا اُس پر رحم کروں گا، اَور جِس پر ترس کھانا منظُور ہوگا اُس پر ترس کھاؤں گا۔“
ROM 9:16 لہٰذا یہ نہ تو آدمی کی خواہش یا اُس کی جدّوجہد پر بَلکہ خُدا کے رحم پر مُنحصر ہے۔
ROM 9:17 اِسی لیٔے کِتاب مُقدّس میں فَرعوہؔ سے کہا گیا ہے: ”مَیں نے تُجھے اِس لیٔے برپا کیا ہے کہ تیرے خِلاف اَپنی قُدرت ظاہر کروں اَور ساری زمین میں میرا نام مشہُور ہو جائے۔“
ROM 9:18 پس خُدا جِس پر رحم کرنا چاہتاہے، رحم کرتا ہے اَور جِس پر سختی کرنا چاہتاہے اُس کا دِل سخت کر دیتاہے۔
ROM 9:19 شاید تُم میں سے کویٔی مُجھ سے یہ پُوچھے: ”اگر یہ بات ہے تو خُدا اِنسان کو کیوں قُصُوروار ٹھہراتا ہے؟ کون اُس کی مرضی کے خِلاف کھڑا ہو سَکتا ہے؟“
ROM 9:20 لیکن اَے اِنسان! تُم کِس مُنہ سے خُدا کو جَواب دیتے ہو؟ ”کیا بنائی ہویٔی شَے اَپنے بنانے والے سے کہہ سکتی ہے کہ تُم نے مُجھے اَیسا کیوں بنایا؟“
ROM 9:21 کیا کُمہار کو مٹّی پر اِختیار نہیں کہ ایک ہی لَوندے میں سے ایک برتن تو خاص مَوقعوں پر اِستعمال کیٔے جانے کے لیٔے بنائے اَور دُوسرا عام اِستعمال کے لیٔے۔
ROM 9:22 اگر خُدا نے بھی اَیسا کیا تو تعجُّب کی کون سِی بات ہے؟ خُدا اَپنے غضب اَور اَپنی قُدرت کو ظاہر کرنے کے اِرادے سے غضب کے برتنوں کو جو ہلاکت کے لیٔے تیّار کیٔے گیٔے تھے، نہایت صبر سے برداشت کرتا رہے۔
ROM 9:23 اَور یہ اِس لیٔے ہُوا کہ خُدا اَپنے جلال کی دولت رحم کے برتنوں پر ظاہر کرے جنہیں خُدا نے اَپنے جلال کے لیٔے پہلے ہی سے تیّار کیا ہُوا تھا۔
ROM 9:24 یعنی ہم پر جنہیں اُس نے نہ فقط یہُودیوں میں سے بَلکہ غَیریہُودیوں میں سے بھی بُلایا۔
ROM 9:25 ہوشِیعؔ نبی کی کِتاب میں بھی خُدا یہی فرماتے ہیں: ”جو ’میری اُمّت‘ نہ تھی اُسے میں اَپنی اُمّت بنا لُوں گا؛ اَورجو میری محبُوبہ نہ تھی اُسے اَپنی محبُوبہ کہُوں گا،“
ROM 9:26 اَور ”جِس جگہ اُن سے یہ کہا گیا تھا، ’تُم میری اُمّت نہیں ہو،‘ اُسی جگہ اُنہیں ’زندہ خُدا کے فرزند کہا جائے گا۔‘ “
ROM 9:27 اَور یَشعیاہ نبی بھی اِسرائیلؔ کے بارے میں پُکار کر فرماتے ہیں: ”اگرچہ بنی اِسرائیلؔ کی تعداد سمُندر کی ریت کے ذرّوں کے برابر ہوگی، تو بھی اُن میں سے تھوڑے ہی بچیں گے۔
ROM 9:28 کیونکہ خُداوؔند زمین پر اَپنے فیصلہ کو نہایت تیزی کے ساتھ عَمل میں لایٔے گا۔“
ROM 9:29 چنانچہ جَیسا کہ حضرت یَشعیاہ نبی نے پیشین گوئی کی ہے: ”اگرچہ لشکروں کا خُداوؔند ہماری نَسل کو باقی نہ رہنے دیتا، تو ہم سدُومؔ کی مانند اَور عمورہؔ کی مانند ہو جاتے۔“
ROM 9:30 پس ہم کیا کہیں؟ یہ کہ غَیریہُودی جو راستبازی کے طالب نہ تھے، ایمان لاکر راستبازی حاصل کر چُکے، یعنی وہ راستبازی جو ایمان کے سبب سے ہے۔
ROM 9:31 لیکن اِسرائیلؔ جو راستبازی کی شَریعت کا طالب تھا، اُس شَریعت تک نہ پہُنچا۔
ROM 9:32 کیوں؟ اِس لیٔے کہ اُنہُوں نے ایمان سے نہیں بَلکہ اعمال کے ذریعہ اُسے حاصل کرنا چاہا اَور ٹھوکر لگنے والے پتّھر سے ٹھوکر کھائی۔
ROM 9:33 جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”دیکھو، مَیں صِیّونؔ میں ایک ٹھیس لگنے کا پتّھر رکھتا ہُوں جِس سے لوگ ٹھوکر کھایٔیں گے اَور ٹھوکر کھانے کی چٹّان جو اُن کے گِرنے کا باعث ہوگی، مگر جو کویٔی اُس پر ایمان لایٔے گا وہ کبھی شرمندہ نہ ہوگا۔“
ROM 10:1 اَے بھائیو اَور بہنوں! اِسرائیلیوں کے لیٔے میری دِلی تمنّا اَور خُدا سے میری یہ دعا ہے کہ وہ نَجات پائیں۔
ROM 10:2 کیونکہ مَیں اُن کے بارے میں گواہی دیتا ہُوں کہ وہ خُدا کے لیٔے غیرت تو رکھتے ہیں لیکن دانائی کے ساتھ نہیں۔
ROM 10:3 چونکہ وہ خُدا کی راستبازی سے واقف نہ تھے بَلکہ خُود اَپنی راستبازی کو قائِم رکھنے کی کوشش کرتے رہے، اِس لیٔے وہ خُدا کی راستبازی کے تابع نہ ہویٔے۔
ROM 10:4 المسیح ہی شَریعت کی تکمیل ہیں کیونکہ وہ ہر ایمان لانے والے کو راستبازی عطا کرتے ہیں۔
ROM 10:5 حضرت مَوشہ نے اُس راستبازی کے بارے میں لِکھّا ہے جو شَریعت کے ذریعہ حاصل ہویٔی ہے: ”جو شخص شَریعت پر عَمل کرتا ہے وہ شَریعت کی وجہ سے زندہ رہے گا۔“
ROM 10:6 لیکن جو راستبازی ایمان سے ہے وہ یہ کہتی ہے: ”اَپنے دِل میں یُوں نہ کہہ کہ ہمارے لئے آسمان پر کون چڑھے گا؟“ یعنی المسیح کو نیچے لانے کے لیٔے
ROM 10:7 ”یا، ’کون نیچے اتھاہ گڑھے میں اُترے گا؟‘ “ یعنی المسیح کو، مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے اُوپر لانے کے لیٔے۔
ROM 10:8 لیکن اِس کا کیا مطلب ہے؟ یہ کہ کلام تمہارے پاس ہے؛ بَلکہ تمہارے ہونٹوں پر اَور تمہارے دِل میں ہے، یہ ایمان کا وُہی کلام ہے، جِس کی ہم مُنادی کرتے ہیں:
ROM 10:9 اگر تُم اَپنی زبان سے یہ اقرار کرو، ”یِسوعؔ ہی خُداوؔند ہیں،“ اَور اَپنے دِل سے ایمان لاؤ کہ خُدا نے اُنہیں مُردوں میں سے زندہ کیا تو نَجات پاؤگے۔
ROM 10:10 کیونکہ راستبازی کے لیٔے اِنسان دِل سے ایمان لاتا ہے اَور زبان سے اقرار کرکے نَجات پاتاہے۔
ROM 10:11 جَیسا کہ صحیفہ بَیان کرتا ہے، ”جو کویٔی اُس پر ایمان لایٔے گا وہ کبھی شرمندہ نہ ہوگا۔“
ROM 10:12 کیونکہ یہُودی اَور غَیریہُودی میں کویٔی فرق نہیں اِس لیٔے کہ ایک وُہی سَب کا خُداوؔند ہے اَور اُن سَب کو جو اُس کا نام لیتے ہیں کثرت سے فیض پہُنچاتا ہے۔
ROM 10:13 اَور، ”جو کویٔی خُداوؔند کا نام لے گا نَجات پایٔےگا۔“
ROM 10:14 مگر جِس پر وہ ایمان نہیں لایٔے اُسے پُکاریں گے کیسے؟ جِس کا ذِکر تک اُنہُوں نے نہیں سُنا اُن پر ایمان کیسے لائیں گے اَور جَب تک کویٔی اُنہیں خُوشخبری نہ سُنائے وہ کیسے سُنیں گے؟
ROM 10:15 اَور جَب تک وہ بھیجے نہ جایٔیں تبلیغ کیسے کر سکتے ہیں؟ چنانچہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”اُن کے قدم کیسے خُوشنما ہیں جو اَچھّی چیزوں کی خُوشخبری لاتے ہیں!“
ROM 10:16 لیکن تمام بنی اِسرائیلیوں نے اُس خُوشخبری پر کان نہیں دھَرا، چنانچہ یَشعیاہ نبی نے فرمایا، ”اَے خُداوؔند، ہمارے پیغام پر کون ایمان لایا؟“
ROM 10:17 پس ایمان کی بُنیاد پیغام کے سُننے پر ہے اَور پیغام کی بُنیاد المسیح کے کلام پر۔
ROM 10:18 لیکن مَیں پُوچھتا ہُوں: کیا اُنہُوں نے کلام نہیں سُنا؟ بے شک سُنا: ”کیونکہ اُن کی آواز ساری رُوئے زمین پر، اَور اُن کا کلام دُنیا کی اِنتہا تک پہُنچ چُکاہے۔“
ROM 10:19 میں پھر پُوچھتا ہُوں: کیا بنی اِسرائیلؔ اِس سے واقف نہ تھے؟ سَب سے پہلے، تو حضرت مَوشہ جَواب دیتے ہیں خُدا فرماتے ہیں؛ ”میں تُمہیں اُن سے غیرت دِلاؤں گا جو کویٔی قوم نہیں؛ اَور ایک نادان قوم سے تُمہیں غُصّہ دِلاؤں گا۔“
ROM 10:20 پھر یَشعیاہ بڑی دِلیری سے یہ کہتے ہیں خُدا فرماتے ہیں، ”جنہوں نے مُجھے ڈھونڈا بھی نہیں اُنہُوں نے مُجھے پا لیا؛ جو میرے طالب نہ تھے، میں اُن پر ظاہر ہو گیا۔“
ROM 10:21 لیکن خُدا بنی اِسرائیلؔ کے بارے میں یہ فرماتے ہیں، ”میں دِن بھر ایک سرکش اَور حُجّتی قوم کی طرف اَپنے صُلح کے ہاتھ بڑھائے رہا۔“
ROM 11:1 لہٰذا میں پُوچھتا ہُوں، کیا خُدا نے اَپنی اُمّت کو ردّ کر دیا؟ ہرگز نہیں! کیونکہ مَیں خُود بھی اِسرائیلی ہُوں اَور حضرت اَبراہامؔ کی نَسل اَور بِنیامین کے قبیلہ کا ہُوں۔
ROM 11:2 خُدا نے اَپنی اُمّت کو جسے وہ پہلے سے جانتا تھا، ردّ نہیں کیا؟ کیا تُم نہیں جانتے کہ کِتاب مُقدّس میں ایلیّاہ نبی خُدا سے اِسرائیلؔ کے خِلاف یہ فریاد کرتے ہیں:
ROM 11:3 ”اَے خُداوؔند! اُنہُوں نے تیرے نبیوں کو قتل کیا اَور تیری قُربان گاہوں کو ڈھا دیا۔ اَب مَیں تنہاباقی رہ گیا ہُوں اَور وہ مُجھے بھی جان سے مار ڈالنا چاہتے ہیں۔“
ROM 11:4 لیکن خُدا نے ایلیّاہ نبی کو کیا جَواب دیا؟ ”مَیں نے اَپنے لیٔے سات ہزار آدمی محفوظ رکھے ہیں جنہوں نے بَعل معبُود کے بُت کے سامنے گھُٹنے نہیں ٹیکے۔“
ROM 11:5 اِسی طرح اَب بھی، کچھ لوگ باقی ہیں جنہیں خُدا نے اَپنے فضل سے چُن لیا تھا۔
ROM 11:6 اَور جَب خُدا نے اُنہیں اَپنے فضل کی بِنا پر چُنا تو صَاف ظاہر ہے کہ اُن کے اعمال کی بِنا پر نہیں چُنا؛ ورنہ اُس کا فضل، فضل نہ رہتا۔
ROM 11:7 تو نتیجہ کیا نِکلا؟ یہ کہ بنی اِسرائیلؔ کو وہ چیز نہ مِلی جِس کی وہ برابر جُستُجو کرتے رہے۔ لیکن خُدا کے چُنے ہویٔے لوگوں کو مِل گئی اَور باقی سَب نے خُدا کو پُکارا اُن کے دِل سخت کر دئیے گیٔے۔
ROM 11:8 چنانچہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”خُدا نے اُن کے دِل و دماغ کو بے حِسّ کر دیا، نہ تو آنکھوں سے دیکھ سکیں، آج تک اَور نہ کانوں سے سُن سکیں۔“
ROM 11:9 اَور حضرت داویؔد فرماتے ہیں: ”اُن کا دسترخوان اُن کے لیٔے ایک پھندا اَور ایک جال، اَور ٹھوکر کھانے اَور سزا کا باعث بَن جائے۔
ROM 11:10 اُن کی آنکھوں پر اَندھیرا چھا جائے تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں، اَور اُن کی کمریں ہمیشہ جُھکی رہیں۔“
ROM 11:11 میں پھر پُوچھتا ہُوں، کیا یہُودیوں نے اَیسی ٹھوکر کھائی کہ گِر پڑیں اَور پھر اُٹھ نہ سکیں۔ ہرگز نہیں! بَلکہ اُن کی سرکشی سے غَیریہُودیوں کو نَجات حاصل کرنے کی تَوفیق مِلی تاکہ یہُودیوں کو غیرت آئے۔
ROM 11:12 جَب اُن کی سرکشی دُنیا کے لیٔے برکت کا باعث ہویٔی اَور اُن کا رُوحانی زوال غَیریہُودیوں کے لیٔے نِعمت کی فراوانی کا باعث ہُوا تو اُن سَب کا پُوری طرح بھرپُورہو جانا ضروُر ہی کتنی زِیادہ نِعمت کا باعث ہوگا۔
ROM 11:13 اَب مَیں تُم غَیریہُودیوں سے مُخاطِب ہوتا ہُوں کیونکہ مَیں غَیریہُودیوں کے لیٔے رسول مُقرّر ہُوا ہُوں اِس لیٔے اَپنی خدمت پر فخر کرتا ہُوں۔
ROM 11:14 ہو سَکتا ہے کہ میں اَپنی قوم والوں کو غیرت دِلا کر اُن میں سے بعض کو نَجات دِلا سکوں!
ROM 11:15 کیونکہ جَب اِسرائیلیوں کا خارج ہو جانا دُنیا سے خُدا کے صُلح کا باعث بَن گیا تو اُن کی قبُولیّت مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے سِوا اَور کیا ہوگی؟
ROM 11:16 اگر نذر کا پہلا پیڑا نذر کر دئیے جانے کے بعد پاک ٹھہرا تو سارا گوندھا ہُوا آٹا بھی پاک ٹھہرے گا اَور اگر درخت کی جڑ پاک ہے تو اُس کی ڈالیاں بھی پاک ہوں گی۔
ROM 11:17 اگر بعض ڈالیاں کاٹ ڈالی گئیں، اَور تُم، جنگلی زَیتُون ہوتے ہویٔے بھی اُن کی جگہ پیوند ہو گئے تو تُم بھی زَیتُون کے درخت کی جڑ میں حِصّہ دار ہوگے جو قُوّت بخش روغن سے بھری ہویٔی ہے،
ROM 11:18 اُن بُریدہ ڈالیوں کو حقیر جان کر اَپنے آپ پر فخر نہ کرو۔ اگر فخر کروگے تو یاد رہے کہ تُم جڑ کو نہیں بَلکہ جڑ تُمہیں سنبھالے ہویٔے ہے۔
ROM 11:19 تُم ضروُر یہ کہو گے، ”وہ ڈالیاں اِس لیٔے کاٹ ڈالی گئیں کہ میں پیوند ہو جاؤں۔“
ROM 11:20 ٹھیک ہے، لیکن وہ تو ایمان نہ لانے کے سبب سے کاٹی گئیں اَور تُم ایمان لانے کے سبب سے قائِم ہو۔ پس تکبُّر نہ کرو بَلکہ تھرتھراؤ۔
ROM 11:21 کیونکہ جَب خُدا نے اصلی ڈالیوں کو نہ چھوڑا تو وہ تُمہیں بھی نہ چھوڑے گا۔
ROM 11:22 لہٰذا خُدا کی مہربانی اَور سختی دونوں پر غور کرو، سختی اُن پرجو گِر گیٔے، مہربانی تُم پر بشرطیکہ تُم خُدا کی مہربانی پر بھروسا رکھو ورنہ تُمہیں بھی کاٹ ڈالا جائے گا۔
ROM 11:23 اگر یہُودی بھی بےاِعتقادی میں نہ رہیں تو پیوند کیٔے جایٔیں گے، کیونکہ خُدا اُنہیں پھر سے پیوند کرنے پر قادر ہے۔
ROM 11:24 جَب تُم اُس کے درخت سے جو طبعی طور پر جنگلی زَیتُون ہے، خِلاف طَبع اَچھّے زَیتُون کے درخت میں پیوند کیٔے گئے ہو تُو یہ جو اصل ڈالیاں ہیں اَپنے ہی زَیتُون کے درخت میں بہ آسانی ضروُر پیوند کی جایٔیں گی۔
ROM 11:25 اَے بھائیو اَور بہنوں! مُجھے منظُور نہیں کہ تُم اِس راز سے ناواقِف رہو اَور اَپنے آپ کو عقلمند سمجھنے لگو۔ وہ راز یہ ہے کہ اِسرائیلؔ کا ایک حِصّہ کسی حَد تک سخت دِل ہو گیا ہے اَور جَب تک خُدا کے پاس آنے والے غَیریہُودیوں کی تعداد پُوری نہیں ہو جاتی وہ وَیسا ہی رہے گا۔
ROM 11:26 تَب تمام اِسرائیلؔ نَجات پایٔےگا۔ چنانچہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”نَجات دِہندہ صِیّونؔ سے آئے گا؛ اَور وہ بے دینی کو یعقوب سے دُور کرےگا۔
ROM 11:27 اَور اُن کے ساتھ میرا یہ عہد ہوگا جَب مَیں اُن کے گُناہ دُور کر دُوں گا۔“
ROM 11:28 انجیل کو قبُول نہ کرنے کی وجہ سے وہ تمہارے نزدیک خُدا کے دُشمن ٹھہرے لیکن برگُزیدہ قوم ہونے کے باعث اَور ہمارے آباؤاَجداد کی وجہ سے وہ خُدا کے عزیز ہیں۔
ROM 11:29 کیونکہ خُدا کی نِعمتیں اَور اُس کا اِنتخاب غیرمتبدل ہے۔
ROM 11:30 چنانچہ تُم غَیریہُودی بھی کبھی نافرمان تھے لیکن یہُودیوں کی نافرمانی کے سبب سے اَب تُم پر خُدا کا رحم ہُواہے۔
ROM 11:31 اِسی طرح اَب یہُودی نافرمانی کرتے ہیں تاکہ تُم پر رحم ہونے کے باعث اُن پر بھی رحم ہو۔
ROM 11:32 اِس لیٔے کہ خُدا نے سَب کو نافرمانی میں گِرفتار ہونے دیا تاکہ وہ سَب پر رحم فرمایٔے۔
ROM 11:33 واہ! خُدا کی نِعمت، خُدا کی حِکمت اَور اُس کا علم بےحد گہرا ہے! اُس کے فیصلے سمجھ سے کِس قدر باہر ہیں، اَور اُس کی راہیں بے نِشان ہیں!
ROM 11:34 ”کِس نے خُداوؔند کی عقل کو سمجھا؟ یا کون اُس کا مُشیر ہُوا؟“
ROM 11:35 ”کون ہے جِس نے خُدا کو کچھ دیا، کہ جِس کا بدلہ اُسے دیا جائے؟“
ROM 11:36 کیونکہ سَب چیزیں خُدا ہی کی طرف سے ہیں، اَور خُدا کے وسیلہ سے ہیں اَور خُدا ہی کے لیٔے ہیں۔ خُدا کی تمجید ہمیشہ تک ہوتی رہے! آمین۔
ROM 12:1 پس، اَے بھائیو اَور بہنوں! مَیں خُدا کی رحمتوں کا واسطہ دے کر تُم سے مِنّت کرتا ہُوں کہ اَپنے بَدن اَیسی قُربانی کی خدمت ہونے کے لیٔے پیش کرو جو زندہ ہے، پاک ہے اَور خُدا کو پسند ہے۔ یہی تمہاری مَعقُول عبادت ہے۔
ROM 12:2 اِس جہان کے ہم شکل نہ بنو بَلکہ خُدا کو موقع دو کہ وہ تمہاری عقل کو نیا بنا کر تُمہیں سراسر بدل ڈالے تاکہ تُم اَپنے تجربہ سے خُدا کی نیک، پسندِیدہ اَور کامِل مرضی کو مَعلُوم کر سکو۔
ROM 12:3 میں اُس فضل کی بِنا پرجو مُجھ پر ہُواہے تُم میں سے ہر ایک سے کہتا ہُوں کہ جَیسا سمجھنا مُناسب ہے کویٔی اَپنے آپ کو اُس سے زِیادہ نہ سمجھے بَلکہ جَیسا خُدا نے ہر ایک کو اَندازہ سے ایمان تقسیم کیا ہے اِعتِدال کے ساتھ اَپنے آپ کو وَیسا ہی سمجھے۔
ROM 12:4 جِس طرح ہمارے ایک بَدن میں بہت سے اَعضا ہیں اَور اُن تمام اَعضا کا کام یکساں نہیں۔
ROM 12:5 اُسی طرح ہم بھی جو بہت سے ہیں المسیح میں شامل ہوکر ایک بَدن ہیں اَور آپَس میں ایک دُوسرے کے اَعضا۔
ROM 12:6 اَور خُدا کا جو فضل ہم پر ہُواہے اُس کی وجہ سے ہمیں طرح طرح کی نِعمتیں مِلی ہیں۔ اِس لیٔے جسے نبُوّت مِلی ہو وہ ایمان کے اَندازہ کے مُطابق نبُوّت کرے۔
ROM 12:7 اگر خدمت مِلی ہو تو خدمت میں لگا رہے۔ اگر تعلیم دینے کی نِعمت مِلی ہے تو تعلیم دیتا رہے۔
ROM 12:8 اگر نصیحت کرنے کی نِعمت مِلی ہے، تو نصیحت کرتا رہے؛ اگر کسی کو حاجتمندوں کی ضروُرتیں پُوری کرنے کی نِعمت مِلی ہے، تو وہ فیّاضی سے کام لے، خُوش دِلی سے پیشوائی کرتا رہے؛ رحم کرنے والا، خُوشی سے رحم کرے۔
ROM 12:9 تمہاری مَحَبّت بے رِیا ہو، بدی سے نفرت رکھو، نیکی سے لپٹے رہو۔
ROM 12:10 باہمی مَحَبّت کے لیٔے خُود کو وقف کرو۔ عزّت کی رُو سے دُوسرے کو اَپنے سے بہتر سمجھو۔
ROM 12:11 کوشش میں سُستی نہ کرو۔ رُوحانی جوش سے بھرے رہو اَور خُداوؔند کی خدمت کرتے رہو۔
ROM 12:12 اُمّید میں خُوش، مُصیبت میں صَابر، دعا میں مشغُول رہو۔
ROM 12:13 مُقدّسین کی ضروُرتیں پُوری کرو، مُسافر پروَری میں لگے رہو۔
ROM 12:14 جو تُمہیں ستاتے ہیں اُن کے لیٔے برکت چاہو، لعنت نہ بھیجو۔
ROM 12:15 خُوشی کرنے والوں کے ساتھ خُوشی مناؤ۔ آنسُو بہانے والوں کے ساتھ آنسُو بہاؤ۔
ROM 12:16 آپَس میں یکدل رہو، مغروُر نہ بنو بَلکہ ادنیٰ لوگوں کے ساتھ میل جول بڑھانے پر راضی رہو۔ اَپنے آپ کو دُوسروں سے عقلمند نہ سمجھو۔
ROM 12:17 بُرائی کا جَواب بُرائی سے مت دو، وُہی کرنے کی سوچا کرو جو سَب کی نظر میں اَچھّا ہے۔
ROM 12:18 جہاں تک ممکن ہو ہر اِنسان کے ساتھ صُلح سے رہو۔
ROM 12:19 عزیزو! دُوسروں سے اِنتقام مت لو بَلکہ خُداوؔند کو موقع دو کہ وہ سزا دے کیونکہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”اِنتقام لینا میرا کام ہے؛ بدلہ میں ہی دُوں گا،“ خُداوؔند کا بھی یہ قول ہے۔
ROM 12:20 اِس کے برعکس: ”اگر تمہارا دُشمن بھُوکا ہو، تو اُسے کھانا کھِلاؤ؛ اگر پیاسا ہو، تو اُسے پانی پِلاؤ۔ کیونکہ اَیسا کرنے سے تُم اُس کے سَر پر دہکتے اَنگاروں کا ڈھیر لگاؤگے۔“
ROM 12:21 بدی سے مغلُوب نہ ہو، بَلکہ نیکی سے اُس پر فتح پاؤ۔
ROM 13:1 ہر شخص کا فرض ہے کہ حُکومت کے حُکمرانوں کے طابع رہے کیونکہ کویٔی حُکومت اَیسی نہیں جو خُدا کی طرف سے نہ ہو۔ جو حُکومتیں مَوجُود ہیں، خُدا ہی کی مُقرّر کی ہویٔی ہیں۔
ROM 13:2 لہٰذا جو کویٔی حُکومت کی مُخالفت کرتا ہے وہ خُدا کے قائِم کیٔے ہویٔے اِنتظام کی مُخالفت کرتا ہے، وہ سزا پایٔےگا۔
ROM 13:3 کیونکہ نیک کام کرنے والا حاکموں سے نہیں ڈرتا۔ لیکن بُرے کام کرنے والا ڈرتا ہے۔ اگر تُم حاکم سے بے خوف رہنا چاہتے ہو تو نیکی کیا کرو، تَب وہ تمہاری تعریف کرےگا۔
ROM 13:4 خُدا نے حاکم کو تمہاری بھلائی کے لیٔے خادِم مُقرّر کیا ہے۔ لیکن اگر تُم بدی کرنے لگو تو اِس بات سے ڈرو کہ حُکمران کے ہاتھ میں تلوار کسی مقصد کے لیٔے دی گئی ہے۔ وہ خُدا کا خادِم ہے اَور اُس کے قہر کے مُطابق ہر بدکار کو سزا دیتاہے۔
ROM 13:5 اِس لیٔے نہ محض خُدا کے قہر کی وجہ سے اِطاعت کرنا واجِب ہے بَلکہ ضمیر کے مُعاملے کے طور پر بھی اِطاعت کرنا لازمی ہے۔
ROM 13:6 تُم حاکموں کو محصُول بھی اَدا کرتے ہو کیونکہ وہ خُدا کے خادِم ہوتے ہویٔے اَپنا اِختیار کو اَدا کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔
ROM 13:7 ہر ایک کو اُس کا حق اَدا کرو: جسے محصُول دینا چاہئے، اُسے محصُول دو؛ جِس سے خوف کرنا چاہئے، اُس سے خوف کرو؛ اَور جِس کا اِحترام کرنا چاہئے، اُس کا اِحترام کرو۔
ROM 13:8 آپَس کی مَحَبّت کے سِوا کسی چیز کے قرضدار نہ رہو کیونکہ جو دُوسروں سے مَحَبّت رکھتا ہے وہ گویا شَریعت پر عَمل کرتا ہے۔
ROM 13:9 مطلب یہ ہے کہ یہ سَب اَحکام، ”تُم زنا نہ کرنا، تُم خُون نہ کرنا، تُم چوری نہ کرنا، تُم لالچ نہ کرنا،“ اَور اِن کے علاوہ اَور ایک حُکم جو باقی ہے اُن سَب کا خُلاصہ اِس ایک حُکم میں پایا جاتا ہے: ”اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا۔“
ROM 13:10 مَحَبّت اَپنے پڑوسی سے بدی نہیں کرتی اِس لیٔے مَحَبّت شَریعت کی تعمیل ہے۔
ROM 13:11 وقت کو پہچانو اَور اَیسا ہی کرو، اِس لیٔے کہ وہ گھڑی آ پہُنچی ہے کہ تُم نیند سے جاگو کیونکہ ہماری نَجات زِیادہ نزدیک ہے بہ نِسبت اُس وقت کے جَب ہم ایمان لایٔے تھے۔
ROM 13:12 رات تقریباً گزر چُکی ہے اَور دِن نکلنے کو ہے لہٰذا ہم تاریکی کے کاموں کو چھوڑکر رَوشنی کی ڈھال کے آلات سے لیس ہو جایٔیں۔
ROM 13:13 اَور دِن کی رَوشنی کے لائق شائِستگی سے زندگی گُزاریں جِس میں ناچ رنگ، نشہ بازی، جنسی بدفعلی، شہوت پرستی، لڑائی جھگڑے اَور حَسد وغیرہ نہ ہو۔
ROM 13:14 بَلکہ خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے ہو جاؤ اَور جِسمانی خواہشات کو پُورا کرنے کی فکر میں نہ لگے رہو۔
ROM 14:1 کمزور ایمان والے کو اَپنی رِفاقت میں شامل تو کر لو لیکن اُس کے شک و شُبہات کو بحث کا موضوع نہ بناؤ۔
ROM 14:2 ایک شخص کا اِعتقاد ہے کہ وہ ہر چیز کھا سَکتا ہے لیکن دُوسرا شخص جِس کا ایمان کمزور ہے، وہ صِرف سبزیاں ہی کھاتا ہے۔
ROM 14:3 جو ہر چیز کے کھانے کو روا سمجھتا ہے وہ پرہیز کرنے والے کو حقیر نہ سمجھے اَور پرہیز کرنے والا ہر چیز کے کھانے والے پر اِلزام نہ لگائے کیونکہ اُسے خُدا نے قبُول کر لیا ہے۔
ROM 14:4 تُم کون ہو جو کسی دُوسرے کے خادِم پر اِلزام لگاتے ہو؟ یہ تو مالک کا حق ہے کہ وہ خادِم کو قبُول کرے یا ردّ کر دے بَلکہ وہ قائِم کیا جائے گا کیونکہ خُداوؔند اُسے قائِم رکھنے پر قادر ہے۔
ROM 14:5 کویٔی شخص تو ایک دِن کو دُوسرے دِن سے بہتر سمجھتا ہے اَور کویٔی سَب دِنوں کو برابر مانتا ہے۔ ہر شخص کو اَپنے ضمیر کے مُطابق فیصلہ کرنا چاہئے۔
ROM 14:6 جو کسی دِن کو خاص سمجھ کر مانتا ہے وہ خُداوؔند کی خاطِر مانتا ہے۔ جو کسی چیز کو کھاتا ہے وہ بھی خُداوؔند کی خاطِر کھاتا ہے اِس لیٔے کہ خُدا کا شُکر بجا لاتا ہے اَورجو اُس سے پرہیز کرتا ہے وہ بھی خُداوؔند کی خاطِر پرہیز کرتا ہے کیونکہ وہ بھی خُدا کا شُکر بجا لاتا ہے۔
ROM 14:7 اصل میں ہم میں سے کویٔی بھی صِرف اَپنے واسطے نہیں جیتا اَور نہ ہی کویٔی صِرف اَپنے واسطے مرتا ہے۔
ROM 14:8 اگر ہم زندہ ہیں تو خُداوؔند کی خاطِر زندہ ہیں اَور اگر مَرتے ہیں تو خُداوؔند کی خاطِر مَرتے ہیں۔ چنانچہ خواہ ہم جئیں یا مَریں، ہم خُداوؔند ہی کے ہیں۔
ROM 14:9 کیونکہ المسیح اِسی لیٔے مَرے اَور زندہ ہُوئے کہ مُردوں اَور زندوں دونوں کا خُداوؔند ہوں۔
ROM 14:10 پھر تو اَپنے بھایٔی یا بہن پر کیوں اِلزام لگاتاہے اَور اُسے کِس لیٔے حقیر سمجھتا ہے؟ ہم تو سَب کے سَب خُدا کے تختِ عدالت کے سامنے حاضِر کیٔے جایٔیں گے۔
ROM 14:11 جَیسے کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ” ’خُداوؔند فرماتے ہیں، مُجھے اَپنی حیات کی قَسم، ہر ایک گھُٹنا میرے آگے ٹِکے گا؛ اَور ہر ایک زبان خُدا کا اقرار کرےگی۔‘ “
ROM 14:12 پس، ہم میں سے ہر ایک کو خُود اَپنا حِساب خُدا کو دینا ہوگا۔
ROM 14:13 چنانچہ آئندہ ہم ایک دُوسرے پر اِلزام نہ لگائیں بَلکہ دِل میں اِرادہ کر لیں کہ ہم اَپنے بھایٔی کے سامنے کویٔی اَیسی چیز نہ رکھیں گے جو اُس کے ٹھوکر کھانے یا گِرنے کا باعث ہو۔
ROM 14:14 مُجھے خُداوؔند یِسوعؔ میں پُورا یقین ہے کہ کویٔی چیز بذاتِ خُود حرام نہیں ہے بَلکہ جو اُسے حرام سمجھتا ہے اُس کے لیٔے حرام ہے۔
ROM 14:15 اگر تمہاری کسی چیز کے کھانے سے تمہارے بھایٔی کو رنج پہُنچتا ہے تو پھر تُم مَحَبّت کے اُصُول پر نہیں چلتے۔ جِس شخص کے لیٔے المسیح نے اَپنی جان قُربان کی تُم اُسے اَپنے کھانے سے ہلاک نہ کرو۔
ROM 14:16 اِس لیٔے اَپنی نیکی کی بدنامی نہ ہونے دو۔
ROM 14:17 کیونکہ خُدا کی بادشاہی کھانے پینے پر نہیں، بَلکہ راستبازی، اِطمینان اَور خُوشی پر موقُوف ہے جو پاک رُوح کی طرف سے ملتی ہے،
ROM 14:18 اَورجو کویٔی اِس طرح المسیح کی خدمت کرتا ہے اُسے خُدا بھی پسند کرتا ہے اَور وہ لوگوں میں بھی مقبُول ہوتاہے۔
ROM 14:19 آؤ ہم اِن باتوں کی جُستُجو میں رہیں جو اَمن اَور باہمی ترقّی کا باعث ہوتی ہیں۔
ROM 14:20 صِرف کسی شَے کے کھانے کی خاطِر خُدا کے کلام کو مت بِگاڑو۔ ہر چیز پاک تو ہے لیکن اگر تمہارے کسی چیز کے کھانے سے دُوسرے کو ٹھوکر لگتی ہے تو اُسے مت کھا۔
ROM 14:21 اگر تمہارے گوشت کھانے، مَے پینے یا کویٔی اَیسا کام کرنے سے تمہارے بھایٔی یا بہن کو ٹھوکر لگے تو بہتر یہی ہے کہ تُم اُن چیزوں سے پرہیز کرو۔
ROM 14:22 چنانچہ اِن باتوں کے متعلّق جو بھی تمہارا اِعتقاد ہے اُسے اَپنے اَور خُدا کے درمیان ہی رہنے دو۔ وہ شخص مُبارک ہے جو اُس چیز کے سبب سے جسے وہ جائز سمجھتا ہے اَپنے آپ کو مُلزم نہیں ٹھہراتا۔
ROM 14:23 لیکن جو کسی چیز کے بارے میں شک کرتا ہے اَور پھر بھی اُسے کھاتا ہے وہ اَپنے آپ کو مُجرم ٹھہراتا ہے۔ اِس لیٔے کہ وہ اِعتقاد سے نہیں کھاتا ہے اَورجو اِعتقاد سے نہیں، وہ گُناہ ہے۔
ROM 15:1 ہم جو ایمان میں پُختہ ہیں ہمارا فرض ہے کہ کمزور ایمان والوں کی کمزوریوں کی رعایت کریں نہ کہ اَپنی خُوشی کرتے رہیں۔
ROM 15:2 ہم میں سے ہر شخص اَپنے پڑوسی کا فائدہ اَور ایمان میں ترقّی کا لِحاظ رکھتے ہویٔے اُسے خُوش رکھے۔
ROM 15:3 کیونکہ المسیح نے بھی اَپنی خُوشی کا خیال نہ رکھا بَلکہ کِتاب مُقدّس میں یُوں لِکھّا ہے: ”تیرے لَعن طَعن کرنے والوں کے لَعن طَعن مُجھ پر آ پڑے۔“
ROM 15:4 کیونکہ جِتنی باتیں صحیفہ میں پہلے لکھی گئیں وہ ہماری تعلیم کے لیٔے لکھی گئیں تاکہ صبر سے اَور کِتاب مُقدّس کی تسلّی سے ہماری اُمّید قائِم رہے۔
ROM 15:5 اَب صبر اَور تسلّی دینے والا خُدا تُمہیں خُداوؔند المسیح یِسوعؔ کے مِعیار کے مُطابق آپَس میں یکدل ہوکر رہنے کی تَوفیق بخشے،
ROM 15:6 تاکہ تُم سَب مِل کر اَور ایک زبان ہوکر ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے باپ یعنی خُدا کی تمجید کرتے رہو۔
ROM 15:7 جِس طرح المسیح نے خُدا کے جلال کے لیٔے تُمہیں قبُول کر لیا ہے، اِسی طرح تُم بھی ایک دُوسرے کو قبُول کرو۔
ROM 15:8 میرا کہنا یہ ہے کہ المسیح مختون یہُودیوں کا خادِم بنے تاکہ جو وعدے خُدا نے ہمارے آباؤاَجداد سے کیٔے تھے اُنہیں پُورا کرکے خُدا کو سچّا ثابت کریں۔
ROM 15:9 اَور غَیریہُودی بھی اُن کی رحمت کی وجہ خُدا کی تمجید کریں جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”اِس لیٔے مَیں غَیریہُودیوں میں تیری حَمد کروں گا؛ اَور تیرے نام کے نغمہ گاؤں گا۔“
ROM 15:10 اَور پھر یہ کہا گیا ہے کہ ”اَے غَیریہُودیوں! اُس خُدا کی اُمّت کے ساتھ خُوشی مناؤ۔“
ROM 15:11 اَور یہ بھی، ”اَے تمام غَیریہُودیوں! خُداوؔند کی حَمد کرو، اَور اَے سَب اُمّتوں! اُن کی سِتائش کرو۔“
ROM 15:12 اَور یَشعیاہ نبی بھی فرماتے ہیں، ”یِشائی کی جڑ پھوٹ نکلے گی، یعنی ایک شخص غَیریہُودیوں پر حُکومت کرنے کو اُٹھے گا؛ تمام غَیریہُودیوں کی اُمّید اُسی پر قائِم رہے گی۔“
ROM 15:13 کیونکہ تُم ایمان رکھتے ہو اِس لیٔے خُدا جو اُمّید کا سرچشمہ ہے تُمہیں پُورے طور پر خُوشی اَور اِطمینان سے معموُر کر دے تاکہ پاک رُوح کی قُدرت سے تمہاری اُمّید بڑھتی چلی جائے۔
ROM 15:14 اَے بھائیو اَور بہنوں! مُجھے تمہارے بارے میں یقین ہے کہ تُم خُود بھی نیکی سے معموُر ہو اَور علم بھی بہت زِیادہ رکھتے ہو اَور ایک دُوسرے کو نصیحت کرنے کے قابل بھی ہو۔
ROM 15:15 تو بھی مَیں نے بعض باتیں بڑی دِلیری کے ساتھ تُمہیں لکھی ہیں تاکہ تُم اُنہیں یاد رکھ سکو، یہ اِس لیٔے کہ خُدا نے مُجھ پر فضل کیا ہے
ROM 15:16 کہ میں غَیریہُودیوں میں المسیح یِسوعؔ کا خادِم بنُوں۔ اَور کاہِنؔ کے طور پر خُدا کی خُوشخبری سُناتا رہُوں، تاکہ غَیریہُودی پاک رُوح سے مُقدّس ہوکر اَیسی نذر بَن جایٔیں جو خُدا کی حُضُوری میں مقبُول ٹھہرے۔
ROM 15:17 چنانچہ میں خُدا کی اِس خدمت پر فخر کرتا ہُوں جسے میں المسیح یِسوعؔ میں اَنجام دے رہا ہُوں۔
ROM 15:18 مُجھے کسی اَور کام کے ذِکر کرنے کی جُرأت نہیں سِوائے اِن کاموں کے جو المسیح نے میرے ذریعہ کیٔے ہیں تاکہ میں غَیریہُودیوں کو خُدا کے تابع کر دُوں۔ المسیح نے نہ صِرف کام اَور کلام کے وسیلہ سے مُجھ سے یہ کرایا ہے بَلکہ
ROM 15:19 نِشانات اَور عجائبات کی قُوّت یعنی خُدا کی رُوح کی قُدرت کے وسیلہ سے بھی مدد کی ہے۔ اِس لیٔے مَیں نے یروشلیمؔ شہر سے لے کر چاروں طرف صُوبہ اِلِّرِکُم تک المسیح کی انجیل کی مُنادی جُرأت کے ساتھ کی ہے۔
ROM 15:20 میرے سامنے صِرف ایک ہی مقصد تھا کہ جہاں المسیح کا نام نہیں جانا گیا وہاں خُوشخبری سُناؤں کیونکہ مَیں کسی دُوسرے کی ڈالی ہویٔی بُنیاد پر عمارت نہیں اُٹھانا چاہتا تھا۔
ROM 15:21 بَلکہ چاہتا تھا کہ جَیسا کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”وَیسا ہی ہو، جنہیں اُس کی خبر تک نہیں پہُنچی وہ دیکھیں گے، اَور جنہوں نے سُنا تک نہیں وہ سمجھیں گے۔“
ROM 15:22 مَیں تمہارے پاس آنا چاہتا تھا لیکن اکثر کویٔی نہ کویٔی رُکاوٹ پیش آتی رہی۔
ROM 15:23 لیکن چونکہ اَب اِن علاقوں میں میری ضروُرت نہیں رہی اَور مَیں کیٔی بَرس سے تمہارے پاس آنے کا مُشتاق بھی ہُوں،
ROM 15:24 اِس لیٔے مُجھے اُمّید ہے کہ مُلک اِسپینؔ جاتے وقت تمہارے پاس ہوتا ہُوا جاؤں گا۔ جَب تُم سے دِل بھر کر مُلاقات کرلُوں گا تو مُجھے اُمّید ہے کہ تُم آگے جانے میں میری مدد کروگے۔
ROM 15:25 ابھی، فی الحال تو، میں خُداوؔند کے مُقدّسین کی خدمت کرنے کے لیٔے یروشلیمؔ جا رہا ہُوں
ROM 15:26 کیونکہ مَکِدُنیہؔ اَور صُوبہ اَخیہؔ کے مسیحی مُومِنین یروشلیمؔ کے غریب مُقدّسین کے لیٔے عَطیّہ بھیجنا چاہتے ہیں۔
ROM 15:27 یہ کام اُنہُوں نے کیا تو رضامندی سے ہے لیکن یہ اُن کا فرض بھی ہے کیونکہ جَب غَیریہُودی مسیحی مُومِنین نے یہُودی مسیحی مُومِنین کی رُوحانی برکتوں سے فائدہ اُٹھایا ہے تو لازِم ہے کہ وہ بھی اَپنی جِسمانی نِعمتوں سے اُن کی خدمت کریں۔
ROM 15:28 لہٰذا میں اِس خدمت کو اَنجام دے کر یعنی پُوری رقم اُن تک پہُنچا کر اِسپینؔ کے لیٔے روانہ ہو جاؤں گا اَور راہ میں ہی تُم سے مُلاقات کروں گا۔
ROM 15:29 میں جانتا ہُوں کہ جَب تمہارے پاس آؤں گا تو المسیح کی ساری برکتیں لے کر آؤں گا۔
ROM 15:30 اَے بھائیو اَور بہنوں! میں تُمہیں خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا، واسطہ دے کر اَور پاک رُوح کی مَحَبّت یاد دِلا کر تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں کہ میرے ساتھ مِل کر خُدا سے میرے لیٔے دعا کرنے میں سرگرم رہو۔
ROM 15:31 کہ میں یہُودیؔہ کے علاقہ کے اُن بےاِعتقادوں سے بچا رہُوں جو المسیح کے نافرمان ہیں اَور میری یروشلیمؔ میں اَنجام دی جانے والی خدمت وہاں کے مُقدّسین کو پسند آئے
ROM 15:32 اَور خُدا کی مرضی سے تمہارے پاس آکر خُوشی سے تازہ دَم ہو سکوں۔
ROM 15:33 خُدا جو سلامتی کا سَر چشمہ ہے، تُم سَب کے ساتھ ہو۔ آمین۔
ROM 16:1 میں تُم سے فیبےؔ کی سِفارش کرتا ہُوں۔ وہ المسیح میں ہماری بہن ہے۔ اَور کِنخِریہؔ شہر کی جماعت کی دیانتدار خادِمہ ہے۔
ROM 16:2 اُسے خُداوؔند میں قبُول کرو جَیسا کہ مسیحی مُومِنین کو کرنا چاہئے۔ اُس نے میری اَور بہت سے لوگوں کی مدد کی ہے۔ لہٰذا جِس کام میں وہ تمہاری مدد کی مُحتاج ہو، اُس کی مدد کرو۔
ROM 16:3 پرسکِلّہؔ اَور اَکوِلہؔ سے میرا سلام کہو۔ وہ المسیح یِسوعؔ میں میرے ہم خدمت رہے ہیں۔
ROM 16:4 بَلکہ اُنہُوں نے مُجھے بچانے کے لیٔے اَپنی جان خطرہ میں ڈال دی تھی۔ صِرف میں ہی نہیں بَلکہ غَیریہُودیوں کی تمام جماعتیں بھی اُن کی شُکرگزار ہیں۔
ROM 16:5 اُن کے گھر کی جماعت سے بھی میرا سلام کہو۔ میرے عزیز اِپینتُسؔ سے سلام کہو۔ وہ صُوبہ آسیہؔ کا سَب سے پہلا شخص ہے جو المسیح پر ایمان لایا۔
ROM 16:6 مریمؔ سے سلام کہو جِس نے تمہاری خاطِر بےحد محنت کی ہے۔
ROM 16:7 اندرُنیکُسؔ اَور یُونِیاسؔ سے سلام کہو۔ وہ میرے رشتہ دار ہیں اَور میرے ساتھ قَید میں بھی رہے تھے۔ وہ رسولوں میں مشہُور ہیں اَور مُجھ سے پہلے المسیح پر ایمان لا چُکے تھے۔
ROM 16:8 اَمپلیاطُسؔ سے جو خُداوؔند میں میرا عزیز ہے، سلام کہو۔
ROM 16:9 اُربانُسؔ سے جو المسیح کی خدمت کرنے میں میرا ساتھی ہے اَور میرے عزیز اِستُخس سے سلام کہو۔
ROM 16:10 اَپلّیِسؔ سے سلام کہو جو المسیح کا وفادار خادِم ہے۔ اَرِستُبُولُسؔ کے گھر والوں سے سلام کہو۔
ROM 16:11 میرے رشتہ دار ہیرودیوں سے سلام کہو۔ نرکِسُّسؔ کے گھر والوں میں سے اُنہیں جو خُداوؔند میں ہیں، سلام کہو۔
ROM 16:12 ترُوفَینہؔ اَور ترُوفَوسہؔ سے سلام کہو جو خُداوؔند کی خدمت میں بہت محنت کرتی ہیں۔ عزیزہ پرسِسؔ سے سلام کہو جِس نے خُداوؔند کی خاطِر بہت محنت کی ہے۔
ROM 16:13 رُوفُسؔ جو خُداوؔند کا برگُزیدہ ہے اَور اُس کی ماں جو میری بھی ماں ہے، دونوں سے سلام کہو۔
ROM 16:14 اَسُنکرتُسؔ اَور فلیگونؔ اَور ہرمیسؔ اَور پتُرباسؔ اَور ہِرماسؔ اَور اُن بھائیوں اَور بہنوں سے جو اُن کے ساتھ ہیں سلام کہو۔
ROM 16:15 فِللُگُسؔ، یُولیؔہ، نِریُوسؔ اَور اُس کی بہن اَور اُلُمپاسؔ اَور سَب مُقدّسین سے جو اُن کے ساتھ ہیں، سلام کہو۔
ROM 16:16 آپَس میں پاک بوسہ لے کر ایک دُوسرے کو میرا سلام کہنا۔ المسیح کی سَب جماعتیں تُمہیں سلام کہتی ہیں۔
ROM 16:17 پس اَے بھائیو اَور بہنوں! میں تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں کہ جو لوگ اُس تعلیم کی راہ میں جو تُم نے پائی ہے روڑے اَٹکاتے اَور لوگوں میں پھوٹ ڈالتے ہیں، اُن سے ہوشیار رہو اَور اُن سے دُور ہی رہو۔
ROM 16:18 کیونکہ اَیسے لوگ ہمارے خُداوؔند المسیح کی نہیں بَلکہ اَپنے پیٹ کی خدمت کرتے ہیں اَور چِکنی چُپڑی باتوں اَور خُوشامد سے سادہ دِلوں کو بہکاتے ہیں۔
ROM 16:19 چونکہ تمہاری فرمانبرداری سَب لوگوں میں مشہُور ہے اِس لیٔے میں تُم سے بہت خُوش ہُوں۔ لیکن مَیں چاہتا ہُوں کہ تُم نیکی کے اِعتبار سے عقلمند اَور بدی کے اِعتبار سے معصُوم بنے رہو۔
ROM 16:20 خُدا جو اِطمینان کا چشمہ ہے شیطان کو تمہارے پاؤں سے جلد کُچلوا دے گا۔ ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا فضل تمہارے ساتھ ہو!
ROM 16:21 میرا ہم خدمت تِیمُتھِیُس اَور میرے رشتہ دار لُوکِیُسؔ، یاسونؔ اَور سوسِپطرُسؔ تُمہیں سلام کہتے ہیں۔
ROM 16:22 اِس خط کا کاتب تِرتیُسؔ تُمہیں خُداوؔند میں سلام کہتاہے۔
ROM 16:23 گیُسؔ جو میرا اَور ساری جماعت کا مہمان نواز ہے تُم سے سلام کہتاہے۔ اِراستُسؔ جو شہر کا خازِن ہے اَور بھایٔی کوارتُس تُمہیں سلام کہتے ہیں۔
ROM 16:24 ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا فضل تُم سَب کے ساتھ ہو۔ آمین۔
ROM 16:25 اَور اَب خُدا کی جو اِس بات پر قادر ہے کہ تُمہیں تمہارے مسیحی ایمان میں مضبُوط کرے، اُس ایمان میں جو یِسوعؔ المسیح کی انجیل کے مُطابق ہے اَور جِس کی میں مُنادی کرتا ہُوں وہ ایک اَیسا راز ہے جو اَزل سے پوشیدہ رہا۔
ROM 16:26 لیکن اَب اَزلی خُدا کے حُکم کے مُطابق اَور نبیوں کے نوشتوں کے ذریعہ تمام غَیریہُودی قوموں کو بتا دیا گیا ہے تاکہ وہ ایمان لائیں اَور خُدا کے فرمانبردار بنیں۔
ROM 16:27 اُسی واحد اَور حکیِم خُدا کی یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ تک تمجید ہوتی رہے! آمین۔
1CO 1:1 پَولُسؔ کی طرف سے جو خُدا کی مرضی سے المسیح یِسوعؔ کا رسول ہونے کے لیٔے بُلائے گیٔے ہیں، اَور بھایٔی سوستھِنیسؔ کی طرف سے،
1CO 1:2 خُدا کی اُس جماعت کے نام جو کُرِنتھُسؔ شہر میں ہے، یعنی اُن کے نام جو المسیح یِسوعؔ میں پاک کیٔے گیٔے اَور مُقدّس ہونے کے لیٔے بُلائے گیٔے ہَیں، اُن سَب کے نام جو ہر جگہ ہمارے اَور اَپنے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا نام لیتے ہیں:
1CO 1:3 ہمارے خُدا باپ اَور خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی طرف سے تُمہیں فضل اَور اِطمینان حاصل ہوتا رہے۔
1CO 1:4 مَیں تمہارے لیٔے ہمیشہ اَپنے خُدا کا شُکر اَدا کرتا ہُوں کیونکہ خُدا نے المسیح یِسوعؔ کے وسیلہ سے تُم پر فضل کیا ہے۔
1CO 1:5 اَور خُداوؔند یِسوعؔ المسیح میں تُم لوگ ہر لِحاظ سے مالا مال ہویٔے یعنی تُم علم والے ہو اَور کلام کرنے میں بھی ماہر ہو،
1CO 1:6 اَور خُداوؔند المسیح کے بارے میں ہماری گواہی تُم لوگوں میں خُوب قائِم ہو چُکی ہے۔
1CO 1:7 اِس لیٔے تُم کسی رُوحانی نِعمت سے محروم نہیں ہو کیونکہ اَب تُم ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے ظہُور کے نہایت ہی مُنتظر ہو۔
1CO 1:8 وُہی تُمہیں آخِر تک مضبُوطی سے قائِم رکھیں گے تاکہ تُم ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے ظاہر ہونے کے دِن تک بے اِلزام ٹھہرو۔
1CO 1:9 خُدا قابلِ اِعتماد ہے، جِس نے تُمہیں اَپنے بیٹے، ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی رِفاقت کے لیٔے بُلایا ہے۔
1CO 1:10 اَے بھائیو اَور بہنوں! ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے نام سے تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں کہ تُم ایک دُوسرے سے مُطابقت رکھو تاکہ تُم میں تِفرقے پیدا نہ ہوں اَور تُم سَب ایک دِل اَور ایک رائے ہوکر مُکمّل طور پر مُتّحد رہو۔
1CO 1:11 اَے میرے بھائیو اَور بہنوں! خلوئےؔ کے گھر والوں میں سے چند لوگوں نے مُجھے اِطّلاع دی ہے کہ تُم میں جھگڑے ہوتے ہیں۔
1CO 1:12 مطلب یہ ہے: ”تُم میں کویٔی تو اَپنے آپ کو پَولُسؔ کا،“ پیروکار کہتاہے، کویٔی، ”اپُلّوسؔ کا،“ کویٔی، ”کیفؔا کا،“ اَور کویٔی، ”المسیح کا پیروکار۔“
1CO 1:13 کیا المسیح کو تقسیم کر دیا گیا؟ کیاپَولُسؔ تمہاری خاطِر مصلُوب ہُوا تھا؟ کیا تُم نے پَولُسؔ کے نام پر پاک غُسل لیا تھا؟
1CO 1:14 مَیں خُدا کا شُکر اَدا کرتا ہُوں کہ کرِسپُسؔ اَور گیُسؔ کے سِوا مَیں نے کسی کو پاک غُسل نہیں دیا۔
1CO 1:15 تاکہ کویٔی یہ نہ کہہ سکے کہ تُم نے میرے نام پر پاک غُسل لیا۔
1CO 1:16 (ہاں، اِستِفناسؔ کے خاندان کو بھی مَیں نے پاک غُسل دیا؛ اگر، کسی اَور کو پاک غُسل دیا ہو تو مُجھے یاد نہیں۔)
1CO 1:17 کیونکہ المسیح نے مُجھے پاک غُسل دینے کے لیٔے نہیں، بَلکہ خُوشخبری سُنانے کے لیٔے بھیجا ہے۔ وہ بھی اِنسانی حِکمت کے کلام سے نہیں تاکہ المسیح کی صلیبی موت بے تاثیر نہ ہو۔
1CO 1:18 ہلاک ہونے والوں کے لیٔے تو صلیب کا پیغام ہے لیکن ہم نَجات پانے والوں کے لیٔے خُدا کی قُدرت ہے۔
1CO 1:19 کیونکہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”میں دانشمندوں کی دانش کو نِیست کر ڈالُوں گا؛ اَور عقلمندوں کی عقل کو باطِل کر دُوں گا۔“
1CO 1:20 کہاں کا دانشمند؟ کہاں کا فقیہ؟ کہاں کا اُس دَور کا بحث کرنے والا؟ کیا خُدا نے دُنیا کی حِکمت کو بےوقُوفی نہیں ٹھہرایا؟
1CO 1:21 کیونکہ جَب دُنیا والے خُدا کی حِکمت کے مُطابق اَپنی دانش سے خُدا کو نہ جان سکے تو خُدا کو پسند آیا کہ ایمان لانے والوں کو اِس مُنادی کی بےوقُوفی کے وسیلہ نَجات بخشے۔
1CO 1:22 یہُودی معجزوں کے طالب ہیں اَور یُونانی حِکمت کی تلاش میں ہیں
1CO 1:23 مگر ہم اُس المسیح مصلُوب کی مُنادی کرتے ہیں: جو یہُودیوں کے نزدیک ٹھوکر کا باعث اَور غَیریہُودیوں کے نزدیک بےوقُوفی ہے۔
1CO 1:24 لیکن خُدا کے بُلائے ہویٔے لوگوں کے لیٔے خواہ وہ یہُودی ہوں یا غَیریہُودی، المسیح خُدا کی قُدرت اَور خُدا کی حِکمت ہیں۔
1CO 1:25 کیونکہ جسے لوگ خُدا کی بےوقُوفی سمجھتے ہیں وہ آدمیوں کی حِکمت سے زِیادہ حِکمت والی ہے اَور جسے لوگ خُدا کی کمزوری سمجھتے ہیں وہ آدمیوں کی طاقت سے زِیادہ زورآور ہے۔
1CO 1:26 اَے بھائیو اَور بہنوں! غور کرو کہ جَب تُم بُلائے گیٔے تھے۔ تَب تُم کیا تھے۔ تُم میں سے بہت سے نہ تو جِسمانی لِحاظ سے دانِشور؛ بارسوخ تھے؛ اَور نہ ہی نیک۔
1CO 1:27 لیکن خُدا نے اُنہیں، جو دُنیا کی نظروں میں احمق ہیں، چُن لیا تاکہ عالِموں کو شرمندہ کرے اَور اُنہیں جو دُنیا کی نظر میں کمزور ہیں، چُن لیا تاکہ زور آوروں کو شرمندہ کرے۔
1CO 1:28 خُدا نے اِس جہاں کے کمینوں، حقیروں بَلکہ بےوُجُودوں کو چُن لیا کہ مَوجُودوں کو نِیست کرے۔
1CO 1:29 تاکہ کویٔی بھی بشر خُدا کے سامنے فخر نہ کر سکے۔
1CO 1:30 لیکن تُم خُدا کی طرف سے المسیح یِسوعؔ میں ہو جسے خُدا نے ہمارے لیٔے حِکمت، راستبازی، پاکیزگی اَور مخلصی ٹھہرایا۔
1CO 1:31 تاکہ جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”اگر کویٔی فخر کرنا چاہے تو وہ خُداوؔند پر فخر کرے۔“
1CO 2:1 اَے بھائیو اَور بہنوں! جَب مَیں تمہارے پاس آیاتھا تو میرا مقصد یہ نہ تھا کہ خُدا کے بھید کی گواہی دینے میں اعلیٰ درجہ کی خِطابت اَور حِکمت سے کام لُوں۔
1CO 2:2 کیونکہ مَیں نے فیصلہ کیا ہُوا تھا کہ جَب تک تمہارے درمیان رہُوں گا خُداوؔند یِسوعؔ المسیح مصلُوب کی مُنادی کے سِوا کسی اَور بات پر زور نہ دُوں گا۔
1CO 2:3 جَب مَیں تمہارے پاس آیا تو اَپنے آپ کو کمزور محسُوس کرتا بَلکہ ڈر کے مارے کانپتا ہُوا آیا۔
1CO 2:4 میرا پیغام اَور میری مُنادی دونوں دانائی کے پُر اثر الفاظ سے خالی تھے لیکن اُن سے پاک رُوح کی قُوّت ثابت ہوتی تھی۔
1CO 2:5 تاکہ تمہارا ایمان اِنسانی حِکمت پر نہیں بَلکہ خُدا کی قُدرت پر مَبنی ہو۔
1CO 2:6 پھر بھی ہم اُن سے جو رُوحانی طور پر بالغ ہیں حِکمت کی باتیں کہتے ہیں۔ لیکن وہ اِس جہان کی حِکمت نہیں ہے اَور نہ ہی اِس جہان کے حُکمران کا جو نِیست ہوتے جا رہے ہیں۔
1CO 2:7 بَلکہ ہم خُدا کی حِکمت کے اُس راز کو ظاہر کرتے ہیں، جو پوشیدہ رکھا گیا تھا اَور جسے خُدا نے دُنیا کے آغاز سے پہلے ہی ہمارے جلال کے واسطے مُقرّر کر دیا تھا۔
1CO 2:8 اِس جہان کے حُکمرانوں میں سے کسی نے بھی اِس حِکمت کو نہ جانا۔ اگر جان لیتے تو جلالی خُداوؔند کو مصلُوب نہ کرتے۔
1CO 2:9 مگر کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سُنا، نہ کسی اِنسان کے دِل میں آیا،“ اُسے خُدا نے اُن کے لیٔے تیّار کیا ہے جو اُس سے مَحَبّت رکھتے ہیں۔
1CO 2:10 لیکن ہم پر اَپنے پاک رُوح کے وسیلہ سے ظاہر کیا، کیونکہ پاک رُوح سَب باتیں، یہاں تک کہ خُدا کی گہری باتوں کو بھی آزماتا ہے۔
1CO 2:11 کون شخص کسی دُوسرے کے دِل کی باتیں جان سَکتا ہے سِوائے اُس کی اَپنی رُوح کے جو اُس کے اَندر ہے؟ اِسی طرح خُدا کے پاک رُوح کے سِوا کویٔی دِل کی باتیں نہیں جان سَکتا۔
1CO 2:12 ہم نے اِس دُنیا کی رُوح نہیں پائی، بَلکہ خُدا کا پاک رُوح پایا ہے، تاکہ ہم اُن نِعمتوں کو سمجھ سکیں جو ہمیں خُدا کی طرف سے بخشی گئی ہیں۔
1CO 2:13 ہم یہ باتیں اُن الفاظ میں بَیان نہیں کرتے، جو اِنسانی حِکمت کے سِکھائے ہویٔے ہوں بَلکہ پاک رُوح کے سِکھائے ہویٔے الفاظ بَیان کرتے ہیں، گویا رُوحانی باتوں کے لیٔے رُوحانی الفاظ اِستعمال کرتے ہیں۔
1CO 2:14 جِس میں خُدا کا پاک رُوح نہیں وہ خُدا کی باتیں قبُول نہیں کرتا کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بےوقُوفی کی نَفسانی باتیں ہیں، اَور نہ ہی اُنہیں سمجھ سَکتا ہے کیونکہ وہ صِرف پاک رُوح کے ذریعہ سَمجھی جا سکتی ہیں۔
1CO 2:15 لیکن جِس میں خُدا کا پاک رُوح ہے وہ سَب کچھ پرکھ لیتا ہے، مگر وہ خُود پرکھا نہیں جاتا،
1CO 2:16 کیونکہ جَیسا کہ صحیفہ میں لِکھّا ہے، ”کِس نے خُداوؔند کی عقل کو سمجھا کہ اُنہیں تعلیم دے سکے؟“ لیکن ہم میں المسیح کی عقل ہے۔
1CO 3:1 اَے بھائیو اَور بہنوں! میں تُم سے اِس طرح باتیں نہ کر سَکا جِس طرح رُوحانی لوگوں سے کی جاتی ہیں بَلکہ مَیں نے تُم سے اِس طرح باتیں کیں گویا تُم جِسمانی ہو اَور ابھی المسیح میں بچّے ہو۔
1CO 3:2 مَیں نے تُمہیں دُودھ پِلایا، کھانا نہیں کھِلایا، کیونکہ تُم اُسے ہضم کرنے کے قابل نہ تھے بَلکہ اَب بھی اِس قابل نہیں ہو۔
1CO 3:3 تُم ابھی تک دُنیاداروں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہو کیونکہ تُم حَسد کرتے ہو اَور آپَس میں جھگڑتے ہو۔ کیا تُم دُنیادار نہیں؟ کیا تُم دُنیوی طریق پر نہیں چل رہے ہو؟
1CO 3:4 کیونکہ جَب تُم میں سے ایک کہتاہے، ”میں پَولُسؔ کا پیروکار ہُوں“ اَور دُوسرا کہتاہے، ”میں اپُلّوسؔ کا ہُوں،“ تو کیا تُم عام اِنسانوں کی طرح نہ ہویٔے؟
1CO 3:5 آخِر اپُلّوسؔ کیا ہے؟ اَور پَولُسؔ کیا ہے؟ یہ محض خادِم ہیں جِن کے ذریعہ تُم ایمان لایٔے ہو۔ خُداوؔند نے ہر ایک کو اُس کی لیاقت کے مُطابق کویٔی نہ کویٔی کام عطا کیا ہے۔
1CO 3:6 مَیں نے بیج بویا، اپُلّوسؔ نے پَودے کو پانی سے سیِنچا۔ مگر یہ خُدا ہی ہے جِس نے اُسے بڑھایا۔
1CO 3:7 اِس لیٔے نہ لگانے والا کچھ ہے نہ سینچنے والا۔ مگر خُدا ہی سَب کچھ ہے، جو اُسے بڑھانے والا ہے۔
1CO 3:8 لگانے والا اَور سینچنے والا دونوں ایک ہی مقصد رکھتے ہیں اَور ہر ایک اَپنی محنت کے مُوافق اجر پایٔےگا۔
1CO 3:9 کیونکہ ہم خُدا کے ساتھ کام کرنے والے ہم خدمت ہیں۔ تُم خُدا کی کھیتی ہو، تُم خُدا کی عمارت ہو۔
1CO 3:10 خُدا کے فضل سے مَیں نے ایک ماہر مِعمار کی طرح بُنیاد رکھی ہے اَور کویٔی دُوسرا اُس پر عمارت کھڑی کر رہاہے۔ لیکن ہر ایک کو خبردار رہنا چاہیے کہ وہ کیسی عمارت اُٹھاتا ہے۔
1CO 3:11 یِسوعؔ المسیح وہ بُنیاد ہیں جو پہلے سے رکھی جا چُکی ہے۔ اَب کویٔی شخص دُوسری بُنیاد نہیں رکھ سَکتا۔
1CO 3:12 اگر کویٔی اِس بُنیاد پر عمارت اُٹھاتے وقت سونے، چاندی، قیمتی پتھّروں، لکڑی، گھاس پھُوس یا بھُوسے کو اِستعمال میں لایٔے،
1CO 3:13 تو اِنصاف کے دِن اُس کا کام صَاف ظاہر ہو جائے گا۔ کیونکہ وہ دِن آگ کے ساتھ آئے گا، اَور آگ اَپنے آپ ہر ایک کا کام آزما لے گی کہ کیسا ہے۔
1CO 3:14 اِس بُنیاد پر جِس کسی بنانے والے کا کام آگ سے سلامت رہے گا وہ اجر پایٔےگا
1CO 3:15 اَور جِس کا کام جَل جائے گا وہ نُقصان تو اُٹھائے گا مگر وہ خُود بچ نکلے گا، پھر بھی وہ جلتے جلتے بھی بچ جائے گا وَیسا ہوگا۔
1CO 3:16 کیا تُم نہیں جانتے کہ تُم خُدا کا مَقدِس ہو اَور خُدا کا پاک رُوح تُم میں بسا ہُواہے؟
1CO 3:17 اگر کویٔی خُدا کے مَقدِس کو برباد کرے تو خُدا اُسے برباد کر دے گا۔ کیونکہ خُدا کا مَقدِس پاک ہے اَور وہ مَقدِس تُم ہو۔
1CO 3:18 اَپنے آپ کو فریب مت دو۔ اگر تُم میں سے کویٔی اَپنے آپ کو اِس جہان میں حکیِم سمجھتا ہے تو وہ احمق بنے تاکہ سچ مُچ حکیِم بَن سکے۔
1CO 3:19 کیونکہ دُنیا جسے حِکمت سمجھتی ہے وہ خُدا کی نظر میں حماقت ہے۔ چنانچہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”وہ داناؤں کو اُن ہی کی چالاکی میں پھنسا دیتاہے“؛
1CO 3:20 اَور یہ بھی کہ، ”خُداوؔند جانتا ہے کہ داناؤں کے خیالات باطِل ہوتے ہیں۔“
1CO 3:21 لہٰذا کسی کو کسی اِنسان پر فخر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ سَب کچھ تمہارا ہے،
1CO 3:22 چاہے وہ پَولُسؔ ہو، اپُلّوسؔ ہو، کیفؔا ہو، دُنیا ہو، زندگی ہو، موت ہو، حال ہو یا مُستقبِل ہو، سَب کچھ تمہارا ہے،
1CO 3:23 تُم المسیح کے ہو، اَور المسیح خُدا کے ہیں۔
1CO 4:1 تُم ہمیں المسیح کے اَیسے خادِم سمجھو جنہیں خُدا کے پوشیدہ راز بخشے گیٔے ہیں۔
1CO 4:2 یہ ضروُری ہے کہ خزانچی اِختیار پانے والے وفادار ہوں۔
1CO 4:3 مُجھے اِس بات کی زِیادہ پروا نہیں کہ تُم یا کویٔی اِنسانی عدالت مُجھے پرکھے بَلکہ میں تو خُود بھی اَپنے آپ کو نہیں پرکھتا۔
1CO 4:4 میرا ضمیر مُجھے ملامت نہیں کرتا لیکن اِس سے میں بے قُصُور ثابت نہیں ہوتا۔ میرا پرکھنے والا بھی کویٔی ہے اَور وہ خُداوؔند ہے۔
1CO 4:5 اِس لیٔے جَب تک خُداوؔند واپس نہ آئیں، تُم وقت سے پہلے کسی بات کا فیصلہ نہ کرو۔ جو باتیں تاریکی میں پوشیدہ ہیں وہ اُنہیں رَوشنی میں لے آئیں گے اَور لوگوں کے دِلی منصُوبے ظاہر کر دیں گے۔ اُس وقت خُدا کی طرف سے ہر ایک کی تعریف کی جائے گی۔
1CO 4:6 اَب، اَے بھائیو اَور بہنوں! مَیں نے تمہاری خاطِر اِن باتوں کے ذریعہ اَپنا اَور اپُلّوسؔ کا حال مثال کے طور پر پیش کیا ہے تاکہ ہماری مثال سے تُمہیں مَعلُوم ہو جائے، ”لکھے ہویٔے سے تجاوُز نہ کرو۔“ تَب تُم ایک کے مُقابلے میں دُوسرے پر زِیادہ فخر نہ کروگے۔
1CO 4:7 آخِر کون ہے جو تُم میں اَور کسی دُوسرے میں فرق کرتا ہے؟ تمہارے پاس کیا ہے جو تُم نے کسی دُوسرے سے نہیں پایا؟ اَور جَب تُم نے پایا ہے تو پھر فخر کیسا؟ کیا وہ کسی کا دیا ہُوا نہیں؟
1CO 4:8 تُم تو پہلے ہی سے آسُودہ حال ہو، پہلے ہی سے دولتمند ہو اَور ہمارے بغیر بادشاہی بھی کرنے لگے ہو۔ کاش تُم واقعی بادشاہی کرتے تاکہ ہم بھی تمہارے ساتھ بادشاہی کر سکتے!
1CO 4:9 مُجھے تو اَیسا لگتا ہے کہ خُدا نے ہم رسولوں کو اُن لوگوں کی قطار میں سَب سے پیچھے رکھا ہے جِن کے لیٔے حُکم صادر ہو چُکاہے کہ وہ تماشاگاہ میں قتل کیٔے جایٔیں کیونکہ ہم تمام کایِٔنات، فرشتوں اَور اِنسانوں کے لیٔے تماشا بنے ہویٔے ہیں۔
1CO 4:10 ہم المسیح کی خاطِر احمق ہیں لیکن تُم المسیح میں کِس قدر عقلمند ہو، ہم کمزور ہیں اَور تُم زورآور ہو، تُم عزّت والے اَور ہم بے عزّت۔
1CO 4:11 ہم اِس وقت تک بھُوکے پیاسے ہیں، چیتھڑے پہنتے ہیں، مُکّے کھاتے اَور مارے مارے پھرتے، ہم بے گھر ہیں۔
1CO 4:12 ہم اَپنے ہاتھوں سے سخت محنت کرتے ہیں۔ لوگ ہمیں بُرا کہتے ہیں اَور ہم اُنہیں برکت دیتے ہیں۔ جَب ہم ستائے جاتے ہیں تو صبر سے کام لیتے ہیں۔
1CO 4:13 وہ ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں تو ہم نرم مِزاجی سے جَواب دیتے ہیں۔ ہم آج تک پاؤں کی دُھول اَور دُنیا کے کُوڑےکرکٹ کی مانِند سمجھے جاتے ہیں۔
1CO 4:14 اِن باتوں کے لکھنے سے میرا مقصد تُمہیں شرمندہ کرنا نہیں ہے بَلکہ میں تُمہیں اَپنا پیارا فرزند سمجھ کر نصیحت کرتا ہُوں۔
1CO 4:15 کیونکہ اگر المسیح میں تمہارے دس ہزار اُستاد بھی ہوں تو بھی باپ بہت سے نہیں۔ اِس لیٔے کہ تُمہیں انجیل سُنانے کے باعث میں ہی المسیح یِسوعؔ میں تمہارا باپ بنا۔
1CO 4:16 لہٰذا میں تمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ میرے نمونہ پر چلو۔
1CO 4:17 اِس لیٔے میں تِیمُتھِیُس کو جو خُداوؔند میں میرا عزیز اَور وفادار فرزند ہے، تمہارے پاس بھیج رہا ہُوں۔ وہ تُمہیں میرے وہ طریقے یاد دِلائے گا جِن پر میں المسیح یِسوعؔ میں ہوتے ہویٔے عَمل کرتا ہُوں اَور جنہیں میں ہر جماعت میں ہر جگہ سِکھاتا ہُوں۔
1CO 4:18 تُم میں سے بعض مغروُر ہو گئے ہیں یہ سوچ کر کہ گویا مَیں تمہارے پاس آنے سے ڈرتا ہُوں۔
1CO 4:19 لیکن اگر خُداوؔند نے چاہا تو میں بہت جلد تمہارے پاس آؤں گا اَور تَب مُجھے مَعلُوم ہو جائے گا کہ یہ شیخی باز صِرف باتیں کرتے ہیں یا کچھ کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔
1CO 4:20 کیونکہ خُدا کی بادشاہی صِرف باتوں پر نہیں بَلکہ قُدرت پر موقُوف ہے۔
1CO 4:21 کیا تُم چاہتے ہو کہ میں چھڑی لے کر تمہارے پاس آؤں یا مَحَبّت اَور نرم مِزاجی رُوح کے ساتھ؟
1CO 5:1 مَیں نے اُس جنسی بدفعلی کا ذِکر سُنا ہے جو تمہارے درمیان ہو رہی ہے۔ اَیسی جنسی بدفعلی جو بُت پرستوں میں بھی نہیں ہوتی: مثلاً یہ کہ تمہاری جماعت میں ایک آدمی اَیسا بھی ہے جو اَپنی سَوتیلی ماں کے ساتھ گُناہ کی زندگی گزار رہاہے
1CO 5:2 تُم پھر بھی شیخی مارتے ہو! تُمہیں تو اِس بات پر رنج و افسوس ہونا چاہیے تھا۔ کیا تُم اُس آدمی کو جماعت سے خارج نہیں کر سکتے تھے؟
1CO 5:3 اگرچہ میں جِسمانی طور پر تمہارے درمیان مَوجُود نہیں مگر رُوحانی اِعتبار سے وہاں تمہارے ساتھ ہُوں اَور اِسی مَوجُودگی کی بنا پر میں اُس حرام کار کے بارے میں فیصلہ کر چُکا ہُوں۔
1CO 5:4 جَب تُم ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے نام سے جمع ہو تو، المسیح کی قُدرت کے ساتھ رُوح میں مُجھے بھی اَپنے درمیان مَوجُود سمجھو۔
1CO 5:5 اَور تَب خُداوؔند سے قُوّت پا کر اُس آدمی کو جِسمانی اِعتبار سے شیطان کے حوالے کر دو تاکہ وہ ہلاک ہو لیکن خُداوؔند کے واپس آنے کے دِن اُس کی رُوح بچ جائے۔
1CO 5:6 تُم لوگوں کا فخر کرنا اَچھّی بات نہیں۔ کیا تُم نہیں جانتے کہ ذرا سا خمیر سارے گُندھے ہویٔے آٹے کو خمیر کر دیتاہے؟
1CO 5:7 بدی کے پُرانے خمیر سے اَپنے آپ کو پاک کر لو تاکہ تازہ گُندھا ہُوا آٹا بَن جاؤ اَور تُم میں ذرا بھی خمیر نہ ہو کیونکہ المسیح جو فسح کا برّہ ہیں ہمارے لیٔے قُربان ہو چُکے ہیں۔
1CO 5:8 پس آؤ ہم عید منائیں لیکن پُرانے خمیر سے نہیں جو شرارت اَور بدی کا خمیر ہے بَلکہ پاکیزگی اَور سچّائی کی بے خمیری روٹی سے۔
1CO 5:9 مَیں نے اَپنے خط میں تُمہیں یہ لِکھّا تھا کہ حرام کار سے میل جول نہ رکھنا۔
1CO 5:10 میرا مطلب قطعی یہ نہ تھا کہ دُنیا کے لوگوں سے ناطہ توڑ لو جِس میں حرام کار، لالچی، ٹھگ اَور بُت پرست بستے ہیں۔ کیونکہ اِس صورت میں تُم کو دُنیا سے ہی ضروُر باہر جانا پڑےگا۔
1CO 5:11 اَب یہ لِکھتا ہُوں کہ اگر کویٔی بھایٔی یا بہن کہلاتا ہے اَور پھر بھی حرام کار، لالچی، بُت پرست، گالی دینے والا، شرابی یا ٹھگ ہو تو اُس سے مَحَبّت نہ رکھنا بَلکہ اَیسے کے ساتھ کھانا تک نہ کھانا۔
1CO 5:12 جو لوگ جماعت سے باہر ہیں، اُن کے بارے میں فیصلہ کرنے سے مُجھے کیا واسطہ؟ جو جماعت میں ہیں، کیا اُن کے بارے میں فیصلہ کرنا تمہارا کام نہیں؟
1CO 5:13 لیکن باہر والوں کا اِنصاف تو خُدا ہی کرےگا۔ پس جَیسا کہ لِکھّا ہے، ”اُس حرام کار کو اَپنے درمیان سے نکال دو۔“
1CO 6:1 اگر تُم میں ایک کا دُوسرے کے ساتھ جھگڑا چل رہا ہو تو کیا وہ اَپنے فیصلہ کے لیٔے مسیحی مُقدّسین کی بجائے بےدینوں کی عدالت میں جانے کی جُرأت کرےگا؟
1CO 6:2 کیا تُم نہیں جانتے کہ مُقدّس لوگ دُنیا کا اِنصاف کریں گے؟ اَور جَب تُمہیں دُنیا کا اِنصاف کرناہے تو کیا تُم اِس قابل بھی نہیں کہ چُھوٹی چُھوٹی باتوں کا فیصلہ کر سکو؟
1CO 6:3 کیا تُم نہیں جانتے کہ ہم فرشتوں کا اِنصاف کریں گے؟ اِس دُنیا کے مُعاملات کا تو ذِکر ہی کیا؟
1CO 6:4 اگر تُم میں اَیسے دُنیوی مُقدّمے ہوں تو کیا تُم اُن کا فیصلہ اَیسے لوگوں سے کراؤگے جِن کی جماعت میں کویٔی حیثیت نہیں؟
1CO 6:5 میں تُمہیں شرمندہ کرنے کے لیٔے یہ کہتا ہُوں۔ کیا سچ مُچ تُم میں ایک بھی عقلمند نہیں جو مسیحی بھائیو کے مُعاملات کا بِلاجِھجک فیصلہ کر سکے؟
1CO 6:6 بَلکہ ایک مسیحی بھایٔی دُوسرے مسیحی بھایٔی پر مُقدّمہ دائر کرتا ہے اَور وہ بھی بےاِعتقادوں کی عدالت میں۔
1CO 6:7 دراصل تُم میں بڑا نُقص یہ ہے کہ تُم آپَس کی مُقدّمہ بازی میں مشغُول ہو۔ تُم ظُلم اُٹھانا کیوں نہیں بہتر جانتے؟ اَپنا نُقصان کیوں نہیں قبُول کرتے؟
1CO 6:8 اِس کے برعکس تُم ظُلم کرتے ہو، نُقصان پہُنچاتے ہو اَور وہ بھی اَپنے ہی مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کو۔
1CO 6:9 کیا تُم نہیں جانتے کہ بدکار خُدا کی بادشاہی کے وارِث نہ ہوں گے؟ دھوکے میں نہ رہو! نہ حرام کار نہ بُت پرست، نہ زناکار، نہ لَونڈے باز
1CO 6:10 نہ چور، نہ لالچی، نہ شرابی، نہ گالی بکنے والے، نہ ظالِم خُدا کی بادشاہی کے وارِث ہوں گے۔
1CO 6:11 تُم میں بعض اَیسے ہی تھے مگر تُم خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے نام اَور ہمارے خُدا کے پاک رُوح سے دھل گیٔے، پاک ہو گئے اَور راستباز ٹھہرائے گیٔے۔
1CO 6:12 ساری چیزیں میرے لیٔے جائز ہیں مگر ساری چیزیں مفید نہیں۔ ساری چیزیں میرے لیٔے روا ہیں لیکن مَیں کسی چیز کا غُلام نہ بنُوں گا۔
1CO 6:13 کھانا پیٹ کے لیٔے، ”اَور پیٹ کھانے کے لیٔے لیکن خُدا اِن دونوں کو نِیست و نابُود کر دے گا۔ مگر بَدن بدفعلی کے لیٔے نہیں بَلکہ خُداوؔند کے لیٔے ہے اَور وُہی اُس کا مالک ہے۔“
1CO 6:14 خُدا نے اَپنی قُدرت سے خُداوؔند یِسوعؔ کو زندہ کیا اَور وہ ہمیں بھی اَپنی قُدرت سے زندہ کرےگا۔
1CO 6:15 کیا تُم نہیں جانتے کہ تمہارے بَدن المسیح کے اَعضا ہیں؟ کیا میں المسیح کے اَعضا لے کر اُنہیں کسی فاحِشہ کے ساتھ جوڑ دُوں؟ ہرگز نہیں!
1CO 6:16 کیا تُم نہیں جانتے کہ جو کسی فاحِشہ سے صُحبت کرتا ہے، اُس کے ساتھ ایک جِسم ہو جاتا ہے؟ کیونکہ صحیفہ میں لِکھّا ہے، ”وہ دونوں مِل کر ایک جِسم ہوں گے۔“
1CO 6:17 مگر جو خُود کو خُداوؔند سے جوڑ دیتاہے وہ رُوحانی طور پر اُس کے ساتھ ایک ہو جاتا ہے۔
1CO 6:18 جنسی بدفعلی سے دُور رہو۔ اِنسان کے دُوسرے سارے گُناہ بَدن سے تعلّق نہیں رکھتے لیکن حرام کار اَپنے بَدن کا بھی گُنہگار ہے۔
1CO 6:19 کیا تُم نہیں جانتے کہ تمہارا بَدن اُس پاک رُوح کا مَقدِس ہے جو تُم میں بسا ہُواہے اَور جسے تُم نے خُدا کی طرف سے پایا ہے؟ تُم اَپنے نہیں ہو۔
1CO 6:20 کیونکہ تُم قیمت سے خریدے گیٔے ہو۔ پس اَپنے بَدن سے خُدا کا جلال ظاہر کرو۔
1CO 7:1 جِن باتوں کے بارے میں تُم نے مُجھے اَپنے خط میں لِکھّا ہے: ”اُن کا جَواب یہ ہے، آدمی کے لیٔے اَچھّا ہے کہ شادی نہ کرے۔“
1CO 7:2 لیکن چونکہ جنسی بدفعلی زوروں پر ہے اِس لیٔے ہر مَرد کو چاہیے کہ وہ بیوی رکھے اَور ہر عورت کو چاہیے کہ شوہر رکھے۔
1CO 7:3 شوہر اَپنی بیوی کا اِزدواجی حق اَدا کرے اَور اُسی طرح بیوی اَپنے شوہر کا۔
1CO 7:4 بیوی کے بَدن پر صِرف اُسی کا اِختیار نہیں بَلکہ اُس کے شوہر کا بھی ہے۔ اُسی طرح شوہر کے بَدن پر صِرف اُسی کا اِختیار نہیں بَلکہ اُس کی بیوی کا بھی ہے۔
1CO 7:5 تُم دونوں ایک دُوسرے سے جُدا مت رہو لیکن آپَس کی رضامندی سے کچھ عرصہ کے لیٔے جُدا رہ سکتے ہو تاکہ دعا کرنے کے لیٔے فُرصت پا سکو۔ بعد میں پھر اِکٹھّے ہو جاؤ۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم ضَبط نہ کر سکو اَور شیطان تُمہیں آزمائش میں ڈال دے۔
1CO 7:6 یہ رعایت میں اَپنی طرف سے دے رہا ہُوں، اِسے میرا حُکم نہ سمجھ لینا۔
1CO 7:7 میں تو یہ چاہتا ہُوں کہ جَیسا میں ہُوں سَب مسیحی میری طرح ہوں۔ لیکن ہر ایک کو خُدا کی طرف سے خاص خاص تَوفیق مِلی ہے، کسی کو کسی طرح کی، کسی کو کسی طرح کی۔
1CO 7:8 غَیر شادی شُدہ اَور بیواؤں سے میرا یہ کہنا ہے: اگر وہ میری طرح بغیر شادی کے رہیں، تو اَچھّا ہے۔
1CO 7:9 لیکن اگر ضَبط کی طاقت نہ ہو تو شادی کر لیں کیونکہ شادی کر لینا نَفس کی آگ میں جلتے رہنے سے بہتر ہے۔
1CO 7:10 مگر جِن کی شادی ہو چُکی ہے اُنہیں میں نہیں بَلکہ خُداوؔند حُکم دیتاہے کہ بیوی اَپنے شوہر کو نہ چھوڑے۔
1CO 7:11 اگر اُسے چھوڑتی ہے تو بے نکاح رہے یا اَپنے شوہر سے پھر صُلح کر لے اَور شوہر بھی اَپنی بیوی کو نہ چھوڑے۔
1CO 7:12 باقی لوگوں سے خُداوؔند کا نہیں بَلکہ میرا کہنا یہ ہے کہ اگر کسی مسیحی بھایٔی کی بیوی غَیر مسیحی ہو مگر اُس کے ساتھ رہنے پر راضی ہو تو وہ شوہر اُسے نہ چھوڑے۔
1CO 7:13 اَور اگر کسی مسیحی عورت کا شوہر غَیر مسیحی ہو مگر اُس کے ساتھ رہنے پر راضی ہو تو وہ عورت اُسے نہ چھوڑے۔
1CO 7:14 کیونکہ غَیر مسیحی شوہر اَپنی مسیحی بیوی کے سبب سے پاک ٹھہرتا ہے اَور غَیر مسیحی بیوی اَپنے مسیحی شوہر کے سبب سے پاک ٹھہرتی ہے، ورنہ تمہارے بچّے ناپاک ہوتے، مگر اَب وہ پاک ہیں۔
1CO 7:15 لیکن اگر کویٔی غَیر مسیحی شوہر یا بیوی، مسیحی بیوی یا مسیحی شوہر سے جُدا ہونا چاہے تو اُسے ہو جانے دو۔ اِس صورت میں کویٔی مسیحی بھایٔی یا بہن پابند نہیں؛ کیونکہ خُدا نے ہمیں اَمن سے رہنے کے لئے بُلایا ہے۔
1CO 7:16 اَے مسیحی بیوی! تُجھے کیا خبر کہ شاید تو اَپنے شوہر کو بچالے؟ اَور اَے مسیحی شوہر! تُجھے کیا خبر کہ شاید تو اَپنی بیوی کو بچالے؟
1CO 7:17 بہرحال، ہر ایک شخص کو چاہئے کہ خُداوؔند کی بخشی ہُوئی تَوفیق کے مُطابق زندگی گزارے اَور اُسی حالت میں رہے جِس میں وہ اَپنے بُلائے جانے کے وقت تھا۔ میں سَب جماعتوں میں یہی اُصُول مُقرّر کرتا ہُوں۔
1CO 7:18 اگر کسی کا ختنہ ہو چُکاہے اَور وہ المسیح کے پاس آتا ہے تو وہ اَپنے آپ کو نامختون ظاہر نہ کرے اَور اگر کویٔی نامختون شخص مسیحی ہوتاہے تو ضروُری نہیں کہ وہ ختنہ کرائے۔
1CO 7:19 ختنہ کرانا یا نہ کرانا کویٔی اہم بات نہیں ہے بَلکہ خُدا کے حُکموں پر عَمل کرنا ہی سَب کچھ ہے۔
1CO 7:20 ہر شخص اُسی حالت میں رہے جِس میں وہ المسیح کے پاس بُلایا گیا۔
1CO 7:21 اگر تو غُلامی کی حالت میں بُلایا گیا تو فکر نہ کر لیکن اگر تُجھے آزاد ہونے کا موقع ملے تو اُس موقع سے فائدہ اُٹھا۔
1CO 7:22 کیونکہ جو غُلام ہے اَور مسیحی ہو جاتا ہے وہ خُداوؔند کا آزاد کیا ہُواہے، اِسی طرح جو آزاد ہے اَور المسیح کے پاس آتا ہے وہ المسیح کا غُلام بَن جاتا ہے۔
1CO 7:23 تُم خرید لیٔے گیٔے ہو اَور تمہاری قیمت اَدا کی جا چُکی ہے؛ اَب آدمیوں کے غُلام مت بنو۔
1CO 7:24 اَے بھائیو اَور بہنوں! جو کویٔی جِس حالت میں بُلایا گیا ہے وہ خُدا کی حُضُوری میں اُسی حالت میں رہے۔
1CO 7:25 کنواریوں کے متعلّق میرے پاس خُداوؔند کا کویٔی حُکم نہیں ہے: لیکن خُداوؔند کی مہربانی سے، ایک وفادار مسیحی کی حیثیت سے میں اَپنی شخصی رائے پیش کرتا ہُوں۔
1CO 7:26 ہم بڑے نازک دَور سے گزر رہے ہیں اِس لیٔے تمہارے لیٔے یہی بہتر ہے کہ تُم جَیسے ہو وَیسے ہی رہو۔
1CO 7:27 اگر شادی شُدہ ہو تو بیوی کو چھوڑدینے کا خیال نہ کرو۔ اگر ابھی شادی نہیں کی تو شادی کرنے کا خیال چھوڑ دو۔
1CO 7:28 لیکن اگر تُم شادی کر بھی لو تُو یہ کویٔی گُناہ نہیں اَور اگر کویٔی کنواری لڑکی شادی کر لے تُو یہ بھی گُناہ نہیں۔ مگر شادی کرلینے والے اَپنی اِنسانی زندگی میں کافی تکلیف اُٹھاتے ہیں اَور مَیں تُمہیں اِس تکلیف سے بچانا چاہتا ہُوں۔
1CO 7:29 اَے بھائیو اَور بہنوں! میں یہ کہنا چاہتا ہُوں کہ وقت تنگ ہے چنانچہ بیویوں والے آئندہ اَیسے رہیں جَیسے وہ بغیر بیویوں کے ہیں۔
1CO 7:30 رونے والے اَیسے ہُوں کہ گویا وہ روتے نہیں اَور خُوشی منانے والے اَیسے ہوں گویا وہ خُوشی نہیں مناتے۔ خریدنے والے اَیسے ہوں گویا اُن کے قبضہ میں کچھ بھی نہیں۔
1CO 7:31 دُنیا کی چیزوں سے سروکار رکھنے والے اِس دُنیا کے ہی ہوکر نہ رہ جایٔیں کیونکہ اِس کی صورت بدلتی جاتی ہے۔
1CO 7:32 میں یہ چاہتا ہُوں کہ تُم بے فکر رہو۔ بِن بیاہا آدمی خُداوؔند کی باتوں کی فکر میں رہتاہے کہ کِس طرح خُداوؔند کو خُوش کرے۔
1CO 7:33 لیکن شادی شُدہ دُنیا کے لیٔے فِکرمند رہتاہے کہ کِس طرح اَپنی بیوی کو خُوش کرے۔
1CO 7:34 پس اُس کی توجّہ دونوں طرف رہتی ہے۔ بِن بیاہی اَور کنواری عورت خُداوؔند کی باتوں کی فکر میں رہتی ہے تاکہ اُس کا جِسم اَور رُوح دونوں خُداوؔند کے لیٔے وقف ہوں۔ لیکن شادی شُدہ عورت دُنیا کی فکر میں رہتی ہے کہ کِس طرح اَپنے شوہر کو خُوش کرے۔
1CO 7:35 میں یہ تمہارے فائدہ کے لیٔے کہتا ہُوں نہ کہ تمہارے لیٔے مُشکل پیدا کرنے کے لیٔے تاکہ تُم اَچھّی زندگی گُزارو اَور بِلا تامّل خُداوؔند کی خدمت میں مشغُول رہو۔
1CO 7:36 اگر کویٔی یہ سمجھتا ہے کہ میں اَپنی منگنی شُدہ کنواری کا حق مار رہا ہوں، کنواری لڑکی کی جَوانی ڈھلی جا رہی ہے اَور ضروُری ہے کہ اُسے شادی کرنی چاہئے تو جَیسا چاہے وَیسا کرے اُسے اِختیار ہے کہ لڑکی کا بیاہ ہو جانے دے کیونکہ یہ کویٔی گُناہ نہیں۔
1CO 7:37 مگر وہ باپ جو اَیسی ضروُرت محسُوس نہیں کرتا اَور اُس نے اَپنے دِل میں پکّا فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اَپنی لڑکی کو کنواری ہی رہنے دے گا تو وہ اَچھّا کرتا ہے۔
1CO 7:38 غرض جو اَپنی کنواری لڑکیوں کو بیاہ دیتاہے وہ اَچھّا کرتا ہے اَورجو بیاہ نہیں کر سَکتا وہ بھی اَچھّا کرتا ہے۔
1CO 7:39 بیوی اَپنے شوہر کے جیتے جی اُس کی پابند ہے لیکن اُس کی موت کے بعد وہ جِس سے چاہے دُوسری شادی کر سکتی ہے بشرطیکہ وہ آدمی خُداوؔند میں ہو۔
1CO 7:40 مگر میری رائے یہ ہے کہ اگر وہ بِیوہ ہی رہے تو زِیادہ خُوش رہے گی اَور مَیں سمجھتا ہُوں کہ یہ بات خُدا کی رُوح نے میرے دِل میں ڈالی ہے۔
1CO 8:1 اُن قُربانیوں کے بارے میں جو بُتوں کو پیش کی جاتی ہیں: میرا کہنا یہ ہے کہ ”ہم سَب علم رکھتے ہیں۔“ علم غُرور پیدا کرتا ہے لیکن مَحَبّت ترقّی بخشتی ہے۔
1CO 8:2 اگر کویٔی یہ خیال کرتا ہے کہ وہ کچھ جانتا ہے تو جَیسا جاننا چاہیے وَیسا اَب تک نہیں جانتا۔
1CO 8:3 لیکن جو خُدا سے مَحَبّت رکھتا ہے، خُدا اُسے جانتا ہے۔
1CO 8:4 اَب رہا یہ سوال کہ بُتوں کو پیش کی گئی قُربانیوں کا گوشت کھانا چاہیے یا نہیں: ہم سَب یہ جانتے ہیں کہ ”بُتوں کی حقیقت دُنیا میں کچھ بھی نہیں خُدا ایک ہے اَور اُس کے سِوا کویٔی خُدا نہیں۔“
1CO 8:5 اگرچہ آسمان میں اَور زمین پر اَور بہت سے ”خُدا“ اَور ”خُداوؔند“ مانے جاتے ہیں،
1CO 8:6 لیکن ہمارے نزدیک تو خُدا ایک ہی ہے، جو آسمانی باپ ہے، اَور سَب چیزوں کا خالق ہے اَور ہم اُسی کے لیٔے جیتے ہیں؛ اَور ایک ہی خُداوؔند ہے، یعنی یِسوعؔ المسیح جِن کے وسیلہ سے سَب چیزیں پیدا ہویٔیں اَور ہم بھی اُن ہی سے۔
1CO 8:7 لیکن یہ علم سَب کو نہیں ہے۔ بعض لوگ اَب تک بُتوں کی پرستش کے عادی ہیں اِس لیٔے جَب وہ قُربانی کے گوشت کو اِس خیال سے کھاتے ہیں کہ یہ کسی خُدا کی نذر کی قُربانی ہے، تو اَپنے ضمیر کی کمزوری کی وجہ سے، وہ اَپنے آپ کو ناپاک سمجھنے لگتے ہیں۔
1CO 8:8 لیکن کھانا ہمیں خُدا سے نہیں مِلائے گا؛ اگر ہم اُسے نہ کھایٔیں، تو ہمارا کویٔی نُقصان نہیں اَور اگر کھا لیں تو فائدہ بھی نہیں۔
1CO 8:9 مگر خبردار رہو، اَیسا نہ ہو کہ تمہاری یہ آزادی کمزور ایمان والوں کے لیٔے ٹھوکر کا باعث بَن جائے۔
1CO 8:10 اگر کویٔی کمزور ضمیر والا تُم جَیسے صاحبِ ایمان کو بُت خانہ میں کھانا کھاتے دیکھے، تو کیا اُس کے دِل میں بُتوں کی نذر کی قُربانی کو کھالینے کا حوصلہ پیدا نہ ہو جائے گا؟
1CO 8:11 یُوں تمہارا علم اُس کمزور بھایٔی یا بہن، کی ہلاکت کا باعث ٹھہرے گا، جسے بچانے کے لیٔے المسیح نے اَپنی جان، قُربان کر دی۔
1CO 8:12 اِس طرح تُم اَپنے مسیحی بھایٔی اَور بہن کے کمزور ضمیر کو ٹھیس پہُنچا کر، نہ صِرف اُن کے گُنہگار ہوگے بَلکہ المسیح کے بھی گُنہگار ٹھہروگے۔
1CO 8:13 اِس لیٔے اگر میرا کھانا میرے مسیحی بھایٔی اَور بہن کے لیٔے ٹھوکر کا باعث ہو، تو میں گوشت کبھی نہیں کھاؤں گا تاکہ اَپنے مسیحی بھایٔی اَور بہن کے لیٔے ٹھوکر کا باعث نہ بنُوں۔
1CO 9:1 کیا میں آزاد نہیں؟ کیا میں رسول نہیں؟ کیا مَیں نے یِسوعؔ کو نہیں دیکھا جو ہمارے خُداوؔند ہیں؟ کیا تُم خُداوؔند کے لیٔے میری خدمت کا پھل نہیں ہو؟
1CO 9:2 اگر مَیں دُوسروں کی نظر میں رسول نہیں، تو کم اَز کم! تمہاری نظر میں تو ہُوں کیونکہ تُم خُود خُداوؔند میں میری رِسالت پر مُہر ہو۔
1CO 9:3 جو مُجھ سے بازپُرس کرتے ہیں اُن کے لیٔے میرا جَواب یہ ہے۔
1CO 9:4 کیا ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم بھی کھا پی سکیں؟
1CO 9:5 کیا ہمیں یہ اِختیار نہیں کہ کسی مسیحی بہن کو بیاہ کر اُسے اَپنی ہم سفر بنائے رکھیں جَیسا کہ دیگر رسول اَور خُداوؔند کے بھایٔی اَور کیفؔا کرتے ہیں؟
1CO 9:6 کیا صِرف مُجھے اَور بَرنباسؔ کو ہی محنت مشقّت سے بعض رہنے کا اِختیار نہیں ہے؟
1CO 9:7 کون سا سپاہی اَپنی گِرہ سے کھا کر جنگ کرتا ہے؟ کون ہے جو انگور کا باغ لگا کر انگور نہیں کھاتا؟ یا کون سا چرواہا ہے جو اَپنے گلّہ کا دُودھ نہیں پیتا؟
1CO 9:8 کیا میں یہ باتیں اِنسانی حیثیت سے کہتا ہُوں؟ کیا شَریعت بھی یہی نہیں کہتی؟
1CO 9:9 کیونکہ حضرت مَوشہ کی شَریعت میں لِکھّا ہے: ”گاہتے وقت بَیل کا مُنہ نہ باندھنا۔“ کیا خُدا کو بَیلوں ہی کی پروا ہے؟
1CO 9:10 کیا وہ خاص طور پر یہ ہمارے لیٔے نہیں کہتا؟ ہاں، یہ ہمارے لیٔے لِکھّا گیا کیونکہ جوتنے والا اِس اُمّید پر جوتتا ہے اَور گاہنے والا اِس اُمّید پر گاہتا ہے کہ اُنہیں فصل کا کچھ حِصّہ ضروُر ملے گا۔
1CO 9:11 اگر ہم نے تمہارے فائدہ کے لیٔے رُوحانی بیج بویا تو کیا یہ کویٔی بڑی بات ہے کہ ہم تمہاری جِسمانی چیزوں کی فصل کاٹیں؟
1CO 9:12 جَب اَوروں کو یہ حق حاصل ہے کہ تُم سے کچھ حاصل کریں، تو کیا ہمارا حق اُن سے زِیادہ نہ ہوگا؟ لیکن ہم نے اِس حق سے فائدہ نہ اُٹھایا بَلکہ سَب کچھ برداشت کرتے رہے تاکہ ہماری وجہ سے المسیح کی خُوشخبری کی تبلیغ میں رُکاوٹ پیدا نہ ہو۔
1CO 9:13 کیا تُم نہیں جانتے کہ جو بیت المُقدّس میں خدمت کرتے ہیں، وہ وہیں سے کھاتے ہیں؟ اَورجو قُربان گاہ پر قُربانیاں چڑھانے کی خدمت کرتے ہیں وہ اُن قُربانیوں کا کچھ حِصّہ لیتے ہیں؟
1CO 9:14 اِسی طرح خُداوؔند نے بھی مُقرّر کیا ہے کہ جو انجیل کی مُنادی کرتے ہیں وہ انجیل ہی کے وسیلہ سے گزارہ کریں۔
1CO 9:15 اِس کے باوُجُود مَیں نے اِن میں سے کسی بھی حق کا کبھی فائدہ نہیں اُٹھایا اَور نہ ہی اِس خیال سے لِکھ رہا ہُوں کہ اَب فائدہ اُٹھاؤں، میں مَرجانا بہتر سمجھتا ہُوں بجائے اِس کے کسی کا اِحسَان لے کر اَپنا فخر کھو دُوں۔
1CO 9:16 اگر مَیں انجیل کی مُنادی کرتا ہُوں، تو اِس لیٔے نہیں کہ شیخی بگھارُوں، کیونکہ یہ تو میرا فرض ہے۔ بَلکہ مُجھ پر افسوس! اگر مَیں انجیل کی مُنادی نہ کروں۔
1CO 9:17 اگر مَیں اَپنی مرضی سے مُنادی کرتا ہُوں، تو اجر پانے کی اُمّید بھی رکھتا ہُوں؛ لیکن اگر اَپنی مرضی سے نہیں، تو یُوں سمجھ لو کہ خُدا نے مُجھے انجیل سُنانے کا اِختیار بخشا ہُواہے۔
1CO 9:18 اِس صورت میں میرا اجر کیا ہے؟ محض یہ کہ انجیل کی مُنادی بالکُل مُفت کرکے فخر کر سکوں اَور اُس حق کا فائدہ نہ اُٹھاؤں جو انجیل نے مُجھے دے رکھا ہے۔
1CO 9:19 اگرچہ میں آزاد ہُوں اَور کسی کا غُلام نہیں پھر بھی مَیں نے اَپنے آپ کو سَب کا غُلام بنا رکھا ہے تاکہ زِیادہ سے زِیادہ لوگوں کو المسیح کے پاس لا سکوں۔
1CO 9:20 میں یہُودیوں میں یہُودی بنا تاکہ یہُودیوں کو المسیح کے لیٔے جیت سکوں۔ اہلِ شَریعت کے لیٔے شَریعت والا بنا تاکہ اہلِ شَریعت کو جیت سکوں حالانکہ میں خُود شَریعت کا پابند نہیں۔
1CO 9:21 جو لوگ شَریعت نہیں رکھتے، میں اُن کے لیٔے بےشَرع بنا تاکہ بےشَرع لوگوں کو جیت سکوں (میں خُدا کی نظر میں بےشَرع نہیں تھا بَلکہ المسیح کی شَریعت کے تابع تھا)
1CO 9:22 کمزوروں کی خاطِر کمزور بنا تاکہ کمزوروں کو جیت سکوں۔ میں سَب لوگوں کی خاطِر سَب کچھ بنا ہُوا ہُوں تاکہ کسی نہ کسی طرح بعض کو بچا سکوں۔
1CO 9:23 میں یہ سَب کچھ انجیل کی خاطِر کرتا ہُوں تاکہ اُس کی برکتوں میں شریک ہو سکوں۔
1CO 9:24 کیا تُم نہیں جانتے کہ دَوڑ کے میدان میں مُقابلہ کے لیٔے سَب ہی دَوڑتے ہیں لیکن اِنعام ایک ہی پاتاہے۔ تُم بھی اَیسے دَوڑو کہ جیت سکو۔
1CO 9:25 کھیلوں کے مُقابلہ میں حِصّہ لینے والا ہر کھِلاڑی ہر طرح کی احتیاط برتتا ہے۔ وہ لوگ ایک فانی تاج پانے کے لیٔے اَیسا کرتے ہیں۔ لیکن ہم اُس تاج کے لیٔے اَیسا کرتے ہیں جو غَیر فانی ہے۔
1CO 9:26 میں بھی جیتنے کا مقصد سامنے رکھ کر دَوڑتا ہُوں اَور مُکّے باز کی طرح لڑتا ہُوں، ہَوا کو مارنے والے کی طرح نہیں۔
1CO 9:27 بَلکہ میں اَپنے بَدن کو مارتا، پیٹتا اَور اُسے قابُو میں رکھتا ہُوں تاکہ اَیسا نہ ہو کہ دُوسروں کو تبلیغ کرنے کے بعد میں خُود اِنعام سے محروم رہ جاؤں۔
1CO 10:1 اَے میرے بھائیو اَور بہنوں! میں نہیں چاہتا کہ تُم ہمارے آباؤاَجداد کی حالت کو بھُول جاؤ کہ وہ کِس طرح بادل کے نیچے محفوظ رہے اَور بحرِقُلزمؔ پار کرکے بچ نکلے۔
1CO 10:2 اَور اُن سَب نے بادل اَور سمُندر میں بطور حضرت مَوشہ کے پیروکار پاک غُسل لیا۔
1CO 10:3 سَب نے ایک ہی رُوحانی خُوراک کھائی۔
1CO 10:4 سَب نے ایک ہی رُوحانی پانی پیا کیونکہ وہ اُس رُوحانی چٹّان سے پانی پیتے تھے جو اُن کے ساتھ ساتھ چلتی تھی اَور وہ چٹّان حُضُور المسیح تھے۔
1CO 10:5 اِس کے باوُجُود خُدا اُن کی ایک کثیر تعداد سے راضی نہ ہُوا؛ چنانچہ اُن کی لاشیں بیابان میں بِکھری پڑی رہیں۔
1CO 10:6 یہ باتیں ہمارے لیٔے عِبرت کا باعث ہیں تاکہ ہم بُری چیزوں کی خواہش نہ کریں جَیسے اُنہُوں نے کی۔
1CO 10:7 اَور تُم بُت پرست نہ بنو جِس طرح اُن میں سے بعض لوگ بَن گیٔے جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”لوگ کھانے پینے کے لیٔے بیٹھے اَور پھر اُٹھ کر رنگ رلیاں منانے لگے۔“
1CO 10:8 ہم جنسی بدفعلی نہ کریں جَیسے اُن لوگوں میں سے بعض نے کی اَور ایک ہی دِن میں تئیس ہزار مارے گیٔے۔
1CO 10:9 ہم خُداوؔند المسیح کی آزمائش نہ کریں جَیسے اُن میں سے بعض نے کی اَور سانپوں نے اُنہیں ہلاک کر ڈالا۔
1CO 10:10 بُڑبُڑانا چھوڑ دو جَیسے اُن میں سے بعض بُڑبُڑائے اَور موت کے فرشتہ کے ہاتھوں مارے گیٔے۔
1CO 10:11 یہ باتیں اُنہیں اِس لیٔے پیش آئیں کہ وہ عِبرت حاصل کریں اَور ہم آخِری زمانہ والوں کی نصیحت کے لیٔے لکھی گئیں۔
1CO 10:12 پس جو کویٔی اَپنے آپ کو ایمان میں قائِم اَور مضبُوط سمجھتا ہے، خبردار رہے کہ کہیں گِر نہ پڑے۔
1CO 10:13 تُم کسی اَیسی آزمائش میں نہیں پڑے جو اِنسان کی برداشت سے باہر ہو۔ خُدا پر بھروسا رکھو، وہ تُمہیں تمہاری قُوّت برداشت سے زِیادہ سخت آزمائش میں پڑنے ہی نہ دے گا۔ بَلکہ جَب آزمائش آئے گی تو اُس سے بچ نکلنے کی راہ بھی پیدا کر دے گا تاکہ تُم برداشت کر سکو۔
1CO 10:14 اِس لیٔے میرے عزیزو! بُت پرستی سے دُور رہو۔
1CO 10:15 میں تُمہیں عقلمند سمجھ کر یہ باتیں کہتا ہُوں۔ تُم خُود میری باتوں کو پرکھ سکتے ہو۔
1CO 10:16 جَب ہم عِشائے خُداوندی کا پیالہ لے کر اُسے شُکر گُزاری کے ساتھ پیتے ہیں تو کیا ہم المسیح کے خُون میں شریک نہیں ہوتے؟ اَور جَب ہم روٹی توڑ کر کھاتے ہیں تو کیا المسیح کے بَدن میں شریک نہیں ہوتے؟
1CO 10:17 چونکہ روٹی ایک ہی ہے، اِسی طرح ہم سَب جو بہت سے ہیں مِل کر ایک بَدن ہیں کیونکہ ہم اُسی ایک روٹی میں شریک ہوتے ہیں۔
1CO 10:18 بنی اِسرائیلؔ پر نگاہ کرو۔ کیا قُربانی کا گوشت کھانے والے قُربان گاہ کے شریک نہیں؟
1CO 10:19 کیا میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بُتوں کی نذر کی قُربانی اَور بُت کویٔی اہمیّت رکھتے ہیں۔
1CO 10:20 ہرگز نہیں، بَلکہ جو قُربانیاں بُت پرست کرتے ہیں وہ شَیاطِین کے لیٔے ہوتی ہیں نہ کہ خُدا کے لیٔے اَور مَیں نہیں چاہتا کہ تُم شَیاطِین سے واسطہ رکھو۔
1CO 10:21 تُم خُداوؔند کے پیالہ سے اَور ساتھ ہی شیطان کے پیالہ سے پیو اَیسا ناممکن ہے۔ تُم خُداوؔند اَور شیطان دونوں ہی کے دسترخوان میں شریک نہیں ہو سکتے۔
1CO 10:22 کیا ہم اَیسا کرنے سے خُداوؔند کے غضب کو نہیں بھڑکاتے؟ کیا ہم اُس سے زِیادہ زورآور ہیں؟
1CO 10:23 ”ہر چیز کے جائز ہونے کا یہ مطلب نہیں، ہر چیز مفید ہے۔ ہر چیز جائز ہو تو بھی وہ ترقّی کا باعث نہیں ہوتی۔“
1CO 10:24 تاکہ کویٔی شخص محض اَپنی بِہتری ہی کا خیال نہ کرے بَلکہ دُوسروں کی بِہتری کا بھی خیال رکھے۔
1CO 10:25 جو گوشت بازار میں بِکتا ہے ضمیر کے جائز یا ناجائز ہونے کا سوال اُٹھائے بغیر اُسے کھا لیا کرو۔
1CO 10:26 کیونکہ یہ دُنیا، ”اَور اُس کی ساری چیزیں خُداوؔند ہی کی مِلکیّت ہیں۔“
1CO 10:27 اگر کویٔی غَیر مسیحی تُمہیں کھانے کی دعوت دے اَور تُم جانا چاہو تو جو کچھ تمہارے سامنے رکھا جائے اُسے ضمیر کے بِلا حیل و حُجّت کے کھالو۔
1CO 10:28 لیکن اگر کویٔی تُمہیں بتائے، ”یہ قُربانی کا گوشت ہے،“ تو اُسے مت کھاؤ تاکہ تمہارا ضمیر تُمہیں ملامت نہ کرے اَور جتانے والا بھی کسی غلط فہمی کا شِکار نہ ہو۔
1CO 10:29 میرا مطلب تمہارے ضمیر سے نہیں دُوسرے شخص کے ضمیر سے ہے، بَلکہ اُس دُوسرے کا، بھلا میری آزادی دُوسرے شخص کے ضمیر سے کیوں آزمائی جائے؟
1CO 10:30 اگر مَیں شُکر کرکے اُس کھانے میں شریک ہوتا ہُوں تو کسی کو حق نہیں پہُنچتا کہ مُجھے اُس کھانے کے لیٔے بدنام کرے جِس کے لیٔے مَیں نے خُدا کا شُکر اَدا کیا تھا۔
1CO 10:31 پس تُم کھاؤ یا پیو یا خواہ جو کچھ کرو، سَب خُدا کے جلال کے لیٔے کرو۔
1CO 10:32 تُم دُوسروں کے لیٔے ٹھوکر کا باعث نہ بنو، خواہ وہ یہُودی یا یُونانی یا وہ خُدا کی جماعت کے لوگ ہوں۔
1CO 10:33 میں خُود بھی یہی کرتا ہُوں۔ میری کوشش یہی رہتی ہے کہ اَپنے ہر کام سے دُوسروں کو خُوشی پہُنچاؤں۔ میں اَپنا نہیں بَلکہ دُوسروں کا فائدہ ڈھونڈتا ہُوں تاکہ لوگ نَجات پائیں۔
1CO 11:1 تُم میرے نمونہ پر چلو جَیسے میں المسیح کے نمونہ پر چلتا ہُوں۔
1CO 11:2 میں تمہاری تعریف کرتا ہُوں کہ تُم نے میری ساری روایتی باتیں یاد رکھی ہیں اَور میری اُس تعلیم پرجو مَیں نے تُمہیں دی، عَمل کرتے ہو۔
1CO 11:3 میں چاہتا ہُوں کہ تُم یہ بھی یاد رکھو کہ ہر مَرد کا سَر المسیح ہے اَور عورت کا سَر مَرد ہے اَور المسیح کا سَر خُدا ہے۔
1CO 11:4 اِس لیٔے اگر کویٔی آدمی عبادت میں دعا یا نبُوّت کرتے وقت اَپنا سَر ڈھانکتا ہے تو وہ اَپنے سَر کی بےحُرمتی کرتا ہے۔
1CO 11:5 اَور اِسی طرح اگر کویٔی عورت عبادت میں دعا یا نبُوّت کرتے وقت اَپنا سَر نہیں ڈھانکتی تو وہ اَپنے سَر کی بےحُرمتی کرتی ہے گویا اُس نے سَر مُنڈوا دیا ہے۔
1CO 11:6 اگر کویٔی عورت اوڑھنی اِستعمال نہ کرنا چاہے تو وہ اَپنا سَر بھی مُنڈوا دے لیکن اگر وہ سَر مُنڈوانے کو باعث شرم سمجھتی ہے تو وہ اوڑھنی سے اَپنا سَر ڈھانکے۔
1CO 11:7 البتّہ مَرد کو اَپنا سَر نہیں ڈھانکنا چاہئے کیونکہ وہ خُدا کی صورت پر ہے اَور اُس سے خُدا کا جلال ظاہر ہوتاہے۔ مگر عورت سے مَرد کا جلال ظاہر ہوتاہے۔
1CO 11:8 اِس لیٔے کہ مَرد عورت سے نہیں بَلکہ عورت مَرد سے پیدا کی گئی۔
1CO 11:9 اَور مَرد عورت کی خاطِر نہیں بَلکہ عورت مَرد کی خاطِر پیدا کی گئی۔
1CO 11:10 اِس لیٔے اَور فرشتوں کے سبب سے عورت کو چاہئے کہ اَپنا سَر ڈھانکے تاکہ ظاہر ہو کہ وہ مَرد کے تابع ہے۔
1CO 11:11 تو بھی خُداوؔند کی نظر میں عورت بغیر آدمی کے نہیں اَور آدمی بغیر عورت کے نہیں۔
1CO 11:12 کیونکہ جَیسے عورت مَرد سے پیدا کی گئی ہے وَیسے ہی مَرد بھی عورت کے وسیلہ سے پیدا ہوتاہے۔ مگر ہر چیز کا خالق خُدا ہے۔
1CO 11:13 تُم خُود ہی فیصلہ کرو، کیا کسی عورت کا سَر ڈھانکے بغیر خُدا سے دعا کرنا مُناسب ہے؟
1CO 11:14 کیا فِطرت خُود بھی یہ نہیں سِکھاتی کہ اگر کسی مَرد کے سَر کے بال لمبے ہوں تُو یہ اُس کے لیٔے شرم کی بات ہے؟
1CO 11:15 لیکن اگر عورت لمبے بال رکھے تو یہ اُس کے لیٔے زینت کا باعث ہیں کیونکہ لمبے بال اُسے گویا پردے کی غرض سے دئیے گیٔے ہیں۔
1CO 11:16 اگر کویٔی اِس بارے میں حُجّت کرنا چاہے تو اُسے مَعلُوم ہو کہ نہ ہمارا اَیسا دستور ہے نہ خُدا کی جماعتوں کا۔
1CO 11:17 اَب جو ہدایت میں تُمہیں دے رہا ہُوں اُس میں تمہارے لیٔے تعریف کی کویٔی بات نہیں، کیونکہ تمہارے جمع ہونے سے فائدہ نہیں بَلکہ نُقصان ہوتاہے۔
1CO 11:18 پہلی بات تو یہ ہے کہ جَب تمہاری جماعت جمع ہوتی ہے تو مَیں نے سُنا ہے کہ تمہارے درمیان تِفرقے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ میں اِس بات کو کسی حَد تک قابل یقین سمجھتا ہُوں۔
1CO 11:19 تُم لوگوں میں بِدعتوں کا پایا جانا لازمی ہے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ تمہاری جماعت میں کون سے لوگ راہ راست پر ہیں۔
1CO 11:20 کیونکہ جَب تُم جمع ہوتے ہو تو تمہارا کھانا عِشائے خُداوندی نہیں ہو سَکتا۔
1CO 11:21 اِس لیٔے کہ ہر ایک دُوسروں سے پہلے ہی اَپنا کھانا کھا لیتا ہے۔ کویٔی تو بھُوکا رہ جاتا ہے اَور کسی کو نشہ بھی ہو جاتا ہے۔
1CO 11:22 کیا کھانے اَور پینے کے لیٔے تمہارے گھر مَوجُود نہیں؟ یا پھر خُدا کی جماعت کی تمہارے نزدیک کویٔی اہمیّت نہیں اَور جِن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا اُنہیں شرمندہ کرتے ہو؟ میں کہُوں بھی تو کیا کہُوں؟ کیا تمہاری تعریف کروں؟ نہیں میں اِس مُعاملہ میں تو تمہاری تعریف نہیں کر سَکتا!
1CO 11:23 یہ بات مُجھ تک خُداوؔند کے ذریعہ پہُنچی اَور مَیں نے تُم تک پہُنچا دی کہ خُداوؔند یِسوعؔ نے جِس رات وہ پکڑوائے گیٔے، روٹی لی،
1CO 11:24 اَور خُدا کا شُکر کرکے توڑی اَور کہا، یہ میرا بَدن ہے جو تمہارے لیٔے توڑا گیا ہے، میری یادگاری کے لیٔے یہی کیا کرو۔
1CO 11:25 اِسی طرح کھانے کے بعد یِسوعؔ نے انگوری شِیرے کا پیالہ لیا اَور یہ کہہ کر دیا، یہ پیالہ میرے خُون میں نیا عہد ہے۔ جَب بھی اِسے پیو میری یادگاری کے لیٔے یہی کیا کرو۔
1CO 11:26 کیونکہ جَب کبھی تُم یہ روٹی کھاتے اَور اِس پیالہ میں سے پیتے ہو تو خُداوؔند کی موت کا اِظہار کرتے ہو جَب تک کہ خُداوؔند کی زمین پر دُوسری آمد نہ ہو جائے۔
1CO 11:27 اِس لیٔے جو کویٔی غَیر مُناسب طور پر خُداوؔند کی روٹی کھائے یا اِس پیالہ میں سے پیئے وہ خُداوؔند کے بَدن اَور خُون کا گُنہگار ٹھہرے گا۔
1CO 11:28 چنانچہ اِس روٹی میں سے کھانے اَور اِس پیالہ میں سے پینے سے پہلے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اَپنے آپ کو جانچ لے۔
1CO 11:29 کیونکہ جو اِس روٹی میں سے کھاتے وقت اَور اِس پیالہ میں سے پیتے وقت المسیح کے بَدن کو نہیں پہچانتا وہ اِس کھانے اَور پینے کے باوُجُود خُدا کی عدالت کے دِن سزا پایٔےگا۔
1CO 11:30 یہی وجہ ہے کہ تُم میں سے بہت سے لوگ کمزور اَور بیمار ہیں اَور کیٔی ایک مَر بھی گیٔے ہیں۔
1CO 11:31 اگر ہم اَپنے آپ کو جانچتے تو خُدا کی عدالت کے دِن سزا نہ پاتے۔
1CO 11:32 لیکن خُداوؔند ہمیں عدالت کے دِن سزا دے کر ہماری تربّیت کرتے ہیں تاکہ ہم دُنیا کے ساتھ مُجرم نہ ٹھہرائے جایٔیں۔
1CO 11:33 اِس لیٔے میرے بھائیو اَور بہنوں، جَب تُم عِشائے خُداوندی کے لیٔے جمع ہوتے ہو تو ایک دُوسرے کا اِنتظار کرو۔
1CO 11:34 اگر کویٔی بھُوکا ہو تو اَپنے گھر میں کھالے تاکہ تمہارا جمع ہونا خُدا کی عدالت کے دِن سزا کا باعث نہ ہو۔ میں باقی باتوں کا فیصلہ وہاں آنے پر کروں گا۔
1CO 12:1 اَے بھائیو اَور بہنوں! میں نہیں چاہتا کہ تُم رُوحانی نِعمتوں کے بارے میں بے خبر رہو۔
1CO 12:2 تُمہیں یاد ہوگا کہ جَب تُم بے دین تھے تو دُوسروں کی باتوں میں آکر گُونگے بُتوں کی پیروی کرنے لگے تھے۔
1CO 12:3 اِس لیٔے میں تُمہیں بتانا چاہتا ہُوں کہ جو شخص خُدا کی پاک رُوح کی ہدایت سے کلام کرتا ہے وہ کبھی بھی ”یِسوعؔ کو ملعُون،“ نہیں کہہ سَکتا، اَور نہ ہی پاک رُوح کی ہدایت کے بغیر وہ کہہ سَکتا ہے، ”یِسوعؔ خُداوؔند ہیں۔“
1CO 12:4 نِعمتیں تو مُختلف ہیں، لیکن پاک رُوح ایک ہی ہے۔
1CO 12:5 خدمتیں بھی طرح طرح کی ہیں، لیکن خُداوؔند ایک ہی ہے۔
1CO 12:6 اُن کے اثرات بھی مُختلف ہوتے ہیں، لیکن خُدا ایک ہی ہے جو سَب میں ہر طرح کا اثر پیدا کرتا ہے۔
1CO 12:7 لیکن پاک رُوح کا ظہُور ہر شخص کو فائدہ پہچانے کے لیٔے ہوتاہے۔
1CO 12:8 کسی کو پاک رُوح کی طرف سے حِکمت کا کلام عطا کیا جاتا ہے اَور کسی کو اُسی رُوح کے وسیلہ سے علمیّت کا کلام،
1CO 12:9 کسی کو اُسی ایک رُوح سے ایمان اَور کسی کو شفا دینے کی تَوفیق ملتی ہے،
1CO 12:10 کسی کو معجزے کرنے کی قُدرت دی جاتی ہے، اَور کسی کو نبُوّت، کسی کو رُوحوں میں اِمتیاز، کسی کو طرح طرح کی زبانیں بولنے کی قابلیّت، اَور کسی کو زبانوں کا ترجُمہ کرنے کی مہارت۔
1CO 12:11 یہ ساری نِعمتیں وُہی ایک رُوح عطا کرتا ہے اَور جَیسا چاہتاہے ہر ایک کو بانٹتا ہے۔
1CO 12:12 بَدن ایک ہے مگر اُس کے اَعضا بہت سے ہیں اَور جَب یہ بہت سے اَعضا مِل جاتے ہیں تو ایک تن ہو جاتے ہیں۔ اِسی طرح المسیح بھی ہیں۔
1CO 12:13 کیونکہ ہم خواہ یہُودی ہوں یا غَیریہُودی، خواہ غُلام ہوں یا آزاد، سَب نے ایک ہی پاک رُوح کے وسیلہ سے ایک بَدن ہونے کے لیٔے پاک غُسل پایا اَور ہم سَب کو ایک ہی رُوح پِلایا گیا۔
1CO 12:14 بَدن ایک عُضو پر نہیں بَلکہ بہت سے اَعضا پر مُشتمل ہے۔
1CO 12:15 اگر پاؤں کہے، ”چونکہ میں ہاتھ نہیں اِس لیٔے بَدن کا حِصّہ نہیں،“ تو کیا وہ اِس سبب سے بَدن سے جُدا تو نہیں؟
1CO 12:16 اَور اگر کان کہے، ”چونکہ میں آنکھ نہیں، اِس لیٔے بَدن کا حِصّہ نہیں،“ تو کیا وہ اِس سبب سے بَدن سے جُدا تو نہیں رہتا؟
1CO 12:17 اگر سارا بَدن آنکھ ہی ہوتا تو وہ کیسے سُنتا؟ اگر سارا بَدن کان ہی ہوتا تو وہ کیسے سُونگھتا؟
1CO 12:18 مگر حقیقت یہ ہے کہ خُدا نے ہر عُضو کو بَدن میں اَپنی مرضی کے مُطابق رکھا ہے۔
1CO 12:19 اگر وہ سَب ایک ہی عُضو ہوتے تو بَدن کہاں ہوتا؟
1CO 12:20 مگر اَب اَعضا تو کیٔی ہیں لیکن بَدن ایک ہی ہے۔
1CO 12:21 آنکھ ہاتھ سے نہیں کہہ سکتی، ”مُجھے تمہاری ضروُرت نہیں،“ اَور نہ سَر پاؤں سے کہہ سَکتا ہے، ”میں تمہارا مُحتاج نہیں۔“
1CO 12:22 بَدن کے وہ اَعضا جو غَیر اہم اَور بڑے کمزور دِکھائی دیتے ہیں، دراصل وہ بہت ضروُری ہیں۔
1CO 12:23 اَور بَدن کے وہ اَعضا جنہیں ہم دُوسرے اَعضا سے حقیر جانتے ہیں، اُن ہی کو زِیادہ عزّت دیتے ہیں اَور اِس احتیاط سے اُن کی نگہداشت کرتے ہیں۔
1CO 12:24 جسے ہم اَپنے دُوسرے زیبا اَعضا کے لیٔے ضروُری نہیں سمجھتے۔ مگر خُدا نے بَدن کو اَیسے طریقے سے بنایا ہے کہ اُس کے جِن اَعضا کو کم اہم سمجھا جاتا ہے وُہی زِیادہ عزّت کے لائق ہیں،
1CO 12:25 لیکن بَدن میں تِفرقہ نہ ہو بَلکہ اُس کے سَب اَعضا ایک دُوسرے کی برابر فکر رکھیں۔
1CO 12:26 اگر بَدن کا ایک عُضو دُکھ پاتاہے تو سَب اَعضا اُس کے ساتھ دُکھ پاتے ہیں اَور اگر ایک عُضو عزّت پاتاہے تو سَب اَعضا اُس کی خُوشی میں شریک ہوتے ہیں۔
1CO 12:27 پس تُم مِل کر المسیح کا بَدن ہو اَور فرداً فرداً اُس کے اَعضا ہو۔
1CO 12:28 اَور خُدا نے جماعت میں بعض اَشخاص کو الگ الگ رُتبہ دیا ہے۔ پہلے رسول ہیں، دُوسرے نبی، تیسرے اُستاد، پھر معجزے کرنے والے، اُس کے بعد شفا دینے والے، پھر مددگار، پھر مُننتظِم اَور پھر طرح طرح کی زبانیں بولنے والے۔
1CO 12:29 کیا سَب رسول ہیں؟ کیا سَب نبی ہیں؟ کیا سَب اُستاد ہیں؟ کیا سَب معجزے کرتے ہیں؟
1CO 12:30 کیا سَب کو شفا دینے کی قُدرت مِلی ہے؟ کیا سَب طرح طرح کی زبانیں بولتے ہیں؟ کیا سَب ترجُمہ کرتے ہیں؟
1CO 12:31 تُم بڑی سے بڑی نِعمتیں حاصل کرنے کی آرزُو میں رہو۔ لیکن اَب مَیں تُمہیں سَب سے عُمدہ طریقہ بتاتا ہُوں۔
1CO 13:1 اگر مَیں اِنسانوں اَور فرشتوں کی زبانیں بولُوں لیکن مَحَبّت سے خالی رہُوں تو میں ٹھنٹھناتے ہویٔے پیتل یا جھَنجھَناتی ہُوئی جھانجھ کی مانِند ہُوں۔
1CO 13:2 اگر مُجھے نبُوّت کرنے کی نِعمت مِل جائے اَور مَیں ہر راز اَور ہر علم سے واقف ہو جاؤں اَور میرا ایمان اِتنا کامِل ہو کہ پہاڑوں کو سَرکا دُوں، لیکن مَحَبّت سے خالی رہُوں، تو میں کچھ بھی نہیں۔
1CO 13:3 اَور اگر اَپنا سارا مال غریبوں میں بانٹ دُوں اَور اَپنا بَدن قُربانی کے طور پر جَلائے جانے کے لیٔے دے دُوں اَور مَحَبّت سے خالی رہُوں تو مُجھے کویٔی فائدہ نہیں۔
1CO 13:4 مَحَبّت صَابر اَور مہربان ہوتی ہے۔ حَسد نہیں کرتی، شیخی نہیں مارتی، گھمنڈ نہیں کرتی۔
1CO 13:5 بدتمیزی نہیں کرتی، خُود غرض نہیں ہوتی، طیش میں نہیں آتی، بدگُمانی نہیں کرتی۔
1CO 13:6 مَحَبّت ناراستی سے خُوش نہیں ہوتی ہے بَلکہ راستی سے خُوش ہوتی ہے۔
1CO 13:7 سَب کا پردہ رکھتی ہے، ہمیشہ بھروسا کرتی ہے، ہمیشہ اُمّید رکھتی ہے، ہمیشہ برداشت سے کام لیتی ہے۔
1CO 13:8 مَحَبّت لازوال ہے۔ نبُوّتیں موقُوف ہو جایٔیں گی؛ زبانیں جاتی رہیں گی؛ علم مِٹ جائے گا۔
1CO 13:9 کیونکہ ہمارا علم ناقِص ہے اَور ہماری نبُوّت ناتمام،
1CO 13:10 لیکن جَب کامِل آئے گا تو ناقِص جاتا رہے گا۔
1CO 13:11 جَب مَیں بچّہ تھا تو بچّے کی طرح بولتا تھا، بچّے کی سِی سوچ رکھتا تھا۔ لیکن جَب جَوان ہُوا تو بچپن کی باتیں چھوڑ دیں۔
1CO 13:12 اِس وقت تو ہمیں آئینہ میں دھُندلا سا دِکھائی دیتاہے لیکن اُس وقت رُوبرو دیکھیں گے۔ اِس وقت میرا علم ناقِص ہے مگر اُس وقت میں پُورے طور پر پہچان لُوں گا، جَیسے میں پہچانا گیا ہُوں۔
1CO 13:13 غرض ایمان، اُمّید اَور مَحَبّت یہ تینوں دائمی ہیں لیکن مَحَبّت اِن میں افضل ہے۔
1CO 14:1 مَحَبّت کے طالب رہو اَور رُوحانی نِعمتوں کے حاصل کرنے کا بھی شوق رکھو، خاص طور پر نبُوّت کرنے کی نِعمت کا۔
1CO 14:2 اِس کی وجہ یہ ہے کہ جو کسی اجنبی زبان میں کلام کرتا ہے وہ اِنسان سے نہیں بَلکہ خُدا سے ہم کلام ہوتاہے کیونکہ اُس کی بات کویٔی نہیں سمجھتا؛ وہ پاک رُوح کی قُدرت سے راز کی باتیں کرتا ہے۔
1CO 14:3 لیکن جو نبُوّت کرتا ہے وہ لوگوں سے اُن کی ترقّی، نصیحت اَور تسلّی کی باتیں کرتا ہے۔
1CO 14:4 جو کسی اجنبی زبان میں کلام کرتا ہے وہ اَپنے ہی فائدہ کے لیٔے اَیسا کرتا ہے، مگر جو نبُوّت کرتا ہے وہ جماعت کی بھلائی کے لیٔے اَیسا کرتا ہے۔
1CO 14:5 اگرچہ میری یہ خواہش ہے کہ تُم سَب کے سَب اجنبی زبانوں میں کلام کرو لیکن اِس سے زِیادہ بہتر یہ ہے کہ تُم نبُوّت کرو۔ کیونکہ جو اجنبی زبانیں بولتا ہے، اگر وہ جماعت کی ترقّی کے خیال سے اُن کا ترجُمہ نہ کرے تو نبُوّت کرنے والا اُس سے بڑا ہے۔
1CO 14:6 پس، اَے بھائیو اَور بہنوں! اگر مَیں تمہارے پاس آکر اجنبی زبانوں میں کلام کروں لیکن تُم سے کسی مُکاشفہ یا علم یا نبُوّت یا تعلیم کی باتیں نہ کہُوں تو تُمہیں مُجھ سے کیا فائدہ ہوگا؟
1CO 14:7 اگر بانسری یا بربط اَیسے بے جان سازوں کو بجاتے وقت اُن کے سُر صَاف صَاف نہ نکلیں تو جو راگ بجایا جا رہاہے اُسے کون پہچان سکےگا؟
1CO 14:8 اگر تُرہی کی آواز صَاف صَاف سُنایٔی نہ دے تو کون جنگ کے لیٔے تیّار ہوگا؟
1CO 14:9 وَیسے ہی اگر تُم زبان سے صَاف صَاف بات نہ کہو گے تو کون تمہاری سمجھے گا؟ سُننے والے سوچیں گے کہ تُم ہَوا سے باتیں کر رہے ہو۔
1CO 14:10 دُنیا میں بے شُمار زبانیں پائی جاتی ہیں اَور اُن میں سے کویٔی بھی بے معنی نہیں۔
1CO 14:11 لیکن اگر مَیں کسی زبان کو سمجھ نہ سکوں تو میں اُس زبان کے بولنے والے کی نظر میں اجنبی ٹھہروں گا اَور وہ بولنے والا بھی میری نظر میں اجنبی ٹھہرے گا۔
1CO 14:12 اِسی طرح جَب تُم رُوحانی نِعمتوں کے پانے کی آرزُو کرو تو کوشش کرو کہ تمہاری رُوحانی نِعمتوں کے اِضافہ سے جماعت کی ترقّی ہو۔
1CO 14:13 چنانچہ وہ جو کسی اجنبی زبان میں کلام کرتا ہے دعا کرے کہ وہ اُس کا ترجُمہ بھی کر سکے۔
1CO 14:14 کیونکہ اگر مَیں کسی اجنبی زبان میں دعا کروں تو میری رُوح تو دعا کرتی ہے مگر میری عقل بیکار رہتی ہے۔
1CO 14:15 لہٰذا مُجھے کیا کرنا چاہئے؟ میں اَپنی رُوح سے دعا کروں گا، لیکن مَیں اَپنی عقل سے بھی دعا کروں گا، میں اَپنی رُوح سے حَمد کے نغمہ گاؤں گا، لیکن مَیں اَپنی عقل سے بھی گاؤں گا۔
1CO 14:16 اگر تُم صِرف رُوح ہی سے خُدا کی تعریف کرو، تو ناواقِف شخص تیری شُکر گُزاری پر، کیسے، ”آمین“ کہے گا؟ کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ تُم کیا کہہ رہے ہو۔
1CO 14:17 تُم تو بے شک خُدا کا شُکر اَدا کرتے ہو جو اَچھّی بات ہے لیکن اِس سے دُوسرے کی ترقّی نہیں ہوتی۔
1CO 14:18 میں خُدا کا شُکر اَدا کرتا ہُوں کہ میں تُم میں سَب سے زِیادہ غَیر زبانیں بولتا ہُوں۔
1CO 14:19 لیکن جماعت میں کسی غَیر زبان میں دس ہزار باتیں کہنے سے مُجھے یہ زِیادہ پسند ہے کہ اَوروں کی تعلیم کے لیٔے صِرف پانچ باتیں عقل سے کہُوں۔
1CO 14:20 اَے بھائیو اَور بہنوں! تُم عقل کے لِحاظ سے بچّے نہ بنے رہو۔ ہاں، بدی کے لِحاظ سے تو معصُوم بچّے بنے رہو لیکن عقل کے لِحاظ سے، اَپنے آپ کو بالغ ثابت کرو۔
1CO 14:21 توریت میں لِکھّا ہے خُداوؔند فرماتے ہیں: ”میں اِس اُمّت سے بیگانہ زبانوں میں اَور بیگانہ ہونٹوں سے باتیں کروں گا، پھر بھی اُمّت کے لوگ میری نہ سُنیں گے۔“
1CO 14:22 پس اجنبی زبانیں مسیحی مُومِنین کے لیٔے نہیں بَلکہ بےاِعتقادوں کے لیٔے نِشان ہیں۔ اَور نبُوّت بےاِعتقادوں کے لیٔے نہیں بَلکہ مسیحی مُومِنین کے لیٔے نِشان ہے۔
1CO 14:23 اگر ساری جماعت ایک جگہ جمع ہو اَور سَب کے سَب اجنبی زبانیں بولنے لگیں اَور کچھ ناواقِف یا بےاِعتقاد لوگ اَندر آ جائیں تو کیا وہ تُمہیں پاگل نہیں سمجھیں گے؟
1CO 14:24 لیکن اگر سَب نبُوّت کریں اَور کویٔی غَیر مسیحی یا ناواقِف شخص اَندر آ جائے تو وہ تمہاری باتیں سُن کر قائل ہو جائے گا اَور سَب لوگ اُسے اَچھّی طرح پرکھ بھی لیں گے۔
1CO 14:25 اُس کے دِل کے بھید ظاہر ہو جایٔیں گے اَور وہ بھی مُنہ کے بَل گِر کر خُدا کو سَجدہ کرےگا اَور اقرار کرےگا کہ، ”واقعی خُدا تمہارے درمیان مَوجُود ہے!“
1CO 14:26 اَے بھائیو اَور بہنوں! تُمہیں کیا کرنا چاہیئے؟ جَب تُم عبادت کی غرض سے جمع ہوتے ہو تو کسی کا دِل چاہتاہے کہ نغمہ گائے، کویٔی تعلیم دینا چاہتاہے، کویٔی مُکاشفہ کی بات کہنا چاہتاہے، کویٔی کسی بیگانہ زبان میں کلام کرنا چاہتاہے، کویٔی اُس کا ترجُمہ کرنا چاہتاہے۔ لازِم ہے کہ جو کچھ کیا جائے جماعت کی ترقّی کے لیٔے ہو۔
1CO 14:27 اگر کچھ لوگ بیگانہ زبان میں کلام کرنا چاہیں تو دو یا زِیادہ سے زِیادہ تین شخص ایک ایک کرکے بولیں اَور کویٔی اُن کا ترجُمہ کرے۔
1CO 14:28 اگر کویٔی ترجُمہ کرنے والا مَوجُود نہ ہو تو بیگانہ زبان بولنے والا جماعت میں خاموش رہے اَور دِل ہی دِل میں خُدا سے باتیں کر لے۔
1CO 14:29 نبیوں میں سے دو یا تین کلام کریں اَور باقی اُن کے کلام کو پرکھیں۔
1CO 14:30 لیکن اگر ایک کے کلام کرتے وقت کسی دُوسرے پرجو نزدیک بیٹھا ہو وَحی اُترنے لگے تو پہلا شخص خاموش ہو جائے۔
1CO 14:31 اِس طرح تُم سَب ایک ایک کرکے نبُوّت کر سکوگے اَور سَب لوگ سیکھیں گے اَور اُن کا حوصلہ بڑھےگا۔
1CO 14:32 اَور نبیوں کی رُوحیں نبیوں کے تابع ہوتی ہیں۔
1CO 14:33 اِس لیٔے کہ خُدا بدنظمی کا نہیں بَلکہ اَمن کا بانی ہے۔ اَور جَیسا کہ مُقدّسین کی سَب جماعتوں میں دستور ہے۔
1CO 14:34 عورتیں جماعت کے مجمع میں خاموش رہیں۔ اُنہیں بولنے کی اِجازت نہیں بَلکہ تابع رہیں جَیسا کہ توریت میں بھی مرقُوم ہے۔
1CO 14:35 ہاں اگر کویٔی بات سیکھنے کی تمنّا ہو تو گھر میں اَپنے شوہروں سے پُوچھیں۔ اِس لیٔے کہ جماعت کے مجمع میں بولنا عورت کے واسطے شرمناک بات ہے۔
1CO 14:36 کیا تُم لوگوں کا یہ گُمان ہے کہ خُدا کا پیغام تُم لوگوں سے شروع ہُواہے یا صِرف تُم ہی تک پہُنچا ہے؟
1CO 14:37 اگر کویٔی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے یا وہ کسی اَور رُوحانی نِعمت سے نوازا گیا ہے تو اُسے مَعلُوم ہونا چاہئے کہ جو کچھ میں تُمہیں لِکھ رہا ہُوں وہ بھی خُداوؔند ہی کا حُکم ہے۔
1CO 14:38 اگر وہ اَنجان بنتا ہے، تو اُسے اَنجان بنا رہنے دو۔
1CO 14:39 پس، اَے بھائیو اَور بہنوں! نبُوّت کرنے کی آرزُو رکھو اَور بیگانہ زبانیں بولنے سے کسی کو منع مت کرو۔
1CO 14:40 لیکن یہ سَب کچھ شائِستگی اَور قرینہ سے عَمل میں آئے۔
1CO 15:1 اَب، اَے بھائیو اَور بہنوں! میں تُمہیں وہ خُوشخبری یاد دِلانا چاہتا ہُوں جو میں پہلے تُمہیں دے چُکا ہُوں، جسے تُم نے قبُول کر لیا تھا اَور جِس پر تُم مضبُوطی سے قائِم بھی ہو۔
1CO 15:2 اُسی کے وسیلہ تُم نَجات بھی پاتے ہو۔ بشرطیکہ تُم اُس خُوشخبری کو یاد رکھو جو مَیں نے تُمہیں دی تھی۔ ورنہ، تمہارا ایمان لانا بے فائدہ ہے۔
1CO 15:3 کیونکہ ایک بڑی اہم بات جو مُجھ تک پہُنچی اَور مَیں نے تُمہیں سُنایٔی یہ ہے: کِتاب مُقدّس کے مُطابق المسیح ہمارے گُناہوں کے لیٔے قُربان ہُوئے،
1CO 15:4 دفن ہُوئے اَور کِتاب مُقدّس کے مُطابق تیسرے دِن مُردوں میں سے زندہ ہو گیٔے۔
1CO 15:5 اَور کیفؔا کو اَور پھر بَارہ رسولوں کو دِکھائی دئیے۔
1CO 15:6 اُس کے بعد پانچ سَو سے زِیادہ مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کو ایک ساتھ دِکھائی دئیے جِن میں سے اکثر اَب تک زندہ ہیں، بعض البتّہ مَر چُکے ہیں۔
1CO 15:7 پھر یعقوب کو دِکھائی دئیے، اِس کے بعد سَب رسولوں کو،
1CO 15:8 اَور سَب سے آخِر میں مُجھے دِکھائی دئیے جو گویا ادھورے دِنوں کی پیدائش ہُوں۔
1CO 15:9 اِس لیٔے کہ میں رسولوں میں سَب سے چھوٹا ہُوں بَلکہ رسول کہلانے کے لائق بھی نہیں، کیونکہ مَیں نے خُدا کی جماعت کو ستایا تھا۔
1CO 15:10 لیکن اَب مَیں جو کچھ ہُوں، خُدا کے فضل سے ہُوں اَور اُس کا فضل جو مُجھ پر ہُوا بے فائدہ نہیں ہُوا، کیونکہ مَیں نے اُن تمام رسولوں سے زِیادہ محنت کی اَور یہ محنت مَیں نے اَپنی کوشش سے نہیں کی بَلکہ خُدا کے فضل نے مُجھ سے وَیسے کرائی۔
1CO 15:11 لہٰذا خواہ میں ہُوں یا خواہ وہ، ہماری خُوشخبری ایک ہی ہے اَور اُسی پر تُم ایمان لایٔے۔
1CO 15:12 جَب ہم المسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی مُنادی کرتے ہیں تو تُم میں سے بعض کِس طرح کہہ سکتے ہیں کہ مُردے زندہ نہیں ہوتے؟
1CO 15:13 اگر مُردوں کی قیامت نہیں تو المسیح بھی زندہ نہیں ہُوئے۔
1CO 15:14 اَور اگر المسیح زندہ نہیں ہُوئے، تو ہماری مُنادی کا کویٔی فائدہ نہیں اَور تمہارا ایمان لانا بھی بے فائدہ ٹھہرا۔
1CO 15:15 اگر مُردوں کا جی اُٹھنا ممکن نہیں تو گویا خُدا نے المسیح کو بھی زندہ نہیں کیا، تو ہماری یہ گواہی کہ اُس نے المسیح کو زندہ کیا، جھُوٹی ٹھہری۔
1CO 15:16 اگر مُردے زندہ نہیں ہوتے، تو المسیح بھی نہیں جی اُٹھے۔
1CO 15:17 اَور اگر المسیح نہیں جی اُٹھے، تو تمہارا ایمان بے فائدہ ہے؛ اَور تُم ابھی تک اَپنے گُناہوں میں گِرفتار ہو۔
1CO 15:18 بَلکہ جو لوگ المسیح میں ہوکر سو گئے وہ بھی ہلاک ہویٔے۔
1CO 15:19 اگر المسیح پر ایمان لانے سے ہماری اُمّید صِرف اِسی زندگی تک محدُود ہے، تو ہم تمام اِنسانوں سے زِیادہ بدنصیب ہیں۔
1CO 15:20 لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ المسیح مُردوں میں سے جی اُٹھے، لہٰذا جو سو گیٔے ہیں اُن میں پہلا پھل ہویٔے۔
1CO 15:21 کیونکہ جَب اِنسان کے ذریعہ موت آئی، تو اِنسان ہی کے ذریعہ سے مُردوں کی قیامت بھی آئی۔
1CO 15:22 اَور جَیسے آدمؔ میں سَب اِنسان مَرتے ہیں، وَیسے ہی المسیح میں سَب زندہ کیٔے جایٔیں گے۔
1CO 15:23 لیکن ہر ایک اَپنی اَپنی باری کے مُطابق: سَب سے پہلے المسیح؛ پھر المسیح کے لَوٹنے پر، اُن کے لوگ۔
1CO 15:24 اُس کے بعد آخِرت ہوگی، اُس وقت المسیح ساری حُکومت، کُل اِختیار اَور قُدرت نِیست کرکے سلطنت خُدا باپ کے حوالہ کر دیں گے۔
1CO 15:25 کیونکہ اَپنے سارے دُشمنوں کو اَپنے قدموں کے نیچے نہ لے آنے تک المسیح کا سلطنت کرنا لازِم ہے۔
1CO 15:26 آخِری دُشمن جو نِیست کیا جائے گا وہ موت ہے۔
1CO 15:27 لہٰذا، جَب کِتاب مُقدّس کا فرمان ہے: ”خُدا نے سَب کچھ اُن کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔“ اَور ”سَب کچھ اُن کے تابع کر دیا گیا“ یہ تو ظاہر ہے کہ خُدا اِس میں شامل نہ رہا، جِس نے ہر چیز کو المسیح کے تابع کر دیا ہے۔
1CO 15:28 اَور جَب سَب کچھ خُدا کے تابع ہو جائے گا تو بیٹا خُود بھی اُس کے تابع ہو جائے گا جِس نے سَب چیزیں بیٹے کے تابع کر دیں تاکہ خُدا ہی سَب میں سَب کچھ ہے۔
1CO 15:29 اگر مُردوں کی قیامت ہے ہی نہیں تو وہ لوگ کیا کریں گے جو مُردوں کی خاطِر پاک غُسل لیتے ہیں؟ اگر مُردے زندہ ہی نہیں ہوتے تو پھر اُن کے لیٔے پاک غُسل کیوں لیا جاتا ہے؟
1CO 15:30 اَور ہم بھی کیوں ہر وقت خطرہ میں پڑے رہتے ہیں؟
1CO 15:31 اَے بھائیو، میں خُداوؔند المسیح یِسوعؔ میں تُم پر اِسی فخر کی قَسم کھا کر کہتا ہُوں کہ میں تو ہر روز موت کے مُنہ میں جاتا ہُوں۔
1CO 15:32 اگر مَیں محض اِنسانی غرض سے اِفِسُسؔ شہر میں درندوں سے لڑا تو مُجھے کیا فائدہ ہُوا؟ اگر مُردے زندہ نہیں کیٔے جایٔیں گے، جَیسا کہ مقولہ ہے: ”تو آؤ کھایٔیں، اَور پیئیں، کیونکہ کل تو ہمیں مَرنا ہی ہے۔“
1CO 15:33 دھوکے میں نہ رہو، ”بُرے لوگوں کی صُحبت میں رہنے سے اَچھّی عادتیں بگڑ جاتی ہیں۔“
1CO 15:34 راستباز ہونے کے لیٔے ہوش میں آؤ، اَور گُناہ نہ کرو کیونکہ کتنے شرم کی بات ہے کہ تُم میں بعض ابھی تک خُدا سے نا آشنا ہیں۔
1CO 15:35 ممکن ہے کہ کویٔی یہ سوال کرے: ”مُردوں کا زندہ ہونا کِس طرح ممکن ہے؟ اگر ممکن ہے تو اُن کا جِسم کیسا ہوگا؟“
1CO 15:36 اُسے بتاؤ کہ اَے نادان! اُس بیج کو دیکھو جو تُم بوتے ہو۔ جَب تک وہ خاک میں نہیں مِل جاتا، اُگتا نہیں۔
1CO 15:37 اَورجو دانہ تُم بوتے ہو وہ جِسم نہیں جو پیدا ہونے والا ہے، وہ محض ایک دانہ ہوتاہے، خواہ گیہُوں کا ہو، خواہ کسی اَور اناج کا۔
1CO 15:38 لیکن خُدا اُس دانہ کو اَپنی مرضی کے مُطابق جِسم عطا کرتا ہے، بَلکہ ہر بیج کو اُس کی قِسم کے مُطابق ایک خاص جِسم دیتاہے۔
1CO 15:39 سَب گوشت ایک طرح کا نہیں ہوتا۔ آدمیوں کا گوشت اَور ہے، جانوروں کا اَور ہے، پرندوں کا اَور ہے اَور مچھلیوں کا اَور ہے۔
1CO 15:40 جِسم آسمانی بھی ہوتے ہیں اَور زمینی بھی؛ مگر آسمانوں کی شان و شوکت اَور ہے، اَور زمینیوں کی اَور
1CO 15:41 آفتاب کا جلال اَور ہے، مَہتاب کا اَور سِتاروں کا اَور بَلکہ سِتارے سِتارے کے جلال میں فرق ہے۔
1CO 15:42 مُردوں کی قیامت بھی اَیسی ہی ہے۔ جِسم فنا کی حالت میں دفن کیا جاتا ہے، اَور بَقا کی حالت میں جی اُٹھتا ہے؛
1CO 15:43 وہ بےحُرمتی کی حالت میں گاڑا جاتا ہے، اَور عظمت کی حالت میں زندہ کیا جاتا ہے؛ کمزوری کی حالت میں بویا جاتا ہے، اَور قُوّت کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔
1CO 15:44 نَفسانی جِسم دفن کیا جاتا ہے، اَور رُوحانی جِسم جی اُٹھتا ہے۔ اگر نَفسانی جِسم ہے، تو رُوحانی بھی ہے۔
1CO 15:45 چنانچہ لِکھّا ہے: ”پہلا آدمی یعنی آدمؔ زندہ نَفس بنا،“ آخِری آدمؔ، زندگی بخشنے والی رُوح بنا۔
1CO 15:46 یعنی رُوحانی پہلے نہ تھا، بَلکہ نَفسانی تھا، بعد میں رُوحانی ہُوا۔
1CO 15:47 پہلا آدمی زمین کی خاک سے بنایا گیا؛ مگر آخِری آدمی آسمان سے آیا۔
1CO 15:48 خاکی اِنسان، آدمؔ کی طرح خاکی ہیں؛ لیکن رُوحانی اِنسان آسمان سے آنے والے کی طرح آسمانی ہیں۔
1CO 15:49 جِس طرح ہم اُس خاکی کی صورت پر پیدا ہویٔے، اُسی طرح ہم اُس آسمانی کے مُشابہ بھی ہوں گے۔
1CO 15:50 اَے بھائیو اَور بہنوں! میرا مطلب یہ ہے کہ جِسم اِنسانی جو خُون اَور گوشت کا مُرکّب ہے، خُدا کی بادشاہی کا وارِث نہیں ہو سَکتا، اَور نہ فنا بَقا کی وارِث ہو سکتی ہے۔
1CO 15:51 دیکھو، مَیں تُمہیں ایک راز کی بات بتاتا ہُوں: ہم سَب موت کی نیند نہیں سوئیں گے، مگر بدل جایٔیں گے۔
1CO 15:52 یہ پَلک جھپکتے ہی ہو جائے گا، یعنی ایک دَم جَب آخِری نرسنگا پھُونکا جائے گا۔ کیونکہ سارے مُردے نرسنگے کے پھُونکے جانے پر غَیر فانی جِسم پا کر زندہ ہو جایٔیں گے، اَور ہم سَب بدل جایٔیں گے۔
1CO 15:53 کیونکہ ہمارے فانی جِسم کو بَقا کے لباس کی ضروُرت ہے، تاکہ اِس مَرنے والے جِسم کو حیات اَبدی مِل جائے۔
1CO 15:54 اَور جَب فانی جِسم بَقا کا لباس پہن چُکے گا، اَور یہ مَرنے والا جِسم حیات اَبدی پالے گا، تو یہ کِتاب مُقدّس کا فرمان پُورا ہو جائے گا: ”موت فتح کا لُقمہ ہو گئی ہے۔“
1CO 15:55 ”اَے موت، تیری فتح کہاں رہی؟ اَے موت! تیرا ڈنک کہاں رہا؟“
1CO 15:56 موت کا ڈنک گُناہ ہے، اَور گُناہ کا زور شَریعت ہے۔
1CO 15:57 مگر خُدا کا شُکر ہو کہ وہ ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے ہمیں فتح بخشتا ہے۔
1CO 15:58 اِس لیٔے میرے عزیز بھائیو اَور بہنوں، ثابت قدم رہو اَور خُداوؔند کی خدمت میں ہمیشہ سرگرم رہو، کیونکہ تُم جانتے ہو کہ خُداوؔند میں تمہاری محنت بے فائدہ نہیں ہے۔
1CO 16:1 جو عَطیّہ مسیحی مُقدّسین کے لیٔے جمع کیا جاتا ہے: اُس کے بارے میں تُم میری اِس ہدایت پر عَمل کرو جو مَیں نے گلِتیؔہ صُوبہ کی جماعتوں کو دی ہیں۔
1CO 16:2 یعنی ہر ہفتہ کے پہلے دِن، تُم میں سے ہر شخص اَپنی آمدنی کے مُطابق اَپنے پاس کچھ جمع کرکے رکھتا رہے، تاکہ جَب مَیں آؤں تو تُمہیں پیسہ جمع کرنے کی ضروُرت نہ ہو۔
1CO 16:3 اَور جَب مَیں وہاں آؤں گا، تو جنہیں تُم منظُور کروگے اُنہیں میں خط دے کر بھیج دُوں گا تاکہ وہ تمہارے ہدیہ یروشلیمؔ پہُنچا دیں۔
1CO 16:4 اگر میرا جانا بھی مُناسب ہوگا، تو وہ میرے ہی ساتھ جا سکیں گے۔
1CO 16:5 میں صُوبہ مَکِدُنیہؔ سے ہوتا ہُوا، تمہارے پاس آؤں گا کیونکہ وہاں مُجھے مَکِدُنیہؔ ہوکر جانا ہی ہے۔
1CO 16:6 شاید تمہارے پاس کچھ دِن ٹھہروں بَلکہ سردی کا موسم بھی تمہارے یہاں ہی گزاروں، پھر اُمّید ہے کہ جہاں مُجھے جانا ہوگا، تُم مُجھے بھجوا دوگے۔
1CO 16:7 میں یہ نہیں چاہتا کہ میری مُلاقات تُم سے راستہ میں ہو؛ اِس لیٔے اگر خُداوؔند کی مرضی ہُوئی، تو میں کچھ عرصہ تمہارے پاس رہُوں گا۔
1CO 16:8 عیدِ پِنتکُست تک تو میں اِفِسُسؔ میں رہُوں گا،
1CO 16:9 کیونکہ یہاں میرے لیٔے مُنادی کرنے کا ایک وسیع دروازہ کھُلا ہُواہے، حالانکہ مُخالفت کرنے والے بھی بہت ہیں۔
1CO 16:10 اگر تِیمُتھِیُس تمہارے یہاں آئے، تو اُس کا خیال رکھنا کہ وہ یہاں تمہارے ساتھ بے خوف رہے، کیونکہ وہ بھی میری طرح خُداوؔند کی خدمت میں لگا ہُواہے۔
1CO 16:11 کویٔی اُس سے، حقارت کے ساتھ پیش نہ آئے۔ اُسے میرے پاس صحیح سلامت بھیج دینا۔ میں اُس کا اَور دُوسرے مسیحی بھائیوں کا اِنتظار کر رہا ہُوں۔
1CO 16:12 بھایٔی اپُلّوسؔ کے بارے میں: تُمہیں مَعلُوم ہو کہ مَیں نے بہت اِلتماس کیا کہ وہ بھی مسیحی بھائیوں کے ساتھ تمہارے پاس آئے۔ لیکن اِس وقت وہ راضی نہ ہُوا، بعد میں مُناسب موقع ملتے ہی وہ بھی آئے گا۔
1CO 16:13 جاگتے رہو؛ اَپنے ایمان پر قائِم رہو، بہادر بنو؛ اَور مضبُوط ہوتے جاؤ۔
1CO 16:14 جو کچھ کرتے ہو مَحَبّت سے کرو۔
1CO 16:15 اَے بھائیو اَور بہنوں! تُم اِستِفناسؔ اَور اُس کے گھر والوں کو تو جانتے ہی ہو۔ وہ صُوبہ اَخیہؔ میں سَب سے پہلے مسیحی ہویٔے تھے۔ اُنہُوں نے مسیحی مُقدّسین کی خدمت اَور مدد کرنے کے لیٔے اَپنی زندگی وقف کر رکھی ہے۔
1CO 16:16 میں تمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ اَیسے لوگوں کے تابع رہو بَلکہ ہر کسی کے جو اِس کام اَور محنت میں شریک ہے۔
1CO 16:17 میں اِستِفناسؔ، فرتوناتُسؔ اَور اَخیِکُسؔ کے آ جانے سے خُوش ہُوں، کیونکہ جو تُم سے رہ گیا تھا اُنہُوں نے پُورا کر دیا۔
1CO 16:18 کیونکہ اُنہُوں نے تمہاری طرح میری رُوح کو بھی تازہ دَم کر دیا۔ اَیسے اِنسانوں کی قدر کرنا ضروُری ہے۔
1CO 16:19 صُوبہ آسیہؔ کی جماعتیں تُمہیں سلام کہتی ہیں۔ اَکوِلہؔ اَور پرسکِلّہؔ، اُس جماعت سمیت جو اُن کے گھر میں جمع ہوتی ہے، تُمہیں خُداوؔند کے نام سے سرگرمی کے ساتھ سلام کہتے ہیں۔
1CO 16:20 یہاں کے سَب مسیحی بھایٔی اَور بہن تُمہیں سلام کہتے ہیں۔ پاک بوسہ لے کر ایک دُوسرے کو میرا سلام کہنا۔
1CO 16:21 میں پَولُسؔ اَپنے ہاتھ سے یہ سلام لِکھتا ہُوں۔
1CO 16:22 جو کویٔی خُداوؔند سے مَحَبّت نہیں رکھتا وہ ملعُون ہو، ہمارے خُداوؔند آنے والے ہیں۔
1CO 16:23 خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا فضل تُم پر ہوتا رہے۔
1CO 16:24 میری مَحَبّت المسیح یِسوعؔ میں تُم سَب کے ساتھ برقرار رہے۔ آمین۔
2CO 1:1 پَولُسؔ کی طرف سے جو خُدا کی مرضی سے المسیح یِسوعؔ کے رسول ہیں، اَور بھایٔی تِیمُتھِیُس کی طرف سے بھی،
2CO 1:2 ہمارے خُدا باپ اَور ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی طرف سے تُمہیں فضل اَور اِطمینان حاصل ہوتا رہے۔
2CO 1:3 ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے خُدا اَور باپ کی حَمد ہو، وہ نہایت ہی رحیم باپ ہے اَور ہر طرح کی تسلّی دینے والا خُدا ہے،
2CO 1:4 وُہی ہماری ساری مُصیبتوں میں ہمیں تسلّی دیتاہے، تاکہ ہم اُس خُدا داد تسلّی سے دُوسروں کو بھی تسلّی دے سکیں جو کسی بھی طرح کی مُصیبت میں مُبتلا ہیں۔
2CO 1:5 کیونکہ جِس طرح المسیح کی خاطِر ہمارے دُکھ بڑھتے جاتے ہیں، اُسی طرح ہمیں المسیح کے وسیلہ سے تسلّی بھی زِیادہ ملتی ہے۔
2CO 1:6 اگر ہم مُصیبت اُٹھاتے ہیں، تو تمہاری تسلّی اَور نَجات کے لیٔے اُٹھاتے ہیں؛ اَور اگر تسلّی پاتے ہیں، تو وہ بھی تمہاری تسلّی کے واسطے، اُس تسلّی کا اثر یہ ہوگا کہ تُم بھی اُن مُصیبتوں کو صبر کے ساتھ برداشت کر سکوگے جنہیں ہم برداشت کرتے ہیں۔
2CO 1:7 اَور ہم تمہاری طرف سے بڑے پُر اُمّید ہیں، کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ جِس طرح تُم تکالیف میں ہمارے شریک ہو، اُسی طرح ہماری تسلّی میں بھی شریک ہو۔
2CO 1:8 اَے بھائیو اَور بہنوں! ہم نہیں چاہتے کہ تُم ہماری اُس مُصیبت سے بے خبر رہو جو صُوبہ آسیہؔ میں ہم پر آئی۔ یہ مُصیبت اِس قدر شدید اَور ہماری قُوّت برداشت سے باہر تھی، کہ ہم تو اَپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
2CO 1:9 ہمیں یقین تھا کہ ہماری موت کا فتویٰ صادر ہو چُکاہے۔ لیکن اِس تجربہ نے ہمیں اَپنے آپ کی بجائے اُس خُدا پر بھروسا رکھنا سِکھایا، جو مُردوں کو زندہ کرتا ہے۔
2CO 1:10 خُدا نے ہمیں بڑی ہلاکت سے رِہائی بخشی، اَور بخشےگا۔ اَور ہمیں خُدا سے اُمّید ہے کہ وہ آئندہ بھی رِہائی بخشتا رہے گا۔
2CO 1:11 اگر تُم مِل کر دعا سے ہماری مدد کروگے۔ تو وہ فضل جو بہت سے لوگوں کی دعاؤں کے وسیلہ سے ہم پر ہُواہے، اُس کے لیٔے بہت سے لوگ ہماری خاطِر خُدا کا شُکر اَدا کریں گے۔
2CO 1:12 ہمیں فخر ہے: ہمارا ضمیر وفاداری سے گواہی دیتاہے کہ ہم لوگ دُنیا والوں کے اَور خاص طور پر، تمہارے ساتھ تعلّقات میں، خُدا داد پاکیزگی اَور سچّائی کے ساتھ پیش آتے رہے ہیں۔ جو دُنیوی حِکمت کی نہیں بَلکہ خُدا کے فضل کی بدولت ہے۔
2CO 1:13 ہم تُمہیں وُہی باتیں لِکھتے ہیں جو سچّی ہیں اَور جنہیں تُم پڑھ سکتے ہو اَور مانتے بھی ہو اَور اُمّید ہے کہ آخِر تک مانتے رہوگے۔
2CO 1:14 تُم نے کسی حَد تک تُو یہ بات مان لی ہے، اَور پُوری طرح مان بھی لوگے کہ جِس طرح ہم تمہارے لیٔے باعث فخر ہیں اُسی طرح تُم بھی خُداوؔند یِسوعؔ کے واپسی کے دِن تک ہمارے لیٔے فخر کا باعث ہوگے۔
2CO 1:15 اِسی بھروسے پر مَیں نے اِرادہ کیا تھا کہ پہلے، تمہارے پاس آؤں تاکہ تُمہیں دُگنی خُوشی حاصل ہو۔
2CO 1:16 اَور تمہارے پاس سے مَکِدُنیہؔ کے صُوبہ کو چلا جاؤں اَور وہاں سے واپسی پر تُم لوگوں سے ایک بار پھر ملوں، تاکہ تُم مُجھے یہُودیؔہ کی طرف روانہ کر دو۔
2CO 1:17 کیا تُم لوگ یہ سوچتے ہو کہ مَیں نے اَپنا اِرادہ بدل دیا اَور مَیں اَیسا دُنیادار ہُوں کہ پکّا اِرادہ کر ہی نہیں سَکتا؟ اَور اگر کرتا ہُوں تو اُس میں ”ہاں کی، ہاں“ بھی ہوتی ہے اَور ”نہیں کی، نہیں“ بھی۔
2CO 1:18 جِس طرح خُدا کا قول حق ہے اُسی طرح ہمارا قول اگر ”ہاں“ میں ہے تو ”ہاں“ ہی رہتاہے، ”نہیں“ مَیں نہیں بدلتا۔
2CO 1:19 سِیلاسؔ، تِیمُتھِیُس اَور مَیں نے جِس خُدا کے بیٹے یِسوعؔ المسیح کی مُنادی تمہارے درمیان کی ہے اُس میں کویٔی ”ہاں“ اَیسی نہ تھی جو ”نہیں“ میں بدل سکتی تھی۔ بَلکہ اُس کی ”ہاں“ ہمیشہ ”ہاں“ ہی رہی۔
2CO 1:20 کیونکہ خُدا کے جتنے بھی وعدے ہیں اُن سَب کی ”ہاں“ المسیح ہیں۔ اِسی لیٔے ہم المسیح کے وسیلہ سے ”آمین“ کہتے ہیں تاکہ خُدا کا جلال ظاہر ہو۔
2CO 1:21 خُدا ہی ہے جو ہمیں اَور تُمہیں المسیح میں قائِم کرتا ہے۔ خُدا نے ہی ہمیں مَسح کیا ہے،
2CO 1:22 خُدا نے ہی ہم پر اَپنی مُہر بھی لگا دی ہے، اَور پاک رُوح ہمارے دِلوں میں ڈال کر، گویا آنے والی برکتوں کا بیَعانہ اَدا کر دیا ہے۔
2CO 1:23 خُدا گواہ ہے کہ میں کُرِنتھُسؔ میں تمہارے پاس میں اَپنی زندگی داؤں پر لگا کر اِس لیٔے نہیں آیا کہ تُم میری سخت کلامی سے بچے رہو۔
2CO 1:24 ہمارا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہم تمہارے ایمان کے بارے میں تُم پر حُکم چلائیں، ہم آپ کی خُوشنودی میں آپ کے ہم خدمت ہیں، بَلکہ تُم تو اَپنے ایمان پر مضبُوطی سے قائِم ہو۔
2CO 2:1 چنانچہ مَیں نے دِل میں ٹھان لیا تھا کہ پھر سے تمہارے پاس آکر تُمہیں رنجیدہ نہیں کروں گا۔
2CO 2:2 کیونکہ اگر مَیں تُمہیں رنجیدہ کروں تو مُجھے کون خُوش کرےگا، سِوائے تمہارے جو میرے سبب سے رنجیدہ ہویٔے؟
2CO 2:3 یہی وجہ ہے کہ مَیں نے تُمہیں وہ پچھلا خط لِکھّا تھا تاکہ جَب مَیں آؤں تو مُجھے اُن لوگوں سے رنج نہ پہُنچے جو مُجھے زِیادہ خُوشی دے سکتے ہیں۔ مُجھے یقین ہے کہ جو میری خُوشی ہے وُہی تُم سَب کی بھی ہے۔
2CO 2:4 مَیں نے بہت رنجیدہ اَور پریشانی کی حالت میں آنسُو بہا بہا کر تُمہیں لِکھّا تھا۔ تُمہیں رنج پہُنچانا میرا مقصد نہیں تھا۔ بَلکہ میں چاہتا تھا کہ تُم اُس گہری مَحَبّت کو جانو جو مُجھے تُم سے ہے۔
2CO 2:5 اگر کسی نے دُکھ پہُنچایا تو صِرف مُجھے ہی نہیں بَلکہ کسی حَد تک تُم سَب کو پہُنچایا ہے۔ اِس لیٔے کہتا ہوں کہ میں اُن کے ساتھ بہت سختی سے پیش نہ آؤں۔
2CO 2:6 اَور تُم سَب کی ناراضگی کی وجہ سے جو سزا اُسے مِل چُکی ہے وہ کافی ہے۔
2CO 2:7 بہتر یہی ہے کہ اَب تُم اُس کا قُصُور مُعاف کر دو اَور اُسے تسلّی دو۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ غم کی شِدّت سے فنا نہ ہو جائے۔
2CO 2:8 لہٰذا میں تمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ اُسے اَپنی مَحَبّت کا یقین دِلاؤ۔
2CO 2:9 مَیں نے خط اِس لیٔے بھی لِکھّا تھا کہ تمہارا اِمتحان لُوں کہ تُم ساری باتوں میں فرمانبردار ہو یا نہیں۔
2CO 2:10 جسے تُم مُعاف کرتے ہو اُسے میں بھی مُعاف کرتا ہُوں۔ اگر مَیں نے مُعاف کیا تو المسیح کو حاضِر جان کر تمہاری خاطِر کیا،
2CO 2:11 تاکہ شیطان کو اَپنا داؤ چلانے کا موقع نہ ملے۔ کیونکہ ہم اُس کی چالبازی سے واقف ہیں۔
2CO 2:12 جَب مَیں المسیح کی خُوشخبری سُنانے کے لیٔے تروآسؔ شہر پہُنچا تو مَیں نے دیکھا کہ خُداوؔند نے میرے لیٔے خدمت کا دروازہ کھول رکھا ہے۔
2CO 2:13 پھر بھی میری رُوح کو تسلّی نہ مِلی۔ میں پریشان ہو گیا کیونکہ میرا بھایٔی طِطُسؔ وہاں نہ تھا۔ لہٰذا میں وہاں کے لوگوں سے رخصت ہوکر صُوبہ مَکِدُنیہؔ کے لیٔے روانہ ہو گیا۔
2CO 2:14 لیکن خُدا کا شُکر ہے کہ وہ المسیح میں ہمیں ہمیشہ فاتحانہ جَشن میں لیٔے پھرتاہے اَور اَپنے علم کی خُوشبو ہمارے وسیلہ سے ہر جگہ پھیلاتا ہے۔
2CO 2:15 کیونکہ خُدا کے نزدیک ہم المسیح کی وہ خُوشبو ہیں جو نَجات پانے والوں اَور ہلاک ہونے والوں، دونوں ہی کے لیٔے ہے۔
2CO 2:16 بعض کے لیٔے موت کی بُو اَور بعض کے لیٔے زندگی کی خُوشبو۔ اِس کام کے لائق اَور کون ہے؟
2CO 2:17 لہٰذا ہم اُن بے شُمار لوگوں کی مانِند نہیں، جو خُدا کے کلام میں آمیزش کرتے ہیں بَلکہ ہم کلام کو صَاف دِلی کے ساتھ خُدا کو حاضِر جان کر المسیح کے وفادار خادِموں کی طرح پیش کرتے ہیں۔
2CO 3:1 کیا ہم اَپنی نیک نامی کا ڈھنڈورا پیٹنے لگیں؟ کیا ہمیں ضروُرت ہے کہ بعض لوگوں کی طرح سفارشی خُطوط لے کر تمہارے پاس آئیں یا تُم سے سفارشی خُطوط لے کر دُوسروں کے پاس جایٔیں؟
2CO 3:2 ہمارا خط تو ہمارے دِلوں پر لِکھّا ہُواہے، اَور وہ خط تُم ہو، اُس خط کو سَب لوگ جانتے ہیں اَور پڑھ بھی سکتے ہیں۔
2CO 3:3 ظاہر ہے کہ تُم وہ خط ہو جسے ہم نے المسیح کے خادِموں کی حیثیت سے تحریر کیا ہے، یہ خط روشنائی سے نہیں، بَلکہ زندہ خُدا کے پاک رُوح کے ذریعہ پتّھر کی تختیوں پر نہیں بَلکہ اِنسانی جِسم کے دِلوں کی تختیوں پر لِکھّا گیا ہے۔
2CO 3:4 المسیح کی مَعرفت خُدا پر ہمارا اَیسا ہی بھروسا ہے۔
2CO 3:5 یہ بات نہیں کہ خُود ہم میں کویٔی لیاقت ہے کہ ہم اَیسا خیال کریں بَلکہ ہماری لیاقت خُدا کی عطا کَردہ ہے۔
2CO 3:6 جِس نے ہمیں نئے عہد کے خادِم ہونے کے لائق بھی کیا۔ تحریری نظام کے نہیں بَلکہ رُوح کے خادِم ہیں؛ کیونکہ تحریری نظام مار ڈالتا ہے، مگر پاک رُوح زندگی عطا کرتی ہے۔
2CO 3:7 جِس وقت موت کے عہد کے حُروف پتّھر کی تختیوں پر کَندہ کرکے، حضرت مَوشہ کو دئیے گیٔے، تو اُن کا چہرہ جلال سے پُرہو گیا، اَور بنی اِسرائیلؔ اُسے دیکھنے کی تاب نہ لا سکے، حالانکہ وہ جلال گھٹتا جا رہاتھا،
2CO 3:8 تو کیا پاک رُوح کا عہد اُس سے کہیں بڑھ کر جلال والا نہ ہوگا؟
2CO 3:9 جَب مُجرم ٹھہرانے والا عہد جلال والا ہے تو راستباز ٹھہرانے والا عہد یقینی طور پر زِیادہ جلال والا کیوں نہ ہوگا؟
2CO 3:10 جو شَے کسی وقت جلال والی تھی، اَب بے اِنتہا جلال والی شَے کے مُقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔
2CO 3:11 کیونکہ جَب مٹنے والی چیز جلالی تھی، تو اَبد تک قائِم رہنے والی چیز کِس قدر زِیادہ جلال والی ہوگی!
2CO 3:12 لہٰذا اِس اُمّید کی وجہ سے ہم بڑے بے خوف ہوکر بولتے ہیں۔
2CO 3:13 ہم مَوشہ کی مانند نہیں، جنہوں نے اَپنے چہرہ پر نقاب ڈال لی تھی تاکہ بنی اِسرائیلؔ اُس جلال کو جو مِٹتا جا رہاتھا نہ دیکھ سکیں۔
2CO 3:14 اُن کی عقل پر پردہ پڑ گیا تھا، اَور آج بھی پُرانے عہدنامہ کی کِتابیں پڑھتے وقت اُن کے دِلوں پر پردہ پڑا رہتاہے۔ یہ پردہ اُسی وقت اُٹھتا ہے جَب کویٔی المسیح پر ایمان لے آتا ہے۔
2CO 3:15 آج تک جَب کبھی شَریعتِ مُوسوی پڑھی جاتی ہے، اُن کے دِلوں پر وُہی پردہ پڑا رہتاہے۔
2CO 3:16 لیکن جَب کبھی کسی کا دِل خُداوؔند کی طرف رُجُوع ہوتاہے، تو وہ پردہ ہٹا دیا جاتا ہے۔
2CO 3:17 یہاں خُداوؔند سے مُراد پاک رُوح ہے، اَور جہاں خُداوؔند کا پاک رُوح مَوجُود ہے، وہاں آزادی ہے۔
2CO 3:18 لیکن ہم سَب، جِن کے بے نقاب چہروں سے خُداوؔند کا جلال اِس طرح ظاہر ہوتاہے، جِس طرح آئینہ میں، تو ہم خُداوؔند کے پاک رُوح کے وسیلہ سے اُس کی جلالی صورت میں درجہ بدرجہ بدلتے جاتے ہیں۔
2CO 4:1 پس، جَب ہم نے خُدا کی مہربانی کی بدولت یہ خدمت پائی ہے، تو ہم ہِمّت نہیں ہارتے۔
2CO 4:2 ہم نے شرم کی پوشیدہ باتوں کو ترک کر دیا ہے؛ ہم مکّاری کی چال نہیں چلتے، اَور نہ ہی خُدا کے کلام میں آمیزش کرتے ہیں۔ بَلکہ جو حق ہے اُسے ظاہر کرکے خُدا کے حُضُور ہر شخص کے دِل میں اَپنی نیک نیّتی بِٹھاتے ہیں۔
2CO 4:3 اگر ہماری خُوشخبری ابھی بھی پوشیدہ ہے، تو صِرف ہلاک ہونے والوں کے لیٔے پوشیدہ ہے۔
2CO 4:4 چونکہ اِس جہان کے جھُوٹے خُدا نے اُن بےاِعتقادوں کی عقل کو اَندھا کر دیا ہے، اِس لیٔے وہ خُدا کی صورت یعنی المسیح کے جلال کی خُوشخبری کی رَوشنی کو دیکھنے سے محروم ہیں۔
2CO 4:5 کیونکہ ہم اَپنی نہیں، بَلکہ یِسوعؔ المسیح کی مُنادی کرتے ہیں کہ وُہی خُداوؔند ہیں، اَور اَپنے حق میں یہی کہتے ہیں کہ ہم المسیح کی خاطِر تمہارے غُلام ہیں۔
2CO 4:6 اِس لیٔے کہ وہ خُدا جِس نے فرمایا: ”تاریکی میں سے نُور چمکے،“ وُہی ہمارے دِلوں میں چمکا تاکہ ہم پہچان سکیں کہ جو نُور یِسوعؔ المسیح کے چہرہ سے جلوہ گِر ہے وہ خُدا کے جلال کا نُور ہے۔
2CO 4:7 لیکن ہمارے پاس یہ خزانہ مٹّی کے برتنوں میں رکھا گیا ہے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ یہ لامحدود قُدرت خُدا کی طرف سے ہے نہ کہ ہماری طرف سے۔
2CO 4:8 ہم ہر طرف سے دبائے جاتے ہیں، لیکن کُچلے نہیں جاتے؛ پریشان تو ہوتے ہیں، لیکن نا اُمّید نہیں ہوتے؛
2CO 4:9 ستائے جاتے ہیں، لیکن اکیلے نہیں چھوڑے جاتے؛ زخم کھاتے ہیں، لیکن ہلاک نہیں ہوتے۔
2CO 4:10 ہم اَپنے بَدن میں یِسوعؔ کی موت لیٔے پھرتے ہیں، تاکہ یِسوعؔ کی زندگی بھی ہمارے بَدن میں ظاہر ہو۔
2CO 4:11 کیونکہ ہم عمر بھر یِسوعؔ کی خاطِر موت کا مُنہ دیکھتے رہتے ہیں، تاکہ یِسوعؔ کی زندگی بھی ہمارے فانی بَدن میں ظاہر ہو۔
2CO 4:12 پس موت تو ہم میں کام کرتی ہے، لیکن زندگی تُم میں۔
2CO 4:13 کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”میں ایمان لایا؛ اِسی لیٔے بولا۔“ ایمان کی وُہی رُوح ہم میں بھی ہے، پس ہم بھی ایمان لایٔے اَور اِسی سبب سے بولتے ہیں۔
2CO 4:14 کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جِس نے خُداوؔند یِسوعؔ کو مُردوں میں سے زندہ کیا وہ ہمیں بھی یِسوعؔ کے ساتھ زندہ کرےگا اَور تمہارے ساتھ اَپنے سامنے حاضِر کرےگا۔
2CO 4:15 یہ سَب چیزیں تمہارے فائدہ کے لیٔے ہیں، تاکہ جو فضل زِیادہ سے زِیادہ لوگوں تک پہُنچ رہاہے اُس کے ذریعہ سے خُدا کے جلال کے لیٔے لوگوں کی شُکر گُزاری میں بھی اِضافہ ہوتا جائے۔
2CO 4:16 اِس لیٔے ہم ہِمّت نہیں ہارتے۔ خواہ ہماری ظاہری طور سے جِسمانی قُوّت کم ہوتی جا رہی ہے، لیکن باطنی رُوحانی قُوّت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔
2CO 4:17 ہماری یہ مَعمولی سِی مُصیبت جو کہ عارضی ہے ہمارے لیٔے اَیسا اَبدی جلال پیدا کر رہی ہے جو ہمارے قیاس سے باہر ہے۔
2CO 4:18 لہٰذا ہم دیکھی ہُوئی چیزوں پر نہیں، بَلکہ اَندیکھی چیزوں پر نظر کرتے ہیں، کیونکہ دیکھی ہُوئی چیزیں چند روزہ ہیں، مگر اَندیکھی ہمیشہ کے لیٔے ہیں۔
2CO 5:1 ہم جانتے ہیں کہ جَب ہمارا خیمہ جو زمین پر ہمارا عارضی گھر ہے، گرا دیا جائے گا تو ہمیں خُدا کی طرف سے آسمان پر ایک اَیسی عمارت ملے گی جو اِنسانی ہاتھوں کی بنائی ہُوئی نہیں بَلکہ اَبدی ہے۔
2CO 5:2 چنانچہ ہم اِس مَوجُودہ جِسم میں کراہتے ہیں، اَور ہماری بڑی آرزُو ہے کہ ہم اَپنے آسمانی مَسکن کو لباس کی طرح پہن لیں،
2CO 5:3 تاکہ اُسے پہن لینے کے بعد، ہم ننگے نہ پایٔے جایٔیں۔
2CO 5:4 ہم اِس خیمہ میں رہتے ہویٔے بوجھ کے مارے کراہتے ہیں، کیونکہ ہم یہ لباس اُتارنا نہیں چاہتے، بَلکہ اُسی پر دُوسرا پہن لینا چاہتے ہیں، تاکہ جو فانی ہے وہ بَقا کا لُقمہ بَن جائے۔
2CO 5:5 وہ خُدا ہی ہے جِس نے ہمیں اِسی غرض سے بنایا، اَور اَپنا پاک رُوح ہمیں آنے والی چیزوں کے بیَعانہ کے طور، پر دیا ہے۔
2CO 5:6 پس ہم ہمیشہ مطمئن رہتے ہیں اَور جانتے ہیں کہ جَب تک ہم جِسم کے گھر میں ہیں، خُداوؔند کے گھر سے دُور ہیں۔
2CO 5:7 کیونکہ ہم ایمان کے سہارے زندگی گزارتے ہیں، نہ کہ آنکھوں دیکھے پر۔
2CO 5:8 ہم اِطمینان سے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ اِس جِسمانی گھر کو چھوڑکر خُداوؔند کے گھر میں رہنے لگیں۔
2CO 5:9 لیکن خواہ ہم اَپنے گھر میں ہوں خواہ اُس سے دُور، ہمارا مقصد تو خُداوؔند کو خُوش رکھناہے۔
2CO 5:10 کیونکہ ہم سَب کو المسیح کی عدالت میں پیش ہوناہے، تاکہ ہر شخص اَپنے اَچھّے یا بُرے اعمال کا جو اُس نے اَپنے بَدن سے دُنیا میں کیٔے ہیں، بدلہ پایٔے۔
2CO 5:11 کیونکہ، ہمیں، مَعلُوم ہے کہ خُداوؔند کا خوف کیا ہے، اِس لیٔے ہم دُوسروں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خُدا ہمارے دِلوں کا حال اَچھّی طرح جانتا ہے، اَور مُجھے اُمّید ہے کہ یہ حال تمہارے ضمیر پر بھی ظاہر ہُوا ہوگا۔
2CO 5:12 اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم تمہارے سامنے پھر سے، اَپنی نیک نامی جتانے لگے ہیں بَلکہ تُمہیں موقع دینا چاہتے ہیں کہ تُم ہم پر فخر کر سکو، اَور اُن لوگوں کو جَواب دے سکو جو ظاہر پر تو فخر کرتے ہیں لیکن باطِن پر نہیں۔
2CO 5:13 اگر ہم دیوانے ہیں، تو خُدا کے واسطے ہیں؛ اَور اگر ہوش میں ہیں، تو تمہارے واسطے۔
2CO 5:14 ہم المسیح کی مَحَبّت کے باعث مجبُور ہیں، کیونکہ ہم اِس بات پر قائل ہیں کہ جَب ایک آدمی سَب کے لیٔے مَرا ہے، تو سَب مَر گیٔے۔
2CO 5:15 اَور وہ اِس لیٔے سَب کی خاطِر مَرا کہ جو، جیتے ہیں وہ آئندہ اَپنی خاطِر نہ جئیں بَلکہ صِرف اُس کی خاطِر جو اُن کے لیٔے مَرا اَور پھر سے جی اُٹھا۔
2CO 5:16 پس اَب سے ہم کسی کو جِسمانی حیثیت سے نہیں جانیں گے۔ اگرچہ ایک وقت ہم نے المسیح کو بھی جِسمانی حیثیت سے جانا تھا، لیکن اَب ہم اُنہیں جان گئے ہیں۔
2CO 5:17 اِس لیٔے، اگر کویٔی المسیح میں ہے، تو وہ نئی مخلُوق ہے۔ پُرانی چیزیں جاتی رہیں۔ دیکھو! اَب وہ نئی ہو گئیں!
2CO 5:18 یہ سَب خُدا کی طرف سے ہے، جِس نے المسیح کے ذریعہ ہمارے ساتھ صُلح کرلی اَور صُلح کرانے کی خدمت ہمارے سُپرد کر دی:
2CO 5:19 مطلب یہ ہے کہ خُدا نے المسیح کے ذریعہ دُنیا والوں سے صُلح کرلی، اَور اُنہیں اُن کی سرکشیوں کا ذمّہ دار نہیں ٹھہرایا۔ المسیح نے صُلح کا یہ پیغام ہمارے سُپرد کر دیا۔
2CO 5:20 اِس لیٔے ہم المسیح کے ایلچی ہیں، گویا خُدا ہمارے ذریعہ لوگوں سے مُخاطِب ہوتاہے۔ لہٰذا ہم المسیح کی طرف سے اِلتماس کرتے ہیں: خُدا سے صُلح کر لو۔
2CO 5:21 خُدا نے المسیح کو جو گُناہ سے واقف نہ تھا، ہمارے واسطے گُناہ ٹھہرایا تاکہ ہم المسیح میں خُدا کے راستباز ہو جایٔیں۔
2CO 6:1 ہم جو خُدا کے کام میں شریک ہیں تمہاری مِنّت کرتے ہیں کہ خُدا کے فضل کو ضائع نہ ہونے دو۔
2CO 6:2 کیونکہ خُدا فرماتے ہیں، ”مَیں نے قبُولیّت کے وقت تیری سُن لی، اَور نَجات کے دِن تیری مدد کی۔“ دیکھو! قبُولیّت کا وقت یہی ہے اَور نَجات کا دِن آج ہی ہے۔
2CO 6:3 ہم نہیں چاہتے کہ ہماری اِس خدمت پر حرف آئے، اِس لیٔے ہم کوشش کرتے ہیں کہ کسی کے لیٔے خدمت میں رُکاوٹ پیدا نہ کریں
2CO 6:4 بَلکہ ہر بات سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم خُدا کے خادِم ہیں: ہم نے بڑے صبر سے مُصیبت؛ اِحتیاج اَور تنگی کا سامنا کیا؛
2CO 6:5 کوڑے کھائے، قَید ہویٔے، ہنگاموں سے دوچار ہویٔے، مشقّت کی، اَپنی نیند حرام کی، بھُوکے رہے؛
2CO 6:6 ہم پاکیزگی سے، علم سے، تحمُّل سے، مہربانی سے؛ پاک رُوح سے، سچّی مَحَبّت سے؛
2CO 6:7 کلام حق سے، خُدا کی قُدرت سے؛ راستبازی کے ہتھیاروں کے وسیلہ سے جو ہمارے داہنے اَور بائیں ہیں؛
2CO 6:8 ہماری عزّت بھی کی جاتی ہے اَور بے عزّتی بھی، ہم بدنام ہیں اَور نیک نام بھی، ہم سچّے ہیں پھر بھی ہمیں دغاباز سمجھا جاتا ہے؛
2CO 6:9 گمنام ہیں تو بھی مشہُور ہیں؛ مُردوں کی طرح ہیں پھر بھی زندہ ہیں؛ مار کھاتے رہتے ہیں مگر ہلاک نہیں کیٔے جاتے؛
2CO 6:10 غمگینوں کی مانِند ہیں، مگر ہمیشہ خُوش رہتے ہیں؛ کنگال دِکھائی دیتے ہیں مگر بہتیروں کو دولتمند بنا دیتے ہیں؛ ناداروں کی مانِند ہیں مگر سَب کچھ رکھتے ہیں۔
2CO 6:11 کُرِنتھُسؔ والو! ہم نے تُم سے کھُل کر باتیں کی ہیں، بَلکہ اَپنا دِل کھول کر رکھ دیا ہے۔
2CO 6:12 ہمارے ہاں تمہارے لیٔے تنگ دِلی نہیں ہے، لیکن تمہارے ہی دماغ تذبذب کا شِکار ہیں۔
2CO 6:13 میں تُمہیں اَپنا فرزند جان کر یہ کہتا ہُوں کہ تُم بھی ہماری طرح کشادہ دِل ہو جاؤ۔
2CO 6:14 بےاِعتقادوں کے ساتھ ناہموار جُوئے میں نہ جُتو۔ کیونکہ راستبازی اَور بے دینی میں کیا میل جول؟ یا رَوشنی اَور تاریکی میں کیا شراکت؟
2CO 6:15 المسیح کو بلِیعالؔ سے کیا مُوافقت؟ ایمان والوں کا بےاِعتقادوں سے کیا واسطہ؟
2CO 6:16 خُدا کے مَقدِس کو بُتوں سے کیا مُناسبت؟ زندہ خُدا کا مَقدِس تو ہم ہیں جَیسا کہ خُدا نے فرمایاہے: ”میں اُن میں بسُوں گا اَور اُن کے درمیان چلا پھرا کروں گا۔ میں اُن کا خُدا ہوں گا اَور وہ میری اُمّت ہوں گے۔“
2CO 6:17 لہٰذا، ”خُداوؔند خُود فرماتے ہیں۔ اُن میں سے باہر نکل آؤ، علیحدہ ہو جاؤ۔ اَورجو چیز ناپاک ہے اُسے مت چھُوؤ، تَب میں تُمہیں قبُول کروں گا۔“
2CO 6:18 اَور ”میں تمہارا باپ ہوں گا، اَور تُم میرے بیٹے، بیٹیاں ہوگے، یہ قول خُداوؔند قادرمُطلق کا ہے۔“
2CO 7:1 عزیزو! جَب کہ ہم سے اَیسے وعدے کیٔے گیٔے ہیں، تو آؤ ہم اَپنے آپ کو ساری جِسمانی اَور رُوحانی آلُودگی سے پاک کریں، اَور خُدا کے خوف کے ساتھ پاکیزگی کو کمال تک پہُنچائیں۔
2CO 7:2 ہمیں اَپنے دِلوں میں جگہ دو۔ ہم نے کسی کے ساتھ نااِنصافی نہیں کی، کسی کو نہیں بگاڑا، کسی سے ناجائز فائدہ نہیں اُٹھایا۔
2CO 7:3 میں تُمہیں مُجرم ٹھہرانے کے لیٔے نہیں کہتا؛ میں پہلے ہی کہ چُکا ہُوں کہ تُم ہمارے دِلوں میں بس گیٔے ہو کہ اَب ہم ایک ساتھ جئیں گے اَور مَریں گے۔
2CO 7:4 مُجھے تُم پر بڑا بھروسا ہے؛ بَلکہ میں تُم پر فخر بھی کرتا ہُوں۔ میرا حوصلہ بڑھا ہے؛ تمام مُصیبتوں کے باوُجُود میرا دِل خُوشی سے لبریز ہے۔
2CO 7:5 صُوبہ مَکِدُنیہؔ میں آنے کے بعد بھی، ہمارے جِسم کو چَین نہ مِلا، ہم پر ہر طرف سے مُصیبتیں آتی تھیں۔ باہر لڑائیاں تھیں، اَور اَندر دہشتیں۔
2CO 7:6 لیکن پست حالوں کو حوصلہ دینے والے خُدا نے طِطُسؔ کو وہاں بھیج کر، ہمیں تسلّی بخشی،
2CO 7:7 نہ صِرف اُس کی آمد سے بَلکہ اُس تسلّی سے بھی جو اُس کو تُم سے حاصل ہُوئی۔ اَور طِطُسؔ نے ہمیں تمہارا غم، تمہارا اشتیاق، اَور میرے بارے میں بڑا جوش رکھتے ہو، اُس کا بَیان کیا تو مُجھے اَور بھی خُوشی ہُوئی۔
2CO 7:8 اگرچہ مَیں نے اَپنے پہلے خط سے تمہارا دِل دِکھایا، پھر بھی میں اُس کے لکھنے پر پشیمان نہیں ہُوں۔ ہاں، پہلے پشیمان تھا کہ مَیں نے تُمہیں اَیسا خط کیوں لِکھّا جِس نے تُمہیں رنجیدہ کیا، خواہ تھوڑی دیر کے لیٔے ہی سہی۔
2CO 7:9 اَب مَیں خُوش ہُوں، اِس لیٔے نہیں کہ تُمہیں رنج پہُنچا، بَلکہ اِس لیٔے کہ تمہارے رنج نے تُمہیں تَوبہ کرنے پر مجبُور کیا۔ اَور خُدا نے اُس رنج کے ذریعہ اَپنی مرضی پُوری کی اَور یُوں تُمہیں ہماری وجہ سے کویٔی نُقصان نہیں ہُوا۔
2CO 7:10 کیونکہ وہ رنج جو خُدا کی مرضی کو پُورا کرتا ہے، اِنسان کو تَوبہ کرنے پر اُبھارتا ہے جِس کا نتیجہ نَجات ہے۔ اَور اِس پر کسی کو پچھتانے کی ضروُرت نہیں، لیکن دُنیا کا رنج موت پیدا کرتا ہے۔
2CO 7:11 پس دیکھو اُس رنج نے جو خُدا کی مرضی کے مُطابق تھا: تُم میں کِس قدر سرگرمی، معذرت خواہی، ناراضگی، خوفِ خُدا، اشتیاق، غیرت اَور اِنتقام پیدا کر دیا۔ تُم نے ہر طرح سے ثابت کر دیا کہ تُم اِس مُعاملہ میں بے قُصُور ہو۔
2CO 7:12 مَیں نے وہ خط لِکھّا تو ضروُر تھا، لیکن نہ تو اُس ظالِم کے باعث لِکھّا اَور نہ اُس کے باعث جِس پر ظُلم ہُوا، بَلکہ میں چاہتا تھا کہ ہمارے واسطے جو تمہاری سرگرمی ہے وہ خُدا کی حُضُوری میں تُم پر ظاہر ہو جائے کہ تُم ہمیں کتنی اہمیّت دیتے ہو۔
2CO 7:13 اِس لیٔے ہمیں تسلّی ہُوئی۔ اِس تسلّی کے علاوہ طِطُسؔ کو خُوش دیکھ کر ہمیں اَور بھی زِیادہ خُوشی مُیسّر ہُوئی، کیونکہ تُم سَب اُس کی رُوح کی تازگی کا باعث بنے۔
2CO 7:14 مَیں نے اُس کے سامنے تمہاری بابت فخر کیا تھا۔ اَچھّا ہُوا کہ تُم نے مُجھے شرمندہ نہیں ہونے دیا۔ جِس طرح ہم نے تمہارے سامنے ساری باتیں سچّائی سے بَیان کیں، اُسی طرح جو فخر ہم نے طِطُسؔ کے سامنے کیا وہ بھی سچ نِکلا۔
2CO 7:15 جَب اُسے یاد آتا ہے کہ تُم کِس قدر فرمانبردار نکلے اَور کِس طرح خوف کھاتے، اَور تھرتھراتے ہویٔے اُس سے ملے تھے تو اُس کا دِل تمہاری مَحَبّت سے لبریز ہو جاتا ہے۔
2CO 7:16 اَب مَیں بہت ہی خُوش ہُوں اَور مُجھے تمہاری طرف سے پُورا اِطمینان ہو گیا ہے۔
2CO 8:1 اَے بھائیو اَور بہنوں! ہم تُمہیں خُدا کے اُس فضل کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں جو مَکِدُنیہؔ کی جماعتوں پر ہُوا۔
2CO 8:2 اِنتہائی مفلسی اَور سخت مُصیبت میں گِرفتار ہونے کے باوُجُود، اُنہُوں نے اِنتہائی خُوشی اَور دِل کھول کر عَطیّہ دیا۔
2CO 8:3 میں اِس بات کا گواہ ہُوں کہ اُنہُوں نے جِس قدر وہ دے سکتے تھے، دیا بَلکہ اَپنے مقدور سے کہیں زِیادہ دیا۔ اَور وہ بھی اَپنی خُوشی سے،
2CO 8:4 اُنہُوں نے ہماری اُمّید کے مُطابق خُدا کو دیا بَلکہ اُس سے کہیں زِیادہ دیا: اَور ہماری مِنّت کی کہ اُنہیں بھی مُقدّسین کی اِس خدمت میں شریک کیا جائے۔
2CO 8:5 اُنہُوں نے نہ صِرف ہماری اُمّید کے مُطابق خُدا کو دیا بَلکہ اُس سے کہیں زِیادہ دیا: اَور خُود کو سَب سے پہلے خُداوؔند کی اَور ہماری مرضی کے سُپرد کر دیا۔
2CO 8:6 اِس لیٔے ہم نے طِطُسؔ سے مِنّت کی کہ جِس طرح اُس نے پہلے اِس خدمت کا آغاز کیا تھا، آپ کے ساتھ بھی فضل کے اِس عَمل کو پُورا کرے۔
2CO 8:7 اَور دیکھو کہ جِس طرح تُم ہر بات میں یعنی ایمان میں، کلام میں، علم میں، جوش میں اَور ہماری مَحَبّت میں دُوسروں سے آگے ہو۔ اُسی طرح اِس عطیوں کے کام میں بھی آگے رہو۔
2CO 8:8 میں تُمہیں حُکم نہیں دے رہا، بَلکہ تمہاری بے رِیا مَحَبّت کو آزمانے کے لیٔے دُوسروں کی سرگرمی کی مثال دے رہا ہُوں۔
2CO 8:9 کیونکہ تُم تو ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے فضل کو جانتے ہو۔ وہ دولتمند تھے، پھر بھی تمہاری خاطِر غریب بَن گیٔے، تاکہ تُم المسیح کے غریب ہو جانے سے دولتمند ہو جاؤ۔
2CO 8:10 اَب میری رائے میں تو تمہارے لیٔے یہی بہتر ہے۔ تُم نے جو کام پچھلے سال شروع کیا تھا تُم لوگ ہی سَب سے پہلے تھے جنہوں نے یہ عَطیّہ دینے کی پہل کی تھی۔
2CO 8:11 جَیسے تُم اِرادہ کرنے میں مُستعد تھے، وَیسے ہی اُسے پُوری طاقت سے عَملی جامہ بھی پہناؤ۔
2CO 8:12 کیونکہ اگر تمہاری نیّت دینے پر آمادہ ہو، تو اُس کے مُطابق خُدا تمہارا عَطیّہ قبُول کرےگا جو آدمی کے پاس ہے، نہ اُس کے مُطابق جو اُس کے پاس نہیں ہے۔
2CO 8:13 میرا مطلب یہ نہیں کہ اَوروں کا بوجھ تُم پر ڈال کر تمہارے بوجھ کو اَور بھاری کر دُوں، میرا مقصد صِرف یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ مُعاملات یکساں ہوں۔
2CO 8:14 چونکہ اِس وقت تمہارے پاس کافی ہے اِس لیٔے تُم اَپنے عَطیّہ سے اُن کی کمی کو پُورا کر سکتے ہو، اَور جَب اُن کے پاس کافی ہوگا اَور تمہارے پاس کم تو وہ تمہاری مدد کر سکیں گے۔ یُوں ذمّہ داری کا بوجھ برابر ہو جائے،
2CO 8:15 چنانچہ کِتاب مُقدّس لِکھّا ہے: ”جِس نے زِیادہ جمع کیا اُس کا کچھ زِیادہ نہ نِکلا، اَور جِس نے کم جمع کیا اُس کا کچھ کم نہ نِکلا۔“
2CO 8:16 خُدا کا شُکر ہے، جِس نے طِطُسؔ کے دِل میں بھی وُہی سرگرمی پیدا کی جو مُجھ میں ہے۔
2CO 8:17 اُس نے نہ صِرف ہماری درخواست قبُول کی، بَلکہ وہ پُوری سرگرمی کے ساتھ اَپنی خُوشی سے تمہارے پاس پہُنچ رہاہے۔
2CO 8:18 ہم ایک مسیحی بھایٔی کو بھی اُس کے ساتھ بھیج رہے ہیں، جِس کی خُوشخبری سُنانے کی تعریف تمام جماعتوں میں کی جاتی ہے۔
2CO 8:19 اَور صِرف یہی نہیں بَلکہ جماعتوں نے اُسے مُنتخب کیا کہ وہ عطیوں کی اِس خدمت کے لیٔے ہمارا ہم سفر ہو، ہم یہ کام خُداوؔند کے جلال کے لیٔے کرتے ہیں اَور اِس سے ہمارا شوق بھی ظاہر ہوتاہے۔
2CO 8:20 ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ عطیوں کی اِتنی بڑی رقم کا ٹھیک سے اِنتظام نہ کرنے کے بارے میں ہماری بدنامی ہو۔
2CO 8:21 ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ ہماری یہ تدبیر خُداوؔند اَور اِنسان دونوں کی نظر میں، بھلی ثابت ہو۔
2CO 8:22 یہی وجہ ہے کہ ہم نے اُن کے ساتھ اُس بھایٔی کو بھیجا ہے جسے ہم نے کیٔی باتوں میں بارہا آزمایا اَور بڑا سرگرم پایا، اَب چونکہ تُم پر اُسے بڑا بھروسا ہے اِس لیٔے وہ اَور بھی سرگرم ہو گیا ہے۔
2CO 8:23 رہی طِطُسؔ کی بات، تو وہ تمہارے درمیان میرا ساتھی اَور ہم خدمت ہے؛ جہاں تک ہمارے بھائیوں کی بات ہے، وہ جماعتوں کے نُمائندے ہیں اَور المسیح کا جلال ظاہر کرتے ہیں۔
2CO 8:24 پس جماعتوں کی مَوجُودگی میں اُن پر ثابت کرو کہ تُم ہم سے مَحَبّت رکھتے ہو اَور ہمارا فخر جو ہم تُم پر کرتے ہیں، صحیح ہے۔
2CO 9:1 اُس خدمت کے بارے میں جسے ہم یہُوداہؔ کے مسیحی مُقدّسین کی خاطِر اَنجام دے رہے ہیں، مُجھے زِیادہ لکھنے کی ضروُرت نہیں۔
2CO 9:2 میں جانتا ہُوں کہ تُمہیں مدد کرنے کا شوق ہے، اِس لیٔے میں مَکِدُنیہؔ کے لوگوں کے سامنے تمہاری تعریف کرتا ہُوں، مَیں نے اُنہیں بتایا کہ تُم صُوبہ اَخیہؔ والے، پچھلے سال سے عَطیّہ دینے کے لئے تیّار ہو؛ تمہاری اِس سرگرمی سے اکثر مسیحی مَکِدُنی بھائیوں میں اَیسا کرنے کا جوش پیدا ہُوا۔
2CO 9:3 لیکن مَیں اِن بھائیوں کو اِس لیٔے بھیج رہا ہُوں کہ تُم پر ہمارا فخر کرنا بے بُنیاد نہ ٹھہرے، بَلکہ جِس طرح مَیں نے کہا، تُم بالکُل اُسی طرح تیّار رہو۔
2CO 9:4 کہیں اَیسا نہ ہو کہ مَکِدُنیہؔ کے کچھ لوگ میرے ساتھ آئیں اَور تُمہیں عَطیّہ دینے کے لیٔے تیّار نہ پائیں، تمہارے اُس بھروسا کی وجہ سے جو ہم نے کیا ہے، ہمیں اَور تُمہیں شرمندہ ہونا پڑے!
2CO 9:5 اِس لیٔے مَیں نے بھائیوں سے یہ درخواست کرنا بہت ضروُری سمجھا کہ وہ مُجھ سے پہلے تمہارے پاس پہُنچ جایٔیں اَور وہ عَطیّہ جو تُم نے دینے کا وعدہ کیا۔ وقت سے پہلے تیّار کر رکھیں تاکہ وہ خُوشی سے دیا ہُوا عَطیّہ مَعلُوم ہو، نہ کہ اَیسی رقم جو زبردستی جمع کی گئی ہو۔
2CO 9:6 یاد رکھو: جو تھوڑا بوتا ہے وہ تھوڑا کاٹے گا، اَورجو زِیادہ بوتا ہے وہ زِیادہ کاٹے گا۔
2CO 9:7 جِس نے دِل میں جِس قدر دینے کا خیال کیا ہُواہے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کےاُتنا ہی دے اَور خُوشی سے دے، نہ کہ مجَبُوری یا کسی دباؤسے کیونکہ خُدا خُوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔
2CO 9:8 خُدا تُمہیں کثرت سے فضل دینے کے قابل ہے، تاکہ تمہارے پاس ہر وقت، اَور ہر حالت میں کافی سے زِیادہ مَوجُود رہے، اَور تُم نیک کاموں کے لیٔے خُوشی سے دے سکو۔
2CO 9:9 چنانچہ لِکھّا ہے: ”اُنہُوں نے بِکھیرا ہے، اُنہُوں نے مسکینوں کو دیا ہے؛ اُن کی راستبازی ہمیشہ تک قائِم رہے گی۔“
2CO 9:10 لہٰذا وہ خُدا جو بونے والے کو بیج اَور کھانے والے کو روٹی عطا فرماتے ہیں وُہی تُمہیں بھی بیج عطا فرمائے گا، اُسے اُگائے گا اَور تمہاری راستبازی کی فصل کو بڑھائے گا۔
2CO 9:11 خُدا تُمہیں مالا مال کرےگا تاکہ تُم ہر وقت بڑی کثرت سے دے سکو، اَور لوگ ہمارے وسیلہ سے تمہارا عَطیّہ پا کر خُدا کا شُکر اَدا کریں۔
2CO 9:12 کیونکہ تمہاری اِس خدمت سے نہ صِرف مُقدّسین کی ضروُرتیں پُوری ہوتی ہیں، بَلکہ بہت سے لوگوں کی طرف سے خُدا کا شُکرانہ بھی اَدا کیا جاتا ہے۔
2CO 9:13 اِس خدمت سے لوگوں پر ثابت ہو جائے گا کہ تُم المسیح کی خُوشخبری کو ماننے کا دعویٰ ہی نہیں کرتے، بَلکہ اُس پر تابِعداری سے عَمل بھی کرتے ہو۔ خُدا کی تعریف کرتے اَور سَب لوگوں کی مدد کرنے میں بڑی سخاوت سے کام لیتے ہو۔
2CO 9:14 ساتھ ہی وہ تُمہیں خُدا کے اُس بڑے فضل کے سبب سے جو تُم پر ہُواہے، بڑی مَحَبّت سے اَپنی دعاؤں میں یاد کریں گے۔
2CO 9:15 شُکر خُدا کا اُس کی اُس بخشش کے لیٔے جو بَیان سے باہر ہے!
2CO 10:1 اَب وُہی پَولُسؔ المسیح کی فروتنی اَور نرمی یاد دِلاتے ہویٔے، میں، تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں، میں پَولُسؔ، جَب تمہارے سامنے تو ”حلیم“ بَن جاتا ہُوں لیکن جَب تُم سے دُور ہوتا تو ”بڑے سخت“ خط لِکھتا ہُوں!
2CO 10:2 بَلکہ مِنّت کرتا ہُوں کہ مُجھے مجبُور نہ کرو کہ وہاں آکر سختی سے کام لُوں جو ہم پر یہ اِلزام لگاتے ہیں کہ ہم محض دُنیوی جِسمانی خواہشات کی تکمیل کے لیٔے زندگی بسر کر رہے ہیں۔
2CO 10:3 اگرچہ ہم دُنیا ہی میں رہتے ہیں، لیکن ہم دُنیا کے جِسمانیوں کی طرح نہیں لڑتے۔
2CO 10:4 جِن ہتھیاروں سے ہم لڑتے ہیں وہ دُنیا کے جِسمانی ہتھیار نہیں۔ بَلکہ، خُدا کے اَیسے قوی ہتھیار ہیں جِن سے ہم بُرائی کے مضبُوط قِلعوں کو مِسمار کر دیتے ہیں۔
2CO 10:5 چنانچہ ہم اُن دلیلوں اَور اُونچی باتوں کو جو خُدا کی پہچان کے بر خِلاف اُٹھتی ہیں ڈھا دیتے ہیں، اَور ہر ایک خیال کو قَید کرکے المسیح کے تابع کر دیتے ہیں۔
2CO 10:6 ہم ہر طرح کی نافرمانی کو سزا دیں گے، لیکن پہلے ضروُری ہے کہ تمہاری فرماں برداری ثابت ہو۔
2CO 10:7 تُم صِرف ظاہری چیزوں پر نظر کرتے ہو۔ اگر وہاں کسی کو یہ گمان ہے کہ وہ المسیح کا ہے، تو اُسے یہ بھی سوچ لینا چاہئے کہ جَیسے وہ المسیح کا ہے وَیسے ہی ہم بھی ہیں۔
2CO 10:8 اگر مَیں اِس اِختیار پر کچھ زِیادہ ہی فخر کرتا ہُوں جو خُداوؔند نے مُجھے تمہاری ترقّی کے لیٔے دیا ہے نہ کہ تنزّلی کے لیٔے، تو اِس میں میرے لیٔے شرم کی کون سِی بات ہے؟
2CO 10:9 کویٔی یہ نہ سمجھے کہ میں اَپنے خُطوط سے تُمہیں ڈرانے یا دھمکانے کی کوشش کر رہا ہُوں۔
2CO 10:10 کچھ لوگ کہتے ہیں، ”پَولُسؔ کے خُطوط بہت مؤثر اَور سخت ہوتے ہیں لیکن جَب وہ خُود آتے ہیں تو جِسمانی اِعتبار سے اِتنے کمزور دِکھائی دیتے ہیں اَور ڈھنگ سے تقریر بھی نہیں کر سکتے۔“
2CO 10:11 اَیسا کہنے والوں کو مَعلُوم ہو کہ جو کچھ ہم اَپنی غَیر حاضری میں خُطوط میں لِکھتے ہیں، وُہی ہم وہاں حاضِر ہوکر عَمل میں بھی لا سکتے ہیں۔
2CO 10:12 ہماری جُرأت کہاں کہ ہم اَپنے آپ کو اُن شَخصُوں میں شُمار کریں یا اُن سے اَپنا مُقابلہ کریں جو ہمیشہ اَپنے ہی مُنہ سے اَپنی تعریف کرتے ہیں۔ کیونکہ کچھ لوگ خُود کو مِعیار بنا کر اُس پر اَپنے آپ کو جانچتے ہیں اَور اَپنا موازنہ خُود ہی سے کرکے، اَپنی نادانی کا ثبوت دیتے ہیں۔
2CO 10:13 لیکن ہم اَیسا فخر نہیں کریں گے جو بے اَندازہ ہو، بَلکہ ہم اَپنے فخر کو خُدا کے مُقرّر کیٔے ہویٔے علاقہ تک محدُود رکھیں گے، جِس میں تُم بھی آ گئے ہو۔
2CO 10:14 اگر ہم تُم تک نہیں پہُنچے ہوتے، تو ہمارا فخر بے اَندازہ ہو جاتا، لیکن ہم المسیح کی خُوشخبری سُناتے ہویٔے تُم تک پہُنچ ہی گیٔے۔
2CO 10:15 ہم دُوسروں کی محنت پر بے اَندازہ فخر نہیں کرتے۔ بَلکہ اُمّید رکھتے ہیں، تمہارے ایمان میں ترقّی ہوگی، اَور تمہاری مدد سے ہمارے کام کا دائرہ خُدا کی مُقرّرہ کی ہوئی حَد کے مُطابق اَور بھی بڑھےگا،
2CO 10:16 تاکہ ہم تمہاری سرحد سے پرے دُوسرے مُلکوں میں بھی خُوشخبری سُنا سکیں۔ یہ نہیں کہ کسی دُوسرے کے علاقہ میں پہلے سے کی گئی خدمت پر فخر کرنے لگیں۔
2CO 10:17 غرض، ”جو فخر کرے وہ خُداوؔند پر فخر کرے۔“
2CO 10:18 کیونکہ جو کویٔی اَپنے مُنہ سے اَپنی تعریف کرتا ہے وہ مقبُول نہیں ہوتا، بَلکہ جسے خُداوؔند نیک نام ٹھہراتا ہے وُہی مقبُول ہوتاہے۔
2CO 11:1 کاش تُم میری ذرا سِی بےوقُوفی برداشت کر سکتے۔ ہاں، برداشت تو تُم کرتے ہی ہو!
2CO 11:2 میرے دِل میں تمہارے لیٔے خُدا کی سِی غیرت ہے۔ کیونکہ مَیں نے ایک ہی شوہر یعنی المسیح کے ساتھ تمہاری نِسبت طے کی ہے، تاکہ تُمہیں ایک پاک دامن کنواری کی طرح المسیح کے پاس حاضِر کر دُوں۔
2CO 11:3 لیکن مُجھے خدشہ ہے کہ کہیں تمہارے خیالات بھی حوّاؔ کی طرح، جسے شیطان سانپ نے مکّاری سے بہکا دیا تھا، اُس خُلوص اَور عقیدت سے جو المسیح کے لائق ہے، دُور نہ ہو جایٔیں۔
2CO 11:4 اگر کویٔی تمہارے پاس آکر کسی دُوسرے یِسوعؔ کی مُنادی کرتا ہے جِس کی ہم نے مُنادی نہیں کی تھی، یا تُمہیں کسی اَور طرح کی رُوح یا خُوشخبری ملتی ہے، جو پہلے نہ مِلی تھی، تو تُم بڑی خُوشی سے اُسے برداشت کرلیتے ہو۔
2CO 11:5 میں اَپنے آپ کو اُن ”افضل رسولوں“ سے کسی بات میں کمتر نہیں سمجھتا۔
2CO 11:6 میں تقریر کرنے کے لِحاظ سے بے شعور سہی، لیکن علم کے لِحاظ سے نہیں۔ اِس کا ثبوت تو ہم ہر بات میں ہر طرح سے تُم پر ظاہر کر چُکے ہیں۔
2CO 11:7 مَیں نے تُمہیں مُفت خُدا کی انجیل سُنا کر خُود فروتنی سے کام لیا تاکہ تُم اُونچے ہو جاؤ کیا یہ میری خطا تھی؟
2CO 11:8 میرا تمہارے درمیان رہ کر دُوسری جماعتوں سے اُجرت لے کر تمہاری خدمت کرنا اَیسا تھا۔ جَیسے مَیں نے تمہارے لیٔے دُوسری جماعتوں کو لُوٹا ہو۔
2CO 11:9 اَور جَب مَیں تمہارے پاس تھا اَور مُجھے پیسوں کی ضروُرت پڑی، تو مَیں نے تُمہیں ذرا بھی تکلیف نہ دی، کیونکہ صُوبہ مَکِدُنیہؔ سے میرے مسیحی بھائیوں اَور بہنوں نے آکر میری ضروُرت پُوری کر دی تھی۔ اَور مَیں ہر ایک بات میں تُم پر بوجھ ڈالنے سے باز رہا اَور باز رہُوں گا۔
2CO 11:10 المسیح کی راستی جو مُجھ میں ہے، میں اُس کی قَسم کھا کر کہتا ہُوں کہ صُوبہ اَخیہؔ میں بھی کویٔی شخص مُجھے اِس فخر کے اِظہار سے باز نہیں رکھ سَکتا۔
2CO 11:11 آخِر کیوں؟ کیا اِس لیٔے کہ میں تُم سے مَحَبّت نہیں رکھتا؟ اِس کا خُدا کو علم ہے!
2CO 11:12 جو میں کر رہا ہُوں وُہی کرتا رہُوں گا تاکہ موقع پرستوں کو اِس بات پر فخر کرنے کا موقع نہ ملے کہ وہ بھی ہماری ہی طرح خدمت کر رہے ہیں۔
2CO 11:13 اَیسے لوگ جھُوٹے رسول ہیں اَور دغابازی سے کام لیتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی المسیح کے رسولوں کی طرح دِکھائی دیں۔
2CO 11:14 اَور یہ کویٔی عجِیب بات نہیں کیونکہ شیطان بھی اَپنا حُلیہ بدل لیتا ہے تاکہ نُور کا فرشتہ دِکھائی دے۔
2CO 11:15 چنانچہ اگر شیطان کے خادِم بھی اَپنا حُلیہ بدل کر خُود کو راستبازی کے خادِموں کی طرح ظاہر کریں، تو یہ بڑی بات نہیں، لیکن اَیسے لوگ اَپنے کیٔے کی سزا پا کر رہیں گے۔
2CO 11:16 میں پھر کہتا ہُوں: کویٔی مُجھے احمق نہ سمجھے۔ لیکن اگر تُم مُجھے احمق سمجھتے ہو، تو بھی میری سُن لو تاکہ میں بھی تھوڑا سا فخر کر سکوں۔
2CO 11:17 میں جو کچھ کہہ رہا ہُوں وہ خُداوؔند کی طرح نہیں بَلکہ ایک احمق کی طرح کہہ رہا ہُوں، جو اَپنے آپ پر فخر کرنے کی جُرأت کرتا ہے۔
2CO 11:18 جَب بہت سے لوگ دُنیوی باتوں کی بنا پر فخر کرتے ہیں، تو میں بھی کروں گا۔
2CO 11:19 تُم عقلمند ہوتے ہویٔے بھی احمقوں کی باتیں بخُوشی سُن لیتے ہو!
2CO 11:20 درحقیقت، اگر کویٔی تُمہیں غُلام بناتا ہے یا تُمہیں لُوٹتا ہے، یا تُمہیں فریب دیتاہے یا تُم پر رُعب جماتا ہے، اَور تھپّڑ رسیِد کرتا ہے تو تُم یہ بھی برداشت کرلیتے ہو۔
2CO 11:21 مُجھے شرم آتی ہے کہ ہم اَیسوں کے مُقابلہ میں بڑے کمزور نکلے! اگر کسی کو کسی بات پر فخر کرنے کی جُرأت ہے تو اَیسی جُرأت مُجھے بھی ہے۔ یہ بات میں کسی احمق کی طرح کہہ رہا ہُوں۔
2CO 11:22 کیا وُہی عِبرانی ہیں؟ میں بھی تو ہُوں۔ کیا وُہی اِسرائیلی ہیں؟ میں بھی تو ہُوں۔ کیا وُہی حضرت اَبراہامؔ کی نَسل ہیں؟ میں بھی تو ہُوں۔
2CO 11:23 کیا وُہی، المسیح کے خادِم ہیں؟ میں اُن سے بڑھ کر ہُوں (میرا یہ کہنا پاگل پن سہی۔) مَیں نے اُن سے بڑھ کر محنت کی ہے، اُن سے زِیادہ قَید کاٹی ہے، اُن سے کہیں زِیادہ کوڑے کھائے ہیں۔ مَیں نے کیٔی بار موت کا سامنا کیا ہے۔
2CO 11:24 مَیں نے یہُودیوں کے ہاتھوں پانچ دفعہ ایک کم چالیس، کوڑے کھائے۔
2CO 11:25 تین دفعہ رُومیوں نے مُجھے چھڑیوں سے پِیٹا، ایک دفعہ سنگسار بھی کیا، تین دفعہ جہاز کی تباہی کا سامنا کیا، ایک دِن اَور ایک رات کھُلے سمُندر میں بہتا پھرا،
2CO 11:26 میں اَپنے سفر کے دَوران بارہا دریاؤں کے خطروں میں، ڈاکوؤں کے خطروں میں، اَپنی قوم کے اَور غَیریہُودیوں کے، شہر کے، بیابان کے، سمُندر کے خطروں میں؛ جھُوٹے مُومِنین بھائیوں کے خطروں میں گھِرا رہا ہُوں۔
2CO 11:27 مَیں نے محنت کی ہے، مشقّت سے کام لیا ہے، اکثر نیند کے بغیر رہا ہُوں؛ مَیں نے بھُوک پیاس برداشت کرکے اکثر فاقہ کیا؛ مَیں نے سردی میں بغیر کپڑوں کے گزارا کیا ہے۔
2CO 11:28 کیٔی اَور باتوں کے علاوہ، تمام جماعتوں کی فکر کا بوجھ مُجھے ستاتا رہاہے۔
2CO 11:29 کِس کی کمزوری سے میں کمزور نہیں ہوتا، اَور کِس کے گُناہوں میں مبتلا ہونے پر میرا دِل نہیں دُکھتا؟
2CO 11:30 اگر مُجھے فخر کرنا ہی ہے، تو میں اُن باتوں پر فخر کروں گا جو میری کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔
2CO 11:31 خُداوؔند یِسوعؔ کا خُدا اَور باپ، اُس کی ہمیشہ تمجید ہو، جانتا ہے کہ میں جھُوٹ نہیں بول رہا ہُوں۔
2CO 11:32 دَمشق کے شہر کے حاکم نے جو اَرِتاسؔ بادشاہ کے ماتحت تھا، شہر کے پھاٹکوں پر پہرا بِٹھا رکھا تھا تاکہ مُجھے گِرفتار کر لیا جائے۔
2CO 11:33 لیکن مُجھے ٹوکرے میں بِٹھا کر شہر کی دیوار کی ایک کھڑکی سے باہر نیچے اُتار دیا گیا، اَور یُوں میں اُس کے ہاتھ سے بچ نِکلا۔
2CO 12:1 میں فخر کرنا ضروُری ہے۔ حالانکہ اِس سے کویٔی فائدہ نہیں، اِس لیٔے میں اُن رُویاؤں اَور مُکاشفوں کا ذِکر کروں گا جو خُداوؔند نے مُجھ پر ظاہر کیٔے۔
2CO 12:2 المسیح پر ایمان لانے والے کی حیثیت سے میں ایک اَیسے شخص کو جانتا ہُوں جو چودہ سال پہلے اَچانک تیسرے آسمان پر اُٹھالیا گیا۔ یہ صَعُود جِسمانی تھا یا رُوحانی میں نہیں جانتا خُدا ہی بہتر جانتا ہے۔
2CO 12:3 مُجھے مَعلُوم ہے کہ یہی شخص جِسمانی طور پر یا رُوحانی طور پر، جِس کا علم خُدا کو ہے، اَچانک
2CO 12:4 فِردَوس میں پہُنچ گیا اَور وہاں اُس نے اَیسی باتیں سُنیں جو بَیان سے باہر ہیں، بَلکہ آدمی کو اُن کا زبان پر لانا بھی روا نہیں۔
2CO 12:5 میں اَیسے شخص کا ذِکر تو فخر سے کروں گا، لیکن اَپنے آپ پر فخر نہیں کروں گا، سِوائے اُن باتوں کے جو میری کمزوری ظاہر کرتی ہیں۔
2CO 12:6 اگر فخر کرنا چاہُوں بھی، تو یہ میری بےوقُوفی نہیں سَمجھی جائے گی، اِس لیٔے کہ میں سچ بول رہا ہُوں۔ بہرحال میں فخر کرنے سے باز رہُوں گا، کیونکہ جو کویٔی جَیسا مُجھے دیکھتا ہے یا جَیسا مُجھ سے سُنتا ہے، مُجھے اُس سے بڑھ کر نہ سمجھے،
2CO 12:7 ممکن تھا کہ اُن بے شُمار مُکاشفوں کی وجہ سے جو مُجھ پر ظاہر کیٔے گیٔے۔ لہٰذا، میں غُرور سے بھرجاتا، اِس لیٔے میرے جِسم میں ایک کانٹا چُبھو دیا گیا، جو گویا شیطان کا قاصِد تھا، جو مُجھے مُکّے مارتا رہے تاکہ میں پھُول نہ جاؤں۔
2CO 12:8 مَیں نے اِس کے بارے میں خُداوؔند سے تین بار اِلتماس کیا کہ وہ اِسے مُجھ سے دُور کر دے۔
2CO 12:9 مگر خُداوؔند نے مُجھے جَواب دیا، ”میرا فضل تیرے لیٔے کافی ہے کیونکہ میری قُدرت کمزوری ہی میں پُوری ہوتی ہے۔“ لہٰذا میں اَپنی کمزوریوں پر فخر کروں گا، تاکہ میں المسیح کی قُدرت کے زیرِ سایہ رہُوں۔
2CO 12:10 یہی وجہ ہے کہ میں المسیح کی خاطِر کمزوری میں، بے عزّتی میں، ضرورتوں میں، اَذیتّوں میں اَور تنگی میں، خُوشی محسُوس کرتا ہُوں۔ کیونکہ جَب مَیں کمزور ہوتا ہُوں، تو مُجھے اَپنے قوی ہونے کا احساس ہونے لگتا ہے۔
2CO 12:11 تُم نے مُجھے احمق بننے پر مجبُور کر دیا۔ ضروُرت تو اِس بات کی تھی کہ تُم میری تعریف کرتے، اگرچہ میں کچھ بھی نہیں ہُوں پھر بھی تمہارے ”افضل رسولوں،“ سے کسی بات میں کمتر نہیں۔
2CO 12:12 مَیں نے بہت سے نِشانوں، حیرت اَنگیز کاموں اَور معجزوں کے ذریعہ بڑے صبر کے ساتھ تمہارے درمیان یہ حقیقت ظاہر کر دی کہ میں بھی المسیح کا سچّا رسول ہُوں۔
2CO 12:13 میرا مالی بوجھ اُٹھانے کے سِوا تُم دُوسری جماعتوں سے کسی بھی بات میں کم نہ ٹھہرے، میں دراصل تُم پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا؟ اگر یہ نااِنصافی ہے تو میں مُعافی چاہتا ہُوں۔
2CO 12:14 اَب مَیں تیسری بار تمہارے پاس آنے کی تیّاری کر رہا ہُوں، لیکن اِس بار بھی میں تُم پر بوجھ نہیں ڈالُوں گا، کیونکہ مُجھے تمہارے مال کی ضروُرت نہیں بَلکہ تمہاری ضروُرت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بچّوں کو ماں باپ کے لیٔے نہیں، بَلکہ ماں باپ کو بچّوں کے لیٔے مال جمع کرنا چاہئے۔
2CO 12:15 چنانچہ میں تمہاری خاطِر رُوحوں کے واسطے بڑی خُوشی سے اَپنا سَب کچھ بَلکہ خُود بھی خرچ ہو جانے کو تیّار رہُوں گا۔ اگر مَیں تُم سے اِس قدر مَحَبّت رکھتا ہُوں، تو کیا تُم مُجھ سے کم مَحَبّت رکھوگے؟
2CO 12:16 جَیسے بھی ہو، مَیں نے تُم پر بوجھ نہیں ڈالا۔ شاید، کویٔی یہ کہے کہ میں فریبی ہُوں، اِس لیٔے مَیں نے تُمہیں فریب دے کر اَپنے جال میں پھنسالیا!
2CO 12:17 خیر! یہ بتاؤ کہ جِن لوگوں کو مَیں نے تمہارے پاس بھیجا، کیا اُن میں سے کسی کے ذریعہ مَیں نے تُم سے بےجا فائدہ اُٹھایا؟
2CO 12:18 مَیں نے طِطُسؔ کی مِنّت کی کہ وہ تمہارے پاس جائے اَور اُس کے ساتھ ایک اَور مسیحی بھایٔی کو بھیجا۔ کیا طِطُسؔ نے تُم سے، بےجا فائدہ اُٹھایا؟ کیا وہ اَور مَیں ایک ہی رُوح کی ہدایت پا کر ایک ہی نقش قدم پر نہیں چلے؟
2CO 12:19 کیا تُم ابھی تک یہی سمجھتے ہو کہ ہم اَپنی صفائی پیش کر رہے ہیں؟ ہم تو خُدا کو حاضِر ناظرجان کر المسیح میں بولتے ہیں؛ عزیزو! اَور یہ سَب کچھ، تمہاری ترقّی کے لیٔے ہے۔
2CO 12:20 کیونکہ مُجھے ڈر ہے کہ وہاں آکر میں جَیسا چاہتا ہُوں تُمہیں وَیسا نہ پاؤں اَور مُجھے بھی جَیسا تُم چاہتے ہو وَیسا نہ پاؤ۔ مُجھے اَندیشہ ہے کہ کہیں تُم میں لڑائی جھگڑے، حَسد، غُصّہ، تِفرقے، بدگوئی، چُغل خوری، شیخی اَور فساد نہ ہوں۔
2CO 12:21 کہیں اَیسا نہ ہو کہ جَب مَیں آؤں تو خُدا تمہارے سامنے مُجھے عاجِز کر دے، اَور مُجھے بہت سے لوگوں کے لیٔے افسوس کرنا پڑے جنہوں نے پہلے تو گُناہ کیٔے، اَور پھر اَپنی ناپاکی، حرام کاری اَور شہوت پرستی سے تَوبہ بھی نہ کی۔
2CO 13:1 یہ تیسری بار ہے کہ مَیں تمہارے پاس آ رہا ہُوں۔ ”جِس بات کی دو یا تین گواہ اَپنی زبان سے شہادت دیں گے وہ سچ ثابت ہوگی۔“
2CO 13:2 جَب مَیں پچھلی بار تمہارے پاس تھا تو مَیں نے تاکید کر دی تھی۔ اَور اَب دُوسری بار بھی غَیر مَوجُودگی میں: گُناہ میں زندگی گُزارنے والوں بَلکہ دیگر لوگوں کو تاکید کرتا ہُوں کہ اگر پھر آؤں گا تو دَرگُذر نہیں کروں گا۔
2CO 13:3 کیونکہ تُم اِس بات کا ثبوت طلب کرتے ہو کہ المسیح مُجھ میں ہوکر کلام کرتا ہے۔ اَور وہ تمہارے واسطے کمزور نہیں، بَلکہ تُم میں زورآور ہے۔
2CO 13:4 ہاں، وہ کمزوری کے سبب سے تو مصلُوب ہُوئے مگر خُدا کی قُدرت کے سبب سے زندہ ہیں۔ اَور ہم بھی کمزوری میں تو اُن کے شریک ہیں، لیکن خُدا کی قُدرت سے اُن کی زندگی میں بھی شریک ہوں گے تاکہ تمہاری خدمت کر سکیں۔
2CO 13:5 اَپنے آپ کو جانچتے رہو کہ تمہارا ایمان مضبُوط ہے یا نہیں؛ خُود کو آزماتے رہو۔ کیا تُم اَپنے بارے میں یہ نہیں جانتے کہ المسیح یِسوعؔ تُم میں زندہ ہیں؟ اگر نہیں تو تُم اِس آزمائش میں ناکام ہویٔے،
2CO 13:6 لیکن مُجھے اُمّید ہے کہ تُم مَعلُوم کر لوگے کہ ہم ناکام نہیں۔
2CO 13:7 ہم خُدا سے دعا کرتے ہیں کہ تُم کبھی بدی نہ کرو، اِس لیٔے نہیں کہ ہم کامیاب مَعلُوم ہوں بَلکہ اِس لیٔے کہ تُم بھلائی کرو خواہ ہم ناکام ہی دِکھائی دیں۔
2CO 13:8 کیونکہ ہم حق کے برخلاف کچھ نہیں کر سکتے، بَلکہ اُس کی تائید ہی کر سکتے ہیں۔
2CO 13:9 اگر تُم سچ مُچ زورآور ہو تو ہم اَپنے کمزور ہونے پر بھی خُوش ہیں؛ اَور یہ دعا بھی کرتے ہیں تُم خُوب کامل ہوتے چلے جاؤ۔
2CO 13:10 اِس لیٔے میں تمہارا غَیر مَوجُودگی میں یہ باتیں خط میں لِکھ رہا ہُوں، تاکہ جَب وہاں تمہارے پاس پہُنچوں تو مُجھے تمہارے ساتھ سختی سے پیش نہ آنا پڑے اَور مَیں خُداوؔند کے دئیے ہویٔے اِختیار کو تمہارے بگاڑنے کے لیٔے نہیں، بَلکہ بنانے کے لیٔے کام میں لاؤں۔
2CO 13:11 اَب آخِر میں یہ لِکھتا ہُوں کہ بھائیو اَور بہنوں، خُوش رہو، کامِل بنو، تسلّی پاؤ، ایک دِل رہو، میل جول رکھو اَور خُدا جو مَحَبّت اَور میل جول کا سرچشمہ ہے تمہارے ساتھ ہوگا۔
2CO 13:12 پاک بوسہ کے ساتھ ایک دُوسرے کو سلام کہنا۔
2CO 13:13 سَب خُداوؔند یِسوعؔ کے مُقدّسین تُمہیں سلام کہتے ہیں۔
2CO 13:14 خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا فضل، خُدا کی مَحَبّت اَور پاک رُوح کی رِفاقت، تُم سَب کے ساتھ ہوتی رہے۔
GAL 1:1 پَولُسؔ کی طرف سے جو نہ تو اِنسانوں کی طرف سے نہ کسی آدمی کی طرف سے، بَلکہ خُداوؔند یِسوعؔ المسیح اَور خُدا باپ کی طرف سے رسول مُقرّر کیٔے گیٔے، جِس خُدا نے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کو مُردوں میں سے زندہ کیا۔
GAL 1:2 اَور اُن سَب مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کی طرف سے جو میرے ساتھ ہیں،
GAL 1:3 ہمارے خُدا باپ اَور ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی طرف سے تُمہیں فضل اَور اِطمینان حاصل ہوتا رہے!
GAL 1:4 المسیح نے اَپنے آپ کو ہمارے گُناہوں کے بدلے میں قُربان کر دیا، تاکہ وہ ہمیں ہمارے خُدا اَور باپ کی مرضی کے مُطابق اِس مَوجُودہ بُرے زمانہ سے بچالے۔
GAL 1:5 خُدا کی تمجید ہمیشہ تک ہوتی رہے۔ آمین۔
GAL 1:6 مُجھے تعجُّب ہے کہ تُم کسی اَور خُوشخبری کی طرف مائل ہو رہے ہو اَور جِس نے تُمہیں خُداوؔند المسیح کے فضل سے بُلایا تھا، تُم اِتنی جلدی اُس سے مُنہ موڑ رہے ہو۔
GAL 1:7 کویٔی دُوسری خُوشخبری ہے ہی نہیں۔ ہاں، کچھ لوگ ہیں جو خُداوؔند المسیح کی خُوشخبری کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اَور تُمہیں اُلجھن میں ڈالے ہویٔے ہیں۔
GAL 1:8 لیکن اگر ہم یا آسمان کا کویٔی فرشتہ اُس خُوشخبری کے علاوہ جو ہم نے تُمہیں سُنایٔی، کویٔی اَور خُوشخبری سُناتا ہے تو اُس پر لعنت ہو۔
GAL 1:9 جَیسا ہم پہلے کہہ چُکے ہیں، وَیسا ہی میں پھر کہتا ہُوں: اُس خُوشخبری کے علاوہ جِس پر تُم ایمان لایٔے تھے، اگر کویٔی تُمہیں اَور ہی خُوشخبری سُناتا ہے تو وہ ملعُون ٹھہرے!
GAL 1:10 کیا میں آدمیوں کا منظُورِ نظر بننا چاہتا ہُوں یا خُدا کا؟ کیا میں آدمیوں کو خُوش کرنا چاہتا ہُوں؟ اگر مَیں آدمیوں کو خُوش کرنے کی کوشش میں لگا رہتا تو خُداوؔند المسیح کا خادِم نہ ہوتا۔
GAL 1:11 اَے بھائیو اَور بہنوں! میں تُمہیں جتانا چاہتا ہُوں کہ جو خُوشخبری مَیں نے تُمہیں سُنایٔی ہے وہ اَیسی بات نہیں جو کسی اِنسان کی گڑھی ہُوئی ہو۔
GAL 1:12 مَیں نے اُسے کسی آدمی سے حاصل نہیں کیا، نہ وہ مُجھے کسی تعلیم کے ذریعہ سِکھایا گیا؛ بَلکہ، خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی طرف سے اُن کا اِنکشاف مُجھ پر ہُوا۔
GAL 1:13 تُم نے تو سُنا ہے کہ جَب مَیں یہُودی مَذہب کا پابند تھا تو میرا چال چلن کیسا تھا۔ مَیں خُدا کی جماعت کو کیسی بے رحمی سے ستاتا اَور اُسے تباہ کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
GAL 1:14 میں بطور ایک یہُودی اَپنے ہم عصر یہُودیوں سے زِیادہ کٹّر ہوتا جاتا تھا، اَور بُزرگوں کی روایتوں پر سرگرمی کے ساتھ عَمل کرتا تھا۔
GAL 1:15 لیکن خُدا نے مُجھے میرے پیدا ہونے سے قبل ہی چُن لیا اَور جَب اُس کی مرضی ہُوئی، اُس نے اَپنے فضل سے مُجھے اَپنی خدمت کے لیٔے بُلا لیا
GAL 1:16 تاکہ وہ اَپنے بیٹے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا عِرفان مُجھے بخشے اَور مَیں غَیریہُودیوں کو اُس کی خُوشخبری سُناؤں۔ مَیں نے اُس وقت گوشت اَور خُون سے صلاح نہ لی۔
GAL 1:17 اَور نہ یروشلیمؔ میں اُن کے پاس گیا جو مُجھ سے پہلے رسول مُقرّر کیٔے گیٔے تھے، بَلکہ فوراً مُلک عربؔ چلا گیا اَور پھر وہاں سے دَمشق شہر لَوٹ آیا۔
GAL 1:18 تین بَرس بعد، میں کیفؔا سے مُلاقات کرنے کے لیٔے یروشلیمؔ گیا اَور پندرہ دِن تک اُن کے پاس رہا۔
GAL 1:19 مگر دُوسرے رسولوں میں سے سِوائے خُداوؔند کے بھایٔی، یعقوب کے کسی اَور سے مُلاقات نہ کر سَکا۔
GAL 1:20 خُدا جانتا ہے کہ جو باتیں میں تُمہیں لِکھ رہا ہُوں، بالکُل سچّی ہیں۔
GAL 1:21 اِس کے بعد میں سِیریؔا اَور کِلکِیؔہ کے علاقوں میں چلا گیا۔
GAL 1:22 اگرچہ یہُودیؔہ صُوبہ کی جماعتیں جو حُضُور المسیح پر ایمان رکھتی ہیں میری شکل و صورت سے نا آشنا تھیں۔
GAL 1:23 لیکن اُنہُوں نے میرے بارے میں یہ ضروُر سُن رکھا تھا: ”جو شخص پہلے ہمیں ستاتا تھا وہ اَب اُسی ایمان کی خُوشخبری کی مُنادی کرتا ہے جسے وہ مٹا دینے پر تُلا ہُوا تھا۔“
GAL 1:24 اَور اُنہُوں نے میری اِس تبدیلی کے باعث خُدا کی تمجید کی۔
GAL 2:1 چودہ بَرس بعد، میں پھر یروشلیمؔ چلا گیا، اَور بَرنباسؔ اَور طِطُسؔ کو ساتھ لے گیا۔
GAL 2:2 میرا وہاں جانا خُدائی مُکاشفہ کے تحت ہُوا، مَیں نے اُن کو وُہی مُنادی کی، جِس خُوشخبری کی تبلیغ مَیں نے غَیریہُودیوں کو کی تھی، خُفیہ طور سے جماعت میں مُعتبر سمجھے جانے والے اُن لوگوں سے مُلاقات کی، اِس خوف سے کہیں اَیسا نہ ہو کہ میری پہلے کی یا اَب تک کی گئی دَوڑ دھوپ، بے فائدہ جائے۔
GAL 2:3 چنانچہ میرے ساتھی طِطُسؔ کو، ختنہ کرانے پر مجبُور نہیں کیا گیا، جَب کہ وہ یُونانی تھا۔
GAL 2:4 ختنہ کا سوال اُن مسیحی منافقین کی طرف سے اُٹھایا گیا تھا، جو چُپکے سے ہم لوگوں میں داخل ہو گئے تھے تاکہ المسیح یِسوعؔ میں حاصل ہوئی اُس آزادی کی جاسُوسی کرکے، ہمیں پھر سے یہُودی رسم و رِواج کا غُلام بنا دیں۔
GAL 2:5 لیکن ہم نے دَم بھرکے لیٔے بھی اُن کی اِطاعت قبُول نہ کی تاکہ خُوشخبری کی سچّائی تُم میں قائِم رہے۔
GAL 2:6 جماعت کے اُن اراکین سے جو اہم سمجھے جاتے تھے، مُجھے کویٔی بھی نئی بات حاصل نہ ہُوئی (وہ کیسے بھی تھے، مُجھے اِس سے کویٔی واسطہ نہیں کیونکہ خُدا کی نظر میں سَب برابر ہیں)۔
GAL 2:7 اِس کے برعکس، ہمیں مَعلُوم ہُوا کہ جِس طرح یہُودی مختونوں کو خُوشخبری سُنانے کا کام پطرس کے سُپرد ہُوا، اُسی طرح غَیریہُودی نامختونوں کو خُوشخبری سُنانے کا کام میرے سُپرد ہُوا۔
GAL 2:8 کیونکہ جِس خُدا نے پطرس پر اثر ڈالا کہ وہ مختونوں کے لیٔے رسول بنے، اُسی نے مُجھ پر اثر ڈالا کہ میں غَیریہُودیوں کے لیٔے رسول بنُوں۔
GAL 2:9 وہاں یعقوب، کیفؔا اَور یُوحنّا جماعت کے سربراہ سمجھے جاتے تھے، جَب اُن پر یہ حقیقت کھُلی کہ خُدا نے مُجھے بھی رِسالت کی تَوفیق عطا فرمائی ہے تو اُنہُوں نے مُجھ سے اَور بَرنباسؔ سے داہنا ہاتھ مِلا کر ہمیں اَپنی رِفاقت میں قبُول کر لیا۔ تاکہ ہم غَیریہُودیوں میں خدمت کریں، اَور وہ مختونوں میں۔
GAL 2:10 اُنہُوں نے صِرف یہ کہا کہ غریبوں کو یاد رکھنا، اَور دراصل یہ تو میں پہلے ہی سے کرنے کو تیّار تھا۔
GAL 2:11 جَب کیفؔا انطاکِیہؔ شہر میں آیا، تو مَیں نے سَب کے سامنے کیفؔا کی مُخالفت کی، کیونکہ وہ ملامت کے لائق تھا۔
GAL 2:12 بات یہ تھی کہ وہ یعقوب کی طرف سے چند اَشخاص کے بھیجے جانے سے پیشتر، غَیریہُودیوں کے ساتھ کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ مگر جَب وہ لوگ وہاں پہُنچے، تو پطرس نے مختونوں کے خوف سے غَیریہُودیوں سے کنارہ کر لیا۔
GAL 2:13 باقی یہُودی مسیحی بھائیوں نے اِس ریاکاری میں پطرس کا ساتھ دیا، یہاں تک کہ اُن کی ریاکاری سے بَرنباسؔ کے قدم بھی ڈگمگا گیٔے۔
GAL 2:14 جَب مَیں نے دیکھا کہ اُن کی یہ حرکت خُوشخبری کی سچّائی کے برخلاف ہے تو مَیں نے سَب کے سامنے کیفؔا سے کہا، ”تُم یہُودی ہونے کے باوُجُود، غَیریہُودیوں کی طرح زندگی گزارتے ہو۔ تو کِس مُنہ سے، غَیریہُودیوں کو مجبُور کرتے ہو کہ وہ یہُودیوں کے رسم و رِواج کی پیروی کریں؟
GAL 2:15 ”ہم پیدائشی یہُودی ضروُر ہیں اَور غَیریہُودی گُنہگاروں میں سے نہیں
GAL 2:16 پھر بھی ہم یہ جانتے ہیں کہ اِنسان جِسمانی شَریعت پر عَمل کرنے سے نہیں، بَلکہ صِرف خُداوؔند یِسوعؔ المسیح پر ایمان لانے سے راستباز ٹھہرایا جاتا ہے۔ اِس لیٔے، ہم بھی، المسیح یِسوعؔ پر ایمان لایٔے تاکہ شَریعت پر عَمل کرنے سے نہیں بَلکہ المسیح پر ایمان لانے سے راستباز ٹھہرائے جایٔیں، کیونکہ شَریعت کے اعمال سے کویٔی اِنسان راستباز نہیں ٹھہرایا جا سَکتا۔
GAL 2:17 ”لیکن، ہم جو خادِم یہ چاہتے ہیں کہ المسیح میں راستباز ٹھہرائے جایٔیں، اگر خُود ہی گُنہگار نکلیں تو کیا المسیح گُناہ کا باعث ہیں؟ ہرگز نہیں!
GAL 2:18 شَریعت کی جو دِیواریں مَیں نے گرا دی تھیں، اگر اُنہیں پھر سے کھڑا کرنے لگُوں تو اَپنے آپ کو ہی قُصُوروار ٹھہراتا ہُوں۔
GAL 2:19‏ ”شَریعت کے اِعتبار سے تو میں صلیب پر مَر چُکا ہُوں تاکہ مَیں خُدا کے اِعتبار سے زندہ ہو جاؤں۔ مَیں المسیح کے ساتھ جِسمانی طور سے مصلُوب ہو چُکا ہُوں اَور مَیں زندہ نہیں ہُوں، بَلکہ المسیح مُجھ میں زندہ ہے۔ اَورجو زندگی اَب مَیں گزار رہا ہُوں، وہ خُدا کے بیٹے پر ایمان لانے کی وجہ سے گزار رہا ہُوں، جِس نے مُجھ سے مَحَبّت کی اَور میرے لیٔے اَپنی جان قُربان کر دی۔
GAL 2:21 مَیں خُدا کے اِس فضل کو ردّ نہیں کرتا، کیونکہ اگر راستبازی شَریعت کے وسیلہ سے حاصل کی جا سکتی تھی، تو المسیح نے بِلا مقصد اَپنی جان قُربان کی!“
GAL 3:1 نادان گلتیو! تُم پر کِس نے جادُو کر دیا؟ تمہاری تو گویا آنکھوں کے سامنے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کو صلیب پر ٹنگا دِکھایا گیا تھا۔
GAL 3:2 میں تو تُم سے صِرف یہ مَعلُوم کرنا چاہتا ہُوں: کیا تُم نے شَریعت پر عَمل کرکے پاک رُوح کو پایا، یا ایمان کی خُوشخبری کے پیغام کو سُن کر اُسے حاصل کیا؟
GAL 3:3 تُم کِس قدر نادان ہو؟ پاک رُوح کی مدد سے شروع کیٔے ہویٔے کام کو اَب جِسمانی کوشش سے پُورا کرنا چاہتے ہو؟
GAL 3:4 کیا تُم نے اِتنی تکلیفیں بے فائدہ اُٹھائی ہیں؟ تُمہیں کچھ فائدہ تو ضروُر ہُوا ہوگا؟
GAL 3:5 کیا خُدا اَپنا پاک رُوح اِس لیٔے تُمہیں دیتاہے اَور تمہارے درمیان اِس لیٔے معجزے کرتا ہے کہ تُم شَریعت کے مُطابق عَمل کرتے ہو، یا اِس لیٔے کہ جو پیغام تُم نے سُنا اُس پر ایمان لایٔے ہو؟
GAL 3:6 حضرت اَبراہامؔ کو دیکھو۔ وہ ”خُدا پر ایمان لایٔے اَور اُن کا ایمان اُن کے لیٔے راستبازی شُمار کیا گیا۔“
GAL 3:7 پس جان لو کہ ایمان لانے والے لوگ ہی حضرت اَبراہامؔ کے حقیقی فرزند ہیں۔
GAL 3:8 کِتاب مُقدّس نے پہلے ہی سے بتا دیا تھا کہ خُدا غَیریہُودیوں کو ایمان سے راستباز ٹھہراتا ہے: ”چنانچہ اُس نے پہلے ہی سے حضرت اَبراہامؔ کو یہ خُوشخبری سُنادی تھی کہ تمہارے وسیلہ سے سَب غَیریہُودی قومیں برکت پائیں گی۔“
GAL 3:9 پس جو ایمان لاتے ہیں وہ بھی ایمان لانے والے حضرت اَبراہامؔ کے ساتھ برکت پاتے ہیں۔
GAL 3:10 مگر جتنے شَریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سَب لعنت کے ماتحت ہیں، چنانچہ کِتاب مُقدّس یُوں بَیان کرتی ہے: ”جو کویٔی شَریعت کی کِتاب کی ساری باتوں پر عَمل نہیں کرتا وہ لعنتی ہے۔“
GAL 3:11 اَب یہ صَاف ظاہر ہے کہ شَریعت کے وسیلہ سے کویٔی شخص خُدا کی حُضُوری میں راستباز نہیں ٹھہرایا جاتا، کیونکہ لِکھّا ہے: ”راستباز ایمان سے زندہ رہے گا۔“
GAL 3:12 تو بھی شَریعت ایمان پر مَبنی نہیں ہے؛ بَلکہ اِس کے برعکس کِتاب مُقدّس بَیان کرتی ہے، ”جو شخص شَریعت پر عَمل کرتا ہے وہ شَریعت کی وجہ سے زندہ رہے گا۔“
GAL 3:13 المسیح نے جو ہمارے لیٔے لعنتی بنا، ہمیں مول لے کر شَریعت کی لعنت سے چُھڑا لیا کیونکہ صحیفہ میں لِکھّا ہے: ”جو کویٔی صلیب کی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔“
GAL 3:14 تاکہ حضرت اَبراہامؔ کو دی ہُوئی برکت المسیح یِسوعؔ کے وسیلہ سے غَیریہُودیوں تک بھی پہُنچے، اَور ہم ایمان کے وسیلہ سے اُس پاک رُوح کو حاصل کریں جِس کا وعدہ کیا گیا ہے۔
GAL 3:15 اَے بھائیو اَور بہنوں! میں روزمرّہ کی زندگی سے ایک مثال پیش کرتا ہُوں۔ جَب ایک بار کسی اِنسانی عہد پر فریقین کے دستخط ہو جاتے ہیں تو کویٔی اُسے باطِل نہیں کر سَکتا، اَور نہ ہی اُس میں کچھ بڑھا سَکتا ہے۔
GAL 3:16 خُدا نے حضرت اَبراہامؔ اَور اُن کی نَسل سے وعدے کیٔے۔ صحیفہ یہ نہیں کہتا ”تمہاری نَسلوں سے یعنی کیٔی نَسلیں“ یہاں لفظ ”تمہاری نَسل“ سے صِرف ایک ہی شخص مُراد ہے، یعنی المسیح۔
GAL 3:17 میرا مطلب یہ ہے: جو عہد خُدا نے حضرت اَبراہامؔ کے ساتھ باندھا تھا اَور جِس کی اُس نے تصدیق کر دی تھی، اُسے شَریعت باطِل نہیں ٹھہرا سکتی جو چار سَو تیس بَرس بعد آئی اَور نہ اُس وعدہ کو منسُوخ کر سکتی ہے۔
GAL 3:18 اگر مِیراث کا حُصُول شَریعت پر مَبنی ہے، تو وہ وعدہ پر مَبنی نہیں ہو سَکتا؛ لیکن خُدا نے فضل سے حضرت اَبراہامؔ کو یہ مِیراث اَپنے وعدہ ہی کے مُطابق بخشی۔
GAL 3:19 پھر شَریعت کیوں دی گئی؟ وہ اِنسان کی نافرمانیوں کی وجہ سے بعد میں دی گئی تاکہ اُس نَسل کے آنے تک قائِم رہے جِس سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اَور وہ فرشتوں کے وسیلہ سے ایک درمیانی شخص کی مَعرفت مُقرّر کی گئی۔
GAL 3:20 اَب درمیانی، صِرف، ایک فریق کے لیٔے نہیں ہوتا؛ لیکن خُدا ایک ہی ہے۔
GAL 3:21 تو کیا شَریعت خُدا کے وعدوں کے خِلاف ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ اگر کویٔی اَیسی شَریعت دی جاتی جو زندگی بخش سکتی، تو راستبازی شَریعت کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی تھی۔
GAL 3:22 مگر صحیفہ کے مُطابق ساری دُنیا گُناہ کی قَید میں ہے، تاکہ وہ وعدہ، جو خُداوؔند یِسوعؔ المسیح پر ایمان لانے پر مَبنی ہے اُن سَب کے حق میں پُورا کیا جائے، جو المسیح پر ایمان لایٔے ہیں۔
GAL 3:23 ایمان کے زمانہ سے پہلے، ہم شَریعت کے تحت قَید میں تھے، اَورجو ایمان ظاہر ہونے والا تھا اُس کے آنے تک ہماری یہی حالت رہی۔
GAL 3:24 پس شَریعت نے اُستاد بَن کر ہمیں المسیح تک پہُنچا دیا تاکہ ہم ایمان کے وسیلہ سے راستباز ٹھہرائے جایٔیں۔
GAL 3:25 مگر اَب ایمان کا دَور آ گیا ہے، اَور ہمیں اُستاد کے تحت رہنے کی ضروُرت نہیں رہی۔
GAL 3:26 اِس لیٔے کہ تُم سَب المسیح یِسوعؔ پر ایمان لانے کے وسیلہ سے خُدا کے فرزند بَن گئے ہو،
GAL 3:27 اَور تُم سَب جنہوں نے المسیح کے ساتھ ایک ہو جانے کا پاک غُسل پایا اُسے لباس کی طرح پہن لیا ہے۔
GAL 3:28 اَب تُم میں یہُودی، یُونانی، غُلام، آزاد، مَرد اَور عورت کی تفرِیق باقی نہیں رہی کیونکہ اَب تُم سَب المسیح یِسوعؔ میں ایک ہو گیٔے ہو۔
GAL 3:29 اگر تُم المسیح کے ہو تو حضرت اَبراہامؔ کی نَسل ہو اَور وعدہ کے مُطابق وارِث بھی ہو۔
GAL 4:1 میں یہ کہتا ہُوں کہ وارِث جَب تک بچّہ ہے، اُس کی اَور ایک غُلام کی حالت میں کویٔی فرق نہیں حالانکہ وہ اَپنے باپ کی ساری جائداد کا مالک ہوتاہے۔
GAL 4:2 اَور وہ باپ کی مُقرّر کی ہُوئی میعاد کے پُورا ہونے تک سرپرستوں اَور مُختاروں کے اِختیار میں رہتاہے۔
GAL 4:3 اِسی طرح ہم بھی جَب بچّے تھے تو دُنیوی اِبتدائی باتوں کے غُلام ہوکر زندگی بسر کرتے تھے۔
GAL 4:4 لیکن جَب وقت پُورا ہو گیا تو خُدا نے اَپنے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہُوا اَور شَریعت کے ماتحت پیدا ہُوا،
GAL 4:5 تاکہ اُنہیں جو شَریعت کے ماتحت ہیں، ہمیں خرید کر چُھڑا لے اَور ہم مُتَنَبّیٰ فرزند ہونے کا درجہ پائیں۔
GAL 4:6 چونکہ تُم فرزند ہو، اِس لیٔے خُدا نے اَپنے بیٹے کا رُوح ہمارے دِلوں میں بھیجا، اَور وہ رُوح ”اَبّا، یعنی اَے باپ،“ کہہ کر پُکارتا ہے۔
GAL 4:7 پس اَب تُم غُلام نہیں رہے، بَلکہ بیٹے بَن چُکے ہو؛ اَور بیٹے بَن جانے کے بعد خُدا کے وسیلہ سے وارِث بھی ہو۔
GAL 4:8 یِسوعؔ پر ایمان لانے سے پہلے تُم خُدا سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے اَیسے معبُودوں کے غُلام بنے ہویٔے تھے جو حقیقی معبُود نہیں۔
GAL 4:9 مگر اَب جَب کہ تُم نے خُدا کو پہچان لیا ہے بَلکہ خُدا نے تُمہیں پہچانا ہے تو تُم کیوں اُن ضعیف اَور فُضول اِبتدائی باتوں کی طرف لَوٹ رہے ہو؟ کیا پھر سے اُن کی غُلامی میں زندگی گزارنا چاہتے ہو؟
GAL 4:10 تُم خاص خاص دِنوں، مہینوں، موسموں اَور برسوں کو مُبارک مانتے ہو۔
GAL 4:11 مُجھے ڈر ہے کہ جو محنت مَیں نے تُم پر کی ہے، کہیں وہ بے فائدہ نہ رہ جائے۔
GAL 4:12 اَے بھائیو اَور بہنوں! میں تمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ میری مانِند بنو کیونکہ مَیں بھی تمہاری مانِند ہُوں۔ تُم نے میرا کچھ نہیں بگاڑا۔
GAL 4:13 تُمہیں یاد ہوگا کہ مَیں نے پہلی دفعہ جِسمانی بیماری کی حالت میں تُمہیں خُوشخبری سُنایٔی تھی۔
GAL 4:14 میری بیماری نے تُمہیں کافی جِسمانی اَذیتّوں میں ڈال دیا تھا۔ لیکن اِس کے باوُجُود تُم نے نہ تو مُجھے حقیر جانا اَور نہ ہی مُجھ سے نفرت کی، بَلکہ مُجھے خُدا کا فرشتہ سمجھ کر المسیح یِسوعؔ کی مانِند قبُول کیا۔
GAL 4:15 اُس وقت، تُم نے بڑی خُوشی منائی تھی اَب، وہ خُوشی کہاں گئی؟ کیونکہ مَیں تو تمہارا گواہ ہُوں کہ، اگر ممکن ہوتا، تو تُم اَپنی آنکھیں بھی نکال کر مُجھے دے دیتے۔
GAL 4:16 کیا تُم سے حق بولنے کی وجہ سے میں تمہارا دُشمن ہو گیا؟
GAL 4:17 وہ لوگ تُمہیں اپنانے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن اُن کی نیّت صَاف نہیں ہے۔ وہ تُمہیں ہم سے جُدا کردینا چاہتے ہیں تاکہ تُم اُن ہی کے بنے رہو۔
GAL 4:18 اَچھّا ہے کہ وہ لوگ نیک نیّتی سے تُمہیں اپنانے کی ہر وقت کوشش کریں نہ کہ محض اُس وقت جَب مَیں وہاں تمہارے پاس مَوجُود ہوتا ہُوں۔
GAL 4:19 میرے بچّو! مَیں تمہارے لیٔے پھر سے بچّہ جننے والی عورت کی طرح درد محسُوس کرتا ہوں یہ درد جاری رہے گا جَب تک کہ المسیح کی صورت تُم میں قائِم نہ ہو جائے،
GAL 4:20 میرا جی چاہتاہے کہ ابھی تمہارے پاس پہُنچ جاؤں اَور اَپنا لہجہ بدل لُوں کیونکہ مَیں تمہاری طرف سے بڑی اُلجھن میں ہُوں۔
GAL 4:21 مُجھے بتاؤ! تُم جو شَریعت کے ماتحت ہونا چاہتے ہو، کیا شَریعت کی باتیں سُننے کے لیٔے تیّار نہیں؟
GAL 4:22 صحیفہ میں لِکھّا ہے کہ حضرت اَبراہامؔ کے دو بیٹے تھے، ایک لونڈی سے، دُوسرا آزاد عورت سے۔
GAL 4:23 لونڈی کا بیٹا عام جِسمانی بچّوں کی طرح، لیکن آزاد کا بیٹا خُدا کے وعدہ کے مُطابق پیدا ہُوا۔
GAL 4:24 یہ باتیں تمثیل کے طور پر ہیں: اِس لیٔے یہ عورتیں گویا دو عہد ہیں۔ ہاگارؔ اُس عہد کی مثال ہے جو کوہِ سِینؔائی پر باندھا گیا: اَور جِس سے غُلام ہی پیدا ہوتے ہیں۔
GAL 4:25 اَور وہ ہاگارؔ، عربؔ کے کوہِ سِینؔائی کی مانِند ہے جِس کا مُقابلہ مَوجُودہ یروشلیمؔ سے کیا جا سَکتا ہے، جو اَپنے لڑکوں یعنی باشِندوں سمیت غُلامی میں ہے۔
GAL 4:26 مگر آسمانی یروشلیمؔ آزاد ہے اَور وُہی ہماری ماں ہے۔
GAL 4:27 کیونکہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”اَے بانجھ! تو جِس کے اَولاد نہیں ہوتی، خُوشی منانا، تو جو دردِزہ سے واقف نہیں؛ آواز بُلند کرکے چِلّا، تُونے جو کبھی محنت نہیں کی؛ کیونکہ بیکس چھوڑی ہُوئی کی اَولاد شوہر والی کی اَولاد سے زِیادہ ہوگی۔“
GAL 4:28 لہٰذا، میرے بھائیو اَور بہنوں، تُم اِصحاقؔ کی طرح وعدہ کے فرزند ہو۔
GAL 4:29 اُس وقت جو بچّہ عام جِسمانی بچّوں کی طرح پیدا ہُوا تھا وہ اُس بچّہ کو ستاتا تھا جو خُدا کے رُوح کی قُدرت سے پیدا ہُوا تھا۔ وَیسے ہی اَب بھی ہوتاہے۔
GAL 4:30 مگر صحیفہ کا کیا بَیان ہے؟ ”یہ کہ لونڈی اَور اُس کے بیٹے کو نکال دے کیونکہ لونڈی کا بیٹا آزاد کے بیٹے کے ساتھ اُس کی مِیراث میں ہرگز وارِث نہ ہوگا۔“
GAL 4:31 چنانچہ، میرے بھائیو اَور بہنوں، ہم لونڈی کے بیٹے نہیں بَلکہ آزاد کے ہیں۔
GAL 5:1 المسیح نے ہمیں آزاد کر دیا تاکہ ہم ہمیشہ آزاد رہیں۔ پس ثابت قدم رہو، اَور دوبارہ غُلامی کے جُوئے میں مت جُتو۔
GAL 5:2 دیکھو! میں پَولُسؔ، خُود تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر تُم ختنہ کراؤگے تو تُمہیں المسیح سے کچھ بھی فائدہ نہ ہوگا۔
GAL 5:3 میں ہر اُس آدمی سے جو ختنہ کراتا ہے بطور گواہ یہ کہتا ہُوں کہ اُسے ساری شَریعت پر عَمل کرنا فرض ہے۔
GAL 5:4 تُم جو شَریعت کے وسیلہ سے راستباز ٹھہرنے کی کوشش کر رہے ہو المسیح سے جُدا ہو گیٔے ہو؛ اَور فضل سے ہاتھ دھو بیٹھے ہو۔
GAL 5:5 مگر ہم پاک رُوح کے وسیلہ سے ایمان سے راستباز ٹھہرائے جایٔیں گے اَور اِس کا ہم اُمّید سے اِنتظار کر رہے ہیں۔
GAL 5:6 اَورجو کویٔی المسیح یِسوعؔ میں ہے اُس کا ختنہ کرانا یا نہ کرانا اِتنا مفید نہیں۔ جِتنا مفید المسیح پر ایمان رکھناہے جو مَحَبّت کے ذریعہ اثر کرتا ہے۔
GAL 5:7 تُم ایمان کی دَوڑ اَچھّی طرح دَوڑ رہے تھے۔ کِس نے ناگہاں مداخلت کرکے تُمہیں حق کے ماننے سے روک دیا؟
GAL 5:8 یہ ترغِیب خُدا کی طرف سے نہیں ہو سکتی جِس نے تُمہیں بُلایا ہے۔
GAL 5:9 ”تھوڑا سا خمیر سارے گُندھے ہویٔے آٹے کو خمیر کر دیتاہے۔“
GAL 5:10 مُجھے خُداوؔند میں تمہارے بارے میں یقین ہے کہ تُم میرے خیال سے مُتّفِق ہوگے۔ اَورجو شخص تُمہیں پریشان کر رہاہے، سزا پایٔےگا، خواہ وہ کویٔی بھی ہو۔
GAL 5:11 اَے بھائیو اَور بہنوں! اگر مَیں اَب تک ختنہ کی مُنادی کرتا ہُوں تو کِس وجہ سے ستایا جا رہا ہُوں؟ اگر مَیں ختنہ کی تعلیم دیتا تو صلیب کسی کے لیٔے ٹھوکر کا باعث نہ ہوتی جِس کی میں مُنادی کرتا ہُوں۔
GAL 5:12 جو تُمہیں ختنہ کرانے پر مجبُور کرتے ہیں، کاش وہ ختنے کے وقت اَپنے اَعضا بھی کٹوادیتے!
GAL 5:13 میرے بھائیو اَور بہنوں! تُم آزاد ہونے کے لیٔے بُلائے گیٔے ہو۔ لیکن اِس آزادی کو اَپنی جِسمانی نَفسانی خواہشات کے لیٔے اِستعمال نہ کرو؛ بَلکہ، مَحَبّت سے ایک دُوسرے کی خدمت کرتے رہو۔
GAL 5:14 کیونکہ ساری شَریعت کا خُلاصہ اِس ایک حُکم میں پایا جاتا ہے: ”تُم اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھو۔“
GAL 5:15 اگر تُم ایک دُوسرے کو کاٹتے پھاڑتے اَور کھاتے ہو تو خبردار رہنا، کہیں اَیسا نہ ہو کہ ایک دُوسرے کو ختم کر ڈالو۔
GAL 5:16 میرا مطلب یہ ہے، اگر تُم پاک رُوح کے کہنے پر چلوگے، تو جِسم کی بُری خواہشوں کو ہرگز پُورا نہ کروگے۔
GAL 5:17 کیونکہ جِسم پاک رُوح کے خِلاف خواہش کرتا ہے، اَور پاک رُوح جِسم کے خِلاف۔ یہ دونوں ایک دُوسرے کے مُخالف ہیں، تاکہ جو تُم چاہتے ہو وہ نہ کر سکو۔
GAL 5:18 اگر تُم پاک رُوح کی ہدایت سے زندگی گزارتے ہو، تو شَریعت کے ماتحت نہیں ہو۔
GAL 5:19 اَب اِنسانی فِطرت کے کام صَاف ظاہر ہیں: یعنی جنسی بدفعلی، ناپاکی اَور شہوت پرستی؛
GAL 5:20 بُت پرستی، جادُوگری؛ دُشمنی، جھگڑا، حَسد، غُصّہ، خُود غرضی، تکرار، فرقہ پرستی،
GAL 5:21 بُغض، نشہ بازی، ناچ رنگ اَور اِن کی مانِند دیگر کام۔ اِن کی بابت مَیں نے پہلے بھی تُمہیں خبردار کیا تھا، اَور اَب پھر کہتا ہُوں کہ اَیسے کام کرنے والے خُدا کی بادشاہی میں کبھی شریک نہ ہوں گے۔
GAL 5:22 مگر پاک رُوح کا پھل، مَحَبّت، خُوشی، اِطمینان، صبر، مہربانی، نیکی، وفاداری،
GAL 5:23 نرمی اَور پرہیزگاری ہے۔ اَیسے کاموں کی کویٔی شَریعت مُخالفت نہیں کرتی۔
GAL 5:24 اَورجو المسیح یِسوعؔ کے ہیں اُنہُوں نے اَپنے جِسم کو اُس کی رغبتوں اَور بُری خواہشوں سمیت صلیب پر چڑھا دیا ہے۔
GAL 5:25 اگر ہم پاک رُوح کے سبب سے زندہ ہیں تو لازِم ہے کہ پاک رُوح کی ہدایت کے مُوافق زندگی گُزاریں۔
GAL 5:26 ہمیں شیخی مارنا، ایک دُوسرے کو بھڑکانا یا ایک دُوسرے سے حَسد کرنا چھوڑ دینا چاہئے۔
GAL 6:1 اَے بھائیو اَور بہنوں! اگر کویٔی شخص کسی قُصُور میں پکڑا جائے، تو تُم جو پاک رُوح کی ہدایت پر چلتےہو، اَیسے شخص کو نرم مِزاجی کے ساتھ بحال کر دو۔ اَور ساتھ ہی اَپنا بھی خیال رکھو کہ کہیں تُم بھی کسی آزمائش کا شِکار نہ ہو جاؤ۔
GAL 6:2 ایک دُوسرے کا بوجھ اُٹھانے میں مددگار بنو، اَور یُوں المسیح کی شَریعت کو پُورا کرو۔
GAL 6:3 اگر کویٔی اَپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے لیکن کچھ بھی نہیں ہے، تو وہ خُود کو دھوکا دیتاہے۔
GAL 6:4 چنانچہ ہر شخص اَپنے ہی کِردار کا اِمتحان لے۔ تو اُسے کسی دُوسرے سے مُقابلہ کیٔے بغیر خُود ہی پر فخر کرنے کا موقع ملے گا،
GAL 6:5 کیونکہ ہر ایک اَپنے ہی کاموں کا ذمّہ دار ہے۔
GAL 6:6 بہرحال، کلامِ خُدا کی تعلیم پانے والا اَپنی ساری اَچھّی چیزوں میں اَپنے مُعلّم کو بھی شریک کرے۔
GAL 6:7 فریب نہ کھاؤ: خُدا ٹھٹھّوں میں نہیں اُڑایا جاتا، کیونکہ آدمی جو کچھ بوتا ہے وُہی کاٹے گا۔
GAL 6:8 اگر کویٔی اَپنی جِسمانی خواہشوں کا خیال رکھتے ہویٔے بوتا ہے، تو وہ موت کی فصل کاٹے گا؛ اَورجو پاک رُوح کا خیال رکھتے ہویٔے بوتا ہے، وہ اَبدی زندگی کی فصل کاٹے گا۔
GAL 6:9 ہم نیکی کرنے سے بیزار نہ ہوں کیونکہ اگر مایوس نہیں ہوں گے تو عَین وقت پر فصل کاٹیں گے۔
GAL 6:10 چنانچہ جہاں تک موقع ملے، ہم سَب کے ساتھ نیکی کریں، خاص طور پر اہلِ ایمان کے ساتھ۔
GAL 6:11 دیکھو! میں اَپنے ہاتھ سے کیسے بڑے بڑے حُروف میں تُمہیں لِکھ رہا ہُوں۔
GAL 6:12 جو لوگ جِسمانی نُمود و نمائش کی فکر میں ہیں وہ تُمہیں ختنہ کرانے پر محض اِس لیٔے مجبُور کرتے ہیں، وہ المسیح کی صلیب کے سبب سے خُود ستائے نہ جایٔیں۔
GAL 6:13 کیونکہ ختنہ کرانے والے خُود بھی شَریعت پر عَمل نہیں کرتے، لیکن تُمہیں ختنہ کرانے پر مجبُور کرتے ہیں تاکہ وہ فخر کر سکیں کہ تُم نے اِس جِسمانی رسم کو قبُول کر لیا ہے۔
GAL 6:14 خُدا نہ کرے کہ میں کسی چیز پر فخر کروں سِوا اَپنے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی صلیب کے، جِس کے ذریعہ دُنیا میرے لیٔے مصلُوب ہو گئی ہے اَور مَیں دُنیا کے لیٔے۔
GAL 6:15 سچ تو یہ ہے کہ ختنہ کرانا یا نہ کرانا اہم نہیں؛ لیکن نئی مخلُوق بَن جانا بڑا اہم ہے۔
GAL 6:16 اَور جتنے اِس قاعدہ پر چلتے ہیں، اُن سَب کو اَور خُدا کے اِسرائیلؔ کو اِطمینان اَور رحم حاصل ہوتا رہے۔
GAL 6:17 مُجھے آخِری بات کہنا ہے، کویٔی مُجھے تکلیف نہ دے کیونکہ مَیں اَپنے بَدن پر یِسوعؔ کے داغ لیٔے پھرتا ہُوں۔
GAL 6:18 اَے میرے بھائیو اَور بہنوں! ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا فضل، تُم سَب کی رُوح کے ساتھ ہوتا رہے۔ آمین۔
EPH 1:1 پَولُسؔ کی طرف سے جو خُدا کی مرضی سے المسیح یِسوعؔ کے رسول ہیں،
EPH 1:2 ہمارے خُدا باپ اَور خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی طرف سے تُمہیں فضل اَور اِطمینان حاصل ہوتا رہے۔
EPH 1:3 ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے خُدا اَور باپ کی تعریف ہو، جِس نے ہمیں المسیح میں آسمان کی ہر رُوحانی برکت بخشی ہے۔
EPH 1:4 خُدا نے ہمیں دُنیا کے بنائے جانے کے پیشتر ہی سے المسیح میں چُن لیا تھا تاکہ ہم خُدا کے حُضُور مَحَبّت میں پاک اَور بے عیب ہوں۔
EPH 1:5 خُدا نے اَپنی خُوشی سے پہلے ہی یہ نیک فیصلہ کر لیا تھا، وہ ہمیں یِسوعؔ المسیح کے ذریعہ اَپنا لے پالک فرزند بنائے
EPH 1:6 تاکہ اُن کے اِس جلالی فضل کی سِتائش ہو جو خُدا نے اَپنے عزیز بیٹے کے وسیلہ سے ہمیں مُفت عنایت کی۔
EPH 1:7 ہمیں اُس فضل کی بدولت، المسیح کے خُون کے وسیلہ سے مخلصی، یعنی گُناہوں کی مُعافی حاصل ہوتی ہے
EPH 1:8 جو خُدا نے ہر طرح کی حِکمت اَور فراست سے ہم پر اِفراط کے ساتھ نازل کیا،
EPH 1:9 اَور خُدا نے اَپنی خُوشی سے اُس پوشیدہ مقصد کو ہم پر ظاہر کر دیا، جِس کا خُدا نے المسیح کی مَعرفت عَمل میں لانے کا اِرادہ کیا ہُوا تھا،
EPH 1:10 اُس وقت تک عَمل میں لایا جائے تاکہ اوقات مُقرّرہ پر سَب چیزیں خواہ وہ آسمان کی ہوں یا زمین کی، المسیح میں مُتّحد کی جایٔیں۔
EPH 1:11 خُدا کی مصلحت یہ ہے کہ سَب کچھ اُس کی مرضی کے مُطابق ہو، خُدا نے ہمیں اَپنی مِیراث کے لیٔے پہلے ہی سے چُن رکھا تھا،
EPH 1:12 تاکہ ہم، جِن کی اُمّید پہلے ہی سے المسیح سے وابستہ تھی، اُن کے جلال کی سِتائش کا باعث بنیں۔
EPH 1:13 اَور جَب تُم نے کلام حق کو سُنا، جو تمہاری نَجات کی خُوشخبری ہے۔ اَور جَب تُم المسیح پر ایمان لایٔے، تو خُدا نے اَپنے وعدہ کے مُطابق تُمہیں پاک رُوح دے کر تُم پر اَپنی مُہر لگا دی،
EPH 1:14 وہ پاک رُوح ہمیں مِلنے والی مِیراث کا بیَعانہ ہے گویا اِس بات کی ضمانت ہے کہ ہم مخلصی پا کر خُدا کی مِلکیّت بَن جایٔیں تاکہ اُس کے جلال کی سِتائش ہو۔
EPH 1:15 جَب سے مَیں نے سُنا ہے کہ تُم خُداوؔند یِسوعؔ پر بڑا ایمان رکھتے ہو اَور سَب مُقدّسین سے مَحَبّت رکھتے ہو،
EPH 1:16 میں خُدا کا شُکر بجا لانے سے باز نہیں آتا، اَور اَپنی دعاؤں میں تُمہیں یاد کرتا ہُوں۔
EPH 1:17 کہ ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا خُدا جو جلالی باپ ہے، تُمہیں حِکمت اَور مُکاشفہ کی رُوح عطا فرمائے، تاکہ تُم اُسے بہتر طور پر پہچان سکو۔
EPH 1:18 اَور مَیں دعا کرتا ہوں کہ تمہارے دِل کی آنکھیں رَوشن ہو جایٔیں تاکہ تُم جان لو کہ خُدا نے جِس اُمّید کی طرف تُمہیں بُلایا ہے، وہ کیسی ہے اَور وہ جلالی مِیراث کی کتنی بڑی دولت جو خُدا نے اَپنے مُقدّسین کے لیٔے رکھی ہے،
EPH 1:19 اَور ہم ایمان لانے والوں کے لیٔے خُدا کی عظیم قُدرت کی کویٔی حَد نہیں۔ اُن کی عظیم قُدرت کی تاثیر کے مُطابق
EPH 1:20 خُدا نے المسیح کو مُردوں میں سے زندہ اُٹھاکر آسمان پر اَپنی داہنی طرف بِٹھایا،
EPH 1:21 اَور ہر طرح کی حُکمرانی، اَور اِختیار، اَور قُدرت اَور ریاست پر قادر ہیں، اَورجو نہ صِرف اِس جہان میں اَور آئندہ جہان میں جو نام بھی کسی کو دیا جائے گا۔
EPH 1:22 اِس طرح خُدا نے سَب کچھ المسیح کے قدموں کے نیچے کر دیا اَور آپ کو سَب چیزوں کا سردار بنا کر جماعت کے لئے دے دیا،
EPH 1:23 جماعت یِسوعؔ کا بَدن ہے، اَور المسیح سے معموُر ہے جو ساری چیزوں کو پُوری طرح معموُر کرنے والے بھی ہیں۔
EPH 2:1 تمہاری سرکشی اَور گُناہوں کی وجہ سے تمہارا حال مُردوں کا سا تھا،
EPH 2:2 تُم اُن میں پھنس کر اِس دُنیا کی روِش پر چلتے تھے اَور ہَوا کی عملداری کے حاکم، شیطان کی پیروی کرتے تھے جِس کی رُوح اَب تک خُدا کے نافرمان لوگوں میں تاثیر کرتی ہے۔
EPH 2:3 کبھی ہم بھی اُن میں شامل تھے، اَور نَفسانی خواہشوں میں زندگی گزارتے تھے اَور دِل و دماغ کی ہر روِش کو پُورا کرنے میں لگے رہتے تھے۔ اَور طبعی طور پر دُوسرے اِنسانوں کی طرح خُدا کے غضب کے ماتحت تھے۔
EPH 2:4 لیکن خُدا ہم سے بہت ہی مَحَبّت کرنے والا، اَور رحم کرنے میں غنی ہے،
EPH 2:5 جَب کہ ہم اَپنی سرکشیوں کے باعث مُردہ تھے، خُدا نے ہمیں المسیح کے ساتھ زندہ کیا۔ تُمہیں خُدا کے فضل سے ہی نَجات مِلی ہے۔
EPH 2:6 خُدا نے ہمیں المسیح کے ساتھ زندہ کیا اَور آسمانی مقاموں پر المسیح یِسوعؔ کے ساتھ بِٹھایا،
EPH 2:7 تاکہ آنے والے زمانوں میں اَپنے اُس بےحد فضل کو ظاہر کرے، جو خُدا نے اَپنی مہربانی سے المسیح یِسوعؔ کے ذریعہ ہم پر کیا تھا۔
EPH 2:8 کیونکہ تُمہیں ایمان کے وسیلہ سے خُدا کے فضل ہی سے نَجات مِلی ہے، اَور یہ تمہاری کوشش کا نتیجہ نہیں، بَلکہ خُدا کی بخشش ہے۔
EPH 2:9 اَور نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا اجر ہے کہ کویٔی فخر کر سکے۔
EPH 2:10 کیونکہ ہم خُدا کی کاریگری ہیں اَور ہمیں المسیح یِسوعؔ میں نیک کام کرنے کے لیٔے پیدا کیا گیا ہے، جنہیں خُدا نے پہلے ہی سے ہمارے کرنے کے لیٔے تیّار کر رکھا تھا۔
EPH 2:11 پس یاد رکھو کہ پہلے تُم پیدائش کے لِحاظ سے غَیریہُودی تھے اَور وہ ”مختون“ لوگ جِن کا ختنہ ہاتھ سے کیا ہُوا جِسمانی نِشان ہے تُمہیں ”نامختون“ کہتے تھے۔
EPH 2:12 یاد کرو تُم اُس وقت بغیر المسیح کے، اِسرائیلی قوم کی شہریت سے خارج اَور وعدہ کے عہد سے ناواقِف، اَور نااُمّیدی کی حالت میں دُنیا میں خُدا سے جُدا تھے۔
EPH 2:13 مگر تُم جو پہلے خُدا سے بہت دُور تھے، اَب المسیح یِسوعؔ میں ہوکر المسیح کے خُون کے وسیلہ سے نزدیک ہو گیٔے ہو۔
EPH 2:14 کیونکہ وُہی ہماری صُلح ہے جِس نے غَیریہُودیوں اَور یہُودیوں، دونوں کو ایک کر دیا اَورجو بیچ میں عداوت کی دیوار تھی، اُس کو ڈھا دیا۔
EPH 2:15 المسیح نے شَریعت کو اُس کے اَحکام اَور قوانین سمیت اَپنے جِسم کے وسیلہ سے موقُوف کر دیا، تاکہ دونوں سے اَپنے آپ میں ایک نئے اِنسان کی تخلیق کرکے صُلح کرا دیں،
EPH 2:16 اَور المسیح صلیب پر دُشمنی کو ختم کرکے اَور دونوں کو ایک تن بنا کر خُدا سے مِلاسکیں۔
EPH 2:17 جَب المسیح تشریف لائے اَور اُن غَیریہُودیوں کو جو المسیح سے دُور تھے اَور اُن یہُودیوں کو جو خُدا کے نزدیک تھے، دونوں کو صُلح کی خُوشخبری سُنایٔی۔
EPH 2:18 کیونکہ اُس کے وسیلہ سے ہم ایک ہی پاک رُوح پا کر خُدا باپ کی حُضُوری میں آسکتے ہیں۔
EPH 2:19 پس اَب تُم پردیسی اَور مُسافر نہیں رہے، بَلکہ خُدا کے مُقدّسین کے ہم وطن اَور خُدا کے گھرانے کے رُکن بَن گئے،
EPH 2:20 تُم گویا ایک عمارت ہو جو رسولوں اَور نبیوں کی بُنیاد پر تعمیر کی گئی ہے، اَور المسیح یِسوعؔ خُود کونےکا بُنیادی پتّھر ہیں۔
EPH 2:21 اُسی میں یہ ساری عمارت باہم پیوست ہوکر خُداوؔند کے لیٔے ایک پاک مَقدِس بنتی جا رہی ہے۔
EPH 2:22 اَور تُم بھی دُوسرے مسیحی مُومِنین کے ساتھ مِل مِلا کر ایک اَیسی عمارت بنتے جا رہے ہو جِس میں خُدا کا پاک رُوح سکونت کر سکے۔
EPH 3:1 یہی وجہ ہے کہ میں پَولُسؔ، تُم غَیریہُودی قوموں کی خاطِر المسیح یِسوعؔ کا قَیدی ہُوں۔
EPH 3:2 تُم نے سُنا ہوگا کہ خُدا نے مُجھے اَپنے فضل سے تمہارے لیٔے یہ تَوفیق عطا کی،
EPH 3:3 خُدا نے یہ راز مُکاشفہ کے ذریعہ مُجھ پر ظاہر کیا، مَیں نے اِس خط کے پچھلے حِصّے میں تحریری طور پر لِکھّا ہے۔
EPH 3:4 اُسے پڑھ کر تُمہیں مَعلُوم ہوگا کہ میں المسیح کے راز سے کِس قدر آگاہ ہُوں۔
EPH 3:5 گزرے زمانوں میں یہ راز اِنسان کو اِس طرح مَعلُوم نہ ہُوا تھا، جِس طرح خُدا کے مُقدّس رسولوں اَور نبیوں پر پاک رُوح کے وسیلہ سے اَب ظاہر کیا گیا ہے۔
EPH 3:6 وہ راز یہ ہے کہ خُوشخبری کے وسیلہ سے غَیریہُودیوں کا یہُودیوں کے ساتھ خُدا کی مِیراث میں حِصّہ ہے، وہ ایک ہی بَدن کے اَعضا ہیں، اَور خُدا نے المسیح یِسوعؔ کے وسیلے سے جو وعدہ کیا ہے اُس میں شامل ہیں۔
EPH 3:7 یہ خُدا کے فضل کے اِنعام کی بدولت ہے کہ اُس کی قُدرت نے مُجھ میں تاثیر کی اَور مَیں اِس خُوشخبری کا خادِم بنا۔
EPH 3:8 اگرچہ مَیں خُدا کے مُقدّسین میں سَب سے چھوٹا ہُوں پھر بھی مُجھ پر اُس کا یہ فضل ہُوا کہ میں غَیریہُودیوں کو المسیح کی اِس دولت کی خُوشخبری سُناؤں جو بے قیاس ہے۔
EPH 3:9 اَور سَب لوگوں پر رَوشن کروں کہ وہ راز جو خالقِ کائِنات میں اَزل سے پوشیدہ رکھا تھا، اُس کے ظہُور میں آنے کا کیا اِنتظام ہے۔
EPH 3:10 تاکہ اَب جماعت کے وسیلہ سے خُدا کی گُوناگوں حِکمت اُن حاکموں اَور صاحبِ اِختیاروں کو مَعلُوم ہو جائے، جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔
EPH 3:11 یہ سَب کچھ خُدا کے اَزلی اِرادہ کے مُطابق ہُوا جسے اُس نے ہمارے المسیح یِسوعؔ میں پُورا کیا۔
EPH 3:12 چونکہ ہم المسیح پر ایمان لایٔے ہیں اِس لیٔے ہم بڑی دِلیری اَور پُورے بھروسے کے ساتھ خُدا کے حُضُور میں جا سکتے ہیں۔
EPH 3:13 لہٰذا، میں درخواست کرتا ہُوں کہ تُم میری اِن مُصیبتوں کے سبب سے، جو میں تمہاری خاطِر سَہتا ہُوں، ہِمّت نہ ہارو، کیونکہ وہ تمہارے لیٔے جلال کا باعث ہیں۔
EPH 3:14 اِس لیٔے میں آسمانی باپ کے آگے دعا کے لئے گھُٹنے ٹیکتا ہُوں،
EPH 3:15 جِس سے زمین اَور آسمان کا ہر خاندان نامزد ہے۔
EPH 3:16 اَور خُدا سے دعا کرتا ہُوں کہ وہ اَپنے جلال کی دولت سے تُمہیں پاک رُوح عطا فرمائے جو اَپنی قُدرت سے تمہاری باطنی اِنسانیّت کو طاقتور بنادے۔
EPH 3:17 اَور درخواست کرتا ہُوں کہ تمہارے ایمان کے وسیلہ سے المسیح تمہارے دِلوں میں سکونت کرنے لگیں تاکہ تُم مَحَبّت میں جڑ پکڑ کے اَور بُنیاد قائِم کرکے،
EPH 3:18 سَب مُقدّسین سمیت بخُوبی جان سکیں کہ المسیح کی مَحَبّت کی لمبائی، چوڑائی، اُونچائی اَور گہرائی کتنی ہے،
EPH 3:19 اَور المسیح کی بے اِنتہا مَحَبّت کو سمجھ سکو تاکہ خُدا کی ساری معموُری تُم میں سما جائے۔
EPH 3:20 خُدا بڑا قادر خُدا ہے، اُس کی قُدرت ہم میں تاثیر کرتی ہے، اَور وہ اُس قُدرت کے باعث ہمارے لیٔے ہمارے مانگنے یا تصوّر سے کہیں زِیادہ کر سَکتا ہے،
EPH 3:21 جماعت میں اَور المسیح یِسوعؔ میں پُشت در پُشت، اَور اَبد تک اُن کی تمجید ہوتی رہے۔ آمین۔
EPH 4:1 پس میں جو خُداوؔند کی خاطِر قَید میں ہُوں، تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں کہ اُس مِعیار کے مُطابق زندگی گُزارو جِس کے لیٔے تُم بُلائے گیٔے تھے۔
EPH 4:2 ہمیشہ فروتن اَور نرم دِل ہوکر خُدا کے تابع رہو اَور صبر کے ساتھ ایک دُوسرے کی مَحَبّت میں برداشت کرو۔
EPH 4:3 پاک رُوح نے تُمہیں ایک کر دیا ہے اِس لیٔے کوشش کرو کہ ایک دُوسرے کے ساتھ صُلح کے بند سے بندھے رہو۔
EPH 4:4 بَدن ایک ہی ہے اَور پاک رُوح بھی ایک ہی ہے، جَب تُم خُدا کی طرف سے بُلائے گیٔے تو ایک ہی اُمّید رکھنے کے لیٔے بُلائے گیٔے تھے؛
EPH 4:5 ہمارا ایک ہی خُداوؔند، ایک ہی ایمان اَور ایک ہی پاک غُسل ہے؛
EPH 4:6 سَب کا خُدا ایک ہے، وُہی سَب کا باپ ہے، وُہی سَب کے اُوپر ہے، سَب کے درمیان اَور سَب کے اَندر ہے۔
EPH 4:7 لیکن ہم میں سے ہر ایک پر المسیح کی بخشش کے اَندازہ کے مُطابق فضل کیا گیا ہے۔
EPH 4:8 اِسی وجہ سے کِتاب مُقدّس کا فرمان ہے: ”جَب آپ آسمان پر چڑھے، تو قَیدیوں کو اَپنے ساتھ لے گیٔے اَور آپ نے لوگوں کو انعامات سے نوازا۔“
EPH 4:9 (اُس کے ”آسمان پر چڑھنے سے“ کیا مُراد ہے؟ یہی کہ وہ زمین کے نیچے کے علاقہ میں بھی اُترگئے تھے؟
EPH 4:10 اَور یہ جو نیچے اُترا وُہی ہے جو سَب آسمانوں سے بھی بُلند مقام پر چڑھا، تاکہ ساری کائِنات کو معموُر کرے۔)
EPH 4:11 چنانچہ المسیح نے خُود ہی بعض کو رسول، بعض کو نبی، بعض کو مُبشَّر اَور بعض کو جماعت کا پاسبان اَور بعض کو اُستاد مُقرّر کیا،
EPH 4:12 تاکہ خُدا کے مُقدّس لوگ خدمت کرنے کے لیٔے مُکمّل طور پر تربّیت پائیں، اَور المسیح کے بَدن کی ترقّی کا باعث ہوں
EPH 4:13 یہاں تک کہ ہم سَب کے سَب خُدا کے بیٹے کو پُورے طور پر جاننے اَور اُس پر ایمان رکھنے میں ایک ہو جایٔیں، اَور کامِل اِنسان بَن کر المسیح کے قد کے اَندازہ تک پہُنچ جایٔیں۔
EPH 4:14 تَب ہم آئندہ کو اَیسے بچّے نہ رہیں گے کہ ہمیں ہر غلط تعلیم کی تیز ہَوا، پانی کی لہروں کی طرح اِدھر اُدھر اُچھالتی رہے اَور ہم چال باز اَور مکّار لوگوں کے گُمراہ کر دینے والے منصُوبوں کا شِکار نہ بنتے رہیں۔
EPH 4:15 بَلکہ ہمیں مَحَبّت کے ساتھ حق پر قائِم رہنا ہے، اَور المسیح کے ساتھ پیوستہ ہوکر بڑھتے جاناہے کیونکہ وُہی سَر ہے یعنی المسیح۔
EPH 4:16 المسیح کی وجہ سے بَدن کے تمام اَعضا باہم پیوستہ ہیں، اَور بَدن اَپنے ہر جوڑ کی مدد سے قائِم رہتاہے، چنانچہ جَب ہر عُضو اَپنا اَپنا کام صحیح طور پر کرتا ہے تو سارا بَدن ترقّی کرتا، اَور مَحَبّت میں بڑھتا جاتا ہے۔
EPH 4:17 اِس لیٔے مَیں خُداوؔند کے نام کا واسطہ دے کر تُم سے کہتا ہُوں کہ آئندہ کو غَیریہُودیوں کی مانِند جو اَپنے بےہوُدہ گواہی کے خیالات کے مُطابق چلتے ہیں، زندگی نہ گزارنا۔
EPH 4:18 اُن کی عقل تاریک ہو گئی ہے اَور وہ اَپنی سخت دِلی کے باعث جہالت میں گِرفتار ہیں، اَور خُدا کی دی ہُوئی زندگی میں اُن کا کویٔی حِصّہ نہیں۔
EPH 4:19 تمام حساسیت کو کھونے کے بعد، اُنہُوں نے اَپنے آپ کو شہوت پرستی کے حوالہ کر دیا ہے، اَور وہ ہر طرح کے ناپاک کام بڑے شوق سے کرتے ہیں۔
EPH 4:20 لیکن، تُم نے المسیح کی اَیسی تعلیم نہیں پائی
EPH 4:21 تُم نے تو المسیح کے بارے میں سُنا ہے اَور ایمان لاکر حق کی تعلیم پائی ہے، جو خُداوؔند یِسوعؔ میں ہے،
EPH 4:22 کہ اَپنی پُرانی فطرت کو اُس کی بُری عادتوں سمیت اُتار ڈالو جو بُری خواہشوں کے فریب میں آکر بگڑتی چلی جا رہی ہے؛
EPH 4:23 اِس لئے تمہارے دِل و دماغ رُوحانی ہو جانے سے تُم نئے اِنسان بنتے چلے جاؤ؛
EPH 4:24 تُم نئی اِنسانیّت کو پہن لو، جو خُدا کے مُطابق خُدا کی سچّائی کے اثر سے راستبازی اَور پاکیزگی کی حالت میں پیدا کی گئی ہے۔
EPH 4:25 پس جھُوٹ بولنا چھوڑکر ہر شخص اَپنے پڑوسی سے سچ بولے، کیونکہ ہم سَب ایک ہی بَدن کے اَعضا ہیں۔
EPH 4:26 ”غُصّہ تو کرو مگر تُم گُناہ سے باز رہو،“ اَور تمہارا غُصّہ سُورج کے ڈُوبنے تک باقی نہیں رہنا چاہیے،
EPH 4:27 اِبلیس کو فائدہ اُٹھانے کا موقع مت دو۔
EPH 4:28 چوری کرنے والا آئندہ چوری نہ کرے، بَلکہ کویٔی اَچھّا پیشہ اِختیار کرکے اَپنے ہاتھوں سے محنت کرے، تاکہ مُحتاجوں کی مدد کرنے کے لیٔے اُس کے پاس کچھ ہو۔
EPH 4:29 تمہارے مُنہ سے کویٔی بُری بات نہ نکلے، بَلکہ اَچھّی بات ہی نکلے جو ضروُرت کے مُوافق ترقّی کا باعث ہو، تاکہ سُننے والوں پر فضل ہو۔
EPH 4:30 خُدا کے پاک رُوح کو رنجیدہ مت کرو، کیونکہ خُدا نے تُم پر مُہر لگائی ہے کہ تُم اِنصاف کے دِن مخلصی پا سکو۔
EPH 4:31 ہر قِسم کا کینہ، قہر، غُصّہ، تکرار اَور کُفر، ساری دُشمنی سمیت اَپنے سے دُور کر دو۔
EPH 4:32 اَور ہر ایک کے ساتھ مہربانی اَور نرم دِلی سے پیش آؤ، جِس طرح خُدا نے المسیح میں تمہارے قُصُور مُعاف کیٔے ہیں، تُم بھی ایک دُوسرے کے قُصُور مُعاف کر دیا کرو۔
EPH 5:1 چونکہ تُم خُدا کے عزیز فرزند ہو، اِس لیٔے، خُدا کی مانِند بنو۔
EPH 5:2 اَور مَحَبّت سے چلو، جَیسے المسیح نے ہم سے مَحَبّت کی اَور اَپنے آپ کو ہمارے لیٔے خُوشبو کی طرح خُدا کی نذر کرکے قُربان کیا وَیسے تُم بھی مَحَبّت سے چلو۔
EPH 5:3 تُم میں جنسی بدفعلی یا کسی قِسم کی ناپاکی یا لالچ کا نام تک نہ لیا جائے، کیونکہ اِس طرح کے عَمل خُدا کے مُقدّسین کو زیب نہیں دیتے۔
EPH 5:4 تمہارے لیٔے بے شرمی، بےہوُدہ گوئی یا ٹھٹّھابازی کا ذِکر کرنا بھی مُناسب نہیں، بَلکہ تمہاری زبان پر شُکر گُزاری کے کلمے ہوں۔
EPH 5:5 یقین جانو کہ کسی حرام کار، ناپاک یا لالچی شخص کی المسیح اَور خُدا کی بادشاہی میں کویٔی مِیراث نہیں کیونکہ اَیسا شخص بُت پرست کے برابر ہے۔
EPH 5:6 کویٔی تُمہیں فُضول باتوں سے دھوکا نہ دینے پایٔے، کیونکہ اِن ہی گُناہوں کے باعث نافرمان لوگوں پر خُدا کا غضب نازل ہوتاہے۔
EPH 5:7 لہٰذا اَیسے لوگوں کا ساتھ مت دو۔
EPH 5:8 کیونکہ المسیح کے آنے سے پہلے تُم تاریکی میں زندگی گزارتے تھے، مگر اَب خُداوؔند میں نُور ہو۔ پس نُور کے فرزندوں کی راہ پر چلو
EPH 5:9 کیونکہ نُور کا پھل ہر طرح کی نیکی، راستبازی اَور سچّائی ہے۔
EPH 5:10 اَور تجربہ سے مَعلُوم کرتے رہو کہ خُداوؔند کو کیا پسند ہے۔
EPH 5:11 تاریکی کے بے پھل کاموں میں شریک نہ ہو، بَلکہ اُن پر ملامت کیا کرو۔
EPH 5:12 کیونکہ نافرمان لوگوں کے پوشیدہ کاموں کا ذِکر کرنا بھی شرم کی بات ہے۔
EPH 5:13 لیکن جو شَے رَوشنی میں لائی جاتی ہے وہ سَب صَاف صَاف نظر آنے لگتی ہے کیونکہ نُور سَب کچھ ظاہر کر دیتاہے۔
EPH 5:14 اِسی لیٔے کہا گیا ہے: ”اَے سونے والو جاگو، اَور مُردوں میں سے جی اُٹھو، تو المسیح کا نُور تُم پر چمکے گا۔“
EPH 5:15 پس غور سے دیکھو کہ کِس طرح چلتےہو، نادانوں کی طرح نہیں بَلکہ داناؤں کی طرح چلو،
EPH 5:16 اَور ہر موقع کو غنیمت سمجھو، کیونکہ دِن بُرے ہیں۔
EPH 5:17 اِس لیٔے نادانوں کی طرح زندگی نہ گُزارو، بَلکہ خُداوؔند کی مرضی سمجھنے کی کوشش کرو۔
EPH 5:18 شراب میں متوالے نہ بنو، کیونکہ یہ اِنسان کو بدچلن بنا دیتی ہے۔ بَلکہ، پاک رُوح سے معموُر رہا کرو۔
EPH 5:19 ایک دُوسرے سے زبُور، حَمد و ثنا اَور رُوحانی غزلیں اَور خُداوؔند کی تعریف میں دِل سے گاتے بجاتے رہا کرو،
EPH 5:20 ہر بات میں ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے نام سے ہمیشہ خُدا باپ کا شُکر کرتے رہو۔
EPH 5:21 اَور المسیح کا خوف کرتے ہویٔے ایک دُوسرے کے تابع رہو۔
EPH 5:22 بیویاں اَپنے شوہروں کے اَیسے تابع رہیں جَیسے خُداوؔند کے تابع رہتی ہیں۔
EPH 5:23 کیونکہ شوہر بیوی کا سَر ہے جِس طرح المسیح اَپنے بَدن کا سَر ہیں، اَور اُس کا یعنی اَپنی جماعت کے مُنجّی ہیں۔
EPH 5:24 اُسی طرح شوہر اَپنی بیوی کا سَر ہے، پس جَیسے جماعت المسیح کے تابع ہے وَیسے بیویاں بھی ہر بات میں اَپنے شوہروں کی تابع رہیں۔
EPH 5:25 اَے شوہرو! اَپنی بیویوں سے وَیسی ہی مَحَبّت رکھو، جَیسی مَحَبّت المسیح نے اَپنی جماعت سے رکھی اَور اُس کے لیٔے اَپنی جان دے دی
EPH 5:26 تاکہ وہ جماعت کو خُدا کے کلام کے ساتھ پانی سے غُسل دے کر صَاف کرے، اَور اُسے مُقدّس بنادے۔
EPH 5:27 اَور اَیسی جلالی جماعت بنا کر اَپنے پاس حاضِر کرے، جِس میں کویٔی داغ یا جھُرّی یا کویٔی اَور نُقص نہ ہو، بَلکہ وہ پاک اَور بے عیب ہو۔
EPH 5:28 اِسی طرح، شوہروں کو بھی چاہئے کہ اَپنی بیویوں سے اَپنے بَدن کی طرح مَحَبّت رکھیں، جو اَپنی بیوی سے مَحَبّت رکھتا ہے وہ گویا اَپنے آپ سے مَحَبّت رکھتا ہے۔
EPH 5:29 کیونکہ کویٔی شخص اَپنے جِسم سے دُشمنی نہیں کرتا، بَلکہ اَپنے جِسم کی اَچھّی طرح پرورش کرتا اَور دیکھ بھال کرتا ہے، جِس طرح المسیح جماعت کا خیال رکھتے ہیں،
EPH 5:30 کیونکہ ہم اُن کے بَدن کے اَعضا ہیں۔
EPH 5:31 ”کِتاب مُقدّس کا بَیان ہے کہ مَرد اَپنے باپ اَور ماں سے جُدا ہوکر اَپنی بیوی کے ساتھ رہے گا، اَور وہ دونوں مِل کر ایک جِسم ہوں گے۔“
EPH 5:32 یہ راز کی بات تو بڑی گہری ہے لیکن مَیں سمجھتا ہُوں کہ یہ المسیح اَور جماعت کے باہمی تعلّق کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔
EPH 5:33 بہرحال تُم میں سے ہر شوہر کو چاہیے کہ وہ اَپنی بیوی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھے، اَور بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ اَپنے شوہر سے اَدب سے پیش آئے۔
EPH 6:1 بچّو! خُداوؔند میں اَپنے والدین کے فرمانبردار رہو، کیونکہ یہ مُناسب ہے۔
EPH 6:2 ”اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا“ اُس وعدہ کے ساتھ یہ پہلا حُکم بھی ہے
EPH 6:3 ”تاکہ تمہارا بھلا ہو اَور زمین پر تمہاری عمر دراز ہو۔“
EPH 6:4 اَولاد والو! تُم اَپنے بچّوں کو غُصّہ نہ دِلاؤ؛ بَلکہ، اُنہیں اَیسی تربّیت اَور نصیحت دے کر اُن کی پرورش کرو جو خُداوؔند کو پسند ہو۔
EPH 6:5 خادِموں! اَپنے دُنیوی مالکوں کی صدق دِلی سے ڈرتے اَور کانپتے ہویٔے، اَیسی فرمانبرداری کرو جَیسی المسیح کی کرتے ہو۔
EPH 6:6 آدمیوں کو خُوش کرنے والوں کی طرح محض دِکھاوے کے لیٔے خدمت نہ کرو، بَلکہ اُسے خُوش دِلی سے اَنجام دو گویا تُم المسیح کے خادِم ہو، اَور خُدا کی مرضی بجا لا رہے ہو۔
EPH 6:7 اَور خدمت کو آدمیوں کا نہیں، بَلکہ خُداوؔند کا کام سمجھ کر، اُسے جی جان سے کرو۔
EPH 6:8 کیونکہ تُم جانتے ہو کہ جو کویٔی اَچھّا کام کرےگا، خواہ وہ غُلام ہو یا آزاد، خُداوؔند سے اُس کا اجر پایٔےگا۔
EPH 6:9 مالِکو! تُم بھی اَپنے خادِموں سے اِسی قِسم کا سلُوک کرو۔ اُنہیں دھمکیاں دینا چھوڑ دو کیونکہ تُم جانتے ہو کہ اُن کا اَور تمہارا دونوں کا مالک آسمان پر ہے، اَور اُس کے یہاں کسی کی طرفداری نہیں ہوتی۔
EPH 6:10 آخِری بات یہ ہے کہ تُم خُداوؔند میں اَور اُس کی قُوّت سے معموُر ہوکر مضبُوط بَن جاؤ۔
EPH 6:11 خُدا کے دئیے ہویٔے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جاؤ، تاکہ تُم اِبلیس کے منصُوبوں کا مُقابلہ کر سکو۔
EPH 6:12 کیونکہ ہمیں خُون اَور گوشت یعنی اِنسان سے نہیں، بَلکہ تاریکی کی دُنیا کے حُکمران، اِختیار والوں، اَور شرارت کی رُوحانی فَوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔
EPH 6:13 چنانچہ تُم خُدا کے تمام ہتھیار باندھ کر تیّار ہو جاؤ، تاکہ جَب اُن کے حملہ کرنے کا بُرا دِن آئے، تو تُم اُن کا مُقابلہ کر سکو، اَور اُنہیں پُوری طرح شِکست دے کر قائِم بھی رہ سکو۔
EPH 6:14 اِس مقصد کے لیٔے تُم سچّائی سے اَپنی کمر کِس لو، خُدا کی راستبازی کا بکتر پہن لو۔
EPH 6:15 صُلح کی خُوشخبری کی تیّاری کے جُوتے پہن کر تیّار ہو جاؤ۔
EPH 6:16 اَور اِن کے علاوہ ایمان کی سِپر اُٹھائے رکھو، تاکہ اُس سے تُم شیطان کے سارے آتِشی تیروں کو بُجھا سکو۔
EPH 6:17 اَور نَجات کا بکتر اَور رُوح کی تلوار کو، جو خُدا کا کلام ہے لے لو۔
EPH 6:18 پاک رُوح کی ہدایت سے ہر وقت مِنّت اَور دعا کرتے رہو، اَور اِس غرض سے جاگتے رہو تاکہ سَب مُقدّسین کے لیٔے بلاناغہ دعا کر سکو۔
EPH 6:19 میرے لیٔے بھی دعا کرو، تاکہ جَب کبھی مُجھے بولنے کا موقع ملے، تو مُجھے پیغام سُنانے کی تَوفیق ہو اَور مَیں خُوشخبری کے بھید کو دِلیری سے ظاہر کر سکوں،
EPH 6:20 اِس خُوشخبری کی خاطِر میں زنجیر سے جکڑا ہُوا ایلچی ہُوں۔ دعا کرو کہ میں اَیسی دِلیری سے اُسے بَیان کروں، جَیسا مُجھ پر فرض ہے۔
EPH 6:21 تُخِکسؔ جو عزیز مسیحی بھایٔی اَور خُداوؔند میں وفادار خادِم ہے، تُمہیں سَب کچھ بتا دے گا، تاکہ تُم میری نظر بندی کے حالات سے واقف ہو جاؤ۔
EPH 6:22 میں اُسے تمہارے پاس اِس غرض سے بھیج رہا ہُوں، وہ تُمہیں ہمارے حالات سے واقف کرکے تمہارے دِلوں کو تسلّی دے سکے۔
EPH 6:23 خُدا باپ اَور خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی طرف سے مسیحی بھائیو اَور بہنوں کو اِطمینان حاصل ہو، وہ ایمان پر قائِم رہیں اَور آپَس میں مَحَبّت رکھیں۔
EPH 6:24 جو ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح سے لازوال مَحَبّت رکھتے ہیں اُن سَب پر اُس کا فضل ہوتا رہے۔
PHI 1:1 یہ خط پَولُسؔ اَور تِیمُتھِیُس کی طرف سے جو المسیح یِسوعؔ کے خادِم ہیں،
PHI 1:2 ہمارے خُدا باپ اَور خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی طرف سے تُمہیں فضل اَور اِطمینان حاصل ہوتا رہے۔
PHI 1:3 میں جَب کبھی تُمہیں یاد کرتا ہُوں تو اَپنے خُدا کا شُکر اَدا کرتا ہُوں۔
PHI 1:4 اَور اَپنی ہر ایک دعا میں جو تمہارے لیٔے کرتا ہوں ہمیشہ خُوشی کے ساتھ تُم سَب کے لئے مِنّت کرتا ہُوں۔
PHI 1:5 اِس لیٔے کہ تُم پہلے دِن سے آج تک خُوشخبری پھیلانے میں شریک رہے ہو،
PHI 1:6 اَور مُجھے اِس بات کا یقین ہے کہ خُدا، جِس نے تُم لوگوں میں اَپنا نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے المسیح یِسوعؔ کی واپسی کے دِن تک پُورا کر دے گا۔
PHI 1:7 میرا تُم سَب کی بابت یہ خیال کرنا مُناسب ہے، کیونکہ تُم ہمیشہ میرے دِل میں رہتے ہو، نہ صِرف اِس وقت جَب کہ میں زنجیروں میں قَید ہُوں بَلکہ اُس وقت بھی جَب مَیں خُوشخبری کی جَوابدہی اَور ثبوت کے عَمل میں، تُم سَب میرے ساتھ خُدا کے فضل میں شریک رہے ہو۔
PHI 1:8 خُدا گواہ ہے کہ میرے دِل میں تمہارے لیٔے المسیح یِسوعؔ کی سِی مَحَبّت ہے اَور مَیں تمہارا کِس قدر مُشتاق ہُوں۔
PHI 1:9 میری دعا ہے کہ تُم اَپنی مَحَبّت میں خُوب ترقّی کرو اَور تمہارا علم اَور رُوحانی تجربہ بھی بڑھتا چلا جائے،
PHI 1:10 تاکہ تُمہیں مَعلُوم ہو سکے کہ کون سِی بات سَب سے اَچھّی ہے، اَور تُم المسیح کے واپسی کے دِن تک صَاف دِل اَور بے عیب رہو،
PHI 1:11 اَور یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے راستبازی کے پھل سے بھرے رہو، تاکہ خُدا کا جلال ظاہر ہو اَور اُس کی سِتائش ہوتی رہے۔
PHI 1:12 اَے بھائیو اَور بہنوں! میری خواہش ہے کہ تُمہیں یہ بات مَعلُوم ہو جائے کہ جو کچھ مُجھ پر گُزرا ہے وہ خُوشخبری کی ترقّی کا باعث ہُواہے۔
PHI 1:13 یہاں تک کہ شاہی محل کے تمام سپاہیوں اَور یہاں کے سَب لوگوں میں یہ بات مشہُور ہو گئی ہے کہ میں المسیح کے خادِم ہونے کی خاطِر قَید میں ہُوں۔
PHI 1:14 میرے قَید ہونے سے کیٔی بھایٔی اَور بہن جو خُداوؔند پر ایمان رکھتے ہیں، دِلیر ہو گیٔے ہیں، یہاں تک کہ وہ بے خوف ہوکر خُدا کا کلام سُنانے کی جُرأت کرنے لگے ہیں۔
PHI 1:15 بعض تو حَسد اَور جھگڑے کی وجہ سے المسیح کی مُنادی کرتے ہیں، بعض نیک نیّتی سے۔
PHI 1:16 جو مَحَبّت کی وجہ سے مُنادی کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ خُدا نے مُجھے خُوشخبری کی حمایت کرنے کے لیٔے مُقرّر کیا ہے۔
PHI 1:17 لیکن دُوسرے اِس مُعاملہ میں صَاف دِل نہیں ہیں، بَلکہ مُجھ سے حَسد کی وجہ سے المسیح کی مُنادی کرتے ہیں، تاکہ قَید میں بھی مُجھے رنج پہُنچائیں۔
PHI 1:18 پس کیا ہُوا؟ اُن کی نیّت بُری ہو یا نیک، المسیح کی خُوشخبری تو سُنایٔی جاتی ہے۔ میں اِسی بات سے خُوش ہُوں۔ ہاں، اَور مَیں خُوش رہُوں گا۔
PHI 1:19 کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ تمہاری دعا اَور یِسوعؔ المسیح کے پاک رُوح کے لُطف و کرم کی وجہ سے مُجھے نَجات ملے گی۔
PHI 1:20 میری دِلی خواہش اَور اُمّید یہ ہے کہ مُجھے کسی بات میں بھی شرمندگی کا مُنہ نہ دیکھنا پڑے، بَلکہ جَیسے میں ہمیشہ بڑی دِلیری سے المسیح کا جلال اَپنے جِسم سے ظاہر کرتا رہا ہوں وَیسے ہی کرتا رہُوں گا، خواہ میں زندہ رہُوں یا مَر جاؤں۔
PHI 1:21 کیونکہ زندہ رہنا میرے لیٔے المسیح ہے، اَور مرنا نفع۔
PHI 1:22 لیکن اگر میرا جِسمانی طور پر زندہ رہنا، میرے کام کے لیٔے زِیادہ مفید ہے۔ میں کیا پسند کروں؟ میں نہیں جانتا۔
PHI 1:23 میں بڑی کَشمکش میں مُبتلا ہُوں: جی تو چاہتاہے کہ دُنیا کو خیرباد کہہ کر المسیح کے پاس جا رہُوں، کیونکہ یہ زِیادہ بہتر ہے؛
PHI 1:24 پھر بھی میرا جِسمانی طور پر زندہ رہنا تمہارے لیٔے زِیادہ ضروُری ہے۔
PHI 1:25 چنانچہ مُجھے اِس بات کا بڑا یقین ہے کہ میں زندہ رہُوں گا، بَلکہ تُم سَب کے ساتھ رہُوں گا تاکہ تُم ایمان میں ترقّی کرو اَور خُوش رہو،
PHI 1:26 اَور جَب مَیں تمہارے پاس پھر آؤں تو المسیح یِسوعؔ میں ہونے کی وجہ سے وہ فخر جو تُم مُجھ پر کرتے ہو، اَور بھی زِیادہ ہو جائے گا۔
PHI 1:27 کچھ بھی ہو، اِتنا ضروُر کرو کہ تمہارا چال چلن المسیح کی خُوشخبری کے لائق ہو۔ تاکہ، خواہ میں تُمہیں دیکھنے آؤں یا نہ آؤں، یہ ضروُر سُن سکوں کہ تُم ایک رُوح میں قائِم ہو، اَور ایک جان ہوکر کوشش کر رہے ہو کہ لوگ خُوشخبری پر ایمان لائیں
PHI 1:28 اَور یہ بھی کہ تُم کسی بات میں بھی اَپنے مُخالفوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ یہ اُن کے لیٔے تو ہلاکت کا، لیکن تمہارے لیٔے نَجات کا نِشان ہے اَور یہ خُدا کی طرف سے ہے۔
PHI 1:29 کیونکہ المسیح کی خاطِر تُم پر یہ فضل ہُوا کہ نہ فقط خُداوؔند پر ایمان لاؤ، بَلکہ خُداوؔند کی خاطِر دُکھ بھی سہو،
PHI 1:30 تُم بھی اُسی طرح جدّوجہد کرتے رہو جِس طرح تُم نے مُجھے کرتے دیکھا تھا، اَور اَب بھی سُنتے ہو کہ میں اَب تک اُسی میں مصروف ہُوں۔
PHI 2:1 پس اگر المسیح میں تُم میں تسلّی اَور مَحَبّت سے حوصلہ، اَور پاک رُوح کی رِفاقت میں رحمدلی اَور ہمدردی پائی جاتی ہے،
PHI 2:2 تو میری یہ خُوشی پُوری کر دو کہ یکدل رہو، یکساں مَحَبّت رکھو، ایک جان ہو اَور ہم خیال رہو۔
PHI 2:3 تِفرقہ اَور فُضول فخر کے باعث کچھ نہ کرو۔ بَلکہ، فروتن ہوکر ایک شخص دُوسرے شخص کو اَپنے سے بہتر سمجھے۔
PHI 2:4 ہر ایک صِرف اَپنے مفاد کا نہیں بَلکہ دُوسروں کے مفاد کا بھی خیال رکھے۔
PHI 2:5 تمہارا مِزاج بھی وَیسا ہی ہو، جَیسا المسیح یِسوعؔ کا تھا:
PHI 2:6 اگرچہ وہ خُدا کی صورت پر تھے، پھر بھی یِسوعؔ نے خُدا کی برابری کو اَپنے قبضہ میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا؛
PHI 2:7 بَلکہ اَپنے آپ کو خالی کر دیا، اَور غُلام کی صورت اِختیار کرکے، اِنسانوں کے مُشابہ ہو گئے۔
PHI 2:8 یِسوعؔ نے اِنسانی شکل میں ظاہر ہوکر، اَپنے آپ کو فروتن کر دیا اَور موت بَلکہ صلیبی موت تک فرمانبردار رہے!
PHI 2:9 اِس لیٔے خُدا نے یِسوعؔ کو نہایت ہی اُونچا درجہ دیا، اَور یِسوعؔ کو وہ نام عطا فرمایا جو ہر نام سے اعلیٰ ہے،
PHI 2:10 تاکہ یِسوعؔ کے نام پر ہر کویٔی گھٹنوں کے بَل جُھک جائے، چاہے وہ آسمان پر ہو، چاہے زمین پر، چاہے زمین کے نیچے۔
PHI 2:11 اَور ہر ایک زبان خُدا باپ کے جلال کے لیٔے اقرار کرے، کہ یِسوعؔ المسیح ہی خُداوؔند ہیں۔
PHI 2:12 پس اَے میرے عزیزو! جِس طرح تُم نے میری مَوجُودگی میں ہمیشہ میری فرمانبرداری کی ہے، اُسی طرح اَب میری غَیر مَوجُودگی میں بھی خُوب ڈرتے اَور کانپتے ہویٔے اَپنی نَجات کے کام کو جاری رکھو،
PHI 2:13 کیونکہ وہ خُدا ہی ہے جو تُم میں نیّت اَور عَمل دونوں کو پیدا کرتا ہے تاکہ اُس کا نیک اِرادہ پُورا ہو سکے۔
PHI 2:14 اَور سَب کام کسی شکایت اَور حُجّت کے بغیر ہی کر لیا کرو،
PHI 2:15 تاکہ تُم بے عیب اَور پاک ہوکر بداخلاق اَور گُمراہ لوگوں کے درمیان، ”خُدا کے بے نُقص فرزندوں کی طرح اِس جہاں میں زندگی گُزارو۔“ تاکہ اُن میں تُم آسمان کے سِتاروں کی مانند چمکو
PHI 2:16 اَور زندگی کا کلام پیش کرتے ہو تاکہ المسیح کے لوٹنے کے دِن مُجھے فخر ہو کہ نہ تو میری دَوڑ دھوپ فُضول گئی اَور نہ محنت بے فائدہ رہی۔
PHI 2:17 اگر تمہارے ایمان اَور تمہاری خدمت کی قُربانی کے ساتھ مُجھے بھی اَپنی جان کی قُربانی دینا پڑے تو مُجھے خُوشی ہوگی، اَور مَیں تُم سَب کی خُوشی میں شریک ہو سکوں گا۔
PHI 2:18 اِسی طرح تُمہیں بھی خُوش ہوکر میری خُوشی میں شریک ہونا چاہئے۔
PHI 2:19 مُجھے خُداوؔند یِسوعؔ میں اُمّید ہے کہ میں تِیمُتھِیُس کو جلد ہی تمہارے پاس روانہ کر دُوں، تاکہ اُس سے تمہاری خیریت کی خبر سُن کر مُجھے بھی اِطمینان حاصل ہو۔
PHI 2:20 کیونکہ اُس کے علاوہ یہاں میرا کویٔی اَور ہم خیال نہیں جو سچّے دِل سے تمہارے لیٔے فِکرمند ہو۔
PHI 2:21 کیونکہ دُوسرے سبھی اَپنی اَپنی باتوں کی فکر میں ہیں، نہ کہ یِسوعؔ المسیح کی۔
PHI 2:22 لیکن تُم تِیمُتھِیُس کے کِردار سے واقف ہو کہ کِس طرح اُس نے ایک بیٹے کی طرح میرے ساتھ مِل کر خُوشخبری کی مُنادی کی خدمت اَنجام دی ہے۔
PHI 2:23 پس، میں اُمّید کرتا ہُوں کہ جِتنی جلدی میری صورت حال واضح ہو جائے گی، میں اُسے تمہارے پاس بھیج دُوں گا۔
PHI 2:24 بَلکہ مُجھے خُداوؔند پر بھروسا ہے کہ میں خُود بھی جلد ہی آ جاؤں گا۔
PHI 2:25 لیکن مَیں نے اِپفرُدِتُسؔ کو تمہارے پاس بھیجنا ضروُری سمجھا، وہ میرا مسیحی بھایٔی، ہم خدمت اَور میری طرح المسیح کا سپاہی ہے، وہ تمہارا قاصِد ہے، جسے تُم نے میری ضروُرتیں پُوری کرنے کے لیٔے بھیجا تھا۔
PHI 2:26 وہ تُم سَب کا مُشتاق ہے اَور بے قرار بھی ہے کیونکہ تُم نے اُس کی بیماری کا حال سُنا تھا۔
PHI 2:27 بے شک وہ اَپنی بیماری سے، مَرنے کے قریب تھا۔ لیکن خُدا نے اُس پر رحم کیا، اَور نہ صِرف اُس پر بَلکہ مُجھ پر بھی، تاکہ مُجھے غم پر غم نہ ہو۔
PHI 2:28 اِس لیٔے مُجھے خیال آیا کہ اُسے جلد اَز جلد روانہ کر دُوں، تاکہ جَب تُم اُسے پھر سے دیکھو تو خُوش ہو جاؤ اَور میری بےقراری بھی کم ہو جائے۔
PHI 2:29 پس تُم اُس کا خُداوؔند میں اَپنا بھایٔی سمجھ کر گرم جوشی سے اِستِقبال کرنا، اَور اَیسے لوگوں کا اِحترام کرنا لازِم ہے،
PHI 2:30 کیونکہ وہ المسیح کی خدمت کی خاطِر مَرنے کے قریب ہو گیا تھا۔ اَور اُس نے اَپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیا تاکہ میری خدمت میں جو کمی تمہاری وجہ سے ہوئی وہ اُسے پُورا کر دے۔
PHI 3:1 غرض، میرے بھائیو اَور بہنوں، خُداوؔند میں خُوش رہو! تُمہیں ایک ہی بات دوبارہ لکھنے میں مُجھے تو کچھ دِقّت نہیں، اَور تمہاری اِس میں حِفاظت ہے۔
PHI 3:2 اُن کُتّوں سے خبردار رہو، اُن بدکرداروں سے اَور اُن سے جو ختنہ کروانے پر زور دیتے ہیں۔
PHI 3:3 کیونکہ مختون تو ہم ہیں، جو خُدا کے رُوح کی ہدایت سے اُس کی عبادت کرتے ہیں، اَور المسیح یِسوعؔ پر فخر کرتے ہیں اَور جِسم پر بھروسا نہیں کرتے
PHI 3:4 اگرچہ میں تو جِسم پر بھروسا کر سَکتا ہُوں۔ لیکن اگر کویٔی جِسم پر بھروسا کرنے کا خیال کر سَکتا ہے، تو میں اُس سے بھی زِیادہ کر سَکتا ہُوں:
PHI 3:5 میری پیدائش کے سات دِن بعد آٹھویں دِن میرا ختنہ ہُوا، میں اِسرائیلی قوم اَور بِنیامین کے قبیلہ سے ہُوں، عِبرانیوں کا عِبرانی؛ شَریعت کے اِعتبار سے، میں ایک فرِیسی ہُوں؛
PHI 3:6 جوش کے اِعتبار سے، جماعت کا ستانے والا؛ شَریعت کی راستبازی کے اِعتبار سے، بے عیب۔
PHI 3:7 لیکن جو کچھ میرے لیٔے نفع کا باعث تھا، مَیں نے اُسے المسیح کی خاطِر نُقصان سمجھ لیا ہے۔
PHI 3:8 بَلکہ میں اَپنے خُداوؔند المسیح یِسوعؔ کی پہچان کو اَپنی بڑی خُوبی سمجھتا ہُوں، جِن کی خاطِر مَیں نے دُوسری تمام چیزوں کا نُقصان اُٹھایا۔ اَور اُن چیزوں کو کُوڑا سمجھتا ہُوں، تاکہ المسیح کو حاصل کرلُوں
PHI 3:9 اَور المسیح میں پایا جاؤں، لیکن اَپنی شَریعت والی راستبازی کے ساتھ نہیں، بَلکہ اُس راستبازی کے ساتھ جو المسیح پر ایمان لانے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ راستبازی خُدا کی طرف سے ہے اَور ایمان کی بُنیاد پر مَبنی ہے۔
PHI 3:10 میں یہی چاہتا ہُوں کہ المسیح کو اَور اُن کے جی اُٹھنے کی قُدرت کو جانوں، المسیح کے ساتھ دُکھوں میں شریک ہونے کا تجربہ حاصل کروں، اَور المسیح کی موت سے مُشابَہت پیدا کرلُوں،
PHI 3:11 تاکہ کسی طرح مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے درجہ تک جا پہُنچوں۔
PHI 3:12 اِس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اُس مقصد کو پاچُکا ہُوں یا کامِل ہو چُکا ہُوں، بَلکہ میں اُس مقصد کو پانے کے لیٔے دَوڑا چلا جا رہا ہُوں جِس کے لیٔے المسیح یِسوعؔ نے مُجھے پکڑا تھا۔
PHI 3:13 اَے میرے بھائیو اَور بہنوں! میرا یہ گمان نہیں کہ میں اُسے پاچُکا ہُوں۔ بَلکہ صِرف یہ کہہ سَکتا ہُوں: جو چیزیں پیچھے رہ گئی ہیں اُنہیں بھُول کر آگے کی چیزوں کی طرف بڑھتا جا رہا ہُوں،
PHI 3:14 اَور تیزی سے نِشانہ کی جانِب دَوڑا چلا جاتا ہُوں تاکہ وہ اِنعام حاصل کرلُوں جِس کے لیٔے خُدا نے مُجھے المسیح یِسوعؔ میں اُوپر آسمان پر بُلایا ہے۔
PHI 3:15 لہٰذا، ہم میں سے جتنے رُوحانی طور پر بالغ ہیں، یہی خیال رکھیں۔ اَور اگر تمہارا کسی اَور قِسم کا خیال ہو، تو خُدا اُسے بھی تُم پر ظاہر کر دے گا۔
PHI 3:16 بہرحال جہاں تک ہم پہُنچ چُکے ہیں اُسی کے مُطابق چلتے جایٔیں۔
PHI 3:17 اَے بھائیو اَور بہنوں! تُم سَب میرے نقش قدم پر چلو، اَور اُن لوگوں پر غور کرو جو ہمارے دئیے ہویٔے نمونہ پر چلتے ہیں۔
PHI 3:18 کیونکہ، بہت سے اَیسے ہیں جِن کا ذِکر میں بارہا کر چُکا ہُوں اَور اَب بھی تُم سے رو رو کر کہتا ہُوں، بہت سے لوگ اَپنے چال چلن سے المسیح کی صلیب کے دُشمن بَن کر جیتے ہیں۔
PHI 3:19 اُن کا اَنجام ہلاکت ہے، اُن کا پیٹ ہی اُن کا خُدا ہے، وہ اَپنی اُن باتوں پرجو شرم کا باعث ہیں فخر کرتے ہیں۔ اَور دُنیوی چیزوں کے خیال میں لگے رہتے ہیں۔
PHI 3:20 مگر ہمارا وطن آسمان پر ہے۔ اَور ہم اَپنے مُنجّی خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے وہاں سے، واپس آنے کے اِنتظار میں ہیں،
PHI 3:21 المسیح اَپنی قُوّت سے ساری چیزوں کو اَپنے تابع کر سکتے ہیں، اِسی قُوّت کی تاثیر سے وہ ہمارے فانی بَدن کی شکل بدل کر اَپنے جلالی بَدن کی مانند بنا دیں گے۔
PHI 4:1 اِس لیٔے میرے عزیز بھائیو اَور بہنو، جِن کا میں مُشتاق ہُوں، اَور تُم جو میری خُوشی اَور میرا تاج ہو، اَے میرے عزیزو، خُداوؔند میں اِسی طرح قائِم رہو!
PHI 4:2 یُوؤدیہؔ اَور سُنتؔخے دونوں خواتین کو میری نصیحت یہ ہے کہ وہ خُداوؔند میں یکدل ہوکر رہیں۔
PHI 4:3 اَور میرے سچّے ہم خدمت! میں تُم سے بھی درخواست کرتا ہُوں کہ اِن دونوں خواتین کی مدد کرو، کیونکہ اُنہُوں نے کلیمینت اَور میرے باقی ہم خدمتوں سمیت، میرے ساتھ خُوشخبری پھیلانے میں بڑی محنت کی، اِن سَب کے نام کِتاب حیات میں درج ہیں۔
PHI 4:4 خُداوؔند میں ہر وقت خُوش رہو، میں پھر کہتا ہُوں: خُوش رہو!
PHI 4:5 تمہاری نرم مِزاجی سَب لوگوں پر ظاہر ہو۔ خُداوؔند جلد واپس لَوٹنے والے ہیں۔
PHI 4:6 کسی بات کی فکر نہ کرو، اَور اَپنی سَب دعاؤں میں خُدا کے سامنے اَپنی ضروُرتیں، اَور مَنّتیں شُکر گُزاری کے ساتھ خُدا کے سامنے پیش کیا کرو۔
PHI 4:7 تَب خُدا کا وہ اِطمینان حاصل ہوگا، جو اِنسان کی سمجھ سے بالکُل باہر ہے، اَورجو تمہارے دِلوں اَور خَیالوں کو المسیح یِسوعؔ میں محفوظ رکھےگا۔
PHI 4:8 غرض، اَے میرے بھائیو اَور بہنوں! جِتنی باتیں سچ ہیں، لائق ہیں، مُناسب ہیں، پاک ہیں، دلکش ہیں اَور پسندِیدہ ہیں یعنی جو اَچھّی اَور قابل تعریف ہیں، اُن ہی باتوں پر غور کیا کرو۔
PHI 4:9 جو باتوں کو تُم نے مُجھ سے سیکھا یا حاصل کیا یا سُنا ہے یا مُجھ میں دیکھا بھی ہے، اُن پر عَمل کرتے رہوگے۔ تو خُدا جو اِطمینان کا چشمہ ہے تمہارے ساتھ رہے گا۔
PHI 4:10 مَیں خُداوؔند میں بہت خُوش ہُوں کہ اِتنی مُدّت کے بعد تُمہیں پھر سے میری مدد کرنے کا خیال آیا۔ بے شک، پہلے بھی تُمہیں میرا خیال تھا، مگر تُمہیں اُسے ظاہر کرنے کا موقع نہ مِلا تھا۔
PHI 4:11 میں یہ اِس لئے نہیں کہہ رہا ہُوں کہ مُحتاج ہُوں، کیونکہ مَیں نے کسی بھی حالات میں راضی رہنا سیکھ لیا ہے۔
PHI 4:12 مَیں نے ناداری اَور فراوانی کے دِن بھی دیکھے ہیں، چاہے فاقہ کشی ہو یا آسودگی اَور کثرت ہو یا قِلّت ہر حالت میں مطمئن رہنا سیکھ لیا ہے۔
PHI 4:13 جو مُجھے طاقت بخشتا ہے اُس کی مدد سے میں سَب کچھ کر سَکتا ہُوں۔
PHI 4:14 تو بھی تُم نے اَچھّا کیا کہ میری مُصیبت میں شریک ہویٔے۔
PHI 4:15 اَے اہلِ فِلپّی! تُم اَچھّی طرح جانتے ہو کہ شروع شروع میں جَب مَیں خُوشخبری سُناتا ہُوا، صُوبہ مَکِدُنیہؔ سے روانہ ہُوا تھا، تو تمہارے سِوا کسی جماعت نے لینے دینے کے مُعاملہ میں، میری مدد نہ کی؛
PHI 4:16 جَب مَیں تھِسلُنِیکے شہر میں تھا، تو تُم نے میری ضرورتوں کو پُورا کرنے کے لیٔے ایک دفعہ نہیں بَلکہ دو دفعہ کچھ بھیجا تھا۔
PHI 4:17 یہ نہیں کہ میں تمہاری بھیجی ہُوئی رقم کا مُشتاق ہُوں؛ بَلکہ اَیسے اِنعام کی خواہش کرتا ہوں، جِس سے آپ کی رُوحانی برکتوں میں اِضافہ ہو جائے۔
PHI 4:18 میرے پاس سَب کچھ ہے بَلکہ کثرت سے ہے۔ تمہارے بھیجے ہویٔے تحفے اِپفرُدِتُسؔ کے ہاتھ سے مُجھے مِل گیٔے ہیں، اَور مَیں اَور بھی آسُودہ ہو گیا ہُوں۔ یہ خُوشبو اَور قُربانی اَیسی ہے، جو خُدا کی نظر میں پسندِیدہ ہے۔
PHI 4:19 میرا خُدا، المسیح یِسوعؔ کے ذریعہ اَپنے جلال کی دولت سے تمہاری تمام ضروُرتیں پُوری کر دے گا۔
PHI 4:20 ہمارے خُدا اَور باپ کی تمجید ہمیشہ تک ہوتی رہے۔ آمین۔
PHI 4:21 ہر ایک مُقدّس سے المسیح یِسوعؔ میں سلام کہو۔ جو مسیحی بھایٔی اَور بہن میرے ساتھ ہیں، تُمہیں سلام کہتے ہیں۔
PHI 4:22 خُدا کے تمام مُقدّسین، خصوصاً تمام اہلِ ایمان جو قَیصؔر کے محل والوں میں سے ہیں، تُمہیں سلام کہتے ہیں۔
PHI 4:23 خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا فضل تمہاری سَب کی رُوح کے ساتھ ہوتا رہے۔ آمین۔
COL 1:1 یہ خط خُدا کی مرضی سے المسیح یِسوعؔ کے رسول پَولُسؔ اَور بھایٔی تِیمُتھِیُس کی جانِب سے،
COL 1:2 کُلُسّے شہر کے اُن مُقدّس اَور المسیح میں وفادار ساتھی مُومِن بھائیوں اَور بہنوں کے نام لِکھّا ہُوا خط:
COL 1:3 جَب ہم تمہارے لیٔے دعا کرتے ہیں تو ہمیشہ اَپنے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے باپ، یعنی خُدا کا شُکر اَدا کرتے ہیں،
COL 1:4 کیونکہ ہم نے سُنا ہے کہ تُم خُداوؔند المسیح یِسوعؔ پر ایمان رکھتے ہو اَور سَب مُقدّسین سے کِس قدر مَحَبّت کرتے ہو۔
COL 1:5 تمہارا یہ ایمان اَور مَحَبّت اُس چیز کی اُمّید کے سبب سے ہے جو تمہارے لیٔے آسمان پر جمع کرکے رکھی ہُوئی ہے اَور جِس کا ذِکر تُم نے پہلے ہی انجیل کے برحق کلام میں سُنا تھا
COL 1:6 یہ پیغام جو تمہارے پاس پہُنچ چُکاہے۔ ٹھیک اُسی طرح پُوری دُنیا میں پھیل رہا اَور ترقّی کر رہاہے، جِس طرح یہ تمہارے درمیان بھی اُسی دِن سے کام کر رہاہے جِس دِن تُم نے پہلی مرتبہ اِسے سُن کر خُدا کے فضل کی پُوری حقیقت سمجھ لی تھی۔
COL 1:7 تُم نے اُس کی تعلیم ہمارے عزیز ہم خدمت اِپفِراسؔ سے سیکھی، جو ہماری طرف سے تمہارے درمیان المسیح کا وفادار خادِم ہے۔
COL 1:8 اِپفِراسؔ نے ہمیں بتایا کہ پاک رُوح نے تمہارے اَندر کیسی مَحَبّت پیدا کی ہے۔
COL 1:9 اِس لیٔے جِس دِن سے ہم نے آپ لوگوں سے یہ سَب باتیں سُنی ہیں، ہم بھی تمہارے واسطے خُدا سے بلاناغہ دعا کرتے اَور درخواست کرنے سے باز نہیں آتے کہ تُمہیں خُدا اَپنی مرضی کے علم سے، رُوحانی حِکمت اَور سمجھ سے معموُر کر دے جسے پاک رُوح مُہیّا کرتا ہے۔
COL 1:10 تاکہ تمہاری زندگی خُداوؔند کے لائق ہو اَور خُداوؔند کو ہر طرح سے خُوش کرنے والی ہو: اَور سَب نیک کام میں پھلدار بنو، اَور خُدا کے علم و عِرفان میں بڑھتے چلے جاؤ،
COL 1:11 تُم لوگوں کے لیٔے ہماری دعا ہے کہ تُم خُدا کی جلالی قُدرت سے مِلنے والی ہر طرح کی قُوّت سے مضبُوط ہوتے جاؤ تاکہ تُم میں بےحد تحمُّل اَور صبر پیدا ہو،
COL 1:12 اَور خُوشی سے خُدا باپ کا شُکر کرتے رہو جِس نے تُمہیں نُور کی بادشاہی میں اَپنے مُقدّس لوگوں کی مِیراث میں شامل ہونے کے لائق بنایا،
COL 1:13 کیونکہ خُدا نے ہمیں تاریکی کے قبضہ سے چُھڑا کر اَپنے عزیز بیٹے کی بادشاہی میں داخل کیا ہے،
COL 1:14 اُسی عزیز بیٹے کے ذریعہ ہمیں مخلصی، یعنی گُناہوں کی مُعافی مِلی ہے۔
COL 1:15 اِبن خُدا پوشیدہ خُدا کی صورت اَور تمام مخلُوقات میں پہلوٹھے ہیں۔
COL 1:16 کیونکہ المسیح کے وسیلہ سے سَب کچھ خلق کیا گیا: چاہے وہ چیزیں آسمان کی ہوں یا زمین کی، نموُدار ہوں یا پوشیدہ، شاہی تخت ہوں یا اُن کی قُوّتیں، حُکمران ہوں یا تمام صاحبِ اِختیار؛ سَب چیزیں المسیح کے ذریعہ اَور اُن ہی کے خاطِر پیدا ہُوئی ہیں۔
COL 1:17 وہ سَب چیزوں سے پہلے ہیں اَور المسیح میں ہی سَب چیزیں قائِم ہیں۔
COL 1:18 اَور وُہی بَدن یعنی جماعت کا سَر ہیں اَور وُہی پہلے مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھے ہیں تاکہ سَب چیزوں میں پہلا درجہ اُن ہی کا ہو۔
COL 1:19 کیونکہ خُدا کو یہ پسند آیا کہ خُدا کی ساری معموُری المسیح میں سکونت کرے،
COL 1:20 اَور المسیح کے صلیب پر بہائے گیٔے خُون کے وسیلے سے، سَب چیزوں کا چاہے وہ آسمان کی ہوں، یا زمین کی، اَپنے ساتھ صُلح کر لے۔
COL 1:21 کسی وقت تُم خُدا سے بہت دُور تھے، اَور اَپنے ذہنوں میں دُشمنی رکھ کر بُرے کاموں میں مشغُول تھے۔
COL 1:22 لیکن اَب اُس نے المسیح کی جِسمانی موت کے وسیلہ سے تمہارے ساتھ صُلح کرلی ہے تاکہ وہ تُمہیں پاک، بے عیب اَور بے اِلزام بنا کر اَپنے حُضُور میں پیش کرے۔
COL 1:23 بشرطیکہ تُم اَپنے ایمان کی پُختہ بُنیاد پر قائِم رہو، اَور اُس خُوشخبری کی اُمّید کو جسے تُم نے سُنا تھا، نہ چھوڑو، جِس کی مُنادی آسمان کے نیچے ساری مخلُوق میں کی گئی، اَور مَیں پَولُسؔ اُسی کا خادِم بنا۔
COL 1:24 اَب تمہاری خاطِر دُکھ اُٹھانا بھی میرے لئے خُوشی کا باعث ہے، کیونکہ مَیں اَپنے جِسم میں المسیح کی مُصیبتوں کی کمی کو اُس کے بَدن، یعنی جماعت کی خاطِر پُورا کر رہا ہُوں۔
COL 1:25 خُدا نے اَپنے کلام کو پُورے طور پر تُمہیں مُنادی کرنے کی ذمّہ داری میرے سُپرد کی اَور مُجھے اَپنی جماعت کا خادِم مُقرّر کیا
COL 1:26 یعنی وہ راز جو تمام زمانوں اَور پُشتوں سے پوشیدہ رہا، لیکن اَب خُدا کے مُقدّسین پر ظاہر ہُواہے۔
COL 1:27 جنہیں خُدا نے مُنتخب کیا کہ غَیریہُودیوں کے درمیان اُس بیش قیمتی اَور جلالی راز کو ظاہر کرے، وہ راز المسیح ہیں جو جلال کی اُمّید ہیں، اَور تُم میں بسے ہویٔے ہیں۔
COL 1:28 ہم اُسی المسیح کی مُنادی کرتے، اَور کمال دانائی سے ہر ایک کو نصیحت کرتے اَور تعلیم دیتے ہیں، تاکہ ہر شخص کو المسیح میں کامِل کرکے اُسے خُدا کے حُضُور پیش کر سکیں۔
COL 1:29 اَور اِسی مقصد سے میں المسیح کی اُس عظیم قُوّت کے مُوافق جو مُجھ میں تاثیر کرتی ہے، جانفشانی سے سخت محنت اَور جدّوجہد کرتا ہُوں۔
COL 2:1 میں چاہتا ہُوں کہ تُم جان لو کہ میں نہ صِرف تمہارے لیٔے بَلکہ لَودِیکیہؔ شہر والوں کے لیٔے، اَور اُن تمام مُومِنین کے لیٔے بھی کتنی سخت جدّوجہد کر رہا ہوں اَور جِن لوگوں سے میں ذاتی طور سے نہیں مِلا۔
COL 2:2 میری کوشش یہ ہے کہ اُن کی دِلی حوصلہ اَفزائی کرکے آپسی مَحَبّت میں ایک کیا جائے، تاکہ وہ عقل و دانش کی ساری دولت پائیں اَور خُدا کے راز کو، جان لیں یعنی المسیح کو،
COL 2:3 المسیح میں ہی حِکمت اَور علم و عِرفان کے سَب خزانے پوشیدہ ہیں۔
COL 2:4 میں یہ اِس لیٔے کہتا ہُوں تاکہ کویٔی تُمہیں جھُوٹی دلیلوں سے گُمراہ نہ کر دے۔
COL 2:5 اگرچہ میں جِسمانی طور پر تُم سے دُور ہُوں مگر رُوحانی طور پر تمہارے نزدیک، اَور یہ دیکھ کر خُوش ہوتا ہُوں کہ تُم کتنی مُنطّم زندگی گزارتے ہو، اَور تمہارا المسیح پر ایمان کتنا پُختہ ہے۔
COL 2:6 پس جَب تُم نے المسیح یِسوعؔ کو اَپنا خُداوؔند قبُول کر لیا ہے، تو اَب المسیح میں زندگی بھی گُزارو،
COL 2:7 اَور المسیح میں جڑ پکڑتے اَور اَپنی زندگی تعمیر کرتے جاؤ، اَور جِس طرح تُم نے تعلیم پائی ہے اُسی طرح ایمان میں مضبُوط رہو، اَور خُدا کی بےحد شُکر گُزاری کیا کرو۔
COL 2:8 خبردار، کویٔی شخص تُمہیں اُن فَلسفیانہ اَور پُر فریب خیالات کا شِکار نہ بنانے پایٔے، جِن کی بُنیاد المسیح پر نہیں بَلکہ اِنسانی روایتوں اَور دُنیوی اِبتدائی باتوں پر ہے۔
COL 2:9 کیونکہ اُلُوہیّت کی ساری معموُری المسیح میں مُجسّم ہوکر سکونت کرتی ہے،
COL 2:10 اَور تُمہیں المسیح کی معموُری میں شریک کر دیا گیا ہے۔ وُہی ہر طرح کی حُکمرانی اَور اِختیار والے کا سَر ہیں۔
COL 2:11 المسیح میں تمہارا اَیسا ختنہ ہُواہے جو اِنسانی ہاتھ کا نہیں۔ بَلکہ المسیح کے وسیلہ سے تمہاری پُرانی گُناہ آلُودہ اِنسانیّت کو تُم سے جُدا کر دیا گیا،
COL 2:12 جَب تُم پاک غُسل لے کر گویا المسیح کے ساتھ دفن ہو گیٔے، اَور تُم ایمان کے ذریعہ زندہ بھی کیٔے گئے کیونکہ تُم خُدا کی اُس قُدرت پر ایمان لائے، جِس نے المسیح کو مُردوں میں سے زندہ کیا۔
COL 2:13 اَور تُم تو اَپنے گُناہوں اَور نامختون جِسمانی حالت کی وجہ سے مُردہ تھے لیکن خُدا نے المسیح کے ساتھ تُمہیں بھی زندہ کر دیا۔ اَور اُس نے ہمارے سارے قُصُور مُعاف کر دئیے،
COL 2:14 اَور اَحکام کے قانُونی دستاویز کو جو ہمارے خِلاف لکھے گیٔے تھے، اَور ہمیں مُجرم ٹھہراتے تھے اُسے المسیح نے موقُوف کرکے صلیب پر کیلوں سے جڑ کر، ہماری نظروں سے دُور کر دیا۔
COL 2:15 اَور خُدا نے رُوحانی حُکمرانوں اَور اِختیار والوں کے اسلحہ کو چھین کر اُن کا اعلانیہ تماشا بنایا، اَور المسیح نے صلیب کے سبب سے اُن پر ظفریابی کا شادِیانہ بجایا۔
COL 2:16 پس کسی کو موقع نہ دو کہ وہ تمہارے کھانے پینے، مَذہَبی تہوار منانے، نئے چاند یا سَبت منانے کے بارے میں تُمہیں قُصُوروار ٹھہرائے۔
COL 2:17 یہ سَب چیزیں تو صِرف مُستقبِل میں آنے والی حقیقت کا سایہ ہیں؛ مگر، المسیح تو خُود ہی حقیقت ہیں۔
COL 2:18 اگر کویٔی شخص ظاہری خاکساری اَور فرشتوں کی عبادت کرنے سے خُوش ہوتاہے۔ اَیسا شخص بڑی تفصیل سے اَپنی رُویاؤں میں دیکھی ہُوئی چیزوں کا بَیان کرتا ہے؛ اَور اَپنی غَیر رُوحانی عقل پر بے فائدہ پھُول جاتا ہے۔
COL 2:19 وہ شخص سَر یعنی المسیح سے اَپنا تعلّق کھو بیٹھتا ہے جِس سے سارا بَدن جوڑوں اَور پَٹھّوں کے وسیلہ سے پرورِش پا کر، اَور باہم پیوستہ ہوکر، خُدا کی مرضی کے مُطابق بڑھتا چلا جاتا ہے۔
COL 2:20 جَب تُم المسیح کے ساتھ اِس دُنیا کی رُوحانی قُوّتوں کے لیٔے، مَر چُکے ہو تو اَب دُنیاداروں کی طرح، زندگی کیوں گزارتے ہو؟ گویا تُم ابھی بھی دُنیا کے اَحکام کے تابع ہو مثلاً:
COL 2:21 ”اِسے ہاتھ نہ لگانا! اُسے نہ چکھنا! اَور اُسے نہ چھُونا؟“
COL 2:22 یہ اُصُول صِرف اِنسانی اَحکام اَور تعلیمات ہیں، اَور یہ ساری چیزیں اِستعمال ہوکر فنا ہو جاتی ہیں۔
COL 2:23 یہ خُود ساختہ عبادت، قاعدے اَور قانُون ظاہری میں تو مَعقُول لگتے ہیں، کیونکہ اِن میں جِسمانی رِیاضت اَور ظاہری فروتنی پر زور دیا گیا، مگر جِسمانی خواہشوں پر قابُو پانے میں اِن سے کویٔی مدد نہیں ملتی۔
COL 3:1 لہٰذا جَب تُم المسیح کے ساتھ زندہ کیٔے گیٔے تو عالمِ بالا کی چیزوں کی جُستُجو میں رہو، جہاں المسیح خُدا کی داہنی طرف تخت نشین ہیں۔
COL 3:2 عالمِ بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو، نہ کہ زمین پر کی چیزوں کے۔
COL 3:3 کیونکہ تُم مَر گیٔے، اَور اَب تمہاری زندگی المسیح کے ساتھ خُدا میں پوشیدہ ہے۔
COL 3:4 اَور جَب المسیح جو ہماری زندگی ہیں، ظاہر ہوں گے، تو تُم بھی اُن کے ساتھ اُن کے جلال میں ظاہر کیٔے جاؤگے۔
COL 3:5 پس تُم اَپنی دُنیوی فطرت کو مار ڈالو مثلاً: جنسی بدفعلی، ناپاکی، شہوت پرستی، بُری خواہشات اَور لالچ کو جو بُت پرستی کے برابر ہے۔
COL 3:6 کیونکہ اِن ہی کے سبب سے، خُدا کا غضب نازل ہوتاہے۔
COL 3:7 ایک وقت تھا، جَب تُم بھی اَپنی پچھلی زندگی اِسی طرح کی غُلامی میں گزارتے تھے۔
COL 3:8 مگر اَب اِن سَب چیزوں کو: یعنی غُصّہ، قہر، کینہ، کُفر اَور اَپنے مُنہ سے گالی بکنا چھوڑ دو۔
COL 3:9 ایک دُوسرے سے جھُوٹ مت بولو، کیونکہ تُم نے اَپنی پُرانی فطرت کو اُس کی بُری عادتوں سمیت اُتار پھینکا ہے
COL 3:10 اَور نئی اِنسانیّت کو پہن لیا ہے، جسے خُدا نے اَپنی صورت پر پیدا کیا ہے تاکہ تُم اُس کے عِرفان میں بڑھتے اَور اُس کے مانند بنتے جاؤ۔
COL 3:11 چنانچہ اِس نئی زندگی میں نہ تو کویٔی یُونانی ہے نہ یہُودی، نہ ختنہ والا نہ نامختون، نہ وحشی نہ سکوتی، نہ غُلام نہ آزاد، صِرف المسیح ہی سَب کچھ اَور سَب میں اہم ہیں۔
COL 3:12 پس خُدا کے مُنتخب کیٔے ہُوئے مُقدّس اَور عزیز برگُزیدوں کی طرح ترس، مہربانی، فروتنی، نرمی اَور تحمُّل کا لباس پہن لو۔
COL 3:13 ایک دُوسرے کی برداشت کرو اَور ایک دُوسرے کو مُعاف کرو اگر کسی کو کسی سے شکایت ہے۔ اُسے وَیسے ہی مُعاف کرو جَیسے خُداوؔند نے تُمہیں مُعاف کیا ہے۔
COL 3:14 اَور اِن سَب خُوبیوں سے بڑھ کر مَحَبّت کو پہن لو، جو سَب کچھ ایک ساتھ باندھ کر کامل اِتّحاد قائِم کرتی ہے۔
COL 3:15 المسیح کا اِطمینان تمہارے دِلوں پر حُکومت کرے، جِس کے لیٔے تُم ایک ہی بَدن کے اَعضا ہونے کی حیثیت سے خُدا کے ذریعہ بُلائے گیٔے ہو، اَور تُم شُکر گزاری بھی کرتے رہو۔
COL 3:16 المسیح کے کلام کو اَپنے دِلوں میں کثرت سے بسنے دو اَور پُوری دانائی کے ساتھ ایک دُوسرے کو تعلیم دو اَور نصیحت کرتے رہو، اَور اَپنے دِلوں میں خُدا کی شُکر گُزاری کرتے ہویٔے زبُور، حَمد و ثنا اَور رُوحانی غزلیں گایا کرو۔
COL 3:17 اَورجو کچھ تُم کہتے یا کرتے ہو وہ سَب خُداوؔند یِسوعؔ کے نام سے کرو، اَور خُدا باپ کا شُکر کرتے رہو۔
COL 3:18 اَے بیویو! خُداوؔند میں مُناسب ہے کہ تُم اَپنے شوہروں کی تابع رہو۔
COL 3:19 اَے شوہروں! اَپنی بیویوں سے مَحَبّت رکھو اَور اُن پر سختی نہ کرو۔
COL 3:20 اَے بچّو! تمہارا فرض ہے کہ ہر بات میں والدین کے فرمانبردار رہو، کیونکہ خُداوؔند کو یہ پسند ہے۔
COL 3:21 اَے اَولاد والو! اَپنے بچّوں پر اِتنی بھی سختی نہ کرو کہ وہ بے دِل ہو جایٔیں۔
COL 3:22 اَے غُلاموں! سَب باتوں میں اَپنے دُنیوی مالکوں کے فرمانبردار رہو؛ نہ صِرف ظاہری طور پر اُنہیں خُوش کرنے کے لیٔے خدمت کرو، بَلکہ اُسے خُوش دِلی سے اَور خُداوؔند کا خوف مانتے ہویٔے اَنجام دو۔
COL 3:23 جو بھی کام کرو اُسے دِل و جان سے کرو، گویا یہ جان کر کہ خُداوؔند کے لیٔے کر رہے ہو، نہ کہ کسی اِنسان کے لیٔے۔
COL 3:24 کیونکہ تُم جانتے ہو کہ خُداوؔند تُمہیں اِس کے عوض میں وعدہ کی ہُوئی مِیراث دے گا۔ کیونکہ تُم واقعی المسیح کی خدمت کر رہے ہو۔
COL 3:25 لیکن ہر کویٔی جو بدی کرتا ہے اَپنی بدی کا بدلہ پایٔےگا، کیونکہ خُدا کسی کی طرفداری نہیں کرتا۔
COL 4:1 اَے مالِکو! اَپنے غُلاموں کے ساتھ جائز اَور منصفانہ سلُوک کریں، کیونکہ تُم جانتے ہو کہ آسمان پر تمہارا بھی ایک مالک ہے۔
COL 4:2 محتاط ہوکر، اَور شُکر گُزاری کے ساتھ دعا کرنے میں مشغُول رہو۔
COL 4:3 اَور ہمارے لیٔے بھی دعا کرو، تاکہ خُدا ہمارے لئے کلام سُنانے کا دروازہ کھول دے اَور ہم المسیح کے پیغام کے اُس راز کو بَیان کر سکیں، جِس کی وجہ سے میں زنجیروں سے جکڑا ہُوں۔
COL 4:4 دعا کرو کہ میں اُسے صَاف گوئی سے بَیان کر سکوں، جَیسا کہ مُجھے کرنا لازِم ہے۔
COL 4:5 ہر موقع کو غنیمت سمجھ کر؛ غَیر مسیحیوں کے ساتھ دانشمندانہ سلُوک کرو۔
COL 4:6 تمہاری گُفتگو اَیسی پُرفضل اَور پُر کشش ہو، تاکہ تُم ہر شخص کو مُناسب جَواب دے سکو۔
COL 4:7 عزیز بھایٔی تُخِکسؔ جو وفادار خادِم اَور خُداوؔند میں ہم خدمت رہاہے، میرا سارا حال تُمہیں بَیان کرےگا۔
COL 4:8 میں اُسے تمہارے پاس اِس غرض سے بھیج رہا ہُوں تاکہ تُمہیں ہمارا سارا حال مَعلُوم ہو جائے اَور وہ تمہارے دِلوں کو تسلّی دے سکے۔
COL 4:9 وہ اُنیسمُسؔ ہمارے وفادار اَور عزیز بھایٔی کے ساتھ آ رہاہے، جو تمہاری ہی جماعت سے ہے۔ یہ دونوں تُمہیں یہاں کا سارا حال بَیان کر دیں گے۔
COL 4:10 ارِسترخُسؔ جو میرے ساتھ قَید میں ہے تُمہیں سلام کہتاہے اَور مرقُسؔ، جو بَرنباسؔ کا چچیرا بھایٔی ہے تُمہیں سلام کہتاہے۔ (تُمہیں مرقُسؔ کے بارے میں ہدایات دی جا چُکی ہے؛ اگر وہ تمہارے پاس آئے، تو اُس کا خیرمقدم کرنا)۔
COL 4:11 اَور یِسوعؔ جو یُوستُسؔ بھی کہلاتا ہے، تُمہیں سلام کہتاہے۔ مختون یہُودی مسیحیوں میں سے صِرف یہی تین شخص ہیں جو خُدا کی بادشاہی کا پیغام پھیلانے میں میرے ہم خدمت، اَور میری تسلّی کا باعث رہے ہیں۔
COL 4:12 المسیح یِسوعؔ کا خادِم اِپفِراسؔ بھی، جو تمہاری ہی جماعت سے ہے تُمہیں سلام کہتاہے۔ وہ بڑی جانفشانی سے تمہارے لیٔے دعا کرتا ہے کہ تُم کامِل بنو، اَور ایمان کی پُوری پُختگی سے خُدا کی مرضی کے مُطابق چلو۔
COL 4:13 میں خُود اُس کے حق میں گواہی دیتا ہُوں کہ وہ تمہارے اَور لَودِیکیہؔ اَور ہِیراپُلسؔ شہروں کے لوگوں کے لیٔے کِس قدر محنت کرتا ہے۔
COL 4:14 ہمارے عزیز طبیب، لُوقا، اَور دیماسؔ تُمہیں سلام کہتے ہیں۔
COL 4:15 لَودِیکیہؔ شہر کے مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کو، اَور بہن نُمفاسؔ اَور اُس کے گھر کی جماعت کو میرا سلام کہنا۔
COL 4:16 جَب تُم یہ خط پڑھ چُکو تو دیکھنا کہ یہ لَودِیکیہؔ کی جماعت میں بھی پڑھا جائے اَور لَودِیکیہؔ سے آئے اُس خط کو تُم بھی پڑھ لینا۔
COL 4:17 اَرخِپُّسؔ سے کہنا: ”جو خدمت خُداوؔند نے تمہارے سُپرد کی ہے وہ اُسے ہوشیاری سے اَنجام دے۔“
COL 4:18 میں پَولُسؔ اَپنے ہاتھ سے یہ سلام لِکھتا ہُوں۔ یہ مت بھُولنا کہ میں زنجیروں میں جکڑا یعنی قَیدخانہ میں ہُوں۔ خُدا کا فضل تُم پر ہوتا رہے۔
1TH 1:1 پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ اَور تِیمُتھِیُس کی طرف سے،
1TH 1:2 تُم سَب کے لیٔے ہم ہمیشہ خُدا کا شُکر کرتے اَور تُمہیں اَپنی دعاؤں میں بھی یاد رکھتے ہیں۔
1TH 1:3 اَور ہم اَپنے خُدا اَور آسمانی باپ کی حُضُوری میں تمہارے ایمان کے کام اَور محنت کو جو مَحَبّت کا نتیجہ ہے اَور تمہارے اُس صبر کو یاد رکھتے ہیں، جو ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح میں اُمّید کی بابت ہے۔
1TH 1:4 اَے خُدا کے عزیز بھائیوں اَور بہنوں! ہمیں مَعلُوم ہے کہ خُدا نے تُمہیں مُنتخب کر لیا ہے،
1TH 1:5 کیونکہ تمہارے پاس ہماری خُوشخبری محض لَفظی طور پر ہی نہیں بَلکہ قُدرت، پاک رُوح اَور پُورے یقین کے ساتھ تُم تک پہُنچی؛ چنانچہ تُم جانتے ہو کہ ہم تمہاری خاطِر تمہارے درمیان کس طرح زندگی گُزارتے تھے۔
1TH 1:6 اَور تُم ہمارے اَور خُداوؔند کے نقش قدم پر چلنے والے بَن گیٔے، کیونکہ تُم نے سخت مُصیبت کے درمیان بھی کلام کو پاک رُوح سے مِلنے والی خُوشی کے ساتھ قبُول کیا۔
1TH 1:7 اِس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ تُم مَکِدُنیہؔ اَور صُوبہ اَخیہؔ کے علاقوں کے سارے مُومِنین کے لیٔے نمونہ بَن گیٔے۔
1TH 1:8 خُداوؔند کا پیغام تمہارے ذریعہ نہ صِرف مَکِدُنیہؔ اَور صُوبہ اَخیہؔ میں پھیلا بَلکہ خُدا پر تمہارا ایمان چاروں طرف اَیسا مشہُور ہو گیا کہ اَب ہمیں اُس کا ذِکر کرنے کی ضروُرت نہیں ہے۔
1TH 1:9 کیونکہ یہ ساری باتیں خُود ہی بَیان کرتی ہیں کہ جَب ہم تمہارے یہاں تشریف لایٔے تو تُم نے کِس طرح ہمارا اِستِقبال کیا۔ اَور کِس طرح بُتوں کی پرستش چھوڑکر سچّے اَور زندہ خُدا کی عبادت کرنے کے لیٔے رُجُوع ہویٔے۔
1TH 1:10 اَور خُدا کے بیٹے یِسوعؔ کے آسمان سے لَوٹنے کے مُنتظر رہو، جنہیں اُس نے مُردوں میں سے زندہ کیا اَورجو ہمیں آنے والے الٰہی غضب سے بَچاتے ہیں۔
1TH 2:1 اَے بھائیوں اَور بہنوں! تُم جانتے ہو کہ ہمارا تمہارے پاس آنا بے فائدہ نہ ہُوا۔
1TH 2:2 تُم تو جانتے ہو کہ ہم نے فِلپّی شہر میں بھی کافی تکلیف اُٹھائی اَور بے عزّتی کا سامنا کیا۔ لیکن ہمارے خُدا نے ہمیں یہ جُرأت بخشی کہ بڑی مُخالفت کے باوُجُود بھی ہم تُمہیں اُس کی طرف سے خُوشخبری سُنائیں۔
1TH 2:3 چنانچہ ہم جو کچھ بھی عرض کرتے ہیں اُس میں نہ تو کوئی غلطی یا ناپاک مقصد ہے اَور نہ ہی ہم تُمہیں فریب دینے کی کوشش میں ہیں۔
1TH 2:4 بَلکہ اِس کے برعکس، جَیسے خُدا نے ہمیں مقبُول کرکے خُوشخبری ہمارے سُپرد کی وَیسے ہی ہم بَیان کرتے ہیں؛ ہم آدمیوں کو نہیں بَلکہ خُدا کو خُوش کرنے کی کوشش میں ہیں، جو ہمارے دِلوں کو آزمانے والا ہے۔
1TH 2:5 کیونکہ تُم جانتے ہو کہ ہم نے کلام میں کبھی بھی نہ تو خُوشامد کا سہارا لیا اَور نہ ہی وہ لالچ کا پردہ بنا، خُدا اِس بات کا گواہ ہے۔
1TH 2:6‏ ہم نہ تو آدمیوں سے اَور نہ ہی تُم سے اَور نہ کسی اَور سے اَپنی تعریف چاہتے تھے، اگرچہ ہم خُداوؔند المسیح کے رسولوں کی حیثیت سے تُم پر اَپنا مالی بوجھ ڈال سکتے تھے۔ لیکن جِس طرح ایک ماں اَپنے بچّوں کو بڑے نرمی سے پالتی ہے۔ اُسی طرح ہمارا بھی سلُوک تمہارے ساتھ بڑی نرمی والا تھا۔
1TH 2:8 اَور تمہاری دیکھ بھال کی۔ کیونکہ ہم تُمہیں اِتنا زِیادہ چاہنے لگے تھے، کہ نہ صِرف خُدا کی خُوشخبری بَلکہ ہم اَپنی جان تک بھی تُمہیں دینے کو راضی تھے۔
1TH 2:9 اَے بھائیوں اَور بہنوں! جَب ہم تمہارے درمیان رہ کر الٰہی خُوشخبری سُنا رہے تھے تو تُمہیں ہماری وہ محنت اَور مشقّت ضروُر یاد ہوگی جَب ہم روز رات دِن اَپنے ہاتھوں سے کام کرتے تھے تاکہ کسی پر بوجھ نہ بنیں۔
1TH 2:10 تُم بھی گواہ ہو اَور خُدا بھی گواہ ہے کہ ہم نے تُم سبھی مُومِنین کے درمیان کیسی پاک، راستباز اَور بے عیب زندگی گُزاری۔
1TH 2:11 چنانچہ تُم جانتے ہو کہ جَیسا سلُوک ایک باپ اَپنے بچّوں کے ساتھ کرتا ہے وَیسا ہی ہم تمہارے ساتھ کرتے رہے،
1TH 2:12 اَور تُم ہر ایک کو حوصلہ اَور تسکین دیتے اَور سمجھاتے رہو تاکہ تمہارا چال چلن خُدا کے لائق ہو، جو تُمہیں اَپنے جلال اَور بادشاہی میں شریک ہونے کے لیٔے بُلاتا ہے۔
1TH 2:13 اِس لیٔے ہم ہمیشہ خُدا کا شُکر کرتے ہیں کہ جَب تُم نے ہماری زبانی خُدا کے پیغام کو سُنا تو اُسے آدمیوں کا کلام نہیں بَلکہ خُدا کا کلام سمجھ کر قبُول کیا، جَیسا کہ وہ حقیقت میں ہے، اَور وہ تُم میں جو ایمان لایٔے ہو، تاثیر بھی کر رہاہے۔
1TH 2:14 اِس لیٔے اَے بھائیوں اَور بہنوں! تُم بھی خُدا کی اُن جماعتوں کی طرح بَن گیٔے ہو جو یہُودیؔہ میں خُداوؔند المسیح یِسوعؔ میں ہیں: کیونکہ تُم نے بھی اَپنی قوم والوں سے وُہی تکلیفیں اُٹھائیں جو اُنہُوں نے اَپنے ہم وطن یہُودیوں سے پائی تھیں،
1TH 2:15 جنہوں نے خُداوؔند یِسوعؔ اَور اُن نبیوں کو بھی مار ڈالا اَور ہمیں بھی ستا کر در بدر کر دیا۔ اَور خُدا بھی اُن سے ناراض ہے اَور وہ سارے لوگوں کے دُشمن بنے ہویٔے ہیں۔
1TH 2:16 کیونکہ وہ ہمیں غَیریہُودیوں کو خُدا کا کلام سُنانے سے روکتے تھے تاکہ اُن میں کویٔی نَجات نہ پا سکے۔ اَور اَیسا کرکے وہ اَپنے گُناہوں کا پیمانہ ہمیشہ بھرتے رہے۔ لیکن آخِرکار خُدا کا قہر اُن پر آ گیا ہے۔
1TH 2:17 اَے بھائیوں اَور بہنوں! جَب ہم تھوڑے عرصہ کے لیٔے تُم سے جُدا ہویٔے تھے نہ کہ دِل سے (جِسمانی نہ کہ رُوحانی طور پر) تو تُم سے دوبارہ مِلنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
1TH 2:18 اِس لیٔے ہم نے (خصوصاً مُجھ پَولُسؔ نے) تمہارے پاس آنے کی بار بار کوشش کی مگر شیطان نے ہمیں روکے رکھا۔
1TH 2:19 بھلا ہماری اُمّید، خُوشی اَور فخر کا تاج کون ہے؟ کیا ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ کی دُوسری آمد پر اُن کی حُضُوری میں تُم ہی نہ ہوگے۔
1TH 2:20 یقیناً ہمارا جلال اَور ہماری خُوشی تُم ہی ہو۔
1TH 3:1 آخِرکار جَب ہم سے اَور برداشت نہ ہو سَکا تو ہم نے اتھینؔے شہر میں تنہا ٹھہرنا بہتر سمجھا۔
1TH 3:2 ہم نے المسیح کی خُوشخبری پھیلانے میں خُدا کے ہم خدمت اَور ہمارے بھایٔی تِیمُتھِیُس کو تمہارے پاس اِس لیٔے بھیجا، تاکہ وہ تُمہیں ایمان میں مضبُوط کرے اَور تمہارا حوصلہ بڑھائے،
1TH 3:3 تاکہ اِن مُصیبتوں کی وجہ سے کویٔی گھبرا نہ جائے۔ کیونکہ تُم خُود جانتے ہو کہ ہم پر مُصیبتوں کا آنا ضروُری ہے۔
1TH 3:4 حقیقت تو یہ ہے کہ جَب ہم تمہارے پاس تھے تو تُم سے کہا کرتے تھے کہ ہم ستائے جایٔیں گے۔ چنانچہ جَیسا کہ تُم جانتے ہو کہ اَیسا ہی ہُوا۔
1TH 3:5 اِسی سبب سے جَب مَیں اَور زِیادہ برداشت نہ کر سَکا تو تمہارے ایمان کا حال دریافت کرنے کو بھیجا؛ مُجھے ڈر تھا کہ کہیں اَیسا نہ ہُوا ہو کہ شیطان نے تُمہیں آزمایا ہو اَور ہماری محنت بے فائدہ ہو گئی۔
1TH 3:6 لیکن ابھی تِیمُتھِیُس تمہارے پاس سے ہمارے یہاں آیا ہے اَور اُس نے تمہارے ایمان اَور مَحَبّت اَور اِس بات کی ہمیں یہ خُوشخبری دی ہے کہ تُم ہمارا ذِکر خیر ہمیشہ کرتے ہو اَور ہم سے مِلنے کے اَیسے مُشتاق ہو جَیسا کہ ہم تُم سَب سے مِلنے کی آرزُو رکھتے ہیں۔
1TH 3:7 اِس لیٔے، اَے بھائیوں اَور بہنوں! ہم نے اَپنی ساری تنگی اَور مُصیبت میں تمہارے بارے میں تمہارے ایمان کے سبب سے تسلّی پائی۔
1TH 3:8 اَور اَب چونکہ تُم خُداوؔند میں قائِم ہو، اِس لیٔے ہم زندہ ہیں۔
1TH 3:9 اَور تمہاری وجہ سے اَپنے خُدا کے سامنے ہمیں جِس قدر خُوشی حاصل ہُوئی ہے، اُس کے بدلے میں کِس طرح تمہارے ذریعہ ہم خُدا کا شُکر اَدا کریں؟
1TH 3:10 ہم رات اَور دِن خُوب دعا کرتے ہیں کہ تُم سے پھر ملیں اَور تمہارے ایمان میں جو کمی ہے اُسے پُورا کر دیں!
1TH 3:11 اَب کاش ہمارا خُدا اَور باپ خُود اَور ہمارا خُداوؔند یِسوعؔ ہمارے لیٔے راستہ کھول دے کہ ہم تمہارے پاس آ سکیں!
1TH 3:12 اَور خُداوؔند اَیسا کرے کہ جِس طرح ہمیں تُم سے مَحَبّت ہے اُسی طرح تمہاری مَحَبّت بھی آپَس میں اَور سَب لوگوں کے ساتھ بڑھے اَور چھلکتی جائے۔
1TH 3:13 تاکہ وہ تمہارے دِلوں کو اَیسا مضبُوط کرے کہ جَب ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ اَپنے سَب مُقدّسین کے ساتھ دوبارہ لَوٹیں، تو تُم ہمارے خُدا باپ کے سامنے پاک اَور بے عیب ٹھہرو۔
1TH 4:1 غرض، اَے بھائیوں اَور بہنوں! ہم تُم سے درخواست کرتے ہیں اَور خُداوؔند یِسوعؔ میں تمہاری حوصلہ اَفزائی کرتے ہیں کہ جِس طرح تُم نے ہم سے خُدا کو خُوش کرنے کی لیٔے مُناسب چال چلنا سیکھا ہے، اَور تُم وَیسی ہی زندگی گزار بھی رہے ہو۔ اَور اَب اُسی طرح اَور ترقّی کرتے جاؤ۔
1TH 4:2 کیونکہ تُم جانتے ہو کہ ہم نے خُداوؔند یِسوعؔ کی طرف سے تُمہیں کون کون سے حُکم پہُنچائے۔
1TH 4:3 چنانچہ خُدا کی مرضی یہ ہے کہ تُم پاک بنو یعنی جنسی بدفعلی سے بچے رہو۔
1TH 4:4 اَور تُم میں سے ہر ایک اَپنے جِسم کو پاکیزہ اَور باعزّت طریقے سے قابُو کرنا سیکھے۔
1TH 4:5 اَور یہ کام شہوت پرستی سے نہیں اَور نہ غَیریہُودیوں کی طرح جو خُدا کو نہیں جانتی ہیں۔
1TH 4:6 اَور اِس مُعاملہ میں کویٔی شخص اَپنے مُومِن بھایٔی یا بہن کو نہ تو نُقصان پہُنچائے اَور نہ اُسے دغا دے کیونکہ خُداوؔند اِن سَب کاموں کا بدلہ لینے والا ہے جَیسا کہ ہم تُمہیں پہلے بھی تاکید کرکے بتا چُکے ہیں۔
1TH 4:7 اِس لئے خُدا نے ہمیں ناپاکی کے لیٔے نہیں بَلکہ پاکیزہ زندگی گُزارنے کے لیٔے بُلایا ہے۔
1TH 4:8 چنانچہ جو اِن باتوں کو نہیں مانتا وہ نہ صِرف اِنسان کی بَلکہ خُدا کی نافرمانی کرتا ہے جو تُمہیں پاک رُوح عطا فرماتے ہیں۔
1TH 4:9 اَب برادرانہ مَحَبّت کے بارے میں مُجھے تُم کو کچھ لکھنے کی ضروُرت نہیں؛ کیونکہ آپَس میں مَحَبّت کرنے کی تعلیم تُم نے خُدا سے پائی ہے۔
1TH 4:10 اَور تُم صُوبہ مَکِدُنیہؔ کے سارے مسیحی مُومِنین سے اَیسی ہی مَحَبّت کرتے ہو۔ پھر بھی اَے بھائیوں اَور بہنوں! ہم تُمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ تُم اِس میں اَور بھی ترقّی کرتے جاؤ۔
1TH 4:11 اَور جَیسا ہم پہلے ہی تُمہیں حُکم دے چُکے ہیں، ہر شخص خاموشی سے اَپنے کام میں لگا رہے اَور اَپنے ہاتھوں سے محنت کرے،
1TH 4:12 تاکہ غَیر مسیحی لوگ تمہاری روزمرّہ کی زندگی کو دیکھ کر تُمہیں عزّت دیں اَور تُم کسی چیز کے مُحتاج نہ رہو۔
1TH 4:13 بھائیوں اَور بہنوں! ہم نہیں چاہتے کہ تُم اُن کے حال سے ناواقِف رہو جو موت کی نیند سو چُکے ہیں تاکہ تُم باقی اِنسانوں کی مانند غم نہ کرو جِن کے پاس کویٔی اُمّید ہی نہیں۔
1TH 4:14 کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ جِس طرح یِسوعؔ مَرے اَور پھر زندہ ہو گیٔے، ٹھیک اُسی طرح خُدا یِسوعؔ کی آمد پر اُنہیں بھی زندہ کر دے گا جو یِسوعؔ میں سو گیٔے ہیں۔
1TH 4:15 چنانچہ ہم خُدا کے کلام کے مُطابق تُم سے فرماتے ہیں کہ ہم جو خُداوؔند کے دُوسری آمد کے وقت تک زندہ باقی رہیں گے، سوئے ہوؤں سے پہلے ہرگز خُداوؔند سے نہیں ملیں گے۔
1TH 4:16 کیونکہ خُداوؔند خُود بڑی للکار کے ساتھ اَور مُقرّب فرشتہ کی آواز اَور خُدا کی نرسنگے کی آواز کے ساتھ آسمان سے نازل ہوں گے اَور خُداوؔند المسیح میں جو لوگ مَر چُکے، سَب سے پہلے زندہ ہو جایٔیں گے۔
1TH 4:17 اُس کے بعد پھر ہم جو اُس وقت زندہ باقی ہوں گے، اُن کے ساتھ بادلوں پر اُٹھا لیٔے جایٔیں گے تاکہ آسمان میں خُداوؔند کا اِستِقبال کریں گے اَور ہمیشہ خُداوؔند کے ساتھ رہیں گے۔
1TH 4:18 پس تُم اِن باتوں سے ایک دُوسرے کو تسلّی دیا کرو۔
1TH 5:1 اَب، اَے بھائیوں اَور بہنوں! ہمیں وقت اَور تاریخوں کی بابت تُمہیں لکھنے کی کویٔی ضروُرت نہیں۔
1TH 5:2 کیونکہ تُم اَچھّی طرح جانتے ہو کہ خُداوؔند کے لَوٹنے کا دِن رات کے چور کی مانند اَچانک آ جایٔےگا۔
1TH 5:3 جَب لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ اَب، ”اَمن اَور سلامتی ہے،“ اُسی وقت اُن پر اَچانک ہلاکت اِس طرح آ جائے گی جِس طرح حاملہ عورت کو دردِزہ شروع ہو جاتا ہے اَور وہ ہرگز نہ بچیں گے۔
1TH 5:4 لیکن اَے بھائیوں اَور بہنوں! تُم تاریکی میں نہ رہو کہ وہ دِن چور کی مانند اَچانک تُم پر آ جائے اَور تُمہیں حیرت میں ڈال دے۔
1TH 5:5 کیونکہ تُم سَب نُور کے فرزند اَور دِن کے فرزند ہو؛ ہم نہ تو رات کے ہیں اَور نہ تاریکی کے ہیں۔
1TH 5:6 لہٰذا ہم دُوسروں کی طرح سوتے نہ رہیں بَلکہ جاگتے اَور ہوشیار رہیں۔
1TH 5:7 کیونکہ جو سوتے ہیں وہ رات کو سوتے ہیں اَورجو متوالے ہوتے ہیں وہ بھی رات کو ہوتے ہیں۔
1TH 5:8 چونکہ ہم دِن کے ہیں اِس لیٔے ہم ایمان اَور مَحَبّت کا بکتر لگا کر اَور نَجات کی اُمّید کا خود یعنی ٹوپی پہن کر ہوشیار رہیں۔
1TH 5:9 کیونکہ خُدا نے ہمیں اَپنے غضب کے لیٔے نہیں بَلکہ ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے نَجات حاصل کرنے کے لیٔے مُقرّر کیا ہے۔
1TH 5:10 اَور یِسوعؔ المسیح نے ہماری خاطِر اِس لیٔے جان دی کہ خواہ ہم زندہ ہوں یا مُردہ، ہم سَب مِل کر یِسوعؔ کے ساتھ ہی جئیں۔
1TH 5:11 اِس لیٔے تُم ایک دُوسرے کی حوصلہ اَفزائی کرو اَور ترقّی کا باعث بنو، جَیسا کہ تُم کر بھی رہے ہو۔
1TH 5:12 اَب اَے بھائیوں اَور بہنوں! ہم تُم سے درخواست کرتے ہیں کہ اُن لوگوں کی قدر کرو جو تمہارے درمیان سخت محنت کرتے ہیں اَور خُداوؔند میں جو تمہارے پیشوا ہیں اَور تُمہیں نصیحت کرتے ہیں۔
1TH 5:13 اُن کی خدمت کے سبب سے مَحَبّت کے ساتھ اُن کی خُوب عزّت کیا کرو۔ اَور آپَس میں ایک دُوسرے کے ساتھ اَمن اَور سلامتی سے رہو۔
1TH 5:14 اَور اَے بھائیوں اَور بہنوں! ہم تُمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ کاہل اَور بے قاعدہ چلنے والوں کو سمجھاؤ، بُزدل کو ہِمّت دو اَور کمزوروں کی مدد کرو اَور سَب کے ساتھ تحمُّل سے پیش آؤ۔
1TH 5:15 خبردار! کویٔی شخص کسی سے بدی کے بدلے بدی نہ کرے بَلکہ ہر وقت آپَس میں اَور سَب کے ساتھ نیکی کرنے کی کوشش میں لگے رہو۔
1TH 5:16 ہر وقت خُوش رہو۔
1TH 5:17 بِلا ناغہ دعا کرو۔
1TH 5:18 ہر حالات میں شُکر گُزاری کرو کیونکہ خُداوؔند المسیح یِسوعؔ میں تمہارے لیٔے خُدا کی یہی مرضی ہے۔
1TH 5:19 پاک رُوح کو مت بُجھاؤ۔
1TH 5:20 نبُوّتوں کی حقارت نہ کرو۔
1TH 5:21 ہر بات کو آزماؤ، جو اَچھّی ہو اُسے پکڑے رہو۔
1TH 5:22 ہر طرح کی بدی سے دُور رہو۔
1TH 5:23 اَمن کا خُدا خُود ہی تُمہیں مُکمّل طور سے پاک کرے؛ اَور تمہاری رُوح، جان اَور جِسم کو پُوری طرح ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے آنے تک بے عیب محفوظ رکھے۔
1TH 5:24 تمہارا بُلانے والا سچّا ہے۔ اَور وہ اَیسا ہی کرےگا۔
1TH 5:25 اَے بھائیوں اَور بہنوں! ہمارے لیٔے دعا کرتے رہنا۔
1TH 5:26 خُدا کے سَب مُقدّسین بھائیوں کو پاک بوسہ سے کے ساتھ میرا سلام کہنا۔
1TH 5:27 مَیں خُداوؔند کے نام سے تُمہیں ہدایت دیتا ہُوں کہ وہاں سَب بھائیوں اَور بہنوں کے سامنے یہ خط پڑھ کر سُنایا جائے۔
1TH 5:28 ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا فضل تُم سَب پر ہوتا رہے۔
2TH 1:1 پَولُسؔ، سِیلاسؔ اَور تِیمُتھِیُس کی جانِب سے،
2TH 1:2 ہمارے خُدا باپ اَور خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی طرف سے تُمہیں فضل اَور اِطمینان حاصل ہوتا رہے۔
2TH 1:3 اَے بھائیو اَور بہنوں! تمہارے لیٔے خُدا کا شُکر اَدا کرتے رہنا ہمارا فرض ہے۔ اَیسا کرنا اِس لیٔے مُناسب ہے کہ تمہارا ایمان ترقّی پر ہے اَور تُم سَب کی باہمی مَحَبّت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
2TH 1:4 یہاں تک کہ ہم خُود خُدا کی جماعتوں کے درمیان فخر سے تمہارا ذِکر کرتے ہیں کہ ظُلم و سِتم اُٹھانے کے باوُجُود تُم بڑے صبر کے ساتھ اَپنے ایمان پر قائِم ہو۔
2TH 1:5 یہ خُدا کے حقیقی عدالت کی دلیل ہے کہ تُم خُدا کی بادشاہی کے لائق ٹھہروگے، جِس کی وجہ سے تُم تکلیف اُٹھا رہے ہو۔
2TH 1:6 خُدا کے نزدیک یہی اِنصاف ہے: بدلہ میں وہ تُم پر مُصیبت لانے والوں کو مُصیبت میں ڈالے گا
2TH 1:7 اَور تُم مُصیبت اُٹھانے والوں کو، ہمارے ساتھ آرام دے گا۔ یہ اُس وقت ہوگا جَب خُداوؔند یِسوعؔ اَپنے زورآور فرشتوں کے ساتھ بھڑکتی ہُوئی آگ میں آسمان سے ظاہر ہوں گے۔
2TH 1:8 اَور اُنہیں سزا دیں گے جو خُدا کو نہیں جانتے اَور ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی خُوشخبری کو نہیں مانتے۔
2TH 1:9 وہ ہمیشہ کے لیٔے ہلاک کر دئیے جایٔیں گے اَور خُداوؔند کے چہرہ اَور اُن کے قُدرت کے جلال کو کبھی نہ دیکھ سکیں گے
2TH 1:10 یہ اُن کی آمد کے دِن ہوگا جَب وہ اَپنے مُقدّس لوگوں میں جلال پائیں گے اَور تمام مُومِنین اُن کو دیکھ کر حیران رہ جایٔیں گے۔ اُن میں تُم بھی شامل ہوگے کیونکہ تُم ہماری گواہی پر ایمان لایٔے ہو۔
2TH 1:11 چنانچہ ہم تمہارے لیٔے مسلسل دعا کرتے رہتے ہیں کہ ہمارا خُدا تُمہیں اِس بُلاوے کے لائق سمجھے، اَور اَپنی قُدرت سے تمہاری ہر نیک خواہش پُوری کرے اَور تُمہیں ایمان سے کام کرنے کی تَوفیق دے۔
2TH 1:12 تاکہ ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا نام تمہارے سبب سے جلال پایٔے اَور تُم بھی اُس میں جلال پاؤ۔ یہ ہمارے خُدا اَور خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے فضل سے ہوگا۔
2TH 2:1 اَے بھائیوں اَور بہنوں! ہم اَپنے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی دُوسری آمد اَور اُن کے پاس اَپنے جمع ہونے کی بابت تُم سے یہ درخواست کرتے ہیں،
2TH 2:2 کہ اَیسی کسی افواہ سے کہ خُداوؔند کی آمد کا دِن آ گیا، پریشان نہ ہونا اَور نہ گھبرانا۔ یا اگر کویٔی کہے کہ اِس دِن کو کسی رُوح نے اُس پر ظاہر کیا ہے یا وہ ہمارے کسی خاص پیغام یا خط سے اُسے مَعلُوم ہُواہے تو یقین مت کرنا۔
2TH 2:3 نہ ہی کسی طرح کسی کے فریب میں آنا کیونکہ وہ دِن نہیں آئے گا جَب تک کہ لوگ خُدا کے خِلاف ایمان سے برگشتہ نہ ہو جایٔیں، اَور وہ مَرد گُناہ یعنی ہلاکت کا فرزند ظاہر نہ ہو جائے۔
2TH 2:4 وہ ہر نام نہاد خُدا یا عبادت کے لائق کسی بھی چیز کی جو خُدا یا معبُود کہلاتی ہے اُس کی مُخالفت کرےگا، وہ خُود کو اِن سَب سے بڑا معبُود ٹھہرائے گا اَور یہاں تک کہ وہ خُدا کے مَقدِس میں بیٹھ کر اَپنے خُدا ہونے کا اعلان کر دے گا۔
2TH 2:5 کیا تُمہیں یاد نہیں کہ جَب مَیں تمہارے پاس تھا تو تُمہیں یہ باتیں بتایا کرتا تھا؟
2TH 2:6 اَور تُم جانتے ہو کہ اَپنے مُقرّرہ وقت سے پہلے ظاہر ہونے سے، اُسے کون سِی چیز روکے ہُوئے ہے۔
2TH 2:7 کیونکہ بے دینی کی باطنی طاقت پہلے سے ہی کام کر رہی ہے؛ لیکن ایک روکنے والا ہے اَور جَب تک وہ راستہ سے ہٹایا نہ جائے وہ اُسے روکے رہے گا۔
2TH 2:8 اُس وقت وہ بے دین ظاہر ہوگا، جسے خُداوؔند یِسوعؔ اَپنی پھُونک سے مار ڈالیں گے اَور اَپنی آمد کی شان و شوکت سے نِیست کر دیں گے۔
2TH 2:9 یہ بے دین شیطان کی سِی قُوّت کے ساتھ آئے گا۔ اَور ہر طرح کے فرضی نِشانات اَور عجائبات کو دِکھائے گا،
2TH 2:10 ہلاک ہونے والوں کو ہر قِسم کا فریب دے گا۔ وہ اِس لیٔے ہلاک ہوں گے کہ اُنہُوں نے حق کی مَحَبّت کو قبُول نہ کیا جسے قبُول کرتے تو نَجات پاتے۔
2TH 2:11 اِس سبب سے خُدا اُن پر گمراہی کا اَیسا اثر ڈالے گا کہ وہ جھُوٹ کو سچ تسلیم کرنے لگیں گے۔
2TH 2:12 اَورجو لوگ حق پر یقین نہیں کرتے بَلکہ ناراستی کو پسند کرتے ہیں وہ سَب سزا پائیں گے۔
2TH 2:13 اَے بھائیو اَور بہنوں! تُم جو خُداوؔند کے پیارے ہو، تمہارے لیٔے خُدا کا شُکر اَدا کرتے رہنا ہمارا فرض ہے کیونکہ اُس نے تُمہیں پہلے ہی سے چُن لیا تھا کہ تُم پاک رُوح سے پاکیزگی حاصل کرکے اَور حق پر ایمان لاکر نَجات پاؤ۔
2TH 2:14 جِس کے لیٔے اُس نے تُمہیں ہماری خُوشخبری کے ذریعہ بُلایا، تاکہ ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے جلال میں شریک ہو۔
2TH 2:15 چنانچہ اَے بھائیوں اَور بہنوں، اُس سچّائی پر ثابت قدم رہو جو روایتی تعلیمات تُم نے ہم سے زبانی یا ہمارے خط کے ذریعہ حاصل کی ہیں۔
2TH 2:16 اَب ہمارا خُداوؔند یِسوعؔ المسیح خُود اَور ہمارا باپ خُدا، جِس نے ہم سے مَحَبّت رکھی اَور اَپنے فضل سے اَبدی تسلّی اَور اَچھّی اُمّید بخشی،
2TH 2:17 تمہارے دِلوں کو تسلّی عطا فرمائے اَور ہر نیک کام اَور کلام میں تُمہیں مضبُوط کرے۔
2TH 3:1 غرض اَے بھائیو اَور بہنوں! ہمارے لیٔے دعا کرو کہ ہمارے ذریعہ خُداوؔند کا کلام جلد پھیل جائے، اَور جلال پایٔے جَیسا تُم میں ہُواہے۔
2TH 3:2 اَور ہم بُرے اَور کَج رَو لوگوں سے بچے رہیں کیونکہ سَب میں ایمان نہیں ہے۔
2TH 3:3 لیکن خُداوؔند وفادار ہے۔ وہ تُمہیں مضبُوط کرےگا اَور شیطانی حملوں سے محفوظ رکھےگا۔
2TH 3:4 ہمیں خُداوؔند میں یقین ہے کہ جو حُکم ہم نے تُمہیں دئیے تھے، تُم اُن پر عَمل کرتے ہو اَور کرتے رہوگے۔
2TH 3:5 خُداوؔند تمہارے دِلوں کو خُدا کی مَحَبّت اَور خُداوؔند المسیح کے صبر کی طرف راغِب کرے۔
2TH 3:6 اَے بھائیو اَور بہنوں! ہم اَپنے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے نام میں تُمہیں حُکم دیتے ہیں کہ ہر اُس مُومِن سے دُور رہو جو کام سے جی چُراتا ہے، اَور اُس تعلیم کے مُطابق نہیں چلتا جو ہم نے دی ہے۔
2TH 3:7 تُم آپ جانتے ہو کہ تُمہیں کِس طرح ہماری مانِند چلنا چاہئے۔ کیونکہ جَب ہم تمہارے ساتھ تھے تو کاہل نہیں تھے،
2TH 3:8 ہم کسی کی مُفت کی روٹی نہیں کھاتے تھے۔ بَلکہ، رات دِن محنت مشقّت کرتے تھے، تاکہ ہم تُم میں سے کسی پر بوجھ نہ بنیں۔
2TH 3:9 اِس لیٔے نہیں کہ ہمارا تُم پر کویٔی حق نہ تھا، بَلکہ اِس لیٔے کہ اَیسا نمونہ بنو جِس پر تُم چل سکو۔
2TH 3:10 اَور جَب ہم تمہارے پاس تھے تَب بھی ہمارا یہی حُکم تھا: ”جو آدمی کام نہیں کرےگا وہ کھانے سے بھی محروم رہے گا۔“
2TH 3:11 ہم نے سُنا ہے کہ تُم میں بعض اَیسے بھی ہیں جو محنت سے جی چُراتے ہیں۔ اَور وہ خُود تو کچھ کرتے نہیں؛ مگر دُوسروں کے کام میں دخل دیتے ہیں۔
2TH 3:12 اَیسے لوگوں کو ہم خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے نام سے حُکم دیتے ہیں اَور نصیحت کرتے ہیں کہ وہ خاموشی سے اَپنا کام کریں اَور محنت کی روٹی کھایٔیں۔
2TH 3:13 اَور تُم بھائیوں اَور بہنوں، نیک کام کرنے میں کبھی ہِمّت نہ ہارو۔
2TH 3:14 اگر کویٔی ہمارے خط میں لکھی ہُوئی نصیحت کو نہ مانے تو اُن پر نگاہ رکھو، اَور اُن سے مِلنا جُلنا چھوڑ دو، تاکہ وہ شرمندہ ہوں۔
2TH 3:15 لیکن اُنہیں دُشمن نہ سمجھو، بَلکہ اَپنا مُومِن ساتھی سمجھ کر اُن کو نصیحت کرو۔
2TH 3:16 اَب خُداوؔند جو اِطمینان کا سرچشمہ ہے خُود ہی ہر حالت میں تُمہیں اِطمینان بخشے۔ خُداوؔند یِسوعؔ تُم سَب کے ساتھ ہوں!
2TH 3:17 میں پَولُسؔ اَپنے ہاتھ سے یہ سلام لِکھتا ہُوں، ہر خط میں میرا یہی نِشان ہے۔ میں اِسی طرح لِکھتا ہُوں۔
2TH 3:18 ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا فضل تُم سَب پر ہوتا رہے۔
1TI 1:1 پَولُسؔ کی جانِب سے، ہمارے مُنجّی خُدا اَور ہماری اُمّید المسیح یِسوعؔ کے حُکم کے مُوافق المسیح یِسوعؔ کے رسول ہیں،
1TI 1:2 تِیمُتھِیُس کے نام خط جو ایمان کے لِحاظ سے میرا حقیقی بیٹا ہے۔
1TI 1:3 مَیں نے صُوبہ مَکِدُنیہؔ جاتے وقت تُجھے نصیحت کی تھی کہ تُو اِفِسُسؔ شہر میں رہ کر جھُوٹی تعلیم دینے والے بعض شَخصُوں کو تاکید کر کہ وہ آئندہ اَیسا نہ کریں۔
1TI 1:4 اَور اُن فرضی داستانوں اَور بے اِنتہا نَسب ناموں کا لِحاظ نہ کریں اِن سے ایمان پر مَبنی نَجات بخش الٰہی کام آگے نہیں بڑھتا لیکن محض جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔
1TI 1:5 میرے اِس حُکم کا مقصد یہ ہے کہ سبھی مسیحی مُومِنین کے اَندر ایک دُوسرے کے لیٔے مَحَبّت پیدا ہو جو خُلوص دِل، نیک نیّت اَور حقیقی ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔
1TI 1:6 کچھ لوگ اِن سے کنارہ کرکے فُضول باتوں کی طرف مُتوجّہ ہو گیٔے ہیں۔
1TI 1:7 وہ شَریعت کے مُعلّم بننا چاہتے ہیں، حالانکہ وہ جو باتیں کہتے ہیں اَور جِن کا یقینی طور سے دعویٰ کرتے ہیں اُنہیں سمجھتے بھی نہیں ہیں۔
1TI 1:8 ہم جانتے ہیں کہ شَریعت اَچھّی ہے بشرطیکہ اُسے صحیح طور پر اِستعمال کیا جائے۔
1TI 1:9 ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ شَریعت راستبازوں کے لیٔے نہیں بَلکہ بےشَرع لوگوں، سَرکشوں، بےدینوں، گُنہگاروں، ناپاک لوگوں، ناراستوں اَور ماں باپ کے قاتلوں اَور خُونیوں،
1TI 1:10 اَور زناکاروں، لَونڈے بازوں، غُلام فروشوں، جھُوٹ بولنے والے، جھُوٹی قَسمیں کھانے والے اَور اَیسے تمام کام ہیں جو اُس صحیح تعلیم کے خِلاف میں ہیں،
1TI 1:11 اَور یہ پُرجلال خُوشخبری میں پائی جاتی ہے، جسے خُدائے مُبارک نے میرے سُپرد کیا ہے۔
1TI 1:12 میں اَپنے خُداوؔند المسیح یِسوعؔ کا شُکر اَدا کرتا ہُوں جِس نے مُجھے قُوّت عطا کی اَور وفادار سمجھ کر اَپنی خدمت کے لیٔے مُقرّر کیا۔
1TI 1:13 حالانکہ میں پہلے کُفر بکنے والا، لوگوں کو اِیذا دینے والا اَور ایک ظالِم آدمی تھا، لیکن مُجھ پر رحم ہُوا کیونکہ مَیں نے نادانی اَور بےاِعتقادی کی حالت میں یہ سَب کچھ کیا تھا۔
1TI 1:14 اَور ہمارے خُداوؔند کا فضل اُس ایمان اَور مَحَبّت کے ساتھ جو المسیح یِسوعؔ میں ہے، مُجھ پر بہت کثرت سے ہُوا۔
1TI 1:15 یہ بات سچ اَور پُوری طرح قبُول کرنے کے لائق ہے کہ المسیح یِسوعؔ گُنہگاروں کو نَجات دینے دُنیا میں آئے، جِن میں سَب سے بڑا گُنہگار میں ہُوں۔
1TI 1:16 لیکن مُجھ پر اِس لیٔے مہربانی ہویٔی کہ المسیح یِسوعؔ مُجھ جَیسے بڑے گُنہگار کے ساتھ تحمُّل سے پیش آئیں تاکہ میں اُن کے لیٔے نمونہ بَن سکوں جو المسیح پر ایمان لاکر اَبدی زندگی پائیں گے۔
1TI 1:17 اَب اَزلی بادشاہ یعنی اُس غَیر فانی، نادیدہ، واحد خُدا کی عزّت اَور خُدا کی تمجید ہمیشہ تک ہوتی رہے۔ آمین!
1TI 1:18 میرے بیٹے تِیمُتھِیُس! مَیں تُجھے یہ ہدایت اُن پیشن گوئیوں کے مُطابق دے رہا ہوں جو تیرے بارے میں پہلے سے کی گئی تھیں، تاکہ تُم اُن پیشن گوئیوں کو یاد رکھو اَور اَچھّی لڑائی لڑتے رہو۔
1TI 1:19 اَور ایمان اَور نیک نیّتی پر قائِم رہو۔ جِس کو دُور کرنے کے سبب سے بعض لوگوں نے اَیسا ہی کیا اَور اُن کے ایمان کا جہاز غرق ہو گیا۔
1TI 1:20 اُن ہی میں سے ہِمنِیُسؔ اَور سِکندرؔ بھی ہیں جنہیں مَیں نے شیطان کے حوالہ کر دیا تاکہ وہ کُفر بکنے سے باز رہنا سیکھیں۔
1TI 2:1 سَب سے پہلے میں یہ اِلتجا کرتا ہُوں کہ خُدا کے حُضُور میں دَرخواستیں، دعائیں، سفارشیں اَور شُکرگُزاریاں سَب کے لیٔے کی جایٔیں۔
1TI 2:2 بادشاہوں اَور سَب صاحبِ اِختیاروں کے لیٔے بھی اِس غرض سے کہ ہم کمال دینداری اَور پاکیزگی سے اَمن اَور سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔
1TI 2:3 یہ بات ہمارے مُنجّی خُدا کے نزدیک خُوب اَور پسندِیدہ ہے،
1TI 2:4 خُدا چاہتاہے کہ سارے اِنسان نَجات پائیں اَور سچّائی کی پہچان تک پہُنچیں۔
1TI 2:5 کیونکہ ایک ہی خُدا ہے اَور خُدا اَور اِنسانوں کے بیچ میں صِرف ایک ہی درمیانی ہے یعنی المسیح یِسوعؔ جو اِنسان ہیں،
1TI 2:6 جِس نے خُود کو سَب کی رِہائی کی خاطِر فدیہ کے طور پر قُربان کر دیا تاکہ اُن کی قُربانی کی مُناسب وقتوں پر ایک ثبوت کے طور پر گواہی دی جائے۔
1TI 2:7 اَور اِسی مقصد کے لئے مُجھے مُنّاد، رسول اَور غَیریہُودیوں کو ایمان اَور سچّائی کی باتیں سِکھانے والا اُستاد مُقرّر کیا گیا۔ میں جھُوٹ نہیں بولتا، سچ کہہ رہا ہُوں۔
1TI 2:8 پس میں چاہتا ہُوں کہ ہر جماعتوں کے مُومِن مَرد بغیر غُصّہ اَور تکرار کے، مُقدّس ہاتھوں کو اُٹھاکر دعا کیا کریں۔
1TI 2:9 اِسی طرح میں چاہتا ہُوں کہ خواتین بھی حیا دار لباس پہن کر اَپنے آپ کو شرافت اَور شائِستگی سے آراستہ کریں نہ کہ بال گُوندھنے، سونے یا موتیوں کے زیورات، یا بےحد قیمتی لباس سے،
1TI 2:10 بَلکہ وہ اَپنے آپ کو نیک کاموں سے آراستہ کریں جَیسا کہ خُداپرست عورتوں کو کرنا مُناسب ہے۔
1TI 2:11 اِسی طرح خاتُون کو پُوری خاموشی اَور کمال تابِعداری کے ساتھ سیکھنا چاہئے۔
1TI 2:12 میں عورت کو اِجازت نہیں دیتا کہ وہ تعلیم دے یا مَرد پر حُکم چلائے بَلکہ خاموش رہے۔
1TI 2:13 کیونکہ پہلے حضرت آدمؔ کو خلق کیا، پھر بعد میں حوّاؔ کو۔
1TI 2:14 اَور حضرت آدمؔ نے فریب نہیں کھایا بَلکہ عورت فریب کھا کر گُنہگار ٹھہری۔
1TI 2:15 لیکن خواتین اَولاد پیدا کرنے سے نَجات پائیں گی بشرطیکہ وہ ایمان، مَحَبّت، پاکیزگی اَور پرہیزگاری کے ساتھ زندگی گُزاریں۔
1TI 3:1 یہ بات سچ ہے کہ جو شخص جماعت میں نگہبان کا عہدہ چاہتاہے وہ اَچھّے کام کی خواہش کرتا ہے۔
1TI 3:2 لہٰذا نگہبان کو چاہئے کہ وہ بے اِلزام، ایک بیوی کا شوہر، پرہیزگار، خُود پر قابُو رکھنے والا، قابل اِحترام، مُسافر پرور اَور تعلیم دینے کے قابل ہو۔
1TI 3:3 وہ شرابی اَور مارپیٹ کرنے والا نہ ہو، بَلکہ نرم مِزاج ہو، وہ تکرار کرنے والا اَور زَر دوست نہ ہو۔
1TI 3:4 وہ اَپنے گھر کا بخُوبی بندوبست کرنے والا اَور اَپنے بچّوں کو بڑی سنجِیدگی کے ساتھ تابع رکھتا ہو۔
1TI 3:5 کیونکہ اگر کویٔی اَپنے ہی گھر کا بندوبست کرنا نہیں جانتا تو، وہ خُدا کی جماعت کی خبرگیری کیسے کرےگا؟
1TI 3:6 وہ نَو مُرید نہ ہو، کہ تکبُّر کرکے کہیں وہ اِبلیس کی سِی سزا نہ پایٔے۔
1TI 3:7 اَور باہر والوں یعنی غَیر مسیحیوں میں بھی اُس کی اَچھّی گواہی ہو، تاکہ کہیں اَیسا نہ ہو کہ کویٔی اُسے ملامت کرے اَور وہ اِبلیس کے پھندے میں پھنس جائے۔
1TI 3:8 اِسی طرح جماعت کے خادِموں کو چاہیے کہ وہ سنجِیدہ مِزاج ہوں، دو رُخے، شرابی اَور ناجائز کمائی کے لالچی نہ ہوں۔
1TI 3:9 لازِم ہے کہ وہ صَاف ضمیر سے ایمان کی پُراسرار سچّائیاں اَپنے پاک دِل میں محفوظ رکھیں۔
1TI 3:10 ضروُری ہے کہ اُنہیں پہلے آزمایا جائے، پھر اگر بے اِلزام نکلیں تو ایک خادِم کے طور پر خدمت کا کام اُن کے سُپرد کیا جائے۔
1TI 3:11 ٹھیک اِسی طرح خواتین بھی قابل اِحترام، دُوسروں پر تہمت لگانے والی نہ ہوں بَلکہ ہوش مند اَور ہر بات میں وفادار ہوں۔
1TI 3:12 خادِم ایک بیوی کے شوہر، اَور اَپنے بچّوں اَور گھروں کو اَچھّی طرح سے بندوبست کرنے والے ہوں۔
1TI 3:13 کیونکہ جو خدمت کا کام بخُوبی اَنجام دیتے ہیں، وہ اَپنے لیٔے اَچھّا مرتبہ اَور اُس ایمان میں جو المسیح یِسوعؔ پر ہے، بڑی دِلیری حاصل کرتے ہیں۔
1TI 3:14 مَیں تیرے پاس جلد ہی آنے کی اُمّید کر رہا ہُوں، پھر بھی تُجھے یہ باتیں لِکھ رہا ہُوں،
1TI 3:15 تاکہ اگر مُجھے آنے میں دیر ہو جائے تو، تُجھے مَعلُوم ہو کہ خُدا کے گھر میں، یعنی زندہ خُدا کی جماعت میں جو حق کا سُتون اَور بُنیاد ہے، لوگوں کو اُس کے ساتھ کِس طرح پیش آنا چاہیے۔
1TI 3:16 اِس میں کویٔی شک نہیں کہ حقیقی دینداری کا سرچشمہ عظیم ہے یعنی: وہ جو جِسم میں ظاہر ہویٔے، اَور پاک رُوح کے وسیلہ سے صادق ٹھہرے، اَور فرشتوں کو دِکھائی دئیے، غَیریہُودیوں میں اُن کی مُنادی ہُوئی، اَور ساری دُنیا میں لوگ اُن پر ایمان لائے، اَور خُدا نے یِسوعؔ کو اَپنے ساتھ رہنے کے لیٔے جلال میں آسمان پر اُٹھالیا۔
1TI 4:1 پاک رُوح صَاف طور پر فرماتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں بعض لوگ مسیحی ایمان سے مُنہ موڑکر گُمراہ کرنے والی رُوحوں اَور شَیاطِین کی تعلیمات کی طرف مُتوجّہ ہونے لگیں گے۔
1TI 4:2 یہ باتیں اُن جھُوٹے آدمیوں کی ریاکاری کے باعث ہوں گی جِن کا ضمیر گویا گَرم لوہے سے داغاگیا ہو۔
1TI 4:3 یہ لوگ بیاہ کرنے سے منع کرتے ہیں اَور اُن بعض کھانوں سے پرہیز کرنے کا حُکم دیتے ہیں جنہیں خُدا نے اِس لیٔے پیدا کیا ہے کہ مُومِنین اَور حق کو جاننے والے اُنہیں شُکر گُزاری کے ساتھ کھایٔیں۔
1TI 4:4 کیونکہ ہر چیز جو خُدا نے بنائی ہے، اَچھّی ہے، اَور کویٔی چیز اِنکار کے لائق نہیں؛ بشرطیکہ شُکر گُزاری کے ساتھ کھائی جائے۔
1TI 4:5 کیونکہ اُسے خُدا کے کلام اَور دعا سے مُقدّس کیا گیا ہے۔
1TI 4:6 اگر تُو بھائیوں اَور بہنوں کو، یہ باتیں یاد دِلائے گا تو المسیح یِسوعؔ کا عُمدہ خادِم ٹھہرے گا اَور ساتھ ہی اُس ایمان اَور اَچھّی تعلیم سے پرورِش پایٔےگا جِس پر تُو عَمل کرتا آیا ہے۔
1TI 4:7 لیکن اُن فُضول قِصّوں اَور کہانیوں سے کنارہ کرجو بُوڑھی عورتوں کی زبان پر رہتی ہیں اِن کی بجائے خُدا پرستی کی زندگی گُزارنے کے لیٔے خُود کی تربّیت کر۔
1TI 4:8 کیونکہ جِسمانی مشقّت سے تھوڑا فائدہ تو ہوتاہے لیکن خُدا پرستی سَب چیزوں کے لیٔے فائدہ مند ہوتی ہے کیونکہ اِس میں نہ صِرف مَوجُودہ زندگی کا بَلکہ مُستقبِل زندگی کا وعدہ بھی مَوجُود ہے۔
1TI 4:9 یہ بات سچ ہے اَور ہر طرح سے قبُول کرنے کے لائق ہے۔
1TI 4:10 اِس لیٔے ہم سخت محنت اَور کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہم نے اَپنی اُمّید اُس زندہ خُدا پر لگا رکھی ہے جو سَب اِنسانوں کا مُنجّی، خاص کر اُن کا جو مُومِنین ہیں۔
1TI 4:11 یہ باتیں سِکھا اَور اُن پر عَمل کرنے کا حُکم دے۔
1TI 4:12 کویٔی بھی تیری جَوانی کی حقارت نہ کرنے پایٔے بَلکہ تُو ایمان والوں کے لیٔے گُفتگو، چال چلن، مَحَبّت، ایمان اَور پاکیزگی میں نمونہ بَن۔
1TI 4:13 جَب تک میں نہیں آ جاتا، وہاں میرے آنے تک تُو جماعت میں پاک کلامِ کی تِلاوت کرنے، نصیحت کرنے اَور تعلیم دینے میں مشغُول رہ۔
1TI 4:14 اَپنی اُس نِعمت سے غافل نہ رہنا جو تُجھے نبُوّت کے ذریعہ اُس وقت مِلی تھی جَب بُزرگوں کی جماعت نے تُجھ پر ہاتھ رکھے تھے۔
1TI 4:15 اِن باتوں پر خاص طور سے غور کر۔ اَور اِن پر پُوری طرح عَمل کر؛ تاکہ سَب لوگ تُجھے ترقّی کرتا دیکھ سکیں۔
1TI 4:16 اَپنے کِردار اَور اَپنی تعلیم پر نظر رکھ۔ اِن باتوں پر عَمل کیٔے جا کیونکہ اَیسا کرنے سے تو اَپنی اَور اَپنے سُننے والوں کی نَجات کا باعث ہوگا۔
1TI 5:1 کسی عمر رسیدہ شخص کو سختی سے نہ ڈانٹنا، بَلکہ اُسے اَپنا باپ سمجھ کر نصیحت دے اَور جَوانوں کو بھائیوں کی طرح سمجھا۔
1TI 5:2 اَور بُزرگ عورتوں کو ماں اَور جَوان خواتین کو پاکیزگی سے بہن جان کر سمجھا۔
1TI 5:3 اُن بیواؤں کی جو سچ مُچ ضروُرت مند ہیں، اُن کی مُناسب دیکھ بھال کر۔
1TI 5:4 اَور اگر کسی بِیوہ کے لڑکے یا پوتے ہوں تو اُن کی پہلی ذمّہ داری اَپنے گھر والوں کے تئیں اَپنا فرائض پہچانتے ہُوئے خُدا کا بندہ بننا سیکھیں اِس طرح اَپنے والدین اَور دادا دادی کے حق اَدا کرنا سیکھیں کیونکہ یہ خُدا کی نظر میں پسندِیدہ ہے۔
1TI 5:5 جو عورت واقعی ضروُرت مند بِیوہ ہے اَور اُس کا کویٔی نہیں ہے اَور وہ خُدا پر اُمّید رکھتی ہے، اَور رات دِن خُدا کے ساتھ دعاؤں اَور اِلتجاؤں میں مشغُول رہتی ہے۔
1TI 5:6 لیکن جو بِیوہ عیّاشی میں زندگی گزارتی ہے وہ جیتے جی مُردہ ہے۔
1TI 5:7 اِن ہدایات کو لوگوں کو دے تاکہ کویٔی اُن پر کھُلے عام اُنگلی نہ اُٹھا سکے۔
1TI 5:8 جو شخص اَپنے عزیزوں کی، اَور خاص کر اَپنے گھرانے کی خبرگیری نہیں کرتا، تو وہ ایمان کا مُنکر ہے اَور بےاِعتقادوں سے بھی بدتر ہے۔
1TI 5:9 جِس بِیوہ کی عمر ساٹھ بَرس سے زِیادہ ہو اُسی کا نام بیواؤں کی فہرست میں درج کیا جائے اَور لازِم ہے کہ وہ ایک ہی شوہر کی بیوی رہی ہو۔
1TI 5:10 اَور وہ نیک کام کرنے میں مشہُور رہی ہو، اَور اُس نے اَپنے بچّوں کی تربّیت کی ہو، پردیسیوں کی مہمان نوازی کی ہو، مُقدّسین کے پاؤں دھوئے ہوں، مُصیبت زدوں کی مدد کی ہو اَور ہر نیک کام کرنے میں مشغُول رہی ہو۔
1TI 5:11 مگر جَوان بیواؤں کو اِس فہرست میں شامل نہ کرنا کیونکہ جَب اُن کی جِسمانی خواہشات اُن پر غالب آتی ہیں تو وہ المسیح سے دُور ہوکر پھر سے بیاہ کرنا چاہتی ہیں۔
1TI 5:12 یُوں وہ خُود عدالتی سزا کے لائق ٹھہرتی ہیں کیونکہ اُنہُوں نے المسیح سے کیٔے گیٔے اَپنے پہلے عہد کو توڑ دیا۔
1TI 5:13 اِس کے علاوہ وہ کاہل ہو جاتی ہیں اَور گھر گھر پِھرتی رہتی ہیں، وہ نہ صِرف کاہل بَن جاتی ہیں بَلکہ بَک بَک کرتی رہتی ہیں اَور دُوسروں کے مُعاملوں میں دخل دیتی ہیں اَور فالتو باتیں کرتی رہتی ہیں۔
1TI 5:14 اِس لیٔے میں جَوان بیواؤں کو مشورہ دیتا ہُوں کہ وہ بیاہ کریں، اُن کے اَولاد ہوں، اَور اَپنا گھر بار سنبھالیں اَور کسی مُخالف کو موقع نہ دیں کہ وہ اُنہیں بدنام کرتا پھرے۔
1TI 5:15 اصل میں بعض بیوائیں گُمراہ ہوکر شیطان کی پیروی کرنے لگی ہیں۔
1TI 5:16 اگر کسی مُومِن خاتُون کے گھر میں بیوائیں ہوں تو وہ اُن کی مدد کرے تاکہ جماعت پر اُن کا بوجھ نہ پڑے تاکہ جماعت اُن کی مدد کر سکے جو واقعی بے سہارا ہیں۔
1TI 5:17 جو بُزرگ جماعت کی رہنمائی کا کام اَچھّی طرح سے کرتے ہیں، خاص کر وہ جو کلام سُناتے اَور تعلیم دیتے ہیں، اُنہیں دُگنی عزّت کے لائق سمجھا جائے۔
1TI 5:18 کیونکہ کِتاب مُقدّس کا بَیان ہے، ”گاہتے وقت بَیل کا مُنہ نہ باندھنا،“ اَور یہ بھی ”مزدُور اَپنی مزدُوری کا حقدار ہے۔“
1TI 5:19 اگر کسی پاسبان پر اِلزام لگایا جاتا ہے تو دو یا تین گواہوں کے بغیر تصدیق کیٔے؛ اُن پر غور نہ کر۔
1TI 5:20 مگر گُناہ کرنے والے پاسبان کو سَب کے سامنے ملامت کر، تاکہ دُوسرے اَیسی حرکت کرنے سے خوف کھایٔیں۔
1TI 5:21 مَیں خُداتعالیٰ اَور المسیح یِسوعؔ کو اَور برگُزیدہ فرشتوں کو گواہ مان کر تُجھے تاکید کرتا ہُوں کہ اِن ہدایات پر بغیر تعصُّب اَور طرفداری کیٔے عَمل کرنا۔
1TI 5:22 کسی شخص کو مخصُوص کرنے کے واسطے اُس پر ہاتھ رکھنے میں جلدی نہ کرنا اَور نہ دُوسروں کے گُناہوں میں شریک ہونا۔ اَپنے آپ کو پاک رکھنا۔
1TI 5:23 آئندہ کو صِرف پانی ہی نہ پیا کر بَلکہ اکثر بیمار پڑنے اَور تیرے معدہ کے ٹھیک نہ رہنے کے سبب سے تھوڑی سِی مَے بھی پی لیا کر۔
1TI 5:24 بعض لوگوں کے گُناہ اُن کے عدالت مَیں حاضِر ہونے سے پہلے ہی ظاہر ہو جاتے ہیں اَور بعض کے گُناہ بعد میں۔
1TI 5:25 اِسی طرح بعض لوگوں کے نیک کام بھی ظاہر ہو جاتے ہیں مگر بعض نہیں ہوتے، لیکن وہ ہمیشہ تک چھپایٔے بھی نہیں جا سکتے۔
1TI 6:1 جتنے غُلام ابھی تک غُلامی کے جُوئے میں ہیں وہ اَپنے مالکوں کو بڑی عزّت کے لائق سمجھیں تاکہ کویٔی خُدا کے نام کی اَور ہماری تعلیم کی توہین نہ کرے۔
1TI 6:2 لیکن جِن غُلاموں کے مالک مُومِن ہیں وہ اِس خیال سے کہ اَب وہ اُن کے مُومِنین بھایٔی ہیں، اُنہیں حقیر نہ جانیں بَلکہ اُن کی اَور زِیادہ خدمت کریں کیونکہ اَب اُن کی خدمت سے اُن کے عزیز مُومِنین بھائیوں کو ہی فائدہ پہُنچے گا۔ تُو اُنہیں اِن ہی باتوں کی تعلیم دے اَور نصیحت کر۔
1TI 6:3 اگر کویٔی شخص ہماری تعلیم سے فرق تعلیم دیتاہے اَور ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی صحیح ہدایات کو اَور اُن کی تعلیم کو نہیں مانتا جو خُداپرست زندگی کے مُطابق ہے،
1TI 6:4 تو وہ مغروُر ہیں اَور کُچھ نہیں جانتے۔ بَلکہ اُنہیں صِرف فُضول بحث اَور لَفظی تکرار کرنے کا شوق ہے جِن کا نتیجہ حَسد، جھگڑے، بدگوئی اَور بدزبانی ہے۔
1TI 6:5 اَور جِن سے اُن لوگوں میں تنازعہ پیدا ہوتاہے جِس سے اُن کی عقل بگڑ گئی ہے، اَور وہ حق سے محروم ہو گیٔے ہیں اَور خُدا پرستی کو مالی نفع کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
1TI 6:6 ہاں اگر خُدا پرستی قناعت کے ساتھ ہو، تو بڑے نفع کا ذریعہ ہے۔
1TI 6:7 کیونکہ ہم دُنیا میں نہ تو کچھ لے کر آئے ہیں اَور نہ کچھ اُس میں سے لے جا سکتے ہیں۔
1TI 6:8 چنانچہ اگر ہمارے پاس کھانے کو کھانا اَور پہننے کو لباس ہے، تو اُسی پر صبر کریں۔
1TI 6:9 جو لوگ دولتمند ہونا چاہتے ہیں وہ کیٔی طرح کی آزمائشوں پھندوں اَور بےہوُدہ اَور مُضِر خواہشوں میں پھنس جاتے ہیں جو لوگوں کو تباہی اَور ہلاکت میں غرق کردیتی ہیں۔
1TI 6:10 کیونکہ زَر دوستی ہر قِسم کی بُرائی کی جڑ ہے اَور بعض لوگوں نے دولت کے لالچ میں آکر اَپنا ایمان کھو دیا اَور خُود کو کافی اَذیّت پہُنچائی ہے۔
1TI 6:11 مگر اَے مَرد خُدا! تُو اِن سَب باتوں سے بھاگ اَور راستبازی، خُدا پرستی، مَحَبّت، صبر اَور نرمی کا طالب ہو۔
1TI 6:12 ایمان کی اَچھّی کُشتی لڑ، اَبدی زندگی کو تھامے رہ جسے پانے کے واسطے تُجھے بُلایا گیا تھا اَور تُونے بہت سے گواہوں کے رُوبرو بخُوبی اقرار بھی کیا تھا۔
1TI 6:13 خُداتعالیٰ کے نزدیک، جو سَب کو زندگی بخشتا ہے اَور المسیح یِسوعؔ کو جِس نے پُنطِیُس پِیلاطُسؔ کے سامنے اَچھّی گواہی دی، اِنہیں کو گواہ مان کر تُجھے تاکید کرتا ہُوں کہ
1TI 6:14 ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے دوبارہ ظاہر ہونے تک تُم اِس حُکم کو بے داغ اَور بے اِلزام رکھو،
1TI 6:15 جسے خُداتعالیٰ اَپنے مُناسب وقت پر پُورا کرےگا، جو مُبارک اَور واحد حُکمراں ہے، جو بادشاہوں کا بادشاہ اَور خُداوندوں کا خُداوؔند ہے،
1TI 6:16 بَقا صِرف اُسی کی ہے اَور اَیسے نُور میں رہتاہے جِس کے قریب کویٔی نہیں پہُنچ سَکتا، اُسے کسی اِنسان نے نہیں دیکھاہے اَور نہ دیکھ سَکتا ہے۔ اُس کی عزّت اَور قُدرت ابدُالآباد رہے۔ آمین۔
1TI 6:17 اِس مَوجُودہ جہان کے دولتمندوں کو حُکم دے کہ وہ مغروُر نہ ہوں، اَور ناپائیدار دولت پر نہیں بَلکہ خُدا پر اُمّید رکھیں، جو ہمیں سَب چیزیں فیّاضی سے مُہیّا کرتا ہے تاکہ ہم مزہ سے زندگی گُزاریں۔
1TI 6:18 اُنہیں حُکم دے کہ وہ نیکی کریں اَور نیک کاموں کے لِحاظ سے دولتمند بنیں، اَور سخاوت پر تیّار اَور دُوسروں کی مدد کرنے پر آمادہ رہیں۔
1TI 6:19 اِس طرح وہ اَپنے لیٔے اَیسا خزانہ جمع کریں گے جو آنے والے جہان کے لیٔے ایک مضبُوط بُنیاد قائِم کرےگی، تاکہ وہ اُس زندگی کو جو اصل میں حقیقی زندگی ہے تھامے رہ سکیں۔
1TI 6:20 اَے تِیمُتھِیُس، اِس اَمانت کو جو تیرے سُپرد کی گئی ہے حِفاظت سے رکھ۔ اَور جِس چیز کو علم کہنا ہی غلط ہے اُس پر توجّہ نہ کر کیونکہ اُس میں بےہوُدہ باتیں اَور اِختلافات پایٔے جاتے ہیں،
1TI 6:21 بعض لوگ اَیسے علم کا اقرار کرکے اَپنے ایمان سے برگشتہ ہو گیٔے ہیں۔ تُم سَب پر خُدا کا فضل ہوتا رہے۔
2TI 1:1 پَولُسؔ کی جانِب سے جو اُس زندگی کے وعدہ کے مُطابق جو المسیح یِسوعؔ میں ہے، خُدا کی مرضی سے المسیح یِسوعؔ کے رسول ہیں،
2TI 1:2 پیارے بیٹے تِیمُتھِیُس کے نام خط:
2TI 1:3 جِس خُدا کی عبادت میں اَپنے باپ دادا کی طرح صَاف دِلی سے کرتا ہُوں، اُسی کا شُکر اَدا کرتا ہُوں کہ مَیں تُجھے رات دِن اَپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد کرتا ہُوں۔
2TI 1:4 اَور تمہارے آنسُوؤں کو یاد کرکے، میں تُم سے مِلنے کا آرزُومند ہُوں تاکہ تُم سے مِل کر خُوشی سے بھر جاؤں۔
2TI 1:5 مُجھے تیرا وہ سچّا ایمان یاد آتا ہے جو پہلے تیری نانی لُوئِسؔ اَور تیری ماں یُونیکےؔ کا تھا اَور مُجھے یقین ہے کہ وُہی ایمان تیرا بھی ہے۔
2TI 1:6 اِسی سبب سے مَیں تُجھے یاد دِلاتا ہُوں کہ خُدا کی اُس رُوحانی نِعمت کے شُعلہ کو پھر سے اَپنے اَندر بھڑکا دے جو میرے ہاتھ رکھنے کی برکت سے تُجھے حاصل ہُوئی ہے۔
2TI 1:7 کیونکہ خُدا نے ہمیں بُزدلی کی رُوح نہیں بَلکہ قُوّت، مَحَبّت اَور خُود نظم و ضَبط رکھنے کی رُوح عطا فرمائی ہے۔
2TI 1:8 پس تُو ہمارے خُداوؔند کی گواہی دینے سے اَور مُجھ سے جو اُس کا قَیدی ہُوں شرم نہ کر بَلکہ جَیسے میں خُوشخبری کی خاطِر دُکھ اُٹھاتا ہُوں، وَیسے تُو بھی خُدا کی دی ہویٔی قُدرت کے مُطابق انجیل کی خاطِر میرے ساتھ دُکھ اُٹھا۔
2TI 1:9 کیونکہ خُدا نے ہمیں نَجات بخشی اَور پاکیزہ زندگی گُزارنے کے لیٔے بُلایا ہے۔ یہ ہمارے اعمال کے سبب سے نہیں تھا بَلکہ اُس کے اَپنے خاص مقصد اَور اُس فضل کے مُوافق ہُوا تھا جو ہم پر المسیح یِسوعؔ میں اَزل ہی سے ہو چُکاتھا۔
2TI 1:10 مگر اَب ہمارے مُنجّی المسیح یِسوعؔ کی آمد سے ظاہر ہُواہے جِس نے موت کو نِیست کر دیا اَور خُوشخبری کے ذریعہ زندگی کو رَوشن کر دیا۔
2TI 1:11 اِسی خُوشخبری کے لیٔے خُدا نے مُجھے مُنّاد، رسول اَور اُستاد مُقرّر کیا ہے۔
2TI 1:12 اِسی وجہ سے میں دُکھ اُٹھا رہا ہُوں اَور دُکھ اُٹھانے سے شرمندہ نہیں ہُوں، کیونکہ جِس پر مَیں نے یقین کیا ہے، اُسے جانتا ہُوں اَور مُجھے پُورا یقین ہے کہ وہ میری اَمانت کو عدالت کے دِن تک محفوظ رکھنے کے قابل ہے۔
2TI 1:13 اَب تُو اُن صحیح تعلیمات کو جو تُونے مُجھ سے سُنی ہیں، اُسے اُس ایمان اَور مَحَبّت کے ساتھ جو المسیح یِسوعؔ میں ہے، اَپنا نمونہ بنائے رکھ۔
2TI 1:14 اَور پاک رُوح کی مدد سے جو ہم میں بسا ہُواہے اُس اَمانت کو سنبھال کر رکھ جو تیرے سُپرد کی گئی ہے۔
2TI 1:15 تُو جانتا ہے کہ صُوبہ آسیہؔ میں سَب لوگوں نے مُجھ سے مُنہ موڑ لیا ہے۔ اُن میں فُوگلُسؔ اَور ہرمُگِنیسؔ بھی ہیں۔
2TI 1:16 اُنیِسفُرس کے گھرانے پر خُداوؔند کی رحمت ہو کیونکہ اُس نے کیٔی دفعہ مُجھے تازہ دَم کیا اَور میری قَید کی زنجیروں سے شرمندہ نہ ہُوا۔
2TI 1:17 بَلکہ جَب وہ رُوم شہر میں آیا تو بہت کوشش سے تلاش کرکے مُجھ سے مِلا۔
2TI 1:18 خُداوؔند قیامت کے دِن اُس پر رحم کرے! تُمہیں خُوب مَعلُوم ہے کہ اُنیِسفُرس نے اِفِسُسؔ شہر میں میرے لیٔے کیا کیا خدمتیں اَنجام دیں۔
2TI 2:1 پس اَے میرے فرزند! تُم اُس فضل سے جو المسیح یِسوعؔ میں ہے، مضبُوط بَن جا۔
2TI 2:2 اَورجو باتیں تُونے بہت سے گواہوں کی مَوجُودگی میں مُجھ سے سُنی ہیں، اُنہیں اَیسے وفادار لوگوں کے سُپرد کرجو دُوسروں کو بھی سِکھانے کے قابل ہوں۔
2TI 2:3 المسیح یِسوعؔ کے اَچھّے سپاہی کی طرح میرے ساتھ دُکھ اُٹھا۔
2TI 2:4 کویٔی بھی سپاہی میدانِ جنگ میں خُود کو روزمرّہ کے مُعاملوں میں نہیں پھنساتا کیونکہ وہ ایک فَوجی کے ناطہ اَپنے بھرتی کرنے والے کو خُوش کرنا چاہتاہے۔
2TI 2:5 اُسی طرح دنگل میں مُقابلہ کرنے والا اگر کویٔی پہلوان مُقرّرہ قاعدوں کے مُطابق مُقابلہ نہیں کرتا تو وہ فتح کا سِہرا نہیں پاتا۔
2TI 2:6 جو کِسان سخت محنت کرتا ہے، پہلے اُسی کو پیداوار کا حِصّہ مِلنا چاہئے۔
2TI 2:7 جو میں کہتا ہُوں اُس پر غور کر، کیونکہ خُداوؔند تُجھے اِن سَب باتوں کی سمجھ عطا کرےگا۔
2TI 2:8 یِسوعؔ المسیح کو یاد رکھ جو مُردوں میں سے جی اُٹھے، جو حضرت داویؔد کی نَسل سے ہیں۔ میں اِسی خُوشخبری کی مُنادی کرتا ہُوں،
2TI 2:9 اِسی خُوشخبری کے لیٔے میں مُجرم کی طرح دُکھ اُٹھاتا اَور زنجیروں سے جکڑا ہُوا ہُوں۔ لیکن خُدا کا کلام قَید نہیں ہے۔
2TI 2:10 چنانچہ مَیں خُدا کے مُنتخب لوگوں کی خاطِر، سَب کُچھ برداشت کرتا ہُوں تاکہ وہ بھی اُس نَجات کو جو المسیح یِسوعؔ کے ذریعہ ملتی ہے اَبدی جلال کے ساتھ حاصل کریں۔
2TI 2:11 یہ بات قابلِ اِعتماد ہے کہ اگر ہم اُس کے ساتھ مَر گیٔے، تو اُس کے ساتھ زندہ بھی ہوں گے؛
2TI 2:12 اگر ہم صبر سے برداشت کرتے رہیں گے تو، اُس کے ساتھ ہم حُکومت بھی کریں گے۔ اگر ہم اُس کا اِنکار کریں گے تو، وہ بھی ہمارا اِنکار کرےگا۔
2TI 2:13 اگر ہم بےوفا نکلے، تو بھی وہ وفادار رہے گا، کیونکہ وہ خُود اَپنا اِنکار نہیں کر سَکتا۔
2TI 2:14 یہ باتیں خُدا کے مُقدّسین کو یاد دِلاتا رہ۔ اَور خُداوؔند کو حاضِر جان کر اُنہیں تاکید کر کہ وہ لَفظی تکرار نہ کریں کیونکہ اِس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بَلکہ سُننے والے برباد ہو جاتے ہیں۔
2TI 2:15 خُود کو خُدا کے سامنے مقبُول اَور اَیسے کام کرنے والے کی طرح پیش کرنے کی کوشش کر جسے شرمندہ نہ ہونا پڑے، اَورجو حق کے کلام کو دُرستی سے کام میں لاتا ہو۔
2TI 2:16 لیکن بےہوُدہ بکواس سے پرہیز کر، کیونکہ جو لوگ اِس میں شامل ہوتے ہیں وہ اَور بھی زِیادہ بے دینی میں ترقّی کریں گے۔
2TI 2:17 اَور اُن کی تعلیم سرطان کی طرح پھیل جایٔےگی۔ ہِمنِیُسؔ اَور فِلیتُسؔ اُن ہی میں سے ہیں۔
2TI 2:18 جو یہ کہتے ہیں کہ قیامت آ چُکی ہے اَور یُوں وہ خُود حق سے گُمراہ ہوکر بعض لوگوں کا ایمان بِگاڑ رہے ہیں۔
2TI 2:19 تو بھی خُدا کی مضبُوط بُنیاد قائِم رہتی ہے اَور اُس پر اِن الفاظ کی مُہر لگی ہُوئی ہے: ”خُداوؔند اَپنوں کو پہچانتے ہیں،“ اَور ”جو کویٔی خُداوؔند کا نام لیتا ہے وہ ناراستی سے بعض رہے۔“
2TI 2:20 ایک دولتمند گھرانے میں نہ صِرف سونے چاندی کے برتن ہوتے ہیں، بَلکہ، لکڑی اَور مٹّی کے بھی ہوتے ہیں؛ بعض خاص، خاص مَوقعوں کے لیٔے اَور بعض روزانہ اِستعمال کے لیٔے۔
2TI 2:21 پس اگر کویٔی اَپنے آپ کو اِن بےہوُدہ باتوں سے پاک صَاف رکھےگا تو وہ مخصُوص برتن بنے گا، اَور اَپنے مالک کے لیٔے مفید اَور ہر نیک کام کے لیٔے تیّار ہوگا۔
2TI 2:22 جَوانی کی بُری خواہشوں سے بھاگ۔ اَورجو لوگ پاک دِل سے خُداوؔند سے دعا کرتے ہیں اُن کے ساتھ مِل کر راستبازی، ایمان، مَحَبّت اَور صُلح کا طالب ہو۔
2TI 2:23 بےوقُوفی اَور نادانی والی بحثوں سے الگ رہ کیونکہ تُو جانتا ہے کہ اِن سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔
2TI 2:24 اَور خُداوؔند کا خادِم فسادی نہ ہو بَلکہ وہ سَب کے ساتھ نرمی سے پیش آئے، اَور تعلیم دینے کے لائق ہو، اَور نااِنصافی کی حالات میں بھی صبر سے کام لے۔
2TI 2:25 اَپنے مُخالفوں کو حلیمی سے سمجھائے۔ ممکن ہے کہ خُدا اُنہیں تَوبہ کرنے کی تَوفیق دے اَور وہ حق کو پہچانیں،
2TI 2:26 اَور ہوش میں آئیں اَور شیطان کے پھندے اَور قَید سے چھُوٹ جایٔیں تاکہ شیطان کی نہیں بَلکہ خُدا کی مرضی پُوری کرنے کے لیٔے تابع ہو جایٔیں۔
2TI 3:1 لیکن یہ بات جان لے کہ آخِری زمانہ میں ہَولناک دِن آئیں گے۔
2TI 3:2 لوگ خُود غرض، زَر دوست، شیخی باز، مغروُر، بدگو، ماں باپ کے نافرمان، ناشُکرے، ناپاک،
2TI 3:3 مَحَبّت سے خالی، مُعاف نہ کرنے والے، تہمت لگانے والے، بے ضَبط، وحشی، نیکی کے دُشمن،
2TI 3:4 غدّار، بے حیا، مغروُر، خُدا کی نِسبت عیش و عشرت کو زِیادہ پسند کرنے والے ہوں گے۔
2TI 3:5 وہ بظاہر خُداپرست زندگی تو گُزاریں گے لیکن حقیقی خُداپرست زندگی کی قُوّت کا اِنکار کریں گے۔ اَیسے اِنسانوں سے کنارہ کرنا۔
2TI 3:6 اِن ہی میں سے بعض اَیسے بھی ہیں جو گھروں میں دبے پاؤں گھُس آتے ہیں اَور احمق اَور چھچھوری عورتوں کو اَپنے قبضہ میں کرلیتے ہیں جو گُناہوں میں دبی ہوتی ہیں اَور ہر طرح کی بُری خواہشوں کا شِکار بنی رہتی ہیں۔
2TI 3:7 یہ عورتیں ہر وقت تعلیم تو پاتی رہتی ہیں مگر حق کی پہچان تک کبھی نہیں پہُنچ سکتیں۔
2TI 3:8 جِس طرح یَنیّسؔ اَور یمبریسؔ نے حضرت مَوشہ کی مُخالفت کی تھی اُسی طرح یہ لوگ بھی حق کی مُخالفت کرتے ہیں۔ اِن کی عقل بِگڑی ہُوئی ہے اَور یہ ایمان کے اِعتبار سے نامقبُول ہیں۔
2TI 3:9 لیکن یہ سَب زِیادہ وقت تک نہیں چلے گا، کیونکہ اِن کی حماقت سَب آدمیوں پر ظاہر ہو جائے گی۔
2TI 3:10 لیکن تِیمُتھِیُس میری تعلیم، چال چلن اَور زندگی کے مقصد سے خُوب واقف ہے۔ تُم میرے ایمان، تحمُّل، مَحَبّت اَور میرے صبر کو جانتے ہو۔
2TI 3:11 تُمہیں مَعلُوم ہے کہ مُجھے کِس طرح ستایا گیا اَور مَیں نے کیا کیا مُصیبتیں اُٹھائیں یعنی وہ مُصیبتیں جو انطاکِیہؔ، اِکُنِیُم اَور لُسترہؔ شہروں میں، مُجھ پر آ پڑی تھیں۔ مگر خُداوؔند نے مُجھے اُن سَب مُصیبتوں سے رِہائی بخشی۔
2TI 3:12 دراصل جتنے لوگ المسیح یِسوعؔ میں دیندار زندگی گزارنا چاہتے ہیں وہ سَب ستائے جایٔیں گے۔
2TI 3:13 لیکن بدکار، دغاباز لوگ فریب دیتے اَور فریب کھاتے ہُوئے بگڑتے چلے جایٔیں گے۔
2TI 3:14 لیکن تُو اُن باتوں پر قائِم رہ جو تُونے سیکھی ہیں اَور جِن کا تُجھے پُورا یقین ہے، کیونکہ تُجھے مَعلُوم ہے کہ تُونے اُن باتوں کو کِس سے سیکھا ہے۔
2TI 3:15 اَور کِس طرح تُم بچپن سے اُن مُقدّس صحیفوں سے واقف ہو جو تُمہیں وہ عِرفان بخشتی ہیں جِس سے المسیح یِسوعؔ پر ایمان لانے سے نَجات حاصل ہوتی ہے۔
2TI 3:16 کیونکہ ہر صحیفہ جو خُدا کے اِلہام سے وُجُود میں آیا ہے، وہ تعلیم دینے، تنبیہ کرنے، اِصلاح اَور راستبازی میں تربّیت دینے کے لیٔے مفید ہے،
2TI 3:17 تاکہ خُدا کا خادِم پُوری طرح سے قابل بنے اَور ہر نیک کام کے لیٔے بالکُل تیّار ہو جائے۔
2TI 4:1 مَیں خُداتعالیٰ اَور المسیح یِسوعؔ کی حُضُوری میں، جو زندوں اَور مُردوں کی عدالت کرےگا اَور حُضُور کی دُوسری آمد اَور اُن کی بادشاہی ظاہر ہونے کی یاد دِلا کر تُجھے تاکید کرتا ہُوں:
2TI 4:2 کلام کی مُنادی کر؛ وقت بے وقت تیّار رہ؛ بڑے صبر اَور تعلیم کے ساتھ لوگوں کو سمجھا، ملامت اَور اُن کی حوصلہ اَفزائی کر۔
2TI 4:3 کیونکہ ایک اَیسا وقت آئے گا جَب لوگ صحیح تعلیم کو برداشت نہیں کریں گے بَلکہ اَپنی خواہشوں کے مُطابق اَپنے بہت سے اُستاد بنا لیں گے جو اُنہیں صِرف اُن کے کانوں کو اَچھّا لگنے والی تعلیم دیں گے۔
2TI 4:4 اَور وہ اَپنے کانوں کو حق کی طرف سے پھیر کر جھُوٹے قصّے کہانیوں کی طرف مُتوجّہ ہوں گے۔
2TI 4:5 مگر تُو ہر حالت میں ہوشیار رہ، دُکھ اُٹھا، مُبشَّر کا کام اَنجام دے اَور اَپنی خدمت کو پُورا کر۔
2TI 4:6 کیونکہ اَب مَیں نذر کی قُربانی کی طرح اُنڈیلا جا رہا ہُوں اَور میرے اِس دُنیا سے جانے کا وقت آ پہُنچا ہے۔
2TI 4:7 میں اَچھّی کُشتی لڑ چُکا ہوں۔ مَیں نے دَوڑ کو ختم کر لیا ہے اَور مَیں نے اَپنے ایمان کو محفوظ رکھا ہے۔
2TI 4:8 مُستقبِل میں میرے لیٔے راستبازی کا وہ تاج رکھا ہُواہے، جو عادل اَور مُنصِف خُداوؔند مُجھے اَپنے دوبارہ آمد کے دِن عطا فرمائے گا۔ اَور نہ صِرف مُجھے بَلکہ اُن سَب کو بھی جو خُداوؔند کی آمد کے آرزُومند ہیں۔
2TI 4:9 میرے پاس جلد پہُنچنے کی کوشش کر۔
2TI 4:10 کیونکہ دیماسؔ نے دُنیا کی مَحَبّت میں پھنس کر مُجھے چھوڑ دیا اَور تھِسلُنِیکے شہر کو چلا گیا۔ اَور کریسکِنس صُوبہ گلِتیؔہ کو اَور طِطُسؔ صُوبہ دلمتیہؔ کو چلا گیا ہے۔
2TI 4:11 صِرف لُوقا میرے پاس ہے۔ تو مرقُسؔ کو ساتھ لے کر چلا آ کیونکہ وہ اِس خدمت میں میرے بڑے کام کا ہے۔
2TI 4:12 تُخِکسؔ کو مَیں نے اِفِسُسؔ شہر بھیج دیا ہے۔
2TI 4:13 جَب تُو آئے تو اَپنے ساتھ وہ چوغہ اَور طُومار خاص طور پر چمڑے کے نوشتے جو میں تروآسؔ میں کرپُسؔ کے یہاں چھوڑ آیاتھا، اَپنے ساتھ لیتے آنا۔
2TI 4:14 سِکندرؔ ٹھٹھیرے نے مُجھے بہت نُقصان پہُنچایا ہے۔ خُداوؔند اُسے اُس کے کاموں کا بدلہ دے گا۔
2TI 4:15 تُو بھی اُس سے خبردار رہنا کیونکہ اُس نے ہماری باتوں کی سخت مُخالفت کی تھی۔
2TI 4:16 عدالت میں میری پہلی پیشی کے وقت کسی نے میرا ساتھ نہیں دیا بَلکہ سَب نے مُجھے چھوڑ دیا تھا۔ کاش خُدا اُن سے اُس کا جَواب طلب نہ کرے!
2TI 4:17 مگر خُداوؔند میرا مددگار ہُوا۔ اَور خُداوؔند نے مُجھے قُوّت بخشی تاکہ میرے ذریعہ پیغام کی پُوری طرح سے مُنادی کی جائے تاکہ سَب غَیریہُودی اُسے سُن سکیں۔ ساتھ ہی میں بھُوکے شیروں کے مُنہ سے بھی چھُڑایا گیا۔
2TI 4:18 اَور خُداوؔند مُجھے ہر بدی کے حملہ سے بچائے گا اَور سلامتی کے ساتھ اَپنی آسمانی بادشاہی میں پہُنچائے گا۔ خُدا کی تمجید ہمیشہ تک ہوتی رہے۔ آمین۔
2TI 4:19 پرسکِلّہؔ اَکوِلہؔ اَور اُنیِسفُرس کے خاندان سے میرا سلام کہنا۔
2TI 4:20 اِراستُسؔ، کُرِنتھُسؔ شہر میں رُک گیا اَور تُرِفمُسؔ کی بیماری کی وجہ سے مُجھے اُسے بندرگاہ شہر میلِیتُسؔ میں چھوڑنا پڑا۔
2TI 4:21 سردی کے موسم سے پہلے میرے پاس پہُنچنے کی کوشش کر۔ یُوبُولُسؔ، پُودینُسؔ، لینُسؔ، کلَودیہؔ اَور سَب مُومِن بھایٔی بہن تُجھے سلام کہتے ہیں۔
2TI 4:22 خُداوؔند تیری رُوح کے ساتھ رہے۔ تُم سَب پر خُدا کا فضل ہوتا رہے۔
TIT 1:1 پَولُسؔ کی جانِب سے جو خُدا کا خادِم اَور یِسوعؔ المسیح کا رسول ہے۔ خُدا نے مُجھے اَپنے برگُزیدہ لوگوں کے ایمان اَور حق کے عِرفان میں ترقّی کی خاطِر مُنتخب کیا تاکہ وہ دینداری کی طرف رُجُوع کریں۔
TIT 1:2 جو اَبدی زندگی کی اُمّید پر قائِم ہے جِس کا وعدہ خُود خُدا نے شروع زمانہ سے پیشتر ہی کر دیا تھا، جو کبھی جھُوٹ نہیں بولتا۔
TIT 1:3 اَور جسے اَب خُدا نے اَپنے مُقرّر وقت پر اَپنے کلام کو میرے اُس مُنادی کے ذریعہ ظاہر کیا جو ہمارے مُنجّی خُدا کے حُکم سے میرے سُپرد کیا گیا۔
TIT 1:4 طِطُسؔ کے نام خط جو ایمان کی شرکت کے لِحاظ سے میرا حقیقی بیٹا ہے:
TIT 1:5 مَیں نے تُجھے جَزِیرہ کریتےؔ میں اِس لیٔے چھوڑا تھا کہ جو کام وہاں ادھورا رہ گیا تھا، تُو اُسے پُورا کر سکے اَور میرے حُکم کے مُطابق ہر شہر کی جماعت میں بُزرگوں کو مُقرّر کرے۔
TIT 1:6 ہر پاسبان بے اِلزام اَور ایک ہی بیوی کا شوہر ہو، اُس کے بچّے ایمان والے ہوں اَور بدچلنی اَور نافرمانی کے اِلزام سے پاک ہو۔
TIT 1:7 کیونکہ نگہبان کو خُدا کے گھر کا مُختار ہونے کی وجہ سے ضروُر بے اِلزام ہونا چاہئے۔ نہ تو وہ سخت دِل، گَرم مِزاج، شرابی جھگڑالو، یا ناجائز نفع کا لالچی ہو۔
TIT 1:8 بَلکہ وہ مہمان نواز، خیر دوست، اَپنے نَفس پر قابُو رکھنے والا، راستباز، پاک اَور نظم و ضَبط والا ہو۔
TIT 1:9 اَور ایمان کے کلام پرجو اِس تعلیم کے مُوافق ہے، قائِم رہنے والا ہو تاکہ وہ صحیح تعلیم سے دُوسروں کو نصیحت دے سکے اَور مُخالفوں کو بھی قائل کر سکے۔
TIT 1:10 کیونکہ بہت سے لوگ خاص طور پر وہ جو ختنہ کرانے پر زور دیتے ہیں، بڑے سَرکش، فُضول باتیں کہنے والے اَور دغاباز ہیں۔
TIT 1:11 اَیسے لوگوں کا مُنہ بند کرنا ضروُری ہے کیونکہ یہ لوگ ناجائز نفع کی خاطِر غلط باتیں سِکھا کرجو اُنہیں نہیں سِکھانا چاہئے، گھر کے گھر تباہ کر دیتے ہیں۔
TIT 1:12 اُن کے نبیوں میں سے ایک خُود کریتےؔ کے نبی نے تو یہاں تک کہہ دیا: ”کریتی لوگ ہمیشہ جھُوٹے، مُوذی درندے، کاہل اَور پیٹو ہوتے ہیں۔“
TIT 1:13 یہ گواہی سچّی ہے۔ لہٰذا تُو اُنہیں سختی سے ملامت کیا کر تاکہ اُن کا ایمان دُرست ہو جائے۔
TIT 1:14 اَور وہ یہُودیوں کے قِصّوں اَور اَیسے آدمیوں کے اَحکام پر توجّہ نہ کریں جو حق سے گمراہ ہو گیٔے ہیں۔
TIT 1:15 جو خُود پاک ہیں اُن کے لیٔے سَب چیزیں پاک ہیں لیکن گُناہ آلُودہ اَور بےایمان لوگوں کے لیٔے کویٔی بھی چیز پاک نہیں کیونکہ اُن کی عقل اَور ضمیر دونوں ناپاک ہو گیٔے ہیں۔
TIT 1:16 وہ خُدا کی پہچان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اَپنے کاموں سے اُس کا اِنکار کرتے ہیں۔ وہ قابل نفرت، نافرمان اَور کویٔی بھی نیک کام کرنے کے لائق نہیں ہیں۔
TIT 2:1 بہرحال تُم وُہی باتیں بَیان کرو جو صحیح تعلیم کے مُطابق مُناسب ہوں۔
TIT 2:2 بُزرگ مَردوں کو سِکھا کہ وہ پرہیزگار، قابل اِحترام، اَپنے نَفس پر قابُو رکھنے والے، ایمان، مَحَبّت اَور صبر میں پکّے ہوں۔
TIT 2:3 اِسی طرح بُزرگ خواتین کو ہدایت دو کہ وہ بھی مُقدّسین کی سِی زندگی بسر کریں اَور تہمت لگانے والی اَور شراب پینے والی نہ ہوں بَلکہ اَچھّی باتوں کی تعلیم دینے والی ہوں۔
TIT 2:4 تبھی وہ جَوان خواتین کو سِکھا سکیں گی کہ وہ اَپنے شوہروں اَور بچّوں کو پیار کریں،
TIT 2:5 اَپنے نَفس پر قابُو رکھیں اَور پاک دامن ہوں، گھر کا کام کاج کرنے والی اَور مہربان ہوں اَور اَپنے شوہروں کے تابع رہیں تاکہ خُدا کے کلام کی بدنامی نہ ہو۔
TIT 2:6 ٹھیک اِسی طرح نوجوانوں کو بھی نصیحت کر کہ وہ اَپنے نَفس پر قابُو رکھیں۔
TIT 2:7 تُم سَب باتوں میں اَپنے آپ کو نیک کاموں کو کرنے میں اُن کے لیٔے نمونہ بَن۔ اَور تیری تعلیم میں خُلوص دِلی اَور سنجِیدگی ہو،
TIT 2:8 تاکہ جو کچھ تو سِکھائے وہ اَیسا صحیح کلام ہو کہ کویٔی حرف گیری نہ کر سکے اَور کویٔی مُخالف ہم پر عیب لگانے کا موقع نہ پا سکے بَلکہ شرمندہ ہو جائے۔
TIT 2:9 غُلاموں کو سِکھا کہ اَپنے مالکوں کے سَب تابع رہیں۔ اُن کے ہر حُکم کی تعمیل کریں اَور کبھی اُلٹ کر جَواب نہ دیں،
TIT 2:10 خیانت نہ کریں بَلکہ پُوری وفاداری سے کام کریں تاکہ اُن کے سارے کام ہمارے مُنجّی خُدا کی تعلیم کی زینت کا باعث ہو سکیں۔
TIT 2:11 کیونکہ خُدا کا وہ فضل جو سارے اِنسانوں کی نَجات کا باعث ہے، ظاہر ہو چُکاہے۔
TIT 2:12 وہ فضل ہمیں تربّیت دیتاہے کہ ہم بے دینی اَور دُنیوی خواہشوں کو چھوڑکر اِس دُنیا میں پرہیزگاری، صداقت اَور دینداری کے ساتھ زندگی گُزاریں،
TIT 2:13 اَور اُس مُبارک اُمّید یعنی اَپنے عظیم خُدا اَور مُنجّی، یِسوعؔ المسیح کے جلال کے ظاہر ہونے کے مُنتظر رہیں،
TIT 2:14 جنہوں نے اَپنے آپ کو ہماری خاطِر قُربان کر دیا تاکہ ہمارا فدیہ ہوکر ہمیں ہر طرح کی بے دینی سے چھُڑا لیں اَور ہمیں پاک کرکے اَپنی خاص مِلکیّت کے لیٔے ایک اَیسی اُمّت بنا لیں جو نیک کام کرنے میں سرگرم ہو۔
TIT 2:15 تُو اِن باتوں کی پُورے اِختیار کے ساتھ تعلیم دے، تنبیہ کر اَور نصیحت بھی دیتا رہ۔ کویٔی شخص تیری حقارت نہ کرنے پایٔے۔
TIT 3:1 لوگوں کو یاد دِلا کہ وہ حاکموں اَور صاحبِ اِختیاروں کے تابع رہیں، اُن کا حُکم مانیں اَور ہر نیک کام کو اَنجام دینے کے لیٔے تیّار رہیں۔
TIT 3:2 کسی کی بدگوئی نہ کریں، اَمن پسند اَور نرم مِزاج ہوں اَور سَب لوگوں کے ساتھ بڑی حلیمی سے پیش آئیں۔
TIT 3:3 کیونکہ ہم بھی ایمان لانے سے پہلے ناسمجھ، نافرمان، فریب کھانے والے اَور ہر طرح کی خواہشوں اَور عیّاشیوں کی غُلامی میں تھے۔ بدنیّتی اَور حَسد میں زندگی گزارتے تھے۔ لوگ ہم سے نفرت کرتے تھے اَور ہم اُن سے۔
TIT 3:4 لیکن جَب ہمارے مُنجّی خُدا کی رحمت اَور مَحَبّت ظاہر ہویٔی،
TIT 3:5 تو خُدا نے ہمیں نَجات بخشی، مگر یہ ہمارے راستبازی کے کاموں کے سبب سے نہیں تھا بَلکہ اُس کی رحمت کے مُطابق۔ ہمیں پاک رُوح کے ذریعہ نئی زندگی بخشی اَور رُوحانی پیدائش کے غُسل سے ہمارے دِلوں کو پاک صَاف کر دیا۔
TIT 3:6 خُدا نے ہمارے مُنجّی یِسوعؔ المسیح کی مَعرفت سے پاک رُوح کو ہم پر بڑی کثرت سے نازل کیا،
TIT 3:7 تاکہ ہم خُدا کے فضل سے راستباز ٹھہریں، اَور اَبدی زندگی کی اُمّید کے مُطابق وارِث بنیں۔
TIT 3:8 یہ بات قابل یقین ہے اَور مَیں چاہتا ہُوں کہ تُم اِن باتوں کو بڑے یقینی طور سے تعلیم دو تاکہ خُدا پر ایمان لانے والے نیک کاموں میں مشغُول رہنے پر غور کریں۔ یہ باتیں اَچھّی اَور اِنسانوں کے لیٔے مفید ہیں۔
TIT 3:9 لیکن احمقانہ حُجّتوں، نَسب ناموں، بحثوں اَور شَرعی تنازعوں سے پرہیز کریں، کیونکہ اَیسا کرنا بے فائدہ اَور فُضول ہے۔
TIT 3:10 جو آدمی بِدعتی یا جھُوٹی تعلیم دینے والا ہو اُسے دو بار نصیحت کرنے کے بعد بھی اگر نہ مانے تو اُسے جماعت کی رِفاقت سے خارج کر دو۔
TIT 3:11 یہ جان کر کہ اَیسا آدمی گُمراہ ہے اَور اَپنے حرکتوں سے خُود ہی مُجرم ٹھہراتا ہے اَور گُناہ میں مشغُول رہتاہے۔
TIT 3:12 جَب مَیں اَرتِماسؔ اَور تُخِکسؔ کو تیرے پاس بھیجوں تو نِیکُپُلِسؔ شہر میں میرے پاس آنے کی پُوری کوشش کرنا کیونکہ مَیں نے فیصلہ کیا ہے کہ سردی کا موسم وہیں گزاروں۔
TIT 3:13 زیناسؔ کو جو وکیل ہے اَور اپُلّوسؔ کو روانہ کرنے کی کوشش کرنا اَور یہ بھی دیکھنا کہ اُنہیں کسی چیز کی ضروُرت نہ رہے۔
TIT 3:14 اَور ہمارے لوگ بھی اَچھّے کاموں میں مشغُول ہونا سیکھیں تاکہ دُوسروں کی فَوری ضرورتوں کو پُورا کر سکیں اَور بے پھل زندگی نہ گُزاریں۔
TIT 3:15 میرے سَب ساتھی تُجھے سلام کہتے ہیں۔ جو ایمان کے رُو سے ہم سے مَحَبّت رکھتے ہیں، اُنہیں ہمارا سلام کہنا۔ تُم سَب پر خُدا کا فضل ہوتا رہے۔
PHM 1:1 خُداوؔند المسیح یِسوعؔ کی خاطِر قَیدی پَولُسؔ اَور ہمارے بھایٔی تِیمُتھِیُس کی جانِب سے،
PHM 1:2 اَور بہن اَفّیہؔ، اَور بھایٔی اَرخِپُّسؔ جو ہم فَوجی ہے اَور اُس جماعت کے نام خط جو فِلیمون کے گھر میں جمع ہوتی ہے۔
PHM 1:3 ہمارے خُدا باپ اَور خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی طرف سے تُمہیں فضل اَور اِطمینان حاصل ہوتا رہے۔
PHM 1:4 اَپنی دعاؤں مَیں تُجھے یاد کرتے ہویٔے میں ہمیشہ اَپنے خُدا کا شُکر اَدا کرتا ہُوں،
PHM 1:5 کیونکہ مَیں سُنتا ہُوں کہ تُم خُدا کے سَب مُقدّسین سے مَحَبّت رکھتے ہو اَور تمہارا ایمان خُداوؔند یِسوعؔ پر ہے۔
PHM 1:6 میری دعا ہے کہ کاش ایمان میں ہمارے ساتھ تمہاری شراکت المسیح کی خاطِر ہماری طرف سے تقسیم کی جانے والی ہر اَچھّی چیز کے بارے میں تمہاری سمجھ کو گہرا اَور مؤثر کرے۔
PHM 1:7 اَے بھایٔی! مُجھے تیری مَحَبّت سے بہت خُوشی اَور تسلّی ہُوئی ہے کیونکہ تُونے مُقدّسین کے دِلوں کو تازہ کیا ہے۔
PHM 1:8 پس اگرچہ المسیح میں مُجھے تُمہیں یہ حُکم دینے کا اِختیار ہے کہ تُجھے کیا کرنا چاہئے،
PHM 1:9 لیکن پھر بھی میں بُوڑھا پَولُسؔ جو اِس وقت خُداوؔند المسیح یِسوعؔ کی خاطِر قَیدی ہُوں اَور مَحَبّت کے ساتھ تُم سے درخواست کرنا مُناسب سمجھتا ہُوں۔
PHM 1:10 لہٰذا میں اَپنے بیٹے اُنیسمُسؔ کے لیٔے تُم سے عرض کرتا ہُوں جو میرے قَید کے دَوران المسیح پر ایمان لانے سے گویا میرا رُوحانی بیٹا بَن گیا ہے۔
PHM 1:11 پہلے تو وہ تمہارے کسی کام کا نہ تھا لیکن اَب وہ تیرے اَور میرے دونوں کے لیٔے بڑے کام کا ہے۔
PHM 1:12 اَب مَیں اُسے یعنی اَپنے لختِ جِگر کو تیرے پاس واپس بھیج رہا ہُوں۔
PHM 1:13 حالانکہ اُسے میں اَپنے ہی پاس رکھنا چاہتا تھا تاکہ وہ تمہاری جگہ پر اِس قَید میں جو خُوشخبری سُنانے کی خاطِر ہے، میری خدمت کرے۔
PHM 1:14 لیکن تیری رضامندی کے بغیر میں کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا، تاکہ جو بھی مہربانی تُو کرے وہ مجَبُوری میں نہیں لیکن اَپنی مرضی سے کرے۔
PHM 1:15 شاید اُنیسمُسؔ تُجھ سے تھوڑی دیر کے واسطے اِس لیٔے جُدا ہُوا تھا تاکہ وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے۔
PHM 1:16 مگر اَب سے غُلام کی طرح نہیں بَلکہ غُلام سے بہتر یعنی ایک عزیز بھایٔی کی طرح سلُوک کرنا، جو ایک ساتھی مُومِن کے طور پر مُجھے نہایت عزیز ہو اَور مُجھ سے بھی زِیادہ خُداوؔند میں اَور ایک بھایٔی کے طور پر تُجھے عزیز ہو۔
PHM 1:17 پس اگر تُم مُجھے اَپنا ساتھی سمجھتا ہو تو اُنیسمُسؔ کو بھی وَیسے ہی قبُول کرنا جَیسے تُم مُجھے کرتے ہو۔
PHM 1:18 اَور اگر اُس نے تیرا کچھ نُقصان کیا ہے یا اُس پر تیرا کچھ قرض ہے تو اُسے میرے نام لِکھ لینا۔
PHM 1:19 میں پَولُسؔ اَپنے ہاتھ سے یہ لِکھتا ہُوں کہ تُجھے اَدا کر دُوں گا۔ یہ لکھنے کی کویٔی ضروُرت نہیں کہ میرا قرض جو تُجھ پر ہے وہ تُم خُود ہی ہو۔
PHM 1:20 اَے بھایٔی! میں چاہتا ہوں کہ مُجھے تیری طرف سے خُداوؔند میں مدد حاصل ہو، اَور المسیح میں میرے دِل کو تازگی ملے۔
PHM 1:21 تیری فرمانبرداری پر یقین کرکے تُجھے لِکھ رہا ہُوں۔ کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ جو کچھ میں کہتا ہوں، تُم اُس سے بھی زِیادہ کروگے۔
PHM 1:22 اِس کے علاوہ میرے قِیام کے لیٔے مہمان خانہ تیّار رکھنا کیونکہ مُجھے اُمّید ہے کہ تُم لوگوں کی دعاؤں کے جَواب میں خُدا مُجھے قَید سے آزاد کر تمہارے درمیان پہُنچا دے گا۔
PHM 1:23 اِپفِراسؔ جو المسیح یِسوعؔ میں میرا ساتھی قَیدی تُمہیں سلام کہتاہے۔
PHM 1:24 اَور مرقُسؔ، ارِسترخُسؔ، دیماسؔ اَور لُوقا جو میرے ہم خدمت ہیں، تُمہیں سلام کہتے ہیں۔
PHM 1:25 خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا فضل تمہاری سَب کی رُوح کے ساتھ ہوتا رہے۔ آمین۔
HEB 1:1 گزرے زمانہ میں خُدا نے ہمارے آباؤاَجداد سے کیٔی مَوقعوں پر اَور مُختلف طریقوں سے نبیوں کی مَعرفت کلام کیا۔
HEB 1:2 لیکن اِن آخِری دِنوں میں خُدا نے ہم سے اَپنے بیٹے کی مَعرفت کلام کیا، جسے اُس نے سَب چیزوں کا وارِث مُقرّر کیا اَور جِس کے وسیلہ سے اُس نے کایِٔنات کو بھی خلق کیا۔
HEB 1:3 بیٹا خُدا کے جلال کا عکس اَور اُس کی ذات کا عَین نقش ہے، اَور اَپنے قُدرتی کلام سے پُوری کایِٔنات کو سَنبھالتا ہے۔ اَور وہ گُناہوں سے پاک کرنے کے بعد، عالمِ بالا پر جا کر خُدا کے داہنی طرف تخت نشین ہُوئے۔
HEB 1:4 چنانچہ وہ فرشتوں سے اُتنا ہی عظیم ٹھہرا جِتنا اُس نے اُن سے مِیراث میں افضل نام پایاتھا۔
HEB 1:5 کیونکہ فرشتوں میں سے خُدا نے کب کسی سے کبھی کہا، ”تُو میرا بیٹا ہے؛ آج سے میں تیرا باپ بَن گیا ہُوں؟“ اَور پھر یہ، مَیں اُس کا باپ ہوں گا، اَور وہ میرا بیٹا ہوگا؟
HEB 1:6 اَور پھر جَب خُدا اَپنے اَبدی پہلوٹھے بیٹے کو دُنیا میں بھیجتا ہے تو فرماتے ہیں، ”خُدا کے سَب فرشتے اُسے سَجدہ کریں۔“
HEB 1:7 اَور فرشتوں کے بارے میں وہ فرماتے ہیں، ”وہ اَپنے فرشتوں کو ہَوایٔیں، اَور اَپنے خادِموں کو گویا آگ کے شُعلوں کی مانند بناتا ہے۔“
HEB 1:8 مگر بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے، ”اَے خُدا! تیرا تخت ابدُالآباد تک قائِم رہے گا؛ تیری بادشاہی کا عصا اِنصاف کا عصا ہوگا۔
HEB 1:9 تُونے راستبازی سے مَحَبّت اَور بدکاری سے نفرت رکھی؛ اِس لیٔے خُدا، یعنی تیرے خُدا نے تُجھے شادمانی کے تیل سے مَسح کرکے تیرے ساتھیوں کی نِسبت تُمہیں زِیادہ سرفراز کیا۔“
HEB 1:10 وہ یہ بھی فرماتے ہیں، ”اَے خُداوؔند! تُونے اِبتدا میں زمین کی بُنیاد رکھی، اَور آسمان تیرے ہی ہاتھوں کی کاریگری ہے۔
HEB 1:11 وہ نِیست ہو جایٔیں گے مگر تُو قائِم رہے گا؛ وہ سَب پوشاک کی مانند پُرانے ہو جایٔیں گے۔
HEB 1:12 تُو اُنہیں لباس کی مانند لپیٹےگا؛ اَور وہ پوشاک کی طرح بدل دئیے جایٔیں گے۔ لیکن خُداوؔند ہمیشہ سے لاتبدیل ہے، اَور خُداوؔند کی زندگی کے سال کبھی ختم نہ ہوں گے۔“
HEB 1:13 لیکن خُداتعالیٰ نے فرشتوں میں سے کِس سے کبھی فرمایا، ”میری داہنی طرف بیٹھو، جَب تک مَیں تمہارے دُشمنوں کو تمہارے پاؤں کے نیچے نہ کر دُوں؟“
HEB 1:14 کیا وہ تمام فرشتے خدمت گزار رُوحیں نہیں جو نَجات پانے والوں کی خدمت کے لیٔے بھیجی جاتی ہیں؟
HEB 2:1 چنانچہ جو باتیں ہم نے سُنیں ہیں اُن پر ہمیں خاص طور سے دِل لگا کر غور کرنا چاہئے تاکہ کہیں اَیسا نہ ہو کہ ہم بہک کر اُن سے دُور چلے جایٔیں۔
HEB 2:2 کیونکہ جو کلام فرشتوں کی مَعرفت سُنایا گیا تھا جَب وہ قائِم رہا اَور اُس کی ہر خطا اَور نافرمانی کی مُناسب سزا مِلی،
HEB 2:3 تو پھر ہم اِتنی بڑی نَجات کو نظرانداز کرکے کیسے بچ سکیں گے؟ کیونکہ اِس نَجات کا اعلان سَب سے پہلے خُداوؔند نے خُود کیا اَور پھر اِس کی تصدیق اُن لوگوں نے ہم سے کی جنہوں نے اُسے سیدھے خُداوؔند سے سُنی تھی۔
HEB 2:4 اَور ساتھ ہی خُدا بھی اَپنی مرضی کے مُوافق، الٰہی نِشانوں، حیرت اَنگیز کاموں، طرح طرح کے معجزوں اَور پاک رُوح کی نِعمتوں کو دینے کے ذریعہ سے خُود بھی اُس کی گواہی دیتا رہا۔
HEB 2:5 خُدا نے اُس آنے والے جہان کو جِس کا ہم ذِکر کر رہے ہیں، اُسے فرشتوں کے اِختیار میں نہیں کیا۔
HEB 2:6 جَیسا کہ کلامِ مُقدّس میں فرمایا گیا ہے: ”اِنسان کیا چیز ہے کہ تُو اُس کا خیال کرے، اَور اِبن آدمؔ کیا ہے کہ تُو اُس کی خبرگیری کرے؟
HEB 2:7 آپ نے اُسے فرشتوں سے کچھ ہی کمتر بنایا؛ آپ نے اُس کے سَر پر جلال اَور عِزّت کا تاج پہنایا
HEB 2:8 خُدا نے سَب کچھ اُن کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔“ جَب سَب کچھ اُن کے تابع کر دیا گیا، تو اِس کا مطلب ہے کہ کویٔی چیز نہ رہی، جو خُدا کے تابع نہیں خُدا نے بے شک ہمیں حال میں یہ بات نظر نہیں آتی کہ سَب چیزیں اُن کے تابع ہیں۔
HEB 2:9 البتّہ ہم یِسوعؔ کو دیکھتے ہیں جو فرشتوں سے کچھ ہی کمتر کیٔے گیٔے تھے، تاکہ وہ خُدا کے فضل سے، ہر اِنسان کے واسطے اَپنی جان دیں اَور چونکہ یِسوعؔ نے موت کا دُکھ سہا اِس لیٔے اَب اُنہیں عِزّت اَور جلال کا تاج پہنایا گیا ہے۔
HEB 2:10 کیونکہ یہی مُناسب تھا کہ خُدا جو سَب چیزیں کو خلق کرنے والا اَور اُنہیں محفوظ رکھنے والا ہے اُس نے یہ پکّا کر لیا تھا کہ وہ تمام فرزندوں کو اَپنی جلال میں شریک کرنے کے لیٔے اُن کی نَجات کے بانی یِسوعؔ کے دُکھ اُٹھانے کے ذریعہ سے کامل کرے۔
HEB 2:11 کیونکہ پاک کرنے والا اَور پاک ہونے والے دونوں ایک ہی اصل سے ہیں، اِسی باعث یِسوعؔ اُنہیں بھایٔی اَور بہن کہنے سے نہیں شرماتے۔
HEB 2:12 چنانچہ وہ فرماتے ہیں، ”میں اَپنے بھائیوں اَور بہنوں کے سامنے تیرے نام کا اعلان کروں گا؛ اَور جماعت میں تیری سِتائش کے نغمے گاؤں گا۔“
HEB 2:13 اَور پھر یِسوعؔ فرماتے ہیں ”میں اُس پر توکّل کروں گا۔“ اَور پھر یہ کہ ”میں یہاں ہُوں، اَور اُن فرزندوں کے ساتھ ہُوں جنہیں خُدا نے مُجھے دیا ہے۔“
HEB 2:14 جِس طرح فرزند خُون اَور گوشت والے اِنسان ہیں تو یِسوعؔ بھی خُود اُن کی مانند خُون اَور گوشت میں شریک ہو گیٔے تاکہ اَپنی موت کے وسیلہ سے اُسے یعنی اِبلیس کو جسے موت پر قُدرت حاصل تھی اُس کے اِس قُوّت کو نِیست کر دے۔
HEB 2:15 اَور اُنہیں جو زندگی بھر موت کے ڈر سے غُلامی میں گِرفتار تھے اُنہیں رِہائی بخشے۔
HEB 2:16 کیونکہ یہ بات حقیقت ہے کہ یِسوعؔ فرشتوں کا نہیں بَلکہ حضرت اَبراہامؔ کی نَسل کی مدد کرتے ہیں۔
HEB 2:17 پس یِسوعؔ کو ہر لِحاظ سے اَپنے بھائیوں کی مانند بننا لازمی تھا تاکہ وہ تمام اُمّت کے گُناہوں کا کفّارہ اَدا کرے اَور خُدا کی خدمت کے لِحاظ سے ایک رحم دِل اَور وفادار اعلیٰ کاہِن بنے۔
HEB 2:18 چنانچہ یِسوعؔ نے خُود اَپنی آزمائش کے دَوران دُکھ اُٹھائے تھے اِس لیٔے وہ اُن کی بھی مدد کر سکتے ہیں جِن کی آزمائش ہوتی ہے۔
HEB 3:1 لہٰذا اَے مُقدّسین بھائیوں اَور بہنوں، تُم جو آسمانی بُلاوے میں شریک ہو، یِسوعؔ پر غور کرو جِن کا ہم اقرار رسول اَور اعلیٰ کاہِن کے طور پر کرتے ہیں۔
HEB 3:2 یِسوعؔ اَپنے مُقرّر کرنے والے خُداتعالیٰ کے حق میں اُسی طرح مُکمّل طور سے وفادار تھے جِس طرح حضرت مَوشہ خُدا کے سارے گھرانے میں وفادار تھے۔
HEB 3:3 کیونکہ جِس طرح گھر کا بنانے والا گھر کی نِسبت زِیادہ عزّت کے لائق سمجھا جاتا ہے۔ اُسی طرح یِسوعؔ بھی حضرت مَوشہ سے زِیادہ عزّت و اِحترام کے لائق سمجھے گیٔے۔
HEB 3:4 چنانچہ ہر گھر کا کویٔی نہ کویٔی بنانے والا ضروُر ہوتاہے مگر سَب چیزوں کا بنانے والا خُدا ہے۔
HEB 3:5 جو شہادتیں مُستقبِل میں واقع ہونے والی تھیں، ”اُن کا اعلان کرنے میں خُدا کے سارے گھر میں حضرت مَوشہ ایک خادِم کے طور پر وفادار تھے۔“
HEB 3:6 مگر المسیح بیٹا ہونے کی حیثیت سے خُدا کے گھر کا مُختار ہیں اَور خُدا کا گھر ہم لوگ ہیں؛ بشرطیکہ ہم اَپنی دِلیری اَور اُس اُمّید کو مضبُوطی سے قائِم رکھیں جِس پر ہم فخر کرتے ہیں۔
HEB 3:7 چنانچہ جَیسا کہ پاک رُوح فرماتا ہے، ”اگر، آج تُم اُس کی آواز سُنو،
HEB 3:8 تو اَپنے دِلوں کو سخت نہ کرو جِس طرح بیابان میں تمہارے آباؤاَجداد نے، خُدا کے خِلاف بغاوت کی،
HEB 3:9 جہاں تمہارے باپ دادا نے مُجھے آزمایا اَور میرا اِمتحان لیا، حالانکہ اُنہُوں نے چالیس بَرس تک میرے معجزے دیکھے۔
HEB 3:10 اِس لیٔے میں اُس پُشت سے ناراض رہا؛ اَور مَیں نے کہا، ’اِن کے دِل ہمیشہ گُمراہ ہوتے رہتے ہیں، اَور اِنہُوں نے میری راہوں کو نہیں پہچانا۔‘
HEB 3:11 چنانچہ مَیں نے اَپنے قہر میں قَسم کھائی، ’یہ لوگ میری اُس آرامگاہ میں ہرگز داخل نہ ہوں گے۔‘ “
HEB 3:12 اَے بھائیوں اَور بہنوں، خبردار! تُم میں سے کسی کا اَیسا بُرا اَور بےاِعتقاد دِل نہ ہو، جو زندہ خُدا سے برگشتہ ہو جائے۔
HEB 3:13 بَلکہ جِس روز تک آج کا دِن کہا جاتا ہے، ہر روز ایک دُوسرے کو نصیحت کرتے رہو تاکہ تُم میں سے کویٔی شخص گُناہ کے فریب میں آکر سخت دِل نہ ہو جائے۔
HEB 3:14 کیونکہ ہم المسیح میں شریک ہو چُکے ہیں، بشرطیکہ اَپنے اِبتدائی اُمّید پر آخِر تک مضبُوطی سے قائِم رہیں۔
HEB 3:15 جَیسا کہ مزکورہ کلام میں فرمایا گیا ہے: ”اگر، آج تُم اُس کی آواز سُنو، تو اَپنے دِلوں کو سخت نہ کرو جِس طرح بیابان میں بغاوت کے وقت کیا تھا۔“
HEB 3:16 وہ لوگ کون تھے جنہوں نے خُدا کی آواز سُن کر بھی بغاوت کی؟ کیا وہ سَب وُہی نہیں تھے جو حضرت مَوشہ کی رہنمائی میں مِصر سے باہر نکلے تھے؟
HEB 3:17 اَور خُدا کِن لوگوں سے چالیس بَرس تک ناراض رہا؟ کیا اُن لوگوں سے نہیں جنہوں نے گُناہ کیا اَور اُن کی لاشیں بیابان میں پڑی رہیں؟
HEB 3:18 اَور جِن کے بارے میں خُدا نے قَسم کھائی کہ جنہوں نے نافرمانی کی تھی وہ میرے آرام میں ہرگز داخل نہ ہونے پائیں گے؟
HEB 3:19 چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے خُدا کے آرام میں داخل نہ ہو سکے۔
HEB 4:1 پس جَب خُدا کے آرام میں داخل ہونے کا وعدہ ابھی تک باقی ہے تو ہمیں خبردار رہنا چاہئے تاکہ کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم میں سے کویٔی اُس میں داخل ہونے سے محروم رہ جائے۔
HEB 4:2 کیونکہ ہمیں بھی اُن ہی کی طرح الٰہی خُوشخبری سُنایٔی گئی تھی جَیسے اُنہیں سُنایا گیا تھا، لیکن جو پیغام اُنہُوں نے سُنا وہ اُن کے لیٔے بے فائدہ ثابت ہُوا کیونکہ اُن کا ایمان خُدا کے فرمانبردار لوگوں کے ایمان جَیسا نہیں تھا۔
HEB 4:3 اَور اَب ہم جو ایمان لا چُکے ہیں، خُدا کے اُس آرامگاہ میں داخل ہوتے ہیں، جَیسا کہ خُدا نے فرمایاہے، ”اِس لیٔے مَیں نے اَپنے قہر میں قَسم کھائی کہ، ’یہ لوگ میرے اُس آرامگاہ میں ہرگز داخل نہ ہوں گے۔‘ “ حالانکہ کایِٔنات کے خلق کے وقت سے ہی خُدا کے کام پُورے ہو چُکے تھے۔
HEB 4:4 کیونکہ خُدا نے ساتویں دِن کی بابت کِتاب مُقدّس میں یُوں فرمایا، ”چنانچہ ساتویں دِن وہ اَپنے سارے کام سے فارغ ہُوا۔“
HEB 4:5 اَور پھر دُوسرے مقام پر وہ فرماتے ہیں، ”یہ لوگ میری اُس آرامگاہ میں ہرگز داخل نہ ہوں گے۔“
HEB 4:6 چنانچہ جَب ابھی بھی بعض لوگ اِس آرام میں داخل ہو سکتے ہیں، لیکن جنہوں نے پہلے یہ خُوشخبری سُنی وہ اَپنی نافرمانی کے سبب سے داخل نہ ہو سکے۔
HEB 4:7 تو پھر یہی وجہ ہے کہ خُدا پھر ایک خاص دِن مُقرّر کرتا ہے، جسے وہ ”آج کا دِن“ کہتاہے۔ اَور کیٔی مُدّت کے بعد وہ حضرت داویؔد کی کِتاب زبُور میں اُسے ”آج کا دِن“ کہتاہے جَیسا پہلے ذِکر ہو چُکاہے کہ، ”اگر، آج تُم اُس کی آواز سُنو، تو اَپنے دِلوں کو سخت نہ کرو۔“
HEB 4:8 اَور اگر یہوشُعؔ نے اُنہیں آرام میں داخل کیا ہوتا تو خُدا اُس کے بعد ایک اَور دِن کا ذِکر نہ کرتا۔
HEB 4:9 لہٰذا خُدا کے لوگوں کے لیٔے سَبت کا آرام ابھی باقی ہے۔
HEB 4:10 کیونکہ جو کویٔی خُدا کے آرام میں داخل ہوتاہے وہ خُدا کی طرح اَپنے کاموں کو پُورا کرکے آرام کرتا ہے۔
HEB 4:11 لہٰذا آؤ! ہم اُس آرام میں داخل ہونے کی پُوری کوشش کریں تاکہ کویٔی شخص اُن کی طرح نافرمانی کرکے ہلاک نہ ہو جائے۔
HEB 4:12 کیونکہ خُدا کا کلام زندہ، مؤثر اَور ہر دو دھاری تلوار سے زِیادہ تیز ہے جو ہمارے اَندر جا کر ہماری رُوح، جان، بند بند اَور گُودے گُودے کو چیرتا ہُوا گزر جاتا ہے اَور ہمارے دِل کے خَیالوں اَور اِرادوں کو جانچتا ہے۔
HEB 4:13 اَور کائِنات کی کویٔی بھی چیز خُدا کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے اَور اُس کی آنکھوں کے سامنے ہر چیز کھُلی اَور بے پردہ ہے جسے ہمیں بھی حِساب دینا ہے۔
HEB 4:14 پس جَب ہمارا ایک اَیسا اعلیٰ کاہِن خُدا کا بیٹا یِسوعؔ ہیں جو عالمِ بالا پر خُدا کی حُضُوری میں پہُنچ چُکے ہیں، تو آؤ ہم اَپنے ایمان پر مضبُوطی سے قائِم رہیں۔
HEB 4:15 کیونکہ ہمارا اعلیٰ کاہِن اَیسا نہیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے بَلکہ وہ سَب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تَو بھی بےگُناہ رہا۔
HEB 4:16 لہٰذا آؤ ہم خُدا کے فضل کے تخت کے پاس دِلیری سے چلیں تاکہ ہم پر رحم ہو، اَور وہ فضل حاصل کریں جو ضروُرت کے وقت ہماری مدد کرے۔
HEB 5:1 ہر اعلیٰ کاہِن آدمیوں میں سے آدمیوں کے لیٔے مُنتخب کیا جاتا ہے تاکہ وہ خُدا سے تعلّق رکھنے والی باتوں میں لوگوں کی نُمائندگی کرے یعنی نذریں اَور گُناہوں کی قُربانیاں پیش کرے۔
HEB 5:2 اَور وہ نادانوں اَور گمراہوں سے نرمی کے ساتھ پیش آسکتا ہے کیونکہ وہ خُود بھی کمزوریوں کی گرفت میں مُبتلا رہتاہے۔
HEB 5:3 یہی وجہ ہے کہ اُسے نہ صِرف لوگوں کے گُناہوں کی خاطِر بَلکہ اَپنے گُناہوں کے خاطِر بھی قُربانیاں پیش کرنی پڑتی ہیں۔
HEB 5:4 کسی بھی شخص کو اعلیٰ کاہِن ہونے کی یہ عِزّت اُس کی اَپنی کوشش سے حاصل نہیں ہوتی، جَب تک کہ وہ حضرت ہارونؔ کی طرح خُدا کی طرف سے بُلایا نہ جائے۔
HEB 5:5 اِسی طرح المسیح نے بھی اعلیٰ کاہِن ہونے کا عہدہ خُود ہی اَپنے آپ کو نہیں دیا بَلکہ خُدا نے اُنہیں مُقرّر کرکے حُضُور سے فرمایا، ”تُو میرا بیٹا ہے؛ آج سے میں تیرا باپ بَن گیا ہُوں؟“
HEB 5:6 اَور خُدا دُوسرے مقام پر بھی فرماتے ہیں، ”تُو ملکِ صِدقؔ کے طور پر، اَبد تک کاہِنؔ ہے۔“
HEB 5:7 یِسوعؔ نے اَپنے جِسم میں بشر کے دَوران، پُکار پُکار کر اَور آنسُو بہا بہا کر خُدا سے دعائیں اَور اِلتجائیں کیں جو اُنہیں موت سے بچا سَکتا تھا اَور خُدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی۔
HEB 5:8 اَور بیٹا ہونے کے باوُجُود اُس نے دُکھ اُٹھا اُٹھاکر فرمانبرداری سیکھی
HEB 5:9 اَور کامل بَن کر اَپنے سَب فرمانبرداروں کے لیٔے اَبدی نَجات کا سرچشمہ ہُوا۔
HEB 5:10 اَور یِسوعؔ کو خُدا کی طرف سے ملکِ صِدقؔ کے طور پر اعلیٰ کاہِن کا خِطاب دیا گیا۔
HEB 5:11 اِس کے بارے میں ہمیں بہت کچھ کہنا ہے لیکن تُمہیں سمجھانا مُشکل ہے اِس لیٔے کہ تُم رُوحانی طور پر ناسمجھ ہو اَور اُونچا سُننے لگے ہو۔
HEB 5:12 دراصل اَب تک وقت کے خیال سے تو تُمہیں اُستاد ہو جانا چاہئے تھا لیکن اَب ضروُرت تو اِس بات کی ہے کہ کویٔی شخص خُدا کے کلام کی بُنیادی باتیں تُمہیں پھر سے سِکھائے۔ اَور سخت غِذا کی بجائے تُمہیں تو دُودھ پینے کی ضروُرت پڑ گئی ہے۔
HEB 5:13 کیونکہ جو صِرف دُودھ پیتا ہے وہ تو بچّہ ہوتاہے۔ اُسے راستبازی کے کلام کا تجربہ ہی نہیں ہوتا۔
HEB 5:14 مگر سخت غِذا تو بالغوں کے لیٔے ہوتی ہے جو اَپنے تجربہ کی وجہ سے اِس قابل ہو گیٔے ہیں کہ نیکی اَور بدی میں اِمتیاز کر سکیں۔
HEB 6:1 چنانچہ آؤ! المسیح کی تعلیم کی اِبتدائی بُنیادی باتیں چھوڑکر کاملیت کی طرف قدم بڑھائیں اَور اَیسی باتیں دہرانے کی ضروُرت نہیں ہونی چاہئے جِن سے ایمان کی بُنیاد رکھی جاتی ہے مثلاً بیکار رسومات سے تَوبہ کرنا، خُدا پر ایمان رکھنا،
HEB 6:2 مُختلف پاک غُسل کی ہدایات، کسی کے سَر پر ہاتھ رکھنا، مُردوں کی قیامت اَور اَبدی عدالت۔
HEB 6:3 چنانچہ اگر خُدا نے چاہا، تو اِن باتوں کو چھوڑکر، ہم آگے بڑھیں گے۔
HEB 6:4 کیونکہ جِن لوگوں کے دِل ایک بار نُورِ الٰہی سے رَوشن ہو چُکے ہیں اَورجو آسمانی بخشش کا مزہ چکھ چُکے ہیں، جو پاک رُوح میں شریک ہو چُکے ہیں،
HEB 6:5 اَور خُدا کے عُمدہ کلام اَور آنے والی دُنیا کی قُوّتوں کا ذائقہ لے چُکے ہیں،
HEB 6:6 اگر وہ اَپنے ایمان سے برگشتہ ہو جایٔیں تو اُنہیں پھر سے تَوبہ کی طرف مائل کرنا ممکن نہیں۔ کیونکہ کہ وہ خُدا کے بیٹے کو اَپنی اِس حرکت سے دوبارہ صلیب پر مصلُوب کرکے اُس کی عَلانیہ بے عزّتی کرتے ہیں۔
HEB 6:7 کیونکہ خُدا اُس زمین کو برکت دیتاہے جو اَپنے پر بار بار پڑنے والی بارش کو جذب کرکے اَیسی فصل پیدا کرتی ہے جو کاشت کاروں کے لیٔے مفید ہو۔
HEB 6:8 لیکن اگر وہ زمین صِرف کانٹے اَور جھاڑ جھنکار اُگاتی رہے تو کسی کام کی نہیں۔ اَور اِس خطرے میں ہے کہ اُس پر جلد ہی لعنت بھیجی جائے اَور اُس کا آخِری اَنجام آگ میں جَلایا جاناہے۔
HEB 6:9 اَے عزیزوں! اگرچہ ہم اِس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، تَو بھی ہم تمہاری نِسبت اِن سے بہتر نَجات والی باتوں کا یقین رکھتے ہیں۔
HEB 6:10 اِس لیٔے کہ خُدا بےاِنصاف نہیں جو تمہارے کام اَور اُس مَحَبّت کو بھُول جائے جو تُم نے اُس کی خاطِر اُس کے مُقدّسین لوگوں کی خدمت کرکے ظاہر کی اَور اَب بھی کر رہے ہو۔
HEB 6:11 لیکن ہم اِس بات کے بڑے آرزُومند ہیں کہ تُم میں سے ہر شخص اِسی طرح آخِر تک کوشش کرتا رہے تاکہ جِن باتوں کی تُم اُمّید رکھتے ہو وہ حقیقت میں پُوری ہو جایٔیں۔
HEB 6:12 ہم نہیں چاہتے کہ تُم سُست ہو جاؤ، بَلکہ تُم اُن لوگوں کی مانند بنو جو اَپنے ایمان اَور صبر کے باعث خُدا کے وعدوں کے وارِث ہیں۔
HEB 6:13 چنانچہ جَب خُدا نے حضرت اَبراہامؔ سے وعدہ کرتے وقت قَسم کھانے کے واسطے کسی کو اَپنے سے بڑا نہ پایا تو اُس نے اَپنی ہی قَسم کھا کر
HEB 6:14 یہ فرمایا، ”میں یقیناً تُمہیں برکت دُوں گا اَور تمہاری اَولاد کو بے شُمار بڑھاؤں گا۔“
HEB 6:15 اِس لیٔے حضرت اَبراہامؔ صبر کے ساتھ اِنتظار کرتے رہے اَور وعدہ کی ہُوئی برکت کو حاصل کیا۔
HEB 6:16 آدمی تو اَپنے سے بڑے کی قَسم کھایا کرتے ہیں اَور اِس طرح قَسم کھانے سے ہر بات پکّی ہو جاتی ہے اَور ہر جھگڑے و حُجّت کی گنجائش کو ختم کردیتی ہے۔
HEB 6:17 لہٰذا خُدا نے بھی قَسم کھا کر اَپنے وعدہ کی تصدیق کی کیونکہ وہ اَپنے وعدہ کے وارثین پر صَاف ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ اُس کا اِرادہ کبھی نہیں بدلےگا۔
HEB 6:18 چنانچہ خُدا کا وعدہ اَور خُدا کی قَسم یہ دو اَیسی چیزیں ہیں جو لاتبدیل ہیں اَور اِن کے بارے میں خُدا کبھی جھُوٹ نہیں بولےگا، اِس لیٔے ہم جو دَوڑکر اُس کی پناہ میں آئے ہیں، بڑے حوصلہ سے اُس اُمّید کو مضبُوطی سے تھامے رکھ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے۔
HEB 6:19 کیونکہ یہ اُمّید ہماری جان کے لیٔے اَیسا مضبُوط لنگر ہے جو ثابت اَور قائِم ہے اَور آسمانی بیت المُقدّس کے پاک ترین کمرے کے پردہ کے اَندر تک داخل ہوتی ہے۔
HEB 6:20 جہاں یِسوعؔ پہلے سے ہی ہمارے رہنما کے طور پر داخل ہو چُکے ہیں۔ اَور ملکِ صِدقؔ کے طور پر اَبد تک اعلیٰ کاہِن مُقرّر ہویٔے ہیں۔
HEB 7:1 یہ ملکِ صِدقؔ، شالمؔ کا بادشاہ اَور خُداتعالیٰ کا کاہِنؔ تھا۔ جَب حضرت اَبراہامؔ چند بادشاہوں کو شِکست دے کر واپس آ رہے تھے تو ملکِ صِدقؔ نے اُن کا اِستِقبال کیا اَور اُنہیں برکت دی۔
HEB 7:2 حضرت اَبراہامؔ نے سَب مالِ غنیمت کا دسواں حِصّہ بھی اُسے نذر کیا۔ اوّل تو ملکِ صِدقؔ کے نام کا لَفظی مطلب ہے، ”راستبازی کا بادشاہ“؛ اَور پھر ”شالمؔ کا بادشاہ“ یعنی ”صُلح کا بادشاہ“ ہے۔
HEB 7:3 نہ تو اُس کا باپ یا ماں ہے، اَور نہ ہی اُس کا کویٔی نَسب نامہ ہے، اُس کی زندگی کی نہ تو اِبتدا ہے اَور نہ ہی اِنتہا۔ وہ خُدا کے بیٹے کی مانند اَبدیّت تک کاہِنؔ ہے۔
HEB 7:4 پس اَب غور کرو کہ وہ کِتنا عظیم تھا: جسے قوم کے بُزرگ یعنی حضرت اَبراہامؔ نے سَب مالِ غنیمت کا دسواں حِصّہ دیا!
HEB 7:5 اَور اَب شَریعت طلب کرتی ہے کہ وہ بنی لیوی میں سے جو کاہِنؔ مُقرّر کیٔے جاتے ہیں، اُنہیں حُکم دیا گیا ہے کہ وہ اَپنی اُمّت یعنی اَپنے بھائیوں سے دسواں حِصّہ لیں حالانکہ اُن کے بھایٔی بھی حضرت اَبراہامؔ ہی کی نَسل سے ہیں۔
HEB 7:6 مگر جِس کی نِسبت لیوی سے جُدا ہے اُس نے حضرت اَبراہامؔ سے دسواں حِصّہ لیا اَور جِس سے وعدے کیٔے گیٔے تھے اُسے برکت دی۔
HEB 7:7 اَور اِس میں کویٔی شک نہیں کہ چھوٹا بڑے سے برکت پاتاہے۔
HEB 7:8 اَور یہاں تو فانی اِنسان دسواں حِصّہ لیتے ہیں مگر وہاں وُہی دسواں حِصّہ لیتا ہے جِس کے بارے میں یہ گواہی دی جاتی ہے کہ وہ زندہ ہے۔
HEB 7:9 پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ لیوی نے بھی جو دسواں حِصّہ لیتا ہے، حضرت اَبراہامؔ کے ذریعہ دسواں حِصّہ دیا۔
HEB 7:10 کیونکہ جِس وقت ملکِ صِدقؔ نے حضرت اَبراہامؔ کا اِستِقبال کیا تھا تو لیوی اُس وقت پیدا نہیں ہُوا تھا مگر اَپنے باپ کی صُلب میں مَوجُود تھا۔
HEB 7:11 پس اگر بنی لیوی کی کہانت سے کاملیت حاصل ہوتی (جِس کی بنا پر اُمّت کو شَریعت عطا کی گئی تھی) تو پھر ہارونؔ کی مانند کاہِنؔ کے بجائے ملکِ صِدقؔ کے طور پر ایک دُوسرے کاہِنؔ کے برپا ہونے کی کیا ضروُرت تھی؟
HEB 7:12 کیونکہ جَب کہانت بدل گئی تو شَریعت کا بدل جانا بھی ضروُری ہے۔
HEB 7:13 کیونکہ ہمارے خُداوؔند کی بابت یہ باتیں کہی جاتی ہیں وہ ایک دُوسرے قبیلہ سے تھا اَور اُس قبیلہ کے کسی فرد نے کبھی قُربان گاہ کی خدمت نہیں کی تھی۔
HEB 7:14 چنانچہ یہ ظاہر ہے کہ ہمارے خُداوؔند یہُوداہؔ کی نَسل میں پیدا ہویٔے تھے اَور حضرت مَوشہ نے اِس فرقہ کی کہانت کے حق میں کُچھ ذِکر نہیں کیا ہے۔
HEB 7:15 اَور یہ مُعاملہ اَور بھی صَاف ہو جاتا ہے جَب ملکِ صِدقؔ کی مانند ایک اَور کاہِنؔ برپا ہوتاہے۔
HEB 7:16 جو اَپنے جِسمانی اَحکام کی شَریعت کی بنا پر نہیں بَلکہ غَیر فانی زندگی کی قُوّت کے مُطابق کاہِنؔ مُقرّر ہُوا۔
HEB 7:17 کیونکہ اُس کے بارے میں یہ تصدیق کی گئی ہے، ”تُو ملکِ صِدقؔ کے طور پر، اَبد تک کاہِنؔ ہے۔“
HEB 7:18 چنانچہ وہ پہلا حُکم کمزور اَور بے فائدہ ہونے کے سبب سے منسُوخ ہو گیا،
HEB 7:19 کیونکہ شَریعت نے کسی بھی چیز کو کامِل نہیں کیا۔ اَور اُس کی جگہ ہمیں ایک بہتر اُمّید دی گئی ہے جِس کے وسیلہ سے ہم خُدا کے نزدیک جا سکتے ہیں۔
HEB 7:20 اَور یہ نیا نظام خُدا کی قَسم سے ہی قائِم ہُوا۔ مگر دُوسرے کاہِنؔ تو قَسم کے بغیر مُقرّر ہوتے تھے۔
HEB 7:21 مگر یِسوعؔ قَسم کے ساتھ کاہِنؔ مُقرّر کیٔے گیٔے جَب خُدا نے اُن سے فرمایا، ”خُداوؔند نے قَسم کھائی ہے اَور وہ اَپنا اِرادہ بدلےگا نہیں؛ ’تُم اَبد تک کاہِنؔ ہو۔‘ “
HEB 7:22 اِس قَسم کی وجہ سے یِسوعؔ ایک بہتر عہد کا ضامن ٹھہرے۔
HEB 7:23 چونکہ کاہِنؔ موت کے سبب سے قائِم نہ رہ سکتے تھے اِس لیٔے وہ کثرت سے مُقرّر کیٔے جاتے تھے۔
HEB 7:24 مگر یِسوعؔ اَبد تک زندہ ہیں اِس لیٔے اُن کی کہانت کبھی بھی ختم نہیں ہوگی۔
HEB 7:25 پس جو لوگ یِسوعؔ کے وسیلہ سے خُدا کے پاس آتے ہیں وہ اُنہیں مُکمّل طور سے نَجات دے سکتے ہیں کیونکہ وہ اُن کی شفاعت کرنے کے لیٔے ہمیشہ زندہ ہیں۔
HEB 7:26 ہمیں اَیسے ہی اعلیٰ کاہِن کی ضروُرت تھی جو پاک، بے قُصُور، بے داغ، گُنہگاروں سے الگ اَور آسمانوں سے بھی بُلند تر کیا گیا ہو۔
HEB 7:27 یِسوعؔ کو دُوسرے اعلیٰ کاہِنوں کی طرح اِس کی ضروُرت نہیں کہ روز بہ روز پہلے اَپنے گُناہوں کے لیٔے اَور پھر لوگوں کے گُناہوں کے لیٔے قُربانیاں پیشں کریں۔ کیونکہ حُضُور نے تو اَپنے آپ کو ایک ہی بار میں قُربان کرکے تمام لوگوں کے گُناہوں کا کفّارہ ہمیشہ کے لیٔے اَدا کر دیا۔
HEB 7:28 مُوسوی شَریعت تو غَیر کامل آدمیوں کو اعلیٰ کاہِن مُقرّر کرتی ہے مگر شَریعت کے بعد خُدا نے قَسم کھا کر اَپنے کلام سے اَپنے بیٹے کو مُقرّر کیا جو اَبد تک کامِل کیا جا چُکاہے۔
HEB 8:1 جو باتیں ہم اَب کہہ رہے ہیں اُس میں بڑی بات یہ ہے کہ ہمارا اَیسا اعلیٰ کاہِن ہے جو آسمان پر قادرمُطلق خُدا کے داہنی طرف تخت نشین ہُوئے۔
HEB 8:2 اَور اُس پاک مَقدِس اَور حقیقی مُلاقات کے خیمہ میں خدمت کو اَنجام دیتاہے جسے کسی اِنسان نے نہیں بَلکہ خُود خُداوؔند نے کھڑا کیا ہے۔
HEB 8:3 چونکہ ہر اعلیٰ کاہِن خُدا کو نذرانہ اَور قُربانیاں پیش کرنے کے لیٔے مُقرّر کیا جاتا ہے۔ اِس لیٔے ضروُری تھا کہ ہمارے اعلیٰ کاہِن کے پاس بھی پیش کرنے کے لیٔے کچھ ہو۔
HEB 8:4 اَور اگر وہ زمین پر ہوتا تو ہرگز کاہِنؔ نہ ہوتا کیونکہ یہاں شَریعت کے مُطابق نذرانہ پیش کرنے والے کاہِنؔ مَوجُود ہیں۔
HEB 8:5 جو اُس پاک مَقدِس میں خدمت کرتے ہیں جو آسمانی مَقدِس کی نقل اَور اُس کا عکس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جَب حضرت مَوشہ خیمہ بنانے کو تھے تو خُدا نے اُنہیں ہدایت دی، ”دیکھ، جو نمونہ تُجھے پہاڑ پر دِکھایا گیا تھا اُسی کے مُطابق سَب چیزیں بنانا۔“
HEB 8:6 مگر جو خدمت اَب یِسوعؔ کو بطور کاہِنؔ حاصل ہویٔی ہے وہ اُس پُرانے کہانت سے زِیادہ افضل ہے، کیونکہ جِس عہد کا وہ درمیانی ہے وہ پُرانے عہد سے زِیادہ افضل ہے کیونکہ یہ نیا عہد بہتر وعدوں کی بُنیاد پر باندھا گیا ہے۔
HEB 8:7 کیونکہ اگر پہلے عہد میں کویٔی خامی نہ ہوتی تو دُوسرے عہد کی ضروُرت ہی نہ پڑتی۔
HEB 8:8 لیکن خُدا اُس پُشت کے لوگوں میں خامیاں پا کر فرماتے ہیں: ”دیکھو! وہ دِن آ رہے ہیں، جَب مَیں بنی اِسرائیل کے ساتھ اَور بنی یہُوداہؔ کے ساتھ ایک نیا عہد باندھوں گا۔
HEB 8:9 یہ اُس عہد کی مانند نہ ہوگا جو مَیں نے اُن کے باپ دادا سے اُس وقت باندھا تھا، جَب مَیں نے مُلکِ مِصر سے اُنہیں نکال لانے کے لیٔے اُن کا ہاتھ پکڑا تھا، کیونکہ وہ میرے اُس عہد کے وفادار نہ رہے، خُداوؔند فرماتے ہیں کہ اِس لیٔے میں بھی اُن سے دُورہو گیا۔
HEB 8:10 خُداوؔند فرماتے ہیں کہ جو عہد مَیں بنی اِسرائیل کے ساتھ اُن دِنوں کے بعد باندھوں گا وہ یہ ہے کہ مَیں اَپنے آئین اُن کے دِلوں میں ڈالُوں گا اَور اُن کے ذہنوں پر نقش کر دُوں گا۔ مَیں اُن کا خُدا ہوں گا، اَور وہ میری اُمّت ہوں گے۔
HEB 8:11 اَور ہر شخص اَپنے ہمسایہ کو یا اَپنے بھایٔی کو یہ تعلیم نہ دے گا، ’تُم خُداوؔند کو پہچانو،‘ چُھوٹے سے لے کر بڑے تک، کیونکہ وہ سَب مُجھے نزدیکی سے جان لیں گے،
HEB 8:12 اِس لیٔے کہ مَیں اُن کی بدکاریوں کو مُعاف کر دُوں گا اَور اُن کے گُناہوں کو پھر کبھی یاد نہ کروں گا۔“
HEB 8:13 جَب خُدا ”نئے،“ عہد کا ذِکر کرتا ہے تو وہ پُرانے عہد کو ردّ کر دیتاہے اَورجو شَے پُرانی اَور مُدّت کی ہو جاتی ہے وہ جلدی مِٹ جاتی ہے۔
HEB 9:1 غرض پہلے عہد کے مُطابق بھی عبادت کے ضوابط مَوجُود تھے اَور ایک اَیسا پاک مَقدِس بھی تھا جو دُنیوی تھا۔
HEB 9:2 یعنی ایک خیمہ بنایا گیا تھا۔ جِس کے پہلے کمرے میں چراغدان، میز، اَور اُس پر پڑی مخصُوص کی ہویٔی روٹیاں رکھی رہتی تھیں۔ اِس حِصّہ کو پاک مقام کہتے تھے۔
HEB 9:3 دُوسرے کمرے کے پردہ کے پیچھے وہ خیمہ تھا جسے پاک ترین مقام کہا جاتا تھا۔
HEB 9:4 پاک ترین مقام کے اَندر بخُور جَلانے کے لیٔے سونے کا قُربان گاہ اَور عہد کا صندُوق تھا جو سونے سے منڈھا ہُوا تھا۔ اُس صندُوق میں مَنّ سے بھرا ہُوا سونے کا مرتبان اَور حضرت ہارونؔ کا عصا تھا جِس میں کونپلیں پھوٹ نکلی تھیں اَور عہد کی دو لَوحیں تھیں جِن پر دس اَحکام کَندہ تھے۔
HEB 9:5 اُس صندُوق کے اُوپر الٰہی جلال کے دو مُقرّب فرشتے بنے ہویٔے تھے جو صندُوق کے ڈھکنے یعنی کفّارہ گاہ پر سایہ کرتے تھے۔ لیکن اِن باتوں کا ایک ایک کرکے بَیان کرنے کا ابھی وقت نہیں ہے۔
HEB 9:6 پس جَب ساری چیزیں اِسی طرح سے تیّار ہو جاتی تھیں تو کاہِنؔ خیمہ کے پہلے کمرے میں ہر وقت داخل ہوتے رہتے تھے تاکہ اَپنی خدمت کو جاری رکھیں۔
HEB 9:7 لیکن دُوسرے کمرے میں صِرف اعلیٰ کاہِن سال میں ایک بار ہی جاتا تھا اَور بغیر قُربانی کے خُون لیٔے نہیں جاتا تاکہ اُسے اَپنی اَور اَپنی اُمّت کی انجانی خطاؤں کے لیٔے پیش کرے۔
HEB 9:8 اِس سے پاک رُوح کا یہ اِشارہ تھا کہ جَب تک پہلا خیمہ مَوجُود ہے، پاک ترین مقام میں داخل ہونے کی راہ کھُلی نہیں ہے۔
HEB 9:9 وہ خیمہ مَوجُودہ زمانے کے لیٔے ایک مثال ہے اَور یہ ظاہر کرتا ہے کہ جو نذریں اَور قُربانیاں وہاں پیش کی جاتی ہیں وہ عبادت کرنے والے کے ضمیر کو پاک صَاف کرکے کامل نہیں بنا سکتیں۔
HEB 9:10 کیونکہ اِن کا تعلّق صِرف کھانے پینے اَور جِسم کی طہارت کی مُختلف رسموں سے ہے۔ یہ جِسمانی ضوابط ہیں جو صِرف اُس وقت تک کے لیٔے ہیں جو صِرف نئے نظام کے آنے تک عَمل میں ہیں۔
HEB 9:11 لیکن جَب المسیح اَچھّی چیزوں کا جو پہلے سے ہی ظاہر ہو چُکی ہیں، اعلیٰ کاہِن بَن کر تشریف لایٔے، تَب وہ اُس عظیم اَور کامِل آسمانی خیمہ میں داخل ہویٔے جو اِنسانی ہاتھوں کا بنایا ہُوا نہیں ہے اَور نہ ہی اِس بنائی ہویٔی دُنیا کا حِصّہ ہے۔
HEB 9:12 وہ بکروں اَور بچھڑوں کا خُون لے کر نہیں بَلکہ اَپنا خُون لے کر ایک ہی بار ہمیشہ کے لیٔے پاک ترین مقام میں داخل ہُوا اَور یُوں ہمیں اَبدی نَجات دِلائی۔
HEB 9:13 کیونکہ جَب بکروں اَور بَیلوں کے خُون اَور گائے کی راکھ کے چھڑکے جانے سے ناپاک لوگ جِسمانی طور پر پاک ٹھہرائے جاتے ہیں۔
HEB 9:14 تو المسیح کا خُون جِس نے اَپنے آپ کو اَزلی رُوح کے وسیلہ سے خُدا کے سامنے بے عیب قُربان کر دیا، تو اُس کا خُون ہمارے ضمیر کو اَیسے کاموں سے اَور بھی زِیادہ پاک کرےگا جِن کا اَنجام موت ہے تاکہ ہم زندہ خُدا کی خدمت کریں۔
HEB 9:15 اِسی سبب سے وہ نئے عہد کا درمیانی ہے تاکہ جتنے لوگوں کو خُدا نے بُلایا ہے اُنہیں خُدا کے وعدہ کے مُطابق اَبدی مِیراث حاصل ہو، اَور یہ صِرف اِس لیٔے ممکن ہُوا کیونکہ المسیح نے مَر کر فدیہ دیا تاکہ لوگ اُن گُناہوں سے نَجات پائیں جو اُن سے اُس وقت سرزد ہویٔے تھے، جَب وہ پہلے عہد کے تحت تھے۔
HEB 9:16 وصیّت کے سلسلہ میں وصیّت کرنے والے کی موت کا ثابت ہونا ضروُری ہوتاہے،
HEB 9:17 کیونکہ جَب تک وصیّت کرنے والا زندہ ہو، وصیّت بے اثر ہوتی ہے۔ اُس کی موت کے بعد ہی وصیّت کی تعمیل ہوتی ہے۔
HEB 9:18 یہی وجہ ہے کہ پہلا عہد بھی بغیر خُون کے کارگر ثابت نہیں ہُوا تھا۔
HEB 9:19 چنانچہ جَب حضرت مَوشہ ساری اُمّت کو شَریعت کے تمام حُکم سُنا چُکے تو اُنہُوں نے بچھڑوں اَور بکروں کا خُون پانی سے مِلا کر اُسے سُرخ لال اُون اَور خُوشبودار زُوفے کے گُچّھے سے خُون کو شَریعت کی کِتاب اَور پُوری قوم پر یہ کہتے ہُوئے چھڑک دیا۔
HEB 9:20 اَور فرمایا، ”یہ اُس عہد کا خُون ہے جِس پر عَمل کرنے کا حُکم خُدا نے تُمہیں دیا ہے۔“
HEB 9:21 اِسی طرح حضرت مَوشہ نے مُلاقات کے خیمہ پر اَور خدمت کے تمام سامان پر خُون چھِڑکا۔
HEB 9:22 اَور شَریعت کے مُطابق تقریباً ساری چیزیں خُون سے پاک کی جاتی ہیں اَور بغیر خُون بہائے، گُناہوں کی مُعافی ممکن نہیں۔
HEB 9:23 پس جَب یہ ضروُری تھا کہ یہ چیزیں جو اصل آسمانی چیزوں کی نقل ہیں، اَیسی قُربانیوں سے پاک کی جایٔیں لیکن آسمانی چیزیں خُود اَیسی قُربانیوں کا مطالبہ کرتی ہیں جو اِن سے کہیں زِیادہ بہتر ہوں۔
HEB 9:24 کیونکہ المسیح صِرف اِنسانی ہاتھوں سے بنے پاک مَقدِس میں داخل نہیں ہُوئے جو حقیقی مَقدِس کی نقل ہے بَلکہ وہ عالمِ بالا ہی میں داخل ہو گیٔے جہاں وہ ہماری خاطِر خُدا کے رُوبرو حاضِر ہیں۔
HEB 9:25 یہُودیوں کا اعلیٰ کاہِن تو پاک ترین مقام میں سال میں ایک بار خُود اَپنا نہیں یعنی جانوروں کا خُون لے کر داخل ہوتا تھا لیکن المسیح اَپنے آپ کو بار بار قُربان کرنے کے لیٔے داخل نہیں ہویٔے۔
HEB 9:26 ورنہ بِنائے عالَم سے لے کر اَب تک اُسے بار بار دُکھ اُٹھانا پڑتا۔ مگر اَب آخِر زمانہ میں المسیح ایک بار ظاہر ہُوئے تاکہ اَپنے آپ کو قُربان کرکے گُناہ کو نِیست کر دے۔
HEB 9:27 اَور جِس طرح اِنسان کا ایک بار مَرنا اَور اُس کے بعد عدالت کا ہونا مُقرّر ہے،
HEB 9:28 اُسی طرح المسیح بھی ایک ہی بار تمام لوگوں کے گُناہوں کو اُٹھالے جانے کے لیٔے قُربان ہُوئے۔ اَور دُوسری بار جَب وہ ظاہر ہوں گے تو گُناہوں کو دُور کرنے کے لیٔے نہیں بَلکہ اُنہیں نَجات دینے کے لیٔے تشریف لائیں گے جو اُن کا اِنتظار بڑی شِدّت سے کر رہے ہیں۔
HEB 10:1 مُوسوی شَریعت آئندہ کی اَچھّی چیزوں کا محض ایک عکس ہے نہ کہ اُن کی اصلی صورت۔ اِس لیٔے ایک ہی قِسم کی قُربانیاں جو سال بسال پیش کی جاتی ہیں وہ خُدا کے پاس آنے والوں کو ہرگز کامِل نہیں کر سکتیں۔
HEB 10:2 اگر وہ کامل کر سکتیں تو قُربانیاں پیش کرنے کی ضروُرت نہیں ہوتی؟ کیونکہ اِس صورت میں عبادت کرنے والے ایک ہی بار میں ہمیشہ کے لیٔے پاک صَاف ہو جاتے تو اُن کا ضمیر پھر اُنہیں گُنہگار نہ ٹھہراتا۔
HEB 10:3 لیکن وہ قُربانیاں سال بسال لوگوں کو یاد دِلاتی ہیں کہ وہ گُنہگار ہیں۔
HEB 10:4 کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ بَیلوں اَور بکروں کا خُون گُناہوں کو دُور کر سکے۔
HEB 10:5 لہٰذا المسیح اِس دُنیا میں تشریف لاتے وقت خُدا سے یُوں مُخاطِب ہویٔے، ”تُو قُربانیاں اَور نذریں نہیں چاہتا، لیکن تُونے میرے لیٔے ایک بَدن تیّار کیا؛
HEB 10:6 سوختنی نذروں اَور گُناہ کی قُربانیوں سے تُو خُوش نہ ہُوا۔
HEB 10:7 تَب مَیں نے کہا، ’اَے خُدا، دیکھ، مَیں حاضِر ہُوں تاکہ تیری مرضی پُوری کروں، جَیسا کہ چمڑے کے نوشتے میں میری بابت لِکھّا ہُواہے۔‘ “
HEB 10:8 پہلے المسیح فرماتے ہیں، ”تُو نہ قُربانیوں اَور نذروں، سوختنی نذروں اَور خطا کے ذبیحوں کو نہ چاہتا تھا، اَور نہ اُن سے خُوش ہُوا،“ حالانکہ یہ قُربانیاں شَریعت کے مُطابق پیش کی جاتی ہیں۔
HEB 10:9 اَور پھر وہ فرماتے ہیں، ”دیکھ! مَیں حاضِر ہُوں تاکہ تیری مرضی پُوری کروں۔“ یُوں وہ پہلے نظام کو موقُوف کرتا ہے تاکہ اُس کی جگہ دُوسرے نظام کو قائِم کرے۔
HEB 10:10 اَور اُس کی مرضی پُوری ہو جانے سے ہم یِسوعؔ المسیح کے بَدن کے ایک ہی بار قُربان ہونے کے وسیلہ سے ہمیشہ کے لئے پاک کر دئیے گیٔے ہیں۔
HEB 10:11 ہر ایک کاہِنؔ روزانہ بیت المُقدّس میں کھڑا ہوکر اَپنی خدمت کے فرائض اَدا کرتا ہے اَور ایک ہی قِسم کی قُربانیاں بار بار پیش کرتا ہے جو گُناہوں کو کبھی بھی دُور نہیں کر سکتیں۔
HEB 10:12 لیکن المسیح نے گُناہوں کو دُور کرنے کے لیٔے ایک ہی بار ہمیشہ کی قُربانی پیش کرکے خُدا کی داہنی طرف تخت نشین ہو گیٔے۔
HEB 10:13 اَور اُسی وقت سے المسیح مُنتظر ہیں جَب تک خُداتعالیٰ اُن کے دُشمنوں کو اُن کے پاؤں کی چوکی نہ بنادے۔
HEB 10:14 کیونکہ المسیح نے اَپنی ایک ہی قُربانی سے اُنہیں ہمیشہ کے لیٔے کامِل کر دیا ہے جنہیں مُقدّس کیا جا رہاہے۔
HEB 10:15 پاک رُوح بھی اِس بابت ہمیں یہی گواہی دیتاہے، پہلے وہ فرماتا ہے:
HEB 10:16 ”خُداوؔند فرماتے ہیں جو عہد میں اَپنے لوگوں کے ساتھ اُن دِنوں کے بعد باندھوں گا وہ یہ ہے کہ مَیں اَپنے آئین اُن کے دِلوں میں ڈالُوں گا، اَور اُن کے ذہنوں پر نقش کر دُوں گا۔“
HEB 10:17 اَور پھر وہ فرماتے ہیں، ”میں اُن کے گُناہوں اَور اُن کی بدکاریوں کو پھر کبھی یاد نہ کروں گا۔“
HEB 10:18 پس جَب اِن کی مُعافی ہو گئی ہے تو پھر گُناہوں کو دُور کرنے کی قُربانیوں کی ضروُرت ہی نہیں رہی؟
HEB 10:19 اِس لیٔے اَے بھائیوں اَور بہنوں! جَب ہمیں یِسوعؔ کے خُون کے سبب سے پُورے یقین کے ساتھ پاک ترین مقام میں داخل ہو سکتے ہے۔
HEB 10:20 اَپنی قُربانی سے یِسوعؔ نے ایک نیا اَور زندگی بخش راستہ کھول دیا ہے تاکہ ہم اُس پردے یعنی اُن کے بَدن سے گزر کر پاک ترین مقام کے اَندر داخل ہو جایٔیں۔
HEB 10:21 اَور ہمارا ایک اَیسا عظیم کاہِنؔ ہے جو خُدا کے گھر کا مُختار ہے،
HEB 10:22 تو آؤ! ہم سچّے دِل اَور پُورے ایمان کے ساتھ، اَپنے مُجرم ٹھہرانے والے ضمیر سے پاک ہونے کے لیٔے اَپنے دِل کو اُن کے خُون کے چھِینٹوں سے اَور اَپنے بَدن کو مُقدّس پانی سے صَاف کرکے خُدا کے حُضُور آئیں۔
HEB 10:23 اَور اَپنی اُمّید کے اقرار کو مضبُوطی سے تھامے رہیں کیونکہ جِس نے وعدہ کیا ہے وہ سچّا ہے۔
HEB 10:24 اَور ہم اِس بات پر غور کریں کہ کیسے ہم ایک دُوسرے کو مَحَبّت اَور نیک کام کرنے کے لیٔے ترغِیب دے سکتے ہیں،
HEB 10:25 باہم جمع ہونا نہ چھوڑیں جَیسا بعض لوگوں کی جمع نہ ہونے کی عادت بَن گئی ہے، بَلکہ ہم ایک دُوسرے کو نصیحت کریں۔ خاص کر یہ بات مدِّ نظر رکھ کر کہ خُداوؔند کی دوبارہ آمد کے دِن نزدیک ہیں۔
HEB 10:26 کیونکہ اگر ہم حق کی پہچان حاصل کرنے کے بعد بھی جان بوجھ کر گُناہ کریں تو گُناہوں کی کویٔی اَور قُربانی باقی نہیں رہی۔
HEB 10:27 ہاں صِرف روز عدالت کی خوفناک اَور غضبناک آتِش باقی رہے گی جو خُدا کے مُخالفوں کو جَلا کر خاک کر دے گی۔
HEB 10:28 جَب حضرت مَوشہ کی شَریعت کی خِلاف ورزی کرنے والا دو یا تین چشم دید گواہوں کی گواہی سے بے رحمی کے ساتھ قتل کر دیا جاتا ہے۔
HEB 10:29 تو خیال کرو کہ وہ شخص کس قدر زِیادہ سزا کے لائق ٹھہرے گا، جِس نے خُدا کے بیٹے کو پامال کیا، اَور عہد کے اُس خُون کو جِس سے وہ پاک کیا گیا تھا، ناپاک جانا اَور جِس نے فضل کے رُوح کی بےحُرمتی کی؟
HEB 10:30 کیونکہ ہم اُسے جانتے ہیں جِس نے فرمایاہے، ”اِنتقام لینا میرا کام ہے، بدلہ میں ہی دُوں گا۔“ اَور پھر یہ کہ، ”خُداوؔند اَپنے لوگوں کا اِنصاف کرےگا۔“
HEB 10:31 زندہ خُدا کے ہاتھوں میں پڑنا ہولناک بات ہے۔
HEB 10:32 لیکن ایمان کے اُن اِبتدائی دِنوں کو یاد کرو جَب تُم نے حقیقی رَوشنی پائی اَور شدید تکالیف کا ڈٹ کر مُقابلہ کیا۔
HEB 10:33 یعنی کبھی تو لَعن طَعن اَور مُصیبتوں کے باعث تُم خُود عوام کے سامنے تماشا بنے اَور کبھی تُم نے دُوسروں کی پُوری مدد کی جو اَذیّتیں برداشت کر رہے تھے۔
HEB 10:34 تُم نے قَیدیوں کے ساتھ ہمدردی کی اَور اَپنے جائداد کا لُٹ جانا بھی خُوشی سے قبُول کیا کیونکہ تُم جانتے تھے کہ ایک بہتر اَور دائمی مِلکیّت تمہارے پاس مَوجُود ہے۔
HEB 10:35 پس ہِمّت مت ہارو کیونکہ اِس کا اجر بڑا ہے۔
HEB 10:36 چنانچہ تُمہیں اِس وقت بڑے صبر سے کام لیناہے تاکہ تُم خُدا کی مرضی پُوری کرکے وعدہ کی ہویٔی چیز حاصل کرو۔
HEB 10:37 کیونکہ کِتاب مُقدّس میں یُوں لِکھّا ہے، ”اَب تھوڑی ہی دیر باقی ہے کہ آنے والا آئے گا اَور تاخیر نہ کرےگا۔“
HEB 10:38 اَور ”لیکن میرا راستباز خادِم ایمان سے زندہ رہے گا۔ اَور اگر وہ ڈر کر پیچھے ہٹ جائے، تو میرا دِل اُس سے خُوش نہ ہوگا۔“
HEB 10:39 مگر ہم اُن میں سے نہیں ہیں جو پیچھے ہٹ کر تباہ ہو جاتے ہیں، بَلکہ ہم اُن میں سے ہیں جو ایمان رکھ کر نَجات پاتے ہیں۔
HEB 11:1 اَب ایمان اُمّید کی ہُوئی چیزوں کا اِعتماد اَور نادیدہ چیزوں کی مَوجُودگی کا ثبوت ہے۔
HEB 11:2 قدیم زمانے کے بُزرگوں کے ایمان کی وجہ سے ہی اُن کے حق میں عُمدہ گواہی دی گئی ہے۔
HEB 11:3 ایمان ہی سے ہمیں مَعلُوم ہوتاہے کہ ساری کایِٔنات کی خُدا کے کلام سے خلق ہوئی۔ لیکن یہ نہیں کہ سَب کچھ جو نظر آتا ہے اُس کی پیدائش نظر آنے والی چیزوں سے ہویٔی ہو۔
HEB 11:4 ایمان ہی سے حضرت ہابلؔ نے قائِنؔ سے افضل قُربانی پیش کی جِس کی بِنا پر اُس کی نذر قبُول کرکے خُدا نے اُس کے راستباز ہونے کی گواہی دی اَور اگرچہ حضرت ہابلؔ کی موت ہو چُکی ہے تَو بھی وہ ایمان ہی کے وسیلہ سے اَب تک کلام کرتے ہیں۔
HEB 11:5 ایمان ہی سے حضرت حنوخؔ آسمان پر زندہ اُٹھا لیٔے گیٔے اَور موت کا ذاتی مشاہدہ نہ کیا، ”اَور وہ نظروں سے غائب ہو گئے کیونکہ خُدا نے اُنہیں آسمان پر اُٹھالیا تھا۔“ حضرت حنوخؔ کے اُٹھائے جانے سے پہلے اُن کے حق میں گواہی دی گئی کہ اُنہُوں نے خُدا کو خُوش کیا تھا۔
HEB 11:6 کیونکہ ایمان کے بغیر خُدا کو خُوش کرنا ناممکن ہے، پس واجِب ہے کہ خُدا کے پاس آنے والوں کو ایمان لانا چاہئے کہ خُدا مَوجُود ہے اَور وہ اَپنے طالبِوں کو اجر دیتاہے۔
HEB 11:7 ایمان ہی سے حضرت نُوح نے اُن چیزوں کی بابت جو اُس وقت تک نظر نہ آتی تھیں، ہدایت پا کر خُدا کے خوف سے اَپنے سارے خاندان کو بچانے کے واسطے لکڑی کا ایک پانی کا جہاز بنایا۔ اَور اَپنے ایمان کے ذریعہ سے حضرت نُوح نے دُنیا کو مُجرم ٹھہرایا اَور اُس راستبازی کا وارِث بنے جو ایمان سے حاصل ہوتی ہے۔
HEB 11:8 ایمان ہی سے جَب حضرت اَبراہامؔ بُلائے گیٔے تو وہ خُدا کا حُکم مان کر اُس جگہ چلے گیٔے جو بعد میں اُنہیں مِیراث کے طور پر مِلنے والی تھی حالانکہ وہ جانتے بھی نہ تھے کہ کہاں جا رہے ہیں۔
HEB 11:9 ایمان ہی کے سبب سے وہ وعدہ کیٔے ہویٔے اُس مُلک میں ایک اجنبی کی مانند رہنے لگے؛ حضرت اَبراہامؔ خیموں میں رہتے تھے اَور اِسی طرح حضرت اِصحاقؔ اَور یعقوب نے بھی زندگی گُزاری، جو حضرت اَبراہامؔ کے ساتھ اُسی وعدہ کے وارِث تھے۔
HEB 11:10 کیونکہ حضرت اَبراہامؔ اُس اَبدی بُنیاد والے شہر کے اِنتظار میں تھے، جِس کا خالق اَور تعمیر کرنے والا خُدا ہے۔
HEB 11:11 ایمان ہی سے سارہؔ نے حاملہ ہونے اَور بچّہ پیدا کرنے کی قُوّت پائی حالانکہ وہ عمر رسیدہ تھیں اَور بچّہ پیدا کرنے کے قابل نہیں تھیں، کیونکہ سارہؔ کو یقین تھا کہ وعدہ کرنے والا خُدا وفادار ہے۔
HEB 11:12 پس ایک اَیسے شخص سے جو مُردہ سا تھا، تعداد میں آسمان کے سِتاروں اَور سمُندر کی ریت کے مانند بے شُمار اَولاد پیدا ہُوئی۔
HEB 11:13 یہ سَب لوگ ایمان رکھتے ہویٔے مَر گیٔے اَور وعدہ کی ہُوئی چیزیں نہ پائیں۔ مگر دُور ہی سے اُنہیں دیکھ کر خُوش ہوکر اُس کا اِستِقبال کیا اَور اقرار کرتے رہے کہ ہم زمین پر صِرف مُسافر اَور پردیسی ہیں۔
HEB 11:14 جو اَیسی باتیں کہتے ہیں وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اَب تک اَپنے وطن کی تلاش میں ہیں۔
HEB 11:15 اگر وہ اَپنے چھوڑے ہویٔے مُلک کا خیال کرتے رہتے تو اُنہیں واپس لَوٹ جانے کا بھی موقع تھا۔
HEB 11:16 مگر حقیقت میں وہ ایک بہتر یعنی آسمانی مُلک کی آرزُو کر رہے تھے۔ اِسی لیٔے خُدا اُن کا خُدا کہلانے سے نہیں شرماتا، کیونکہ اُس نے اُن کے لیٔے ایک شہر تیّار کیا ہے۔
HEB 11:17 ایمان ہی سے حضرت اَبراہامؔ نے اَپنے اِمتحان کے وقت اِصحاقؔ کو قُربانی کے طور پر پیش کیا۔ حالانکہ حضرت اَبراہامؔ کو اِصحاقؔ کی شکل میں وعدہ مِل چُکاتھا پھر بھی اَپنے اُسی اِکلوتے بیٹے کو قُربان کرنے والے تھے۔
HEB 11:18 حالانکہ خُدا نے حضرت اَبراہامؔ سے فرمایا تھا کہ، ”تمہاری نَسل کا نام اِصحاقؔ ہی سے آگے بڑھےگا۔“
HEB 11:19 حضرت اَبراہامؔ کا یہ ایمان تھا کہ خُدا مُردوں کو زندہ کرنے کی قُدرت رکھتا ہے، چنانچہ ایک طرح سے حضرت اَبراہامؔ نے اِصحاقؔ کو گویا مُردوں میں سے پھر سے زندہ پایا۔
HEB 11:20 ایمان ہی سے حضرت اِصحاقؔ نے اَپنے دونوں بیٹوں، یعقوب اَور عیسَوؔ کو اُن کے مُستقبِل کے لحاظ سے برکت بخشی۔
HEB 11:21 ایمان ہی سے حضرت یعقوب نے مَرتے وقت حضرت یُوسیفؔ کے دونوں بیٹوں کو برکت بخشی اَور اَپنے عصا کے سِرے کا سہارا لے کر سَجدہ کیا۔
HEB 11:22 ایمان ہی سے حضرت یُوسیفؔ نے مَرتے وقت بنی اِسرائیلؔ کے مُلک مِصر سے نکل جانے کا ذِکر کیا اَور اَپنی ہڈّیوں کو دفن کرنے کے بارے میں اُنہیں حُکم دیا کہ نکلتے وقت اُسے اَپنے ساتھ لے جانا۔
HEB 11:23 ایمان ہی سے حضرت مَوشہ کے والدین نے اُن کے پیدا ہونے کے بعد تین مہینے تک اُنہیں چُھپائے رکھا کیونکہ اُنہُوں نے دیکھا کہ وہ بچّہ خُوبصورت ہے اَور اُنہیں بادشاہ کے حُکم کا خوف نہ رہا۔
HEB 11:24 ایمان ہی سے حضرت مَوشہ نے بڑے ہوکر فَرعوہؔ کی بیٹی کا بیٹا کہلانے سے اِنکار کیا۔
HEB 11:25 اَور گُناہ میں چند دِن لُطف اُٹھانے کی بجائے خُدا کی اُمّت کے ساتھ بدسلُوکی برداشت کرنا زِیادہ پسند کیا۔
HEB 11:26 اَور حضرت مَوشہ نے المسیح کی خاطِر رُسوا ہونے کو مِصر کے خزانوں سے زِیادہ بڑی دولت سمجھا کیونکہ اُن کی نگاہ اجر پانے پر لگی تھی۔
HEB 11:27 ایمان ہی سے حضرت مَوشہ نے بادشاہ کے غُصّہ سے خوف نہ کھایا بَلکہ مُلکِ مِصر کو چھوڑ دیا؛ کیونکہ وہ گویا غَیر مریٔی خُدا کو دیکھ کر آگے قدم بڑھاتے رہے۔
HEB 11:28 ایمان ہی سے حضرت مَوشہ نے عیدِفسح کرنے اَور خُون چھڑکنے پر عَمل کیا تاکہ پہلوٹھوں کو ہلاک کرنے والا فرشتہ بنی اِسرائیلؔ کے پہلوٹھوں کو ہاتھ نہ لگائے۔
HEB 11:29 ایمان ہی سے بنی اِسرائیلؔ بحرِقُلزمؔ سے اِس طرح گزر گیٔے جَیسا کہ خُشک زمین ہو۔ لیکن جَب مِصریوں نے اُسے پار کرنے کی کوشش کی تو ڈُوب گیٔے۔
HEB 11:30 ایمان ہی سے یریحوؔ کی شہرپناہ جَب اِسرائیلی فَوج سات دِن تک اُس کے اِردگرد چکّر لگا چُکی تو وہ شہرپناہ گِر پڑی۔
HEB 11:31 ایمان ہی سے راحبؔ فاحِشہ نافرمانوں کے ساتھ ہلاک نہ ہویٔی کیونکہ اُس نے اِسرائیلی جاسُوسوں کا سلامتی کے ساتھ اِستِقبال کیا تھا۔
HEB 11:32 اَب اَور کیا کہُوں؟ میرے پاس اِتنی فُرصت کہاں کہ گدعونؔ، بَراقؔ، سمسُونؔ، یِفتاحؔ، حضرت داویؔد اَور سمُوئیل اَور دیگر نبیوں کا حال بَیان کروں،
HEB 11:33 اُنہُوں نے ایمان ہی سے سلطنتوں کو مغلُوب کیا، راستبازی کے کام کیٔے، وعدہ کی ہُوئی چیزوں کو حاصل کیا، شیروں کے مُنہ بند کیٔے،
HEB 11:34 آگ کے بھڑکتے شُعلوں کو بُجھا دیا، شمشیر کی دھار سے بچ نکلے، کمزوری میں اُنہیں قُوّت حاصل ہویٔی، جنگ میں طاقتور ثابت ہویٔے، دُشمنوں کی فَوجوں کو شِکست دی۔
HEB 11:35 عورتوں نے اَپنے مُردہ عزیزوں کو پھر سے زندہ پایا، بعض مار کھاتے ہویٔے مَر گیٔے مگر رِہائی منظُور نہ کی تاکہ اُنہیں قیامت کے وقت ایک بہتر زندگی حاصل ہو۔
HEB 11:36 بعض لوگوں کا مذاق اُڑایا گیا اَور اُنہیں کوڑے مارے گیٔے، بعض زنجیروں میں جکڑے اَور قَیدخانوں میں ڈالے گیٔے۔
HEB 11:37 سنگسار کیٔے گیٔے، آرے سے چیرے گیٔے؛ شمشیر سے قتل کیٔے گیٔے۔ اُنہیں بھیڑوں اَور بکریوں کی کھال اوڑھے ہویٔے مارے مارے پِھرنا پڑا، مُحتاجی اَور بدسلُوکی کا سامنا کیا، اُن پر ظُلم و سِتم ڈھائے گیٔے۔
HEB 11:38 دُنیا اُن کے لائق نہ تھی۔ وہ جنگلوں اَور پہاڑوں میں بھٹکتے رہے، غاروں اَور زمین کے درّو میں آوارہ پھرتے رہے۔
HEB 11:39 اِن سَب کے حق میں اُن کے ایمان کے سبب سے اَچھّی گواہی دی گئی ہے، تَو بھی اُنہیں وعدہ کی ہُوئی چیز حاصل نہ ہوئی۔
HEB 11:40 کیونکہ خُدا نے ہمارے لیٔے ایک بہتر منصُوبہ بنایا تھا کہ ہم لوگ اُس کے بغیر کاملیت تک نہ پہُنچیں۔
HEB 12:1 چنانچہ جَب گواہوں کااِتنا بڑا بادل ہمیں گھیرے ہویٔے ہے، تو آؤ ہم بھی ہر ایک رُکاوٹ اَور اُس گُناہ کو جو ہمیں آسانی سے اُلجھا لیتا ہے، دُور کرکے اُس دَوڑ میں صبر سے دَوڑیں جو ہمارے لیٔے مُقرّر کی گئی ہے۔
HEB 12:2 اَور ایمان کے بانی اَور کامِل کرنے والے یِسوعؔ پر اَپنی نظریں جمائے رکھیں جِس نے اُس خُوشی کے لیٔے جو اُن کی نظروں کے سامنے تھی، شرمندگی کی پروا نہ کرتے ہویٔے صلیبی موت کا دُکھ سہا اَور خُدا کے داہنی طرف تخت نشین ہیں۔
HEB 12:3 تُم اُن پر غور کرو جِس نے گُنہگاروں کی کتنی بڑی مُخالفت برداشت کی تاکہ تُم بے دِل ہوکر ہِمّت نہ ہارو۔
HEB 12:4 تُم نے گُناہ سے لڑتے ہویٔے اَب تک اَیسا مُقابلہ نہیں کیا کہ تمہارا خُون نہ بہایا جائے۔
HEB 12:5 اَور کیا تُم اُس نصیحت کو بالکُل بھُول گیٔے جِس میں باپ نے تُمہیں اَپنا فرزند سمجھ کر تُمہیں مُخاطِب کیا ہے، ”اَے میرے بیٹے! خُداوؔند کی تربّیت کو ناچیز نہ جان، اَور جَب وہ تُجھے ملامت کرے تو بے دِل نہ ہو،
HEB 12:6 کیونکہ جِس سے خُداوؔند مَحَبّت رکھتا ہے اُسے تنبیہ بھی کرتا ہے، اَور جسے بیٹا بنا لیتا ہے اُسے کوڑے بھی لگاتاہے۔“
HEB 12:7 اَپنی مُصیبتوں کو الٰہی تنبیہ سمجھ کر برداشت کرو گویا خُدا تُمہیں اَپنے فرزند سمجھ کر تمہاری تربّیت کر رہاہے۔ کیونکہ وہ کون سا بیٹا ہے جسے اُس کا باپ تنبیہ نہیں کرتا؟
HEB 12:8 اگر تمہاری تنبیہ سَب کی طرح نہیں کی جاتی تو، تُم بھی ناجائز فرزند ٹھہرتے اَور خُداوؔند کی حقیقی بیٹیاں اَور بیٹے نہیں ٹھہرتے۔
HEB 12:9 اِس کے علاوہ، جَب ہمارے جِسمانی باپ ہماری تنبیہ کرتے تھے تو ہم اُن کی تعظیم کرتے تھے، تو کیا رُوحانی باپ کی اِس سے زِیادہ تابع داری نہ کریں تاکہ زندہ رہیں؟
HEB 12:10 ہمارے جِسمانی باپ تو تھوڑے دِنوں کے لیٔے اَپنی سمجھ کے مُطابق ہمیں تنبیہ کرتے تھے لیکن خُدا ہمارے فائدہ کے لیٔے ہمیں تنبیہ کرتا ہے تاکہ ہم اُس کی پاکیزگی میں شریک ہونے کے لائق بَن جایٔیں۔
HEB 12:11 اِس میں شک نہیں جَب تنبیہ کی جاتی ہے تو اُس وقت وہ خُوشی کا نہیں بَلکہ غم کا باعث مَعلُوم ہوتی ہے مگر جو اُسے سَہہ سَہہ کر پُختہ ہو گیٔے ہیں اُنہیں بعد میں راستبازی اَور سلامتی کا اجر ملتا ہے۔
HEB 12:12 چنانچہ اَپنے تھکے ہویٔے بازوؤں اَور کمزور گھٹنوں کو مضبُوط کرو۔
HEB 12:13 ”اَور اَپنے پاؤں کے لیٔے سیدھے راستہ بناؤ“ تاکہ لنگڑا عُضو ٹوٹ نہ جائے بَلکہ شفایاب رہے۔
HEB 12:14 سَب کے ساتھ کوشش کرکے صلاح و سلامتی سے رہو اَور اُس پاکیزگی کے طالب رہو جِس کے بغیر کویٔی خُداوؔند کو نہ دیکھے گا۔
HEB 12:15 اِس بات پر غور کرنا کہ کویٔی شخص خُدا کے فضل سے محروم رہ جائے، اَور اَیسا نہ ہو کہ کویٔی کڑوی جڑ پھوٹ نکلے اَور تُمہیں تکلیف دے اَور بہُتوں کو ناپاک کر دے۔
HEB 12:16 اَور نہ کویٔی شخص زناکار ہو یا عیسَوؔ کی طرح خُدا کا مُخالف ہو جِس نے ایک وقت کے کھانے کے عوض میں اَپنے پہلوٹھے ہونے کا حق بیچ ڈالا۔
HEB 12:17 کیونکہ تُم جانتے ہو کہ بعد میں جَب اُس نے وہ برکت دوبارہ پانے کی کوشش کی تو ناکام رہا۔ چنانچہ اُس وقت اُسے تَوبہ کا موقع نہ مِلا حالانکہ اُس نے آنسُو بہا بہا کر یہ برکت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
HEB 12:18 تُم اُس پہاڑ کے پاس نہیں آئے جسے چھُونا ممکن تھا، اَور وہ پہاڑ آگ سے جلتا تھا اَور اُس پر کالی گھٹا، تاریکی اَور طُوفان سے گھِرا ہُوا تھا۔
HEB 12:19 اَور وہاں نرسنگے کی تیز آواز اَور کلام کرنے والے کی اَیسی خوفناک آواز سُنایٔی دی تھی کہ جنہوں نے اُسے سُنا، اُنہُوں نے درخواست کی کہ ہم سے اَب اَور کلام نہ کیا جائے۔
HEB 12:20 کیونکہ وہ اُس حُکم کو برداشت نہ کر سکے، ”اگر کویٔی جانور بھی اُس پہاڑ کو چھُوئے تو وہ فوراً سنگسار کیا جائے۔“
HEB 12:21 وہ منظر اِتنا ہیبت ناک تھا کہ حضرت مَوشہ نے کہا، ”میں خوف کے مارے تھرتھرا رہا ہُوں۔“
HEB 12:22 لیکن تُم کوہِ صِیّونؔ اَور زندہ خُدا کے شہر یعنی آسمانی یروشلیمؔ اَور بے شُمار فرشتوں اَور جَشن منانے والی جماعت کے پاس آئے ہو۔
HEB 12:23 اَور اُن پہلوٹھوں کی جماعت کے پاس جِن کے نام آسمان پر لکھے ہویٔے ہیں۔ اَور تُم اُس خُدا کے پاس آ چُکے ہو جو سَب کا مُنصِف ہے۔ تُم کامِل کیٔے ہویٔے راستبازوں کی رُوحوں،
HEB 12:24 اَور نئے عہد کے درمیانی، یِسوعؔ اَور اُس کے چھڑکے ہویٔے خُون کے پاس آ چُکے ہو، جو ہابلؔ کے خُون کی نِسبت بہتر باتیں کہتاہے۔
HEB 12:25 چنانچہ خبردار رہو کہ اُس کا جو تُم سے ہم کلام ہو رہاہے اِنکار نہ کرنا کیونکہ جَب وہ لوگ زمین پر تنبیہ کرنے والے حضرت مَوشہ کا اِنکار کرکے نہ بچ سکے تو ہم آسمان پر کے ہدایت کرنے والے کا اِنکار کرکے کیسے بچیں گے؟
HEB 12:26 اُس وقت تو اُس کی آواز نے زمین کو ہلا دیا تھا مگر اَب اُس نے یہ وعدہ کیا ہے کہ، ”پھر ایک بار میں فقط خُشکی کو ہی نہیں بَلکہ آسمانوں کو بھی ہلا دُوں گا۔“
HEB 12:27 اَور یہ عبارت ”ایک بار پھر“ صَاف ظاہر کرتی ہے کہ خلق کی ہُوئی ساری چیزیں ہلایٔی اَور مٹا دی جایٔیں گی، تاکہ وُہی چیزیں قائِم رہیں جو ہلایٔی نہیں جا سکتی ہیں۔
HEB 12:28 چنانچہ جَب ہمیں اَیسی بادشاہی عطا کی جا رہی ہے جسے ہلایا نہیں جا سَکتا تو آؤ ہم خُدا کا شُکر اَدا کریں اَور اُس کی عبادت خُدا ترسی و خوف کے ساتھ کریں تاکہ وہ خُوش ہو سکے۔
HEB 12:29 کیونکہ ہمارا ”خُدا بھسم کر دینے والی آگ ہے۔“
HEB 13:1 ایک دُوسرے سے بھائیوں اَور بہنوں کی طرح برادرانہ مَحَبّت قائِم رکھو۔
HEB 13:2 اجنبیوں کی مُسافر پروَری کرنا مت بھُولو، کیونکہ اَیسا کرنے سے بعض نے فرشتوں کی بے خبری میں مہمان نوازی کی ہے۔
HEB 13:3 قَیدیوں کو اِس طرح یاد رکھو کہ گویا تُم خُود اُن کے ساتھ قَید ہو، اَور جِن کے ساتھ بدسلُوکی کی جاتی ہے اُنہیں بھی یہ سمجھ کر یاد رکھو گویا تمہارے جِسم ساتھ یہ بدسلُوکی ہو رہی ہو۔
HEB 13:4 شادی کرنا سَب لوگوں میں عزّت کی بات سَمجھی جائے اَور شوہر اَور بیوی ایک دُوسرے کے وفادار رہیں اَور اُن کے شادی کا بِستر ناپاک نہ ہونے پایٔے، کیونکہ خُدا زناکاروں اَور زانیوں کی عدالت کرےگا۔
HEB 13:5 اَپنی زندگی کو زَر دوستی سے آزاد رکھو، اَور جِتنا تمہارے پاس ہے اُسی پر قناعت کرو کیونکہ خُدا نے فرمایاہے، ”مَیں تُجھ سے کبھی دست بردار نہ ہوں گا؛ اَور مَیں تُجھے کبھی نہ چھوڑوں گا۔“
HEB 13:6 اِس لیٔے ہم پُورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں، ”خُداوؔند میرا مددگار ہے؛ اِس لیٔے میں خوف نہ کروں گا۔ اِنسان میرا کیا بِگاڑ سَکتا ہے۔“
HEB 13:7 اَپنے رہنماؤں کو یاد رکھو جنہوں نے تُمہیں خُدا کا کلام سُنایا تھا۔ اَور اُن کی زندگی کے اَنجام پر غور کرو کہ وہ کیسی تھی پھر اُن کے ایمان کے نمونہ پر عَمل کرو۔
HEB 13:8 یِسوعؔ المسیح کل اَور آج بَلکہ اَبد تک یکساں ہے۔
HEB 13:9 مُختلف اَور عجِیب تعلیمات سے گُمراہ مت ہونا۔ بہتر یہ ہے کہ تمہارے دِل خُدا کے فضل سے قُوّت پائیں نہ کہ مُختلف پرہیزی کھانوں سے اِس سے کھانے والوں کو کویٔی خاص فائدہ نہ پہُنچا۔
HEB 13:10 ہماری ایک اَیسی قُربان گاہ ہے جِس میں سے مَقدِس کے خیمہ کی خدمت کرنے والوں کو کھانے کا کویٔی اِختیار نہیں۔
HEB 13:11 کیونکہ اعلیٰ کاہِن جِن جانوروں کا خُون پاک ترین مقام میں گُناہ کے کفّارہ کے واسطے لے جاتا ہے اُن کے جِسم خیمہ کی حُدوُد سے باہر جَلا دئیے جاتے ہیں۔
HEB 13:12 اِسی لیٔے یِسوعؔ نے بھی اُمّت کو خُود اَپنے خُون سے پاک کرنے کے لیٔے شہر کے پھاٹک کے باہر صَلیبی موت کا دُکھ اُٹھایا۔
HEB 13:13 چنانچہ آؤ! ہم خیمہ کی حُدوُد سے باہر نکل کر اُس کے پاس چلیں اَور اُس کی ذِلّت میں شریک ہوں۔
HEB 13:14 کیونکہ یہاں ہمارا کویٔی قائِم رہنے والا شہر نہیں بَلکہ ہم ایک آنے والے شہر کی شدید آرزُو میں ہیں۔
HEB 13:15 چنانچہ ہم یِسوعؔ کے وسیلہ سے اَپنی حَمد کی قُربانی خُدا کے حُضُور میں پیش کرتے رہیں جو اُس کے نام کا اقرار کرنے والے ہونٹوں کا پھل ہے۔
HEB 13:16 دُوسروں کے ساتھ نیکی اَور سخاوت کرنا مت بھُولو کیونکہ خُدا اَیسی قُربانیوں سے خُوش ہوتاہے۔
HEB 13:17 اَپنے رہنماؤں کے فرمانبردار اَور اُن کے تابع رہو کیونکہ وہ تمہاری رُوحوں کے نگہبان ہیں جنہیں اِس خدمت کا حِساب خُدا کو دینا ہوگا۔ اُن کی بات مانو تاکہ وہ تکلیف کے ساتھ نہیں بَلکہ خُوشی سے اَپنی خدمت سَر اَنجام دیں۔ کیونکہ اِس صورت میں تُمہیں کویٔی فائدہ نہ ہوگا۔
HEB 13:18 ہمارے واسطے دعا کرتے رہو۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارا ضمیر صَاف ہے اَور ہم ہر لِحاظ سے اِحترام کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔
HEB 13:19 میں خاص کر تُم سے اِلتجا کرتا ہُوں کہ تُم دعا کرو کہ میں جلد تمہارے پاس آ سکوں۔
HEB 13:20 اَب خُدا جو اِطمینان کا سرچشمہ ہے، جو اَبدی عہد کے خُون کے باعث، ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ اَور بھیڑوں کے عظیم چرواہے کو مُردوں میں سے زندہ کرکے اُٹھالیا،
HEB 13:21 وُہی خُدا تُمہیں ہر نیک بات میں کامِل کرے تاکہ تُم اُس کی مرضی پُوری کر سکو، اَورجو کچھ اُس کی نظر میں پسندِیدہ ہے، اُسے یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے ہم میں بھی پیدا کرے۔ خُدا کی تمجید ہمیشہ تک ہوتی رہے۔ آمین۔
HEB 13:22 اَے بھائیوں اَور بہنوں! میں اِلتجا کرتا ہُوں کہ میری نصیحت کی باتوں کو صبر کے ساتھ سُن لو جنہیں مَیں نے تُمہیں مُختصر طور پر صِرف چند الفاظ میں تحریر کیا ہے۔
HEB 13:23 تُمہیں مَعلُوم ہو کہ ہمارا بھایٔی تِیمُتھِیُس رِہا کر دیا گیا ہے۔ اگر وہ جلد تشریف لے آئے تو ہم دونوں تُم سَب سے مِلنے آئیں گے۔
HEB 13:24 اَپنے سَب رہنماؤں اَور خُداوؔند کے سارے مُقدّسین کو میرا سلام کہنا۔ اِطالیہؔ کے مُومِنین تُمہیں سلام کہتے ہیں۔
HEB 13:25 تُم سَب پر خُدا کا فضل ہوتا رہے۔
JAM 1:1 یعقوب کی جانِب سے جو خُدا کا اَور خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا خادِم ہے،
JAM 1:2 میرے بھائیوں اَور بہنوں! جَب تُم طرح طرح کی آزمائشوں کا سامنا کرتے ہو، تو اِسے بڑی خُوشی کی بات سمجھو
JAM 1:3 کیونکہ تُم جانتے ہو کہ تمہارے ایمان کا اِمتحان صبر پیدا کرتا ہے۔
JAM 1:4 اَور صبر کو اَپنا پُورا کام کرنے دو تاکہ تُم اَپنے ایمان میں پُختہ اَور کامِل ہو جاؤ اَور تُم میں کسی بات کی کمی نہ رہے۔
JAM 1:5 اگر تُم میں سے کسی میں حِکمت کی کمی ہو تو وہ خُدا سے مانگے جو سَب کو بغیر ملامت کیٔے فیّاضی سے دیتاہے اَور تُمہیں بھی عطا فرمایٔے گا۔
JAM 1:6 مگر ایمان کے ساتھ مانگے اَور ذرا بھی شک نہ کرے، کیونکہ شک کرنے والا سمُندر کی لہر کی مانند ہوتاہے جو ہَوا کے زور سے بہتی اَور اُچھلتی رہتی ہے۔
JAM 1:7 اَیسا شخص یہ اُمّید نہ لگائے کہ اُسے خُداوؔند سے کچھ ملے گا۔
JAM 1:8 اِس لیٔے کہ وہ شخص دو دِلا ہے اَور اَپنے کسی کام میں مُستقِل نہیں۔
JAM 1:9 جو مُومِنین پست حالی میں ہیں اُنہیں اَپنے اعلیٰ مرتبہ پر فخر کرنا چاہئے۔
JAM 1:10 مگر دولتمند کو اَپنے ادنیٰ مرتبہ پر فخر کرنا چاہئے کیونکہ دولتمند جنگلی پھُول کی طرح مُرجھا کر ختم ہو جایٔےگا۔
JAM 1:11 کیونکہ سُورج طُلوع ہوتے ہی سخت دھوپ لگتی ہے اَور پَودے کو سُکھا دیتی ہے۔ اَور اُس کا پھُول جھڑ جاتا ہے اَور اُس کی تمام خُوبصُورتی ختم ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح دولتمند کی زندگی بھی اُس کے کاروبار کے دَوران فنا ہو جایٔےگی۔
JAM 1:12 مُبارک ہے وہ آدمی جو آزمائش کے وقت صبر سے کام لیتا ہے، کیونکہ جَب مقبُول ٹھہرے گا تو زندگی کا تاج پایٔےگا جِس کا خُداوؔند نے اَپنے مَحَبّت کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے۔
JAM 1:13 جَب کسی کو آزمایا جائے تو، وہ یہ نہ کہے، ”میری آزمائش خُدا کی طرف سے ہو رہی ہے۔“ کیونکہ نہ تو خُدا بدی سے آزمایا جا سَکتا ہے اَور نہ وہ کسی کو آزماتا ہے۔
JAM 1:14 مگر ہر شخص خُود اَپنی ہی خواہشوں میں کھنچ کر اَور پھنس کر آزمایا جاتا ہے۔
JAM 1:15 پھر خواہش حاملہ ہوکر گُناہ کو پیدا کرتی ہے اَور گُناہ اَپنے شباب پر پہُنچ کر موت کو خلق کرتا ہے۔
JAM 1:16 اَے میرے پیارے بھائیوں اَور بہنوں! فریب مت کھاؤ۔
JAM 1:17 ہر اَچھّی نِعمت اَور کامِل تحفہ آسمان سے اَور نُوروں کے باپ کی طرف سے ہی نازل ہوتاہے۔ وہ سایہ کی طرح گھٹتا یا بڑھتا نہیں بَلکہ لاتبدیل ہے۔
JAM 1:18 اُس نے اَپنی مرضی سے ہمیں کلامِ حق کے وسیلہ سے پیدا کیا تاکہ اُس کی مخلُوقات میں سے ہم گویا پہلے پھل ہوں۔
JAM 1:19 اَے میرے عزیز بھائیوں اَور بہنوں! اِس بات کا خیال رکھنا کہ ہر آدمی سُننے میں تیز اَور بولنے اَور غُصّہ کرنے میں دھیما ہو۔
JAM 1:20 کیونکہ اِنسان کا غُصّہ وہ راستبازی پیدا نہیں کرتا جو خُدا چاہتاہے۔
JAM 1:21 چنانچہ اَپنی زندگی کی ساری ناپاکی اَور بدی کی ساری گندگی کو دُور کرکے اُس کلام کو حلیمی سے قبُول کر لو جو تمہارے دِلوں میں بویا گیا ہے اَورجو تُمہیں نَجات دے سَکتا ہے۔
JAM 1:22 صِرف کلام کے سُننے والے نہ بنو، بَلکہ کلام پر عَمل کرنے والے بنو۔ ورنہ تُم خُودی کو فریب دے رہے ہو۔
JAM 1:23 کیونکہ جو کویٔی کلام کو سُنتا ہے لیکن اُس پر عَمل نہیں کرتا وہ اُس آدمی کی مانند ہے جو آئینہ میں اَپنی صورت دیکھتا ہے۔
JAM 1:24 اَور خُود کو دیکھ کر چلا جاتا ہے اَور فوراً بھُول جاتا ہے کہ وہ کیسا دِکھائی دیتاہے۔
JAM 1:25 لیکن جو شخص آزاد کرنے والی کامِل شَریعت کا گہرائی سے غور کرتا اَور اُس پر قائِم رہتاہے تو وہ سُن کر بھُولنے والا نہیں بَلکہ اُس پر عَمل کرنے والا ہے۔ اَیسا شخص اَپنے ہر کام میں برکت پایٔےگا۔
JAM 1:26 اگر کویٔی شخص اَپنے آپ کو دیندار سمجھتا ہے مگر پھر بھی اَپنی زبان کو قابُو میں نہیں رکھتا تو وہ اَپنے آپ کو دھوکا دیتاہے۔ اَور اُس کا دین فُضول ہے۔
JAM 1:27 ہمارے خُدا باپ کی نظر میں حقیقی اَور بے عیب دینداری یہ ہے کہ مُصیبت کے وقت یتیموں اَور بیواؤں کی خبر لیں اَور اَپنے آپ کو دُنیا سے بے داغ رکھیں۔
JAM 2:1 اَے میرے بھائیوں اَور بہنوں! تُم جو ہمارے جلالی خُداوؔند یِسوعؔ المسیح پر ایمان رکھتے ہو، طرفداری نہ دِکھایا کرو۔
JAM 2:2 فرض کرو کہ ایک شخص سونے کی انگُوٹھی اَور نفیس لباس پہن کر تمہاری جماعت میں آئے، اَور ایک غریب شخص مَیلے کُچیلے کپڑے پہنے ہویٔے آئے۔
JAM 2:3 اَور تُم اُس عُمدہ پوشاک والے کا خاص لِحاظ کرکے اُس سے کہو، ”جَناب! آپ یہاں اَچھّی جگہ بیٹھیٔے“ اَور اُس غریب شخص سے کہو، ”تُو وہاں کھڑا رہ“ یا ”میرے پاؤں کے پاس فرش پر بیٹھ جا۔“
JAM 2:4 تو کیا تُم نے باہم طرفداری نہ کی اَور بدنیّتی سے فیصلہ نہیں کیا؟
JAM 2:5 اَے میرے پیارے بھائیوں اَور بہنوں، سُنو! کیا خُدا نے دُنیا کی نظر میں جو غریب ہیں اُنہیں نہیں چُنا تاکہ وہ ایمان میں دولتمند اَور اُس بادشاہی کے وارِث ہو جایٔیں جِس کا اُس نے اَپنے مَحَبّت رکھنے والوں سے وعدہ کیا ہے؟
JAM 2:6 لیکن تُم نے غریب آدمی کی بے عزّتی کی ہے، کیا دولتمند ہی تُم پر ظُلم نہیں ڈھاتے اَور تُمہیں عدالتوں میں کھینچ کر نہیں لے جاتے؟
JAM 2:7 کیا یہ لوگ اُس اعلیٰ نام پر کُفر نہیں بکتے جِس نام سے تُم پہچانے جاتے ہو۔
JAM 2:8 اگر تُم کِتاب مُقدّس کی اِس شاہی شَریعت کے مُطابق، ”اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھو،“ اِس پر عَمل کرتے ہو تو، صحیح کر رہے ہو۔
JAM 2:9 لیکن اگر تُم طرفداری کرتے ہو تو گُناہ کرتے ہو، اَور شَریعت تُمہیں قُصُوروار ٹھہراتی ہے۔
JAM 2:10 کیونکہ اگر کویٔی ساری شَریعت پر عَمل کرے مگر کسی ایک حُکم کو ماننے میں چُوک جائے تو وہ ساری شَریعت کا قُصُوروار ٹھہرتا ہے۔
JAM 2:11 کیونکہ جِس نے فرمایا، ”زنا نہ کرنا،“ اُس نے یہ بھی فرمایا، ”تُم خُون نہ کرنا۔“ پس اگر تُم نے زنا تو نہیں کیا مگر خُون کر ڈالا، تو بھی تُم شَریعت کے نافرمان ٹھہرے۔
JAM 2:12 اِس لیٔے تمہارا قول و عَمل اُن لوگوں کی مانند ہو، جِن کا اِنصاف آزادی کی شَریعت کے مُطابق ہوگا۔
JAM 2:13 اِس لیٔے کہ جِس نے رحم نہیں کیا اُس کا اِنصاف بغیر رحم کے کیا جائے گا۔ رحم اِنصاف پر غالب آتا ہے۔
JAM 2:14 اَے میرے بھائیوں اَور بہنوں! اگر کویٔی کہے کہ میں ایمان رکھتا ہُوں اَور وہ اعمال نہ کرتا ہو تو کیا فائدہ؟ کیا اَیسا ایمان اُسے نَجات دے سَکتا ہے؟
JAM 2:15 فرض کرو کہ اگر کسی بھایٔی یا بہن کے پاس کپڑوں اَور روزانہ روٹی کی کمی ہو۔
JAM 2:16 اَور تُم میں سے کویٔی اُنہیں کہے، ”سلامتی کے ساتھ جاؤ، گَرم کپڑے پہنو اَور کھا کر سیر رہو،“ لیکن اُنہیں زندگی کی ضروُری چیزیں نہ دے تو خالی الفاظ سے کیا فائدہ ہوگا؟
JAM 2:17 ٹھیک اِسی طرح سے ایمان کے ساتھ اگر اعمال نہ ہو تو وہ مُردہ ہے۔
JAM 2:18 ہو سَکتا ہے کہ کویٔی بحث کرے، ”تُو ایمان رکھتا ہے اَور میں اعمال رکھتا ہُوں۔“ تُو بغیر اعمال کے اَپنا ایمان مُجھے دِکھا اَور میں اَپنا ایمان اَپنے اعمال سے تُجھے دِکھاؤں گا۔
JAM 2:19 تُو ایمان رکھتا ہے کہ خُدا ایک ہے۔ شاباش! یہ تو شَیاطِین بھی ایمان رکھتے ہیں اَور تھرتھراتے ہیں۔
JAM 2:20 اَے احمق اِنسان! کیا تُجھے اَب ثبوت چاہئے کہ ایمان عَمل کے بغیر فُضول ہے؟
JAM 2:21 کیا ہمارے باپ حضرت اَبراہامؔ نے جَب اَپنے بیٹے حضرت اِصحاقؔ کو قُربان گاہ پر نذر کیا تو کیا وہ اَپنے اُس اعمال سے راستباز نہیں ٹھہرائے گیٔے؟
JAM 2:22 چنانچہ تُونے دیکھ لیا کہ حضرت اَبراہامؔ کا ایمان اَور اُن کا اعمال ساتھ مِل کر اثر کیا اَور اعمال سے ایمان کامِل ہُوا۔
JAM 2:23 اَور یُوں کِتاب مُقدّس کی یہ بات پُوری ہویٔی، ”حضرت اَبراہامؔ خُدا پر ایمان لایٔے اَور یہ اُن کے واسطے راستبازی شُمار کیا گیا،“ اَور وہ خُدا کے خلیل کہلائے۔
JAM 2:24 پس تُم نے دیکھ لیا کہ اِنسان اَپنے اعمال سے راستباز گِنا جاتا ہے نہ کہ فقط ایمان سے۔
JAM 2:25 ٹھیک اِسی طرح کیا راحبؔ فاحِشہ بھی جَب اُس نے قاصِدوں کو پناہ دی اَور دُوسرے راستہ سے رخصت کیا تو، کیا وہ اَپنے اعمال کے سبب سے راستباز نہ ٹھہری؟
JAM 2:26 غرض جَیسے بَدن بغیر رُوح کے مُردہ ہے وَیسے ہی ایمان بھی بغیر اعمال کے مُردہ ہے۔
JAM 3:1 اَے میرے بھائیوں اَور بہنوں! تُم میں سے بہت سے لوگ اُستاد نہ بنیں کیونکہ تُم جانتے ہو کہ ہم اُستادوں کی دُوسروں کے مُقابلہ میں زِیادہ سختی سے اِنصاف کیا جایٔےگا۔
JAM 3:2 ہم سَب کے سَب کیٔی طرح سے خطا کرتے ہیں۔ مگر کامِل شخص وہ ہے جو بولنے میں کبھی خطا نہیں کرتا۔ اَیسا آدمی ہی اَپنے سارے بَدن کو قابُو میں رکھنے کے قابل ہے۔
JAM 3:3 جَب ہم گھوڑوں کے مُنہ میں لگام لگاتے ہیں تو وہ ہمارے حُکم پر چلتے ہیں اَور ہم اُن کے سارے بَدن کو جِدھر چاہیں اُدھر موڑ سکتے ہیں۔
JAM 3:4 یا پانی جہاز کی مثال لیں۔ حالانکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اَور تیز ہواؤں سے چلائے جاتے ہیں لیکن ایک نہایت ہی چُھوٹی سِی پتوار کے ذریعہ مانجھی کی مرضی کے مُطابق ہر سمت میں موڑے جا سکتے ہیں۔
JAM 3:5 اِسی طرح زبان بھی بَدن کا ایک چھوٹا سا عُضو ہے مگر بڑی شیخی مارتی ہے۔ دیکھو! ایک چُھوٹی سِی چنگاری کیسے ایک بڑے جنگل کو جَلا کر راکھ کردیتی ہے۔
JAM 3:6 زبان بھی ایک آگ کی مانند ہے۔ زبان ہمارے اَعضا میں ناراستی کا ایک عالَم ہے جو سارے جِسم کو داغ دار کردیتی ہے۔ اَور ساری زندگی میں آگ لگا دیتی ہے اَور خُود جہنّم کی آگ سے جلتی رہتی ہے۔
JAM 3:7 اِنسان ہر قِسم کے چَوپایوں، پرندوں، کیڑے مکوڑوں اَور سمُندری مخلُوقات کو اَپنے قابُو میں کر سَکتا ہے بَلکہ کیٔے بھی جا چُکے ہیں۔
JAM 3:8 لیکن کویٔی اِنسان زبان کو قابُو میں نہیں کر سَکتا۔ یہ مہلک زہر اُگلنے والی وہ بَلا ہے جسے روکا نہیں جا سَکتا۔
JAM 3:9 اِسی زبان سے ہم اَپنے خُداوؔند اَور خُدا باپ کی حَمد کرتے ہیں اَور اِسی سے اِنسانوں کو جو خُدا کی صورت پر پیدا ہویٔے ہیں، بد دعا دیتے ہیں۔
JAM 3:10 ایک ہی مُنہ سے برکت اَور بد دعا نکلتی ہے۔ اَے میرے بھائیوں اَور بہنوں! اَیسا تو نہیں ہونا چاہئے۔
JAM 3:11 کیا ایک ہی چشمہ کے مُنہ سے میٹھا اَور کھارا پانی دونوں نکل سَکتا ہے؟
JAM 3:12 میرے بھائیوں اَور بہنوں! جِس طرح اَنجیر کے درخت سے زَیتُون اَور انگور کی بیل سے اَنجیر پیدا نہیں ہو سکتے اُسی طرح کھارے پانی کے چشمہ سے میٹھا پانی نہیں نکل سَکتا۔
JAM 3:13 تُم میں کون دانشمند اَور سمجھدار ہے؟ جو اَیسا ہو وہ اَپنے کاموں کو نیک چال چلن کے وسیلہ سے اُس حلیمی کے ساتھ ظاہر کرے جو حِکمت سے پیدا ہوتی ہے۔
JAM 3:14 لیکن اگر تُم اَپنے دِل میں سخت جلن اَور خُود غرضی رکھتے ہو تو حق کے خِلاف شیخی نہ مارو، اَور نہ ہی جھُوٹ بولو۔
JAM 3:15 اَیسی حِکمت آسمان کی طرف سے نہیں اُترتی، بَلکہ دُنیوی، نَفسانی اَور شیطانی ہوتی ہے۔
JAM 3:16 کیونکہ جہاں جلن اَور خُود غرضی ہوتی ہے وہاں فساد اَور ہر طرح کا بُرا کام بھی پایا جاتا ہے۔
JAM 3:17 لیکن جو حِکمت آسمان سے آتی ہے، اوّل تو وہ پاک ہوتی ہے، پھر صُلح پسند، نرم دِل، تربّیت پزیر، رحم دِل، اَور اَچھّے پھلوں سے لَدی ہویٔی بے طرف دار اَور خُلوص دِل ہوتی ہے۔
JAM 3:18 اَور صُلح کرانے والے اَمن کا بیج بو کر، راستبازی کی فصل کاٹتے ہیں۔
JAM 4:1 تمہارے درمیان لڑائیاں اَور جھگڑے کہا سے آتے ہیں؟ کیا اُن خواہشوں سے نہیں جو تمہارے جِسم کے اَعضا میں فساد پیدا کرتی ہیں؟
JAM 4:2 تُم کسی چیز کی خواہش کرتے ہو، مگر وہ تُمہیں حاصل نہیں ہوتی۔ اِس لیٔے تُم خُون کر دیتے ہو۔ جلن کی وجہ سے تُم جھگڑتے اَور لڑتے ہو کیونکہ تُم حاصل نہیں کر پاتے ہو۔ تُمہیں اِس لیٔے نہیں ملتا کیونکہ تُم خُدا سے نہیں مانگتے۔
JAM 4:3 اَور جَب مانگتے ہو تو پاتے نہیں کیونکہ بُری نیّت سے مانگتے ہو تاکہ اُسے عیش و عشرت میں خرچ کر سکو۔
JAM 4:4 اَے حرام کارو! کیا تُمہیں مَعلُوم نہیں کہ دُنیا سے دوستی رکھنا خُدا سے دُشمنی کرناہے؟ جو کویٔی دُنیا کا دوست بننا چاہتاہے وہ اَپنے آپ کو خُدا کا دُشمن بناتا ہے۔
JAM 4:5 کیا تُم یہ سمجھتے ہو کہ کِتاب مُقدّس بے فائدہ فرماتی ہے کہ جِس پاک رُوح کو خُدا نے ہمارے دِلوں میں بسایا ہے کیا وہ اَیسی آرزُو رکھتا ہے جِس کا اَنجام حَسد ہو؟
JAM 4:6 مگر وہ تو ہمیں اَور زِیادہ فضل بخشتا ہے۔ چنانچہ خُدا کا کلام فرماتا ہے: ”خُدا مغروُروں کا مُقابلہ کرتا ہے مگر حلیموں پر مہربانی کرتا ہے۔“
JAM 4:7 پس خُدا کے تابع ہو جاؤ اَور اِبلیس کا مُقابلہ کرو تو وہ تُم سے بھاگ جائے گا۔
JAM 4:8 خُدا کے نزدیک آؤ تو وہ تمہارے نزدیک آئے گا۔ اَے گُنہگاروں! اَپنے ہاتھوں کو صَاف کر لو اَور اَے دو دِلوں! اَپنے دِلوں کو پاک کر لو۔
JAM 4:9 افسوس اَور ماتم کرو اَور روؤ۔ تمہاری ہنسی ماتم میں اَور تمہاری خُوشی غم میں بدل جائے۔
JAM 4:10 خُداوؔند کے سامنے خُود کو حلیم کر دو تو وہ تُمہیں سربُلند کرےگا۔
JAM 4:11 اَے بھائیوں اَور بہنوں! تُم آپَس میں ایک دُوسرے کی بدگوئی نہ کرو۔ جو اَپنے بھایٔی کی بدگوئی کرتا اَور اُس پر اِلزام لگاتاہے وہ شَریعت کی بدگوئی کرتا اَور اُس پر اِلزام لگاتاہے۔ اَور اگر تُم شَریعت پر اِلزام لگاتے ہو تو تُم شَریعت پر عَمل کرنے کی بجائے اُس کا مُنصِف بَن بیٹھے ہو۔
JAM 4:12 شَریعت دینے والا اَور اُس کا مُنصِف صِرف ایک ہی ہے جو بچا بھی سَکتا ہے اَور ہلاک بھی کر سَکتا ہے۔ لیکن تُو کون ہے جو اَپنے پڑوسی کا مُنصِف بَن بیٹھا ہے؟
JAM 4:13 اَور اَب میری بات سُنو! تُم جو یہ کہتے ہو، ”آج یا کل ہم فُلاں فُلاں شہر میں جایٔیں گے، ایک بَرس وہاں ٹھہریں گے اَور کاروبار کرکے رُوپیہ کمائیں گے۔“
JAM 4:14 جَب کہ سچ تو یہ کہ تُم یہ بھی نہیں جانتے کہ کل کیا ہوگا؟ ذرا سُنو تو؛ تمہاری زندگی ہے ہی کیا؟ وہ صِرف دُھواں کی مانند ہے جو تھوڑی دیر کے لیٔے نظر آتی اَور پھر غائب ہو جاتی ہے۔
JAM 4:15 اِس کے بجائے تُمہیں یہ کہنا چاہئے، ”اگر ربّ کی مرضی ہُوئی تو ہم زندہ رہیں گے اَور یہ یا وہ کام بھی کریں گے۔“
JAM 4:16 مگر تُم شیخی مار کر اَپنے غُرور کا اِظہار کرتے ہو، اَور اِس طرح کی تمام شیخی بازی بُری ہے۔
JAM 4:17 چنانچہ جو بھلائی کرنا جانتا ہے مگر نہیں کرتا، تو اُس کے لیٔے یہ گُناہ ہے۔
JAM 5:1 اَے دولتمندوں اَب میری بات سُنو! تُم اَپنے اُوپر آنے والی مُصیبتوں پر خُوب روؤ اَور ماتم کرو۔
JAM 5:2 تمہارا مال برباد ہو گیا اَور تمہاری پوشاکوں کو کیڑوں نے کھا لیا۔
JAM 5:3 تمہارے سونے اَور چاندی کو زنگ لگ گیا۔ اَور وہ زنگ تمہارے خِلاف گواہی دے گا اَور آگ کی طرح تمہارا گوشت کھایٔےگا۔ دُنیا کا تو خاتِمہ ہونے والا ہے اَور تُم نے دولت کے انبار لگا لیٔے ہیں۔
JAM 5:4 دیکھو! جِن مزدُوروں نے تمہارے کھیتوں میں کام کیا تھا اُن کی وہ مزدُوری جو تُم نے دغا کرکے روک لی ہے وہ تمہارے خِلاف چِلّا رہی ہے اَور فصل کاٹنے والوں کی فریاد لشکروں کے ربّ کے کانوں تک پہُنچ چُکی ہے۔
JAM 5:5 تُم نے دُنیا میں عیش و عشرت کی زندگی گُزاری اَور خُوب مزے کئے۔ تُم نے اَپنے دِلوں کو ذبح کے دِن کے لیٔے خُوب موٹا تازہ کر لیا۔
JAM 5:6 تُم نے راستباز شخص کو جو تمہارا مُقابلہ نہیں کر رہاتھا، قُصُوروار ٹھہرایا اَور اُسے قتل کر ڈالا۔
JAM 5:7 اِس لیٔے، اَے بھائیوں اَور بہنوں! خُداوؔند کی دوبارہ آمد تک صبر کرو۔ دیکھو، کِسان زمین سے قیمتی پیداوار حاصل کرنے کے لیٔے موسمِ خزاں اَور برسات کا صبر سے اِنتظار کرتا ہے۔
JAM 5:8 تُم بھی صبر کرو اَور اَپنے دِلوں کو مضبُوط رکھو کیونکہ خُداوؔند کی دوبارہ آمد قریب ہے۔
JAM 5:9 اَے بھائیوں اَور بہنوں! ایک دُوسرے کی شکایت کرنے اَور بُڑبُڑانے سے باز رہو تاکہ تُم سزا نہ پاؤ۔ دیکھو! اِنصاف کرنے والا دروازہ پر کھڑا ہے۔
JAM 5:10 اَے بھائیوں اَور بہنوں! اُن نبیوں کو اَپنا نمونہ سمجھو جنہوں نے خُداوؔند کے نام سے کلام سُناتے ہویٔے دُکھ اُٹھایا اَور صبر کیا۔
JAM 5:11 اِس لیٔے ہم اُنہیں مُبارک کہتے ہیں جنہوں نے دُکھوں میں صبر کے ساتھ زندگی گُزاری۔ تُم نے حضرت ایُّوب کے صبر کا حال تو سُنا ہی ہے اَور یہ بھی جانتے ہو کہ خُداوؔند آخِر میں کِس قدر اُن پر مہربان ہُوا کیونکہ خُداوؔند رحم دِل اَور شفقت والا ہے۔
JAM 5:12 اَے بھائیوں اَور بہنوں! سَب سے بڑھ کر یہ ہے کہ قَسم ہرگز نہ کھانا، نہ آسمان کی اَور نہ زمین کی، نہ کسی اَور چیز کی۔ بَلکہ ”ہاں“ کی جگہ ہاں اَور ”نہیں“ کی جگہ نہیں ہو؛ تاکہ سزا سے بچ سکو۔
JAM 5:13 اگر تُم میں سے کویٔی مُصیبت زدہ ہے تو اُسے چاہیے کہ دعا کرے۔ اَور خُوش ہے تو خُدا کی حَمد میں نغمہ گائے۔
JAM 5:14 اگر تُم میں کویٔی بیمار ہے تو وہ جماعت کے بُزرگوں کو بُلائے اَور وہ بُزرگ خُداوؔند کے نام سے اُس بیمار پر تیل مَل کر اُس کے لیٔے دعا کریں۔
JAM 5:15 اَور ایمان کی دعا سے بیمار بچ جایٔےگا اَور خُداوؔند اُسے تندرستی بخشےگا اَور اگر اُس نے گُناہ کیٔے ہوں، تو اُن کی بھی مُعافی ہو جایٔےگی۔
JAM 5:16 اِس لیٔے تُم آپَس میں ایک دُوسرے سے اَپنے گُناہوں کا اقرار کرو اَور ایک دُوسرے کے لیٔے دعا کرو تاکہ شفا پاؤ؛ کیونکہ راستباز کی دعا قُوّت اَور تاثیر والی ہوتی ہے۔
JAM 5:17 حضرت ایلیّاہ بھی ہماری طرح اِنسان تھے۔ اُنہُوں نے بڑی شِدّت سے دعا کی کہ بارش نہ ہو اَور ساڑھے تین بَرس تک زمین پر بارش نہ ہُوئی۔
JAM 5:18 اُنہُوں نے پھر دعا کی تو آسمان سے بارش ہُوئی اَور زمین نے اَپنی فصلیں پیدا کیں۔
JAM 5:19 اَے میرے بھائیوں اَور بہنوں! اگر تُم میں سے کویٔی راہِ حق سے گُمراہ ہو جائے اَور کویٔی اُسے دوبارہ واپس لے آئے،
JAM 5:20 تو وہ یاد رکھے کہ جو کسی گُنہگار کو گمراہی سے پھیر لایٔے گا؛ وہ ایک جان کو موت سے بچائے گا اَور بہت سے گُناہوں پر پردہ ڈالے گا۔
1PE 1:1 پطرس کی جانِب سے جو یِسوعؔ المسیح کا رسول ہے،
1PE 1:2 اَور خُدا باپ کے علمِ سابق کے مُوافق اَور پاک رُوح کے مُقدّس کرنے سے یِسوعؔ المسیح کے فرمانبردار ہونے اَور اُن کے خُون کے چھڑکے جانے کے لیٔے برگُزیدہ ہویٔے ہیں:
1PE 1:3 ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے خُدا اَور باپ کی حَمد ہو! جِس نے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے سبب سے اَپنی بڑی رحمت سے ہمیں ایک زندہ اُمّید کے لیٔے نئے سِرے سے پیدا کیا ہے،
1PE 1:4 تاکہ ہم ایک غَیر فانی، بے داغ اَور لازوال مِیراث پائیں جو خُدا کی طرف سے ہمارے لیٔے آسمان پر محفوظ ہے۔
1PE 1:5 جو تمہارے ایمان کے وسیلہ سے اَور خُدا کی قُدرت سے اُس نَجات کے لیٔے محفوظ ہے جو اِن آخِری وقت میں ظاہر ہونے والی ہے۔
1PE 1:6 چنانچہ تُم اِن سَب کے درمیان خُوب خُوشی مناتے ہو حالانکہ ہو سَکتا ہے کہ تُمہیں ابھی چند روز کے لیٔے مُختلف آزمائشوں کا سامنا کرنے سے غمزدہ ہونا پڑے۔
1PE 1:7 اَور یہ آزمائشیں اِس لیٔے آئی ہیں تاکہ تمہارے ثابت ایمان کی صداقت آگ میں تپے ہویٔے فانی سونے سے بھی زِیادہ قیمتی ہو، اَور یِسوعؔ المسیح کے ظاہر ہونے کے وقت تعریف، جلال اَور عزّت کے لائق ٹھہرے۔
1PE 1:8 اگرچہ تُم نے یِسوعؔ کو نہیں دیکھا، مگر پھر بھی اُن سے مَحَبّت کرتے ہو؛ حالانکہ تُم ابھی بھی حُضُور کو اَپنے نظروں کے سامنے نہیں پاتے ہو، پھر بھی اُن پر ایمان رکھتے ہو اَور اَیسی خُوشی مناتے ہو جو بَیان سے باہر اَور جلال سے معموُر ہے،
1PE 1:9 کیونکہ تمہارے ایمان کا آخِری اجر تمہاری رُوحوں کی نَجات ہے۔
1PE 1:10 اِسی نَجات کی بابت نبیوں نے بڑی احتیاط سے تفتیش کی اَور اُنہُوں نے اُس فضل کی نبُوّت کی جو تُم پر ہونے والا تھا۔
1PE 1:11 اُنہُوں نے یہ مَعلُوم کرنے کی کوشش کی کہ المسیح کا رُوح جو اُن میں تھا وہ کس وقت اَور کس حالات کے بارے میں بات کر رہاتھا جَب اُس نے المسیح کے دُکھ اُٹھانے اَور اُس کے بعد جلال پانے کی بابت نبُوّت کی تھی۔
1PE 1:12 اُن پر یہ ظاہر کر دیا گیا تھا کہ اُن کی یہ خدمت اَپنے لیٔے نہیں بَلکہ تمہارے لیٔے کر رہے ہیں۔ لہٰذا جو باتیں اُنہُوں نے کہی تھیں اَب خُوشخبری سُنانے والوں نے پاک رُوح کی مدد سے جو آسمان سے نازل ہُوا، تُمہیں بتائیں۔ یہ سَب اِتنی خُوبصورت ہے کہ فرشتے بھی اِن باتوں کو باریکی سے سمجھنے کی بڑی آرزُو رکھتے ہیں۔
1PE 1:13 اِس لیٔے اَپنی عقل سے کام لو اَور ہوشیار رہ کر، مُکمّل سنجِیدگی سے زندگی گُزارو اَور اُس فضل پر پُوری اُمّید رکھو جو تُمہیں یِسوعؔ المسیح کے ظاہر ہونے کے وقت مِلنے والا ہے۔
1PE 1:14 اَور خُدا کے فرمانبردار فرزندوں کی مانند اُن پُرانی بُری خواہشات کو اَپنی زندگی میں جگہ نہ دو جنہیں اَپنی جہالت کے دِنوں میں پُورا کرنے میں لگے رہتے تھے۔
1PE 1:15 بَلکہ جِس طرح تمہارا بُلانے والا خُدا پاک ہے اُسی طرح تُم بھی اَپنے سارے چال چلن میں پاک بنو۔
1PE 1:16 کیونکہ لِکھّا ہے، ”پاک بنو کیونکہ مَیں پاک ہُوں۔“
1PE 1:17 اَور جَب تُم اَے باپ کہہ کر خُدا سے دعا کرتے ہو، جو بغیر طرفداری کے ہر شخص کے عَمل کے مُوافق اُس کا اِنصاف کرتا ہے تو تُم بھی دُنیا میں اَپنی مُسافرت کا زمانہ خوف کے ساتھ گُزارو۔
1PE 1:18 کیونکہ تُم جانتے ہو کہ تُم نے اُس نکمّے چال چلن سے خلاصی پائی ہے جو تُمہیں تمہارے باپ دادا سے مِلا تھا، لیکن یہ مخلصی تُم نے سونے یا چاندی جَیسی فانی چیزوں سے نہیں پائی،
1PE 1:19 بَلکہ ایک بے عیب اَور بے داغ برّے یعنی المسیح کے بیش قیمتی خُون سے۔
1PE 1:20 المسیح کو تو دُنیا کی تخلیق سے پیشتر ہی چُن لیا گیا تھا لیکن اِن آخِری دِنوں میں تمہاری خاطِر ظاہر کیا گیا۔
1PE 1:21 تُم اُسی کے وسیلہ سے خُدا پر ایمان لایٔے ہو، جِس نے حُضُور کو مُردوں میں سے زندہ کیا اَور جلال بخشا تاکہ تمہارا ایمان اَور اُمّید خُدا پر قائِم ہو۔
1PE 1:22 چونکہ تُم نے حق کی تابِعداری سے اَپنے آپ کو پاک کیا ہے جِس سے تُم میں بھائیوں کے لیٔے بے رِیا برادرانہ مَحَبّت کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے، اِس لیٔے دِل و جان سے آپَس میں بے پناہ مَحَبّت رکھو۔
1PE 1:23 کیونکہ تُم فانی تُخم سے نہیں بَلکہ خُدا کے زندہ اَور اَبدی کلام کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہویٔے ہو۔
1PE 1:24 کیونکہ، ”ہر بشر گھاس کی مانِند ہے، اَور اُن کی ساری شان و شوکت میدان کے پھُولوں کی مانِند ہے؛ گھاس سُوکھ جاتی ہے اَور پھُول مُرجھا جاتے ہیں،
1PE 1:25 لیکن خُداوؔند کا کلام اَبد تک قائِم ہے۔“ یہ وُہی خُوشخبری کا کلام ہے جو تُمہیں سُنایا گیا تھا۔
1PE 2:1 پس ہر قِسم کی بُرائی، فریب، ریاکاری، حَسد اَور بدگوئی کو دُور کر دو۔
1PE 2:2 اَور نَوزائیدہ بچّوں کی مانند خالص رُوحانی دُودھ کے آرزُومند رہو تاکہ اُس کے ذریعہ سے نَجات کے مُکمّل تجربہ میں بڑھتے جاؤ۔
1PE 2:3 کیونکہ تُم نے چکھ کر جان لیا ہے کہ خُداوؔند کتنا مہربان ہے۔
1PE 2:4 جَب تُم اُس زندہ پتّھر کے پاس آتے ہو جسے اِنسانوں نے ردّ کر دیا تھا لیکن جو خُدا کی نظر میں بیش قیمتی اَور مُنتخب کیا ہُواہے۔
1PE 2:5 اَور تُم بھی زندہ پتھّروں کی مانند ہو جو پاک رُوح کا مَقدِس بنتے جا رہے ہو، تاکہ تُم کاہِنوں کا مُقدّس فرقہ بَن کر اَیسی رُوحانی قُربانیاں پیش کرو جو یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے خُدا کے حُضُور میں مقبُول ہوتی ہیں۔
1PE 2:6 جَیسا کہ صحیفہ یُوں بَیان کرتا ہے: ”دیکھو! مَیں صِیّونؔ میں کونے کے سِرے کا، ایک مُنتخب اَور قیمتی پتّھر رکھ رہا ہُوں، اَورجو اُس پر ایمان لایٔے گا وہ کبھی شرمندہ نہ ہوگا۔“
1PE 2:7 پس تُم ایمان لانے والوں کے لیٔے تو وہ قیمتی پتّھر ہے لیکن ایمان نہ لانے والوں کے لیٔے، ”جِس پتّھر کو مِعماروں نے ردّ کر دیا تھا وُہی کونے کے سِرے کا پتّھر ہو گئے۔“
1PE 2:8 اَور ”ٹھیس لگنے کا پتّھر اَور ٹھوکر کھانے کی چٹّان بَن گیا۔“ وہ اِس لیٔے ٹھوکر کھاتے ہیں کیونکہ وہ کِتاب مُقدّس پر ایمان نہیں لاتے ہیں اَور یہی سزا خُدا نے اُن کے لیٔے بھی مُقرّر کی ہے۔
1PE 2:9 لیکن تُم ایک مُنتخب اُمّت، شاہی کاہِنوں کی جماعت، مُقدّس قوم اَور خُدا کی خاص مِلکیّت ہو تاکہ تمہارے ذریعہ اُس کی خُوبیاں ظاہر ہوں جِس نے تُمہیں تاریکی سے اَپنی عجِیب رَوشنی میں بُلایا ہے۔
1PE 2:10 پہلے تُم اُس کی اُمّت نہ تھے، لیکن اَب خُدا کی اُمّت بَن گیٔے ہو۔ تُم جو پہلے خُدا کی رحمت سے محروم تھے اَب اُس کی رحمت کو پا چُکے ہو۔
1PE 2:11 اَے عزیزوں! تُم جو مہاجِروں اَور پردیسیوں کی مانند زندگی گزار رہے ہو، میں تمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ تُم اُن بُری جِسمانی خواہشوں سے دُور رہو جو تمہاری رُوح سے لڑائی کرتی رہتی ہیں۔
1PE 2:12 اَور غَیریہُودیوں میں اَپنا چال چلن اَیسا نیک رکھو تاکہ جِن باتوں میں وہ تُمہیں بدکار جان کر تمہاری بدگوئی کرتے ہیں، وُہی تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر اُنہیں کے سبب سے خُدا کے ظہُور کے دِن اُس کی تمجید کریں۔
1PE 2:13 خُداوؔند کی خاطِر، اِنسان کے ہر ایک اِنتظام کے تابع رہو؛ بادشاہ کے اِس لیٔے کہ وہ سَب سے اعلیٰ اِختیار والا ہے۔
1PE 2:14 حاکموں کے اِس لیٔے کہ خُدا نے اُنہیں بدکاروں کو سزا دینے اَور نیکوکاروں کی تعریف کرنے کے لیٔے مُقرّر کیا ہے۔
1PE 2:15 کیونکہ خُدا کی مرضی یہ ہے کہ تُم نیکی کرکے نادان لوگوں کی جہالت کی باتوں کو بند کر دو۔
1PE 2:16 اَور تُم خُود کو آزاد جانو، مگر اَپنی اِس آزادی کو بدکاری کی لیٔے اِستعمال نہ کرو، بَلکہ خُدا کے بندوں کی طرح زندگی بسر کرو۔
1PE 2:17 سَب کا مُناسب اِحترام کرو، اَپنی مُومِنین برادری سے مَحَبّت رکھو، خُدا سے ڈرو اَور بادشاہ کی تعظیم کرو۔
1PE 2:18 اَے غُلاموں! بڑے خوف اَور اِحترام کے ساتھ اَپنے مالکوں کے تابع رہو، نیک اَور حلیم مالکوں کے ہی نہیں بَلکہ بُرے مالکوں کے بھی تابع رہو۔
1PE 2:19 کیونکہ اگر تُم صبر کے ساتھ بےاِنصافی کے باعث یہ جان کر تکلیفوں کو برداشت کرتے ہو کہ جو تُم کر رہے ہو وہ صحیح ہے تو خُدا کی نظر میں یہ بات قابلِ تعریف ہے۔
1PE 2:20 لیکن اگر تُم نے قُصُور کرکے تھپّڑ کھائے اَور صبر کیا تو کیا یہ کویٔی فخر کی بات ہے؟ ہاں، اگر نیکی کرنے کے باوُجُود دُکھ پاتے اَور صبر سے کام لیتے ہو تو یہ بات خُدا کی نظر میں قابلِ تعریف ہے۔
1PE 2:21 اَور تُمہیں بھی اِسی چال چلن کے لیٔے بُلایا گیا ہے، کیونکہ المسیح نے بھی تمہارے واسطے دُکھ اُٹھاکر ایک مثال قائِم کر دی ہے تاکہ تُم اُن کے نقش قدم پر چلو۔
1PE 2:22 ”کیونکہ المسیح نے نہ تو کویٔی گُناہ کیا، اَور نہ ہی اُن کے مُنہ سے کویٔی فریب کی بات نکلی۔“
1PE 2:23 جَب لوگوں نے اُنہیں گَالِیاں دیں تو حُضُور نے جَواب میں کبھی گَالی نہ دی، اَور نہ دُکھ پا کر کبھی کسی کو دھمکی دی، بَلکہ اَپنے آپ کو سچّے اِنصاف کرنے والے خُدا کے حوالہ کرتے تھے۔
1PE 2:24 وہ خُود ہمارے گُناہوں کو اَپنے بَدن پر لیٔے ہویٔے صلیب پر چڑھ گیا تاکہ ہم گُناہوں کے لیٔے مُردہ اَور راستبازی کے لیٔے زندہ ہو جایٔیں۔ اَور اُسی کے مار کھانے سے تُم نے شفا پائی ہے۔
1PE 2:25 کیونکہ پہلے تُم بھیڑوں کی مانند بھٹکے ہُوئے تھے لیکن اَب اَپنی رُوحوں کے گلّہ بان اَور نگہبان کے پاس لَوٹ آئے ہو۔
1PE 3:1 اِسی طرح اَے بیویوں! تُم بھی اَپنے اَپنے شوہروں کے تابع رہو تاکہ اگر اُن میں سے بعض جو کِتاب مُقدّس کو نہ مانتے ہوں، تَو بھی تمہارے کُچھ کہے بغیر ہی تمہارے نیک چال چلن کی وجہ سے ایمان میں آ جایٔیں۔
1PE 3:2 کیونکہ وہ تمہارے پاکیزہ اَور اَچھّے چال چلن کو دیکھتے رہتے ہیں۔
1PE 3:3 تمہاری خُوبصُورتی صِرف ظاہری خُوبصُورتی نہ ہو، مثلاً بال گُوندھنے، سونے کے زیور اَور طرح طرح کے قیمتی لباس پہننا۔
1PE 3:4 لیکن تمہاری باطنی اَور پوشیدہ شخصیت حلیم اَور نرم مِزاج دماغ کی غُربت کی غَیر فانی زیورات سے آراستہ ہو، کیونکہ خُدا کی نظر میں باطنی حُسن کی بڑی قدر ہے۔
1PE 3:5 کیونکہ خُدا پر اُمّید رکھنے والی مُقدّس خواتین ماضی زمانہ میں بھی اَپنے آپ کو اِسی طرح سنوارتی تھیں اَور اَپنے شوہروں کے تابع رہتی تھیں۔
1PE 3:6 جَیسے سارہؔ حضرت اَبراہامؔ کے حُکم میں رہتی تھی اَور اُسے اَپنا آقا کہہ کر تسلیم کرتی تھی۔ اِسی طرح اگر تُم بھی بغیر خوف کھائے جو صحیح ہے اُسے کرو، تو تُم سارہؔ کی بیٹیاں ہو۔
1PE 3:7 اَے شوہروں، اِسی طرح تُم بھی اَپنی بیویوں کے ساتھ سمجھداری سے زندگی بسر کرو، اَور عورت کو نازک ظرف جان کر اُس کی عزّت کرو، اَور یُوں سمجھو کہ تُم دونوں زندگی کے فضل کے برابر وارِث ہو، تاکہ تمہاری دعائیں رُک نہ جایٔیں۔
1PE 3:8 غرض تُم سَب ایک دِل رہو، اَور ایک دُوسرے کے ساتھ ہمدردی دِکھاؤ، آپَس میں برادرانہ مَحَبّت سے پیش آؤ، نرم دِل اَور فروتن بنو۔
1PE 3:9 بدی کے بدلے بدی نہ کرو، اَور گالی کا جَواب گالی سے نہ دو۔ بَلکہ اِس کے برعکس اَیسے شخص کو برکت دو، کیونکہ خُدا نے تُمہیں یہی کرنے کے لیٔے بُلایا ہے تاکہ تُم مِیراث میں برکت کے وارِث بنو۔
1PE 3:10 جَیسا کہ کِتاب مُقدّس کا بَیان ہے، ”جو کویٔی زندگی سے مَحَبّت رکھتا ہے اَور اَچھّے دِن دیکھنے کا خواہشمند ہے، وہ اَپنی زبان کو بدی سے اَور اَپنے لبوں کو دغا کی باتوں سے باز رکھے۔
1PE 3:11 بدی سے دُور رہے اَور نیکی کرے؛ صُلح کا طالب ہو اَور اُس کی کوشش میں رہے۔
1PE 3:12 کیونکہ خُداوؔند کی آنکھیں راستبازوں پر لگی رہتی ہیں اَور اُس کے کان اُن کی دعاؤں پر لگے رہتے ہیں، مگر وہ بدکاروں سے مُنہ موڑ لیتا ہے۔“
1PE 3:13 اگر تُم نیکی کرنے میں سرگرم ہو، تو پھر کون تمہارے ساتھ بدی کرےگا؟
1PE 3:14 اَور اگر تُم راستبازی کی خاطِر دُکھ بھی اُٹھاؤ تو تُم مُبارک ہو۔ ”اُن کی دھمکیوں سے مت ڈرو؛ اَور نہ ہی گھبراؤ۔“
1PE 3:15 بَلکہ المسیح کو خُداوؔند جان کر اَپنے دِلوں میں اُسے مُقدّس سمجھو اَور اگر کویٔی تُم سے تمہاری اُمّید کے بارے میں دریافت کرے تو اُسے جَواب دینے کے لیٔے ہمیشہ تیّار رہو۔ لیکن نرمی اَور اِحترام کے ساتھ اَیسا کرو۔
1PE 3:16 لیکن شائِستگی اَور اِحترام کے ساتھ اَپنا ضمیر صَاف رکھو تاکہ جو لوگ المسیح میں تمہارے نیک چال چلن کے بارے میں غلط باتیں کر رہے ہیں اُنہیں اَپنی تہمت پر شرمندہ ہونا پڑے۔
1PE 3:17 کیونکہ اگر خُدا کی یہی مرضی ہے کہ تُم نیکی کرکے دُکھ اُٹھاؤ، تو یہ بدی کرکے دُکھ اُٹھانے سے زِیادہ بہتر ہے۔
1PE 3:18 اِس لیٔے المسیح بھی گُناہوں کے لیٔے ایک ہی بار قُربان ہُوا، یعنی ایک راستباز نے ناراستوں کے لیٔے دُکھ اُٹھایا تاکہ تُمہیں خُدا کے پاس پہُنچائے۔ وہ جِسم کے اِعتبار سے تو مارا گیا لیکن رُوح کے ذریعہ سے زندہ کیا گیا۔
1PE 3:19 اَور المسیح نے اَپنے رُوحانی وُجُود میں جا کر اُن قَیدی رُوحوں میں مُنادی کی۔
1PE 3:20 جو اُس قدیم زمانے میں نافرمان رُوحیں تھیں جَب خُدا حضرت نُوح کے زمانہ میں صبر کرکے اُنہیں تَوبہ کرنے کا موقع بخشا تھا۔ اَور اُس وقت حضرت نُوح لکڑی کا جہاز تیّار کر رہے تھے جِس میں صِرف آٹھ اَشخاص سوار ہوکر پانی سے صحیح سلامت بچ نکلے تھے۔
1PE 3:21 اَور اُسی پانی کا مُشابہ بھی یعنی پاک غُسل یِسوعؔ المسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اَب تُمہیں بچاتا ہے۔ پاک غُسل سے جِسم کی نَجاست دُور نہیں کی جاتی ہے بَلکہ پاک غُسل کے وقت ہم صَاف ضمیر سے خُدا کے ساتھ عہد کرتے ہیں۔
1PE 3:22 یِسوعؔ المسیح آسمان پر جا کر خُدا کی داہنی طرف تخت نشین ہُوئے اَور فرشتے، آسمانی قُوّتیں اَور اِختیارات اُن کے تابع کر دیئے گیٔے ہیں۔
1PE 4:1 پس جَب کہ المسیح نے جِسم کے اِعتبار سے دُکھ اُٹھایا تھا لہٰذا تُم بھی اَیسے ہی اِرادے سے مُسلّح ہو جاؤ کیونکہ جِس نے جِسم کے اِعتبار سے دُکھ اُٹھایا اُس نے گُناہ سے فراغت پائی۔
1PE 4:2 اِس لیٔے اَب سے تمہاری باقی جِسمانی زندگی نَفسانی خواہشات کو پُورا کرنے میں نہیں بَلکہ خُدا کی مرضی کے مُطابق گُزرے۔
1PE 4:3 کیونکہ تُم نے ماضی میں اَپنی زندگی کا بیشتر حِصّہ غَیریہُودیوں کی طرح شہوت پرستی، بدخواہشات، شراب نوشی، ناچ رنگ، نشہ بازی اَور مکرُوہ قِسم کی بُت پرستی میں گزار دیا۔
1PE 4:4 اَور اَب وہ تعجُّب کرتے ہیں کہ تُم بدچلنی اَور عیّاشی میں اُن کا ساتھ نہیں دیتے ہو اِس لیٔے اَب وہ تمہاری بُرائی کرتے رہتے ہیں۔
1PE 4:5 لیکن اُنہیں اُسی خُدا کو حِساب دینا پڑےگا جو زندہ اَور مُردوں کا اِنصاف کرنے کو تیّار ہے۔
1PE 4:6 کیونکہ مُردوں کو بھی خُوشخبری اِسی لیٔے سُنایٔی گئی تھی کہ جِسم کے لِحاظ سے تو اُن کا اِنصاف اِنسانی پیمانہ کے مُطابق ہو، لیکن اَپنی رُوح میں وہ خُدا کی مرضی کے مُطابق زندہ رہیں۔
1PE 4:7 دُنیا کے خاتِمہ کا وقت نزدیک آ گیا ہے۔ اِس لیٔے ہوشیار رہو، اَور سرگرم ہوکر خُوب دعا کرو۔
1PE 4:8 سَب سے اہم بات یہ ہے کہ آپَس میں ایک دُوسرے سے گہری مَحَبّت رکھو، کیونکہ مَحَبّت بہت سے گُناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
1PE 4:9 بغیر بُڑبُڑائے ایک دُوسرے کی مہمان نوازی میں لگے رہو۔
1PE 4:10 خُدا نے تُم میں سے ہر ایک کو الگ الگ رُوحانی نِعمتیں عطا کی ہیں لہٰذا اُن مُختلف نِعمتوں کو وفادار مُختاروں کی مانند ایک دُوسرے کی خدمت کرنے میں اِستعمال کرو۔
1PE 4:11 اگر کویٔی کچھ بَیان کرے تو اِس طرح کرے گویا خُداوؔند کا کلام پیش کر رہاہے۔ اگر کویٔی خدمت کرے تو وہ خُدا سے قُوّت پا کر اُسے اَنجام دے تاکہ سَب باتوں میں یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے خُدا کا جلال ظاہر ہو۔ خُدا کا جلال اَور اُن کی سلطنت ابدُالآباد تک ہوتی رہے۔ آمین۔
1PE 4:12 اَے عزیزوں! مُصیبت کی آگ جو تُم میں بھڑک اُٹھی ہے وہ تمہاری آزمائش کے لیٔے ہے۔ اِس کی وجہ سے تعجُّب نہ کرو کہ تمہارے ساتھ کویٔی عجِیب بات ہو رہی ہے۔
1PE 4:13 بَلکہ خُوشی مناؤ کی تُم المسیح کے دُکھوں میں شریک ہو رہے ہو۔ تاکہ جَب اُن کا جلال ظاہر ہو، تو تُم اَور بھی نہایت خُوش و خُرّم ہو سکو۔
1PE 4:14 اگر المسیح کے نام کے سبب سے تمہاری ملامت کی جاتی ہے تو تُم مُبارک ہو، کیونکہ جلال کا رُوح جو خُدا کا رُوح ہے تُم پر سایہ کیٔے ہویٔے ہے۔
1PE 4:15 لیکن اَیسا نہ ہو کہ تُم میں سے کویٔی شخص کسی کا قتل، چوری، بدکاری یا دُوسروں کے کام میں دخل دینے کی وجہ سے دُکھ اُٹھائے۔
1PE 4:16 لیکن اگر کوئی مسیحی ہونے کی وجہ سے دُکھ اُٹھائے تو شرمندہ نہ ہو بَلکہ خُدا کی تمجید کرے کہ وہ مسیحی کہلاتا ہے۔
1PE 4:17 کیونکہ وہ وقت آ پہُنچا ہے کہ خُدا کے گھر سے ہی عدالت شروع ہو، اَور جَب اُس کی اِبتدا ہم ہی سے ہوگی تو اُن کا اَنجام کیا ہوگا جو خُدا کی خُوشخبری کو نہیں مانتے ہیں؟
1PE 4:18 اَور ”اگر راستباز ہی مُشکل سے نَجات پایٔےگا، تو پھر بے دین اَور گُنہگار کا حَشر کیا ہوگا؟“
1PE 4:19 پس جو لوگ خُدا کی مرضی کے مُوافق دُکھ اَور تکلیف اُٹھاتے ہیں، وہ نیکی کرتے ہویٔے اَپنے آپ کو وفادار خالق کے ہاتھوں میں سُپرد کر دیں۔
1PE 5:1 تُم میں جو جماعت کے بُزرگ ہیں، مَیں اُن کی مانند ایک ہم بُزرگ اَور المسیح کے دُکھوں کا چشم دید گواہ اَور اُس کے ظاہر ہونے والے جلال میں شریک ہوکر اُن سے یہ درخواست کرتا ہُوں۔
1PE 5:2 تُم خُدا کے اُس گلّہ کی گلّہ بانی کرو جو تمہارے سُپرد کیا گیا ہے، لاچاری سے نہیں بَلکہ خُدا کی مرضی اَور اَپنی خُوشی سے نگہبانی کرو؛ اِس خدمت کو ناجائز نفع کے مقصد سے نہیں بَلکہ دِلی شوق سے اَنجام دو۔
1PE 5:3 اَورجو لوگ تمہارے سُپرد کیٔے گیٔے ہیں اُن پر حُکومت مت کرنا بَلکہ گلّہ کے لیٔے عُمدہ نمونہ بنو
1PE 5:4 اَور جَب اعلیٰ گلّہ بان یعنی المسیح ظاہر ہوں گے تو تُم اَیسا جلالی سِہرا پاؤگے جو کبھی نہیں مُرجھائے گا۔
1PE 5:5 اِسی طرح اَے جَوانوں، تُم بھی اَپنے بُزرگوں کے تابع رہو۔ بَلکہ سَب کے سَب ایک دُوسرے کی خدمت کے لیٔے فروتنی سے کمربستہ رہو، کیونکہ، ”خُدا مغروُروں کا مُقابلہ کرتا ہے مگر حلیموں پر مہربانی کرتا ہے۔“
1PE 5:6 پس خُدا کے قوی ہاتھ کے نیچے حلیمی سے رہو، تاکہ وہ مُناسب وقت پر تُمہیں سربُلند کرےگا۔
1PE 5:7 اَپنی ساری فکریں اُس خُدا پر ڈال دو کیونکہ وہ تمہاری فکر کرتا ہے۔
1PE 5:8 ہوشیار اَور خبردار رہو کیونکہ تمہارا دُشمن اِبلیس دھاڑتے ہُوئے شیرببر کی مانند ڈھونڈتا پھرتاہے کہ کِس کو پھاڑ کھائے۔
1PE 5:9 تُم ایمان میں مضبُوط ہوکر اَور یہ جان کر اُس کا مُقابلہ کرو کہ تمہارے مسیحی مُومِنین بھایٔی اَور بہن جو اِس دُنیا میں ہیں وہ بھی اَیسے ہی دُکھ اُٹھا رہے ہیں۔
1PE 5:10 اَور اَب خُدا جو سارے فضل کا سرچشمہ ہے، جِس نے تُمہیں المسیح یِسوعؔ میں اَپنے دائمی جلال میں شریک ہونے کے لیٔے بُلایا ہے، تمہارے تھوڑی دیر تک دُکھ اُٹھانے کے بعد، خُدا آپ ہی تُمہیں کامِل اَور قائِم اَور مضبُوط کر دے گا۔
1PE 5:11 خُدا کی سلطنت ابدُالآباد تک ہوتی رہے۔ آمین۔
1PE 5:12 مَیں نے تُمہیں یہ مُختصر خط سِلوانُسؔ یعنی سِیلاسؔ کی مدد سے لِکھّا ہے، جسے میں وفادار بھایٔی سمجھتا ہُوں تاکہ تمہاری حوصلہ اَفزائی ہو اَور مَیں یہ تصدیق کرتا ہوں کہ خُدا کا سچّا فضل یہی ہے، اِس پر قائِم رہنا۔
1PE 5:13 بابیل میں تمہاری طرح ایک برگُزیدہ جماعت ہے جو تُمہیں سلام کہتی ہے۔ میرا بیٹا مرقُسؔ بھی تُمہیں سلام کہتاہے۔
1PE 5:14 ایک دُوسرے کو مَحَبّت سے چُوم کر سلام کرو۔ تُم سَب کو جو المسیح میں ہو اِطمینان حاصل ہوتا رہے۔
2PE 1:1 شمعُونؔ پطرس کی جانِب سے جو یِسوعؔ المسیح کا خادِم اَور رسول ہے،
2PE 1:2 خُدا باپ اَور ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ کی پہچان کے سبب سے تُمہیں فضل اَور اِطمینان کثرت سے حاصل ہوتا رہے۔
2PE 1:3 خُدا کی الٰہی قُدرت نے ہمیں وہ سَب کچھ عطا کیا ہے جو خُداپرست زندگی کے لیٔے ضروُری ہے، اَور ہمیں یہ سَب کچھ اُن کی پہچان کے وسیلہ سے بخشا گیا ہے، جِس نے ہمیں اَپنے خاص جلال اَور نیکی کے ذریعہ بُلایا ہے۔
2PE 1:4 اِنہیں کے ذریعہ خُدا نے ہم سے عظیم اَور بیش قیمتی وعدے کیٔے ہیں تاکہ تُم دُنیا کی بُری خواہشات سے پیدا ہونے والی خرابی سے آزاد ہوکر ذاتِ الٰہی میں شریک ہو سکو۔
2PE 1:5 لہٰذا ہر ممکن کوشش کرو کہ تمہارے ایمان میں اَخلاق کا، اَخلاق میں علم کا،
2PE 1:6 علم میں پرہیزگاری کا، پرہیزگاری میں صبر کا، صبر میں خُدا پرستی کا،
2PE 1:7 خُدا پرستی میں برادرانہ اُلفت کا اَور برادرانہ اُلفت میں مَحَبّت کا اِضافہ کرتے چلے جاؤ۔
2PE 1:8 کیونکہ اگر یہ خُوبیاں تمہارے اَندر مَوجُود ہیں اَور اِن میں اِضافہ ہوتا جا رہاہے تو تُم ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے مُکمّل علم میں بیکار اَور بے پھل نہیں ہوگے۔
2PE 1:9 لیکن جِس میں یہ خُوبیاں مَوجُود نہیں ہیں وہ اَندھا یا کوتاہ نظر والا ہے اَور بھُول بیٹھا ہے کہ اُس کے پچھلے گُناہوں سے اُسے پاک صَاف کیا جا چُکاہے۔
2PE 1:10 چنانچہ اَے بھائیوں اَور بہنوں! اَپنے بُلائے جانے اَور مُنتخب کیٔے جانے کو ثابت کرنے کے لیٔے پُوری کوشش کرتے رہو، کیونکہ اگر اَیسا کروگے تو کبھی ٹھوکر نہ کھاؤگے۔
2PE 1:11 بَلکہ اِس سے تُم ہمارے خُداوؔند اَور مُنجّی یِسوعؔ المسیح کی اَبدی بادشاہی میں بڑی عزّت کے ساتھ داخل کیٔے جاؤگے۔
2PE 1:12 اِس لیٔے میں تُمہیں ہمیشہ اِن باتوں کو یاد دِلاتا رہُوں گا، حالانکہ تُم اِن سے واقف ہو اَور مضبُوطی سے اُس حق پر قائِم ہو، جو تُمہیں حاصل ہے۔
2PE 1:13 بَلکہ میں اَپنا فرض سمجھتا ہُوں کہ جَب تک میں اِس جِسمانی خیمہ میں زندہ ہُوں، اِن باتوں کو یاد دِلا دِلا کر تُمہیں اُبھارنا واجِب سمجھتا ہُوں،
2PE 1:14 کیونکہ ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے قول کے مُطابق، میں جانتا ہُوں کہ میرے جِسمانی خیمہ کے گرائے جانے کا وقت جلد آنے والا ہے۔
2PE 1:15 لہٰذا میں پُوری کوشش کروں گا کہ میرے اِنتقال کے بعد بھی تُم اِن باتوں کو ہمیشہ یاد رکھ سکو۔
2PE 1:16 کیونکہ جَب ہم نے اَپنے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی قُدرت اَور اُن کی آمد کے بارے میں تُمہیں واقف کیا تھا، تو دغابازی سے گڑھے ہویٔے قِصّوں کا سہارا نہیں لیا تھا بَلکہ ہم نے اُن کی عظمت کو خُود اَپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
2PE 1:17 جَب المسیح نے خُدا باپ سے عزّت اَور جلال پایا اَور اُس افضل جلال میں سے حُضُور کے لیٔے یہ آواز آئی، ”یہ میرا پیارا بیٹا ہے، جِس سے میں مَحَبّت رکھتا ہُوں اَور جِس سے میں بہت خُوش ہُوں۔“
2PE 1:18 اَور جَب ہم حُضُور کے ساتھ اُس مُقدّس پہاڑ پر مَوجُود تھے تو ہم نے خُود یہ آواز آسمان سے آتی ہُوئی سُنی تھی۔
2PE 1:19 اَور اُس تجربہ سے زِیادہ ہمارے پاس نبیوں کا وہ کلام ہے جو بڑا مُعتبر ہے اَور تُم اَچھّا کرتے ہو جو یہ سمجھ کر اُس پر غور کرتے رہتے ہو کہ وہ ایک چراغ ہے جو تاریکی میں رَوشنی دیتاہے جَب تک صُبح نہ ہو اَور صُبح کا سِتارا المسیح تمہارے دِلوں میں چمکنے نہ لگے۔
2PE 1:20 مگر سَب سے پہلے یہ جان لو کہ کِتاب مُقدّس کی کویٔی بھی نبُوّت کی بات کی تفسیر اَپنے ذاتی طور پر نہیں کر سَکتا۔
2PE 1:21 کیونکہ نبُوّت کی کویٔی بھی بات اِنسان کی اَپنی خواہش سے کبھی نہیں ہُوئی بَلکہ لوگ پاک رُوح کے اِلہام سے خُدا کی طرف سے بولتے تھے۔
2PE 2:1 جِس طرح بنی اِسرائیلؔ میں جھُوٹے نبی مَوجُود تھے اُسی طرح تمہارے درمیان بھی جھُوٹے اُستاد ہوں گے۔ جو پوشیدہ طور پر ہلاک کرنے والی بِدعتیں شروع کریں گے اَور اُس آقا المسیح کا بھی اِنکار کریں گے جِس نے اُنہیں قیمت اَدا کرکے چھُڑایا ہے۔ اَیسی باتوں سے یہ لوگ جلد ہی اَپنے اُوپر ہلاکت لائیں گے۔
2PE 2:2 اَور بہت سے لوگ اُن کی شہوت پرستی کی پیروی کریں گے جِن کی وجہ سے راہِ حق کی بدنامی ہوگی۔
2PE 2:3 اَور لالچ کے سبب سے اَیسے اُستاد تُمہیں فرضی قصّے سُنا کر تُم سے ناجائز فائدہ اُٹھائیں گے۔ لیکن اُن پر بہت پہلے ہی سزا کا حُکم ہو چُکاہے اَور اُن کی ہلاکت جلد ہونے والی ہے۔
2PE 2:4 کیونکہ جَب خُدا نے گُناہ کرنے والے فرشتوں کو نہیں بخشا بَلکہ جہنّم میں بھیج کر تاریکی کی زنجیروں میں جکڑ دیا تاکہ عدالت کے دِن تک حِراست میں رہیں۔
2PE 2:5 اَور نہ قدیم زمانے کے لوگوں کو بخشا، بَلکہ بے دین دُنیا پر سیلاب بھیج کر ہلاک کر دیا اَور صِرف راستبازی کی مُنادی کرنے والے حضرت نُوح اَور سات دیگر اَشخاص کو بچا لیا۔
2PE 2:6 اَور خُدا نے سدُومؔ اَور عمورہؔ کے شہروں کو مُجرم قرار دے کر جَلا کر راکھ کر دیا تاکہ آئندہ زمانہ کے بےدینوں کے لیٔے عِبرت ہو کہ اُن کے ساتھ کیسا سلُوک کیا جایٔےگا۔
2PE 2:7 اَور خُدا نے راستباز حضرت لُوطؔ کو جو بےدینوں کے ناپاک چال چلن سے تنگ آ چُکے تھے، بچا لیا۔
2PE 2:8 کیونکہ وہ راستباز شخص اُن کے درمیان رہ کر اُن کے بےشَرع کاموں کو دِن رات دیکھتا اَور سُنتا رہتا تھا اَور اُس کا پاک دِل اَندر ہی اَندر سخت تکلیف میں رہتا تھا۔
2PE 2:9 تو یہ ظاہر ہے کہ خُداوؔند راستبازوں کو آزمائشوں سے بچانا جانتا ہے اَور بدکاروں کو روزِ عدالت تک سزا میں گِرفتار رکھنا بھی جانتا ہے۔
2PE 2:10 خصوصاً اُن کو جو جِسم کی ناپاک شَہوتوں کے غُلام ہو جاتے ہیں اَور اِختیار والوں کو ناچیز جانتے ہیں۔ یہ لوگ گُستاخ اَور مغروُر ہیں اَور آسمانی مخلُوق پر کُفر بکنے سے نہیں ڈرتے،
2PE 2:11 اگرچہ فرشتے طاقت اَور قُدرت میں اِن سے افضل ہیں لیکن وہ بھی خُداوؔند کے حُضُور میں اُن پر لَعن طَعن کے ساتھ اِلزام لگانے کی جُرأت نہیں کرتے۔
2PE 2:12 مگر یہ جھُوٹے اُستاد جِن باتوں کا علم بھی نہیں رکھتے، اُن پر بھی لعنت بھیجتے ہیں۔ یہ لوگ بے عقل جانوروں کی مانند ہیں جو فطری طور پر شِکار کیٔے جانے اَور ہلاک ہونے کے لیٔے پیدا ہویٔے ہیں اَور یہ لوگ جانوروں کی مانند ہلاک ہو جایٔیں گے۔
2PE 2:13 یہ اَپنے بُرے کاموں کا بدلہ پائیں گے۔ اِن کو دِن دہاڑے عیّاشی کرنے میں مزا آتا ہے۔ یہ لوگ مکرُوہ داغ اَور عیب والے ہیں، یہ تمہارے ساتھ مَحَبّت کی ضیافتوں میں شریک ہوکر اَپنی دغابازیوں سے عیش و عشرت کرتے ہیں۔
2PE 2:14 اِن کی آنکھوں میں زناکاری بَسی رہتی ہیں۔ یہ گُناہ سے باز نہیں رہ سکتے۔ یہ کمزور دِلوں کو پھانسنا خُوب جانتے ہیں؛ اِن کے دِل لالچ سے بھرے ہویٔے ہیں۔ یہ لعنت کے فرزند ہیں۔
2PE 2:15 یہ لوگ سیدھی راہ چھوڑکر گمراہ ہو گیٔے ہیں اَور بعورؔ کے بیٹے بِلعاؔم کی راہ چل پڑے ہیں جِس نے ناراستی کی کمائی کو عزیز جانا۔
2PE 2:16 لیکن اُس کی بے زبان گدھی نے اُس کی خطا پر اُسے ملامت کی اَور اِنسان کی طرح کلام کرکے اُسے اُس نبی کی دیوانگی سے باز رکھا۔
2PE 2:17 یہ لوگ اَندھے کنوئیں ہیں اَور اُس کُہر کی مانند ہیں جسے تیز ہَوا اُڑا لے جاتی ہے۔ جہنّم کی سخت تاریکی اُن کے لئے مُقرّر کر دی گئی ہے۔
2PE 2:18 یہ لوگ مغروُر ہیں، بےہوُدہ بکواس کرتے رہتے ہیں اَور شہوت پرستی کے ذریعہ اُن لوگوں کو پھر سے نَفسانی خواہشات میں پھنسا دیتے ہیں جو ابھی گمراہی میں سے بچ کر نکل ہی رہے ہیں۔
2PE 2:19 یہ اُن سے تو آزادی کا وعدہ کرتے ہیں مگر خُود بدی کے غُلام ہیں کیونکہ جو شخص جِس سے مغلُوب ہے وہ اُسی کا غُلام ہے۔
2PE 2:20 اگر اَیسے لوگ جو اَپنے خُداوؔند اَور مُنجّی یِسوعؔ المسیح کو پہچان کر دُنیا کی خرابیوں سے بچ نکلنے کے باوُجُود بھی، پھر سے اُن میں پھنس کر اُن کا شِکار ہونے لگیں تو اُن کی بعد کی حالت پہلی حالت سے زِیادہ بدتر ہوتی ہے۔
2PE 2:21 کیونکہ اُن کے لیٔے تو یہی بہتر تھا کہ وہ راستبازی کی راہ سے کبھی واقف ہی نہیں ہوتے، مُقابلے اِس کے راستبازی کی راہ جان لینے کے بعد بھی اُس پاک حُکم سے پھر گیٔے جو اُنہیں دیا گیا تھا۔
2PE 2:22 اُن پر تو یہ مثال صادق آتی ہے، ”کُتّا اَپنی قَے کو پھر سے چٹ کر جاتا ہے،“‏ اَور ”نہلائی ہُوئی سُؤرنی لَوٹنے کے لیٔے کیچڑ کی طرف۔“
2PE 3:1 اَے عزیزو! اَب مَیں تُمہیں یہ دُوسرا خط لِکھ رہا ہُوں۔ مَیں نے دونوں خُطوط میں تمہاری یادداشت کو تازہ کرنے اَور تمہارے صَاف دِلوں کی حوصلہ اَفزائی کرنے کی کوشش کی ہے۔
2PE 3:2 تاکہ تُم اُن نبُوّتوں کو جو پاک نبیوں نے قدیم زمانے سے کی ہیں اَور ہمارے خُداوؔند اَور مُنجّی کے اُس حُکم کو یاد رکھو جو تمہارے رسولوں کی مَعرفت سے تُم تک پہُنچا ہے۔
2PE 3:3 سَب سے پہلے تُمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ آخِری دِنوں میں راہِ حق کا مذاق اُڑانے والے آئیں گے جو اَپنی نَفسانی بدخواہشات کے مُطابق زندگی گُزاریں گے۔
2PE 3:4 اَور کہیں گے، ”المسیح کے ’آمد کا‘ وعدہ کہاں گیا؟ کیونکہ ہمارے آباؤاَجداد کی وفات سے لے کر اَب تَب سَب کچھ وَیسا ہی چلا آ رہاہے جَیسا کہ دُنیا کی تخلیق کے وقت تھا۔“
2PE 3:5 وہ تو جان بوجھ کر اِس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ آسمان خُدا کے کلام کے ذریعہ سے قدیم زمانہ سے مَوجُود ہے اَور زمین پانی میں سے بنی اَور پانی میں قائِم ہے۔
2PE 3:6 اَور پانی ہی سے اُس وقت کی قدیم دُنیا سیلاب میں ڈُوب کر تباہ ہو گئی۔
2PE 3:7 مگر اِس وقت کے آسمان اَور زمین اُسی خُدا کے کلام کے ذریعہ سے اِس لیٔے رکھے گیٔے ہیں کہ آگ میں جَلائے جایٔیں؛ اَور یہ بے دین اِنسانوں کی عدالت اَور ہلاکت کے دِن تک محفوظ رہیں گے۔
2PE 3:8 لیکن اَے عزیزوں! اِس بات کو کبھی نہ بھُولو کہ خُداوؔند کے یہاں ایک دِن ہزار بَرس اَور ہزار بَرس ایک دِن کے برابر ہیں۔
2PE 3:9 خُداوؔند اَپنا وعدہ پُورا کرنے میں دیر نہیں کرتا، جِس طرح بعض لوگ سمجھتے ہیں بَلکہ وہ تمہارے لیٔے صبر کر رہاہے اَور نہیں چاہتا کہ کویٔی شخص ہلاک ہو بَلکہ چاہتاہے کہ سَب لوگوں کو تَوبہ کرنے کا موقع ملے۔
2PE 3:10 لیکن خُداوؔند کے لَوٹنے کا دِن چور کی مانند اَچانک آ جائے گا۔ اُس دِن آسمان بڑے شور و غُل کے ساتھ غائب ہو جایٔیں گے اَور اجرامِ فلکی شدید حرارت سے پگھل جایٔیں گے اَور زمین اَور اُس پر کی تمام چیزیں جَل جایٔیں گی۔
2PE 3:11 جَب تمام چیزیں اِس طرح تباہ و برباد ہونے والی ہیں تو تُمہیں کیسا شخص ہونا چاہیے؟ تُمہیں تو نہایت ہی پاکیزگی اَور خُدا پرستی کی زندگی گزارنی چاہیے۔
2PE 3:12 اَور خُدا کے اُس دِن کا نہایت مُشتاق اَور مُنتظر رہنا چاہیے جِس کے باعث افلاک جَل کر تباہ ہو جایٔیں گے اَور اجرامِ فلکی شدید حرارت سے پگھل جایٔیں گے۔
2PE 3:13 لیکن ہم خُدا کے وعدوں کے مُوافق نئے آسمان اَور نئی زمین کے اِنتظار میں ہیں جِس میں راستبازی سکونت کرتی ہے۔
2PE 3:14 چنانچہ اَے عزیزوں! جَب کہ تُم اِن باتوں کے مُنتظر ہو اِس لیٔے پُوری کوشش کرو کہ خُداوؔند کی حُضُوری میں اَپنے آپ کو بے داغ، بے عیب اَور صُلح کے ساتھ پایٔے جاؤ۔
2PE 3:15 اَور ہمارے خُداوؔند کا تحمُّل لوگوں کو نَجات پانے کا موقع دیتاہے۔ چنانچہ ہمارے پیارے بھایٔی پَولُسؔ نے بھی اُس عِرفان کے مُوافق جو اُسے دیا گیا ہے تُمہیں یہی لِکھّا ہے۔
2PE 3:16 اُس نے اَپنے تمام خُطوط میں اِن باتوں کا ذِکر کیا ہے۔ اُس کے خُطوط میں بعض باتیں اَیسی بھی ہیں جِن کا سمجھنا مُشکل ہے اَور جنہیں جاہل اَور بے قِیام لوگ اُن کے معنی کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں جَیسا وہ باقی صحیفوں کے ساتھ بھی کرتے ہیں اَور اَیسا کرکے اَپنے اُوپر تباہی لاتے ہیں۔
2PE 3:17 اِس لیٔے اَے عزیز دوستوں! مَیں نے تُمہیں اِن باتوں سے پہلے ہی سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ تُم ہوشیار رہو، اَور بےدینوں کی گمراہی میں پھنس کر خُود ہی محفوظ مقام سے گِر نہ جاؤ۔
2PE 3:18 بَلکہ ہمارے خُداوؔند اَور مُنجّی یِسوعؔ المسیح کے فضل اَور عِرفان میں بڑھتے جاؤ۔ اُسی کی تمجید اَب بھی ہو اَور اَبد تک ہوتی رہے۔ آمین۔
1JO 1:1 ہم آپ سَب کو اُس زندگی کے کلام کی بابت بَیان کرتے ہیں جو اِبتدا سے مَوجُود تھا، جسے ہم نے اَپنے کانوں سے سُنا، اَپنی آنکھوں سے دیکھا، اَور جِس کا مشاہدہ ہم نے کیا اَور جسے ہم نے اَپنے ہاتھوں سے بھی چھُوا۔
1JO 1:2 یہی کلام جو زندگی ہے ہم پر ظاہر ہُوا اَور ہم نے اُسے دیکھا اَور اُس کی گواہی دیتے اَور تُمہیں اُسی اَبدی زندگی کا پیغام دیتے ہیں جو خُدا باپ کے ساتھ تھا اَور ہم پر ظاہر ہُوا۔
1JO 1:3 ہم نے جو کچھ دیکھا اَور سُنا اُس کی خبر تُمہیں بھی دیتے ہیں تاکہ تُم بھی ہماری رِفاقت میں جو خُدا باپ اَور اُس کے بیٹے یِسوعؔ المسیح کے ساتھ ہے، شریک ہو جاؤ۔
1JO 1:4 اَور یہ خط ہم اِس لیٔے لِکھ رہے ہیں کہ ہماری خُوشی پُوری ہو جائے۔
1JO 1:5 جو پیغام ہم نے المسیح سے سُنا اَور تُمہیں سُناتے ہیں وہ یہ ہے کہ خُدا نُور ہے اَور اُس میں ذرا بھی تاریکی نہیں ہے۔
1JO 1:6 اگر ہم دعویٰ کرتے ہیں کی خُدا کے ساتھ ہماری رِفاقت ہے اَور ہم خُود تاریکی میں چلتے ہیں تو ہم جھُوٹے ہیں اَور حق پر عَمل نہیں کر رہے ہیں۔
1JO 1:7 لیکن اگر ہم نُور میں چلتے ہیں جَیسا کہ خُدا نُور میں ہے تو پھر ہم ایک دُوسرے کے ساتھ رِفاقت رکھتے ہیں اَور اُس کے بیٹے یِسوعؔ کا خُون ہمیں تمام گُناہوں سے پاک صَاف کر دیتاہے۔
1JO 1:8 اگر ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم بےگُناہ ہیں تو اَپنے آپ کو فریب دیتے ہیں اَور ہم میں سچّائی نہیں ہے۔
1JO 1:9 لیکن اگر ہم اَپنے گُناہوں کا اقرار کریں، تو وہ ہمارے گُناہوں کو مُعاف کرنے اَور ہمیں ساری ناراستی سے پاک صَاف کرنے میں وفادار اَور عادل ہے۔
1JO 1:10 اگر ہم دعویٰ کریں کہ ہم نے گُناہ نہیں کیا ہے تو ہم خُدا کو جھُوٹا ٹھہراتے ہیں اَور اُس کا کلام ہمارے اَندر ہے ہی نہیں۔
1JO 2:1 میرے عزیز بچّوں! میں تُمہیں یہ باتیں اِس لیٔے لِکھتا ہُوں تاکہ تُم گُناہ نہ کرو۔ لیکن اگر کویٔی گُناہ کرے تو خُدا باپ کے پاس ہمارا ایک وکیل مَوجُود ہے یعنی راستباز یِسوعؔ المسیح۔
1JO 2:2 اَور وُہی ہمارے گُناہوں کا کفّارہ ہے اَور نہ صِرف ہمارے ہی گُناہوں کا بَلکہ ساری دُنیا کے گُناہوں کا بھی کفّارہ ہے۔
1JO 2:3 اگر ہم خُدا کے حُکموں پر عَمل کرتے ہیں تو یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے اُسے جان لیا ہے۔
1JO 2:4 جو کویٔی یہ کہتاہے، ”میں اُسے جان گیا ہُوں،“ مگر اُس کے حُکموں پر عَمل نہیں کرتا تو وہ جھُوٹا ہے اَور اُس میں سچّائی نہیں ہے۔
1JO 2:5 لیکن جو کویٔی اُس کے کلام پر عَمل کرتا ہے تو اُس میں یقیناً خُدا کی مَحَبّت کامل ہو گئی ہے۔ اِسی سے ہمیں مَعلُوم ہوتاہے کہ ہم اُس میں قائِم ہیں۔
1JO 2:6 جو کویٔی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ یِسوعؔ المسیح کی رِفاقت میں قائِم ہے، تو وہ حُضُور کی مانند زندگی بھی بسر کرے۔
1JO 2:7 اَے عزیزوں! میں تُمہیں کویٔی نیا حُکم نہیں لِکھ رہا ہُوں، بَلکہ وُہی پُرانا حُکم ہے جو شروع سے تُمہیں مِلا ہے۔ یہ پُرانا حُکم وُہی پیغام ہے جسے تُم سُن چُکے ہو۔
1JO 2:8 لیکن دُوسری طرف سے یہ حُکم نیا بھی ہے کیونکہ اِس کی سچّائی المسیح میں اَور تمہاری زندگی میں نظر آتی ہے۔ کیونکہ تاریکی مٹتی جا رہی ہے اَور حقیقی نُور پہلے سے ہی چمکنا شروع ہو گیا ہے۔
1JO 2:9 جو کویٔی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نُور میں ہے لیکن اَپنے بھایٔی سے دُشمنی رکھتا ہے تو وہ ابھی تک تاریکی میں ہی ہے۔
1JO 2:10 جو کویٔی اَپنے بھایٔی یا بہن سے مَحَبّت رکھتا ہے وہ نُور میں رہتاہے اَور دُوسروں کے لیٔے وہ ٹھوکر کا باعث نہیں بنتا ہے۔
1JO 2:11 مگر جو اَپنے بھایٔی یا بہن سے دُشمنی رکھتا ہے وہ تاریکی میں رہتاہے اَور تاریکی ہی میں چلتا پھرتاہے۔ وہ نہیں جانتا کہ کہاں جا رہاہے کیونکہ تاریکی نے اُسے اَندھا کر دیا ہے۔
1JO 2:12 پیارے بچّوں! میں تُمہیں اِس لیٔے لِکھ رہا ہُوں، کہ المسیح کے نام سے تمہارے گُناہ مُعاف کر دئیے گیٔے ہیں۔
1JO 2:13 اَے والدوں! میں تُمہیں اِس لیٔے لِکھ رہا ہُوں، کیونکہ تُم نے اُسے جو اِبتدا سے مَوجُود ہے، جان لیا ہے۔ اَے جَوان مَردوں! میں تُمہیں اِس لیٔے لِکھ رہا ہُوں، کہ تُم اِبلیس پر غالب آ گئے ہو۔
1JO 2:14 بچّوں! مَیں نے تُمہیں اِس لیٔے لِکھّا ہے، کیونکہ تُم خُدا باپ کو جان گیٔے ہو۔ اَے والدوں! مَیں نے تُمہیں اِس لیٔے لِکھّا ہے، کہ تُم نے اُسے جو اِبتدا سے ہی مَوجُود ہے، جان لیا ہے۔ جَوان مَردوں! مَیں نے تُمہیں اِس لیٔے لِکھّا ہے، کہ تُم مضبُوط ہو، اَور خُدا کا کلام تمہارے اَندر قائِم ہے، اَور تُم اِبلیس پر غالب آ گئے ہو۔
1JO 2:15 تُم نہ تو دُنیا سے مَحَبّت رکھو اَور نہ دُنیا کی چیزوں سے، کیونکہ جو کویٔی دُنیا سے مَحَبّت رکھتا ہے اُس میں خُدا باپ کی مَحَبّت نہیں ہے۔
1JO 2:16 کیونکہ جو کچھ دُنیا میں ہے یعنی جِسم کی خواہش، آنکھوں کی خواہش اَور زندگی کا غُرور، وہ آسمانی باپ کی طرف سے نہیں بَلکہ دُنیا کی طرف سے ہے۔
1JO 2:17 دُنیا اَور اُس کی بدخواہشات، دونوں ختم ہوتی جا رہی ہیں لیکن جو خُدا کی مرضی پُوری کرتا ہے وُہی اَبد تک قائِم رہے گا۔
1JO 2:18 اَے بچّوں! یہ آخِری گھڑی ہے اَور جَیسا تُم نے سُنا ہے کہ مُخالف المسیح آنے والا ہے، اَور حقیقتاً بہت سے اَیسے مُخالف المسیح آ چُکے ہیں۔ اِسی سے ہمیں مَعلُوم ہوتاہے کہ آخِری گھڑی آ گئی ہے۔
1JO 2:19 یہ لوگ نکلے تو ہم ہی میں سے مگر حقیقت میں ہم میں سے نہیں تھے کیونکہ اگر وہ ہم میں سے ہوتے تو ہمارے ہی ساتھ رہتے۔ لیکن نکل اِس لیٔے گیٔے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ یہ لوگ ہماری جماعت کے اصل مُومِن تھے ہی نہیں۔
1JO 2:20 لیکن تُم کو تو اُس قُدُّوس کی طرف سے مَسح کیا گیا ہے اَور تُم پُوری سچّائی کو جانتے ہو۔
1JO 2:21 مَیں نے تُمہیں اِس لیٔے نہیں لِکھّا کہ تُم سچّائی سے واقف نہیں بَلکہ اِس لیٔے کہ تُم اُسے جانتے ہو اَور اِس لیٔے کہ کویٔی جھُوٹ سچّائی کی طرف سے نہیں آتا ہے۔
1JO 2:22 پھر جھُوٹا کون ہے؟ وُہی جو یِسوعؔ کے المسیح ہونے کا اِنکار کرتا ہے اَورجو باپ اَور بیٹے کا اِنکار کرتا ہے وُہی مُخالف المسیح ہے۔
1JO 2:23 جو کویٔی بیٹے کا اِنکار کرتا ہے اُس کے پاس آسمانی باپ بھی نہیں ہے اَورجو بیٹے کا اقرار کرتا ہے وہ آسمانی باپ کا بھی اقرار کرتا ہے۔
1JO 2:24 چنانچہ جو پیغام تُم نے شروع سے سُنا ہے وُہی تُم میں قائِم رہے۔ اگر وہ تُم میں قائِم رہے گا تو تُم بھی بیٹے اَور آسمانی باپ میں قائِم رہوگے۔
1JO 2:25 اَور اُس نے ہمیں اَبدی زندگی دینے کا وعدہ کیا ہے۔
1JO 2:26 مَیں نے یہ باتیں تُمہیں اُن کی بابت لکھی ہیں جو تُمہیں صحیح راہ سے گُمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
1JO 2:27 لیکن تُمہیں تو خُدا کی طرف سے مَسح کیا گیا ہے، وہ تُم میں قائِم ہے، اِس لیٔے ضروُرت نہیں کہ کویٔی تُمہیں سِکھائے کہ سچ کیا ہے؟ کیونکہ المسیح کا رُوح تُمہیں سَب باتیں سِکھاتا ہے جو تُمہیں جاننا چاہئے، اَورجو کچھ وہ سِکھاتا ہے وہ سچ ہے جھُوٹ نہیں۔ اِس لیٔے جِس طرح پاک رُوح نے تُمہیں سِکھایا ہے اُسی طرح تُم المسیح میں قائِم رہو۔
1JO 2:28 غرض اَے بچّوں! المسیح میں قائِم رہو تاکہ جَب وہ ظاہر ہو تو ہمیں دِلیری ہو اَور ہم اُس کی آمد پر اُس کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔
1JO 2:29 اگر تُم جانتے ہو کہ المسیح راستباز ہیں تو تُمہیں یہ بھی جاننا چاہئے کہ جو کویٔی راستبازی کے کام کرتا ہے وہ خُدا سے پیدا ہُواہے۔
1JO 3:1 دیکھو، آسمانی باپ نے ہم سے کیسی مَحَبّت کی ہے کہ ہم خُدا کے فرزند کَہلاتے ہیں اَور ہم واقعی ہیں بھی۔ دُنیا ہمیں اِس لیٔے نہیں جانتی کیونکہ اِس نے یِسوعؔ کو بھی نہیں جانا۔
1JO 3:2 اَے عزیز دوستوں! اِس وقت ہم خُدا کے فرزند ہیں لیکن ابھی تک یہ ظاہر نہیں ہُواہے کہ ہم اَور کیا ہوں گے لیکن اِتنا ضروُر جانتے ہیں کہ جَب یِسوعؔ پھر سے ظاہر ہوں گے تو ہم بھی اُن کی مانند ہوں گے کیونکہ ہم حُضُور کو وَیسا ہی دیکھیں گے جَیسا وہ ہیں۔
1JO 3:3 اَورجو کویٔی یِسوعؔ میں یہ اُمّید رکھتا ہے وہ اَپنے آپ کو وَیسا ہی پاک رکھتا ہے، جَیسا وہ پاک ہے۔
1JO 3:4 جو کویٔی گُناہ کرتا ہے وہ شَریعت کی مُخالفت کرتا ہے کیونکہ گُناہ شَریعت کی مُخالفت ہی ہے۔
1JO 3:5 لیکن تُم جانتے ہو کہ یِسوعؔ اِس لیٔے ظاہر ہویٔے تاکہ وہ ہمارے گُناہوں کو اُٹھالے جایٔیں اَور اُس کی ذات میں گُناہ نہیں ہے۔
1JO 3:6 جو کویٔی اُس میں قائِم رہتاہے وہ گُناہ نہیں کرتے رہتا اَورجو کویٔی گُناہ کرتے رہتاہے اُس نے نہ تو یِسوعؔ کو دیکھاہے اَور نہ ہی اُن کو جانتا ہے۔
1JO 3:7 اَے عزیز فرزندوں! کسی کے فریب میں نہ آنا۔ جو راستبازی کے کام کرتا ہے وہ راستباز ہے جَیسا کہ یِسوعؔ راستباز ہیں۔
1JO 3:8 جو شخص گُناہ کرتے رہتاہے وہ اِبلیس سے ہے کیونکہ اِبلیس شروع ہی سے گُناہ کرتا آیا ہے۔ خُدا کا بیٹا اِس لیٔے ظاہر ہُوا تاکہ اِبلیس کے کاموں کو تباہ کر دے۔
1JO 3:9 جو کویٔی خُدا سے پیدا ہُواہے وہ لگاتار گُناہ نہیں کرتا کیونکہ اُن کے اَندر خُدا کا تُخم قائِم رکھتا ہے۔ وہ لگاتار گُناہ کر ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ خُدا سے پیدا ہویٔے ہیں۔
1JO 3:10 اِسی سے ظاہر ہوتاہے کہ کون خُدا کے فرزند ہیں اَور کون اِبلیس کے۔ جو کویٔی راستبازی کے کام نہیں کرتا وہ خُدا کا فرزند نہیں اَورجو اَپنے بھایٔی یا بہن سے مَحَبّت نہیں رکھتا وہ بھی خُدا کا فرزند نہیں ہے۔
1JO 3:11 کیونکہ جو پیغام تُم نے شروع سے ہی سُنا وہ یہ ہے کہ ہم ایک دُوسرے سے مَحَبّت رکھیں۔
1JO 3:12 اَور قائِنؔ کی مانند نہ بنیں جو اُس شیطان سے تھا۔ جِس نے اَپنے بھایٔی کو قتل کیا اَور کیوں قتل کیا؟ اِس لیٔے کہ اُس کے تمام کام بدی کے تھے مگر اُس کے بھایٔی کے کام راستبازی کے تھے۔
1JO 3:13 چنانچہ اَے بھائیوں اَور بہنوں! اگر دُنیا تُم سے دُشمنی رکھتی ہے تو تعجُّب نہ کرو۔
1JO 3:14 کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گیٔے ہیں، کیونکہ ہم ایک دُوسرے سے مَحَبّت رکھتے ہیں۔ جو مَحَبّت نہیں رکھتا وہ گویا مُردے کی طرح ہے۔
1JO 3:15 جو کویٔی اَپنے بھایٔی سے عداوت رکھتا ہے وہ خُونی ہے اَور تُم جانتے ہو کہ کسی خُونی میں اَبدی زندگی مَوجُود نہیں رہتی۔
1JO 3:16 ہم نے مَحَبّت کو اِسی سے جاناہے کہ یِسوعؔ نے ہمارے لیٔے اَپنی جان قُربان کر دی۔ اَور ہم پر بھی یہ فرض ہے کہ ہم اَپنے بھائیوں کے واسطے اَپنی جان قُربان کریں۔
1JO 3:17 اگر کسی کے پاس دُنیا کا مال مَوجُود ہے لیکن وہ اَپنے بھایٔی کو مُحتاج دیکھ کر اُس پر رحم کرنے سے باز رہتاہے تو خُدا کی مَحَبّت اُس میں کِس طرح قائِم رہ سکتی ہے؟
1JO 3:18 اَے عزیز فرزندوں! ہم محض کلام اَور زبان ہی سے نہیں بَلکہ حقیقی طور سے اَور اَپنے عَمل سے بھی مَحَبّت کا اِظہار کریں۔
1JO 3:19 غرض اِس سے ہم جان لیتے ہیں کہ ہم حق کے ہیں اَور ہمیں خُدا کی حُضُوری میں دِلی اِطمینان حاصل ہوگا۔
1JO 3:20 اگر ہمارا ضمیر ہمیں اِلزام دے تو خُدا تو ہمارے ضمیر سے بڑا ہے اَور وہ سَب کچھ جانتا ہے۔
1JO 3:21 اَے عزیز دوستوں! اگر ہمارا ضمیر ہمیں مُجرم نہیں ٹھہراتا تو ہمیں خُدا کی حُضُوری میں دِلیری ہوتی ہے۔
1JO 3:22 اَور ہم جو کچھ خُدا سے مانگتے ہیں وہ اُس کی طرف سے ہمیں ملتا ہے کیونکہ ہم اُس کے حُکموں پر عَمل کرتے ہیں اَور وُہی کرتے ہیں جو اُسے پسند ہے۔
1JO 3:23 اَور اُس کا حُکم یہ ہے کہ ہم اُس کے بیٹے یِسوعؔ المسیح کے نام پر ایمان لائیں اَور اُس کے حُکم کے مُطابق ایک دُوسرے سے مَحَبّت رکھیں۔
1JO 3:24 جو کویٔی خُدا کے حُکموں پر عَمل کرتا ہے وہ خُدا میں قائِم رہتاہے اَور خُدا اُس میں، اَور خُدا نے جو پاک رُوح ہمیں بخشا ہے، ہم اُسی کے وسیلے سے یہ جانتے ہیں کہ خُدا ہم میں قائِم رہتاہے۔
1JO 4:1 اَے عزیز دوستوں! تُم ہر ایک رُوح کا یقین مت کرو بَلکہ رُوحوں کو آزماؤ کہ وہ خُدا کی طرف سے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ بہت سے جھُوٹے نبی دُنیا میں نکل چُکے ہیں۔
1JO 4:2 تُم خُدا کے پاک رُوح کو اِس طرح پہچان سکتے ہو کہ جو رُوح یہ اقرار کرے کہ یِسوعؔ المسیح مُجسّم ہوکر دُنیا میں تشریف لایٔے تو وہ خُدا کی طرف سے ہے۔
1JO 4:3 لیکن جو رُوح یِسوعؔ کے مُجسّم ہونے کی بات کا اقرار نہ کرے تو وہ خُدا کی طرف سے نہیں ہے۔ یہی مُخالف المسیح کی رُوح ہے جِس کی خبر تُم سُن چُکے ہو کہ وہ آنے والا ہے بَلکہ اِس وقت بھی دُنیا میں مَوجُود ہے۔
1JO 4:4 اَے پیارے چُھوٹے بچّوں! تُم خُدا سے ہو اَور اُن پر غالب آ گئے ہو کیونکہ جو تُم میں ہے وہ اُس سے کہیں زِیادہ بڑا ہے جو دُنیا میں ہے۔
1JO 4:5 وہ دُنیا کے ہیں اِس لیٔے دُنیوی نظریہ سے باتیں کرتے ہیں اَور دُنیا والے اُن کی سُنتے ہیں۔
1JO 4:6 مگر ہم خُدا کے لوگ ہیں اَورجو کویٔی خُدا کو جانتا ہے وہ ہماری سُنتا ہے، لیکن جو خُدا سے نہیں وہ ہماری نہیں سُنتا۔ اِس طرح ہم سچّائی کی رُوح اَور فریب دینے والی رُوح میں اِمتیاز کرتے ہیں۔
1JO 4:7 اَے عزیز دوستوں! آؤ ہم ایک دُوسرے سے مَحَبّت رکھیں کیونکہ مَحَبّت کی اِبتدا خُدا سے ہے اَورجو کویٔی مَحَبّت رکھتا ہے وہ خُدا سے پیدا ہُواہے اَور خُدا کو جانتا ہے۔
1JO 4:8 لیکن جو شخص مَحَبّت نہیں رکھتا اُس نے خُدا کو کبھی نہیں جانا کیونکہ خُدا مَحَبّت ہے۔
1JO 4:9 جو مَحَبّت خُدا ہم سے رکھتا ہے اُسے خُدا نے اِس طرح ظاہر کیا کہ اُس نے اَپنے انوکھے بیٹے کو دُنیا میں بھیجا تاکہ ہم اُس کے سبب سے زندگی پائیں۔
1JO 4:10 مَحَبّت یہ نہیں کہ ہم نے خُدا سے مَحَبّت کی بَلکہ یہ ہے کہ خُدا نے ہم سے مَحَبّت کی اَور ہمارے گُناہوں کے کفّارہ کے لیٔے اَپنے بیٹے کو بھیجا۔
1JO 4:11 اَے عزیز دوستوں! جَب خُدا نے ہم سے اَیسی مَحَبّت رکھی تو لازِم ہے کہ ہم بھی ایک دُوسرے سے مَحَبّت رکھیں۔
1JO 4:12 خُدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا لیکن اگر ہم ایک دُوسرے سے مَحَبّت رکھتے ہیں تو خُدا ہمارے اَندر رہتاہے اَور اُس کی مَحَبّت ہمارے دِلوں میں کامِل ہو جاتی ہے۔
1JO 4:13 چونکہ خُدا نے اَپنا پاک رُوح ہمیں عطا فرمایاہے اِس لیٔے ہم جانتے ہیں کہ وہ ہم میں اَور ہم اُس میں قائِم رہتے ہیں۔
1JO 4:14 اَور ہم نے دیکھ لیا ہے اَور اَب گواہی دیتے ہیں کہ آسمانی باپ نے اَپنے بیٹے کو دُنیا کا مُنجّی بنا کر بھیجا ہے۔
1JO 4:15 جو کویٔی اقرار کرتا ہے کہ یِسوعؔ خُدا کے بیٹے ہیں، تو خُدا اُن کے اَندر اَور وہ خُدا میں پایٔے جاتے ہیں۔
1JO 4:16 اَور اِس لیٔے جو مَحَبّت خُدا کو ہم سے ہے، اُس مَحَبّت کو ہم جان گیٔے ہیں اَور ہمیں اُس کے مَحَبّت کا یقین ہے۔ خُدا مَحَبّت ہے اَورجو مَحَبّت میں قائِم رہتاہے وہ خُدا میں اَور خُدا اُس میں قائِم رہتاہے۔
1JO 4:17 پس اِسی سبب سے مَحَبّت ہمارے درمیان کامِل ہو چُکی ہے، اِس لیٔے ہم اِنصاف کے دِن پُوری دِلیری کے ساتھ کھڑے ہو سکیں گے کیونکہ ہم اِس دُنیا میں یِسوعؔ کی مانند زندگی گزار رہے ہیں۔
1JO 4:18 مَحَبّت میں ذرا سا بھی خوف نہیں ہوتا۔ لیکن کامِل مَحَبّت خوف کو دُور کردیتی ہے کیونکہ خوف کا تعلّق سزا سے ہوتاہے۔ اَورجو کویٔی خوف رکھتا ہے وہ مَحَبّت میں کامِل نہیں ہوتا۔
1JO 4:19 ہم اِس لیٔے مَحَبّت رکھتے ہیں کیونکہ پہلے خُدا نے ہم سے مَحَبّت رکھی۔
1JO 4:20 اگر کویٔی کہے کہ وہ خُدا سے مَحَبّت رکھتا ہے مگر اَپنے بھایٔی یا بہن سے عداوت رکھتا ہے تو وہ جھُوٹا ہے۔ کیونکہ جو اَپنے بھایٔی یا بہن سے جسے اُس نے دیکھاہے، مَحَبّت نہیں کرتا تو وہ خُدا سے کیسے مَحَبّت کر سَکتا ہے جسے اُس نے دیکھا تک نہیں؟
1JO 4:21 ہمیں تو خُدا کی طرف سے یہ حُکم مِلا ہے: جو کویٔی خُدا سے مَحَبّت رکھتا ہے اُسے لازِم ہے کہ اَپنے بھایٔی اَور بہن سے بھی مَحَبّت رکھے۔
1JO 5:1 جو کویٔی یہ ایمان رکھتا ہے کہ یِسوعؔ ہی المسیح ہیں وہ خُدا سے پیدا ہُواہے اَورجو باپ سے مَحَبّت رکھتا ہے وہ اُس کی اَولاد سے بھی مَحَبّت رکھتا ہے۔
1JO 5:2 جَب ہم خُدا سے مَحَبّت رکھتے ہیں اَور اُس کے حُکموں پر عَمل کرتے ہیں تو اِسی سے ہمیں مَعلُوم ہوتاہے کہ ہم خُدا کے فرزندوں سے بھی مَحَبّت رکھتے ہیں۔
1JO 5:3 اصل میں خُدا سے مَحَبّت رکھنے سے مُراد یہ ہے کہ ہم اُس کے حُکموں پر عَمل کرتے ہیں اَور اُنہیں اَپنے لیٔے بوجھ نہیں سمجھتے۔
1JO 5:4 کیونکہ جو کویٔی خُدا سے پیدا ہُواہے وہ دُنیا پر غالب آتا ہے۔ اَور جِس غلبہ سے دُنیا مغلُوب ہوتی ہے وہ ہمارا ایمان ہے۔
1JO 5:5 دُنیا پر کون غالب آتا ہے؟ صِرف وُہی جِس کا ایمان ہے کہ یِسوعؔ خُدا کے بیٹے ہیں۔
1JO 5:6 یہی ہیں وہ جو پانی یعنی پاک غُسل اَور خُون یعنی صَلیبی موت کے وسیلہ سے ظاہر ہویٔے یعنی یِسوعؔ المسیح۔ وہ صِرف پانی کے وسیلہ سے نہیں بَلکہ پانی اَور خُون دونوں کے وسیلہ سے تشریف لایٔے تھے۔ اَور پاک رُوح اُس کی گواہی دیتاہے کیونکہ رُوح ہی حق ہے۔
1JO 5:7 اَور گواہی دینے والے تین ہیں:
1JO 5:8 یعنی پاک رُوح، پانی اَور خُون اَور یہ تینوں ایک ہی بات پر مُتّفِق ہیں۔
1JO 5:9 جَب ہم اِنسانوں کی گواہی قبُول کرلیتے ہیں تو خُدا کی گواہی تو کہیں بڑھ کر ہے جو اُس نے اَپنے بیٹے کے حق میں دی ہے۔
1JO 5:10 جو خُدا کے بیٹے پر ایمان رکھتا ہے وہ اِس گواہی پر ایمان لاتا ہے۔ جِس نے خُدا پر یقین نہیں رکھا اُس نے خُدا کو جھُوٹا ٹھہرایا ہے کیونکہ وہ اُس گواہی پر ایمان نہیں لایا جو خُدا نے اَپنے بیٹے کے حق میں دی ہے۔
1JO 5:11 اَور وہ گواہی یہ ہے کہ خُدا نے ہمیں اَبدی زندگی بخشی ہے اَور یہ زندگی اُس کے بیٹے کے وسیلے سے ملتی ہے۔
1JO 5:12 جِس کے پاس بیٹا ہے اُس کے پاس زندگی ہے اَور جِس کے پاس خُدا کا بیٹا نہیں اُس کے پاس زندگی بھی نہیں۔
1JO 5:13 مَیں نے تُمہیں جو خُدا کے بیٹے کے نام پر ایمان لایٔے ہو یہ باتیں اِس لیٔے لکِھیں کہ تُمہیں مَعلُوم ہو کہ تمہارے پاس اَبدی زندگی ہے۔
1JO 5:14 اَور ہمیں جو دِلیری خُدا کے حُضُور میں ہے اُس کا سبب یہ ہے کہ اگر ہم خُدا کی مرضی کے مُوافق کچھ مانگتے ہیں تو وہ ہماری سُنتا ہے۔
1JO 5:15 اَور ہمیں مَعلُوم ہے کہ جو کچھ ہم اُس سے مانگتے ہیں وہ ہماری سُنتا ہے، تو ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے اُس سے مانگا ہے وہ پایا بھی ہے۔
1JO 5:16 اگر کویٔی اَپنے بھایٔی کو اَیسا گُناہ کرتے دیکھے جِس کا اَنجام موت نہ ہو تو وہ دعا کرے اَور خُدا اُس شخص کو زندگی بخشےگا۔ لیکن اَیسا بھی گُناہ ہوتاہے جِس کا اَنجام موت ہوتاہے۔ میں اِس کے بارے میں دعا کرنے کی تائید نہیں کرتا۔
1JO 5:17 وَیسے تو ہر قِسم کی ناراستی گُناہ ہے مگر سارے گُناہ کا نتیجہ موت نہیں ہوتا۔
1JO 5:18 ہم جانتے ہیں کہ جو کویٔی خُدا سے پیدا ہُواہے وہ گُناہ کرتے نہیں رہتا؛ کیونکہ خُدا کا بیٹا اُس کی حِفاظت کرتا ہے اَور اِبلیس اُسے نُقصان نہیں پہُنچا سَکتا۔
1JO 5:19 ہم جانتے ہیں کہ ہم خُدا کے فرزند ہیں لیکن ساری دُنیا اِبلیس کے قبضہ میں ہے۔
1JO 5:20 اَور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خُدا کا بیٹا آ گیا ہے اَور اُس نے ہمیں سمجھ بخشی ہے تاکہ ہم اُسے جان لیں جو حقیقی ہے؛ اَور ہم اُس میں ہیں جو حقیقی ہے، یعنی اُس کے بیٹے یِسوعؔ المسیح میں۔ وُہی حقیقی خُدا اَور اَبدی زندگی ہے۔
1JO 5:21 اَے عزیز فرزندوں! اَپنے آپ کو بُتوں کی پرستش سے محفوظ رکھو۔
2JO 1:1 بُزرگ حضرت یُوحنّا کی جانِب سے،
2JO 1:2 اَور یہ مَحَبّت اُس سچّائی کے سبب سے ہے جو ہمارے اَندر رہتاہے اَور ہمیشہ تک ہمارے ساتھ رہے گا۔
2JO 1:3 خُدا باپ اَور خُدا کے بیٹے یِسوعؔ المسیح کی طرف سے فضل، رحم اَور اِطمینان، سچّائی اَور مَحَبّت میں ہمارے ساتھ قائِم رہے گی۔
2JO 1:4 مُجھے بڑی خُوشی ہُوئی، جَب مُجھے پتا چلا کہ تیرے کچھ فرزند اُس حُکم کے مُطابق سچّائی پر عَمل کر رہے ہیں جو ہمیں باپ کی طرف سے مِلا ہے۔
2JO 1:5 اَور اَب اَے عزیزہ خاتُون! مَیں تُجھے کویٔی نیا حُکم نہیں بَلکہ صِرف وُہی جو شروع سے ہی ہمارے پاس ہے، لِکھ رہا ہُوں اَور تُم سے مِنّت کرتا ہُوں کہ ہم ایک دُوسرے سے مَحَبّت رکھیں۔
2JO 1:6 اَور مَحَبّت اِس میں ہے کہ ہم خُدا کے حُکموں پر فرمانبرداری سے چلیں۔ یہ وُہی حُکم ہے جو تُم نے شروع سے سُنا ہے کہ تُم مَحَبّت سے زندگی بسر کرو۔
2JO 1:7 کیونکہ بہت سے اَیسے گُمراہ کرنے والے دُنیا میں نکل چُکے ہیں جو یہ نہیں مانتے ہیں کہ یِسوعؔ المسیح مُجسّم ہوکر آئے ہیں، اَیسا ہر شخص گُمراہ کرنے والا اَور مُخالف المسیح یعنی دَجّال ہے۔
2JO 1:8 خبردار رہو کہ جو محنت ہم نے کی ہے وہ تمہارے سبب سے ضائع نہ ہو جائے بَلکہ تُمہیں اُس کا مُکمّل اجر ملے۔
2JO 1:9 جو کویٔی بھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے اَور المسیح کی تعلیم پر قائِم نہیں رہتاہے، اُس میں خُدا نہیں ہے۔ اَورجو اُس کی تعلیم پر قائِم رہتاہے تو اُس کے پاس باپ اَور بیٹا دونوں ہیں۔
2JO 1:10 اگر کویٔی تمہارے پاس آئے مگر یہ تعلیم نہ دے تو اُسے گھر میں داخل مت ہونے دینا اَور نہ ہی اُسے سلام کرنا۔
2JO 1:11 کیونکہ جو کویٔی اَیسے شخص کا خیرمقدم کرتا ہے وہ اُن کے بُرے کاموں میں شریک ہوتاہے۔
2JO 1:12 مُجھے بہت سِی باتیں تُم کو لِکھنا ہیں، مگر میں اُنہیں کاغذ پر روشنائی سے لِکھنا نہیں چاہتا؛ بَلکہ اُمّید رکھتا ہُوں کہ تمہارے پاس آکر رُوبرو مُلاقات اَور گُفتگو کروں تاکہ ہماری خُوشی مُکمّل ہو جائے۔
2JO 1:13 تیری برگُزیدہ بہن کے فرزند یعنی جماعت کے مُومِنین تُجھے سلام کہتے ہیں۔
3JO 1:1 مُجھ بُزرگ کی جانِب سے،
3JO 1:2 میرے عزیز! میں یہ دعا کرتا ہُوں کہ جِس طرح تو رُوحانی طور پر ترقّی کر رہاہے اُسی طرح سَب باتوں میں ترقّی کرے اَور تندرست رہے۔
3JO 1:3 مُجھے اِس بات سے نہایت خُوشی ہُوئی، جَب بعض کچھ مُومِنین بھائیوں نے آکر تمہارے بارے میں گواہی دی کہ تو حق پرستی میں وفادار ہے اَور اُسی کے مُطابق زندگی بھی گزار رہاہے۔
3JO 1:4 میرے لیٔے اِس سے بڑھ کر اَور کویٔی خُوشی نہیں کہ میں یہ سُنوں کہ میرے بچّے حق پر چل رہے ہیں۔
3JO 1:5 اَے میرے عزیز! تُو جِس قدر مُومِنین بھائیوں اَور بہنوں کی خدمت بڑی وفاداری سے کرتا ہے ٹھیک اُسی طرح سے تُو اُن کی بھی خدمت کر رہاہے جو تیرے لیٔے اجنبی مُومِن بھایٔی ہیں۔
3JO 1:6 اُنہُوں نے جماعت کے سامنے تیری مَحَبّت کی گواہی دی تھی۔ مہربانی سے خُدا کے اُن خادِموں کو آگے سفر پر اِس قدر روانہ کرجو خُدا کی نظر میں مُناسب ہے۔
3JO 1:7 کیونکہ وہ المسیح کے نام کی خاطِر خدمت کرنے نکلے ہیں اَور غَیریہُودیوں سے کچھ بھی مدد نہیں لیتے ہیں
3JO 1:8 اِس لیٔے ہمارا فرض ہے کہ اَیسے لوگوں کی مدد اَور خاطرداری کریں تاکہ ہم اُس حق کے ہم خدمت ہو سکیں۔
3JO 1:9 مَیں نے جماعت کو کچھ لِکھّا تو تھا لیکن دِیُترِفیسؔ جو جماعت کا ہمیشہ ہی مالک بننا چاہتاہے، وہ ہماری باتوں کو نہیں مانتا ہے۔
3JO 1:10 پس جَب مَیں آؤں گا تو تمہارے سامنے اُس کے سارے کاموں کو جو وہ کر رہاہے ظاہر کروں گا کہ وہ ہمارے خِلاف بُری بُری باتیں کرتا ہے۔ اَور جَب وہ آتے ہیں تو خُود بھی قبُول نہیں کرتا اَور دُوسرے مُومِنین بھائیوں کو جو اُسے قبُول کرنا چاہتے ہیں، اُن کو منع کرتا ہے اَور جماعت سے باہر نکال دیتاہے۔
3JO 1:11 میرے عزیز! بدی کی نہیں بَلکہ نیکی کی پیروی کرو۔ نیکی کرنے والا خُدا سے ہے اَورجو بدی کرتا ہے اُس نے خُدا کو نہ تو پہچانا ہے اَور نہ ہی جانتا ہے۔
3JO 1:12 دیمیترِیُسؔ کی سَب لوگ تعریف کرتے ہیں اَور یہاں تک کہ حق بھی اُس کی گواہی دیتاہے۔ اَور ہم بھی یہی گواہی دیتے ہیں اَور تُو جانتا ہے کہ ہماری گواہی سچّی ہے۔
3JO 1:13 مُجھے بہت سِی باتیں تُم کو لِکھنا ہیں، مگر میں اُنہیں قلم اَور روشنائی سے لِکھنا نہیں چاہتا۔
3JO 1:14 مُجھے اُمّید ہے کہ تُم سے جلد ہی مُلاقات ہوگی اَور تَب ہم رُوبرو گُفتگو کریں گے۔
3JO 1:15 تُجھ پر سلامتی ہو۔ یہاں کے ساتھی مُومِنین تُجھے سلام کہتے ہیں۔ وہاں کے مُومِنین ساتھیوں کو نام بنام سلام کہنا۔
JUD 1:1 حضرت یہُوداہؔ کی جانِب سے جو یِسوعؔ المسیح کا خادِم اَور حضرت یعقوب کے بھایٔی ہیں،
JUD 1:2 تُمہیں رحم، اِطمینان اَور مَحَبّت کثرت سے حاصل ہوتا رہے۔
JUD 1:3 عزیز دوستوں! جَب مَیں تُمہیں اُس نَجات کے بارے میں لکھنے کا بےحد مُشتاق تھا جِس میں ہم سَب شامل ہیں تو مَیں نے تُمہیں یہ نصیحت لِکھنا ضروُری سمجھا تاکہ تُم اُس ایمان کے لیٔے پُوری جدّوجہد کرو جو خُدا کے مُقدّسین کو ایک ہی بار ہمیشہ کے لیٔے سونپا گیا ہے۔
JUD 1:4 کیونکہ بعض لوگ چوری چھپے تمہارے درمیان بھی گھُس آئے ہیں جِن کی سزا کا بَیان قدیم زمانہ سے ہی کِتابِ مُقدّس میں درج کر دیا گیا تھا۔ یہ لوگ بے دین ہیں اَور ہمارے خُدا کے فضل کو اَپنی شہوت پرستی سے بدل ڈالتے ہیں اَور ہمارے واحد، خُود مُختار آقا یعنی خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کا اِنکار کرتے ہیں۔
JUD 1:5 پس اگرچہ تُمہیں یہ سَب باتیں پہلے سے ہی مَعلُوم ہو چُکاہے، پھر بھی میں تُمہیں یاد دِلانا چاہتا ہُوں کہ خُداوؔند یِسوعؔ نے اَپنی قوم کو مُلک مِصر سے چھُڑایا لیکن بعد میں ایمان نہ لانے والوں کو ہلاک کر ڈالا۔
JUD 1:6 اَور جِن فرشتوں نے اَپنے اِختیار والے عہدہ کو قائِم نہ رکھا بَلکہ اَپنے مُقرّر خاص مقام کو چھوڑ دیا، اُنہیں خُدا نے اَزلی زنجیروں میں جکڑ کر عدالت کے دِن تک کے لیٔے جہنّم کی تاریکی میں قَید کر رکھا ہے۔
JUD 1:7 اَور اِسی طرح سدُومؔ اَور عمورہؔ اَور اُن کے آس پاس کے شہروں کے لوگ بھی اُن اِسرائیلیوں کی طرح جنسی بدفعلی کرنے لگے تھے، چنانچہ اَبدی آگ کی سزا پا کر ہمارے لیٔے باعث عِبرت ٹھہرے۔
JUD 1:8 ٹھیک اُسی طرح یہ لوگ بھی اَپنے خوابوں کی طاقت میں مُبتلا ہوکر اُن کی طرح اَپنے جِسموں کو ناپاک کرتے ہیں، حُکومت کو ناچیز جانتے ہیں اَور آسمانی مخلُوق پر کُفر بکتے ہیں۔
JUD 1:9 لیکن مُقرّب فرشتہ مِیکاایلؔ نے بھی حضرت مَوشہ کی لاش کے بارے میں اِبلیس سے بحث کرتے وقت اُسے لَعن طَعن کرنے اَور مُلزم ٹھہرانے کی جُرأت نہ کی بَلکہ یہ کہا، ”خُداوؔند تُجھے ملامت کرے۔“
JUD 1:10 مگر یہ لوگ جِن باتوں کا علم بھی نہیں رکھتے، اُن پر بھی لعنت بھیجتے ہیں اَور جِن باتوں کو مِزاجی طور پر سمجھتے ہیں اُن میں اَپنے آپ کو بے عقل جانوروں کی مانند ہلاک کر دیتے ہیں۔
JUD 1:11 اِن پر افسوس! کیونکہ یہ لوگ قائِنؔ کی راہ پر چلتے ہیں اَور اُنہُوں نے مالی فائدہ کی خاطِر بِلعاؔم کی سِی غلطی کی ہے اَور قورحؔ کی طرح مُخالفت کرکے ہلاک ہُوئے۔
JUD 1:12 یہ لوگ تمہارے ساتھ مَحَبّت کی ضیافتوں پر ایک داغ ہیں جِن کا ضمیر اُنہیں اِس میں شامل ہوتے وقت تھوڑا بھی مُجرم نہیں ٹھہراتا، یہ اَیسے چرواہے ہیں جو صِرف اَپنا ہی پیٹ بھرتے ہیں۔ یہ لوگ بے پانی کے اُن بادلوں کی طرح ہیں جنہیں ہَوا اُڑا لے جاتی ہے، یہ پَت جھڑ کے اَیسے درخت ہیں جو دو بار مَر چُکے ہیں کیونکہ یہ پھلدار نہیں ہیں اَور اَپنی جڑ سے اُکھڑے ہویٔے ہیں۔
JUD 1:13 یہ سمُندر کی پُرجوش لہریں ہیں جو اَپنی بے شرمی کا جھاگ اُچھالتی ہیں۔ یہ وہ آوارہ گرد سِتارے ہیں جِن کے لیٔے جہنّم کی سخت تاریکی کا مقام دائمی طور پر مُقرّر کر دیا گیا ہے۔
JUD 1:14 حضرت حنوخؔ نے بھی جو حضرت آدمؔ سے ساتویں پُشت میں تھے، اِن کے بارے میں نبُوّت کی تھی کہ، ”دیکھو، خُداوؔند اَپنے لاکھوں مُقدّسین کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں
JUD 1:15 تاکہ سَب لوگوں کا اِنصاف کریں اَور بےدینوں کو اُن کی سَب بدکردار حرکتوں کی خاطِر جو اُنہُوں نے بے دینی سے کیٔے ہیں، اَور اُن سَب بے دین گُنہگاروں کو جنہوں نے خُداوؔند کی مُخالفت میں کُفر بکا ہے اُنہیں مُجرم ٹھہرائے۔“
JUD 1:16 یہ لوگ ہمیشہ بُڑبُڑاتے رہتے شکایت کرتے اَور دُوسروں میں غلطیاں ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ یہ اَپنی نَفسانی بدخواہشات کے مُطابق زندگی گزارتے ہیں اَور اَپنے مُنہ سے بڑی شیخی مارتے ہیں اَور اَپنے فائدہ کے لیٔے دُوسروں کی خُوشامد کرتے ہیں۔
JUD 1:17 لیکن اَے عزیز دوستوں! ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے رسولوں نے جِن باتوں کو پہلے ہی فرمایا تھا اُنہیں یاد رکھو۔
JUD 1:18 اُنہُوں نے تُم سے کہاتھا، ”آخِری دِنوں میں ٹھٹّھا کرنے والے ظاہر ہوں گے جو اَپنی بے دینی کی خواہشوں کے مُوافق چلیں گے۔“
JUD 1:19 یہی وہ لوگ ہیں جو تِفرقے ڈالتے ہیں۔ یہ نَفسانی لوگ ہیں جِن میں خُدا کی رُوح نہیں ہے۔
JUD 1:20 مگر اَے عزیز دوستوں! تُم اَپنے پاک ترین ایمان میں ترقّی کرتے جاؤ، اَور پاک رُوح کی رہنمائی میں دعا کرتے رہو۔
JUD 1:21 اَپنے آپ کو خُدا کی مَحَبّت میں قائِم رکھو اَور اَبدی زندگی کے لیٔے ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کی رحمت کے مُنتظر رہو۔
JUD 1:22 بعض جو شک میں مُبتلا ہیں، اُن پر رحم کرو۔
JUD 1:23 اَور باقی لوگوں کو جو گویا اُس اَبدی عذاب کی آگ میں ہیں اُنہیں جھپٹ کر نکال لو۔ رحم کرتے ہویٔے ہوشیار رہو، اَور اُس پوشاک سے بھی نفرت کرو جو اُن کے بدکار جِسم کے سبب سے داغ دار ہو گئی ہے۔
JUD 1:24 اَب جو تُمہیں ٹھوکر کھانے سے بچا سَکتا ہے اَور اَپنی پُر جلالی حُضُوری میں بڑی خُوشی کے ساتھ بے عیب بنا کر پیش کر سَکتا ہے۔
JUD 1:25 اُس واحد خُدا کا جو ہمارا مُنجّی ہے، ہمارے خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے وسیلہ سے جلال، قُدرت، سلطنت اَور اِختیار جَیسا اَزل سے ہے، اَب بھی ہو، اَور اَبد تک قائِم رہے۔ آمین۔
REV 1:1 یِسوعؔ المسیح کا مُکاشفہ جو اُنہیں خُدا نے عطا فرمایا تاکہ وہ اَپنے بندوں کو وہ باتیں دِکھائے جِن کا جلد ہونا ضروُری ہے۔ اَور حُضُور نے اَپنا فرشتہ بھیج کر یہ باتیں اَپنے خادِم یُوحنّا پر ظاہر کیا۔
REV 1:2 جِس نے اُن سَب چیزوں کی جو اُس نے دیکھی تھیں یعنی خُدا کے کلام اَور یِسوعؔ المسیح کی گواہی کی بابت تصدیق کرتا ہے۔
REV 1:3 مُبارک ہے وہ جو اِس نبُوّت کی کِتاب کو بہ آواز بُلند پڑھتا ہے، اَور وہ مُومِنین جو اِسے سُنتے ہیں اَور اِس میں لکھی ہویٔی باتوں پر عَمل کرتے ہیں؛ کیونکہ اِن باتوں کے پُورا ہونے کا مُقرّر وقت نزدیک ہے۔
REV 1:4 حضرت یُوحنّا کی جانِب سے،
REV 1:5 اَور یِسوعؔ المسیح کی طرف سے جو سچّا گواہ اَور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں اوّل اَور دُنیا کے بادشاہوں پر حاکم ہے۔ جو ہم سے مَحَبّت رکھتا ہے اَور جِس نے اَپنے خُون کے وسیلہ سے ہم کو ہمارے سارے گُناہوں سے مخلصی بخشی۔
REV 1:6 اَور ہمیں اَپنی اُمّت اَور کاہِنؔ بھی بنا دیا تاکہ ہم خُدا اَور باپ کی خدمت کریں۔ اُس کا جلال اَور قُدرت ابدُالآباد ہوتی رہے۔ آمین!
REV 1:7 ”دیکھو، وہ بادلوں کے ساتھ آ رہے ہیں،“ ”اَور ہر آنکھ اُنہیں دیکھے گی، اَور جنہوں نے یِسوعؔ کو چھیدا تھا وہ بھی دیکھیں گے؛“ اَور روئے زمین کی ساری قومیں ”اُن کے سبب سے ماتم کریں گی۔“
REV 1:8 خُداوؔند خُدا جو ہے اَورجو تھا اَورجو آنے والا ہے، یعنی قادرمُطلق فرماتا ہے، ”میں اَلفا اَور اَومیگا یعنی اِبتدا اَور اِنتہا ہُوں۔“
REV 1:9 مَیں، یُوحنّا، جو تمہارا بھایٔی اَور یِسوعؔ کے دُکھ درد اَور اُن کی بادشاہی اَور صبر و تحمُّل میں تمہارا شریک حال ہُوں۔ مَیں خُدا کے کلام کی مُنادی اَور یِسوعؔ کی گواہی دینے کے باعث جَزِیرہ پتُمسؔ میں جَلاوطنی تھا۔
REV 1:10 خُداوؔند کے دِن میں پاک رُوح سے بھر گیا اَور مَیں نے اَپنے پیچھے نرسنگے کی سِی ایک بڑی آواز سُنی،
REV 1:11 جِس نے فرمایا، ”جو کچھ تُو دیکھتا ہے اُسے کِتاب میں لِکھ کر ساتوں جماعتوں یعنی اِفِسُسؔ، سُمرنؔہ، پِرگمُنؔ، تھُواتِیؔرہ، سردِیسؔ، فِلدِلفیہؔ اَور لَودِیکیہؔ شہروں کے پاس بھیج دے۔“
REV 1:12 جَب مَیں نے اُس آواز دینے والے کی طرف اَپنا مُنہ پھیرا جو مُجھ سے ہم کلام تھا۔ تو مُجھے سونے کے سات چراغدان نظر آئے،
REV 1:13 اَور مَیں نے اُن چراغدانوں کے درمیان ایک شخص کو دیکھا جو اِبن آدمؔ کی طرح تھا اَور پاؤں تک کا جامہ پہنے اَور اَپنے سینہ پر سونے کا سینہ بند باندھے ہویٔے تھا۔
REV 1:14 اُس کا سَر اَور بال سفید اُون بَلکہ برف کی مانند سفید تھے، اَور اُس کی آنکھیں آگ کے شُعلہ کی مانند تھیں۔
REV 1:15 اَور اُس کے پاؤں بھٹّی میں تپائے ہویٔے خالص پیتل کی مانند تھے اَور اُس کی آواز زور سے بہتے ہویٔے آبشار کی مانند تھی۔
REV 1:16 اُس کے داہنے ہاتھ میں سات سِتارے تھے، اَور اُس کے مُنہ سے ایک دو دھاری تیز تلوار نکلتی تھی؛ اَور اُس کا چہرہ دوپہر کے وقت چمکنے والے آفتاب کی مانند خُوب چمک رہاتھا۔
REV 1:17 اُسے دیکھتے ہی میں اُس کے پاؤں میں گِر کر سَجدہ کیا۔ لیکن اُس نے اَپنا داہنے ہاتھ مُجھ پر رکھا اَور فرمایا، ”خوف نہ کر، میں اوّل اَور آخِر ہُوں۔
REV 1:18 میں زندہ ہُوں؛ میں مَر گیا تھا لیکن اَب دیکھ میں اَبد تک زندہ رہُوں گا۔ موت اَور عالمِ اَرواح کی کُنجِیاں میرے ہی پاس ہیں۔
REV 1:19 ”اِس لیٔے، جو کچھ تُم نے دیکھاہے، اُسے لِکھ لے یعنی وہ باتیں جو ابھی ہیں اَورجو اِن کے بعد واقعی ہونے والی ہیں۔“
REV 1:20 یعنی اُن سونے کے سات چراغدانوں اَور سات سِتاروں کا پوشیدہ راز جنہیں تُم نے میرے داہنے ہاتھ میں دیکھا تھا: وہ سات سِتارے تو سات جماعتوں کے فرشتے ہیں اَور سات چراغدان سات جماعتیں ہیں۔
REV 2:1 ”اِفِسُسؔ کی جماعت کے فرشتہ کو لِکھ: جو اَپنے داہنے ہاتھ میں سات سِتارے لیٔے ہویٔے ہے اَورجو سونے کے سات چراغدانوں کے درمیان چلتا پھرتاہے، وہ یہ فرماتا ہے۔
REV 2:2 مَیں تمہارے کاموں، تمہارے سخت محنت اَور تمہارے ثابت قدمی سے واقف ہُوں۔ اَور مَیں یہ بھی جانتا ہُوں کہ تُو بدکاروں کو برداشت نہیں کر سَکتا اَور تُم نے اُن کے دعووں کو جو خُود کو رسول کہتے ہیں مگر ہیں نہیں، اُنہیں تُم نے آزما کر جھُوٹا پایا۔
REV 2:3 اَور تو صبر کرتے ہویٔے میرے نام کی خاطِر مُصیبت پر مُصیبت اُٹھانے کے باوُجُود نہیں تھکا بَلکہ ثابت قدم رہا۔
REV 2:4 لیکن مُجھے تُجھ سے یہ شکایت ہے کہ تُو مُجھے اُس طرح مَحَبّت نہیں کرتا جِس طرح پہلے کرتا تھا۔
REV 2:5 پس خیال کر کہ تُو کہاں سے گرا ہے اَور تَوبہ کرکے پہلے کی طرح کام کر۔ اَور اگر تُو تَوبہ نہ کرےگا تو مَیں تمہارے پاس آکر تمہارے چراغدان کو اُس کی جگہ سے ہٹا دُوں گا۔
REV 2:6 البتّہ یہ بات تمہارے حق میں ہے کہ تُو نِیکُلیّوں کے کاموں سے نفرت کرتا ہے جِن سے میں بھی نفرت رکھتا ہُوں۔
REV 2:7 جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ پاک رُوح جماعتوں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالب آئے گا میں اُسے اُس شجرِ حیات کا پھل کھانے کو دُوں گا جو خُدا کے فِردَوس میں ہے۔
REV 2:8 ”سُمرنؔہ کی جماعت کے فرشتہ کو لِکھ: جو اوّل اَور آخِر ہے اَورجو مَر گیا تھا اَور پھر زندہ ہو گیا، وہ یہ فرماتا ہے۔
REV 2:9 میں تیری مُصیبت اَور مفلسی سے واقف ہُوں لیکن تُو دولتمند ہے اَور اُن لوگوں کے لَعن طَعن سے بھی واقف ہے جو اَپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں مگر ہیں نہیں بَلکہ شیطان کی جماعت ہیں۔
REV 2:10 جو دُکھ تُجھے سَہنے ہیں اُن سے خوفزدہ نہ ہو۔ میں تُمہیں آگاہ کرتا ہُوں کہ شیطان تُم میں سے بعض کو قَید میں ڈالنے والا ہے تاکہ تمہاری آزمائش ہو اَور تُم دس دِن تک مُصیبت اُٹھاؤگے۔ جان دینے تک وفادار رہ تو مَیں تُجھے زندگی کا تاج دُوں گا۔
REV 2:11 جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ پاک رُوح جماعتوں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالب آئے گا اُسے دُوسری موت سے کویٔی نُقصان نہ پہُنچے گا۔
REV 2:12 ”پِرگمُنؔ کی جماعت کے فرشتہ کو لِکھ: جِس کے پاس دو دھاری تیز تلوار ہے وہ یہ فرماتا ہے۔
REV 2:13 میں جانتا ہُوں کہ جہاں تُم رہتے ہو وہ شیطان کی تخت گاہ ہے لیکن پھر بھی تُم میرے نام کے وفادار رہے۔ اَور تُم نے اُن دِنوں میں بھی مُجھ پر ایمان رکھنے سے اِنکار نہ کیا جِن دِنوں میں میرا وفادار گواہ انِتپاسؔ تمہارے شہر میں اُس جگہ قتل کیا گیا تھا جہاں شیطان کی حُکومت ہے۔
REV 2:14 لیکن مُجھے تُجھ سے چند باتوں کی شکایت ہے، اِس لیٔے کہ تیرے یہاں بعض لوگ بِلعاؔم کی تعلیم پر قائِم ہیں جِس نے بادشاہ بلقؔ کو بنی اِسرائیلؔ کو گمراہ کرنے کے لیٔے بُتوں کو نذر کی گئی قُربانیوں کاگُوشت کھانے اَور جنسی بدفعلی کرنا سِکھایا۔
REV 2:15 چنانچہ تمہارے یہاں بھی اَیسے لوگ ہیں جو نِیکُلیّوں کی تعلیم پر عَمل کرتے ہیں۔
REV 2:16 لہٰذا تَوبہ کرو، ورنہ! میں جلد ہی تمہارے پاس آؤں گا اَور اَپنے مُنہ کی تلوار سے اُن کے ساتھ لڑوں گا۔
REV 2:17 جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ پاک رُوح جماعتوں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالب آئے گا، میں اُسے پوشیدہ مَنّ میں سے کچھ دُوں گا۔ میں اُسے ایک سفید پتّھر بھی دُوں گا جِس پر ایک نیا نام لِکھّا ہوگا، جِس کا علم اُس کے پانے والے کے سِوا اَور کسی کو نہ ہوگا۔
REV 2:18 ”تھُواتِیؔرہ کی جماعت کے فرشتہ کو لِکھ: خُدا کا بیٹا جِس کی آنکھیں بھڑکتی ہُوئی آگ کے شُعلوں اَور جِس کے پاؤں تپائے ہویٔے خالص پیتل کی مانند ہیں، وہ یہ فرماتا ہے۔
REV 2:19 مَیں تمہارے کاموں، مَحَبّت، ایمان، خدمت اَور ثابت قدمی سے واقف ہُوں، اَور یہ بھی جانتا ہُوں کہ تُو جو کچھ اَب کر رہاہے وہ تمہارے پچھلے کاموں سے زِیادہ ہیں۔
REV 2:20 لیکن مُجھے تُجھ سے یہ شکایت ہے کہ تُونے اُس عورت اِیزبِلؔ کو اَپنے درمیان رہنے دیا، جو اَپنے آپ کو نبیّہ کہتی ہے۔ اَور میرے خادِموں کو جنسی بدفعلی کرنے اَور بُتوں کو نذر کی گئی قُربانیوں کاگُوشت کھانے کی تعلیم دے کر گُمراہ کرتی ہے۔
REV 2:21 مَیں نے اُسے تَوبہ کرنے کی مہلت دی مگر وہ اَپنی بدچلنی سے تَوبہ کرنا نہیں چاہتی۔
REV 2:22 لہٰذا میں اُسے بیماری کے بِستر پر ڈالتا ہُوں اَورجو اُس کے ساتھ زنا کرتے ہیں، اگر وہ اَپنی زناکاری سے تَوبہ نہیں کرتے ہیں تو، میں اُنہیں بھی سخت عذاب میں ڈالوں گا۔
REV 2:23 میں اُس کے فرزندوں کو ہلاک کر دُوں گا۔ تَب تمام جماعتوں کو مَعلُوم ہو جائے گا کہ دِلوں اَور ذہنوں کو جانچنے والا مَیں ہی ہوں، اَور مَیں تُم میں سے ہر ایک کو اُس کے کاموں کے مُوافق بدلہ دُوں گا۔
REV 2:24 مگر تھُواتِیؔرہ کے باقی لوگوں سے جو اِیزبِلؔ کی تعلیم کو نہیں مانتے اَورجو اُن باتوں سے ناواقِف ہیں جنہیں یہ لوگ شیطان کا گہرا راز کہتے ہیں، ’میں یہ فرماتا ہُوں کہ میں تُم پر اَور زِیادہ بوجھ نہیں ڈالوں گا،
REV 2:25 البتّہ جو تمہارے پاس ہے اُسے میرے آنے تک تھامے رہو۔‘
REV 2:26 جو غالب آئے اَور میری مرضی کے مُوافق آخِر تک عَمل کرے، میں اُسے تمام قوموں پر اِختیار دُوں گا۔
REV 2:27‏ وہ لوہے کے شاہی عصا سے اُن پر حُکومت کرےگا؛ اَور وہ کُمہار کے برتنوں کی مانند چَکنا چُور ہو جایٔیں گے۔ چنانچہ مَیں نے بھی اَیسا ہی اِختیار اَپنے باپ سے پایا ہے۔ اَور مَیں اُسے صُبح کا ستارہ بھی دُوں گا۔
REV 2:29 جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ پاک رُوح جماعتوں سے کیا فرماتا ہے۔
REV 3:1 ”سردِیسؔ کی جماعت کے فرشتہ کو لِکھ: جِس کے پاس خُدا کی سات رُوحیں یعنی پاک رُوح اَور سات سِتارے ہیں وہ یہ فرماتا ہے۔ مَیں تمہارے کاموں سے واقف ہُوں؛ تُو زندہ تو دِکھائی دیتاہے مگر ہے مُردہ۔
REV 3:2 اِس لیٔے بیدار ہو جاؤ! اَورجو کچھ باقی بچا ہُواہے اَور ختم ہونے ہی والا ہے اُسے مضبُوطی سے قائِم کر کیونکہ مَیں نے تمہارے کاموں کو اَپنے خُدا کی نظر میں کامِل نہیں پایا ہے۔
REV 3:3 اِس لیٔے جو تعلیم تُم نے پائی اَور سُنی تھی اُس پر قائِم رہ اَور تَوبہ کر۔ لیکن اگر تُو بیدار نہ ہُوا تو میں چور کی مانند اَچانک آ جاؤں گا اَور تُجھے خبر بھی نہ ہوگی کہ میں کِس گھڑی تمہارے پاس آ جاؤں گا۔
REV 3:4 البتّہ سردِیسؔ میں تمہارے جماعت میں بعض لوگ اَیسے ہیں جنہوں نے اَپنے لباس آلُودہ نہیں کیٔے ہیں۔ وہ سفید لباس پہنے ہویٔے میرے ساتھ سیر کریں گے کیونکہ وہ اِس عزّت کے لائق ہیں۔
REV 3:5 جو غالب آئے اُسے اِسی طرح سفید لباس پہنائی جائے گی اَور مَیں اُس کا نام کِتابِ حیات سے ہرگز خارج نہ کروں گا بَلکہ اَپنے باپ اَور اُس کے فرشتوں کے سامنے اُس کے نام کا اقرار کروں گا۔
REV 3:6 جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ پاک رُوح جماعتوں سے کیا فرماتا ہے۔
REV 3:7 ”فِلدِلفیہؔ کی جماعت کے فرشتہ کو لِکھ: جو قُدُّوس اَور برحق ہے اَور جِس کے پاس حضرت داویؔد کی کُنجی ہے، اَور جِس کے کھولے ہُوئے کو کویٔی بند نہیں کر سَکتا اَور بند کیٔے ہُوئے کو کویٔی کھول نہیں سَکتا۔ وہ یہ فرماتا ہے۔
REV 3:8 میں تمہارے کاموں سے واقف ہُوں۔ دیکھ! مَیں نے تمہارے سامنے ایک دروازہ کھول رکھا ہے جسے کویٔی بند نہیں کر سَکتا۔ مُجھے مَعلُوم ہے کہ تیری طاقت کم ہے پھر بھی تُونے میرے کلام پر عَمل کیا اَور میرے نام کا اِنکار نہیں کیا۔
REV 3:9 دیکھ، میں شیطان کے اُن جماعت والوں کو تیرے قابُو میں کر دُوں گا، جو اَپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں مگر ہیں نہیں بَلکہ جھُوٹے ہیں، دیکھ، میں اَیسا کروں گا کہ وہ آکر تمہارے قدموں میں سَجدہ کریں گے اَور وہ تسلیم کریں گے کہ میں تُم سے مَحَبّت رکھتا ہُوں۔
REV 3:10 کیونکہ تُم نے اُس صبر اَور برداشت کرنے کے حُکم پرجو مَیں نے تُمہیں دیا تھا عَمل کیا ہے، اِس لیٔے میں بھی آزمائش کے اُس وقت تیری حِفاظت کروں گا، جو تمام دُنیا اَور اِس کے باشِندوں پر آنے والا ہے۔
REV 3:11 میں جلد آ رہا ہُوں۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے اُسے مضبُوطی سے تھامے رکھ تاکہ کویٔی تُجھ سے تیرا تاج چھین نہ لے۔
REV 3:12 جو غالب آئے، میں اُسے اَپنے خُدا کی بیت المُقدّس میں ایک سُتون بناؤں گا۔ وہ پھر وہاں سے کبھی باہر نہ نکلے گا اَور مَیں اُس پر اَپنے خُدا کا نام اَور اَپنے خُدا کے شہر کا نام یعنی نئے یروشلیمؔ کا نام لکُھوں گا جو میرے خُدا کی جانِب سے آسمان سے اُترنے والا ہے اَور مَیں اُس پر اَپنا نیا نام بھی تحریر کروں گا۔
REV 3:13 جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ پاک رُوح جماعتوں سے کیا فرماتا ہے۔
REV 3:14 ”اَور لَودِیکیہؔ کی جماعت کے فرشتہ کو لِکھ: جو آمین اَور قابلِ اِعتماد، برحق گواہ اَور خُدا کی خِلقتؔ کا مَبدا ہے، وہ یہ فرماتا ہے۔
REV 3:15 میں تمہارے کاموں سے واقف ہُوں کہ تُو نہ تو سرد ہے نہ گَرم۔ کاش کہ تُو یا تو سرد یا گَرم ہوتا۔
REV 3:16 پس کیونکہ تُو نہ تو سرد ہے نہ گَرم بَلکہ نیم گَرم ہے اِس لیٔے مَیں تُجھے اَپنے مُنہ سے نکال پھینکنے کو ہُوں۔
REV 3:17 اَور تُو کہتاہے کہ میں دولتمند ہُوں اَور مالدار بَن گیا ہُوں اَور مُجھے کسی چیز کی حاجَت نہیں؛ مگر تُو یہ نہیں جانتا کہ تو حقیقت میں نامراد، بے چارہ، غریب، نابینا اَور ننگا ہے۔
REV 3:18 اِس لیٔے میں تُمہیں صلاح دیتا ہُوں کہ مُجھ سے آگ میں تپایا ہُوا سونا خرید لے تاکہ دولتمند ہو جائے اَور پہننے کے لیٔے سفید پوشاک خرید کر پہن لو تاکہ تمہارے ننگے پن کی شرمندگی ظاہر نہ ہونے پایٔے اَور اَپنی آنکھوں میں ڈالنے کے لیٔے سُرمہ لے لو تاکہ تُم بینائی پاؤ۔
REV 3:19 میں جنہیں پیار کرتا ہُوں اُنہیں ڈانٹتا اَور تنبیہ بھی کرتا ہُوں۔ اِس لیٔے پُرجوش ہو اَور تَوبہ کر۔
REV 3:20 دیکھ! میں دروازہ پر کھڑا کھٹکھٹا رہا ہُوں۔ اگر کویٔی میری آواز سُن کر دروازہ کھولے، تو میں اَندر داخل ہوؤں گا، اَور ہم ایک دُوسرے کے ساتھ کھانا کھایٔیں گے۔
REV 3:21 جو غالب آئے، میں اُسے اَپنے ساتھ اَپنے تخت پر بیٹھنے کا حق دُوں گا، جِس طرح میں غالب آکر اَپنے باپ کے ساتھ اُس کے تخت پر بیٹھ گیا۔
REV 3:22 جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ پاک رُوح جماعتوں سے کیا فرماتا ہے۔“
REV 4:1 اِس کے بعد مَیں نے دیکھا کہ آسمان میں ایک دروازہ کھُلا ہُواہے۔ تَب وُہی نرسنگے کی آواز جو مَیں نے پہلے سُنی تھی، مُجھ سے مُخاطِب ہوکر، فرمایا، یہاں اُوپر آ جا، مَیں تُجھے اُن باتوں کو دِکھاؤں گا جو اِن باتوں کے بعد ضروُر ہونے والی ہیں۔
REV 4:2 تَب میں فوراً پاک رُوح کے گرفت میں آ گیا اَور کیا دیکھتا ہُوں کہ آسمان میں ایک تختِ الٰہی مَوجُود ہے اَور اُس پر کویٔی بیٹھا ہُواہے۔
REV 4:3 وہ تخت نشین دیکھنے میں سنگِ یَشب اَور عقِیق کی طرح نظر آ رہاتھا اَور اُس تختِ الٰہی کے اِردگرد زُمُرّد کی مانند ایک چمکدار قوس قذح تھی۔
REV 4:4 اُس تختِ الٰہی کے چاروں طرف چوبیس باقی اَور تخت مَوجُود تھے جِن پر چوبیس بُزرگ حُکمراں سفید جامے پہنے بیٹھے ہویٔے تھے اَور اُن کے سَروں پر سونے کے تاج تھے۔
REV 4:5 اُس تختِ الٰہی میں سے بجلی کی چمک اَور بادلوں کے گرج کی صدائیں نکل رہی تھیں۔ اَور اُس تختِ الٰہی کے عَین سامنے آگ کے سات چراغ جَل رہے تھے۔ جو خُدا کی سات رُوحوں یعنی پاک رُوح کی نِشان دہی کرتے ہیں۔
REV 4:6 اَور اُس تختِ الٰہی کے سامنے بِلّور کی مانند شفّاف شیشے کا سمُندر تھا۔ تختِ الٰہی کے بیچ میں اَور گِرداگِرد چار جاندار مخلُوق تھیں جِن کے آگے پیچھے آنکھیں ہی آنکھیں تھیں۔
REV 4:7 پہلی جاندار مخلُوق شیرببر کی مانند تھی، دُوسری بچھڑے کی مانند، تیسرے کا چہرہ اِنسان کا سا تھا اَور چوتھا اُڑتے ہویٔے عُقاب کی مانند تھا۔
REV 4:8 اِن چاروں جانداروں کے چھ چھ پر تھے اَور اُن کے سارے بَدن میں اَور پر کے اَندر اَور باہر آنکھیں ہی آنکھیں تھیں۔ وہ دِن رات لگاتار بغیر آرام فرمایٔے یہ کہتے رہتے ہیں:
REV 4:9 اَور جَب وہ جاندار مخلُوق اُس کی حَمد و سِتائش، تعظیم اَور شُکر گُزاری کرتے ہیں جو تخت نشین ہے اَورجو ابدُالآباد زندہ رہے گا،
REV 4:10 تو وہ چوبیس بُزرگ حُکمراں خُدا کے سامنے جو تخت نشین ہے، مُنہ کے بَل سَجدہ میں گِر پڑتے ہیں جو اَبد تک زندہ رہے گا۔ وہ اَپنے تاج یہ کہتے ہویٔے اُس تختِ الٰہی کے سامنے ڈال دیتے ہیں،
REV 4:11 ”اَے ہمارے خُداوؔند اَور خُدا، آپ ہی جلال، عزّت اَور قُدرت کے لائق ہیں، کیونکہ آپ ہی نے سَب چیزیں پیدا کیں، اَور وہ سَب آپ ہی مرضی سے تھیں اَور وُجُود میں آئیں۔“
REV 5:1 پھر مَیں نے اُس تخت نشین کے داہنے ہاتھ میں ایک کِتاب دیکھی جو اَندر اَور باہر دونوں طرف سے لکھی ہُوئی تھی اَور اُسے سات مُہریں لگا کر بند کیا گیا تھا۔
REV 5:2 پھر مَیں نے ایک قوی فرشتہ کو دیکھا جو بُلند آواز سے یہ اعلان کر رہاتھا، ”کون اِس کِتاب کو کھولنے اَور اِس کی مُہریں توڑنے کے لائق ہے؟“
REV 5:3 مگر آسمان یا زمین پر یا زمین کے نیچے کویٔی شخص اُس کِتاب کو کھولنے اَور اُس پر نظر ڈالنے کے قابل نہ تھا۔
REV 5:4 میں زار زار رونے لگا کیونکہ کویٔی بھی اِس لائق نہ نِکلا، جو اُس کِتاب کو کھول سکے یا اُس پر نظر ڈال سکے۔
REV 5:5 تَب اُن بُزرگوں میں سے ایک نے مُجھ سے کہا، ”مت رو، دیکھ، یہُوداہؔ کے قبیلہ کا شیرببر جو حضرت داویؔد کی اصل ہے، وُہی اُس کِتاب اَور اُس کی ساتوں مُہروں کو کھولنے کے لائق ہے اَور غالب آیا ہے۔“
REV 5:6 تَب مَیں نے اُس تختِ الٰہی اَور اُن چاروں جانداروں اَور اُن بُزرگوں کے درمیان گویا ایک ذبح کیا ہُوا برّہ کھڑا دیکھا۔ اُس کے سات سینگ اَور سات آنکھیں تھیں؛ یہ خُدا کی سات رُوحیں یعنی پاک رُوح ہے جو تمام روئے زمین پر بھیجی گئی ہیں۔
REV 5:7 اُس برّہ نے آگے بڑھ کر، اُس تخت نشین کے داہنے ہاتھ سے وہ کِتاب لے لی۔
REV 5:8 اَور جَب اُس نے وہ کِتاب لی تو چاروں جاندار اَور چوبیس بُزرگ حُکمراں اُس برّہ کے سامنے سَجدہ میں گِر پڑے۔ اُن میں سے ہر ایک کے پاس بربط اَور بخُور سے بھرے ہویٔے سونے کے پیالے تھے۔ یہ مُقدّسین کی دعائیں ہیں۔
REV 5:9 اَور وہ یہ نیا نغمہ گاَنے لگے، ”تُو ہی اِس کِتاب کو لینے اَور اُس کی مُہریں کھولنے کے لائق ہے، کیونکہ تُونے ذبح ہوکر، اَپنے خُون سے ہر قبیلہ، اَور اہلِ زبان، ہر اُمّت اَور ہر قوم سے لوگوں کو خُدا کے واسطے خرید لیا ہے۔
REV 5:10 اَور اُنہیں ہمارے خُدا کے لیٔے شاہی کاہِنوں کی جماعت بنا دیا، اَور وہ زمین پر حُکمرانی کریں گے۔“
REV 5:11 پھر مَیں نے نگاہ کی تو اُس تختِ الٰہی اَور اُن جانداروں اَور بُزرگوں کے اِردگرد مَوجُود لاکھوں اَور کروڑوں فرشتوں کی آواز سُنی۔
REV 5:12 اَور اُنہُوں نے بُلند آواز سے یہ نغمہ گایا: ”ذبح کیا ہُوا برّہ ہی، قُدرت، دولت، حِکمت، طاقت عزّت، تمجید اَور حَمد کے لائق ہے!“
REV 5:13 پھر مَیں نے آسمان اَور زمین اَور زمین کے نیچے اَور سمُندر کی ساری مخلُوقات کو اَورجو کچھ اُن میں ہیں یہ نغمہ گاتے سُنا: ”جو تخت نشین ہے اُس کی اَور برّہ کی حَمد اَور عزّت اَور جلال اَور قُدرت،
REV 5:14 اَور پھر چاروں جانداروں نے، ”آمین“ کہا اَور بُزرگوں نے گِر کر سَجدہ کیا۔
REV 6:1 پھر مَیں نے دیکھا کہ برّہ نے اُن سات مُہروں میں سے ایک مُہر کھولی اَور اُن چاروں جانداروں میں سے ایک نے بادلوں کی گرجتی ہُوئی آواز میں یہ کہتے سُنا، ”آ!“
REV 6:2 اَور مَیں نے نگاہ کی تو سامنے ایک سفید گھوڑا دیکھا جِس کے سوار کے ہاتھ میں ایک کمان تھی، اُسے ایک تاج دیا گیا اَور وہ فتح مند کی مانند نِکلا کہ فتح پر فتح حاصل کرتا چلا جائے۔
REV 6:3 جَب برّہ نے دُوسری مُہر کھولی تو مَیں نے دُوسرے جاندار کو یہ کہتے سُنا، ”آ!“
REV 6:4 تَب ایک سُرخ گھوڑا نِکلا اَور اُس کے سوار کو یہ اِختیار دیا گیا کہ وہ زمین پر سے صُلح و سلامتی اُٹھالے تاکہ لوگ ایک دُوسرے کو قتل کریں، اَور اُسے ایک بڑی تلوار دی گئی۔
REV 6:5 جَب برّہ نے تیسری مُہر کھولی تو مَیں نے تیسرے جاندار کو یہ کہتے ہویٔے سُنا، ”آ!“ اَور مَیں نے ایک کالے رنگ کا گھوڑا دیکھا جِس کے سوار کے ہاتھ میں ایک ترازو تھی۔
REV 6:6 اَور مَیں نے ایک آواز سُنی جو اُن چاروں جانداروں کے درمیان سے آ رہی تھی، ”ایک دِن کی مزدُوری کی قیمت ایک کِلو گندُم، اَور ایک دینار کا تین کِلو جَو ہوگی، لیکن تیل اَور مَے کو نُقصان مت پہُنچانا۔“
REV 6:7 جَب برّہ نے چوتھی مُہر کھولی، تو مَیں نے چوتھے جاندار کو یہ کہتے ہُوئے سُنا، ”آ!“
REV 6:8 جَب مَیں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ ایک گھوڑا ہے جِس کا رنگ زرد سا ہے اَور جِس کے سوار کا نام موت ہے۔ اَور اُس کے پیچھے پیچھے عالمِ اَرواح چلا آ رہاتھا۔ اَور اُنہیں زمین کے ایک چوتھائی حِصّہ پر اِختیار دیا گیا کہ تلوار، قحط، وَبا اَور زمین کے وحشی درندوں کے ذریعہ لوگوں کو ہلاک کر ڈالیں۔
REV 6:9 جَب اُس نے پانچویں مُہر کھولی تو مَیں نے قُربان گاہ کے نیچے اُن لوگوں کی رُوحیں دیکھیں جو خُدا کے کلام کے سبب سے اَور گواہی پر قائِم رہنے کے باعث قتل کر دئیے گیٔے تھے۔
REV 6:10 اُنہُوں نے بُلند آواز سے چِلّاکر کہا، ”اَے قُدُّوس اَور برحق خُداوؔند! تُو کب تک اِنصاف نہ کرےگا اَور زمین کے باشِندوں سے ہمارے خُون کا بدلہ نہ لے گا؟“
REV 6:11 تَب اُن میں سے ہر ایک کو سفید جامہ دیا گیا اَور اُن سے کہا گیا کہ تھوڑی دیر اَور اِنتظار کرو، جَب تک کہ تمہارے ہم خدمت بھائیوں اَور بہنوں کا بھی شُمار پُورا نہ ہو جائے، جو تمہاری طرح قتل کیٔے جانے والے ہیں۔
REV 6:12 جَب اُس نے چھُٹّی مُہر کھولی تو مَیں نے ایک شدید زلزلہ دیکھا اَور سُورج بالوں سے بُنے ہویٔے سیاہ کمبل کی مانند کالا ہو گیا اَور پُورا چاند خُون کی مانند سُرخ ہو گیا۔
REV 6:13 آسمان کے سِتارے زمین پر اِس طرح گِر پڑے جَیسے تیز ہَوا سے ہلنے کے باعث کچّے اَنجیر کے درخت کے پھل گِر پڑتے ہیں۔
REV 6:14 اَور آسمان یُوں سَرک گیا جَیسے کویٔی طُومار لپیٹ دیا گیا ہو اَور ہر ایک پہاڑ اَور جَزِیرہ اَپنی اَپنی جگہ سے ٹل گیا۔
REV 6:15 تَب زمین کے بادشاہ، اُمرائے، فَوجی افسر، مالدار، زورآور اَور سارے غُلام اَور آزاد، غاروں اَور پہاڑوں کی چٹّانوں میں جا چھُپے۔
REV 6:16 اَور پہاڑوں اَور چٹّانوں سے چِلّاکر کہنے لگے، ”ہم پر گِر پڑواَور ہمیں اُس کی نظر سے جو تخت نشین ہے اَور برّہ کے غضب سے چھُپا لو!
REV 6:17 کیونکہ اُن کے غضب کا روز عظیم آ پہُنچا ہے، اَور اَب کون زندہ بچ سَکتا ہے؟“
REV 7:1 اِس کے بعد مَیں نے دیکھا کہ زمین کے چاروں کونوں پر چار فرشتے کھڑے ہیں۔ اَور وہ زمین کی چاروں ہواؤں کو روکے ہویٔے تھے تاکہ زمین یا سمُندر یا کسی درخت پر ہَوا نہ چلے۔
REV 7:2 پھر مَیں نے ایک اَور فرشتہ کو زندہ خُدا کی مُہر لئے ہویٔے مشرق سے اُوپر کی طرف آتے دیکھا۔ اُس نے اُن چاروں فرشتوں سے جنہیں زمین اَور سمُندر کو نُقصان پہُنچانے کا اِختیار دیا گیا تھا بُلند آواز سے پُکار کر کہا،
REV 7:3 ”جَب تک ہم اَپنے خُدا کے بندوں کی پیشانیوں پر مُہر نہ لگا لیں، تَب تک زمین اَور سمُندر اَور درختوں کو نُقصان نہ پہُنچانا۔“
REV 7:4 پھر مَیں نے سُنا کہ بنی اِسرائیلؔ کے تمام قبیلوں میں سے جِن لوگوں پر مُہر کی گئی تھی اُن کا شُمار ایک لاکھ چوالیس ہزار تھا۔
REV 7:5 یہُوداہؔ کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار، رُوبِنؔ کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار پر، گادؔ کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار پر،
REV 7:6 آشؔر کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار پر، نفتالی کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار پر، منشّہ کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار پر،
REV 7:7 شمعُونؔ کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار پر، لیوی کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار پر، یِسَّکاؔر کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار پر،
REV 7:8 زبُولُون کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار پر، یُوسیفؔ کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار پر، بِنیامین کے قبیلہ میں سے بَارہ ہزار پر مُہر کی گئی۔
REV 7:9 اِس کے بعد جَب مَیں نے نگاہ کی تو دیکھتا ہوں کہ ہر قوم، ہر قبیلہ، ہر اُمّت اَور اہلِ زبان کی ایک اَیسی بڑی بھیڑ مَوجُود ہے جِس کا شُمار کرنا ممکن نہیں، یہ سَب سفید جامے پہنے ہویٔے اَور ہاتھوں میں کھجوُر کی ڈالیاں لیٔے ہویٔے تختِ الٰہی کے آگے اَور برّہ کے رُوبرو کھڑے تھے۔
REV 7:10 اَور وہ بُلند آواز سے چِلّا چِلّاکر کہہ رہے تھے: ”نَجات ہمارے خُدا کی طرف سے، جو تخت نشین ہے، اَور برّہ کی طرف سے ہے۔“
REV 7:11 اَور اُن تمام فرشتوں نے جو اُس تختِ الٰہی کے اَور اُن بُزرگوں اَور چاروں جانداروں کے گِرداگِرد کھڑے تھے، تخت کے سامنے مُنہ کے بَل سَجدہ میں گِر پڑے اَور خُدا کو سَجدہ کرکے،
REV 7:12 کہا، ”آمین! حَمد اَور جلال اَور حِکمت اَور شُکر اَور عزّت اَور قُدرت اَور طاقت ہمارے خُدا کی ابدُالآباد ہوتی رہے۔ آمین!“
REV 7:13 پھر بُزرگوں میں سے ایک نے مُجھ سے پُوچھا کہ، ”یہ سفید جامے پہنے ہویٔے لوگ کون ہیں، اَور کہاں سے آئے ہیں؟“
REV 7:14 مَیں نے جَواب دیا، ”اَے میرے آقا، یہ تو آپ کو ہی مَعلُوم ہے۔“ تَب اُس نے کہا، ”یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی مُصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں؛ اُنہُوں نے اَپنے جامے برّہ کے خُون میں دھوکر سفید کر لیٔے ہیں۔
REV 7:15 اِس لیٔے، ”وہ خُدا کے تخت کے سامنے مَوجُود ہیں اَور دِن رات اُس کے آسمانی بیت المُقدّس میں اُس کی عبادت کرتے ہیں؛ اَور وہ جو تخت پر بیٹھا ہے اَپنی حُضُوری میں اُنہیں پناہ دے گا۔
REV 7:16 ’وہ آئندہ نہ تو کبھی بھُوکے ہوں گے؛ اَور نہ کبھی پیاسے۔ نہ تو سُورج کی گرمی اُنہیں جُھلسایٔے گی،‘ اَور نہ اُنہیں دھوپ ستائے گی۔
REV 7:17 کیونکہ وہ برّہ جو تختِ الٰہی کے درمیان ہے، اُن کی گلّہ بانی کرےگا؛ ’اَور اُنہیں آبِ حیات کے چشموں کے پاس لے جائے گا۔‘ ’اَور خُدا اُن کی آنکھوں سے سَب آنسُو پونچھ ڈالے گا۔‘ “
REV 8:1 جَب برّہ نے ساتویں مُہر کھولی تو آسمان میں تقریباً آدھ گھنٹے تک خاموشی چھائی رہی۔
REV 8:2 اَور مَیں نے اُن ساتوں فرشتوں کو دیکھا جو خُدا کے حُضُور کھڑے رہتے ہیں۔ اَور اُنہیں سات نرسنگے دئیے گیٔے۔
REV 8:3 پھر ایک اَور فرشتہ سونے کا بخُوردان لیٔے ہویٔے آیا اَور قُربان گاہ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اُسے بہت سا بخُور دیا گیا تاکہ وہ اُسے سَب مُقدّسین کی دعاؤں کے ساتھ تختِ الٰہی کے سامنے کی سُنہری قُربان گاہ پر نذر کرے۔
REV 8:4 اَور اُس بخُور کا دُھواں مُقدّسین کی دعاؤں کے ساتھ اُس فرشتہ کے ہاتھ سے نِکلا اَور خُدا کے حُضُور جا پہُنچا۔
REV 8:5 تَب اُس فرشتہ نے قُربان گاہ سے آگ لے کر اُس بخُوردان میں بھری اَور اُسے زمین پر ڈال دیا جِس سے بجلی کی چمک اَور بادلوں کے گرج کی صدائیں پیدا ہُوئیں اَور زلزلہ آ گیا۔
REV 8:6 اُس کے بعد وہ ساتوں فرشتے جِن کے پاس وہ سات نرسنگے تھے، ساتوں کو پھُونکنے کے لیٔے تیّار ہویٔے۔
REV 8:7 جَب پہلے فرشتہ نے اَپنا نرسنگا پھُونکا تو خُون ملے ہویٔے اولے اَور آگ پیدا ہُوئی جو زمین پر ڈال دی گئی جِس سے ایک تہائی زمین، اَور ایک تہائی درخت اَور ساری ہری گھاس جَل گئی۔
REV 8:8 جَب دُوسرے فرشتہ نے اَپنا نرسنگا پھُونکا تو ایک بڑا سا پہاڑ جو آگ سے جَل رہاتھا سمُندر میں ڈالا گیا جِس سے ایک تہائی سمُندر خُون میں تبدیل ہو گیا
REV 8:9 اَور سمُندر کے ایک تہائی جاندار مَر گیٔے اَور ایک تہائی جہاز تباہ ہو گیٔے۔
REV 8:10 جَب تیسرے فرشتے نے اَپنا نرسنگا پھُونکا تو مشعل کی طرح جلتا ہُوا ایک بڑا سا ستارہ آسمان سے ٹوٹ کر ایک تہائی دریاؤں اَور پانی کے چشموں پر گرا۔
REV 8:11 اُس ستارہ کا نام ناگ دُونا یعنی کڑواہٹ ہے۔ اُس سے ایک تہائی پانی کڑوا اَور زہریلا ہو گیا اَور بہت سے لوگ اُس زہریلے پانی کے باعث مَر گیٔے۔
REV 8:12 جَب چوتھے فرشتہ نے اَپنا نرسنگا پھُونکا تو ایک تہائی سُورج، ایک تہائی چاند اَور ایک تہائی سِتاروں کو ضرر پہُنچا یہاں تک کہ اُن کا ایک تہائی حِصّہ تاریک ہو گیا اَور اِسی طرح دِن کا ایک تہائی اَور رات کا ایک تہائی حِصّہ تاریکی میں ڈُوب گیا۔
REV 8:13 جَب مَیں نے پھر نگاہ کی تو ایک بڑا سا عُقاب آسمان کے فِضا میں اُڑتا دیکھا اَور اُسے بُلند آواز سے یہ کہتے سُنا، ”اُن تین فرشتوں کے نرسنگے کی آواز کے باعث جِن کا پھُونکنا ابھی باقی ہے، اہلِ زمین پر افسوس، افسوس، افسوس!“
REV 9:1 جَب پانچویں فرشتہ نے اَپنا نرسنگا پھُونکا تو مَیں نے آسمان سے زمین پر گرا ہُوا ایک ستارہ دیکھا۔ اَور اُس سِتارے کو اتھاہ گڑھے کی کُنجی دی گئی۔
REV 9:2 جَب اُس نے اتھاہ گڑھے کو کھولا تو اُس میں سے ایک بڑی بھٹّی کا سا دُھواں اُٹھا۔ اُس دھوئیں کے باعث سُورج اَور ساری فِضا تاریک ہو گئی۔
REV 9:3 اَور اُس دھوئیں میں سے ٹِڈّیاں نکل کر زمین پر پھیل گئیں، اَور اُنہیں زمین کے بِچھُّوؤں کی سِی طاقت دی گئی۔
REV 9:4 اَور اُن سے کہا گیا کہ زمین کی گھاس اَور کسی ہرے پَودے یا درخت کو نُقصان نہ پہُنچانا سِوائے اُن لوگوں کے جِن کی پیشانیوں پر خُدا کی مُہر نہیں ہے۔
REV 9:5 اُنہیں کسی کو مار ڈالنے کا نہیں لیکن صِرف پانچ ماہ تک لوگوں کو اَذیّت دینے کا اِختیار دیا گیا۔ یہ اَیسی اَذیّت تھی جو اِنسان کو بِچھُّو کے ڈنک مارنے سے ہوتی ہے۔
REV 9:6 اُن دِنوں میں لوگ موت کی تلاش کریں گے مگر اُسے ہرگز نہ پائیں گے اَور مَرنے کی آرزُو کریں گے مگر موت اُن سے دُور بھاگے گی۔
REV 9:7 وہ ٹِڈّیاں اُن گھوڑوں کی طرح دِکھائی دے رہی تھیں جو لڑائی کے لیٔے تیّار کیٔے گیٔے ہوں۔ اُن ٹِڈّیوں کے سَروں پر گویا سونے کے تاج تھے اَور اُن کے چہرے اِنسانی چہروں کے مُشابہ تھے۔
REV 9:8 اَور اُن کے بال عورتوں کے بالوں کی طرح تھے اَور دانت شیرببر کے دانتوں جَیسے تھے۔
REV 9:9 اُن کے بکتر لوہے کے بکتروں کی مانند تھے اَور اُن کے پروں کی آواز اَیسی تھی جَیسے میدان جنگ میں لاتعداد رتھوں اَور گھوڑوں کے دَوڑنے سے پیدا ہوتی ہے۔
REV 9:10 اُن کی دُمیں بِچھُّوؤں کی دُموں کی طرح تھیں جِن میں ڈنک تھے اَور اُن دُموں کو اَیسی طاقت دی گئی تھی کہ وہ پانچ ماہ تک لوگوں کو سخت تکلیف دیتی رہیں۔
REV 9:11 اتھاہ گڑھے کا فرشتہ اُن کا بادشاہ تھا۔ اُس کا نام عِبرانی زبان میں ابدّونؔ اَور یُونانی میں اپُلیّونؔ یعنی غارت گِر ہے۔
REV 9:12 پہلا افسوس تو ہو چُکا۔ ابھی دو افسوس اَور باقی ہیں۔
REV 9:13 جَب چھٹے فرشتہ نے اَپنا نرسنگا پھُونکا تو مَیں نے خُدا کے سامنے والی سُنہری قُربان گاہ کے چار سینگوں میں سے ایک آواز آتی سُنی۔
REV 9:14 جو اُس چھٹے فرشتہ کو جو نرسنگا لیٔے ہویٔے تھا، یہ کہہ رہی تھی، ”اُن چار فرشتوں کو جو بڑے دریائے فراتؔ کے پاس بندھے ہویٔے ہیں، کھول دے۔“
REV 9:15 چنانچہ وہ چاروں فرشتے کھول دئیے گیٔے، جو اُس خاص گھڑی، دِن اَور اُسی مہینے اَور سال کے لیٔے ایک تہائی اِنسانوں کو مار ڈالنے کے لیٔے تیّار رکھے گیٔے تھے۔
REV 9:16 اَور میرے سُننے کے مُطابق اُن کے گُھڑسوار فَوجیوں کی تعداد بیس کروڑ کی تھی۔
REV 9:17 وہ گھوڑے اَور وہ سوار جنہیں مَیں نے اَپنی رُویا میں دیکھا تھا، اَیسے بکتر پہنے ہویٔے تھے جو آگ کی طرح سُرخ، سُنبل کی طرح نیلے اَور گندھک کی طرح زرد تھے اَور اُن گھوڑوں کے سَر شیرببر کے سَر کی مانند تھے۔ اُن کے مُنہ سے آگ، دُھواں اَور گندھک نکلتی تھی۔
REV 9:18 اُن کے مُنہ سے نکلی ہویٔی اِن تین وَباؤں یعنی آگ، دھوئیں اَور گندھک کے باعث ایک تہائی اِنسانوں کا حِصّہ ہلاک ہو گیا۔
REV 9:19 اُن گھوڑوں کی طاقت اُن کے مُنہ اَور دُموں میں تھی؛ یہ دُمیں سانپوں کی مانند تھیں جِن میں سَر لگے ہویٔے تھے جِن سے وہ تباہی مچاتے تھے۔
REV 9:20 اَور باقی آدمیوں نے جو اِن آفتوں سے نہ مَرے تھے، اَپنے ہاتھوں کے کاموں سے تَوبہ نہ کی، اُنہُوں نے اُن شَیاطِین اَور بُتوں کی جو سونے، چاندی، پیتل، پتّھر اَور لکڑی کی بنی ہُوئی تھیں، اُن کی پرستش کرنے سے باز نہیں آئے جو نہ تو دیکھ سکتی ہیں نہ سُن سکتی ہیں اَور نہ چل پھر سکتی ہیں۔
REV 9:21 اَورجو قتل، جادُوگری، جنسی بدفعلی اَور چوری اُنہُوں نے کی تھی اُن کاموں سے تَوبہ نہ کی۔
REV 10:1 اُس کے بعد مَیں نے ایک زورآور فرشتہ کو آسمان سے اُترتے دیکھا۔ وہ بادل اوڑھے ہویٔے تھا اَور اُس کے سَر کے اُوپر قوس قذح تھی۔ اُس کا چہرہ آفتاب کی مانند تھا اَور پاؤں آگ کے سُتونوں کی طرح تھے۔
REV 10:2 وہ اَپنے ہاتھ میں کھُلی ہُوئی ایک چُھوٹی کِتاب تھامے ہویٔے تھا۔ اُس نے اَپنا داہنا پاؤں سمُندر پر اَور بایاں زمین پر رکھا۔
REV 10:3 وہ شیرببر کی طرح زور سے دھاڑا اَور اُس کے دھاڑنے سے گرج کی سِی سات آوازیں پیدا ہُوئیں۔
REV 10:4 اُن آوازوں کو سُن کر مَیں نے لکھنے کا اِرادہ کیا ہی تھا کہ آسمان سے ایک آواز آتی سُنی، ”جو کچھ اُن گرج کی سِی سات آوازوں سے سُنی ہیں، اُسے پوشیدہ رکھ اَور تحریر میں نہ لا۔“
REV 10:5 تَب جِس فرشتہ کو مَیں نے سمُندر اَور زمین پر کھڑے دیکھا تھا، اُس نے اَپنا داہنا ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھایا۔
REV 10:6 اَور اُس نے اُس خالق کی جو اَبد تک زندہ ہے، جِس نے آسمان اَور اُس کے اَندر کی چیزیں، اَور زمین اَور اُس کے اُوپر کی سَب چیزوں کو، اَور سمُندر اَور اُس کے اَندر کی چیزوں کو پیدا کیا ہے، قَسم کھا کر کہا، ”اَب اَور دیر نہ ہوگی۔
REV 10:7 بَلکہ اُن ایّام میں جَب ساتواں فرشتہ اَپنا نرسنگا پھُونکنے والا ہوگا تو اُس کی آواز آتے ہی خُدا کا وہ پوشیدہ راز یعنی منصُوبہ جِس کی خُوشخبری اُس نے اَپنے خادِموں یعنی نبیوں کو دی تھی، پُوری ہو جایٔےگی۔“
REV 10:8 پھر جو آواز آسمان سے سُنایٔی دی تھی، اُس نے ایک بار پھر مُجھے سے مُخاطِب ہوکر فرمایا، ”جا آگے بڑھ کر اُس فرشتہ کے ہاتھ سے وہ کھُلی ہویٔی کِتاب لے لو جو سمُندر اَور زمین پر کھڑا ہُواہے۔“
REV 10:9 تَب میں اُس فرشتہ کے پاس گیا اَور اُس سے اِلتجا کی کہ کھُلی ہُوئی چُھوٹی کِتاب مُجھے دے دیجئے۔ اُس نے کہا، ”اِسے لے اَور کھالے۔ یہ تمہارا پیٹ کڑوا کر دے گی، ’لیکن تمہارے مُنہ میں شہد کی طرح میٹھی لگے گی۔‘ “
REV 10:10 مَیں نے وہ چُھوٹی کِتاب فرشتہ کے ہاتھ سے لے لی اَور اُسے کھا لیا۔ وہ میرے مُنہ میں تو شہد کی طرح میٹھی لگی لیکن نگلنے کے بعد میرا پیٹ کڑوا ہو گیا۔
REV 10:11 پھر مُجھے بتایا گیا، ”لازِم ہے کہ تو بہت سِی اُمّتوں، قوموں، اہلِ زبانوں اَور بادشاہوں کے بارے میں پھر سے نبُوّت کرے۔“
REV 11:1 مُجھے لاٹھی کی مانند پیمائش کرنے کی ایک جریب دی گئی اَور مُجھ سے کہا گیا، ”جا اَور خُداوؔند کے بیت المُقدّس اَور قُربان گاہ کی پیمائش کر اَور وہاں عبادت کرنے والوں کا شُمار کر۔
REV 11:2 لیکن بیت المُقدّس کے باہر والے صحن کو چھوڑ دینا کیونکہ وہ غَیریہُودی لوگوں کو دے دیا گیا ہے۔ وہ بِیالیس مہینوں تک مُقدّس شہر کو پامال کرتے رہیں گے۔
REV 11:3 اَور مَیں اَپنے دو گواہوں کو اِختیار دُوں گا اَور وہ ٹاٹ اوڑھ کر ایک ہزار دو سَوساٹھ دِن تک نبُوّت کریں گے۔“
REV 11:4 یہ دو گواہ ”زَیتُون کے وہ دو درخت“ اَور وہ دو چراغدان ہیں، جو ”زمین کے خُداوؔند کے حُضُور میں کھڑے ہیں۔“
REV 11:5 اگر کویٔی اُنہیں نُقصان پہُنچانا چاہے تو اُن کے مُنہ سے آگ نکلتی ہے اَور اُن کے دُشمنوں کو بھسم کر ڈالتی ہے۔ جو کویٔی اُنہیں نُقصان پہُنچانا چاہے گا تو وہ بھی ضروُر اِسی طرح ہلاک ہوگا۔
REV 11:6 اُنہیں یہ اِختیار ہے کہ آسمان کو بند کر دیں تاکہ اُن کی نبُوّت کے دِنوں میں بارش نہ ہو۔ اَور اُنہیں پانیِوں کو خُون میں تبدیل کرنے کا اِختیار ہے اَور جِتنی بار چاہیں زمین پر ہر قِسم کی وَبا نازل کریں۔
REV 11:7 جَب وہ اَپنی گواہی دے چُکیں گے تو اتھاہ گڑھے سے نکلنے والا حَیوان اُن پر حملہ کرےگا اَور اُن پر غالب آکر اُنہیں مار ڈالے گا۔
REV 11:8 اَور اُن کی لاشیں اُس شہر عظیم کے بازار میں پڑی رہیں گی، اُس شہر کو بطور اِستِعارہ سدُومؔ اَور مِصر کا نام دیا گیا ہے جہاں اُن کا خُداوؔند بھی اُسی شہر میں مصلُوب ہُوا تھا۔
REV 11:9 اَور ساڑھے تین دِنوں تک ہر اُمّت، ہر قبیلہ، ہر اہلِ زبان اَور ہر قوم کے لوگ اُن کی لاشوں کو دیکھتے رہیں گے اَور اُن کی تدفین نہ ہونے دیں گے۔
REV 11:10 اَور اہلِ زمین اُن کی موت پر خُوشی منائیں گے اَور شادمان ہوکر ایک دُوسرے کو تحفے بھیجیں گے کیونکہ اُن دونوں نبیوں نے اہلِ زمین کے باشِندوں کو ستایا تھا۔
REV 11:11 لیکن ساڑھے تین دِن بعد خُدا کی طرف سے اُن میں زندگی کی رُوح داخل ہُوئی، اَور وہ اَپنے پاؤں کے بَل کھڑے ہو گیٔے اَور اُن کے دیکھنے والوں پر بڑا خوف چھا گیا۔
REV 11:12 تَب اُنہُوں نے آسمان سے ایک بڑی آواز آتی سُنی، جِس نے اُن سے فرمایا، ”یہاں اُوپر آ جاؤ۔“ اَور وہ بادل پر سوار ہوکر آسمان پر چلے گیٔے اَور اُن کے دُشمن دیکھتے رہ گیٔے۔
REV 11:13 پھر اُسی گھڑی ایک بڑا زلزلہ آیا اَور شہر کا دسواں حِصّہ گِر پڑا۔ اَور سات ہزار لوگ اُس زلزلہ سے مارے گیٔے اَورجو باقی بچے وہ دہشت زدہ ہوکر آسمان کے خُدا کی تمجید کرنے لگے۔
REV 11:14 دُوسری آفت ختم ہویٔی۔ اَب دیکھو تیسری آفت جلدی آنے والی ہے۔
REV 11:15 جَب ساتویں فرشتہ نے اَپنا نرسنگا پھُونکا تو آسمان سے بُلند آوازیں آنے لگیں جو یہ کہہ رہی تھیں: ”دُنیا کی بادشاہی ہمارے خُداوؔند اَور اُن کے المسیح کی ہو گئی، اَور وہ اَبد تک بادشاہی کریں گے۔“
REV 11:16 اَور اُن چوبیس بُزرگوں نے جو خُدا کے حُضُور اَپنے اَپنے تخت پر بیٹھے ہویٔے تھے، مُنہ کے بَل گِر کر خُدا کو سَجدہ کیا اَور اُس کی عبادت یہ کہہ کر کی،
REV 11:17 ”اَے قادرمُطلق خُداوؔند خُدا! ہم تیرا شُکر کرتے ہیں، تُو جو ہے اَورجو تھا، کیونکہ تُونے اَپنی عظیم قُدرت کا اِستعمال کرکے بادشاہی کرنا شروع کر دی ہے۔
REV 11:18 اَور قوموں کو غُصّہ آیا، اَور تیرا غضب نازل ہُوا۔ اَور وہ وقت آ پہُنچا ہے کہ مُردوں کا اِنصاف کیاجایٔے، اَور تیرے خادِموں، نبیوں اَور مُقدّسین اَور اُن سَب چُھوٹے بڑوں کو جو خُدا کے نام کی تعظیم کرتے ہیں اُنہیں اجر دیا جائے اَور زمین کو تباہ کرنے والوں کو تباہ کر دیا جائے۔“
REV 11:19 تَب خُدا کا بیت المُقدّس جو آسمان میں ہے کھولا گیا اَور اُس کے بیت المُقدّس میں اُس کے عہد کا صندُوق نظر آیا۔ اَور بجلیاں کوندیں، آوازیں اَور بادلوں کی گرج پیدا ہُوئیں، زلزلہ آیا اَور بڑے بڑے اولے گِرے۔
REV 12:1 پھر آسمان پر ایک عظیم نِشان دِکھائی دیا: ایک خاتُون آفتاب اوڑھے ہویٔے تھی اَور چاند اُس کے پاؤں کے نیچے تھا اَور بَارہ سِتاروں کا تاج اُس کے سَر پر تھا۔
REV 12:2 وہ حاملہ تھی اَور دردِزہ میں مُبتلا ہونے کے باعث چِلّا رہی تھی کیونکہ وہ بچّہ کی پیدائش کرنے ہی والی تھی۔
REV 12:3 پھر آسمان پر ایک اَور نِشان دِکھائی دیا یعنی ایک بڑا سا لال اَژدہا جِس کے سات سَر اَور دس سینگ تھے اَور اُس کے سات سَروں پر سات شاہی تاج تھے۔
REV 12:4 اُس کی دُم نے آسمان کے ایک تہائی سِتارے کھینچ کر اُنہیں زمین پر پھینک دیا۔ پھر وہ اَژدہا اُس خاتُون کے سامنے جو بچّہ پیدا کرنے والی تھی، جا کھڑا ہُوا، تاکہ جَب وہ بچّہ پیدا ہو، تو اُسے نگل جائے۔
REV 12:5 اَور اُس نے ایک بیٹے کو پیدا کیا، ”جو لوہے کے عصا سے سَب قوموں پر حُکومت کرےگا۔“ اَور پھر فوراً اُس کے بچّہ کو وہاں سے اُٹھاکر خُدا کے تخت کے پاس پہُنچا دیا گیا۔
REV 12:6 اَور وہ خاتُون بیابان میں ایک اَیسی جگہ بھاگ گئی جو خُدا نے اُس کے لیٔے تیّار کر رکھی تھی تاکہ وہاں ایک ہزار دو سَوساٹھ دِن تک اُس کی پرورِش کی جائے۔
REV 12:7 پھر آسمان میں جنگ ہُوئی۔ مِیکاایلؔ اَور اُس کے فرشتے اَژدہا سے جنگ کرنے نکلے، اَژدہا اَور اُس کے فرشتوں نے اُن کا مُقابلہ کیا۔
REV 12:8 لیکن اَژدہا اَور اُس کے فرشتے جنگ ہار گیٔے اَور اَپنے آسمانی مقام سے بھی نکال دئیے گیٔے تھے۔
REV 12:9 تَب وہ بڑا اَژدہا یعنی وُہی پُرانا سانپ جو اِبلیس اَور شیطان کہلاتا ہے اَورجو ساری دُنیا کو گُمراہ کرتا ہے، زمین پر پھینک دیا گیا، اَور اُس کے فرشتے بھی اُس کے ساتھ زمین پر پھینک دئیے گیٔے۔
REV 12:10 پھر مَیں نے آسمان سے ایک بڑی آواز آتی سُنی: ”اَب نَجات، قُدرت اَور ہمارے خُدا کی بادشاہی، اَور اُس کے المسیح کا اِختیار ظاہر ہُواہے۔ کیونکہ ہمارے بھائیوں اَور بہنوں پر تہمت لگانے والا، جو دِن رات خُدا کے حُضُور اُن پر تہمت لگاتا رہتا تھا، اُسے نیچے پھینک دیا گیا ہے۔
REV 12:11 وہ برّہ کے خُون اَور اَپنی گواہی کی بدولت اُس پر غالب آئے؛ اَور اُنہُوں نے اَپنی جانوں کو عزیز نہ سمجھا یہاں تک کہ موت بھی گوارا کرلی۔
REV 12:12 اِس لیٔے اَے آسمانوں، اَور آسمانی باشِندوں، خُوشی مناؤ! مگر اَے زمین اَور سمُندر، تُم پر افسوس، کیونکہ اِبلیس نیچے تمہارے پاس گرا دیا گیا ہے! وہ قہر سے بھرا ہُواہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کے پاس وقت بہت کم ہے۔“
REV 12:13 جَب اَژدہا نے دیکھا کہ وہ زمین پر پھینک دیا گیا ہے تو اُس نے اُس خاتُون کا تعاقب کیا جِس نے ایک بیٹے کو پیدا کیا تھا۔
REV 12:14 لیکن اُس خاتُون کو بڑے عُقاب کے دو پر دئیے گیٔے تاکہ وہ اُس مقام کی طرف پرواز کر جائے جو بیابان میں اُس کے لیٔے تیّار کیا گیا ہے تاکہ وہ وہاں اَژدہا کی دسترس سے بچ کر ساڑھے تین بَرس تک حِفاظت سے رہ سکے۔
REV 12:15 تَب اَژدہا اَپنے مُنہ سے اُس خاتُون کے پیچھے دریا کی صورت میں پانی اُگلنے لگاتاکہ اُسے اُس دریا میں بہا دے۔
REV 12:16 مگر زمین نے اُس خاتُون کی مدد کی اَور اَپنا مُنہ کھول کر اُس دریا کو پی لیا جو اَژدہا نے اَپنے مُنہ سے بہائی تھی۔
REV 12:17 تَب اُس اَژدہا کو اُس خاتُون پر بڑا غُصّہ آیا اَور وہ اُس کی باقی اَولاد سے یعنی اُن سے جو خُدا کے حُکموں پر عَمل کرتے ہیں اَور یِسوعؔ کی گواہی دینے پر قائِم ہیں، جنگ کرنے نکل پڑا۔
REV 13:1 وہ اَژدہا سمُندر کی ریت پر جا کھڑا ہُوا۔ اَور مَیں نے ایک حَیوان کو سمُندر میں سے نکلتے دیکھا۔ اُس کے دس سینگ اَور سات سَر تھے اَور دس سینگوں پر دس شاہی تاج تھے، اَور اُس کے سَب سَروں پر کُفر بھرے نام لکھے ہویٔے تھے۔
REV 13:2 اَورجو حَیوان مَیں نے دیکھا اُس کی شکل تیندوے کی مانند تھی، اَور پاؤں ریچھ کے سے اَور مُنہ شیرببر کا سا تھا۔ اَور اُس اَژدہا نے اَپنی قُدرت، اَپنا بڑا اِختیار اَور اَپنا تخت اُس حَیوان کے سُپرد کر دیا۔
REV 13:3 اُس حَیوان کے ایک سَر پر کسی مہلک زخم کا نِشان تھا۔ وہ زخم کاری شفایاب ہو گیا اَور تمام اہلِ دُنیا تعجُّب کرتے ہویٔے اُس حَیوان کے پیچھے چلنے لگے۔
REV 13:4 اُنہُوں نے اَژدہا کی پرستش کی کیونکہ اُس نے اَپنا اِختیار حَیوان کو دے دیا تھا، اَور اُنہُوں نے یہ کہتے ہویٔے اُس حَیوان کی بھی پرستش کی، ”اِس حَیوان کی مانند کون ہے اَور کون ہے جو اُس سے جنگ کر سَکتا ہے؟“
REV 13:5 اُس حَیوان کو بڑا بول بولنے اَور کُفر بکنے کے لیٔے اُسے ایک مُنہ دیا گیا، اَور اُسے بِیالیس ماہ تک حُکومت کرنے کا اِختیار دیا گیا۔
REV 13:6 اَور اُس نے خُدا کی نِسبت کُفر بکنے کے لیٔے اَپنا مُنہ کھولا کہ اُس کے نام، اَور اُس کے خیمہ یا قِیام گاہ، اَور آسمانی باشِندوں کی نِسبت اُن کی خُوب بدگوئی کرے۔
REV 13:7 اُسے خُدا کے مُقدّسین سے جنگ کرنے اَور اُن پر غالب آنے کی قُوّت دی گئی اَور اُسے ہر قبیلہ، ہر اُمّت، ہر اہلِ زبان اَور ہر قوم پر اِختیار دیا گیا۔
REV 13:8 اَور تمام اہلِ زمین کے سَب باشِندے اُس حَیوان کی پرستش کریں گے، وہ سَب جِن کے نام اُس بِنائے عالَم سے ذبح کیٔے ہویٔے برّہ کی کِتابِ حیات میں درج نہیں کیٔے گیٔے تھے۔
REV 13:9 جِس کے کان ہوں وہ سُن لے۔
REV 13:10 ”اگر کویٔی اسیری کے لیٔے ہے، تو وہ اسیری میں جائے گا۔ اگر کویٔی تلوار سے قتل کرےگا، وہ تلوار ہی سے قتل کیا جائے گا۔“ اِس کا مطلب ہے کہ خُدا کے مُقدّسین کو صبر اَور ایمان پر قائِم رہنا ضروُری ہے۔
REV 13:11 پھر مَیں نے ایک حَیوان کو زمین میں سے نکلتے دیکھا۔ اُس کے دو سینگ تھے جو برّہ کے سینگوں کی طرح تھے، لیکن وہ اَژدہا کی طرح بولتا تھا۔
REV 13:12 وہ پہلے حَیوان کا سارا اِختیار اُس حَیوان کے سامنے کام میں لاتا تھا اَور دُنیا اَور اُس میں رہنے والوں سے اُس حَیوان کی پرستش کراتا تھا، جِس کا زخم کاری شفایاب ہو گیا تھا۔
REV 13:13 وہ بڑے بڑے معجزانہ نِشانات دِکھاتا تھا، یہاں تک کہ لوگوں کی نظروں کے عَین سامنے آسمان سے زمین پر آگ نازل کر دیتا تھا۔
REV 13:14 اَور زمین کے باشِندوں کو اُن معجزوں اَور نِشانات کے سبب سے، جنہیں اُس حَیوان کے سامنے دِکھانے کا اُس کو قُوّت دی گئی تھا، اَور اِن کے ذریعہ اُس نے زمین کے سَب باشِندوں کو گُمراہ کیا تھا۔ اَور زمین کے سَب باشِندوں کو حُکم دیتا تھا کہ جِس حَیوان کو تلوار کا زخم کاری لگا تھا وہ زندہ ہو گیا ہے، اِس لیٔے اُس کی تعظیم میں بُت بناؤ۔
REV 13:15 اُسے پہلے حَیوان کی بُت میں جان ڈالنے کا اِختیار دیا گیا تاکہ حَیوان کے بُت بولنے لگے اَورجو اُس بُت کو سَجدہ کرنے سے منع کریں اُنہیں قتل کروا ڈالے۔
REV 13:16 اُس نے چُھوٹے بڑے، اَمیر غریب، آزاد غُلام سَب لوگوں کے داہنے ہاتھ یا پیشانی پر ایک خاص نِشان لگوانے کے لیٔے مجبُور کیا،
REV 13:17 تاکہ اُن کے سِوا جِن پر اُس حَیوان کا نِشان یعنی اُس کا نام یا اُس کے نام کا عدد نہ ہو، اَور کویٔی دُوسرا خریدوفروخت نہ کر سکے۔
REV 13:18 یہاں پر حِکمت کی ضروُرت ہے۔ جو عقل رکھتا ہے وہ اِس حَیوان کا عدد گِن لے کیونکہ یہ آدمی کا عدد ہے اَور اُس کا عدد چھ سَو چھیاسٹھ ہے۔
REV 14:1 پھر مَیں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ برّہ کوہِ صِیّونؔ پر کھڑا ہے اَور اُس کے ساتھ ایک لاکھ چوالیس ہزار افراد بھی ہیں جِن کی پیشانی پر برّہ یعنی خُداوؔند یِسوعؔ المسیح اَور اُس کے آسمانی باپ کا نام لِکھّا ہُواہے۔
REV 14:2 پھر مَیں نے آسمان سے ایک اَیسی آواز سُنی جو کسی بڑے آبشار اَور گرجتے بادلوں کی مانند تھی۔ یہ اُس آواز کی مانند تھی جو بربط نواز اَپنے سازوں سے نکالتے ہیں۔
REV 14:3 وہ تختِ الٰہی کے سامنے اَور چاروں جانداروں اَور بُزرگوں کے آگے ایک نیا نغمہ گا رہے تھے اَور اُن ایک لاکھ چوالیس ہزار افراد کے سِوا جو دُنیا میں سے خرید لیٔے گیٔے تھے کویٔی اَور اُس نغمہ کو نہ سیکھ سَکا۔
REV 14:4 یہ وہ ہیں جنہوں نے اَپنے آپ کو عورتوں کے ساتھ آلُودہ نہیں کیا بَلکہ کنوارے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو برّہ کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں، جہاں بھی وہ جاتا ہے۔ وہ آدمیوں میں سے خرید لیٔے گیٔے ہیں تاکہ وہ خُدا اَور برّہ کے لیٔے پہلے پھل ہوں۔
REV 14:5 اَور اُن کے مُنہ سے کبھی جھُوٹ نہیں نِکلا۔ وہ بے عیب ہیں۔
REV 14:6 پھر مَیں نے ایک اَور فرشتہ کو فِضا میں اُڑتے ہویٔے دیکھا۔ اُس کے پاس ایک اَبدی خُوشخبری تھی تاکہ وہ اُسے روئے زمین کے باشِندوں یعنی ہر قوم، ہر قبیلہ، ہر اہلِ زبان اَور ہر اُمّت کو سُنائے۔
REV 14:7 اُس نے بڑی بُلند آواز سے کہا، ”خُدا سے ڈرو اَور اُس کی تمجید کرو کیونکہ اُس کی عدالت کا وقت آ پہُنچا ہے۔ اُسی کو سَجدہ کرو جِس نے آسمان، زمین، سمُندر اَور پانی کے چشمے بنائے ہیں۔“
REV 14:8 اُس کے بعد ایک دُوسرا فرشتہ آیا اَور بُلند آواز سے اعلان کیا، ” ’گِر پڑا! وہ عظیم شہر بابیل گِر پڑا،‘ جِس نے اَپنی زناکاری کے قہر کی مَے سَب قوموں کو پلائی ہے۔“
REV 14:9 پھر اُس کے بعد تیسرا فرشتہ آیا اَور بُلند آواز سے کہا، ”جو کویٔی اُس حَیوان اَور اُس کی بُت کی پرستش کرے اَور اُس کا نِشان اَپنی پیشانی یا ہاتھ پر لگاتاہے،
REV 14:10 تو اُسے بھی خُدا کے قہر کی اُس خالص مَے کو پینا ہوگا جو اُس کے غضب کے پیالہ میں بھری گئی ہے۔ وہ مُقدّس فرشتوں اَور برّہ کے رُوبرو اُس آگ اَور گندھک کے عذاب میں مُبتلا ہوکر تڑپتا رہے گا۔
REV 14:11 اَور اُن کے عذاب کا دُھواں اَبد تک اُٹھتا رہے گا اَورجو اُس حَیوان اَور اُس کے بُت کی پرستش کرتے ہیں اَور اُس کے نام کا نِشان لگاتے ہیں، اُنہیں دِن رات چَین نہ ملے گا۔“
REV 14:12 اِس کا مطلب ہے کہ خُدا کے مُقدّسین کو صبر رکھنا اَور ایمان پر قائِم رہنا ضروُری ہے، جو خُدا کے فرمانبردار اَور یِسوعؔ کے پیچھے وفاداری سے چلتے ہیں۔
REV 14:13 پھر مَیں نے آسمان سے ایک آواز آتے سُنی، ”لِکھ! مُبارک ہیں وہ مُردے جو اَب سے خُداوؔند میں وفات پاتے ہیں۔“ ”بے شک،“ پاک رُوح فرماتا ہے، ”کیونکہ وہ اَپنی محنت و مشقّت سے آرام پائیں گے، کیونکہ اُن کے اعمال اُن کے ساتھ جایٔیں گے۔“
REV 14:14 پھر مَیں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک سفید بادل ہے اَور اُس پر اِبن آدمؔ کی مانند کویٔی بیٹھا ہے جِس کے سَر پر سونے کا تاج اَور ہاتھ میں تیز درانتی ہے۔
REV 14:15 پھر بیت المُقدّس میں سے ایک اَور فرشتہ باہر نِکلا اَور اُس نے بادل پر بیٹھے ہویٔے شخص کو بُلند آواز سے پُکار کر کہا، ”اَپنی درانتی چلا اَور فصل کاٹ، کیونکہ فصل کاٹنے کا وقت آ گیا ہے، اِس لیٔے کہ زمین کی فصل پک گئی ہے۔“
REV 14:16 چنانچہ جو بادل پر بیٹھا ہُوا تھا اُس نے اَپنی درانتی زمین پر چلائی اَور زمین کی فصل کٹ گئی۔
REV 14:17 پھر ایک اَور فرشتہ اُس بیت المُقدّس میں سے باہر نِکلا جو آسمان پر ہے، اَور اُس کے ہاتھ میں بھی ایک تیز درانتی تھی۔
REV 14:18 پھر ایک اَور فرشتہ جِس کا آگ پر اِختیار تھا، قُربان گاہ سے باہر نِکلا؛ اَور اُس نے تیز درانتی والے فرشتہ کو پُکار کر کہا، ”اَپنی تیز درانتی چلا اَور زمین کے انگوری باغ سے گُچّھے کاٹ لے کیونکہ اُس کے انگور بالکُل پک چُکے ہیں۔“
REV 14:19 اُس فرشتہ نے اَپنی درانتی زمین پر چلائی اَور اُس کے انگوری باغ سے انگور کی فصل کاٹ کر جمع کی اَور اُنہیں خُدا کے قہر کے بڑے حوض میں ڈال دیا۔
REV 14:20 تَب اُنہیں شہر سے باہر اُس بڑے انگوری باغ کے حوض میں روندا گیا اَور حوض میں سے اِس قدر خُون بہہ نِکلا کہ اُس کی لمبائی تقریباً تین سَو کِلومیٹر تک اَور اُونچائی گھوڑوں کی لگاموں تک جا پہُنچی تھی۔
REV 15:1 پھر مَیں نے آسمان میں ایک اَور بڑا اَور حیرت اَنگیز نِشان دیکھا کہ سات فرشتے سات آخِری آفتوں کو لیٔے ہویٔے تھے۔ یہ آخِری آفتیں ہیں کیونکہ اُن کے ساتھ خُدا کا قہر ختم ہو جاتا ہے۔
REV 15:2 پھر مَیں نے شِیشَہ کا سا ایک سمُندر دیکھا جِس میں آگ مِلی ہُوئی تھی۔ مَیں نے اُس شِیشَہ کے سمُندر کے کنارے پر اُن لوگوں کو کھڑے ہویٔے دیکھا، جو حَیوان اَور اُس کی بُت اَور اُس کے نام کے عدد پر غالب آئےتھے۔ اُن کے ہاتھوں میں خُدا کی دی ہویٔی بربطیں تھیں۔
REV 15:3 اَور وہ خُدا کے خادِم مَوشہ کا نغمہ اَور برّہ کا نغمہ گا رہے تھے، آپ کے کام کتنے عظیم اَور عجِیب ہیں، ”اَے خُداوؔند خُدا، قادرمُطلق، تیری راہیں برحق اَور راست ہیں۔ قوموں کے اَے اَزلی بادشاہ،
REV 15:4 اَے خُداوؔند! کون آپ کا خوف نہ مانے گا، اَور کون آپ کے نام کی تمجید نہ کرےگا؟ کیونکہ صِرف تُو ہی قُدُّوس ہے۔ دُنیا کی سَب قومیں آکر تیرے سامنے سَجدہ کریں گی، کیونکہ تیرے راستبازی کے کام ظاہر ہو گئے ہیں۔“
REV 15:5 اِن باتوں کے بعد مَیں نے دیکھا کہ شہادت کے خیمہ کا بیت المُقدّس آسمان میں کھولا گیا۔
REV 15:6 اَور اُس بیت المُقدّس میں سے سات فرشتے سات آفتیں لیٔے ہویٔے باہر نکلے۔ وہ صَاف چمکدار سُوتی لباس پہنے ہویٔے تھے اَور سُنہری پٹکے سِینوں پر باندھے ہویٔے تھے۔
REV 15:7 پھر اُن چار جانداروں میں سے ایک نے اُن سات فرشتوں کو سونے کے سات پیالے دئیے جو اَبد تک زندہ رہنے والے خُدا کے قہر سے بھرے ہویٔے تھے۔
REV 15:8 اَور سارا بیت المُقدّس خُدا کے جلال اَور اُس کی قُدرت کے دھوئیں سے بھر گیا اَور جَب تک اُن ساتوں فرشتوں کی ساتوں آفتیں ختم نہ ہو چُکیں کویٔی اُس بیت المُقدّس میں داخل نہ ہو سَکا۔
REV 16:1 پھر مَیں نے بیت المُقدّس میں سے کسی کو بڑی آواز سے اُن ساتوں فرشتوں سے یہ کہتے سُنا، ”جاؤ، اَور خُدا کے قہر کے سات پیالوں کو زمین پر اُنڈیل دو۔“
REV 16:2 پہلے فرشتہ نے جا کر اَپنا پیالہ پر زمین اُنڈیل دیا، تَب جِن لوگوں پر اُس حَیوان کی چھاپ تھی اَورجو اُس کے بُت کی پرستش کرتے تھے، اُن کے جِسموں پر بہت بدصورت تکلیف دہ پھوڑے نکل آئے۔
REV 16:3 پھر دُوسرے فرشتہ نے اَپنا پیالہ سمُندر پر اُنڈیل دیا اَور سارا سمُندر مُردہ کے خُون جَیسا کالا ہو گیا اَور سمُندر کے سارے جاندار مَر گیٔے۔
REV 16:4 پھر تیسرے فرشتہ نے اَپنا پیالہ دریاؤں اَور پانی کے چشموں پر اُنڈیل دیا اَور اُن کا پانی بھی خُون بَن گیا۔
REV 16:5 تَب مَیں نے سَب پانیِوں پر اِختیار رکھنے والے فرشتہ کو یہ کہتے سُنا، ”اَے قُدُّوس خُدا! تو جو ہے اَورجو تھا، تو عادل ہے کہ تُونے اَیسا اِنصاف کیا؛
REV 16:6 کیونکہ اُنہُوں نے تیرے مُقدّسین اَور نبیوں کا خُون بہایا تھا، اَور تُونے اُنہیں پینے کے لیٔے خُون ہی دیا جِس کے وہ مُستحق ہیں۔“
REV 16:7 پھر مَیں نے قُربان گاہ میں سے یہ آواز سُنی: ”ہاں، اَے خُداوؔند خُدا، قادرمُطلق، بے شک آپ کے فیصلے برحق اَور راست ہیں۔“
REV 16:8 پھر چوتھے فرشتہ نے اَپنا پیالہ سُورج پر اُنڈیل دیا اَور سُورج کو اِختیار دیا گیا کہ وہ لوگوں کو آگ سے جھُلسا ڈالے۔
REV 16:9 اَور لوگ شدید تپش سے جھُلس گیٔے اَور اُنہُوں نے خُدا کے نام کی نِسبت کُفر بکنے لگے جسے اِن سَب آفتوں پر اِختیار تھا۔ مگر اُنہُوں نے تَوبہ کرنے اَور خُدا کی تمجید کرنے سے صَاف اِنکار کر دیا۔
REV 16:10 پھر پانچویں فرشتہ نے اَپنا پیالہ حَیوان کے تخت پر اُنڈیل دیا جِس سے اُس حَیوان کی بادشاہی میں تاریکی چھاگئی۔ اَور لوگ درد کے مارے اَپنی زبانیں کاٹنے لگے،
REV 16:11 اَور اَپنے دُکھوں اَور پھوڑوں کی وجہ سے آسمان کے خُدا کو کُفر بکنے لگے لیکن اُنہُوں نے اَپنی بدی سے تَوبہ نہ کی۔
REV 16:12 پھر چھٹے فرشتہ نے اَپنا پیالہ بڑے دریائے فراتؔ پر اُنڈیل دیا اَور دریا کا پانی سُوکھ گیا تاکہ مشرق کے بادشاہوں کے آنے کے لیٔے راہ تیّار ہو جائے۔
REV 16:13 پھر مَیں نے تین ناپاک رُوحوں کو مینڈکوں کی صورت میں اَژدہا کے مُنہ سے اَور حَیوان کے مُنہ سے اَور اُس جھُوٹے نبی کے مُنہ سے نکلتے دیکھی۔
REV 16:14 یہ شَیاطِین کی رُوحیں ہیں جو معجزے دِکھاتی ہیں، اَور نکل کر پُوری دُنیا کے بادشاہوں کے پاس جاتی ہیں تاکہ اُنہیں اُس جنگ کے لیٔے جمع کریں جو قادرمُطلق خُدا کے روزِ حَشر کے آنے پر ہوگی۔
REV 16:15 ”دیکھو، مَیں چور کی مانند اَچانک آ رہا ہُوں۔ مُبارک ہے وہ جو جاگتا رہتاہے اَور اَپنی پوشاک پہنے رہتاہے تاکہ اُسے لوگوں کے سامنے ننگا ہونا نہ پڑے اَور لوگ اُس کی برہنگی نہ دیکھیں۔“
REV 16:16 پھر اُنہُوں نے سَب بادشاہوں کو اُس جگہ جمع کیا جِس کا عِبرانی نام ہرمگیدون ہے۔
REV 16:17 پھر ساتویں فرشتہ نے اَپنا پیالہ ہَوا میں اُنڈیلا تو بیت المُقدّس کے تختِ الٰہی کی جانِب سے ایک بڑی آواز یہ کہتی ہُوئی سُنایٔی دی، ”پُورا ہُوا!“
REV 16:18 پھر بجلیاں کوندیں، آوازیں اَور بادلوں کی گرج پیدا ہُوئیں، اَور ایک اَیسا بڑا زلزلہ آیا کہ اِنسان کے زمین پر پیدا ہونے کے وقت سے لے کر اَب تک اَیسا زلزلہ کبھی نہیں آیاتھا۔
REV 16:19 اَور وہ زلزلہ اِتنا سخت تھا کہ عظیم شہر ٹوٹ کر تین ٹکڑے ہو گیا اَور تمام قوموں کے سَب شہر بھی تباہ ہو گیٔے۔ خُدا نے بڑے شہر بابیل کو یاد کیا تاکہ وہ اُسے اَپنے شدید قہر کی مَے سے بھرا ہُوا پیالہ پلائے۔
REV 16:20 ہر ایک جَزِیرہ اَپنی جگہ سے ٹل گیا اَور پہاڑوں کا پتا نہ چلا۔
REV 16:21 اَور آسمان سے لوگوں پر پینتالیس کِلو کے بڑے بڑے اولے گِرے۔ اولوں کی اِس آفت کی وجہ سے لوگ خُدا کی نِسبت کُفر بکنے لگے کیونکہ یہ آفت نہایت سخت تھی۔
REV 17:1 جِن سات فرشتوں کے پاس سات پیالے تھے اُن میں سے ایک نے آکر مُجھ سے کہا، ”اِدھر آ مَیں تُجھے اُس بڑی کسبی یعنی بڑے شہر کی سزا دِکھاؤں جو دریا کے کنارے پر بیٹھی ہُوئی ہے۔
REV 17:2 اَور جِس کے ساتھ روئے زمین کے بادشاہوں نے زنا کیا تھا، اَور اہلِ زمین کے باشِندے اُس کی زناکاری کی مَے سے متوالے ہو گیٔے تھے۔“
REV 17:3 وہ فرشتہ مُجھے رُوح میں ایک بیابان میں لے گیا۔ وہاں مَیں نے ایک عورت کو قِرمزی رنگ والے ایک اَیسے حَیوان پر سوار دیکھا جِس کے سارے جِسم پر خُدا کی نِسبت کُفر آمیز نام لکھے ہویٔے تھے، اَور جِس کے سات سَر اَور دس سینگ تھے۔
REV 17:4 وہ عورت اَرغوانی اَور قِرمزی رنگ والا لباس پہنے ہویٔے تھی اَور سونے، جواہر اَور موتیوں سے آراستہ تھی۔ اَور اُس کے ہاتھ میں ایک سونے کا پیالہ تھا جو مکرُوہ چیزوں اَور اُس کی زناکاری کی غِلاظت سے بھرا ہُوا تھا۔
REV 17:5 اُس کی پیشانی پر یہ پُرسرار نام درج تھا: راز شہر عظیم بابیل کسبیوں کی والدہ اَور زمین کی مکرُوہات چیزوں کی ماں۔
REV 17:6 اَور مَیں نے دیکھا کہ وہ عورت مُقدّسین اَور یِسوعؔ کے شَہیدوں کا خُون پی پی کر مدہوش ہو چُکی تھی۔ اَور اُسے دیکھ کر مُجھے سخت حیرت ہُوئی۔
REV 17:7 تَب اُس فرشتہ نے مُجھ سے کہا، ”تُو حیران کیوں ہو گیا؟ مَیں تُجھے اِس عورت اَور اُس حَیوان کا راز بتاتا ہُوں، جِس پر وہ سوار ہے اَور جِس کے سات سَر اَور دس سینگ ہے۔“
REV 17:8 جو حَیوان تُم نے دیکھا وہ پہلے تو تھا لیکن اِس وقت نہیں ہے، اَور پھر دوبارہ اتھاہ گڑھے میں سے نکلے گا اَور ہلاکت کا شِکار ہوگا۔ اَور رُوئے زمین کے وہ باشِندے جِن کے نام بِنائے عالَم کے وقت سے کِتاب حیات میں درج نہیں ہیں، اُس حَیوان کو دیکھ کر کہ پہلے وہ تھا اَور اَب نہیں ہے لیکن پھر دوبارہ آئے گا حیرت زدہ ہو جایٔیں گے۔
REV 17:9 ”اِسے سمجھنے کے لیٔے بڑی بصیرت کی ضروُرت ہے۔“ وہ ساتوں سَر سات پہاڑیاں ہیں جِن پر وہ عورت بیٹھی ہے۔ وہ سات بادشاہ بھی ہیں۔
REV 17:10 پانچ تو ختم ہو چُکے ہیں، ایک مَوجُود ہے اَور ایک ابھی آیا نہیں ہے۔ لیکن جَب وہ آئے گا تو کچھ عرصہ تک ضروُر رہے گا۔
REV 17:11 اَورجو حَیوان پہلے تھا اَور اَب نہیں ہے، وہ آٹھواں بادشاہ ہے اَور اُن ساتوں میں سے ہی ایک ہے جِس کی ہلاکت مُقرّر کر دی گئی ہے۔
REV 17:12 ”وہ دس سینگ جو تُم نے دیکھے، وہ دس بادشاہ ہیں جنہیں ابھی تک بادشاہی نہیں مِلی ہے لیکن وہ ایک گھنٹے کے لیٔے اُس حَیوان کے ساتھ بادشاہوں کا سا اِختیار پائیں گے۔
REV 17:13 وہ یہ سبھی بادشاہ اَپنی قُدرت اَور اِختیار اُس حَیوان کے حوالہ کرنے کے لیٔے رضامند ہوں گے۔
REV 17:14 وہ برّہ سے جنگ کریں گے لیکن برّہ اُن پر غالب آئے گا کیونکہ وہ خُداوندوں کا خُداوؔند اَور بادشاہوں کا بادشاہ ہے اَور اُس کے ساتھ اُس کے بُلائے ہویٔے، برگُزیدہ اَور وفادار خادِم بھی غالب آئیں گے۔“
REV 17:15 پھر اُس فرشتہ نے مُجھ سے کہا، ”جِن دریاؤں کے کنارے پر تُونے اُس بڑی کسبی کو بیٹھی دیکھاہے وہ اُمّتیں، ہُجوم، قومیں اَور اہلِ زبان ہیں۔
REV 17:16 وہ حَیوان اَور دس سینگ جنہیں تُم نے دیکھا اُس کسبی سے نفرت کریں گے۔ اَور اُسے لاچار بنا کر ننگا کر دیں گے؛ اَور اُس کا گوشت کھا جایٔیں گے اَور اُسے آگ میں جَلا ڈالیں گے۔
REV 17:17 کیونکہ جَب تک کہ خُدا کے کلام کی باتیں پُوری نہ ہو جایٔیں تَب تک خُدا نے اَپنا مقصد پُورا کرنے کے لیٔے اُن کے دِل میں یہ بات ڈالی کہ وہ اِتّفاق رائے سے اَپنی حُکمرانی کا اِختیار اُس حَیوان کے حوالہ کر دیں۔
REV 17:18 اَور جِس عورت کو تُم نے دیکھا، یہ وہ شہر عظیم ہے جو زمین کے بادشاہوں پر حُکومت کرتا ہے۔“
REV 18:1 اِس کے بعد مَیں نے ایک اَور فرشتہ کو آسمان سے اُترتے دیکھا۔ وہ بڑا صاحبِ اِختیار تھا۔ اَور اُس کے جلال سے ساری زمین رَوشن ہو گئی۔
REV 18:2 اُس نے بُلند آواز سے اعلان کیا، ” ’گِر پڑا، وہ عظیم شہر بابیل گِر پڑا!‘ جو بدرُوحوں کا مَسکن اَور ہر ناپاک رُوح کا اڈّا بَن گیا تھا، اَور ہر ناپاک پرندہ کا بسیرا اَور ہر ناپاک اَور مکرُوہ حَیوان کا اڈّا ہو گیا تھا۔
REV 18:3 کیونکہ سَب قوموں نے اُس کی زناکاری کے قہر کی مَے پی ہے۔ رُوئے زمین کے بادشاہوں نے اُس کے ساتھ زنا کیا ہے، اَور دُنیا کے تاجران اُس کی بڑی عیش و عشرت کی بدولت دولتمند ہو گیٔے۔“
REV 18:4 پھر مَیں نے آسمان سے ایک اَور آواز یہ کہتی ہُوئی سُنی: ” ’اَے میری اُمّت کے لوگوں! اُس میں سے نکل آؤ،‘ تاکہ اُس کے گُناہوں میں شریک نہ ہو جاؤ، اَور اُس کی آفتوں میں سے کویٔی تُم پر نہ آ جائے؛
REV 18:5 کیونکہ اُس کے گُناہوں کا آسمان پر ڈھیر لگ چُکاہے، اَور خُدا نے اُس کی بدکاریوں کو یاد کیا ہے۔
REV 18:6 جَیسا اُس نے تمہارے ساتھ کیا ہے، وَیسا ہی تُم بھی اُس کے ساتھ کرو؛ اَور اُسے اُس کے کاموں کا دُگنا بدلہ دو۔ اَور جِس قدر اُس نے اَپنے گُناہ کا پیالہ بھرا، تُم اُس کے واسطے دُگنا بھر دو۔
REV 18:7 اَور جِس قدر اُس نے خُود کو شاندار بنایا اَور عیش و عشرت میں زندگی گُزاری، اُسی قدر اُس کو عذاب اَور غم میں ڈال دو۔ کیونکہ وہ اَپنے دِل میں کہتی ہے کہ، ’میں ملِکہ بَن کر تخت نشین ہُوں۔ میں کویٔی بِیوہ نہیں ہُوں؛ مَیں کبھی ماتم نہیں کروں گی۔‘
REV 18:8 لہٰذا اُس پر ایک ہی دِن میں آفتیں آئیں گی: موت، ماتم اَور قحط۔ اَور وہ آگ میں جَلا کر خاک کر دی جائے گی، کیونکہ اُس کی عدالت کرنے والا خُداوؔند خُدا زورآور ہے۔
REV 18:9 ”جَب رُوئے زمین کے بادشاہ جنہوں نے اُس کے ساتھ زنا کیا اَور اُس کی عیّاشی میں شریک ہویٔے تھے، اُس کے جلنے کا دُھواں دیکھیں گے تو روئیں گے اَور اُس پر ماتم کریں گے۔“
REV 18:10 اَور اُس کے عذاب سے دہشت زدہ ہوکر دُور جا کھڑے ہوں گے اَور کہیں گے، ” ’افسوس، افسوس، اَے عظیم شہر، اَے بابیل، اَے شہر قُوّت! گھڑی بھر میں ہی تُجھے سزا مِل گئی!‘
REV 18:11 ”رُوئے زمین کے تاجران اُس پر روئیں گے اَور ماتم کریں گے کیونکہ اُن کا مال اَب کویٔی نہیں خریدتا:
REV 18:12 جو سونے، چاندی، جواہر، موتیوں اَور مہین کتانی، اَرغوانی، ریشمی اَور قِرمزی رنگ کے کپڑے، ہر طرح کی خُوشبودار لکڑیاں، ہاتھی دانت کی بنی ہُوئی چیزیں، اَور نہایت بیش قیمتی لکڑی، پیتل، لوہے اَور سنگِ مرمر کی قِسم قِسم کی چیزیں،
REV 18:13 دارچینی، مَسالوں، عُود، مُر، لوبان، مَے، زَیتُون کا تیل، بہترین مَیدہ اَور گندُم، مویشیوں، بھیڑوں، گھوڑوں، گاڑیوں، اَور اِنسانوں کو جنہیں غُلاموں کی مانند بیچا جاتا تھا، اُن کا کویٔی خریدار نہ رہا۔
REV 18:14 ”زمین کے تاجران شہر عظیم بابیل سے کہیں گے، ’تمہارے دِل پسند میوے اَب تمہارے پاس سے دُورہو گیٔے۔ اَور تمہاری تمام شان و شوکت اَور لذیذ چیزیں تمہارے ہاتھ سے نکل گئیں۔ اَب وہ تُمہیں کبھی حاصل نہ ہوں گی۔‘
REV 18:15 اِن چیزوں کے تاجران جو اُسے بیچ کر دولتمند بَن گیٔے تھے، اُس کے عذاب سے دہشت زدہ ہوکر دُور کھڑے ہوکر روئیں گے اَور ماتم کریں گے
REV 18:16 اَور چِلّاکر کہیں گے، ” ’افسوس، افسوس، وہ عظیم شہر، جو مہین کتانی، اَرغوانی اَور قِرمزی کپڑے پہنے ہویٔے تھا، اَور سونے، جواہر اَور موتیوں سے آراستہ تھا!
REV 18:17 گھڑی بھر میں ہی اُس کی اِتنی بڑی دولت برباد ہو گئی!‘ ”سَب بحری جہاز کے کپتان، جہازوں کے مُسافر، ملّاح اَور تمام سمُندری مزدُور سَب دُور کھڑے ہوکر،
REV 18:18 اُس شہر کے جلنے کا دُھواں دیکھیں گے اَور چِلّا چِلّاکر کہیں گے، ’کیا کبھی کویٔی اِتنا بڑا شہر اِس عظیم شہر کی مانند مَوجُود تھا؟‘
REV 18:19 وہ اَپنے سَروں پر خاک ڈالیں گے اَور رو رو کر ماتم کریں گے اَور چِلّا چِلّاکر کہیں گے، ” ’افسوس، افسوس، اَے عظیم شہر! جِس کی دولت سے تمام بحری جہازوں کے مالک، مالدار ہو گیٔے، گھڑی ہی بھر میں وہ شہر تباہ کر دیا گیا!‘
REV 18:20 ”اَے آسمانوں اُس پر خُوشی مناؤ! اَے مُقدّسین! اُس پر خُوشی مناؤ! اَے رسولوں اَور نبیوں! اُس کی تباہی پر خُوشی مناؤ! کیونکہ خُدا نے اُسے تمہارے ساتھ، کی ہوئی بدسلُوکی کی سزا اُسے دے دی ہے۔“
REV 18:21 پھر ایک اَور فرشتہ نے بڑی چکّی کے پاٹ کی مانند ایک پتّھر اُٹھایا اَور یہ کہہ کر اُسے سمُندر میں پھینک دیا، ”بابیل کا عظیم شہر بھی اِسی طرح زور سے گرایا جائے گا، اَور پھر اُس کا کبھی پتا نہ چلے گا۔“
REV 18:22 اَور بربط نوازوں، گاَنے والوں، بانسری نوازوں اَور نرسنگا پھُونکنے والوں کی آواز تُجھ میں پھر کبھی سُنایٔی نہ دے گی۔ اَور کسی پیشہ کا کویٔی کاریگر تُجھ میں پھر کبھی نہ پایا جائے گا۔ اَور چکّی کی آواز تُجھ میں پھر کبھی سُنایٔی نہ دے گی۔
REV 18:23 اَور چراغ کی رَوشنی تُجھ میں پھر کبھی نہ چمکے گی۔ اَور دُلہا اَور دُلہن کی آوازیں کبھی تُجھ میں سُنایٔی نہ دیں گی۔ کیونکہ تمہارے تاجران دُنیا کے سَب سے بڑے لوگ تھے۔ اَور تیری جادُوگری سے سَب قومیں گُمراہ ہو گئیں۔
REV 18:24 ”اَور نبیوں، اَور خُدا کے مُقدّسین اَور زمین کے سارے مقتولوں کا خُون، جنہیں قتل کیا گیا تھا، اُسی شہر میں پایا گیا۔“
REV 19:1 اِس کے بعد مَیں نے آسمان پر گویا ایک بڑی جماعت کو بُلند آواز سے یہ کہتے سُنا، ”ہللّویاہ! نَجات اَور جلال اَور قُدرت ہمارے خُدا ہی کی ہے،
REV 19:2 کیونکہ خُدا کے فیصلے برحق اَور دُرست ہیں۔ اِس لیٔے کہ خُدا نے اُس بڑی کسبی کو مُجرم ٹھہرایا ہے جِس نے اَپنی زناکاری سے دُنیا کو خَراب کر دیا تھا۔ اَور خُدا نے اُس سے اَپنے بندوں کے خُون کا بدلہ لے لیا ہے۔“
REV 19:3 پھر دُوسری بار اُنہُوں نے پُکار کر کہا: ”ہللّویاہ! اَور اُس کے جلنے کا دُھواں اَبد تک اُٹھتا رہے گا۔“
REV 19:4 تَب چوبیسوں بُزرگوں اَور چاروں جانداروں نے مُنہ کے بَل گِر کر خُدا کو جو تخت نشین تھا، سَجدہ کرکے کہا: ”آمین، ہللّویاہ!“
REV 19:5 پھر تختِ الٰہی سے یہ آواز آئی، ”اَے خُدا کے سَب بندوں، خواہ چُھوٹے یا بڑے، تُم جو اُس کا خوف رکھتے ہو، ہمارے خُدا کی حَمد کرو!“
REV 19:6 پھر مَیں نے ایک اَیسی بڑی ہُجوم کی آواز سُنی جو کسی بڑے آبشار کے شور اَور بجلی کے کڑکنے کی زوردار آواز کی مانند تھی۔ وہ کہہ رہی تھی: ”ہللّویاہ! کیونکہ خُداوؔند ہمارا خُدا قادرمُطلق بادشاہی کرتا ہے۔“
REV 19:7 آؤ ہم خُوشی منائیں اَور نہایت شادمان ہوں اَور خُدا کی تمجید کریں! کیونکہ برّہ کی شادی کا وقت آ گیا ہے، اَور اُس کی دُلہن نے اَپنے آپ کو آراستہ کر لیا ہے۔
REV 19:8 ”اَور اُسے چمکدار اَور صَاف مہین کتانی کپڑا، پہننے کا اِختیار دیا گیا ہے۔“ (کیونکہ مہین کتانی کپڑے سے مُراد، مُقدّسین کے راستبازی کے کام ہیں۔)
REV 19:9 پھر فرشتہ نے مُجھ سے کہا، ”لِکھ، مُبارک ہیں وہ جو برّہ کی شادی کی ضیافت میں بُلائے گیٔے ہیں۔“ اَور اُس نے مزید کہا، ”یہ خُدا کی حقیقی باتیں ہیں۔“
REV 19:10 تَب میں اُس کو سَجدہ کرنے کی غرض سے اُس کے قدموں پر گِر پڑا۔ لیکن اُس نے مُجھ سے کہا، ”خبردار! اَیسا مت کر! میں بھی تیرا اَور تیرے بھائیوں اَور بہنوں کا ہم خدمت ہُوں جو یِسوعؔ کی گواہی دینے پر قائِم ہیں۔ خُدا ہی کو سَجدہ کر! کیونکہ یِسوعؔ کی گواہی دینا ہی نبُوّت کی رُوح ہے۔“
REV 19:11 پھر مَیں نے آسمان کو کھُلا ہُوا دیکھا اَور مُجھے ایک سفید گھوڑا نظر آیا جِس کا سوار وفادار اَور برحق کہلاتا ہے۔ وہ صداقت سے اِنصاف اَور جنگ کرتا ہے۔
REV 19:12 اُس کی آنکھیں آگ کے شُعلوں کی مانند ہیں اَور اُس کے سَر پر بہت سے شاہی تاج ہیں۔ اُس کی پیشانی پر اُس کا نام بھی لِکھّا ہُواہے جسے سِوائے اُس کے کویٔی اَور نہیں جانتا۔
REV 19:13 وہ خُون میں ڈُبوئے ہویٔے جامہ میں مُلبّس ہے اَور اُس کا نام خُدا کا کلِمہ ہے۔
REV 19:14 آسمانی فَوجیں سفید گھوڑوں پر سوار، اَور سفید اَور صَاف مہین کتانی لباس پہنے ہویٔے اُس کے پیچھے پیچھے چل رہیں تھیں۔
REV 19:15 اَور تمام قوموں کو ہلاک کرنے کے لیٔے اُس کے مُنہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے۔ ”وہ لوہے کے شاہی عصا سے اُن پر حُکومت کرےگا۔“ وہ اُنہیں قادرمُطلق خُدا کے قہر کی مَے کے حوض میں انگوروں کی طرح روند ڈالتا ہے۔
REV 19:16 اُس کی پوشاک اَور ران پر یہ نام لِکھّا ہُواہے: بادشاہوں کا بادشاہ، اَور خُداوندوں کا خُداوؔند۔
REV 19:17 پھر مَیں نے ایک فرشتہ کو آفتاب پر کھڑے ہویٔے دیکھا۔ اُس نے فِضا میں اُڑنے والے تمام پرندوں سے بُلند آواز سے چِلّاکر کہا، ”آؤ اَور خُدا کی بڑی ضیافت میں شریک ہونے کے لیٔے جمع ہو جاؤ،
REV 19:18 تاکہ تُم بادشاہوں، سپہ سالاروں، زور آوروں، گھوڑوں اَور اُن کے سواروں کا، آزاد یا غُلاموں، چُھوٹے یا بڑے، سَب آدمیوں کا گوشت کھاؤ۔“
REV 19:19 تَب مَیں نے حَیوان کو اَور رُوئے زمین کے بادشاہوں اَور اُن کی فَوجوں کو اُس گھوڑے پر سوار اَور اُس کے لشکر سے جنگ کرنے کے لیٔے جمع ہوتے دیکھا۔
REV 19:20 لیکن اُس حَیوان کو اَور اُس کے ساتھ اُس جھُوٹے نبی کو بھی جِس نے اُس حَیوان کے نام سے معجزانہ نِشان دِکھائے تھے، گِرفتار کر لیا گیا۔ جِس نے اَیسے نِشان دِکھا کر اُن تمام لوگوں کو گُمراہ کیا تھا، جنہوں نے حَیوان کا نِشان لگوایا تھا اَور اُس کے بُت کی پرستش کی تھی۔ وہ دونوں آگ کی اُس جھیل میں زندہ ہی ڈال دئیے گیٔے جو گندھک سے جلتی رہتی ہے۔
REV 19:21 اَور اُن کے باقی لوگ اُس گھوڑے کے سوار کے مُنہ سے نکلنے والی تلوار سے ہلاک کر دیئے گیٔے اَور سَب پرندے اُن کا گوشت کھا کر سیر ہو گیٔے۔
REV 20:1 پھر مَیں نے ایک فرشتہ کو آسمان سے اُترتے دیکھا۔ اُس کے پاس اتھاہ گڑھے کی کُنجی تھی اَور وہ ہاتھ میں ایک بڑی زنجیر لئے ہویٔے تھا۔
REV 20:2 اُس نے اَژدہا یعنی پُرانے سانپ کو جو اِبلیس اَور شیطان ہے پکڑا اَور اُسے ایک ہزار سال کے لیٔے باندھا۔
REV 20:3 اَور اتھاہ گڑھے میں ڈال دیا اَور اُسے بند کرکے اُس پر مُہر لگا دی تاکہ وہ تمام قوموں کو گُمراہ نہ کر سکے، جَب تک کہ ہزار سال پُورے نہ ہو جایٔیں۔ اِس کے بعد اُس کا کچھ عرصہ کے لیٔے کھولا جانا لازمی ہے۔
REV 20:4 پھر مَیں نے تخت دیکھے جِن پر وہ لوگ بیٹھے ہویٔے تھے جنہیں اِنصاف کرنے کا اِختیار دیا گیا تھا۔ اَور مَیں نے اُن لوگوں کی رُوحیں دیکھیں جِن کے سَر یِسوعؔ کی گواہی دینے اَور خُدا کے کلام کی وجہ سے کاٹ دئیے گیٔے تھے۔ اُن لوگوں نے نہ تو اُس حَیوان کو نہ اُس کی بُت کو سَجدہ کیا تھا، اَور نہ اَپنی پیشانی یا ہاتھوں پر اُس کا نِشان لگوایا تھا۔ اَور وہ زندہ ہوکر ایک ہزار بَرس تک المسیح کے ساتھ بادشاہی کرتے رہے۔
REV 20:5 اَور جَب تک یہ ہزار بَرس پُورے نہ ہویٔے، باقی مُردے زندہ نہیں کیٔے گیٔے۔ یہ پہلی قیامت ہے۔
REV 20:6 مُبارک اَور مُقدّس ہیں وہ لوگ جو پہلی قیامت میں شریک ہوں۔ اُن پر دُوسری موت کا کویٔی اِختیار نہیں بَلکہ وہ خُدا اَور المسیح کے کاہِنؔ ہوں گے اَور ہزار بَرس تک اُس کے ساتھ بادشاہی کرتے رہیں گے۔
REV 20:7 جَب ہزار بَرس پُورے ہو چُکیں گے تو شیطان اَپنی قَید سے رہا کر دیا جائے گا۔
REV 20:8 اَور اُن قوموں کو جو زمین کی چاروں طرف آباد ہوں گی، یعنی یاجُوجؔ اَور ماجُوجؔ کو گُمراہ کرکے جنگ کے لیٔے جمع کرےگا۔ اُن کا شُمار سمُندر کی ریت کے برابر ہوگا۔
REV 20:9 وہ ساری زمین پر پھیل جایٔیں گی اَور مُقدّسین کی لشکرگاہ اَور اُس عزیز شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیں گی، تَب آسمان سے آگ نازل ہوگی اَور اُنہیں بھسم کر ڈالے گی۔
REV 20:10 اَور اِبلیس کو، جِس نے اُنہیں گُمراہ کیا تھا، آگ اَور گندھک کی اُس جھیل میں پھینک دیا جایٔےگا؛ جہاں وہ حَیوان اَور جھُوٹا نبی بھی ہوگا اَور وہ دِن رات اَبد تک عذاب میں رہیں گے۔
REV 20:11 تَب مَیں نے ایک بڑا سفید تختِ الٰہی دیکھا اَور اُسے جو اُس پر تخت نشین تھا۔ زمین اَور آسمان اُس کی حُضُوری سے بھاگ کر غائب ہو گیٔے اَور اُنہیں کہیں ٹھکانا نہ مِلا۔
REV 20:12 اَور مَیں نے چُھوٹے بڑے تمام مُردوں کو تختِ الٰہی کے سامنے کھڑے دیکھا۔ تَب کِتابیں کھولی گئیں، پھر ایک اَور کِتاب کھولی گئی یعنی کِتاب حیات؛ اَور جِس طرح اُن کِتابوں میں درج تھا، تمام مُردوں کا اِنصاف اُن کے اعمال کے مُطابق کیا گیا۔
REV 20:13 سمُندر نے اُن مُردوں کو جو اُس کے اَندر تھے دے دیا اَور موت اَور عالمِ اَرواح نے اَپنے اَندر کے مُردوں کو دے دیا، چنانچہ ہر ایک کا اِنصاف اُن کے اعمال کے مُطابق کیا گیا۔
REV 20:14 پھر موت اَور عالمِ اَرواح کو آگ کی جلتی جھیل میں پھینک دیا گیا۔ یہ آگ کی جھیل دُوسری موت ہے۔
REV 20:15 اَور جِس کسی کا نام کِتاب حیات میں درج نہ مِلا، اُسے بھی آگ کی جلتی جھیل میں پھینک دیا گیا۔
REV 21:1 پھر مَیں نے ”ایک نیا آسمان اَور ایک نئی زمین“ کو دیکھا، کیونکہ پہلا آسمان اَور پہلی زمین ختم ہو گیٔے تھے اَور کویٔی سمُندر بھی مَوجُود نہ تھا۔
REV 21:2 پھر مَیں نے شہر مُقدّس یعنی نئے یروشلیمؔ کو خُدا کے پاس سے آسمان سے اُترتے دیکھا جو اُس دُلہن کی مانند آراستہ تھا جِس نے اَپنے شوہر کے لیٔے سنگار کیا ہو۔
REV 21:3 پھر مَیں نے تختِ الٰہی پر سے کسی کو بُلند آواز سے یہ کہتے سُنا، ”دیکھو! اَب خُدا کی قِیام گاہ آدمیوں کے درمیان ہے اَور وہ اُن کے ساتھ سکونت کرےگا۔ اَور وہ اُس کے لوگ ہوں گے اَور خُدا خُود اُن کے ساتھ رہے گا اَور اُن کا خُدا ہوگا۔
REV 21:4 ’اَور وہ اُن کی آنکھوں کے سارے آنسُو پونچھ دے گا۔ پھر وہاں نہ موت باقی رہے گی‘ نہ ماتم نہ آہ و نالہ، نہ کویٔی درد باقی رہے گا کیونکہ جو پہلی چیزیں تھیں مِٹ جایٔیں گی۔“
REV 21:5 تَب اُس نے جو تخت نشین تھا مُجھ سے فرمایا، ”دیکھ! میں سَب کچھ نیا بنا رہا ہُوں۔“ پھر خُدا نے فرمایا، ”لِکھ لے کیونکہ یہ باتیں حق اَور مُعتبر ہیں۔“
REV 21:6 پھر اُس نے مُجھ سے کہا، ”ساری باتیں پُوری ہو گئیں ہیں۔ میں اَلفا اَور اَومیگا یعنی اِبتدا اَور اِنتہا ہُوں۔ میں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مُفت پِلاؤں گا۔
REV 21:7 جو غالب آئے گا وہ اِن سَب چیزوں کا وارِث ہوگا۔ اَور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا اَور وہ میرے فرزند ہوں گے۔
REV 21:8 مگر بُزدِلوں، بےاِعتقادو، گھِنونوں، قاتلوں، زناکاروں، جادُوگروں، بُت پرستوں اَور سَب جھوٹوں کی جگہ آگ اَور گندھک سے جلنے والی جھیل میں ہوگی۔ یہ دُوسری موت ہے۔“
REV 21:9 پھر اُن سات فرشتوں میں سے جِن کے پاس آخِری سات آفتوں سے بھرے ہویٔے پیالے تھے، ایک نے آکر مُجھ سے کہا کہ آ، ”مَیں تُجھے دُلہن یعنی برّہ کی بیوی دِکھاؤں۔“
REV 21:10 اَور وہ مُجھے رُوح میں ایک بڑے اُونچے پہاڑ پر لے گیا اَور مُجھے شہرِ مُقدّس یروشلیمؔ کو خُدا کے پاس سے آسمان سے نیچے اُترتے دِکھایا۔
REV 21:11 اُس میں خُدا کا جلال تھا اَور اُس کی چمک نہایت ہی قیمتی پتّھر، یعنی اُس یَشب کی طرح تھی جو بِلّور کی طرح شفّاف ہوتاہے۔
REV 21:12 اُس کی فصیل بہت بڑی اَور اُونچی تھی اَور اُس میں بَارہ پھاٹک تھے جِن پر بَارہ فرشتے تعینات تھے۔ بَارہ پھاٹکوں پر بنی اِسرائیلؔ کے بَارہ قبیلوں کے نام لکھے ہویٔے تھے۔
REV 21:13 تین پھاٹک مشرق کی طرف، تین شمال کی طرف، تین جُنوب کی طرف اَور تین مغرب کی طرف تھے۔
REV 21:14 شہر کی فصیل بَارہ بُنیادوں پر قائِم تھی جِن پر برّہ کے بَارہ رسولوں کے نام لکھے ہویٔے تھے۔
REV 21:15 اَورجو فرشتہ مُجھ سے مُخاطِب تھا اُس کے پاس شہر اَور اُس کے پھاٹکوں اَور اُس کی فصیل کی پیمائش کرنے کے لیٔے سونے کی ایک جریب تھی۔
REV 21:16 اَور وہ شہر مُربّع شکل کی تھا یعنی اُس کا طُول اَور عرض برابر تھا۔ اُس نے جریب سے شہر کی پیمائش کی تو وہ تقریباً دو ہزار چار سَو چودہ کِلومیٹر لمبا، اِتنا ہی چوڑا اَور اُونچا تھا۔
REV 21:17 پھر فرشتہ نے اِنسانی پیمائش کے مُطابق فصیل کی پیمائش کی تو اُسے ایک سَو چوالیس ہاتھ یعنی پَینسٹھ مِیٹر پایا۔
REV 21:18 وہ فصیل سنگِ یَشب سے بنی ہُوئی تھی اَور شہر صَاف و شفّاف شیشے کی مانند خالص سونے کا بنا ہُوا تھا۔
REV 21:19 شہر کی فصیل کی بُنیادیں ہر قِسم کے قیمتی جواہر سے مُزیّن تھیں۔ پہلی بُنیاد سنگِ یَشب کی، دُوسری نیلم کی، تیسری شب چراغ کی، چوتھی زُمُرّد کی،
REV 21:20 پانچویں عقِیق کی، چھُٹّی عقِیق احمر کی، ساتویں سُنہرے پتّھر کی، آٹھویں فیروزہ کی، نویں زبرجد کی، دسویں یمنی پتّھر کی، گیارھویں سنگِ سُنبُلی کی، بارہویں یاقُوت کی تھی۔
REV 21:21 اَور بَارہ پھاٹک بَارہ موتیوں کے تھے یعنی ہر پھاٹک سالِم موتی کا تھا۔ اَور شہر کی شاہراہ شفّاف شِیشَہ کی مانند خالص سونے کی تھی۔
REV 21:22 مَیں نے شہر میں کویٔی بیت المُقدّس نہ دیکھا کیونکہ قادرمُطلق خُداوؔند خُدا اَور برّہ اُس کے بیت المُقدّس ہیں۔
REV 21:23 وہ شہر، سُورج اَور چاند کی رَوشنی کا مُحتاج نہیں کیونکہ خُداوؔند کے جلال نے اُسے رَوشن کر رکھا ہے اَور برّہ اُس کا چراغ ہے۔
REV 21:24 اَور دُنیا کی سَب قومیں اُس کی رَوشنی میں چلے پھریں گی اَور رُوئے زمین کے بادشاہ اُس میں اَپنی شان و شوکت کے سامان اُس میں لائیں گے۔
REV 21:25 اَور اُس کے پھاٹک کبھی بند نہ ہوں گے کیونکہ وہاں رات نہیں ہوگی۔
REV 21:26 اَور دُنیا کے تمام لوگوں کی شان و شوکت اَور عزّت کا سامان اُس میں لائیں گے۔
REV 21:27 اَور اُس میں کویٔی ناپاک چیز یا کویٔی شخص جو شرمناک حرکت کرتا یا جھُوٹی باتیں گڑھتا ہے، ہرگز داخل نہ ہوگا، مگر وُہی ہوں گے جِن کے نام برّہ کی کِتاب حیات میں درج ہیں۔
REV 22:1 پھر اُس فرشتہ نے مُجھے آبِ حیات کا ایک دریا دِکھایا، جو بِلّور کی مانند شفّاف تھا، جو خُدا اَور برّہ کے تخت سے نکل کر بہتا تھا۔
REV 22:2 یہ دریا اُس شہر کی شاہراہ کے وَسط میں بہتا تھا۔ اَور اُس دریا کے دونوں طرف شجرِ حیات تھے۔ اُس میں بَارہ قِسم کے پھل آتے تھے اَور ہر مہینے میں پھل دیتا تھا اَور اُس درخت کے پتّوں سے دُنیا کی سَب قوموں کو شفا ہوتی تھی۔
REV 22:3 وہاں کویٔی بھی ملعُون چیز پھر کبھی نہ ہوگی۔ خُدا اَور برّہ کا تخت اُس شہر میں ہوگا اَور اُس کے خادِم اُس کی عبادت کریں گے۔
REV 22:4 اَور وہ اُس کا چہرہ دیکھیں گے اَور اُس کا نام اُن کی پیشانی پر لِکھّا ہوگا۔
REV 22:5 اَور وہاں پھر کبھی رات نہ ہوگی اَور وہ چراغ اَور سُورج کی رَوشنی کے مُحتاج نہ ہوں گے کیونکہ خُداوؔند خُدا خُود اُنہیں رَوشن کرےگا اَور وہ اَبد تک بادشاہی کرتے رہیں گے۔
REV 22:6 اُس فرشتہ نے مُجھ سے کہا، ”یہ باتیں حق اَور مُعتبر ہیں۔ اَور خُداوؔند خُدا جو نبیوں کی رُوحوں کو اُبھارنے والا ہے، اَپنے فرشتہ کو اِس غرض سے بھیجا کہ وہ اَپنے بندوں پر وہ باتیں ظاہر کرے جِن کا جلد پُورا ہونا ضروُری ہے۔“
REV 22:7 ”دیکھ، میں جلد آنے والا ہُوں! مُبارک ہے وہ جو اِس کِتاب کی نبُوّت کی باتوں پر عَمل کرتا ہے۔“
REV 22:8 میں وُہی یُوحنّا ہُوں جِس نے اِن باتوں کو سُنا اَور دیکھا؛ اَور جَب مَیں یہ باتیں سُن چُکا اَور دیکھ چُکا تو جِس فرشتہ نے مُجھے یہ باتیں دِکھائی، میں اُس کے قدموں پر سَجدہ میں گِر پڑا۔
REV 22:9 لیکن اُس نے مُجھ سے کہا، ”خبردار، اَیسا مت کر! میں بھی تیرا، اَور تیرے بھایٔی نبیوں اَور اِس کِتاب کی نبُوّت کی باتوں پر عَمل کرنے والوں کا ہم خدمت ہُوں۔ خُدا ہی کو سَجدہ کر!“
REV 22:10 پھر اُس نے مُجھ سے کہا، ”اِس کِتاب کی نبُوّت کی باتوں کو پوشیدہ نہ رکھ؛ کیونکہ وقت نزدیک ہے۔
REV 22:11 جو بُرائی کرتا ہے وہ بُرائی ہی کرتا جائے؛ اَورجو نجِس ہے وہ نجِس ہی ہوتا جائے؛ جو راستباز ہے وہ راستبازی ہی کرتا جائے اَورجو پاک ہے وہ پاک ہی ہوتا چلا جائے۔“
REV 22:12 ”خُداوؔند یِسوعؔ فرماتے ہیں، دیکھ! میں جلد آنے والا ہُوں! اَور ہر ایک کو اُس کے عَمل کے مُطابق دینے کے لیٔے اجر میرے پاس مَوجُود ہے۔
REV 22:13 میں ہی اَلفا اَور اَومیگا، اوّل اَور آخِر، اِبتدا اَور اِنتہا ہُوں۔
REV 22:14 ”مُبارک ہیں وہ جنہوں نے اَپنے لباس دھو لیٔے ہیں کیونکہ اُنہیں شجرِ حیات کے پھل کھانے کا حق ملے گا اَور وہ پھاٹکوں سے شہر میں داخل ہو سکیں گے۔
REV 22:15 لیکن کُتّے، جادُوگر، زناکار، قاتل، بُت پرست اَور جھُوٹ بولنے والے اَور جھُوٹ کو پسند کرنے والے، یہ سَب اُس شہر سے باہر ہی رہ جایٔیں گے۔
REV 22:16 ”مُجھ یِسوعؔ، نے اَپنا فرشتہ تمہارے پاس اِس لیٔے بھیجا کہ وہ تمام جماعتوں میں اِن باتوں کی تمہارے آگے گواہی دے کہ میں حضرت داویؔد کی اصل اَور نَسل اَور صُبح کا نُورانی ستارہ ہُوں۔“
REV 22:17 پاک رُوح اَور دُلہن کہتی ہیں، ”آ!“ اَور ہر سُننے والا بھی کہے، ”آ!“ جو پیاسا ہو وہ آئے؛ اَورجو پانے کی تمنّا رکھتا ہے وہ آبِ حیات مُفت حاصل کر لے۔
REV 22:18 میں یُوحنّا، اِس کِتاب کی نبُوّت کی باتیں سُننے والے ہر شخص کو آگاہ کرتا ہُوں کہ اگر کویٔی اِس کِتاب میں کسی بات کا اِضافہ کرے تو خُدا اِس میں لکھی ہُوئی آفتیں اُس پر نازل کرےگا۔
REV 22:19 اَور اگر کویٔی اِس نبُوّت کی کِتاب کی باتوں میں سے کچھ نکال دے تو خُدا اِس کِتاب میں مذکور شجرِ حیات اَور شہر مُقدّس میں رہنے کا حق اُس سے چھین لے گا جِس کا بَیان اِس کِتاب میں ہے۔
REV 22:20 جو اِن سَب باتوں کی تصدیق کرنے والے ہیں، فرماتے ہیں، ”بے شک میں جلد آنے والا ہُوں۔“ آمین۔ اَے خُداوؔند یِسوعؔ، آئیے۔
REV 22:21 خُداوؔند یِسوعؔ کا فضل خُدا کے مُقدّسین کے ساتھ ہوتا رہے۔ آمین۔
